کیوبا کووڈ کا مقابلہ کیسے کر رہا ہے
کیوبا کووڈ-19 کا مقابلہ کیسے کر رہا ہے؟ جن چند ممالک نے کووڈ-19 کی وبا کے روک تھام میں دیرپا کامیابی حاصل کی ہے ان میں چین، تائیوان، شمالی کوریا اور کیوبا شامل ہیں۔ کیوبا کی معاشرتی حکمت عملی خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اس چھوٹے سے جزیرہ نے جو 1959ء سے لے کر آج تک شدید امریکی مزاحمت کا شکار ہے ایک ایسا معاشرتی نظام تعمیر کیا ہے جو اس کے عوام کو بحرانوں کے اثرات سے قدرے محفوظ رکھتا ہے۔ کیوبا میں اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب 1959ء میں آیا اور شروع ہی سے انقلابی حکومت نے تمام آبادی کو صحت کے تحفظ کی سہولت فراہم کرنے کا عزم کیا۔ 1964ء تک تمام آبادیوں میں ڈاکٹر اور نرسیں مقامی طور پر تعینات کر دیے گئے تھے۔ اس وقت سے آج تک صحت کی فراہمی کو کیوبا کی دفاعی اور خارجہ پالیسی سے منسلک تصور کیاجاتا ہے۔ وباؤں سے نبردآزمائی کا پہلا تجربہ 1980ء کی دہائی کے آخر میں ہوا۔ پورے ملک میں ایڈز ایک سیلاب کی طرح امڈ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سوویت یونین کا انہدام ہوا اور وہ ڈیڑھ بلین کی امداد جو سوویت یونین کیوبا کو سالانہ فراہم کرتا تھا منقطع ہو گئی۔ امریکی ناکہ بندی اور پابندیوں کی وجہ سے ادویات کی شدید قلت ہو گئی اور دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ 1995ء تک ایڈز کے پھیلاؤ کو روک دیا گیا اور اس وبا کے مقابلہ کے لیے جو ادارتی تنظیم کی گئی تھی وہ آج کووڈ-19 کی تحدید کا ذریعہ بن رہی ہے۔ کووڈ-19 سے مقابلہ کی حکمت عملی کی کلیدی خصوصیت اس کی خودانحصاریت ہے۔ اس خود انحصاریت کا اظہار حکومت کئی اقدامات سے ہوتا ہے۔ قومی تحویل میں لی گئی فیکٹریوں کی مشینری کی تبدیلی تاکہ اسکولوں کے یونیفارمز کی جگہ ماسک بنائے جائیں۔ ایک قومی انسداد کووڈ پالیسی کی تشکیل، طبی عملہ کی ہر محلہ، ہر بستی میں گھر گھر ہفتہ وار دورے اور بوڑھوں، اپاہجوں اور زچہ خواتین کی سرکاری نگہداشت، تمام مسافروں کی ٹیسٹنگ اور آئسولیشن کا انتظام، غیر ملکی سیاحوں کی آمد پر مکمل پابندی(جسے اب ختم کر دیا گیا ہے)۔ ملک کی شہری دفاعی کونسل نے متاثرہ علاقوں کی ناکہ بندی کا فیصلہ کیا اور ناکہ بند علاقوں میں فراہم رسد اور طبی سہولتوں کی ذمہ داری قومی اور شہری دفاعی کونسل نے لے لی۔ ہنگامی بنیاد پر لاکھوں کووڈ-19 ٹیسٹ کٹس تیار کی گئیں، تمام نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے اوقات کار میں تبدیلی لائی گئی اور ان کے پندرہ دن ہسپتال میں، پندرہ دن آبادیوں میں اور پندرہ دن اپنے گھروں میں پریکٹس کرنے کا انتظام کیا گیا۔ تیسرے چوتھے اور پانچویں سال کے میڈیکل طلبہ کو گھر گھر جا کر اعداد و شمار جمع کرنے اور مریضوں کی نگہداشت کے لیے پابندکیا گیا۔ بڑے پیمانے پر میڈیکل کارکنوں میں مشاورت کو فروغ دیا گیا۔ قومی طبی پالیسی مستقلاً زیر غور اور نئے ابھرتے ہوئے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے بنائی گئی۔ مشاورت کے اس عمل کو جمہوری کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ صرف ڈاکٹر اور عہدہ دار ہی نہیں عام افراد کو بھی اس مکالمہ میں شامل ہونے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔ حکومت نے ہومیوپیتھک طب کے فروغ کے لیے کئی اقدامات کیے اور آکوپنکچر ادویات کی عوامی فراہمی کو ممکن بنایا۔ ہر ڈاکٹر کو ہومیوپیتھی اور دیسی طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ 1960ء کی دہائی سے آج تک ایسی طبی مہارت کی عالمی ترسیل کیوبا کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ آج ایک لاکھ بیس ہزار کیوبن طبی کارکن 159 ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ تحقیق میں بہت آگے ہے اور بالخصوص ڈینگی کے علاج میں کیوبا کی تیار کردہ دوائی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ کووڈ-19 اور دوسری وباؤں سے مقابلہ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی جڑیں عوام میں پیوست ہوں۔ معاشرتی اور ریاستی ادارے عوامی تحرک اور تنظیم کو مربوط کرنے کا ذریعہ بنیں اور صحت عامہ کے نظام کو سرمایہ دارانہ سامراجی اجارہ داری سے محفوظ رکھا جائے۔ پاکستان کی حکومت سامراج کی باجگزار ہے۔ اس کی قومی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف بناتی ہے اور آئی ایم ایف کا پورا زور حکومت کے صحتی اخراجات کو کم کرنے پر ہے۔ ملک بھر میں نج کاری بھی ایک وبا کے طورپر پھیل رہی ہے اور ہمارا صحتی نظام اس وبا کا شکار ہے۔ ان حالات میں عمران خان کی دہریہ حکومت سے توقع رکھنا کہ وہ وباؤں کے پھیلاؤ کی موثر روک تھام کر سکے گی، غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
جاوید اکبر انصاری