نظاماتی بحران اور اسلامی انقلابی حکمت عملی
سرمایہ دارانہ نظام شاید ایک دائمی بحرانی دور میں داخل ہوگیا ہے اس دائمی بحران کا سطحی اظہار معاشی اضمحلال اور سود اور سٹہ کے مارکیٹیوں کے بڑھتے ہوئے خلفشار سے ہوتا ہے لیکن اس کا ایک بنیادی سبب جاہلیت خالصہ کے خبیث ترین مظہر یعنی سائنس کا عالمی علمیاتی غلبہ ہے ۔
سائنس وہ جاہلی علمیت ہے جو انسان کو تسخیر کائنات کے گر سیکھاتی ہے انسان کائنات کا حصہ ہے اس کا خالق نہیں تسخیر کائنات کی احمقانہ جستجو انسانی وجودی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی جدوجہد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔
دور حاضر میں سائنس نے انسانیت کی تباہی کے لئے تین مہلک ترین ہتھیار ایجاد کئے ہیں ان میں سے ایک ادویاتی اور کیمیاتی اختراعات کا مہلک اثر (COVID-19) کے وباء کے پھیلاؤ کے طورپر سب پر عیاں ہے اور چونکہ کیمیائی اور ادویاتی اختراعات دنیا بھر کی تجربہ گاہوں میں جاری ہیں لہذا نئی نئی وباؤں کے پھوٹنے کے امکانات روز بہ روز بڑھتے جارہے ہیں ۔
دوسرا ہتھیار geo engineeringہے ۔سائنس کے پسپاکردہ ماحولیاتی بحران سے نپٹنے کے لئے کائناتی نظام میں ایسے تغیرات مستقل جاری ہیں جس سے ماحولیاتی ابتری میں ہنوز اضافہ ہورہاہے اور آلودگی ،خشک سالی ،سیلاب ،آبی وسائل کی کسافت اور نسلی اقسام کی کمی () میں اتنی تیزی سے اضافہ ہورہاہے کہ خود سائنس دانوں کے اپنے تخمینوں کے مطابق سو سال کے اندر اندر دنیا انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گی ۔
تیسرا ہتھیار آئی ٹی کا عالمگیر تسلط ہے اطلاعات کی کاروباریت () کے ارتکاز سرمایہ کے عمل میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے ۔آج Facebook, google , Apple کے حصص آسمان سے باتیں کررہی ہیں جب تک دنیا کی معیشت باری کا شکار ہے جب موصلاتی اجارہ داری مستحکم ہو تو یہ کہنا ناممکن ہوجاتا ہے کہ سچ کیا جھوٹ کیا ہے ۔شخصی آزادی اور خود مختاری (سرمایہ داری کے کالیدی عقائد کے کوئی معنی نہیں رہتے کیونکہ ہرفرد کے بارے میں مکمل () میں محفوظ ہوجاتا ہے اور ہرفرد وہ رائے رکھتا ہے جو اطلاعات کے اجارہ دار اس پر مسلط کرتے ہیں اور ان آزادی کا کسی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔
اس میں شکست نہیں کہ
ہے نزع کے عالم میں یہ تہذیب جو اں مرگ
لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ
ابلیس کے تعویز سے کچھ اور سنبھل جائے
باہر کیف ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ سرمایہ داری ایک بحرانی دور سے گزررہی ہے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ نظاماتی بحران ادوار انقلابیات کے لئے نہایت ساز گار ثابت ہوتے لیکن اس وقت ممکن ہے جب ہم اس تزویراتی حکمت عملی میں خواتر خواہ تبدیلی لائیں جو ہم نے سرمایہ داری کے دور میں زریں (1950-1973)میں وضع کی تھی ۔
سب سے اہم ضرورت مخلصین دین کی مذہبی صفبندیوں سے قریب ترین اشتراک عمل کا ہے ۔اسلامی روحانیت کا عوامی پھیلاؤ وہ ناگزیر بنیاد ہے جس کی بناپر عوام کو ان کٹھن حالات میں انقلابی سطحی مہم کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے ۔یہ بات قابل غور ہے کہ یہ بحران نظاتی طرز ی نہیں سرمایہ دارانہ طرز زندگی اس سے بہت کم متاثر ہورہاہے ۔لوگوں کے اقدار خواہشات اور میلانات نہیں تبدیل ہورہے ۔ہمیں نظاماتی تغیر کے تناظر میں طرزی تبدیلی کی جدوجہد کرنی ہے ۔برصغیر مین صوفیائے کرام کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں روحانی بیداری پیدا ہوئی تھی اور صوفیاء طرائق کی تطہیر اور پاکباز مقدس صوفیاء کرام کے اردگرد عوام کو پیری مریدی کے نظام کے تحت جمع کرنا انقلاب اسلامی کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
برصغیر کی صوفیاء (بلخصوص قادریہ اور چشتیہ ) سلسلوں کی ایک اہم کمزوری نظام ریاست سے ان کی دوری رہی ہے ۔صوفی بزرگوں نے ریاستی ذمہ داریاں تقریباً کلیتاً سلاطین اسلام کو تفویظ فرمائیں تھی ۔لیکن آج کے دور میں سلطان تو ہے اور
"جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست"
لہذا مذہبی حلقوں میں اس بات کا احساس دلانا کہ ریاستی کارفرمائی معاشرتی ابتری کا بنیادی محرک ہے انقلابی حکمت عملی کی دوسری ضرورت ہے ۔جیسے جیسے نظاماتی بحران وسیع ہوگا ویسے ویسے ریاستی ڈھانچہ شکست دریخت کا شکار ہوگا ۔اسلامی انقلابیوں کو مسجد ،مدرسہ ،خانقاہ اور برادری کی سطح کا ایک ایسا متبادل نظام اقتدار مرتب کرنے کا موقع ملے گا جو عوام کے بڑھتے ہوئے روز مرہ کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔بحران کے پھیلاؤ سے جو سب سے ذیادہ متاثر ہوں گے وہ سب سے غیر منظم گروہ ہے لیکن ان میں صوفیاء کا اثر وافر ہے اور پیری مریدی کا نظام وہ فطری تاریخی ورثہ ہے جس سے یہ گروہ منظم کئے جاتے رہے ہیں ۔دورحاضر میں بھی ان میں اسلامی سیاسی جماعتوں کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے ۔
عوام وک مخلصین دین کی قیادت مین منظم اور متحرک کرنے کا پہلا اظہار ایک عظیم الشان اسلامی اتحاد ہو جس میں بیشتر اسلامی سیاسی اور مذہبی جماعتیں شریک ہوں اور جو خالصتاً اسلامی ایجنڈہ کی بنیاد پر 2024 کے ملک گیر انتخابات کو لڑے اس اتحاد کو کم از کم ایک کروڑ ووٹ حاصل ہوں اس کے نمائندگان پارلیمان میں مسجد اور مدرسہ کی بنیاد پر کی گئی تنظیم سازی کی حفاظت اور اس کے دائرہ کار میں توضیع کی وکالت کرے اور نظام میں دہریہ ریاستی کاروائی (عدالتی ہو غیر دستوری ) کو ناممکن بنا دے ۔
انقلابی حکمت عملی کا تیسرا حدف پاکستان کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے جس حد تک بھی ممکن ہو منقطع کرنا ہے ۔عالمی سرمایہ دارانہ نظام شدید بحران کا شکار ہے اور سب جانتے ہیں کہ اس سال عالمی شرع نمو (GDP growth rate )منفی رہے گی اس نظام سے منسلک رہنا خود کشی کے مترادف ہے اور آئی ایم ایف ہمیں اس خود کشی پر مجبو ر کررہاہے ۔عمران خان کی دہریہ سامراج نواز حکومت 2019 میں کئے گئے IMF کے معاہدہ کی توضیع کرکے اپنی معاشی پسپائی کا اعلان کردیگی ۔ہمیں اس چیزکو اپنے پارلیمانی نمائندگان کے ذریعہ یقینی بنانا ہے کہ 2023 کے بعد بین الاقوامی سودی قرضہ لینا کسی پاکستانی حکومت کے لئے ممکن نہ ہو ۔
سرمایہ دارانہ بحران طویل المدت نوعیت کا ہے اور پاکستان جیسے چھوٹے سے ملک میں اس بحران کو مہمیز دینے کی صلاحیت بھی نہایت محدود ہے اس کے باوجود اگر اسلامی انقلابی قوتیں حالات کا صحیح ادراک کرتے ہوئے عوامی مذہبی تحرک اور تنظیم اور مخلصین دین کے اقتدار کے قیام کا بیڑہ اٹھالیں تو سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو کسی نہ کسی حد تک چیلنج کیا جاسکتا ہے ۔ جاوید اکبر انصاری