کتب خانہJAS Library

فرائیڈے کا اسپیشل نمبر

رسالہاردو۲۶ نومبر ۲۰۲۱کتب و مضامین
حصہ ۱

فرائیڈے اسپیشل کا کراچی نمبر – تبصرہ فرائیڈے اسپیشل اپنے اشتہار میں اپنے آپ کو ”اسلامی تحریکوں کی آواز“ کہتا ہے۔ لیکن کراچی نمبر کے 184 صفحوں میں سے صرف 6 صفحوں پر اسلام کا تذکرہ ملتا ہے۔ یعنی صرف تین فیصد صفحوں میں اسلام کا ذکر ہے۔ ان 6 صفحات میں امیر جماعت اسلامی کا پیغام شامل ہے نہ فرائیڈے اسپیشل کا اداریہ۔ اداریہ اور محترم سراج الحق جو پیغام دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے کراچی کی حق تلفی کی ہے اور عوام کو ان کے سرمایہ دارانہ حقوق اور سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی سے محروم کر دیا ہے۔ یہ کراچی نمبر کا بنیادی مقدمہ ہے۔ تقریباً ہر مضمون میں عوام کی مظلومیت اور حکمرانوں کی سفاکی کا رونا رویا گیا ہے۔ اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ عوام کی پرستش اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو بے اندازہ نقصان پہنچا رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کی جستجو کی یہ آرزو اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ شاہنواز فاروقی تک اپنے پہلے مضمون (صفحہ 15 تا 17) حکمرانوں کی دغابازی اور عوام کی ”مظلومیت“ پر پورا زور صرف کرتے ہیں۔ لیکن محترم شاہ نواز فاروقی کا دوسرا مضمون (صفحہ 142-143) وہ واحد مضمون ہے جو نظریاتی تناظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ مضمون تخیلاتی (آئیڈیالسٹ) ہے اور اس میں بہت سے ایسے دعوے کیے گئے ہیں جن کی صداقت کو ثابت نہیں کیا گیا مثلاً یہ کہ ”یوپی“ اور ”سی پی“ میں مسلم تحرک مسلم قوم پرستانہ نہیں بلکہ اسلامی تشخص کا اظہار تھا۔ اور یہ کہ ”بھارت دشمنی“ مہاجرین میں عام ہے اور اس کی بنیاد ان کا دینی شعور ہے (معاذاللہ) اور یہ کہ فاطمہ جناح کی تحریک ایک اسلامی تحریک تھی اور یہ کہ کراچی کا شعور (یہ کیا ہے) سیاست کو لبرل اور سیکولر صورت میں قبول ہی نہیں کر سکتا۔ اور یہ کہ پروفیسر خورشید احمد نے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت کی وہ تو جنرل صاحب کی کابینہ کے نہایت تابع دار وزیر تھے اور میں اس کا عینی شاہد ہوں اور یہ کہ جماعت اسلامی نے ایم کیو ایم کے خلاف جدوجہد کر کے مہاجروں کی حمایت حاصل کر لی ہے وغیرہ۔ مسلم مفکرین کے لیے تصور یت ایک اہم خطرہ ہے۔ آئیڈیالسٹ پیرائے میں لکھے گئے تجزیہ اپنے مفروضات کو حقیقت تصور کر کے ایک خیالی جنت تعمیر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کراچی پر اسلامی نظریاتی تغلب ہمیشہ سے کمزور رہا ہے۔ 1970ء کے انتخابات میں ہمیں کراچی سے صرف دو سیٹیں حاصل ہوئی تھیں اور اسلامی قوتیں آپس میں دست و گریباں تھیں۔ ایم کیو ایم نے نسلی اور لسانی قوم پرستی کو ایک وبا کی طرح عوام میں پھیلایا ہے اور وہ اتنی کامیاب ہوئی ہے کہ آج فرائیڈے اسپیشل بھی ”کراچی کے حقوق “ کی دہائی دینے لگا ہے۔ امیر جماعت اسلامی محترم نعیم الرحمان صاحب کا انٹرویو اسی رجحان کی واضح عکاسی ہے۔ اس کا نظریاتی تناظر بھی خالصتاً مسلم قوم پرستانہ ہے ۔تمام مسائل کا ذمہ دار ریاستی اشرافیہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔ عوام کو مظلوم اور مجبور ظاہر کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے عروج کو سیاسی اشرافیہ کی چال بیان کیا گیاہے۔ شہری مسائل کے حل کی جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ ساری کی ساری سوشل ڈیموکریٹ ہیں۔ اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ کراچی کے عوام میں کرپشن، جنسی بے راہ روی، رشوت خوری، مالی بدعنوانی، سود خوری، سٹہ بازی، شراب نوشی اور عیاشی کس تیزی سے پھیل رہی ہے اور ان کی عملی زندگی میں دینی شعور کا فقدان غالب ہوتا جا رہا ہے۔ شہری مسائل کے جو حل پیش کیے گئے ہیں وہ سب کے سب ساختی ہیں۔ ان کے نفاذ سے عوام کی روحانی اور اخلاقی حالت کی تبدیلی کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بلکہ نعیم الرحمان صاحب کو روحانی اور اخلاقی تبدیلی کی ضرورت کا کوئی احساس نہیں۔ ان کی دی گئی چار تصویریں میں (صفحہ 149 تا 153) ان پر ماڈرن ازم کے اثرات کی عکاس ہیں۔ ان کی ریش مبارک اتنی مختصر ہو گئی ہے کہ اس کو تلاش کرنے کے لیے مائیکروسکوپ کا استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے کیا یہ جماعت اسلامی کے ایک مقامی امیر کو زیب دیتا ہے۔ کراچی کے دینی حلقے اس سے کیا تاثر لیں گے۔

حصہ ۲

لیکن فرائیڈے اسپیشل کے کراچی نمبر کا تخاطب اہل دین ہیں ہی نہیں۔ فرائیڈے اسپیشل والے علمائے کرام اور صوفیائے عظام اور ان کے پیروکاروں کو قابل توجہ سمجھتے ہی نہیں۔ جن 6 صفحوں (صفحہ 80 تا 86) پر تصرف پیش کیا گیا ہے وہ سب رحلت فرما چکے ہیں اور ان میں نہ کوئی بریلوی عالم اور صوفی موجود ہے نہ کوئی شیعہ عالم دین۔ دینی حلقوں میں ”اسلامی تحریکوں کی اس آواز“ کو یقیناً قطعاًنظرانداز کیا جائے گا کیونکہ اس میں اہل اللہ کی آواز بالکل ناپید ہے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ فرائیڈے اسپیشل کا یہ کراچی نمبر کراچی کی ایک اہم اسلامی جماعت کے سیکولرائز ہونے کی الم ناک داستان ہے۔ دہریہ مصطفیٰ کمال کی طرح آج ہم بھی تمام امیدیں عوام سے لگائے ہوئے ہیں۔ عوام کو سرمایہ دارانہ حقوق اور عدل دلانا ہماری جدوجہد کا مقصد اعلیٰ ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہم کروڑوں روپے بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے مخلص اور دیانت دار خادم بننے کی لو لگائے بیٹھے ہیں۔ ایسے ہی جیسے کل محترم عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان تھے۔ فرائیڈے اسپیشل کا کراچی نمبر تحریک اسلامی کی آواز نہیں، سوشل ڈیموکریسی کی آواز ہے۔ پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے جاوید اکبر انصاری