جماعت اسلامی اور سیاست سے پہلو تہی
کیا جماعت اسلامی کو سیاست سے پہلو تہی اختیار کرنا چاہیے مخلصین دین کے کچھ حلقے جن میں جماعت اسلامی کے حمایتی بھی شامل ہیں جماعت کو سیاسی عمل سے قدرے پہلو تہی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس مضمون میں میں کوشش کروں گا کہ اس استدلال کا جائزہ لوں۔ مضمون کے پہلے حصے میں ان مخلصین دین کے اسی استدلال کی وضاحت پیش کی جائے گی اور دوسرے حصہ میں اس کا نقد اور ممکنہ متبادل طریقہ بیان کیا جائے گا۔ مخلصین کا استدلال 1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ تعلیم، تربیت اور تزکیہ نفس کے عمل کا پھیلا ؤ تھا۔ اس انفرادی اصلاح اور تبلیغ کے نتیجہ میں اسلامی معاشرت و ریاست خود بخود وجود میں آ گئی۔ 2۔ سیاست میں حصہ لے کر جماعت اسلامی اپنے اندر للہیت اور تقویٰ کا وہ معیار قائم نہ رکھ سکی جو ایک اسلامی جماعت کو مطلوب ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام سیاسی جماعت بنتی جا رہی ہے یعنی سرمایہ دارانہ ریاست جماعت پر قبضہ کر رہی ہے۔ 3۔ جماعت سرمایہ دارانہ نظام کی تسخیر نہ کر سکی۔ اس کا سیاسی عمل لاحاصل رہا ہے۔ وہ رہ انتخاب میں بری طرح شکست کھاتی رہی ہے اور اس راہ پر چلتے رہے تو آیندہ بھی کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ 4۔ مولانا مودودی 1975ء کے بعد سے سیاسی عمل کی شمولیت سے مایوس ہو گئے ہیں اور پٹھانکوٹ میں اختیار کردہ طریقہ کار کو دوبارہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن شوریٰ نے ان کی بات نہیں مانی۔ ہمارا موقف 1۔ یہ درست ہے کہ تربیت اور تزکیہ ہی وہ عمل ہے جس سے اسلامی معاشرت وجود میں آتی ہے۔ لیکن اس عمل سے اسلامی ریاست وجود میں نہیں آتی۔ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ہجرت اور جہاد ضروری ہے۔ نہ اسلامی معاشرت خود بخود اسلامی ریاست کو جنم دیتی ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ ثابت ہے اور علما برصغیر نے سیرت پاک کے اس پہلو سے اس لیے سہو نظر کیا ہے کہ انہوںالل (یا ان کی غالب اکثریت) نے سامراج سے مصالحت کر رکھی ہے اور سامراج کے سیاسی غلبہ سے اپنے دعوتی کام کو منظم کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بھی بائیکاٹ کرتے اور مسلمانوں کے تمام معاملات کی سرپرستی قبول کرتے۔ ایک ریاست درون ریاست بنائی تھی۔ اس ریاست درون ریاست کی مخالفت کی وجہ سے کفار کی شدید مزاحمت وجود میں آئی ورنہ احناف تو پہلے بھی مکہ میں تھے اور ہجرت کے بعد بھی رہے۔ مدینہ میں ریاست ہی تھی جس نے تنفیذ شریعت کو ممکن بنایا۔ جنگ بدر میں فتح کے بعد ہی کفار کی اکثریت مشرف بہ اسلام ہوئی اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جہاد کے بعد ہی باغی قبائل کا فتنہ رفع کر کے اسلامی ریاست کا اقتدار بحال کیا اور جہاد ہی کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اسلام پھیلا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی معاشرت دعوت و تبلیغ سے مستحکم ہوتی ہے لیکن اسلامی معاشرت کا حدود و اربعہ اسلامی ریاست کا اقتدار ہی متعین کرتا ہے۔ اسلامی ریاست اسلامی معاشرت اور انفرادیت کی لازمی پشت پناہ ہوتی ہے۔ اپنی قانون سازی کے نتیجہ میں اسلامی ریاست وہ نظم اجتماعی مہیا کرتی ہے جس میں اسلامی انفرادیت و معاشرت پھل پھول سکے۔ ایک غیر اسلامی ریاست کا نظم اجتماعی اسلامی معاشرت اور اسلامی انفرادیت کو کچلنے کے درپے مستقل رہتا ہے۔ 2۔ یہ درست ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان اور کارکنان میں اخلاقی اور روحانی زوال آیا ہے لیکن اس زوال کا واحد سبب سیاسی عمل میں شرکت نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو تربیتی لٹریچر اپنے ارکان اور کارکنوں کو جماعت فراہم کرتی ہے وہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے نہایت کمزور ہے اور جماعت کے تربیتی پروگراموں میں تزکہ نفس کے عمل کو فروغ دینے کی بہت کم گنجائش ہے اور صوفیائے عظام کے ملفوظات سے استفادہ بالکل ناپید ہے۔ ذکر کا رواج عام نہیں اور سیاسی عمل کو روحانی اور ثقافتی عمل میں پیوست کرنے کی کوئی کوشش موجود نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم مولانا مودودی کی فکر کو علمائےجہاد حضرت خیر آبادی، حضرت مہاجر مکی، حضرت محمود الحسن کی فکر سے مربوط کرنے میں ناکام رہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے ہم نے پاپولزم کا سہارا لیا اور بتدریج سرمایہ دارانہ اخلاقیات اور روحانیت ہم میں عام ہونے لگی۔
3۔ ہم انتخابی عمل میں عموماً ناکام رہے۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے فطری حلقہ اثر سے روابط استوار کرنے کی کوشش نہ کی۔ یہ فطری حلقہ اثر مخلصین دین پر مشتمل ہے جو ملک کی دس فیصد آبادی پر مشتمل ہے یعنی دو ڈھائی کروڑ افراد جو نہ متحرک ہیں نہ منظم۔ جو مخلصین دین منظم ہیں ان کا تعلق روایتی، مسلکی جماعتوں سے ہے۔ ہم نے اس بات کو نظرانداز کیا کہ روایتی اور مسلکی جماعتیں پاکستان میں تحفظ دین کی تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ مسلکی اور روایتی جماعتیں ہی ہیں جو مخلصین دین کی نمایندہ جماعتیں ہیں جو اسلامی رسوم و رواج اور اسلامی معاشرت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے ذریعہ ہی انقلاب اسلامی کا پیغام عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ براہ راست عوام سے تخاطب لاحاصل ہے کیونکہ نوے فی صد عام غلبہ دین کے متمنی اور خواہاں نہیں۔ اپنے بنیادی حلقہ اثر کو نظر انداز کر کے ہم نے روایتی انتخابی عمل کا سہارا لیا اور اب پاپولزم سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ عدل اور عوامی سرمایہ دارانہ حقوق کے فروغ کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ ریاست جماعت پر قبضہ کر رہی ہے اور جماعت ایک سوشل ڈیموکریٹ پارٹی بنتی چلی جا رہی ہے۔ ہم اسلام کی سرمایہ دارانہ تشریح مرتب کر رہے ہیں۔ ہم اسلام سے دور اور عوام کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ 4۔ ہم مولانا مودودی کے apologist ہیں اور ان ہی اجتہادات کی تشریح مرتب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا مودودی ہمارے مرشد ہیں۔ مودودی پیارا مودودی مودودی تارہ مودودی اک امرت دھارا مودودی ہم سب کا سہارا مودودی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے مرشد کے کام میں پائی جانے والی غلطیوں کو صحیح اور خامیوں سے خالی سمجھیں۔ apologistکا اصل کام ان غلطیوں اور خامیوں کو رفع کرنا ہوتا ہے۔ مولانا مودودی کا بنیادی اجتہاد یہ ہے کہ دور حاضر میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد غلبہ دین کے لیے لازمی ہے اور اس کو دعوتی عمل میں تقدیم دینا چاہیے۔ اسی غرض سے انہوں نے جماعت اسلامی بنائی جس کا اصل مقصد غلبہ دین یعنی قیام ریاست اسلام کی جدوجہد ہے۔ ہماری رائے میں مولانا مودودی نے کبھی اس رائے سے رجوع نہیں فرمایا اور اگر بقول چند مخلصین دین مولانا مودودی 1975ء کے بعد سے اس رائے کو تبدیل کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے تو یہ ان کی غلطی تھی۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت بھی دوسری روایتی جماعتوں کی طرح تحفظ دین پر توجہ مرکوز کرے گی اور غلبہ دین کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی میں ضم ہو جائے گی۔ مولانا مودودی کے دونوں کلیدی اجتہادات (اسلام ایک مکمل طرز حیات اور نظام زندگی ہے اور مغرب جاہلیت خالصہ ہے) پر عمل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ تحفظ دین کا فریضہ روحانی، مسلکی جماعتیں بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ ان کے کام کو replicate کرنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کو ایک لڑی میں پرویا جائے۔ جماعت کو غلبہ دین کی جدوجہد مسلکی جماعتوں کی تحفظ دین کی جدوجہد میں پیوست ہو۔ حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو چلو تو ساری جماعتوں کو ساتھ لے کے چلو 5۔ جماعت اسلامی اصولاً ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے۔ اس کا بنیادی مقصد غلبہ دین یعنی قیام ریاست اسلامی ہے۔ اگر اس نے اپنے اس فریضہ سے کوتاہی کی تو اپنی امتیازی خصوصیت سے محروم ہو جائے گی۔ غلبہ دین نہ سیاسی تقدیم کو ترک کر کے حاصل ہو سکتا ہے نہ پاپولائز سوشل ڈیموکریٹ منہج اختیار کر کے۔ ان دونوں طریقوں کو اختیار کرنے کا مطلب ایک ہی ہے یعنی اسی سامراجی مصالحت کو فروغ دینا جو علمائے برصغیر نے انیسویں صدی کے آخر سے اپنائی ہوئی ہے۔
آج چند مخلصین دین تغلب دین سے اتنے مایوس ہو گئے ہیں کہ وہ جماعت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے اندر سے ایک سیکولر جماعت برآمد کرے جو اس کے سیاسی عمل کی اجارہ دار ہو۔ یہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام اجتماعی میں ضم ہونے کا موثر وسیلہ ہے جو کہ تیونس، اردن، انڈونیشیا اور مصر میں ثابت ہے۔ پاپولزم سیاست بھی جماعت پر سرمایہ دارانہ ریاستی تغلب کے تسلط کا ذریعہ بن رہی ہے۔ جماعت کا مستقبل نہ سیاست کی تقدیم کو رد کرنے میں ہے نہ پاپولزم سیاست کو فروغ دینے میں۔ جماعت کو ایک انقلابی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جس کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہوں: 1۔ عوام سے براہ راست تخاطب کی روش ترک کی جائے۔ 2۔ ہمارا تخاطب اپنے بنیادی حلقہ اثر یعنی مخلصین دین سے ہو۔ 3۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلکی جماعتوں اور روایتی گروہوں کا تعاون حاصل کریں اور ان کے تبلیغی اور تعلیمی جدوجہد سے اپنی تسخیر ریاستی جدوجہد کو مربوط کریں۔ 4۔ اس تعاون کی بنیاد پر ہم ملک بھر میں مساجد اور مدارس کا ایسا نیٹ ورک قائم کریں جس کے ذریعے مخلصین دین کی قیادت میں عوام منظم اور متحرک کیے جا سکیں۔ 5۔ اس نیٹ ورک کی کارفرمائی کا مقصد اقتدار کا ریاستی اداروں سے مخلصین دین کے ہاتھوں میں منتقل ہو۔ 6۔ ہم سرمایہ دارانہ نظم ریاست میں شرکت کی کوششیں کر رہے ہیں اور بین المسالک وفاق المدارس و مساجد کے ذریعے ملک میں ایک غیر سرمایہ دارانہ غیر جمہوری نظم اقتدار قائم کریں جو سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی جوازیت کو بتدریج مفلوج کر دے۔ 7۔ ہمارے انتخابی عمل کا مقصد اسی غیر سرمایہ دارانہ غیر جمہوری نظم اقتدار کا دفاع اور اس کی توسیع ہو۔ نظام سرمایہ داری کو بدلنا ہے تو یہ کرنا ہو گا۔ اے ارکان جماعت تم نے بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ ایک ایسی جماعت قائم کی جس کا وجہ وجود غلبہ دین یعنی قیام ریاست تھا۔ اس وجہ وجود کو فراموش نہ کرو۔ نہ اس کو غیر معینہ مدت تک موخر کرنے کے حیلے بہانے تلاش کرو۔ نہ سرمایہ دارانہ نظم اقتدار میں شمولیت کے خواب دیکھو۔ تم حسینی ہو۔ خدا نے تم غریبوں پر عجب احسان فرمایا علم شبیر کا بے شک تمہارے ہاتھ میں آیا اے ارکان جماعت خبردار امام عالی مقام کا یہ علم سرنگوں نہ ہو نا چاہیے۔ جاوید اکبر انصاری