جرمنی میں لبرل ڈیموکریٹک تحلیل December 2025
جرمنی میں لبرل ڈیموکریٹک نظم کی تحلیل امریکا کے بعد جرمنی عالمی سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کو سہارا دینے والی سب سے اہم قوت ہے۔ یہ یورپی سامراج کی سرخیل قوت ہے اور اسرائیل کی کلیدی حلیف۔ یہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور یورپی تنویری اور رومانوی فکر کی تخلیق اور ترویج میں جرمنی کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ آج پوری دنیا کی طرح جرمنی میں بھی لبرل ڈیموکریٹک نظم ریاست شکست وریخت کا شکار ہے۔ یہ مضمون جرمنی میں لبرل جمہوری نظاماتی عمل کی بتدریج تحلیل کا ایک دائرہ پیش کرتاہے۔ تاریخی پس منظر انیسویں صدی تک موجودہ جرمنی کئی آزاد رجواڑوں میں منقسم تھا جس کو Honozollen خاندان نے اپنی ریاست پروشیا کے تحت متحد کیا۔ اس نئی ریاست کا سب سے اہم قائد بسمارک تھا جس نے ایک ایسا استبدادی نظم قائم کیا جس میں کئی سوشل ڈیموکریٹک حقوق اور مراعات فراہم کی گئیں۔ پروشیا کی ریاست نے تیزی سے اپنی قوت میں اضافہ کیا اور 1880 ء کی دہائی تک سامراجی لوٹ مار میں بڑے پیمانے پر شامل ہونے کے قابل ہو گئی جو پہلی جنگ عظیم پر منتج ہوا۔ جب پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست ہوئی تو جنگ کے فاتحین (برطانیہ، فرانس اور امریکا) ہونوزلن خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے لبرل ڈیموکریٹک نظم ریاست مسلط کیا۔ یہ نظام جس کو ویمر ریپبلک کہتے ہیں 1919ء میں قائم ہوا لیکن 1918ء میں سپارٹیکس تحریک کے ذریعہ سوویت یونین کے طرز کی اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاست قائم کرنے کی کوشش کی گئی جس کو کچلنے کے لیے مقامی لبرلوں کو پھر فرانس اور برطانیہ اور امریکا کا سہارا لینا پڑا۔ ویمر ریپبلک 1919ء سے 1933ء تک قائم رہی لیکن لبرل جمہوری نظم ریاست مستحکم نہ ہو سکا اور 1926ء کے بعد سے فاشسٹ تحریک بتدریج عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی چلی گئی۔ 1933ء میں ہٹلر نے جمہوری دستوری عمل کے ذریعے ہی ریاست پر قبضہ حاصل کر لیا۔ 1933ء سے 1945ء تک فاشسٹ اقتدار قائم رہا۔ یہ ایک استبدادی جمہوری نظام تھا جس میں بہت سے لبرل جمہوری حقوق تو معطل تھے لیکن بسمارک کی کئی سوشل ڈیموکریٹک حقوق اور مراعات عوام کو فراہم کیے گئے۔ فاشسٹ حکومت کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور اس کی جرمنی کی سرحدوں کو وسیع کرنے کی پالیسی نہایت مقبول تھی۔ اس پالیسی کے تحت 1939ء تک جرمنی نے کئی مغربی ممالک کو فتح کر لیا اور اپنی سامراجی فتوحات کو افریقہ میں توسیع دی۔ اسی دور میں یورپ کی دیگر فاشسٹ ریاستیں (اٹلی، اسپین اور پرتگال) جرمنی کی حلیف بنی رہیں۔ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی جس کے خاتمہ پر امریکا اور سوویت یونین نے جرمنی پر قبضہ کر لیا۔ جرمن ریاست دوبارہ تقسیم ہو گئی اور فاتحین (امریکا اور سوویت یونین) اپنی مرضی کے مطابق اپنے مقبوضہ علاقہ میں اپنا ریاستی نظام مسلط کیا۔ مشرقی جرمنی میں استبدادی جمہوری نظام مسلط کیا گیا اور 1968 میں امریکی فوج کے زیر تسلط لبرل جمہوری نظام مغربی جرمنی پر مسلط کیا گیا۔ 1989ء میں مشرقی جرمنی کا سقوط عمل میں آیا اور جرمنی ایک لبرل جمہوری نظام کے تحت متحد کر دی گئی۔ دور حاضر کی جرمن ریاست: جرمن ریاستی نظام کبھی بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔ متحدہ جرمنی کی تقریباً 200 سالہ تاریخ لبرل جمہوریت کے غلبہ کا دور رہا ہے اور جرمن عوام کا ایک معتد بہ حصہ کبھی بھی لبرل اقدار کو اپنا نہ سکا۔ یہ الگ بات ہے کہ قانونی پابندیوں کی وجہ سے فاشسٹ حامی بہت عرصہ تک زیر زمین جانے پر مجبور ہو گئے۔ فاشسٹوں کی حالیہ نمایندہ سیاسی جماعت Alternative for Germany ہے جو کہ لبرل ڈیموکریٹس کے سامنے بڑا چیلنج پیش کر رہی ہے اور جس نے دائیں بازو کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور اس کی حلیف کرسچن یونین کو کمزور کر دیا ہے۔ اے ایف ڈی ایک نسل پرست تنظیم ہے جو جرمنی میں لاکھوں تارکین وطن کے لبرل ڈیموکریٹک حقوق کو سلب کر کے ان کو ملک سے نکالنے کی وکالت کرتی ہے۔ تارکین وطن کے خلاف نفرت جرمن عوام میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور 2025 کے انتخابات میں تارکین کے ضمن میں اختیار کی گئی پالیسی سب سے اہم ایشو تھا۔ جرمن عوام کی نظر میں تارکین سے سلوک جرمنی میں بڑھتی ہوئی معاشی ابتری اور ریاستی ماحولیاتی بحران سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ اے ایف ڈی یورپی یونین کے ان قوانین کی شدت سے مخالفت کرتی ہے جو تارکین کے لبرل جمہوری حقوق کا کسی حد تک تحفظ کرتی ہیں۔
اے ایف ڈی کا اصل مقصد لبرل جمہوری نظام کی تسخیر اور اس کی جگہ ایک نسل پرست فاشسٹ ریاستی نظام کا احیا ہے۔ وہ سوشل ڈیموکریٹک اقدامات کی مخالفت نہیں کرتی اور اس سے بائیں بازو کی جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اے ایف ڈی کا اصل ہدف دائیں بزو کی جماعتیں ہیں جو اس کے دباؤ کے تحت اے ایف ڈی کی وضع کردہ پالیسیاں اختیار کر رہی ہیں۔ 2024 میں حالیہ چانسلر کی حمایت یافتہ چند جماعتوں نے تارکین کے ضمن میں ایک ایسا بیانیہ پارلیمنٹ میں منظور کروایا جو اے ایف ڈی کے موقف سے ہم آہنگ ہے اور جس کی اے ایف ڈی کے نمائندوں نے حمایت کی۔ 2020 کے انتخابات جدول نمبر ایک میں جرمنی کے تین انتخابات میں پارٹیوں کے عمومی ووٹوں کا حاصل شدہ تناسب پیش کیا گیا ہے۔ اس تناسب کے مطابق پارلیمنٹ میں سیٹوں کی تقسیم کی جاتی ہے۔ جدول ایک: جرمن انتخابات میں مجموعی ووٹوں کا حاصل شدہ تناسب فیصد میں 2020 2021 2017 پارٹیاں 82.3 76.4 76.29 دہندگان کا تناسب 28.5 24.1 32.9 CDU-CSU 16.4 25.7 20.5 SPD 11.6 14.0 8.9 4.1 11.3 10.7 FDP 20.6 10.4 12.6 AID 8.7 9.9 9.7 5.0 0 0 BSW انتخابات سے قبل تین جماعتوں CSD/CSU, SPD کی حکومت قائم تھی۔ 2021 کے انتخابات میں اس اتحاد کو مجموعی رائے دہندگان کے 10.7 فیصد کم ووٹ ملے۔ CDU/CSU کے ووٹوں میں اضافہ ہوا لیکن وہ اکیلے حکومت بنانے کے قابل نہ ہوئی۔ اور اس کو شکست خوردہ SPDکے ساتھ اشتراک کرنا پڑا۔ اس اتحاد کی ضرورت AID کو حکومت سے باہر رکھنے کے لیے بنایا گیا کیونکہ جرمنی کی تمام لبرل جماعتوں نے AID سے اتحاد نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ انتخاب میں واضح کامیابی دو فریقوں نے حاصل کی۔ AID اور بائیں بازو کی جماعتیں BSM بائیں بازو کی جماعتوں کا مشترکہ ووٹ 2011 کے مقابلہ میں 4.9 فیصد سے بڑھ کر 13.6 فیصد ہو گیا۔ AID کے ووٹ کا تناسب 2021 کے مقابلہ میں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھا۔ وہ اب جرمن پارلیمنٹ کی دوسری سب سے بڑی جماعت ہے اور اس کی کامیابی کا ایک سبب دہنددگان کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ بھی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہت سے شہری جو پہلے ووٹ نہ دیتے تھے اب AID کے حمایتی بن گئے ہیں۔ یہ انتخابات جرمنی کی روایتی لبرل جماعتوں سے انحطاط لبرل نظم اجتماعی کی تحلیل کی نشان دہی کرتی ہیں اور امریکا کی طرح جرمن عوام بھی لبرل جمہوریت سے مایوس اور اس کے انتہا پسند دائیں بازو اور بائیں بازو کے مخالفین کی حمایتی بنتے جا رہے ہیں۔ KID اور بائیں بازو کی جماعتوں کے انتخابی عمل کے غیر شفاف ہونے کا الزام الیکشن اتھارٹی پر پہلی مرتبہ لگا ہے۔ لبرل نظام کی بڑھتی ہوئی کمزوری کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ CSD اور SPD میں اتحاد ٹرمپ کے دباؤ کے تحت قائم کیا گیا۔ امریکا دیگر مغربی یورپی ممالک کی طرح جرمنی بھی معاشی اور سماجی ابتری کا شکار ہے۔ مجموعی پیداوار کی شرح نمو گر رہی ہے، آبادی گر رہی ہے اور اس میں بوڑھوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ ماحولیاتی کثافت میں اضافہ شکست خوردہ معاشی ڈھانچہ ، اس سے بڑھتی ہوئی کشمکش اور امریکی خارجہ پالیسیوں سے ہونے والے خدشات، سب عوام میں لبرل نظام کی کارفرمائی سے مایوسیاں پیدا کر رہے ہیں۔ جرمنی کا موجودہ دستور جرمن حکومت کی بہت سی ایسی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے جن مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت ضروری سمجھتی ہے۔ دستور میں ترمیمات کی ضرورت ہے اور یہ ترمیمات AID کی اعانت کے بغیر موجودہ پارلیمنٹ سے منوانا تقریباً ناممکن ہے۔ لبرل دستوری نظام کی بتدریج شکستگی آج جرمن حکومت کی ضرورت بن گئی ہے۔ اگر اس ضمن میں AID سے تعاون نہ کیا گیا تو دستوری انجماد رونما ہو گا جس کے نتیجہ میں AID کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا اور لبرل نظم اجتماعی کی ناکامی عوام کی نظروں میں اور مستحکم ہو جائے گی۔
AID کو حکومت سے باہر رکھنے کے لیے غیر جمہوری طریقہ اختیار کیے جا رہے ہیں مثلاً 2025 میں قومی اسمبلی کے نائب صدر نے AIDممبران کو پارلیمنٹری کمیٹیوں کی خدمات سے محروم رکھا اور روایتی جماعتوں میں اب AID کو قانوناً کالعدم کرنے کی پالیسی بھی پوری نہیں۔ AID کو بین کرنے کے لیے ملک کی دستور عدالت کو استعمال کرنا پڑے گا اور اس کورٹ کے تمام جج AID کی مخالف جماعتوں نے نامزد کیے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی کارروائی سے AID کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ لبرل جمہوری نظام پر کاری ضرب جرمنی کا دستور حکومتی قرضہ کی بڑھوتری پر پابندی عاید کرنا تھا۔ انتخابات کے فوراً بعد مارچ 2025 میں دونوں حکمران جماعتوں نے قرضہ کی بڑھوتری پر لگائی اس حد بندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے جرمن دستور میں ترمیم کی ضرورت تھی اور دستور میں ترمیم پارلیمنٹ اور سینٹ میں دو تہائی اکثریتی ووٹ درکار تھے۔ 2025 کی منتخب پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی جدوجہد نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس ترمیم کی توجیہ یوکرین کی مدد اور روس کی مفروضہ جارحیت سے مقابلہ کرنے کے لیے فوجی اخراجات میں اضافہ کی بنیاد پر پیش کی گئی۔ فوجی اخراجات 26-2025 کے بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلہ میں دگنے کر دیے گئے اور متوقع قرضہ جات کے حصول کے نتیجہ میں سماجی اخراجات بھی محفوظ رہے۔ جرمنی کے فوجی اخراجات میں اس ہوش ربا اضافہ کو بعد میں یورپی سفارتی حکومتوں نے سراہا کیونکہ یہ یورپی یونین کو نیٹو میں تبدیل کرنے کا پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ دستوری ترمیم کے تحت فوجی اخراجات اور انفراسٹرکچر کے اخراجات کو قرضہ جاتی حد بندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ۔ ان تمام سیاسی مراعات کے باوجود حکمران پارلیمنٹ اور سینٹ میں دو تہائی اکثریت کے حصول کو یقینی نہ بنا سکی۔ لہٰذا Nez نو منتخب چانسلر نے جمہوری نظام پر ایک شب خون مارا۔ جرمن دستور کے تحت نئی منتخب پارلیمنٹ کو انتخابات کے 30 دن کے بعد اختیارات سونپے جاتے ہیں اور اس عرصہ میں پرانی پارلیمنٹ قانون سازی کے مکمل حقوق رکھتی ہے۔ مز کی حکومت نے پرانی پارلیمنٹ سے دستوری ترمیمات منظور کروا لیں۔ نئی پارلیمنٹ کے اجلاس سے کچھ دن پہلے اور یوں جمہوری نظم پر کاری ضرب لگائی۔ آج جرمنی میں یہ مقننہ پر حاوی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ جرمن دستوری عدالت نے پرانی پارلیمان کا 30 دن کے دورانیہ میں حق قانون سازی تسلیم کر لیا۔ پرانی پارلیمنٹ میں بھی دستوری ترمیم کے بل کو نہایت عجلت سے پاس کروایا گیا۔ لبرل جمہوریت کی شکست و ریخت لبرل جمہوری نظام پوری دنیا میں شکست و ریخت کا شکار ہے۔ بائیں اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کا سیاسی عروج لبرل نظاماتی تحلیل کا اظہار ہے۔ کئی کلیدی سرمایہ دارانہ ممالک امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی میں تحلیل کا یہ عمل زور پکڑ رہا ہے۔ لبرل جمہوریت کا مستقبل تاریک ہے۔ وہ اپنے مراکز میں استبدادی جمہوریت کے سامنے شکست خوردہ نظر آتی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا اہم اور سب سے زیادہ بنیادی تضاد ہے۔ سرمایہ داری کا دعویٰ ہے کہ اس کے نظاماتی غلبہ کے دور میں ہر فرد آزاد، خود مختار اور حاکم ہوتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ تعقل کی کارفرمائی اس دعویٰ کو جھوٹا ثابت کر رہی ہے اور جیسے جیسے سرمایہ مرتکز ہوتا جاتا ہے فرد کی آزادی، خود مختاری اور حاکمیت مفلوج ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور فرد سرمایہ کا غلام بنتا چلا جاتا ہے۔ اس کے تحکم سرمایہ دارانہ حقوق افسانوی اور فرضی حیثیت اختیار کیے جا رہے ہیں۔ وہ سرمایہ اجتماعیت قوم پرستی، فاشزم کی عوامی مقبولیت فراہم ہوتی ہے جو بتدریج لبرل نظام کی تحلیل کا سبب بنتی ہے۔ کئی اسلامی تحریکوں کے لبرل جمہوری نظام سے امیدیں وابستہ کی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی تغیرات کے تضادات سے ناواقف ہیں اور ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ لبرل جمہوری نظام اپنے اندرونی تضادات کے اظہار کے طور پر لازماً استبدادیت کو جنم دیتا ہے۔ اسلامی انقلابی تحاریک کو لبرل جمہوری نظام کی کمزوریوں سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جمہوری استبدادیت کی ناگزیر رفع پذیری کے لیے تیاری بھی کرنی چاہیے۔
جاوید اکبر انصاری