تسخیر سامراج
تسخیر سامراج کی جدوجہد میں ریاستی اقدام کی تقدیم ہم اسلامی انقلابی ان معنوں میں ہیں کہ مندرجہ ذیل تین اجتہادات پر اپنے عمل کی بنیاد رکھتے ہیں: 1۔ اسلام ایک مکمل خود کفیل نظام زندگی اور طرز حیات ہے۔ 2۔ مغرب جاہلیت خالصہ ہے۔ 3۔ اس دور میں ان دونوں اجتہادات پر عمل پیرا ہونے کے لیے ریاستی اقدام کی تقدیم ضروری ہے۔ اگر ریاستی جدوجہد کو مؤخر کر دیا جائے تو نہ اسلام کی ایک مکمل خود کفیل نظام زندگی کے طور پر تنفیذ ممکن ہے نہ مغربی جاہلیت کی مکمل تردید ممکن ہے۔ پہلے دو اجتہادات پر مخلصین دین اصولاً اعتراض نہیں کرتے گو کہ ان پر بھی عملاً شرح صدر بہت خفیف ہے۔ لیکن تیسرے اجتہاد کو علما کا ایک بڑا حصہ دین کی ایک نئی بدعتی تعبیر تصور کرتا ہے اور اس وجہ سے ایک اسلامی انقلابی جدوجہد کو ناجائز تصور کرتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس غلط فہمی کو دور کرنا ہے۔ ریاست اور معاشرت ہر انسانی اجتماعیت معاشرہ اور ریاست پر مشتمل ہوتی ہے۔ ریاست نظام معاشرت میں پیوست ہوتی ہے۔ ریاست کا مقصد عدل اجتماعی کا قیام بدرجہ تنفیذ قانون ہوتا ہے۔ اگر ریاست نہ ہو گی تو تنفیذ قانون کی ادارتی صف بندی ناممکن ہو گی۔ قانون کا ماخذ بھی (حکم الٰہی، بادشاہ کا فیصلہ، عوامی کی رائے) اس کی تنفیذ کا جواز ہوتی ہے لیکن یہ درست ہے کہ ریاست اور معاشرت میں اقداری ہم آہنگی جتنی مضبوط ہو گی، قانون کی ریاستی ضرورت کم ہو گی۔ ایسا تاریخ انسانی میں کبھی نہیں ہوا کہ معاشرہ میں تمام افراد خود بہ خود رائج شدہ قانونی نظام کی ماتحتی قبول کریں لہٰذا ہر معاشرہ کو کسی نہ کسی حد تک ریاستی تحکیم کی ضرورت رہتی ہے۔ اسلامی ریاست کے ضمن میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام ریاست مدینہ کے بعد سے بارہ سو سال تک قیام ریا۔ آج کے مقابلہ میں معاشرے پر ریاستی قانونی تنفذ تحکم کی ضرورت کم تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ معاشرہ اسلامی اخلاقی اور روحانی رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ معاشرتی اور ریاستی اقدار ہم آہنگ تھے اور عوام کی بڑی تعداد شرع مطہرہ کی مطیع تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاستی عمل معدوم ہو گیا تھا۔ وہاں فوج بھی تھی، عدلیہ بھی تھی، انتظامیہ بھی تھی اور ریاست کا نظاماتی تحکم معاشرہ پر قائم تھا۔ یقیناً اس قسم کے نظم اجتماعی کی موجودگی میں انقلابی عمل نامناسب ہے۔ اس لیے تاریخ ریاست اسلامی میں انقلاب کا تصور اجنبی رہا اور معاشرت اور ریاست میں اصلاح کو فروغ دینے پر اکتفا کیا گیا۔ لیکن مسلم دنیا پر سامراجی غلبہ نے ان حالات کو یکسر تبدیل کر دیا۔ سامراجی تغلب کے ذریعہ اسلامی ریاست کے پورے ڈھانچہ کو مسخر کر لیا گیا۔ اس کے بعد جو نیوکالونیل ریاستیں آزادی کے بعد ظاہر ہوئیں وہ سرمایہ دارانہ ریاستیں تھیں جن کا مقصد سرمایہ دارانہ معاشرت اور انفرادیت کا فروغ تھا۔ سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ کی کلیدی آلہ کار ہے۔ سرمایہ تکاثر کا دوسرا نام ہے یعنی حرص ہو ہوس و حسد کی وہ روحانی قوت جو محنت اور مال سے مستقل گزرتی رہتی ہے ان کی مستقل بڑھوتری کے ذریعے انفرادیت اور معاشرت عوام و خواص کی زندگی پر تاریخی عمل سے ظاہر ہوئی۔ پہلے سرمایہ داروں کا ایک چھوٹا سا گروہ حکومت پر قبضہ کرتا ہے پھر قانون سازی اور ریاستی عمل پوری معاشرت کو حرص و حسد اور ہوس سے بھر کر سرمایہ دارانہ انفرادیت کے فروغ کو ممکن بنا دیتی ہے۔ یہ عمل سولھویں صدی سے یورپ میں جاری ہے اور اس کی وجہ سے آج وہاں عیسائیت اور یہودیت ختم ہو گئی ہیں۔ چین اور بھارت کی مذہبی معاشرتوں نے سرمایہ دارانہ نظام اپنے اندر سمو لیا ہے اور عالمگیریت کے دور میں سرمایہ دارانہ نظریات قوم پرستی، کمیونزم، اشتراکیت کے نتیجہ میں کئی مسلم ممالک سعودی عرب، ترکی، مصر، پاکستان کی سامراجی سرمایہ کاری کا عمل جاری ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ ریاست کے اقتدار کو چیلنج نہیں کیا گیا تو اسلام کو سرمایہ دارانہ معاشرت میں ضم ہو جانے کا امکان ہے۔
اس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے بیسویں صدی کے دو جید علما نے اس دور میں ریاستی عمل کی تقدیم کا اجتہاد فرمایا۔ امام خمینی ایک مستند فقیہ اور عالی درجہ کے جعفری مرجع تقلید تھے جن کی شیعہ روایات اور تہذیب سے وابستگی سب پر عیاں ہے۔ مولانا مودودی متکلم اسلام تھے اور آپ نے اسلامی شعائر کے دفاع کی عمر بھر جدوجہد کی۔ آپ کی تصانیف پردہ، حقوق الزوجین، مسئلہ ملکیت، سود اور سب سے بڑھ کر اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی اس کا ثبوت ہے۔ آپ کی معرکۃ الآرا ء تفسیر تفہیم القرآن میں کوئی ایسی بات نہیں جو اہل سنت والجماعت کے عقائد سے ہم آہنگ نہ ہو۔ اس بات کی تصدیق جید دیوبندی عالم مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے برملا کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلابی سرمایہ دارانہ ریاست اور سامراجی نظام کے خلاف جدوجہد اسلامی عقائد و روایات اور تہذیب کے دفاع اور غلبہ کے لیے کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ تحکم کی بتدریج کمزوری کے نتیجہ ان کا مقصد اسلامی مذہبی روایات کے احیا کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ انقلابی سے عالم کی یہ کیسی ان بن سمجھتے ہو کیوں پہرہ دار کو رہزن آج اسلامی انقلابی پوری دنیا میں سامراج کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں جس کے نتیجہ میں تین ملکوں ایران، افغانستان اور یمن میں اسلامی ریاست قائم ہے اور تحکم قانون سرمایہ معطل ہو چکا ہے۔ تینوں ممالک میں علما برسراقتدار ہیں۔ شرح مطہرہ نافذ ہے اور اسلامی روایات کا احیا ممکن بنایا جا رہا ہے۔ سامراج اسلامی انقلابی جدوجہد کے پھیلاؤ کو اپنے لیے سب سے بڑا نظاماتی خطرہ محسوس کرتا ہے کیونکہ ابھی تک اس کی تخریب کاری اور دہشت گردی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ روس اور امریکا پٹے ہوئے کتوں کی طرح افغانستان سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور حال میں ایران نے اسرائیل اور امریکا کو ذلت آمیز فوجی پسپائی پر مجبور کیا۔ اسلامی ریاست وہ ناقابل تسخیر قلعہ ہے جس کو تباہ کرنے کی سامراجی کوشش اب تک بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ لہٰذا سامراج نے اسلامی انقلابی جدوجہد سے مخلصین دین کو باہر رکھنے کی بھرپور مہم چلائی ہوئی ہے۔ اس نے فنڈنگ کے ذریعے مسلم دنیا میں دانش وروں کا ایک ایسا گروہ پیدا کیا ہے جو وائل حلاق کی سربراہی میں ترکی، مراکش، انڈونیشیا اور پاکستان میں سرگرم عمل ہے۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ دور حاضر میں اسلامی ریاست قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ ریاست اب ایک سرمایہ دارانہ شکل اختیار کر گئی ہے اور اس ہیئت کی تسخیر ناممکن ہے۔ لہٰذا جو کوششیں اسلامی ریاست کو قائم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں ان کے ذریعے سرمایہ دارانہ ریاستی نظام قائم ہو رہے ہیں جن کا کوئی تعلق ان ریاستی نظاموں سے نہیں جو اسلامی تاریخ میں بارہ سو سال تک قائم رہیں۔ یہ دعویٰ اس مفروضہ پر منحصر ہے کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات رفع نہیں کیے جا سکتے یا اگر کر لیے جائیں تو اس کے نتیجہ میں تحکم قانون سرمایہ معطل نہ ہو گا۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اورمعاشرت رائج ہے۔ یہ ہیگل کی اختتام تاریخ کے تصور کی نئی تشریح ہے۔ اسلامی انقلابی اس مفروضہ اور اس پر قائم کی گئی دلیل کو رد کرتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ تغلب ایک افسوس ناک تاریخی حادثہ ہے۔ اور اس کے لاتعداد تضادات کو مہمیز دے کر اس کو معدوم کیا جا سکتا ہے اور افغانستان اور ایران اور یمن میں معدوم کیا جا رہا ہے جہاں شرع مطہرہ نافذ ہے اور تحکم قانون سرمایہ کم از کم جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ تینوں ریاستیں سرمایہ دارانہ عالمی تغلب کے غلبہ میں ہیں اور یہ ان کی تحکم قانون سرمایہ کو معطل کرنے کی استطاعت کو کمزور کر رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے یہ غلبہ کمزور پڑے گا، خود ان کی کوششوں اور دیگر اسلامی ریاستوں کے قیام کے نتیجہ میں ویسے ویسے اس استطاعت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
حلاق کے کچھ شاگرد کہتے ہیں کہ اسلامی ریاست کے قیام کی کوششیں عبث ہیں۔ انقلابی عمل کو ترک کیا جائے اور مخلصین دین اسلامی نظم اجتماعی اور سرمایہ دارانہ ریاست کی خصوصیات کو واضح کرنے کی تعلیم پر لگائیں۔ یہ بدترین نوعیت کی مثالیت پسندی ہے جو فکر و عمل کے باہمی ارتباط سے سہو نظر کرتی ہے۔ وہ یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ نظریہ کو عمل میں ڈھالنے کا وقت نہیں آئے گا۔ لہٰذا ان کے پاس اسلامی نظم اجتماعی کے قیام کا کوئی پروگرام نہیں۔ ان کا اسلامی نظم اجتماعی کا تصور محض ایک خیال ہے کیونکہ اس خیال کو ممکن بنا لینے کا کوئی پروگرام ان کے پاس نہیں۔ انقلابی عمل کے ذریعے مخلصین دین با اختیار اور مقتدر بنائے جاتے رہیں گے۔ انقلابی عمل ترک کر دیا جائے تو مخلصین دین کو کمزور، محکوم اور مجبور گے۔ یہ سامراج اور حلاق کے پیروں میں بیٹھنا ہے۔ جاوید اکبر انصاری