کتب خانہJAS Library

پاک افغان کشمکش

رسالہاردو۵ نومبر ۲۰۲۵کتب و مضامین
حصہ ۱

پاک افغان کشمکش – ایک افسوس ناک حادثہ حادثہ کی نوعیت پاکستان کے افغانستان سے تعلقات تو 2021ء سے ہی سے تھے لیکن اس نے جنگ کی صورت اکتوبر 2025ء میں اختیار کی جب پاکستان نے افغانستان پر محدود حملے کیے اور کچھ سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں دونوں طرف کے چند سپاہی مارے گئے۔ اس حملہ سے تقریباً دو ماہ قبل ٹرمپ نے افغانستان میں اپنا کھویا ہوا ہوائی بیس واپس لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر یہ اڈا واپس نہ کیا گیا تو کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سامراج پاکستان افغانستان تعلقات کی کشیدگی کو ہوا دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کو شکایت ہے کہ افغانستان سے اس کے سرحدی علاقوں پر عسکری حملے ہو رہے ہیں جن کی روک تھام کے لیے افغان حکومت کچھ نہیں کرتی۔ پاکستان یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا ارادہ ہے کہ دیوبندی علما کے ذریعے طالبان سے تعلقات فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جو حزب اختلاف کا حصہ ہے تحریک انصاف ہے۔ حکومت کے اس موقف کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں وہ پاکستانی حکام کا اسی طرح ساتھ دیں گے جیسے انہوں نے بھارت کے ساتھ جنگ میں دیا تھا۔ لیکن پاکستان کی تمام اسلامی جماعتیں اس تنازعہ کو اس نظر سے نہیں دیکھتیں۔ ان کا غیر جانب داری کا رویہ ہے اور اس کشمکش کو ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان اور طالبان کے درمیان مصالحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اپنی مصالحت کی پیش کش کی ہے۔ الحمدللہ 24 اکتوبر کو ترکی اور قطر کی کوششوں کے نتیجہ میں ایک دیرپا امن معاہدہ جس کو پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ طور پر اس کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اس مصالحت میں ٹرمپ کی شدید خواہش کے باوجود سامراج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ امن معاہدہ دیرپا ثابت ہو گا اور اس میں سامراجی امریکی اور بھارتی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ افغانستان کی ذمہ داریاں اس معاہدہ کو دیرپا بنانے کے لیے دونوں ممالک کی ذمہ داریاں ہیں۔ افغانستان نے اپنی خود مختاری حاصل کرنے کے فوراً بعد یعنی ستمبر 2021ء میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک میں عسکری کارروائی کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ ایک نہایت دانش مندانہ فیصلہ تھا جس پر طالبان کی حکومت اب تک اصولاً قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان ایک چھوٹا سا اسلامی ملک ہے جو سامراج کی یلغار کا مقابلہ کر رہا ہے جس کی سیاسی تنہائی کو فروغ دینے کے لیے اور معاشی اور معاشرتی استحکام برپا کرنے کے لیے سامراج نے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اس کے باوجود طالبان کی حکومت مثالی عدل کی فراہمی کے ذریعے ملک بھر میں امن اور معاشرتی استحکام قائم کر لیا ہے۔ معیشت ترقی پذیر ہے اور اسلامی حکومت کو عوام کا بھرپور اعتماد اور حمایت حاصل ہے۔ تین سال کے قلیل عرصہ میں حاصل کی ہوئی ان کامیابیوں کو محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان حالات میں جنگ چھیڑنا معاشی اور معاشرتی استحکام کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ کئی بڑے ممالک امریکا کے نظاماتی تسلط سے بیزار ہیں۔ روس، چین، ایران کو اپنا حلیف بنانا افغانستان کی تزویراتی ضرورت ہے۔ اسی طرح ترکی اور پاکستان سے تعاون فروغ دینا افغانستان کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں عسکری دخل اندازی کوئی مفید نتیجہ نہیں نکال سکتی۔ پھر پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور مشرقی ترکستان میں کارفرما عسکری تحریکیں تو مدت دراز تک جاری رہ سکتی ہیں لیکن نظم اجتماعی (ریاست) میں نوعی تبدیلی کبھی نہیں لا سکتیں۔ یہ مسلم ممالک میں سامراجی امریکی بھارتی مداخلت کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ ان کی حیثیت مروجہ انقلابی عمل موجود نہیں جو ادارتی سطح پر عوام کو مقتدرہ معطل کر کے غلبہ دین کا حمایتی بنا دے۔

حصہ ۲

پاکستان کی ذمہ داریاں افغانستان سے امن کو فروغ دینا پاکستان کی ضرورت بھی ہے۔ یہ ضرورت دفاعی اور تزویراتی بھی ہے اور معاشی اور معاشرتی بھی۔ پاکستان بھی سامراجی معاون ہے۔ اکتوبر میں امریکا نے بھارت کے ساتھ دس سالہ دفاعی معاہدہ کیا جو دونوں ملکوں میں اطلاعات کی ترسیلات اور فوجی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دے۔ پاکستان بھارت کے فوجی نشانے پر ہے اور یہ معاہدہ بھارت کی فوجی استطاعت میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ ایسے میں پاکستان کی مغربی سرحد پر محاذ کھولنا کہاں کی دانش مندی ہے۔ پاکستان کو افغانستان سے عنقریب ایک دفاعی معاہدہ کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان افغان حکومت کو تسلیم کرے۔ حالیہ امن معاہدہ کو ایک طویل المدت دفاعی معاہدہ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی سالانہ برآمدات میں بڑا حصہ عموماً پاکستان کا رہتا ہے۔ اب یہ برآمدات بند ہیں اور ترسیل زر کے تمام قانونی راستے معطل کر دیے گے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ افغان ٹرانس ٹریڈ کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ تجارت کی اس معطلی سے افغان معیشت کو دھچکا تو یقیناً لگے گا لیکن اس سے زیادہ نقصان خیبر پختون خوا کی معیشت کو بالخصوص فاٹا کے علاقے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اور یہ صوبے کے معاشی استحکام کو برباد کر سکتا ہے جہاں کے عوام افغانستان سے گہرے معاشرتی روابط رکھتے ہیں اور اس تجارتی بندش کو اپنی معیشت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ افغانستان کو ان تجارتی بندشوں سے جلد یا بدیر نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نے حال ہی میں ایران سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی ترسیل کے لیے بندرعباس کی بندرگاہ پر سہولتیں حاصل کی ہیں لیکن ہمارے سرحدی علاقہ افغانستان مارکیٹ کی دسترس ایک مدت تک کھو دیں گے۔ تجارتی بندشوں کا جلد از جلد خاتمہ پاکستانی معیشت کی ضرورت ہے۔ ان بندشوں کے خاتمہ کا فائدہ ہماری صنعتوں کو ہو گا جو عنقریب افغان مارکیٹ پر چھا جائیں گی۔ ایران بھی اس بندش سے فائدہ اٹھائے گا۔ 2025ء میں افغانستان کی 33 فیصد درآمدات ایران نے فراہم کی تھیں۔ جاوید اکبر انصاری