امام شاہ ولی اللہ کا نظریہ معاش
امام شاہ ولی اللہ کا نظریہ معاش حضور نے اپنی تصانیف ”حجتہ البالغہ“ اور ”البدور البازغہ“ میں اسلامی طرزِمعاش کا جو اجمالی نقشہ پیش فرمایا ہے وہ دور حاضر کی مروجہ اسلامی اکنامکس او راسلامی فنانس کے منہج کی مکمل تردید کرتا ہے۔ آج پاکستان میں اسلامی فنانس کا فراڈ پھل پھول رہا ہے (گو کہ ایسا لگتا ہے کہ اسلامی معاشیات کا عفریت دم توڑ چکا ہے) لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم حضور شاہ صاحب کی تلقین کی طرف رجوع کریں۔ کائناتی قوتیں حضور شاہ صاحب تین قسم کی کائناتی قوتوں کی نشان دہی فرماتے ہیں۔ طبعی قوتیں جو مختلف اعضا میں پھیلی ہوئی ہیں یعنی فزیکل فورسز، قوائے ادراک یعنی پاورز آف پرسپشن جو اجسام کو جاری عوامل کی تفہیم کے لیے بخشی گئی ہیں اور الٰہیاتی قوتیں یعنی اسپیشل فورسز جو شاہ صاحب کے مطابق عالم جبروت کی ہستیوں میں ودیعت کی گئی ہیں اور جن سے اتصال بنیادی طور پر ذکر اور عبادت کے ذریعہ ہوتا ہے۔ وجود ان تینوں قسم کی قوتوں کے اشتراک عمل سے پیدا ہوتا ہے اور ان تین قسم کی قوتوں کے آثار و خواص میں ٹکراؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس ٹکراؤ کو محدود کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جداگانہ احکام مرتب اور صادر فرمائے۔ حصول معاش کے احکام اسی نظام کلی کا ایک جزو ہیں لہٰذا حصول معاش کے اسلامی اصولوں کے اطلاق کا بنیادی مقصد تقرب الٰہی کا حاصل کرنا ہے۔ معاشی زندگی، زندگی کے دیگر تمام پہلوؤں کی طرح تجلیات اسمائے الٰہیہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے۔ شاہ صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر کائناتی تحرک کی طرح معاشی عمل اور واقع اور حادثہ کے اسباب و علل کا تعین کرنے والا ”الرحمان“ ہی ہے۔ ان معنوں میں معاشی حوادث شاہ صاحب کی اصطلاح میں ۔۔۔۔ہیں۔ فضیلت نوع انسان حضور شاہ صاحب کے مطابق نوع انسانی کو دیگر مخلوقات پر فضیلت اس لیے حاصل ہے کہ وہ رائے کلی کو قائم کرنے، عقل سے حقائق کی تشریح کرنے اور ذات باری تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور معاشی عمل بھی رائے کلی کی تفہیم اور تقرب الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے یعنی معاشی عمل کا اسلامی جواز جبلتوں کے اظہار اور بدنی خواہشات کی تکمیل سے مرتب نہیں ہوتا۔ اس نکتہ کی دلیل شاہ صاحب یہ دیتے ہیں کہ انسان کی صورت/ہیئت حیوانیہ کا وجود جسم کے فنا ہونے سے نہیں یعنی روح فنا نہیں ہوتی۔ وجود انسانی کا سب سے پہلے ظہور عالم جبروت میں اور سب سے آخری ظہور عالم اجسام میں ہوا جو انسان اپنے وجود جبروتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا وہ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے (اور سرمایہ دارانہ عمل اس ظلم کا ایک اظہار ہے) کیونکہ فطرت انسانی تجلیات الٰہی کی طرف ترفع کی متقاضی ہے۔ شاہ صاحب قبلہ معاشی عمل کو ترفع تجلی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے خطرات سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں۔ تمام اخلاقیات کی بنیاد ترفع تجلی کی جدوجہد کا اظہار ہے۔ رائے کلی کو مرضی اور مشیت الٰہی کے مطابق مرتب کرنا حکمت ہے اور جب معاشرت کو اخلاق حسنہ (انفاق فی سبیل اللہ اور تورع) سے سنوارا جاتا ہے تو وہ عبادت بن جاتی ہیں۔ اخلاق حسنہ اور اخلاق رذیلہ شاہ صاحب یہ واضح کرتے ہیں کہ ایک ہی صفت محمود بھی ہو سکتی ہے اور مذموم بھی۔ ہر صفت مثلاً شجاعت یا فیاضی قلب کے کمال (اس کی جستجوئے رضائے الٰہی) کی عکاس بھی ہو سکتی ہے اور ۔۔۔۔نفس، تنگ دلی اور ضعف قلب (احکامات خداوندی سے بغاوت) کا اظہار بھی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا مجاہد کی شجاعت اور فیاضی محمود ہے اور سامراجی کی شجاعت اور فیاضی مذموم کیونکہ مجاہد اللہ کا مطیع اور سامراجی اللہ کا باغی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ قلب عقل پر حکمراں ہے۔ انسان عقل کی معاشی حیوانی عقلیت کے مماثل ہے اور جاہلی علمیت اکنامکس اسی حیوانی عقلیت کے تحرک کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ تنویری فلسفہ اسی حیوانی عقلیت کو ریشنیلٹی کہتا ہے اور اس عقلیت کا کوئی شعور نہیں رکھتا جو بارگاہ الٰہی کا قصد کرتی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اسلامی عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ عقل معاشی اس عالی عقلیت کے تابع ہو جو انسان کے مثالی وجود کا اظہار ہے۔ تمام علوم جاہلیہ (سوشل سائنسز) اس عقلیت مثالیہ کے وجود کے انکاری ہیں لہٰذا اخلاق حسنہ کا کوئی تصور سرمایہ دارانہ افادیاتی اخلاقیات میں موجود نہیں۔
ریشنیلٹی کی عدم فطریت جاہلی عقلیت انسانی وجود کے غیر حیوانی عناصر کا کوئی شعور نہیں رکھتی۔ اس نے انجیل مقدس کی جگہ ڈارون کی The Origin of Species کی ارتقائی تھیوری کو قبول کر لیا ہے۔ اس میں حیوانی خصائص یقینا ً موجود ہیں لیکن اس میں نفس بھی ہے اور وہ محض حیوان نہیں اور وہ عالم مثال اور ملائے اعلیٰ سے رابطہ قائم کرنے کی فطری جبلت بھی رکھتا ہے۔ حیات کو بامعنی بنانے کے لیےاس فطری جبلت کا عملی اظہار (عبادت اور ذکر) ناگزیر ہے۔ جاہلی عقلیت اس فطری جبلت کے اظہار کو کچلنے کی سعی سرمایہ دارانہ تحکم کے ذریعہ مستقل کرتی رہتی ہے۔ جاہلی علم اکنامکس، دیگر جاہلی معاشرتی علوم کی طرح، انسانی وجود میں روح کے ظہور کا انکاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکنامکس یا کسی دوسری سوشل سائنس کے منہاج میں موت اور زندگی کے بعد موت کے ادراک کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ریشنیلٹی کا اسیر انسان ایک حیوان بن جاتا ہے اوراس کا قلب اس کی نفسانی خواہشات اور حیوانی مقتضیات کے تابع ہو جاتا ہے۔ نفس امارہ کے احکامات کی تابعداری پر ایک ریشنل فرد کا قلب اور عقل مجبور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ریشنیلٹی سے مغلوب عقلیت جس خیر کی نشان دہی کرتی ہے وہ ان معنوں میں جزوی ہوتا ہے کہ اس کا وجود محدود، وقتی اور نوعی طور پر تضاداتی ہوتا ہے۔ اور موت لازماً اس خیر کو معدوم کر دیتی ہے۔ عارضی، تضاداتی اور جزوی خیر کے یہ تصورات قلب کو اور عقل کو نفس امارہ کے غلام بنا دیتے ہیں اور سرمایہ دارانہ عقلیت اس غیر فطری حاکمیت نفس امارہ کا جشن مناتی ہے اور اس بیمار قلب اور نامعقولیت پر نازاں ہے۔ ریشنل علوم (جاہلیت خالصہ) حکمت کی نفی ہیں کیونکہ حکمت قلب کی ایسی ذکاوت ہے جس کی بنا پر انسان علوم شریعہ اور علوم لدنی پر یقین مستحکم کر لیتا ہے۔ ارتقافات انسان کی نوعی خصوصیات کی اس تفصیل کے بعد حضور اسلامی معاشرت کے اصول و مبادی واضح فرماتے ہیں۔ اسلامی معاشرت کی کارفرمائی کا مقصد یہ ہے کہ شخص اپنے نوعی تقاضوں کے مطابق اپنی فطری خواہشات کو پورا کر سکے اور حصول مقاصد کی اس تگ و دو میں معاشرتی تصادم سے پرہیز کیا جائے۔ یہاں ہمیں شاہ صاحب کا تصور معاشرتی عدل ملتا ہے۔ اور ادارتی صف بندی کی یہ تفصیل چار درجوں میں منقسم ہے جسے شاہ صاحب ارتقافات کہتے ہیں۔ پہلا ارتفاق جبلی ہے جہاں انسان اپنی طبعی ضروریات بھوک، پیاس تولید وغیرہ کو پورا کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ اس ارتفاق (درجہ) کی ادارتی صف بندی embryonic ہوتی ہے۔ ارتفاق ثانی میں حکمت معاشی طور پر ہوتی ہے اور انسان معاشی عقل کو اپنی فطرت اور شریعت مطہرہ کی تعلیمات کے مطابق مرتب کرتا ہے۔ اس ضمن میں صنعت و حرفت کی ترتیب، اصول ملکیت اور لین دین اور مضاربت وغیرہ کا تعین ہوتا ہے۔ ارتقافات ثالثہ میں شہریت اور ریاست کے احکام وضع اور نافذ کیے جاتے ہیں اور ارتفاق چہارم ارتفاق ثالث کی تکمیل اور ریاستی نظام کی توسیع پر مشتمل ہے۔ ارتفاقات کی ہیئت تشکیلی میں تمدنی لحاظ سے اختلاف ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ تمام ارتفاقات کے قیام کا مقصد انسان کی فطری اور نوعی ضروریات کی تسکین ہے لہٰذا وہ ارتفاقی ڈھانچہ سب سے موزوں قرار دیا جائے گا جو اس مقصد کے حصول میں سب سے زیادہ معاون ہو اور معاشی ادارتی صف بندی کے لحاظ سے یہ وہ ارتفاقی نظام ہے جہاں شریعت مطہرہ کے احکام نافذ اور کارفرما ہوں لہٰذا ارتفاق ثانی میں اس بات کا انتظام ہونا چاہیے کہ حصول معاش کےعمل پر اسلامی قوانین اور اخلاقیات غالب آ جائیں اور یہی بات اصول شہریت اور ریاست سازی کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ کوئی معیشت اور معاشرہ صالح اور عادل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے معاملات کا تعین اس عقید ہ کی بنیاد پر نہ ہو کہ معاشی عمل اخروی فلاح کے حصول کے بہت سے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔
شاہ صاحب کے مطابق نیکی کی دعوت ہر اس عمل میں ہے جو معاشرہ میں اپنائیت اور محبت پیدا کرے۔ معاشی تعلقات کی تدوین اسی اصول کے مطابق ہونی چاہیے اور ظاہر ہے یہ مارکیٹی تنظیم کی ضد ہے کیونکہ مارکیٹ میں ہر فرد دوسرے فرد کے لیے اجنبی ہوتا ہے اور مارکیٹی تعلقات کی بنیاد انفرادی اغراض کی تکمیل کے علاوہ اور کہیں نہیں ہوتی۔ سرمایہ دارانہ ارتفاق معاشی اور معاشرتی معاملات میں اظہار محبت کو ناممکن بنا دیتا ہے لہٰذا فطرت انسانی سے متصادم ہے۔ سرمایہ دارانہ نظم معیشت بنیادی طور پر اس لیے ظلم ہے کہ وہ تمام کی تمام معاشی ادارتی صف بندی اسی انفرادی اجنبیت کے سہارے کھڑی کرتی ہے۔ اور اس اجنبیت کو فروغ دینے کے حرص اور حسد اور مسابقت کو معاشی عمل کی قوت اور تزکیہ کے طورپر رائج کرتی ہے۔ ولی اللہی معاشیات کے اصول شاہ صاحب حکمت معاش کی یوں تعریف کرتے ہیں ”فن معاشیات یہ ہے کہ اپنی ضروریات کو اخلاق کے تقاضوں کا لحاظ رکھتے ہوئے پورا کیاجائے“ یعنی معاشی عمل اور حکمت عملی کو جس پیمانہ پر جانچا جائے وہ شرعی اخلاقیات کا فروغ ہے۔ شرعی اخلاقیات وہ اخلاق ہیں جو معاد میں فلاح کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ ان میں ارتکاز سرمایہ برائے ارتکاز سرمایہ نہ ہو اور اگر ایسا ہے تو یہ عمل لازماً حرام خور مارکیٹوں میں منسلک نہیں ہو سکتا۔ پھر شاہ صاحب صرف کو بڑھانے کے بھی مخالف ہیں جسے وہ تعیش اور عیش پسند ی کہتے ہیں اور ویلفیئر اور صارفیت کا کوئی اصول شاہ صاحب کے یہاں نہیں ملتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ عیش پسندی کا لازمی نتیجہ ارتکاز سرمایہ ہی نکلتا ہے اور ارتکاز سرمایہ اور حرص و حسد کا لامتناہی سلسلہ ترک کر کے فقر اجباری کا معاشرہ میں رائج کرنا ضروری ہے۔ عیش و عشرت کا دلدادہ شخص اخروی زندگی کی تدبیر کو بھول جاتا ہے۔ شاہ صاحب کی رائے میں ایک ایسی معیشت کا قیام ضروری ہے جہاں خواہشات کی بڑھوتری پر تحدید ہو اور افراد معاشی عمل کو معاد کمانے کا ذریعہ سمجھیں۔ آپ طعام و قیام، نشست و برخاست کے جو احکامات وضع فرماتے ہیں ان کے پیچھے یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے یعنی معاشی معاملات اس طرح منظم کیے جائیں کہ ان کے ذریعہ اخلاق حسنہ کا فروغ ہو۔ آپ معاشی مساوات کے اصول کو رد کرتے ہوئے عوام میں معاشی مدارج کے وقوع پذیر ہونے کو ناگزیر گردانتے ہیں اور معاشی نامساویت کی تحدید کا کوئی تصور آپ کے یہاں نہیں ملتا۔ آپ اسلام کے تصور غلامی کی تشریح فرماتے ہوئے اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔ شاہ صاحب اکتساب معاش کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فرد کو وہ ذریعہ معاش اختیار کرنا چاہیے جس کی محدود ہوتی ہوئی ضروریات زندگی پوری ہو سکیں۔ پیشہ اختیار کرنے کے ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ ایسے پیشوں سے احتراز کرنا چاہیے جس سے آدمی کی تحقیر اور تذلیل ہو۔ ان میں تمام حرام پیشے شامل ہیں۔ معاشی عمل کے جو عہد امام صاحب بیان فرماتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ 1۔ بیع جس میں مال کے بدلے مال لیا دیا جاتا ہے۔ 2۔ اجارہ جس میں کسی چیز کا نفع مال کے بدلے دیا جاتا ہے۔ 3۔ بخشش جس میں بغیر عوض کے کوئی چیز دی جاتی ہے۔ 4۔ اعادہ جس میں بغیر عوض کے کسی چیز سے نفع اٹھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ 5۔ قرض بلاسود 6۔ قرض حسنہ معاشی عمل کو وضع کرنے کے جو اصول امام صاحب فرماتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں: 1۔ بیع میں قیمت، اجرت عمل اور نفع کسی صورت میں بھی غیر مطمئن اور نامعلوم نہ ہو۔ 2۔ عقود میں قرار اور قسمت سے مکمل احتراز کیا جائے۔ 3۔ عقود میں ایجاب و قبول ہو۔ دونوں جانب سے رضامندی کا کھلا اظہار ہو۔ 4۔ اجارہ میں مدت تعین اور مسلم میں جنس اور معیار وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہو۔ 5۔ عقود کا لکھا جانا اور گواہوں کی تصدیق ضروری ہے۔
6۔ ہر وہ عہد حرام ہے جس میں کسی طور پر بھی کساد یا سود شامل ہے۔ 7۔ جن عقود کے حلال ہونے کا شاہ صاحب اقرار کرتے ہیں وہ مزارعت، مضاربت اور مشارکت ہیں۔ اکنامکس اور فنانس شاہ صاحب کے نظریاتی تناظر میں جب ہم اکنامکس اور فنانس کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ دو علوم جاہلیت حرام خوری کا جواز مرتب کرتے ہیں اور چونکہ اسلامی اکنامکس اور اسلامی بینک کاری انہی علوم جاہلیہ کے حاشیہ ہیں لہٰذا اسلامی اکنامکس اور اسلامی بینک کاری بھی حرام خوری کا جواز مرتب کرنے والے منہج ہیں۔ اس کی وجوہات حسب ذیل ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اکنامکس ، فنانس اور اسلامی اکنامکس اور اسلامی بینک کاری کی اعتقادی بنیادیں فلسفہ افادیت فراہم کرتا ہے اور یہ فلسفہ ایک خالصتاً دہریانہ نظریہ ہے جس میں معاد کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس کا اصل الاصول لذت پرستی ہے اور ان مابعدالطبیعیاتی بنیادوں پر وضع کردہ نظام معاشرت اور معیشت یعنی سرمایہ داری حیوانی جبلتوں کی تسکین کے علاوہ اور کچھ حاصل کرنے کی نہ کوشش کرتا ہے نہ اہلیت رکھتا ہے۔ انسان کو حیوان ناطق سمجھنے کا یہ تصور انسانیت کا رشتہ ملائے اعلیٰ سے منقطع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مذموم کوشش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ پر ملائے اعلیٰ سے ہمیشہ لعنت برستی رہتی ہے۔ جن اخلاقیات کی اکنامکس، فنانس، اسلامی اکنامکس اور اسلامی بینک کاری وکالت کرتی ہیں وہ اخلاق رذیلہ ہیں۔ کیونکہ انسان کی ابدیت کا اظہار کرتی ہیں۔ حرص اور حسد کو فروغ دیتی ہیں اور مفاد عامہ کا ایک مادہ پرستانہ، دہریانہ تصور مرتب کرتی ہیں۔ ان اخلاق رذیلہ کا کوئی تعلق انسانی فطرت کے روحانی تقاضوں کے اظہار سے نہیں اور معاد سے منہ موڑ کر یہ انسانی تاریخ کو ابدی تصور کرتی ہیں اور موت اور زندگی بعدالموت کا کوئی تذکرہ اکنامکس، فنانس، اسلامی بینک کاری کے مقدمات میں نہیں ملتا۔ پھر سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں حلال عقود کی بنیاد پر کاروبار مرتب کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اکنامکس اور اسلامی اکنامکس مفروضہ قانون رسد و طلب پر ایمان لاتے ہیں اور یہ قوانین کوئی وجود نہیں رکھتے۔ ہر معاشرہ میں قیمتیں ارادہ انسانی ہی سے مرتب ہوتی ہیں کسی ماورائی قانون کی کارفرمائی سے نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں قیمتوں کا تعین حکومتوں کے اہل کار، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مینجر اور حرام خور سود خور سٹہ باز کرتےہیں اور عوام ہر شے کی قیمت اور ہر عمل کی متعین کردہ اجرت کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عمل کا نام معاشی آزادی ہے اور آزادی کا یہ جبر آزادانہ عقود کے وقوع پذیر ہونے کو ناممکن بناتا چلا جاتا ہے۔ قیمتوں کے تعین کا اصول سرمایہ دارانہ عقلیت میں بڑھوتری سرمایہ ہے۔ ہر شے اور عمل کی وہ قیمت متعین کی جاتی ہے جو اس کی بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دینے کی صلاحیت کا اظہار کرے۔ بڑھوتری سرمایہ کا یہ عمل بنیادی طور پر حرام خور مارکیٹوں میں جاری کیا جاتا ہے۔ حرام خور مارکیٹوں کی روح رواں سود اور سٹہ کا کاروبار ہے۔ سود اور سٹہ کے لین دین ہی کو فنانس کہا جاتا ہے اور فنانشل یعنی حرام خور مارکیٹیں تمام اشیا کی مارکیٹوں پر حکمرانی کرتی ہیں کیونکہ یہی بڑھوتری سرمایہ کے عمل کے مراکز ہوتے ہیں۔ چونکہ بڑھوتری سرمایہ کا یہ عمل لازماً غیر یقینی اور ظن و تخمین سے مرتب ہوتا ہے لہٰذا کوئی عہد اپنے نتائج کے اعتبار سے متعین شدہ اور یقینی نہیں ہو سکتا اور غرر ہر معاشی عمل میں شامل ہو جاتا ہے۔ ہر عمل اور عہد کا نتیجہ اور ہر قیمت مستقل تبدیلی کا شکار رہتی ہے۔ اسلامی بینک کاری حرام خور مارکیٹوں کا جزو بن گئی ہے اور ہر عقد کی ایسی تعبیر مرتب کی جا رہی ہے جو اس کو فنانشل مارکیٹوں میں ضم کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال کھربوں مالیت کے اثاثے اسلامی بینکوں کے ذریعہ عالمی فنانشل (حرام خور) مارکیٹؤں میں منتقل ہو رہے ہیں اور کئی بڑے عالمی بینک اسلامی بینک بن گئے ہیں۔
شاہ صاحب کی تعلیمات کی تشریح سے واضح ہوتا ہے کہ جاہلی علم معاشیات اور اس کے اسلامی حاشیہ بردار سب حرام خوری کا جواز فراہم کرتے ہیں اور اسلامی انقلابیوں کے لیے ضروری ہے کہ ان علوم خبیثہ کی اصلی حیثیت کو پہچانیں۔ جاوید اکبر انصاری امین بھائی اس کو پروف ریڈنگ کے لیے مجھے بھیج دیجیے۔احقر جاوید