کتب خانہLibrary

اسلامی اصلاحی جدوجہد غیر موثر کیوں

رسالہاردو۳۱ جنوری ۲۰۲۲کتب و مضامین
حصہ ۱

اسلامی اصلاحی جدوجہد معاشرتی سطح پر غیر موثر کیوں ہے؟ جاوید اکبر انصاری ملک میں بڑے پیمانے پر اسلامی اصلاحی جدوجہد جاری ہے۔ اس جدوجہد میں مبلغین، مدرسین اور صوفیا ءسب شریک ہیں۔ لیکن یہ جدوجہد ان معنوں میں غیر موثر ہے کہ پاکستانی معاشرت تیزی سے دہریت (سیکولرازم) کا شکار ہو رہی ہے۔ کرپشن روز افزوں ترقی پذیر ہے۔ فحاشی اور عریانی کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ حرام خوری عام ہے۔ قتل و غارت، لوٹ مار کا کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔ میری رائے میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاحی جدوجہد تعمیر ریاست اسلامی کے عمل سے غیر مربوط ہے۔ اس مضمون میں اس دعوے کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ ریاستی جدوجہد کے ضمن میں مخلصین دین کا رویہ پاکستان میں مخلصین دین - ہم مخلصین دین ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کی دینی عصبیت ان کی دیگر تمام عصبیتوں (قومی، خاندانی، لسانی، معاشی) پر حاوی ہو – مخلصین کی تعداد کا اندازہ انتخابی نتائج سے لگایا جا سکتا ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو ملا کر تقریباً 55 لاکھ ووٹ ملے تھے یعنی رائے دہندگان کا تقریباً 9.8 فیصد۔ اگر مخلصین دین کا یہی تناسب مجموعی پاکستانی آبادی میں تصور کیا جائے تو مخلصین دین کی تعدد 2.2 کروڑ بنتی ہے۔ تقریباً 90 فیصد مسلمانوں کو قیام ریاست اسلامی کی جدوجہد سے کوئی واسطہ نہیں۔ مخلصین دین کی جماعتیں غلبہ دین (جس کا عملی مظہر اسلامی ریاست کے قیام کے تحرک کے علاوہ کچھ نہیں) کے اصولاً قائل ہیں۔ یہاں ہم ان مدبرین کا ذکر نہیں کریں گے جو غلبہ دین کے مخالف ہیں مثلاً نجات اللہ صدیقی، وحید الدین خان، جاوید غامدی کیوں کہ ہم انہیں مخلصین دین نہیں سامراجی سرمایہ داری کا ایجنٹ گردانتے ہیں۔ اس اصولی تائید کے باوجود مخلصین دین کی اجتماعتیں غلبہ دین (یعنی قیام اور استحکام ریاست اسلامی) کے لیے عملاً جدوجہد نہیں کرتیں ہیں اور اس کی دو توجیہات بیان کی جاتی ہیں۔ کچھ مخلصین دین (مثلاً جناح صاحب، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مسلم لیگی علما اور سردار نشتر) لبرل دستوری ریاست کو اسلامی ریاست کے مماثل گردانتے ہیں۔ ان کی رائے میں اگر دستور میں کچھ پیوند کاری کی جائے تو سرمایہ دارانہ لبرل سیاسی ڈھانچہ (مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، کارپوریشنیں اور میڈیا) کوحصولِ مقاصدِ شریعہ کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی اسلامی سیاسی جماعتیں عملاً (اصولاً نہیں) کچھ تحفظات کے ساتھ اسی رائے کی قائل ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ ریاست کے اندر ہی ایک اسلامی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں اور ان کے انتخابی منشور لبرل اور سوشل ڈیموکریٹک دعووں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جب انہیں اقتدار حاصل ہوتا ہے (مثلاً 2002ء تا 2007ء پختونخواہ میں) تو وہ سود اور سٹہ کا کاروبار جاری رکھتے ہیں اور سرمایہ دارانہ ملکیت خوب فروغ پاتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مخلصین کی جماعتیں تحفظ دین کے کام کو غلبہ دین کا نعم البدل گردانتی ہیں۔ ان کی رائے میں تبلیغ، تعلیم اور تزکیہ نفس کے عوامی پھیلاؤ کے نتیجہ میں اسلامی نظام اقتدار (یعنی اسلامی ریاست) خود بخود وجود میں آ جائے گی۔ لہٰذا وہ اپنے اصلاحی کام کو کسی ایک معاشرتی دائرہ تک محدود رکھتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست تحریک تحفظ دین کو غیر موثر کیسے بناتی ہے؟ اس قسم کے کام کے نتیجہ میں اقتدار اسلامی قائم نہیں ہوتا اور مخلصین دین سرمایہ دارانہ حکام کے سامنے بے بس اور لاچار اور ان کے دست نگر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں جدوجہد سے غلبہ دین نہ ہو سکا اور ایک قلیل اقلیت ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئی۔ اس ہی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور مدینہ پہنچتے ہی ایک اسلامی ریاست قائم کر دی۔ پھر دعوت اور تبلیغ کا اثر پورے عرب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا چلا گیا۔

حصہ ۲

لیکن ہماری تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں تعلیم و تبلیغ اور تطہیر نفس کے نتیجہ میں اسلامی نظم اقتدار وجود میں آ گیا۔ سب سے نمایاں مثال تاتار ریاستوں کی ہے۔ اس کے علاوہ مشرق بعید (وہ علاقہ جسے آج ملائشیا اور انڈونیشیا کہا جاتا ہے) میں بھی یہی ہوا اور سلطنت بولو قائم ہوئی۔ آج کے دور میں یہ تجربہ کیوں نہیں دہرایا جا سکتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سرمایہ دارانہ تغلب کا دور ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست کو وہ ہتھیار میسر ہیں جو نہ تاتاریوں کے پاس تھے نہ مشرق بعید کے ہندو حکمرانوں کے پاس۔ یہ ہتھیار تین ہیں۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کی عمل داری۔ سرمایہ دارانہ ملکیت نے پوری دنیا میں بیش تر ذرائع دولت و آمدن پر قبضہ کر لیا ہے۔ دولت کھنچ کھنچ کر سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کے ذریعہ سرمایہ کے گردشی چکر میں مدغم ہوتی جا رہی ہے۔ مخلصین دین کے لیے سرمایے کے چکر سے باہر رہنا نہایت کٹھن اور دشوار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ زر استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ ان کانجی حلال کاروبار بھی کسی نہ کسی سرمایہ دارانہ رسدی زنجیر میں پرویا جا رہا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ فیکٹریوں، بینکوں، سرکاری محکموں، یونیورسٹیوں میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ وڈیروں کے ہاری بننے پر مجبور ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں صارف کے طور پربھی اور آجر کے طور پر بھی شامل ہونے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں وہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات اور روحانیت سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے جاگتے اوقات کا زیادہ تر حصہ سرمایہ کی خدمت میں گزارتے ہیں۔ سرمایہ ان میں حرص و حسد، شہوت و غضب کو مستقل فروغ دیتا رہتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ انفرادیت اختیار کرنے پر مجبور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ سرمایہ کا نظام تعلیم پر قبضہ ۔ سرمایہ دارانہ ریاست ایک ایسا نظام تعلیم و تربیت واضح کرتی ہے جس کے ذریعہ حصولِ رزق کو سرمایہ دارانہ چاکری سے منسلک کر دیا جا تا ہے۔ سرمایہ دارانہ تعلیمی اور تربیتی نظام انہی اخلاق رذیلہ کو فروغ دیتا ہے جو سرمایہ دارانہ ملکیت کے نظاماتی غلبہ کو مستحکم کرنے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اس نظام تعلیم و تربیت کا مقصد انسانی سرمایہ (ہیومن کیپٹل) پیدا کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ تعلیمی نظام ،سرمایہ دارانہ عقلیت کی معاشرتی اجارہ داری قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب یہ جاہلی عقلیت معاشرتی غلبہ حاصل کر لیتی ہے تو ہر شخص اپنے نفس امارہ کا غلام بن جاتا ہے۔ جاہلی علمیت لازماً اسلامی علمیت کو معاشرتی سطح پر بے دخل کر دیتی ہے۔ حصولِ رضائے الٰہی کی جدوجہد لغو اور بے معنی نظر آنے لگتی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بندگی نفس امارہ کو حصولِ رضائے الٰہی کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔ خرد کا نام جنوں رکھ دیا ،جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے سرمایہ کا اطلاعات پر قبضہ۔ آج سرمایہ دارانہ میڈیا اپنی عالم گیر گرفت قائم کر چکا ہے۔ اس عالم گیر میڈیا پر 35 اجارہ دار سرمایہ دار کمپنیاں ہیں۔ آج کی سرمایہ داری کو ڈیجٹل سرمایہ داری کہتے ہیں۔ ڈیجٹلائزیشن کے ذریعہ انٹرنیٹ سروس کمپنیاں مستقل جھوٹ کوسچ بناتی رہتی ہیں اور سامراجی پروپیگنڈہ کو پھیلاتی رہتی ہیں۔ آج دنیا کی سب سے بڑی صنعت تفریحی صنعت (انٹرٹینمنٹ انڈسٹڑی) ہے جھوٹ اور فواحش کو پھیلانے میں مستقل لگی ہوئی ہے۔ اس کی رسائی ہر گھر ہر جیب تک ہے۔ یہ لذت پرستی، لہو و لعب اور فواحش کو فروغ دینے کا موثر ترین آلہ ہے۔ یہ انسان کو حیوان بنانے کا ذریعہ ہے۔ اصلاحی تحریکوں کو موثر بنانے کے لیے غلبہ دین ضروری ہے سرمایہ داری یہ تینوں ہتھیار اسلامی دعوت کو غیر موثر بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ غلبہ دین کی جدوجہد مرتب کی جائے۔ تعلیمی، تبلیغی اور روحانی جدوجہد کو دور حاضر کی اصلاحی جدوجہد کو مضبوط بنانے کے لیے ایسی اسلامی ریاست کا وجود اور استحکام ناگزیر ہے جو

حصہ ۳

سرمایہ دارانہ ملکیت اور حرام خور مارکیٹوں (فنانشل مارکیٹس) کو بتدریج معطل کرتی چلی جائے اور حلال رزق کمانے کے مواقع کو فروغ دے۔ نظام تعلیم و تریت کی ایسی ترتیب نو کرے جو اس کو سرمایہ دارانہ عقلیت کی گرفت سے مطلقاً آزاد کر دے۔ میڈیا پر مکمل ریاستی اجارہ داری قائم کرکے سرمایہ دارانہ اطلاعاتی تخریب کاری کو ناکام بنا دے۔ یہ تینوں کام مکمل طور پر ریاست ہی کر سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب بھی ایسے ہی قائم ہوا۔ پہلے دہریوں کے ایک مختصر گروہ نے برطانیہ، فرانس اور امریکا میں ایک سرمایہ دارانہ ریاست قائم کی۔ اس کے بعد اس ریاست نے سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کو عیسائی انفرادیت اور معاشرت پر غالب کیا۔ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ صرف ایک نسبتاً مختصر نظریاتی گروہ منظم کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ گروہ ریاستی اقتدار پر قابض ہو جائے تو اپنی مطلوبہ معاشرت اور انفرادیت کو غالب کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ آج ایران، افغانستان، غزہ اور وسط افریقہ کے مفتوحہ علاقوں میں یہی ہو رہا ہے۔ کئی مصلحین کی رائے میں مروجہ تحریکات اصلاح کی کمزوریاں ، ملکی عصبیت، دورِ حاضر کے مسائل سے عدم واقفیت وغیرہ – کو رفع کیا جائے تو وہ معاشرتی تغلب حاصل کر لیں گی۔ بلاشبہ اگر دعوتی گروہوں کی یہ کمزوریاں دور کر دی جائیں تو ان کا معاشرتی اثر بڑھ سکتا ہے لیکن اس عمل سے مخلصین دین کی معاشرتی بےبسی کم نہیں ہوتی۔ ان پر سرمایہ دارانہ ریاستی جبر مسلط رہتا ہے اور اصلاحی تحاریک تحکم قانون سرمایہ کی ماتحتی پر مجبور رہتی ہیں۔ لہٰذا لازم ہے کہ تبلیغی، تعلیمی، دعوتی تحریکات اصلاح انقلابی اسلامی جدوجہد سے مربوط ہوں۔ اصلاحی تحاریک، اسلامی انقلابی جدوجہد کی معاشرتی بنیاد فراہم کریں۔ اگر تحفظ دین کی تحاریک غلبہ دین کی تحاریک کی پشتیبان بن جائیں تو سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کو منتشر کرنے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔