احتجاجی مظاہرے نظاماتی تبدیلی لانے میں کب کامیاب ہوتے ہیں
احتجاجی مظاہرے نظاماتی تبدیلی لانے میں کب کامیاب ہوتے ہیں نظاماتی تبدیلی اور جمہوری عمل ہم نظاماتی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ نظاماتی تبدیلی محض حکومت کی تبدیلی سے واقع نہیں ہو گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اور معاشرہ کی ماہیت اور ہیئت کی از سر نو ترتیب کی جائے۔ بڑھوتری سرمایہ کے بجائے حصولِ رضائے الٰہی انفرادی اور اجتماعی عمل کا واحد محرک ہو اور اقتداری ڈھانچہ میں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے بجائے مخلصین دین کی قیادت قائم اور مستحکم ہو جائے۔ پاکستان میں (ایران اور افغانستان میں نہیں) نظاماتی تبدیلی کی یہ جدوجہد فی الحال جمہوری استبداد میں مقید ہے۔ ہم فی الحال اس جمہوری استبداد کو کمزور کرنے کی استعداد تو رکھتے ہیں اس کو کلیتاً مسخر (transcend) کرنے کی استعداد نہیں رکھتے۔ جمہوری استبداد کے تضادات وہ مواقع فراہم کرتے ہیں جن کو تزویراتی (strategic) طور پر استعمال کر کے اس استبداد کو مجروح کیا جا سکتا ہے۔ جمہوری ریاستی عمل کا کلیدی تضاد یہ ہے کہ گو اس نظام میں تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) کی کارفرمائی کے نتیجہ میں ریاستی اقتدار کلیتاً سرمایہ دارانہ اشرافیہ (بیوروکریٹ، عدلیہ، میڈیا، مقننہ، فوج، کارپوریشن) کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا چلا جاتا ہے لیکن اس اقتداری اجارہ داری کی توجیہ (legitimation) عوام فراہم کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ مقتدرہ اس بات پر مجبور ہوتی ہے کہ وہ اپنی ریاستی کارفرمائی کا ایسا جواز مرتب کرتی ہے جو اس حکمت عملی کو عوام کی خواہشاتِ نفسانی کے پورا کرنے کا ذریعہ ظاہر کرتی رہیں۔ انتخابات اور مظاہرے عوام کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ گاہے گاہے سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی رائج شدہ ریاستی حکمت عملی کی تصدیق یا تردید کرتے رہیں۔ بیش تر سرمایہ دارانہ ممالک میں سرمایہ دارانہ انفرادیت عام ہے۔ سرمایہ دارانہ اجتماعیتیں سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) کے زیر اثر اپنے سرمایہ دارانہ حقوق او رسرمایہ دارانہ عدل کے قیام ہی کے لیے سیاسی جدوجہد کرتے ہیں وہ انتخابات اور مظاہروں کے ذریعہ کسی ایک سرمایہ دارانہ مقتدرہ کے دھڑے کو محروم کر کے کسی دوسرے سرمایہ دارانہ مقتدرہ کے گروہ کو اقتدار سونپنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ حال میں یوکرین، چلی، بیلاروس، سوڈان، میانمار وغیرہ میں جو مظاہرے ہوئے وہ اسی نوعیت کے مظاہرے ہیں۔ ان کو سرمایہ دارانہ انقلاب کہا جانا حق بجانب ہے۔ لیکن پاکستان میں اور کئی دیگر مسلم ممالک میں سرمایہ دارانہ انفرادیت عام نہیں (گوکہ معاشرتی طور پر منظم ہے) ہمارے ملک میں مخلصین دین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ مخلصین دین سرمایہ دارانہ حقوق کے طالب نہیں وہ حصولِ رضائے الٰہی کو مقدم جانتے ہیں۔ ان مخلصین دین کو مظاہروں اور انتخابات کے ذریعے سرمایہ دارانہ اقتدار کو منہدم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا سکتا ہے اور لبنان، الجیریا، مصر میں کئی بار کیا گیا ہے۔ ایران میں 1979ء کے بعد سے مستقل کیا جا رہا ہے۔ اسلامی مظاہروں کی کامیابی کی شرائط یہ چار ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ مظاہرہ کا مقصد انہدام اقتدار سرمایہ عمومی ( Destruction of sovereignty of capital in general) ہو محض مخصوص سرمایہ دارانہ پالیسیوں اور دھڑوں کی بے دخلی نہ ہو۔ یعنی مظاہرہ کے مطالبات ایسے نہ ہوں جو کسی بھی سرمایہ دارانہ مقتدرہ گروہ کے لیے قبول کرنا ممکن ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو اسلامی مظاہرہ کو دہریہ سرمایہ دارانہ گروہ یقیناً سبوتاژ کر لیں گے جیسا کہ تیونس میں ہوا اور قزاقستان میں حالیہ ہو رہا ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ مظاہرہ کا ثقافتی رنگ اور معاشرتی اثر خالصتاً دینی اور روحانی ہو۔ مظاہرہ کے شرکا بحیثیت مجموعی دینی اجتماعیتوں کی بنیادی constituency پر مشتمل ہو۔ یعنی مظاہرہ کے شرکا زیادہ تر علما، مشائخ، مدارس کے اساتذہ اور طلبہ ، مساجدکے ائمہ اور نمازیوں پر مشتمل ہوں۔ اس ہی constituency کو متحرک کرنا مظاہرہ کا مقصد ہو۔ جو بھی عام شخص مظاہرہ میں شریک ہو مظاہراتی عمل اس کی روحانی تربیت کا ذریعہ بنے۔ تحریک لبیک کا 2017ء کا اسلام آباد کا دھرنا اس کی بہترین مثال پیش کرتا ہے جس نے آناً فاناً ملک بھر میں حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پھیلا دیا۔
تیسری شرط یہ ہے کہ اسلامی مظاہرہ سرمایہ دارانہ حقوق اور سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی سے کلیتاً اجتناب کریں اور سرمایہ دارانہ حقوق کا اسلامی جواز پیش کرنے سے باز رہیں۔ سرمایہ دارانہ حقوق کی وکالت نہایت مضر ہے۔ اس سے مظاہرین میں سرمایہ دارانہ انفرادیت اور روحانیت فروغ پاتی ہے۔ دہریہ گروہوں کے لیے اسلامی مظاہروں پر قبضہ کرنے کی راہ کھل جاتی ہے اور ہماری بنیادی اور اصل constituency (علما، مدارس کے طلبہ اور اساتذہ، شیوخ، مساجد کے ائمہ) میں مظاہرہ کے عمل سے اجنبیت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ حقوق کی وکالت اسلامی مظاہرے کو سیکولرائز بتدریج کرتی چلی جاتی ہے۔ کوئی مظاہرہ بھی لامتناہی عرصہ تک جاری نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا مظاہراتی عمل کو انقلابی تحریک میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی ابتدا ہی سے کرنا لازم ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہو کہ مظاہرین اختتام مظاہرہ کے بعد منتشر نہ ہوں بلکہ مسجد اور محلہ اور بازار کی سطح پر ایسا نظام اقتدار قائم کرنے کی کوشش کرنے کی اہلیت حاصل کریں جو سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کو نچلی سطح (یعنی بلدیاتی سطح) پر معطل کرتا چلا جائے اور کم از کم اس سطح پر اہل مساجد اور محلہ اور بازار کو مقتدر بناتا چلا جائے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ یہ بات تیقن سے کہی جا سکتی ہے کہ کوئی ایسا مظاہرہ جس کا ہدف نظاماتی تبدیلی ہو کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ سرمایہ دارانہ ریاست اور معیشت کو دائمی نقصان پہنچانے کی صلاحیت حاصل نہ کرے۔ جاوید اکبر انصاری