کتب خانہLibrary

← Daroos-e-Sarmayadari with 14 font (final version for publishing 22062021)

Daroos-e-Sarmayadari with 14 font (final version for publishing 22062021).docxڈاؤن لوڈ

دروسِ سرمایہ داری

ایک تعارف

محمد یونس قادری

جاوید اکبر انصاری

علی محمد رضوی

مولانا زاہد صدیق مغل

ذیشان ارشد

مولانا محبوب الحسن بخاری

مولانا محمد احمد

غلام جیلانی خان

مرتبین: جاوید شیخ،امین اشعر

لیگسی بکس،نیو اردو بازار، لاہور

کتاب کے مواد کو کسی بھی شکل میں استعمال کرنے کے لیے تحریری اجازت ضروری ہے۔

نام کتاب: دروسِ سرمایہ داری، ایک تعارف

صفحات: 286

سائز: 20*26/8

طبع اول: جون 2018ء

تعداد: ایک ہزار

قیمت: 800 روپے

ناشر:

فون نمبر

باہتمام:

70 گرام آرٹ پیپر پر یونی کوڈ میں کمپوز ہو کر الکریم پرنٹرز لاہور سے طبع ہوئی۔

شاہ احمد نورانیؒ

مفتی محمود ؒ اور قاضی حسین احمدؒ

قائدین تحریک غلبہ دین کی ارواح پر فتوح کی خدمت میں ایک حقیر نظرانہ

فہرست

تعارف 11

1۔سرمایہ داری سے مقابلہ کی ضرورت 13

1.1۔ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کی فرضیت 13

2.1۔سرمایہ داری کا عالمی غلبہ 14

3.1۔سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ حیات 16

4.1۔ سرمایہ داری سے مقابلہ کا طریقہ کار 21

2۔سرمایہ داری کی فکری اساس 27

1.2۔سرمایہ داری عیسائیت اور یہودیت 27

2.2۔تحریک نشاۃِ ثانیہ(The Renaissance) 29

3.2۔تحریک تنویر اور تحریک رومانویت 37

4.2۔ تحریک پس جدیدیت (Postmodernism) 55

3۔آزادی 58

1.3۔عقیدہ اور نظریہ کا فرق 58

2.3۔آزادی کیا ہے؟ 59

3.3۔تصور آزادی کی اسلام کاری 60

4۔ایکویلٹی اور رائٹس 62

1.4۔ایکویلٹی 62

2.4۔ ہیومن رائٹس 63

3.4۔سوشل رائٹس 64

ضمیمہ باب 4:اقوام متحدہ کا چارٹر 66

1.1.4۔فلسفہ انسانی حقوق کا مختصر خلاصہ 66

2.1.4۔انسانی حقوق کا تاریخی پس منظر 66

3.1.4۔ہیومن ازم کیاہے؟ 67

4.1.4۔ ہیومن رائٹس چارٹر کن لوگوں نے مرتب کیا 71

5.1.4۔ ہیومن رائٹس چارٹر کے بعض اہم مشمولات 71

6.1.4۔ انسانی حقوق کا مقصد خدا سے بغاوت ہے 72

7.1.4۔ انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے استعماری جبر 72

8.1.4۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں 73

9.1.4۔ خلاصہ کلام 74

5۔ترقی 76

1.5۔تصورِ ترقی کی اسلام کاری 77

6۔سیکولرازم 80

1.6۔ مختصر تاریخ 80

2.6۔ تنویری سیکولرازم 81

3.6۔ برصغیر میں سیکولر ازم 82

4.6۔ پاکستانی سیکولرازم اور اسلامی جدوجہد 83

5.6۔ اختتامیہ 84

7۔قوم پرستی 85

1.7۔ قوم پرستی کا تاریخی پس منظر 85

2.7۔ تعریف 85

3.7۔ قوم اور امت میں فرق 86

4.7۔ ہندو قوم پرستی 88

5.7۔ مسلم قوم پرستی 93

8۔ لبرل ازم 98

1.8۔ تاریخ 98

2.8۔ لبرل تصورِ فرد 99

3.8۔ لبرل معاشرت 101

4.8۔ لبرل ریاست 104

9۔ سوشل ازم 108

1.9۔ تاریخ 108

2.9۔ سوشلسٹ انفرادیت 109

3.9۔ سوشلسٹ معاشرت 110

4.9۔ سوشلسٹ ریاست 111

5.9۔ اسلامی سوشل ازم 112

10۔سوشل ڈیموکریسی 113

1.10۔ تاریخ 113

2.10۔ سوشل ڈیموکریٹ انفرادیت 114

3.10۔ سوشل ڈیموکریٹ تصورِ معاشرت 116

4.10۔ سوشل ڈیموکریٹ تصورِ ریاست 118

5.10۔ سوشل ڈیموکریسی اور اسلام 120

11۔ انارکزم 122

1.11۔ تاریخ 122

2.11۔ انارکزم کے بنیادی تصورات 122

3.11۔ دورِحاضر کی انارکٹ تحریکیں 124

4.11۔ تحریکات اسلامی اور دورِحاضر کی انارکسٹ تحریکیں 126

12۔ نیولبرل ازم، الٹ رائٹ نئی اسلام دشمنی 129

1.12۔ نیولبرل ازم 129

2.12۔ فنانشل اجارہ داری 130

3.12۔ سرمایہ دارانہ زر کی تخلیق 132

4.12۔ الٹ رائٹ کا عروج اور اس کی اسلام دشمنی 135

13۔ پوسٹ ماڈرن ازم کی سرمایہ دارانہ تصورات پر تنقید 141

1.13۔ ابتدائیہ 141

2.13۔ تنویر ی علمیت کی تنقید 142

3.13۔ تنویری انفرادیت کی تنقید 143

4.13۔ تنویری ریاست کی تنقید 144

5.13۔ تنویری معاشرت کی تنقید 145

14۔ سرمایہ دارانہ علمیت 150

1.14۔ ابتدائیہ 150

2.14۔ تین اہم سوالات 150

3.14۔ ایمانیات اور تصورِ علم کا باہمی تعلق 151

4.14۔ سائنسی علم کی نوعیت اور اس کے تصورِ حقیقت سے اس کا تعلق 152

5.14۔ سرمایہ دارانہ تصورِ حقیقت کی ایمانیات 153

6.14۔ جدید علم کا مطلب 155

7.14۔ سرمایہ دارانہ علم کی خصوصیات (طریقہ حصولِ علم کے اعتبار سے) 157

8.14۔ سرمایہ دارانہ علم کی منطقی منزل 161

9.14۔ سرمایہ دارانہ علم کی تشکیل 164

15۔ وحی،سائنس اور ٹیکنالوجی 165

1.15۔ ابتدائیہ 165

2.15۔ عیسائیت اور سائنس 166

3.15۔ جدید سائنس اور اس کے اغراض ومقاصد 167

4.15۔ سائنس کا ارتقائی نظریہ سچائی 167

5.15۔ سائنٹفک میتھڈ 168

6.15۔ پس جدیدیت اور سائنس 169

7.15۔ٹیکنو سائنس 169

8.15۔ نظریہ اور عمل 172

16۔سرمایہ دارانہ ثقافت اور جمالیات 173

1.16۔ سرمایہ دارانہ ثقافت 173

2.16۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت 174

3.16۔ آرٹ کی کموڈی فی کیشن 176

4.16۔ گلوبل سٹی 179

5.16۔ نامساویت او ر سرمایہ داری کا مستقل 181

17۔ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست کی حقیقت اور ماہیت 184

1.17۔ ابتدائیہ 184

2.17۔ فرماں روائی اور عمل داری کیسے کی جاتی ہے 188

3.17۔ ریاستی اقتدار 189

4.17۔ فرماں روائی کا طریقہ کار 189

5.17۔ سرمایہ دارانہ عقلیت کے نفاذ کے فرائض 190

6.17۔ سرمایہ کی کارفرمائی کے آلہ کار افراد 192

7.17۔ حاملین اقتدار ادارے 194

8.17۔ نمایندگی کے ادارے 200

9.17۔ توسیط کے ادارے 201

18۔ پاکستانی ریاست اور لبرل ازم 205

1.18۔ کیا پاکستان ایک لبرل ریاست بنتا جا رہاہے؟ 205

2.18۔ لبرل ریاستی نظا م کیسے قائم ہوتاہے 205

3.18۔ کیا پاکستانی ریاست لبرل بنتی جاری ہے؟ 208

4.18۔ پاکستانی معاشرتی تناظر میں اسلامی جدوجہد 218

19۔سرمایہ داری اور جمہوریت 220

1.19۔ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور جمہوریت 220

2.19۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کی کارفرمائی 221

3.19۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی کارفرمائی 225

4.19۔ قومی جمہوری ریاست اور عالمی سرمایہ 227

5.19۔ جمہوریت کا مستقبل 229

20۔ہیومن رائٹس سامراج 232

1.20۔ سرمایہ داری اور سامراج 232

2.20۔ہیومن رائٹس عقائد 234

3.20۔ ہیومن رائٹس سامراج 241

4.20۔ حاصل بحث 246

21۔فلسفہ یونان کا ابطال: امام غزالی کا طریقہ کار 247

1.21۔ تعارف 247

2.21۔ امام غزالیؒ کے فکری کام کی اہمیت 247

3.21۔ جدوجہد امام غزالی کی غایت و تناظر 248

4.21۔ امام غزالی کا نظریہ علم اور مختلف علوم کی تقسیم 250

5.21۔ امام غزالی کی یونانی علوم پر تنقید 252

6.21۔ تنقید کے مختلف تناظر 257

7.21۔ خلاصہ 270

22۔ امام غزالی رحمہ اللہ کے منہج ایک خلاصہ 271

1.22۔ امام غزالیؒ کے کام کا تعارف 271

2.22۔ امام غزالی کے کام کی اہمیت 271

3.22۔ امام غزالی کے کام کا پس منظر 272

4.22۔ امام غزالی کا نظریہ علم اور مختلف علوم کی درجہ بندی 272

5.22۔ امام غزالی کی یونانی علوم پر تنقید 273

23۔ سرمایہ داری کا مقابلہ کیسے کیا جائے 277

1.23۔ تمہید اور تناظر 277

2.23۔ سرمایہ داری کی تفہیم 279

3.23۔ اتحادِ اسلامی 281

4.23۔ مسجد کا کردار 282

5.23۔ بازار کا احیاء 283

6.23۔ ریاستی اقدام 285

تعارف

یہ کتاب حضرت حجت السلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے چند حقیر غلاموں نے آپ ؒ کے مساعی جلیلیہ کی روشنی میں مرتب کی ہے ۔کتاب کے مقصد دور حاضر کے کفریہ نظام ،غالب نظام یعنی سرمایہ داری کا مکمل ابطال ہے ۔کتاب کے مخاطبین بالخصوص علمائے کرام اور مدارس کے طلبہ ہیں لیکن اس میں شامل مواد ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

آج اسلامی حلقے سرمایہ دارانہ نظام کی ماہیت سے واقف نہیں اور نہ اس کے ہمہ گیر تسلط سے۔ان کو اس بات کا احساس نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب ہی ہے جس نے تحریکات تحفظ اور غلبہ دین کو محدود اور غیر مؤثر بنادیا ہے اور جو اسلام کو بحیثیت دین پر صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلا ہوا ہے اس لاعلمی کے باعث تحفظ اور غلبہ دین کی تمام تر جدوجہد اپنے اصلی نظاماتی دشمن کو شکست دینے سے پہلو تہی کر رہی ہے اور یہ شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہودیت، عیسائیت اور ہندومت کی طرح اسلامی علمیت اور معاشرت بھی سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کا شکار ہوکررہ جائے ۔

حضرت حجتہ الاسلام ؒنے اس ہی نوعیت کے خطرہ سے نبردآزما ہونے کےلیے یونانی فکر کو شکست فاش دی تھی ہم اپنی تمام تر علمی کم مائیگی کے باوجود اس جلیل القدر رہنما کے کام کا اثبات دورحاضر کے نظاماتی فتنہ (یعنی سرمایہ داری)سے نبردآزما ہونے کےلیے کرنے کی جسارت کررہے ہیں۔امام محتشمؒ کی قوت استدالال وسعت نظر اور روحانی پاکیزگی کا توہمیں عشرعشیر بھی میسر نہیں لیکن

نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے

کتاب میں سب سے پہلے سرمایہ داری کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سرمایہ داری کوئی فطری نظام نہیں بلکہ اس کا ظہور اور غلبہ ایک افسوسناک تاریخی حادثہ ہے ۔پھر سرمایہ داری کے بنیادی عقائد آزادی ،مساوات اور ترقی کا بیان ہے اور واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ عقائد بنیادی اسلامی عقائد سے متصادم ہیں اس کے بعد چیدہ چیدہ سرمایہ دارانہ نظریات ،سیکولرازم،قوم پرستی لبرل ازم،اشتراکیت وغیرہ کی طرح انفرادیت ،معاشرت اور ریاستی نظام کو مسخ کرتی ہیں کا ذکر ہے۔

اگلے سیکشن میں سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی کارفرمائی کے عمل کو کچھ تفصیل سے اور امام غزالیؒ کے منہج کا تجزیہ ہے۔آخر میں سرمایہ دارانہ نطاماتی غلبہ کو شکست دینے کےلیے فی الفور کے ضمن میں کچھ تجویز پیش کی گئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کتاب تحریک تحفظ اور غلبہ دین کے لیے مفید ثابت ہو اور ہمارا رب ہمیں توفیق دے کہ ہم یہ کتاب حشر میں امام محتشم ؒ کی خدمت میں پیش کریں اور آپ اپنے غلاموں کی اس حقیر کوشش اس کی تمام ترکمزوریوں کے باوجود شرف قبولیت بخشیں ۔

جاوید اکبر انصاری

1۔سرمایہ داری سے مقابلہ کی ضرورت

1.1۔ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کی فرضیت

عہد نو برق ہے آتش زدہ ہر خرمن ہے
ایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے
اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے
امت ختم رسلؐ شعلہ بہ پیراہن ہے
آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا

آج دشمن چاروں طرف سے عالم اسلام پر حملہ آور ہے۔ فلسطین،کشمیر، افغانستان، عراق، شام، چیچنیا، سنکیانگ اور میانمار میں لاکھوں مسلمان شہید کیے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کی حکومتیں کافر استعمار کی باج گزار بن گئی ہیں اور مسلم معاشرت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے بتدریج تباہ کیا جا رہا ہے۔فحاشی اور عریانی کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے اسلامی علمیت کو دَہری (سیکولر) جاہلی علمیت مسخر کررہی ہے۔ ایک عام مسلمان کے لیے حصولِ رزقِ حلال مشکل سے مشکل تر بنایا جارہاہے۔”اسلام خطرے میں ہے“کوئی نعرہ نہیں، ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے۔

علما نے ۱۸۵۷ کے جہاد کی پسپائی کے بعد تحفظ دین کے لیے جو حکمت عملی اپنائی اس کے دیرپا فوائد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔اسی حکمت عملی کو اپناکر ہم دینی، علمیاتی، روحانی اور ثقافتی اثاثے کو کافرانہ معاشرتی اور ریاستی دست برد سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اور اسی بنا پر ہندومت، یہودیت اور عیسائیت کے برخلاف اسلامی علمیت اور روحانیت کو دورحاضر کی دہریت اپنے اندرسمونے میں ناکام رہی ہے اور اسی ناکامی کا شعور دشمن کو شدت سےہے اور وہ اسلام کو اپنا دشمن اول گردانتا ہے۔ دشمن کی بھرپور کوشش ہے کہ ہمارے علمیاتی اور روحانی دائرہ اثر اور تفوق کو محدود سے محدود کرتا چلاجائے۔

دشمن اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتا نظر آرہاہے۔ اس نے بڑی حد تک اسلامی علمیت اور روحانیت کو مدارس، مساجد اور خانقاہوں تک محدود کردیا ہے اور اپنے معاشرتی اور ریاستی غلبے کو استعمال کرکے ایک ایسا نظام تعلیم و تربیت ہم پر مسلط کیا ہے جو اسلامی علمیت اور روحانیت کو نامعقو ل اور لغو گردانتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری انفرادی، معاشرتی اور ریاستی عملی زندگی میں اسلامی علمیت اور روحانیت سے ماخوذ ہدایت کی بنیاد پر عموماً فیصلہ سازی کا عمل معطل ہوتا جارہاہے اور ایک عام مسلمان بھی دہری علمیت کو جاہلیت خالصہ نہیں بلکہ اصل علمیاتی منہج سمجھنے لگاہے۔ اگر اسلامی علمیت اور روحانیت کا اثر ذاتی زندگی کے چند پہلوؤں تک محدود ہوگیا تو ہمارا حشر بھی عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں جیسا ہوگا اور اسلام بھی دہری نظام زندگی میں ضم ہو کر رہ جائے گا۔

ان گزارشات سے واضح ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جودفاعی حکمت عملی انیسویں صدی میں علمائے کرام اور صوفیاء عظام نے تفویض فرمائی تھی اس کی بنیاد پر ہم ایک اقدامی حکمت عملی مرتب کریں اور دینی علمیت اور روحانیت کے تحفظ کا کام غلبہ دین کی جدوجہد سے وابستہ اور مربوط کریں۔

اللہ سبحان وتعالیٰ کا ارشاد ہے :

هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُولَهٗ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّينِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔

تحفظ دین اور غلبہ دین کی تحریک کو مربوط کرنا سب مخلصین دین کی ذمہ داری ہے۔ علماء کی بھی، صوفیا کی بھی،مبلغین کی بھی، مصلحین کی بھی، مجاہدین کی بھی اور انقلابیوں کی بھی۔ اس کی دووجوہات ہیں:

دورحاضر میں غلبہ دین کی تحریک کے دوبنیادی آدرش ہیں:

  1. اسلام ایک مکمل خود کفیل طرزِحیات اور نظام زندگی ہے۔
  2. سرمایہ داری جاہلیت خالصہ ہے۔

2.1۔سرمایہ داری کا عالمی غلبہ

پہلا آدرش نصوصِ صحیحہ سے ماخوذ ہے اور شاہ ولی اللہؒ نے اس کی نشان دہی فرمائی تھی۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامُ 

ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً

یعنی اسلام کسی دوسرے نظام اور طرزِ زندگی میں سمویا نہیں جاسکتا۔ بلاشبہ اسلام ایک مذہب ہے اور اس کے مابعدالطبیعیاتی تصورات ہی اس دین کی اساس ہیں لیکن ان مابعدالطبیعیاتی بنیادوں پر اسلام ایک مکمل روحانی، اخلاقی، معاشرتی، تمدنی، معاشی اور سیاسی نظام تعمیر کرتا ہے اور اپنے ہرماننے والے سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسی مکمل نظام زندگی اور طرزِ حیات کو اختیار کرے۔ دوسرے تمام مذہبوں کے برخلاف اسلام ایک مذہبی دین ہے۔ وہ کسی دوسرے دینی نظام کا شاخسانہ بننے پر آمادہ نہیں جیسا کہ پال(Paul)نے یورپ میں آ کر عیسائیت کو رومی، یونانی اور نارڈک(Nordic) دہریہ نظاموں کا شاخسانہ بنا دیا اور جیسا کہ سنگھ پریوار کے پیرو آج ہندومت کو سرمایہ دارانہ قوم پرستی میں ڈبورہے ہیں۔ اسلام عالمی غلبہ کے حصول کا متقاضی ہے وہ کسی دوسرے نظام اور طرزِ زندگی کے سماجی اور ریاستی تغلب کو برداشت کرنے پرآمادہ نہیں۔

دوسرا آدرش ہماری علمی اور سیاسی تاریخ میں اجنبی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں سرمایہ داری کا وجود نہ تھا۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی نے چودھویں صدی میں اٹلی اور ولندیزکے چند شہروں میں جنم لیا اور مسلم دنیا میں اس کا دورِورود اٹھارھویں اور انیسویں صدی عیسوی میں ہوا۔

ہم سرمایہ داری کو جاہلیت خالصہ کہتے ہیں۔جاہلیت خالصہ سے مراد ایک ایسی علمیت اور عملیت (Praxis) ہے جو وجودِ باری تعالیٰ کی فعلیت کو مطلقاً اور مستقلاً معطل تصور کرے اور انسان یا انسانیت کو رب، خالق،صمد،قدیم اور قادر مطلق مانے۔ جاہلیت خالصہ کا بنیادی کلمہ ہے :

لاالٰہ الا انسان

اور یہی سرمایہ داری کا کلمہ ہے۔ تاریخ انسانی میں ہم کسی اور نظام زندگی سے واقف نہیں جو اس کلمہ خبیثہ پر اتنے خلوص اور یکسوئی سے ایمان لایا ہواور عمل کیا ہوجتنا سرمایہ داری نے۔ یہ توشرک سے بھی آگے کی ایک منزل ہے۔ تاریخ میں سرمایہ دارانہ دور سے قبل ہمیشہ مغلظ جاہلیت سے سابقہ پڑا تھا مثلاً عیسائیت، یہودیت وغیرہ۔ مغلظ جاہلیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی خالصیت، ربوبیت،صمدیت اور قدامت کی انکاری نہیں۔تاریخ میں جاہلیت خالصہ کی طرز اور نظام زندگی کا کوئی وجودسرمایہ دارانہ دور سے قبل نہیں ملتا۔

یہ جاہلیت خالصہ عالمی غلبہ حاصل کرچکی ہے۔سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور نظام زندگی نےایک مخصوص انفرادیت کو جنم دیا، ایک مخصوص معاشرت کو عام کیا اور ایک مخصوص ریاست تعمیر کی ہے۔ ساری دنیا میں سرمایہ دارانہ علمیت، ثقافت، انفرادیت، معاشرت اور نظم اقتدار (یعنی ریاست) غالب ہے اور سرمایہ داری نے دیگر تمام نظام ہائے زندگی کو عملاً کلی یا جزوی طور پر معطل کردیا ہے اور اسلام کے علاوہ ہرغیر سرمایہ دارانہ نظام کو اپنے اندر سمونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

آج اسلام کا اصل حریف نہ عیسائیت ہے نہ یہودیت نہ ہندومت۔ ہمارا اصل حریف سرمایہ دارانہ طرزحیات اور نظام زندگی ہے۔عیسائیت، یہودیت، ہندومت اور دیگر تمام نظام ہائے زندگی سرمایہ داری نے مسخر کرلیے ہیں۔ یہودیت، عیسائیت، ہندومت یہ سب سرمایہ داری کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ ان سب نے سرمایہ دارانہ علمیت کو حق تسلیم کرلیا ہے، یہ سب سرمایہ دارانہ روحانیت سے سرشار ہیں۔یہ سب سرمایہ دارانہ معاشرت میں پیوست ہوگئے ہیں، ان سب نے سرمایہ دارانہ ریاست کی ماتحتی قبول کرلی ہے۔ یہ سب اپنی آفاقیت کےدعووں سے دست بردار ہو کر کسی نہ کسی سرمایہ دارانہ نظریہ(بالخصوص لبرل ازم اور قوم پرستی) کا شاخسانہ بن کررہ گئے ہیں۔

دیکھو انہیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

آج تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو یہودیت، عیسائیت اور ہندومت سے مقابلہ پر مرکوز کرنا دانش مندی نہیں کیوں کہ عملاً یہ سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کاجزو بن کررہ گئے ہیں۔ا ن کی کوئی نظاماتی شناخت سرے سے آج موجود ہی نہیں۔اگرہماری جدوجہد یہودیت، عیسائیت یا ہندومت سے مقابلہ پر مرکوز رہی تو اس بات کا شدید خطرہ موجود ہے کہ اسلامی نظام اور طرزِ زندگی بھی سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست میں سمو جائے گا اور یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کی طرح ہم بھی سرمایہ دارانہ عقلیت، روحانیت اور عملیت (praxis) کی ایک مذہبی توجیہ بیان کرنے لگیں گے اور غلبہ دین کی جدوجہد ہمارے لیے بالکل بے معنی ہو کررہ جائے گی۔

”سرمایہ داری جاہلیت خالصہ ہے“ مغرب جاہلیت خالصہ نہیں ہے۔ مغرب یعنی یورپ کی معلوم انسانی تاریخ تقریباً تین ساڑھے تین ہزار سال ہے۔ سرمایہ داری کا دور چودھویں صدی عیسوی میں ہوا اور یورپ میں اس کا معاشرتی، علمیاتی اور ریاستی غلبہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں مستحکم ہوا۔اس سے پہلے کے تین ہزار سال تک یورپ میں مغلظ جاہلیت اور فطرت پرستی اور بت پرستی، عیسائیت کی شکل میں غالب رہی۔ ان مغلظ جاہلیتوں کو شکست دے کرہی یورپ میں جاہلیت خالصہ(سرمایہ داری) غالب آئی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ غلبہ دائمی ہو۔آیندہ چند صدیوں میں یورپ مشرف بہ اسلام بھی ہوسکتا ہے۔

سترھویں صدی سے لے کر آج تک سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا دائرہ مستقل پھیل رہاہے اور آج دنیا کے بہت سے غیرپورپی ممالک میں سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی عام مقبولیت حاصل کرچکاہے۔ان ممالک میں امریکا، روس،چین، جاپان، ہندوستان تقریباً تمام لاطینی امریکی ممالک وغیرہ شامل ہیں۔ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ جاہلیت خالصہ (یعنی سرمایہ داری) جتنی یورپی ہے اتنی ہی چینی، جاپانی، کوریائی اور لاطینی امریکی بھی ہے۔

انسان پرست عقلیت کا بیج معتزلہ تحریک نے نویں اور دسویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا میں بودیا تھا۔ اگر امام غزالی،شیخ عبدالقادر جیلانی اور امام ابن تیمیہ رحمہم اللہ اجمعین اس شجر خبیثہ کو جڑ سے اکھاڑنہ پھینکتے تو کیا عجب سرمایہ دارانہ جاہلیت خالصہ سب سے پہلے عرب دنیا ہی میں جنم لیتی۔ آج اس مذموم معتزلی تحریک کے جانشین سرمایہ دارانہ جاہلیت خالصہ کے غلبہ کو مسلم دنیا میں مستحکم کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

3.1۔سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ حیات

مسلم دنیا پر سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور نظام زندگی غالب ہے لیکن تمام مسلمان تو کیا علمائے اسلام اور صوفیائے عظام کوبھی اس بات کا شعور حاصل نہیں۔ ہم سرمایہ داری کو بحیثیت ایک مربوط اور مکمل نظاماتی اکائی کے طورپر بالکل نہیں جانتے۔ہمارے علما انفرادی سرمایہ دارانہ اعمال اور عہدوں(contracts) مثلا ً ووٹنگ،حصص کا کاروبار،مدارس میں سائنسی تعلیم کے اجراء پر شرع مطہرہ کی روشنی میں حکم لگاتے ہیں۔ یہ فتاویٰ کے اجراء کا معروف طریقہ ہے لیکن جس تاریخی تناظر میں اجرائے فتاویٰ کا یہ طریقہ رائج ہواا س سے سہو نظر نہیں کرنا چاہیے۔ اس دور میں اسلامی ریاست قائم تھی۔سلطان ظلِ الٰہی شرع مطہرہ کا تابع تھا۔ شرع نافذ تھی۔ تمام معاشرتی اور ریاستی اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کی روشنی میں مرتب کیے جاتے تھے۔ ایسے میں انفرادی اعمال پر ان کے نظاماتی اثر سے سہو نظر کرتے ہوئے حکم لگانا ایک معقول رویہ تھا اور یہی رویہ ہماری علمیت نے اختیار کیا لیکن مسلم دنیا پر استعماری غلبہ نے ان حالات کو یکسر بدل دیا۔پاکستان ایک خالصتاً سرمایہ دارانہ ریاست ہے، سلطان ظل اللہ کا کوئی وجود نہیں۔ شرع نافذنہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی تمام سفارشات سردخانہ میں محبوس کردی جاتی ہیں۔ حکمران علوم اسلامی سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ ان کےلیے ممکن ہی نہیں کہ اجتماعی فیصلہ سازی اسلامی علمیات سے ماخوذ کریں۔پارلیمنٹ میں علما کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ تمام اجتماعی فیصلے سرمایہ دارانہ جاہلی علوم(سائنس اور سوشل سائنس) کے تناظر میں کیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد لازماً سرمایہ دارانہ اہداف کا حصول ہوتاہے مقاصد شریعت کا حصول نہیں۔ ایسے میں انفرادی سرمایہ دارانہ عمل،عقد اور پالیسیوں پر شرعی حکم لگانا بغیر اس کا اندازہ لگائے کہ ان اعمال کا کیا نظاماتی اثرمرتب ہورہاہے، اسلامی تشخص، معاشرت اور نظام تحکیم کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ڈبو دینا نہیں تو اور کیا ہے۔

اسلام کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمودینے کے اس رویہ کو ”ترمیم پسندی“ (revisionism) کہتے ہیں۔ اس رویہ کے اختیار کیے جانے کے بدترین نتائج اسلامی بینک کاری کے ضمن میں ظاہرہورہے ہیں۔ علما نے بے شمار سرمایہ دارانہ تجارتی اور تمویلی معاہدوں(contracts) کےلیے شرعی جواز مرتب کردیے ہیں اور اس کے نتیجے میں یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، دہریوں سب نے اسلامی بینک بنالیے ہیں۔ ہرسال مسلمانوں کے کھربوں ڈالر ان اسلامی بینکوں کے ذریعے امریکی، یورپی اور مشرقی ایشیائی سود اور سٹہ کے بازاروں میں منتقل کیے جارہے ہیں۔

دورِحاضر کا ایک بہت بڑا خطرہ یہی ہے کہ اسلام سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِحیات میں اسی طرح ضم ہو جائےجیسے یہودیت،عیسائیت،ہندومت وغیرہ ضم ہو گئے ہیں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی تہذیبی خصوصیات بتدریج کھوتا چلاجائے۔اس خطرہ سے کما حقہ نبردآزما ہونا ہے تو پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ عام مسلمان اور بالخصوص علماکرام اور صوفیا عظام سرمایہ دارانہ نظام کی خصوصیات سے اچھی طرح واقف ہوں۔اب ہم سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کی خصوصیات پر گفتگو کریں گے۔

ایک انگریز مسلمان مفسرقرآن مولانا محمدپکتھال رود(Pickthall) نے سرمایے کو تکاثر سے تعبیرکیا ہے اور وہ تکاثر کا انگریزی میں ترجمہ (rivalry in worldly increase)کرتے ہیں یعنی دنیاوی مال ومتاع کے حصول کے لیے مسابقت اور حسد۔سرمایہ داری وہ طرزِ حیات اور نظام زندگی ہے جس میں حرص اور حسد کے شیاطین انفرادیت، معاشرت اور ریاست پر غالب آجاتے ہیں۔

سرمایہ داری دولت کا استحصال ہے۔سرمایہ دارانہ عقلیت (اس کو انگریزی میںrationalityکہتے ہیں) کا حتمی تقاضا یہ ہے کہ دولت کا واحد معقول اور جائز استعمال اس کی مستقل بڑھوتری کی جستجو ہے۔ یہی دولت کا استحصال ہے اور اس کو سرمایہ داری کا آلہ کاربنانے کے مترادف ہے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت (ریشنیلٹی) کے مطابق معاشی عمل کا مقصد معاد کا حصول نہیں بلکہ حرص اور حسد کا انفرادی، معاشرتی اور ریاستی فروغ ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری مقصود بالذات ہے نہ کہ کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دولت سرمایے کی شکل اختیار کرلیتی ہے تو وہ حرص اور حسد کی تجسیم بن جاتی ہے۔

سرمایہ دار کےلیے دولت مند ہونا ضروری نہیں بلکہ ہروہ مزدور،ہاری اور مفلس شخص سرمایہ دار ہے جس نے اپنے نفس کو حرص اور حسد کے شیاطین سپرد کردیا ہواور جو زندگی کا مقصد اپنی خواہشات نفسانی کو پورا کرنا گردانتا ہو۔اس کے برعکس حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما اپنی تمام تر دولت مندی کے باوجود سرمایہ دار نہ تھے اور نہ تحریک خلافت کے رہنما سیٹھ چھوٹانی بھی جوکہ مال دار تھے لیکن وہ بھی سرمایہ دار نہ تھے کیوں کہ ان بزرگوں نے اپنے نفوس کو حرص اور ہوس کے شیطانوں کے سپرد نہ کیا تھا، ان کی تمام ترمعاشی تگ ودو کا مقصد دعوت اور جہاد کی اعانت تھا۔

حرص اورہوس کا غلبہ تین سطحوں پر ہوتاہے۔ انفرادی نفوس کی سطح پر، معاشرہ پر اور ریاست پر۔ ہرسرمایہ دار خواہ مزدور،خواہ تاجر،خواہ سرکاری ملازم،خواہ نجی شعبہ کا ماہر (ڈاکٹر،انجینئر) سرمایہ دارانہ عقلیت (ریشنیلٹی) کی بنیاد پر زندگی کے بیشتر فیصلوں کی توجیہ کرنے پر آمادہ ہوجاتاہے۔ وہ اس بات پر ایمان لے آتاہے کہ زندگی کا واحد معقول مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لذات حاصل کی جائیں۔ وہ موت کو بھول جاتاہے اور عبدالدیناربن جاتاہے۔

سرمایہ دارانہ معاشرت کو سول سوسائٹی (civil society)کہتے ہیں۔ سول سوسائٹی مذہبی معاشرت (religious society) کی ضد ہے۔معاشرہ سے مراد وہ اجتماعی اکائی ہے جس میں ہم رضاکارانہ بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہیں۔مذہبی معاشروں میں ان تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی، محبت اورللہیت ہوتی ہے۔مذہبی معاشرت کا بنیادی تنظیمی ادارہ عبادت گاہ(مسجد اور خانقاہ) ہوتاہے۔ سول سوسائٹی (سرمایہ دارانہ معاشرہ) میں انفرادی رضاکارانہ تعلقات کی بنیاد مادی اغراض ہوتے ہیں۔ تعلقات استوار کرنے کا مقصد مادی اغراض کا حصول ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کا بنیادی تنظیمی ادارہ مارکیٹ ہے۔ مارکیٹ حرص اور حسد کے فروغ کی جستجو کو اس طرح منظم کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد عبد الدینار بننے پر مجبور ہوتے چلے جائیں۔

سرمایہ دارانہ ریاست ریپبلک(republic) ہوتی ہے۔ یہ دولاطینی الفاظ سے بنا ہےre یعنی حکومت(rule) اورپبلک۔ اصولاً سرمایہ دارانہ ریاست ”پبلک کی حکومت“ہوتی ہے لیکن عملاً یہ صرف اس پبلک کی حکومت ہوتی ہے جس نے سرمایہ دارانہ تعقل کو قبول کرکے اپنے انفرادی نفوس کو حرص اور ہوس کے شیطانوں کے سپرد کردیاہو۔ایسی انفرادیت کوہیومن بینگ (human being) کہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست (ری پبلک ) اپنے دستور کے ذریعے ایسے افراد کے وہ حقوق تسلیم کرتی ہے جو ان کو سرمایہ (حرص اور حسد) کا آلہ کار بننے کےلیےدینا لازم ہیں۔ان حقوق کو ہیومن رائٹس (human rights) کہتے ہیں۔ ہرسرمایہ دارانہ ریاست کا مقصدِ وجود بڑھوترئ سرمایہ کی رفتار کو تیز کردینا ہوتا ہے۔ اگر پبلک اس مقصد کو قبول نہ کرے یعنی ری پبلک ملک میں سرمایہ دارانہ انفرادیت کے غلبہ پر عمل پیرا نہ ہوتو اس سے اقتدار چھین لیاجاتاہے جیسا کہ ۱۹۹۰ءمیں الجزائر کے اسلامک فرنٹ اور ۲۰۱۳ء میں امام مرسی کی حکومتوں سے چھین لیا گیا گوکہ وہ جمہوری طرز پر ہی منتخب کی گئی تھیں۔

سرمایہ داری ایک مکمل خود کفیل نظام حیات ہے۔ اس ضمن میں ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم سرمایہ داری کو محض ایک معاشی نظام تصور کرتے ہیں۔یہ درست ہے کہ ابتدا میں سرمایہ داری معاشی سطح پر ہی منظم ہوئی لیکن بتدریج یہ معاشرت اور ریاست پر غالب آ جاتی ہے اور اپنی مخصوص انفرادیت اور اجتماعیت کو غالب کردیتی ہے۔ اس عمل کو(totalizing) کہتے ہیں یعنی ہمہ گیر یت۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام حیات انسانی کے ہرشعبہ پر تسلط حاصل کرتا چلاجاتاہے۔لیکن یہ تسلط قدیمی نہیں۔ نوعِ انسانی کی سات ہزار سالہ معلوم تاریخ میں سرمایہ داری کا وجود سات سو سالہ بھی نہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کا عالمی غلبہ تو انیسویں صدی میں ہوا ہے۔اب یہ نظام شکست و ریخت کا شکار ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس نظام کو چند صدیوں کی جدوجہد کے نتیجہ میں مکمل طور پر مسخر نہ کرلیا جائے۔

سرمایہ داری کے غلبہ کی ابتدا چودھویں اور پندرھویں صدی عیسوی سے اٹلی اور ولندیزکے چند شہروں سے ہوئی اور اس کے فعال ترین کارکن اور رہنما یہودی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے اور ان کو عیسائی معاشرہ میں نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھاجاتا تھا لیکن پندرھویں صدی سے یورپ میں دوایسی تبدیلیاں آئیں جنہوں نے سرمایہ دارانہ انفرادیت اور عقلیت (rationalism) کو بے پناہ فروغ دیا۔

پہلی تبدیلی تو کیتھولک چرچ کے اقتدار اعلیٰ سے بغاوت تھی۔ چوتھی سے چودھویں صدی عیسوی تک یورپ میں معاشرتی سطح پر کیتھولک چرچ کا تسلط مستحکم ہوا۔ جو چھوٹے چھوٹے رجواڑےاوررومی ممالک سلطنت کے سقوط کے بعد وجود میں آئے وہ سب چرچ اور پوپ کی معاشرتی بالادستی کے پشتی بان تھے۔ پندرھویں صدی میں مارٹن لوتھر اور اس کے پیروؤں نےرومن کیتھولک چرچ کے معاشرتی اور یاستی اقتدار کے خلاف بغاوت منظم کی۔ اس بغاوت کی بنیاد یہ دعویٰ تھا کہ ہر عیسائی انجیل مقدس کی تشریح کرنے کا حق رکھتا ہے اور پوپ اور کیتھولک چرچ کو انجیل سے احکام اخذکرنے کا کوئی اجارہ دارانہ حق نہیں۔ یہ فکر بہت جلد مقبولیت عام حاصل کرتی چلی گئی اور اس فکر کی مقبولیت کی وجہ ہم آیندہ باب میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔ شمالی یورپ میں بالخصوص سیاسی مقتدرین نے کیتھولک مخالف تحاریک کی پشت پناہی کی اور ان ممالک میں قومی مطلق العنان بادشاہتوں کے ساتھ ساتھ قومی چرچ بھی قائم ہوگئے۔

وسطی اور جنوب مغربی یورپ میں بھی مطلق العنان بادشاہتیں قائم ہوئیں اور چوں کہ یہ کیتھولک چرچ کی عموماً وفادار (گوکہ پوپ کے معاشرتی اقتدار کو مجروح کرنے سے دریغ نہ کرتی تھیں) رہیں لہٰذا ان میں اور پروٹسٹنٹ ریاستوں میں طویل المدت جنگ صدیوں تک جاری رہی جن کاجزوی اختتام سترھویں صدی کے وسط میں (treaty of Westphalia) سے ہوا۔ ان طویل جنگوں کے دوران تمام یورپی ممالک اور خود کیتھولک چرچ سودی قرضہ جات لینے پر مجبور ہوگیا اور سود کو نظاماتی عیسائی تعلیمات کی بنیاد پر جواز فراہم کرنے کی مہم پورے براعظم یورپ میں ایک وبا کی طرح پھیلی یہاں تک کہ سترھویں صدی میں انگلستان اور سوئزرلینڈمیں جوخالص مذہبی ریاستیں قائم ہوئیں انہوں نے بینک کاری کے نظام کو ریاستی سطح پر منظم کر کے سودی کاروبار کو خوب فروغ دیا۔ آج ہماری اسلامی بینک کاری اسی عیسائی بینک کاری کا ایک چربہ ہے۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کی دوسری وجہ استعماریت(imperialism) ہے۔پندرھویں صدی عیسوی کے بعد سے آج تک یورپی اقوام وحشی درندوں کی طرح باقی دنیا میں لوٹ مار اور قتل وغارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ اس دہشت گردی اور سفاکیت کے دور میں امریکا میں دوکروڑسرخ ہندیوں کو منصوبہ بندی کے تحت تہ تیغ کیا جاتا رہاہے اور ایشیا اور افریقہ کے مالی اور معاشی وسائل کودونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا رہاہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ۲۰۱۶ءتک امریکا ۲۷کروڑ 55 لاکھ دس ہزارافراد کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں قتل کرچکا ہے اور آج بھی افغانستان، فلسطین، شام، عراق، مالی، صومالیہ، نائجیریا، کیمرون،بولیویا اور کولمبیا میں یہ قتل عام جاری ہے۔

صدیوں سے جاری رہنے والی اس دہشت گردی،لوٹ مار اورقتل وغارت سے یورپ اور امریکا کے بیشتر باشندے مستفیض ہوئے۔ یورپ اور امریکا کی طرف دوسرے ممالک سے لوٹی ہوئی دولت ایک سیلاب کی طرح رواں رہی ہے اور یورپی اور امریکی قانون اور اخلاقیات دوسرے ممالک پر ڈھائے جانے والے ہر ظلم واستبداد کی علمی توجیہ بیان کرنے میں مہارت حاصل کرتا چلاجارہا ہے۔ایسے میں اخلاق رذیلہ کا پھیلنا اور حرص اور حسد شہوت اور غضب کا عام آدمی کے نفس کو مسخر کرنا نہایت آسان اور تقریباً ناگزیر ہوتا چلاجاتا ہے۔ یورپ اور امریکا کی اس شرمناک تاریخ کا نتیجہ ہےکہ ان علاقوں میں سرمایہ دارانہ عقلیت اور روحانیت کو عمومی غلبہ حاصل ہوگیا ہے۔

آج سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ عالمگیری ہے۔ دنیا کے تقریباً ۲۰۰ ممالک میں امریکی فوجیں تعینات ہیں اور چین بھی اپنے فوجی عزائم اور فوجی تنصیبات کو تیزی سے فروغ دے رہاہے۔عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں، بالخصوص سود اور سٹہ کی گرفت ہرملک کے مادی وسائل اور دولت پر مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت نے اسلامی عقلیت کے علاوہ ہر دوسری عقلیت کو زیرنگین کرلیا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت ایسی بین الاقوامی قانون سازی کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں ہرملک کو سرمایہ دارانہ عالمی اقتدار کے ماتحت کرنے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔میڈیا اور انٹرنیٹ کی ابلیسی قوت دنیا کے تقریباً ہرگھر میں سرمایہ دارانہ ثقافت اور معاشرت کو ٹھونس رہی ہے۔ان حالات میں سرمایہ دارانہ غلبہ کا مقابلہ کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے جس کو صدیوں تک جاری رکھنے کے لیے ایک دانش مندانہ اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضررت ہے۔

4.1۔ سرمایہ داری سے مقابلہ کا طریقہ کار

اس ضمن میں دوباتیں اہم ہیں۔

  1. سرمایہ دارانہ غلبہ ہمہ گیر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو اس کے باہر سے متزلزل نہیں کیا جاسکتا۔ انیسویں صدی میں ہم نے جو دفاعی حکمت عملی اختیار کی ہے اس کے نتیجہ میں دین کا علمی اور روحانی اثاثہ تو یقیناً محفوظ ہوگیا لیکن اس حکمت عملی کے نفاذکے نتیجہ میں ملک کی معیشت، معاشرت اور ریاست کی سطح پر سرمایہ دارانہ گرفت کو ہم کمزور نہ کرسکے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ داری کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔
  2. اس کے ساتھ ساتھ انیسویں صدی سے لے کر آج تک سرمایہ دارانہ اقتدار کے خلاف وقتاً فوقتاً جہاد بھی کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ عمل عموماً سرمایہ داری کی سرحدوں تک محدود رہاہے اور سرمایہ دارانہ مراکز معیشت، ثقافت اور سیاست اس عمل سے متاثر نہ ہوسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے ڈھائی سوسال سے جہادی پیش رفت کا مسلم عوام نے کبھی بھرپور ساتھ نہ دیا اور مجاہدین مسلم معاشروں میں ہمیشہ اجنبی رہے۔یہ بات کافرعسکری تحریکوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ ہر گوریلا مزاحمت یا تو دم توڑ گئی (بولیویا، کولمبیا،سری لنکا،ہندوستان کی نکسل باڑی تحریک) یا اسے قوم پرست یا اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام میں جلد ضم کرلیا گیا(انگولا، موزمبیق، جنوبی افریقہ، چین، ویت نام وغیرہ)۔

سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہی اس کی تسخیر کے لیے جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ ہمیں سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات اور بحرانوں سے فائدہ اٹھانے کی استطاعت حاصل کرنا ہوگی۔دورحاضر میں سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور نظام زندگی کو چار ہمہ گیر بحرانوں کا سامنا ہے:

یہ تمام بحران نظاماتی ہیں اور جہاں جہاں بھی سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی غالب ہے کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی حد تک یہ سب بحران فروغ پارہے ہیں۔ لہٰذا ان بحرانوں کو وسعت دینے کے مواقع ہر جگہ موجود ہیں، کہیں زیادہ کہیں کم۔ان بحرانوں سے فائدہ اٹھانے کی جو اسلامی اقدامی حکمت عملی مرتب ہو وہ لازماً اپنے ملکی تناظر کو پش نظر رکھ کر مرتب کی جانی چاہیے۔ لہٰذا باب دہم میں سرمایہ دارانہ بحرانوں سے فائدہ اٹھانےکی جو اسلامی حکمت عملی ہم مرتب کرنے کی کوشش کی ہے وہ پاکستانی سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہی مرتب کی گئی ہے۔

اب ان چاروں بحرانوں کی خصوصیات کا اجمالاً تذکرہ ملاحظہ کریں۔

آج ماہرین ارضیات اور ماہرین حیاتیات کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ جوجیولوجیکل دور (geological era) پچھلے تقریباً ۵لاکھ سالوں سے دنیاپر محیط تھا (اور اس نظام کوHolocene کہتے ہیں) اس میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور انسانیت کے کائناتی تصرف کے نتیجہ میں ایک نیا جیولوجیکل دور وجود میں آیا ہے (جس کو Anthropoceneکہتے ہیں)۔ کوئلہ،تیل اور دیگر معدنیات، گیسوں اور کیمیائی اجزا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے کائناتی فطری توازن اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ دنیا تیزی سے انسانیت کےلیے ناقابل رہائش بنتی چلی جارہی ہے اور ۲۰۱۵ء میں بین الاقوامی جیولوجیکل اور بائیولوجیکل ایسوسی ایشن نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر آیندہ ۵۰ سے ۷۵ سالوں میں دنیا کا درجہ حرات تین سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا تو دنیا میں فطری ماحولیاتی نظام بالکل درہم برہم ہوکررہ جائے گا، سطح سمندر اتنی بلند ہو جائے گی کہ بیشتر جزائر اور ساحلی علاقے(کراچی،جنوبی سندھ، بنگلہ دیش، مالدیپ) زیر آب آجائیں گے، گرمی شدید ہو جائے گی، طوفان اور سیلاب کثرت سے آنے لگیں گے۔ دنیا کا بہت بڑا حصہ خشک سالی کے مستقل زیر نگین آ جائے گا، جنگلات صحرا بن جائیں گے اور حیوانات کی کئی انواع معدوم ہو جائیں گی۔

سائنس دان اس بات پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ یہ نیاماحولیاتی نظام سرمایہ داری کی تخلیق ہے اور ماحولیاتی تنزل کی اصل وجہ وہ سائنسی اور معاشی بڑھوتری ہے جس کو سرمایہ دارانہ نظام مستقل فروغ دینے پر مجبور ہے۔ سرمایہ داری تصرف فی الارض کو مہمیز دنیا کا دوسرا نام ہے۔ جیسا کہ نیوٹن(Newton) نے کہاتھاکہ سائنس کا مقصد وجود ہی تصرف فی الارض کو مہمیز دینا ہے اور انسانی ارادےکو کائناتی نظام پر مسلط کرنا ہے۔ بظاہر یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام قائم رہے اور فطری ماحولیاتی دست برد اور استحصال ختم کر دیا جائے۔ سائنسی ترقی سرمایہ داری کی قبر اس طرح کھود رہی ہے کہ وہ کائناتی نظام میں حیات انسانی کے وجود کو بتدریج ناممکن بناتی چلی جارہی ہے۔

ہم تو ڈبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے

بنیادی طورپر ماحولیاتی بحران سے نبردآزما ہونے کی دو رائیں ہیں۔ ایک یہ کہ مذہبی بیداری کے ذریعہ تصرف فی الارض اور سرمایہ دارانہ ترقی کی مجرمانہ جدوجہد کو ختم کیاجائے (اس کی تفصیل ہم باب دہم میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے انشاء اللہ)۔ دوسری یہ کہ ایسی ٹیکنولوجیز (Technologies) کا بڑے پیمانے پر استعمال عام کیا جائے جوبڑھوترئ سرمایہ کو جاری رکھتے ہوئے اس کے ماحولیاتی تنزلی عمل کو بتدریج معدوم کردیں۔

آج کل بہت سے سائنس دان اور سرمایہ دارانہ پالیسی ساز ایسی ہی ٹیکنالوجیز کی ایجاد اور استعمال کو فروغ دینےکی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور متبادل ذریعہ توانائی (alternate energies) کے عام کرنے کے ضمن میں ان کو کامیابیاں بھی نصیب ہوئی ہیں۔ اپنی ڈھائی سوسالہ تاریخ میں سرمایہ داری نے اپنے نظاماتی بحرانوں سے نبردآزما ہونے کا حیرت انگیر مظاہرہ کیا ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ اپنے پیدا کردہ ماحولیاتی بحران پر قابو پالے۔ ماحولیاتی بحران سرمایہ دارانہ نظام کو مسخر کرنے کے موقع ضرور فراہم کرتاہے لیکن ا س کشمکش میں کون کامیاب ہوگا وہ جوسرمایہ داری کے انہدام کے لیے کوشاں ہیں یا وہ جو سرمایہ داری کی تشکیل نو کرنے کی سعی کررہے ہیں، اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

سرمایہ داری کا دوسرا نظاماتی بحران مالیاتی یا فنانشل (financial) ہے۔فنانس (finance) سرمایہ داری کی ایجاد ہے۔ غیر سرمایہ دارانہ نظام میں زر کا وجود ہوتا ہے دولت کا وجود ہوتا لیکن فنانس finance)) کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ فنانس وہ سرمایہ دارانہ زر ہے جو اپنی بڑھوتری کی جستجو میں مستقل گردش کرتا ہے اور اس گردش کو مہمیز دینے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام میں فنانشل مارکیٹ، سود کا بازار اور سٹہ کا بازار بتدریج اشیا اور محنت (labor) کے بازاروں پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ زر کے پیچھے سونا،چاندی یا کسی اور شے کی مقدار نہیں ہوتی۔سرمایہ دارانہ زر سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام بینک کاری کی تخلیق ہوتاہے اور سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام بینک کاری جتنا چاہے سرمایہ دارانہ زر تخلیق کرسکتے ہیں۔ سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں جو سرمایہ دارانہ زر مستقل گردش کرتارہاہے اور جس کی مقدار مستقل بڑھتی رہتی ہے وہ قرضہ جات کی شکل میں ہوتا ہے۔ سود اور سٹہ کے بازاروں میں ہر منٹ قرضہ دینے والے اور قرضہ لینے والے معاہدے (contract)تکمیل پذیر ہوتے رہتے ہیں اور ہروقت یہ اندیشہ موجود رہتاہے کہ قرض واپس کرنے کے مطالبات قرض لینے والوں کی ادائیگی کی سکت سے گھٹ جائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو سرمایہ دا رانہ فنانشل (financial) بحران آجاتے ہیں اور یہ بحران پورے سرمایہ دارانہ نظام کے خلفشار کا باعث بنتے ہیں کیوں کہ تمام سرمایہ دارانہ مارکیٹس (فنانشل، اشیا اور محنت کے)قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے رہتے ہیں۔سرمایہ دارانہ زر کی قدر مستقل متزلزل ہوجاتی ہے۔ سرمایہ کاری کے امکان محدود سے محدود تر ہوتے جاتے ہیں اور بے روزگاری بے تحاشا بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو منہدم کرنے کی خواہش رکھنے والی قوتیں اگر منظم اور باہمت ہوں تو ان بحرانوں کو انہدام سرمایہ داری کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔وہ فنانشل مارکیٹوں میں زلزلہ بھی لاسکتی ہیں اور ملک میں ایک غیر سرمایہ دارانہ نظام تمویل،تجارت اور پیدوار بھی قائم کرسکتی ہیں۔اس کی تفصیل ہم باب دہم میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔

سرمایہ داری کے پورے تاریخی دورانیہ میں اس نوعیت کے بحران مستقل آتے رہے ہیں۔آخری عالمی فنانشل بحران امریکا میں ۲۰۰۷ء میں آیا جو ۲۰۱۰ء تک جاری رہا اور اس کے اثرات ابھی تک پورے طورپر معدوم نہیں ہوئے، اس کو (subprime mortgage) کا بحران کہتے ہیں۔۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۶ء تک امریکی معیشت میں ترقی کی رفتار قدر تیز اور سٹہ کے بازار میں حصص اور تمسکات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا۔ اس کے نتیجے میں بینکوں نے بہت سے ایسے لوگوں کو گھر خریدنے کےلیے قرضےدیے جو ان قرضوں کو مع سود واپس کرنے کی استعداد نہ رکھتے تھے۔ جیسے جیسے ادائیگیاں کم ہوتی گئیں بینکوں کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا اور امریکی بحران پوری مغربی دنیا میں پھیل گیا۔ یورپ میں بالخصوص بے روزگاری ۱۰ سے ۲۰فیصد تک پہنچ گئی اور امریکا، یورپ، جاپان اور چین میں حکومت کو بڑے پیمانے پر بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کےلیے حکومتی قرضے، زر اور تمسکات کے بے تحاشا اجرا کے ذریعے روکنا پڑا۔ا س کوQE (Quantitative easing)کہتے ہیں یعنی بینکوں کا قرضہ حکومتوں نے اپنے سر لے کر اس نظاماتی بحران کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

سرمایہ داری کی تاریخ میں اب تک جتنے بھی مالیاتی بحران آئے ہیں ان پر سرمایہ دارانہ نظام نے قابو پالیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ داری خودبخود انہدام پذیر نہیں ہو گی(جیسا کہ مارکس اور اس کے پیرو کہتے ہیں) بلکہ سرمایہ داری کی تسخیر کےلیے ایک مربوط نظاماتی حکمت عملی کی صدیوں تک کی تنفیذ کی ضرورت ہے۔ایک ایسی انہدامی حکمت عملی جو سرمایہ دارانہ کلیدی اقدار کو غیرمعقول اور غیر مقبول بنانے کی سکت رکھتی ہو۔

سرمایہ داری کا تیسرا نظاماتی بحران ریاستی ہے۔ہم نے دیکھا کہ ۲۰۰۷ء کے بحران سے نبردآزما ہونے میں سرمایہ دارانہ ریاست نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی آخری پشت پناہ سرمایہ دارانہ ریاست ہے لیکن عالمگیریت (گلوبلائزیشن ) کا عمل سرمایہ دارانہ ریاست کے دائرہ عمل کو مستقل محدود کر رہا ہے۔ ۱۹۷۲ء کے بعد سے سود،سٹہ،اشیائے تجارت اور ٹیکنالوجی کے مارکیٹ گلوبل ہوتے جارہے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ ریاست قومی اور ایک کمزور حد تک بین الاقوامی ہی ہے گلوبل نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک بنیادی تضاد یہ ہے کہ اس نظام سرمایہ کا کوئی مجموعی آلہ کار نہیں ہوتا۔ ہرکارپوریشن اپنے مخصوص سرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد کرتی ہے اور اس کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ اس کی اس جدوجہد کے نتیجہ میں اجتماعی بڑھوترئ سرمایہ کی رفتار پر کیا اثرپڑرہاہے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ مارکیٹ اجارہ دارانہ ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے انفرادی اور اجتماعی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی حکمت عملی میں فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ملکی سطح پر سرمایہ مجموعی کی آلہ کار کا کردار سرمایہ دارانہ ریاست ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن نیولبرل ازم کےعروج کے زمانہ میں سرمایہ دارانہ قومی ریاست کمزورہورہی ہے اور عالمی سطح پر تو کسی سرمایہ دارانہ ریاست کا کوئی وجود موجود ہی نہیں۔

سرمایہ داری کی اس نظاماتی کمزوری سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتاہے اور قومی ریاستوں کوعالمی سرمایہ دارانہ چکر سے باہر نکالنے کی جدوجہد کی جاسکتی ہےلیکن سرمایہ دار پالیسی ساز بھی اس کمزوری کو مہمیز دینے کی جدوجہد کررہے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی قیادت میں گلوبلائزیشن (globalization) کا عمل سست کیاجارہاہے اور قوم پرستانہ پالیسیاں فروغ پارہی ہیں۔

سرمایہ داری کو ایک عظیم نفسی اور روحانی بحران کا سامنا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے مغرب میں ایک ایسی فکری او رثقافتی تحریک اٹھی ہے جس نے سرمایہ دارانہ اقدار کو مہمل اور لغو اور غیر معقول ثابت کردیا ہے۔اس تحریک کو پس جدیدیت (post modernism) کہتے ہیں۔سرمایہ داری کے کلیدی اقدار آزادی، مساوات اور ترقی ہیں۔پس جدیدی تحریک نے ثابت کردیا کہ آزادی، مساوات اور ترقی ناقابل حصول اہداف ہیں اورمغرب کا ایک عام باشندہ ان اقدار پر ایمان رکھنے کے باجود کسی ایسے نظام زندگی کی اطاعت قبول کرنے پر کم سے کم آمادگی ظاہرکررہاہے جو سرمایہ دارانہ تعقل (ریشنیلٹی) کے تقاضے پوری کرتی ہو۔ مغرب میں تمام اجتماعیتیں تحلیل پذیر ہیں، جمہوری عمل سے لاتعلقی عام ہوتی جارہی ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے لاتعلقی عام ہوتی جارہی ہے، زندگی بے معنی اور بے مقصد ہوگئی ہے۔اباحیت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ایک عام امریکی شیزوفرینیا اور paranoiaکا شکارہے۔

ان حالات میں غیر سرمایہ دارانہ مذہبی اقدار کو فروغ دینے کے مواقع وافر ہیں مثلاً یہ ایک حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں اسلام یورپ اور ہندوستان میں تیزی سے پھیل رہاہے لیکن اسلام کا یہ پھیلاؤ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام پر منتج نہیں ہورہا۔نومسلم بھی اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہوتے جارہے ہیں جیسے قدیم مسلمان اور دیگر باشندے۔میڈیا اور تفریحی (entertainment)صنعت اس بات میں بہت بڑی حد تک کامیاب ہے کہ اس کے باوجود کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی اقدار(آزادی، مساوات اور ترقی ) غیرمعقول ہیں لیکن ایک عام آدمی انہی اقدار کو قبول کیے رکھے، ا پنے آپ کو لذات، شہوات اور غضب میں ڈبو کرزندگی کی لامعنویت کو برداشت کرتا رہے۔ پس جدیدیت (پوسٹ ماڈرن ازم) سرمایہ دارانہ اقدار کو غیرمعقول ثابت کرنے کے باوجود ان کو جمالیاتی بنیادوں پر قبول کرتی ہے۔

اس تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات وافرہیں اور ان تضادات کو شدیدتر کرنے کی تسخیری حکمت عملی مرتب کی جاسکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کرنا فطرت سے بغاوت ہے اور اس بغاوت کو ختم کرنا ممکن ہے۔ لیکن یہ بغاوتی نظام خود بخود تحلیل نہیں ہوگا۔اس کو مسخر کرنے کے لیے ایک طویل المدت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ردِسرمایہ داری کی تحریک کی کامیابی کی دولازمی شرطیں ہیں:

اگلے باب میں ہم سرمایہ دارانہ نظام کے فکری ماخذات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے انشاء اللہ۔

2۔سرمایہ داری کی فکری اساس

1.2۔سرمایہ داری عیسائیت اور یہودیت

سرمایہ داری کا اساسی کلمہ ”لاالہ الاانسان“ ہے لہٰذا اصولاً وہ ہراس مذہب کی نفی کرتی ہے جس میں کسی غیر انسانی رب اور خالق کی عبادت کی جاتی ہو۔سرمایہ دار ی نے جہاں جہاں بھی اور جب بھی فروغ پایا ہے مذہبی انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو مجروح اور مفلوج کرکے ہی غلبہ حاصل کیا ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ دارانہ فکری اساس کی جڑیں یہودیت اور عیسائی فکر میں پیوست ہیں۔

یہودیت کے دوعقائد نے سرمایہ داری مابعد الطبیعیات میں جگہ پائی ہے۔ایک تویہ کہ یہودی الٰہیات میں آخرت کا تصور نہایت مبہم ہے اور جہنم کا تذکرہ تو سرے سے موجود ہی نہیں۔عہد نامہ قدیم(Old Testament) بنی اسرائیل کی تاریخ عروج اور زوال پرمبنی ہے اور یہودی نجات کا جوتصور پیش کیا گیا ہے وہ بھی جزا اور سزا کے پورے عمل کو دنیوی کامیابیوں اور ناکامیوں سے متعلق کرتا ہے۔حیات بعدالموت کے بارے میں عہد نامہ قدیم صرف چند مبہم اشارے دیتاہے اور پورا زور دنیاوی کامیابیوں کے حصول پر ہی ہے۔ سرمایہ داری نے اس فکر کو اپنے عروج اور انتہاتک پہنچا دیا۔سرمایہ دارانہ فکر اور روحانیت میں موت کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں۔سرمایہ دارانہ عمل کا مقصد دنیا ہی میں جنت بنانا ہے جہاں تمام خواہشاتِ نفسانی کو زیادہ سے زیادہ تسکین ہوسکے۔موت کو بھول جانا سرمایہ دارانہ انفرادیت کی بنیادی خصوصیت ہے اور یہودیت اور سرمایہ داری جس اخلاقیات کو جنم دیتی ہے اس میں اخروی جواب دہی کاسرےسے کوئی تصور موجود نہیں۔ یہ خالصتاً دہری(secular) اخلاقیات ہیں اور دنیاوی نتائج کے وقوع پرہی کسی عمل کے خیروشرہونے کا تعین کیاجاتاہے۔اس نکتہ نگاہ کو نتیجہ پرستی (consequentialism) کہتے ہیں اور افادیت پرستی(utilitarianism) اس کی وہ تعبیر ہے جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ جاہلی علم اکنامکس تعبیر کیا گیا ہے۔

یہودیت کا دوسرا عقیدہ جس نے سرمایہ داری کو بنیادی طورپر متاثر کیا ہے وہ اخلاقیات کی غیر آفاقیت (relativism)ہے۔ یہودی عقیدہ ہے کہ انسانیت دو گروہوں میں تقسیم ہے بنی اسرائیل اور گوئم۔ یہودیوں کے آپس کے تعلقات جن روحانی رویوں اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر متعین ہوتے ہیں وہ یہودیوں اور گوئم (goyam) کے تعلقات کی بنیاد فراہم نہیں کرتے۔ جو عمل یہودی دائرہ اعمال میں خیر ہے وہ مجموعہ انسانیت کے دائرہ عمل میں خیر نہیں۔ گوئم کا استحصال کیاجاسکتا ہے، اس کو دھوکا دیا جاسکتا ہے، اسے قتل کیا جاسکتاہے بشرطیکہ اس استحصال،دھوکا دہی اور قتل سے یہود کو مادی (انفرادی یا اجتماعی)فائدہ حاصل ہو۔ لہٰذا یہودیوں کو مادی فائدہ دلانے والا عمل واہدافاقی خیرہے لیکن اس کی آفاقیت یہودی قوم تک محدود ہے اور انسانوں کی عظیم اکثریت اس کے دائرہ عمل سے خارج ہے۔

اخلاقیات کے غیرآفاقیت(relativeness) کے اصول نے بھی سرمایہ داری نظام فکر اور روحانیت میں کلیدی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اس نظام میں واہدافاقی اصول یہ ہے کہ ہروہ عمل خیر ہے جو بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بنے۔ انسانیت کی وہ عظیم اکثریت جو اس فاسد مقصد وجود کو قبول نہیں کرتی وہ سرمایہ داری کے دائرہ اخلاقیات سے باہر ہےاور ایسے لوگوں کا استحصال کرنا، انہیں دھوکا دینا اور ان کو قتل کرنا خیر ہے۔اسی لیے ماضی میں امریکیوں نے ۲کروڑ سرخ ہندیوں Red Indians کو قتل کرکے ایک پورے براعظم کو لوٹ لیا اور آج امریکا افغانستان،عراق اور کئی افریقی ممالک میں قتل عام اور لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہے، کیوں؟ اس لیے کہ ریڈ انڈین اور دیگر اقوام سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے تسلط کو قبول نہیں کرتے۔

عیسائیت کے جن مابعد الطبیعیاتی عقائد نے سرمایہ داری کو متاثر کیا ان میں ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خدا کا بیٹا ہونے کا عقیدہ ہے۔عہد نامہ جدید(Testament New) میں جگہ جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو son of man (انسان کا بیٹا( کہاگیا ہے۔یعنی خدا کا بیٹا انسان کا بیٹا بھی ہے۔ یہ شرک ”لاالہ الاانسان“کے عقیدہ کی طرف ایک قدم ہے۔عیسائیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب کوئی شخص عیسائیت قبول کرتا ہے تو روح القدس (جو عیسائی عقیدہ کے مطابق خداہے) اس میں حلول کرجاتی ہے اور وہ ذات باری تعالیٰ میں تصرف کا اہل ہوجاتا ہے۔لہٰذا الوہیت عیسیٰ ؑ اور روح القدس کو قبول کرنا ”لاالہ الاانسان“ کے عقیدہ کی ابتدا اور اس کلمہ خبیثہ کو قبول کرنے کی طرف ایک منطقی منزل ثابت ہوا۔آئزک نیوٹن (سائنس کا بانی) اور امانویل کانٹ (سرمایہ داری کا سب سے اہم فلسفی) دونوں کٹر عیسائی تھے لیکن دونوں نے عقیدہ تثلیث کی تشریح ”لاالہ الاانسان“ ہی کی۔کچھ مفکرین نے یہاں تک کہاہے کہ اگر عیسائیت سے تصورِ گناہ نکال دیاجائے تو وہ سرمایہ داری ہی ہے۔ہم اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے گوکہ یہ حقیقت ہے کہ سرمایہ داری کی طرح عیسائیت بھی اوصافِ رذیلہ کی لازمی بالادستی اور غلبہ کی قائل ہے اور یہ تصور اس کے عقیدہ ابدی گناہ (original sins) سے ماخوذ ہے۔

عیسائیت کا دوسرا عقیدہ جس نے سرمایہ داری نظام میں جگہ پائی وہ دہریت(secularism) ہے۔چوتھی صدی سے لے کر آج تک عیسائیت سیکولرازم(دہریت) سے ایک دائمی سمجھوتاکیے ہوئے ہے۔ اس نظریہ کا بانی چوتھی صدی عیسوی کا عیسائی راہب آگسٹائن(Augustine)تھا۔ اس صدی کی ابتدا میں رومن حکمران کانسٹنٹائین نےعیسائیت قبول کی اور آگسٹائن نے کہاکہ دنیا میں دوتلواریں اور دوبادشاہتیں ہیں؛ ایک بادشاہت دنیاوی ہے جہاں رومن قانون نافذ رہنا چاہیے اور حکمرانی کا حق شہنشاہ (emperor) کا ہونا چاہیے؛ دوسری بادشاہت روحانی ہے جہاں چرچ بالخصوص پوپ کی حاکمیت تسلیم کی جانی چاہیے۔ یہی عیسائی دہریت (Christian secularism) ہے۔ اس دہری نظام میں مذہبیت کا دائرہ عمل پچھلے ۷۰۰سال سے مستقلاً سکڑتا رہاہے اور سرمایہ داری کے پھلے پھولنے کی راہ عیسائی مصلحین اور ترمیمیوں نے خود پیدا کی ہے۔ اس عیسائی سرمایہ داری کی راہ کس طرح ہموار کی جاتی رہی اس کی تفصیل جرمن ماہر عمرانیات میکس ویبر اور انگریزپادری ٹانی(Tawny) نے اپنی کتابوں میں بیان کی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی جڑیں یہودی اور عیسائی عقائد (اور قدیم یونانی، رومن اور مزدکی فکرمیں بھی) پائی جاتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج کا سرمایہ دارانہ نظام یہودیت یا عیسائیت کا آلہ کار ہے یا اس نظام میں یہودی یا عیسائی غالب ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں غلبہ ان کا ہے جو لاالہ الا انسان کے کلمہ خبیثہ پر ایمان لاتے ہیں۔ اور راسخ العقیدہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب موحد ہیں۔وہ اپنے عقائد کی اس تشریح کو رد کرتے ہیں جو لاالہ الا انسان کے کلمہ پرمنتج ہوتی ہے۔ راسخ العقیدہ عیسائی اوریہودی اسی طرح سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر اور تسلط کا شکار ہیں جس طرح راسخ العقیدہ مسلمان۔

؎ ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

آج یہی راسخ العقیدہ عیسائی جوق در جوق حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔ افسوس کہ آج ہمارے پاس انہیں سرمایہ دارانہ جبروظلم سے نجات دلانے کی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں۔

سرمایہ داری کسی یہودی یا کسی عیسائی کی سازش کے نتیجے میں غالب نہیں آئی، نہ کوئی یہودی یا عیسائی ساز ش سرمایہ دارانہ غلبہ کو قائم رکھے ہوئے ہے۔سرمایہ داری کی اپنی عقلیت، اپنی روحانیت، اپنی معاشرت اور اپنااقتداری نظام موجود اور کارفرما ہے۔ اس کی کارفرمائی کی ہیئت ترکیبی، ادارتی تنظیم سازی اور تزویراتی منصوبہ بندی اس کی جاہلی علمیت (بالخصوص سوشل سائنسز) نے تفصیل سے بیان کردی ہے۔ اس تمام جاہلی علمیاتی کام پر علمی تنقید سے سہو نظر کرنا اور اسلامی مغلوبیت کو محض کسی کامیاب یہودی سازش سے منسوب کرنا دانش مندی نہیں۔

2.2۔تحریک نشاۃِ ثانیہ(The Renaissance)

یورپ میں سرمایہ دارانہ نظاماتی تشکیل کی ابتدا گیارھویں صدی سے شروع ہوئی جب بڑے بڑے زرعی تجارتی مراکز منظم ہونا شروع ہوئے جن کی پہنچ براعظمی تھی۔ اس دور کے ان تجارتی مراکز کو مارکیٹ نہیں کہاجاسکتا کیوں کہ ان کی تنظیم سازی بڑی حد تک چرچ کے ماتحت تھی لیکن یہودیوں کے زیر تسلط سودی کاروباری تنظیم کی گنجائش بتدریج پیدا کی جارہی تھی۔ بارھویں صدی میں(جب صلیبی جنگی تحریک شروع ہوئی) پوپ کے مطلق حاکمیت کے خلاف بھی چرچ کے اندر اور باہر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔اسی دور میں پوپ اور یورپی نام نہاد شہنشاہ کے درمیان وہ تنازعہ کھڑا ہوا جو تاریخ میں نامزدگی کی کشمکش کے نام سے مشہور ہوا۔اس تنازعہ میں پوپ کا میاب رہا اور س کا یہ حق تسلیم کیا گیا کہ وہ ہرمذہبی رہنما کو نامزد کرسکتاہے لیکن عملاً ا س کانتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے پادری اپنے مقامی دہریہ(secular)مقتدرین کی حاکمیت کو پوپ کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دینے لگے۔پوپ اور شہنشاہ کی کشمکش جو بارھویں صدی عیسوی کے وسط تک پورے یورپ میں جاری رہی، مادی وسائل اور سیاسی اقتدار کی تقسیم کی جنگ تھی۔

کچھ محققین تحریک نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کی جڑیں بارھویں اور تیرھویں صدی کی ان تعمیراتی مہمات سے جوڑتے ہیں جن کے نتیجہ میں پورے جنوبی اور وسط مغربی یورپ میں جگہ جگہ عالیشان گرجا گھر (cathedrals) بنائے گئے۔ کیتھڈرل کی ان تعمیراتی مہمات نے بت پرستی کے عوامی فروغ کو عیسائی جواز فراہم کیا کیوں کہ ان گرجاگھروں کی دیواروں، کھڑکیوں اور چھتوں پر حضرت عیسیٰ ؑ، حضرت مریمؑ، حواریوں، جنت اور دوزخ کی تصاویر آویزاں کی گئیں اور جگہ جگہ حضرت عیسیٰ ؑ اورحضرت مریمؑ کے قد آدم بت سجائے گئے۔تیرھویں صدی میں عیسائی راہبوں کے ایک فرقہ(Dominican) نےچرچ سے الگ یونیورسٹیاں بنا کر علمیت کو بتدریج دہریانہ بنانے (secularization) کاعمل شروع کیا۔

تیرھویں صدی عیسوی سے غیر کیتھولک عیسائی فرقوں کو بزور شمشیر کچلنے کی مہمات بھی شروع ہوئیں اور ان میں ریاست اور کلیسا نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔یہ یورپی استعمار کی ابتدا ہے اور یورپی استعماری مہمات آج تک امریکا کی سربراہی میں جاری رہی ہیں اور ان میں کلیسا ہمیشہ سرمایہ دارانہ دہری حکومتوں کا دست وبازو بنارہا ہے۔تیرھویں صدی سے لے کر آج تک ان استعماری مہمات کا مقصد مفتوح فرقوں اور قوموں کی زمینوں اور دولت پر قبضہ کرنا رہاہے۔

گیارھویں صدی عیسوی میں چرچ کی مادی دولت میں بے اندازہ اضافہ ہوا اور اہل کلیسا تبدریج عیاشانہ، کرپٹ اور تکبر سے بھری زندگی گزارنے لگے جبکہ یورپ غربت اور فلاس میں ڈوبا ہوا تھا۔ چرچ کی قیادت وقتاً فوقتاً مخلصین، راہبوں اور فقیروں کے ہاتھ سے نکل کر ایک ایسی چرچ نوکر شاہی کی طرف منتقل ہوتی رہی جو دنیا دار اور پرتعیش زندگی گزارنے کی عادی تھی۔عیسائیت کے خلاف عام بغاوت نے خود کلیسا میں جنم لیا۔ بہت سے پادریوں اور پیشواؤں(bishops) نے اپنے قومی بادشاہوں کو پوپ کے خلاف منظم کرناشروع کیا اور وہ چیز جسے ہم آج قوم پرستی کہتے ہیں اس کی ابتدا تیرھویں اور چودھویں صدی میں فرانس اور انگلستان میں ہوئی۔اگلی چار صدیوں میں صرف چرچ ہی کے نہیں بلکہ عیسائیت کے خلاف بھی علمیاتی، روحانی اور سیاسی بغاوت عام ہونے لگی۔ چودھویں صدی عیسوی میں یہ رائے عام ہوگئی کہ پوپ تو محض فرانسیسی بادشاہوں کا قیدی اور ان کا آلہ کار ہے۔چودھویں صدی عیسوی یورپ میں عام غربت اور افلاس کا دور تھا۔ قحط عام تھے۔ یورپی آبادی تیزی سے گھٹ رہی تھی لیکن Avignon Franceمیں (جہاں پوپ ۱۴۰۹ میں روم سے منتقل ہوگیا تھا) پوپ نے ایک عالیشان دربارسجا رکھا تھا۔عوام پر مذہبی محصولات کی بھر مار بڑھتی جارہی تھی اور عیسائی راہبوں کی تنظیموں کو منتشر کرنے کی مہمات خود پوپ چلارہے تھے۔ ۱۳۷۷ءکے بعد تک یورپ میں بیک وقت پاپایئت کے دو دعوے دار موجود رہے تھے(ایک روم میں دوسرا Avignonمیں) اور دونوں کو عوامی حلقوں میں دجال (antichrist) کہاجانے لگا۔ اس پورے دورمیں دہریوں اور قومی بادشاہوں کی عوامی مقبولیت اور معاشرتی قوت میں اضافہ ہوتا رہا اور تصویری اور مجسمی آرٹ کو بڑے پیمانہ پر پندرھویں صدی میں عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔

چودھویں صدی عیسوی سے یورپ میں مکینکل ہتھیار سازی کی صنعت نے تیز رفتاری سے ترقی کی اور بادشاہوں کے لیے ممکن ہوگیا کہ وہ بڑی بڑی فوجوں کے ذریعے منتشر رجواڑوں کو اپنی مملکتوں میں ضم کرتے چلے جائیں۔ اسی دورمیں ریاستی نوکر شاہیاں (bureaucracy) بھی قائم ہونا شروع ہوئیں اور بادشاہوں کے انتظامی اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہونے لگا جن کو پورا کرنے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کی جانے لگی۔ان بادشاہوں نے قوم پرستی کو فروغ دینے کےلیے لاطینی ادبی اجارہ داری کو توڑا اور مقامی زبانوں(بالخصوص فرانسیسی،انگریزی اور ہسپانوی) میں ایسا ادب تخلیق کیاجانے لگا جو قومی دہریہ روایات اور اکابر کی مدح سرائی کرتاتھا۔

یورپی بادشاہوں میں بڑے پیمانے پر جنگوں کی ابتدا چودھویں صدی سے ہوئی۔ ۱۳۳۷ءسے ۱۴۵۳ء تک وہ عظیم کشمکش وقتاً فوقتاً انگلستان اور فرانس کے درمیان جاری رہی جو تاریخ میں ”سوسالہ جنگ“ کے نام سے مشہور ہے۔ان جنگوں سے حکومتوں کے مقروض ہونے کا عمل تیز ہوتا رہا۔1340ء میں ہسپانوی بادشاہت نے عربی مزاحمت کو کچلنے کےلیےساہوکاروں سے بڑے پیمانے پر قرض لیے۔ فرانس اور انگلستان کے برخلاف جرمنی اور اٹلی انیسویں صدی تک قومی ریاستیں نہ قائم کرسکے۔چودھویں صدی میں اٹلی میں شہری ریپبلک حکومتوں کا ظہور ہوا۔ان میں سب سے اہم وینس،جینوا اور فلورینس تھیں۔انہوں نے شہنشاہ کے اقتدار کو ختم کردیا اور وسیع پیمانے پر بین الاقوامی تجارتی اور فنانشل مراکز بن گئے۔بہت سے محققین ان ساحلی شہروں کو سرمایہ دارانہ نظام کے پہلے معاشی،سیاسی اور ثقافتی مراکز گردانتے ہیں۔وینس (Venice) میں پوپ کا اثر نسبتاً کمزور تھا اور یہ شہر مدت تک بازنطینی سلطنت کا باج گزار رہا۔وینس کے شہر یوں کے لیے یورپ میں زمینیں خریدنے کی ممانعت تھی اور دولت مند وینسی شہریوں نےسرمایہ کارساہوکاروں اور سود خوروں کے پیشے اپنائے۔ ان کی تقلید کئی دوسرے اطالوی شہروں بالخصوص جنیوا میں کی گئی۔

دیگر محققین سرمایہ دارانہ نظام کی ابتدا تقریباً اسی دورمیں انگلستان اور ولندیز (Netherlands) میں بتاتے ہیں۔ ہرجگہ سرمایہ دارانہ ریاست کی مدد سے ہی سرمایہ مارکیٹس قائم ہوئیں اور ہرجگہ پارلیمانی نظام اور سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کے فروغ کی بنیادی وجہ بادشاہوں کی جنگی قرضہ اور جنگی ٹیکس لینے کی بڑھتی ہوئی ضرورت ہی تھی۔مارکیٹ کی طرح نمایندہ ریپبلک بھی سرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ کے لیے لازم ہے۔

یورپ میں بڑے پیمانے پرسرمایہ دارانہ تجارت کا ظہور تیرھویں اور چودھویں صدی سے شروع ہوا۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹیں بڑے بڑے شہروں وینس، فلورنس، جینوا، پیرس اورلندن وغیرہ میں قائم ہونے لگیں۔ شراب، دھاگے اور کپڑے کی صنعتیں سرمایہ دارانہ طرز پر منظم کی جانے لگیں۔ بارھویں صدی کے وسط میں بینک کاری کا ظہور وینس اور اٹلی کے کچھ دوسرے شہروں میں ہوا اور پوری بین الاقوامی تجارت پر تیزی سے محیط ہوتا چلاگیا۔بارھویں صدی عیسوی سے یورپ میں میکانکی ایجادات نے زرعی اور صنعتی پیداوار کو مہمیز دی۔اس کے نتیجے میں منافع کمانے اور سرمایہ کاری کے مواقع تیزی سے بڑھے۔سرمایہ دارانہ حسابیات (اکاؤنٹنگ) چودھویں صدی میں اٹلی میں ایجاد کی گئی اور تمسکات اور بل آف ایکسچینج کا ظہوربھی اسی ملک میں ہوا۔ اصول محدود ذمہ داری(principle of limited liability) جس کی بنیاد پر بعد میں کارپوریٹ نظام ملکیت مرتب ہوا، ۱۴۰۶ءمیں سب سے پہلے فلورنس میں ایجاد کیا گیا۔

سرمایہ دارانہ ترقی کو تقریباً پورے یورپ میں شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ پندرھویں صدی عیسوی تک سود اور سٹہ کا کاروبار اصولاً حرام قرار دیا جاتا رہا اور سودکاری اور سٹہ کاری کا کاروبار یہودی ہاتھوں میں مرکوز رہا اور یہودی بھی سودی لین دین صرف گوئم کے ساتھ کرتے تھے آپس میں نہیں۔ عیسائی معاشرت میں اس سودی اور سٹہ بازی کے کاروبار اور یہودیوں کو نفرت و حقارت سے دیکھا جاتا تھا اور وقتاً فوقتاً یہودیوں کا قتل عام اور ان کی شہربدری کے ذریعے اس سرمایہ دارانہ کاروبار کو معطل کیا جاتا تھا۔چودھویں صدی عیسوی میں پورے یورپ میں متعدی وباؤں اور بیماریوں کے ہولناک سیلاب آتے رہے۔ زرعی پیداوار اتنی تیزی سے کم ہوئی کہ قحط عام ہوگئے اور لاکھوں شہری اور دیہاتی مرنے لگے اور یورپی آبادی تقریباً پچیس فیصدکم ہو گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس دوران میں کم ازکم چارکروڑ یورپی مرگئے۔پورے یورپ میں ان وباؤں کے پھیلنے کو عذابِ الٰہی سے تعبیر کیا گیا اور اس کی ذمہ داری کو یہودیوں سے منسوب کیا گیا۔ ہرجگہ یہودیوں کا قتل عام اور شہربدری روز کا معمول بن گیا جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ تنظیم معیشت اور کاروبار اٹلی کے چند ساحلی شہروں کے علاوہ ہر جگہ تقریباً ً معدوم ہوگیا۔ برطانیہ اور فرانس میں کسان،جاگیرداروں، ساہوکاروں اور شاہی ٹیکس لینے والوں کے خلاف منظم جدوجہد کرنے لگے۔ ۱۳۸۱ء میں اس تحریک کی قیادت نےایک مختصر عرصہ کےلیے لندن پر قبضہ کرلیا۔ یہ تحریکیں خالصتاً مذہبی تھیں (ان کا انیسویں اور بیسوی صدی میں اٹھنے والی اشتراکی سرمایہ دارانہ تحریکوں سے کوئی تعلق نہیں) اور کسانوں کے مطالبات سب کے سب انجیل مقدس سے اخذکیے گئے تھے۔

لیکن یہ بغاوتیں ناکام ہوئیں اور پندرھویں اور سولہویں صدیاں یورپ میں سرمایہ داری کے احیااور استحکام کا دور ثابت ہوئیں۔ان بغاوتوں کے نتیجے میں جاگیرداری نظام کمزور پڑا۔آبادی کم ہونے کے نتیجے میں مزدوروں کی طلب ان کی رسد سے مستقلاً بڑھنے لگی۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کی معاشی اور معاشرتی گرفت اپنے ہاریوں پر کمزور ہوتی چلی گئی اور وڈیرے بھی اجرتی مزدور رکھنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کے کرایوں میں بھی کمی واقع ہوئی جس کی بنیادی وجہ زرعی پیداوار میں اضافہ تھا۔ یوں زرعی معیشت میں بھی سرمایہ دارانہ زر نے دخول حاصل کرلیا۔ساہوکاروں نے بڑے پیمانے پر زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار منظم کیا اور سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی شہری مارکیٹ سے نکل کر دھیرے دھیرے دیہی معیشت پر بھی چھانے لگی۔

سرمایہ داری کی اصل قوت ہمیشہ شہروں سے وابستہ رہی ہے۔ پندرھویں صدی کے بعد پورے یورپ میں بڑے بڑے شہروں کا وسیع جال بچھایا جانے لگا۔ یہ شہر سرمایہ اور سرمایے کی بڑھوتری کے کاروباری مراکز تھے اور اس سرمایہ کا حصول بادشاہوں کی بھی تمنا ہوتی تھی اور بڑے زمینداروں کی بھی۔ وہ اس سرمایہ کو حاصل کرنے کے لیے شہروں کو معاشی اور سیاسی آزادیاں دیتے تھے۔ عیسائی تصورِ عبدیت کے خلاف سرمایہ دارانہ تصورِ آزادی انہی شہروں میں پیدا ہو کر فروغ پایا۔ شہروں میں ساہوکاروں کی معاشی اور سیاسی بالادستی تھی اور سرمایہ دارانہ انفرادیت شہروں ہی میں سب سے پہلے غالب آئی۔ اس انفرادیت کوبورژواکہتے ہیں۔ بورژوابنیادی طورپرفنانسر ہوتا ہے۔ وہ اصلاً تاجر نہیں ہوتا اور نہ ہی پیداوری عمل میں عملاً شریک ہوتا ہے۔ اس کا کاروبار سرمایہ دارانہ زر کو اشیاء اور محنت کے عمل اور مارکیٹوں سے مستقلاً اس طرح گزارتے رہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کی رفتار مستقل تیز سے تیز ہوتی رہے۔ یہی مقصد بورژوا (سرمایہ دار) کو حرص اورحسد کے شیاطین کا غلام بنادیتا ہے۔جو تاجر اور پیداواری عامل بڑھوترئ سرمایہ کو مقصدِ حیات کے طورپر قبول نہیں کرتے وہ بورژواسرمایہ دار نہیں ہوتے۔

یورپ میں سرمایہ دارانہ نظاماتی تسلط کی ایک بہت بڑی وجہ یورپی استعمارکا پھیلاؤ ہے جو غیریورپی قوموں کے خلاف صلیبی جنگوں سے شروع ہوا۔ غیرعیسائی قوموں کے خلاف لوٹ مار اور قتل وغارت کی مہمات چوتھی سے دسویں صدی عیسوی تک جاری رہیں (جب تک یہ سب قومیں عیسائی نہ بن گئیں)۔ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیت نے اپنے آفاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر یہ یہودی روایت تسلیم کرلی کہ غیرعیسائی قوموں کو لوٹنا اور ان کا قتل عام کرنا، ان کا استحصال کرنا جائز بلکہ باعث ثواب عمل ہے۔ آج تک یورپی اور امریکی استعماری عمل کا یہی رہنما اصول ہےاور اس کو جواز فراہم کرنے کے لیے فلسفہ ہیومن رائٹس پیش کیا گیا ہے۔صلیبی جنگیں صرف ارضِ مقدس تک محدود نہ رہیں بلکہ گیارھویں صدی میں مسلمانوں کو اسپین سے بے دخل کرنے کی مہم کا بھی آغاز ہوا۔ 1096ء میں صلیبیوں نے یروشلم پر قبضہ کرکے تقریباً ایک لاکھ مردوں اور عورتوں اور بچوں کا قتل کیا اور قتل ہونے والوں میں مسلمان اور یہودی دونوں شامل تھے۔ دوسری صلیبی جنگ(۱۱۴۷)جرمنی کے یہودیوں کےقتل عام سے شروع ہوئی۔ ۱۲۰۲ء میں غیرکیتھولک (orthodox) عیسائیوں کے خلاف ایک صلیبی جنگ لڑی گئی جس میں قسطنطنیہ کو سپرد آتش کردیا گیا۔ صلیبی یورپی نو آبادبستیاں گیارھویں صدی میں شام اور فلسطین میں قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

بہت سے محققین اسپین کی سولہویں صدی کی استعماری یلغار کو (جو وسطی اور جنوبی امریکا پر مرکوز تھی) ۱۴۹۶ء کے عیسائی معرکہ غرناطہ اور صلیبی جنگوں کا تسلسل گردانتے ہیں۔ اس قت سے آج تک یورپی اور امریکی استعماری قتل وغارت اور لوٹ مار جاری ہے۔ کئی کروڑ ریڈ انڈین، عراقی، افغان اور افریقی قتل کیے گئے اور کیے جارہے ہیں اور بے اندازہ دولت پوری دنیا سے یورپ اور امریکا میں مرتکز ہورہی ہے۔ اس لوٹ مار اور قتل وغارت سے مستفیض ہونے والے سب سے پہلے عیسائی فوجی تھے جنہوں نے سرمایہ دارانہ برادریاں بنائیں (Knights of Temple of St. John) جو اتنی طاقتور ہوئیں کہ ان کو فرانسیسی بادشاہت نے ختم کرنے کی جدوجہد کی لیکن چند صدیوں کے اندر اندر یورپ کا ہر خاندان اس لو ٹ مار میں شریک ہوکر اس سے مستفیض ہونے لگا۔سولہویں صدی سے آج تک جاری رہنے والی استعماری جدوجہد میں فرانس، برطانیہ، اسپین، پرتگال، جرمنی، ولندیز،ڈنمارک، سویڈن،روس اور امریکا سب نے شرکت کی۔ اور یہ پچھلے پانچ سو سال سے منظم طریقے سے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کو لوٹ بھی رہے ہیں اور ہرجگہ قتل وغارت کا بازار بھی گرم رکھے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں پورے یورپ اور امریکا کا حرص و ہوس کے سیلاب میں غرق ہوجانا اور عیسائی اخلاقیات اور روحانیت کا کھوجانا ایک فطری اور لازمی نتیجہ ہے۔یورپی اور امریکی استعماری مہمات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے پھیلاؤ کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست کی پشت پناہی لازم ہے۔

استعماری مہمات نے عیسائی اخلاقیات،روحانیت اور علمیت کو تباہ کردیا۔ عیسائی علمیت کو تباہ کرنے میں یونیورسٹیوں کا ایک خاص کردار رہاہے۔پہلی یورپی یونیورسٹی اوکسفرڈ میں ۱۳۶۴ء میں قائم ہوئی اور ۱۴۰۰ء عیسوی تک پورے یورپ میں ۴۶ یونیورسٹیاں قائم کردی گئی تھیں۔ یہ عموماًچرچ کے زیر تسلط تھیں لیکن ان میں دہری (سیکولر) علوم کے احیاء کی بنیاد رکھی گئی۔ فلسفہ کو الہٰیات سے جد ا اور ارسطو اور افلاطون کی فکر سے عیسائی طالب علموں کو متعارف کرایا گیا۔ یورپ نےقدیم یونانی فلسفہ تک رسائی عرب فلاسفہ کی تحریرات سے پائی۔بارھویں صدی عیسوی میں یورپی علمی اشرافیہ عربی سے خوب آشنا تھا اور یورپی طلبہ بکثرت ہسپانیہ جاکر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ابن رشد، ابن سینا، الفارابی اور دیگر فلاسفہ یورپ میں خوب مقبول ہوئے اور بارھویں، تیرھویں اور چودھویں صدی کے یورپی علمی زعماء نے امام غزالیؒ کی فکر کوصریحاً رد کرکے ان فلاسفہ کی تعلیمات کوسراہا۔ اس کی سب سے مؤثر جھلک سینٹ ایکویناس کی تحریروں میں نظرآتی ہے۔اس کے استاد(Alburtis Magnus ) نے عیسائی اور یونانی فکر کو مربوط کرنے کی سعی کی۔ وہ عیسائی ارسطوی ملغوبہ علمیت کھڑی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔میگنس اور ایکویناس دونوں عیسائی فرقہ ڈومینکن کے رکن تھے۔ چرچ نے ارسطو کو ایک شیخ (Saint) تسلیم کیا اور وہ طرز فکر جس کو (Scholasticism) کہتے ہیں عیسائیت کی قدیم یونانی فکر سے مصالحت کرنے اور آخرکار اس میں ڈوب جانے کا منہج ہے۔یہی وہ فتنہ ہے جس کے خلاف امام غزالیؒ، امام ابن تیمیہ ؒ اور شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے اسلامی دنیا میں بند باندھا۔

عیسائی اور یونانی (بالخصوص ارسطو) فکر کے ادغام کی اہم ترین تصنیف (Summa Theologia) ہے۔ اس کتاب میں عیسائی عقائد کی حقانیت کو منطق اور ارسطوی فلسفہ ومباحث کا سہارہ لے کر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور نتیجتاً فلسفیانہ منہج عیسائی مابعدالطبیعیاتی تصورات پرغالب آگیا۔(Scholasticism) نے عیسائی فکر کے دہری منہج کو عیسائی علمیت میں سمونے کی راہ ہموار کی۔(Scholasticism) نے عیسائیت کوقدیم یونانی تہذیب کا تتمہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ عیسائی فکر کی دہریہ کاری کی واضح ترین جھلک ولندیزی مفکر اراسمس (Erasmus) کی تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہے جس کو قرون وسطیٰ کا پہلا ہیومنسٹ یعنی انسان پرست بھی کہاگیا ہے۔یہ تحریک نشاۃ ثانیہ کے اہم ترین بانیوں میں شامل ہے۔اراسمس قدیم الحادی یونانی فکر اور تہذیب کی نشاۃ ثانیہ کا خواہاں تھا۔لیکن اس احیائے دہریت اور الحاد کی جڑیں عیسائی معاشرتی اور فکری منہج(scholastic) میں پیوست تھیں۔ کچھ محققین نے تحریک نشاۃ ثانیہ کو عیسائیت کی تعبیر نو تک کہاہے لیکن حقیقتاً عہد نشاۃ ثانیہ(پندرھویں اور سولہویں صدی) عیسائیت کا قدیم یونانی الحادی تہذیب سے مغلوب ہونے کا دور ہے۔ایکویناس کے برخلاف نشاۃ ثانیہ تحریک کے متکلمین نے قدیم الحادی تہذیبی آدرشوں کو معیارِخیروشر کے طورپر تسلیم کیااوراس الحادی کسوٹی پر عیسائی اعتقادات اور علمیت کو جانچنا شروع کیا اور قدیم یونانی الحادی منہاج کے اصولوں کے مطابق جن عیسائی عقائد اور احکام کو غیر معقول پایا ان کو مسخ کرنے اور ان کو رد ّکرنے سے دریغ نہ کیا۔

تحریک نشاۃ ثانیہ کااظہار آرٹ ہے۔قرونِ وسطیٰ میں عیسائیت نے موسیقی، بت گری، ڈراما اورشاعری وغیرہ کو خوب ترقی دی تھی۔تحریک نشاۃ ثانیہ نے اسی بنیاد پر آرٹ کو فروغ دیا لیکن عیسائیت کا آرٹ مذہبی آرٹ تھا(جیسا کہ ہندوؤں کا )، اس کا مقصد خدا کی خوشنودی اور اس کی حمدوثنا بیان کرنا تھا۔ تحریک نشاۃ ثانیہ نے جس آرٹ کو فروغ دیا اس کا مقصد انسان پرستی تھا۔ نشاۃ ثانیہ کے دور کے آرٹ کو اعتقادی مذہب سے آزاد کیا گیا۔ آرٹ برائےآرٹ کا نعرہ سب سے پہلےتحریک نشاۃ ثانیہ میں لگایا گیا۔ یعنی آرٹ کا مقصد انسانی بدنی ساختی حسن کو آشکار کرنا ہے۔ اس کے لیے مذہبی موضوعات بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں (اور نشاۃ ثانیہ کا آرٹ اسی تھیم سےبھرا پڑا ہے)۔ اس آرٹ کا مقصدِ وجود حصولِ رضائے الہی نہیں بلکہ اظہارِ انسانی اور فطری حسن ہے۔تحریک نشاۃ ثانیہ نے عیسائیت کو آرٹ کی دنیا سے بے دخل کردیا۔اس دور میں عشقیہ شاعری اور ڈراما نویسی نے خوب ترقی کی۔ عیسائی طرزِ تعمیر کو ترک کرکے قدیم (Gothic) طرز ِتعمیر کی بنیاد پر پورے یورپ میں حکومتی مراکز (guild halls) بنائے گئے اور مقامی زمانوں میں قبل ازعیسائیت کے دور کی دیومالائی روایات کی بنیاد پر لکھے گئے ادب کو فروغ دیا گیا۔

تحریک نشاۃ ثانیہ کا عروج سرمایہ دارانہ نظاماتی استحکام کا ایک نتیجہ ہے۔اسی دور میں چھپائی(printing) کو بحیثیت ایک سرمایہ دارانہ صنعت کے قائم کیا گیااور گٹنبرگ (Gutenberg) جواس صنعت کے سب سے مشہور بانیوں میں شامل ہے سودی قرضہ ادا نہ کرنے کی وجہ سےمقروض اور قلاش ہوگیا۔ چھپائی کی صنعت کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں بہت جلد کروڑوں ادبی تخلیقات پورے یورپ میں پھیل گئیں۔ پہلی کتاب جو یورپ میں پرنٹ کی گئی وہ انجیل مقد س ہی تھی لیکن بہت جلد دہری انسان پرست(Humanist) اور فحش ادب اور تصاویر کا ایک سیلاب آگیا۔بہت جلد انجیل مقدس کے فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور انگریزی میں تراجم کیے جانے لگے۔ انجیل کا اصلی آرامی(Aramaic) زبان کا نسخہ تو سرے سےکسی کے پاس موجود ہی نہیں تھا۔ چرچ کا منظور شدہ انجیل کا نسخہ لاطینی زبان میں یونانی نسخہ کا ترجمہ تھا۔ جب اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تو لامحالہ متن میں ترمیم ہوتی چلی گئی۔

پندرھویں صدی میں مارٹن لوتھر(Martin Luther) نے چرچ کے خلاف بغاوت کی۔پرنٹ صنعت کے نتیجے میں مختلف انجیلوں کے نسخے بڑے پیمانے پر پھیل گئے تھے اورچرچ کے عیسائی مخالفین کا یہ دعویٰ تھا کہ ہرعیسائی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انجیل سے مطالب خود اخذ کرے۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ چرچ کی مخالف تحریک اصلاح (reformation) عوامی پذیرائی حاصل کرگئی اور شمالی یورپ بڑی حد تک کیتھولک چرچ کے ہاتھوں سے نکل گیا۔تحریک اصلاح کو بھی تحریک نشاۃ ثانیہ کا ایک شاخسانہ کہاجاسکتا ہے کیوں کہ تحریک اصلاح نے عیسائی فکر اور طرزِ زندگی کو سرمایہ داری کے زیرنگیں کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

عیسائی بغاوتوں کے نتیجے میں تشکیک (skepticism) کے رحجان نے معاشرتی اثر حاصل کیا۔عیسائی تصوارت بالخصوص تصورِآخرت متنازعہ فیہ ہوتا گیا اور تحریک نشاۃ ثانیہ کے دہری قائدین نے تصورِ ترقی کو متعارف کرایا۔جب جنت اور دوزخ فرضی نظر آنے لگیں تو دنیا کوجنت بنانے کی سعی معنی خیز نظرآنے لگتی ہے۔ دنیاوی جنت تعمیر کرنے کے لیے تبدیلی کے عمل پر توجہ مرکوز ہوگئی۔ یورپ میں تصورِ وقت میں تبدیلی آئی اور ترقی کی جستجو دھیرے دھیرے یورپی معاشرتی کشمکش اور اضطراب سے بھرتی چلی گئی۔ترقی سے مراد بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔پراگرس (progress)کی جستجو تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ چیز جسے سائنس کہتے ہیں، الہامی علمیت پر چھانے لگی۔ پندرھویں صدی کی سب سے اہم یورپی ایجاد گھڑی (clock) ثابت ہوئی جس سے وقت کی پیمائش عام آدمی کے لیے ممکن ہوگئی اور ترقی کی ادارتی جستجو کو منظم کرنے میں گھڑی کی ایجاد نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ قد آدم گھڑیاں جگہ جگہ گرجوں اور حکومتی مراکز(town halls) پر پورے یورپ میں نظرآنے لگیں۔سرمایہ دارانہ انفرادیت کا ظہور اور پھیلاؤ بھی دورنشاۃ ثانیہ میں نمایاں ہوا۔نشاطی ادب اس کا غماز ہے اور اس کے کردار خود غرض اور خود انحصاری نظرآتے ہیں۔سیلینی (Cellini) کی خودنوشت سوانح اس طرز کی غماز ہے۔ اپنی انفرادیت کو اہمیت اور وقعت دینے کے لیے نشاطی ادب میں (surname) کا استعمال عام ہوگیا اور لوگ بالخصوص نواب(lord) اور کامیاب ساہوکار اپنےپورٹریٹ بنوانے لگے۔ مجسمہ سازی نے بھی اسی دورمیں فروغ پایا۔

دور نشاۃ ثانیہ میں عورتوں کی آزادی نے بھی دوبارہ جنم لیا۔درباری عورتوں کا اثر ورسوخ اور اقتدار کئی یورپی ممالک(اسپین، آسٹریا،جنوبی فرانس،انگلستان اوراٹلی) میں نمایاں ہوا اور اس سے ادب اور مصوری اور مجسمہ سازی میں فحاشیات (pornography) کا اتنا پھیلاؤ ہوا کہ چرچ بھی اس سے اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھ سکا۔روم اور ویٹی کن کے مرکزی گرجاؤں کی دیواروں اور چھتوں پر عیسائی بزرگوں کی جوتصاویر آویزاں کی گئیں وہ عموماً برہنہ ہوتی تھیں۔

3.2۔تحریک تنویر اور تحریک رومانویت

مغربی عالمی تغلب کا دور تقریباً ۱۵۰۰ عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔ جس ذریعہ سے مغرب نے یہ تغلب حاصل کیا وہ نظام سرمایہ داری کی بتدریج عالمگیریت ہے۔مغرب نے دنیا کو عیسائی نہیں سرمایہ دارانہ بنا دیا۔ عیسائیت صرف ان حصوں میں جڑپکڑ سکی جہاں مغرب نے وحشیانہ قتل عام اور لوٹ مار کے ذریعے قدیم آبادی کو جڑ سے نیست ونابود کردیا(مثلاً شمالی اور جنوبی امریکا،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ،ساؤتھ افریقہ اور بحرالکاہل کے جزیرے)۔ لیکن مغربی غلبہ کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور نظام زندگی ہر جگہ غالب آ گیا۔ اس حقیقت سے ہمیں یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اسلام کا مقابلہ دورِ حاضر میں عیسائیت یا یہودیت سے نہیں (جو سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ضم ہوگئی ہیں) بلکہ سرمایہ داری سے ہے۔

سرمایہ داری کے عالمی تغلب کے دور کو ماڈرنائزیشن (modernization) بھی کہاجاتا ہے اور میری رائے میں یہ دور اختتام پذیر ہے لیکن :

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں

ادھرڈوبے ادھر نکلے،ادھر ڈوبے ادھر نکلے

ماڈرنائزیشن سے مراد وہ عمل ہے جو مذہبی، روایتی، غیر سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو تباہ کردے۔ ماڈرنائزیشن کے عمل کا مقصد حصولِ آزادی اور ترقی کافروغ ہے اور اس کا مطلب بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔بالفاظ دیگر ماڈرنائزیشن سرمایہ داری کا دوسرانام ہے۔ غیرماڈرن سرمایہ داری کا تصور کرنا یا غیرسرمایہ دارانہ ماڈرن انفرادیت،معاشرت اور ریاست کا تصور کرنا نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مورخ ماڈرن ادوار کی تصویر کشی کرتے ہیں تو لامحالہ ان کے ماخذات وہ شماریات (statistics) ہوتے ہیں جن کا تعلق سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کی کارکردگی سے ہوتا ہے مثلاًتجارتی شماریات،قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے رحجانات، ٹیکسوں (بالخصوص کارپوریٹ ٹیکسوں) کی وصولیاں وغیرہ۔

ماڈرن انفرادیت کے ظہور کا ایک اہم سنگ میل تحدید نسل (birth control) کی وہ مہم ہے جوپورے مغربی یورپ میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں پھیلی۔حمل ضائع کرنے کی ایک باقاعدہ ٹیکنالوجی کا عروج ہوا اور یورپی پاشندے معاشی آسودگی کے حصول کے لیے اپنے خاندانوں کو محدود اور بچوں کو قتل کرنے لگے۔ سولھویں صدی سے ایمسٹرڈیم، پیرس اور لند ن وغیرہ میں تیزی سے آبادی کا اضافہ ہوا اور اس صدی میں یورپ میں کم از کم پندرہ ایسے شہرابھرے جن کے گردونواح کو سرمایہ دارانہ مراکز کہا جاسکتا ہے۔ زرعی معیشت میں سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی سولہویں صدی کے وسط سے شروع ہو گئی تھی۔اس تحریک کوانکلوژر موومنٹ کہتے ہیں۔یہ سولہویں صدی سے شروع کی گئی تھی اور اس تحریک کے دوران فرانس،برطانیہ اور جرمنی کے بڑے کسانوں نےاس زمین پر قبضہ کیا جو پہلے مفلوک الحال کاشت کاروں کے استعمال میں تھی۔ان زمینوں کو ”کامن اینڈ ویسٹ لینڈ“ کہاجاتا تھا۔ اس کے خلاف غریب کاشت کاروں نے خالص مذہبی بنیادوں پر کئی ممالک میں مزاحمت برپا کی جس میں انگلستان کی (diggers)تحریک بہت مشہورہے۔یہ مزاحمت ۱۶۲۸ء سے ۱۶۵۰ءتک (Cromwell) کی حکومت کے خلاف جاری رہی۔

جیسے جیسےانکلوژر تحریک وسیع ہوئی ویسے ویسے سرمایہ دارانہ دور نے یورپی زراعت پر قبضہ حاصل کرلیا اور دھیرے دھیرے اجناس کے سٹہ مارکیٹ منظم کیے جانے لگے۔سترھویں صدی تک مغربی یورپی زراعت بڑی حد تک سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے زیر تسلط آگئی تھی۔پندرھویں صدی سے سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی کا استعمال مغربی یورپی زراعت میں عام ہونے لگا۔زرعی پیداوار میں اضافہ کے ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دینے کے لیے ایک نئی سائنس اور ٹیکنالوجی وضع کی گئی جسےایگرونومی کہا گیا جو سترھویں صدی کی پیداوار ہے۔ زراعت میں چھوٹے کھیتوں کی تخفیف اور بڑی زمین داریوں اوراجرتی محنت کا فروغ یورپی سرمایہ داری کے پھیلاؤ کے اہم ذرائع ثابت ہوئے۔ دھیرے دھیرے زمین ایک سرمایہ دارانہ اثاثہ بنائی جانے لگی اور اس کی خرید وفروخت کےلیے سرمایہ دارانہ مارکیٹ منظم کیے جانے لگے۔ زرعی سرمایہ دارانہ مارکیٹ بین الاقوامی تجارت میں ضم ہونے لگے۔سترھویں اور انیسویں صدی میں یورپی باشندوں نے شمالی اور جنوبی امریکا میں ریڈ انڈینز کو قتل کرکے قبضہ جمانا شروع کیا۔۱ٹھارویں صدی تک بیس لاکھ یورپی امریکا پر قابض ہوگئے اور اس وقت ساٹھ لاکھ ریڈ انڈینز کو قتل کردیا گیا (باقی ریڈ انڈینز کے قتل میں جو انیسویں صدی تک جاری رہا امریکی صدرانڈریوجیکسن اور ابراہام لنکن کی حکومتوں کا بڑا کارنامہ ہے )۔جیکسن اور لنکن امریکا میں آج عظیم ہیرو تسلیم کیے جاتے ہیں اور ٹرمپ جیکسن کا ہی بچاری ہے۔

۱۵۰۰ءسے ۱۸۰۰ء تک سرمایہ دارانہ تجارتی اور صنعتی مارکیٹوں نے بھی خوب ترقی کی۔ یہ ترقی بین الاقوامی تھی اور اس کا یورپی استعماری مہمات سےنہایت گہراتعلق تھا اوران سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کے پھیلاؤ میں یہودیوں کا خاص کردار تھا۔ مثلاً ولندیزی سرمایہ داری کی ترقی اور استحکام میں ان یہودیوں کا کلیدی کردار تسلیم کیا گیا ہے جو پرتگال سے وقتاً فوقتاً نکلنے پر مجبور کیے جاتے رہے۔ سولہویں اور سترھویں صدی میں سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کے پھیلاؤ کے خلاف یورپی اور عیسائی عوامی نفرت عام تھی اور ساہوکاروں، سود خوروں او رسٹہ بازوں کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا (یہاں تک کہ یہودی آپس میں سرمایہ دارانہ کاروبار کرنے سے گریز کرتے تھے اور اس کاروبار کو گوئم یعنی عیسائیوں تک محدود رکھتے تھے ) لیکن سترھویں اور اٹھارویں صدی میں بینک کاری اور فائنانس یورپ میں خوب پھلی پھولی۔ بینک آف ایمسٹرڈیم اور بینک آف انگلینڈ کی بین الاقوامی پہنچ سترھویں صدی میں قائم ہوگئی اور ان بینکوں کے نئے نئے فنانشل آلات(financial instruments) ایجاد کیے گئے۔ اٹھارھویں صدی میں کاغذی کر نسی ایجاد کی گئی اور بڑھوترئ سرمایہ کو معاشرتی تسلط دلانے میں کاغذی کرنسی کا ایک خاص اہم کردار ہے۔ سونے چاندی وغیرہ کے برعکس کاغذ کی قدر(value) نہایت کم ہوتی ہے اور کاغذی کرنسی کے عمومی استعمال نے سرمایہ دارانہ زرکے لامتناہی اجرا کو ممکن بنایا۔ کاغذی کرنسی کی کوئی قدر نہیں ہوتی لہٰذا کسی شے(سونا، چاندی، اجناس) کی مقدار اس کے اجرا کو محدو دنہیں کرتی۔یوں بڑھوترئ سرمایہ کا تعلق پیداواری نظا م سے کمزور سے کمزور ہوتا چلاجاتا ہے اور فنانشل مارکیٹوں، سود اور سٹہ کے کاروبار کی بڑھوتری کی رفتار تیز سے تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔ جب تک زردھاتی (سونا چاندی) ہوتا ہے اس کی مقدار سونے یا چاندی وغیرہ کی رسد سے متعلق اور لازماً محدود ہوتی ہے۔

کاغذی کرنسی کا اجراء ان حدود کو مستقلاً پیچھے دھکیلنے کی بنیادی ٹیکنالوجی ہے۔ لیکن یہ حد کبھی بھی مطلقاً معدوم نہیں کی جاسکتی اور سرمایہ دارانہ بحرانوں کی وقوع پذیری کی بنیادی وجہ یہی ہے۔سترھویں صدی میں جوائنٹ اسٹاک کمپنی (joint stock company) کی ایجاد عمل میں آئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جس نے ۱۸۵۸ء تک ہندوستان پر حکومت کی،۱۶۰۰ء میں قائم کی گئی۔ یہ سرمایہ دارانہ ملکیت کی تجسیم ہے۔سرمایہ دارانہ ملکیت سے مراد وہ تنظیم ہے جہاں دولت پر اس مینجمنٹ کی اجارہ داری قائم ہوجاتی ہے جو بڑھوترئ سرمایہ کے فن میں ماہر ہوتی ہے اور قانونی ملکیت ایک افسانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ یوں سرمایہ دارانہ نظام میں (خواہ لبرل،خواہ اشتراکی) ذاتی ملکیت ختم کردی جاتی ہے۔

سترھویں صدی میں سٹہ کا کاروبار بھی منظم ہوا۔ سب سے پہلے لندن سٹہ بازار(stock exchange) قائم ہوا اور اس کے بعد کئی مغربی ممالک میں سٹہ بازار وجود میں آئے۔ سرمایہ کاری کی نئی نئی اسکیمیں لندن، پیرس اور ایمسٹرڈم میں ایجاد کی گئیں۔ لاٹریوں (lottery) کا کاروبار عام ہوا اور ہربڑے شہر میں جوا خانے (casino) ترقی کرنے لگے۔ اٹھارویں صدی میں چرچ (کیتھولک، پروٹسنٹ،آرتھوڈاکس) نے سودی نظام کو عملا ً قبول کرلیا اور سودی نظام کی عیسائی کاری (یعنی مروجہ اسلامی بینک کاری) کی مہم دم توڑ گئی۔ ۱۷۰۰ء عیسوی تک انگلستان،فرانس اور و لندیز میں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام مستحکم ہوچکا تھا۔یہ حکومتیں اپنے باشندوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے جنگیں لڑتی تھیں اور اپنے ملکوں میں سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کے فروغ کے لیے مراعات دیتی تھی۔ سرمایہ دارانہ قزاقی اور بحری تجارت کو شروع ہی سے استعماری نظام کی داغ بیل ڈالنے کے لیے سرمایہ دارانہ ریاستوں (فرانس، انگلستان، ولندیز ) نے استعمال کیا۔افریقی غلاموں کی تجارت 1444ء سے پرتگال میں شروع ہو گئی تھی۔سولہویں صدی کے وسط سے امریکا،افریقی غلاموں کا سب سے بڑا خریدار بن گیا۔افریقی غلاموں نے امریکی معیشت کی تعمیر میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ غلاموں کی تجارت نہایت منافع بخش ثابت ہوئی۔ عام فروخت کرنے والوں اور غلام خریدنے والوں دونوں کےلیے غلاموں کے کاروبار پر اجارہ داریاں قائم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ ریاستوں نے کئی جنگیں لڑیں۔

یورپی اور امریکی صنعت کی سرمایہ دارانہ تنظیم کو دوقوتوں نے مہمیز دیا۔ ایک سائنسی جاہلی علمیت کی عمومیت اور اس کا صنعتی ٹیکنالوجی پر اطلاق، دوسرے صنعت کی سرمایہ دارانہ تنظیم سازی کے لیے سرمایہ دارانہ ریاستوں کی دی گئی مراعات۔ان دونوں رحجانات نے تاریخ انسانی میں پہلی بار طویل المدت افراطِ زر کو کئی علاقوں میں جنم دیا۔پورے قرونِ وسطیٰ کے دوران یورپ میں قیمتیں مستحکم رہیں۔ اس پورے دور میں قیمتوں میں اضافہ کا کوئی طویل المدت رحجان نہ تھا اور قحط اور وبائی دورانیوں کے علاوہ قیمتیں فی صدی ایک یا ڈیڑھ فی صد بڑھی تھیں۔سولہویں صدی میں یورپی اجناس کی مارکیٹوں میں۴۰ فیصد تورم ایک خالصتاً سرمایہ دارانہ معاشی نظاماتی خصوصیت ہے۔ تورم(inflation) دولت کی نامساویانہ تقسیم کو فروغ دیتا ہے۔ سولہویں کے یورپی تورم نے مفلوک الحال کسانوں کو تباہ کردیا۔ اجرتیں منجمد رہیں جبکہ رہن(rent) اور ٹیکسوں میں بے اندازہ اضافہ ہوا۔ بڑے زمینداروں نے آزاد اراضی پر قبضہ جمالیا اور اس اراضی پر اپنی بھیڑیں چرانے لگے۔ ایک انگریز مفکر نے کہاکہ اس دور میں بھیڑیں انسانوں کو کھا گئیں۔

تورم نے یورپی بادشاہوں کو مزید مقروض کردیا اور ان کا انحصار سود او رسٹہ کے مارکیٹوں پر تیزی سے بڑھنے لگا۔یوں سرمایہ داروں کی گرفت معیشت اور معاشرت پر مستحکم ہوتی چلی گئی۔ اس کا اثر ایک نہایت طاقتور اور بااثر مڈل کلاس کا ظہور ہے جو اب تک پورے سرمایہ دارانہ دور میں سرمایہ دارانہ علمیت اور روحانیت کی سب سے اہم علم بردار رہی ہے۔یہ اصل بورژواہیں اور ان میں سرمایہ دارانہ مہارتوں کی بنیاد پر معاشرتی اور معاشی ارتقاء کا عمل مستقلاً جاری رہتاہے۔ یہ طبقہ سرمایہ دارانہ مہارتوں کی بنیادپر اپنے افراد کی معاشرتی ترقی ممکن بناتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت میں انفرادی ترقی کی بنیاد نہ تقویٰ ہے نہ اشرافیت (nobility)۔ ترقی( یعنی زیادہ سرمایہ کا حصول) صرف وہ لوگ کرتے رہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت اور عملیت (praxis) کے ماہر تھے۔مڈل کلاس کے عروج کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ معاشرت(civil society) پر مارکیٹ بتدریج قابض ہوجاتاہے اور خود غرضانہ انفرادیت معاشرہ پر حاوی ہوجاتی ہے۔

سترھویں صدی عیسوی میں انگلستان اور سوئزر لینڈ میں دوعیسائی پروٹسٹنٹ ریاستیں کرامویل (Cromwell) اور کالووین (Calvin) کی قیادت میں قائم ہوئیں۔لیکن ان ریاستوں نے سرمایہ داری کی عیسائی کاری پر انحصار کیا۔ان دونوں ریاستوں نے سود کی عیسائی کاری کی اور ان کے سقوط کے بعد عیسائی اثر ریاستی عمل پر مستقلاً کم ہوتا چلاگیا۔عیسائیت کی ریاستی بے دخلی میں فلسفہ افادیت (utilitarianism) کے عروج نے اہم کردار ادا کیا اور اس وقت سے لے کر آج تک فلسفہ افادیت سرمایہ دارانہ ریاستی عمل پر چھایا رہا ہے۔

تحریک تنویر (Enlightenment) کے پیش رو دو اہم فرانسیسی فلسفی وولٹیئر اور روسو ہیں۔ دونوں ادیب اور فلسفی تھے، دونوں نے عیسائیت سے شدید نفرت کا اظہار کیا اور عیسائی معاشرت پر شدید تنقید کی۔ اٹھارویں صدی میں عیسائی معاشرت روبہ تنزل تھی مثلاً انگلستان میں اٹھارویں صدی میں حکمران طبقہ نے (جو اپنے عیسائی تشخص پر فخر کرتا تھا) انگلستان کے سرمایہ دارانہ مفادات کی بھرپور حفاظت کی اور لندن کی فنانشل اشرافیہ کی بالادستی اور قیادت کھلے دل سے قبول کی۔ مشہور ماہر سماجیات میکس ویبر(Max Weber)کاخیال ہے کہ سرمایہ داری کی ترقی میں عیسائی انتشار نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔پندرھویں صدی میں چرچ کے خلاف جو بغاوت شروع ہوئی تھی اس کے نتیجہ میں سترھویں صدی تک یورپی عیسائیت دوحصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔جنوبی اورمرکزی یورپ کیتھولک اور شمالی یورپ پروٹسٹنٹ ہوگئے۔ پروٹسٹنٹ عیسائیت سرمایہ داری کی ایک تشریح کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ عقلیت، اخلاقیات اور روحانیت نے ترقی کی اور پروٹسنٹ فکر نے ترقی،حرص اور حسد کے معاشرتی فروغ کی عیسائی توجیہ پیش کی اور پروٹسٹنٹ معاشروں میں سرمایہ دار کو ایک ہیرو(hero) گردانا گیا۔

سترھویں صدی میں کیتھولک سرمایہ داروں کی بھی کمی نہ تھی۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت، علمیت(جاہلی) اور معاشرت نےفرانس میں خوب ترقی کی گوکہ فرانس ایک کیتھولک ملک تھا۔فرانس میں اٹھارویں صدی میں فواحش اور رقص و سرود اور شراب نوشی کی تقاریب کا ایک عوامی سیلاب آگیا جس پر چرچ کی کوئی گرفت نہ تھی۔ بالا خانوں نے بھی فرانس میں سترھویں اور اٹھارویں صدی میں خوب ترقی کی۔ فرانس میں فاحشوں کی بیٹھکیں (ان کو salon کہا جاتا ہے) اوباشوں اور عیاشیوں کی محفلیں ہفتہ وار (عموماً اتوار کو ) عام منعقد ہونے لگیں۔تنویری فکرانہی سلونوں (salon) کی پیداوار ہے۔ فرانسیسی امرا میں داشتائیں رکھنے کا رواج ہوگیا تھا۔ اٹھارویں صدی کے مشہور سیاسی فلسفی مونٹیسکیو(Montesquieu) کی داشتہ کا تعلق دربار تک تھا اور اس کے ذریعہ مونٹیسکیو نے بادشاہ لوئیس پانزدہم کی داشتہ مادام پومیوکی سرپرستی حاصل کی۔سیلون کےفروغ نےفرانسیسی عورتوں کو چرچ اور خاندان کی بندشوں سے آزاد کروانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

سرمایہ دارانہ ریاست (ریپبلک) کی تعمیر بھی کئی صدیوں میں ہوئی۔ نشاۃ ثانیہ کے دورمیں ملوک کا اقتدار سست رفتاری سے جاگیرداروں سے بادشاہوں کی طرف منتقل ہوتا رہا لیکن ۱۸۰۰ء تک بھی بادشاہوں کے اختیارات محدود تھے اور ۱۵۰۰ءسے ۱۷۰۰ءتک پورے یورپ میں بادشاہتوں کے خلاف نوابوں کی بغاوتیں عام تھیں۔ریاستی محصولات کی وصولیوں کے خلاف نواب رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے تھے۔ چرچ آزاد تھا اور شہروں اور نئی چارٹرڈ کارپوریشنز کو ریاستی ٹیکسوں کی ادائیگی سے قانوناً مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ چرچ کا معاشرتی اقتدار وسیع تھا اور اس نے اپنا الگ قانونی نظام قائم کررکھا تھا۔

عیسائی تحریک اصلاح نے ریاستی نظام کی مرکزیت اور بادشاہتوں کے اقتدار کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے لوگ ماڈرن دور کی ابتدا کو تحریک اصلاح کے پھیلاؤ (یعنی سولہویں صدی) سے وابستہ کرتے ہیں۔تحریک اصلاح کا حقیقی بانی لوتھر نہیں بلکہ وہ اراسمس ہے جو تحریک تنویرکے پیش روؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ ایسا عیسائی تھا جس نے چرچ کے خلاف کبھی بغاوت نہ کی لیکن اس نے جاہلی عقلیت (rationality ) اور تشکیک(skepticism) کو علمیاتی (epistemological) جواز فراہم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ارسطوکی فکرکی عیسائی تعبیرات کو لغو اور غیر منطقی ثابت کرنے میں اراسمس کی فکر نے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اراسمس کے شاگرد پورے یورپ میں پھیلے ہوئے تھے اور انہوں نے ترسیل خطوط کے ذریعہ ایک وسیع مواسلاتی جال قائم کیا۔اس نے عہد نامہ جدید کا ایسا یونانی زبان میں ترجمہ کیا جس کو جاہلی عقلیت کاماخذتصور کیا جاتا ہے۔اراسمس نے بہت سے ایسے دستاویزی ماخذات کی تحقیق کی جن پر عیسائی اعتقادات کی بنیاد رکھی گئی تھی اور ثابت کیا کہ یہ ماخذات غیرمعتبر اور غلطیوں سے بھرے ہیں۔ بلاشبہ وہ ایک انسان پرست(humanist) تھا لیکن اس کی انسان پرستی کیتھولک عقائد میں پیوست تھی۔ عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰؑ ابن اللہ ہیں لہٰذا یہ عقیدہ ”لا الہ الا انسان“ کے کلمہ خبیثہ کی طرف یورپ کے سفر کا پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

پروٹسٹنٹ ازم نے ابتدا ہی سے یورپی بادشاہ کے اختیارات کی توسیع کی وکالت کی ہے۔ لوتھر نے بھی (اراسمس کی طرح) اپنے ترجمہ کے ذریعہ ایک نیاعہد نامہ جدیدتخلیق کیا جس میں بادشاہتوں کے اختیارات کی توسیع اور پوپ کے اختیارات کی تحدیدکی وکالت کی گئی ہے۔جرمنی کی کئی شاہی ریاستیں پروٹسٹنٹ ہو گئیں اور ان میں اور کیتھولک ریاستوں میں جنگ چھڑگئی۔لوتھر نے ہمیشہ ان کسانوں کی بغاوتوں کی مخالفت کی جو بادشاہوں کے خلاف اس کے دورمیں اٹھیں۔

پروٹسٹنٹ ازم نے قومی چرچ (چرچ آف انگلینڈ،چرچ آف سکاٹ لینڈ وغیرہ )قائم کیے اور یہ قومی چرچ ہمیشہ بادشاہوں کو پوپ کا مقام دیتے تھے۔ مذہب ”قومی مفاد“ اور خارجہ پالیسی کے فروغ کے لیے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیے جانے لگا۔یوں پروٹسٹنٹ ازم نے ایک اہم سرمایہ دارانہ نظریہ قوم پرستی کو جنم دیا۔ پروٹسنٹ بادشاہوں نے قانون سازی کے کلی اختیارات حاصل کرلیے اور چرچ کی قانونی گرفت سے مطلقاً آزاد ہوگئے۔ اس کے برعکس بادشاہ اپنی پالیسیوں کا جواز پارلیمنٹ میں عوامی نمایندوں کی حمایت پر منحصر سمجھنے لگے۔ ۱۵۲۰ میں Ignatius نے ایک نئے نظم (order) کی بنیاد رکھی جسے Jesuit order کہا گیا۔ اس نے کیتھولک بادشاہوں کے دربار میں اثرورسوخ حاصل کرلیا اور اس طرح ا س وقت سے لے کر آج تک یورپی اورامریکی استعمارکے فروغ اور استحکام میں ایک اہم کردار ادا کررہاہے۔

چرچ اور بادشاہوں کا باہمی تعاون ہمیشہ استعماری اور ظالمانہ رہا ہے۔۱۴۷۸ میں پوپ کے ایک حکم نامہ کے تحت وہ ادارہ قائم کیا گیا جسے انکیوزیشن (inquisition) کہتے ہیں لیکن اس حکم نامہ کی تنفیذ کی ذمہ داری ہسپانوی بادشاہوں کو دی گئی اور اس حکم نامہ کی تنفیذ کے ذریعے لاکھوں مسلمان اور یہودی قتل بھی کیے جاتے رہے اور ملک بدر بھی، جب تک اسپین مسلمانوں اور یہودیوں کے وجود سے بالکل خالی نہیں ہوگیا۔ یہی بہیمانہ قتل عام اسپین نے جنوبی امریکا میں جاری رکھا اور اس قتل عام کے توسط سے اپنی ریاستی مرکزیت مستحکم کی۔ایک اسپینی بادشاہ فلپ دوئم کے خلاف ولندیز نے (جس پر اس وقت اسپین کا قبضہ تھا) سولھویں صدی کے آخرمیں بغاوت کردی۔ انگریزوں نے اس بغاوت میں معاونت کی۔ یہ بغاوت مذہبیت کے خلاف تھی اوراس میں قوم پرستی پروان چڑھی۔ اس نے اس علاقہ کی قدیم بت پرستانہ روایات کا سہارا لیا اور بہت سے مورخین کے مطابق پہلی مکمل سرمایہ دارانہ ریاست(ریپبلک ) نیدرلینڈ اسی بغاوت کے نتیجے میں سولھویں صدی میں قائم ہوگئی تھی۔

سترھویں صدی میں کچھ بادشاہوں اور پارلیمنٹ کے درمیان ایک طویل کشمکش کا آغاز ہوا۔ ان ممالک میں سب سے نمایاں انگلستان ہے جہاں خانہ جنگی (civil war) تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہی۔ بادشاہ (چارلس اول) کو قتل کردیا گیا ؛ کرومویل کی حکومت نے مذہبیت کا سہارا لیا اورپارلیمنٹ کی بالادستی میں تمام عیسائی فرقوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس نے جو ریاستی نظام قائم کیا وہ بلاشبہ سرمایہ دارانہ تھا۔سود کو حلال قرار دیا گیا اور سودی کاروبار خوب پھلا پھولا۔ امریکا کے قدیم باشندوں ریڈ انڈینز کا قتل عام جاری رہا اورامریکا سے دولت برطانیہ منتقل ہوتی رہی۔ اسکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ پر استعماری جنگ مسلط کی گئی اور آئر لینڈ کو انگلینڈ کی کالونی بنالیا گیا۔ کرمویل نے سرمایہ دارانہ مخالف عوامی عیسائی تحریکوں(Levelers & Diggers) کو بے دردی سے کچل دیا۔ کرومویل کو تاریخ کا پہلا Puritanبھی کہاگیا ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب کی حالیہ مثال جس میں وہ مذہبی عوامی رسوم ورواج کو غیر معتبر (illegitimate) ثابت کرکے سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کو فروغ دینے کی معاشرتی راہ ہموار کررہی ہے۔

سترھویں صدی میں مطلق العنان بادشاہتوں کے خلاف ناکام بغاوتیں فرانس اور اسپین میں بھی برپا ہوئیں۔ نیپلزمیں ۱۶۴۷ میں بغاوت ہوئی۔ یہ تمام بغاوتیں حکومتی ٹیکسوں میں بے اندازہ اور مستقل اضافہ کے خلاف تھیں جو جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے نافذ کی جاتی رہیں۔ سترھویں صدی میں وہ عظیم کشمکش بھی برپا ہوئی جسے ”تیس سالہ جنگ“کہا گیا اور جس کے نتیجے میں یورپی حکومتیں ساہوکاروں اور فنانشل مارکیٹوں کی مقروض ہوتی چلی گئیں۔سترھویں صدی میں یورپ میں برطانیہ اور نیدرلینڈ کے علاوہ کہیں بھی مکمل سرمایہ دارانہ ریاست (ریپبلک) قائم نہ ہوئی لیکن مغربی یورپ کے کئی ممالک میں ریاستی نظام پر سرمایہ دارانہ گرفت مضبوط ہوگئی۔

تحریک تنویر(Enlightenment)کو ویسے تو اٹھارھویں صدی سے منسوب کیا جاتاہے لیکن اس کی جڑیں سترھویں صدی میں پیوست ہیں۔سترھویں صدی میں وہ جاہلی علمیت تخلیق کی گئی جسے سائنس کہاجاتا ہے۔اس جاہلی علمیت کے دو اہم ترین مفکر فرانس کا رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) اور انگلستان کا آئزک نیوٹن (Isaac Newton) ہیں۔ ان مفکرین کے دواقوال کلمہ خبیثہ لاالہ الا انسان کی حتمی تشریح کی حیثیت رکھتے ہیں۔ڈیکارٹ نے کہا”میں سوچتاہوں لہٰذا میں ہوں“۔یعنی انسانی وجود انسانی ذہن کی پیدوار ہے۔یہ باری تعالیٰ کی تخلیقیت سے (کم ازکم) جزوی انکار ہے۔ ڈیکارٹ مشرک اور مزدکی فکر سے متاثر تھا۔ وہ کہتا تھا کہ خدا ایک گھڑی ساز ہے جس نے کائنات میں چابی بھری اور اس سے لاتعلق ہوگیا۔ اب کائنات میں انسانی ذہن تخلیقیت کے فرائض انجام دیتا ہے۔ اس نظریہ کو ثنویت (dualism) بھی کہا گیا ہےاور اس کا پر تومعتزلہ فکرمیں بھی ملتا ہے۔

آئزک نیوٹن عیسائی تھا۔اس نے کہا ”علمیت کے فروغ کا مقصدتسخیر کائنات ہے“یعنی جاہلی علمیت (سائنس) کا ہدف ارادۂ انسانی کو فطرت پر مسلط کر کے انسانی اخلاقیت کا اظہار ہے،ہدایت کا سرچشمہ وحی (انجیل مقدس) نہیں بلکہ تصرف فی الارض اور تجربیت(empiricism) ہے۔آج جو کائناتی بحران (environmental crisis) رونما ہو رہے ہیں ان کی بنیادی وجہ جاہلی علمیت سائنس کا فروغ اور عالمگیریت ہے۔فزکس، کیمسٹری، میٹالرجی جس طرح کائناتی نظام کو درہم برہم کر کے دنیا کو جہنم بنانے کی کوشش کر رہی ہے اسی طرح آئی ٹی (Information technology) معاشرہ کو فحاشی، خود غرضی، تنہائی اور یاسیت سے بھر رہی ہے۔اس کی سب سے واضح مثال دنیا کا سب سےبڑا انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ملک امریکا ہے جہاں کی عظیم اکثریت کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔

سترھویں صدی کا ایک اور مفکر جس نے تحریک تنویر کی راہ ہموار کی وہ انگلستان کا تھامس ہابس ہے۔ اس نے کہا کہ قانون سازی کا حق صرف اور صرف سرمایہ دارانہ ریاست کو حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔ریاست جو قانون بنانا چاہے وہ اس کو بنانے کا حق رکھتی ہے اور ریاستی قانون سازی کا یہ حق کوئی محدود نہیں کر سکتا، نہ خدا نہ خدا کا نمایندہ(چرچ) نہ رسم ورواج نہ کوئی اور۔

ریاستی قانون سازی کی یہ اجارہ داری انگلستان میں اٹھارھویں صدی کے وسط میں قبول کرلی گئی۔ یوں نمایندہ دستوری جمہوریت کی راہ ہموار کی گئی اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ یہی ریاستی ساخت نظام سرمایہ داری کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔اٹھارھویں صدی میں انگلستان اور نیدر لینڈ سب سے مستحکم نمایندہ ریپبلکس تھیں، وہاں سرمایہ دارانہ اشرافیہ مستقل اپنے اقتدار میں اضافہ کررہی تھی اور سرمایہ دارانہ حقوق (سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ، سرمایہ قانون کی بالادستی اور آزادئ اظہارِرائے) کا فروغ ہو رہاتھا۔

مطلق العنان بادشاہوں نے بھی سرمایہ دارانہ اصلاحات نافذ کیں۔ ان بادشاہتوں کو تنویری ڈکٹیٹر (enlightened despots) کہاجاتا ہے۔انہوں نے مذہبی تحکیمی اور معاشرتی اشارات کو کمزور کیا، ریاستی قانونی اجارہ داری کو مستحکم کیا اور فنانشل مارکیٹوں کی حوصلہ افزائی کی۔ نظام تعلیم پر سرمایہ دارانہ دہریت کا ریاست کے ذریعہ قبضہ اسی زمانہ سے شروع ہوتا ہے۔ ۱۷۷۳ میں کیتھولک تنویری بادشاہتوں نے پوپ کو جسویٹ تنظیم (Jesuit order) کو تحلیل کرنے پر مجبور کردیا۔ شہنشاہ جوزف دو ئم نے چرچ کی تعلیمی نظاماتی بالادستی کو یکسر ختم کرنے کی کوشش کی۔تاریخ دان جوزف دوئم کو ایک سیکولر بادشاہ کہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ تصورِ ملکیت کے تحفظ اور استحکام اوراس کے جواز کی فراہمی میں بھی تنویری آمروں کی ریاستوں نے اہم کردار ادا کیا۔

سرمایہ دارانہ نظام زندگی نے مذہبی یورپ میں عیسائی اجتماعیت کو تباہ کرکے دونئی معاشرتی اور سیاسی اجتماعتیں پیدا کیں، ایک قومی اجتماعیت اور دوسری طبقاتی اجتماعیت۔قومی اجتماعیت سترھویں صدی کی پیداوار ہے،اس کا ظہور برطانیہ اور فرانس میں ہوا۔ قوم پرستی (نیشنل ازم) ایک ایسا سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو مذہبی اجتماعیت یعنی تصورِ امت کو لازماً تباہ کرتا ہے۔ علامہ اقبال کو اس کا احساس تھا ۔ آپ نے فرمایا:

بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکہ دین ووطن

کوئی اس دور میں اب حیدرؓ کرار بھی ہے

قوم پرستی کا گمراہ ترین تصور ریاستی حاکمیت مطلق (sovereignty) کا ہے۔ یہ تصور سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں دھیرے دھیرے یورپ میں عام ہوا۔ اس کے مطابق:

قومی مفاد قومی ریاستی تحکیم مطلق (sovereignty) کے دفاع اور فروغ کےعلاوہ اور کچھ نہیں۔استعماریت کی مخالف تحریکوں نے اس تصور کو عام کیا اور آج پوری دنیا میں ایران کے علاوہ ہرمسلمان ملک میں قوم پرستی کا غلبہ ہے۔قوم پرستی کا فروغ مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ معاشرت کے بتدریج غالب آنے کی ایک اہم وجہ ہے۔مسلم دنیا پر استعماری بلاواسطہ غلبہ ڈیڑھ دو سو سال قائم رہا اور اس عرصہ میں مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ سیاست اور معیشت کلیتاً اور سرمایہ دارانہ معاشرت بڑی حد تک غالب آگئی اور یہ سیاسی، معاشی، علمیاتی اور معاشرتی غلبہ بیشتر مسلم ممالک کی سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد کے دور میں بڑھتا جارہاہے اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوئی مربوط اسلامی حکمت عملی مرتب ہونے کا اب بھی کوئی اشارہ نظر نہیں آتا۔

سرمایہ دارانہ تسلط مسلم دنیا پر اس سرمایہ دارانہ تجارت سے قائم ہوا جو نشاۃ ثانیہ (renaissance) کے دور سے شروع ہوئی۔سرمایہ دارانہ تجارت کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت نے بھی مسلم دنیا کو مسخر کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔سولھویں صدی کے بعد سے یورپی استعمار نے ہم پر جو غلبہ حاصل کیا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ علمیت کا مقصد تسخیر کائنات ہے۔ہماری علمیت کا یہ مقصد نہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہمارے لیےسائنسی منہج اجنبی اور غیر معقول ہے اور جو ٹیکنالوجی اس منہج کو بنیاد بنا کر تعمیر کی جاتی ہے وہ ہمارے یہاں معروف نہیں ہوتی۔تحریک نشاۃ ثانیہ(renaissance) اور تحریک تنویر (enlightenment) میں جو ٹیکنالوجی یورپ نے ایجاد کی ترکوں، عربوں اور ہندی مسلم ٹیکنالوجی سے اپنی کائناتی تسخیر ی صلاحیت میں بہتر تھی۔یورپ کے پاس ہمارے مقابل زیادہ بڑے اور تیز رفتار جہاز تھے؛ اس کا جنگی سازوسامان ہمارے مقابلہ میں کہیں زیادہ تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔لہٰذا یورپی اقوام نے بحراقیانوس سے بحرالکاہل تک بیشتر مسلم ملک فتح کرلیے۔

ہم اس سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اس کے دو طریقے ہیں۔پہلا یہ کہ ہم لوگوں کو مسلمان بنائیں۔دسویں، گیارھویں صدی عیسوی میں اسلام اسپین، پرتگال، فرانس اور اٹلی میں موجود تھا (اس دور کے انگریز مسلمان بادشاہ الف الدین(Ulfa Rex) کے آثار بھی ملے جو Kentکے کچھ علاقہ میں حکومت کرتے تھے اور شہیدکردیے گئے تھے) لیکن ہم یورپی اکثریت کو مسلمان نہ بنا سکے اور ہر جگہ مسلم معاشرت عربوں تک محدود رہی اور اسپین تو وہ مرکز گمراہی ثابت ہوا جہاں مسلمان فلاسفہ کی فکر خوب غالب آئی اور جس نے پورے مغربی یورپ کو قدیم یونانی علمی جاہلیت سے متعارف کرایا۔

اگر ہم یورپ کو اسلامیانے میں کامیاب ہوجاتے تو وہاں بھی نشاطی اور تنویری جاہلیت کو ویسے ہی شکست دیتے جیسے امام غزالیؒ نے معتزلہ فکر کو مسخر کیا۔ نہ سائنس، سوشل سائنس اور تسخیری ٹیکنالوجی پھیلتی نہ دو کروڑ ریڈ انڈین قتل ہوتے۔نہ استعماری لوٹ مار عام ہوتی نہ وہ ماحولیاتی بحران پیدا ہوتا جس نے تسخیری سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ انسانیت کے وجود کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔آج بھی جاہلی علمیت اور استعماری قتل وغارت اور لوٹ مار سے مقابلہ کا ایک اہم ذریعہ یورپ امریکا چین، روس اور ہندوستان میں توسیع دعوت ہےاور ان تمام ممالک میں صوفیاء کرام اپنا قدیم تطہیر قلوب و نفوس کا مقد س فریضہ انجام دے رہےہیں اور راسخ العقیدہ عیسائی اور سلیم الفطرت ہندو جوق درجوق اسلام قبول کررہے ہیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی کو مسخر کرنے کی اہلیت پیدا کریں۔ ہم ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کریں:

اسلامی ٹیکنالوجی کی تعمیر ایک طویل المدت عمل ہے جس کی تکمیل میں صدیاں لگ سکتی ہیں اور اس پورے دور میں ہرجاہلی سائنسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے پر کسی نہ کسی حد تک مجبور رہیں گے۔یہ بات سوشل سائنسز سے برآمد ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔مثلاً اس عبوری دور میں ہم جمہوری عمل سے غیر متعلق نہیں رہ سکتے لیکن سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی (خواہ سائنٹفک خواہ سوشل سائنٹفک) کا استعمال ایسے ہونا چا ہیے کہ اس کے تضادات کو مہمیز دے کر اس کی تسخیر کی راہ ہموار کی جاسکے۔مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی (خواہ سائنٹفک خواہ سوشل سائنٹفک ) کو غیر اقداری سمجھاتا جاتا ہے۔ اس رویے کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی کا استعمال مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور ریاستی نظام کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی(خواہ سائنٹفک خواہ سوشل سائنٹفک) کے ان مضر اثرات کو دفع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی روحانیت،اخلاقیات اور معاشرتی ادارتی صف بندی کے فروغ پر عبوری دور میں خاص طورپر توجہ دی جائے۔

یورپی تہذیب مسلم دنیا میں اولاً تجارت کے ذریعہ داخل ہوئی اور یورپ کا یہ استعماری تجارتی دخول مسلمان حاکموں کے تعاون سے ہی ہوا۔ سولھویں صدی میں ایک معاہدہ کے ذریعہ پرتگالیوں کو بحراحمر،خلیج فارس، مشرتی اور مغربی افریقہ کے ساحلوں، کلکتہ اور گوا میں اپنی فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت دی گئی اور پرتگالی کسی حد تک مسلم ممالک کی باہمی بحری تجارت پر بھی اثرانداز ہونے لگے۔پرتگالیوں کو بے دخل کر کے ولندیزی، فرانسیسی او ربرطانوی تجارتی استعمار سترھویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا میں اپنے قدم جما چکا تھا اور ان تمام استعماریوں نے مسلم حکمرانوں کے تعاون ہی سے اپنی تجارتی اجارہ داری قائم کی۔ تجارتی استعماریت کے عروج کے بعد دو سو سال کے اندر اندر پورے مشرق پر یورپی استعماری تسلط قائم ہو گیا۔ امریکا اور افریقہ میں استعماری قتل عام او رلوٹ مار منظم ہوگیا اور چرچ نے لاطینی امریکا میں بزور شمشیرقدیم باشندوں کی اکثریت کو عیسائی بنایا۔

جن ممالک کو استعمار نے قدیم آبادی سے بالکل خالی کردیا تھا (امریکا، ویسٹ انڈیز،کینیڈا،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ) وہاں تنویری فکر ی رحجانات اٹھارھویں صدی کی ابتدا سے ظاہر ہونے لگے مثلاً برطانیہ کی شمالی امریکی نوآبادیوں میں نمایندہ جمہوری ریاستی تنظیم کے ابتدائی آثار سترھویں صدی عیسوی سے ہی واضح ملتے ہیں۔ جیسا کہ ایک امریکی مورخ مائیکل مین(Michael Mann) نے لکھا ہے ”یہ شہری نمایندہ جمہوریتیں ریڈ انڈینوں کے قتل عام میں سب سے آگے اور سب سے بڑھ کر پرجوش تھیں“۔تنویری سیاسی فکر امریکی اور آسٹریلوی نوآبادیوں میں شروع ہی سے جڑ پکڑ گئی تھی۔ انیسویں صدی کے مشہور فلسفی ہیگل نے پیش گوئی کر دی کہ سرمایہ داری کا مرکز اور اصل سرچشمہ قوت ریاست ہائے متحدہ امریکا ہوگا۔

پہلا سرمایہ دارانہ انقلاب تو برطانیہ کا ۱۶۸۸ کاا شاندار انقلاب(Glorious Revolution) تھا لیکن اس سے کہیں زیادہ بااثر سرمایہ دارانہ انقلاب وہ تھا جو ۱۷۷۶ سے شروع ہوا اور جس کے نتیجے میں بالآخرامریکا بحیثیت ایک آزاد سرمایہ دارانہ ریاست وجود میں آیا۔ اٹھارھویں صدی کے وسط تک سرمایہ داری ایک عالمی معاشی نظام بن گیا تھا؛ تجارت وصنعت دونوں پر سرمایہ دارانہ عقلیت اور تنظیم غالب آگئی تھی۔یورپ، امریکا، ایشیا کی معیشتیں فنانشل روابط اور ادارتی صف بندی کے وسیع جالوں میں مربوط ہوتی جارہی تھیں۔ سترھویں صدی ہی میں اس جاہلی علمیت کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کو (Orientalism) کہتے ہیں۔ اٹھارھویں صدی کے وسط سے اس علمیاتی منہج کے تناظر میں اسلامی علمیت اور تاریخ کو مسخ کرکے تغلب سرمایہ داری کا ذریعہ بنایا جانے لگا ؛الحاد(atheism) کے علمی جواز مقبول ہونے لگے۔اٹھارھویں صدی میں چینی ادب نے یورپی علمیت کو متاثر کیا اور انجیلی روایات کو نامعقول ثابت کیا جانے لگا (چینی ادب اور روایات کا سہارہ لے کر) یورپی جمالیات (آرٹ، بت تراشی،مصوری و موسیقی) بھی چینی اثر قبول کرتی ہوئی نظرآتی ہیں اور استعماری بہیمانہ قتل وغارت اور لوٹ مار کا علمی جواز جس کی جڑیں جان لاک کی سترھویں صدی کی تحریروں میں ملتی ہیں ان کو بھی مقبولیت عام اٹھارھویں صدی کے آخر سے ہی حاصل ہونا شروع ہوئی۔

یورپ نے پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام وحشیانہ سفاکیت، قتل وغارت اور لوٹ مار کے لیے مسلط کیا ہے اور آج بھی ان ممالک میں غارت گری جاری ہے جہاں سرمایہ دارانہ نظام مستحکم نہیں؛ افغانستان، شام، عراق، مالی، صومالیہ،کولمبیا،چیچنیا وغیرہ کی تباہی خود ساختہ نہیں۔ سرمایہ داری کا حالیہ عالمی تغلب فطری نہیں نہایت غیر فطری ہے؛ اس کو ایک غیر فطری علمیت نے ممکن بنایا ہے اور اس کی بالادستی بزور شمشیر ہی قائم کی جاسکتی ہے۔لیکن عسکری غلبہ (جو پہلے قائم کیا گیا ) کے نتیجہ میں غیر یورپی دنیا میں سرمایہ دارانہ تعقل اور علمیت بھی غالب آگئی سرمایہ دارانہ علمیت کو ہی حقیقی علمیت سمجھے جانے لگا۔انیسویں صدی میں ایک راسخ العقیدہ مسلمان مفکر مولانا الطاف حسین حالیؒ نے کہا:

علم کو ہرطرف کرو ارزاں

ہند کو اب بنا دو انگلستاں

سرمایہ دارانہ علمیت الحادی اور سیکولر ہے۔اس جاہلی علمیت کا مقصد تصرف فی الارض کے ذریعہ تسخیر کائنات کے علاوہ اور کچھ نہیں، یہ علمیت زندگی بعد از موت کے وجو د کو تسلیم نہیں کرتی؛ وحی کے ذریعہ حاصل شدہ علم (مذہبی علمیت) کو جاہلی سرمایہ دارانہ علمیت علم کے دائرہ سے خارج کہتی ہے۔لیکن اس جاہلی علمیت کی بنیاد شیطانی وحی ”لاالہ الاانسان“ پر رکھی گئی۔ علم کے حصول کا واحد ذریعہ حسیات (حواس خمسہ) سے حاصل شدہ اطلاعات کو مانتی ہے لیکن اپنے فاسد عقیدہ ”لاالہ الاانسان“ کو کسی حسی اطلاع کی بنیاد پر جواز فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

سرمایہ دارانہ جاہلی عقلیت کےمعاشرتی فروغ میں فری میسنری(free masonry) نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اٹھارھویں صدی کی ابتدامیںInternational Association of Freemasonry انگلستان میں قائم کردی گئی اور صدی کے آخر تک پورے یورپ میں ۲۵لاکھ سے زیادہ فری میسن موجود تھے۔ اپنی ابتدا کے وقت سےفری میسن ایک مذہب مخالف تحریک رہی ہے اور اس کا ایک اہم مقصد مذہبی (عیسائی اور یہودی)رسوم و رواج کو مسخ کرکے معاشرتی الحاد اور اباحیت کو فروغ دینا رہاہے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت اور جذباتیت کو فروغ دینے میں فحش ادب نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ سترھویں صدی کے وسط سے یورپ میں دیومالائی کہانیوں، رومانوی داستانوں، جنتریوں اور نجوم شناسی کی کتابوں کا ایک سیلاب یورپی چھاپہ خانوں سے نکل کر مقبولیت عام حاصل کرنے لگا۔ انجیل کے دہریائی(secular) تراجم جو پروٹسٹنٹ ازم کے سایہ میں کیے گئے، انہوں نے بھی تنویری فکر کی عمومیت اور فروغ میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

جس تحریک کو تحریک تنویر کہاجاتا ہے مورخین اس کو اٹھارھویں صدی سے وابستہ کرتے ہیں لیکن تنویری فکر کی جڑیں دور نشاۃ ثانیہ میں پیوست ہیں۔ تنویری فکر کے غلبہ کا دور اٹھارھویں صدی سے شروع ہوتا ہے جس میں اس جاہلی علمیاتی منہج کی تخلیق کی گئی ہے جسے سائنس کہتے ہیں۔ سائنسی منہج کا بنیادی مفروضہ یہ ہے طبیعی (physical) کائنات کے مشاہدہ کا مقصد طبیعی قوانین فطرت سے ہم آہنگی حاصل کرنا نہیں بلکہ ان قوانین کے ادراک اور استعمال کے ذریعہ کائناتی قوتوں پر انسانی ارادہ کا تغلب قائم کرنا ہے۔سائنس کا مقصد صرف طبیعی کائنات پر انسانی ارادے کے تغلب کا حصول نہیں معاشرہ پر بھی انسانی ارادے کا تغلب مقصود ہے (یہی سوشل سائنسز کا وظیفہ ہے)۔ یہ کوئی حادثہ نہیں کہ سائنسی منہج کے پھیلاؤ کا نہایت قریبی تعلق استعماری نظام کے فروغ سے ہے اور اٹھارھویں صدی میں جس سائنسی شاخ نے سب سے تیزی سے ترقی کی وہ جغرافیہ (geography)ہے۔

سائنس کا پہلا معاشرتی حملہ عیسائیت ہی پر تھا اور پورا زور انجیلی تعلیمات اور روایات کو غیر معقول،لغو اور خلافِ حقیقت ثابت کرنے پر لگایا گیا۔ فرانسس بیکن نے کہا کہ حقیقت وہ ہے جو تصرف فی الارض کے ذرائع تجربیت کے ذریعے دریافت کی جائے اور اس کو کام میں لاکر مادی ترقی (progress) کا عمل جاری رہے، حقیقت وہ نہیں جس کی انجیل مقدس ہمیں اطلاع دیتی ہے۔ سائنس کے ذریعہ انسان کائنات میں اپنی حاکمیت اعلیٰ (sovereignty) قائم کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ یورپ کی دہریہ (secular) اشرافیہ (جس کو انگلستان میں gentlemen کہاجانے لگا) نےپیشہ ور سائنس دانوں کی بھرپور اعانت کی اور اس تعاون کا بھی مذہبی غیر معقولیت ثابت کیے جانے کی مہم میں ایک اہم کردار ہے۔

سترھویں صدی کے سائنسی انقلاب نے اللہ تعالیٰ کی خلّاقیت کو چیلنج کیا۔ سترھویں صدی کے سائنس دانوں کے مطابق اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کائنات خدا کی تخلیق کردہ ہے تو اب یہ معلوم ہوگیا ہے کہ کائناتی نظام ایسے قوانین فطرت کی کارفرمائی کا محتاج ہے جو غیر متبدل ہیں اور جن کی ماتحتی پر خدا خود مجبور ہے(نعوذ باللہ)، خدا (ڈیکارٹ کے مطابق) وہ ہے جس نے کائنات کو ایک عظیم مشینی گھڑی بنایا اور اس میں چابی بھر کے اس کو انسان کے حوالے کردیا اور خود اس سے لاتعلق ہوگیا ہے۔ گلیلیو نے ثابت کیا کہ کائناتی نظام کا جو تصور انجیل مقدس میں پایا جاتا ہے وہ لغو اورصریحاً خلاف حقیقت ہے۔ نیوٹن نے ثابت کیا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے طبیعی قوانین ارضی اور سماوی تغیر (motion) کو متعین کرتے ہیں۔ نیوٹن کے مطابق ان قوانین کی کارفرمائی کے ذریعہ کائنات خود بخود اپنے آپ کو مستقل تخلیق کیے جاتی ہے۔

نیوٹن ایک پروٹسٹنٹ عیسائی تھا اور اس نے کئی کتابوں میں اپنے نظریات اور عیسائی تعلیمات کی تطبیق کی ناکام کوشش کی لیکن اٹھارھویں صدی سے عیسائیت اورسائنس میں وہ جنگ چھڑی جس کے کچھ اثرات انیسویں صدی تک دیکھے جاسکتے ہیں اور جو عیسائیت کی مکمل شکست پر منتج ہوئی اور اس شکست کے نتیجہ میں عیسائی انفرادیت، معاشرت اور ریاست سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں پوری طرح ضم ہوکررہ گئی۔

تحریک تنویر کا دور سترھویں صدی کی آخری دہائیوں سے شروع ہوتاہے اور اس کے اثرات نہایت دیرپا ہیں۔ تنویری مسلّمات کو بیسویں صدی کی تحریک پس جدیدیت (post modernism) نے لغو اورمہمل ثابت کیا ہے لیکن عملاً آج تک سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت، معاشرت اور ریاستی نظام تنویری نظریاتی اور اعتقادی مسلمات پر قائم اور کارفرما ہے۔

تحریک تنویر کے اولین مفکرین میں پیری بیل(Pierre Bayle) کا نام آتا ہے جس نے کہاکہ عیسائیت کا ہروہ عقیدہ او رنظریہ رد کیا جانا چاہیے جو سرمایہ دارانہ عقلیت کی کسوٹی پر غیر معقول ثابت کیاجاسکے۔ تحریک تنویر کا سب سے اہم مفکر امانویل کانٹ(Emanuel Kant) ہے۔ اس نے اپنے مشہور مقالہ (What is Enlightenment?) میں لکھا کہ تنویریت (enlightenment) انسان کو ان تمام بندشوں سے آزاد کرانا ہے جو اس نے خود اپنی فکر اور عمل پر نافذ کی ہوئی ہیں۔ ہرعقیدہ ہر نظریہ ہر مفروضہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ کوئی عقیدہ کوئی نظریہ مقدس نہیں۔ جاہلی علمیت کی بنیاد ایمان نہیں ریب (شک ) ہے صرف ایک مفروضہ شک سے بالاتر ہے اور وہ ہے کلمہ خبیثہ ”لاالہ الاانسان“۔ ہر تنویری فرد (enlightened being) اس کلمہ خبیثہ پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہے او ریہ ایمان اس کو انسان سے ہیومن بینگ (human being) بنادیتا ہے۔ ہر انسان ہیومن بینگ نہیں صرف وہ انسان ہیومن ہے جو اپنی ذات کی خود تخلیقیت پر ایمان لے آئے۔

کانٹ نے لاک کے اس مفروضہ کو قبول کیا کہ علم کی بنیاد صرف وہ اطلاعات ہیں جو ہیومن بینگ اپنے حواس خمسہ کے ذریعہ حاصل کرکے ذہن تک پہنچاتا ہے اور انسانی ذہن ان اطلاعات کو مربوط کر کے تصوراتی خاکہ (perception) تخلیق کرتا ہے۔ انسانی ذہن ایک خالی سلیٹ ہے جس پر حسیاتی تحریروں کے علاوہ کچھ نہیں لکھا ہوا؛ انسان خیر وشر کا کوئی معروضی تصور نہیں رکھتا۔ لاک نے کہا خیر وہ ہے جو ہیومن بینگ کو لذت فراہم کرے اور شروہ ہے جو دکھ دے۔ ایک صدی بعد ڈیوڈ ہیوم (David Hume) نے اس مفروضہ کی بنیا دپر فلسفہ افادیت (utilitarianism) کا فلسفہ تخلیق کیاجو جاہلی علم اکنامکس کی اعتقادی اساس ہے اور جس کی بنیاد رپر دور حاضر کی تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں پالیسی سازی کرتی ہیں۔ ہرتنویری جاہلی علمیاتی منہج (فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، اکنامکس، پولیٹیکل سائنس، سوشیالوجی، سائیکالوجی، جیورس پروڈینس)تسخیر کائنات کے ایسے عمل کو جواز فراہم کرتا ہے جو ہیومینٹی (humanity) کو زیادہ سے زیادہ لذت فراہم کرے۔

تحریک تنویر کا ایک اہم مقصد دنیا میں جنت بنانا ہے۔ تحریک تنویر اور تحریک نشاۃ ثانیہ میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ تحریک نشاۃ ثانیہ ماضی (قدیم یونانی اور رومن تہذیبوں) کو دوبارہ زندہ (نشاۃ ثانیہ) کرنے کی جستجو تھی اس کے برعکس تحریک تنویر ایک ایسا درخشاں دور تعمیر کرنے کی سعی تھی جو تاریخ میں کبھی نہیں گزرا۔ سرمایہ دارانہ عقیدہ ترقی (progress) تحریک تنویر کی پیداوار ہے۔ ترقی کے تصور کو معاشرتی اور سیاسی مقبولیت دلانے میں تحریک تنویر کے اس دھارےنے اہم کردار ادا کیا جس کو اسکاٹش تنویریت (Scottish Enlightenment) کہتے ہیں۔ ۱۷۷۶ء میں ایڈم سمتھ نے اپنی مشہور کتاب (An Enquiry into the Nature and Cause of Wealth of Nations) لکھی۔ اسمتھ اپنے استاد ہیوم(David Hume) کی طرح ایک فلسفی تھا۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی میں دو ڈھائی صدیوں تک اکنامکس کو اخلاقی فلسفہ کے ذیلی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا رہا ہے۔ Wealth of Nationsسے اکنامکس پرآمد ہوئی۔ اکنامکس جن مفروضات کی بنیاد پر اپنا تجزیاتی محاکمہ مرتب کرتی ہے وہ حسب ذیل ہیں:

یہ مفروضات عیسائی تعلیمات سے متصادم تھے اور تحریک تنویر کے علمیاتی اور معاشرتی غلبہ کے نتیجہ میں عیسائی تحکیم اور تعقل مجروح اور مفلوج ہوتا چلا گیا۔ تحریک تنویر کے غلبہ کے نتیجہ میں سائنس اور فلسفہ نے مذہب کو معاشرتی اقتدار سے بے دخل کر دیا؛ یورپ اپنے ماضی پر شرمندہ ہو گیا اور مذہبیت کی معاشرتی بے دخلی کی جومہم پروٹسٹسٹ ازم (Protestantism) نے برپا کی تھی اس کو پایہ تکمیل تک تحریک تنویر نے پہنچایا۔ سرمایہ دارانہ تعقل (rationalism) کی پرستش نے دھیرے دھیرے خدا کی پرستش کو معاشرہ سے بے دخل کر دیا۔

مذہبی علمیت کو جہالت کہا گیا اور کانٹ نے غیر تنویری انفرادیت اور معاشرت کو نا بالغ قرار دیا؛ الہٰیاتی حقائق کے ادراک کو ناممکن گردانا گیا اور ان تک رسائی کی کوشش کو بے معنی اور لاحاصل گردانا گیا۔ سائنس اور جاہلی فلسفیانہ منہاج اور معلومات کو عام کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور ۱۷۵۱ اور ۱۷۶۵ کے درمیان فرانسیسی فیلسوف نے اکیس جلدوں میں مرتب انسائیکلوپیڈیا شائع کی جو تنویری پروپیگنڈا سے بھری ہوئی تھی۔ نظریہ ٹالرنس سترھویں صدی کی ایجاد ہے لیکن اس کی بھرپور وکالت encylopediasts ہی نے کی۔ اس نظریہ کے مطابق اظہارِ آزادئ رائے ایک ہیومن رائٹ ہے اور کسی فرد یا ریاست اور گروہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس حق کے اظہار کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرے۔ حضرت عیسیٰ ؑ، حضرت مریم ؑ اور دیگر عیسائی بزرگوں کی تضحیک اور تحقیر کی وہ مہم جو پوری اٹھارھویں صدی میں (بالخصوص فرانس) جاری رہی آزادئ اظہارِ رائے کے معاشرتی جواز اور تقدس کا ایک اہم ذریعہ بنی۔

تنویری مفکروں کا دعویٰ ہے کہ تنویری اقدار، اعتقادات اور نظریات معروضی اور آفاقی ہیں؛ ان کا اطلاق ہر جگہ اور ہر حال میں ہوتا ہے کیوں کہ وہ ایک معروضی علمیت (جاہلی سرمایہ دارانہ علمیت سے) برآمد ہوئے ہیں۔ ہر انسان کا حق اور فرض ہے کہ وہ ہیومن بینگ (خود غرض، حریص، حاسد،خود تخلیقیت کا دعوے دار) بن جائے۔ تنویری علمیاتی منہاج (جاہلی سرمایہ دارانہ علمیت) کو مجبور یا مسخر (transcend) نہیں کیاجاسکتا۔ ان معنوں میں تنویری فکر کا غلبہ دائمی ہے۔ تاریخ کے اختتام کا دعویٰ سب سے پہلے جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل نے کیا۔

فرانسیسی سیاسی فلسفی مونٹیسکیو نے معاشرتی ساخت کو سائنس اور سوشل سائنس کے مروجہ قوانین فطرت کے مطابق ڈھالنے کی مہم کا آغاز کیا۔ معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری اس طبقہ کو تفویض کی گئی جسے آج انٹلیکچوئل کہاجاتاہے اور جس کا کام ہرانفرادی معاشرتی اور ریاستی عمل پر جاہلی عقلیت کی بنیاد پر مرتب کی گئی مستقل تنقید کو جاری رکھنا ہے یہ انٹلیکچوئلز بھی تحریک تنویر کی ایک پیداوار ہیں۔ معاشرتی اور سیاسی تغیر جو تنویری انٹلیکچوئلز اور حکمراں لانے کی کوشش کررہے تھے وہ عیسائیت اور چرچ کے اختیارات کو محدود کیے بغیر ناممکن تھا۔ دھیرے دھیرے چرچ کی تعلیمی شعبہ کی اجارہ داری کو ختم کیا گیا اور مالیاتی نظام میں مذہبی محصولات کی تحدید کی گئی چرچ کے قانونی نظام کو مفلوج کیا گیا اور آزادئ اظہارِ رائے کے ذریعہ عیسائی تعلیمات کو مستقلاً مضحکہ خیز اور لایعنی ثابت کیا جاتا رہا۔

تحریک تنویر کے بطن سے تمام سرمایہ دارانہ نظریات لبرل ازم، سوشل ازم، سوشل ڈیموکریسی، انارکزم برآمد ہوئے۔ تحریک تنویر کی بنیادی قدرآزادی ہے اور اس نے ترقی کے ہدف کوحاصل کرکے ثابت کر دیا کہ ترقی بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بڑھوترئ سرمایہ اور فروغِ آزادی کی راہ میں مذہب ہی مزاحمت کرتا ہے کیوں کہ مذہب کا دعویٰ ہے کہ دنیامیں جنت بنانے کا عمل غیر معقول اور بے معانی ہے؛ ہر انسان کو آخرکار موت سے ہمکنار ہوجانا ہے اور جنت ارضی دائمی نہیں ہوسکتی؛ دنیا آزمائش گاہ ہے اور یہاں انسان کی جدوجہد حصولِ لذات کے لیے نہیں حصولِ رضائے الٰہی کے لیے ہونی چاہیے اور انفرادیت، معاشرت اور ریاست کی ترتیب کا مقصد بھی حصول رضائے الٰہی ہی ہے تمتع فی الارض نہیں؛ عیسائیت نے حضرت عیسیٰ ؑ کی یہ دعا نقل کی ہے :

Thy kingdom come on earth as it in heaven

تیری بادشاہی قائم ہودنیا میں جیسے کہ وہ آسمانوں میں ہے۔

یہ تعلیمات تنویری تصورِ حیات کی کلیتاً نفی کرتی ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ تحریک تنویر کے معاشرتی غلبہ کے نتیجہ میں وہ تحریک عام ہوئی جس کو ردِ علما و ردِ مذہبیت (anticlergy) کہاجاتا ہے۔ تنویری ریاستوں اور حکمرانوں نے چرچ کے اداروں اور قوانین کو رد کرنے کی باضابطہ مہمات مرتب کیں اور تحریک تنویر سے برآمد شدہ انقلابات بالخصوص۱۷۸۷ کے انقلاب فرانس کے دوران ۱۷۸۷ سے 1793 تک لاکھوں عیسائی بزرگوں کو بے دریغ پورے یورپ میں قتل کیا جاتا رہا۔ اٹھارھویں صدی میں مادہ پرستی (materialism) کے فلسفہ کی تدوین کی باضابطہ ابتداہوئی اور صرف چرچ اور اس کے اداروں کو نہیں بلکہ تصور مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ عیسائی اور یہودی عقائد اور تصورات کی مادی تشریح کی گئی اور مذہب کی حقانیت سے انکار کیا گیا اورکہا گیا کہ مذہب محض ایک سماجی ادارہ ہے جس کو برداشت کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ سماجی استحکام کو فروغ دیتا ہے۔ انیسویں صدی میں مارکس نے اس خیال کو یوں بیان کیا کہ مذہب ”عوام کی افیون ہے“۔

تحریک تنویر کی پہلی مربوط تنقید بھی اٹھارھویں صدی میں پیدا ہوئی۔ اس تنقید ی محاکمہ کو رومانویت (Romanticism) کہتے ہیں اور اس کا بانی مفکر ژاں ژاک روسو تھا۔ روسو نے کہا کہ تحریک تنویر انسان کے جذباتی اور غیر عقلی میلانات اور رحجانات کا شعور نہیں رکھتی؛ انسان محض ایک عقلی (rationale) وجود نہیں اس کی جذباتی زندگی بھی اس کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ روسو کے مطابق اگر انسانی جذباتیت کی صحیح خطوط پر پرورش نہ کی جائے تو اس کی شخصیت مسخ ہوجاتی ہے اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں تخلیقی اور تعمیری انفرادیت سازی ممکن نہیں ہوتی۔ روسو نے مذہبی جذباتیت کی نفسیاتی تشریح مرتب کی۔ روسو نے فطرت پرستی کے احیا میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی فکر کا اظہار وسیع پیمانے پرادب اور آرٹ میں ہونے لگا۔ تعلیمی نظام کی ترتیب نو کے جو تصورات روسو نے پیش کیے ان کے اثرات بھی نہایت دیرپا ثابت ہوئے۔ تصور ترقی کی پہلی یورپی تنقید بھی روسو کی فکر میں ملتی ہے۔ اس کی اخلاقی تعلیمات بھی منفرد تھیں اور وہ قدیم یونانی آبادی سپارٹا (Sparta) کے طرزِ حیات کے احیا کی ضرورت پر زور دیتا تھا۔

روسو کا تصور ِ معاہدہ عمرانی(social contract) بھی سرمایہ دارانہ سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسویں صدی کے سب سے اہم سرمایہ دارانہ سیاسی فلسفی جان رالز (John Rawls) نے اپنے تصور مقامِ ابدی(original position) کے ذریعہ اسے دوبارہ زندہ کیا ہے۔ تصور معاہدہ عمرانی کے مطابق ابتدائےآفرینش میں مساوی حقوق اور اختیارات رکھنے والے افراد نے اجتماعی آزادی کے فروغ کے لیے ایک سیاسی نظم قائم کرنے کا معاہدہ کیا اور اب وہی ریاستی نظام جائز (legitimate) کہا جائے گا:

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک رومانویت (جس کے بانیوں میں روسو کا مقام نہایت اہم ہے) کے کلیدی اہداف تحریک تنویر کی طرح آزادی اور مساوات ہی ہیں۔ رومانویت جذباتیت، ہیجان (hysteria) وجدان(intuition) اور فطری میلان کی کارفرمائی پر زور دیتی ہے۔ رومانویت کو دہری پروٹسٹنٹ ازم بھی کہا گہا ہے کیوں کہ پروٹسٹنٹ ازم کی طرح رومانویت بھی جس انسانی وصف کو اہم ترین گردانتی ہے وہ ہےاخلاق لیکن پروٹسنٹ ازم خدا اور انجیل مقد س کی تعلیمات سے مخلص ہونے کی خواہاں اور رومانویت فطرت انسانی کے اس تصور سے مخلص ہے جس کے مطابق انسان ایک آزاد خود مختار اور خود تخلیقی انفرادیت کا حامل ہے (یعنی وہ ہومن بینگ ہے)۔ انسان کی خود مختاری اور خود تخلیقیت صرف سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی ہی میں پنپ سکتی ہے (کسی مذہبی معاشرت اور ریاست میں نہیں) لہٰذا تنویریت کی طرح رومانویت بھی سرمایہ دارانہ نظام سے مخلص ہے۔

ابتداً رومانویت نے جس فلسفیانہ منہج کے تناظر میں ترقی کی اس کو مظہریات (phenomenology) کہتے ہیں لیکن دورِحاضر میں رومانوی آدرشوں کا سب سے مؤثر اظہار تحریک پس جدیدیت (postmodernism) میں ہوتاہے۔ اب میں تحریک پس جدیدیت پر چند گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

4.2۔ تحریک پس جدیدیت (Postmodernism)

پوسٹ ماڈرن ازم کی بنیاد اس مکتب فکر سے منسوب ہے جس کو فرینکفرٹ اسکول (Frankfurt school) کہاجاتاہے۔ یہ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد قائم ہوا۔ اس کے دواہم ترین مفکر میکس ہارکہائیمر (Max Horkheimer) اور تھیوڈر اڈارنو (Theodor Adorno) تھے جبکہ دور حاضر کا سب سے اہم تنویری مفکر ہابرماس (Jorgen Hebermas) ہے۔ یہ اڈارنو کا شاگرد ہے۔ اڈارنو اور ہارکہائیمر کو مارکسی گردانتے تھے لیکن انہوں نے مارکسی فکر کے مختلف پہلوؤں پر تنقید مرتب کی اور پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کی ابتدا مارکسی آدرشوں کے نقد کی صورت میں ہوتی ہے۔

بیسویں صدی سرمایہ دارانہ نظام کی حیرت انگیز ترقی کا دور ہے لیکن یہ ترقی غیر مستحکم اور متزلزل رہی اس حد تک کہ کئی مفکرین سرمایہ دارانہ نظاماتی زوال کو بھی اسی صدی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اشیائے صرف کی ایسی بھرمار جیسی آج ہے کبھی نہ تھی( امریکا میں دانت مانجنے کے منجن کے ایک لاکھ سے زیادہ برانڈ موجود ہیں)۔ ماکیٹ کا پھیلاؤ جتنا وسیع آج ہے پہلے کبھی نہ تھا اور مارکیٹوں میں آگے بڑھنے اور روند ے جانے کے جتنے امکانات اور خطرات آج ہیں وہ بھی پہلے کبھی نہ تھے۔ سود اور سٹہ کے بازاروں میں ہر دم غیر متوقع اتار چڑھاؤ زندگی کو پچیدہ تر بنا رہاہے اور ایک عام آدمی ہر لمحہ حوادث کا شکار ہونے کے امکانات سے خوف زدہ رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کی یلغار بھی آج ایسے عروج پر ہے کہ روایتی تہذیبی آدرشوں کے سہارے طرزِ زندگی کو ترتیب دینا مشکل سے مشکل ہوتا جارہاہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت انتشار کا شکار ہے اور معاشرتی ارتباط تحلیل ہو رہاہے۔ روایتی نظام تحکیم(structure of authority) اپنا جواز کھو رہاہے لیکن اس کی جگہ لینے والا سرمایہ دارانہ نظام محکم جواز حاصل نہیں کررہا۔ معاشرے پر سائنٹفک ارتقا کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ کسی بھی آفاقی آدرش اور اس سے متعلقہ مفروضات پر ایمان لانا غیر منطقی سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ شک اور ریب کی عالمگیریت کا دور ہے۔ فرائیڈ (Freud) اور ایڈلر(Adler)کی نفسیاتی تحقیقات نے بیسویں صدی کی ابتدا ہی میں تحریک تنویر کے تصور خود مختار، خود تخلیقی انفرادیت کو مشتبہ بنادیا تھا۔ معاشرتی انحطاط۱۹۶۰کی دہائی میں ہوا جب یورپ امریکا اور لاطینی امریکا میں جنسی بے راہ روی کا ایک ایسا سیلاب آیا جو رکنے کا نام نہیں لیتا۔ نکاح معطل اور زنا عام ہوگیا؛اسقاط حمل کی مہم اتنی وسعت اختیار کرگئی کہ مغربی ممالک کی آبادی گرنے لگی۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں امریکی اور یورپی یونین کے موجودہ ممبروں کی ملکی آبادی کا دنیا کی آبادی میں تناسب اکیس فیصد تھا۔ آج یہ گرکر تقریباً تیرہ فیصد رہ گیا ہے اور سو سال کے بعد شاید چھےفی صد رہ جائے (یہ اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے)۔ جرمنی، فرانس، اسکینڈے نیوین ممالک ، اٹلی،جاپان اور کوریا کی آبادی تیزی سے گر رہی ہے۔ برطانیہ اور یوایس اے کی آبادی میں جو اضافہ ہورہاہے سب کا سب ایشیائی، افریقی، اور لاطینی امریکی آبادکاروں کی وجہ سے ہے۔ ان ممالک میں مقامی گوری آبادی تیزی سے گر رہی ہے۔ یورپ امریکا، چین، جاپان اور کوریا میں ۶۵ سال سے زیادہ عمروالے افراد کا مجموعی آبادی میں تناسب تیزی سےبڑھ رہا ہے کیوں کہ شرح پیدائش تیزی سے گررہی ہے۔

تحدید آبادی اور زناکاری کے مغرب میں عام ہونے کی دووجوہات ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد بہت بڑے پیمانے پر عورتوں نے ملازمتیں اختیار کرلیں اور اب امریکا اور یورپ میں ایسے گھرانے جہاں صرف مرد کمائی کرتے ہوں تقریباً ناپید ہوگئے ہیں۔ دوسری وجہ تحریک نسواں(Feminist Movement ) کا فروغ ہے۔ یہ تحریک دراصل تحریک رد ِ نسوانیت(de-feminism) کی تحریک ہے اور اس کا بنیادی وظیفہ یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں؛ یہ عورتوں کو مرد بناتی ہے اور کہتی ہے کہ چونکہ مرد بچے پیدا نہیں کرتے لہٰذا عورتوں کو بھی بچے پیدا نہیں کرنے چاہئیں۔

تحریک ردِ نسوانیت اور عورتوں کی ملازمت کو فروغ دینے کی مہمات دونوں سرمایہ دارانہ نظام کو پھیلاؤ اور استحکام دینے والی تحریکیں ہیں۔ ان تحریکوں کی کامیابی کے نتیجہ میں مارکیٹ میں سستی اجرتوں پر کام کرنے والے کروڑوں افراد میسر آتے ہیں اور یوں سرمایہ دار کی شرح منافع (profit rate) اور شرح استحصال (rate of exploitation) بڑھتی ہے اور بڑھوترئ سرمایہ (capital accumulation) تیز سے تیز تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ لہٰذا ہر سرمایہ دار ملک (چین، جاپان،ہندوستان،کوریا، روس) میں تحریک ردنسوانیت خوب پھل پھول رہی ہے اور عورتوں کی ملازمت کرنے کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہورہاہے اور ظاہر ہے کہ ہر سرمایہ دارا ملک میں عیاشی، فحاشی اور جنسی بے راہ روی ایک وبا کے طورپر خاندانی نظام کو تباہ کررہی ہے۔ یورپ اور امریکا کی ہرعورت فاحشہ بن گئی ہے (الاماشاء اللہ)؛ وہ بچے تو پیدا نہیں کرتی لیکن ہررات زناکرتی ہے۔ وہ جنسی کھیل کھیلنا سات سال کی عمر سے شروع کردیتی ہے (امریکا میں) اور پوری زندگی میں اس کے لاتعداد آشنا ہوتے ہیں۔ یورپ اور امریکا اور ہندوستان تک میں اغلام بازی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور جرمنی میں حکومت پر دباؤ ہے کہ کتوں اور سوؤروں سے مباشرت کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔اقوام متحدہ زنا با الرضا اور اغلام بازی کو ایک ہیومن رائٹ گردانتی ہے۔ اب تو عیسائیوں کا پاپائے اعظم فرانسیس (Francis) بھی اغلام بازی کو برداشت کرنے کی وکالت کرتا ہے اور اسکینڈے نیوین ملکوں کے مذہبی حلقے ماں اور بہن، باپ اور بھائی، بیٹا اور بیٹی سے رضاکارانہ زناکاری کو برداشت کرنے پر آمادہ نظرآتے ہیں۔

؎ کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات

جنسی بے راہ روی کی جو وبا یورپ اور امریکا (اور چین،جاپان، ہندوستان) میں آئی ہوئی ہے اس نےپس جدیدی post modernism فکر اور تحریک کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم انسانی اعمال پر تمام قیود اور حدودکو مسمار کرنے کی وکالت کرتا ہے اور ہیومن بینگ کو کلیتاً خود مختار بنانے کا داعی ہے۔ یعنی نفس امارہ کا غلام بنانا اور اباحیت اس حیوانی نفسانیت کو فروغ دینے کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہیں، حیوانی نفسانیت کی غیرمشروط تابعداری سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کی روح ہے اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ او رسرمایہ دارانہ ریاستیں (قانون سازی کی ذریعہ) جنسی بے راہ روی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

3۔آزادی

1.3۔عقیدہ اور نظریہ کا فرق

دورِ حاضر کی اسلامی فکر کی یہ ایک عمومی کمزوری ہے کہ وہ عقائد اور نظریات میں فرق نہیں کر پاتی اور نظریات میں اختلاف کی بنیادپر عقائد میں اختلاف کا حکم لگاتی ہے۔ عقائد سے مراد ایمانیات ہیں۔ اسلامی ایمانیات میں ایمان باللہ، ایمان بالرسالت،قبر، حشر،قیامت،جنت دوزخ وغیرہ شامل ہیں۔ ان عقائد پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازم ہے، ہر وہ گروہ جومتذکرہ بالا عقائد پر ایمان نہیں رکھتا کافر ہے اور اس کو کافر کہنا درست ہے۔

نظریات سے مراد وہ تصورات (Theories) ہیں جو عقائد کے اظہار کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر میں عقائد اسلامی کے فروغ کے لیے پیرومرید میں جس نوعیت کا رشتہ قائم کیا جانا چاہیے یہ ان رسوم و رواج کی ادائیگی کے بارے میں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں لیکن جن کا شرع مطہرہ کے احکام سے تصادم نہیں، اختلاف ہے۔ یہ ایک نظریاتی اختلاف ہے، اعتقادی اختلاف نہیں اور اس نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر کسی گروہ کو یا اس کے افراد کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف نظریات، قوم پرستی، سوشل ازم، لبرل ازم، سوشل ڈیمو کریسی اور انارکزم ہیں۔ یہ سب سرمایہ دارانہ نظریات اس لیے ہیں (اور جدا جدا نظام ہائے زندگی نہیں) کیوں کہ ان کے ماننے والوں کے عقائد ایک ہیں۔ وہ سب سرمایہ دارانہ عقائد پر ایمان لاتے ہیں۔ اب ہم سرمایہ دارانہ عقائد کی تفصیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے تین بنیادی عقائد ہیں جن پر ہم جدا جدا گفتگو کریں گے،وہ یہ عقائد ہیں:

١۔آزادی (Freedom)

٢۔مساوات (Equality)

٣۔ترقی (Progress)

جو شخص ان پر ایمان لے آتا ہے وہ ایک سرمایہ دار ہے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی اختیار کرتا ہے۔ ہر وہ مزدور جو آزادی، مساوات اور ترقی پر ایمان لے آئے اپنی تمام تر مفلوک الحالی کے باوجود ایک سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے اور ہم اس کو سرمایہ دار کہنے میں حق بجانب ہیں۔ اس کے برعکس حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ اپنی تمام تر دولت مندی کے باوجود سرمایہ دار نہ تھے کیوں کہ وہ آزادی، مساوات اور ترقی پر ایمان نہیں لائے تھے۔ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں تو ہم آزادی، مساوات اور ترقی کے وہ مطالب قبول کرتے ہیں جو تاریخ میں رائج ہیں۔

2.3۔آزادی کیا ہے؟

یہاں ہم آزادی پر بحیثیت ایک نظری اصطلاح کے گفتگو کررہے ہیں۔ نظری اصطلاحات کے معنی لغوی نہیں ہوتے۔ آزادی کے لغوی معنی یہ ہیں کہ آپ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس معاملہ میں مجبور نہیں ہیں مثلاً جانور حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اس معنی میں آزاد ہیں لیکن وہ کلام (بمعنی گفتگو نہیں کرسکتے ان معنوں میں وہ مجبور ہیں)۔لغوی اعتبار سے آزادی ایک صفت اور صلاحیت ہے جیسے سانس لینے کی صلاحیت ہے، کھانا کھانے کی صلاحیت ہے۔ اگر انسان کوآزادی کی صلاحیت نہ دی جاتی تو خیر و شر میں تمیز کرنے کے قابل نہ بن سکتا اور وہ خلیفہ فی الارض کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ لیکن سانس لینے کی صلاحیت کا فروغ یا طبعی آزادی کا فروغ ایک مسلمان کا مقصدِ حیات نہیں ہو سکتا۔ مقصدِ زندگی تو اس طبعی آزادی کو اللہ کے احکام کے تابع کردینا ہے اور اس اطاعتِ الٰہی کو عبادت کہتے ہیں۔ عبادت بھی ایک نظریاتی تصور ہے اور اس کے معنی لغت سے نہیں بلکہ اسلامی کلامی اور فقہی تشریحات سے اخذ کیے جاتے ہیں۔

آزادی بحیثیت ایک نظریہ کے اٹھارھویں صدی عیسوی کے یورپ میں ایجاد ہوئی اور اس تصور کی ایجاد کا سہرا دو اشخاص کے سر ہے۔ فرانسیسی سائنس دان ڈیکارٹ (Descartes) اور جرمن فلسفی کانٹ (Kant)۔ ان کے خیال کے تحت انسان کا وجود اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سوچ سکتا ہے۔ ڈیکارٹ کا مشہور جملہ ہے ”میں سوچ سکتا ہوں لہٰذا میں موجود ہوں“۔ کانٹ نے کہا کہ انسان کے ذہن کی ساخت اس نوعیت کی ہے کہ حواس خمسہ سے حاصل کی ہوئی اطلاعات کو صحیح تصورات (Concepts) کی شکل میں مرتب کرسکتی ہے۔ اور چوں کہ تمام انسانوں کے ذہن کی ساخت یکساں ہے لہٰذا ہر فرد ایک ہی نوع کے تصورات حواسِ خمسہ سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کرتا ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ انسان ذہن کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے خود حقائق کا ادراک کرسکتا ہے اور حقائق کے ادراک کے لیے وہ خدا کا محتاج نہیں۔ انسان ان معنوں میں قائم بالذات ہے کہ حقیقت تک رسائی کے لیے اس کا اپنا ذہن اس کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ رہے مذہبی تصورات تو ان کی کوئی علمی حیثیت نہیں۔ علم صرف ان حقائق تک محدود ہے جن تک حواسِ خمسہ کو رسائی حاصل ہے۔ باقی تمام حقائق علم کے دائرہ کار سے خارج ہیں اور ان کا خیر و شر اور انسانی معاملات کی تفہیم اور تشکیل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان معنوں میں انسان فطرتاً آزاد ہے اور جو لوگ اپنے اس فطری حق کو استعمال نہیں کرتے وہ کانٹ کے مطابق نابالغ (Immature) ہیں۔ ہر انسان کو آزاد ہونا چاہیے، اس کو ہدایت کے حصول اور حق اور خیر کے تعین کے بارے میں صرف اپنے آپ پر انحصار کرنا چاہیے۔ نظام زندگی کو اس طرح مرتب کرنا چاہیے کہ ہر فرد اپنی فطری آزادی کا ادراک کرسکے اور اپنی عقل کے فیصلوں کی اطاعت کر سکے۔

کانٹ نے اپنے ہم عصر فلسفی ڈیوڈ ہیوم (David Hume) کی یہ رائے قبول کی کہ عقل زیادہ سے زیادہ انسانی خواہشات کی تسکین کا جواز پیش کرتی ہے۔ تنویری عقلیت (Enlightenment Rationality) خود غرضانہ عقلیت (Self-interested Rationality ) ان معنوں میں ہے کہ یہ عقلیت تمام خواہشاتِ نفسانی کی لامحدود تسکین کا جواز فراہم کرتی ہے۔ ہیو من بینگ کا حق ہے کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکے۔ کوئی عمل بذاتِ خود حلال یا حرام، اچھا یا برا نہیں۔ ہر وہ عمل جائز ہے جو ہومن بینگ پسند کرتا ہے۔ بشرط کہ اس عمل کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجہ میں کوئی دوسرا ہومن بینگ اپنے پسندیدہ عمل کو انجام دینے سے محروم نہ ہو جائے۔ اس ضابطہ کوPrinciple of Universalizability کہتے ہیں۔

اس قاعدہ کے مطابق چوری کرنے کے عمل کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کوئی یہ نہیں چاہ سکتا کہ ہر شخص کو چوری کرنے کی اجازت ہو۔ اس صورت میں خود اس کی املاک بھی چوری ہوجائیں گی اور یہ نا قابل قبول ہے، لیکن زنا بالرضا کا جواز ہے۔ کسی فرد کے زنا بالرضا کرنے سے کسی دوسرے کا زنا بالرضا کا ارادہ تکمیل تک پہنچنے سے نہیں رہ جاتا لہٰذا زنا بالرضا ایک Universalisableمستحسن فعل ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری اور آزادی کا فرو غ ایک چیز کے دو نام ہیں۔ آزادی کا فرو غ سرمایہ داری کی تجسیم ہے کیوں کہ سرمایہ ایک ایسا سیال ہے جس سے آپ اپنی ہر خواہش پوری کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ مسجد بھی بناسکتے ہیں اور شراب خانہ بھی۔ حلال گوشت کا کاروبار بھی کرسکتے ہیں اور خنزیر کی افزائش بھی اور سرمایہ Universalisable ہے، ہر شخص سرمایہ دار یعنی حاسد اور حریص بن سکتا ہے اور ایک شخص کا حرص اور حسد عمومی حرص اور حسد کے فروغ میں مزاحم نہیں معاون ہے۔ لہٰذا سرمایہ کی بڑھوتری اور آزادی کی بڑھوتری لازم و ملزوم ہیں اور سرمایہ دارانہ مارکیٹیں یعنی زر کا بازار (Money market) اور سٹے کا بازار (Capital Market)کسی شے اور عمل کی قدر صرف اس بنیاد پرکرتی ہے کہ اس فعل کے انجام دینے سے یا اس شے کے بنانے سے سرمایہ کی رفتار ِبڑھوتری میں کتنا اضافہ ہورہا ہے۔ آزادی سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کی بنیادی قدر اس وجہ سے ہے کہ سرمایہ آزادی کی تجسیم، اس کی Concrete form ہے اور فروغ آزادی، بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔

3.3۔تصور آزادی کی اسلام کاری

لبرل فکر سے متاثر مسلمان کہتے ہیں کہ آزادی کا مفہوم ”لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر خدا کا غلام بنانا ہے“ یہ بالکل غلط بات ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں:

پہلی وجہ ہے کہ آزادی کی جو تعبیری توجیہ تاریخ میں مرتب ہوئی اس کا مطلب ہے ”انسانوں کو خدا کی غلامی سے رہاکر کے ان کو خود اپنے نفسانی خواہشات کا غلام بنادینا ہے“ اور تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ آزادی پر ایمان لانے والے لبرل، قوم پرست، سوشلسٹ، کبھی خدا کے بندے نہیں بنتے۔ وہ ہمیشہ اپنے نفس کے بندے بنتے ہیں اور خدا سے بغاوت کرتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانوں کی غلامی سے آزادی کا مطلب اس نظام ہدایت کا انہدام ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسلام ایک مساویانہ (egalitarian) معاشرہ قائم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جہاں اہل تقویٰ کی فوقیت اور بالادستی کو روحانی، سیاسی اور علمی سطح پر تسلیم بھی کیا جائے اور بروئے کار بھی لایا جائے۔ اپنی چودہ سو سالہ تاریخ میں اسلامی معاشرہ ایک درجہ بند (stratified) معاشرہ رہا ہے اس حد تک کہ شرع مطہرہ واضح صراحت کے ساتھ غلامی کی اجازت دیتی ہے اور غلامی کے ادارہ کے فروغ کے ذریعہ ایک صدی کے اندر اندر پورے مشرق وسطیٰ کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔ آج بھی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں فلسطین، کشمیر اور افغانستان میں فتح دے تو ہم حربی کفار اور ان کے مسلم معاونین کو غلام بنائیں گے کیوں کہ یہ غیر اسلامی مزاحمت کو ختم کرنے اور اسلامی خاندانی معاشرت میں غیر اقوام کو ضم کرنے کا موثر ترین طریقہ ہے۔

درجہ بند معاشرتی تنظیم کا دوسرا جواز اسلامی نظام ریاست ہے، یہاں سلطان ظل اللہ ہوتا ہے اور ملک کے باقی عوام اس کی رعایا ہوتے ہیں۔ عوام کی حکومت میں شمولیت کا کوئی جواز نہ امام ماوردی نے کبھی پیش کیا، نہ امام ابن خلدون نے، نہ شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ نے۔ سلطان عوام کا نہ نمایندہ ہوتا ہے نہ عوامی نمایندگی کی ادارتی صف بندی کا کوئی تصور اسلامی سیاسی فکر میں موجود ہے۔ عوام روحانی اور اخلاقی راہنمائی مرشدین اور مزکّیوں سے حاصل کرتے ہیں اوراپنے سلطان اور اس کے عُمّال کے مطیع ہوتے ہیں۔ سلطان صرف اللہ کا مطیع ہوتا ہے۔ عوام کی رائے کی بنیاد پر کوئی فقہی یہ ریاستی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔

اسلام آزادی کو بحیثیت ایک قدر (Value) کے کلیتاً اور صریحاً رد کرتا ہے اور ہر جمعہ میں امام مسجد اعلان کرتا ہے:

وینہیٰ عن الفحشاءِ والمنکروالبغی

آزادی بغی کی جدید سیاسی شکل ہے اور اسلامی انقلاب اسی بغاوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کو برپا کیا جاتا ہے۔

4۔ایکویلٹی اور رائٹس

1.4۔ایکویلٹی

سرمایہ داری کا بنیادی عقیدہ” لاالٰہ الاانسان“ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان واحد اِلٰہ ہے وہ اپنی ذات کا اور اس کائنات کا خالق ہے؛ خیر و شر کا تعین ارادۂ انسانی کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں۔ آزادی خیرِ مطلق ہے اور آزادی سے مراد یہ ہے کہ انسان کا اختیار کائنات پر لامحدود ہوتا چلا جائے، اصولاً انسان آزاد ہے وہ اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ قائم باالذت اور خالقِ کائنات بن جائے لیکن عملاً وہ آزاد نہیں، اس کی آزادی کو مادی (Material) قوتیں بھی محدود کرتی ہیں اور معاشرتی (Social) قوتیں بھی۔ مثلاً وہ آج نظامِ شمسی سے باہر نہیں جاسکتا، مرنے سے نہیں بچ سکتا، طوفانوں کو نہیں روک سکتا، بغیر ماں باپ کے نہیں پیدا ہوسکتا، امریکا میں دو بیویاں نہیں رکھ سکتا ایران میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گا لیاں نہیں دے سکتا، کیوبا میں زمین نہیں خرید سکتا وغیرہ وغیرہ۔

سرمایہ داری ان مادی اور سماجی پابندیوں کے خلاف جدوجہد کا نظام ہے جو ارادۂ انسانی کی متصور اصولی آفاقیت پر لگائی گئی ہیں۔ عملاً (practically) انسان آزاد ان معنوں میں ہے کہ وہ اپنی متصور مطلق العنان ربوبیت کے قیام کی مستقل جہدوجہد کرنے پر مجبور ہے۔ اسی عملی مجبوری کو اصولی آزادی کہتے ہیں۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ عقائد کے مطابق انسان (Human Being) صرف اسی وجود کو کہتے ہیں جو اپنی اصولی مطلق العنان ربوبیت پر ایمان لائے۔ لہٰذا ہر انسان اصولاً آزاد اور عملاً مجبور ہے۔ یہی مساوات ہے اور مساوات سے مراد یہ ہے کہ:

انسان کی اصولی مطلق العنان ربوبیت کی عملی تشریح کا ذریعہ سرمایہ کاری ہے۔ سرمایہ کارانہ عملیات (processes) میں حصہ لینے پر ہر وہ فرد مجبور ہے جو انسان کی مفروضہ مطلق العنان ربوبیت پر ایمان لے آیا ہے۔ سرمایہ، آزادی (اصولی اور عملی) کی تجسیم (Concrete form) ہے۔ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کو قبول کرنے والا سرمایہ دار ہوتا ہے۔ خواہ وہ مزدور ہو، منیجر ہو، عوامی نمایندہ ہو، ریاستی بیوروکریٹ ہو، انٹلیکچوئل ہو۔ وہ سرمایہ دار انہی معنوں میں ہوتا ہے کہ وہ انسان کی مفروضہ مطلق العنان ربوبیت پر ایمان لے آیا ہے۔ اور اس مطلق العنان ربوبیت کے عملِ توسیع میں شرکت کرنے پر مجبور/آزاد ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست اصولی آزادی کو فروغ دینے کے لیے جو ذرائع فراہم کرتی ہے ان کو ہیومن رائٹس کہتے ہیں۔ یہ رائٹس تمام سٹیزنز (Citizens) کو یکساں فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ ان حقوق کے مالک ہوتے ہیں ہر سٹیزن دوسرے سٹیزن کا مساوی ہے۔ یہ حقوق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ہیومن رائٹس اور سوشل رائٹس۔

2.4۔ ہیومن رائٹس

ہیومن رائٹس لبرل سرمایہ دارانہ ریاستیں فراہم کرتی ہیں اور یہ تین ہیں۔

1.2.4۔آزادئ حیات

اس سے مراد یہ ہے کہ ہر سٹیزن کا یہ حق اور فرض ہے (وہ اس بات میں آزاد اور مجبور ہے) کہ اپنی زندگی آزادی / سرمایہ کی بڑھوتری میں کھپا دے۔ جو شخص اپنی زندگی کو سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں نہیں کھپاتا وہ انسان (یعنی Human) نہیں کیوں کہ وہ انسانیت کے مفروضہ عقیدے مطلق العنان ربوبیت پر ایمان نہیں لایا۔ اس اصول کے تحت دو کروڑ ریڈ انڈینز کو امریکیوں نےسولھویں سے انیسویں صدی تک قتل کیا اور مشہور لبرل فلسفی جان لاک (John Locke ) نے اس قتلِ عام کا یہ جواز پیش کیا کہ ریڈ انڈین اور بھینسوں کا قتل عام یکساں طور پر جائز ہے کیوں کہ نہ بھینسے Human ہیں نہ ریڈ انڈین، دونوں نے امریکا کی زرخیز زمینوں پر قبضہ کرکے بڑھوتریٔ سرمایہ کے عمل کو ناممکن بنادیا ہے۔

دورِ حاضر کے مشہور امریکی سیاسی فلسفی والزر نے افغان مجاہدین کے قتل کا یہی جواز پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ مجاہدین اسلام Human نہیں، وحشی درندے ہیں اور ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

2.2.4۔ آزادی اظہار رائے

دوسرا ہیومن رائٹ آزادیٔ اظہارِ رائے ہے۔ ہر سٹیزن کا یہ حق / فرض ہے (وہ اس بات میں آزاد اور مجبور ہے) کہ سرمایہ کی بڑھوتری کو فروغ دینے کے لیے جو تجویز دینا چاہے دے۔ اگر وہ آزادی کو خیرِ مطلق تسلیم نہیں کرتا اور رائے کا اظہار کسی اور مقصد کے لیے کر تا ہے تواس کو یہ حق میسر نہیں کیوں کہ وہ ہیومن نہیں اور اس اصول کی بنیاد پر لاک نے اپنے کتابچہ (A Letter Concerning Toleration) میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو آزادانہ اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا چاہیے کیوں کہ وہ عیسائیوں کے برخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ نہیں مانتے لہٰذا الوہیتِ انسانی کے منکر ہیں۔ اسی اصول کی بنیاد پر مجاہدینِ اسلام کی وکالت آج امریکا میں جرم گردانی جاتی ہے۔

3.2.4۔آزادی ملکیت

تیسرا ہیومن رائٹ حق ملکیت (Right of Property)ہے۔ہر سٹیزن کا یہ حق / فرض ہے (وہ اس بات میں آزاد / مجبور ہے) کہ وہ اپنی املاک سرمایہ کے سپرد کر دے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس پر رزق کے دروازے بند کردیے جائیں گے اور حصولِ دولت نا ممکن بنا دی جائے گی۔ دولت بنکوں میں رکھ کر اور سٹہ کے بازار(Capital Market) کے ذریعے سرمایہ میں اضافہ مستقل کیا جاتا ہے، ذاتی ملکیت بتدریج ختم ہو جاتی ہے اور کارپوریٹ ملکیت(Corporate Property) ہر شخص کو سرمایہ کا غلام بنا دیتی ہے۔

3.4۔سوشل رائٹس

لبرل سرمایہ دارانہ ریاست اصولاً یہ ہیومن رائٹس سب سٹیزنز کو مساویانہ طور پر فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اور اس کا دستور اس بات کی گارنٹی دیتا ہے کہ ہر سٹیزن مساویانہ طور پر ان حقوق اور فرائض کا مکلف ہے۔ اسی چیز کو Rule of Law کہتے ہیں جو کہ حقیقت میں Rule of Law of Capital ہے۔ لیکن ایک سرمایہ دارانہ معاشرت میں تقسیمِ وسائل لازماً غیر مساویانہ ہوتی ہے۔ کچھ دولت مند ہوتے ہیں کچھ مفلس، کچھ عہدہ دار ہوتے ہیں کچھ ماتحت۔ کچھ باصلاحیت ہوتے ہیں کچھ ناخواندہ وغیرہ۔ اور سرمایہ کی گردش کا عمل لازماً ارتکازِ سرمایہ (Accumulation of Capital) کا عمل ہے یعنی سرمایہ بہت سی جگہوں اور ملکیتوں سے کھنچ کھنچ کر مستقلاً چند مقامات اور چند کارپوریشنوں کے زیرِ تسلط جمع ہوتا رہتاہے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام فروغ پاتا ہے،عملی نامساویت Inequality بڑھتی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس اصولاً موجود اور عملاً ناقابلِ حصول بنتے چلے جاتے ہیں۔ ایک بے روزگار شخص سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے اپنی جان کھپانے کا کتنا ہی متمنی کیوں نہ ہو وہ یہ نہیں کرسکتا اور جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام فروغ پاتا ہے ویسے ویسے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک عام آدمی اپنی رائے کا اظہار کیسے کرے؟ جب کہ عالمی میڈیا پر صرف تیس کمپنیوں کا تسلط مستحکم سے مستحکم ترہوتا جارہا ہے اور عوامی رائے سازی کمپنیاں ہی کرتی ہیں۔ ذاتی ملکیت کا وجود کیسے قائم رہ سکتا ہے جب کہ تمام کی تمام دولت سود کے بازار (Money Market) اورسٹہ کے بازار (Capital Market) کے زیرِ تصرف آگئی ہے۔ ان حالات میں ہیومن رائٹس عملاً معاشرتی طور پر ایک افسانوی حیثیت اختیار کرگئے ہیں:

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے

اس معاشرتی نامساویت (Social Inequality) کو کم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ ریاستیں سوشل رائٹس پیش کرتی ہیں۔ سب سے اہم سوشل رائٹ حقِ اجتماعی سودے بازی (Right of Collective bargaining) ہے۔ اشتراکی سرمایہ دار مفکرین اور سوشل ڈیموکریٹ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے نمایاں نا مساویت (Inequality) مزدور اور مینجمنٹ کے درمیان تقسیمِ اختیار اور قوت کے ضمن میں پائی جاتی ہے۔ ایک عام مزدور اپنی کمپنی مینجمنٹ کے سامنے بالکل بے بس ہوتا ہے کیوں کہ مینجمنٹ جب چاہے اس کو بے روزگار کر سکتی ہے۔ لہٰذا مزدور یونینوں کو مینجمنٹ کے عمل میں شرکت اور اجرتوں کے تعین میں اختیارات کے مواقع فراہم کر دینا چاہئیں۔ اشتراکی سرمایہ داروں نے ریاستی کاپوریٹ ملکیت (State Corporate property) کے معیشت پر تسلط کی وکالت کی ہے اور سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ مفکرین نے سرمایہ دارانہ ریاست سے مطا لبہ کیاہے کہ وہ ایسے فلاحی (Welfare) حقوق فراہم کرے جس کے حصول سے ہر سٹیزن مسلسل بڑھتی ہوئی معقول آمدنی صحت، تعلیم اور رہائش حاصل کرسکے۔

ہیومن اور سوشل رائٹس کی فراہمی کا مقصد سٹیزن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بڑھوترئ سرمایہ کے عمل میں اپنا کردار ادا کرسکے اور اس عمل میں شرکت کے ذریعہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کرسکے یہی سرمایہ دارانہ عدل ہے۔

سرمایہ دارانہ عدل ظلم ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج بیشتر اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد کا اسلامی جواز پیش کرتی ہیں اورہیومن اور سوشل رائٹس کی وکیل بن گئی ہیں اور مساوات اور آزادی اور ترقی کو مقاصدِ شریعت کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام (جو کہ اصولاً اور عملاً ناممکن ہے) کی جدوجہد سرمایہ دارانہ شخصیت، معاشرت اور ریاست کی جدوجہد کے قیام کا حصہ ہے اور آزادی، مساوات اور ترقی کو صریحتاً بحیثیت اہداف کے رد کیے بغیر موجودہ حالات میں تحفظ دین ممکن ہے نہ غلبہ دین۔ سرمایہ دارانہ عقائد، آزادی، مساوات اور ترقی کی اسلام کاری ایک ایسی Revisionist تحر یک ہے جس کا مقصد اسلامی جماعتوں کو عالمی سرمایہ کا حلیف اور ایجنٹ بنانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

ضمیمہ باب 4:اقوام متحدہ کا چارٹر

1.1.4۔فلسفہ انسانی حقوق کا مختصر خلاصہ

سترھویں صدی عیسوی میں جب جدیدیورپ کی ابتدا ہوئی توا س دور میں جو فکر ابھر کر سامنے آئی اسے سرمایہ دارانہ انفرادیت سے تعبیر کیاگیا۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت یہ ہے کہ انسان کسی کا عبد نہیں بلکہ وہ آزاد(Free) ہے۔ آزادان معنوں میں کہ جو چاہنا چاہے، چاہ سکے اور جس چیز کی خواہش اس کا نفس کرے اسے حاصل کر سکے۔ خواہشات بے پناہ ہیں اور انسان کو خواہشات کی تکمیل کے لیے بنیادی طورپر جس چیز کی ضرورت ہے وہ ”سرمایہ “ ہی ہے جس کے ذریعہ تمتع فی الارض کے زیادہ امکانات وقو ع پذیر ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت مابعدالموت سے بحث نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک موت اختتام ِزندگی ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ عقلیت میں جس طرح مابعد الموت کی بحث نہیں، اسی طرح ماقبل پیدائش کا سوال بھی خارج از بحث ہے۔ مغربی فکر کے جتنے بھی کلاسیکل مفکرین ہیں،ان کے نزدیک انسان اسی معنی میں قائم بالذات اور اپنا خالق خود(Existent by itself)ہے۔اس فکرکامقدمہ پانچ صدی قبل مسیح کی یونانی فکر میں بھی ملتا ہے جس میں یونانی مفکر پروتاگورس کہتا ہے:

”انسان کا ئنات کی تمام اشیا کا پیمانہ ہے۔“

یعنی وہ اس کائنات میں مقصود بالذات ہستی ہے اور وہ کائنات کی ہرشے کو اپنی مرضی(decision) اور منشاء (Will) کے تابع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تصور انفرادیت ”الوہیت انسانی“ کا مظہر ہے، اور اسی تناظر میں تہذیب مغرب کا کلمہ”لاالٰہ الا انسان“ہے۔

اصطلاح ”انسانی حقوق“ہیومن رائٹس کا ترجمہ ہے۔”ہیومن“ کا مغربی فلسفہ وفکر میں خاص مقام رکھتا ہے اور اس کا خاص معنی ومطلب ہے اور ظاہر ہے کہ ”ہیومن“ کا ترجمہ”انسان“ کر کے اسے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ”ہیومن“ مغربی فکر میں ایک خاص مفہوم کا فردہے جس کے معنی ومطلب کو جاننے کےلیے ہمیں لازماً مغربی فلاسفہ کے افکار کی طرف رجوع کرنا پڑےگا۔ جب ہم ہیومن بینگ کی اصطلاح اور مغربی فکر میں اس کی وجہ وجود کو جان لیں گے تو ہمارے لیے انسانی حقوق کے چارٹر کا تجزیہ ومحاکمہ کرنا آسان رہے گا۔

2.1.4۔انسانی حقوق کا تاریخی پس منظر

جدید یورپ کی ابتدا عیسائیت کی شکست وریخت سے ہوئی۔ عیسائی پادری مارٹن لوتھر وہ شخص تھا جس نے اپنے ہی مذہب پر کاری ضرب لگائی اور لوگوں کو عیسائیت کے خلاف وہ بنیادیں فراہم کر دیں جن کےسہارے انہیں مذہب سے راہ ِفرار ڈھونڈنے میں آسانی ہو گئی۔ انہی بنیادوں پر بعد کے فلسفیوں نے عیسائی علمیت کو رد کیا اور ہیومن ازم(انسان پرستی) کا آغاز ہوا۔ مغربی مفکرین نے مذہب کو زندگی کے ہر شعبے اور ہرسطح سے خارج کیا؛ انسان ہی کو ہر شے اور عمل کا میزان ٹھہرایا۔ انسان کو اللہ کا بندہ ہونے کی بجائے ایک ایسے آزاد فرد کے طورپر باورکرایا جو خیر و شر کے تعین اور تحدید میں بذات خود ایک پیمانہ ہے۔ فرد کا یہ تصور ہرطرح کے شک وشبہ سے بالاتر قرار پایا۔ مغربی فلسفیوں (ڈیکارٹ، کانٹ، مارکس، نطشے، رسووغیرہ) کے نزدیک کائنات کو صرف اور صرف انسانی پیمانوں پر پرکھنا ہی علمیت کی میراث ہے۔ یوں انسان پرستی(ہیومن ازم) کو اقداری ڈھانچے میں کلیدی اور قطعی حیثیت حاصل ہوئی۔

3.1.4۔ہیومن ازم کیاہے؟

انسان کو کائنات کا محور ومرکز قرار دینا ہی ہیومن ازم ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے مطابق:

ہیومن ازم وہ فلسفیانہ اور ادبی تحریک ہے جو چودھویں صدی کے نصف ثانی تک میں اٹلی میں پیدا ہوئی اور وہاں سے یورپ کے دوسرے ممالک میں پھیل گئی جو بالآخر جدید ثقافت کی تشکیل کے اسباب میں سے ایک سبب بنی۔

فلسفہ کی خصوصیات سے بحث کرتے ہوئے درج کیا گیا:

ہیومن ازم ہر اس فلسفہ کو بھی کہتے ہیں جو انسانی قدر یا عزت کو تسلیم کرے اور اسے ”تمام چیزوں کا میزان“ قرار دے یا جو صرف انسانی طبیعت کو اپنی فکر کی حد یادائرہ کار کی حیثیت سے لے۔

ہیومن ازم کی تحریک اپنی اصل کے اعتبارسے وحی الٰہی اور ہدایت ربانی کی ضد تھی۔ اس تحریک کا مقصد عیسائی معاشرے میں تصورِ الٰہ، تصورِ رسول اور تصورِ آخرت کو ختم کر دینا تھا، چنانچہ اس تحریک نے عیسائیوں کو ہر اس ہدایت کے انکار کی طرف ابھارا جو ربانی یاآسمانی ہواو ر ہر اس ضابطے سے بغاوت پر آمادہ کیا جس کی بنیاد ہدایت الٰہی تھی۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا آف ریلجن اینڈ ایتھکس میں بیان کیا گیا ہے:

فلسفہ میں ہومن ازم ہر طرح کی فطریت(ربانیت) اور کلیت کی ضد ہے۔ یہ ایک ایسا فلسفیانہ رحجان دیتا ہے جو انسانی تجربوں کی تشریحات کو ہر طرح کے فلسفہ کا اولین مرکز توجہ دے اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کام کے لیے انسانی علم کا فی ہے۔

1.3.۱.4۔ ہیومن ازم کی فکری بنیادیں

کسی بھی نظام میں سب سے بنیادی مسئلہ تصورِ ذات(self) کاہوتا ہے۔ مثلاً آپ ایک عالم دین سے پوچھیں کہ انسان ذاتی طورپر کیاہے؟ ا س کا بنیادی وظیفہ کیاہے؟ تووہ ربانی عالم دین آپ کو بتائیں گے کہ انسان دراصل اللہ کا بندہ ہے اور اس کا بنیادی وظیفہ اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ مگریہی سوال جب آپ کسی مغربی فرد سے کریں گے تو وہ آپ کو جواب دے گا کہ انسان کے اندر وہ جبلتیں اور خصائص موجود ہیں جن کی بنیاد پر وہ خود اپنی زندگی کو استوار کر سکتا ہے۔ اسے کسی ماورائی ذات کی پرستش کرنے، اس سے ہدایت حاصل کرنے اور اس کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں۔

مغربی فکر میں انسان ہی کائنات کا میزان ٹھہرایا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی خارجی قدر، وحی اور ہدایت کا انکار کر دے۔ وہ کائنات میں کارفرما عقائد، نظریات اور افکار وخیالات کو اپنی عقل کی میزان پر رکھ کر فیصلہ کرے کہ وہ ریزن ایبل (Reasonable) ہیں کہ نہیں؟ یہ ریشنل ازم یا”عقلیت پرستی“ہے۔ ریشنل ازم لاطینی لفظ Ratio سے نکلا ہے،جس کا معنی ہے عقل یاReason۔سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں یورپ میں پیدا ہونے والے تنویری فلاسفروں کے مطابق عقل کی بنیاد پر قطعی اور آفاقی سچ کا حصول ممکن ہے۔ چنانچہ جب انسان ہی تمام خیر وشر کا تعین کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں خدا پرستی کا کیا سوال؟

مشہور فلسفی ڈیکارٹ ]۱۶۵۰۔۱۶۹۵[ وہ شخص ہے جس نے جدید فلسفہ کی بنیاد رکھی اور عیسائیت کو شکست دی، اس نے انسانی ادراکات میں کسی بھی خارجی عامل کو ردّ کریا اور سیلف نالج(self-knowledge) کی خالص عقلی دلیل دی۔ اس پیش کردہ فلسفے کے مطابق:

علمی اور عقلی بنیادوں پر کوئی بھی انسان اپنے سوا کسی بھی چیز کو خواہ وہ خیالات ہوں یا اقدار، معیارات خیروشر ہوں یاوحی اور چاہے خدا کا وجود غرض کسی بھی چیز کا انکار کر سکتا ہے۔اکیلی میری ذات میرا وجود ہے،جس کاہونا کسی بھی قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے۔

ڈیکارٹ کے نزدیک واحد سچ”میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں“ہے۔ یعنی میں اپنے اس دنیا میں ہونے کا جواز اپنے اندر رکھتا ہوں۔ میرا وجود کسی خارجی ذریعے، حقیقت مطلق یا خالق کائنات کا مرہون منت نہیں۔ ڈیکارٹ کے مطابق میری عقل کی استطاعت نہیں کہ میں اپنے وجود کے سوا کسی بھی دوسری ذات کے وجود کا ماورائے شک جواز پیش کر سکوں۔ اس طرح ڈیکارٹ نے ایک ایسی علمیت (جہالت) کی بنیاد رکھی جو کہ حتمی مابعد الطبیعیات (وحی) سے ماورا تھی۔ وہ شک پر قائم تھی۔ ڈیکارٹ کے پیش کردہ تصور انسانی یا تصور ذات کے بعد کے مفکرین نے اسی تصور کوآگے بڑھایا۔

روسو کا خیال ہے کہ انسان بنیادی طورپر خیر ہے۔ وہ ہمیشہ خیر کا طالب ہوتا ہے۔ (یہاں خیر سے مراد وہ خیر نہیں جسے ہمارا دین خیر کہتاہے بلکہ روسو کے مزعومہ انسان کا خیر اس کی ”خواہشِ نفس“ہے) وہ کہتا ہے کہ انسانی خواہشات، جبلتیں اور احساسات فطرتاً پاک ہیں،یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے ارادے کے تحت جس چیز کو پسند کرتا ہے وہ عمومی فلاح ہے، اس کے خیال میں :

The self is essentially good.

انسان فی نفسہٖ خیر ہے۔

چونکہ مغرب کا فرد خود اپنی عقل سے اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کیا چیز خیر ہے اور کیا نہیں، ا س لیے اس کے ہاں وہ بات بھی خیر میں شامل ہے جو ہمارے ہاں بدی تصور کی جاتی ہے۔مثلاً ماں باپ کی نافرمانی،زنا،اور دیگر فواحش و منکرات جنہیں ہم رذائل میں شمار کرتے ہیں۔ ہیومن کے نزدیک وہ خیر ہی ہے۔ کانٹ انسانی ذات کے بارے میں کہتا ہے کہ:

Self کے اندر وہ ترتیب اور نظم موجود ہے جس کے نتیجے میں اشیاء اور ان کے باہمی تعلق کو واضح کر سکے۔ کانٹKingdom of endsمیں ایک ایسی ریاست کا قائل ہے جہاں ہرفرد کا یہ اختیار تسلیم کیا جائے کہ وہ خود مختار [autonomous] اور قائم بالذات [self-determined] ہے۔ جہاں ہرشخص اس بات کا تعین کرے کہ وہ کس قسم کی زندگی گزارے گا۔ جہاں یہ تسلیم کیا جائے کہ ہرشخص خیرو شر کا تعین خود کر سکتا ہے۔

ہیگل کے خیال میں اجتماعیتوں (معاشروں) کی تاریخ اور طرزِ حیات ہی خیر وشر کے پیمانے ہیں۔ اخلاقیات وہ نہیں جو انجیل اور قرآن میں لکھی ہیں بلکہ اخلاقیات سے مراد یہ ہے کہ تاریخی اجتماعیت نے ارتقاء کےلیے جو معیارات خیرو شر مقررکیے ہیں انہی سے اخلاقی پیمانے تشکیل پاتے ہیں۔ ہر آنے والا وقت پہلے سے بہتر ہے اور اس کے پیمانے پہلے دور کے مقابلے میں فوقیت رکھتے ہیں۔ اسی کا نام ارتقاء اور ترقی ہے۔ چونکہ سب سے زیادہ ترقی جس اجتماعیت نے کی ہے اور سب سے زیادہ جس نے غلبہ حاصل کیاہے وہ مغرب ہے، اس لیے مغرب کی تاریخ، اس کی تہذیب، ادارتی صف بندی اور آدرشیں ہی حق وباطل کا معیارہیں اور چوں کہ مغرب کی اس ترقی کے آگے کسی ترقی کا تصور نہیں ہوسکتا اس لیے مغربی تہذیب ہی بنیادی طورپر ذات مطلق اور روح کائنات کا مکمل اظہار ہے۔

سارترجو مغرب کا بہت اہم مفکر ہے، اس کے افکار کا خلاصہ یہ ہے کہ ذات (self) کے اندر اس بات کی استطاعت ہے کہ وہ جیسا بننا چاہے بن سکے۔ وہ اپنی تخلیق خود کر سکتا ہے اور دنیا کو بھی جیسا بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔ انسان بنیادی طورپر کوشش کرتا ہے کہ وہ خدا بن جائے، اگر خدا نہیں بننا چاہتا تو یہ Bad faithہے۔

سارترنے جو بات کہی ہے کم وبیش مغرب کے تمام فلسفی یہی بات کہتے ہیں؛ ان کے نزدیک انسان ہی الوہیت کا مظہر ہے۔ مثلاً J.H.Homesاپنی کتاب (A Struggling God) میں کہتا ہے کہ ”خدا انسان ہے اور انسان خدا ہے، دونوں سے مراد زندگی ہے جو محبت کے لیے مصروف کشمکش ہے“۔ ایمز کہتا ہے کہ خدا کا مخصوص اور قابل رسائی تصور اسی صورت میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اسے انسانوں کا وہ اجتماعی ضمیر سمجھ لیاجائے جو معاشرے میں کارفرما اور اس طرح معاشرتی اداروں میں برنگ مجاز جلوہ گر نظرآتا ہے۔ فیور باخ خدا کے وجود کا ہی منکر ہے۔ اس کا کہنا تھاکہ خدا صرف انسان کے دل میں ہوتاہے اس سے باہر اس کا کہیں وجود نہیں۔ کومٹے کا کہناہے کہ”انسانیت خدا ہے“۔ ڈیکارٹ گروہ کا خیال ہے کہ خدا نے کائنات کو بنایا اب اس کے بعد وہ اس مشینری کے چلانے میں دخل نہیں دیتا،یہ مشین انسان کے سپرد کردی گئی ہے،لہٰذا کائنات میں الوہی منصب اب خود انسان کو مل چکا ہے۔

مغربی مفکرین کی ان تعریفات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں کسی اَن دیکھی ہستی کا وجود خدا کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ان کے ہاں انسان ہی ان تمام طاقتوں کا مظہر ہے جنہیں کوئی بھی مذہب ان دیکھی ہستی کے ساتھ وابستہ تصورکرتا ہے۔ مغرب کا ”سپرمین“ انہی خدائی طاقتوں کا مظہر ہے۔ مغرب مذہب اور خدا کو کس طرح خیر باد کہہ چکا ہے اس کا اظہار ڈنمارک کے بدبخت شاتم ِرسول فلیمنگ روز نے ان الفاظ میں کیا تھا:

ہم میں اور مسلمانوں میں فکری اور ثقافتی یا تہذیبی طورپرفرق یہ ہے کہ ہم نے تو خدا،رسول اور کتاب کاحوالہ اپنے ذہنوں سے اتار دیا ہے، ہم کوئی فیصلہ کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ بائبل میں کیا لکھا ہے۔ کوئی قانون طے کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ خدا کیا کہتا ہے،کوئی بات کہتے وقت عیسیٰ کا حوالہ نہیں دیتے کہ اس بارے میں انہوں نے کیا کہاتھا،ہم آزاد ذہن سے فیصلہ کرتے ہیں۔

اس مخصوص تصورِ علم اور تصورِ انسان کو ہیومن بینگ (Human Being) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس وقت مغرب میں جتنے بھی علوم پائے جاتے ہیں، خواہ سائنس ہو یا سوشل سائنس، ان میں یہی فکر اساسی طور پر کارفرما ہے۔

مغربی مفکرین کے مطابق جب انسان ہی کائنات کا محور و مرکز ہے اوروہ اشیاء کی حقیقتوں کو بغیر کسی خارجی علم کی مدد کے خود پہچان سکتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی استوار کر سکتا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ وہ خواہش نفس کا مطیع ہے۔ انسانی خواہشات کا بنیادی عنصر لذات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونا ہے، لذات سے بہرہ ورہونے کے لیے، تمتع فی الدنیا کے لیے ”سرمایہ“ اساسی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ فرد کا سرمایے کی بڑھوتری برائے بڑھوتری کے عمل میں شریک ہونا لازمی امر ٹھہرتا ہے۔ یہ بات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان اول درجے کا حریص اور حاسد نہ ہو۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیاسرمایے کی بڑھوتری حرص وحسد کی عمومی فروغ دیے بغیر ممکن ہے؟ تاریخ اس کا انکار کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرے بدترین سطح کی حدتک حریص اور حاسد ہوتے ہیں۔ ہم آئے روز دیکھتے ہیں خصوصاً مغرب میں تو یہ معمول کی بات ہے کہ سرمایے کے حصول کے لیے اخلاقی اور معاشرتی قدر یں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ حرص اور حسد دیگر کئی اخلاقی بیماریوں اور کمزوریوں کا مجموعہ ہیں۔ حریص اور حاسد انسان خود غرض، سفاک، قاتل، انتہائی درجے کا فریبی اور مکار اور نہ جانے کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ جو شخص خود کو ”فری“ خیال کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگہبانی میں اور عبدیت میں رہنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ دراصل نفس وشیطان کا بندہ ہوتا ہے ان معنوں میں ہیومن بینگ شیطنت کے مساوی ہے۔ یہی ہیومن رائٹس کا علمیاتی پس منظر ہے۔

4.1.4۔ ہیومن رائٹس چارٹر کن لوگوں نے مرتب کیا

پچھلی سطور میں مغرب کا جو تصور ِانسانی ذکرکیا گیا اور مغربی مفکرین کے افکار کا خلاصہ پیش کیا گیا، انسانی حقوق کا چارٹر انہی تصورات ِانسان سے ماخوذ ہے۔

تاریخی طورپر دیکھاجائے تو ۱۷۷۶ء میں امریکا کا اعلانِ آزادی سامنے آیا۔ ۱۷۸۸ء میں امریکی دستور مرتب ہوا۔ امریکی دستور کا ماخذ فیڈرلسٹ پیپزز ہیں۔ فیڈرلسٹ پیپرز وہ مضامین تھے جو دستور کی حمایت میں امریکا کے پہلے وزیر خزانہ الیگزینڈر ہملٹن، امریکا کے پہلے چیف جسٹس جان جے اور امریکی صدرجیمس میڈسن نے امریکی اخباروں میں لکھے تھے۔ یہ تمام مضامین مغرب کے ملحد مفکرین کے تصوراتِ انسان ہی کی روشنی میں لکھے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کا منظورکردہ انسانی حقوق کا منشور اسی امریکی دستور کا چربہ ہے۔ اس منشور کی مصنفہ سابق امریکی صدر کی بیوی ایلینا روزویلٹ تھی۔ اقوام متحدہ کے ذریعہ تمام ممبر ممالک کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کے اس منثور کو عالمی اور ناقابل چیلنج قانون تسلیم کرتے ہوئے اس پر دستخظ کریں۔ چنانچہ مسلم ممالک بھی یواین او کے رکن ہونے کی حیثیت سے اس کفرمطلق اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت پر مبنی منشور پر دستخط کرتے ہیں۔ وہ پابند ہوتے ہیں کہ اپنے ممالک کے دستور وقانون کو انسانی حقوق کے چارٹر سے ہٹ کرعمل میں نہیں لائیں گے۔

5.1.4۔ ہیومن رائٹس چارٹر کے بعض اہم مشمولات

6.1.4۔ انسانی حقوق کا مقصد خدا سے بغاوت ہے

حقوق کے ضمن میں تمام فلاسفہ مغرب کا اصل زور آزادی (Freedom) پر ہے۔ فری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہرطرح سے آزاد ہے۔ وہ کسی ان دیکھی ہستی کا عبد نہیں، اس کی عقل اس کے لیے واحد اتھارٹی ہے، اس کی عقل ہی فیصلہ کرے گی کہ شرکیاہے اور خیر کیا ہے؟ کسی خارجی ذریعے کو یا خارج ازعقل ہستی کو خیر وشر کے تعین کا حق حاصل نہیں۔ ان معنوں میں تمام انسانی مساوی ہیں کہ ہرفرد اپنی عقلیت کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتا ہے۔ وہ آج مسلمان ہے تو کل عیسائی ہوسکتا ہے، اگر مذہب اس کی خواہشات کی تکمیل میں سدِّراہ ہوتو وہ لامذہب بھی ہوسکتا ہے۔ خواہشات لامحدود ہوتی ہیں اور ان کی تکمیل کے لیے سرمایہ وہ بنیادی عنصر ہے جو خواہشات کی تکمیل میں معاون ہوسکتا ہے لہٰذا سرمایے کی بڑھوتری برائے بڑھوتری اس کی ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے اور یہ بڑھوتری حرص وحسد کی عمومیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس فکرکا پیکر ہی ”نیومین“ ہے۔سترھویں صدی کے فلسفے کے نتیجے میں خلق جدید کا ظہور ہوا تھا، کیوں کہ اس سے قبل کا انسان عہد ظلمات (Dark Ages) کا آدمی تھا۔

تحریک تنویر(Enlightenment) کے نتیجے میں انسان نے گویا اپنا اصل مقام پہچانا تھا۔ چنانچہ اب وہ روشن خیال، لبرل، آزادی ومساوات پر اور جمہوریت پر یقین رکھنے والا انسان تھا۔ اب وہ خیر وشر کے تعین کے لیے کسی خارجی ذریعے کا محتاج نہیں تھا بلکہ اس کی عقل ہی اس کے تمام امور ِزندگی کے لیے میزان تھی۔ جو چیز ریزن ایبل نہیں تھی، وہ ردّی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی۔ نطشے نے کہاتھا ٗخدا مرگیا ہے۔ فوکو نے کہا کہ انسان بھی مرگیا ہے۔ یہ مرنے والا انسان وہی تھا جو عہدِظلمات میں جی رہا تھا۔ مشل فوکو نے کہا تھا کہ انسان تو اٹھارھویں صدی میں پیدا ہوا ہے۔ سوحضور یہ بات جانیے کہ اہل مغرب کے نزدیک وہ فرد انسان ہی نہیں جو آزادی، مساوات، جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا اور جو اب بھی وحی پریقین رکھتا ہے، رسولوں کی رسالت پر، آخرت پر اور قیامت پر یقین رکھتا ہے۔

7.1.4۔ انسانی حقوق کے نفاذ کے لیے استعماری جبر

یواین ڈی پی کی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2000ء میں ہیومن رائٹس کے فروغ کے لیے تین اہم خطوط متعین کیے گئے۔ UNDP کی رپورٹ میں جن ترجیحات کا تعین کیا گیا وہ حسبِ ذیل تھیں:

  1. تیسری دنیا کے ممالک بین الاقوامی قوانین کی ملکی قوانین پر بالادستی تسلیم کرلیں جو ہیومن رائٹس سے متعلق سول لبرٹیز کوعالمی سطح پر نافذ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
  2. قومی ریاستوں کا دستوری ڈھانچہ ان بین الاقوامی قوانین اور عدالتی تنظیموں کے ماتحت کر دیا جائے جو سرمایہ دارانہ نظام کی عالمگیریت کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔
  3. معاشرتی سطح پر اغراض کی بنیاد پر ایسی گروہ بندیاں قائم کی جائیں جو حقوق کی سیاست کو فروغ دیں اور قومی ریاستوں کے عالمی سرمایہ کے ماتحت ہوجانے کے عمل کی تائید کریں اور اس کا جواز عوامی سطح پر پیش کریں۔

اسی رپورٹ کے آغاز میں اس وقت کے یواین او کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ جو ملک بھی حقوق انسانی کے ماورا قانون سازی کرے اس کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فوجی کارروائی کرے۔ کوفی عنان نے لکھا تھا:

کسی حکومت کو حق نہیں کہ وہ قومی خود مختاری کو آڑ بنا کر ہیومن رائٹس سے انکار کرے۔ سوڈان اور افغانستان کے مظلوم عوام کا حق یہ ہے کہ ہم ان پر ہونے والے ظلم کو ختم کریں اور ان ممالک کو ترقی کی راہ پر لائیں۔ ہم ان ممالک میں فوجی مداخلت کریں کیوں کہ یہ مداخلت ہیومن رائٹس کے عالمگیر طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق ہوگی۔

مندرجہ بالا تصریحات کے بعد آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حقوق انسانی کا منشور عالمی سطح پر تسلیم شدہ واحد ”الحق“ ہے، جسے تسلیم کیا جانا اور ریاستی معاملات کو انسانی حقوق کے مطابق استوار کرنا لازم ہے۔ جو ریاستیں انسانی حقوق کے طے شدہ منشور کے علی الرغم ”الحق“ کو رائج کرنے کی کوشش کریں ان پر فوج کشی ضروری ہے۔

مثلاً افغانستان میں طالبان نے شریعت اسلامیہ کا نفاذ کیا اور افغانستان کو امارت اسلامی قرار دیا تو امریکا نے نیٹو افواج کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا۔ تب بش نے کہاتھا کہ وہ افغانستان کے باشندوں کو آزادی دلانے اور جمہوریت رائج کرنے آیا ہے۔ یہ آزادی وہی تھی جس کا دعویٰ ہیومن رائٹس میں کیا گیا ہے اور جمہوریت کو شریعت کے متبادل جگہ دی گئی ہے۔

8.1.4۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں

منشور انسانی حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ استعماری ریاستوں کی سرپرستی میں سیکڑوں این جی او ز دنیا کے مختلف خطوں اورممالک میں کام کرتی ہیں اور قومی معاشروں میں اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ حکومتیں، ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کی پاس داری کررہی ہیں کہ نہیں؟ یہ غیر ریاستی تنظیمیں منشور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر رپورٹیں شائع کرتی ہیں، احتجاجی مظاہرے ترتیب دیتی ہیں، مختلف ذرائع سے حکومتوں پر دباؤ ڈالتی ہیں تاکہ منشور انسانی حقوق کی مکمل پاس داری ہوسکے۔ ان تنظیموں کے طریق کار، اہداف اور حکمت عملی سے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ ان کا کوئی تعلق معاشرتی وحدت، مذہب کی بالادستی، شرعی قوانین کی پاس داری سے نہیں ہوتا بلکہ یہ مذہبی معاشرے کے انہدام اور سرمایہ داری کو مستحکم کرنے کا سبب ہوتی ہیں۔ یہ این جی اوز جب صاف پانی کی فراہمی کو اپنا ایشو بناتی ہیں تو بین السطور ان کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ منزل واٹر کی بوتلیں خرید کر پانی پئیں تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرمایے میں اضافہ ہوسکے۔ یہ این جی او ز جب کسی بیماری کو ایشو بناتی ہیں تو اس کا ذکر اس طورپر کیا جاتا ہے کہ لوگ شدید خوف زدہ ہوجائیں تاکہ اس بیماری کی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہو سکے۔ اسی طرح یہ تنظیمیں انصاف کی فراہمی کو ایشو بناتی ہیں تو عمومی طورپر ایسے زنا کار جوڑوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اپنے مذہب، والدین اور معاشرے سے بغاوت کر کے سرمایہ داری کی محافظ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ مذہب دشمنی ان کی سرشت میں ہوتی ہے، اسی لیے یہ مختاراں مائی اور آسیہ بی بی کےلیے تو جان ودل سے تگ و دو کرتی ہیں مگر عافیہ صدیقی کے لیے کبھی کلمہ حق کہنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ یہ این جی او ز جب غیر اسلامی فرقوں کے تحفظ کی بات کرتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسلم معاشروں میں ارتداد کی کھلی اجازت ہونی چاہیے؛ کوئی مسلمان قادیانی یا عیسائی یا لبرل بننا چاہے تو اس میں مذہب کو مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔

9.1.4۔ خلاصہ کلام

انسانی حقوق کا چارٹر اور اس کے پس منظر میں کارفرما پورا فلسفۂ مغرب کسی خیر کا منبع نہیں بلکہ شروفساد کا محور ہے۔ اصولاً حقوقِ انسانی :

جن معاشروں میں انسانی حقوق کو پریکٹس کیا جاتا ہے وہ معاشرے حریص و حاسد، سفاکی کی حد تک خود غرض، شہوت پرست، قاتل اورغاصب ہوجاتے ہیں۔ ہر فرد محض اپنی ذات میں سمٹ جاتا ہے اور معاشرتی اکائیاں مثلاً خاندان وغیرہ بکھرجاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہم بلاکسی تامل کے انسانی حقوق کے چارٹر کو اسی طرح کفرِخالص تسلیم کرتے ہیں جس طرح سکھوں کی گرنتھ، ہندوؤں کی وید کو؛اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار فرمایا ہے اور مشرک کو کسی صورت معاف نہ فرمانے کا اعلان کیا ہے۔ مشرک وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس کے غیر کو شریک ٹھہرائے، یعنی ایک عیسائی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوتا ہے مگر شرک کی آلودگی کےساتھ جب کہ انسانی حقوق کے فلسفے میں معاملہ جدا ہے، یہاں اللہ تعالیٰ کی ذات ِواجب الوجود کا ہی سرے سے انکار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا فلسفہ انسانی حقوق اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کو بالکلیہ رد کر دینا ہمارے ایمان کا عملی تقاضا ہے۔ ہمارے دینی تحریکات کے کارکنان کے لیے لازم ہے کہ فلسفۂ حقوق سے کلی برأت کا اعلان کریں۔

5۔ترقی

ترقی سے مراد Progress ہے اور Progress کا عقیدہ سرمایہ دارانہ فکر کی امتیازی خصوصیت ہے۔ سرمایہ دارانہ علمیت (Epistemology) کے غلبہ سے پہلے کسی نظامِ فکر نے آزادی کو بحیثیت ایک عقیدہ کے قبول کیا نہ Progress کو۔ پراگرس، فریڈم کا لازمی لاحقہ ہے۔ پراگرس سے مراد صرف یہ ہے کہ سرمایہ کی بڑھوتری میں لامتناہی اور مسلسل اضافہ مستقل ہوتا رہے۔ عقیدہ ”آزادی“ رکھنے والا شخص اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ ہیومن بینگ وہ ہے جو صرف اپنی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کی مستقل جدوجہد کرنے کو عقل کے واحد تقاضے کے طور پر قبول کرے۔ وہ صرف اپنے نفس کا بندہ ہو، اس کو Autonomy یا خود کفالت کہتے ہیں۔ ایک اٹانومس ہیومن بینگ اپنی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کی جدوجہد اس طرح کرتا ہے کہ تمام دوسرے اٹانومس ہیومن بینگز بھی اپنی خواہشاتِ نفسانی کی جدوجہد بِلا غیر ضروری روک ٹوک جاری رکھ سکیں۔

اس عقیدہ کی سب سے واضح توجیہ نظریہ افادیت (Utilitarianism) نے پیش کی ہے۔ فلسفہ افادیت سرمایہ دارانہ علم اکنامکس کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس نظریہ کا پہلا بڑا مفکرڈیوڈ ہیوم تھا جو ایڈم سمتھ کا قریبی دوست تھا۔ انیسویں صدی میں سب سے نمایاں افادیت پرست مفکر بینتھم (Bentham) اور جان اسٹوارٹ مل (John Stuart Mill) تھے اور دورِ حاضر میں Utilitarianism کے نمایاں ترین مفکرین Hare اور Harsuny ہیں۔

نظریہ Utilitarianism کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مقصد لذت (Pleasure) کومستقلاً انتہائی فروغ دینا (یعنی maximize کرنا) ہونا چاہیے۔ لذت نفس امارہ یعنی خواہشات کی تسکین سے حاصل ہوتی ہے اور نفس کی تسکین کا واحد ذریعہ” صَرف“ یعنی Consumption ہے لہٰذا معاشی اور معاشرتی پالیسی کا واحد معقول ہدف مجموعی معاشرتی صَرف کو لامتناہی اور مستقل بڑھانا ہے۔ صَرف( consumption)میں اضافہ کو ناپنے کے لیے علم اکنامکس نے جو پیمانہ وضع کیا ہے اسے (Gross National Production) اور Gross National Expenditure کہتے ہیں۔ عملاً پراگرس سے مراد مجموعی معاشرتی صَرف میں اضافہ کے علاوہ کچھ نہیں۔

اکنامکس کی وہ شاخ جسے ویلفیئر اکنامکس کہتے ہیں اصرار کرتی ہے کہ ترقی کو ناپنے کے لیے GNP کی معاشرتی تقسیم (social distribution) کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ ترقی کو ناپنے کے لیے محض مجموعی معاشرتی لذت (GNP) میں لامتناہی اضافہ کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ GNP کی تقسیم ایسی ہو کہ تمام افراد اور گروہ لذات کے اضافہ سے مستفید ہوتے رہیں۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل ہے اور اس کی سب سے واضح تشریح جان رالز (John Rawls) نے اپنے مشہورDifference Principle میں کی ہے۔ ایک فی زمانہ مشہور عام تشریح Amartya Sen کی کتاب Development as Freedom میں ملتی ہے۔ پراگرس سے مراد حصولِ لذات کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ لذات کے حصول کا ذریعہ سرمایہ (Capital) ہے۔ لہٰذا پراگرس کا حصول سرمایہ کی بڑھوتری کے ذریعہ ہی ہوتا ہے؛ جب کوئی معاشرہ پراگرس کی جستجو کرتا ہے تو وہ لازماً ایک سرمایہ دارانہ انفرادیت اور ایک سرمایہ دارانہ نظمِ ریاست کو فروغ دیتا ہے۔

دورِ حاضر کی تاریخ کے مطالعہ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب سرمایہ دارانہ استعمار یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ پر غالب آیا تو ان ممالک میں سرمایہ دارانہ انفرادیت کا وجود تھا نہ سرمایہ دارانہ معاشرت کا اور نہ سرمایہ دارانہ نظامِ اقتدار کا۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ نے سرمایہ دارانہ علمیت (Science) کے ذریعہ ان غیر سرمایہ دارانہ شخصیتوں، معاشرتوں اور ریاستوں کو مسخر کیا اور اس سیاسی اور عسکری غلبہ کے نتیجہ میں اپنے گماشتوں (سرسید احمدخان، ضیاگوکلپ، محمد عبدہ وغیرہ) کے ذریعہ سرمایہ دارانہ عقائد اور نظریات کی وسیع پیمانے پر تبلیغ کی اور رفتہ رفتہ یہ عقائد اور نظریات مفتوح علاقوں میں عمومی سطح پر معقول سمجھے جانے لگے۔

سرمایہ دارانہ علوم کو معقول تصور کیے جانے کی سب سے بڑی وجہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا عسکری غلبہ تھا اور چوں کہ یہ غلبہ سائنس کی مرہون منت تھا لہٰذا یہ تصور کیا جانے لگا کہ ہماری ”سائنسی پسماندگی“ ہماری شکست کا باعث ہے۔اس بات کو فراموش کردیا گیا کہ سائنس کن اہداف کے حصول میں کامیاب ہوتی ہے۔ وہ کامیاب ہوتی ہے لذات کے لامتناہی فروغ کے ہدف کے حصول میں، وہ کامیاب ہوتی ہے انسان کو ہیومن بینگ بنانے میں اور جیسا کہ اٹھارھویں صدی کے ایک جرمن پادری Helmit Forstner نے کہا تھا ہیومن بینگ شیطانی انفرادیت کا دوسرا نام ہے۔ سائنس انسان کو شیطان بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ اب شیطان بننا مقاصدِ شریعت میں شامل کر دینا چاہیے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی کامیاب زانی کے کارناموں سے متاثر ہو کر زنا کو مشرف بہ اسلام کریں۔

سرمایہ داری ہم پر اس لیے غالب نہیں آئی کہ ہم تسخیرِ کائنات کے عمل میں اس کے کارندوں سے پیچھے رہ گئے وہ اس لیے غالب آئی کہ ہم لوگوں کو سرمایہ دارانہ عقائد اور نظریات اختیار کرنے سے نہ روک سکے۔ ہم نے ایک ہزار سال تک یورپ، افریقا اور ایشیا کے وسیع علاقوں پر حکومت کی لیکن نہ ہم یورپ کو مسلمان بناسکے نہ ہندوستان کو نہ چین کو اگر ہم اس میں کامیاب ہوجاتے تو سائنسی علمیت (جو بقول مولانا مودودی جاہلیتِ خالصہ ہے) کبھی بھی غالب نہ آتی اور تسخیرِ کائنات اور نفسانی خواہشات کے لامتناہی فروغ کو تہذیبی مقبولیتِ عام کبھی بھی نصیب نہ ہوتی۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلامی جدوجہد کا مقصد انسان کو مسلمان بنانا ہے لیکن سرمایہ داری کے گماشتے انسان کو شیطان (Human Being) بنانے کے لیے برسرِکار ہیں۔ سرمایہ داری کے یہ گماشتے عموماً مسلم قوم پرست ہیں۔

1.5۔تصورِ ترقی کی اسلام کاری

ترقی کی اسلام کاری کا عمل انیسویں صدی میں شروع ہوا اور اس کو مسلم قوم پرست استعمار مخالف قومی تحریکوں نے اپنایا۔ یہ جماعتیں مثلاً مسلم لیگ خالصتاً سیکولر مذہب دشمن جماعتیں تھیں لیکن انہوں نے اسلامی استعارے (symbols) اور نعرے اختیارکیے اور مسلمانوں کو ایک قوم بنادیا۔ اس ”مسلم قوم“ کا مفاد دوسری تمام سرمایہ دارانہ اقوام کی طرح لذات کا لامتناہی فروغ ہی تھا۔ انہوں نے اسلامی علمیت (بالخصوص کلام) کو لغو اور ناقابلِ عمل گردانا اور دعویٰ کیا کہ سائنس مسلمانوں کی ایجاد ہے۔ مسلم قوم پرست، معتزلہ دہریوں کے پیروکار ہیں۔ انہوں نے لبرل جمہوریتوں کو اپنے ماڈل کے طور پر قبول کیا اور جب انہیں اقتدار حاصل ہوا تو انہوں نے خالص سرمایہ دارانہ نظامِ اقتدار قائم کیا۔ ان کی ”اسلامی جمہوریتوں“ میں نہ شریعتِ مطہرہ کے لیے کچھ گنجائش تھی نہ اسلامی علمیت اور روحانیت کے فروغ کے لیے۔ ان کا مقصد ترقی کی جستجو کے ذریعہ مسلمان کو سرمایہ دار بنانا تھا۔ سرمایہ دار کو مسلمان بنانے کو یہ ایک نامعقول عمل گردانتے ہیں۔

ترقی کی اسلام کاری کی دوسری کاوش اسلامی Revisionists نے کی۔ اسلامی Revisionists وہ مفکرین ہیں جو نظام زندگی کی کلیت سے سہو نظر کرکے اس نظام زندگی کے انفرادی اعمال کا اسلامی جواز پیش کرتے ہیں۔ اس کی ایک اہم مثال مولانا تقی عثمانی کی کتاب ”اسلام اور جدید معیشت و تجارت“ ہے۔ اس کتاب میں مولانا تقی عثمانی نے اس بات سے انکار کیا کہ اسلام ایک نظام زندگی ہے اور اسٹاک ایکس چینج، کارپوریشن اور سرمایہ دارانہ تعینِ قیمت کے عمل کا اسلامی جواز پیش کیا۔ اسی فکر کی بنیاد پر اسلامی بینک کاری فروغ پا رہی ہے، جو سرمایہ دارانہ سود اور سٹہ کے مارکیٹوں Money and Capital Markets کا جزوِلاینفک ہے اور جس کے ذریعہ اسلامی دنیا سے ہر سال اربوں ڈالر نیو یارک، لندن اورزیورخ منتقل ہوتے ہیں اور جس اسلامی بینک کاری کو جید ترین دیو بندی علماء نے حرام قرار دیا ہے۔

اسلامی جمہوری جماعتیں بھی ترقی کی اسلام کاری کے عمل میں شامل ہیں۔ یہ جماعتیں، اسلامی بینکار اوراسلامی اکنامسٹ دعویٰ کرتے ہیں کہ احکامِ شریعت کی پابندی ترقی کا بہترین ذریعہ ہے اور اگر اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو معیارِ زندگی میں مستقل لامتناہی اضافہ لازماً ناگزیر ہوجائے گا۔ جماعت اسلامی پاکستان کا 2013ء کا انتخابی منشور اس نوعیت کے دعووں سے بھرا پڑا ہے۔ اس دستور کے مطابق اگر جماعتِ اسلامی کو اقتدار حاصل ہوا تو وہ عوام کو وہ تمام ہیومن اور سوشل رائٹس فراہم کرے گی جو سرمایہ دارانہ ویلفیئر ریاستوں میں میسر ہیں۔ وہ آزادی، مساوات اور ترقی کو فروغ دے گی اور یہی اسلام کا تقاضہ ہے۔ جماعتِ اسلامی سرمایہ دارانہ نظام کی بہترین خدمت کرسکتی ہے اور کیوں نہ ہو ماضی قریب میں IMF نے جناب سراج الحق اور جنرل مشرف نے جناب نعمت اللہ خان کے سرمایہ دارانہ نظام کے بہترین منتظمین ہونے کا بارہا اقرار کیا ہے۔ یہ اس جماعت کا انتخابی منشور ہے جو اسلامی انقلاب برپا کرنے کی دعوے دار ہے۔

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

اور طرفہ تماشا یہ کہ یہ منشور ایک ایسے زمانہ میں پیش کیا جارہا ہے جب سرمایہ داری کے چوٹی کے مفکرین ژاک دریدا، الین بادیو اور سلاؤ ژیژک وغیرہ ترقی کو برملا ایک ناقابلِ حصول ہدف قرار دے رہے ہیں اور اس بات کا اقرار کررہے ہیں کہ جو عالمی ماحولیاتی اور مالیاتی بحران سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کو تہس نہس کررہا ہے اس کی بنیادی وجہ لذت پرستی کا لامتناہی فروغ ہی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام خود اس ”ہل من مزید“ کی مجنونانہ جستجو کو روکنے کی کوئی اہلیت نہیں رکھتا۔

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جب سرمایہ دارانہ نظریات اور سرمایہ دارانہ اعتقادات کی فطری نامعقولیت دو اور دو چار کی طرح واضح ہوچکی ہے۔ آج مسلم قوم پرستی، اسلامی بینک کاری اور حقوق کی سیاست کو فروغ دینا ایک احمقانہ حکمتِ عملی ہے۔ ہم انیسویں صدی میں نہیں اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور اس صدی میں سرمایہ دارانہ نظام برق رفتاری سے اپنی تباہی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہمیں آج ادائیگی ٔفرائض کی طرف دعوت دینا چاہیے حصولِ حقوق کی طرف نہیں۔ اسلامی تحاریک کا ہدف عوام وخواص کی خواہشات و میلانات کی تبدیلی ہے، لوگوں کی خواہشاتِ نفسانی کی تگ و دو کو جواز فراہم کرنا اور اس کو آسان بنانا نہیں۔

اسلامی انقلابی جدوجہد حریص و حاسد شخصیت، شہوت اور غضب سے مغلوب معاشرت اور لذات کو مہمیز دینے والے نظام اقتدار یعنی Welfare State کے قیام اور استحکام کی جدوجہد نہیں۔ ہم عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل اور حتمی انہدام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ عقائد، آزادی، مساوات اور ترقی اور سرمایہ دارانہ نظریات، لبرل ازم، سوشل ازم، قوم پرستی، سوشل ڈیموکریسی کو بالکل رد کرکے اسلامی شخصیت معاشرت اور ریاست کے غلبہ کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔

کیا نصوصِ صحیحہ میں خواہشات نفسانی کو فروغ دینے کی کوئی ترغیب ملتی ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین ؓنے ہمیشہ فقر کو غنا پر ترجیح نہ دی؟ کیا پیداوار کو بڑھانے، کان کنی کے فروغ، بچتوں کو بڑھانے، سڑکوں اور عمارات کی تعمیر کرنے کے حق میں ہمیں کوئی احادیث ملتی ہیں؟ اگر نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خواہشات نفسانی کو فروغ دینا، اپنے حقوق طلب کرنا، تسخیر کائنات کی جستجو میں لگے رہنا مکروہ اعمال ہیں۔ آج اسلامی جماعتیں ان اہداف کو فروغ دے کر صرف سرمایہ دارانہ آدرشوں سے اپنی مرعوبیت کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کے پاس عوام اور خواص کی خواہشات کو تبدیل کرنے کا کوئی ایجنڈا نہیں، وہ ایک شریعت پابند (Sharia constrained) سرمایہ دارانہ نظام قائم کرنا چاہتی ہیں۔ یہ ایک نامعقول اور لغو سعی ہے اور وہ اس میں ان شاء اللہ ضرور ناکام ہوں گی۔

6۔سیکولرازم

1.6۔ مختصر تاریخ

سیکولرازم کے تصور کا بانی ایک عیسائی مفکر سینٹ آگستائن(Saint Augustine) ہے۔ سینٹ آگستائن نے چوتھی صدی عیسوی میں ایک کتاب ”سٹی آف گاڈ“ لاطینی زبان میں لکھی۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں عملاً دو سلطنتیں، یعنی دو نظامِ اقتدار قائم ہیں۔ ایک نظام ہے، ”سٹی آف گاڈ“ جس میں خدا کی حکمرانی ہے۔ اس نظام کو چرچ مرتب اور نافذ کرتا ہے، اور یہ نظام خدا اور انسان کے رشتہ کو قائم رکھنے اور مضبوط بنانے کا ذمہ دار ہے۔ یہ نظام عیسائیت کی تشریح اور تنقیذ کرتا ہے، اس نظام کا حاکم مطلق پوپ ہے، پوپ عیسائیت کی جو تشریح چاہے کرے کیوں کہ روح القدس (Holy Ghost) ہر پوپ میں حلول کرجاتی ہے۔ ہر عیسائی پوپ کا بندہ ہے۔

دوسرا نظام ”سٹی آف مین“ ہے۔ اس نظام کا مقصدِ وجود انسانوں کے آپس کے تعلقات کی ترتیب اور تدوین ہے اور ان کے دنیوی اغراض و مقاصد کا فروغ ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے پوپ رومن شہنشاہ اقتدار سونپ دیتا ہے۔ اور رومن شہنشاہ رومن قانون (جس کا ماخذ روم کی روایات ہیں) کے ذریعے ”سٹی آف مین“ پر حکومت کرتا ہے۔”سٹی آف مین“ میں رومن شہنشاہ انہی معنوں میں حاکم مطلق ہوتا ہے جن معنوں میں پوپ ”سٹی آف گاڈ“ میں حاکم مطلق ہوتا ہے۔ رومن شہنشاہ کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ رومن لاء کی جو تشریح چاہے کرے۔

چوتھی صدی عیسوی میں رومن شہنشاہ Constantine نے عیسائیت قبول کرلی۔ اور سینٹ آگستائن کا وضع کردہ سیکولرازم کا یہ تصوراتی نظام تقریباً ایک ہزار سال تک یورپ میں کسی نہ کسی حد تک نافذ العمل رہا۔ اس نظام کے خلاف منظم بغاوتیں چودھویں اور پندرھویں صدی میں شروع ہوئیں، یہ سبھی مذہبی بغاوتیں تھی، اور ان کے برپا کرنے والے پروٹسٹنٹ عیسائی فرقے تھے۔ ان فرقوں نے پوپ کے ”سٹی آف گاڈ“ کے اقتدار کے خلاف بغاوت کی۔ ان بغاوتوں کو مقامی سیاسی مقتدر خاندانوں کا شمالی یورپ میں بھر پور تعاون حاصل تھا۔ جہاں جہاں یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں وہاںمطلق العنان بادشاہت قائم ہوئی۔ اور ایک قومی چرچ وجود میں آیا جس کا سربراہ قومی بادشاہ قرار پایا۔

اس دور کے آخر میں ایک کلیدی معاہدہ”ٹریٹی آف ویسٹ فیلیا“ کے ذریعے سیکولرنظام کی ایک نئی تشریح کی گئی۔ متصادم ریاستیں(کیتھولک اور پروٹسٹنٹ) اس بات پر متفق ہوگئیں کہ ہر مطلق العنان بادشاہ اپنے رعایا کا یہ حق تسلیم کرے گا کہ وہ جو مذہب چاہے اختیار کرے۔ گو کہ ریاست کا ریاستی مذہبی نظام وہی ہوگا جو مطلق العنان فرماں رواں اختیار کرے گا۔ اس نظریہ کو Doctrine of Toleration کہتے ہیں۔

2.6۔ تنویری سیکولرازم

سترھویں اور اٹھارھویں صدیاں عیسائیت کے خلاف اہم ترین فکری بغاوتوں کا دور ہیں۔ ان بغاوتوں کو تنویریت کہتے ہیں۔ اس کے کلیدی مفکر ہیگل، کانٹ، لاک، نیوٹن اور مارکس ہیں۔ ان مفکرین کے نظریات جدا ہونے کے باوجود یہ اس بات پر متفق ہیں کہ انسان ہیومن بینگ ہے۔ ہیومن بینگ سے مراد ایک ایسا نوعی وجود ہےجو احد و صمد ہے۔ وہ جو اپنی ذات اور اپنی کائنات خود تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ قائم بالذات ہے، اور کسی کا عبد نہیں ہے۔ اس کی انفرادی نوعی جستجو کا مقصد تسخیر کائنات ہے، اس کو حق ہے کہ خیر اور شر کا تعین خود کرے اور اپنی تمام خواہشات کی تکمیل میں جو عمل معاون ہووہی اختیار کرے۔

یہ تنویری عقائد ہیں؛ تنویری عقلیت ان عقائد کو ثابت نہیں کرتی۔ یہ اس کے مفروضات (presumptions) ہیں۔ ان عقائد پر ایمان لائے بغیر انسان ہیومن بینگ نہیں بن سکتا۔ جو انسان ہیومن بینگ نہیں وہ Enlightenment کے نظام اجتماعی کا رکن نہیں بن سکتا اور اسے کوئی بھی ہیومن رائٹ حاصل نہیں۔ لاک نے یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ دو کروڑریڈ اینڈینز (امریکا کے قدیم باشندوں) کا قتل اتنا ہی جائز تھا جتنا بھینسوں (Bison) کا شکار کیوں کہ بھینسے ہیومن بینگ تھے نہ امریکا کے قدیم باشندے۔

ہیومن بینگ جو نظامِ اقتدار قائم کرتا ہے اس کو دستورِی جمہوریت (Constitutional republic) کہتے ہیں۔ اس نظام اقتدار میں (اصولاً) مطلق العنان فرماں روا سٹیزن ہوتا ہے۔سٹیزن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تنویری عقائد کی بنیاد پر نظام اجتماعی چلانے کے لیے جو قوانین اوراصول چاہے وضع کرے۔ شرط صرف یہ ہے کہ یہ اصول و قوانین فروغ آزادی، تسخیر کائنات اور خود تخلیقیت (Self determination) کے حصول کا ذریعہ ہوں۔ اس نظام اجتماعی میں سیکولرازم کے لیے دو گنجائشیں موجود ہیں:

  1. جمہوری دستور Treaty of Westphalia کے اصول کو قبول کرنا کہ مذہب ایک انفرادی معاملہ ہے جس کا نظام اجتماعی کی ترتیب اور تنفیذ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر شخص جو مذہبی عقائد اختیار کرنا چاہے کرسکتا ہے لیکن یہ عقائد مابعدالطبیعیاتی ہوں، اخلاقی نہ ہوں۔ مثلاً یہاں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زنا سے اجتناب کرے اور زنا کو برا سمجھے لیکن اس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو زنا سے روکے کیونکہ زنا کرنا بیٹی کا ہیومن رائٹ ہے۔ ہر شخص مذہبی روایت اپنی پسند کی بنیاد پر اس طرح قبول کرنے کا حق رکھتا ہے کہ یہ مذہبی عمل دستوری جمہوریت کے مقاصد کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، بحیثیت سٹیزن وہ فروغِ آزادی اور حصول تسخیر کے کائنات کے مقاصد کی معاشرتی اور ریاستی بالادستی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ یہی چیز اس کو ہیومن بینگ بناتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اس کو ہیومن رائٹس کا حق دار تصور کیا جاتا ہے۔
  2. ہر فرد اور گروہ کو اس بات کا حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کو تنویری مقاصد آزادی، تسخیر کائنات، اور خود تخلقیت کے حصول کا ذریعہ ہونے کی تبلیغ کرے اور ان مقاصد کی حصول کی جدوجہد کی ایک مذہبی تشریح پیش کرے یہ کام نیوٹن، لاک، کانٹ اور ہیگل نے شروع کیا اور وہ سب اپنے آپ کو پکا اور مخلص عیسائی تصور کرتے تھے۔

آج دو تحریکیں یہ عمل کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک Evangelism اور دوسری Zionism۔ ان گروہوں کا دعویٰ ہے کہ مذہب کی جو تشریح وہ پیش کرتے ہیں وہ تنویری اقدار کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ Evangelistsکہتے ہیں کہ امریکی دستور جس کی بنیاد پر دنیا کی کامیاب ترین ریاست قائم ہے، عیسائی تعلیمات سے محفوظ ہے۔

3.6۔ برصغیر میں سیکولر ازم

برصغیر کی کامیاب ترین مذہبی سیکولر تحریک سِنگھ پریوار اور بی جے پی ہے۔ جس نے ہندو مذہب کی خالص سیکولر تشریح پیش کی ہے اور اس کی بنا پر بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی حاصل کی ہے اور کانگریس نے بھی عملاً ان تشریحات کو قبول کیا ہے۔ برصغیر میں جو سیکولر ازم فروغ پایا ہے وہ مذہب کو سراہنے والی سیکولرازم ہے۔ یہ سکولرازم ہندوستان کے تمام مذاہب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کو ہندوستان کے لوک ورثہ کا اہم جزو سمجھتی ہے۔

یورپی سیکولرازم کی طرح ہندوستانی سیکولرازم بھی مذہب کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ رائج شدہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام اقتدار کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا سوال اٹھائے یا اس کی Legitimacy کو چیلنج کرے۔ مذہبی ترجیحات، رسومات اور تشخص لازماً دستوری ریاستی نظام اقتدار کی فیصل حاکمیت (Sovereignty) کو تسلیم کرتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو سیکولر ریاستی نظام کا تحفظ حاصل ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند ان معنوں میں سیکولر جماعتیں ہیں کہ انہوں نے دستوری نظامِ اقتدار کی بالادستی اُصولاً اور عملاً قبول کرلی ہے۔ اور ان کی دعوتی اور علمی جدوجہد بھی اس سیکولر نظام اقتدار سے متصادم نہیں۔ یہ دونوں جماعتیں کانگریس کی سیکولرازم کو بی جے پی کی سیکولرازم پر ترجیح دیتی ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی انفرادیت اور معاشرت کو صرف ہندومت سے منسلک کرنا درست نہیں اور اگر تمام مذاہب کی تکریم برقرار رکھنا ہے تو ہر مذہبی تشخص کو سیکولر نظام میں سموجانے اور یکساں فروغ دینے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ چوں کہ کانگریس اس دلیل کواصولاً نہرو کی تحریرات بالخصوص (Discovery of India) کی بنیاد پر قبول کرتی ہے لہٰذا عملاً جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند اور یو پی کی مسلم مجلس عمل کانگریس کی حلیف سیاستی جماعتیں بن گئی ہیں۔ یہ تینوں جماعتیں ہندوستانی سیکولرازم کے استحکام کو اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتی ہیں۔

4.6۔ پاکستانی سیکولرازم اور اسلامی جدوجہد

حاجی صاحب ترنگ زئی کی شہادت اور تحریک ریشمی رومال کی ناکامی کے بعد علمائے ہند نے اپنی سیاسی جدوجہد کو سیکولر خطوط پر مرتب کیا۔ ١٩١٨ء / ١٩١٩ء میں تحریک خلافت وجود میں آئی اور ١٩٢٠ء میں جمعیت علمائے ہند قائم کی گئی۔ یہ دونوں تنظیمیں تحریک استخلاص وطن کا حصہ تھیں جس کی عملی قیادت گاندھی کررہا تھا۔ گاندھی کا طریقہ کار عدمِ تشدد (ستیہ گِرہ) (Non Violent Boycott) پر مبنی تھا۔ عدمِ تشدد پر مبنی تحریک ایک قانونی، احتجاجی اور مفاہمتی مطالباتی تحریک تھی جس کا مقصد برصغیر کے باشندوں کے لیے سرمایہ دارانہ جمہوری دستوری حقوق کا حصول تھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سیکولر قوم پرست جماعتیں تھیں، علمائے دیو بند اور علمائے بریلی نے ان جماعتوں کی ماتحتی قبول کرلی اور ہندوستان میں احیائے ریاستِ اسلامی کو ناممکن سمجھ لیا۔

قیامِ پاکستان کے بعد لبرل سیکولر دستوریت کی اسلام کاری کا عمل بروئے کار لایا گیا۔ Basic Principles Resolution کی منظوری کے بعد پاکستان کے دستور کو اسلامی گردانا گیا اور اسلامی جماعتوں کی جدوجہد اسی دستور کے تناظر میں مرتب کی گئی۔ چوں کہ یہ دستور خالصتاً سیکولر اور لبرل ہے، شریعت کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی علومِ اسلامیہ کی بالادستی قبول کرتا ہے لہٰذا اس کے تناظر میں جدوجہد کرنے والی اسلامی جماعتوں کی جدوجہد پیہم ناکامی کا شکار ہے۔ یہ تحریکیں مطالبات اور احتجاج سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں، سیکو لرنظام میں اسلامی جماعتوں کے سموجانے کا سب سے واضح ثبوت MMA کا 2002ء سے 2007ء تک دورِ حکومت فراہم کرتا ہے۔ MMA اپنے دورِ اقتدار میں اسلامی علامتی اقدام تک میں ناکام رہی۔ حسبہ بل کو افتخار محمد چودھری (جس کو کبھی جماعت اسلامی قوم کا نجات دہندہ تصور کرتی تھی) نے بیک جنبش قلم مسترد کردیا تھا۔ حکومتی سودی کاروبار اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں دستورِ پاکستان کو احکاماتِ شریعتِ مطہرہ پر بالادست تسلیم کرتی ہیں اور صرف وہی جدوجہد (مطالباتی، احتجاجی، ستیہ گری) کرنے کی قائل ہیں جس کی اجازت پاکستان کا دستور ان کو دیتا ہے ؎

اور تم سوائے شور کے کچھ بھی نہ کر سکو
کیا خوب لڑ رہے ہو کہ مارو نہ مر سکو

سیکولر دستوری نظام میں ماتحتی قبول کر کے اسلامی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی اپنی اسلامی سیاسی شناخت کھوتی جا رہی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام پیپلزپارٹی کی حلیف تھی، اور جماعت اسلامی عمران خان کی ساتھی۔ کیا یہی اسلامی سیاست ہے؟

سیکولرازم کو قبول کرنے کا طریقہ صرف سیاستی نہیں معاشرتی بھی ہے، اس معاشرتی طریقہ کو اختیارکرنے والے غلبہ اسلام کی ضرورت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اقتدار اسلامی کے قیام کی جدوجہد سے عملاً لاتعلق رہتے ہیں۔ یہ رویہ صوفیائے چشتیہ اور قادریہ نے تیرھویں صدی سے اپنایا ہوا ہے۔ جب تک برصغیر میں اسلامی سلطنت قائم رہی اس رویہ کے جواز میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ چوں کہ سلطان ظل اللہ ہے لہٰذا صوفیاء یکسو ہوکر ہندوستان کے باشندوں کو مسلمان بنانے کا کام کریں اور معاملات اقتدار سلطان ظل اللہ کے سپرد کردیں۔ سلسلہ نقشبندیہ نے اکبر اور جہانگیر کو عسکری شکست دے کر ریاست اسلامی کومحفوظ رکھا (اور اس ضمن میں حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی اور شاہ ولی اللہ کی جدوجہد نہایت اہم ہے) لیکن جب امام عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ اور داراشکوہ کے درمیان معرکہ برپا ہوا تو یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بیشتر اہل تصوف دارا کے حامی بنے بالخصوص پنجاب میں اور امام عالمگیرؒ اپنے نصف صدی کے دورِ اقتدار میں بہت کم صوفیا کو مغل انتظامیہ کا پیہم جستجو کے باوجود حصہ بنانے میں کامیاب ہوسکے۔

اس سے واضح ہوا کہ سلطنت سے لاتعلقی کے نتیجہ میں اہل تصوف کا سیاسی شعور ختم ہوتا چلا گیا۔ سترھویں صدی میں صوفیا کرام نے عالمگیر جیسے ولی اللہ سے پہلو تہی کی اور بیسویں صدی میں درویشِ خدا مست سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بالکل تنہا چھوڑ دیا۔ پنجاب اور سندھ کے بیشتر پیرو ں کے خانوادے انگریز کے باج گزار بنے۔ صوفی اسلامی جماعتوں کو سیاست سے پہلو تہی کا درس دیتے ہیں اور امریکی استعمار کے ہم نوا یوسف قرضاوی اور وحید الدین خان کے ہم نوا ہیں۔ اس نوعیت کا تصوف روحانی عیاشی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

نظام اقتدار کے قیام کی جدوجہد سے پہلو تہی اسلامی عوامی جماعتوں مثلاً دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت نے بھی اختیار کی ہے۔ یہ جماعتیں سیاسی عمل کو گندا کہتی ہیں اور عملاً یہ جماعتیں سیکولر نظام کا حصہ بن گئی ہیں اور سیکولر اقتدار کو کوئی چیلنج پیش نہیں کرتیں۔ یہ اس رائے کا اظہار کرتی ہیں کہ انفرادی اصلاح کے نتیجہ میں نظام اقتدار خود بخود تبدیل ہوجائے گا، ظاہر ہے یہ رائے صرف وہی شخص رکھ سکتا ہے جو انقلابات عالم کی تاریخ سے ناواقف ہے۔

5.6۔ اختتامیہ

سیکولرازم سے مراد یہ ہے کہ نظام اقتدار اس طرح مرتب ہو کہ ہیومن بینگ کی مطلق حاکمیت کارِ فرما رہے اور اس کے نتیجہ میں مکمل آزادی اور تسخیر کائنات کو ممکن بنایا جاسکے۔ سیکولرازم کے ذریعے ہیومن بینگ کی الوہیت اور صمدیت قائم کی جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہم سیکولرنظام کو کلیتاً، اصولا اور عملاً رد کرتے ہیں۔ سیکولرازم میں کسی مذہبی پیوند کاری کے قائل نہیں۔ ہماری جدوجہد سیکولر نظام اقتدار کو جڑ بنیاد سے اُکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکولر نظام اقتدار کو ہم جائز نہیں سمجھتے اور اس کی قانونی اور دستوری جکڑبندیوں سے اپنی جدوجہد کو آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسلامی نظام اقتدار کے قیام کے لیے وہ تمام طریقے اختیار کرنے کا حق رکھتے ہیں جن کا شریعت مطہرہ ہمیں اجازت دیتی ہے۔ اسلامی حکومت کا قیام اسلامی نظام اقتدار کے قیام کے جدوجہد کا آخری مرحلہ ہے۔ یہ بات دورِ حاضر میں غزہ، صومالیہ، یمن، افغانستان اور چیچنیا میں جاری اسلامی تحریکوں نے ثابت کردی ہے۔

7۔قوم پرستی

1.7۔ قوم پرستی کا تاریخی پس منظر

1.1.7۔ قوم پرستی کیا ہے؟

مدارس اور کالج یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ عصری تحریکات اور ان کے رحجانات سے واقف ہوں۔ انہیں پرکھنے کا شعور حاصل کریں اور ان سے وابستگی کے مضمرات سے واقف ہوسکیں۔ آج کے دور میں ”قوم پرستی“ ایک ناسور کی طرح مسلم معاشرے میں پھیل چکی ہے، اس کی مقامی طور پر مثالیں مہاجر، بلوچ، سرائیکی اور ہزارہ قوم پرستانہ تحریکات ہیں۔ ہمیں اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ قوم پرستانہ خیالات، تصورات اور تحریکات کا اصل منبع کیا ہے۔ تبھی ہم آگے جاکرموجودہ قوم پرستانہ تحریکات کی صحیح جانچ کر پائیں گے۔

قوم پرستی کی تحریک نے یورپ میں پندرھویں صدی عیسوی میں جنم لیا۔ سب سے پہلی قومی ریاست برطانیہ کی تھی جس نے پاپائے روم کے اقتدار کو رد کر کے اختیارات کو Tudorخاندان کے سُپرد کیا۔ سولھویں اور سترھویں صدیوں میں یورپ مذہبی جنگوں کا شکار رہا۔ اس میں پاپائے روم کے حامی کیتھولکس اور اس کے باغی(کئی پروٹسٹنٹ فرقے) مسلسل برسرپیکار رہے اور ریاستی اقتدار پر قبضہ کرنے کی خواہش کی بنیاد پر یہ جنگیں جاری رہیں۔ اسی دوران پاپائے روم نے فرانس، اسپین اور پرتگال کی قومی ریاستوں کو تسلیم کر لیا۔ اسی دور میں ہالینڈ کی پروٹسٹنٹ ریاست بھی قائم ہوئی؛ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں سویڈن بشمول ناروے، ڈنمارک، اٹلی اور جرمنی کی قومی ریاستیں قائم ہوئیں؛ بیسویں صدی میں جب ان یورپی حکومتوں نے اپنے استعماری نظام کو ختم کیا تو انہوں نے ایشیا، اور افریقہ میں اپنے ماتحت علاقوں میں اقتدار قومی ریاستوں کے سپرد کر دیا۔ تمام ایشیائی اور افریقی ریاستیں(باستثنا جاپان اور تھائی لینڈ) بیسویں صدی کی پیداوار ہیں؛ ان کا اقتداری ڈھانچہ بھی انہی یورپی قوموں نے مرتب کیا۔ اس کی مثال ملائیشیا، انڈیا، پاکستان، خلیجی ریاستیں، عراق، شام، اردن، لیبیا اور تیونس وغیرہ ہیں۔

2.7۔ تعریف

قوم پرست تحریک کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ ایک خاص نسل سے تعلق رکھنے والے اور ایک مخصوص زبان بولنے والوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بلاشرکت غیرے اپنا نظام اقتدار یعنی اپنی ریاست تعمیر کریں جہاں ان کی تشکیل کردہ قوم کو اپنی مرضی کے مطابق اپنا نظام زندگی رائج کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ لہٰذا قوم پرست تحریک کی سب سے پہلی ضرورت قوم سازی ہے۔ قوم سازی سے مراد یہ ہے کہ کسی منتخب لسانی یا نسلی گروہ کو یہ بات باورکرانی چاہیے کہ دوسری ”قوم“ ان کا استحصال کر رہی ہے اور اس استحصال کو ختم کرنے کے لیے اپنی قومی ریاست بنانا ضروری ہے۔ قوم پرستی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو ایک جواز فراہم کرنے والا نظریہ ہے (یہ ایک پہلو ہے جبکہ سرمایہ داری کو جواز فراہم کرنے والے دیگر اہم ترین نظریات لبرل ازم اور سوشل ازم ہیں)۔ ”استحصال“ سے قوم پرستوں کی مراد ان کی ”قوم“ کی معاشی محرومی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ قوم پرست تحریک کی کامیابی کے نتیجہ میں ایک ایسی ریاست (نظامِ اقتدار) کی تعمیر کا وعدہ کیا جاتا ہے جو منتخب قوم کے سرمایہ دارانہ حقوق کو فروغ دے گی اور سرمایہ دارانہ اہداف یعنی آزادی اورترقی کا حصو ل ممکن بنائے گی۔ قوم پرست ”قوم“ کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم مثال دور حاضر میں کراچی کی ہے جہاں ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کو اس بات کا یقین دلانے میں کامیاب ہوگئی کہ کوئی دوسری قوم مثلاً سندھی، پنجابی، پشتون اور بلوچ ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ اس استحصال کو ختم کرنے کے لیے ریاستی اقتدار پر قبضہ لازم ہے۔ ایم کیو ایم کی کامیابی سے قبل اردو بولنے والے قوم پرست نہ تھے۔ ان کی غالب سیاسی وابستگی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان سے تھی۔ ان دونوں جماعتوں کا اثر و نفوذ ختم کرکے ہی ایم کیو ایم قائم ہوئی ہے اور آج بھی ایم کیو ایم کا سب سے مؤثر مقابلہ ایک مذہبی جماعت ”سنی تحریک“ کر رہی ہے۔ قوم پرستی کے اسی خطرہ سے بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام اور سرائیکی علاقہ میں سپاہِ صحابہ دوچار ہے۔ جیسے جیسے بلوچی اور سرائیکی بولنے والے قوم پرست نظریات سے متاثر ہوں گے ویسے ویسے ان کی جدوجہد ”استحصال“ کے خاتمے اور سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول پر مرکوز ہو گی اور دینی جماعتوں کا اثر و نفوذ ختم ہوتا چلا جائے گا۔

3.7۔ قوم اور امت میں فرق

اسلام جس سیاسی اجتماعیت کا قائل ہے وہ ”امت“ ہے، قوم نہیں۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ تعلق، خواہ وہ کسی بھی خطے، رنگ اور زبان یا قبیلے سے تعلق رکھتا ہو، دوسرے مسلمان کے ساتھ اخوت، بھائی چارے، ہمدردی اور دل سوزی کا ہے۔ وہ کسی سے محبت اس لیے نہیں کرتا کہ وہ اس کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے بلکہ کلمے کی بنیاد پر محبت رکھتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ کسی سے نفرت کرتا ہے تو اس کی نفرت کی بنیاد کلمہ اور قرآن ہے نہ قوم زبان یا علاقائی حیثیت۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جابجا مسلمانوں کو بطور امت پکارا گیا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وکذلک جعلنا کم امّة وسطا

ولتکن منکم امّة یدعون الی الخیر

ان ھذہ امّتکم امّتہ وّاحدة

امت جو ریاست تشکیل دیتی ہے وہ قومی نہیں ہوتی، ہر مسلمان اس کی رعیت میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید تمام اسلامی ریاستوں خلافت راشدہ، خلافت امویہ، خلافت عباسیہ، سلجوق بادشاہتوں، خلافت عثمانیہ سلطنت مغلیہ وغیرہ کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی اسلامی ریاست قومی ریاست نہیں تھی، وہاں اقتدار عوام کے کسی گروہ کے پاس نہیں تھا بلکہ سلطان ظل اللہ تھا اورتمام فیصلے شارع علیہ السلام کے احکام کی تعمیل میں صادر کیے جاتے تھے۔ اسلامی ریاست کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نمایندگی کا کوئی نظام نہیں ہوتا نہ ہی مقننہ کا کوئی ادارہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی قوم کے اقتداری حقوق کے قائل نہیں ہیں۔ عوام اور خواص کے کسی گروہ یا فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ نظامِ اقتدار اپنی مرضی سے مرتب کرے۔ حکم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کیا ہے۔اسی نے حکم دیا ہے کہ صرف اس کے احکام کی تعمیل کی جائے۔

الالہ الخلق والامرا

ان الحکم الااللّٰہ

وماامرو الا لیعبدوا للّٰہ

اسلامی ریاست سرمایہ دارانہ قومی حقوق کے فروغ کا ذریعہ نہیں۔ لہٰذا ہم ہر قوم پرست تحریک بشمول مسلم قوم پرست تحریکات کی نظریاتی اور عملی مخالفت کرتے ہیں لیکن ہم دوسری جانب قوموں کے سماجی اور ثقافتی تشخص کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اقوام عالم کے بارے میں صرف وہی تصور ہمیں قابل قبول ہے جسے قرآن حکیم نے بیان کیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

یاایّہا النّاس انّا خلقنٰکم مّن ذکر وّانثٰی وجعلناکم شعوبا وّقبائل لتعارفوا۔ انّ اکرمکم عندللّٰہ اتقٰکم

اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں گروہ اور قبائل بنایا ہے تاکہ تم آپس میں پہچانے جاؤ۔ مگر درحقیقت تم میں وہی معزز ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔(الحجرات)

یعنی قبیلوں اور قوموں کا اختلاف محض ایک دوسرے کے تعارف کے لیے ہے، ایک دوسرے کے ساتھ تفاخر، آپس کی عداوت اور فساد فی الارض کے لیے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز وہی ہے جو متقی ہے خواہ وہ عربی ہو یا عجمی، وہ افریقی ہو یا شامی، لیکن اگر وہ متقی نہیں ہے تو وہ اپنے آپ کو کتنا ہی اعلیٰ ذات کا بتائے معزز نہیں ہو سکتا۔ قومیں،قبائل اور شعوب کی ترقی یافتہ شکلیں ہیں۔ قوموں کے لسانی اور معاشرتی تشخص کے تحفظ اور فروغ کو احیائے اسلام کا مؤثر ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ صوفیا کے اس عظیم الشان کارنامے سے ہم مستفید ہوسکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مقبولِ عام رسوم وروایات کو شریعتِ مطہرہ کے دائرہ کار میں مرتب کیا جائے اور عوام کے دینی جذبات اور عقیدت کے اظہار کے لیے ایسے طرائق وضع کیے جائیں جو شرع کی تعلیمات سے متصادم نہ ہوں اور عوام کی قومی ثقافتی روایات کے ہم آہنگ ہوں۔

اسلامی تحریکا ت کی حالیہ معاشرتی کمزوری کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ کسی اسلامی جماعت نے ایک اقدامی ثقافتی حکمت عملی مرتب نہ کی۔ پنجابی، سندھی، بلوچ زبانوں اور روایات کے فروغ کے لیے ہم نے کوئی اسلامی منصوبہ مرتب نہ کیا اور دشمن نے ہماری اس کمزوری سے فائدہ اٹھاکر قومی تشخص کے اظہار کو سیکولرازم کے فروغ کا ذریعہ بنالیا ہے۔ آج پنجابی، سندھی زبانوں میں جوادب تصنیف کیا جارہا ہے وہ بالعموم اسلام دشمن ادب ہے۔ کیا کسی اسلامی جماعت کے پاس پنجابی، سندھی، بلوچی زبان اور ثقافت کو فروغ دینے کا کوئی منصوبہ ہے؟

4.7۔ ہندو قوم پرستی

ہندو قوم پرستی دراصل ثقافتی قوم پرستی، لبرل نیشنل ازم اور رومینٹک نیشنل ازم کا ملغوبہ ہے جس میں آپ کسی حد تک مذہبی قوم پرستی کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ یعنی ہندو قوم پرستی کے تحت ریاست ایک خاص نسل، گروہ کے حقوق اور سیاسی بقا کے اظہار کی تاریخی طور پر فطری لحاظ سے وارث ہے۔ لہٰذا ہندو ریاست کا قیام ہندو قوم کی بقا کے لیے ضروری ہے جہاں وہ اپنی لوک روایات، لوک رسوم و رواج، لوک اعتقادات، لوک داستانوں کا اظہار کرنے میں آزاد ہوں۔ ہندو قوم پرستی کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں بسنے والی دیگر اقوام اگر ہندو روایات، ہندو کلچر اور ہندو تاریخ کو اپنا لیتی ہیں تو وہ بھی ایک خاص درجے میں ہندو قوم کا حصہ ہیں۔ فی زمانہ ہندو قوم پرستوں نے تمام لبرل اقدار، آزادی، رواداری، مساوات، انفرادی حقوق اور قومی شناخت کو اپنا لیا ہے اور پر تعیش لذت انگیز زندگی گزارنے کے بھی داعی ہیں۔ لہٰذا ہندو قوم پرستی کوئی پرانی تاریخی چیز نہیں بلکہ جدید سیاسی تاریخ کا حصہ ہے جس کے تحت قومی ریاستیں وجود میں آئیں۔ ہندو نیشنل ازم کو سمجھنے کے لیے ہندو تواکو سمجھنا ضروری ہے۔ ہندو توا ہندو نیشنل ازم ہی کا دوسرا نام ہے۔ہندو سیاست ہندوستان میں ہندو توا کے ساتھ جڑی ہوئی ہے مختلف ہندوسیاسی جماعتوں کے مجموعے کو ہندو توا کہا جاتا ہے ہندو توا مندرجہ ذیل سیاسی ہندو پارٹیوں کے مجموعے کا نام ہے:

1۔ بھارتیہ جنتا پارٹی

2۔ شیوا سینا

3۔ آکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا

4۔ بھارتیہ جن سنگھ

5۔ رام راج پریشد

6۔ وشوا ہندو پریشد

7۔ بجرنگ دَل سکھ پارٹی

8۔ راشٹریہ سوا بام سیوک سنگھ

ہندو توا کے ماتحت اوپر بیان کردہ سیاسی پارٹیوں کے رہبروں کا ہندو قوم پرستانہ سیاست میں ایک خاص مقام ہے ہندوتوا کے رہنما مندرجہ ذیل ہیں:بال گنگا دھرتلک، پنڈت مدن موہن مالوا، وینائک دامودار ساور کر، مدھو سادشؤ گول واکر، کشوا بلی رام ہجوار، سائما پرشاد مکرجی، دیند یپال آیا دھپایا، بال ٹھاکرے وغیرہ

ہندو توا اپنی سیاست کی بنیاد مذہب پر استوار کرنے کی مخالف ہےگو کہ وہ ہندو مذہب کے بنیادی آدرشوں کی انفرادی زندگی میں بجا آوری پر زور دیتی ہے؛ ہندو توا والے مذہب سے زیادہ سیکولرازم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ مذہب کو ریاستی عمل سے باہر سمجھتے ہیں اور ریاستی سیاست (جمہوریت) میں ہندو نیشنل ازم کو ایک قوت متحرکہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ہندو نیشنل ازم کو بطور آئیڈیالوجی کے استعمال کرتے ہیں۔ ہندو توائی جدید ہندوستانی ری پبلک کو ہندو راشٹریہ یعنی ہندو ریاست کے علی الرغم سمجھتے ہیں اور ری پبلک آف انڈیا کو ہندو ورثہ اور اس کی خود ساختہ تاریخ کی حفاظت کی امین سمجھتے ہیں جیسے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لٹریچر اور اس کے سلوگن میں ہندو راشٹریہ یعنی جدید ہندو ریاست کے قیام کو اپنا بنیادی نظریہ قرار دیا گیا ہے۔ بی جے پی اسی ہندو راشٹریہ کے دائرے میں بدھ ازم، جین ازم اور سکھ ازم کو بھی شمار کرتی ہے اور ان مذاہب کے ماننے والوں کو بھی ہندو قرار دیتی ہے جبکہ بدھ ازم، جین ازم اور سکھ ازم کے پیروکار اپنے آپ کو ہندوؤں سے الگ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ہندو توا والے اپنی سیاست کووسعت دینے کے لیے مذہب کو اپنی سیاست سے جدا قرار دیتے ہیں اور اپنی جدوجہد کو خالصتاً ہندو نیشنل ازم کا امین سمجھتے ہیں جس کا بنیادی مقصد ہندو راشٹریہ یعنی ہندو ریاست کا قیام ہے۔

ہندو توا کا نظریہ کوئی پرانی چیز نہیں ہے؛ اس کا ظہور بیسویں صدی میں ہوا۔ ہندوؤں کی طرف سے جنگ آزادی کا ہیرو جس کا نام وینائک دامودار تھا عوام میں ویر ساورکر کے نام سے جانا جاتا تھا، اس نے انگریز کی اسیری کے دوران جیل میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ہندو توا تھا۔بھگوت گیتا کو ہندو مذہب میں بائبل کی حیثیت حاصل ہے اسی طرح ہندو توا کی کتاب کو جدید ہندوستان میں ہندو تاریخ، ہندوورثے، ہندو نسل اور ہندو نیشنل ازم پر حروف آخر سمجھا جاتا ہے۔ یاد رہے ہندو توا کی کتاب مراٹھی زبان میں لکھی گئی۔ ویر ساورکر کے مطابق ہندوتوا کا مطلب ہندوستانی ہونا ہےجس کو وہ ”ہندو پن“ Hindunessکہتا ہے۔ Hunduness کا مطلب اور مقصد ہندو رثے اور تہذیب کی حفاظت ہے اور ہندو طرز رہائش یعنی Hindu Way of Life کو اختیار کرنا ہے۔ ساورکر کے مطابق ایک ہندو اپنے ہندو پن کو چھوڑے بغیر کسی غیر ہندو مذہب کا پیرو ہو سکتا ہے۔ اور اپنی ہندوانہ روش پر قائم رہتے ہوئے دوسرے خدا یا خداؤں کی پرستش بھی کر سکتا ہے گو کہ اس کا یہ عمل ناقص ہو گا لیکن غلط یا قابل اعتراض نہیں گرداناجاسکتا لہٰذا اسی کثیر جہتی ہماہمی کی بنیاد پر ہندو پن والے انسانیت دوست دنیا کو کامیابی کی طرف لے جانے والے اور امن و آشتی کا گہوارا بنانے کے لیے ایک دوسرے کی مدد اور قوت فراہم کرنے والےہوتے ہیں۔ ہندو توا دنیاوی بھلائی اور فلاح کے لیے نہ صرف ہندو ازم کی بھلائی اور صلح چاہتا ہے بلکہ وہ سکھ ازم، بدھ ازم اورجین ازم کو بھی وقعت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ کہتا ہے کہ ہندو توائی سب سے بڑھ کر سیکولر اور روادار ہوتا ہے۔

ہندو توائی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندو نیشنل ازم کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی سے ہوتا ہے جب مسلمان حملہ آور ہندوستان آنا شروع ہوئے۔ لہٰذا ہندوؤں نے بنیادی طور پر ان حملہ آوروں سے اپنی ریاست کو بچانے اور دھرم کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد شروع کی۔ اس مقصد کے لیے تاریخی طور پر ہندوؤں نے جس اصطلاح کو استعمال کیا اس کو ہندو توائی کشٹیریا یعنی تحفظ دھرم / تحفظ ریاست کہتے ہیں۔ ہندو توائی کہتے ہیں کہ یہ کشٹیریا بذات خود نیشنل ازم ہی ہے لہٰذا ہندو عوام، ہندو دھرم، ہندو ریاست کا قیام ہندو توا یا ہندو نیشنل ازم کے ساتھ منسلک ہے اسی لیے ہر ہندوستانی کو ہندوستانی ریاست کا وفا شعار ہونا ضروری ہے۔ ساورکر اس وفا شعاری کو ہندو راشٹرا یعنی ہندو ریاست کا نام دیتا ہے اور بطور ایک ہندوستانی تمام ہندوستانیوں کو ہندو مذہب کے ساتھ ہندو روایات کے ساتھ ہندو تہذیب و اقدار کے ساتھ ساتھ ہندو ریاست کا پاسبان ہونا ضروری گردانتا ہے۔اور یہ تمام اقدار و روایات ریاست کی تعمیر کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ہندو راشٹرا کی تکرار تمام ہی سنگ پریوار پارٹیوں میں ملتی ہے۔ سنگ پریوار پارٹیوں میں سے ایک پارٹی کا نام ہی راشٹریا ہے جس کو راشٹریا سوا سوک سنگھ پارٹی کہتے ہیں۔ RSS اپنے آپ کو ایک والنٹیئر آرگنائزیشن کہتی ہے۔ اس کا ایک اور نعرہ سنگھٹ ہندو سمارتھا بھارت یعنی یونائیٹڈ ہندو اور کیپ ایبل انڈیاہے۔ راشٹریہ والے روزانہ کھلی جگہوں پر اپنا اجتماع منعقد کرتے ہیں جہاں بچے، عورتیں، مرد ایک ساتھ جمع ہوکر فوجی طرز کی مشقیں کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سارے بھارت میں روزانہ اس طرح کے پانچ ہزار اجتماعات ہوتے ہیں۔ وشوا ہندو پریشد اس کی ایک سسٹر تنظیم ہے جس کا مقصد ہندوستان سے باہر ہندوؤں کے لیے کام کرنا ہے۔ آر ایس ایس والوں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان نے ساری دنیا کو سیکولرازم، سویلائزیشن، علم ہندسہ سکھائے۔ مزید برآں، ان کا دعویٰ ہے کہ محمڈن (مسلمان) بھی ہندو ہی ہیں؛ یہ لوگ بھی ہندوستان کے باسی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہندو طرزِ زندگی اختیار کرلیں۔ ہندوستانی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب مل کر مذہبی تعصب اور مذہبی کٹر پن سے گلو خلاصی حاصل کرلیں اور مذہب کی جگہ ایک ایسی انسانی ریاست کا قیام عمل میں لائیں (ہندو ریاست) جہاں مذہب کا کوئی ریاستی عمل دخل موجود نہ ہو۔

ہندو قوم ہندوستان میں ہمیشہ سے تھی اور مستقبل میں بھی ہمیشہ رہے گی اور ہندو ہندوستان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح باہر سے حملہ آور نہیں ہوئے لہٰذا ہندو راشٹرا کا خیال اور قیام سیکولرازم اور جمہوریت سے قطعی متصادم نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ فطری طور پرمتعلق ہے لہٰذا ہندوتواکی اصطلاح احاطہ کرتی ہے تمام ہندوستانی ثقافت کا بالخصوص ان ہندوستانیوں کا جن کے آباواجداد ہندو تھے لہٰذا وہ مسلم اور عیسائی ہندوستانی بھی ہندو ہیں جن کے اجداد ہندو تھے لہٰذا عیسائی اور مسلم مذہب سے قطع نظر ان کا ورثہ اور ان کی تہذیب ہندوستانی ہی ہے۔ اسی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اکھنڈ بھارت یعنی Complete India کی یہی تفسیر ہے۔ ہندوستان کی تقسیم نے ہندوستان کی منفرد تاریخ، ثقافت اور ورثے کو بری طرح متاثر کیا اور یہ تقسیم غیر فطری ہے۔

ہندو راشٹرا کی وکالت کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندو ازم میراث ہے رواداری، اورمختلف النوع فلاسفی اور اصلاح پسند تحریکات کی۔ اس لیے ہندوتوا والے کہتے ہیں کہ ہم ایک عالمی بھائی چارے، عالمی رواداری کے امین ہیں۔ اسی لیے ہندوستان کا ہر فرد، ہر طبقہ اور ادارہ ہندوستان میں دائمی طور پر ہندو تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ہندو کی اصطلاح ایک کُل پر مبنی ہے اور یہ احاطہ کرتی ہے تمام ادیان اور فلسفوں کا جس میں سکھ، جین، بدھ تمام ہی شامل ہیں۔ آر ایس ایس والے کہتے ہیں کہ راشٹرا کا درست ترجمہ ہندو ریاست اور ہندو پن ہے۔

VHP کی تنظیم سازی 1967ءمیں ہوئی۔ اس کے تحت بہت سے آر ایس ایس لیڈروں اور کچھ مذہبی پنڈتوں نے مل کر ہندو مذہب، ہندو روایات اور ہندو بھائی چارے کو از سر نو تعمیر (Revive) کرنے کا کام شروع کیا۔ VHP وہ تنظیم ہے جس نے رام جنم بھومی (بابری مسجد) کا ایشوسارے ہندوستان میں عام کردیا۔ اسی کے بطن سے اکھل بھارتیہ ویدھیار تیا پریشد نے جنم لیا جو اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہے۔ وی ایچ پی مزدوروں اور کسانوں میں بھی کام کرتی ہے۔ ہندو نیشنل ازم میں ہندو دھرم سے زیادہ ہندو بادشاہوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس میں پرتھوی راج اور سیواجی مہاراج کو اہم مقام حاصل ہے کیوں کہ ان کا بنیادی مسئلہ ہندو مذہب نہیں بلکہ ہندو ریاست ہے۔ اسی لیے ایک ہندو تنظیم شیو سینا کا نام ہی شیواجی مہاراج نام کے اوپر ہے،(شیوا جی کی ساری جدوجہد ریاست کے حصول کے گرد گھومتی ہے)۔

ہندو توا کا مرکزی خیال یہ ہےہندوتوا کے مطابق برصغیر میں ہمالیہ سے لے کر کوہ ہندو کش تک اکھنڈ بھارت ہے جو کہ ہندوؤں کا ہوم لینڈ ہے۔ ہندو صرف وہ ہے جو انڈیا یعنی بھارت کو اپنا اترا بھومی یعنی Father Land بھی سمجھتا ہے اور اس کو اپناپونیہ بھومی Holy Land بھی سمجھتا ہے۔ عیسائی اور مسلمان باہر سے آئی ہوئی اقوام اور اقلیتیں ہیں جنہوں نے ہندوؤں پر بڑے ظلم و ستم ڈھائے ہیں بہت سے ہندوؤں کو بزور طاقت مسلمان اور عیسائی بنایا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو تاریخی طور پر اس ظلم و زیادتی کو تسلیم کرنا چاہیے، ہندوؤں ہی کی کمزوری کی وجہ سے بیرونی طاقتیں ان پر غالب آئیں۔ لہٰذا مستقبل میں ایسی طاقتوں سے بچاؤ کے لیے ہندو راشٹرا کا قیام نہایت ضروری ہے۔ نیز ہندو مذہب اور ثقافت کو ریفارم اور ریویو یعنی اس کی تجدید نو کرنا ضروری ہے۔ گائے خالصتاً ایک ہندوستانی سِمبَل ہے، اس کی قربانی کرنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ ہندو توا ہندو ازم سے مختلف ہے؛ ہندو توا ایک تاریخ کا نام ہے جو ہندوسویلائزیشن، تاریخ، نظریہ، مذہب کا احاطہ کرتی ہے۔ ہندو تِوا ہندو نسل اور انسان پرستی پر مبنی خیالات کو متحرک کرنے کا نام ہے جس سے مراد صرف ہندو پن کا اظہار ہے۔

ہندوؤں کی تاریخ سندھ کی وادی سے شروع ہوئی جہاں انہوں نے ایک خاص تہذیب کی بنیاد رکھی جس کے تحت انہوں نے اپنے آپ کو اپنے ایرانی بھائیوں سے کاٹ کر ایک قومیت کی بنیاد ڈالی جس کا ذکر ”ریگ ویدا“ میں ”سیتا سندھوس“ کے نام سے ملتا ہے۔ یہی وہ سندھ کی وادی ہے جہاں آریاؤں نے اپنی قومی اور تہذیبی روایات کو شروع کیا بعد میں یہی سندھوزیادہ شہرت کے ساتھ ہندو کہلائے۔ سنسکرت کا ایس (S) بدل کر ایچ (H) میں تبدیل ہوگیا یعنی ہندو بن گیا۔ ہندوؤں کی جغرافیائی حدود ہمالیہ سے لے کر سیلون تک پھیل گئی جس کا سرخیل شہزادہ ایودھیا تھا۔ رام چندرا گپتا نے آریان کو اکٹھا کر کے ان کو ایک قومی شکل میں منضبط کیا اور ایک مقدس ریاست کی بنیاد ڈالی۔ ہندو توا والے آریا ورتا، برہما ورتا کی اصطلاحوں کو رد کرتے ہیں کیوں کہ یہ تقسیم مقدس ریاست کو ویدک بھارت اور جین بھارت میں تقسیم کردیتی ہے۔

سندھو دریا نے اپنے پانی سے ہندوؤ ں کے اجداد کی پرورش کی اسی لیے سندھو راشٹرا ہندوؤں کی وہ مملکت قدیم ہے جس کا ذکر ان کی مذہبی کتابوں میں سندھو ساویر کے نام سے ملتا ہے۔ سندھو ساویر بھارت کا رشتہ دار تھا جس نے سندھو کی بقا کے لیے بہت سی جنگیں لڑیں اسی لیے سندھو ان کا قومی ہیرو ہے اور ان کی قدیم پہچان ہے۔ اسی لیے سندھو سے قدیم اقوام یعنی ایرانی، یہودی، یونانی بھی بخوبی واقف تھے اور اسی نام سے ان کو سیاسی اور جغرافیائی لحاظ سے پکارتے تھے۔ ہندو توا والے بھی ویدک لائنز پر ہی اداروں اور ریاست کا قیام چاہتے ہیں جو کہ لبرل، سیکولر، ہیومنسٹ آدرشوں کے ہم آہنگ اور اقدار کے ساتھ منسلک ہو لہٰذا اس مقصد کے لیے ہندو دھرم کی تجدید نو کرنا ضروری ہے تاکہ ہندوؤں کا حال ان کے ماضی کے ساتھ جڑا رہے اور وہ عزت و توقیر اور رفعت سے اقوام عالم میں ہمکنار ہوسکیں۔ ہندو توا والے ایک اصطلاح ملیچھستان کی استعمال کرتے ہیں جس سے مراد غیر نسل اور غیر ملک ہوتے ہیں جبکہ سندھستان سے مراد آریاؤں کا لاجواب ملک ہے۔ نیز ملیچھستان سے مراد وہ ملک ہے جہاں ہندوؤں کی چار قومیں نہ ہوں اور یہ سندھو دریا سے پار کا علاقہ ہے۔

پرکھارتھ، سنسکرت کی بڑی بیٹی ہے جس کوفروغ ہندی کہتے ہیں، ہندی ہندوؤں کی قومی زبان ہے۔ ہندی نئی زبان نہیں ہے، یہ شروع ہی سے ہندوستان میں رابطہ کی زبان رہی ہے جبکہ سنسکرت پنڈتوں اور شہزادوں اور بادشاہوں کی زبان ہے۔ ہندی کو آپ ہندوستانی بھی کہہ سکتے ہیں جو تمام ہندوستان اور راج سبھا کی بھی زبان ہے اور یہ ہندوستان کی قومی زندگی کی پہچان ہے۔

مسلمانوں کے آنے سے پرکھارتھ سنسکرت اور ہندو تہذیب زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہوئی جس کے سُرخیل محمد بن قاسمؒ اور محمود غزنوی ؒتھے جنہوں نے ہمارے (ہندوؤں)دلوں اور روحوں کو مجروح کیا؛ کرب اور دکھ پہنچانے کی آخری کڑی ابدالیؒ تھا۔ اسلام کی امن بخشنے والی تلوار نے نا صرف ہندوؤں کو مجروح کیا بلکہ یہ ساسانیوں اور بازنطانیوں کو کچلتی ہوئی افغانستان اور بلوچستان تک آپہنچی۔ دنیا اسلام کی تلوار کے زیر سایہ آگئی؛ مسلمان فاتحین نے دنیا کی تہذیب کا حشر بگاڑ دیا۔ یہ واحد ہندوستان تھا جو عرب کی آندھی کا تن تنہا مقابلہ بے جگری سے کرتا رہا اور انسانی تہذیب و تمدن کو بچاتا رہا۔ اخلاقی اورفوجی لحاظ سے وہ اورنگزیبؒ کے دور تک اس آندھی کا مقابلہ بے جگری سے کرتا رہا گو کہ وہ معرکہ ہار گیا لیکن اخلاقی جنگ جیت گیا۔ ان کی اخلاقی فتح اکبر اور دارا شکوہ کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ ہندو توا کی تحریک ہندوستانی قوم اور ریاست کو انہی غیر ملکی حملہ آوروں سے بچانے کی جنگ ہے۔ ہماری(ہندوؤں کی) یہ جنگ مذہبی نہیں بلکہ قومی اور سیاسی ہے۔ ہم ہندوستان کی تمام قوموں اور نسلوں کو ہندو قوم سمجھتے ہیں؛ ہم تہذیبی یکجہتی اور شہری تمدن کے علم بردار ہیں اسی لیے ہم مذہبی ہئیت کو رد کرتے ہیں اور مذہب کو قومیت کی شناخت کا سر خیل نہیں سمجھتے۔ ہندو توا ہندو قوم کا نجات دہندہ ہے؛ ہم ہی کشمیری پنڈتوں کو ظلم و جبر سے بچاسکتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہندو احساسات و جذبات اور ہندو ہیروز کو ہر سطح پر اجاگر کرتے ہیں؛ پرتھوی راج، شیواجی مہاراج، راج سینا، باؤجی مہاراج، گروگوبند شینا وغیرہ کے کارناموں کو اجاگر کرتے اور ان کے کارناموں سے عوام کو روشناس کراتے ہیں۔ عرب مسلمان ہماری قومی روایات اور مذہب کے متعلق تو بہت کچھ جانتے ہیں لیکن بحیثیت ہندو قوم کے یہ ہم سے واقف نہیں ہیں لہٰذا جو لوگ ہندوستان کو اپنا Father Land نہیں مانتے اور اس کو اپنا Holy landبھی نہیں مانتے ان کو ہندوستان چھوڑنا پڑے گا۔ اگر ہندوستانی ریاست کا شہری بننا ہے تو ہندوستان کو اپنا Father Land اور Holy land ماننا پڑے گاورنہ ہندوستان چھوڑنا پڑے گا۔ ہمارا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ”مادہ“ خدا نے تخلیق کیا ہے، انسان نے اس کو ترتیب دے کر تہذیب کی تخلیق کی ہے، انسان تہذیب کا خالق ہے اور خدا مادہ کا۔ انسان جب تہذیب کو تخلیق کرتا ہے تو اپنی روح کو خوشی بخشتا ہے؛ وہ اس خوشی سے ”حسن و محبت“ کو کشید کرتا ہے اور زندگی کو جلا بخشتا ہے۔ کوئی قوم اس وقت تک تہذیب یافتہ نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے خیالات کو مجتمع کرکے اپنا دائرہ کار متعین نہیں کرتی۔ ادب، آرٹ اور خیالات کو مجتمع کرنے کا نام تہذیب ہے۔ ہندو قوم نے مادہ کو تعمیر کرکے تہذیب کی بنیاد ڈالی۔

”وید کی طرف پلٹو“ سے مراد ہندو توا ئی یہ لیتے ہیں کہ ریاست کو ان خطوط پرقائم کیا جائے اور دوبارہ استوار کیا جائے جیسا کہ تاریخی طور پر پرانی ویدوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان کے مطابق وکراما جیت، بھاواشیائے پرنا اور پروا وغیرہ کے مطابق آریاؤں کا بہترین ملک سندھوستان ہے۔ اسی کی بنیاد پر وہ ہندوستانی اور غیر ہندوستانی کے درمیان حد فاصل کھینچتے ہیں جیسا کہ ان بادشاہوں نے ملیچھوں اور آریاؤں کے درمیان لکیر کھینچی تھی؛ یہ بادشاہ اسی کو سندھو یعنی بھارت ورتا کے نام سے پکارتے تھے۔ ریاست کی تعمیر نو میں ہماری نسل کی پرانی یادداشتوں کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس نسلی تفوق کی تفریق کا تعلق جہاں ہمارے انتہائی ماضی سے ہے وہیں اس کا تعلق ہمارے آنے والے مستقبل سے بھی ہے۔ یہی ہماری لافانیت اور ابدیت ہے۔ سندھو دریا سے لے کر برھما پُترا تک کا علاقہ ہماری راجنا راشٹرم ہے جس پر ہمارے قدیم راجاؤں کی حکومت رہی ہے۔ لہٰذا ہم ہندوستانی ریاست کا تعین محض اس کی جغرافیائی حدود یا زمین کے ٹکڑے پر نہیں کرتے بلکہ اس سے مراد ملیچھستان اور غیر ملیچھستان ہے۔

5.7۔ مسلم قوم پرستی

ہندوستان میں مسلم قوم پرستی اور وطن پرستی کا بیج سرسید احمد خان اور ان کے رفقاء اور ان کی فکر سے متاثر محمد علی جوہر، اورعلامہ اقبال وغیرہ نے بویا ہے۔ تحریک خلافت کے آخری دور نے وطن پرستی کی فکر کو اجاگر کیا۔ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم نے وطن پرستی کو اسلامی جامہ پہنانے میں ہراول دستہ کا کام کیا تاکہ مسلمانوں کا مادی اور سیاسی لحاظ سے ہندوؤں کے بالمقابل ہر سطح پر تحفظ کیا جاسکے۔ علی گڑھ، سر سید احمد خان اور ان کے رفقائے کار نے مسلمانوں کا قومی تصور ابھارا۔ مسلم حقوق، مساوات، ترقی سیکولرازم، مادہ پرستانہ سوچ کو پھیلانے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں اور ان کے زعماء کار کو ہندوؤں کے بالمقابل انگریزوں کے زیادہ قریب ان کا دوست اور ان کا بہی خواہ ثابت کیا جاسکے اور مسلمانوں کے معاشی مفادات، معاشی ترقی، برتری، مستقبل سازی، بیوروکریسی میں مسلمانوں کا حصہ ان کو دلایا جاسکے۔ ایسا اسی وقت ہوسکتا تھا کہ مسلمان فکری اور عملی طور پر خود کو انگریز کا حلیف ثابت کرسکیں اور انگریز کو یہ باور کرایا جاسکے کہ مسلمان دور جامد سے نکل کر ترقی اور جدیدتمدن کے حصول کے لیے مذہب سے نکل کر اس طرف گامزن ہورہے ہیں۔ لہٰذا سرسید اور ان کے رفقائے کار کی کوشش تھی کہ مسلمان نیچرل سائنس، میڈیسن اور قانون کی تعلیم کی طرف راغب ہوں اور انگریزی عمل داری میں اپنا حصہ بقدر جثہ حاصل کرسکیں اور اس کے ریاستی ڈھانچہ میں بحیثیت ایک کل پُرزے یعنی کلرک کے اس ریاست کو چلانے میں معاون ثابت ہو سکیں۔

پان اسلام ازم بنیادی طور پر اسلامک لینڈ کے حصول کی تحریک ہے جو اسپین، بغداد اور مسلم ہندوستان کی ترقی اور کامیابی کی طرف پلٹنا چاہتی ہے۔ یہ ایک گروہی نسلی تحریک ہے جو مسلم اتحاد، مسلم ترقی اور مسلمانوں کے تحفظ کی دعوے دار ہے۔ اس کا مقصد ایک عظیم ترمسلم قومی ریاست کے قیام پر مبنی ہے۔ یان اسلام ازم ایک ایسی مسلم ریاست کے قیام کی داعی ہے جو اقوام عالم میں مسلمانوں کو سُرخرو، مضبوط، آزاد اور طاقتور بنادے اور کالونیل ازم اور کالونیل ریاستوں سے مسلم ریاستوں اور مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنا اس کا بنیادی مطمح نظر ہے۔ اس کے داعی (بالخصوص جمال الدین افغانیؒ، عبدہ، آزادؒ، مدنیؒ وغیرہ) چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو جدید دورسے ہم آہنگ کریں اور زمانے کے ساتھ قدم بقدم چل سکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان معاشرتی اور معاشی تبدیلیاں لائیں اور دور جامد سے باہر آئیں تاکہ اسلامی جمعیت کو اقوام عالم کے بالمقابل ابھارا جاسکے۔ مسلمان عقل سے اپنا تعلق جوڑ کر دوبارہ مساوات، ترقی اور معاشرتی یکجہتی سے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔ فی زمانہ حزب التحریر، ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر طاہر القادری اور ڈاکٹر علامہ اقبال کی فکر کو اسی سانچے میں رکھ کر تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ پان اسلام ازم کی کوکھ سے ہی پان عرب ازم ہے، بعدازاں ہندوستان میں مسلم قوم پرستی بھی اس سے برآمد ہوئی۔ ہندوستان میں مسلم قوم پرستی نے انیسویں صدی میں جڑ پکڑی جس کی بنیاد لسانی، مذہبی تفریق اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ برطانوی عمل داری میں رہتے ہوئے کرنا تھا۔ مسلم قوم پرستی کے رحجان کو غالب کرنے میں علی گڑھ تحریک، تحریک خلافت، جمعیت علمائے ہند، بریلوی، دیو بندی تفریق نے اہم کردار ادا کیا۔

مسلم قوم پرستی کا بنیادی مقصد مسلم ریاستوں کو تحفظ فراہم کرنے کی راہ نکالنا اور مسلمانوں کو حقوق دلانا تھا۔ فی زمانہ مغربی سرمایہ دارانہ ریاستیں مسلم ممالک میں مسلم قوم پرستی کو جمہوریت کے فروغ کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور لبرل ازم کے ساتھ ساتھ مسلم قوم پرستی کو متوازی قوت کے طور پر متعارف کرانا چاہتی ہیں۔ اسی لیے امریکا مسلم دنیا میں مسلم قوم پرستی کو ایک بالمقابل سیاسی قوت کے استعمال کرنے کا متمنی ہے تاکہ مسلم ممالک میں مغربی فکر اور اس کی عمل داری کو اسلامی جامہ کے اندر پیش کیا جاسکے اور مسلم ممالک میں ایک اصلاح پسند اسلام کوسامنے لایا جاسکے۔

پان عرب ازم کا بنیادی مقصد ترکوں کے خلاف سیاسی طاقت اور قوت کا حصول تھا۔ عرب کی زمانہ جاہلیت کی تاریخ اور اسلامی عرب کی تاریخ اس کی فکر کا بنیادی منبع اور مرکز تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے آغاز میں فرانس اور انگلستان کو ایسے اتحادیوں کی تلاش تھی جو جرمنی اور عثمانی خلافت کے مدمقابل ان کے اتحادی بن سکیں۔ لہٰذا دونوں طاغوتی طاقتوں نے عرب دنیا اور مسلم افریقہ میں عرب نیشنل ازم کو ہوا دینا شروع کی۔ شریف مکہ (جس کو اس وقت عالم اسلام میں بڑی اہمیت حاصل تھی اور عرب دنیا میں اس کا بڑا اثر و رسوخ تھا) نے عربوں کو ترکوں کی عمل داری سے نکلنے کے لیے اکسایا۔ یہودیوں کے بڑھتے ہوئے عزائم نے بھی عرب دنیا کو پان عرب ازم کی طرف مائل کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد عرب مفادات کے حصول کے لیے عرب لیگ کا قیام عمل میں آیا جس نے اپنے علیحدہ تشخص کو ابھارا۔ عرب نیشنل ازم کے بنیادی اصول ١٩٦٠ء میں بعث پارٹی کے بعد مرتب ہوئے۔ عرب قوم پرستی کا دوسرا بڑا چیمپین مصر کا جمال عبدالناصر تھا جو بعثی تو نہ تھا لیکن اس کے خیالات بہت حد تک بعث پارٹی کا چربہ ضرورتھے۔ ناصر عرب اتحاد اور سوشل ازم کا داعی تھا۔ پان عرب ازم میں عرب ثقافت، عرب اتحاد اور سیاسی آزادی کو اقداری حیثیت حاصل ہے۔ اس کے تحت عربی زبان، عرب اشرافیہ، عرب جغرافیہ کو اہمیت حاصل ہے۔ عرب پان ازم کے بالمقابل عرب مسلم نیشنل ازم کا داعی سعودی عرب ہے جس کو مغربی دنیا بطور اپنے تحادی کے ایک آلہ کار کے استعمال کرتی ہے۔ ہر دو طرح عرب نیشنل ازم کے فروغ میں ان عرب دانشوروں کا بہت بڑا کردار ہے جو مغرب سے مرعوب تھے اور مغربی تعلیم کے حصول کو اور تیل کی دولت کو عرب دنیااور اس کی ریاستوں کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

پاکستانی قوم پرستی نے مسلم قوم پرستی کی کوکھ سے جنم لیا جس کی بنیادی ترجیح اقوام عالم کے بالمقابل معاشی مفاد اوراقتدار کا حصول ہے۔ اس کا دوسرا بڑا مقصد ہندوستان کے بالمقابل پاکستان کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کرنا نیز پاکستان کو ہندوستان کے بالمقابل ایسی قوت کے طور پر پیش کرنا ہے جو مغرب کا حقیقی حلیف ہو۔ پاکستانی قوم پرستی کا ایک اور ہدف پاکستانی وطن پرستی کونچلی سطح پر اس طرح فروغ دینا ہے کہ اسلامی اقدار اور اسلامی شعار کو پاکستانی قوم پرستی کے فروغ کے لیے بطور ہتھیار کے استعمال کیا جاسکے۔ یہ تمام تصورات باطل ہیں کیوں کہ یہ سب اسی دنیا میں جنت بنانا چاہتے ہیں اور مغربی اقدار، آزادی،حقوق، ترقی، مساوات کو زندگی کا حاصل قرار دیتے ہیں۔ یہ اقدار انسان کومادی ترقی، خود غرضی، قوت، مرتبے اور مقام کی تلاش پر اکساتی ہیں اور آفاقی تصورات حشر، انصاف، موت، میزان، معاد کے تصور اُخروی کے حصول کو دھندلادیتی ہیں اور مسلمانوں کو ”امت وسط“ کے برخلاف سرمایہ دارانہ استعماری قوتوں کا حلیف بن جانے کے لیے اکساتی ہیں۔

پاکستانی قوم پرستی اور مسلم قوم پرستی اپنانے کا مطلب ہے کہ آپ نے سرمایہ داری کے نظریہ کو معاشرت، فرد اور ریاست کی سطح پر مساوات، ترقی، آزادی اور حقوق کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے قبول کرلیا ہے اور آپ طاغوت پر قوت کے حصول کے لیے ایمان لے آئے ہیں اور اسلام کے آفاقی تصور ایمان، اسلام اور احسان سے بری الذمہ ہوگئے ہیں اور آپ نے ایمان مفصل اور ایمان مجمل کی تفصیل کی جگہ قوم اور ریاست بالقوۃ اور انسانیت پرستی کو لذت پروری کے لیے قبول کرلیا ہے۔

1857ء کے جہاد کی شکست محض عسکری شکست نہ تھی بلکہ یہ آگے چل کر انگریز کے ایجنٹوں کے زیر سایہ (سرسید، امیر علی، چراغ علی وغیرہ) فرد، معاشرت اورمعیشت کی شکست بھی ثابت ہوئی۔ ایمان، احسان اور اسلام کی جگہ سیکولر اور لبرل اقدار اور نظریات، آزادی، ترقی، مساوات اور حقوق نے لے لی۔ اس فکری اور عسکری شکست نے ہندو مسلم رواداری، دعوت و محبت اورفروغ اسلام کو ناممکن بنادیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محبت و دعوت کی جگہ بالمقابلہ تفوق، بغض اور حسد پیدا کر کے ہندو مسلم قوم پرستی کو پھلنے پھولنے کی راہ دکھائی۔ چنانچہ مسلم قوم پرستی، وطن پرستی کے جذبات نے ملت کے مباحث کو پس پشت ڈال کر اسلام اور مسلمانوں کے مادی مفادات کے حصول کے ساتھ خلط ملط کردیا۔ سا لمیت پاکستان اور بقائےمسلمان اور غلبہ دین ایک ہی چیز تصور کیے جاتے ہیں۔ اسلامی ریاست اور قومی ریاست ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اس طرح ہوئے کہ اسلام پاکستان اور پاکستان اسلام بن گیا۔ ”امت“، ”مسلمان“، ”ایمان“، ”احسان“ فراموش کر دیے گئے۔

ساخت کے لحاظ سے ہندو مسلم قوم پرستی میں کچھ زیادہ بنیادی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی تشکیل ایک ہی طرح کے جذبے پر رہتی ہے یعنی حرص، حسد، مقابلہ (دشمنی، عداوت، بغض) دونوں کے ہی بنیادی اوصاف حمیدہ (رذیلہ) ہیں؛ دونوں یعنی مسلم و ہند وقوم پرستی اپنے لبرل اور سیکولر ہونے کو وجہ جواز بناتی ہیں تاکہ اپنی قوم کو جدید آفاقی (سرمایہ دارانہ) اقدار کا علم بردار قرار دے سکیں۔ رواداری، انسانیت پرستی دونوں کو یہ بنیادی اقدار کے طور پر قبول کرتی ہیں۔ مذہب اور مذہبی اقدار کو قومی جذبات کے فروغ کے لیے بطور ہتھیار کے استعمال کرتی ہیں اور اقوام عالم میں ایک برتر تشخص، تفوق، برتری اور مقابلہ کی دعوے دار ہیں۔ دونوں کا بنیادی ہدف ریاست کا حصول ہوتا ہے اور دونوں ہی انسانی جذبات اور میلان کو فروغ دینے کے لیے نفس امارہ کو مہمیز دینے کے لیے غیر قوم سے تصادم/ نزاع/ تعارض/ جدل/ مخالف قوم سے مسابقت / رقابت کو انسان کا فطری جذبہ قرار دیتی ہیں۔

تقابلی جدول

مسلم قوم پرستی

ہندو قوم پرستی

پاکستان کے اندر بسنے والی قوم صدیوں پرانی ہے

ہندوہندوستان میں قدیم قوم ہیں۔

تاریخ موہن جو ڈرو،ہڑپہ اور ٹیکسلا سے شروع ہوتی ہے

تاریخ سندھو دریا سے شروع ہوتی ہے

بھلائی مادی اور فلاح مسلم ورثہ ہے

فلاح انسانیت اور فطرت ہندوتوا کا ورثہ ہے

ہیرو محمد بن قاسم، غوری اور بابر وغیرہ

ہیرو پرتھوی راج،سیواجی،باؤ جی وغیرہ

ترقی، اقتدار، مساوات، حقوق بنیادی نعرے ہیں،حقوق العباد اور حقوق انسانی ایک ہی چیزتصور کرتی ہے۔

ترقی، مساوات، حقوق بنیادی نعرے ہیں۔حقوق انسانی کو مساوات کے دائرے میں تفوق حاصل ہے

نقطہ ماسکہ :غیرقومی ریاست کو رد کرتے ہیں جمہوریت کو قبول کرتے ہیں،ترقی کو اہم اہداف قرار دیتے ہیں، معاشی مفادات کو ترجیح حاصل ہے،

نقطہ ماسکہ :غیر قومی ریاست کورد کرتے ہیں،جمہوریت کو قبول کرتے ہیں،ترقی کو اہم ہدف قرار دیتے ہیں، معاشی مفادات کو ترجیح حاصل ہے، ماحول کی درستگی، امن وآشتی کا خود کو خوگر قرار دیتے ہیں

معاشی مفاد کو معاد پر ترجیح حاصل ہے

ممعاشی ترقی کو ہر چیز پر اولیت حاصل ہے

ریاست کی تعمیل اور ترقی اور قوت کا حصول جدوجہد کا حاصل ہے

ریاست کی ہندو بنیادوں پر تجدید اور قوت کا حصول اہم ہے

8۔ لبرل ازم

1.8۔ تاریخ

لبرل ازم سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا وہ نظریاتی جواز فراہم کرتا ہے جو تاریخی طور پر سب سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی یورپ میں چودھویں صدی عیسوی سے رائج ہونا شروع ہوا اور اس نظامِ زندگی کی توجیہ ابتدا میں ان عیسائی مفکرین نے کی جو پوپ اور کیتھولک ازم ( Catholicism) کے باغی تھے۔ لیکن یہ توجیہات سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے فروغ اور استحکام کے لیے زیادہ کارآمد نہ ہوسکیں۔ سترھویں صدی میں جو غیر کیتھولک ریاستیں یورپ میں قائم ہوئیں وہ مذہبی ریاستیں تھیں اور انہوں نے سرمایہ دارانہ معاشرت کے فروغ کی راہ میں مختلف پابندیاں عائد کیں۔ ان مذہبی ریاستوں کے خلاف سرمایہ دارانہ حلقوں نے جو بغاوت برپا کی وہ لبرل ازم ہے۔ لبرل ازم کا بانی مفکر جان لاک (John Locke) ہے۔ میری رائے میں لبرل ازم کی پانچ صدیوں کی تاریخ میں اس سے زیادہ مؤثر مفکر پیدا نہیں ہوا۔ یہ اتنا صاحب اثر مفکر ہے کہ اس نے دورِ حاضر کی اسلامی فکر کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ جان لاک اس عیسائی ریاست کا بھی باغی تھا جو Oliver Cromwell نے سترھویں صدی کے وسط میں برطانیہ میں قائم کی تھی جو لگ بھگ تیس سال تک قائم رہی۔ لاک کی اہم ترین بنیادی کتاب کا نام”The Second Treatise on Government”

ہے اور اس کتاب میں لبرل تصور انفرادیت، معاشرت اور ریاست کے جو تصورات پیش کیے گئے ہیں لبرل مفکرین پچھلے پانچ سو سالوں میں ان کی تشریح اور تفصیل ہی بیان کررہے ہیں۔ ان تصورات کی فلسفیانہ توجیہ اگلی صدی میں فرانس میں روسو اور جرمنی میں امانویل کانٹ نے کی اور اٹھارھویں صدی میں اس فکر کی بنیاد پر امریکا اور فرانس میں کامیاب سیاسی انقلاب برپا کیے گئے۔ اٹھارھویں صدی کے یورپ میں لبرل ازم کی مربوط اور منظم فکری مزاحمت نظر نہیں آتی اور عیسائی سیاسی تصورات لبرل مباحث میں ضم ہوتے نظر آتے ہیں۔ انیسویں صدی میں مارکس اور نطشے لبرل ازم کے اہم فکری مخالفین کے طور پر ابھرے اور انہوں نے اشتراکیت اور قوم پرستی کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے فروغ کے لیے زیادہ ساز گار نظریات کے طور پر پیش کیا۔ اور اشراکیت اور قوم پرستی کامیاب عوامی تحاریک برپا کرنے میں کامیاب ہوئیں اور جرمنی، جاپان، روس اور چین میں اشراکیت اور قوم پرست ریاستیں قائم ہوگئیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے فروغ اور استحکام کے لیے یہ اتنی مفید ثابت نہ ہوسکیں جتنی لبرل ریاستیں اور عیسائی فکر کی طرح قوم پرستانہ اور اشتراکی فکر بھی بتدریج لبرل مباحث میں ضم ہوتی چلی گئیں۔ بیسویں صدی سے لبرل ازم کو دو دیگر سرمایہ دارانہ نظریات پوسٹ کالونیل ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ فکری سطح پر پوسٹ کالونیل ازم کے چیلنج کو امریکی مفکر جان رالزاور تھامس نیگل (Thomas Nagel) نے لغو ثابت کیا اور پوسٹ ماڈرن ازم کا حتمی نقد جرمن مفکرین ہیبر ماس( Habermas ) اور گڈیمر (Gadamor) نے مرتب کیا۔پوسٹ ماڈرن ازم اور پوسٹ کالونیل ازم ان معنوں میں ناکام تحریکیں ہیں کہ وہ سرمایہ کی مسلسل بڑھوتری کے لیے لبرل ازم سے بہتر معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے تصورات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن ان معنوں میں یہ تحریکیں کامیاب ہیں کہ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے ایسے تضادات کی نشان دہی کی ہے جن کو رفع کرنے کی استطاعت لبرل نظریات نہیں رکھتے۔

لبرل نظام فکر ان معنوں میں یقیناً ایک بحران کا سامنا کر رہا ہے کہ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ لبرل اہداف یعنی ”آزادی“ اور ”ترقی“ ناقابل حصول اہداف ہیں۔ لیکن یہ بات صرف منطقی اور فکری سطح پرواضح ہوئی ہے اور کوئی بھی لبرل مفکر آج یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ لامحدود ترقی اور آزادی قابل حصول اہداف ہیں (یہ بات سب سے واضح طور پر ان مباحث میں پائی جاتی ہے جن کی ابتدا ہائیڈیگر نے کی اور جو آج Complexity theory کہلاتی ہے) اور یہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی شکست و ریخت کا ایک مظہر ہے کیوں کہ آزادی اور ترقی صرف لبرل ازم کے اہداف نہیں، قوم پرستی اور اشتراکیت کے بھی اہداف ہیں۔ لبرل ازم، اشتراکیت اور قوم پرستی کی لغویت کا اظہار سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی بتدریج شکست و ریخت کا ایک مظہر ہے لیکن جیسا کہ Alain Badiou اور Slavoj Zizek واضح کرتے ہیں۔ ابھی یہ بات بالکل عیاں نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظم حیات کا متبادل کیا ہے۔ Zizek کہتا ہے کہ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ ایک Liminal دور ہے۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ آزادی اور ترقی غیر معقول اور لغو اہداف ہیں لیکن انسانوں کی بہت بڑی اکثریت انہی نامعقول اور لغو اہداف پر ایمان رکھتی ہے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے والے تمام مباحث انہی اہداف کے حصول کی حکمت عملیاں ترتیب دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی سرمایہ دارانہ مخالف مزاحمتی تحریک آزادی اور ترقی کے اہداف کو واضح طور پر رد نہیں کرتی بلکہ اپنی مزاحمت کو حصول آزادی اور ترقی کا ذریعہ گردانتی ہے۔ ان حالات میں یہ بات بالکل واضح نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا متبادل کیا ہوگا اور کتنی صدیوں تک گو مگو کی یہ کیفیت جاری رہے گی۔

2.8۔ لبرل تصورِ فرد

اشراکیت اور قوم پرستی کی طرح لبرل ازم کا بنیادی عقیدہ بھی ”لاالہ الانسان“ ہے لبرل ازم کا آلہ کار ہر وہ فرد ہے جو اس کلمۂ خبیثہ پر ایمان لے آئے۔ لبرل نظریہ کے تحت جو فرد اس کلمۂ خبیثہ پر ایمان نہ لائے وہ انسان نہیں۔ امریکی براعظم پر قبضہ کرنے کے دوران تقریباً دو کروڑ سرخ ہندیوں (جو ایک روایت کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام کے امتی تھے) کو قتل کیا گیا اور ان کے املاک ان سے چھین لیے گئے۔ لاک نے اس قتلِ عام اور لوٹ مار کو اس بنیاد پر جائز قرار دیا ہے کہ سرخ ہندی انسان نہیں تھے۔ ان کو اپنے انسان ہونے کا شعور نہ تھا، وہ قدرتی وسائل پر محنت کرکے سرمایہ کو مستقل لامتناہی بڑھوتری کے لیے استعمال نہ کرتے تھے۔ لہٰذا ان کو قتل کرنا جائز بھی اور ضروری بھی تھا کیوں کہ وہ آوارہ بھینسوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے جن کو ختم کیے بغیر امریکی دولت کو فروغ دینا ناممکن تھا۔ بیسویں صدی کے ایک اہم ترین لبرل سیاسی مفکر جان رالز کی بھی یہی رائے ہے۔ وہ اپنی مشہور کتاب Political Liberalismمیں لکھتا ہے جو افراد آزادی کو قدر مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے ان کو ختم کرنا ایسا ہی فرض ہے جیسا ایک متعدی وبا کا ختم کرنا؛ آزادی کے منکروں کو جواب دلیل سے نہیں گولی سے دیا جانا چاہیے۔

امریکی صدور بش اور اوباما نے گوانتاناموبے اور ابو غریب میں جاری ٹارچر کو اسی دلیل کی بنیاد پر جواز فراہم کیا ہے۔ اوباما کی نظر میں مجاہدین اسلام انسان نہیں کیوں کہ وہ آزادی پر نہیں بلکہ بندگئ رب پر ایمان لائے ہیں۔ مجاہدین اسلام کی کھال کھینچنا، ان کو زندہ جلادینا، ان کے معصوم بچوں کو قتل کرنا، ان کی عورتوں کی عصمت دری کرنا، ان کے گھروں کو مسمار کرنا امریکا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ لبرل ازم مجاہدین اسلام کے خلاف وحشت ناک درندگی کو فرض گردانتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو آزادی پر دلیل کے ذریعے نہیں گولی اور ٹارچر کے ذریعے ایمان لانے پر مجبور کرتا ہے۔ لبرل ازم اپنی پوری تاریخ میں وحشت ناک درندگی کو جواز فراہم کرنے و الا نظریہ رہا ہے۔

وہ آزادی کیا ہے جس پر لبرل ازم ہم کو ایمان لانے پر مجبور کرتا ہے؟ اس سوال کا سب سے واضح جواب امانویل کانٹ نے اپنیCritiques میں دیا ہے۔ کانٹ کا بنیادی دعویٰ ہے کہ انسان قادر مطلق ہے، ہر فرد کے ذہن میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان اطلاعات کو جو اس کے حواس خمسہ اس کو فراہم کرتے ہیں، اس طرح سے مرتب کرے کہ وہ مربوط تصورات (Concepts) میں ڈھل جائیں؛ ان تصورات کی تعمیر اور ترتیب کے ذریعے انسان تسخیر کائنات کا مکلف ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی تمام خواہشات کے حصول کے لیے ایسا ذریعہ اختیار کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جو کسی دوسرے انسان کے اپنی خواہشات کے حصول کی راہ میں مزاحم نہیں ہوتا۔ اشیاء اور اعمال کی قدر اس بنیاد پر متعین ہوتی ہے کہ وہ عمل ہر انسان کو اپنی خواہشات کی تکمیل ممکن بنانے میں کتنا معاون ہے۔

کانٹ کے تصورات کے مطابق خرد نفس کا غلام بھی ہے اور معلم بھی۔ وہ نفس کا غلام ان معنوں میں ہے کہ وہ نفس کے احکام کی تعمیل کو رد نہیں کرسکتا اور معلم ان معنوں میں کہ خرد اس عمل کی نشان دہی کرتاہے جس کے ذریعے نفس کے حکم کی تعمیل اس طرح ہو کہ کسی دوسرے انسان کے نفس کے حکم کی تکمیل میں مزاحمت نہ ہو، مثال کے طور پر ٹرمپ زنا کرنا چاہتا ہے خرد ٹرمپ کو بتائے گی کہ وہ زنا اس طرح کرے کہ ہیلری کلنٹن کی خواہش نفس کی تکمیل بھی ممکن ہو سکے۔ اگر ہیلری کلنٹن ٹرمپ سے زنا کرنے سے راضی ہے تو ٹرمپ ہیلری کلنٹن کے ساتھ زنا کرے اگر ہیلری کلنٹن ٹرمپ کے ساتھ زنا کرنے پر راضی نہیں تو ٹرمپ ہیلری کلنٹن کا احترام کرے اور زنا کسی دوسری عورت یامرد کے ساتھ کرے جو ٹرمپ کے ساتھ زنا کرنے کو تیار ہو۔

کانٹ کے مطابق خرد (Reason) ٹرمپ کو یہ سبق دیتا ہے کہ کسی عمل کی(مثلاً زنا) کی کوئی مطلق قدر نہیں، قدر صرف طریقہ (Procedure) کی ہے اور یہ قدر صرف اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ طرائق بڑھوترئ آزادی (یعنی بڑھوترئ سرمایہ) میں کتنی معاون ہیں۔ ہر وہ عمل بے قدر ہے جو بڑھوترئ سرمایہ (یعنی بڑھوترئ آزادی) کو فروغ نہیں دیتا۔ ظاہر ہے کہ قدر کے تعین کا یہ نظام صرف اسی دائرے میں نافذالعمل ہے جہاں ہر فرد بڑھوترئ آزادی (یعنی بڑھوترئ سرمایہ) پر ایمان رکھتا ہو، لہٰذا اگر ایسے افراد موجود ہیں جو بڑھوترئ سرمایہ (یعنی بڑھوترئ آزادی) کو قدر مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے تو ٹرمپ کا فرض ہے کہ ایسے افراد کو فی الفور قتل کردے۔ ایسے افراد کو دلیل دینے سے کچھ حاصل نہ ہوگا کیوں کہ بڑھوترئ آزادی (یعنی بڑھوترئ سرمایہ) کو قدر مطلق کے طور پر قبول کرنے پر لوگوں کو مجبور ہی کیا جاسکتا ہے قائل نہیں کیا جاسکتا۔

جو لوگ بڑھوترئ آزادی (یعنی الوہیت انسان) پر ایمان لے آئے ان کو کانٹ ہیومن بینگ کہتاہے۔ بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ انسانیت نے بڑی تعداد میں انسان ہیومن بینگ بن گئے۔ بقول فوکو سولھویں صدی سے قبل ہیومن بینگ کا وجود سرے سے ناپید تھا۔ لاک کے مطابق ہر ہیومن بینگ کے تین بنیادی ہیومن رائٹس ہوتے ہیں۔ یہ ہیومن رائٹس صرف ان افراد کے ہوتے ہیں جو الوہیت انسان پر ایمان لے آئے ہوں۔ ریڈ انڈین اور مجاہدین اسلام کے کوئی ہیومن رائٹس تسلیم نہیں کیے جاسکتے کیوں کہ وہ الوہیت انسان پر ایمان نہیں لائے، وہ ہیومن بینگ نہیں ہیں۔

3.8۔ لبرل معاشرت

لبرل ازم فرد (human being ) کو قائم بالذات (Autonomous) تصور کرتا ہے۔ ہر ہیومن بینگ کو اپنا معیارِ خیر و شر اور اپنا نظامِ زندگی خود متعین کرنے کا مکلف تصور کیا جاتا ہے۔ ہر فرد اپنے نفس کے احکامات (خواہشات نفسانیہ) کی تسکین کے لیے اپنی خرد کے ذریعہ ایسا نظام العمل (Life plan) مرتب کرتا ہے جو ہر دوسرے ہیومن بینگ کے اس مساوی حق کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ دوسرا ہیومن بینگ بھی اپنی خواہشات نفسانیہ کی تکمیل بغیر کسی رکاوٹ کے کر سکے۔

روسو کہتا ہے کہ معاشرہ کی بنیاد ایک ایسے معاشرتی معاہدہ پر رکھی جاتی ہے جس میں ہر ہیومن بینگ اپنی انفرادی آزادی کے تحفظ کے لیے اس آزادی پر ایسی حدود تسلیم کرتا ہے جو معاشرہ میں شامل تمام افراد کی آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اس بنیاد پر ایک لبرل ریاست (دستوری جمہوریہ) قائم ہوتی ہے۔ معاشرتی سطح پر معاشرتی معاہدہ کی بنیاد پرجو ادارتی صف بندی عمل میں آتی ہے اس کو مارکیٹ کہتے ہیں۔ مارکیٹ بازار کی ظالمانہ تنظیم ہے۔ مارکیٹ میں ہر بیوپاری صرف اپنے سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے داخل ہوتا ہے۔ بازار اور مارکیٹ میں جو بنیادی فرق ہے وہ میں د و مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کروں گا:

بازار میں لین دین کا فارمولا ہے

CA -M-CB

جہاں C سے مراد ہے شے M سے مراد ہے زر۔بازار میں بیوپاری ایک شے مثلاً کپڑا ( CA) لے کر آتا ہے اور اس کو زر (M) کے عوض فروخت کرتا ہے۔ اس زر سے وہ آٹا (CB) خریدتا ہے تاکہ اپنے بال بچوں کو پال سکے، انفاق کر سکے وغیرہ۔ بازار میں آنے کا مقصد اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہوتاہے۔ اسی کاروبار کو عبادت کا درجہ حاصل ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا آخرت میں انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی ابن ماجہ)

مارکیٹ میں لین دین کا فارمولا ہے

مارکیٹ میں بیوپاری زر (M) لے کر آتا ہے وہ اس زر سے خام مال (R) اور مزدوری (L)خریدتا ہے اور اس مزدوری اور خام مال کے ذریعے ایک شے(C) بناکر بیچتا ہے تاکہ مزید زر (M1) کما سکے۔ M اور M1 میں جو فرق ہے وہCAاور CB کےفرق سے بالکل مختلف ہے۔ CA اور CBمیں نوعی (Substantive) فرق ہے۔ CA کپڑا اور CB آٹا ہے۔ M اور M1 میں کو ئی نوعی فرق نہیں دونوں زر ہیں۔ M اور M1 میں فرق صرف عددی (Quantitative) ہے۔ مارکیٹ کا بیوپاری کو شش کرتا ہے کہ M اور M1 کا فرق(M1-M) زیادہ سے زیادہ ہو۔ یہ اس کے کاروبار کرنے کا مقصدہے۔ اس کے کاروبار کرنے کا مقصد ضروریات پورا کرنا صرف ضمنی طور پر ہو جاتا ہے اور اصل مقصد زر (M1-M) کی زیادہ سے زیادہ بڑھوتری ہے۔

M اور M1 کا فرق بیوپاری کا منافع ہوتا ہے لیکن اگر یہ منافع اصولاً مزید منافع کمانے کے لیے استعمال ہو اور اس کے باقی تمام استعمال ضمنی ہوجائیں تو یہ منافع سرمایہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ سرمایہ (Capital) وہ زر ہے جو محض اپنی مقداری بڑھوتری (Quantitative Accumulation)کی تلاش میں پیداواری عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ یہ بڑھوتری لامحدود ہوتی ہے کیوں کہ سرمایہ حرص اور حسد کی تجسیم کے علاوہ کچھ نہیں اور حرص اور حسد لامحدود شیطانی قوتیں ہیں۔ سرمایہ کی بڑھوتری کو لامحدود بنانے کے لیے دو مارکیٹ قائم کیے جاتے ہیں۔ زر کی مارکیٹ (Money Market) اور سٹہ کی مارکیٹ (Capital market)۔ زر کی مارکیٹ میں جس قیمت پر زر بیچا اور خریدا جاتا ہے وہ سود ہے۔ اور سٹہ کے بازار میں جس قیمت میں حصص (Shares) اور تمسکات (Bonds) بیچے اور خریدے جاتے ہیں وہ مسلسل سٹہ کے کھیل کے ذریعہ متعین ہوتی ہے۔ سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ کے ذریعہ سرمایہ معاشرہ کی تمام دولت پر قبضہ کرلیتا ہے۔ زر کی مارکیٹ کے بنیادی ادارے بینک ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ زر کی تشکیل کرتے ہیں (اور سرمایہ دارانہ نظام میں زر کی کوئی اصل قدر real value نہیں ہوتی) اور تمام افراد بینکوں میں اپنی بچتوں کو رکھنے پر مجبور کردیے جاتے ہیں۔ بینک یہ تمام دولت سرمایہ داروں کو قرض کے طور پر دے کر ہر شخص کی بچت کو سرمایہ کے گردشی چکر میں شامل کر دیتے ہیں۔

سٹہ کا بازار ذاتی ملکیت کو ختم کر کے سرمایہ کی ملکیت بتدریج معاشرہ پر مسلط کر دیتا ہے۔ سٹہ کی مارکیٹ کا بنیادی ادارہ کارپوریشن ہے۔ کارپوریشن وہ شخصِ قانونی (Legal Person) ہے جس کا مقصدِ وجود اصولا ً صرف اپنے سرمایہ کی مستقل بڑھوتری ہوتا ہے۔ کارپوریشن کے مالک افراد نہیں ہوتے بلکہ سرمایہ خود اس کا مالک ہوتاہے۔ کارپوریشن کی ملکیت لاکھوں افراد کو سٹہ کے بازار کے ذریعہ فروخت کر دی جاتی ہے۔ اور ان میں کسی کو بھی عملاً یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کارپوریشن کے کاروباری عمل کے تعین میں حصہ لے۔ کارپوریشن پر ایک پروفیشنل مینجمنٹ قابض ہوتی ہے اور یہ مینجمنٹ اس بات پر مجبور ہوتی ہے کہ کارپوریشن کے تمام کاروباری فیصلے صرف اس بنیاد پر کیے جائیں کہ ان فیصلوں کے نفاذ کے نتیجے میں کارپوریشن کے سرمایہ کی بڑھوتری تیز سے تیز تر ہو رہی ہے یا نہیں۔ اگر فیصلے کسی اور بنیاد پر کیے جائیں اور کارپوریشن کے سرمایہ کے بڑھوتری کی رفتار دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں کم ہوجائے تو سٹہ کی مارکیٹ اس کمپنی کو سزا دیتی ہے۔ اس کے حصص کی قدر گر جاتی ہے اور آخر کار کمپنی دیوالیہ (Bankrupt) ہوجاتی ہے۔ اور اس کی مینجمنٹ نکال دی جاتی ہے اور وہ کسی دوسری کارپوریشن میں ضم کر لی جاتی ہے۔ سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ سرمایہ دارانہ معاشرے میں قدر کے تعین کے ذمہ دار ادارے ہوتے ہیں۔ ہر معاشی عمل کا تعین اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار کتنی بڑھی ہے یا کتنی بڑھنے کی توقع ہے۔ مثلاً کارپوریشن X جانماز بناتی ہے اور کارپوریشن Y فحش فلمیں بناتی ہے تو سٹہ کی مارکیٹ ان کارپوریشنوں کے حصص کی قیمتیں متعین کرے گی تو اس بنیاد پر نہیں کہ جانمازیں اور فحش فلمیں حصولِ رضائے الٰہی کا ذریعہ ہیں یا نہیں یا وہ مفادِ عام کو فروغ دیتی ہیں یا نہیں۔ اگر فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن کا حاضر اور متوقع منافع جانمازیں بنانے والی کارپویشن کے منافع سے زیادہ ہے تو فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن کے حصص کی قیمت بڑھے گی۔ اور چوں کہ اس فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن کا Dividend payout اور Capital Gain زیادہ ہوگا لہٰذا تمام Fund Managers لوگوں کا سرمایہ جانماز بنانے والی کارپوریشن سے نکال کر فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن میں لگادیں گے۔

سرمایہ دارانہ لبرل معاشرے میں حاکمیت صرف سرمایہ کی ہوتی ہے۔ نجی ملکیت بتدریج ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہر شخص کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو سرمایہ کا ملازم اور اس کا غلام بن جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی دولت بینکوں اور سٹہ کی مارکیٹ کوسپُرد کر دیتا ہے۔ اور یہ بازار اس کو ایک منٹ میں مفلس بنا سکتے ہیں۔ وہ ان مارکیٹوں کے احکام کی حکم عدولی کا تصور بھی نہیں کرسکتا ؎

عیسیٰ پیر نہ موسیٰ پیر
سب سے بڑا سرمایہ پیر

لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ پورے معاشرے پر قبضہ کرلیتا ہے، ہر معاشرتی ادارہ مارکیٹ میں ضم ہو جاتا ہے۔ سب سے تباہ کن اثر خاندان پر پڑتا ہے جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت زیادہ سے زیادہ سرمایہ کمانے کے قابل بنانے کے لیے کرتے ہیں اور اس تربیت کے نتیجے میں خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو ڈبودیتا ہے۔ عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں میں بیٹھ جاتی ہیں۔ عصمت اور عفت کی دھجیاں اُڑ جاتی ہیں۔ زنا اتنا عام ہوجاتا ہے کہ نکاح ایک نامعقول فعل نظر آنے لگتا ہے۔ حرامی بچوں کی تعداد جائز اولاد سے بڑھ جاتی ہے جیسا کہ امریکا، سویڈن اور فرانس میں ہوچکا ہے جہاں حالیہ سرویز کے مطابق نصف سے زاید پیدا ہونے والے بچے حرامی ہوتے ہیں۔ اور یہ کوئی مغرب تک محدود رجحان نہیں 2011ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں حرامی بچوں کی تعداد 2001ء کے مقابلے میں ٣٦٧ فی صد زیادہ تھی۔

لبرل معاشرے غلیظ ترین گھناؤنے معاشرے ہوتے ہیں۔ دنیا میں کسی ایک ایسے ملک کی مثال نہیں دی جا سکتی جس میں لبرل معاشرت پھیلی ہو اور وہاں زنا، اغلام بازی اور جانوروں سے مباشرت وبا کی طرح نہ پھیلے ہوں۔ آج کل امریکا میں صلیب (Cross) کے ذریعے زنا کرنے کا شغل نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس عمل سے روحانی فیض حاصل کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ ان معاشروں میں مذہب کھیل، تفریح اور لذت کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ Meditation کی محفلوں میں شرکت چرس پینے کے متبادل کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ ہر شخص کو تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بالکل آزاد ہے اور معاشرتی تنظیم کا مقصد ہی فروغ لذات خواہش اور خود غرضی ہوکر رہ جاتا ہے ؎

بے کاری و عریانی و مے خوری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات

4.8۔ لبرل ریاست

لبرل نظریہ مارکیٹ کی ریاست پر بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ اور لبرل سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں مارکیٹ ریاست پر غالب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام ہائے زندگی میں مارکیٹ کے عمل پر ریاستی تحدیدمختلف حدود تک روا رکھی جاتی ہے اور چوں کہ ان نظاموں میں ریاست سرمایہ کی عمومی نمایندہ (Representative of capital in general) ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لہٰذا عموماً (اور مختلف حد تک) قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستیں قدر کے تعین کے عمل سے لاتعلق نہیں رہتیں اور منصوبہ بندی کے ذریعے مارکیٹ پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

لبرل ریاست ایک نمایندہ دستوریت ( Constitutional Republic) ہوتی ہے جو عموماً جمہوریہ بھی ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد بھی روسو کا متصور کیا ہوا سوشل کنٹریکٹ فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ مارکیٹ قائم کی جاتی ہے۔ریپبلک سے مراد ہے عوام کی حکومت، عوام حکومت ان معنوں میں کرتے ہیں کہ وہ اصولاً مطلق العنان حاکم ( Absolute sovereign) تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ حکومت اسی مطلق العنان حاکمیت یعنی آزادی کو تحفظ اور فروغ دینے کے لیے کرتے ہیں۔ ہر ری پبلک کا بنیادی عقیدہ ”لا الہ الا انسان“ ہی ہوتا ہے اور دستور اس عقیدہ کو ہیومن رائٹس کی شکل میں اپنے مقدمہ (Preamble) میں شامل کر لیتا ہے۔ یہ ہیومن رائٹس ان معنوں میں مقدس ہوتے ہیں کہ عوام کو یہ حق نہیں کہ کثرت رائے سے ان ہیومن رائٹس کو منسوخ کر دیں۔ چوں کہ ہیومن رائٹس الوہیت انسانی کا دعویٰ ہیں لہٰذا ہر ری پبلک میں دستور کتاب الٰہی کی جگہ لے لیتا ہے۔

لبرل ریاست عموماً نمایندگی کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے۔ لبرل ریاست میں عوام خود حکومت نہیں کرتے بلکہ وہ کثرت رائے سے اپنے نمایندے منتخب کرتے ہیں جو قانون ساز (Legislators) ہوتے ہیں۔ قانون سازی (Legislation) لازماً دستور کے تناظر میں ہی کی جاتی ہے۔ لہٰذا کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جاسکتا جو ہیومن بینگ کی مطلق العنان حاکمیت اور اس کی الوہیت کی نفی کرتا ہو۔ قانون کا نفاذ قانون ساز نہیں کرتے بلکہ یہ ایک غیر منتخب ریاستی انتظامیہ (پولیس، فوج اور سرکاری نوکر شاہی، عد لیہ) کرتی ہے۔ دورِ حاضر میں میڈیا، بڑی کارپوریشنیں اور سرمایہ دارانہ مفکر ین (Capitalist Intellectuals)بھی لبرل حکومتوں کا اہم جزو ہوتے ہیں ان کو عموماً یونیورسٹیوں اور Think Tanksمیں منظم کیا جاتا ہے۔

قانون سازوں کے علاوہ باقی تمام گروہ غیر منتخب اور مستقل وجود رکھنے والے ہوتے ہیں اور سیاسی فیصلوں کی اصل ذمہ داری انہی مستقل حکمرانوں کی ہوتی ہے کیوں کہ یہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے محافظ ہوتے ہیں اور ان کا فرض ہے کہ قانون سازی کا عمل سرمایہ دارانہ عقلیت سے متصادم نہ ہو۔ اصل قوت انہی مستقل حکمرانوں کے پاس ہوتی ہے اور یہ قانون سازوں کے فیصلوں کی وہ عملی تشریح کرتے ہیں جو فروغِ سرمایہ (یعنی فروغِ آزادی) کومستقل مہمیز دے۔

گو کہ عوام گاہے گاہے مقننہ کو منتخب کرتی رہتی ہے لیکن عملاً اس کا حکومتی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اصل حکومت سرمایہ کی ہوتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ یا ادارہ کی نہیں ہوتی۔ پورا ریاستی نظام ان اصولوں کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے کہ سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار تیز سے تیز تر ہو سرمایہ ہی آزادی کی تجسیم ہے، آزادی کی کوئی دوسری تجسیم تاریخ انسانی میں پائی نہیں جاتی۔ مارکیٹ کی طرح ریاست میں بھی ہر فرد سرمایہ کا غلام ہوتا ہے۔ لبرل ریاست سرمایہ کی مطلق العنان حاکمیت قائم کرتی ہے اور اس کا سٹیزن صرف ان معنوں میں مطلق العنان حکمران ہے کہ وہ ”لاالہ الا انسان“ کے خبیث کلمہ پر ایمان لے آیا ہے اور اس نے سرمایہ دارانہ عقلیت قبول کرلی ہے۔ وہ ہر چار پانچ سال بعد اپنے ان کافرانہ عقائد اور عقلیت کا اظہار انتخاب میں حصہ لے کر کرتا ہے اور ان لوگوں کے حکومت کرنے کی تصدیق کرتا ہے (خواہ وہ منتخب مقننہ میں ہوں یا غیر منتخب فوج، پولیس، نوکر شاہی، عدلیہ، میڈیا یا یونیورسٹیوں اورThink Tanks میں) جو اس کی آزادی یعنی سرمایہ کی بڑھوتری کی عمومی رفتار کی مستقل نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس فرض کو انجام دینے میں ناکام ہوجائیں تو ان کو اسی طرح برطرف کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے جیسے کارپوریشن کی مینجمنٹ کو برطرف کیا جاتا ہے۔

مارکیٹ اور ریاست میں سرمایہ دارانہ نظام ایک عام آدمی کو مجبور اور بے بس کردیتا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ میں ہم نے دیکھا کہ جیسے جیسے سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ دولت پر قبضہ مستحکم کر لیتے ہیں ویسے ویسے نجی ملکیت ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک عام آدمی اس بات پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ سرمایہ کی غلامی (اس کو Wage labourکہتے ہیں) اختیار کر لے۔ اسی طرح ایک لبرل ریاست میں تمام قوت سرمایہ کے نمایندوں (فوج، پولیس، نوکر شاہی، عدلیہ، مقننہ، میڈیا اور Intellectuals) کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتی ہے۔ غیر سرمایہ دارانہ اجتماعی قوت مشکل سے مشکل تر ہوتی جاتی ہے۔ اس بات کو دورِ حاضر کے فرانسیسی فلسفیAlain Badiou نے اچھی طرح بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”جمہوریت وہ زنجیر ہے جس سے عوام کو سرمایہ کے اصطبل میں مقید کیا جاتا ہے“۔

لبرل جمہوری ریاستوں کے خلاف کامیاب سیاسی بغاوت کی تاریخ میں صرف ایک مثال ملتی ہے اور وہ ہے حزب اللہ، جنوبی لبنان کی بغاوت۔ حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے لبرل جمہوری نظام کو فیصلہ کن شکست دی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں کبھی اور کہیں لبرل جمہوری ریاست کے خلاف کامیاب بغاوت پچھلی تین سو سالہ تاریخ میں برپا نہیں کی گئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لبرل جمہوری ترتیبِ اقتدار سرمایہ کا سب سے طاقت ور، جابر، ظالم اور مستحکم ریاستی نظم ہے۔ اس استحکام اور قوت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اٹھارھویں صدی کے بعد پہلے یورپ اور پھر دنیا بھر میں مذہبی، سیاسی آدرش اجنبی سے اجنبی ہوتے چلے گئے۔ انفرادی طور پر تو بہت کم لوگ لبرل مابعد الطبیعیاتی تصورات پر ایمان لائے (ماسوائے یورپ) زیادہ تر لوگ مذہبی تشخص اختیار کیے رہے۔ مادیت کا معاشرے پر غلبہ بھی سست رفتار اور نامکمل ہے مثلاً پاکستان میں پچانوے فیصد کاروبار سود اور سٹہ کے بازاروں کی دسترس سے باہر ہے اور دس فی صد سے کم پاکستانی بینکوں میں اکاؤنٹ رکھتے ہیں۔

لیکن ان صدیوں کی لبرل معقولیت اس وسیع پیمانے پر تسلیم کی گئی کہ مذہبی تشخص رکھنے والے عوام اور خواص کی عظیم اکثریت اس بات کی قائل ہوگئی کہ جائز اور معقول سیاسی صف بندی وہی ہے جو لبرل نظام اقتدار تجویز کرتا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی عظیم اکثر یت جو اپنی نجی زندگی میں غرض و حسد کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کو جائز نہیں تصور کرتے، نظام اقتدار کے ضمن میں حرص و حسد کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ ان کو معقول اور جائز بھی تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا جب عوامی جدوجہد سرمایہ کی غیر لبرل تنظیمی اقتدار مثلاً قوم پرستانہ یا اشتراکی تنظیم اقتدار کے خلاف برپا کی جاتی ہے تو عوام کا سیاسی مقصد لبرل دستوری حقوق اور شخصی سیاسی آزادی اور معاشی ترقی کا حصول ہی ہوتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال مصر، تیونس اور لیبیا کے انقلابات ہیں۔ ان تمام انقلابیوں کی جدوجہد میں اسلامی قوتوں بالخصوص اخوان المسلمون نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن یہ اسلامی قوتیں لبرل سیاسی تصورات کی تنفیذ کی مدعی ر ہیں۔ ان سب کا ماڈل ترکی کی Justice and Development پارٹی ہے اور اس بات کے دعوے دار ہیں کہ مصر، تیونس وغیرہ میں حکومت تو اسلامی ہو اور شرع نافذ ہو لیکن ریاست خالص سیکولر اور لبرل بنائی جائے۔ ایران اور سوڈان کی ریاستوں کو بھی لبرل جمہوریت سے شدید خطرہ ہے۔ ان ممالک میں لبرل قوتیں کو عوام کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے اور ان کی موثر پشت پناہی امریکی استعمار کر رہا ہے۔ حال ہی میں سوڈان اپنا آدھا حصہ لبرل قوتوں کے ہاتھوں شکست کھاکر کھو بیٹھا ہے۔اور ۲۰۱۹ میں اسلامی قوتوں کو عوامی جدوجہد کے ذریعہ ہی بے دخل کیا گیا ہے۔

9۔ سوشل ازم

1.9۔ تاریخ

سوشل ازم بھی لبرل ازم اور قوم پرستی کی طرح سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو جواز فراہم کرنے والا ایک نظریہ ہے۔ سوشل ازم بذاتِ خود کوئی نظام زندگی نہیں؛ سوشل ازم کے چند بنیادی تصورات کی جڑیں قدیم یونانی اور ایرانی مفکرین کے یہاں ملتی ہیں اور اسی وجہ سے علامہ اقبال ؒنے سوشل ازم کو ”مزدکیت“ کہا ہے۔

مزدک نے زرتشت کی تعلیمات کے خلاف بغاوت کی اور انفرادی ذاتی ملکیت کو حرام قرار دیا۔ افلاطون کا تصورِ ریاست بھی اسی خصوصیت پر مبنی تھا جو اشتراکی تصورِ ریاست سے مماثل ہے لیکن جس نظریہ کو اشتراکیت (socialism) کہتے ہیں اس کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی۔ اس نظریہ کی دو تعبیریں پیش کی گئیں۔پرودھن (Proudhon)، موریس (Morris) اور اوون فورئیر (Owen Fourier)نے Socialist idealism اور مارکس اور اینگلز نے Scientific Socialism کی تعبیر پیش کی۔ ان دونوں نظریات میں مشترکہ عقیدہ ذاتی ملکیت کی نفی تھی اور دونوں نظریات سرمایہ دارانہ ظلم اور استحصال کے خاتمے کے لیے ذاتی ملکیت کے خاتمہ کو ضروری سمجھتے تھے۔socialist idealists کا خیال تھا کہ ذاتی ملکیت ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر تبلیغ کی ضرورت ہے اور اس کے نتیجے میں لوگ خود بخود ذاتی ملکیت ترک کر دیں گے اور اجتماعی ملکیت کے اصولوں پر کاروباری زندگی کو مرتب کریں گے۔ اس کی عملی مثال Robert Owenنے اپنے کارخانہ میں پیش کی۔

Scientific Socialism کا نظریہ یہ تھا کہ ذاتی ملکیت کا خاتمہ انسانی تاریخی عمل سے لازماً برآمد ہو گا۔ Socialistمادہ پرست (Materialist) ہوتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مارکس کے تصورات نے ارتقائے تاریخ انسانیت کا سائنسی تجزیہ اسی حیثیت سے کیا ہے جس حیثیت سے Darwin نےنظریہ ارتقاء ثابت کیا ہے۔ مارکس اپنے آپ کو بنیادی طور پر ایک سائنس دان سمجھتا تھا اور اس نے اپنی سب سے اہم تصنیف”داس کیپٹل“کو بھی ڈارون کے نام ہی منسوب کرنے کی پیش کش کی تھی۔

سائنٹفک سوشلسٹ شخصی ملکیت کے خاتمے کو انسانی تاریخی عمل کا ایک لازمی نتیجہ سمجھتے ہیں لیکن یہ عمل خود بخود آگے نہیں بڑھتا۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انسانیت کا ایک نمایندہ (Representative) طبقہ جدوجہد کرتا ہے۔ اس طبقہ کو proletariatکہتے ہیں۔ اور جب یہ طبقہ اپنی آمریت (Dictatorship) قائم کر لیتا ہے تو ذاتی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔

سوشلسٹ آئیڈیلسٹ نظریات پچھلی تین صدیوں سے موجود ہیں۔ دنیا کی تمام سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں نے یہی نظریات اپنائے ہیں۔ ان پارٹیوں میں انڈین کانگریس، پاکستان پیپلزپارٹی، برطانوی لیبر پارٹی، فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب اصولاً انفرادی ملکیت کی ریاستی تحدید کی قائل ہیں لیکن اس عمل کو عوامی مقبولیت سے مشروط کرتی ہیں۔ سوشلسٹ ڈیموکریٹک نظریات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں اور ان میں لبرل نظریات کےادغام کا عمل فروغ پارہا ہے۔

سوشل ڈیموکریٹک فکر نے اسلامی جماعتوں کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان جماعتوں کے زعماء مثلاً راشد غنوشی، احمد غزالی، جلال الدین احمد، خرم جاہ مراد، پروفیسر خورشید احمد ایک مدت سے سوشل ڈیموکریٹک مباحث کی اسلام کاری میں مصروف ہیں۔٢٠١٢ء کے مصری انتخابات میں اخوان المسلمون کا منشور اور٢٠٠٢ء کے انتخاب میں ایم ایم اے کا منشور بے شمار سوشل ڈیموکریٹک مطالبات کا مجموعہ تھا۔

سائنٹفک سوشلسٹ نظریات کو قبو ل کرنے والی کمیونسٹ جماعتیں ہیں۔ ان جماعتوں نے روس، چین، کیوبا اور کئی دیگر ملکوں میں سوشلسٹ انقلابات برپا کیے ہیں۔ اورپرولتاری آمریت قائم کر کے ذاتی ملکیت ختم کر دی۔ لیکن ١٩٨٩ء کے بعد سے ان جماعتوں کو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور پورے مشرقی یورپ، چین اور کیوبا میں نجی ملکیت کا احیا ہوا۔ چین اور کیوبا کے علاوہ ہر جگہ لبرل نظریات اور لبرل نظام ریاست غالب آگیا اور سائنٹفک سوشل ازم کے دعوے دار اپنے بہت سے نظریات سے انحراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

2.9۔ سوشلسٹ انفرادیت

سوشل ازم ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے لہٰذا سوشلسٹ، لبرل اور قوم پرست نظریات میں بنیادی اعتقادی ہم آہنگی ہے۔ سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد لبرلوں اور قوم پرستوں کی طرح ”لاالہ الا ا نسان“ کے کلمۂ خبیثہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ سوشلسٹوں، لبرلوں اور قوم پرستوں کا مقصدِ زندگی آزادی کے فروغ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ تینوں نظریات انسان کو صمد اور قائم بالذات بنانا چاہتے ہیں اور ہر فرد کو اس با ت پر راضی اور مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرنے کو اپنے مقصد اولیٰ کے طورپر قبول کر لے اور تصرف فی الارض کی جدوجہد میں اپنی تمام توانائی کو کھپادے۔ سوشل ازم، لبرل ازم اور قوم پرستی انہی معنوں میں کفر ہیں کہ یہ تینوں نظریات الوہیتِ انسان کا عقیدہ رکھتے ہیں اور آخرت سے انکار کر کے دنیا میں حصولِ لذات کو انفرادی اور معاشرتی عمل کا محور اور مرکز بنا دیتے ہیں۔تینوں نظریات بڑھوترئ سرمایہ برائے بڑھوتری، سرمایہ کو آزادی اور الوہیتِ انسان کے اظہار کا واحد قابلِ عمل ذریعہ تصور کرتے ہیں۔

لبرل، قوم پرست اور سوشلسٹ تصورِ انفرادیت میں فرق بھی ہے۔ لبرل نظریہ کے مطابق ہر فرد اپنی ذات میں خدا ہے اور تمام اجتماعیتوں کے قیام کا جواز فرد کی الوہیت اور آزادی کا فروغ ہے۔ ہر فرد ایسے بنیادی حقوق رکھتا ہے کہ جن کو کسی اجتماعی مفاد کی بنیاد پر پامال نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کا سب سے بنیادی حق ذاتی ملکیت کا حق ہے۔ وہ اپنے مادی وسائل کو جس طرح چاہے خرچ کرے بشرط کہ اس استعمال سے کسی فرد کا یہی مساوی حق پامال نہ ہوتا ہو۔ لبرل مفکرین کے نزدیک معاشرہ اور ریاست کے وجود کا جواز یہی ہے کہ شخصی ملکیت کے حق کو فروغ دے۔

قوم پرست اور سوشلسٹ انفرادی الوہیت کے قائل نہیں بلکہ وہ اجتماعی الوہیتِ انسانی کے قائل ہیں۔ قوم پرستوں کے مطابق الوہیتِ انسانی کا مظہر ”قوم“ ہے، انفرادی شخصیت نہیں۔ ہر مہاجر کو مہاجر قوم کی الوہیت کے فروغ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر ہر وقت راضی رہنا چاہیے، بنیادی حقوق قوم کے ہوتے ہیں اور قوم کی الوہیت کے حق کے سامنے اس کے تمام افراد کو اپنے انفرادی بنیادی حقوق سے دست بردار ہونا چاہیے۔ سوشلسٹ الوہیتِ انسانی کا مظہر فرد کو مانتے ہیں نہ قوم کو بلکہ سوشلسٹ نظریہ کے مطابق الوہیتِ انسانی کا مکلف ایک طبقہ ہے یہ طبقہ پرولتاریہ ہے۔ سوشلسٹ کہتے ہیں کہ یہ طبقہ انسانیت کا نمایندہ طبقہ ہے اور الوہیتِ انسانی کا بنیادی حق اسی طبقہ کو حاصل ہے۔ جب پرولتاری طبقہ اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کرتا ہے تو وہ ذاتی ملکیت کو ختم کرکے تمام انسانوں کے مساوی حقوق کا اثبات کرتا ہے اور بنی نوع انسان کا ہر فرد وسائل کائنات سے یکساں مستفید ہونے کا مکلف ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ پرولتاری ڈکٹیٹرشپ قائم کرنے کی جدوجہد میں شریک ہو اور اس کے قیام کے بعد پرولتاری قیادت کے احکام کو تسلیم کرے۔ اسی تابع داری میں الوہیتِ انسان کا صحیح اظہار ممکن ہے۔

3.9۔ سوشلسٹ معاشرت

انقلابِ روس کے اولین دور میں لینن اور اسٹالن نے سوشلسٹ انفرادیت کا تصور پیش کیا۔ اس نظریہ (جو مارکس کے تصور سپی شیز بینگ سے ماخوذ تھا )کے مطابق جیسے جیسے سوشلسٹ نظام مستحکم ہو گا ویسے ویسے روس کا ایک عام باشندہ ”سوویت مین“بن جائے گا۔ ماؤزے تنگ کا١٩٦٦ء تا ١٩٧٤ء تک کا ثقافتی انقلاب بھی سوشلسٹ انسانی شخصیت کی تعمیر کی ایک کوشش تھی۔”سوویت مین“ ایک ایسی انفرادیت تصور کی گئی جو طبقہ پرولتاریہ کے مفادات کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتی اور پرولتاریہ کی آزادی اور الوہیت کو فروغ دینے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہو۔ عملاً اس قسم کی شخصیت کا سوویت روس اورچین کے علاوہ کسی اور سوشلسٹ ملک میں وجود دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ انقلاب کے ابتدائی دور میں بہت بڑی تعداد میں کمیونسٹ پارٹی کے اراکین نے اشتراکی اقتدار اور غلبہ کو قائم رکھنے کے لیے عدیم المثال قربانیاں پیش کیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا قربانی کا یہ جذبہ سرد پڑتا گیا اور سوشلسٹ معاشرہ خود غرضی، لالچ اور حسد سے بھر کر رہ گیا۔ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین افراد بدترین کرپشن اور بے راہ روی کا شکار ہوگئے اس کی واضح ترین مثالیں لینن، اسٹالن اور ماؤ نے فراہم کیں جو نہایت ظالم، خود غرض، سفاک اور بددیانت حکمران ثابت ہوئے۔

سوشلسٹ اور لبرل معاشروں کی اخلاقی پستی یکساں ہے۔ دونوں معاشروں میں حرص اور حسد کا راج ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کی مجبوریوں اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر اپنا مطلب نکالتے ہیں۔ سوشل ازم کایہ دعویٰ کہ ذاتی ملکیت کو ختم کر کے سرمایہ دارانہ ظلم کو ختم کیا جاسکتا ہے قطعاً غلط ثابت ہوا۔ لینن اور اسٹالن اور ماؤ نے بڑے پیمانے پر نجی کاروبار کو ختم کر کے معاشی عمل کی بنیاد ریاستی منصوبہ بندی پر رکھی لیکن اس سے سرمایہ دارانہ ناانصافیوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ایک منصوبے کے تحت معیشت میں اقتدار نجی سرمایہ داروں کے ہاتھوں سے نکل کر ریاستی نوکر شاہی کے ہاتھ میں منتقل ہوگیا اور ریاستی نوکر شاہی بھی اپنے اقتدار کو استعمال کر کے معیشت کو لُوٹنے میں مصروف ہو گئی۔ لبرل اور سوشلسٹ معاشرہ میں عام آدمی بھی استحصال پسند، خود غرض، لالچی اور عیاش ہوتا ہے، دونوں معاشروں میں قدر مشترک جنسی بے راہ روی اور ہوس پرستی ہے، اخلاقی اور روحانی پستی کے لحاظ سے ایک عام سوشلسٹ شہری ایک لبرل شہری سے ذرہ برابر مختلف نہیں ہوتا۔

سوشلسٹ ممالک کے عوام نے ریاستی منصوبہ بندی کو معاشی استحصال کا ذریعہ گردانا اور ١٩٨٩ء کے بعد یکے بعد دیگرے سوشلسٹ معیشتیں لبرل بن گئیں، ریاستی منصوبہ بندی کوتدریجاً ترک کر دیا گیا اور ہر جگہ اجارہ دارانہ مارکیٹ کا غلبہ ہو گیا۔ یہ عمل روس اور مشرقی یورپ میں مکمل ہو چکاہے اور آج نہایت زور وشور سے چین، کیوبا، وینزویلا اور بولیویا میں جاری ہے۔ سوشلسٹ ممالک جو آسانی سے لبرل بن گئے ہیں اور بنتے جا رہے ہیں یہ اس بات کی فیصلہ کن دلیل ہے کہ سوشلسٹ اور لبرل اخلاقیات میں کوئی بنیادی فرق موجود نہیں۔ سوشلسٹ اور لبرل معاشروں کی روحانی اور اخلاقی کیفیت یکساں ہوتی ہے۔ لہٰذا ادارتی صف بندی میں عمومی تبدیلی کے ذریعے سوشلسٹ معاشرے کو لبرل اور لبرل معاشرہ کو سوشلسٹ بنایا جاسکتا ہے۔

4.9۔ سوشلسٹ ریاست

سوشلسٹ ریاست یا تو سوشل ڈیموکریٹک ہوتی ہے یا Proletarian Dictatorship۔ سوشل ڈیموکریسی میں مزدور تنظیمیں حکومت میں سرمایہ داروں کی حلیف اور ساتھی ہوتی ہیں۔ سیاسی عمل میں مزدور تنظیموں کی شمولیت کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ سرمایہ دارانہ عمل کے فروغ میں وہ رکاوٹ نہ ڈالیں اور اقتدار میں شرکت سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مزدور بھی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے مستفید ہوں۔ سوشل ڈیموکریٹک ریاست میں اس بات کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے کہ مزدور سرمایہ دار بن جائے۔ وہ حرص اور حسد کو قدر کے طور پر قبول کرلے اور انفرادی فیصلہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر کرے۔ مزدور سرمایہ کی بڑھوتری برائے بڑھوتری کے عمل کو عقل کا تقاضا سمجھے اور اپنا مفاد اس بات میں جانے کہ سرمایہ کی بڑھوتری تیز سے تیز تر ہوتی چلی جائے۔ کیوں کہ جتنا یہ عمل تیز ہوگا اتنا ہی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کے ذرائع پیدا ہوں گے اور مزدور زیادہ سے زیادہ تصرف فی الارض کے مکلف ہوں گے۔

پرولتاری ڈکٹیٹرشپ میں عوامی جمہوریت قائم ہوتی ہے۔ حکمران جماعت پرولتاری طبقہ کی نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہے اور پرولتاری طبقہ انسانیت کی نمایندگی کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس ریاست میں بھی فیصلے عوام کی خواہشات کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں اور چوں کہ خواہشات کی تکمیل کا واحد ذریعہ بڑھوترئ سرمایہ ہی ہے لہٰذا ریاستی عمل اور پالیسی کا جواز بڑھوترئ سرمایہ ہی قرار پاتی ہے۔ لبرل اور سوشلسٹ ریاستی ڈھانچوں کی یہی مماثلت اس بات کی ضمانت فراہم کرتی ہے کہ لبرل اور سوشلسٹ ریاستوں میں کبھی جنگ نہیں ہوتی۔ آج دنیا میں چین امریکا کا سب سے بڑا حلیف ہے۔ اس نے کبھی امریکی بربریت کا براہ راست مقابلہ نہیں کیا نہ افغانستان میں نہ عراق میں نہ لاطینی امریکا میں نہ مشرق بعید میں۔ اس کے برعکس چین نے کھربوں ڈالر امریکا میں رکھے ہوئے ہیں جو امریکی معیشت کا بہت بڑا سہارا ہیں۔

5.9۔ اسلامی سوشل ازم

سوشل ازم، لبرل ازم اور قوم پرستی کفریہ نظریات ہیں۔ یہ اسلام کا ردّ ہیں کیوں کہ ان تینوں نظریات کا مشترکہ کلمہ ”لا الہ الا انسان“ ہے۔ لیکن ان تینوں نظریات نے مسلم مفکرین اور اسلامی جماعتوں کو متاثر کیا ہے۔ برصغیر میں سوشل ازم کا اثر اسلامی فکر پر پہلی جنگِ عظیم کے دوران شروع ہوا۔ جب تحریک ریشمی رومال کی پسپائی کے بعد چند علماء اور مجاہدین ہجرت کر گئے۔ اور ان میں سب سے اہم قائد مولانا عبیداللہ سندھی ترکی کے راستے روس پہنچے، ہندوستان واپس آکر آپ نے بہت سے سوشلسٹ نظریات کی اسلام کاری کی کوشش کی۔ سندھ کے دیو بندی علماء فکری طور پر اب بھی اس فکر سے کچھ نہ کچھ نہ متاثر ہیں۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے ”اسلامی سوشل ازم“ سے بھی متاثر ہیں۔ ہمارے نزدیک سوشل ڈیموکریٹک ایجنڈا کی اسلامی جماعتوں کے منشور میں شمولیت بھٹو اور اس کے پیروکاروں سے مرعوبیت ہی ہے۔

لبرل ازم اور قوم پرستی کی طرح سوشل ازم بھی جاہلیت خالصہ اور کفرِ بیّن ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، سوشلسٹ اسلام کے بدترین دشمن ہیں کیوں کہ وہ خدا کے دشمن ہیں۔ ہم سوشلسٹ نظریات کو اُکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتے ہیں۔

10۔سوشل ڈیموکریسی

1.10۔ تاریخ

سوشل ڈیمو کریسی (Social Democracy) لبرل ازم اور سوشل ازم کا ایک ملغوبہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کا ایک مقبول عام نظریہ ہے۔ اس نظریہ کے بانی انیسویں صدی کے فرانسیسی فلسفی تھے بالخصوص Proudhon اور Fourier۔ فرانس کے بادشاہ Louis Napoleon III نے اس نظریہ کی بنیاد پر بہت سی ریاستی پالیسیاں انیسویں صدی میں وضع اور نافذ کیں۔

انیسویں صدی کے آخری چوتھائی حصہ میں یہ نظریہ جرمنی میں بھی عام ہوا اور مارکس کی زندگی میں ہی اس کی بنائی ہوئی تنظیم First Communist International میں ایک مضبوط سوشل ڈیمو کریٹ دھڑا اُبھر کر سامنے آیا جس نے بالآخر اس تنظیم پر قبضہ کرلیا۔ جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی اس زمانہ میں دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ جماعت تھی۔ اس پارٹی پر بھی سوشل ڈیموکریٹ قابض ہو گئے۔ ان کی قیادت Eduara Bernstein اور Karl Kautsky کر رہے تھے۔ روس کی کمیونسٹ جماعت بھی بیسویں صدی کی ابتدا میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور سوشل ڈیمو کریٹ Martow کی قیادت میں اس جماعت کے Menshevik دھڑے پر قابض ہو گئے، لینن ان کاشدیدترین مخالف تھا۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں برطانیہ، اٹلی، اسپین اور اسکینڈے نیوین ملکوں میں طاقت ور سوشل ڈیمو کریٹ جماعتیں قائم ہوئیں۔ پہلی جنگ عظیم کے دور میں تقریباً تمام یورپی ممالک میں سوشل ڈیمو کریٹ جماعتوں نے اپنے ملک کی قوم پرست حکومتوں کا ساتھ دیا اور ١٩١٩ء تا ١٩٤٥ء کے دور میں یہ حکومتوں میں شریک رہیں۔ جرمنی کی نازی (Nazi) ریاست بھی سوشل ڈیمو کریٹ پالیسیاں اپناتی تھی اور ہٹلر اور مسولینی خود کونیشنل سوشلسٹ سمجھتے تھے۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٧٩ء تک پورے مغربی یورپ اور امریکا میں سوشل ڈیمو کریسی غالب حکومتی نظریہ کے طور پر اپنائی گئی۔ اس دور میں جس نظریہ نے سوشل ڈیموکریٹک پالیسیوں کی توجیہ پیش کی وہ Keynesianism ہے اور کینزین پالیسیوں کو ریاستی سطح پر سب سے پہلے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے اپنایا۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٧٩ء کے دور میں کئی یورپی ممالک میں اور امریکا میں بھی سوشل ڈیموکریٹک حکومتیں قائم ہوئیں۔ یہ دور سرمایہ داری کا زریں دور کہلاتا ہے۔

١٩٧٩ء سے ٢٠٠٧ء تک سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں بتدریج ریاستی سطح پر ردّ کی گئیں اور امریکا اور کئی یورپی ملکوں میں لبرل پالیسیوں کا احیا ہوا۔ ٢٠٠٧ء کے بعد سے یورپ اور امریکا مالیاتی اور ریاستی قرضہ جات کے بحرانوں کا شکار رہے جس کے نتیجہ میں لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کی ایک مخلوط تشریح جزوی طور پر ظا ہرہورہی ہے۔ معیشت میں ریاستی مداخلت کی نظم ِنوکو ممکن بنانے کی ایسی کوشش ہو رہی ہے جو سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

سوشل ڈیموکریٹک نظریات ایشیا، افریقا اور جنوبی امریکا میں بھی ١٩٤٥ء کے بعد بہت مقبول ہوئے۔ یہاں کی قوم پرست حکومتیں (ہندوستان، مصر، انڈونیشیا، ارجنٹینا، ترکی، برازیل وغیرہ) عموماً سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اختیار کرتی رہی ہیں۔ پاکستان کی سب سے اہم سوشل ڈیموکریٹک جماعت پیپلزپارٹی ہےگو کہ سوشل ڈیموکریٹک پالیسیاں ایوب خان، مشرف، نواز شریف وغیرہ نے بھی اختیار کی ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام بھی سوشل ڈیموکریٹک نظریات سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مفکرین، پروفیسر خورشید احمد، نجات اللہ صدیقی اور عمر چھاپرا نے سوشل ڈیموکریسی کی اسلام کا ری اسلامک اکنامکس کا مضمون وضع کر نے کی ہے جو آج بیشتر پاکستانی جامعات میں شامل نصاب ہے۔

یورپی کمیونسٹ پارٹیاں بھی سوشل ڈیموکریٹک نظریات سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔ یہ عمل ١٩٧٠ء کی دہائی کے وسط سے شروع ہوا جب فرانس اور اٹلی کی کمیونسٹ پارٹیوں نے یورو کمیونزم کا نظریہ اختیار کیا۔ ١٩٨٥ء کے بعد سوویت روس کے حکمران گوربا چوف (Gorbachev) نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اختیار کیں۔ اب یورپ میں کمیونسٹ جماعتیں معدوم ہو گئی ہیں۔ وہ اکیلا کمیونسٹ ملک جس نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اختیار نہیں کیں وہ چین ہے اور چین کے ریاستی نظام کے استحکام کی یہ ایک اہم وجہ ہے۔

2.10۔ سوشل ڈیموکریٹ انفرادیت

سوشل ڈیموکریسی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے لہٰذا اس کے کلیدی تصورات اس تنویری فکر سے نکلتے ہیں جس سے لبرل قوم پرست اور سوشلسٹ کلیدی تصورات برآمد ہوتے ہیں۔ سوشل ڈیموکریسی کا کلمہ بھی ”لاالٰہ الاانسان ہے“۔ سوشل ڈیموکریسی کا مقصد لامتناہی فروغِ آزادی یعنی بڑھوترئ سرمایہ برائے بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ لبرل ازم اور سوشل ازم کی طرح سوشل ڈیموکریسی بھی اصلاً اور اصولاً ایک مادہ پرست (Materialist) نظریہ ہے اور اس کا مقصد بھی انسان کی خواہشات کو تمام کائنات پر مسلط کرنا اور جلد از جلد زیادہ سے زیادہ تمتع فی الارض کو ممکن بنانا ہے۔ سوشلسٹ، قوم پرست، لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کے اندر خود تخلیقیت اور تخلیقیت کائنات ( Self and Reality Creation ) کی صلاحیت موجودہے اور عقل (Pure Reason) کا یہ تقاضا ہے کہ وہ حق کو اپنی خواہش کے مطابق تخلیق کرے۔ لہٰذا قوم پرست لبرل، سوشلسٹ اور سوشل ڈیموکریٹ سب ذلیل ترین کافر ہیں کیوں کہ یہ تو شرک سے بھی آگے کی ایک منزل ہے اور خدائی کا دعویٰ تو ابلیس نے بھی نہیں کیا اور اسی چیز کو مولانا مودودی نے ”جاہلیت خالصہ“ بتایا ہے (دیکھیے اسلامی تہذیب کے اصول و مبادی)

لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تصورِ انفرادیت میں فرق بھی ہے۔ لبرل مفکرین فرد کو خود غرض اور قائم بالذت تصور کرتے ہیں۔ لبرل نظریہ کے مطابق ہر فرد اپنی انفرادی آزادی / سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے مستقل جدوجہد کرتا ہے۔ وہ دوسرے افراد کو اپنے حصولِ سرمایہ / آزادی کا ذریعہ تصور کرتا ہے اور خود بھی دوسروں کی جدوجہد بڑھوترئ سرمایہ/ آزادی میں آلہ کار بننے پر راضی ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر لبرل معاہدات وضع کیے جاتے ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹ فرد کو خود کفیل (Autonomous) تصور نہیں کرتا بلکہ انسانیت کو بحیثیت نوع خود کفیل اور قائم بالذت تصور کرتا ہے۔ سوشل ازم کی طرح سوشل ڈیموکریٹ بھی خودتخلیقیت کے عمل کا اظہار پیداوار (Production) میں دیکھتا ہے۔ انسان اپنی ذات کی تخلیق خام مادہ میں اپنی محنت (Labour) کو ملاکر کرتا ہے اور Production کا عمل ہی اظہارِ تخلیقِ ذات ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں انسانیت دو عظیم طبقوں (Classes) میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ مزدوروں کا طبقہ جو صرف اپنی محنت (Labour) کا مالک ہوتا ہے اور سرمایہ داروں کا طبقہ جو تمام ذرائع پیداوار کا مالک ہوتا ہے۔ سوشلسٹ بھی اس نظریہ کے قائل ہیں لیکن سوشلسٹوں کی رائے میں مزدوروں اور سرمایہ داروں میں نزاع (Conflict) کو ختم کرنے کے لیے ایک ایسے ریاستی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے جو بورژوا کے طبقہ کو ختم کر دے اور پرولتاری آمریت کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ریاستی ملکیت قائم کر دے۔ سوشل ڈیموکریٹ اس انقلاب کی ضرورت کے قائل نہیں۔ ان کی رائے میں جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام زندگی ترقی کرتا ہے، طبقاتی کشمکش کمزور ہوتی جاتی ہے۔ اور ہر شخص سرمایہ کا آلہ کار (یعنی مزدور) بن جاتا ہے۔ نجی سرمایہ دارانہ ملکیت کارپوریٹ سرمایہ دارانہ ملکیت میں تحلیل ہوجاتی ہے اور یہ تبدیلی سرمایہ دارانہ علمیت کے بتدریج غلبہ کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔

سوشلسٹ اور سوشل ڈیموکریٹ تصور انفرادیت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سوشلسٹ انفرادیت کو غضب اور حسد سے مغلوب تصور کرتے ہیں۔ سوشلسٹ نظریہ کے مطابق مزدور طبقہ کا ہر فرد بورژوا طبقہ سے اتنی شدید نفرت کرتا ہے کہ یہ نفرت اس کی ہوس اور شہوت پر غالب آتی ہے اور فرد اور طبقہ کا عمل نفرت، حسد اور غضب کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ سوشلسٹ اور قوم پرستانہ اقداری مماثلت یہ ہے کہ دونوں نظریات فردکو نفرت اور حسد کے جذبات سے مغلوب تصور کرتے ہیں اور ایک سوشلسٹ اور قوم پرست فرد حسد اور نفرت ہی کی بنیاد پر بڑی سے بڑی قربانی دینے پر تیار ہوتا ہے۔

اس کے برعکس سوشل ڈیموکریٹ انفرادیت کو حرص اور طمع سے مغلوب تصور کرتے ہیں، حسد اور نفرت سے نہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل تصورِ انسانیت میں بہت مماثلت ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ نظریہ کے مطابق ہر فرد خواہ وہ مزدور ہو خواہ بورژوا بڑھوترئ سرمایہ سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی ابدی خواہش رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان لے آتا ہے۔ یہ عقلیت خواہشاتِ نفسانی کے حصول کے سہل ترین طریقہ کی نشان دہی کرتی ہے اور اس کے مفروضات آفاقی (Universal) اور معروضی (Objective) ہیں اور ان پر عمل کرنے سے سب کا بھلا ہوتا ہے۔ سب کی خواہشات ِنفسانی فروغ پاتی ہیں خواہ وہ مزدور ہو خواہ سرمایہ کار۔ ہوس سے مغلوب عقلیت مزدوروں اور سرمایہ کاروں میں اشتراک عمل کا وہ طریقہ بتاتی ہے جس سے سرمایہ کی بڑھوتری برائے بڑھوتری تیزسے تیز تر کی جاسکے اور سب کی خواہشاتِ نفسانی خوب سے خوب تر فروغ پائیں۔ لہٰذا سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ طبقہ کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاروں اور مزدوروں میں ایسے اشتراک عمل کے ممکنات کی نشان دہی کرتی ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عدل فروغ پائے۔

3.10۔ سوشل ڈیموکریٹ تصورِ معاشرت

سرمایہ دارانہ عدل سے مراد یہ ہے کہ ہر فرد اپنی تمام خواہشات ِنفسانی کے حصول کا مکلف ہوتا چلا جائے۔ لبرل کہتے ہیں کہ اس عدل کے حصول کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کافی ہے۔ یہ ہیومن رائٹس، تحفظ سرمایہ دارانہ حیات (غیر سرمایہ دارانہ حیات کا تحفظ مقصود نہیں، مثلاً مشہور لبرل فلسفی جان لاک نے امریکا کے قدیم باشندوں ریڈانڈینز کے قتل عام کو بالکل درست قرار دیا)، تحفظ سرمایہ دارانہ آرا )جان لاک نے کی اپنی مشہور دستاویز A Letter on Toleration میں مسلمانوں کو اشاعتِ آرا کے حق سے محروم کرنے کا جواز پیش کیا ہے) اور تحفظ سرمایہ دارانہ ملکیت ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ کہتے ہیں سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ اور حصول کے لیے یہ کافی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ کا عمل لازماً اجارہ داری کا شکار ہوجاتا ہے اور قیمتوں کا تعین مسابقتی عمل کے ذریعہ نہیں ہوتا اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے قیام کے وقت جو تقسیم قوت میں عدمِ توازن ہوتا ہے اس میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ عمل کے ذریعہ ارتکاز دولت اور قوت لازماً فروغ پاتا ہے۔

تقسیم قوت کی سب سے بڑی ناہمواری مزدوروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان ہوتی ہے۔ انیسویں صدی میں یہ ناہمواری بہت شدید شکل میں سامنے آئی اور سرمایہ کارانہ ترقی کے نتیجہ میں مزدوروں کے مفادات میں اضافہ کی رفتار بہت سست رہی۔ اس دور کے سوشل ڈیموکریٹس نے اس عدم توازن کی وجہ یہ بتائی کہ مزدور کی مسابقتی قوت سرمایہ کار کے مقابلہ میں نہایت محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ سرمایہ کار جتنی کم اُجرت بھی دے مزدور اس کو قبول کرنے پر مجبور ہے۔ سرمایہ کار جب چاہے مزدور کی ملازمت ختم کردے اور جتنی شدید مشقت مزدور سے چاہے لے۔ سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ان حالات میں ناممکن ہے گو کہ مزدوروں کو فرداً فرداً تمام ہیومن رائٹس میسر ہوں۔

سوشل ڈیموکریٹک مفکرین کے مطابق سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ٹریڈ یونین کا قیام ضروری ہے۔ ٹریڈ یونین وہ ادارہ ہے جس میں مزدوروں کی قوت مجتمع کی جاتی ہے اور وہ سرمایہ دارانہ عدل کے لیے جستجو اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) کے ذریعہ کرتی ہے۔ اس اجتماعی سودہ بازی کا مقصد سرمایہ کی بڑھوتری میں مزدوروں کے جائز حق کا حصول ہوتا ہے۔ Collective Bargaining کے ذریعہ مزدور اجتماعی سرمایہ کار بن جاتا ہے۔ وہ سرمایہ کار کا مخالف نہیں رہتا بلکہ خود سرمایہ دار بن کر ذریعہ پیداوار کے مالک کا ساتھی بن جاتا ہے اور مالک سرمایہ دار اور مزدور سرمایہ دار اس بات پر سمجھوتا کرنے کی پیہم جستجو کرتے ہیں کہ منافع (Surplus) کی کون سی ایسی تقسیم سب سے سود مند ہے جس کے ذریعے مزدوروں کے مفادات میں اضافہ اس طریقے سے کیا جائے کہ بڑھوترئ سرمایہ کا عمل تیز سے تیز تر ہوسکے۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضا ہے۔

ٹریڈ یونین کے عروج کا دور ١٨٩٠ء سے ١٩٧١ء تک کا ہے۔ اس زمانہ میں بیشتر مغربی یورپی ممالک میں ٹریڈ یونین کی مسابقتی قوت کو قانونی تحفظ حاصل تھا اور اس کی نظریاتی بنیاد کینزین ازم کا فلسفہ فراہم کرتا تھا۔ مینجمنٹ ٹریڈ یونین کی ہڑتال (Strike) کے عمل سے خائف رہتے تھے اور بیشتر سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں (جن میں کچھ عرصہ تک امریکاکی ڈیموکریٹک پارٹی بھی شامل تھی) ٹریڈ یونین کے زیر اثر رہیں اور ٹریڈ یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں کے تعاون ہی سے ١٩١٩ء میں جرمنی میں، ١٩٢٦ءمیں برطانیہ میں، ١٩٤٢ء میں اٹلی میں، ٤٥۔١٩٤٢ء میں فرانس میں اور ١٩٤٥ء میں یونان میں امریکی افواج نے کمیونسٹ انقلاب کو ناممکن بنایا۔ اس پورے دور میں اور آج تک یورپ کی سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں امریکا کی ذلیل ترین کاسہ لیس حاشیہ بردار رہی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال تو بلیئر اوربراؤن کی جماعتیں ہیں لیکن امریکا کی چاکری کا سب سے واضح جواز Aunerin Bevan کی تحریرات میں ملتا ہے۔ Bevin ١٩٤٥ء تا ١٩٥١ء کی برطانوی لیبر حکومت میں وزیر تھا۔سوشل ڈیموکریٹ انفرادیت میں شہوت اور ہوس کا غلبہ ہے۔ لہٰذا لبرل معاشرہ کی طرح سوشل ڈیموکریٹ معاشرہ بھی شہوت رانی اور ہوس پرستی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی دونوں مذہب دشمن نظریات ہیں، انہوں نے قدیم عیسائی معاشرہ کو یورپ میں بیخ بن سے اکھاڑ پھینکا ہے اور جس معاشرت کو فروغ دیاہے وہ نہایت غلیظ، پلید، گھناؤنی اور نجس معاشرت ہے۔ لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی انسانی معاشرت کو حیوانیت میں ڈبونے کا ذریعہ بنے ہیں۔

١٩٧۹ء کے بعد سے ٹریڈ یونینز کے زوال کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کارپوریٹ ملکیت کا فروغ ہے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام زندگی فروغ پاتا ہے ذاتی ملکیت (Private Property) ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کی جگہ کارپوریٹ پراپرٹی لے لیتی ہے۔ کارپوریٹ ملکیت میں ملکیت اور اختیار کو علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ کارپوریشن کے قانونی مالک وہ لاکھوں افراد ہوتے ہیں جو کمپنی کے حصص سٹہ کے بازار (Stock Market) میں خریدتے بیچتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل فرضی ملکیت ہوتی ہے کیوں کہ یہ لاکھوں افراد کارپوریشن کے کاروبار اور اس کی پالیسیوں کو متعین کرنے میں کوئی حصہ نہیں لے سکتے۔ ان کا سالانہ اجتماع عام (Annual General Meeting) محض ضابطہ کی کارروائی ہوتی ہے۔ کارپوریشن کے کرتا دھرتا اور بااختیار چلانے والے اس کے منیجر ہوتے ہیں۔ ان منیجروں کا انتخاب ان کی اس صلاحیت کے مطابق کیا جاتاہے کہ وہ وسائل کو استعمال کر کےکارپوریشن کے منافع میں کس تیزی سے اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان منیجروں کا انتخاب اور کسی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔ اگر وہ منافع میں مستقل اضافہ کرنے سے قاصر رہ جائیں تو ان کو ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے کیوں کہ کارپوریشن کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں کارپوریشن ایک شخص قانونی کی حیثیت اختیارکرتی ہے۔ اس کا مقصد وجود صرف اور صرف اپنے سرمایہ کی رفتارِ بڑھوتری میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ کارپوریشن سرمایہ کی تجسیم ہے۔ سرمایہ دارانہ (کارپوریٹ) ملکیت سے مراد سرمایہ کی ملکیت ہے۔ اس نظام میں مالک صرف سرمایہ یعنی حرص اور حسد ہوتا ہے۔ باقی سب منیجر، حصص رکھنے والے صارف، ملازمین، سرمایہ کے غلام ہوتے ہیں۔ وہ سب اس بات پر مجبور رہتے ہیں کہ اپنی تمام توانائیاں بڑھوترئ سرمایہ برائے بڑھوترئ سرمایہ کے مقصد کے حصول میں مستقل کھپاتے ہیں۔ وہ سب یہ کرنے پر زندگی بھر مجبور رہتے ہیں۔ آزادی کا یہی مطلب ہے۔ آزادی کا اور کوئی مطلب تاریخ میں واضح نہیں ہوا۔ تعجب ان پر ہے جو آزادی کو عبادت کے ہم معنی گردانتے ہیں۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

جب سب لوگ سرمایہ کے غلام بن جاتے ہیں تو طبقوں کا وجود لازماًبتدریج ختم ہو جاتا ہے۔ سب ہی سرمایہ کے غلام ہیں کیا مزدور کیا منیجر، کیا ریاست کا کارندہ (سرمایہ کی غلامی کا مقصد نفس کو حرص اور حسد کے شیطانوں کے سپرد کر دینا ہے) تو طبقاتی کشمکش لازماً لایعنی ہو جاتی ہے اور وہ واحد اجتماعیت جو سرمایہ دارانہ نظام زندگی نے تعمیر کی تھی یعنی مزدورں کی اجتماعیت اور جس نے مذہبی اجتماعیت کی جگہ لی تھی، لازماً تحلیل ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں سوشل ڈیموکریسی لبرل ازم میں ضم ہوجاتی ہے۔ کارپوریٹ ملکیت کے غلبہ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ عدل قائم نہیں ہوتا بلکہ ارتکازِ قوت اور دولت میں اضافہ ہوتاچلاجاتا ہے گو کہ معاشرتی عمل (بالخصوص سرمایہ دارانہ تعلیم اور ہنر سازی کے ذریعہ ہر فردہیومن کیپٹل بن جاتا ہے لیکن سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں شمولیت کے مواقع بتدریج محدود ہوتے جاتے ہیں۔ لہٰذا دورِ حاضر کی سوشل ڈیموکریسی طبقاتی مسابقت کا ذریعہ نہیں سرمایہ دارنہ شمولیت کا جواز فراہم کرتی ہے۔

4.10۔ سوشل ڈیموکریٹ تصورِ ریاست

سوشل ڈیموکریسی جو سرمایہ دارانہ ریاست بناتی ہے اس کو ویلفیئر اسٹیٹ کہتے ہیں۔ ابتداً سوشل ڈیموکریٹ سمجھتے تھے کہ ویلفیئراسٹیٹ کے قیام کا بنیادی ذریعہ قومی کارپوریشن کا قیام ہو گا۔ چناں چہ Eduard Bernstein جو جرمنی کے اولین سوشل ڈیموکریٹ مفکرین اور مبلغین میں سے تھا جرمنی کے ریلوے نظام کو وہ ماڈل تصور کرتا تھا جو سرمایہ دارانہ نجی ملکیت کے متبادل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ١٩٤٥ء سے ١٩٦٥ء تک کئی سوشل ڈیموکریٹک حکومتوں نے نجی سرمایہ دارانہ شعبوں کو قومی کارپوریشنوں کے طور پر چلایا لیکن عموماً یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا۔ قومی اور نجی کارپوریشن کے عمل میں کوئی واضح فرق نہ تھا اور قومی کارپوریشنوں کی کارفرمائی کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہ ہوا۔ یہ بات واضح ہوگئی کہ نجی کارپوریشنوں کی طرح قومی کارپوریشنوں پربھی سرمایہ کی ملکیت قائم رہتی ہے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے عمل کوتابع کرنے سے وہ بھی اتنی ہی قاصر رہتی ہیں جتنی نجی کارپوریشنز۔ سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں نے اپنی مالیاتی (Fiscal) اور زری (Monetary) پالیسیوں کے ذریعہ ان لوگوں کے لیے جو بڑھوتری سرمایہ کے عمل سے بالواسطہ متعلق نہ تھے یا اس سے خواطر خواہ استفادہ نہیں کررہے تھے، سہولیاتِ زندگی بالخصوص تعلیم، علاج، رہائش اور سفر کی سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں کیں۔ اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین نے کہا کہ ہیومن رائٹس کے ساتھ ساتھ ریاست کو سوشل رائٹس کی ضمانت بھی فراہم کرنی چاہیے اور ہر فرد کو ایک متعین معیارِ زندگی پر گزر بسر کرنے کا مکلف بنانا چاہیے۔ اور اس متعین معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ ہوتا رہنا چاہیے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی حصولِ لذات اور فروغِ شہوات کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔

چناں چہ سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل ریاستی ڈھانچہ میں کوئی واضح فرق برقرار نہ رہ سکا۔ سوشل ڈیموکریٹ ریاستیں لبرل ریاستوں کی طرح نمایندہ دستوری جمہوریتیں ہوتی ہیں اور اب یونینوں کا ان سوشل ڈیموکریٹک ریاستی نظاموں میں کوئی خاص مقام باقی نہیں رہ گیا ہے۔ لہٰذا مالی وسائل جمع کرنے میں جو مشکلات لبرل ریاستوں کے سامنے آتی ہیں انہی مسائل کا سامنا سوشل ڈیموکریٹ ریاستوں کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک حکومتوں کی مالی ضرورتیں لبرل حکومتوں سے زیادہ ہوتی ہیں کیوں کہ لبرل حکومتوں کی طرح سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں سرمایہ دارانہ نہ ختم ہونے والی عالمی جنگی مہمات کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ وہ سب امریکا کی باج گزار حلیف ریاستیں ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سوشل ڈیموکریٹ حکومت کو عوام کی ایک بڑھتی ہوئی اکثریت کے لیے ایک بڑھتا ہوا معیار زندگی بھی فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھانا پڑتی ہے۔ لیکن لبرل حکومتوں کی طرح ان کی محصولیاتی صلاحیت (Taxation Capability) جمہوری عمل کی پابند اور لازماً محدود ہوتی ہے۔

بیشتر سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں جلدیابدیر ریاستی مالیاتی بحران (Fiscal Crises of the State) کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔

ایک وجہ یہ ہے کہ چوں کہ سرمایہ دارانہ عمل لازماً سرمایہ کی مرکزیت (Concentration) کو فروغ دیتاہے اور سرمایہ کی بڑھوتری (Accumulation) کا مطلب ہی اس کی Concentration ہے لہٰذا جیسے جیسے سرمایہ دارانہ چکر تیز ہوتا جاتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنے سے باہر پھینکتا چلا جاتا ہے۔ آج مغربی یورپ اور شمالی امریکا میں کوئی ایسا ملک موجود نہیں جہاں ٹیکس دینے والوں کی تعداد ٹیکس نہ دینے والوں سے زیادہ ہو۔ وہ لوگ جو اپنی گزر بسر کرنے کے لیے اتنا نہیں کماتے جو ان کی کفالت کرسکےایسے لوگ بچت کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ ہیں اور ان کا حکومت کی امداد اور قرضوں کی بنیاد پر گزارا ہوتا۔ مغربی یورپ میں شرح بے روزگاری اونچی ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں کروڑوں بوڑھے بچے، طالب علم اور غریب ( امریکا میں تقریباً ٢۵ فی صد آبادی غربت کی سطح پر زندگی بسر کرتی ہے) حکومت پر مستقل انحصار کرتے ہیں۔ ہر مغربی یورپی اور شمالی امریکی ملک میں حکومت کے سوشل اخراجات ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتے چلے جارہے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ معیارِ زندگی کم کرنے کو تیار نہیں۔ ہرفرد معیارِ زندگی کو مستقل بڑھاتے رہنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری گردانتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ وہ سب لوگ سرمایہ داری پر ایمان لے آئے ہیں اور سرمایہ داری کا تو مقصد ہی فروغ لذات، شہوات اور آزادی کے علاوہ کچھ نہیں۔

یقیناً سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی ایسے بحرانوں سے دوچار ہے جن کا اس کے پاس کوئی حل موجودنظر نہیں آتا اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو عبث نظر آتی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل پالیسیوں میں فرق کرنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے اور سوشل ڈیموکریٹک حکومتیں عوام سے کیے ہوئے ویلفیئر کو فروغ دینے والے وعدوں سے بھی گریز کر رہی ہیں۔ عملاً آج پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد معدوم ہوتی جا رہی ہے اور سرمایہ دارانہ مفکرین سرمایہ دارانہ عوام کو باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ ظلم برداشت کرنا اس لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کا کوئی متبادل موجود نہیں۔

5.10۔ سوشل ڈیموکریسی اور اسلام

آج جب کہ مغرب سرمایہ دارانہ عدل کے قیام سے مایوس ہوگیا ہے دنیا بھر کی اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ عدل کی وکیل بن کر سامنے آرہی ہیں۔ سوشل ڈیموکریسی نے اسلامی سیاسی جماعتوں کو بے حد متاثر کیا۔ جماعتِ اسلامی کا ۲۰۱۳کا انتخابی منشور اور اخوان المسلمون کا ٢٠١٢ء کے انتخابات کا منشور سوشل ڈیموکریٹک تجزیوں اور پالیسیوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ جماعتیں حکومت الٰہیہ کو ویلفیئر اسٹیٹ تصور کرتی ہیں۔ ان کے منشوروں میں نفاذِ شریعت کا ذکر تو دبا ہوا ہے لیکن ہیومن اور سوشل رائٹس کی فراہمی کے دعوے نہایت بلند آہنگ ہیں۔ یہ قومی دستور کی تقدیس کی قائل ہیں اور ان کا تصورِ ریاست لاک اور جیفرسن سے ماخوذ ہے۔ ریاست کی جو ذمہ داریاں یہ تفویض کرتے ہیں ان کا امام ماوردی، امام ابویعلی،امام ابن خلدون اور امام محمد رحمہم اللہ کی سیاسی تصنیفات میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ ریاست اسلامی کی جو خصوصیات اسلامی جماعتوں کے مفکرین بیان کرتے ہیں وہ چند احادیث اور آیات کی ایسی تشریح پر مبنی ہیں جو اصولِ تفسیر اور اصولِ تاویل الحدیث سے صرفِ نظر کر کے مرتب کی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حکومت سوشل ڈیموکریٹک ویلفیئر اسٹیٹ نہ کبھی رہی ہے نہ کبھی ہو گی نہ کبھی ہو سکتی ہے کیوں کہ اسلام سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد نہیں سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے انہدام کی جدوجہد ہے۔

اسلامی جماعتوں نے سوشل ڈیموکریٹک ایجنڈہ اپناکر جو بنیادی غلطی کی ہے وہ یہ ہے کہ اس ایجنڈ ے کے تحت معاش کو حصولِ معاد کے ذریعہ کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ حصولِ معاش خود ایک مقصد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ریاستی جدوجہد تعمیر معاشرت اور اصلاح انفرادیت کے عمل کا ذریعہ نہیں رہتی اور اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور ریاستی صف بندی کے ارتباط سے صرف نظر کر لیتی ہیں۔ ایک ویلفیئر اسٹیٹ کے قیام کی جدوجہد ایک سرمایہ دارانہ معاشرت میں ڈوباسرمایہ دارانہ فرد ہی کر سکتا ہے۔ اسلامی شخصیت سازی کا ویلفیئر اسٹیٹ کے قیام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اسلامی معاشرتی صف بندی سے اس کا کوئی تعلق ہے۔اسلامی سیاسی تعلیمات اور سوشل ڈیموکریسی میں وہی تعلق ہے جو ایمان اور کفر، اور نور اور تاریکی اور حق اور باطل میں ہے۔ یہ ایک دوسرے کا ردّ ہیں۔

11۔ انارکزم

1.11۔ تاریخ

انار کزم ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو انیسویں صدی کے اوائل میں ظہور پذیر ہوا اور آج پھر ایک تحریک اور ایک فکر کے طور پر اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اس طرزِ فکر کی ابتدا ایک انگریز Calvinist پادری نے کی جس کا نام William Godwin تھا جو ١٧٥٦ء سے ١٨٣٦ء تک زندہ رہا۔ لیکن انگلستان میں یہ فکر کبھی مقبول نہ ہو سکی۔ انارکزم (Anarchism) کے اہم ترین مفکرین فرانس اور روس میں پیدا ہوئے اور انیسویں اور بیسیوں صدی کے اوائل میں ان دونوں ممالک اور اسپین میں انارکزم ایک طاقتور تحریک کے طور پر ابھری۔ دور حاضر میں یہ تحریک امریکا، یوکرین، میکسیکو بولیویا اور چین میں پھل پھول رہی ہے۔مسلم ممالک میں ایران اور تیونس اس تحریک سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔

انیسویں صدی کے اکابر انارکسٹوں کے نام یہ ہیں:

پیری پرودھن Pierre Proudhon

لیو ٹالسٹائی Leo Tolstoy

میخائل بکونن Mikhail Bakunin

پرنس پیٹر کروپٹکنPrince Peter Kropotkin

ایما گولڈمین Emma Goldman

دورِ حاضر میں جو نمایاں مفکرین انارکزم سے متاثر ہیں ان میں این رینڈ (Ayn Rand)، نوزیک(Nozick)، چومسکی (Chomsky)اور والرسٹائن (Wallenstein) کے نام شامل ہیں۔ دورِ حاضر کی سب سے موثر انارکسٹ تحریکZapatista کہلاتی ہے اور اس کا قائد Sub Commandant Marcos ہے۔ یہ تحریک میکسیکو میں طاقتور ہے اور اسی تحریک کے متاثرین نے ہمسایہ ریاست نکارواگوا میں امریکی فوج کا ساتھ دے کر استعمار مخالف تحریک Sandinista کو شکست دی۔

2.11۔ انارکزم کے بنیادی تصورات

انارکسٹ تحریک سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی جدوجہد کرنے والی تحریک ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ہر شخص اس بات کا مکلف ہو کہ وہ خیر و شر کی جو تعریف کرنا چاہے وہ کرنے میں اس معنی میں آزاد ہو کہ کوئی دوسرا شخص یا گروہ اس کو خیر اور شر کی کسی اور تعبیر کو قبول کرنے پر مجبور نہ کر سکے۔ اس کو خود تخلیقیت (Autonomy) کہتے ہیں۔ انارکسٹ سمجھتے ہیں کہ ریاست خود تخلیقیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ریاست کو ختم کیے بغیر خود تخلیقیت اور مساویانہ آزادی کو فروغ دینا ناممکن ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معاشرت کو فروغ دینے کے لیے کسی نظام اقتدار (یعنی ریاست) کی کوئی ضرورت نہیں۔ انارکسٹ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خودتخلیقیت کو بروئے کار لانے کے لیے خود حاکمیت (Self-Government) لازماً ناگزیر ہے۔ انسان کو صرف اپنے نفس کا بندہ ہونا چاہیے اور کسی بیرونی قوت کے اقتدار کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ انارکزم جمہوریت کا خالص ترین ڈھانچہ ہے کیوں کہ جمہوریت نفس پرستی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

انارکسٹ ان تمام معاشرتی اداروں کے بھی مخالف ہیں جو نفس پرستی کی تحدید کرتے ہیں۔ بیشتر انارکسٹ ملحد کافر ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کی رائے میں خدا اور مذہب نفس پرستی کو رد کرتے ہیں۔ کچھ انارکسٹوں مثلاً ٹالسٹائی اور کسی حد تک کیرکیگارڈنے عیسائیت کی نفس پرستانہ تعبیر بھی پیش کی ہے اور بیسویں صدی کے ایرانی مفکر علی شریعتی نے ان مفکرین کی پیروی کرتے ہوئے الوہیت الناس کا تصور پیش کیا ہے (لیکن شریعتی انارکسٹ نہ تھے ان کی فکر اشتراکی اور اسلامی تصورات کا ایک ملغوبہ تھی)۔ علامہ اقبالؒ کے تصور خودی میں بھی الوہیت الناس کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ انارکسٹ خاندان کے بھی شدید مخالف ہیں۔ انارکسٹ عوامی تحریکیں گھناؤنی ترین جنسی بے راہ روی کی تبلیغ کرتی ہیں۔ سب سے مشہور انارکسٹ جس نے جنسی بے راہ روی کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کی امریکی Emma Goldman تھی۔ انارکسٹ اسکول کے ادارہ کی بھی مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ اسکول اقتدار کی اطاعت کی عادت ڈالتے ہیں۔

نظام اقتدار کو تتر بتر کرنے کے لیے انارکسسٹوں کا ایک مکتب تشددکولازم تصور کرتا ہے۔ یہ متشدد انارکسٹ روس میں نمایاں ہوئے ان میں Bakunin, Kropotkin اور Sergy Nacheyev شامل ہیں۔ یہ تینوں کٹر ملحد تھے اور پادریوں کے قتل عام پر خاص زور دیتے تھے۔ Nacheyev کی اسلام دشمنی بھی مشہور ہے۔ Bakunin کے خیال میں انقلاب برپا کرنے والی اصل قوت شہروں کی کچی آبادی کے مسلح افراد (Lumpen Proletariat) فراہم کرتے ہیں۔ Bakunin کسانوں کی عسکری اور معاشی صف بندی پر بھی زور دیتا تھا۔ Bakunin روس کی سب سے اہم انارکسٹ تحریک Norodnik سے متاثر تھا۔ یہ تحریک Nihilism کا پرچار کرتی تھی۔Nihilism کو خالص منفعیت کہتے ہیں۔ Nihilism تحریک کا پورا زور افراد اور اداروں کو برباد کرنے پر ہوتا ہے۔ ان کی رائے میں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ ظلم کرنے والی ریاستی اور کاروباری قیادت کو قتل کردیا جائے اور اس عمل کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ عادلانہ انقلاب برپا ہو گا۔ Norodnikتحریک کا سب سے مشہور راہنما Bakunin کا شاگرد Nacheyev تھا۔ Nacheyev کے شاگردوں نے روس کی Social Revolutionary Party پر قبضہ کر کےفروری 1917ء میں زار کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور گو کہ Lenin نے Social Revolutionary party کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی لیکن Nacheyev کی فکر سے شدید متاثر تھا۔ Nacheyev کو 1884ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

انارکسٹوں کا دوسرا مکتب فکر تشدد کی تردید کرتا ہے۔ اس مکتب فکر کا اہم ترین مفکر Proudhonہے۔ وہ ذاتی ملکیت کو چوری کہتا تھا اورمارکس کیLabour Theory of valueکا قائل تھا (اس نظریہ کے مطابق کسی شے کی قدر صرف اس سے متعین ہوتی ہے کہ اس شے کی پیدوار میں کتنی محنت صرف ہوئی ہے)۔ وہ حکومت کے خاتمے اور مزدوروں کی رضا کارانہ معاشرتی تنظیموں کے قیام کو ضروری سمجھتا تھا۔ Proudhon کی رائے میں یہ تنظیمیں معاشرہ کی خود حکومتی (Self-government) تنظیم ممکن بنائیں گی اور ان کی خود حاکمیت کے نتیجہ میں کسی سیاسی نظامِ اقتدار کو موجود رہنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ Proudhon سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے کسی پر تشدد انقلاب کا قائل نہ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر مزدور تنظیموں میں منظم ہوگئے تو سیاسی اقتدار خود بہ خود ان کے ہاتھوں میں آجائے گا اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام منتشر ہو جائے گا۔

Proudhon کی فکر نے یورپی مزدوروں کی تحریک کو بہت متاثر کیاہے اور سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں (مثلاً فر انس کی PSF، برطانیہ کی Labour Party اور جرمنی کی SPD مزدوروں کی پرامن جمہوری تنظیم کے ذریعہ ہی سرمایہ دارانہ نظام ریاستی میں اقتدار پر قبضہ کی کوشش کرتی ہیں۔ خود روس کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک دھڑا (جس کو Menshevik کہتے ہیں) عدم تشدد اور مزدوروں کی جمہوری تنظیم کے ذریعہ انقلاب برپا کرنے کی حکمت عملی کا قائل تھا۔ گاندھی بھی عدم تشدد کے فلسفہ کا داعی تھا۔ وہ اپنے آپ کو Tolstoy کا شاگرد کہتا تھا اور گاندھی کے مجوزہ ”پنچایتی نظام“ میں Syndicalist فکر کی بہت سی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔

3.11۔ دورِحاضر کی انارکٹ تحریکیں

١٩٦٠ء کی دہائی میں انارکسٹ تحریک کا ا حیا یورپ اور امریکا میں ہوا۔ اس کا بنیادی محرک جنسی بے راہ روی کا وہ سیلاب تھا جو یورپ اور امریکا میں اس دہائی میں رونما ہونا شروع ہوا جس نے ان ممالک میں خاندانی نظام کو تقریباً بالکل برباد کر دیا ہے۔ اس جنسی بے راہ روی کے فروغ کا گہرا تعلق اس معاشی حکمت عملی سے بھی ہے جس کو نیولبرل ازم کہتے ہیں اور جو ١٩٧۹ء کے بعد امریکا اور بیشتر یورپی ممالک میں غالب رہی۔ اس کو ”انفرادی انارکزم“بھی کہتے ہیں اور اس کا بانی امریکی انارکسٹ Max Stemn ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے جو چاہیں کریں، خواہشات کی تحدیدکا معاشرہ کو کوئی حق نہیں۔ Ayn Rand کہتی ہے کہ خود غرضی سب سے اعلیٰ انسانی وصف ہے۔Nozick ایک ایسی ریاست کی توجیہ بیان کرتا ہے جو ارتکازقوت کے عمل میں قطعاً حائل نہ ہو۔

جنسی اور معاشرتی بے راہ روی کی یہ دونوں گمراہیاں جن تحریکات میں سموئی گئی ہیں ان کو New Social Movements کہتے ہیں اور ان کی عالمی تنظیم (World Social Forum) ہے جو سال میں ایک بار فواحش اور فسق و فجور کا ایک عالمی میلہ لگاتا ہے۔ چیدہ چیدہ نیو سوشل موومنٹس حسب ذیل ہیں:

ان تحریکوں کی مشترکہ بنیادی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

1۔یہ سب تحریکیں آزادی کو فروغ دینا اپنا اصل مقصد قرار دیتی ہیں۔ یہ سب سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو فروغ دینے والی تحریکیں ہیں۔ یہ سب حرص اور ہوس کو عام کرنے والی اور عبادت کو رد کرنے والی تحریکیں ہیں۔ یہ جو ماحول قائم کرتی ہیں اور جس میں یہ فروغ پاتی ہیں وہ نہایت غلیظ، پراگندہ اور شہوانی جذبات سے لبریز ماحول ہوتا ہے، اس ماحول میں عصمت اور شرافت کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔ ان تحریکوں میں حصہ لینا شیطان کی پوجا کے مترادف ہے۔

2۔ یہ سب حقوق کی تحریکیں ہیں اور خود غرضی اور مطلب پرستی کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ فرد کو خود حاکمیت اور خود تخلیقیت کا درس دیتی ہیں۔ یہ انسان کو اپنے نفس کا بندہ بنادیتی ہیں اور ان تحریکوں میں شامل ہوکر انسان اپنے نفس کو حرص اور ہوس کے شیطانوں کے سپرد کردیتا ہے۔

3۔ یہ خاندانی نظام اور تہذیبی روایات کو بھسم کرنے والی تحریکیں ہیں۔ ان کا شناختی رنگ خالصتاً شیطا نی ہے۔ ان کی صدا موسیقی اور ان کا فعل رقص ہے۔

4۔ یہ سب یک جہتی تحریکیں ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی کسی ایک کمزوری کو دور کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں تاکہ سرمایہ دارانہ عمل مستحکم ہو مثلاً ردِ عالمگیریت تحریک دراصل صرف ذیلی عالمگیریت (Globalization From Below) کی تحریک ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ دارانہ وسائل اور حقوق کی عام آدمی تک رسائی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی تقسیمی ناہمواریاں (Distributional Imbalance) کو دور کرنے کی جدوجہد کے علاوہ اور کچھ نہیں اور سرمایہ دارانہ سر خیل اس بات سے خوب واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ردِ عالمگیریت کو فنڈ دینے والی عالمی سرمایہ دارانہ کمپنیاں ہیں، اور انہی کمپنیوں کے پیسوں سے ہر سال ورلڈسوشل فورم کا میلہ سجایا جاتا ہے۔ ورلڈبینک، آئی ایم ایف اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ردِ عالمگیریت کی تحریکوں سے مسلسل مشاورت کے عمل کو جاری رکھتے ہیں۔

5۔ نیوسوشل مومنٹس استعمار بالخصوص امریکی استعمار کی کاسہ لیس تنظیمیں ہیں۔ نکاراگوا کی جنگ میں امریکی فوج نے Zapista کی تنظیم کو Sandinista گوریلوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کیا۔ افغانستان، ایران، صومالیہ، عراق، جنوبی سوڈان اور مالی میں یہ نیوسوشل موومنٹس امریکا اور ورلڈ بینک کے مخبروں کا کام دیتی ہیں اور جولائی 2012 میں وینزویلا میں تحریک نسواں کا ایک ایسا Network پکڑا گیا جو چھ سال سے سی آئی اے کو حکومت وینزویلا کی خفیہ اطلاعات فراہم کرتا رہا ہے۔

6۔ یہ ریاست کو کمزور کرنے والی تحریکیں ہیں۔ یہ ایک ایسے قوت کے نیٹ ورک کو قائم کرتی ہیں جو ملکی اقتدار حکومت سے چھین لیتا ہے اور اس اقتدار کو بین الاقوامی سرمایہ دارانہ اداروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کوجو امداد فراہم کی گئی ہے وہ انہی نیو سوشل موومنٹس کےاین جی او نیٹ ورک نے استعمال کی ہے۔

7۔ ان نیو سوشل موومنٹس کا ایک اہم مقصد مسلمان ملکوں کے ریاستی نظام کو کمزور کرناہے۔ وہ اس کے ذریعہ مسلم ممالک پر امریکی حکمرانی کو قائم کرنا چاہتی ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال Zapatista کی تحریک ہے۔ یہ تحریک دو تین دہائیوں تک میکسیکو کے قدیم باشندوں (Red Indians) کو سیاسی اور سماجی طور پر متحرک کرتی رہی اور 1990ء کی دہائی کے اوائل تک ایک عظیم عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کی قیادت میں لاکھوں افراد نے دارالحکومت (Mexico City) پر قبضہ کرلیا، لیکن اس تحریک نے حکومت وقت کو معطل کیا نہ کوئی نئی حکومت قائم کی بلکہ صرف ایسے مطالبات منوائے جن سے میکسیکو کا ریاستی نظام مفلوج ہوکر امریکا کا کلیتاً محتاج ہوکر رہ گیا اور اب Zapatista کی تحریک میکسیکو میں امریکی حکومت کے مفادات کے تحفظ کا کام انجام دے رہی ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں میکسیکو پوری طرح ضم ہوکر رہ گیا ہے۔

4.11۔ تحریکات اسلامی اور دورِحاضر کی انارکسٹ تحریکیں

چوں کہ دورِ حاضر کی انارکسٹ تحریکیں تحریک نسواں، ماحولیاتی تحریک، عالمی امن کی تحریک، اغلام بازوں کی تحریک وغیرہ آزادی کو فروغ دینے کی تحریکیں ہیں لہٰذا وہ لازماً عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو مستحکم کرنے والی تحریکیں ہیں۔ یہ سب اسلام دشمن تحریکیں ہیں کیوں کہ اسلام بندگی اور عبودیت کی بنیاد پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں ان تمام تحریکوں کی بھر پور اصولی اور عملی مخالفت کرنی چاہیے۔

دورِ حاضر میں یہ انارکسٹ تحریکیں عرب دنیا میں ایک بڑے خطرہ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ تیونس مراکش، لیبیا اور مصر میں 2011ء سے آنے والی عوامی تحریکات حصولِ آزادی کی تحریکات ہیں اور نیو سوشل موومنٹس کے بہت سے مطالبات کو ان تحریکات نے اپنالیا ہے۔ عرب بہار کا معاشرتی اظہار اسلامی نہیں، اس کا سب سے اہم ثبوت تحریر اسکوائرمیں بروئے کار آنے والی معاشرت ہے جہاں ہم اسلامی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے اور فسق و فجور کے طوفان بدتمیزی کا سیلاب شریعت کی بیشتر حدود کو پامال کرگیا۔

اخوان المسلمون نے کسی عرب ملک میں آزادی کو بحیثیت ہدف ردّ نہیں کیا۔ ان ممالک میں رائج شدہ سرمایہ دارانہ نظام میں اب تک کسی ہیئتی تبدیلی کی کوئی نشانی نہیں ملتی۔ امریکا اور اسرائیل کے خلاف ہم ابھی تک کوئی موثر اقدام نہیں کرسکے۔ ابھی تک ہماری تمام توقعات پارلیمانی دستوری نظام میں شمولیت سے وابستہ نظر آتی ہیں۔

میرا گمان ہے کہ اخوان یہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہے، راضی نہیں ہے۔ اخوان کا ایک عام کارکن اور اس کی قیادت اسلام کے مخلص ترین شیدائیوں پر مشتمل ہے۔ اخوان اللہ پر، رسولوں پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ آزادی و مساوات اور ترقی پر کیسے ایمان لاسکتے ہیں۔ جمہوری دستوری نظام سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو مسخر کرنے کے جو مواقع فراہم کرتا ہے اخوان اس سے فائدہ اٹھانے کی پوری صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں۔ جمہوری دستوری نظام پر انحصار کی مجبوری کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اخوان کی قیادت:

1۔ ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے نظریات اور حکمتِ عملی کو صریحاً ردّ کرے۔

2۔ معاشرہ میں آزادی، مساوات اور ترقی کے کفریہ نظریات ہونے کا شعور بتدریج پیدا کرے اور اسلامی روحانیت سے مصری انفرادیت اور معاشرت کو سرشار کردے۔ اپنے دورِ ابتلا میں حاصل کردہ تجربات سے فائدہ اٹھاکر اخوان یہ کام بحسن و خوبی انجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

3۔ نیوسوشل موومنٹس کو استعمار اور اسرائیل کی ایجنٹ تنظیموں کے طور پر عوام میں مشتہر کرے اور عوامی حقوق کے حصول کی تمام تحریکات کو De-legitimize کرے۔ حقوق کے حصول کی تحریکوں سے کسی سطح پر اشتراکِ عمل کو روانہ رکھے۔ بلکہ ان تحریکات کے قائدین کو مصری ریاست کے غدار اور اسرائیل اور امریکا کے کاسہ لیس ایجنٹوں کے طور پر عوام میں مشتہر کرے اور فواحش اور منکرات پھیلانے والے شیطانی ٹولوں کے طور پر متعارف کرائے۔

4۔ اسلامی نظام اقتدار کو استوار کرنے کے لیے مساجد و مدارس کو بنیاد بناکر ریاست کی ترتیب نو کی داغ بیل ڈالے اور ایک مربوط اور ہمہ جہت حکمتِ عملی کے تحت ریاستی اداروں، فوج، پولیس سول انتظامیہ، عدلیہ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کومساجد اور مدارس کے زیر تسلط لے آئے۔

5۔ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی تحلیل اور اسلامی نظامِ اقتدار کی ترتیب نَوکے عمل سے داخلی اور خارجی ریاستی پالیسیوں میں تبدیلی کے عمل کو مربوط کردے۔

مصر میں (اور شاید کچھ دیگرعرب ممالک میں بھی) ایک اسلامی گروہ کی حکومت قائم رہی۔ اس اسلامی گروہ کی حکومت کی بقا کا انحصار سب سے زیادہ اس بات پر تھا کہ یہ اسلامی حکومت، ایک اسلامی ریاست (یعنی اسلامی نظام اقتدار) قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ہم نے اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت اور اولیت سے انکار کیا اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی اسلام کاری پر اکتفا کیا تو ہمارا حشرجسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی جیسا ہوگا جس کو آج امریکا Nato's Islamist کہتا ہے۔

12۔ نیولبرل ازم، الٹ رائٹ نئی اسلام دشمنی

1.12۔ نیولبرل ازم

عالمی سرمایہ دارانہ تازہ ترین بحران 08-2007ءامریکا میں ظہورپذیر ہوا۔ تمام بحرانوں کی طرح اس کی بنیادیں بھی فنانشل مارکیٹوں میں پیوست تھیں۔ 1980کی دہائی کے بعد سے تقریباً تمام سرمایہ دارانہ ملکوں میں فنانشل مارکیٹوں کی بڑھوتری اور پھیلاؤ پر لاگو پابندیاں اٹھائی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی عمومیت کے نتیجہ میں رفتار ِترسیلِ زر برق رفتاری سے تیز ہوتی چلی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فنانشل مارکیٹوں کو اشیاء اور خدمات کی مارکیٹوں میں ایسا تسلط حاصل ہوا جو سرمایہ دارانہ تاریخ میں عدیم المثال ہے۔ 1980سے آج تک ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس کو فنانشل اجارہ دارانہ سرمایہ داری کا دور کہا جاتا ہے اور اس دور کی خصوصیت یہ ہے کہ فنانشل اثاثوں میں بڑھوتری کی رفتار مجموعی پیدوار ی شرح نمو کے مقابلہ میں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

سرمایہ دارانہ زر(capitalist money) کی مقدار 1970میں عالمی پیداوار (World GNP) کی 89فیصد تھی جو کہ2015ء میں 25 فیصد ہو گئی۔ فنانشل اثاثے سودی قرضہ جات کا دوسرا نام ہے ہر فنانشل اثاثہ ایک سودی قرضہ سے وابسطہ ہوتا ہے۔ 2002ء میں قرضہ جات کی مقدارعالمی پیداوار کے مقابلہ میں ۲۴۶فیصد تھی ۲۰۱۶ میں یہ شرح بڑھ کر ۵۲۱فیصد ہو گئی۔ قرضہ جات کی بڑھوتری کی حد کیا ہے ؟یہ کسی فنانشل ماہر یا معیشت دان کو معلو م نہیں لیکن اصولاً یہ بات طے ہے کہ قرضہ جات کی بہت بڑی مقدار کو صرف آگے بڑھایا جاسکتا ہے (defer) ان کی ادائیگی ناممکن ہے۔

1.1.12۔ نیولبرل ازم کی تاریخ

نیولبرل کی فکر کی بنیاد تو 1938ء کی دہائی میں رکھ دی گئی تھی جب فریڈرک ہائیک (Friedrich Hayek) اور ملٹن فرائیڈمین (Milton Friedman) نے اس کی تشریح بیان کرنا شروع کی۔ یہ معیشت دان کینزین ازم کے مخالف تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ سرمایہ دارانہ معیشت بغیر کسی بیرونی مداخلت کے رسدوطلب کو متوازن کر سکتی ہے گوکہ یہ توازن خلفشاری ہوتا ہے مستحکم(stable) نہیں ہوتا۔ حکومت جب مارکیٹ میں دخل اندازی کرتی ہے تووہ اپنے اہداف کے حصول میں لازماً ناکام ہوتی ہے کیوں کہ لوگ حکومت کے اقدام کی نوعیت کو پہچان کراس کو ناکام بنادیتے ہیں۔ اس کو نظریہ Rational Expectation کہاجاتا ہے اور اس کے مطابق مارکیٹ کی کارفرمائی میں ریاستی دخل اندازی کا فعل عبث ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں کی معاشی مداخلت کو محدود کرنا اور مارکیٹ کو تعینِ صنعتی پیداوار اور روزگار میں زیادہ سے زیادہ آزاد چھوڑ دینا نیولبرل ازم کی اساسی تعلیم ہے۔

نیوکلاسیکی فکر کا عروج ۱۹۷۰ء کی دہائی سے شروع ہوتا ہے جب کینزین پالیسیاں ناکام ہوتی نظر آئیں۔ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۷۹ء کے دوران بیشتر سرمایہ دارانہ ممالک میں افراطِ زر اور بے روزگاری تیزی سے بڑھی اور مجموعی پیداوار اور سرمایہ کاری کی سطح منجمد ہو گئی؛ حکومت کی مارکیٹ میں مداخلت بے اثر ثابت ہونے لگی اور فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکا میں سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں گر گئیں اور تھیچر، ریگن، کو مل اور متران نے نیولبرل پالیسیاں اختیار کرلیں یہ پالیسیاں حسب ذیل ہیں:

آج بھی بین الاقوامی سطح اور بیشتر سرمایہ دارانہ ممالک میں یہی پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں لیکن ان پالیسیوں کی مخالفت کئی سرمایہ دارانہ ممالک میں پائی جاتی ہیں جن میں امریکا سرفہرست ہے اور ہنگری، پولینڈ اور آسٹریا شامل ہیں۔ ان سب ممالک میں نیولبرل مخالفین کی حکومتیں قائم ہیں۔نیولبرل مخالف تحریکوں کو Alt Right (متبادل دایاں بازو) کہا جاتا ہے۔

2.12۔ فنانشل اجارہ داری

نیولبرل دور میں فنانشل مارکیٹوں کے حجم اور رفتار کار میں برق رفتار تیزی آئی۔ اس کے نتیجہ میں سب سے پہلے امریکا میں بینک کاری کا بحران پیدا ہوا۔ ۲۰۰۷تک امریکی بینک بہت بڑے پیمانہ پر ایسےقرضے دیتے رہے جن کو ادا کرنے سے ان کے حاصل کرنے والے قاصر تھے۔ یہ قرضہ جات زیادہ تر مکانات کو خریدنے کے لیے استعمال ہوئے اور قرضوں کی اس بھر مار نے مکانوں کی قیمتوں اور ان سے متعلقہ حصص (shares) میں ہوش ربا اضافہ کر دیا۔

۲۰۰۸ء سے بینکوں کو اندازہ ہوگیا کہ یہ قرضہ جنہیں sub-prime mortgages کہا جاتا ہے ناقابل وصول ہے۔ ظاہر ہے یہ قرضے بینکوں نے دوسروں سے قرضہ لے کرہی دیے تھے لہٰذا جب بینک دیے گئے قرضے وصول کرنے سے قاصر ہوگئے تو وہ اپنے لیے ہوئے قرضہ ضات بھی واپس نہ کر سکتے تھے۔ تب یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ ایک کے بعد دوسرا بڑا بینک دیوالیہ ہوجائے گا اور پورا سرمایہ دارانہ نظام بینک کاری زمین بوس ہو جائے گا۔ بینک کاری کا یہ بحران تیزی سے امریکا سے جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، چین اور یہاں تک کہ آئس لینڈپہنچ گیا اور ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۰ کے وسط تک عمومی پیدواری شرع نمو بیشتر کلیدی سرمایہ دارانہ ملکوں میں منفی رہی۔

اس بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی وہ سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے تعلق کو روز روشن کی طرح عیاں کرتی ہے۔ عملاً ہر سرمایہ دارانہ ریاست (امریکا، برطانیہ، فرانس، چین) فنانشل مارکیٹوں کی پشتی بان اورپناہ گزین بن گئیں۔ ہرسرمایہ دارانہ حکومت نے اربوں کھربوں مالیت کے دیوالیہ ہوتے ہوئے بینکوں کو بلاسود زیادہ ترطویل المدت قرضے دیے (اس عمل کو Quantitative easing کہتے ہیں اور یہ اب بھی امریکا، چین اور کئی ممالک میں جاری ہے)۔ اس طرح بینک دیوالیہ ہونے سے بچ گئے اور اپنے قرضہ جات ادا کرنے کے قابل ہوگئے (جیسے جیسے شرح نمو بڑھی) کیوں کہ ان قرضوں میں شرح سود صفر تھی۔ چند کم اہم سرمایہ دارانہ حکومتیں (یونان، اسپین، آئیرلینڈ، پولینڈ) حکومتی قرضوں سے متعلق بحران کا شکار ہوگئیں لیکن غالب گمان یہی ہے کہ ان بحرانوں پر بھی قابو پا لیا جائے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بحران کے دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ یہ واضح ہے کہ سرمایہ داری کا سنہری دور(1950-1973)کبھی واپس نہیں آ سکتا۔ امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کی ۲۰۱۶کی ایک رپورٹ کے مطابق شرح نمو اب کبھی 2008ءسے قبل حاصل ہونے والی شرح کے برابر نہیں آئے گی اور دنیا اور امریکا کو ایک مستقل کساد بازاری (permanent recession) سے مقابلہ ہے۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی بحرانوں کی وقتاًفوقتاً وقوع پذیری حادثاتی عمل نہیں۔ اس کے اسباب وہ بنیادی تضادات ہیں جوسرمایہ دارانہ ساختی تنظیم میں مضمر ہیں۔ سب سے اہم سبب یہ ہے کہ سرمایہ عمومی کا کوئی آلہ کار (agent) مارکیٹ میں موجود نہیں ہوتا۔ سرمایہ کی تجسیم کارپوریشن میں ہوتی ہے جو اپنے حصہ داروں کے منافع کو فرو غ دینے کی جدوجہد کرتی رہتی ہے۔ اس کا منفی اثر سرمایہ عمومی کی بڑھوتری پر پڑ سکتا ہے مثلاً امریکا میں شرح منافع ۱۹۲۴ء سے۱۹۳۶ء تک گرتی رہی اور ۱۹۶۰ءسے ۱۹۸۰ء تک بیشتر سرمایہ دارانہ کلیدی ممالک میں شرح منافع زوال پذیر یا منجمد رہی۔ سرمایہ دار صرف منافع کمانے کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے، شرح منافع گرے گا تو سرمایہ کاری بھی گرے گی اور کساد بازاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔ پھر فنانشل سرمایہ کاری(بینک کھاتوں، حصص،تمسکات،غیر ملکی کرنسی میں سرمایہ کاری) سے پیداواری بڑھوتری بھی متاثر ہوتی ہے کیوں کہ فنانشل اساسوں کی قدر کا انحصار پیداواری شعبہ کی منفعت بخشی پر ہی لازماً ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ جیسا کہ تھامس پکٹی نے اپنی مشہور کتاب “Capitalism in 21st Century”میں ثابت کیا ہے کہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری لازماً معاشی ناہمواریوں کو مہمیز دیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک اہم ہدف مساوی آزادی کا فروغ ہے لیکن عملاً اس مساوی آزادی کا حصول سرمایہ دارانہ معاشرہ میں مشکل سے مشکل ہو جاتا ہے گوکہ عوام کا معیار زندگی بڑھتا رہتا ہے لیکن امیروں اور غریبوں میں وسائلی فرق معیار زندگی سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتا ہے اور عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت اجتماعی فیصلوں میں معنی خیز شرکت کے مواقع سے محروم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ محرومی اس بیماری کو جنم دیتی ہے جس کو فرانسیسی فلسفی جان دلوز شیزوفرینیا کہتا ہے اور جس کے متاثرین سرمایہ دارانہ عقلیت کو عملاً رد کر دیتے ہیں۔ اس مرض کا مظہر امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں گاہ گاہ ہونے والے اسکولوں، شراب خانوں، گرجوں پر انفرادی حملے اسی مرض کے پھیلاؤ کا اظہار ہیں۔

3.12۔ سرمایہ دارانہ زر کی تخلیق

سرمایہ دارنہ زر فنانشل مارکیٹوں کی تخلیق ہے۔ یہ وہ زر نہیں جو ہزاروں سال سے معاشرہ میں گردش کر رہاہے بلکہ یہ اصل زر کی ظالمانہ استحصالی شکل ہے۔ سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جو مستقل اپنی بڑھوتری کے لیے اشیاء وخدمتوں اور فنانشل مارکیٹوں میں گردش کرتا رہتا ہے۔ اس کا کوئی اور مقصد وجود نہیں بلکہ اکیلا مقصد اپنی مقدار میں اضافہ ہے اور اس کا تخلیق کارپورا بینک کاری کا نظام مرکزی بینک اور نجی بینک ہیں۔ سرمایہ دارانہ زر کی تخلیق کاری کے عمل کو سمجھنے کے لیے درج ذیل مشاہدات دیکھیے:

اسٹیٹ بینک صرف دوسرے بینکوں او ر فنانشل اداروں (financial institutions) کو قرضہ دیتا ہے۔ اس کا مقصد بینک کاری اور فنانشل نظام کو سنبھالے رکھنا ہے۔ کمرشل بینک دیگر سرمایہ دارانہ ملکیتوں کی طرح اپنے منافع کوبڑھانے کے لیے کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا منافع وہ سود ہے جو وہ قرضہ جات کے اجرا سے حاصل کرتے ہیں منہا ( (minusاس سود کے جو ان کو اپنے کھاتہ داروں کو دینا پڑتا ہے (اس کوbank spreadکہتے ہیں)۔ بینک سرمایہ دارانہ زر کی تخلیق اپنے منافع کو مہمیز دینے کے لیے کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک ایک ریاستی ادارہ ہے۔ سرمایہ دارانہ زر اور سرمایہ دارانہ ریاست کا وجود جدید دور کے ابتدائی دور میں ساتھ ساتھ ہوا اور یہ کوئی اتفاق نہیں کیوں کہ جیسا کہ جوزف ووگل (Joseph Vogel) نے اپنی کتاب”The Ascendency of Finance” میں لکھا ہے سرمایہ دارانہ زر اور سرمایہ دارانہ ریاست دو جڑواں بچے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جناح صاحب اور ملکہ الزبتھ اور جارج واشنگٹن وغیرہ کی تصاویر نوٹوں پر چھاپی جاتی ہیں اور دور حاضر میں زر کے پیچھے ریاستی قوت اور اعتبار کے علاوہ سرے سے کوئی اثاثہ ہی نہیں رہ گیا۔ سرمایہ دارانہ زر سرمایہ دارانہ ملکیت بھی ہے اور افادہ عامہ (public good) کی شے بھی۔ یہ قرضہ کی شکل بھی اختیار کرتاہے اور قرض کی ادائیگی کا ذریعہ بھی ہے۔

سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ زر کی باہمی انحصاریت کے دو پہلو ہیں۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ معیشت کا دائرہ کار وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے فنانشل مارکیٹس گہرے اور وسیع ہوتے جاتے ہیں اور زر کئی نئی شکلیں اختیار کر کے سودے کاری کی قیمت(Transaction cost) کو کم کرنے کا ذریعہ بنایاجاتا ہے جس کی تازہ ترین مثالوں میں بٹ کوائن کا اجرا شامل ہے۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ زر کے پیچھے کوئی اشیاء کی قدر نہیں لہٰذا اس کی ہر ہیئت اختراعی، ریاستی قانونی تحفظ پر انحصار کرتی ہے اور یاستی تعاون اور اشتراک عمل کے بغیر سرمایہ دارانہ زر کا پھیلاؤ ناممکن ہے۔

سرمایہ دارانہ ریاست بھی سرمایہ دارانہ زر پر انحصار کرتی ہے۔ وہ ٹیکسوں اور قرضہ جات سے سرمایہ دارانہ زر حاصل کرتی ہے، اس سے جنگیں لڑتی ہے۔ رفاہِ عامہ کے فرائض انجام دیتی ہے اور سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ زر اور سٹہ کی مارکیٹوں کو مستحکم رکھنے اور ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرے کیوں کہ اس کے بغیر معاشی زوال ناگزیر ہے۔ فنانشل مارکیٹوں میں لامحالہ سرمایہ دارانہ ریاست ایک اہم کھلاڑی ہوتی ہے۔ اس کے مستقل قرضہ جات کا حجم ہنوز بڑھتا چلاجاتا ہے۔ یہ قرضہ ذاتی نہیں ہوتا جیسے بادشاہوں کا ہوا کرتا تھا بلکہ ملکی ہوتا ہے اور کسی فرد پر اس کی ادائیگی کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ حکومتیں اپنے شہریوں کے نجی قرضے حاصل کر کے ہی مستقل بینک قرضہ جات بڑھاتی رہتی ہیں اور یوں سرمایہ دارانہ ملک کا سب سے اہم اور سب سے بڑا مقروض ادارہ بن جاتی ہیں۔

سرمایہ دارانہ ترقی کو جاری رکھنا اور سرمایہ دارانہ بحرانوں کو دفع کرنا سرمایہ دارانہ ریاست کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ وہ فنانشل مارکیٹوں سے سہو نظر نہیں کر سکتی کیوں کہ سرمایہ دارانہ زر (اور فنانشل مارکیٹ) خود انحصاری نہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ دارانہ زر کی غلام بھی ہے اور اس کی نگراں بھی۔ غلام ان معنوں میں کہ سرمایہ دارانہ زر کی ساکھ قائم رکھتی ہے اور اس کے پھیلاؤ کو ممکن بناتی ہے۔ نگران ان معنوں میں کہ وہ ان سرمایہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے جو اپنے خود غرضانہ عمل سے سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کی بڑھوتری کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ دورِحاضر میں ریاستی تحکیم(sovereignty) کے لیے مستحکم اور ترقی یافتہ فنانشل مارکیٹوں کی کارفرمانی ناگزیر ہے اور فنانشل مارکیٹ ریاستی تحکیم (sovereignty) اور اس سے حاصل شدہ اعتباراور اختیارات کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔

سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں فنانشل مارکیٹ عمل تحکیم میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔فنانشل مارکیٹوں کے اغراض و مفادات حکومتی اقدام کے حدود اربعہ کو بڑی حد تک متعین کرتے ہیں اور حکومت کوئی ایسی پالیسی اختیار کرنے کی مکلف نہیں رہتی جس کے نتیجہ میں فنانشل بحران وقوع پذیر ہو۔ اس وجہ سے (Wolfgang Streak) فنانشل مارکیٹ کو ریاست کی انتظامیہ قرار دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست اور فنانشل مارکیٹ ایک دوسرے پر اور معاشرہ پر تحکیم (Governance)قائم کرنا چاہتے ہیں اور گاہ گاہ حصول تحکیم کی یہ جستجو نزاع کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے لیکن یہ نزاع لازماً محدود ہوتا ہے کیوں کہ فنانشل مارکیٹ خوب جانتی ہیں کہ ان کی کارفرمائی کا دارومدار ریاستی اعتبار اور تعاون پر ہے اور ریاستی عہدے دار جانتے ہیں کہ فنانشل مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی دخل انداز ی سرمایہ دارانہ زر کو فرار پر مجبور کر سکتی ہے اور ایسا ہونا سرمایہ دارانہ ریاستوں کے لیے نہایت مضر ہے۔ 2008ء کے بینکوں کے بحران (امریکا، چین اور کئی یورپی ممالک) میں ریاستوں جو کھربوں کے قرضہ جات بینکوں کو فراہم کیے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرمایہ دارانہ فنانشل مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ ریاست بنیادی طور پر ہم آہنگ قوتیں ہیں جو سرمایہ کی تحکیم میں حصہ دار ہیں۔اسٹیٹ بینک وہ ادارہ ہے جو اس شراکتی تحکیم (shared sovereignty) کو منظم کرتا ہے۔ یہ ریاستی نظام میں فنانشل مارکیٹ کے نمایندہ اور فنانشل مارکیٹ میں ریاست کے نمایندہ کی حیثیت سے بیک وقت کام کرتا ہے۔

آئی ایم ایف سے کیا جانے والا ہر معاہدہ اسٹیٹ بینک کی آزادی کو فروغ دینے پر اصرار کرتاہے۔ اس آزادی کا مطلب یہ ہے کہ زری پالیسی اور فنانشل پالیسیاں ریاستی سیاسی دست برد سے محفوظ رہیں گی۔ ہر حکومت خواہ اس کی دیگر ترجیحات کچھ بھی ہوں فنانشل مارکیٹوں کے فروغ اور استحکام کو مقدم رکھے گی۔ ہر ریاست لازماً سرمایہ دارانہ ریاست ان معنوں میں ہو گی کہ وہ فنانشل مارکیٹوں کے ساتھ شراکتی تحکیم کوبرقرار رکھنے پر مجبور کر دی جائے گی

اسٹیٹ بینک کا فنانشل مارکیٹوں میں اثرانداز ہونے کے لیے جو اہم ترین ذریعہ ہے وہ شرح سود میں وقتاً فوقتاً تبدیلی ہے۔ مرکزی شرح سود ۲۰۰۸ء سے لے کر آج بڑے سرمایہ دارانہ ملکوں میں صفر سے لے کر صفر اعشاریہ ۵پر منجمد ہوگئی ہے لیکن اس گراوٹ کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جو معاشیات کا جاہلی علم بتاتا ہے۔ آج بڑی بڑی کمپنیاں بچتوں کے بے اندازہ ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہیں اور سرمایہ کاری میں نمو کی رفتار سست ہے۔ مجموعی شرح نمو میں اضافہ کے امکانات بھی محدود ہیں۔ اجرتیں بھی منجمد ہیں اور عمومی طلب میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہو رہ۔ اجارہ داری بڑھتی جا رہی ہے اور تقسیم دولت اور آمدنی نامساویانہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ سود کی شرح بڑھائی نہیں جاسکتی اور اگر ایسا کیا گیا تو بقول آئی ایم ایف کے ایک معیشت دانDesmond Lachmanکے لازماً ان حالات میں ایک ہولناک بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جیسے جیسے ریاست کی کارفرمائی بے اثر ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے فنانشل مارکیٹوں کی خود انحصاریت میں اضافہ ہوتا چلاجاتاہے۔ شراکتی تحکیم (shared sovereignty) میں فنانشل مارکیٹوں کا حصہ بڑھتا چلاجاتاہے۔ وہ معاشرتی زندگی کے ہرشعبہ پر چھاتے چلے جاتے ہیں۔ ریاستی نظام سیاسی زوال کا شکار ہوتا جاتا ہے۔ حکومتی عمل سیاسی اداروں کے ہاتھوں سے نکل کر غیر منتخب انتظامیہ (ٹیکنیکل، سرکاری اور نجی اداروں اور بین الاقوامی معاہداتIPO, FATF, WTO, IMF) کی طرف منتقل ہوتا چلاجاتاہے۔ جمہوریت بے معنی ہو جاتی ہے اور اس بات کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے کہ تحکیم پورے کا پورا فنانشل مارکیٹوں میں مرتکز ہوجائے۔

4.12۔ الٹ رائٹ کا عروج اور اس کی اسلام دشمنی

آج بیشتر سرمایہ دارانہ ممالک نیولبرل پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے نیولبرل ازم کے خلاف طاقتور مزاحمتی رد عمل چند یورپی ممالک ہنگری، پولینڈ، آسٹریا،فرانس، ڈنمارک، جرمنی، اٹلی اور بالخصوص ریاست ہائے متحدہ امریکا میں ظاہر ہو رہاہے۔ نیولبرل مخالفت کی اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی تاحال ۲۰۱۶ء میں ٹرمپ کی صدارتی فتح ثابت ہوئی ہے اس تحریک کو الٹ رائیٹ کی تحریک کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے متبادل دایاں بازو۔ اس کی دواہم خصوصیات ہیں۔

سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اساسی نظریہ قوم پرستی ہے۔ یہ ریاستی تحکیم میں اس نوعیت کی تخفیف کی مخالف ہے جس کے نتیجہ میں ریاستی تحکیم غیرملکی تنظیموں یا معاہدوں کی طرف منتقل ہوجاتاہے لیکن چونکہ قوم پرستی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے لہٰذا یہ تحریک سرمایہ دارانہ ملکیت اور ریاست اور فنانشل مارکیٹوں میں شرکت تحکیم کے فروغ کے خلاف نہیں۔ ضمناً یہ ایک اشرافیہ مخالف (Anti-Elitist) تحریک ہے جس کے عوامی حمایتی بڑھوتری اور ارتکاز سرمایہ سے خاطر خواہ مستفید نہیں ہو رہے اور دیکھتے ہیں کہ عمومی ملکی دولت میں تو اضافہ ہوتا رہاہے لیکن ان کی اجرتیں منجمد یا روبہ تنزل ہیں۔ یہ ایک معاشرتی تحریک بھی ہے اور ان روایات کو زندہ کرنا چاہتی ہے جن کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام نے مذہبی معاشرت کو تہس نہس کر کے ایک قومی معاشرت اور قومی انفرادیت تعمیر کی تھی۔ یہ تحریک اشرافیہ اور غیر ملکی باشندگان وطن دونوں کو ان قومی روایات کا غدار تصور کرتی ہے۔ اس تحریک کو (post conservatism)بھی کہا گیا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا دور حاضر کاایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ بالخصوص فنانشل مارکیٹ اور اشیاء کی تجارت کے مارکیٹ کا پھیلاؤ عالمی ہو گیا ہے اور ان مارکیٹوں کو استحکام اور ترقی دینے کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ ان کی باہمی حدبندیاں ڈھیلی اور منہدم کی جاتی رہیں۔ اس عمل کو عالمگیریت کہتے ہیں اور یہ عمل کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی حد تک ۱۹۸۰ءکی دہائی سے جاری ہے۔ عام تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ الٹ رائٹ تحریکیں عالمگیریت کی مخالف ہیں (قومی ریاستی تحکم کے تحفظ اور فروغ کے لیے) اور یہ بات ان یورپی چھوٹے ممالک کے لیے درست بھی ہے جو یورپی یونین(EU) کی معاشی پالیسی سازی اور قانون سازی کی گرفت کمزور کرنا چاہتی ہیں لیکن امریکا کےلیے یہ بات کہنا بالکل غلط ہے۔ الٹ رائٹ قیادت عالمگیریت سےرجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وہ عالمگیریت کو امریکی قومی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس نے ترسیل زر، بیرونی سرمایہ کاری اور فنانشل مارکیٹوں کے پھیلاؤ پر کوئی پابندیاں عائد نہیں کیں نہ بیرونی زر کے تعینی نظام میں کوئی تبدیلی کی جو برآمدات پر محصولات بڑھائے۔ وہ یا تو نئے معاہدات کی بنیاد پر یا ان دھمکیوں کے ساتھ عمل کرتی ہیں کہ اگر متاثرہ ممالک نے رد عمل دکھایا تو مزید کارروائی کی جائے گی اور یہ دھمکیاں اتنی کامیاب ثابت ہوئیں کہ اب تک چین بھی امریکی برآمدات پر اثر انداز نہیں ہوسکا اور آج بھی چین نے اربوں ڈالر کے امریکی حکومتی تمسکات خرید رکھے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ کہ امریکا ہنوز ناٹو(NATO) کا رکن ہے اور اس کا یہ مطالبہ ہے کہ دوسرے ناٹو ممبران اپنے دفاعی اخراجات بڑھائیں جسے اصولاً قبول کر لیا گیا ہے۔ وہ شمالی کوریا پر تو نیوکلیئر پروگرام کو اب ختم کرنے کا معاہدہ ٹھونس رہاہے لیکن اپنے روس سے کیے گئے نیوکلیئر پھیلاؤ کی تخفیف کے معاہدہ سےسبکدوش ہو گیا ہے۔ اس کی فوجیں ۱۸۱؍ ممالک میں پہرہ دے رہی ہیں اور عراق، افغانستان، صومالیہ، مالی اور کئی افریقی اور لاطینی ممالک میں امریکی دہشت گردی جاری ہے۔ وہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ ہے اور ایران اور وینز ویلا پرحملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہاہے۔

دنیا کی آبادی میں امریکا کا حصہ آج تقریباً ۵فی صد رہ گیاہے اور ۱۹۴۵ء کے مقابلہ میں دنیا کی مجموعی پیداوار میں امریکا کا حصہ ۲۰۱۷ءمیں آدھا رہ گیا ہے لیکن اس کی عسکری صلاحیت میں کوئی کمی واضح نہیں ہوئی، بیشتر عسکری تخمینوں کے مطابق وہ تو بڑھی ہے۔ ایک ماہر کی رائے میں امریکا دس سکینڈ میں اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے آدھی دنیا کو تباہ کرسکتا ہے۔ ایک قوم پرستانہ تحریک کے لیے عسکری برتری نشہ کا حکم رکھتی ہے۔ وہ اس سے دست بردار ہونے کا تصور نہیں کر سکتی۔ امریکا ایک ایسا استعماری نظام تعمیر کرنے کی جدوجہد کر رہاہے جہاں عالمگیریت امریکی ریاستی تحکم کا ذریعہ بنے۔ الٹ رائٹ نظریات کے ہیرو دنیا پر امریکی آمریت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

استعماریت (Imperialism) کوئی نئی چیز نہیں۔ بیسویں صدی کے وسط تک برطانوی، فرانسیسی، ولندیزی، امریکی، روسی اور چینی استعماری نظام قائم اور کارفرما تھے اور یہ سب کے سب عالمگیری ان معنوں میں تھے کہ ان میں ترسیلاتِ زر، اشیاء اور افراد پر پابندیاں بہت کم تھیں اور یہ سب کے سب اپنے حاکم ملک (برطانیہ، فرانس) کے استبداد کو فروغ دیتے تھے۔ عالمگیریت استعماریت (Imperialism) کا دوسرا نام ہے۔ عالمگیریت کے تناظر میں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی ایسی ترتیب نو کی کوشش کی جاتی ہے کہ تحکم قومی ریاستوں کے ہاتھوں سے منتقل ہوکر بین الاقوامی معاہداتی انتظامیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوجائے اور سرمایہ بآسانی زوال پذیر سرمایہ مراکز سے نکل کر ترقی پذیر سرمایہ دارانہ مراکز کو منتقل ہوتا رہے۔

الٹ رائٹ کی تحریک اس نوعیت کے تبدل کے خلاف جدوجہد ہے۔ وہ امریکا کی معاشی زوال پذیری کے باوجود عالمی تحکم(sovereignty) کو امریکی ریاستی نظام میں ہی مرتکز رکھنا چاہتی ہے۔ امریکا سے چین کی طرف ریاستی تحکم کا انتقال الٹ رائٹ کے لیے قابل قبول ہے گوکہ سرمایہ کا عالمی پھیلاؤ اور بڑھوتری الٹ رائٹ کا بھی ایک اہم مقصد ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ فنانشل اور خدمتی(services) کمپنیوں کو اس امریکی عسکریت کی قیمت اداکرنے پر راضی اور مجبور کرتی ہے جوعالمی سرمایہ دارانہ نظام کی پشت پناہ ہے اور جس کا فی الحال کوئی متبادل نظر نہیں آتا کیوں کہ الٹ رائٹ کی تحریک کی عوامی تائید نچلی سطح کے منیجر، کاریگر، کم مہارت رکھنے والے صنعتی کارکن، سپروائزر، دکانوں اور دیہی مراکز میں کام کرنے والے چھوٹے دکاندار اور ٹریڈ یونینوں میں غیر منظم مزدور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو (petti bourgeois) کہا جاتا ہے اور ۲۰۱۷ء میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ امریکی عمومی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں اور انہوں نے بڑے پیمانہ پر ٹرمپ کی صدارتی مہم میں حصہ لیا۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے حامی اور سرمایہ دارانہ کرپشن کے شاکی ہوتے ہیں۔ ان میں قوم پرستی کے جذبات اور نسل پرست رحجانات تیزی سے پھیلتے ہیں۔ یہ ایک قانونی دستوری انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس انقلاب کے ذریعہ ایک غیر کرپٹ بہتر منظم طاقتور ریاست رکھنے والا سرمایہ دارانہ نظام کارفرما ہو جائے گا۔ ان کی ریاست تحکم قانون سرمایہ کی پابند رہتی ہے وہ کوئی نیو اسٹیٹ نہیں بن جاتی۔ الٹ رائٹ کی حکومتیں نج کاری اور اجارہ داری کے فروغ کے رحجانات کو تقویت دیتی ہیں اور عملاً معیشت اور فنانس پر نجی شعبہ کی گرفت کو مضبوط کرتی ہیں۔ الٹ رائٹ حکومتیں ایک ویلفیئر اسٹیٹ قائم کرتی ہیں جہاں معیشت، تعلیم، صحت، بچوں اور خاندانوں کے وظائف اور پنشن بڑے پیمانہ پر مہیا کی جاتی ہیں گوکہ اجرتیں منجمد رہتی ہیں لیکن بے روزگار ی تقریباً بالکل ختم کر دی جاتی ہے۔ ان طریقوں کو اپنا کر الٹ رائٹ اپنی عوامی تائید اور بالخصوص petti bourgeois میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کی سعی کرتی ہے۔

بیسویں صدی میں الٹ رائٹ نظریات کے دو اہم مفکر اطالوی فلسفی Julius Evolaاور روسی فلسفی الیکسنڈر ڈوگن(Aleksandra Dugin) ہیں۔ ایوولا۱۹۷۴ میں مر گیا ڈوگن ابھی زندہ ہے۔ دونوں الٹ رائٹ حکومتوں کا ایک ایسا طبقاتی اشتراک (class alliance) بیان کرتے ہیں جس میں پیٹی بورژوا اور فنانشل اور خدمتی اجارہ داروں کے مفادات کو ہم آہنگ کرنے کی ایک ریاستی حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے اور بیشتر الٹ رائٹ حکومتیں فنانشل اور خدمتی اجارہ داروں کے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں ان پر ٹیکس کم کیے جاتے ہیں، ان پر سے عدالتی گرفت محدود کی جاتی ہے اور ان کو کاروبار کو وسعت دینے نئے نئے راستے کھول کر دیے جاتے ہیں، اس کے برعکس پیٹی بورژوا کی اجرتیں نہیں بڑھتیں، ان کی معاشی دشواریوں میں اضافہ ہوتا ہے اور قومی آمدنی اور دولت کی تقسیم غیرمساویانہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں پیٹی بورژوااور فنانشل اجارہ داروں میں کشمکش بڑھتی چلی جاتی ہے جو الٹ رائٹ اتحاد کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی حکومت میں پہلے دن ہی سے اس نوعیت کی کشمکش سامنے آئی اور اس کے نتیجہ میں وقتاً فوقتاً کا بینہ سے اخراج عمل میں آتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ حکومت عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے قوم پرستانہ جذباتیت کو فروغ دے رہی ہے۔ بنیادی نظریاتی مفروضہ سفید فام نسلی برتری کا ہے۔ اس مفروضہ کو ثابت کرنے کے لیے ٹرمپ حکومت دو نوعیت کے اقدام کر رہی ہے، دونوں اسلام دشمنی (Islamophobia) کے زمرے میں آتی ہیں۔

ٹرمپ نے حکومت سنبھالتے ہی افغانستان پر تمام بموں کی ماں بم (Mother of all bombs) دے مارا حالانکہ اس سے امریکا کو کوئی فوجی فائدہ حاصل نہ ہوا اور اسی طرح شام پر بہیمانہ طورپر حملہ آور ہوا اور یہ بھی بالکل لاحاصل رہا۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ وہ روس اور چین سے مخاصمت کم کرے۔امریکی ہمیشہ سے پیدائشی بزدل ہیں اور طاقتور دشمنوں سے کبھی نہیں لڑتے، لہٰذا پوری جارحیت مسلم دنیا، افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ، شمالی اور مغربی افریقہ پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ دوسری پیش رفت امریکا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت ہے۔ اس نفرت کے اظہار کی ابتدا ستمبر ۲۰۰۱ء سے ہوئی لیکن ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم میں اس کو بے تحاشا ہوا دی اور اب یہ ایک طوفان کی طرح پورے ملک پر چھاگئی ہے۔ مدت دراز سے امریکا میں مسلمانوں کی طرف سے کوئی عسکری کارروائی نہیں کی گئی لیکن تمام مسلمان امریکا میں متوقع دہشت گرد قرار دیے گئے ہیں۔

امریکا میں نسلی نفرت کا شکار صرف مسلمان ہی نہیں۔ پچھلی پانچ صدیوں سے سیاہ فام غیرمسلم بھی نسلی ظلم سہ رہے ہیں۔ اب ان کے ساتھ لاکھوں لاطینی امریکی بھی شامل ہیں لیکن غیر مسلم اور مسلم مظلومین میں ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ مسلم عوام ایک منفرد جداگانہ معاشرت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی بڑی اکثریت شراب نہیں پیتی، غیرمسلموں سے شادیاں نہیں کرتے، بوڑھے ماں باپ کو گھروں سے نہیں نکالتے۔ مساجد اور مدارس کو آباد رکھے ہوئے ہیں امریکی سرمایہ دارانہ سیاسی اور معاشی نظام میں وہاں بسے ہوئے مسلمان پورے طورپر ضم ہیں لیکن اس انضمام کے باوجود معاشرتی تشخص قائم ہے۔

۲۰۱۳ء سے الٹ رائٹ نے اسلام کو لامذہبیت (Not a Religion) قانونی طورپر قرار دینے کی مہم چلارکھی ہے تاکہ دستور میں دیے گئے مذہبی تحفظات سے مسلمان محروم ہوجائیں۔ اس مہم میں دہریہ سیاست دانوں کے ساتھ یہودی اور صہیونی نواز عیسائیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ اسلام دشمنی کی امریکا میں ایک بڑی وجہ اسرائیل کی حمایت بھی ہے لیکن اس کے باوجود الٹ رائٹ کے عروج کے دور میں یہودیوں سے نسلی نفرت بھی مستقل بڑھتی جا رہی ہے۔ رنگ دار اور لاطینی عوام کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی وجہ یہ بھی ہے کہ الٹ رائٹ کی اشرافیہ ان نسلوں کو کم تر اجرتوں اور غربت کی ذمہ دار ٹھہرانا چاہتی ہے لہٰذا امریکا کے اندر نقل مکانی کرنے کو دشوار گزار بنایا جا رہاہے۔

فی الحال نیولبرل اور الٹ رائٹ اشرافیہ میں برتری کی کشمکش جاری ہے۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ۲۰۱۸ء کے مقننہ کے انتخابات میں واضح شکست ہوئی اور 18-2017ءکے دوران ٹرمپ اپنی کئی پالیسیاں نافذ نہ کر سکا۔ اس دوران فرانس اور پولینڈ میں بھی الٹ رائٹ کی جماعتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر الٹ رائٹ کا مقابلہ ایک الٹ لیفٹ(Alt-Left) سے بھی ہے جس کاسب سے اہم اظہار برطانیہ میں جرمی کوربن (Jeremy Corbin) اور امریکا میں برنی سانڈرس (Bernie Sanders) سے ظاہر ہوتا ہے۔ پچھلی دہائی میں اٹلی، یونان اور اسپین سے طاقتور بائیں بازو کی تحاریک اٹھیں جو کل تک یونان اور اٹلی میں حکومت کرتی ر ہیں۔ یہ جماعتیں سوشل ڈیموکریٹک پالیسیوں کے احیا کی کوشش کر رہی ہیں اور بائیں بازو کی عوامی مزاحمت کو منظم کر رہی ہیں۔ الٹ لیفٹ اور الٹ رائٹ دونوں کی عوامی تائید نسبتاً غریب اور مفلوک الحال حلقوں (مزدوروں اور Petti Bourgeois) میں ہے اور دونوں تحاریک ویلفیئر اسٹیٹ پالیسیوں کو اپنا رہی ہیں۔ الٹ لیفٹ اور الٹ رائٹ تحدیدِ بین الاقوامی تجارت (Protectionism) کے ضمن میں بھی یکساں رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن الٹ لیفٹ کی تحاریک نسل پرستی اور اسلام دشمنی کا رحجان نہیں رکھتیں، مغربی ممالک میں مسلمانوں اور دیگر رنگ دار باشندوں کے خلاف کیے جانے والے ظلم پر احتجاج کرتی ہیں اور مسلمانوں اور یہودیوں کی جماعتوں اور الٹ لیفٹ کی تحریکوں میں کئی مغربی ممالک میں اشتراک عمل فروغ پا رہاہے۔ یہ اسلامی سیاسی اور معاشرتی تشخص کے لیے ایک خطرہ ہے کیوں کہ الٹ لیفٹ کی جماعتیں سب کی سب خالص دہریہ تحریکیں ہیں جو انفرادی اور اجتماعی اظہار مذہبیت کو دقیانوسی اور جہالت گرادنتی ہیں۔ ان تحاریک میں شمولیت کا مطالبہ یورپ اور امریکی تہذیبی تشخص کو قبول کرنا ہے۔ ان تحاریک میں شمولیت کے ذریعہ ایک عام مسلمان سوشلسٹ، سوشل ڈیموکریٹ، انارکسٹ بنتا چلاجاتا ہے۔ کوئی سوشلسٹ، سوشل ڈیموکریٹ اور انارکسٹ مسلمان نہیں بنتا۔ ہمارا جو دعوتی کام یورپ اور امریکا میں منظم ہے اس کا ان الٹ لیفٹ تحریکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اس دعوتی کام کا ایک بنیادی نقص یہ ہے کہ یہ مغربی ممالک میں غلبہ دین کی ضروریات کا سرے سے کوئی ادراک نہیں رکھتا۔ وہ یورپ اور امریکا میں سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو لازمی اور فطری تصور کرتا ہے۔ برطانیہ اور امریکا میں اس کام پر سعودی استعماری گرفت نہایت مضبوط ہے اور سعودیہ امریکی استعمار کا ایک ذیلی باج گزار ملک ہے لہٰذا ہمارا دعوتی کام یہ سوال کبھی نہیں اٹھاتا کہ یورپ اور امریکا میں انہدام سرمایہ داری کے لیے کیسی حکمت علمی مرتب کی جانی چاہیے اور ان ممالک میں غلبہ دین کیسے ممکن ہو گا۔ لہٰذا ن ممالک میں ہماری دعوت عمومی ہو ہی نہیں پاتی اور جو بھی اس دعوت سے متاثر ہوتا ہے وہ عام مسلمانوں کی طرح سرمایہ دارانہ معیشت اور سیاست سے جڑا رہتا ہے۔ ہمارے لوگ برنی سانڈرس کے لیے مہم چلاتے ہوئے امریکی کانگریس اور برطانوی پارلیمنٹ میں منتخب ہو جاتے ہیں اور یوں دعوت دین کی تحریک مسخ ہو کر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم ہوجاتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے اصل مراکز اور علوم جاہلیت کے بانی معاشرہ یورپ اور امریکا ہی ہیں۔ ان ممالک میں ہم سرمایہ دارانہ عقلیت، معاشرت اور تنظیم اقتدار کا متبادل جب تک نہیں مرتب کریں گے سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات بڑی حدتک محفوظ رہے گی۔ آج تک یہ کام مغرب میں بالکل نہیں ہوا اور اس کو شروع کرنا نہایت ضروری ہے۔

13۔ پوسٹ ماڈرن ازم کی سرمایہ دارانہ تصورات پر تنقید

1.13۔ ابتدائیہ

پوسٹ ماڈرن ازم سرمایہ دارانہ تصورات پر تنقید ہے۔ اس تحریک کے بانی مفکرشوپنہار، نطشے اور ڈیوی تنویری ہیں جو عقلیت کی تنقید سرمایہ دارانہ رومانویت کے آدرشوں کے تناظر میں کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ رومانویت کی ابتداتحریک نشاۃ ثانیہ کے دور یعنی پندرھویں صدی میں شروع ہوئی۔ اس کے اہم مفکرین میںPetrarch, Byron, Herder, Fichte شامل ہیں۔ یہ نہایت دیرپا تحریک ہے اورانیسویں اور بیسویں صدی میں اس کا اثر ہزرل، ہائیڈیگر اور سارتر تک پر دیکھا جاسکتا ہے)۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں یہ تنقیدپوسٹ مارکسسٹ مفکرین نے جاری رکھی جن میں ہارکہائیمر اور اڈارنو اور کسی حد تک Lukacs نمایاں تھے۔

1960ء کی دہائی میں یورپ اور امریکا میں ایک عظیم سماجی تغیر رونما ہوا جس کا سب سے اہم اظہار جنسی بے راہ روی اور عریانیت کی عوامی مقبولیت کے طور پر ہوا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا انحطاط بیسویں صدی کی ابتدا سے شروع ہوتا ہے اور پہلی جنگ عظیم (1914-1918) سرمایہ داری کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں:

ان عوامل کے نتیجے میں بہت سے مفکرین تنویری عقلیت کے ناقدین بن گئے۔ امریکا کی ویت نام جنگ بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس جنگ میں امریکی شکست اور اس کے نتیجہ میں Bretton Woods کے نظام کی تحلیل (یہ ایک عالمی مالیاتی نظام تھا جو 1946ء سے 1973ء تک نافذ رہا۔ اس نظام کے تحت تمام کرنسیوں کا شرح تبدل IMF ڈالر میں متعین کرتا تھا اور ڈالر کا شرح تبدل سونے کے مقابلے میں تھا۔ امریکی حکومت اس کی پابند تھی کہ ایک اونس سونا 35 ڈالر کے عوض دے۔ نکسن نے 1971ء میں اس سے انکار کر دیا)نے جلتی پر تیل کام کام کیا اور ١٩٧٠ء کے بعد سے تنویری عقلیت پر تنقید عام ہوگئی اور سرمایہ دارانہ نظام کی پوسٹ ماڈرنسٹ توجیہات پیش کی جانے لگیں۔ آج جرمنی اور فرانس کا تقریباً ہر اہم مفکر کسی نہ کسی حد تک پوسٹ ماڈرنسٹ آدرشوں کا وکیل ہے۔ (یہ بات ہیبرماس کی سیاسی اور سماجی فکر تک کے بارے میں کہی جا سکتی ہے گو کہ ہیبرماس آج تنویری عقلیت کا سب سے اہم نمایندہ گردانا جاتا ہے)۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین میں فوکو، دریدا، لیوتارد، والزر، رارٹی، بادلیئر، مارکیوزے، والرسٹائن اور چارلس ٹیلر وغیرہ شامل ہیں۔

2.13۔ تنویر ی علمیت کی تنقید

پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین سائنسی منہج کی معقولیت کے قائل نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس منہج کی ترویج کے نتیجہ میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام ماحولیاتی، معاشی اور سماجی بحرانوں سے دوچار ہو رہا ہے۔ اس منہج کی بنیاد پر معاشرتی عمل میں علت اور نتیجہ کا تعین ناممکن ہے۔ ناش (Nash) کہتا ہے کہ علم ایک معاشرتی تعمیر (Social Construct) ہے۔ علم کی تعمیر کا مقصد قوت (Power) کا حصول اور استعمال ہے۔ کسی عمل یا شے کے کوئی درست معنی نہیں ہوتے۔ Baudrillard کہتا ہے کہ حق کا کوئی آفاقی تصور موجود نہیں اور تمام نظاماتی آدرش (مثلاً سوشل ازم، لبرل ازم، قوم پرستی، فلسفہ، سائنس، اکنامکس، فیمی نزم وغیرہ)لغو اور نامعقول ہیں۔ Baudrillard کہتا ہے کہ میڈیا کے پاس وہ قوت ہے جو حقیقت تعمیر کر سکتی ہے۔ اس میڈیا کی تعمیر شدہ حقیقت کو وہ ہائپر رئیلٹی کہتا ہے۔ حقیقت کچھ نہیں Hyper Reality سب کچھ ہے۔ فوکو کہتا ہے کہ علم کی تعمیر کا مقصد اقتدار کا استحکام ہے۔ علم تحکیم (Governmentality) کو اس طرح ممکن بناتا ہے کہ وہ محکوم کو حاکم کی ریاستی حکمت عملی کی معقولیت پر قائل کرتا ہے۔تحکیم ایسے معاشرتی اداروں کے ذریعہ کی جاتی ہے جو رائج شدہ علمیت کی بنیاد پر جائز ثابت کیے جاتے ہیں۔

ہیبرماس جو دورِ حاضر کا سب سے اہم ماڈرنسٹ فلسفی گردانا جاتا ہے، اقرار کرتا ہے کہ حالیہ سوشل تحریکات ایک ایسے نئے سرمایہ دارانہ تعقل کو جنم دے رہی ہیں جو سرمایہ دارانہ معاشرے کا دفاع سرمایہ دارانہ معاشی اجارہ داری اور سرمایہ دارانہ ریاستی پالیسی کے لیے ضروری ہے۔ان سوشل تحریکات میں تحریک رد عالمگیریت، ماحولیاتی تحریک، تحریک نسواں، تحریک اغلام بازاں (LGBT) وغیرہ شامل ہیں۔ اس معاشرتی علمیت کی بنیاد پر بھی سرمایہ دارانہ تحکیم یعنی جمہوریت فروغ پارہی ہے۔

پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کہتے ہیں آج بیشتر افراد کے لیے آزادانہ فیصلہ کرنا اور اظہارِ پسندیدگی ناممکن ہو گیا ہے۔ ایک ایسی عالمی اشرفیہ غالب آگئی ہے جو ایک خاص معاشی نظریہ پر اعتقاد رکھتی ہے اور یہ اشرافیہ بین الاقوامی اداروں، عالمی سرمایہ دارانہ کمپنیوں اور ریٹنگ ایجنسیوں کے ذریعہ اس نظریہ کے مطابق عوام کی رائے تشکیل دیتی ہے۔ لوگ وہی پسند کرتے ہیں جو یہ محدود اشرافیہ چاہتی ہے کہ وہ پسند کریں۔ فوکو کہتا ہے کہ آزادی صرف اس اشرافیہ کو میسر ہے اور باقی تمام افراد آزادی سے ان معنوں میں محروم ہیں کہ ان کے فیصلے اسی اشرافیہ کی پسند کے مطابق مرتب ہوتے ہیں۔

3.13۔ تنویری انفرادیت کی تنقید

پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کہتے ہیں کہ اب انفرادی خود کفالت (Self-Autonomy) کا تنویری تصور لغو ثابت ہو گیا ہے۔ علمیت معروضی انفرادی ادراک سے برآمد نہیں ہوتی جیسا کانٹ سمجھتا تھا بلکہ فرد ایک غیر مطمئن خانہ بدوش (Nomadic) وجود ہے جو ادراکِ ذات کے عمل کو مستقلاً معطل کرنے پر مجبور ہے۔ علمیت ادراکِ ذات کو ممکن نہیں بناتی بلکہ وہ فرد کو اشرافیہ کے غلبہ پر مجبور کرنے کی ناگزیریت کی توجیہ ثابت کرنے کا ذریعہ ہے۔ دورِ حاضر میں انفرادیت غیر مرکزی(Decentralized) ہوگئی ہے اور انتشار کا شکار ہے۔ فرد نہ اپنے خاندان سے تعلق رکھتا ہے نہ اپنی قوم سے نہ اپنے طبقہ سے؛ انفرادیت غیر مستحکم اور پیچیدہ (Complexified)ہو گئی ہے۔ انفراد یت بکھر گئی ہے اور انفرادیت کی شناخت کے متعدد سر چشمے ہیں جو آپس میں متصادم ہیں۔ اس حالت میں اس پوسٹ دنیا کا عام باشندہ عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرنے والا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ نیٹ ورک تھیوری انفرادیت کو تعلقات کے ایسے نقاط ہائے ارتباط (Loci of relationship) گردانتی ہے جو زیادہ عرصہ تک مستحکم نہیں رہتے اور یہ نظام ارتباط نظامتی عمل کا تعین کرتے ہیں۔ فرد یہ کام نہیں کرسکتا اور نظاماتی تغیر میں کسی فرد کو کوئی اہمیت نہیں۔ Urry لکھتا ہے ”رقص فیصلہ کن ہے، رقاص نہیں“۔ ہر رقاص رقص کے ضوابط کا لازماً اسیرہے۔ اس پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا کی تفہیم رقص کی تنظیم کے ادراک سے حاصل ہوتی ہے، انفرادی رقاصوں کے عقائد اور اعمال کے ادراک سے حاصل نہیں ہوتی۔ فرد اپنے لوکل (Local) ماحول سے لاتعلق ہو رہا ہے لیکن کسی عالمی ماحول میں کسی شناخت کی بازیافت سے قاصر ہے۔ لوکل اور گلوبل شناخت کی یہ کشمکش سرمایہ دارانہ مخالف انفرادیت بالخصوص ”دہشت گرد“ شخصیتوں (یعنی مجاہدین اسلام) کو پروان چڑھارہی ہے۔

پوسٹ ماڈرن ازم سرمایہ دارانہ انفرادیت کے متضاد اور متصادم تصوراتِ حیات (Ontologies) کو جمع کرنے کی ناکام سعی ہے۔ دلیوز (Deluze) کہتا ہے کہ یہ شخصیت او ہام کا شکار ہے اور کوئی حتمی شناخت نہیں رکھتی۔ پوسٹ ماڈرن فرد ایک آوارہ گرد، لوفر، کھلاڑی اور سیاح ہے۔ وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی غیر مربوط مہمات کی لاحاصل جستجو میں گزار دیتا ہے۔ وہ ”ذات کا تاجر“ بن گیا ہے اور اس کے لیے زندگی کھوکھلی، بے معنی اور غیر مربوط عمل کا ایک ناقابل تفہیم سلسلہ بن کر رہ گیا ہے۔ Baumar کہتا ہے آج کی دنیا طاعون، بھکاریوں اور اوہام سے بھری پڑی ہے۔ اس ماحول میں انفرادیت مستقل خطروں سے ہمہ وقت دوچار ہے اور یہ خطرات انفرادی ہیں، طبقاتی اور معاشرتی نہیں۔ مستقل خطروں سے پریشان اکثریت(procariat) نے پرولتاری طبقہ کی جگہ لے لی ہے۔ اس Procariat کا فرد سٹیزن نہیں ہوسکتا کیوں کہ وہ تمام نظاماتی آدرشوں بشمول لبرل ازم، سوشل ازم اور قوم پرستی کو لغو اور بے معنی تصور کرتا ہے۔ وہ شکایتوں، محرومیوں اور نفرتوں سے بھری ایک خلفشاری شخصیت ہے۔

4.13۔ تنویری ریاست کی تنقید

تنویری سرمایہ داری نے ایک Sovereign (خود مختار، مطلق العنان، قومی ریاست) قائم کی تھی۔ پوسٹ ماڈرن نظام اقتدار اس قومی ریاست سے اقتدار چھین رہا ہے۔ آج قومی ریاستیں ایک عالمی نظام اقتدار کی چوکیدار بن کے رہ گئی ہیں۔ ریاستی اقتدار کو چیلنج کرنے والی تمام قوتیں (فنانس، ملٹی نیشنل کمپنیاں، میڈیا، نیو سوشل موومنٹس یعنی تحریکاتِ نسواں، اغلام بازاں)قومی ریاست کے اقتدار کو کھوکھلا کر رہی ہیں اور مجاہدین اسلام ”دہشت گرد“ (پوسٹ ماڈرنسٹ”دہشت گرد“ کی کیٹگری میں ہندوستان کے نکسلباڑیوں اور لاطینی امریکا کے گوریلوں کو بھی شامل کرتے ہیں) ریاستی اقتدار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ قومی ریاستی Citizenry بھی مفاداتی اور نسلی گروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے اور ”قومی مفاد“ سے وابستگی ناپید ہے ایسے میں لبرل اور سوشلسٹ تصور Citizenship بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔

Urry کہتا ہے کہ عالمگیریت ایک نامکمل اور تضادات سے لبریز عمل ہے، ریاستی اقتدار کو سبوتاژ کرنے والی سب سے مہلک قوت بن گئی ہے اور اقتدار کا ایک نظام قائم ہوا ہے جہاں بااقتدار گروہوں کا معاشرتی لگاؤ مفقو د ہوتا جارہا ہے۔ ریاست کی جگہ جو نیا گلوبل نظام اقتدار قائم ہورہا ہے وہ نظر نہیں آرہا اور یہ بتانا کہ کس نے کون سا فیصلہ کیا اور فیصلے کیسے ہوتے ہیں، مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ اس نظام اقتدار کو (Post Panopticon) نظام اقتدار کہتے ہیں۔ (فوکو اس اصطلاح کا موجد ہے وہ کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست اس جیل کی مانند ہوتی تھی جہاں ایک ایسا مرکزی مقام تھا جہاں بیٹھ کر جیلر تمام قیدیوں کی ہر حرکت پر نظر رکھ سکے)۔ Post Panopticon نظام اقتدار میں یہ بتانا ممکن نہیں کہ یہاں جیلر کون ہے اور قیدی کون۔ اس میں حاکم اور محکوم کی شناخت ناممکن ہوتی جاتی ہے۔

اس نظام اقتدار میں جمہوریت کے کوئی معنی نہیں رہتے۔ حکام جو بین الاقوامی اداروں، فنانشل مارکیٹوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، ریٹنگ ایجنسیوں، میڈیا، سیاسی لیبر و ٹریڈیونینوں اور سماجی تھنک ٹینکس میں پوشیدہ ہیں، ان کی جمہوری جواب طلبی کا کوئی امکان نہیں۔ سکوکپول (Skocpol) کہتی ہے کہ جمہوری جواب طلبی ایک مضحکہ خیز افسانہ کے علاوہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیوں کہ گلوبل مقتدر اشرافیہ صرف سرمایہ کے بازار کی نمایندہ ہے کسی جمہور کی نمایندہ ہوہی نہیں سکتی۔ ان حالات میں عوام کا جمہوری عمل سے بتدریج لاتعلق ہونا ناگزیر ہے۔ جمہوری عمل میڈیا پر جاری تفریح بن کر رہ گیا ہے، سیاسی قائد پوپ اسٹار بن گئے ہیں۔ (اس کی بہترین پاکستانی مثال عمران خان ہے)۔ ووٹ دینے کی شرح پوری دنیا میں رو بہ تنزل ہے۔ جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ پوسٹ ماڈرن فرد کو کسی پر کنٹرول نہیں، نہ اپنے خاندان پر، نہ اپنے کاروبار پر، نہ اپنے ماحول پر، نہ اپنی حکومت پر، نہ اپنے ملک پر، نہ اپنی دنیا پر۔ اور جب ہر فرد بے اختیار ہے تو معاشرتی اختیار کو منظم کرنا اور رکھنا نہایت دشوار گزار عمل ہے۔

Held نے کاسموکریسی (Cosmocracy) کا تصور پیش کیا ہے۔ اس سے مراد عالمگیر جمہوریت ہے جو قومی جمہوریت کی جگہ لے رہی ہے لیکن Zizek اور Badiou کہتے ہیں کہ کاسموکریسی محض استعمار کا ایک نیا جواز ہے۔ کاسموکریسی کا عملی اظہار صرف ان ممالک میں امریکی مداخلت سے ہوتا ہے جو اقوام متحدہ کے وضع کردہ سرمایہ دارانہ حقوق اپنے شہریوں کو نہیں فراہم کرتے۔ اس کے علاوہ کاسموکریسی کچھ نہیں، اگر کاسموکریسی کی کوئی حقیقت ہے تو امریکا کیوں دنیا کے ہر باشندے کو اپنی شہریت نہیں دیتا۔

امریکا ایک بتدریج رو بہ تنزل انفرادیت، معاشرت اور نظام اقتدار ہے۔ Deluze کے مطابق وہاں کی عظیم اکثریت Schizoid اور Paranoid ہے۔ معاشرتی انتشار تیزی سے بڑھ رہا ہے، ہر دہائی میں ایک معاشی بحران رونما ہورہا ہے۔ امریکی نظامِ اقتدار کے خلاف عسکری جدوجہدیں کئی دہائیوں سے ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکا میں جاری ہیں اور اب کئی مقامات پر (مالی، افغانستان، یمن، بہار، جھاڑکنڈ، بوڈولینڈ وغیرہ میں) انقلابی ریاستی ڈھانچہ، اپنی قومی حکومتوں سے نبردآزما ہیں اور امریکا ان پر قابو پانے سے قاصر ہے (ان انقلابی ریاستی صف بندیوں کو Mezzanine States کہا جاتا ہے)۔ ابھی تک یہ انقلابی مزاحمتی صف بندی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی سرحدوں تک محدود ہے۔ گوکہ یہ سرمایہ دارانہ مراکز تک پھیلنے کی استطاعت نہیں رکھتی لیکن اس انقلابی جدوجہد نے سرمایہ دارانہ نظام معاشرت اور اقتدار کو پر خطر بنادیا ہے۔ پورا سرمایہ دارانہ نظام ”دارالامن“ اور ”دارالحرب“ میں تقسیم ہوگیا ہے اور دارالحرب دارلامن میں سرائیت کرنے کی صلاحیت حاصل کررہا ہے۔ Bauman کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عالمگیریت کا دوسرا نام World Risk Society ہے۔

5.13۔ تنویری معاشرت کی تنقید

پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کے مطابق سرمایہ دارانہ معاشرت اور معیشت کو سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی اور تنزل سے ہے۔ Bellamy Foster کہتا ہے کہ اپنے ابتدائی دور سے آج تک سرمایہ داری فطرت سے حالت جنگ میں ہے۔ سرمایہ کی لامحدود بڑھوتری کی جدوجہد دنیا کو برباد کیے دے رہی ہے۔ تباہ کن موسمیاتی تبدیلی واضح ہورہی ہے۔ طوفان، خشک سالی، زلزلہ ہر سال سرمایہ داری پر حملہ آور ہونے لگے ہیں۔ قدرتی وسائل، میٹھا پانی، جنگلات، تیل اور دیگر دھاتوں کے خزانے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی کیے جارہے ہیں اور اس عالمگیر تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا نہ قومی حکومتیں نہ بین الاقوامی ادارے، نہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، نہ سائنس دان کیوں کہ فطرت سے سرمایہ داری کی جنگ کا کلیدی ہدف، ترقی کی مسلسل جستجو ہے اور ترقی کا مطلب ہی تسخیر فطرت ہے۔ سرمایہ داری اس جنگ کو ختم نہیں کر سکتی۔ وہ یہ جنگ لازماً ہار جائے گی اور بیشتر ماحولیاتی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس شکست کے وقوع پذیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں۔ لیکن ان کے خیال میں سرمایہ داری کی شکست اور کرہ ارض کا تباہ ہونا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔

سرمایہ دارانہ معاشرتی بحران کا دوسرا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ آج کل سرمایہ دارانہ عدل کا کوئی مربوط تصور پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انیسویں صدی کے آخر میں سرمایہ دارانہ لبرل تشکیل معاشرت جب خلفشار سے دوچار ہوئی تو سوشلسٹوں نے سرمایہ دارانہ عدل کا ایک دوسرا مقبول عام تصور پیش کیا۔ یہی کام ١٩٣٠ء اور ١٩٤٠ء کی دہائیوں میں کینز اور اس کے پیروؤں نے کیا لیکن آج کی سرمایہ دارانہ اصلاحی تحریکیں یہ کام کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ تحریکیں جو نیو سوشل موومنٹس کہلاتی ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے کسی ایک سرمایہ دارانہ ظلم کوتلف کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں لیکن ان میں یہ سکت نہیں کہ سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاستی ڈھانچہ کی کسی ہمہ جہت ترتیب نو کو ممکن بناسکیں۔ لہٰذا ان کی مہمات تفریح اور کھیل تماشے سے آگے نہیں بڑھتیں اور ان کی معاشرتی تنقید کی بنیاد پر کوئی نئی عوامی جدوجہدی پیدا نہیں ہوتی۔ نیو سوشل موومنٹس کے آدرشوں اور تنقید کو استعماری ادارے (مثلاً IMF اور World Bank) بآسانی اپنے پالیسی مباحث میں ضم کرلیتے ہیں۔

گلوبل سول سوسائٹی ایک عام آدمی کو اپنے میں ضم کرنی کی سکت نہیں رکھتی۔ گلوبل اشرافیہ کے ماتحت جو معاشرہ قائم ہوتا ہے وہ پیہم انتشار کا شکار ہوتاجاتا ہے۔ ایسے لوگ جو اس معاشرہ میں اپنے آپ کو اجنبی گردانتے ہیں، ان کو Underclass کہتے ہیں۔ ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ معاشرتی انتشار کو ختم کرنے اور معاشرتی تفہیم کو فروغ دینے کا کوئی مرکزی محور موجود نہیں۔ معاشرتی مکالمہ بتدریج ناممکن ہوتا جاتا ہے کیوں کہ ایسے معاشرہ میں اقداری ارتباط مفقود ہوجاتاہے۔ ہر شخص اپنے آپ کو مجبور، محروم، خطرات سے گھرا ہوا اور مایوس محسوس کرتا ہے۔ یہی احساس رکھنا شیزوفرینیا ہے اور آج امریکا میں شیزوفرینیا ایک وبا کے طور پر پھیل گیا ہے۔ بقول Jones وہ ایک Mass Phenomena ہے اور ہر امریکی کسی نہ کسی حد تک اس کا شکار ہے۔ ایسے میں معاشرتی ارتباط اور ہم آہنگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معاشرتی زندگی میڈیا اور آئی ٹی میں ضم ہوجاتی ہے۔ معاشرتی تعمیر جو مستقل وقوع پذیر ہوتی ہے بتدریج ناقابل فہم ہوتی چلی جاتی ہے۔

پوسٹ ماڈرن ازم کی اس انفرادی، معاشرتی اور ریاستی تنقید کاماڈرن ازم کے فلسفیوں کے پاس کوئی ہمہ گیر جواب موجود نہیں۔ وہ سب (Habermas, Callincos, Gadamar, Rawls ) اس تنقید کے مختلف پہلوؤں کو اپنی فکر میں سموتے ہوئے اورپوسٹ ماڈرنسٹ تنقیدوں پر وضاحتی حاشیہ لکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا جزوی تنقید کا ٹیپ کا مصرع یہ ہے کہ ”پوسٹ ماڈرن ازم ماڈرن ازم ہی ہے“۔ اور یہ بات درست بھی ہے اور غلط بھی۔ غلط ان معنوں میں ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم تنویری اہداف آزادی، مساوات اور ترقی کو نامعقول اور ناقابل حصول سمجھتے ہیں اور بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ تنقید آزادی مساوات اور ترقی کی نامعقولیت اور لاحصولیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ لیکن ماڈرنسٹوں کا یہ دعویٰ ہے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ دراصل ماڈرنسٹ ہی ہیں اور جس انفرادیت، معاشرت اور تنظیم اقتدار کی تشریح وہ پیش کرتے ہیں وہ ہائپر ماڈرنٹی ہی ہے۔ یہ بات ان معنوں میں درست ہے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات اور ترقی کو قبول کرتے ہیں ردّ نہیں کرتے اور گو کہ وہ بحیثیت مجموعی سرمایہ دارانہ عدل کے قیام سے مایوس ہیں چند ناانصافیوں کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ مثلاً فوکو نے اغلام بازوں کے حقوق کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادی۔ دریدا نے عراق کی 2003ءکی جنگ کی مخالفت میں ہیبرماس کا ساتھ دیا۔دلیوز جانوروں کے حقوق کا بہت سرگرم وکیل تھا۔ رارٹی پنشنروں کے سماجی حقوق کے تحفظ کی تحریک میں شامل رہا وغیرہ۔

پوسٹ ماڈرنسٹ تحریک رومانویت کے دورِ حاضر کے پیرو کار ہیں۔ ماضی قریب میں ان کے رہنما Nietzsche, Schopenhauer اور Dewey رہے ہیں۔ یہ سب سرمایہ داری کے وکیل تھے گو کہ ان تینوں نے بھی تنویری معقولیت (Epistemology) کی تردید کی تھی۔ پوسٹ ماڈرن ازم سرمایہ دارانہ اہداف کی تصدیق جمالیاتی بنیادوں پر کرتی ہے۔ چارلس ٹیلر (Charles Taylor) کے مطابق چوں کہ وہ یورپی ہے اور اس کی تاریخ لبرل معاشرت کے ارتقا کی تاریخ ہے لہٰذا آزادی، مساوات اور ترقی کا فروغ اس کی تاریخی شناخت کے ہم معنیٰ ہے گو کہ وہ ان اہداف کی معقولیت کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکتا۔ اس کا آزادی، مساوات اور ترقی سے لگاؤ ایسا ہی ہے جیسا اس کا کلاسیکی موسیقی، آرٹ، ادب اور رقص سے لگاؤ۔ یہ لگاؤ ہی Charles Taylor، کو Charles Taylorبناتے ہیں، آزادی، مساوات اور ترقی سے غداری اپنی تہذیب اور تاریخ سے غداری ہے۔

رارٹی ان خیالات سے متفق ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ درست ہے کہ اس کی تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ہیں جس پر اس کو شرمندہ ہونا چاہیے۔ لیکن رارٹی کی تاریخ رارٹی کو یہ سکھاتی ہے کہ رارٹی ایک قائم بالذات و مطلق العنان خود تخلیقی انفرادیت ہے۔ وہ صرف اپنے آپ کو جواب دہ ہے۔ خدا کو جواب دہ نہیں۔ رارٹی کہتا ہے کہ یہ درست ہے کہ ہم نے کروڑوں ریڈ انڈین قتل کیے لیکن چوں کہ ہم خود مختار اور کسی کو جواب دہ نہیں لہٰذا ہمارا یہ حق ہے کہ ہم اپنے آپ کو معاف کر دیں اور کسی سے معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم نے اپنے آپ کو ریڈ انڈین کے قتل کے لیے معاف کردیا ہے اور اگر کل امریکی ریڈ انڈنینز کے قتلِ عام سے امریکی اپنے کو معاف کرا سکتے ہیں تو آج عراق اور افغانستان اور مجاہدین اسلام کے قتل عام سے اپنے آپ کو معاف کیوں نہیں کر سکتے۔ انہیں اپنے آپ کواس قتل عام سے بھی معاف کر دینا چاہیے۔ رارٹی امریکن اور چارلس ٹیلر انگریز ہے۔ بیشتر پوسٹ ماڈرنسٹ امریکی استعمار کے وکیل اور حلیف ہیں۔ وہ مغربی تہذیب کے عالمی غلبہ کے مدعی اور متمنی ہیں اور جس حکمتِ عملی کے ذریعہ اس کو ممکن بنانا چاہتے ہیں وہ ملٹی کلچرل ازم (Multiculturalism) ہے۔

ملٹی کلچرل ازم سے مراد یہ ہے کہ معاشرہ میں مختلف النوع ثقافتوں کو فروغ پانے کے مواقع ملنے چاہئیں لیکن ان ثقافتوں کی ایسی تشریح کو عام کیا جائے جو سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات اور ترقی کا ا ثبات ہو۔ ہر ثقافتی گروہ اپنی تاریخی روایات کے تناظر میں آزادی، مساوات اور ترقی کی مستقل جستجو کی توجیہ پیش کرے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں اپنی منفرد شناخت تلاش کرے۔ فوکو نے سرمایہ دارانہ قوت کی وکالت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ قوت مفتوع یکسانیت (Unity in diversity) کو ممکن بناتی ہے اور یہی اس کی اصل خوبی ہے۔ ہر فرد اور ہر کمیونٹی سرمایہ /آزادی کی پرستش کرے لیکن اپنے تاریخی ورثہ، رسوم، روایات اور میلانات کے مطابق۔ مسلم دنیا میں سب سے نمایاں پوسٹ ماڈرنسٹ اکبر ایس احمد ہے (یہ ایک آغا خانی ہے، کیمبرج میں پروفیسر تھا، اب امریکا میں مقیم ہے)۔ ایک اور پوسٹ ماڈرنسٹ آدرشوں سے متاثر مفکر (جو کہ اپنے آپ کو پہلے مارکسی کہتا تھا) اقبال احمد تھا جو دس سال قبل اسلام آباد میں مر گیا۔ اکبر ایس احمد ملٹی کلچرل ازم کا وکیل اور سلمان رشدی ملعون کا قریبی ساتھی ہے۔ اس نے Ernst Gellner کے تعاون سے پوسٹ ماڈرنسٹ آدرشوں کی اسلام کاری کرنے کی کوشش کی ہے۔

انگلستان اور امریکا میں یہ کوشش ان معنوں میں بار آورثابت ہوئی ہے کہ وہاں کے کئی اسلامی حلقے( جن میں کچھ مساجد بھی شامل ہیں ) یکجہتی پوسٹ ماڈرنسٹ تحریکوں سے اشتراک عمل پر آمادہ ہوگئے اور امریکا اور برطانیہ کی مسلم کمیونٹیز کے معاشرتی مفادات کے تحفظ کے لیے اس اشتراک عمل کو ناگزیر سمجھنے لگے۔ اس سے لازماً اسلام کی نظاماتی شناخت مجروح ہوئی ہے اور اسلامی جدوجہد ردِ سرمایہ داری کی مخالفت کی جدوجہد نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں ضم ہورہی ہے۔ عیسائی قیادت نے انیسویں صدی کے بعد یورپ میں اور دور حاضر میں لاطینی امریکا میں یہی رویہ اختیار کیا ہے۔ بہت سے پادری سوشل ریفارمر بن گئے اور عیسائی تعلیمات کی سماجی اصلاحی تاویلات پیش کی جانے لگیں۔ لیکن اس تجربہ سے ثابت ہوگیا کہ ان یکجہتی پوسٹ ماڈرنسٹ سماجی تحریکوں سے تعاون کے نتیجہ میں مذہبی شناخت کو فوقیت نہیں ملتی۔ کوئی اغلام باز، فیمسنٹ یا ماحولیاتی عیسائی نہیں بنتا بلکہ عیسائی نوجوان اغلام بازی فیمی نزم اور ماحولیاتی آدرشوں سے متاثر ہوکر مذہبیت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

خطرہ اس بات کا ہے کہ نیو سوشل موومنٹس سے اشتراکِ عمل کے نتیجہ میں مسلمان نوجوان بھی اغلام باز، امن پرست اور فیمی نسٹ بن جائیں گے اور اسلامی مذہبی آدرش ان کے لیے بے معنی ہوجائیں گے۔سو شل ریفارم کا کام اگرانقلا بی عمل سے مربوط ہو جائے تومعا شرتی ادارتی صف بندی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ ریاستی تنا ظر میں کیا جائے تو انقلا بی عمل کی بیخ کنی کردیتا ہے۔ یورپ میں ہماری کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس رفتار سے ایک عام یورپی باشندے کو مسلمان بناتے ہیں۔ اس بات کو فرانس کی زیر زمین اسلامی تحریک کے مرشد، شیخ ابو بکر گاغودیؒ (١٩٥٠ء دہائی میں آپ فرنچ کمیونسٹ پارٹی PCF کے جنرل سیکریٹری اور فوکو کے قریبی ساتھی تھے، ١٩٦٠ء کی دہائی میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور درقاویہ سلسلہ کے شیخ مقرر ہوئے، فرانس میں آپ نے تحریک برپا فرمائی ) خوب جانتے تھے اورآپ کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں آج فرانس کی اسلامی تحریکات نیو سوشل موومنٹس کی تردید میں سب سے نمایاں معاشرتی قوت بن گئی ہیں۔ انہوں نے فرانس کے مسلم عوام کو گینوں اور شواں کے ملحدانہ تصوف (جو وحدتِ ادیان کا پرچار کرتی ہے اور اسلام، ہندو مت اور بدھ مت کا ملغوبہ ہے) سے محفوظ رکھا اور توحیدی عیسائیوں (Cathars and Unitarians) کو اسلام سے متعارف کرایا۔ شیخ اس بات پر زور دیتےتھے کہ عیسائیت اسلام کی نامکمل اور مسخ شدہ تصویر کے علاوہ کچھ نہیں۔حضرت عیسیٰؑ کے حواری مسلمان تھے۔ اور پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں بڑی تعداد میں عیسیٰ علیہ سلام کے مبلغین موحدین یعنی مسلمان ہی تھے۔ اسلام یورپ کا ورثہ ہے۔ اورآپ نے عالمی اسلامی جہاد کے پر جوش حامی پورے فرانس میں پیدا کیے۔ فرانس، سوئزرلینڈ اور اسپین میں عوام کی سطح پر دعوت اسلامی سوشل ریفارم یا کمیونٹی کے حقوق کی جدوجہد میں ضم نہیں ہوئی۔

مسلم دنیا میں پوسٹ ماڈرن ازم کا سب سے اہم اظہار نتیجہ پرستی کی مقبولیت ہے۔ نتیجہ پرستی (Pragmatism) اس رویہ کو کہتے ہیں جو عمل کا جواز اس کے نتیجہ کو سمجھتا ہے اور نتیجہ سے مراد دنیاوی بقا ہے۔ Dewey کہتا ہے کہ حق انکوائری ہے یعنی وہ عمل جس کے ذریعہ ایک حامی ماحول میں اپنے مفادات کو فروغ دیا جاسکتا ہو۔ اور ”مفاد“ دنیا میں بقا ہے اور بقا کا انحصار قوت کے اجتماع پر ہے۔ Dewey بھی قوت کا پجاری ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم کی دوسری خصوصیات کا اثر مسلم دنیا کی اسلامی تحریکات پر بہت محدود ہے۔ بحیثیت مجموعی اسلامی گروہ نہ ماڈرنسٹ مباحث کو سمجھتے ہیں نہ ان کو ردّ کرنے کی ضرورت کے قائل ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی صف بندی اور اس کی علمیت یعنی سائنس اور سوشل سائنس کو ایک غیر اقداری تکنیکی حقیقت کے طور پر قبول کیے ہوئے ہیں۔ وہ سرمایہ داری کے علمی اور عملی غلبہ کو چیلنج نہیں کرتے۔ وہ اس کی ماڈرنسٹ اور پوسٹ ماڈرنسٹ توجیہات سے ناواقف بھی ہیں اور ناواقف رہنا بھی چاہتے ہیں۔ یہ تحریکاتِ تحفظِ دین اور غلبہ دین کے لیے ایک نہایت مضر اور خطرناک رویہ ہے۔

14۔ سرمایہ دارانہ علمیت

1.14۔ ابتدائیہ

کسی تہذیب کا تصورِ علم اس کے اہداف ومقاصد کے اظہار کا سب سے بلند ترین درجہ ہوتا ہے۔ درحقیقت تصورِ علم ہی وہ اساس ہے جہاں کسی تہذیب کے مقاصد علمی وفکری سطح پر متشکل ہوتے ہیں۔ ہر تصورِ علم ایک تہذیب کے حیاتِ انسانی کی حقیقت کی بابت مابعدالطبیعیاتی ایمانیات کا مرہون منت ہوتا ہے۔یعنی یہ سوال کہ علم کیا ہے کا جواب مقصد ِعلم کی نشان دہی کے بغیر دینا ناممکن ہے اور یہ مقصد لازماً ایک مابعدالطبیعیاتی ایمان پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی بات ہے جس پر غور نہ کرنے کے سبب کئی اہل علم وفکر نے مغربی علوم کو اسلامی تاریخ میں تلاش کرنے نیز ان کی اسلام کاری کرنے کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ یہ غلط فہمی کہ مغربی علوم ایک اٹل حقیقت ہیں نیز ان کی بنیاد ایسے آفاتی تصورات پر قائم ہے جو انسانیت بحیثیت مجموعی کا مظہر ہیں، بھی اسی سوال پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ماہیت علم اور ایمانیات کا تعلق نظر انداز کرنے کے نتیجے میں یہ فکری کجی بھی عام ہوئی کہ مسلمانوں کو مغربی علوم کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس مضمون میں ہماری کوشش ہوگی کہ ہم علم بحیثیت مجموعی اور سرمایہ دارانہ (یا سائنسی ) نظریہ علم کی حقیقت واضح کریں۔

2.14۔ تین اہم سوالات

حقیت علم کی تفہیم کے ضمن میں تین سوالات کے جوابات اصل اہمیت کے حامل ہیں:

  1. علم کیا ہے، یعنی اس کی نوعیت وماہیت (Nature) کیا ہے ؟
  2. علم کہاں سے آئے گا،یعنی منبع علم (source of knowledge) کیا ہے ؟ منبع علم کی تشخیص کے ساتھ ہی اس سوال کا جواب دینا بھی ضروری ہوجاتاہے کہ اس منبع علم سے حاصل ہونے والے علم کی صحت وعدم صحت(validity) کا معیار کیا ہے ؟
  3. اس مخصوص منبع علم سے حاصل شدہ معلومات کن شکلوں میں متشکل (embodiment) ہوئیں، یعنی اس نظریہ علم کا اظہار کن علوم کی شکل میں ہوا؟

سرمایہ دارانہ یاسائنسی علمیت کے ضمن میں ان تینوں سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ایک طویل مضمون درکار ہوگا لہٰذا خوفِ طوالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس مضمون میں ہم صرف پہلے سوال کا تفصیلی جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے دو امور پر روشنی ڈالنا ضروری ہے :

اس مضمون مین ہم درج بالا ترتیب سے اپنے مدعا کو بیان کریں گے۔

3.14۔ ایمانیات اور تصورِ علم کا باہمی تعلق

علم سے مراد عام طورپر معلومات کا ایک بامقصد مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ ”عالم“(knower) اور ”معلوم“(known) کے درمیان ایک تعلق کانام ہے اور ان دونوں کے درمیان اس تعلق کی مقصد یت ہی مجموعہ معلومات کا مافیہ (content) اس کی کی ماہیت (nature) اور درجہ بندی کا تعین کرتی ہے۔ یعنی کس مجموعہ معلومات پر لفظ علم کا اطلاق کیا جائے گااس کا انحصار اس بات پرہے کہ علم حاصل کرنے والے شخص کا مقصد کیا ہے۔ چنانچہ ہر مقصدیت سے نکلنے والا تصورِ علم اور معلومات کی درجہ بندی یکساں نہیں ہوتی۔ اسی طرح معلومات کے ہرمجموعے پر لفظ علم کا اطلاق نہیں کیاجاتا بلکہ صرف ایک بامقصد معلومات کے مجموعے پر ہی یہ لفظ بولاجاتا ہے، مثلاکسی پاگل شخص کو بہت سی معلومات ہوتی ہیں لیکن اس کی ان معلومات کو کسی بھی تصورِ علم میں”علم“نہیں ماناجاتا۔ یہ حقیقت کہ علم کی درجہ بندی کا براہ راست تعلق عالم کے مقصد سے ہوتا ہے اس مثال سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اگرسائنس، انجینئرنگ اور سوشل سائنسز کے مختلف مضامین کی ایک فہرست ان علوم کے طلباء کے سامنے درجہ بندی کے لیے پیش کی جائے تو ان کی ترتیب میں واضح فرق ہو گا۔ ان طالب علموں کی مرتب کردہ فہرستوں میں علوم کی درجہ بندی کا یہ فرق اس مقصد اور تعلق (relevance) کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس کی خاطر یہ طلبہ علم حاصل کرنا چاہے ہیں۔ چنانچہ اگر آپ کسی انجینئرنگ کے طالب علم سے تاریخ کی اہمیت پر بات کریں تو شاید اس کے نزدیک تاریخ ایک غیر اہم علم کہلائے لیکن اگر کسی فسلفی کی نظر سے دیکھا جائے تو تاریخ سے زیادہ اہم علم کوئی اور نہ ہوگا۔ اس مثال میں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ معلومات کی علمی حیثیت اور اس کی درجہ بندی طے کرنے میں علم حاصل کرنے والے شخص کا مقصد فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک اور مثال پر غور کریں۔ آ پ اور ہم بچپن سے یہ بات سنتے چلے آئے ہیں کہ ”اصل علم تو قرآن وحدیث ہی ہیں“ آج کے جدیدیت پسند مفکرین کو یہ بات مبالغہ انگیز ی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا واقعی یہ مبالغہ انگیزی ہے یا حقیقت واقعہ ہے؟اور اگر حقیقت ہے تو کن معنوں میں یہ بات درست ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے اسلام کے نزدیک انسانی زندگی کے مقصد پر غور کریں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بات نہایت واضح طریقے سے بیان کی ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد دنیاوی زندگی کو پرلطف بنانے کے لیے کائنات کو مسخر کرنے کی سعی کرنا نہیں بلکہ اپنے رب کی عبادت کرنا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے، نیز یہ کہ انسان کو یہ زندگی اس کے کسی حق کے طورپر نہیں دی گئی کہ جسے وہ جیسے چاہے ترتیب دے بلکہ یہ زندگی اسے آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ جب یہ طے ہوگیا کہ زندگی کامقصد آزمائش اور حصول رضائے الٰہی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ آزمائش جس شے میں ہورہی ہے اس کا علم کہاں سے حاصل ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں رضائے الٰہی حاصل کرنے کے طریقے کا علم کہاں سے ہوگا ؟ کیا ہر شخص آزاد ہے کہ اپنی طرف سے زندگی کا جو بھی مقصد چاہے بنا لے یا اس کے رب نے اس کی ہدایت کا کوئی انتظام کیا ہے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت انسانی کے لیے انبیاء و رسل کا سلسلہ جاری فرمایا اور اس ہدایت کے حصول کا آخری اور واحد معتبر ذریعہ قرآن وحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں موجود ہے۔ چنانچہ یہی وہ واحد ذریعہ علم ہے جس سے رضائے الٰہی کے حصول کا طریقہ جانا جاسکتا ہے اور اس ذریعہ علم کو چھوڑ کر اس دنیا میں اور کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے انسان یہ جان سکے کہ میرا رب مجھے کس شے میں آزمانا چاہتاہے نیز وہ میرے کن اعمال سے خوش ہوگا اور کون سے اعمال اس کی ناراضی کا باعث ہوں گے۔ پس ثابت ہوا کہ انسانی زندگی کے مقصد ”عبادت رب“ کے معیار پر پورا اترنے والا علم وہی ہے جسے ”قرآن وحدیث“ کہا جاتا ہے لہٰذا یہ بات سوفیصد درست ہے کہ ”اصل علم توقرآن وحدیث ہی ہیں“ نیز دیگر عقلی علوم کی درجہ بندی ان علوم کے اس مقصدِ حیات کے حصول میں معاونت وعدم معاونت کے اصول پر طے کی جائے گی۔ جوعلم اس مقصدِ حیات کے حصول میں جتنا زیادہ ممدومددگار ہو گا اسلامی نظریہ علم میں اتنا ہی اہم کہلائے گا اور جس علم کا تعلق اس مقصد کے ساتھ جنتا کمزور ہو گا وہ علوم کی درجہ بندی میں اتنا ہی نیچے دکھائی دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں قرآن و حدیث کے بعد صرف ونحو، فقہ و اصول، کلام و منطق وغیرہ کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ ہر تصورِ علم(یعنی مجموعہ معلومات کی نوعیت) اور اس کی درجہ بندی چند مابعدا لطبیعیاتی ایمانیات کی مرہون منت ہوتی ہے نیز مقصدِ حیات کی بابت عقائد بدل جانے سے تصورِ علم بھی بدل جاتا ہے۔ چنانچہ کسی تہذیب سے نکلنے والے تصورِ علم اورمعلومات کی درجہ بندی کو اس تہذیب کی ایمانیات سے ماورا ہوکر سمجھنا ناممکن ہے اور جو شخص بھی ایسی کوشش کرے گا لازماً غلط نتائج تک ہی پہنچے گا۔ ایمانیات اور تصورِ علم کی اس اصولی بحث کے بعد اب ہم سرمایہ دارانہ تصورِ علم کی تفصیلات کی طرف آتے ہیں۔

4.14۔ سائنسی علم کی نوعیت اور اس کے تصورِ حقیقت سے اس کا تعلق

آج کی دنیا بالخصوص مغربی دنیا میں جب بھی لفظ علم بولاجا تا ہے تو اس سے مراد عام طورپر ”سائنس و ٹیکنالوجی“ ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایک دور ایسا بھی تھا کہ جب موجودہ سائنس وٹیکنالوجی نامی کوئی بھی شے علم کے مسمیٰ کے طورپر موجود نہ تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سائنس وٹیکنالوجی کا موجودہ علم تمام انسانی تہذیبوں میں تحلیل ہوتا ہوا اپنا تاریخی سفر طے کرکے اس منطقی منزل تک پہنچا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان کے نزدیک علم ایک مسلسل تاریخی عمل(historical progression) کا نام ہے جو کسی قسم کی ایمانیات کا مرہون منت نہیں۔ ہمارے متجددین حضرات اس فکر کو اس وجہ سے اپناتے ہیں تاکہ موجودہ سائنس کو اسلامی تاریخ کاتسلسل ثابت کر دکھائیں۔ ہو سکتا ہے اس تجزیہ میں ان کے لیے خوشی کا بہت سامان ہو لیکن حقیقت علم کا یہ تجزیہ کوئی علمی حیثیت نہیں رکھتا۔ سرمایہ دارانہ علم(یعنی سائنس وغیرہ) کسی تاریخی عمل کے نتیجے میں نہیں بلکہ انسانی زندگی و کائنات کے بارے میں تصورِ حقیقت کی ایک ایسی تبدیلی سے پیدا ہوا جو تحریک تنویر (Enlightenment) کے نتیجے میں عام ہوئی۔

5.14۔ سرمایہ دارانہ تصورِ حقیقت کی ایمانیات

اس تصورِ حقیقت نے جن بنیادی اور اقدار کو اپنانے کی طرف دعوت دی وہ آزادی، مساوات اور ترقی تھے۔

آزادی کا معنی یہ ہے کہ ہرشخص اپنی خواہشات کی ترتیب متعین کرنے کا اخلاقی طورپر مستحق ہے یعنی اس کا حق ہے کہ وہ جوچاہنا چاہے چاہ سکے اور اپنی چاہت حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ مکّلف ہونے کی جدوجہد کرے۔ آزادی کا معنی یہ ہے کہ خیر وشر طے کرنے کا حق انسان کو حاصل ہوتا ہے یعنی انسان کے ”حق“ کا ”خیر و شر“ پر فوقیت رکھناآسان لفظوں میں یہ تصور ہےکہ خیر اور شر کا تعین نفس انسانی سے ہوتا ہے۔ مغربی انسان خود کو قائم بالذات(self-determined) اور آزاد(autonomous) تصور کرتا ہے، دوسرے لفظوں میں آزادی کا مطلب ہے کہ انسان کی حقیقت عبدہونا نہیں بلکہ قائم بالذات یعنی خود اپنا خدا ہونا ہے کیوں کہ انسان کو خیر وشر طے کرنے کا حق دینے کا مطلب اس بات کا انکار ہے کہ وہ عبد ہے اور اس کا مقصدِ حیات خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ خواہش کی نفی کر کے اپنے نفس کو خدا کی رضا کے آگے جھکا دینا ہے۔

مساوات کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں کی خواہشات کی ترتیب اور ان سے طے پانے والے تصوراتِ خیر مساوی اہمیت کے حامل ہیں اور ان میں اصولاً کسی قسم کی درجہ بندی کرنا ناممکن ہےیعنی تمام تصوراتِ خیر و شر اور زندگی گزارنے کے تمام طریقے برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مساوات کا معنی ہے ”نظام ہدایت“ کا ردّ یعنی اس بات کا انکارکرنا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر وشر بتانے کے لیے ہدایت کا کوئی سلسلہ انبیاء کرام کے ذریعے قائم کیا ہے نیز انبیاء کرام کی تعلیمات خیر و شر طے کرنے کا کوئی حتمی معیار ہیں۔ یہ اس لیے کہ نظام ہدایت کا معنی ہی یہ ہے کہ تمام انسانوں کی خواہشات کی ترتیب ہرگز مساوی معاشرتی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ شخص جس کی خواہشات کی ترتیب تعلیماتِ انبیاء کا مظہر ہیں تمام دوسری ترتیبوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں نظام ہدایت مساوات کا نہیں بلکہ حفظ مراتب کا متقاضی ہے جس میں افراد کی درجہ بندی کا معیار(differentiating factor) تقویٰ ہوتا ہے نیز اسلامی معاشرے اور یاست کا مقصد جمہوری معاشرے کی طرح ہر فرد کو اپنی اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی خواہشات کو نظام ہدایت کے تابع کرنے کا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظریہ ریاست میں سٹیزن (ایسی عوام جو اصولاً حاکم اور فیصلہ کرنے والی ہوتی ہے) اور عوامی نمایندگی (representation of citizens) کا کوئی تصور ہے ہی نہیں کیوں کہ یہاں عوام سٹیزن نہیں بلکہ رعایا ہوتی ہے او رخلیفہ عوام کا نمایندہ نہیں ہوتا کہ جس کا مقصد عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے کرنا ہو بلکہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوتا ہے جس کا مقصد رعایا کی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کے لیے نظام ہدایت کا نفاذ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آزادی ومساوات کا معنی یہ ہے کہ خیر و شر اور اپنی منزل کا تعین انسان خود طے کرے گا اور ہر شخص کا تصور خیر و زندگی گزارنے کا طریقہ مساوی معاشرتی حیثیت رکھتا ہے اور ریاست کا مقصد ایسی معاشرتی صف بندی وجود میں لانا ہوتا ہے جہاں ہر فرد اپنی خواہشات کو ترتیب دینے اور انہیں حاصل کرنے کا زیادہ مکلف ہوتا چلاجائے۔

ترقی کا حاصل یہ ہے کہ زندگی میں انسان کا مقصد اپنے ارادے اور خواہشات کی زیادہ سے زیادہ تکمیل (maximum satisfaction)ہے اور ارادۂ انسانی کی یہی منتہا تکمیل ترقی کا جوہرہے۔ دوسرے لفظوں میں ترقی کا مطلب ہے ”آخرت“ کا اور دنیا کے ”دارالامتحان“ ہونے کا ردّ اور دنیاوی زندگی کو بذات خود مقصد(end in itself) سمجھنا ہے۔ ترقی درحقیقت وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ آزادی اور مساوات کا اظہار ممکن ہوتا ہےیعنی اگر کوئی معاشرہ آزادی اور مساوات کے اصول پر زندگی گزارنا چاہتاہے تو وہ واحد طریقہ جس کے نتیجے میں ہرفرد اپنی خواہشات کی ترتیب طے کرنے اور اسے حاصل کرسکنے کا مکلف بن سکتا ہے ترقی یعنی سرمایے میں لامحدود اضافہ کرنے کی جدوجہد ہے۔

تحریک تنویر کے نتیجہ میں تصورِ حیات کی اس تبدیلی کی بدولت ایک ایسے ”جدید انسان“ کی تخلیق ہوئی جسے ہیومن بینگ کہتے ہیں۔ تحریک تنویر سے قبل اس انسان کا کوئی معاشرتی وجود نہ تھا کیوں کہ ہرمذہب میں انسان سے مراد عبد(Mankind)ہی سمجھا جاتا تھا جو اپنی پہچان اور وجود خود اپنی ذات سے نہیں بلکہ خدا کے وجود سے حاصل کرتا تھا۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ مختلف مذاہب کے مابین اظہار عبدیت کے معتبر طریقے میں اختلاف موجود تھا۔ فوکو(بیسویں صدی کے مشہور ترین مغربی فلسفیوں میں سے ایک) کا یہ کہنا صد فیصد درست ہے کہ ہیومن تو پیدا ہی سولھویں صدی میں ہوا ہے اس سے پہلے کسی تہذیب اور نظام زندگی میں ہیومن بینگ کا تصور موجود ہی نہیں تھا۔ ہیومن (وہ انسان جو خود کو قائم بالذات سمجھتا اور آزادی کا خواہاں ہے) مغربی نظام زندگی کی روحِ رواں ہے اور تمام مغربی علوم جس انسان کے رویے سے بحث کرتے ہیں وہ ہیومن ہے نہ کہ عبد۔ یہ ایک ایسا انسان ہے جس کی دلچسپی کا محور مذہبی رسوم وعبودیت کو بجالانے کے بجائے دنیاوی معاملات سے بے پناہ رغبت ہےاور جس میں ایک ایسا نیا ولولہ اور جوش تھا جو اسے غیر مشروط آزادی کی طرف مائل کرتا تھا۔ اس تبدیلی کی تصویر کشی ڈاکٹر ظفر حسن نے اپنی کتاب ”سرسید اور حالی کا نظریہ فطرت“ میں خوب صورت الفاظ میں کی ہے:

یہ ایک ایسا انسان تھا جو اپنے سے پہلے والے انسان سے ہرقسم کا تعلق منقطع کردینا چاہتا تھا ….اٹھارھویں صدی کے اوائل میں کہاجانے لگا کہ بزرگوں نے نئی نسل کو ایک ایسا معاشرتی نظام دیا ہے جو نرادکھاوا اور دھوکا ہے اور جو ہربرائی کا ذمہ دار ہے۔ اٹھارھویں صدی کی نسلیں اس نظریے کو کہ انسان کو کوئی الہامی پیغامات وصول ہوتے ہیں، بالکل رد کرکے وحی کا انکار کردینا چاہتی تھیں۔ القصہ مختصر وہ انسانی زندگی کو کسی حال میں بھی مذہبی طرز فکر سے نہ دیکھنا چاہتی تھیں۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ایک نئی چیز کو جنم دیں گے، عقل کی روشنی سے وہ ظلماتی دور کو نیا نور بخشیں گی اور قدرت کے منصوبے کو دریافت کرلیں گی اور اس طرح انسان کا ایک پیدائشی حق یعنی انسانی خوشی او رخوش حالی انسان کے لیے بحال کریں گی۔

6.14۔ جدید علم کا مطلب

حیات انسانی کی مقصدیت کے بارےمیں یہ گمراہ کن تصورات سترھویں اور اٹھارھویں صدی کی پیداوار ہیں جن کے نتیجے میں علم کا ایک نیا تصور ابھرا۔ اگر اس دنیا میں انسان کا مقصد ارادے اور خواہشات کی تکمیل ہے تو پھر اس کائنات میں لامحدود خواہشات انسانی کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کی تمام اشیاء و موجودات اس کے ارادے کے تابع ہوجائیں کیوں کہ جب تک وہ انسانی ارادے کے تابع نہیں ہوجاتیں، تکمیل خواہشات کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ مثلاً انسان کی ایک خواہش یہ بھی ہوسکتی تھی کہ وہ ہوا میں اڑے لیکن اس کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ وہ زمین کی اپنی طرف گرانے کی قوت پر قابو پائے۔ اشیاء وموجودات کو اپنے ارادے کے تابع کرنے کے لیے ضروری تھا کہ انسان ایسی معلومات حاصل کرنے کے درپے ہو جو اسے تسخیر کائنات کی راہ سمجھائے۔ لہٰذا س تصورِ حقیقت (کہ زندگی کا مقصد ارادۂ انسانی کی تکمیل ہے) سے جو تصورِ علم نکلا اس کے مطابق علم سے مراد ایسی بات جاننا ہے جس کے ذریعے انسان اس چیز پر قادر ہوجائے کہ اس کے ارادے کی تکمیل کیسے ہوسکتی ہے اور وہ علم جو انسان کو یہ بتاتا ہے کہ کائنات پر اس کے ارادے کا تسلط کیسے ممکن ہے اسے”سائنس“ کہتے ہیں۔ لہٰذا ترقی کا اصل معنی ہے علم کو سائنس کے ہم معنی قرار دینایعنی ترقی سے مراد ان معلومات میں اضافہ ہے جو انسانی ارادے کی تکمیل کو ممکن بناتی ہوں۔ گویا مغربی تہذیب میں ”ارادے و خواہشات کی تکمیل“ ہی معلومات کے مجموعے اور عالم (knower)کے درمیان تعلق کی بنیاد ٹھہرا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب میں علم وہ چیز جاننا نہیں ہے کہ جس سے انسان اپنے رب کی رضا جان لےیعنی علم یہ نہیں کہ مجھے وضو یاغسل وغیرہ کرنے کا طریقہ اور مسائل معلوم ہو جائیں بلکہ علم تو یہ ہے کہ میں یہ جان لوں کہ پنکھا کیسے چلتا ہے، بجلی کیسے دوڑتی ہے، جہاز کیسے اڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔گویا اب علم رضائے الٰہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں بلکہ تسخیر کائنات یا بالفاظ دیگر انسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط قائم کرنے کا طریقہ جان لینے کا ہم معنی بن گیا۔ دوسرے لفظوں میں یہاں علم اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں بلکہ نفس انسانی کی رضااور اس کی تکمیل کا سامان فراہم کرنے والی معلومات کا نام پڑگیا۔ تصورِ علم کی یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی تبدیلی تھی جس نے انسان کی کامیابی کو کسی خدا کی اطاعت (obedience)کے ساتھ نہیں بلکہ لامتناہی خواہشاتِ انسانی کی تکمیل و ارادۂ انسانی کے تسلط (dominance) کے ساتھ مشروط کر دیا۔ سائنسی علم کا یہ مقصد اور اس کے پھیلاؤ کے لیے درکار ضروری اسباب کا نقشہ سائنس کے موجدین اور فلسفیوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں بیان کیا تھا۔ مثلاً گلیلیو کا مشہور مقولہ ہے:

Bible shows us the way to heavens, but it does not show the way heavens go.

یعنی ”بائبل ہمیں جنت میں جانے کا راستہ تو بتاتی ہے مگر یہ نہیں بتاتی کہ یہ کائنات کیسے چلتی ہے“۔ مشہور تاریخ دان ایچ جی ویلز، راجر بیکن (جدید سائنس کا بانی) کے خیالات کو کچھ اس طرح خراج تحسین پیش کرتا ہے:

بیکن کی کتابیں جہالت کے خلاف بغاوت تھیں۔ اس نے اپنے دور کے لوگوں کو بتایا کہ وہ جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور یہ ایک ایسی بات تھی جسے اس دور میں کہنے کے لیے بہت ہمت درکار تھی۔ قرون وسطیٰ کے لوگ اپنے دور کی ذہانت اور ایمانیات کے سچ ہونے کے بارے میں جذباتی حد تک قائل تھے اور ان کے خلاف ہرگز کوئی تنقید برداشت نہ کرتے۔ راجر بیکن کی کتابیں ان گھٹاٹوپ اندھیروں میں روشنی کی کرن تھیں۔ وہ کہتا تھا کہ غیر عقلی ایمانیات اور مسلمہ مقتدرہ(Authority) کی پیروی کرنا چھوڑ دو۔ دنیا پر غورکرو(حصول علم کے لیے)، تجربہ، تجربہ اور تجربہ ہی اس کا مقصد تھا۔ اس نے جہالت کے چار اسباب بیان کیے:(۱) مسلمہ مقتدرہ کا احترام (۲) اسلاف کے طورطریقوں پرعمل(۳) ریت ورواج کی پیروی(۴)اور ہمارے فخریہ مگرنہ سمجھ آنے والے دکھاوے۔ اگر ہم ان چیزوں سے جان چھڑا لیں تو پھر سائنسی ایجادات اور مکینکل قوت سے بھرپور ایک نئی دنیا انسانیت کو دکھائی دے گی۔۔۔ (میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ) بحری سفروں کے لیے بغیر ملاحوں کی ایسی مشینیں بنانا ممکن ہے جسے صرف ایک آدمی اس کشتی کی رفتار سے کئی گنا تیز چلا سکتا ہوگا جسے کئی ملاح مل کرچلاتے ہیں۔ اسی طرح بغیر ڈھورڈنگر سے چلنے والی ایسی سواریاں بنانا بھی ممکن ہے جو پرانے دور کی تیز ترین سواریوں سے تیز چلتی ہوں گی۔ اور ہوا میں اڑنے والی ایسی مشینیں بنانا بھی ممکن ہے جس میں انسان بیٹھ سکتا ہو اور وہ مشین بالکل پرندوں کی طرح پرہلا کر چلتی ہو۔

بیکن نے یہ تمام تفصیلات اپنی کتاب”The New Atlantis”میں بیان کی ہیں جس میں اس نے ایک ایسے فرضی جزیرے کی تصویر کشی کی ہے جہاں سائنسی تحقیقات کرنے والا ایک بہت بڑا دارہ قائم کر دیا گیا ہے۔ جہاں کا حاکم آنے جانے والے لوگوں کو اس جگہ کی سیرکراتا ہے اور ان سے کہتا ہے ”ہمارے اس ادارے کا مقصد علل و معلول(cause and effect)وحرکت کائنات کے قوانین اور انسانی ارادے کی حدود کی توسیع کرنے کے طریقے کا علم حاصل کرنا ہے تاکہ ہرچیز کرنا ممکن ہو سکے“۔ مریم جمیلہ صاحبہ کی معرکۃ الآراء کتاب Modern Technology and the Dehumanization of Manمیں لکھا ہے کہ اس تصورِ علم میں فطرت ان معنوں میں انسان کی حریف ٹھہری کہ یہ انسانی ارادے کی تکمیل پر حد بندی کرتی ہے اور اسے تسخیر کر کے انسانی ارادے و خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا ضروری ٹھہرا۔ آج بھی موجودہ سائنسی علمیت کا یہ جنون ہے کہ انسانی عقل کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھانا نیز انسانی ارادے کو خود اس کے اپنے ہر بالا ترقوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جنٹیکس (Genetics)کی فیلڈ میں تحقیقات کر کے انسانی خون میں ایسی تبدیلیاں لانا ممکن ہے جس کے بعد اس کے اندر پائے جانے والے غضب اور حسد جیسے جذبات کو ختم کر کے دنیا کو جنگوں سے نجات دلائی جا سکے گی۔ اسی طرح سائنس دانوں کو امید ہے کہ موت پر قابو پانا ممکن ہے،اور نجانے کیا کچھ اور۔ سائنس کے اس جنون کا اصل اظہار دورِ جدید کی انگریزی زبان میں بننے والی سائنس فکشن فلموں میں سب سے واضح انداز میں نظرآتا ہے جن کے جملوں،الفاظ اور مرکزی خیالات میں نت نئے انداز کے ساتھ انسان کی خود اپنا خدا بننے کی خواہش جلوہ گر ہوتی ہے۔

7.14۔ سرمایہ دارانہ علم کی خصوصیات (طریقہ حصولِ علم کے اعتبار سے)

سائنس یاسرمایہ دارانہ طریقہ حصولِ علم میں حتمی بات اور قانون معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ سائنسی علمیت حقیقت کے ارتقائی تصور پر ایمان رکھتی ہے جسے سلجھانے کے لیے ہم ارتقائی تصورِ علم کی چند خصوصیات بیان کرتے ہیں:

1.7.14۔ غیر حتمیت (uncertainty)

ارتقائی علمیت کا اول اصول یہ ہے کہ حتمی سچ جاننا ناممکن ہے البتہ سائنسی طریقہ علم استعمال کر کے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ انسانیت ایک حتمی سچ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی کلیات کی مدد سے کسی حتمی سچ کا علم حاصل کرپانا ہی سرے سے ناممکن ہے۔

2.7.14۔ تردیدیت

اس تصورِ علم میں وہی دعویٰ اور قضیہ علم کہلانے کا مستحق ہے جسے تجربے میں لاکر رد کرنا ناممکن ہو۔سائنس میں علم کو غیر علم سے ممیز کرنے کا معیار تردیدیت (falsification) ہے یعنی اگر کسی بات کو تجربے کے ذریعے غلط ثابت کرنا ناممکن ہوتو وہ علم کی تعریف پر پوری نہیں اترے گی۔ یہی وجہ ہے مغربی تہذیب میں زندگی بعدالموت وغیرہ جیسے حقائق علم نہیں سمجھے جاتے کیوں کہ یہ سائنس کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔ اس بات کو دوسرے انداز سے یوں سمجھیے کہ ارتقائی علم وہی ہو سکتا ہے جسے غلط ثابت کرنا ممکن ہو کیوں کہ جو بات غلط ثابت نہیں کی جاسکتی اس میں ارتقاء کہاں سے آئے گا ؟ البتہ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ سرمایہ داری او رسائنس کی اپنی ایمانیات کبھی سائنس کے اس معیار پر نہیں جانچی جاتیں بلکہ انہیں ماننا تو ایمانیات کا حصہ ہے اور جو انہیں نہیں مانتا وہ ہیومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ مثلاً سائنس کا یہ مفروضہ کہ علم کا منبع انسان کی ذات ہے (یعنی علم انسان کی ذات سے نکلتا ہے) کسی بھی تجربے سے ثابت نہیں کیا جاسکتا (یعنی یہ تردیدیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا) لیکن پھر بھی سائنس اسے مفروضے کے طور مان کر آگے بڑھتی ہے۔ گو کہ سائنسی علمیت میں حوادثات عالم کی تشریح اور حقیقت کے لیے کسی ایسی مقصدیت کو تلاش کرنا جس کی نسبت ارادۂ انسانی سے باہر مثلاً خدا کی طرف ہوسائنس کے نزدیک ایک لایعنی بات ہے لیکن سائنس یہ نہیں بتا سکتی کہ خود انسانی ذات کی حقیقت کیا ہے بلکہ اسے آزاد اور خود مختار فرض کرتی ہے۔ سائنس کا یہ مفروضہ بھی محض ایمان ہے کہ یہ کائنات کسی خارجی کنٹرول کے بغیر چلنے والا ایک ایسا مکمل قائم بالذات نظام ہے جس کے اندر تبدیلیاں اس کے اندرونی نظام کے تحت آتی ہیں نیز اس کی معنویت سمجھنے کے لیے کسی خدا کی ضرورت نہیں بلکہ اس مشین کو علت معلول کے چند اصولوں کے ماتحت سمجھا ممکن ہے(البتہ سائنس کی دنیا میں ہونے والی تازہ ترینQuantum Mechanics کی تحقیقات نے سائنس کے اس ایمان کی جڑیں ہلا دی ہیں)۔گویا اگر انسان علت ومعلول کے قانون کے تحت رونما ہونے والے سلسلے کو دریافت کرلے تو نہ صرف یہ کہ وہ اشیاء کی حقیقت سمجھ سکتا ہے بلکہ اسے قابو میں لاکر ان پر اپنا تسلط قائم کر سکتا ہے۔ سائنس کے نزدیک انسان کا اپنی آزادی کی تکمیل کے لیے کائناتی تسلط قائم کرنا ہی اصل حقیقت اور مقصدِ انسانی ہے۔

3.7.14۔ شک نہ کہ ایمان

سرمایہ دارانہ تصورِ علم کے مطابق کسی بات کو حتمی اور آخری سمجھ کر اس پر صمیم قلب سے ایمان لے آنا اور دوسروں کو اس کی دعوت وتبلیغ کرنا غیر علمی طریقہ کہلاتا ہے۔ ہمیشہ اور ہر بات میں شک کرنا اور کسی چیز کو ردّ کرنے کی کوشش کرنا ہی اصل علمیت کہلاتی ہے۔ جو شخص مذہبی حقائق پر ایمان لائے اس پر انتہا پسند، بنیاد پرست اور دہشت گرد کے لیبل چسپاں کردیے جاتے ہیں۔ صرف سائنس کے بنیادی ایمانیات ہی شک سے مستثنا تصور کیے جاتے ہیں۔

4.7.14۔ ترقی(بہتری)

تنویری فکر کے ظہور کے بعد ہر نئے دور کا سچ پچھلے دور کے سچ سے بہتر گردانا جاتا ہے کیوں کہ اس میں پچھلے دور کے تصور حقیقت کےمضبوط پہلو کو شامل کر لیا جاتا ہے اور کمزور پہلوؤں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہر آنے والا دور پچھلے دور سے بہتر ٹھہرتا ہے۔ مغربی دنیا میں اسپنسر، ہیگل اور مارکس وغیرہ نے انسانی علم کے رفتہ رفتہ ایک خاص منزل کی طرف بڑھنے کے تصور کی بنا پر تاریخ کی اپنی اپنی تعبیرات پیش کی ہیں جن سب کا حاصل یہ ہے کی بنی نوع انسان بحیثیت مجموعی لاشعوری طورپر ایک ایسے عظیم الشان مقصد کی طرف رواں دواں ہے جہاں پہنچنا اس کا مقدر ہے لہٰذا ہرآنے والا دور پہلے سے بہتر ہے۔ ان تعبیرات کی حیثیت چند قصوں اور کہانیوں سے زیادہ اور کچھ نہیں جوان لوگوں نے اپنے اپنے بند کمروں میں بیٹھ کر گھڑی تھیں۔

جدیدیت پسند مسلمانوں کو مولوی کی یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی کہ ”ہم مسلمانوں کا سب سے اچھا دور تو دورنبویﷺ،دورصحابہؓ اور سلف صالحین کا دور تھا جوگزر چکا لہٰذااب آنے والا ہردور پہلے سے بہتر نہیں بلکہ برا ہوگا جیسا کہ احادیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے“۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مولوی ہمیں پیچھے کی طرف لے جانا چاہتا ہے اور اس میں شک بھی کیا ہے کہ مولوی تو یہی چاہتا ہے کہ دنیا کسی طرح پھر ویسی ہی ہوجائے جیسی آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دورمیں تھی۔ اس جرم میں مولوی پر دقیانوسی اور تنگ نظر ہونے کی پھبتی کسی جاتی ہے کہ یہ ہمیشہ یہ طے کرنے کے لیے کہ”ہمیں آگے کیا کرنا چاہیے“ مستقبل کے بجائے ماضی کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے۔ یہ آج کے عمل کو ماضی کے پیمانوں پر کسنے کی کوشش کرتا ہے؛ یہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے آگےبڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف پلٹنا سکھاتا ہے؛ یہ توترقی کا دشمن ہے اور یہ دنیا کو پھرپتھر کے دورمیں واپس لے جانا چاہتا ہے۔

5.7.14۔ ایک سے زیادہ حق کا امکان

اس نظریہ علم میں چونکہ کسی بھی چیز کی بابت مسلمہ اور حتمی علم موجود نہیں ہوتا لہٰذا ایک وقت میں ایک سے زیادہ حق نیز دومختلف افراد کے لیے دومختلف حق ہوسکتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں بیک وقت ایک ہی شے کے بارے میں دومختلف نظریات (theories) کا ہونا معمول کی بات ہے۔

6.7.14۔ تحقیق برائے تحقیق کا نہج

تحقیق برائے تحقیق کانام ہی علمی کاوش پڑگیا، چاہے وہ تحقیق بندروں اور کتوں وغیرہ کے حالات زندگی جمع کرنے کا کام ہی کیوں نہ ہو۔ ہر لغو سے لغو بات جس میں انسانی خواہش کوئی معنی دیکھتی ہو لائق تحقیق ٹھہرتی ہے کیوں کہ کسی شے کے معنی اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی روشنی میں نہیں بلکہ انسانی خواہشات اور ارادے کی تکمیل کے پیمانے پر تول کر متعین کیے جاتے ہیں۔

7.7.14۔ ارتقائی تعبیرات کی تلاش

دورحاضر میں ہر معاشرتی وانسانی ارادےوعمل کی وحی سے علی الرغم ایک ارتقائی تعبیر پیش کرنے کی روش عام ہوجاتی ہے اور اس فرضی قیاس آرائی کو ہی علمی کارنامہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس ضمن میں ایک عمدہ مثال یاد آئی۔ایک مرتبہ ہمارے ایک بزرگ ساتھی (اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب فرمائے) نے ایک محفل میں شادی کے موضوع پر ہونے والی ہوئی گفتگو میں تمام شرکائے مجلس سے سوال کیا، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ شادی کا ادارہ کیسے قائم ہوا؟ سب نے کہا کہ جناب آپ بتائیے۔

انہوں نے کہاکہ اولاً تمام انسان بھی جانوروں کی طرح جنسی تعلقات استوار کرتے تھے یعنی جس مرد وعورت کا جس سے دل چاہا خواہش پوری کر لی۔ ایک عرصے تک معاملہ یوں ہی چلتا رہا لیکن پھر آہستہ آہستہ انسانوں میں جذبات رقابت نے جوش مارا،اور لوگوں کو یہ بات بری محسوس ہونے لگی کہ کل تک جو عورت میرے ساتھ تھی آج کسی اور مردکے ساتھ کیوں ہے؟اس جذبے کے زیر اثر انسانی معاشروں میں طاقت کے قانون کا راج شروع ہونے لگا یعنی جس نے آگے بڑھ کر پہلے کسی عور ت پر قبضہ جمالیا پس وہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہوگئی۔ پھر بچوں کی پیدائش کے بعد بیوی اور بچوں کی دیکھ بھال کے مسائل سامنے آنے لگے جنہیں حل کرنے کے لیے لوگوں نے کئی طرح کے قوانین بنانے شروع کر دیے۔ مثلاً یہ کہ بچوں کی ذمہ داری اس پر ہوگی جس نے عورت پر قبضہ جمایا تھا وغیرہ وغیرہ۔ یوں انسانیت لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ لوگوں نے مردوعورت کے جنسی تعلق کی بنیادشادی کے ادارے کے ساتھ منسلک کر دی۔

جب وہ بزرگ تمام کہانی سنا چکے تو میں نے پوچھا کہ یہ کہانی آپ نے کہاں سے سنی تو فرمانے لگے کہ فلاں سوشل سائنس کے جرنل میں فلاں محقق نے یہ مقالہ لکھا ہے۔ میں نے کہا یہ بتائیں کہ اس پوری کہانی میں انسانی معاشروں کی کردار سازی میں ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد انبیاء کرام کا کردار کیا رہا؟ کیا انبیاء نے لوگوں کو نہیں بتایا کہ انہیں کیسے زندہ رہنا چاہئے نیز کیا ان کی تعلیمات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا؟ اس کہانی سے تو یہ تصور ابھرتا ہے کہ گویا اول تو انبیاء نام کی کوئی ہستی انسانی تاریخ میں گزری ہی نہیں، اور اگر تھی بھی تو نعوذ باللہ شاید وہ دنیا کی سیر وغیرہ کرنے کے لیے آئے تھے نیز انسانوں اور معاشروں نے اپنی زندگیاں وحی الٰہی کی روشنی میں نہیں بلکہ اپنے حیوانی جذبات کے تحت گزاری تھیں۔ یہ کہانی تو ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیے بغیر یہ کہے کہ مسلمانوں کے معاشروں میں پایا جانے والا شادی کا تصور درحقیقت اسلام سے قبل عربوں کے معاشرے میں پائے جانے والی جنسی بے راہ روی کی ارتقائی شکل ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ ایک مضحکہ خیز کہانی ہے۔ کیوں کہ ہرشخص یہ جانتا ہے کہ معاشرتی تبدیلیاں انسانی جذبات کے محرکات میں ارتقاء کے طورپر نہیں بلکہ ایک نبی کی تعلیمات پر عمل کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر شادی کے ادارے کا یہ سفر کوئی ارتقائی سفر تھا تو پھر مغرب میں یہ ادارہ ٹوٹ کیسے گیا ؟ارتقاء کا تقاضا تو یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلاتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ انبیاء کرام کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر زندگی گزارتا ہے تو وہاں زندگی کا اظہار صرف حیوانی سطح پر ہی ہوتا ہے جس کا نظارہ ہم مغربی دنیا کی غلیظ اور پلید معاشرت میں کر سکتے ہیں۔

یہ محض ایک مثال تھی ورنہ اس طرز کی اور بھی کئی فرضی کہانیاں ہمارے ہاں مشہور ہیں۔ مثلاً یہ کہ سب سے پہلے انسانیت پر غاروں اور پتھروں کا دورگزرا کہ جب سب لوگ غاروں میں رہتے تھے، پتے اور جانوروں کی کھالوں سے اپنے بدن ڈھانپتے تھے؛جنگلوں میں جنگلیوں کی طرح کی زندگی اختیار کیے ہوئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام کہانیوں کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ یہ سب کی سب انسانی معاشروں کی تشکیل میں وحی اور انبیاء کرام کے کردار کو نظر اندازکرنے کے لیے گھڑی گئی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں وحی کو علم نہیں سمجھا جاتا۔

8.14۔ سرمایہ دارانہ علم کی منطقی منزل

1.8.14۔ ایک نئی شخصیت کا جواز

سرمایہ دارانہ جاہلی تصورِ علم نے اخلاق رذیلہ سے متصف ایک نئی قسم کی شخصیت کے اظہار کا جواز فراہم کیا جس کے نتیجے میں ایک نئی انفرادیت معاشروں میں مقبول ہوئی۔ سرمایہ دارانہ تصورِ علم سے پہلے صرف ایسی شخصیت ہی معاشروں میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی جس کی زندگی انبیاء کرام کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کا منہ بولتا ثبوت ہوتی۔ لیکن اس تصورِ علم نے ایک ایسی شخصیت کے علمی جواز کی بنیادیں فراہم کیں جو انبیاء کرام کی تعلیمات سے کوسوں دور اور اخلاق رذیلہ سے متصف ہونے کے باوجود بھی معاشرے میں ایک باعزت علمی مقام پر فائز ہوسکتی تھی۔ اس ضمن میں آئن سٹائن کی مثال نہایت واضح ہے جسے سائنس کی دنیا میں ایک امام کی سی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کی زندگی زناوبدکاری کی غلاظت سے لت پت تھی (آئن سٹائن کے نجی معاملاتِ زندگی ان خطوط سے واضح ہوتے ہیں جو اس کی پوتی نے چھاپے ہیں)۔ ایسے ہی باوجود اس کے کہ کانٹ اغلام باز تھا، اسے مغربی فلسفے میں بلند ترین مقام حاصل ہے۔ اگر آپ مغربی علم کے کسی دل دادہ شخص کو یہ مثال دیں تو وہ کہے گا کہ اس کے اخلاق کو مت دیکھو بلکہ اہم چیز اس کا سائنسی کارنامہ ہے۔ گویا مذہبی اخلاقیات اب علم کے معنوں میں شامل ہی نہیں رہیں۔ سرمایہ دارانہ تصورِ علم میں ایسی معلومات کوعلم سمجھا جاتا ہے جو سرمایہ دارانہ اخلاقیات یعنی حرص وحسد کی غمازی کرتی ہوں۔ آج علم کا تصور اس حد تک گر چکا ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر، ایم بی اے وغیرہ خاتون ننگے سر اور نیم برہنہ حالت میں ٹی وی پر بیٹھ کر انٹرویو دے رہی ہو تو اس کے علمی کارناموں کا تعارف اس شان سے کرایا جاتا ہے گویا وہ کتنی بڑی عالمہ ہے۔ اس کے مقابلے میں گاؤں میں رہنے والی خاتون جس کی حیا اسے نامحرم کے سامنے جانے سے روکتی ہو اسے جاہل، ان پڑھ اور گنوار کہا جاتاہے۔ سرمایہ دارانہ تصورِ علم نے مادہ پرستانہ سوچ اور دنیا داری کے رحجانات کو تقویت بخشی اور رہی سہی عیسائی اخلاقیات کا جنازہ مارٹن لوتھر اور کیلوین جیسے مفکرین کے خیالات سے برآمد ہونے والی پروٹسٹنٹ ازم نے نکال دیا۔ اس فرقے نے عیسائی عوام میں یہ خیالات عام کیے کہ بائبل کی تشریح ہر شخص خود کر سکتا ہے، انسان اور خدا کے درمیان تعلق فرد کا نجی معاملہ ہے جس کی صحت و عدم صحت پر کسی دوسرے فرد (مثلاً پوپ) کو حکم لگانے یافتویٰ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے؛ چونکہ خدا اور بندے کا تعلق نجی اور اندرونی احساسات پر مبنی ہے لہٰذا ہرشخص کو حق حاصل ہے کہ عبادت کرنے کا جو بھی طریقہ اختیار کرنا چاہے کرلے، دنیا کی کامیابی آخرت کی کامیابی کا پیش خیمہ ہے، اصل عباد ت چرچ جانا یا ذکر واذکار نہیں بلکہ دنیا کے کام زیادہ انہماک سے کرنا ہے نیز فطرت کا مطالعہ بھی اتنا اہم ہے کہ جتنا بائبل کا۔

درحقیقت جدیدیت کی کامیابی کی اصل وجہ مادہ پرست فلسفیوں کے افکار سے زیادہ وہ مذہبی عناصر تھے جنہوں نے اصلاحِ مذہب کے نام پر مذہبی تعلیمات کو مسخ کر کے جدیدیت کی مذہبی توجیہات بیان کیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس اور میکس ویبر جدیدت کی کامیابی کو اصلاح مذہب کی تحریک (Reformation) کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اصلاح مذہب کی تحریک کامیاب نہ ہوتی تو جدیدیت یورپ میں شکست کھاجاتی کیوں کہ مذہبی آزادی کی روش ہی وہ راستہ ہے جو آگے چل کر نفس پرستی اور دنیا کی محبت جیسے جذبات دلوں میں راسخ کرنے کا باعث بنتی ہے۔

2.8.14۔ مذہبی ایمانیات کا انکار

ادراکِ حقیقت کے اس ارتقائی تصور کا دوسرا منطقی نتیجہ بالآخر پس جدیدیت (post-modernism) کی شکل میں ظاہر ہوا جس نے حق کے وجود کا ہی انکار کرڈالا۔ جدیدیت نے ادراکِ حقیقت کے لیے سائنسی طریقے پر اعتماد کرنے کی دعوت تو دی لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہاکہ حقیقت کا حتمی ادراک ممکن ہی نہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی حتمی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں تو اسے تلاش کیوں کیا جائے؟ نیز جب حقیقت معلوم ہی نہیں تو یہ کیسے طے ہوگا کہ جس سائنسی طریقے پر ہم عمل پیرا ہیں وہ ہمیں حقیقت کے قریب کر رہاہے یادور؟یعنی جب منزل کا ملنا ہی ناممکن ٹھہرا تو اس بات کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے کہ ”کس طرح“دوڑا جائے؟ یہی وہ سوالات ہیں کہ جن کا جدیدی مفکرین کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

پس جدیدی فکر نے کسی حتمی حقیقت (absolute truth) کے وجود ہی کا انکار کرڈالا یعنی حقیقت ایک اضافی (relative) شے بن گئی جو ہرفرد، معاشرے اور زمانے کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔ ان مفکرین کے نزدیک زندگی بعدالموت وغیرہ کے سوالات کالعدم اور لایعنی ٹھہرے یعنی مرنے کے بعد زندگی ہے ہی نہیں تو اس کے با رے میں سوچنا بے کار کی بات ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ تو اس وجود انسانی کا ہے جو اس دنیا میں اسے حاصل ہے، اس وجود سے پہلے انسان نہ تو کہیں تھا نہ ہی اس کے بعد وہ کہیں اور جانے والا ہے۔اس فکر کے نتیجے میں پس جدیدیت کے نزدیک دنیاوی زندگی کی حقیقت اور معنویت محض کھیل تماشا اور مزے کرنا ہے۔ وٹگنسٹائن کی فکر کا نچوڑ یہ ہے:

Life is a game, and maturity is to play it seriously.

یعنی زندگی ایک کھیل ہے اور عقل مندی یہ ہے کہ اسے سنجیدگی سے کھیلا جائے۔ بیسویں صدی کے وسط مین جب یہ فکر یورپ میں عام ہوئی تو نوجوانوں میں خودکشیاں کرنے، سب کچھ چھوڑ کرجنگلوں میں جابسنے اور ہیروئن اور بھنگ استعمال کر کے مست رہنے کے رحجانات پروان چڑھے۔ وٹگنسٹائن جیسے بڑے فلسفی نے آخرکار تنگ آ کر خود کشی کی۔ یہ نت نئے فیشن کی بھرمار اور راک موسیقی کا پھیلاؤ اسی زمانے کی پیداوار ہے۔ الغرض ہرایسا کام کیاجانے لگا جسے لوگ عجیب سمجھتے تھے اور ہر ایسے کام میں معنی تلاش کیے گئے جنہیں لوگ عام پر طور پر بے معنی گردانتے تھے۔ اگر زندگی بے معنی ہے تو پھر کسی خاص طریقے سے ہی زندگی گزارنے میں معنی کیوں تلاش کیے جائیں؛ ہرطریقہ مساوی طورپر بے معنی ہے لہٰذا سب کا اظہار کرنا چاہیے۔ آخر کسی خاص طریقے کے ساتھ ہی گانا کیوں گایا جائے ہر اس طریقے سے گانا گاؤ جسے لوگ عام طورپر غیر عقلی(senseless)سمجھتے ہیں۔ یہ اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ آئے دن سرا ور داڑھی کے بالوں کے نئے نئے انداز نظر آتے ہیں۔ کبھی پینٹ کے پانچے پھاڑ لیے جاتے ہیں اور کبھی اسے الٹا کرکے پہنا جاتا ہے؛ کبھی مرد کانوں میں بالیاں لٹکائے گھومتے دکھائی دیتے ہیں اور عورتوں کے فیشن کی بھرمار وغیرہ وغیرہ۔ اور جب ان سے پوچھا جائے کہ بھائی یہ کیاکررہے ہو تو جواب ملتاہے ”فیشن“۔ فیشن کا مطلب ہی بے معنی کاموں میں معنی تلاش کرنا ہے۔ آزادی کا خواہاں شخص منعویت ”فرق“ (difference) میں تلاش کرتا ہے یعنی آزاد انفرادیت کا اظہار فرق کے طریقے سے ہوتا ہے جبکہ عبدیت کا اظہار فرق میں نہیں بلکہ یکسانیت (similarity)میں ہوتا ہے۔ میری ذات جس قدر آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ولا میں فنا ہو گی اتنی ہی زیادہ معنی خیز ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مولوی اور صوفی وہی حلیہ اپناتا ہے جو چودہ سوبرس قبل کا نقشہ پیش کر سکے۔ زندگی بعدالموت اور اس کی اصل حقیقت کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان مفکرین کے ہاتھ زندگی بعدالموت کے خلاف کوئی ایسی قاطع دلیل آگئی ہے جسے رد کرنا ناممکن ہو بلکہ یہ حقائق حصولِ علم کے ان ممکنہ ذرائع کی گرفت سے ہی باہر ہیں جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں (یعنی حواسِ خمسہ اور عقلِ انسانی)۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ادراکِ حقیقت کا ذریعہ اگر کوئی ہے تو وہ وحی انبیاء کرام کی تعلیمات ہیں جن کی حیثیت خبر صادق کی ہے اور جنہیں کسی اور ذریعہ علم سے پرکھا (judge) نہیں جاسکتا کیوں کہ یہی اصل میزان ہیں۔

پس جدیدیت کے ان افکار کو ان معنوں میں علمی سطح پربرتری حاصل ہوئی ہے کہ جدیدیت کے حامی مفکرین مثلاً ہابر ماس وغیرہ کے پاس ان کے جواب میں مغربی تہذیب کے آفاقی نیز عقلی طورپر برتر ہونے کی دلیل موجود نہیں رہی۔ البتہ ابھی اس فکر کااظہار سیاسی سطح پر نہیں ہوا لیکن یاد رہے کہ فکر پہلے کتابوں میں لکھی جاتی ہے اور پھر وہ معاشرے اور ریاست میں نفوذ کرتی ہے۔ آخر لوگ ایک دن میں ہی تو enlightened نہیں ہوئے تھے بلکہ کئی صدیوں کی خونیں تاریخ کے بعد ہی جدیدیت معاشروں پر غالب آئی۔ بدقسمتی سے ہمارے مسلم مفکرین (جوکئی صدیاں پیچھے کی سوچتے ہیں) جدیدیت کے لیے اسلامی علمیت سے دلائل فراہم کرنے کی فکر میں کوشاں ہیں۔ کبھی اجتہاد کے نام پر نصوص میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں، کبھی اسلام کی نئی تعبیرات کی بات کرتے ہیں، کبھی اجماعی مسائل امت سے انحراف کی دعوت دیتے ہیں، کبھی مغربی افکار و تصورات کی حقیقت سمجھے بغیر ہی انہیں اسلام میں تلاش اور ان کا اسلامی جواز فراہم کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر عوام کو مذہب سے برگشتہ کرنے کے لیے مولوی کو طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے ہیں تاکہ عوام کا رابطہ علماء سے کٹ جائے اور جدیدیت کی راہ ہموار ہوسکے۔ مساجد ومدراس اور علمائے کرام کے وقار کا تحفظ درحقیقت جدیدیت کے خلاف جنگ میں اسلام کی زندگی اور بقاء کا مسئلہ ہے۔

9.14۔ سرمایہ دارانہ علم کی تشکیل

سرمایہ دارانہ علم درحقیقت (anthropocentric approach) یعنی ”حوادثاتِ عالم اور انسانی زندگی اور معاشروں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی تشریح وتعبیر میں humanنقطہ نگاہ سے غور کرنے“ کے رویے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں وحی سے حاصل ہونے والے علم کی روشنی میں اس کائنات اور انسانی معاشروں کو سمجھنے کی کوشش کرنا سرمایہ دارانہ تصورِ علم میں معتبر علم نہیں کہلاتا۔ سائنسی علوم کے ماہرین جب بھی انسانی رویوں کے اخلاقی وغیر اخلاقی اظہار اور معاشروں وریاست کی صحیح اور غلط تشکیل وترتیب کے اصول وضع کرتے ہیں تو اس کے لیے وہ ہرگز وحی کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ وہ آزادی،مساوات اور ترقی کے مجموعی خاکے کو سامنے رکھ کر ان سوالات پر غور کرتے ہیں۔

تنویری علم سائنس کے دو شاخوں کی صورت میں متشکل ہو کر آج ہمارے سامنے موجود ہے:(۱) طبعی سائنسز اور (۲) معاشرتی سائنسز۔

پہلے کا دائرہ کارانسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط کے امکانا ت کو بڑھانا جبکہ دوسرے کا مطلوب ایک ایسے معیاری معاشرے اور ریاست کی ترتیب وتنظیم کا لائحہ عمل وضع کرنا ہے جہاں افراد کو زیادہ سے زیادہ آزادی اور سرمایے کی بڑھوتری کے مواقع میسر آسکیں۔ اس بات کی مثا ل یوں سمجھی جاسکتی ہے جیسے اسلامی علمیت علم الفقہ، کلام اور تصوف وغیرہ کی صورت میں متشکل ہو کر سامنے آئی ہے یعنی جیسے علم اصول فقہ اور فقہ کا مقصد قرآن وسنت میں واردشد ہ نصوص سے وہ اصول اخدکرنا ہے جن کی روشنی میں یہ طے کیا جاسکے کہ ان گنت انسانی اعمال و افعال سے رضائے الٰہی کے حصول کا درست طریقہ کیا ہے(یعنی ان اعمال کا شرعی حکم بیان کیاجاسکے )نیز یہ معلوم کیا جاسکے کہ افراد کے تعلقات کو کن ضروری بندشوں کا پابند بنا کر معاشرے کو احکامات الٰہی کے تابع کیا جاسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح سوشل سائنسز کا مقصد ایک طرف سرمایہ دارانہ شخصیت، معاشرے و ریاست کی علمی توجیہ پیش کرنا ہے اور دوسری طرف یہ افرادکے تعلقات میں آزادی کی ان لازمی حدود کا تعین کرنے کے اصول وضع کرتی ہیں جن کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معاشرتی وریاستی صف بندی وجود میں آسکے۔ تنویری مفکرین کا یقین تھا کہ جس طرح فطرت میں ایسے قوانین ہیں جو اشیاء پر عائد ہوتے ہیں بالکل اسی طرح انسانی معاشروں میں بھی ایسے قوانین فطرت ہیں جن کے تحت معاشرے قائم رہتے ہیں لہٰذا معاشروں اور انسانی تعلقات کی تفہیم کے لیے بھی سائنسی تجربے اور مشاہدے کا طریقہ استعمال کرنا ضروری ہے۔ سوشل سائنسز کا مقصد ایک ایسے نئے دستور، ایک ایسے نئے قانون، ایک ایسے نئے معاشرتی نظام کا قیام ہے جسے الہامی اور آسمانی قانون سے کوئی واسطہ یا رابطہ نہ ہو۔ ایک ایسا نیا سیاسی ڈھانچہ جس میں کوئی رعایا (subjects) نہ ہوبلکہ سب شہری(citizens) ہوں۔

15۔ وحی،سائنس اور ٹیکنالوجی

1.15۔ ابتدائیہ

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔یہ ایک اٹل حقیقت اور سچ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا اور مکمل کیا۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا (سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳)۔

اسلامی علمیت کی بنیاد وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبروں پر نازل فرمائی۔ انسان بحیثیت عبدکے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کا محتاج رہاہے اور رہے گا۔ انسان کے کسی بھی کلیہ میں (چاہے وہ حس ہو، عقل یا وجدان) اتنی سکت و صلاحیت نہیں کہ وہ محض اپنے بل بوتے پر ”الحق“ تک رسائی حاصل کر سکے۔ لہٰذا اسلام میں علم کا اصل ماخذ وحی ہے اور انسان کی تمام کلیات (بشمول عقل وحواس) کا درجہ وحی کے ماتحت ہے۔

موجودہ دور میں سائنس اور سائنسی علوم کا بہت دوردورہ ہے۔ عام مسلما ن تو ایک طرف،سائنسی ترقی نے کئی بزرگان دین کو بھی مرعوب کر دیا ہے۔ ایک سطحی نگاہ سے دیکھنے والے مسلمان کو بظاہر سائنس کی تباہ کاریاں اور برائیاں تو نظرآجاتی ہیں لیکن پھر بھی مجموعی طورپر دیکھنے والوں کو یہ قابل قبول ہی معلوم ہوتی ہیں اور بھلا کیوں کر معلوم نہ ہوں آخر اس کی وجہ سے مغربی تہذیب نے بے تحاشا مادی ترقی کی اور موجودہ دور میں دنیا کی زمام کارسنبھالی ہوئی ہے۔ اکثر لوگوں کے خیال میں مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کی وجہ بھی انہی سائنسی علوم میں ترقی نہ کرنا ہے۔ درج ذیل مضمون میں ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ہم سائنس کی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کریں۔

جدید سائنس کی ابتداء گلیلیو،اور نیوٹن جیسے سائنس دانوں سے ہوتی ہے لیکن یہ تمام سائنس دان اور ان کے نظریات اچانک کسی دن معجزے کے طور پر پیدا نہیں ہوئے بلکہ ان کے پیچھے یورپ کا مخصوص تاریخی عمل کارفرما رہاہے۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں عیسائی علمیت غالب تھی۔ لوگ علم اور رہنمائی کے لیے کلیسا اور پادریوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ عیسائیت کی ابتدا تو الہامی پیغام سے ہوئی تھی لیکن جلد ہی اس میں بڑے پیمانے پر تحریفات ہوئیں۔ جو عیسائیت پہلی صدی عیسوی کے بعد رائج ہوئی وہ اصل میں سینٹ پال کے نظریات تھے۔ بعد میں چوتھی صدی میں سینٹ آگستائن اور پھر تیرھویں صدی عیسوی میں سینٹ تھامس ایکویناس کی اصولی تحریفات نے عیسائی علمیت میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو جواز فراہم کیا۔ ان تبدیلیوں کا محرک وہ قدیم یونانی فلسفے کے نظریات تھے جو اس وقت کی رومی سلطنت میں زور پکڑتے جا رہے تھے۔ عیسائی علمیت کی اصولی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ بات قابل قبول ہوگئی کہ سچ تک رسائی کےلیے وحی کے علاوہ بھی ذرائع ہوسکتے ہیں۔ مثلاً اکثر پادریوں کے خیال میں افلاطون اور ارسطو وحی کے بجائے اپنی عقل اور حواس کی مدد سے سچ تک پہنچے تھے اور اس اصولی تبدیلی کی رخصت کو استعمال کرکے قدیم یونانی فلسفے کی کئی خرافات عیسائی مذہب میں شامل کر لی گئیں۔

مسخ شدہ عیسائی افکار اور کلیسا کی زیادتیوں کے باعث عیسائیت کمزور سے کمزور ترہوتی چلی گئی۔ لوگ عام رہنمائی اور علم کے لیے عیسائیت کو چھوڑ کر اپنی عقل اور حواس پر زیادہ بھروسا کرنے لگے۔ عیسائیت کی شکل میں مذہب ایک دھوکا اور کلیسا زندگی کی دشمن قرار پائی۔ اس موقع پر عیسائیت کے حامیوں نے تحریک اصلاح (Reformation) کی صورت میں اور روایت کے حامیوں نے روایت پسندی (Conservatism) کی صورت میں حالا ت کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن ناکامی مقدربنی۔ جو تحریک کامیاب ہوئی اس کانام تھا نشاۃ ثانیہ (Renaissance) جس نے آگے چل کر تحریک تنویر(Enlightenment) اور پھر جدید سائنس کے عروج کی راہ ہموار کی۔ نشاۃ ثانیہ کا بنیادی نظریہ انسانیت کی مذہب سے آزادی اور دنیاوی زندگی کا بھرپور اثبات تھا۔ یہیں سے مغربی تہذیب میں انسان پرستی کی ابتدا ہوتی ہے۔ تحریک تنویر کی ایک خاص صفت اس کا انسان کی سمجھ پر اعتماد اوراس کی تمام کلیات کا اثبات تھا۔اٹھارھویں صدی کے مشہور فلسفی کانٹ نے اس سوال ”تنویریت کیا ہے؟“ کے جواب میں کہاکہ تنویریت انسانیت کا حدِبلوغت کو پارکرنا ہے۔ جب انسان اپنی تمام خود ساختہ پابندیوں اور جکڑبندیوں کو اتار پھینکے۔ سوائے اپنی ذات کے کسی اور کی مدد اور محتاجی اختیار نہ کرے۔ اپنی سمجھ اور فیصلوں کےلیے صرف اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرے۔ اس موقع پر تحریک تنویر کی جو علمیت قرار پائی وہ تھی جدید سائنس اور سائنٹفک میتھڈ(منہج)۔

2.15۔ عیسائیت اور سائنس

سائنس کی تاریخ میں کوپرنیکس کے نظام شمسی سے متعلق نظریے کو انقلاب کی حیثیت حاصل ہے۔ جدید سائنس سے پہلے عیسائیت ”زمین مرکز ِکائنات“ کے نظریے کی قائل تھی۔ اس نظریے کے مطابق دنیا کائنات کا مرکز ہے۔ سورج اور باقی تمام سیارے اس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ گوکہ یہ نظریہ اصل میں ارسطو کا تھا لیکن عیسائی پادریوں نے یونانی فلسفے سے مرعوبیت کی بنا پر اسے عیسائی عقائد کا حصہ بنا لیا تھا۔ ان کے خیال میں اس نظریے سے انسان کے خداوند کریم کے مقرب ہونے اور عیسائیت کے حق میں ہونے کی دلیل ملتی تھی۔ کوپرنیکس نے جب سائنسی اصولوں کے تحت”سورج مرکز کائنات“ کا نظریہ پیش کیا تو اس سے عوام کے درمیان عیسائیت کی ساکھ کو زبردست جھٹکا لگا۔ اس نظریے کے تحت نظام شمسی میں سورج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور زمین اس کے گرد چکر لگاتی ہے۔ گلیلیو کی ایجاد کردہ دوربین نے اس نظریے کو مزید حسّی شواہد فراہم کیے۔ اس واقعہ کو سائنس کی جیت اور مذہب کی ہار سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں کا عیسائی مذہب کے ذریعہ علم ہونے پر سے اعتماد اٹھ گیا اور یورپ کی عوام علم اور راہنمائی کے لیے سائنسی علوم اور سائنس دانوں کی طرف دیکھنے لگے۔

3.15۔ جدید سائنس اور اس کے اغراض ومقاصد

سائنس اور اس سے متعلقہ علوم کا مقصد فطرت کے خزانوں کی کھوج لگانا اور انسانیت کے علم میں اضافہ کرنا کہا جاتاہے۔ لیکن معلومات کے اس اضافہ کو اسی وقت درست گردانا جائے گا جب اس کے حصول کے لیے سائنٹفک میتھڈ(منہج) استعمال کیا گیا ہو۔ کسی بھی علم کو صرف اسی وقت سائنس کا درجہ حاصل ہوتا ہے جب اس میں سائنٹفک میتھڈ کو مستقل حیثیت حاصل ہو جائے۔ جدید سائنس کے ابتدائی دورمیں سائنس دانوں کی زیادہ تر توجہ کا مرکز نیچرل سائنس یعنی طبیعات، کیمیا، حیاتیات اور ریاضی رہے۔ ان علوم کی مدد سے انسان مادے اور اشیاء کی خصوصیات کو جاننے اور پھر ان سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی کوشش کرتا رہا۔ اس طریقہ سائنس کا مکمل دارومدار انسانی سمجھ اور صلاحیتوں پر تھا۔ اس میں کہیں بھی خدا کی محتاجی یا راہنمائی کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ تحریک تنویر کے فلسفیوں (خصوصاً کانٹ) کو نیوٹن کا یہ سائنسی طریقہ بہت پسند آیا اور انہوں نے اس طریقہ کو باقی معاشی،معاشرتی اور سیاسی علوم میں رائج کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آہستہ آہستہ ان کی یہ کوشش کامیا ب ہوئی جس کا ثبوت موجود دورمیں تقریباً تمام علوم کے ساتھ لفظ ”سائنس“کا اضافہ ہے مثلاً پولیٹکل سائنس، مینجمنٹ سائنس وغیرہ اور ان علوم میں کہیں بھی وحی یا خدا کی مدد کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ جدید سائنس کے مندرجہ ذیل اغراض ومقاصد بتائے جاتے ہیں:

  1. دنیا وکائنات کے مظاہر کی تفتیش اور ان کو انسانی عقل کے مطابق سمجھنا۔
  2. ان مظاہر کے اسباب وعلل بیان کرنا۔
  3. ان مظاہر کی ٹھیک پیش گوئی کرنا۔
  4. ان مظاہر کو قابو کر کے ان پر اختیار حاصل کرنا۔

مختصر اً یہ کہ سائنسی علمیت انسان کے حصولِ علم کی ایک ایسی کاوش کا نام ہے جس کا مکمل دارومدار انسانی عقل، حواس او ر سمجھ پر ہے اور جس کا مقصد انسان کو دنیا اور کائنات کے مظاہر پر زیادہ سے زیادہ اختیار دلانا ہے تاکہ وہ ان سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے۔

4.15۔ سائنس کا ارتقائی نظریہ سچائی

اسلامی علمیت اور سائنسی علمیت کا ایک اور بڑا واضح فرق ان دونوں کا نظریہ سچائی ہے۔ اسلام میں ”الحق“ ایک ہے جو ہر زمان و مکان کے لیے ایک اٹل حقیقت ہے جبکہ سائنس ارتقائی نظریہ سچ کی قائل ہے۔ سائنسی علوم میں کوئی اٹل سچ یا سچائی نہیں ہوتی بلکہ ہر زمانے کے سائنس دان اپنے زمانے کی معلومات کی بنیاد پر مختلف نظریات کو سچ قرار دیتے ہیں۔ یہ نظریات اس وقت تک سچائی کے مرتبے پر فائز رہتے ہیں جب تک یا تو یہ غلط ثابت نہیں کر دیے جاتے یا ان سے بہتر کوئی نظریہ پیش نہیں کر دیا جاتا۔ سائنس کی دنیا میں نہ صرف ہر زمانے میں الگ سچ ممکن ہے بلکہ ایک زمانے میں کئی سچ بھی ممکن ہیں۔ اس بکھری ہوئی کیفیت کو یکجا کرنے کے لیے سائنسی دنیا میں تحقیقی اشاعتوں کا ایک نظام رائج ہے۔ ایک سائنس دان کے کام کو جانچنے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کتنے تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں اور اس کے کام کو کتنے تحقیقی مقالے حوالے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ہر نیا زمانہ پچھلے زمانے سے بہتر سمجھا جاتا ہے کیوں کہ ہر نئے زمانے میں اور زیادہ معلومات جمع کر لی جاتی ہیں۔ سائنس میں ترقی سے مراد محض اور زیادہ سے زیادہ ایسی دنیاوی معلومات کا جمع ہوجانا ہے جس سے انسان اور بھی زیادہ کائنات پر تصرف حاصل کر سکے جبکہ اسلام کے مطابق بہترین زمانہ آقائے دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اس کے بعد صحابہ رضی اﷲ عنہم پھر تابعین اور پھر تبع تابعین ہر گزرتے زمانے کے ساتھ دین داری کے رجحان میں کمی اور مسلمانوں میں مجموعی طور پر خوف خدا سے دوری بڑھ رہی ہے اور کیوں کہ شریعت میں علم کا تعلق تقویٰ اور پرہیز گاری سے ہے لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی لحاظ سے موجودہ دور میں علم کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔

5.15۔ سائنٹفک میتھڈ

سائنسی طریقہ کار میں کسی بھی معلومات کو حتمی اور آخری حقیقت نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس میں مستقل تحقیقات اور تبدیلیاں جاری رہتی ہیں۔ اس طریقے کو تجرباتی طریقہ کار بھی کہا جاتا ہے اس میں سائنس دان مشاہدے، تجربے اور عقلی دلائل کی مدد سے مظاہر کی تفتیش اور پھر اس سے علم بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس طریقہ کار میں ضروری نہیں کہ نتائج پہلے سے معلوم ہوں لہٰذا نتائج کے معتبر ہونے کا تعلق نتیجے سے نہیں بلکہ طریقہ کار سے ہوتا ہے۔ تجرباتی طریقہ سائنس کے نتائج اتنے ہی زیادہ معتبر سمجھے جائیں گے جتنا زیادہ سائنسی طریقۂ مشاہدہ اور عقلی دلائل استعمال کیے گئے ہوں گے۔ اس بات کو ریاضی کے سوال کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے جس میں سوال سے صحیح جواب تک پہنچنے کے لیے ریاضی کے تصدیق شدہ اصولوں کو استعمال کرنے کی پابندی ہوتی ہے۔ سوال کا جواب پہلے سے معلوم نہیں ہوتا لیکن اسے حل کرنے کے دوران تصدیق شدہ اصولوں کی پابندی کے طریقہ یعنی میتھڈ کی وجہ سے جواب معتبر ہو جاتا ہے۔ نیوٹن نے اپنی کتاب Principia Mathematica میں سائنس کے ریاضیاتی اصول بڑی تفصیل سے بیان کیے ہیں۔مختصراً یہ کہ سائنٹفک میتھڈ کی آخری حد انسانی مشاہدہ، عقل اور سمجھ ہے۔ مشاہدے کی تفصیل حواس خمسہ اور اس کی حدود وہ تمام آلات جو ان حواس کے مددگار و معاون تصور کیے جاتے ہیں مثلاً دور بین اور خوردبین انسان کی قوت بینائی کی صلاحیت میں بے تحاشا اضافہ کرتے ہیں۔

عقلیت کا تعلق استقرائی اور استخراجی طریقہ دلیل سے ہے۔ استقرائی وہ طریقہ دلیل ہے جس میں انسان جزوی مشاہدے اور حادثوں سے کلی اصول اخذ کرتا ہے جبکہ استخراجی طریقہ دلیل اس کا الٹ یعنی کلی اصول سے جزیات کا استخراج ہے۔جبکہ سائنٹفک میتھڈ میں انسانی سمجھ سے مراد پہلے ادوار کی وہ تمام معلومات اور تجربوں کا مجموعہ ہے جو اس سائنسی طریقہ مشاہدے اور عقلیت سے جمع کیا گیا ہو۔ سائنسی تحقیق میں Literature review سے مراد یہی سمجھ ہے۔ سائنسی میتھڈ کی ایک اور خصوصیت اس کا متعین خصوصی حالات میں ہر بار ایک ہی جیسے نتائج پر پہنچنا ہے۔ ان متعین خصوصی حالات کی مدد سے کوئی بھی سائنس دان کسی بھی تحقیقی تجربے کو دہرا سکتا ہے۔

یہ سائنسی طریقہ کار موجودہ دور کے اکثر علوم میں تحقیقی طریقہ کار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تحقیقی طریقہ کار عددی (Quantitative) یا تاثراتی (Qualitative) ہوسکتا ہے۔ عددی ہونے کی صورت میں معلومات میں اضافے یا تصدیق کے لیے شماریات استعمال کی جاتی ہے جبکہ تاثراتی ہونے کی صورت میں رائے، تصورات اور تنقیدوں کی مدد لی جاتی ہے۔

6.15۔ پس جدیدیت اور سائنس

تحریک تنویر اور جدیدیت کے مفکرین سائنس اور سائنسی طریقہ کار کو معلومات حاصل کرنے کا بہترین آفاقی طریقہ سمجھتے تھے۔ لیکن پس جدیدیت کے مفکر سائنس اور سائنٹفک میتھڈ کی اس آفاقی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے تاریخ کا اتفاق سمجھتے ہیں کہ اسے ایک علمی حیثیت حاصل ہو گئی۔ جدیدیت کی سائنس کسی مخصوص سچ کی قائل تو نہ تھی بلکہ (کسی ممکنہ) سچ کی جانب بڑھنے والے طریقے (یعنی سائنٹفک میتھڈ) کی قائل تھی لیکن پس جدیدیت کیوں کہ کسی سچ کو ممکن ہی نہیں سمجھتی لہٰذا وہ کسی مخصوص طریقہ کار کے بہتر ہونے کی بھی قائل نہیں۔ پس جدیدیت کے نقطہ نظر سے سائنس، ٹیکنالوجی یا کسی بھی مضمون میں امتیازی حیثیت متعین کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ضروری۔ مختصراً یہ کہ موجودہ دور میں پس جدیدیت نہ تو سائنس کو رد کرتی ہے اور نہ ٹیکنالوجی کو بلکہ وہ تو صرف سائنس کو کوئی امتیازی حیثیت دینے کی انکاری ہے۔

اوپر دی ہوئی تاریخ، تفصیل اور دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لفظ سائنس سے مراد ایک ایسی علمیت ہے جس کا دراومدار صرف اور صرف انسانی سمجھ اور عقل پر ہے۔ سائنسی علمیت کو وحی سے کوئی سروکار نہیں۔ جدید یورپ نے اسے عیسائیت سے بغاوت کرنے اور بے دین مغربی تہذیب کی بنیاد رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کا مقصد کائنات کو تسخیر کر کے اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا ہے۔ بعض مسلمان قرآن کریم میں سائنس تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر شرعی احکام کی حمایت کے لیے سائنسی دلیل دینے کی کوشش کرتے ہیں یہ دونوں ہی رویے سائنس کی حقیقت کو نہ پہنچاننے کے باعث اورمرعوبیت کا نتیجہ ہیں۔ یہ وہی راہ ہے جس پر عیسائیت یونانی فلسفے کی آمیزش کے بعد چلی اور آخرکار شکست سے دو چار ہوئی۔ گلیلیو کا مشہور قول ہے۔ لہٰذا جسے آخرت کی فکر ہو اور جو اﷲ کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہو اس کے لیے تو ذریعہ علم صرف وحی ہے باقی جو دنیا سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا چاہتا ہے اس کے لیے ذریعہ معلومات سائنس ہے۔

7.15۔ٹیکنو سائنس

آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ذہنوں پر سائنسی علمیت کا غلبہ اور روزمرہ زندگی میں مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر انحصار ہے۔ ایک عام آدمی کا ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی کو تصور کرنا ممکن نہیں۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کا ٹیکنالوجی سے مرعوب ہوجانا، سائنس اور ٹیکنالوجی کے تاریخی تصورات سے ناآشنائی کے باعث ان پر کوئی حتمی اسلامی رائے کا نہ رکھ پانا ایک فطری امر ہے۔ اب ہماری یہ کوشش ہوگی کہ

  1. سائنس اور ٹیکنالوجی کے تاریخی فرق کو واضح کریں۔
  2. ٹیکنالوجی اور اقدار کے تعلق کو واضح کریں۔
  3. موجودہ دور کی ٹیکنالوجی یعنی ٹینکو سائنس کی تفصیل اوربنیادی قدر بیان کریں۔

1.7.15۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا تاریخی فرق

جدید سائنس کی ابتدا جدیدیت کے سائنس دانوں سے ہوتی ہے۔ جدید سائنس کو وحی کی متبادل علمیت تصور کیا جاتا ہے اور انسانی کلیات پر مبنی اس ذریعہ معلومات کا دارومدار سائنٹفک میتھڈ پر ہے۔ اس مخصوص سائنٹفک میتھڈ پر مبنی سائنس کی تاریخ کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔ البتہ اس کے کچھ حصوں کی جڑیں قدیم یونانی فلسفے میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب لفظ ٹیکنالوجی کا ماخذ ٹیکنیک یعنی تدبیر ہے۔ اور انسانی تاریخ میں متعدد روزمرہ مسائل کے لیے مختلف معاشروں سے کئی تدابیر ثابت ہیں۔ مثلاً ہر تہذیب نے اپنے طور پر گھر، برتن، ہتھیار اور اوزار بنانے کے فن سیکھے اور سیکھائے اور تدابیر اختیار کیں۔ یہی بات تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے اور جوتوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ مختصراً یہ کہ مختلف طرح کے مسائل ہوں یا بیماری، ہر زمانے اور تہذیب کے لوگوں نے ان سے نمٹنے کے لیے کوئی نہ کوئی تدبیر ضرور اختیار کی۔ جو تدابیر سہل اور فائدہ مند تھیں وہ مقبول عام ہوئیں جبکہ اکثر آہستہ آہستہ ناپید ہوگئیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے معاملات و مسائل کے حل اور مشاغل کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی تدابیر اس زمانے کی ٹیکنالوجی قرار پائی۔ مثال کے طور پر قدیم مصری تہذیب میں اہرام مصر بنانے اور مردہ جسم کو حنوط کرنے کی ٹیکنالوجی تو تھی لیکن جدید سائنس نہ تھی۔ اہرام بنانا اور لاشوں کو حنوط کرنا قدیم مصر کی روایات کا حصہ تھا لہٰذا ان مشاغل کو بہتر طور پر انجام دینے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کی گئیں۔ اسی طرح موئن جو دڑو اور ہڑپہ شہری ثقافتیں تھیں۔ لہٰذا ان تہذیبوں کی سول ٹیکنالوجی خاص ترقی یافتہ تھی مثلاً ان جگہوں پر نکاسی آب کا بہترین نظام تھا لیکن یہاں بھی جدید سائنس جیسی کسی علمیت کا پتہ نہیں ملتا۔

قدیم یونان میں لفظ ٹیکنی سے مراد ایک فن پارہ (یعنی آرٹ کا نمونہ) تھا۔ چونکہ حسن پرستی قدیم یونان کی بنیادی قدر تھی لہٰذا یونان کی تہذیب اور technology artifact میں خوب بصورتی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ مثال کے طور پر قدیم یونان میں ستون اصل میں اس لیے ترچھے بنائے جاتے تھے کہ وہ دیکھنے والے کو سیدھے معلوم ہوں۔ اس معاشرے میں ٹیکنالوجی کا تعلق آرٹ سے تھا نہ کہ کسی سائنس نما علمیت سے۔

قدیم تہذیبوں کے بعد قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں رومیوں نے بھی بھرپور تدبیریں کیں۔ یہ قوم اپنی عسکری فتوحات اور جنگی چالوں کی وجہ سے مشہور تھی۔ انہوں نے یونان کو فتح کرنے کے بعد یورپ کے ایک بڑے حصے پر تقریباً ہزار سال تک حکومت کی۔ رومیوں کی قابل ذکر ٹیکنالوجی یعنی تدابیر میں فوجوں کی نقل و حرکت کے لیے پکی سڑکوں کی تعمیر، حکومت کے کونے کونے تک ترسیل اطلاع کا انتظام، بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے پکے گھروں کی تعمیر، شہروں میں پانی کا انتظام اور گرم حمام وغیرہ شامل ہیں۔ رومیوں کی اکثر تدابیر آسان اور عوامی تھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔

اوپر کی مثالوں سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ اول تو یہ کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم نہیں جیسے کہ ہمیں آج کل کی دنیا میں نظر آتا ہے۔ بلکہ تاریخ میں جدید سائنس کے بغیر بھی ٹیکنالوجی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہے۔ دوسری خاص بات یہ کہ ٹیکنالوجی یا تدبیر قدر سے آزاد نہیں ہوتی بلکہ اس معاشرے کی بنیاداور ایمانیات اس ٹیکنالوجی یا تدبیر میں پنہاں ہوتی ہیں۔

2.7.15۔ سائنس اور ٹیکنو سائنس کا تاریخی فرق

ایک عام صارف کے لیے موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں فرق کرنا ممکن نہیں۔ جدید پیداواری اشیاء (مصنوعات ہوں یا خدمات) سائنس اور ٹیکنالوجی کا مرکب نظر آتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں پنپنے والے اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے مخصوص مرکب کو اکثر مغربی مفکرین (مثلاً برونو لاٹور) ٹیکنو سائنس کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ ٹیکنوسائنس محض ایک تدبیر نہیں بلکہ سرمایے کی بڑھوتری کے لیے جدید سائنسی طرز فکر پر مبنی اور سرمایہ دارانہ اداروں کی تحقیقی مد میں مالی معاونت سے بنائی جانے والی تدبیر کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی ٹیکنالوجی انسان کی ضروریات سے زیادہ انسان کی خواہشات کی تکمیل میں مصروف نظر آتی ہے۔ مثلاً ایک سادہ اور مضبوط موٹر کار شہری زندگی میں سواری کی ضرورت تو ہوسکتی ہے لیکن روز بروز بدلتے ہوئے دل کش ماڈل اور ڈیزائن کے کیا معنی؟ اسی طرح ٹیلی فون بڑھتے ہوئے فاصلوں اور رابطوں کو کم کرنے کی ضرورت تو ہے لیکن ان کے بڑھتے چڑھتے ماڈل اور خصوصیات محض منافع بڑھانے کی ترکیبیں ہیں۔

موجودہ دور کی ٹیکنالوجی (یعنی ٹیکنو سائنس) کا دارومدار سرمایہ دارانہ نظم اور جدید سائنس پر ہے اور یہ سرمایے کی بڑھوتری کے لیے ایک موثر آلہ کار ہے۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں بنائی جانے والی بیشتر ٹیکنالوجی ملکوں کی جنگی اور دفاعی ضرورتوں کا نتیجہ تھیں۔ امریکا، روس اور یورپی ممالک نے جنگ عظیم اول اور دوم کے دور میں بے تحاشا ایجادیں بھی کیں اور انہیں موثر طور پر استعمال بھی کیا۔ بعد میں سرد جنگوں کے دوران مختلف ترقی یافتہ ملکوں کے دفاعی اداروں اور سرمایہ کار کارپوریشنوں نے اس عمل کو جاری رکھا۔ ان میں چند قابل ذکر نام امریکی خلائی تحقیق کا ادارہ NASA اور امریکا ہی کا محکمہ دفاع ہے۔ موجودہ دور میں ٹیکنو سائنس کی تحقیق کثیر سرمایے کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ سرمایہ یا تو کوئی حکومتی ادارہ اپنی دفاعی یا جنگی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فراہم کرے گا یا پھر کوئی ایسی بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنی جسے اپنے منافع کی بڑھوتری کے لیے کسی تکنیکی جدت کی ضرورت ہو۔ اس کثیر سرمایے سے جدید تکنیکی آلات سے لیس سائنسی تجربہ گاہیں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے جاتے ہیں۔ اور پھر یہاں دنیا کے بہترین دماغ جمع کیے جاتے ہیں جو ایسی تحقیق کر سکیں جس کے نتیجے میں سرمایے کو مزید فروغ حاصل ہو یا سرمایے کو فروغ دینے والی ریاست کا دفاع ہو سکے۔ مختصر یہ کہ سرمایہ دارانہ نظم میں سرمایے کی بڑھوتری کے مخصوص مقصد کی خاطر جدید سائنس کے تسخیر کائنات والے اصول کے تحت تدبیر کا نام ٹیکنو سائنس ہے۔

8.15۔ نظریہ اور عمل

جدید دور کے معاشرے میں نظریہ اور عمل کی بحث بہت اہم ہے۔ روایتی طور پر اس بحث میں دو انتہائی متضاد نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف مفکرین کا خیال ہے کہ نظریہ، عقائد یا خیالات کی بنیاد پر معاشرے میں عمل اور عملی طریقے رائج ہوتے ہیں جبکہ تاریخی مادیت کے حامیوں کے مطابق معاشرے کے عمل اور رائج عملی طریقوں سے لوگوں کے نظریات اور عقائد نشوونما پاتے ہیں۔ ایسی صورت میں علم کا منبع مادی دنیا قرار پاتی ہے۔ اس کے برخلاف ایک اسلامی معاشرے میں مسلمان دین کا علم حاصل کرتے ہیں اور علماء کی مدد سے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رائج کرتے ہیں لیکن موجودہ مسلمان معاشروں میں ایسی صورت بالکل بھی نہیں نظر آتی۔ آج کا مسلمان زیادہ تر دنیا کمانے کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے اور دین کی معلومات ناظرہ قرآن مجید اور نماز کی دعاؤں تک محدود ہے۔ اس قدر کمزور علمی بنیادوں کے ساتھ جب ایک عام مسلمان کا ٹیکنو سائنس سے سامنا ہوتا ہے تو وہ اس کی بنیادی قدر بڑھوتری برائے بڑھوترئ سرمایہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد عبادت کم اور تصرف فی الارض زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس کی شناخت عبد کے بجائے ایک صارف(customer) کی ہوجاتی ہے لہٰذا موجودہ دور میں سرمایہ داری اور ٹیکنو سائنس کے طاغوت سے دفاع کے لیے دین کا علم اور معرفتِ الٰہی لازمی ہیں۔

16۔سرمایہ دارانہ ثقافت اور جمالیات

سرمایہ داری محض ایک نظام نہیں یعنی ترتیب قوت کی ایک مخصوص ساخت نہیں وہ ایک طرزِ حیات ایک معاشرت بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کا انحصار سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معاشرت کے عمومی غلبہ پرہوتاہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ ثقافت خود بخود (spontaneously)تعمیر نہیں ہوتی بلکہ ان کو سرمایہ دارانہ ریاست اور مارکیٹ تعمیر کرتی ہے۔ اس باب میں ہم پہلے سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت اور سرمایہ دارانہ معاشرت کی نمایاں خصوصیات بیان کریں گے نیز یہ بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ ریاست آرٹ کی تجارت (commodification)اور بلدیاتی تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعہ کوکس طرح سرمایہ دارانہ معاشرت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

1.16۔ سرمایہ دارانہ ثقافت

ویسے تو ثقافت کا تصور نہایت پیچیدہ ہے اور اس کی کئی متضادتشریحات کی گئی ہیں لیکن ایک عام فہم تعبیریوں بھی کی جاسکتی ہے کہ ثقافت آشکارہ ان اقدار، آرزوؤں اور خواہشات میں ہوتی ہے جو ایک ماحول میں رہنے والا عام آدمی اپناتا ہے۔ یہ اقدار اور آرزوئیں سیکھی جاتی ہیں۔جبلّتی (instinctive) نہیں ہوتیں بلکہ جبلّتی میلانات کی ایک مخصوص تاریخی، جذباتی اور علمیاتی تشریح ہوتی ہیں۔ ان میلانات کو فروغ دینے میں ادب،مذہبیت، تعمیرات (آرکٹیکچر) اور فلسفیانہ مباحث کا سہارا لیاجاتا ہے۔ ثقافت کا اظہار ان روایات، رسوم اور رواج میں بھی ہوتا ہے جو ایک ماحول میں مانوس(اور عموماً) مقدس تصور کی جاتی ہیں۔

تہذیبیں یک ثقافتی(mono-cultural) نہیں ہوتیں۔ جیسے ایک تہذیب پھیلتی ہے ویسے ویسے وہ کچھ ثقافتوں کو اپنی تعمیر کے لیے استعمال کرتی ہے اورکچھ ثقافتی رحجانات کو ردّ کر دیتی ہے۔ جن ثقافتی عناصر کو ایک غالب تہذیب قبول کرتی ہے وہ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو غالب تہذیب کے اقدار اور وہاں کی غالب معاشرت سے ہم آہنگ بتائے جاسکیں۔ مثلاً امریکی تہذیب اس خطہ کے قدیم باشندوں (سرخ ہندیوں) کو اپنے اندر سمو نہ سکی اور کروڑوں ریڈ انڈینز کو کئی سو سال تک قتل کرتی رہی اور آج امریکی قتل کئی مسلم ممالک میں جاری ہے اور امریکا دہشت گردی کی جنگ اس لیے جاری رکھے ہوئے ہے کیوں کہ وہ اسلامی معاشرت کو سرمایہ دارانہ طرزِ حیات میں سمونے سے قاصر ہے۔ اس بات کی تشریح بیسویں صدی کے سب سے مشہور امریکی سیاسی فلسفی جان رالز(John Rawls) نے اپنی آخری کتاب (Law of the People) میں تفصیل سے بیان کی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیبوں کا پھیلاؤ ریاستی قوت پرمنحصر ہوتا ہے۔ تہذیبیں بزور شمشیر پھیلتی ہیں اور سرمایہ دارانہ تہذیب کا پھیلاؤہمیشہ ایک استعماری نظام(ولندیزی، فرانسیسی، برطانوی، امریکی، روسی، چینی) پر منتج ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تہذیبیں جنگ کے ذریعہ اپنی ثقافت کا پھیلاؤ ممکن بناتی ہیں اور جن علاقوں میں ان کو عسکری غلبہ حاصل ہوتا ہے وہاں وہ اپنے ثقافتی باج گزاروں کو پروان چڑھاتی ہیں۔ لیکن تہذیبی غلبہ کا انحصار صرف عسکری فتوحات پر نہیں ہوتا۔ عسکری فتوحات اور غلبہ کے تناظر میں سرمایہ دارانہ استعمار اپنا آرٹ، ادب، سائنس، فلسفہ، تفریحات، تعمیرات، مذہب سب مغلوب معاشروں پر مسلط کرتا ہے اور اسی تسلط کے ذریعہ مغلوب معاشرت کو غالب سرمایہ دارانہ تہذیبی طرزحیات میں ضم کیا جاتا ہے اور جب مغلوب ثقافت زیر نگین ہوجاتی ہے تو غالب سرمایہ دارانہ اقدار، طرزحیات اور جاہلی علمیت مفتوح علاقوں کے باشندوں کی نظروں میں معقول، برتر اور جوازی(legitimate) ہوجاتی ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز علمیت اور حیات اختیار کریں یا نہ کریں سرمایہ دارانہ طرزحیات کی معقولیت کے قائل ہوجاتے ہیں۔

قوت (عسکری اور فنانشل) ایک مغلوب ثقافت کو تباہ تو کر سکتی ہے (جیسا کہ امریکا اور آسٹریلیا کی قدیم معاشرتوں کے ساتھ ہوا) مگرا یک مغلوب تہذیب کو سرمایہ دارانہ طرزحیات میں ضم کرنا ہے تو لامحالہ یہ کام سائنس، آرٹ، ادب، تعمیرات اور کھیلوں کو ان پر مسلط کر کے ہی ہو سکتا ہے۔ آج امریکی تہذیب غیر سرمایہ دارانہ معاشرتوں کو آئی ٹی، فلموں اور میکڈونلڈ کے ذریعہ اپنے زیر نگیں کر رہی ہے۔

سرمایہ دارانہ غلبہ کوقائم کرنے اور قائم رکھنے کے لیے جبرناگزیر ہے لیکن جبر کےذریعہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر ناممکن ہے۔ انسان کو نفس کی غلامی قبول کرنے پر مجبورنہیں کیا جا سکتا۔ وہ نفس کی غلامی خود قبول کرتا ہے اور اسی ہوائےنفس کی غلامی کو آزادی کہتے ہیں۔ آزاد انفرادیت گوانتاناموبےاور ابوغریب قیدخانوں میں نہیں کالجوں میں، فیس بک اور ٹوئٹرپر، کھیل کے میدانوں میں تشکیل کی جاتی ہے۔ اس کی تشکیل میں آرٹ، آرکیٹیکچر، فلسفیانہ مباحث کارفرماہوتے ہیں۔ یہ استعمار کی soft powerہے جو غالب سرمایہ دارانہ معاشرتی اقدار واطوارکو معقول اور فطری منوا کر سرمایہ دارانہ شخصیت سازی عمل میں لاتی ہے جوایک ایسی شخصیت سازی کو اورسرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کومعتبر اور معقول سمجھے۔

2.16۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت

سرمایہ دارانہ نظام اپنی کلیدی خصوصیات کو مختلف النوع معاشرتوں (امریکی، چینی، عرب) میں ضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان معاشروں کا تاریخی ارتقا اور نظم کارفرمائی(Regulatory system) ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں لیکن یہ سب ایک ایسی انفرادیت کو جنم دیتے ہیں جوسرمایہ دارانہ اقدار اور علمیت (Rationality) کو معقول تصور کرتے ہیں۔

سرمایہ داری کی بنیادی قدر آزادی ہے۔ آزادی سے مراد ہے نفس کی غلامی، خود تخلیقیت، خودانحصاریت۔ خود انحصاریت کی جستجو سرمایہ دارانہ فرد کو سرمایہ دارانہ تعقل کوقبول کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ تعقل مادی وسائل کی فراہمی کو دیگر تمام مقاصد اور اہداف پر فوقیت دیتا ہے اس کو لذات کی منتہیت کہتے ہیں۔ آزادی اور خودانحصاریت کے حصول کا اصل ذریعہ بڑھوتری اور ارتکازِ سرمایہ (Capital Accumulation) کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

بڑھوترئ سرمایہ کا عمل معاشی پیداوار اور تجارت کے ذریعہ جاری رہتاہے۔ یہی پیداواری اور تجارتی نظام سرمایہ دارانہ انفرادیت کی پرورش کا اصل دائرہ ہے اور اسی وجہ سے سرمایہ دارانہ انفرادیت کومعاشی وجودیت کہا گیا ہے۔ خودانحصار انفرادیت اس معاشی عمل کے ذریعہ تعمیر کی جاتی ہے جس کا واحد مقصد بڑھوترئ سرمایہ ہوتا ہے۔ اس معاشی عمل کو اس معاشرتی تناظر سے منطبق کیا جاتاہے جس کا مقصد ہیومن رائٹس کی فراہمی ہے تاکہ انسانی صلاحیتوں کو ہیومن سرمایہ) (Human Capitalمیں مستقل ڈھالا جاتا رہے۔

لذات کی منتہیت (maximization of utility) کو مقصد وجود کے طور پر قبول کرنے والی انفرادیت قدرت کے بارے میں ایک خاص رویہ اختیار کرتی ہے۔ خود انحصاریت سے مغلوب انسان فطرت کو محض سرمایہ کا ایک ذخیرہ سمجھنے لگتا ہے اور قوانین فطرت کے ادراک اور استعمال محض صَرف اور پیداوار کو بڑھانے کے ذرائع کے طور پر قبول کیے جاتے ہیں۔ یہ تاریخ انسانی میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ فطرت کی ہر قوت کو گردشِ سرمایہ میں شامل کر کے بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بنانے کی جدوجہد سائنٹفک انقلاب سے سولھویں صدی سے شروع ہوئی اور آج اس کا نتیجہ عظیم ترین ماحولیاتی بحران(Environmental Crisis) کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ فطرت کو سرمایہ کے ذریعہ مسخر کرنے کے اس عمل کوکموڈی فیکیشن (commodification) کہتے ہیں اور سرمایہ دارانہ ریاست اور مارکیٹ لذات کی منتہیت کو فروغ دینے کے لیے پچھلے پانچ سو سالوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔

لذات کی منتہیت کو نظاماتی سطح پرمرتب کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ افراد کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تنظیم اور جبر کو قبول کریں لیکن عموماً سرمایہ دارانہ معاشرہ دوحصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ وہ ایک قلیل اقلیت ہوتی ہے جو فیصلہ ساز ہوتی ہے جوبڑی حد تک سرمایہ دارانہ عقلیت و روحانیت سے سرشار ہوتی ہے۔ وہ اقلیت اس عقلیت اور روحانیت کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور اس کے لیے سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کو قبول کرنا عقل کا تقاضا ہوتا ہے۔ دوسرے وہ عظیم اکثریتی ہجوم(multitude) ہوتا ہے جس پر سرمایہ دارانہ نظاماتی فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں جو اپنی انفرادی لذات کے حصول کو مقدم رکھتی ہے اور جس کے لیے سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر قبول کرنا عقل اور کم از کم وجدان کا تقاضا نہیں ہوتا۔ اس ہجوم میں شامل فرد سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کا فطرتاً باغی ہوتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظاماتی بحرانوں اور تضادات سے فائدہ اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔ یہی چیز سرمایہ دارانہ کرپشن ہے۔

سرمایہ دارانہ اقلیت لازماً سرمایہ دارانہ اکثریت پرحکومت کرتی ہے کیوں کہ اکثریتی افراد کے لیے خود انحصاریت اور خود تحکیم ایک سراب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اکثریتی فرد کو (mass man) کہتے ہیں اور ماس مین کی آرا و ترجیحات اور میلانات سب کی تعمیر ماس میڈیا اور تفریحی صنعت کرتی ہے۔ ایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملک (امریکا، فرانس، جاپان) میں یہی دوصنعتیں سب سے بڑی صنعتیں ہوتی ہیں (فنانس کے علاوہ) جس کے حجم کا اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے اور ان کا مقصد وجود ہے کہ:

سرمایہ دارانہ طرزِحیات اور نظام زندگی ان معنوں میں ایک فریب کاری (illusion)کے علاوہ کچھ نہیں کیوں کہ اس کے اہداف، آزادی اور خودانحصاریت اصولاً اور عملاً ناقابل حصول ہیں۔ لہو ولعب اور تفریحات میں ڈبوکرعوام کے ذہنوں اور دلوں سے اس حقیقت کو بھلوا دینے کی پیہم کوشش بھی سرمایہ دارانہ معاشرت کی ایک پیہم جستجو ہے۔

”ماس مین“ نے سرمایہ دارانہ اجارہ داری، سرمایہ دارانہ خواہشات کی ترتیب اور تنظیم اور زندگی کو حصول لذات کا ذریعہ بنانے کے اہداف کو قبول کر لیا ہے لیکن دنیا کے ہر ملک میں ایسے بے شمار افراد پائے جاتے ہیں جو یا تو سرے سے ہیومن بینگ ہی نہیں (وہ سرمایہ دارانہ اکثریت میں شامل ہیں نہ اقلیت میں) یاپھر زندگی کے ہرشعبہ میں سرمایہ دارانہ عقلیت اور روحانیت کو یکساں طورپر قبول نہیں کرتے۔ ایک جدید جاہلی علمیت (neuro-economics)نےثابت کیا ہے کہ ایسے افراد کی بہت بڑی اکثریت امریکا تک میں پائی جاتی ہے۔ ماس مین اور سرمایہ دارانہ اشرافیائی انفرادیت کو عمومیت دینا ایک اہم سرمایہ دارانہ نظاماتی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت کموڈی فی کیشن کے ذریعہ پوری کی جارہی ہے۔ کموڈی فی کیشن وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ کسی عمل یا شے کو سرمایہ کی گردش کے چکر میں شامل کیاجاتا ہے۔

3.16۔ آرٹ کی کموڈی فی کیشن

سرمایہ کا دائرہ کار کموڈی فی کیشن کے پھیلاؤ کے ذریعہ وسعت حاصل کرتاہے۔ دورحاضر کے پس جدیدی سرمایہ دارانہ نظام میں کموڈی فی کیشن کا دائرہ اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ بقول بولیٹکی(Boltanski) سرمایہ دارانہ تعین قدر کا پیمانہ تعمیر پذیر ہے۔ یہ بات بالخصوص ان مارکیٹوں کے لیے درست ہے جہاں نوادرات اور جمع کی جانے والی اشیاء(collectables) فروخت کی جاتی ہیں۔ اشیائے تعیش اور نوارادات کی قدر اور قیمت ان کی اجرتی لاگت کی بنیادپرمتعین نہیں ہوتی، نہ ان کی افادیت کی بنیادپر۔ ان کے قدر کا تعین ان کے معاشرتی مقام اور حیثیت کی بنیاد پر ہوتاہے۔ یہ پر تعیشی سرمایہ داری کا دور ہے جہاں ملک کی امیر ترین ایک فی صد اشرافیہ معاشرت اور معیشت پر حاوی ہے اور یہ اشرافیہ بہت کچھ ایسا خریدتی ہے جس کی قیمت کا تعین روایات، رحجانات اور ماہرانہ گفتگو کی بنیا دپرہوتا ہے جو ان کی قدامت، حسن اور عدم یکتائیت(Uniqueness) پر گھڑی جاتی ہیں۔ نوارادات اور تعیشات کو قدر ناقدینِ آرٹ، میوزیم کے ذمہ دار اور نیلام کنندگان بخشتے ہیں۔

پرتعیش معیشت پیداواری نظام اور فنانس کے دائرہ کار سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کادارومدار اُس منافع کی گردش پر ہوتا ہے جو پیداواری اور تجارتی مراکز پیداکرتے ہیں۔ ماس مین کی نوارادات و تعیشات تک رسائی عموماً محدودہوتی ہے لیکن ماس مین کی زندگی پر تعیشاتی معیشت کا گہرا اثرمنطبق ہوتاہے۔ وہ اس معیشت سے کلچر حاصل کرتا ہے اور کلچر کا یہ حصول سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر کا ایک ذریعہ ہے۔ پوری دنیا میں شاپنگ محل Shopping Emporium))تیزی سے پھیل رہے ہیں جہاں آرٹ اور تجارت کو مدغم کیا جاتا ہے۔ ان میں گھومنے پھرنے والا ایک عام شاپر (Window shopper)دیکھتا سب کچھ ہے خریدتا کچھ نہیں۔ یہ شاپنگ محل ماس مین کے لیے دنیا میں جنت کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ یہ شاپنگ مال آرٹ کوماس مین کی تفریح کا ذریعہ بنادیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاستیں آرٹ کو مارکیٹ کا حصہ بنانے کے لیےسرمایہ فراہم کرتی ہیں۔ آج کی دنیا میں آرٹ مارکیٹ میں سمویاجارہاہے اور آرٹسٹ سرمایہ دارانہ نظام کے فعال ترین کارکن بن گئے ہیں۔ آرٹسٹ طبقات آرٹ کو عالمی سرمایہ کے گردشی چکر میں سمونے کے لیے مستعد ہیں اور آرٹ کی کموڈی فی کیشن کی اس مہم کو آگے بڑھانے کے لیے ہرقسم کا تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اب آرٹسٹوں کے سرپرست راجہ اور نوابین نہیں بلکہ بڑی سرمایہ دارانہ کمپنیاں ہیں جو پرتعیشی مارکیٹ کی اصل نیم اجارہ دارانہ کھلاڑی ہیں۔

تعیشی معیشت کے کھلاڑی مثلاً ( Herschel Charlie) پوری دنیا میں نمائشوں کا انتظام کرتے ہیں جس کو دنیاکے مشہور ترین آرکیٹیکٹ ڈئزائن کرتے ہیں۔ ان نمائشوں میں داخلہ عموماً بالکل مفت ہوتا ہے۔ آرٹ اور آرکیٹیکچر مشہور بازاروں کی عالمی شناخت اور مقبولیت متعین کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے جا رہے ہیں۔ عالمی گشتی نمائشوں کے ساتھ ساتھ مرکزی دکانیں بھی دنیا کے بڑے شہروں میں تیزی سے ابھر رہی ہیں جہاں آرٹ اور آرکیٹیکچر کے بھرپور استعمال کے ذریعہ خریدار کی عمومی معاشرتی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈیزائنر کپڑے بیچنے والی عالمی کمپنی پراڈا نے اپنی مرکزی دکانوں کو میوزموں، تھیڑوں، تفریحی مقامات کا متبادل بنانے کی سعی کی ہے تاکہ خریداری تفریحی صنعت کو اپنے اندر وضع کرے۔ 2005 میں پراڈا نے چین میں اپنے کپڑوں کی نمائش منعقد کی۔ ان کا ایک اہم مقصد کمیونسٹ رہنماؤں سے روابط استوار کر کے چین کو عالمی فیشن صنعت میں سمونا بھی تھا۔

مرکزی دکانیں (Flagship stores)اور عالمی نمائشیں عموماً خسارہ میں جاتی ہیں۔ عام لوگ نظارہ کرنے آتے ہیں اور خریداری نہایت محدود پیمانہ پر ہوتی ہے۔ ان اداروں کا مقصد وجود منافع کمانا نہیں بلکہ طویل المدت بنیاد پر برانڈ ناموں(Brand names) کی عمومی مقبولیت کو فروغ دینا ہوتا ہے اور یہ برانڈ کم آمدنی والے طبقوں تک بتدریج پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ ماس مین مقبول برانڈ کی کوئی نہ کوئی چیز خریدنے پر خود کو مجبورپاتا ہے۔ آرٹ اور آرکیٹیکچر کی کموڈی فی کیشن کے ذریعہ ماس مین کی مادی خواہشات کو لامحدود بنایا جاتا ہے۔ ایک نمایاں صارفی معیشت (Conspicuous consumption Society) پیدا کی جاتی ہے اور حرص اور حسد کو عمومی فروغ دیاجاتاہے۔

پس جدیدی سرمایہ دارانہ معیشت کی ایک اہم خصوصیت اس کا بڑھتا ہواعدم تحفظ بھی ہے۔ اس کے دواہم مظاہر ہیں۔ ایک طرف تو سرمایہ دارانہ سرخیل امریکا ایک لامتناہی بیرونی جنگ میں ملوث ہے جو اصولاً اور عملاً وہ جیتنے سے قاصر ہے۔ دوسری جانب اس کا ماس مین (xenophobia) اور(schizophrenia) جیسے امراض کا شکار ہے اور گاہ گاہ گنجان بستیوں میں اندھادھند بے مقصد آتشیں اسلحہ کے بے جا استعمال کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس تسلسل سے جاری رہنے والے عدم تحفظ کو برداشت کروانے کے لیے بھی ایک ذریعہ آرٹ ہے جس سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ یہ فریضہ ماس میڈیا(Mass Media) انجام دیتا ہے جو ماس مین کو بڑھتے ہوئے معاشرتی خلفشار اور ناآسودگی کو برداشت کرنے پر آمادہ کرتاہے۔

کموڈی فی کیشن کے اس ضمن میں تصاویر کا ایک اہم کردار ہے۔ ماس میڈیاجنگی واقعات کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنی نوادرات کے باوجود لوگوں کے روز مرہ کے میلانات اور رحجانات سے ہم آہنگ ہوں۔ یہ کام اشتہاری صنعت بھی مدت سے کروا رہی ہے -جنگی تصاویر کوجنگی اشتہارات کہنا درست ہے۔ جنگی تصاویر کی ماس تشہیر کا مقصد قوم پرستی کے جذبات کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ نومبر 2014 میں فلوجہ پر دوسرے حملہ کے دوران ایک امریکی سپاہی کی سگریٹ پیتی ہوئی تصویر کوبڑے پیمانہ پر مشتہر کیا گیا کیوں کہ اس سے امریکی بہادری غماز تھی۔ اس کے برعکس امریکی بھگوڑے سپاہیوں کی تصاویر جو فلوجہ سے فرارہو رہے تھے کبھی امریکی یا یورپی ماس میڈیا میں اپنی جگہ نہ بناسکیں۔ عراقی جنگ کے دوران امریکی دہشت گردی کے شکار مظلومین کی تصاویر کو بھی امریکی ماس میڈیا نے عموماً نظرانداز کیااور جب پیش کیاگیا تو امریکی دہشت گردی کے شکار کے طورپر نہیں بلکہ ہمدردی کے طالب کے طورپر۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد بھی ماس میڈیا میں تصاویر کا اشتہاری استعمال کیا گیا۔ ماس میڈیا میں سب سے مقبول عام تصویر وہ تھی جو آتش بجھانے والے عملہ کو twin towerپر امریکی جھنڈا دوبارہ نصب کرتے ہوئے دکھارہی ہے کیوں کہ یہ امریکی استقامت کا اظہار کرتی ہے۔ اس کے برعکس وہ تصویر جو ایک شخص کو بلڈنگ سے گرتاہوا دکھا رہی ہے میڈیا سے غائب کیاگیا کیوں کہ یہ امریکی شکست کو ظاہرکرتی تھی۔

میڈیا سرمایہ دارانہ ریاست کا لازمی حصہ ہے کیوں کہ وہ ایک عام آدمی کی اجتماعی یاداشتیں(collective memories) متعین کرتا ہے۔ وہ تسلسل کے ساتھ ایسے تاثرات images پیش کرتا رہتا ہے جو واقعات کو وہ مقام اور معنی فراہم کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظاماتی ناہمواریوں، عدم تحفظ اور ناانصافیوں کو منطقی اور وجدانی جواز فراہم کرنے کے لیے ضروری ہوتےہیں۔ سرمایہ داری کا ماس مین میڈیا اسپیس(media space) میں زندہ رہتاہے اور یہ میڈیا ہی ہے جو اس کے لامعنی اور لغو تاثرات کو معنی فراہم کرتی ہے، ایسے معنی جن سے ماس مین سرمایہ دارانہ استحصال کو برداشت کرنے کو عقل کا تقاضا سمجھے۔ یوں سرمایہ داری صرف اشیاء اور اداروں اور تعلقاتی نظام کونہیں چھپاتی ( کیموفلاج کرتی) بلکہ وہ انفرادیت کو کبھی کیموفلاج کرتی ہے اور مردوں اور عورتوں کو ہیومن کیپٹل(capital) بنادیتی ہے۔ اس کموڈی فی کیشن کا ایک نیا ذریعہ آرٹ ہے اور دوسرا اس شہریت کی تعمیر ہےجسے (global city) کہتے ہیں۔

4.16۔ گلوبل سٹی

پوری دنیا میں جگہ جگہ عالمی شہریا ”گلوبل سٹی“ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ یہ گلوبل سٹی عالمی فنانس، عالمی ارضیائی منڈیوں، عالمی میڈیا اور سیاحت کے مراکز کے طورپر تعمیر کیے جاتے ہیں۔ یہ مقامی سرمایہ دارانہ رحجانات اور ادارتی صف بندیوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں سمونے کے وسیلہ کا کام انجام دیتے ہیں۔ گلوبل سٹی کی تعمیر کا مقصد حال کو مستقبل سے ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔ یہ ماضی کی روایات اور تعلیمات کو یکسر رد کر دیتے ہیں۔ یہ دورحاضر کی تعیشات سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ ان گلوبل سٹیز کی تعمیر کے دوران ان علاقوں میں قدیم رہائشی آبادیوں کی نسل کشی عام ہے۔ یہ بات مشرقی یورپ میں گلوبل سٹیز کے بارے میں بالخصوص درست ہے جو سلطنت عثمانیہ کی شکست و ریخت کے بعد مشرقی یورپ میں تعمیر کیے گئے۔ ان میں ترکوں اور البانوی مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کئی برسوں تک جاری رہا۔

ہر گلوبل سٹی میں کچی آبادیاں(slums) بڑ ے پیمانہ پر پائی جاتی ہیں۔ واشنگٹن اس کی اہم مثال ہے۔ یہ کچی آبادیاں سرمایہ دارانہ نظام میں روز افزوں بڑھتی ہوئی نامساویت کا اظہار ہیں۔ یہ نامساویت تشدد کو جنم دیتی ہے لہٰذا کچی آبادیوں سے مستقل ایسی پھاٹکی بستیاں(Gated Communities) ابھرتی ہیں جہاں امیر طبقات آباد ہوتے ہیں۔ پھاٹکی رہائشی اپنے ذاتی خدمتگار کچی آبادیوں ہی سے حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا گلوبل سٹی میں امراء اور غرباء کے رہائشی علاقے ایک دوسرے کے قریب ہی ہوتے ہیں۔

گلوبل سٹی اپنے ماضی کے بارے میں شرمندگی کا اظہار کرتا ہے اور ماضی کی روایات کو یکسر بھلا دینے کی آرزو رکھتا ہے۔ اس رحجان کا ایک اظہار اسلام آباد میں پایاجاتا ہے جس کی تعمیراتی منصوبہ بندی یونانی، امریکی اور جاپانی آرکیٹیکٹوں نے کی جنہوں نے قدیم اسلامی تعمیراتی روایت کو ردّ کر کے مسلم ماڈرنسٹ تعمیراتی رحجانات کو فروغ دیا ۔

گلوبل سٹیز عموماً رہائشی بلڈنگوں اور اثاثوں کوسرمایہ داروں کے ہاتھ فروخت کر کے اپنے مرکزی مقامات کو جدید طرز کی تعمیر نو کے پروگراموں کو فروغ دیتے ہیں۔ گلوبل سٹیز کے مرکزی مقامات سے غریبوں اور نچلے متوسط طبقہ کے انخلا کے نتیجہ کے طورپر مرکزی علاقوں میں آرٹ گیلریوں، تفریحی اسٹیڈ یم، شراب خانوں اور امرا کے رہائشی فلیٹوں کی گنجائش پیدا کی جاتی ہے۔ غریبوں کے وسطی شہروں سے انخلا کی یہ مہم اکثر پرتشدد مزاحمتی جدوجہد کو جنم دیتی ہے او رگلوبل سٹی مزاحمتی پرتشددجدوجہد کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ لیکن غریب رہائشیوں کی یہ جدوجہد سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد ہوتی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جدوجہد نہیں ہوتی۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ قیادت اس نوعیت کی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام میں سمونے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ کوشش کبھی کامیاب ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ اور ان کے نتیجہ میں گلوبل سٹی دیرپاسیاسی انتشار کا شکار ہوسکتے ہیں جیسا کہ ایم کیوایم کے عروج کے دورمیں کراچی میں کیا گیااور جیسا کہ عرب بحران کے دوران مشرقی وسطیٰ کے کئی شہروں میں ہوا۔ کراچی میں حالیہ دنوں میں شہر کے وسط و قدیمی علاقوں سے وہاں کے پرانے رہائشیوں و دکان داروں کی جبری بے دخلی کو اس گلوبل سٹی کی تعمیر کی کوشش کے تناظر میں بہتر طور سے سمجھا جا سکتا ہے۔

گلوبل سٹیز فنانس اور تعیش کا مرکز ہوتے ہیں لیکن صنعت کا نہیں۔ بڑی صنعتی کمپنیاں،ایپل،میکنٹاش، والمارٹ وغیرہ اپنے مرکزی دفاتر گلوبل سٹیز سے بتدریج نکال رہی ہیں۔ لہٰذامزدوروں کے لیے گلوبل سٹیز میں روزگار حاصل کرنے کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں اور ان شہروں میں آمدنی کی تقسیمی ناہمواریت بڑھتی جارہی ہے۔ گلوبل سٹیز اس بات کا اظہار ہیں کہ قوت سیاسی، معاشی، معاشرتی ماس مین کے ہاتھوں سے نکل کر ایک ایسی گلوبل اشرافیہ کی طرف منتقل ہو رہی ہے جس میں قومی سرمایہ دارانہ اشرافیہ بتدریج سماتی جارہی ہے۔ گلوبل سٹیز کےقیام کا مقصد بیرونی سرمایہ اور بیرونی قوت خرید اپنے اندرسمونا ہوتا ہے۔ گلوبل سٹیز کے تعمیراتی نظام کا مقصد ایک ایسی گلوبل اشرافیہ کو وہ طرزِ زندگی اپنانے کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے جو دنیا کے امیرترین سرمایہ دار اپنائے ہوئے ہیں۔ گلوبل اشرافیہ ایک ایسی کثیر النسلی(Multiracial)کمیونٹی ہے جو ویب سائٹس، برانڈ، آرٹ،موویز اور تفریح کے ذریعہ مستقل مواصلت برقرار رکھتی ہے اور جس کا مقصد مادی تصرف کو اونچی سے اونچی حد تک لے جانا ہوتا ہے۔ گلوبل اشرافیہ اور ماس مین کے درمیان فاصلے مستقل بڑھتے جاتے ہیں لیکن ماس میڈیا ان کے درمیان ثقافتی تفاوت کو دفع کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ وہ گلوبل اشرافیہ کے طرزِزندگی کی ایک درخشاں مثال ایک آئیڈیل کے طورپر مستقل تشہیر کرتا رہتا ہے اور کوشش کرنا ہے کی ماس مین گلوبل اشرافیہ کے طرزِ زندگی کو اپنانے کے لیے اپنی پوری زندگی صرف کر دے۔

گلوبل سٹی کی تعمیری منصوبہ بندی سرمایہ کاری کو مہمیز دینے کے لیے تین کلیدی اقدامات عمل میں لاتی ہے۔ ایک فلک بوس عمارتوں سے بھرے ہوئے ڈسٹرکٹ کا قیام جہاں فنانشل ادارےاپنے مراکز قائم کرسکیں۔ دوسرے ایک عظیم الشان کھیل کے اکھاڑے(اسٹیڈیم) کاقیام اورتیسرے مرکزی شہر سے قریب رہنے والوں اور صنعتی اداروں کا انخلا تاکہ وہاں آرٹ گیلریاں، میوزیم،عیاشانہ رہائشی تعمیرات قائم کی جاسکیں۔ ہر گلوبل سٹی لازماًجدید یورپی اور امریکی گلوبل سٹی کا چربہ ہوتا ہے کیوں کہ اس کا تعمیراتی مقصد مغربی سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کو گلوبلائز کرنا ہوتا ہے۔ گلوبل سٹیز کا ظہور اور پھیلاؤسرمایہ داری کے بنیادی تضادات کو واضح کرتا ہے۔ ایک طرف گلوبل سٹیز تعیشی زندگی کا اونچا ترین معیار پیش کرتے ہیں لیکن اشرافیہ کی اس پرتعیش زندگی کوبرقرار رکھنے کے لیے جس معاشی ناہمواریت اور نامساویت کو فروغ دینا پڑتا ہے وہ سرمایہ دارانہ اقتدار کے لیے ایک خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مثلاً اس وقت افریقہ میں سب سے تیز ترقی کرتا ہوا گلوبل سٹی جوہانسبرگ ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں یہاں عالمی فنانشل ادارے قائم ہوئے۔ 2010ء کا فٹ بال ورلڈ کپ بھی منعقد کیا گیا جس کے نتیجہ میں وسیع ترین تعمیراتی اسکیمیں نافذ کی گئیں اور مرکزی شہر کو نیویارک کے ایک ڈسٹرکٹ کا چربہ بنایا دیا گیا۔ لیکن جوہانسبرگ کے مکین باشندوں میں 77فیصد کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ نوجوانوں میں بےروزگاری کی شرح 50فیصد ہے۔ تقسیم آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ غیر منصفانہ شمار کی جاتی ہے۔ شہر میں فساد، بلوے اور جرائم مستقل طورپر جاری ہیں۔ مرکزی شہر سے بے دخلی کے خلاف تحاریک باغیانہ صورت اختیار کر رہی ہیں۔

5.16۔ نامساویت او ر سرمایہ داری کا مستقل

عالمی معاشی فورم (World Economic Forum) نے اپنے 2017ء کے سالانہ اجلاس میں کہاہے کہ نامساویت (inequality) میں اضافہ ان گمبھیر ترین مسائل میں سے ایک ہے جو آج سرمایہ دارانہ عالمی نظام کو درپیش ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ 1989ء سے لے کر 2011ء تک دنیا کی آمدنی کا ساٹھ فیصد آبادی کے امیرترین پانچ فیصد نے حاصل کیا جب کہ غریب ترین نے 5فیصد کا۔ مجموعی عالمی آمدنی میں اضافہ اس دوران صرف اعشاریہ 0.6%فیصد رہا۔

جیسا کہ تھامس پکٹی Thomas Pikettyنے اپنی مشہور کتاب(Capital in the 21st Century) میں ثابت کیا ہے پوری سرمایہ دارانہ تاریخ کے دورمیں آمدنی اور دولت کی تقسیم کا رحجان نامساویانہ رہاہے اور عوام اس نامساویت کو برداشت کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں عوام کی سطح زندگی (یعنی صَرف کی مقدار) میں مستقل اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اصل غربت(Absolute Poverty)کم ہوتی رہتی ہے۔ امیرممالک، امریکا، چین، جاپان،برطانیہ وغیرہ میں نامساویت برداشت کرنے کی سکت بہ نسبت غریب سرمایہ دارانہ ممالک کے زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ امیر ممالک میں عوام کا سطح صَرف بڑھتارہتا ہے اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ صرفی سطح کی نامساویت (consumption level inequality) آمدنی کی سطح کی نامساویت (income inequality) سے کافی کم ہوتی ہے۔

بڑھتی ہوئی نامساویت کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ معاشرے تین حلقوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں: امیر، متوسط آمدنی والے اور کم آمدنی والے۔ متوسط اور کم آمدنی والے امیروں سے حسدکرتے ہیں لیکن وہ خود بھی اسی سطح اور طرزِ زندگی کو اپنانے کی خواہش رکھتے ہیں جوامیروں نے اپنائی ہوتی ہے۔ لہٰذا نامساویت کے خلاف جو بغاوتیں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے عمل میں آتی ہیں وہ سرمایہ دارانہ عقائد اور عقلیت کو رد نہیں کرتیں بلکہ ان کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ غیر سرمایہ دارانہ انفرادیت یعنی مذہبی انفرادیت کو جنم نہیں دیتیں۔ نامساویت کے خلاف برپا کی گئی تحاریک سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو عبور (Transcend) کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ ان کا مقصد ایک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام کو ایک مختلف سرمایہ دارانہ نظام سے تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً وہ نیو لبرل سرمایہ دارانہ نظام سے سوشل ڈیموکریٹک سرمایہ نظام اور سوشل ڈیموکریٹک سرمایہ نظام سے الٹ رائٹ نظام کی طرف مراجعت کی جدوجہد ہوتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کو عبور (Transcend) کرنے کے لیے ایک غیرسرمایہ دارانہ (یعنی مذہبی) انفرادیت کا معاشرتی غلبہ ناگزیر ہے۔ ایک ایسی انفرادیت جو سرمایہ دارانہ اقدار آزادی، مساوات اور ترقی کو ردّ کرے اور اسلامی اقدار کے ذاتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی غلبہ کی جدوجہد کرے۔

سرمایہ دارانہ ثقافت (آرٹ، آرکیٹیکچر، ادب، موسیقی) سرمایہ دارانہ انفرادیت کی پرورش اشرافیہ کی سطح پر بھی کرتی ہے اور عوام کی سطح پر بھی۔ کبھی یہ انفرادیت ایک باغیانہ شکل کر لیتی ہے لیکن یہ بغاوت نظاماتی غلبہ کے خلاف نہیں ہوتی بلکہ کسی مخصوص سرمایہ دارانہ ظلم (ہیومن رائٹس سے محرومی، بڑھتی ہوئی نامساوایت اور بے روزگاری) کے خلاف ہوتی ہے اس نوعیت کی بغاوتوں سے سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔

لیکن گاہے گاہے سرمایہ دارانہ معاشرت کے اندر سے ایک ایسی شخصیت بھی ابھرتی ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو جاہلیت خالصہ تصورکرتی ہے اور جو سرمایہ دارانہ اقدار آزادی، مساوات اور ترقی کو ردّکر دیتی ہے۔ ایسی انفرادیت کو انتہاپسند دہشت گردکہاجاتا ہے اور یہ خطرہ ہمیشہ موجود رہتاہے کہ اس نوعیت کی غیر سرمایہ دارانہ انفرادیت عوام اور اشرافیہ کے لیے ایک نمونہ نہ بن جائے اور اگر ایسا ہوجائے تو سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ حیات قائم نہیں رہ سکتا۔

جونظام اور طرزِ زندگی تنویری عقلیت کی بنیاد پر ظہور پذیر ہوا ہے وہ انسان کی روحانی اور جذباتی تشنگی کو مہمیز دیتا ہے، زائل نہیں کرتا۔ یہ خلا مذہبیت ہی سے پرکیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ مفکرین مذہب کی اس افادیت کے قائل ہوتے جارہے ہیں۔ 2004ء میں دور حاضر کے سب سے مشہور سرمایہ دارانہ فلسفی ہیبرماس نے اس وقت کے پوپ کے ساتھ مکالمہ میں عیسائی فکر وعمل کو معاشرتی اور ریاستی پالیسی سازی میں سمونے کے امکانات پر غور کیا تھا۔ مذہبیت کو سرمایہ دارانہ نظام وطرزِ زندگی میں سمونے کے دوطریقے ہیں۔ ایک یہ کہ مذہبیت کو ایک جمالیاتی قالب میں ڈھال دیا جائے اور جیسے دیگر تفریحات اور آرٹ کے مظاہر سرمایہ دارانہ نظم میں ایک مصنوعی دنیا تعمیر کرتے ہیں جس میں شرکا مدہوش ہوجاتے ہیں ویسے ہی مذہبی مظاہر میں بھی تفریحی اور اظہار نفسانیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ طریقہ امریکا میں بہت تیزی سے پھیلا ہے اور امریکی عیسائیت کا عوامی اظہار لہوو لعب اور کھیل تماشوں کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ لاتعداد گرو نکل آئے ہیں جن کے پیچھے لاکھوں شیدائی مذہبی افیون کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ امریکا اسی عوامی مذہبی نشاط ثانیہ کی بنیاد پر عیسائیت کی ایک نئی تشریح مرتب ہوئی ہے جسے عیش پرست انجیلیت کہاجاتا ہے اور جس کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ عیسائیت عیش پرستی کی دعوت دیتی ہے اور دنیا میں جنت کی تعمیر ایک عیسائی مہم ہے۔ یہ تحریک امریکا میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے اورظاہر ہے کہ عیسائیت کو سرمایہ دارانہ نظام میں سمونے کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔

دوسرا طریقہ قوم پرستی کا احیا ہے۔ یہ امریکا، مرکزی یورپ اور ہندوستان میں مقبول ہے۔ مسلم قوم پرستی بھی اس کا ایک اظہار ہے۔ اس طریقہ کو اپنانے والے مذہب کو قومیت کی شناخت کا ایک اہم جزو گردانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قومی(یعنی سرمایہ دارانہ ) مفادات کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنی مذہبی شناخت سے وابستہ رہنا اور دوسرے مذاہب کی مخالفت کرنا نہایت ضروری ہے۔ امریکا میں یہ رحجان بھی بڑی تیزی سے پھیل رہاہے اور اسی قوم پرستانہ عیسائیت کو فروغ دے کر ٹرمپ کی حکومت قائم ہوئی اور یہ عیسائی قوم پرست امریکا، جرمنی، ہنگری، فرانس اور پولینڈ میں اپنی شدید اسلام دشمنی (Islamphobia) کے ذریعہ عوامی سیاسی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

جمالیاتی اور قومی مذہبیت کے احیا سے سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہوتا ہے۔ جمالیاتی مذہبیت اس روحانی اور جذباتی خلا کو پرکرتی ہے جو بڑھوترئ سرمایہ کی جدوجہد کے نتیجہ میں معاشرہ میں پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے سرمایہ دارانہ کاروباری اداروں کا تعاون ان گروہوں کو حاصل رہتا ہے جو اس قسم کی مذہبیت کے سرخیل ہیں۔ قوم پرستانہ مذہبیت حسد، نفرت اور غضب کو فروغ دیتی ہے۔ حسد، نفرت اور غضب سرمایہ دارانہ انفرادیت کے بنیادی اوصاف ہیں۔ انہی روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام اور فاشسٹ نظام قائم اور کارفرما ہوتا ہے۔ نفرت، حسد اور غضب کی مقبولیت ایک لبرل سرمایہ دارانہ نظام کو ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام میں تبدیل کر سکتے ہیں، سرمایہ داری کے انہدام کا ذریعہ کبھی نہیں بن سکتے۔ قوم پرست سرمایہ داری نے سب سے زیادہ اثر ہندوستان میں چھوڑا ہے۔

17۔ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست کی حقیقت اور ماہیت

1.17۔ ابتدائیہ

دور ِحاضر میں جو ریاستی نظم دنیا پر مسلط ہے وہ سرمایہ دارانہ نظم اقتدار ہے اور اس کے استحکام اور توسیع سے اسلامی انفرادیت، معاشرت اور ریاست شدید خطرات سے دوچار ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ اقتدار کی موجودگی میں مذہبی اقدارکا تادیر قائم رکھنا نہایت مشکل امر ہے۔ مغرب میں عیسائی اقدار کی تباہی اس کا واضح تاریخی ثبوت ہے۔ نفسِ مضمون یعنی سرمایہ دارانہ ریاست کی حقیقت و ماہیت بیان کرنے سے قبل ہم چند اصولی تمہیدی نکات پیش کرنا چاہتے ہیں جن سے ریاستی معاملات پر انقلابی نقطہ نظر اختیار کرنے کی اہمیت واضح ہوگی۔

اوّلاً :خلافت یعنی شریعت محمدی کی پابند ریاست کے قیام کے بغیر نہ تو اسلام کو قوت اور غلبہ حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی طاغوتی نظام کا خاتمہ ممکن ہے۔ شریعت کا مسلمہ اصول ہے کہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے، لہٰذا ریاست اسلامیہ کے قیام کے لیے جو ذرائع ناگزیر ہیں ان کے حصول کی کوشش کرنا مسلمانوں پر واجب ہے۔

ثانیاً : ١٨٥٧ء کے جہاد میں ناکامی اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد سے لے کر اب تک سرمایہ دارانہ استعمار کے جواب میں احیائے اسلام کے لیے بے شمار تحریکات برپا ہوئیں جن کے کام کو تقسیم کار کے اعتبار سے چارسطحوں پر رکھا جاسکتا ہے:

1۔ مدرسین اور مزکین

ان کا بنیادی ہدف اسلامی علوم کا تحفظ اور اسلامی انفرادیت و تشخص کا فروغ ہے۔ ان کے بنیادی ادارے مسجد، مدرسہ اور خانقاہ ہیں۔

٢۔ مبلغین اور مصلحین

ان کا بنیادی مقصد اسلامی معاشرت کا استحکام و فروغ ہے اوروہ دینی تہذیبی روایات کے تحفظ و فروغ اور حلال کاروبار کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے نمایاں کام تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا ہے جو صحیح معنی میں عوامی اسلامی تحریکات ہیں۔

٣۔ انقلابی

ان کا نقطہ ماسکہ ریاست کی اسلامی نہج پر اصلاح و قیام ہے اور یہ رائج شدہ نظام زندگی میں مکمل تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

٤۔ مجاہدین

ان کا مرکزی نقطہ بھی تعمیر و غلبہ اسلامی ریاست ہے اور یہ استعماراور اس کے ایجنٹوں سے عسکری سطح پر برسر پیکار ہیں اور طاغوتی طاقتوں کے پھیلاؤ کے مدمقابل مزاحمت پیدا کر کے اسلامی ریاستوں کے قیام کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال طالبان ہیں۔

اول الذکر دو تحریکات دفاعِ امت جبکہ موخر الذکر دونوں غلبہ دین کی تحریکات ہیں۔ یہ تمام راسخ العقیدہ دینی گروہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنے اپنے کام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ البتہ ان کے کاموں میں ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ ان کے کام اس معنی میں جدا جدا ہوگئے ہیں کہ تطہیر نفس اور اصلاح معاشرہ کاکام وہ علماء وصوفیہ اور جماعتیں کر رہی ہیں جو تعمیر ریاست کے کام سے لاتعلق ہیں۔ اسی طرح تعمیر ریاست اور جہاد کا کام وہ جماعتیں کر رہی ہیں جن کے پاس بالعموم تطہیر قلب کا کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں ہے۔ نتیجتاً تطہیر قلب کا کام محض تبلیغ و تطہیر اور ریاست کا کام محض قتال یا جمہوری عمل بن کر رہ گیا ہے۔ تقریباً ہر اسلامی گروہ اور جماعت اپنے کام کو دوسرے اسلامی گروہ کے کام کا متبادل (substitute) اور اس سے اعلی و ارفع سمجھتی ہے جبکہ حقیقتاً ان کے درمیان تعلق ایک دوسرے کے تکملہ (complementarity) کا ہے اور ان چاروں میں سے کسی دینی کام کو دوسرے دینی کام پر کوئی اقداری فوقیت حاصل نہیں۔ اصل ضرورت کسی نئے دینی کام کو شروع کرنے یا ایک دینی کام کو چھوڑ کر کسی دوسری دینی جماعت میں ضم ہوجانے یا کوئی ایسی نئی دینی جماعت بنانے کی نہیں جو سب کام کرے کیوں کہ الحمد للہ مختلف انفرادی دینی جماعتوں کا کام مل کر مطلوبہ مجموعی دینی کام کی کفایت کرتا ہے۔ اصل ضرورت موجودہ دینی تحریکات کے کام میں ارتباط پیدا کرنے کی ہے۔ ہر دینی گروہ اس بات کو لازم پکڑے کہ اپنے کارکنان کو دوسری دینی تحریکات کا قدر دان بنائے اور ان کے ساتھ اشتراکِ عمل کرنے پر رغبت دلائے۔ جب تک اسلامی گروہوں میں اشتراکِ عمل کا یہ طرز فکر عام نہ ہوگا، دوسرے گروہ کے دینی کام کو برابر اہمیت نہ دی جائے گی اور مجموعی کام کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط نہیں کیا جائے گا، انقلابی جدوجہد کا سہ جہتی (three dimensional) کام ادھورا ہی رہے گا۔

کہو ہر کارکن سے سب جتھوں کو اپنا گھر سمجھے
ہر ایک بھائی کو وہ اپنا حلیف و ہم سفر سمجھے

ثالثاً: ان تحریکات کی جدوجہد بالعموم سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے مرتب ہوتی ہے اور ان کے پاس ریاست کے اندر ریاست (state within the state) قائم کرنے کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جاری و ساری کام کے باوجود اسلامی قوت یکجا نہیں ہو رہی اور ان غیر مجتمع انفرادی دینی کاموں کے نتیجے میں غلبہ دین کے امکانات سامنے نہیں آتے اور نہ ہی تحفظ دین کا کام کما حقہ ہوپاتا ہے کیوں کہ ہم ہمیشہ دفاع اور ردّ عمل کی سطح ہی پر رہتے ہیں۔ موجودہ ریاستی ڈھانچے کے حوالے سے اسلامی تحریکات کے رویوں میں دو طرح کی خامیاں ہیں۔ ایک وہ جوتحفظ امت کی تحریکات کو لاحق ہیں اور دوم وہ جن کا شکار غلبہ دین کی تحریکات ہیں۔

اصلاحِ انفرادیت و معاشرہ کی تحریکات اصولاً تحفظ اسلام کی تحریکا ت ہیں جن کامقصد سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کے اندر ایک ایسے دائرے کی تلاش رہی ہے جہاں اسلامیت کی حفاظت و بقا ممکن ہو سکے۔ ان تحریکات نے اس مفروضے کی بنیاد پر خود کو ریاستی معاملات سے علیحدہ رکھا ہے کہ نظام اقتدار سے غیر جانبداری کا رویہ ممکن ہے جبکہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ ریاست سے غیرجانبداری ناممکن الوقوع شے ہے کیوں کہ ریاست تو بالفعل موجود ہے اور وہ احکام کے صدور کے ذریعے فرد اور معاشرے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ اقتدار کے معاملے میں لاتعلقی یا غیر جانب دار رویے کی کوئی حقیقت نہیں۔ یا تو آپ کسی نظام اقتدار کے خلاف ہوتے ہیں یا اس کے حق میں، ان کے درمیان کوئی راستہ موجود نہیں۔ ہماری سب سے بڑی عوامی تحریکات یعنی دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت ریاستی مسائل سے نہ صرف یہ کہ سہو نظر کرتی ہیں بلکہ انہیں گندگی سمجھتی ہیں۔ یہ جماعتیں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ غیر سیاسی جماعتیں ہیں حالانکہ ان کی اس بات کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انہوں نے باطل نظام اقتدار سے مصالحت قبول کرلی ہے۔ اقتدار سے لاتعلقی کے امکان کی اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام پر عمل کرنے کا دائرہ دن بہ دن چھوٹا ہوتا چلا جا رہا ہے اور سرمایہ داری پر مبنی نظام اقتدار ہم پر غالب آتا جارہا ہے۔ کسی منکر کو ہوتے دیکھ کر خاموش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ منکر کے معاملے میں غیر جانبدار ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی بالادستی قبول کرتے ہیں اور منکر کے ساتھ یہ مفاہمت اس کی تقویت اور فروغ کی باعث بنتی ہے۔ لہٰذا اقتدار (نہ کہ محض حکومت) اور غلبے کے مسئلے پر تمام دینی کام کو مربوط کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ اگر یہ نہ کیا گیا تو انفرادی اصلاح تو ہوجائے گی لیکن اس کے نتیجے میں کافر اقتدار کو نقصان نہیں پہنچے گا اور بالآخر اصلاح نفوس بھی مشکل ہوتی چلی جائے گی کیوں کہ اصلاح کتنی ممکن ہے اس کا انحصار واقعیت (Facticity) کی ان معاشرتی و ریاستی جکڑ بندیوں پر ہوتا ہے جن سے ایک فرد دوچار ہوتا ہے۔ اسلامی انفرادیت کے فروغ کے لیے ایسی ترتیب اقتدار چاہیے جو واقعیت کو بدل دے اور اسلامی انفرادیت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دے۔ مصلحانہ جدوجہد کرنے والی تحریکات کا یہ مفروضہ غلط ہے کہ اسلامی انفرادیت کا سیاسی اظہار اور ترتیب اقتدار خودبخود رونما ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے جب اسلامی علمیت کے تحفظ کے لیے شعوری طور پر ادارتی صف بندی عمل میں لانا لازم ہے۔ محض افراد کو اس کی اہمیت بتلا دینے سے کام نہیں چلتا تو اسلامی اقتدار کے قیام کے لیے مطلوبہ صف بندی سے صرف نظر کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس کا ظہور خود بخود کیسے ہوجائے گا؟ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مدارس میں بھی ریاست و سلطنت کی نظریاتی بحثیں بالکل معدوم ہو گئی ہیں اور متقدمین میں سے کسی مسلم سیاسی مفکر کی کوئی کتاب ہمارے درس نظامی میں شامل نہیں۔

انقلابیوں کا اصل کام یہی ہے کہ وہ سارے دینی کام کو اس طرح مجتمع کریں کہ اسلامی اقتدار قائم ہو سکے۔ مگر جن تحریکات نے غلبہ دین کو اپنی جدوجہد کا بنیادی مرکز بنایا انہوں نے یا تو انقلاب کو جمہوری سیاست کا ہم معنی سمجھ لیا یا پھر احتجاجی و مطالباتی سیاست کو۔ ہماری جدوجہد کا مقصد موجودہ نظام اقتدار کے اندر شمولیت نہیں بلکہ ایک متبادل نظام زندگی اور اقتدار قائم کرنا ہے جہاں عوام یا کسی فرد کے بجائے ”اہل الرائے“ کا اقتدار قائم ہو جن کی مرضی و مشورے سے ہی ریاست کے امور طے پائیں۔ جن تحریکات نے جمہوری سیاست کو اصل مقصود بنا رکھا ہے انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست کے اندر ریاست (state within the state) کے قیام کی جدوجہد کے بغیر ریاست نہیں بلکہ حکومتیں تبدیل ہوا کرتی ہیں کیوں کہ قانون کے اندر رہ کر کی جانے والی جدوجہد توloyal disobedience (اتباعی مخلص نا فرمانی ) ہوتی ہے جس کے نتیجے میں نظام اقتدار تبدیل نہیں ہوتے۔ نظام باطل کے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اقتدار تبدیل کرنے کی خواہش رکھنا self-defeating (تضاد پر مبنی ) اصول ہے کیوں کہ ہر نظام اقتدار کے قوانین اس کے اپنے استحکام کے لیے بنائے جاتے ہیں نہ کہ اسے ڈھادینے کے لیے۔ disobedient loyalty کے ذریعے اقتدار تبدیل کرنے کی غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی کہ ہم نے قانون کو ”غیر اقداری“ (value-neutral) سمجھ لیا ہے حالانکہ ہر قانون ایک مخصوص انفرادیت و معاشرت نافذ کرنے کے لیے وضع کیا جاتا ہے اور یہی حال ہیومن رائٹس پر مبنی دستوری قانون کا بھی ہے جس کامقصد سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن)، معاشرت (سول سوسائٹی) اور ریاست (ریپبلک) کا قیام و فروغ ہے۔ جو تحریکات خود کو اصولاً اور عملاً انقلابی کہتی بھی ہیں ان کے پاس بھی انقلابی عمل کا کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔ ان کےانقلاب کا تصور بس یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو کسی دعوت کے تحت منظم کر کے حکومت وقت سے بھڑ جاؤ یا اس سے چند مطالبات تسلیم کرا لو۔ ظاہر ہے یہ تصور غلط ہے کیوں کہ انقلابی عمل کا مطلب ہوتا ہے قوت نافذہ کو موجودہ افراد اور اداروں سے چھین کر متبادل افراد اور ادارتی صف بندی کے تحت مربوط اور مجتمع کرنا۔ انقلابی تحریکات اس قسم کی سعی پر کوئی توجہ نہیں دیتیں کیوں کہ وہ حکومت اور ریاست کے فرق کو سمجھ نہ سکیں۔ بہت سی انقلابی تحریکات ریاستی قوت کے متبادل ادارے قائم کرنے کو ناجائز گردانتی ہیں گویا وہ ریاست کے اندر یاست قائم کیے بغیر انقلاب لانے کا خواب دیکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحی جماعتوں کی مانند انقلابی جماعتیں بھی تحریک لال مسجد کی انقلابی حکمت عملی کو غلط قرار دیتی رہیں۔ تاریخ میں کوئی انقلاب محض دعوت و تبلیغ کے زور پر نہیں آیا بلکہ اس کے لیے لازماً قوت کو غالب نظام اقتدار کے خلاف جمع کرنا پڑتا ہے۔ اگر سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں محض حکومتی افراد تبدیل ہوجائیں مگر اقتدار کا مرکز موجودہ ادارے ہی رہیں تو اس جدوجہد سے کوئی بامعنی تبدیلی نہیں ہوپاتی۔ وہ لوگ جو انقلابی عمل کی حقیقت اور حکومت و ریاست کے فرق کو نہیں پہچانتے وہ مجاہدین کی جدوجہد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ کبھی مجاہدین کے اقدام کوغم و غصے کا اظہار کہتے ہیں اور کبھی شدت پسندانہ رویے پر مبنی رد عمل۔ ایسے لوگ مجاہدین کی جدوجہد کو عالمی قوانین کی پاس داری کرنے کے حوالے سے شرع کی تعلیمات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رابعاً: دورِ حاضر میں قائم اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں کافرانہ نظم اجتماعی پر قائم ہیں گو انہیں چلانے والے مسلمان ہیں اور ان ریاستوں کا خلافت ہونا تو کجا سلطنت اسلامیہ کے درجے سے بھی دور کا واسطہ نہیں کیوں کہ یہ تمام ریاستیں قومی ہیں جہاں حاکمیت کی بنیاد عوامی نمایندگی ہے، جہاں علوم شرعیہ کے بجائے سوشل سائنسز کی بالادستی ہے، جہاں شرع کے بجائے دستوری قانون نافذ ہے وغیرہ۔ انقلابیوں کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ تحفظ اور غلبہ اسلامی کا کام اسی وجہ سے انتشار کا شکار ہے کہ وہ اسلامی ریاست جو تسلسل کے ساتھ سلطان عبد الحمیدثانی کے دور تک قائم تھی اور جس نے تمام دینی کام کو سمیٹ رکھا تھا اب مفقود ہوگئی ہے۔ سلطان اسی معنی میں ظل اللہ تھا کہ اس کی برکت سے تمام دینی کام مربوط تھے اور اقتدار کی کنجیاں علماء اور صوفیہ کے ہاتھوں میں محفوظ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ اورشاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے مغل سلطنت کے استحکام کی کوششیں کیں (ماسوائے اکبر کی حکومت کہ اس نے دینِ الٰہی کو فروغ دینے کی کوشش کی)۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ باطل نظام اقتدار کے اندر غلبہ دین کی کوشش بار آور نہیں ہوسکتی اور اسلامی ریاست قائم کرنا ضروری ہے۔

درج بالا جدوجہد مرتب کرنے کے لیے یہ سمجھنا لازم ہے کہ جس ریاستی نظم سے ہمارا مقابلہ ہے اس کی نوعیت کیا ہے اور یہ ریاست کس طرح کام کرتی ہے کیوں کہ ان اصولی مباحث کو سمجھنے کے بعد ہی ہم یہ سوال اٹھا سکیں گے کہ کس طرح اسلامی ریاست قائم اور مستحکم کرنے کی جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ اس مضمون میں پیش کردہ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست کا عمومی خاکہ دو سوالات کے جوابا ت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اولاً سرمایہ دارانہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوم یہ اقتدار کیسے قائم رکھا جاتا ہے۔

2.17۔ فرماں روائی اور عمل داری کیسے کی جاتی ہے

معاشرہ رضا کارانہ (voluntary)صف بندی سے تشکیل پاتا ہے یعنی افراد اپنی مرضی سے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ریاست نظام اقتدار کا نام ہے یعنی ایک جبری صف بندی کی تشکیل کی جاتی ہے۔ اب سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست میں اصل اقتدار کس کو حاصل ہوتا ہے۔ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست میں اصل اقتدار ان کو حاصل ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے مؤید ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے کہ انسان کو تمتع فی الارض کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں، انسان کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے زیادہ سے زیادہ مساوی مواقع ملیں۔ جو لوگ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست میں مقتدر ہوتے ہیں وہ اسی سرمایہ دارانہ عقلیت کے بارے میں راسخ العقیدہ ہوتے ہیں اوریہی اُن کے اقتدار کا جواز ہیں۔

اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت پرایمان رکھنے والوں کا اقتدار کیسے قائم ہوتا ہے اور کیسے مستحکم ہوتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب پورا معاشرہ سرمایہ دارانہ تعقل کو اصل عقلیت کے طور پر قبول کرلے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی تمام یا زیادہ سے زیادہ فیصلے ہوں، گویا سرمایہ دارانہ عقلیت کو آفاقی بنا کر اقتدار کو مستحکم کیا جاتا ہے۔ جس قدر اس سرمایہ دارانہ عقلیت کی توسیع ہو گی، جس قدر سرمایہ دارانہ عقلیت کو معاشرہ میں قبولیت عامہ حاصل ہوتی جائے گی، جتنا سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھنے والے اور سرمایہ دارانہ عقلیت کے داعی اس میں کامیاب ہوں گے، اتنا ہی ان کا اقتدار مستحکم ہوگا۔

3.17۔ ریاستی اقتدار

معاشرہ کے برعکس کہ جہاں تعلقات رضاکارانہ بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں، ریاست ایک نظامِ اقتدار کا نام ہے جس کے پاس اپنے فیصلوں کے نفاذ کے لیے ایک مخصوص علاقہ اور اس کی آبادی کے لیے قوتِ نافذہ بھی موجود ہوتی ہے۔ گویا سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھنے والوں کے پاس محض تحکم نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے فیصلو ں کے نفاذ کے لیے ریاست کی قوت کو استعمال کرتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ لبرل ریاست میں دو مختلف طریقوں سے نظامِ اقتدار مرتب کیا جاتا ہے یعنی اس کے دو مختلف ڈھانچے ہوتے ہیں: ١۔ جمہوری طریقہ، ٢۔ لبرل ڈکٹیٹرشپ یا آمریت

بظاہر ان دونوں طرز ہائے اقتدار کی ترتیب وتنظیم مختلف ہوتی ہے لیکن عملاً ان دونوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عقلیت ہی غالب آتی ہے یعنی یہ دو قالب ہیں لیکن ان دونوں کی روح ”سرمایہ دارانہ عقلیت“ ہی ہے۔ ان دونوں طرزِ اقتدار کو استعمال کر کے سرمایہ دارانہ عقلیت ہی کو آفاقی بنایا جاتا ہے اور ان بظاہر دو مختلف طرز اقتدار میں فیصلے سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی کیے جاتے ہیں اور اسی کو مقبول عام بنائے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دینی جماعتوں کی توجہ ”سرمایہ دارانہ عقلیت“ کی مرکزی بحث کے بجائے اس کے قالب یعنی آمریت اور جمہوریت پر مرکوز ہوگئی ہے۔ پاکستان میں دینی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ان کو جمہوری طرز کی حکومت میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی زیادہ آزادی میسر آتی ہے(گو کہ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کو زیادہ فائدہ آمریت کی حکومتوں نے پہنچایا ہے) لیکن ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت یا آمریت میں روح ایک ہی کارفرما ہے، اور ان کے متبادل کی تلاش کے بجائے انہی دونوں نظاموں میں گنجائشیں تلاش کرنے سے ان دونوں نظاموں ہی کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ گنجائش تلاش کرنے سے یہ دونوں نظام کمزور نہیں ہوتے یا ان کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔

4.17۔ فرماں روائی کا طریقہ کار

فرماں روائی کے طریقۂ عمل (governance process)سے مرادہے کہ کس طریقے سے احکام صادر کیے جا رہے ہیں او رکس طریقے سے احکام نافذ کیے جارہے ہیں۔ نظامِ اقتدار کو مرتب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محض احکام دیے نہ جارہے ہوں بلکہ ان کو نافذ کرنے کے لیے بھی پوری حکمت عملی اور مشینری موجود ہو۔ گویا طریقہ عمل سے مراد سرمایہ دارانہ عقلیت کی آفاقیت اور اس کے غلبے کو ممکن بنانے کا مخصوص طریقۂ عمل ہے۔ اس سلسلے میں دو مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔

ایک تصور تویہ ہے کہ ہر فرد فطرتاً یہی چاہتا ہے کہ تمتع فی الارض اور خواہشات کو پورا کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آئیں یعنی معاشرہ اس بات پر راضی ہے اور معاشرے کے ہر فرد کی یہی خواہش ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی زندگی کے ہر شعبہ کے ہر دائرہ کار میں فیصلے کیے جائیں اور سرمایہ دارانہ عقلیت ہی کو غلبہ حاصل ہو۔ یہی وہ نقطۂ نگاہ ہے جو اٹھارھویں صدی کے اندر Scottish Enlightenment کے مفکروں اورکانٹ کی فکر میں ملتا ہے کہ فطرت ِ انسانی کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشات کی تسکین ہو۔ لہٰذا اسٹیٹ کو سوسائٹی پر تسلط کی ضرورت نہیں بلکہ ریاست معاشرے کے مختلف افراد جو خواہشات رکھتے ہیں انہی کو پورا اور نافذ کرنے کا معقول ترین طریقہ وضع کرتی ہے۔ گویا سرمایہ دارانہ لبرل ریاست سرمایہ دارانہ معاشرے کی خواہشات کو پورا کرنے کا ”ذریعہ“ ہوتی ہے لہٰذا اصولاً وہ اس کے تابع ہوتی ہے۔

دوسرا تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے افراد نہیں جانتے کہ انہیں کیا چاہنا چاہیے۔ وہ عقلیت اصلیہ یعنی سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں لہٰذا ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو اصلی عقلیت کی نمایندہ ہو، یہی گروہ پوری انسانیت کا نمائندہ گروہ ہے۔ اس گروہ کی ذمہ داری ہے کہ آمریت قائم کر کے لوگوں کو مجبور کریں کہ اس اصلی عقلیت (سرمایہ دارانہ عقلیت) کے مطابق تمام فیصلے کیے جائیں۔ گویا ریاست محض معاشرے کے تابع نہیں ہے بلکہ اس کو معاشرے پر غالب ہونا چاہیے اور اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عقلیت اصلیہ کو معاشرتی سطح پراور انفرادی سطح پر نافذکرنے کے لیے نظام اقتدار کھڑا کرے۔ اب یہ گروہ کون سا ہے اس کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے(وہ مزدوروں کی آمریت یامخصوص طبقہ یا قوم ہو سکتاہے)۔

واضح رہے کہ یہ دونوں تصورات و نظریات ریاست کے اندر خواہشاتِ نفسانیہ کی زیادہ سے زیادہ تکمیل کی جدوجہد ہی کوجوازفراہم کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مختلف ہے۔ ایک طریقے میں ریاست معاشرہ کے ماتحت ہے اور ریاست ان خواہشات کو پورا کر رہی ہے جو معاشرے کی حرکیات میں خودبخود ابھر کر سامنے آرہی ہیں اور ریاست ان کی ترتیب، تقدیم اورتاخیر کا ایک ذریعہ ہے۔ دوسرے طریقہ میں ریاست کو معاشرے پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ لوگوں کو کیا چاہنا چاہیے اور اس کے حصول کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

5.17۔ سرمایہ دارانہ عقلیت کے نفاذ کے فرائض

سرمایہ دارانہ عقلیت کے حاملین سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو معاشرتی سطح پر مرتب کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے انہیں تین بنیادی فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں:

  1. مارکیٹ کے اندر واحد پیمانہ تعین قدر سرمایے کا عمل بن جائے۔
  2. سرمایے کی بڑھوتری کا تعقل پورے معاشرے پر حاوی ہوجائے اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت سے ماورا ہو۔
  3. نمبر1اور نمبر2کو قبولیت عامہ اور جوازِ عمومی حاصل ہو جائے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کو غالب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے ہر دائرہ کار میں تمام اعمال کو اس واحد عمل کے اردگرد مجتمع کر دیا جائے یعنی سرمایے کی بڑھوتری مستقل تیز ہوتی چلی جائے اور سرمایے کی بڑھوتری محض خود اپنا جواز ہو۔ ہر معاشرتی یا انفرادی عمل کا مقصدِ اولین (Ultimate end)یہی ہو کیوں کہ سرمایہ ہی ”آزادی“ (Freedom) کی مجسم شکل ہے۔

یہ عمل پہلے مارکیٹ کی سطح پر ہوتا ہے۔جہاں اس کو واحد معقول پیمانہ خیروشر کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے اور کسی بھی عمل کو صرف اسی بنیاد پر جانچا جاتا ہے کہ اس مخصوص عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار میں تیزی آرہی ہے یا کمی ہورہی ہے۔ یعنی فر د کے مخصوص عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔ اگر زیدکی مخصوص نوکری کے نتیجے میں سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار میں اس سے کم اضافہ ہوتا ہے جتنا ایک اسٹاک بروکر کی کاوش کے نتیجے میں ہوتا ہے تو معقول بات اور جائز ہے کہ زید کی تنخواہ اسٹاک بروکر کے مقابلے میں کم ہو کیوں کہ سرمایے کی بڑھوتری کے عمل کو آگے بڑھانے میں زید کا حصہ (contribution)اس سے کم ہے جو اسٹاک بروکر کا ہے۔ گویا مارکیٹ کی سطح پر جو معقول پیمانہ خیروشر مسلط ہو جاتا ہے اور جسے قبول کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک فرد کو تمتع فی الارض کی جواجازت دی جاتی ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ وہ سرمایے کی بڑھوتری کے عمل کو کتنا مہمیز دیتا ہے۔

معاشرے کے اندر مارکیٹ ایک دائرہ کار ہے۔ مارکیٹ کے باہر بھی فرد بہت سے تعلقات کو تشکیل دیتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ وہ ان تعلقات کی تشکیل بھی سرمایہ دارانہ عقلیت یا بڑھوترئ سرمایے کی بنیاد پر کرے، مثلاً خاندانی تعلقات عموماً ایثار ومحبت کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ عقلیت میں راسخ العقیدہ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑھوترئ سرمایہ کا اصول جو واحد معقول پیمانے کے طور پر صرف مارکیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ آفاقی ہو جائے، خاندان بھی مارکیٹ کا حصہ ہوجائیں، افراد رشتۂ ازواج میں منسلک ہوتے ہوئے ایمان داری، نسب وشرافت، خاندان اور کفو کو اہمیت نہ دیں بلکہ کیرئیر یا پیسہ کو مدّنظر رکھیں۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے بھی سرمایہ دارانہ تعقل کو نظرانداز نہ کریں۔ برادریاں، قبیلے، قوم اور حتیٰ کہ مذہبی ادارے بھی مارکیٹ کے اس تعقل کا حصہ بن جائیں۔ فرد صرف مارکیٹ کے عمل میں سرمایے کا ایجنٹ نہ ہو بلکہ زندگی کا ہر کردار نبھاتے ہوئے وہ سرمایے کا آلہ کار ہو، اس کو (capitalist socialization)کہتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ سرمایہ دارانہ خطوط پر استوار ہوتا ہے۔

تیسرا فرض یہی ہوتا ہے کہ یہ دونوں طرح کے فرائض محض زبردستی نافذ نہ کیے جار ہے ہوں بلکہ ان کو قبولیت عامہ اور جواز عمومی حاصل ہو۔ عام آدمی کے لیے یہی معقول پیمانہ خیروشر اور پیمانہ عمل بن جائے، اور جب فرد کا ہر عمل بڑھوترئ سرمایے کے تحت آجائے تو فرد خود اپنے دل میں یہ محسوس کرے کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں، اور زندگی کے ہر شعبے کے اندر سرمایے کی بڑھوتری کو مہمیز دینے کی بنیاد کے اوپر اپنی مرضی سے اپنے اعمال کا تعین کرے۔ کسی معاشرے میں کس قدر سرمایہ دارانہ جبر کی ضرورت ہے اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ افراد کتنے سرمایہ دار بن چکے ہیں۔

6.17۔ سرمایہ کی کارفرمائی کے آلہ کار افراد

سرمایہ دارانہ عقلیت کوئی فطری چیز نہیں ہے بلکہ انتہائی غیر فطری چیز ہے اس لیے سرمایہ دارانہ تعقل کو پورے نظامِ زندگی پر غالب کرنے کے لیے خصوصی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں مخصوص افراد اور اداروں کی اہمیت ہوتی ہے۔ پہلے ہم ان افراد کا تذکرہ کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبولیتِ عامہ دلوانے اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو غلبہ دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

1۔ دانش ور

یہ وہ فرد ہے جو قدیم مذہبی علمیت اور قیادت کا فطری مخالف ہے۔ مذہبی علمیت کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ہر عمل کی انجام دہی سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضامندی و مرضی تلاش کی جائے۔ احکامات کا استنباط اس طرح کیا جائے کہ اللہ کی مرضی ومنشاسے قریب تر ہو نا ممکن ہوسکے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کی اطاعت ممکن ہو سکے۔ اس کے برعکس دانش ور کا ظہور سترھویں صدی میں ہوا اور یہ مذہبی علمیت کے برعکس سرمایہ دارانہ علمیت کا علم بردار ہوتا ہے۔ یہ مذہبی علمیت سے علی الرغم ادراک حقیقت کا قائل ہوتا ہے، یہ انسان کی آزاد ی اور مساوات کا قائل ہوتا ہے اور ان راہوں کی نشان دہی کرتا ہے جن کے نتیجے میں انسانیت زیادہ سے زیادہ مساوی آزادی حاصل کر کے اپنی خواہشات (نفسانیہ) کو حاصل کر سکتی ہے۔

2۔کلچرل ہیروز

اس ریاستی نظام میں چوں کہ تمتع فی الارض اور نفسانی خواہشات کی تکمیل عمل کے قدرکی تعیین کی بنیاد بنتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کی نشوونما اور تشہیر کی بہت ضرورت ہوتی ہے جو اس کام میں کامیاب ہو جائیں، عموماً یہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔

اسپورٹس مین: لبرل نظام میں کھیلوں (لہو ولعب) کی خاص اہمیت ہے۔ مقامی سطح سے لے کر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک کھیلوں کے مقابلوں کا ایک مستقل سلسلہ لبرل ریاستوں کے تعاون سے جاری رہتا ہے اور مختلف قسم کے کھیل کھیلنے والوں کو ہیروز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

سائنس دان: سائنسز سے وابستہ افراد میں فزیکل اور سوشل سائنسز سے وابستہ افرادشامل ہیں۔ یہ وہ افرادہیں جنہوں نے کائنات کی طبعی قوتوں پر انسان کا غلبہ اور اختیار بڑھا دیا ہے اور اس اختیار کو بڑھانے کا مقصد تمتع فی الارض ہے۔ ایک زمانے میں یہ فزیکل سائنس دان ہوتے تھے مگر آج کل میڈیسن اور بائیوٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

ان ہیروزکو یہ مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ معاشرے کے رول ماڈل بن جائیں۔ لوگ ان کلچرل ہیروز کو بزرگان دین کی جگہ رکھنے لگیں۔ علماء اور صوفیاء کو بے وقوف سمجھنے لگیں اور اصلی عوامی لیڈر شپ کا منصب ان تین طرح کے لوگوں کے پاس آ جائے۔ اصلی عوامی لیڈر شپ عموماً سیاسی نہیں ہوتی بلکہ اصلی عوامی لیڈر شپ ان کلچرل ہیروز کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ ان کلچرل ہیروز کے ”مداح“ اپنی زندگی میں ان کا طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

3۔ ٹیکنوکریٹ اور بیورو کریٹ

ٹیکنوکریسی اور بیورو کریسی بھی سرمایہ دارانہ ریاستوں کے انتظام سے متعلق خاص چیز ہے۔ یہ ایسی اشرافیہ ہوتی ہے جو سرمایہ داری کے مجموعی مفادات کی بنیاد پرانفرادی سرمایہ دارانہ عمل کی تحدید اور ترتیب کرتی ہے۔ اس کا اپنا مفاد اس میں پنہاں ہوتا ہے کہ سرمایہ داری کے مجموعی مفادات کتنے حاصل ہو رہے ہیں؟ ان کو سرمایے کے مجموعی مفادات کے نمایندوں کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مستقل مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی عمومی ایجنٹ پیدا نہیں ہوتا۔ مارکیٹ کا جو طریقہ اورنظم قائم ہے اس میں ہر کمپنی اپنے مفادات کی نگرانی اور تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہوتی ہے۔ اس کو صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ اس کا منافع زیادہ سے زیادہ ہو جائے۔ اس لیے اس نظم میں عمومی سرمایے کے تحفظ کے نمایندے نہیں ہوتے جو ا س بات پر نظر رکھ سکیں کہ کوئی مخصوص کمپنی اپنا منافع زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے کوئی ایسا کام تو نہیں کر رہی جس سے مجموعی بڑھوترئ سرمایہ کو روکا جارہا ہے۔ ٹیکنو کریسی اور بیوروکریسی یہ بتاتی ہے کہ تمتع فی الارض کا بہترین طریقہ کیا ہے اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر مجموعی سرمایہ کے ایجنٹوں کا رول ادا کریں گے۔ ان کی وفاداریاں اور غیر جانب داریاں سرمایہ دارانہ نظام سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں مخصوص امتحانی نظام سے گزار کر سامنے لایا جاتا ہے اور عمومی نمایندوں کے برعکس ان کی حیثیت ایک مستقل نوعیت کی ہوتی ہے۔ قانون سازی میں بھی یہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی سرمایہ دارانہ نظریے پرایمان رکھنے والے ہو سکتے ہیں، چاہے لبرل ہوں یا مسلم قوم پرست یا کمیونسٹ۔ سرمایہ دارانہ نظام کا تقاضا ہے کہ ایسا گروہ مستقل تیار ہوتا رہے اور یہ نظریاتی گروہ برسر اقتدار بھی ہو اور اس کا اقتدار مقبول عام بھی ہو۔

4۔ آرمڈ فورسز

اس کی زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔ یہ سرمایہ داری کو لاحق خطرے کے وقت سامنے آتے ہیں اور سرمایہ داری کا آخری دفاع یہی لوگ کرتے ہیں۔ ہر ملک کی عموماً اپنی آرمی، پولیس اور ریزروفورسزوغیرہ ہوتی ہیں۔

5۔ استعماری ایجنٹ

یہ وہ مقامی افراد ہوتے ہیں جن کا فکری تناظر، جن کے مفادات اور وفاداریاں عالمی استعمار کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ نظام ایک عالمی نظام ہوگیا ہے اور سرمایہ داری کی اصل قوتِ نافذہ امریکا ہے۔ اس قوتِ نافذہ کی ایک ضرورت یہ ہے کہ براہِ راست اپنے افراد کے بجائے وہ ایسے مقامی افراد کے ذریعے حکومت کے کاموں میں دخیل ہو جن کی بنیادی وفاداریاں امریکن ایمپائر کے ساتھ ہوں۔ وہ بودوباش تو مقامی لوگوں کا سا رکھیں لیکن تمام تر طرزِ زندگی ایمپائر والوں کی سی ہو۔ گویا یہ ایمپائر کے غیر مقامی شہری (non-national citizens)ہوتے ہیں۔ انگریزوں کی حکومت نے جب محسوس کیا کہ ان کی حکومت کو مقبولیت حاصل نہیں ہے تو انہوں نے مختلف طریقوں خصوصاً تعلیمی نظام کے ذریعے ایسے لوگ تیار کیے اور صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پوری تیسری دنیا کے اندر ایسے لوگوں کی پوری نسل تیار کی گئی جو فطرتاً ایمپائر ہی کے لوگ ہوں۔ یہ لوگ کلیدی مقامات پر فائز کیے جاتے ہیں۔

7.17۔ حاملین اقتدار ادارے

ہم ان افراد کا تذکرہ کر چکے ہیں جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبولیت عامہ اور غلبہ دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب ان اداروں کا تذکرہ ہے جن کے ذریعے یہ افراد اقتدار کی ترتیب عمل میں لاتے ہیں۔

1۔ کارپوریشن

کارپوریشن کے اندر نظامِ اقتدار سرمایہ داری اپنی کامل ترین شکل میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک فرد سرمایہ دارانہ بندھنوں میں ایسے جکڑا ہوتا ہے کہ بڑھوترئ سرمایہ کا ایجنٹ بننے کے سوا اور کچھ ممکن نہیں ہوتا۔ کارپوریشن کے اندر جو ترتیب نظم ہوتی ہے اس کے نتیجے میں معاش کے پورے عمل پر جس طرح سرمایہ دارانہ عقلیت غالب آتی ہے اور کہیں غالب نہیں آتی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کارپوریشن کے ذریعے ذاتی ملکیت کو ختم کر کے سرمایے کی ملکیت قائم کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کے لیے انسان کے جاگتے اوقات میں انسان کو خاص قسم کے نظم و ضبط میں سمو دیا جاتا ہے اور اس کے ان اوقات میں اسے سرمایے کا خادم بنا دیا جاتا ہے۔ کارپوریشن وہ شخص قانونی ہے جس کا اکیلا وظیفہ یہ ہے کہ سرمایے کی بڑھوتری کے پیمانے پر اپنے تمام اعمال کو مرتب کرے۔ کارپوریشن کو چلانے والے منیجر ہوتے ہیں جو عملاً بڑھوترئ سرمایہ کی مشین ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ماتحت ملازمین کو بھی اس واحد پیمانے پر پرکھتے ہیں کہ وہ بڑھوترئ سرمایے کے باعث بن رہے ہیں کہ نہیں۔ ایک معیشت میں جس قدر کارپوریشن کا عمل دخل بڑھتاہے اتنی ہی ذاتی ملکیت کم ہو جاتی ہے۔

2۔ بینک اور مالی ادارے

کارپوریشن کے علاوہ دوسرا ذریعہ بینک اور فنانشل ادارے ہیں۔ یہ بھی خالصتاً سرمایہ دارانہ ادارے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سرمایے کی بڑھوتری کی بنیاد پر قدر کے تعین کا ایسا نظام نافذ اور قائم کریں کہ زر کی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ پیداواری عمل کے نظام پر حکم لگانے کی پوزیشن میں آجائے۔ اس کے لیے بنک یہ فریضہ انجام دیتے ہیں کہ لوگوں کی بچتوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تاکہ لوگ اپنے فاضل دولت کو خود استعمال نہ کریں بلکہ بینک میں کھاتے کھول لیں اور بینک اس رقم کو سرمایہ کے چکر میں شامل کر دیں۔ انہی اداروں کے ذریعے سرمایہ داری کو عالمگیر کرنے میں مدد ملتی ہے۔

3۔ فنانشل ریگولیشن (زری تحکیم)

سرمایہ دارانہ نظام میں مختلف کمپنیاں اپنے اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے مسلسل مسابقت کرتی ہیں۔ اس لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ نظر رکھتی ہے کہ اس مسابقت کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام بحیثیت مجموعی کسی نظاماتی بحران سے دوچار نہ ہو۔ یہ ریگولیٹری اتھارٹی اس نظاماتی بحران سے بچانے کے لیے پیسہ کی رفتارِ پیداوار میں کمی یا زیادتی کا فیصلہ کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ خاص حکومت کا کام لگتا ہے لیکن اب صرف اسٹیٹ بینک یہ کام نہیں کرتا بلکہ عالمی مالیاتی اور زری ادارے بھی اس میں دخل اندازی کرتے ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں بھی ایسی ریٹنگ ایجنسیاں آ گئی ہیں مثلاً جے پی مورگن وغیرہ جن کا اس سلسلے میں اہم کردار ہوتا ہے۔

4۔ لیبر یونینز

کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ ٹریڈ یونینز بھی سرمایہ دارانہ عقلیت کو غالب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انفرادی طور پر تو کارپوریشن کے اندر ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے ذریعے یہ کام کیا ہی جارہا ہے لیکن اجتماعی طور پر مزدوروں کو سرمایہ دارانہ عقلیت سے بہرہ ور کرنے کا کام مزدور یونینز بھی کرتی ہیں۔ وہ مزدور قوتوں کو اس مقصد کے گرد منظم کرتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے فروغ کے نتیجے میں جو فوائد حاصل ہو رہے ہیں ان میں اپنا حصہ طلب کریں اور مزدور بھی اجتماعی طورپر سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو مہمیز دینے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان کے مفادات بڑھوتری سرمایہ کے اہداف سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہو سکیں۔

5۔ انتظامیہ (مقامی اورقومی )

کسی بھی ملک کے معاملات چلانے کے لیے انہیں مختلف شعبو ں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے مثلاً داخلہ امور، خارجہ امور، دفاعی امور، تعلیمی امور، معاشی امور وغیرہ۔ اور ان سب امور کو چلانے کے لیے ہر ملک میں انتظامیہ کا ادارہ ہوتا ہے جس کی تنظیم مقامی سے لے کر قومی سطح تک موجود ہوتی ہے۔ انتظامیہ کے ادارے کا کام محض قانون کا نفاذ نہیں ہوتا بلکہ وہ قانون سازی میں بھی نمایاں طور پر حصہ لیتا ہے۔ اکثر قوانین کے مسودے انتظامیہ ہی تیار کرتی ہے۔ عملاً انتظامیہ ہی مقننہ کی رہنمائی کرتی ہے اور اس پر حاوی ہوتی ہے اور اس کو سرمایہ دارانہ ڈگر سے نہیں ہٹنے دیتی۔

6۔ میڈیا

میڈیا میں اخبارات ورسائل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ میڈیا سرمایہ دارانہ دائرہ اقتدار کو وسیع کرنے کا اہم ادارہ ہے۔ میڈیا کے سب شعبے یعنی انٹر ٹینمنٹ، ایڈورٹائزنگ اور انفارمیشن پہنچانے کا عمل سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو رول ماڈل اور ہیرو بنایا جاتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ کے ذریعے سرمایہ دارانہ کارپوریشن کے مال کی طلب پیدا کر کے اس کی کھپت ممکن بنائی جاتی ہے اور انفارمیشن پہنچانے کے عمل کو بھی مختلف طریقوں (لائسنسنگ پر کنٹرول) کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ میڈیا کا وسیع نیٹ ورک سرمایہ دارانہ ریاست کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔

7۔ عدالتیں

عدلیہ بنیادی طورپر لبرل دستور کی محافظ ہوتی ہے۔ یہ لبرل دستور کی بنیاد پر شہریوں کے دو فریقوں یا سٹیزن اور مملکت اور اس کے مختلف اداروں کے درمیان متنازعہ امور کے فیصلے کرتی ہے۔ ان معنوں میں کورٹس کا بنیادی فریضہ روزمرہ معاملات کی دستور سے ہم آہنگ تشریح و توضیح کرنا اور مخصوص معاملات پر اس کا اطلاق کرنا ہے۔ دستور ایسی آزادیوں اور حقوق کے مجموعے کا نام ہے جو فرد کو سرمایے کی بڑھوتری کے فرض کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ اور آزادی کا تحفظ ہے۔

8۔ پولیس

پولیس کے محکمہ کا سرمایہ دارانہ اشرافیہ اور عدلیہ سے مخصوص نوعیت کا تعلق ہوتا ہے۔ ریاست میں سرمایہ دارانہ عدل کی بنیاد پر جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان فیصلوں کا نفاذ پولیس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ اور ریاست جس مخصوص نہج پر استوار ہوتے ہیں اس مخصوص منہج سے انحراف کرنے والوں پر پولیس نظر رکھتی ہے۔ بعض اوقات سرمایہ دارانہ اشرافیہ اپنے مخالفین کو کچلنے کا کام بھی پولیس سے لیتے ہیں۔

9۔ آرمڈ فورسز

سرمایہ دارانہ ریاستیں اصولاً قومی ریاستیں ہوتی ہیں اور اصولاً اس قومی ریاست کو اقتدار اعلیٰ حاصل ہوتا ہے یعنی نہ تو اندرون ملک کوئی فرد یا گروہ ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتاہے اورنہ کوئی بیرونی طاقت یا گروہ اس نیشن اسٹیٹ کی مرضی کے بغیر اس کے حاصل کردہ اختیار کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اقتدار اعلیٰ کے اس تحفظ کے لیے بنیادی طورپر فوج کا ادارہ ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست کا آخری دفاع آرمڈ فورسز ہی کرتی ہیں۔

10۔ مقننہ

مقننہ عموماً دو ایوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایوانِ زیریں عوام کی نمایندہ سمجھی جاتی ہے اور ایوانِ بالا میں مخصوص طبقوں یا علاقوں کو نمایندگی دی جاتی ہے۔ انتخاب کی غرض سے تمام ملک کو مختلف حلقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہرحلقے سے اراکین کی مقررہ تعداد ایک معینہ مدت کے لیے ایوانِ زیریں میں نمایندگی حاصل کی جاتی ہے۔ اصولی طورپر مقننہ کا اولین فرض قانون سازی ہوتاہے اور عوام کے نمایندے معاشرہ کے بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق قانون بناتے ہیں۔ قوانین میں ردوبدل کرنا یا ان کی تنسیخ کرنا بھی مقننہ کا کام ہوتا ہے اور تمام ارکان کے بحث ومباحثہ اور اظہارِ خیال کے بعد مقننہ کو اختیار ہوتا ہے کہ کثرتِ رائے سے پیش کیے جانے والے بل کو منظور کردے۔ لیکن فی الواقع جدید دور میں یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ مقننہ کا کردار مسلسل کم ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو وہی ہے کہ سرمایہ دارانہ لبرل ریاستوں کو عالمی سرمایہ دارانہ استعماری ریاست اپنی مرضی کے قوانین بنانے پر مجبور کرتی ہے اور عموماً یہ کام ٹیکنوکریسی کرتی ہے۔ مقامی ٹیکنوکریسی بھی صرف وہ اقدامات بروئے کار لاتی ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ قوانین سے ہم آہنگ ہوں۔ جب مقننہ کا بنیادی فریضہ ہی ادا نہ ہوتو گویا یہ کمزور ترین ادارہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی چند جزوی وجوہات ایسی ہیں کہ مقننہ کا کردار کم سے کم ہوتا جارہا ہے مثلاً ہر انفرادی ممبر اپنی جماعت کی طرف سے پیش کیے گئے بل پر عموماً توثیق ہی کرتا ہے چناں چہ اس عمل سے اس کی عدم دل چسپی بڑھتی جاتی ہے۔ مقننہ کے اندر متعلقہ شعبے کے ماہرین مثلاً دفاعی، معاشی، تعلیمی، معاشرتی ماہرین کم ہوتے ہیں اس لیے وہ اس شعبہ سے متعلق قانون سازی کی سکت ہی اپنے اندر نہیں پاتے۔ لہٰذا صرف پاکستان کی مثال ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکا ہر جگہ اب پارلیمنٹ یا مقننہ کا کوئی کردار کم ہوگیا ہے۔ پارلیمنٹ تو محض کھیل تماشا ہے کیوں کہ حکومتوں میں تبدیلیوں کے نتیجے میں پالیسیوں کے اندر کسی قسم کی تبدیلی شازونادر ہی آتی ہے۔

11۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں اور نگران ایجنسیاں

اب بین الاقوامی سطح پر ایسے ادارے وجود میں آچکے ہیں جو ملکی سطح پر اہم ترین امور میں مکمل دخیل ہو چکے ہیں مثلاً آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، یونائیٹڈ نیشن کے مختلف ادارے۔ انہوں نے قومی اداروں سے مخصوص نوعیت کا تعلق استوار کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس صرف یہ سکت نہیں ہے کہ وہ ہماری معاشی پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرے بلکہ وہ اپنے فیصلے کے نفاذ کا ایک خاص میکنزم بھی رکھتا ہے۔ اسی طرح اب پرائیوٹ سیکٹر کی ریٹنگ ایجنسیوں کا ظہور بھی ہورہا ہے۔ یہ ایجنسیاں سرمایہ دارانہ اصولوں کی بنیاد پر ملکوں کی کارکردگی کو مسلسل جانچتی رہتی ہیں اور ان کی جانچ کا اثر کسی ملک میں ہونے والی بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔

12۔ تعلیمی نظام

سرمایہ دارانہ علمیت اس وقت غالب آتی ہے جب مذہبی علمیت پر سے لوگوں پر اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ یہ عمل مغرب کے اندر اٹھارھویں صدی میں پروان چڑھا۔ کلیسا جو کہ قدیم مذہبی علمیت کا علمبردار تھا اس کو دورِ تنویر کے مفکرین نے شکست دے دی۔ تنویری فکر کی بنیاد پر جن جاہلی علوم کا ظہور ہوا انہیں فزیکل سائنس اور سوشل سائنسز کہا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو جواز فراہم کرنے والےجاہلی علوم ہیں۔ ان کی بنیاد پر مغرب کا پورا نظام تعلیم تشکیل پایا۔ تیسری دنیا پر استعماری طاقتوں کے غلبے کے بعد وہاں بھی یہی تعلیمی نظام مستحکم ہوا۔ اب یہی اسکول کی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کا مکمل نظام ہے جسے لوگوں نے برضاورغبت قبول کر لیا ہے اور مذہبی علوم کے بجائے اس تعلیمی نظام میں پڑھائے جانے والے جاہلی علوم کو فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔ تعلیمی نظام کے ان اداروں کے ذریعے سرمایہ دارانہ عقلیت کو جوازِ عمومی اور قبولیتِ عامہ فراہم کی جارہی ہے۔

اب تک جن حاملینِ اقتدار اداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں اہمیت کے لحاظ سے کوئی ترتیب قائم نہیں کی گئی بلکہ ان کا محض تعارف اور خاکہ پیش کر دیا گیا۔ دراصل لبرل ریاست دو مختلف دائر ہ کار میں تقسیم ہو جاتی ہے یعنی جمہوری طرز حکومت اور آمرانہ طرزِ حکومت۔ جمہوری طرزِ حکومت میں ان اداروں کی تقدیم اور ترتیب اس سے مختلف ہوتی ہے جو آمریت میں ہوتی ہے۔ ذیل میں جمہوری طرزِ حکومت کی ممکنہ ترجیحی ترتیب کی فہرست دی جاتی ہے:

١۔بینک اور فنانشل ادارے

٢۔فنانشل ریگولیشن کے ادارے

۳۔کارپوریشن

۴۔انٹلیکچوئل

۵۔استعماری ایجنٹ

۶۔میڈیا

۷۔عدالتیں

۸۔بین الاقوامی نگراں ایجنسیاں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیاں

۹۔مقننہ

۱۰۔پولیس

١۱۔آرمڈ فورسز

١۲۔ٹریڈ یونین

جب کہ آمرانہ ریاست میں ممکنہ ترجیحی ترتیب ذیل کے مطابق ہو سکتی ہے:

(ا)پولیس

(٢)آرمڈ فورسز

(٣)استعماری ایجنٹ

(٤)عدالتیں

(٥)میڈیا

(٦)انٹلیکچوئل

(٧)بینک اور فنانشل ادارے

(۸) کارپوریشن

(۹)فنانشل ریگولیشن کے ادارے

(۱۰)بین الاقوامی نگراں ایجنسیاں

(١۱)مقننہ

(۱۲)عدلیہ

اب تک جن افراد اور اداروں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے بارے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ افراد اور ادارے حکومت نہیں کر رہے بلکہ ان کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ حکومت اور اقتدار اس چھوٹے سے گروپ کا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو پورے طور پر قبول کیے ہوئے اور اس عقلیت کی عالمگیریت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔ ایسے لوگ وہ تمام افراد اور ادارے جن کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے اندر بھی پائے جاتے ہیں اور باہر بھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھوٹا سا گروپ اپنی حکومت کیسے کرتا ہے؟ یہ اپنی حکومت دو طریقوں سے کرتا ہے:

١۔نمایندگی(Representation)

٢۔نفاذِاحکام بذریعہ طاقت (Mediation)

پہلے طریقے میں یہ باور کرانے کی کوشش کرائی جاتی ہے کہ اس پر کوئی نزاع موجود نہیں ہے کہ سرمایے کی بڑھوتری ہی قدر کے تعین کا واحد پیمانہ ہے۔ سب لوگ اس کے قائل ہیں اور یہی اصول ہم کو نمایندگی کا جواز فراہم کرتا ہے کیوں کہ ہم ہی اس مفادِ عامہ کو فروغ دینے والی قوت ہیں اور ہم ان تمام افراد اور اداروں کے ذریعہ وہی کررہے ہیں جس کو مقبولیت عامہ حاصل ہے۔ تینوں طرح کی سرمایہ دارانہ ریاستیں چاہے وہ لبرل ہوں، اشتراکی ہوں یاقوم پرست ہوں، اس جائز نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہیں۔

توسیط (mediation)کے طریقے میں سرمایے کے عمومی مفاد کی ایک خاص تعبیر غالب اشرافیہ بزور قوت نافذ کرتی ہے۔ چوں کہ سرمایہ داری ایک جاہلیت ہے اور اس جاہلیت سے کسی قدر مطلق کا تصور نہیں کیا جا سکتا اس لیے لامحالہ بیک وقت سرمایے کے مفاد ِ عمومی کی مختلف جہتوں سے مختلف تعبیریں کی جاتی ہیں۔ لیکن وہ چھوٹا سا گروپ جو کہ حکومت کر رہا ہے، وہ توسیط کے ذریعہ یہ باور کراتا ہے کہ سرمایہ دارانہ مفادات کاجو تصور وہ رکھتا ہے، وہی درست ہے اور اس کے عمومی مفاد کی تعبیر کے تحت مختلف انفرادی سرمایہ دارانہ مفادات کی تعبیروں کی تحدید کی جائے اور سرمایے کے عمومی مفاد کے تحفظ کے لیے اس کے تصور کے مطابق معاشرے اور ریاست کی صورت گری کی جائے۔

یہ دونوں کام بیک وقت کیے جارہے ہوتے ہیں یعنی غالب اشرافیہ کی تعبیرِ مفاد عمومی کو مسلط بھی کیا جارہا ہوتا ہے اور نمایندگی کے اداروں کے ذریعہ اس مخصوص تعبیر کے حق میں رائے بھی بنائی جا رہی ہوتی ہے۔

8.17۔ نمایندگی کے ادارے

نمایندگی جن اداروں کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

١۔انٹرسٹ گروپس (Interest Groups)

٢۔ ہیروز کی پرستش(Heroes)

٣۔سیاسی پارٹیاں(Political Parties)

٤۔ایڈمنسٹریشن اینڈ کورٹس (Administration and courts)

۵۔ سرمایہ دارانہ تحریکیں

انٹرسٹ گروپس وہ ہوتے ہیں جو کسی سرمایہ دارانہ حق کی طلب کی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرتے ہیں۔ مثلاً پانی، صفائی و سیوریج کے مسائل، تعلیم، عورتوں پر ظلم وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ جب اس قسم کے سرمایہ دارانہ حقوق کی بنیادپر لوگوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں جمع ہونے والوں کی اخلاقی اور مذہبی حالت کی بنیاد پر کوئی تخصیص روا نہیں رکھی جاتی مثلاً وہ مسلمان ہے یا قادیانی یا کوئی اور، اسی طرح نمازی و پرہیزگار ہے یا زانی، شرابی اور بے نمازی۔ بس ان کا مخصوص سرمایہ دارانہ حق کی طلب پر متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔ گویا ان انٹرسٹ گروپس کے ذریعہ وہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ جو حرص وحسد کو عالمگیر کرنا چاہتی ہے وہ نفوذ کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ حقوق کو طلب کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو ہی مستحکم کیا جاتا ہے۔ ان کے نتیجے میں غیر سرمایہ دارانہ نظام نہیں برپا کیاجا سکتا۔

سائنٹفک ہیروز ہوں یا میڈیا کے ہیروز، ان کی امیج بلڈنگ کر کے بھی معاشرہ میں نفوذ کیا جاتا ہے کیوں کہ اگر یہ لوگ مقبول عام ہوتے ہیں تو سرمایہ دارانہ عقلیت بھی مقبول عام ہوتی ہے۔

سیاسی پارٹیاں بھی بنیادی طورپر سرمایہ داری سے مختص ہیں۔ سرمایہ داری سے پہلے جو مختلف گروہ اور طبقات سیاسی عمل میں شامل ہوتے تھے ان میں سیاسی پارٹیوں سے similaritiesتو تلاش کی جا سکتی ہیں لیکن جن معنوں میں اب سیاسی پارٹیاں خصوصاً اپوزیشن پارٹیاں وجود رکھتی ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے نہیں تھیں۔ مختلف پارٹیاں ایک ہی سیاسی نظام پر بنیادی طورپر متفق ہوتی ہیں۔ اس نظام پر اصولی اتفاق کے بعد ان کے اختلافات جزوی اور فروعی ہوتے ہیں۔ یہ پارٹیاں لوگوں کو ایک اجتماعیت فراہم کرتی ہیں۔ لوگ ان کی لیڈر شپ کو اپناتے ہیں اور اپنا ایک خاص تشخص اور اپنی ایک خاص شناخت ان کے ذریعہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خاص تشخص اور شناخت کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ یہ پارٹیاں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے نفوذ کا اس لیے اہم ذریعہ ہیں کہ ان کی بنیادیں،شناخت اور تشخص اصولی طورپر سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام ہی سے وابستہ ہوتی ہیں۔

عدلیہ اور عدالتیں قانون کا نفاذ کرتی ہیں۔ قانون کا نفاذ اس طریقے سے کیا جاتا ہے کہ وہ قانون غیر جانب دار نظر آئے۔ فیصلے ایسے ہوں کہ وہ مفادِ عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانب دارانہ طور پرکیے جائیں تا کہ سرمایہ دارانہ نظام پر ایمان متزلزل نہ ہو اور کسی غیر سرمایہ دارانہ نظام کی جانب جھکاؤ نہ ہو۔

سرمایہ دارانہ تحریکیں مثلاً قوم پرست، اشتراکی یا انارکسٹ تحریکیں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے نفوذ کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی ہیں کیوں کہ ان میں بھی غیر سرکاری تنظیموں (NGOs )اور پروفیشنلز ایسوسی ایشنز اور انٹرسٹ گروپس کی طرح سرمایہ دارانہ حقوق کو ہی طلب کیا جاتا ہے۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ اشرافیہ ہی کی سبقت قائم کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ عقلیت ہی عمومیت اختیار کرتی ہے۔ قوم پرست اور اشتراکی تحریکیں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بڑی کامیاب تحریکیں رہی ہیں لیکن انہوں نے بھی لبرل سرمایہ داروں کی جگہ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ داروں کی حاکمیت قائم کی ہے، کوئی غیر سرمایہ دارانہ نظام نہیں قائم کیا۔

9.17۔ توسیط کے ادارے

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے توسیط کے ذریعہ سرمایہ کے عمومی مفاد کی ایک خاص تعبیر کو نافذ کیا جاتا ہے۔ توسیط مندرجہ ذیل اداروں اور طریقوں کے ذریعے کی جاتی ہے:

(ا)فوج و پولیس

(٢)کورٹس اور عدلیہ کا نظام

(٣)شمولیت (سیاسی مخالفین کو ساتھ ملانا)

(٤)اخراج کر دینا(مخالفین کو بے دست وپا کر دینا)

(٥)سوشل ویلفیئر

(٦)صنعتی تعلقات

ایک خاص قسم کے ڈسپلن کو نافذ کرنے کے لیے سب سے اہم ادارے تو پولیس اور فوج ہیں۔ اس کے علاوہ کورٹس اور عدلیہ کا نظام ہے۔ یہ اس لیے اہم ہیں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت میں راسخ العقیدہ لوگ جو فیصلے کرتے ہیں اس میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ فیصلے مقبول عام بھی ہوں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی بہت اہم ہے اور اس بات کو بھی ممکن بنایا جاتا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی عمل ہو تو ان کوسزا بھی دی جا سکے۔ اس کے لیے مذکورہ ادارے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

شمولیت مراد یہ ہے کہ ایسے گروہوں کو ساتھ ملا لیا جائے جو کسی طرح راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہوں اور جو سرمایہ دارانہ نظام کے اپوزیشنل گروپ نظر آتے ہوں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں”شمولیت “کی ایک بہترین مثال سوشل ڈیموکریسی کی ہے۔ سوشل ڈیموکریسی کے ذریعہ سوشلسٹ طرزِ فکر کے حاملین کو اس کا قائل کر لیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام میں محدود حقوق کی طلب پر اکتفا کر لیں۔ اس میں مزدور نے اپنی جدوجہد اس پر مرکوز کر دی کہ اس نظام یعنی سرمایہ دارانہ نظام میں میرا وہ حصہ مجھے نہیں دیا جارہا جس کا میں حق دار ہوں لہٰذا مزدوروں کی جماعت کو حکومت میں شامل کر لیا جائے۔ اس طرح محدود حقوق فراہم کر کے اورمراعات فراہم کر کے بڑی جدوجہد سے ان کو دست کش کرا لیا جاتا ہے۔ شمولیت کی اور بھی مثالیں ہو سکتی ہیں مثلاً اسلامی جماعتوں کو بھی اگر سرمایہ دارانہ حکومت میں شامل کر لیا جائے تو وہ سرمایہ دارانہ نظام ریاست کا ایک جواز فراہم کر سکتی ہیں اور اسلامی امارت و خلافت کی جدوجہد سے دست کش ہو سکتی ہیں اور اس بات پر راضی ہوسکتی ہیں کہ محدود مراعات حاصل کر لیں اور معمولی اور بے ضرر قسم کے علاماتی اسلامی اقدامات پر مطمئن ہو جائیں۔ اس شمولیت سے شامل ہونے والا گروہ اپنی فطری Constituencyسے دور ہوتا چلا جاتا ہے اوراسConstituencyمیں اپنی legitimacyکھو دیتا ہے۔

اخراج یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی عمل اور سیاسی عمل اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ قوت ان ہاتھوں میں مرتکز ہوتی چلی جاتی ہے جو سرمایہ کی بڑھوتری کے اصول کو بنیادی عقیدہ بنا لیتے ہیں اور جو یہ عقیدہ نہیں رکھتے انہیں اس قابل نہیں رہنے دیا جاتا کہ وہ مجموعی سیاسی یا معاشی عمل میں کوئی فیصل کردار ادا کر سکیں۔ صوفیا کرام کی معاشرتی اور ریاستی حیثیت کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ فیصل کردار ادا نہ کر سکیں۔

آخری چیز سوشل ویلفیئر ہے یعنی رفاہِ عامہ کے کاموں پر ہی ساری جدوجہد کو مرکوز کردیا جائے اور عوام کو سیاست کے معاملات سے ہٹا کر مرکزی معاملہ یہی رہ جائے کہ رفاہ عامہ کے کتنے کام ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل ویلفیئر سسٹم اور نیشنل انشورنس کا پورا نظام ہے جس کے ذریعہ سرمایے کے مفاد عمومی کی ایک خاص تعبیر کے نفاذ کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ اور یہ طریقے ہیں جن سے سرمایہ دارانہ ڈسپلن قائم ہوتا ہے۔

بطور نمایندگی جن اداروں اور طریقہ کار کا تذکرہ ہوا اور بطور توسیط جن اداروں اور طریقہ کار کاتذکرہ ہوا ان کو جمہوری حکومتوں میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور استبدادی (ڈکٹیٹرشپ) حکومتوں میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں وہ مختلف ترتیب بیان کی جاتی ہے جومیرے خیال میں مختلف طرز کی حکومتوں میں ممکن ہے۔ نمایندگی کے ادارے اگر جمہوری حکومت میں ہو ں تو ان کی مندرجہ ذیل ترتیب ہو سکتی ہے:

(١) انٹرسٹ گروپس (٢)سیاسی جماعتیں (٣)ہیروز (٤)انتظامیہ اور کورٹس

نمایندگی کے اداروں کی ترتیب استبدادی حکومت میں مندرجہ ذیل طریقے سے ممکن ہے:

(١)عوامی تحریکیں (٢)ہیروز (٣)انتظامیہ اور کورٹس (٤)انٹرسٹ گروپس

اسی طرح توسیط کے اداروں کی ترتیب جمہوری حکومت میں مندرجہ ذیل ہو سکتی ہے:

(١)کورٹس اور عدلیہ کا نظام (٢)شمولیت (٣)سوشل ویلفیئر (٤)اخراج (٥)پولیس اور فوج

اس کے علاوہ توسیط کے اداروں کی ترتیب استبدادی حکومتوں میں یوں ممکن ہے:

(١)کورٹس اور عدلیہ کا نظام (٢)پولیس اور فوج (٣)اخراج (٤)شمولیت (٥)سوشل ویلفیئر

اب تک سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک عمومی خاکہ مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم کسی جگہ اسلامی نظام کو غالب کرنا چاہتے ہیں تو وہاں سے سرمایہ دارانہ نظام کا کلیتاً انہدام ضروری ہے، کیوں کہ اسلامی نظام اورسرمایہ دارانہ نظام میں اختلاف جزوی نہیں بلکہ اصولی اور بنیادی ہے۔ اب یہ اسلامی نظام کی پیش قدمی اور سرمایہ دارانہ نظام کا کسی مخصوص ملک سے اخراج کس طرح ممکن ہو گا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخصوص ملکی سرمایہ داری اور اس کی مخصوص نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم پاکستان میں ایسی اقدامی حکمت عملی ترتیب دیں اور پیش قدمی کرنا چاہیں تو دینی تحریکوں کو مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات حاصل کرنا ضروری ہے:

  1. پاکستانی ریاست کی نوعیت کیا ہے؟
  2. کیا پاکستان ایک قومی لبرل ریاست ہے یااستعماری باج گزار ریاست یا دونوں کا مجموعہ ہے؟
  3. پاکستان میں سرمایہ دارانہ عقلیت غالب کرنے کے لیے کون سے ادارے کلیدی اور کون سے معاونین کی حیثیت رکھتے ہیں؟
  4. کیا ان کلیدی اور معاونین گروپس میں تعلق مفاہمت کا ہے یا مخاصمت کا؟ اور مخاصمت کی صورت میں اس کی نوعیت کیا ہے؟
  5. طرزِ حکومت کی ترجیحات اور قوتِ نافذہ کے استعمال کے تناظر میں کیا پاکستان ایک لبرل جمہوری ریاست ہے یا آمرانہ؟
  6. سرمایہ داری کے استحکام اور فروغ کے لیے پاکستان میں بحیثیت قومی لبرل ریاست یا باج گزار ریاست کیا بنیادی فیصلے ہو رہے ہیں؟
  7. ان فیصلوں کے صدور اور نفاذ کے لیے کون سے ادارے، پروسیس اور افراداہمیت کے حامل ہیں؟
  8. کون سے افراد یا کون سے عہدے کی سطح پرکلیدی فیصلے کیے جاتے ہیں اور وہ کیااسٹرکچرز ہیں جن سے ان کی تنفیذ کو ممکن بنایا جاتا ہے؟
  9. بیورو کریسی میں فیصلہ کرنے کی اہم ترین سطح کیا ہے اور ان فیصلوں کی تنفیذ کی اہم ترین سطح کیا ہے؟
  10. کون سے ادارے اور کون سے عوامل ہیں جن کو کمزور کر کے سرمایہ دارانہ تعقل کو غیر معقول ثابت کیا جا سکتا ہے؟

18۔ پاکستانی ریاست اور لبرل ازم

1.18۔ کیا پاکستان ایک لبرل ریاست بنتا جا رہاہے؟

1951ء سے پاکستان مغربی لبرل بلاک کا حصہ بن گیا ہے اور 2001ء سے وہ امریکا کی دہشت گردی کی جنگ کا ایک شریک کار ہے لیکن استعماری قوتیں بالخصوص امریکا ہمیشہ اس کو شک کی نظر سے دیکھتی آئی ہیں اور اس کے تعاون کو اخلاص پر مبنی نہیں سمجھتیں۔ پاکستان کے مغرب کا مستحکم حمایتی بننے کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان میں لبرل ادارےاور روایات جڑ پکڑیں۔ اصولاً پاکستان مغربی اتحاد سے لاتعلق ہوسکتا ہے کیوں کہ وہ ایک بڑا اور وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اس کی ایران اور ترکی سے جغرافیائی قربت بھی اس کی خود مختاری کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ پہلے ہم یہ بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ ایک ریاست لبرل ساخت اور ماہیت کیسے حاصل کرتی ہے۔ پھر پاکستانی ریاست کی خصوصیات پر توجہ مرکوز کریں گے اور اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ کس حد تک پاکستانی ریاست لبرل بنتی جا رہی ہے۔ آخر میں ان عوامل اور قوتوں کی نشان دہی کریں گے جو پاکستان کو ایک لبرل ریاست بننے میں مدد سے سکتی ہیں۔

2.18۔ لبرل ریاستی نظا م کیسے قائم ہوتاہے

اجمالاً لبرل نظامِ ریاست کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

  1. لبرل ریاست سرمایہ دارانہ حقوق اور اقدار سے مخلص ہوتی ہے۔
  2. لبرل ریاست دہریہ(سیکولر) ہوتی ہے اور کسی مذہبی روایت سے مخلص نہیں ہوتی۔
  3. لبرل ریاست مارکیٹ کی آلہ کار ہوتی ہے وہ مسابقتی عمل میں مداخلت سے پرہیز کرتی ہے۔
  4. ریاست کی پالیسیاں تین اہداف کے حصول پر مرکوز ہوتی ہیں :
  1. چونکہ مارکیٹ کا عمل لازماً نامساویت کو فروغ دیتا ہے لہٰذا ریاست نامساویانہ تقسیم وسائل اور اقتدار کوmanageکرنے کے لیے مخالف گروہوں میں مصالحت کو فروغ دیتی ہے۔
  2. اس مصالحتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا جمہوری نظام مرتب ہو جس کے ذریعہ اقتدار مختلف گروہوں کے درمیان بلاتشدد تبدیل ہوتارہے۔
  3. ریاست کا یہ فرض بھی ہے کہ ہر شہری سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) کے حصول کو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد سے ہم آہنگ تصور کرے۔

دورحاضر میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں لبرل معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ غیر لبرل سیاسی پالیسیاں کو اختیار کیا گیا ہے سب سے اہم مثال اس ضمن میں چین کی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ لبرل پالیسی اختیار کرنے والی ریاستیں لبرل سیاسی پالیسیاں اپنائیں۔ ماڈرنائزیشن لازماًلبرل سیاسی نظام کے ابھرنے سے منسلک نہیں اس کے برخلاف تاریخی طورپر دیکھا گیا ہے کہ ماڈرنائزیشن عموماً قوم پرستی کے فروغ کا نتیجہ ہوتا ہے اور برصغیر میں قوم پرست تحریکیں (کانگریس، مسلم لیگ) لبرل جمہوریت کی مدعی تھیں۔ نوآزاد قوم پرست حکومتوں کو استعماری نظام کے ماتحت کرنے کا عمل جسے (state desovereignization ) کہتے ہیں ان ممالک میں لبرل نظام کو لازماً کمزور کرتا ہے۔

لبرل سیاسی نظام کا قیام اور استحکام اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ایک منافع کمانے والا گروہ ریاستی سطح پر با اقتدار ہو اور اس کا یہ اقتدار عوام کی نگاہوں میں جائز ہو۔ عوام کی نگاہوں میں یہ جواز حاصل کرنے کے لیے منافع کمانے والی اشرافیہ اور محنت کشوں میں ادارتی (institutionalized) تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی ریاستیں (جنہیں کنگز لبرل قوم پرست ریاستیں کہتا ہے (اکثر بین الاقوامی منڈیوں میں کامیاب بھی ہوتی ہیں لیکن غیر لبرل ریاستیں چین، جنوبی کوریا بھی ایسی کامیابی حاصل کرلیتی ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں بہتر کارفرمائی کسی ملک کو ریاستی سطح پر لبرل پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے کافی نہیں گوکہ بین الاقوامی معاشی اور تجارتی نظام پورے کا پورا لبرل اصولوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ ایک لبرل ریاست امریکا کی عالمی نظاماتی بالادستی (Hegemony)ان ممالک کو بھی لبرل نہیں بنا پاتی مثلاً عراق،افغانستان جہاں عالمی بالادست (hegemon) براہ راست ریاست پر غلبہ حاصل کرلے۔ لبرل انفرادیت اور معاشرت کو فروغ دینے کے لیے ہیومن رائٹس (بالخصوص حقِ سرمایہ دارانہ ملکیت اور حق رائے دہی) کی فراہمی ضروری ہے۔ لبرل انفرادیت کا فروغ، شہری اوسط آمدانی والے طبقوں اور منظم مزدوروں میں سب سے زیادہ ہوتا دیکھا گیا ہے۔ لبرل اقدار اور نظاماتی خصوصیات کا فروغ ریاستی اشرافیہ میں تضادات کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مذہبیت کا انحصار بھی لبرل رحجانات کے فروغ میں ایک اہم کردارادا کرتا ہے۔ معاشرت مذہبی کے بجائے جتنا جلد سول (civil)ہوتی جائے گی اتنی تیزی سے لبرل ازم ملک میں ترقی کرے گا۔

سیاسی لبرل ازم میں زوال پذیری کے اشارے بھی نوٹ کیے گئے ہیں۔ جمہوری نظام آمریت کے پردہ کاکام بھی دے سکتی ہے اور چونکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی اصل وابستگی بڑھوترئ سرمایہ سے ہوتی ہے لہٰذا وہ آمریتیں جو معاشی ترقی کو مہمیز دیں جمہوری نظام کے مقابل زیادہ معاشرتی مقبولت بھی حاصل کرلیتی ہیں۔ فوکویاما (Fukuyama) کی رائے ہے کہ عالمگیریت کا عمل قومی مضبوط طبقہ کو کمزور کررہا ہے لہٰذا جمہوری رحجانات بھی زوال پذیر ہیں۔

لبرل انفرادیت، سیاسی نظام میں شراکت کی خواہاں ہوئی ہے، ماتحتی (Subjectification) یا مشاہداتی (Spectatorship) کی نہیں۔ ایک شراکتی انفرادیت حقوق کی طلب گار ہوتی ہے اور یہ حقوق خدا کے دیے ہوئے نہیں بلکہ رائے عامہ کا اجماع (consensus) ان حقوق کو متعین کرتا ہے۔ لبرل انفرادیت ایک متنوع معاشرہ میں فروغ پاتی ہے جہاں مختلف رحجانات رکھنے والے گروہ اپنے انفرادی مفادات کے ذریعہ جدوجہد کرتے ہیں اور یہ جدوجہد انٹرسٹ گروپس کی شکل میں منظم ہوتی ہے اور یہ انٹرسٹ گروپس بھی عمومی جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں۔

نوعمرانیات (Neo-Sociology) کا مکتب فکر جمہوری عمل کی کمزوری کا ایک سبب یہ بتاتاہے کہ دور حاضر میں قومی ریاست عالمی حاکمیت (Global Governance) کا ایسا ذیلی مرکز بنتی جارہی ہے جو سرمایہ دارانہ قوتوں، ٹیکنالوجی، زر، میڈیا اور تارکین وطن کے بے ہنگم اور ناقابل تعین (unpredictable) بہاؤ کو منظم کرنے کی پیہم جستجو کرتی رہتی ہے۔ ان ناقابل تعین ہر لمحہ سیال سرمایہ دارانہ قوتوں کا بہاؤلبرل تعقل (Rationality) اورلبرل اقتدار کو بری طرح مجروح کرتا ہے او رلبرل معاشروں میں پرورش پانے والی انفرادیت گنجلک (complexified) ہوجاتی ہے۔ نسلی اور مذہبی تشخص کا احیا ہوتا ہے اور یہ گنجلک انفرادیت لبرل شہریت کی جڑوں کوکھوکھلا کر کے سیاسی نظام کو کمزور کردیتی ہے، ریاست کا دائرہ عمل سکڑنے لگتا ہے اور سکڑنے کا اظہار نج کاری کا وہ سیلاب ہے جو 1980ء کے بعد پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں آیا ہوا ہے۔

لیکن اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ عالمگیریت سرمایہ داری ہی کی گلوبلائزیشن ہے اور جن خطوط پر یہ گلوبلائزیشن فنانشل، تجارتی اور ٹیکنولوجیکل مارکیٹوں میں منظم کی جارہی ہیں وہ لبرل اصولوں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں اور کسی قومی سیاسی نظام کو سرمایہ کی گلوبل جکڑ میں جکڑ دینے کا مقصد اصولاً وہاں کی لبرل قیادت کے ہاتھ مضبوط کر دینا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ تضادات میں سے ایک اہم تضاد ہے کہ عملاً اکثر ایسا نہیں ہوتا اور سرمایہ کے گلوبل حاکمیتی نظام میں سموئی جانی والی قومی لبرل ریاستیں کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ سرمایہ داری کے اس اہم تزویراتی رحجان سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

ذیل کے جدول میں ایک لبرل نظام کی کلیدی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔

۱

شہریوں کا نظاماتی شراکتی (Participative) رحجان

۲

ٹیکنولوجیکل مفادات رکھنے والی اوسط آمدنی رکھنے والی اشرافیہ کی معاشرتی بالادستی

۳

سرمایہ کار طبقہ کی معاشرتی بالادستی

۴

لبرل قوم پرستی کا نظریاتی معاشرتی غلبہ

۵

عالمی سرمایہ کے چکروں(تجارت،فائنانس، ٹیکنالوجی) میں شمولیتی رحجان

۶

مینجمنٹ اور منظم مزدوروں میں تعاون اور اشتراک عمل

۷

جمہوری ادارتی صف بندی کا ارتقا

۸

حکومتی اشرافیہ میں مسابقتی کشمکش

۹

نظاماتی تغیر وتبدل کا مقصد لبرل حکومتی نظام کا فروغ اور استحکام

۱۰

غیر لبرل سیاسی قوتوں کا انتشار

3.18۔ کیا پاکستانی ریاست لبرل بنتی جاری ہے؟

اب ہم درج بالا جدول کے اندراجات کے مطابق پاکستان کے ریاستی نظام کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان میں شہری باشندوں (Urban Dwellers) کا حجم عمومی آبادی میں تیزی سے بڑھ رہاہے اور اب تقریباً 40فیصدہے اس کے باجود خاندانی، برادری، قبائلی روایات مستحکم اور معاشرتی طورپر بااثر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کاحصہ ہونے کا ایک مبہم تصور بھی کسی حد تک عام ہے۔ پاکستانی اسلامی انفرادیت نصوص صحیحہ کی ان تشریحات اور تعبیرات کی بنیاد پر مرتب ہوئی جو برصغیر کے تاریخی اور روایتی ورثہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اس اسلامی انفرادیت کی تشکیل میں صوفیائےچشتیہ اور قادریہ نے ایک اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں اسلامی تشخص ہندوستانی سماج میں اجنبی نہ رہا اور جس کے نتیجہ میں کروڑوں غیرمسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ لیکن انیسویں صدی سے رجوع الی القرآن اور اہل حدیث(غیرمقلدین) کی اصلاحی تحریکات نے ان روایتی تشریحات پر تشکیک کا اظہار کیا اور سترھویں صدی سے جاری تحریکات ِ صوفیہ کے زوال کے نتیجہ میں بھی ان تحریکات میں وحدتِ ادیان فکر کے اشارات نمایاں ہوگئے۔ اسلامی جذباتیت اور اسلامی علمیت کے اظہار میں فاصلے بڑھتے گئے اور اس کا سب سے نمایاں مظہروہ بریلوی، دیوبندی اختلاف ہے جس نے استعماری پشت پناہی کے ذریعہ اسلامی معاشرت کو دولخت کرکے رکھ دیا ہے۔

ہماری خاندانی اور تہذیبی زندگی میں اسلامی رسوم ورواج نمایاں ہیں اور اسلامی جذباتیت فروغ پارہی ہے لیکن ہماری معاشی اور سیاسی زندگی سے اس جذباتیب کے اظہار کا تعلق کم سے کم ہوتا جارہاہے اور پاکستانی مسلمانوں کی بہت بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی اکثریت سرمایہ دارانہ معاشرت اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں محکومیت قبول کرنے پر مجبور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہماری مسجدیں بھرتی جارہی ہیں، درگاہیں مرجع عوام ہیں لیکن 2018ء کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو ملا کر دس فیصد ووٹ ملے اور ہمارا ریاستی اثر و نفوذ تقریباً بالکل معدوم ہوکررہ گیا ہے۔ اسلامی انفرادیت کا ریاستی اظہار ناپید ہوتا جارہاہے اور ہماری واحد سیاسی اثررکھنے والی جماعت جمعیت علمائے اسلام دہریہ جماعتوں سے اشتراک عمل پر اپنے آپ کو مجبور پاتی ہے۔

برادریوں اور قبائلی زندگی میں غیراسلامی روایات اور رحجانات بھی ترقی کر رہے ہیں جن کا تعلق ہندو روایات، تقسیم معاشرت اور نظام ذات پات سے ہے۔ یہ معاشرتی تفریق گروہ بندی اور نسلی عصبیت کو فروغ دیتے ہیں اور قبائلی زندگی میں اسلامی روایات کے پنپنے کی راہ میں رکاوٹ کا کام دیتے ہیں۔ پاکستانی اسلامی انفرادیت کا اظہار تضادات کا شکار ہے۔ ایک عام پاکستانی مسلمان اسلام کو بحیثیت ایک نظام قدر کے صریحاً(Explicitly) قبول کرتا ہے لیکن اس کی عملی معاشرتی اور معاشی زندگی ان اقدار پر عمل پیرا ہونے کی ناممکنیت Impracticality))کا اظہارہے۔ ہمارے تمام دساتیر (۱۹۵۶، ۱۹۶۲، ۱۹۷۳) اور ان کی ترجیحات میں اسلامی قانونی بالادستی کا اقرار کیا گیا ہے لیکن ہر دستورکے ماتحت ریاستی کارفرمائی اسلامی قانون کے نفاذ سے انکارکرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت sovereignty))کے دستوری اقرار کے باوجود پاکستانی ریاست اسلامی نہیں کیوں کہ نہ یہاں شرع نافذ ہے، نہ ریاستی پالیسیاں اسلامی علمیت کی بنیاد پر مرتب ہوئی ہیں، نہ تاریخ اسلامی میں رائج نظام سلطنت اور خلافت سےا س کا کوئی دور کا بھی تعلق ہے۔ پاکستانی ریاست کا پہلا وزیر قانون جگن ناتھ منڈل ایک ہندو تھا جس کو جناح صاحب نے اگست ۱۹۴۷ء میں مقرر کیا اور اس وقت تک سے آج تک پاکستان ایک خالص دہریہ ریاست بنتی رہی ہے جس کی عملی کارفرمائی ایک جاہلی علمیت کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے اور جو ہمیشہ سے استعمار کی ایک باج گزار ریاست رہی ہے۔

تحریک پاکستان( ۱۹۴۷-۱۹۳۷) کے دورمیں مسلم قوم پرستی کا نظریہ عوام کو متحرک کرنے کا ذریعہ بنا مسلم قوم پرستی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے وہ اسلامی شعائر اور اسلامی جذباتیب کو سرمایہ دارانہ اہداف اور قومی مادی ترقی کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مسلم قوم پرستی کی محرک روح ہندوں سے رشک اور حسد ہے۔ قیام پاکستان کے بعد توملک میں ہندوؤں کی معاشی گرفت بہت کمزور پڑگئی اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم قوم پرستی کی عوامی مقبولیت میں زوال نا گزیر تھا۔ دھیرے دھیرے مسلم قوم پرستی کی جگہ لسانی، صوبائی اور برادری قوم پرستی نے لے لی اور پھر پاکستانی قوم پرستی مشرف کا نعرہ ”سب سے پہلے پاکستان“بھی فروغ پانے لگی ہے۔ مسلم قوم پرستی اور برادی قوم پرستیاں کسی حد تک دہریت اورماڈرن ازم کے رحجانات سے متصادم ہیں اور اس مزاحمت کو اپنے روایتی طرزِ حیات کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ گردانتی ہیں لیکن ”پاکستانی قوم پرستی“ کھلم کھلا معاشرہ کو دہریانے اور ماڈرنائزیشن (modernization) کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ آج غالب سیاسی اشرافیہ میں مقبول عام نظریہ پاکستانی قوم پرستی ہی ہے لیکن اس غالب سیاسی اشرافیہ کے معاشرتی تعلقات عوام سے بڑی حد تک محدود ہیں لہٰذا عوام میں پاکستانی قوم پرستی اور لبرل نظریات مقبول نہیں۔ عوام کا سیاسی رحجان شراکتی نہیں بلکہ تماش بین (Spectator) کا ہوگیا ہے۔ وہ نظام اقتدار کی کارفرمائی سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے لیکن اس نظام اقتدار کو اپنے ذاتی او رگروہی مادی مفادات کو فروغ دینا کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔

سیاسی اور معاشرتی اشرافیہ کا طرزِ حیات عوام سے دور ہوتا چلا جارہاہے لیکن اس کے باوجود سیاسی اشرافیہ کی نظاماتی قوت کا سرچشمہ برادری اور قبائلی نظام ہی ہے اور یہ اشرافیہ ریاستی عمل کو اپنے برادریانہ مادی مفادات کو فروغ دینے کے استعمال کرتی ہے۔ لہٰذا پاکستانی سیاسی اشرافیہ اس حد تک ”پیشہ وارانہ“نہیں جو ایک ترقی پذیر سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کے لیے ضروری ہے۔ جب دشمن ہمیں ایک ناکام ریاست(Failed State) کہتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہماری ریاستی اشرافیہ صحیح (یعنی سرمایہ دارانہ) پیشہ واریت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ لہٰذا معاشرتی جدیدیت(Social Modernity) کو کما حقہ فروغ دینے سے قاصر ہے۔ ماڈرن طرزِ حیات اختیار کرنے کی استطاعت بہت کم پاکستانیوں کو میسر ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق عالیٰ ترین طبقہ ملک کی آبادی کا صرف صفر اعشاریہ ایک فی صد ہے(یعنی تقریباً 2.1ملین لوگ 2017 کی رائے شماری کے مطابق)۔ ایک محقق درِّنایاب کے مطابق اوسط آمدنی والے طبقے کی تعداد 2011ء میں 61ملین افراد پر مشتمل تھی لیکن درنایاب کے مطابق ان 61ملین میں سے 40ملین وہ ہیں جو مڈل کلاس بننے کی آرزو رکھتے ہیں اور وہ ہیں جن کو ہروقت یہ خطرہ لاحق رہتاہے کہ وہ مڈل کلاس کے معیار زندگی کو برقرار نہ رکھ سکیں گے۔ لہٰذا اصل مڈل کلاس 2011ء میں درنایاب کے نتیجہ کے مطابق تقریباً 21ملین افراد پر مشتمل تھی۔ ایک اور تخمینہ کے مطابق مستحکم (hard core) مڈل کلاس کی تعداد 2017ء میں 2.6ملین بتائی گئی ہے (اس وقت کی مجموعی آبادی کا تقریباً 4فی صد)۔

یہ تخمینہ غیر معتبر ان معنوں میں ہے کہ ان میں حلقوں کی نشان دہی کی واحد بنیاد ان طبقوں کے زیر استعمال اشیائے صَرف کو لیا گیا ہے جس کے پاس بھی فریج،ٹی وی، موٹرسائیکل ہے وہ مڈل کلاس شمار کیا گیا ہے، بشمول ماسیوں، فقیروں اوربھکاریوں کے۔ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ مفروضہ ہے۔ پھر اعلیٰ اور مڈل کلاس میں اقدار کی کشمکش بھی جاری ہے اور طبقاتی بنیادوں پر انفرادیت کی شناخت کرنا معاشرتی مادی تشکیل کو لازماً متصور کرتا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ اور متوسط طبقوں میں دینی رحجان بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سے اعلیٰ آمدنی والے اور متوسط خاندان اسلامی تمدن اور اسلامی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں تقسیم آمدنی اور تقسیم دولت کی نامساویت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ پچھلی دہائی میں ملک کی غریب ترین 25فی صد آبادی کا حصہ مجموعی قومی آمدنی میں گرا ہے۔ شہری نامساویت دیہی نامساویت سے زیادہ ہے۔ تقسیمی نامساویت بڑھ رہی ہے لیکن مفلوک الحالی (absolute poverty) میں مستقل کمی آتی جارہی ہے۔ ملک کی آبادی کا وہ حصہ جو سطح مفلوک الحالی سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہے 2011ء میں40 فی صد ہواکرتا تھا۔ اب 33فیصد رہ گیا ہے۔ یہ رحجان سرمایہ دارانہ ارتقا کا نمایندہ نشان ہے اور تقریباً تمام سرمایہ دار ترقی کرتے ہوئے ملکوں میں پایاجاتا ہے۔ ان حالات میں ردعملی، مزاحمتی، سرمایہ دارانہ انفرادیت، اشتراکی اور فرقہ وارانہ انفرادیت پنپتی ہے کیوں کہ اس قسم کی انفرادیت کے ”جذباتِ محرکہ“ نفرت اور حسد ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی نامساویت مذہبی فرقہ واریت کو تقویت پہنچارہی ہے۔ فرقہ وارانہ تحریکیں سرمایہ دارانہ تحریکیں ہیں کیوں کہ ان کا جذبہ محرکہ اپنے مخالف فرقوں سے حسد اور نفرت کا جذبہ ہے اور ان کا مقصد اپنے مخالف فرقوں کو سرمایہ دارانہ وسائل سے محروم کردینا ہے۔1970ء کی دہائی میں ہم نے پاکستان میں اشتراکیت کو فیصلہ کن شکست دی تھی اور اب اشتراکی اشارات صحافیوں کے بالاخانوں تک محدو د ہوگئے ہیں۔ اس کے برعکس سوشل ڈیموکریسی ایک طاقتور مزاحمتی سرمایہ دارانہ عوامی جدوجہد کی بنیاد فراہم کرسکتی ہے لیکن فی الحال اس پر پاکستانی سیاسی اشرافیہ اور پاکستان میں کام کرنے والی استعماری ایجنسیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی کے عبرتناک انجام کی واضح ترین مثال عمران خان اور اس کی دہریہ تحریک انصاف بن گئی ہیں۔

نظاماتی سطح پر پاکستان شروع سے ہی ایک لبرل ریاست اور معیشت بنا رہاہے۔ جناح صاحب ایک مستند لبرل تھے جو اسلام کو لبرل ازم کی بہترین تشریح تصورکرتے تھے۔ پاکستان کا ہردستور لبرل حقوق (ہیومن رائٹس) کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے اور یہاں کی فوجی قیادت نےبھی عموماً ان حقوق کو معطل نہیں کیا پاکستان کا قانونی نظام پورے کا پورا لبرل خطوط پر مرتب کیا گیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ لبرل معاشی پالیسیاں اختیار کی ہیں اور عالمی لبرل استعمار کی ایک باج گزار ریاست رہے ہیں۔ اس کے باوجود لبرل انفرادیت پنپ نہ سکی۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ تو یہ ہے کہ اسلامی اور روایتی معاشرت زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں غالب رہی ہے اور اس کے تناظر میں لبرل اور تنویری اقدار ہمیں اصولاً غیر معقول ہی نظرآتی رہی ہیں۔ ایک عام پاکستانی خواہ امیر خواہ غریب خواہ، مزدور، خواہ منیجر، جذباتی اور حسی سطح پر مسلمان ہے وہ گناہ کو گناہ سمجھ کر کرتا ہے لیکن

یہ مانا فرائض میں ہیں سب ہی قاصر
نہ مشغول باطن نہ پابند ظاہر
مساجد سے غائب جو ملا ہی میں حاضر
مگر ان میں ایسے نہ فاسق نہ فاجر
کہ مذہب پہ حملے ہیں جو ہر طرف سے
یہ دیکھ ان کو ہٹ جائیں راہ سلف سے

وہ چند ملین لوگ بھی جواشرافیہ (elite) میں شامل ہیں وہ بھی مخلص لبرل اور تنویری نہیں۔ انہوں نے بھی لبرل اصولوں و ضوابط، اداروں اور آدرشوں کو اپنے گروہی مفادات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا ہے اور پاکستان کا دستوری ریاستی نظام ظاہر طورپر لبرل نظرآتاہے لیکن اصلاً لبرل نہیں۔ ریاستی نظاماتی تغلب معاشرتی سطح پر نہایت محدود اور کمزور ہے اور معاشرتی اور انفرادیاتی ماڈرنائزیشن (Modernization) کا بنیادی محرک معاشی ہے تہذیبی نہیں لیکن معاشی ارتقاکی رفتار جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک کے مقابلہ بہت کم ہے۔ 2020ء تا 2008ء کے دورانیہ میں پاکستانی مجموعی پیداوار(GDP) کی اوسط سالانہ شرح نمو 4فیصدسے بھی کم رہی (بھارت میں تقریباً 7فیصد تھی) اور فی کس اوسط آمدنی میں اضافہ 2فیصدسے بھی کم رہا۔ منجمد اوسط سرمایہ کاری (gross capital formation) کی سالانہ شرح نمو 2016ء تا 2011ء میں صفر اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ بڑا صنعتی شعبہ رو بہ زوال ہے اور وہ مجموعی روزگار کا دس فیصد بھی فراہم نہیں کرتا۔ ٹیکنالوجیکل ترقی کی رفتار سے نمو نہایت سست ہے اور یہی بین الاقوامی مارکیٹوں میں پاکستانی مسابقتی قوت کے زوال کی اصل وجہ بیان کی جاتی ہے۔

پاکستانی ماڈرنائزیشن (modernization) کو فروغ دینے والی دواہم قوتیں فوجی اور سول انتظامیہ ہیں لیکن خود ان گروہوں کا ماڈرنائزیشن (Modernization) میں کردار محدود ہے کیوں کہ یہ اپنے اوپر قانونی دستوری ریاستی بالادستی (Rule of the law of capital) کو قبول نہیں کرتے۔ ریاستی کارفرمائی کا عمل اب وہ نہیں رہا جو انگریز نے یہاں تعمیر کیا تھا بلکہ اس کا رفرمائی کو انتظامیہ اپنے اور منسلک گروہوں کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے ترتیب نو کے ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔ انتظامیہ کے سرکردہ افراد لبرل اقدار کو قبول نہیں کرتے، جمہوری اور لبرل ریاستی بیانیے (state discourse) کو اپنے گروہی مقاصد کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انتظامیہ کی سب سے منظم اور مضبوط قوت فوج ہے۔ خواجہ ناظم الدین رحمہ اللہ علیہ کی برطرفی کے بعد سے فوج مقتدرہ کا اہم ترین جزو بن کر ابھری ہے، اس میں ماڈرنائزیشن کے رحجانات رکھنے والے وہ افسر اہمیت رکھتے ہیں جن کی اعلیٰ تربیت امریکا میں اور امریکی تعاون کی نتیجہ میں ہوئی اور جو ایوب خان کے دور اور پرویز مشرف کے دور میں بھرتی کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس اسلامی رحجانات رکھنے والے افسر ضیاء الحق مرحوم کے نظام تربیت سے متاثر ہوئے ہیں (یہ اب عموماً ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں) لیکن فوج میں نظریاتی کشمکش تقریباً ناپید ہے اوراپنی قیادت کے احکام کو بلا چوں وچرا تسلیم کرنے کا رحجان غالب ہے۔ اوریہ بھی درست ہے کہ فوج کو متحد رکھنے والی اصل قوتیں، مسلم اورپاکستانی قوم پرستی ہیں۔ انہی نظریات کی بنیاد پر فوج ”قومی مفاد“ کے تصور کی تشریح کرتی ہے اور اس تشریح کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی سازی کے عمل پر اپنا تغلب ناگزیر گردانتی ہے۔

فوج کا اندرونی اتحاد نہایت طاقتور ہے۔ فوجی آمر ایوب، یحییٰ، مشرف اپنا اقتدار اس وقت تک برقرار رکھتے ہیں جب تک اعلیٰ (senior)جنرل اس کے حق میں ہوں اور انہی سینئر جنرلوں کی رائے کے مطابق فوجی ریاستی اقتدار ترک کیا جاتا ہے۔ فوج اپنے اندرترقیوں اور تقرریوں میں سیاسی مداخلت برداشت کرنے پر راضی نہیں ہے۔ وہ غیر معمولی اقدام(مثلاً2009ء کا سوات آپریشن وغیرہ کو ) دستوری اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کر کے جاری رکھنے کو حق بجانب سمجھتی ہے۔

اعلیٰ سول انتظامیہ بھی لبرل اقدار اور طرز حکومت سے مخلص نہیں۔ سول انتظامیہ زوال پذیر ہے اور اونچے طبقہ سے متعلق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سول سروس میں شمولیت اختیار نہیں کرتے۔ سول سروسز میں نئے شامل ہونے والے افسران پولیس کے محکمہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جبری رحجان رکھتے ہیں اور رائج شدہ سیاسی مراعتی نظام کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سول انتظامیہ میں اب ایک ایسے گروہ کی شمولیت بھی عمل میں آئی ہے جو براہ راست استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ یہ ورلڈ بینک،ایشین ڈیولپمنٹ بینک(ADB) اور امریکی امدادی ادارہ (USAID) سے حاصل شدہ بھیک کے منتظم (Managers) ہوتے ہیں اور ان کے اقدار اور ان کا طرزِ حیات اپنے سامراجی آقاؤں کا چربہ ہوتا ہے لیکن اس طبقہ کی تعداد نہایت محدود ہے اور عوامی زندگی پر ان کا معاشرتی اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس طبقہ کے محدود معاشرتی اثرکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو یورپ اور امریکا برآمد کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سامراجی تعلیمی ادارہ آغاخان یونیورسٹی، لمز، آئی بی اے وغیرہ بھی اپنے تہذیبی اشارات سے متاثر طلبہ کی بڑی تعداد کو امریکا برآمد کردیتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں بھی لبرل اور جمہوری اقدار اور طریقہ کار مفقود ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن،ق وغیرہ) اے این پی وغیرہ سب مورثی جماعتیں ہیں اور ان میں اور تحریک انصاف میں اندرونی جمہوری عمل ناپید ہے۔ سول انتظامیہ کی طرح سیاسی جماعتیں بھی زوال پذیر ادارہ ہیں اور عوامی زندگی سے ان کا ربط و تعلق نہایت محدود ہے۔ یہ بات تحریک انصاف کی حالیہ پیش رفت سے ثابت ہوتی ہے۔ 2018ء کے انتخابات جیتنے کے لیے اس کو پرانے منتخب اشرافیہ(electable) اور انتظامیہ بالخصوص فوج کا سہارا لینا پڑا۔ عوامی تائید عموماً بے اثر ثابت ہوئی۔ پاکستان کا تجارتی اور صنعت کاری کا طبقہ دوحصوں میں منقسم ہے۔ عوام کی اکثریت خود اپنا روزگار پیدا کرتی ہے ایک عام پاکستانی ملازم نہیں ہوتا اور اس کا ذاتی کاروبار (ٹھیلا، رکشاوالا، پرچون فروش، کاشت کار) ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ دار نہیں ہوتا ان معنوں میں کہ نہ اس کا سود کے مارکیٹ (money market) سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ سٹہ کے مارکیٹ (capital market) سے۔ ایک عام پاکستانی عموماً حلال رزق کماتا ہے( 90فیصد پاکستانیوں کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں اور سٹہ بازوں کی تعداد ملکی آبادی کے صفر اعشاریہ ایک فی صد سے بھی کم ہے)۔

ایک عام پاکستانی پر سرمایہ دارانہ جبر کے تسلط کا سب سے اہم ذریعہ حکومتی بالواسطہ محصولات(indirect tax) کا نظام ہے اور بجلی، گیس اور پانی وغیرہ کے اخراجات تو حکومت نجی ادارے اور سامراجی ادارے مستقل بڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ جبر اور مارکیٹ میں روزافزوں بڑھتاہوا اشرافیہ کا پرتعیش تصرفی رحجان Elite’s luxurious consumptive trend)) کسی نہ کسی حد تک عوام میں سرمایہ دارانہ اقدار اور رحجانات کو مہمیز دیتا رہتا ہے۔ اسی سرمایہ دارانہ اثر کومحدود کرنے والی اصل قوت عوام کی مذہبیت اور وہ برادری کا نظام ہے جس میں ہمارے روایتی بازار بھی سموئے ہوئے ہیں۔ ان بازاروں کے انہدام کی مہم شاپنگ مال کو فروغ دے کربڑے شہروں میں حکومت اور سرمایہ کار عرصہ سے چلائے ہوئے ہیں۔

ہمارے بڑے تاجر اور صنعت کار بھی مذہبی رحجان رکھتے ہیں اور ان کے تعاون ہی سے مدارس اور مساجد آباد ہیں لیکن اس طبقے کامذہبی رحجان سیکولر ہے جوان کی کاروبار ی زندگی کو بہت کم متاثر کرتا ہے۔ وہ ریاستی نظام کو حصول مراعات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان میں غالب نظریاتی تشخص مسلم قوم پرستی کا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ استعمار نواز معاشی پالیسیوں کی تردید کرتے ہیں اور قومی خود انحصاری کو فروغ دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کی تعداد اور ان کا معاشرتی اور ریاستی اقتدار میں حجم نہایت محدود ہے اور اس کی بنیادی وجہ صنعتی شعبہ کا زوال اور فنانشل مارکیٹ میں بڑھتا ہوا ارتکاز وسائل رہاہے۔

مزدوروں کی معاشی اور معاشرتی قوت بھی نہایت کمزور اور زوال پذیر ہے۔ حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق مجموعی آبادی کا صرف 33فیصد لیبرفورس میں شامل ہے (یعنی تقریباً۶۸ ملین افراد)۔ اجرتی ملازمین لیبر فور(labor force) کا صرف ۳۵فیصد ہیں(یعنی ۲۲ملین کے لگ بھگ)۔ روزگار میں اضافہ کی رفتار آبادی میں اضافہ کی رفتار کی آدھی ہے (تقریباً ایک عشاریہ دوفیصد)۔ شہری روزگار کی بڑھوتری کی رفتار تو ایک فیصد سالانہ سے بھی کم ہے۔ صرف تقریباً بیس ہزار افراد لیبر یونینوں(labor union) میں شامل ہیں یعنی مجموعی لبیرفورس کا صفراعشاریہ ۳فیصد۔ شہری لیبرفورس کا ۷۳فیصد غیر دستاویزی (informal sector) ہے جس پر حکومت کی گرفت صرف وصولی تک محدود ہے۔

منظم محنت کش سوشل ڈیموکریٹ تحریک کے روح رواں ہوتے ہیں اور ہماری تاریخ میں بھی ۱۹۷۰ء کی دہائی کی ابتدا میں پیپلز پارٹی ایک سوشل ڈیموکریٹ قوت کے طورپر ابھری تھی لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے منظم مزدورقوتوں کے ساتھ بدترین غداری کی، ان کا قتل عام کیااور ان کی ادارتی قوت کو کچل کے رکھ دی۔ 1976ء سے لے کر آج تک پاکستان میں مزدوروں کی ایک بھی کامیاب ہرٹال نہ ہو سکی۔ اسلامی جماعتیں بھی مزدوروں کو منظم کرنے کی جستجو گاہے گاہے کرتی رہی ہیں لیکن وہ ابھی اس ضمن میں بری طرح ناکام ہیں جیسا (National Labor Federation) کی شکست و ریخت سے واضح ہوتا ہے۔

الحمدللہ عوامی زندگی کی سطح پر سرمایہ دارانہ قانون کی گرفت محدود ہے۔ اس کی وجہ قبائلی اور پنچایتی قانونی کارفرمائی ہے جو شرع مطہرہ سے بڑی حد تک ماخوذ ہے اور جو لبرل اقدامات اور ہیومن رائٹس کی عمومی فراہمی کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ نیم شرعی طرز عدالت عوام میں مقبول ہے اور اس کی تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود ریاستی اشرافیہ ہماری اس قوت کے اظہار کو برداشت کرنے پر مجبور ہے۔

پاکستانی حکومت روبروز کمزور ہوتی جارہی ہے اندورنی طورپر بھی بیرونی طورپر بھی۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں مجموعی حکومتی خرچ(gross public expenditure) مجموعی قومی آمدنی (GDP) کا تقریباً ۲۴فیصد تھا۔ 2000ء تا ۲۰۱۰ء کی دہائی میں سے گھٹ کر۱۸فیصد رہ گیا۔ حکومتی معاشی دخل اندازی کو کم کرنے کاا یک بڑا ذریعہ آئی ایم ایف کا بڑھتا ہوا اثر ہے جو قومی بجٹ خسارہ کو کم کرنے اور نج کاری کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔

بیرونی کمزوریوں کا سب سے بڑا سبب امریکی باج گزاری ہے۔ پاکستانی ریاستی ڈھانچے میں امریکا نے بڑےدراڑ پیدا کر لیے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں امریکی لابی لیاقت علی خان کے وقت سے برسرپیکار رہی ہے اور کئی چوٹی کے سیاست دان اور سرکاری افسران(مبشرحسن، محمد علی بوگرا، شاہد جاوید برکی، ایم ایم احمد، حسین حقانی وغیرہ) امریکی ایجنٹ نکلے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے کئی ممبران امریکی قومیت رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری ملکی تحفظاتی پالیسی، نیوکلیئرعدم پھیلا ؤ کی پالیسی اور ترسیل زر(money laundering) کی پالیسی امریکی اثر سے محفوظ نہیں۔ وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ تجارت نے جدا جدا امریکا کے ساتھ دوطرفہ معاہدے کر رکھے ہیں اور ان وزارتوں میں (اور اسٹیٹ بینک میں) کام کرنے والے کئی عہدے دار وقتاًفوقتاً امریکا سے مالی اور تزویراتی اعانت پاتے رہتے ہیں۔ان حالات کے پیش نظرپاکستان کو ایک خود تحکیمی (self-governed) ریاست کہنا مشکل ہے اور اوباما کے دور میں پالیسی سازوں نے پاکستان کو امریکی جنوبی ایشیائی دفاعی نظام کے علاقائی مرکز کے طورپر تصور کیا تھا اور اسی تناظر میں آج تک پاکستان امریکی دہشت گرد کارروائیوں کی اعانت کر رہاہے۔ شمالی علاقہ جات پر ڈرون حملے برداشت کر رہاہے اور امریکی جنگی رسد کی فراہمی میں معاونت کر رہا ہے۔

لیکن امریکا پاکستانی تعاون سے مطمئن نہیں۔ اس نے ۲۰۱۷ء میں جنگی اعانت عارضی طورپر منسوخ کر دی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پاکستانی فوج براہ راست طالبان کے خلاف اس کی ہاری ہوئی جنگ میں شرکت کرے۔ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے جو پاکستان پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا لہٰذا پاکستان اور امریکا میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ایک مسلم یا پاکستانی قوم پرست حکومت امریکا سے بتدریج لاتعلق ہوتی چلی جائے اور پاکستان کا سیاسی انحصار امریکی استعمار سے چینی استعمار کی طرف منتقل کر دے۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں پاکستان ایک نہایت کمزور اور مجہول کھلاڑی ہے۔ ۲۰۱۰ء میں پاکستان کی مجموعی پیداوار تقریباً 334بلین تھی جوکہ عالمی مجموعی پیداوار کا صفر اعشاریہ 4فیصد بھی نہیں بنتا۔ پاکستانی مجموعی برآمدات اور درآمدات ۲۰۱۸ء میں عالمی مجموعی برآمدات اور درآمدات کا صفر اعشاریہ ۲فیصد(0.2) بھی نہیں۔ پاکستان فی الواقع ایک خود کفیل معیشت ہے۔ ہمارے مجموعی برآمدات اور درآمدات ہماری مجموعی قومی پیداوار(GNP)کا ایک سال میں اوسطاً ۲۵فیصد بھی نہیں۔ یوں ایک عام (typical) سال میں ہمارے بیلنس آف پیمنٹس کےرواں(current) حسابات کا ہمارے فنانشل اکاؤنٹ کے نفع سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہماری سودی ادائیگیاں ہماری امدادی قرضہ جاتی وصولیوں کے تقریباً برابر ہوتی ہیں۔ بیرونی نجی سرمایہ کاری قومی مجموعی سرمایہ کاری کا تقریباً ۴فیصد ہوتی ہے۔ ان اعداد وشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ہم عملاً بالکل خود کفیل ہیں اور بیرونی قرضہ جات صرف پرانا سود اور قرضہ جاتی اصل اداکرنے کے لیےلیے جاتے ہیں اور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ پرانے قرضے کون کھا گیا۔ پاکستانی فنانشل ترسیلات بین الاقوامی سرمایہ کے مارکیٹوں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ ۲۰۱۸ء میں ہمارا مجموعی بین الاقوامی قرضہ تقریباً اسی ملین ڈالرتھا۔لاطینی امریکی اور جنوبی یورپ کے ممالک کے بین الاقوامی قرضہ جات ہم سے کئی گنا زیادہ ہیں اور جب یہ ممالک ادائیگیوں سے انکارکرتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔ اگرہم اپنے بین الاقوامی قرضے (repudiate) اداکرنے سے منع کردیں تو بین الاقوامی مارکیٹوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوگا اور کوئی بینک دیوالیہ نہ ہوگا۔ کسی ترقی یافتہ سرمایہ دار ملک کی تمسکات کے مارکیٹ میں بحران نہیں آئے گا۔ لندن، ٹوکیو، سنگاپور، نیویارک کسی بھی جگہ حصص کی قیمتوں پر کچھ اثر نہ پڑے گا اور پاکستان میں بھی بیرونی قرضہ جات نسخ (repudiate) کرنے کا کوئی منفی معاشی اثر مرتب نہ ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پر جوسامراجی دباؤہے وہ خالصتاً سیاسی ہے معاشی نہیں۔

جمہوری اور لبرل اقدار کی عدم مقبولیت کے باجود پاکستان کی ۷۲سالہ تاریخ کم از کم دوبار۱۹۶۹-۱۹۶۸اور ۱۹۷۷ء میں بحالی جمہوریت کی تحریکیں چلیں۔ ۱۹۷۷ءکی تحریک اپنے آخری دور میں ایک اسلامی مزاحمت کی شکل اختیار کر گئی لیکن ان تحاریک کا نظاماتی اثر نہایت محدود رہا۔ ان کے نتیجہ میں سول اور فوجی آمریت ہی مستحکم ہوئی کوئی لبرل حکومت قائم نہ ہو سکی۔ حکومتی تبدیلی چارگروہوں کے مابین مصالحت کے ذریعہ عمل میں آئی۔ یہ چارگروپ فوجی اعلیٰ جنرل، سول افسرشاہی، موروثی سیاست دان اور بالخصوص بیرونی سامراجی ممالک امریکا اور سعودی عرب ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومتوں کی تبدیلی تو عمل میں آئی لیکن ریاستی حیثیت اور ریاستی ترجیحاتی کی کارفرمائی ویسے کے ویسے ہی رہی۔ اشرافیہ کے سیاسی مصالحت کا مقصدپاکستانی ریاست کی داخلی اور خارجہ پالیسی سازی کے تسلسل کو برقرار رکھنا رہاہے۔

ریاستی ساختی تغیر (change in state structure)جتنا کچھ بھی عمل میں آیا ہے اس کا مقصد غالب ریاستی اشرافیہ کے معاشرتی اثر وقوت کو برقرار رکھنا ہے۔ ریاستی ذرائع کو اپنے گروہ اپنی برادریوں کو مراعات فراہم کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔ پولیس علاقائی چوہدریوں، وڈیروں اور نوابین کا آلہ کار بنا دی گئی ہے۔ مقامی حکومتی نظام(local government) کو بھی عملاً مفلوج کر دیا گیا ہے۔ ریاستی عدالتی نظام بھی مفلوج ہے اور ایک عام پاکستانی اس نظام پر اعتبار کھو چکا ہے۔ ۲۰۰۸ء کے بعد سے یہ عدالتی نظام سیاسی مقاصد کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہاہے اور لاطینی امریکی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن مخالف مہمات غالب سیاسی اشرافیہ کی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔

پاکستانی ریاستی خصوصیات

لبرل ریاست کی خصوصیات

پاکستانی ریاست کی خصوصیات

مذہبی اقدار کو ختم کرکے دہریہ اقتدار کو اقدار کرنا

غیراقداری تغیر، دہریہ اداروں اور پالیسیوں کا مذہبی جواز پیش کرنے کی ضروت کا اقرار، اسلامی روایات کی محدودتراثر اندازی

سیاسی شراکتی انفرادیت

غیر شراکتی سیاسی انفرادیت(سیاسی عمل سے محض گروہی مفادات کے حصول کی توقع)، قوت سے محرومی کا احساس

عالمی مغربی تشخص

مغربی تشخص صرف انگریزی بولنے والی اعلیٰ انتظامیہ تک محدود، اس گروہ کا اثر پالیسی ساز ی میں زیادہ اور پالیسیوں کی تنفیذ میں محدود ہے

پالیسی سازی اور پالیسی تنفیذ میں سائنٹفک میتھڈ کے منہج کا تفوق

پالیسی سازی اور پالیسی گفتگو میں سائنٹفک منہج کا کثیر استعمال لیکن پالیسی کارفرمائی اور تنفیذ میں گروہی مقاصد کو فروغ دینے کی کوشش

تیکنیکی ماہر اور اوسط طبقہ کا معاشرتی تفوق

مڈل کلاس چھوٹی اور نسبتا بے اثر

بڑے سرمایہ کاروں کا معاشرتی تفوق

بڑے سرمایہ کاروں کا پالیسی سازی میں اثر محدود ہے ان کے روابط اور رشتہ بڑے جاگیرداروں اور نوکرشاہی سے مستحکم

محنت کشوں اور سرمایہ کاروں میں تعاون

محنت کشوں کی معاشرتی، سیاسی اور معاشی قوت نہایت کم اور زوال پذیر

جمہوری اداروں کا فروغ اور ہیومن رائٹس کی عمومی فراہمی

تمام داساتیر ہیومن رائٹس کی فراہمی کی گارنٹی دیتے ہیں لیکن عوامی مقامی ادارتی سطح پر ان کی خلاف ورزی عام ہے ۔فوج کے علاوہ تمام ریاستی ادارہ کسی نہ کسی حد تک برادریوں کے سیاسی اثر کےغماز، فوج غیر معمولی اقدام دستور ی تناظر کے باہر کرتی ہے

غیرجمہوری حکومتوں میں کشمکش

فوجی حکومتیں اعلیٰ جنرلوں کے اتفاق پر منحصر، قومی اور جمہوری حکومتوں میں پالیسی سازی کا عمل اور پالیسی ترجیحات یکساں، حکومتی تبدیلی پر امریکا اور سعودی عرب کا نمایاں اثر

عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے منسلکی

عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے تعلق معاشی طور پر نہایت کمزور- پاکستان ایک خود کفیل معیشت

ریاستی خود مختاری

کمزور ی ہوتی ہوئی ریاستی خود مختیاری کی وجہ، امریکا اور بین الاقوامی اداروں آئی ایم ایف کی دخل اندازی -بیرونی آمدنی میں مسلسل کمی

4.18۔ پاکستانی معاشرتی تناظر میں اسلامی جدوجہد

پاکستانی ریاست ایک ناہموار رفتار سے ماڈرنائزڈ ہو رہی ہے اور ریاستی ماڈرنائزیشن کا اثر معاشرت پر بھی پڑ رہاہے۔ ماڈرنائزیشن کا اصل محرک لبرل اقدار اور کارفرمائی کافروغ نہیں بلکہ معاشی عمل ہے۔ اس سرمایہ دارانہ معاشی عمل کے زیر تسلط پورا معاشرہ کسی نہ کسی طور پر آ چکا ہے لہٰذا پاکستانی ماڈرنائزیشن سے مقابلہ کا اصل میدان پاکستانی معاشرہ اور معیشت ہے، پاکستانی ریاست نہیں۔ پاکستانی ماڈرنائزیشن کو شکست دینے والی اصل قوت عوامی اسلامی جذباتیت ہے نہ کہ اسلامی علمیت، یا اسلامی انتظامی فعالیت ہے۔ یہ بات تحریک ختم نبوت(۱۹۵۳،۱۹۷۶)، تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم 1977 اور تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۰۱۷ء کی جدوجہد سے ثابت ہے۔ جب تک وہ اسلامی علمیت اور اسلامی انتظامی فعالیت فروغ دینے کا ذریعہ نہ بنے پاکستانی معاشرہ اور ریاستی ماڈرنائزیشن کے عمل کو پیچھے نہیں دھکیل سکتی اور مخلصین دین کی سیاسی اور معاشرتی قوت میں اضافہ کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

لہٰذا غلبہ دین اور تحفظ دین کی جدوجہد کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام راسخ العقیدہ جماعتیں اور تحریکات ایک ایسے پلیٹ فارم پر متحد اور کارفرماہوجائیں جو اسلامی علمیت اسلامی انتظام فعالیت اور اسلامی جذباتیت کی جدوجہدوں کو مربوط کردے۔ ہم گاہے گاہے فدائیان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن نہ ان مخلصین دین کی ہنگامی بنیادوں پر تعلیم وتربیت کا انتظام کرسکے نہ ان کی معاشرتی اور معاشی صف بندی کا۔ جب جب ہماری تحاریک کو علامتی کامیابی نصیب ہوئی اورہمارے ”مطالبات تسلیم کرلیے گئے“ تو اس کا نتیجہ تحریک کی پسپائی ہی کی صورت میں برآمد ہوا اور وہ لاکھوں مخلصین دین جو تحریک کے دوران متحرک ہوئے تھے منتشر ہوکر سرمایہ دارانہ معاشرت میں دوبارہ شریک ہو گئے اور مخلصین دین کی معاشرتی قوت میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔ پاکستانی تحاریک تحفظ اور غلبہ دین کو ماڈرنائزیشن سے جو موثر چیلنجز درپیش ہیں وہ یہ ہیں:

تفصیل اس اجمال کی کتاب کے آخری باب میں پیش کی جانے کی کوشش کی جائے گی۔

19۔سرمایہ داری اور جمہوریت

1.19۔ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور جمہوریت

سرمایہ دار وہ شخص ہے (خواہ دولت مند خواہ مفلس) جس نے اپنے نفس کو حرص اور ہوس کے شیطانوں کے سپرد کر دیا ہواور سرمایہ دارانہ معاشرت اس معاشرت کو کہتے ہیں جہاں حرص اور ہوس کی تابع انفرادیت کو غلبہ حاصل ہو۔ حریص اور ہوس ناک انفرادی عمل کو معقول تصور کیا جائے اور سرمایہ دارانہ تعقل(rationality) کو حقیقت کے ادراک کا معتبر ذریعہ ہوناتسلیم کیا جائے۔

سرمایہ دارانہ سیاسی اقتدار عموماً جمہوری اسالیب، مباحث اور طرائق کے معاشرتی غلبہ کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے، جمہوریت معاشرتی اور ریاستی سطح پر سرمایہ دارانہ تغلب کے قیام اور استحکام کے ذرائع فراہم کرتی ہے۔ تاریخی طور پر یہی نمایندہ جمہوریت (خواہ لبرل خواہ عوامی) کا اصل کام رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ تعقل کا علمیاتی اور معاشرتی تغلب دلانے اور قائم رکھنے میں جمہوری اداروں کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ تغلب کو قائم رکھنے کے علاوہ نمایندہ جمہوریت نے کوئی اور ہدف حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہمیشہ سے یہی نمایندہ جمہوریت کا وجہ وجود(raison d'etre) رہاہے۔ پچھلی دوصدیوں میں جمہوری معاشرتی اور ریاستی صف بندی سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور ریاستی تنظیم کو معاشرتی اور ریاستی غلبہ دلاتی رہی ہے۔

جمہوری نظام کی بنیاد قدرمساوات ہے۔ یہاں مساوات کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ہر فرد اس بارے میں آزاد ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں جو قدر چاہے مقرر کرے۔ وہ شخص جو شرع مطہرہ کا پابند ہے اور وہ شخص جو شراب اور زنا کو اقداری فوقیت دیتا ہے معاشرتی اور یاستی سطح پر مساوی قدر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ ایک متقی اور شرابی کی انفرادی ترتیب اقدار کا معاشرتی ترتیب اقدارسے کوئی واسطہ نہیں۔ معاشرتی اور ریاستی سطح پر سب اقدار یکساں اور مساوی تصور کی جاتی ہیں۔ مارکیٹ اور ریاست میں ایک متقی اور ایک زانی یکساں قدر کے حامل تصور کیے جاتے ہیں (دونوں کےپاس ایک ووٹ ہوتا ہے)۔ دستوری سطح پر روحانی اور اخلاقی سطح پر عوام کی سیاسی تفریق کو غیر قانونی تصورکیاجاتاہے۔ لبرل اور عوامی جمہوری مساوات کا یہ مطلب نہیں کہ سٹیزن وسائل یا معاشرتی رتبہ کے اعتبار سے مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں جمہوری نظام مساوات سے مراد یہ لیتے ہیں کہ انفرادی ترتیب اقدار مساوی حیثیت رکھتے ہیں یعنی شرابی کی پسندیدگیاں اورمتقی کی پسند یدگیاں (preferences) معاشرتی اور ریاستی فیصلہ سازی کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔

مساوی آزادی کا یہ تصور اسلامی سیاسی نظام کے لیے بالکل اجنبی اور غیر معتبر ہے۔ اسلامی سیاسی نظام کے قیام کا مقصد فروغ آزادی نہیں، نظام عبادت کو عمومی (universalize) بناناہے۔ اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرہ لازماً ایک درجہ بند(stratified) ہیئت اختیار کرتا ہے جہاں اہل تقویٰ اور تزکیہ کو معاشی اور معاشرتی فوقیت حاصل ہوتی ہے اور عوام ان کے مطیع وفرماں بردار ہوتے ہیں۔ ایک اسلامی ریاست میں سٹیزن شپ کا کوئی تصور موجود نہیں ہوتا۔ سیٹزن ایک خود انحصاری قانون ساز کو کہاجاتا ہے۔ اسلامی ریاست میں کوئی خود مختار قانون ساز نہیں ہوتا، ہر فرد رعایا میں شامل ہوتا ہے۔ سلطان ظل اللہ، حضورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع خلیفہ ہوتا ہے عوام کا نمایندہ نہیں ہوتا۔ وہ احکام الٰہی کی تنفیذ کا ذمہ دار ہوتا ہے، عوام کی خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔ فرد کی روحانی اور علمی صلاحیت اس کا معاشرتی اور ریاستی مرتبہ اور ذمہ داریاں متعین کرتی ہیں۔ جمہوری نظام میں اسلامی معاشرتی درجہ بندی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چونکہ یہاں کا اصول نافذہ تو فرد کی مساوی آزادی ہے۔ کسی شخص کی نفسی اور روحانی حیثیت کچھ بھی ہو وہ سیاسی ”مساوی آزادی“ کا حامل ہے۔ اس عقیدہ کی تصدیق ہر جمہوری دستور کی توثیق تصور ہیومن رائٹس میں پائی جاتی ہے۔

جمہوری نظام میں دساتیر کلام اللہ (قرآن، انجیل) کی جگہ لے لیتے ہیں اور یہی دساتیر ریاست کی حیثیت اور ماہیت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ پہلا دستور جو لکھا گیا ہو ریاست ہائے متحدہ امریکا کا تھا جو اٹھارھویں صدی عیسوی کے آخرمیں تحریر کیا گیا۔ اس دستور میں صراحتاً انجیل مقدس کو قانون سازی کا ماخذ نہ ہونا تصور کیا گیا۔ ہرجمہوری دستور میں لازماً حقوق اللہ کی جگہ حقوق انسانی لے لیتے ہیں کیوں کہ یہی وہ چیز ہے جو دستور کو سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار بناتی ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تصور”مساوی آزادی“ کی تضاداتی نوعیت سے واقف ہوں ۔یہ تضاد اس امرکا عکاس ہے کہ

اس بنیادی تضاد سے نبرد آزما ہونے کے لیے سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی کارفرمائی کو استوار کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس بات پر ایمان لے آئیں کہ سرمایہ دارانہ معاشرتی نامساویت کا فروغ سیاسی مساوی آزادی کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔

2.19۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کی کارفرمائی

سرمایہ دارانہ معاشرت کو سول سوسائٹی (civil society) کہتے ہیں۔ سول سوسائٹی وہ معاشرتی تنظیم سازی ہے جس کا مقصد نظاماتی اور انفرادی بڑھوتری میں مستقل اضافہ ہو۔ یہ مقصد نفس میں حرص اور حسد کے میلانات کو مستقل فروغ دے کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سول سوسائٹی میں حریص اور حاسد افراد معاشرتی غلبہ حاصل کر لیتے ہیں اور وہ پورے معاشرتی نظام کو ایسے تعلقاتی روابط میں جکڑ دیتے ہیں جو حصولِ مادی اغراض کی عقلیت کے غماز ہوں۔ سول سوسائٹی میں صرف اس عمل کو معقول سمجھا جاتا ہے جو کسی نہ کسی طور پر کسی نہ کسی فرد یا گروہ کی مادی افادیت(utility) کو فروغ دینے کے لیے کیا جائے۔ ہرفرد ہردوسرے فرد کو اپنی مادی افادیت(utility) کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ یہی سرمایہ دارانہ عقلیت کا اصل اصول ہے اور صرف اسی اصول کے مطابق سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں قدر(value) متعین کی جاتی ہے۔

سول سوسائٹی یورپ میں عیسائی سوسائٹی کو برباد کرکے ہی قائم کی گئی۔ مذہبی سوسائٹی ان روابط پر تعمیر کی گئی تھی جو محبت اور صلہ رحمی کو فروغ دیتے تھے۔ سول سوسائٹی ان روابط میں مارکیٹی عمل کے ذریعہ پیوست ہوتی چلی گئی حتی ٰ کہ مذہب اور اس سے متعلق جذبات اور احساسات معاشرتی سطح پر یورپ اور امریکا میں تقریباً بالکل ناپید ہوگئے۔ مارکیٹ میں ہرشریک ہردوسرے شریک کو اپنے حرص اور غرض کے حصول کا ذریعہ تصورکرتا ہے۔ روایتی بازار کے برخلاف مارکیٹ کا ہر شریک ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی ہوتا ہےاور اس سے تعلق صرف اپنے غرض کے حصول کے لیے کرتا ہے۔ ہرمارکیٹ کے فریق کی غرض لازماً ایک ہی ہوتی ہے اپنی مادی افادیت (utility) کی لامتناہی بڑھوتری ( maximization)۔ مادی افادیت کی لامنتاہی بڑھوتری (utility maximization) کا ذریعہ صرف بڑھوترئ سرمایہ ہوتا ہے اور فنانشل مارکیٹ(سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ) ہرعمل کی قدر اس بنیاد پر متعین کرتی ہے کہ اس کے نتیجہ میں بڑھوترئ سرمایہ کی حاضراور متوقع رفتار میں کتنے اضافہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔

مشہورجرمن فلسفی فریڈرک ہیگل نے آج سے دوسوسال قبل سول سوسائٹی کو مارکیٹ کی سول سوسائٹی کہا تھا۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اور نظام غالب آتا ہے ویسے ویسے ہرمعاشرتی عمل (معاشی، ثقافتی، سیاسی، تعلیمی، خاندانی) بڑھوترئ سرمایہ کے مقصد کو اپنالیتا ہے اورمارکیٹی عمل بن جاتا ہے۔ اس عمل کو امریکی فلسفی مائیکل والزر(Michal Wlazer) مارکیٹی نوآبادیانی عمل کہتا ہے۔ سول سوسائٹی زندگی کے ہر شعبہ (معاشی، مذہبی، ثقافتی،تعلیمی، سیاسی) کو مارکیٹ کی نوآبادی بنادیتی ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست اس پورے معاشرتی نوآبادیاتی نظام کی نگران ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون کے نفاذ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ریاست اس بات کو ممکن بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہرسرمایہ دارانہ عہد وقت پائیہ تکمیل تک پہنچے اور نظاماتی بحران کا خطرہ نہ پیدا ہو۔

سول سوسائٹی کا ظہور ابتدا میں اٹلی کے چند ساحلی شہروں اور جزیروں میں ہوا۔ اس وقت یورپ میں عیسائی معاشرت غالب تھی۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ حیات غالب آتا گیا ویسے ویسے پورے پورپ اور اس کی نوآبادیات میں مذہبی معاشرت زوال پذیر ہوتی چلی گئی اور سول سوسائٹی غالب آتی چلی گئی۔ عیسائیت کہیں بھی سول سوسائٹی کی پیش رفت کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔آج صرف مسلم دنیا کے چند علاقوں میں سول سوسائٹی کے غلبہ کو چیلنج کیا جارہاہے۔ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرامذہب سول سوسائٹی کے بتدریج پھیلنے کو روک نہیں سکتا۔

سول سوسائٹی مذہبی سوسائٹی کی ضد ہے۔ جہاں جہاں سول سوسائٹی قائم ہوئی وہاں شہوت، حرص، حسد، غضب، ظلم اور خود غرضی معاشرت کا کلیدی عمل بن گئے۔ اس کی سب سے واضح مثال امریکا ہے جہاں ایک پورے براعظم کو لوٹ لیا گیا اوردو کروڑقدیم باشندوں کو دوصدیوں تک منظم طورپر قتل کیا جاتا رہا۔ آج امریکا سرمایہ دارانہ سرخیل کی حیثیت سے یہ قتل عام اور لوٹ مار عراق، افغانستان، شام اور کئی وسطی اور مغربی افریقی ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہے اور ماضی قریب میں امریکا نے تقریباً ایک کروڑ ویت نامی کمبوڈین، لاؤ، جاپانی، کورین، کولمبین اور سالواڈورین مرد، عورتوں اور بچوں کو تہ تیغ کیا ہے۔ آج پوری دنیا میں امریکی فوج اور جہاز مستقل نئے شکار کی تلاش میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور امریکا کے فوجی اڈے 183ممالک میں قائم ہیں۔ گوکہ سول سوسائٹی مغرب میں پیدا ہوئی لیکن یہ دنیا کے ہر حصہ میں پھل پھول سکتی ہے۔ سول سوسائٹی چین، جاپان، ہندوستان، سعودی عرب میں خوب پنپ رہی ہے اور ان تمام معاشروں میں حرص وحسد، شہوت اور غضب، خود غرضی اور ظلم روزافزوں ترقی پر ہے۔ پاکستان میں بھی سول سوسائٹی کا فروغ انہی اوصاف خبیثہ کے عوامی پھیلاؤ کا ذریعہ بنے گا اور یہ توقع رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں کہ سول سوسائٹی کے فروغ کے ساتھ ساتھ للہیت، تقویٰ، بھائی چارہ، بے غرض اور جذبہ ایثار و قربانی معاشرہ میں عام ہوں گے۔

سول سوسائٹی کا فروغ سرمایہ دارانہ صلاحیتوں کی حامل انفرادیت کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ یہ انفرادیت شہوت، غضب، خود غرضی اور خودمختاری کی صفات سے مغلوب ہوتی ہے۔ اگر ایک معاشرہ میں للہیت، خداشناسی، ایثار و قربانی کا جذبہ خود فراموشی، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت عام ہوتو وہاں سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی غالب نہیں آسکتا۔ ان تمام ملکوں میں جو استعمار کے شکار ہوئے اوصاف خبیثہ ایک وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ جنوبی افریقی ممالک، ہندوستان اور فلپائن میں AIDS کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ اغلام بازی روز افزوں ترقی پر ہے۔ خواہش کا طوفان آیا ہوا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ یہ معاشرے تیزی سے ماڈرنائز ہو رہے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ملک سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہونا قبول کرے اور وہاں جنسی بے راہ روی اور اوصاف خبیثہ عام نہ ہوں۔

کچھ مسلمان حلقے سول سوسائٹی کے فروغ کی اس بنیاد پر وکالت کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں سول سوسائٹی کا فروغ ان حقوق کی فراہمی کے ذریعہ بنتا ہے جو اسلام کو مطلوب ہیں۔ اصولاً یہ بات غلط ہے کیوں کہ سول سوسائٹی میں ہیومن رائٹس فروغ پاتے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد تو کچلے جاتے ہیں اور ہیومن رائٹس تو حقوق العباد کی ضد ہیں۔ سول سوسائٹی کے اسلامی موکلین اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ سول سوسائٹی اسلامی انفرادیت کو تباہ کر کے اس میں شہوت، غضب، حرص اور ہوس بھردیتی ہے۔

ہم سول سوسائٹی کے وردداور ترقی کے مخالف ہیں اور پوری دنیا میں مذہبی سوسائٹی کے فروغ کے لیے جدوجہد کریں گے کیوں کہ مذہبی سوسائٹی میں خدا شناس، متقی اولیاء اللہ کی قیادت قائم اور مستحکم ہوتی ہے۔ اور یہ للہیت اور اوصافِ حمیدہ اور تقویٰ کی عمومیت کے لیے ناگزیز ہے۔ قیادت کو علماء اور صوفیاء کے ہاتھوں سے چھین کر عوام اور ان کے نمایندوں کو سونپ دینا ظلم ہے کیوں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”علماء انبیاء کے وارث ہیں“۔ عوام اور ان کے نمایندوں کی حکومتیں لامحالہ ایک ایسی معاشرت کو پروان چڑھاتی ہیں جو حرص، حسد، شہوت، غضب، خود غرضی اور خودمختاری کی خبیث صفات کو فروغ دیتی ہیں۔

آج سول سوسائٹی کو پوری دنیا پر مسلط کرنا استعمار کا ایک اہم ہدف ہے۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا میں این جی اوز کا ایک وسیع جال پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ این جی اوز معاشرہ کی”مطلبی دھڑوں“ (Interest groups) کی بنیاد پر تشکیل نو کر رہی ہیں۔ معاشرہ کی فطری تشکیل خاندان اور صلہ رحمی پر مرتب ہوتی ہے۔ این جی اوز اس فطری قدیم معاشرتی ساخت کو تباہ اور برباد کر رہی ہیں تاکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت عام ہو۔ یہ انفرادیت اپنے آپ کو اس فطری خاندان سے الگ کر لیتی ہے جو محبت، خلوص، ایثار اور قربانی کا سرچشمہ ہے۔ سرمایہ دارانہ فرد کلیتاً غرض کا بندہ بن جاتا ہے اور اس کی وابستگیوں کا دائرہ ان دوسرے سرمایہ دارانہ افراد تک محدود ہوجاتا ہے جو اس جیسے اغراض کے حامل ہوتے ہیں۔

این جی اوز کی بنیاد پر نئی سماجی تحریکیں(New Social Movements) برپا کی گئی ہیں۔ ان کی بنیاد بیسویں صدی کے ایک مشہور فرانسیسی فلسفی مشل فوکو (Michel Foucault) (جو1984ء میں ایڈز میں مبتلا ہوکر مرا) کی فکر پر رکھی گئی۔ فوکو کہتا تھا کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر سرمایہ دارانہ نظام میں پائی جانے والی مختلف جبریتوں کے خلاف جدوجہد ہوتی ہے مثلاً اغلام بازوں پر معاشرتی پابندیوں کے خلاف جدوجہد۔ اغلام بازوں نے اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک عالمی تحریک برپا کر رکھی ہے جسے ایل جی بی ٹی( Lesbian, gay, bisexual and transvestites) کی تحریک کہاجاتا ہے اور اس کو امریکی صدر اوباما کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ فوکو کی فکر پر کارفرما عوامی تحاریک سرمایہ دارانہ نظام کو بحیثیت عمومی چیلنج نہیں کرتیں۔ وہ اس مفروضہ پر کام کرتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ جبر(مثلاًاغلام بازوں کے حقوق کی پامالی) کی کسی ایک شکل کے خلاف جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام کو بحیثیت مجموعی مضبوط کرتی ہے۔ اغلام بازی کے پھیلاؤ کے ذریعہ خاندانی نظام کو مجروح کیاجاسکتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت دی جاسکتی ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام شہوت اور جنسی بے راہ روی کے پھیلاؤ سے مستحکم ہوتاہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی ہرجدوجہدخواہ جزوی خواہ کلی سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کومستحکم کرتی ہے۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت آزادی کی فراہمی کے توسط سے پھلتی پھولتی ہے۔ انفرادی جبریتوں کے خلاف جدوجہد سرمایہ دارانہ آزادی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔ این جی اوز کے کارکن اپنی جذباتی اور روحانی تسکین سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں پاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ روحانیت نفس امارہ کے مطالبات کو مہمیز دے کر فرد کو خداسے بغاوت پر آمادہ کرتی ہے اور یوں سرمایہ دارانہ تعقل سرمایہ دارانہ انفرادیت میں سمو جاتی ہے۔

این جی اوز جمہوریتی نظاموں میں پھلتی پھولتی ہیں کیوں کہ جمہوریت مخصوص سرمایہ دارانہ جبریتوں کی dominance کے خلاف لڑنے مواقع فراہم کرتی ہیں مخصوص سرمایہ دارانہ جبریتوں کے خلاف تحاریک کو یکجہتی تحاریک(Single Issue Movements) کہاجاتا ہے اور یہ یکجہتی مزاحمتی تحاریک مذہبی بھی ہوسکتی ہیں مثلاً پاک و ہند کی تبلیغی جماعت اور امریکا کی Evangelical movement۔ چوں کہ یہ یکجہتی تحاریک سرمایہ دارانہ نظام کو بحیثیت مجموعی چیلنج نہیں کرتیں لہٰذا جمہوری ریاستوں میں ان کو فروغ پانے کے وافر مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی اسلامی جماعت سرمایہ دارانہ نظام کو بحیثیت مجموعی چیلنج نہیں کرتی اور اس کی توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ دستور میں چند نمائشی اسلامی دفعات شامل ہیں اور یہ لایعنی جملہ دہرایا جاتا ہے کہ ریاست نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ اسلامی معاشرت کے قیام اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی تحاریک سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو بحیثیت مجموعی ردّ کریں اور سرمایہ دارانہ تعقل کولغو اور مہمل ثابت کریں۔ اسلامی تحریکوں کو سرمایہ دارانہ عدل کے جزوی اور کلی قیام کی جدوجہد سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل ظلم عظیم ہے کیوں کہ وہ ایسی انفرادیت کو فروغ دیتا ہے جو اوصافِ خبیثہ حرص، حسد، شہوت، غضب اور خود مختاری کی غماز ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے لازم ہے کہ علماء اور اولیاء کی معاشرتی ریاستی قیادت ہرسطح پر قائم اور مستحکم کی جائے محلہ کی سطح پر بازار کی سطح پر برادری شہر اور ملک کی سطح پر، عالمی سطح پر۔ علماء اور اولیاء عوام کے واحد جائز رہنما ہیں کیوں کہ صرف وہ جانتے ہیں کہ عوام کو خدا کا مطیع کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ اسلامی انفرادیت سول سوسائٹی میں پرورش نہیں پاسکتی کیوں کہ سول سوسائٹی حرص اور حسد شہوت اور غضب کی آماج گاہ لازماً ہوتی ہے۔

یہ بات عیسائیت کی تاریخ سے ثابت ہے۔ عیسائیت ایک ہزار سال تک یورپی معاشرہ پر چھائی رہی۔ آج اس کا روحانی اور اخلاقی اثر یورپ اور امریکا میں تقریباً ناپید ہوگیا ہے۔ عیسائیت کے کلیدی اخلاقی اقدار فقر اور عفت آج یورپی اور امریکی معاشرہ میں ناپید ہوگئے ہیں یہاں تک کہ حالیہ پوپ فرانسس اغلام بازوں کے حقوق کا وکیل بن گیا ہے۔ عیسائی اصلاحی تحریکیں قوم پرست لبرل، سوشلسٹ آدرشوں سے لبریز ہیں۔ عیسائی عبادت کے عوامی اظہار تفریحی صنعت(entertainment industry) میں ضم ہوکررہ گئے ہیں۔

3.19۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی کارفرمائی

سول سوسائٹی کے وجود کا انحصار سرمایہ دارانہ ریاست کے سیاسی تغلب پر ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی کارفرمائی کا مقصد بھی سرمایہ دارانہ انفرادیت کا قیام اور استحکام ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے دوپہلو ہیں۔ ایک سرمایہ دارانہ فرد یعنی ہیومن بینگ جو اپنی ذاتی زندگی میں ان جبریتوں disciplines)) کو قبول کرتا ہے جو آزادی (بڑھوترئ سرمایہ) کے حصول کے لیے لازم ہیں۔ ہیومن بینگ کی نظرمیں قدر(value) صرف اس عمل اور فکر کی ہوتی ہے جو اس کی خودمختاری(autonomy) کو فروغ دے۔ ہیومن بینگ صرف اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تسکین کے لیے جیتا ہے۔ اس کی زندگی کا واحدمقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر سکے۔ ایسی انفرادیت خود بخود وجود میں نہیں آتی بلکہ تاریخ کا سبق ہے کہ یہ انفرادیت صرف سرمایہ دارانہ دور میں پائی جاتی ہے۔ اس خودمختار انفرادیت کو سرمایہ دارانہ تحکیم قانون (law of capital) اور دیگر سرمایہ دارانہ ریاستی جبرتیوں (discipline) کے ذریعہ پیدا کیا جاتاہے۔ انسان فطرتاً ہیومن بینگ نہیں ہوتے انہیں آزادی (بڑھوترئ سرمایہ) کو بحیثیت مقصد حیات قبول کرنے پر سرمایہ دارانہ جبر کے ذریعہ مجبور کیا جانا پڑتا ہے۔ ریاستی جبر اور تحکیم قانون سرمایہ کو جواز وہ ہیومن رائٹس فراہم کرتے ہیں جن کی فراہمی کی ضمانت ہرسرمایہ دارانہ دستور دیتا ہے۔ یہ ہیومن رائٹس وہ اثاثہ ہیں جو ہرسرمایہ دارانہ فرد کو بڑھوترئ سرمایہ کے فرض کو اداکرنے کے لیے لازماً میسر ہونے چاہئیں۔

بڑھوترئ سرمایہ کو زندگی کے مقصد کے طور پر قبول کرنا وہ فرض عین ہے جو سرمایہ دارانہ ریاست کے ہرمطیع (subject) (خواہ سٹیزن خواہ غیر سٹیزن) کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ جمہوری سرمایہ دارانہ ریاستوں میں یہ خطرہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اکثریت انتخابات کے ذریعہ اس فرض عین کو قبول کرنے سے انکارکر دے۔ امریکی دستور کے بانی اس خطرہ سے خوب آگاہ تھے لہٰذا اٹھارھویں صدی سے لے کر آج تک جتنے بھی سرمایہ دارانہ دساتیر نافذ کیے گئے ہیں ان سب میں ہیومن رائٹس کے نفاذ کو مقدم رکھا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس جمہوری عمل سے ماورا ہیں۔ ان کو جمہوری عمل کے ذریعہ ردّ یا محدود نہیں کیاجاسکتا کیوں کہ یہی ہیومن رائٹس تحکیم قانون سرمایہ ( rule of law of capital) کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

2005ء میں اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی نے ایک دستاویز منظور کی جسے حق تحفظ (Right to protect R2P) کی دستاویز کہاجاتاہے۔ R2Pنے امریکا اور سکیورٹی کونسل کے دیگر ممبروں کا یہ حق تسلیم کیا کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف جنگ کر سکتے ہیں جہاں کی حکومت ان کے خیال میں ہیومن رائٹس کی پامالی یا تحدید کر رہی ہے۔ دورِحاضر میں اسی جواز کی بنیاد پر امریکا نے بلقان، شام، افغانستان، گوئٹے مالااور نکاراگوا پرفوجی قبضہ کیا ہے اور فرانس نے مالی اور کویت نے دی وور (Cote d'lvor)پر۔

سرمایہ دارانہ دستاویز صرف ہیومن رائٹس (اور ان تک رسائی دلانے والے سوشل رائٹس) کے تقدس کو قبول کرتے ہیں۔ مشہور امریکی فلسفی جان رالز(John Rawls) اپنی کتاب ”Politica Liberalism”میں کہتا ہے کہ وہ تحریکیں (مثلاًالجیریا کی اسلامی تحریک جس نے 1990ء کے انتخابات جیتے) جو ہیومن رائٹس کے تقدس کو تسلیم نہیں کرتیں ان کو اسی سفاکی اور بے دردی سے تہ تیغ کر دینا چاہیے جس طرح کسی وبائی مرض (مثلاًجزام) کو۔ آج رالز(Rawls) کا یہی نظریہ افغانستان،عراق اور شام میں امریکی دہشت گردی کو جواز فراہم کرتاہے۔

جمہوریت سرمایہ دارانہ تحکیم کے ذریعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اگر جمہوری عمل کے ذریعہ تحکیم سرمایہ حاصل نہیں ہوتا تو جمہوری عمل کو معطل کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ سامراج جمہوری عمل کی منسوخی برداشت کر سکتا ہے لیکن تحکیم قانون سرمایہ کی منسوخی برداشت کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن ہے کہ مخصوص حالت میں سامراج کے پاس وہ قوت نہیں جو سرمایہ دارانہ تحکم کے کسی ریاستی نظام پر لازمی تسلط کو ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ انتخابات میں شرکت کے ذریعہ تحکیم قانون سرمایہ کو کمزور بھی کیا جا سکتا ہے لیکن جمہوری عمل کے ذریعہ جو اسلامی حکومتیں قائم ہوتی ہیں مثلاً(ترکی) وہ لازماًًسرمایہ دارانہ استعماری نظام کی ماتحتی کو ردّ نہیں کر سکتیں۔ جمہوری عمل سرمایہ دارانہ تحکیم کا ایک ذریعہ ہے۔ جمہوری ریاست کا ایک فرض سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نبردآزماہوناہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل لازماً خلفشاری ہوتا ہے اور اس میں لازماً تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بحران آتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں سرمایہ عمومی(capital in general) کا کوئی آلہ کار موجود نہیں ہوتا۔ کارپوریشنز صرف اپنے ذاتی سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے جدوجہد کرتی ہیں اور اس جدوجہد کے نتیجہ میں عمومی شرح سرمایہ کاری پر جو اثر پڑتا ہے اس سے کچھ سروکار نہیں رکھتیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک وظیفہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ عمومی کی شرح بڑھوتری کو مستحکم رکھے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں بحران کا سدباب کرے۔ بحران کا رپوریشنوں کی کارفرمائی سے خودبخود دفع نہیں ہوتے جیسا کہ جاہلی علم اکنامکس کی ایک شاخ کلاسیکل اکنامکس کا دعویٰ تھا لیکن اس افسانوی مفروضہ پر آج کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا کیوں کہ اپنی پوری تاریخ میں کہیں بھی اور کبھی مساوی مسابقتی تنظیم موجودنہیں اور ہر جگہ اور ہر زمانہ میں ان میں اجارہ داریاں قائم ہو گئیں اور ان میں طلب اور رسد میں ناہمواریاں ہمیشہ موجود رہیں اور یہی وقتافوقتاً آنے والے بحرانوں کا سبب بنیں۔

دورِ حاضر میں پچھلا بڑا نظاماتی بحران 2007ء میں شروع ہو کر 2009ء تک جاری رہا۔ اس بحران میں خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ امریکا اور یورپ کا پورا فنانشل نظام ٹوٹ پھوٹ جائے گا اور تمام بڑے بینک دیوالیہ ہوجائیں گے۔ یہ سرمایہ دارانہ ریاست ہی تھی جس نے امریکا، یورپ اور چین میں کھربوں ڈالر مفت فراہم کر کے ان بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ اپنی مالی(fiscal) اور زری(monetary) پالیسیوں کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ریاست ہروقت بحران دفع کرنے کی جستجو جاری رکھتی ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں ہمیشہ یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ قرضہ کی ادائیگی کے دعوے قرضہ ادا کرنے کی استطاعت سے متوازن نہ رہیں۔ سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کو ہمہ وقت منظم کرتی رہتی ہے تاکہ بحران وقوع پذیر نہ ہوں اور سرمایہ دارانہ ملکیت محفوظ رہے۔ ان ریاستی فرائض کی ادائیگی کے لیے تحکیم قانون سرمایہ کا نفاذ ضروری ہے۔

4.19۔ قومی جمہوری ریاست اور عالمی سرمایہ

سرمایہ دارانہ عمل (accumulation process) کو تحفظ فراہم کرنا قومی ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن دورِ حاضر میں (جسےhyper modern capitalism کہتے ہیں) سرمایہ عالمی (global) ہو گیاہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور برطانیہ نے ایک نیاسرمایہ دارانہ عالمی مالی نظام نافذ کیا جو ۱۹۴۵ء سے ۱۹۷۳ء تک کارفرما رہا۔ اس کوBretton Wood Systems کہتے ہیں۔ اس دورانیہ میں سرمایہ قومی(national) تھا، ان معنوں میں کہ قومی سرحدوں کو عبور کرنے کی اس کی سکت سرمایہ دارانہ جمہوری ریاستوں نے بڑی حد تک محدود کردی تھی۔ ہرقومی جمہوری ریاست اپنے قومی سرمایہ کو تحفظ فراہم کرنے اور مارکیٹی بحران دفع کرنے کی خود ذمہ دار تھی۔

۱۹۸۰ء کے بعد سرمایہ کی عالمی ترسیل پر تقریباً تمام پابندیاں اٹھالی گئیں ہیں اور سرمایہ عالمی سطح پر سیال ہو گیا ہے۔ اصولاً جب سرمایہ عالمی ہوگیا ہے تو اس کے تحفظی ڈھانچہ یعنی سرمایہ دارانہ ریاست کو بھی عالمی ہوجانا چاہیے۔ قومی ریاستیں یہ سکت نہیں رکھتیں کہ عالمی سرمایہ کو تحفظ فراہم کریں اور اس کو منظم (regulate) کریں۔ یہ فرائض اداکرنے کے لیے اب ایک عالمی سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست کا قیام ضروری ہے لیکن جیسا کہ چوٹی کے سرمایہ دار فلاسفہ جان رالز اور یورگن ہیبرماس اقرار کرتے ہیں کہ ایک عالمی سرمایہ دارانہ جموری ریاست قائم نہیں کی جاسکتی۔ وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ تحریک تنویر اور Modernityکے کلیدی اقدار آزادی مساوات اور ترقی اب مہمل اور ناقابل حصول ثابت کردیے گئے ہیں۔ ماڈرن انفرادیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وہ متصادم حصوں میں منقسم ہوگئی ہے۔ معاشرتی نظام روبہ زوال اور تضادات کی آماج گاہ بن گیا ہے۔ سیاسی عمل ایک تماشا بن کر تفریحی صنعت کا جزوبن گیاہے۔

جمہوری نظام کی بنیا دیں سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سول سوسائٹی فراہم کرتی ہیں۔ خود مغرب میں سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سول سوسائٹی شکست وریخت کا شکار ہے۔ اس انفرادیت اور سول سوسائٹی کو غیر مغربی ممالک میں قائم اور مستحکم کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہےاور جمہوری نظام کے پھیلاؤ کے لیے ضروری ہے کہ سٹیزن شپ عام ہو لیکن سٹیزن صرف ہیومن بینگ کو بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے فرد کو جو تنویری کلیدی اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) پرایمان لے آیا ہو اور سرمایہ دارانہ تعقل کا مطیع ہو ایسے افراد سرمایہ دارانہ سامراج کے باج گزار ہوتے ہیں اور ان کی تعداد محدود ہے۔ ۲۰۱۵ء کے بعد سے (عراق، افغانستان، شام، اور وسطی افریقہ کے ممالک میں امریکی اور روسی دہشت گردی کے باعث) تارکین وطن کا ایک سیلاب یورپ میں امنڈ آیاہے۔ یورپ اور امریکا ان تارکین وطن کو اپنے معاشرہ میں ضم کرنے اور سٹیزن شپ حقوق دینے سے گریزاں رہے اور پورپ اور امریکا میں نسل پرستی فروغ پارہی ہے جوان ممالک کے اپنے جمہوری نظام کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ ایسے میں عالمی جمہوریت کا فروغ ایک دیوانے کا خواب نظرآتا ہے۔

عالمی سرمایہ اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے سامراج کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ اس نئی سامراجیت کا ذریعہ وہ عالمی مالی ادارتی صف بندی ہے جو ان تمام ممالک پر مسلط کی گئی ہے جو آئی ایم ایف، ڈبلوٹی او(عالمی تجارتی تنظیم) اور وائپو(عالمی تخلیقی ملکیت کی تنظیم) وغیرہ کے ممبر ہیں اورجن کی کارکردگی کی جانچ پڑتال عالمی ریٹنگ ایجنسیز کرتی ہیں۔ یہ ممبر ممالک اپنی قومی تحکیم (national sovereignty) جزواً اس عالمی فنانشل سامراجی نظام کو سپرد کر دیتی ہیں۔ یہ ادارتی نظام ایک عالمی ریاستی سیکٹر(International public sector) کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کی نوکر شاہی کے فیصلے قومی عمل سے برآمد شدہ فیصلوں کی تحدید کرتے ہیں اور عالمی فنانشل سامراجی فیصلوں کا قومی جمہوری فیصلوں پر تسلط کاکوئی جمہوری جواز نہیں ہوتا لیکن اس تسلط کو قبول کرنا عالمی سرمایہ دارانہ عمل میں شرکت کے لیے ضروری ہوگیا ہے کیوں کہ سرمایہ ایک عالمی قوت ہے، اب قومی نہیں رہا۔

عالمی پبلک سیکٹر (global public sector) کا مقصد عالمی سرمایہ کاری کی رفتار نمو کی بڑھوتری ہے۔ عالمی سرمایہ کاری کی بڑھوتری کا مطلب یہ نہیں کہ ہرملک کی سرمایہ کاری کی رفتار نمو میں بڑھوتری ہو۔ عالمی فنانشل تنظیمی نظام عالمی سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے جو حکمت عملی تفویض اور تنفیذ کرتا ہے اس سے پاکستان کی بڑھوترئ سرمایہ کی رفتار منجمد یا منفی بھی ہوسکتی ہے۔ جمہوری قومی عمل پاکستانی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی حکمت عملی کو جواز(legitimacy) فراہم کرتاہے اور اگر عالمی سرمایہ کی بڑھوتری کی جو حکمت عملی پبلک سیکٹر (WTO,IMF) نے اپنائی ہے وہ پاکستانی بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو سست یا معطل کردے تو پاکستانی جمہوری عمل پاکستانی ریاست کی تحکیم کو عالمی مالی انتظامی نظام کو سونپ دینے کی مخالفت کرے گا اور چونکہ کوئی عالمی جمہوری اجتماع موجود نہیں لہٰذا کوئی ایسی حکمت عملی وضع نہیں کی جاسکتی جس کی تنفیذ کے نتیجہ میں ہر ملک کے باشندوں کے سرمایہ دارانہ مفادات اور حقوق کو فروغ دیا جاسکے۔

آج عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی سرخیل(hegemon) امریکا ہے۔ امریکی فوجیں عالمی فوجیں نہیں لیکن دو سو ممالک میں عالمی سرمایہ کو تحفظ فراہم کررہی ہیں۔ امریکا ایک قومی ریاست ہے وہ کبھی بھی ایک عالمی ریاست نہیں بن سکتا جیسا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے۔ امریکی جمہور(demos) اپنی قومی آزادی اور ترقی کو عالمی آزادی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جب تک امریکی فوجیں عالمی سرمایہ کو تحفظ فراہمی کی اصل قوت رہیں گی اس وقت تک عالمی سرمایہ اس حکمت عملی کو اپنانے پر مجبور ہے جو امریکی قومی مفادات کو سرمایہ کے عالمی مفادات پر فوقیت دے۔ عالمی پبلک سیکٹر مجبور ہے کہ وہ عالمی تحرک سرمایہ کواس طرح منظم اورکارفرما کرے کہ وہ امریکی سرمایہ دارانہ مفادات سے متصادم نہ ہو۔ عالمی پبلک سیکٹر کی ایجنسیاں آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او وغیرہ اتنی کمزور ہیں کہ ان کو امریکی حکومتی مشینری کا حصہ کہا گیا ہے۔ یہ ایجنسیاں ہر ملک کی تحکیم (sovereignty) کو محدود کرتی ہیں لیکن امریکی تحکیم کو یہ مستحکم کرتی ہیں۔

5.19۔ جمہوریت کا مستقبل

یہ جدید سرمایہ داری کا سب سے اہم نظاماتی تضاد ہے۔ بیسویں صدی کی ابتدا سے جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کو جواز فراہم کرنے کا اہم ترین ذریعہ رہی ہے۔ جمہوری عمل نے خدا کے بندہ (Subject of God) کو سرمایہ کا بندہ(Subject of Capital) بنادیا ہے۔ عیسائی اجتماعیت (community) کو برباد کر کے سرمایہ داری نے جو مضبوط ترین اور دیرپا اجتماعیت تعمیر کی ہے وہ قوم(nation) ہےاور قوم پرستی ایک طاقتور رحجان بالخصوص امریکا، چین اور روس میں ہے۔ یہ قوت عالمی سرمایہ کی سیالیت کو محدود کرنے کی وافر اہلیت رکھتی ہے۔

سرمایہ نے دنیا پر حکومت سٹیزن کے ذریعہ کی ہے۔ سٹیزن وہ انفرادیت ہے جو شہوت اور غضب کی تجسیم ہے جو قومی اجتماعیتوں میں منظم ہو کر دوسری قوموں سے مسابقتی جدوجہد کو پیہم جاری رکھتا ہے تاکہ اس کی اپنی اجتماعیت کی رفتار سرمایہ کاری میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہوتا رہے۔ گلوبل ریاست کے قیام کا مطلب ہے اجتماعتی مسابقت کا ختم ہوجانا اور اس ہدف کے حصول اور عالمی سرمایہ دارانہ تحکیم کو مستحکم کرنے کے لیے کئی تجربات کیے جارہے ہیں جن میں سے ایک کو مقامیت (localization) کہتے ہیں۔ مقامیت کی تحریک کے ذریعہ کوشش کی جاتی ہے کہ تحکیمی عمل قومی سطح سے مقامی سطح (ضلع، شہر، تحصیل وغیرہ) کو منتقل کر دیا جائے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس طرح سیاسی جدوجہد کا محور اور مرکز رفاہی اور سہولیاتی معاملات تک محدود ہو جائے گا مثلاً محلہ کی صفائی، سٹرکوں کی تعمیر، صنعتی سہولتوں کی فراہمی وغیرہ۔ نظاماتی سیاسی معاملات (انہیں high politicsکہاجاتاہے) مثلاً قومی معاشی اور خارجی پالیسی کی تشکیل اور تنفیذ ایک ٹیکنیکل غیر سیاسی (depoliticized) عمل بن جائے گا اور ان پر عوامی جمہوری آویزش معدوم ہوجائے گی۔ یہ اور اس جیسی دوسری تحریکیں بنیادی طورپر سٹیزن کو اس کی تحکیم (sovereignty) سے محروم کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت تضادات کا شکار اور اساسی طورپر زوال پذیر ہے۔ سٹیزن اپنی تحکیمی محرومی اورلاچاری کو بتدریج قبول کر رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت پر سے اس کا تیقن متزلزل ہوتا جا رہاہے۔ وہ صرف کھیل میں معنویت پاتا ہے۔ سیاست بھی ایک کھیل ہے جس سے وہ محظوظ ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اب پس جمہوری (post-democratic) بنتاجا رہاہے۔ فٹ بال اور پوپ شوز(pop shows) سیاسی عمل سے کہیں زیادہ معانی خیز تصور کیے جاتے ہیں اور فٹ بال ٹیموں اور موسیقی کے بینڈوں سے عوامی وابستگیاں سیاسی پارٹیوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ گہری ہیں۔ پورے یورپ میں شرح ووٹ دہندگان کئی دہائیوں سے زوال پذیر ہے۔ عالمی سرمایہ کو جو چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہےکہ سٹیزن کو تحکیم سے محروم کرنے کے باوجود سرمایہ دارانہ اہداف(آزادی، مساوات اور ترقی ) اور سرمایہ دارانہ تعقل پر اس کا ایمان کیسے برقرار رکھے۔

اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک اور حکمت عملی اپنائی گئی ہے جسے نج کاری (privatization) کہتے ہیں۔ اس کے تحت بڑے پیمانے پر سرکاری، غیر سرکاری اور بین الاقوامی کارپوریشنوں کے حصص عوام میں فروخت کیے جاتے ہیں اور عوامی مفادات کو عالمی سرمایہ کی بڑھوتری سے وابستہ کیاجاتا ہے۔ اس چیز کو ورلڈ بینک ”گڈگورننس“ (good governance) کا نام دیتاہے۔ گڈگورننس وہ طرز حکمرانی ہے جس میں قومی ریاست عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں مقامیت، نج کاری اور فنانشلائزیشن (financialization) کے ذریعہ ماتحتی قبول کرتا ہے۔ اس کا مقصد قومی سطح پر سرمایہ دارانہ تحریک کو کچل دینا ہے۔ جولوگ اپنے علاوہ عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے خواہش مند ہیں وہ کبھی ایک سرمایہ دارانہ مخالف قومی حکومت کے قیام کی تائید نہیں کریں گے۔

پس جمہوریت جمہوریت کی نفی نہیں، اس کا تسلسل ہے۔ پس جمہوریت کی اخلاقی بنیادیں وہی اوصاف خبیثہ فراہم کرتی ہیں جن پر جمہوری نظام قائم ہوتاہے۔ اپنی پوری تاریخ میں سرمایہ دارانہ نظام ان اجتماعیتوں کو مسمار کرتا آیا ہے جن پر اس کا انحصار رہاہے۔ اس نے پہلے کالونسٹک ( Calvinistic) اجتماعیت کو برباد کیا جس سے اس نے جنم لیا تھا۔ بیسویں صدی میں اس نے مزدور اجتماعیت کو تحلیل کیا۔ آج وہ قومی اجتماعیتوں کو مسمار کرنے کی جستجو کر رہا ہے۔ اجتماعیتوں کی اس مسلسل تباہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت حصول آزادی کی جستجو کرتی ہے اور جیسا کہ مشہور فرانسیسی فلسفی سارتر(Sartre) نے کہاآزادی محض ایک لامتناہی خلا ہےجس کا پھیلاؤ ہر اجتماعیت کی تباہی پر منتج ہوتا ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت اس کی ذاتی جہنم ہے جس سے وہ آزادی کا مستقلاً طلب گار رہتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام ہنوز اپنے داخلی تضادات کی وجہ سے کمزور ہو رہا ہے لیکن یہ ایک طویل المدت عمل ہے۔ سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی ، مساوات اور ترقی) اور سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان عام اور غالب ہے۔ اس کے باوجود کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ناممکن اور سرمایہ جاہلانہ عقلیت لامعنوی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی انہدامی جدوجہد کئی صدیوں تک جاری رہے گی اور ہمیں اس طویل المدت جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ ایک ایسی حکمت عملی جس کی تنفیذ اور ترتیب نو کے دوران کئی معرکے جیتے اور ہارے جائیں گے۔

20۔ہیومن رائٹس سامراج

1.20۔ سرمایہ داری اور سامراج

تمام سرمایہ دارانہ مکاتیب فکر (پس جدیدیت کے علاوہ) کا دعویٰ ہے کہ انسان فطرتاً حرص وحاسد، خودغرض اور خود انحصار( Self-determined)ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ کے ہردور میں انسانیت کی یہ مفروضہ فطری خباثت نظاماتی غلبہ حاصل نہیں کرتی۔ اس فطری خباثت کو انفرادای اور معاشرتی غلبہ مخصوص تاریخی تناظر میں ہی حاصل ہوتا ہے اور سرمایہ دارانہ جاہلی علوم(سائنس) کا ہی وظیفہ ہے کہ انسان کی اس فطری خباثت کو انفرادی، معاشرتی اور ریاستی غلبہ دلانے کی توجیہ مرتب کرے۔ سرمایہ دارانہ تعقل (rationality)اور سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کے ذریعہ انسان کی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی اصلی فطری حیثیت (یعنی) اپنے حریص، حاسد، خودغرض اور خودانحصاری ہونے پر فخرکرے اور اس فخر کا اظہار اپنے عمل کے ذریعہ مستقلاً کرتا رہے۔ انسان عبادت الٰہی کو ترک کرکے آزادی اور خود مختاری پر ایمان لے آئے۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت خود بخود ظہورپذیر نہیں ہوتی اس کو معاشرتی اور ریاستی عمل کے ذریعہ تعبیر کیا جاتا ہے۔ تعلیم وتربیت کے ذریعہ نفاذ قانون تحکیم سرمایہ کے ذریعہ اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر کی جاتی ہے۔ اس میں سب سے اہم حقوق انسانی کی فراہمی ہے جس میں سرمایہ دارانہ حق ملکیت شامل ہے۔ یہ حق سرمایہ دارانہ حقوق ملکیت، ملکیت کے قبضہ، اس کے تصرف اور تبدل اور بیوپار اور انسانی وسائل (labour)کے جائز استعمال کے ضوابط مرتب کرتے ہیں اور ان حقوق کی فراہمی کی ذمہ داری سرمایہ دارانہ ریاست اور متعلقہ نظام تحکیم کی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ ریاست کی یہ قوت کہ وہ تنفیذ تحکیم سرمایہ کسی معاشرہ پر مسلط کرے بڑھتی جاتی ہے، ویسے ویسے وہ معاشرہ اور وہاں پائے جانے والی غالب انفرادیت سرمایہ دارانہ اوصاف خبیثہ (حرص، حسد، خود انحصاری) کی مظہر بنتی جاتی ہے۔ یہ عمل متبادل تعلیم وتربیت (مثلاً اسلامی تبلیغ اور تعلیم) سے محدود تو کیا جاسکتا ہے روکا نہیں جاسکتا کیوں کہ اس کے پیچھےسرمایہ دارانہ ریاست کی قوت اور جبرہوتا ہے اور اسلامی مبلغین اور مدرسین یہ قوت اور اقتدار نہیں رکھتے۔

اپنی تاریخ میں سرمایہ دارانہ نظام ارضی(spatial)طورپر محدود ہورہاہے۔ ابتدا میں صرف اٹلی کے چند شہروں تک پھر یورپ کے چند ممالک میں پھر ان ممالک نے سامراجی فتوحات کے ذریعہ امریکا، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقہ کو سرمایہ داری کے زیر نگیں کیا لیکن آج بھی چند علاقے ایسے ہیں (مثلاً افغانستان، مشرقی شام، وسطی افریقہ کے جنگلات وغیرہ) جہاں سرمایہ دارانہ نظاماتی تسلط ناپید ہے۔ کسی علاقہ کو سرمایہ دارانہ علاقہ اس حدتک کہاجاسکتا ہے جہاں تک:

ہر ملک اپنی تہذیبی اور تاریخی روایات کے تناظر میں سرمایہ دارانہ اقدار اور سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کو اپناتا ہے۔ جاپانی سرمایہ داری سرمایہ داری ہی ہے لیکن وہ امریکی سرمایہ داری سے ان معنی میں مختلف ہے کہ جاپان میں حرص و ہوس کا غلبہ جاپانی تہذیبی اور تاریخی تجربہ کا سہارا لے کرقائم کیا گیا ہے۔ اگر اسلامی تاریخی اور تہذیبی روایات کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ اہداف اور تنظیم کی توجیہ غالب ہو مثلا ً یہ قبول کرلیا جائے کہ مدینہ میں ویلفیئر اسٹیٹ (welfare state)قائم کی گئی تھی یا یہ کہ ہیومن رائٹس دراصل حقوق العباد ہیں تو اسلامی سرمایہ داری قائم ہوگی اور یہی عمل آج بیشتر مسلم ممالک بالخصوص ترکی، ملیشیا، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں زور شور سے جاری ہے اور اسی طرح ایک سیکولر ریاستی نظام کے ذریعہ اسلامی انفرادیت اور معاشرت کو سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی میں ضم کیا جارہاہے۔

عالمی سرمایہ کے غلبہ کے دور میں جوریاست مختلف تہذیبوں کو سرمایہ دارانہ نظام میں مؤثر طورپر ضم کرسکتی ہے اس کو مندرجہ ذیل پالیسیاں اپنانا ہوں گی:

2.20۔ہیومن رائٹس عقائد

ہیومن رائٹس عقائد کا ظہور اور فروغ یورپ میں عیسائیت کے خلاف بغاوت سے ہوا۔ عیسائی سیاسی نظام کے خلاف پہلی بڑی کا میاب بغاوت انگلستان کا شان دار انقلاب تھا جو ۱۶۸۸ء میں برپا کیا گیا۔ اس انقلاب کے پیچھے جان لاک کی فکر تھی اور یہی فکر ہیومن رائٹس عقائد کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ تقریباً ایک صدی بعد جرمن فلسفی کانٹ نے لاک کی فکر کی بنیادپر عقیدہ خود مختاری (autonomy)وضع کیا۔ ہیومن رائٹس عقائد بنیادی طورپر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت (sovereignty) کا انکار ہے۔ اس کا کلمہ خبیثہ ”لاالہ الاانسان“ہےاور یہ اسلامی عقائد کے بالکل مخالف اور متصادم عقیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کسی بھی قدیم سیاسی مفکر (امام ماوردیؒ،امام ابویعلیؒ،امان ابن خلدونؒ) نے کبھی ”حقوق انسانی“ کے اس خبیث تصور کی توثیق نہیں کی۔ ہیومن رائٹس دراصل حقوق العباد کا ردہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام غزالی ؒ اپنی تصنیف ”احیاء العلوم الدین“ میں فرماتے ہیں کہ ”حقوق العباد“سے مراد وہ فرائض ہیں جو اللہ کے بندہ پر اس کے دوسرے بندوں سے متعلق نافذ کیے گئے ہیں۔ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں حقوق العباد عام ہوں، انفرادی خود مختاری کے پنپنے کی گنجائش ہوتی ہے نہ آزادی یا مساوات کی۔ اس کے برعکس ہیومن رائٹس سرمایہ دارانہ ریاست کے وہ فرائض ہیں جو اس سرمایہ دارانہ انفرادیت،سول سوسائٹی اور تنفیذ قانون سرمایہ کے قیام اور استحکام کے لیے اس کو ادا کرنا ضروری ہیں۔ اسلام اس عقیدہ کو رد کرتاہے کہ انسان بحیثیت نوع کچھ مخصوص حقوق کا حامل ہے۔ حقوق العباد نوعی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ودیعت شدہ ہیں اور حقوق العباد سب شریعت مطہرہ میں رقم ہیں۔ انسان کو اختیار نہیں کہ وہ ان کو خود گڑھ لے۔

ہیومن رائٹس عقائد کی کوئی فطری توجیہ نہیں بیان کی جاسکتی۔ کہیں بھی اور کبھی یہ انسانی فطرت کا یہ تقاضا نہیں رہا کہ انسان اپنی خود مختاری اور حاکمیت کا دعویٰ یا جستجو کرے۔ ہیومن رائٹس عقائد سرمایہ دارانہ غلبہ کی توجیہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ وہ خود غرض، مطلب پرست، حاسد اور حریص انفرادیت اور معاشرت کی کارفرمائی کا جوازپیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہیومن رائٹس صرف سرمایہ دارانہ دور اور سرمایہ دارانہ تسلط کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔

ہیومن رائٹس وہ حقوق ہیں جو ہیومن بینگ سٹیزن ایک سرمایہ دارانہ ریاست سے طلب کرتا ہے اور چونکہ سرمایہ دارانہ ریاست سٹیزن کی نمایندہ ہوتی ہے لہٰذا اصولاً ہیومن رائٹس وہ حقوق ہیں جو ایک فرد اپنی ذاتی حیثیت میں خود اپنی ہی پبلک شناخت سے طلب کرتا ہے۔ ایک فرد کو اپنی ذاتی زندگی میں ہیومن رائٹس سے متمتع ہونے کے لیے اپنی پبلک حیثیت میں تحکیم قانون سرمایہ کی تنفیذ اور سرمایہ دارانہ ریاست اور سول سوسائٹی کے قیام اور استحکام کے لیے کوشاں رہنے کافرض ادا کرنا پڑتا ہے۔یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہیومن رائٹس کے حامل کے کوئی فرائض نہیں ہوتے۔ ایک خود مختار سٹیزن سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ ریاستی تنظیم، سرمایہ دارانہ تعقل کی حقانیت اور تحکیم قانون سرمایہ کو ردّ کرنے کے لیے آزاد نہیں ہوتا۔ وہ حرص اور حسد کو بحیثیت غالب معاشرتی اور ریاستی قوتوں کے ردّ کرنے کا مکلف نہیں ہوتا کیوں کہ حرص اور حسد سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کی روح رواں ہے اور سرمایہ حرص اور ہوس کی ہی تجسیم ہے۔ جب اقوام متحدہ کاUniversal declaration of human rights مطالبہ کرنا ہے کہ تمام اقوام ہیومن رائٹس کی تقدیس کو تسلیم کریں تو دراصل اس کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ تمام ملک سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی اور تحکیم قانون سرمایہ کو قبول کریں۔

عقیدہ خودمختاری (autonomy) کا تصور فطرتِ انسانی سے ماخوذ نہیں۔ نہ اس کا کوئی تعلق انسانی بنیادی ضرورتوں سے ہے۔ ہیومن رائٹس کے وکیل ہیومن رائٹس کے حامل کو خود دار(dignified) گردانتے ہیں لیکن یہ ”خوددار“شخص اپنے نفس کو حرص اور ہوس کے شیطانوں کے سپرد کر دینے پر مجبور ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کی حاکمیت کو قبول کرتا ہے اور سرمایہ حرص اور ہوس کی تجسیم کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہیومن رائٹس عقائد کے قبول کرنے کا مطلب ہے ہم ”خوداری“ کو حریص اور حاسد انفرادیت کے ہم معنی تسلیم کریں۔ سرمایہ (حرص اور حسد) فطرت انسانی کو یوں مسخ کرتا ہے کہ انسان بڑھوترئ سرمایہ دیگر تمام اہداف پر مقدم گردانے اورسرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد کو اپنی زندگی کااصل مقصدگردانے۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی اس نوعیت کی انفرادیت کی تعمیر کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اقوام متحدہ کا Universal declaration of human rights ریاستوں کے ان فرائض کی نشان دہی کرتا ہے جو حریص اور حاسد سرمایہ دارانہ انفرادیت کے قیام اور استحکام کے لیے ضروری ہیں۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کا یہ مطالبہ کہ ہرحکومت ہیومن رائٹس کی تنفیذ کو مقدم رکھے دراصل یہ مطالبہ ہے کہ ہر حکومت حرص اور ہوس سے مغلوب سرمایہ دارانہ انفرادیت کی مستقل پرورش کرتی رہے۔ ایک ایسا فرد جوحرص اور ہوس کی تقدیم کو قبول نہیں کرتا اور جو بڑھوترئ سرمایہ کو زندگی کے مقصد کے طورپر قبول نہیں کرتا ہیومن بینگ نہیں اورہروہ ریاست جو حرص اور حسد سے مغلوب انفرادیت کی نشوونما کرنے کا فرض ادا نہیں کرتی سرمایہ دارانہ نظام میں اپنا وجود (legitimacy)کھودیتی ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے باشندےحریص اور حاسد ہیومن بینگ ہیں۔ خاندان کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ حریص وحاسد انفرادیت کی نشودنما کرتا رہے۔ خاندان کوزنا بالرضا کوفروغ دینا چاہیے۔ اقوام متحدہ اس بات پر اصرار کرتی ہے کیوں کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا بالرضا کی عمومیت نے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے پھیلاؤ اور استحکام میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ زنا بھی ایک ہیومن رائٹ کے طورپر تسلیم کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کا declaration جن ہیومن رائٹس کو مقدس کہتا ہے وہ جا ن لاک اور امریکی مفکر تھامس جیفرسن(Thomas Jefferson) کی فکر سے ماخوذ اور یہ ہیں(1) حق زندگی(2)حق خود مختاری(3)حق ملکیت (4)حق جستجو ئے خوشی(pursuit of happiness)۔ سوشل ڈیموکریٹ مفکرین ہیومن رائٹس کی فہرست میں سماجی حقوق (social rights)کا اضافہ کرتے ہیں کیوں کہ ان سوشل رائٹس کی فراہمی کے لیے ان افراد کو ہیومن رائٹس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جو سرمایہ دارانہ ملکیت سے محروم ہیں تاکہ وہ سرمایہ کے محکوم اور سٹیزن بننے کی اہلیت حاصل کر سکیں۔

ہیومن اور سوشل رائٹس کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست کو یہ دونوں حقوق سرمایہ دارانہ انفرادیت کی نشوونما کےلیے آج کے دورمیں فراہم کرنا پڑتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ (وہ جوفرد کی خود مختاری پر ایمان لے آئے تھے )کے ریاست پر قبضہ کے نتیجہ میں ہیومن رائٹس فراہم کیے جانے لگے۔ لبرل اشرافیہ نے مطلق العنان بادشاہوں کے راج کو ختم کر کے سول سوسائٹی اور ریپبلک (republic) کی تعمیر کا کام شروع کیا۔بعد میں سوشل ڈیموکریٹ اشرافیہ نے عوام کو سرمایہ دارانہ نظام کی تحکیم کو قبول کرنے پر سوشل یا ویلفیئر (welfare)حقوق کی فراہمی کی لیکن ہیومن رائٹس کی فراہمی ہر سرمایہ دارانہ ریاست کا اولین فرض ہے کیوں کہ اس کے بغیر سول سوسائٹی اور ریپبلک وجود میں آ سکتی ہے نہ قائم رہ سکتی ہے۔ کم از کم دورحاضر میں سرمایہ دارانہ ریاست کو ویلفیئر (welfare)رائٹس بھی فراہم کرنا پڑتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ ریاست کا مقصد خودمختار (autonomous)انفرادیت کا فروغ ہے لہٰذا وہ کسی ایک تصور خیر (مثلاً اسلام) کو اصولاً کسی دوسرے تصورِ خیر (مثلاً جاہلیت) سے برتر تسلیم نہیں کر سکتی۔ جیسا کہ جان رالز (John Rawls) نے کہاہے کہ تمام تصوراتِ خیر مساوی قدر رکھتے ہیں جس کے معنی یہ ہوئے کہ کسی تصورِ خیر (مثلاً اسلام) کی کوئی اصل قدر نہیں۔ اصل قدر صرف خود مختاری (آزادی) کو ہے یعنی ہیومن بینگ کی یہ آزادی کہ وہ جو بھی (بے قدر) تصورِخیر اپنانا چاہے اپنا سکے اور اس واحد قدر مطلق (آزادی) کے حصول کا لازم تقاضا یہ ہے کہ ہیومن بینگ ان وسائل(آمدنی، دولت، قوت، تحکیم) میں اضافہ کےلیے مستقل جدوجہد کرتاہے جو اس کے بے قدر تصورِخیر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہیں۔ لہٰذا قدرمطلق صرف بڑھوترئ سرمایہ کے مستقلاً جاری رکھنے میں ہے۔ بڑھوترئ سرمایہ خود اپنامقصد وجود(end in itself) ہےکسی دوسری قدر کے حصول کا ذریعہ نہیں۔ اصولاً ہیومن بینگ کوئی بھی تصورِ خیر منتخب کر سکتا ہے ۔عملاً وہ بڑھوترئ سرمایہ کو مقصد ِزندگی کے طورپر قبول کرنے پر مجبور ہے، عملاً وہ سرمایہ کا بندہ ہے۔ وہ نہ آزادہے نہ معاشرےمیں مساوی حیثیت کا حامل، وہ مجبور محض ہے اور اس کی خود مختاری اصولاً موجود اور عملاً معدوم ہے۔ وہ حرص وہوس کی انفرادی اور معاشرتی تحکیم کو قبول کرنے پر مجبور ہے۔ حرص اور ہوس سے لبریزطرزِ زندگی کو اپنانا آزادی، مساوات اور خودمختاری کو اصولاً نظاماتی اہداف کے طور پر قبول کرنے کے لیے لازم ہے اور جیسا کہ فوکو نے کہا ”یہی آزادی کا جبرہے“۔

سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی لازماً مذہبی انفرادیت کی تحدید کا مطالبہ کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کا مطالبہ ہے کہ فرد اپنا ذاتی انتخاب اپنی سکڑتی ہوئی ذاتی زندگی تک محدود رکھے۔ اگر مذہبی اقدار پر متعین انتخابات کو ذاتی زندگی کے دائرہ سے پھیلایا جائے تو سول سوسائٹی اور ریپبلک کی کارفرمائی منفی طور پر متاثرہوتی ہے۔ کیوں کہ سول سوسائٹی اورریپبلک کی کارفرمائی کا اصل محرک صرف اور صرف بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی اور ریپبلک میں اعمال اور اشیا کی (تقابلی) قدر صرف اس بنیاد پر متعین کی جاتی ہے کہ وہ سرمایہ کی بڑھوتری میں کتنا اضافہ کر سکتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور ریاست صرف بے قدر سے ذاتی اقدار کے انتخاب کے بارے میں غیر جانب دار رہتے ہیں۔ وہ صرف اصولاً فرد کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جو طرزِ زندگی اپنانا چاہے اپنا سکتا ہے۔ عملاً وہ سرمایہ دارانہ طرز معاشرت اور تحکیم تمام افراد پر جبراً مسلط کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست (ریپبلک) کسی اور تصور ِخیر کی معاشرتی کارفرمائی کو ناممکن بنادیتی ہے۔ ہیومن رائٹس کی (جبراً) تنفیذ کا مطلب ہے کہ

ریپبلک میں اصولاً سٹیزن بادشاہ کے تمام اختیارات رکھتا ہے لیکن سٹیزن بادشاہ صرف اس حد تک ہوتا ہے جس حد تک وہ:

سرمایہ دارانہ نظام کا عالمی تسلط ہیومن رائٹس کی عالمی تنفیذ کے لیے لازم ہے۔ پبلک دائرہ کارمیں مارکیٹ قدرمطلق متعین کرنے کی اصل آلہ کار ہے کیوں کہ وہاں ہر عمل اور شے کہ تقابلی قدر اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اس نے بڑھوترئ سرمایہ کو جاری رکھنے میں کتنا حصہ ڈالا ہے۔ لیکن چوں کہ سرمایہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ مرتکز بھی ہوتا ہے لہٰذا بڑھوترئ سرمایہ کا عمل مساویانہ نہیں ہو سکتا اور سرمایہ دارانہ ملکیت عمومی نہیں کی جاسکتی۔ ہر سرمایہ دارانہ معاشرہ میں بہت سے افراد بے روزگار اور پنشن یافتہ بھی ہوتے ہیں اور بہت وہ بھی جو سرمایہ کے چکر سے باہررہ کراپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی میں ایسے محنت کشوں کی فی الحال اکثریت ہے لہٰذا محض مارکیٹ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ نظام کو عالمگیری تسلط نہیں دلایا جا سکتا۔ اس کے لیے ایک عالمی سرمایہ دارانہ سیاسی نظام کی تشکیل لازم ہے۔

یہ عالمی نظام لازماً لبرل ہوگا لیکن اس کاجمہوری ہونا ضروری نہیں۔ غیر جمہوری لبرل ریاستیں وہ ہوتی ہیں جن کی معاشی ادارتی صف بندی لبرل خطوط پر مرتب ہوتی ہے لیکن سیاسی نظام آمرانہ ہوتا ہے۔ان کو پولش معیشت دان کالٹلکی(Kaletski) intermediate regimes کہتا ہے۔ یہ ریاستیں بھی ہیومن رائٹس کی فراہمی کی کسی نہ کسی حد تک مکلف ہوتی ہیں۔ یہ ریاستیں بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو اپنے ملک کے لیے منظم کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن عالمی سرمایہ (global capital) کی تحکیم کو قبول کرتے ہوئے۔ اس کی ایک اہم مثال چین ہے جہاں ہیومن رائٹس کی فراہمی محدود ہے۔ عموماً ان ریاستوں میں اور سوشلسٹ ریاستوں (سابق سویت یونین اور کیوبا) میں عوام تصرفی(consumerist) طرزِ زندگی اپناتے ہیں اور جاہلی علماء(intellectual) اورسرکاری محکموں کے طبقات ہیومن رائٹس عقائد کا پرچار کرتے ہیں۔ ان ممالک میں جوسرمایہ دارانہ انفرادیت نشوونما پاتی ہے وہ مزاحمتی انفرادیت ہے۔ وہ اپنے حکمرانوں سے شاکی ہوتی ہے اور ان پر الزام لگاتی ہے کہ وہ بڑھوترئ سرمایہ کا عمل اس طرح منظم کر رہے ہیں کہ اس کا فائدہ صرف غالب معاشی اور سیاسی اشرافیہ کو ہو اور عوام کو سرمایہ دارانہ مارکیٹوں بالخصوص عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں سے کما حقہ مستفید ہونے کے مواقع فراہم نہیں کر رہے۔ ان ممالک میں جو سول سوسائٹی ابھرکرآتی ہے وہ اپنی ریاست سے مزاحم ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا فروغ قومی ریاست کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لبرل سامراجی قوتیںintermediate regimes میں جاری اسی قسم کی مزاحمت کی بھرپور اعانت کرتی ہیں۔

جن ممالک میں سرمایہ دارانہ ملکیت کو عوامی مقبولیت اورجواز حاصل نہیں (مثلاً پاکستان اور افغانستان)وہاں عوام ہیومن رائٹس کی فراہمی کا مطالبہ نہیں کرتے۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کا تصور اس عقیدہ پر قائم ہے کہ انسان خود اپنے جسم کا مالک ہے لیکن لاک نے جو اصول ایجاد و تخلیق کیا اس کے مطابق عقلیت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی اس ذاتی ملکیت کو سرمایے کے سپرد کر دے۔ لاک کے مطابق تحفظ اور فروغ حیات کا اہم ترین ذریعہ انفرادی حصول سرمایہ دارانہ ملکیت ہے اور سول سوسائٹی کا مقصد فروغ سرمایہ دارانہ ملکیت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

لاک کے مطابق فرد اپنے جسم کا مالک ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر اس (اور اس کے بعد اس کے شاگردوں بالخصوص ریکارڈو کے شاگرد مارکس نے) ”محنتی تصور قدر“(Labour theory of value)کا اصول ایجاد کیا۔ جسم سرمایہ دارانہ ملکیت اس لیے ہے کہ مقصد حیات آزادئ سرمایہ میں اضافہ ہے۔ بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنا فرض عین ہے۔ جسم بڑھوترئ سرمایہ (فروغ آزادی) کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ لاک کے مطابق سرمایہ دارانہ زر جس کی بڑھوتری کی کوئی حد نہیں (کیوں کہ وہ صرف سرمایہ دارانہ ریاستی حکم سے وجود میں آتاہے) انفرادی سرمایہ دارانہ ملکیت کی لامحدود بڑھوتری کو ممکن بناتا ہے۔ لاک امریکا میں دوکروڑ قدیم باشندوں(Red Indians)کے قتل کو جائز اس بنیادپر گردانتا ہے کہ وہ اپنے جسم کو سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے استعمال نہ کرتے تھے لہٰذا لاک کے مطابق ان میں اوربھینسوں (bison)میں کوئی فرق نہیں۔

لاک کے مطابق بڑھوترئ سرمایہ خود اپنا جواز ہے۔ بڑھوترئ سرمایہ مقصدِ حیات ہے۔ سرمایہ اس لیے جمع کیا جاتا ہے کہ مزید سرمایہ جمع کیا جائے اور کسی مقصد کے لیے نہیں۔ لاک کا تصور ملکیت ہمہ گیر ہے۔ بقول لاک ملکیت کے تین اجزا ہیں:جسم، حقوق، مال۔ تینوں کو حصول بڑھوترئ سرمایہ کے لیے مستقل استعمال کیا جانا چاہیے۔ لاک کے مطابق قانون کا مقصد ایک آزاد اور عاقل (rational) فرد کو اس اصل مقصد حیات (یعنی بڑھوتری سرمایہ) پر آگاہ اور مجبور کرنا ہے یعنی قانون کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ /آزادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یعنی تحکیم قانون سرمایہ کی بڑھوتری کے علاوہ کچھ نہیں۔

لبرل نظریہ کے مطابق سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں کوئی فرد بھی ملکیت سے محروم نہیں۔چونکہ جسم ملکیت ہے لہٰذا ہر شخص سرمایہ دارانہ ملکیت کا حامل ہے۔ لہٰذا مارکیٹ معاہدات اصولاً آزادانہ اور مساوی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں۔ ایک ایسا مال رکھنے والا مالک اور ایسا جسم رکھنے والا مالک (یعنی مزدور) جن کے ہیومن حقوق مساوی ہیں وہ رضاکارانہ بڑھوترئ سرمایہ کی عمل کو جاری رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ جومارکیٹ سے باہر ہیں یعنی بے روزگار اور اپنے جسم کوبڑھوترئ سرمایہ کی گردش میں شمولیت سے محروم ان کو ”فلاحی حقوق“فراہم کر کے سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔فلاحی حقوق کی فراہمی کے فرائض سوشل ڈیموکریٹ ریاستیں ادا کرتی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام سب سے زیادہ مستحکم اور وسیع سوشل ڈیموکریٹ ریاستوں میں ہی ہوتا ہے گو ان ریاستوں کو اس نظاماتی استحکام کے حصول کے لیے سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار میں کچھ نہ کچھ تخفیف برداشت کرنا بڑتی ہے۔

لبرل نظریات کے مطابق انسانی جسم خود تخلیقی اور خالق کائنات ہے۔ جرمن فلسفی امانویل کانٹ اس بات کی تشریح کرتا ہے۔ بقول کانٹ نفس(Self) نظام قدرت(nature) سے اپنے قوانین اخذ نہیں کرتا بلکہ اپنے قوانین خود متعین کر کے ان کو قدرت پرمسلط کرتا ہے۔ نفس ایک ایسے نظام تفکر(order) کا مالک ہے جو غیر تبدل ہے اور یکساں طورپر تمام افراد کے اذہان میں موجود ہے۔ بقول کانٹ انسان دنیا میں نہیں دنیا انسان میں ہے۔ انسان دنیا کا علم نفس کے ذریعہ حاصل کرتا ہے کیوں کہ نفس میں یہ صلاحیت ہے کہ حاصل شدہ اصلاحات اور تجربات کویوں ساختی طورپرمرتب کرے کہ وہ فرد کے کے لیے بامعنی ہو جائیں۔ نفس اپنے مشاہدات اورتجربات کی ساختی ترتیب اس طرح وضع کرتا ہے کہ وہ بامعنی تصورات(concepts)بن جائیں جن کی بنیاد پر کائنات کی سمجھ (understanding) فرد کو حاصل ہوجائے۔ کانٹ نفس کو ایک ماورائی (transcendent)قوت کہتاہے۔ نفس مشاہدات اور تجربات کو بامعنی تصورات (concepts) میں ڈھالنے کی لازمی (necessary) اور آفاقی (Universal) بنیاد فراہم کرتاہے۔ انسانی ذہن کی ساخت ایسی ہے کہ نفس اشیاء کی ماہیت اور ان کی تصوراتی معنویت سے قبل از تجربہ اور مشاہدہ واقفیت رکھتا ہے لہٰذا حقیقت(reality) لازماً انسانی ذہنی تخلیق ہے۔

علم کا وجود ایک پہلےسےموجود تعقلی سمجھ دار نفس کی کارفرمائی ہے۔ دنیا کا وجود نفس کی خود شناختی پر منحصر ہے۔ نفس علم اور عمل کا سرچشمہ ہے۔ نفس کی حقیقت اور ماہیت سے واقفیت ناممکن ہے کیوں کہ وہ علم اور عمل کا موجد ہے، ان کی پیداوار نہیں۔ ہم نفس کی حقیقت کو جان نہیں سکتے ہمیں نفس پر ایمان لانا چاہیے۔ بقول کانٹ نفس پر ایمان لانے کا مطلب ہے آزادی پر ایمان لانا کیوں کہ آزادی اخلاقیات(morality)کی واحد بنیاد فراہم کرتی ہے۔ آزادی پر ایمان لاکر ہی انسان اپنے تمام حقوق اورفرائض متعین کرنے کا مکلف ہوتاہے۔

کانٹ کے مطابق اخلاقیات(morality) سرمایہ دارانہ تعقل، علم اور عمل پر آزادانہ اتفاق ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کی بنیاد پر اضافی اخلاقی اصول دریافت کیے جاسکتے ہیں۔ ان آفاقی اخلاقی اصولوں کی کارفرمائی کے ذریعہ دنیا میں ایک ایسی جنت (کانٹ اسے Kingdom of endsکہتا ہے) تخلیق کی جاسکتی ہے جہاں پر ہر فرد اپنے نفسانی احکام پر عمل درآمد کرنے کا یکساں مکلف ہو۔ انسان ان معنوں میں خود مختار ہے کہ وہ خود بغیر کسی مددکے حق کو تخلیق کر سکتا ہے۔ فرد کا وجود خیر مطلق(good) صرف اس لیے ہے کہ وہ خیر کا خالق ہے۔ کانٹین اخلاقیات کا تقاضا خواہشات کی تکمیل ہے، ان کی تحدید نہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرت(سول سوسائٹی) اورریاست کی کارفرمائی کے ذریعہ اس بات کی جستجو کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کی خواہشات کی تکمیل اس طرح ہوکہ کسی فرد کی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی جستجو کسی دوسرے فرد کی یکساں جدوجہد میں رکاوٹ نہ بنے یعنی ہرشخص کی مساوی آزادی اصولی طورپر تسلیم کی جائے۔ مساوی آزادی کا حامل اپنی خدائی کا دعوے دار ہے۔ وہ خود مختار انہی معنوں میں ہے کہ وہ خود تخلیقی بھی ہے اور کائنات کا خالق بھی۔ یہی سرمایہ دارانہ کلمہ خبیثہ ”لاالہ الاانسان“ کے اصل معنی ہیں۔

انسانی الوہیت کا یہی دعویٰ ہیومن رائٹس کے عقائد کی بنیاد ہے۔ لاک ہر اس نظام کے خلاف بغاوت کا مدعی ہے جو انسانی الوہیت کا منکر ہے۔ لبرل ازم بنیادی طورپر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔ لبرل ازم ایسے تمام نظاموں کے خلاف بغاوت ہے جو بڑھوترئ سرمایہ کی تقدیم کو تسلیم نہیں کرتے۔ لبرل ازم کا مطالبہ ہے کہ وہ تمام تصوراتِ انفرادیت جو انسان کی الوہیت کو تسلیم نہیں کرتے رد کیے جائیں، ہیومن رائٹس کی تنفیذ کا اصل مقصد ان تمام نظاموں کا انہدام ہے جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہیں اورایسے نظاموں کی بالادستی کا قیام ہے جوسرمایہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہیں کیوں کہ سرمایہ حرص اور حسد کی تجسیم ہے اور ایک حریص اور حاسد نفس کی حاکمیت سرمایہ کی حاکمیت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

3.20۔ ہیومن رائٹس سامراج

بقول فرانسیسی فلسفی الین بادیو( Alain Badiou) سرمایہ شرمطلق (evil) ہے۔ فطرتاً عوام الناس سرمایہ کی غلامی قبول نہیں کرتے۔ تاریخ شاہد ہے کہ عموماً فاسد افراد کا ایک طاقتورگروہ نظام حکومت اور معاشرت پر قبضہ کر کے سرمایہ کی حاکمیت عوام پر مسلط کرتے ہیں۔ تاریخ سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ لبرل ازم اور سامراج میں ایک دائمی اور فطری تعلق ہے۔

رائج الوقت ہیومن رائٹس استبدادی نظام کی تخلیق اٹھارھویں صدی کے آخرمیں امریکا میں ہوئی۔ اس سے قبل تین صدیوں تک مسلسل وہاں کے قدیم باشندوں کا قتل عام جاری تھا جس میں تقریباً دوکروڑ ریڈانڈین ذبح کیے جاتے رہے۔ اسی ہمہ گیر قتل وغارت اور ایک پورے براعظم کی بے دریغ لوٹ مار نے امریکا میں ایک دستوری رپبلک کے قیام کو ممکن بنایا۔جارج واشنگٹن (George Washington) امریکا کا پہلا صدر اس حقیقت سے خوب آگاہ تھا اور بار بار اس قتل عام کا جوازبیان کرنے پر اصرارکرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ریڈانڈین انسانی جامہ میں دراصل بھیڑ یے ہیں، تہذیب کی بقا اس پر منحصر ہے کہ انہیں نیست ونابود کر دیا جائے۔

امریکا کا اعلان آزادی (1776ء) وہ پہلی دستاویز ہے جو ہیومن رائٹس عقائد کی بنیاد پر قومی تحکیم کا جواز پیش کرتی ہے۔ امریکی دستور(1788ء) کی بنیاد بھی ہیومن رائٹس عقائد پر رکھی گئی۔ اس دستور کی تنفیذ کی مخالفت جن وفاق مخالف (anti-federalist)سیاست دانوں نے کی ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ اس دستور کی تنفیذ کے نتیجہ میں امریکا ایک سرمایہ دارانہ ملک بن جائے گا جس پر فنانسرز، سودخوروں اور سٹہ بازوں کی دائمی حکومتی گرفت مضبوط ہوجائے گی۔ امریکی عوام نے کبھی اس دستورکے حق میں ووٹ نہیں دیے اور یہ کانگریس میں گیارہ ریاستی نمایندوں کی حمایت کی بنیاد پر نافذ ہوا جب کہ نو ریاستی نمایندوں نے اس کی مخالفت کی۔ اس دستور کے مصنفین کی نظر میں سب سے اہم یہ تھا کہ کس طرح سرمایہ دارانہ اقلیت کی نظاماتی بالادستی کو اکثریت کے غلبہ سے محفوظ رکھا جائے۔ دستور کے مصنفین اپنے آپ کو پولیٹکل سائنٹسٹ گردانتے تھے۔ ان کے خیال میں پولیٹکل سائنس وہ حقیقی علمیت ہے جو انسانیت کے اصل خیر کی نشان دہی کرتی ہے اور اصل خیر کے حصول کا طریقہ بتاتی ہے۔ امریکی دستور کی بنیاد انجیل مقدس ہے نہ عوام کی رائے۔ بلکہ اس کی بنیاد پولیٹکل سائنس کی جاہلی علمیت پررکھی گئی ہے۔

امریکی دستور کا ماخذ اس کے مصنفین کے مطابق کتاب اللہ نہیں، ایک مفروضہ کتاب فطرت(یعنی پولیٹکل سائنس)ہے اور یہ ابلیسی کتاب یہ بنیادی ہدایت دیتی ہے کہ مقصدِ حیات حصولِ آزادی بڑھوترئ سرمایہ ہے اور سرمایہ داروں کی بالادستی تمام انسانیت کے مقصد وجود کے حصول کاواحد ذریعہ ہے۔ ہیومن رائٹس کے عقائد کی عالمی بالادستی کو امریکی سرمایہ دارانہ تحکیم کی عالمگیریت فروغ دے سکتی ہے اور یہ کرنا اس کا فرض ہے۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی کے فرائض ایک ریاست پر اس سے پہلے نافذ کیے جاتے ہیں کہ وہاں جمہوری عمل کارفرما ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیومن رائٹس کی نظاماتی بالادستی حرص اور ہوس سے مغلوب انفرادیت کی تخلیق کرتی ہے اور سرمایہ دارانہ اقلیتی اشرافیہ کو عوامی مزاحمت سے محفوظ رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کا ہیومن رائٹس منشورامریکی اعلان آزادی اور بل آف رائٹس کی ایک تشریح ہے اور یہ تینوں دستاویزات الوہیت انسانی کے عقیدہ کا پرچار کرتی ہیں۔ لہٰذا وہ تمام جمہوری اور غیر جمہوری حکومتیں جو ان دستاویز کی تقدیس کو تسلیم کرتی ہیں انسانیت کے خود تخلیقیت کے عقیدہ کی کارفرمائی کی ذمہ دار ہیں اور خود تخلیقیت کا یہی عقیدہ سرمایہ دارانہ اقتدار کو دائمی بناتا ہے۔ جوعالمی نظام ہیومن رائٹس عقائد کا مظہر ہو وہ کسی مذہبی ریاست کو قبول اور برداشت نہیں کرسکتا کیوں کہ ہرمذہب انسان کے خود تخلیقی یا خالق کائنات ہونے سے انکار کرتا ہے۔ عیسائیت یا اسلام میں ہیومن رائٹس کو تسلیم کرنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔

ہیومن رائٹس عقائد کی بنیاد پر صرف دستوری ریاستوں (یعنی ایسی ریاستیں جن کا نظام کتاب اللہ کی تعلیم پر نہیں کسی دستورکی بنیاد پر وضع کیا گیا ہو)کوجائز قرار دیاجاسکتا ہے جہاں اصولاً سٹیزن کی اور عملاً سرمایہ کی حاکمیت قائم کی جاسکتی ہو۔ ایک سرمایہ دارانہ ریاست میں حرص اور ہوس کی حکمرانی ہوتی ہے ان معنوں میں کہ اشیاء اور اعمال کی قدر متعین کرنے کا واحد پیمانہ بڑھوترئ سرمایہ ہوتا ہے اور حکمران (سرمایہ دارانہ اقلیت) اپنی ذاتی زندگی میں بھی حددرجہ حریص اور حاسد ہوتے ہیں۔ یہ اقلیت حر ص اور ہوس کی بنیاد پر وضع کردہ قانون اور اخلاق پورے معاشرہ اور تمام عوام پر مسلط کرتی ہے اور ایک شہری اصلاً سٹیزن اس حد تک ہوتا ہے جس حد تک وہ حرص اور حسد کے معاشرتی اور ریاستی غلبہ کو قبول یا برداشت کرے۔

استبداد لازماً ہیومن رائٹس عالمی نظام کا حصہ ہے۔ اس استبداد کا جواز عوامی مفاد کو گردانا جاتا ہے۔ یہ جواز امریکی دستور میں بھی موجود ہے اور امریکی عالمی استبدادی تاریخ اس جواز سے بھر ی پڑی ہے۔ ریڈانڈینز کے قتل عام، ڈریسڈن اور ہیروشیما،ناگاساکی پر ایٹمی حملہ، ویت نام، افغانستان، شام، عراق اور صومالیہ کی ہنوز جاری بربادی، یہ سب کے سب ایک ایسی لبرل حکومت کے کارنامے ہیں جو ان کاجواز ہیومن رائٹس عوامی مفاد کو گردانتی ہے۔ امریکی مفکر مائیکل مین(Michael Man) نے دعویٰ کیا کہ جمہوریت اور نسل کشی (genocide) میں گہرا ربط و تعلق ہے۔ لبرل جمہوریتیں نسل کشی کا عمل جاری رکھنے کا جواز ہیومن رائٹس کے عقائد کی بنیاد پر پیش کرتی ہیں۔ جتنا زیادہ ہیومن رائٹس عقائد پر تیقن ہوگا اتنا زیادہ اس خواہش کا اظہار ہوگا کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے جویہ تسلیم نہیں کرتے کہ:

ہیومن رائٹس کے ایسے باغیوں کو لازماً مجبور کیا جانا چاہیے تاکہ وہ سرمایہ کی حکمرانی کو تسلیم برداشت کرکے سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی میں محکومی اختیار کریں۔ اگر یہ نہ کیا جاسکتا ہو تو لبرل راج برقرار نہیں رہے گا۔ ہیومن رائٹس عقائد پُرامن بقائے باہمی کی تعلیم نہیں دیتے، وہ نسلیں (امریکا کے قدیم باشندوں) اور وہ ریاستیں(طالبان کا افغانستان) جوسرمایہ دارانہ تحکیم کو قبول نہیں کرتیں انہیں لازماً تہہ تیغ کر دینا چاہیے۔ امریکی دستوری ریاست کروڑوں ریڈانڈینوں کی لاشوں پر تعمیر کی گئی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کے لیے افغانیوں کا چودہ سال سے جاری شدہ قتل عام ضروری ہے۔نسل کشی، قتل عام، عوامی بے دخلی ہیومن رائٹس تحکیم کے ناقابل فراموش ریاستی آلہ کار ہیں۔ نسل کشی کا یہ ادعااور یہ خواہش کہ پوری دنیا ایک ہی خصلت (حرص و حسد) کی حامل انفرادیت ہو، تحریک تنویر کے تجویز کردہ مقصد اعلیٰ یعنی آزادی کے حصول کی غماز ہیں لہٰذا غیر لبرل سرمایہ دارانہ ریاستیں فاشسٹ اور سوشلسٹ بھی بڑے پیمانہ پر نسل کشی اور قتل عام جاری رکھتی ہیں۔ بیسوی صدی میں تقریباً 6ملین افراد کو سویت یونین نازی جرمنی اور چین نے قتل کیا ہے اور مسلمانوں کی نسل کشی اور بے دخلی کا عمل مشرقی ترکمانستان میں چین جاری رکھے ہوئے ہے۔ نسل کشی کو جاری رکھنے کے لیے ایک ایسے دشمن کو ایجادکرنا ضروری ہوجاتا ہے جس سے سامراجی ملک کے عوام نفرت کریں۔ لبرل سوشلسٹ اور قوم پرست ریاستوں نے اس قسم کے نظاماتی دشمن ایجاد کرنے میں بڑی مہارت دکھائی ہے۔ دورِحاضر میں یہ دشمن لازماً بیرونی ہوتا ہے کہ یورپ، امریکا اور آسٹریلیا سے تو وہاں کے قدیم باشندوں کی مکمل نسل کشی کی جاچکی ہے اور اب دشمن ایشیا اور افریقہ میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ایشیائی اور افریقی عوام کی مکمل نسل کشی کبھی ایک ممکن العمل پالیسی کے طور پر اختیار نہ کی جاسکی۔ یہ ناممکن اس لیے ہے کہ کیوں کہ یورپی نژادنسلوں کی مجموعی عالمی آبادی میں حصہ مستقل روبہ زوا ل ہے۔ اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق یہ 1901ء میں 22فیصد، آج تقریباً 13فیصد اور 2100ء تک 7فیصد ہوجائے گی۔ بچوں کی پیدائش میں کمی کے سبب یورپی نسلیں بوڑھی بھی ہوتی جارہی ہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ غلبہ کو قائم رکھنے کے لیے ضروری یہی ہے کہ ایشیا اور افریقہ پر ہیومن رائٹس سامراج مسلط کیا جائے اور اس طرح وہاں کے ریاستی نظام پر قبضہ حاصل ہو۔ ریاستوں پر تسلط فنانشل مارکیٹوں کی کارفرمائی سے حاصل ہوتا ہے۔ آج سود اور سٹہ کی مارکیٹس پیداواری (زرعی، صنعتی اور خدمتی) مارکیٹوں پر حاوی ہیں کیوں کہ پیداواری عمل میں شامل سرمایہ کی قدر کا تعین سود اور سٹہ کے بازاروں میں ہوتا ہے۔ ایشیا اور افریقہ کی ریاستوں کی تسخیر کا ایک اہم ذریعہ ان پر عالمی (global) سود اور سٹہ کا تسلط قائم کرنا ہے۔ سود اور سٹہ مارکیٹوں کی کارفرمائی بڑھوترئ سرمایہ کو لامحدود بنا دیتی ہے۔ گلوبل سود اور سٹہ مارکیٹوں کی کارفرمائی کو منظم کرنے کے لیے گلوبل اصولوں اور ضوابط کی تخلیق اور تنفیذ ضروری ہوجاتی ہے اور جب قومی ریاستیں ان اصولوں کی ماتحتی قبول کرلیتی ہیں تو ایک گلوبل ریاستی ڈھانچہ دھیرے دھیرے وجود میں آتا ہے۔ ہرریاست گلوبل قرضہ کے جال میں پھنس جاتی ہے اور چونکہ حکومتی تمسکات (bonds) کی قیمتوں اور مرکزی بینک کے ڈسکاؤنٹ ریٹ کی بنیاد پر ہی تمام سودی نظام قائم کیا جاتا ہے لہٰذا ریاستی عمل ہی سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری کو ممکن بناتا ہے۔ گلوبل فنانشل مارکیٹوں میں کارفرما ہر ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جن سے سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری کا عمل خطرہ میں نہ پڑے۔ اس فرض کی ادائیگی کی نگرانی کے لیے آئی ایم ایف اور دیگر فنانشل ریگولیٹری ادارے مستقل کام کرتے رہتے ہیں۔

جو ریاستیں یہ فرض کماحقہ ادا نہیں کرتیں ان کو گلوبل فنانشل مارکیٹیں سزا دیتی ہیں۔ لیکن فنانشل مارکیٹوں کی سزا دینے کی یہ صلاحیت محدود ہے۔ وہ ارجنٹینا کو برباد کر سکتی ہیں، انڈونیشیا میں بحران پیدا کر سکتی ہیں، جنوبی کوریاکو زیردست کر سکتی ہیں، فرانس کو رسوا کر سکتی ہیں لیکن امریکا کو سزا نہیں دے سکتیں گو کہ تمام قومی مرکزی بینک گلوبل سرمایہ کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ یہ بات امریکی فیڈرل ریزرو بنک (FRS) کے لیے درست نہیں۔

امریکی معیشت کا استحکام عالمی فنانشل نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ گلوبل فنانشل تحکیمی نظام امریکی نظام ہی سے اخذ کیا گیا اور آئی ایم ایف، بینک برائے بین الاقوامی معاہدات، عالمی تجارتی تنظیم، ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن اور نجی شعبہ میں قائم جانچ پڑتال کرنے والی ریٹنگ ایجنسیاں، بین الاقوامی اکاؤنٹس کے اصول واضح کرنے والی تنظیم اور پیداوار کے معیار کو جانچنے والی تنظیمیں سب امریکی ضوابطی خطوط پر عامل ہیں اور ان کی کارفرمائی عالمی نظام میں امریکی ریاستی تحکم کا ذریعہ ہے۔ یہ امریکی ریاست ہی ہے جو گلوبل فنانس کا غلبہ قائم رکھے ہوئے ہے۔ 1980ء سے لے کر آج تک کا تجربہ ہے کہ کوئی ملکی فنانشل بحران امریکی FRS کی مداخلت کے بغیر manage نہیں کیا جاسکا۔

یونانی مفکر نکوس پولانٹس (Necos Poulantzis) کے مطابق گلوبل فنانشل نظام معاشرتی تعمیر کا وہ آلہ کار ہے جس کے ذریعہ تمام سرمایہ دارانہ مارکیٹس اور تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں امریکا کی باج گزار بنائی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا سامراجی نظام ہے جس میں ہر باج گزار معاشرہ اور ریاست کو امریکانائز کیاجا رہا ہے بغیر عسکری تسلط کے۔ ہر باج گزار ریاست میں امریکی عقائد، نظریات، طرزِ معاشرت اور تعلیم اور تحکیم کو ان معنوں کلی جواز حاصل ہو کہ وہی معیارِ خیر و شر اور عقل کے تقاضہ کے طورپر قبول کیے جائیں؛ ریاستی اشرافیہ کو یوں تربیت دی جائے کہ وہ معاشرتی اور ریاستی نظاموں کو امریکانائز کرنے اور امریکی نظاماتی تسلط کو قبول کرنے کا جواز پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

برطانوی مفکر سوزن سٹرینج (Susan Strange) نے اس نئے سامراج کا نقشہ کھینچا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ایک نیا غیر ارضی (non territorial)سامراج قائم کیا جارہاہے جس کا سامراجی مرکز امریکا ہے۔ قدیم روم کی طرح امریکا میں بھی سٹیزن شپ کسی خاص نسل تک محدود نہیں بلکہ امریکی سامراج میں ایسے سٹیزن بھی موجود ہیں جن کے مکمل سیاسی اور سماجی حقوق ہیں اور نیم سٹیزن بھی اور نان سٹیزن (non-citizen) بھی۔ تو ان سٹیزن اور سیمی سٹیزن کا رنگ ونسل اپنے ملک جیسے لوگوں کے جیسا ہی ہوتا ہے اور وہ ایک ہی ملک (برازیل، برطانیہ، پاکستان) میں رہتے ہیں۔ سیمی سٹیزن میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ملازمین، بین الاقوامی فنانشل اداروں کے ملازمین، وہ فوجی افسران جو امریکی اصلاحی نظام سے منسلک ہیں اور وہ دانش ور جو امریکی تحقیقی اور تعلیمی اداروں سے اپنی شناخت منوانا چاہتے ہیں شامل ہیں۔ ان میں میڈیا کے کارکنان کی بھی بھر مار ہے۔

امریکا کا ایک سابق وزیر خارجہ(سیکریٹری آف اسٹیٹ ) زبگنیف برژنسکی (Zbigniew Brzezinski) لکھتا ہے ”امریکی خارجہ پالیسی کے تین بڑے اہداف ہیں:غلام ملکوں کو امریکا پر انحصاری رکھنا اور ان میں اشتراک عمل کو ناممکن بنانا؛ باج گزار ممالک کو مطیع رکھنا اور وحشیوں کو متحدنہ ہونے دینا“۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے لازم ہے کہ ”وحشی“ اور ”غلام“ ملکوں کے معاشروں اور ریاستی نظام کو امریکنائز کیا جائے۔

جیسا کہ علی محمد رضوی نے لکھا ہے امریکا دنیا کا پہلا ملک ہے جو اپنی پالیسیوں کا جواز سرمایہ دارانہ اہدا ف کا حصول کوگردانتا ہے۔ امریکی دستور میں ان اہداف کو ”ترقی“ اور حصول لذت کی جستجو کہا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس عقائد امریکا کے قومی عقائد ہیں۔ کسی معاشرت اور ریاستی نظام کو امریکنائز کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں پہلے ہیومن رائٹس عقائد کو نظریاتی جواز حاصل کروایا جائے لہٰذا امریکا کی نظر میں صرف ان ریاستوں کو محدود حکومت کرنے کا جواز حاصل ہے جو لبرل دستوری سرمایہ کی آلہ کار اور امریکا کی باج گزار ہوں اور اسی نقطہ نظر کو عالمی ہیومن رائٹس سامراجی نظام میں پروان چڑھا یا جارہا ہے۔ جو ریاستیں امریکی باج گزار ی اور سرمایہ دارانہ نظاماتی بالادستی کو قبول نہیں کرتیں ان کو مستقلاً ہیومن رائٹس نظاماتی استبداد کا شکار بنایاجاتا ہے۔ امریکا اور اس کا وضع کردہ عالمی نظام کسی متبادل حکمت عملی کو قبول نہیں کرسکتا کیوں کہ ہیومن رائٹس عقائد کا مطالبہ ہے کہ انسان غیر مشروط اور ابدی طورپر سرمایہ کی غلامی قبول کرے۔

4.20۔ حاصل بحث

ہم ہیومن رائٹس عقائداور سامراج کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے کیوں کہ ہم اللہ کے مالک الملک ہونے پر ایمان لائے ہیں۔ ہم سرمایہ کی تحکیم(Sovereignty) کے دعووں کو رد کرتے ہیں اور ہیومن رائٹس عقائد کو معاشرہ میں حرص اور ہوس عام کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہیومن رائٹس سامراج ایسے معاشروں کی تعمیر کرتا ہے جہاں تمام غیر سرمایہ دارانہ اقدار کو بے قدر تصور کیا جاتاہے اور جہاں عمل اور اشیاء کی قدر جانچنے کا واحد پیمانہ بڑھوترئ سرمایہ میں ان کا حصہ ہو۔ ہیومن رائٹس عقائد ہمیں مجبور کرتے ہیں ہم اپنے معاشروں کو امریکنائز کریں اور اپنی ریاستوں کو امریکا کی باج گزار ریاستیں بنادیں۔

ان وجوہات کی بنیا دپر ہم ہیومن رائٹس عقائد اور ہیومن رائٹس سامراج کے خلا ف پیہم جدوجہد کرتے رہیں گے

21۔فلسفہ یونان کا ابطال: امام غزالی کا طریقہ کار

1.21۔ تعارف

اس باب کو تحریر میں لانے کا مقصد ان اصولوں کی تفہیم کی کوشش ہے جو مغربی فلسفہ اور بالخصوص یونانی مابعد الطبیعیات کی تنقید سے متعلق امام غزالیؒ کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ اس مطالعاتی جائزہ کو ہم کئی حصوں میں منقسم کر کے دیکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر:

  1. اس تناظر سے مکمل واقفیت حاصل کی جائے جس کے تحت امام غزالیؒ یونانی فلسفہ کی بنیادوں پر کاری ضرب لگاتے ہیں کیوں کہ اس سے ہمیں امام غزالی کی تنقید کے بنیادی محرکات کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔
  2. اس دور میں مختلف افکار و نظریات اور عقائد و اعمال کی جانب سے درپیش مختلف النوع خطرات کا تجزیہ اور ان کا سدباب۔ اس ضمن میں آپ کے اصول و تفریقات اہم ہیں۔
  3. فلسفہ و منطق کے وہ عمومی اصول جو استدلال کے دوران امام نے استعمال کیے اور ان کی کس طرح توجیہ بیان کی۔
  4. وہ خاص اصول جو یونانی مابعد الطبیعیات کی رد تشکیلیت کے سیاق میں امام نے نہایت عمدگی سے استعمال کیے۔

2.21۔ امام غزالیؒ کے فکری کام کی اہمیت

ذہن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام غزالی ؒکے منہاج کا مطالعہ کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کا تبصرہ قابل غور ہے:

مشرق و مغرب امام غزالیؒ کے فکری مقام کی بلندی کے اس درجہ قائل ہیں کہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد امام کو سب سے بڑا مسلمان گردانتے ہیں اور آپ بجا طور پر اس مقام کے مستحق بھی ہیں۔ آپ کی شخصیت کی بلندی کے بیان میں جہاں دیگر پہلوؤں کو پیش کیا جاسکتا ہے وہاں یہ دو بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ فلسفۂ یونان کے ساتھ مجادلہ عظیم کے دوران آپ فکر اسلامی کی رہنمائی کے فرائض انجام دے رہے تھے اور یقیناً اسلامی فکر اس پیکار سے نہ صرف یہ کہ فاتح بن کر نکلی بلکہ فکری سطح پر اسے مزید استحکام بھی ملا اور مغرب نواز افلاطونیت کی فکر پر ایسی کاری ضرب لگی جس سے وہ پھر سنبھل نہ سکی۔ آپ کا دوسرا کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے شریعت اور طریقت کے درمیان خلیج کو پاٹنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور دونوں گروہوں کے رہنما قریب سے قریب تر ہوتے چلے گئے حالانکہ علمائے شریعت اور پیران طریقت دونوں اب بھی اپنے اپنے افکار و اقدار کو ہی برتر تصور کرتے تھے لیکن دونوں فریقین ایک دوسرے کے مقام کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر آتے تھے۔ علمائے شریعت صوفیاء کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے جب کہ دوسری جانب صوفیاء شرعی پابندیوں کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنے لگے۔

آج اسلام کو مغربی فکر کی جانب سے ویسی ہی صورتِ حال درپیش ہے جو کسی زمانے میں یونانی فلسفہ کے ساتھ تھی اور آج اس کڑے دور میں مغربی علوم کے ابطال کی اسی قدر ضرورت ہے جیسا کہ امام غزالیؒ کے وقت میں تھی اور اگر آج اہل اسلام اس موجودہ نازک صورتِ حال سے کامیابی سے نکلنے کے خواہش مند ہیں تو انہیں امام غزالی کی فکر کا غائر مطالعہ کرنا ہوگا۔

مغربی فکر کی جانب اب تک مسلمانوں کے بالعموم دو طرح کے رویے سامنے آئے ہیں۔ ایک صورتِ حال یہ نظر آتی ہے کہ علماء کی اکثریت اور ان کے پیروکاروں نے مغربی فکر سے ہمیشہ دامن بچانے کی کوشش کی ہے تاکہ اسلامی فکر کو مغربی فکر کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ دوسری طرف معاملہ یہ ہے کہ جدیدیت پسندوں کا ایک ایسا گروہ سامنے آیا ہے جس نے صراحتاً اس امر کی کوشش کی کہ یا تو ہر دو افکار کے درمیان تطابق و تفاہم کے رشتہ کو سامنے لایا جائے یا پھر اسلامی فکر کی مغربی حیثیت کو مغربی اصول تنقید اور مغربی منہاج کی مدد سے جانچا جائے۔

مغربی فکر کے ساتھ جدید مباحث کی اس کیفیت کے دوران جس شے کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ غیر اسلامی افکار کا غزالیؒ کے منہاج فکر کی روشنی میں جائزہ لینا اور اس کا محاکمہ کرنا ہے۔ آج امام غزالیؒ کی فکر کی طرف رجوع کرنے کا مقصد و غایت بھی یہی ہے کہ مغربی فکر و عقائد کو سمجھنے کے لیے قدیم اسلامی اصول تنقید کو ترویج دی جائے۔

3.21۔ جدوجہد امام غزالی کی غایت و تناظر

امام غزالیؒ کی عظیم کاوش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تناظر سے واقفیت حاصل کی جائے جس میں مغربی فکر کے محاکمہ کی ضرورت کا احساس دوچند ہو۔ صورت حال کچھ یوں تھی کہ اسلامی سلطنت کی توسیع کے دوران رومی یونانی تہذیب سے ٹکراؤ وہ پہلا ٹکراؤ تھا جب مسلمانان عرب انسانوں کے ایک ایسے گروہ سے برسرپیکار ہوئے جوتصورِ حق کے لیے متبادل فکری دلائل رکھتے تھے۔ اس سے قبل تک جن اقوام سے مسلمانوں کا واسطہ پڑا تھا ان میں ایسے کفار تھے جو اپنے عقائد کے لیے کسی قسم کی علمی بنیاد نہیں رکھتے تھے یا یہود و نصاریٰ کے گروہ تھے جو اسلام کے مماثل علمیت کے قائل تھے۔

ہر چند کہ یہ ٹکراؤ امام غزالیؒ کے زمانے سے دو صدی قبل سے جاری تھی لیکن آپ کے عہد میں اس تہذیبی ٹکراؤ سے برآمد ہونے والے علمی و فکری مسائل نے امت مسلمہ کے لیے ایک فتنہ کی حیثیت اختیار کر لی تھی اور علماء میں ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا تھا جو اپنے تدبر و تعقل کی بنیاد پر خود کو برتر تصور کرنے لگا تھا ۔اس کے علاوہ وحی کو حق و صداقت کا منبع سمجھنے کی بجائے عقل و خرد کو صداقت کے حصول کا ذریعہ سمجھ رہے تھے۔ وحی کے لیے ان کا حقارت آمیز رویہ ان کے اسلامی طریقوں اور علامات سے دست برداری سے ظاہر ہوتا تھا۔ امت کو درپیش اس نازک و پرفتن صورتِ حال کو امام غزالیؒ یوں بیان فرماتے ہیں:

انہوں نے وہ تمام پابندیاں ترک کر دی ہیں جو اسلام اپنے پیروکاروں پر عائد کرتا ہے۔ وہ دین کے ان احکام کی ہنسی اڑاتے ہیں جن میں طرائق بندگی اور حلال و حرام کے قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ وہ الہامی و شرعی قوانین کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ اپناتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ شریعت مطہرہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو مطلق بجا نہیں سمجھتے بلکہ عقائد و ایمان کو مختلف النوع قیاسات کی کسوٹی پر پرکھنے لگے ہیں۔ ان کی مثال دراصل ان لوگوں کی ہے جو خدا کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں اور شیطان کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور جو آخرت کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتے۔

امام اس نازک صورتِ حال کو بخوبی سمجھ رہے تھے کہ بیرونی فکر کس طرح عام مسلمانوں کے عقائد و اعمال پر اثر انداز ہو رہی ہے اور وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھے کہ علمی معیارات میں یہ تبدل و تغیر، جو عقل و خرد کی صورت میں سامنے آیا تھا بالخصوص کفریہ عقائد کے فروغ کے ضمن میں راہ ہموار کرنے کا کام انجام دے رہا ہے۔

امام غزالی ؒ فرماتے ہیں آج ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہاں سقراط، بقراط، افلاطون و ارسطو وغیرہ کو علمی شخصیات کے طور پر غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے اور ان فلاسفہ کے مقلدین مبالغہ کی حد تک انہیں مافوق الفطرت تدبر کے حامل افراد کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان عقلی صلاحیتوں کے بل پر جو اصول دریافت کیے گئے ہیں وہ کسی بھی قسم کی لغزش سے پاک اور ناقابل تغیر تصور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاضیاتی منطق، طبیعیاتی اور مابعد الطبیعیاتی علوم کو بھی نہایت مکمل و جامع حیثیت میں پیش کیا ہے اور اس کے پس پشت و ہ عظیم ترین عقلی صلاحیتیں ہی تھیں جن کی بنیاد پر استخراجی طریقہ کار کے ذریعہ کائنات کے پوشیدہ حقائق کو دریافت کیا گیا اور تدبر و تعقل کی ایسی غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر انہوں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ مذہبی احکام محض بے بنیاد مفروضوں اور غیر اہم حقائق سے متعلق بیانات کا مجموعہ ہیں اور انہیں کسی بھی قسم کی برتری کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

درج بالا سطور اس لحاظ سے نہایت اہم ہیں کہ ہمیں ان وجوہات و اسباب کے بارے میں پتہ چلتا ہے جو امت مسلمہ میں کفریہ عقائد کی ترویج کا سبب بن رہے تھے۔ ان اسباب کو نمبر وار یوں پیش کیا جاسکتا ہے:

  1. ذہنی و علمی برتری کے سبب فلاسفہ کو ہر ذی نفس بشمول انبیاء کرام سے بھی برتر سمجھنا۔
  2. فلاسفہ کے دریافت کردہ اصولوں کو غیر مشکوک اور بدیہی تصور کرنا۔
  3. استخراجی طریقہ کار کو ایسی منہاجیات کے طور پر تصور کرنا جس کے ذریعے بدیہی اصولوں سے نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
  4. نتیجتاً یونانی مابعد الطبیعیات، منطق اور طبعی علوم کی برتری پر یقین۔
  5. درج بالا عوامل مذہبی احکام و تعلیمات کی تحقیر و تذلیل کا سبب بنتے ہیں۔

درج بالا نکات کا مجموعی اثر یہ ہوا کہ ان فلاسفہ کے مقلدین کے اندر ایک تکبر پیدا ہوگیا جس نے یونانی فلاسفہ، ان کی منہاجیات اور علمیات میں تکبر پیدا کیا۔ جس کا مربوط اور مبسوط محاکمہ کرنے کے لیے امام غزالی نے ”تہافۃالفلاسفہ“ جیسی کتاب تصنیف کی۔ آپ خود اس مقصد کو یوں بیان فرماتے ہیں:

خرد سے عاری ان افراد کو جب میں نے اس فکر کو اپناتے ہوئے دیکھا تو یہ فیصلہ کر لیا کہ قدیم فلاسفہ کی فکر کے رد کے لیے ایک کتاب لکھنی چاہیے جو ان کے عقائد کی بے ربطی اور ان کے مابعد الطبیعیاتی نظریات کی کجی کو واضح کر دے گی اور ان کی فکر کے کمزور ترین گوشوں کو اس طور پر عیاں کر دے گی کہ کچھ لوگوں کے لیے تفریح طبع کا سبب بنے گی تو کچھ لوگوں کی عقائد کی درستی بھی ہو جائے گی۔ اشارہ عقائد کے ان حصوں کی جانب ہے جن کی بنیاد پر وہ اپنے تئیں خود کو دوسروں سے ممتاز و برتر تصور کرتے ہیں۔

4.21۔ امام غزالی کا نظریہ علم اور مختلف علوم کی تقسیم

علم کیا ہے اور اس کا حصول کن مقاصد کے تحت کیا جانا چاہئے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنہیں امام غزالیؒ کی فکر میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تنقید کے عمومی مقصد کو سمجھنے کے لیے بھی یہ سوالات نہایت اہم ہیں۔ امام غزالیؒ ابتدا میں علم اور حصول علم کی غایت سے متعلق کچھ ایسے تصورات و نظریات کو بیان فرماتے ہیں کہ جن کی بنیاد پر آپ نے مغربی فکر کی تنقید مرتب کی ہے۔

آپ کی نظر میں حصولِ علم کا مقصد (اس سے تصورِ علم کو بھی واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے) دو طرح سے بیان کیا جاسکتا ہے ، معاد اور معاش۔ ان ہر دو مقاصد میں ایک نوع کا گہرا تعلق موجود ہے کہ معاد کا فروغ حلال رزق کے حصول کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا مطمح نظر معاد کا حصول ہونا چاہیے اور معاش کے حصول میں سرگرمی فقط اس وقت تک مستحسن ہے جب تک وہ معاد کے حصول میں معاون ثابت ہو۔ اسی طرح وہ تمام علوم جو معاد کے حصول کے لیے وضع کیے گئے ہیں یقینی طور پر علم کے دائرے میں آتے ہیں اور کسی بھی طرح اس کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ لہٰذا اصل علم معاد کا علم ہے۔ امام غزالیؒ طالبانِ صداقت و علم کی توجہ خاص طور پر اس نکتہ کی جانب مبذول کراتے ہوئے فرماتے ہیں :

حصولِ علم کے لیے اس قدر شدید طلب رکھنے والے میرے دوست تم جو خود کو یہ احساس دلا رہے ہو کہ طلب علم کی راہ میں کس قدر صادق، پرجوش اور مستقل مزاج ہو کیا تم نے اس امر پر غور کیا ہے کہ اس جستجوئے علم کے پس پشت کیا مقصد کارفرما ہے؟ اگر تمہارا مقصد اپنی ذات کا نفع اور اپنے ہم جماعتوں میں ممتاز حیثیت کا حصول ہے تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کر کے دنیاوی نعمتیں سمیٹ لو تو جان لو کہ تم اپنے دین کے لیے بے فائدہ و بے کار ہو، تم خود کو تباہ و برباد کر رہے ہو، تم نے ابدی زندگی کو اس عارضی آرام و سکون پر قربان کر دیا ہے اور خوب سمجھ لو کہ یہ سودا خسارے کا سودا ہے، اس بے سود تجارت میں کچھ نفع نہیں اور تمہارا استاذ جو تمہیں اس گمراہی میں پختہ کار کرتا ہے وہ بھی اس خسارے میں برابر کا شریک ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جو ایک مسافر کو تلوار فروخت کرتا ہے۔ دوسری جانب اگر جویائے علم و صداقت کے ضمن میں تم یہ نیت رکھتے ہو کہ فقط بڑائی ظاہر کرنے کے لیے کچھ الفاظ نہ سیکھیں جائیں بلکہ صحیح رہنمائی حاصل کی جائے تو خوش ہوجاؤ کہ یہی درست راہ ہے۔

سطور بالا سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ حصولِ علم کا مقصد ذات باری تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنا اور علم دراصل خشیتِ الٰہی کا احساس ہے۔ یہاں علم اور معلومات کے درمیان بھی ہمیں واضح فرق دکھائی دیتا ہے کہ فقط کچھ حقائق جان لینے کا نام علم نہیں ہے بلکہ الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جو رضائے الٰہی کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہو اور خوف خدا پیدا کرے۔

اس گفتگو کی روشنی میں ہم علوم کو بہ اعتبار درجات درج ذیل اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں:

  1. ایسے علوم جو کلی طور پر راست معاد سے متعلق ہیں مثلاً قرآن و حدیث کے علوم؛
  2. وہ علوم جو معاد کے لیے ضروری ہیں ان کے جاننے کا مقصد فقط ان علوم کو جاننا نہیں ہوتا بلکہ معاد کا حصول ہوتا ہے اور اگر ان کو صرف ان کا علم حاصل کے لیے حاصل کیا جائے تو یہ علوم مضر ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً عربی شاعری کی تعلیم قرآن کریم کی تفہیم میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
  3. ایسے تمام علوم جن کا معاد سے کسی طور پر واسطہ نہیں ہے جنہیں کلیتاً رد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صراط مستقیم کے بجائے گمراہی و ضلالت کی طرف لے جاتے ہیں، یہ شیطانی علوم ہیں جس کا حاصل کرنا خسارہ ہی خسارہ ہے۔ امام غزالیؒ نے اس سیاق میں یونانی مابعد الطبیعیات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
  4. ایسے علوم شامل ہیں جو کلیتاً نہیں بلکہ آلاتی طور پر معاد کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں جن کو بحیثیت مجموعی رد نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو شیطانی علوم کی معاونت کی وجہ سے رد کیا جاتا ہے اس ضمن میں یونانی منطق کو مثال کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
  5. ایسے تمام علوم جو معاد کے حصول کی راہ میں نہ تو کسی بھی طرح سود مند ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ ضرر رساں قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ان کا رد کیا جانا نبی اکرم کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کے ایمان کا حسن یہ ہے کہ وہ فضول و بے کار افعال سے الفت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر وہ علوم پیش کیے جاسکتے ہیں جنہیں ہم آلاتی علوم کہتے ہیں اور جو معاونت کا کام سر انجام دیتے ہیں۔

درج بالا تقسیم کے حوالے سے کلیت اور آلاتیت کے بارے میں دو رائے ہوسکتی ہیں لیکن بنیادی درجہ بندی وہی رہتی ہے۔

5.21۔ امام غزالی کی یونانی علوم پر تنقید

علم کی یہ تعریف و مفہوم اس درجہ بندی اور عمومی اصولوں کے سیاق کو سامنے رکھتے ہوئے امام غزالیؒ مختلف یونانی علوم کا نہایت بسیط محاکمہ پیش کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی علمیاتی تناظر میں ان کا صحیح مقام بھی مرتب فرماتے ہیں۔ زیریں سطور میں مختلف یونانی علوم پر امام کی تنقید کو مختصر طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

1.5.21۔ منطق

امام غزالیؒ کی رائے میں منطق ایک آلاتی علم ہے۔ اس میں استدلال کے مختلف طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور مباحث کے ایسے اصول سکھائے جاتے ہیں جنہیں ہر دو فریق میں سے کوئی بھی اپنی مطلب برآری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ اندازِ استدلال اور اصول جو کسی بھی استدلال کو مضبوط اور قوی بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں دراصل صرف قضایا کی ساخت سے گفتگو کرتے ہیں، انہیں قضایا کے معنی و مفہوم سے کچھ بحث نہیں ہوا کرتی۔ اسلام منطق کو بطور آلہ علم ردّ نہیں کرتا اور نہ ہی اسے ردّ کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔

یہ تن تنہا آپ کی ذات والاصفات ہی کا کارنامہ تھا کہ آپ نے اس وقت کی موجود منطقی باریکیوں کو نہ صرف یہ کہ مکمل طور پر سمجھا بلکہ ان کی مدد سے غیر اسلامی عقائد میں موجود بے ربطی اور کجی کو بھی واضح کر دیا۔ امام اس صورتِ حال کو یوں بیان فرماتے ہیں:

جہاں تک اس تنازعہ کا تعلق ہے کہ منطقی اصولوں و ضابطوں کے بغیر کوئی بحث مکمل نہیں ہوتی ان کا یہ موقف بالکل درست ہے لیکن یہ بھی اچھے طریقے سے سمجھ لینا چاہیے کہ منطق ان کی اجارہ داری نہیں ہے۔ بنیادی طور پر یہ وہی شے ہے جسے ہم فن علم الکلام میں کتاب تحقیق نظری کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ فلاسفہ نے اسی کا نام تبدیل کر کے منطق رکھ دیا ہے اور اس کے بارے میں ایسا تصور قائم کر دیا ہے کہ عوام اس کے نام سے ہی مرعوب ہوجاتے ہیں ا ور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ علم کی کوئی ایسی شاخ ہے جس سے متکلمین کلی طور پر ناواقف ہیں اور صرف فلاسفہ ہی منطقی موشگافیوں اور پیچیدگیوں کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

امام غزالیؒ علم منطق کے منفی پہلوؤں سے اجتناب برتنے کی بارہا تلقین کرتے ہیں اور اس سے متعلق خوش فہمیوں کا بھی نہایت عمدگی سے پردہ چاک کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو ان حدود کو سمجھنا چاہیے جن میں منطقی اصول اپنی جادوگری دکھا سکتے ہیں۔ نکتہ یہ ہے کہ منطق صرف دو قضایا کے درمیان تعلق کی نوعیت کو مکمل یقین کے ساتھ بیان کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جس کو اقتباساً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ ان قضایا کے معنی و مفہوم سے متعلق بھی قطعیت کے ساتھ رائے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امام فرماتے ہیں کہ ایک عام معارف جس میں عموماً طالبان منطق گھرے ہوئے پائے گئے ہیں کہ وہ اس علم کی بنیاد پر کچھ ایسے معیارات وضع کرلیتے ہیں جن پر پورا اترنے والے قضایا کو بھی صحیح و درست تصور کیا جاتا ہے اور جب وہ انہی معیارات کے ساتھ مذہبی احکام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مذہبی احکام ان معیارات پر پورے نہیں اترتے لیکن وہ اپنے طے کردہ معیارات کے ضمن میں یہ ضرر تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں مزید غور و فکر کی گنجائش ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے کہ مذہبی بیانات بدیہی حیثیت کے حامل نہیں ہوا کرتے۔ لہٰذا ان کاا ثبات و انکار بھی کرنا ممکن نہیں ہے سوائے اس صورت کے کہ اس کو استدلال کی صورتوں کے تبدل کے حوالے سے نہ جانچا جائے بلکہ ان عقائد و نظریات کے حوالے سے پرکھا جائے جو ہر دو مخالف صورتوں میں پائے جاتے ہیں جو منطق کی بجائے مابعد الطبیعیات اور اس جیسے دیگر علوم کا میدان ہے۔ چنانچہ وہی لوگ اس مغالطہ میں گھرتے ہیں جو ساخت اور مفہوم کے اس فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ کفریہ عقائد جن کا فلاسفہ اپنی فکر میں اظہار کرتے ہیں، منطق کے اصول و معیارات پر پورے اترتے ہیں اور اس طرح وہ ان عقائد کی برتری پر بھی ایمان لے آتے ہیں۔

امام بڑی صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ منطق کا کوئی بھی اصول چاہے وہ قیاس کی مادی صحت جانچنے سے متعلق ہو یا اس کی وصفی صحت سے بحث کرتا ہو یا مفروضہ ہی کیوں نہ ہو جو منطق کی عمارت کے نہایت اہم ستون ہیں، کسی بھی نوعیت کی تکنیک مابعد الطبیعیاتی علوم کی بحث میں ان کی معاونت کرنے کی اہل نہیں ہے۔

2.5.21۔ ریاضی

ریاضی ایک آلاتی علم ہے جو دیگر مقاصد کے حصول میں معاونت کا کام کرتا ہے اور کئی علوم میں اس کی ضرورت نہایت اہم ہے مثلاً میراث سے متعلق مسائل کی تفہیم کے سلسلے میں علم ریاضی مفید ہے یا نماز کے اوقات معلوم کرنے کے لیے بھی اس علم کو استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر دو خطرات ایسے شدید و مہلک ہیں کہ جنہیں علم ریاضی کے سیاق میں بالخصوص اور دیگر علوم میں بالعموم سمجھنا چاہیے۔

پہلا خطرہ یہ ہے کہ علم الحساب کی قطعیت اور اظہارِ بیان کی ندرت کو دیکھ کر عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے تمام علوم ریاضی سے مشابہ صحت کے حامل ہیں۔ جس خدشہ کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ محسوس کیا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ اس کائنات سے متعلق وہ حقائق جن کے بارے میں مختلف آراء موجود رہی ہیں اور بہت سے اذہان بھٹک کر گمراہ ہو گئے۔ تہذیبوں کے درمیان تصادم اور تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کرنے والے طالب علم کو درپیش علمی مسائل کے حل کے لیے امام غزالیؒ ایسا کلیہ پیش کرتے ہیں کہ جس سے تشفی بخش جوابات کی تلاش میں بہت مدد ملے گی

ایک ایسا شخص جو کسی فن میں مہارت حاصل کرتا ہے اور اس میں نام پیدا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر فن میں اسی قابلیت کا حامل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک شخص جو قانون و الہٰیات کا نہایت عمدہ عالم ہے اور اس کی باریکیوں کو بہت عمدگی سے سمجھتا ہے تو وہ فن طب کے اصولوں سے بھی واقف ہوگا یا فلسفہ و دیگر عقلی علوم سے ناواقف شخص قواعد (گرامر) کے اصولوں سے بھی نابلد ہوگا۔ ہر علم کے کچھ ایسے ماہرین ہمیشہ موجود ہوتے ہیں جو کہ ایک فن میں ماہر ہوتے ہیں مگر دوسرے فن کے لیے مطلق جاہل ہوتے ہیں۔

سطور زیریں میں امام غزالیؒ علم ریاضی اور دیگر علوم کے مابین تفریق نہایت وضاحت کے ساتھ فرماتے ہیں:

ریاضی کے بنیادی اصول اپنی ماہیت میں اظہاری ہیں جب کہ الٰہیات (مابعد الطبیعیات) کی بنیاد قیاسات پر ہے۔ جو اہل علم ان علوم کا غائر مطالعہ کرچکے ہیں وہ اس نکتہ سے بخوبی واقف ہیں۔

اسلام اور سائنس کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ نکتہ اہم ہے لیکن مسائل وہاں جنم لیتے ہیں جب سائنس اپنی تحدیدات نظر انداز کرتے ہوئے مابعد الطبیعیات و الہٰیاتی مباحث کو اپنے عمومی اظہاری طریقوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سائنسی فکر اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ زندگی کے اسرار و رموز کلی طور پر سمجھنے میں اس کی رائے کو مقتدر و محترم سمجھا جائے اور اس طرح علمائے دین کی رائے کو سائنسی فکر کے تابع کر دیا جائے۔ لیکن امام غزالی کا قول اس قضیہ کو یوں مٹاتا ہے کہ کسی ایک فن میں مہارت تامہ رکھنے والا شخص دوسرے فن میں اسی مقام و مرتبہ کا حامل نہیں ہوسکتا یعنی مابعد الطبیعیاتی اور الٰہیاتی مباحث میں سائنس کی رائے کسی طور پر اہم و برتر متصور نہیں ہو سکتی لیکن ایسے افراد جو ان ہر دو فکری مقامات میں فرق نہیں کر سکتے وہ مابعد الطبیعیات و الہٰیاتی معاملات میں سائنس کو اس کے دیگر مخصوص شعبوں میں برتری کے سبب مقتدر و محترم تسلیم کر لیتے ہیں اور اس رویہ کی بدولت صراط مستقیم سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ علم ریاضی کے حصول کے بارے میں امام کی قطعی رائے یہ ہے کہ

وہ طلباء جو ریاضیاتی علوم کا نہایت دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں انہیں اس سے روک دینا چاہیے چاہے وہ اسے مذہبی معاملات کی تفہیم میں بھی کیوں نہ استعمال کرتے ہوں لیکن چونکہ یہ فلسفیانہ علوم کی بنیاد ہے اس طرح طالب علم فلاسفہ کی فکری بدعقیدگیوں اور انتشار ذہنی کا شکار ہوسکتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا ذہن خشیت الٰہی کے تصور سے خالی ہوجاتا ہے۔

ریاضی اور سائنس کے حوالے سے دوسرا خطرہ افراد کا وہ گروہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ فلاسفہ کے دریافت کردہ ہر علم کے رد کے ذریعے ہی مذہب کا دفاع ممکن ہے اور اس طرح وہ ان کے تمام علوم کا انکار کرتے ہیں اور خود کو جہالت کی عمیق گہرائیوں میں لا پھینکتے ہیں۔ یہ رویہ مذہب اسلام کے لیے کسی بھی طرح سے سود مند قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ اس سے یہ باطل تصور نکلتا ہے کہ اسلام کی بنیاد حقائق سے انکار پر ہے جب کہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ امام فرماتے ہیں ”وہ شخص اسلام کا شدید ترین دشمن ہے جو یہ یقین رکھتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کا دفاع ریاضیاتی علوم کے انکار کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یوں سمجھتا ہے کہ ان علوم کے مقابلے میں الہامی تعلیمات تہی دامن ہیں اور یا پھر یہ کہ مذہبی صداقتوں کے مقابلے میں یہ علوم طفلان شیر خوار ہیں“۔

3.5.21۔ فطری علوم

امام فطری علوم کو علم طب کے مماثل سمجھتے ہیں کہ جس طرح طب میں انسانی جسم سے متعلق تحقیق و جستجو کی جاتی ہے اسی طرح اس میں بھی کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش ہے اور اسلام طبی علوم کو رد نہیں کرتا لہٰذا فطری علوم کا رد بھی اسلام کے لیے لازم نہیں ہے لیکن ان علوم کے اس تصور کو پسندیدہ نہیں سمجھتے جو یونانی فکر کے بطن بطون سے نکلتی ہے اور اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ فطرت پسندی کا نظریہ ان علوم کا استخراج نہیں ہے بلکہ یہ ایک مابعد الطبیعیاتی تصور ہے جو ان علوم کی تفہیم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس تصور کی اصلاح کی ضرورت ہے کہ فطرت آپ اپنی مالک نہیں ہے بلکہ ایک مخلوق و واسطے کے طور پر اپنے افعال انجام دے رہی ہے۔ چاند، سورج، ستارے و سیارے سب رب کے تابع ہیں، کوئی شے ایسی نہیں ہے جو آپ اپنی مرضی کی مالک اور بدیہی طور پر وجود رکھتی ہو۔

المختصر کسی بھی سائنسی نظام فکر کے پس پشت مابعد الطبیعیاتی تناظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انہیں نہ صرف یہ کہ تعدیلی اہمیت کا نہ سمجھا جائے بلکہ یہ بھی اچھے طریقے سے جان لینا چاہیے کہ کسی بھی سائنسی نظام میں موجود عمومی حقائق کو ان سے جدا کر کے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اسلام فطری علوم کی حیثیت پر کارفرما یونانی فکر کو تو تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن تجرباتی حقائق کو بسر و چشم قبول کرتا ہے۔

4.5.21۔ سیاسیات و اخلاقیات

ہر چند کہ سیاسیات و اخلاقیات سے متعلق امام غزالیؒ نے مفصل گفتگو نہیں کی ہے لیکن یہاں ہم عمیق منہاجیات کی غرض سے نکات کا مختصر جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ سیاسیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”فلاسفہ کی سیاسی فکر عموماً اس الہامی پیغام سے مستعار شدہ ہے جو انبیاء کرام بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے لے کر آئے اور اس کے علاوہ اولیاء کرام کے افکار سے بھی خوشہ چینی کی ہے“۔ اخلاقیات کے علم کے متعلق بھی کم و بیش آپ کی یہی رائے ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر دو علوم میں آپ نے ایسے اضافے بھی کیے ہیں جن کا اطلاق علم سیاست پر بھی ہوتا ہے۔ ان فلاسفہ نے اپنے فضول کام کو چمکانے کے لیے ان تعلیمات کو اپنی طویل و بے مقصد بحثوں میں خلط ملط کرکے رکھ دیا ہے۔

5.5.21۔ مابعد الطبیعیات

یونانی فکر کے محاکمہ و تنقید کا اصل مقصد درحقیقت یونانی مابعد الطبیعیاتی عقائد کا بطلان ہی ہے۔ امام غزالیؒ مابعد الطبیعیاتی قضایا کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اول قسم میں وہ مباحث شامل ہیں جن میں الفاظ کے معنی و مفہوم پر بحث کی جاتی ہے مثال کے طور پر لفظ ”جوہر“ کو خدائے واحد کی ذات کے طور پر موسوم کیا جاتا ہے۔ اور اگر وجود حقیقی کے معنی و مفہوم پر اتفاق ممکن ہوجائے تو لفظ جوہر کے مفہوم کو اس سیاق میں اشتقاقی نقطۂ نظر سے جانچنا ہوگا اور اگر اس نقطۂ نگاہ سے لفظ جوہر کے اس استعمال کا جواز مل جائے تب بھی یہ سوال تشنہ ہی رہے گا کہ آیا مذہبی فکر اس استعمال کو سند بخشتی ہے یا نہیں۔ ا ور یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ درپیش تنازعہ کی لفظی اور غیر لفظی حیثیت جاننے کے لیے نہ صرف یہ کہ الفاظ کے عمومی استعمال کو سمجھا جائے بلکہ ان الفاظ کے عمومی معانی پر بھی اتفاق پیدا کیا جائے کیوں کہ یہ ضروری نہیں کہ افراد کے درمیان الفاظ کا یکساں استعمال ان کے معانی کی یکسانیت پر بھی دلالت کرتا ہو۔

دوسری قسم میں وہ فلسفیانہ نظریات شامل ہیں جو مذہب کے بنیادی اصولوں سے متخاصم ہیں مثلاً زمانے کے اندر تخلیق کائنات کا مذہبی تصور، خالق کائنات کے وجود کی صفات سے متعلق عقائد، قیامت میں اجسام کا دوبارہ اٹھایا جانا۔ ان تمام عقائد کا فلاسفہ نے صریحاً انکار کیا ہے۔

تیسری قسم میں ایسی چیزیں شامل ہیں جن پر فلاسفہ یقین رکھتے ہیں اور وہ مذہب کے کسی بھی اصول سے متخاصم نہیں ہیں۔ وہ فلاسفہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا فقط کلیات کا علم رکھتا ہے اور جزئیات سے اسے کچھ مطلب نہیں ہے۔ امام غزالیؒ نے اسے صریح کفر قرار دیا ہے۔ ”تہافتہ الفلاسفہ“ میں امام غزالیؒ نے تیسری قسم میں شامل قضایا سے بھرپور بحث کی ہے اور ان قضایا پر مشتمل نظام کی کجی و کمزوریوں کو بالکل واضح کر دیا ہے۔

6.21۔ تنقید کے مختلف تناظر

امام غزالیؒ نے مغربی فکر پر جو بھرپور تنقید کی ہے اس کو ہم مختلف سطحوں پر سمجھ سکتے ہیں: داخلی، خارجی، اقل حقوق اور لازمی

1.6.21۔ داخلی تنقید

داخلی تنقید کے باب میں تنقید کرنے والا اس مخصوص تناظر میں گفتگو کرتا ہے جس میں وہ رہتا بستا ہے اور اس کے مخاطب وہ لوگ ہوا کرتے ہیں جس معاشرہ میں وہ زندگی بسر کرتا ہے اور وہاں کی رائج شدہ اقدار برتتا ہے لیکن علمی و فکری برتری کے سبب و ہ ترویج شدہ نظریات میں نہ صرف یہ کہ کسی بھی قسم کی خرابی کو جان لیتا ہے بلکہ یہ اس کے سدباب کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ غزالیؒ کی تنقید داخلی تنقید نہیں ہے کیوں کہ فلسفہ کا محاکمہ پیش کرتے وقت آپ کی تمام تر وفاداریاں اسلامی فکر سے منسلک ہیں اور آپ اسلامی علمیت کی برتری کے بھی غیر متزلزل طور پر قائل ہیں۔ آپ کی محاکماتی تحریروں کا اصل مقصد یونانی فلسفہ کی بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور اس کی علمی برتری کے حوالے سے پھیلے ہوئے غلط العام تصورات کی بیخ کنی ہے۔ تاہم آپ علمی تحقیق کے اس انداز سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ کسی بھی تنقید کو موثر بنانے کے لیے خود اس کے درون میں کمزوریاں تلاش کی جاتی ہیں اور جس فکر کو تنقید کا ہدف بنایا جائے اس سے مکمل واقفیت و آگہی حاصل کی جائے وگر نہ بھرپور و جامع تنقید ممکن نہیں ہوگی۔ آپ فرماتے ہیں:

میری رائے یہ ہے کہ ایک شخص کسی بھی علم پر تنقید کا کوئی حق نہیں رکھتا جب تک وہ نہ صرف یہ کہ ان علوم کا اس قدر ماہر نہ ہوجائے کہ جس طرح خود اس علم کے ماہرین اسے گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں بلکہ وہ ان گوشوں پر بھی نگاہ ڈالنے کی اہلیت رکھتا ہو جو ان ماہرین کی نظر سے اوجھل رہے ہیں اس وقت اس کی تنقید کو اس علم کے حوالے سے اہمیت دی جائے گی۔

امام کے نقطہ نظر سے ”کسی نظام فکر کی مکمل تفہیم اور اس کی گہرائی و گیرائی کو سمجھے بغیر اس کی تردید کرنا عبث و بے فائدہ فعل ہے۔ اس نکتہ کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو امام غزالیؒ کی فکر اپنے پیش رو متکلمین سے جدا نظر آتی ہے کیوں کہ متکلمین کا عموی رویہ یہی رہا کہ وہ بنیادی فلسفیانہ فکر کو رد کرنے کے بجائے عالم اسلام میں موجود علمی بدعات پیدا کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ یونانی فلسفہ سے متعلق ان کا مبلغ علم اس قدر سطحی اور چند منتشر قسم کے قیاسات پر مشتمل تھا کہ اپنی تحریروں میں ان کا فلاسفہ سے کسی قسم کا مناظرہ موجود نہیں تھا۔ مبہم اور منتشر خیالات کے علاوہ ان کے دلائل اس قدر بکھرے ہوئے تھے کہ ایک عام فراست کا شخص ان سے دھوکا نہیں کھا سکتا تھا۔ یہ متکلمین یونانی فلسفہ کو ہدف تنقید بنانے کے بجائے ان لوگوں کے نظریات سے بحث کر رہے تھے جو آہستہ آہستہ اہل اسلام میں در آئے تھے اور شریعت اسلامیہ کی صورت مسخ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس ضمن میں وہ یونانی فلسفہ سے مستعار شدہ تصورات اور تکنیک سے بھی مدد لے رہے تھے۔ یونانی فکر سے بحیثیت مجموعی ناواقفیت کی بنا پر ان متکلمین کا انداز تنقید خارجی و آلاتی تھا۔ جب علم الکلام ایک باقاعدہ علم کی صورت میں ظہور پذیر ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو متکلمین نے شریعت کے دفاع کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں اور جواہر و حوادث بشمول ان کی ماہیت و خصوصیت سے متعلق مقاصد میں مشغول ہوگئے لیکن وہ ان مسائل پر بھرپور و جامع طریقے سے غور و فکرنہ کر سکے جس کے نتیجے میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو انسانی فکر کو گمراہیوں سے مکمل طور پر نجات دلاسکتے۔

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ متکلمین کا مخاطب وہ گروہ تھا جو اسلام کے بنیادی نظریات و عقائد پر ایمان رکھتا تھا لیکن کچھ اصولوں کی تشریحات میں وہ معروف سے اختلاف کیا کرتے تھے اور بیرونی فکر کے استدلال کو اصولیات دین کے سمجھنے میں استعمال کو مستحسن سمجھتے تھے۔ یہاں ا گر دورِ حاضر کی کیفیت پر نگاہ دوڑائی جائے تو آج بھی ایک گروہ اسی نوعیت کی کوشش و کاوش میں مصروف عمل ہے یعنی آج کی غالب سائنسی فکر کے پیش کردہ حقائق کو درست تسلیم کرتے ہوئے اسلامی عقائد کو ان کی مدد سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں یہ نکتہ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اس قسم کے استدلال فقط ان لوگوں کو قائل کرسکتے ہیں جو پہلے ہی اسلامی فکر کی برتری کے قائل ہیں لیکن سائنسی علوم کے تربیت یافتہ افراد کے لیے اس قسم کے استدلال ناقابل قبول ہوا کرتے ہیں۔ کسی بھی نظام کی مکمل تنقید کے لیے جس طرح کی تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے وہ علم الکلام میں شاذ ہی نظر آتی ہے۔ علم الکلام کے مباحث زیادہ تر شریعت اسلامی کے دفاع سے متعلق ہیں کہ بیرونی فکر سے متاثر افراد کی نت نئی اختراعات کو استدلال کے ذریعے غلط اور غیر مربوط ثابت کیا جائے اور تضادات سے بھرپور ان کی فکر کے منفی اثرات و نتائج کو بھی واضح کیا جائے۔ اس قسم کے طریقۂ کار مخالفین کے اس گروہ کے لیے تو کارآمد ہوسکتے ہیں جو اﷲ اور اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ جو عقل و خرد کی برتری کے قائل ہیں ان کے لیے یہ بے فائدہ و لاحاصل ہیں۔ اس فکر کے حامل افراد کے لیےدرست طریقہ یہ ہے کہ مخالف کی فکر کے بنیادی اصولوں کو جہاں تک ممکن ہو سکے اس کی مکمل گہرائی و گیرائی کے ساتھ تفہیم حاصل کی جائے اور اس نظام فکر کی بنیاد میں موجود التباسات و تسامحات کو واضح کیا جائے تاکہ خود اس کے بطن بطون سے اس کی تباہی جنم لے۔ جس بات کا ادراک بہت کم کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے سے تسلیم شدہ دلائل سے تسلیم کروانا بے کار محض ہے۔ سائنس کے متعقدین کے لیے دوسرے قسم کے دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام کلام کے اثرات کو رد نہیں کر رہے مگر ان کے خیال میں یہ اسی طرح ہے جیسا کہ دوائیں مرض کی نوعیت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بدلتی جاتی ہیں۔

امام کی زیادہ تر منہاجیات ان اصولوں پر مبنی ہے کہ اپنے مخالفوں پر تضادات کو واضح کرنا اور جو منطقی نتائج وہ تسلیم کر چکے ہیں، کے حوالے سے تنقید کرنا۔ یہ طرزِ عمل ان مخالفین کے لیے ہے جو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہیں، درست ہے؛ مگر ان مخالفین کے خلاف جو کچھ بھی تسلیم نہیں کرتے یہ طریقہ تنقید لاحاصل ہے۔ اس طرح کے مخالفین کے لیے ضروری ہے کہ مخالف کے طریقہ کار کو ممکنہ حد تک استعمال کیا جائے اس حد تک کہ اپنا ضابطہ اخلاق متاثر نہ ہو اور اس نظام کی بے ربطی کو ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے اس طرح وہ اندرونی طور پر ہی تباہ ہوجائیں گے۔

کسی بھی فکری نظام میں موجود ربط کو دو طرح سے سمجھا جاسکتا ہے: منطقی ربط اور مجموعی نظام کا ربط۔

منطقی ربط کسی نظام کے (صوری) اندرونی ربط سے متعلق ہوتا ہے۔ اس نوع کی تنقید (جس کا مقصد کسی نظام میں موجود صوری ربط کی صحت کو جانچنا ہو) کو ”اقل کل تنقید“ کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے جب کہ انتظامی ربط سے مراد کسی نظام کے اندرونی ربط کو مکمل طور پر ساختی اور وجودی طور پر سمجھنا ہے۔ جب امام غزالیؒ فلاسفہ مغرب کے افکار کی اندرونی بے ربطیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں تو اس کا مقصد فقط فلسفیانہ عقائد و نظریات میں موجود کمزوریوں کی نشان دہی نہیں بلکہ وہ اس مخصوص علمیت کے تضادات کو بھی بڑی صراحت کے ساتھ واضح کرتے چلے جاتے ہیں جس میں عقل مخفی کو خود مکتفی اور واحد رہنما کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔ بایں وجہ امام غزالی کے رد و اعترضات کو جز کی شکل میں نہیں بلکہ کل کے طور پر سمجھنا چاہیے اور اسی بنیاد پر امام غزالیؒ کی تنقیدی فکر ایک خاص مقام کی حامل ہے کہ یہ کسی نظام کے خارجی و داخلی ہر دو پہلوؤں سے مکمل طور پر بحث کرتی ہے۔ اس کی وضاحت یوں سمجھ لیجیے کہ جس طرح متکلمین نے غیر اسلامی فکر پر تنقید مرتب کرتے ہوئے ہمیشہ اسلامی علمیت کی برتری کو جزو ایمان سمجھا اور اس کو محور و مرکز بناتے ہوئے باطل فکر کو ہدف تنقید بنایا اس انداز فکر کو بیرونی تنقید کا عنوان دیا جاسکتا ہے جب کہ دوسری جانب خارجی تنقید کے ضمن میں اس نظریہ کی مکمل طور پر تفہیم حاصل کی جاسکتی ہے جس پر تنقید کا مقصد یہ ہوتا کہ اس استدلال کی غلطی و کجی کو خود اس کے دروں سے واضح کیا جائے۔ ہر چند کہ امام غزالیؒ کی یونانی تنقیدی فکر مکمل طور پر مربوط حیثیت کی حامل ہے لیکن اس کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس سے اس کی مربوط حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس فکر کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے دیکھا جاسکتا ہے۔ اول یہ ثابت کرنا کہ فلاسفہ جن تصورات کو بدیہی و غیر مشکوک تصور کرتے ہیں وہ بدیہی نہیں ہیں۔ دوسرے مرحلے میں امام غزالیؒ کچھ اپنے متبادل نظریات پیش کرتے ہیں جنہیں فلاسفہ کے تصورات کی مانند بدیہی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس طرح اس بنیادی دعویٰ کی حیثیت کو کمزور کر دیتے ہیں کہ ان کی فکر کی بنیاد عقل کی مدد سے حاصل کردہ بدیہی قضایا پر ہے۔ امام غزالی فلاسفہ کے تحقیق کائنات کے نظریہ کو غیر منطقی اور لایعنی تصور کرنے سے یوں بحث کرتے ہیں۔

آپ حضرات کو یہ کیوں کر علم ہواکہ کسی بھی وقوعہ کی ابتدا اردۂ الٰہی کو قرار دینا غیر منطقی و محال ہے؟ آیا اس کے پس پشت کوئی ناقابل تردید بدیہی عقلی دلیل ہے یا کوئی اور نظریاتی بنیاد ہے اور کیا آپ کے اس بیان میں کوئی حد اوسط موجود ہے یا نہیں؟ اگر معاملہ یہ ہے کہ اس بیان میں حد اوسط موجود ہے اور آپ استخراجی طریقہ کار کے عامل ہیں تو آپ کو یہ بتانا پڑے گا کہ وہ حد کیا ہے اور اگر آپ اسے بدیہی قرار دیتے ہیں تو آپ کے مخالف اس کو کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ جب کہ وہ لوگ جو کائنات کو حادثہ تصور کرتے ہیں ایک خاصی بڑی تعداد میں موجود ہیں لہٰذا فلاسفہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ منطق کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے کائنات کی ابتدا کو ارادۂ الٰہی کے تابع ہونے کو محال قرار دیں۔

درج بالا استدلال کی مدد سے نہ صرف فلاسفہ کے عقائد و نظریات کے غیر حقیقی پن کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ان کے استدلال میں ربط کا بھی پتا چلتا ہے کہ یہ فلاسفہ ریاضی اور منطق کے اظہاریوں سے متعلق یکساں رائے کا اظہار کرتے ہیں لیکن مذہبی اور مابعد البطیعیاتی عقائد کا معاملہ آتا ہے تو نزاع کی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اگر صداقت تک رسائی کے لیے عقل ہی واحد رہنما اور راہ بر ہوتی تو اس کے مقلدین کے درمیان یہ تفرقات جنم نہ لیتے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:

ان فلاسفہ کے ہاں کوئی شے مستقل وغیر متغیر نہیں ہے۔ ان کے تمام بیانات اندازوں اور قیاسات پر مبنی ہوا کرتے ہیں اور ان کا واسطہ نہ تو مذہبی عقائد سے ہوتا ہے اور نہ ہی ان کو تجربی طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے۔ وہ ریاضیاتی اور منطقی علوم کی مدد سے مابعد الطبیعیاتی نظریات اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر ریاضیاتی علوم کی مانند ان کے مابعد الطبیعیاتی عقائد و نظریات بھی قطعی و مستند ہوتے تو ان کے درمیان اختلاف کی کوئی صورت نہ ابھرتی۔

سطور بالا میں واضح طور پر امام غزالیؒ اس نکتہ کو بیان فرماتے ہیں کہ اگر یہ مابعد الطبیعیاتی عقائد غیر مشکوک، واضح اور قطعی ہوتے تو ان میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فلاسفہ اپنے استدلال کو مستحکم کرنے کے لیے ان خود ساختہ عقلی اصولوں پر انحصار نہیں کر سکتے اور اس سے ایک نتیجہ یہ بھی برآمد ہوتا ہے کہ ان مسائل کی نوعیت ایسی نہیں ہے کہ جنہیں کسی نوع کے واقعاتی یا تاریخی شواہد کی مدد سے حل کیا جاسکے۔ اسی طرح یہ دلیل بھی ثابت کرتی ہے کہ اختلاف منطقی تضاد سے نہیں ابھرتا اور نہ یہ ابھر سکتا ہے اور ثبوت کی ذمہ داری فلاسفہ پر ہے جو مابعد الطبیعیاتی عقائد کے واضح اور عقلی اصولوں کے مطابق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

امام غزالیؒ کے پس پشت کارفرما مقصد یہ ہے کہ عقل کے خود مکتفی و رہنمائے واحد کے نظریہ کے بودے پن کو ثابت کیا جائے اور یہی آپ کی فکر کا نہایت اہم نکتہ ہے۔ مابعد الطبیعیاتی عقائد سے متعلق بیانات اپنی نوعیت میں ترکیبی ہوتے ہیں جن کے لیے حد اوسط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ استخراجی طریقہ کار کے درست ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ بنیادی قضا یا بد یہی اور غیر مشکوک ہوں جب کہ امام یہ ثابت کر چکے ہیں کہ مابعد الطبیعیاتی عقائد کا اظہار کرنے کے والے بیانات کے لیے یہ شرط ضروری نہیں۔ اگر بنیادی قضا یا بدیہی وغیر مشکوک نہیں ہیں تو اس سے کوئی لازمی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ دوم نتیجہ کی لزومی حیثیت ثابت کرنے کے لیے حد اوسط کا ہونا ضروری ہے جب کہ مابعد الطبیعیاتی بیانات کی نوعیت تحلیلی کی بجائے ترکیبی ہوتی ہے لہٰذا ان بیانات میں حد اوسط کا ہونا ممکن نہیں۔ اب اگر تحلیل و تجزیہ کی مدد سے حد اوسط کو نہیں سمجھا جاسکتا تو کچھ ایسے ذرائع ضرور ہونے چاہییں جن کی مدد سے حد اوسط تک رسائی ممکن ہو۔ اس ضمن میں یونانی فلاسفہ کا خیال تھا کہ عقل میں بذات خود وجدانی و انکشافی صلاحیت موجود ہے جس کی مدد سے وہ علم میں خاطر خواہ اضافہ کو ممکن بناتی ہے اور اسی صلاحیت کی بدولت بدیہی و قطعی قضایا بھی وضع کیے جاتے ہیں۔ مغربی فلاسفہ کے غیر منطقی لزومیت کے خود مکتفی ہونے کے نظریہ پر یقین کی بنیاد یہی ہے جس کو امام غزالیؒ بالخصوص ہدف تنقید بناتے ہیں۔

عقلی لزومیت کے اس نظریہ کے بودے پن کو ثابت کرنے کے لیے امام ایک اور طریق استدلال کا سہارا لیتے ہیں جسے دلائل تضمین کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ اس طریق استدلال میں امام ایک دوسرے استدلال جسے فلاسفہ یونان بدیہی تصور کرتے ہیں کو غلط اور لغو ثابت کرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر ابتدائی استدلال کو بھی مہمل قرار دیتے ہیں اور یہ نکتہ نکالتے ہیں کہ عقلی لزومیت کا نظریہ اس قدر بدیہی و قطعی نہیں ہے کیوں کہ اگر کسی ایک استدلال کو مشکوک ثابت کر دیا جائے تو منطقی عقلی لزومیت اور خود وجودیت کا مکمل نظریہ مشتبہ و غیرہ بدیہی قرار پاتا ہے۔ لہٰذا جب وہ کائنات کی ابدیت کے نظریے سے بحث کرتے اور اس میں شامل عقلی لزومیت اور خود مکتفی کو اس کے اجزاء کے طور پر لیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی وہ افلاطون کے پیش کردہ روح کی ابدیت کے نظریہ کو بھی شامل بحث کرلیتے ہیں جسے وہ اسی انداز میں بدیہی و قطعی سمجھتاتھا۔ امام غزالیؒ افلاطون کے عقیدے کو یوں بیان کرتے ہیں:

”افلاطون کا خیال تھا کہ روح ابدی ہے اور جب اجسام میں جاتی ہے تو یہ تقسیم ہوجاتی ہے اور اجسام سے نکل کر واپس اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتی ہے“۔ امام اس عقیدے کو دلائل تضمین کی مدد سے تجزیہ کرتے اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بدیہی نہیں ہے۔

”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ اس درجہ قابل مذمت ہے کہ اسے فوری رد کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا زید کی روح عمر کی روح کے مماثل ہے؟ اگر اسے مماثل قرار دیا جائے تو یہ نہایت لغو بات ہوگی۔ زید و عمر دونوں اپنے وجود سے بخوبی واقف ہیں لہٰذا وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دونوں آپس میں یکساں خصوصیات کے حامل نہیں۔ اگر ارواح اپنی نوعیت میں مماثل ہوتیں تو وہ یقیناً وقوفی حیثیت میں بھی یکساں تصور کی جاتیں جو ارواح کی لازمی و ضروری صفات ہیں۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ زید کی روح عمر کی روح سے اپنی نوعیت میں مختلف ہے اور دونوں ارواح کے دو مختلف اجسام میں منقسم ہونے کے نتیجہ میں ایک دوہریت وجود میں آتی ہے گوہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس جوہر کی تقسیم جسے روح کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور جس کو کسی ماہیت یا مقدار کی اکائیوں میں نہیں سمجھا جاسکتا، قطعی ناممکن و محال ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ روح جو اکائی کی شکل میں ہے اسے ہزاروں حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور پھر دوبارہ اسی سابقہ اکائی میں واپس آجائیں۔ اس نوعیت کا عمل فقط ان اشیاء کے ساتھ ممکن ہوتا ہے جو کسی مقدار اور ماہیت کی حامل ہوں۔ مثال کے طور پر سمندر کے پانی کو دریاؤں وغیرہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے اور ان کا دوبارہ سمندر کی صورت بن جانا بھی ممکن ہے لیکن ایک غیر مقداری بے ماہیتی شے کو کس طرح منقسم کیا جاسکتا ہے؟

ایک ایسا استدلال جس کی علمی حیثیت کو قطعی و غیر مشکوک سمجھا جاتا تھا اس کی کمزوری کو مکمل طور پر واضح کر دیا۔ اس کے بعد آپ اس استدلال کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو اصل موضوع بحث ہے۔ اس تمام استدلال کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ کائنات کی بذریعہ ارادۂ الٰہی کی تخلیق کے نظریے کو اپنے مخالفین کے لیے نہیں چھوڑ سکتے تھے جب کہ وہ ایسی کوئی چیز دلیل کے برعکس ثابت نہ کردیں مگر جب یہی دعویٰ ان کے فلاسفہ نے اپنے عقیدے کو جھٹلاتے ہوئے کیا تو ان کے لیے اس تنقید پر خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں رہا۔ اور یہ ایک ناقابل فرار حالت تھی۔

امام غزالیؒ نے اسی طریقہ استدلال کے ساتھ کام لیتے ہوئے فلاسفہ کے انکار تخلیق کائنات بذریعہ وحی الٰہی کے نظریہ سے بحث کی ہے۔ ”فلاسفہ کا بیان ہے کہ اگر کائنات کی تخلیق ارادۂ الٰہی کے ماتحت ہوتی ہے تو یہ اب کیوں ہوا اور اس سے پہلے کیوں نہ ہوا؟“

آپ جواباً یوں بحث کرتے ہیں ”ایسا کیوں کر ہوا کہ شمال و جنوب میں دو نقاط کو قطبین تصور کر لیا گیا؟ کیا وجہ ہے کہ دائرة البروج کا رہ گزر کسی اور دو نقاط سے نہیں ہوا؟ اس طرح تو دائرة البروج کے مخالف نقاط کو بھی قطبین قرار دیا جانا چاہیے تھے؟ بہشت کی ماہیت و جسامت میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوسکتی ہے لیکن ایک قطب کو کسی بھی دوسرے مقام سے کیوں کر ممیز کیا جاسکتا ہے؟ یا وہ کیا وجہ تھی جس کی بنا پر کسی مخصوص نقطہ کو دیگر تمام نقاط کے مقابلے میں ایک قطب کے طور پر منتخب کر لیا گیا؟ کیا تمام نقاط مشابہ نہیں ہیں جیسا کہ ایک دائرہ کے تمام اجزا مساوی ہوتے ہیں؟ فلاسفہ اس مسئلہ کو کسی صورت میں بھی حل نہیں کر سکتے۔ اس تمام گفتگو سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ فلاسفہ کا عقلی لزوم اور خود وجودیت پر ایمان اور اساس کی بنیاد پر تمام عقائد کی پرکھ فکر کی گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے اور خود یہ فلاسفہ اس درجہ اہلیت کے لائق نہیں کہ وہ فطرت اور مظاہر فطرت کی اپنی واقعاتی تشریح کے دفاع میں مضبوط و مستحکم استدلال پیش کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس داخلی سقم کی بھی آگہی ملتی ہے کہ دوسروں کے عقائد و نظریات پرکھنے کے لیے جن براہین سے کام لیا جاتا ہے خود اپنے افکار کے سلسلے میں ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔

امام غزالیؒ نے اپنی تنقیدی فکر میں جس استدلال سے کام لیا ہے اسے متکلمین از منہ وسطیٰ کے دانش وروں اور مناظرہ کے فن میں اساتذہ کا درجہ رکھنے والوں کے ہاں ”الجواب الالزامی“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے لیکن یونانی مابعد الطبیعیات کے ضمن میں اس طریقہ استدلال کو امام غزالیؒ کی بدولت ایک نیا عروج حاصل ہوا۔ اس انداز تنقید میں ایک جانب تو داخلی تنقید مرتب کی جاتی ہے اور مخالف عقیدہ کی صحت کو پرکھا جاتا ہے دوسری جانب اپنے عقائد و نظریات کو مخالف کے اصولوں کی نذر نہیں کرتے اور ان پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو اس سے ایک منفی سا تاثر ابھرتا ہے کہ یہ انداز فکر مخالف کو تو سوالات کے کٹہرے میں لاکھڑا کرتا ہے جب کہ خود پر کسی نوع کا اعتراض وارد نہیں ہونے دیتا اور اس کی علت یہ ہے کہ ابتدائی طور پر مدمقابل کو خود اپنے وضع کردہ معیارات کے مطابق اپنے دعووں کو ثابت کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور اس میں کسی خارجی معیار کو شامل نہیں کیا جاتا لیکن خود اپنے نظریات کو ان کے معیارات کے مطابق جانچنے کی اجازت نہیں دیتے کیوں کہ اس سے ماقبل وہ ان معیارات پر دلائل کی مدد سے اپنے شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں مہمل و بے معنی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ ممکن نہیں رہتا کہ ان معیارات کی بنیاد پر ان کے عقائد و نظریات کو پرکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطحوں پر مختلف دلائل کی ضرورت پڑتی ہے جس کا تفصیلی بیان اوپر آچکا ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

  1. اس بنیادی دعویٰ کو رد کرنا کہ مابعد الطبیعیاتی عقائد اور دیگر تنازعوں کی بنیاد کسی قسم کی قطعیت پر ہے اور جواب میں ایسی مثالیں پیش کرنا جس کی مدد سے ان کے متبادل دعووں کو بھی مذکورہ دعووں کی طرح قطعیت کا حامل نہ قرار دیا جائے۔
  2. مخالف کے عقائد و نظریات میں موجود تاریخی و واقعاتی اغلاط کو واضح کرنا۔
  3. مخالف کے عقائد و نظریات میں موجود منطقی تضادات واضح کرنا۔
  4. ان نکات کی مدد سے عقل خود مکتفی کے نظریہ کے ابہام کو واضح کرنا۔ اس ضمن میں اوپر بحث کیے گئے دلائل تضمین کو بھی شامل استدلال کی گیا ہے۔

2.6.21۔ خارجی تنقید

خارجی تنقید سے مراد خود آپ اپنے وجود سے جدا دیگر افکار کو پرکھنا و جانچنا ہے۔ بیرونی فکر کی صحت کو اس طرح بھی پرکھا جاسکتا ہے کہ اس کے اندرونی ربط کو دیکھا جائے کہ وہ اپنے ذروں میں کس قدر مربوط و منضبط ہیں اس کے علاوہ خود ان کے وضع کردہ معیارات کی بنیاد پر بھی ان کے افکار کی صحت میں آزمائش کی جاسکتی ہے جیسا کہ عقل کی فضیلتوں کی تنقید کے بیان میں امام غزالیؒ کے ہاں دیکھا جاسکتا ہے۔

داخلی و خارجی ہر دو تنقیدات کا یہ امتزاج اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ عقل کی موثر فضیلتوں کو درست طور پر سمجھا جائے اور اس اشتراک کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دیگر عقائد و نظریات کو کمزور و غیر مستحکم ثابت کر دیا جائے۔ اس سطح پر ہمیں ہر قسم کے تیر و تفنگ سے کام لینا پڑے گا لہٰذا اس امر کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ حالت جنگ کی نوعیت کو درست طور پر سمجھتے ہوئے ہر طرح کی تنقید کو ایک کل میں سمو کر مخالف کی پوزیشن کو کمزور کیا جائے۔ درحقیقت ہم آج ایک خاص طور کی حالت جنگ میں ہیں جو عقائد و نظریات کی برتری کی جدوجہد ہے جس میں ہر سو فریقین مصروف عمل ہیں ا ور اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایسا ماحول یا فضا تخلیق کی جائے جو ہمارے حق میں ممد و معاون ثابت ہو اور مخالف افکار کے لیے غیر معاونت کا سبب بنے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اس فضا کے سازگار ہونے میں ماہ و سال نہیں صدیاں لگ سکتی ہیں۔ یہ ایک طویل المیعاد علمی و تہذیبی جنگ ہے اور کسی بھی جنگ کی مانند اس میں بھی کبھی اقدامی حالت ہوگی تو کبھی پسپائی کی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی، کبھی شب خون مارنا پڑے گا تو کبھی دبک کر بیٹھ جانے میں عافیت ہو گی۔ غرض ہر طرح کی تدبیر سے کام لینا ہوگا۔ امام فرماتے ہیں:

یہ خوب جان لو کہ ہماری جدوجہد کا مقصد ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو فلاسفہ یونان پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں اور ان کی فکر کو کسی بھی نوع کے اشتباہ سے مبرا و منزہ سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یونانی فکر میں موجود تضادات و اغلاط کو مکمل طور پر عیاں کیا جائے اوراسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اپنی فکر کے بجائے ان عقائد و نظریات پر حملہ آور ہوا جائے۔

یہاں اس نکتہ کو مکمل اہمیت کے ساتھ محسوس کیا جانا چاہیے کہ داخلی و اندرونی تنقید کے دوران امام غزالیؒ نے اپنے اعتقادات کی حیثیت کو ہمیشہ برتر محسوس کیا اور آپ کی فکر کے مکمل مطالعہ میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ وہ کسی قسم کی مصالحت آمیز فکر کے قائل نہیں لیکن آپ اس کے قائل ضرور ہیں کہ ایک مضبوط و مستحکم تنقید مرتب کرنے کے لیے یونانی فلسفہ کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے مکمل ادراک حاصل کیا جائے اور خود اس فکر کے اندر سے تنقید کے لیے کمزور گوشے تلاش کیے جائیں۔ مزید برآں یہ کہ آپ کسی بھی نوع کی معروضیت یا تجریدیت کے قائل نہیں ہیں۔ آپ کی تمام تر گفتگو اسلامی علمیت و صداقت کی برتری کے حوالے سے متشرع ہے جب کہ یونانی علوم و فلسفہ کو آپ کفریہ عقائد کا مجموعہ تصور کرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ یہ بنیاد تصور کیے بغیر مغربی تہذیب کا کسی قسم کا اسلامی محاکمہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اصولی طور پر یوں کہہ لیجیے کہ اندرونی تنقید کو خارجی تنقید کے تناظر میں ہی سمجھاجانا چاہیے۔

امام غزالیؒ واضح طور پر یہاں فرماتے ہیں کہ عقلی بنیادوں پر صداقت کا حصول ممکن نہیں ہے بلکہ فقط وحی الٰہی اور رحمت خداوندی وہ کنجی ہیں جن کی بدولت انسان راہ حق پاسکتا ہے۔ کسی فرد کا کفریہ عقائد سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لینا خداوند تعالیٰ کی عطا سے ہی ممکن ہے، اس میں کسی منطقی استدلال اور عقلی موشگافیوں کو کچھ دخل نہیں ہے۔ اندرونی تنقید کے باب میں یہ باور رکھنا چاہیے کہ آپ عقل کی خود مکتفی حیثیت کے قائل نہیں ہیں۔ اس کے برعکس خارجی تنقید کو خاص اہمیت دیتے ہیں کہ جس کے تحت اندرونی تنقید اپنا تاثر قائم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داخلی تنقید کی نوعیت منفی ہوا کرتی ہے جب کہ اس کے اثبات کو خارجی و بیرونی تنقید کے باب میں سمجھا جاسکتا ہے۔

مطلق سچائی تک پہنچنے کے لیے کوئی عقلی میدان موجود نہیں ہے۔ مطلق سچائی تک رسائی کا انحصار مکمل طور پر رحمت خداوندی اور رہنمائی پر ہے۔ یہاں تک کہ ان کے کام کا بے جا طور پر کارتیسی نظریات سے موازنہ کیا گیا ہے۔ امام واضح طور پر کہتے ہیں کہ کسی شخص یا گروہ میں تبدیلی (یونانی عقیدہ سے اسلام میں) کا انحصار رحمت خداوندی پر ہے نہ کہ محض دلیل کی خود انحصاریت پر۔ امام غزالی کی داخلی تنقید دلیل کی خود انحصاریت پر دلالت نہیں کرتی بلکہ یہ مستقل طور پر خارجی تنقید کے ضمن میں دیے گئے مواد کی تصدیق کرتی ہے۔ لہٰذا اندرونی تنقید خارجی تنقید کی دلالت کی حد تک منفی ہے۔

اب امام غزالی کی سطور کا جائزہ لیجیے۔

یہ امر طے شدہ ہے کہ مطلق صداقت تک رسائی کسی دلیل یا عقل کی بدولت نہیں بلکہ خدا کی رحمت کی بدولت ہوا کرتی ہے۔ جسے وہ راہ راست پر رکھنا چاہتا ہے اس کے دل میں اپنا نور داخل کردیتا ہے اور یہ نور خداوندی کا ایک جزو لازم ہے۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے کسی نے جب شرع کے معنی دریافت کیے اور اس آیت کے حوالے سے مطلب پوچھا کہ ”جب خدا کسی کو راہ راست پر لانا چاہتا ہے تو اس کے سینے کو اسلام یعنی خدا کی محبت کے لیے کھول دیتا ہے“ تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ وہ نور عظیم ہے جسے خدا دل میں داخل کردیتا ہے“۔ پوچھا گیا ”اس کی نشانی کیا ہے؟“ فرمایا ”ایسا شخص گمراہی کے اندھیروں سے نکل کر فکر آخرت کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے“۔ اس نورِ خداوندی کے متعلق آپ کا ارشاد ہے ”خدا نے مخلوق کو تاریکی میں تخلیق کیا اور پھر ان میں اپنا نور پھونکا“۔ اسی نورِ خداوندی کی بدولت ہی اشیاء کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے اور یہ نور متعین عرصہ میں رحمت خداوندی کی جانب سے پھوٹتا ہے، اس کے قرب و دیار کے لیے یقیناً کوشش کرنا چاہیے۔ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ ”آج اس دور میں رب کائنات کی رحمتوں کا دریا عروج پر ہے لہٰذا زیادہ سے زیادہ خود کو سیراب کرنے کی کوشش کرو“۔

کوئی اندرونی تنقید اسلامی عقائد و شعائر کو تسلیم کیے بغیر حق تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی اور تمام دیگر نظریات کو اسلامی علمیت کی بنیاد پر ہی جانچا پرکھا جائے اور یہ فقط خارجی تنقید کے ضمن میں ہی ممکن ہوتا ہے کہ دیگر عقائد کی مکمل تفہیم اور ان پر تنقید اسلامی فکر کو معیار سمجھتے ہوئے کی جائے۔ یہاں تہافہ کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے جو خالص اسلامی علمیت کے ساتھ ہی مخصوص ہے کہ اپنے عقائد کو ترک کیے بغیر مختلف نظام ہائے فکر پر ان کے بطن بطون سے تنقید مرتب کی جائے۔ اس طرح داخلی و خارجی ہر دو انداز تنقید کا منفرد امتزاج دیکھنے میں آتا ہے۔

اسلام یک آفاقی پیغام کا حامل مذہب ہے جس کی ترویج اشاعت کے لیے ابتدائے کائنات ہر قوم و نسل میں انبیاء کا ظہور ہوا۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کا گروہ جس قدر بھی صراط مستقیم سے کیوں نہ ہٹ جائے ان کے قلوب میں حق کی روشنی کی کوئی نہ کوئی کرن ضرور موجود ہوگی جسے کوشش و کاوش سے مزید روشن کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کا ہر علم اپنے دور میں خیر کاکوئی نہ کوئی پہلو ضرور پوشیدہ رکھے ہوئے ہے جو دراصل کسی نہ کسی طور پر انبیاء کی تعلیم کا استخراج ہے جنہوں نے خدا اور آخرت پر یقین کو ہمیشہ مرکزی حیثیت دی۔

ایسے افراد جو ان بنیادی اصولوں سے منکر ہیں انہیں مکمل طور پر گمراہ سمجھنا چاہیے اور ان کے علمی مقام کو اہمیت دینے کی بھی چنداں ضرورت نہیں اور نہ ہی ان کی گفتگو پر دھیان دیا جائے۔ یہ لوگ درحقیقت شیاطین کے بہکاووں میں آکر گمراہی و جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرچکے ہیں۔ ایک باشعور و فہیم شخص یقیناً غلط العام تصورات سے فوری چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جنہیں گمراہی و ضلالت کا شکار ان قوموں کو حکمت و دانش کا شاہ کار سمجھا جاتا ہے۔

اس سیاق میں امام غزالیؒ کی فکر کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یونانی فلسفہ میں موجود ان عناصر کو سمجھا جائے جو صداقت کے حصول اور کذب سے برأت کے اظہار میں معاونت کا سبب بنتے ہیں۔ اس مقصد کے تحت آپ ہر دو ادوار کے یونانی فلسفہ کے نظریات کے درمیان امتیاز کرتے ہیں تو دوسری جانب یونانی فکر و فلسفہ کے مختلف مکاتب کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ اول جز کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:

یہ کتاب (تہافہ) اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ قدیم فلاسفہ کے وہ مقلدین جنہیں دہریے تصور کیا جاتا ہے وہ دراصل اس الزام کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے مذہبی قوانین کا کبھی انکار نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ نہ صرف وجود باری تعالیٰ کے قائل ہیں بلکہ انبیاء کرام پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ معاملات میں وہ التباس کا شکار ہو کر صراط مستقیم سے بھٹک گئے اور دوسروں کے لیے بھی گمراہی کا سبب بنے۔ ہم اس تصنیف میں ان کی غلطی کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جن کی بنا پر وہ باطل کا آلۂ کار بن گئے۔

آپ یونانی فلسفہ کو ان کی فکر کے اعتبار سے تین مکاتب میں تقسیم کرتے ہیں: مادیت پسند، فطرت پسند، مذہب پسند۔

ان مکاتب فکر سے متعلق امام کی رائے کو مختصر طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

آپ مادیت پسند کو فلاسفہ کا وہ گروہ تصور کرتے ہیں جو کائنات کی ابدیت کے قائل ہیں کہ یہ ازل سے موجود ہے۔ یہ گروہ خالق کائنات کا بھی منکر ہے۔ امام غزالی اس فکر کے حامل افراد کو کافر و زندیق کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

دوسرے گروہ میں وہ حکماء شامل ہیں جو عالم فطرت سے متعلق تحقیقات میں دلچسپی لیتے رہتے ہیں اور حیوانات کے اعضاء جسمانی کی جراحت کے علم کے بارے میں ان کی کاوشیں قابل ذکر ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ تخلیق کے عمل میں گہری تفہیم اور عجائبات عالم پر اس قدر شدید غور و فکر کے بعد بھی انہیں یہ احساس نہ ہوا کہ اس عالم آب و گل کے پس پشت اک عظیم ہستی کارفرما ہے جو علیم و خبیر ہے اور جس نے اس تمام کائنات کو خلق کیا ہے۔ اس کے بجائے وہ فطرت کو خود مکتفی اور ماننداز خدا سمجھنے لگے۔ وہ ذات باری تعالیٰ کے انکاری نہیں تھے بلکہ وہ یقین رکھتے تھے کہ خدا کائنات کی تخلیق کے بعد کائنات سے ایک معنوں میں لاتعلق ہو گیا ہے اور اب وہ قوانین فطرت یا انسانی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا۔ ان کا یہ تصور خدا بعد کے اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے فطرتیت پسندوں کے گھڑی ساز خدا کے نظریہ کے مماثل نظر آتا ہے۔ آپ ان کے عقائد کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ موت روح کو آتی ہے اور وہ دوبارہ زندگی کی طرف نہیں لوٹتی اس کے علاوہ دوزخ، بہشت کی ابدی زندگی، اجسام کے دوبارہ اٹھائے جانے اور پھر ان کے بھی مماثل نہیں یعنی آخرت فرماں برداروں کے لیے جزا اور گناہ گاروں کے لیے عذاب کا عقیدہ ان کے لیے درست نہیں ہے۔

امام غزالی ان لوگوں کا شمار بھی کافروں میں کرتے ہیں کہ یہ خدا اور اس کی صفات کے تو قائل ہیں لیکن روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔

تیسرے گروہ میں سقراط، افلاطون اور ارسطو کے نام قابل ذکر ہیں۔ امام کی رائے میں خدا پرستوں کے اس گروہ نے مادیت پسندوں اور فطرت پرستوں کے نظریات پر اس درجہ کڑی تنقید کی کہ مزید کچھ کہنے کی گنجائش معلوم نہیں ہوتی اور قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہے کہ:

”خدا نے ان کی آپس کی لڑائی میں ایمان رکھنے والوں کو بخش دیا“۔ تہافۃ الفلاسفہ میں اسی قسم کے کلمات معتزلہ اور دیگر گروہوں کے بارے میں بھی موجود ہیں۔ چنانچہ امام فرماتے ہیں:

ان فرقوں کے بارے میں میرا نظریہ کچھ اس نوعیت کا رہا ہے کہ ہم تمام تر اختلافات کے باوجود فلاسفہ کے مقابلے میں باہم متفق و متحد ہیں جب کہ اختلاف عموماً فقط معاملات کی تشریح کے حوالے سے ہی ہے لیکن فلاسفہ کے مذہبی عقائد پر اعتراضات کے جواب میں ہم اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ہیں اور ہمیں اس مقصد کی خاطر اپنے ذاتی تنازعات کو لازمی طور پر پس پشت ڈالنا ہوگا۔

یہ سطور اس لحاظ سے نہایت اہم ہیں کہ ہمیں امام غزالی کے طریقۂ کار کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ امام اسلام کے دشمنوں کے خلاف جن قوتوں سے اشتراک و اتحاد کو ممکن قرار دیتے ہیں ان کے عقائد میں خدا اور روز آخرت پر ایمان ضرور شامل ہونا چاہیے اور یہی وہ معیار ہے کہ جو اہل اسلام کے ساتھ اشتراک عمل کی بنیاد بنتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رہے کہ حق و صداقت کا تنہا و واحد معیار اسلام ہے اور دیگر قوتوں کے ساتھ کسی نوعیت کا عارضی اتحاد فقط مقصد کے حصول تک محدود رہنا چاہیے اور مستقل نوعیت کے اشتراک سے گریزاں ہی رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مادیت پسندوں اور فطرت پسندوں کے مقابلے میں ان الٰہ پرستوں کو ترجیح دینے کے باوجود آپ انہیں کافر قرار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور اس کے علاوہ افلاطون و ارسطو کے مسلم مقلدین مثال کے طور پر ابن سینا، فارابی وغیرہ کو بھی ان کے افکار کی بدولت مسلمان تصور نہیں کرتے۔

اگرچہ امام تینوں گروہوں کے افکار کو مسترد کردیتے ہیں لیکن الٰہ پرستوں کے معاملے میں آپ عارضی نوعیت کی مصالحت کو ممکن سمجھتے ہیں کیوں کہ یہ گروہ بھی خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے لیکن اس سے بڑھ کر کسی طرح کا اشتراک عمل ممکن نہیں۔ اس سے قطع نظر کہ یونانی الٰہ پرستوں کے حوالے سے امام کا تجزیہ تاریخی طور پر درست ہو یا نہ ہو اہمیت ان اصولوں کی ہے جن کی بنیاد پر وہ مختلف عقائد و نظریات کے درمیان امتیاز کرتے ہیں۔

ایک بنیادی اصول یہ سامنے آتا ہے کہ جس طرح ہر دور میں ہر جگہ خدا کے نیک بندے پائے جاتے ہیں اور دنیا کبھی ان سے خالی نہیں رہی یہ کائنات کے قائم و دائم رہنے کی علت ہے اور انہی کی وجہ سے دنیا پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ صداقت کو کہیں بھی تلاش کیا جاسکتا ہے یہاں تک کہ بدعقیدوں اور فلاسفہ کے افکار میں سچ اور جھوٹ کو علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ تنقید نگار کا کام اس جوہری کی طرح ہو جو اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے کھرا اور کھوٹا علیحدہ کرلیتا ہے۔

3.6.21۔ لازمی تنقید

لازمی تنقید کے باب میں استدلال کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ اس میں شہادت سے مدد لی جاتی ہے، اب چاہے وہ شہادت تاریخی ہو یا واقعاتی ہم۔ اس اندازِ تنقید کو کسی فکر کے واقعاتی سقم کو جانچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اگر وہ واقعاتی سقم اس فکر میں بنیادی حیثیت کے حامل ہیں تو پھر ان کو مشکوک طور پر صحیح ثابت کرنے سے اس فکر کی مقام و اہمیت کم ہوجائے گی۔ جہاں تک امام غزالیؒ کے تنقید سے متعلق اصولوں کاتعلق ہے تو اس لازمی تنقید کو تین زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اول امام نہایت قطعیت کے ساتھ یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلامی عقائد و اعمال میں سے کچھ بھی ان نام نہاد دنیاوی عقائد سے متصادم نہیں ہے۔

منطقی تنقید کسی بھی نظریے کے منطقی ربط سے منسلک ہوتی ہے۔ نظریے کا اندرونی ربط اس کی حقانیت کی دلالت کرتا ہے جب اس کی بے ربطی اس کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔ تہافہ میں امام منطقی طریقہ استدلال کو استعمال کرتے ہوئے یونانی فکر و فلسفہ کی بنیادی بے ربطی کو ظاہر کرتے ہیں۔

امام کے خیال میں عقلی سطح ہی کسی مقام کی منطقی لزومیت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے لہٰذا تہافہ میں اپنے جوابی دلائل میں انہوں نے بار بار اپنے مخالفین سے سوال کیا ہے کہ وہ امام کے پیش کردہ قیاسی متبادل کے متضاد خیالات میں کسی بھی قسم کا خود تضاد تلاش کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ عقلی بنیاد پر فلاسفہ اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ امام غزالی بار بار یہ سوال کرتے ہیں کہ: کیا چیز ہمیں ان چیزوں پر یقین رکھنے سے دور رکھتی ہے نیز اس میں کیا تضادات پائے جاتے ہیں؟

امام قانونِ تضاد کو یونانی فلسفہ کے اندر موجود بے ربطی کو ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ زحل کی گردش سورج کی گردش سے تیس گنا کم ہے اور دونوں یکساں طور پر لامحدود ہیں۔ پھر کس طرح محدود اور لامحدود کے دو مقام ایک ہی چیز اور وقت کے لیے ہوسکتے ہیں۔ کیا یہ چیز کسی فرد کو مایوس کن خود تضادی کا شکار نہیں کردے گی؟ ان فلاسفہ کے بارے میں اس دلیل کو ناکافی سمجھتے ہوئے امام نے ان فلاسفہ کی خود تضادی اور بودے پن کو مزید واضح کیا ہے۔

دوسری طرف امام غزالی ؒنے یونانی فلاسفہ اور یونانی علوم کے حاصل کردہ تاریخی حقائق کے درمیان تناؤ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے یونانی فلاسفہ کے ابدیت کے نظریہ اور یونانی طبیعات اور فلکیات کے کائناتی اشیاء کی خاص تعداد میں گردش کے نظریہ پر بھی نکتہ چینی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے مخالفین کو کس طرح ردّ کرسکتے ہیں جب وہ کہتے ہوں کہ دنیا کی ابدیت ناممکن ہے۔

لازمی تنقید کے ضمن میں امام غزالی اسلام اور یونانی فلاسفہ کے اس بنیادی اختلاف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اختلافات مابعد الطبیعیاتی یا محض اعداد و شمار کے نہیں ہیں جن کو حقائق کی بنیاد پر حل کر لیا جائے۔ امام فرماتے ہیں ”ایک مذہبی آدمی اور فلسفی کے درمیان تنازعہ محض دنیا کے فانی یا غیر فانی ہونے پر نہیں ہے۔ اگر دنیا کی ابتدا کے وقت کا تنازعہ حل ہوجائے تو دنیا کے گول، چوکور یا شش پہلو یا ہشت پہلو ہونے پر اور زمین کی تہوں پر اختلافات ہوجائیں گے۔ اس طرح حقائق کی تحقیق مابعد الطبیعیاتی سے متعلق نہیں ہے۔ ہماری دل چسپی کا موضوع یہ ہے کہ دنیا خدا کے تخلیقی عمل کا نتیجہ ہے خواہ یہ عمل کسی طرح بھی انجام پایا ہو۔ امام کہتے ہیں:

کوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ کائنات کی گردش جفت یا طاق ہے۔ اگر آپ اسے جفت اور طاق دونوں کہیں گے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نہ تو جفت ہے اور نہ طاق، یہ بے ہنگم بات ہے۔ اگر آپ اسے جفت کہیں تو محض ایک کا اضافہ اسے طاق بنا دے گا اور اگر آپ طاق کہیں گے تو ایک کا اضافہ اسے جفت بنا دے گا ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک چیز جو لامحدود ہے محض ایک عدد کے اضافہ سے جفت سے طاق بن جائے یعنی آپ کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ عدد نہ تو جفت ہے نہ ہی طاق“۔

یہ خود تضادی کی ایک شان دار مثال ہے۔

لازمی تنقید میں ہم ساختی دلیل استعمال کرتے ہیں جو کہ تاریخی یا حقیقی طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس طریقہ تنقید کو ہم کسی نظریے کے حقیقی نقائص کو تلاش کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔ امام کے اصول تنقید کے حوالے سے ہم لازمی تنقید کو تین حوالوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے امام غزالیؒ غیر مبہم انداز میں واضح کرتے ہیں کہ اسلام میں کوئی عمل متضاد یا مبہم نہیں ہے۔ تہافہ کے تمہیدی باب میں امام اس بات کو کلی طور پر ردّ کرتے ہیں کہ بعض احادیث حقیقت سے متصادم ہیں۔ ان احادیث کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ حدیث میں یہ ناجائز اضافے ہیں۔ ہمیں اس کے مصنف کو جھوٹا سمجھتے ہوئے اس کی ملامت کرنی چاہیے۔ رسول کے الفاظ صرف وہی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اگر یہ اضافے اصل میں تو ان کی وضاحت کی ضرورت ہے نہ کہ ان کو حقائق برخلاف ثابت کرنے کی۔

7.21۔ خلاصہ

تنقید کی پوری حکمت عملی کی تلخیص اس طرح کی جاسکتی ہے۔

بلاشبہ یہ تنقید اس تمام مثبت کام پر ایک ابتدائی جائزے کی حیثیت رکھتی ہے اور اس مقالے میں وسعت نہیں کہ وہ اس تمام کام کو سمیٹ سکے۔

22۔ امام غزالی رحمہ اللہ کے منہج ایک خلاصہ

1.22۔ امام غزالیؒ کے کام کا تعارف

امام غزالیؒ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں اور نہ ہی ان کا کام کسی سے ڈھکا چھپا ہے لیکن اس مضمون کا مقصد امام غزالیؒ کے ان اصولوں کو اجاگر کرنا ہے جو انہوں نے یونانی فکر کے انہدام کے لیے بالعموم اور یونانی مابعد الطبیعیات (ایمانیات) کے انہدام کے لیے بالخصوص استعمال کیے اور یونانی فکر کو شکست فاش دی۔ اس کے بعد امام غزالیؒ نے ”احیاء علوم الدین“ لکھی اور علوم اسلامیہ کو ایک بار پھر زندگی دی۔ اس مضمون کو ہم نے پانچ حصوں میں منقسم کیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں:

  1. امام غزالیؒ کے کام کی اہمیت
  2. امام غزالیؒ کے کام کا پس منظر
  3. یونانی فکر،ایمان و اعمال سے پیدا ہونے والے نتیجے اور ان کا تجزیہ امام غزالیؒ کی نظر میں
  4. عمومی اصولِ تنقید
  5. خصوصی اصولِ تنقید

2.22۔ امام غزالی کے کام کی اہمیت

مسلمانوں کا بالعموم مغرب کی فکر کے بارے میں رویہ دو طرح کا ہے۔ بعض علماء نے مغربی فکر سے بالکل کنارہ کشی اختیار کی ہے اور اپنے علوم کو مغربی فکر کے اثر سے محفوظ رکھا ہے جبکہ دوسری طرف جدیدیت کے حامی علماء جنہوں نے یا تو اس امر کی سعی کی ہے کہ اسلامی فکر اور مغربی فکر میں مطابقت ظاہر کی جاسکے یا اسلامی فکر کی اہمیت و افادیت کو مغربی طریقہ کار اور اصولوں پر کار بند رہ کر اجاگر کیا جائے۔

یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ اسلام اور کفر کا یہ پہلا فکری معرکہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل یونانی تہذیب کے ساتھ مسلمان برسرپیکار رہے اور وہاں امام غزالی رحمہ اﷲ ہمارے رہنما تھے جن کی رہنمائی میں ہم نے یونانی تہذیب کو شکست دی اور اسلام فاتح رہا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم امام غزالی ؒکے اصولوں کا مطالعہ کر کے مغربی فکر کے خلاف استعمال کریں۔ مغربی فکر دراصل یونانی فکر کی طرح ہی ایک خالص کفر ہے اور اسلام کے متبادل ایک نظام حیات پیش کرتی ہے جو اللہ سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ امام غزالیؒ کے طریقہ کار سے ہی ہم مغربی فکر کو اسلامی اصولوں کے مطابق جانچ سکتے ہیں اور اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس نوعیت کا کام صرف امام غزالی ہی نے فرمایا ہے۔ امام غزالیؒ کے اصول تنقید مغربی فکر کے تجزیہ و پڑتال کے لیے ہمارے لیے مددگار ہوں گے۔

3.22۔ امام غزالی کے کام کا پس منظر

اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے نتیجے میں جب اسلام ان علاقوں میں پہنچا جہاں رومی و یونانی تہذیب کا اثر و رسوخ تھا تو وہاں کے لوگوں کے پاس اسلام کے متبادل ایک علمیت پہلے سے موجود تھی جس کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ حق (الحق) کو کماحقہ جانتی ہے اور یہ علمیت کی بنیاد وحی سے بے نیاز تھی بلکہ وحی سے بالاتر کہی جاتی تھی اور وہ عقل تھی۔ یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے یہاں عقل سے مراد وہ اصول ہیں جو کہ آپ کے دماغ میں کسی وقت موجود ہوتے ہیں یا آپ تجربہ سے حاصل کرتے ہیں ا ور اس عقل کا مقام دماغ ہے نہ کہ دل۔

اگرچہ یہ تصادم امام کی پیدائش سے قبل واقع ہو چکا تھا لیکن اس نے امام کے دور میں انتہائی گھناؤنی شکل اختیار کر لی تھی جو امت مسلمہ کو نقصان پہنچا رہی تھی۔ امت مسلمہ میں ایک گروہ پیدا ہو چکا تھا جو وحی کو حق و باطل میں تفریق کرنے کا اہل نہیں سمجھتا تھا بلکہ وحی کی جگہ پر اسی عقل کو رکھتے تھے کہ عقل دراصل حق و باطل کا فرق واضح کرے گی۔ اس علمی معیار کے تبدیل ہونے کے نتیجے میں عقائد اسلامیہ سے کنارہ کشی ہو گئی۔ امام نے اس علمی معیار کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی عقائدی اور اخلاقی تبدیلیاں جو کہ ایک فرد میں پیدا ہو رہی تھیں، کو بھانپ لیا اور اس کا واحد قصور وار عقل کو وحی پر ترجیح دینے کو قرار دیا۔ اس بے راہ روی کے درج ذیل اسباب تھے:

  1. فلسفیوں کو ان کی عقل کی وجہ سے انبیاء سے بھی بڑھ کر مقام دینا
  2. فلسفیوں کے اخذ کردہ ناقابل تشکیک (یہ محض فلسفیوں کا دعویٰ ہے) اصولوں پر ایمان لانا
  3. استخراجی طریقہ کار پر اس طرح کا غیر متذبذب ایمان کہ یہ طریقہ کار چند ناقابل تشکیک اصولوں کی روشنی میں کسی حق کو سامنے لائے گا۔

مندرجہ بالا ایمانیات دراصل اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ لوگوں نے یونانی مابعد الطبیعیات، منطق اور طبعی علوم کو قابل ترجیح سمجھا ہے جو بالآخر اسلامی قوانین اور تعلیمات کاردّ ہی ہیں۔ ان ایمانیات کا بالعموم نتیجہ یہ نکلا کہ ان لوگوں کے دل میں یونانی فکر و فلسفہ کا رعب اوور دبدبہ قائم ہو گیا۔ امام غزالیؒ کا یونانی فکر و فلسفہ کی تنقید کا بنیادی مقصد اسی رعب اور دبدبہ کو ختم کرنا تھا۔

4.22۔ امام غزالی کا نظریہ علم اور مختلف علوم کی درجہ بندی

علم کیاہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب تنقید کے عمومی مقصد کے لیے ضروری ہے۔ امام غزالیؒ نے ایک مخصوص علم کے نظریہ اور اس کے مقصد کی بنا پر ہی یونانی علوم پر تنقید کی ہے۔ امام کے ہاں علم کا بنیادی مقصد معاد ہے۔ علوم کی جانچ پڑتال صرف اس معیار پر کی جائے گی کہ وہ کس قدر معاد میں معاون ہیں۔ لہٰذا علم صرف علم برائے معاد ہے اور دوسری اسناد کی حیثیت اس مقصد کے حصول کے لیے آلاتی ہوگی لہٰذا علم صرف رضائے الٰہی اور خوش نودی رب کے حصول کا ذریعہ ہے نہ کہ کچھ اور۔ اس معیار علم پر ہم علوم کی درج ذیل درجہ بندی کر سکتے ہیں:

  1. وہ علوم جو براہ راست معاد سے متعلق ہیں جیسے قرآن و حدیث۔
  2. وہ علوم جو براہ راست تو معاد سے متعلق نہ ہوں لیکن آلاتی طور پر معاد کے لیے معاون و مددگار ہوں جیسے عربی ادب قرآن و حدیث کی تفہیم کے لیے لیکن اگر ان علوم کا جاننا بذات خود ہو تو یہ علوم نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
  3. وہ علوم جو براہ راست معاد کے خلاف ہوں جیسے یونانی مابعد الطبیعیات تو ان کو رد کیا جائے گا۔
  4. وہ علوم جو براہ راست تو معاد کیخلاف نہ ہوں لیکن معاد کے خلاف بھی آلہ کے طور پر کام کریں جیسے منطق۔
  5. وہ علوم جو معاد کے لیے نیوٹرل ہوں نہ نقصان وہ نہ فائدہ مند، ان کا حصول بھی قابل تردید ہے۔

5.22۔ امام غزالی کی یونانی علوم پر تنقید

امام غزالیؒ نے علم کی تعریف اور مختلف علوم کی درجہ بندی کی بنا پر یونانی علوم پر تنقید قائم کی اور ان کا اسلامی علمیت کے تناظر میں جو مقام ہے اسے واضح کیا۔ درج ذیل میں کچھ علوم پر امام کی کی گئی تنقید کو اجمالاً بیان کیا جاتا ہے۔

طبعی علوم (سائنس)

امام غزالیؒ طبعی علوم کو طب کی طرح سمجھتے ہیں۔ طب کا بنیادی مقصد انسانی جسم کا مطالعہ اور اس میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ ہے جس کا مقصد انسان کو صحت سے ہمکنار کرنا ہے۔ لہٰذا یہ اسلام کے کسی اصولِ شریعت کے خلاف نہیں ہے لیکن امام غزالیؒ نیچرل ازم کو بہت شدومد سے رد کرتے ہیں جوکہ مفروضہ کے طور پر یوناینوں نے قائم کی ہے۔ حالانکہ نیچرل ازم ان علوم سے نہیں نکلتا یہ تو صرف یونانیوں کی ایمانیات کی بنا پر ہے۔ یہ مفروضہ اس بات پر ایمان سے دفع ہوجائے گا کہ فطرت دراصل خدا کی ملکیت میں ہے اور اس کے احکام کے تابع ہے اور وہ اسے جیسے چاہتا ہے استعمال کرتا ہے۔ سورج، چاند، ستارے سب اس کے تابع ہیں کوئی بھی خود سے نہ تو پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی کچھ کر سکتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ کسی بھی علم کو اس کی مابعدالطبیعیات یا ایمانیات سے قطع کر کے نہیں دیکھنا چاہیے اور نہ ہی اسے لا اقداری (Value Natural) سمجھنا چاہیے۔ اسلام اس طرح کی خاص ایمانیات کو رد کرتا ہے لیکن حقائق سے انکار نہیں کرتا۔

منطق

منطق دراصل ایک آلاتی علم ہے جس کے ذریعے سے آپ دلائل کی کوالٹی اور اس کی قوت کو بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ بذات خود یا اس کا مافیہ کچھ نہیں ہے یہ کسی بھی جانب سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ منطق دراصل چند اصولوں پر مبنی ہے جو دلائل کی داخلی مطابقت کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا امام غزالیؒ کے نزدیک منطق کو بطور آلہ کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے وہ فلسفی بھی ہوسکتا ہے اور ایک مسلمان بھی کیوں کہ بطور آلہ منطق اسلامی علمیت سے کسی طور بھی برعکس نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ امام غزالی منطق کے منفی اثرات سے بھی متنبہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر منطق کی تکنیک کے استعمال کے بعد اس دلیل کی ساخت کو بہتر ہو سکتی ہے لیکن مقدمات سے اخذ کردہ نتیجہ کی حقانیت کا اس تکنیک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ نتیجہ حق بھی ہو سکتا ہے باطل بھی ہو سکتا ہے ۔اس بات کا انحصار ان قضایا پر ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اور قضایا کی حقانیت بھی قابل بحث ہے۔ لہٰذا ساخت اور مافیہ کا فرق واضح رہنا چاہیے۔ منطق صرف ساخت سے بحث کرتی ہے نہ کہ مافیہ سے۔

ریاضی

ریاضی بھی ایک آلاتی علم ہے جو کئی دوسرے علوم میں معاون و مددگار ہوتی ہے جو کہ معاد کے لیے ضروری ہیں جیسے وراثت میں حصص کی تقسیم، نمازوں کے اوقات وغیرہ وغیرہ۔ لیکن امام دو بڑے خطرات سے متنبہ کرتے ہیں جو کہ دوسرے علوم سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں۔ یہ دو خطرات ہمیں عمومی اصول بھی فراہم کرتے ہیں جس کی روشنی میں ہم بیسیویں صدی میں پیدا ہونے والے مسئلہ یعنی اسلام اور سائنس سے بھی بہتر طور پر نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

پہلا خطرہ یہ ہے کہ ریاضی کی وضاحت مدلل اور بیّن ہونا عام لوگوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیتی ہے کہ یہ دوسرے علوم میں بھی نہ صرف ممکن ہے بلکہ ہونی چاہیے۔ اس مغالطہ نے دنیا کے کئی بڑے ذہنوں کو بھی متاثر کیا۔ اس مغالطہ کے خلاف امام غزالی ایک اصول پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک علم میں ماہر ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ مہارت اسے تمام علوم میں بھی ہوگی جیسے ایک شخص طب میں ماہر ہے تو وہ ریاضی، فلکیات سے ناواقف ہوسکتا ہے۔ لہٰذا امام غزالیؒ کہتے ہیں کہ ریاضی کے ابتدائی دلائل واضح ہیں لیکن مابعد الطبیعیات صرف مفروضات پر قائم ہے۔ یہ بات اہل علم پر واضح ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسلام اور سائنس کے تعلق کو واضح کرے گا۔ اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں اس وقت تک جب تک سائنس کا تجربہ کے ذریعے اشیا کے ثابت کرنے کا تعلق ہے۔ مخاصمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سائنس اپنی حدود سے تجاوز کر کے تجربہ سے ثابت کرنے کا معیار اسلام میں قائم کرنا چاہتی ہے حالانکہ دونوں کی نوعیت میں بہت واضح فرق ہے اور سائنس دان اپنی اتھارٹی کو پوری زندگی میں قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ امر بھی غیر معقول ہے۔ اس کے علاوہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سائنس کا مقصد کائنات پر انسانی ادارہ کا تسلط ہے اور یہ بھی سائنس کے کافرانہ ہونے کی ایک دلیل ہے۔

انتقاد

امام نے چار طرح کی تنقید کی ہے : داخلی ، خارجی ، منطقی، جوہری۔

داخلی تنقید

اس طرح کی تنقید میں آپ اس میدان یا تناظر کے اصولوں کو مان کر ان اصولوں پر دلائل کو پرکھتے ہیں اور ان دلائل میں جہاں نقص ہوتا ہے یا جہاں کمزوری ہوتی ہے اسے اجاگر کیا جاتا ہے۔ امام غزالیؒ کی تنقید بالکلیہ داخلی نہ تھی کیوں کہ امام غزالیؒ کے نزدیک علمیت صرف اسلام ہی ہے اور یونانی فکر آپ کے عقائد پر اثر انداز نہ ہوسکی لیکن اس کے ساتھ ساتھ امام غزالیؒ اس بات کی ضرورت سمجھتے ہیں کہ جس پر آپ تنقید کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں آپ مکمل علم رکھیں اسے مکمل جانیں اور نہ صرف مکمل جانیں بلکہ اس علم کے ماہرین سے بھی اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ بات طے ہے کہ امام غزالیؒ یونانی فکر و فلسفہ کو یونانی مفکرین سے بھی زیادہ بہتر جانتے تھے۔

امام غزالیؒ کا یہ کام متکلمین کے کام سے ہر چند مختلف تھا کیوں کہ متکلمین کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے اندر سے کچھ ایسے عقائد جو کہ اسلام کے خلاف تھے کا سدباب کرنا تھا اور اصلاح کرنی تھی۔ متکلمین کے مخاطب مسلمان ہی تھے جو کہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر ایمان لاتے تھے لیکن ان کی تعبیر مختلف کرتے تھے جبکہ امام غزالیؒ کے مخاطبین مسلمان نہ تھے بلکہ کفار تھے یعنی یونانی فلسفی جن کا ایمان دراصل کفر تھا۔ ان پر تنقید کے لیے یہ ضروری بات ہے کہ آپ پہلے ان کی تکنیک اور ایمان سے ان سے زیادہ واقف ہوں اور پھر ایسی تکنیک ہی کو غیر معقول اور غیر منطقی ثابت کریں۔ ان کی بنیاد کو انہی کے ہتھیار سے متزلزل اور متذبذب کردیں اور اس کی بیخ کنی کریں۔

نظامی مطابقت

نظامی مطابقت دراصل ایک نظام کی بحیثیت کل کے ایسی مطابقت ہے جس میں ہر ہر جز اپنی ساخت اور مافیہ کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھے۔ داخلی تنقید میں ہم اسی نظامی مطابقت کے دعویٰ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ امام غزالیؒ جب داخلی غیر مطابقت کو واضح کرتے ہیں تو وہ صرف یونانی فلسفیانہ نظریات و قضایا کو ہی نہیں بلکہ اس پوری علمیت کے تضاد کو واضح کرتے ہیں جس کی بنیاد پر ان کے مطابق قائم بالذات عقل پر ہے۔ امام غزالیؒ نے ہر اس علمیت جس کی بنیاد قائم بالذات عقل ہے کی داخلی غیر مطابقت کو واضح کیا ہے۔ لہٰذا یہ بات ضروری ہے کہ امام کی تنقید کوایک کل کے طور پر دیکھا جائے نہ کہ علیحدہ علیحدہ اعتراضات جو کہ آپ نے یونانی فکر و فلسفہ پر کیے تھے۔ امام غزالیؒ نے یونانی فکر پر جو تنقید کی وہ متکلمین کی طرح خارجی تھی جیسا کہ ان کا ایمان اسلامی علمیت کی برتری پر تھا لیکن متکلمین سے مختلف اس لحاظ سے تھی کہ وہ ان کے علمی معیار سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ ضروری بھی تھا کہ ان کے معیار علم یعنی عقل کی نوعیت بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ اس کو اندر ہی سے تباہ کیا جاسکتا ہے وہ کوئی قائم بالذات حقیقت نہیں ہے۔

پہلے مرحلے میں امام غزالی ؒنے فلاسفہ کے دعویٰ جات کو جن کے بارے میں فلاسفہ کا دعویٰ تھا کہ وہ وہبی ہیں کو ثابت کیا کہ وہ وہبی نہیں ہیں اور دوسرے مرحلہ پر امام غزالی ؒنے فلاسفہ کے سامنے انہی کے معیار کے مطابق پہلے دعویٰ کے متبادل دعویٰ پیش کیا جو کہ وہبی تھا (اس طرح امام غزالیؒ نے ان کے اپنے ہی دعویٰ کو انہی کے معیارات کے مطابق ان کی زبان میں غیر وہبی ثابت کیا۔ اس طرح وہ اپنے ہی دعویٰ میں کمزور ہو گئے۔

خارجی تنقید

جب ہم اپنے ہی میدان (اسلام) میں رہ کر کسی دوسرے (جیسے یونانی) میدان پر تنقید کرتے ہیں تو دراصل یہ خارجی تنقید ہے جس میں ہم اپنے معیاراتِ علمیت کی بنا پر دوسرے میدان کے ایمانیات و عقائد پر تنقید کرتے ہیں۔ امام غزالی ؒنے داخلی اور خارجی تنقید کو اس طرح ملایا کہ دشمن کی پوزیشن کو متزلزل کردیا اور اس کی بیخ کنی کردی جس طرح ایک جنگ میں دشمن کے خلاف مختلف محاذ سے ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرکے دشمن کو شکست دی جاتی ہے بالکل اسی طرح امام غزالی ؒنے داخلی اور خارجی تنقید کو اس طرح استعمال کیا کہ دشمن اپنے ہی ہتھیار سے شکست کھائے اور اسے ہماری پوزیشن پر نکتہ چینی کی عقلی طور پر اجازت نہ ملے۔ امام غزالی نے یونانی فکر و مابعدالطبیعیات پر داخلی تنقید خارجی تنقید کےمتوازن کی ہے۔

منطقی تنقید

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس میں ہم کسی میدان علم و نظریہ کی جانچ اس کی منطقی مطابقت کے حوالے سے کرتے ہیں۔ اگر منطقی مطابقت ہے تو درست ورنہ وہ نظام غلط ہے۔ امام غزالیؒ نے اس قسم کو اپنی پوری تہافہ میں استعمال کیا ہے اور یونانی فکر میں منطقی عدم مطابقت ثابت کی ہے۔ پورے تہافہ میں امام نے بارہا یونانی مفکرین کو چیلنج کیا کہ ان کے نظریات کے اندر منطقی مطابقت موجود نہیں ہے اور اس کے متبادل نظریات پیش کر کے اس کے اندر منطقی عدم مطابقت تلاش کرنے کا کھلا چیلنج دیا جس سے یونانی فلاسفہ کی پوزیشن کھل گئی۔

جوہری تنقید

اس قسم میں ہم دلائل کے لیے طبعی یا تاریخی حقائق کو بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں۔ پہلے مرحلہ پر امام نے اسلام کی پیش گوئیاں اور اس کے اصول و اعمال کو تاریخ اور طبعی حقائق سے درست ثابت کیا جبکہ دوسرے مرحلے میں یونانی نظریات کو تاریخی اور طبعی طور پر غلط ثابت کیا اور تیسرے مرحلے پر امام نے فرمایا کہ اسلام اور یونانی افکار کا حل طبعاً یا تاریخی حقائق پر نہیں بلکہ یہ مابعد الطبیعیاتی نوعیت کے ہیں لہٰذا انہیں اسی حوالے سے حل کیا جاسکتا ہے۔

اس مضمون کو لکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ امام غزالیؒ نے یونانی فکر کی بیخ کنی کے لیے اسلامی اصولوں کو استعمال کیا اور اس فکر کو ہمیشہ کے لیے اسلام میں اجنبی بنا دیا۔ امام غزالیؒ نے جو اسلامی اصول یونانی فکر کے خلاف استعمال کیے وہ آج بھی مغربی فکر کے خلاف استعمال کیے جاسکتے ہیں اور ان سے وہی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے جو امام غزالی نے اسلام کے لیے کیا۔ اﷲ تعالیٰ امام غزالی کی یا ان کی روشنی میں قرآن و سنت کی اتباع میں نئے اصول وضع کرنے کی ہمیں توفیق دے۔ اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں امام کی اتباع میں مغربی فکر کی بیخ کنی کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

23۔ سرمایہ داری کا مقابلہ کیسے کیا جائے

1.23۔ تمہید اور تناظر

اس باب میں چند ایسی قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں گی جن سے پاکستان میں دورِحاضر میں سرمایہ دارانہ انہدام کی جدوجہد شروع کی جاسکتی ہے۔ جو اقدام فی الفور نافذ العمل نہیں ان کے بیان کرنے سے گریز کیا جائے گا۔ لہٰذا جس تناظر میں انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد کی ابتدا کی جا رہی ہے اس کی خصوصیات کا ادراک ضروری ہے۔ اس تناظر کے دوپہلو ہیں:

1۔ پاکستان کی عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں حیثیت

2۔ پاکستان میں مخلصین دین کی استطاعت

۲۰۱۷ء میں پاکستان کی عمومی سالانہ آمدنی (GDP)تقریباً 350بلین تھی جوعالمی مجموعی پیداوار کا ایک فیصد بھی نہیں۔ ۲۰۱۷ء میں پاکستان کی مجمومی تجارت بین الاقوامی تجارت(درآمدات+برآمدات) کا حجم تقریباً 60بلین ڈالر تھا جو عالمی تجارت کاصفر اعشاریہ ایک فی صد سے بھی کم تھا۔ پچھلی دہائی (2008-2018)میں پاکستان میں بین الاقوامی ترسیل زر کا اوسطاً سالانہ حجم تقریباً ایک بلین تھا جو بین الاقوامی ترسیل زر کا صفراعشاریہ ایک فی صد بھی نہیں بنتا۔ پاکستان کا مجموعی بین الاقوامی قرضہ آج تقریباً ۸۰بلین ڈالر ہے جو عالمی قرضہ جات کا ایک فی صد بھی نہیں۔ دنیا کی کسی بڑی کارپوریشن یا بینک کی نظر میں پاکستان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ عالمی سود اور سٹہ اور ٹیکنالوجی کے بازار میں پاکستان کو نظرنہ آنے والا(invisible )کھلاڑی کہا جاتاہے۔

بین الاقوامی سیاسی سرمایہ دارانہ نظام میں ہماری حیثیت اس سے زیادہ ہے۔ پاکستان دو عالمی سرمایہ دارانہ قوتوں (امریکا اور چین ) کی رسہ کشی کی ایک اہم آماج گاہ ہے اور امریکا اورچین دونوں ہمیں اپنا مکمل طورپر زیر نگین کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہی خواہش سعودی عرب بھی رکھتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکی استعمار کا ایک اہم ستون ہے۔ پھر ہمارے پاس نیوکلیئر صلاحیت بھی موجود ہے اور ہماری فوج دنیا کی بڑی اور پیشہ وارانہ صلاحیت رکھنے والی افواج میں شمار کی جاتی ہے۔

اس تجزیہ میں دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ فی الحال پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو متزلزل نہیں کر سکتا لیکن عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے روابط بتدریج اور آخرکار توڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی معیشت قومی سطح پر ایک خود کفیل معیشت ہے۔ بیرونی تجارت کا حصہ مجموعی آمدنی کابیس فیصد بھی نہیں اور درآمدات کی بآسانی بڑےپیمانے پر تحدید کی جاسکتی ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری قومی مجموعی سرمایہ کاری کا ایک عام سال میں دس فیصد بھی نہیں ہوتی۔ بین الاقوامی قرضہ جات سے حاصل شدہ رقوم تمام کی تمام پچھلے واجب الادا سوداور اصل کی نذر ہوجاتی ہیں اور کئی لاطینی اور افریقی ملکوں کی طرح پاکستان اس قرضہ کی ادائیگی کو منسوخ کر سکتا ہے۔ اول تو ہمارے خلاف Sanctionsلگانے کا امکان کم ہے اور sanctionsکا اثر ملکی معیشت پر بہت محدود رہے گا۔

عالمی سرمایہ دارانہ سامراج ہم پر sanctionsلگانے کا تجربہ کر چکا ہے۔ جب ہم نے ۱۹۹۸ء میں نیوکلیئر دھماکا کیا تو امریکا، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے فوراً ہم پر نہایت سخت sanctions عائدکر دیے لیکن اس سال ہم نے ان اداروں کے 6 بلین کے پرانے قرضے واپس کیے۔ اسی سال پاکستان کی مجمومی آمدنی کا شرح نمو (GDP growth) 5فیصد رہا۔ روپیہ کی شرح مبادلہ (exchange rate)مستحکم رہی۔ سرمایہ کاری کلیتاً قوی رہی اور حسب معمول اس میں اضافہ ہوا۔ قیمتیں بھی مستحکم رہیں اور شرح بے روزگاری میں کمی ہوئی، ایران پر بھی امریکا مدت دراز سے Sanctionsنافذ کیے ہوئے ہےلیکن وہاں کی معیشت بھی الحمدللہ مستحکم اور ترقی پذیر ہے۔

پاکستان میں نہ کبھی معاشی بحران آیا ہے نہ کبھی فنانشل بحران آیا ہے۔ عوام کی عظیم اکثریت کا سرمایہ دارانہ نظا م سے بالواسطہ تعلق محدود ہے۔ دس فیصد سے کم لوگ بینک اکاؤنٹ رکھتے ہیں۔ سٹہ کے کھلاڑی تو ایک فیصد بھی نہیں۔ لیبر فورس کی بڑی اکثریت خود کفیل اور اپنا رزق خود پیدا کرتی ہے اور کسی کی ملازم نہیں۔ پاکستان میں ایک غیر سرمایہ دارانہ معیشت قائم ہے اور پھل پھول رہی ہے۔

سیاسی طورپر بھی خود انحصاری پالیسی اختیار کرنا ممکن ہے۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ ہم چین اور امریکا دونوں میں سے کسی کے بھی باج گزار نہ بنیں۔ ان دونوں ملکوں کی علاقائی پالیسیوں کی تنفیذ کو اس طرح manageکریں کہ وہ ہماری قومی خود مختاری کو برداشت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ اس کی بہترین مثال جواہر لال نہرو کی ۱۹۵۰ء کی دہائی کی خارجہ پالیسی ہے جس نے روس اور امریکا کو بھارت کی خود مختار حیثیت تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ پاکستان کو ایک خود مختار غیر سرمایہ دارانہ ملک بنانا ایک مشکل لیکن ممکن کام ہے جس کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اس کام کا بیڑا صرف مخلصین دین ہی اٹھاسکتے ہیں کیوں کہ ان کے علاوہ ملک میں سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو سب ہی اپنائے ہوئے ہیں۔ مخلصین دین وہ ہیں جو:

مخلصین دین کی تعداد ہمیں معلوم نہیں کیوں کہ کسی اسلامی حلقے نے معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی لیکن یہ تعداد یقیناً کروڑوں میں ہے۔ کچھ اندازہ قومی انتخابی نتائج سے کیاجاسکتا ہے مثلاً ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے لیے تمام اسلامی جماعتوں کو تقریباً28لاکھ ووٹ ملے جو ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں بڑھ کر تقریباً ساڑھے ۵۱لاکھ ہوگئے یعنی دوگنے سے بھی زیادہ۔ ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو مجموعی قومی اسمبلی کے ووٹوں کے تقریباً دس ((9.86 فیصد ووٹ ملے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ اسلامی جماعتوں کے ووٹروں نے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو نظرانداز کر کے اپنی اسلامی شناخت کے اظہار کے لیے ووٹ دیے لہٰذا یہ سب مخلصین دین شمار کیے جاسکتے ہیں۔ ملک کی مجموعی آبادمیں مخلصین دین کا تناسب وہی ہے جو ۲۰۱۸ء کے ووٹروں میں تھا یعنی 10فیصد۔ تو چونکہ ملک کی آبادی ۲۰۱۷ء کی مردم شماری کے مطابق 20 اعشاریہ 7کروڑ بنتی تھی لہٰذا مخلصین دین کی تعداد تقریباًدو اعشاریہ ایک کروڑ بنتی ہے۔ اگر فرض کیا جائے کہ مخلصین دین کا تناسب اسلامی جماعتوں کے ووٹروں کاصرف 50فیصد تھااور ان کا تناسب قومی آبادی میں صرف 5فیصد ہے تو بھی ان کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز بنتی ہے۔

یہ ایک بہت بڑا حلقہ اثر ہے۔ ملک کا کوئی دوسرا نظریاتی گروہ (لبرل، سوشلسٹ، قوم پرست) اپنے متعقدین کی تعداد میں اس کا عشر عشیر حصہ بھی نہیں رکھتا۔ تحقیق کے مطابق تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی ملک میں نظاماتی تبدیلی (انقلاب ) لانے کے لیے وہاں کی آبادی کے ۲یا ۳فیصد افراد کو متحرک اور منظم کرنا کافی ہوتا ہے۔ اگر یہ تحقیق درست ہے تو تقریباً پچاس لاکھ مخلصین دین کو متحرک اور منظم کر کے پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام کو منتشر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن فی الحال پاکستان میں مخلصین دین متحد ہیں نہ منظم۔ ان میں گاہے گاہے شعائر اسلامی کی بے حرمتی کے خلاف تحرک پیدا ہوتا رہتا ہے لیکن چوں کہ وہ متحدا ور منظم نہیں لہٰذا بہت جلد یہ تحرک ضائع ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی نظاماتی اثر مرتب نہیں ہوتا۔

اب ہم ان رکاوٹوں کا ذکر کریں گے جو پاکستان میں مخلصین دین کو متحرک اور منظم کرنے کی راہ میں فی الحال حائل ہیں اور ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کی ایک حکمت عملی بھی مرتب کرنے کی کوشش کریں گے۔

2.23۔ سرمایہ داری کی تفہیم

سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کے لیے مخلصین دین کو منظم اور متحرک کرنا ہے تو لازم ہے کہ ہماری قیادت سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات سے کماحقہ واقف ہو، اس کی خالص اسلامی تنقید مرتب کر سکے اور اس کے انہدام کی ہمہ جہت حکمت عملی کی ترتیب اور تنفیذ کی اہل ہو۔ یہ ذمہ داری علمائے کرام اور راسخ العقیدہ اسلامی جماعتوں کی ہے۔

آج مدارس، خانقاہوں اور اسلامی جماعتوں میں سرمایہ داری کی تفہیم بالکل ناپید ہے۔ آج دینی حلقہ سرمایہ داری کو محض سابقتی مارکیٹ ( perfect market)کی کارفرمائی سمجھتے ہیں جب کہ آج سرمایہ دارانہ نظام میں مسابقتی مارکیٹ کا وجود تیزی سے معدوم ہوتا جارہاہے اور قیمت کا تعین اجارہ دارانہ (monopolistic)ہوگیا ہے اور اشیاکی مارکیٹوں پر سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کا تسلط فیصلہ کن ہوگیا ہے۔ اسلامی حلقے سرمایہ داری کو ایک مکمل نظام زندگی اور طرزِ حیات کے طور پر نہیں جانتے۔ وہ نہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی خصوصیات سے واقف ہیں نہ سرمایہ دارانہ معاشرت (سول سوسائٹی)اور سرمایہ دارانہ ریاست کی خصوصیات سے۔ وہ اسلام کا اصل حریف یہود اور نصاریٰ ور ہنود کو سمجھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ مدت قبل یہ تینوں مذاہب سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہوکر اس کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ اہل دین کے حلقے سمجھتے ہیں کہ اسلام کے خلاف بڑے پیمانے کوئی سازشی عمل جاری ہے لیکن نہ اس سازش کی نوعیت بیان کر سکتے ہیں نہ اس کی کارفرمائی کا طریقہ کار نہ تنظیم وتشکیل کی صورت۔ لہٰذا اس مفروضہ سازش کے سدباب کے لیے ہم کوئی مربوط حکمت عملی وضع نہیں کر پاتے۔ اس مفروضہ سازش کے خلاف محض اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری کوئی ساز ش نہیں۔ اس کی تاریخ اس کی دور حاضر میں تنظیم اور طریقہ کار فرمائی اظہر من الشمس ہے اور اس سے ناواقفیت کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اس حقیقت سے مکمل طور پر سہو نظر کیا ہے اور یقیناً یہ رضاکارانہ لاعلمی غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیوں کہ نظاماتی سطح پر غالب نہ عیسائیت ہے نہ یہودیت نہ ہندومت نہ کوئی سازشی گروہ۔ یہ سب سرمایہ داری کے آلہ کار ہیں اور نظاماتی غلبہ صرف سرمایہ داری کو حاصل ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو اچھی طرح جاننا غلبہ دین کے لیے بھی ضروری ہے اور تحفظ دین کی جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری اپنی مخصوص انفرادیت بھی تعمیر کرتی ہے اور مخصوص معاشرت اور ریاست بھی۔ آج سرمایہ داری زندگی کے ہر شعبہ کو مسخر کر رہی ہے اور اس کا کوئی بیرون نہیں۔ ہم تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں ہی مرتب کرنے پر مجبور ہیں۔

ضروری ہے کہ مدارس، خانقاہوں اور اسلامی جماعتوں کے تعلیمی نصاب میں سرمایہ دارانہ تاریخ، انفرادی معاشرتی اور ریاستی کارفرمائی کےدروس مرتب کیے جائیں اور سرمایہ دارانہ انفرادیت سازی، معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے تضادات واضح کیے جائیں تاکہ ان تضادات کو گہرا کر کے سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام اور تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں علماء کے ایسے گروہ بھی تیار کرنے کا انتظام کرنا ہوگا جو امام غزالیؒ کے منہج کے مطابق سرمایہ دارانہ جاہلی علوم (سائنسز اور سوشل سائنسز ) کی نامعقولیت واضح کرسکیں اور دور جدید کے مخصوص مسائل کے ادراک اور حل کےلیے اسلامی علمیاتی منہاج (تفسیر، اصول، فقہ،تصوف وغیرہ) میں وسعت اور گنجائش پیدا کر سکیں۔ یہ ایک طویل المدت کام ہے اور اس کے لیے ایسے علماء اسلام درکار ہیں جو سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے پیچ و خم سے اچھی طرح واقف ہوں، سرمایہ دارانہ جاہلی علمیاتی منہاج (یا اس کے کسی ایک شعبہ) پر گہری نظر رکھتے ہوں اور علوم اسلامی میں بھی مہارت رکھتے ہوں۔

3.23۔ اتحادِ اسلامی

ہم نے اس کام کی ابتدا بھی نہیں کی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ مخلصین دین کی صفوں میں انتشار ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ تمام اسلامی گروہ مدرسین، مبلغین، صوفیاء اور اسلامی سماجی اور سیاسی جماعتیں سب کے سب سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کے تناظر میں کام کر رہے ہیں اور سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی کارفرمائی نے اسلامی گروہ کے کام کو محدود اور مفلوج کر دیا ہے۔ ستم بالائے ستم مخلصین دین کے گروہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں حالانکہ حقیقتاًایک دوسرے کے فطری حلیف ہیں دیوبندی، بریلویوں کے فطری حلیف ہیں۔ اس لیے کہ دیوبندی علوم اسلامی کو فروغ دے رہے ہیں اور بریلوی ان رسوم رواج کو پروان چڑھا رہے ہیں جن کے عوامی پھیلاؤکے نتیجہ میں برصغیر کی آبادی کی تقریباً 40فیصد آج مشرف بہ اسلام ہے اور جو عوامی اسلامی جذباتیب اور روحانیت کے ظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ فرقہ واریت ہم کو عوام سے دور کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہے جو انگریز نے ایجادکیا اور اس کے جانشین آج تک ہمارے خلاف بڑی مہارت سے اسے استعمال کر رہے ہیں۔دشمن تمام اسلامی گروہوں پر فرقہ واریت کا لیبل لگاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ مخلصین دین آپس کی دشمنی کے اظہار میں ایسے مصروف ہوں کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے دشمن سے ساز باز کریں اور سرمایہ دارانہ نظام کو فطری تصور کرنے لگیں۔

اس بات کا ادراک کہ فرقہ واریت کوعوام میں نہایت کراہیت سے دیکھا جاتا ہے (مثلاً ۲۰۱۸ء میں فرقہ ورانہ جماعتوں کا مجموعی قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں کا حصہ صرف صفر اعشاریہ چھ فیصد تھا) مخلصین دین کی سیاسی جماعتوں میں کسی نہ کسی حد تک پایا جاتا ہے اور ایم ایم اے کا اتحاد(جس میں مسلکی اور بین المسلکی جماعتیں شامل تھیں) اس احساس کا اظہار ہے۔ لیکن یہ اتحاد علامتی تھا اور حقیقتاًقیادت کی بالائی سطح تک محدود رہا۔ اس اتحاد کے تجزیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایم ایم اے میں شامل دوبڑی جماعتوں کے متاثرین نے ایک دوسرے کو نہیں بلکہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف کو ووٹ دیے اور دونوں جماعتوں کا ۲۰۱۸ء کا ووٹ بینک ۲۰۱۳ء میں دونوں جماعتوں کے انفرادی حاصل شدہ ووٹوں سے زیادہ نہ ہوسکا۔

ہر اسلامی گروہ اس غلط فہمی میں گرفتار ہے کہ تحفظ اور غلبہ دین کی جو حکمت عملی اس کے مرشد نے واضح کی ہے وہ حق(بلکہ الحق) ہے اور باقی تمام مخلصین دین کے گروہ کسی نہ کسی درجہ میں گمراہ ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخلصین دین کا ہر گروہ حصول رضائے ہی کی جدوجہد کر رہاہے۔ ہر گروہ کے کام کے فوائد بھی مرتب ہو رہے ہیں اور نقصانات بھی۔ کسی گروہ کو حق پر اجارہ داری حاصل نہیں اور شدید ضرورت ارتباط کی ہے۔ تمام اسلامی گروہوں کی انفرادی جدوجہد کو ایک نظریاتی اور تنظیمی لڑی میں پرونے اور ہرمرشد کے اجتہاد کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام اسلامی گروہوں کے دائرہ کار کے تنوع اور انفرادیت کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک ایسی مرکزیت کے قیام کی ضرورت ہے جو مخلصین دین کو معاشرتی اور ریاستی سطح پر بااقتدار بنا دے اور جو سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو منتشر اور مجروح کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اگر ہم ایسی مرکزیت قائم کرنے میں ناکام رہے تو مخلصین دین کی نظاماتی اقتدار سے محرومی برقرار رہے گی اور تحفظ دین کے لیے ہم سرمایہ دارانہ نطام اسلامی انفرادیت اور معاشرت کو سمونے کی توجیہات اور معذرتیں پیش کرنے پر مجبور رہیں گے۔

4.23۔ مسجد کا کردار

مرکزیت کے وجود اور صلاحیتeffectiveness)) کا انحصار اس کی مستحکم بنیاد پر ہے۔ مخلصین کی ادارتی صف بندی کی فطری بنیاد مسجد ہے۔ یہ مسجد کے ادارہ کا معاشرتی زوال ہے جو مخلصین دین کے انتشار اور لامرکزیت اور اقتدار سے محرومی کا ایک اہم سبب ہے۔ ائمہ مساجد جن کو مسلم عوام کے واحد جائز مقامی قائداور رہنما ہونا چاہیے فرقہ واریت سے شدید متاثر ہیں اور جمعہ کا ہر خطبہ فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نفرت اور حقارت سے بھرے ان کے وعظ ہر ہفتہ دہرانے جانے سےفرقہ واریت کی آگ بھڑکتی ہے۔

ائمہ مساجدکی تربیت کی شدید ضرورت ہے تاکہ وہ مقامی عوامی قیادت کو سنبھالنے کی اہلیت حاصل کر سکیں۔ انہیں احساس دلانا ہے کہ بریلویت، دیوبندیت، اہل حدیث، شیعت، یہ سب فروغ دین کے ذرائع ہیں۔ فروغ میں اختلافات کے باوجود سب کا مقصد تحفظ دین اور غلبہ دین ہی ہے۔ مدتِ دراز سے ہمارے وفاق المدارس اور اسلامی سیاسی جماعتوں میں اشتراک عمل عام ہے لیکن یہ اشتراک بالائی سطح تک محدود ہے اور اس کا کوئی اثر بنیادی اکائیوں (base units) مسجد اور مدرسہ تک نہیں پہنچتا۔ لہٰذا بالائی سطح کا اتحاد لازماً کمزور مجہول اور بے اثر رہتا ہے۔ ضرورت ہے کہ بالائی سطح مستحکم بنیادی جڑوں پراستوار ہو۔

ضرورت ہے کہ بالائی قیادت کی سرپرستی میں محلہ جاتی بین المسلکی وفاق المساجد قائم کیے جائیں جن کا مقصد فروغ اتحاد اسلامی، ائمہ مساجد کی تعلیم اور تربیت کا مسلسل انتظام ہو۔ جمعہ کے خطبات کی نگرانی کریں تاکہ وہ فرقہ واریت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنیں۔ ایک اور مقصدمساجد کی معاشرتی قیادت کو قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہو۔

محلہ کی سطح پر کارفرما ہر وفاق المدارس میں دارالفقہ اور دارالقضاء قائم ہواور ہر مسجد کا امام اس کا ذمہ دار ہوکہ نمازیوں اور ان کے متعلقین کو اس بات پر راغب کرے کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے سرکاری انتظامیہ کے بجائے وفاق المساجد سے رجوع کریں اور وفاق المساجد کی قیادت ہی سرکاری اداروں میں عوامی نمایندگی کا کردار ادا کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وفاق کی یہ صلاحیت کہ وہ اپنے فتاویٰ کا صرف اجرا نہیں بلکہ اس کی تنفیذ بھی کرے، بڑھتی جائے اور ہم محلہ محلہ ایسی شرعی عدالتیں قائم کرلیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بتدریج بااختیار ہوتی جائیں۔ عوامی عدالتوں کے ذریعہ سرمایہ دارانہ نظام عدلیہ کو کھوکھلا کرنے کی یہ اسکیم کئی لاطینی امریکی ملکوں میں کامیابی کے ساتھ اپنائی جاچکی ہے۔

یوں تنفیذ شریعت کا عمل محلہ کی سطح پر شروع ہوجائے گا اور اس کی بنیاد پاکستان کے قبائلی علاقوں اور دیہاتوں میں جرگوں اور پنچایتوں میں رکھ دی گئی ہے اور سرمایہ دارانہ حکومت ان جرگوں پنچایتوں کی کارفرمائی سے چشم پوشی پر مجبور ہے لیکن افسوس ہے کہ ان جرگوں میں علمائے دین کا کردار کم ہوتا جارہاہے اور شرع مطہرہ محض ایک جزوہے جس کو قبائلی روایات سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔

فتاویٰ کی تنفیذی صلاحیت بڑھانے کے لیے افرادی اور معاشی وسائل کی ضرورت ہے۔ پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے افرادی اور معاشی وسائل کا صحیح انداز ہ لگائیں۔ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ملک میں مخلصین دین کی اصل تعداد کیا ہے اور ان کے مالی وسائل کتنے ہیں۔ یہ تعداد بآسانی معلوم کی جاسکتی ہے اور اگر ہر مسجد کے تحت ایک سروے کیا جائے جو مندرجہ اعداد وشمار جمع کرے:

یہ اعداد وشمار محلہ، ضلع، شہر، صوبہ اور ملکی سطح پر جمع کی جائیں (اور ہرپانچ سال بعد جمع کی جاتی رہیں) تو ہمیں مخلصین دین (یعنی اپنی base constituency)کا صحیح اندازہ ہوتا رہے گا اور ہم تحفظ دین اور غلبہ دین کے کام کے لیے اپنے افرادی اور معاشی وسائل کے تناظر میں حقیقت پسند انہ منصوبہ بندی کر سکیں گے۔

ظاہر ہے ہمارے وسائل محدود ہیں (کتنے محدود،معلوم نہیں) اور یہ کام جو تجویز کیا جارہاہے یہ کام اضافی ہے۔ اس کام سے جو مساجد اور مدارس اور خانقاہوں میں توسیع دعوت اور تطہیر نفوس کے لیے جاری ہے جس کو توسیع دینا نہایت ضروری ہے تاکہ مخلصین دین کی تعداد برق رفتاری سے بڑھتی رہے۔ لہٰذا اس اضافی کام کو جاری رکھنے کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت ہوگی اور یہ وسائل بازار کے توسط سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ہماری قیادت کو بازار سے تصرف کو منظم کرنا ہوگا۔

5.23۔ بازار کا احیاء

مارکیٹ اور بازار میں بنیادی فرق ہے۔ مارکیٹ وہ کاروباری اجتماعیت ہے جس کے قیام کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ ہواور چوں کہ بڑھوترئ سرمایہ کا عمل اصلاً سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کے توسط کے بغیر جاری نہیں رہ سکتا لہٰذا لازماً تمام اشیائی اور خدمتی مارکیٹ سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کے زیر نگین ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں حلال اور حرام کی کوئی تمیز نہیں ہوتی، مارکیٹ کی روح رواں اجارہ دارانہ مسابقت ہوتی ہے اورمارکیٹ میں سرمایہ دارانہ اوصاف خبیثہ حرص و ہوس کی کارفرمانی غالب رہتی ہے۔ اس کے برعکس بازار ایک روایتی تاریخی ادارہ ہے جس کا مقصد حلال رزق کا حصول اور فروغ ہے۔ بازار سود اور سٹہ کی مارکیٹوں سے واسطہ نہیں رکھتے اور ان میں اجارہ داریاں قائم نہیں ہوتیں۔ بازار میں عموماً برادریوں کا عمل دخل کا فیصلہ کن ہوتا ہے اور حرص اور ہوس کی کارفرمائی کی تحدید ہوتی ہے، اسلامی اوصاف بالخصوص انفاق فی سبیل اللہ فروغ پاتے ہیں۔

دورِ حاضر میں سرمایہ دارانہ اوصافِ خبیثہ، حرص وہوس اور حسد بازار میں بھی پرورش پا رہے ہیں لیکن اب بھی پاکستان کے بیشتر بازار:

لہٰذا ان بازاروں سے استفادہ کرنا جائز بھی ہے اور ضروری بھی۔ اور ان میں حرص اور ہوس کے رحجانات کو محدودکرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ بازاروں سے استفادے کے دوطریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ ہمارے مدارس، خانقاہیں اور مساجد صدقہ وخیرات، فتوح وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں۔ ان رقوم کا ایک حصہ کاروباری مصارف کو فروغ دینے کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے اور اس رقم کا استعمال کا محلہ کی سطح کے اوقاف المساجد دکانیں اور کارخانہ قائم کر کے کر سکتے ہیں جن سے حاصل شدہ منافع کا ایک حصہ وقف کی معاشرتی کارفرمائی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اسلامی نظام تمویل قائم کیا جاسکتا ہے۔ اگر مخلصین دین کے کاروبار کو فروغ دے کر ملک گیر سطح پر ایسا اسلامی نظام تمویل قائم ہوجائے تو سود اور سٹہ مارکیٹوں (بالخصوص اسلامی بینک کاری ) کی تحدید اور تسخیر کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس نظام تمویل کے قیام کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کرنے پڑیں گے:

اس نوعیت کی اسکیم کامیابی کے ساتھ لبنان میں حزب اللہ اور ملیشیا کی ایک اسلامی تحریک دارالرقم کافی عرصہ سے کامیابی سے چلارہی ہیں اور ان تحریکوں کو معاشی طورپر خود کفیل بنانے میں ان کے بنائے گئے نظام تمویل نے کافی مدد دی ہے۔ تفصیل اس کی جناب محمد یونس قادری کی کتاب ”اسلامی بینک کاری کا متبادل“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

بازار میں دخول کا ایک اور طریقہ وفاق المساجد میں ”قیمت کمیٹیوں“ کا قیام ہے۔ یہ کمیٹیاں ائمہ مساجد پر مشتمل ہوں اور ان کا مقصد محلہ کے بازاروں، اسکولوں اور ہسپتالوں میں قیمت میں ناجائز اضافہ کی روک تھام ہو ۔بازاروں میں بھی ائمہ مساجد ایسی ہی عوامی نمایندگی کا فریضہ ادا کریں جس طرح سرکاری اداروں میں ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تنفیذ فتاویٰ کے لیے ضروری ہے کہ مخلصین دین کے اقتدار اورسیاسی قوت میں اضافہ ہوا ور ان کی اپنی سیاسی قیادت منظم اور غالب ہو۔ جیسے جیسے مخلصین دین اور ان کی عوامی قیادت با اختیار ہوتی جائے گی ویسے ویسے سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کمزور پڑے گا۔

سب سے پہلے لوکل گورنمنٹ کا نظام متاثر ہوگا کیوں کہ اوقاف المساجد اس کے دائرہ کارکو لازماً محدود کر دیں گے۔جیسے جیسے اوقاف المساجد کی کارفرمائی کا دائرہ کار اور صلاحیت بڑھے گی ویسے ویسے بالائی سطح کے سرمایہ دارانہ ادارے بالخصوص عدلیہ اور انتظامیہ بھی متاثر ہوں گے اور مخلصین دین کی اقتداری پیش رفت کی مزاحمت سرمایہ دارانہ ریاستی سطح پر بتدریج بڑھتی جائے گی۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ اس مزاحمت کو روکنے اور غیر مؤثر بنانے کے لیے مخلصین دین ان تضادات سے فائدہ اٹھائیں جوسرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی کارفرمائی میں مضمر ہیں۔

6.23۔ ریاستی اقدام

سرمایہ دارانہ نظام میں جمہوریت کی حیثیت پر قدرے تفصیلی بحث کتاب میں پیش کی جا چکی ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ عوام سرمایہ دارانہ تحکیم کی کسی ایک تعبیر (interpretation) کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ عوامی تصدیق گاہے گاہے انتخابات کے ذریعہ کی جاتی رہتی ہے لیکن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منعقد انتخابات کو سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول اور سرمایہ دارانہ تحکیم کو کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ الجزائر کے ۱۹۹۰ء کے انتخابات، مصر کے ۲۰۱۳ء کے انتخابات اور 1979ء کے بعد ایران میں منعقد کیے جانے والے بیشتر انتخابات نے کیا۔ جب انتخابات سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کے لیے ریاستی کارفرمائی کی تردید کریں تو سامراج ان انتخابات کے نتائج کو رد کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں وہ کبھی کامیاب ہوتا ہے (الجزائر اور مصر )اور کبھی کامیاب نہیں ہوتا(ایران، سوڈان، لبنان وغیرہ)۔

برصغیر پاک وہند کے علماء کا ایک صدی سے اس بات پر اجماع ہے کہ انتخابات میں شمولیت تحفظ دین اور غلبہ دین کے مقاصد کے لیے جائز ہے۔ علمائے ایران کا اجماع ہے کہ اسلامی حکومت کی موجودگی میں بھی انتخابی عمل کو جاری رکھنا جائز ہے۔ اس کے برعکس سلطنت عثمانیہ کے علما کا اجماع تھا کہ ایک اسلامی ریاست کی موجودگی کے دور میں انتخابی عمل کا جاری رہنا جائز نہیں۔ ظاہر ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں نہ یہاں کبھی کوئی اسلامی حکومت قائم ہوئی۔ اس وجہ سے علمائے برصغیر کے اجماع کے مطابق عمل کر کے مخلصین دین تحفظ دین اور غلبہ دین کے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں اور ۱۹۳۷ء کے کل ہند انتخابات سے لے کر آج تک تمام اسلامی سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل میں شرکت کی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی بیرون(exterior)آج موجود نہیں اور سرمایہ دارانہ انہدام کی جدوجہد لازماً سرمایہ دارانہ نظام کے اندر سےاس کے تضادات کو مہمیز د ے کر ہی کی جاسکتی ہے۔ اس کو دخول (entryism)کی حکمت عملی کہتے ہیں۔ ویسے تو دخول کے مواقع ہرسرمایہ دارانہ ریاستی ادارہ میں موجود ہیں اور ان سے مستفید ہونے کی ایک انقلابی اسلامی حکمت عملی مرتب کی جاسکتی ہے لیکن جمہوری عمل وہ ذریعہ ہے جس پر سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کی تنفیذ سب سے زیادہ دشوار ہے کیوں کہ وہ تحکیم قانون سرمایہ کی توجیہ عوامی سطح پر رضاکارانہ طورپر گاہے گاہے مرتب کرتا رہتا ہے۔

انتخابی اور جمہوری عمل میں دخول کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج سرمایہ دارانہ حکومت اور انتظامیہ مدارس اور مساجد پر قبضہ جمانے اور اسلامی نظام تعلیم و تربیت اور روحانی پیشوائی کو مسخ کرنے سے انتہائی سامراجی دباؤ کے باوجود کیوں گریز کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری دوبڑی سیاسی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمہوری اور انتخابی عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام ۱۹۹۰ء کے بعد سے بیشتر سیکولر حکومتوں کی معاون رہی ہے اور انتخابات میں اس نے کئی نمایندہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوتے ہیں۔ تحریک لبیک نے ایک قلیل عرصہ ایسا عوامی تحرک پیدا کر دیا ہے جس سے حکومت خائف ہے۔ جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک کی اس جمہوری اور انتخابی جدوجہد نے حکومت کو مساجد، مدارس، اسلامی نظام تعلیم اور روحانی تربیت پر حملہ کرنے سے باز رکھا ہے۔ لیکن جس طرح مخلصین دین کی سیاسی جماعتوں نے جمہوری اور اتنخابی عمل میں شرکت کی ہے اس سے غلبہ دین کا ہدف حاصل نہ ہوسکا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مخلصین دین بے اختیار، کمزور اور منتشر ہوتے جا رہے ہیں۔ غلبہ دین کے فریضہ کو ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انتخابات کو انقلابی بنیادوں پر لڑنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے۔ انتخابات کو انقلابی بنیادوں پر لڑنے کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے:

اس باب میں دی جانے والی تمام تجاویز فی الفور قابل عمل ہیں اور ان تجاویز پر عمل شروع کر کے ہم سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور بھی کر سکتے ہیں اور دھیرے دھیرے غلبہ دین کے عمل کو آگے بھی بڑھا سکتے ہیں لیکن چوں کہ پاکستان میں غلبہ دین کی جدوجہد مدافعتی ہے انقلابی اور اقدامی نہیں لہٰذا اس کام کی ابھی تک ابتدا ہی نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں سب سے اہم رکاوٹ اتحاد اسلامی کے فقدان کی ہے۔ اس اتحاد قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام راسخ العقیدہ جماعتیں اور اسلامی گروہ ایک دوسرے کو اپنا حلیف اور ساتھی سمجھیں۔ بتدریج ہماری صفوں میں وہ مرکزیت ابھرے گی جو اس کام کو ممکن بنادے گی۔ بالائی سطح پر اتحاد کی اہمیت کا احساس کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بالائی اتحاد کو گہرائی اور وسعت دی جائے اور یہ اتحاد مسجد کی سطح پر منظم اور کارفرما ( functional)بنایا جائے۔

میں انقلاب پسندوں کی قبیل سے ہوں
حق پر جو ڈٹ گیا اس لشکر قیل سے ہوں
میں یوں ہی دست و گریباں نہیں زمانے سے
میں جس جگہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں