کتب خانہLibrary

انقلاب آئے گا اے دوست ضرور آئے گا

رسالہاردو۲۰ ستمبر ۲۰۲۴کتب و مضامین
حصہ ۱

انقلاب آئے گا اے دوست ضرور آئے گا سرمایہ دارانہ معذرت خواہ ہیگل سے لے کر رارٹی اور ہابرماس تک سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی تسلط کو ناگزیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کی دلیلیں فرسودہ تو ہیں لیکن ان کی اثر پذیری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آج ڈاکٹر محمد امین جیسا معتبر عالم دین ان فرسودہ دلیلوں سے متاثر نظر آتا ہے۔ اس مضمون میں پہلے پروفیسر بیونگ چل ہان (Byung-Chul Han) کی دلیلیں چند نکات کی شکل میں پیش کروں گا اور پھر اسلامی انقلابی تناظر میں ان کا مقدمہ مرتب کرنے کی کوشش کروں گا۔ پروفیسر بیونگ چل ہان کا موقف پروفیسر صاحب دورِ حاضر میں انقلابی جدوجہد کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر ناممکن قرار دیتے ہیں: آج محنت کشوں کا استحصال جبری اور پرتشدد نہیں ہے۔ آج استحصال کرنے والے اور جس کا استحصال کیا جا رہا ہے واضح اور نمایاں نہیں۔ آج نظام کو دائمیت بخشنے والی قوت ترغیبی (seductive) ہے انسدادی (repressive نہیں۔ آج محنت کش ایک آزاد سودا کار (free contractor) بنا دیا گیا ہے وہ اپنا استحصال خود کرتا ہے۔ طبقاتی کش مکش درونی بنا دی گئی ہے۔ ہر شخص اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار خود اپنے آپ کو تصور کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل میں شمولیت فرد مجبوری نہیں گردانتا بلکہ اس عدل پر انحصار کرنے پر راضی اور مطمئن ہے۔ آج عوام آزادی کے ساتھ اپنے نفس کی سرمایہ کاری خود کرتے ہیں اور بخوشی اپنے بارے میں اطلاعات سرمایہ کار کارپوریشنوں کو فراہم کرتے رہتے ہیں۔ آج ریاست کے خلاف جدوجہد نامعقول گردانی جا رہی ہے کیوں کہ ریاستی قوت کا اظہار دوستانہ اور اسمارٹ انداز میں کیا جاتا ہے۔ سرمایہ کا عبد اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ سرمایہ آزادی کی تحدید نہیں کر رہا ، آزادی کا استحصال کر رہا ہے۔ عام لوگ سرمایہ دارانہ تغلب پر راضی اور مطمئن ہیں اور ذاتی زندگی میں اس تغلب کی قیمت خودکشی کی شکل میں دے رہے ہیں۔ آج سرمایہ دارانہ نظم کار تنہا ذات کے بیوپاریوں پر انحصار کرتا ہے جو اجتماعی انقلابی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ سماجی اشتراک عمل کی تحریکیں ان معنوں میں ناکام ہیں کہ ان کے نتیجہ میں زندگی کا ہر شعبہ سرمایہ کارانہ نظام میں ضم ہو جاتا ہے۔ اسلامی نقد پروفیسر بیونگ چل ہان دلیوز اور گوتاری کے پیرو اور ایک پوسٹ مارکسسٹ مفکر ہیں۔ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی جو مثالیاتی تشریح کی ہے وہ مسلم دنیا کے لیے بالکل اجنبی اور نامانوس ہے۔ دور حاضر انقلابی اسلامی کی پیہم کامیابیوں کی صدی ہے۔ ایران اور افغانستان میں اسلامی انقلاب برپا ہو چکے ہیں اور سامراج کی نصف صدی سے زیادہ جاری رہنے والی کوششوں کے باوجود ان انقلابوں کے سرمایہ دارانہ نظام میں تحلیل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ فلسطین، چاڈ، بورکینا فاسو، مالی، لبنان، یمن اور وسطی افریقہ میں دیرپا جہادی عمل جاری ہے اور مجاہدین اسلام رزم حیات کے ہر مورچہ پر سامراج سے چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی کارِ برانداز ہے خون شہدا کی لالی دیکھ گردوں کا رنگ تو عنابی ہے یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط میں اسلامی فکر میں وہ اجتہاد رونما ہوا جس کے نتیجہ میں ہم سامراج کا مقابلہ کرنے کے لیے بیدار ہو گئے۔ یہ اجتہاد ہمارے دو اہم تحریکی فکری رہنماؤں مولانا مودودی اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہما نے مرتب فرمایا۔ اس اجتہاد کے مطابق دور حاضر میں احیائے اسلام کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست سے نبرد آزمائی ضروری ہے۔ عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد اس اجتہاد یک روشنی میں ہم سامراج پر حملہ آور ہیں اور الحمد للہ پوری دنیا میں اس اجتہاد کی روشنی پھیل رہی ہے اور ہم کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

حصہ ۲

ہماری جدوجہد پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے پھیلاؤ اور سرمایہ دارانہ انفرادیت کے فروغ کے خلاف ہے۔ پروفیسر بیونگ چل ہان سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کے تغلب کو لازمی اور دائمی تصور کرتے ہیں ۔وہ آزادی کی عوامی پوجاپاٹ کو بھی ناگزیر خیال کرتے ہیں یعنی سرمایہ دارانہ انفرادیت اور اس کا نظاماتی غلبہ تاریخی نہیں قدرتی ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک یورپ میں نہ سرمایہ دارانہ انفرادیت عام تھی نہ سرمایہ دارانہ تعقل عام تھا ۔ سرما یہ دارانہ انفرادیت شہوت پرستی کی پلید پیداوار ہے اور سرمایہ داری جن نظاماتی بحرانوں کا شکار ہے اس کا ایک اظہار ہے۔ الحمدللہ سامراج اور سامراج نواز مسلم ریاستوں کی پیہم کوششوں کے باوجود سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معاشرت کا پھیلاؤ مسلم دنیا میں محدود ہے اور اس پھیلاؤ کو روکنے کی جدوجہد مسلکی جماعتیں، علمائے کرام اور صوفیائے عظام نہایت تن دہی اور جان فشانی سے کر رہے ہیں۔ ہمارا مذہبی نظام تدریس اور تربیت محفوظ ہے۔ ہمارے مذہبی رسوم اور رواج عوامی زندگی میں پیوست ہیں۔ ہمارا خاندانی اور برادری نظام مستحکم ہے۔ ایک عام مسلمان شیزوفرینیا کا شکار نہیں نہ وہ قنوطی ہے نہ تنہا ہے اور نہ دین سے بدظن۔ یہ مانا کہ فرائض میں ہیں سب ہی قاصر نہ مشغول باطن نہ پابند ظاہر مساجد سے غائب ملا جی ہی حاضر مگر ان میں اپنے نہ فاسق نہ فاجر کہ مذہب پہ حملے جو ہیں ہر طرف سے یہ دیکھو ان کو پسپائی خلف سے ہماری معیشت کا بڑا حصہ غیر سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم ہے۔ حلال رزق دستیاب اور میسر ہے۔ ہمارے بازار اسلامی روایات اور برادرانہ عصبیت کا مظہر ہیں۔ ایک عام تاجر اور کاروباری نہ سود کے مارکیٹ سے تعلق رکھتا ہے نہ سٹہ کے مارکیٹ سے۔ پھر سامراجی معاشی نظام تسلط مسلم دنیا کے استحصال کا باعث ہے۔ سامراجی استحصال ریاستی جبر کو فروغ دے رہا ہے۔ مسلم دنیا میں ذات کے سودا کار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سامراجی معیشت سے متعلق تمام کاروبار ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیر دست ہیں اور فنانشلائزیشن کا عمل مسلم ریاستوں اور مسلم کاروباریوں کو قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبائے چلا جا رہا ہے۔ یہ تمام مسائل مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ آزاد معیشت کے پھیلاؤ کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں بالخصوص اس لیے کہ علمائے کرام، صوفیائے عظام اور مسلکی جماعتوں کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں اسلامی انفرادیت اور معاشرت کی جڑیں مضبوط اور مستحکم ہیں۔ مسلکی جماعتوں، علمائے کرام اور صوفیائے عظام کی اصلاحی جدوجہد انقلاب اسلامی کی پشت پناہ ثابت ہو سکتی ہے اور ہم مسلم ممالک میں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کو مسخر کرکے سامراج کو مسلم دنیا سے بے دخل کر دیں گے۔ مسلم دنیا میں کوئی سرمایہ دارانہ یا اشتراکی انقلاب برپا ہونا ممکن نہیں لیکن اسلامی انقلاب ناگزیر ہے۔ یورپ اور امریکا میں سرمایہ دارانہ انقلابات یعنی اشتراکی یا قوم پرستانہ انقلابات کی وقوع پذیری محدود ہے اور وہاں مسلم دنیا کے مقابلہ میں سرمایہ دارانہ انفرادیت اور تعقل کا پھیلاؤ اور معاشرتی تسلط گہرا ہے۔ لیکن چونکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور تعقل ایک تاریخی، حادثاتی پیداوار ہے لہٰذا اس کا وجود دائمی نہیں۔ اگر عیسائی انفرادیت سرمایہ دارانہ انفرادیت کے مختلف قالبوں میں ڈھل سکتی ہے تو سرمایہ دارانہ انفرادیت اسلامی قالب میں بھی ڈھالی جا سکتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ان یورپی صوفیا کی ذمہ داری ہے جو مدت دراز سے مغرب کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے آقا محمد مارما ڈیوک پکتھال رحمۃاللہ نے فرمایا ”یورپ کا مستقبل اسلام ہے“۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوفیائے عظام کی کوششوں کو اسلامی انقلابی عمل سے مربوط کیا جا ئے جیسا کہ ہمارے آقا ابوبکر غارودی رحمۃ اللہ نے فرانس میں تصور کیا تھا۔ یہ کرنا مشکل تو ہے ناممکن نہیں۔ کیونکہ یورپ میں مسلمان مجموعی آبادی کے تقریباً پندرہ فیصد ہیں اور ان کی نوجوان نسل میں انقلابی روح پھونکی جا سکتی ہے۔ امریکا میں سیاہ فام مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہاں اسلامی انقلاب کے نقیب ملک شہباز اور شیخ فراخان رہ چکے ہیں۔ اگر یورپ اور امریکا کے مسلمان انقلاب اسلامی کی شمع روشن کریں تو کیا عجب کہ وہاں کے مایوس، خود پرست، اکتاہٹ اور شیزوفرینا کے شکار عوام کو حیات نو میسر آ جائے اور وہ تازہ دم ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔

حصہ ۳

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی علاج اسکا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی جاوید اکبر انصاری