کتب خانہLibrary

دور حاضر میں برصغیر میں مولانا مودودی کا فکری مقام

رسالہاردو۱۰ اگست ۲۰۲۱کتب و مضامین
حصہ ۱

دورِ حاضر میں برصغیر کے فکری ارتقا میں مولانا مودودیؒ کا مقام برصغیر کے طبقہ علما میں مولانا مودودی کی فکر قدرے اجنبی ہے۔ اس اجنبیت کو رفع کرنا ہمارے لیے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسلامی انقلابی ہیں اور انقلابی عمل کا تقاضا ہے کہ فکر اسلامی کو تمام زاویوں سے مربوط اور مرتکز کیا جائے۔ فکر ی ارتباط کی یہ سعی ہم اس لیے کرتے ہیں کہ ہم علما کے خادم اور مولانا مودودی کے پیرو ہیں۔ مولانا مودودیؒ ایک راسخ العقیدہ متکلم اسلام ہیں۔ آپ فقیہ نہیں اور اپنے کسی فقہی مذہب کی طرف دعوت نہیں دی۔ برصغیر میں متکلمین شاذ و نادر پائے جاتے ہیں اور ماضی قریب میں حضرت امام شاہ ولی اللہ اور حضرت امام فضل حق خیر آبادی کے علاوہ کوئی صف اول کا متکلم نہیں پایا جاتا۔ ان بزرگوں کے ہاں بھی کلامی بحثیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا برصغیر کی فکر اسلامی میں متکلمین کے کام کو وہ اہمیت نہ دی جا سکی جس کی وہ مستحق تھی۔ پھر انیسویں صدی شدید سیاسی اور معاشرتی شکست و ریخت کا دور تھا۔ ویدانتی تشریحات تصوف معاشرہ پر غالب آ گئیں اور تمام تحریکات جہاد (سید بادشاہ، صادق پوری سیدوں، حضرت شریعت اللہ، جہاد 1857ء، حضرت مطب العطاب اور مولانا اسیر مالٹا ) کی جدوجہد سب پسپا ہو گئیں۔ مولانا مودودی نے جس دور میں کام شروع کیا اس دور میں برصغیر پر سامراجی گرفت اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ غلبہ دین کا تصور کرنا محال ہوتا جا رہا تھا اور مولانا محمود الحسن جیسا سرفروش مجاہد بھی انگریزی دستوری نظام کے تحت کام کرنے کا جمعیت علمائے اسلام کو مشورہ دینے لگا تھا۔ اس دور میں علمائے اسلام اور مسلم سواد اعظم ہندوستانی اور مسلم قوم پرستی کا اسیر بن کر کانگرس اور مسلم لیگ کا حمایتی بن گیا۔ پھر سر سید غدار کی سربراہی میں وہ نظریاتی تحریک اٹھی جس نے اسلامی تہذیب کو سرمایہ دارانہ معاشرت میں سمونے کا جواز مرتب کیا۔ یہ تحریک اتنی طاقت ور تھی کہ علامہ اقبال جیسا عاشق رسول اور ندوہ کے راسخ العقیدہ علما تک اس کا شکار ہو گئے۔ مولانا مودودی جدیدیت کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ اس ضمن میں آپ کی تصنیف ”اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی“ علامہ اقبال کی تصنیف "Reconstruction of Religious Thought in Islam"کی تردید میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مولانا مودودی کی فکر ان معنوں میں منفرد ہے کہ وہ جدیدیت کی مکمل اور کلی تردید پر مرتکز ہے۔ جزوی تردید تو علما کی فقہی مباحث میں بھی ملتی ہے لیکن مغرب کا جاہلیت خالصہ ہونے کا تصور مولانا کا امتیازی اجتہاد ہے اور اس جاہلیت خالصہ کے خلاف آپ اسلام کو ایک مکمل خود کفیل نظام حیات گردانتے تھے۔ یہ امام شاہ ولی اللہ کے اجتہاد کی سیاسی تشریح ہے اور اس سیاسی تشریح مرتب کرنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ مولانا مودودی سامراجی نظاماتی غلبہ کے تناظر میں کام کر رہے تھے اور (ان کی رائے میں) سامراجی غلبہ بنیادی طور پر سیاسی ہی تھا۔ ان معنوں میں مولانا مودودی کا کام انیسویں صدی کی تحریکات جہاد کا تسلسل ہے اور آپ مولانا خیر آبادی، حضرت مطب العطاب اور شیخ الہند رحم اللہ اجمعین کے پیرو اور جانشین کہلانے کے مستحق ہیں۔ لیکن غلبہ دین کی آپ کی مرتب کردہ حکمت عملی انیسویں صدی کے مجاہد علما سے اسلوب میں مختلف ہے۔ ایک فرق تو یہ ہے کہ آپ کے مخاطب علما اور عوام الناس نہیں بلکہ عامیوں کا وہ قدرے مختصر گروہ ہے جو جدید نظام سے پیشہ ورانہ طور پر منسلک ہے۔ آپ اسی اقلیتی طبقہ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ مغرب جاہلیت خالصہ ہے اور اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ مولانا کی رائے میں یہ پیشہ ورانہ طبقہ جمہوری عمل کے ذریعہ عوام کی تائید حاصل کر کے ریاستی طور پر با اقتدار ہو سکتا ہے۔ آپ جمہوری عمل کی ناگزیریت کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کی غیر اقداریت کو متصور کرتے ہیں۔ آپ حکومت اور ریاست میں فرق نہیں کرتے اور ریاستی اداروں (فوج، عدلیہ، انتظامیہ، کارپوریشن، میڈیا وغیرہ) کی ہیئت اور کارفرمائی کی کوئی واضح اور مربوط نقشہ بندی آپ کی فکر میں نہیں ملتی۔

حصہ ۲

لیکن اس نوعیت کی نقشہ بندی کم ا ز کم میرے علم تک اسلامی فکر میں بالکل ناپید ہے۔ لہٰذا ہم اسلامی حکومتیں تو قائم کر لیتے ہیں۔ چیچنیا میں، سوڈان میں، مصر میں، ایران میں، افغانستان اور افریقہ کے وسطی مفتوحہ علاقوں میں لیکن یہ حکومتیں سرمایہ دارانہ سامراجی وریاستی گرفت سے آزاد نہیں ہو پاتیں۔ افغانستان میں جہاں ہم نے سامراج کو فیصلہ کن شکست دی، اس کا امکان ضرور موجود ہے کہ اسلامی ریاستی نظام کی داغ بیل ڈالی جائے لیکن یہ لازم نہیں۔ بہرکیف اکیسویں صدی میں تحریکات تحفظ دین اور غلبہ دین کو مربوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مولانا مودودی کے دو اجتہادات (اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور مغرب جاہلیت خالصہ ہے) کی تشریح مرتب کی جائے۔ مولانا مودودی کی فکر سے سہو نظر کر کے آج کے دور میں اقامت دین (ارتباط تحریکات تحفظ اور غلبہ دین) کا فریضہ انجام نہیں دیا جا سکتا۔ ان معنوں میں اسلامی انقلابی جدوجہد میں مولانا مودودی کی فکر حرف اول ہے حرف آخر نہیں۔ اپنے کلیدی اجتہادات کی تشریح آپ کی مجوزہ حکمت عملی کی تشکیل نو کا تقاضا کرتی ہے۔ اس تشکیل نو کے عمل میں علما ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہی کی کا وشوں کے ذریعہ ہمارے مخاطبین کا حلقہ وسیع کرنا تمام مخلصین دین کا احاطہ کر سکتا ہے اور انہی کی قیات میں ایسی معاشرتی ادارتی صف بندی ممکن ہے جو ریاستی اقتدار کو دہریہ مقتدرین کے ہاتھوں سے مخلصین دین کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر جدیدیت سے مقابلہ کرنا ہے تو اسلامی گروہوں کے لیے مولانامودودی کی فکر سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے۔ مولانا مودودی کی فکر وہ ہتھیار ہے جس سے سرمایہ دارانہ سامراج کی عمارت کو مسمار کرنے کا کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سامراج اور اس کے آلہ کار (مثلاً وحید الدین خان) علما کو مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے دور رکھنے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جاوید اکبر انصاری تحدیث نعمت کے طور پر عرض ہے کہ یہ معروضات سب سے پہلے میں نے امیر جماعت ہند حضرت مولانا ابواللیث کی خدمت میں پیش کی تھیں تو آپ نے فرمایا کہ تم معاملہ کو ٹھیک سمجھے ہو۔ اگر ہم اس طرح بیان کریں گے تو ان شاء اللہ ہمارے محبوب مرشد مولانا ابوالاعلیٰ کا کام کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔