کتب خانہLibrary

حق دو کراچی کو کی مہم کے مضمرات

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

”حق دو کراچی کو“ کی مہم کے مضمرات ”حق دو کراچی کو“ کی مہم کے نقصانات واضح ہو رہے ہیں۔ اکتوبر 2021ء میں جماعت نے ایک سیمنار اس ہی ضمن میں منعقد کیا جس میں معروف دہریہ دانش وروں جاوید جبار اور عارف حسن نے محترم نعیم الرحمان کی کوششوں کو اس طرح سراہا جیسے محترم نعمت اللہ خان کی کوششوں کو پرویز مشرف سراہا کرتا تھا۔ اس موقع پر کی گئی محترم نعیم الرحمان کی تقریر میں اسلام کا سرے سے کوئی حوالہ نہیں تھا اور کسی عالم دین کو خطاب کرنے کی دعوت نہیں دی گئی۔ ”حق دو کراچی کو“ کی مہم جماعت اسلامی کو خالصتاً ایک سوشل ڈیموکریٹ تحریک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ہم کراچی کا بنیادی مسئلہ شہر میں پھیلتی ہوئی لادینیت کو نہیں گردانتے بلکہ عوام کی سرمایہ دارانہ حقوق سے محرومی کو سمجھتے ہیں۔ دہریہ اس روش سے اس قدر خوش ہیں کہ جناب نعیم الرحمان کو سامراج نواز انگریزی پریس میں ایک ابھرتے ہوئے شہری قائد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اسلام دشمن جماعت ایم کیو ایم اس مہم میں شریک ہونے کی درخواست کر رہی ہے۔ یہ نظریاتی خود کشی کی طرف اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے۔ سوشل ڈیموکریسی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے لبرل جمہوری عمل کو استعمال کرتا ہے۔ ہم سوشل ڈیموکریٹ آدرشوں سے اس قدر متاثر ہیں کہ اب عوام میں ان آدرشوں کی اسلام کاری کی بھی کوئی ضرورت نہیں سمجھتےبلکہ کھلم کھلا ان آدرشوں کی وکالت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ”حق دو کراچی کو“ کی مہم کے مطالبات ایم کیو ایم اور مصطفیٰ کمال کی پارٹی سے مختلف نہیں۔ ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے مقابلہ میں ہم تحکم قانون سرمایہ کے غلبےکے لیے مخلص خادم ثابت ہوں گے۔ ہمیں شہر میں دین داری کے فروغ کی جدوجہد سے کچھ واسطہ نہیں۔ یہ روش ہمیں دہریوں کا فطری حلیف بنا رہی ہے۔ وہ خوش ہیں کہ جماعت اسلامی کی اسلامی انقلابیت ایک قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے اور اب جماعت ایک نارمل سرمایہ دارانہ جماعت بنتی جا رہی ہے۔ چونکہ ہماری جماعت ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے مقابلہ میں زیاد ہ منظم ہے اور چونکہ ہمارا کارکن اپنی قیادت کا زیادہ مطیع ہے لہٰذا اس بات کا امکان موجود ہے کہ کراچی کے ان علاقوں میں جہاں موالیاتی (برادری اور خاندانی نظام)سیاسی روابط (client patronage networks) نسبتاً کمزور ہیں وہاں ہم ایم کیو ایم اور پی ایس پی سے روایتی سیاسی میدان میں سبقت لے جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ دھڑے ہماری پشت پناہی پر آمادہ ہو جائیں اور آیندہ بلدیاتی انتخابات میں ہماری کامیابی کی شرح بڑھ جائے۔ لیکن اس سے کیا حاصل ہو گا؟ اول بات تو یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کے دستوری اختیارات نہایت محدود ہیں اور بالخصوص سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی اداروں سے ان کے اختیارات اور مستقل وسائل کو چھیننے کی کامیاب مہم چلا رکھی ہے جو مستقبل میں طاقت ور ہوتی چلی جائے گی۔ اگر آیندہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اور دہریہ قوتوں سے گٹھ جوڑ کرکےہم اپنا میئر لانے میں کامیاب بھی ہو گئے تو اس کے اختیارات اور وسائل نہایت محدود ہوں گے اور ہم اپنے سوشل ڈیموکریٹ آدرشوں کی تنفیذ میں صوبائی حکومت کی کھڑی گئی رکاوٹوں پر واویلا مچاتے رہ جائیں گے۔ پھر آیندہ چند سالوں تک بلدیاتی اداروں کو چلانے میں مسائل اور ان کی محرومی کے خلاف مسلسل مظاہروں کا سلسلہ شروع کر کے اپنی افرادی قوت ضائع کرتے رہیں گے اور بے دریغ جماعتی وسائل بھی استعمال کرتے رہیں گے۔ ہمارا کارکن سرمایہ دارانہ نظام کا ایک بے دام غلام بن جائے گا۔ اس کا مسجد اور مدرسہ سے تعلق جو کہ پہلے ہی نہایت کمزور ہے تقریباً بالکل منقطع ہونے کا خطرہ ہے۔

حصہ ۲

ہم اپنی ماس بیس یعنی مخلصین دین سے کٹتے چلے جائیں گے کیونکہ ظاہر ہے کہ مخلصین دین سوشل ڈیموکریٹ اقدام سے متحرک نہیں ہوتے۔ عوام کو مخلصین دین کی قیادت میں انقلابی بنیادوں پر منظم کرنے کا تصور ہمارے لیے بالکل اجنبی ہو جائے گا۔ یہ اسلامی انقلابیت سے فرار کی راہ ہے۔ پھر اگر ”حق دو کراچی کو“ کے نتیجہ میں ہمیں انتخابی کامیابی نصیب ہوئی تو ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں گے کہ اس طرح کی جدوجہد پورے ملک میں انتخابی کامیابی پر منتج ہو سکتی ہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ ملک میں ہر جگہ موالیاتی روابطی نظام (client patronage network) کراچی کے مقابلہ میں کہیں زیادہ مضبوط ہے اور جیسا کہ بھٹو دور کے تجربات سے واضح ہے سوشل ڈیموکریٹ ایجنڈے کی بنیاد عوامی تحرک موالیاتی روابطی نظام کو پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون علاقوں میں منتشر نہیں مستحکم کرتا ہے۔ یہ بات ان علاقوں کے بڑے شہروں (لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد، پشاور، کوئٹہ) کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ لہٰذا کراچی کی انتخابی مہم کی کامیابی کے نتیجے میں پورے ملک میں ہم سوشل ڈیموکریٹ ایجنڈے کی بنیاد پر روایتی انداز میں 2023ء کے انتخابات لڑیں گے اور ہر جگہ بری طرح شکست کھائیں گے۔ اس سے یہ خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جماعت ایک مقامی پریشر گروپ کا روپ دھار لے جس کی انتخابی کامیابیاں اور معاشرتی سیاسی اثر کراچی تک محدود ہو کر رہ جائے۔ ”حق دو کراچی کو“ مہم نادانستہ طور پر کراچی جماعت اسلامی کو سیکولرائز کر رہی ہے اور اس کے عوامی روابطی پروگراموں سے مذہبیت کا عنصر بتدریج غائب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور مرکزی جماعت کو اس رجحان کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جاوید اکبر انصاری