ڈاکٹر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ
ڈاکٹر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ 6 جولائی 2022 الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بلدیاتی انتخاب کے اعداد و شمار نہیں ہے، جماعت اسلامی نے پچھلی دفعہ بلدیاتی انتخابات میں کتنی نشستیں حاصل کیں تھیں اس کا موجودہ لوگوں کے پاس کوئی مرتب کیا ہوا کوئی رزلٹ نہیں، لیکن موجودہ ذمہ دار نے مجھے بتایا ہے کہ کراچی کی 209 یوسیز میں سے جماعت اسلامی نے صرف7 یوسی میں چیئرمین منتخت ہوئے تھے. طاہربھائی نے جو مضمون لکھا ہے وہ میں آپ کو بھیج رہا ہوں، میر امضمون ابھی مکمل نہیں ہوا، ڈاکٹر صاحب میری آفس اور اسکول کی مصروفیت کچھ ایسی رہی ہیں جس کی وجہ یکسوئی سے مضمون نہیں مکمل کر سکا چار صفحہ لکھ پایا ہوں، ان شاءاللہ اگلی دفعہ پورا مضمون بھیج دوں گا، ڈاکٹر صاحب آپ برا نہیں مانیئے گا، میں جماعت کے لوگوں اور مختلف گروپس میں اپنی بات مستقل کرنے کو زیادہ اہمیت اس لئے دیتا ہوں کہ لوگوں کو مکمل بات سمجھانا ایک لمبا کام ہے ، مگر الحمدللہ جماعت اسلامی کے اکثر کارکنان جو ہماری بھیجی گئی تحریریں پڑھتے ہیں اگر ان کے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات نہیں دیئے گئے تو لکھی گئی بات محو نظر ہوجاتی ہے۔میری کوشش ہوتی ہے کہ جو کتابیں ہم نے جماعت اسلامی کو انقلابی حکمت عملی کے لئے لکھی ہی انہیں مستقل پڑھتا رہوں میرا حافظہ تھوڑا کمزور ہے، تاکہ وہ مباحث کارکنان میں عام کئے جائیں، اور الحمدللہ وہ بہت حد تک لوگوں کی سمجھ میں آرہئے ہیں، میں نے اور سلمان نے جسارت اخبار کی ایک دو لوگوں کو اس حوالے سے ربط میں رکھا ہوا ہے کہ انہیں سرمایہ دارانہ نظام سے اچھی طرح واقفیت دلا دیں اور وہ ہمارے کام کو مزید پھیلانے کا ذریعہ بن سکے۔ سرمایہ دارانہ دروس کی دس کتابیں میں ادارہ نور حق میں رکھوا کر آیا ہوں، دس اور ایک جماعت کے صاحب نے خریدی ہیں اپنے ساتھیوں کے لئے ، پانچ کتابیں اور بکی ہیں، تقریباً 205 کتابیں بک چکی ہیں، انٹر نیٹ مارکیٹنگ سے کوئی خاطر خواہ فروخت نہیں ہوئی. ہمارے اسکو ل کا نیاسیش 20 مئی سے شروع ہوا تھا، ایک ہفتہ بچوں نے کورس وغیرہ لینےمیں لگا دیا تھا، صرف دس دن کی پڑھائی ہو پائی تھی، مئی کے آخر میں گرمیوں کی چھٹیاں پڑ گئیں تھیں، اس وجہ سے فائلیں نہیں بھیج پایا الحمد للہ ٹیچرز فائیلیں مرتب کررہئے ہیں۔ ان شاء اللہ اگست کے آخر میں ضرور بھیجوں گا۔ اعجاز رشید بھائی کو آپ کا لکھا ہوا لیٹر بھیج دیا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ ان پٹ اور آوٹ پٹ ٹیبل کسی بھی ملک کا بنانا انتہائی مشکل کام ہے، پاکستان میں بھی سالوں بعد بنایا جا سکتا تھا، انہوں پاکستان کے پچھلے پندرہ یعنی 2000 سے لے کر 2022 تک کہ ان پٹ آؤٹ پٹ کا فارمیٹ مجھے بھیجا تھا وہ میں صر ف 2020 کا آپ کو بھیج رہا ہوں، پورا ٹیبل بنا کر ، کیا یہی ٹیبل افغانستان بھیج دیا جائے، کہ اس کو مدنظر رکھتے ہوئی وہ اپنا ٹیبل بنا لیں۔ دوسرے خط کے جوابات ڈاکٹر صاحب حافظ محمد احمد میرے خیال میں مدارس میرے ساتھ کتاب کے حوالے سے جانا مناسب نہیں سمجھ رہے، شاید کیونکہ وہ وفاق کے رسالہ کے مدیر ہیں اس وجہ سے، میں یونس بھائی کے ساتھ اس سلسلے میں بات کرتا ہوں کیونکہ اکیلے جا نا کسی طور مناسب نہیں ہوگا۔ کالج کے حوالے سے آپ کو یہ اطلاع دینی تھی کہ جس جگہ ہمیں کالج کی کلاسیں شروع کرنی تھیں، وہ جگہ مدرسہ کے لئے مختص کرکے رکھی گئی ہوئی تھی ایک ٹرسٹی نے یہ بات ہمیں ابھی بتائی جس کا علم امیر تحریک اسلامی زاہد حسین صاحب کو بھی نہ تھا، تحریک اسلامی کے ایک ٹرسٹی نہیں سختی سے کہا کہ یہاں کالج نہیں بنایا جا سکتا یہاں اگر بنانا ہے تو درس نظامی کا نصاب مکمل پڑھا نے کے ساتھ ساتھ کالج کی تعلیم دی جائے، مگر یہ دارلعلوم ہی اپنی اصل میں ہوگا، مجھے کہا گیا کہ آپ اپنے اسکول کے اوپر کالج کی کلاسوں کے لئے کمرے تعمیر کریں اور وہیں کالج شروع کیجئے، جو کہ میرے بجٹ میں اس سال تو ممکن نہیں لیکن ان شاءاللہ اگلے سال کے آخر تک اس تعمیراتی کام کو مکمل کرکے ہی کالج کا پروجیکٹ شروع کیا جا سکتا ہے، دارلعلوم اور حفظ قرآن کے مدرسہ کے حوالے حافظ محمد احمد سے کام آگے بڑھانے کی بات چل رہی ہے، جو کہ ایک ذرا مختلف النوعیت کا کام ہے۔
شاہنواز فاروقی کی ایک نئی کتاب اسلامی انقلاب مولانا مودودی اور جماعت اسلامی آپ کے تبصرے کے لئے بھیج رہا ہوں، اگر آپ اسے غیر اہم سمجھیں تو مجھے واپس کر دیجئے گا۔ اسی طرح ایک مضمون جو مفتی رفیق احمد بالاکوٹی نے لکھا ہے ، حافظ محمد احمد بھائی کے اصرار پر کہ ڈاکٹر صاحب سے اس پر تبصرہ کروالیں بھی بھیج رہا ہوں، اس پر اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہئں تو کرکے مجھے بھیج دیجئے گا. والسلام آپ کا شاگرد ، امین اشعر