کتب خانہLibrary

مفتی تقی عثمانی پر تنقید کیوں ضروری ہے حافظ محمد آحمد کو جواب

رسالہاردو۱۹ جنوری ۲۰۲۲کتب و مضامین
حصہ ۱

مولانا تقی عثمانی کی تنقید ہماری تنقید دیوبندی علما تک محدود نہیں۔ مولانا مودودیؒ پر اس سے کہیں زیادہ تنقید کی جاتی ہے۔ علماء کو مطمئن رکھنے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ علما کی جو کمزوریاں ہیں ان سے سہو نظر کیا جائے۔ علما کی کمزوری یہ ہے کہ وہ رائج الوقت نظام (یعنی سرمایہ داری) کی اسلام کاری میں مشغول ہو گئے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی نے انگریز سامراج کا ساتھ دیا اور یہی وجہ ہے کہ نہ دیوبند نے نہ بریلی نے تحریک احرار کا ساتھ دیا بلکہ مسلم لیگ کے پشت پناہ بن گئے۔ آج مولانا تقی عثمانی سرمایہ داری کے وکیل بن گئے ہیں اور کئی بین الاقوامی اسلامی بینکوں کے مشیر ہیں۔ ان کی کتاب ”اسلام اور جدید تجارت و معیشت“ سود خوری اور سٹہ بازی کی شرعی دلیلوں پر مشتمل ہے۔ علما کو ان کی اس گروہی کمزوری کا احساس دلانے کے لیے ان بزرگوں کی اس روش پر گرفت کرنا ضروری ہے ورنہ علما ہمیشہ رائج نظام کے معذرت خواہ (apologist) بنے رہیں گے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ وہ شخص جو سرمایہ داری کی اسلام کاری میں امام کا درجہ رکھتا ہے انہیں آج دیوبندی وفاق المدارس کا صدر حکومت نے بنوا دیا ہے۔ لہٰذا عموماً تو یہ بات درست ہے کہ نام لینے سے احتراز کیا جائے لیکن جو علما سرمایہ دارانہ نظام سے مصالحت کی وکالت کے قائد ہیں مثلاً مولانا تقی عثمانی اسلامی بینک کاری کے ضمن میں اور مولانا مودودی اسلامی جمہوریت کے ضمن ان کی نام لے کر تنقید کی جائے تاکہ علما کی نظاماتی معذرت خواہی کی روش بدلے۔ اس سے ہماری فکر علما کے حلقوں میں اجنبی ضرور ہو جائے گی لیکن ہم یہ قیمت دینے پر اس لیے تیار ہیں کہ یہ کیے بغیر علما کو انقلابی دھارے میں شریک نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کا خادم جاوید اکبر انصاری