کتب خانہLibrary

← عمران پاکستان کا جمال ناصر

عمران پاکستان کا جمال ناصر.docxڈاؤن لوڈ

عمران خان – پاکستان کا جمال عبدالناصر

یادش بخیر جب ۱۹۵۲ء میں جب ناصر برسراقتدار آیا تو اس کو تقریباً تمام مصری اسلامی گروہوں ۔بالخصوص اخوان کی حمایت حاصل تھی لیکن دس سال کے قلیل عرصہ میں اس نے تمام اسلامی گروہوں کو کچل کے رکھ دیا اور اخوان کے کارکنوں پر مظا لم کے پہاڑ توڑدیئے ۔اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان میں یہ عمل دہرایا جائے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان ناصر کے نقش قدم پر چلتا ہوا نظرآتاہے۔

ناصر اور عمران کی پالیسیوں میں مماثلت ہے ۔ناصر کی طرح عمران بھی اسلام کو ایک قوم  پرستانہ بیانیہ ( discourse) کا جزوبنانے کا خواہش مند ہے ناصر اسلامی آدرشوں کو عرب قومیت کی غلاظت میں غرق کرنا چاہتا تھا ۔عمران بھی اسلامی آدرشوں کو مسلم قوم پرستی کی غلاظت میں ڈبونے کی خواہش رکھتا ہے۔اس خواہش کا اظہار عمران خان  کے اس جملہ سے ہوتا ہے ”قوت کے اظہار کی اجارہ داری(monopoly) ریاست کی ہے“

اس کا مطب یہ ہے کہ اسلام وہ نہیں جو نصوص صحیہ اور ہماری تاریخی روایات کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے بلکہ اسلام کی نافذ العمل تشریح وہ ہے جو ریاست بزور شمشیر ہم پر مسلط کرے ۔ریاست اسلامی نہیں ہوتی بلکہ اسلام ریاستی ہوتاہے۔مذہب کا یہ ریاستی تصور سب سے واضح طورپر (fascist) فلسفی Helmut Schmidt کے ہاں ۱۹۳۰ء کی دہائی میں مرتب کیا گیا ۔

ناصری اور عمرانی (populism ) جو لبرل ازم کے مقابل فاشزم سے زیادہ قریب ہے کی بنیاد اس ہی کلیدی عقیدے پررکھی گئی- پاپولسٹ ریاست عوام کی خواہشات کی پیروی کی پابند ہوتی ہے ، احکام شرعیہ کی پیروی کی پابند نہیں ہوتی ۔عوام سرمایہ دارانہ ویلفیئر حقوق کے حصول کے خواہشمند ہیں لہذا عمران ریاست مدینہ کا جو تصور پیش کرتا ہے وہ (Scandinavian ) ممالک کے ویلفیئر (فلاحی) نظام کا چربہ ہے۔ اسکینڈینیوین ممالک میں جنسی بے راہ روی ،عریانی اور اخلاق باختگی ایک سیلاب کی طرح آئی ہوئی ہے ۔لیکن پاکستانی عوام کی یہ خواہش نہیں کہ عریانی ،فحاشی، لہو لعب و سود اور سٹہ کے فروغ کو روکا جائے ۔لہذا عمران کی مجوزہ ”ریاست مدینہ (اور ناصر کی عرب جمہوریت)“ میں ان خباثت کی روک تھام کا کوئی ذکر نہیں ۔

دین کو عوام کی خواہشات کے طابع بنانے کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ علمائے کرام اور صوفیاء عظام ہیں۔انہوں نے سرمایہ دارانہ معاشرتی سمندر میں ایسے جزیرہ قائم رکھے ہیں جہاں اسلامی روحانیت ،عقلیت اور معاشرت فروغ  پاتی ہے ۔ان جزائر کو مدارس ،خانقاہ ،مساجد زاویہ اور اسلامی تبلیغی اور انقلابی جماعتیں کہتے ہیں اور پاپولسٹ ریاست کو ہروقت یہ خطرہ لاحق رہتاہے کہ یہ جزیرے پھیلتے پھیلتے سمندر کو اپنے اندر جذب نہ کرلیں۔

ہر پاپولسٹ حکومت علماء کرام ،صوفیاء عظام اور اسلامی انقلابیوں کو اپنا صف اول کا دشمن گرادنتی ہیں اور علماء صوفیاء ،مبلغین اور انقلابیوں کے معاشرتی اور ریاستی اقتدار کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہیں۔عوام کو سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کا جھانسہ دے کر پاپولسٹ ریاست اسلامی نظام تعلیم و تدریس ، روحانیت اور اجتماعیت پر قبضہ کرلیتی ہے ،تاکہ وہ دین کی ایک ریاستی (قوم پرستانہ) تعبیر مرتب اور نافذ کر سکے یہ کام ناصر نے اپنے ابتدائی دور ہی سے جامعۃ الاظہر کو قومیا نے سے شروع کردیا تھا ۔آج عمران خان بھی یہی کررہاہے ۔اس نے کئی مدارس کو "قومیا" لیاہے اور ان پر ایسی انتظامی سربراہی مسلط کردی ہے جو دینی علمیت اور روحانیت سے بالکل ناآشناء اور ذلیل ترین اخلاقیات کی حامل ہے۔ساتھ ساتھ وہ ایک "قو می نصاب " بھی مرتب کرنے کی کوشش کررہاہے جو دینی تعلیمی اداروں پر قانوناً مسلط کیا جائے گا اور جس کا مقصد دینی تعلیم کی ریاستی تعبیر کو نافذ کرنا ہوگا۔

پاپولسٹ فکر دراصل قوم پرستی کی ایک تشریح اور ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے ۔قوم پرستی سامراجیت (imperialism ) سے تضاد اتی رشتہ رکھتی ہے ۔ایک جانب تو وہ سرمایہ دارانہ سیاسی تغلب کی مخالفت کرتی ہے اور قومی ریاستی خود مختاری پر زور دیتی ہے لیکن دوسری جانب وہ سرمایہ دارانہ معاشرتی اور علمی آدرشوں کے معتبر اور معقول ہونے پر ایمان رکھتی ہے ۔وہ سامراجی تسلط سے آزاد ہوکر خود ایک سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست تعمیر کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔لہذا قوم پرست پاپولسٹ (populist ) ریاستوں کی سرمراج مخالفت سطحی ہوتی ہے اور ملک کی آزادی کے حصول کے بعد بہت جلد تحلیل ہوجاتی ہے۔سامراج اس رحجان سے بخوبی واقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی سامراج نے ۱۹۵۹ میں سوئیز (svez) کے تنازعہ میں مداخلت کے ذریعہ ناصر کو ہیرو بنانے میں مدد دی اور بعد میں ناصر نے سوویئت (soviet) سامراج کا سہارہ لیکر ہی اپنے ریاستی استبدار کو مستحکم کیا اور اس کی امریکی /اسرائیلی سامراج مخالفت زبانی بکواس سے کبھی آگے نہ بڑھ سکی۔

عمران کی سامراج گزاری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔وہ تو بھارتی بالادستی تک قبول کرنے  پر تلا بیٹھا ہے ۔سامراج سے عربوں کھربوں ڈالر کی بھیک مانگتا پھررہاہے ۔آئی ایم ایف اور WTO اور world intellectual property organization کے احکام سے سرمو سرتابی کی جرأت نہیں رکھتا ۔ Financial action task force (FATF) کے اشارہ پر بغیر کسی تحقیق  کے مسلم تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اسلامی جماعت محفوظ نہیں ۔جس اسلامی جماعت نے جب بھی سامراج کےلئے مؤثر چیلنج پیش کیا اس کو سامراج عمران خان کے ذریعہ دہشت گرد قرار دیدیگا اور دھیرے دھیرے ہر اسلامی جماعت اور گروہ سرمایہ دارانہ دستوری تحفظ سے محروم ہوتی چلی جائیگی ۔یہ عمل مصرمیں ۱۹۵۴ سے ۱۹۷۰ تک مکمل ہوگیا تھا اور ۲۰۱۸ء میں اس کی ابتدا پاکستان میں کردی گئی ہے ۔

تمام اسلامی گروہ اور جماعتیں سامراج کے نشانہ پر ہیں اس کا ثبوت تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ کئے جانے والے سلوک سے ملتاہے۔یہ ایک خالصتاً مسلکی تحریک ہے جس کا مبینہ جہادی تنظیموں سے کوئی واسطہ نہیں ۔اس کے کارکن اور قیادت کئی ماہ سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں اور ان سے جو سلوک کیا جارہاہے وہ دستوری قانونی ضوابط سے صرف علامتی تعلق رکھتا ہے ۔تحریک لبیک کی تعزیت سے تمام اسلامی گروہوں اور جماعتوں کو سامراج یہ پیغام دے رہاہے کہ کسی قسم کی اسلامی عوامی تحریک کو برداشت نہیں کیاجائیگا ۔

سامراج ایک عسکری قوت ہے۔اپنے باجگزار ممالک کی عسکری قوت کو توڑنا اس کے اہم اہداف میں ہمیشہ شامل رہاہے یہی رویہ امریکی سامراج نے پاکستانی فوج کے ضمن  میں بھی اختیار کیا ہے ۔صرف ہمارا نیوکلر پروگرام ہی نشانہ پر نہیں بلکہ ہماری عسکری قوامی صلاحیت کو مفلوج کرنا بھی سامراج کا ایک اہم ہدف ہے۔اس اقدامی صلاحیت (offensive capability ) کے فروغ کی راہ  میں ایک اہم رکاوٹ ملک کی ارضی تیزویراتی عدم وسعت (lack of geo strategic logistic depth ) ہے- اس کمزوری کو رفع کرنے کے لئے شہید جہاد افغانستان جنرل ضیاء الحق نے جو حکمت عملی اپنائی اس کی تنفید کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیا کہ ہماری فوجی اقدامی صلاحیت کا اظہار سرحدی حدود کو عبور کر گیا اور مقبوضہ کشمیر اور افغانستان دونوں جگہ ہم دشمن کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے ۔آج سامراج فوج کو مجبور کررہاہے کہ وہ اپنے ہی irregulars کو کچل دے تاکہ ملک  کی فوج اقدامی صلاحیت معدوم ہوجائے اور ہم بھارت اور امریکہ کی علاقائی تغلب کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔

عمران خان دانستاً اسلام دشمن نہیں لیکن اس کی اسلام دوستی سے دین کے لئے پاکستان میں ایک وجودیاتی (existential ) خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

؎ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

عمران خان

عمران خان کی حکومت پاکستان میں اسلام کے لئے جو وجودیاتی (existential ) خطرہ پیدا کررہی ہے اس کا واضح ادراک مولانا فضل الرحمٰن کوہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعیت علماء(بالخصوص جمعیت علماء ہند) ناصر سے تعاون کے ہیبت ناک نتائج ماضی میں دیکھ چکی ہے ۔لیکن مولانا تحریک انصاف کے خلاف جس کل جماعتی اتحاد کے قیام کے راہ دیکھ رہے ہیں اس کی قیادت لازماً لبرل جماعتوں ،مسلم لیگ اورپیپلزپارٹی کے ہاتھوں میں ہوگی ۔یہ united frontکی وہی حکمت عملی ہے جویورپی کیمونسٹ پارٹیوں نے ۱۹۳۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائیوں میں کئی ممالک میں اپنائیں اور ہرجگہ مکمل ناکامی اور کیمونسٹ پارٹیوں کے خاتمہ پر منتج ہوئیں -

اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیولسٹ اور فاشسٹ گروہوں کی طرح لبرل جماعتیں بھی سرمایہ دارنہ مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کے لئے فاشٹوں اور پاپولسٹوں سے مصالحت کرنا ایک فطری عمل ہوتا ہے ۔پاکستانی لبرل اور پاپولسٹوں کے ایجنڈہ میں اشتراک عمل کا دائرہ نہایت وسیع ہے کیونکہ یہ سب سامراج کی حلیف اور باجگزار جماعتیں ہیں۔اور سب کی مشترکہ خواہش ہے کہ اسلام کو سیاسی اور ریاستی قوت سے محروم کردیا جائے ۔

لہذا تحریک انصاف سے مقابلہ کے لئے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی جائے :

✓ تحریک انصاف میں بہت سے اسلامی رحجان رکھنے والے قائدین اور کارکن شامل ہوگئے ہیں ان مخلص اسلامی کارکنوں کو تحریک انصاف سے باہر نکالنا اور انہیں نئے حوصلہ اور ولولہ کے ساتھ اسلامی اجتماعیتوں کا حصہ بنانا ہماری اولین ترجیحات میں ہونا چاہئے ۔ان پر تحریک انصاف اور عمران خان کے اصل سامراجی چہرہ کو بے نقاب کرنے کے propaganda and agitation کے تمام شرعی جائز طریقے استعمال کئے جائیں اور تحریک انصاف کو عوامی اسلامی تائید سے محروم کرنے کے لئے ایک ہمہ گیر اور طویل المدت ملک گیر مہم چلائی جائے ۔

✓ ایم ایم اے کو وسعت دینے کے لئے مستقل جدوجہد کے ذریعہ اس میں تمام اسلامی ،مسلکی ،تبلیغی ،روحانی اور سیاسی اجتماعیتوں کو شامل کرنے کی مسلسل جدوجہد کی جائے اور سب سے مستقلاً واضح کیا جاتا رہے کہ آج پاکستان میں اسلام شدید وجودیاتی خطرہ سے دوچار ہے اور اپنے بقاء کی جنگ لڑرہاہے ۔

✓ اس اتحاد کی کارفرمائی (functionality) کے چار واضح دائرہ ہوں

o عوامی تحرک(mobilization ) پیدا کرنے اور فروغ دینے کے لئے اسلامی رسوم و روایات کو باضابطہ پھیلایا جائے اور کوشش کی جائے کہ محلہ کی معاشرتی فضا حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تکریم بزرگان دین سے مستقل سرشار ہوتی رہے

o مساجد،مدارس ،خانقاہوں،اور مزارات کے دفاع اور تنظیمی خود مختاری کو محفوظ رکھتے ہوئے بازار اور محلہ کی سطح پر ادارتی صف بندی (formally and informally ) کا رفرما اور فعال کی جائے

o مساجد ،مدارس ،اوقاف ،خانقاہوں اور مزاروں کے تحفظ کے لئے سرمایہ دارانہ قانونی ڈھانچہ کے تضادات اور ابہامات(ambiguities ) سے فائدہ اٹھانے کے لئے اعلیٰ سطح کی قانونی چارہ جوئی مرتب کی جائے ،دینی اداروں کوقومیانے (civil administration ) کی تحویل میں دینے کو شرعی عدالت میں چیلنج کیاجائے۔

o لوکل ،صوبائی اور قومی مقننہ میں ایم ایم اے کے نمائندگان کا اولین مقصد ،مساجد ،مدارس،اوقاف ،خانقاہوں اور مزاروں کے دستوری حقوق کا تحفظ اور فروغ ہو۔ان دستوری حقوق کو پامال کرنے کی ہرکوشش کوناکام بنانے کے لئے ایم ایم اے کے نمائندہ پارلیمانی بحران پیداکرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

جاوید اکبر انصاری