انقلابی عمل کی ناگزیر ضرورتیں
انقلابی عمل کی ناگزیر ضرورتیں انقلابی عمل کلی نظاماتی انہدام اور تعمیر نو کا ذریعہ ہے ۔نظام اس کلی حیثیت (Structure) کو کہتے ہیں جو ایک خاص نوعیت کی انفرادیت ،معاشرت اور نظام اقتدار و ریاست کو مربوط رکھتا ہے ۔نظام منجمد نہیں سیال ہوتے ہیں ۔ انفرادیتیں ،معاشرتیں اور ریاستیں مستقل تشکیل اور انتشار کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ہر نظام زندگی ایک مخصوص غالب روحانیت کا مظہر ہوتا ہے ۔دور حاضر کی غالب سرمایہ دارانہ روحانیت حرص اور حسد ،شہوت اور غضب میں مضمر ہے ۔ اس خبیث روحانیت کو شکست دینے کی اسلامی جدوجہد انفرادی ،معاشرتی اور ریاستی سطح پر جاری ہے ۔یہ جدوجہد مصلحین ،مبلغین ،معلمین ،مجاہدین اور اسلامی انقلابی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے تناظر میں انقلابیوں کی تعدادعموماً نہایت محدود ہوتی ہے ۔اس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کی ہمہ گیر یت ہے ۔ انقلابی کارکنان تحریکات تحفظ اور غلبہ دین کا وہ جتھاہے جو اس بات کا احساس رکھتا ہے کہ : انفرادی ،معاشرتی اور ریاستی سطح پر شیطانی روحانیت (روحانیت حرص و حسد) کے خلاف جدوجہد نہایت ضروری ہے اور یہ جدوجہد الحمد اللہ مصلحین ،مبلغین ،صوفیاء اور علماء بطریق احسن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ جدوجہد منتشر ہے اور کسی ایک شعبہ (مثلاً تعلیم ،تطہیر نفوس ،قانون ) کی اصلاح خود بخود (Spontaneously) شیطانی روحانیت کے غلبہ کو متزلزل نہیں کرتی - شیطانی روحانیت کو منہدم کرنا ہے تو مصلحین کی منتشر جدوجہد کو اس طرح مرتب کرنا ہوگا کہ معاشرتی اور ریاستی اقتدار مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا رہے ۔ اس ضمن میں اسلامی انقلابیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی طویل المدت تزویراتی حکمت عملی کی تشکیل اور تنفیذ کی کوشش کریں جس کے نتیجہ میں مخلصین دین کے تمام گروہ متحد اور معاشرتی سطح پر بااقتدار ہوتے چلے جائیں ۔اس حکمت عملی کی تنفیذ کے لئے دوضرورتوں کو پورا کرنا لازمی ہے ۔ پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ انقلابی جماعت اپنی عددی اور نظریاتی محدودیت کا ادراک کرے ۔انقلابیوں کی جماعت برصغیر میں ہمیشہ تحریک غلبہ اور تحفظ دین میں ہمیشہ ایک اقلیتی جماعت رہی ہے (یہ بات جہاد ۱۸۵۷ء کے انقلابیوں سید بادشاہ اور صادق پوری سیدوں کی جماعتوں ،حاجی شریعت اللہ کی تحریک ،حضرت اسیرمالٹا کی تحریک ریشمی رومال اور تحریک احرار سب کےبارے میں کہی جاسکتی ہے ) اور اس کا اساسی نظریہ دیگر تحریکات دین کے لیے اجنبی اور نامانوس رہاہے ان دوریوں کو پاٹنے کی اشد ضرورت ہے اور اپنے نظریاتی اثاثے کو برصغیر کی علمی اور روحانی روایات سے مربوط کرکے سب کے لئے قابل قبول بنانے کی جدوجہد لازمی ہے ۔اس کا م کی ابتداء ہمارے محترم امیر جناب قاضی حسین احمد ؒ نے کردی تھی اور آپ ہی کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں ملک میں سب سے مؤثر اتحاد ایم ایم اے (2001تا2007)کارفرما رہا۔ لیکن افسوس یہ اتحاد سیاسی جماعتوں کی بالائی سطح تک رہا اور محلہ اور مسجد کی سطح پر کوئی ادارتی صف بندی عمل میں نہ آسکی اور غیر سیاسی اسلامی جماعتوں اور گروہ اس سے قطعاً لاتعلق رہے ۔یہ انقلابیوں کی ذمہ داری ہے کہ بحیثیت تحریکات تحفظ اور غلبہ دین کی رابطہ کی جماعت ان کمزوریوں کو دور کریں ۔یہ اس ہی وقت ممکن ہے جب ہماری اساسی فکر بین النظریاتی ہوجائے اور تمام مصلحین ،مدرسین ،مخلصین دین ہماری جماعت کو اپنے سگے بھائی کا گھر تصور کرنے لگیں۔ دوسری ضرورت اقتدارکی کشمکش کی نوعیت سے آگاہی ہے سرمایہ دارانہ معاشرتوں اور ریاستوں میں اقتدار کی کشمکش ہمہ جہت ہوتی ہے اور ہروقت جاری رہتی ہے- لیکن اس کی شدت (Intensity) میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے- مطالباتی شدت(Intensity) میں اضافہ کا پہلے سے تعین نہیں کیاجاسکتا اور شدت میں اضافہ عموماً مزاحمتی مطالبات کی توسیع سے آتی ہے (جیسا کہ حالیہ سوڈان اورہانگ کانگ کی مزاحمتی تحریکوں سے ظاہرہے ) مزاحمت کا ہدف کسی مخصوص سرمایہ درانہ ظلم کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کا بالکلیہ انہدام بھی ۔ انفرادی مزاحمتیں ان معنوں میں عموماً ناکام ہوتی ہیں کہ ان کے مطالبات کی منظوری کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام اپنی تشکیل نو کرلیتا ہے لیکن مطالباتی تحریک کی یہ ناکامی اس بات کی گنجائش پیدا کرتی ہے کہ آئندہ چل کر پہلے سے زیادہ طاقت ور مزاحمتی تحریک مرتب کی جائے ۔انتخابات بھی اس مزاحمتی جدوجہد سے ایک معرکہ کے طورپر لڑے جاسکتے ہیں ۔
انقلابی جماعت کو ہر اس مزاحمتی تحریک کے ہراول دستہ کے طورپر کارفرماہونا چاہئے جو کوئی بھی راسخ العقیدہ اسلامی مصلحین کا گروہ یا سرمایہ دارانہ گروہ کسی مخصوص سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف تحریک برپا کررہی ہے کیونکہ یہ تحاریک لازماً سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنائی جاسکتی ہیں ۔ہمیں مصلحین کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے کہ مزاحمتی تحریک کے اہداف کو بتدریج وسعت دے کر نظام سرمایہ داری کے بالکلیہ انہدام کی طرف پیش رفت کریں۔ اس نوعیت کا ایک نامکمل تجربہ ہم ۱۹۷۷میں کرچکے ہیں۔جب میاں طفیل کی ولولہ انگیز قیادت میں ہم نے بھٹو مخالف تحریک پر قبضہ کیا تھا اور اس کو تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔اس کا کمہ حقہ فائدہ نہ اٹھایا جاسکا کیونکہ ہرمخلصین دین کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور انہیں مسجد کی سطح پر منظم (institutionalize ) کرنے میں ناکام رہے اس کے باوجود آئندہ دس سال تک شعائر اسلامی کا معاشرتی عروج جاری رہا ۔ مصلحین کی مزاحمتوں سے کنارہ کشی ہمیں مخلصین دین کے حلقوں میں تنہا Isolate))کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔اس کے برعکس مزاحمتی مہمات ہمیں موقع فراہم کرتی ہیں کہ : ہم مصلحین کو باور کرائیں کہ انہدام سرمایہ داری ،تحفظ اور غلبہ دین کے لئے ضروری ہے اور سرمایہ دارانہ تغلب کے خلاف ایک طویل المدت جدوجہد برپا کرنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجہ میں مخلصین دین متحرک بھی ہوں اور مسجد کی سطح پر منظم بھی تاکہ ریاستی اقتدار ان کے ہاتھوں میں مرتکز کیا جاسکے ۔ اس جدوجہد میں تمام دہریہ جماعتیں اسلامی اتحاد کی فطری حریف ہیں اور ان سے اشتراک عمل صرف اس حد تک کیا جاسکتا ہے جہاں تک وہ نظاماتی سطح پر مخلصین کو بااقتدار بنانے پر مجبور کی جاسکتی ہوں مخلصین دین کو باور کرائیں کہ انقلابی تحریکات تحفظ اور غلبہ دین کو متحد کرنے اور بااقتدار بنانے کی پیہم جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ اگر ہم نے مخلصین دین کی صفوں سے لاتعلقی اختیار کی تو انقلابی جدوجہد بتدریج معدوم ہوتی چلی جائے گی اور ہم ایک بے ضرر سیاسی پریشر گروپ (Pressure Group)بن کے رہ جائیں گے جاوید اکبر انصاری