کنٹونمنٹ انتخابات
کنٹونمنٹ کے انتخابات کے نتائج سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں حالیہ کنٹونمنٹ انتخابات میں ملک بھر میں جماعت اسلامی نے 112 امید وار کھڑے کیے تھے جس میں سے صرف سات کامیاب ہوئے یعنی تقریباً 6 فیصد۔ مجموعی ووٹوں میں ہمارے حاصل شدہ ووٹوں کا تناسب اس سے بھی کم رہا۔ یہ انتخابات بھی ہم نے روایتی انداز میں لڑے اور ہمارا انتخابی ایجنڈا خالصتاً سوشل ڈیموکریٹ رہا۔ کنٹونمنٹ کے علاقے ملک کے دیگر حصوں سے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ وہاں موالیاتی سیاسی دائرہ کار کا اثر نسبتاً محدود ہے لہٰذا وہاں عمومی سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کی جدوجہد زیادہ مقبول عام اور مخصوص مفاداتی گروہ بندیاں نسبتاً کمزور ہیں۔ یہ بات شہری کنٹونمنٹ علاقوں کے لیے بالخصوص درست ہے جہاں عمومی عوامی سرمایہ دارانہ مفادات کی گفتگو کی پذیرائی زیادہ ہے اور سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل وعدوں اور دعووں کی بنیاد پر زیادہ عوامی تحرک پیدا کرنا قدرے آسان ہے۔ کراچی میں ہماری مبینہ کامیابی کی یہی بنیادی وجہ ہے۔ کراچی میں ہمیں 38 میں سے 5 نشستیں حاصل ہوئیں (تقریباً 13 فیصد) جبکہ دو بڑی دہریہ جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ہم سے 5 گنا زیادہ نشستیں حاصل کر گئیں لیکن انتخابات کے مجموعی ووٹوں میں ہمارا حصہ خاصا بڑھا ہے۔ یہ مبینہ کامیابی اس ”حق دو کراچی کو“ کی مہم کا ثمرہ ہے جو ہم ایک سال سے چلا رہے ہیں اور جس میں ہم نے کروڑوں روپے اور کراچی کے کارکنوں کے وقت کا بڑا حصہ کھپا رکھا یہ ایک خالص دہریانہ مہم ہے جس کے مطالبات سب کے سب سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل ہیں۔ اس مہم کے کارکن تو ہمارے اپنے لوگ ہیں لیکن اس کی عوامی پذیرائی ان علاقوں تک محدود ہے جہاں دہریہ طرز زندگی عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیفنس اور کلفٹن کی ماڈرن بستیوں میں ہمیں زیادہ ووٹ ملے۔ اس مبینہ کامیابی کا جشن منانے کے لیے جو تقریب 15 ستمبر کو منعقد کی گئی (اور نہایت شرم اور افسوس کی بات ہے کہ ایسی کوئی تقریب طالبان کی فتح کے ضمن میں جماعت نے کہیں منعقد نہیں کی) ہمارے امیر محترم سراج الحق نے کہا ”ہم اسلامی طرز حکومت کے نفاذ کی جدوجہد کر رہے ہیں“۔ لیکن یہ ایک کھوکھلے نعرے کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیونکہ نہ ”حق دو کراچی کو“ نہ کنٹونمنٹ انتخابات کی مہم میں کسی اسلامی اقدام کی طرف پیش رفت کا مبہم سے مبہم اشارہ ہے نہ اسلامی عصبیت کو ابھارنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ حق دو کراچی کو اور کنٹونمنٹ کے انتخابات کی مہم جماعت کے کارکنوں کو یہ دھوکہ دہی کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں ہیں کہ سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل اقدام کی تنفیذ ہی غلبہ دین کا ذریعہ ہیں۔ ظاہر ہے یہ بات بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل اقدام کی تنفیذ سے اسلامی انفرادیت فروغ نہیں پاتی بلکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت، حرص اور ہوس سے مغلوب انفرادیت اور معاشرت فروغ پاتی ہے۔ یہ بات ہمارے سابق تجربات سے ثابت ہو چکی ہے ۔ محترم عبدالستار افغانی اور محترم نعمت اللہ خاں کی میئر شپ کے دوران کراچی کے عوامی سرمایہ دارانہ حقوق تو خوب فروغ دیے گئے لیکن شہر کی مذہبی اور دینی زندگی بالکل متاثر نہ ہو سکی نہ عوامی اخلاقیات پر کوئی مثبت اثر پڑا۔ ان ناکام تجربات کو دہرانے کا کوئی جواز نہیں۔ کراچی کنٹونمنٹ انتخابات کی مبینہ کامیابی سے تین ہولناک خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم 2023ء کے قومی انتخابات بھی روایتی انداز میں سوشل ڈیموکریٹ اور قوم پرست ایجنڈے پر لڑیں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو اپنے نظریاتی تشخص کو مجروح کرتے چلے جائیں گے لیکن انتخابی کامیابی کا کوئی امکان نہیں کیوں کہ کنٹونمنٹ کے علاقوں کے برخلاف پورے ملک میں موالیاتی سیاسی صف بندیاں کہیں زیادہ مستحکم ہیں اور ہمیں کراچی کے علاوہ کہیں سے بھی کامیابی حاصل نہ ہو گی۔ عملاً ہم ایک علاقائی، مقامی جماعت بنتے چلے جائیں گے۔
دوسرا خطرہ یہ ہے کہ ہمارے کارکن سرمایہ دارانہ نظام کی خدمت کو غلبہ دین کا موثر قابل عمل طریقہ سمجھنے لگے ہیں۔ و ہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مخلص دیانت دار خادم بن رہے ہیں اور ہم ہیومن رائٹس اور ڈویلپمنٹ کے فاسد نظریات کی ایسی ترمیمی تشریحات فراہم لگیں گے جن سے ان کا شرعی جواز برآمد ہوتا ہے۔ ہماری صفوں میں مولانا مودودی کے کلیدی اجتہاد مغرب جاہلیت خالصہ ہے بالکل ناقابل فہم ہو جائے گا۔ ترکی کی اے کے ڈی کی طرح ہم سرمایہ دارانہ ریاست میں اسلامی حکومت کے قیام کا خواب دیکھنے لگیں گے۔ تیسرا نقصان یہ ہو گا کہ سوشل ڈیموکریسی کی اس اسلام کاری کے نتیجہ میں ہم اپنے فطری حلقہ انتخاب سے بالکل کٹ جائیں گے۔ ہمارا فطری حلقہ انتخاب وہ کروڑوں مخلصین دین ہیں جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم جتنا زیادہ عوام کے حقوق، ترقی اور سماجی بہبود کی رٹ لگائیں گے اتنا زیادہ اس فطری حلقہ انتخاب میں ہم اور ہم میں فاصلے وسیع ہوتے چلے جائیں گے۔ ہماری باتیں ان کی سمجھ میں بالکل نہیں آئیں گی اور یہ بات ہمارے لیے ناممکن بنا دے گی کہ ہم اپنی ماس بیس سے رابطہ پیدا کریں۔ 2023 کے انتخابات روایتی انداز میں لڑنا ان تمام غلطیوں کو دہرانا ہے جو ہم 1950 سے آج تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم ان شاء اللہ یہ انتخابات انقلابی انداز سے لڑیں گے اور اس کے لیے ابھی سے اپنی ماس بیس کی محلہ اور مسجد کی سطح پر ادارتی صف بندی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ اور خدمت سرمایہ داری کے ایجنڈے کو بالکل ترک کر دیا جائے۔ جاوید اکبر انصاری