اسلامی اصولِ قانون سازی اور جمہوری عمل
اسلامی اصولِ قانون سازی اور جمہوری عمل میں اس مضمون میں پہلے جمہوری قانون سازی کے عمل کی اجمالی تفصیل بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ پھر اسلامی اصولِ قانون سازی (اصولِ فقہ) کے ساتھ ان کا موازنہ کرنے کی کوشش کروں گا اور آخر میں جمہوری عمل میں دورِ حاضر کی اسلامی جماعتوں کی شمولیت کی نوعیت کو واضح کروں گا۔ دورِ حاضر کا جمہوری عمل ہم نمائندہ جمہوریت(Representative Democracy) کے دور میں ہیں اور اس نمائندہ جمہوریت کا معاشرتی سیاق و سباق سرمایہ دارانہ ہے۔ یعنی منتخب نمائندے جس انفرادیت کی نمائندگی کرتے ہیں وہ سرمایہ دارانہ تعقل (rationality) کا آلہ کار تصور کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل یہ ہے کہ فرد اپنے نفس امارہ کے احکامات کی ایسی ترتیب متعین کرتا ہے جو معاشرہ کے تمام افراد کے لیے اتباعِ نفس امارہ ممکن بنا سکے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ معاشرہ اور ریاست میں اصل حاکم نفس امارہ ہوتا ہے۔ جمہوری عمل نفس امارہ کی حکومت کو ایک خاص طریقہ سے وضع کرتی ہے۔ جمہوری ریاستوں میں عوام براہ راست حکومت نہیں کرتے۔ اقتدار شخصی نہیں ادارتی ہو جاتا ہے اور جو ادارے براہ راست حکومت کرتے ہیں وہ ریاستی بھی ہوتے ہیں اور معاشرتی بھی (کارپوریشن، میڈیا، عدلیہ، انتظامیہ، فوج اور مقننہ) اور حکومت کرنے کا تعقلی(rational) ذریعہ قانونِ سرمایہ ہوتا ہے۔ قانونِ سرمایہ کے دو جزو ہیں۔ قانونِ قدر(law of value)۔ یہ معاشی اور بتدریج معاشرتی عمل پر محیط ہو جاتا ہے۔ اور اس کے مطابق ہر شے اور عمل کی قدر اس بنیاد پر متعین کی جاتی ہے کہ اس کے ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری میں کتنا اضافہ ممکن ہے۔ جو شے یا عمل بڑھوتری سرمایہ کے گردشی چکر میں نہیں سموئی جا سکتی اس کی کوئی قدر تسلیم نہیں کی جاتی (مثلاً عبادات، صلح رحمی، ایثار وغیرہ)۔دوسرا ذریعہ فراہمی سرمایہ دارانہ انفرادی اور معاشرتی حقوق(Capitalist rights)۔ جب قانونِ قدر اور فراہمی حقوق سرمایہ کو مدغم کیا جاتا ہے تو تحکم قانونِ سرمایہ قائم اور مستحکم ہو جاتا ہے۔ یہ جمہوری عمل ہے۔ قانونِ قدر اور فراہمی حقوق کی پیوستگی کی کئی سرمایہ دارانہ جہتیں ہیں۔ لبرل، اشتراکی، سوشل ڈیموکریٹ، قوم پرست وغیرہ اور یہ سب جمہوری ہیں۔ ان میں کسی میں بھی عوام براہِ راست حکومت نہیں کرتے۔ اقتدار سرمایہ دارانہ تعقلی اداروں (کارپوریشن، میڈیا، عدلیہ، فوج، انتظامیہ اور مقننہ) کے ہاتھوں میں رہتا ہے اور ہر جگہ یہ ادارے نفس امارہ کے احکامات کی تعمیل کے لیے مخصوص حکمت عملیاں مرتب کرتے رہتے ہیں۔ عوام کا سرمایہ دارانہ جمہوری حق یہ ہے کہ وہ اداروں کی مرتب شدہ تزویراتی حکمت عملی کی وقتاً فوقتاً تائید یا تردید کرتے رہیں۔ مقتدر ادارے صرف اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ عوامی تائید یا تردید کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنی سرمایہ دارانہ تزویراتی حکمت عملی میں ترمیم کرتے رہیں۔ اس چیز کو روسو نے "obeying the general will" اور ماؤ نے "following the mass line" کہا تھا۔ کوئی لینن کا پجاری کوئی لنکن کا مرید پیروئے احمد مختارؐ یہاں کوئی نہیں یہ بات بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ آج سرمایہ دارانہ جمہوری نظام ایک اہم ساختی عدم توازن کا شکار ہے۔ قانونِ قدر کا دائرہ عمل مستقل وسعت پذیر ہے لیکن سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق کا دائرہ ابھی تک قومی ریاستی تنظیم سے اوپر نہ اٹھ سکا۔ عالمی کارپوریشنیں، عالمی میڈیا تو موجود ہیں اور عالمی اشیائی اور حرام خور(Financial Market) مارکیٹیں بھی ہیں لیکن کوئی اقتدار عالمی انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ اور فوج موجود نہیں اور نہ اس قسم کے اداروں کے قیام کے کوئی مبہم سے مبہم اشارے نظر نہیں آتے بلکہ بیش تر صف اول کے سرمایہ دارانہ فلسفی مثلاً رالز اور ہابرماس تو ان کے وجود کو ممکن ہی نہیں سمجھتے۔
یہ درست ہے کہ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ سامراجی باجگزاری عام ہے اور بیش تر مسلم ممالک کی حکومتیں سامراج کے غلاموں اور پٹھوؤں کے ہاتھوں میں ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظاماتی خلفشار سے فائدہ اٹھاکر یہ بالکل ممکن ہے کہ کم از کم مخصوص ملکی سطح پر جمہوری اقتداری نظام کو تہس نہس کر دیا جائے جیسا کہ طالبان افغانستان کی حالیہ جدوجہد سے ثابت ہے۔ اصولِ فقہ اسلامی ریاست میں جو سامراجی غلبہ سے قبل سقوطِ سلطنت عثمانیہ تک تقریباً بارہ سو سال قائم رہی ، میں عوامی خواہشات اور اتباعِ احکاماتِ نفسِ امارہ کو کبھی بھی قانون سازی کا ماخذ نہ سمجھا گیا۔ خلافت راشدہ کے مبارک دور کے بعد اسلامی ریاست میں تحکیمی اقتدار دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ قانون سازی کی ذمہ داری فقہائے عظام کی ذمہ داری ٹھہری اور تنفیذ قانون کی ذمہ داری سلاطین محتشم نے سنبھالی۔ عوام کا نہ قانون سازی میں کوئی دخل نہ تھا نہ قانون کی تنفیذ میں۔ وہ علمااور صوفیہ کے مرید اور سلطان کے مطیع رعایا تھے۔ عموماً سلطان بھی کسی شیخ کا مرید ہوتا تھا۔ ائمہ اربع کے نزدیک احادیث وہ ماخذ ہیں جس سے فقہی احکام برآمد ہوتے ہیںاور احکام کے اخذ کرنے کا مقصد شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے نہ کہ نفس انفرادی کی۔ امام ابوحنیفہؒ نے اپنے فتاویٰ کی بنیاد مرفوع اور مرسل دونوں قسم کی احادیث کو ٹھہرایاجب کہ امام شافعی نے عموماً مرسل منقطع احادیث سے سہو نظر فرمایا۔ امام شافعیؒ نے نصوص میں مطابقت پید ا کرنے کے فوائد متعین کیے۔ اس کو اصولِ تطبیق کہتے ہیں۔ ائمہ اربعہ کا یہ متفقہ اصول ہے کہ حدیث رائے اور قیاس پر مقدم ہے یعنی اگر حدیث نہ ملنے کی صورت میں کوئی فتویٰ دے دیا جائے تو اگر بعد میں کوئی حدیث مل گئی تو اس کی بنیاد پر دیے گئے فیصلہ کو رد کر دیا جائے گا۔ تمام مذاہب میں اقوالِ صحابہ بشرطیکہ وہ حدیث کے مخالف نہ ہوں،فقہ کے ماخذ تسلیم کیے جاتے ہیں بالخصوص وہ اقوال جن پر صحابہ کا اتفاق ہو۔ فقہائے عظام نے ایسی آرا کو ماخذ احکام ماننے سے شدت سے انکار کیا جن کو کسی ذاتی یا گروہی مقصد اور مفاد کے حصول کے لیے اختیار کیا گیا ہو۔ اصول یہ ہے کہ کوئی حکم کسی مادی مصلحت کے حصول کے لیے نہیں دیا جائے گا۔ قیاس کی تعریف فقہا ء یوں کرتے ہیں کہ کسی حکم منصوص کی علت بیان کی جائے اور علت کی بنا پر کسی مماثل کیفیت پر حکم لگایا جائے۔ جو قیاس کی بجائے رائے سے کام لیتا ہے، وہ خود شارع بننے کا خواہش مند ہوتاہے۔ ہمارے فقہا اور اہل حدیث علما احکام کے صدور کے لیے یہ اصول بھی بیان کرتے ہیں: ۱۔ اگر کسی معاملہ میں قرآن واضح حکم دے رہا ہے تو کسی اور شے کی طرف متوجہ ہونا جائز نہیں۔ ۲۔ اگر حکم قرآنی واضح نہ ہوبلکہ مختلف پہلوؤں کا احتمال ہو تو حدیث نبوی کو کسی ایک پہلو کے تعین کے لیے حکم بنایاجائے گا۔ ۳۔ اگر کسی معاملہ میں قرآن خاموش ہے تو کسی مشہور اور فقہا میں مقبول عام حدیث کو حکم کا ماخذ بنایا جائے گا۔ ۴۔ حدیث کے مقابل کسی صحابی یا تابعی کے اثر کو کوئی اہمیت نہ دی جائے گی۔ ۵۔ اگر کسی مسئلہ میں کوئی حدیث نہ پائیں تو صحابہ اور تابعین کی کسی ایک جماعت کے قول کو حکم کی بنیاد بنائی جائے۔ ۶۔ قیاس اس وقت کیا جائے گا جب قرآن، حدیث اور آثارِ صحابہ اور تابعین سے کوئی واضح حکم نہ ملے۔ یاد رہے کہ قیاس کا مقصد اتباعِ رسول ہے کسی ذاتی مصلحت کو پورا کرنانہیں۔ ۷۔ نصوص اور آثار کی غیر موجودگی میں حکم جمہور کے قیاس کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس قیاس کا مقصد اتباع رسول ہو۔ اطاعت احکام نفس امارہ نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جمہور کی جگہ صالحین کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ۸۔ ان تمام حالت کی غیر موجودگی میں فقیہ کے لیے اپنے قیاس کے مطابق فیصلہ کرنا بھی جائز ہے۔
احکام کے صدور (خواہ وہ نجی معاملات سے تعلق رکھتے ہوں خواہ پبلک معاملات سے) کی ذمہ داری صرف فقہا ءکی ہے، نہ سلطان کی، نہ عوام کی، نہ کسی ریاستی ادارہ کی، نہ کسی اورکی۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی رائے ہے کہ ہر فقیہ اور ہر قاضی کو کسی نہ کسی درجہ میں مجتہد ہونا لازم ہے۔ اجتہاد سے مراد ہے ــ’’شریعت کے فروعی احکام کو ان کے تفصیلی دلائل سے سمجھنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرنا اور تفصیلی دلائل کے ماخذ قرآن، سنت ، اجماع اور قیاس ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ اجتہادی عمل میں ریشنلٹی کے استعمال کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ مجتہد کے لیے پانچ علوم میں مہارت رکھنا ضروری ہے۔ ۱۔ کتاب اللہ کا وسیع علم ۲۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیع علم ۳۔ جس مسئلہ کے ضمن میں اجتہاد کیا جا رہا ہے اس کے متعلق علمائے سلف کے اتفاق و اختلاف کا علم ۴۔ طریقہ قیاس کا علم ۵۔ عربی لغت میں مہارت اس کے علاوہ مسئلہ کی نوعیت سے مکمل آگاہی بھی لازم ہے۔ یہ بھی جانتا ہو کہ کن مقدمات اور اصولوں کو جوڑ کر اور ترتیب دے کر کسی مسئلہ کے بارے میں اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر امتناع سود کا حکم لگائے تو اجتہاد یہ ہے کہ مجتہد یہ واضح کرے کہ نصوص اور آثار کی ہدایت کے مطابق کون کون سے ذرائع سود معیشت (یعنی سرمایہ داری) کے انہدام کے لیے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امام غزالیؒ کے مطابق ’’ہمارے زمانہ میں اجتہاد فقہ میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں‘‘۔ یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی فتویٰ اسلاف کے اجماعی فیصلوں کے برخلاف نہ ہو۔ مجتہدین کے تین درجے ہیں: مجتہد مستقل، مجتہد منتسب، مجتہد فی المذہب مجتہد مستقل اس کو کہتے ہیں جو ان اصول و کلیات میں ردوبدل کا اختیار رکھتا ہے جن پر احکام کی بنیاد قائم ہے۔ جن مسائل کے احکام پہلے دریافت کیے جا چکے ہیں ان کی تہہ تک پہنچنے کے لیے نصوص اور آثار میں سے دلائل منتخب کر کے ان دلائل کی مدد سے ان مسائل پر گفتگو کرنا ہے (مثلاً سرمایہ نظاماتی ہیئت) جن کا ابھی تک کوئی حکم دریافت نہیں کیا گیا۔ مجتہد منتسب وہ ہے جو اپنے امام کے اصول برقرار رکھ کر انہی اصولوں کی بنیاد پر حکم صادر کرتا ہے اور بیش تر مسائل میں کسی ایک امام کا پیرو ہوتا ہے۔ بعض مسائل میں اپنے امام سے اختلاف بھی کرتا ہے لیکن اصول میں اختلاف نہیں کرتا۔مجتہد فی المذہب اصولوں میں اپنے امام کی تقلید کرتا ہے۔ وہ امام کے مقررہ اصول و قواعد اور اس کے مسلک کی بنیاد سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ یہ مجتہد ایسے مسائل میں جن کے بارے میں امام نے کوئی حکم وضع نہیں کیا اپنے امام کے اصولوں کے مطابق حکم لگاتا ہے۔ یہ اپنے امام کی ایک دلیل کو دوسری دلیل پر ترجیح دینے کے قابل ہوتا ہے۔ اسلامی نظام سیاست (خلافت) میں ان مجتہدین کے علاوہ کسی کو احکام کے صدور کی گنجائش نہیں سلاطین بشرطیکہ وہ خود مجتہد نہ ہو جیسا کہ خلافت راشدین رضوان اللہ اجمعین تھے۔ سلطان مجتہدین کے وضع کردہ احکام کی تنفیذ اور اطلاق کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور جیسا کہ امام ماوردی اور امام ابن خلدون نے واضح فرمائی۔ سلاطین اسلام فقہا کے مرتب شدہ فیصلوں کے مطابق ریاستی پالیسی وضع کرتے ہیں۔ جیسا کہ امام عالم گیر نے فتاویٰ عالمگیری جمع کر کے مغل سلطنت کا ریاستی قانون (public law) تعین کیا۔ باقی آبادی رعایا پر مشتمل ہوتی ہے۔ رعایا کا نہ احکام کے صدور میں کوئی حصہ ہوتا ہے نہ احکام کی تنفیذ میں۔ وہ سلطان کے مطیع اور مفتیان کرام کے مقلد ہوتے ہیں۔ وہ میری طرح نہ اصولِ تفسیر سے واقف ہوتے ہیں نہ اصولِ تمویل حدیث سے۔ انہیں آثارِ صحابہ اور سلف صالحین کے آثار سے باضابطہ واقفیت نہیں ہوتی۔ وہ طریقہ و شرائط قیاس سے بالکل ناآشنا ہوتے ہیں اور عربی لغت کی پیچیدگیوں کو نہیں جانتے۔ ان میں متقی اور دین سے لگاؤ رکھنے والے بھی بہت ہوتے ہیں اور گمراہ اور بدچلن بھی۔ ان سب کو اولیاء اللہ اور سلاطین کی ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ اس ہدایت کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں، کچھ کو احکام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
عام آدمی لازماً مقلد ہوتا ہے۔ بقول امام ثوری اس کا کوئی متعین فقہی مسلک نہیں ہوتا اور اس کا مذہب محض مفتی کا فتویٰ ہے۔ اگر مفتی ایسے اجتہاد میں غلطی بھی کرے تب بھی تقلید واجب ہے۔ تقلید کی بنیاد عام آدمی احکام اوران کے طریقہ صدور سے بالکل ناواقف ہوتا ہے۔ فتویٰ لینا صرف اس صورت میں واجب نہیں جب عامی خود کسی واضح حکم شرعی سے واقف ہو۔ جمہوری عمل کا اسلامی انقلابی استعمال اس تجزیہ سے واضح ہوا کہ جمہوری عمل اسلامی اصول ہائے سیاست سے بہت بڑی حد تک انحراف کرتا ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ عوام کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ حکومت کرتے ہیں جبکہ حقیقتاً جمہوری عمل کے ذریعہ جو حکومت قائم ہوتی ہے وہ سرمایہ دارانہ عالمی اقدار اور اداروں کی ہوتی ہے کسی شخص یا گروہ کی نہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی حلقوں نے دو متضاد رویے اختیار کیے۔ علماء کا ایک نہایت قلیل گروہ جس نے ایک تخیلاتی رویہ اختیار کیا جمہوری عمل سے مکمل اجتناب کا داعی ہو گیا لیکن عملاً یہ اجتناب صرف انتخابی عمل تک محدود رہا اور یہ تحدی لازمی تھی کیونکہ تحکم قانون سرمایہ کا احاطہ پورے معاشرہ کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے اور مفروضہ اسلامی منکرین جمہوریت تحکم قانون سرمایہ کی وسعت کو محدود نہ کر سکے(الا سر مایہ دارانہ نظاماتی سرحدوں پر چند مجاہدین اسلام کے) اوراس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ انتخابی بائیکاٹ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ کلیت سے فرار ممکن ہے۔ سوادِ اعظم نے اس سے اختلاف کیا اور برصغیر کے جید علما (حضرت مدنی، حضرت اشرف علی تھانوی،علامہ احمد رضا کے تلامذہ، پیر جماعت علی شاہ، امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مودودی، حضرت شبیر احمد عثمانی، مفتی محمود، مولانا نورانی، مولانا خادم حسین رضوی رحہم اللہ اجمعین) کا اس پر اجماع ہو گیا کہ جمہوری نظام کو تحفظ دین کی خاطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ علمائے کرام سرمایہ دارانہ نظاماتی ماہیت اور ساخت سے واقف نہ تھے۔ ان کے خیال میں عوام اور خواص (یعنی حکومتی اداروں) میں ایسے افراد موجود تھے جو دینی شعائر کے احترام و فروغ کے خواہش مند ہیں اور انتخابی عمل کے ذریعہ صالح عوام و خواص کی اس قسم کی خواہشات کا اظہار نظاماتی تغیر کے بغیر بھی ممکن ہے۔ چنانچہ ان بزرگوں کی اپنی جماعتوں نے بھی جمہوری عمل میں حصہ لیا اور دہریہ جماعتوں کی تحفظ دین کی خاطر اعانت بھی کی۔ جمہوری نظام میں اس قسم کی شمولیت سے بلاشبہ فوائد حاصل ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ دہریہ دستور میں کئی نمائشی اسلامی شقیں شامل کر لی گئیں۔ شعائر اسلام کے معاشرتی دفاع کا انتظام کرنا سرمایہ دارانہ ریاست سے کسی نہ کسی حد تک قبول کر لیا۔ اسلامی نظام تعلیم و تربیت بھی کسی نہ کسی حد تک سامراجی سرمایہ دارانہ دست برد سے محفوظ ہو گیا۔ اسلامی رسوم و رواج کے عوامی فروغ کی راہ میں قانونی رکاوٹیں کھڑی نہ کی جا سکیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ریاستی دہریت اسلامی انفرادیت کو منتشر کرنے کی اپنی مذموم جدوجہد سے باز نہ آئی۔ چنانچہ دستور کی نمائشی اسلامی دفعات ہمیشہ معطل رہیں۔ تنفیذ حدودِ شرع کی طرف کوئی چھوٹے سے چھوٹا قدم بھی نہ اٹھایا جا سکا۔ معاشرتی زندگی کو عریانی اور فحاشی سے مستقل ریاست کی سرپرستی میں پراگندہ کیا جا رہا ہے۔ اسلامی نظام تعلیم میں سامراجی نقب زنی جاری ہے۔ ملکی معیشت کو عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کیا جا رہا ہے۔ ریاست جہادی عمل سے بالکل سبکدوش ہو گئی ہے اور اس سبکدوشی پر فخر کرتی ہے۔ اس کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ ملک میں اسلامی جماعتیں اور مخلصین دین نظاماتی سطح پر لاچار اور مجبور ہیں۔ ملک میں مخلصین دین کی تعداد کروڑوں میں ہے لیکن نہ وہ منظم ہیں نہ متحد۔ وہ تحکیم قانون سرمایہ کی تابعداری پر مجبور ہیں۔ مخلصین دین کی یہ نظاماتی مجبوری و لاچاری نہ جمہوری عمل سے پہلو تہی کے ذریعے کم ہوتی ہے نہ جمہوری عمل میں روایتی شرکت کے ذریعہ۔
اس میں شک نہیں کہ جمہوری عمل کے اصول کارفرمائی کی کوئی گنجائش ایک اسلامی ریاستی نظام میں موجود نہیں۔ چنانچہ جہاں اسلامی گروہوں کو نظاماتی تنفیذی قوت حاصل ہے وہاں جمہوری عمل معطل کرنا فرض ہے۔ مثلاً طالبان افغانستان کو جمہوری عمل کو قبول کرنا جائز نہیں جب تک ان کی قوت نافذہ زائل نہ کر دی جائے وہ امریکا کو جوتے مار مار کر افغانستان سے نکالتے رہیں گے۔ جمہوری عمل کو قبول کرنے کا مطلب طالبان افغانستان کی قوت نافذہ کے خاتمہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسی طرح ایران کے لیے بھی لازم ہے کا وہ جمہوری عمل کی تحدید جاری رکھے۔ ایران نے جمہوری عمل کو انتخابات تک محدود کر دیا ہے اور عوام علما کی قیادت میں منظم اور متحد کر دیے گئے ہیں اور تمام ریاستی اداروں پر علما کا حتمی کنٹرول قائم ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ممالک میں جمہوری عمل میں شرکت اس وقت تک ضروری ہے جب تک اسلامی گروہ نظاماتی قوت حاصل نہیں کر لیتے۔ ہم اس مکروہ عمل پر ویسے ہی مجبور ہیں جیسے سرمایہ دارانہ زر (جو سودی حکومتی تمسکات کے لین دین کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے) کے استعمال کے بارے میں۔ پاکستان میں جمہوری عمل کا کوئی بیرون موجود نہیں کیونکہ یہ تنفیذ قانون سرمایہ کا ایک ذریعہ ہے جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا۔ الیکشن بائیکاٹ جمہوری تحکم سے نجات کا ذریعہ نہیں۔لہٰذا اسلامی انقلابی عمل مندرجہ ذیل خطوط پر مرتب کیا جانا چاہئے: ۱۔ اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ انقلاب سے مراد اقتداری نظام کی مکمل تبدیلی ہے۔ ۲۔ اسلامی انقلابی عمل کا ہدف سرمایہ کے نظاماتی تحکم کو مسخر کر کے اسلامی گروہوں کا نظاماتی اقتدار قائم کرنا ہے۔ ۳۔ اس لیے ضروری ہے کہ مخلصین دین کی سیاسی قوت کو اس طرح منظم اور متحد کیا جائے کہ وہ ریاستی نظام پر سرمایہ دارانہ عمل کو موقوف کرنے کے اثر انداز ہوں۔ ۴۔ مخلصین دین کی یہ عوامی اجتماعتیں خود بھی اپنے وسیع ہوتے ہوئے دائرہ کار میں اسلامی احکامات کی بنیاد پر زندگی کے مختلف پہلوؤں کے مطابق پالیسی سازی کریں اور حکومت کو بھی اسلامی بنیادوں پر پالیسی سازی کرنے پر مجبور کریں۔ ۵۔ یعنی جمہوری عمل کے ذریعہ جمہوری عمل کے وجہ وجود (reason G’etre) کو مستقلاً معاشرتی سطح پر مخلصین دین کی اقتداری ساخت کی بنیاد پر چیلنج کیا جاتا رہے۔ اس عمل کو negation of the negation سے بھی تعبیر کیا سکتا ہے۔ ۶۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک جدلی اور طویل المدت عمل ہے۔ ہمیں اللہ سبحانہ سے دعا کرنی چاہیے کہ ہماری صفوں میں ایسے مجددین کا ظہور ہو جو نصوص اور آثار اور قیاس کی بنیاد پر انہدام سرمایہ داری کے لیے اسلامی تزویراتی حکمت عملیاں مرتب کرتے رہیں۔ یعنی ’’مغرب جاہلیت خالصہ ہے‘‘ کے اجتہاد کی عملی تشریح ہمارے مدارس اور خانقاہوں میں مستقل جاری ہے۔ جاوید اکبر انصاری یہ تحریر مولانا مودودیؒ کے رسالہ ’’ تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل‘‘ کا ایک حاشیہ ہے۔