کتب خانہLibrary

January 21 آئی ٹی اور جمہوریت

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

آئی ٹی اور جمہوریت بعض محققین مثلاً Van Der Pejil انٹرنیٹ کو دورِ حاضر کا معاشرتی دماغ (social brain)کہتے ہیں کیونکہ یہ اجتماعی معاشرتی فکر کی ترتیب کا ذریعہ ہے۔ لیکن عملاً یہ ترتیب اجارہ دار (Oligopolistic)کارپوریشنوں کے توسط سے قائم کی جاتی ہے۔ گوگل، ایپل، فیس بک، مائیکروسافٹ، ایمزون وغیرہ انٹرنیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ وہ رائے عامہ کی تخلیق بھی کر رہی ہیں۔ امریکا اور دیگر سامراجی حکومتوں کی عالمی جاسوسی اور تخریب کاری کو ممکن بھی بنا رہی ہیں اور سود اور سٹہ کے حرام خور (فنانشل) کاروبار کے پھیلاؤ کا بنیادی وسیلہ بھی بن گئی ہیں۔ اپنی ابتدا کے وقت سے آج تک انٹرنیٹ پر سامراج کا قبضہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتامی دور میں امریکی فوج نے انٹرنیٹ ایجاد کیا اور 1980 اور 1990 کی دہائی میں اطلاعات کی برقی فراہمی کو جب ایک کاروبار بنا دیا گیا تو اس میدان میں سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کا عروج ممکن ہوا۔ آئی ٹی صنعت میں سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں اور سامراجی ریاستی تخریب کاری کے عمل ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ لیکن آج یہ اجارہ داریاں اطلاعات کی بھرمار (big data)کو پورے طورپر کنٹرول نہیں کرپا رہی ہیں۔ بِگ ڈیٹا ہزاروں تجارتی مواصلاتی کمپنیوں کے پاس جمع ہوتا جا رہا ہے۔ بِگ ڈیٹا کے کنٹرول اور ترتیب کے لیے گوگل فائل سسٹم ایجاد کیا گیا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ کے ذریعہ کروڑوں افراد اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کروڑوں میں بہت سوں نے معاشرتی اور سیاسی روابط قائم کر لیے ہیں۔ یوں سرمایہ دارانہ معاشرتی مکالمہ بہت وسیع ہو گیا ہے۔ عوام میں سے بہت سے لوگ جوپہلے بے زبان تھے اب انہیں بولنے کا موقع مل گیا ہے۔ اطلاعاتی اجارہ داریوں کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ اطلاعات کو سرمایہ دارانہ ملکیت میں تبدیل کر لیں اور قوانین فکری ملکیت (intellectual property rights)کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ اطلاعات کو سرمایہ دارانہ گردشی چکر میں سمو لیں۔ لیکن یہ جستجو عبث ہے اور ہر جگہ کامیاب نہیں ہوتی۔ اطلاعات کو سرمایہ دارانہ ملکیت بنانے کا یہ عمل کارپوریٹ اور ریاستی منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ اس منصوبہ بندی (خواہ ریاستی خواہ کارپوریشن )کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دینا ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کے سامنے جو چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ اظہار رائے میں وسعت کے نتیجہ میں سرمایہ کی بڑھوتری پر منفی اثر نہ پڑے۔ سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے یورپی اور امریکی انقلابات کے بعد سے سرمایہ دارانہ ریاستی تغلب نے جمہوریت کا سہارا لیا ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ ہی سرمایہ دارانہ تغلب کا جواز (legitimation)مرتب کیا جاتا ہے۔ لیکن جمہوری عمل دو دھاری تلوار ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ سرمایہ دارانہ تغلب کا جواز بھی فراہم کیا جا سکتا ہے اور سرمایہ دارانہ تغلب کو چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ زعما کی کوشش ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ایسی جمہوری فضا پیدا ہو جہاں سرمایہ دارانہ تعقل اور تحکیم کی نفی ناممکن ہوتی چلی جائے۔ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعہ عوامی خواہشات کی بنیاد پر ریاستی اور کارپوریٹ پالیسی کی جا رہی ہے اور یوں عوامی عمل کو بالواسطہ کنٹرول کیے بغیر عوام کی نگہداشت اور ان کی خواہشات کی تکمیل کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ ریاستی اور کارپوریٹ پالیسی سازی کا حتمی مقصد سرمایہ دارانہ نظام میں بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا لہٰذا degitalization (سرمایہ کی مقداریت ) اس ہی وقت تک کارفرما ہو سکتی ہے جب عوام کی خواہشات بڑھوری سرمایہ کی جستجو سے ہم آہنگ کی جاتی ہیں۔ لہٰذا آئی ٹی کی وسعت اور افادیت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی خواہشات بڑھوتری سرمایہ پر مرکوز ہوں۔ اگر ایسا نہیں تو نہ ڈیجٹلائزیشن ممکن ہے نہ آئی ٹی کی سرمایہ دارانہ کارفرمائی۔

حصہ ۲

آئی ٹی کا استعمال انہی معنوں میں جمہوری عمل کی توسیع ہے۔ جمہوری عمل کے اجرا اور تنفیذ کا یہ مطلب نہیں کہ عوام سرمایہ دارانہ نظام میں حاکم بن جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کی پالیسی سازی کو عوامی تائید حاصل ہوتی رہے اور آئی ٹی کے اطلاق کے ذریعے یہ تائید مسلسل حاصل کرتے رہنا ممکن ہے۔ بشرطیکہ آئی ٹی کے پھیلاؤ سے عوامی خواہشات کو سرمایہ دارانہ عقلیت اور روحانیت کے تابع کیا جا سکے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام قومیتوں میں منقسم ہے۔ امریکا اور چین اس نظام میں اپنے آئی ٹی تسلط کی سرد جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں غریب ممالک کو آئی ٹی کے پھیلاؤ کے ذریعہ ان کی حاکمیت سے محروم کیا جارہا ہے۔ آئی ٹی کے استعمال کے ذریعہ چینی اور امریکی سامراج عسکری، فنانشل اور معاشرتی تخریب کاری پوری دنیا میں دہشت گردی جاری رکھتے ہیں اور غریب ممالک کی حاکمیت کی بیخ کنی کرتے رہتے ہیں۔ امریکا اور چین کی سائبر جنگ جاری ہے اور یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف بائیکاٹ، پابندیوں(sanctions)، اغوا او رلوٹ مار کے ہتھیار بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجہ میں نظام کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے اور بڑی صلاحیتیں اپنے آئی ٹی نظام کو تخریب کاری سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدام کے ذریعہ اس کو دیگر ملکی آئی ٹی نظام سے منقطع کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ جمہوری عمل کے قوم تشخص کا ایک واضح اظہار ہے۔ عالمی سرمایہ داریت (globalization)قومی جمہوری نظاموں میں منقسم ہے۔ جمہوری ریاستیں قومی یا قومی سامراجی رایستوں کی باجگزار ہیں۔ آئی ٹی کا فروغ ریاست کی عوام کی نگرانی کی صلاحیت میں مستقل اضافہ کر رہا ہے۔ سرمایہ داروں کے لیے افرادی سوچ اور عمل کو ڈھالنا آسان ہو گیا ہے اور فکر و عمل کی یہی تخریب کاری کارپوریشنوں اور ریاستوں کی تفویض اور تنصیب کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ بڑی کارپوریشنیں آئی ٹی کے استعمال کے ذریعہ عوام کی خواہشات تخلیق کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔ امریکی فوج کی ایک رواں تحقیق کا ہدف آئی ٹی کے ذریعہ انسانی شخصیت میں اپنے جاہلیتی عزائم کے مطابق تبدیلی لانا ہے۔ سوچ پر قبضہ کرنا (thought control)آئی ٹی کارپوریشنوں اور امریکی اور چینی افواج کے ہاتھوں کا ایک اہم ہتھیار بن گیا ہے۔ آئی ٹی کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ تحکیمی تائید ہر فرد کی جبلیتی instinctive))کیفیت بنتی جا رہی ہے اور بڑی حد تک عوام وہ چاہنے لگے ہیں جو سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ کارپوریشن چاہتی ہیں کہ عوام چاہیں۔ یوں سرمایہ دارانہ جمہوریت قومی تشخص میں مقید ہونے کے باوجود آفاقی ہوتی ہیں۔ اشراکی سرمایہ دار اس نوزائیدہ آئی ٹی جمہوریت کو نجی اجارہ دار کارپوریشن کی گرفت سے آزاد کرانا چاہتے ہیں لیکن جیسا کہ چین کے تجربہ سے ثابت ہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آئی ٹی کی صنعت کی حاکمیت نجی کارپوریشنوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری کارپوریشنوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے۔ اس تبدیلی اقتدار سے اس صنعت کی نہ ماہیت تبدیل ہو گی نہ حرام خور (فنانشل) مارکیٹوں پر اس کا انحصار کم ہو گا۔ جمہوریت خواہ نیولبرل، خواہ اشتراکی، ہر حال میں سرمایہ دارانہ انفرادیت سازی کا ذریعہ ہی رہے گی اور آئی ٹی صنعت کی ملکیت میں تبدیلی اس کے معاشرتی اور سیاسی کردار کو تبدیل نہ کر سکے گی۔ اشتراکی سرمایہ دار ان عوامی مزاحمتی تحریکوں سے امیدیں باندھتے ہیں جو موجودہ دہائی میں فرانس، چلی، بیلاروس وغیرہ میں برپا ہوئیں اور جن کو مہمیز دینے میں انٹرنیٹ کا اہم کردار تھا۔ لیکن ان تحریکوں میں سرمایہ دارانہ روحانیت کا اظہار ہوتا ہے اور ان کا عوامی اظہار حرص و حسد ہی سے مغلوب ہوتا ہے۔ ان کے نتیجہ میں نظاماتی تغیر رونما نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت مزید مستحکم ہو جاتی ہے۔

حصہ ۳

آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (artificial intelligence)کی عمومیت کے ذریعہ سرمایہ دارانہ طرز کارکردگی (work process)میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ پیداواری عمل میں مشینیں انسانوں کی جگہ لے رہی ہیں اور کارکن پیداواری عمل کو کنٹرول اور ریگولیٹ کرنے والے بنتے جا رہے ہیں لیکن یہ کارکن کنٹرول اور ریگولیشن کو سرمایہ کی بڑھوتری (عمومی یا خصوصی )کے لیے ہی کر رہے ہیں۔ لہٰذا automation نظاماتی پھیلاؤ سے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی نوعیت میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ کارکن محکوم ہی رہتا ہے اور تحکیم قانون سرمایہ معطل نہیں ہوتا۔ کم از کم فی الحال بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا اطلاق مشکل اور محدود ہے۔ اس کے نتیجہ میں کلی اور جزوی بیروزگاری پھیل رہی ہے اور آبادی کا ایک بڑھتا ہوا حصہ سرمایہ کے پیداواری اور احتکاری (accumulative)گردش سے خارج کیا جا رہا ہے۔ لیکن وہ سرمایہ دارانہ اشیائی (commodity)اور حرام خور (فنانشل ) مارکیٹوں سے ہنوز منسلک رہتے ہیں۔ اس سے بے روزگاری اور نیم بے روزگاری کے پھیلاؤ کے نیتجہ میں سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست (کارپوریشنوں کے مقابلہ میں) قدرے مضبوط ہوتی جائے گی اور سوشل ڈیموکریٹک اور سوشلسٹ پالیسیاں کسی نہ کسی حد تک نیو لبرل پالیسیوں کو معطل کرتی جائیں گی اور جہاں بھی اور جس حد تک یہ تبدیلی رونما ہو گی وہاں سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی ترتیب نو عمل میں آئے گی۔ لیکن اس عمل سے تحکم قانون سرمایہ (سرمایہ دارانہ جمہوریت) معطل ہونے کا کوئی امکان موجود نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ اقدامات کے نتیجہ میں آئی ٹی کارپوریشنوں کے ڈیٹا سسٹمز اور ایلگوردمک کنٹرول نظاموں تک ایک آدمی کو رسائی حاصل ہو جائے اورکسی نہ کسی حد تک ایک عام آدمی آئی ٹی کے استعمال کو سیلف ریگولیٹ کرنے کے قابل ہو جائے لیکن جب تک اس سیلف ریگولیٹری نظام کا مقصد حرص و حسد کا فروغ رہے گا اس وقت تک تحکم قانون سرمایہ یعنی سرمایہ دارانہ جمہوریت غالب رہے گی۔ اس طرح فیس بک، گوگل اور ایمزون جیسی کمپنیوں اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو فوری تحویل میں لینے اور ان شعبوں میں نجی ملکیت کو سرکاری ملکیت سے تبدیل کرنے کا نتیجہ تعطل تحکیم قانون سرمایہ (سرمایہ دارانہ جمہوریت )کی صورت میں برآمد نہ ہو گا کیونکہ ریاستی ملکیت کی کارفرمائی کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو گا۔ اشتراکی سرمایہ داری ،لبرل سرمایہ داری کا تسلسل ہے۔ اس کا تصور حیات و کائنات تحریک تنویر (enlightenment)کے مفروضات اور بیانیہ کی مادی تشریح کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ وہ انہی اقدار یعنی آزادی، ترقی اور مساوات کے اجتماعی حصول کے لیے جدوجہد کی متقاضی ہے جن کو لبرل ازم انفرادی سطح پر حاصل کرنا چاہتی ہے۔ نہ لبرل ازم کو نہ اشتراکیت کو اس بات کا شعور ہے کہ سرمایہ دارانہ بحرانوں (اطلاعاتی، ماحولیاتی، وبائی، علمیاتی، معاشی، معاشرتی) کا اصل سبب روحانی ہے، ہیئتی (structural)نہیں۔ سرمایہ داری انسانیت اور کائنات کو اس لیے تباہ کر رہی ہے کہ فرد سرمایہ کا غلام یعنی حرص و ہوس کے شیاطین کا پجاری بن گیا ہے۔ جب تک یہ پوجا جاری رہے گی کائناتی بحران عمیق سے عمیق تر ہوتے چلے جائیں گے۔ ان بحرانوں اور ان کے ہیئتی اشکال مثلاً سرمایہ دارانہ جمہوریت سے نجات حاصل کرنا ہے تو پوری دنیا میں اسلام کے نور سے منور کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہی ہم اسلامی انقلابیوں کا اصل فریضہ ہے۔ وہی دیرینہ بیماری رہی ناممکن دل کی علاج اس کا وہی نشاط انگیز ہے ساقی جاوید اکبر انصاری