اسلامی جمہوریہ ایران میں عریاں پرستی
اسلامی جمہوریہ ایران میں عریاں پرستی (feminism) کا چیلنج فیمی نزم کیا ہے؟ فیمی نزم سرمایہ دارانہ طرزِ معاشرت کو عالمگیری بنانے کی تحریک ہے۔ اس تحریک کے ذریعہ عورت جو فطرتاً اور شرعاً محجوب اور مستور ہے ، نجی دائرہ حیات (پرائیویٹ لائف) سے بے دخل کر دی جاتی ہے۔ اس کی نسوانیت ایک سرمایہ دارانہ شے (کموڈٹی) بنا کر بازار میں بیچی اور خریدی جاتی ہے۔ یوں نجی زندگی (پرائیویٹ لائف) گردشی سرمایہ کے ماتحت آتی چلی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ تعقل (capitalist rationality) عورت کی مستوریت کو ختم کیے بغیر قانون سرمایہ کا تحکم ہمہ گیر اور ہمہ جہت نہیں ہو سکتا اور اس کا تسلط نجی زندگی پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ نجی زندگی کی سرمایہ کاری سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی لازمی بنیاد ہے۔ لہٰذا عورت کو غیر محجوب یعنی برہنہ کرنا اس کو نجی زندگی کے دائرہ سے برخاست کر کے عمومی زندگی (پبلک لائف) کے سرمایہ دارانہ تعقل کے جبر میں مقید کرنا سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور نظام زندگی کو کارفرما کرنے کے لیے لازمی ہے۔ عورت کی برہنگی کو فروغ دینے والی موثر ترین تحریک فیمی نزم ہے۔ لہٰذا فیمی نزم کو ہم ”تحریک ردِ نسوانیت“ یا ”تحریک عریاں پرستی“ کہنے میں حق بجانب ہیں ۔ اس کو تحریک ”فحش نوازی“ بھی کہا جا سکتا ہے۔ مسلم ممالک میں عریاں پرستی (feminism) کو عام کرنا سرمایہ دارانہ سامراج کا ایک اہم ہدف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم معاشرت عموماً بڑی حد تک سرمایہ دارانہ تغلب سے محفوظ ہے۔ نجی زندگی کا عموماً اسلامی مذہبیت سے متاثر ہے۔ خاندان اور قبیلہ مستحکم معاشرتی صف بندیاں ہیں اور سرمایہ دارانہ ریاستی گرفت معاشرت پر قدرے کمزور ہے۔ پھر دو مسلم اکثریتی ممالک (ایران اور افغانستان) اسلامی ریاستیں بن گئی ہیں اور عنقریب ساحلی افریقہ میں چند مزید اسلامی ریاستیں بننے کا امکان ہے۔ سرمایہ دارانہ سامراج (امریکی، چینی، بھارتی) کو مسلم اکثریتی ممالک سے بے دخل کرنے کی جاندار تحاریک کئی جگہ پیش رفت کر رہی ہیں اور گاہے گاہے وقتی فتوحات بھی حاصل کر لیتی ہیں (چیچنیا، سوڈان، الجیریا، مصر) اور ان تحاریک کی معاشرتی جڑیں مستقل پھیل رہی ہیں۔ جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے سامراجی سرمایہ دار مسلم ممالک میں تحریک عریاں پرستی (فیمی نزم) کا فروغ اسلامی تحریکا ت کی معاشرتی جڑوں کو کمزور کرنے کے لیے بھی کر رہا ہے۔ اور دو قائم شدہ اسلامی ریاستوں (ایران اور افغانستان) میں اسلامی ریاستی نظام میں تحلیل کے لیے بھی۔ دونوں اسلامی ریاستیں سامراج کے نشانہ پر ہیں اور سامراج کے مقامی کاسہ لیس تحریک عریاں پرستی کو نظام اسلامی کی تسخیر کے لیے اپنے سب سے موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں تحریک عریاں پرستی کا کردار اسلامی جمہوریہ ایران 1979ء میں قائم ہوئی اور شدید سامراجی مزاحمت کے باوجود آج تک الحمدللہ اپنا وجود اور اپنی اسلامی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس بیسویں صدی میں جو دوسری اسلامی ریاستیں قائم ہوئیں (چیچنیا، سوڈان، مصر) ان کو تحلیل کرنے میں سامراج کامیاب ہو گیا۔ ایرانی اسلامی ریاست نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کی جہادی استطاعت میں مستقل اضافہ ہوا ہے اور آج امارت اسلامیہ افغانستان کی طرح ایران کو سامراج فوجی قوت کے زیر نگیں نہیں کر سکتا۔ ان دونوں اسلامی ریاستوں میں تخریب کاری کے لیے سامراج اپنی سافٹ پاور استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ اس سامراجی سافٹ پاور کے مقامی آلہ کار ایران میں افغانستان کے مقابلہ میں زیادہ ہیں اور سامراج کے یہ مقامی آلہ کار تحریک عریاں پرستی کے ذریعہ ہی ریاست اسلامی پر حملہ آور ہیں۔
ایران میں تحریک عریاں پرستی کی مزاحمت یہ مزاحمت حکومت اسلامی کے قیام کے چند ہفتوں بعد مارچ 1979ء میں ہی شروع ہو گئی جب چند عریاں پرستوں نے حجاب کے لازمی قرار دینے کے خلاف ایک ہفتہ تک مظاہرہ کیا۔ سامراج نے ان مظاہروں کی بھرپور تائید کی۔ فرانس کی عالمی شہرت شافتہ فاحشہ سیمون دی بوور نے اس مزاحمت کو سراہا۔ ایرانی کمیونسٹ پارٹی نے عریاں پرست مظاہرین کی حفاظت کے لیے ہتھیار بند دستے فراہم کیے۔ لیکن یہ مظاہرے ناکام ثابت ہوئے اور تحریک عریاں پرستی زیر زمین چلی گئی۔ 2022ء میں پھوٹنے والی عریاں پرست مزاحمت اسی 1979ء والی مزاحمت کا احیا ہے۔ 2022ء کی عریاں پرست مزاحمت کئی ایرانی شہروں میں برپا کی گئی اور اس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2022ء کے دوران تقریباً 7 لاکھ افراد (آبادی کا صفر اعشاریہ آٹھ فیصد) جزوی طور پر شریک ہوئے۔ مظاہروں کے دوران فاحشاؤں (feminists) نے اپنے حجاب سرعام جلائے اور ان فاحشاؤں میں اسکول اور کالج میں پڑھنے والی فاحشائیں بھی شامل تھیں۔ مظاہرین نے ”مرگ بر رہبر“ (یعنی امام علی خامنائی) کے نعرے لگائے۔ مظاہرین حکومت اسلامی کی امریکہ مخالف خارجہ پالیسی کی شدید مذمت بھی مستقلاً کرتے رہے۔ ان مظاہروں کی تدوین اور ترتیب میں سامراجی گھس بیٹھیوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مظاہرین کے سامراجی منتظمین کی یہ مستقل کوشش رہی کہ مظاہروں کے ذریعہ بالخصوص کردستانی علاقوں میں نسلی تعصب کو ہوا دیں۔ سیستان اور بلوچستان اس نوعیت کی تخریب کاری کی جستجو بری طرح ناکام ہوئی کیونکہ 1979ء سے لے کر آج تک جید سنی علما اور عوام انقلاب اسلام کے ہم نوا اور حمایتی رہے ہیں اور اسلامی حکومت کے دور میں کبھی بھی شیعہ سنی تنازعات برپا نہیں ہوئے۔ لیکن کئی کردستانی شہر مظاہرین کی زد میں آئے ۔ اس علاقہ میں ایک عمومی ہڑتال منعقد کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ثابت ہوئی۔ لیکن دسمبر 2022ء میں ایک سہ روزہ عمومی ہڑتال چند شہروں میں منعقد ہوئی اور مظاہرین نے قم میں مدارس کو آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔ عریاں پرست مظاہرین کو بابی اور بہائی حلقوں کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ فحش نوازی تحریک کی اساسی دہریت اس کے نظریاتی اظہار سے عیاں ہے۔ تحریک عریاں پرستی کا کلیدی نعرہ ہے ”زن، زندگی، آزادی“ ۔ یہ نسوانیت عبدیت اور عقیدہ آخرت کا برملا انکار ہے اور اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عریاں پرست اور ان کے نسل پرست حلیف ایران میں سرمایہ دارانہ تہذیب اور نظم ریاست کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سامراج کے آلہ کار ہیں اور اپنی دہریانہ شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ ان کا قومی ترانہ ہے۔ اس قومی ترانے کو ثردین حاجی پور نے تحریر کیا ہے۔ حاجی پور ایک بھانڈ ہے۔ اس قومی ترانے کا عنوان برائے ہے۔ برائے تحریک عریاں پرستی کے مفاسد بیان کرتا ہے۔ یہ ایسی تحریک ہے جو گلیوں میں ناچنے کا سرعام چومنے کا جنسی آزادی کا تبدیلی جنس کا آزادی، زندگی اور زن کا آزادی، زندگی اور زن کا حق مانگتی ہے اور انہی مقاصد کے لیے ”برائے“ برپا کی گئی ہے۔ یہ قومی ترانہ اس ترانے کی بازگشت ہے جو کرد دہریوں نے شام میں مجاہدین اسلام کے خلاف مزاحمت کے دوران عام کیا تھا۔ 2022ء کی مزاحمت 2009ء کی اس مزاحمتی تحریک کا تسلسل ہے جو ایرانی حکومتی نظام کو لبرل جمہوری خطوط پر مرتب کرنے کے لیے برپا کی گئی تھی۔ دونوں تحریکوں کا کلیدی ہدف ائمہ اسلام کی ریاستی قیادت کو منتشر کرکے سامراجی نظاماتی باجگزاری کا احیا ہے۔ دونوں تحریکوں کو سامراجی اور بہائی حلقوں کی بھرپور اعانت حاصل رہی۔ ان تحاریک کے سامراجی منتظمین اس بات کی مستقل کوشش کرتے رہتے ہیں کہ تحریک رد نسوانیت کو نسلی عصبیت اور مزدوروں کی مزاحمتی تحریکوں سے جوڑ دیا جائے۔ ایرانی معیشت کی رفتار نمو سخت بیرونی پابندیوں کے باوجود مستقل بڑھ رہی ہے۔ علما کی قیادت میں خواندگی تقریباً 50 فیصد تک پہنچ گئی اور نوجوانوں میں سو فیصد ہے۔ صحت کی سہولتیں عام ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ طالب علم یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم اور ان میں اکثریت خواتین کی ہے۔ 75 فیصد افراد شہروں میں ہیں اور بھاری صنعتوں کے شعبہ جات کی پیداواری شرح بڑھ رہی ہے۔ آئی ٹی صنعت میں ایران نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ دفاعی شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ایران میں ایک جہادی معیشت قائم ہے اور قومی حفاظتی نظام اتنا مستحکم ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ آور ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
لیکن معاشی نظام مستحکم نہیں۔ کئی دہائیوں سے افراط زر کی شرح نمو بہت زیادہ ہے۔ تومان کی شرح تبدل مستقل گر رہی ہے اور عالمی ترسیل زر پر حکومتی گرفت ڈھیلی ہے۔ معیشت کی تنظیم نیم سرمایہ دارانہ ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری اور آمدن اور دولت کی تقسیمی نامساویت بڑھ رہی ہے۔ دہریہ مزاحمتی تحریکیں ان معاشی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ وہ عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایران کی معاشی مشکلات کا بنیادی سبب اسلامی حکومت کی جہادی خارجہ پالیسی ہے اور اگر ایران سامراج کے سامنے گھٹنے ٹیک دے تو یہ مشکلات آناً فاناً ختم ہو جائیں گی۔ کسی نہ کسی حد تک ایرانی علما کا ”اصلاح پسند معتدل مزاج“ بھی سامراج سے مصالحت اور سرمایہ دارانہ آزادیوں کے پھیلاؤ کی ضرورت کا قائل ہے۔ اس گروہ میں سابق صدر میر حسین موسوی اور امام مہدی کردی شامل ہیں۔ تحریک عریاں پرستی کے فروغ کی وجوہات تحریک عریاں پرستی کی تاریخی جڑیں انیسویں صدی کی بانی تحریک میں پیوست ہیں۔ بابی تحریک نے شیعی روایات کی مخالفت میں حجاب کی ممانعت اور مرد و زن کی معاشرتی علیحدگی کے خلاف مزاحمت کی۔ بابی فاحشہ رہنما قراۃ العین وہ پہلی عورت ہے جس نے مجمع عام میں اپنا نقاب اتار پھینکا۔ 1905ء کے انقلاب کے بعد جو دستور نافذ کیا گیا اس کے تحت فاحشاؤں نے انجمنیں قائم کیں۔ 1905ء کے دستور کی تنفیذ کا مقصد ایرانی معاشرت کو ماڈرن اور جمہوری خطوط پر مرتب کرنا تھا۔ جب رضا شاہ 1925ء میں بادشاہ بنا تو اس نے معاشرتی ماڈرنائزیشن کی مہم کو مہمیز دینے کا بیڑہ اٹھایا۔ رضا شاہ کے حامیوں میں دستوری دہریہ، پارسی، بابی اور بہائی شامل تھے۔ اس نے قانون زن اور مرد کی معاشرتی علیحدگی کو ممنوع قرار دیا۔ 1936ء میں رضا شاہ نے مصطفیٰ کمال اتاترک کی پیروی میں حجاب کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا۔ رضا شاہ کے دور میں ایرانی کمیونسٹ پارٹی کا معاشرتی نفوذ بھی بڑھا اور اس جماعت نے بھی عریانی کی سرپرستی کی۔ اس دور میں اوسط شہری حلقوں میں بے حجابی عام ہونا شروع ہوئی۔ 1952ء میں محمد رضا شاہ بادشاہ بنا اور اس کے دور میں سامراج نوازی اور عریاں پرستی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ سرکاری اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن فحش مکالموں اور تصویروں سے سرکاری سرپرستی میں بھر دیے گئے۔ درباری اور سرمایہ کار طبقوں میں زناکاری عام ہو گئی۔ علما اور مجتہدین کو بے دریغ قتل اور قید کیا جاتا رہا۔ محمد رضا شاہ کے دور میں امریکی اور یورپی فیمی نسٹوں کا تسلط ایرانی فحش نوازی پر مستحکم ہو گیا۔ بدقماش داشتائیں شیطانی حقوق (ہیومن رائٹس) طلب کرنے لگیں۔ وہ نکاح کی پابندیوں سے نجات حاصل کرنے کا مطالبہ کھلے عام کرنے لگیں۔ اس دور میں مشہور فاحشہ فروغ فرح زاد کی گھناؤنی جنس زدہ شاعری سرکاری طور پر عام کی گئی۔ اس کی مشہور نظم ”گناہ“ بار بار سرکاری میڈیا پر نشر کی جاتی رہی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اغلام بازی کی تحریک کی بھی تشہیر و وکالت کرنے لگے۔ 1979ء سے لے کر 1991ء تک اسلامی حکومت نے تحریک عریاں پرستی کی روک کے لیے موثر اقدام کیے لیکن اس دور میں بھی اس نے خاندانی منصوبہ بندی کا ایک قومی پروگرام چلایا جس سے مانع حمل ادویات شہروں اور گاؤں میں عام کی جانے لگیں۔ قومی شرح پیدائش تیزی سے گری۔ شادی کرنے کی اوسط عمر تیزی سے بڑھی اور نکاحی ازدواج میں کمی ہوئی۔ متعی اور غیر نکاحی ازدواجی رشتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ بے نکاحی جنسی روابط کو معاشرتی قبولیت حاصل ہونے لگی۔ اسلامی ریاست افواج میں مرد و زن کے تعلقات کو برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔ آج کل ایران میں ایسی شادیاں جو ماں باپ کی رضامندی پر منحصر ہوں اور جو کفو کے اصول کے تحت کی جائیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ جنسی روابط کا قیام معاشرتی مقبولیت اختیار کیے جا رہے ہیں۔ بہت سی خواتین (بالخصوص امراء میں) نکاح سے گریز کرنے لگی ہیں۔ عورتوں کی ملازمت کی شرح (بالخصوص غیر رسمی شعبوں میں) بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ وجوہات تحریک ردِ نسوانیت کے فروغ کی حالیہ وجوہات ہیں۔ عورتوں کی بڑھتی ہوئی ملازمتوں کے نتیجہ میں معاشرتی بے حیائی پھیل رہی ہے اور ایران ایک جاندار Me Too کی تحریک ابھر آئی ہے جس کے ذریعہ فحاشائیں علما کرام پر زناکاری کے جھوٹے الزامات بے دریغ لگاتی رہتی ہیں۔ فی الحال ردِ نسوانیت کی تحریک کی معاشرتی جڑیں بالائی اور متوسط طبقوں میں پیوست ہیں۔ ان طبقوں میں الحادی سرمایہ دارانہ اقدار مقبول ہو رہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ ایرانی ماس میڈیا کی نشریات ہیں جنہیں طوعاً اور کرہاً اسلامی قیادت کسی نہ کسی حد تک برداشت کررہی ہے۔ ایران میں آج بھی مخرب اخلاق اور اسلام دشمن فلموں کی بھرمار ہے۔ جعفر پناسی کی فلم ”ٹیکسی“ اسلامی نظام تعلیم کا خاکہ اڑاتی ہے۔ اس کی فلم Circle تحریک عریاں پرستی کے ماخذات میں سے ہے۔ محمد اسولوف کی فلم There is no Evil حکومت اسلامی کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔ فلم سازی کی Iranian New Wave جو اٹلی کی پس جدیدی تحریک کا ایک اظہار ہے اسلامی معاشرت میں عام آدمی کی زندگی کو مایوسی اور حزن کا مرقع بنا کر پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔ New Wave فلموں Close Up ، Taste of Change اور Fellow Citizen کا یہی موضوع ہے۔ No one knows about ، Persian Cates شیطانی حقوق کی تشہیر اور وکالت کرتی ہے۔ تہران میں ایک زیر زمین حلقہ قائم ہے۔ ٹیکسی میں شیطانی حقوق کی وکیل نسرین سنودہ کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ نسرین سنودہ ایک امریکی جاسوس ہے۔ وہ تحریک عریاں پرستی کی ایک ثقافتی رہنما ہے۔ New Wave Film کی تحریک اور شیطانی حقوق کی وکالت کو اسلامی انقلابی قیادت کے معتدل بازو کی پشت پناہی کسی نہ کسی حدتک حاصل ہے۔ یہ معتدل علما پوری نیک نیتی سے سرمایہ دارانہ آزادیوں اور سرمایہ دارانہ حقوق (شیطانی حقوق) کو فروغ دینا اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے ضروری تصور کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شاہ کے آخری زمانہ میں جو انقلابی جدوجہد برپا ہوئی اس میں اسلامی حلقوں کے ساتھ ساتھ اشتراکی، قوم پرست اور لبرل حلقے بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست کو جمہوری قالب میں ڈھالنا ناگزیر ہو گیا اور جمہوری عمل کی توسیع و تنفیذ سے سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات، ترقی) کی جوازیت کی راہ ہموار ہوتی چلی گئی۔ آیت اللہ نوری نے جمہوری عمل کے ان منفی اثرات کی نشان دہی 1906ء کے انقلاب کی مخالفت کرتے ہوئے واضح فرما دیا تھا اور اس وجہ سے آپ کو شہید کر دیا گیا۔ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں ایران میں عریاں پرست مزاحمت کا مقابلہ کیسے کیاجائے؟ ریاست پر جمہوری تعقل کی گرفت کو کمزور کرنا سرمایہ دارانہ رجحانات کی تحدید کے لیے لازمی ہے۔ اسلامی ریاست کی رعایا کو حقوق کا طالب نہیں فرائض کی ادائیگی کا خواہاں بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تحریک عریاں پرستی کی مقبولیت عوام کے کچھ حلقوں بالخصوص نوجوانوں میں اس بات کی غماز ہے۔ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلامی انقلابیوں کی معاشرتی گرفت ڈھیلی ہے۔ انقلابی ایسی معاشرتی ادارتی صف بندی نہ کر سکے جو اسلامی روحانیت اور اقدار کے عوامی پھیلاؤ کو ممکن بنائے۔ اسلامی انقلابیوں کو اپنی اس معاشرتی کمزوری کو رفع کرنے کے لیے معاشرہ میں مساجد اور مدارس کے دائرہ کار میں توسیع کرنا چاہیے اور دینی روایات اور تدریس کو اعلیٰ تعلیمی اداروں (بالخصوص ہائی اسکولوں،یونیورسٹیوں) کے انتظامیہ کا لازمی ،تحکیمی جزو بنا رہنا چاہئے۔ محلہ اور بازار کی سطح پر ایک ایسا مقامی حکومتی نظام(local government system) جو آئمہ مساجد کے ماتحت ہو اور جس کا بنیادی فریضہ دعوت اور تبلیغ اور عوامی اسلامی تحریک کو فروغ دینا ہو ۔تحریک عریاں پرستی کے خلاف عوامی مزاہمت کو فروغ دینا حکومت کی ذمہ داری قرار دی جائےاور یہ مزاہمت مقامی حکومتی(local government systems) کے تحت منظم کی جائے۔
اس ضمن میں نظریہ ہیومن رایٹس(Human rights ideology)کی حقیقی حثیت کو طشت ازبام کرنا نہایت ضروری ہے۔ ہومن رائٹس سرمایہ دارانہ معاشرتی پھیلاو کا موثر ترین ہتھیار ہے، ہیومن رائٹس حقوق العباد کا رد ہیں، اور ان کی مقبولیت کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ معاشرت (civil society) قائم ہوتی ہے اور انفرادیت سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھل جاتی ہے۔ ہیومن رایٹس کے اثبات اور فروغ کو حرام اور غیر جوازی (illegitimate) ثابت کرنا دور حاضر میں اسلامی تہذیب کے احیا کے لئے ناگزیر ہے۔ اسلامی حکومت کو جلد از جلد عوام میں (بلخوص خواتین اور نوجوان طالب علموں میں) ہیومن رائٹس کی تردید کے لئے ایک ہمہ گیر قومی مہم کا آغاز کرنا چاہئے جو مستقل جاری رہے۔ خواتین اور نوجوانوں کے علاوہ اس کے مخاطب نسلی اقلیتیں کرد،عرب، بلوچ بھی ہوں اور ہیومن رائٹس نظریہ کے وکیلوں کو سامراج کے آلہ کار ثابت کیا جائے۔ ہیومن رائٹس کے وکیلوں سے تعاون اور مصالحت انقلاب اسلامی کے معاشرتی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ معتدل (moderate) علما کویہ بات سمجھانے کے اشد ضرورت ہے۔ ہومن رائٹس کے وکلا عوام کے بہی خواہ نہیں بلکہ سامراج کے آلہ کاراور انقلاب اسلامی کے شدید ترین دشمن ہیں وہ اسلامی ریاست عالمی سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاستی نظام میں ضم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف سخت ترین تادیبی کاروائیاں نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی ہیں۔ ایران افغانستان کی طرح ایک غیر معمولی اسلامی ریاست ہے۔ ہم اس کو غیر معمولی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ایک عالمی دارالحرب میں گھری ہوئی ہے اور کفار کی پیہم جدوجہد ہے کہ ان دونوں اسلامی ریاستوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کریں۔ ایرانی معیشت نیم سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم ہے (بالخصوص اس کا فنانشل شعبہ) اور معتدل صدر کے دور میں حکومت میں تقریباً ڈیڑھ دہائی تک معیشت کو سرمایہ دارانہ خطوط پر لبرلائز کرنے کی پیہم کوشش کی جاتی رہی اور اسی وجہ سے آج افراط زر کی شرح بڑھی ہوئی ہے۔ معاشی لبرلائزیشن کے اس رجحان کو ختم کرنا تورم پر قابو پانے کے لیے بھی ضروری ہے اور حلاق رزق کے فروغ کے لیے بھی۔ لبرلائزیشن کی تردید اسلامی حکومت کی معاشرتی گرفت کو مستحکم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ معاشرہ میں شہوت رانی اور جنسی بے راہ روی کا ایک بنیادی سبب غیر نکاحی عقود کی عمومیت ہے۔ co-habitation تو مغرب زدہ طبقوں تک محدود ہے لیکن متعہ تو عوام الناس میں بھی پھیلا ہوا ہے۔ جنسی بے راہ روی کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ white marriages اور co-habitation کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے مرد و زن کے روابط کے قیام کی حوصلہ شکنی کی جائے (بالخصوص تعلیمی اداروں میں) اور خواتین کی پبلک لائف میں شمولیت کی تحدید کی جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ علمائے کرام فقہ جعفریہ کی روشنی میں متعہ کے ضمن میں اجتہاد فرمائیں۔ آج جس تہذیبی یلغار سے بلاد اسلامیہ کا سامنا ہے اس میں شہوت اور غضب کو فروغ دینا سرمایہ دارانہ معاشرتی عمل کا جزو بن گیا ہے۔ ان حالات میں عقدِ متعہ کا ناجائز استعمال عوام و خواص میں عام ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور ایران میں ایک وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ اس لیے مجتہدین عظام سے گزارش ہے کہ ان بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں متعہ کی حلت اور جوازیت پر غور فرمائیں۔ کیا گھناؤنی شہوت زدگی سے لتھڑی ہوئی سرمایہ دارانہ معاشرت میں متعہ کو حیلہ کے طور پر استعمال کرنے والے عریاں پرستون کو برداشت کرنے کا جواز شرع مطہرہ فراہم کرتی ہے؟ آج الحمدللہ ایران کے پڑوس میں ایک اور اسلامی ریاست قائم ہو گئی ہے۔ افغانستان میں بھی شیعہ سنی اتحاد قائم ہے اور فروغ پا رہا ہے۔ وہاں ریاست ایک اسلامی معاشرت قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے اور خواتین کے دائرہ کار کو اسلامی خطوط پر مرتب کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ افغان اسلامی قیادت نے معاشی استحکام قائم کر لیا ہے اور افراط زر کی شرح نمو 2023ء میں ان شاء اللہ منفی رہے گی اور ایک غیر سودی غیر غراری نظام تمویل مرتب کیا جا رہا ہے۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ دو سال سے زائد گزرنے کے باوجود اسلامی ایران نے اسلامی افغانستان کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں کی جا سکتی اور یہ تغافل سامراج کے لیے خوش آئند ہے۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی سلطنت صفویہ اور سلطنت عثمانیہ کی چپقلش بھی مسلم دنیا پر سامراجی تسلط کے قیام کی ایک اہم وجہ بنی تھی۔ کیا ہم اس منحوس روایت کو دہرانے پر تلے بیٹھے ہیں؟ امارت اسلامیہ افغانستان اسلامی ایرانی سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے اور الحمدللہ ایرانی تاجروں اور صنعت کاروں بالخصوص کان کنی، توانائی اور آئی ٹی کے شعبوں میں امارت اسلامیہ سے تعاون کر رہے ہیں۔ ایران بھی افغانستان سے کچھ سیکھ سکتا ہے۔ معاشرتی ادارتی صف بندی کے بارے میں قیمتوں اور زر مبادلہ کی شرح نمو میں استحکام کے بارے میں تعلیمی نظام کی ترتیب اور تدوین کے بارے میں وغیرہ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد از جلد اسلامی جمہوریہ ایران امارت اسلامیہ افغانستان کو سرکاری طور پر تسلیم کرے۔ افغان اسلامی انقلاب ایرانی اسلامی انقلاب کا تسلسل ہے۔ ان دونوں اسلامی ممالک میں تعاون اور دیرپا اشتراک عمل ضروری بھی ہے اور سامراج کو مسلم دنیا سے بے دخل کرنے اور شکست خوردہ حیثیت میں فرار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے ناگزیر بھی۔ ہمیں چاہیے تھا کہ سب یار ہوتے مصیبت میں یاروں کے غم خوار ہوتے سب اپنے پرائے کے مددگار ہوتے خطا پوش ہوتے وفا شعار ہوتے سبط مہدی