کتب خانہLibrary

جمہوری عمل اور انعقاد خلافت

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

جمہوری عمل اور انعقادِ خلافت تبصرہ ”انعقادِ خلافت اور ولی عہدی“ مولف مولانا اشرف بیگ اشرف اور مولانا زاہد صدیق مغل۔ حارث پبلیکیشنز، 2023ء اس کتاب میں بنیادی طور پر ولی عہدی کی شرعی جوازیت کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے اور صرف آخری باب کے آخری دو صفحات (231 اور 232) میں جمہوری عمل کی جوازیت کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ لیکن میری رائے میں جمہوری عمل سے وابستگی یا لاتعلقی کی بحث دورِ حاضر کی اقامت دین کی تحریکات کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے اور اس سوال سے سہو نظر کر کے اس کتاب میں دی گئی فقہی و کلامی بحث امت مسلمہ میں حالیہ جاری ریاستی اور معاشرتی جدوجہد سے لاتعلق ہو کر محض اکیڈمک رہ جاتی ہے۔ ہماری فقہی اور کلامی وراثت کی بنیاد پر دورِ حاضر کی سیاسی اور سماجی جدوجہد کو مرتب کرنا ایک ایسی ذمہ داری ہے جو صرف علمائے کرام اور صوفیائے عظام ہی ادا کر سکتے ہیں اور کوئی نہیں۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی ایک گرا ں قدر کاوش امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ”ولایت فقیہ“ ہے جو ایران کے اسلامی انقلاب کا ماخذ ثابت ہوئی۔ اہل سنت کے اکابر علما نے اس طرف توجہ کم ہی دی ہے۔ بحیثیت مجموعی علما کا گروہ مصلحین پر مشتمل ہوتا ہے۔ وہ حالاتِ حاضرہ سے مصالحت کر کے نفوس عامہ کی ظاہریت اور رسوم و رواج میں اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ علما کا گروہ عموماً مثالیت سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ تاریخی مثالیہ مرتب کرتے ہیں اور اس امر سے سہو نظر کرتے ہیں کہ ان مثالیوں کا دورِ حاضر کی حقیقت سے کیا تعلق ہے۔ جیسا کہ علی شریعتی نے کہا علما اب بھی چوتھی صدی ہجری میں رہ رہے ہیں۔ اس کا سب سے واضح حالیہ اظہار پاکستانی علما کی افغانستان میں جاری ریاستی تعمیر کے عمل سے لاتعلقی ہے۔ لیکن غلبہ دین کی تحریکات کی سربراہی اور رہنمائی بھی دور حاضر میں وہ علما ہی کرتے ہیں۔ امام حسن البنا، امام خمینی، ملا عمر، شیخ اخوند زادہ، امام حسن نصراللہ رحمہم اللہ اجمعین ہی کرتے ہیں۔ یہ وہ علما ہیں جو دور حاضر کے طاغوت سے نبردآزما ہوتے ہیں۔ انقلاب اسلامی کی قیادت علما کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ قیادت بالیقین انہیں کو ملنی چاہیے پہلے امیر المومنین ان میں سے چن کر لائے پہلے کیوں کہ یہی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے حقیقی وارث ہیں۔ کتاب ”انعقاد خلافت اور ولی عہدی “ بنیادی طور پر مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ”خلافت اور ملوکیت“ کا نقد ہے۔ مولانا مودودیؒ وہ راسخ العقیدہ عالم دین ہیں جن کے دو کلیدی اجتہادات اسلام ایک مکمل اور خودکفیل نظام زندگی اور طرز حیات ہے اور مغرب جاہلیت خالصہ ہے۔ دور حاضر کی غلبہ دین کی ہر جدوجہد کے لازماً رہنما اصول ہیں اور جب تک عالمی سرمایہ دارانہ تغلب امت پر مسلط رہے گا انہی اصولوں کی بنیاد پر تعمیر ریاست اسلامی کی جدوجہد کو منظم کیا جائے گا۔ ان معنوں میں یہ رد لازماً مولانا مودودی کا رد ہے۔ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ مولانا مودودیؒ کی فکر غیر تاریخی اور مثالیاتی ہے اور اپنی کمزوری کی دور حاضر کے علمیاتی محاکمہ بالخصوص لبرل ازم اور ریپبلکن ازم سے متاثر ہے اور لبرل از م اور ریپبلکن ازم کا یہ اثر آپ نے اجتہاد مغرب جاہلیت خالصہ ہے کہ عملی اظہار کو کمزورکر دیتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مولانا مودودی استعماری فکر سے متاثر ہیں ۔ جیسا کہ کتاب کے آخری جملہ میں کہا گیا ہے (صفحہ 232)۔ لبرل ازم یقیناً ایک استعماری منہج فکر ہے لیکن مولانا مودودی نے اس کی تشریح مرتب فرمائی ہے وہ غیر استعماری ہے۔ مولانا مودودی کی فکر کی غیر تاریخیت اور مثالیت ان کو فقہی اور کلامی مباحث سے عموماً سہو نظر کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ کتاب ”انعقادِ خلافت اور ولی عہدی“ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شافعی، حنبلی، مالکی اور حنفی فقہ اور کلامی بحثوں کے تجزیہ سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوئی ہیں۔

حصہ ۲

1۔ انعقاد خلافت کا ایک جائز طریقہ ولی عہدی ہے۔ 2۔ ولی عہد کی امامت اہل حل و عقد کی بیعت سے مشروط نہیں۔ 3۔ باپ اور بیٹے کی ولی عہدی بھی جائز ہے۔ 4۔ اہل حل و عقد سے لازم ہے کہ ولی عہد کی اطاعت کریں۔ 5۔ ولی عہدی کوئی تجویزنہیں جس میں قانونی لزوم نہ ہو۔ میں ایک جاہل شخص ہوں اور اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس تجزیہ کی صحت یا عدم صحت پر تبصرہ کروں لیکن میری رائے میں کتاب یہ ثابت نہیں کرتی کہ جمہوری طریقہ میں حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے انعقاد امامت کی گنجائش موجود ہے (صفحہ 231)۔ مصنفین اس رائے کی بنیاد اس مفروضہ پر قائم کرتے ہیں کہ ووٹ دینے والے عوام ارباب حل و عقد کی بیعت حصول شوکت و غلبہ کے لیے موجود ہونا ضروری تصور کیا جائے (صفحہ 231)۔ یہ مفروضہ جمہوری عمل کی حقیقت سے ناواقفیت پر مبنی ہے کیوں کہ جمہوری عمل کا مقصد دور حاضر میں لازماً تحکیم قانون سرمایہ ہوتا ہے۔ جمہوری نظام میں سرمایہ حکومت کرتا ہے عوام قوت اور شوکت کا سرچشمہ ہو ہی نہیں سکتے اور جمہوری معاشروں میں اہل حل و عقد لازماً محروم اور مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جمہوری عمل کا استعمال شرعاً ناجائز ہے۔ علمائے برصغیر پاک و ہند کا اجماع ہے کہ جمہوری عمل کو دفاعِ دین کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی نظاماتی تحدید بھی عملی ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں کی گئی ہے اور جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب ” جمہوریت کی حقیقت “ کے آخری باب میں تجویز کیا ہے کہ جمہوری عمل کو تحکم قانون سرمایہ کو کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں علمائے برصغیر کے اجماع کی بنیاد پر جمہوری عمل کے اسلامی استعمال کے یہ تمام طریقے جائز ہیں اور ان میں سے کون سا طریقہ کب اختیار کیا جائے یہ ایک تزویراتی سوال ہے۔ جس کو شرعی اصولوں کی بنیاد پر اٹھایا جانا چاہیے۔ دوسرا سوال جو اٹھایا جانا چاہیے وہ یہ کہ کیا دورِ حاضر میں ولی عہدی ، اس کی جوازیت کے مطمح نظر دور حاضر میں ایک مفید عہد ہے۔ کیا محمد بن سلمان کی ولی عہدی اور متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان کی ولی عہدیوں اور مراکش کی ولی عہدی کی اطاعت، ان کی اسرائیلی حمایت اور سامراجی کاسہ لیسی کے باوجود آج مفید ہے۔ تحفظ دین کے لیے یا غلبہ دین کے لیے کیا ان ولی عہدیوں کو امت کا خیر خواہ تصور کرنے کا کوئی جواز ہے۔ کیا ولی عہدی کے احکامات کا کوئی تعلق نظم ریاست اسلامی کے اجتماعی احکام سے ہے یا نہیں ۔ کیا ولی عہدی کے احکام مجرد ہیں۔ یہ سوالات اٹھانا آج اقامت دین کی جدوجہد کے لیے لازمی ہے۔ لیکن ان سوالات کو کتاب ”انعقادِ خلافت اور ولی عہدی“ میں نہیں اٹھایا گیا اور اس میں دیا گیا تجزیہ اکیڈمک رہا۔ ان مباحث کو دورِ حاضر میں جاری رہنے والی اقامت دین کی تحریکات سے متعلق کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ میری رائے میں کتاب وہاں ختم ہو گئی جہاں سے اس کو شروع ہونا چاہیے تھا۔ مولانا مودودی پر تو استعماری فکر سے متاثر ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن سامراج کے عسکری حلیفوں (سعودی عرب، عرب امارات، بحرین وغیرہ) کے ولی عہدوں کی جوازیت کی توجیہ اس بحث سے ظاہر ہوتی ہے اس کا کوئی ادراک نہیں۔ دورحاضر کے مسائل سے سہو نظر کرنا مثالی فکر کی بنیادی کمزوری ہے۔ جاوید اکبر انصاری