کتب خانہJAS Library

پاکستان کا حالیہ عدلیہ مقننہ تنازعہ

رسالہاردو۱۸ نومبر ۲۰۲۵کتب و مضامین
حصہ ۱

پاکستان کے حالیہ عدلیہ-مقننہ کے تناظر میں اسلامی انقلابی حکمت عملی ہم اسلامی انقلابی ہیں اور idealist نہیں ہیں۔ ہمیں اس کا پورا احساس ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظام (بالخصوص اس کے نظام اقتدار) کے انہدام کی جدوجہد اس کے اندرونی تضادات کو مہمیز دے کر ہی جاری رکھے ہوئے ہیں لہٰذا ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی اکھاڑ پچھاڑ سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کا حالیہ سرمایہ درانہ تحکمی خلفشار عدلیہ اور مقننہ میں محدود کشمکش سے ابھرا ہے۔ دستور کی ترامیم 26 اور 27 کے ذریعہ ایک کمزور جوازیت رکھنے والی مقننہ نے اپنے ریاستی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے دستور کو مجروح کر کے عدلیہ کے تحکمی کردار کو محدود کیا ہے۔ یہ ایک خالصتاً اشرافیہ کی کشمکش ہے جس کا نظام کی سلامتی، بقا اور ارتقا سے کوئی تعلق نہیں۔ ریاستی اشرافیہ تحکم سرمایہ کی آلہ کار ہے لیکن ان کی محدود نظاماتی جوازیت کی بنیاد میں منتشر ہیں۔ عدلیہ اپنی محدود جوازیت تحکم قانون سرمایہ کی عمومی تنفیذ سے اخذ کرتی ہے جبکہ مقننہ کی جوازیت ان عمومی سرمایہ دارانہ مفادات سے ہوتی ہے جو دہریہ جماعتیں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ) اپنی constitutencies کو فراہم کرتی ہیں۔ دستور کومجروح کرنے کی یہ کوشش اس لیے کی گئی ہے کہ دہریہ جماعتیں اپنے اسی حق کو محفوظ رکھیں لیکن آپ وہ چاہیں سرمایہ عمومی کے تحکم کو اپنے عمومی سرمایہ دارانہ مفادات کے فروغ کے لیے محدود کر سکیں۔ اسلامی انقلابی موقف بحیثیت اسلامی انقلابی ہم تحکم قانون سرمایہ عمومی اور حقوق دونوں کے انہدام کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمارے نقطہ نظر سے عدلیہ کا نظاماتی تحکم اتنا ہی مضر ہے جتنا دہریہ جماعتوں کا۔ ہمیں اس کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ دستور بھی دہریت کی اسی سرمایہ دارانہ شکل میں تصدیق کرتا ہے۔ یہ بات 1973ء کے دستور اور اس کے 2025ء میں مسخ شدہ شکل کے بارے میں پاکستان میں درست ہے۔ 1973ء کے دستور کا مطلب تحکم سرمایہ عمومی کے نظاماتی تغلب کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ نظام کی تبدیلی کا نہیں اس کی ماضی کی طرف مراجعت کا ذریعہ بنے گا۔ اگر ہم نظام کی تبدیلی کے لیے جستجو کر رہے ہیں تو دستور کا سہارا لے سکتے ہیں۔ ہمیں دستور کی جوازیت کی نظاماتی کمزوری کو عدلیہ کا ایک درجہ بتانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح عدلیہ کے نظاماتی تغلب کی جدوجہد بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ یہ وہ عدلیہ ہے جس نے ممتاز قادری شہید کو پھانسی دی۔ پرویز مشرف جیسے غدار دین کو فرار ہونے کا موقعہ دیا جس کی قانون ساز ی اور فیصلوں کا ماخذ کبھی شریعت مطہرہ نہیں رہی۔ جس نے سودی نظام کو 1992 سے آج تک جاری رکھا ہے لہٰذا اس کشمکش میں عدلیہ کا ساتھ دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ رہی دہریہ جماعتیں تو ان کے لوٹ مار کی توسیع کی اس جستجو میں ہمارے ان کے ساتھ رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں ان کی عوامی جوازیت کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بالخصوص تحریک انصاف کی عوامی جوازیت کو کیونکہ وہ دستور 1973 کی اصل قوت کمزور کر رہا ہے اور اس کی کارفرمائی سے ایک عام آدمی اس غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے کہ 1973 کے دستور کی بحالی نظاماتی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ میرا گمان ہے کہ عوام اس اشرافی کشمکش سے لاتعلق رہیں گے کیونکہ دستور کی جوازیت کی بنیادیں عوامی زندگی میں پیوست نہیں اور عوام کا وہ طبقہ جو سیاست سے وابستہ ہے اپنے مخصوص سرمایہ دارانہ مفادات کے فروغ کو سرمایہ عمومی کے تحکمی تقاضوں کے فروغ پر ترجیح دیتا ہے۔ بحالی دستور کی تحریک کو تحریک مصطفیٰ میں تبدیل ہونے کے امکانات تقریباً ناپید ہیں اور ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تحریک نظام مصطفیٰ کی تحریک بھی نظاماتی تغیر کا باعث نہ بنے۔

حصہ ۲

کرنے کا کام اشرافیہ کی اس کشمکش میں غیر جانب داری کو اسلامی انقلابی جدوجہد کے فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہیے لیکن تین اقدام قابل غور ہیں۔ 1۔ اپنی جدوجہد کی دستوری وابستگی سے تخفیف۔ ہماری جدوجہد دستور کو ایک مردہ دستاویز کی طرح پیش کرے اور نظم اجتماعی میں مواصلت کا ہمارا عمل دستوری جکڑبندیوں کو پیچھے دکھیلنے والا ہو۔ ہم مردہ دستور سے وفاداری کا بیانیہ بالکل ترک کر دیں اور معاشرتی سطح پر عوام کی ادارتی صف بندی کی بنیاد پر تحکم شریعت کا تغلب قائم کرنے کی کوشش کریں۔ ہم ریاستی اداروں انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ کی اصلاح اور ان سے خیر کی توقعات وابستہ کرنے کے رجحان کو ترک کر دیں۔ 2۔ اس کے لیے ہم پہلے قدم پر ملک میں ایک عوامی نظام مواصلت کے قیام کی جدوجہد کریں جو عوامی زندگی میں پیوستگی کے ذریعے عدلیہ اور مقننہ کے تحکم کو بتدریج معطل کر دے۔ اس کی بنیاد ملک میں پھیلی ہوئی لاکھوں مساجد اور خانقاہیں ہوں جو مخلصین دین کی قیادت میں عوام کو غیر جمہوری بنیادوں پر منظم اور متحرک کرے اور یہ پرامن تحریک لوکل گورنمنٹ کی فی الاصل معطلی کا باعث بنے۔ 3۔ ملک کی بیش تر سیاسی اور فلاحی جماعتیں مشترکہ طور پر ایک ایسا مواد تیار کریں جس میں دستور کو شرع مطہرہ کی تنفیذ کا ذریعہ بنایا جائے اور ریاستیں ادارتی نظام کی تشکیل کو عوام اور تاریخ اسلامی کے تناظر میں مرتب کیا جائے۔ اس بیانیہ کی ملک گیر تشہیر کی جائے اور اس کو سینٹ اور پارلیمنٹ میں جمعیت علمائے اسلام پیش کرے کیونکہ ان ادروں میں وہی ہماری نمائندہ جماعت موجود ہے۔ ان ترامیم کی متوقع ناکامی سے اور عوامی مہمات کے ذریعے 2029 تک اس کی عوامی تشہیر جاری رکھی جائے اور 2029 کے انتخاب تمام اسلامی جماعتیں اسی مسودہ کو اپنا انتخابی منشور بنائیں۔ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دہریہ سیاست کاروں ایک دھکا اور بہروپ بھرے مکاروں کو ایک دھکا اور سامراج کے یاروں کو ایک دھکا اور جاوید اکبر انصاری