مروجہ تکافل اور انشورنس
مروجہ تکافل اور انشورنس اس مضمون کو حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب، " مروجہ تکافل اور شرعی وقف مروجہ انشورانس کا غیرشرعی متبادل" ،تعمیر معاشرہ جامعہ خلفائے راشدین، کراچی اور ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب، "تکافل کی شرعی حیثیت مروجہ انشورانس کا جائز متبادل" ،ادارہ المعارف اسلامی، کراچی، سے اخذ کیا گیا ہے۔ دونوںمصنفین نے تکافل کے تین درجہ ذیل ماڈلرز بیان کئے ہیں: ہبہ بشرط العوض (Conditional Gift) "اتزام اللتبرع(Undertaking of Donation) ۔ 3۔ وقف ماڈل ماڈل نمبر 1 اور 2 پر دونوںمصنفین کا اتفاق ہے کہ یہ انشورنس کی ہی شکل ہیں لہذا غیر اسلامی ہیں جبکہ ماڈل نمبر 3۔ وقف ماڈل پر اختلاف ہے۔ لہذا وقف ماڈل کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔ اس مضمون میں سود، غرر اورقمار کی بنیاد پر تکافل اور انشورنس کا موازنہ کیا جائے گا۔ مضمون کے پہلے حصے میں خاص اصطلاحات کی تعریف بیان کی جائے گی تا کہ مضمون کو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ دوسرا حصہ انشورنس میں سود، غرر اورقمار ہونے کی نشاندہی کرے گا ۔ تیسرے حصے میں تکافل کے عام ماڈل کو بیان کی جائیگا اور تکافل کے دو ماڈلز ز – "ہبہ بشرط العوض (Conditional Gift)” “ اور "اتزام اللتبرع" (Undertaking of Donation) - کا بیان اور تنقید پیش کی جائے گی ۔ مضمون کے چوتھے حصے میں وقف اور اسکی بنیاد پر تکافل کا تیسرا ماڈل - "وقف ماڈل" - پیش کیا جائے گا ۔ پانچویں حصے میں "وقف" اور "وقف ماڈل" پر تنقید حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب، " مروجہ تکافل اور شرعی وقف مروجہ انشورانس کا غیرشرعی متبادل" ،تعمیر معاشرہ جامعہ خلفائے راشدین، کراچی سے پیش کیا جائے گا جبکہ آخری حصہ میں تکافل کو کس طرح موجودہ نظام یعنی سرمایہ داری سے علیحیدہ کرکے کیاجا سکتا ہے بیان کیا جائے گا حصہ اول - اصلاحات ربا (Interest) : ربا لغوی معنیٰ کے اعتبار سے زیادتی اور بڑھوتری کو کہتے ہیں۔ ربا کا اصطلاحی معنی کے اعتبار سے اس کا اطلاق دو طرح سے ہوتا ہے۔ ربا تسنیئہ / ربا القرض یعنی جس قرض پر بڑھوتری ہو ۔ ربا الفضل سے مراد وہ اضافی جو اجناس ایک ہی شئے کے تبادلہ پر حاصل ہو۔ دونوں سود کے زمرے میں آتے ہیں۔ قمار/ میسر اس طرح کا کوئی معاملہ ہو جس کےنتیجے میں ہر فریق کسی غیر یقینی واقع کی بنیاد پر اپنا کوئی مال اس طرح داؤ پر لگائے کہ یا تو بلا و معاوضہ دوسرے فریق کے پاس چلا جائے یا دوسرے فریق کا مال پہلے فریق کے پاس بلا معاوضہ آجائے۔ اس میں اصل رقم بھی ڈوب جاتی ہے یا مزید رقم کھینچ کر لے آتی ہے ۔ غرر (Uncertainty): ایسا معاملہ جس میں کم از کم کسی ایک فریق کا معاوضہ غیر یقینی ہو، جس کا تعلق معاملہ کےاصل اجزا سے ہو۔ غرر وہ مضر ہوتا ہے جو عقد یا اس کے اجزا میں ہو مثلا۔ مبیع (Subject Matter) کے نفس وجود میں غرر ہو یعنی مبیع ملکیت یا قبضے میں نہ ہو۔ مبیع کی سپردگی میں غرر ہو جیسے ہوا میں پرندے یا پانی میں مچھلی۔ وقف : وقف کے اندر شے کی ملکیت وقف کندہ سے اللہ جل شانہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اب اس کی بیع، تجارت، ہبہ، میراث اور ترکہ نہیں ہو گا۔ البتہ اس شے سے بندے استفادہ کرتے ہیں۔ ہبہ(Gift) میں کسی کو کسی چیز کا مفت مالک بنانا ہے۔ اگر ہبہ مشروط (conditional gift) ہوگا تو وہ عقد معاوضہ بن جائے گا۔ مضاربہ (Mudarabad) ایک قسم کا کاروبار ہے جس میں ایک فریق سرمایہ جبکہ دوسرا فریق محنت فراہم کرتا ہے ۔ نفع فیصد کے حساب سے طے ہوگا روپوں میں نہیں ہوگا۔ عقد (Contract) یعنی عہد جیسے کوئی شخص اپنے اوپر لازم کر لے مشلا وصیت وقف اور اجارہ وغیرہ۔ عقد دو طرح کے ہوتے ہیں۔ عقد معاوضہ میں ایک شخص دوسرے شخص کو مال وغیرہ کے بدلے میں کسی مال یا مال کی منفعت کا مالک بناتا ہے مثلا بیع اور اجارہ۔
2- عقد تبرع میں ایک جانب شے ہوتی ہے جس کا دوسرے کو مالک بنایا جاتا ہے لیکن اسکے مقابلے میں کوئی بدل نہیں ہوتا مثلا عطیہ، صدقہ، وصیت، وقف وغیرہ ۔ عقد معاوضہ اور عقد تبرع کے فقہی مسائل الگ الگ ہیں۔ وکالہ (Agency) کسی دوسرے شخص / وکیل کواپنی جگہ رکھتا یا تو آسانی کیلئے یا خود نہ کر سکنے کی وجہ سے، ایسے تصرف میں جو جائز ہو۔ موکل اگر وکیل کو معزول کرتا ہے تو دو شرائط ہیں۔ 1. وکیل کو اسکا علم ہو، 2. وکالہ کیساتھ کسی اور کا حق متعلق نہ ہو کیونکہ اس صورت میں تیسرے فریق کو نقصان ہو سکتا ہے۔ نوٹ: ایجنٹ / وکیل کیلئے مسلمان عاقل و بالغ ہونا ضروری نہیں ہے۔ خالص خطرات(Pure Risk) یعنی وہ خطرات جن میں نفع کا احتمال نہیں ہوتا بلکہ یا تو نقصان ہوتا ہے اور اگر نقصان نہ ہو تو نفع بھی نہیں ہوتا مثلا آگ، زلزلہ، سیلاب، چوری، ڈکیتی وغیرہ۔ انشورنس ان خطرات لے لئے ہوتی ہے۔ تکافل: اسلامی تاریخ میں تکافل نام سے معاہدے نہیں ہوئے (تکافل کی شرعی حیثیت ، ص۔77)۔ یہ نام اس حوالے سے اجنبی ہے۔ حصہ دوم - انشورنس ماڈل بیمہ / انشور نس کی درجہ ذیل صورت جمہور علما امت کے نزدیک نا جائز ہے کیونکہ مروجہ انشور نس میں درج ذیل ناجائز عناصر پائے جائے ہیں: 1۔سود 2۔قمار 3۔ غرر مروجہ انشورنس میں سود قمار اور غرر کس طرح پایا جاتا ہے؟ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ مرجہ انشورنس باقاعدہ عقد معاوضہ ہے (commutative contract) یعنی پالیسی ہولڈر بطور مشتری (policy holder as a buyer)، کمپنی بطور بائع (company as a seller)، اقساط بطور ثمن (premium as a price)، بیمہ رقم بطور رمبیع (sum assured/insured as a subject matter) اس سے مروجہ انشور کا عقد معاوضہ (commutative contract) ہونا بلکل واضح ہے اور جونکہ دونوں بدل یا عوض نقد ہیں جس کے تبادلہ میں کمی بیشی ربا الفضل (سود) ہے جو حرام ہے۔ سود کی حقیقت یہی ہے کہ ایک فریق دوسرےفریق کو کم رقم اس شرط پر دے کہ دوسرا فریق اس رقم کے بدلہ اسے کچھ بڑھا کر دے گا انشور کے اندر کم پر یمیم کے بدلہ زیادہ رقم کی پالیسی خریدی جاتی ہے یہی سود ہے اور بعض مرتبہ انشور نس کمپنی زیادہ رقم لیکر کم رقم دیتی ہے یہ بھی سود ہے ۔ اگر نقصان کی صورت میں رقم ملےگی ورنہ نہیں یہ قمار ہے اور ملنے والی رقم غیر یقینی ہے تو یہ غرر ہے۔ مروجہ انشور نس میں سود ،قمار اور غرر جیسے ناجائز عناصر پائے جائے ہیں۔ حصہ سوئم: تکافل تکافل کا عام ماڈل: عام ماڈل سے مراد یہ ہے کہ قطع نظر اس سے کہ تکافل کی بنیاد (Basic) کیا ہے، شروع میں چند حصہ دار (Shareholder) مل کر ایک کمپنی بناتے ہیں، جسے "تکافل کمپنی" یاس اسلامی انشورنس کمپنی کہا جائے گا، جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتے ہے: کمپنی ایک پول(Pool) بناتی ہے اور جو لوگ تکافل کی سہولت دینے کے خواہشمند ہیں ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اس میں چندہ (Contribution) دیں، جس کے قواعد (Rules) مقرر ہوں گے، وہ ان قواعد کے مطابق چندہ دیتے ہیں اور پول حسبِ قواعدان کے نقصانات کی تلافی (Cover) کرتا ہے، اس کے لئے کمپنی باقاعدہ مارکیٹنگ کرتی ہے۔ کمپنی اس پول (Pool) کی مالک نہیں ہوتی، اس کا کردار صرف اس پول کو چلانا (Operate) ہے، پول کے اموال اور منافع کا حساب محفوظ رکھتی ہے، کمپنی کا کھاتہ ا ور اس پول کا کھاتہ بالکل الگ الگ ہوتا ہے ، کمپنی کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی خدمات کے عوض میں اس پول سے فیس وصو ل کرے جسے "وکالہ فیس" کہتے ہیں، اگر چہ بعض کمپنیاں یہ کام مفت بھی کرتی ہیں، لیکن وہ مضاربہ میں سے اپنی حصہ زیادہ مقرر کرتی ہیں، یعنی جو کمپنیاں وکالہ فیس وصول نہیں کرتیں، وہ مضاربہ شیئر زیادہ رکھتی ہیں۔
کمپنی پول میں جمع شدہ رقم کو سرمایہ کاری میں لگاتی ہے، جس میں کمپنی کی حیثیت بعض صورتوں میں مضارب کی اور پول کی حیثیت " رب المال" کی ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں پول موکل اور کمپنی کی حیثیت وکیل کی رہتی ہے اور بعض صورتوں میں وکالہ اور مضاربہ دونوں ہوتے ہیں۔ شرکاء (Participants) وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ سکتے ہیں، نیز مضاربہ میں منافع بھی حاصل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے پول کا سرمایہ بڑھے گا، پھر مختلف خرچوں (Expenses) اور شرکا ء کو رقم دینے کے بعد اگر کچھ بچا، تو اس کو "قدر زائد" (Surplus) کہتے ہیں ، جس میں کمپنی کو مختلف قسم کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں مثلا کچھ رقم مختلف ریز روڈ فنڈز میں ڈالے، کچھ شرکاء میں تقسیم کرے، اور کچھ پول میں واپس ڈال دے۔ سابقہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ تکا فل کمپنی کے بنیادی اعمال تین ہیں: شرکاء (Participants) چندہ (Contribution) دیتے ہیں۔ پول حسبِ شرائط ان کو رقم دیتا ہے۔ سر پلس یا اس کا کچھ حصہ شرکاء کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ تینوں کام باہم مربوط (Interconnected) ہیں او ر اس میں باقاعدہ شرائط و قوائد کے مطابق لین دین لازم ہوتا ہے، یعنی شرکاء چندہ کے پابند ہوتے ہیں اورپول تلافی (Cover) دینے کا پابند ہوتا ہے ۔ جنرل ماڈل کے بعد تکافل کے دو ماڈلز ز – "ہبہ بشرط العوض (Conditional Gift)” “ اور "اتزام اللتبرع" (Undertaking of Donation) پر دونوںمصنفین کا اتفاق ہے کہ یہ انشورنس کی ہی شکل ہیں۔ درجہ ذیل میں تفصیل سے بیان کیا جارہا ہے۔ ماڈل نمبر 1: "ہبہ بشرط العوض (Conditional Gift)”: ہبہ کے معنی گفٹ ہیں اور بشرط العوض conditional)) کا مطلب یہ ہے کہ واہب (ہبہ کنندہ) یہ کہہ دے کہ میں ہبہ دے رہا ہوں، بشرطیکہ مجھے اس کا بدلہ ملے۔ اس کو بھی کہتے ہیں مثلا ایک شخص سے کہہ دے کہ میں آپ کو یہ قلم گفٹ کر رہا ہوں، لیکن آپ مجھے موبائل سیٹ دیں گے۔ اس ماڈل میں شرکاء (Participants) پول کو چندہ (Contribution) دیتے ہیں، گویا کہ یہ ان کی طرف سے پول کو ہبہ ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ پول وقت ضرورت شرائطِ مقرہ (Terms & Conditions) کے مطابق ان کو پیش آمدہ حادثے (Event) میں نقصان کی تلافی (cover) دے گا۔ لہذا ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب کے مطابق بعض علماء کرام نے کہا کہ مزکورہ ڈھانچہ ( ماڈل) کی بنیاد "ہبہ بشرط العوض" یا "ہبہ الثواب" ہے لہذااس میں درجہ ذیل شرعی خرابیاں ہیں : تکافل مروجہ بیمہ کی طرح عقد معاوضہ (Conditional Gift) بن گیا ہے۔ نیز اس صورت میں اگر ممبر یا شریک چندہ نقد (Cash) کی شکل میں دے اور اس کو کوریج (Coverage) بھی نقد کی شکل میں مل جائے تو اس میں برابری ضروری ہے ، ورنہ کمی پیشی کی صورت میں رباالفضل (سود) لازم آجائے گا۔ ہبہ بشرط العوض اس وقت درست ہے جبکہ عوض معلوم ہو، جبکہ تکافل میں دیا جانے والا عوض معلوم نہیں ہوتا لہذا یہ خرابی (غرر) ہے۔ خلاصیہ یہ کہ اس صورت میں تکافل اور مروجہ بیمہ میں کوئی بنیادی فرق نہیں رہے گا۔ ماڈل نمبر 2: "اتزام اللتبرع" (Undertaking of Donation) اس ماڈل میں شرکاء پول میں چندہ دینا اپنے اوپر لازم کرتے ہیں اور پول اپنے اوپر لازم کرتا ہے کہ شرکاء کو نقصان ہوا تو اس کو پورا کیا جائے گا، گویا اس میں دونوں جانبوں سے التزام پایا جاتا ہے، جسے دو طرفہ التزام (Bilateral Undertaking of Donations) کہتے ہیں۔ کیونکہ چندہ دہند گا ن کی طرف سے بھی التنر ام ہے اور پو ل کی طرف سے بھی التزام ہے لہذا یہ صورت بھی نتیجہ کے اعتبار سے "ہبتہ الثواب"(Conditional Gifts) ہی کی ہوئی جو بحکم بیع ہے۔ اس صورت میں تکافل بھی مروجہ بمیہ کی طرح عقد معا وضہ بن جائے گا اور غرراورر با جیسے مفا سداس مئوثر (Effective) ہو جا ئیں گے ۔
اس صورت میں مزید مشکلات (Complication) تبرع (donation) کی صورت میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ چندہ دہندگان نے پول کو چندہ (donation) دیا تو پول تو اس کا مالک نہیں ہوا کیونکہ ہبہ (gift) یا تبرع (donation) کی صورت میں پول کا کوئی الگ سے قانونی یا شرعی وجود نہیں، کیونکہ اس صورت میں پول یا فنڈ نہ شخص حقیقی ہے اور نہ شخص قانونی، اور جب وہ قانونی شخص نہیں ، اور نہ ہی حقیقی شخص ہے تو وہ کس طرح مالک بنے گا؟ لہذا اس چندہ کی زکوۃ دینے والے پر واجب ہونی چائیے، کیونکہ وہ اس کا اب بھی مالک ہے اس میں اس نظر یہ کے قائل علماء کرام مختلف رائے رکھتے ہیں، بعض زکوۃ کے وجوب کے قائل ہیں، اور بعض نہیں ( )۔ نیز اگر تبرع (چندہ دہندہ) کرنے والے کا انتقال ہو گیا، تو اس کا دیا ہوا پیسہ اس کی میراث میں شمار ہونا چاہیئے، حالانکہ تکافل کے موجودہ نظام میں میراث کے احکام لاگو کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس صورت میں درجہ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں: چندہ کی رقم چندہ دہند کی ملکیت سے نہ نکلنے کی وجہ سے شر عی ضابطہ کے مطابق اس کی زکوٰۃچند دہندہ پر واجب ہونی چا ہیے ۔ چندہ دہند ہ کے انتقال (Death) کی صورت میں دیا ہوا اس کے تر کہ میں شمار ہونا چا ہیے ۔ نیزجب پو ل کا احسان چند ہ کے احسان کے سا تھ مشر وط ہے اور دونو ں پراپنا اپنا احسان لازم ہے تو یہ "جبر فی التبرع " ہوگیا یعنی زبردستی کا احسان جس کا با طل ہونا ظاہر ہے، چنا نچہ زیا دہ تر لوگو ں کو تکافل کے بارے میں یہی اشکال رہتا ہے۔ ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب کے بقول اس کے علاوہ بھی تبر ع کی صورت میں بہت سی پیچدگیا ں (Complications) ہیں، جن کا جواب اور حل کوئی آسا ن کا م نہیں ۔ حصہ چہارم: ماڈل نمبر3: وقف ماڈل:َ یہ اختلافی ماڈل ہے جس کی تفصیل اس حصہ میں بیان کی جائے گی ۔ ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب کے مطابق تکافل کی صحیح اور شرعی بنیاد وہ ہو گی جس میں مذکورہ بالا قسم کی پیچید گیا ں اور مسا ئل پیدا نہ ہوں ۔ یہ اس وقت ممکن ہے جبکہ مذکورہ پول کو تعاونی (cooperative) قراردیا جائے جس کا مقصد یہ ہو کہ جن شرکاء (Member) کو نقصان پہنچے یہ پول اس نقصان کو پورا اور جو عطیات (donations) اس میں آرہے ہیں وہ محض (Pure) تبر عات (Donations) ہوں وہ کسی شرط کے ساتھ مشروط (conditional) نہ ہوں ۔نا میراث کے احکام جاری ہوں ،اور نا اس کی بنیاد پر وہ لوگ قدرزائد (سر پلس ) کے مستحق ہوں ، بلکہ یہ تبر عات مکمل طورپر پول کی ملکیت میں چلے جائیں اور پول ان میں حسب قواعد مقر رہ(Defined Rules) تصر ف کرے ،اس صورت میں چندہ دبند گان اور پول کے درمیا ن ایسا کوئی تعلق (Relationship) نہ ہوگا ، جس کی وجہ سے یہ لوگ معا وضوں کے مستحق (Eligible) ہوں ،بلکہ یہ لوگ چندے اور عطیات دیتے ہیں ،جن کا معاوضہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور غیرمشر وط ہوگا -پھر جب ان کو نقصان پہنچے اور پول ان کے نقصا ن کی تلافی کرے ،تووہ ایک مستقل (Separate) عطیہ ہے جسے "عطا' مستقل " کہتے ہیں ، وہ کسی سا بقہ عقد کا نیتجہ نہیں ۔ چونکہ پول کو اپنی ملکیت میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار حاصل ہے، لہذا اس کو یہ بھی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ فائض (Surplus) میں سے شرکا ء کو بھی کچھ حصہ دیدے۔ خلاصہ یہ کہ تکافل ماڈل سے درجِ ذیل مقاصد حاصل ہوں: چندہ دہندگان کا چندہ دینا کسی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو۔ پول کا کوریج (Coverage) مستقل عطیہ کی حیثیت سے ہو، یعنی وہ کسی سابقہ عقد کا نتیجہ (Conclusion) نہ ہو۔ چندہ کی ملکیت شرکاء کی ملکیت سے خارج ہو۔ پول اس چندہ کا مالک ہو۔ ان خصوصیات پر مشتمل ماڈل نہ عقدِ معاوضہ بنے گا، نہ اس میں زکٰوۃ اور میراث کے مسائل پیدا ہونگے۔
لہذا پول "وقف" پر بنی (Based) ہونا چاہئے، کیونکہ وقف ہی ایک ایسی چیز ہے، جس کا الگ وجود شریعت بھی مانتی ہے، اور قانون بھی مانتا ہے، نیز وقف میں کافی گنجائش ہے، یعنی اس کا دائرہ (Scope) وسیع (Extensive) ہے اس میں بسا اوقات ایسی شرائط کی بھی گنجائش ہوتی ہے، جو دوسرے عقود (Contracts) میں نہیں چلتیں، اس لئے کہ وقف میں شرائط کی گنجائش ہبہ اور تبرع کے مقابلہ میں زیادہ ہے، لہٰذا ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب کے نزدیک تکافل کی بہترین بنیاد اور نسبتہ مسائل اور پیچیدگیوں سے دور راستہ " وقف " ہی ہے۔ ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب کی وقف سے متعلق اہم قواعد اور نکات کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے : وقف اگر زندگی میں ہو تو زندگی ہی میں کل مال سے سمجھا جائے گا یعنی اس میں کسی تنا سب (POPORTION) کا اعتبار کرنا شرعاً ضروری نہیں۔اور اگر مرنے کے بعد کے ساتھ مطلق (Contingent) کیا ،یعنی ہی کہا کہ میرا یہ گھر فلاں مسجد پر میرے مرنے کے بعد وقف ہے تو یہ وقف اس کے مرنے کے بعد اس کے ترکہ کی ایک تہائی میں نافذ ہوگا۔ مشترکہ Undivided) ) چیز کا ہبہ (gift) درست نہیں جیسا کہ اوپر مزکور ہوا لیکن مشترکہ چیز وقف درست ہے یعنی وقف درست کے لیے شئی موقوف کا تقسیم ہونا ضروری نہیں بلکہ مشتررکہ شکل میں بھی وقف ہو سکتی ہے ۔ وقفد کنند ہ وقف میں یہ شرط لگا سکتا ہے کہ زندگی میں وہ خود اس وقف کا متولی (Trustee) ہوگا۔ شئی موقوف نہ واقف کی ملکیت ہوتی ہے اور نہ فقراء و مساکین کی ملکیت ہوتی ہے۔ واقف کا مسلمان ہونا ضروری نہیں کافر بھی وقف کر سکتا ہے۔اور اس وقف سے حسب شرط مسلمان فقراء اور کفار فقراء سب استفاد کر سکتے ہیں۔ وقف کا از قسم قربت (ثواب)ہونا ضروری ہے لہذامسلمان کا کسی جائداد و غیرہ کو گرجا و غیرہ پر وقف کرنا جائز نہیں۔ واقف نے اگر وقف میں شرط لاگئی کہ بوقت ضرورت میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اپنے استعمال میں لا وں گا تو یہ وقف باطل ہے۔ اسی طرح وقف کی جہت تصرف بھی غیر منقطع ہونا ضروری ہے تاکہ وقف کی منفعت ہمیشہ جاری رہے لہذاکسی مخصوص جہت منقطعہ پر وقف کرنا درست نہیں۔ مفتی بہ قول (جس پر فتویٰ دیا جاتا ہو)کے مطابق واقف منقولہ (Movable) و غیر و منقولہ(Immovable) جائداد سب کا جائز ہے لہذا نقود (Money) کا وقف بھی درست ہے ۔ واقف کا زمین وغیرہ اس طرح وقف کرنا درست ہے کہ جب تک میں زندہ ہوںمیں اس سے استفا دو کروں گا تو فقراء اس سے استفادہ کریں گےیا یہ زمین فلاں مسجد کےلئے لیے وقف ہوجائے گی۔ شئی موقوف کا استبدال (Replacement change) اگر واقف نےبوقت وقف یہ شرط لگائی تھی کہ میں اس زمین کو مثلا فروخت کر کے اس کے بدلہ میں دوسری زمینخرید کر وقف کروں گا یا اس نے خود بوقت وقف اس طرح کوئی شرط نہیں لگائی تھی لیکن شیہ موقوف کی حالت ایسی ہو گئی کے وہ بلکل قابل نفع نہیں رہی تو ان دونو ں صورتواں میں استبدال جائز ہے لیکن اگر بوقت وقف واقف نے استبدال کی شرط لگائی تھی لیکن بعد میں شئی موقوف کے مقابلہ میں دوسری شئی بہتر نظر آگئی تو اس صورت میں استبدال جائز نہیں ۔ متولی میں بہتر یہ ہے کہ مندرجہ زیل صفات موجود ہوں ۔ امانت دار ،دیانتدار ہو بالغ ہو عاقل ہوں اس میں وقف جلانے کی صلاحیت واہلیت موجود ہو اور نیک صلح ہو ۔ واقف نے اگر خود اپنے آپ کو متولی بنایا ہو لیکن اس کے بارے میں خیانت کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں حکومت اس کو معزول کر کے اس کی جگہ کسی اور کو متولی بنا سکتی ہے۔ واقف اپنے وقف کردہ شئی سے خود بھی استفادہ کر سکتا ہے جبکہ واقف عام ہو یا وہ اپنے لیئے وقف میں اس کی شرط لگائے. اگر کسی شخص نےکوئی زمین یا کوئی شے وقف کی اور اپنی مدت حیات تک اور اپنے بعد فقراء کےلئے اس وقف سے گلی یا جزوی استفادہ کی شرط لگائے تو امام ابو یاسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقف صحیح ہے اور مشامحخ رحمہم اللہ تعالی نے امام ابو یوسف رحمہاللہ کے قول کو لیا ہے اور وقف میں لوگوں کو رغب دلانے کی خاطر اسی قول پر فتویٰ دیا گیا ہے،………اور اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ یہ چیز اللہ کے لیے وقف ہے جب تک میں زندہ ہوں گا استفادہ کرتا رہوں گا اور اس پر کوئی اور اضافہ نہیں کیا گیاتو یہ جائز ہے اور اگر اس کا انتقال ہو گیا تو یہ وقف فقراء پر صرف یا جائے گا۔اور اگر یہ کہا کہ میری یہ زمین صدقہ مجھ پر خرچ ہو گا جب تک میں زندہ رہوں میرے بعد نسل ورنسل میری اولاد کو ملے اور اگر میری اولاد ختم ہو جائے تو اس کے بعد یہ مساکین پر صرف ہوگی تو اس طرح وقف کرنا جائز ہے۔ اور اگر کسی نے کوئی چیز اپنے غیر پر واقف کی اور اپنی حیات تک اس میں سے کھانے کو مستثنٰی کردیا تو یہ وقف صحیح ہے۔
اضل وقف کا عین باقی رکھتے ہوئے اس سے استفادہ کرنا ہو گا یعنی عین وقف کو ختم کرنا (consume) جائز نہیں۔ جو وقف کےلیے کوئی شی وقف کرے تو وہ مملوک وقف ہوگی لہذا اس کو خرچ کرنا جائز ہے مشلا اگر کسی نے مسجد کو چندہ دیا تو وہ وقف نہیں بلکہ مسجد کی ملکیت ہے لہذا اس چندہ donation)) کو مسجد کی ضروریات اور اس کے مصالح مطلوبہ خرچ کرنا جائز ہے۔کسی آدمی نے مسجد کی عمارت مسجد کے نفقہ یا مصالح مسجد کے لئے ایک درہم دیا تو یہ صحیح ہے اس کی تصحیح بطور وقف تو ممکن نہیں۔البتہ مسجد کے لئے بطور تملیک ہو سکتی ہے لہذا اس طرح مسجد کے لئے ملکیت کو ثابت کرنا صحیح ہے پس اس طرح دینا قبضہ سے مکمل ہو جائے گا۔ حصہ پنجم: تکافل ماڈل کے "وقف" پر حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب کی چند مثالوں کے زریعے تنقید: حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب وقف ماڈل کو بھی اوپر بیان کئے گئے دونوں ماڈلرز کی طرح انشورنس کی شکل بیان کرتے ہیں۔ حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب نے وقف کے غلط استعمال کو درجہ ذیل چند مثالوں کے زریعے واضح کیا ہے: 1۔ اگر کوئی شخص کسی علاقے میں پانی کا یک بہت بڑا تالاب بنا کر وقف کر دے اور ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کردے کہ جو اس تالاب میں دس ٹینکر پانی ڈالے گا ہو اس تالاب کا موقوف علیہ ہو جائے گا اور مثلا عرصہ دو یا تین سال میں اگر درج ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت پیش اگئی تو اس تو تالاب سے اتنی اتنی مقدار میں پانی لینے کی جازت ہوگی ۔ مثلا نئے مکان کی تعمیر یا قدر تی آفات سے ہونے والی تباہی کی صورت میں مرمت کی غرض سے پانی لینے کی اجازت ہوگی اور فوتگی کے موقع پر غسل وغیرہ کے لیے پانی کی فراہمی کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ نیز ہمارا یہ تالاب اس پانی کا مالک ہوگا اور اس پانی کے ذریعہ اپنے منتظمین کے اخراجات اجرت فیس کے عنوان سے پورا کرے گا اس لئے اس کا پانی بیچا بھی جارہا ہے اور منتظمین کھاتے بھی جارہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ا س قسم کے تالاب میں عوام کی نفع رسانی کا پہلو مغلوب اور شرائط کے شکنجے میں ہونے کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہے لہذا مذکورہ بالا طریقہ کا رنا جائز ہے اور کسی ایک ضعیف قول سے بھی اس کا جوازثابت نہیں کیا جا سکتا۔ 2۔ کسی نے اپنی زمین وقف کر کے کہا کہ جو شخص اس زمین پر مکان بنا کر وقف کے حوالے کردے گا وہ ہمارے وقف کا موقو ف علیہ ہو جائے گا اس شرط کے ساتھ کہ اس مکان کی اآمدنی اور کرایہ ہمیں ملے گا اور مثلا دو یا تین سال میں نہ مرا تو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا ۔ نیز واقف انتظام اور نگرانی کے نام سے مکان کی آمدنی اور کرایہ خود رکھے گا۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اس قسم کا وقف بھی جائز نہیں بلکہ محض پیسے کمانے کا ایک حیلہ ہے۔ 3۔ اگر کسی نے ایک ایکڑ زمین وقف کر کے کہا کہ جو شخص میری اس موقوفہ زمین میں دس لاکھ کی دکان بناکر ہمارے وقف کے حوالے کرے گا ہو ہمارے وقف کا موقوف علیہ ہو جائے گا اس شرط کے ساتھ کہ اس دوکان کہ کرایہ بھی وقف کو ملے گا ۔ نیز اگر مثلا دو تین سال میں آپ کا انتقال ہو گیا تو ایک دکان بنوانے کی صورت میں آپ کے ورثا کو بیس لاکھ روپے دیے جائے گے لیکن اگر اس عرصہ میں آپ فوت نہ ہوے تو کچھ بھی نہیں دیا جائےگا۔ اس صورت میں بھی واقف نگرانی اور انتظام کے بہانے مارکیٹ کا کرایہ اجرت اور فیس کے نام سے خود کھائے گا۔ اس صورت کا حکم بھی مندرجہ بالا صورتوں کی طرح نا جائز ہے۔ تکافل "وقف ماڈل" کے پر حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب کی تنقید: تکافل وقف ماڈل کی خصوصیات (اوپر بیان کی ہیں) بلخصوص "1 ۔ چندہ دہندگان کا چندہ دینا کسی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو" اور " 2۔ پول کا کوریج (Coverage) مستقل عطیہ کی حیثیت سے ہو، یعنی وہ کسی سابقہ عقد کا نتیجہ (Conclusion) نہ ہو" سے واضح محسوس ہوتا ہے کہ تکافل کمپنی میں دو عقد اور معاملے ایک دوسرے کیساتھ مقترن (قربت ) اور جمع ہیں ، گو مشروط نہیں، اب یہ جائز ہیں یا ناجائز؟ اس کے معلوم کرنے کا طریقہ علامہ خطابی رحمہ اللہ تعالی کے مستنبطہ ضابطہ کے پیش نظریہ ہو گا کہ اگر ان کی حیثیت وہی حالت اقتران (قربت ) کی برقرار رہتی ہے تو یہ دونوں معاملے جائز ہوں گے اور اگر حیثیت بدل جاتی ہے تو پھر جائز نہیں ہوں گے۔
اب ہر دانشمند مسلمان اس پر غور کرے اور خود فیصلہ کرے کہ حالت انفراد میں اس کی حیثیت بدلتی ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے کہ اس کی حیثیت بدل جاتی ہے کیونکہ اگر تکافل کمپنی اس وقف فنڈ کو چندہ دینے والے کے نقصان کی ضمانت کسی بھی صورت میں اور کسی بھی طریقے سے نہ دے تو شاید کوئی ایک بھی اس کو چندہ نہ دے، اسی طرح تکافل کمپنی اور وقف فنڈ کسی ایسے آفت زدہ مسلمان کیساتھ احسان کا برتاو کرتے ہوئے اس کے نقصان کی تلافی کے لئے ہر گز تیار نہ ہوں گے، جو ان کے قائم کردہ وقف کو چندہ نہ دیتا ہو۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ تکافل کمپنی اور وقف فنڈ کیساتھ پالیسی ہولڈرز کا معاملہ فی سبیل اللہ کا نہیں بلکہ دوسری انشورنس کمپنیوں کی طرح عقد معاوضہ کا ہے، جس کو تمام علماء بالاتفاق سود، قمار اور غرر کی وجہ سے ناجائز اور حرام فرماتے ہیں (مروجہ تکافل اور شرعی وقف ،ص۔ 48)۔ مزید ریسرچ: کیا وقف سے چندہ صرف امیروں کو دینا جائز ہے جیسا کہ ماڈل 3 میں دیا جائے گا؟ حصہ ششم: تکافل کو کس طرح موجودہ نظام یعنی سرمایہ داری سے علیحیدہ کرکے کیاجا سکتا ہے تکافل کوئی کاروباری ماڈل نہیں ہے بلکہ یہ امداد باہمی کا ایک طریقہ ہے جس کو حکومت کے تحت یا کسی بھی اسلامی تنظیم کے تحت قائم کیا جائے۔ یہ کارپوریشن نہیں ہوگی جو کہ کسی بھی حصص کے بازار کے منسلک ہو۔ اس میں جمع ہونے والی رقم کسی بھی شعبہ سے منسلک حضرات امداد باہمی کے تحت جمع کرواسکتے ہیں۔ اس طرح یہ ایک انفاق فنڈ ہوگا ۔ جو کہ حبہ کے ذمرہ میں آسکتا ہے۔ جب بھی اس شعبہ سے متعلق کوئی کپمنی یا شخص مصیبت یا حادثہ کا شکار ہوگا اس فنڈ سے اس کو رقم ادا کی جائے گی اس کا تعین کسی بھی طرح فنڈ میں جمع ہونے والے حصہ سے نہیں ہوگا بلکہ اس کا فیصلہ باہم مشاورت سے ایک تشکیل شدہ کمیٹی کرے گی ۔ امارت اسلامی میں تو یہ کام امارت کے اس شعبہ کاامیر کرے گا ، یہ فیصلہ مشاورت سے ہوگا جس میں معاونت کے لیے اس نقصان کا تخمینہ اور حساب کتاب کی جانچ پڑتا کے بعد ہوسکتا ہے۔ برخلاف انشورس کے اس میں جمع ہونے والی رقم نہ ہی کسی پر جبر ہوگی اور نہ ہی وصولی کسی کا حق ہوگا ۔اور نہ ہی وصولی کی نیت سے اس تکافل فنڈ میں لوگ رقوم جمع کروائیں گے۔ اس پول میں بچی ہوئی رقوم کو کسی بھی کاروبار میں اسلامی اصولوں کے تحت استعمال کرسکتے ہیں مگر اس کامنافع اس فنڈ کا حصہ ہوگا اور کوئی بھی اس منافع میں شریک نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد اس فنڈ میں اضافہ ہوگاتا کہ تکافل خود کفیل ہوکر کسی بھی انقاق فنڈ کا محتاج نہ ہو۔ اگر تکافل حکومتی ادارہ ہوگا تو حکومت اسکے اخرجات خود پورے کرے گی یا پھر اس پر سروس چارجز لگائے گی جو حقیقی اخراجات پر مبنی ہوگا۔ Reference: حضرت مولانا مفتی احمد ممتاز صاحب، " مروجہ تکافل اور شرعی وقف مروجہ انشورانس کا غیرشرعی متبادل" ،تعمیر معاشرہ جامعہ خلفائے راشدین، ماڑی پور، کراچی ڈاکٹر مولانا عصمت صاحب، "تکافل کی شرعی حیثیت مروجہ انشورانس کا جائز متبادل" ،ادارہ المعارف اسلامی، کراچی WGAE