کتب خانہLibrary

تنظیم اسلامی

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

تنظیم اسلامی سے التماس جماعت پر اعتراضات : تنظیم اسلامی کے سالانہ اجلاس (مورخہ نومبر2019) کے اندر اس سے قبل کے دومذاکروں میں ہمارے کام کے ضمن کچھ غلط فہمیوں کا اظہار کیا گیا۔ تنظیم اسلامی ہماری برادر تنظیم ہے لہذا ہم ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔ پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ اور سید منور حسن انتخابی عمل کے مخالف ہوگئے تھے ۔یہ بات سراسر خلاف حقیقت ہے ۔جب 1978 ء میں ضیاء الحق مرحوم آئےتھے تو مولانا مودودیؒ نے یہ شرط رکھوائی تھی کہ ضیاء الحق جلد از جلد انتخابات کروا ئےگا۔مولانا مودودیؒ کی تحریروں کو توڑ مروڑ کر ان سے اپنی پسندیدہ بات نکا لنا ہی مخالفین کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔ اور ہم تنظیم اسلامی سے گزارش کرتے ہیں کہ اس قسم کی دروغ گوئی سے باز رہے ۔ سید منور حسن نے پوری جانفشانی اور حوصلہ مندی کے ساتھ 2013 کی انتخابی مہم کی قیادت کی اور ان کے اسرار پر ہی جماعت اسلامی نے یہ انتخابات لڑے ۔ دوسرا اور اہم تراعتراض یہ ہے کہ "جماعت اسلامی ایک اصولی انقلابی جماعت نہیں رہی بلکہ انتخابی سیاست میں حصہ لے کر ایک قومی سیاسی جماعت میں تبدیل ہوگئی "میں اس ہی دوسرے اعتراض پر تنظیم اسلامی کے سامنے چند معروضات رکھوں گا ۔ جمہوری عمل : تنظیم اسلامی کی رائے میں انتخاب اور انقلاب دوعلیحدہ چیزیں ہیں ۔انتخاب کے ذریعہ صرف چہروں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ، اس ہی تناظر میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابی سیاست میں سیاسی رنگ غالب آجاتا ہے اور اسلامی کارکن سیاسی کارکن بن جاتے ہیں ۔ اس نکتہ پر گفتگو کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پسند ہیں تصوراتی (idealist) نہیں ہیں ۔ہمیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ جس نظام کو ہم اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد کررہے ہیں وہ سرمایہ داری ہے اور سرمایہ داری سے اور سرمایہ داری کی اپنی مخصوص معاشرتی حرکیات (Social dynamics) ہیں ،سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کا لا متناہی فروغ ہے اور اس کارفرمائی کی ذمہ داری اس اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality)کو بدرجہ اولیٰ قبول (internalize)کرچکی ہے ۔ لیکن اس کارفرمائی کو جاری رکھنے کے لئے اس اشرافیہ کو عوامی تائید اور مقبولیت (legitimacy) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ الیکشن اور احتجاج وہ ذریعہ ہیں جن کو استعمال کرکے عمومی حالات میں عوام الناس سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی نافذ شدہ حکمت بڑھوتری سرمایہ کی تصدیق یا نفی کرتے ہیں۔ یہ درست نہیں کہ انتخابی عمل سے سرمایہ دارانہ نظام متاثر نہیں ہوتا مثلا2019 کے برطانوی انتخابات میں جونس ہار جاتا تو برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے امکانات معدو م ہوجاتے ۔اگر ٹرمپ2020 کے انتخابات جیت گیا تو اس بات کا امکان پیدا ہوجائے گا کہ امریکہ NATO سے نکل جائے اور امریکہ اور اس کے حلیفوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوجائیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی اور احتجاجی عمل دونوں کے ذریعہ سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور کیا جاسکتا ہے ۔اور سرمایہ دارانہ مزاحمتی تحریکوں نے ہمیشہ ان دونوں ذرائع کا استعمال جاری رکھا ہے ۔حقیقتاً انتخاب اور احتجاج میں کوئی نوعی فرق نہیں ۔دونوں ذرائع سرمایہ دارانہ اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے بھی اختیار کئے جاسکتے ہیں اور اس کو کمزور کرنے کے لئے بھی۔ انقلابی حکمت عملی: ہماری ایک مشترکہ غلط فہمی یہ ہے کہ ہم نظام کو دین سمجھنے لگے ہیں اور نظاماتی تبدیلی کو اقامت دین کے ہم معنی تصور کرتے ہیں ۔ڈاکٹر اسرار ؒ نے تو سورۃ الشوریٰ کی آیت ۸ کی تفسیر میں یہ تک لکھ دیا کہ اللہ کے قانون کے مطابق ایک حکومت قائم ہوجانے کا نام اقامت دین ہے ۔یہ اقامت دین کا نہایت محدود تصور ہے ۔اقامت دین تحفظ دین اور غلبہ دین میں اشتراک عمل ہے اور وہ مصلحین ،مبلغین اور مسلکی جماعتیں جو اسلامی علمیت اور روحانیت کو محفوظ کئے ہوئے ہیں اقامت دین کے فرائض کی ادائیگی میں نہایت گراں قدر حصہ ڈال رہی ہیں اور ان کی مساعی جلیلہ کے بغیر انقلابی عمل کو جاری رکھنا بالکل ناممکن ہے جیسا کہ ہمارے امیر قاضی حسین احمدؒ نے فرمایا"ہم انقلابی تو محض علمائے کرام کے ادنیٰ خادم ہیں"

حصہ ۲

ہم سب کے ،سب ہمارے ہم رب کے ،رب ہمارے نظام سے مراد محض ہیئتی ڈھانچہ (structure) ہے ۔یہ ہیئت مختلف النوع طرز ہا ئے زندگی کو مربوط کرتی ہے ۔لیکن نظاماتی تبدیلی اور طرز زندگی کا تغیراتی عمل نہایت پیچیدہ ہے ۔مثلاً الحمداللہ پچھلے 40سا ل سے ایران میں اسلامی حکومت قائم ہے لیکن وہاں modernism تیزی سے فروغ پارہاہے ۔پاکستان میں بحیثیت مجمومی عوام کا طرز زندگی اسلامی ہے ،مساجد بھری ہوتی ہیں ،اسلامی رسوم ورواج خاندانی نظام کو محفوظ رکھے ہوئے ہے ،علوم اسلامی کے فروغ کا اہتمام ہے ،لیکن اسلامی حکومت کے قیام کا کوئی امکان نہیں ۔ پھر اس پر غور فرمائیں کہ اسلامی حکومت کا قیام اسلامی ریاست کے قیام کا ہم معنی نہیں ۔مصر میں 2012 میں اسلامی حکومت قائم ہوئی لیکن ہم اسلامی ریاست کےقیام کی طرف کوئی قدم نہ اٹھا سکے ۔ریاست اس ہیئت اقتدار کا نام ہے جہاں قوت نافذ ہ مسجد ،محلہ ،بازار ،برادری،میڈیا ،فوج ،انتظامیہ ،عدلیہ ،معاشی اداروں ،ہرجگہ ایک مخصوص طرز زندگی اختیار کرنے والوں کے ہاتھ میں مرتکز ہوجائے ۔ جس حد تک قوت نافظہ متقین کے ہاتھوں میں مرتکز ہوجائے اس وقت تک اسلامی ریاست کا اقتدار قائم رہتاہے ۔تاریخ کا یہ سبق ہے کہ اسلامی ریاست کا وقوع دائمی نہیں ہوتا ،خلافت راشدہ قائم نہ رہ سکی ۔امام عالمگیر ؒ نے پچاس سال تک اسلامی حکومت کے ذریعہ اسلامی ریاست قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ اس میں جزواً ہی کامیاب ہوسکے اور ان کی رحلت کے بعد بہادر شاہ اول نے سب کچھ پر پانی پھیر دیا ۔ اصلاحی عمل کی طرح انقلابی عمل بھی سرمایہ دارانہ دور میں ایک مسلسل جاری رہنے والی چیز ہے ۔مصلحین دین کا کام اسلامی طرز زندگی (life world)کو فروغ دینا ہے ۔انقلابیوں کا کام مخلصین دین کی اقتداری ادارتی صفبندی ہے محلہ کی سطح پر بھی مسجد کی سطح پر بھی ،برادری کی سطح پر بھی ،بازار کی سطح پر بھی ،حکومتی اداروں( عدلیہ ،انتظامیہ ،فوج ،مقننہ میڈیا) کی سطح پربھی ملک میں مخلصین دین کی تعداد کم از کم ایک کروڑ ہے 2018 ,کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو 55لاکھ ووٹ ملے تھے ۔جدید تحقیق کے مطابق نظاماتی تبدیلی لانے کے لئے کسی ملک کے دوفیصد افراد کو متحد ،متحرک اور منظم کرنا ضروری ہے ۔پاکستان میں یہ تعداد 42لاکھ بنتی ہے ,مصلحین کا چیلنج یہ ہے کہ وہ ملک کی کم از کم دوفیصد آبادی کو اسلامی طرز زندگی اخیتار کرنے پر آمادہ کریں ۔انقلابیوں کا یہ چیلنج ہے کہ ایسی ادارتی صف بندی قائم کریں جس کے ذریعہ ان ہی دوفیصد مخلصین دین کو معاشرہ کی ہر سطح پر (مسجد کی سطح پر ،محلہ کی سطح پر ،برادری کی سطح پر ،بازار کی سطح پر اور ریاستی اداروں کی سطح پر ) بااختیار اور بااقتدار بنانا ہے تاکہ روزمرہ کی زندگی پر سرمایہ دارانہ تحکم معطل ہو۔ انقلابی عمل میں انتخابات اور احتجاج اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ انہی ذرائع کے استعمال کے ذریعہ سرمایہ دارانہ دستوری اور قانونی نظام کو اسلامی اقتداری کارفرمائی برداشت کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ کبھی آپ نے غورفرمایا کہ مولانا امین احسن اصلاحی ،مولانا عبدالغفار حسن وغیرہ نے جماعت سے علیحدگی کے باوجود نہ کبھی جماعت کی مخالفت کی نہ کوئی دوسری جماعت بنائی اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ جماعت کو کمزور کرنا پاکستان کے موجودہ حالات میں تحریک غلبہ دین کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے یہ بزرگ علیحدہ ہوکر تحفظ دین کے عمل میں مصروف ہوگئے ہم نے کھبی ان بزرگان دین کی گستاخی نہیں کی اور فاصلے مستقل کم ہوتے رہے ۔کیا آپ کویاد نہیں کہ مولانا امین احسن اصلاحی کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے قاضی حسین احمد ؒ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔

حصہ ۳

تنظیم اسلامی سے گزارش: آج چلی ،لبنان،فرانس،ہانگ کانگ ،عراق میں بڑے پیمانہ پر احتجاج ہورہے ہیں ،کہیں بھی ان سے سرمایہ دارانہ نظام معطل ہونے کے امکان پیدا نہیں ہوئے ۔پاکستان میں 1953 کی اور 1974 کی رد قادیانیت کی تحریک سے سرمایہ دارانہ اقتدار متزلزل نہ ہوا ۔حقیقت یہ ہے کہ احتجاج کی بنیاد پر مطالبات منوانے سے بہت کم حاصل ہوتا ہے ۔2017 میں لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا تجربہ کرچکی ہے ۔ اصل کام مخلصین دین کی معاشرتی ادارتی صف بندی ہے جس کے نتیجہ میں وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں تحکیم سرمایہ سے نجات حاصل کرلیں انتخابات اور احتجاج دونوں اس نوعیت کی عوامی اقتداری صفبندی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ تحکیم قانون سرمایہ کو مجروح کرنے کا ہدف رکھتے ہوں۔ہمیں انتخابی اور احتجاجی عمل کو ملانے (integrate) کی ضرورت ہے ۔ تنظیم اسلامی بنیادی طوپر حفاظت دین کی تحریک ہے ،اس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تدریس اور تعلیم کے ذریعہ اسلامی انقلابی جدوجہد کی ضرورت کو آشکار کررہی ہے ۔یہ نہایت اہم کام ہے اور اس ہی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ تنظیم اسلامی جماعت اسلامی کی فطری حلیف ہے ۔تنظیم اسلامی کے اس کام کو جاری رکھنے کے لئے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے انتخابی اقدام کی مخالفت کرے ،انتخابی اقدام کی مخالفت سے غلبہ دین کی جدوجہد کو نقصان پہنچتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظاماتی اقتدار فروغ پاتاہے ۔ حافظ عاکف سعید نہایت متقی ،صلح پسند ،بردبار اور متحمل مزاج رہنما ہیں ۔آپ کی قیادت میں تنظیم تیزی سے ترقی کررہی ہے اور الحمداللہ آپ کی تنظیم کے ملتزمین کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ہم اس پر اللہ کا شکر اداکرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ تنظیم ترقی کی منازل طے کرتی رہے جماعت اسلامی ہر راسخ العقیدہ اسلامی جماعت کی حمایتی او ر خیر خواہ ہے یہ اسلامی تحریکوں کی رابطہ کی جماعت ہے ۔حافظ صاحب سے دست بستہ گزارش ہے کہ ان معروضات پر توجہ فرمائیں اور انتخابی عمل کی مخالفت کو ترک کرکے اس معاملہ میں خاموشی اختیار فرمائیں جیسا کہ دیگر جماعت چھوڑنے والوں نے کیا ۔حافظ صاحب آج کل علیل ہیں ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلدا ز جلد آپ کو صحت کاملہ عطافرمائے ۔ جاوید اکبر انصاری