کتب خانہLibrary

عجم ہنوز ناداند رموز سرمایہ(مولانا تقی عثمانی کی کتاب اسلامی معاشیات پر تبصرہ)

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

عجم ہنوز ناداند رموزِ سرمایہ تبصرہ ”اسلام اور جدید معیشت و تجارت“ از مولانا مفتی تقی عثمانی ابتدائیہ مسلم لیگی علما حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے متوسلین بالخصوص حضرت شبیر احمد عثمانی، حضرت ظفر احمد عثمانی اور مفتی شفیع رحمہم اللہ اجمعین مسلم قوم پرستی کے نقیب رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان علما نے تحریک احرار کی بھرپور مخالفت کی اور درویش خدا مست حضرت امیر شریعت کو بالکل تنہا چھوڑ دیا۔ تحریک احرار برصغیر کی ایک اسلامی انقلابی تحریک تھی جس نے برطانوی سامراج سے مدتوں لڑائی جاری رکھی۔ مسلم لیگی علما شروع سے اسلامی انقلابی فکر اور عمل کے اصولی مخالف رہے ہیں۔ وہ سامراج سے مصالحت کو ناگزیر تصور کرتے ہیں۔ مسلم قوم پرستی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آج حضرت مولانا مفتی شفیع اسلامی نظم معیشت کو سرمایہ دارانہ قالب پر ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ علمیت اور عملیت کی مذہبی تشریح مرتب کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ سترھویں صدی میں برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ کے پروٹسٹنٹ پادریوں نے سرمایہ داری کی عیسائی تشریح مرتب کی تھی اور اس مہم کی کامیابی کے نتیجہ میں عیسائیت مکمل طور پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ضم ہو گئی۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام ایک مکمل اور خود انحصار نظام زندگی اور طرز حیات ہے۔ مغرب جاہلیت خالصہ ہے۔ آج مغرب سے مراد سرمایہ دارانہ نظم اور طرز زندگی ہے۔ یہ مغرب بمعنی سرمایہ داری کئی غیر مغربی ممالک چین، بھارت، کوریا، جاپان، اسرائیل، برازیل، فلسطین کو فتح کر چکا ہے۔ اور یہ مسلم دنیا پر حملہ آور ہے۔ اسلامی انقلابی جدوجہد اسی سرمایہ داری حملہ کو ناکام بنانے کی کاوش ہے اور الحمدللہ ہماری جدوجہد بتدریج کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ دو اسلامی ریاستیں ایران اور افغانستان وجود میں آ چکی ہیں جہاں سے سرمایہ دارانہ علمیت اور عملیت بے دخل کی جا رہی ہے اور انشاء اللہ ساحلی افریقہ میں دیگر اسلامی ریاستوں کے قیام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام شدید ترین بحرانوں (ماحولیات، وبائی، مالیاتی، سیاسی، اخلاقی، روحانی اور معاشرتی) کا شکار ہے۔ اور ان شاء اللہ اسلامی انقلابی سرمایہ داری کے گورکن ثابت ہوں گے۔ کیوں کہ پرچم نصرت ہم سے کھلا رسم شجاعت ہم سے چلی ہم ہیں جوہر صبر حسین ہم ہیں زور دست علی ہر پل ہر ساعت ایران جاگ رہا افغانستان لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان تمام دلائل کا ابطال کریں جو اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کے لیے مسلم لیگی علما پیش کرتے ہیں۔ مولانا تقی عثمانی کی کتاب اسلام اور جدید معیشت و تجارت میں اسلامی معیشت کو سرمایہ دارانہ نظام میں انضمام کا مقدمہ مرتب کیا گیا ہے۔ پہلے میں حضور کے استدلال کی تشریح پیش کروں گا اور پھر اس تشریح کے تناظر میں اسلامی انقلابی نقد مرتب کرنے کی کوشش کروں گا۔ اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کے دلائل مفتی تقی عثمانی اکنامکس کو غیر اقداری (value nutral)علمیت تصور کرتے ہیں۔ وہ اشتراکیت (Socialism)کو ایک سرمایہ دارانہ نظریہ تصور نہیں سمجھتے بلکہ اس کو سرمایہ داری سے جدا ایک معاشی نظم گردانتے ہیں۔ ان کی رائے میں دونوں نظام اسی مفروضہ پر قائم ہیں کہ انسانی خواہشات لامحدود اور معاشی وسائل محدود ہیں۔ مولانا اس مفروضہ کو قبول کرتے ہیں اور اس کو غیر اقداری تصور فرماتے ہیں ہیں۔ اور ہر معاشی نظام کا وظیفہ اسی مسئلہ کو حل کرنا گردانتے ہیں۔ ان کی رائے میں وسائل میں لامحدود اضافہ (اس کو وہ ترقی کہتے ہیں) کرنے کی پیہم جستجو بنیادی معاشی مسائل میں شامل ہے۔ مولانا تقی آدم سمتھ کی فکر سے بہت متاثر ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی جو تشریح حضور پیش کرتے ہیں وہ Smithian ہے، نیوکینزین یا Institutionalist نہیں ہے۔ آدم سمتھ کی طرح مولانا تقی عثمانی بھی قوانین رسد و طلب (law of supply and demand)کو غیر اقداری اور فطری (law of nture)گردانتے ہیں اور سمتھ کی طرح مولانا کی رائے میں ان فطری قوانین کی عمل داری میں مداخلت نہ کی جائے تو معاشرتی اور معاشی عدل خود بہ خود قائم ہو جاتا ہے۔ یعنی مولانا سمتھ کے وضع کردہ غائبانہ دست (invisible hand)کی منضبط کارفرمائی کے قائل ہیں اور اس دعویٰ کو قبول کرتے ہیں کہ خود غرضانہ عقلیت(Seft Interested Rationality) کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلے خود بہ خود(spontaneous and ………………………………….) معاشی عدل کو جنم دیتے ہیں۔ یہ بھی اسمتھی مکتب فکر کا بنیادی مفروضہ ہے۔

حصہ ۲

مولانا اسمتھی تصور عملیت پیداوار (factors of productivity) کے بھی قائل ہیں۔ یہاں بھی مولانا تقی کی فکر سمتھی ہے۔ وہ وسائل پیداوار کے معاوضے (اجرت، رہن، سود اور منافع) کو طلب اور رسد کے توازن (factor price equilibrium)کا نتیجہ تصور کرتے ہیں۔ نظریہ marginal productivity کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مولانا کے پاس ”سرمایہ“ کا کوئی مربوط تصور موجود نہیں۔ پوری بحث میں طبعی سرمایہ (مشینری، تعمیرات) (Physical Capital)اور فنانشل سرمایہ (Financial Capital)میں تفریق مبہم ہے۔ مولانا تقی کی رائے میں سرمایہ دارانہ نظام میں ذاتی ملکیت(Private property) لامحدود فعالیت کی حامل ہے اور اس میں اضافہ(حصول منافع کا ذریعہ) اصل محرک عمل ہے۔ مولانا کی رائے میں ذاتی ملکیت کی کارفرمائی کی راہ میں حکومتی مداخلت تاریخی طور پر بتدریج رونما ہوئی اور اس قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے سرمایہ دارانہ نظم کے اصولوں کی نافرمانی ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک Smithian نظریہ ہے۔ مولانا سرمایہ دارانہ نظام میں ذاتی منافع کی جستجو اور قوانین رسد و طلب کی تابع داری کو اسلامی نقطہ نگاہ سے احسن تصور کرتے ہیں اور اسلامی معیشت ان معنوں میں سرمایہ دارانہ نظم کی ایک تہذیبی تشریح ہے کہ دونوں میں معیشت کے بنیادی کارفرمائی کے اصول یکساں ہیں۔ یہ بات سترھویں صدی میں کیلون اور ڈیکسٹر نے عیسائی معیشت کی سرمایہ کاری کے ضمن میں بھی کہی تھی لیکن اسلامی سرمایہ داری رائج شدہ سرمایہ دارانہ نظام میں کچھ اصلاح و ترمیم و تجدید کے ذریعے کرے گی (جیسا کہ عیسائی پادریوں نے سترھویں صدی میں کرنے کی کوشش کی تھی)۔ یہ ترمیم و تجدید نظام سرمایہ داری کی علمیت کی شریعت کاری سے ممکن ہو گی۔ جس کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ علمیت اسلامی اخلاقی اصولوں کی پابند ہو جائے گی، اجتماعی فلاح فروغ پائے گی۔ لامحدود مسابقت (perfect competition)کو فروغ دیا جائے گا اور ارتکاز دولت اور احتکارات(monolpoly) کا رجحان کم ہو گا ۔ یہ بھی قوانین رسد و طلب کی تابع داری کا ایک طریقہ ہے کیوں کہ بقول حضرت عثمانی اجارہ داریاں قوانین طلب و رسد کی عملیت کو محدود کر دیتی ہیں۔ حضور فرماتے ہیں ”اسلام کوئی معاشی نظام نہیں“ (ص 54) یعنی وہ سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اخلاقی تشریح ہے۔ اسلام قوانین رسد و طلب کی تابع داری کو قبول کرتا ہے۔ طلب و رسد کا نظام قدرتی ہے۔ قیمتیں فطری طور پر متعین ہوتی ہیں۔ اس میں ذاتی منافع کے دائمی معاشرتی تسلط کو بھی اسلام تسلیم کرتا ہے گو کہ منافع کی فطری اور مستقل جستجو پر کچھ شرعی ، ریاستی اور اخلاقی پابندیاں عائد کرنا اصلاح سرمایہ داری کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن اخلاقی پابندیاں رضاکارانہ طور پر افراد اپنے اوپر خود عائد کرتے ہیں اور معاشی تحکم کے ضمن میں ان کی تنفیذ لازماً ثانوی ہی رہے گی۔ یہ بات بعد کی بحثوں (بالخصوص نظام پیداوار، اسٹاک مارکیٹ اور بینکنگ) کی عملیت کے تجزیہ سے بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ مولانا کی رائے میں اسلامی اور غیر اسلامی معاشروں میں اخلاقیات کا اثر معاشی عمل پر بنیادی طور پر یکساں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلامی اخلاقیات معاشی عمل کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔ یہی دعویٰ سترھویں صدی کے عیسائی پادریوں کا بھی تھا کہ عیسائی اخلاقیات humanitarian ethics کی ایسی مذہبی تشریح ہے جو معاشرتی عمل کے تعین میں زیادہ موثر ہے۔ حضور کی رائے میں اسلامی تعلیمات اور مروجہ سرمایہ داری میں صرف دو بنیادی فرق ہیں۔ ایک تو یہ کہ سرمایہ (جس کی کوئی واضح تعریف اس کتاب میں نہیں ملتی) اور اجرتی تخصیص نہیں کرتا اور دوسرے یہ کہ اسلام دولت میں ان لوگوں کا حصہ بھی تسلیم کرتا ہے جو پیداواری یا گردشی عمل میں بلاواسطہ شامل نہیں ہوتے۔ یہ دونوں فرق غیر اہم ہیں کیوں کہ آجر اور سرمایہ کار کا اختلاف عملاً مینجمنٹ اور ملکیت میں فرق کی بنیاد پر ہوتا ہے اور مولانا کارپوریشن، سٹہ باز اور بینکنگ کے تجزیہ میں مینجمنٹ اور ملکیت (ownership)کی علیحدگی(sepration) جائز تصور کرتے ہیں۔ اس سے آپ کا یہ دعویٰ کہ اسلام آجر اور سرمایہ کے مالک میں تفریق نہیں کرتا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

حصہ ۳

رہا دولت کی تقسیم میں محرومین کے حصہ والا فرق تو آج کل مالک ہمیشہ سے محرومین کی کفالت کی فراہمی کا کچھ نہ کچھ انتظام ضرور کرتا ہے۔ اٹھارھویں صدی سے ہی یورپی ممالک میں Poor Laws کی تنفیذ ہو گئی تھی اور آج تمام ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں نیشنل انشورنس کا نظام قائم ہے اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں سماجی حقوق(social rights) کی پرزور وکالت کر رہی ہیں۔ مولانا کا سرمایہ دارانہ ملکیت کا تصور بھی غیر حقیقی ہے۔ حضور ارتکاز کو سرمایہ دارانہ خود غرضی کا نتیجہ مانتے ہیں جب کہ ارتکاز دولت اور احتکارات بڑھوتری سرمایہ کا لازمی نتیجہ ہیں محض طبقاتی خود غرضیوں کا اظہار نہیں۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کی تجسیم کارپوریشن ہوتی ہے۔ کارپوریشن ایسی قانونی شخصیت ہوتی ہے جس کا مقصد وجود (raison d'etre)صرف اور صرف بڑھوتری سرمایہ (capital accumulation)قرار دیا جاتا ہے۔ اگر وہ اس لازمی فریضہ کی ادائیگی میں ناکام ہو جائے تو سٹہ مارکیٹ(stock market)tock marketmulation اس کو دیوالیہ (bankrupt)کر دیتا ہے۔ مولانا کارپوریشن کے وجود کا شرعی جواز فراہم کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کمپنی (یعنی کارپوریشن ) شرکت عنان میں داخل ہے“ (ص، 122)۔ ان کے خیال میں کارپوریشن اور شراکت کی خصوصیت میں فرق زیادہ تر انتظامی نوعیت کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شریعت میں شخص قانونی کی نظائر موجود ہیں۔ حضور وقف بیت المال اور ترکہ کو کارپوریشن کے مماثل قرار دیتے ہیں۔ کیا وقف ، بیت المال اور ترکہ کی کارفرمائی کا مقصد بڑھوتری سرمایہ ہوتا ہے۔ یہ سوال مولانا نہیں اٹھاتے۔ محدود ذمہ داری (limited liability)کے تصور کو بھی شرعی جواز فراہم کرتے ہیں۔ وہ کارپوریشن کو اس کے حصہ داروں کا غلام تصور کرتے ہیں۔ مولانا سٹہ بازی (یعنی حصص کے مستقلاً جاری رہنے والے کاروبار )کو بھی شرعاً جائز تسلیم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شیئرز حصص کنندگان کی ملکیت کا ثبوت ہوتے ہیں۔ وہ حصص کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو شرعاً درست گردانتے ہیں اور حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ان کارپوریشنوں کے حصص کی خریداری جائز ہے جو سودی کاروبار میں ملوث ہوں بشرطیکہ حصص خریدنے والے اس کارپوریشن کے سودی کاروبار کے خلاف آواز اٹھائیں۔ مولانا کی رائے میں کارپوریشن کا کمایا نہیں وہ سود جو حلال مال میں محفوظ ہو گیا اس سے استفادہ کرنا حصص کنندگان کے شرعاً جائز ہے۔ یہاں بھی حضور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔ مولانا سٹہ بازی کی نیت سے شیئرز کی خریدو فروخت کو جائز قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سٹہ بازی (speculation)ہر معاشی عمل کا حصہ ہوتی ہے اور speculation ممنوع ہے (ص 139)۔ فیوچر ٹریڈنگ کی کچھ اشکال میں مولانا غرر کے وجود کے قائل نہیں۔ ان آرائے اظہار سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت تھانویؒ کی طرح مولانا عثمانی بھی سرمایہ دارانہ ملکیت کو اسلامی ملکیت کی ہی ایک شکل گردانتے ہیں۔ مولانا کی سرمایہ دارانہ زر کی تشریح بھی نامکمل ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ ز ر میں demand deposits اور NBFC(M2, M3) deposits کو شامل نہیں کرتے (گو کہ اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ بینک زر کی تشکیل میں ایک کردار ادا کرتے ہیں)۔ اس طرح آئی ایم ایف(IMF) کے پیداکردہ زر SDR کو بھی نظرانداز فرماتے ہیں۔ وہ آئی ایم ایف کو عالمی مرکزی بینک (ص 154) کہتے ہیں جو کسی نہ کسی حد تک Bank of International Settlements ہے اور عالمی مرکزی بینک کا کردار بڑی حد تک امریکا کا فیڈرل ریزرو بینک انجام دے رہا ہے۔ International Bank for Reconstruction and Development کو ورلڈ بینک کہتے ہیں (ص 157) جب کہ ورلڈ بینک تین بینکوں (آئی بی آر ڈی، آئی ڈی اے اور آئی آیف سی) کا مجموعہ ہے۔

حصہ ۴

مولانا کا اصل موضوع اسلامی بینک کاری ہے۔ وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ تاریخی طور پر بینک سرمایہ دارانہ نظام کی ایجا د ہیں اور کسی غیر سرمایہ دارانہ معاشرت میں بینکوں کا وجود نہیں ملتا۔ مسلم ممالک میں سب سے پہلے بینک سامراج نے اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں قائم کیے۔ وہ اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ بینکوں کا اصل وظیفہ دولت کو سرمایہ کی گردش میں سمونا ہے زر کی مارکیٹ کے ذریعہ۔ زر کی مارکیٹ کی کارفرمائی کی کوئی تفصیل مولانا کی کتاب میں نہیں ملتی۔ اس امر کا بھی اقرار موجود نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں مرکزی بینک لازماً کمرشل بینکوں کا ماتحت آلہ کار ہوتا ہے۔ مولانا کی اسلامی بینک کاری کی وکالت مشہور ہے اور اس پر مفصل نقد علمائے دیوبند اور مولانا سلیم اللہ خان نے 2009ء میں مرتب فرما دیا ہے (جس کی اجمالی تصویر ہماری کتاب Money and Banking in Pakistan میں پیش کی گئی ہے)۔ مختصراً یہ کہنا درست ہے کہ حضرت مولانا تقی عثمانی سرمایہ دارانہ بینک کاری کی اسلام کاری کے ملک کے اہم ترین داعی اور وکیل ہیں۔ مولانا کی رائے میں بینکوں کا یہ کام ضروری ہے (ص 209) کہ وہ عوام کی بچتوں کو سرمایہ کے گردشی چکر میں سموتا چلا جاتا ہے۔ وہ Daily Product Basis نظام کے جاری رہنے کی وکالت کرتے ہیں جس سے بچت کنندگان کے بینک کے حاصل شدہ منافع میں حقیقی شرکت کی ضرورت کو بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ ۔۔۔تقسیم کو بھی کافی (ص 214) سمجھتے ہیں۔ یہ سود کو جائز قرار دینے کے حیلے ہیں۔ اس قسم کے حیلوں کی بنیاد پر وہ اسلامی طریقہ ہائے تمویل شرکت اور مضاربت، مرابحہ وغیرہ کو سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھالنے کی وکالت کرتے ہیں جن کی حقیقت حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ کے فتویٰ میں تفصیل سے بیان کردی گئی ہے۔ کتاب میں ملکی معاشی پالیسیوں fiscal policy اور monetary policy کی تفصیلی بحث نہیں کی گئی ہے۔ مثلاً یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ کیا ایک اسلامی ریاست میں مرکزی بینک کا وجود ضروری ہے (ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی) اور اگر ضروری ہے تو مرکزی بینک کیا کردار ادا کرے گا۔ یہ اسلامی مرکزی بینک بین الاقوامی مالی نظام سے کس نوعیت کا تعلق رکھے گا۔ زر کی مقدار اور تقسیم کے تعین کا کیا طریقہ ہو گا۔ بینک ریٹ کا کیا متبادل رائج کیا جائے گا اور کسی متبادل کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ حکومتی بجٹی خسارہ کی تمویل کے لیے جو تجویز دی گئی ہے وہ بھی ایک شرعی حیلہ پر مبنی ہے یعنی سود کے بجائے وقتاً فوقتاً انعام جاری کیے جائیں گے اور ٹیکس میں رعایت دید جائے گی لیکن چونکہ عوام پر حکومت کا ۔۔۔۔۔۔اس لیے یہ سود میں داخل نہ ہو گی (ص 266)۔ حکومتی خسارہ کی تمویل کے لیے مضاربہ سرٹیفیکیٹ کے اجرا کی تفصیل ہے۔ یہ سرٹیفیکیٹ مروجہ ٹریژری بل کے مماثل ہوں گے ان پر جو سود دیا جائے گا وہ منافع کہلائے گا جیس آج کل بینک سیونگ اکاؤنٹ پر منافع دیتے ہیں۔ آخر میں (ص 266، 269) میں مولانا حکومتی بیرونی قرضوں کی تمویل کے لیے اسلامی طریقہ ہائے تمویل کی تجویز دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ طرائق عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ آئی ایف سی ان کا مداح ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں ان پر تحقیق ہو رہی ہے (ص 210)۔ ان کو طریقہ ہائے تمویل کو استعمال کر کے پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں مکمل انضمام حاصل کر لے گا۔ اسلامی انقلابی موقف ہم اس مسلم لیگی ترمیمی فکر کو کلیتاً رد کرتے ہیں۔ اس تردید کی وجوہات ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔ 1۔ ہم سرمایہ دارای کو ایک مکمل نظام حیات اور طرزِ زندگی گردانتے ہیں جو ایک مخصوص انفرادیت، معاشرت اور ریاست قائم کرتا ہے۔ سرمایہ داری محض ایک معاشی تنظیم اور طریقہ کار نہیں بلکہ دورِ حاضر کا غالب طاغوت ہے جو موجودہ جہاد اسلامی کا اصل ہدف ہے۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات کو معطل اور منتشر کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

حصہ ۵

2۔ سرمایہ کوئی طبعی شے نہیں بلکہ حرص اور ہوس کی خبیث روح ہے جو نفوس، معاشرت اور ریاستی نظام میں حلول کر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا محمد مارماڈیوک پکتھال رحمۃ اللہ علیہ نے سرمایہ کو تکاثر سے تشبیہ دی ہے اور حضرت پکتھال کے مطابق سرمایہ سے مراد حسد اور حرص ہے۔ اسلامی انقلابی عمل کا ایک وظیفہ دولت کو سرمایہ کی گرفت سے نجات دلانا ہے۔ 3۔ سرمایہ دارانہ تعقل اور عمل نفس پرستی کی جوازیت فراہم کرتا ہے ۔ وہ انسان کو خود تخلیقی گردانتا ہے۔ یہ سرمایہ داری کا بنیادی عقیدہ ہے اور تمام سرمایہ دارانہ نظریات (لبرل ازم اور قوم پرستی، اشراکیت اور انارکزم) اس بنیادی عقیدہ کو قبول کرتے ہیں (اسی لیے ہم اشتراکیت کو ایک سرمایہ دارانہ نظریہ کہتے ہیں ۔ یہ کوئی غیر سرمایہ دارانہ نظام حیات اور طرز زندگی نہیں)۔ 4۔ ہم اکنامکس کو ایک جاہلی علمیت گردانتے ہیں اور اس کے مابعدالطبیعاتی مفروضات کو باطل کہتے ہیں۔ اکنامکس کا یہ مفروضہ بالکل غلط ہے کہ فطرتاً انسان کی خواہشات لامحدود ہیں۔ خواہشات کو لامحدود بنانا سرمایہ دارانہ نظم زندگی اختیار کرنے کا نتیجہ ہے اور بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات نہایت محدود تھیں اور عالم تاریخ کے ہر دور میں خواہشات اور ضروریات کو محدود کرنے کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ آج خود مغرب میں ڈی گروتھ کا نظریہ عام ہو رہا ہے اور خواہشات کو محدود کرنے کی ضرورت کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ ضروریات کو لامحدود تصور کرنا سرمایہ دارانہ معاشرت کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔ ترقی بھی ایک سرمایہ دارانہ تصور ہے جس سے مراد سرمایہ میں مستقل بڑھوتری کو جاری رکھنا ہے۔ ترقی بھی سرمایہ دارانہ نظام کی خصوصیت ہے۔ کسی غیر سرمایہ دارانہ نظام میں ترقی کو معاشی عمل کا ہدف نہیں گردانا گیا۔ 5۔ اسی طرح قوانین رسد و طلب سرمایہ دارانہ فکر کی ایجاد اور سرمایہ دارانہ طرز معاشرت سے مخصوص ہیں۔ کسی غیر سرمایہ دارانہ معاشرہ میں یہ قوانین کارفرما نہیں ہوتے۔ یہ بات تحقیقات سے ثابت کی گئی کہ قرون وسطیٰ کے یورپ میں قیمتیں اخلاقی معیارات کی بنیاد پر متعین کی جاتی تھیں اور ان قیمتوں میں اضافہ نہایت محدود ہوتا تھا۔ صدیوں تک قیمتوں کا رفتار نمو نہایت کم رہا ہے۔ اسی وجہ سے عادلانہ قیمت کا تصور مقبول عام رہا ہے۔ قیمتوں کا بازاری تعین صرف ان معاشروں میں عادلانہ قیمتوں کے قیام کا ذریعہ ہو سکتا ہے جہاں لین دین خدا پرستی اور خداشناسی ہو۔ جن معاشروں میں سرمایہ دارانہ انفرادیت کا غلبہ ہو وہاں قیمتوں کا آزادانہ تعین لازماً ایک ظالمانہ عمل ہے۔ 6۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت جس کی تشریح آدم سمتھ کی فکر میں ملتی ہے فطری نہیں نہایت غیر فطری ہے۔ انسان ہیومن بینگ نہیں۔ سرمایہ داری انسان کو ہیومن بینگ (حرص اور ہوس سے مغلوب انفرادیت) میں تبدیل کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں جو دست غائبانہ کارفرما ہوتا ہے حرص و ہوس کے شیاطین کا دست خبیث ہے اور اس دست خبیث کی پشتیبانی سرمایہ دارانہ ریاست اپنی پوری تاریخ میں کرتی رہی ہے۔ 7۔ عوامل پیداوار (factors of production) کا معاوضہ ان عوامل کی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں شرکت کی بنیاد پر متعین ہوتا ہے۔ یہ بات نظریہ marginal producticity سے اخذ ہے۔ رسد اور طلب توازنی عمل کے رویے ہیں۔ یہ توازن عملاً سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں کبھی قائم نہیں ہوتا اور قیمتوں کا نظام ہمیشہ متزلزل رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کا مقصد وجود بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری سرمایہ ہے لہٰذا عوامل پیداوار کا معاوضہ لازماً اسی بنیاد پر متعین کیا جاتا ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نجی ملکیت کو تباہ کر دیاجائے۔ نجی ملکیت کی تباہی کا یہ عمل کارپوریشن کے قیام کے ذریعہ عمل میں لایا جاتا ہے۔ کارپوریشن وہ شخص قانونی ہے جس کا وجہ الوجود بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری سرمایہ ہوتا ہے۔ ان معنوں میں کارپوریشن کا اصل مالک خود سرمایہ ہوتا ہے اور اس مالک کے خدمت گار وہ مینجرز ہوتے ہیں جو سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو جاری رکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ کارپوریشن کے حصص کنندگان کی ملکیت محض فرضی اور افسانوی ہوتی ہے۔ وہ بڑھوتری سرمایہ کے عمل میں رخنہ ڈالنے کا حق نہیں رکھتے۔ محض اس چیز کی نگرانی کرتے ہیں کہ سرمایہ کے خادم (مینجرز) اس کی مستقل بڑھوتری عمل تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔

حصہ ۶

9۔ بینک بھی ایک سرمایہ دارانہ ایجاد ہیں۔ کسی غیر سرمایہ دارانہ نظام میں بینکوں کا وجود ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کا وجہ الوجود سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو مہمیز دینا ہے۔ وہ پورے معاشرے کی بچتوں کو کھینچ کھینچ کر سرمایہ کے گردشی چکر میں شامل کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ذاتی ملکیت کو ختم کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ یوں عوام اپنی بچتوں کے استعمال کے حق سے محروم کر دیے جاتے ہیں اور تمام دولت غیر سرمایہ دارانہ (یعنی حرص و ہوس) کا فتنہ مستحکم ہوجا تا ہے۔ 10۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں قوانین رسد وطلب کی کارفرمائی لازماً اجارہ داری کو جنم دیتی ہے۔ خالص مسابقت خود بہ خود اجارہ داریاں پیدا کرتی ہے اور آج ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معیشتوں میں خالص مسابقت کا وجود بالکل ختم ہو گیا ہے اور ترقی پذیر سرمایہ دارانہ ممالک میں تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں اجارہ دارانہ مارکیٹوں کا انہدام ناممکن ہے۔ یہ بات فنانشل مارکیٹوں کے ضمن میں سب سے زیادہ واضح ہے۔ 11۔ فنانشل مارکیٹ یعنی سود کامارکیٹ اور سٹہ کا مارکیٹ بھی خالص سرمایہ دارانہ ادارے ہیں جن کا کسی غیر سرمایہ دارانہ معاشرت میں کوئی وجود ممکن نہیں۔ یہ ارتکاز اور بڑھوتری سرمایہ کے اصل دائرہ کار ہیں۔ ان کی کارفرمائی کے ذریعے ہر شے اور عمل کی قدر اس کی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں شرکت کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔ اس عمل کو سیکوریٹائزیشن کہتے ہیں اور سیکوریٹائزیشن کے ذریعہ سرمایہ دارانہ تعقل کی بنیاد پر ہر شے کی قیمت متعین کی جاتی ہے۔ معاشرتی سطح پر سرمایہ دارانہ اقدار کا غلبہ سیکوریٹائزیشن کے ذریعے سے نظام زندگی پر مسلط کیا جاتا ہے۔ 12۔ سرمایہ کی اصل نمایندہ ریاست ہے۔ تاریخی طور پر یہ بات واضح ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کے توسط سے ہی سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معاشرت مذہبی انفرادیت پر غالب آئی۔ سرمایہ دارانہ ریاست کے غلبہ کے بغیر تحکم قانون سرمایہ اور سرمایہ دارانہ ملکیت قائم نہیں کی جا سکتی۔ ان نکات سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی اسلام کاری ایک فعل عبث ہے۔ اسلام بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو ان معنوں میں ردد کرتا ہے کہ وہ دولت پر سرمایہ (حرص و ہوس) کے قبضہ کے خلاف ہے۔ وہ معاش کو معاد میں حصولِ فلاح کا ذریعہ گردانتا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں شرع مطہرہ قوانین رسد و طلب کی محض تحدید نہیں آتی ان کو معدوم کر کے معاشی عمل کو اقدار کے ماتحت بناتی ہے۔ ضروریات اور خواہشات کو محدود کرتی ہے۔ سود اور سٹہ کا نعم البدل وضع نہیں کرتی۔ سود خوری اور سٹہ بازی کو ناممکن بناتی ہے۔ اسلامی ریاست کی پاسباں (مالی، تمویلی، تجارتی، منصوبہ ساز) ایک جہادی معیشت تعمیر کرتی ہے۔ اسلامی ریاست سرمایہ داری سے مصالحت نہیں کرتی۔ سرمایہ دارانہ علمیت اور معاشرتی صف بندی کو رد کرتی ہے۔ وہ سامراجی تسلط کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتی بلکہ سامراج کے انہدام کا عزم کرتی ہے۔ مسلم لیگی علما سرمایہ داری سے مصالحت کے خواہاں ہیں۔ وہ ایک جہادی اسلامی ریاست کے قیام کو ناممکن تصور کرتے ہیں۔ ہم اسلامی انقلابی ہیں اور ہم نے اسلامی امارت افغانستان میں ایک جہادی معیشت قائم کی ہے۔ وہاں نہ سود کا مارکیٹ موجود ہے نہ سٹہ کا مارکیٹ۔ وہاں سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے بجائے اسلامی ملکیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں انضمام کی راہیں مسدود کر رہی ہے اور اس نے دو سال کے قلیل عرصہ میں معاشی استحکام اور عدل اجتماعی قائم کر دیا ہے۔ جوانوں قابل تقلید ہے اقدام طالب کا جبینِ لوحِ غیرت پر لکھا ہے نام طالب کا حقیقت یہ ہے کہ مولانا تقی عثمانی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو بالکل نہیں جانتے۔

حصہ ۷

جاوید اکبر انصاری