سرمایہ دارانہ ریاست میں اسلامی انقلابی جدوجہد جاوید اکبر انصاری
سرمایہ دارانہ ریاست کی ماہیت
سرمایہ دارانہ نظام زندگی (System) اور طرزِ حیات(life world) اس اجتماعیت کو کہتے ہیں جہاں انفرادیت پر حرص اور ہوس کی شیطانی قوتیں غالب آ گئی ہوں۔ روحانیت، عقلیت، معاشرت اور سیاست سب پر حرص اور ہوس کا غلبہ ہو اور عدل کا یہ تصور مقبول عام ہو کہ ہر شخص کو اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے مساوی حقوق فراہم کیے جائیں۔
سرمایہ دارانہ ریاست اس ہی نظام زندگی اور طرزِ حیات کی تحکیم کی شکل ہے۔ اس کا مقصد وجود raison d’etraسرمایہ(یعنی حرث و ہوس) کا روحانیت، عقلیت، معاشرت اور سیاست پر جبری تسلط برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
تاریخی طور پر عموماً سرمایہ دارانہ ریاست کے ذریعہ ہی سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معاشرت کو عمومی فروغ دیا گیا ہے۔ معاشرہ کے چند ذلیل اور خبیث لوگ سیاسی قوت پر قبضہ کر کے ایسی نظاماتی ادارہ سازی کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں پورے معاشرہ میں اوصافِ رذیلہ ایک وبا کی طرح پھیل جاتے ہیں۔ ریاست ہی سرمایہ دارانہ مارکیٹ، سرمایہ دارانہ تعلیم اور سرمایہ دارانہ جمالیات (Art)کو منظم کرتی ہے۔
یہ عمل گیارھویں صدی عیسوی سے اٹلی کے ساحلی شہروں میں شروع ہوا اور سامراجی قتل و غارت اور لوٹ مارکے ذریعہ چند سو سالوں میں پوری دنیا پر چھا گیا۔ اس کا تغلب اتنا عمیق ہوا کہ آج سرمایہ دارانہ ریاست کو فطری سمجھا جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ ریاستی ساخت
سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کے لیے جو ادارہ سازی کی جاتی ہے اس کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہت سرکاری یعنی پبلک ہے۔ اس جہت میں بیوروکریسی، عدلیہ، مقننہ، فوج اور پولیس شامل ہے۔ اس جہت ہی کو لوگ عموماً ”ریاست“ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بلاواسطہ تحکیم سازی (Direct rite)کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اس جہت کا بنیادی تحکیمی عمل تشکیل اور تنفیذ قانون سرمایہ (Rule of law of Capital) ہوتا ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ دارانہ ملکیت (جان، مال اور رائے) کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ یہ قانون سازی مقننہ اور بیوروکریسی ایک دستور کے تناظر میں کرتی ہیں۔ لیکن نوکر شاہی ماورائے دستور قانون بھی بناتی ہے اور اس کو ایڈمنسٹریٹو لاء کہا جاتا ہے۔ دستوری قوانین بھی بیوروکریسی ہی عموماً وضع کرتی ہے۔ مقننہ صرف اس کی منظوری کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
سرمایہ دارانہ ریاستی عمل کی دوسری جہت ”نجی“ یعنی پرائیویٹ ہوتی ہے۔ اس سطح کے کلیدی ادارے مارکیٹ، تعلیم گاہیں اور ثقافتی و مالیاتی ادارے ہوتے ہیں۔ نجی سرمایہ دار بڑھوتری سرمایہ کے عمل کے لیے مارکیٹی مسابقت جاری رکھتے ہیں اور ان کے فرستادہ ”اہل دانش“ یعنی انٹلیکچوئل سرمایہ دارانہ اخلاقیات اور روحانیت بذریعہ تعلیم اور تفریح اور تعیشات منظم کرتے ہیں۔
سرکاری اور نجی شعبہ کے روابط پیچیدہ ہوتے ہیں۔ دونوں شعبوں کی کارفرمائی کا مقصد ایک ہے یعنی بڑھوتری سرمایہ اور عمومیت حرص و ہوس۔ دونوں ایک دوسرے کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ قانون ساز (بیوروکریسی اور مقننہ) نجی سرمایہ کاروں پر بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دینے کے لیے انحصار کرتے ہیں اور نجی سرمایہ کار بیوروکریسی اور مقننہ اور عدلیہ پر تحفظ سرمایہ دارانہ ملکیت اور سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نبردآزما ہونے کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
(یہ گزارشات اشتراکی سرمایہ داری کی عکاس نہیں لیکن اب تقریباً تمام اشتراکی سرمایہ دار ریاستیں چین، ویت نام، کیوبا، کمبوڈیا اس ریاستی تقسیم کار کی طرف مائل نظر آتے ہیں)
سرمایہ دارانہ ریاستی عمل اور جمہوریت
سرمایہ دارانہ مدبرین ہمیشہ سے جمہوری عمل کے حامی رہے ہیں (یہ بات مکیاولی تک کے لیے کہی جا سکتی ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کا فروغ ا س بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد نفس امارہ کے غلام بن جائیں۔ نفس کی غلامی کو تنویری اور رومانوی فکر و فلسفہ میں آزادی کہا گیا ہے۔ لنکن نے کہا ”جمہوریت سے مراد ہے حکومت عوام کے لیے، حکومت عوام کی، حکومت عوام کے ذریعہ“۔ یہ تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ ہے۔ جمہوریت کے یہ معنی ہرگز نہیں۔ عوام نے کبھی حکومت کی ہے نہ کبھی حکومت کر سکتے ہیں۔
جمہوریت سے مراد ہے عوام کو سرمایہ کی حکمرانی پر رضامندی کے اظہار کا موقع فراہم کرنا لیکن یہ عمل سرمایہ دارانہ تحکم کے لیے خطرات سے خالی نہیں کیونکہ عوام اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سرمایہ دارانہ تحکم کو رد بھی کر سکتے ہیں (جیسا کہ انہوں نے 1990 میں الجزائر میں کیا) اور سرمایہ دارانہ نظاماتی خلفشار کی تائید بھی کر سکتے ہیں (جیسا کہ 2020کے انتخابات میں ٹرمپ کی جیت کے ذریعہ ہوسکتا ہے)
لہٰذا جمہوری عمل کی تحدید بھی ضروری ہے تاکہ یقینی بنایا جائے کہ عوام سرمایہ دارانہ تردیدی فیصلہ نہ کریں۔ انتخابی عمل کو مقننہ تک محدود کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ادارہ نہ بیوروکریسی، نہ عدلیہ، نہ پولیس، نہ فوج، نہ کارپوریشن، نہ میڈیا ، نہ بینک منتخب نہیں ہوتا اور ان سب کو دستوری تحفظ حاصل ہوتا ہے اور یہ تحفظ اتنا عمیق ہے کہ جب یہ ادارے ماورائے دستور اقدام بھی کرتے ہیں تو انہیں قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تحکم کا اصل ذریعہ یہی غیرمنتخب ادارے ہیں۔ سرمایہ دارانہ عقلیت اور روحانیت کے اصل ادارے یہی ہیں اور جیسا کہ امام بازگان نے فرمایا ”مقننہ کھیل تماشا ہے“۔
سرمایہ دارانہ ریاستی عمل اور اسلامی انقلابی جدوجہد
اگر طالبان نے افغانستان میں مروجہ جمہوری عمل اور ریاستی نظام سے مصالحت کر لی تو وہاں اسلامی انقلاب دم توڑ جائے گا کیوں کہ وہاں کے تمام ریاستی ادارے امریکی سامراج نے وضع کیے ہیں اور ان اداروں کی کارفرمائی جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر میں مقید رکھے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امام خمینیؒ نے انقلاب ایران کے دوران (1977 تا 1978) میں جمہوری عمل میں شرکت کو قطعاً مسترد کر دیا تھا۔
پاکستانی ریاستی ادارے سب کے سب (انتظامیہ، عدلیہ، فوج، کارپوریشن، میڈیا) برطانوی سامراج کے وضع کردہ ہیں۔ یہ بھی جمہوری عمل کو مقید کیے ہوئے ہیں اور اسلامی قوتوں کی مسلسل انتخابی ناکامی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔ اب جو ادارتی تقدس پر اصرار کیا جا رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کی سامراجی، سرمایہ دارانہ ادارتی ساخت کو چیلنج کرنا شجر ممنوعہ تصور کیا جائے۔
ان حالات میں ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ ہم ریاست اور حکومت میں فرق کریں۔ اول تو اس تناظر میں ایک اسلامی حکومت قائم ہو ہی نہیں سکتی اور اگر ہو بھی جائے تو وہ سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کی قیدی رہے گی (جیسا کہ 2012 کی اخوان کی مصر کی حکومت رہی تھی) لہٰذا ہماری انتخابی جدوجہد کا مقصد کسی سطح پر نہ لوکل، نہ شہری، نہ صوبائی نہ وفاقی، حکومت سازی نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ہماری توجہ ان ادارتی جکڑبندیوں کو ڈھیلا کرنے پر ہونی چاہیے جو عوام کو تصدیق تحکیم سرمایہ پر آمادہ اور مجبور کرتی ہیں۔ جمہوری عمل اسلامی انقلاب کے لیے اس وقت بارآور ہو سکتا ہے جب لوگ نفس کے بندے نہ رہیں بلکہ ہدایت قبول کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہمیں عوام کے پیچھے نہیں چلنا ان کو مخلصین دین کے پیچھے چلانا ہے۔ یہ کام عوامی سرمایہ دارانہ حقوق کی جستجو کے ذریعہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے عوام کو مخلصین دین کی قیادت میں منظم اور متحد کیا جانا چاہیے۔ مقامی سطح پر ایسی ادارتی صف بندی کی جا سکتی ہے جس کے نتیجہ میں عوام اپنے روزمرہ زندگی کے مسائل خود حل کرنے کے قابل ہو جائیں۔
ہمیں مطالباتی سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ سرمایہ دارانہ ریاست اسلامی نظام زندگی اور طرز حیات کی تنفیذ کے لیے نہیں اس کو ناممکن بنانے کے لیے کارفرما ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ ہم مقننہ کی کارفرمائی اپنے قائم کردہ عوامی اسلامی اداروں کے اقتدار میں اضافہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس ہی طرح ماورائے دستور ریاستی ادارتی کارفرمائی کی بھی جمہوری عمل کے ذریعہ تحدید کی جا سکتی ہے۔
جمہوری عمل میں شرکت سے مفر نہیں اور اس کو تحفظ اور غلبہ دین کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے جمہوری عمل کو انقلابی خطوط پر مرتب نہیں کیا کیوں کہ ہم سرمایہ دارانہ ریاستی ساخت اور ماہیت کو نہ سمجھ سکے۔
(یہ مضمون ”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ کی ایک تشریح ہے بالخصوص ”تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل“ کی)