ایران میں امریکہ کی شکست
اسلامی جمہوریہ ایران میں امریکہ کی شکست امریکہ نے ایران پر قبضہ 1952سے 1979ت شاہ کی پٹھو حکومت کے ذریعہ قائم رکھا ۔اس پورے دورانیہ میں علمائے ایران عوامی اسلامی مزاحمتی جدوجہد کو منظم کرتے رہے اور 1975/76 تک ملک کے طول وعرض میں اسلامی اقتدار کی ایسی ادارتی صفبندی ممکن ہوگئی جس کے زیر اثر محلہ،بازار ،درس گاہیں ،مقامی اور مرکزی ریاستی انتظامیہ اور فوج کے کئی محکمات آگئے ۔جب انقلاب برپا کیا گیا تو علمائے اسلام کی قیادت ہر سطح پر مخلصین دین منظم بھی تھے اور متحرک بھی اور سامراجی معاشی اور ریاستی استبداء منتشر ہوچکا تھا کچھ زور سامراج نہ اس کے غلام کا قبضہ ہر ایک مقام پہ بے شک امام کا 1978 کی سیاسی پسپائی سے مایوس ہوکر امریکہ نے صدام حسین کے ذریعہ ایران پر حملہ کردیا اور جب صدام اسلامی انقلاب کو شکست دینے میں ناکام ہوگیا تو اس وقت سے امریکی سامراج نے ایران کے خلاف معاشی جنگ جاری کردی او رتین دہایاں ہونے کو آئی یہ معاشی جنگ جاری ہے اس معاشی جنگ میں امریکہ شکستوں پر شکست کھارہاہے ۔شہید سلمانیؒ کے جنازے کے جلوس میں کروڑوں ایرانیوں کی ولولہ انگیز شرکت نے ثابت کردیا کہ عوام علمائے اسلام کی قیادت میں منظم بھی ہیں اور متحرک بھی اور سخت ترین معاشی دباؤ کے باوجود اسلام کی سربلندی کے لئے ہرقربانی دینے پر آمادہ ہیں۔ امریکی سامراج اور اس کے پٹھو بین الاقوامی ادارہ –آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک ،یواین وغیرہ اپنی روایتی بے غیرتی اور بے شرمی مسلسل یہ جھوٹ پھیلارہے ہیں کہ ایرانی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوئی ہے اور آج یقیناً ایران فنا ہوجائے گا اسلامی انقلابیوں کے لئے ضروری ہے کہ اس بے غیرت دروغ گوئی کا پردہ چاک کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سخت ترین سینکشنز (sanction) کے باوجود ایرانی معیشت مستحکم اور مضبوط ہے ۔آج ایران کی عمومی قومی پیدوار (CDP ) کا حجم500بلین ہے ۔وقوع انقلاب اسلامی سے قبل یہ حجم 95بلین تھا ۔ صحت عامہ کے شعبہ میں اسلامی ایران نے نمایاں ترقی کی ہے 1979 میں (یعنی اسلامی انقلاب سے قبل) پیدائش شرع اموات () ایک ہزار بچوں میں سے 111تھی آج یہ شرع گرکرصرف 9رہ گئی ہے جو دنیا میں کم ترین شرع پیدائشی اموات () میں شامل ہے ۔مغربی ایشیاء مٰں () کی شرع 30ہزار ہے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرع اموات 1979 میں ایک ہزار میں 174تھی آج یہ شرع 35 رہ گئی ہے ۔انقلاب اسلامی سے قبل (یعنی 1979 میں) ایک لاکھ میں سے 245خواتین دوران زچگی شہید ہوجایا کرتی تھیں آج یہ شرع گر کر صرف 20 رہ گئی ہے انقلاب اسلامی سے قبل ایرانیوں کی اوسطاً عمر 56 سال تھی آج یہ بڑھ کر 73 ہوگئی ہے اس دوران ایرانی خواتین کی اوسطاً عمر 57 سال سے بڑھ کر 77 سال ہوگئی ہے 1979 سے لیکر آج تک ایرانی ڈاکٹروں کی تعداد میں 700 فیصد اضافہ ہوا ہے ہسپتالوں کی تعداد دوگنی سے بھی ذیادہ ہوگئی ہے انقلاب اسلامی سے قبل ایران میں صرف ملکی ضرورت کی 25فیصد ادویات ()تیار کی جاتی تھیں آج الحمد اللہ ایران ادویات کی فراہمی میں بالکل خود کفیل ہے 97فیصد استعمال کی جانے والی ادویات ایران میں بنائی جاتی ہیں ۔آج 65ملین ایرانیوں کو طبی کفالت (health insurance) میسر ہے ۔ امریکی سامراج سینکشنز کے دوکلیدی احداف ہیں۔ایرانی سیاحت اور ایرانی توانائی (بلخصوص تیل) کی برآمدات ۔ان دونوں محاذوں پر اسلامی ایران نے امریکی سامراج کو شکست فاش دی ہے ۔ ایران بین الاقوامی سیاحت (tourism) کا دوسرا سب سے بڑا مرکز ہے اس کے باوجود کہ ایرانی سیاحت(tourism)شعبہ پر شرع مطہرہ کی تمام عائد تمام پابندیاں نافظ نہیں ۔2018 میں ایران میں 7.3ملین سیاح آئے جو 2017 کے مقابلہ میں تقریباً 45فیصد ذیادہ تھے ۔پچھلے چند سالوں میں سیاحوں میں مستقل اصافہ ہورہاہے اور توقع ہے کہ 2025 تک یہ تعداد سالانہ 25ملین تک بڑھ جائیگی ۔
سینکشنز کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ایران نے طویل المدت منصوبہ بندی کی ہے ۔اسلامی ایران کو اس بات کا پورا احساس ہے کہ عالمی تیل کی منڈی میں امریکی سامراج اور اس کی باجگزار حکومتیں قابض ہیں ۔یہ حکمت عملی دیرپا کامیابی کی ضامن ہے اس کے ذریعہ ایرانی معیشت میں تیل کا انحصار بتدریج کم کرکے صنعتی تجارتی (industrial) اورزرعی شعبہ پر زور دیا جارہاہے اس حکمت عملی کی کامیابی کا واضح ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ آج یرانی برآمدی محصولات (export revenue)کا صرف 3فیصد حصہ تیل کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے ۔انقلاب اسلامی سے قبل یہ شرع اوسطاً95 فیصد ہواکرتی تھی ۔ ایرانی اسلامی معیشت انسانی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ایرانی لیبر فورس نہایت حوصلہ مند،تکنیکی باصلاحیت رکھنے والے ذہین اور فی نوجوانوں سے بھری پڑی ہے جو اسلامی انقلابیوں کی ولولہ انگیز قیادت کے تحت منظم بھی ہیں اور متحد بھی اور متحرک بھی ۔انہوں نے تمام مشکلات اور پابندیوں کے باوجود دنیا کی فعال ترین آئی ٹی صنعت کا رفرماکردی ہے اور اس آئی ٹی(IT) صنعت کو انتا مستحکم کیا ہےکہ امریکہ ہزاور کوششوں کے باوجود ایران پر مؤثر cyber attack کرنے سے عاجز ہے ۔ ایران معدنیاتی وسائل سے مالامال ہے تیل کے ذخیرہ سعودی عرب کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک سے ذیاد ہ ہیں ایران کی سٹیل(steel)کی صنعت نے ہوشربا ترقی کی ہے اور آج ایران دنیا کا 12واں سب سے بڑا سٹیل پیدا کرنے والا اور 8واں سب سے بڑا سیمنٹ پیداکرنے والا ملک ہے ۔ پاسٹر کی پیدوار کے لحاظ سے اسلامی ایران دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اور tourgolese کے پیدوار میں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ۔دنیا میں صنعتی پتھر کی پیداوار میں اسلامی ایران کا نمبر تیسرا اور لوہے (iron) کی پیدوار میں 8واں ہے ۔تانبے اور zinc کی پیداوار بھی بہت کثرت سے ہوتی ہے اور ان معدنیات کا استعمال قومی صنعتوں (manufacturer)میں کیا جاتا ہے ۔ بلاشبہ اسلامی ایران مشرق وسطہ کا سب سے تیزی ترقی کرنے والا صنعتی ملک ہے ۔صرف کاروں کی صنعت میں اسلامی ایرنا میں 15,000 سے زائد فیکٹریاں کام کررہی ہیں 2018 میں گیارہ لاکھ سے ذیادہ کاریں ایران میں بنائی گئیں اور 40 ملک میں ایرانی auto market منصوعات فروخت کی گئیں ایران بڑے پیمانہ پر ادویات commercial drugs بھی برآمد کرتا ہے ۔ زرعی شعبہ کی پیدوار میں بھی حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے آج اسلامی ایران دنیا کے سب سے بڑے اجناس () پیدواری مراکز میں شامل ہے 195 ممالک میں اس کا نمبر 13واں ہے ۔1979 سے آج تک اسلامی ایران میں اجناس کی پیدوار میں 20گنا اضافہ ہوا ہے اور اب دنیا کے بہت بڑے گہیوں کی کاشت کرنے والے ممالک میں شامل ہے ۔الحمداللہ ایران غذائی طورپر خود کفیل ہے اور پڑے پیمانہ پر ذرعی پیداوار برآمد کرتا ہے 2018-2019 میں ایرانی صنعتی اور معدنی شعبہ کی پیدواری شرع (rate of growth)9.9فیصدرہی ۔2019-20 میں ایران میں صنعت کاری (investment) کی شرع نمو 20فیصد رہی ۔ اسباق: یہ تمام اعداد وشمار مندرجہ ذیل دستاویز سے لئے گئے ہیں British geological survey international union of food and agriculture organization world resource institute UN aids global report 2020 world health organization report 2019 world tourism organization report 2019 سامراجی پریس(New York Time, Washington Post) اور مواصلاتی اداروں (CNN,BBC)کے علاوہ یہ سامراجی ادارہ اپنی تکنیکی ساکھ برقراررکھنے کے لئے حقیقت کا اظہار کرنے پر کسی نہ کسی حد تک مجبور ہیں۔ ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی سامراج کی سینکشنز اور (Senctions) کی حکمت عملی کیوبا،ونیزویلا اور شمالی کوریا کی طرح ایران میں بھی ناکام ہورہی ہے ۔بلکہ کیوبا،ونیزویلا اور شمالی کوریا کے مقابلہ میں ایرانی انقلابی حکمت عملی ذیادہ کامیاب ہے اس کی دووجوہات ہیں:
سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ایرانی عوام اسلامی روحانیت اور جزباتیت سے سرشار ہیں اشتراکیت سے نہیں ۔اشتراکیت ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے اشتراکی مخلصین کا جذبہ محرکہ حسد ہےان میں عبدیت کا کوئی تصور موجود نہیں۔اشتراکی مخلصین دنیا میں جنت بنانے کی نامعقول جدوجہد میں مشغول ہیں ۔ان کا مایوس ہوجانا ممکن ہے کیونکہ جیسا کہ مشرقی یورپ،ویتنام اور کمبوڈیا کی مثالوں سے ثابت ہے (اور سب سے ذیادہ چین کی مثال سے ثابت ہوتا ہے حسد ایک ایسا منفی جذبہ ہے جو حرث سے شکست کھا جاتاہے اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام لبر ل اور قوم پرستانہ سرمایہ دارانہ عالمگیریت میں ضم ہوجاتی ہے ۔ اس کے برعکس ایران کے اسلامی مخلصین دنیا میں جنت بنانے کی نامعقول کوشش نہیں کررہے وہ اس جنت میں جانے کی تگ ودو کررہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کے لئے تیار کررکھی ہے ۔اس ہی وجہ سے امریکہ ایران میں تخریب کاری کے عمل کو جاری رکھنے میں قطعاً ناکام ہے ۔جب تک ایرانی عوام کے قلوب جذبہ ایمانی سے معمور رہیں گے اور جب تک شوق شہادت ان کا جذبہ محرکہ رہے گا اسی وقت تک ایران اسلام کی ناقابل تسخیر سیسہ پلائی مورچہ کے طورپر قائم رہے گا ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایران میں جو معاشی ساختی تبدیلیاں لائی گئی ہیں وہ نہ کیوبا میں لائی گئی ہیں نہ ونیزویلا میں نہ جنوبی کوریا میں ۔چار دہائیوں کے مختصر عرصہ میں ایران ایک صنعتی معیشت بننے میں کامیاب ہوگیا ایک ایسی صنعتی اور خدمتی معیشت جو غذائی طور پر خود کفیل ہے اور جس کا معاشی نظام قومی رسد اور طلب کی کارفرمائی پر منحصر بین الاقوامی تجارت یا سرمایہ کاری پر منحصر نہیں ۔یہ کارنامہ نہ کیوبا انجام دے سکا نہ شمالی کوریا۔اسلامی علماء کی دوراندیشی ،بصیرت اور حوصلہ مندی نے سامراج کو پوری دنیا میں شکست فاش دینے کی حکمت عملی واضح کردی ہے ۔ جوانو! قابل تقلید ہے اقدام عالم کا جبین لوح غیرت پر لکھا ہے نام عالم کا e of growthعتی اور معدنی شعبہ کی پیدواری شرع ()ہے اور پڑے پیمانہ پر ذرعی پیداوار برآمد کرتا ہے ے اور اب دنیا کے بہت بڑے گہیوں