کتب خانہJAS Library

قومی مفاد

رسالہاردو۱ جون ۲۰۲۵کتب و مضامین
حصہ ۱

قومی مفاد کا اسلامی انقلابی تصور قومیں اور قومی ریاستیں سرمایہ دارانہ تعمیرات اور تصورات ہیں۔ اٹھارھویں صدی سے قبل دنیا میں کہیں بھی نہ قومیں موجود تھیں نہ قومی ریاستوں کا کوئی وجود تھا۔ پھر حرص و ہوس سے مغلوب سود خور اور سٹہ بازوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے قدیم ریاستی ڈھانچہ پر قبضہ کیا اور سرمایہ دارانہ معاشرت اور طرز حیات کو پہلے یورپ میں اور بعد میں پوری دنیا پر مسلط کر دیا۔ ظاہر ہے کہ قومی مفاد کا تصور قوم کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔ اگر قوم نہ ہو گی تو قومی مفاد ایک لغو اور بے معنی تصور ہے۔ لہٰذا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ قومی مفاد کا تصور اٹھارھویں صدی میں یورپی فکر اور سیاسی آویزش کی دریافت ہے۔ قومی مفاد کا تصور سرمایہ دارانہ عالمی نظاماتی کارفرمائی اور غلبہ کے لیے ناگزیر تصور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام حرص اور ہوس کو مہمیز دے کر ہی پنپ سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل کے نتیجہ میں مسابقت (competition) اور ارتکاز سرمایہ (capital accumulation) مستقل جاری رکھنا مجبوری ہے۔ یہ بات ان قومی اجتماعیتوں کے لیے بھی اتنی ضروری ہے جتنی سرمایہ دارانہ افراد کے لیے۔ سرمایہ داری ایک عالمگیریت ہے۔ اس عالمگیریت کا اظہار اسے مستقل جاری رکھنے والی مسابقت اور ارتکاز سرمایہ سے ہوتا ہے جو مستقل جاری رہتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی بالادستی اسی مستقل جاری رہنے والی مسابقت کے ذریعہ قائم رہتی ہے۔ اگر یہ مسابقت ختم ہو جائے تو سرمایہ داری نظام لازماً منتشر ہو جائے گا۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ قومیں قومی مفاد کے حسب ذیل معنی اخذ کرتی ہیں: 1۔ قومی مفاد سے مراد یہ ہے کہ ان کی قومی ریاست زیادہ سے زیادہ سرمایہ پر اپنا قومی تسلط قائم کریں۔ 2۔ اس تسلط کے ذریعے اپنی قوم کے سرمایہ دارانہ حقوق اور فوائد زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔ 3۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسری تمام قوموں سے مسابقتی عمل میں سبقت لے جائیں۔ قومی ریاستی سطح پر سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی اور پالیسی سازی کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ ان کی طرف راغب ہو۔ 4۔ تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) کے ذریعہ غیر سرمایہ دارانہ رجحانات اور قوتوں کی بیخ کنی۔ یہ تمام اہداف عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی بالادستی کے ضمن میں بھی ہیں۔ لہٰذا ہر سرمایہ دارانہ قوم کا قومی مفاد کا تصور اس کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی وفاداری پر راضی / مجبور کرتا ہے۔ پاکستان کا رائج شدہ قومی مفاد کا تصور پاکستان ایک قومی سرمایہ دارانہ ریاست ہے۔ انیسویں صدی سے قبل برصغیر کے مسلمانوں میں قومیت کا شعور بہت کمزور تھا۔ اس زمانہ میں اکبر نے کہا تھا: دیکھ آئے قوم سنتے تھے جسے چند لڑکے ہیں مشن اسکول کے سرسید غدار نے انگریز سرکار کے ذریعہ مسلم قومیت کو پھیلایا اور مسلم اشرافیہ کے بڑے حصہ نے قبول کر لیا اور ہندوؤں سے نفرت اور حسد کو مسلم عوام میں فروغ دیا اور تحریک پاکستان کا ایک اہم حصہ ہندوؤں سے مسابقت اور نفرت تھا جس کی بنیاد پر پاکستان کی اشرافیہ نے نئی ریاست اور اقتدار سنبھالا۔ اس اشرافیہ نے جو خارجہ حکمت عملی وضع کی اس کی بنیاد اسی ہندو مسابقت اور نفرت پر رکھی۔ اشرافیہ کو احساس ہے کہ بھارت سے متوازن مسابقت ممکن نہیں کیونکہ بھارت ایک نسبتاً بڑا ملک اور طاقت ہے لہٰذا بھارت سے مسابقت جاری رکھنے کے لیے پاکستان کو بیرونی امداد پر انحصار کرنا ہو گا۔لہٰذا جناح صاحب نے اپنی 11 اگست 1948 کی تقریر میں نہایت مؤدب انداز میں امریکی دفتر خارجہ کا تہنیت کا پیغام پڑھا۔ اس تقریر کے اصل مخاطب امریکا اور برطانیہ تھے اور جناح صاحب کے یقینی دباؤ کہ پاکستان ایک دہریہ سرامایہ دارانہ ریاست بنے اور ا وقت سے لے کر آج تک ہماری اشرافیہ استقامت سے اس پر قائم ہے۔

حصہ ۲

لہٰذا پاکستان کے رائج شدہ تصور قومی مفاد کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے: 1۔ بھارتی تسلط سے نبرد آزمائی اور اپنی قومی خود مختاری کا دفاع اور فروغ 2۔ ملک میں سرمایہ دارانہ اقتدار کا استحکام اور عوام میں سرمایہ دارانہ اقدار اور مفاسد کی مقبولیت کا فروغ 3۔ سامراجی نظاماتی ڈھانچہ سے وابستگی اور ان کی ماتحتی کو قبول کرنا۔ 4۔ گلوبل money markets سے ایسا تعلق قائم کرنا جو ان کا ملکی معیشت پر تسلط دائمی بنائیں۔ 5۔ زیادہ سے زیادہ سودی قرضوں اور بیرونی سرمایہ کاری کا حصول۔ اسلامی انقلابی تصور قومی مفاد کے رہنما اصول ہم اسلامی انقلابی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ تصور قومی مفاد قابل قبول نہیں۔ ہمارے ساتھی محمد یونس قادری نے اپنے قوم پرستی کے تجزیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ دورِ حاضر میں اسلامی حکومت کا قومی مفاد اس میں ہے کہ وہ کس حد تک عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور کرنے اور اپنے آپ کو ان کی جکڑ بندیوں سے نجات دلانے کے لیے فی الحال اسلامی انقلابی جدوجہد قومی ریاستی تناظر میں کارفرما کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ سامراجی غلبہ نے امت کے فاعلی وجود کو منہدم کر دیا ہے اور جو اسلامی ریاستیں قائم ہیں (ایران اور افغانستان) وہ بھی اسی نظام کی بالادستی کو اصولاً برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان ریاستوں نے تصور امت کی تشکیل نو کا بیڑا اٹھا رکھا ہے جس کا اظہار ان کی جہاد فلسطین کی اپنی استعداد کے مطابق اعانت سے ہوتا ہے۔ دونوں اسلامی ریاستوں (ایران اور افغانستان) نے قوم پرستی کو شدت سے رد کیا ہے۔ ہم ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حتی الوسع ان ممالک کی مدد کرتے رہیں گے۔ اسلامی ممالک(ایران اور افغانستان) کےاستحکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کفالت اور خود انحصاریت پر زور دیتے رہیں (اور اس ضمن میں ایران نے دفاع میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سامراجی نظاماتی ٹوٹ پھوٹ اور اندرونی بڑھتے ہوئے تضادات سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ایسے معاہدے مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو سرمایہ دارانہ نظاماتی تحکم کو کمزور کریں۔ یہ ایک پیچیدہ اور دشوار گزار کام ہے۔ ہم اسلامی ممالک (ایران اور افغانستان) کی اس قسم کے بین الاقوامی معاہدے ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔ جہاں تک غیر اسلامی مسلم ممالک جیسا کہ پاکستان کا تعلق ہے وہاں تک ہماری ریاستی دسترس نہایت محدود ہے۔ جہاں کی ریاستیں سرمایہ دارانہ سامراج کی باجگزار ریاستیں ہیں۔ لہٰذا قومی مفاد کے تناظر میں اسلامی انقلابی جدوجہد کا مرکز معاشرہ ہو گا اور سامراج کی اندرونی گرفت کمزور کرنا ہو گا اس ضمن میں دو اقدام ناگزیر ہیں۔ 1۔ مخلصین دین کے تحت عوام کو منظم کرنا تاکہ وہ پہلے مقامی پھر نظاماتی سطح پر بااختیار ہوں اور ریاستی قوت بتدریج سرمایہ دارانہ ریاست سے منتقل ہو کر مخلصین دین کے ہاتھوں میں آ جائے۔ 2۔ قوم پرستی بالخصوص پاکستانی قوم پرستی کے خلاف جدوجہد، قومی مفاد کے سرمایہ دارانہ تصور کے خلاف جدوجہد اور تصور قوم کی نفی اور عوام میں امت کا تصور اور شعور اجاگر کرنے کی جدوجہد۔ 3۔ اپنی سیاسی قوت کو سامراج نواز پالیسیوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ ایسی پالیسیوں کی تشکیل و تائید جو ہمارے تصور قومی مفاد سے متعلق ہوں اور جو ملک اختیار کرنے کی فی الحال استطاعت رکھتا ہے مثلاً آئی ایم ایف کے ای ایف ایف معاہدوں کی معطلی، بین الاقوامی سودی قرضوں کی ادائیگی سے انکار ، امریکی درآمدات پر مستقل پابندی وغیرہ۔ یہ نہایت دشوار گزار اور پرخطر راہ ہے۔ اس تصور قومی مفاد پر عمل پیرا ہونے کا مطلب ہے کہ ہم ایک ایسی جدوجہد کی ابتدا کر رہے ہیں جو لازماً صدیوں پر محیط ہو گی۔ سرمایہ دارانہ سامراج کا نظام منتشر ہونے میں صدیاں لگیں گی۔ دورحاضر کے اسلامی اشرافیہ سرمایہ داری کی غیر اسلامی یلغار میں ہراول دستہ ہے۔ ہمیں شکستوں اور ناکامیوں کو برداشت کرنا ہو گا۔ اس راہ میں استقامت دکھانی ہے۔ دور حاضر میں اسلامی انقلابی جدوجہد اقامت دین کا فریضہ ادا کرنے کی جدوجہد ہے۔