کتب خانہLibrary

سرمایہ داری کیا ہے

رسالہاردوکتب و مضامین
حصہ ۱

سرمایہ داری کیا ہے ؟ جاوید اکبر انصاری مخلصین دین کی تمام جماعتیں اور گروہ جس نظاماتی تناظر میں کام کرنے پر مجبور ہیں وہ سرمایہ داری ہے لیکن ہم سرمایہ داری کو بحیثیت ایک نظام زندگی اور طرز حیات کے نہیں جانتے ۔ہم اس کو ایک فطری مظہر تصور کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ اس کے وضح کردہ قوانین باالخصوص قوانین رسد و طلب  (demand & supply)تاریخ کے ہردور میں کارفرمارہے ہیں۔ یہ درست نہیں فرانسی مدبر اگلیٹا(Michel Aglietta)کی تحقیق  سے ثابت ہوتا ہے کہ 16صدی سے قبل یورپ میں قیمتوں میں اضافہ صرف آبادی میں اضافہ کے تناسب سے ہوتا تھا ۔قحط اور خشک سالی اور وباء پھیلنے کے زمانہ میں قیمتیں گرتی تھیں بڑھتی نہیں ایک صدی میں قیمتوں میں اضافہ بمشکل ایک فی صدہوتا تھا۔ آج تقریباً ہر جگہ قوانین رسد و طلب کی کارفرمائی مسلٌم ہے اس کی وجہ کسی ماورائی قانون کی کارفرمائی نہیں بلکہ انسانی خواہشات اور میدانات میں تغٌیر ہے ،رمضان میں قیمتیں خود نہیں بڑھتیں انہیں دوکاندار بڑھاتے ہیں ۔کیوں؟اس لئے کہ وہ زیادہ کمانے کے حریص ہوتےہیں اور خریدار زیادہ خرچ کرنے پر آمادہ ہوتےہیں۔اگر دوکاندار اور خریدار عموماً متوکل ہوتے جیسے کہ (Michel Aglietta)کی تحقیق کے مطابق 16ویں صدی سے پہلے تھے تو رمضان میں خرچ بڑھتا نہ قیمتیں ۔ہمیں اس غلط فہمی سے نجات حاصل کرنا چاہئے کہ معیشت کی کارفرمائی کسی مسابقتی مارکیٹ (perfect market)کی غماز ہے، ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں تو مسابقتی مارکیٹ (perfect market)تقریباً بالکل ناپید ہوچکے ہیں اور پاکستان میں اس کا وجود سخت خطرہ میں ہے ان کو ختم کرنے کے لئے ہی آج عمران خان اور عدلیہ چھوٹی دکانوں ،چھوٹے مکانوں اور ریڑھی والوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اس غلط فہمی سے نجات حاصل کرنے کےلئے ضروری ہے کہ تحریکات اسلامی کے کارکن سرمایہ داری کو بحیثیت ایک نظام زندگی اور طرز حیات کےسمجھیں ۔سرمایہ داری مارکیٹ تک محدود نہیں وہ ایک مخصوص اور منفرد شخصیت human being ) ،معاشرت (civil society ) اور ریاست (republic)تعمیر کرتی ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ تینوں سطحیں خواہشاتی عقلیت کے تابع بنا دی جاتی ہیں خواہشاتی عقلیت کو (Rationality)کہتے ہیں اس جاہلی عقلیت کے اظہار (علمی اور عملی دونوں سطحوں) کا مقصد نفس امارہ کی غیر مشروط تابعداری جیسا کہ مولانامودودیؒ نے اپنے کتابچہ "انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل"میں تحریر فرمایا کہ نفس امارہ کے احکامات کی پیروی کا مطلب ہے اپنے آپ کو حرص اور حسد کے کے سپرد کردینا- سرمایہ دارانہ شخصیت حصول لذات اور تمتع فی العرض کو مقصد حیات تسلیم کرتی ہے اور اپنے عمل کا جواز اس بات میں تلاش کرتی ہے کہ اس عمل کے ذریعہ اس کے مادی وسائل کے حصول میں کتنا اضافہ ہوا- سرمایہ دارانہ فلسفہ نظریہ افادیت (utilitarianism)ہے اور اسے greatest happiness principle کہتے ہیں اور یہ اصول تکمیل لذات  (maximization of utility)ہے- سرمایہ دار ہونے کے لئے دولت مند ہونا ضروری نہیں ۔سیدنا عثمان ابن عفان اور سیدنا عبدالرحمٰن بن اوف دولت مند تھے لیکن وہ سرمایہ دار نہ تھے اسی طرح ولی بھائی چھوٹانی (تحریک خلافت کے رہنما) بھی بہت دولت مند تھے لیکن وہ بھی سرمایہ دار نہ تھے کیونکہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو حرص اورحسد کے سپرد نہیں کردیا تھا اس کے برعکس ہر وہ مزدور اور ہاری جس نے حرص اور حسد کی غلامی قبول کرلی ہو اپنی تمام تر مفلوک الحالی کے باوجود سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حامل ہے ۔ سرمایہ دولت کا استحصالی استعمال ہے، دولت سرمایہ اس وقت بنتی ہے جب اس کے استعمال کا واحد مقصد اس کی مقدار میں مستقل اضافہ ہو یہ بات بھی مولانا مودودیؒ نے "انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل " میں ہمیں سمجھائی ہے ۔سرمایہ حرص اور حسد  کی کی تجمیمی شکل (concrete form)ہے جو چیز ایک فرد کو سرمایہ دار بناتی ہے (چاہے  وہ امیر یا غریب ہو) وہ سرمایہ دارانہ تعقل (Rationality of desire )کو معقول جاننا اور اپنے عمل کو اس جاہلی عقلیت کے تابع کرنا ہے ۔

حصہ ۲

سرمایہ دارانہ معاشرت(civil society)اس اجتماعیت کو کہتے ہیں جہاں نفس امارہ کی تابعدارعقلیت(Rationality of desire )کی بنیاد پر کئے جانے والے رضاکارانہ (voluntary)فیصلے غالب ہوں ، ہرمعاشرتی ادارہ بتدریج ایک مارکیٹ کی شکل اختیار کرتا چلا جائے، خاندان اپنے بچوں کو تعلیم صرف اس مقصد سے دلائیں  تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرسکیں ، تعلیم خود ایک کاروبار بن  جائے ، عدلیہ کا دائرہ کار بنیادی طورپر تقسیم ذرائع میں سرمایہ دار اصولوں کی کارفرمائی  کی نگرانی تک محدود ہوجائے , اسے rule of he law of capital  کہتے ہیں، ہرعمل کی تقابلی قدر (exchange value )ناپنے کا واحد پیمانہ سود اور سٹہ کے بازار فراہم کریں ۔ وغیرہ تو یہ معاشرت سرمایہ دارانہ معاشرت کہلائے گی - سول سوسائٹی مذہبی سوسائٹی کے ضد ہے سول سوسائٹی میں اعمال  کی قدر صرف اس بنیاد پر متعین کی جاتی ہے کہ  وہ بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو ترقی دینے میں کتنے مفید ثابت ہوتے ہیں اس بنیاد پر نہیں کہ ان کی مذہبی حیثیت  کیا ہے یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرت(civil society )میں کسی شے یا عمل کی قدر ناپنے کا واحد کارفرما(functional) پیمانہ اس کی قمیت (price)ہوتی ہے- سرمایہ دارانہ ریاست ایک ریپبلک ہوتی ہے ریپبلک کے شہری کو سیٹزن کہتے ہیں ، اس سٹیزن کو ان معنوں میں حاکم مطلق (sovereign)تصور کرتی کہ ریاست کی کارفرمائی  کا مقصد سیٹزن کی قدرت اور معاشرت پر بالادستی میں مستقل اضافہ کے علاوہ اصولاً اور کچھ نہیں ہوتا- مشہور فرانسی فلسفی روسو (roussou) نے اس کو (general will)یا “ارادہ عمومی” کہاہے "ارادہ عمومی" یہ ارادہ ہے کہ انسان کائنات پر اپنی خدا ئی مسلط کرنے کا زیادہ سے زیادہ مکلف مستقلاً ہوتا چلا جائے۔ اگر کہیں کوئی معاشرہ اپنا اجتماعی عوامی رائے (روسواسے will of all کہتا ہے) سے ارادہ عمومی (general will )کی تردید کرے ,مثلاً عوام فیصلہ کریں کہ ریاستی پالیسی سرمایہ دارانہ جاہلی عقلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ علوم اسلامی کی بناد پر مرتب ہوگی تو سرمایہ دارانہ دستور اس کو قبول نہیں کرتا اور سرمایہ دارانہ سامراج ایسے فیصلوں کو نظریہ ہیومن رائٹس(human rights )کو جواز بنا کر کچل دیتا ہے  جیسا کہ اس نے الجزائر ،مصر ،افغانستان،مالی اور کئی دیگر اسلامی ممالک میں کیا - کسی سرمایہ دارانہ ریپبلک کو عوام کی مطلق العنان حاکمیت کے اصول کی عملی تردید کا حق نہیں دیا جاسکتا اور نہ سرمایہ دارانہ سامراج کسی غیر سرمایہ دارانہ ریاست کے وجود وکو برداشت کرنے پر تیار ہوتا ہے۔ سرمایہ داری کو نا سمجھنے کی سنگین غلطی کرنے کی بنا پر  اسے سکیٹرتے ہوئے سرمایہ مسابقتی مارکیٹ(perfect market )کا  عامل سمجھنے کا کوئی جواز نہیں،  درحقیقت سرمایہ داری ایک ہمہ گیر کلیت (Totalizing collectivity )ہے جو حیات کے ہر شعبہ پر تسلط جمانے کی کوشش کرتی ہے  اسی لئے ہم اس کو ایک منفرد نظام زندگی (system )اور طرز حیات (life world )کہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ غلبہ کے تناظر میں ، نہ  اسلامی انفرادیت،  نہ اسلامی معاشرت اور نہ اسلامی ریاست سازی کی جدوجہد پھلتی پھولتی ہے بلکہ سرمایہ دارانہ عمل(process ) کی کارفرمائی (functionality )اور سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی مزکین کے کام کے دائرہ اثر کو بھی محدود کرتی ہے مبلغین کے کام کوبھی ،مدرسین کے کام کو بھی اور انقلابیوں کی جدوجہد کو بھی لہذا سب اسلامی گروہوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سرمایہ داری کو بحیثیت ایک نظام زندگی اور طرز حیات کےسمجھیں اور اپنے دائرہ کار میں سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی غلبہ کے انہدام کے لئے حکمت عملی مرتب کریں -  اس کام کوآگےبڑھاناہےتومزکین ،مدرسین ،مصلحین اور انقلابیوں کے کام میں ارتباط فکر و تنظیم کو بتدریج فروغ دینا ناگزیر ہے۔

حصہ ۳

آج تمام اسلامی گروہوں میں سرمایہ دارانہ فکر اور عمل کارفرمائی سے آگہی نہ ہونے کے برابر ہے اور ظاہر ہے یہ کام  مختصر اخباری مضامین سے نہیں ہوسکتا ۔تفصیل اس اجمال  کی ان تین کتابوں میں پیش کی گئی ہے ، “سرمایہ داری ایک تعارف” ،”سرمایہ درانہ عقائد ونظریات”  اور “capitalist values and ideologies” یہ تینوں ابتدائی تعارفی نوعیت کی کتب ہیں اور تحریکات اسلامی کا ہر کارکن ان سے استفادہ کرسکتا ہے جاوید اکبر انصاری Javed.sheikh@gmail.com