کتب خانہLibrary

اسلامی امارت کے ملازمین کے لئے حصص کا اختیار

رسالہاردواردو تحریریں
حصہ ۱

اسٹاک ایکسچینج قائم کرنا درست نہیں ہے۔ شخص قانونی کا جواز اسلامی شریعت میں تو موجود ہے لیکن اسٹاک میں سرمایہ ہی شخص قانونی ہوتا ہے ۔ اؤور دی کاؤنٹر او ٹی سی ٹریڈ سیکینڈری مارکیٹ کا اظہار ہے جو کہ درست نہیں ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ کی اصل اس کی سیکینڈری مارکیٹ میں تجارت کا حجم اور خریدار کی سیکینڈری ٹریڈ میں دلچسپی ہے۔ سیکینڈری مارکیٹ میں شئیر کی بنیادی قدر (ابتدائی پبلک آفرنگ ) سے کہیں مختلف ہوتی چلی جاتی ہے یعنی عموما کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کا کوئی تعلق اس کمپنی کے ابتدائی شئیر فروخت کنندہ مالکان سے نہیں ہوتا ہے۔ یہ کمی زیادتی غرر یا سٹہ کی بنیاد پر ہوتی ہے جو جائز نہیں ہے۔ بنیادی ابتدائی شئیر دس افغانی کا ہو تب بھی کچھ عرصہ میں شئیر کی قدر افواہوں اور سٹہ کی بنیاد پر کہیں بڑھ جاتی ہے یا کہیں کم ہو جاتی ہے، بنا کمپنی کے اصل جاری حسابات سے کسی تعلق کے ، لیکن یہ قدر اصل ابتددائی شئیر فروخت کنندہ تک نہیں پہنچتی ہے بلکہ بالا ہی بالا تجارت چلتی ہے جس کا کمپنی کے حسابات و اصل منافع سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کمی بیشی مارکیٹ کے احساسات و ملکی اقتصادی ماحول و افواہ سازی و سٹہ کی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ ان اسٹاک کمپنیوں کے تمام معاملات ملازمین مینیجرز کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو منافع کو بڑھانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان مینیجر کو بورڈ تعنیات کرتا ہے۔ کمپنی کے تمام سیاہ سفید کے مالک ملازمین ہوتے ہیں، فیصلے وہ کرتے ہیں معاملات یہ ملازمین چلاتے ہیں تاکہ سرمایہ کی بڑھوتری ہو لہٰذا یوں یہ نجی ملکیت سے سرمایہ کی ملکیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسلام میں جوائنٹ اسٹاک کمپنی کا تصور موجود نہیں ہے چونکہ جوائنٹ اسٹاک میں ملکیت سرمایہ کی ہوتی ہے جبکہ اسلامی فقہ میں ملکیت شخصی کا تصور پایا جاتا ہے۔ شخصی ملکیت اس وقت ہی قائم ہوتی ہے جب آپ محدود پیمانے پر مشارکت یا مضاربت قائم کریں جس میں کچھ تعداد ربوب المال کی ہو باقی ماہرین بحیثیت مضارب کے کام کریں یا سب مشارک ہوں سب کا پیسہ لگا ہو اور سب یا کچھ مشارک اس کمپنی میں وقت بھی لگائیں کام بھی کریں۔ اس کے علاوہ آپ ذاتی طور پر کمپنی کے مالک ہو سکتے ہیں جو مالک بھی ہو اور نفع نقصان کا ذمہ دار بھی۔ ہماری تجویز ہے کہ جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے بجائے محدود مضاربت و مشارکت کی بنیاد پر کاروبار قائم کیئے جائیں اور پہلے سے قائم محدود ملکیت کے کاروبار کے ساتھ اشتراک کیا جائے اور بڑی کارپوریشن کے ساتھ کوئی تعاون نا کیا جائے بلکہ انہیں قومیاہ لیا جائے۔ اسلامی صکوک اور حصص میں فرق: صکوک اور حصص میں ان کے اجرا سے پہلے ان کی مالیت اوران کے متوقع منافع کے تعین کا طریقہ مختلف ہے مگر حقیقی منافع دونوں میں شراکت کے حصول کے تحت ہوگا۔ سرمایہ دارنہ اور اسلامی تمویلی آلات میں فرق: سرمایہ دارنہ حصص اور صکوک(تمویلی آلات) اور اسلامی تمویلی حصص اور صکوک(تمویلی آلات) میں فرق یہ ہے کہ اسلامی تمویلی آلات میں نہ ہی سود ہوگا اورنہ ہی غرر ہوگا۔ ان کی ملکیت تبدیل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ان کی قدر میں تبدیلی آسکتی ہے، اس معیاد کے دوران ، یہ خود تجارتی شے نہیں ہوسکتی۔اسلامي تمویلی آلات حکومت یا کسی بھی کاروبار کے لیے فنڈ ز کو مہیا کرنے کا ذریعہ ہیں خود کاروبار نہیں ہیں اس لیے اس کی اجرا کی ذمہ داری کسی بھی تجارتی ادارے جیس نجی بینک ، اسٹاک ايکسچينچ یا دیگر کی نہیں ہوسکتی۔اس کی قدر میں تبدیلی سٹہ کی بیناد پر نہیں ہوگی بلکہ اس کا تعین کسی بھی پیداوری عمل سے ہوگا۔اس کا اصل مقصد کاروبار ی فنڈز کی ضروت کو پورا کرنا اور اس کے حاملین کو اس کاربار میں سے منافع کی ادائیگی ہے۔کسی بھی غیر منافع بخش کام کے لیے قرض حسن تمویلی آلات کا اجرا کرنا ہوگا۔جس کی ادائیگی حکومت اپنے محصولات سے کرسکتی ہے اور اس کے علاوہ تمویلی ادارہ قرض حسن کھاتے سے بھی کرسکتے ہیں۔جس میں عوام الناس اور کاروباری طبقہ حفاظت اور ثواب کی نیت سے کھاتے کھولیں گے۔ اس لیے اسلامی حکومت صرف معاش کی بنیاد پر تمویل کا اجرا نہیں کرے گی بلکہ معاد کو بھی اسکا حصہ بنائے گی۔یہ بنیادی فرق سرمایہ دارانہ تمویلی نظام اور اسلامی تمویلی نظام میں ہونا چاہیے ہے۔

حصہ ۲

اسلامی امارت کے ملازمین کے لئے حصص کا اختیار پبلک سیکٹر کمپنی وہ ہیں جس میں تمام شیئرز(حصص) افغانستان حکومت اور سرکاری ملازمین کے ہوں گے ۔ یہ حصص جس کی مالیت اس حصص کے سرٹیفکیٹ پر آویزاں ہوگی جسے اس کی فیس ویلیو (face value)کہتے ہیں۔ جیسے فرض کریں 100افغانی کا ایک حصص ہوگا ۔ فرض کریں کہ پروجیکٹ کی انویسٹمنٹ 1,000,000افغانی ہے تو 1000حصص سرکاری ملازمین کو فروخت کیے جائیں گے۔یہ حصص شراکت کی بنیاد پر منافع کا تعین کریں گے(جس کی تفصیل فقہائے کرام طے کریں گے)۔اس حصص کی قدر سالانہ بنیاد پرمعاشی قدر (Economic valuation) کی بنیاد پر کی جائے گی۔اسکو Employees stock option/Employees stock ownership scheme کہتے ہیں۔ حصص کی قدرمتعین مدت (سالانہ) کے لیے ہوگی جس میں کمی و بیشی معاشی قدر کی بنیاد پر کی جائے گی۔ WGAE تجویز کرتا ہے کہ سرکاری ملازمین کی شراکت منافع تک محدود کی جائے اور انہیں کمپنی کی منیجمنٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ شرائظ: • ان حصص کی خریداری ہر ملازمین کے لیے لازمی بھی ہوسکتی ہے اور اختیاری بھی ۔ • حکومت اپنے مالیاتی اداروں کے ذریعہ اس کو جاری ، فروخت ، منتقل اور منسوخ کرے گی۔ • اسکی ملکیت سالانہ بنیاد پر تبدیل ہوگی۔ وہ جس کے نام ہوگا وہ اسکو سال کے دوران کسی فردکو بیچ نہیں سکتااور کوئی بھی سال کے دوران یہ حصص زیادہ یا کم مالیت پر خرید نہیں سکتا ماسوائے جاری کنندہ کے۔ • اگر کوئی ان حصص کو فروخت کرنا چاہے تو یہ حصص حکومت کو ہی اسی مالیت پر دیے جاسکتے ہیں اور حکومت اسکے نئے مالک کو یہ اسی مالیت پر بیچنے کی پابند ہو گی۔عموما یہ تجارت سال کے بعد جاری ہوگی۔ • اس حصص کے خریدار لامحدود نہیں ہوں گے یعنی یہ محدود تعداد میں صرف سرکاری ملازمین کے لیے ہوں گے۔ تمویلی صکوک کا اجرا جب بھی افغان حکومت پبلک سیکٹر ک پروجیکٹس میں فائیننس کی متلاشی ہو تو وہ پبلک سے وہ فا ئینینس کے حصول کے لیے صکوک (certificate) کا اجرا کرتی ہےاور ان کو عوام الناس میں بیچتی ہے۔ سرمایہ دارنہ معیشتوں میں ان صکوک کو ڈسکاؤنٹ ریٹ پر فروخت کیا جاتا ہے جو کہ سود کے ذریعہ طے کیا جاتا ہے۔ ۱۰۰ افغانی کے صکوک کو اگر ڈسکاؤنیٹ ریٹ ۱۰ فیصد ہے تو اسکو آج ۹۰ افغانی میں فروخت کیا جائے گا اور اور معیاد مقررہ کے بعد ۱۰۰ افغانی پر حکومت کو واپس کردیا جائے گا۔ایک اسلامی حکومت یہ ڈسکاؤونٹنگ میں سود کے بجائے افغان معیشت کی پیداور کی شرح یا اگر کسی مخصوص سیکٹر میں دولت پزیری(Investment) ہو رہی ہو تو اس شعبہ کی چند سالوں کے شرح منافع کی تخمینہ سے متعین کی جاسکتی ہے۔ جب بھی افغان حکومت یہ صکوک کا اجرا کرے گی تو سب سے پہلے کریڈٹ پلاننگ ہوگی۔ کریڈٹ پلاننگ کا مطلب یہ ہے کہ اپ کو سیکٹرز پہلےسے تلاش کرنے پڑیں گے جہاں پر آپ یہ پیسہ لگائیں گے۔جس سے یہ پتہ چلے گا کہ کس شعبہ میں کتنے فنڈز درکار ہوں گے اور کون سا شعبہ افغان معیشت کے ضروری ہے۔اس کے بعد شماریات اور اکاؤنٹنگ کا شعبہ اسکی مدت اور متوقع منافع کا تعین اوپر دیے گئے فارمولے کے مطابق کرے گی۔ یہ جس معیا د کے ہوں گے اس معیاد کے گزرنےکے بعد شراکت کے معاہدے کے تحت ان کا منافع تقسیم کیا جائے گا۔ جتنی دولت پریزی اس معیاد میں درکار ہوگی اس کا تعین کرکر ہی اسی مقدار کے صکوک کا اجرا کر نا ہوگا۔ یہ لامحدود تعداد میں جاری نہیں کیے جائیں گے۔ شرائظ: • یہ صکوک حکومت اپنے تمویلی اداروں کے ذریعہ اس کو جاری اور فروخت کرے گی۔ • اس صکوک کی تجارت نہیں ہوگی ایک دفعہ جس کو یہ فروخت کردئے گئے ہیں وہ اسکو کسی کو فروخت نہیں کرسکتا۔ • اگر کوئی ان صکوک کو فروخت کرنا چاہے تو یہ صکوک حکومت کو ہی اسی مالیت پر دیے جاسکتے ہیں اور حکومت اسکے نئے مالک کو یہ اسی مالیت پر بیچنے کی پابند ہو گی۔ مدت دورانیہ کے بعد۔

حصہ ۳

خلاصہ یہ ہے کہ امارت اسلامیہ میں نہ بانڈ مارکیٹ قائم ہوگا نہ اسٹاک مارکیٹ اور نہ منی مراکیٹ۔ مشارکت اور مضاربت کے عقود کےتحت عوام سے رقوم حاصل کرکے دولت پزیری کی اسکیموں میں لگایا جائے گا۔ ورکنگ گروپ آن افغان اکانومی