کتب خانہLibrary

اصطلاحات کا دھوکہ حقوق انسانی کے

رسالہاردواردو تحریریں
حصہ ۱

اصطلاحات کا دھوکہ حقوق انسانی کے تناظر میں مغربی تہذیب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمگیر غلبہ کےبعد زبان وادب اورلسانی اصطلاحات و تعبیرات کے میدان میں باقی اقوام کی مذہبی ،روحانی ،تہذیبی،ثقافتی،تاریخی،لسانی اور ادبی شناخت کو مٹانے یا مغلوب کرنے کےلئے تحریف لسانی اور اصطلاحات سازی کی ایسی فیکٹری لگا رکھی ہے کہ جس کے نتیجہ میں حق اور باطل ،سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط کے مابین امتیاز کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے الّا یہ کہ ان اصطلاحات کی حقیقت اور ماہیت سے کماحقہ آگاہی حاصل ہو۔ اصطلاحات میں تبدیلی کا مقصد مغربی تہذیب کا اصل مقابلہ اسلام کے ساتھ ہے کیونکہ مغربی مفکرین اور دانشور اسلام کے سوا کسی دوسری تہذیب کواپنے مقابلے میں نہیں سمجھتے۔ اس لئے مغربی تہذیبی اقدار اور مغرب کی وضع کردہ اصطلاحات کا سب سے بڑا نشانہ اسلام ہی بنتا ہے۔ان اصطلاحات کا عمومی اور بے دریغ استعمال کسی اور قوم و ملت کے لئے شاید اتنے نقصان کا باعث نہ ہو کیونکہ مسلمانوں کے ماسوا کسی بھی دوسری قوم کےلیے "الحق" اور ابدی صداقت کا کوئی ابدی اُصول موجودنہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے تغیر اور حالات و معاملات کے تقاضوں سے اپنے مذہب کو ہم آہنگ رکھنے کے لئے مستقل تغیروتبدل بلکہ کتب مقدسہ میں تحریف کرنااور مذہب کو زمان و مکان سے ہم آہنگ کرنا نہ کہ زمان و مکاں کو مذہب سے ہم آہنگ کرناتمام مذاہبِ عالم اپنی مذہبی و اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اسی لئے دیگر اقوام کے نزدیک مذہبی اصطلاحات اور تعبیرات کے معانی و مفاہیم میں تبدیلی کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھاجاتا بلکہ اسے ضرورت کے تحت بجالانا ہی اہم خیال کیا جاتاہے۔ لہذا جن مذاہب میں بذات خودحق و باطل کے ابدی اُصول موجود نہ ہو اُن کے لئے دائمی و ابدی اصطلاحات جو دائمی و ابدی تعلیمات وتصورات پر دلالت کرتے ہوں مفقود ہوجایا کرتے ہیں ۔اُن مذاہب کی اصل غرض و غایت یہ نہیں رہتی کہ ان کے پیرو کاران مذاہب کی اصولی اور بنیادی تعلیمات کو اُس کی روح کے ساتھ قبول کرتے ہیں یا نہیں بلکہ اصل غرض و غایت فقط یہ رہ جاتی ہے کہ اُن کے پیروکاروں کی تعداد اگر بڑھ نہ سکے تو کم بھی نہ ہو خوا ہ اس کے لئے انہیں جدید افکارونظریات اور اقدار و معاملات کے ساتھ مصالحت(Adjustment) ہی کیوں نہ کرنی پڑ جائے۔ اس تناظر میں بعض مذاہب اپنی اصولی تعلیمات سے اپنے پیروکاروں کی رضامندی کی خاطر دست بردار ہونے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ہندو مت اور عیسائیت ایسے مذاہب ہیں جن میں ترمیم اور تبدیلی کےلئے اہل مذہب کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں بشرطیکہ اس کےنتیجہ میں مندرو کلیسا اور پادری وپنڈت کو مالی و مادی منفعت کی کوئی صورت نظر آتی ہو۔ لہذا اِن دونوں مذاہب سمیت جملہ مذاہب عالم کےلئے لسانی واصطلاحی تغیرات اور زبانی تعبیرات کے وہ نئے مفاہیم جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے مختلف جہاں رکھتے ہوں ان کو اپنے مذہب کا حصہ بنانا یا ان سے اپنے مذہب کی مبادیات میں تبدیلی کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ اصطلاحات میں تبدیلی کے نقصانات ہیومن بینگ کا اپنے نظریات اور نفسانی چاہتوں کے فروغ کے لئے نئی اصطلاحات کا ایجاد کرنا اور دیگر کے حقیقی معانی و مفاہیم اور اطلاقات میں تحریف ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان بالآخر رب کا بندہ بننے کے بجائے نفس کا بندہ بن جاتا ہے، جس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسے قرآن کریم کی اصطلاح میں فتنہ کہاجائے تو غلط نہیں کیونکہ قرآن کریم نے فتنہ بمعنی آزمائش اور دھوکہ دہی کے بھی استعمال کیا ہے ۔یہ لسانی و اصطلاحاتی فتنہ اپنےتباہ کن نتائج کے اعتبار سے قتلِ اُمت و اقوام سے زیادہ سخت فتنہ اس لئے ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسان مقدسات کو غیر مقدسات ،محرمات کوغیر محرمات ،ممنوعات کو مباہات،جبکہ دوسری طرف سے حلال کو حرام جائز کو ناجائز اور اچھےعمل اورتصور کو بُرے سے بدل دیتا ہے ۔مثلاً جس کا نتیجہ خود اسلام کی اساسیات اور مبادیات پر مصالحت اور شعائر اسلامی کو ان کے اصل معنی اور مقام سے بدل دینے کا مترادف ہوسکتا جو خود اسلامی علمیت(Epistemology) کے لئے ایک ایسے تحدی (Challenge) کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس میں بیت اللہ ،حرم پاک،قرآن کریم ،اذان ،نماز،روزہ ،زکوۃ، حج ،جہاد،اجتہاد سمیت دوسری تمام اصطلاحات تحریف و تبدل سے دوچار ہوسکتیں ہیں لہذا اسلامی اصطلاحات کا استعمال صرف اس کے اصل موضع و مقام اور معنی و مفہوم میں کیا جانا بہت ضروری ہے۔

حصہ ۲

اصطلاحات کے بدلنے سے ایک اور خطرناک نتیجہ یہ برآمدہوتا ہے کہ انسانی معاشروں اور اقوام کی ماہیت قلبی اس طور پرہوجاتی ہےکہ خلق خدا، بندگی رب یعنی عبدیت کے دائرے سے نکل کر نفس پرستی ،طاغوت پرستی، دنیا پرستی اور عیش پرستی کی راہ پر لگ جاتی ہے۔ وحی الہی ،آسمانی تعلیمات اور صحف سماویہ نے اصطلاحات کو ایک خاص دینی ،روحانی،ایمانی و ایقانی تناظر میں بیان کیا ہوتا ہے جس کا مقصد اُن اصطلاحات کے ذریعےبندوں کی بندگی کو قرب الہی میں بدل کر انہیں ابدی نعمتوں کا اُمید وار بناناہوتاہے۔ ہیومن رائٹز اور حقوق العبادمیں فرق اسلام اپنی ابدی تعلیمات کے ساتھ اپنے اصطلاحات کے مفاہیم اور اطلاقات میں بھی ابدیت کا حامل ہے۔اسی لئے کسی بھی شخص ،جماعت ،قوم اورتہذیب کوکسی بھی صورت یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اسلام کے متعین کردہ الہامی اصطلاحات کو اپنے من پسند اور انسانی فہم و ادراک پر مشتمل معنی و مفاہیم یا تعبیرکا جامہ پہنا سکے۔آج پوری دنیا میں مسلمان ممالک بڑے فخر سے اقوام متحدہ کےحقوق انسانی کے چارٹرکو حقوق العباد کا مجموعہ یا مترادف سمجھ کر قبول بھی کرتے ہیں اور اُس کی تعریف میں زمین وآسماں کے قلابیں بھی ملاتے ہیں حالانکہ ہیومن رائٹس اور حقوق العباد میں بہت بڑا اصولی فرق ہے۔بعض لوگ اپنی لاعلمی یاعدم توجہی کے باعث یہاں تک دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ اقوام متحدہ کا عالمی منشور برائے حقوق انسانی(Charter of Human rights) شاید خطبہ حجۃ الوداعLast Sermon of Holy Prophetﷺ سے ماخوذ ہے۔ ایسا ہر گز نہیں کیونکہ حقوق کے تناظر میں چند چیزیں آپس میں یقینا ً ملتی جلتی ہیں جس سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ شاید ہیومن رائٹس اور حقوق العباد میں کوئی فرق نہیں حالانکہ یہ سمجھناایک بڑی علمی ،فکری اور نظریاتی بلکہ اعتقادی غلطی ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ حقوق العباد بندوں کے دوسرےبندوں کے حوالے سے اُن فرائض اور واجبات کا نام ہے جس کاتعین بندوں نے نہیں کیا بلکہ رب تعالیٰ نے خوٍد یاپھر اپنے نبی آخرالزماں کے ذریعے فرمایا لہذا ان حقوق کی حیثیت غیر متبدل اور الہامی ہے جس میں تنسیخ ، ترمیم واضافہ کا حق کسی انسان یا ادارے کو ہرگز حاصل نہیں ہے ان حقوق کی حیثیت اسی طرح ہے جس طرح اسلام میں فرائض وعبادات کا مجموعہ غیر متبدل بنیادوں پر قائم ہے۔انسانوں کا قلیل یا کثیر ،بے اختیار یا بااختیار اورکم عقل مندیا بہت زیادہ عقلمند مل کر بھی اس مجموعے میں رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکتے ۔اسی طرح دنیا کی کوئی پارلیمینٹ یا عدلیہ کو یہ حق حاصل نہیں ہوسکتاکہ وہ اسلام کے پیش کردہ حقوق العباد کے تصور اور تعلیم کے متبادل کوئی اور فلسفہ یاتعلیمات کے مجموعے کو حقوق العباد کے نام سے پیش کرے۔ اسلام تمام انسانوں کے یکساں حقوق کا بالکل بھی قائل نہیں کیونکہ تمام انسان علم ،اخلاق،کردار، سیرت، عمل ،محنت ،عبادت ،تقویٰ اور رویوں میں برابر نہیں ہیں اسی لئے اسلام میں حقوق کی ادائیگی کو فرائض کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے ۔مطلق حقوق کا تصور خود انسانی معاشروں میں بھی عملی طور پر ناممکن ہےکیونکہ اپنے ذمہ کے فرائض اداکیے بغیر باپ اپنے بیٹے کو،ماں اپنی بیٹی کو،استاد اپنے شاگرد کو اورکارخانہ دار اپنے ملازم کوکسی قسم کا حق یا حقوق دینے کا پابندنہیں ہوتا۔اسی طرح ہر وہ شخص جو اپنا فریضہ تخلیق یعنی عبدیت و بندگی بجالانے سے انکاری ہو وہ اُن تمام حقوق سے یکسر محروم ہوجاتاہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کےلئے اُن کی بندگی و اطاعت پر رضا مندی کی وجہ سے مختص فرمائے ہیں۔برسبیل تنزل اس معاملہ کو کسی ملک کے عام شہری اور مجرم شہری کے تناظر میں دیکھا اور سمجھاجاسکتا ہے یعنی عام شہری جو ملک کے قوانین کا پاسداراور ریاست کاوفادار ہو اور وہ شخص جو ملکی قوانین کو رد کرنے والا اور ریاست کا غدار ہو شہری ہونے کے اعتبار سے یکساں ہونے کے باوجود حقوق کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتے کیونکہ ایک شہری کے حقوق فرمابردار شہری کی حیثیت سے اور دوسرے کی باغی اور مجرم شہری کی حیثیت سے تعین کیا جاتا ہے۔

حصہ ۳

اسلام میں حقوق العباد کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگی مقدم اورحقوق العباد کی ادائیگی مؤخر ہے یعنی حقوق العباد کا شعور حقوق اللہ کی ادائیگی کے نتیجے میں پیداہوتا ہے۔ محض ہیومن رائٹس کا نعرہ بظاہر تو بہت ہی خوبصورت نعرہ ہے لیکن اس نعرہ کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کوئی اعتقادی و الہامی اساس و بنیاد نہیں ہے۔ہیومن رائٹس کے معاملے میں سب سے بڑا ابہام یہ ہے کہ آخر "انسان "کون ہے؟اور "انسان "کون نہیں ہے؟ کیونکہ اگر روئے زمین پر بسنے والے تمام افراد انسان ہیں تو پھر جنگوں میں غیر مسلح اور غیر جنگجو افراد بشمول بچوں،عورتوں،بوڑھوں،بیماروں، معذوروں اور عام لوگوں کا قتل عام کسی شخص یا ادارے کی طرف سے نہیں بلکہ حقوق انسانی کے سب سے بڑے نام نہاد دعویدار مغربی ممالک کی طرف سے کیوں کیا جاتاہے؟اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ مغرب جس انسان اور اُس کے حقوق کی بات کرتا ہے اُس سے مراد ہر شخص نہیں ہوتا بلکہ اس "انسان" سے مرادہیومن (Human)ہوتا ہےجو اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اللہ کا بندہ اورخدا کے کسی بھی پیغمبر کا پیروکار نہیں ہوسکتاکیونکہ Human جس مذہب کا پیروکار ہوتا ہے وہ Humanism کہلاتاہے۔٭ یہ ہیومن(Human)کا کسی بھی الہامی مذہب ،الہامی عقائد و تصورات اور نظریات کے برعکس انسانی پیش کردہ فکروفلسفہ اور قوانین و نظریات کا پیروکار ہوتا ہے۔مغربی مفکر" کانٹ"صرف اُس شخص کو ہیومن بینگ(Human being)قرار دیتا ہے جو اپنی آزادی کا قائل ہو۔آزادی سے مرادانسان کا اپنے نفس،خواہش اور شہوت کا غلام بن جاناہے۔جتناکوئی شخص اپنے نفس اور خواہش،شہوت کا غلام بنتاچلاجائے گا اتناہی وہ آزادی کا حقیقی علمبردار بنتاچلاجائے گا۔یہی وہ انسان ہے جو خالق کائنات کو رب نہیں مانتا بلکہ اپنے نفس کو ہی اپنا رب بنالیتا ہے لہذا ُس کا نفس اُسے جس بات کا حکم دے وہ جائز اور ناجائز،حلال حرام اور صحیح و غلط کی تمیز سے بالاترہو کر اُسے بجالانا اپنا فریضہ جانتا ہےکیونک ان کے نزدیک خیر و شر وہی ہے جس کا تعین ہیومن بینگ کرے۔ایسے انسان کی عقل خواہشات کے تابع ہوجاتی ہے اس لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ خارج میں موجود کوئی قوت (دین، مذہب،خدا،عقیدہ) نہیں کرتی بلکہ داخلی طور پر عقل خود حرص وہوس اور شہوات سے مغلوب ہوکر اچھے اور بُرے کا فیصلہ کرتی ہے لہذا اگر کسی ہیومن کی خواہش شراب پینے ،جوّا اور سٹہ کھیلنے ،سود کمانے یا بدکاری کرنے کی ہو تو اُسے بلاتردد ان تمام کاموں کو بجا لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ انسانی نفس کی خواہش اور چاہت ہے البتہ اُسے صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان تمام رزائل کو روبہ عمل لانے کے دوران کسی اور ہیومن بینگ کی اس طرح کی آزادی کی راہ میں اُسے رکاوٹ نہیں بناچاہیے ۔ایسا انسان ہی حقیقی معنی میں مغرب کی نظر میں اصلی ہیومن بینگ ہے ۔پوری انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیسویں صدی عیسویں میں خلق خداکی بڑی اکثریت (Human being)بن گئی ہے ورنہ سترویں صدی سے پہلے(Human being)کا کوئی وجودنہیں تھا۔لہذا مغرب جب (Human Rights) کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد وہ مادر پدرآزاد ،انسان نما جانور ہیں جو وحی کے مقابلے میں عقل ،دین کے مقابلے میں فلسفہ،خدا کے مقابلے میں نفس کی بندگی اور کلام اللہ کے مقابلے میں انسانی فکر ودانش کو ہادی و رہنماء سمجھنے کے قائل ہوں۔ یہ وہ انسان (Human being)ہیں جو خود کو قائم بالذّات سمجھ کر اس بات کے دعویدار ہیں کہ انہیں خود اس بات کا کلی ادراک ہے کہ کیا ان کے لئے کیابہتر اور کیا اُن کے لئے بہتر نہیں ہے اس لئے وہ اپنے درمیان سے اُن انسانوں کو جنہیں وہ دانشور،فلسفی، سائنسدان،اہل فکر و نظر سمجھتے ہیں اُن کی انفرادی اور اجتماعی آراء جوتھنک ٹینک (Think tank) ،پارلیمنٹ اور عدلیہ کے ذریعہ پیش ہوتی ہیں اس بات کا مکمل استحقاق رکھتی ہیں کہ کسی کام یا عمل کے صحیح و غلط اورجائز و ناجائز ہو نے کا فیصلہ کریں۔اسی طرح انسانوں کا نظام زندگی ،مقصد زندگی اور شاہراہِ زندگی کا تعین بھی یہ افراد اور ادارے کریں۔جس طرح دنیا کے ہر مذہب کا ایک دیوتا ہوتا ہے اس انسان (Human being) کا بھی ایک دیوتا ہے اور وہ خود انسان ہے۔

حصہ ۴

ہیومن رائٹز کی موجودگی میں کروڑوں انسانوں کا قتل؟ ہیومن بینگ(Human being)کی مذکورہ بالاتعریف پر کوئی مسلمان خواہ کمزور سے کمزور ایمان والاہی کیوں نہ ہو پورا نہیں اُتر تا لہذا اُسے (Charter of Human Rights)کے تحت کوئی حق نہیں مل سکتا بلکہ جس طرح جان لاک (John Locke) نے سرخ ہندیوں کو جو ایک روایت کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام کے پیروکار تھے، ان کا قتل اور اُن کے املاک کی لوٹ مار کو اس لئے جائز قرار دیا تھا کہ اُس کے بقول سرخ ہندی نہ تو انسان تھے اور نہ ہی انہیں اپنے انسان ہونے کا شعور تھا بلکہ جان لاک ان کے قتل کو اس لئے ضروری سمجھتا تھا کہ اُس کی نظر میں سرخ ہندیوں کی حیثیت آوارہ بھینسوں سے بالکل مختلف نہ تھی جن کو ختم کیے بغیر امریکی دولت میں اضافہ ممکن نہ تھا۔ اسی طرح بیسویں صدی کے بڑے سیاسی مفکر جان رالز لکھتا ہے کہ جو افراد مطلق آزادی کو قدرِ مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے ان کو ختم کرنا اتناہی ضروری ہے کہ جتنا ایک متعدی وباء (Pandemic) کا ختم کرنا لہذا آزادی کو رد کرنے والوں کو جواب دلیل سے نہیں گولی سے دی جانی چاہیے۔اسی طرح مسلمان، جو ہیومنزم کے اس باطل عقیدہ کے قائل نہیں، ان کا قتل کرنا، ان کی املاک کو لوٹنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ ہیومنزم کے فروغ کے لئے ضروری ہے۔ ثانیا، کیونکہ یہ ہیومن ہیں ہی نہیں، ان کو چارٹر آف ہیومن رائٹز کے تحت کوئی حقوق حاصل نہیں۔ انہی گمرہ کن تعلیمات اور افکار و نظریات کو پیش نظر رکھ کر مغربی ممالک اور امریکہ نے عراق و افغانستان کے مسلمانوں کا بلا تخصیصِ جنس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا اور اپنے اس گھناونے عمل پرکبھی کسی پشیمانی، پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ اسی طرح گوانتا ناموبے اور ابوغریب میں مسلمان مجاہدین پر ذہنی ،نفسیاتی اور جسمانی روح فرسا تشدد کیا گیا کیونکہ یہ مسلمان آزادی کے قائل نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی سچی اور حقیقی بندگی اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت و فرما برداری کی راہ کو حق سمجھتے اور جانتے ہیں ۔لہذا ان مجاہدین کو سگریٹ سے داغنا ،کرنٹ لگانا،ان کی کھال اُدھیڑنا، ان کو جلانا ، اپنا پیشاب پینے پر مجبور کرنا،ان کے ساتھ استہزاء اور ٹھٹاکرنا،اِن کے بچوں کو قتل کرنا ،ان کی خواتین کی عصمت دری کرنا،ان کے بزرگوں کی توہین کرنا،اس لئے جائز ہوجاتا ہے کہ یہ مغرب کی نظر میں انسان ہی نہیں ہیں۔ لہذا ہمارے یہاں وہ تمام ادارے اور تنظیمات جو ہیومن رائٹس کی علمبردار بنی ہوئی ہیں اور ہیومن رائٹس اور حقوق العباد کو یکساں سمجھتے ہیں انہیں اس ضمن میں اپنی غلط فہمی جتنی جلدی ممکن ہو دور کرلینی چاہیے ورنہ وہ اپنے آپ کو انسان سمجھتے رہیں گے جبکہ مغرب اُن کو جانور سمجھنے پر بھی راضی نہیں ہوگا کیونکہ مغرب کی نظر میں جانوروں کی بھی اچھے خاصے حقوق ہوا کرتے ہیں جنہیں وہ ادا کرنا ضروری خیال کرتے ہیں اور ان کو قتل کرنا سنگین جرم و ظلم گردانتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو اور ہر وہ شخص جو ہیومنزم کے نظریہ کا مخالف ہے اس کے قتل عام کو صحیح بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ د افغان اقتصاد مشورتی گروپ