کتب خانہLibrary

ساحل سے طوفاں کا نظارہ_تصحیح شدہ

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں ہم اسلامی انقلابی ہیں اور ہمارا تخاطب اصلاً مخلصین دین سے ہے۔ مخلصین دین وہ مسلمان ہیں جو شعائر اسلامی کے پابند ہیں اور جو اسلام کے حق ہونے پر صدق دل سے ایمان لے آئے ہیں۔ مخلصین دین ہی اسلامی انقلابیوں کا بنیادی حلقہ ہیں۔ لیکن ہم اپنی اس بنیادی حلقے کی ہم نوائی حاصل کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انیسویں صدی تحریکات جہاد (سید بادشاہ، جہاد ۱۸۵۷ء، صادق پوری سیدوں، فرائضی تحریک، حضرت قطب الاقطاب اور حضرت شیخ الہند رحم اللہ اجمعین) کو مخلصین دین کے سواد اعظم سے عملاً ساتھ نہ ملا اور برصغیر سامراج اور قوم پرستی کا شکار بن گیا۔ آج بھی مخلصین دین اور اسلامی انقلابیوں میں یہ فکری اور عملی خلیج حائل ہے اور اس خلیج کو عبور کرنا اسلامی انقلابی جدوجہد کے آگے بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس خلیج کے وجود کی بنیادی وجہ انقلابیوں اور مخلصین دین کے نظریاتی تناظر میں اختلاف ہے۔ فرق یہ ہے کہ مخلصین دین آئیڈیالسٹ ہیں اور اسلامی انقلابی آئیڈیالسٹ نہیں۔ آئیڈل ازم کیا ہے؟ آئیڈیل ازم کا صحیح ترجمہ مثالیت نہیں تصوریت ہے۔ اس نظریہ کا اولین با اثر مفکر تو افلاطون تھا لیکن دور حاضر میں اس اسکی توسیع ہیگل کے دائیں بازو کے تلامذہ نے انیسویں صدی میں جرمنی میں کی۔ اس نظریہ کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ تصورات کی کسوٹی پر حاضر و موجود کو پرکھا جانا چاہیے۔ یعنی حقیقت بنیادی طور پر تخیلاتی ہے اور تاریخی عمل تخیلات کے ارتقا کا مظہر ہے۔ تغیر ایک تخیلاتی عمل ہے، مادی عمل نہیں ہے۔ کسی عمل، شے یا واقعہ کی صداقت جانچنے کے لیے اس کو ابدی اور مکمل خیالات کی کسوٹی پر پرکھا جا سکتا ہے اور اس عمل یا شے کو قبول کرنے کا جواز تکمیلی خیال سے اس کی وابستگی پر منحصر ہے۔ آئیڈیل ازم کی جو تشریح مخلصین دین کی صفوں میں مقبول ہوئی وہ ہیگل ازم کے برخلاف رجعتی تھی یعنی اس میں ارتقائے تخیلات کو الٹا دیا گیا۔ مخلصین دین میں مقبول عام تشریح نے قرونِ اولیٰ کا ایک مخصوص تصوراتی خاکہ مرتب کیا اور حالات حاضرہ کے واقعات اور اعمال کو اس پیمانے پر جانچنے کی کوشش کی۔ دور حاضر کے جن دائرہ ہائے کار میں اتباع نصوص نسبتاً سہل نظر آیا ان پر توجہ مرکوز کی اور جن دائرہ ہائے کار کا تعلق اپنے مخصوص تصوراتی خاکہ سے ناممکن لگا ان سے سہو نظر اختیار کیا۔ مخلصین دین کے لیے یہ سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا کہ کس طرح دور حاضر میں ہر گوشۂ حیات میں اتباع نصوص کو ممکن بنایا جائے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مخلصین دین کا قرون اولیٰ کا تصوراتی خاکہ نامکمل اور غیر تاریخی تھا اور دوسری وجہ تھی کہ دور حاضر کے طرز حیات کے جو دائرے نظرانداز کیے گئے ان میں اتباع نصوص ناممکن گردانا گیا کیوں کہ تخیلاتی ارتقا کا دروازہ عملاً بند کر دیا گیا تھا۔ یہ ہیگل کا تصور ”اختتام تاریخ“ ہے۔ اسلامی تصوریت کے علمبردار قرون اولیٰ کو دور اختتام تاریخ تصور کرتے ہیں۔ آئیڈیل ازم کے اثرات آئیڈیل ازم کے تغلب کا بہت گہرا اثر مخلصین دین کی زندگیوں پر ہوا ہے۔ ایک مخلص مسلمان اپنی نجی زندگی میں اتباع نصوص کی کوشش بھی کرتا ہے اور اپنی اظہارِ دین داری سے مطمئن بھی رہتا ہے۔ وہ اپنی پبلک لائف میں اپنی دین داری کے اظہار کو ممکن نہیں سمجھتا۔ اس کی پبلک لائف دہریانہ خطوط پر مرتب ہوئی ہے اور پبلک لائف میں جاری رہنے والا ڈسکورس اس کے لیے ناقابل فہم ہی رہتا ہے۔ غیر اسلامی مسلم ممالک (پاکستان، ترکی، سعودی عرب) اس تضاد کا شکار ہیں۔ وہاں معاشرت تو بڑی حد تک اسلامی ہے لیکن ریاستی نظام تقریباً کلیتاً دہریہ دساتیر کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ دینی اظہار کی اس تحدید کا جو جواز مخلصین دین علماء اور دانش ور مرتب کرتے ہیں وہ عموماً جہادی عمل سے پہلو تہی پر مبنی ہوتا ہے۔ قرون اولیٰ کا جو آئیڈیل ماڈل یہ علماء اور دانش ور وضع کرتے ہیں اس میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے سیاسی اور جہادی عمل کا کوئی پرتو نہیں پایا جاتا۔ تمام تر زور نجی زندگی کی اصلاح پر ہوتا ہے اور اس فکر کا یہ کلیدی مفروضہ ہے کہ انفرادی اصلاح اگر عام ہو جائے تو تمام تر اسلامی نظام تحکم خود بہ خود ظہور پذیر ہو جائے گا کسی سیاسی عمل کی کوئی ضرورت نہیں۔

حصہ ۲

اس ہی آئیڈیل ماڈل کے تناظر میں علمائے دیوبند اور بریلی نے انیسویں صدی کے جہادی عمل سے پہلو تہی اختیار کی اور اس ہی بنیاد پر وہ تحریک استخلاص وطن اور تحریک پاکستان کے ہم نوا بن گئے۔ ان کی رائے میں ایک دہریانہ نظام میں انفرادی اصلاح کا عمل خود بہ خود اس دہریہ نظام کی اسلام کاری کو ممکن بنا دے گا اور وہ مخلصین دین کے سواد اعظم کو اس رائے پر مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چنانچہ عام مخلصین دین یا تو سیاسی عمل سے بالکل لاتعلق ہو گئے یا انہوں نے دہریہ پبلک لائف میں شمولیت کو قبول کر لیا۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر کہ اس قسم کی شرکت ان کی ذاتی اور نجی مذہبیت پر اثر انداز نہ ہو گی۔ ظاہر ہے یہ مفروضہ بالکل غلط تھا اور پبلک لائف کی سیکولرائزیشن نے نجی اور معاشرتی زندگی کو بھی سیکولرائز کر دیا اور کر رہا ہے۔ اسلامی انقلابی موقف برصغیر میں آئیڈیل ماڈل کی تردید مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب فرمائی۔ آپ انیسویں صدی کے علمائے جہاد کے پیرو اور جانشین ہیں۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح مولانا مودودیؒ بھی قیام ریاست اسلامی امت کا ایک فرض کفایہ گردانتے ہیں اور اس آئیڈلسٹ مفروضہ کو رد کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی تعلیمات کی پیروی آج کے دور میں ناممکن ہے اور اسلامی نظام زندگی انفرادی اصلاح کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں خود بہ خود وجود میں آ جائے گا۔ قیام ریاست اسلامی کی جدوجہد مولانا مودودیؒ کی فکر میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ ریاست - نظام اقتدار - جس معاشرہ میں قانون اور انتظامیہ کے ذریعہ اقتدار مرتکز ہو گا وہاں ریاست قائم ہو گی۔ حکومت ریاست کا ایک جزو ہے۔ ریاست کے بغیر حکومت قائم نہیں کی جا سکتی۔ جب تک ریاست مدینہ قائم نہ ہوئی اسلام احکام نافذ نہیں کیے جا سکے۔ خوارج نے اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت سے انکار کیا اور اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت کر دی۔ ریاست مغرب کی ایجاد نہیں۔ انسانیت کی معلوم تاریخ کے ہر دور میں ریاستی تنظیم مرتب کی جاتی رہی ہے۔ شریعت کی تنفیذ قیام ریاست اسلامی کے بغیر بالکل ناممکن ہے۔ آج جن دو ممالک ایران اور افغانستان میں شرع نافذ اور اقتدار علماء کے ہاتھ میں ہے وہاں اسلامی ریاستیں قائم ہیں۔ یہ غیر معمولی اسلامی ریاستیں ہیں ان معنوں میں کہ ایک عالمی دارالحرب میں گھری ہوئی ہیں۔ ان کے عمل کو کسی آئیڈلسٹ پیمانہ پر ناپ کر ان سے لاتعلقی اور بے زاری کا اظہار ان کے دشمنوں کی حمایت کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ کھٹکتے ہیں کانٹے کی طرح تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو آج مخلصین دین پاکستان ان اسلامی ریاستوں سے بالکل لاتعلق ہیں۔ مخلصین دین کے حلقوں میں اسلامی ایران پر لعن طعن تو عام ہے اور یہ فرقہ واریت کا بدترین اظہار ہے۔ افغانستان کے اسلامی انقلاب کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ قیام ریاست اسلامی افغانستان میں اسلام کی شکست کا پیش خیمہ ہے۔ جو لوگ اس قسم کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں وہ نادانستہ انارکسٹوں کی تقلید میں مارکس کے تصور تحلیل ریاست پر ایمان لے آئے ہیں۔ ظاہر کہ ریاست کی تحلیل کا کوئی تصور یا خاکہ خیر القرون سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ فرنگیوں کا یہ افسوں ہے قم باذن اللہ ریاست مغرب یا سرمایہ داری کی تخلیق نہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ سرمایہ دارانہ ریاست کی معاشرتی دست رس نہایت وسیع ہو گئی ہے۔ آج سرمایہ دارانہ اقتدار (یعنی سرمایہ دارانہ ریاست) مسلم ممالک میں انفرادیت اور معاشرت پر مسلط ہے اور اس تسلط سے سہو نظر کرتے ہوئے انفرادی اصلاح اور تطہیر نفوس کی جدوجہد اس اقتداری تسلط کے اثرات کو زائل نہیں کر سکتی۔ لہٰذا دورحاضر میں ریاستی جدوجہد جتنی ضروری ہے پہلے ادوار میں کبھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں مولانا مودودی اور امام خمینی کی فکر اسلامی انقلابی جدوجہد کے رہنما اصول مرتب کرتی رہے گی۔ یہ دور مولانا مودودی کا دور ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک سرمایہ دارانہ اقتدار کا شیرازہ بکھر نہیں جاتا۔

حصہ ۳

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس دور میں اصلاح فرد اور تطہیر نفوس کا کام غیر اہم ہے۔ مخلصین دین کی انفرادی اصلاح کی کوشش کا جاری رہنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ یہی جدوجہد اسلامی انقلابی عمل کی بنیادی فراہم کرتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کو اس طرح مربوط کیا جائے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کی انفرادی زندگیوں اور معاشرت پر گرفت بتدریج معدوم کی جاتی رہے اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر مخلصین دین کے ریاستی اور معاشرتی اقتدار کے قیام اور توسیع کی گنجائش پیدا کی جائے۔ اصلاحی اور انقلابی فکر اور عمل میں اتحاد دور حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جاوید اکبر انصاری