کتب خانہLibrary

← Jamhooriat ki Haqiqat setting 06072023 (Final Version for publishing)

Jamhooriat ki Haqiqat setting 06072023 (Final Version for publishing).docxڈاؤن لوڈ

جمہوریت کی حقیقت

جاوید اکبر انصاری

امین اشعر

ڈاکٹر علی محمد رضوی

ڈاکٹر وہاب سوری

ڈاکٹر سید ذیشان ارشد

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

محمد یونس قادری

جاوید احمد شیخ

ڈاکٹر محمد طاہر

کاشف شیخ

ڈاکٹر عامر حسین

الغزالی پبلشرز کراچی

جملہ حقوق محفوظ ہیں

نام کتاب: جمہوریت کی حقیقت

مصنف : ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

مرتبین :

امین اشعر، ڈاکٹر علی رضوی، ڈاکٹر ذیشان ارشد، جاوید احمد شیخ، ڈاکٹر زاہد صدیق مغل، محمد یونس قادری،

ڈاکٹر محمد طاہر،کاشف شیخ،ڈاکٹر عامر حسین

صفحات: 637

سائز: 23*36/16

طبع اول: 2023

تعداد: ایک ہزار

قیمت:

ناشر: امین اشعر

فون نمبر: 03332122756

انتساب

علامہ محمد اقبال رحمۃاللہ

کہ وہ تھا محرم رازدروں میخانہ

(یہ کتاب علامہ کے اس مصرعہ کی ایک تشریح ہے(

جمہوریت کے ابلیس ہیں ارباب سیاست

مصنفین کا تعارف

الہٰی الہٰی گناہ گار ہوں
کٹی عمر جرم و خطا میں تمام
سیاہی گناہوں کی جاتی نہیں
رواں قافلہ کیا ہم باندھیں کمر
نہ زر کا بھروسہ نہ کچھ زور کا
فرشتہ ادھر گرز تولے ہوئے
ترا سامنا سخت ہیبت کی جا
الٰہی تو غفارہے اور رحیم
الٰہی بحق بنی فاطمہ
خدایا خدایا خطا کار ہیں
نہیں کام کے میرے جتنے ہیں کام
یہ شب صبح ہونے کو آتی نہیں
نہیں پاس کچھ اپنے زاد سفر
کٹی عمر اور سامنا گور کا
جہنم اندھیرے منہ کو کھولے ہوئے
سرا سیمہ ہیں انبیا اولیا
گناہ ہمارے سب بخش دیجئو کریم
شہادت پہ کیجئو میرا خاتمہ

امیر مینائی

فہرست

انتساب 3

مصنفین کا تعارف 4

مقدمہ 11

باب 1 جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست(جمہوریت کی تعریف) 16

1.1۔ ریڈ انڈینوں کا قتلِ عام 16

1.2۔ جمہوریت کی تعریف 19

1.3۔ جمہوری عقائد 20

1.4۔ جمہوری طریقہ کار 40

1.5۔ جمہوری نظریات 46

باب 2 ہوس کی امیری ہوس کی وزیری(جمہوریت کی تاریخ) 58

2.1۔ قدیم جمہوریت 58

2.2۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ابتدا 64

2.3۔ سرمایہ دارانہ انقلاب 67

2.4۔ دورحاضر کی جمہوریتیں 93

باب 3 پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات(جمہوریت کے نقیب) 101

3.1۔ افلاطون 101

3.2۔ ارسطو 106

3.3۔ مکیاویلی(Maciavelli): 111

3.4۔ جان لاک (John Locke) 117

3.5۔ روسو (Rousseau) 125

3.6۔ مونٹیسکیو (Montesquieu) 129

3.7۔ کارل مارکس 136

3.8۔ جان اسٹوارٹ مل 141

3.9۔ لینن 156

3.10۔ ہائک اور نوزیک (Hayek and Nozick) 159

3.11۔ برلن 170

3.12۔ نطشے اور شمٹ 174

3.13۔ جان رالز 186

3.14۔ یورگن ہابرماس 206

باب 4 ڈھونڈتا رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام(سرمایہ دارانہ نظام) 230

4.1۔ سرمایہ داری کی تاریخ 230

4.2۔سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست 249

4.3۔ سرمایہ دارانہ ریاستی تحکم کے ذرائع 255

4.4۔ سرمایہ دارانہ زر 290

4.5۔ میکرومینجمنٹ 296

باب 5 یہ بھی ایک سرمایہ دار کی ہے جنگ زرگری(سرمایہ دارانہ جمہوریت) 304

5.1۔ سرمایہ داری اور جمہوریت 304

5.2۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی ہیئت اور ماہیت 307

5.3۔ پارلیمانی جمہوری ریاست 325

5.4۔ استبدادی جمہوری ریاست 334

5.5۔ اشتراکی جمہوری ریاست 344

5.6۔ سوشل ڈیموکریٹ ریاست 355

5.7۔ خلاصہ 361

باب 6 دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب(جمہوریت اور سامراج) 363

6.1۔ جدید سامراجی نظام کی ابتدا 363

6.2۔ حالیہ سامراجی نظام کی خصوصیات 370

6.3۔ سامراج اور پسماندہ ممالک 401

6.4۔ سامراجی دہشت گرد نمبر1 – ریاست ہائے متحدہ امریکا 412

6.5۔ سامراجی دہشت گردی میں امریکہ کا کردار 415

6.6۔ سامراجی دہشت گرد: عوامی جمہوریہ چین 421

6.7۔ خلاصہ 433

باب7 فرنگ رہ گزر سیل بے پناہ میں ہے(سرمایہ دارانہ جمہوری بحران) 436

7.1۔ اقداری اور ثقافتی بحران 436

7.2۔معاشی بحران 442

7.3۔ وبائی بحران 447

7.4۔ ماحولیاتی بحران 452

7.5۔ اطلاعاتی اور مواصلاتی بحران 464

7.6۔ نفسیاتی بحران 480

7.7۔ کیا سرمایہ دارانہ بحران نظاماتی انہدام پر منتج ہوں گے 486

باب 8 شرکت میان حق و باطل نہ کر قبول(جمہوریت کی شرعی حیثیت) 488

8.1۔ فرد، معاشرہ اور ریاست کا باہمی تعلق 489

8.2۔مذہبی انفرادیت کیا ہے؟ 489

8.3۔سرمایہ دارانہ انفرادیت 490

8.4۔سرمایہ دارانہ انفرادیت کیونکر وجود میں آئی؟ 490

8.5۔ ہیومن ازم کیا ہے؟ 492

8.6۔ ریشنلزم 493

8.7۔انسانی حقوق کا ماخذ 494

8.8۔جمہوریت کیا ہے؟ 495

8.9۔ جمہوریت عبدیت کا انکار ہے 498

8.10۔جمہوریت شرک فی الحکم ہے 498

8.11۔الٰہی نظام سے بغاوت کا سرچشمہ 499

8.12۔تکمیل دین کا انکار 501

8.13۔ اکثریتی بنیادوں پر فیصلوں کا باطل فلسفہ 504

8.14۔ تقسیم اور پارٹی بازی 505

8.15۔ جمہوری ریاست میں پارلیمنٹ کا کردار 507

8.16۔ ووٹ کیا ہے؟ 509

باب 9 سلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیں(خلافت اسلامیہ) 515

9.1۔ مقاصد وترتیب 515

9.2۔ اسلامی تاریخ کے تسلسل کی اہمیت 515

9.3۔خلافت اسلامی کے درجات 520

9.4 ۔مسئلہ خروج کی وضاحت 523

9.5۔خلافت اور موجودہ ریاستوں میں اصولی فرق 528

9.6۔موجودہ مسلم ریاستوں کے خلاف انقلابی حکمت عملی کی شرعی حیثیت 536

باب 10 مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب، نظریہ((Theo democracy 544

10.1۔ مولانا مودودیؒ کی فکر میں مغرب کے چیلنج کا ادراک 545

10.2۔ مغرب سے کیسے مقابلہ کیاجائے 547

10.3۔ حکمت عملی کے نتائج 555

10.4۔ خلاصہ 562

حاشیہ 568

باب 11 آہ وہ تیرنیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف(پاکستانی جمہوریت) 573

11.1۔ کیا پاکستان ایک لبرل ریاست بنتا جا رہاہے؟ 573

11.2۔ لبرل ریاستی نظا م کیسے قائم ہوتی ہے؟ 573

11.3 ۔کیا پاکستانی ریاست لبرل بنتی جاری ہے؟(جمہوری ریاست میں اسلامی انقلابی حکمت عملی) 577

11.4۔ پاکستانی معاشرتی تناظر میں اسلامی جدوجہد 589

میں ڈھونڈ رہا ہوں سم افرنگ کا تریاق 591

12.1۔ذاتی کم مائیگیاں اور استدلال کی کمزوریاں 591

12.2۔سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر 592

12.3۔جمہوری نظام کے استعمال کی ناگزیریت 593

12.4۔مجوزہ حکمت عملی 595

خلاصہ 620

مقدمہ

بے حد وحساب تعریف خدائے تبارک تعالی کے لئے جس نے اپنی رحمت کاملہ سے قرآن پاک کو نازل فرمایاتاکہ اس کے بندے اس کی مرضی کو معلوم کرسکیں اور اس کے ناپسندیدہ امر سے آگا ہ ہوسکیں اور نفس کے مکرو فریب سے نجات پا سکیں ۔اس پرور دگار کے احسانات ہمارےدل وجان پر محیط ہیں اور اس کا وجود ہمارےظاہر اور باطن کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔درود وسلام ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ہمیں سعادت داریں سے باخبرکوئی بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے زیادہ واضح نہیں ہوسکتا فلاح پا گیاجو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرے اور سب سے زیادہ بد بخت وہ ہے جو اس راہ سے انحراف کا رویہ اختیار کرے۔

ہم اسلامی انقلابی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات کے مکمل انہدام کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پچھلی دو صدیوں سے سرمایہ دارانہ تحکم کا سب سے مؤثر اور معتبر جواز جمہوری عمل فراہم کرتا ہے اور آج دنیا کی تقریباً ہر حکومت خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، خواہ قوم پرست، خواہ اسلامی اپنے جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتی ہے(الا مفتوحہ علاقوں میں قائم ہونے والی حکومتیں اور امارۃ اسلامیہ افغانستان) اور تمام قومی معاشرے سرمایہ دارانہ نظام میں جکڑے ہوئے ہیں۔

اس تہذیبی تناظر میں جمہوری عمل کی تفہیم بالخصوص ان لوگوں کے لیے نہایت ضروری ہے جو سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی انہدام کی اسلامی جدوجہد مرتب کر رہے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کی خصوصیات ہم اپنی کئی کتب (دروس سرمایہ داری )میں پیش کر چکے ہیں([1])۔ اجمالاًیہ کہا جا سکتا ہے کہ سرمایہ داری وہ نظام زندگی اور طرزِ حیات ہے جہاں حرص اور ہوس کی شیطانی قوتیں انفرادیت، معاشرت اور ریاست پر غلبہ حاصل کر لیتی ہیں اور جہاں عقلیت اور روحانیت خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہو جاتی ہیں۔ شہوت اور غضب کے اس عمومی آفاقی (universal)غلبہ کا جواز جمہوری عمل فراہم کرتا ہے اور آج جمہوری عمل سرمایہ دارانہ نظاماتی کلیت کے ایک جزو لاینفک کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جمہوری عمل کو مسخر کیے بغیر سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی انہدام ناممکن ہے۔

مخلصین دین (وہ تمام مسلمان جو دین کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں )میں جمہوری عمل کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ برصغیر کے علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ انتخابات میں شرکت (جو کہ جمہوری عمل کا ایک جزو ہے) جائز ہے (فرض نہیں ہے)۔ اس اجماع کی بنیاد پر پاکستان کی تمام سیاسی اسلامی جماعتوں نے جمہوری عمل میں شرکت پچھتّر سال سے کی ہے۔ وہ صرف الیکشنوں میں حصہ نہیں لیتیں بلکہ دستوری جمہوری نظام کی کارفرمائی کو غلبہ دین کا ایک مؤثر ذریعہ تصور کرتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام سے ان جماعتوں کی جدوجہد کا کوئی واسطہ نہیں اور سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے تناظر میں ایک اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ ”اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے“ ان جماعتوں کا محض ایک نعرہ ہے جس کی کوئی عملی تفسیر بیان کرنے سے یہ قاصر ہیں۔

دوسری جانب بہت سے اکابرین جمہوریت کو اصولاً کفر و شرک کہتے ہیں، وہ انتخابات میں شرکت سے اجتناب کرتے ہیں لیکن جمہوری دستوری نظام کو رد نہیں کرتے۔ وہ دستور کی اسلامی شقوں کی تنفیذ کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس تنفیذ کے ذریعہ اسی سرمایہ دارانہ نظام تحکم سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مقاصد شریعت کے حصول کا ایک ذریعہ بنے گی۔ ان مخلصین دین کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام پر مرکوز نہیں بلکہ جدوجہد کے ایک شعبہ (تعلیم و تدریس، تزکیہ، رفاہ عامہ) کی اسلام کاری پر مرکوز ہے۔

یہ درست ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا آج کوئی خارج (exterior) نہیں([2]) اور ہمیں تسخیر سرمایہ داری کا عمل اس کے نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر ہی جاری رکھنا ہے۔ سرمایہ دارانہ اور جمہوری نظاموں کی اصولی تردید کوئی معنی نہیں رکھتی اگر سرمایہ دارانہ او ر جمہوری تضادات کو مہمیز دینے کی صلاحیت نہ بڑھائی جائے۔جو مخلصین دین جمہوری عمل کی اصولاً تردید کرتے ہیں لیکن عملاً اس عمل کی تسخیر سے گریزاں رہتے ہیں وہ ایک خیالی جنت کے معمار ہیں۔ وہ آئیڈیل ازم کا شکار ہیں اور اپنی نظاماتی بے عملی پر خود کو مطمئن کرتے رہتے ہیں۔

مخلصین دین کے دونوں گروہ، وہ جو سرمایہ دارانہ نظاماتی اور جمہوری تناظر میں اسلامی غلبہ کے متمنی ہیں اور وہ جو اس نظام کو اصولاً رد کرتے ہوئے عملاً اس کی کارفرمائی کو قبول کرتے ہیں، نہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات سے کماحقہ آگاہ ہیں نہ جمہوری عمل کی نوعیت اور اس کی ادارتی صف بندی سے۔ اس کتا ب کا مقصد جمہوری عمل کا تجزیہ ہے([3])۔

جمہوری عمل کو اسلامی نقطہ نگاہ سے سمجھنے کی یہ ایک ابتدائی کوشش ہے اور ہمیں امید ہے کہ اسلامی جماعتوں کے کارکن، مدارس کے طلبہ اور اساتذہ اور مخلصین دین کے دیگر حلقے اس بحث میں شامل ہو کر ان لاتعداد غلطیوں کو رفع کریں گے جو ہم نے اپنی جہالت اور کم مائیگی کے سبب اس تحریر میں شامل کی ہیں۔

کتاب کے بارہ ابواب ہیں اور ان کو علیحدہ علیحدہ نہیں پڑھنا چاہئےکیوں کہ یہ آپس میں مربوط ہیں۔ کتاب کے مطالعہ کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کو تسلسل کے ساتھ جاری رہنے والے اسٹڈی سرکل میں سبقاً سبقاً پڑھا جائے اور بحث کے دوران جو تجزیاتی اغلاط سامنے آئیں انہیں نوٹ کر کے زیر مطالعہ متن کی اصلاح کی جائے۔ اس نوعیت کے مطالعہ کے نتیجہ میں ہم ان شاء اللہ کتاب کا اصلاح شدہ دوسرا ایڈیشن تیار کر سکیں گے۔

یہ کتاب مولانا مودودیؒ کے اجتہاد ”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ کی ایک ابتدائی سیاسی تشریح ہے۔ اپنے متکلمین کے اجتہادات کی ایسی تشریحات مرتب کرنا جن کی بنیاد پر دورِ حاضر میں غلبہ دین کی جدوجہد آگے بڑھائی جا سکے اسلامی انقلابیوں کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

باب1

جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست

(جمہوری عمل)

1.1۔ ریڈ انڈینوں کا قتلِ عام

جمہوری عمل اپنی نوعیت کے اعتبار سے وحشیانہ لوٹ مار کے ذریعہ مستحکم ہوتا ہے۔ جدید جمہوری نظام کے دور کا آغاز سولھویں اور سترھویں صدی میں آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور امریکا میں منظم نسل کشی اور لوٹ مار سے ہوا اور یہ لوٹ مار اور جمہوری دہشت گردی آج تک جاری ہے۔

دور حاضر کی جمہوری ریاستیں اپنے ابتدائی دور میں دہشت گرد ریاستیں ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری ریاست نظام سرمایہ داری کا ایک جزو ہے اور سرمایہ دارانہ تحکیم کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ اقدار کو معاشرتی تسلط حاصل ہو۔ جمہوری ریاست لازماً ان گروہوں کا سیاسی اقدار مرتب کرتی ہیں جو سرمایہ دارانہ عقائد پر ایمان لا کر سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں۔ جو لوگ ان اقدار کو رد کرتے ہیں اور سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار نہیں کرتے انہیں قتل کر کے ان کی تمام املاک پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ نسل کشی ابتدائی جمہوری عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اس کی سب سے ہول ناک اور خوں چکاں مثال امریکا کے قدیم باشندوں کے قتل عام اور مکمل معاشی بے دخلی سے ملتی ہے۔ دوسری عبرت ناک مثال آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کی نسل کشی کی ہے۔

امریکا میں قتل عام اور لوٹ مار سولھویں صدی سے شروع ہو گیا تھا اور اس کو پرتگالیوں، ہسپانیوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں نے تقریباً چار سو سال تک جاری رکھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کہ بنیاد اسی وحشیانہ درندگی پر رکھی گئی اور اس قتل عام اور لوٹ مار کو منظم کرنے میں امریکی سیاست دانوں، شہری منتظمین،اہل کلیسا، سربراہان اور عام سفید فام شہریوں سب نے بھرپور حصہ لیا۔

قتل عام اور لوٹ مار کے ذریعہ جمہوری عمل ایک ایسی قوم تشکیل دیتا ہے جس کے تصورات خیر و شر اور طرزِ بودوباش یکساں ہو۔ انگریز سترھویں صدی کے وسط سے امریکا پر قابض ہونا شروع ہوئے اور قدیم باشندوں کا قتل عام اور ان کی املاک پر قبضہ اس ہی وقت سے جاری ہو گیا۔ یہ انگریز (Pilgrim Fathers) برطانوی بادشاہت کے مفرور اور جمہوری جذبات سے سرشارتھے اور انہوں نے جو علاقائی ریاستی ڈھانچہ کھڑا کیا وہ بادشاہ کی باج گزاری قبول کرنے کے باوجود جمہوری نوعیت کا تھا اور جیسا کہ مائیکل مین (Michael Mann)نے لکھا ہے قدیم باشندوں کے قتل عام اور معاشی بے دخلی کی مہمات میں وہی عوام شامل تھے جو جمہوری جذبات سے سب سے زیادہ سرشار تھے([4])۔

انگریز دہشت گردی کے ابتدائی وقت میں موجودہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے علاقہ میں تقریباً پندرہ ملین قدیم باشندے آباد تھے۔ فوج کشی کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے دانستہ قدیم باشندوں کی بستیوں میں وبائی امراض پھیلائیں اور 1900ء تک قدیم باشندوں کی تعداد آدھا ملین ہو کر رہ گئی۔ رہی سہی کسر اینڈریو جیکسن کی صدارت کے دور میں نکال دی گئی۔ اینڈریو جیکسن ڈیموکریٹک پارٹی کا بانی اور ٹرمپ کی پسندیدہ شخصیت ہے۔ یہ 1829ء میں صدر منتخب ہوا لیکن اس نے پہلا قتل عام 1812ء میں Creek ریڈانڈینوں کا کیا اور ان کے تمام علاقہ (جو موجودہ الباما اور جارجیا پر مشتمل ہے) پر قبضہ کر لیا۔ اس نے لاکھوں قبائیلیوں (Cherokees, Chawasha, Chickasaw, Creek) کو ملک بدر کر دیا اور ا ن کی اراضی پر قبضہ کر لیا۔ 1818ء میں Seminoleقبائل کا قتل عام اور بے دخلی جیکسن کے تحت عمل میں آئی۔ جیکسن کی اس بہیمیت کو ملک گیر ستائش حاصل ہوئی اور وہ مقبول ترین جمہوری ہیرو کے طور پر ابھرا۔

جیکسن کی صدارت میں 1830ء میں Indian Remvoal Act کانگریس نے منظور کیا۔ ساؤتھ کیرولینا اور ٹیکساس میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا گیا اور 1832ء میں جیکسن کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد قدیم باشندوں کے قتل عام کی مہم زور پکڑ گئی جس کو اس کے جانشینوں Martin Van Buren اور James K. Polk نے پوری حوصلہ مندی اور سفاکی کے ساتھ جاری رکھا۔

نسل کشی کی یہ مہمات انیسویں صدی کے وسط تک اپنے عروج کو پہنچیں اور ان کا مقصد ریاست ہائے متحدہ امریکا کو قدیم باشندوں سے بالکل خالی کر دینا تھا۔ امریکی ریاست کا پہلا صدر جارج واشنگٹن قدیم باشندوں کو ”وحشی بھیڑیے“ کہتا تھا۔ اس کے باوجود Cherokee قبائل سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو گیا جس کے تحت الباما، نارتھ کیرولینا، ٹینیسی اور جارجیا کے وسیع علاقوں پر اس قبیلہ کی ملکیت کو تسلیم کیا گیا۔ 1820ء تک ان علاقوں میں رہائش پذیر قدیم باشندوں کی آبادی دگنی ہو گئی۔

1834ء میں تقریباً ایک تہائی امریکی علاقہ کو Indian Territory تسلیم کیا گیا اور اس علاقہ میں رہائش پذیر قدیم باشندوں کو داخلی خود مختاری دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن انڈین کمیونٹی کو کبھی کانگریس یا سینٹ میں نمایندگی نہیں دی گئی اور شروع ہی سے یہ وعدہ کر لیا گیا کہ یہ ایک عارضی بندوبست ہے۔ قدیم باشندوں کو انڈین ٹیریٹری کی سرحدوں تک دھکیلنے اور اس علاقہ میں سفید فاموں کی بستیاں آباد کرنے کی مہم 1840ء میں شروع ہوئی۔ آج اسرائیلی دہشت گرد فلسطینی علاقوں پر انہی امریکی نوآبادکاروں کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور بالکل جس طرح اسرائیلی توسیع پسندی کا جواز جمہوری عمل سے دیا جاتا ہے اسی طرح انڈین ٹیریٹری پر قبضہ امریکی جمہوری نظام کی کارفرمائی سے عمل میں آیا۔

کانگریس نے 1856ء میں ٹرنساس اور نیبراسکا کا علاقہ انڈین ٹیریٹری سے چھین لیا اور اس پورے علاقہ سے ریل گزار کر کیلیفورنیا تک پہنچنے کے انتظام کی جمہوری اداروں نے منظوری دےدی۔ قدیم باشندوں کے قتل عام کی مہم زور پکڑ گئی اور اس میں سفید فام نوآبادکار، کان کن، حکومتی نمایندے، اہل کلیسا،فوج اور ریلوے کمپنیاں سب شریک ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قدیم باشندوں کی علاقائی بے دخلی کی مہم کا آغاز ہوا۔ انڈین ٹیریٹری کم ہوتے ہوتے موجودہ اوکلاہاما کے بائیں کنارے تک کانگریس میں سکیڑ دی گئی۔ پورے ریاست ہائے متحدہ امریکا سے قدیم باشندوں کو دھکیل کر اس مختصر علاقہ میں جمع کیا جانے لگا۔ 1879ء تک اس محدود علاقہ میں Cherokees, Chickasaw, Ottawa, Seminole, Seneca, Modoc, Odawa, Peoria, Kickapoo, Creek, Potawatomi, Cheyenne, Arapaho, Wichita, Wakashan, Tawakoni, Kichai, Caddo, Delaware, Comanche, Kiowa, Kainai, Nez Perce, Pawnee, Pecos, Sacs, Appachees قبائل کو کانگریس نے لا پھینکا۔ لیکن دھیرے دھیرے اوکلاہاما کے اس مختصر علاقہ پر بھی سفید فام نو آبادیوں نے قبضہ کر نا شروع کر دیا اور کانگریس نے ان قبضوں کو قانونی جواز فراہم کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ 1907ء تک انڈین ٹیریٹری کا خاتمہ ہو گیا وہاں کے قدیم باشندوں کی تین چوتھائی آبادی قتل کر دی گئی اور پورے علاقہ پر گوروں کی جمہوری حکومت قائم ہو گئی۔

محتاط اندازوں کے مطابق سولھویں سے انیسویں صدی کے وسط تک اسی ملین قدیم باشندے ہلاک کیے گئے اور درندگی کی یہ وحشت ناک تاریخ امریکا کے جمہوری عمل نے رقم کی۔ بلاشبہ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جرم ہے اور صدیوں تک جاری رہنے والے جمہوری عمل نے یہ جرم کیا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں۔ جمہوری عمل کی ابتدا ہمیشہ قتل عام اور لوٹ مار سے ہوتی ہے۔ سامراج کی تاریخ اس کی گواہ ہے([5])۔ آج اسرائیل، کشمیر، عراق اور مشرقی ترکستان میں اسی طریقہ سے جمہوری نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

1.2۔ جمہوریت کی تعریف

جمہوریت (ڈیموکریسی) کا لغوی مطلب عوامی (ڈیموس) راج (کریسی) کیا جا تاہے۔ لیکن اٹھارھویں صدی کے بعد سے جو جمہوری نظام قائم ہوا ہے اس کے لیے یہ تعریف بالکل خلاف حقیقت ہے۔ آج جمہوریت عوام کی حکومت نہیں ایک خاص گروہ کی حکومت کا نام ہے۔ ان جمہوری حکمرانوں کو سرمایہ دار کہتے ہیں اور آج دنیا کا جمہوری نظام دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک وہ حصہ ہے جہاں عوام ان سرمایہ دار حکمرانوں کی حاکمیت قبول کرنے پر مجبور ہیں اور دوسرا وہ حصہ جہاں عوام سرمایہ دارانہ حکومتی اجارہ داری کو جائز تصور کرتے ہیں۔ جمہوری ریاستی دہشت گردی کی ضرورت عوام کو سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی حکمرانی پر راضی کرنے کے لیے کرنی پڑتی ہے، جہاں سرمایہ دارانہ حکمرانوں کا تسلط قائم ہے اور عوام ان کا حکم برضا و رغبت جائز تصور کرتے ہیں وہاں جمہوری ریاستی دہشت گردی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان دو علاقوں کو بالترتیب Zone of Turmoil (عراق، افغانستان، مالی) اور Zone of Peace (مغربی یورپ، امریکا) کہا جاتا ہے اور جمہوری عمل ان دو علاقوں میں مسلسل جاری رہنے والی کشمکش کو بذریعہ جنگ ، قانون، فنانس اور ایڈمنسٹریشن مسلسل منظم کرتا رہتا ہے۔ اسی ساختی سیاسی تنظیم کو سامراجیت کہتے ہیں۔

عوام کو سرمایہ دارانہ تحکیم پر راضی کرنے کے لیے ضروری ہےکہ ان میں سرمایہ دارانہ عقلیت اور روحانیت کو فروغ دیا جائے اوروہ خبیث اور ذلیل عقائد و نظریات پھیلائے جائیں جن کو قبول کر کے ایک انسان ہیومن بینگ بن جاتا ہے۔ وہ موت کو بھول جاتا ہے۔ دنیا کو ابدی تصور کرنے لگتا ہے اور اپنی روح پر حرص و ہوس کے شیاطین کو مسلط کر لیتا ہے۔ اس کی عقل اس کے نفس امارہ کی غلام بن جاتی ہے۔ اور حب مال اور حب جاہ میں ایسا گرفتار ہوتا ہے کہ ہر ظلم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ انسانیت کی یہ بیخ کنی ایک طویل تاریخی عمل کے ذریعہ ممکن ہوئی جس میں جمہوری عمل کا بھی ایک حصہ ہے اور ہم آیندہ ابواب میں اس کی گاہے گاہے تفصیل بیان کریں گے ان شا اللہ۔ لیکن ابتدا میں جمہوریت کے فاسد عقائد کا تجزیہ ضروری ہے۔

1.3۔ جمہوری عقائد

یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ آج کے دور میں جمہوری عمل سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات میں پیوست ہے اور یہ پیوستگی بارھویں صدی کی اطالوی ساحلی بستیوں سے شروع ہوئی۔ پانچویں صدی قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک یونان کے کچھ شہروں (بالخصوص ایتھنز) اورروم میں جمہوری نظام قائم تھا۔ اس کے عقائد و نظریات دور حاضر کے جمہوری عقائد سے قدرے مختلف تھے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ نہیں تھی لیکن ان قدیم عقائد کا تذکرہ یہاں ضروری نہیں([6])۔

اس سیکشن میں ان کلیدی عقائد کا تجزیہ کریں گے جو دورِ حاضر کے جمہوری نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی سرمایہ دارانہ عقائد بھی ہیں۔

1.3.1۔ آزادی اور خود اختیاریت

آزادی اور خود اختیاری کا تصور سولھویں اور سترھویں صدی کی پیداوار ہے([7]) اور اس کی واضح تشریح امانویل کانٹ کی فکر میں ملتی ہے۔ کانٹ ہیومن بینگ کو قائم بالذات، احد اور صمد گردانتا ہے۔ کانٹ کے مطابق ہیومن بینگ کے ذہن میں جو اطلاعات اس کی حسیات (senses)فراہم کرتی ہیں اس کو تصورات (concepts) کی شکل میں ڈھال کر ہیومن ذہن حق کی تخلیق کرتا ہے۔ حق کی شناخت کے لیے ہیومن بینگ کسی خارجی ذریعہ (مثلاً وحی) کا محتاج نہیں۔ انہی معنوں میں ہیومن بینگ کا ئنات اور اپنی ذات کا خود خالق ہے اور ریشنلٹی اس کو تمتع فی الارض اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کا معقول ترین طریقہ بتلاتی ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ کفر بواح ہے اور ہیومن بینگ انسانی نہیں بلکہ شیطانی انفرادیت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی جمہوری تشکیل اسی شیطانی انفرادیت کو مفروض کرتی ہے اور جمہوری عمل اسی شیطانی انفرادیت کے معاشرتی تفوق کے نتیجہ میں اپنا جواز قائم کرتا ہے۔

اگر فرد کو آزاد اور خود اختیاری تسلیم کر لیا جائے تو اس کے کسی عمل پر پابندی لگانے کا کوئی جواز بیان نہیں کیا جا سکتا جبکہ سرمایہ دارانہ نظام جبری جکڑبندیوں سے لازما ً گھرا ہوتا ہے۔ ان جکڑبندیوں کا جواز کانٹ کے تصور categorical imperative اور universalizability سے نکلتا ہے۔

کانٹ کے مطابق نفس دو حصوں میں تقسیم ہے: نفس امارہ اور نفس لوامہ([8])۔ نفس امارہ خواہشات نفسانی کی آماج گاہ ہے۔ لیکن بقول کانٹ یہ نفس لوامہ کا کام ہے کہ فیصلہ کرے کہ کسی خواہش کو کس طرح اور کس حد تک پورا کیا جائے گا۔ جس اصول کی بنیاد پر نفس لوامہ یہ فیصلہ صادر کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ”ہر وہ عمل جائز ہے جس کو کرنے سے کسی دوسرے ہیومن بینگ کا یہ حق مجروح نہیں ہوتا کہ وہ جو چاہے کرے ۔ اسی اصول کو pricinple of universalizability کہتے ہیں۔

اسی اصول کے مطابق کوئی عمل (یا شے) بذات خود نہ خیر ہے نہ شر جو چیز اس کو خیر یا شر بناتی ہے وہ محض اس کی potential universalizability ہے۔ مثلاً زنا اگر طرفین کی رضامندی سے کیا جائے تو خیر ہے لیکن اگر جبر سے کیا جائے تو شر ہے۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ نے زنا برضا کو ہیومن رائٹ قرار دیا ہے۔Robert Nozick نے اسی اصول کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ ملکیت کا جواز مرتب کیا ہے ([9])اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سرمایہ دارانہ قانون کی پامالی کرنے والے مقید اپنی آزادی سے محروم نہیں کیے جاتے۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ اجرتی معاہدہ (wage contract) (جو اصولاً اختیار اور عملاً جبر کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں) مزدوروں کو ان کی آزادی سے محروم نہیں کرتے۔

سرمایہ دارانہ معاشرتی تنظیم جو حقوق (بشمول جمہوری حقوق) فراہم کرتی ہے وہ سب اسی کانٹین اصول universalizability کے غماز ہیں اور ان کے اطلاق کے نتیجہ میں جو ظلم ظہور پذیر ہوتا ہے وہی سرمایہ دارانہ عدل ہے۔ لہٰذا آزادی کامطلب سرمایہ کی تابع داری کے علاوہ اور کچھ نہیں اور دورِ حاضر میں جمہوریت اس تابع داری کی سیاسی تنظیم ہے۔

سرمایہ دارانہ عدل ظلم ہے اور اس ظلم کے خاتمہ کے لیے تصورِ آزادی اور خود اختیاریت کی تردید لازمی ہے۔ سرمایہ دارانہ ظلم کی بنیاد وہ نظام ملکیت ہے جو سرمایہ دارانہ عمل کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے([10]) کیوں کہ سرمایہ دارانہ ملکیت لازماً لوٹ مار ، سود اور سٹہ کے کاروبار میں حصہ داری سے جنم لیتی ہے اور فروغ پاتی ہے([11])۔

ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

جمہوری عمل سرمایہ دارانہ ظلم کا جواز مرتب کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس ظلم کی بنیاد عقیدہ آزادی اور خودمختاری کا معاشرتی غلبہ ہے۔ آزادی اور خود مختاری خدا کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔ یہ عقیدہ اختیار کرکے ہیومن بینگ اپنی الوہیت کا اعلان کرتا ہے اور جیسے کہ نصوصِ صحیحہ سے ثابت ہے شرک ظلم عظیم ہے۔ جمہوری عمل لازماً سرمایہ دارانہ ظلم کو فروغ دیتا ہے۔

آزادی ایک انسانی صلاحیت ہے۔ ہم جمادات کی طرح مجبور نہیں بلکہ خیر و شر میں امتیاز کرنے، اطاعت الٰہی اختیار کرنے یا اس سے بغاوت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ لیکن سامراجی غلبہ سے قبل پوری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی مسلمانوں نے آزادی کو بحیثیت ایک سیاسی قدر کے طور پر اختیار نہیں کیا اور ہمارا ریاستی نظام کبھی بھی جمہوری خطوط پر مرتب نہیں کیا گیا([12])۔مسلمانوں کےلئے تصور آزادی اور خود اختیاریت بالکل اجنبی اور سامراجی غلبہ کی پیداوار سیاسی تصورات ہیں۔

1.3.2۔ معاشرتی معاہدہ اور تصورِ سٹیزن شپ

سرمایہ دارانہ انفرادیت (ہیومن بینگ) خود اختیاری (اٹانومس) ہوتی ہے لیکن یہ خود اختیاریت لازماً محدود ہوتی ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ عمل کو بروئے کار لانے کے لیے اسی کو دوسرے ہیومن بینگ سے مستقل نوعیت کے تعلقات استوار کرنا پڑتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ کافر مدبرین نے اس تعلقاتی نظام کے جوا ز کے لیے سولھویں صدی میں نظریات مرتب کیے۔ ان کافر مفکرین میں ہابس، لاک اور روسو ([13])نمایاں تھے اور جس نظریہ کو انہو ں نے وضع کیا اس کو ”سوشل کنٹریکٹ تھیوری“کہتے ہیں([14])۔

اس نظریہ کے مطابق قبل از تاریخ دور میں نامکمل سرمایہ دارانہ انفرادیت موجود تھی لیکن سرمایہ دارانہ ملکیت کا وجود نہ تھا۔ فرد آزاد اور خود مختار تھا لیکن اس کی تمتع فی الارض کی خواہش کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ سرمایہ دارانہ ملکیت وجود میں آئے۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کے قیام کے لیے ضروری تھا کہ انفرادی اغراض کی بنیاد پر ایک عمرانی معاہدہ کیا جائے جو تنفیذ قانون سرمایہ کو ممکن بنائے، سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کا ذمہ دار ہو اور لوگوں کے غیر سرمایہ دارانہ اختیارات کو محدود کرے۔یعنی معاہدہ عمرانی کے ذریعہ ایک سرمایہ دارانہ ریاست قائم ہو۔

ہابس کے مطابق یہ سرمایہ دارانہ ریاست ایک مطلق العنان بادشاہت ہو گی اور تحکیم قانون سرمایہ کا ذریعہ حاکم کا ارادہ ہو گا۔ تمام ہیومن بینگ حاکم کی قانون سازی کے اختیارات کو تسلیم کریں گے اور اپنے سیاسی اختیارات کو حاکم کے سپرد کر دیں گے۔ سولھویں صدی یورپ میں مطلق العنان بادشاہتیں عام تھیں۔

لاک اور روسو کے مطابق عمرانی معاہدہ کے تحت جو ریاست وجود میں آئے گی وہ جمہوری ہو گی۔ ہر ہیومن بینگ اپنے اختیارات محدود کرے گا جس حد تک اس تحدید کے نتیجہ میں سرمایہ عمومی (Capital in general) کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہو گا۔ یہ مفروض کیا گیا کہ سرمایہ عمومی کی بڑھوتری تمام ہیومن بینگ کے انفرادی اغراض کے حصول کے لیے ضروری ہے۔

لاک اور روسو کا تصورِ جمہوریت یکساں نہیں۔ روسو بلاواسطہ (ڈائریکٹ) جمہوریت کی وکالت کرتا ہے اور لاک نمایندہ (representative) جمہوریت کی۔ لیکن دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ تحکم سرمایہ کا ذریعہ ہیومن بینگ کا ارادہ عمومی ہو گا۔ ان کفار کے مطابق ہیومن بینگ اپنے سیاسی اختیارات کی مطلق العنان بادشاہ کی طرح منتخب نہیں کریں گے بلکہ ایک ایسا ارادہ عمومی تشکیل دیں گے جو ہیومن بینگ کی آزادی اور خودمختاری کا غماز ہو گا۔ یہ general will تحکم قانون سرمایہ کی لازمیت کا اظہار ہے اور انفرادی ارادہ اور انفرادی ارادوں کا اجتماع (will of all) اس general will کی تشریح تو کر سکتا ہے اس کی نفی نہیں کر سکتا کیوں کہ general will کی تردید کا مطلب ہیومن بینگ یعنی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تسخیر ہے۔

لہٰذا روسو اور لاک کے مطابق معاہدہ عمرانی کے ذریعہ انفرادی سرمایہ دارانہ اختیارات کو ارادہ عمومی یعنی capital in general کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔ عوام کی طرف نہیں۔ ایک ہیومن بینگ اس حد تک آزاد اور خود مختار ہے جس حد تک وہ یا اس کا سیاسی نمایندہ (بقول لاک) ارادہ عمومی/بڑھوتری سرمایہ کی لازمیت کو قبول کرتا ہے۔ جمہوری ریاست میں بڑھوتری سرمایہ کی لازمیت اور تحکم قانون سرمایہ کو کسی فرد یا کسی اجتماع (will of all) کو رد کرنے کی کوئی آزادی/اختیار حاصل نہیں لیکن لاک اور روسو دونوں نے انفرادی حاکمیت (citizen’s sovereignty) کا دعویٰ کیا ۔ ان کے مطابق جمہوری نظام میں بادشاہ نہیں ہیومن بینگ کا ارادہ عمومی حاکم ہوتا ہے۔ اس دعویٰ کی بنیاد یہ ہے کہ انسانیت فنا ہو گئی ہے اور اب انسان کی جگہ ہیومن بینگ نے لے لی ہے۔ ہر فرد اپنی الوہیت پر ایمان لے آیا ہے اور برضا و رغبت تحکم قانون سرمایہ کی تابع داری کو عقل کا تقاضا سمجھنے لگا ہے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کو rationality کہتے ہیں([15])۔ اس جاہلی عقلیت کے مطابق ہر عمل کی قدر (ویلیو) اس کی سکت بڑھوترئ سرمایہ متعین کرتی ہے کوئی عمل اصلاً خیر ہے نہ شر۔ خیر وہ عمل ہے جو سرمایہ کی بڑھوتری کومہمیز دے شر و ہ عمل ہے جو سرمایہ کی بڑھوتری میں رکاوٹ پیدا کرے ایک ریشنل فرد وہ ہے جو زندگی بھر بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد میں لگا رہے اور اپنے ہر عمل کو سرمایہ کی بڑھوتری کی کسوٹی پر تولتا رہے۔

جمہوری نظام میں عوام نے کبھی حکومت کی ہے نہ کر سکتے ہیں کیوں کہ ان کو سرمایہ کی غلامی پر مجبور تو کیا جا سکتا ہے اس پر راضی کیا جانا ایک مشکل ترین امر ہے کیوں کہ بڑھوترئ سرمایہ کو خیر و شر کا پیمانہ بنانے کا مطلب شدید ترین روحانی کثافت ہے اور اس روحانی پلیدگی کے صرف وہ لوگ شکار ہو سکتے ہیں جن پر حرص و ہوس کے شیاطین نے مکمل قبضہ کر لیا ہو۔

جمہوری نظام میں عوام حاکم (soevereign)نہیں ہوتے۔ سرمایہ حاکم ہوتا ہے۔ جمہوری ریاست میں سرمایہ کی حاکمیت کا ذریعہ ریشنل ہیومن بینگ کا وہ مختصر گروہ ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ ایمانیات اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو شرح صدر کے ساتھ قبول کر چکے ہوتے ہیں۔ سرمایہ کے یہ غلام عموماً ہیومن بینگ کے نمایندہ ہوتے ہیں اور ان کو بڑھوترئ سرمایہ کے مختلف طریقوں میں سے کسی طریقہ کو منتخب کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں لیکن نہ یہ نمایندہ نہ عام ہیومن بینگ تحکم قانون سرمایہ داری یعنی (General Will) کی تحدید یا تنسیخ کرنے کے مکلف نہیں ہوتے۔

”کہ ظاہر میں تو آزادی باطن میں گرفتاری“
1.3.3۔ حقوق اور مساوات

جمہوری ریاست کے استحکام کے لیے ضروری ہے (اس کے قیام کے لیے نہیں) کہ انسانوں کو ہیومن بینگ بنانے کا عمل معاشرتی طور پر منظم کیا جائے۔ انسان ہیومن بینگ تب بنتا ہے جب وہ خدا سے بغاوت کر کے اپنے آپ کو آزاد اور خودمختار تصور کرنے لگے۔ یہ عقائد اختیار کرنا فطرت کے بالکل خلاف ہے۔

مقام بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

اور پورے انسانی تاریخی دور میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوا کہ یہ خبیث اور پلید عقائد عام ہوئے اور ان عقائد کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ مذاہب عالم ہی رہے ہیں۔ لیکن سولھویں صدی کے بعد سے کافر مفکرین (بالخصوص کانٹ اور ہیوم) نے وہ تجاویز مرتب کرنا شروع کیں جن کی بنیاد پر انسانیت کی شیطان سازی (یعنی انسان کو ہیومن بینگ بنانے کی جدوجہد) ممکن ہو سکے۔

کانٹ نے کہا کہ چوں کہ ہر فرد کے ذہن کی ساخت یکساں ہے لہٰذا ہر فرد کا ذہن حاصل شدہ اطلاعات کی بنیاد پر صحیح تصورات (concepts) تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سب ہیومن بینگ ان معنوں میں مساوی حیثیت کے حامل ہیں کہ وہ بغیر کسی خارجی (یعنی وحی) ذریعہ کے حق کی شناخت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اصولی مساوات ہیومن بینگ کی آزادی کا لازمی تتمہ ہے اور اس ہی مفروضہ کی بنیاد پر کانٹ نے اپنا categorical imperative اور universalizability کا اصول مرتب کیا۔

ہیوم نے کہا کہ مساوات کی بنیاد یہ ہے کہ ہر فرد کا مقصد حیات زندگی میں زیادہ سے زیادہ لذات کا حصول ہونا چاہیے لہٰذا معاشرتی عمل کا واحد جائز مقصد مجموعی لذات کی maximization کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ نظریہ افادیت (utilitarianism) کہلایا اور سرمایہ دارانہ علم اکنامکس کا کلیدی جزو آج تک بنا ہوا ہے۔

چوں کہ سب ہیومن بینگ کو اصولاً مساوی تسلیم کیا گیا لہٰذا سب کے مادی حقو ق کا تصور پیش کیا گیا۔ جیسا کہ کانٹ نے کہا حق فرائض کا ذریعہ ہوا کرتے ہیں۔ ہیومن بینگ کے مساوی حقوق جس فرض کی ادائیگی کا ذریعہ ہیں وہ فرض بڑھوترئ سرمایہ کو مہمیز دینا ہے۔ جو افراد اس فرض (categorical imperative)کی ادائیگی سے انکاری ہیں وہ ہیومن بینگ نہیں اور ان کو ہیومن رائٹس نہیں دیے جاسکتے۔ جمہوری ریاستیں عموماً ہیومن رائٹس کی فراہمی کو اپنے دساتیر میں فوقیت دیتی ہیں۔

ہیومن رائٹس کا فلسفہ تین کلیدی مفروضات پر قائم ہے۔ ایک یہ کہ کچھ ایسے ماورائے تاریخی خصوصیات ہیں جو ہر ہیومن بینگ کی شناخت متعین کرتی ہیں۔ یہ خصوصیات ہر ہیومن بینگ میں پائی جاتی ہیں۔ ہر ہیومن بینگ اپنی خود ارادیت کو دیگر تمام خواہشات پر ترجیح دیتا ہے اور اس خود ارادیت کا اظہار زندگی بھر لذت طلبی میں آشکارا ہوتی ہے۔ یہ مذاہب عالم کے تصورِ انسانیت کی مکمل نفی ہے جو انسان کو عبداللہ اور حصولِ رضائے الٰہی کا متمنی گردانتے ہیں۔ تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ ہیومن رائٹس کی عمومی معاشرتی فراہمی ارتکازِ قوت کی تحدید کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

یہ تینوں مفروضات خلافِ حقیقت ہیں۔ انسانیت کا ہیومن تصور یورپی تاریخ کا تراشیدہ ہے۔ انسان کو فطرتاً لذت پرست تصور کرنا اور اس کو خدا کا باغی گرداننا ایک ذلیل اور پلید اخلاقیات کو قبول کرنے کے علاوہ کچھ نہیں اور سرمایہ دارانہ تاریخ سے بھی یہ ثابت ہے کہ ہیومن رائٹس کی فراہمی ارتکازِ قوت میں تخفیف کا باعث نہیں بنتی۔

آج میڈیا کے معاشرتی تسلط کے نتیجہ میں خود ارادیت (freedom of choice) ایک بے معنی تصور بن گیا ہے۔ اور نجی اور پبلک زندگی کی تقسیم تقریباً ختم ہو گئی ہے اور میڈیا نجی زندگی کے ہر پہلو کو منظر عام پر لے آیا ہے۔ وہ رائے عامہ کی تعمیر اس حد تک کرتا ہے کہ ایک عام آدمی کا ریاستی شعور مجروح ہو گیا ہے اور سیاسی جمہوری عمل کھیل تماشا بن گیا ہے۔ اس وجہ سے وہ ذاتی حقوق جن کو برلن نیگٹو رائٹس کہتا ہے([16]) مہمل اور لغو ہو گئے ہیں۔

خود ارادیت (freedom of choice) کا ڈھونگ صرف سرمایہ دارانہ معاشرتی تناظر میں رچایا جا سکتا ہے۔ مثلاً مذہبی پابندیوں کا نجی اظہار تو یہ معاشرہ برداشت کرتے ہیں لیکن مذہبی تعلیمات کے ریاستی اظہار پر سخت ترین پابندیاں عاید ہیں([17])۔

سرمایہ دارانہ معاشرت کو پر خطر معاشرہ (risk society) کہا گیا ہے([18]) اور اس کے پیدا کردہ نئے نئے خطرات بالخصوص تغیراتی اجرتی نظام(flexible labour market) کو مزدوروں کےروزگار چھیننے کی آزادی کی توجیہہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اصولاً ہر مزدور کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی نوکری بدلے اور اگر عملاً یہ ”آزادی“بے روزگاری کی شکل اختیار کرتی ہے تو ہیومن بینگ اس چیز کو سرمایہ دارانہ تعقل کی بنیاد پر قبول کرنے پر مجبور ہے۔

ہیومن رائٹس صرف ہیومن بینگ کو میسر ہیں اور ہیومن بینگ وہ انفرادیت ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرت نے تعمیر کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی سے باہر کسی ہیومن رائٹ کی فراہمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ بات امریکا کی مشرقِ وسطیٰ اور فرانس کی افریقہ میں جاری humanitarian جنگوں سے واضح ہے جہاں بدترین ٹارچر اور دہشت گردی کا مظاہرہ ہیومن رائٹس کی فراہمی اور جمہوری ریاستوں کے قیام کے لیے مستقل کیا جا رہا ہے([19])۔

آج سے سو سال قبل Horkheimer اور Adorno نے واضح کیا تھا کہ تحریک تنویر([20])نے جن آزادیوں کی وکالت کی ان کے حصول کی جدوجہد کا لازمی نتیجہ ایک استبدادی ریاستی نظام کا قیام ہے۔ بقول Etienne Balibar([21]) تعذیب اور دہشت گردی کو ریاستی شکل میں مرتب کرنا تنویری سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے اور ہیومن رائٹس اسی ریاستی دہشت گردی کی توجیہہ بیان کرتے ہیں۔ بڑھوترئ سرمایہ کے لیے لازم ہے کہ ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کا تشریحی جواز بھی عام کیا جاتا رہے۔

ہیومن رائٹس کی فراہمی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی سیاسی تشکیل یعنی سٹیزن شپ کا ذریعہ ہے([22])۔سٹیزن شپ وہ انفرادیت ہے جو ماورائے تاریخ اور ثقافت چند آفاقی صفات کی متحمل گردانی جاتی ہے اور جو آفاقی ارادہ عمومی (universal general will) کی تابع دار ہوتی ہے۔ لیکن سٹیزن شپ کا یہ تصور بالکل لغو اور گمراہ کن ہے۔ اصل میں سٹیزن ان صفات کا حامل ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت اور روحانیت نے تشکیل دی ہیں اور چوں کہ universal general will تحکم سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں لہٰذا سٹیزن شپ سرمایہ کی عبدیت کا اظہار ہے۔

جو انسان (امریکا کے قدیم باشندے، افغانستان کے مجاہدین) سرمایہ دارانہ انفرادیت قبول نہیں کرتے ان پر جمہوری حکومتیں جنگ اور نسل کشی مسلط کر کے ان کو سرمایہ دارانہ انفرادیت قبول کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس ریاستی دہشت گردی کے ذریعے سامراج سرمایہ دارانہ جمہوری استبداد منظم کرتا ہے۔

سرمایہ داری ایک مخصوص آفاقیت کی تعمیر کی جدوجہد کر رہی ہے جہاں پر انسانیت فنا ہو کر ہیومینٹی میں ضم ہو جائے۔ ہیومن انفرادیت کی شناخت اس کی خود ارادیت (فکر اور خواہش) سے ہوتی ہے اور ہیومن بینگ اس فکر اور خواہش کو لامحدود متصور کرتا ہے۔ اس کی فکر اور خواہش کی مذہبی، معاشرتی یا اخلاقی تحدید کی قائل نہیں۔ یہی ہیومن بینگ کے احد اور صمد ہونے کا دعویٰ ہے اور ہیومن رائٹس اس ہی دعویٰ کا اظہار ہیں۔

یہ معلق انفرادیت ایک ایسے جمہوری نظام کی کارفرمائی کی متقاضی ہے جہاں اس کی معاشرتی اور سیاسی لاچارگی کے باوجود اس کو اس کی اصولی آفاقیت اور آزادی کا دھوکہ مستقل دیا جاتا رہے۔ ہیومن رائٹس اس ہی دھوکہ کا ایک اظہار ہیں۔ لیکن یہ دھوکہ دہی نہایت کارگر ثابت ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پھیلاؤ کے لیے بھی اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دینے کے لیے بھی([23])۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی تغیرات سے ہیومن رائٹس کے فلسفہ میں تبدل رونما ہوتا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہیومن رائٹس کو اصولاً دیگر تمام اخلاقی ضوابط پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ہیومن رائٹس کی moral تقدیم لبرل اور سوشل ڈیموکریٹک جمہوریتوں کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اشتراکی اور استبدادی جمہوریتیں ہیومن رائٹس کی کچھ تحدید عمل میں لاتی ہیں۔

ہیومن بینگ کو ہیومن رائٹس سرمایہ دارانہ ریاست عطا کرتی ہے۔ بڑھوترئ سرمایہ کے فرض کی ادائیگی کی بجاآوری کے لیے۔ اصولاً سرمایہ دارانہ ریاست کا فرض ہے کہ سرمایہ دارانہ جبر اور سرمایہ دارانہ قانون کے ذریعہ ہر ہیومن بینگ اس کے ہیومن رائٹس سے فراہم کرتی ر ہے۔ ہیومن رائٹس اس مفروضہ معاہدہ عمرانی سے نکلے جو سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے قیام کے وقت عمل میں آیا (بقول روسو) لیکن ان کا جواز نہ قانونی ہے نہ معاہداتی بلکہ moral ہے یعنی ہیومن رائٹس ان فاسد عقائد پر مبنی ہیں جو تصور ہیومینٹی میں پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ امریکی فلسفی Jack Donnelly لکھتا ہے ”ہیومن رائٹس نہ ہمیں خدا نے دیے نہ فطرت نے ، نہ انسان کی طبیعی استطاعت سے ماخوذ ہیں“([24])۔ وہ تحریک تنویر کے مخصوص تصورِ انفرادیت اور رکیک اخلاقیات کی پیدا وار ہیں۔

ہیومن رائٹس کی فراہمی سرمایہ دارانہ انفرادیت کو پروان چڑھانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ وہ انسان کو ہیومن (اصولاً خود مختار، عملاً سرمایہ کا غلام) بناتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے Universal Declaration of Human Rights آج ناقابل تنسیخ نہیں کیوں کہ ان کی تردید کا مطلب اس شیطانی روحانیت کو مسخ کر نا ہے جو ہیومینٹی کی اصل شناخت ہے([25])۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی کے ذریعہ جو انفرادیت قائم کی جاتی ہے وہ سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کی روح رواں ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہیومن رائٹس کی تقدیس اتنی محکم ہے کہ وہ باپ کو یہ حق نہیں دیتی کہ بیٹی کو زنا کرنے سے روکے چوں کہ زنا کرنا بیٹی کا ہیومن رائٹ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کا Universal Declaration of Human Rights سرمایہ دارانہ تصورِ انفرادیت کا عکاس ہے۔ وہ ہیومن بینگ کو خدا (آزاد، خود مختار) اور خودتخلیقی تصور کرتا ہے۔ وہ تحکم قانون سرمایہ کا جواز پیش کرتا ہے۔ وہ جمہوری ادارتی صف بندی کا متقاضی ہے۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کے فروغ کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا Universal Declaration لاک اور جیفرسن کے فلسفہ جمہوریت کا ایک چربہ نظر آتا ہے([26])۔لاک اور جیفرسن سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے اہم ترین کافر وکلاء میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کا فلسفہ اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ فرد اپنے جسم اور روح کا خود مالک ہے([27])۔سرمایہ دارانہ معاشروں میں عوام کی بہت بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی اکثریت کی ملکیت (پراپرٹی) صرف ان کے اجسام ہوتے ہیں اور یہ عوام اپنے اجسام (محنت) کو مستقل سرمایہ دارانہ مارکیٹوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ جبر کو مخفی رکھنے کے لیے تمام جمہوری حقوق کی فراہمی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ حق اظہار رائے اور اجتماع کا حق، قانونی چارہ جوئی کا حق، نمایندگی اور ووٹ دہی وغیر ہ۔ جمہوری نظام سرمایہ دارانہ ملکیت کی پردہ دری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ جمہوری ریاست (خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، خواہ استبدادی) لازماً سرمایہ دارانہ ملکیت کی موجد اور ضامن ہوتی ہے اور ہیومن رائٹس ان بہت سے وسیلوں میں سے ایک اہم وسیلہ ہے جس کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ملکیت کا جواز مرتب کیا جاتا ہے، تحکم سر مایہ کو ممکن بنانے کے لئے جمہوری عمل ہیومن رائٹس کی فراہمی کے نتیجہ میں سر مایہ دارانہ معاہدوں کو اصولاً آزاد اور مساوی حقوق کا حامل دکھایا جاتا ہے جب کہ اصلاًیہ شرکا نہ آزاد ہوتے ہیں نہ ان کی معاشرتی حیثیت مساویانہ ہوتی ہے۔ اصولی مساویت محض سرمایہ دارانہ معاہدہ کا مفروضہ ہے۔ اس مفروضہ مساوی آزادی کے باوجود اکثر ہیومن (اپنی جان کے علاوہ) املاک سے محروم رہتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ حقوق (بشمول ہیومن رائٹس) کے حاملین ہی سرمایہ دارانہ معاہدوں میں شریک ہو سکتے ہیں اور ان معاہدوں میں شریک ہو کر وہ اپنی اصولی مساویانہ آزادی اور عملاً غیر مساویانہ عدم مساویت کا اقرار کرتے ہیں۔ جیسا کہ لاک نے سیکڑوں سال پہلے کہا تھا بنیادی ہیومن رائٹ حق سرمایہ دارانہ ملکیت ہی ہے۔ تمام سرمایہ دارانہ معاہدوں کے پیچھے سرمایہ دارانہ ریاست کا جبر ہوتا ہے اور کنٹریکٹ میں بیان کی گئی ذمہ داریوں کا پورا کرنا سرمایہ دارانہ ریاست کا اولین فرض ہے۔ اس چیز کو تحکم قانون سرمایہ (Rule of law of capital) کہا جاتا ہے۔ جمہوری ریاست ایک سرمایہ دارانہ کنٹریکٹ ہی ہے اور اس ہی لئے اس کی ابتدائی توجیہات سوشل کنٹریکٹ تھیوری کی شکل میں مرتب کی گئیں([28])۔اور جمہوری ریاست کا ہر سٹیزن ایک ایسا معاہد ہے جس نے سرمایہ دارانہ ملکیت (بشمول اپنے بدن) میں شرکت کے عوض سرمایہ کی غلامی (آزادی، خود مختاری) خرید لی ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جمہوری نظام خدا کے بندہ (Subject of God)کو سرمایہ کے بندہ (Subject of capital)میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرت کا ایک عام شہری دو حیثیتوں سے آزاد ہے، وہ اپنے بدن کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور سرمایہ دارانہ ملکیت اس کو اپنے بدن کے علاوہ تمام وسائل سے محروم/آزاد کر دیتی ہے۔

یہ آزادی سرمایہ دارانہ نظام کے ہر سٹیزن کو میسر ہے خواہ مفلس خواہ دولت مند۔ مفلس کی آزادی کی تشریح کی تو شاید ضرورت نہیں لیکن یاد رکھیے دولت مند بھی اس بات پر مجبور ہے کہ اپنی املاک مستقلاً سود اور سٹہ کے بازاروں میں کھپا کر بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھے۔ جمہوری ریاست میں حکم سرمایہ (حرص اور ہوس کے جذبات خبیثہ) کا چلتا ہے کسی فرد یا گروہ کا نہیں([29])۔

جمہوری ریاست سرمایہ دارانہ جبری آزادی کی فراہمی کا ایک ذریعہ ہے۔ ہر کنٹریکٹ (بشمول ریاستی سوشل کنٹریکٹ) کی پشت پر سرمایہ دارانہ جبر ہوتا ہے۔ اس جبر کی تنفیذ کو انتظامیہ (بیوروکریسی) کے سپرد کیا جاتا ہے جو تنفیذ قانون سرمایہ کو ممکن بناتی ہے۔ جمہوری عمل اس ہی مستقل جاری رہنے والے معاشرتی جبر کی توجیہہ مرتب کرتا ہے۔ معاشرہ کی جبری ساختی تنظیم سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے۔ سرمایہ دارانہ جاہلی عقلیت کو ریشنلٹی کہتے ہیں۔

1.3.4۔ ریشنلٹی

میکس ویبر نے بیسویں صدی کی ابتدا میں سرمایہ دارانہ معاشرتی صف بندی (بیورو کریٹائزیشن) کو ریشنل قرار دیا۔ ریشنلٹی سے ویبر کی مراد وہ نظام ظن و تخمین (کیلکولیٹری سسٹم) ہے جو بڑھوتری سرمایہ کو maximize کرنے کے لیے صحیح اندازہ لگانے کا کام دےسکتا ہے۔ ویبر کو اس بات کا احساس تھا کہ بڑھوتری سرمایہ محض ایک معاشی عمل نہیں بلکہ سرمایہ کی مستقل بڑھوتری کے لیے ایک موزوں انتظامیہ اور نظام عدل کی کار فرمائی کی ضرورت پڑتی ہے معاشرتی سطح پر ایک نظام ظن اور تخمینی (کیلکولیشن) کارفرما ہونے چاہئیں جو ہر معاشرتی عمل کی سرمایہ کی بڑھوتری کی استطاعت صحیح طور پر ماپ سکے([30])۔تنویری عقلیت (جاہلی عقلیت) ہیومن بینگ کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعہ وہ تسخیر کائنات کا عمل جاری رکھ سکے۔ انیسویں صدی میں مارکس نے کہا کہ محنت (لیبر) وہ ریشنل ذریعہ ہے جس سے تسخیر کائنات کا عمل مستقل جاری رہتا ہے اور چوں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے ہی کی جاتی ہے لہٰذا جاہلی عقلیت (ریشنلٹی) سرمایہ کاری کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ ریزن (جاہلی عقلیت) کے استعمال کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں([31])۔خیر (Good) محض بڑھوتری سرمایہ ہے اور ریشنل وہ ہیومن بینگ ہے جو بڑھوتری سرمایہ کو اپنا مقصد حیات گردانے۔ بقول چارلس ٹیلر بڑھوتری سرمایہ ایک hypergood ہے([32])۔

یہ hyper good دیگر تمام تصوراتِ خیر اپنی نظاماتی ساخت میں ضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے([33]) اور ریشنلٹی (جاہلی عقلیت) کے استعمال کا مقصد دیگر تمام تصوراتِ خیر کو بڑھوتری سرمایہ کے ماتحت کرتا ہے۔ تنویری مفکرین اس ہی انضمامی عمل کو ہیومن بینگ کا روحانی ارتقا (moral development) کہتے ہیں۔

یہ شیطانی روحانی ارتقا (moral development) سرمایہ دارانہ جمہوری تاریخ کے تناظر میں رونما ہوا جس نے عیسائی طرزِ حیات اور نظام زندگی کو علمیاتی بنیادوں پر غیر معروف (illegitimate) ثابت کر دیا اور practical reason کے استعمال نے ثابت کر دیا کہ سرمایہ دارانہ خبیث روحانیت عیسائی روحانیت سے بہتر ہے کیوں کہ اس سے ”بہتر“معاشرتی اثرات ظاہر ہوتے ہیں([34])۔ بڑھوتری سرمایہ خیر مطلق ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ تاریخی تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس پر ایمان لانا ہیومن بینگ کے شیطانی روحانی ارتقاکا ضامن ہے۔

جان رالس (John Rawls) اور اس کے پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ ریشنلٹی وہ ذریعہ ہے جس کے استعمال سے ان ضوابط کی نشان دہی ہوتی ہے جن کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ عدل قائم ہو سکتا ہے اور یہ ضوابط کسی خاص تصورِ خیر سے وابستہ نہیں([35])۔لیکن یہ ایک جھوٹا دعویٰ ہے جیسا کہ کئی کافر محققین سے ثابت ہے جن ضوابط کی رالس نشان دہی کرتا ہے وہ سرمایہ دارانہ جمہوری عمل کی تنظیم میں شامل ہیں اور ان ضوابط کی بالا دستی کے نتیجہ میں جس خیر مطلق کی جستجو کی جاتی ہے وہ بڑھوتری سرمایہ ہی ہے۔ ان ضوابط کی تنفیذ کے نتیجہ میں خود مختاری، آزادی اور universalizability ہی معاشرتی غلبہ حاصل کرتی ہیں اور وہی خبیث سرمایہ دارانہ روحانیت فروغ پاتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی روح رواں ہے۔

ہیوم (David Hume) نے کہا ریزن (جاہلی عقلیت) خواہشات (passions) کی غلام ہے۔ ریزن کی خواہشات کی یہی غلامی جاہلی علمیت کو جنم دیتی ہے جس کا سب سے نمایاں اور مؤثر مظہر سائنس ہے۔ یہ جاہلی علمیت ریب یا شک پر قائم ہے اور اپنے آپ کو مستقل جھٹلا کر ہی ترقی کرتی ہے کیونکہ جس بنیادی عقیدہ (لاالہ الا انسان) پر یہ قائم ہے وہ سراسر جھوٹ اور خلاف حقیقت ہے۔ ہیوم سرمایہ دارانہ ملکیت کا وکیل تھا اس لیے نہیں کہ جاہلی عقلیت اس کو ثابت کرتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ایک آرام دہ لذت پرست زندگی گزارنے کا وسیلہ ہے۔ ہیوم ایک پکا کافر تھا اور کہتاتھا کہ کائنات کے حرکتی قوانین پر ایمان لانے کے بعد خدا پر یقین کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

ہیوم کی تجربیت کی بنیاد پر جس فلسفہ نے علمیاتی (epistemological)معاشرتی فوقیت حاصل کی اس کو افادیت پرستی (utilitarianism)کہتے ہیں۔ اس فلسفہ کے مطابق کسی شے یا ادارہ کی قدر اس سے متعین ہوتی ہے کہ اس کے وجود اور کارفرمائی کے نتیجہ میں کتنی لذت حاصل ہوتی ہے۔ یہ فلسفہ آج تک جاہلی علم اکنامکس کا کلیدی نظریہ ہے اور افادیت صَرف (consumption) سے حاصل شدہ لذت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کسی معاشرہ کی مجموعی فلاح (ویلفیئر) کو اسی پیمانہ پر ناپا جاتا ہے جیسا کہ اٹھارھویں صدی کے آخر میں Jeremy Bentham نے کہا کہ لذات کو فروغ دینا سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کا اولین مقصد ہے کیونکہ ہیومن بینگ لذت پرست ہوتا ہے اور لذت پرستی تمام ہیومن بینگ کی اصولی مساویت کا ایک مظہر ہے۔

کانٹ ہیوم کا معنوی شاگرد تھا۔ کانٹ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ خواہشات اور حسیات جاہلی علمیت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ہیومن ذہن میں بقول کانٹ یہ صلاحیت موجود ہے کہ جو اطلاعات اس کو حسیات سے حاصل ہوتی ہیں انہیں مربوط اور بامعنی تصورات میں ڈھالے۔ چوں کہ تمام ہیومن اذہان کی یہ صلاحیت یکساں ہے لہٰذا جو تصورات حسیات سے اخذ کیے جاتے ہیں وہ اپنی صحت کے اعتبار سے publically جانچے جا سکتے ہیں۔ بقول کانٹ سائنس صرف کائنات (اور نفس) کا مطالعہ نہیں کرتی بلکہ اس مطالعہ کو understanding کے ذریعہ ترتیب دے کر بامعنی بناتی ہے۔ یوں ہیومن بینگ کائنات اور اپنی ذات کو خود تخلیق کرتا ہے اور اس شناخت کائنات اور شناخت ذات کے کسی خارجی محرک (یعنی وحی) کی ضرورت نہیں۔ کانٹ اپنے آپ کو عیسائی کہتا تھا لیکن وحی اور انجیلی تعلیمات کا انکاری تھا۔ وہ اپنی اغلام بازی پر فخر کرتا تھا۔

کانٹ کے مطابق چوں کہ تمام ہیومن بینگس کی ذہنی ساخت یکساں ہے اور سب حقیقت کی شناخت کے مکلف ہیں لہٰذا ہر ہیومن بینگ کا مساوی حق ہے کہ وہ کائناتی نظاماتی جبر سے برأت اور اپنی اصولی آزادی اور خودمختاری کا اعلان کرے۔ کائناتی جبر (جو سائنس نے تسخیر کیا([36])) سے آزادی کی یہ جستجو فرض عین ہے۔ یہ خود اپنی مقصود ہے اور اس جستجو کا کوئی دوسرا مقصد نہیں۔ اس عمل کو کانٹ ”ڈیوٹی“کہتا ہے۔

ڈیوٹی کا یہ تصور کانٹ کے categorical imperative میں پنہاں ہے۔ اس سے مراد حکم مطلق ہے ، ایسا حکم جس کی بجاآوری ہمیشہ اور ہر حال میں لازم ہے۔ کسی خاص حالات اور واقعات سے مشروط نہیں۔ categorical imperative یہ ہے کہ ہر ہیومن بینگ ہر دوسر ےسے ہیومن بینگ کو مساویانہ طور پر ریشنل گردانے یعنی اس کی اس حیثیت کو قبول کرے کہ اپنی طرح وہ بھی تسخیر کائنات کا عمل جاری رکھنے کا پورا حق رکھتا ہے۔

وہ کون سا عمل ہے جس سے تسخیر/تخریب کائنات ممکن ہوتی ہے۔ وہ بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کانٹ کا categorical imperative بڑھوتری سرمایہ کی لامتناہی جدوجہد کو ہیومنٹی کے لیے حکم مطلق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد خود اپنا مقصود ہے اس کا کوئی اور مقصد نہیں۔ ہیومن بینگ ہر حال میں اس حکم کی بجاآوری پر مجبور/آزاد ہے کیوں کہ بڑھوتری سرمایہ/ تسخیر کائنات کی یہی پیہم جدوجہد ہیومنٹی کی شناخت ہے۔

ہیوم کی تجربیت اور کانٹ کی میکانکیت دونوں تحریک تنویر سے برآمد ہوئیں اور مذہبی عقائد کی واضح ترین تردید مرتب کرتی ہیں۔ لیکن اس تردید کے نتیجہ میں کوئی نیا حق دریافت نہ ہو سکا۔ جاہلی علمیت (ریشنلٹی) ایک جھوٹے عقیدہ (لاالہ الا انسان) کی تضاداتی اور مستقل تبدیل ہوتے رہنے والا بیانیہ مرتب کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکی۔بیسویں صدی میں Popper نے اس بات کا اقرار کیا کہ سائنس محض اپنے دریافت شدہ عقائد کے مستقل جھٹلائے جانے کے عمل کا نام ہے۔

جاہلی علمیت (سائنس) ایمان کی جگہ ریب اور شک کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ایک بوسیدہ عمارت ہے جو ذلیل ترین اخلاقیات کو فروغ دیتی ہے۔ اس ہی ریشنلٹی کی بنیاد پر نطشے نے دعویٰ کیا تھاکہ نعوذباللہ ”خدا مر گیا ہے“۔ یہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات اور علمیت کی بنیادی تعلیم ہے۔ آج جاہلی علمیت کی تخریب کاریاں آئی ٹی صنعت کی بڑھتی ہوئی اجارہ داری، وباؤں کے پھیلاؤ او رماحولیاتی کثافت سے واضح ہو رہی ہے۔ سب سے بڑی تباہ کاری روحانی ہے جس نے انسانوں کو ہیومن بینگ (سرمایہ کا غلام) بنا دیا ہے۔

مشہور اسلام دشمن فلسفی یورگن ہیبرماس (Jurgen Habermas) ریشنلٹی کی جدید تعبیر مرتب کرتا ہے۔ اس کے مطابق ریشنلٹی بین الشخصی گفت گو (inter-subjective communication) سے برآمد ہوتی ہے کیوں کہ یہ مکالمہ ایسے لسانی ہیئتی نظام سے منعکس ہے جس میں ہیبرماس کےمطابق شرکاء کے مابعد الطبیعیاتی مفروضات لازماً یکساں ہو جاتے ہیں([37])۔یہ کانٹ کی فکر کی ایک جدید تشریح ہے اور اس کی تفصیل باب سوم میں بیان کی گئی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ایک کافر اور ایک مسلمان کے مابعدالطبیعیاتی مفروضات (یعنی عقائد) یکساں ہوتے ہیں کیوں کہ وہ ایسے لسانی مکالمہ میں شریک ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ ایک مشترکہ (consensual) نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

ہیبرماس کی رائے میں یہ مشترکہ مفروضات ہیومن بینگ کی خود تخلیقیت اور خود مختاری کےعقیدہ کا اظہار ہے اور بین الشخصی مکالمہ (inter subjective communication)اس سے ریشنل نتائج اخذ کرنے کا ذریعہ ہے کیوں کہ بقول ہیبرماس تمام دیگر مابعدالطبیعیاتی مفروضات کو autonomy کےعقیدہ سےمنطبق کیا جا سکتا ہے۔ یعنی بنیادی طور پر ہرانسان کافر ہے اور جس کو اپنے کافر ہونے کا احساس نہیں ان کو اس inter-subjective communication کے ذریعہ کافر بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ inter-subjecive comuniation کا یہ عمل آزادانہ ہو لیکن ہیبرماس اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں inter- subjective communicion کا عمل آزادانہ ہونا ممکن نہیں ہے([38])۔

ظاہر ہے کہ ریشنلٹی حقیقی عقلیت نہیں حقیقی عقلیت کی ضد ہے۔ حضر ت حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ عقلیت کی تعریف یوں کرتے ہیں ”عاقل وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے“([39])۔ریشنلٹی الوہیت ہیومن بینگ کے فاسد عقیدہ پر قائم ہے اور اس کا استعمال فساد کو عام کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس استعمال کی سب سے مہلک شکل سائنس ہے جو تسخیر کائنات کے عمل کو تخریب کائنات کی شکل میں مستقلاً ڈھال رہی ہے([40])۔

1.3.5۔ نمایندگی

نمایندگی کا تصور سب سے پہلے لاک نے پیش کیا اور جو جمہوری نظام دورِ حاضر میں کارفرما ہے وہ لازماً نمایندگی پر مبنی ہے۔ یہ بات پارلیمانی، اشتراکی اور استبدادی سب جمہوریتوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ تینوں قسم کی جمہوریتوں میں نمایندگی کی ترتیب کا ذریعہ پارٹی ہے۔ پارٹی ایک مخصوص گروہ (مثلاً مزدوروں، کسانوں، دولت مندوں، قوم پرستوں) کے مفادات کو فروغ دینے کا وظیفہ اپناتی ہے۔ لیکن حصولِ اقتدار کی جدوجہد میں اسے ووٹ سب سے مانگنے پڑتے ہیں۔ صرف اپنے ممبروں سے نہیں۔ لہٰذا اس کو اپنے اراکین کے مفادات کی تشریح مفادِ عمومی کے تناظر میں کرنا پڑتی ہے۔ منتخب ہونے والا نمایندہ اپنے تمام ووٹروں کا نمایندہ ہوتا ہے صرف اپنی پارٹی کے ممبروں کا نمایندہ نہیں ہوتا۔

جمہوری نمایندہ اپنے ووٹروں کا مربی اور پیر ہوتا ہے ان کا ماتحت نہیں ہوتا۔ اس لیے نمایندہ کو قانون سازی کا اختیار دیا جاتا ہے اور قانون سازی کا یہ حق عوام کو (نمایندہ کے ووٹروں کو ) نہیں دیا جاتا۔ جمہوری نمایندہ قانون ساز ی کا (دستور کے تناظر میں) مکلف ہوتا ہے لیکن تنفیذ قانون کا حق نہیں رکھتا یہ نوکر شاہی کا دائرہ کار ہے۔ نمایندوں کی جانچ پڑتال سرمایہ دارانہ عدلیہ کرتی رہتی ہے اور وہ یقینی بناتی ہے کہ کوئی منظور شدہ قانون دستور کے ماورا نہ ہو حالانکہ سرمایہ دارانہ ریاست میں ماورائے دستور قوانین مستقل نوکر شاہی اور عدلیہ بناتے رہتے ہیں اس کی سب سے اہم مثال اینٹی ٹیرورزم کی انتظامی قانون سازی (admininistrative legislation) ہے۔

عوام (ووٹروں) کے اختیارات صرف نمایندگی کی نشاندہی کے عمل کی توثیق تک محدود کر دیے جاتے ہیں۔ انہیں گاہے گاہے انتخابات اور ریفرنڈم کے ذریعہ نمایندگی میں تبدل اور پالیسیوں پر اظہاررائے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہ حکومتی نظام میں بلاواسطہ شرکت کا کوئی اور حق نہیں رکھتے جیسا کہ ژی ژیک نے کہا ”جمہوریت وہ زنجیر ہے جس سے عوام کو سرمایہ دارانہ اصطبل میں باندھا جاتا ہے“۔

ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی

اور اب عوامی رائے دہی کا عمل بھی بالکل لغو اور مہمل ہو گیا ہے کیوں کہ اس رائے دہی کی تخلیق سرمایہ دارانہ میڈیا کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ میڈیا کی کارفرمائی کا مقصد خدا کے بندے کو سرمایہ کا بندہ بنانا ہے۔

ہر جمہوری نظام (خواہ پارلیمانی، خواہ اشتراکی، خواہ استبدادی) تحکم قانون سرمایہ کا عملی مظہر ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست ان معنوں میں حاکم مطلق ہے کہ اس کے ادارے نمایندگی کے ذریعے اور اس کے ماورا جو قانون چاہے نافذ کریں۔ بشرطیکہ وہ تحکم قانون سرمایہ کی تشریح ہو([41])۔ایڈمنسٹریٹو لاء، آرڈی نینس اور ایس آر او کی بھرمار اسی بات کا بین ثبوت ہے۔ عوام یا ان کے نمایندہ ریاست کی حاکمیت کو چیلنج کریں تو اسے غداری (ٹیررازم)کہتے ہیں۔ جیسا کہ Adorno & Horkheimer نے کہا تحریک تنویر کی فکر کی عمومیت سے جو ریاست برآمد ہوئی ہے وہ نسل کشی اور عوامی تعذیب کو منظم کرنے والی ہے اور استبداد کبھی مخفی کبھی ظاہری ہر جمہوری ریاست کا خاصہ ہے([42])۔ سرمایہ کے قانون کی پشت پر سرمایہ کی قوت کا آہنی پنجہ ہمیشہ کارفرما رہتا ہے۔

بقول اٹینے بالیبار (Etienne Balibar) ریاستی دہشت گردی سرمایہ دارانہ ترقی کے لیے ضروری ہے([43])۔سرمایہ کی بڑھوتری کو جاری رکھنے کے لیے لازماً انسانوں کا استحصال جاری رکھنا پڑتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ تاریخ کا ناقابل فراموش سبق ہے۔ اس استحصال کا اظہار معاشرتی سطح پر بھی ہوتا ہے اور ریاستی سطح پر بھی۔ استحصالی عمل پر ریاستی اجارہ داری نہیں ہوتی لیکن ریاستی ادارہ اس کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ نمایندہ مقننہ میں دستوری ”جائز“استحصال کی حدود متعین کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ جمہوری نمایندے ووٹروں کے مخصوص مفادات کے نمایندہ نہیں ہوتے بلکہ اپنے ووٹروں کے عمومی مفادات کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ مفادِ عامہ بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ مشہور امریکی سیاسی فلسفی رابرٹ داہل (Robert Dahl) لکھتا ہے ”مفاد عامہ یہ ہے کہ ہر فرد کو وہ مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل کر سکے اور خود انحصار ہو جائے تاکہ بحیثیت ہیومن بینگ وہ اپنی اصلیت کا اظہار بھرپور انداز میں کر سکے([44])۔خود انحصاریت کا فروغ تسخیر/تخریب کائنات سے ہوتا ہے اور تسخیر/تخریب کائنات کا عمل سرمایہ کی بڑھوتری کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ لہٰذا مفادِ عمومی سے مراد بڑھوتری سرمایہ کی رفتار کوتیز کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ سب کا خواہ مفلس، خواہ دولت مند، خواہ عوام، خواہ خواص مشترکہ باہمی مفاد (common interest) ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ اس فرض عین کی مستقل بجاآوری جمہوری عمل کے ذریعہ جاری رکھے۔ کوئی قانون خواہ دستوری خواہ انتظامی اس مقصد اعلیٰ کی تردید میں وضع نہیں کیا جا سکتا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام (خواہ پارلیمانی، خواہ اشتراکی، خواہ استبدادی) میں عوام حکومت میں شرکت نہیں کرتے۔ جو منظم قوتیں اقتدار کے لیے مقابلہ کرتی ہیں وہ ہمیشہ اقلیتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان اقلیتوں میں فوج، عدلیہ، انتظامیہ، کارپوریشن اور بینک، میڈیا، اہل دانش اور مقننہ میں شامل افراد شامل ہوتے ہیں۔ اس پورے طائفہ کی مجموعی تعداد کسی ملک کی آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہوتی۔ اس قلیل اقلیت کے اقتدار کا جواز اس کی بڑھوتری سرمایہ کی رفتار کو مہمیز دینے کی صلاحیت ہے۔ یہ سب سرمایہ کے آلہ کار ہوتے ہیں اور مقننہ کے افراد کے علاوہ حکومتی ٹولے میں شامل تمام گروہ کو دائمی اقتدار حاصل رہتا ہے (ریٹائرمنٹ تک)۔ ملک کے ننانوے فیصد عوام کو صرف اس حکومتی ٹولے کے مقننہ کے نمایندوں کو تبدیل کرنے کا حق گاہے گاہے ملتا رہتا ہے۔

1.4۔ جمہوری طریقہ کار

سرمایہ دارانہ ریاست میں جمہوری عمل نمایندوں کے چناؤ تک محدود رہتا ہے۔ یہ نمایندے مرکزی مقننہ کے لیے بھی منتخب کیے جاتے ہیں اور معاشرتی اور سیاسی غرضی جتھوں(political parties and interest group)کے لیے بھی۔ یہ نمایندے ہمیشہ آبادی کا نہایت قلیل حصہ ہوتے ہیں اور ریاستی پالیسی سازی کو یہی متاثر کرنے کے ذمہ دار قرار دیے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں اغراضی دھڑوں اور سیاسی دھڑوں کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہوتا ہے جس کی بدولت جمہوری عمل مستقلاً جاری رہتا ہے۔

سرمایہ دارانہ ریاست کے دوسرے اجزا (عدلیہ، نوکرشاہی،فوج، کارپوریشنیں، سود اور سٹہ کے مارکیٹ اور میڈیا) جمہوری عمل سے بلاواسطہ ربط نہیں رکھتے۔ ان کے اراکین کا انتخاب سٹیزن نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دارانہ جاہلی عقلیت کی استعداد کے تعین کی بنیاد پر عمل میں آتا ہے اور انہی جاہلی علمی پیمانوں پر ان کی کارکردگی ناپی جاتی ہے۔ ریاست کو چلانے والی اصل قوت اسی عدلیہ، نوکر شاہی،فوج، کارپوریشنوں ، میڈیا اور سود اور سٹہ کے بازار کے مستقل ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور یہ بھی مجموعی آبادی کا ایک قلیل ترین اقلیتی حصہ ہوتے ہیں۔

اصولاً یہ غیرمنتخب ریاستی اشرافیہ ریاستی جمہوری نمایندوں کی ماتحتی قبول کرتی ہے۔ جمہوری عمل کے تسلسل کے نتیجہ میں بڑھوتری سرمایہ کی حکمت عملی تبدیل ہونے کا ہمیشہ امکان موجود رہتا ہے۔ ایک لبرل سرمایہ دارانہ حکومتی پالیسی کی جگہ ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ پالیسی جمہوری عمل کے نتیجہ میں بنائی جا سکتی ہے اور سیاسی جماعتیں اور اغراضی گروہ (interest groups) ان معنوں میں حکومتی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں کہ وہ طریقہ سرمایہ کی بڑھوتری کے طریقہ کی تبدیلی کو جواز فراہم کریں۔ ریاستی غیر جمہوری اشرافیہ اس نوعیت کی تبدیلی کو قبول کرنے پر کسی نہ کسی حد تک مجبور ہوتی ہے([45])۔

لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا سرمایہ دارانہ نظام کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ بڑھوتری سرمایہ کو بطور ہدفِ اعلیٰ رد کر دے۔ جمہوری عمل کے تسلسل سے یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام اپنے ارادہ اجتماعی (will of all) کو ارادہ عمومی (general will) پر مقدم رکھتے ہوئے سرمایہ کی بڑھوتری کو بحیثیت ہدفِ اعلیٰ (hyper good) رد کر دیں۔ اس خطرہ کو ٹالنے لیے بیسویں صدی کی ابتدا تک رائے دہندگان کو بیش تر ممالک میں محدود رکھا گیا اور اب جب عمومی رائے دہندگی کا اصول تسلیم کر لیا گیا ہے تو جہاں بھی جمہوری عمل بڑھوتری سرمایہ کے اصل الاصول ہونے کی تردید کا خطرہ پیدا کرتا ہے وہاں سامراج جمہوری عمل کو معطل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

لیکن یہ کوشش ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔ الجزائر میں 1990ء میں اور مصر میں 2013ء میں سامراج کو کامیابی نصیب ہوئی لیکن ایران میں جمہوری عمل کو غلبہ دین کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور ہمارا گمان ہے کہ پاکستان میں بھی اس ہی قسم کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں([46]) لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ جمہوری عمل کو مفلوج کر کے اس کو اسلامی انقلابی حکمت عملی کا ایک جزو بنا دیا جائے۔

جمہوری عمل کا سب سے واضح نمونہ امریکا ہے جو دنیا کا سب سے زیادہ جمہوری ملک اور معاشرہ ہے اور شخصی آزادیاں (آزادی اظہارِ رائے، جنسی آزادیاں، آزادی اجتماع) سب کو وافر طور پر میسر ہیں لیکن دیگر سرمایہ دارانہ ممالک کے مقابلہ میں سب سے زیادہ امریکی جیلوں میں بند ہیں۔ سیاسی نظام پر دو جماعتیں 170 سال سے مسلط ہیں۔ امریکی انتخابی نظام نے کسی تیسری جماعت کے قیام کو ناممکن بنا دیا ہے۔دونوں جماعتوں پر سرمایہ داری کی گرفت نہایت مضبوط ہے اور عوام کی سیاسی آزادی رائے کے اظہار کا حق بالکل بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ امریکی ریاست دنیا کے کرپٹ ترین سیاسی نظاموں میں سے ایک ہے۔ ہر سیاست دان ووٹوں کا تاجر بن گیا ہے اور تجارتی سود ے بازی سیاسی عمل کا جزو بن گئی ہے۔ کانگریس سیاسی سٹہ بازار کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

دنیا کے ہر جمہوری نظام کی بنیاد ایک ریاستی دستور فراہم کرتا ہے جو کتاب اللہ (انجیل مقدس، تورات اور قرآن مجید) کو معطل کر دیتا ہے۔ امریکا کا دستور جمہوریتوں کے سخت ترین دساتیر میں شامل ہے۔ اس میں تبدیلی کا عمل نہایت پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ دستور کی کسی شق میں چھوٹی چھوٹی تبدیلی نہایت دشوارہے (مثلاً ایک کوما کے اضافہ کے لیے) کانگریس کے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت ہی اس کی منظوری دےسکتی ہے اور تین چوتھائی صوبائی اسمبلیاں بھی اکثریتی منظوری دیں۔ یہ عمل نہایت طویل المدت ہے۔ پچاس میں سے تیرہ ریاستیں (جن کا مجموعی آبادی میں حصہ پانچ فی صد ہے) کسی بھی دستوری ترمیم کو ویٹو کر سکتی ہیں۔ 1792ء سے لے کر 2020ئ تک دستور میں صرف پندرہ ترامیم شامل کی گئی ہیں۔

امریکی دستور کی سب سے اہم خصوصیت ریاستی اداروں میں تقسیم اقتدار اور ذمہ داریوں کی ہے۔ اقتدار کو وفاق اور صوبوں کی انتظامیہ (صدر اور گورنروں) مقننہ اور عدلیہ کے درمیان تقسیم کیاگیا ہے۔ یہ دستور عوام کی حاکمیت اعلیٰ کا اپنے مقدمہ میں اقرار کرتا ہے لیکن اقتدار کو ریاستی اداروں میں یوں تقسیم کرتا ہے کہ عملاً حکمرانی قانون سرمایہ کی ہوتی ہے اور تحکم قانون کے ذریعے سرمایہ دارانہ انفرادیت کو نشوو نما دینا دستور کا مقصود ہے۔ آزادی سے مراد قانون سرمایہ کے تحکم کو قبول کرنا ہی لیا گیا۔ جیسا کہ تھامس جیفرسن بار بار کہتا تھا کہ دستور کا مقصد انتخابی آمریت کے خطرہ کو رفع کرنا تھا۔

ابراہام لنکن کو ماورائے دستور اقدام کی ضرورت کا ”انتخابی آمریت“کا سدباب کرنے کی ضرورت کا احساس تھا۔ وہ لکھتا ہے ”میں سمجھتا ہوں کہ غیر دستوری اقدام کی تنفیذ دستور اور قانون کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں([47])۔ماورائے دستور قانون سازی تحکم قانون سرمایہ کے لیے لازم ہے۔ یہی ایڈمنسٹریٹو لاء ہے جس کی امریکی نظام میں بھرمار ہے۔

امریکی دستور سرمایہ کے راج کو مستحکم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دولت مند سرمایہ داروں کی دستوری گرفت مضبوط ہو گئی ہے اور مزدوروں کے سرمایہ دارانہ حقوق بالخصوص حقِ ہڑتال مستقل محدود کیے جارہے ہیں۔ عوام کے سرمایہ دارانہ معاشرتی حقوق کی تحدید انفرادی آزادی کے دفاع اور فروغ کے جواز کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دستور جس انفرادی آزادی کی فراہمی کا وعدہ کرتا ہے وہ صرف تحکم قانون سرمایہ ہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کانگریس قانون سازی کا عمل اپنی ہزاروں کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کے سپرد کرتی رہتی ہے اور ان کمیٹیوں سے جو قانونی مسودات برآمد ہوتے ہیں ان پر سرمایہ دارانہ اغراضی گروہوں(lobbies and interest group) کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ امریکا میں پچاس ریاستی اور 850 مقامی حکومتیں ہیں اور ہر سطح کی حکومت کامنتخب ایوان نمایندگان، عدلیہ اور انتظامیہ ہے۔ یہ سب سرمایہ کی آلہ کار ہیں اور ان سب میں حصولِ سرمایہ کی جدوجہد مستقلاً جاری رہتی ہے۔ سرمایہ کی اسی پیہم جستجو نے فرد اور قانون کے رشتے کو الٹ دیا ہے۔ جیسا کہ ایک امریکی قانونی فلسفی Ronald Dworkin کہتا ہے افراد قانون سازی نہیں کرتے قانون انفرادیت کی تعمیر کرتا ہے، ہم قانون میں اور اس کے سہارے زندہ رہتے ہیں۔قانون ہی ہمارا اصل حاکم اعلیٰ ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں اور اس کے منہج کی تابع داری پر مجبور ہیں۔ قانون بتاتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے([48])۔سرمایہ دارانہ نظام میں تحکم قانونِ سرمایہ نہایت مستحکم ہے۔

جمہوری طریقہ کارکے نتیجہ میں فیصلے ہمیشہ مختلف اقلیتوں، اغراضی گروہوں کی کشمکش سے برآمد ہوتے ہیں اور کبھی اکثریت کی رائے کا مظہر نہیں ہوتے گو کہ یہ اغراضی گروہ اپنے مخصوص مفادات کی پیروی کو مفادِ عامہ کے حصول کا ذریعہ منوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہر جمہوری سیاست دان جانتا ہے کہ دھڑے بندیوں کو فروغ دینا جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

سرمایہ دارانہ حقوق کی تشریح دستور کے مقدمہ میں درج ہوتی ہے او ر اس فراہمی کی ذمہ دار عدلیہ ہوتی ہے، مقننہ نہیں۔ لہٰذا عملاً جمہوری عمل بنیادی سرمایہ دارانہ حقوق کی تشریح کرنے سے قاصر رہتا ہے اور سرمایہ دارانہ آزادیاں غیراکثریتی سیاسی نظاموں (مثلاً اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے انگلستان) میں بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل اور جمہوری عمل کا تعلق حادثاتی ہے اور جمہوری عمل کو سرمائے کی تحکیم سے الگ بھی کیا جا سکتا ہے۔

دستوری ساختی کرختگی کی بدولت عوام ریاستی ساخت میں تبدیلی لانے کے عمل سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ وہ ریاستی نظام اور تحکم قانون سرمایہ کو فطری اور ناقابل تبدل گردانتے ہیں اور جمہوری عمل عموماً ریاستی ساخت کو متاثر نہیں کرتا۔ آج امریکا میں منتخب نمایندوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے اور امریکا بدترین داخلی بحرانوں کا شکار ہے لیکن نظم ریاست اور تحکم قانون سرمایہ میں تبدیلی کو سب ہی ناممکن سمجھتے ہیں۔ جمہوری مکالمہ کا پھیلاؤ نہایت وسیع ہے لیکن ریاستی ساخت اور تحکم سرمایہ کبھی اس مکالمہ کا موضوع نہیں بنتی۔عوام اپنی تمام تر سیاسی اور شخصی آزادیوں سے بہرہ ور ہونے کے باوجود شدید نظاماتی جبر کا شکار ہیں۔ جیسا کہ Joyce Appleby نے لکھا ہے ”دستور نے امریکا میں اکثریتی راج کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں“([49])۔

دستور وہ باڑ ہے جو عوام کی اکثریت کو حکومتی عمل میں شرکت کرنے سے روکتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ اس شرکت کو حقیقی سے علامتی بنا دیتی ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعہ ریاست ایک ایسی سیاسی اور سماجی انفرادیت کی تعمیر کی کوشاں ہوتی ہے جو سرمایہ دارانہ تصورِ قومی مفاد کو جائز اور حق سمجھے اور اس قومی مفاد کے حصول کے لیے ذاتی اغراض کی قربانی دینے پر آمادہ ہو۔ دستور جمہوری عمل پر حاوی ہوتاہے۔ وہ جمہوری عمل کے حدود اربعہ متعین کرتا ہے گو کہ دستورپر جمہوری عمل غالب ہونے کا دھوکہ ضرور دیا جاتا ہے۔ نمایندگی عمومی نہیں مخصوص گروہوں کی ہوتی ہے اور دستور یہ متعین کرتا ہے کہ کون سے اقلیتی اغراضی گروہ ریاستی قوت کو استعمال کرنے کے حق دار قرار دیے جائیں گے۔

ووٹنگ کا عمل سرمایہ دارانہ معاشرتی دھوکہ دہی کا اساسی عمل ہے۔عوام گاہے گاہے اس رسم کو ادا کر کے سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی پالیسی کی تائید یا تردید کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ یہ پالیسیاں سود اور سٹہ کے مارکیٹ ، انتظامیہ، فوج اور عدلیہ بناتے اور نافذ کرتے رہتے ہیں اور ان پالیسیوں کی عوامی مقبولیت کا خالق سرمایہ دارانہ میڈیا ہوتا ہے۔ جمہوری نظام میں عوام کی حیثیت تالیاں بجانے والے یا ہوٹنگ کرنے والے تماش بینوں جیسی ہوتی ہے اس لیے عوا م کی اکثریت سرمایہ دارانہ سیاسی عمل کو ایک کھیل سمجھنے لگی ہے۔ اغراضی (مفاد پرست ) گروہوں کے لیے انتخابات ایک کاروبار بن گیا ہے جس میں ہر نمایندہ اور اس کا گروہ پیسہ لگا کر ووٹ حاصل کرتاہے۔

جمہوری طریقہ کار کی تنفیذ سے عوام کو حکومتی عمل سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ بقول لاک حکومت قانون اور انتظامیہ کی ہوتی ہے اور حکومتی گروہوں میں مختلف پیشہ ورانہ ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ جمہوری اکثریتیں اقلیتوں کے اجتماع ہوتی ہیں۔ اجتماع عمومی کی بنیاد سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کی تصدیق تصور کی جاتی ہے۔ اگر یہ تصورِ خیر عوامی مقبولیت کا حامل بھی ہو تو بھی اس کے حصول کے طرائق میں لازماً اختلاف ہوتا ہے اور ہر گروہ اپنے مخصوص مفادات کے حصول کو سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کا واحد جائز طریقہ تصور کرتا ہے اور جو طریقہ جمہوری سودے بازی کے نتیجہ میں منتخب کیا جاتا ہے وہ لازماً اقلیتی اغراض کا غماز ہوتا ہے۔ اکثریت اسی جمہوری سودے بازی کا فہم نہیں رکھتی اور ہمیشہ اس سے باہر رہتی ہے([50])۔سرمایہ دارانہ عمل معاشرتی کثرتیت (pluralism)کو فروغ دیتا ہے کیوں کہ ارتکاز سرمایہ معاشی اور معاشرتی نامساویت اور ناہمواریوں کو مستقل بڑھاتا رہتا ہے اور ان ناہمواریوں کے بڑھنے کے نتیجہ میں اغراضی(مفاد پرست ) گروہوں کے مخصوص مفادات متصادم ہوتے ہیں۔ محنت کش دولت مندوں کے خلاف، سٹہ باز صنعت کاروں کے خلاف، سفید فام سیاہ فاموں کے خلاف صف آرا ہوتے رہتے ہیں۔

کئی جدید سیاسی مبصرین جمہوری مداخلت کو سرمایہ دارانہ تحکیم کے لیے محدود کرنے کے قائل ہیں([51]) کیوں کہ جمہوری عمل سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ایک غیر موثر طریقہ ہے۔ وہ جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ تحکیم کی ایک ضرورت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور جمہوری عمل کی افادیت ناپنے کا پیمانہ سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کو گردانتے ہیں۔

انتخابی عمل کے ذریعہ نہ قومی سیاسی ایجنڈا مرتب ہوتا ہے نہ اس کی تنفیذ عمل میں آتی ہے۔ انتخابی عمل محض اس ایجنڈہ اور اس تنظیمی عمل کی عالمی تصدیق کاذریعہ ہوتا ہے لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ یہ تصدیقی عمل ان معنوں میں درست ہو گا کہ جن پالیسیوں کی تصدیق کی گئی وہی حصول بڑھوتری سرمایہ عمومی کے لیے سب سے موزوں ہیں۔ عوامی تائید کا حصول کسی بھی فیصلہ کی درستگی کا ضامن نہیں ہو سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شرع مطہرہ عوامی رائے کی بنیاد پر حکم لگانے سے منع کرتی ہے۔ عوامی رائے کی غیر درستگی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ عوامی رائے (اور عوامی رائے اکثر بدلتی رہتی ہیں) میں جس چیز کوپہلے باطل کہا گیا تھا آج حق مانی جانے لگتی ہے۔ پھر عوامی رائے کی تنظیمی ساخت ایسی حلقہ جاتی حد بندیاں متعین کرتی ہے جو مصنوعی اکثریتیں قائم کرتی ہیں مثلاً 2016ء کے انتخابات میں ٹرمپ کو امریکی رائے دہندگان کی اقلیت کے ووٹ ملے لیکن انتخابی حلقہ جاتی ترتیب کی بنیاد پر وہ اکثریتی صدر منتخب ہو گیا۔ یہی بات 1988ء میں بش اول کی صدارت کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ وہ جو ووٹ نہیں دیتے تھے اور وہ جو ہارنے والے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں عموماً جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے بھی جمہوری اکثریتوں کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔

انتخابی عمل اقلیتی حکمرانی کا تحکیمی جواز مرتب کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ عمل سرمایہ دارانہ تحکیم سے قبل شاذ و نادر ہی اپنایا گیا۔ اب یہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام خواہ پارلیمانی خواہ اشتراکی خواہ استبدادی میں پیوست ہے لیکن یہ سرمایہ دارانہ تحکم کے لیے ایک خطرہ بھی ہے کیوں کہ اس کے تنظیمی ضوابط انسانوں کو سرمایہ کی تحکیم کے خلاف بغاوت کرنے کے مواقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ اسلامی انقلابیوں کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کو نشوونما دینا چاہیے۔

1.5۔ جمہوری نظریات

پانچویں صدی قبل از مسیح سے لے کر آج تک جمہوریت کی نظریاتی تفسیریں بیان کی جاتی رہی ہیں۔ کلیدی مفکرین کی فکر کا تجزیہ باب سوم میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم یہاں ان نظریاتی مباحث کا ایک اجمالی تعارف پیش کر رہے ہیں۔

جمہوریت کا لبرل(پارلیمانی)تصور مقبول عام ہے۔ اس تصور کے موجد مونٹسکو، لوک وغیرہ ہیں اور یہ تصور سترویں اٹھارھویں عیسوی میں پیدا ہوا([52]) لیکن اس کی عملی تنفیذ انیسویں صدی کےآخر سے شروع ہوئی۔

جمہوری عمل کی دوسری اہم نظریاتی تشریح Republicanism ہے اور اس نظریہ کے موجد افلاطون، ارسطو، مکیاولی، ہیگل، مارکس اور لینن ہیں۔ Republicanism بیسویں صدی عیسوی میں ریاستی شکل اختیار کر گئی اور اس کی نمایاں مثالیں سوویت یونین اور عوامی جمہوریہ چین ہے۔

بیسویں صدی میں ان دو بنیادی نظریاتی مناہج کی کئی تعبیریں بھی مرتب ہوئیں جن میں کارپوریٹ ازم اور authoritarianism (استبدادی جمہوریت) عملی ریاستی شکل اختیار کر گئیں۔ ہم ان کا بھی تذکرہ کریں گے۔ اس کے علاوہ جمہوری نظام کے بہت سے تخیلاتی منصوبے مثلاً deliberative democracy بھی وضع کیے گئے ہیں۔

1.5.1۔ لبرل جمہوریت

لبرل حکومتیں اٹھارھویں صدی عیسوی میں قائم ہوئیں لیکن جمہوری طریقہ کار انہوں نے انیسویں صدی کے وسط صدی سے اپنانا شروع گیا۔ لبرل نظریات سرمایہ دارانہ معاشرت کو ریاست سے ماورا ایک خودکفیل اور خود مختار دائرہ کار گردانتی ہے اور لبرل جمہوری عمل کا مقصد افراد کے منفرد اغراض میں تعاون اور اشتراک پیدا کرنا تصور کرتی ہے۔ اس اجتماعی انفرادی اغراض کا عمل سب کا بڑھوتری سرمایہ کو مقصد اعلیٰ کی حیثیت سے قبول کرنے پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبرل ازم اور نظریہ افادیت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لبرل ریاست سول سوسائٹی کی محافظ ہوتی ہے۔ ہیومن خود اختیاریت کا یہ دائرہ سول حقوق کی ریاستی فراہمی تک محدود رہتا ہے۔

لبرل ملحدین ان حقوق کی فراہمی کسی خیر مطلق کی جستجو پر مقدم رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں (رالز) ([53])۔ لیکن یہ ایک جھوٹا دعویٰ ہے۔ لبرل فکر میں خیر مطلق بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہی چیز سرمایہ دارانہ عدل ہے([54])۔ لبرل جمہوریتی عمل کا مقصد تمام ہیومن بینگ اور ان کے اغراضی(مفاد پرست ) گروہوں کے درمیان اس تصورِ عدل (یعنی بڑھوتری سرمایہ کی پیہم جستجو) پر اجماع کا قیام ہے۔ چوں کہ بڑھوتری سرمایہ عمومی کے عمل کے طرائق مخصوص مفادات سے جداگانہ طور پر منسلک ہیں لہٰذا جمہوری معاشرہ اور ریاست میں حصولِ قوت کی اغراضی جدوجہد ہمیشہ جاری رہتی ہے اور ہر اغراضی گروہ کی جستجو ہوتی ہے کہ بڑھوتری سرمایہ عمومی کی جو حکمت عملی نافذالعمل ہو وہ اس کے مخصوص اغراض کو فروغ دے۔ سرمایہ دارانہ حقوق کی عملی تعبیر اسی پیہم کشمکش سے برآمد ہوتی رہتی ہے۔مثلاً لبرل جمہوریتوں میں اسلامی جماعتوں کے بنیادی سرمایہ دارانہ حقوق معطل کیے جاتے رہتے ہیں کیوں کہ ان حقوق کا معطل کرنا لبرل اشرفیہ اور حکام کے مفاد میں ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں حصولِ قوت کی کشمکش کا مقصد ہمیشہ حصولِ سرمایہ ہی ہوتا ہے کیوں کہ سرمایہ وہ ذریعہ ہے جو ہر ذیلی مقصد کے حصول کے لیے لازمی ہوجاتاہے۔ جو اقلیت (مثلاً امریکا کے اغلام باز) اپنی ثقافتی روایات کو فروغ دینا چاہتی ہے وہ حصول سرمایہ کے بغیر اس مقصد کو فروغ نہیں دے سکتی۔ سرمایہ وہ قوت ہے جو جمہوری معاشرتی کثرتیت(pluralism) کو نظاماتی وحدانیت میں سمو دیتا ہے۔ حقوق کے حصول کی کشمکش سرمایہ دارانہ اقتدار کے حصول کی کشمکش ہی ہے۔

رچرڈ راٹی کے مطابق لبرل جمہوری عمل سرمایہ دارانہ عقلیت کو محدودکرنے کی استطاعت رکھتا ہے([55])۔ افراد کا ہر فیصلہ کرتے وقت ریشنل ہونا ضروری نہیں اور جمہوری تائید غیرسرمایہ دارانہ اہداف کو بھی دی جاتی ہے (مثلاً نفاذِ شریعت مطہرہ کا مطالبہ وغیرہ) ([56])۔

لبرل جمہوری عمل کی علمیاتی بنیادیں کمزور ہیں۔ اس بات کا اقرار مشہور امریکی سیاسی مفکر Robert Dahl تک نے کیا ہے۔ سرمایہ اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی حکمرانی پر ایمان لانے کی کوئی عقلی توجیہہ نہیں کی جا سکی۔ یہ عقیدہ محض سرمایہ دارانہ عمل کو جاری رکھنے کی ایک ضرورت کے طور پر لبرل ملحدین نے وضع کیا ہے۔

لبرل جمہوریت کی کئی پس جدیدی تشریحات بھی مرتب کی گئی ہیں مثلاً ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق تحکیم قانون سرمایہ مرتب کرنے والی عدالتیں اور این جی او ز کی کارفرمائی کا نام جمہوریت ہے([57])۔ Michael Everran نے مارکیٹی تحکیم کو ریاستی جمہوری عمل سے علیحدہ کرنے کی تجویز مرتب کی ہے([58])۔ یہ بھی کہا گیا کہ چوں کہ اقلیتی ملکی ادارے قانون کے پابند ہوتے ہیں اور فیصلوں کے متاثرین کی آراء کا احترام نہیں کرتے ہیں لہٰذا وہ اکثر یتی فیصلوں سے بہتر جمہوری عمل کو تشکیل دیتے ہیں([59])۔

لبرل مفکرین دستوری جمہوری عمل کو اکثریتی فیصلوں سے محفوظ کرنے کے قائل ہیں۔ پورے مغربی یورپ میں سیاسی جماعتیں روبہ زوال ہیں اور سیاسی جماعتوں کے اس زوال اور انحطاط کے نتیجہ میں جمہوری عمل سرمایہ دارانہ عقلیت کا مظہر بنتا چلا جا رہا ہے۔ اکثریتیں غیر سرمایہ دارانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔

پس جدیدی جمہوری نظریات جمہوری عمل کی ایسی تعبیرات مرتب کر رہی ہیں جو تحکم قانون سرمایہ کو یقینی بنائیں اور اس تحکم کو معاشرتی تائید اور جواز بلا اکثریتی فیصلہ سازی کے حاصل ہو۔ پورے یورپ میں جمہوری عمل میں شرکت زوال پذیر ہے([60])۔آج مغرب میں جمہوری سیاست دان انہی معنوں میں ماہرین بن گئے ہیں جن معنوں میں بینکر یا سائنس دان پروفیشنل ہیں۔ عوام سیاسی عمل کو کھیل تماشا سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ سیاسی پروفیشنلز عوام کے نمایندہ کم اور ریاست کے اہل کار زیادہ ہیں اور یہ کہنا درست ہے کہ اب ریاستیں پارٹیوں پر قبضہ کرتی ہیں پارٹیاں ریاستوں پر قابض نہیں ہوتیں۔

یہ درست ہے کہ سرمایہ دارانہ تحکم کے لیے تائید عامہ لازمی ہے لیکن اس تحکم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ عوام تحکیم کے عمل میں شریک ہوں۔ آج عوام سیاسی عمل سے دانستہ پہلو تہی کر رہے ہیں اور یہ ان کی خود ارادیت کا بھی اظہار ہے اور پیشہ ورانہ سیاست دانوں پر اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ ایک عام شہری جمہوری عمل کا تماشبین جانے سے مطمئن اور خوش ہے۔ اور لبرل مفکر ین بھی اس رجحان سے مطمئن ہیں کیوں کہ اس سے سرمایہ دارانہ عقلیت کی تحکیم مضبوط ہوتی ہے۔ دورِ حاضر کا سب سے اہم مفکر اسلام دشمن یورگن ہیبرماس اس رجحان کو سراہتا ہے اور اپنے نظریہ deliberative democracy کو جمہوری عمل کی سرمایہ دارانہ تعقلی توجیہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔

1.5.2۔ Deliberative Democracy

یہ لبرل جمہوری عمل کی ایک ترمیمی توجیہہ ہے۔ اس کا سب سے اہم وکیل جرمنی کا اسلام دشمن فلسفی یورگن ہابر ماس ہے۔ اس کے خیال میں جمہوری عمل صرف ریاستی سطح پر منتج نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں پیوست ہوتا ہے۔ اس کے مطابق سیاسی نظام سرمایہ دارانہ معاشرت کا محض ایک ذیلی نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشروں کی ہر جہت میں ایک بین الانفرادی (inter-subjective) مکالماتی عمل مستقل جاری رہتا ہے۔ یہ بین الانفرادی مکالماتی عمل ریاستی ادروں (پارلیمنٹ، عدلیہ) میں جاری رہتا ہے اور پبلک دائرہ یعنی اغراضی گروہوں، سیاسی جماعتوں، یونیورسٹیوں وغیرہ میں بھی۔ اسی بین الانفرادی مکالمہ کے نتیجہ میں معاشرہ اورریاستی اداروں میں ریشنل آراء پر اجماع قائم ہوتا رہتا ہے۔ لیکن چوں کہ یہ بین الانفرادی مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا لہٰذا اجماعی آراء میں ردوبدل ہمیشہ ممکن رہتا ہے۔ اس عمل کو Popper کے الفاظ میں سائنسی بھی کہا جا سکتا ہے کیوں کہ سائنس (جاہلیت خالصہ) بھی اپنے دریافت کردہ ”حقائق“ کے دائمی ابطال ہی سے ترقی کرتی ہے۔ ہیبرماس جمہوری عمل کو ریشنلٹی کا ایساپبلک استعمال گردانتا ہے جس کو خود مختار افراد نے مستقل جاری رکھا ہو۔

ہیبرماس کا دعویٰ ہے کہ جمہوری عمل کا تسلسل جو پبلک دائرہ اور پارلیمانی عدالتی اداروں میں جاری رہتا ہے وہ معاشرہ میں عدل کو فروغ دیتا ہے لیکن کسی مخصوص طرزِ حیات کو خیر مطلق کے طور پر کی نشان دہی نہیں کرتا۔ ہیبرماس اس بات کا بھی قائل ہے کہ عملاً سرمایہ دارانہ معاشروں میں بین الانفرادی مواصلت آزاد نہیں ہوتی بلکہ قوت کے سرچشمے اس مکالمہ کو اپنی اغراض کے لئے مستقل مجروح کرتے رہتے ہیں۔ہیبرماس کی فکر کو نیو کانٹین کہا جاتا ہے کیوں کہ کانٹ کی طرح ہیبرماس بھی فکر/خرد کو حق کا خالق گردانتا ہے۔ کانٹ کے مطابق خرد کی یہ صلاحیت تمام انسانوں کے ذہنوں کی ساخت کی ہم انگیزی سے برآمد ہوتی ہے۔ ہیبرماس اس صلاحیت کی بنیاد لسانیات کے ہم آہنگ تصورات کو گردانتا ہے۔ اس کے خیال میں خودمختار انسان یعنی ہیومن بینگ لسانی مکالمہ میں شریک ہو کر مستقل بدلتے ہوئے حقائق کی نشان دہی کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس مکالمہ سے قوت کی کارفرمائی مجروح نہ ہو۔ جمہوری ادارہ معاشرہ میں بھی اور ریاست میں بھی اس مکالمہ کو جاری رکھنے کا بہترین طریقہ فراہم کرتے ہیں اور ان اجماعات کو جواز بخشتے ہیں جو اس نوعیت کے مکالمہ سے برآمد ہوتے رہتے ہیں۔

Deliberative Democracy نظریات جمہوری نظام کا جواز اس سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی میں دیکھتے ہیں جو بین الانفرادی مکالمہ کو جاری رکھتے ہیں۔ ڈیلبریٹو نظریہ رالز کی فکر کی طرح ضوابطی بھی ہے اور سرمایہ دارانہ قانون کا جواز اس کے مفروضہ بین الاقداری نوعیت میں بھی دیکھتا ہے۔

ڈیلبریٹو ڈیموکریسی کے عدل اجتماعی کا تصور یہ ہے کہ مکالماتی مصالحت کے ذریعہ اغراضی گروہوں کے مفادات کے حصول کے لیے جو توازن پیدا کیا جا رہا ہے اس کو نافذالعمل بنایا جا ئے اور مفادات کے اس اجتماع کو ان آفاقی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے جو ریشنلٹی کے استعمال سے ماخوذ ہیں۔ جمہوری عمل ان مصالحتی ضوابط کا مجموعہ ہے جو ہیومن بینگ اور ان کے اغراضی گروہوں میں fair مکالمہ اور تعاون جاری رکھتے ہیں۔ جمہوری عمل ان اقدار کی آفاقیت کو مفروض کرتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے اصل الاصول ہیں۔ ہیبرماس کا دعویٰ ہے کہ بین الانفرادی مواصلت کے تسلسل کی بدولت ان سرمایہ دارانہ تصورات کی آفاقیت ثابت ہو جاتی ہے۔

ڈیلبریٹو نظریات کے مطابق سرمایہ دارانہ دساتیروہ ذریعہ ہیں جو اپنے انتظامی ضوابط سے اجتماعی ارادہ کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ضوابط اور ادارتی صف بندیاں آزادانہ بین الانفرادی مواصلت کو ممکن بنا کر عدل اجتماعی کوفروغ دیتے ہیں۔ پارلیمانی ریاستی ادارتی صف بندی ریشنلٹی کا تقاضا ہے۔ قانون سازی کا عمل بین الانفرادی مکالمہ جاری رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ سول سوسائٹی کا پبلک احاطہ خود انحصاری ہے اور یہی خودمختار پبلک احاطہ ریاست کی کارفرمائی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ لیکن ارادہ اجتماعی کی تخلیق صرف ریاستی عمل پر منحصر نہیں۔ پبلک دائرہ کے ہر گوشے میں ریشنلٹی کے نفوذ کے ذریعہ پرورش پاتی رہتی ہے۔ پبلک دائرہ میں جاری مکالماتی تفہیم انتظامیہ (قانونی اور معاشی عناصر) کو متاثر کرتی ہے۔ بقول ہیبرماس گو انتظامیہ سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک منفرد ذیلی نظام ہے لیکن خود کفیل نہیں اگر جمہوری عمل مستحکم ہے تو انتظامیہ لازماً بین انفرادی مکالمہ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی رہتی ہے۔

ڈیلبریٹو ڈیموکریسی کے نظریہ کے مطابق جمہوری عمل کا جواز پبلک احاطہ میں مستقل رہنے والے ریشنل مکالمہ سے نکالتا ہے۔ جس مفادِ عامہ کے حصول کی جستجو ریاست کرتی ہے وہ خود مختار ہیومن بینگ میں مستقل جاری رہنے والے مکالمہ سے برآمد ہوتا ہے۔ یہ مکالمہ جن اقداری مفروضات پر مبنی ہوتا ہے (اور یہ سب تحریک تنویر سے اخذ شدہ ہیں) ان کو آفاقی تصور کیا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام معاشروں میں انہی اقدار کو فوقیت حاصل ہونا چاہیے کیوں کہ یہ ریشنل عمل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا ہر معاشرہ میں آزادانہ افرادی مکالمہ کے اجرا کے ذریعہ جمہوری ادارتی صف بندی قائم ہونا چاہیے اور لبرل جمہوری ادارتی صف بندی ہر معاشرہ کے لیے جائز ہے چوں کہ یہ افراد کو خود مختار تصور کرتی ہے جو ریشنلٹی کا تقاضا ہے۔

اس مفروضہ کے پیچھے یہ عقیدہ ہے کہ صرف وہی اصول جائز ہیں جو کسی مسئلہ کے تمام متاثرین کے لیے قابل قبول ہوں اور جس مکالمہ سے یہ جائز اصول برآمد ہوں گے اس مکالمہ کی تحدید قابل قبول نہیں مثلاً اگر تمام شرکائے مکالمہ ہم جنس پرستی پر راضی ہیں تو اس فعل خبیث کو اس بنیاد پر رد نہیں کیا جائے گا کہ انجیل مقدس اسے ناجائز قرار دیتی ہے۔

مکالماتی عمل کے ذریعہ جو ترتیب ترجیحات (preference ordering) عمل میں آتی ہیں ان کو منطقی اور یک جہتی تصور کیا جاتا ہے اور یہ بھی حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ ترتیب ترجیحات تضاداتی ہوتی ہیں اور عموماً مکالمہ سے جو ترجیحات کی ترتیب متعین کی جاتی ہے وہ منطقی نہیں ہوتی۔ اول تو جمہوری نظام میں فیصلے اکثریتی ہوتے ہی نہیں (ہو ہی نہیں سکتے)اور اگر ان کو اکثریتی تسلیم کیا جائے تو اس مفروضہ کا کوئی ثبوت نہیں کہ اکثریتی فیصلے اقلیتی فیصلوں سے زیادہ ریشنل لازماً ہوتے ہیں۔

ڈیلبریٹو نظریات بنیادی طور پر ضوابط پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لبرل جمہوری ضوابط وہ تناظر فراہم کرتا ہے جو مختلف اغراض کی ریشنل ترتیب کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ ڈیلبریٹو نظریات کا دعویٰ ہے کہ مکالماتی عمل کے ذریعہ اغراض کی کثرتیت کو ریشنل بنیادوں پر مربوط کیا جا سکتا ہے اور اس عمل ارتباط سے شرکائے مکالمہ کی خود اختیاریت مجروح نہیں ہوتی۔ جمہوری ریاستوں میں جاری سیاسی عمل سے اس مفروضہ کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

جیسا کہ کہا گیا ڈیلبریٹو نظریہ لبرل جمہوریت کی ایک ترمیمی تفسیر ہے۔ وہ تمام لبرل تصورات، دستورِ تحکم قانون، ہیومن رائٹس، ریاستی ادارتی صف بندی وغیرہ کی تصدیق کرتی ہے۔ جمہوری عمل کا اس کا تصور بالکل غیر حقیقی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست اور معاشرہ میں بہت بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو جمہوری عمل سے لاتعلق ہوتے ہیں اور بین انفرادی مکالمہ ہمیشہ چند مخصوص گروہوں تک محدود رہتا ہے اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی معاشرتی قوت اس مکالمہ کے حدود اربعہ متعین کرنے میں مستقل بڑھتی جاتی ہے۔ اس قوت کا اظہار میڈیا اور انٹرنیٹ کی کارفرمائی سے ہوتا ہے جو رائے عامہ کے صنعت کار ہیں۔ جو فیصلے جمہوری مکالماتی عمل کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں وہ معاشی اور سماجی قوت کا اظہار زیادہ اور ریشنلٹی کا اظہار کم ہوتے ہیں۔ سرمایہ دار معاشرتوں میں عوام نہ آزاد ہوتے ہیں نہ خود مختار وہ بتدریج کسی معاشرتی مکالمہ میں حصہ لینے کی استعداد کھو تے جاتے ہیں۔

1.5.3۔ ریپبلکن ازم

اس بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت سرمایہ داری کا ایک ذیلی نظام ہے جو کسی نہ کسی حد تک خود حکرتی بھی ہے اور اس کو سرمایہ دارانہ عمل سے کسی نہ کسی حد تک جدا بھی کیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت اصولاً عوام کی خود مختاریت کو اصولاً تسلیم کرتی ہے اور عملاً عوام کو مجبور اور محکوم بنا دیتی ہے۔ ریپبلکن ازم قول اور فعل کے اس تضاد کی ایک توجیہہ پیش کرتا ہے۔ ریپبلکن ازم کی پہلی جامع تشریح افلاطون کی مشہور تصنیف The Republic میں ملتی ہے اور اس نظریہ کے جدید وکیلوں میں سب سے اہم نام Alasdair MacIntyre کا ہے۔ ان کفار کے علاوہ ریپبلکن فکر کی نشوونما میں Montesquieu, Jefferson, Lenin اور Sandel کا کام بھی اہمیت کا حامل ہے([61])۔

ریپبلکن نظریہ کے مطابق سیاسی عمل کا مقصد کسی خیر اجتماعی کے حصول کی جستجو ہے۔ ایک ریپبلک اغراضی گروہوں کے متصادم مفادات کی محض ترتیب کاری نہیں کرتا بلکہ معاشرہ میں کسی اجتماعی تصورِ خیر کی بالادستی کے قیام کے لیے ہم آہنگی پیدا کرتاہے۔ ارسطو اس مفادِ عمومی کو خوش حالی (Eudimonvia)کہتا تھا۔ ری پبلکن نظم ریاست عوام کی یوں منظم کرتا ہے کہ وہ حصولِ اجتماعی خوش حالی کو اپنے منفرد اغراضی مقاصد کے حصول پر مقدم رکھیں۔ افلاطون کے مطابق عوام کو مفادِ عامہ کو ترجیح دینے پر راضی / مجبور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فلسفی بادشاہوں کی حکومت قائم ہو۔ ریاست اور فلسفی بادشاہ عوام کے مفادِ عامہ کے اصل محافظ اور نگران ہوں ۔

اجتماعی مفاد عامہ کا یہ تصور کہاں سے آتا ہے۔ قدیم ریپبلکن مفکرین کے خیال میں فلسفی بادشاہ یہ تصور اپنی خردی کاوش(Reasonable thinking) سے خود دریافت کرتے ہیں۔ جدید ری پبلکن مفکرین (میکنٹائر اور باربر([62])) پارلیمانی اور سرمایہ دارانہ قانونی عمل کی کارفرمائی کو اس مفادِ عمومی کی شناخت کا بھی ایک ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ ری پبلکن مفکرین عدل کو حصول مفادِ عامہ کے مماثل قرار دیتے ہیں۔ لبرل مفکرین کے برعکس وہ اقداری کثرتیت (plularism)کے قائل نہیں اور ضوابطی ادارتی صف بندی اس شرط کے ساتھ حصولِ عدل کا ذریعہ سمجھتے ہیں کہ وہ مفادِ عامہ کو فروغ دینے کا ضامن ہو۔ وہ ریاستی ادارہ سازی اس طرح سے کرنے کے قائل ہیں کہ اس کی کارفرمائی کے نتیجہ میں مفادِ عمومی فروغ پائے۔ دورِ حاضر کے ری پبلکن مفکرین لبرل حقوق، دستوری احکامات اور تحکم قانون سرمایہ مفادِ عامہ کے حصول کے لیے ضروری گردانتے ہیں گوکہ ان میں اس بات پر اختلاف ہے کہ تحکم قانون سرمایہ کیسے قائم کیا جائے۔ معاشرہ میں ہیومن رائٹس کی فراہمی کی کیا شکل ہو اور دستوری ضوابط کی تفصیل کیا ہو۔ بہت سے ریبپلکن مفکرین کی نظر میں مفادِ عامہ کا تصور یورپی تہذیبی اور علمیاتی تاریخ سے ماخوذ ہے اور اس تصورِ خیر کو عام کرنا یورپی اقداری اور تہذیبی روایات کی آفاق کاری (یونیورسلائزیشن) ہے۔

لبرل اور ریپبلکن تصورخیر میں ظاہراً اختلاف ہے۔ لبرل تصور خیر مطلق یہ ہے کہ گروہی اغراض کے (مارکیٹی) مسابقتی امتزاج سے خیر مطلق خود بخود نمودار ہوتا ہے([63])۔ریپبلکن مفکرین کے مطابق خیر مطلق کی دریافت معاشرہ کے کسی خاص گروہ (فلسفی بادشاہ، ریاستی اشرافیہ، پرولتاری یا قوم پرست جماعت کی قیادت) کے تفکراتی عمل کے ذریعہ ہوتی ہے۔ عدل اجتماعی خیر مطلق کی اس مخصوص تشریح کی ادارہ کاری (institutionalizaiton) کا نام ہے۔ ریاستی کارفرمائی مختلف انفرادی تصورات خیر کی کشمکش میں غیر جانب دار نہیں ہوتی (جیسا کہ لبرل مفکرین سمجھتے ہیں) بلکہ مخصوص تصور خیر کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے جسے ایک علمیاتی اشرافیہ تفکراتی اور تجزیاتی سے دریافت کرتی ہے۔

ریپبلکن نظام ان معنوں میں جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کہ جس تصورِ خیر مطلق کی وہ جستجو کر رہا ہے وہ کسی مخصوص اغراضی گروہ کا مفاد نہیں بلکہ سب کا مشترکہ مفاد ہے اور یہ بات ریشنل بنیادوں پر ثابت کی جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی لیے کمیونسٹ حکومتیں اپنے آپ کو سائنٹفک اور مارکسزم-لینن ازم کو ایک سائنسی نظریہ کہتے ہیں اور نازی سیاسی فلسفہ میں eugenics کی سائنس کو ایک خاص فوقیت حاصل تھی۔ ریپبلکن ریاستوں میں برسراقتدار اشرافیہ اپنے آپ کو عوام کے حقیقی مفادات کے نمایندہ کے طور پر پیش کرتی ہے اور اس سیاسی تناظر میں عوامی تحرک کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے([64])۔ اشرافیہ کی عوامی تائید اور اس کی مستقل حکمرانی کا جواز اس نظریاتی ہم آہنگی سے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو اشرافیہ کے مخصوص تصور مفادِ عامہ کو عوامی مقبولیت دلانے کے لیے کی جاتی رہتی ہے۔

ریپبلکن نظریات عوام کے سول حقوق سے زیادہ اہمیت ان کے حق سیاسی حرکیت کو دیتے ہیں ۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ریاستی اشرافیہ کا اقتدار اس عوامی مواصلاتی عمل سے برآمد ہوتا ہے جس کو دیکھ کر عوام اپنے آپ کو ایک مخصوص نظریاتی انفرادیت کے سانچے میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔ ریپبلکن تصور میں ریاستی عمل کی توجیہہ ذاتی حقوق کی فراہمی سے نہیں نکلتی۔ جمہوری ریاستی عمل کا جواز اس بات میں مضمر ہے کہ اس عمل کے نتیجہ میں ایسی انفرادیت سازی عمل میں آ رہی ہے جو ایک مخصوص تصور مفاد اجتماعی کی ادارتی صف بندی کر رہی ہے۔ شخصی حقوق معاشرتی حق تعین خیر مطلق سے برآمد ہوتے ہیں۔ خیر مطلق کے اس مخصوص تصور کا ریشنل ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

ریپبلکن جس مخصوص تصور خیر کو مفاد عمومی سے تعبیر دیتے ہیں وہ اجتماعی اور انفرادی آزادی اور خودمختاری ہے یعنی انسان کا اپنے ہیومن ہونے کا بھرپور احساس حاصل کرنا۔ مارکس جمہوریت کو طبقاتی آمریت کہتا تھا([65])۔اس کا مفروضہ یہ تھا کہ اجتماعی آزادی اور خود مختاری کا حصول([66]) آخر کار انفرادی آزادی اور خود مختاری پر منتج ہو گا کیوں کہ بقول مارکس پرولتاریہ کا سرمایہ دارانہ ملکیت پر قبضہ ظلم اور استحصال کے خاتمہ کی جانب پہلا قدم ثابت ہوتاہے۔

مارکس کےمطابق استحصال کے خاتمہ کے نتیجہ میں طبقات بھی معدوم ہو جائیں گے اورہر انسان ہیومن بن جائے گا ان معنوں میں اس کو مکمل آزادی و خود مختاری میسر آ جائے گی۔ پرولتاریہ کی آمریت (یعنی جمہوریت) کے قیام کے لیے ایک قیادت فراہم کرنے والی وین گارڈ پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو ہیومن بنانے کی جدوجہد جمہوری عمل جاری رکھ کر کر سکے۔

انسان کو ہیومن بنانے کا عمل حرص اور حسد کی آفاقیت کے فروغ کا عمل ہے اور حرص اور حسد کے فروغ کے لیے بڑھوتری اور ارتکازِ سرمایہ لازم ہے۔ لہٰذا ہر ریپبلکن نظام ریاست کا اولین فرض بڑھوتری اور ارتکازِ سرمایہ ہوتا ہے۔ ریپبلکن ریاستوں میں یہی تصور مفادِ عامہ عملاً کارفرما ہوتا ہے۔ تمام شخصی اور اجتماعی حقوق اسی مقصد عالی کے حصول کے تناظر میں ترتیب دیے جاتے ہیں۔ یہی ریپبلکن جمہوری عمل کی اساس ہے۔ وین گارڈ پارٹی کا فرض ہے کہ بڑھوتری سرمایہ کے عمل کی موثر ادارہ سازی کے ذریعہ عوامی اجتماعی حرص اور حسد کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے کر انسانوں کو ہیومن بناتی رہے۔

جمہوریت کی ریپبلکن تعبیر کے مطابق یہ ضروری ہے کہ اقتدار دائماً اس گروہ کے سپرد ہو جو انسانوں کو ہیومن بنانے کی ایک مخصوص نظریاتی حکمت عملی کی تنفیذ کے ذمہ دار ہے۔ لیکن اس تحکیم کو دائمی (یا کم از کم دیرپا) بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کا بڑھتا ہوا حصہ ہیومن ازم کی اس تشریح کو قبول کرے جو غالب نظریاتی گروہ اپنائے ہوئے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ریپبلکن سیاسی نظام عملاً یک جماعتی ہوتے ہیں لیکن حاکم جماعت عوامی نمایندگی کی دعوے دار بھی ہوتی ہے اور اپنے نظریہ کی عوامی تائید بڑھاتے رہنے کی جستجو بھی کرتی رہتی ہے۔

ریپبلکن ریاستیں اشتراکی بھی ہو سکتی ہیں۔ قوم پرست اور استبدادی بھی۔ وہ ہر حال میں سرمایہ دارانہ ریاستیں ہوتی ہیں کیوں کہ چاہے وہ اشتراکی ہوں چاہے قوم پرست اور استبدادی ان کا مقصد اعلیٰ انسان کو ہیومن بنانا (حرص و ہوس کی آفاقیت کا استحکام بذریعہ بڑھوتری سرمایہ) ہی ہوتا ہے۔

لبرل اور ریپبلکن ریاستوں کے انسان کو ہیومن بنانے کے طریقہ کار میں فرق ہے۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی ہے یعنی بڑھوتری سرمایہ کے ذریعہ انسان کو ہیومن بنانا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی سوشل ڈیموکریٹ اور قوم پرست جمہوریتیں لبرل اور ریپبلکن طریقہ کار کا ایک متوازن امتزاج مرتب کرنے کی کوشش میں ہوتی ہیں۔ وہ مفاد عامہ کے ایک مخصوص تصور کی ترجمانی بھی فراہم کرتی ہیں ،مارکیٹی عمل کی تحدید بھی کرتی ہیں اور روایتی لبرل حقوق کی فراہمی کی بھی کوشش کرتی ہیں۔ دور حاضر میں ہر قسم کا جمہوری نظام تحکم قانون سرمایہ کا ذریعہ ہے اور جیسا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کفر ایک امت ہے“۔

باب2

ہوس کی امیری ہوس کی وزیری

(جمہوریت کی تاریخ)

جمہوریت کے لغوی اور تاریخی معنوں میں فرق ہے۔ جمہوریت کے لغوی معنی ہیں ”عوام کا راج“ (Demo cracy) یہ ایک ناقابل حصول عمل ہے۔ عوام کہیں بھی اور کبھی بھی راج نہیں کر سکتے۔ وہ ہمیشہ اور ہر جگہ ایک مخصوص اقلیتی اشرافیہ کے پیرو ہوتے ہیں۔

جمہوریت کے تاریخی معنی ہیں عوام کی ایک مخصوص اشرافیہ کی حکومت کو جائز گرداننا، اس کو قبول کرنا، اس کی تائید کرنا۔ قدیم یونان میں (جہاں پانچویں صدی قبل از مسیح میں پہلا جمہوری نظام قائم ہوا) اس اقلیتی اشرافیہ کو سٹیزن کہتے تھے۔

2.1۔ قدیم جمہوریت

قدیم یونان میں جمہوری نظام سرمایہ دارانہ نہ تھا (سرمایہ داری دور جدید(Modernity) کی پیداوار ہے) لیکن جمہوری عمل معاشی ترقی کے عمل سے مربوط تھا اور جمہوری عمل معاشی ارتقا کا ایک اہم محرک تھا([67])۔اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلہ میں یونان ایک نسبتاً خوش حال ملک تھا۔ ارسطو کا تصور eudimonia کا موزوں ترین ترجمہ خوش حالی ہےلیکن یونانی تصورِ خوش حالی اپنی بنیاد میں مادی نہیں۔ جمہوری تعاون اور اشتراک عمل وافر مقدار میں Public goods (صحت، تعلیم، مواصلاتی ڈھانچے، اصلاح وغیرہ) کی فراہمی کے لیے لازم ہے۔ جمہوری ارتباط تجارت کو فروغ دینے کے لیے بھی ضروری ہے اور یونانی معاشی نظام میں تجارت ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی تھی۔

سٹیزن عموماً متمول افراد ہوتے تھے۔ بالخصوص وہ سٹیزن جو جمہوری عمل میں مستقلاً ایک فعال کردار ادا کرتے رہتے تھے۔ تقسیم آمدنی اور دولت میں نامساویت اپنے عروج پر تھی۔ حکومت بھی متمول اشرافیہ کرتی تھی (جو کہ سٹیزن میں بھی ایک قلیل اقلیت کی حیثیت رکھتی تھی) لیکن جمہوری عمل کے ذریعہ اس کو سٹیزن کی حمایت حاصل ہوتی تھی اور غیر سٹیزنز۔ غلام اور اجنبی جن کی یونانی شہروں میں اکثریت ہوتی تھی متمول اشرافیہ کی حکومت کو برداشت کرنے پر جمہوری عمل کے ذریعہ مجبور کر دیے جاتے تھے۔

قدیم یونان کا سب سے اہم جمہوری رہنما پرسیلیس (Percicles) جمہوری ادارتی صف بندی کو مطلوبہ انفرادیت سازی کا ذریعہ بیان کرتا ہے۔ اس ادارتی صف بندی اور کارفرمائی کے نتیجہ میں ایک خود انحصاری (اٹانومس) انفرادیت جنم لیتی ہے لیکن یہ خود انحصاری انفرادیت اپنے جیسی دوسری انفرادیتوں کے مفاد کا بھی شعور رکھتی ہے اور یہ ایک تصورِ خیر مطلق (common good) کو کارفرما کرنے کی جستجو میں لگی رہتی ہے۔ خود انحصاری انفرادیتیں ایک ایسے معاشرتی نظام یا حکومت قائم کرتی ہیں جہاں صرف غلام ہی معاشی پیداواری عمل کو جاری رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جمہوری نظام کی کارفرمائی کے نتیجہ میں یونان میں ایک ”عیاش طبقہ“([68]) کی حکومت مستحکم کی گئی۔

جمہوری نظام کی حدود عموماً مرکزی شہروں (ایتھنز، سپارٹا وغیرہ) تک تھیں اور ان شہروں نے دور دراز علاقوں میں کئی سامراجی نوآبادیاں قائم کیں جہاں استبدادی حکومتیں قائم کی گئیں جو عیاش جمہوری اشرافیہ کے ماتحت تھیں۔ قدیم مصر اور ایران (اور جدید برطانیہ اور امریکا) کی طرح ایتھنز اور سپارٹا بھی سامراجی مراکز تھے۔ اپنی سامراجی تحویلات سے ایتھنز اور سپارٹا کثیر خراج حاصل کرتے تھے جس کے استعمال سے مرکزی شہروں میں public goods فراہم کی جاتی تھیں۔ انہی نو آبادیوں میں ایتھنز اور سپارٹا کے لاکھوں غریبوں کو جلاوطن کیا جاتا رہا۔ اس لوٹی ہوئی دولت کا بڑا حصہ عیاش حکمران طبقہ کی دولت کا حصہ بنتا تھا جس کے نتیجہ میں وہ پیداوار ی عمل سے لاتعلق رہ سکتے تھے اور جمہوری عمل میں شرکت پر پوری توجہ صرف کر سکتے تھے۔

عیاش اشرافیہ کو دو حیثیتوں سے مساوی آزادی حاصل تھی ۔ آزادی اظہار رائے اور قانونی مساوی حقوق و فرائض۔ عیاش اشرافیہ کا دعویٰ تھا کہ وہ مفادِ عامہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عادلانہ قانونی تنفیذ کی اہلیت رکھتے ہیں۔

فیصلہ سازی کا ادارہ اسمبلی تھا جہاں اصولاً تمام سٹیزن بحث میں شرکت کے ذریعہ قانون سازی کرتے تھے عملاً بیشتر سٹیزن اسمبلی میں شرکت نہیں کرتے تھےاسمبلی قرعہ اندازی اور ایک مجلس قائمہ کونسل اور ہزاروں مجسٹریٹس نامزد کرتی تھی۔ ہر سٹیزن شہری انتظامیہ میں شرکت کا حق رکھتا تھا ہر سال ایک ہزار سے زیادہ سیٹیزن قرعہ اندازی کے ذریعے مجسٹریٹ نامزد کیے جاتے تھے اور ہر سٹیزن زندگی میں صرف ایک مرتبہ مجسٹریٹ یا دوسرے ریاستی اہل کار کا عہدہ حاصل کر سکتا تھا۔ یوں ہر سٹیزن کو تنفیذ قانون اور انتظامیہ میں شرکت کا موقع فراہم کیا جاتا تھا۔ مجلس قائمہ ہر سال نامزد ہوتی تھی۔ اور اس کے پانچ سو اراکین ہوتے تھے۔ اسمبلی کے اجلاسوں کا ایجنڈا متعین کرنا کونسل کے فرائض میں شامل ہوتا تھا۔

اسمبلی کے اجلاس عموماً عیاش اشرافیہ کے جھگڑوں، دھڑے بندیوں اور نزاع کی آماج گاہ ہوتے تھے اور فیصلہ متصادم دھڑوں کے ذاتی اور گروہی مفادات کے غماز ہوتے تھے کسی ”مفاد عامہ“ کےنہیں۔ یہی حال کونسل، انتظامیہ اور مجسٹریٹ کی کارفرمائی کا تھا۔ سقراط جیسے درویش کو ایک جمہوری عدالت ہی نے خود کشی کرنے کی سزا سنائی۔ سٹیزن کی بہت چھوٹی اقلیت اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوتی تھی اور شرکا مفاداتی دھڑوں میں بٹے ہوئے ہوتے تھے۔ اسمبلی میں مقبول عام مقررین عموماً متمول سٹیزن ہی ہوا کرتے تھے۔

سٹیزن شہر کی آبادی کا ایک چھوٹا حصہ ہوتے تھے۔ عورتیں اور غلام اور غیر ملکی ریاستی باشندے سٹیزن نہیں ہوتے تھے اور سٹیزن شپ باپ سے بیٹے تک منتقل ہوتی تھی۔ غیرملکی ریاستی باشندوں کو کوئی سیاسی حقوق حاصل نہ تھے اور غلاموں کو انسان نہیں گردانا جانا تھا۔ وہ تمام شہری سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق سے محروم تھے اور ریاستی پیداواری معیشت غلاموں کی محنت کے بل بوتے پر چلتی تھی۔ پانچویں صدی قبل از مسیح میں ایتھنز میں سٹیزن کی تعداد چالیس سے پچاس ہزار تک تھی اور ان میں سے عموماً پانچ چھ ہزار عموماً اسمبلی میں شرکت کرتے تھے،([69])بیش تر سٹیزن زمین دار ہوتے تھے۔ پانچویں صدی قبل از مسیح میں ایتھنز کی مجمومی آبادی تین اور چار لاکھ کے درمیان تھی یعنی سٹیزن مجموعی آبادی کا بارہ یا تیرہ فیصد تھے اور اسمبلی میں مستقل شرکا کا تناسب تقریباً دو فیصد ہوتا تھا۔ عورتوں، غلاموں اور غیر ملکی رہائشیوں کی ایک بہت بڑی اکثریت شہری آبادی کا حصہ ہوتی تھی جن کے جمہوری حکم رانی کے حقوق نہ ہونے کے برابر تھے([70])۔اوسطاً ایک تہائی سٹیزن انتظامی امور میں گاہ گاہ شریک کار رہتے تھے۔ (یہ آبادی کا تقریباً چار فیصد بنتا ہے) اکثریتی راج کا کوئی تصور یونانی سیاسی نظام میں نہیں ملتا۔

اسمبلی سال میں کم از کم دس اجلاس منعقد کرتی تھی۔ ہر اجلاس کا ایجنڈہ مجلس قائمہ متعین کرتی تھی۔ کونسل کا ایک بااختیار صدر ہوتا تھا اور اسمبلی کے تعامل کے دوران قانون احکام (statutes and ordinance)جاری کرتی تھی۔ کونسل کی ممبر شپ کا تعین بلاواسطہ قرعہ اندازی سے ہوتا تھا ۔ کونسل کے اختیارات نہایت وسیع ہوتے تھے۔ اور عملاً کونسل ہی ایتھنز پر حکومت کرتی تھی۔

رومن ریپبلک کی ابتدا چھٹی صدی قبل از مسیح سے ہوتی ہے جب روم نے قدیم Etruscian سلطنت سے بغاوت کر کے آزادی حاصل کی ۔ یہ ریپبلک تقریباً ساڑھے چار سو سال تک قائم رہی اور اس کی کچھ روایات پوری رومن تاریخ میں کارفرما ہیں رومن ریپبلک کے قیام کے دو سو سال بعد نمایاں ہو گیا کہ ان اداروں کے قیام کا مقصد بادشاہوں کی واپسی کو روکنا ہی تھا۔ رومی ریپبلکن ازم شروع دن ہی سے ایک دستوری جمہوریت تھی یونان کی طرح سٹیزن کا حق حاکمیت اصولی طور پر تسلیم کیا گیا اور سٹیزن کی حکومت چلانے کے متعدد ادارے قائم کیے گئے۔ یونانی شہروں کی طرح روم اور رومی نوآبادیوں میں سٹیزن مجموعی آبادی کا ایک مختصر حصہ تھے اور ان اداروں میں اشرافیہ بالخصوص فوجی اشرافیہ کا اثر غالب تھا۔ سب سے اہم ریاستی ادارہ سینیٹ تھا جو قانون سازی اور شہری اور نوآبادیاتی مجسٹریٹس کی تقرری کا ذمہ دار تھا لیکن یہ مجسٹریٹس سٹیزن منتخب کرتے تھے۔ رومن ریپبلکن تاریخ سینیٹ اور عوام میں بڑھتے ہوئے تصادم اور کشمکش سے بھری پڑی ہے۔

عوام (غیر سٹیزن) سینٹ کو ایک آمرانہ ادارہ سمجھتے تھے جو امیر و بااثر سٹیزن کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ تین سو قبل مسیح میں یہ تاثر عام ہو گیا تھا کہ سینٹ ایک محدود حاکم طبقہ کا آلہ کار ادارہ بن گیا ہے۔ ہر پانچ سال میں سینٹ کے ممبران کی نامزدگی عمل میں آتی تھی جس کے ذریعہ اشرافیہ خاندانوں کے متعلقین بار بار سینٹ میں شمولیت حاصل کر لیتے تھے۔ عوام میں تاثر عام تھا کہ سینٹ ان ہی اشرافیہ حلقوں کا نمایندہ ادارہ ہے۔

مجسٹریٹس کے سربراہ کونسلر ہوتے تھے جن کو سٹیزن منتخب کرتے تھے۔ یہ سینٹ کے ذریعہ حکومت کرتے تھے اور ان کے اختیارات نہایت وسیع ہوتے تھے۔ رومن عوام میں یہ تاثر عام تھا کہ ریاستی ادارتی صف بندی کے ذریعہ ایک حاکم طبقہ کی آمریت قائم کی جا رہی ہے۔ انتخابات کا نظام کچھ اس طرح وضع کیا گیا تھا کہ اشرافیہ کے ارکان کی بالادستی مستحکم ہوتی چلی جاتی تھی۔ حقیقتاً ریپبلکن دور میں رؤسا حکومت کرتے تھے اور انہی کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے گروہ میں ریاستی عہدہ تقسیم کرتے رہیں۔ انتخابی حلقہ کی کارفرمائی اس بات کی ضامن تھی کہ اشرافیہ کے متمول افراد بار بار سینٹ کے ممبران منتخب ہوتے رہیں گو کہ دھیرے دھیرے سٹیزن شپ ملحقہ شہریوں کے افراد کو بھی دی جا تی رہی لیکن مجموعی آبادی میں سٹیزن کا تناسب کم ہوتا رہا۔

رومن ریپبلک یونانی جمہوری نظام سے زیادہ دیرپا ثابت ہوئی ۔ یونانی جمہوریت کی طرح رومن ریپبلکن ازم بھی سٹیزن کو آزاد اور خودمختار تصور کرتی تھی۔ اس نظریہ کے مطابق عام باشندے اغراضی گروہوں میں بٹے ہوتے تھے اور ان اوصاف کے حامل نہ تھے جو سٹیزن شپ کے لیے لازمی قرار دیے گئے تھے۔ رومن دستوری نظام کا مقصد ایک ایسی متوازن ریاست کا قیام تھا جہاں مفاد عامہ کے حصول کی جستجو کو عوامی منفرد مفادات سے مربوط کیا جائے۔ مفادِ عامہ کا ادراک صرف سٹیزن اور ان کی قیادت کو حامل متصور کیا جاتا تھا۔ اس نظریہ کی تفصیلی تشریح ارسطو کے یہاں ملتی ہے۔ مکیاولی کی فکر بھی اسی کی غماز ہے([71])۔اس تصور کے مطابق اشرافیہ عوام کے ان میلانات کو فرو کرنے کی کوشش کرتی ہے جو مفادِ عامہ کے مقصدِ حصول سے متصادم ہوں۔ اشرافیہ عوام سے خائف رہتی ہے اور ایک ایسا نظام سلطنت وضع کرتی ہے جہاں عوام حکومت نہیں کرتے محض قائدین منتخب کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

نمائندگی کا تصور نہ یونانی جمہوریتوں میں پایا جاتا ہے نہ رومن ریپبلک میں رومن نوآبادیوں میں سٹیزن شپ تو دی گئی لیکن ان علاقوں میں کوئی جمہوری ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ ان علاقوں کے رومن سٹیزن کی جمہوری آبادی روم میں منعقدہ سینٹ اور مجسٹریٹوں کے انتخابات تک محدود ہمیشہ رہی۔ نوآبادیوں میں حکومتی اقتدار ہمیشہ رومی مرکزی سرکار کے نمایندوں ہی کے ہاتھوں میں رہتی تھی۔ رومن ریپبلک کو بجا طور پر ایک اشرافیہ کی ریپبلک کہا گیا ہے۔

رومن فکر و فلسفہ قانونی اور انتظامی امور پر زور رہتا ہے۔ اس کا ہدف ریاستی استحکام ہے۔ شرکت اقتدار نہیں۔ قدیم رومی فلسفی Polybus رومن دستور کو استحکام ریاست فروغ دینے کا کلیدی ذریعہ کہتا ہے کیوں کہ اس دستور کے تحت ایک متوازن طرز حکومت کارفرما رہتی ہے جہاں عوام اور اشرافیہ کے باہمی تعاون سے مفادِ عامہ فروغ پاتا رہتا ہے۔ قدیم رومن قانون روایتی اور تاریخی ماخذات کا عکاس تھا۔ اس قانون کو ابدی تصور کیا جاتا تھا اور قانون سازی کا تصور اجنبی تھا۔ قانون کی تاویل مرتب کرنا ریاستی اداروں کاکام تھا۔ عدلیہ نے رومن قانونی نظام کی ترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا تھے۔ قوانین دو حصوں میں تقسیم تھا۔ سِول قانون جو سینٹ اور ملحقہ انتظامی ادارے تفویض کرتے تھے اور جس کا اطلاق صرف روم کے باشندوں اور سٹیزن پہ ہوتا تھا اور juris gentitum جو بنیادی طور پر عدلیہ کی تخلیق تھی۔ juris gentium مفروضہ آفاقی اصولوں کا غماز تھا اور اس کا اطلاق تمام باشندوں پر ہوتا تھا۔ ان دونوں قسم کے قانون سازی کے عمل میں عوام کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔ بقول پہلی صدی قبل از مسیح کے رومی فلسفی سیسرو juris gentium غیر متبدل قوانین فطرت کے اصولوں کا عکاس تھا۔

سنلو کے بقول ریاست کو قانون فطرت کے اصولوں کے ماتحت اپنی کارفرمائی مرتب کرنا چاہیے۔ ریاستی قوانین کی حقانیت جانچنے کا پیمانہ قانون فطرت ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ عوامی حمایت حاصل کرنے والے قوانین عادلانہ ہوں عوام خواص پر اور اپنے آپ پر ظلم بھی کر سکتے ہیں جب وہ قانون فطرت کے علی الرغم اپنی خواہشات کی پیروی میں قوانین بناتے رہیں۔ اس کے باوجود بقول سیسرو قانون فطرت کا بنیادی مفروضہ مساوات ہے۔ ایک متوازن دستور عوام کو ظلم کرنے سے باز رکھنے کا موزوں ترین طریقہ ہے۔

رومن قانون اور رومن ریاستی ادارتی صف بندی کے اشارات نہایت دیر پا ثابت ہوئے۔ ان کی پہلی جھلک تقریباً ایک ہزارسال بعد وینس اور فلورینس کی ریاستوں میں دیکھی گئی۔ آج امریکا کا دستور بھی رومن سیاسی تصورات کا غماز ہے۔ دیگر جمہوری حکومتوں میں بھی رومن ریپبلکن فکر کے اثرات نمایاں ہیں۔

2.2۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ابتدا

سن ایک عیسوی میں جولیس سیزر نے رومن ریپبلک کو شہنشاہیت میں تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد سے ایک ہزار سال کے طویل عرصہ میں دنیا میں کہیں بھی جمہوری اقتدار مرتب نہ ہو سکا۔ نہ یورپ میں نہ ایشیا میں نہ افریقا میں۔ کچھ مفکرین مثلاً فارابی نے جمہوری تصورات پیش کیے لیکن یہ سیاسی فکر اور عمل کے لیے بالکل اجنبی رہے اور ان کو عوام یا خواص کی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔

جمہوری فکر اور نظام کاارتقا یورپ میں سرمایہ دارانہ نظاماتی قیام اور بتدریج غلبہ کے تناظر میں پیش آیا اور اس وقت سے لے کر آج تک جمہوریت سرمایہ داری کے ایک ذیلی نظام کے طور پر مبنی ہے۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت کی پہلی مثال وینس کی ریپبلک ہے جو قرون وسطیٰ میں تقریباً آٹھ سو سال قائم رہی۔ اس پورے دورانیہ میں وینس مادی ترقی کرتا رہا اور اس کے عوام قدرے خو ش حال رہے۔ حکمران امن عامہ قائم رکھنے میں عموماً کامیاب رہے۔ اس کا قانونی اور دستوری نظام مستحکم اقتداری نظام کی بنیادیں فراہم کرتا رہا اور وہاں سرمایہ دارانہ (جاہلی)علوم و فنون خوب پھلے پھولے (بالخصوص مصوری، موسیقی اور رقص) بحیثیت عمومی عوام مطمئن اور سیاسی نظام کے حامی رہے۔

چودہ سو عیسوی کے بعد سے وینس پر اس کے دو فی صد اشرافیہ کی حکمرانی صدیوں تک قائم رہی۔ یہ اشرافیہ خود انتخابی بنیادوں پر قائم اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی تھی۔ اس کے ہر فرد کو حکومتی انتظامی تربیت دی جاتی تھی۔ دستوری پابندیوں کے ذریعہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ اشرافیہ اور بالخصوس حاکم اعلیٰ جسے (Dirge) کہتے تھے ذاتی مفادات کے بجائے مفادِ عامہ کوملحوظ خاطر رکھ کر پالیسی سازی اور اس کی تنفیذ کرے۔ پندرہ سو عیسوی کے بعد Medici خاندان نے اسی نوعیت کی حکومت فلورینس میں قائم کرنے کی کوشش کی۔

اشرافیہ کے ممبران مساوی حقوق اور فرائض رکھتے تھے اور ان کا باہمی عمل جمہوری تھا۔ عوام حکومتی اختیارات سے محروم تھے۔ وینس کی آبادی تقریباً دو تین لاکھ تھی جب کہ ریاستی اشرافیہ کی تعداد کبھی بھی دو ہزار سے زیادہ نہ بڑھی یہی دو ہزار افراد مفاد عامہ کے جائز ترجمان متصور کیے جاتے تھے۔ روسو نے کہا کہ وینس کو ایک حقیقی جمہوری ریاست تسلیم کیا جانا چاہیے کیوں کہ وینس کی اشرافیہ وہاں کے عوام کی حقیقی نمایندہ تھی([72])۔

اٹلی کے ساحلی شہروں میں جہاں جمہوری ریپبلکوں کا دوربارھویں صدی عیسوی سے شروع ہوا۔ سرمایہ دارانہ تاجر ، بینک کار اور ساہوکاروں کا اقتدار بتدریج مستحکم ہوتا چلا گیا۔ میڈیچی خاندان ابتدائی دور میں بہت بڑے پیمانے پر بینک کاری اور سرمایہ کاری منظم کرتاتھا۔ وینس اور فلورینس کی خوش حالی کی بنیاد وہاں کی ابھرتی ہوئی سرمایہ دارانہ معیشت (بالخصوص بین الاقوامی تجارت) میں مضمر تھی۔

سرمایہ دارانہ نظام نے فیوڈل نظام کی کوکھ سے جنم لیا۔ تجارت اور لین دین کا کاروبار شروع ہی سے ہر تہذیبی نظام کا جزو رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اس تجارتی اور بازاری نظام کو ایک مخصوص انداز میں مجروح کیا۔ اس نے اجرتی نظام کو فروغ دے کر محنت کی خرید و فروخت کو عام کیا اور پیداواری عمل کو بڑھوتری سرمایہ کے عمل سے فنانس کی نظاماتی بالادستی قائم کرکے مربوط کیا ۔ سرمایہ داری کا نظاماتی غلبہ پیداواری نظام پر فنانشل مارکیٹس (سودکا مارکیٹ اور سٹہ کا مارکیٹ) کی بتدریج بالادستی کے قیام کا دوسرا نام ہے۔ اور انہی معنوں میں (یہودی) بینک کار سرمایہ داری کے اصل موجد ہیں۔ ان یہودی بینک کاروں اور ان کے عیسائی حلیفوں کو سب سے پہلے اطالوی ساحلی شہروں میں غلبہ حاصل ہوا۔ اور انہوں نے ریپبلکن جمہوری نظام کے ذریعہ اپنے اقتدار کو استحکام بخشا۔ معاشرت پر سرمایہ دارانہ تسلط قائم کرنے میں جمہوری عمل نے معاونت کا کردار بھی ادا کیا ہے اور کبھی کبھی رکاوٹیں بھی کھڑی کی ہیں اور سرمایہ دارانہ تسلط اور جمہوری عمل کی یہ تضاداتی کشمکش تقریباً دو ہزار سال سے جاری ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی تکمیل اور اس کا غلبہ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ شروع میں چند یورپی شہروں تک محدود تھا اور ان شہروں میں بھی سرمایہ دارانہ نظام عیسائی معاشرتوں میں مدغم تھا۔ اقتدار اگرچہ سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرتکز تھا لیکن حرص و ہوس اور اس سے متعلق عقلیت جائز علمیت کا درجہ نہیں حاصل کر سکی تھی۔ عوامی انفرادیت پر عیسائیت کی گرفت مضبوط تھی، لیکن جیسا کہ ویبر نے کہا یورپی شہری تہذیب سرمایہ دارانہ پھیلاؤ اور غلبہ کے لیے موزوں تھی۔ غیر یورپی علاقوں مسلم دنیا، چین، جاپان وغیرہ میں بھی شہری معاشرت تجارت اور صنعت کا فروغ قرونِ وسطیٰ میں عام تھا لیکن ان معاشروں میں سرمایہ دارانہ نظام جڑ نہ پکڑ سکا۔

یورپ میں سرمایہ دارانہ غلبہ کے کئی وجوہ ہیں([73])۔ ایک اہم وجہ سرمایہ دارانہ ملکیت کا پھیلاؤ ہے۔سرمایہ دارانہ ملکیت سرمایہ کی بڑھوتری جاری رکھنے کا ذریعہ ہے۔ سرمایہ دار اپنی دولت اور محنت صرف بڑھوتری سرمایہ کے حصول کے لیے صرف کرتا ہے اور اس کا دائرہ کار مارکیٹ ہے (بازار نہیں) جہاں لین دین محض بڑھوتری سرمایہ کے حصول کے لیے منظم کیا جاتا ہے۔ یورپی زرعی شعبہ (بالخصوص انگلستان) میں قرون وسطیٰ ہی سے سرمایہ دارانہ ملکیت عام ہونا شروع ہو گئی تھی۔

مارکیٹ کے معاشرتی پھیلاؤ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ معاہدے عام ہوئے۔ کنٹریکٹ کا ہر شریک، خواہ محنت کش، خواہ دولت مند اصولاً آزاد اور خود مختار قرار پایا اور اس اصولی آزادی کی فراہمی نے حرص و ہوس کے عوامی پھیلاؤ کو خوب فروغ دیا۔

سرمایہ دارانہ غلبہ کے یورپی غلبہ کا دوسرا محرک مغربی یورپ میں مطلق العنان بادشاہتوں کا دور تھا۔ ان بادشاہتوں نے اراضی رجواڑں کے نوابوں کی حاکمیت کو چیلنج کر نے کے لیے آزاد شہروں (Free city) کو فروغ دیا ۔فرانس ،انگلستان، نیدرلینڈ میں یہ ا ٓزاد شہر مطلق العنان بادشاہ کی سر پرستی میں کارفرما رہے ان آزاد شہروں میں بالعموم جمہوری حکومتیں قائم کی گئیں جہاں انتظامی اختیارات سرمایہ دارانہ تاجروں، بینک کاروں اور سٹہ بازوں کے ہاتھ میں تھا۔ وینس، فلورنس، فلاندوز اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان آزاد شہروں کے سرمایہ دار منتظم وہاں کے عوام کا نمایندہ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یوں شروع ہی سے جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ غلبہ کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا([74])۔

آزاد شہروں میں سرمایہ دارانہ زر اور فنانس تخلیق پایا ۔سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جو اپنی عددی بڑھوتری کی تلاش میں اشیا اور خدمتوں کے نظام میں مستقلاً چکراتا رہتا ہے([75])۔اور فنانشل مارکیٹوں کی کارفرمائی کے ذریعہ خود تخلیقیت کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ فنانشل مارکیٹ دو ہیں۔ سود کامارکیٹ اور سٹہ کا مارکیٹ۔

سودی کاروبار اور سٹہ بازی کے فروغ کے ذریعہ سرمایہ دولت مندوں کے ہاتھوں میں جمع ہوتا رہتا ہے اور بینک کاری نظام کی کارفرمائی کے ذریعہ معاشرہ کی تمام دولت کھنچ کھنچ کر سرمایہ دار دولت مندوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو تی چلی جاتی ہے۔

آزاد شہروں میں سود کاری اور سٹہ بازی خوب پنپی اور وہاں کے دولت مند سرمایہ کار امیر سے امیر تر ہوتے چلے گئے۔ مطلق العنان بادشاہ ریاستی اخراجات پورے کرنے کے لیے ا ن کے مقروض ہوتے چلے گئے اور ان قرضوں کے عوض سود خوروں اور سٹہ بازوں نے بادشاہتوں سے شہری اختیاری آزادی قیمت کے طور پر وصول کی۔ یوں جمہوری عمل کے ذریعہ مطلق العنان بادشاہوں کی حاکمیت مستقل کمزور ہوتی رہی۔

پھر مرکزی بادشاہتیں خود بھی سرمایہ دارانہ عمل میں ملوث ہو گئیں۔ انہوں نے وسیع پیمانہ پر محصولیاتی نظام وضع کیا جو عوام اور سرمایہ دار اشرافیہ دونوں کی ملکیتوں پر لاگو تھے اور ان محصولات کے نفاذ کے جواز کے طور پر جمہوری عمل کی توسیع کی ضرورت پڑی۔ بڑھتے ہوئے ریاستی استحصال اور مارکیٹ کی کارفرمائی نےخود غرضانہ مسابقت کو فروغ دیا اور وہ عوام بھی جو سرمایہ دار نہ تھے سرمایہ دارانہ عمل میں شریک ہونے پر مجبور ہو گئے۔ سرمایہ دارانہ تعقل اپنانے لگے اور جمہوری نمایندگی کو سیاسی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے لگے۔

2.3۔ سرمایہ دارانہ انقلاب

سرمایہ داری کے ملکی غلبہ کا دور سترھویں صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سب سے پہلے انگلستان میں غالب آیا([76])۔ سب سے پہلا سرمایہ دارانہ انقلاب انگلستان میں 1640 اور 1660 کے درمیان رونما ہوا ([77])۔ یہ ایک مذہبی انقلاب تھا اور اس کی قیادت انگلش مقننہ کے توسط سے اولیور کرامویل کے ہاتھوں میں تھی۔ اس دور میں انگلش پارلیمنٹ میں سرمایہ دارتاجروں کا غلبہ تھا([78])۔پارلیمنٹ ایک نہایت محدود حلقہ انتخاب سے منتخب ہوتی تھی اور اس انتخابی حلقہ کی رکنیت کی شرط ملکیت تھی۔ پارلیمنٹ کی حمایت درمیانی طبقہ کے متحرک عناصر بھی کر رہے تھے۔ بنیادی طور پر پارلیمنٹ کی حمایت لندن شہر تک محدود تھی۔

سرمایہ دار اشرافیہ دو حصوں میں منقسم تھی۔ اس کا بالائی طبقہ بادشاہت کا حامی تھا، ریاستی اعانت پر انحصار کرتا تھا اور شاہی احکامات کے ذریعہ اپنی تجارتی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے کوشاں تھا۔ متوسط درجہ کے سرمایہ کار ان اجارہ داریوں کو پارلیمنٹ کے عمل کے ذریعہ ختم کرنے کے خواہاں تھے اور اپنے مطالبات کو عوامی رنگ دے کر متوسط طبقہ کو متحرک کرنے کی جستجو کرتے تھے۔

پارلیمنٹ کی حمایت میں انگریز نوآبادکاروں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ نوآبادکار سولھویں صدی سے امریکا میں مقیم تھےاور قدیم امریکی باشندوں کے قتل عام اور ان کی زمینوں اور دولت پر قبضہ مستحکم کررہے تھے۔ یہ آبادکار بہت بڑے پیمانہ پر ان مقبوضہ زمینوں پر تمباکو اور اجناس کی کاشت کرتے تھے اور انگریز تجارت میں ان کا حصہ نمایاں ہوتا چلا گیا۔ اس ہی کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ ان آبادکاروں نے ایسے کاروبار قائم کیے جو برطانوی اور امریکی تجارتی اور پیداواری نظام کو مربوط کرتے تھے اور بہت سے نوآبادکار اپنی امریکی مقبوضات اور لندن کے درمیان چکر لگاتے رہتے تھے۔ یہ بات شکر کے تاجروں کے بارے میں بالخصوص درست ہے۔

پارلیمنٹ کو نوآبادکار تاجروں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ نوآبادکارسرمایہ کاروں کے متوسط طبقے متوسط سے تعلق رکھتے تھے اور جیسا کہ Brennin نے لکھا ہے انگریز انقلاب کی پشت پر اس ہی متوسط طبقہ کی حمایت موجود تھی۔ اس طبقہ میں آبادکاروں کے علاوہ لندن کے دکان دار، جہاز راں اور اندرون ملک تجارت کرنے والے بھی شامل تھے۔ پیشہ ورانہ دستکار بھی اسی متوسط طبقے کا ایک اہم جزو تھے۔ لیکن طبقہ متوسط میں بھی اختلافات موجود تھے اور آباد کاروں کے مفادات اندرونی تجارت کرنے والوں سے متصادم تھے۔ بیرونی تجارت پر پابندیاں عائد تھیں اور ان کو ختم کرنے کی جستجو اندرونی تاجر اور پیشہ ورانہ دستکار کرتے رہتے تھے۔

ان طبقوں میں آزادانہ تجارت کا نظریہ مقبول عام تھا۔ ان میں معاشرتی سرمایہ دارانہ حقوق کا شعور بھی پیدا ہو رہا تھا ۔ تجارتی آزادی کی فراہمی کو اتنا ہی اہم گردانا گیا جتنا پروٹسٹنٹ نئے مذہبی گروہ عقائد کی آزادی کو گردانتے تھے۔ انگلش انقلاب کا فعال ترین ریڈیکل گروہ جن کو Levellers کہا جاتا ہے یہ نظریہ بڑے زور و شور سے پیش کرتا تھا۔

1641 میں مذہبی تنازعہ لندن میں مرتکز تھا۔ نئے ریڈیکل اتحاد نے (جس میں ریڈیکل مذہبی فرقہ، دکان دار، دست کار اور اندرونی تاجر شامل تھے) شہری انتظامیہ میں کیتھولک چرچ کے اقتدار کو بالکل ختم کرنے کی جدوجہد کی اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

Brennin اسی نئے اتحاد کو سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا اتحاد کہتا ہے۔ ان ریڈیکل عناصر کی قیادت میں ہاری بھی منظم ہونے لگے اور جاگیرداروں کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہونے لگے ۔ اس مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے جاگیرداروں نے سرمایہ دار طبقہ سے مصالحت کر لی اور سرمایہ دارانہ contract کے پھیلاؤ عام ہوگئے ۔ 1640 تک زمینداروں پر مشتمل پرانی اشرافیہ اور ابھرتاہوا سرمایہ دارانہ طبقاتی اتحاد مستحکم ہو چکا تھا۔ اس طبقاتی اتحاد میں وہ چھوٹے کاروباری بھی شامل تھے جن کو بڑھتے ہوئے مارکیٹی نظام نے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے تھے۔ سترھویں صدی کی ابتدا تک انگریز زراعتی شعبہ میں سرمایہ دارانہ نظام ملکیت جڑ پکڑ چکا تھا۔

سترھویں صدی کی ابتدا میں شہروں میں بھی ایک ایسا طبقہ ابھرا جو صنعت کاری اور تجارت دونوں میں ملوث تھا۔ یہ طبقہ بھی سرمایہ دارانہ ملکیت کو اپنانے لگا۔ انقلاب انگلستان سے قبل اس ملک میں سرمایہ دارانہ نظام شہروں اور گاؤں دونوں میں مستحکم اور طاقت ور ہو رہا تھا اور سرمایہ دارانہ گروہ میں متمول کسان، دکان دار، کاریگر اور چھوٹے اور متوسط تاجر شامل تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ میں متمول کسانوں کا کردار بالخصوص اہم تھا۔ انقلاب میں ان لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کے پھیلاؤ کے باوجود 1640 تک انگلستان کا سیاسی اور معاشرتی نظام جاگیردارانہ ساخت اور ہیئت اختیار کیا ہوا تھا۔ معاشی تعلقات اس ہی سیاسی اور معاشی تناظر میں مرتب ہوتے تھے اور عام انسانوں کو وہ تمام حقوق میسر تھے جو ایک مذہبی جاگیردارانہ نظام فراہم کرتا ہے۔ بالخصوص عوام کا ایک بہت چھوٹا طبقہ اجرتی نظام کے ماتحت تھا۔ انقلاب کے وقت اور اس کے دوران انگلستان میں خودکفالتی معیشت عام تھی۔ کاشت کار اور گلہ بان اپنا رزق خود پیدا کرتے تھے۔ وسیع پیمانے پر ایسی اراضی موجود تھی جو زمین داروں کی تحویل میں نہ تھی اور جہاں عام کسان آزادی سے اپنے مویشی چرا سکتے تھے۔ وہ طبقہ جسے آج مارکسسٹ پرولتاریہ کہتے ہیں محدود تھا اور عموماً چند شہروں میں پایا جاتا تھا۔

لیکن ملک میں ٹیکسٹائل اور کان کنی کے شعبے سترھویں صدی میں تیزی سے ترقی کر رہے تھے اور یہ خالصتاً سرمایہ دارانہ نظم کے تحت تھے۔ ان کے معاشی اور تمدنی اشارات بڑھ رہے تھے اور وہاں سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کو فروغ دے رہے تھے۔

چارلس اول کی بادشاہت کے خلاف جدوجہد ابتدا ہی سے پارلیمنٹ میں دو دھڑوں کی کشمکش کی غماز تھی۔ بادشاہت کے حمایتی انگلستان کی پرانی اشرافیہ پر مشتمل تھی جو روایتی مذہبی اور ثقافتی اور جاگیردارانہ معاشی حقوق کے تحفظ کے خواہاں تھے۔ اس کے برعکس جمہوری عنصر بادشاہی نظام کو ختم کر کے نئی سرمایہ دارانہ معیشت اور ثقافت کو پروان چڑھانے کا خواہاں تھا۔ وہ بالخصوص کیتھولک اقدار، رسوم اور رواج کی برطانوی نظام میں عمل داری کو ختم کر نا چاہتا تھا۔ انقلاب کی اصل قوت لندن کی عوامی تھی تحریک جس کی قیادت تاجروں کا وہ طبقہ کر رہا تھا جو نوآبادیاتی لوٹ مار کے بل بوتے پر طاقت ور اور دولت مند ہوا تھا۔ انگلستانی قدیم اشرافیہ کا ایک دھڑا لندن کے انقلابیوں سے اشتراک عمل کا خواہاں تھا اور 1641 ؁اور 1642 ؁؁ میں یہ دھڑا لندن کے انقلابیوں کو کسی حد تک قابو میں رکھنے میں کامیاب بھی ہوا۔ اس دھڑے اور اس کے ریڈیکل حلیفوں نے 1641 ؁ میں وسیع جمہوری اصلاحات کا ایک بل پارلیمنٹ میں منظور کروایا جس کی بادشاہ اور اس کے حمایتیوں نے سخت مخالفت کی۔ بادشاہ اور اس کے حمایتی جمہوری اصلاحات کو حکومتی عمل اور مذہبی کارفرمائی میں بڑھتی ہوئی عوامی مداخلت کا پیش خیمہ سمجھتے تھے۔

انقلابیوں کا اولین ہدف لندن کےشہری حکومتی ڈھانچے کوجمہوری خطوط پر مرتب کرنا تھا۔ اس جستجو میں کیتھولک چرچ کے ریاستی اور تحکیم کے اختیارات کو ختم کر کے مقبول عام مذہبی protestent صف بندی کو فروغ دینا چاہتے تھے۔

انگلستان کے سرمایہ دارانہ انقلاب میں مذہبی کشمکش نے ایک نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔ لوتھر کے وقت سے مغربی عیسائیت میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ انگریز بادشاہ ہنری ہشتم نے پندرھویں/ سولھویں صدی میں کیتھولک ازم کو رد کرکے چرچ آف انگلینڈ قائم کیا۔ عیسائیت کی نئی تعبیر نے فرد کی آزادی پر زور دیا اور ہر شخص کا یہ حق قبول کیا کہ وہ انجیل مقدس کی خود اپنی رائے کے مطابق تشریح کر سکتا ہے۔ انقلا ب انگلستان کے وقت تک ملک میں کئی نئے عیسائی فرقے پیدا ہو گئے تھے۔ جوفرد کی آزادی اور خود مختاری پر زور دیتے تھے۔ ان فرقوں میں جمہوری فکر مقبول عام تھی اور یہ سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور توسیع کے پرجوش حامی تھے۔ لندن میں پریسبٹیرین فرقہ کو وسیع پذیرائی حاصل تھی یہ فرقہ چرچ پر عوامی اقتدار کے تسلط کا قائل تھا۔

انقلابی عمل لندن تک محدود نہ رہا۔ کان کن اور ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں نے انگلستان کے چھوٹے شہروں میں پارلیمنٹ کے ریڈیکل دھڑوں کی بھرپور اعانت کی اور ان کو دیہی سرمایہ دارانہ زمین داروں کا تعاون بھی حاصل رہا۔ 1640 ؁ کی دہائی میں پارلیمنٹ اور بادشاہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور اس جنگ میں لندن کے ساتھ چھوٹے صنعتی شہروں کی اشرافیہ نے بھرپور حصہ لیا۔

انگلستان میں سرمایہ دارانہ ابتدائی غلبہ کی مخالفت جس تحریک نے کی اس کو Diggers یا True Levellers کہتے ہیں۔ اس کے قائد کا نام Gerrard Winstanley تھا۔ یہ تحریک 1648 تا 1650 تک کارفرما رہی۔ اس کا ہدف انگلستانی دیہی علاقوں میں سرمایہ دارانہ ملکیتی پھیلاؤ کو ختم کرنا تھا۔ اس پھیلاؤ کا ذریعہ اس اراضی کی انفرادی سرمایہ دارانہ ملکیت کی صورت میں احاطہ بندی تھا جو قدیم زمانہ سے تمام افراد کے استعمال کے لیے وقف تھی اور جہاں گلہ بان اپنی بھیڑیں چراتے تھے۔ ان اراضیوں کو Commons کہا جاتا تھا اس اراضی پر سرمایہ دارانہ قبضے کی نتیجے میں غربت پھیلی، غریب کسان اپنی روزی سے محروم ہوگئے۔ پھر 1640 ؁ کی دہائی کے دوران انگلستان خشک سالی کا شکار رہا جس سے چھوٹے کاشت کار اور گلہ بان شدید متاثر ہوئے۔

چارلس اول کو جنوری 1649 ؁میں پھانسی دے دی گئی اور 1650 کی دہائی میں انقلابی جدوجہد اور انقلابی فکر کا غلبہ رہا۔ 1650 میں نارتھ ہمپشائر کے علاقہ میں غریب کاشت کاروں اور گلہ بانوں نے Commons پر کاشت کاری شروع کر دی۔ اس زمین کو سرمایہ دارانہ خطوط پر تقسیم نہ کیا بلکہ اس کو گروپ کی مشترکہ اراضی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ زمین خدا کی ملکیت ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کا سب انسانوں کاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ Commons پر مشترکہ قبضہ کا حق انجیل مقدس سے ثابت ہے۔

Winstanley نے اراضی کی خرید و فروخت کی مخالفت کی اور اراضی کی مشترکہ ملکیت کے حق میں انجیل مقدس (بالخصوص عہد نامہ جدید) سے دلیلیں دیں۔ Winstanley نے پارلیمنٹ کی بادشاہ کے خلاف جدوجہد کی حمایت کی۔ حلقہ انتخاب کی توسیع اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ چرچ کے لگائے ہوئے ٹیکسوں کی مخالفت کی۔ Winstanley کو احساس تھا کہ پارلیمانی عمل کے ذریعے خاطر خواہ اصلاحات کا حصول ناممکن ہے اور اس لیے انہوں نے عوامی (بالخصوص غریبوں) کے تحرک پر زور دیا۔

1649 میں Diggers نے اپنی بستی St. Georgis Hill میں قائم کی۔ یہ علاقہ Commons میں شامل تھا اور یہاں Diggers نے سبزیوں کی کاشت کاری اور اپنے گھروں کی تعمیر شروع کر دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مشترکہ کاشت کاری کا یہ عمل خدا کی مرضی (جو ان کو الہامی طور پر حاصل ہوئی تھی) کے مطابق اختیار کیا ہے ([79])۔

Diggers سرمایہ دارانہ ملکیت کے خاتمہ کے خواہاں تھے۔ سینٹ جار ہِل جیسی بستیاں Diggers نے انگلستان کے نو صوبوں میں قائم کیں سابقہ شاہی زمینوں پر وسیع طور پر قبضہ کیا گیا ان کو فوجیوں کے کئی ایسے دھڑوں کی حمایت حاصل تھی جو آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں طویل جنگوں کے اختتام پر برطرف کر دیے گئے تھے۔ اپریل 1649 میں کچھ فوجیوں نے آئرلینڈ کی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر دیا اور ان میں سے کئی فوجی بھاگ کر Diggers میں شامل ہو گئے۔ 1649 ؁میں ایک انقلابی تحریک Levellers نے بغاوت کر دی اور کرامویل نے اس کے قائدین کو مئی 1649 ؁میں قتل کر دیا۔

1649 سے پارلیمنٹ نے Diggers کی تحریک کی بھرپور مخالفت کی اور ان کے خلاف ریاستی، قانونی اور عسکری کارروائیاں عام ہو گئیں۔ سینٹ جارجس ہل میں مقیم کئی کاشت کاروں کو بڑے زمین دارو ں نے ریاست کے تعاون سے حراست میں لے لیا۔ Diggers نے جولائی 1649 میں پارلیمنٹ ([80]) پر خدا سے بغاوت کا الزام لگایا اور کہا کہ جن لوگوں نے سول وار کے دوران پارلیمنٹ کا ساتھ دیا ان کی توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آتی ہیں۔ محض بادشاہت کا خاتمہ کافی نہیں بلکہ Winstanley کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ”قانون سازی خدا کی مرضی کے مطابق ہو۔ یہی عدل کا تقاضا ہے“۔ بادشاہت کے خاتمہ کے باوجود سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور چرچ کی اجارہ داری میں Winstanley کے بقول کمی واقع نہیں ہوئی۔ Winstanley انگریز معاشرے کے عیسائی خطوط پر ترتیب نو کے قائل تھے۔ Winstanley کا دعویٰ تھا کہ ان کی تعلیمات کی بنیاد کلام الٰہی ہے اور وہ خدا کے فرستادہ بزرگ ہیں۔

1650 ؁میں Winstanley نے پارلیمنٹ سے اراضی کو ملکیت عامہ قرار دینے اور دیگر اصلاحات کی اپیل کی۔ وہ Oliver Cromwell سے توقع رکھتے تھے کہ ایک عادلانہ معاشی اور معاشرتی نظام نافذ کیا جائے گا لیکن کرامویل کا کبھی یہ ارادہ نہ تھا۔ وہ ایک سامراجی رہنما تھا جس نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اور اس کے بعد سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ میں بے دریغ قتل عام جاری رکھا۔ انقلاب کے اوائل میں کرامویل نے عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے چند ریڈیکل اصلاحات کی حمایت کی تھی۔ اس نے کیمبرج میں Commons کی معیشت کو فروغ دینے کی مہم کو سراہا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد کرامویل سرمایہ دار جاگیرداروں کا معاون بن گیا اور سرمایہ دارانہ ملکیت کی توسیع کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے لازم قرار دینے لگا۔

Winstanley جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ نظم کا جزو نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے جو ریاستی خاکہ مرتب کیا وہ جمہوری عمل کی احاط بندی پر مشتمل تھا جو کئی سطح پر منتخب نمایندگی کی بنیاد پر منظم ہوتا ہے۔ وہ حکومتی عمل میں عوامی شرکت کے حامی تھے ([81])۔ مذہبی قیادت بھی جمہوری بنیادوں پر منتخب کی جائے گی۔ Winstanley کی اسکیم کے مطابق سیاسی انتظامی اور مذہبی انتخابات ہر سال منعقد کیے جائیں گے۔

Winstanley کے متصورہ معاشرہ میں نہ قانون دان ہوں گے، نہ زمین دار ،نہ پیشہ ورانہ مذہبی اہل کار۔ سرمایہ دارانہ نظام نے قانون کو مسخ کر دیا ہے اور قانون فطرت جو بقول Winstanley رضائے الٰہی کا عکاس ہے۔ وہ شریعت موسوی کی تنفیذ کے خواہاں تھے لیکن ایک منتخب مقننہ کا قانون ساز ی کا (صرف شرع موسوی کی تعبیر کا) حق بھی تسلیم کرتے تھے۔

1650 کے آخر میں Diggers کی تحریک کو ریاستی عمل کے ذریعہ کچل دیا گیا۔ یہی حشر Levellers کی تحریک کا ہوا اور Oliver Cromwell اور اس کے بیٹے کی حکومت نے انگلستان میں سرمایہ دارانہ غلبہ کی بھرپور حمایت کی۔ سود کو حلال قرار دیا گیا۔ سودی کاروبار نجی اور سرکاری شعبہ میں خوب پھیلا پھولا۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کوزرعی اور صنعتی شعبوں میں ریاستی تحفظ اور اعانت فراہم کی گئی اور انگریزی سامراجی کارروائیاں جن کی ابتدا سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ میں انقلاب کے اولین دور میں بہیمانہ قتل عام سے ہوئی تھی، کو خوب فروغ دیا گیا۔ کرامویل کی حکومت سرمایہ داروں کی آلہ کار بن گئی۔

اولیور کرامویل نے انگلستان میں جدید دور کی پہلی ریپبلک قائم کی۔ پارلیمنٹ اور بادشاہ کے نزاع کی دو بنیادیں تھیں۔ سکاٹ لینڈ میں جنگ جاری رکھنے کے لیے نئے نئے محصولات کی تنفیذ اور پارلیمنٹ کا یہ خطرہ کہ بادشاہ انگلستان میں دوبارہ کیتھولک ازم کو سرکاری مذہب کے طور پر رائج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 1642 میں سول وار شروع ہو گئی جس کے اختتام پر بادشاہ کو قتل اور بادشاہت کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ریپبلک کا بنیادی ستون فوج تھی جس کی حمایت پر کرامویل بھروسہ کرتا تھا۔ اختیارات کرامویل کے ہاتھوں میں تھے ، لیکن وہ پارلیمنٹ کے ذریعہ حکومت کرتا تھا اور جمہوری حکومت کا ایک اہم مقصد مذہبی رواداری کا پھیلاؤ بھی تھا۔ پروٹسٹنٹ فرقہ (جو کہ تعداد میں کئی تھے) جمہوری نظام کے بھرپور حامی تھے۔ جس مذہبی فرقہ کو انقلاب کے دوران بالادستی حاصل ہوئی اسے Puritan کہا جاتا ہے۔ یہ فرقہ کیتھولک رسوم اور رواج کا شدید مخالف تھا اور اس کا عقیدہ تھا کہ اس کے ارکان خدا کی مرضی سے منتخب ہیں ([82])۔اس فرقہ کے اندر جمہوری عمل کارفرما رہتا تھا اور عہدہ دار اور اہل کار منتخب کیے جاتے تھے لیکن یہ فرقہ معاشرے میں عوامی صوابدید کی بنیاد پر اقتدار مرتب کرنے کا حامی نہ تھا اور بعد میں آنے والے ریپبلکن گروہوں کی طرح مفادِ عامہ کے شعور کو ایک خاص گروہ کی خصوصیت گردانتا تھا۔

کرامویل 1658 ؁میں مر گیا اور دو سال بعد ریپبلک کا خاتمہ ہو گیا۔ بادشاہ واپس آ گیا اور مطلق العنان شہنشاہیت کو مستحکم کرنے کی جدوجہد اگلے کئی سالوں تک جاری رہی۔ چارلس دوم کی واپسی پارلیمنٹ کی مرضی سے ہوئی تھی اور اگلی دہائیوں میں بادشاہ اور پارلیمنٹ کی رسہ کشی جاری رہی۔

اس کشمکش کے نتیجہ میں عیسائیت بدنام ہوئی اور کلیسا دشمنی انگریز سیاسی روایات کا حصہ بن گئی۔ کشمکش میں ان ابھرتے ہوئے زرعی اور صنعتی سرمایہ داروں کا پلہ بھاری تھا جن کے محصولات پر شاہی دربار انحصار کرتا تھا اور یہ لوگ پارلیمنٹ میں مقتدر تھے۔ یہ کشمکش 1688ء میں اس انقلاب پر منتج ہوئی جس کے ذریعہ پارلیمنٹ نے جیمس دوم کو برطرف کر کے دستوری بادشاہی نظام قائم کیا۔

اس دستوری بادشاہی نظام کی خصوصیت قانون کی حکمرانی تھا۔ یہ قانون کتاب الٰہی (انجیل مقدس اور عیسائی تعلیمات) سے ماخوذ نہ تھا بلکہ پارلیمنٹ کا وضع کردہ تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک برطانوی پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو قانون چاہے بنا لے۔ عملاً قانون کی حکمرانی کا مطلب برطانیہ میں ہمیشہ تحکیم قانون سرمایہ رہا ہے کیونکہ وہاں 1688ء میں ایک سرمایہ دارانہ جمہوریت قائم کی گئی۔ یہ لازم قرار پایا کہ اقتدار ہمیشہ پارلیمنٹ کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے گا اور پارلیمنٹ میں ہمیشہ سرمایہ دار (زرعی، صنعتی، پیشہ ورانہ، محنت کش تنظیموں کے نمایندوں) بحیثیت بالادست رہے ہیں۔

پارلیمنٹ میں سرمایہ داری کو محفوظ رکھنے کے لیے انیسویں صدی کے آخر تک ووٹ کے حق کو محدود رکھا گیا جیسے جیسے معاشرہ سرمایہ دارانہ نظام کے زیر تسلط آیا ویسے ویسے حق ووٹ دہی کو وسیع کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی رہی اور بیسویں صدی میں آخرکار تمام باشندوں کا یہ حق تسلیم کر لیا گیا اور نمایندہ جمہوریت پورے طور پر کارفرما ہو گئی۔ اب انگلستان اورپوری مغربی دنیا میں سرمایہ دارانہ جاہلی عقلیت(rationality) اتنی غالب ہے کہ ایک عام باشندہ غیرسرمایہ دارانہ تعلیم کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

شاندار انقلاب کے بعد انگلستان میں صنعتی اور تجارتی سرمایہ داری کی جڑیں پوری اٹھارھویں صدی میں مضبوط کی جاتی رہیں۔ بالخصوص فیکٹری سسٹم کے قیام کے لیے لبرل جمہوری قوتوں کو مجبور بے بس عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے ([83])۔سترویں صدی کے دیہی انگلستان میں عام آدمی کی زندگی محفوظ اور مستحکم تھی۔ ان علاقوں میں برادریاں تھیں جو خودکفالت کو یقینی بنانے کی جستجو کرتی تھیں۔ غریب سے غریب کسان کو جنگل سے لکڑیاں جمع کرنے اور کھلے علاقوں میں اپنے مویشی چرانے کا حق حاصل تھا۔ ان براداریوں نے فیکٹری نظام کے پھیلاؤ کی عام مخالفت کی جو جمہوری عمل کے ذریعے اس مزاحمت کو کچل دی گیا۔

برادریوں کو منتشر کرنے کا جو طریقہ اپنایا گیا اس کو عمل تحدید (Exclosure System) کہتے ہیں۔ تحدیدی پالیسی سازی کے تحت سرمایہ دار جاگیرداروں نے کھلے علاقوں پر قبضہ جما لیا۔ یہ عمل سولھویں صدی سے جاری تھا جب کلیسا کی اراضی پر (جہاں کسانوں کوعموماً گلہ بانی کا حق حاصل تھا) ریاستی قبضہ بہت بڑے پیمانے پر کیا گیا۔ شاندار انقلاب کے بعد Enclosures کو وسعت دینے کے لیے پیہم قانون سازی کی گئی۔ اٹھارھویں صدی کے دوران انگلستانی کاشت کاری کو سرمایہ دارانہ نظم معیشت میں بتدریج ضم کیا جاتا رہا اور مارکیٹ کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں بیش تر زمین دار سرمایہ دارانہ عمل میں ملوث ہونے پر مجبور ہو گئے۔

جیسے جیسے enclosures کا دائرہ کار بڑھتا گیا ویسے ویسے دیہاتی آبادی سکڑتی گئی اور جوبے روزگار ان علاقوں سے بے دخل کیے گئے وہ شہروں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ چھوٹے کاشت کار اجرتی مزدور بن گئے جو شہروں میں ملازمتیں حاصل نہ کر سکے وہ بنجارے بن گئے۔ بہت سے امریکہ چلے گئے اور شہروں میں انہوں نے جو بستیاں آباد کیں وہ بیماریوں، گندگی اور آلودگی کی آماجگاہ بن گئیں۔ یہ کچی آبادیاں سرمایہ دارانہ تاریخ کا ایسا ناسور ہیں جو اس وقت سے لے کر آج تک ہنوز پھیلتا ہی جا رہا ہے۔

سرمایہ داروں نے ان تبدیلیوں کو سراہا۔ ان کی رائے میں غیر سرمایہ دارانہ زراعت پیداواری ارتقا کی راہ میں رکاوٹ تھی اور شہروں میں فاقہ کشوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سستے مزدوروں کی کھیپ فراہم کرتی تھی۔

اس ہی دور میں ”عوام کاخوف“ سرمایہ دارانہ اشرافیہ میں عام ہوا۔ اپنے ابتدائی دور میں صنعتی سرمایہ دارمحنت کشوں کو افلاس، ذلت اور بے چارگی کے علاوہ کچھ دینے کے قابل نہ تھی۔ لہٰذا ان عوام سے بغاوت کی توقع اشرافیہ کا ایک فطری ردعمل تھا جو انقلاب فرانس کے بعد سے اور تیز ہو گیا۔ 1795 ؁میں پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جو مالکوں کو اجرتیں کم کرنے کی اجازت فراہم کرتا تھا۔ اس قانون کی تنفیذ کے نتیجہ میں غربت اور بے روزگاری بڑھی اور ملک میں بھکاریوں کی بہتات ہو گی۔

1790 ؁تک زرعی شعبہ کو تقریباً مکمل طور پر سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کر لیا گیا۔ زرعی پیداوار میں اضافہ سے زرعی مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ نہ ہوا جبکہ سرمایہ دار زمینداروں کے رہن، سود اور منافع میں خوب اضافہ ہوا۔ افلاس کے وسیع پھیلاؤ کے نتیجہ میں جرائم (بالخصوص چوری) بہت بڑھی اور جمہوری قانون سازی سخت کر دی گئی۔ عموماً چوروں کو موت اور جلاوطنی کی سزائیں دی جاتی تھی۔ افلاس اور فاقہ کشی کا بڑھتا ہوا سیلاب برطانوی صنعتی ترقی کے لیے لازم تھا۔ اس ہی کے ذریعہ محنت کش گاؤں سے شہروں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہوتے تھے اوراسی کی وجہ سے اجرتوں میں اضافہ کی روک تھام ممکن ہوتی تھی۔

صنعتی شہر بہت تیزی سے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے تعمیر کیے جاتے رہے۔ یہ فیکٹریوں کے بیرکوں کی شکل اختیار کر گئے۔ مزدوروں کی بستیاں نہایت گنجان، غلیظ اور گندگی سے بھرپور ہوتی تھیں۔ صاف پانی نایاب ہوتا تھا۔ ایک ایک کمرے میں پورے خاندان رہائش پذیر ہوتے تھے۔ وباؤں کا پھیلاؤ عام تھا۔ جمہوری قانون فیکٹریوں میں ڈسپلن کو توڑنے والوں کو نہایت سخت سزائیں دیتا تھا۔ صنعتی کام نہایت خطرناک تھا اور زخمی مزدوروں کی بہتات تھی۔ سرمایہ دارانہ قانون نے فیکٹریوں، ملوں اور کانوں میں بچوں کی ملازمت کی اجازت دی تھی اور یہاں پانچ اور چھ سال کے لاکھوں بچے مزدوری کرتے تھے۔ کچھ صنعتوں میں بچوں کی محنت منافع کا بڑا حصہ فراہم کرتی تھی۔

بچوں کے لیے یومیہ کام کا دورانیہ قانوناً چودہ گھنٹے مقرر کیا گیا تھا۔ مزدوروں کو سرکاری امداد اس شرط پر دی جاتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو فیکٹریوں میں کام کے لیے بھیجیں۔ فیکٹریوں میں بچوں کی چیخوں کی آوازیں مستقل سنائی دیتی رہتی تھیں۔

سرمایہ دارانہ جمہوری قانون سازی نے صنعت کاری کے ابتدائی ایام میں فاقہ کشی، جبر اور استحصال کے ذریعہ عوام کو ایک سرمایہ دارانہ معیشت اور معاشرت کا غلام بننے پر مجبور کیا۔ اٹھارھویں صدی کی آخری اور انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں جمہوری نظام کے خلاف برطانوی عوام کی مزاحمت سے بھری پڑی ہیں۔ اسی مزاحمت نے ہڑتالوں، جلوسوں اور انقلابی تنظیم سازی کی شکل اختیار کی۔ 1795 ؁میں غذائی قلت کے خلاف بڑے پیمانے پر بلوے ہوئے۔ یہ بلوائی انقلابی بنیادوں پر منظم تھے۔ 1816 ؁میں کیمبرج شائر میں بھی بڑے پیمانے پر غذائی بلوے ہوئے۔ 1830 میں زرعی مزدوروں نے وہ بلوے کیے جنہیں Souring riots کہا جاتا ہے۔ 1795، 1802، 1810، 1816، 1823،1824، 1823،1825، 1827، 1829، 1830، 1831، 1832 میں بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل اور لکڑی کی صنعت کے مزدوروں نے ہڑتالیں کیں۔

لیکن یہ مزاحمت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔ محنت کشوں کی قیادت نے سرمایہ دارانہ جمہوری نظام سے اصلاح کی توقعات قائم کیں۔ یہ توقعات کبھی پوری نہ ہوئیں۔ 1803 ؁کا Arbitration Act جس کو مزدوروں کی حمایت حاصل تھی سرمایہ دار دولت مندوں کے مفادات کا ذریعہ بنا۔ پارلیمنٹ نے مزدوروں کی اجرت بڑھانے کی تجاویز 1811 اور 1817 میں حقارت سے رد کردیں۔ 1819 میں عوامی قتل عام کا ہولناک واقعہ پیش آیا۔

اس دورمیں جس تحریک نے سرمایہ دارانہ جمہوریت کا باضابطہ مقابلہ کیا اس کو Luddites کہتے ہیں۔ یہ تحریک ٹیکسٹائل انڈسٹری میں صنعتی ٹیکنالوجی کے استعمال کی مخالف کرتی تھی جس کے نتیجہ میں لاکھوں کاریگر بے روزگار ہو گئے تھے اور مزدوروں کی اجرتیں زوال پذیر تھیں۔ Luddites سرمایہ دارانہ دارانہ مشینری کو توڑتے اور کارخانوں سے اکھاڑ پھینکتے تھے۔ ان کے خلاف ریاستی کارروائی 1812 میں عروج پر تھی جب تحریک کا قائد Ned Ludd زیر زمین چلا گیا اور بالآخر یہ تحریک ریاستی جمہوری استبداد کے نتیجہ میں منتشر ہوئی۔ اپنی پسپائی کے بعد Ludditeتحریک کے سابقہ کارکنوں نے سرمایہ دارانہ قانونی اصلاحات سے اپنی توقعات قائم کر لیں۔

Luddites کو کبھی عوامی حمایت نہ حاصل ہو سکی۔ اس کی ایک بڑی وجہ Luddites کی خفیہ زیر زمین تنظیم سازی تھی۔ انیسویں صدی کے دوران سرمایہ کے مظلومین یعنی عوام سرمایہ دارانہ تعقل(rationality) کے اسیر ہوگئے۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ (جس میں مزدوروں اور دولت مندوں دونوں کی قیادت شامل تھی) کو معاشرتی اور سیاسی تغلب حاصل ہو گیا اور جس قسم کے ظلم اور تشدد کی ضرورت سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں سرمایہ دارانہ نظام کو استحکام بخشنے کے لیے تھی اب وہ انگلستان میں باقی نہ رہی۔ انیسویں صدی سے آج تک محنت کشوں اور دولت مندوں میں سرمایہ دارانہ حاکمیت کی لازمیت پر اجماع ہے اورجمہوری ریاستی نظام اس اجماع کا ایک اظہار ہے۔ یہ داستان ہم اس باب کے آخری سیکشن میں بیان کریں گے۔

2.3.1انقلاب فرانس

انگلستان کی طرح فرانس میں سرمایہ دارانہ ریاستی جبر 1640 کی دہائی میں ترقی پذیر ہوا جب Curdinal Rcheheu کی وزارت کے دوران کاشت کاروں پر ٹیکسوں کا بوجھ دوگنا کر دیا گیا۔ فرانس کی تیس سالہ جنگ میں شرکت نے بھی کاشت کاروں کے مصائب میں اضافہ کیا اور علاقائی نوابوں اور فرانسیسی پارلیمنٹ نے مطلق العنان بادشاہت کے ہاتھ مضبوط کیے۔ 1648 میں نوابوں کی قیادت میں قدیم فرانسیسی دستور کے حق میں بغاوت ہوئی جو کامیاب رہی۔ لوئیس بانزدہم کے دور میں سیاسی عمل پر دربار، بادشاہ اور اس کی نوکر شاہی کا غلبہ اور قبضہ مکمل تھا۔ صوبائی پارلیمنٹس کا دائرہ کار تنفیذ قانون تک محدود کر دیا گیا۔ قانون سازی خالصتاً دربار کی صوابدید پر منحصر تھی۔ دربار میں مقامی نوابوں کو انعامات اور اعانتوں سے نوازا گیا اور ان پر محصولات نافذ نہ تھے۔ مذہبی رواداری کو ختم کر دیا یا اور زیادہ Calvanist جو Hugenot کہلاتےتھے جلاوطن کر دیے گئے۔

لوئیس پانزدہم کے مرنے کے بعد فرانس اور کئی اور یورپی ملکوں میں وہ دور شروع ہوا جس کو تنویری آمریت کا دور کہا جاتا ہے۔ فرانس میں تحریک تنویر کے سترھویں صدی کے رہنما وولٹیئر، مونٹیسکو اور روسو تھے۔

تنویری فکر نے جمہوری عمل اورنظریات کو اتنا متاثر کیا ہے کہ جمہوریت کو تحریک تنویر کی سیاسی ادارہ کاری کہنا مناسب ہے۔ تنویری فکر کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ چونکہ انسان ہیومن بینگ آزاد اور خودمختار ہے لہٰذا وہ اپنی تاریخ کا قیدی نہیں۔ ایک مثالی معاشرہ کے قیام کے لیے ماضی کی طرف نہیں حال اور مستقبل کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ہیومن بینگ معیارات خیر و شر اور عادلانہ اخلاقی اور سیاسی اصول و ضوابط اپنی ذہنی کاوش(rationality) کے ذریعہ خود مرتب اور نافذ کر سکتا ہے۔ سائنس (جاہلانہ علمیت) کی بڑھوتری لامحدود ہے۔ ہیومن تاریخ تسخیر کائنات کے عمل میں مستقل کامیابی کا سفر ہے۔ اس فکر کےمطابق تنزل اور ناکامی ناممکن ہے اور ہیومنٹی ہمیشہ آگے ہی بڑھتی رہی ہے اور رہے گی۔ جمہوری اور دوسرے طریقوں کی کارفرمائیوں کا جواز صرف اور صرف وہ لامتناہی مادی ترقی فراہم کرتی ہے جو اس کارفرمائی کا لازمی نتیجہ ہے([84])۔

سترھویں صدی کے سائنسی انقلاب نے سرمایہ داری کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کئی یورپی ممالک بالخصوص فرانس اور انگلستان اپنی معاشی ترقی کی بدولت عظیم سامراجی فتوحات کے ذریعہ دنیا پر چھا گئے۔ سامراجی پھیلاؤ کے پہلے شکار اسکاٹ لینڈ کے کوہستانی باشندے تھے جنہوں نے انگریز سامراج کے خلاف 1715 اور 1745 میں بغاوت کی اور ان بغاوتوں میں اسکاٹش تنویری مفکرین نے انگریز سامراجیوں کا ساتھ دیا کیونکہ انگریزی اقتدار کا استحکام اسکاٹ لینڈ میں سرمایہ داری کے پنپنے کے لیے ضروری تھا۔

تنویری مفکر وولٹیئر نے طبیعیاتی اسلوبی منہج کو عقلیتی قرار دیا اور اس ہی کے سہارے انسانی اخلاقیات اور معاشرت کے تجزیہ کو جائز گردانا۔ علمیت کی اس تخریب کاری سے سترھویں صدی میں فرانسیسی Encyclopedists کی کوششوں سے Humanities ایجاد ہوئیں جن کو سائنس آف مین بھی کہا گیا۔ انسانی عمل کو شہوات کی ہمہ گیر کارفرمائی کا نتیجہ قرار دیا گیا اور شہوات کی عالم گیر حکمرانی کو انسانی معاشرت کے اصل الاصول کے طور پر قبول کیا گیا۔ وولٹیئر تحریک تنویر کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل تھا۔

تنویری مفکرین نے شہوت پرستی اور خود غرضی کے معاشرتی پھیلاؤ کے حتمی جواز فراہم کیے۔ ان مفکرین کے مطابق فرد کا خودغرضانہ عمل معاشرتی ترقی پر منتج ہوتا ہے اور معاشرہ کا کلیدی ادارہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ ہے جہاں سرمایہ دارانہ معاہدوں کے ذریعہ ہر عامل اپنے ذاتی مفاد کو فروغ دینے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔ اور یوں مفاد عامہ فروغ پاتا رہتا ہے۔ یہ فلسفہ سرمایہ دارانہ علمیت اکنامکس کا کلیدی مفروضہ ہے۔ فرانسیسی معیشت دان Francois Quesnay نے آزاد مارکیٹی معیشت کی پرزور حمایت کی اور قیمتوں کے تعین میں ریاستی مداخلت کو غلط قرار دیا۔ انسانی فطرت کوسرمایہ دارانہ اخلاقیات کا ترجمان قرار دیا گیا۔ سرمایہ دارانہ قانون کو قانون فطرت سے ہم آہنگ قرار دیا گیا۔ یہ رائے مونٹیسکیو کی ہے۔ بینتھم کا ایجاد کردہ نظریہ افادیت بڑی حد تک اٹھارھویں صدی کے فرانسیسی فلسفیوں کی فکر کا غماز ہے۔ فرانسیسی فلسفی ترگو (Turgot) تاریخی ارتقا کا محرک ہیومن جذبہ تقابل اور حرص کو گردانتا ہے۔

تنویری فکر شروع ہی سے مذہب دشمن تھی۔ انقلاب کے قریب اس کی کلیسا بیزاری میں شدید اضافہ ہوا۔ ریاستی حاکمیت کا تصور عملاً خدا کی حاکمیت سے بغاوت کا اعلان ہے۔ روسو نے کہا ریاست کو ایک ریپبلک ہونا چاہیے جہاں متنور(Enlightenet) اشرافیہ مفادِعامہ کے فروغ کے لیے قانون سازی کا مطلق حق (اور فرض) سونپا گیا ہو۔ اس تصور کے مطابق حاکمیت اس معاہدہ سے برآمد ہوتی ہے جو سٹیزن مفادِ عامہ کے فروغ کے لیے آپس میں کرتے ہیں۔ روسو کے مطابق آزادی کا مطلب قانون سازی کی مطلق حاکمیت کا اظہار ہے اور سٹیزن ریپبلک میں انہی معنوں میں آزاد ہوتا ہے کہ وہ جو قانون بنانا چاہے وہ بلاروک ٹوک بنائے۔ ریاستی قوانین ارادہ عمومی کا اظہار ہوتے ہیں۔ بقول روسو ریاست کو ایک ریپبلکن مذہب کی تنفیذ کا اہتمام کرنا چاہیے جو عیسائیت کی جگہ لے لے۔

انقلاب فرانس کے عروج کے زمانہ میں (1792) جب Jacobin دھڑے کو اختیار حاصل تھا اور عوام بالخصوص پادریوں کا بے دریغ قتل عام کیا جا رہا تھا روسو کی فکر کو ریاستی نظریہ قرار دیا گیا۔ فرانس کے تنویری مفکرین عوام کو حقارت سے دیکھتے تھے اور ان کی سیاسی تجاویز کا مقصد ایک فلسفی بادشاہت کا قیام تھا جس کی تائید اور پرستش عوام کریں۔

تحریک تنویر کے اثرات فرانسیسی انقلاب پر اتنے گہرے ہیں کہ اس وقت کے بادشاہ لوئیس شانزدہم نے 1787 میں یہ کہا ”یہ سب روسو کا کیا دھرا ہے“۔ اس تحریک کے فرانس میں علمیاتی غلبہ کے سامنے عیسائیت بالکل پسپا ہو گئی۔ ا س پسپائی کے دو بنیادی اسباب تھے:

ایک تو یہ کہ عیسائیت نے بارھویں صدی سے ارسطو کی فکر کی بنیاد پر اپنا علم کلام جسے scholasticismکہتے ہیں مرتب کرنا شروع کیا۔ اس علم کلام میں انسانی الوہیت کو قبول کرنے کی گنجائش ہے کیونکہ نظریہ تثلیث میں (جوکہ تیسری صدی عیسوی سے یورپ میں مقبول تھا) حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانا گیا تھا لہٰذا عیسائی بالخصوص پروٹسٹنٹ فکر میں انسان کو الوہی صفات کا حامل تصور کرنا دشوار نہ تھا۔ آزادی، مساوات اور ترقی کے تصورات کی جڑیں عیسائی تصور انفرادیت سے نکلتی ہیں اور عیسائیت کو بجا طور پر ایک قسم کی انسان پرستی کہا گیا ہے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ عیسائیت کا اپنا کوئی تصورِ ریاست موجود نہ تھا۔ دوسری صدی عیسوی کے بعد وہ رومن سامراج کی باج گزار رہی تھی۔ سترھویں صدی میں انگلستان اور سوئٹزرلینڈ میں Calvin اور Crowmwell کی قیادت میں جو ریاستیں قائم ہوئی تھیں وہ سرمایہ دارانہ ریپبلک تھیں اور ان میں عیسائی تنظیم سازی نہ ہو سکی۔ لہٰذا فرانس میں تحریک تنویر سے متعلق کفار کی فکری اور سیاسی یلغار کا عیسائیت مقابلہ نہ کرسکی۔ وہاں عیسائی قیادت نے ردعملی رویہ اختیار کیا۔ وہ بادشاہی نظام کے حلیف بنے رہے اور اس نظام کے بڑھتے ہوئے ظلم و استبداد نے عوام کو متنفر کرکے تنویری کفار کا حامی بنا دیا۔

قانون فطرت کو سرمایہ دارانہ جاہلی عقلیت کے ذریعہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا اور قانون فطرت کی اس تشریح نے قانون الٰہی کو بے دخل کرنے کا دعویٰ کیا۔ قانون فطرت کی دریافت یا تخلیق کا کام ایک نئے طبقہ کی ذمہ داری کہی گئی۔ یہ ہے فرقہ دانشوروں(Intellectuals) جو تحریک تنویر کی ایجاد ہے۔ انٹلیکچوئل وہ ہے جو اپنے خودمختار ہونے کا پورا شعور رکھتا ہے اور جو ریشنل تجزیہ کے ذریعے ”حقائق“ کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔ اس وقت سے لے کر آج تک انٹلیکچوئل مذہبی رہنماؤں کے فطری دشمن ثابت ہوئے ہیں۔

تنویری فکر سرمایہ دارانہ نظم معیشت اور معاشرت کی توجیہ ہے۔ اٹھارھویں صدی کے فرانس پر سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی تیزی سے جاری تھی اور اس کی مخالفت کلیسا ، قانون، انتظامیہ، تعلیم، ہر سطح پر کر رہا تھا۔ سرمایہ دارانہ اقتداری صف بندی ہی پراگرس کو ممکن بناتی ہے اور اس کی تنفیذ کی مخالفت برداشت کرنے کے لیے تنویری مفکرین تیار نہ تھے۔ شروع ہی سے فرانس کے تنویری کفار نے ریاستی قوت کو کلیسا کے خلاف صف آرا کرنے کی جدوجہد کی۔ تنویریت مذہب کے خلاف بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ مذہبی روایات کو غیر معقول ، دقیانوسی ،مہمل، اور جاہلی کہا گیا۔ اباحیت اور مادہ پرستانہ ترویج و اشاعت فرانسیسی فلسفیوں کے ہاں عام تھی۔ وولٹیئر کا خیال تھا کہ پاپائیت اٹھارھویں صدی کے آخر تک ختم ہوجائے گی۔

فرانس کی 1789 ؁کی سیاسی تبدیلی نے تصورِ انقلاب کو یکسر بدل دیا۔ اب انقلاب سے مراد کلی نظاماتی تبدل ہو گیا۔ فرانس میں سرمایہ دارانہ نظام1789 سے قبل پھیلتا جا رہا تھا۔ اس کومکمل غلبہ انقلاب کے دوران نہیں نپولین کی شہنشاہیت کے زمانہ میں نصیب ہوا۔ جب جمہوری ریاستی عمل کی سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی عمل میں آئی۔ اس سے قبل انقلابی ریاست جمہوری تو تھی لیکن سرمایہ دارانہ غلبہ نہ مکمل تھا نہ قومی۔ فرانسیسی انقلاب کی ایک محرک قوت وہ سپاہی تھے جو امریکی جنگ آزادی(1776-1783)میں شرکت کے بعد فرانس لوٹے تھے اور جنہوں نے فرانسیسی عوام میں تصوراتِ آزادی اور خودمختاری کو مقبولیت دلائی۔ لیکن 1789ء کے بلوائی ایک بڑے عوامی سیلاب کا پیش خیمہ تھے جو مدت دراز سے سیاسی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہا تھا اور جس میں کئی فکری دھڑے شامل تھے۔ 1789 کے بلوائیوں یا ان کی قیادت کے پاس بعد از انقلاب ریاستی ڈھانچہ کا کوئی مربوط تصور موجود نہ تھا۔

انقلاب سے قبل فرانسیسی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی۔ 1630 ؁کے بعد فرانسیسی ریاستی قرضہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا تھا۔ لوئیس شانزدہم 1774 ؁میں بادشاہ بنا اور شروع ہی سے بیرونی قرضوں کو کم کرنے کی جدوجہد کرتا رہا ۔ 1780 ؁کی دہائی میں ریاست کا سب سے بڑا خطرہ متوقع دیوالیہ پن تھا۔ عالمی سرمایہ دارانہ سودی معیشت نے فرانس کو اپنے شکنجہ میں پورے طور پر جکڑ رکھا تھا۔

فرانس کا ریاستی مالی نظام امراء کی دولت اور آمدنی سے محصولات کی تنفیذ کو ناممکن بناتا تھا۔ بادشاہت کہنے کو تو مطلق العنان تھی لیکن عملاً رؤسا اور امرا کے آگے بے بس تھی او ران کے قدیم اختیارات، مراعات اور حقوق نسخ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتی تھی۔ لہٰذا دھیرے دھیرے یہ بات واضح ہو رہی تھی کہ ریاستی ڈھانچہ میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر فرانس اپنی مالی مشکلات سے نبردآزما نہیں ہوسکے گا۔ فرانس میں 1789 ؁ میں نوابوں کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ تھی اور یہ سب قانونی اور معاشی طور پر مراعات یافتہ تھے۔

1788؁ میں بادشاہ نے مقننہ کا اجلاس طلب کیا۔ اس میں نواب، کلیسا کے اہل کار اور عوام کے نمایندے شامل تھے۔ بادشاہ کو امید تھی کہ یہ ادارہ نوابوں کو ٹیکس کی ادائیگی میں اضافہ پر راضی کر لے گا۔ اسٹیٹ جنرل میں نمایندگی حاصل کرنے کے انتخاب ایسے ماحول میں ہوئے جب کئی علاقوں میں قحط عام تھا۔ اجناس کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ ٹیکسٹائل کی صنعت تباہ ہو رہی تھی اور غریبوں کی زبوں حالی میں ہنوز اضافہ ہو رہا تھا۔ ان حالات میں عوام بالخصوص ایسے ہاریوں کو جن کے پاس زمین نہیں تھی بغاوت پر آمادہ کرنا کچھ مشکل نہ تھا۔

1789 ؁کی گرمی کے مہینوں میں Estates General نے اپنے آپ کو قومی اسمبلی کہنا شروع کر دیا اور حاکمیت اعلیٰ کا دعویٰ کیا۔ اس وقت تک وہاں کئی سیاسی جماعتیں بھی قائم ہو چکی تھیں۔ یہ سیاسی جماعتیں عوامی نمایندگی کا دعویٰ کرتی تھیں۔ بادشاہ اور دربار ان کے مطالبات کو قبول کرنے اور نوابوں کے مراعات کو کم کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے تھے۔ ان جماعتوں میں تنویری فکر غالب تھی اور یہ آزادی، مساوات اور عوامی خوشحالی کو فروغ دینے کی حمایتی تھیں انکی پشت پر دیہاتوں میں باغی ہاری اور شہر پریس میں بلوائی اور لٹیرے صف آ را تھے۔ فوج نے غیر جانب داری کا کردار ادا کیا۔

اسمبلی نے سب سے پہلا کام سرمایہ دارانہ دستور مرتب کرنےکا کام کیا۔ یہ دستور تحکم قانون سرمایہ کو یقینی بنانے کا آلہ کار تھا۔ اس کے تحت کلیسا کی تمام اراضی کو قومیا لیا گیا۔ جاگیرداری معیشت کو ختم کرکے زرعی شعبہ میں سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دیا گیا۔ نمایندہ مرکزی جمہوری نظام تفویض کیا گیا۔ مقننہ کو انتظامیہ بھی کہا گیا اور تحکم قانون سرمایہ اور سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کا اقرار کیا گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی ریاست کاری کا یہ عمل 1791 ؁تک مکمل ہو گیا جب قومی اسمبلی برطرف کر دی گئی۔

یہ دستور اصلاح فرانس میں عیسائی اثر و رسوخ کو سرےسے ختم کرنے پر منتج ہوا اور اس وقت کے پاپائے روم نے ان کی شدت سے مخالفت کی۔ فرانس میں پوپ کے لاکھوں ہم نوا اور حمایتی تھے جن کی مزاحمت کو انقلابیوں نے نہایت سفاکی اور بے دردی سے کچل دیا۔ لاکھوں پادری قتل کر دیے گئے۔ عیسائی گرجوں اور خانقاہوں کو تہس نہس کر دیا گیا اور انجیل مقدس اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تذلیل اور بے حرمتی انقلابیوں کا طرہ امتیاز بن گیا۔ انگلستان کی طرح فرانس میں بھی سرمایہ دارانہ تغلب کا مقابلہ مذہبی حلقوں نے ہی کیا۔

1792 ؁میں بادشاہ کو برطرف کر دیا گیا اور اس کو جنوری 1793 ؁میں قتل کر دیا گیا۔ 1792 ؁میں ایک نئی اسمبلی قائم ہوئی جو 1796 ؁تک کام کرتی رہی۔ اس نے فرانسیسی سرمایہ دارانہ ملکیت کے خلاف مزاحمت کے لیے موت کی سزا مقرر کی اور بالغ مردوں کی رائے دہی کا قانون منظور کیا۔ اس اسمبلی کے دور میں مختلف دھڑوں کو اقتدار حاصل ہوا۔ ان میں سب سے سفاک Jacobin کا دھڑا تھا جس نے اس دور کا آغاز کیا جسے دور دہشت کہتے ہیں۔ اس دور میں عوام کا قتل عام اپنے عروج پر تھا اور پورا فرانس خانہ جنگی کی حالت میں تھا۔ لیکن اس دہشت گردی کے نتیجہ میں اسمبلی خانہ جنگی کو ختم کرنے اور بیرونی حملہ آوروں کو 1796؁ تک شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔ جیکوبن کی منتشری کے بعد اسمبلی نے دہشت گرد سیاست کو بتدریج ترک کر دیا اور 1797 ؁میں جو دستور منظور کیا گیا وہ ایک سرمایہ دارانہ پارلیمانی نمایندہ جمہوریتی دستور تھا۔ یہ حکومت 1799 ؁ تک قائم رہی جسے چند سیاست دانوں نے فوج کے ساتھ مل کر ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ختم کر دیا۔ اس وقت تک فرانس سرمایہ دارانہ نظام اقتدار اور تحکم قانون سرمایہ میں اتنا مستحکم ہو گیا تھا کہ اسے آج تک کوئی متزلزل نہ کر سکا۔ سرمایہ دارانہ نظم ملکیت پوری معیشت پر چھا گیا اور ہاری ان تمام رعایتوں اور حقوق سے محروم کر دیے گئے جو ان کو قدیم فرانسیسی معاشرہ میں حاصل تھے۔

انقلابی حکومت نے خدا کی جگہ جاہلی عقلیت کی پرستش کو سرکاری مذہب کے طور پر رواج دیا۔ پادریوں کی تعذیب ریاستی پالیسی کا جزو بن گئی لیکن مذہب کو کچلنے کا یہ عمل کامیاب نہ ہو سکا اور آخرکار ریاست کو عیسائیت سرکاری طور پر قبول کرنا پڑی۔ لیکن عیسائیت کا یہ احیا ذاتی زندگی اور نجی معاملات تک محدود ہو گیا اور اس وقت سے لے کر آج تک فرانس میں دہریت کو ریاستی عمل کا لازمی جزو تسلیم کیا جاتا ہے اور فرانسیسی عوام پبلک احاطہ میں جاہل عقل ہی کی پرستش کرتے ہیں۔

1799 سے 1814 تک نپولین بوناپارٹ نے فرانس میں اپنا اقتدار قائم رکھا (وہ شہنشاہ 1804 میں بنا)۔ نپولین نے آمرانہ جمہوریت کی داغ بیل ڈالی۔ اس نے فرانس میں سرمایہ دارانہ تحکیم کو مضبوط کیا۔ اور اس وقت سے لے کر فرانس یورپی دہریت کا ایک اہم مرکز اور عالمی سامراج کا اہم ستون بنا ہوا ہے جو مغربی اور وسطی افریقہ میں جمہوری نظام کو نافذ کرنے کے لیے سامراجی ریاستی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔

2.3.2انقلاب امریکہ

لوٹ مار اور قتل عام کی یہ خون چکاں داستان ریاست ہائے متحدہ امریکا کے علاقہ میں سولھویں صدی کے وسط سے جاری تھی جہاں پہلے کرامویل کی ریپبلک اور پھردستوری بادشاہت کے زیر سایہ لاکھوں قدیم باشندے قتل کیے جاتے رہے۔ امریکا کا جمہوری نظام کروڑوں قدیم باشندوں کی لاشوں پر کھڑا کیا گیا ہے۔

اٹھارھویں صدی کے دوران انگلستان اور یورپ کے کئی دوسرے ممالک سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے مشرقی علاقوں میں نوآبادکاروں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھتی رہی۔ یہ علاقہ برطانوی سامراجی ریاست کی نوآبادیاں تھیں لیکن ان علاقوں کے رہائشیوں کے مالی مفادات انگریز ریاست کے مفادات سے جدا تھے اور انگریز حکومت کی نافذ کردہ پالیسیاں ان کے لیے نقصان دہ تھیں۔ انگریز حکومت نوآبادکاروں کی مغربی علاقوں پر قبضہ کی مخالفت کرتی تھی اور اس مزاحمت کے نتیجہ میں پہلا تصادم 1763 ؁میں ہوا۔ (برطانوی حکومت نے وسیع مغربی علاقوں کو قدیم باشندوں کی آبادی کے لیے وقف کر دیا تھا)۔یہ انگریز سرکار کے خلاف خالصتاً ایک سرمایہ دارانہ بغاوت تھی۔ اس کا مقصد آبادکاروں کی سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے معاشی اغراض کا فروغ تھا اور اس اشرافیہ نے جن نظریاتی بنیادوں پر بغاوت منظم کی وہ تحریک تنویر کی تعلیمات سے اخذ تھے۔

1760ء کے وسط میں انگریز سرکار نے نوآبادیوں کی اندرونی کاروباری معیشت پر نئے محصولات نافذ کیے۔ ان محصولات کی ایک اہم شکل Stamp Act تھا جو 1765 ؁میں لگایا گیا۔ اس کے خلاف وسیع پیمانے پر بلوے ہوئے اور کئی علاقوں میں اس ٹیکس کی نادہندگی کے معاہدات منظور کیے گئے۔ امریکی سرمایہ دارانہ اشرافیہ نے فی العمل برطانوی پارلیمنٹ کی مطلق حاکمیت کو رد کر دیا ۔ Stamp Act تو منسوخ کر دیا گیا لیکن برطانوی حکومت نے اس ہی دوران روغن، کاغذ اور چائے پر نئے محصولات عاید کردیے۔ بلووں اور بائیکاٹوں میں اضافہ ہو گیا اور مشہور ٹی پارٹی کے بلوے کے دوران 1770 ؁میں پانچ بلوائی قتل کر دیے گئے۔ 1773ء میں بوسٹن میں چائے کا بہت بڑا ذخیرہ تباہ کر دیا گیا۔ اس کو بوسٹن ٹی پارٹی کا واقعہ کہتے ہیں۔

امریکا کی سرمایہ دارانہ اشرافیہ نے برطانوی سامراجی پارلیمنٹ کے حق میں قانون سازی کو نوآبادیاتی علاقوں میں چیلنج کیا۔ 1774 ؁میں فلاڈلفیا میں ایک کانگریس منعقد ہوئی جس نے برطانیہ سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا اور مطالبہ کیا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے نوآبادیاتی علاقوں میں قانون سازی کے حق کو فسخ کیا جائے۔ 1774 ؁ہی سے کئی علاقوں میں برطانوی فوج کے خلاف عسکری جدوجہد شروع ہو گئی۔

لیکن اس مزاحمت کو امریکی نوآبادکاروں کی محدود معاونت حاصل تھی اور امریکا کے قدیم باشندے تو تقریباً سب ہی برطانوی فوج کے ساتھی و معاون تھے۔ عوام اس کشمکش کو دو سرمایہ دارانہ گروہوں کا تصادم سمجھتے تھے اور بالعموم اس سے کنارہ کش رہے۔

جولائی 1776 ؁میں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے قائدین نے امریکا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ جنگ 1781 ؁تک جاری رہی اور اس میں فرانس اور اسپین نے امریکی باغیوں کا ساتھ دیا۔ 1783 ؁میں برطانیہ نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو بحیثیت ایک آزاد مملکت کے تسلیم کر لیا۔ باغی فوج کا سربراہ جارج واشنگٹن جو قدیم باشندوں کو وحشی بھیڑیے کہتا تھا امریکا کا پہلا صدر منتخب ہوا۔

شروع ہی سے امریکی ریاست پر چند دولت مند بااثر سیاست دانوں کا غلبہ رہا ہے۔ ایک لاکھ کے قریب افراد([85]) جو برطانوی سرکار کے حامی تھے ملک چھوڑ کر یورپ واپس منتقل ہوئے۔ مقامی آبادی میں غیر سرمایہ دارانہ کاشت کار اور تاجر بھی وافر مقدار میں موجود تھے۔ لیکن جیسا کہ 1830 ؁کی دہائی میں ٹوکیوویلی نے لکھا ہے امریکا میں جمہوری فکر اور روحانیت پھیلنے کی نہایت سازگار فضا پائی جاتی تھی۔ قدیم ثقافتی روایات کمزور تھیں، مذہبی وابستگیاں سطحی اور اوچھی تھیں۔ معاشی ارتقا تیز رفتار اور صدیوں سے جاری قدیم باشندوں کی دولت پر قبضہ اور ان کے بے دھڑک قتل عام نے (جو جمہوری عمل کا تاریخی لازمہ ثابت ہوا) حرص اور ہوس کے عوامی پھیلاؤ میں مستقل اضافہ کیا۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ جو تنویری فکر سے سرشار تھے ان کی معاشرتی اور ریاستی گرفت مضبوط تھی۔

امریکی دستور 1787 ؁میں لکھا گیا اور 1788؁ میں جب تیرہ میں سے نو ریاستی مقننہ نے اس کی تصدیق کر دی تھی نافذالعمل ہوا۔ امریکی دستور کو امریکی صنعتی سرمایہ داری کا معمار کہا گیا ہے۔ دستور ریپبلکن ہے۔ اختیارات کئی ریاستی اداروں میں تقسیم کیے گئے ہیں جن میں صدر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ دستور نے جس قانونی نظام کو فروغ دیا وہ انگلستان میں رائج قانونی نظام بالخصوص کامن لاء کا چربہ تھا۔ انگریز مقننہ کی طرح امریکی دستور بھی منتخب ادارہ سازی کی گنجائشیں پیدا کرتا اور صدر کے عہدہ کو ایک دستوری بادشاہ کے مقابلہ میں کہیں زیادہ اختیارات دیتا ہے۔

دستور کی تنفیذ کی ان ریاستوں نے شدت سے مخالفت کی جہاں غیر سرمایہ دارانہ رجحانات پائے جاتے تھے۔ یہ بات کھل کر کی گئی کہ دستور امریکی ریاست سرمایہ داروں، سود خوروں اور ساہوکاروں کے سیاسی تسلط کو دوام بخشے گا اور تاریخی طور پر یہ الزام درست ثابت ہوا ہے۔ اس خطرہ کو محدود کرنے کے لیے ریاستوں نے اپنے اختیارات مرکزی حکومت کی دست برد سے محفوظ رکھنے کی جدوجہد کی اور اس ہی کے نتیجہ میں امریکا کا ریاستی نظام وفاقی ہیئت اختیار کر گیا۔ ریاستوں اور وفاق کی یہ کشمکش دستور کے نفاذ کے 80 سال بعد اس سول وار میں اپنے عروج کو پہنچی جو تقریباً پانچ سال جاری رہی۔

دستور کا اصل مصنف تھامس جیفرسن تھا جو فرانسیسی فلسفی مونٹیسکیو کی فکر سےشدید متاثر تھا۔ امریکی دستور پر تنویری نظریات کی چھاپ نہایت گہری ہے۔ وہ ریاستی مطلق حاکمیت کے عقیدہ پر اصرار کرتا ہے۔ یہ بات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کر دی گئی ہے کہ سرمایہ دارانہ اقتدار کا جواز عوامی رائے کے اظہار بذریعہ جمہوری عمل سے ہی فراہم کیا جائے اور اس اظہار کو مرتب کرنے کے لیے ایسے انتظامات کیے گئے کہ ہر پانچ سال انتخابات کے انعقاد سے دس لاکھ سے زیادہ عوامی نمایندے ریاستی کارفرمائی کے لیے منتخب ہوتے رہتے ہیں۔ یہ نمائندے 2020ء میں امریکی آبادی کا 0.3 فی صدہیں ([86])۔لیکن امریکی سرمایہ دار ہمیشہ اس بات سے خائف رہے ہیں کہ اکثریتی رائے سرمایہ دارانہ تحکیم کو چیلنج نہ کرے۔ یہ خطرہ دستور کی تیاری کے دوران جیمس میڈیسن نے اپنے مشہور فیڈرلسٹ پیپرز میں ظاہر کیا تھا اور اس کو ٹالنے کے لیے 1789 میں ایسے دس بنیادی اصولوں کو دستور میں شامل کیا گیا جو سرمایہ دارانہ حقوق اور فرائض کے تقدس کا اظہار ہیں۔ امریکی جمہوری نظام میں یہ سکت نہیں کہ ان سرمایہ دارانہ حقوق و فرائض کو عوامی رائے کی بنیاد پر مسخ کر دے۔

بلاشبہ آج ریاست ہائے متحدہ امریکا دنیا کا سب سے جمہوری ملک ہے اور اس ہی وجہ سے وہ ریاستی دہشت گردی اور سفاکیت میں سب سے آگے ہے۔

2.3.3 فاشسٹ اور اشتراکی انقلاب

بیسویں صدی میں فاشسٹ اور اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کیے گئے ہیں۔ فاشسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب انیسویں صدی میں جرمنی اور جاپان میں رونما ہوئے۔ ان کے پیچھے جو جذبہ کارفرما تھا وہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معیشتوں سے مسابقت تھا۔ سرمایہ دارانہ ریاستی اشرافیہ نے بسمارک اور میجی حکومتوں کے دور میں جرمنی اور جاپان کو تیزی سے ایک صنعتی سرمایہ دارانہ معاشرت میں تبدیل کر دیا ۔ فاشزم ریپبلکن جمہوریت کی ایک تشریح ہے اس میں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا ایک مخصوص ہراول دستہ یعنی فاشسٹ پارٹی عوام کو اپنے عقائد اور نظریات کے اردگرد منظم اور متحرک کرتی ہے۔ سیاسی عمل میں عوامی شمولیت کو فروغ دینا ریاستی پالیسی کا ایک اہم ستون ہوتا ہے۔ انقلاب کے قائد کو نطشے کے فوق البشر کے طور پر عوامی پرستش کا محور قرار دیا جاتا ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری کو قومی/ملکی مفاد کے ہم معنی قرار دیا جاتا ہے اور دوسری اقوام اور ریاستوں پر فوقیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے اوران سے نفرت کرنے کے جذبات ابھارے جاتے ہیں۔ سرمایہ داری کے مخالفین اورنسلی اور مذہبی اقلیتوں کو سفاکانہ انداز میں نیست و نابود کرنے کے لیے عوامی مہمات چلائی جاتی ہیں اور فاشسٹ ریاست عموماً اپنے پڑوسی ملکوں سے جنگ چھیڑنے پر آمادہ رہتی ہیں۔

لیکن تاریخی طور پر فاشسٹ ریاستیں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔ یہ اپنے لبرل اور کبھی کبھی اشتراکی حریفوں سے شکست کھا جاتی ہیں اور اندرونی عوامی تائید اور تحرک بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ اس کے باوجود اس نوعیت کی استبدادی جمہوریتیں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی دہائیوں میں پسماندہ سرمایہ دارانہ ملکوں میں پھیلیں۔ مثلاً ناصر کا مصر، پنوشے کا چلی، اسد کا شام، دورحاضر میں ان کی سب سے اہم مثال ٹرمپ کا امریکا اور مودی کا ہندوستان ہے لیکن یہ دونوں حکومتیں لبرل جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے فسطائی ایجنڈا پر عمل کرتے ہوئے نظر آتی ہیں اور فاشسٹ ریاستی نظام کی بہت سی خصوصیات ان میں موجود نہیں۔ دورحاضر کا فاشزم لبرل ازم کی کوکھ سے جنم لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور اس کا جدید نظریاتی آدرش Paleo conservatism ہے جس کا ہم انشاء اللہ آیندہ سیکشن میں تجزیہ کریں گے۔

اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب کی پہلی کامیاب کوشش 1871 میں پیرس میں کی گئی جہاں چند ہفتوں تک بلوائیوں نے ایک علاقہ میں اپنا اقتدار قائم رکھا۔ پیرس کمیون کو عموماً ایک اشتراکی انقلاب کہا جاتا ہے لیکن یہ بات ابہام سے خالی نہیں۔ پیرس کمیون میں اقتداری صف بندی کی گئی جو جمہوری ضرور تھی اور قدیم ایتھنز کی طرح بلاواسطہ جمہوری تھی۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کی تحدید کا تصور بھی مبہم تھا۔ بیسویں صدی میں جو سرمایہ دارانہ اشتراکی ریاستیں قائم ہیں ان کی اقتداری صف بندی پیرس کمیون کی وضع کردہ ریاستی نظام سے کچھ مماثلت نہیں رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود مارکس نے پیرس کمیون کو ایک مثالی اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاست کے طور پر سراہا اور اس زمانہ کی کمیونسٹ جماعتیں پیرس کمیون سے بہت متاثر ہوئیں اور جرمنی کی بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کا کمیونسٹ دھڑا اسی مشابہت کا سہارا لے کر پارٹی کے اقتدار پر قابض ہو گیا۔ انیسویں صدی کے آخری عشروں میں جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے منظم کمیونسٹ جماعت تھی۔

لیکن پہلا قومی سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب جرمنی میں نہیں روس میں آیا۔ روس کی سوشل ڈیموکریٹ اور لیبر پارٹی (RSDLP) ابتداہی سے کمیونسٹ فکر کی حامل تھی جس کا بانی Plekhanov تھا جو روس کا پہلا مارکسی مفکر ہے۔ 1890 کی دہائی سے RSDLP میں سوشل ڈیموکریسی بھی فروغ پانے لگی۔

1860 کی دہائی سے روس میں سرمایہ دارانہ ملکیت کا پھیلاؤ زور پکڑ گیا لیکن انقلاب کے وقت تک (1917) وہاں سرمایہ داری ریاستی غلبہ حاصل نہ کر سکی۔ وہاں کی آبادی کی بہت بڑی اکثریت خود کفیل ہاریوں پر مشتمل تھی اور دیہی علاقوں میں سرمایہ دارانہ ملکیت ناپید تھی۔ زار کی حکومت ایک مطلق العنان بادشاہت تھی لیکن پیٹر دی گریٹ کے وقت سےتنویری فکر اور جمہوری عمل کے طرف دار طاقت ور ہو رہے تھے۔ 1825 میں پہلی مرتبہ زارست حکومت کو جمہوری انقلابی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور 1860 کی دہائی کے بعد سے زار کی حکومت کو دھیرے دھیرے ریاستی ڈھانچہ میں جمہوری ترمیمات شامل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس دور میں روسی معاشرتی دانش ور اور ریاستی اشرافیہ دو گروہوں میں منقسم ہو گئے۔ ایک گروہ روسی قدیم تہذیبی اور سیاسی روایات کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کا حامی تھا۔ دوسرا گروہ روسی معاشرت اور سیاست جلد از جلد یورپی خطوط پر جدید بنانے کو ناگزیر سمجھتا تھا۔ اس گروہ کے خیال میں ماڈرنائز ہوئے بغیر روس اپنے سامراجی مفادات کی حفاظت نہ کر سکے گا۔ اس کا یہ دعویٰ 1905 میں روس کی جاپان کے ہاتھوں شکست سے ثابت ہوا۔

کمیونسٹ ماڈرن ازم کے گروہ کا ہراول دستہ تھے جن جمہوری ترمیمات کی تجویزیں 1625 سے دی جا رہی تھیں فیوڈل جاگیرداری نظام کا خاتمہ اراضی کی عوامی تقسیم، دستوری ریپبلک کا قیام، بالغ رائے دہی کا انعقاد، پولینڈ کو آزاد ملک تسلیم کرنا، یہودیوں کے سیاسی اور معاشرتی مفادات کی توسیع، ان سب کے کمیونسٹ پرزور حامی تھے۔ لیکن کمیونسٹ اس خلفشار اور بحران سے بچنا چاہتے تھے جو انیسویں صدی کے آخر میں کئی سرمایہ دارانہ مغربی ممالک میں رونما ہو رہا تھا۔ ان کے خیال میں اس بچاؤ کی صورت یہ تھی کہ سرمایہ دارانہ نجی ملکیت کو قومیا کر ریاستی سرمایہ دارانہ ملکیت میں تبدیل کر دیا جائے۔

روسی قدامت پسند سرمایہ دارانہ انفرادیت کے مخالف اور مذہبی اجتماعیت کو فروغ دینے کے حامی تھے۔ کمیونسٹوں نے مذہبی روایات کی شروع ہی سے شدید مخالفت کی اور سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پھیلاؤ کے ضمن میں ان کا رویہ ابہام سے لبریز تھا۔

مارکس کو توقع تھی کہ روسی دیہی شراکت داریاں انقلابی عمل کے نتیجہ میں گاہے گاہے اجتماعی سرمایہ داریوں میں خود بہ خود تبدیل ہو جائیں گی اور ان کو قومیانے کی ضرورت نہ پڑے گی([87])۔ لیکن پلیکانوف نے انقلابی عمل کی یہ تعریف رد کی اور کہا کہ انقلاب پرولتاریہ کی خود انحصارانہ جدوجہد کا نتیجہ ہو گا۔ پلیکانوف نے خیال میں دیہی شراکت داریاں سرمایہ دارانہ ملکیت کوفوقیت دینے والا ادارہ ہے۔ اجتماعی ریاستی سرمایہ دارانہ ملکیت کونہیں۔ پلیکانوف کے تجزیہ کے مطابق روس میں اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب سے پہلے نجی سرمایہ دارانہ انقلاب رونما ہونا لازمی تھا۔

لینن اور اس کے ساتھیوں نے 1899 ؁سے اس فکر کے خلاف بغاوت کی۔ 1890 ؁کی دہائی سے روسی صنعت کاری نے تیزی سے ترقی کی اور روسی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اشتراک عمل بڑھ گیا۔ صنعت کاری کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں ایک چھوٹی لیکن مضبوط اور مرتکز پرولتاری طبقہ منظم اور سیاسی طور پر متحرک ہونے لگا۔ 1905 ؁ میں روس کی حکومت کے خلاف جو بغاوت ہوئی اس میں مزدوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ بڑے شہروں میں کامیاب ہڑتالیں ہوئیں۔ صنعت کاروں کا گھیراؤ اور فیکٹریوں پر مزدوروں کا قبضہ عام ہو گیا۔ 1905ء کی بغاوت میں کمیونسٹوں نے لینن کی قیادت میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا۔1905-1917 کے دوران لینن نے بغاوتی اور انتخابی سیاست میں ساتھ ساتھ حصہ لیا۔ کمیونسٹوں نے ہتھیار بھی اٹھائے۔ غیر قانونی قبضہ اور ہڑتالوں کو منظم بھی کیا لیکن ساتھ ساتھ ہر مقامی اور ملکی سطح کے انتخاب میں حصہ لیا اور قانونی جماعتوں سے انتخابی اشتراکی تعاون بھی جاری رکھا۔ جب 1917 ؁میں کرنسکی کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے روس میں مغربی طرز کا دستوری پارلیمانی نظام قائم کیا تو RSDLP کے دونوں دھڑوں نے اس عمل کو قبول کیا۔ کمیونسٹوں نے حکومت کی مخالفت لینن کی روس واپسی کے بعد اپریل 1917 میں شروع کی۔

لینن اس بات کا قائل تھا کہ روس میں جو انقلاب آئے گا وہ ایک سرمایہ دارانہ انقلاب ہو گا لیکن اس کے خیال میں انقلاب کی قیادت نجی سرمایہ دارنہیں بلکہ ملکی پرولتاریہ کرے گی جو انقلاب کے ذریعہ اپنی انقلابی جمہوری آمریت قائم کرے گی۔ یہ جمہوری ڈکٹیٹرشپ ایک ریپبلک ہو گی۔ لینن کے خیال میں اس ریپبلک کے قیام اور کارفرمائی کے مقصد پورے روسی معاشرہ کو جمہوری خطوط پر مرتب کرنا تھا([88])۔لیکن یہ مکمل جمہوریت کا انعقاد انقلابی جماعت کی ہمہ گیر قائدانہ صلاحیتوں کے بروئے کار ہونے پر منحصر ہو گا۔

اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب کی کامیابی کے بعد تقریباً چار سا ل تک جنگ جاری رہی۔ جب فرانس، برطانیہ اور امریکا نے روس کی خانہ جنگی میں شرکت اختیار کر لی۔ خانہ جنگی کے خاتمہ کے بعد لینن کی قیادت میں وہ دور شروع ہوتا ہے جس کو نیواکنامک پالیسی کہا جاتا ہے۔ اس دور میں روسی سوویت ریاستی سرمایہ داری کی بنیاد رکھی گئی۔ جن نوآبادیوں سے جنگ کے دوران آزادی دینے کا وعدہ کیا گیا ان پر سوویت فوج نے دوبارہ قبضہ کر لیا۔ نجی سرمایہ دارانہ معیشت کو سرکاری سرمایہ دارانہ معیشت کے تابع کیا گیا۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارت کی راہ ہموار کی گئی اور 1927 ؁میں اسٹالن کے برسراقتدار آنے کے بعد بڑے پیمانہ پر صنعتی منصوبہ بندی کو فروغ دیا گیا۔

صنعتی تیز رفتار ترقی کے لیے ضروری تھا کہ اجناس کے ذخیروں پر ریاستی قبضہ کیا جائے اور کسانوں کو پرولتاریہ میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جائے اس کے لیے collectivization کی ملک گیر مہم چلائی گئی جس کے نتیجہ میں تقریباً تیس لاکھ ہاری قتل کر دیے گئے۔ دوسری جنگ عظیم کی ابتدا تک سوویت یونین ایک طاقت ور سرمایہ دارانہ معیشت بن گیا جس کی ملکی پالیسی کا ہدف اعلیٰ بڑھوتری سرمایہ میں ارتقا ٹھہرا۔

اس پورے دور میں جمہوری عمل جاری رہا۔ لاکھوں لوگ کمیونسٹ پارٹی کےممبر بنتے رہے۔ ایک سرمایہ دارانہ دستوری نظام نافذ رہا۔ ملک میں پارٹی میں ہر سطح پر وقتاً فوقتاً انتخابات منعقد ہوتے رہے۔ ریاستی عمل میں عوامی شرکت ترقی پذیر رہی۔

بیسویں صدی میں کئی دوسرے ممالک میں بھی اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا ہوئے۔ ان سب میں ریپبلکن حکومتیں قائم ہوئیں ان سب میں عوامی شرکت اور تحرک پر زور دیا جاتا رہا۔ ان سب میں حکمران جماعت عوامی نمایندگی کا دعویٰ کرتی رہی۔ ان سب میں عوام کا استحصال اور کئی ممالک میں قتل عام جاری رہا۔ مثلاً ماؤ کے دور میں کئی لاکھ ہاری قتل کر دیے گئے۔ یہ سب ریاستیں ریاستی پالیسی کا ہدف اعلیٰ بڑھوتری سرمایہ کو گردانتی رہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اشتراکیت سرمایہ داری کا متبادل نہیں محض سرمایہ داری کا ایک نظریہ ہے۔

زمام کارگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

طریقہ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

2.4۔ دورحاضر کی جمہوریتیں

بیسویں صدی میں جمہوریت کی ریاستی تنظیم میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں لبرل جمہوریت کی اصلاح کاری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ لبرل جمہوری نظام کو گہرا کرنے کی کوششیں ہیں اور یہ جمہوری ادارتی صف بندی کو سرمایہ دارانہ عمل کی بدلتی ہوئی ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں ہیں۔

ان میں سب سے قدیم سوشل ڈیموکریسی کی تحریک ہے۔ سرمایہ داری نے برادرانہ اور مذہبی اجتماعیتیں ختم کرکے جو دو نئی اجتماعیتیں قائم کیں قومی اجتماعیت اور مزدوروں کی اجتماعیتیں ہیں۔ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کا عمل مزدوروں/ہاریوں کے استحصال کو بڑھاتا ہے۔ اور مزدور اور ہاری سرمایہ دارانہ تحکم کے فطری شکار ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ان کی محرومیاں بڑھتی جاتی ہیں اور جب وہ دولت مند سرمایہ داروں کو بڑھوتری سرمایہ کے عمل سے مستفید ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان میں حرص و ہوس اور حسد فروغ پاتا ہے اور مزدور اور ہاری بھی بتدریج سرمایہ دارانہ روحانیت سے مغلوب ہوتے جاتے ہیں۔

وہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کے عمل سے پیدا شدہ آمدنی اور دولت میں اپنا حصہ طلب کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور اس بات کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دولت مند سرمایہ داروں کے خلاف (سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نہیں) بغاوت کر دیں گے۔ اس خطرہ کو ٹالنے کے لیے سرمایہ دارانہ لبرل اشرافیہ نے جو حکمت عملی اختیار کی اسے سوشل ڈیموکریسی کہتے ہیں۔

اس حکمت عملی کے دو اجزا ہیں۔ ایک یہ کہ مزدوروں کی ایک اجتماعی شخصیت کی کارفرمائی کے لیے سرمایہ دارانہ قانون میں گنجائش پیدا کی گئی۔ بالکل جس طرح کارپوریشن سرمایہ دارانہ دولت کی اجتماعی شخصیت ہے اس طرح ٹریڈ یونین، سرمایہ دارانہ محنت کی اجتماعی شخصیت ہے۔ ٹریڈ یونین محنت کی مارکیٹ میں مزدوروں (اور ہاریوں) کی مسابقتی کمزوری کو کم یا ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون اس کو محنت کشوں کا اجتماعی سودہ کار گردانتا ہے اور اس کے مخصوص حقوق (حق ہڑتال وغیرہ) تسلیم کرتا ہے۔ یونین کی قیادت کو مینجمنٹ کے سرمایہ کاری کے عمل میں شریک کار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسرا طریقہ ایک فلاحی ریاستی نظام کا قیام ہے۔ اس ریاستی نظام میں محنت کشوں کی نمایندہ جماعتیں یعنی سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں لبرل حکومتی مقننہ اور انتظامیہ میں شریک ہوتی ہیں۔ لبرل ریاستی نظام میں عوام کے اس حق کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ ان کی آمدنی ایک خاص حد سے گرنے نہ دی جائے گی۔ قومی سطح پر سوشل انشورنس اور پنشن کا ایک ہمہ گیر نظام کارفرما کیا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کی پالیسیوں کا مقصد یہ ہے کہ مزدور سرمایہ دارانہ نظام میں پوری طرح جذب ہو جائیں اور بڑھوتری سرمایہ کو اتنا ہی اپنا مفاد سمجھنے لگیں جتنا کہ دولت مند سرمایہ دار سمجھتے ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں کا قیام انیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوا۔ روس، جرمنی اور فرانس میں سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹوں میں اشتراک عمل تھا اور ان ممالک میں یہ دونوں دھڑے ایک مشترکہ جماعت کا حصہ بنے رہے۔ اس دور میں کئی بادشاہتوں (مثلاً بسمارک کے قیصر، لوئیس اور نپولین) نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اپنائیں۔ بیسویں صدی میں بالخصوص سوویت انقلاب کے بعد سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹوں میں فاصلے بڑھتے گئے اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں لبرل قوتوں کے قریب آتی رہیں اور ان کو کمیونسٹوں کے اصل دشمن کے طور پر پہنچانا جانے لگا۔

1920 کی دہائی میں برطانیہ میں ایک سوشل ڈیموکریٹ پارٹی برسراقتدار آئی اور 1920 کی دہائی میں جرمنی میں قائم ریپبلک بھی ایک سوشل ڈیموکریٹ حکومت تھی۔ روزویلٹ جو 1932 میں امریکا کا صدر منتخب ہوا اس نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اپنائیں اور فرانس میں سوشل ڈیموکریٹ اقتدار میں آتے رہے۔

لیکن سوشل ڈیموکریسی کے اصل عروج کا دور دوسری جنگ عظیم سے لے کر 1973 کا ہے۔ اس کو سرمایہ داری کا زریں دور کہتے ہیں۔ اس دور میں مغربی یورپ اور امریکا میں لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں قائم ہوتی رہیں لیکن ہر حکومت نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اپنائے رکھیں۔ ان پالیسیوں کو Keynesian کہا جاتا ہے۔ ریاست میں لبرل پارلیمانی نظام مستحکم اور بین الجماعتی انتخابی عمل جاری رہا۔ نجی سرمایہ دارانہ ملکیت پر کچھ حدود عاید کی گئیں اور بہت سے شعبوں میں قومی سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دیا گیا اور ان کا مارکیٹی عمل سے تعلق کمزور رکھا گیا۔ ریاست نے خود بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اور اس سرمایہ کو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارہ سے فنانس کیا گیا۔ ریاستی معاشی پالیسی کا اہم ہدف بے روزگاری کا خاتمہ تھا۔ سود اور غیر ملکی ترسیل زر کی مارکیٹوں پر کچھ پابندیاں عائد کی گئیں۔ قومی سطح پر تعلیم اور صحت کی فراہمی کے لیے حکومتوں نے بڑے پیمانے پر خرچہ کیا۔ جنگی اخراجات ہوش ربا انداز میں بڑھا دیے گئے۔ پورے دور میں امریکی معاشی اور عسکری بالادستی مستحکم رہی۔

1973ء سے 1979ء اس نظام کے انتشار کا دور ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکا کی ویت نام میں عبرت ناک شکست ہے۔ دفاعی اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے امریکا نے اس نظام کی مالی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیا جو 1944ء میں قائم کیا گیا تھا([89])۔ اس کی وجہ سے تجارتی اور فنانشل بحران رونما ہوئے۔ قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں۔ سرمایہ کاری منجمد ہو گئی اور بے روزگاری پھیلنے لگی۔ حکومتیں اپنے اخراجات محدود کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

اس کے نتیجہ میں مزدوروں اور ان کی یونینوں نے خود اپنی ہی سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں کے خلاف امریکا ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی میں بغاوت کر دی اور یہ ملک ہڑتالوں سے بھر گئے۔ یونین کے ممبران اور قائدین پوری طرح سرمایہ دارانہ روحانیت اور عقلیت اپنائے ہوئے تھے اور قومی آمدنی میں اپنے حصہ میں مستقل اضافہ کے خواہاں تھے۔ عوام نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کو غیر معقول اور بڑھوتری سرمایہ کی راہ میں رکاوٹ سمجھا اور ردعمل کے طور پر جمہوری عمل کے ذریعہ سوشل ڈیموکریسی کے حریفوں کو اقتدار سونپ دیا۔

اس نئے سیاسی رجحان کو نیولبرل ازم یا پوسٹ ڈیموکریسی کہا گیا([90])۔ نیولبرل ازم کی معاشرتی مقبولیت کا سبب سرمایہ دارانہ مارکیٹی عمل کی کارکردگی(efficiency) اور عدالت پر ایمان ہے۔ لبرل سرمایہ دار خواہ آجر خواہ مزدور خواہ پالیسی ساز اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ مارکیٹ کی خود کار، غیرجانب دار کارفرمائی کے نتیجہ میں اس کو اس کی کاوش کا اتناہی صلہ ملے گاجتنے کا وہ حق دار ہے۔ مارکیٹی عمل رسد اور طلب میں اپنی کارفرمائی کے نتیجہ میں توازن پیدا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے جسکے نتیجہ میں بے روزگاری ختم ہو جاتی ہے۔ سرمایہ کاری عروج کو پہنچ جاتی ہے اور معاشی اور معاشی گردشی بحران کا واقع ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دعوے جھوٹے ہیں اور نیولبرل سرمایہ داری کے غلبہ کے دوران (1989 تاحال) کئی معاشی بحران رونما ہوئے۔ سب سے بڑا بحران 2007-2008 میں آیا جو امریکا میں شروع ہوا اورجلد ہی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 22-2020ء میں بھی ہم ایک عمیق بحرانی دور سے گزر ے ہیں جس کے خاتمہ کے اثرات نظر نہیں آتے۔

ان بحرانوں کے باوجود نیولبرل جمہوریت کا غلبہ قائم ہے۔ حقیقتاً بحران نے نیولبرل غلبہ کو کمزور نہیں مضبوط کیا ہے اور وہ اقدار اور اخلاقی رویہ جو نیولبرل نظام کو مستحکم کرتے ہیں مضبوط اور مقبول ہوئے ہیں۔ کچھ ناقدین کی رائے میں نیولبرل نظام کا بنیادی تضاد یہ ہے کہ مارکیٹی کارفرمائی کا پھیلاؤ ارادہ اجتماعی کے اظہار کو محدود کر دیتا ہے اور افراد کے سرمایہ دارانہ حقوق معطل ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے نیولبرل تحکم کی عوامی جمہوری تائید میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ لیکن ارادہ اجتماعی اور سرمایہ دارانہ معاشی حقوق کی یہ تحدید جو 2008 کے بحران کے بعد یقیناً واقع ہوئی اس کے نتیجہ میں عموماً نیولبرل تحکم کی عوامی جمہوری تائید میں کمی نہ آ سکی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نیولبرل ازم کی نظریاتی بنیادیں سرمایہ دارانہ معاشروں میں مضبوط ہیں۔

بحرانی ادوار عوام میں قوت کی پرستش کا رجحان پیدا کرتے ہیں اور قیادت کا جواز ایسی عوامی تائید سے حاصل ہوتا ہے جو دستوری اور پارلیمانی کارفرمائی سے ماورا ہوتی ہے۔ کسی نہ کسی حد تک ہر ریپبلک اس نوعیت کی عوامی تائید پر انحصار کرتی ہے اور نیولبرل تحکم ان معنوں میں ایک ریپبلکن نظم جمہوری کے طورپر قائم کیاجا سکتا ہے۔ نیو لبرل حکم ران بحرانوں کو اپنے تحکم کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نیولبرل ازم کے عروج سے واضح ہوتا ہے کہ لبرل جمہوری ادارتی صف بندی اوراس کی فراہم کردہ آزادیاں تحکم سرمایہ کے لیے ناگزیر ہیں۔ نیوکلاسیکی ترتیب اقتدار فرد کو باور کراتی ہے کہ بڑھوتری سرمایہ کی جستجو کا عمل لازماً خطرات سے بھرپورہے اور ایک خطراتی معاشرت میں اپنا مقام تلاش کرنے کے علاوہ فرد کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ یہی سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے۔ اس خطراتی معاشرت کا بنیادی محرک ظن و تخمین کا وہ عمل ہے جسے سٹہ بازی (Speculation) کہتے ہیں۔ Speculative معاہدات کے پھیلاؤ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ تحکیم پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ معاشرہ کی تمام دولت اور وسائل گاہے گاہے securatrise ہوتے چلے جاتے ہیں۔

نیولبرل نظریاتی پھیلاؤ سرمایہ دارانہ انفرادیت کامعمارہے ۔ اس انفرادیت کا اظہار زندگی کے ہر شعبہ میں سرمایہ دارانہ عقلیت کی تابع داری سے ہوتا ہے۔ جمہوری سیاسی عمل مارکیٹ کا ایک شعبہ بن جاتا ہے اور ارادہ اجتماعی کا ہر وہ اظہار غیر معقول قرار پاتا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت سے ماخوذ نہ ہو۔ نیولبرل فرد مارکیٹی خود انحصاری کو ترقی اور عدل کی فراہمی کو ایک عقیدہ کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ نیولبرل نظام میں تمام ریاستی ادارے مارکیٹی تحکم قبول کر لیتے ہیں۔ نیولبرل ازم کو مغربی ممالک (امریکا، ہنگری، پولینڈ، آسٹریا اور فرانس) میں وافر عوامی تائید حاصل ہے اور فرانس کے علاوہ ان ممالک میں نیولبرل حکومتیں قائم کی گئی ہیں۔ نیولبرل حکومتیں جمہوری تائید اور تحرک کے نتیجہ میں قائم ہوئی ہیں۔ اس جمہوری تائید کی نظریاتی بنیادیں مشیل فوکو نے اپنی کتاب Birth of Biopolitics میں 1970 کی دہائی میں واضح کر دی تھیں۔

فوکو کے خیال میں نیولبرل ازم کلاسیکی لبرل ازم کے برخلاف مارکیٹ کی تحکیم کو مفروضی تصور نہیں کرتی بلکہ مارکیٹی تحکیم کی جدوجہد کرتی ہے اور اس کے لیے نظریاتی، ادارتی اور سیاسی پالیسی ایجنڈہ کی تنفیذ کرتی ہے۔ نیولبرل نظریاتی منہج 1930 کی دہائی میں دو آسٹرینی مفکرین Ludwig Von Mises اور Frederick Hayek نے مرتب کیا۔ 1930 کی دہائی عظیم سرمایہ دارانہ بحران کا دور تھا۔ جب لبرل سرمایہ دارانہ نظام قریب المرگ تھا اور فاشسٹ اور اشتراکی سرمایہ داری اس کو چیلنج کر رہی تھی ان دونوں مفکریں کو اس بات کا بھرپور احساس تھا کہ کلاسیکی لبرل نظام کی کمزوریاں اسے تباہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو ان کمزوریوں سے نبردآزما ہونے اور سرمایہ دارانہ تحکم کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی تجاویز مرتب کیں۔

لبرل ازم اور اشتراکیت کی طرح نیولبرل ازم بھی مذہبی مابعد الطبیعیاتی تصورات اور عقائد کو رد کرتا ہے۔ وہ حاکمیت الٰہی اور عبدیت انسان کا منکر ہے۔ نیولبرل ازم بھی اشتراکیت اور لبرل ازم کی طرح اپنے معاشرتی اور سیاسی غلبہ کا جواز ارادہ انسانی (یعنی ہیومن بینگ) میں متصور کرتا ہےرضائے الٰہی میں نہیں۔ مارکیٹ کی خود کارفرمائی سرمایہ دارانہ تعقل کا معاشرتی اظہار اور ریپبلکن جمہوری نظام کے تناظر میں ارادہ ہیومن بینگ کے تحکم کا مظہر ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت خطرات سے تحفظ کی تلاش میں رہتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اپنے مستقبل کا معمار تصور کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل ایک خطراتی معاشرہ میں انفرادی اور اجتماعی تحفظ کی پیہم جستجو کو منظم کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ نیوکلاسیکی تصور میں معاشی استحکام توازنی قوتوں کے ارتباط سے نہیں مستقل ہیجانی خلفشار، تبدل اور ارتقا سے پیدا ہوتا ہے۔ بحران سرمایہ دارانہ انتشار کا نہیں سرمایہ دارانہ استحکام کا باعث بنتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ ترقی پیداواری نظام پر فنانس کے تحکم کے قیام کا نتیجہ ہوتی ہے اور فنانشلائزیشن کی محرک قوت سٹہ بازی ہے۔ سرمایہ دارانہ ارتقا نیولبرل عقائد کے مطابق معاشی توازن کو درہم برہم کرنے سے ہی جاری رہتا ہے۔ نیولبرل نظریہ ریپبلکن تصور مارکیٹی خود انحصاریت اور غیر جانب داریت کو ان معنوں میں قبول کرتی ہے کہ وہ مستقل خطرات مول لینے ہی کو تحفظ کے حصول کا واحد ذریعہ گردانتی ہے۔

اب مارکیٹی عمل کو غیر جانب دار سمجھنا سرمایہ دارانہ کارفرمائی کے حقائق سے منہ موڑنا ہے۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے بہت سے دھڑے مارکیٹ کو اپنی اغراض کے حصول کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ نیولبرل الزام لگاتے ہیں کہ مارکیٹی عمل کی اس قسم کی تخریب کاری سوشل ڈیموکریٹ اشرافیہ کے فلاحی اقدام کا نتیجہ ہے۔

نیولبرل نظریات کی عوامی پذیرائی 1970ء کی دہائی میں شروع ہوئی جب عوام کے اندر خود انحصاریت نے فروغ پایا اور ایک ایسی شخصیت جو خطرات کو مول لینے اور بحرانوں میں ارتقا کی راہ نکالنے کی قائل تھی اورجو تحفظ کی جستجو ایک خطراتی معاشرت کے تناظر میں متلاشی تھی پیدا ہوئی ۔یہ انفرادیت وہ specualtion کے ذریعہ ایک ایسے محفوظ مستقبل کی تلاش میں لگی رہتی ہے جو ناقابل حصول ہے۔ امریکا کی دہشت گردی کی جنگ کو ایسے ہی افراد کی حمایت حاصل ہے اور یہ جنگ انہی خطوط پر لڑی جا رہی ہے۔

جیسے جیسے سرمایہ دارانہ بحران گہرا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے نیولبرل ازم کی عوامی حمایت بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ نیو لبرل معاشروں میں ذاتی اور ریاستی قرضہ کا حجم مستقلاً بڑھتا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ اجرتی معاہدہ غیر یقینی ہوجاتے ہیں۔ انسانی سرمایہ کاری کارکن کو خطرہ مول لینے والا، صلاحیتوں کا بیوپاری بننے پر مجبور کرتی ہے۔ ایسی انفرادیت ریاست کے مارکیٹی تسلط کو تسلیم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1980 کی دہائی سے آج تک جاری ٹیکس دہندگان کے جو کئی ٹریلین ڈالر بینکوں اور کارپوریشنوں کے دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے خرچ کیے گئے ان کے خلاف کسی عوامی مزاحمت کا اظہار نہیں ہوا۔

Paleo-conservatism وہ تحریک ہے جو نیولبرل ازم کی ہمہ گیریت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ اس عوامی رجحان کا مقصد ایک ریپبلکن مارکیٹی نظام کی تعمیر ہے ایک ایسا مارکیٹی نظام جس کو مخصوص اجارہ داریاں مجروح نہ کر رہی ہوں۔ Paleo-conservatism نیولبرل ازم کی ریپبلکن تعبیر ہے۔ یہ نیولبرل نظریات کی بنیادی مغربی بالخصوص امریکی تہذیبی روایات کا تغلب یقینی بنانے کی ایک کوشش ہے۔ اس کا مقصد عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل نو ہے جس کے نتیجہ میں یہ نظام مغربی یعنی امریکی مفادات کے فروغ کا ایک ذریعہ بن جائے۔ نیولبرل ازم مارکیٹی عمل میں سیاسی دخل اندازی کو محدود کرنا چاہتی ہے۔ اس کے برخلاف Paleo-conservatism ریاستی عمل کو بڑھوتری سرمایہ کے عمل سے ایک مخصوص انداز میں پیوست کرنے کی قائل ہے۔ یہ ایسی پیوستگی ہے جو مخصوص مفاداتی گروہوں کی مارکیٹی مداخلت کو ختم کر کے اور مارکیٹی کارفرمائی کو مغربی نسلی/قومی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا کے حاصل کی جاتی ہے۔ Paleo-conservatism استبدادی جمہوریتیں تشکیل دیتی ہیں۔ Paleo-conservative حکومتوں کی تائید عوامی تحرک پیدا کرکے کی جاتی ہے۔ یہ تحرک نسل پرست اور قومی عصبیتوں کو فروغ دے کر قائم رکھا جاتا ہے۔

Paleo-Conservatism گلوبلائزیشن کے خلاف نہیں بلکہ گلوبلائزیشن کے عمل کو امریکی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے۔ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکی ضوابطی نظام (regulatory system) کی عالمی کاروبار اور ترسیل زر پر شکنجہ مزید مستحکم کر رہی ہے اور اس کے بین الاقوامی، علاقائی اور دو طرفہ معاہدات کا یہی مقصد ہے۔ اس نے بین الاقوامی اداروں، آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او اور آئی پی او وغیرہ کو امریکی نوکرشاہی کے ذیلی دفاتر میں تبدیل کر دیا ہے۔

Paleo-conservatism سامراجیت کی نئی شکل ہے۔ وہ اپنا سب سے بڑا دشمن اسلام کو گردانتی ہے۔ نہایت تندہی سے اسلام کے خلاف دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اسرائیل اور بھارت کی قریب ترین حلیف ہے ۔مودی کی حکومت کو بھی ایک paleo-conservative ریاست کے قیام کا اولین معمار کہا جا سکتا ہے۔

جمہوریت کی یہ شرم ناک تاریخ ظلم، فریب، خباثت اور درندگی سے بھری پڑی ہے۔ اب ہم کفار کے ان ا فکار کا جائزہ لیں گے جو اس غلیظ اور پلید نظریہ کی وکالت کرتے ہیں۔

باب 3

پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات

(جمہوریت کے کافر نقیب)

ان مفکرین کی آراء میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس اختلاف کے باوجود ان میں چند عقائد یکساں ہیں یہ سب کافرا ور زندیق ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خیر وشر انسانی ذہن کی پیدوار ہیں یہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ا ن کی سعی لاحاصل کا مقصد دنیا میں جنت بنانا ہے۔یہ سب ریاستی نظام کے استحکام کے لئے عوامی تائید کو ضروری سمجھتے ہیں اور ان میں اختلاف اس ضمن میں ہے کہ یہ تائید کیسے مرتب کی جائے لہذا ہم ان سب کو جمہوریت کا نقیب کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ سب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوام براہ راست حکومت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔

مسلمانوں کو ان مفکر ین کا مطالعہ کرتے وقت اس فکر کے بنیادی اعتقادی تصورات سےآگاہ رہنا چاہیے اور انکے کلام کو غیرجانبدار اور آفاقی (natural and universal) تصور نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں اس بات پر زور دینا چاہئے کہ یہ سب دہریت کے وکیل ہیں اور ان کا مشترکہ کلمہ" لاالہ الا انسان" ہے۔

3.1۔ افلاطون

یہ پانچویں /چوتھی صدی عیسوی کا مشہور فلسفی ہے جس نے سقراط کی فکر کو مسخ کیا سقراط کا دہری (secular) فکر کی ارتقا میں مقام وہی ہے جو پال(Paul) کا عیسائیت میں ہے ۔افلاطون کو جمہوریت کا مخالف کہا جاتاہے ۔لیکن یہ بات درست نہیں حقیقت میں وہ ریپبلکن منہج کے کلیدی بانیوں میں شامل ہے اور اس نے اپنی مشہور کتاب کا نام The Republic ہی رکھا تھا ۔

افلاطون کی ریپبلک میں ایک عادل حکمران فرماں رواں ہوتا ہے جو اپنی غرض نہیں مفاد عامہ کے حصول کے لئے حکومت کرتا ہے ۔عدل مفاد عامہ کی جستجو کانام ہے اور ایک عادلانہ ریاست عادلانہ انفرادیت کی غماز ہے ۔افلاطون کے مطابق انسانی جبلت تین صفتوں میں معمور ہے ۔خواہش جذباتیت اور تعقل ،تعقل سے مراد وہ صفت ہے جو فرد کو مفادعامہ کے حصول کی جستجو پر مائل کرتی ہے۔

افلاطون کے خیال میں معاشرہ تین طبقوں پر مشتمل ہوتاہے ۔ایک طبقہ وہ ہے جو خواہشات کا اسیر ہوتا ہے اور اس طبقہ کے افراد کے عمل ان کے انفرادی اغراض ہی کے عکاس ہوتے ہیں ۔دوسرے طبقہ کے افراد کی محرک جبلت جذباتیت ہے ۔وہ معاشرہ میں عزت وجاہ کے طالب ہوتے ہیں تیسرے طبقہ کی محرک عقلیت (reason) ہوتی ہے اوراس طبقہ کے افراد مفاد عامہ کا تصور بھی رکھتے ہیں اور اس کے حصول کو مقدم بھی گردانتے ہیں لیکن یہ طبقہ معاشرہ میں سب سے مختصر ہوتا ہے زیادہ تر افراد اپنی خواہشات ہی کے اسیر ہوتے ہیں۔

تینوں طبقوں کا دائرہ کار جدا ہوتا ہے ۔خواہشات کے پیرو عوام (جو معاشرہ میں اکثریت ہوتے ہیں) کو محنت کش اور کاریگر ہو نا چاہئے جذباتیت پسندوں کو فوجی خدمات کے لئے مختص کیا جانا چاہئے اور اہل تعقل (rational) طبقہ حکمرانی کے فرایض انجام دینے کے لئے موزوں ہے۔ افلاطون کی رائے میں ریاستی ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا جائے کہ ہر طبقہ وہی کرے جس کے لئے فطرتاً اور جبلتاً موزوں ہے جراعت مند اور عقلمند طبقہ کو تلاش معاش اور پیداوری اور تجارتی نظام کی ذمہ داریوں سے بری ذمہ کردیا جائے ۔

حکومت کرنا عقلمندوں (rationalists) کا فرض ہے کچھ مقامات پر افلاطون لکھتا ہے کہ یہ عقلمند جرائت مند طبقے کی ایک عقلیت ہو گی۔ یہ حکمران مفاد عامہ کو اپنے ذاتی اور گروہی مفاد پر ترجیح دیں گے اور ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ ان اصولوں کی تخلیق اور تفویظ کریں جن پر کاربند ہوکر مفاد عامہ کی جستجو جاری رکھی جاسکتی ہے ۔بقول افلاطون یہ طبقہ فلسفی بادشاہوں پر مشتمل ہوگا۔

افلاطون کا تصور عدل طبقاتی ہے ۔بقول افلاطون "عدل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کا حق دیا جائے "لیکن یہ حق ہیومن رائٹس وغیرہ قسم کی چیزیں نہیں بلکہ ہر فرد کو اس کی صلاحیت کے مطابق معاشرہ میں کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔عوام کا حق ہے کہ ان کو محنت کشی کے مواقع فراہم کئے جائیں اور انہیں حکمرانی کے عمل سے لاتعلق کردیا جائے ۔فلسفی بادشاہوں کا حق ہے کہ انہیں پیدواری اور تجارتی عمل میں شرکت سے مستثنی ٰ کرکے حکومت کرنے کی ذمہ داریاں سونپی جائیں ۔ایک عادلانہ ریاست اس نوعیت کے تقسیم کا ر کو ممکن بناتی ہے ۔یہ مفاد عامہ کی ایک واضح مادیاتی (materialistic) تعبیر ہے ۔

افلاطون کی رائے میں اس کا یہ مخصوص تصور عدل بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جب ریاست (republic) اس کی فراہمی کا انتظام کرتی ہے تو وہ دوسرے تمام اوصاف حمیدہ (virtues) کے فروغ کو ممکن بناتی ہے ۔عدل کا تقاضہ ہے کہ ہرفرد اپنی فطری جبلت کے اظہار کو اجتماعی مفاد کے حصول کی جدوجہد سے ہم آہنگ کرے ۔ایک عادلانہ ریاست اس نوعیت کی ہم آہنگی معقول طریقہ سے منظم کرتی ہے کیونکہ اس کے کام عالمی(universable) اور عاقل (rational) ہوتے ہیں۔

افلاطون کے یہاں آزادی کا ایک محدود تصور ملتا ہے ۔ظاہرہے کہ اس کی تصوراتی ریاست میں عوام تو آزاد نہیں ہوتے وہ اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہوئے فلسفیوں کی حکمرانی کو قبول کرتے ہیں ۔حکمران آزاد ان معنوں میں ہوتے ہیں کہ عقل (reason) کی رہنمائی میں وہ اصول تخلیق اور تفویض کریں جو مفاد عامہ کے حصول اور معاشرتی تقسیم کار کی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہیں ۔تحریک تنویر کے لبرل دھارے نے اس تصور آزادی کی تردید کی لیکن ریپبلکن فکر نے اس تصور کو قبو ل کیا ۔

افلاطون کی ریپلکنزم (Republicans) ایک عادلانہ ریاست کی کارفرمائی میں عوامی حمایت کو ضروری تصور کرتی ہے گو وہ حکومتی عمل میں عوامی مداخلت کی قائل نہیں ۔عوامی حمایت کو فروغ دینے کا اصل ذریعہ افلاطون تعلیمی نظام کی اصلاح کوسمجھتاہے اجتماعی مفاد کا حصول اس بات پرمنحصرہے کہ سیٹیزن کی تعلیمی تربیت کا مؤثر اہتمام کیا جائے ۔یہ واضح ہے کہ افلاطون کے ہاں سیٹزن سے مراد وہ فلسفی بادشاہ ہیں جو حکومت کرنے کا دائمی حق رکھتے ہیں ۔

یہ دائمی فلسفی بادشاہ کسی قانون کے پابند نہیں ۔فلسفی بادشاہوں کی ایسی تعلیمی تربیت کی جانی چاہئے کہ وہ اپنی فکر کی رہنمائی میں جو فیصلہ کرناچاہیں کریں ۔ ایسا تعلیمی نظام وضع کیا جائے جو عوامی رائے کی ریاستی عمل میں مداخلت کو ناممکن بنادے ۔ عوام کو صرف وہ تعلیم فراہم کی جائے جو ان کے پیشوں کے لئے مفید اور ضروری ہو ۔فلسفی بادشاہوں کی تعلیم مدت تک جاری رہے اور اس میں فلسفہ کلیدی اہمیت کا حامل ہو۔

افلاطون کی ریپبلک میں ذاتی ملکیت کو محدود کیا جائیگا عوام کو ذاتی ملکیت رکھنے کا حق ہوگا اور عوامی ملکیت کی کوئی حدود مقرر نہ کی جائیگی لیکن فلسفی بادشاہ اور ان سے متعلق ریاستی اشرافیہ کے ارکان کو ذاتی ملکیت رکھنے کی اجازت نہ ہوگی ۔حکومتی اشرافیہ کے طبقوں میں مناکحت بھی ممنوع ہوگی اور نسلی افزائش آزاد شہوت رانی پر منحصر ہو گی۔ ریاست اس آزاد شہوت رانی کی نگرانی (regulation) کرے گی تاکہ بہترین صلاحیت رکھنے والی نسل پیدا ہو جو مفاد عامہ (common good) کے حصول کی جستجو کو مقدم رکھے ۔ریاست بچوں کی نگہداشت کریگی اور خاندان بالکل ختم ہوجائیں گے تمام فلسفی بادشاہ تمام بچوں کے مشترکہ والدین تصور کئے جائیں گے ۔بیمار ،معذور اور مخبوط الحواس بچے (جو اشرافیہ کے ہاں پیدا ہوں قتل کردیئے جائیں گے۔ افلاطون اسقاط حمل (Abortion) کا زبردست حامی ہے کئی مفسرین کے مطابق افلاطون اغلام بازی کا بھی حامی تھاگو کہ اسکا ثبوت (Republic)میں نہیں ملتا۔

افلاطون رپبلکن نظام میں عوام کو آزادی فراہم کرنے کا مخالف ہے کیونکہ اس کے خیال میں عوام "مفاد عامہ" کا شعور نہیں رکھتے اور عوامی تحرک غریبوں اور امیروں میں مستقل کشمکش کا ذریعہ بنتا ہے جس سے مخاطبین (rhetoricians ) فائدہ اٹھا کر ریپبلکن نظم ملکیت کو تتربتر کررہے ہیں ۔عوام حکمرانی کی اہلیت نہیں رکھتے۔ حکومت کرنا ایک مخصوص(specialized) اشرافیہ کی ذمہ داری ہونی چاہئے ۔ایک ایسی اشرافیہ جو خود غرض نہ ہو اور مفاد عامہ (common good) کا صحیح شعور رکھے ۔

اس اشرافیہ کی ذمہ داریاں افلاطون اپنی کتاب (The Statesman) میں بیان کرتا ہے ۔فلسفی بادشاہ ایک ریاستی ماہر (Statesman) ہوتا ہے۔ Statesmanship ایک آرٹ ہے جس کے ذریعہ عوام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یعنی عوام میں ایسی شخصیت تعمیرکی جاتی ہے جو اپنے ذاتی اغراض اور خواہشات کے حصول کی جدوجہد حصول مفاد عامہ کی جدوجہد سے مربوط کر دیں۔ یہ بہتری کیسے بروئے کار آئی گی اس کا عوام کو شعور نہیں ہوتا لہذااسٹیٹ مین (statesman ) اس کی پروا نہیں کرتا کہ عوام "بہتر بننا چاہتے ہیں یا نہیں۔statesman قانون ساز بھی ہوتا ہے۔ وہ قانون اور نظام تعلیم دونوں کو عوام کو بہتر بنانے کے ذرائع کے طورپر استعمال کرتا ہے ۔

جو ریاستی نظا م قائم کیا جاتا ہے وہ دستوری اور قانونی ہوتا ہے اور اس ریاستی نظام میں عوامی شرکت کی کچھ نہ کچھ گنجائش ہوتی ہے بشرطیکہ عوام تحکم قانون کو قبول کریں قانون جوکہ statesman بناتا ہےاس کی تنفیذ اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ عوام خود غرضانہ مقاصد کی جستجو میں معاشرتی فساد نہ برپا کریں گے۔ اپنی کتاب (The Laws) میں افلاطون یہاں تک کہتا ہے کہ "تحکم قانون فلسفی بادشاہ کی حکمرانی کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے یہ قانون عقلیت (reason) سے ماخوذ ہوتا ہے قانون کو ارادہ عمومی (general will) اور مفاد عامہ کا مظہر ہونا چاہئے ۔اپنے کتاب (The Laws)میں افلاطون معاشرتی طبقاتی تقسیم کے تصور کو رد کرتا ہے اور قانون کو معاشرتی یکجائی اور استحکام (stablity ) کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھتا ہے ۔وہ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ دنیا میں اس کی (ideal) تصوراتی رپبلک قائم نہیں ہوسکتی ۔بہترین ممکن الوجود ایک ایسی دستوری ریاست ہےجس میں تحکم قانون نافذہو اور جس میں ریاستی اختیار عوام اور اشرافیہ کے درمیان تقسیم کئے گئے ہوں ۔اس نظام میں ریاستی عمل میں عوامی شمولیت موجود ہوتی ہے ۔

The Laws میں افلاطون اپنے نظریہ ملکیت میں بھی ترمیم کرتا ہے اس ریاست میں اراضی کی تقسیم مساویانہ ہوگی لیکن غیر اراضی دولت کی تقسیم غیر مساویانہ ہوگی ۔ہر سیٹیزن کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنی اراضی کے مقابلہ میں چار گنا غیر اراضی دولت کا مالک ہو اس سے زیادہ کا نہیں۔ جمہوری عمل میں شمولیت کی تقسیم دولت کی تقسیم کے مطابق تصور کی گئی ہے ۔کم دولت رکھنے والے طبقہ کا حق رائے دہی (franchire)محدود ہوگا ۔ریاست املاک اور تجارت کو منظم (regulate) کرنے کی ذمہ دار ہوگی ۔

The Laws میں سیٹیزن شپ کا تصور موجود ہے ۔غلاموں اور غیر ملکیوں (metria) ریاست کےعلاوہ تمام باشندوں کو سیٹیزن شپ کے حقوق حاصل ہوں گے لیکن ریاستی عمل میں ان کی شرکت ان کی دولت مندی متعین کریگی اس کتاب میں افلاطون کو احساس ہے کہ ریاستی امن اور استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ عوام کو ریاستی عمل میں شرکت کے کچھ مواقع فراہم کئے جائیں لیکن اس کا زور ان مواقعوں کو محدود اور منظم (regulate) کرنے پر ہی ہے ۔

تمام وہ سیٹیزن جو فوجی خدمات دینے کی اہلیت رکھتے ہیں اسمبلی میں شرکت کرسکتے ہیں لیکن وہ صرف حکومتی کونسل اور عدلیہ کے انتخاب کا حق رکھتے ہیں، انتخابی عمل دولت کی تقسیم کا عکاس ہے اور حکومتی کونسل میں دولت مند طبقہ کی نمائندگی غرباء سے زیادہ ہوگی ۔

افلاطون کئی جگہ دولت اور نیکی (virtue) کو ہم معنی تصور کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔دولت مند وہ طبقہ جو The Laws کے مطابق زیادہ فہم اور زیرک ہے اور اس وجہ سے اس کو عوام کی نگرانی کا مستحق گردانا گیا ،لہٰذا دولت مند طبقہ کو ریاستی تحکم کے حقوق اور فرائض سونپے جانے چاہیں چنانچہ اس اسکیم کے مطابق وزیر اعلیٰ جسے اطلاطون وزیر تعلیم کہتا ہے کے انتخاب کا حق خفیہ رائے دہی کے تحت عدلیہ کے ارکان (magistrate) کو سونپا گیا ہے ۔افلاطون ایک خفیہ کونسل (nocturial council) کے قیام کی بھی تجویز دیتا ہے ۔یہ غیر منتخب ادارہ جو ریاستی عمال اور بت پرست مذہبی رہنماؤں پر مشتمل ہوتی ہے ۔اس کو جمہوری عمل اور منتخب ریاستی افسران کی نگرانی پر مامور کیا گیا ہے ۔

افلاطون کے یہاں آزادی اور مساوات کے محدود تصورات ملتے ہیں انسانیت کا ایک طبقہ )فلسفی بادشاہ،اسٹیٹ مین ( آزاد ان معنوں میں ہے کہ وہ خرد(rational) کے استعمال کے ذریعہ خیر کے حصول کی جدوجہد مرتب کرنے کا مکلف ہے۔ تمام انسانوں کی عقلی صلاحیت (rationality) یکساں نہیں لہذا یہ حق فلسفی بادشاہ اسٹیٹ مین کا فرض ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کرے ۔ان کو خیر کے لئے منظم (regulate) کریں لیکن عوام جن جبلتوں سے محرک ہوتے ہیں یعنی خواہشات ) وہ بھی جائز ہیں اور حصول انفرادی اغراض کی جدوجہد کو حصول مفاد عامہ سے منطبق کیا جاسکتا ہے ۔لہٰذا عوام کو یہ حق ہے کہ وہ کسی نہ کسی حد تک ریاستی تحکیمی عمل میں شریک ہوں اور ایک دستوری قانونی ریاست اشرافیہ کی تحکیمی بالادستی اور عوامی شرکت ریاستی عمل کی بہترین متوازن تشکیل ہے ۔

افلاطون کے یہ نظریات نہایت دیریا ثابت ہوئے انہوں نے استبدادی اور اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستی عمل کو بہت متاثر کیا ہے ۔اس لئے ہم افلاطون کو جمہوری فکر کے بانیوں میں شمار کرتے ہیں۔

3.2۔ ارسطو

ارسطو افلاطون کا شاگر د تھا ۔اس کے سیاسی فلسفہ میں دستوریت اور تحکم قانون کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ارسطو کے مطابق ریاست کے قیام کا مقصد عدل کا حصول ہے اور عدل یہ ہے کہ انسان ایک پر مسرت، خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل ہوجائے ۔ارسطو اس چیز کو eudemonia کہتا ہے جس کے لغوی معنی خوشحالی (happiness) کے ہیں۔ ریاست کے باہر انسانی زندگی بے معنی اور غیر مربوط ہوتی ہے ۔بہترین ریاست وہ ہے جو اپنے تمام باشندوں کو خوشحال زندگی فراہم کرے ۔خوشحال زندگی کا حصول اجتماعی مفاد (common good) کی فراہمی سے ہوتا ہے اور ایک اچھی (good) ریاست وہ ہے جو صرف اپنے حکمرانوں کے مفاد کو فروغ نہیں دیتی بلکہ تمام باشندوں کے باہمی مفاد کے حصول کی جستجو کرتی ہے ۔

ایک عادلانہ ریاست دستوری ہوتی ہے دستور وہ بنیادی قانون ہے جو ریاست کے باشندوں میں اختیارات اور حقوق کی تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے ۔دستور تاریخی روایات اور رسومات (customs) کو اپنے اندر سمو لیتا ہے ۔ایک عادلانہ ریاست کے قیام کا مقصد خوشحالی (eudemonia)کا فروغ ہے لیکن خوشحالی محض دولت کی فروانی سے حاصل ہوسکتی نہ ریاستی عہدوں کی مساویانہ تقسیم سے ۔

ارسطو تین عادلانہ دساتیر کی نشان دہی کرتا ہے ۔یہ تینوں دساتیر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ریاست کی کارفرمائی کا مقصد خوشحالی(eudemonia) کا فروغ ہے اور یہ دساتیر ریاستی عہدوں کی تقسیم اہلیت (ability) کی بنیا دپر کرتے ہیں ۔اسی وجہ سے ارسطو ان دساتیر (کو عادلانہ گردانتا ہے یہ دساتیر بادشاہتmonarchy اشرافیہaristocracy ) اور جمہوریت (polity) نظام ریاست کو متشکل کرتے ہیں ۔

پالٹی (polity) عوام کی نہیں عوام کے مفاد عامہ (eudemonia) کو یقینی بنانے والی حکومت ہے، اس میں ہرفرد مساوی قانونی حقوق رکھتا ہے ۔فلسفی بادشاہت کی حکمرانی کو ارسطو رد کرتا ہے لیکن عدل کا تقاضہ ہے کہ جائیداد(property) کو تحفظ فراہم کیا جائے لہذٰا (دولت مندوں (مالکان جائیداد کا یہ حق تسلیم کیا جانا چاہئے کہ وہ ریاستی اختیارات میں شرکت حاصل کریں، یہ حقوق لازماً غیر مساویانہ ہوں گے ۔عوام کی حکومتی نظام پر اجارہ داری غلط ہے کیونکہ عوام ریاستی معاملات کو چلانے کی مساوی اہلیت نہیں رکھتے اور نہ خوشحالی (eudemonia) کے فروغ میں مساوی حصہ ڈالتے ہیں ۔

لہٰذا مطلق آمریت کا حق نہ عوام کو تفویض کیا جاسکتا ہے نہ اہل املاک کو ۔پولٹی (polity) میں حاکم مطلق (sovereign) قانون ہے۔عدل کا تقاضہ ہے کہ قانون ایسے مقبول عام اور معاشرہ میں رائج اصولوں پر مبنی ہوں جن کا اطلاق سب پر مساویانہ ہو ۔اس کے علاوہ قانونی نظام میں ایسے اصولوں کی کارفرمائی کی بھی گنجائش ہو جو مخصوص حالات سے نبردآزما ہونے کےلئے گاہ گاہ تفویض کئے جاتے ہیں، ان اصولوں کی بنیاد پر کی گئی ضوابط کو ارسطو equity and adjulcation کہتا ہے اور ان کو رواجی اور رسومی قانون کے مقابلہ میں ارسطو بہتر گردانتا ہے کیونکہ یہ خصوصی طور پر مفاد عامہ /خوشحالی (eudemonia) کو فروغ دینے کے لئے بنائے جاتے ہیں دساتیر قانون کا ماخذ ہوتے ہیں ۔

ارسطو کئی قسم کی جمہوریتوں کے وجود کا قائل ہے ۔کوئی ریاست کتنی جمہوری ہوگی اس کا تعین آبادی کی مقدار(size) طبقاتی تقسیم ،طبقاتیرجحانات اور طبقاتی تقسیم قوت اور اثرکی بنیاد پر ہوگا ۔ارسطو کے مطابق بدترین جمہوری نظام وہ ہے جہاں ملکیت(property ownership) کو تفویض رائے دہی کے اصول کے طورپر سرے سے نظر انداز کیا جاتا ہے اور جہاں عوام کو ریاستی کارفرمائی کی انجام دہی کے عوض اجرتیں دی جاتی ہیں اس کے نتیجہ میں جمہوری حکومت (mob rule) قائم ہوتاہے جو عدل(فروغ خوشحالی) کے تقاضوں کو یکسر نظر انداز کردیتی ہے ۔بہترین ممکن العمل (practical) جمہوری نظام وہ ہے جس میں زرعی کاشتکاروں کی اکثریت ہوتی ہے جو ریاستی اختیارات باصلاحیت پروفیشنل اہل کاروں کو سونپ دیتے ہیں۔ارسطو کے خیال میں اس بہترین ریاست میں قوت رہتی تو عوام کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اس کا استعمال صرف ان حالات میں کرتے ہیں جب پروفیشنل انتظامیہ بدنظمی اور کرپشن کا شکار ہو اور عوام کے اس اختیارات کے استعمال کے نتیجہ میں محض ایک پروفیشنل گروہ کی جگہ ایک دوسرا پروفیشنل گروہ برسراقتدار آجاتا ہے۔ اس بنا پر کچھ محققین نے ارسطو کو نمائندہ جمہوری (representative democratic) فکر کے بانیوں میں شمار کیا ہے ۔

ارسطو کی رائے میں ایک بہترین جمہوریت وہ ہے جہاں مالکان کی ایک بڑی تعداد صاحب اقتدار ہو اور وہ اپنے اختیارات ایسے ذاتی مفاد کے فروغ کے لئے نہیں خوشحالی(eudemonia) کے فروغ کے لئے استعمال کرے ۔ایک بہترین دستور ارسطو کے مطابق عوامی اور اشرافیہ حقوق و فرائض کی متوازن (balanced) تقسیم کرنا ہے ۔عوامی اور اشرافیہ (oligarchy) قوت میں یہ توازن قائم رکھنے کے لئے بقول ارسطو ضروری ہے کہ ایک بڑے متوسط طبقہ (middle class) کو بااختیار بنایا جائے ۔یہ متوسط طبقہ عوام اور اشرافیہ میں "انتہا پسند "رجحانات کو دبانے اور انہیں اشتراک عمل پیدا کرنے کا باعث بنے گا جس کے نتیجہ میں عام خوشحالی(eudemonia) فروغ پائےگی، عوام براہ راست اقتدار استعمال کرنے کے اس لئے اہل نہیں کہ وہ "روحانیت"(sprit) سے محروم ہیں "روحانیت " سے ارسطو کی مراد وہ جزبات ہیں جو فرد کو مفاد عامہ (خوشحالی) کو ذاتی مفاد ات پر ترجیح دینے پر اکساتے ہیں ۔عوام ذہنیت (rationality) سے بھی محروم ہیں وہ دولت مندوں سے حسد کرتے ہیں اور ایسے پیشہ ور مقررین (demogoniges) کے جال میں باآسانی پھنس جاتے ہیں جو انہیں ارتکاز دولت کے خلاف بغاوت اور انقلاب پر اکساتے ہیں ۔بقول ارسطو انقلابی عمل کا نتیجہ محض ایک استبدادی حکومت (Tyranny) کا قیام ہوتا ہے ۔اشرافیہ (autocrats) بھی حریص اور حاسد ہوتی ہے اور ان میں دھڑے بندی (factions) اور مسابقت کا جزبہ ہوتا ہے یہ طبقہ متوسط ہی ہے جو اوصاف حمیدہ رکھتا ہے اور اس ہی کو ریاستی انتظامیہ کے نگراں کا کردار ادا کرنا چاہئے ۔

ارسطو حق رائے دہی (franchise) کو ملکیت (property ownership )کی بنیاد پر محدود کرنے کا قائل ہے لیکن یہ تحدید مختصر (modest) ہو گی اوروہ طبقہ متوسطہ کی بھرپور نمائندگی ریاستی نظام میں رکھنے کا خواہاں ہے ۔توسیع حق رائے دہندگی کے باوجود کسی بھی جمہوری نظام میں عوام کو براہ راست حکومت کرنے کا حق نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ جمہوری نظام کا مقصد ہی نہیں ۔

ارسطو کے مطابق عوام حکومت میں شرکت کے خواہاں ہوتے ہیں وہ ریاستی نظام میں مخل تب ہوتے ہیں جب انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کےحکمران بدانتظامی یا لوٹ مار میں ملوث ہیں۔ ارسطو اس بات پر زور دیتا ہے کہ کوئی ریاست اپنے عوام سے اخلاقی طور پر بہتر نہیں ہوسکتی لہذا عوام کی اخلاقی تربیت پر توجہ دینا ریاست کا اہم فرض ہے "اخلاقی تربیت سے مراد محض یہ ہے کہ عوام اور خواص میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ اجتماعی خوشحالی کو فروغ دینے کو ذاتی مقاصد کے حصول پر ترجیح دی جائے ۔

بنیادی لبرل حقوق کا مبہم سا تصور بھی ارسطو کے ہاں ملتا ہے ۔مثلاً وہ حق شخصی ملکیت کا قائل ہے ۔ذاتی ملکیت کے وجود اس لئے ضروری ہے کہ وہ سیٹیزن کو ایسی فرصت(leisure) فراہم کرنے کا ذریعہ ہے جس کے بغیر سیٹزن ریاستی معاملات میں شریک ہونے کےلئے وقت نہیں نکال سکتا اور نہ ایک خوشحال پر مسرت (pleasurable) زندگی گزار سکتا ہے۔ ارسطو(برخلاف افلاطون) انفرادی آزادی کی فراہمی کا بھی قائل ہے اور اس کے خیال میں قانون کی حکمرانی یہ یقینی بناتی ہے کہ ہر شخص انہی قوانین کا تابع ہو جن کی تخلیق اس کی غرض کے مطابق ہوتی ہے۔ رسوم روایات (customs) ایسے قوانین ہیں جن کو عوامی پذیرائی اور وابستگی (loyalty) حاصل ہے ۔یہ قوانین ارسطو کی رائے میں ان قوانین سے بہتر ہیں جو کسی انفرادی قانون ساز نے وضع کئے ہیں کیونکہ تاریخی اجتماعی تعقل (collective rationality ) کے عکاس ہیں ۔قانون کی حکمرانی معاشرتی استحکام کی ضامن ہے ۔قانون کی حکمرانی عدل کا تقاضہ اور حصول خوشحالی کے لئے ضروری ہےکہ ایک ریاست کا قیام ہو ۔

ایک کامل ریاست (perfect State) دوقسم کی اشیاءکی فراہمی کا انتظام کرتی ہے وہ اشیا جو بدن کی پرورش کے لئے ضروری ہیں اوروہ اشیاء جو روحانی ترقی کا ذریعہ بنتی ہیں ۔جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا روحانی ترقی سے مراد ارسطو کے ہاں محض یہ ہے کہ فرد اجتماعی خوشحالی(eudemonia) کے حصول کو ذاتی اغراض پر مقدم رکھنے کے صلاحیت پیدا کرے ۔روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ریاست ملک میں امن وآشتی اور متوازن استحکام پیدا کرنے کی مستقل جدوجہدکرتی رہے ، اس کے باوجود بقول ارسطو ایک کامل ریاست بیرونی جنگیں جاری رکھے گی ۔

ارسطو کی فکر میں مادی ضروریات کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے لیکن لامتناہی ترقی (progress) کا تصور اس کے ہاں نہیں ملتا ۔کامل ریاست کو اتنا بڑا ہونا چاہے کہ سٹیزن ایک متوازن آسودہ زندگی بسرکرسکیں ۔ارسطو کے مطابق مادی ضرورت فرصت کی فراہمی ہے جس کے بغیر روحانی ترقی کا حصول ناممکن ہے ۔یہ فرصت سیٹیزن کو میسر اس لئے آئے گی کہ زیادہ پیدواری کارگردگی وہ غلام انجام دیں گے جو سیٹیزن نہیں ہیں۔ معاشی عمل کا مقصد ارسطو کی کامل ریاست میں منافع کا حصول نہیں خود کفالت کا حصول ہے ارسطو سودی لین دین کا بھی مخالف تھا۔

کامل ریاست جن دائرہ کا ر کی نگرانی کرے گی وہ زراعت ،دستکاری، (craft) دفاع، مذہبی امور اور انتظامیہ ہیں ۔ریاست پر مسرت زندگی گزارنے کے لئے مادی وسال کی فراہمی کی اور ذاتی صلاحیتوں اور اخلاقی تربیت کی ذمہ دار بھی ہوگی ۔صلاحیتوں کے فروغ اور اخلاقی تربیت ایک موزوں تعلیمی نظام وضع کرکے فراہم کیا جائیگا ۔اس نظام تعلیم میں اخلاقی تربیت کے فروغ کے لئے آرٹ اور موسیقی خاص ذرائع ہوں گے ارسطو کے مطابق موسیقی روح کی غذا ہے (موسیقی کی تعلیم میں وہ کلاسیکی یونانی ادب کو خاص اہمیت دیتا ہے)۔

ارسطو کی فکر کا عیسائی قرون وسطیٰ کی تعلیمات پر بہت گہرا اثر پڑا۔ نویں /دسویں صدی عیسوی میں معتزلی فکر بھی ارسطو کی تفریکات چربہ تھی ۔فارابی اپنے آپ کو ارسطو کا شاگرد کہتا تھا۔ امام غزالیؒ نے ارسطو کے مابعد الطبعیاتی مفروضات کی جامع تنقید اپنی مشہور کتاب تہافتہ فلاسفہ میں پیش کرکے اسلامی فکر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا ۔اس میں شک نہیں کہ ارسطو ایک کافر تھا اور اس کا تصور انسان (Ontology) اور علمیت (Epistomology) خالص الحاد ی بنیادوں پر قائم ہیں ۔اس کا تصور جمہوریت اس کے انہیں فاسد عقائد سے برآمد ہوتا ہے اور لاالہ الا انسان کے کلمہ خبیثہ کی ایک سیاسی تشریح ہے ۔وہ کائنات کی ابدیت (intirinity) کا قائل تھا اور اس کی کامل ریاست دنیا میں جنت بنانے کی سعی کی ایک تصویر ہے ۔

تحریک تنویر ارسطو کی فکر سے بغاوت کا اعلان کرتی ہے لیکن یہ بغاوت ادھوری ہے کیونکہ حقوق ہیومن بینگ (human being) اور آزادی کا ایک تصور ارسطو کے ہاں بھی ملتا ہے اور تحریک تنویر ان تصورات کی سرمایہ دارانہ تشریح مرتب کرتی ہے ۔

3.3۔ مکیاویلی(Maciavelli):

عیسائی غلبہ کے پہلے گیارہ سوسالہ دور میں جمہوریت کا کوئی وکیل نہیں تھا (St.Augestine/ St.Ambrose) کی فکر شہنشاہ روم کو حضرت عیسیٰ کی "دوسری تلوار "تصور کرتی تھی اور سلطنت اور کلیسا میں معاشرتی اقتدار کی تقسیم کے قائل تھی ۔اس پورے دور میں نہ ریاستی ،معاشرتی ادارتی صف بندی کی جمہور کاری کی گئی اور نہ اس کا کوئی وکیل پیدا ہوا ۔

جس روش کو آج ماڈرن ازم (mdernism) کہتے ہیں اس کے بانی سیاسی مفکرین میں میکیا دیلی نہایت اہم ہے ۔یہ عوام اور حاکم ریاست)جسے یہ the princeکہتا ہے( کی تعلقات سے بحث کرتا ہے ۔اس کی نظر میں ایک ماڈرن ریاست میں قوت کا سرچشمہ حاکم نہیں عوام ہوتے ہیں ۔ریاستی دستور محض عوام کو حکام کی مرضی کے مطابق چلانے کا ذریعہ نہیں ہوتا ۔حاکم اقتدار اعلیٰ (soverignity) کی علامت (symbol) ہوتا ہے اور اس کی یہ علامتی حیثیت ان ریاستوں میں بھی موجود ہوتی ہے جو اصول مساوات پر مبنی یعنی ریپبلک ہوتی ہیں ۔سولہویں صدی کے اس کافر مفکر کو ریپبلکن فکر کی تشریح میں ایک اہم مقام حاصل ہے)اس کی مشہور کتاب 1531 The prince عیسوی میں لکھی گئی جب وہ جیل میں تھا ۔

مکیاویلی حالت جنگ او رحالت امن میں اصولاً تفریق نہیں کرتا ،وہ کہتا ہے کہ ایک رپبلک کے اندرونی حالات ریاستوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت سے مماثل ہوتے ہیں ۔دونوں نوعیت کے تعلقات مستقل جاری رہنے والی کشمکش سے تعمیر ہوتے ہیں ۔حالات جنگ و امن اس مسلسل کشمکش کا مظہر ہوتے ہیں، ماڈرن دور میں جنگ محض علاقہ فتح کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ریاستی اندرونی کشمکش کو جاری رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے ۔

اپنی کتاب The Discourses میں مکیاولی کہتا ہے کہ ریاستی اندرونی تعلقات کو برتنےکے لئے محض قوت کے استعمال پر انحصار حکمراں کے لئے پرخطر ہوسکتا ہے وہ فصیلوں(forts) کی افادیت کا قائل نہیں کیونکہ فصیلیں جنگی پیش رفت اور پسپائی (Mittery Manuvres) کو ناممکن بنادیتی ہیں۔ اس کے برعکس فوج (army) کا استعمال جنگی پیش رفت اور پسپائی ( cavalry manuvres) کے لئے موزوں ہے بالخصوص اگر یہ فوج عوام (the people) پر مشتمل ہو نہ کہ کرائے کے فوجیوں پر ۔

ریپبلک کے اندر امن برقرار رکھنے لئے قلعہ بندی ناکارہ ہے حاکم کاسیاسی تزویراتی حکمت عملی (political strategy) کااستعمال ریاستی نظام میں عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے لازم ہے۔ ریاستی استحکام قوت کے استعمال سے نہیں ایسی سیاسی تزویراتی حکمت عملی کی تفویض سے حاصل ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں ریاستی نظام کو عوامی تائید حاصل ہو۔ریاستی نظام کو عوام میں پیوست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قوت کے استعمال کو سیاسی حکمت عملی کا ایک مربوط جزو بنایا جائے ۔

عوام میکیا دیلی کے مطابق حکمران کے لئے ایک وسیلہ (element of fortune) ہیں۔ ریاستی نظام عوام میں جڑیں رکھتا ہے اور عوام حکمران کو اس کے ذریعہ چھو سکتے ہیں لیکن ریاستی عمل کا ایک مقصد عوام کی تشکیل اور تعمیر بھی ہے ۔ریاستی نظام عوام سے بالاتر ہے اور عوامی تائید کا یہ مطلب نہیں کہ ریاستی کارفرمائی میں عوام شریک بھی کئے جائیں گے۔ حکمراں عوام سے ایک فاصلہ پر رہتاہے اور ریاستی قوت کا استعمال عوام کے اوپر کیا جاتا ہے ان میں سے برآمد نہیں ہوتا ۔

میکیاولی کی فکر نے جمہوریت کے کئی وکیلوں کو متاثر کیا، ان میں روسو اور لینن سب سے نمایاں ہیں۔ لینن کا تصور طبقاتی ریاست اور پرولتاری آمریت میکیادیلی کی عکاس ہیں ۔

میکیا دیلی اس تحریک کا پیش رو ہے جسے یورپی نشاۃ ثانیہ(The Renaisancs) کہاجاتا ہے۔اس تحریک کا مقصد عیسائی علمیت(Scholistisim) کو غیر معقول ثابت کرنا تھا ۔عیسائی اخلاقیات کی تردید اور شہوانی جذبات (sexiuallity) کے فروغ کی وکالت بھی تحریک نشاۃ ثانیہ کے معاشرتی مقاصد میں شامل تھی۔ تحریک نشاۃ ثانیہ ۱۵اور ۱۶ویں صدی میں برپا ہوتی ہے اور اس تحریک نے یورپی تاریخ کو بدل کے رکھ دیا، یہ وہ دور ہے کہ سامراج اور سرمایہ داری نے دھیرے دھیرے یورپی ذہن ریاست اور معاشرت کو مسخر کرنا شروع کرکیا ۔

قرون وسطی کی یورپی معیشت سرمایہ دارانہ نہ تھی "عادلانہ قیمتوں"اور ”عادلانہ اجرتوں” کی بازاری تنفیذ عام تھی ۔پیشہ ور guilds کی صورت میں منظم اور مذہبی صف بندی کے تابع تھے guildsکے پیشہ ور عیسائی بزرگ ہوتے تھے۔یہ guilds کاروبار منظم کرتے تھے ۔ارتکاز دولت محدود تھا سود حرام تھا اور فائنینشل (حرام خور)مارکیٹوں کا کوئی وجود نہ تھا۔

اس نظام کے خلاف بغاوت 15ویں صدی عیسوی کے آخر میں انگلستان ،فرانس ،فلانڈرس اور جنوبی جرمنی کے ساہوکاروں اور تاجروں نے شروع کی ۔انہوں نے guilds اور عادلانہ قیمتوں کے متعین نظام کو رد کیا ارتکاز سرمایہ اور سود خوری کا جواز مرتب کیا اور انفرادی آزادی اور خود مختاری کے نظریات عام ہوئے جس کی نشاتی فکر بھر پور حمایت کرتی تھی ۔سودی کاروبار پھیلنے لگا اور کلیسا تک نے سود کی حلت کے بہانے تراشنا شروع کردیئے ۔

1492ء عیسوی میں کولمبس امریکہ پہنچا اور اس قت سے سامراجی لوٹ مار آج تک جاری ہے۔ اس لوٹ مار کے نتیجہ میں بے اندازہ دولت یورپ میں امنڈ آئی اور بہت بڑے پیمانہ پر یورپی اس لوٹ کھسوٹ سے مستفید ہوئے ۔ کروڑوں امریکہ کے قدیم باشنوں کا قتل عام ہونے لگا اور کلیسا نے اس لوٹ مار اور قتل عام کی مہم میں سامراج کے ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ان حالات میں یورپ میں حرص وہوس اور انفرادی خود غرضی ایک وبا کی طرح پھیلنے لگی، ایسے میں عیسائی روحانیت ،علمیت اور معاشرت کا تحلیل ہونا ایک لازمی عمل ہوگیا ۔

پرانے نظام کو شکست دینے کےلئے سرمایہ داروں نے مطلق العنان بادشاہتوں کا سہارا لیا۔ بادشاہوں اور راجواڑوں(Feudal lords) میں مزاحمت مدت سے جاری تھی ۔سرمایہ داروں سے اس نے فائدہ اٹھاکر عیسائی بنیادوں پر قائم معیشتوں کو تباہ کرکے ملکی سطح کی سرمایہ دارانہ معیشتیں قائم کیں۔ مطلق العنان بادشاہوں کو بڑے پیمانہ پر قرضے دیئے اور بادشاہوں کی قوت سے فائدہ اٹھا کر سود اور سٹہ کے کاروبار کو خوب وسعت دی یہ عمل ماڈرن ریاستی نظام کی تشکیل میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔

پندرھویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی میں اٹلی میں طوائف الملوکی کا دور تھا کئی اطالوی شہروں میں فلورنس ،وینس ،میلان اور روم میں ایسی طاقتور ریاستیں قائم تھیں جن کی قوت تقریباٍ ایک دوسرے کے برابر تھی، لہٰذا اٹلی میں کوئی مطلق العنان ملک گیر بادشہات قائم نہ ہوسکی، بیشتر اطالوی ریاستوں پر ظالم اور جابر حکمران قابض تھے جو محض قوت کی بنیاد پر حکومت کرتے تھے ۔اخلاقی تنزل عروج پر تھا ،دھونس دھاندلی اور لوٹ مار کا رواج عام تھا ۔

میکیا دیلی ان حالات سے دل برداشتہ تھا اور اٹلی کو ایک طاقتور مطلق العنان بادشاہت میں تبدیل کرنے کا خواہاں تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہ کام صرف ایک ایسا طاقتور بااختیار حکمران کرسکتا ہے جو ماڈرن فکر اور روحانیت کا عکاس ہو۔

میکیا دیلی فلارنس کا رہنے والا تھا جو 1494 میں Medici خاندان کو بے دخل کرنے کے بعد ایک ریپبلک بن گئی جس کے سرکاری عہدوں اور مرکزی کونسل کا میکیا دیلی مدت تک رکن رہا۔1506ءعیسوی میں اس نے فلورنس کی کونسل سے ایک عوامی فوج بنانے کی تجویز منظور کروائی جو اس کے خیال میں یہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لئے ضروری تھا۔ 1516 میں (Medici) پھر سے اقتدار میں آگئے اور رپبلک کا خاتمہ ہوگیا میکیا دیلی کی فکر کی اصل نمائیدہ کتاب The Discourses میں قدیم رومن ریپبلک کو ماڈل کے طوپر لیا گیا ہے اور اس کو مطلق العنان بادشاہت پر ترجیح دی گئی ہے لیکن ریپبلکن ریاست کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ عوام موزوں کردار کے حامل ہوں ۔میکیادیلی پولیٹیکل سائنس (political Science) کا بانی مانا جاتا ۔

میکیادیلی مذہبی ماخذات کو ریاستی عمل کے لئے بے معنی سمجھتا ہے ۔عیسائیت عوام میں یکجہتی پید اکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن میکیادیلی کے مطابق اس کو ریاستی عمل سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہئے وہ عیسائی سیاسی روایات اور طرائق کو سختی سے رد کرتا ہے اور دہریت (Secularism) کا پر جوش حامی ہے ۔میکیا دیلی کی فکر تجرباتی (emperical) ہے اور وہ اپنے دلائل کے ثبوت کے طوپر پر مذہبی نصوص کو پیش نہیں کرتا۔ (Francies Bacon) سائنس جاہلیت کا مشہور رہنما میکیا دیلی کی (empiricism) کا مداح ہے ۔ہیگل اور فشتے (Fichte) بھی میکیا دیلی کے کام کو سراہتے ہیں وہ اس بات سے متاثر ہیں کہ میکیادیلی نے سیاسی مباحثہ کو اسکی قدیم مذہبی تناظر سے جدا کردیا۔ کلیسا کی16ویں صدی کی فکر میں میکیا دیلی کی فکر کی کوئی تنقید نہیں ملتی ۔

میکیا دیلی فرد کو فطرتاً خود غرض مانتا ہے اور اس خود غرضی ہی کو ریاستی نظام کی تعمیر اور کارفرمائی کی بنیاد مانتا ہے ۔وہ حاکم (prince) کو بھی خود غرض تصور کرتا ہے اور اس کی عوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو اس کے عمل کا محرک نہیں کہتا۔ حکمرانو ں کا مقصد قوت پر قبضہ جمائے رکھنا ہوتا ہے لیکن قوت کو اپنے ہاتھوں میں مستحکم کرنے کے لئے ایک فاتح حاکم کے لئے ضروری ہےکہ وہ فتح شدہ علاقہ کے رسوم ورواج کی قدرکرے اور ایسے اقلیتی گروہوں کو مراعات دے جو اس کے راج سے قبل مظالم سہہ رہے تھے ۔حاکم کے لئے عوام اور خواص کی تائید حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا لازمی ہے محض قوت کے استعمال پر بھروسہ سود مند ثابت نہیں ہوسکتا۔ عوام ،خواص کے مقابلہ میں زیادہ بھروسہ کے لائق ہیں کیونکہ وہ صرف ظلم سے نجات چاہتے ہیں اقتدار میں شرکت کے خواہش مند نہیں ہوتے ۔

حاکم کو قوت اور تحفظ کے لئے ہر کارگر حربہ استعمال کرنا چاہئے اور اس انتخاب ذرائع میں حلال وحرام، جائز و ناجائز طرائق میں تفریق کرنا فساد ہے ۔پالیسیوں کی عوامی تشہیر کے لئے پروپگنڈہ (propoganda)کا بھرپور استعمال کرنا چاہئے اور ایک کفایت شعارانہ معاشی حکمت عملی اختیار کی جانا چاہئے کیونکہ یہی دیرپا عوامی حمایت کی حامل ہوتی ہے حاکم کی واحد ذمہ داری یہ ہے کہ ریاستی نظام کی بقاء اور تحفظ کو یقینی بنائے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب قوت اس کے ہاتھوں میں مرتکز ہو۔ حاکم کو عوام اور بالخصوص سپاہیوں کی املاک (property) کے تحفط کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔

گوکہ حاکم کی قوت کا سرچشمہ عوامی تائید نہیں ہے لیکن اس تائید کی بنیاد حاکم کا خوف اور احترام ہونا چاہئے۔ خوف اور احترام ہی وہ حربہ ہے جس کی بنیاد پر مشکل وقت میں عوام کو اپنے خود غرضانہ مقاصد کو نظر انداز کرکے حاکم کی حمایت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔حاکم کو چالاک (cunning) ہونا چاہئے۔

اور یہ چالاکی اس کی وعدہ خلافی کی پردہ پوشی کے لئے ضروری ہے ۔ایسی وعدہ خلافی جو تحفظ ریاست کے لئے ضروری ہے ۔عوام کو دھوکہ دینا آسان ہے ۔اسی دھوکہ دہی کے باوجود حاکم کو عوام میں ایک راست باز بہادر حوصلہ مند طاقتور شخص ہونے کا تاثر قائم رکھنا چاہئے ۔اپنی کتاب (The Discourse) میں میکیا دیلی اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکومت لازماً شخصی ہوگی لیکن ریاست کی بقااور استحکام کی ضامن عوامی تائید ہی ہے ۔اس کتاب میں میکیا دیلی اپنے ماڈل کے طورپر قدیم رومن رپبلک کو لیتا ہے ۔ریاست کی تعمیر میں حاکم کواس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ عوام عموماً خود غرض اور عاصی (evil) ہوتے ہیں اور انہیں عمل پر صرف جبر کے ذریعہ ابھارا جاسکتا ہے لیکن خود غرضیت (selfishnest) وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس کی بنا پر اجتماعی مفاد اور یکجہتی کا شعور (public spiritidnes) تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

ریپبلک کا استحکام اس (public spiritidnes) کے فروغ پر منحصر ہے عوام اپنے معاشرتی تحفظ (security) کے ہدف کے حصول کے لئے قانون کی پاسداری اور حاکم کی اطاعت پر راضی اور مجبور کئے جاسکتے ہیں۔

میکیا ویلی کی متصورہ ریپبلک میں عوام حکومت میں شمولیت نہیں کرتےمحض حاکم کی رضاکارانہ تائید کرتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے بار بارکہا ہے یہ ہی تمام جمہوریتوںمیں رائج عمل ہے۔

میکیاویلی انفرادی حقوق کا کوئی تصور نہیں رکھتا اس کے ہاں آزادی سے مراد محض تحفظ کا حصول ہے۔ پالیسی سازی میں عوام کی شرکت لاحاصل ہے کیونکہ وہ اس کی اہلیت نہیں رکھتے۔ تنفیذ تحکیم قانون کے لئے عوام کا تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔

The Discourse میں میکیا دیلی کلیسا کو اطالوی طوائف الملوکی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔کلیسا ہی وہ ادارہ ہے جس کی کارفرمائی کے سبب اٹلی چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بٹا ہوا ہے ۔مذہب کو ریاستی استحکام کا ذریعہ ہونا چاہئے ، مذہب کا کوئی اورمعاشرتی کردار نہیں ۔اس لحاظ سے میکیا دیلی ایک کٹر دہریہ کے روپ میں نظر آتا ہے ۔وہ رومن بت پرستانہ روایات کا مداح ہے ۔

میکیا ویلی کی فکر ریپبلکن ہے وہ ریپبلکن ریاست کو بادشاہت سے ایک بہتر نظام تصور کرتا تھا۔ اس نے جمہوری سیاست کا جو خاکہ کھینچا ہے وہ یورپی /امریکی تاریخی روایات اوررجحانات کا حقیقت پسندانہ عکاس ہے۔ لبرل اور ریپبلکن جمہوریتوں میں عوام حکومت نہیں کرتے وہ محض غاصبین کی تائید فراہم کرتے ہیں۔

جمہوری عمل سفاکیت ،دھوکہ دہی ظلم اور ستحصال سے لازماً ہمیشہ بھر رہتاہے ۔حقیقتاً جمہوری نظام بڑی حد تک ویسے ہی ہے جیسا میکیادیلی نے اس کو بیان کیا تھا ۔

3.4۔ جان لاک (John Locke)

جان لاک (۱۶۳۲ء تا۱۷۰۴ء) لبرل سر مایہ داری کے موثر ترین فلسفیوں میں شمار کیا جاتاہے۔ اس کے اشارات سرمایہ دارانہ علمیات (Epistemology) پر بھی اتنے گہرے ہیں جتنے سرمایہ دارانہ سیاسیات پر۔ جان (John Locke) کی علمیات اور اس کے سیاسی فلسفہ میں گہرا تعلق ہے۔اس خیال کو لاک کے فرانسیسی پیروؤں نے اصرار کے ساتھ پیش کیا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اور لاک کے امریکی پیرو سیاسیات کو ایک سائنس (Political Science)گر دانتے ہیں۔

3.4.1۔لاک کی تجربی علمیات 

لاک وحی کو علم کے ایک سر چشمہ کے طور پر قبول کر تا ہے لیکن وہ لکھتا ہے کہ ’’وحی کو عقل کے پیمانہ پر ہی جانچا جا سکتا ہے‘‘۔ مختلف النوع ذاتی الہامات کو پرکھنے کا واحد پیمانہ وہ شواہد (Proofs) ہے جو ا ن کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔لاک کے دور میں کئی عیسائی فرقے ذاتی الہام کی بنیاد پر علمیاتی تعبیرات کی تصدیق کر تے تھے۔ اس نوعیت کی توجیہات کو لاک Dogma کہتا ہے ۔ Dogma وہ اعتقادات ہیں جن کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

لاک عقلیت کی ایک مخصوص تشریح پیش کرتا ہے۔لاک لکھتا ہے کہ عقلی مطالعہ کے دو حصے ہیں۔ پہلے یہ متعین کرنا کہ ہم کامل وثوق سے کیا جان سکتے ہیں، دوسرے ان مفروضات اور خیالات (Proposition) کن حقائق جن کو قبول کرکے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، گو کہ ان مفروضات اور خیالات کے حق ہونے کا محض امکان (Probability) موجود ہے اور کامل تحقیق سے ان کا حق ہونا ثابت نہیں کیا جا سکتا، اور کسی چیز کے حق ہونے کا امکان (Probability) اس بات سے متعین ہے کہ وہ ہمارے تجربات اور مشاہدات سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔بقول لاک تھائی لینڈنے یورپی مہمانوں کی باتوں پر یقین کرنا اس وقت ترک کیا جب ان مہمانوں نے برف کا تذکرہ کیا۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر لاک عقیدۂ برداشت (Doctorine of Toleration) کی وکالت کرتا ہے۔

ٹولیریشن ([91])سے مراد یہ ہے کہ عملی طور پر بیش تر کارآمد معقولیت کو تسلیم کر لینا چاہے اور اپنے امکانی طور پر معقول نظریات اور آراء کے حق ہونے پر اصرار کرناعقلیت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ وہ تمام آراء اور نظریات حق ہو سکتے ہیں جن سے مثبت عملی نتائج بر آمد ہونے کا امکان ہو، ایسی تمام آراء کے اظہار اور ان کے امکانی حق کی گنجائش کو تسلیم کیا جا نا چاہیے اور کسی شخص یا گروہ کو ایسی رائے تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا نا چاہیے جو امکانی طور پر مثبت نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

یہ نظریہ ٹولیریشن، جن مثبت نتائج کے امکانی بروئے کار آنے کے پیمانہ پر مختلف آراء کو برداشت کرتا ہے وہ بڑھوترئ سر مایہ ہی ہے۔چوں کہ حزب اللہ اور دیگر شدت پسند مجاہدین اسلام کی آراء کا بڑھوترئ سرمایہ کا امکانی ذریعہ بننا تقریباً ناممکن ہے لہٰذا یہ آراء برداشت نہیں کی جا سکتیں اور امریکا کے ریڈ انڈینز اور افغانستان کے طالبان نظریہ ٹولیریشن سے باہر اور قتلِ عام کے مستحق ہیں۔ 

لاک نے جس فلسفیانہ مکتبہ فکر کی بنیاد ڈالی اس کو تجربیت(Empericism)کہتے ہیں۔ Empericist فکر کے مطابق اس جاہلی علم کا اصل ماخذ انسانی مشاہدات اور تجربات ہیں گو کہ منطق، ریاضی اور وحی بھی علم کے سر چشمے ہو سکتے ہیں لیکن ان کی فراہم کردہ معلومات کی تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر ہی تصدیق کی جا سکتی ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو وہ عملاًعلم کے دائرہ سے خارج ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لا ک کی فکر میں منطق، ریاضی اور وحی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر مثبت نتائج یعنی بڑھوترئ سرمایہ حاصل کر نے کے محض ذرائع ہیں۔ مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر ہی انسانی ذہن میں خیالات متشکل ہو تے ہیں اور کوئی تصور فطری یا جبلی نہیں۔علم کے حصول کے صرف دو ذرائع ہیں:حسیات (sensation) اورتفکر (perception)۔حواسِ خمسہ کے ذریعے ہی مشاہدہ ممکن ہے اور مشاہدات کے معنی تفکر سے ہی اخذ کیے جاتے ہیں علم کسی اور طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

لاک کی مابعد الطبیعیاتی فکر ان تمام حقائق کی علمیت کا انکار کر تی ہے جن تک حواسِ خمسہ کی رسائی نہیں۔ لہٰذا اس کی فکر میں عمومیت کی حقیقت محض لُغوی(Linguistic) سے غیر امپیریسسٹ مابعد الطبیعیاتی علمیت کی جو تشریح اور تعبیر پیش کرتی ہے وہ صرف الفاظ پر مشتمل ہے اور وجود صرف انفرادی اشیاء کا ہو تا ہے؛ وحی کی بنیاد پر حاصل شدہ معلومات کی حیثیت ان الفاظ کی حقیقت کے سوا کچھ اور نہیں جو محض مقدمات میں وارد ہوئے ہیں۔لاک کے نظامِ فکر میں علم کی بنیاد مشاہدہ ہے اور مشاہدہ حسیات سے حاصل ہوتا ہے جس کی تعبیرات تفکر کی بنیاد پر مرتب ہو تی ہیں۔ لاک یا اُس کے بعد آنے والا کوئی بھی امپیریسسٹ اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ ”ہم کیوں اور کیسے کسی عمل کو مشاہدہ کی بنیاد پر مثبت نتائج پیدا کر نے والا گردانتے ہیں اور مثبت نتائج کا پیمانہ کیا ہے اور کیوں؟“

ان سوالات کو اٹھائے بغیرلا ک کا دعویٰ ہے کہ محسوسات سے حاصل شدہ معلومات سے جو تصوّرات ہم اخذ کر تے ہیں ان کی بنیاد ہماری انفرادی ذاتی اغراض ہیں۔ لاک کے بقول ’’(ہم) کیا چاہتے ہیں ۔ خوشی اور صرف خوشی یعنی لذّات کی انتہا (اور) لذّات کے انتہائی حصول کا ذریعہ آزادی کی جدوجہد ہے‘‘۔لاک کہتا ہے کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ فوری اور انفرادی لذّات کی جستجو کو طویل المدّت اور اجتماعی لذات کے انتہائی حصول کی جستجو کے ماتحت کر دیا جائے۔ جو صفت فرد کو یہ کرنے پر اکساتی ہے اس کو لاک پروڈینس (Prudence)کہتا ہے۔ گو کہ پروڈینس کا تصور انجیل میں بھی ہے لیکن عیسائی تصور پروڈینس اور سرمایہ دارانہ تصور پروڈینس بالکل جدا چیزیں ہیں۔پروڈینس ایک کامیاب سر مایہ دار کی اہم صفت ہے کیوں کہ ایک کا میاب سرمایہ دار ذہن کے اس فیصلہ پر عمل کرتا ہے جو طویل المدت اور اجتماعی لذات کی انتہا کے لیے قلیل المدت اور انفرادی لذت کے حصول کی جدوجہدکو محدود کرتاہو۔

پروڈینس کی تبلیغ لبرل سر مایہ داری کی بنیادی اخلاقی تعلیم سے ماخوذ ہے۔لاک خود نہایت پروڈینٹ تھا اس نے اپنی کتاب مطلق العنان بادشاہوں چارلس دوم اور جیمس اول کے دور میں نہیں چھپوائی ۔ ۱۶۸۳ء میں اپنے مربی Lord Shaftesbury کے ساتھ ہالینڈ بھاگ گیا اور۱۶۸۸ء کے انقلاب کی کامیابی کے بعد انگلستان واپس آکر نئی حکومت کا کاسہ لیس بن گیا۔ ویبر نے بعد میں لکھا ہے کہ سرمایہ داری کے ابتدائی دور میں چوں کہ سرمایہ کاری اپنی ذاتی بچتوں پر منحصر ہوتی تھی لہٰذا پروڈنٹ لوگ( جو طویل مدت فائدہ کے لیے پس انداز کرتے تھے) ہی کامیاب سرمایہ دار بنتے تھے۔ اس کے برعکس لبرل مبلغین عوام کو Imprudent ہونے کا طعنہ کثرت سے دیتے تھے اور غربت کی بنیادی وجہ Imprudence کو شمار کرتے تھے۔

لا ک کی رائے میں انفرادی اور اجتماعی لذّات کو انتہا تک لے جانے کی جدوجہدایک دوسرے کی معاون ہیں۔ یہ لبرل سرمایہ داری کا ایک کلیدی عقیدہ ہے۔لیکن Prudent اشخاص اس عقیدہ پر جبر اور اکراہ کے ساتھ عمل پیرا ہو تے ہیں اور سر مایہ دارانہ معاشروں میں عظیم اکثریت ہمیشہ غیرپروڈینٹ افراد پر مشتمل رہی ہے۔ لاک کی رائے میں Prudent ہونے کے لیے خدا اور آخرت پر یقین رکھنا بھی ضروری ہے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں یہ نا ممکن ہوتاچلاجاتا ہے۔ لا ک کے خیال میں لوگوں کے پروڈینٹ ہونے کے لیے یہ بھی ضروری کہ ان کے پاس سرمایہ دارانہ ملکیت ہو۔ وہ لکھتا ہے:

Where there is no property, there is no justice.

اور سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ ملکیت کھنچ کھنچ کر نہایت محدود لوگوں کے پاس مرتکز ہو جا تی ہے اور ذاتی ملکیت کا دائرہ کار نہایت محدود ہو جاتا ہے۔Imprudentعوام کا وجود سرمایہ دارانہ ریاست اور معاشرہ میں لازم ہے اور Imprudent افراد سے اختیارات طلب کر نا سر مایہ دارانہ قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی کو Rule of law (قانون کی حکمرانی) کہتے ہیں اور Rule of law ،Rule of Capital کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

3.4.2۔لاک کے سیاسی نظریات

Rule of law یعنیRule of Capital کامقصد لوگوں کو پروڈینس کو قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہی لبرل تصورِ آزادی لاک کے مطابق ’’فطری دور(state of nature)“میں موجود تھااور لوگ اس بات سے واقف اور اس نظریہ کے قائل تھے کہ ان کو Prudent ہونا چاہیے لیکن کوئی ایسا نظام اور ضابطہ اقتدار موجود نہیں تھا جو لوگوں کو اس بات پر مجبور کرے کہ ان کا عمل Prudentہو۔ اگر کوئی فرد اپنے قلیل المدت ذاتی مفاد کو فروغ دینے کے لیے اجتماعیت کے طویل المدت مفاد کونقصان پہنچائے تو اس کو اس بات سے باز رکھنے والی یا سزا دینے والی کوئی طاقت موجود نہیں تھی اور معاشرے میں جنگ برپا ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ جنگ کے اس امکان کو ختم کر نے کے لیے ’’فطری دور‘‘سے معاشرتی دور (Civil society) کی طرف مراجعت نا گزیر ہے۔ یہ مراجعت اس لیے ضروری ہے کہ ’’قانونِ فطرت‘‘ کی کوئی تنظیمی قوت نہیں ہو تی۔قانونِ فطرت کا تصور سینٹ آگسٹائن نے چوتھی صدی میں دیا تھا اور سود لینے دینے کو ’’قانونِ فطرت‘‘ کے خلاف حرام قرار دیا تھا۔ اس کے بر عکس اس نے سود کی توجیہ بھی اسی قانونِ فطرت کی بنیاد پر بیان کی ہے۔لاک کے خیال میںLaw of Natureیعنی قانونِ فطرتLaw of Reason ہی ہے لیکن لاک اور قرونِ وسطیٰ کے عیسائی تصورِ قانونِ فطرت میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ عیسائی مفکرہی قانونِ فطرت کو اس عقلیت سے تعبیر کرتے تھے جو رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ تھی۔ ظاہر ہے کہ لاک کا تصور Law of reason اس سے مختلف ہے۔ لاک کے مطابق عقل کا تقاضا یعنی Law of Reason / nature یہ ہے کہ فرد Prudent ہو۔

فطری دور(State of nature)میں فرد اپنے حقوق کا تحفظ خود کرنے پر مجبور ہے۔ اس مجبوری کوختم کرنے کے لیے ایک ملک کے باشندے ایک خاص نوعیت کامعاہدہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قومی ریاستیں اور حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔یہ معاہدہ عالمی نہیں ہوتااور عالمی سیاسی نظام فطری دورہی میں رہتا ہے کیوں کہ عالمی سطح پر کوئی مقتدر(Sovereign) حکومت نہیں قائم کی جا سکتی۔قومی حکومت کے قیام کا بنیادی مقصد لاک کے مطابق لوگوں کی ملکیت کا تحفظ ہے۔قومی حکومت قوانین کے ذریعے یہ فریضہ انجام دیتی ہے۔ ریاستی قوانین،قوانینِ فطرت پر مبنی ہیں اور بنیادی قانونِ فطرت یہ ہے کہ ہر شخص کی پراپرٹی محفوظ رہے۔ اپنی پراپرٹی سے کُلّی طور پر متمتع ہونا ہر شخص کا فطری حق ہے۔ ریاستی قوانین افراد کو ان کی ملکیت سے متمتع کر نے کے لیے وضع کیے جا تے ہیں۔ گو کہ فطری قوانین سے ان کا تعلق ہوتا ہے(فطری قوانین خدا نے بنائے ہیں،گو کہ وہ کہیں لکھے ہوئے نہیں ) لیکن ان کا ماخذایک معاشرتی معاہدہ ہوتا ہے انجیل یا عیسائی تفکرات نہیں۔

لاک کے مطابق یہ معاشرتی معاہدہ ایک ملک کے تمام شہریوں کے درمیان کیا جا تا ہے اور انہی معاہدہ کرنے والوں میں چند کو حکومت چلانے کا اختیار سونپا جاتا ہے۔حکومت کرنے والے اس معاہدہ کے پابند ہوتے ہیں اور اگر وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف بغاوت (Civil War)جائزہے۔چوں کہ اس معاہدے کا مقصدپراپرٹی سے متمتع ہونا ہوتا ہے لہٰذا جن کے پاس پراپرٹی نہیں وہ اس معاہدہ میں شریک نہیں ہو سکتے۔ مطلق العنان بادشاہ بھی اس ریاست کا شہری نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ اس معاہدہ میں شریک نہیں ہو تا بلکہ اپنی ذاتی مرضی کی بنیاد پر قانون سازی کر کے ہر شے کو اپنے تابع کر لیتا ہے۔اس معاشرتی معاہدہ کے تحت عوام اپنے حقوق کے تحفظ کا انفرادی حق اپنی ایک نمایندہ حکومت کو سونپ دیتے ہیں([92])۔ حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی فرد سے اس کی ملکیت چھین لے۔ ٹیکس کی وصول یابی کے جواز کے طور پر لاک یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ ایک نمایندہ حکومت میں ٹیکس عوامی اکثریت کی منظوری کے مطابق وصول کیے جاتے ہیں لیکن وہ اکثریت کا یہ حق تسلیم نہیں کرتا کہ وہ کسی فرد کو اثاثوں سے محروم کر دے۔ لاک کے مطابق اثاثے پراپرٹی کا صرف ایک جزو ہیں۔حکومت کو یہ حق بھی نہیں کہ اپنے شہریوں کو کسی خاص عقیدہ کا پابند ہونے پر مجبور کرے۔حکومت کو لازماً سیکولرہونا چاہیے، معاشرتی معاہدہ میں مضمربنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہر شہری کا مقدم مقصدِ حیات اپنی پراپرٹی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا ہے اور اس مقصدِ حیات کو حاصل کرنے کے لیے وہ ریاست قائم کر تا ہے لہٰذا ریاست تمام دیگر عقائد کو لغو اور لایعنی گردانتی ہے۔ تمام دیگر عقائد کو انہی معنوں میں یکساں گردانتی ہے کہ وہ یکساں طور پر لغو اور بے معنی ہیں ، نظام عدل اور اقتدار کے قیام اور کارفرمائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

لا ک نے اپنے تصور ’’پراپرٹی ‘‘ کو اپنے نظریہ قدر سے اخذ کیا ہے اس نظریہ قدر کو Labour Theory of Value کہتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق انسان اپنی محنت کو قدرت میں شامل کر کے پراپرٹی حاصل کرتا ہے۔ مثلاً جنگل میں جو سیب اُگ رہے ہیں وہ کسی کی پر اپرٹی نہیں۔ جب ادریس اسماعیل ان سیبوں کو چنتا ہے تو وہ ادریس اسماعیل کی پراپرٹی بن جاتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ادریس اسماعیل نے قدرت میں اپنی محنت شامل کر کے ان کو اپنا بنایا ہے خود بخود یہ سیب ادریس اسماعیل کے پاس کبھی نہ آتے۔اگر ہوا کا جھکڑ چلنے کی وجہ سے اس کے سر پر تابڑ توڑ گرتے تو ادریس اسماعیل بے ہوش ہو جاتا۔ہر وہ شے جس میں کسی نے اپنی محنت شامل کی ہے اس شخص کی ملکیت ہو جاتی ہے۔لاک ابتدا میں ملکیت کی تحدید کا قائل نظر آتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ایک شخص کو اتنے آلوچے(Plums)نہیں اُگانے چاہییں جن کا وہ استعمال نہ کر سکے اورآلوچے سڑ جائیں۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ سونا چاندی کے انبار جمع کرنے کی کوئی حد نہیں کیوں کہ سونے اور چاندی کے سڑنے کا کوئی امکان نہیں۔لہٰذا زرکے تصوّر کی عمومیت نے ملکیت کی تحدید کو عملاً ختم کر دیا ہے۔جب تک محنت زر میں متشکل ہوتی رہے ملکیت کے اضافہ کی کوئی حد نہیں۔ لاک کے خیال میں زر کی تخلیق اسی معاشرتی معاہدہ کے نتیجہ میں عمل میں آئی ہے جس کے نتیجہ میں حکومت قائم کر کے ’’فطری دور‘‘سے سول سوسائٹی تک مراجعت ممکن ہوئی۔

سول سوسائٹی کے قیام کا مقصد پراپرٹی کا تحفظ اور فروغ ہے۔پراپرٹی کی جو تعریف لاک کرتا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ لاک کی مراد سرمایہ دارانہ ملکیت ہے۔لاک کے مطابق پراپرٹی کے تین اجزاء ہیں: انسانی جان،انسانی آزادی اورانسانی املاک۔جب ان تینوں اشیاء کو مربوط کر کے سرمایے کی بڑھوتری کی جستجو کی جاتی ہے تو پراپرٹی کو نمو میسر آتی ہے جہاں اور جس معاشرے میں یہ تینوں ایک دوسرے سے مربوط نہیں وہاں پراپرٹی فروغ نہیں پاتی۔انفرادی ملکیت کو ہیومن رائٹس اور جسمانی محنت میں شامل کرنے سے ہی پراپرٹی یعنی سرمایہ دارانہ ملکیت وجود میں آتی ہے اور فروغ پاتی ہے ۔ انسانی جان کا تحفظ اور شخصی آراء اور اعتقادات میں تنوع کا تحفظ اس بات سے مشروط ہے کہ یہ انسانی جان اور اعتقادات اور املاک، پراپرٹی کی بڑھوتری کے لیے وقف ہوں۔

یہی وہ معاشرتی معاہدہ ہے جس کی بنیادپر بقول لاک سول سوسائٹی قائم ہوتی ہے اور عمل کرتی ہے۔جو افراد اپنی جان، اپنی آراء اور اعتقادات اور اپنی ذاتی املاک کو پراپرٹی کی بڑھوتری کے لیے استعمال نہیں کرتے وہ اس معاشرتی معاہدہ سے باہر ہیں جیسے کہ امریکا کے قدیم باشندے ریڈ انڈینز۔ان ریڈ انڈینز کو اجتماعی طور پر تین صدیوں تک قتل کرنا، ایک پورے براعظم میں پھیلی ہوئی ان کی املاک کو غصب کرنا اور ان کی معاشرتی زندگی اورتہذیب کو کچل دینایہ سب لاک کے پیروؤں نے اپنافرض سمجھ کر ادا کیا اور کہا کہ ہم اس پر مجبور ہیں کیوں کہ اس کے بغیر امریکا میں پراپرٹی فروغ نہیں پا سکتی، قتل عام اورمنصوبہ بند لوٹ مار کے بغیر سرمایہ کا ارتکاز ناممکن ہے۔حکومت کامقصد پراپرٹی یا Capital accumulation کافروغ ہے ۔لاک نے ریاست([93]) کا جو خاکہ پیش کیا ہے وہ اس کی رائے میں پراپرٹی یعنی Capital accumulation کے فروغ کے لیے سب سے بہتر سیاسی ادارہ جاتی صف بندی ہے۔

مجلسِ آئین و اصلاح و رعایت و حقوق
یہ بھی ایک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

لاک کے مطابق ریاست تین سطح پرمشتمل ہونی چاہیے:

۱۔مقننہ (Legislative)

۲۔ انتظامیہ (Executive)

۳۔ عدلیہ(Judiciary)

ان تینوں اداروں کو ایک دوسرے سے آزادہوناچاہیے۔مقننہ کو بالادست ہونا چاہیے اور اگر انتظامیہ مقننہ کی بالادستی کو قبول نہ کرے تو اس انتظامیہ یعنی حکومت کے خلاف سول وار یعنی عوامی بغاوت برپا کرنا جائز ہے۔جب تک مقننہ کی بالادستی عملًاتسلیم کی جاتی رہے عوامی بغاوت جائز نہیں۔ مقننہ لازماً پراپرٹی رکھنے والے عوام کی نمایندہ ہونی چاہیے اور پراپرٹی رکھنے والے عوام کو اس کاحق ہے کہ گاہے گاہے مقننہ کو منتخب کریں اور ان انتخابات کی بنیاد پرہی حکومتیں قائم کی جائیں۔

لاک کے مطابق پراپرٹی محض املاک نہیں بلکہ پراپرٹی میں جان اور آراء بھی شامل ہیں۔ پراپرٹی ان جانوں، آراء اوراملاک کوکہتے ہیں جوبڑھوترئ سرمایہ کےلیے وقف کی جائیں۔ مقننہ انہی جانوں، آراء اور املاک کی نمایندہ ہوتی ہے۔ اگر ملک میں تمام افراد اپنی جانیں، آراء اور املاک بڑھوترئ سرمایہ کے لیے وقف کر دیں تو بالغ رائے دہی کے اصول کی بنیاد پر مقننہ وجود میں آ کر کام آ سکتی ہے۔لاک کے دور میں انگلستان میں ایسا نہ تھا۔لہٰذا لاک نے غریب طبقہ اور عورتوں کو رائے دہندگان کی صف سے خارج کرنے کی سفارش کی۔ اسی طرح جب امریکی دستور بنا (لاک کے مرنے کے تقریباً۸۰ سال بعد) تو عورتوں، غلاموں اور ریڈانڈینز کو (جو دھڑا دھڑ قتل کیے جارہے تھے) رائے دہندگانِ ریاست کے شہری شمار نہ کیا گیا۔یہ اس لیے کہ انگلستان کی عورتیں اور غربا اور امریکا کے ریڈ انڈینز غلام اور عورتیں اپنے ہیومن بینگ ہونے کا شعور نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے اپنی جانوں، آراء اور املاک کو بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔

آج ساری دنیا میں بالغ رائے دہی کے اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن مستحکم سرمایہ دارانہ حکومتیں صرف ان علاقوں میں بنائی جا سکتی ہیں جہاں عمومی طور پر جانوں، آراء اور املاک کو بڑھوترئ سرمایہ کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔ یہ بات یورپ، امریکا (شمالی و جنوبی) ،روس اور چین وغیرہ کے بارے میں یقین سے کہی جا سکتی ہے لیکن ایران، لبنان، الجیریا اور مصر کے انتخابی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ بالغ رائے دہی کے اصول کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ ریاست کی تسخیر کی جدوجہد کو آگے بڑھانا بھی ممکن ہے۔ لہٰذا جہاں بھی استعماری سرمایہ دارانہ قوتوں کے لیے ممکن ہوتا ہے وہ ایسے انتخابات کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومتوں کو ختم کر دیتی ہیں جن کے ذریعہ وہ لوگ برسراقتدار آئے ہوں جنہوں نے اپنی جانیں، آراء اور املاک بڑھوترئ سرمایہ کے سپردنہ کی ہوں اور نہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن استعمار کے لیے ایسی سرمایہ دارانہ مخالف حکومتیں برطرف کرنا ہر جگہ ممکن نہیں۔ انہوں نے مصر میں اور الجزائر میں یہ کامیابی سے کر دیا ہے لیکن ایران، لبنان اور غزہ میں یہ نہ کر سکے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پرقائم انتخابی عمل کو سرمایہ دارانہ نظام کی تسخیر کے لیے مخصوص حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

3.5۔ روسو (Rousseau)

روسو کی تحریرات سے قبل ہابس اور لاک نے کونٹریکٹ(contract) کا تصور عام کردیا تھا ۔ اس تصور کے مطابق ہیومن بینگ نے عرصہ فطرت(state of nature) میں کونٹریکٹ کے ذریعہ حقوق (rights) تخلیق کئے اور ان حقوق کی فراہمی کے لئے جو ادارتی صف بندی عمل میں آئی اسے ریاست (the state) کہا گیا اسی ریاستی نظام میں شامل ہر فرد کو ریشنل خود انحصاری اور دوسرے ہومن بینگ کے مساوی حقوق کا خیال رکھنے والا (compasionate) تصور کیا گیا ۔

یہ معاشرتی معاہدہ محض ایک تصوراتی مفروضہ ہے تاریخ کے کسی دور میں ایسے سوشل کانٹریکٹ ہونے کا کوئی مبہم سے مبہم ثبوت نہیں ملتا ۔(Hobbes) کے تصور میں اس مفروضی معاہدہ سے جو ریاست قائم ہوتی ہے اس کے حاکم کے حق میں عوام نے اپنے تمام فطری حقوق منتقل کردیئے ۔(اس حاکم کو Hobbes، Levithanکہتا ہے) اور یہی مطلق العنان حکمران تصور کیا جاتا ہے ۔روسو نے اس تصور حاکمیت اعلیٰ (Sovreignity) کو رد کیا اور اس کے متصورہ معاشرتی معاہدہ کا نٹریکٹ عوام کے درمیان ہوتا ہے عوام اور حاکم اعلیٰ کے مابین نہیں اور حاکمیت (sovreignity) کے حقوق حاکم کو منتقل نہیں کئے جاتے ۔اس مفروضہ معاہدہ کے تحت ہیو من بینگ قوت اجتماعی کے سہارے تحفظ جان ومال تلاش کرتا ہے لیکن کسی فرد کو اپنی فطری حقوق سپرد نہیں کرتابلکہ اپنی آزادی اور خود انحصاریت کا اظہار کرتا ہے وہ ایک ایسا ارادہ عمومی (General will) تخلیق کرتا ہے جواسی کی شخصی خود ارادیت کے اظہار کا ذریعہ ہو یہ ادارہ عمومی (General will) اجتماعیت (community) کی عملی تشکیل ہوتا ہے ۔

روسو کی فکر میں ایک بنیادی تضاد یہ ہے کہ اس کا کانٹریکٹ کا تصور غیر منطقی (Incohernt) ہے ۔روسو کے مطابق کانٹریکٹنگ (contracting) کا یہ عمل حالت فطرت میں ہوتاہے ۔جہاں افراد اپنے انفرادی حقوق کو ارادہ عمومی کے عوض فروخت کردیتے ہیں لیکن حالت فطرت (state of nature) میں انفرادی حقوق کا تو سرے سے وجود ہی نہیں ہوتا اور آفاقی انفرادیت (universal subjectivity) ناپید ہوتی ہے۔ آفاقی انفرادیت (universal subjectivity) ریاستی تعمیر ہے لہذا روسو کا معاہدہ عمرانی اصولاًناقابل وقوع ہے۔

اجمالاً یہ کہنا درست ہے کہ روسو کی فکر رومانوی اورتخیلاتی (Idealist) ہے لیکن اس کے تصور معاشرتی معاہدہ (social contract) کی پشت پر مادی محرکات کا رفرما نظرآتے ہیں ۔فرد اپنی ذاتی قوتیں ارادہ عمومی (General will) کے سپرد روسو کے مطابق اس لئے کرتا ہے کہ پیدواری عمل میں تقسیم کار (division of labour) لازمی ہے کوئی فرد محض اپنی ذاتی قوتوں پر انحصار کرکے تسخیر کائنات کا عمل جاری نہیں رکھ سکتا۔ تسخیر کائنات (بڑھوتری سرمایہ ) کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ارادہ عمومی (General will) کی تابعداری قبول کی جائے ۔ روسو کی فکر میں مکینکی (Mechanics) اور جیومیٹری (geometry) سے ماخوذ تصورات پائے جاتے ہیں۔وہ انسان کو ایک مشین (machine) کہتاہے جس میں ایسی جبلتیں شامل ہیں جو اس کو محرک اور محفوظ رکھتی ہیں ۔حکومت بھی اس کی نظر میں ایک مشین کے مماثل ہے ۔

روسو یہ تسلیم کرتا ہے کہ جس تاریخی عمل کے نتیجہ میں ریاست (بشمول سرمایہ دارانہ ریاست )وجود میں آتی ہے وہ اس مفروضہ معاہدہ عمرانی کا نتیجہ نہیں ۔فی العمل معاشرتی اور ریاستی عمل میں تضاد ہے اور فرد جب بحیثیت سٹیزن عمل کرتا ہے تو اپنے انفرادی ارادہ کی نفی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور یوں اس کا یہ ریاستی عمل اخلاقیات سے ماورا چیز ہے۔

روسو عیسائیت پر الزام لگاتا ہے کہ وہ انفرادی ارادہ اور ارادہ عمومی کی یکجہتی کو آخرت تک مؤخر کردیتی ہے اور دنیا میں ریاستی جبر اور استحصال کا جواز پیش کرتی ہے، یہ بات اسلام کے ضمن میں بالکل لغو اور بے معنی ہے، کیونکہ ہماری سیاسی فکر میں ارادہ عمومی کا سرے سے کوئی تصور موجود نہیں ہے ۔

روسو معاشرہ اور ریاست میں فاصلہ کا قائل نہیں روسو لبرل ازم کامخالف ہے ۔وہ ذاتی ملکیت کا مخالف نہیں او رانفرادی اور عمومی ارادہ کی تطبیق کے لئے ذاتی ملکیت کے انہدام کو ضروری نہیں سمجھتا ۔

روسو کے مطابق فطری حالت (state of nature) میں ریاست موجود نہیں ہوتی لیکن سیٹیزن موجو د ہوتا ہے ۔ایک ایسا سیٹیزن جو خود اختیاری (self determine) بھی ہے اور جس کی روح (soul) کا عمل اس کو خواہشات کی تکمیل ادارہ کی پیروی اور خوف پر اکساتی ہے ۔یہ فطرتی انسان (natural men) تاریخ کے مصالح سے نہیں دور حاضر کے معاشرہ میں تجربات اور مشاہدہ سے دریافت کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود کہ تاریخی دورانیہ میں اس فطرت انسانی کو مسخ کردیا گیا ہے اور آج انسان کے بنیادی روحانی وجود کی شناخت کرنا آسان نہیں۔

یہ کانٹریکٹ تھیوری کا دوسراتضاد ہے اگر فرد حالت فطرت(state of nature) میں خود اختیاری طور پر اور آزاد معاہدہ کرنے کا مکلف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ارادہ عمومی (General will) ریاست کی تخلیق کے بعد نہیں بلکہ حالت فطرت میں ہی موجود ہے کیونکہ یہ ارادہ عمومی انفرادی ارادہ کی مساویت اور آفاقیت (universility) کو مفروض کرتا ہے ۔

روسو کے مطابق انسان کی بنیادی صفت خود انحصاری ہے ۔خود انحصاری انسان کی طہارت(purity) کی ضامن ہے اور یہ اسے بادشاہ کی ادارتی تحکیم سے محفوظ رکھتی ہے ۔کانٹریکٹ خود انحصاریت کا اظہار ہے۔ اس کے ذریعہ سیٹیزن مساویانہ (equivalant) نفع ،نقصان کا سودا کرتاہے ۔کنٹریکٹ کے زریعےوہ اپنی فطری آزادی اورحق ملکیت عمومی کھوکرجمہوری (civil)حقوق اور حقوق ذاتی ملکیت حاصل کرتا ہے۔ قانون ان حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔سیٹیزن اپنی ذاتی قوتوں کے بدلے میں اجتماعی قوتوں کا مالک قرار دیا جاتا ہے ۔اس کے باوجود روسو کے تصور میں فرد اپنی انفرادی قوتوں کو مطلقاً ریاست کے حوالے نہیں کرتا بلکہ ان کی معاشرتی تحدید کو قبول کرتا ہے ۔کانٹریکٹ کا یہ تصور سرمایہ دارانہ کنٹریکٹ سے مماثل تو ضرور ہے لیکن اس میں اجرت پر محنت کے فروخت کا تصور موجود نہیں ۔

انفرادی قوتوں کی یہ محدود منتقلی روسو کے تصور تحکیم مطلق (soveignity) کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ روسو میکیا دیلی کا مداح تھا لیکن اس کا تصور حاکمیت مطلق (soveignity)کانٹریکٹ کرنے والوں کے پاس ہوتا ہے soveignityکے کسی اور ( Leviathan or the prunce )کی طرف منتقلی کا تصور موجود نہیں ۔روسو کے مطابق کانٹریکٹ کنندگاں کو حاکمیت مطلق (soveignity) سے محروم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو کانٹریکٹ غیر مساوی ہوجائیگا اور کانٹریکٹ ہی نہ رہے گا۔ غیر مساویانہ کانٹریکٹ کے پیچھے قانون کی قوت نہ ہوگی (سرمایہ دارنہ کانٹریکٹ لازماً مساویانہ ہوتے ہیں ) اور اس کی تنفیذ جابرانہ ہوتی ہے۔

کنٹریکٹ کے ذریعہ جو حاکمیت مطلق (soveignity) تنفیذ کی جائیگی وہ ارادہ عمومی (General will) سےماخوذ ہوگی ۔یہ ارادہ عمومی انفردی ارادوں کااجتماع نہیں ہوتا نہ کنٹریکٹ سے برآمد ہوتاہے بلکہ کانٹریکٹ لازماً ایک مفروضہ ہوگا General will ہیومن بینگ کی آزادی،خود مختاری اور خود اخیتارای کا اظہار ہے ۔بقول روسو کانٹریکٹ کے شرکاء کانٹریکٹ کرنے سے قبل ان اوصاف خبیثہ کے مکلف ہوتے ہیں اور ہیومن بینگ کی خود انحصاریت اور آزادی کا اظہار سرمایہ دارانہ ریاست کی کارفرمائی کے ذریعہ ہی ممکن ہے General willکی پرستش بڑھوتری سرمایہ ہی کے ذریعہ ممکن ہے اور کسی طریقہ سے ممکن نہیں ۔

انفرادی ارادہ کے اجتماع کو روسو will of all کہتاہے ۔یہ ارادہ عموعی (General will) کی نفی بھی کرسکتا ہے مثلاً اگر جمہوری عمل کے ذریعہ ایک اسلامی حکومت منتخب ہوکر تنفیذ شریعت کا اہتمام کرے (جیسا کہ 1978 کے بعد ایران میں باربار ہورہاہے) تو یہ جائز نہیں اور General willکیwill of all سےاس نوعیت کی نفی کی اجازت نہ روسو کی فکردیتی ہے نہ سامراجی عمل مثلاً ایران کی جمہوری اسلامی حکومت کو ختم کرنے لئے پیہم ناکامیوں کے باجود سامراج 45 سال سے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے ۔سرمایہ دارانہ قانون General will کی تجسیم ہے ۔ وہ ریاست کے تمام سیٹیزن کے مساوی سرمایہ دارانہ حقوق کا ضامن ہے۔ اوریہ تمام سیٹیزن کے مفروضہ متفقہ سر مایہ دارانہ مفادات کے تحفظ کا ضامن ہوتا ہے اور یہ مفروضہ عمومی مفاد ہیومن بینگ کی خود اختیار یت یعنی( بڑھوتری سرمایہ ) کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔روسو تمام انفرادی اور گروہی مفادات کو مفاد عمومی میں سمودینے کا قائل اور معاشرتی کثرتیت (pluralism) کا مخالف تھا۔یہ خصوصیت بھی اس کی فکر کو لبرل ازم سے جد اکرتی ہے ۔روسو کیrationalismاسے معاشرتی کثرتیت کے اظہار کی مخالفت کرنے پرآمادہ کرتی ہے ۔

روسو ریپبلکن جمہوریت کا مدعی تھا ۔اس کی فکر سے متاثر جو تحریک ابھری اس نے انقلاب فرانس کو برپا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا اور فرانس میں 1789سے 1803عیسوی تک ایک رپبلکن جمہوریت ہی قائم رہی۔امریکی انقلاب (1776, 1787)، پر روسو کی فکر کے اشارات محدود تھے لیکن مارکس اور لینن اس سے کافی متاثر تھے ۔ اور سوویت انقلاب (1917)میں روسو کی فکر کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے ۔

روسو کے مابعد الطبعاتی اعتقادات سب کافرانہ ہیں اس کے تصور انسان ،تصور معاہدہ ،تصور معاشرت اور تصور ریاست خالص دہریت (secularism) کے عکاس ہیں ،وہ عیسائی عقائد ،ارادوں، روایات او رطرز حیات کا شدید مخالف تھا ،سرمایہ دارانہ فکر کی ترویح اور ارتقا میں اس کا ایک اہم مقام ہے۔

3.6۔ مونٹیسکیو (Montesquieu)

امریکی انقلابی جدوجہد کو جس فلسفی نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ مونٹیسکیو تھا تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson) کی فکر مونٹیسکیو کی فکر کا چربہ نظر آتی ہے خود مونٹیسکیو معتزلہ فارابی سے متاثر ہے اور اس کا تصور رپبلک فارابی کے تصور مدینہ الفضیلہ سے کافی مماثل نظر آتا ہے) مولانا مودودی کا تصور Theo democracy بھی مونٹیسکوکی فکر سے متاثر ہے (فرانسیسی انقلاب کے آخری دور (1794 تا 1803) میں مونٹیسکیو کی فکر کے اشارات بڑھے۔

مونٹیسکیو کی تصوراتی ریپبلک بھی ایک ایسی ریاست ہے جہاں نیکی (virtue) کو فروغ دینے پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور اجتماعی مفا د کو انفرادی اغراض پر ترجیح دینے کی خواہش کا اظہارہوتا ہے ۔

مونٹیسکیو کے مطابق معاشرہ میں نیکی کے فروغ اور ایک عادلانہ ریاستی نظام کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں چند نیک افراد پہلے سے موجود ہوں جن کے ہاتھوں میں اقتدار سونپا جائے ۔نیکی کا یہ احساس کسی معاشرتی معاہدہ (Social contract) سے برآمد نہیں ہوتا بلکہ ایک نیک معاشرہ میں خود بخود (spontaneously) ابھرتا ہے جیسے خاندانی روابط میں ۔ہابس اور لاک کے برخلاف مونٹیسکیو کا تصوراتی نیک معاشرت انفرادی اور اجتماعی نفع او رنقصان کے موازنے کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتالوگ خود بخود مفاد عامہ کو انفرادی خود غرضانہ مفادات پر ترجیح دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ہر فرد اپنے اعمال (behavior) کاخود ذمہ دارہوتا اور نیک معاشرہ کے ابتدائی دور میں نہ کسی حکومت کی ضرورت ہوتی ہے نہ اچھے قوانین کی پابندی، کی بقول مونٹیسکیو اجتماعی مفادات کے فروغ کی تقدیم کا یہ احساس انفرادی مسرت(happyness) اور معاشرتی سکون کو جنم دیتا ہے ۔کیونکہ انسان فطرتاً نیک اور عادل ہے(عدل سے مراد اجتماعی مفادیت کو انفرادی اغراض کو تر جیح دینا ہے) ۔ تعلیم او رمعاشرتی ادارتی صف بندی کا مقصد انسانی فطرت کے عادلانہ جذبات کو ابھارنا ہوناچاہئے۔

لیکن مونٹیسکیو کے خیال میں تعلیمی نظام اور یہ معاشرتی صف بندی پرانی رائج شدہ تہذیبی روایتی معاشرت سے خود بخود (spontaneously) نہیں ابھرے گی ۔اس کے لئے ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے جو معاشرتی تعمیر کے عمل کو ازسرنو شروع کرے ۔اس انقلابی عمل کی تفصیل مونٹیسکیو کے یہاں نہیں ملتی ۔

مونٹیسکیو کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس کی نیک معاشرت اپنی ابتدائی حالت میں دیرپا ثابت نہیں ہوسکتی اور نہ وہ تاریخ میں جانے والے کسی معاشرے کو اپنی نیک معاشرت سے مماثل گردانتا ہے ۔جیسے جیسے معاشرتی دائرہ کا رمیں پھیلاؤ آتا جاتا ہے اور دولت کی فروانی بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے عوام نیکی کی زندگی گزارنے کو مشکل سمجھنے لگتے ہیں ۔اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ حکمران ایسے قوانین وضع کریں جن کی تابعداری کی مجبوری کی بنیادپر معاشرہ میں نیکی کا راج قائم رہے ۔دولت کی فراوانی نیک خود انحصاری معاشرت کی جڑیں کھوکھلی کرتی رہتی ہیں ۔لیکن مونٹیسکیو کی رائے میں ایک مؤثرحکمرانی دولت کی فراوانی اور سرمایہ کی مستقل بڑھوتری کے عمل کو ایک نیک معاشرہ کی کارفرمائی سے جوڑ سکتی ہے ۔

مونٹیسکیو کی تصوراتی ریپبلک کی تفصیل اس کی مشہور کتابEspirit des lois (Sprit of the Laws) میں پائی جاتی ہے ۔اس کتاب میں وہ دو تین قسم کی ریاستوں کا تذکرہ کرتا ہے ۔بادشاہت (Monarchy) آمریت (despotism) اور ریپبلک وہ ریپبلک کی دوقسمیں بیان کرتا ہے "جمہوری (demoratic) اور اشرافیاتی (aristocracy) ہمارا استدلال ہے کہ جس ریا ست کومونٹیسکیو جمہوری کہتا ہے وہ بھی اشرافیہ ہی ہے۔مونٹیسکیو کی فکر میں جمہوری نظم ریاست میں عوام حکومت میں شرکت کرتے ہیں)یہ عملاًناممکن ہےعوام صرف حاکم کی تائید کر سکتے ہیں،اقتدار انکے ہاتھ میں کبھی نہیں آتا)۔

جس ریاست کو وہ جمہوری کہتاہے اس کے قیام کی جو شرائط مونٹیسکیو بیان کرتا ہے وہ نہایت کڑی ہیں۔ جمہوری نظام صرف ایسے چھوٹے سے قصبے میں قائم ہوسکتا ہے جہاں تمام افراد ایک دوسرے سے واقف ہوں اور جہاں سب کو یکساں تعلیم دینے کا انتظام کیا جاسکے ۔یہ لوگ ایک خاندان کی حیثیت رکھتے ہوں اور اپنے درمیان ایسے magistrates منتخب کریں جن سے یہ بخوبی واقف ہوں ۔ان میں ریپبلکن virtue یعنی اجتماعی مفاد کا انفرادی اغراض پر فوقیت دینے کی خواہش پیدا ہو ۔وہ خوش تو ہوں لیکن ان کے درمیان دولت اور سرمایہ کی فروانی نہ ہو۔ان میں مسابقت (competition) کا جذبہ دبا ہوا اور اشتراک(co-operation) کا جذبہ وافر ہو ۔معاشرہ میں مسابقت کے مواقع محدود ہوں، ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت نسبتاً (relatively) مساویانہ ہو ۔

اس نوعیت کی معاشرت کو قائم رکھنے کے لئے موزوں قانون سازی کا مونٹیسکیو اقرار کرتاہے مثلاً وہ کہتا ہے کہ راضی کو تمام سیٹیزن کے درمیان مساویانہ بنیادوں پر تقسیم کئے جانے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ معاشرتی ارتقائی عمل کی خود کارفرمائی اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ جمہوری نظام کو سہارا دینے والی ادارتی صف بندی کے ذریعہ اس کا تصور نیکی معاشرہ میں غالب آئے گا۔

جمہوریت سازی کی اپنی اس اسکیم میں مونٹیسکیو سرمایہ دارنہ عمل کے دخول کے لئے جگہ پاتا ہے ۔اس کی رائے میں جمہوری عمل کے تسلسل کا انحصار سیٹیزن کےرجحانات اور رویوں (attitudes) پر منحصر ہے، اس بات پر منحصر نہیں کہ وہ پیدواری عمل میں کس حیثیت سے شرکت کرتے ہیں ۔وہ تجارت (commerce) کے فروغ کا حامی ہے اور Max Webar کی طرح اس کو امید ہے کہ تجارت کا فروغ صفت قناعت (fragality) کو معاشرہ میں غالب کردیگی ۔اور ریپلکن ورچو(virtue) اور تعظیم قانون کو عام کرنے کا ذریعہ بنے گی ۔تجارت کا پھیلاؤ جمہوریت کی بقاء اور استحکام کے لئے ضروری ہے لیکن اس پھیلاؤ کو اس طرح منظم (regulate) کیا جائے کہ اس کے نتیجہ میں ارتکاز دولت اور عیاشانہ عوامیرجحانات ترقی نہ پائیں۔ بڑھوتری دولت سے جو منفیرجحانات پیدا ہوتے ہیں ان کو دوسرے شہری اخلاقیا ت(civic virtures) کو فروغ دیکر دبایا جاسکتا ہے ۔

مونٹیسکیو مساویانہ روحانیت (sprit of equality) کے فروغ کا تو قائل ہے لیکن وہ مساویانہ تقسیم دولت (economic equality) کا قائل نہیں ۔سیٹیزن کی مساوی قانونی حیثیت ہوگی لیکن وہ اصحاب اقتدار magistrate اشرافیہ کے اہل کار اور والدین کے اقتدار کا احترام کریں گے۔ مونٹیسکیو کی رائے میں ریاستی مقننہ باپ کی جگہ لے لیتی ہے ۔

نیکی (vitue) کی معاشرتی عمومیت کا انحصار چار خصوصیات پر مشتمل ہے ۔ریاست کا محدود وقوعی (small size) ہونا ،قناعت، معاشی حالات کی یکسانیت او راقتداری عمال کی تعظیم ۔یہ ایک خاص قسم کی سیاسی فضاء تشکیل دیتی ہیں ۔قانون اور دستور سازی ان ہی اوصاف کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔اور ان اوصاف کا اصل مقصد اجتماعی مفادات کو انفرادی اغراض پر ترجیح دینا ہے۔ مونٹیسکیو کے خیال میں یہ تجربہ صرف ایسی جمہوریتوں میں پنپ سکتا ہے جہاں اقتدار عوام کے ہاتھو ں میں ہو۔

نیکی کے اس تصور کو عوام کی زندگی میں روح رواں بنانا ریاست کا اولین فرض ہے اور وہ یہ فرض تعلیم ،قانون سازی اور تنظیم (administration) کے ذریعہ انجام دیتی ہے ۔ایک ریاست جمہوری اس حد تک ہے جس حدتک وہ اس تصور نیکی کو پھیلانے کے کام کو مقدم رکھتی ہے۔ مونٹیسکیو کے خیال میں ایک فرد پبلک افادیت کو فرغ دے کر زیادہ خوشی حاصل کرتا ہے بنسبت ذاتی اغراض کو پوراکرکے ۔سیٹیزن اجتماعی مفاد کو انفرادی خودغرض پر ترجیح دیتا ہے اور یہی وجہ رپبلکن نظام کی دیگر نظام ہائے ریاست پر اخلاقی (moral) برتری کا سبب ہے ۔جب ریپبلکن ریاستوں میں پبلک نیکی (civic virtue) کا یہ احساس کم ہوجاتا ہے تو وہ زوال اور انحطاط کا شکار ہوجاتی ہیں۔لیکن ریپبلکن ورچو کو فروغ دینے کا عمل مشکل اور پیچیدہ ہے اور اس کی پرورش کےلئے مونٹیسکیو کے خیال میں بہت سی دوسری عوامی جبلتوں کو کچل دینا پڑتا ہے ۔لیکن مونٹیسکیو کے ہاں اس کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس کو اس بات کا احساس تھا کہ لوگ جب اپنے انفرادی اغراض کے حصول کی جدوجہد کرتے ہیں تو وہ نادانستہ طورپر اجتماعی مفاد کو فروغ دیتے ہیں (اس خیال کو پوری طرح بعد میں آدم اسمتھ نے متشرح کیا)اور یہ سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقاء میں ایک بنیادی و ظیفہ ہے ۔مونٹیسکیو کی رائے میں قانون سازی کا ایک اہم مقصد انفرادی اغراضی جستجو کو اجتماعی مفاد کے حصول سے ہم آہنگ بنانا ہونا چاہئے ۔مسابقت کا فروغ بھی اجتماعی مفاد کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے لیکن مونٹیسکیو کی رائے میں انفرادی اغراض اور اجتماعی مفادات کے حصول کی جدوجہد میں تطبیق ریپبلکوں کے مقابلہ میں بادشاہتوں میں زیادہ آسانی سےپیدا کی جاسکتی ہے ۔بادشاہتوں اور جمہوریتوں میں حکومت کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے یعنی انفرادی اغراض کی جستجو کو مفاد عامہ کے حصول کے تابع کرنا ۔ریپبلکن میں مفاد عامہ سے مراد معاشرتی خوشحالی (public welfare) ہم آہنگی (solidarity) اور خود اختیاریت لی جاتی ہے ۔

مونٹیسکیو آزادی(liberty) کی فراہمی کو مقاصد حکومت کا اہم جز گردانتا ہے ۔اورلبرٹی سے مراد تحکم قانون (rule of law) کو لیتاہے اور کہتا ہے کہ عوام میں تحفظ اور خوشحالی کا احساس فراہمی آزادی سے ہی پیدا کیا جاسکتا ہے ۔اس کے خیال میں آزادی کی فراہمی کے لئے ایک ایسی معتدل (moderate) حکومت کے قیام کی ضروری ہے جس کے تحکیمی اداروں (انتظامیہ ،مقننہ عدلیہ) میں تقسیم اقتدار کیا گیا ہو۔یہ ادارتی تقسیم اقتدار خو د بخود وجود میں نہیں آتا بلکہ اس کےلئے ایسے دستورسازی کی ضرورت پڑتی ہے جو ماہرانہ انداز میں اقتداری ادارتی تقسیم کی ترتیب کی تفویظ کرے ۔معتدل حکومت سے مونٹیسکیو کی مراد ایک ایسا نظام اقتدار ہے جس کے اجزا کے اختیارات ایک دوسرے کے مقابل محدود اور متوازن (balanced) ہوں اور اس ہی ادارتی توازن کو برقرار رکھنا حکومتی کارفرمائی کا مقصد ہے ۔مونٹیسکیو کی رائے میں عوامی تحرک (agitation) اس ادارتی توازن ادارتی اقتدار کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔یہ تحکم قانون (sovreignity of law) کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے ۔قانونی تحکیم حقوق بالخصوص حق تحرک(agitation) کی فراہمی کی ضمانت فراہم کرتی ہے ۔یہ آزادیاں جمہوریت کی طرح بادشاہتوں میں بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔

مونٹیسکیو کثرتیت (Pluralism) کورپبلکن نظا م کی کارفرمائی کے لئے مفید سمجھتا ہے کیونکہ کثرتیت عوام کے مختلف طبقات میں قوت کی متوازن (balanced) تقسیم کا ذریعہ ہوسکتی ہے ۔وہ اختلافیرجحانات کو جمہوری نظام کے استحکام کے لئے ضروری تصور کرتا ہے ۔لیکن اختلاف خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور civil war کی صورت اختیار کرسکتا ہے ۔لہذا فروغ آزادی اور اور اختلافی خلفشارکو توازن میں رکھنے کے لئے ریپبلکس میں ایک متوازن (balanced) دستور کی تنفیذ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک ایسا دستور جو انتظامیہ ،عدلیہ اور مقننہ میں متوازن تقسیم اقتدار کی ضمانت دے ۔یہ سیاسی آزادی کی فراہمی کے لئے ضروری ہے ۔سیاسی آزادی (political lberty) سے مونٹیسکیو کی مراد شخصی آزادیاں (قانونی مساوات ،آزادی رائے ،آزادی مواصلت وغیرہ) ہیں۔ شخصی آزادیوں کے تحفظ سے ریاستی کارفرمائی کے عمل میں عوامی شرکت کی گنجائش پیدا نہیں ہوتی اور نہ مونٹیسکیو اس نوعیت کی شمولیت کو ریپبلکن نظام کے لئے ضروری سمجھتا تھا ۔اس کے خیال میں شخصی آزادیوں کی فراہمی اور عوامی رسوم ورواج (customs) کی تعظیم عوامی خوشحالی(happeness) اور تحفظ کے فروغ کے لئے کافی ہیں۔

مونٹیسکیو عوامی ریاستی شرکت (state public participation) کو فروغ آزادی (civil liberty) کے لئے خطرہ سمجھتا تھا ۔وہ عوامی حکومت (جیسا کہ اس کے خیال میں پانچویں صدی قبل مسیح میں ایتھنز (Athens) میں کارفرمائی تھی (کے قیام کے خلاف تھا ۔اس کے خیال میں ایک عام آدمی حکومتی عمل میں شرکت سے مسرت(happeness) حاصل نہیں کرتا۔ایک عام شہری رپبلک میں صرف "اصولاً" حاکم مطلق (soverign) ہوتا ہے عملاً نہیں۔ مونٹیسکیو کا مجوزہ تعلیمی نظام اور ادارتی صف بندی ایک عام شہری کو ریاستی کارفرمائی میں شرکت کی تربیت نہیں دیتی ۔یہ دونوں اسکیمیں عام آدمی کی سیاسی آزادیوں (ریاستی عمل میں شرکت کو محدود کرنے لئے تفویض کی گئی ہیں ۔ایک ورچیول ریپبلک (vertual republic) کا عام شہری ان تحدیدات کے باوجود مونٹیسکیو کے خیال میں اپنے آپ کو پرمسرت زندگی گزارنے والا سمجھے گا کیونکہ اس کو شخصی آزادی حاصل ہوگی۔ شخصی آزادی کے تحفظ کے لئے ورچیول رپبلک (virtual republic) میں ایک عام آدمی کو سیاسی آزادیوں کی قربانی دینی پڑتی ہیں۔

مونٹیسکیو کی فکر کی عملی تشریح ریاست ہائے متحدہ (USA) کے دستور میں ملتی ہے۔دستور کا مقصد ایک ریپبلکن حکومت کا قیام ہے جوآزادی اور سر مایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دے دستور کے مصنفین کی رائے میں آزادی اورسرمایہ دارانہ پراپرٹی(property) کے تحفظ اور فروغ کے لئے ایک طاقتور وفاقی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے ۔یہ دستور ایک نمائندہ جمہوریت (representative democracy) کے قیام کی بنیاد فراہم کرتاہے اور پوپولر جمہوریت (جیسے کہ قدیم (Athens) میں تھی) کے قیام کو مضر سمجھتا ہے بالخصوص اس لئے کہ پوپولر جمہوریت سرمایہ دارانہ ملکیت کے تحفظ اور فروغ کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہے۔دستور سازوں کی رائے میں نمائندہ جمہوریت کو عوامی تائید دلانے کے لئے ضروری ہے کہ قوت کو مختلف ریاستی اداروں میں تقسیم کیا جائے ۔وفاقی قانون سازی کے عمل کو محدود کیاجائے اور دستور کی تعبیر کا حق ایک ایسی عدلیہ کو سونپاجائے جس کے ممبران کی قانونی اہلیت مسلم ہو اور جو پوری زندگی کے لئے منتخب کئے گئے ہوں۔

دستور دو خطروں کو ٹالنے کے لئے ریاستی ادارتی صف بندی وضع کرتا ہے ۔ایک خطرہ یہ ہے کہ ایک سرمایہ دارانہ عقلیت سے بے بہرہ عوام ایسے فیصلہ کریں جو آزادی اور سرمایہ دارانہ ملکیت کے فروغ کی راہ میں حائل ہوں ۔دوسرے یہ اکثریت اقلیت پر ظلم کرے ۔ریاستی ادارتی صف بندی میں متوازن تقسیم اقتدار کرنا انہی دوخطروں سے نبٹنے کا ذریعہ ہے ۔

اٹھارویں صدی امریکہ میں ایسے عیسائیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو عہد نامہ قدیم (Old Testiment) کی تعلیمات کی بنیاد پر امریکی حکومت چلانا اور وضع کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے فیڈرل دستور کی تنفیذ کی 1785 کے بعد سے شدید مخالفت کی ۔دستور کے مصنفین کے لئے یہ سوال بہت اہم تھا کہ کیسے ایک غیر سرمایہ دارانہ عیسائی اکثریت کوسرمایہ دارانہ اقلیت پر جبر کرنے سے روکا جاسکتا ہے ۔اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے جس عقیدہ کو دستور میں شامل کیا گیا اس کو (multiplicity of doctrines) عقیداتی کثرتیت کہتے ہیں۔انجیل مقدس کے سیاسی اور اخلاقی تصور کو دستور سے بالکل خارج کردیا گیا اور ریاستی ڈھانچہ مطلقاً دہریہ خطوط پر مرتب کیا گیا ۔

پھر ادارتی تقسیم اقتدار میں سب سے زیادہ تحدید مقننہ کے اقتدار میں رکھی گئی کیونکہ مقننہ ہی میں غیر سرمایہ دارانہ /عیسائی اکثریت کو قوت حاصل کرنے کا خطرہ سب سے زیادہ تھا اور امریکی دستور انتظامیہ اور عدلیہ کو ایسے اختیارات سونپتا ہے جو مقننہ کے غیر سرمایہ دارانہ اقدامات کو رد کرنے کے لئے ضروری ہیں ۔

دستور میں جدید پولیٹیکل سائنس کا یہ مفروضہ قبول کیا گیا کہ عوام کی خوشحالی (happeness) کا اصل ذریعہ فروغ آزادی/بڑھوتری سرمایہ ہی ہے لہذا انتظامیہ اور عدلیہ کو ایسے اختیارات سونپے گئے جن سے ان فیصلوں کی تردید کا اختیار ہے جو عوامی نمائندگان فروغ آزادی /سرمایہ کی تحدید کے ضمن میں کریں۔ انتظامیہ اور عدلیہ ایسے فیصلوں کو ناممکن العمل بناتے اور بڑھوتری سرمایہ کو جاری رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ دستور اس (general will) کی بالادستی کی ضمانت ہیومن رائٹس کی تقدیس کو قبول کرکے دیتا ہے ۔

مونٹسکو معاشرتی کثرتیت(pluralism ) کو بھی سراہتاہے اور امریکی دستور انتخابی عمل جاری رکھ کے اور اس انتخابی عمل کا دائرہ کار وسیع کرکے اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ عوام چھوٹے چھوتے مفاداتی گروہوں میں تقسیم ہوتے رہیں اور سرمایہ داروں کےلئے یہ ممکن ہوجائے کہ عوام کے کچھ گروہوں کو اپنے ساتھ ملا کر سرمایہ دارانہ مقاصد کے حصول کی راہ ہموار کرتے رہیں ۔اعتقادی کثرتیت کو فروغ دے کر بھی عوامی اختلافات کو سرمایہ دارانہ غلبہ کا آلہ کار بنایا جاسکتا ہے ۔

امریکی دستور مونٹیسکیو اور لاک کی فکر سے ماخوذ ہے اور امریکہ مونٹیسکیو کی ورچیول رپبلک (virtues republic) کی عملی شکل ہے ۔یہ خبیث اور ذلیل قوم پچھلی چار صدیوں سے لوٹ مار، دہشت گردی ،قتل عام، دھوکہ دہی ،عریانی ،فحاشی ور منافقت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی یہی سرخیل قوت ہے کیونکہ سرمایہ داری کا یہی پلیدتصور نیکی (virtue) ہے ۔

3.7۔ کارل مارکس

مارکس ،ہیگل کی طرح سرمایہ دارانہ ریاست کو خود تخلیقی ان معنوں میں مانتا ہے کہ ریاستی عمل ان حالات کو مستقل تخلیق کرتا رہتا ہے جو اس ریاست کے وجود کے لئے ضروری ہیں۔سیاسی نظام قدرتاً (naturally) ظہور پزیر نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ طرز پیداوار (mode of production) اسے تعمیر کرتا ہے۔ اس طرز پیداوار کو جاری رکھنے کے لئے مارکٹی تبدل (exchange) کی کارفرمائی لازمی ہے کیونکہ یہ عمل تبدل ہی تبدیل (exchange) کی جانے والی اشیاء کی قدر میں مساوات (equivalance) متعین کرتی ہے۔

مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں شے (commodity) کی افاداتی قدر (use value) بھی ہوتی ہے اور تقابلی قدر (exchange value)بھی سرمایہ دارانہ عمل میں تقابلی قدر (exchange value) شےکی افاداتی (use value) پر اتنی غالب آجاتی ہے کہ شے کی آفاقی تقابلی قدر (abstract exchange value) کو اس کی حقیقی قدر کا واحد معیار تسلیم کرلیا جاتا ہے ۔یہ بات کا غذ او ر الیکٹرانک منی کے غلبہ کے دور میں واضح ہے ۔

سر مایہ دارانہ ذر(capitalist money)تقابلی قدر کی آفاقی تشکیل (universal objectification) ہے سرمایہ دارانہ معاشرت میں تحکم عالی(sovreiginity) سرمایہ دارانہ زر کے پاس ہوتی ہے جو تمام اشیاء کی تقابلی قدر متعین کرتاہے۔اس تحکم مطلق ( Sovreiginity) کا اظہار زر کا سرمایہ ( Capital) میں تبدیل ہوجانے سے ظاہر ہوتا ہے ۔

سرمایہ وہ زر (money) ہےجو اپنی بڑھوتری کی تلاش میں مستقلاً اشیاء،خدمات اور مارکیٹوں میں گردش کرتا رہتاہے اس گردش کے معاشرتی تسلسل اور تفوق سے سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) برآمد ہوتی ہے ۔سرمایہ دارانہ معاشرہ میں ہروہ عمل ریشنل ہے جس کا مقصداعلیٰ (ultimate purpose) بڑھوتری سرمایہ ہو اور ہر وہ عمل غیر ریشنل ہے جس کا مقصد اعلیٰ کچھ اور ہو ۔سرمایہ درانہ نظام ایک کلیت(tatality) ان معنوں میں ہے کہ سرمایہ کی یہ گردش دھیرے دھیرے ہرمعاشرتی عمل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور اس گردش سرمایہ کے باہر (external) کسی عمل کی انجام دہی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔

اپنے تحکم (sovreiginity) کے اظہار کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ ایک معاشرتی انتظامی قوت بنے۔ سرمایہ دارنہ تمویلی عمل (finance) سرمایہ دارانہ پیدواری عمل کو اپنے اندر سمولیتا ہے کیونکہ بغیر یہ کیے تحکم سرمایہ (sovreiginity of Capital) معاشرتی غلبہ حاصل نہیں کرسکتا ۔ہر فرد اپنی محنتی صلاحیتیں (labout power) زری اجرت (money wages) کے عوض سرمایہ کو فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور محنتی قوت (labour power) ایک شے (commodity) کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔

مارکس کے مطابق جس طرح سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں شےکی قیمت اس کی محنتی لاگت کے مساوی ہوتی ہےاسی طرح سیاسی نظام میں کانٹریکٹ کنندگان (contractors) کے مساوی حقوق (rights) تسلیم کئے جاتے ہیں ۔سرمایہ دارانہ ریاست اپنے کانٹریکٹ کنندگان کے اپنی اصولی مساوی حقو کی فراہمی کی ذمہ دار ہے کونٹریکٹ کرنے کے حقوق سرمایہ دارانہ ریاست فراہم کرتی ہے اور بقول مارکس ،روسو وغیرہ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ریاست خود ایک کانٹریکٹ ہے۔ مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست کے قیام کی جو محرک قوت ہے وہ طبقاتی کشمکش ہے جو روسو کے ارادہ عمومی (general will) کو متعین کرتی ہے ۔

کانٹریکٹ کی تخلیق سے قبل حقوق کا کوئی وجو دنہیں ہوتا بلکہ کانٹریکٹ ہی حقوق کو جنم دیتے ہیں۔ کانٹریکٹ سرمایہ دارانہ ملکیت کے تبدل کے حقوق متعین کرتا ہے اور یہ حقوق بھی اصولی (abstract) نوعیت کے ہوتے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام ہر شخص کا سرمایہ دارانہ ملکیت رکھنے کا حق تسلیم کرتا ہے لیکن کسی کا کسی شے پر لازمی تصرف کو تسلیم نہیں کرتا۔

کانٹریکٹ صرف حقوق کے حاملین (subjects of rights) کے درمیان قائم کئے جاسکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ملکیت سرمایہ دارانہ حقوق کی تجسیم ہے اور سرمایہ دارانہ ملکیتی حقوق کی فراہمی لازماً سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ ریاستی قوت کا اظہار ہوتے ہیں ۔سرمایہ دارانہ قانونی ریاستی قوت کے استعمال کے بغیر سرمایہ دارانہ حقوق اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا وجود ناممکن ہے ۔ریاست وہ قوت ہے جو سرمایہ دارانہ ملکیت/ کونٹریکٹ کو آفاقی بنانے کے لئے ضروری ہےاور قانون وہ ذریعہ ہے جس سےحقوق کے حاملین میں اسی طرح مساوات پیدا کی جاتی ہے جس طرح اشیاء کی قیمتوں اور ان میں شامل محنتی لاگت کے درمیان سرمایہ دارانہ مارکیٹ مساوات قائم کرتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ معاشرت (civi socieity) کی جداگانہ پیوستگی (relativly autonomous) ہوتے ہیں ۔ریاست معاشرہ پر سرمایہ دارانہ تحکم مسلط کرتی ہےبذریعہ فراہمی سرمایہ دارانہ حقوق ۔

سرمایہ دارانہ ریاست ایک مخصوص سیاسی انفرادیت قائم کرتی ہے جسے سیٹیزن شپ (citizenship) کہتے ہیں ۔سیٹیزن سرمایہ دارانہ abstract حق ملکیت کا حامل ہوتا ہے گو کہ اس کو کسی مخصوص شے کے تصرف کا حق حاصل نہیں ہوتا اس کا عملی(concrete) حق ملکیت اس کی محنتی صلاحیت (labout power) تک محدود ہوتا ہے محنتی قوت وہ واحد شے جس کو استعمال/ فروخت کرنے کا عملی غیر abstract حق سرمایہ دارانہ ریاست تسلیم کرتی ہے اور بقول مارکس سیٹیزن شپ پرولتاریہ (proletariate) کا ہم معنی تصور ہے۔ بقول مارکس پرولتاریہ کے افراد اپنی اس معاشرتی حیثیت(سیٹیزن شپ) سے مطمئن نہیں رہتے اور انقلابی جدوجہد کا ایسا امکان ہمیشہ موجود رہتاہے جس کو کچلنے کے لئے سرمایہ دارانہ ریاست مسلسل جدوجہد کرنے پر مجبور رہتی ہے۔ کانٹریکٹ قانون کی ترتیب اور تشریح اس جدوجہد کا اہم حصہ ہے ۔

مارکس سرمایہ دارانہ ریاست کے قیام کے تاریخی عمل کی تفصیل بیان کرتا ہے اور اس تاریخی عمل میں پیوست بہت سے تضادات کی نشاندہی کرتا ہے ۔ان تضادات کو مہمیز دے کر سرمایہ دارانہ نظام کو از سر خود مرتب کیا جاسکتا ہے لیکن ہماری رائے میں مارکس کے پاس سرمایہ دارانہ نظام کی تسخیر اور منتشری کا کوئی تصور موجود نہیں ۔مارکس سرمایہ دارای کے مفروضہ آخری دور کو خوشحالی کا دور (state of abundance) کہتاہے اس دور میں محنتی قوت کی فروخت کی ضرورت باقی نہ رہے گی اور ہیومن بینگ اپنی محنتی قوتوں سے بھرپور طورپر مستفید ہونے کی صلاحیت حاصل کریگا ۔مارکس سرمایہ دارانہ تعقل (rationality) کو پرولتاریہ کی ضرورتوں (needs) اور اس کی صلاحیتوں (capacities) کو ابھارنے کے ذریعہ کے طور پر مانتا ہے اور یہی اس کا تصور عدل ہے۔ خوشحالی (abundance) ان معنوں میں ایک عادلانہ نظام ہوگا کہ وہاں انفرادی صلاحیتیوں کے استعمال سے تمام انفرادی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی۔ سرمایہ دارانہ ریاست (مارکس اور بعد میں لینن اسے طبقاتی ریاست (class state) کہتے ہیں) وہ افراد ی صلاحیتوں کے استعمال کےذریعہ ضرورتوں کی تکمیل میں فاصلہ پیدا کرتی ہیں اور لہذا بقول مارکس نہ ریشنل ہوتی ہیں نہ عادلانہ

"خوشحالی کے دور" (state of abandance) کا جو تصور مارکس پیش کرتاہے وہ انارکک(anarchic) ہے اس میں ریاست کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور ہر فرد مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہوتاہے ۔پیدوار کی لامتناہی بڑھوتری کی بنیاد پر تمام خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے اور ہر شخص وہ حاصل کرسکتا ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتاہے ۔لیکن مارکس کو اس کا احساس تھا کہ اس مفروضہ جنت تک پہنچنے کے لئے پرولتاریہ کو ایک درمیانی آزمائشی دور سے گزرنا ہوتا ہے جس میں وہ ایک خود طبقاتی ریاست(class state) قائم کریں گے ۔یہ طبقاتی ریاست جمہوری اصولوں پر کارفرما ہوگی ۔مارکس کا عقیدہ تھا کہ فطرت انسانی اس چیز کی متقاضی ہے کہ انسان اپنی مکمل آزادی اور خود انحصاریت کا اظہار کرے ۔اس کے خیال میں پہلے تاریخی ادوار میں یہ ناممکن تھا لیکن سرمایہ دارانہ ارتقاء نے اس امکانی اظہار خود ارادیت کو نہ صرف ممکن بلکہ ناگزیر بنادیا ہے۔

پہلے ادوار میں پیدواری قوتیں محدود تھیں اور بیشتر افراد جبراً محنت کرنے پر مجبور تھے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام نے پیدواری قوتوں کواتنا بڑھا دیا ہے کہ کسی جابرانہ ریاستی یا معاشرتی تنظیم سازی کی کوئی ضرورت نہیں رہی اور اس عمل کی ابتدا کی جاسکتی ہے جس کے نتیجہ میں آخر کار طبقاتی ریاستی نظام تحلیل ہو سرمایہ داری انسان کو ہیومن بننے کے مواقع تاریخ میں پہلی مرتبہ فراہم کررہی ہے۔ ان امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے طبقاتی کشمکش کو منظم کرتا ا ور پرولتاریہ کی ریاست قائم کرنا ضروری ہے ۔موجودہ جمہوری نظام بقول مارکس بورژوا کی آمریت (dictatorship of bourgoie) کا ہے سیاسی طورپر منظم پرولتاریہ بورژوا کی آمریت کو ختم کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ ریاستی نظام پر قبضہ کرلے گی ۔یہ پرولتاریانہ آمریت اس وقت تک قائم رہے گی جب ایک مکمل اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام قائم نہیں کرلیا جاتا پرولتاری آمریت کے اس دور کو مارکس جمہوری کہتا تھا ۔

مارکس اپنے مشہور مقالہ (The communist minifesto) میں لکھتا ہے "محنت کشوں کا پہلا قدم جمہوریت کے قلعہ کو فتح کرنا اس قلعہ کو فتح کرکے پر ولتاریہ تمام سرمایہ دارانہ دولت پر تسلط حاصل کریگی، لیکن اس قبضہ سےاقتدار کا قصد طبقاتی نطام کا خاتمہ ہوگا اور اس کے نتیجہ میں ریاست خود بہ خود تحلیل ہوجائیگی ۔کمیونسٹ معاشرہ میں نہ پرولیٹریٹ کا کوئی وجود ہوگا نہ بورژوا کا۔ ڈیکٹیٹر شپ آف پرولوٹریٹ کے دورمیں جمہوری عمل کو طبقاتی نظام کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جائیگا ۔

مارکس کے مطابق پرولوٹرین ڈکٹیٹرشپ کا دور جمہوری دو وجوہ سے ہوگا۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس کے مفروضہ کے مطابق پرولوٹریٹ یعنی صنعتی مزدور آبادی کی بہت بڑی اکثریت ہوں گے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس طرز حکومت کا مقصد تمام افراد ( ہیومن (کوخود اختیاری بننا ہوگا یہ دنووں مفروضے سرمایہ دارانہ طرز پیدواری (mode of production) کےتسلسل کی صلاحیت پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ سرمایہ بڑھوتری کے بغیر ایک خوشحال(abundant) معیشت وجود میں لاناناممکن ہے ۔

مارکس کی رائے میں مارکیٹی نظام سرمایہ دارانہ بڑھوتری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ایسا ریاستی یا اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام قائم اورکارفرما کیا جائےگا جہاں سرمایہ دارانہ ملکیت اجتماعی یا ریاستی ہوگی اور پرولتاریہ کی جمہوری ڈکٹیٹر شپ کے ذریعہ ریاستی سرمایہ داری نظام کارفرما ہوسکے ۔مارکس کے مطابق پرولتارین ڈکٹیٹرشپ کے دور میں بورژوا کے طبقہ کے افراد کے شخصی حقوق بالخصوص ملکیت توسلب کرلیئے جائیں گے لیکن پرولتاریہ کے حقوق اس دور میں محفوظ رہیں گے۔ شخصی ملکیت پر تو تحدید ہوگی لیکن مارکس کے مطابق ریاستی ملکیت پر پرولتاریہ کا پورا تسلط رہے گا کیونکہ یہ اجتماعی ملکیت پرولتاریہ کے نمائندوں حمایت کے کنٹرول میں ہوگی ۔

نمائندگی کا تصور بھی مارکس کے ہاں ملتا ہے ۔پرولتاریہ کی ایک نمائندہ جماعت ہوگی جو اپنی نظریاتی راست روی کی بنیاد پر اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی کا فن بخوبی جانتی ہوگی اس جماعت اور پرولتاریہ میں تقسیم اقتدار کی تفصیل مارکس کے ہاں نہیں ملتی ۔مارکس پیرس کو میون (Paris commune) کا بھی حمایتی تھا جس کے مختصر دور میں عوام کے چھوٹے سے گروہ نے براہ راست اقتدار سنبھالا تھا اور جرمن سوشل ڈیموکریٹ اینڈ لیبرپارٹی کا بھی جس نے Bismarck کی حکومت کے فراہم کردہ جمہوری انفرادی حقوق سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی ۔ پرولتاریہ کی ڈیکٹیٹر شپ میں کیا رویہ اختیار کیا جائیگا اس کا جواب مارکس کے پیرولینن نے دیا ۔

3.8۔ جان اسٹوارٹ مل

سوشل ڈیموکریسی اس سرمایہ دارانہ نظریہ کوکہتے ہیں جو لبرل اور اشتراکی تصورات اور پالیسیوں کی آمیزش کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے اہم تضادات کو واضح کر کے سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو کرتا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی لبرل طرز معاشرت کی تصدیق کرتی ہے اور لبرل معاشروں کی طرح سوشل ڈیموکریٹ معاشرے بھی خودغرضی، شہوت پرستی، جنسی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ کی غلاظتوں سے سرشار ہوتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ حرامی بچے سوشل ڈیموکریٹ (سویڈن) میں اور سب سے زیادہ اغلام باز بھی سوشل ڈیموکریٹ (نیدرلینڈ) ممالک میں ہی پائے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ طلاقیں بھی سوشل ڈیموکریٹ (فن لینڈ) ممالک میں دی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ خودکشیاں بھی سوشل ڈیموکریٹ ممالک (سوئٹزرلینڈ) میں کی جاتی ہیں۔ دہریوں اور ابلیس پرستوں کا قومی آبادی میں تناسب بھی سوشل ڈیموکریٹ ملک (نیدر لینڈ) میں سب سے زیادہ ہے ([94])۔ 

لبرل ازم اور اشتراکیت کی طرح سوشل ڈیموکریسی کی نظر میں جنسی بے راہ روی آزادی کا ایک فطری طریقہ ہے اور جنسی بے راہ روی اور دہریت کے فروغ کے لیے معاشرتی مواقع فراہم کیے جانے چاہییں([95])۔
سوشل ڈیموکریسی کی نظر میں ظلم صرف معاشی محرومی کا فروغ ہے۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی فطری کارفرمائی پورے معاشرے میں ارتکاز دولت اور قوت اور معاشی محرومی کو فروغ دیتی ہے۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ معاشرت شہوت پرست ہے لہٰذا ہمیشہ اور ہر جگہ لذات کے حصول کی طلب آمدنی اور ذرائع کی رسد سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، خواہ قوم پرست، خواہ سوشل ڈیموکریٹ کتنی بھی ترقی کر لیں، کتنی بھی دولت اور سامان تعیش اکٹھا کر لیں ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہتے ہیں اور یہی احساس محرومی غالب معاشرتی رویہ بن جاتا ہے۔ کوئی فرد اپنی زندگی سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا کیوں کہ وہ ہمیشہ اپنے معیارِ زندگی کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے اور معاشرتی عمل کا حاصل یہی بے اطمینانی کا فروغ ہے۔ کسی غیر عیسائی مغربی مفکر کے پاس نفس مطمئنہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔

یہ احساس محرومی سرمایہ دارانہ معاشرت میں شامل ہر شخص کا مستقل حال ہوتا ہے۔ وہ اس احساسِ محرومی سے کبھی نجات حاصل نہیں کر سکتا خواہ کتنا ہی مال دار کیوں نہ ہو جائے۔ اس ابدی مایوسی سے فرار کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ جو لوگ سرمایہ کے چکر میں شامل ہوتے ہیں([96]) وہ حصولِ دولت، اقتدار اور مناصب کی کش مکش میں لگے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو سرمایہ کے چکر سے باہر ہوتے ہیں یعنی بے روزگار، پنشن یافتہ افراد، غیرسرمایہ دارانہ کاروبار کرنے والے وغیرہ ،وہ سرمایہ کے عاملین سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔

اپنے عروج کے اوائل میں سرمایہ دارانہ قومی نظام عموماً طبقات میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ایک ایسا جم غفیر پیدا ہو جاتا ہے جس کی سرمایہ کے مارکیٹس میں مسابقتی قوت کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ محنت کشوں کا طبقہ ہوتا ہے اور اپنی مسابقتی قوت کو بڑھا کر سرمایہ سے بہتر سودے بازی کے لیے یہ طبقہ مزدور انجمنیں قائم کرتا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی انہی ٹریڈ یونینز کی جدوجہد کا سیاسی اظہار ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ ناانصافی کے خلاف جدوجہد سرمایہ دارانہ مارکیٹس میں تقسیم دولت کو زیادہ مساویانہ بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ اشتراکیوں کی طرح وہ مارکیٹ کا انہدام ضروری نہیں سمجھتے نہ کسی مزدوروں کی آمریت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ لبرل ریاست اور اس کے دستور کے فراہم کردہ ہیومن رائٹس کو قبول کرنے والی ایک ایسی حکومت کا قیام چاہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ عدل قائم کرے اور مارکیٹ کو اس طرح ریگولیٹ کرے کہ ارتکاز سرمایہ کے رجحان کی تحدید ہو اور سرمایہ کی گردش کے نتیجے میں حاصل شدہ اضافی قدر اجرتوں کا حصہ زیادہ اور منافع، سود، رہن وغیرہ کا کم حصہ ہو۔

3.8.1 ۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی پارلیمانی جدوجہد

اس فکر کی ابتدا اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے فرانس[97] اور برطانیہ میں ہوئی۔ جان اسٹوارٹ مل (۱۸۷۳۔۱۸۰۶ء) کی فکر سوشل ڈیموکریسی نظریات کی تدوین میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ مل ایک utilitarian فلسفی تھا اور مشہور utilitarian مفکر جرمی بینتھم کا ذاتی تربیت یافتہ شاگرد تھا([98])۔ Utilitarianism کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ ہیومن بینگ کی بنیادی قوت محرکہ حصولِ لذات کی پیہم جدوجہد ہے۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر Utilitarianism وہ اصول مرتب کرنے کی کوشش کرتی ہے جن کی بنیاد پر پالیسی سازی کے ذریعے حصولِ منتہائے لذات ممکن ہو سکے۔

مل کے مطابق سیاسی عمل کے تجزیہ کے لیے جس طریقہ پر عمل کرنا چاہیے اس کو Reverse Deductive Method کہتے ہیں۔ اس طریقۂ تجزیہ کے مطابق:

۱۔ پہلے مشاہدہ کی بنیاد پر ایسے قوانین کی نشان دہی کی جائے جو اسباب اور نتائج کے تعلق کے رجحانات کو مطمئن کریں۔

۲۔ پھر ان قوانین کی تصدیق ان مفروضہ قوانین کی بنیاد پر کی جائے جو فطرت انسانی کے غماز ہیں۔

۳۔ جب کسی انفرادی سیاسی تعبیر یا پالیسی (بذریعہ پارلیمانی قانون سازی) کا تجزیہ کیا جائے تو مشاہدہ کی بنیاد پر اخذ شدہ قوانین پر انحصار کرنا کافی ہے۔ اگر مقصد اس قانون کے فوری اثر کا تعین کرنا ہو۔

۴۔ لیکن اگر اس سیاسی پالیسی کے اثرات کا تجزیہ مقصود ہے جو اس کے اطلاق کے نتیجے میں تہذیبی ترقی پر مرتب ہوں گے تو لازم ہے کہ اس قانون یا پالیسی کی فطرت انسانی سے مطابقت کی بھی تحقیق کی جائے۔ یہ مطابقت اس سیاسی عمل کے قوانین سے اخذ کرنے پر منحصر ہے جو فطرت انسانی کے غماز ہیں( [99])۔

مل تاریخ میں ارتقا کو لازم تصور نہیں کرتا لیکن تہذیبی ارتقا کو ممکن بھی سمجھتا ہے اور ضروری بھی۔ مل کے خیال میں تاریخ کے مطالعہ سے وہ مدارج (Stages) بھی واضح ہو جاتے ہیں جو ترقی کی جستجو میں ہیومن بینگ نے طے کیے ہیں اور ان ناگزیر اقدامات کی نشان دہی بھی ممکن ہے جو ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے لازم ہیں۔درست اور مطلوب سیاسی حکمت عملی وہ ہے جو ایک معاشرہ کو تاریخی ارتقا کی راہ پر گامزن کرنے کا آلہ کار بنے، محض وقتی مسائل کے حل پر توجہ نہ دے۔ مل کے مطابق ترقی سے مراد زیادہ سے زیادہ حصولِ لذت ہے۔ انگلستان ہندوستان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے، انگلستان میں ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ لذات کا حصول ممکن ہے۔ اپنی مشہور کتاب Utilitarianism میں مل کہتا ہے ہیومن بینگ لذات کے حصول کا خواہاں ہے لہٰذا حصولِ لذات ہی مقصد حیات و سیاسیات ہونا چاہیے۔

مل نے ساری زندگی برطانیہ کے انڈیا آفس میں ملازمت کی۔ انڈیا آفس وہ ادارہ تھا جو ہندوستان میں برطانوی استعماری حکمت عملی مرتب کرتا تھا۔ جہاد ۱۸۵۷ء کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی اور ہندوستان سلطنت برطانیہ کی ایک کالونی بنا دیا گیا تو مل نے انگریز استعماری حکمت عملی مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مل کے خیال میں استعماری پالیسی کا مقصد ہندوستان کو برطانیہ کی طرح ایک ترقی یافتہ تہذیب کا گہوارہ بنانا چاہیے تھا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان میں حکومت کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو ہندوستان کو ایک مہذب، ترقی یافتہ ملک بنانے کی خواہش اور اہلیت رکھتے ہوں۔ اور یہ بات صرف ہندوستان کے لیے نہیں خود برطانیہ کے لیے بھی ضروری ہے۔ترقی کا سفر تین مدارج پر مشتمل ہے:

۱۔ دیومالائی (Mythological) ۲۔مذہبی (Theological) ۳۔ سائنسی (Experimental) 

لازم نہیں کہ کوئی معاشرہ ایک درجہ سے دوسرے درجہ تک ترقی کر ے۔ غیر معمولی ذہین اشرافیہ اپنے عمل، فکر اور جدوجہد کے ذریعے ہی ارتقا کو ممکن بناتی ہے۔ ان غیرمعمولی افراد کی صلاحیتوں کا فروغ صرف ایک آزاد معاشرے میں ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا بڑھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی آزادیوں کا فروغ ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے لازم ہے۔ آزادانہ ماحول غیرمعمولی ذہین افراد کے لیے یہ بات ممکن بناتا ہے کہ وہ رائج شدہ میلانات، خیالات اور طریقوں کو چیلنج کر کے ان کا متبادل تجویز کر سکیں۔ 

مل کے مطابق انیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک اور معاشرے امریکا اور مغربی یورپ میں پائے جاتے تھے۔ ترقی یافتہ ملک و معاشرت کی پہچان یہ ہے کہ وہاں ذمہ دار حکومت کے ہاتھ میں اقتدار ہو اور سائنٹفک علمیت غالب ہو۔ ترقی کا سب سے اہم سبب سوشل سائنٹفک علمیت کا فروغ ہے۔ یہ خیال بھی مل نے کومٹے کی فکر سے اخذ کیا ہے۔ ترقی کا عمل یورپ اور امریکا میں اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ سوشل سائنسز کی فراہم کردہ علمیت کے فروغ کے نتیجے میں ہنوز جاری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مل اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ترقی کے سفر میں معاشرتی مساوات کا فروغ بذریعہ جمہوری عمل بھی لازم ہے۔ اس معاملہ پر مل فرانسیسی مفکر ٹاکویل (Tocqueville) سے متاثر ہے۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں ٹاکویل نے امریکا کا دورہ کر کے امریکا کو ایک مثالی جمہوری ملک بیان کیا اور ہیگل کی طرح پیش گوئی کی کہ سرمایہ دارانہ دنیا کی قیادت بالآخر امریکا ہی کرے گا۔معاشرتی مساوات کی ناگزیر بڑھتی ہوئی بڑھوتری کو مل پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا کیوں کہ اس کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہو جانے کا امکان تھا کہ اقتدار ذہین اشرافیہ کے ہاتھ سے نکل جائے۔ مل اس بات کو ممکن سمجھتا تھا کہ معاشرتی مساوات کے فروغ کے اس خطرہ کو سیاسی حکمت عملی کے ذریعے manage کیا جا سکتا ہے([100])۔

کلاسیکی utilitarian فکر میں ریاست کا مقصد وجود (raison d'être) زیادہ سے زیادہ سٹیزن کے لیے لذات کا فروغ تھا۔ اس کو Greatest Happiness Principle (GHP) کہتے تھے اور کلاسیکی utilitarian بینتھم، جیمس مل اور ان کے مرشد ہیوم کے مطابق ریاستی پالیسی سازی اسی اصول کو مدنظر رکھ کر کےوضع کی جانی چاہیے۔ مل GHP کو بحیثیت ماخذ ریاستی پالیسی تسلیم کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ لذات دو قسم کی ہوتی ہیں اعلیٰ اور ادنیٰ۔ ذہنی اور روحانی لذات بدنی لذات سے اعلیٰ درجہ کی لذات ہوتی ہیں۔ زندگی کا مقصد اعلیٰ لذات کا فروغ ہونا چاہیے اور ان کے حصول کے لیے ادنیٰ لذات کی قربانی دینا اور تکالیف برداشت کرنا جائز ہے۔ مل نے اس بات سے تین نتائج اخذ کیے:

۱۔ وہ معاشرہ زیادہ ترقی یافتہ ہے جہاں لوگ اعلیٰ لذات کے حصول کی جستجو کرتے ہیں لہٰذا ترقی کے حصول کے لیے اعلیٰ لذات کے فروغ کی جدوجہد لازمی ہے۔

۲۔ اعلیٰ لذات کا فروغ صرف ایک آزادی پرست معاشرے میں ممکن ہے۔

۳۔ عدل کا قیام اور طمانیت کا فروغ اس بات پر منحصر ہے کہ لوگ ایک ایسے معاشرہ میں رہیں جہاں اعلیٰ لذات کے فروغ کی جستجو مقدم ہو۔

جو لوگ اعلیٰ لذات کے فروغ کی تقدیم کے قائل ہوتے ہیں وہ اعلیٰ اخلاق اور کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ بہترین شہری بھی ہوتے ہیں اور بہترین مفکر و مدبر بھی کیوں کہ سائنسی ترقی کا انحصار انہی کرداروں اور اخلاقیات کے فروغ پر منحصر ہے جو اعلیٰ لذات کے حصول کی جستجو کرنے والے اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔
حکومت کا مقصد وجود ان لذات کی فراہمی نہیں جن کی طلب اس کے سٹیزن کسی وقت ظاہر کریں بلکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے سٹیزن کی ایسی تربیت کرے جس کے نتیجے میں وہ اعلیٰ لذات کے حصول کو مقدم قرار دینے لگے۔ اخلاقی تعلیم کی فراہمی حکومت کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ حکومت محض سٹیزن کی خواہشات کی تکمیل کی ذمہ دار نہیں ان کی اخلاقی ترقی کی بھی ذمہ دار ہے اور اخلاقی ترقی سے مراد یہ ہے کہ سٹیزن اعلیٰ لذات کو مقدم سمجھنے لگیں ([101])۔

ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا حق صرف اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افرادان کو ہونا چاہیے کہ اعلیٰ لذات کو مقدم رکھنے کی ضرورت کا شعور رکھتے ہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ ایسے نابغہ روزگار افراد کو زیادہ سے زیادہ آزادیاں فراہم کی جائیں تاکہ اظہار ذات کے متنوع طرائق کو فروغ دے کر معاشرتی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔ جمہوری عمل اس معاشرتی تنوع کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے اور جمہوری ریاستیں غیرجمہوری ریاستوں سے اسی لیے بہتر ہیں کہ اظہار ذات اور فروغ آزادی کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہیں لیکن جمہوری عمل کو اسی اشرافیہ کے سیاسی اقتدار کی برطرفی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں جو اعلیٰ لذات کی تقدیم کی جدوجہد کر رہی ہو۔ایک اچھی حکومت وہ ہے جو استحکام اور امن کو قائم رکھتے ہوئے ترقی کو فروغ دیتی ہے۔ وہ اپنے عوام کو ایسی تعلیم دیتی ہے اور ان کی ایسی تربیت کرتی ہے جو ان میں اعلیٰ لذات کو مقدم رکھنے اور برتنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ ریاستی ادارتی صف بندی اس طرح کی جانی چاہیے کہ عوامی اخلاقی([102]) اور انتظامی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی تعلیم و تربیت ہے ،لیکن یہ تعلیم و تربیت عوام کی ثقافتی کیفیت پر منحصر ہونی چاہیے۔ جو تعلیم اور تربیت انگلستان کے لیے موزوں ہے وہ ہندوستان کے عوام کے لیے موزوں نہیں کیوں کہ ہندوستان کے عوام وحشی، روایتی، قدامت پسند اور وہمی ہیں۔ برطانوی حکومت پہلے ان کو مطیع بننے اور مطیع رہنے کا سبق سکھائے گی پھر ان کو محنت کی عادی بنائے گی۔ پھر ان کو روشن خیالی کا سبق دے گی اور اس طرح ان میں سے کالے انگریزوں کا ایک ایسا گروہ برآمد کرے گی جو اعلیٰ لذات کی تقدیم کے قائل ہوں اور یوں دھیرے دھیرے ان کالے انگریزوں کو اقتدار سونپ کر ہندوستان کو سیلف گورنمنٹ کے قابل بنائے گی۔

مل بار بار اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ وحشیوں کے لیے جمہوریت موزوں طریقہ حکومت نہیں۔ اگر وحشیوں کو جمہوری حکومت سونپ دی جائے تو وہ کبھی ترقی نہ کر سکیں گے۔ کبھی بھی اعلیٰ لذات کی تقدیم کا احساس ان میں فروغ نہ پا سکے گا۔ لہٰذا برطانوی استبدادی اقتدار ہندوستان کی ترقی کے لیے لازمی ہے۔ مل روشن خیال اشرافیہ([103] ) کے معاشرتی اور معاشی تغلب کا قائل ہے لیکن ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں نمایندہ جمہوریت کو روشن خیال اشرافیہ کی استبدادی حکومت پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کی وہ تین وجوہات بیان کرتا ہے:

۱۔ انفرادی حقوق کی فراہمی کی ضمانت صرف شخصی آزادی کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔

۲۔ بقول مل تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد معاشرہ اور ریاست ترقی کی دوڑ میں سبقت لے جاتے ہیں ۔

۳۔ تنوع کردار اور صلاحیتوں کے پھلنے پھولنے اور اخلاقی حساسیت کے فروغ کے لیے آزاد سیاسی نظام کا قیام ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملکوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نمایندہ حکومت لوگوں کے حقوق کا تحفظ بھی کرتی ہے اور ان کی مادی اور اخلاقی ترقی[104] کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے لہٰذا نمایندہ جمہوری حکومت ترقی کے حصول کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ملک کے لوگ اس سے مستفید ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جہاں لوگ وحشی ہوں مثلاً ہندوستان وہاں استعماری استبدادی نظام سلطنت کے ذریعے نمایندہ حکومت کے قیام کےلیے دھیرے دھیرے عوام کو مہذب اور بااخلاق([105] )بنایا جا سکتا ہے۔

نمایندہ حکومت میں مل کے مطابق منتخب نمایندگان (یعنی ارکان پارلیمنٹ) کو خود حکومت نہیں کرنی چاہیے۔ عوام میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ایسے نمایندے منتخب کریں جو کاروبار ریاست چلانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ ایک ترقی یافتہ ملک میں بھی حکومت کرنا ماہرین کا کام ہے([106])۔یہ ماہرین انتظامیہ میں بھی ہوتے ہیں، عدلیہ میں بھی اورمقننہ میں بھی (مقننہ میں یہ ماہرین وزرا اور پارلیمانی سیکریٹری ہوتے ہیں)۔ یہ ماہرین منتخب نہیں کیے جاتے بلکہ نظام تعلیم ان کی تشکیل کرتا ہے۔ حکومت کرنا انہی ماہرین کا کام ہے اور عوامی نمایندگان صرف ان ماہر حکمرانوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ نمایندہ جمہوریت لازماً نوکرشاہی کی حکومت ہوتی ہے کیوں کہ نوکرشاہی ہی ملک کو مہذب اور تہذیب یافتہ بنا کر ترقی کی راہ پر مستقل گامزن رکھنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔

مل کی رائے میں پارلیمنٹ محض ایک مجلس مباحث ہے۔ پارلیمنٹ کو وہ "Committee of Greviences" اور "Congress of Opinions" کہتاہے۔ پارلیمنٹ ہر سطح معاشرے کی نمایندہ ہوتی ہے۔ جاہلوں کے نمایندہ بھی منتخب ہوتے ہیں اور اہل فہم کے نمایندہ بھی۔ حکومت یعنی پارلیمانی، انتظامی اور عدلیہ کی بیوروکریسی کے سامنے ہر طبقہ عوام کو اپنی شکایات پیش کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ ہر طبقہ کی خواہشات کے اظہار کا موقع فراہم کرے اور پبلک معاملات میں اختلافی آرا پر بحث اور غوروفکر کے وافر مواقع فراہم کرے۔

مل اس بات کو قبول کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے جمہوری نظام حکومت کا قیام ضروری ہے۔ لیکن امریکی دستور سازوں (ہملٹن، میڈیسن، جیفرسن) کی طرح مل کو احساس ہے کہ ایسا جمہوری نظام جس میں عوام خود حکومت کریں([107] )سرمایہ دارانہ نظم علمیت اور معاشرت کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا حکومتی نظام سے عوام کو فاصلہ پر رکھنا ضروری ہے تاکہ حکومت کی کارفرمائی کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ کچھ اور نہ ہو جائے ([108])۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام نظم ریاست کو اپنی ریاستی خواہشات کے حصول کا ذریعہ گردانیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے مل نے جو حل تجویز کیا اس کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ انتخابات کے ذریعے عوام کو اپنے نمایندہ منتخب کرنے کا حق گاہے گاہے دیا جاتار ہے۔

۲۔ یہ نمایندے حکومت کے نگران ہوں اور عوامی خواہشات اور مطالبات کو حکومت کے سامنے مستقل پارلیمانی بحثوں کے ذریعے پیش کرتے رہیں۔

۳۔ حکومت کی ذمہ داری انتظامی اور عدلیاتی بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہو لیکن یہ بیوروکریسی عوامی نمایندوں کے سامنے جواب دہ ہو۔

۴۔ یہ بیوروکریسی منتخب نہ ہو بلکہ سرمایہ دارانہ نظام تعلیم کے ذریعے ترقی کر کے ابھرے۔

ہر سرمایہ دارانہ نظام میں حکومت بیوروکریسی ہی کرتی ہے لیکن چوں کہ بیوروکریسی روزمرہ کے انتظامی معاملات میں مستقل الجھی رہتی ہے([109] )لہٰذا اس میں نئے نئے تجربات کرنے اور نئی نئی راہیں نکالنے کے رجحانات محدود ہوتے ہیں۔ مل کو امید تھی کہ ذہین اور اعلیٰ عقلیت رکھنے والے پارلیمانی نمایندے جو مستقل بحث اور تفکر کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں بیوروکریسی کی موثر رہنمائی کر کے اس کو نئے زاویہ نگاہ سے روشناس کرا کے نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دیں گے([110])۔ 

مل نمایندہ جمہوریت کو اکثریت کی حکومت سے تعبیر نہیں کرتا۔ اس کے دور میں برطانیہ میں اکثریت ان کی تھی جو سرمایہ دارانہ ملکیت نہیں رکھتے تھے۔ مل کو خطرہ تھا کہ اگر اس محنت کش طبقہ کی اکثریتی حکومت قائم ہو گئی تو وہ سرمایہ دارانہ ملکیت کو ختم کر دیں گے اور مل کے خیال میں یہ معاشرتی ترقی اور تہذیبی ارتقا کے لیے ایک نہایت مضر پالیسی ہو گی۔ لہٰذا نمایندہ جمہوریت میں بیوروکریٹائزیشن کے ذریعے ایسی ادارتی صف بندی کرنی چاہیے جو عوام کو حکومتی عمل سے فاصلہ پر رکھے ہوئے ہو۔ ان کو اپنے اظہار خیال اور تحفظ سرمایہ دارای کا موقع فراہم کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

۱۔ پارلیمان ایک مشاورتی مجلس ہو۔

۲۔ پارلیمان میں ایک مضبوط حزب اختلاف ہو جو ریاستی پالیسی پر ویسے ہی اثرانداز ہو جیسے اکثریتی جماعت۔

۳۔ حکومت پارلیمان نہیں بلکہ ریاستی بیوروکریسی کرے۔

۴۔ دستور سرمایہ دارانہ حقوق کی ضمانت فراہم کرے اور جمہوری عمل کے ذریعے یہ سرمایہ دارانہ حقوق کبھی معطل نہ کیے جا سکیں([111])۔

مل نے پارلیمنٹ میں اکثریتی بالادستی کو کمزور کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں([112] )۔ اس کے خیال میں ایک منتخب نمایندہ کو محض اپنے حلقہ کی آراء کی نمایندگی نہیں کرنی چاہیے بلکہ پورے معاشرے کے مفاد یعنی سرمایہ کی بڑھوتری کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ یعنی ہر نمایندہ فی الاصل سرمایہ کی نمایندگی کرے اور اپنے حلقہ کے عوام کی نمایندگی اسی تناظر میں کرے۔مل ہمیشہ اکثریت کی پارلیمانی بالادستی سے خائف رہا۔ جو لوگ معاشرتی اخلاقیات کی تعلیمات سے بہرہ ور کیے جا چکے ہیں([113] ) مل ان کو "the instructed" کہتا ہے۔ ان کی تعداد اس قسم سے بہت کم تھی جس کو مل "uninstructed" کہتا ہے۔ ہیوم کی تجویز کردہ personal representation کی تجویز کے ساتھ ساتھ مل اس بات کی بھی وکالت کرتا ہے کہ ہر انسٹرکٹڈ فرد کو کئی ووٹ دیے جائیں۔ اس کے علاوہ uninstructed سرمایہ کے مالکان کوبھی plural voting کا حق دیا جائے۔ یہ اس لیے کہ اعلیٰ لذات کے فروغ کا مطلب ہی سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری ہے اور یہی ترقی کا اصل ہے۔ لہٰذا پارلیمنٹ میں instructed افراد کی قوت کو بڑھا کر مل اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ حکومت جو کہ لازماً سرمایہ دارانہ بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہو گی کی نگرانی وہ instructed افراد کریں جو تقدیم بڑھوتری سرمایہ (یعنی تقدیم اعلیٰ لذات) کی فرضیت کو پالیسی سازی کا مقصد سمجھیں۔

مل کی سب سے اہم کتاب "On Liberty" ہے۔ اس کتاب میں وہ نمایندہ جمہوریت کو اعلیٰ ترین ریاستی صف بندی قرار دیتا ہے اور اس کی رائے میں جیسے جیسے ایک ملک ترقی کرتا ہے وہ نمایندہ جمہوری نظام کو اپناتا ہے جمہوری نمایندہ نظام کی اقداری اساس آزادی ہے لیکن آزادی کے استحکام اور فروغ کو دو اہم نظاماتی اور نظریاتی خطرات درپیش ہیں۔ ایک خطرہ عیسائیت سے ہے جو روایتی عیسائی اقدار کی بنیاد جنسی آزادیوں پر تحدید کرتی ہے([114])۔ مل ایک دہریہ تھا([115] ) اور تحریک نسواں اور جنسی بے راہ روی کے فروغ کا بھرپور حامی تھا۔
مل کے خیال میں عیسائیت سے زیادہ خطرناک وہ اشتراکی مفکرین تھے جو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے شخصی اور مارکیٹ کی آزادی کی تحدید کا پرچار کر رہے تھے۔ وہ محنت کشوں کو مشتعل کر کے ان کو سرمایہ کے مالکوں کی نافرمانی اور حکم عدولی کا سبق پڑھا رہے تھے۔ نمایندہ جمہوری نظام میں یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ محنت کشوں کا جم غفیر جو سرمایہ دارانہ ملکیت سے محروم ہے، انفرادی آزادیوں بالخصوص مارکیٹ کی آزادیوں کو اپنی ملکیتی محرومی کو ختم کرنے کے لیے معطل کر دے اور انفرادی آزادیوں کی تحدید ترقی کو ناممکن بنا دے گی کیوں کہ ترقی کا مطلب ہی یہ ہے کہ فرد اعلیٰ لذات کے فروغ کو اپنی ذات کی معنویت سمجھے۔

چوں کہ سرمایہ (حرص و حسد) ایک روحانی قوت ہے لہٰذا وہ نفس انسانی میں ہی فروغ پاتا ہے۔ شخصی آزادیوں کی تحدید نفس امارہ کے میلانات فاحشہ (حرص و حسد) ہی کی تحدید ہے([116] )۔ لہٰذا انفرادیت کا فروغ اعلیٰ لذات کی فوقیت کا ادراک اور سرمایہ کی بڑھوتری کی تقدیم ایک ہی عمل کے مختلف پہلو ہیں۔ اشتراکی بنیاد پر انفرادیت اور انفرادی آزادی کو کچلے جانے کا خطرہ ہے۔ انفرادی خود ارادیت کو فروغ دینا ہر فرد ہر طبقہ ہر ادارہ اور ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی دوسرے فرد کی خود ارادیت کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرے۔ یہ ایک انارکسٹ خیال ہے لیکن مل کے خیال میں ایک منظم اور پرامن معاشرہ کے لیے ضروری ہے کہ گو کہ ہم سب افراد کی خود ارادیت کو تسلیم کریں (یہ حق غیرمہذب یعنی بقول مل savages یعنی وحشیوں کو نہیں دیا جانا چاہیے) لیکن ریاست اور معاشرہ کا یہ حق تسلیم کریں کہ وہ مہذب فرد کو دوسرے مہذب فرد کی خود ارادیت سے محروم نہ کرے۔ ریاستی تحکم کا یہ تصور مل نے لاک سے اخذ کیا۔چوں کہ مل کے مطابق فرد خود مختار ہے اور چوں کہ رائے اس کی اپنی انفرادی ملکیت ہے لہٰذا اظہار رائے پر تحدید اصولاً ناقابل تردید ہے۔ لیکن آزادی اظہار رائے اس بات سے مشروط ہے کہ وہ کسی مہذب نظام معاشرت کو معطل کرنے کا ذریعہ نہ بنے مثلاً کسی اشتراکی کو حق نہیں کہ کسی ذخیرہ اندوز کے سامنے جمع ہجوم کو اشتعال دلائے۔ کسی اسلامی انقلابی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان ستّر ہزار علما کو پھانسی دینے کے خلاف عوام کو مشتعل کرے جن کو برطانیہ نے ۱۸۵۸ء میں شہید کیا تھا۔ یہ مل کی رائے تھی۔

اشتراکی مفکرین حکومت کو معاشرہ میں وسیع مداخلتی اختیارات دینے کے قائل ہیں۔ اصولاً مل حکومتی معاشرتی اور معاشی توسیع اختیارات کا مخالف ہے اور کہتا ہے کہ ریاستی دائرہ عمل کی توسیع سے انفرادی آزادیاں لازماً محدود ہوتی ہیں۔ لیکن تقسیم دولت کے ضمن میں مل ریاستی مداخلت کو ضروری سمجھتا ہے۔ پیداواری عمل میں ریاست کی براہ راست شرکت کا مل قائل نہیں اور پیداواری عمل کو قوانین رسد و طلب کے تحت مرتب کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ مل کلاسیکی اور نیوکلاسیکی اکنامک مکتب فکر کے درمیان ایک مواصلاتی کردار ہے([117])۔ کلاسیکی اکنامسٹس کی طرح مل اجارہ داری کی تحدید کے لیے ریاستی مداخلت کا قائل تھا۔ اپنی کتاب "Principles of Political Economy" میں اس نے اس کا بھی اقرار کیا ہے کہ ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ محنت کش طبقہ کا معیار زندگی لبرل سرمایہ دارانہ معاشرہ کے مقابلہ میں بہتر ہو لیکن چوں کہ اشتراکی سرمایہ دارانہ نظم معیشت شخصی آزادیاں محدود کرتا ہے لہٰذا اس میں لامحدود ترقی یعنی لامحدود بڑھوتری سرمایہ کی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔
مل کی رائے میں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات ضروری ہیں:

۱۔ ایسے تعلیمی اور تربیتی نظام کا قیام جو فرد کو اعلیٰ لذات کے فروغ کی فرضیت کا قائل کر دے۔

۲۔ ایک ایسے دستوری نمایندہ جمہوری نظام کا قیام جہاں حکومت بیوروکریسی کرے اور پارلیمان اس بیوروکریسی کی نگران ہو۔

۳۔ ایک ایسے معاشرہ کا قیام و استحکام جو زیادہ سے زیادہ انفرادی خود مختاری کی گنجائش فراہم کرے۔
۴۔ لیکن جن ممالک میں اعلیٰ لذات کی فوقیت کی فرضیت کا احساس موجود نہیں یعنی بقول مل کے جہاں وحشی رہتے ہیں وہاں استعماری تحکم ہی موزوں ہے۔ وہاں نہ شخصی آزادیوں کی تقدیس کو خاطر میں لانا ضروری ہے اورنہ نمایندہ جمہوری نظام کا قیام ضروری ہے۔ وہاں استعمار کو بزور شمشیر اور بزور تعلیم([118]) رائج شدہ نظام کو اکھاڑ پھینک کر تہذیبی ارتقا([119] )کے عمل کی ابتدا کرنا چاہیے ۔

۵۔ utilitarianism سے وابستگی کے باوجود مل پر تحریک رومانویت کا اثر بھی نمایاں ہے۔ وہ انیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام میں مالکان سرمایہ اور مزدور طبقہ میں بڑھتی ہوئی کش مکش کا انکار نہیں کرتا لیکن اس کو امید ہے کہ تعلیم اور تہذیب کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں مالکان اور مزدور ایک دوسرے کو اپنا حلیف اور ساتھی سمجھنے لگیں گے۔ رویہ کی اس تبدیلی کے رونما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے حقوق کے دائرہ میں اضافہ کیا جائے۔ جس کو بعد میں سوشل ڈیموکریٹ مفکرین نے سوشل رائٹس کہا۔ ان کے کچھ مبہم اشارات مل کی فکر میں ملتے ہیں لیکن مل کی اصل توجہ ایسے گروہوں کو سرمایہ دارانہ سیاسی نظام میں سمونے کی ہے جو اس کے دورتک اس عمل سے باہر تھے۔ مل تحریک نسواں کا پرجوش فکری اور سیاسی رہ نما تھا اور عورتوں کو حق رائے دہی دلانے کی جدوجہد اپنے پورے پارلیمانی کیریئر (۱۸۶۳-۱۹۶۸ء) میں کرتا رہا۔ اس کا پورا زور اس بات کو ثابت کرنے پہ تھا کہ ہیومن رائٹس کی فراہمی اور GHP کی بنیاد پر پالیسی سازی میں کوئی تضاد نہیں([120])۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت ایک جمہوری نظام میں فروغ پاتی ہے۔ جمہوری نظام میں ذاتی آزادیوں کے فروغ کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ہوتی ہے اور بیش تر لوگ سیاسی عمل سے لاتعلق ہو کر ہی اپنی انفرادیت([121] )کا اظہار کرتے ہیں۔

۶۔ لیکن اس انفرادیت کا فروغ مساویت کو ختم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ مساویت اور انفرادیت کا یہ تضاد جس کا سب سے نمایاں اظہار مارکیٹ میں ہوتا ہے، مل کو بھی پریشان کرتا رہا اور اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے ہی اس نے حقوق کے دائرہ کار کی توسیع کی وکالت کی۔

اصولاً سرمایہ دارانہ نظام مساوی آزادی کی فراہمی کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہیومن بینگ آزاد اور خودمختار ہونے کا فطری حق رکھتا ہے اور اسی فطری حق کی فراہمی کے لیے سرمایہ داری عبدیت([122] )سے انکار کر کے مذہب سے بغاوت کرتی ہے لیکن عملاً آزادی کے فروغ کی جدوجہد بالخصوص مارکیٹ میں نامساویت کو فروغ دیتی ہے اور آزادی کی ترقی کے ساتھ مساویت معدوم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی پیچیدہ تر ہوتی جاتی ہے کیوں کہ جیسے جیسے ارتکاز سرمایہ میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے محرومین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ محرومین سرمایہ دار ہی ہوتے ہیں یعنی ان کے نفوس اور قلوب پر حرص و حسد کے شیاطین کا قبضہ ہوتا ہے لیکن یہ یا تو سرمایہ کی گردش کے باہر ہوتے ہیں یا اس گردش میں ان کی شمولیت ان کی مجبوریوں کا اظہار ہوتی ہے۔ اگر محرومین متنشر نہ ہوں اور ایک خودانحصاری طبقہ بن جائیں تو یہ سرمایہ کاروں کے معاشرتی اور ریاستی تسلط کو موثر طریقہ سے چیلنج کر سکتے ہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد سرمایہ دارانہ ریاست کی لبرل تشکیل کو منہدم کر سکتی ہے۔

انیسویں صدی میں یورپ کے لبرل جمہوری ریاستوں کو سرمایہ دار محرومین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے شدید خطرہ محسوس ہونے لگا۔ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ سرمایہ دارانہ محرومین کی طاقت ٹریڈ یونینز اور اشتراکی اور قوم پرست جماعتوں کی شکل میں منظم ہونے لگے۔ اس نئے خطرہ سے نبردآزما ہونے کے لیے لبرل مفکرین کی صفوں سے ایک نیا مکتب فکر برآمد ہوا جس کا مقصد ایسی اصلاحات کی نشان دہی کرنا تھا جو سرمایہ دارانہ محرومین کو جمہوری ریاستی تشکیل کے خلاف بغاوت سے باز رکھے اور لبرل نظم معیشت اور حکمرانی میں اس سرمایہ دارانہ محرومین کی شرکت کی گنجائش پیدا کر کے سرمایہ دارانہ عدل کے تقاضے پورے کرے۔ اس مکتب فکر کو سوشل ڈیموکریٹک رویہ کہتے ہیں۔ مل ان کا پیش رو تھا۔ وہ محرومین میں مقبول تھا([123]) اور اس کے پیروکاروں نے اس کی فکر کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ اصلاحات کا ایک ایسا مرکب تشکیل دیا جو جمہوری ریاستی نظام کو محفوظ رکھتے ہوئے سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے کچھ تقاضے پورے کرے۔

3.9۔ لینن

لینن نے جب اپنا مشہور رسالہ State and Revolution لکھا تو صنعتی سرمایہ داری کافی پھیل چکی تھی (رومی میں بھی) اور اس پھیلاؤ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ محرومین اور مظلومین کی تعداد بھی بڑھ گئی تھی لینن کے خیال میں ان حالات میں ایک رپبلک کے قیام کی محرک قوت طبقاتی جدوجہد (class struggle) ہی ہوسکتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لینن کے مطابق ہر معاشرہ دوحصوں میں منقسم ہوگیا ہے ۔ایک ظالموں کا طبقہ جو سرمایہ دارانہ ارتقا سے بھرپور طورپر محظوظ دہورہاہے او ردوسرا مسکین اور نادر مظلومین کا طبقہ جو سرمایہ دارانہ ارتقا کے فیوض سے مستقل محروم رکھا جارہاہے ۔

لینن کے مطابق ظالم طبقہ نے ریاست پر مکمل قبضہ کرلیا ہے اور ریاست اور معاشرتی اقتدار کو اپنے فائدہ کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

لینن کے مطابق ریاستی نظام کی کارفرمائی کا مقصد پرولتاریہ طبقہ کو سرمایہ دارانہ نظام کو کارفرمارکھنے کے لئے منظم کرنا ہے ۔ریاستی نظام کی آخر کار مسلسل تحلیل سرمایہ دارانہ ظلم کو ختم کرنے کا ذریعہ بنے گی ۔

ریاست کی تحلیل کا عمل مفروضہ کمیونزم کے دور میں مکمل ہوگا جب بقول لینن کے مطابق سیاسی قوت (government) کی جگہ محض انتظامی کاروایاں (administration) لے لیگی ۔

لینن کی رائے میں ریاست سرمایہ دارانہ پیدواری نظام کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور سرمایہ دارانہ استحصال ضروتوں اور صلاحیتوں کو جد اکرنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔جب ضرورتیں اور صلاحیتیں یکجا کردی جائینگی یعنی کمیونسٹ دورمیں تو ریاست کے وجود کی نہ ضرورت باقی رہیگی نہ گنجائش۔ کمیونزم کے دورمیں لینن (اور مارکس) کے مطابق کوئی کسی پر حکومت نہیں کریگا لہذا جمہوری عمل بے معنی ہوکر رہ جائیگا ۔

لینن کے خیال میں مظلومین کا طبقہ سرمایہ دارانہ نظام اور ریاست کے باہر بھی ایک قدم رکھتا ہے ۔بیسوی صدی عیسوی کی ابتدا میں روسی ریاست بڑی حد تک سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم تھی اور محرومین کا بڑا طبقہ ایسے ہاریوں پر مشتمل تھا جو ریاستی نظام سے نسبتاً لاتعلق تھے ۔سرمایہ دارانہ ریاست محرومین کو اپنے دائرہ تسلط میں لانے کے لئے جو اقدام کرتی ہے ان میں رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ اور محرومین کی تنظیمی حقوق کی فراہمی ہے یہ ان دونوں قسم کی پیش رفت بیسوی صدی کی ابتدا میں دوس میں نہایت محدود تھیں۔جو کچھ بھی پیش رفت اس ضمن میں ہوئی لینن اس کو منافقانہ کہتا تھا اور اس نے ساری زندگی سوشل ڈیموکریٹ اصلاحات کی بھرپور مخالفت کی ۔اس کے برعکس مارکس سوشل ڈیموکریٹک اصلاحات کو کلیتاً رد نہ کرتا تھا جیسا کہ اس کی Enfurt pragremme کی 1881میں مشرط تائید سے ظاہر ہوتا ہے ۔

لینن کے مطابق ریاست ایک طبقاتی قوت(class power) ہے جو معاشرہ کے اوپر مسلط کی جاتی ہے۔ ریاستی قوت معاشرہ کو تسخیر تو کرتی ہے لیکن اس کے اندر سے کارفرما نہیں ہوتی۔ ریاستی ادارتی صف بندی معاشرہ سے ماورا ہوتی ہے لینن کے مطابق ریاست کی حاکمیت اعلیٰ ( sovreiginity) کا یہی مطلب ہے معاشرہ میں قوت کا استعمال لازماً ریاستی عمل سے ہی ہوتاہے ۔

کمیونزم کے دورمیں اسٹیٹ کے وجود کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اس دور سے قبل اسٹیٹ کا وجود اور کارفرمائی ضروری ہے کیونکہ پیدوار محدود ہے اور سرمایہ داری کے فیوض کی تقسیم لازمی جاری رہیگی ۔ان فیوض کی تقسیم کو لینن پرولتاریہ کی نمائندجماعت (Vanguard party) کے ہاتھوں میں مرتکز کرنا چاہتا ہے اور اسی چیز کو پرولتارایہ کی ڈکٹیٹرشپ کے نام سے موسوم کرتا ہے ۔

ڈکٹیٹرشپ آف دی پرولوٹریٹ کا سب سے اہم فرض پیدواری سکت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ کمیونسٹ معاشرت(جہاں ضروتوں اور صلاحتیوں میں تضادکاخاتمہ ہوگا) کی طرف وہ مراجعت نہیں کرسکتی لہذا پرولوتیریا کی ڈکٹیٹر شپ کو قائم رکھنے کے لئے ایک سرمایہ دارانہ نظام کا قیام ناگزیر ہے ۔لنن اس بات کا اقرار کرتاہے اور 1921 سے اپنی موت 1924 تک جس ریاست پر اس نے حکومت کی اس کو ریاستی سرمایہ داری (state capitalist) ہی کہتا تھا (روس میں اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب 1917 کے آخر میں آیا اور اس وقت سے 1921 تک روس civil war کی کیفیت میں رہا)۔

اس وقت سے( 1991 تک جب تک سوویت یونین قائم رہی ) وہاں پر ولتاریہ کی ڈکٹیٹر شپ ہی قائم رہی عملاً یہ وین گارڈپارٹی(vanguard party) یعنی کمیونسٹ پارٹی اور اس کی قیادت ہی کی حکومت تھی ۔

شروع ہی سے اس وینگارڈ جماعت(CPUSSR) نے ایک جمہوری نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے حصول کے لئے معاشرہ میں ایسی جمہوری ادارہ سازی کی گئی جس سے عوام کی پارٹی کو دی گئی حمایت میں مستقل اضافہ ہوتا رہے ۔ماڈرن اقدار اور آدرشوںکی اشاعت تعلیمی نظام کی اصلاح اور تنفیذ کے ذریعہ تشہیر کی گئی ۔وینکارڈ پارٹی میں مستقل عوامی شرکت میں اضافہ ہوتا رہا، پارٹی اور ریاست میں انتخابی عمل مستقل جاری رہا۔

ہر جمہوری نظام کی طرح اشتراکی جمہوری نظام میں بھی اپنے مخالفین کے بے دریغ قتل عام اور لوٹ مار سے پہلو تہی نہیں کی گئی ۔اسٹالن کے دورمیں بھی تقریباً پانچ ملین ہاری (muzhik) قتل کردیئے گئے اور ان کی اراضی پر ریاستی قبضہ کرلیا گیا ۔لینن نے اپنےسات سالہ دور حکومت میں سفاکیت اور درندگی کا نمونہ پیش کیا اس نے اپنے تمام مخالفین کو بے دردی سے قتل اور جلاوطن کردیا ۔

لیکن سوویت ریاست اپنے مبینہ مقصد )کمیونزم( کی طرف پیش رفت میں بری طرح ناکام ہوئی۔ پیدواری نظام انتشار کا شکار ہوگیا ۔لوگ اشتراکی جمہوری آدرشوں سے بے زار ہوگئے۔روس کے مخالف سامراجی ممالک کو روس میں تخریبکاری کے وافر مواقع ہاتھ لگے، یوں 74سال میں اشتراکی سرمایہ داری کی یہ اسکیم ناکام ہوگئی لیکن اشتراکی سرمایہ داری اور ریپبلکن جمہوریت کی اسی نوعیت کی ایک دوسری اسکیم چین میں ھنوز کارفرما ہے اور چینی انقلاب بھی لینن کی فکر کا عکاس ہے ۔

ہر ریپبلکن نظام کی طرح سوویت ریپبلک بھی ایک مخصوص نظریہ کو حق کی واحد درست تعبیر سمجھتی تھی ۔یہ نظریہ اپنے آپ کو سائنٹفک کہتا تھا اور مارکسزم کو سائنٹفک گرداننے کی سب سے بھونڈی تعبیر لینن نے اپنی کتاب (Marxism and Empiric Criticism) میں پیش کی ہے لینن اور بولشویک (Bolshevik) جماعت کا ہمیشہ یہ دعوہ رہا کہ مارکسزم پر ایمان لانا ریشنلٹی کا تقاضا ہے اور عوام کے حقیقی نمائندہ وہی ہیں وہ اس نظریہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔لہذا ریاستی قوت کا ارتکاز انہی مخلصین مارکسزم کے ہاتھوں میں مرکوز رکھنا چاہئے اور ان مخلصین کی یہ مسلسل کوشش ہونا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ افراد مارکسزم پر ایمان لانے پر آمادہ/ مجبور کردیے جائیں ۔تاریخ میں مارکسزم کی کئی تعبیرات مرتب کی گئی ہیں لیکن لینن کا دعویٰ تھا کہ وہی تعبیر یعنی (Marxism , Leninism)سائنٹفیک /ریشنل ہے جواس نے مرتب کی ہے اور اس تعبیر کی روشنی میں ریاستی اور معاشرتی نظام کی کارفرمائی کو ممکن بنانے کے لئے ہرقسم کا ظلم پچاس لاکھ ہاریوں کا قتل ایسے نظریاتی اور سیاسی مخالفین کی بیخ کنی نسل کشی اورپالیسی سازی اور تنفیذ کے عمل میں مستقل دروغ گوئی اور دھوکہ دہی سے کام لینا یہ سب جائز بلکہ لازم ہے ۔اقتدار ہمیشہ ہر حالت میں Marxism Lenanism -کے معتقدین کی جماعت کے ہاتھوں میں مرتکز رہنا چاہئے ۔سوویت ریپبلک کے پچھتر سالہ دور اقتدار میں بولشویک پارٹی اسی پالیسی پر کاربند رہی ۔

3.10۔ ہائک اور نوزیک (Hayek and Nozick)

۱۸۸۰ء سے لے کر ۱۹۳۰ء کی دہائی کے وسط تک نیو کلاسکی فکر غالب رہی اور برطانیہ اور امریکا میں پا لیسی سازی عموماً اسی مکتب فکر کی تعلیمات کے مطابق ہوتی رہی([124])۔ ۱۹۲۹ء کی عظیم کساد بازاری نے نیو کلاسیکی فکر کو بڑا دھچکا لگایا۔ بیش تر سٹے کے بازار شدید بحران کا شکار ہو گئے اور یورپ اور امریکا میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے۔ روزویلٹ کے امریکا کے صدر بننے کے بعد قومی پالیسی سازی کینز کی فکر پر مرتب ہونے لگی۔ ۱۹۳۷ء سے ۱۹۷۹ء کا دور Keynesian فکر کے غلبے کا دور ہے۔ Keynesian فکر سوشل ڈیموکریٹ پالیسی سازی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

۱۹۷۰ء کی دہائی میں نیوکلاسیکل فکر کا احیاء عمل میں آیا اور پہلے تھیچر نے برطانیہ میں اور پھر ریگن نے امریکا میں نیوکلاسیکل نظریات کی بنیاد پر پالیسی سازی کرنا شروع کی۔ اس کے بعد جرمنی اور فرانس اور اٹلی کی سوشل ڈیموکریٹ حکومت نے نیوکلاسیکل فکر کو ہی اپنی پالیسی سازی کی بنیاد بنا لیا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او،ورلڈبینک، اسلامی ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ نیوکلاسیکی پالیسیوں کو پوری دنیا پر مسلط کرنے لگے۔ اس دور میں کئی مالیاتی بحران آئے اور سب سے شدید بحران ۲۰۰۷ء میں امریکا میں آیا جس نے بہت سے بینکوں اور کئی یورپی ممالک کو دیوالیہ کر کے رکھ دیا مثلاً یونان، آئرلینڈ، پرتگال، ہنگری اور اسپین وغیرہ اور حکومتوں کو کھربوں ڈالر بینکوں کو بچانے کے لیے خرچ کرنا پڑے۔ لیکن ان بحرانوں کے باوجود نیوکلاسیکل فکر کا کوئی متبادل نظریاتی فریم ورک قائم نہ ہو سکا اور آج بھی دنیا بھر میں پالیسی سازی نیوکلاسیکل بنیاد پر ہوتی ہے ۔ نیوکلاسیکی احیائی فکر میں جن تین اہم مفکرین کے نام آتے ہیں وہ Friedrich von Hayek،، فریڈمین(Milton Friedman) اور نوزیک(Robert Nozick) ہیں۔ تھیچر اور ریگن دونوں ہائیک کے مرید ہونے کا اقرار کرتے تھے، فریڈمین اکنامسٹ اور نوزیک پولیٹیکل سائنٹسٹ ہے۔

3.10.1۔ ریاستی سرمایہ کاری کی تنقید

کینزینز کی رائے میں بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری کرے جہاں شرح منافع نجی سرمایہ کاری کو کھینچ کر لانے کے لیے ناکافی ہے۔ ہائیک کی رائے میں سرکاری سرمایہ کاری آزاد معیشت کو تباہ کر دیتی ہے اور ایک سوشل ڈیموکریٹ اور ایک سوشلسٹ معیشت میں انفرادی آزادی برقرار نہیں رہ سکتی۔ ہائیک، مینگر اور Boh Baverck کا پیرو تھا اور اس نے ۱۹۳۰ء کی دہائی سے کینزین افکار کی تنقید شروع کر دی تھی (لیکن ہائیک کے خیالات کو سیاسی پذیرائی ۱۹۸۰ء کی دہائی میں نصیب ہوئی)۔ ہائیک کہتا ہے کہ ایک آزاد معیشت میں استحکام اور ترقی خودبخود رونما ہوتی ہے اور حکومت کی معیشت پر اثراندازی اور مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کی تمام کوششیں لازماً ناکام ہوتی ہیں۔ معیشت کے استحکام اور ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مزدور سودا کار انجمنوں کا کردار ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں ان ٹریڈ یونینز کی اعانت سے ہی قائم ہوتی ہیں اور لیبر مارکیٹ میں یہ ٹریڈ یونینوں کو قانونی حمایت اور دیگر مراعات فراہم کرتی ہے۔ یونینیں ہڑتالوں کی دھمکی دے کر اپنی سوداکاری کے نتیجے میں اجرت کو اس کی متوازن سطح سے بہت بلند کر دیتی ہیں؛ آجر یہ اجرتی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور بے روزگاری میں اضافے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ لہٰذا ہائیک کی رائے میں یونینوں کے حقوق میں توسیع کرنے کے لیے سوشل ڈیموکریٹ حکومت جو قانون سازی کرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ معیشت کے استحکام اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومتوں کو یونین کی سوداکاری کی قوت کو منہدم کر دینا چاہیے۔ تھیچر اور ریگن نے ہائیک کی تجویز پر پوری تندہی سے عمل کیا۔ لیکن ہائیک نیوکلاسیکی اکنامکس کے تصورِ توازن کو ردّ کرتا ہے۔ مارکیٹ کبھی قرار کی حالت میں نہیں رہتی، توازن ہمیشہ بگڑتا رہتا ہے اور مسابقت ایسے نتائج پیداکرتی رہتی ہے جو توقعات سے مختلف ہوتے ہیں۔ مارکیٹ توازن نہیں بلکہ نظم پیدا کرتی ہے اور یہ نظم ان معنوں میں بہترین ہوتا ہے کہ یہ آزادی کو فروغ دیتا ہے۔ ہائیک کے مطابق مارکیٹ جو ناہمواری پیدا کرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ عدل قائم نہیں کرتی یعنی عوامل پیداوار کو ان کی marginal productivity کے مطابق معاوضے نہیں دیے جاتے۔ ہائیک کہتا ہے کہ مارکیٹ میں تقسیم وسائل عادلانہ نہیں ہو سکتی کیوں کہ کوئی فرد یا ادارہ تقسیم نہیں کرتا بلکہ یہ تقسیم خودبخود لین دین کے عمل کے نتیجے میں مستقل تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہے۔ ہائیک سرمایہ دارانہ عدل کے نیوکلاسیکل تصور کو ردّ نہیں کرتا۔اس کا خیال ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل کا نیوکلاسیکی تصور درست ہے لیکن ناقابلِ حصول ہے۔ یہ رویہ کہ سرمایہ دارانہ تصور، عقائد اور نظریات کو بیک وقت درست بھی اور ناقابلِ حصول بھی تسلیم کیا جائے پوسٹ ماڈرن ازم کہلاتا ہے۔

ہائیک کی فکر کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظم کی کارفرمائی میں سرمایہ دارانہ زر جو کردار ادا کرتا ہے اس کے بارے میں مبہم اور متضاد آراء اپنی تحریروں میں پیش کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ زر ہی تقابلی قدر کے ناپنے کا پیمانہ ہے اور سرمایہ دارانہ زر اپنی مارکیٹوں کے ذریعے ہی سرمایہ دارانہ نظام زندگی پر حکومت کرتاہے۔ سرمایہ دارانہ زر کے کردار اور حیثیت کو سمجھے بغیر سرمایہ دارانہ نظم کی تفہیم ادھوری رہتی ہے۔

ہائیک کے مطابق لچک دار اجرتی نظام کا وجود ہی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے لیکن وہ اور اس کے پیرو اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فطری سطح بے روزگاری ہوتی ہے۔ اجرتوں کی متوازن سطح وہ ہے جو اجرت کو لیبر کی اختتامی پیداواری صلاحیت (Marginal productivity) کے برابر کر دے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کرتی ہے مشینری لیبر کو پیداواری عمل سے بے دخل کرتی چلی جاتی ہے مثلاً کمپیوٹر کے عام استعمال سے ہزاروں لاکھوں کلرک اور سیکریٹری وغیرہ بے روزگار ہوتے ہیں اور ایسے افراد جن کی کمپیوٹر استعمال کرنے کی صلاحیت مارکیٹ ضروریات کے برابر ہو امریکا اور یورپ کے ممالک تک میں محدود ہے۔ لہٰذا ہر سال بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی توقع سرمایہ دارانہ پیداواری اور کاروباری عمل کی خودکاری اور technicalisationکی وجہ سے بڑھتی جاتی ہے اور اس معاشی عمل کی technicalisationکے نتیجے میں بڑھنے والی بے روزگاری کو natural rate of employment کہا جاتا ہے۔

ہائیک اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنیکل پراگرس وقوع پذیر ہو گی ویسے ویسے آمدنی اور اجرت کی تقسیمی نامساویت میں اضافہ ہو گا۔ منیجرز، حصص کنندگان اور ساہوکاروں کی آمدنی اور دولت میں ہوشربا اضافہ ہو گا اور عوام مقابلتاً محروم ہوتے چلے جائیں گے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام ترقی کرتا ہے تقابلی افلاس (relative poverty)میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے گو کہ حقیقی افلاس (absolute poverty) کم ہوتا چلا جاتا ہے مثلاً ۱۹۷۰ء کے بعد سے اب تک ایک عام امریکی کا معیارِ زندگی مستقل بڑھ رہا ہے۔ اس بات کے باوجود کہ امریکا میں اوسط آمدنی اپنی قوتِ خرید کے لحاظ سے ۱۹۷۰ء سے لے کر ۲۰۱۳ ء تک منجمد رہی ہے اور معیارِ زندگی میں اضافہ آمدنی کے ذریعے نہیں بلکہ بینکوں سے قرضہ لے کر ممکن ہو سکا۔ آمدنی (قوتِ خرید کے لحاظ سے) منجمد ہے لیکن اخراجات کے مستقل اضافے کے نتیجہ میں امریکا میں ۲۰۰۷ء میں بینک کاری کا جو بحران رونما ہوا اس پر ابھی تک پورے طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ایک عام امریکی کے اخراجات میں مستقل اضافہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اس کی حرص و حسد کو مستقل بڑھاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی یہ خصوصیت ہے کہ خواہشات ہمیشہ وسائل سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتی ہیں۔ ہر ہیومن بینگ اپنی آزادی یعنی تعیشات میں اضافے کا ہمیشہ خواہش مند رہتا ہے۔ اس کی آمدنی اور دولت کتنی بھی بڑھ جائے وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ ۲۰۰۹ء میں امریکا میں "Occupy wall street" کی جو تحریک جاری تھی وہ اس بات کی غماز تھی کہ نامساویانہ تقسیم دولت اور آمدنی نے اس ایک فی صد آبادی کے خلاف جس کے پاس قومی دولت کا بڑا حصہ ہے عوام کےنفرت و حسد کو ابھارا۔ عوام بھوکوں نہیں مر رہے عوام کی سطح زندگی میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے لیکن ایک فی صد اشرافیہ کا طرزِ بود و باش عوام کی نظروں میں بھی ہے (میڈیا اور صنعتِ اشتہارات کی وجہ سے) اور ان کی دسترس سے باہر بھی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دولت اور آمدنی کی غیرمساوی تقسیم میں مستقل اضافہ عوام میں بے چینی، دہشت گردی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہا ہے۔ ہائیک کو اس بات کا احساس ہے کہ بڑھتی ہوئی تقسیمی ناہمواریاں سرمایہ دارانہ پراگرس کے لیے ناگزیر بھی ہیں اور پرخطر بھی۔ لیکن اس خطرے کو ٹالنے کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست کے سوشل امدادی پروگرام کوئی منضبط کردار ادا نہیں کر سکے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کو تقسیم دولت اور آمدنی کے عمل میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اس رائے کی سب سے واضح تشریح ہائیک کے امریکی شاگرد بالخصوص Lucas اور Sargent نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں پیش کی۔ اس مکتب فکر کو New classical school(جدید نیوکلاسیکل مکتب فکر) کہا جاتا ہے۔

ان جدیدنیو کلاسیکل اکنامسٹس نے ۱۹۷۰ء میں رونما ہونے والے افراطِ زر کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ حکومتوں کی ان میکرو اکنامک پالیسیوں کو ٹھہرایا جس کے ذریعے ان حکومتوں نے تعین قیمت کے عمل میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی تھی۔ جدید کلاسیکل اکنامسٹ کے مطابق کینز کے پیروکار یہ بات فراموش کر گئے کہ سرمایہ دارانہ میکرو اکنامکس کو سرمایہ دارانہ انفرادیت کی بنیادوں پر قائم کیا جانا چاہیے۔ ہر سرمایہ دارانہ صارف ساہوکار اور بیوپاری سرمایہ دارانہ عقلیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی توقعات سرمایہ دارانہ معقولیت کا اظہار کرتی ہیں اس چیز کو rational expectationsکہتے ہیں۔ ہر سرمایہ دارانہ فرد (خواہ وہ صارف ہو، ساہوکار ہو یا بیوپاری ہو) کو اپنی انفرادی یوٹیلیٹی کو Maximise کرنے کی جستجو کرنا چاہیے لہٰذا سرمایہ دارانہ مارکیٹ اصولاً ہمیشہ بہترین نتائج برآمد کرتی ہے۔ اسمتھ کا دستِ غیب (Invisible hand) مارکیٹوں کے ذریعے وسائل کی بہترین تقسیم عمل میں لاتا ہے۔ اگر مارکیٹوں میں ریاستی مداخلت ختم کر دی جائے تو وہ خودبخود کساد بازاری کو ختم کر دیں گی۔

بقول جدید نیوکلاسیکی اکنامسٹس کساد بازاری آجروں کے عمل کے نتیجے میں خود بخود ختم ہوتی ہے۔ حکومت کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مارکیٹوں کو زیادہ سے زیادہ خودکاری کے مواقع فراہم کرے؛ متعین قیمتوں کے عمل سے مطلق سروکار نہ رکھے اور پیداواری استطاعت کو فروغ دینے کے لیے آجروں پر ٹیکس کا بوجھ کم سے کم کر دے۔ اس مکتبہ فکر کو supply side economics بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینز اور اس کے پیروکاروں کے برعکس supply siders سرمایہ دارانہ حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طلب کو متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ رسد کو بڑھانے کے لیے آجروں اور ساہوکاروں کو مراعات فراہم کریں۔ Prescott اور Laffer نے دعویٰ کیا کہ ٹیکسوں میں کمی کر کے مجموعی حکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے کیوں کہ ٹیکس کے بوجھ کی کمی تیزی سے پیداوار کی بڑھوتری میں اضافے کا باعث بنے گی۔ ان جدیدنیو کلاسیکی اکنامسٹس نے حکومتی اخراجات کی کمی پر بھی زور دیا اور سرمایہ دارانہ حکومتوں کی زر کی تشکیلیت کے عمل کو محدود کرنے پر بھی زور دیا۔ جدیدنیو کلاسیکی اکنامسٹس نج کاری کے پر زور حامی ہیں اور ہائیک کےآسٹرین پیرو Schumpeterکی فکر سے بھی متاثر ہیں۔

مارکیٹ کے خودبخود توازن اور عمومی تطبیق کا تصور والرس نے پیش کیاتھا۔ والرس کا کہنا تھا کہ اشیا کی مارکیٹ، لیبر مارکیٹ اور اثاثے کی مارکیٹ میں ایسا ربط موجود ہے کہ جب ایک مارکیٹ میں توازن قائم کرنے والی قوتیں متحرک ہوتی ہیں تو وہ دوسری مارکیٹوں میں ہم آہنگ قوتوں کو متحرک کر کے وہاں بھی توازن پیدا کر دیتی ہیں۔ اگر کپڑے کی قیمت کا اضافہ ہو گا تو کپڑا بنانے والے مزدوروں کی اجرت اور کپڑے کے کارخانہ داروں کے منافع اور ان کو قرضہ دینے والے ساہوکاروں کے سودی وصولیابیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ تمام سرمایہ دارانہ مارکیٹیں مربوط ہیں اور ان میں تغیرات اس طرح پیدا ہوتے ہیں کہ ہر شے اور ہر عامل پیداوار کی رسد و طلب برابر ہو جاتی ہیں۔ یہ General equiliberiumہے اور اس بنیاد پر جو قیمتیں اشیا اور ذرائع پیداوار کی مارکیٹوں میں قائم ہوتی ہیں وہ عادلانہ اور بہترین قیمتیں ہوتی ہیں۔ان مارکیٹوں میں مستقل ناہمواریاں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور اس کے نتیجے میں مسابقت کو محدود کرنے والی اجارہ داریاں وجود میں آتی رہتی ہیں اور انہی اجارہ داریوں کو مستحکم کرنے اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے آجر نئی نئی ایجادات مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ لہٰذا مارکیٹ میں عدم توازن کی وجہ سے جو بحران پیدا ہوتے ہیں وہ خودبخود ختم ہو جاتے ہیں اور ایجادات کے ابھرنے اور ایجادات کے ذریعے مسخر ہونے کے تسلسل کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام مستقل ترقی کرتا رہتا ہے۔ اسمتھ، ریکارڈو، مارکس، کینز سب نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شرح منافع میں کمی آتی چلی جائے گی۔جوزف شومپٹر (Schumpeter) اس بات سے انکار کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظم معیشت کے انہدام کے کسی امکان کا قائل نہیں۔شومپٹر،ہائیک کی فکر سے متاثر تھا ۔ شومپٹرطوائفوں کے سرپرست کے طور پر مشہور تھا اور ۱۹۳۰ء کی دہائی میں طوائفوں کی سیاسی اعانت کی وجہ سے مختصر عرصہ کے لیے آسڑیا میں وزیر ثقافت اور مالیات رہا۔ آسڑیا پر ہٹلر کے قبضے کے بعد وہ امریکا فرار ہو گیا اور امریکا میں ہی مرا۔ شومپٹر کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام مستقل تخریبی تعمیر (creative distruction)کے عمل سے گزرتا رہتا ہے اور اس تخریبی تعمیر (جو بحرانوں کی شکل اختیار کرتی ہے) سے مستقل پراگرس ہوتی رہتی ہے۔ حکومت کو اس تخریبی تعمیر کے عمل کی اپنی پالیسیوں کے ذریعے اعانت کرنی چاہیے۔ اس عمل سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

بحیثیت مجموعی ہائیک اور اس کے امریکی اور آسٹرین پیروکار سرمایہ دارانہ حکومت کو سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ ایک لبرل سرمایہ دارانہ حکومت کے پاس بنیادی طور پر پالیسی اقدامات کے دو مواقع ہوتے ہیں۔ زری پالیسی کے ذریعے وہ سرمایہ دارانہ زر اور شرح سود کو متاثر کر سکتی ہے اور مالیاتی پالیسی کے ذریعے مجموعی صرف اور سرمایہ کاری پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ ان دونوں پالیسیوں کا مقصد سرمایہ دارانہ اجتماعی عدل کا قیام اور استحکام ہے۔لیکن ہائیک کے مطابق اجتماعی عدل ایک لغو تصور ہے، عدل صرف افراد کے ساتھ ان کی انفرادی حیثیت میں تنفیذ قانون کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ریاست یہ فرض ہیومن رائٹس کی حفاظت اور فروغ کے ذریعے کرتی ہے اور مارکیٹ میں مسابقتی عمل بھی انفرادی عدل کو فروغ دیتا ہے گو کہ اجارہ داریوں کا فروغ اور دیگر پیداواری اور تقسیمی ناہمواریاں مارکیٹ میں حادثات کے ذریعے ناانصافیاں بھی پیدا کرتی ہیں۔ ہائیک کی رائے میں سرمایہ دارانہ حکومت کو ان ناانصافیوں کو رفع کرنے کے لیے مالیاتی (Fiscal) اور زری (Monetory) پالیسی کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

3.10.2۔ نوزیک کی فکر(سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق)

رابرٹ نوزیک کی شہرت کی دو وجوہات ہیں۔ وہ جان رالز ([125] )کی فکر کا سب سے اہم ناقد ہے اور اپنے دور کا ہارورڈ یونی ورسٹی کا سب سے باکمال شرابی مانا جاتا ہے( [126])۔

نوزیک ،لاک اور ہائیک کا پیرو ہے۔ وہ اپنے آپ کو Libertarian کہتا ہے یعنی ایسا لبرل جو انارکسٹوں کے خلاف ریاست کے وجود کی ضرورت کا تو قائل ہے لیکن ریاست کے وجود کو ایک ناگزیر شر گردانتا ہے اور ریاست کی معاشرتی مداخلت کو کم ترین کرنا چاہتا ہے۔ جس قسم کی ریاست کے وجود کی ناگزیریت کا نوزیک قائل ہے اس کو minimalist ریاست کہتے ہیں۔ ہائیک اور لاک کی طرح نوزیک بھی ایک Idealist ہے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کو کیسا ہونا چاہیے وہ یہ نہیں بتاتا کہ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست واقعتاً کیسی ہوتی ہے۔

لاک کی طرح نوزیک بھی اسٹیٹ کے وجود کی توجیہ اپنی بحث کے آغاز کے طور پر لیتا ہے۔ ریاست ایک ایسے معاشرے سے خوبخود ابھری جہاں نجی سیکورٹی ایجنسیاں فیس لے کر لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی تھیں۔ نوزیک لاک کے برخلاف کسی معاہدے کا قائل نہیں۔ یہ خودبخود ابھرنے والی ریاست ایک minimalist state ہوتی ہے جس کا دائرہ کار اپنے سٹیزن کی جان، مال اور رائے کے تحفظ فراہم کرنے تک محدود ہوتا ہے۔ اس minimalist ریاست کو دولت کی مارکیٹ میں متعین شدہ تقسیم میں تبدیلی کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ سرمایہ دارانہ عدل کا قیام مارکیٹ کی ذمہ داری ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست مارکیٹ کو تحفظ فراہم کرتی ہے، براہ راست عدل کے قیام کے لیے اقدام نہیں کرتی۔

نوزیک سرمایہ دارانہ عدل کا ایک مخصوص تصور پیش کرتا ہے۔ لاک کی طرح نوزیک بھی عدل کا بنیادی تقاضا سرمایہ دارانہ پراپرٹی کے تحفظ کو گردانتا ہے([127])۔ یہ رالز کے تصورِ سرمایہ دارانہ ملکیت اور یوٹیلیٹیرین تصورِ سرمایہ دارانہ ملکیت سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ نوزیک کے مطابق ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ ملکیت میں ایک مختلف تقسیم آمدنی اور وسائل قائم کرنے کے لیے تصرف کرے (رالز اور یوٹیلیٹیرین مفکر اس نوعیت کے تصرف کا جواز پیش کر کے اس کی تحدید کے اصول بیان کرتے ہیں)۔ نوزیک مطابق لوگوں کا بنیادی حق، حق ملکیت ہی ہے۔ ایک فرد جو وسائل لے کر مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے ان وسائل پر کسی اور کا کوئی حق نہیں مانتا اور سرمایہ دارانہ ریاست کسی جواز کو پیش کر کے وسائل سے اس فرد کو محروم نہیں کر سکتی۔ فرد کے پاس یہ وسائل کہاں سے آئے اور کیاجو تقسیم ذرائع پر مارکیٹ میں وجود میں آئی وہ عادلانہ ہے؟ یہ سوال نوزیک نہیں اٹھاتا (اور اسی وجہ سے اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ نوزیک کا تصورِ سرمایہ دارانہ ملکیت اخلاقی یعنی Moral نہیں محض قانونی ہے۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت پراپرٹی متعین کرتی ہے۔ پراپرٹی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی شناخت بھی ہے اور اس کی حدود بھی متعین کرتی ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ انفرادیت متعین کرنے والی ان شناختوں کو منہدم کرے۔ وہ تو ان کے تحفظ اور توسیع کے لیے وجود میں آئی ہے ۔فرد کا بنیادی حق اس کے تصرف میں سرمایہ دارانہ ملکیت اور تحفظ کا فروغ ہے۔

نوزیک کے نظریہ حقوق (Theory of entitlements)کے مطابق ہر فرد اس پراپرٹی پر تصرف کا حق رکھتا ہے جوا س نے مارکیٹ میں داخل ہونے سے قبل فطری تقسیم ذرائع اور دولت کی بنیاد پر یا مارکیٹ میں کاروبار کے ذریعے حاصل کیے ہوں۔ یہی نوزیک کا تصورِ عدل ہے ۔یہ تصور رالز کے تصورِ عدل سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ رالز قبل از مارکیٹ تقسیم وسائل کو لازماً منصفانہ تسلیم نہیں کرتا۔ یوٹیلیٹیرین تصورِ عدل سے نوزیک کا تصورِ عدل ان معنوں میں مختلف ہے کہ یوٹیلیٹیرین مفکرین اس تقسیم عدل کو منصفانہ نہیں گردانتے جس کے نتیجے میں مجموعی حصول لذات (GNP)زیادہ سے زیادہ ہو۔ چوں کہ نوزیک مارکیٹ کے کاروبار کے نتیجے میں حاصل شدہ حقوق ملکیت (Entitelment) کو جائز تصور کرتا ہے؛اور چوں کہ آئیڈیل مارکیٹ تقسیم وسائل Marginal productivity اور Marginal costکی برابری کے اصول کے مطابق کرتا ہے یعنی ہر ذرائع پیداوار اور اس کے حامل کو وہ اجرت /سود/کرایہ منافع ملتا ہے جو اس کے بڑھوتری سرمایہ کے پیدا کرنے کے مطابق ہو۔ لہٰذا نوزیک اور یوٹیلیٹیرین تصورات سرمایہ دارانہ عدل میں ایک لحاظ سے مماثلت ہے۔

نوزیک کی اہم ترین کتاب “State and Utopia” ہے۔”یوٹوپیا“ تصوراتی جنت کو کہتے ہیں اور یورپ میں ان تصوراتی جنتوں کا تخیل اس وقت سے عام ہوا (اٹھارھویں صدی کی ابتدا) جب سے حقیقی جنت پر سے ایمان اٹھنا شروع ہوا۔ نوزیک جس خیالی جنت کا خاکہ پیش کرتا ہے اس میں ہر فرد کے پاس سرمایہ دارانہ ملکیت اس مقدار میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کے مطابق اپنی ذاتی جنت خود تعمیر کر سکے۔ جن لوگوں کے خیالی جنت کے تصورات ایک دوسرے سے مماثل ہوں وہ اس بات میں آزاد ہوں گے کہ معاشرتیں تعمیر کریں اور رضا کارانہ اپنے وسائل سے ایک دوسرے کی مدد کریں اور تمام افراد اور معاشرتیں ایک ایسی قومی ریاست کاحصہ ہوں جو ان کے سرمایہ دارانہ حقوقِ ملکیت کا تحفظ فراہم کرے گی لیکن اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرے گی۔نوزیک کے مطابق یہ خیالی جنت سرمایہ داری کے فطری ارتقا کے نتیجے میں خودبخود قائم ہو جائے گی([128] )۔ اس خیالی جنت میں ہر ہیومن بینگ کی اپنی پراپرٹی ہو گی وہ اس پراپرٹی کی بنیاد پر اپنی انفرادی جنت خود تعمیر کرے گا۔نوزیک کی خیالی جنت اور مارکس کی خیالی جنت میں بنیادی مماثلت یہ ہے کہ ان دونوں خیالی جنتوں میں ہر فرد مطلقاً آزاد ہو گا اور ہر فرد اپنی خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کے قابل ہو گا( [129])۔

۱۹۸۰ء کی دہائی میں امریکا اور یورپ میں کینزین پالیسیوں کے خلاف جو ردِعمل وقوع پذیر ہوا اس کو نیوکنٹروویٹیزم(Neo conservatism)کہتے ہیں اور اس کے پیروکاروں کو نیوکان (New Con)کہا جاتا ہے۔ ان نیو کان حلقوں نے نوزیک کی تعلیمات کی بہت قدردانی کی اور نوزیک کو ایک اہم مرشد کا درجہ دیا۔ ان نیوکان کا مقصد سرمایہ دارانہ ریاست کی مارکیٹ میں دخل اندازی کو ختم کرنا تھا۔ نوزک کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ مارکیٹ جو تقسیم وسائل کرتی ہے سرمایہ دارانہ ریاست کو یہ حق نہیں کہ ٹیکسیشن کے ذریعے تقسیم وسائل کو اس طرح تبدیل کرے کہ مجموعی قومی وسائل (GNP) میں کم آمدنی والوں کا حصہ بڑھ جائے۔ بقول نازک ایسا کرنا عدل کے تقاضوں کے خلاف ہے کیوں کہ یہ بنیادی ہیومن رائٹ، رائٹ آف پراپرٹی کی تحدید کرتا ہے۔ یورپ اور امریکا کی نیوکان حکومتوں([130] )کا پورا زور ٹیکسوں اور حکومت کے غریبوں کے امدادی اخراجات کو کم کرنے پر رہاہے اور نوزیک بتاتا ہے کہ یہی سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضا ہے۔ سرمایہ دارانہ ویلفئیراسٹیٹ کا قیام سرمایہ دارانہ عدل کے تقاضوں کے منافی ہے اور لوگوں کے حق ملکیت کو ٹیکسوں کے ذریعے محدود کرنا ان کے انفرادی تشخص (جس کا واحد اظہار ذاتی پراپرٹی کے اس استعمال سے ہوتا ہے جو فرد اپنی مخصوص خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کےلیے کرتا ہے) کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے ([131])۔ نوزیک مینجمنٹ سائنس کی بانی آئن رینڈ کے اس نظریے کی پر زور تائید کرتا ہے کہ معاشرت اور ریاست کو اس طرح منظم کیا جانا چاہیے کہ ہیومن بینگ ایک ریشنل وجود کے طور پرا پنی بقا کی پیہم جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ Rationality وہ عقلیت ہے جو خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہے ([132])۔ لہٰذا Rationality کو فروغ دینے کے لیے ایک ایسے معاشرتی اور ریاستی نظام (یعنی سرمایہ دارانہ نظام) کا وجود ضروری ہے جہاں افراد کا رائٹ آف پراپرٹی (یعنی ہیومن رائٹس) کو محدود نہ کیا جائے اور rationalافراد اپنی پراپرٹی (یعنی جان، مال اور آراء) استعمال کرتے ہوئے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی جدوجہد مستقل جاری رکھ سکیں۔

لاک کے برخلاف اور رینڈ کے مماثل نوزیک پراپرٹی کی اہم ترین شکل املاک کو تصور کرتا ہے ([133])۔ لہٰذا اس کےلیے یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ املاک کے حصول کا عادلانہ طریقہ کیا ہے۔ نوزک کے مطابق حصول املاک دو طریقوں سے جائز ہے:

ان تصورات کو نیوکان (Neo Cons)نے قبول کر کے بڑے پیمانے پر پالیسی سازی کی بالخصوص ان امریکی ریاستوں میں جہاں ری پبلکن پارٹی کے دھڑے Tea partyکو اقتدار حاصل ہوا( [135])۔ لیکن Nozickion فکر کو دو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے اہم چیلنج یہ کہ۲۰۰۷ء سے جاری بحران نے ثابت کر دیاکہ سرمایہ دارانہ ریاست، سرمایہ دارانہ مارکیٹ ہی کی آلہ کار ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست ہی عوام کے ٹیکسوں کو استعمال کر کے بینکوں اور دوسرے فنانشل اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں Neo keynesians اور Post keynesians کا احیا ہوا ۔دوسرا چیلنج یہ کہ اگر نوزیک کے تصور سرمایہ دارانہ عدل کو تسلیم کر لیا جائے تو امریکا اور اسرائیل کا([136])پر قبضہ سرمایہ دارانہ عدل کے برخلاف ہے اور امریکی اور فلسطینی املاک کو ان کے ممالک کے قدیمی باشندوں کو لوٹا دینا چاہیے۔ اس چیلنج کا جواب نوزیک کے یہودی شاگرد ڈیوڈ لائنز David Lyons ([137])نے دیا۔ اس نے ثابت کیا کہ امریکی اور فلسطینی املاک پر قبضہ سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضا ہی ہے اور ان املاک کی واپسی ظلم عظیم ہو گی۔

3.11۔ برلن

برلن منفی اور مثبت(negative and positive) آزادیوں (liberties) میں تفریق کرتا ہے ۔اس کے مطابق مثبت( positive) آزادیوں کی فراہمی کے نتیجہ میں ظالمانہ معاشرتیں جنم لیتی ہیں اس کی رائے میں آزادیوں (freedom) کی فراہمی کا مقصد ہیومن بینگ کو اس کی نجی زندگی میں پابندیوں سے چھٹکارا دلانا ہے اس کی معاشرتی تحکیمی قوت میں اضافہ کرنا نہیں ہے منفی آزادیوں (negative freedom) کی فراہمی ایک مارکیٹی معاشرت کی فطری (natural non directional) کارفرمائی سے حاصل ہوتی ہیں۔

برلن مثبت آزادی کے کئی معنی بیان کرتا ہے ، لیکن بالخصوص اس تصور کو مضر سمجھتا ہے جس میں حق اقتدار میں آزادی کے ایک مخصوص ریشنلائزڈ بیانیہ(rationalized) مثلاً مارکسزم کو تسلط حاصل ہو، ان دوسرے بیانیوں کو رد کیا جائے، اس نوعیت کا تسلط عوام کی اقتدار میں شرکت اور ان کی خود تخلیقیت کو تباہ کردیتا ہے ۔مثبت آزادیوں کو فراہم کرنے کا دعوے دار اپنی مفروضہ حقیقی آزادی کی فراہمی کی جستجو میں معاشرہ سےمنفی آزادیوں کو منہدم کردیتے ہیں ۔حقیقی آزادی کے کثرتیاتی (pluralist) تصورات عملی آزادیوں کی فراہمی کے لئے ضروری ہے ۔

آزادی (liberty) سے مراد برلن ان رکاوٹوں کو دور کرنا لیتا ہے جو ریاست یہ معاشرتی قوتیں انفرادی عمل پر لگاتی ہیں لیکن ان رکاوٹوں میں ارتکاز دولت اور معاشی ناہمواریاں جو رکاوٹیں پیش کرتی ہیں ان کو شمار نہیں کرتا یعنی سرمایہ دارانہ مارکیٹی نظام کو فطری(natural)تصور کرتا ہے اس کو ریاستی اور معاشرتی مداخلت کا ذریعہ نہیں سمجھتا ۔اس کو اس کا بھی احساس نہیں کہ مارکیٹی عمل مثبت اور منفی دونوں قسم کی آزادیوں (libery) کی تحدید کا لازماً باعث ہوتا ہے ۔

انفرادی عمل کی فطری تحدید)صلاحیتوں کے عدم وجود, قوانین فطرت کی کارفرمائی( کو آزادی کی رکاوٹ برلن نہیں مانتا ۔آزادی کی تحدید کا سبب معاشرتی یا قانونی ضوابط اور اعمال کا وہ ہوتے ہیں جو فرد کو اپنی مرضی اور خواہش کی پیروی سے روکیں ۔جبر( Coercion) کا تصور کے پاس ادارتی ہے اور چونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کو فطری سمجھتا ہے لہذا قانونی اور ادارتی صف بندی کو جبر کا باعث نہیں گردانتا۔

منفی آزادی کا جو تصور برلن پیش کرتا ہے وہ ایک فرد کا ایک مخصوص دائرہ کار میں دوسروں، ریاست اور معاشرہ سے دخل اندازی سے حفاظت ہے ۔اس دائرہ کار کی توضیح برلن کی رائے میں مفید ثابت ہوئی ہے اس دائرہ کار کی توضیح ہی فرد کی خود مختاری کی توسیع کی ضامن ہے کلاسیکی برلن مفکرین (مل ہیتھم) کی طرح برلن بھی سرمایہ دارانہ نظم ملکیت (property form) اور مارکیٹی مسابقتی عمل کو عوام کی آزادیوں کی تحدید کا سبب نہیں گردانتا ۔

برلن کی اشتراکیت کی مخالفت مشہور ہے لیکن یہ بات مشہور نہیں کہ وہ کٹر یہودی اور عیسائیت کا شدید مخالف تھا ۔وہ کہتا تھا کہ اشتراکیت اور عیسائیت کی یہ مشترکہ تعلیم ہے کہ غرباء کو محروم نہ رکھنے کے لئے قانون سازی اور ادارتی صف بندی کی جائے، حقیقت میں ایسا نہیں ہونا چاہئے اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تشکیل فطری ہے ۔اس کی رائے میں سرمایہ دارانہ نظام میں تقابلی غربت (relative poverty) اور محرومی کا سبب عوام کی ابتر صلاحیتوں اور کاہلی (Laziness) ہے ۔

اپنی کتاب (Four Eassys on Liberty) میں برلن 19ویں صدی برطانیہ میں پھیلے ہوئے افلاس کا سبب مقتدرہ کی ریاستی اور معاشرتی پالیسیوں کو ٹھہراتا ہے لیکن یہ کہتا ہےکہ ان پالسیوں کی تنفیذ کے نتیجہ میں عوام منفی آزادیوں (liberty) سے محروم نہ ہوئے محض ان ذرائع (mean of libery)سے محروم ہوئے جو آزادیوں کے استعمال کے لئے ضروری ہیں آزادی اور ذرائع آزادی کی یہ تفریق بالکل مہمل اور ناقابل فہم ہے مفلسین آزاد تھے گوکہ ذرائع آزادی سے محروم تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ فروغ آزادی کا کوئی تعلق فراہمی سرمایہ دارانہ عدل سے نہیں ہے ۔

برلن کو اس تضاد کا احساس ہے اور وہ کئی مقامات پر ایسی ریاستی مداخلت کی تائید کرتا ہے جس کے نتیجہ میں ذرائع آزادی کا فروغ ہو وہ لکھتا ہے کہ اشتراکی سرمایہ داری کا مقصد منفی آزادی کی فراہمی کی بنیاد پر بھی استوار کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی رائے میں اشتراکی منصوبہ بندی (Socialist planing) بنیادی آزادی یعنی حق انفرادی سرمایہ دارانہ ملکیت ختم کردیتی ہے ۔

برلن کا تصور منفی آزادی افرادی مسابقت کو مفروض کرتا ہے یہ مفروضہ برلن کے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کو ایک فطری ادارہ تصور کرنے سے ماخوذ ہے ۔اس تصور آزادی کے مطابق افراد میں حصول ذرائع آزادی کے لئے مستقل حریفانہ کشمکش جاری رہتی ہے اور ذرائع آزادی کی تقسیم لازماً غیر مساوی ہوتی چلی جاتی ہے لیکن ذرائع آزادی کی مارکیٹی تقسیم برلن کے لئے ممکن بنادیتی ہے کہ ذرائع کی غیر مساویانہ تقسیم کو منفی آزادی کے فروغ کا باعث گردانے ۔

مثبت آزادی سے برلن کی مراد خودمختاری کی صفت ہے ۔افراد خود مختار (autonomous) جب ہوتے ہیں جب وہ فیصلہ اپنی خواہشات کے مطابق بغیر کسی بیرونی قوت پر انحصار کئے ہوئےکرتے ہیں اور اپنی ریشنلٹی کے مطابق یہ خود طے کر تے ہیں کہ جو مقاصد انہوں نے اپنے اغراض کے حصول کے لئے طے کئے ان کو بہتر ین طریقے سے کس طرح حاصل کرسکیں گے ۔یعنی ایک ایسا شخص جس کو مثبت آزادی حاصل ہے خود اختیاری اور قائم بذات (احد اور صمد) ہوتا ہے ۔اس تصور کے مطابق مثبت آزادی کا حامل ایک مکمل ہیومن بینگ ہوتا ہے ۔لیکن برلن کہتا ہے کہ مثبت خود اختیارات کی جستجو میں افراد کو لبرل حقوق سے محروم کردیا جاتاہے ۔یہ الزام وہ بالخصوص اشتراکی سرمایہ داری کی ریاستی صف بندی پر لگاتا ہے ۔لہذا برلن خود اختیاریت کے عمل کو ذاتی زندگی تک محدود کر دیتا ہے اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں اس تحدید کو ضروری سمجھتا ہے۔

برلن کے مطابق اشتراکی اور قوم پرست سیاسی نظام مثبت آزادی کو "اصل آزادی" گردانتے ہیں اور اس "اصل آزادی" کی تعبیر اپنے مخصوص نظریاتی تناظر میں کرتے ہیں ۔مثلاً اشتراکی سرمایہ دار اصل آزادی سے ڈکٹیٹرشپ آف دی پرولوٹیریٹ مراد لیتے ہیں اور ڈکٹیٹرشپ کو قائم کرنے اور کارفرمارکھنے کے لئے انفرادی آزادیوں (منفی آزادیوں) کو محدود کرنا جائز تصورکرتے ہیں آزادی فرد کے لئے نہیں اس اجتماعیت (پرولوٹریٹ) کے لئے مقصود ہے جس میں وہ انفرادیت کو سمودینا چاہتے ہیں ۔آزادی کا یہ تصور اس بات کو مفروض کرتا ہے کہ "اصل آزادی" کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ان ریشنل اصولوں کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے جو وینگارڈپارٹی وضع کرتی ہے کیونکہ وینگارڈ پارٹی کے شرکاء پوری طرح ریشنل ہیں اور عوام اس صفت سے محروم ہیں کامل ریشنلٹی رکھنے والوں کا تحکم غیرریشنل عوام کے لئے مفید ہے کیونکہ یہ تحکم غیر ریشنل عوام کو ریشنل بنانے (یعنی اصلی آزادی سے بہرہ در کرنے ) کا واحد طریقہ ہے ۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن ممالک (مثلاً اشتراکی سرمایہ دارانہ ممالک) میں "اصل آزادی" کی جستجو کی جاتی ہے وہاں عوام جمہوری عمل میں شرکت سے مطلقاً محروم کردیئے جاتے ہیں گوکہ وہ حکومت نہیں کرتے اور یہ بات تو لبرل پارلیمانی جمہوریتیوں کے بارے میں بھی درست ہے۔برلن آزادی کے دومعنوں پر زور دیتا ہے (1)اپنی زندگی کے اپنے طے شدہ مقاصد کے مطابق گزرانے کی آزادی اور (2) کسی "اصلی تصور آزادی کی ماتحتی ، اس کا دعویٰ ہے کہ کسی اصلی تصورآزادی کی ماتحتی اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کو ناممکن بنادیتی ہے یہ بالکل ممکن ہےکہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والا شخص نظامتی تحکم کی خواہش نہ رکھتا ہو)جو لوگ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن ریاستی تحکم کی خواہش نہیں رکھتے وہ بھی ریاستی عمل میں حصہ لینے کے خواہاں ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری عمل کے ذریعہ منفی آزادیوں سرمایہ دارانہ شخصی حقوق کی تحدید کی جاسکتی ہے لیکن برلن کی رائے میں تحکیمی عمل میں عوامی تائیدی شرکت (اس پر بالادستی نہیں) شخصی آزادیوں کے لئے زیادہ ساز گار فضا فراہم کرتی ہے ۔

برلن کی فکر مل کی فکر کاتسلسل ہے اور لبرل /پارلیمانی جمہوریتوں میں یہی فکر غالب ہے اس کے تصور منفی آزادی کی تشکیل سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق (بالخصوص حق نجی سرمایہ دارانہ ملکیت) کی صورت ہر لبرل جمہوری نظام میں پائی جاتی ہے اور بیشتر اشتراکی اور قوم پرست بھی ان انفرادی سرمایہ دارانہ حقوق کی تصدیق اپنے دساتیر میں کرتے ہیں) سوشل ڈیموکریٹ ریاستیں مثبت آزادیاں(سرمایہ دارانہ سماجی حقوق، بے روزگاری ،الاونس national insurance, تعلیم و صحت کے شعبہ میں مراعات) فراہم کرتی ہیں بغیر کسی مخصوص نظریاتی تناظر کی تنفیذ پراصرار کے،نفی اور مثبت آزادیوں کی فراہمی سرمایہ دارانہ تحکم کے قیام اوراس کو عوامی جمہوری تائید دلانے میں اہم ثابت ہوئے ۔

3.12۔ نطشے اور شموٹ

قوم پرستی کی ابتدا پوپ اور اس کے باغی پادریوں کی کشمکش سے ہوئی۔ اس بغاوت نےپندرھویں صدی میں زور پکڑا اور اس کے اہم ترین سربراہ مارٹن لوتھر اور جان کیلون(John Calvin) تھے۔ یہ دونوں پادری تھے اور ان کی بغاوت کیتھولک ازم کے خلاف ایک مذہبی بغاوت تھی۔ ان کے عقائد میں یہ باتیں شامل تھیں:

۱۔ انسان فطرتاً گناہ گار ہے اور خدا بننا چاہتا ہے ([138])۔

۲۔ حق کا اظہار صرف کتاب الٰہی کے الفاظ کے ذریعے ممکن ہے۔ عیسائی گرجا کی تاریخی تاویلات اور فلسفیانہ ا سکالسٹک مباحث نصوص صحیحہ نہیں۔

۳۔ انسان دو سلطنتوں کا باسی ہے۔ روحانی سلطنت جہاں اس کے ضمیر کی تربیت کی جاتی ہے اور شہری سلطنت جہاں اس کی دنیاوی زندگی گزارنے کے اصول مرتب ہوتے ہیں([139])۔

۴۔ روحانی سلطنت میں انسان مطلقاً آزاد ہے اور شہری سلطنت میں مطلقاً مجبور اور غلام ہے۔

۵۔ یہ دونوں سلطنتیں خدا کی حاکمیت اعلیٰ کے تحت ہیں اور خدا نے بادشاہ کو صاحب اقتدار بنایا ہے۔

۶۔ یہ دونوں سلطنتیں آپس میں اس طرح پیوست ہیں کہ ان میں تفوق (کون سی سلطنت برتر ہے؟) کا سوال اٹھانا مہمل ہے۔

۷۔ لیکن اس پیوستگی کے باوجود دونوں کا دائرہ کار مختلف ہے اور شیطان مستقل اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ان دو سلطنتوں کے دائرہ کار کو خلط ملط کر دے۔ شیطان کوشش کرتا ہے کہ بادشاہ کو اس پر آمادہ کرے کہ وہ تعلیمات الٰہیہ کی ایک مخصوص تشریح کو ریاستی قوت کے ذریعہ نافذ کرے اور شیطان یہ بھی کوشش کرتا ہے کہ پوپ ریاستی قانون سازی میں دخل اندازی کر کے سول سلطنت میں بادشاہ کے اختیار کو غصب کرے۔

۸۔ بادشاہ کی حاکمیت کا ماخذ خدا کی مرضی ہے۔ خدا خود بادشاہ کو مقرر کرتا ہے اور بادشاہ نہ پوپ کا ماتحت ہے نہ چرچ کا اور نہ عوام کا۔

۹۔ تمام عیسائی چرچ کے یکساں رکن ہیں۔ پادریوں کو عام عیسائیوں پر فوقیت حاصل نہیں۔ چرچ کے نظام میں درجہ بندی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن پادریوں کو عیسائی عوام بشمول بادشاہ کی روحانی پیشوائی کا فریضہ انجام دینے کا حق حاصل ہے۔

۱۰۔ سول ریاست چرچ کی نگران ہے اور اس کو یہ حق حاصل ہے کہ ضروت پڑنے پر چرچ کی اس طرح اصلاح عمل میں لائے کہ چرچ اپنے حقیقی فرائض ادا کرنے سے قاصر نہ ہو جائے۔ اس عقیدہ کی بنیاد پر پروٹسٹنٹ فرقوں نے یورپی سلطنتوں کے مطلق العنان بادشاہوں کو پوپ کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے سولھویں اور سترھویں صدی میں مسلسل جدوجہد کی۔

لوتھر کے مطابق انجیل دنیاوی سلطنتوں کے چلانے کے لیے ایسے احکام فراہم نہیں کرتی جن کی بنیاد پر سول قانون سازی کی جا سکے۔ الٰہیات کا دائرہ کار سیاسیات سے علیحدہ اور سیاست میں رہنمائی عقلیت اور تجربیت سے حاصل کی جاتی ہے نصوص سے نہیں۔ سیاسیات میں رہنمائی اسی ارسطو سے حاصل کی جائے گی جس کو لوتھر نے ایک damned, conceated rascally heathen قرار دیا تھا([140])۔ لوتھر کے مطابق بادشاہ کے اختیارات لامحدود ہیں اور اس کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے سوائے اس کے کہ وہ خدا کے واضح روحانی ارشادات کی خلاف ورزی کرے([141])۔ لیکن اس حالت میں بھی حکم عدولی جائز ہے عسکری بغاوت کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔ لوتھر اور کیلون دونوں صریحاً اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ حکومت الٰہیہ قائم کریں([142])۔ ریاستی قانون سازی خالصتاً ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس ضمن میں کوئی ہدایات صادر نہیں فرمائیں۔ ریاستی قانون سازی لازماً اس اصول پر مرتب ہوتی ہے کہ گو کہ روحانی اعتبار سے تمام انسان برابر ہیں مگر دنیاوی معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے معاشی اور معاشرتی درجہ بندی ضروری ہے۔

چوں کہ دنیاوی قوانین انسان بناتے ہیں (ذہن اور تجربہ کی بنیاد پر، الٰہی تعلیمات کی بنیاد پر نہیں) اس لیے دنیاوی ریاستی نظام مستقل شکست و ریخت کا شکار ہوتا رہتا ہے اور اس کے مکمل تعمیر نو کی وقتاً فوقتاً ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ یہ کام ایک فوق البشر کرتا ہے۔ اس فوق البشر کو لوتھر Wundermann کہتا ہے([143])یہ فوق البشر کسی قانون کے ماتحت نہیں ہوتا وہ بغاوت کرنے کا مجاز ہوتا ہے اور لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی پیروی کریں۔ وہ خود صحیفہ ناطق ہوتا ہے([144] )۔ یہ تمام خصوصیات نطشے کے تصور فوق البشر (Ubermench) میں پائی جاتی ہیں اس فرق کے ساتھ کہ Wundermann خدا کا فرستادہ ہوتا ہے جب کہ Ubermench ہیومنٹی کا نمایندہ ہوتا ہے([145] )۔

سولھویں تا اٹھارھویں صدی کے یورپ میں مطلق العنان بادشاہتوں کے غلبہ کا دور تھا۔ اس دور میں یورپ میں قومی ریاستیں قائم ہوئیں اور انہی ریاستوں نے عیسائی فرقہ وارانہ جنگیں لڑیں جن میں انگلستان اور ولندیز نے پروٹسٹنٹوں کا ساتھ دیا اور اسپین اور فرانس نے پوپ کا۔ قوم پرستی ہی نے Christendom کو یورپ بنا دیا اور ایک عام آدمی اپنی شناخت قوم سے اخذ کرنے لگا۔ وہ بنیادی طور پر فرانسیسی یا برطانوی بن گیا اور اس کی عیسائیت اس کی قومی شناخت کے تابع ہو گئی۔ سولھویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک تمام بڑی یورپی قوموں نے استعماری مہمات جاری رکھیں([146])۔ استعماریت اور قوم پرستی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ استعماری فتوحات کے نتیجے میں ایک عام برطانوی، فرانسیسی، ہسپانوی، ولندیزی اور پرتگالی کو بہت مادی فائدہ حاصل ہوا۔ پورا یورپ سونے اور چاندی اور اجناس کے ذخیروں سے مالا مال ہو گیا۔ ہر یورپی خاندان اس عالمی لوٹ مار سے مستفید ہوا اور اس کے نتیجے میں عیسائی مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کی دھجیاں اڑ گئیں۔ ہر یورپی ملک میں حرص و ہوس، سفاکیت، خودغرضی اور دنیا پرستی ایک وبا کی طرح پھیلنے لگی اور چوں کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ چرچ خود اس عالمی لوٹ مار سے پوری طرح مستفید ہو رہے تھے لہٰذا وہ عوامی روحانی اور اخلاقی زوال کو روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ ان حالات میں قوم پرستی کو ایک لہر آگ کی طرح پورے پورے یورپ کو جھلسا دینا ناگزیر ہو گیا۔

عیسائیت کی طرح سرمایہ دارانہ فکر بھی آفاقی ہے۔ اس کے لیے اجتماعیتیں تعمیر کرنا ایک دشوار گزار فعل ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے دو غیرمذہبی اجتماعیتیں قائم کی ہیں؛ قومی اجتماعیت اور طبقاتی اجتماعیت ([147])۔ یہ دونوں اجتماعیتیں تاریخی ہیں۔ نطشے(Friedrich Wilhelm Nietzsche) نے اپنی ابتدائی تحریروں میں جس سوال پر غور کیا وہ تاریخ سےصحیح نتائج اخذ کرنے کا سوال تھا۔ اس ضمن میں اس کی سب سے اہم تصنیف “The Uses and Abuses of History” ہے جو ۱۸۵۴ء میں چھپی۔ اس کتاب میں وہ ہیگل کے نظریہ تاریخی ارتقا پر تنقید کرتا ہے۔ ہیگل ماڈرن انفرادیت کو عالمی تاریخ کی پیداشدہ اعلیٰ ترین تخلیق گردانتا ہے۔ ہیگل انیسویں صدی کے یورپ کو انسانی ترقی کی معراج کہتا ہے اور نظریہ اختتام تاریخ کا قائل ہے۔ وہ تاریخی ارتقا کو عقلیت کا تقاضا تصور کرتا ہے۔ نطشے ان تمام نظریات کو ردّ کرتا ہے۔ اس کے مطابق تاریخ ظلم، ناانصافی اور جہالت سے بھری ہوئی ہے اور اس کا اختتام (جس سے وہ انکار کرتا ہے) ہیومینٹی کے زوال کا باعث ہو گا۔

نطشے کے مطابق انسان تاریخ سے لاتعلق نہیں ہو سکتا کیوں کہ تاریخ ایک نوعی حادثات کی حیثیت رکھتی ہے اور تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ہیومن بینگ ایک ناقابل تکمیل ناقص وجود ہے۔ ہیومن بینگ کو سکون اور فرحت نسیان سے حاصل ہوتی ہے۔ ہیومن بینگ کو حال میں اس طرح زندہ رہنا چاہیے کہ وہ ماضی کی تمام تلخیاں بھول جائے۔ایک صحت مند ترقی یافتہ سماجی تناظر تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تاریخی تجربات سے صرف وہ واقعات یاد رکھیں جو ہمارے لیے مثبت ہوں اور ان تمام واقعات کو فراموش کر دیں جو دورِحاضر اور اس کی توجیحات پر منفی اثر ڈالتے ہوں۔ مثلاً امریکی قوم اپنے ابتدائی باشندوں کے تعمیری کارناموں کو یاد رکھے لیکن اس بات کو بھول جائے کہ امریکی سفید فاموں نے آٹھ کروڑ ریڈانڈینز افراد کا تین صدیوں تک بہیمانہ قتل مستقل جاری رکھا۔ہیومن بینگ کا آفاقی تناظر ان مفروضات پر مبنی ہوتا ہے جن کو وہ درست تسلیم کرتا ہے۔ اسی آفاقی تناظر میں تاریخی تعمیرات معنی خیز اور مثبت ہو سکتی ہیں۔ مثلاً اگر امریکیوں کا آفاقی تناظر یہ ہے کہ یورپ کے سفید فام تارکین وطن کو خدا نے امریکا میں ایک دنیوی جنت تعمیر کرنے پر مامور کیا تھا تو ان کا فرض ہے کہ وہ آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کے پیہم جاری رہنے والے قتل عام کو بھول جائیں۔

نطشے کے مطابق تاریخ کو تین طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ Monumental تاریخ جو عظمت کے قابل تقلید نمونے فراہم کر سکے۔ Antiquarian تاریخ جوفرد کا قومی اور نسلی رسوم و روایات سے وابستگی اور جذباتی عقیدت کو قائم رکھے اور Oral تاریخ جو ماضی کے غیرمثبت تجربات مثلاً آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کے قتل عام کی ایسی تعبیرات پیش کرے (ریڈ انڈینز کا قتل اس لیے ضروری تھا کہ کیوں کہ وہ قدرتی وسائل ضائع کرتے تھے یا آدم خور تھے وغیرہ) جو رائج شدہ آفاقی تناظر میں مثبت طور پر سموئی جا سکے۔تاریخ کا منفی اور مضر استعمال بھی کیا جا سکتا ہے مثلاً ریڈ انڈین سرداروں کے صبر، اخلاص، مہمان نوازی اور بہادری کا بیان۔ ایسی مذہبی روایات کا تذکرہ جو قومی شان و شوکت کی جستجو کو غیراہم اور گم راہ کن قرار دیتی ہیں۔ تاریخی واقعات کی ایسی تشریح جو تاریخی واقعات کے مثبت اثرات سے مستفید ہونے کی راہ میں حائل ہو (مثلاً ان ریڈ انڈین غداروں کے کارناموں سے سہوِ نظر جن کی غداری کے نتیجے میں ریڈانڈینز کا یہ قتل عام نہایت کم خرچ پر جاری رکھاجا سکا) ان سب کو فراموش کر دینا چاہئے۔

تاریخ کو کسی آفاقی حق کے اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ کو سائنس بنانے کی کوشش اس کی افادیت کو ختم کر دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معروضی حق کا کوئی وجود نہیں۔ ہیومن بینگ جس کلی تناظر پر یقین رکھتا ہے اس کے مفروضات لازماً خود اختیاری اور حادثاتی ہوتے ہیں۔ یہ تاریخ سے اخذ نہیں کیے جاتے بلکہ تاریخی مطالعہ اور تجربہ کا مقصد ان حادثاتی تناظراتی مفروضات کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ہیومن بینگ پیہم وہ بنتا رہتا ہے جو وہ بنتا رہنا چاہتا ہے۔ اسی معنی میں وہ اپنا وجود خود تخلیق کرتا ہے۔ نطشے اس عمل کو tendency of becoming کہتا ہے۔

حق اور زندگی میں تصادم ہے۔ حق یہ ہے کہ حقیقت مطلق کا کوئی وجود نہیں ہے اور ہر تناظر لغو، مبہم، لایعنی اور حادثاتی ہوتا ہے۔ لیکن ہیومن بینگ اس حقیقت کو قبول کر کے زندہ نہیں رہ سکتا وہ لازماً اپنے تناظر اور اس کے بنیادی مفروضات کو معروضی حق تصور کرنے پر مجبور ہے۔ زندگی علم کے بغیر ممکن ہے لیکن علم بغیر زندگی کے ناممکن ہے۔ لہٰذا ہیومن بینگ کے لیے لازم ہے کہ لامحالہ لایعنی تناظر کو حقیقت مطلق تصور کرے۔ ہر تناظر لازماً دیومالائی ہوتا ہے لیکن اپنے دیومالائی تناظر کو حق تسلیم کر کے ہیومن بینگ شرف حاصل کرتا ہے۔ اس دیومالائی تناظر کی بقا اور فروغ کے لیے ہیومن بینگ بڑی سے بڑی قربانی دیتا ہے۔ تاریخ ساز وہی عظیم ہیرو ہوتے ہیں جو کسی دیومالائی حادثاتی تناظر کے استحکام اور فروغ کے لیے عظیم قربانیاں دیتے ہیں اور کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنے دیومالائی تناظر پر غیرمتزلزل اور پختہ ترین ایمان رکھتے ہیں۔ تاریخ ساز افراد نئے تناظر تخلیق کرتے ہیں۔ وہ خود بھی ان تناظر کی معروضی حقانیت پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور ہیومینٹی کے بڑے گروہ کو اسی تناظر پر ایمان لانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ان ہیروز کا رخ مستقبل کی طرف ہوتا ہے اور وہی سابقہ تاریخ ساز ہیروز سے سبق حاصل کرنے کے مکلف ہوتے ہیں۔ حقیقت کا بیان لازماً اس کی ایک مخصوص تشریح ہوتی ہے۔ ہم اپنی تاریخ خود وضع کرتے ہیں اور ہماری تاریخی تعبیرات کو شوکت اور عظمت کا مظہر ہونا چاہیے، پستی اور ناکامی کی داستان نہیں۔ مثلاً تاریخ تحریک پاکستان لکھتے ہوئے ہمیں ان سیاسی کامیابیوں پر توجہ دینی چاہیے جن کے نتیجے میں سات سال کے قلیل عرصے میں ایک نئی سلطنت وجود میں آئی اور ان پندرہ لاکھ مسلمانوں کا ذکر نہیں کرنا چاہئے جو ۴۸-۱۹۴۷ء میں تحریک پاکستان کی کامیابی کے نتیجے میں بے یار و مددگار قتل کیے گئے۔

نطشے ایک عالی ترین شان دار تاریخی تناظر تعمیر کرتا ہے۔ اس کے خیال میں تہذیبی ارتقا کی معراج قدیم یونانی تہذیب نے حاصل کی۔ ترقی کی یہ معراج قوم یونان نے اس لیے حاصل کی کہ وہاں ایک تخلیقی اشرافیہ کا غلبہ مستحکم تھا۔ اشرافیہ کے غلبہ کے لیے ضروری ہے کہ احساسات اور معاشرت میں فاصلے بڑھتے چلے جائیں۔ معاشرہ میں اشرافیہ کے مراتب بلند سے بلند تر اور غلاموں کی حیثیت پست سے پست تر ہو تی چلی جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ احساسات اور ادراک کی کثیر الجہتی میں اضافہ ہوتا چلا جائے اور عالی ترین تفکرات کا فاصلہ روزمرہ کے فہیم معاملات سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتا چلا جائے۔ یونانی تہذیب ایک شدید درجہ بند معاشرہ تھا جہاں غلاموں کی تحقیر مستقل بڑھتی جاتی تھی اور مستقل مسابقت کے ذریعے اشرافیہ میں تقدم اور درجہ بندی ہنوز ترقی پذیر رہتی تھی۔

نطشے کے مطابق یونانی تہذیب کا معراج اس کے المیاتی شہ پارہ ہیں([148])۔ فکری ارتقا کے نتیجے میں یونانی المیہ (tragedy)نگار پہلی مرتبہ اس راز کو پا گئے کہ انسان کی تقدیر پر مایوسی اور تاریکی کے علاوہ کچھ نہیں۔ انسان ایک ایسی کائنات کا باسی ہے جو بے مقصد حادثاتی طور پر وجود میں آئی اور جہاں لامعنویت کا راج ہے اور جہاں زندہ رہنا مسلسل دکھ سہتے رہنا ہے۔ لیکن یونانی المیہ انسان کو سبق دیتا ہے کہ اس بے ہنگم اور لایعنی کائنات میں فطری قوتوں کے خلاف مستقل نبردآزما رہنا ضروری ہے اور قدرت کے خلاف یہی مستقل بغاوت اور سرکشی انسان کو ایک شان دار اور پرشکوہ زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔

نطشے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے شدید ترین نفرت کرتا تھا ۔ نطشے کے مطابق عیسائیت غلاموں کی اخلاقیات ہے۔ اس کے برعکس حاکمانہ اخلاقیات قوت کے حصول اور فروغ کو اپنی بنیادی قدر کے طور پر قبول کرتی ہے۔ حاکم ظالم اور سفاک اس لیے ہوتے ہیں کہ اپنے ظلم کے ذریعے اپنی قوت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ مظلوموں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں کیوں کہ مظلومیت، کمزوری کا اظہار ہے اور حاکمانہ اخلاقیات کے مطابق کمزوری سے بری کوئی چیز نہیں۔ اس کے برعکس عیسائیت یعنی غلامانہ اخلاقیات قوت اور اس کے اظہار کو گناہ کہتی ہے۔ جو اوصاف کمزوری کا اظہار ہوں مثلاً انکساری کی تعظیم، عیسائیت ان کو نیکی کہتی ہے۔ عیسائیت اس بات کو فراموش کر دیتی ہے کہ حکمران کی قوت اور اس کا اظہار فطری ہے۔ وہ اس کو اختیاری گردانتی ہے اور ہر قوت کے اظہار کی مذمت کرتی ہے۔ عیسائیت فطری جذبات کو کچل کے رکھ دیتی ہے۔ عیسائیت ایک ایسی معاشرت کو فروغ دیتی ہے جو بقول نطشے ناقص، مریض اور روبہ تنزل معاشرت ہوتی ہے۔ 

عیسائیت نے اپنی تباہی کا خود موقع فراہم کیا۔ عیسائی تفکرات کے نتیجے میں روحانی بالیدگی پیدا ہوئی اور انسان اس قابل ہو گیا ہے کہ آفاقی اصول خود وضع کر سکے۔ عیسائیت جس آفاقیت کی تعلیم دیتی ہے وہ لغو اور مہمل ہے لیکن عیسائی علمیاتی کاوش ہی نے سائنس کو جنم دیا ہے اور اب ایسے آفاقی اصولوں کی توضیح ممکن ہو گئی ہے جو حقیقی معنوں میں آفاقی ہیں اور جن کو رو بہ عمل لا کر نطشے عیسائیت کو پیچھے چھوڑنا ممکن سمجھتا ہے۔ نطشے کے خیال میں اس کا دور تاریخ کے بدترین ادوار میں شامل ہے۔ عیسائیت نے جمہوریت اور سوشل ازم کو جنم دیا تھا اور جمہوریت اور سوشل ازم دونوں غلامانہ اخلاقیات یعنی عیسائیت کا مظہر ہیں کیوں کہ ان کی بنیادی تعلیم معاشرتی مساوات کو فروغ دینے والی ہے۔ دورحاضر یعنی انیسویں صدی کے آخر کی معاشرت ایک ذلیل اور پس ماندہ ہجومی انفرادیت تعمیر کرتی ہے۔ حقوق انسانی کا تصور غلامانہ اخلاقیات کے فروغ کا ذریعہ ہے اور دستوری جمہوری اور اشتراکی ریاستی نظام اعلیٰ اور ارفع جذبات اور ان کے اظہار کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ ان کا قانون انسان کی فطری شہوانی جبلتوں کو کچل دیتا ہے۔ ریاستی اقدامات کا مقصد معاشرہ سے الم اور دکھ کو ختم کرنا ہے لیکن وجود تو لازماً المیہ اور دکھ سے بھرپور واقع ہوا ہے۔ الم اور دکھ کے خاتمے کا مطلب انسانی عظمت اور شوکت کا خاتمہ ہے۔ نطشے کے دور میں سائنس بھی انسانی عظمت اور شوکت کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بن رہی کیوں کہ وہ ایسے آفاقی اصولوں کے ادراک کی جستجو کر رہی ہے جو واقعتاً حق ہوں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حق کا کوئی معروضی وجود نہیں ہے اور بقول نطشے خدا مر گیا ہے۔ خدا کی ذات پر اب یقین نہیں کیا جا سکتا، یہ عقیدہ عقل کے خلاف ہے۔

نطشے نے عیسائیت کی تذلیل کے لیے جو کتاب لکھی اس کا نام "Thus Spoke Zarathustra" ہے اور یہ اس کے خیال میں الحاد کی انجیل ہے جس میں عیسائی تصورات حق و خیر کو مہمل اور غیرمعقول کہا گیا ہے۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ حقیقی وجود صرف اسی مادی دنیا کا ہے جس کو انسان محسوس کر سکتا ہے اور جس میں وہ زندگی بسر کر رہا ہے؛ اخروی دنیا کا کوئی وجود نہیں۔ یہ محض عیسائیت کی من گھڑت کہانی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ حقیقت یہ نہیں کہ خدا نے انسان کو پید کیا، حقیقت یہ ہے کہ انسانی فکر نے خدا کو وجود بخشا۔ چوں کہ انسان نے خدا کو پیدا کیا لہٰذا انسان خدا کو قتل کرنے کا مکلف ہے اور اس نے موجودہ ترقی یافتہ دور میں خدا کو قتل کر دیا ہے۔ عیسائی تعلیمات ہی نے انسان کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ خدا کو قتل کر دے۔ خدا کی پرستش نے تاریخ میں حق کی پرستش کا روپ دھارا اور حق کی اسی پرستش نے سائنس کو جنم دیا۔ سائنس ہی نے خدا کو قتل کر ڈالا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی حقیقت موجود نہیں۔ سائنس کسی مابعد الطبیعیاتی حقیقت کو ثابت نہیں کر سکتی اور اب تمام مسلّمات اور نظریات مہمل اور لایعنی دکھائی دیتے ہیں انسان کسی مفروضہ حقیقت پر ایمان نہیں لا سکتا۔

"Thus Spoke Zarathustra" میں نطشے لکھتا ہے کہ عیسائیت نے انسان کو ایک اونٹ بنا دیا ہے اور اس اونٹ نے خود اپنے اوپر اخلاقیات اور روحانیت کا بوجھ لاد لیا ہے([149])۔ یہ اونٹ بے مقصد صحرا نوردی کر رہا ہے اور اپنی اصل عظمت اور شوکت پر نادم اور شرمندہ ہے لیکن عظمت اور شوکت کا یہ فطری احساس صحرا نوردی کے دوران اس اونٹ کو ایک شیر بنا دیتا ہے۔ وہ اخلاقیات اور روحانیت کا بوجھ اپنے اوپر سے اتار پھینکتا ہے۔ وہ تمام فرائض کا انکار کر کے کہتا ہے کہ وہ کسی کا تابع نہیں، وہ کروں گا جو خود چاہوں گا۔ یہ شیر اخلاقیات اور اقدار سے تو نجات حاصل کر لیتا ہے لیکن کسی نئی اقدار اور اخلاقیات کو وضع نہیں کر پاتا۔
شیر کی صحرا نوردی بے مقصد ہوتی ہے اور بقول نطشے یہی دورحاضر کا المیہ ہے۔ اس دور میں انسان کسی حقیقت پر ایمان و یقین نہیں رکھ سکتا۔ دورِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ انسان ایک بے مقصد اور لامعنوی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس لامعنویت سے نجات نظریہ قوم پرستی فراہم کرتی ہے اور نطشے جس قوم پرستی کا قائل تھا وہ یورپین قوم پرستی تھی جرمن قوم پرستی نہیں تھی([150])۔ قوم پرستی شوکت اور عظمت کی پرستش سکھاتی ہے۔ وہ ایک نئی اشرافیہ تخلیق کرتی ہے جو انسان کے لیے ممکن بناتی ہے کہ وہ بے راہ روی اور گمراہی کی ایک کے بعد دوسری حد پھلانگتا چلا جائے۔ بقول نطشے ’’یہی میرا تصور ارتقا ہے‘‘۔ ضلالت میں ترقی کرتے چلے جانے کی جدوجہد اور تکبر کی مسلسل جستجو انسان کو فوق البشر (Ubermensh) بنا دیتی ہے اور یہی سپرمین (Ubermensh) یورپی قوم پرستی کی تجسیم ہے۔

خدا کی موت کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ انسان تمام جستجو اور کاوش کو ترک کر دیں۔ وہ تمام اقدار اور مقاصد کے حصول کی جدوجہد کو ترک کر کے محض ایک آرام دہ زندگی گزارنے پر اکتفا کریں۔ موجودہ معاشرے میں اکثریت یہی رویہ اختیار کرتی ہے اور نطشے ایسے افراد کو آخری یا اختتامی آدمی کہتا ہے۔ عوام اسی اختتامی آدمی کو اپنا مثالیہ تصور کرنے لگے ہیں([151])۔

اس المیہ سے ابدی نجات تو ممکن نہیں لیکن اگر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ خدا کی موت کے ذریعے وہ حقیقی آزادی حاصل کر گیا ہے تو وہ مستقبل کے اقدار تخلیق کر سکتا ہے۔ وہ ایک ایسا سنہرا حیوان بن سکتا ہے جو پوری معصومیت کے ساتھ تسخیر کائنات کا عمل جاری رکھے۔ انسان جان گیا ہے کہ کوئی حقیقت وجود نہیں رکھتی اور چوں کہ کوئی حقیقت موجود نہیں لہٰذا ہر وہ چیز ممکن ہے جس کی انسان خواہش رکھتا ہے۔ احساس گناہ سے آزاد ہو کر انسان خود خدا بن گیا ہے یا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عیسائیت کی جگہ نطشے نے جس آفاقی نظریے کی وکالت کی ہے اس کو "Will to Power" یعنی قوت کی پرستش کا نام دیا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق:

۱۔ انسان کی فطرت حیوانی ہے۔

۲۔ وہ فطرتاً تسخیر کائنات اور تخریب کائنات کا خواہش مند ہے۔

۳۔ چوں کہ کوئی آفاقی حقیقت موجود نہیں لہٰذا انسان مکمل طور پر آزاد ہے کہ وہ تخلیق اور تسخیر کائنات کا جو طریقہ اختیار کرنا چاہے کرسکتاہے۔

۴۔ انسان قادرمطلق ہے اور قائم بالذات ہے۔ اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے دعوائے الوہیت کا مستقل اظہار کرتا رہے۔ اس اظہار الوہیت کا کوئی اور مقصد نہیں اور وہ خود اپنا مقصد ہے۔

نطشے کو سرمایہ دارانہ نقیب کہنا اس لیے روا ہے کہ قوت کا اجتماع اور ارتکاز عملاً سرمایہ کے ذریعے ہی ہوتا ہے اور سرمایہ کے ارتکاز کا کوئی اور مقصد نہیں۔ وہ خود اپنا وجہ وجود اور جواز ہے۔

عقلیت اور شعور خواہشِ اظہارِ الوہیت کے ذرائع اور اس خواہش کے تابع ہیں۔ نیکی تخلیقیت اور فہم اس تخلیقیت کا شعوری اظہار ہے۔ ذات خواہشات کا اجتماع ہے اور غالب خواہش اظہارِ الوہیت کی خواہش ہے۔
اظہارِ الوہیت کےلیے ایک غیرمساویانہ درجہ بند معاشرہ کا وجود لازم ہے جہاں المیہ فروغ پائے۔ اظہارِ الوہیت کی خواہش اس المیے کو برقرار رکھتی ہے۔ نطشےانسانی المیہ کے ابدی وجود کا قائل ہے اور اپنے استاد شوپن ہاور(Arthur Schopenhauer) کی طرح فلسفہ آواگون کا قائل ہے۔ فلسفہ آواگون پر اعتقاد کے نتیجے میں نطشے معاشرے میں اونچ نیچ کے ابدی وجود کو لازمی تصور کرتا ہے۔ 

فوق البشر اظہارِ الوہیت کی شخصیت کاری ہے۔ وہ شعوری طور پر مادی ظواہر کی تخلیق کرتا ہے۔ فوق البشر ایک ایسا متقی ہوتا ہے جو کبھی خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتا([152] )۔ دور حاضر میں فوق البشر کے وجود ارادہ کے ذریعے تخلیق کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا وجود لازمی یا تاریخی عمل کا منطقی نتیجہ نہیں۔ فوق البشر ایک بچے کی طرح معصوم ہوتا ہے وہ اپنی ذات میں مگن ہوتا ہے اور کائنات سے کھیلتا ہے۔ اس کھیل کے دوران وہ لامعنویت سے بھری دنیا کو نئے معنی دیتا ہے۔ ایسے معانی جو کھیل کے دوران وہ خود تخلیق کرتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسے فوق البشر بار بار آتے رہتے ہیں([153] ) اور ہر فوق البشر نے ایسے اقدار خود تخلیق کیے ہیں۔ وہ تمام قوانین سے بالاتر ہوتا ہے لیکن اظہارِ الوہیت کی جستجو کے نتیجے میں آلام و مصائب سے مستقل دوچار ہوتا رہتا ہے۔ نطشے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوق البشر ایک سیاسی رہبر نہیں ہوتا بلکہ عوام سے دوری اختیار کرتا ہے۔ نطشے کی فکر میں دورحاضر کی سیاسی بحرانوں کا کوئی واضح حل نہیں ملتا۔لیکن نطشے کی فکر کے گہرے سیاسی اثرات بیسویں صدی میں مرتب ہوئے اور یورپ اور ایشیا کی فاشسٹ تحریکات نطشے کی فکر سے بہت متاثر ہوئیں۔ امریکی خارجہ پالیسی بھی نطشے کی فکر کی بھرپور طور پر غماز ہے اور ہم امریکی خارجہ پالیسی کو نطشین قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔ بلاشبہ دور حاضر کا فوق البشر امریکی قوم اور عام امریکی سٹیزن ہے اس لیے امام خمینی نے فرمایا ’’میں یہ نہیں کہتا کہ امریکا شیطان بزرگ ہے، میں کہتا ہوں کہ ہر امریکی شیطان بزرگ ہے“۔نطشے جنگ کا پرستار تھا اور انسانیت کا مستقبل مستقل جنگ میں دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حاکم اور برتر قوم کو محکوم اور پس ماندہ لوگوں پر سائنسی تجربات کے ذریعے اپنی خود ارادیت کے فروغ کی جستجو کرتے رہنا چاہیے۔ پس ماندہ اقوام کو قتل عام کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے ([154])۔

فاشسٹ ریاستیں جمہوریتیں ہوتی ہیں، اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستوں کی طرح وہ ریاستی عمل کو جاری رکھنے کے لئے عوامی تائید کو برقرار رکھنا ضروری سمجھتی ہیں ۔ہٹلر ،موسولینی ،فراسکو،ناصر سب کی حکومتوں نے عوامی تحرک (mass mobilization) کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے پر زور دیا ۔ فاشسٹ جماعتیں عوامی جماعتیں (mass party) ہوتی ہیں ۔بنیادی سرمایہ دارانہ حقوق معطل کرنے کے باجود گاہ گاہ انتخابی عمل سے مستفیض ہوتی رہتی ہیں۔ ان کے قائدین کو والہانہ عدیم المثال عوامی پر ستش کامرکز بنایا جاتا ہے اور عموماً ان ریاستوں میں عوام کے فلاحی (welfare) حقوق ،حق روزگار national insurance, صحت اور تعلیمی مراعات وافرانداز میں فراہم کی جاتی ہیں فاشسٹ ریاستیں جمہوری ریپبلکنزم کی ایک شکل ہیں ۔

دور حاضر میں بہت سی جمہوریتیں لبرل ،اشتراکی اور فاشسٹ طرز حکومت کی ایک متنوع آمیزش کی بنیاد پر پالیسی سازی کررہی ہیں ۔ان حکومتوں میں سول حقوق بھی کسی نہ کسی حد تک دیئے جارہے ہیں ۔ویلفیئر سے متعلق پالیساں بھی اپنائی گئی ہیں اور عوامی ہجومی تحریک کو بھی ریاستی پالیسی اور حکمراں کی تائید کے لئے منظم کیاجارہاہے ۔اس کی سب سے اہم مثالیں ٹرمپ کا امریکہ اور مودی کا بھارت ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ لبرل اشتراکی اور فاشسٹ حکومت سازی میں کوئی نوعی فرق نہیں ۔یہ تینوں سرمایہ دارانہ جمہوری حکومتیں ہیں ۔

3.13۔ جان رالز

ہر نظام زندگی کا اپنا ایک مخصوص تصورِ ذات اور اپنا ایک مخصوص تصورِ عدل ہوتا ہے۔ اسی تصورِ ذات اور تصورِعدل سے وہ اپنا مطلوب (آئیڈیل) تصورِ معاشرت اور ریاست اخذ کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی ترویج اور تدوین کا مقصد سرمایہ دارانہ فرد کے لیے سرمایہ دارانہ عدل فراہم کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام اور استحکام کے لیے ایک مخصوص قسم کی معاشرت(civil society) اور ایک مخصوص قسم کی ریاست (representative republic)کا قیام لازمی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’کافر حکومت تو قائم رہ سکتی ہے، غیرعادل حکومت قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔ اصل عدل تو نفاذِ شریعت ہے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک کافر حکومت نفاذِ شریعت کا فعل تو انجام نہیں دے سکتی۔ مولاعلی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے جو شریعت کو نافذ نہ کرے لیکن ایسی حکومت قائم نہیں رہ سکتی جو خود اپنے تصورِ عدل کے قیام اور تنفیذ کے لیے مستقل کوشاں نہ رہے([155])۔

سرمایہ دارانہ تصوراتِ انفرادیت اور عدل کی تین مختلف تشریحات لبرل ازم، سوشل ازم اور قوم پرستی نے وضع کی ہیں([156])۔بیسویں صدی میں لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تصورات کو فاشسٹ اور اشتراکی نظریات سے شدید خطرات کا سامنا ہوا اور روس اور جرمنی نے دستوری ری پبلک(constitutional republic) کو منہدم کر کے عوامی ریپبلک(people’s republic) فاشسٹ اور اشتراکی سرمایہ داروں قائم کر لیں۔ ۱۹۶۸ء کے بعد سے مغربی یورپ اور امریکا میں ایسی تحریکیں چلیں جنہوں نے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ نظم اقتدار کو متزلزل کر دیا اور لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تصورِ عدل لغو اور ظالمانہ گردانا جانے لگا۔ امریکا میں بالخصوص ویت نام جنگ میں مستقل پسپائی اور بڑھتی ہوئی لام بندی اور عسکری مہمات کے ردِعمل کے طور پر لبرل سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف عوامی بغاوتیں فروغ پانے لگیں۔ امریکی حکومت نے اس خطرہ سے نبٹنے کے لیے امریکی فوج کے ذریعے بڑے پیمانے پر امریکی یونی ورسٹیوں (ہارورڈ، جان ہوپکن، جارج واشنگٹن، کولمیبا اور پرنسٹن)کو خطیر رقوم دیں تاکہ سیاسی نظریاتی مباحث کے احیا کے ذریعے لبرل تصورِ عدل کی حقانیت ثابت کی جا سکے اور اشتراکی نظریاتی دلائل کو ردّ کیا جا سکے۔جان رالز(John Rawls) نے اپنی مشہور کتاب "A Theory of Justice" اسی فوجی مہم کے حصہ کے طور پر لکھی۔ وہ ہارورڈ میں پروفیسر اور امریکی وزارت جنگ کا وظیفہ خوار اپنی پوری زندگی میں رہا۔ اس کی آخری کتاب "The Law of Peoples" بھی فوجی وظیفہ کے ذریعے فنانس کی گئی([157])۔

رالز کانٹ کی تعلیمات کی تشریح کو پیش کرتا ہے۔ کانٹ کے مطابق ریزن یعنی وہ عقلیت جو نفس کے تابع ہو دو قسم کے احکامات کی تابع داری کرتی ہے۔ ایک طرف تو نفسِ امارہ کے احکامات کی تابع داری کا وسیلہ ہے اور بتاتی ہے کہ خواہشاتِ نفسانی (حصول لذات)کو کیسے پورا کیا جائے۔ دوسری طرف ریزن(reason) یہ بتاتی ہے کہ نفسِ لوامہ (discriminating self) کس اصول کے مطابق نفسِ امارہ کے احکامات کو پورا کرنے والے اعمال کی قدر متعین کرتا ہے([158])۔ اس نوعیت کی ریشنیلٹی کو کانٹ pure practical reason کہتا ہے۔ pure practical reason ایسا آفاقی اصول(catagorical imperative) وضع کرتی ہے جس کا اطلاق ہر فعل کی قدر کے تعین کےلیے بلازمان و مکاں (ہر حالت میں) ہوتا ہے یعنی نفسِ لوامہ (Categorical Imperative) کا حکم احکام خداوندی([159] )کے احکام کی جگہ لے لیتا ہے۔کانٹ Categorical Imperative کے تصور کو اس طرح بیان کرتا ہے:

Act only on that maxim, whereby thou can at the same time will that it should become a universal law.

یعنی (نفسِ امارہ) کے صرف اسی حکم کی تعمیل کرو جس کو تم ایک آفاقی قانون بنانے کا جواز پیش کر سکتے ہو۔

مثلاً رالز کا نفس اس کو گاڑی چرانے کا حکم دیتا ہے تو وہ اس حکم کو آفاقی قانون بنانے پر راضی نہیں ہو سکتا ,کیوں کہ پھر اس کی اور سب لوگوں کی گاڑیاں چوری ہوتی رہیں ,گی جس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ملکیت ختم ہو جائے گی۔اس کے برعکس اگر رالز کا نفس زنا بالرضا کا حکم دے([160])تو اس کو ایک آفاقی قانون بنایا جا سکتا ہے کیوں کہ اس سے کوئی بھی سرمایہ دارانہ حق یا فرض معدوم نہیں ہوتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہر وہ فعل جو سرمایہ دارانہ نظام میں ایک آفاقی قانون کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جائز ہے۔

نفسِ امارہ کے احکام کا جواز اصول universalisibility فراہم کرتا ہے۔ رالز کی آزادانہ زناکاری کا جواز یہ ہے کہ آزادانہ زناکاری کی بنیاد پر ایک آفاقی اصولِ حاکمیت سرمایہ دارانہ نظام میں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
universalisibility کو جوازی اصول کے طور پر قبول کیے جانے کےتعین کے تین نتائج ہیں:

۱۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر فرد کے حقوق مساوی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ رالز کو زنا کرنے کا حق اس لیے حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک مشہور پروفیسر ہے بلکہ اس کو یہ حق سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فرد ہونے کی وجہ سے حاصل ہے اور دوسرے تمام افراد کو بھی یہ مساوی حق حاصل ہے۔ اس کی طالبہ کو بھی، اس کی بیوی کو بھی اور صدر بڈن کو بھی وغیرہ۔

۲۔ آفاقی قوانین سرمایہ دارانہ نظام کے ہر باشندہ کی ایسی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھ کر تفویض کیے جاتے ہیں جو universalisable ہوں مثلاً پوپ برناڈاٹ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکا کرتا تھا۔ انبیاکرام کو گالیاں دینے سے کوئی سرمایہ دارانہ حق یا فرض معدوم نہیں ہوتا لہٰذا برناڈاٹ کو حق اظہارِ رائے کا تحفظ حاصل ہے اور جیسے جیسے عیسائیت کا نظاماتی اثر کم ہو رہا ہے ویسے ویسے یورپ، امریکا میں توہینِ الٰہی (Blasphemy Law) کے قوانین عملاً معطل ہو کر رہ گئے ہیں([161] )۔ 

۳۔ سرمایہ دارانہ قوانین کی ماخذاتی قدر صرف آزادی ہے([162])۔ 

سرمایہ دارانہ قوانین کسی اور قدر خدا ترسی ، غیرت، صلہ رحمی، اخلاص وغیرہ کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کا مقصد صرف آزادی کا فروغ یعنی سرمایہ کی بڑھوتری ہوتا ہے۔ سرمایہ کا قانون(rule of law) حرص و ہوس، شہوت و غضب اور خدا سے بغاوت کی حاکمیت ہے۔

اصولاً سرمایہ دارانہ معاشرہ کا ہر فرد مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر فرد کا ذاتی طور پر منتخب کردہ مقصدِ حیات یکساں قدر کا حامل ہے۔ ایک شخص کا مقصدِ زندگی زناکاری ہے اور کسی دوسرے کا مقصدِ حیات عبادتِ خداوندی ہے۔ نظاماتی سطح پر رالز اور کانٹ کے مطابق یہ دونوں مقاصد یکساں قدر کے حامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست کا مقصد ہر فرد کو اپنے ذاتی طور(autonomously determined) پر متعین مقصد کو حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے اس طرح سے کہ کسی دوسرے فرد کا ذاتی طور پر منتخب کردہ (autonomously etermined)مقصدِ حیات حاصل کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔ سرمایہ دارانہ ریاست زانی کو زناکاری اور عابد کو عبادت گزاری کے فروغ کے لیے ایسے ضابطے متعین کردیتی ہے جن کی تنفیذ کے نتیجے میں عبادت گزاری کا فروغ زناکاری کی راہ میں اور زناکاری کا فروغ عبادت گزاری کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بننے پائے۔ pure practical reason کی بنیاد پر تعمیرکردہ نظم معاشرت اور ریاست کا کوئی اخلاقی خاصہ (ethical essence)نہیں ہوتا۔ وہ کسی اخلاقی قدر کو کسی دوسری اخلاقی قدر پر فوقیت نہیں دیتا۔ وہ ان سب اقدار کو جمع (concatenate)کرنے کا وسیلہ ہوتا ہے اور یہ concatenation اس اصول پر مرتب کرتا ہے کہ تمام اخلاقی پیمانے یکساں قدر کے حامل ہیں۔ اور کسی اصول اخلاقیات کو کسی دوسرے اخلاقی اصول کی بنیاد پر عمل پیرا ہونے میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔ یہی سیکولرازم (دہریت) ہے کیوں کہ اس نظام میں ہر شخص کو خود اپنا خدا تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہر فرد خود اپنے لیے معیار شر اور خیر مقرر کرتا ہے اور کسی خدا کو دوسرے خدا کے autonomously منتخب معیارات خیروشر کو مسترد کرنے کا حق نہیں۔ ہر انفرادی خدا قائم بالذات ہے، احد اور الصمد ہے۔ کانٹ کہتا ہے:

Man exists as an end-in-himself not mearly as a means to be arbitrarily used by this or that will.

یعنی ہر فرد کے وجود کا اظہار اور بقا خود مقصد اعلیٰ ہے۔ فرد کسی دوسری ذات (یعنی اللہ تاعلیٰ) کے متعین کردہ مقاصد کے حصول کا محض ایک ذریعہ نہیں۔

قدر کے تعین کا مکلف صرف فرد کا انفرادی ارادہ ہے۔ وہ اپنے ضوابط اور قوانین خود متعین کرتا ہے اور کسی دوسرے ارادہ (devine or sovereign will) [163]کو اپنے وضع کردہ قوانین اور ضوابط پر مسلط کرنے کا اختیار نہیں دیتا چاہیے۔ ہر فرد کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اوپر ایسی پابندیاں عائد کرے جو ان خواہشات کے حصول کو ہر دوسرے شخص کے حصولِ خواہشات نفسانی کے عمل میں مزاحم نہ ہو ں۔ یہی اخلاقی عمل ہے اور سیکولر نظام اخلاقیات اسی اصول کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔لیکن نفسِ امارہ کے احکامات (حصولِ لذات) اور نفسِ لوامہ کے احکامات (universalisation) کی تطبیق خود بخود پیدا نہیں ہو جاتی([164])۔ اس کے لیے ایک عمرانی معاہدہ (social contract)کے وجود میں آنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس عمرانی معاہدہ میں در پردہ وہ ’’اصولِ عدالت“(principle of Justice) مرتب کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کی تعمیل میں تطبیق پیدا کی جا سکے۔

رالز نے ان اصولِ عدالت کے انتخاب کے لیے جو تصوراتی خاکہ دیا اس کو ازلی مقام(original position) کہا ہے۔ وہ تصور کرتا ہے کہ اس مقام پر ایسے افراد جمع ہو جاتے ہیں جو خودغرض ہیں لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ جب ان کے منتخب کردہ اصولِ عدل کے ماتحت نظام قائم ہو گا تو وہ خود انفرادی طور پر اس نظام میں کتنے وسائل کے حامل ہوں گے لہٰذا اصولِ عدل کی تدوین کا اصل مقصد نظاماتی وسائل کی ایسی تقسیم کو ممکن بنانا ہے جس کی بنیاد پر نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کے عمل میں تطبیق پیدا کی جا سکے۔ ازلی مقام میں اصولِ عدل منتخب کرنے والے اپنی انفرادی صلاحیتوں، میلانات اور مقاصدِ حیات سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ اصولِ عدل ایک پردہ جہالت (veil of ignorance)کے پیچھے بیٹھے ہوئے منتخب کرتے ہیں۔ وہ اصولِ عدل کو اپنے مخصوص میلانات اور خواہشات کی بنیاد پر منتخب نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں شامل اور اس کی معقولیت کے قائل ہرفرد کے عمومی مطمح نگاہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر کرتے ہیں۔ چوں کہ ازلی مقام میں شامل افراد یہ نہیں جانتے کہ جب سرمایہ دارانہ نظام میں ان کے منتخب کردہ اصولِ عدل نافذ ہوں گے تو ان کی انفرادی اغراض، میلانات اور وسائل تک رسائی کیا ہو گی لہٰذا ان کی خودغرضی یعنی ریشنیلٹی کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے اصولِ عدل منتخب کریں جو ہر سرمایہ دارانہ فرد کے اغراض اور میلانات کو فروغ دینے والے ہوں([165])۔ یہی وجہ ہے کہ ازلی مقام میں پردہ جہالت(vail of ignorance) کے پیچھے سے منتخب کردہ اصولِ عدل تمام انفرادی نفوسِ امارہ کے احکامات کی تکمیل کو وضع کرنے کے لیے ایک ایسا نظام قوانین و ضوابط مرتب کر سکتے ہیں جو ان احکامات کی تعمیل میں مزاحم نہ ہو۔ازلی مقام میں پردہ جہالت کے پیچھے سے جو اصولِ عدل منتخب کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں:

۱۔ ایسی قانون سازی اور ضوابط سازی کی جائے گی جو ہر فرد کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ آزادی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کو Principle of Maximisation of Liberty کہا گیا ہے۔

۲۔ وسائل کی تقسیم اس طرح کی جا ئے گی کہ معاشرہ کے سب سے محروم گروہوں(disadvantaged groups) کے وسائل میں اضافہ ہوتا رہے۔ تقسیمِ وسائل میں نامساویت اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب:

اسی اصول کو رالز کا Difference Principle کہتے ہیں۔ اس difference principle کو محروم گروہ میں شامل افراد برضا و رغبت قبول کریں گے کیوں کہ وہ ریشنل یعنی خودغرض ہیں اور جانتے ہیں کہ نامساوی تقسیم وسائل سے سرمایہ کی بڑھوتری میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس اضافہ سے وہ مستفید ہو رہے ہیں۔ اس اصول کو قبول کرنے سے معاشرے میں ان کی خودارادیت متاثر نہیں ہو رہی اور ان کی اصولی مساویانہ حیثیت بحیثیت خودکار قانون ساز محفوظ ہے۔ 

رالز اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکام کی اطاعت میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے انفرادی آزادی اور معاشرتی مساوات دونوں کو محدود کرنا پڑے گا([166])۔ لیکن یہ تحدید آزادی و مساوات کسی بیرونی قانون (خدا یا بادشاہ کے حکم) کی بنیاد پر لاگو نہ ہو گا بلکہ خود مختار(autonomous)، احد اور الصمد افراد ایک دوسرے سے باہمی تعاون کو جاری رکھنے کے لیے اپنے اوپر خود نافذ کریں گے۔

ظاہر ہے کہ ازلی مقام کوئی تاریخی واقعہ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ چند خودغرض اور ریشنل افراد کسی جہالت کے پردہ کے پیچھے بیٹھ گئے ہوں اور باہمی مشاورت سے رالز کے تجویز کردہ اصولِ عدل مرتب کرلیے گئے ہوں۔ درحقیقت ازلی مقام وہ ذہنی کیفیت ہے جو رالز کے مطابق اصولِ عدل مرتب کرتے ہوئے مرتبین کو اپنے اوپر طاری کر لینی چاہیے۔ ازلی مقام ان متفقہ مفروضات کی آئینہ دار ہے جو مختلف صلاحیتیں اور میلانات رکھنے والے سرمایہ دار([167] )رکھتے ہیں۔ غیرسرمایہ دار (وہ جنہوں نے اپنے نفس کوشیاطین حرص و ہوس کے سپرد نہیں کیا مثلاً عیسائی، یہودی، مسلمان) ظاہر ہے ان مشترکہ مفروضات پر ایمان نہیں لائے لہٰذا ان کے لیے رالز کے وضع کردہ اصول عدل لغو ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رالز سرمایہ دارانہ تصورِعدل کی تشریح پیش کرتا ہے ([168])۔ سرمایہ داروں کامشترکہ عقیدہ (مفروضہ) یہ ہے کہ آزادی میں لامتناہی اضافہ زندگی کا واحد مقصد ہے۔ اسی چیز کو ریشنیلٹی کہتے ہیں۔ یہ سب سرمایہ داروں (خواہ مزدور، خواہ مینیجر، خواہ ریاستی اہل کار) کا مشترکہ ontological presupposition ہے۔ یعنی ہیومن بینگ وہی ہے جس کی لامتناہی آزادی کی مستقل طلب اس کی جبلت کا اظہار ہو۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی اس فطری جبلت کے اظہار کےلیے ایسے معاشرتی تعلقات استوار کرے جو اس کی انفرادی کاوش حصولِ لذات میں معاون ہوں۔ رالز کے ہاں نفسِ لوامہ کے تقاضے پورے کرنا محض نفسِ امارہ کے احکامات کی تعمیل کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔

رالز کے مطابق سرمایہ دارانہ عدل کا بنیادی مقصد انفرادی حقوق کی فراہمی ہے۔ بنیادی ہیومن رائٹ یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنی آزادی یعنی خواہشاتِ نفسانی کی آسودگی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ حق کسی قانون سازی کے ذریعے نہیں بلکہ فطری طور پر ہیومن بینگ کو شیطان نے عطا کیا ہے۔ یہ شیطانی ودیعت کردہ حق وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر تمام قانون سازی اور تمام سرمایہ دارانہ اداروں ( کارپوریشن، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، فوج، میڈیا وغیرہ)کی حقانیت پرکھی جاتی ہے۔ یعنی ہر سرمایہ دارانہ ادارہ کے وجود کا حتمی جواز یہ ہے کہ وہ ہیومن بینگ کو اس کے نفسِ امارہ کے احکامات بجا لانے میں کتنی معاونت فراہم کرتا ہے یعنی مساوی آزادی کی فراہمی میں۔ یاد رہے کہ مساوی آزادی کی فراہمی سے مراد یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ادارہ ہر شخص کو اپنی انفرادی آزادی کو فروغ دینے کے مواقع اس طرح فراہم کرے کہ حصولِ انفرادی آزادی کی یہ جدوجہد کسی دوسرے فرد کی حصولِ آزادی (لذات) کی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

رالز کی فکر (جوکہ سوشل ڈیموکریسی کی فکر کی ایک مقبولِ عام تشریح ہے) میں مساوات کی دو حیثیتیں تسلیم کی گئی ہیں۔ ایک چیز تقسیمی مساوات (distributive equality) ہے۔ رالز کے مطابق تقسیمی مساوات سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے لیے ضروری نہیں۔ اگر تقسیمی مساوات کو کم کرنے کے نتیجے میں سب سے مظلوم طبقہ کے حصولِ لذات میں (معاشی ترقی کے ذریعے) اضافہ ممکن ہو تو سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضاہے کہ تقسیمی نامساویت کو فروغ دیا جائے۔ رالز سے پہلے ایک اور معروف سوشل ڈیموکریٹ Anthony crosland نے بھی یہ بات واضح کی تھی( [169])۔مساوات کی دوسری نوعیت حقوقی مساوات ہے۔ رالز اور تمام لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کی متفقہ رائے کے مطابق اس حقوقی مساوات کی فراہمی سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے لازمی ہے۔

سرمایہ دارانہ ری پبلک کے ہر سٹیزن خواہ مرد یا عورت یاہجڑامسلمان یا کافر، کالا، گورا، پڑھا لکھا، ان پڑھ، امیرو غریب سب کا یہ مساوی سرمایہ دارانہ حق ہے کہ وہ اپنے نفسِ امارہ کے احکامات کی اطاعت جس طرح چاہے کرے۔ وہ اٹانومس، احد، الصمد، خودتشکیلی ہے کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کی نفسِ امارہ کی تابع داری میں مخل ہو۔ سوائے اس کے کہ اس دخل اندازی کا مقصد فرد کو نفس کی ایسی تابع داری سے باز رکھنا ہو جو دوسروں کی آزادانہ لذات کے حصول میں رکاوٹ ڈال رہی ہو۔ رالز کا پہلا اصولِ عدل انفرادی آزادی یعنی لذات کے فروغ کی فرضیت بیان کرتا ہے([170])۔ ہر سرمایہ دار خواہ مزدور، خواہ مینجر خواہ کوئی اور([171] ) لازماً کسی نہ کسی سرمایہ دارانہ ری پبلک کا سٹیزن ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا وجود سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے ([172])۔

بنیادی سرمایہ دارانہ حقوق ہیومن رائٹس ہیں۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا ہر سٹیزن ایک ہیومن بینگ ہوتا ہے لہٰذا ہیومن رائٹس ہر سٹیزن کو لازماً مساوی طور پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ بات سرمایہ دارانہ ری پبلک کے دستور کے مقدمہ (premable to the constitution) میں تحریر ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ ری پبلک اصولاً ہر سٹیزن کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ ریاستی عمل کی تصدیق یا تنقید کرے گو کہ ریاستی اقدام کی تنفیذ میں ایک عام سٹیزن کا حصہ محدود ہوتا جا رہا ہے، اور میڈیا کی بڑھتی ہوئی کارفرمائی کے نتیجے میں ایک عام سٹیزن کی ریاستی تنفیذ کی صلاحیت بھی مستقل مجروح ہوتی جا رہی ہے۔

رالز یہ بات واضح کرتا ہے کہ دہریہ لبرل ری پبلک اخلاق اور اقدار کے بارے میں غیر جانب دار (neutral) نہیں ہوتی۔ رالز جس بنیادی اخلاقی اصول کی وکالت کرتا ہے وہ حسب ذیل ہے:

سٹیزن کا فرض ہے کہ وہ ایسے قوانین کی پابندی کرے جو سرمایہ دارانہ منصفانہ اقدامات کو فروغ دینے کے لیے موجودہ سرمایہ دارانہ منصف اداروں نے وضع کیے ہیں بشرطیکہ یہ ادارے ایک ایسے معاہدہ کے تحت وجود میں آئے ہوں جو خودغرض ریشنل افراد نے برضا و رغبت خود تشکیل دیے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قوانین و ضوابط سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کے لیے موزوں نہ ہوں([173] )لیکن سٹیزن کو ان غیرعادلانہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے کیوں کہ ان کو سرمایہ دارانہ عادل اور معتبر(legitimate) اداروں نے تشکیل دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لبرل نظام اقتدار کے خلاف کسی قسم کی جدوجہد(نہ عسکری نہ احتجاجی نہ جمہوری) جائز نہیں۔ احتجاجی، جمہوری اور عسکری جدوجہد صرف لبرل حقوق کی فراہمی اور تحفظ کے لیے جائز ہے یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے قیام اور استحکام کےلیے۔ سرمایہ دارانہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تاریخ کی اعلیٰ ترین اجتماعی ادارتی صف بندیاں ہیں۔ سرمایہ دارانہ لبرل ریاستی نظام کا باغی اپنی ہیومنٹی کے خلاف بغاوت کر رہا ہے اور قتل کا مستحق ہے۔ہر فرد رالز کے مطابق فطرتاً لبرل یا سوشل ڈیموکریٹ ہے۔ وہ جب بھی نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کی تطبیق کی جستجو کرتا ہے ازلی مقام میں چلا جاتا ہے اور اس فعل سے اپنی بنیادی فطری ہیومینٹی (شیطنت) کا اظہار کرتا ہے۔

انسان فطرتاً ہیومن بینگ یعنی ایک شیطان ہے۔ وہ فطرتاً خودغرض یعنی ریشنل، لالچی، حاسد اور سفاک ہے۔ انہی اوصافِ خبیثہ کا اظہار خودتخلیقیت (self creation)سے ہوتا ہے اور خود ارادیت (self determination)یعنی اٹانومی کی جستجو اخلاقی عمل ہے۔ وہ ہیومن بینگ کی انفرادی خباثتوں کو اس طرح منظم کرے گی کہ کسی کی نفس پرستی کی جدوجہد دوسرے کی نفس پرستی کی تگ و دو میں حائل نہ ہو۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل ہے اور اسی فاسد عدل کے قیام کے لیے دستوری سرمایہ دارانہ ری پبلک قائم کی جاتی ہے۔ دستوری سرمایہ دارانہ ری پبلک اقدار کے معاملے میں غیر جانب دار نہیں۔ وہ ابلیسی اخلاقیات کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

تمام لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین بشمول رالز کا یہ مفروضہ ہے کہ معاشرہ فطری طور پر خودغرض (ریشنل) افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ نفسِ امارہ کے احکامات کی تابع داری فطری ہے۔ خدا کے حکم کی تابع داری یا اپنے بھائی کی محبت کی بنیاد پر عمل کرنا غیر فطری عمل ہے۔ لاک کہتا ہے ’’آزاد وہ ہے جو کسی دوسرے ( یعنی خدا )کی مرضی کو ملحوظ خاطر رکھ کر عمل نہیں کرتا۔ وہ خود مختار ہوتا ہے جو کسی پر (یعنی خد)ا پر انحصار نہیں کرتا۔‘‘ کسی دوسرے سے اشتراکِ عمل کی بنیاد ہیومن بینگ کی خودغرضی ہے۔ اسلامی معاشرہ اور اسلامی ریاست ان معنوں میں غیرفطری ہیں کہ وہ خدا کی رضا کے حصول کے لیے اخلاق سازی اور ادارتی صف بندی روبہ عمل لاتی ہیں اور اسلامی ریاست اور معاشرہ کے خلاف ہر قسم کی بغاوت جائز ہے کیوں کہ ان کے انہدام کے بغیر ایک لبرل سوشل ڈیموکریٹ معاشرتی اور ریاستی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے برعکس لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معاشرتی اور ریاستی صف بندی کے خلاف اسلامی جدوجہد (خواہ عسکری، خواہ اجتماعی خواہ جمہوری) بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ دورحاضر میں لوگ خود بخود سے لالچی، حاسد، خودغرض یعنی ریشنل اور سفاک نہیں بنتے۔ ان کو سرمایہ دارانہ میڈیا، سرمایہ دارانہ نوکرشاہی، سرمایہ دارانہ نظام تعلیم و صحت، سرمایہ دارانہ مقننہ خودغرض، حاسد اور حریص بناتی رہتی ہے۔ اس شیطانی ضمیرسازی جس کا مقصد اسلامی اخلاقیات کو معاشرہ سے اکھاڑ پھینکنا ہے، کے خلاف جدوجہد بھی ناجائز ہے۔ اس بات کے باوجود کہ آج کے سرمایہ دارانہ معاشرہ میں رائے سازی ایک صنعت بن گئی ہے لیکن اس سے فرد کی انفرادی آزادی سلب نہیں ہوتی۔ صرف اس کی آزادی کے اخلاق اور ایمانیاتِ رذیلہ کے خلاف بغاوت کرنے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ رائے سازی کا مقصد انفرادی آزادی کو فروغ دیتے رہنا ہے اور وہ آزاد ہونے کے نئے نئے طریقے وضع کرتی ہے لہٰذا شیطانی فطرت کے تقاضے پورے کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

ہر سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی ادارہ اور وہ اصولِ عدل جن کی بنیاد پر وہ تعمیر کیے گئے ہیں انفرادی خودغرضی اور بہیمیت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں ہر فرد دوسرے فرد کو اپنے خودغرضانہ مقاصد کے حصول کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ عیسائی اور اسلامی تحریکات نے مذہبی تعلیمات، روایات اور اداروں کو ہیومن اور سوشل رائٹس کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ جماعتیں لبرل معاشرت اور دستوری ریاستی صف بندی میں ضم ہو گئی ہیں اور اس انضمام کا جواز عیسائی اور اسلامی اقدار اور روایات کی بنیاد پر پیش کرتی ہیں۔ سوائے طالبان کے میں کسی ایسی اسلامی سیاسی جماعت سے واقف نہیں جس کا منشور اور پالیسی ایجنڈا لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں سے مغلظ نہ ہو۔

کچھ مبصرین کی رائے میں لبرل ازم کی طرح عیسائیت بھی انسان کی الوہیت کی قائل ہے([174])۔ لبرل ازم اور عیسائیت انسان میں خدائی اور شیطانی صفات کی آمیزش کے قائل ہیں([175] )لیکن عیسائیت مفروضہ فطری شیطنت کو عبادت اور ریاضت کے ذریعے ختم کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کے برعکس لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی مفروضہ انسانی فطری شیطنت پر نازاں ہیں اور شیطنت کو فروغ دینے کے لیے ہی معاشرت اور ریاست کی تشکیل اور ترتیب عمل میں لاتی ہیں۔ عیسائیت حرص و حسد، شہوت و غضب کو کچلنے کی سعی کرتی ہے تو لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی حرص و حسد، شہوت و غضب کو معاشرے میں پنپنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی عیسائیت کی ضد ہے۔جو اس سے برآمد ہوئی ہیں۔

لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی ہر فرد کو حرص وحسد سے مغلوب بھی کرنا چاہتی ہے اور ہر فرد کے اندر اس بات کا شعور بھی پیدا کرنا چاہتی ہے کہ یہ ضروری ہے کہ پورے معاشرے میں یہی صفات غالب ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کی جدوجہد ایسی عمومی معاشرتی جدوجہد سے مربوط کی جائے اور ایسی معاشرتی اور ریاستی پالیسیاں وضع کی جائیں جو فرد کو اس کا احساس دلائیں کہ اس کی ذاتی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے تمام افراد کو موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کے لیے جدوجہد کر سکیں۔ انسان نہ فطرتاً فروغِ لذات کو زندگی کے مقصد کے طور پر قبول کرتا ہے([176] )اور نہ انفرادی اور اجتماعی لذات کے فروغ کی جدوجہد کا لازم و ملزوم ہونے کا فطرتاً یا عقلاً قائل ہوتا ہے۔ لبرل معاشرہ میں نظام تعلیم، میڈیا، بیوروکریٹک ضوابط اور اشتہار وغیرہ کے ذریعے فرد کی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ:

۱۔ اپنے آپ کو حرص و حسد کے شیطانوں کے سپرد کردینا عقل کا تقاضا سمجھے۔

۲۔ اور انفرادی اور اجتماعی حصولِ لذات کی تطبیق کی ضرورت کا بھی قائل ہو جائے۔

جو افراد ان دونوں صفات کے حامل ہو جاتے ہیں([177] )وہی جمہوری ریاست کی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور جمہوری عمل بالخصوص انتخابی عمل کے ذریعے وقتاً فوقتاً اس بات کی تصدیق کرتے رہتے ہیں کہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ اشرافیہ کی جو پالیسیاں وضع کر رہی ہے، وہ ہر فرد کی جدوجہدِ حصولِ لذات کو فروغ دینے کے لیے موزوں ہیں اور ان پالیسیوں کے ذریعے عمومی معاشرتی جدوجہدِ حصولِ لذات بھی کماحقہ فروغ پا رہی ہے([178])۔

عمومی معاشرتی لذات کو فروغ دینے کے رویہ کو رالز Point of view of the whole (اجتماعی نقطہ نظر) کہتا ہے اور مصر ہے کہ تمام تر سرمایہ دارانہ تعلیم و تربیت کے باوجود سب لوگ یہ اجتماعی نقطہ نظر اختیار نہیں کرتے۔ وہ ذاتی یا اجتماعی لذات کے حصول کو عمل کے جواز کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ ان کا عمل اجتماعی نقطہ نظر پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ان کے عمل کی بنیاد حصول رضائے الٰہی([179] ) کی خواہش ہوتی ہے۔ ایسے افراد سرمایہ دارانہ معاشرہ میں مساوی قدر (equal moral worth)کے حامل نہیں ہوسکتے جب تک وہ دہریہ نہ بن جائیں اورحصولِ رضائے الٰہی کی جگہ اجتماعی نقطہ نظر کو اپنے معاشرتی عمل کی بنیاد کے جواز کے طور پر قبول نہ کر لیں([180])۔

رالز کا دعویٰ ہے کہ اس کے وضع کردہ اصولِ عدل مغرب میں رائج شدہ اخلاقی معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔ اسی ہم آہنگی کو رالز ان اصولوں کی حقانیت کی ایک اہم دلیل سمجھتا ہے۔ وہ ان اصولوں کو مغربی غالب اور رائج شدہ رجحانات اور معیارات کی عکاسی سمجھتا ہے اور وہ روحانی بے چارگی اور اخلاقی پستی جس میں آج مغربی تہذیب([181] )گر گئی ہے اسی کو اخلاقی ارتقا کے معراج کے طور پر پیش کرتا ہے۔ رالز کے ہاں اخلاقی ارتقا کا واحد مطلب یہ ہے کہ زندگی کے مادی وسائل (آمدنی، دولت، تحکم اور اقتدار) سرمایہ دارانہ عدل کے اصولوں کے مطابق معاشرے میں تقسیم کیے جائیں۔ اخلاقی ترقی کا اس کے علاوہ اور کوئی اظہار ممکن نہیں۔ اس سرمایہ دارانہ عادلانہ تقسیم کی ترتیب ان معاشرتی علوم کی فراہم کردہ تعلیمات کے مطابق ہو گی جو مغرب میں رائج ہیں۔ علم وہی جہالت ہے جو تحریک تنویر کے ورثہ کے طور پر مغرب نے حاصل کی ہے۔

اصل قدر (objective value) صرف آمدنی، دولت، تحکم اور اقتدار ہی ہیں۔ ان میں اضافہ اصل قدر میں اضافہ کا ہم معنی ہے۔ آمدنی، دولت، قوت کس لیے استعمال کی جائیں یہ بالکل غیراہم ہے۔ زندگی کے معنی اسی جدوجہد میں مضمر ہیں جو آمدنی، دولت اور قوت میں اضافہ کے لیے مستقل جاری ہے اور یہ جدوجہد اور اس کے نتیجے میں حاصل شدہ آمدنی، دولت اورقوت ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ خیرمطلق حصولِ دولت، آمدنی، قوت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ رالز اس مفروضہ کی صداقت کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرتا ۔رالز کے لیے یہ سب اخلاقی حقائق(moral data) ہیں۔ یہ مفروضہ اخلاقی حقائق تین اجزا پر مشتمل ہے:

۱۔ ہیومن بینگ فطرتاً حاسد، حریص اور خود تخلیقیت اور خودارادیت(autonomy) کا خواہاں ہے۔

۲۔ اصل قدر صرف آمدنی، دولت، اقتدار اور تحکم میں پائی جاتی ہے اور انہی اشیا میں مستقل اضافہ کرتے رہنا زندگی کا اصل مقصد ہے۔

۳۔ سوشل سائنسز ہیومن وجود اور برتاؤ کے بارے میں صحیح علمیت فراہم کرتے ہیں۔

اس مفروضہ (moral data) کی بنیاد پر رالز نے اپنے اصولِ عدالت وضع کیے ہیں۔ یہی اخلاقی حقائق رالز کے وضع کردہ اصولوں کا اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ 

آمدنی، دولت اور قوت میں مستقل بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہی قدر مطلق، دائمی، اخلاقی معیار اور categorical imperative ہے۔ رالز کہتا ہے کہ قیامِ عدل کا تعین محض غیرجانب دارانہ ضوابط (fair procedure) کی پابندی سے ہوتا ہے خواہ ان غیرجانب دارانہ ضوابط کا کوئی بھی نتیجہ نکلے۔ رالز اس ضمن میں جوا کھیلنے کی مثال دیتا ہے۔ جوا کھیلنے کا ہر وہ نتیجہ عادلانہ ہے جو طے شدہ اور غیر جانب دارانہ پابندیوں پر عمل کرنے سے برآمد ہو۔ اسی طرح خود غرض، ریشنل سٹیزن نے بڑھوترئ سرمایہ کے لیے جو بھی غیرجانب دارانہ ضوابط اور قوانین وضع کیے ہیں ان کی پابندی کرنا عدل کا تقاضا ہے اور عدل کے قیام کا مقصد کسی اور خیرمطلق کا حصول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریشنل سٹیزن کے نمایندوں کے وضع کردہ قوانین کو کسی دوسرے اخلاقی ضابطہ مثلاً شریعت اسلامی یا عیسائی اخلاقیات کے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ رالزا ور تمام دہریہ اپنے واضح کردہ کسی بالاتر ضابطہ کے وجود کے قائل نہیں۔

ہیومن بینگ خود معیارات خیروشر متعین کرنے کا مکلف ہے۔ یہی اس کی خود ارادیت، خودتخلیقیت کا اظہار ہے۔ ہر ہیومن بینگ خواہ اغلام باز، خواہ منکر خدا، خواہ صوفی بزرگ ، خواہ عالم دین اپنی humanness میں مساوی قدر کا حامل ہے۔ کسی کے آزادانہ منتخب شدہ طرزِ حیات کو کسی دوسرے آزادانہ منتخب شدہ طرزِ حیات پر ترجیح دینے کا کوئی جواز نہیں۔ ایک اغلام باز اور ایک صوفی بزرگ یکساں احترام کے مستحق ہیں بشرطیکہ وہ اغلام بازی اور ریاضت، ریشنل عوامی نظام کے غیر جانب دارارنہ ضوابط کی پابندی کے تناظر میں کرتے ہوں۔ یہ دہریت ہے اور تاریخِ انسانی میں اس سے اسفل ضلالت اور گھناؤنی روش کے اظہار اور وکالت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ یہ شرف مغرب ہی کے حصے میں آیا ہے۔

رالز کے مطابق خیرمطلق تو ریشنلی متعین ضوابط کی پابندی کے مطابق آمدنی، دولت اور قوت میں اضافہ کی جستجو ہے([182])۔ یہ جستجو معاشرے میں جاری ہے لیکن رالز اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ نجی زندگی میں تصورِ خیر بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے لیکن ان نجی تصوراتِ خیر کا اطلاق معاشرتی زندگی پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے میں رالز کے وضع کردہ اصولِ عدالت ہمیشہ نافذ رہیں گے اور عدل کا معیار یہی ہو گا کہ ریشنل سٹیزن کے منتخب کردہ غیرجانب دار ضوابط کی کتنی پابندی کی جا رہی ہے۔

رالز کہتا ہے کہ لوگ مذہبی اعتقادات ایسے اختیار کرتے ہیں جیسے وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تفریح کے لیے روم جائیں یا پیرس۔ جس ازلی مقام میں جہالت کے پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے اصولِ عدالت طے کرتے ہیں؛اس پردہ جہالت کے پیچھے عیسایت داخل نہیں ہو سکتی۔ ازلی مقام پر کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ سب دہریہ ہوتے ہیں اور جب وہ پردہ جہالت سے نکل کر سرمایہ دارانہ معاشرے میں وارد ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ نیم ریشنل، بے وقوف عیسائیت اختیار کر لیں لیکن ان کو لازماً ایسے عیسائی اعتقادات اور اعمال کو ریشنل طور پر منتخب کردہ غیرجانب دار ضوابط کے تناظر میں پابندکرنا ہو گی۔رالز کی فکر میں مذہب کی کوئی وقعت نہیں۔ ہر الہامی مذہب قیام عدل اور حصول علم کو حق کی شناخت کا وسیلہ سمجھتا ہے اور کسی بھی مذہب نے کبھی بھی بڑھوترئ سرمایہ کو خیرمطلق کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ عیسائیت اور اسلام میں تو بڑھوترئ سرمایہ کو رذائل میں شمار کیا گیا ہے۔ازلی مقام میں مذہبی تفکرات بالخصوص فکرِآخرت کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں اور سوشل سائنسز تو مذہبی حقیقت اور علمیت کی تردید اور تسخیر کے لیے وضع کی گئی ہیں۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معاشروں میں مذہب کھیل تماشے سے زیادہ کی اہمیت کا حامل کبھی بھی نہیں گردانا گیا۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ دہریت کے فروغ کا اہم ترین مقصد مذہبیت کا انہدام ہے،لیکن کھیل تماشوں کو بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے اور آج تفریح فراہم کرنے کی صنعت کئی سرمایہ دارانہ ممالک میں سب سے زیادہ منافع بخش صنعتوں میں شامل ہے۔ امریکا اور ہندوستان میں مذہب کی سرمایہ کاری تیزی سے جاری ہے اور عیسائی اور ہندو مذہبی پیشوا مذہبی رسوم، تقریبات اور دعوت کو سرمایہ کے حصول کا ذریعہ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں، ان کے مریدین مذہبی تقریبات اور رسومات میں شرکت کے ذریعے حصولِ لذت سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس قسم کی مذہبیت کو لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معاشرے میں خوب فروغ دیا جاتاہے۔

خیر مطلق تو بڑھوترئ سرمایہ ہی ہے لیکن دنیا میں دوسرے تصوراتِ خیر بھی موجود ہیں۔ رالز کا دعویٰ ہے کہ وہ جو اصولِ عدل پیش کر رہا ہے اس کی بنیاد پر ایسے غیرجانب دارانہ ضوابط وضع کیے جا سکتے ہیں جو ایک مختلف النوع معاشرت کی کارفرمائی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ اس مختلف النوع معاشرت میں کئی تصوراتِ خیر (مذہبی، آرٹسٹک، سائنٹفک، فلسفیانہ) پنپ سکتے ہیں۔ بقول رالز ہر تصور خیر میں یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ ریشنیلٹی کے مفروضات قبول کرے۔ یعنی ہر تصور خیر کے لیے یہ قابل قبول ہو کہ 

۱ ۔ہیومن بینگ مساوی آزادی کے حصول کا طالب ہے۔

۲۔ حصولِ مساوی آزادی کے لیے آمدنی، دولت اور قوت کی لامتناہی بڑھوتری لازم ہے۔

۳۔ سوشل سائنسز وہ علمیت فراہم کرتی ہیں جو سرمایہ کی اس لامتناہی بڑھوتری کو ممکن بنائے۔

۴۔ دستوری نمایندہ جمہوری نظام وہ غیر جانب دارانہ ضوابط وضع کرتا ہے جو ہر سٹیزن کے لیے مساوی آزادی کے حصول کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

دستوری نمایندہ جمہوری نظم ریاست ابدی اور آفاقی ہے۔ اس کا وجود اور استحکام ریشنیلٹی کا تقاضا ہے۔ ہر تصورِ خیر کو اس نظام سے ایسی مطابقت استوار کرنی چاہیے کہ ہر تصورِ خیر بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بن جائے کیوں کہ بڑھوترئ سرمایہ ہی خیر مطلق ہے اور دیگر تمام تصوراتِ خیر محض اس کے پرتو ہیں۔را لز کے وضع کردہ اصولِ عدل وہ پیمانہ ہیں جن پر ہر تصورِ خیر کی حقانیت کو جانچا جانا چاہیے۔ عیسائیت اس حد تک حق ہے جس حد تک وہ مساوی آزادی کو فروغ دینے والے غیرجانب دارانہ ضوابط کی تصدیق کرتی ہے اور سرمایہ کی بڑھوتری کا ذریعہ بنتی ہے۔

رالز کے مطابق خیرمطلق (سرمایہ کی بڑھوتری) کی فراہمی کا ناگزیر لوازمہ معاشرتی عدل کا قیام ہے اور انہی معنوں میں عدل بنیادی معاشرتی وصف ہے۔ اس وصف کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کا ادراک کیا جائے کہ ہر ہیومن بینگ خودمختار ہے اور اس خودمختاری کے تحفظ کے لیے ابلیس نے اس کو حقوق تفویض کیے ہیں([183] )اس ہیومن رائٹس کی کسی بنیاد پر بھی تنسیخ گوارا نہیں([184])۔ یہی لبرل سوشل ڈیموکریٹ اور اشتراکی قوم پرست سرمایہ دارانہ نظریات میں بنیادی فرق ہے۔ اشتراکی قوم پرست نظریات بھی آزادی کی تردید نہیں کرتے لیکن گروہی عمومی مفادات کے حصول کے لیے انفرادی آزادی کو موقوف کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ نظام میں انفرادی اور اجتماعی مفادات کے حصول کی جدوجہد میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ہیومن رائٹس کو سوائے حالت جنگ کے موقوف کرنا گوارا نہیں ہوتا([185])۔

یہ ہیومن رائٹس ایک ایسے فرد کو ودیعت کیے گئے ہیں جس کی ذات اس کی صفات سے تعمیر نہیں کی جاتی لیکن اس انفرادیت کی یہ خصوصیت لازمی ہے کہ وہ خوداختیاری اور خود تخلیقی ہو۔ یہی خوداختیاریت اس کو ریشنل بناتی ہے اور اس خود اختیاریت کو ترک کرنے اور غیر کو اپنی ذات میں تصرف کرنے کی اجازت دینا اپنی ریشنیلٹی اور ہیومینٹی کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ کوئی ہیومن بینگ خدا کی بندگی نہیں اختیار کر سکتا کیوں کہ خدا کی بندگی اختیار کرنے کا لازمی مطلب خود اختیاری کو ترک کرنا ہے۔ اسی طرح کوئی ہیومن بینگ محبت کی بنیاد پر معاشرتی تعلقات قائم نہیں کر سکتا کیوں کہ محبت بھی تصرف فی الذات کا ایک طریقہ ہے اور محبت کرنے والا لازماً ریشنل نہیں رہتا۔ لہٰذا جب خود اختیاری افراد دوسرے خود اختیاری افراد سے معاشرتی تعلقات استوار کرتے ہیں تو اس کا مقصد ایک دوسرے کے ذریعے اپنے ذاتی اغراض کے حصول کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ غیرجانب دار ضوابط کی تخلیق اور پابندی اس نوعیت کے معاشرتی تعلقات کے قیام اور فروغ کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے اور اس سول سوسائٹی میں بقول رالز اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ مختلف نیم ریشنل تصوراتِ خیر کو اس طرح منطبق کرے کہ بڑھوترئ سرمایہ کی پرامن جدوجہد کو سب ریشنیلٹی کے تقاضا کے طور پر قبول کر لیں۔خود اختیاری فرد کوئی بھی تصورِ خیر اختیار کر سکتا ہے بشرطیکہ یہ تصورِخیر بڑھوترئ سرمایہ کی تنظیم سازی سے منطبق کیا جا سکے۔ ریشنیلٹی کے علاوہ کوئی بھی صفت کے اختیار کرنے یا ترک کرنے سے ذات کی انفرادیت متاثر نہیں ہوتی کیوں کہ ہیومن بینگ خود تخلیقی ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی ذات کے لیے کوئی بھی خیر منتخب کر سکتا ہے لیکن وہ یہ کبھی نہیں جان سکتا کہ اس کی اپنی اصلیت کیا ہے۔ ہیومن بینگ خودتخلیقیت کے فریب میں گرفتار ہو کر ادراکِ ذات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا ہے۔ 

تفہیم ذات کےلیے تردیدِ خودتخلیقیت لازم ہے۔ یہ ایک امرواقع ہے کہ کوئی بھی اپنی ذات تخلیق نہیں کرتا۔ خالق ذات تو اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور خود اختیاریت کے وعدے قطعاً جھوٹے ہیں اور یہ جھوٹ ہر فرد کی موت کے وقت اظہر من الشمس ہو جاتا ہے لیکن کانٹ سے لے کر پوسٹ ماڈرن مفکرین کے ہاں موت کا کوئی ادراک موجود نہیں([186] )اور اگر موت خارج از بحث ہو تو ذات کی حقیقت بیان کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ عرفانِ ذات سے محروم آزادی میں مقید سرمایہ دار فرد لازماً نفسِ امارہ کا غلام بن جاتا ہے۔ خواہشات کی تقابلی شدت کے علاوہ کسی اور پیمانے پر اپنے اغراض کا تعین نہیں کر سکتا اور رالز اور پوسٹ ماڈرن مفکرین اس پر متفق ہیں کہ حصولِ لذات اور تعمیلِ احکامِ نفسِ امارہ کے علاوہ زندگی کا کوئی مقصد ہو ہی نہیں سکتا۔ 
اس سے واضح ہوتا ہے کہ رالز کے تصورِ سرمایہ دارانہ عدل کی بنیاد وہ مابعدالطبیعیاتی عقائد فراہم کرتے ہیں جو تنویری فکر نے فراہم کیے ہیں۔ ان عقائد سے ماورا سرمایہ دارانہ نظام اور وہاں رائج شدہ عدل کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ عقائد الہامی مذاہب کے عقائد کا ردّ ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور اسلام میں جو عالمی کش مکش جاری ہے وہ عقائد اور ایمانیات ہی کی کش مکش ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ عقائد غالب آ گئے تو اسلام ایک عالم گیر خطرہ سے دوچار ہو جائے گا۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تنظیم معاشرت اور ریاست یعنی دستوری نمایندہ ری پبلک وہ ناگزیر وسیلے ہیں جن کے ذریعے ملحدانہ سرمایہ دارانہ عقائد کا عالم گیر غلبہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور رالز اسی کوشش کی توجیہ بیان کرتا ہے۔ رالز کا عقیدہ ہے کہ دستوری جمہوری نظام ’’تاریخ کا اختتام‘‘ہے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی ابدی ہے۔ اس نظام زندگی کی بنیاد لاالہ الا انسان کا کلمہ خبیثہ فراہم کرتا ہے اور سرمایہ داری کے نقیب (لبرل، سوشلسٹ، سوشل ڈیموکریٹ، قوم پرست)سب کا دعویٰ ہے کہ فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کلمہ خبیثہ پر ایمان لایا جائے اور اپنی ذاتی یا اپنے گروہ کی الوہیت اور ربوبیت قائم کرنے کو زندگی کے واحد مقصد کے طور پر قبول کیا جائے۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ دستوری نمایندہ ریاست کے قیام کا مقصد ایسی انفرادیت کی تشکیل ہے جو خدا سے بغاوت کو انسانیت کی معراج تصور کرے اور تمام نجی تصوراتِ خیر کو بڑھوترئ سرمایہ کے قدرِ مطلق سے منطبق کرنا عقل کا تقاضا گردانے۔ یہ فاسد عقائد مغرب نے عیسائیت کو مسخ کر کے اپنائے ہیں اور ہماری انقلابی جدوجہد انہی فاسد عقائد کی تردید اور انہدام کا مقصد رکھتی ہے۔ مغرب کی اخلاقی پستی اور روحانی کم مائیگی کے سبب ہی سرمایہ دارانہ اہداف کی عام مقبولیت ہی دستوری ریاست کے ابدی ہونے کے واہمے کو فروغ دیتی ہے۔ مغرب کا انسان ہیومن بینگ بن گیا ہے۔ اس نے خودشناسی کو ناممکن سمجھ کر اپنے نفس کو حرص و حسد کے شیاطین کے سپرد کر دیا ہے۔ نفسِ امارہ کے احکامات کی تعمیل کے سوا اس کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہیں۔ یہ تنہا، پریشان خیال، روحانیت سے بے بہرہ، بے زار شخص ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جو خود اس کی نظر میں معنویت سے محروم ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد رالز کی پرائمری گڈز یعنی دولت، آمدنی اور اقتدار میں لامتناہی اضافہ ہے۔ لیکن یہ قوت، یہ دولت اور یہ آمدنی کس لیے جمع کی جا رہی ہے؟ سرمایہ کی بڑھوتری اور آزادی کے فروغ سے کیا حاصل ہو گا؟ اس کا رالز یا سرمایہ داری اور جمہوریت کے کسی اور نقیب کے پاس کوئی جواب نہیں۔

ہمیں سرمایہ داری کے خوف زدہ، پریشان خیال، تنہا فرد کو سمجھانا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل خواہ لبرل، خواہ سوشلسٹ، خواہ سوشل ڈیموکریٹ، خواہ قوم پرست، ظلم کا دوسرا نام ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد لازماً ایک استحصالی جدوجہد ہے اور اس استحصال کا انہدام صرف مذہبی بنیاد پر ممکن ہے۔ کیوں کہ مذہب خود شناسی اور خدا شناسی کو ممکن بناتا ہے اور ایک نظام زندگی تعمیر کرتا ہے جو ان ٹھوس اور سچے مابعدالطبیعیاتی عقائد پر استوار ہے جو انبیاکرام علیہم السلام نے اللہ تاعلیٰ کی طرف سے انسانیت تک پہنچائے۔

3.14۔ یورگن ہابرماس

بیسویں صدی کی ابتدا سے سرمایہ دارانہ نظام کی علمیاتی آدرشیں مغرب میں تنقید کا شکار ہیں۔ تنویری فکر کے ان معترضین کو پوسٹ ماڈرنسٹ کہتے ہیں۔ ان مفکرین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تنویری فکر (Enlightenment Thought) آفاقی نہیں اور جن اہداف کے حصول کا لائحہ عمل مرتب کرنے کا یہ فکر دعویٰ کرتی ہے وہ اہداف یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کسی طور بھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ تنویری فکر زمانی اور مکانی طور پر محدود ہے اورجس علمیت کو اس نے فروغ دیا ہے وہ ادراکِ حقیقت کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین تنویری اقدار کو ردّ نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ حصولِ آزادی کی جستجو جاری رکھنے کا جواز علمیاتی نہیں بلکہ جمالیاتی (aesthetic) ہے۔ آزادی کی جستجو کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ایک شاہ کار فن پارہ (work of art) بنایا جا سکتا ہے اور تاریخ نے اہل مغرب کو یہ سبق دیا ہے۔

تنویری علمیت کی ساکھ کو درپیش پوسٹ ماڈرنسٹ چیلنج کا مقابلہ کرنے والا سب سے اہم مفکر یورگن ہابرماس (Jürgen Habermas) ہے([187])۔ ہابرماس کا استاد ایڈارنو (Adorno) بیسویں صدی کے ابتدائی دور کے اہم ترین پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین میں سے تھا اور اس نے اپنے ادارے میں مارکس ازم کی پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح اور تنقید ۱۹۲۰ء اور ۱۹۳۰ء کی دہائیوں میں مرتب کی۔ اسی ادارے میں ہابرماس کئی سال تک ایڈارنو کے ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ ابتدائی دور میں ہابرماس کا رجحان اپنے استاد اور ساتھیوں کی طرح مارکس ازم کی طرف تھا لیکن پوسٹ ماڈرنسٹ اور مارکسسٹ اثرات ہابرماس کی فکر([188]) سے بتدریج کم ہوتے گئے اور اب و ہ ایک راسخ العقیدہ سوشل ڈیموکریٹ اور تنویری فکر کا مخلص وکیل بن گیا ہے۔

ہابرماس کے مطابق ریشنلٹی آفاقیت کی ترجمان زبان ہے([189])۔ جب ایک شخص دوسرے سے گفت گو کرتا ہے تو لازماً خطاب کرنے والے اور مخاطب میں اتفاقِ مطالب ہوتا ہے۔ تخاطب کی یہ آفاقیت مواصلاتی عمل (Communicative Action) میں اتفاقِ مفاہیم کا ناگزیر وسیلہ ہے۔مواصلاتی عمل آفاقی اتفاقِ مفاہیم کو ممکن بنانے کے لیے ہی رونما ہوتا ہے۔ خطاب کرنے والا مخاطب کو معقول دلائل کے ذریعے اپنے نقطہ نگاہ کو قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر مخاطب خطاب کرنے والے کی بات مان لے تو خطاب کرنے والے کے دعوائے صداقت پر فریقین میں ایک سمجھوتا (Understanding) پیدا ہو جاتا ہے جو قوت کے ذریعے قائم نہیں کیا گیا بلکہ جس کی بنیاد اشتراکِ معنویت میں مضمر ہے۔ مواصلاتی عمل کا مقصد اتفاقِ مفاہیم پیدا کرنا ہے اور ہابرماس کے مطابق غیرجبری مواصلاتی عمل (Uncoerced Communicative Action) کی بنیاد پر ہی خودمختار، ترقی یافتہ (emancipated)معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایسا معاشرہ کسی اعتقاداتی ہم آہنگی مثلاً عیسائیت یا مارکس ازم پر ایمان لانے کے نتیجے میں ظہور پذیر نہیں ہوتا۔ ایک آزادانہ، خوداختیاری ترقی یافتہ معاشرہ قائم کرنا ہے تو مواصلاتی عمل کو ہر بندش سے آزاد کرنا ناگزیر ہے۔ اس طریقہ سے وجود میں آنے والا معاشرہ خودمختار اور ترقی یافتہ اس وجہ سے ہو گا کہ غیرجبری مواصلاتی عمل(Uncoerced Communicative Action) حقیقت کی تفہیم کو مستقلاً فروغ دیتا رہے گا([190])۔ 

لیکن اس کی تفہیم کا مقصد کیا ہے؟ مغربی مفکرین عموماً (اور اس میں فرینکفرٹ ا سکول کے مفکرین ایڈارنو اور ہارک ہائیمر بھی شامل ہیں) ادراکِ حقیقت بذریعہ ریشنلٹی کا مقصد انفرادی اغراضِ نفسانی کے حصول کو بتاتے چلے آئے ہیں۔ ہابرماس اس چیز کو ’’انفرادی ریشنلٹی“ (Subjective Rationality) کہتا ہے اور اعتراض کرتا ہے کہ اس تصورِ ریشنلٹی سے یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ انفرادی ذات کی تعمیر ایک مواصلاتی عمل میں فرد اپنا ذاتی شعور دوسروں سے ارتباط اور تعلق پیدا کر کے ہی حاصل کرتا ہے اور یہ ارتباط ایک ایسے مواصلاتی نظام میں شرکت کے نتیجے میں قائم ہوتا ہے جو نظاماتی اشتراکِ مفاہیم کو بنانے کے لیے خود بخود وجود (Autonomously) میں آتا ہے۔ نظاماتی اشتراکِ مفاہیم جو غیرجبری مواصلت کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے ہابرماس کے مطابق حقیقت کے ادراک کو ممکن بناتا ہے اور نظاماتی مشترکہ مفاہیم آفاقی ہوتے ہیں۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے۔ ہیبرماس جرمنی میں پیدا ہوا۔ وہ جرمن زبان کے استعمال کے ذریعے معاشرے کے دوسرے افراد سے مواصلت کے ذریعے ہی زنا کے عمل کی اقداری حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ یہ مواصلاتی نظام اس کو باور کراتا ہے کہ زنا بالرضا ایک احسن عمل ہے اور عیسائیت نے زناکاری پر جو پابندیاں لگائی تھیں وہ غیرمنطقی اور غیرریشنل(Irrational) ہیں۔ زناکاری کی جو توجیہات جرمن زبان میں پیش کی گئی ہیں ان کا فارسی میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا اگر ایرانیوں اور ہیبرماس کے درمیان غیرجبری مواصلت قائم ہو جائے تو یہ ناگزیر ہے کہ رفتہ رفتہ ایرانی مسلمان پر بھی یہ آفاقی حقیقت آشکار ہو کہ زنا بالرضا ایک معروف مبارک اور مستحسن عمل ہے اور اسلام نے اس پر جو قدغن لگائی وہ غیرمنطقی اور نامعقول ہے۔ انقلاب اسلامی کے بعد سے ہیبرماس گاہے گاہے ایران کے دورے کرتا رہتا ہے جہاں کئی اجتماعات میں اس کو غیرجبری مواصلت کے مواقع فراہم کیے جاتے رہئے ہیں جہاں وہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ نظریات کی تبلیغ کرتا رہتا ہے۔ اس کو یہ امید ہے کہ وہ ایران کو اسلام ترک کرنے پر آمادہ کر لے گا۔

علمیت ایک مواصلاتی عمل ہے۔ ریشنلٹی مواصلاتی عمل سے تعمیر ہوتی ہے۔ ادراکِ ذات انفرادیت کو متعلقی انفرادیت میں سمو دیتی ہے۔ علم، شعور اور ادراکِ حقیقت ہی متعلقی انفرادیت (Inter- Subjectivity) فراہم کرتی ہے۔ انفرادی ریشنلٹی Inter-Subjectivity کا ایک حصہ ہے۔ انفرادی ریشنلٹی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کا بہترین طریقہ بتاتی ہے۔ Inter-Subjectivity شعورِ حقیقت کا ذریعہ ہے۔ وہ انفرادی ریشنلٹی کو منور(Englihten)کرتی ہے اور فرد پر یہ واضح کرتی ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی جدوجہد کو اس حقیقت سے مربوط اور ہم آہنگ کیا جائے جو فرد پر غیرجبری مواصلت کے ذریعے عیاں ہوتی رہتی ہے۔ اسی چیز کو ہابرماس انڈرسٹینڈنگ(understanding) کہتا ہے۔

فرد انڈرسٹینڈنگ مخصوص طرزِ حیات(Life-world)میں حاصل کرتا ہے۔ یہ لائف ورلڈ([191] )کچھ مفروضات (Presumpsitions) کی بنیاد پر اشیا اور اعمال کی تشریح کو ممکن بناتی ہے۔ ایک لسانی معاشرت (Linguistic Community) کی لائف ورلڈ یعنی مشترکہ مفروضات اس کو دوسری لسانی معاشرت سے جدا کرتی ہے۔ اور یہ افتراق زمانی بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پندرھویں صدی میں جرمن لائف ورلڈ میں خدا کو ایک مطلق العنان، قائم بالذات حاکم اعلیٰ تصور کیا جاتا تھا۔ اب جرمن لائف ورلڈ میں خدا کا یہ تصور ترک کر دیا گیا ہے اور ہیومن بینگ کو مطلق العنان خودتخلیقی (Autonomous) تصور کیا جاتا ہے۔ Inter-Subjective ریشنلٹی کا تقاضا ہے کہ ان مفروضات کو پرکھے کہ کیا خدا کا وہ تصور جو پندرھویں صدی کی جرمن لائف ورلڈ فرض کیے ہوئے تھی ریشنل ہے؟ یعنی کیا یہ تصور حقیقت کی تشریح کے لیے موزوں ہے جو خواہشاتِ نفسانی کے حصول کی جدوجہد کو آفاقیت (Objectification)کے حصول کی کاوش سے ہم آہنگ اور مربوط کر دے؟ Inter-Subjectivity کی تعبیر اور غیرجبری مواصلت کے ذریعے وہ اصول اور پیمانے اخذ کیے جا سکتے ہیں جن کی کارفرمائی کے ذریعے حقیقت کے ادراک کو مطابقت خواہشاتِ نفسانی کے حصول سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ یہ اصول اور پیمانہ ان معنوں میں آفاقی اور حقیقی ہے کہ یہ لائف ورلڈ کے ہر شعبہ پر یعنی سائنس، اخلاقیات، سیاسیات پر یکساں لاگو ہوتے ہیں([192])۔

لائف ورلڈ کے ساتھ ساتھ ہابرماس کے مطابق ایک نظام زندگی بھی کارفرما ہوتا ہے۔ ہابرماس کا تصور نظام امریکی سوشیالوجسٹ Talcott Parsons کی کتاب "The Social System" سے ماخوذ ہے([193])۔ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگیInter-Subjective، انفراد یاتی مواصلات (جو پہلے کے مقابلہ میں یعنی عیسائی دور کے مقابلہ میں کم جبری (coerced) ہوتی ہے)، پیدا کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اس Inter-Subjective individuality کے عمل (Action) کے اظہار کو اس طرح منظم کرتی ہے کہ ان کے غیرمتوقع نتائج (Unintended consequences) کے اثرات کو سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی (life world) اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی مستقل تقویم اور ترقی میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ ہابرماس کے مطاق اس نظام زندگی کو کارفرما رکھنے کےلیے جو ادارتی مشینری سرمایہ داری نے تعمیر کی ہے اس کے دو اہم اجزا ہیں، ایک بیوروکریٹک ریاست اور دوسرے مارکیٹ اکانومی۔ Talcott Parsons کی طرح ہابرماس بھی سرمایہ دارانہ نظام کو معاشی اور سیاسی ذیلی نظاموں (sub systems) میں تقسیم کرتا ہے۔ معاشی ذیلی نظام میں تعلقات اور مواصلت تقسیم زر(Money) کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے اور سیاسی ریاستی نظام میں تقسیم قوت کے ذریعے ان دونوں ذیلی نظاموں میں مواصلت لسانی نہیں ہوتی لہٰذا ان ذیلی نظاموں کی کارفرمائی کی مکمل تفہیم نہ ممکن ہے نہ ضروری۔ ہابرماس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی کے اصول ان معنوں میں غیراختیاری ہیں کہ ان کو قبول کرنا ناگزیر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اسی مفروضہ ناگزیریت کا اظہار مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ فلسفی مشل فوکو (Michel Foucault) نےبھی کیا ہے جس کی فکر کی ایک بھرپور تنقید ہابرماس کے یہاں ملتی ہے([194])۔سرمایہ دارانہ نظام کو قبول کرنا سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کو مربوط (Integrate) کرنے کے لیے ناگزیر ہے اور سرمایہ دارانہ طرزِزندگی اختیار کرنا اس لیے ناگزیر ہے کہ یہی طرزِ زندگی زیادہ سے زیادہ غیرجبری مواصلت کے ذریعے ایسی Inter-Subjective تعمیر کرتا ہے جو حقیقت کا ادراک کر سکے([195])۔ کانٹ کے ناگزیر فرض (Categorical Imperative) کے طرز پر ہابرماس بھی دو ناگزیر احکامات وضع کرتا ہے:

۱۔ لائف ورلڈ میں غیرجبری لسانی مواصلت کے ذریعے ایسے باہمی متفقہ حقائق کی جستجو جو انفرادی تعمیلِ احکامِ نفسانی کو آفاقی حقائق سے ہم آہنگ کر دے۔ عملاً یہ آفاقی حقائق ایک لسانی معاشرے (Linguistic Community) کے ان مفروضات کے مجموعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں جس کو وہ لسانی معاشرہ ریشنل تصور کرتا ہے۔

۲۔ سسٹم میں مارکیٹ اور ریاست کی سرمایہ دارانہ تنظیم کو قبول کرنا ،کیوں کہ یہ تنظیمintersubjective انفرادیت اور معاشرت کی مستقل افزائش (Reproduction) اور فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

سسٹم اور لائف ورلڈ کو باہم مدغم نہیں کیا جا سکتا اور بقول ہابرماس مارکس ازم کی یہی بنیادی غلطی ہے کہ وہ دو ذیلی نظاموں کو مشترکہ اصولِ کارفرمائی کی بنیاد متصور کرتا ہے۔ لیکن ہابرماس کو اس بات کا احساس ہے کہ نظام اور طرززِندگی کی جداگانہ حیثیت کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا دعویٰ کہ Inter-Subjectivity کی ظہور پذیری کے ذریعے حقیقت کا ادراک ممکن ہے بڑی حد تک مجروح ہو جاتا ہے۔ Inter-Subject[196] مارکیٹ اورریاست کا خالق نہیں ہوتا بلکہ ان کے جبر کو کسی نہ کسی حد تک قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ زیادہ خطرناک بات ہابرماس کے مطابق یہ ہے کہ نظام بتدریج لائف ورلڈ کو فتح کرتا جاتا ہے اور مارکیٹ اور ریاستی سطح پر کارفرما عقلیت لائف ورلڈ کی غیرجبری مواصلت کو محدود کرتی جاتی ہے۔ لہٰذا مارکیٹ اور ریاست کے پیداکردہ جبر کو محدود کرنے کے لیے وہ سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اختیار کی جانی چاہییں جو سرمایہ دارانہ نظام میں غیرجبری مواصلت پر پابندیوں کو کم کرتی ہیں۔ ہابرماس کے مطابق جبر کے فروغ کا سب سے اہم اظہار سرمایہ دارانہ معاشرت میں بڑھتی ہوئی نامساویت ہے۔ اس نامساویت کو محدود کرنے کے لیے ہابرماس کہتا ہے کہ ضروری ہے کہ ٹریڈیونینز کی مارکیٹ میں مسابقتی قوت (Collective Bargaining) بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور جمہوری عوامی بیداری کے ذریعے ریاست کو کینزین میکرو اکنامک پالیسیاں اختیار کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ شرح سود میں مستقل کمی اور ریاستی سرمایہ کاری میں مستقل اضافہ پر ہابرماس زور دیتا ہے۔ ہابرماس سرمایہ دارانہ لائف ورلڈ میں سرمایہ دارانہ نظام کی مداخلت کو محدود کرنے کے لیے اس بات کو بھی بہت ضروری قرار دیتا ہے کہ مواصلاتی نظام کی صنعت کاری کو ختم کیا جائے۔ ۱۹۹۰ء کے بعد سے یہ عمل نہایت تیزی سے پوری دنیا میں جاری ہے اور آئی سی ٹی (Infromation and Communication Technology) کے فروغ کے ذریعے اطلاعات کی فراہمی ایک معاشرتی عمل (life world) نہیں بلکہ ایک نظاماتی عمل بن گیا ہے۔ مواصلاتی نظام کی یہ نج کاری (Commodification and Privatization) اس کو مارکیٹ کے معاشرہ پر مسلط کردہ جبر کے اظہار کا آلہ بنا رہی ہیں اور وہ مخالفانہ آوازیں جو بڑھوترئ سرمایہ کی غیرمقبول طرائق([197] ) کی وکیل ہیں دب کر رہ گئی ہیں۔ ان حالات میں غیرجبری مواصلت مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن ہابرماس کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ آئی سی ٹی اور میڈیا کی نج کاری کو ختم کیا جائے تو سرمایہ دارانہ عالم گیریت کو فروغ دے کر سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کے آدرشوں کی آفاقیت کو فروغ دینا نا ممکن ہو جائے گا۔ لہٰذا آئی سی ٹی صنعت کی استعماری اور فواحش کو فروغ دینے کی گرفت کو کمزور کرنے کے لیے اسلامی حکومت ایران نے جو پابندیاں لگا رکھی ہیں ہابرماس ان کا شدید ترین مخالف ہے۔اپنے استادوں ، ایڈارنو، ویبر اور پارسنز کے برخلاف ہابرماس سرمایہ دارانہ طرزِ معاشرت اور نظام سے مایوس نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام حیات کے فروغ کے ذریعے حقیقت کا ادراک اور تنویری اہداف یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کا فروغ ممکن ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے بنیادی تضاد کا قائل نہیں( [198])۔ 

سرمایہ دارانہ معاشرت میں بڑھتی ہوئی غیرجبری مواصلت فروغ پاتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایسا Inter-Subject بھی وجود میں آتا ہے جو انفرادی ریشنلٹی کو آفاقی ادراکِ حقیقت کی جستجو سے ہم آہنگ کر سکے۔ ہابرماس پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کی طرح اس رائے کو قبول کرتا ہے کہ ریشنلٹی کوئی ماورائی قوت نہیں۔ وہ ایک لسانی، تاریخی اور ثقافتی تناظر میں وجود حاصل کرتی ہے لیکن ریشنلٹی کی یہ تناظریت (Immanence) اس کی آفاقیت کو ردّ نہیں کرتی([199])۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیرجبری مواصلت کے ذریعے ہیومن بینگ اپنے مفروضات، تفکرات اور منہاج کو مستقل تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور چوں کہ ہر زبان دوسری زبان میں ترجمہ کی جا سکتی ہے لہٰذا غیرجبری مواصلت تمام لسانی گروہوں میں جاری رہ سکتی ہے اور ایک آفاقی ریشنل اتحادِ رائے (consensus)قائم ہوتا رہتا ہے۔ حق، عدل اور قدر کے وہی آفاقی معنی ہیں جو مستقل جاری رہنے والے عالمی غیرجبری مواصلاتی عمل سے ظاہر ہوتے ہیں۔ مفروضات، اعتقادات اور منہاج مستقل معاشرتی عمل کے حاصل شدہ نتائج کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں اور ان کی صداقت کو یہی تجرباتی عمل مستقل مطمئن کرتا رہتا ہے۔ حق وہی ہے جو عمل کی افادیت (conscequences)سے ثابت ہو۔ لسانی غیرجبری مواصلت دنیا اور Inter-subject کی تعمیر کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چوں کہ غیرجبری مواصلاتی عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے لہٰذا حقیقت کا جو ادراک وہ ممکن بناتا ہے اس میں مستقل ترمیم کی گنجائش باقی رہتی ہے اور یہ ترمیم مستقلاً ہوتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجرباتی عمل تصورات منہاج اور مفروضات کے مثبت اور منفی پہلو دونوں کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین فوکو، ہائیڈیگر، دریدا، بادلیئر وغیرہ نے تنویری تصوراتِ آفاقیت، عدل، حق وغیرہ پر جو تنقید پیش کی ہے وہ ان تصورات کے منفی پہلو تک محدود ہے اور یہ ایک نامکمل تنقید ہے([200])۔ ہابرماس نے ایک ایسی مکمل تنقید مرتب کرنے کی کوشش کی ہے جو بقول اس کے ان تصورات کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھتی ہے اور اس تنقید کے نتیجے میں ہابرماس کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلیدی تنویری تصورات بنیادی طور پر معقول ہیں لیکن ان میں ترمیم کی گنجائش مستقل موجود رہتی ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹوں نے وہ نقصانات شمار کیے ہیں جو دنیا کو تحریک تنویر کی کامیابی کے نتیجے میں برداشت کرنا پڑے لیکن ہابرماس جب ان نقصانات کا ان فائدوں سے موازنہ کرتا ہے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ تحریکِ تنویر ادراکِ حق اور عدل اور قدر کی مجموعی طور پر ایک کامیاب جدوجہد ہے اور اس تحریک کو ہابرماس جاری رکھے ہوئے ہے۔

تحریک تنویر کی یہ تنقید کہ وہ ایک مخصوص مقامی تہذیبی تناظرسے اپنے تصورات اخذ کرتی ہے ،مناسب نہیں ،کیوں کہ تمام تصورات لازماً کسی مخصوص تہذیبی تناظر میں پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ ناگزیر ہے لیکن ادعائے حق (Truth claims) لازماً آفاقی بھی ہوتے ہیں([201] )اور بقول ہابرماس جن آفاقی حقائق کی تحریک تنویر نے نشان دہی کی وہ اس کی عالمی کامیابی کے نتیجہ میں تصدیق حاصل کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام تر اعتراضات کے باوجود پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین تنویری اقدار یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کو ردّ نہیں کرتے۔تحریک تنویر کو جاری رکھنے کا ہابرماس کی رائے میں سب سے اہم ذریعہ جمہوریت کا فروغ ہے۔ اس کے مطابق جیسے جیسے جمہوری عمل کا دائرہ کار وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے غیرجبری مواصلت معاشرہ میں عام ہوتی ہے اور مارکیٹ اور بیوروکریسی کے مسلط کردہ لائف ورلڈ پر جبر کو چیلنج کرنے کے مواقع بڑھتے جاتے ہیں۔

ہابرماس کے مطابق آزادی یعنی سرمایہ داری کے فروغ کا اصل ذریعہ بلاجبر مواصلت کا فروغ ہے۔ مواصلت پر جبر (control) مارکیٹ اور ریاست دونوں عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جبر کی توجیہ اور تنفیذ کے لیے خاص علمیاتی منہاج اٹھارھویں صدی کے بعد ایجاد کیے گئے۔ ان مناہج میں سے دو سائنس اور تفسیری علوم (hermeneutics) مارکیٹ اور ریاستی جبر کی تنفیذ کا آلہ کار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو ڈسپلن (discipline) کہا جاتا ہے۔ یہ فکر کو ایسے ضابطوں میں مقید کر دیتے ہیں جو مارکیٹ اور ریاستی احکام کی تابع داری کو ایک معقول اور فطری تقاضا کو پورا کرنے والا عمل بنا دیتا ہے۔ لیکن ان ضوابط اور مارکیٹ اور ریاست کے جو احکام ان قواعد سے ماخوذ ہیں، کو قبول کرنا انفرادی آزادی اور بلاجبر مواصلت کی تحدیدکرتے ہیں۔ فلسفہ اور سوشیالوجی وہ علوم ہیں جو ہیومن بینگ کو طبیعی اور تفسیری علوم (Physical & hermeneutic sciences) اور ان کے وضع کردہ اصولوں اور ضوابط پر آزادانہ تنقید کے قابل بناتے ہیں۔ فلسفہ اور سوشیالوجی کو ہابرماس آزادی دلانے والی سائنسز (Emancipatory Sciences) کہتا ہے۔ یہ سائنسز ہیومن بینگ کو اس کی انفرادی غرض (Interest) سے استثنا دلاتے اور اس کی اصل غرض کی نوعیت سے آگاہ کرتے ہیں۔یہ اصل غرض بلاجبر مواصلت کے فروغ کے ذریعے ایک ایسے اجماعِ آراء اور اقدار کا قیام، استحکام اور فروغ ہے جو انفرادی نفوس (امارہ) کے احکام کی تکمیل کی جستجو کو ایسے مربوط کرے کہ وہ نوعی غرض (Species Interest) کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔ یہ نوعی غرض اجتماعی آزادی اور سرمایہ عمومی (Capital in General) کی بڑھوتری کے علاوہ اور کچھ نہیں اور یہی ہیومن بینگ کی اصل غرض ہے لیکن بیش تر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں۔ وہ بلاجبر مواصلت کے فروغ کی جدوجہد کی ضرورت سے واقف نہیں۔ ان کی انفرادی جدوجہد ان کے ذاتی اغراض کے حصول تک محدود رہتی ہے۔ یہ فزیکل اور ہرمینیوٹیکل علوم کے ضوابط کے اسیر ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہیومنٹی کی اصل غرض (Real interest)کے حصول کی جدوجہد کو انفرادی اغراض کی جدوجہد سے مربوط کرنے کا راستہ یہی ہے جویہ علمیاتی منہاج بتاتے ہیں اور عام افراد کو اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ فزیکل اور ہرمینیوٹیکل علوم (Physical and Hermeneutical Sciences) مارکیٹ اور ریاست کے معاشرتی جبر کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ حقیقتاً آزاد نہیں اور جس جبر کا وہ شکار ہیں اس کی نوعیت سے بھی وہ ناواقف رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں جب کہ نہ ان کی فکر آزاد ہوتی ہے نہ ان کا عمل۔ وہ علمیاتی ضوابطی زنجیروں یعنی معاشرتی قوانین، رسوم و رواج، تاریخ و روایت کو گلے میں ڈالے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی کے ہار ہیں۔

تنقیدی علوم یعنی فلسفہ اور سوشیالوجی کے علما کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو اس خوابِ غفلت سے بیدار کریں اور حقیقی آزادی یعنی خواہشاتِ نفسانی کی انفرادی جدوجہد کو بلاجبر مواصلت کے ذریعے فروغِ سرمایہ عمومی کی جدوجہد کی فرضیت سے آگاہ کریں۔ یہ فرضِ عین ہے فرض کفایہ نہیں ہے۔ ہر شخص پر بحیثیت ہیومن بینگ یہ لازم آتا ہے کہ وہ اپنی اصل غرض یعنی فروغِ عمومی غرض کے حصول کی جدوجہد میں اپنی پوری زندگی کھپا دے۔ ہیومن بینگ کی اصل غرض بڑھوترئ سرمایہ عمومی یعنی آزادی کے علاوہ اور کچھ نہیں اور اس غرض کا حصول غیرجبری مواصلاتی نظام کی توسیع اور فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔تنقیدی علما ء ہر ہیومن بینگ کے اندر اس کے اصل غرض کے حصول کی تڑپ پیدا کریں۔ یہ علما نیک و بد، خیر و شر، حق و باطل کی ایسی تشریح مرتب کریں جو ہیومن بینگ پر واضح کرے کہ اپنی اصل غرض یعنی بڑھوترئ سرمایہ یعنی عمومی آزادی کے لیے فکر و عمل کو کیسے ترتیب دیاجانا چاہیے۔ یہ علما عوام کو عہدِ طفولیت سے نکال کر عہدِ بلوغت میں داخل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ علما عوام کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہیں اور ان کو اپنی اصل غرض کو بھلانے اور اس کے حصول کی جدوجہد کو نقصان پہنچانے سے باز رکھتے ہیں([202])۔ 
مثلاً جنسی بے راہ روی کو فروغ دینا تنقیدی (Emancipatory) علما ء کی اہم ذمہ داری ہے۔ ہزاروں سال تک نکاح کو ایک لازمی معاشرتی ضرورت سمجھا گیا لیکن ہابرماس مارکسسٹوں کی اس رائے سے متفق ہے کہ نکاح تو محض شخصی ملکیت کی بقا(سرمایہ دارانہ ملکیت پر تحدید) کا ایک ذریعہ تھا اور جنسی بے راہ روی کے ذریعے فروغ آزادی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ جنسی بے راہ روی کو فروغ دینا تنقیدی علما کی ایک اہم ذمہ داری ہے اور ہابرماس عام شہوت رانی، اغلام بازی اور زناکاری کی تحریکات کا پرجوش حامی ہے۔ یہ تحریک ایل جی بی ٹی (Lesbian, Gay, Bisexual and Transexualquer Movement) کے نام سے مغرب میں خوب پھل پھول رہی ہے۔ اور ایشیا اور افریقا میں ان کو فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ نے کئی اقدامات کیے ہیں([203])۔

تنقیدی علما کارپوریشنوں اور ریاستی پالیسیوں کا جائزہ لے کر یہ متعین کرتے ہیں کہ ان پالیسیوں کی تنفیذ کے نتیجے میں بلاجبر مواصلت اور ہیومنٹی کے اصل غرض یعنی فروغِ نوعی آزادی یا سرمایہ کی بڑھوتری کے حصول میں کتنی مدد ملے گی؟۔ وہ پالیسیاں جو ان اہداف کے حصول کے لیے مضر ہیں ان کی تردید کی جانی چاہیے۔ تنقیدی علما عوام کو اپنے حقیقی مفاد سے آگاہ کر کے وہ اندرونی اور بیرونی رکاوٹیں دور کرتے ہیں جو فروغِ آزادی عمومی کی راہ میں حائل ہیں۔ وہ ہیومن بینگ کو رسوم و رواج، مذہبی میلانات اور فزیکل اور ہرمینیوٹیکل علوم کے وضع کردہ ضوابط کی ناگزیریت کے احساس سے بھی چھٹکارا دلاتے ہیں اور معاشرے میں یہ صلاحیت بھی پیدا کرتے ہیں کہ ہر ہیومن بینگ کارپوریشنوں اور ریاستی پالیسیوں کو پرکھیں کہ کون سی پالیسی محض کسی خاص مفاد کےلیے وضع کی گئی ہے اور اس کا کتنا منفی اثر حصولِ غرضِ حقیقی (یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی یعنی آزادی) پر پڑ رہا ہے اور کون سی پالیسیاں کارپوریشنوں اور ریاستی مقتدرین کے مفادات کے حصول کی جدوجہد کو فی الواقع حصولِ مفادِ عمومی کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔ اگر تنقیدی علما اپنا یہ فرض بحسن و خوبی ادا کریں تو ہر ہیومن بینگ اپنے آپ کوان اندرونی اور بیرونی جکڑبندیوں سے آزاد کرنے کے قابل ہو جائے گا جو اس کے اصلی غرض کے حصول کی راہ میں مذہب، تاریخ، سیاست، کاروبار اور طبیعی اور ہرمینیوٹیکل علوم نے لگائی ہیں۔

حقیقی مفادِعمومی یعنی بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی کے حصول کا ذریعہ بلاجبر مواصلت کی عمومیت پر مارکیٹ، ریاست، مذہب اور غیرتنقیدی علوم کے جبر کو ختم کرنے کا ایک اہم ذریعہ جمہوریت ہے لیکن ایک جمہوری نظام سے لازماً ایسے فیصلے یا پالیسیاں برآمد نہ ہوں گی جو مواصلت پر مسلط جبر کو کم کر دیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تنقیدی علما عوام میں اپنے حقیقی مفاد یعنی بڑھوترئ سرمایہ یعنی آزادی کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہوں۔ جس قدر علمائے جہالت اس تنقیدی فرض کو ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے اسی قدر جمہوری عمل سے مثبت نتائج (یعنی ان پالیسیوں کی حمایت جو انفرادی اغراض کی جدوجہد کو حصول مفادِ عمومی سے ہم آہنگ کرتی ہیں) برآمد ہوں گے۔ جن ملکوں میں یہ علمائے جہالت موجود نہ ہوں مثلاً افغانستان یا جہاں یہ غیرموٗثر ہوں مثلاً ایران وہاں جمہوری عمل سے مثبت نتائج کے برآمد ہونے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ان علمائے جہالتِ کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہابرماس مستقلاً ایران کے دورے کرتا رہتا ہے۔ ان دوروں کو یورپی اور امریکی فوجی ایجنسیاں یونی ورسٹیوں کے توسط سے فنانس کرتی ہیں۔

لہٰذا علمائے جہالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی معاشرتی ترتیب پیدا کریں جس کے نتیجے میں جمہوریت مثبت نتائج (یعنی ان پالیسیوں کی حمایت جو انفرادی اغراض کی جدوجہد کو بڑھوترئ سرمایہ عمومی کی جدوجہد سے مربوط کرتی ہیں) پیدا کرے۔ اس ضمن میں ہابرماس ادارتی صف بندی پر زور دیتا ہے۔ ان اداروں کا مقصد آزادی کو فروغ دینا اور عوام میں مفادِ عمومی ( یعنی بلاجبر مواصلت کی توسیع) کی جدوجہد کی فرضیت کا احساس دلانا ہونا چاہیے۔ اور ان اداروں کی کارفرمائی کے نتیجے میں مفاداتِ خصوصی (کارپوریشنوں، بیوروکریسی اور سیاسی پارٹیوں کے مفادات) کو اغراضِ اجتماعی سے مربوط کرنا بھی مقصود ہے۔ یہ ادارے معاشرتی یا عمومی ریشنلٹی کے غماز ہوں گے اور چوں کہ ادراکِ حق غیرجبری مواصلاتی عمل سے تشکیل پاتا اور تبدیل ہوتا رہتا ہے لہٰذا یہ ادارے فرد کی آزادی کو پابند نہیں کریں گے (جیسا کہ فوکو اوردریدا وغیرہ سمجھتے ہیں) بلکہ آزدی کے اظہار اور تشکیل کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ حصولِ مفادِ اجتماعی یعنی فروغِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ عمومی کا بنیادی انحصار اس غیرجبری مواصلاتی عمل کے فروغ پر ہے جس کے ذریعے انفرادی شخصیتیں ایک ایسی Inter-Subjectivity میں سمو جائیں جو ادراکِ حقیقتِ یعنی انفرادی خواہشاتِ نفسانی کی اتباع کو نوعی غرض یعنی بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی سے مربوط کر دے۔ ظاہر ہے کہ یہ Inter-Subjetctivity محض سرمایہ دارانہ انفرادیت کی ایک شکل ہے اور ہابرماس سرمایہ دارانہ شخصی اور سماجی عالم گیریت کا وکیل ہے۔

ہابرماس کے مطابق مثبت جمہوریت (یعنی وہ جمہوریت جو انفرادی بندگی نفس کو اجتماعی پرستش سرما یہ آزادی سے مربوط کرنے کا ذریعہ بننے والی پالیسیوں کی تصدیق کرے) کے فروغ کی راہ میں ان پالیسیوں کو جن کو جدید کنزرویٹو(Neocon) پالیسیاں کہا جاتا ہے بڑی رکاوٹ ہیں ان پالیسیوں کا نفاذ ۱۹۸۰ء میں ریگن، تھیچر اور کول وغیرہ کے برسراقتدار آنے کے بعد ہوا۔ یہ پالیسیاں کینزین ازم کی تردید کرتی تھیں اور مارکیٹ پر ریاستی پابندیاں ختم کر دیتی تھیں۔ ان کے نفاذ کے نتیجے میں سود اور سٹہ کی مارکیٹ عالمی بنا دی گئی اور ان پر قومی تحدیدی گرفت نہایت کمزور کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپ میں بالخصوص نج کاری کا ایک سیلاب آگیا اور ریاستی املاک کوڑیوں کے مول نجی کارپوریشنوں کے ہاتھ فروخت کی جانے لگیں۔ امریکا نے ریگن، بش، کلنٹن اور بش کے بیٹے کے دور میں نسبتاً کم آمدنی والے طبقوں کو ریاستی امداد کی فراہمی میں بھی نمایاں تخفیف کی اور یورپ کی کئی حکومتوں نے اس قسم کی کمی کرنے کی کوشش کی۔ ہابرماس ان نیوکنزرویٹو پالیسیوں کا شدید مخالف ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان کے نفاذ کے نتیجے میں تقسیم دولت اور آمدنی نہایت نامساویانہ ہو جاتی ہے اور فنانشل مارکیٹوں پر ریاستی گرفت کم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کارپوریشنوں کی انفرادی حصولِ منافع کی جدوجہد معاشرتی تنقید اور جمہوری عمل کی تحدید سے بالاتر کر دیا گیا ہے۔ ہابرماس کے مطابق یہ سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور کرنے کا وطیرہ ہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں غیرمراعات یافتہ گروہ (Underpreviliged section) پالیسی سازی میں حقیقی شرکت سے محروم کیے جا رہے ہیں اور غیرجبری مواصلاتی نظام کے فروغ میں جمہوری رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ہابرماس کینزین پالیسیوں کے ازسرنو انعقاد کا حامی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ غیرمراعات یافتہ افراد کی حکومتی امداد میں اضافہ ہو۔ ٹریڈ یونین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور تشکیل اور ترسیل زر (Money creation and transfer) پر ریاستی پابندیاں تقسیم وسائل کو زیادہ مساویانہ بنانے کے لیے نافذ کی جائیں۔ دیگر سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کی طرح ہابرماس بھی اس نوعیت کے اقدام کو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اس کی نظر میں سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرتی اور سیاسی نظام قائم ہو جہاں بلاجبر مواصلت فروغ پا سکے۔

ہابرماس کی نظر میں بلاجبر مواصلت کے فروغ کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ قوم پرستی ہے۔ قوم پرستی بلاجبر مواصلت سے اس لیے متصادم ہے کہ وہ مفادِ عمومی کے ہدف کو ترک (یعنی ہیومنٹی کے لیے مجموعی سرمایہ یعنی آزادی کی بڑھوتری) کر کے ایک مخصوص گروہ جرمن، امریکن قوم کے مفادِ عمومی کو ترجیح دیتی ہے اور اسی تناظر میں اس کی کارپوریشنیں اور حکومتیں پالیسی سازی بھی کرتی ہیں اور عالمی مواصلاتی نظام میں شرکت بھی۔ ہابرماس کے خیال میں دورِ حاضر میں یورپین یونین کا قیام قوم پرستی کی قوت کو کم کرنے والی سب سے اہم پیش رفت ہے۔ وہ یورپی کمیشن کا گاہے گاہے مشیر بھی رہا ہے اور اس کے تحقیقی پروجیکٹس کو یورپی یونین مالی امداد بھی فراہم کرتی رہتی ہے۔ہابرماس کی خواہش ہے کہ یورپی یونین جلدی ایک وفاقی ریاست بن جائے اور اس میں شامل ممالک صوبوں کی حیثیت اختیار کر لیں اور ان سب پر ایک مشترکہ یورپین دستور لاگو ہو اور سب کی ایک مشترکہ فوجی، خارجی اور اکنامک پالیسی ہو۔ کسی صوبہ کو حق خود ارادیت بحیثیت قوم حاصل نہ رہے اور الحاق سے علیحدگی (seccesion) کا کوئی حق تسلیم نہ کیا جائے۔ ابتدا ء میں یہ یورپی وفاق شاید ان چھہ ممالک تک محدود رہے جو ۱۹۵۷ء میں پہلے ای ای سی معاہدہ میں شریک تھے۔ اس کو ہابرماس "Core Europe" کہتا ہے لیکن دوسرے یورپی ممالک کے لیے اس وفاق کو اپنے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ یہ یورپی وفاق امریکی عالمی بالادستی (Systemic Hegemoy) کے مقابل قوت کے طور پر ابھرے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل اور ترتیب میں ایک موثر کردار ادا کرے۔

یورپین وفاق کے قیام اور ارتقا کے لیے ایک یورپین شناخت کا وجود میں آنا لازمی ہے۔ یہ یورپی شناخت قومی شناخت کو سمو لے گی۔ یورپی شناخت کی بنیاد اس تیقن پر تعمیر کی جائے گی کہ وفاق کے تمام سٹیزن کا سیاسی مستقبل یکساں ہے اور اس مشترکہ مستقبل کے حصول اور تحفظ کے لیے دو اقدام ضروری ہیں۔ اولاً ان فلاحی حقوق کا تحفظ جو یورپی ریاستوں میں طویل سیاسی جدوجہد سے عوام نے حاصل کیے ہیں۔ دوم ایک ایسے کثیر الجہتی(cosmopolitan) سیاسی عالمی نظا م کا تحفظ جو بین الاقوامی قانون (International law)کی پاس داری کو مقدس فریضے کے طور پر قبول کرتا ہو۔

ہابرماس کی رائے میں یورپی تشخص کے تعمیری عمل میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ افتراق گروہی مقاصد کو اپنے اندر سمو سکے۔ ہابرماس کہتا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک اقدامات کے ذریعے یورپی ممالک اس خونی تصادم سے محفوظ رہے جو کمیونزم نے دنیا کے دوسرے حصوں میں برپا کیے اور مزدور اور سرمایہ دار اپنے گروہی افتراق کے باوجود اپنے مشترک سرمایہ دارانہ مفادات کے فروغ کے لیے تعاون پر آمادہ رہے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ حکومتیں بھی گروہی اختلافات کے باوجود اسی نوعیت کے تعاون پر راضی نہ کی جائیں۔ یورپین شناخت کی تعبیر افتراق مذاہب کو سول سوسائٹی میں سمو کر بھی حاصل ہوتی ہے۔ پورے یو رپ میں مذہب کو سیاست سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور پورے یورپ میں دہریت کا راج ہے۔ یہ دہری (سیکولر) ریاست فلاحی بھی ہے اور اس کی مارکیٹ جو معاشرتی ناہمواریاں پیدا کرتی ہے ان کو کم کر کے سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ دیاجا سکتا ہے۔ امریکا اور مشرقی ایشیا کے مقابلے میں یورپی معاشروں میں نظریاتی شعور زیادہ اجاگر ہے اور سیاسی جماعتوں میں جاری نظریاتی کش مکش کی بنیاد پر مسلسل سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی جستجو جاری رہتی ہے۔ یورپ میں سرمایہ دارانہ عدل کا تصور امریکا کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے۔ یہاں عوام مساویانہ معاشرتی حقوق کی فراہمی کو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے لازمی تصور کرتے ہیں جب کہ امریکا اور مشرقی ایشیا میں معاشرتی حقوق کی فراہمی کی جدوجہد کمزور ہے اور سرمایہ دارانہ عدل کا تصور محض مسابقتی مواقع کی مساویانہ فراہمی (Equality of Opportunity) تک محدود ہے۔

۹۲-۱۹۹۱ء کی خلیجی جنگ کے دوران ہابرماس نے امریکی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ اس کے مطابق امریکی خلیجی جارحیت ان لبرل اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی بنیاد پر نیا عالمی استعماری نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے ہابرماس کے بقول ہیومن رائٹس کے اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہابرماس اصرار کرتا ہے کہ وہ امریکا کی خلیج میں مداخلت کی مخالفت امریکی دستور کے اصولوں اور روح کی بنیاد پر کرتا ہے۔ امریکا کی مخالفت لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ اصولوں کا دفاع ہے۔ ہابرماس نے کہا کہ وہ محض اس گروہ کا مخالف ہے جو مخصوص حالات سے فائدہ اٹھا کر امریکا میں حکم ران بنا ہوا ہے (یعنی بش اول کی حکومت)۔ ہابرماس امریکی معاشرت اور امریکا میں رائج سیاسی نظام کا مخالف نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکا پر کیے جانے والے جوابی حملے کو نفرت سے دیکھتا ہے اور اس کی تمام تر ہمدردیاں امریکا کے ساتھ ہیں۔ وہ ۱۹۶۵ء کے بعد سے ہر سال امریکا کا دورہ کرتا رہتا ہے اور امریکا میں جو لبرل قوتیں سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں ان کا حامی ہے۔ ہابرماس کہتا ہے کہ وہ رچرڈ رارٹی (Richard Rorty) کی فکر سے بہت کچھ اخذ کرتا ہے اور رچرڈ رارٹی وہ شخص ہے جس کے خیال میں امریکا کو حق ہے کہ وہ اپنے تمام تاریخی جرائم بالخصوص ریڈ انڈینز کے سفاکانہ قتل عام کے لیے خود کو معاف کر دے۔

ہابرماس ان امریکا مخالف عوامی مظاہروں کا حامی ہے جو خلیجی بہیمیت کے خلاف یورپ میں برپا کیے گئے لیکن اسلامی ممالک میں جو امریکا مخالف تحریکیں اٹھیں ان کی حمایت نہیں کرتا کیوں کہ اس کے مطابق یہ تحریکیں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو نہیں کر رہی ہیں۔ ہابرماس ایک اسلام دشمن فلسفی ہے۔ یہ بات ہم ذیل میں ذرا تفصیل سے بیان کریں گے۔

ہابر ماس کے مطابق جمہوری عمل کی دوکلیدی خصوصیات ہوتی ہیں ایک ہمہ گیریت (inclusivness) اور دوسرے تفہیمیت (deliberation) یعنی جمہوری عمل میں معاشرہ کے تمام افراد بذریعہ مستقل جاری رہنے والے بحث و مباحثہ کے شریک ہوتے ہوں ۔جمہوری عمل وہ طرائق اور ضوابط فراہم کرتاہے جو معاشرہ میں مواصلاتی آزادیوں (communicative liberties) کو اس طرح فروغ دے کہ ایک ایسا اجتماعی ادارہ تشکیل پائے جو مفاد عامہ (interest generalisation) کو فروغ دینے کے لئے مفید اور مؤثر ثابت ہو جمہوری ضوابطی حکومتی تنظیم اور ادارتی صف بندی کا یہی مقصد ہوتا ہے یہ ضوابطی نظام بقول ہابر میں ریاست اور معاشرہ (system and life world.) میں ایک مخصوص ارتباط کو تشکیل دیتا ہے۔ ہابر ماس کے مطابق اس ارتباط کو قائم رکھنے والی قوت معاشرہ (life world) میں مستقل جاری رہنے والا تفہیماتی (deliberation) عمل ہوتا ہے ۔اس کے مطابق مارکیٹ اکانومی کی کارفرمائی لازماً ایسے جمہوری عمل سے محدود ہوتی ہے جو دستوری ریاست لبرل حقوق اور بلاجبر مواصلت کو منظم کرکے فراہم کرتی ہے ۔جمہوری ریاست کو اس تضاد کو وضع کرنے کےلئے معاشرہ میں غیر جبری مواصلت کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے ۔اجتماعی خیر مفاد عامہ (common good) پر اجماع (consensus) اس ہی عمل سے قائم ہوگا۔

ہابر ماس کی رائے میں لبرل پارلیمانی ادارتی صف بندی کی کارفرمائی کا عمل مفاد عامہ کی تفہیم مرتب کرنا ہے یقیناً سرمایہ کی بڑھوتری کو منظم کرنے کے کچھ اصول ہیں لیکن جاہلی عقلیت (rationality) میں یہ گنجائش موجود ہے کہ ان اصولوں کے انطباق کی مختلف شکلیں وضع کریں اور جمہوری )لبرل پارلیمانی(عمل وہ ذریعہ ہے جس سے جاہلی عقلیت (rationality) کے مختلف نوع تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں ۔مثلاً سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دینے کے لئے لبرل پالیساں بھی اپنائی جاسکتی ہیں اور اشتراکی پالیسیاں بھی ۔جمہوری عمل یہ واضح کرتا ہے کہ کس وقت کو نسی پالیسیوں کو عوامی تائید کی بنیاد پر مفاد عامہ (common good) کو فروغ دینے کے جائز (legimate) طریقہ کے طورپر قبول کیا جائیگا ۔

کسی معاشرہ میں جمہوری عمل کے پنپنے کے لئے ہابر ماس کے مطابق ضروری ہے کہ عوام اپنی قدیم ثقافتی رسوم ورواج کو شکست کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو جاہلی عقلیت (rationality) کے فراہم کردہ پیمانوں پر جانچنے کی صلاحیت پیدا کریں ۔عوام اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ وہ حاکم مطلق (sovreign) اور خود اپنے مقدار سازہیں، ریاست ان کی مرضی کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہے اور وہ تحکمی عمل میں فیصلہ کی شرکت کے حامل ہیں ۔یہ جھوٹا عقیدہ جمہوری عمل کی جوازیت (legimatacy) قائم رکھنےکے لئے ناگزیر ہے حقیقتاً عوام نے نہ کبھی حکومت کی ہے نہ کبھی حکومت کرسکتے ہیں ۔یہ جھوٹ لبرل دستوری ریاستیں نظاماتی ادارتی صف بندی کو ممکن بھی بناتا ہے اور اسے کارفرما بھی رکھتا ہے ۔

ہابر ماس کہتاہے کہ عوام کی حاکمیت اعلیٰ (sovreignity) کا اظہار بلاواسطہ نہیں ہوتا بلکہ ان ضوابط (procedures) کی کارفرمائی کے ذریعہ ہوتا ہے جو پارلیمانی دستوری ادارہ )مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ ، میڈیا، کارپوریشن ( ہمیشہ جاری رکھتے ہیں ظاہر ہے اس مفروضہ مواصلتی اداروںمیں عوام شریک نہیں ہوتے اور ان کی نمائندگی بھی مقننہ تک محدود رہتی ہے )جوسرمایہ دارانہ اقتداری نظام میں بتدریج اپنی فیصلہ ساز قوت کھورہی ہے۔

ہابر ماس کی رائے میں عوام معاشرتی سطح پر سیاسی طورپر منظم ہوتے رہتے ہیں بالخصوص سیاسی جماعتوں میں اور یہ سیاسی جماعتیں ریاستی فیصلوں کی تعمیر وتنفیذ میں عوامی آراء کی شمولیت کا باعث بنتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں مستقل کمی ہورہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں یکساں ہورہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں پر ریاستی ادارے قبضہ کرلیتے ہیں (بالخصوص کارپوریشن، انتظامیہ،عدلیہ اور میڈیا) اور وہ ایک eliteقوت ہوتی ہیں جن کی عوامی پیوستگی کمزور سے کمزور ہوتی جاتی ہے۔

ہابرماس کو سیاسی جماعتوں کے معاشرتی زوال کا احساس ہے اور وہ سیاسی جماعتوں کی جگہ یکجہتی مقاصد کو فروغ دینے والی تنظیموں (single issue NGO’s) کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے جمہوریت کے فروغ کی امیدوابستہ کرتا ہے اور حقوق کے حصول کے لئے ہنگامی جدوجہد )مثلاOccapy Wall Steet,Anti war,Anti racist movement) کو سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوری اعمال کے استحکام کے لئے مفید گردانتا ہے لیکن یہ تحریکیں وقتی ہوتی ہیں اور ان سے عوام کی بہت بڑی اکثریت ہمیشہ لاتعلق رہتی ہے۔ یہ تحکمی عمل کی نافذتو ہوتی ہیں لیکن اس عمل میں شرکت کی نہ اہلیت رکھتی ہیں نہ خواہش ۔ان کی کارفرمائی کے نتیجہ میں محض ایک سرمایہ دارانہ اشرافیہ دوسری سرمایہ دارانہ اشرافیہ پر غالب آتی رہتی ہے ۔

دستوری جمہوریت تنفیذ قانون سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہابرماس اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ تنفیذ قانون کا جواز ایک جمہوری ریاست میں کتاب اللہ سے ماخوذ نہ ہوگا بلکہ سیاسی جمہوری عمل سے برآمد ہوگا ۔ ہابرماس کے مطابق یہ جواز ریاستی اداروں کی ضوابطی (procedural) کارفرمائی سے برآمد ہوتا ہے اور یہ جواز (legitimation) دواصولوں کی پابندی پر مبنی ہے ایک یہ کہ وہ تمام افراد جو کسی فیصلہ کی تنفیذ سے متاثر ہوسکتے ہیں اس مبنی اس فیصلہ سازی میں شریک ہوں اور دوسرے یہ کہ جس مکالمتی (discursive) عمل کے نتیجہ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے وہ دستوری قانونی ضوابط کے مطابق ہو دوسرا اصول تو کسی نہ کسی حد تک دستوری ریاستوں میں کارفرماکرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پہلے اصول کی تنفیذ عملاً بالکل ناممکن ہے۔ مثلاً قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ ان تمام افراد کی آراء پر کبھی مشتمل نہیں ہوسکتا جن کا قیمتوں میں اضافہ سے متاثر ہونے کا امکان ہے ۔

ہابر ماس کہتاہے کہ اس فرد کا ہر اس فیصلہ میں شرکت جس سے وہ متاثرہورہاہے کا گہرا تعلق سرمایہ دارانہ سول سوسائٹی کی فراہمی سے ہے اور دستور اس چیز کی کوشش کرتا ہے ۔

حقیقت میں دساتیر ایسا کچھ نہیں کرتے ۔ادارتی ضوابط او رانفرادی حقوق دونوں سرمایہ دارانہ تحکیم کو یقینی بنانے کے ذرائع ہوتےہیں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں عوام نہ آزاد ہوتے ہیں نہ خود مختار جمہوریت وہ زنجیر ہے جس سے عوام کو سرمایہ داری کے اصطبل میں قید کیاجاتا ہے۔ جمہوری ریاست میں عوام سرمایہ کے غلام ہوتے ہیں ۔

لیکن سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ عوام کو یہ دھوکہ دے کہ جمہوری نظام میں وہ خود مختار حکمران ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ جاہلی عقلیت کی ترویج کے ذریعے عوام کی روایتی ثقافت کو تباہ کردیاجائے ۔سیاسی نظاماتی جبر کاجواز دہریہ (securalised) آدرشوں کی مقبول عام پیوستگی بروئے کار لاکر قائم کی جائے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ دہریت کو مذہبی اور ثقافتی جواز فراہم کیا جائے کیونکہ ہزاروں سال سے عوام کےرجحانات اور میلانات مذہبی روایات کی عمومیت سے مرتب ہوتے آئے ہیں۔

لہذا ہابر ماس کی رائے میں مذہب کو دہری (secular) بنانا ایک دستوری جمہوری ریاست کا فرض ہے ۔غیر جبری مواصلاتی ارتباط کو اس طرح منظم کرنے کی پیہم جستجو کرنا چاہئے جس کے نتیجہ میں عوام مذہبی تعلیمات کی سرمایہ دارانہ تشریحات قبول کرنے پر آمادہ ہوں۔ مذہب عوام کو متحرک اور motivated رکھنے کے لئے تو مفید ہوسکتا ہے)جیسا کہ (Protestantism کا تاریخی کرداررہاہے لیکن قانونی نظام میں اس کی دخل اندازی سم قاتل ہے کیونکہ یہ دخل اندازی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی آفاقیت (universality) کو چیلنج کرتی ہے۔ ہابرماس کہتا کہ مذہبیت جمہوریت کی عوامی جڑوں کو کھوکھلا کرتی ہے اور ایک جمہوری نظام مذہبی اعتقادی بنیادوں پر قائم نہیں ہوسکتا ۔ہابرماس کے خیال میں اب مذہب نے دہریت کے مقابلہ میں ہتھیار ڈال دیے ہیں اور سیاسی نظام میں مداخلت سے پہلوتہی اختیار کرلی ہے لیکن دہریاتی (secularised) مذہبی روایات کو سرمایہ دارانہ معاشرہ میں جو روحانی خلا اور احساس لاتعلقی (aleination) پیدا ہوگیا ہے اس کو دفع کرنے کےلئے استعمال کرنے کی ایک مربوط حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جانا چاہئے۔ عیسائی حلقوں کو معاشرتی طورپر تنہا (isolated) رکھنا دانش مندی نہیں، انہیں سرمایہ دارانہ life world میں سمو لینا چاہئے اور غیر جبری مواصلاتی عمل میں شریک کرلینا چاہئے ۔

انقلابِ ایران کے فوراً بعد ہابرماس کو یہ احساس ہو گیا کہ غلبہ اسلام سرمایہ درانہ لبرل عالمی نظام کی بقا اور فروغ کے لیے ایک اہم خطرہ ہے ۔یعنی بنی صدر کے دورِ حکومت میں ہابرماس نے انقلاب مخالف ایرانی دانش وروں سے قریبی روابط استوار کیے اور اس وقت سے اب تک مستقل ایرانی جامعات کے ذریعہ تخریب کاری کی مہم چلائے ہوئے ہے۔ وہ بدنام زمانہ امریکی ولی نصر( [204]) کا قریبی ساتھی ہے۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے فوراً بعد ہابرماس نے امریکا کا دورہ کیا اور نیویارک میں اس واقعہ کے پیچھے جو جذبہ کارفرما تھا اس کو قابل نفرت، بزدلانہ اور غدارانہ قرار دیا۔ اس نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اسلامی دہشت گردی کے خلاف پوری تہذیبی دنیا کو ایک عالمی جنگ لڑنے کے لیے کمربستہ ہو جانا چاہیے اور دہشت گردوں اور حریت پسند برسرپیکار گوریلا گروہوں میں فرق کرنا چاہیے۔ حریت پسند ایک قومی ریاست بنا کر سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو جاتے ہیں لیکن اسلامی دہشت گرد سرمایہ داری کے انہدام کی جدوجہد کر رہے ہیں لہٰذا ان سے مصالحت کا کوئی امکان موجود نہیں۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے امریکا نے افغانستان پر جو جنگ مسلط کی ہابرماس اس کو ایک اصولی عادلانہ جنگ کہتا ہے گو کہ اس جنگ کی حکمت عملی سے پوری طرح متفق نہیں([205])۔ اسلامی دہشت گردوں کے خلاف جنگ ان کے اپنے ممالک تک محدود نہیں رہ سکتی کیوں کہ ان اسلامی دہشت گردوں نے یورپ اور امریکا پر بھی حملہ کر دیا ہے اور یہاں ان کے مقابلہ کے لیے حکومتیں بالخصوص حکومتِ امریکا جو اقدامات کر رہی ہے ان کے نتیجے میں بنیادی ہیومن رائٹس اور سٹیزن کے حقوق مجروح ہو رہے ہیں اور اس بات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ نظام پر عام شہری کا اعتماد کم یا ختم ہو جائے۔ اسلامی دہشت گردوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ دہریہ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ عدل عین ظلم ہے اور سیاسی نظام کی تشکیل اور تنفیذ اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق ہونی چاہیے عوام کی مرضی کے مطابق نہیں۔ وہ ریاستی نظام کی کثر یتیت (plurality) کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اسلامی تصوراتِ عدل دائمی اور آفاقی ہیں، حادثاتی نہیں۔ بالفاظ دیگر اسلامی دہشت گردوں کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کو مطلق العنان، احد،صمد اور فرماں روا قانون ساز مانتے ہیں اور اسلامی معاشرتی اور ریاستی نظام کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سموئے جانے کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ اسلامی دہشت گرد ریشنل نہیں، وہ آزادی کے دشمن ہیں اور خود ارادیت (Autonomy) کے منکر ہیں اور بندگی رب پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ یورپی تحریکاتِ اصلاح(Reformation & Counter reformation) سے کوئی سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں۔ نہ وہ لاک کے نظریہ ٹالرنس([206] )پر ایمان لاتے ہیں اور نہ مذہبی علمیت کو سائنٹفک اور تنویری فلسفیانہ جاہلیت سے ہم آہنگ کرنے پر راضی ہیں۔ ہابرماس اسلامی جمہوریت کے تصور کو مہمل اور مضر گردانتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ایک دہری (سیکولر)نظام کے قیام اور تفہیم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریت کو سیکولر ازم کو فروغ دینے والے حربہ کی افادیت کے ضمن میں ہابرماس اور ایرانی منافقین بالخصوص مجاہدین خلق کے حلقوں میں طویل بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔ 

ہابرماس کے مطابق اگر مغرب کو اسلامی دہشت گردوں کو شکست دینا ہے تو اس کو اسلام پر مغرب کی تہذیبی اور علمیاتی فوقیت ثابت کرنا ہو گی۔ مغرب کی عسکری مہمات بھی ضروری اور مفید ہیں بالخصوص افغانستان میں لیکن وہ کافی نہیں۔ اسلامی اقدار اور تہذیب کووحشیانہ اور جاہلانہ ثابت کرنا مغرب کا فرض ہے اور یہ کام اخلاقیات ہیومن رائٹس کو فروغ دے کر بخوبی انجام دیا جا سکتا ہے۔اسلامی دہشت گردوں کو غیرجبری مواصلاتی نظام میں شریک نہیں کیا جا سکتا([207])۔ مغرب کا ہدف اسلامی دہشت گردوں کو اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی طور پر تنہا کر دینا ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا کو مغرب پر بھروسا کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ یہ کام مغربی پولیس آپریشن کے ذریعہ آسان ہو جائے گا(جیسا کہ بقول ہابر ماس کوسووا میں ہوا) ۔ ان اقدا م سے مسلمان ممالک کے عوام کو دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ بیرونی امداد کو بھی اس کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے([208])۔ مسلم دنیا میں مغرب کو اپنے آپ کو تہذیبی قوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ کہ بین الاقوامی نامساویت (International Inequality) کم کی جائے اور گلوبل سطح پر سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے دانش وروں اور عوام کے ساتھ مغرب کو ایک ایسی غیرجبری مواصلت پر زور دینا چاہیے جو ایک عالمی Inter-Subject[209] کو وجود میں لائے جس کے معیارات، احساسات، تفکرات اور تصورات یکساں ہوں۔ یہ Inter-Subject لازماً سرمایہ کی بڑھوتری کی فوقیت اور معاشرتی اور ریاستی دہریت کی قائل ہو گی۔ بقول ہابرماس یہ Inter-Subjectivity ایک بین الاقوامی معاشرت کے طور پر اقوام متحدہ بتدریج تعمیر کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ وہ ہیومن رائٹس کے پامال کرنے والوں کو یعنی اسلامی دہشت گردوں کو کڑی سزائیں دے۔ افغانستان کی استعماری پٹھو حکومت کی پشت پناہی کر کے اقوام متحدہ کی Peace keeping Forces یہ فرض بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی فوجی صلاحیتوں میں فروغ دینے کی بقول ہابرماس شدید ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ مسلم دنیا پر ٹالرنس کو بزور شمشیر نافذ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اغلام بازی اور آزاد شہوت رانی ایک بنیادی ہیومن رائٹ ہے۔ اقوام متحدہ مسلم دنیا کو اغلام بازی اور آزاد زناکاری کو ٹالریٹ کرنے پر مجبور کرے گی۔ ٹالرنس کی کوئی حد نہیں صرف سرمایہ دارانہ عدل کی حقانیت کی مخالفت کو ٹالریٹ نہیں کیا جا سکتا۔ مغرب اسلامی دہشت گردوں کو ٹالریٹ نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ ہیومن رائٹس کو مقدس نہیں مانتے اور سرمایہ دارانہ عدل کو ظلم سمجھ کر اس کو ختم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ جو مسلمان مثلاً مولانا تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید ہیومن رائٹس کی اسلامی توجیہ پیش کر رہے ہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کو ایک اسلامی فریضہ گردانتے ہیں ان کو یقیناً ٹالریٹ کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن سے غیرجبری مواصلت کے ذریعے مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ Inter-Subject قائم کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی دہشت گرد سرمایہ دارانہ دستور کے تقدس کے قائل نہیں۔ وہ دستور کو تبدیل کرنے کے دستوری طریقوں کے پابند نہیں۔ دیگر مخالفین یعنی قوم پرست، اشتراکی، مسلم اصلاح پسندوں (revisionists) کے برخلاف اسلامی دہشت گرد سرمایہ دارانہ عدل کی کوئی مختلف یعنی قوم پرست، اشتراکی، اسلامی تشریح پیش نہیں کرتے۔ اگر اسلامی دہشت گرد اقتدار سنبھال لیں تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام عمل میں لائیں گے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو شرع اسلامی سے محض مقید (constrain)نہ کریں گے([210])۔ لہٰذا دستور میں اسلامی دہشت گردی کو ٹالریٹ کرنے کے کوئی معنی نہیں۔ اسلامی دہشت گرد سرمایہ داری کے دائمی اور ازلی دشمن ہیں اس کے برعکس قوم پرست، اشتراکی اور اسلامی اصلاح کار (Revisionists)ایک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت کو ایک دوسرے سرمایہ دارانہ نظام (قوم پرست، اشتراکی، اسلامی) کی تعمیر کے لیے کرتے ہیں۔ قوم پرست، اشتراکی، اسلامی اصلاح کار سرمایہ دارانہ نظام کے حلیف ہیں اس کے دشمن نہیں۔ قوم پرست، اشتراکی اور اسلامی اصلاح کار ایک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی پر تنقید سرمایہ دارانہ عدل کے اصولوں کی بنیاد پر ہی کرتے ہیں اور یہ اصول لبرل ،سوشلسٹ،سوشل ڈیموکریٹ، قوم پرست اور اسلامی اصلاح کاری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام نظاماتی تشریحات میں ہیومن رائٹس کی تقدیس سب کا جزو ایمان ہے۔

کیا ہابرماس ایک دروغ گو ہے کیا وہ نہیں جانتا کہ سرمایہ دارانہ معاشرت میں غیر جبری مواصلت (uncoerced communication) کا کبھی کوئی وجود رہا ہے نہ بین المکالماتی شخصیت سازی (inter subjectivity) کا۔ جمہوری نظام میں عوام مجبور، لاچار اور مظلوم ہمیشہ سے ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک یہ نظام ختم نہ کر دیا جائے۔ لیکن سرمایہ دارانہ حاکمیت کے لیے ضروری ہے کہ اس ہی نظام جبر و ظلم کو عوامی تائید حاصل ہوتی رہے۔ ہابرماس بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ جمہوری عمل کو کس طرح اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وضع کیے جاتا رہنا چاہیے۔ اس باب میں جن کفار کی آراء کی تشریح و تنقید پیش کی گئی ہے وہ سب یہی کام کرتے ہیں۔اس میں ہابرماس کی کوئی تخصیص نہیں۔

خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

باب 4

ڈھونڈتا رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام

)سرمایہ دارانہ نظام(

4.1۔ سرمایہ داری کی تاریخ

سرمایہ داری اس نظام (system) اور طرز حیات (life world) کو کہتے ہیں جس میں حرص اور حسد انفرادیت ،معاشرت اور ریاست پر غالب آجائے ۔ایسی انفرادیت معاشرت اور ریاست میں جو عقلیت غالب ہوتی ہے اسے ریشنلٹی کہتے ہیں ۔ریشنلٹی وہ جاہلی عقلیت ہے جو صرف اور صرف نفس امارہ کے universalisable احکامات کی غیر مشروط تابعداری کو معتبر گردانتی ہے۔ایک ریشنل فرد اپنی فکر اور اپنے عمل سے اپنی خود ارادیت (autonomy) اور خود اختیاریت (self determination) کا اظہارکرنے کی کوشش سرمایہ دارانہ معاشرہ (civil society) اور ریاست (republic)میں کرتا رہتاہے اور معاشرہ اور ریاست یہ جھوٹا دعوی کرتے ہیں کہ عوام کو ان کی خود اختیاریت کے اظہارکے وافر مواقع فراہم کئے جاتے رہیں گے ۔یہی جھوٹا دعویٰ "جمہوریت" کہلاتا ہے ۔

سرمایہ داری ایک نہایت غیر فطری (unnatural) طرز حیات اور نظام زندگی ہے ۔انسان فطرتاً نہ خود مختار ہے نہ خود تخلیقی وہ احد وصمد نہیں ۔عبد اور مسلم ہے ۔انسانیت کی نوہزار سالہ معلوم تاریخ میں آزادی بحیثیت ایک معاشرتی ہدف بالکل اجنبی اور غیر مانوس ہے ۔سولہویں صدی عیسوی یورپ سے قبل کسی نے بھی آزادی کو بحیثیت ایک سیاسی قدر قبول نہیں کیا نہ بابل نے نہ مصر نے نہ یونان نے نے روم نہ نہ عیسائیت نے نہ ہندومت نے نہ یہودیت نے نہ چین نے۔ ہمارے سیاسی آئمہ رحمہ اللہ نے تو آزادی کو بغاوت کہا ہے آزادی کےلئے معاشرتی اورریاستی ادارتی صف بندی کرنا عقل سلیم کا تقاضہ نہیں شیطان کا وسوسہ ہے ۔

سرمایہ دارانہ غلبہ ابتداً اٹلی کے چند ساحلی علاقوں اور وسطی یورپ کے چند شہروں تک محدود تھا۔ معاشرت بھی سکٹری ہوئی تھی اور ریاستی نظام بھی غیر مکمل اور غیر سرمایہ دارانہ ریاستوں کے ماتحت تھا۔پھر سرمایہ دارانہ قومی ملکیتیں قائم ہوئیں اور انیسویں صدی میں سامراجی پیش رفت کے ذریعہ سرمایہ دارانہ گرفت امریکہ ،ایشیاء اور افریقہ تک پھیل گئی ۔پہلی جنگ عظیم کے بعد 1918سے سرمایہ داری کا غلبہ عالمی ہوگیا اور فی الحال اس غلبہ کو ہمہ گیر چیلنج اس کے بیرون (exterior) سے نہیں دیا جا سکتا (مجاہدین اسلام کےجدوجہد کی نتیجہ میں کچھ بیرون گاہ گاہ ابھرتے سکڑتے رہتے ہیں) گوکہ اس کے اندرونی تضادات اور خلفشار مستقل بڑھ رہے ہیں ۔

حرص اور حسد فطری منفی انسانی جذبات ہیں ، ایسے افراد ہمیشہ معاشرہ میں موجود رہتے ہیں جن کے جذبات اور فکراور عمل پر حرص اور حسد غالب ہوں لیکن معاشرہ کے حریص اور حاسد افراد کا سیاسی طور پر منظم ہوکر ریاستی اقتدار کے لئے جدوجہد کرنا اور سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) کا معاشرتی تغلب ایک ماڈرن حادثہ (contengency) ہے ۔مذاہب عالم (اسلام، عیسائیت ،یہودیت ،بدھ مت) نے ہمیشہ حریص اور حاسد انفرادیت اور معاشرت کے غلبہ کے خلاف جدوجہد کی ہے ۔

حریص اور حاسد افراد کی سیاسی اور معاشرتی اجتماعیت طبقاتی نہیں ہوتی ۔ہمہ جہتی ہوتی ہے اس میں دولت مند اہل دانش (intellectuals) ریاستی پالیسی ساز کسان مزدور ،اجرتی پیشہ ور ہرگروہ کے حریص اور حاسد افراد شامل ہوتے ہیں ۔معاشرہ میں بنیادی تفریق اہل اللہ اور حزب الشیطان )اہل حرص( کی ہے ان دونوں گروہوں کی تعداد قلیل ہوتی ہے اوربیشتر عوام انکی مستقل جاری رہنے والی کشمکش سے یا تو لاتعلق رہتے ہیں یہ کبھی ایک کا ساتھ دیتے ہیں کبھی دوسرے کا۔

حریص اور حاسد اجتماعیت کو ہم سرمایہ دار کہتے ہیں ۔"بورژوا "نہیں کہتے کیونکہ بورزوا کا تصور صرف ان افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو دولت پر کنٹرول رکھتے ہیں)یعنی تاجر فائنینسراور صنعت کار (وہ افراد کے نفس اور روحانی کیفیات کا اظہار نہیں کرتا ۔کوئی وجہ نہیں کہ اہل ثروت ہی حرص اور حسد کا شکار ہوں اور دوسرے گروہ اس شر سے بالکل محفوظ رہیں ۔ہماری تاریخ متقی اور ایثار پسند تجار اور صنعت کاروں (مثلاً تحریک خلافت کے خزانچی سیٹھ ولی بھائی چھوٹانی اور سابق وزیر اعظم پاکستان اسماعیل ابراہیم چندریگر جیسے افراد) سے بھری پڑی ہے سب کے سرتاج بعد پیغمبر یعنی وصدیقؐ افضل واکبر نہایت دولت مند ہوا کرتے تھے اور آپ نے پوری زندگی تجارت کا پیشہ اختیار کئے رکھا۔

تیرھویں صدی عیسوی سے سرمایہ داروں نے عیسائی قانون کے خلاف بغاوت شروع کی ۔ان باغیوں میں تین گروہ کے افراد شامل تھے کچھ ایسے فوجی (knights) جو صلیبی جنگوں کی ناکامی کے بعد فوج سے نکال دیئے گئے تھے اور شاہراہوں پر لوٹ مارکرتے تھے کچھ ایسے ہاری جو زمینداروں کی املاک کو لوٹتے تھے اور کچھ ایسے تاجر جنہوں نے اپنے فروختی سامان کی قیمتوں میں درپردہ سود شامل کرلیا تھا ۔

غیر دولت مند سرمایہ دار عموماً سرمایہ کار ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔سرمایہ کاری اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ دولت کو مزید دولت کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔قرون وسطیٰ میں ایک ہاری یا برطرف شدہ سپاہی کے لئے اپنی املاک کے اس نوعیت کے استعمال کا موقع نہ تھا اور اس نوعیت کے مواقع اجرتی نظام کے عام ہونے اور سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کے فروغ کے نتیجہ میں بہت بعد میں پیدا ہوئے، لہذا اس دورمیں سرمایہ کاری کا عمل حریص اور حاسد دولت مندوں تک ہی محدود رہا ۔

پھر سرمایہ کاری پر کڑی پابندیاں بھی عام تھیں عیسائی قانون اور اخلاقی تعلیمات سود اور سٹہ کو ممنوع قراردیتا تھا ۔ارتکاز دولت کی حوصلہ شکنی کرتا تھا اور قناعت اور سادگی کی صفات کو فروغ دیتا تھا ان حالات میں سرمایہ کاری کی معاشرتی اور ریاستی تحدید مستقلاً جاری تھی حریص اور حاسد تاجر عیسائی معاشرتی ضوابط کو نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے اور قوانین میں گنجائش پیدا کرنے کےلئے کوشاں رہتے تھے جس سے سرمایہ کاری کاعمل پھیل سکے ۔

حریص اور حاسد سرمایہ دار اشرافیہ نے اس دور میں ایسے ادارے قائم کرنا شروع کئے۔ مارکیٹی شہر بینک ،بندرگاہیں۔ جو ریاستی اور مذہبی قوانین کی گرفت کو ڈھیلا کرسکیں اور زمین کو سرمایہ دارانہ ملکیت بنانے میں معاون ہوں ۔سرمایہ کاروں نے اپنے لئے خود قانون سازی کی ابتداءبھی اس ہی دور سے شروع کردی تھی ۔یہ قانونی نظام جس فقہی (jurisprudential) نظریہ پر قائم تھا وہ آزادی کے فروغ اور بڑھوتری سرمایہ پر لاگو تمام پابندیوں کو ختم کرنے کو مقدس مانتا تھا ۔یہ قانونی نظام جن ضوابط ،معاہدوں اور نظم ملکیت کے تصورات پر مبنی تھا وہ قدیم رومن لا کی ایک ترمیمی (revisiniest) تعبیر سے ماخوذ تھا ۔

اس نئے قانونی نظام کو (law of merchant) کہتے ہیں یہ بین الاقوامی تجارتی قانون کی ایک شکل ہے جوسرمایہ دارانہ معاہدات کی تنفیذ کو سہل بنانے اور ان کو تحفظ دینے کے طریقہ بتاتا ہے اور قرضہ جاتی (credit) کا روبار کے نئے نئے طریقہ تجویز کرتا ہے جن کا ایک اہم مقصد کاروباری عمل میں سود کو مخفی طورپر ملوث کرنا ہے ۔دورحاضر کے سود اور سٹہ کے مارکیٹ (financial markets) کا ایک بنیادی تاریخی ستون ہے, یہی law of merchant ہے۔تیرھوی صدی کے بعد اسlaw of merchant کے وسیع اخلاق کے نتیجہ میں پورے مغربی اور مرکزی یورپ میں حریص وحاسد سرمایہ کار گروہ منظم ہوگیا یورپی تجارت کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ law of merchant کا اخلاقی دائرہ کار وسیع ہوتا چلا گیا اس ہی پھیلاؤ کی بنیاد پر اطالوی سرمایہ دار شہری ریاستیں قائم کی گئیں، ان ریاستوں اور شہروںمیں قدیم عیسائی قوانین کا اطلاق معطل ہوتا چلا گیا اس ہی دور سے حریص اور حاسد دولت مندوں اور دیگر گروہوں )نوابوں ،اہل دانش دستکاروں اور ہاریوں ( کے حریص اور حاسد افراد میں اشتراک عمل شروع ہوتا ہے ۔

بارھویں صدی کی ابتدا سے اطالوی شہر جینیوا(Genoa) نے تیزی سے ترقی کی ۔وہاں کے سرمایہ داروں نے Compagna نام سے ایک تنظیم بنائی جس کا سربراہ منتخب ہوتا تھا ۔بہت جلد اس تنظیم نے Genoa میں سیاسی اقتدار پر قبضہ کرلیا اس واقعہ کو پہلی سرمایہ دارانہ حکومت کے قیام کا واقعہ کہاجاسکتا ہے ۔اطالوی ساحلی شہروں میں سرمایہ داروں کے سیاسی عروج کے نتیجہ میں بینکاری , سود اور سٹہ کے کاروبار کو خوب عروج حاصل ہوا۔حصص اور تمسکات (Shares and bonds ) کا عام فروخت بھی اس ہی وقت اور انہی شہروں میں شروع ہوا اور اس سے عوام میں حرص اور ہوس کےرجحانات ایک وباء کی طرح پھیلنے لگے۔ گاہےگاہے Lombard, Genoa, Venice اور Pisa میں زمیندار،ہاری ،دستکار گروہوں کے افراد اس مذموم کاروبار میں شرکت اختیار کرتے چلے گئے۔ سرمایہ دارانہ معاہدوں (contract) نے دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، چونکہ سرمایہ دارانہ کانٹریکٹ اصولاً وعدوں کی تبدل )اشیاء کے تبدل کانہیں ( کا نظام استوار کرتا ہے لہذا اس کے پھیلاؤ سے مستقبل کے وعدوں (Future trading) کی تجارت عام ہوئی اور یہی سٹہ بازی کی روح رواں ہے ۔غریب افراد نے بڑھ چڑھ کر سٹہ بازی کے کاروبار میں دلچسپی ظاہر کی ۔

سرمایہ داروں کا گروہ 11ویں اور 12ویں صدی میں بڑھتا اورپھیلتا رہا اور اس گروہ کو یہ احساس ہوگیا کہ ریاستی اقتدار کے حصول اور استحکام کے بغیر وہ رائج شدہ قوانین میں وہ تبدیلیاں نہ لاسکیں گے جو سرمایہ کی مستقل بڑھوتری کے لئے ناگزیر ہیں ۔لہذا حریص اور حاسد افراد کا یہ اجتماع جس میں دولت مند تاجر ،زمیندار ،ہاری میں سے حریص اور حاسد لوگ شامل تھے ۔سیاسی اقتدار کے لئے منظم ہوکر اس پر قبضہ کرنے کی جدوجہد کرتا رہا ۔بحری تجارت اور ملکیت(law of sea) کا جو قانون مرتب ہوا اور جس پر یورپی تجارت کے فروغ کا انحصار تھا ریاستی اقتدار کے حصول کے بغیر نافذ نہیں کیا جاسکتا تھا اس ہی طرح بینکنگ کے فروغ کے لئے بھی ریاستی اقتدار میں شرکت اشد ضروری تھی ۔

گیارہویں اور بارہویں صدی میں تجارت کے پھیلاؤ کا ایک نتیجہ ایسے شہروں کا قیام تھا جہاں سرمایہ داروں کا اقتدارنوابین (feudals) کے دست بردسے محفوظ کرنے کی اور سرمایہ دارانہ قانون کی ہمہ گیر تنفیذ کی جدوجہد کی جاسکے اس جدوجہد میں سرمایہ کاروں کے علاوہ ہنرمند گروہ کے وہ افراد بھی بڑھ چڑھ کر شریک تھے جو زری معیشت (money economy) کے فراہم کردہ مواقع سے مستفیض ہونے کے خواہشمند تھے ان کے ساتھ ساتھ وہ ہاری بھی شامل تھے جو نوابین (feudals) کے لگائے ٹیکسوں کو ختم کرنے کی جدوجد کررہے تھے ۔

لہذاسرمایہ دارانہ سرمایہ کاروں ،سرمایہ دارانہ دستکاروں ،زمینداروں ،ہاریوں اور ریاستی عمال کےمادی مفاد مشترکہ تھے ۔وہ سب سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو تیز کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے رائج شدہ نظام اقتدار کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کیا، اس اتحاد کا مقصد معیشت کے ایک پھیلتے ہوئے دائرہ کار کوعیسا ئی قوانین اور کلیسا کی گرفت سے آزادی دلا کر اس کو بڑھوتری سرمایہ کامحور اور مرکز بنانا تھا ۔

شہروں کو رائج شدہ ریاستی نظام سے آزاد کرنے کے لئے سرمایہ داروں نےجو تنظیمیں قائم کی ان کو commune کہا گیا ۔ان communes میں سرمایہ کاردستکار،ہاری اور نوابوں کے نوکر شامل ہوتے تھے اور ایک ایک کمیون میں شرکاء کی تعداد عموماً کئی سو افراد پر مشتمل ہوتی تھی۔ ان کی تنظیم جمہوری خطوط پہ وضع کی جاتی تھی گو کہ عموماً پوری شہری آبادی کا یہ بہت قلیل حصہ ہوتے تھے ۔یہ نوابین اور کلیسا سے سرمایہ دارانہ معاشی اور سول حقوق کا مطالبہ کرتے تھے اور commune کو ایک قانون ساز عدلیہ کے طورپر منوانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ سیاسی خود مختاری کے دعوے دار ہوتے تھے او ر صوبہ Provence کے کومیون نے اپنے آپ کو ایک ریپبلک منوانے کے لئے جدوجہد کی یہ اپنی خارجہ پالیسی خود تشکیل دینا تھا اور نوابین کی افواج میں شامل نہیں ہوتا تھے ۔

گاہ گاہ آزاد شہروں کا یہ نظام پھیلتا گیا ، کلیسا اور نوابین نے اس کی آزادانہ حیثیت تسلیم کرلی، یوں سرمایہ دارانہ گروہ جس میں حریص اور حاسد سرمایہ کار تاجر ،پیشہ ور ریاستی نوکر شاہی، ہاری اور اہل دانش سب شامل تھے کو ایک ریاست اندرون ریاست (state with in state) بنانے کا موقع مل گیا۔ اس نظام کے پھیلاؤ کی سب سے زیادہ اور مؤثر مخالفت کلیسا اور مذہبی حلقوں نے کی۔ کلیسا کو یہ احساس تھا کہ commune کی قانون سازی مذہبی قانون کی تنفیذ کو ناممکن بناتا جارہاہے۔ commune تعلیمی میدان میں کلیسا کی بالادستی کو چیلنج کرتا تھا اور کلیسا commune کے قائدین کو دہریہ فکر کے سرخیل گردانتے تھے commune کا انتظامی ڈھانچہ کلیسا کے اقتداری نظام کی ایک مقابل اور مخالف قوت تھی یہ بات بالخصوص اس تنظیم کے لئے درست ہے جس کو guild کہتے تھے ۔ guild مخصوص پیشہ ورں کے اتحاد کا نام تھا اور اس کے اپنے اصول و ضوابط کارفرما ہوتے تھے ۔ guilds عموماً کسی پیر (saint)کے نام سے موسوم ہوتے تھے لیکن رسوم اور رواج کیتھولک (catholic) کلیسا کی تعلیمات سے جدا ہوتے تھے اور guild کی قیادت میں دہریہ دانشوروں کو عموماً پایا جاتا تھا ۔

اس کے برخلاف مطلق العنان بادشاہوں نے آئندہ صدیوں میں guild اور commune کی اعانت کو نوابیں کی قوت توڑنے کے حربہ کے طورپر استعمال کیا ۔

بارہویں ،تیرہویں صدی میں بادشاہوں نے کچھ آزاد شہروں کو اجازت نامے (charters) دیئے ان میں ایک منتخب شہری اسمبلی کے قیام کی اجازت شامل ہوتی تھی، انتخابی حلقہ محدود لیکن متنوع ہوتاتھا اور اس میں پیشہ ور guilds کی نمائندگی اہم ہوتی تھی یہ شہری کونسل ایک قانون ساز مقننہ کاکردار بھی ادا کرتی تھی اور عدلیہ کا بھی ۔سرمایہ کار بھی انتخابی حلقہ (electorate) میں بڑی تعداد میں شامل کئے جاتے تھے ۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فرانس میں پائے جانے والی شہری کونسلوں میں سرمایہ کار اور guilds اکثریت غالب قوتیں ہوتی تھیںفرانسیسی شہری (Marselles) میں جو ضوابط اور اصول مارکیٹ کے عمل کو متعین کرنے کے لئے مرتب کئے گئے، ان میں سرمایہ کاروں ،تاجروں, پیشہ ور ں اور نوابین نوکروں کے مفادات کو محفوظ رکھنے پر یکساں دورنظرآتا ہے اور اس انتظامی (regulatory) نظام کا مقصد مسابقت (competition) کو فروغ دینا نہیں بلکہ مارکیٹی عمل میں شریک تمام گروہوں میں تعاون (cooperation) کو قائم کرنا ہے۔ اس کے باوجود کے مجموعی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو مقدم رکھا گیا۔ یہ اشتراکی سرمایہ دار ادارتی صف بندی کی جانب ایک قدم ہے لیکن اس کے باوجود بڑھوتری سرمایہ کا عمل ارتکاز سرمایہ کو مہمیز دیتا رہا اور گاہےگاہے guilds میں اور شہری کونسلوں میں اقتدار چند سرمایہ کارخاندانوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوگیا ۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا کلیسانے اس دور میں کومیونزاور guilds کی کارفرمائی کے خلاف مزاحمت کی لیکن سرمایہ داری کے فروغ میں کلیسا کا ایک مثبت کردار بھی تھا ،اس نے تاجروں کو زائرین (pilgrions) کادرجہ دیا ،رومن قانون کی تشہیر اور پھیلاؤ میں معاونت کی، بالخصوص رومن commercial law کی بنیادوں پر سرمایہ کاری کے عمل کی مشروط جوازیت (Legitimacy) مرتب کی اور اپنے قانونی نظام میں سرمایہ دارانہ عمل کی حلت کے ضمن میں گنجائش پیدا کی ۔پوپ Innocent III کے دورمیں( 1198تا 1215 ) کلیسا اور بڑے سرمایہ کاروں میں اشتراک عمل عام تھا۔کلیسا کی ریشم کے کاروبار پر مغربی یورپ میں اجارہ داری قائم تھی ۔چرچ سے متعلق راہبانیہ سلسلہ The Tempelaras بین الاقوامی ساہوکار اور بینکر(bankers) بن گیا پوپ Innicent IV )جو 1243میں منتخب ہوا Genoa( کے بہت بڑے سرمایہ کار خاندانوں کی اولاد تھا کلیسا کا انتظامی ڈھانچہ اور اسکا قانونی نظام رومن انتظامی اور قانونی نظام سے ماخوذ کرلیا گیا۔ چرچ کی اپنی نوکر شاہی (beaurocracy) قائم کی گئی جو رومن نوکر شاہی کا چربہ تھی ۔

کلیسا نے ابتداً عادلانہ قیمت کے تصور کی بنیادپر مارکیٹی عمل میں مداخلت اختیار کی جس سے سرمایہ کاروں ،تاجروں ،پیشہ وروں اور صارفین میں تعاون اور اشتراک عمل پر زور دیا جاتا تھا، لیکن جیسے جیسے کلیسا پر بڑے سرمایہ کاروں کا اثر بڑھا مسابقت کو جواز فراہم کیاجانے لگا اور عادلانہ قیمت سے مراد رائج شدہ قیمت لی جانے لگی۔ سرمایہ دار contract کے قانون کی تشریح میں بھی Canon law نے ایک اہم مصالحتی (accumodative) کردار ادا کیا ۔ریاستی قانون law of merchant اور کلیسا کے قانون (ecclesiasted law)میں مماثلت اتنی بڑھی کہ دہریہ وکیل اور مذہبی وکیل(clerics) عوام کی نظروں میں ایک ہی گروہ کے ممبر شمار کئے جانے لگے ۔

12صدی عیسوی تک آزاد شہروں نے بین الاقوامی تجارت کا ایک وسیع جال قائم کرلیا تھا اس نے زر کو سرمایہ دارانہ زر اور بالآخر فائنینس (finance) بنانے کی راہ ہموار کی اب سرمایہ کاروں کے لئے ممکن ہوگیا کہ وہ پیدواری اور تجارتی عمل کو سرمایہ کاری کا ذریعہ بنائیں۔ یہ عمل سود اور سٹہ کے کاروباور کے پھیلاؤ سے جاری ہوگیا ۔گاہے گاہے commune ایک سرمایہ دارانہ کارپوریشن (corporation) کی شکل اختیار کرگئی جس میں اقتدار سرمایہ کاروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا چلا گیا۔ کارپوریشن ایک شخصی قانونی کی حیثیت اختیار کرتی تھی شہری دولت (public property) کی مالک تصور کی جانے لگی۔ اس قانون سازی اور مالیاتی اختیارات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور یہ شہری خارجہ پالیسی مرتب کرنے لگی۔ اس کی ممبر شپ سکٹر رہی اور عوام سے اس کے فاصلے بڑھتے گئے۔

سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کا پھیلاؤ دھیرے دھیرے زرعی پیدواری نظام کو اپنے اندرجذب کرتا چلا گیا۔ زرعی پیدوار کا قابل ذکر حصہ اب سرمایہ دار مارکیٹ میں کھپایا جانے لگا اور بین الاقوامی تجارت کا ذریعہ بن گیا ۔بین الاقوامی تجارت سرمایہ دار قانونی نظام کے پھیلاؤ پر انحصار کرنے لگی اور وسیع قانونی ادب تشکیل پانے لگا جس نے سرمایہ دارانہ ریاستی اور مارکیٹی تنظیم اور ضوابط کا جواز مرتب کیا اس ادب نے مذہب کو ریاستی عمل سے بے دخل کرنے اور سیاسی اختیارات مطلق العنان بادشاہوں کے ہاتھوں میں مرتکز کرنے کی توجیہہ پیش کی اس عمل نے فائنینسز کی گرفت پیدواری نظام پر مستحکم کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس قانونی ادب نے سرمایہ کاروں اور مطلق العنان قومی بادشاہتوں میں اشتراک عمل میں بھی فروغ دیا۔ سرمایہ دارانہ تسلط کے عمل کو جاری رکھنے میں ہمیشہ یونیورسٹیوں کا کردار نہایت اہم رہاہے ۔

Civil lawکی ترویج اور ترمیم کا ایک اہم مقصد مختلف سرمایہ دارانہ گروہوں سرمایہ کاروں پیشہ وروں ،ریاستی نوکروں وغیرہ کے مفادات کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس قانونی نظام کی تنفیذ کے خلاف 1200سے 1400عیسوی کے دورمیں عوامی بغاوتیں عام تھیں (لیکن کلیسا ان بغاوتوں کی حمایت کبھی نہیں کرتا تھا)

اس دورمیں Civil Law کی جو تشریح مرتب کی گئی اس نے مذہبی قوانین کے دائرہ کار کو محدود کردیا۔ اس زمانہ میں مذہبی قانون کی تنفیذ کی ذمہ داری دہریہ ریاستی نظام ہی کی ذمہ داری قرار دی گئی(سوائے ان علاقوں کے جہاں پوپ یا بشپ کو سیاسی غلبہ حاصل ہوتاتھا)۔

سرمایہ دارانہ گروہوں کے باہمی تضادات کو بادشاہی مداخلت سے رفع کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ 1200 کے بعد سے اجرتی مزدوروں کا ایک گروہ بھی قائم اور منظم ہونے لگا اور یہ سرمایہ کاروں اور بڑے پیشہ وروں سے تقسیم آمدنی کومتوازن بنانے کے مطالبہ کرنے لگے (اس دور میں ہڑتالوں کی ابتداء ہوئی ) اس کے علاوہ شہری فائنینس میں بھی بحران آنے لگے اور شہری حکومتیں اپنے قرضہ اور محصولات کی ادائیگی کے قابل نہ رہیں ۔ان دونوں قسم کے تنازعات کو سلجھانے پر بادشاہ اور مرکزی ریاستی قوت کو مداخلت کرنا پڑی اور شروع ہی سے سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کو فروغ دینے میں ریاست کا کردار اہم رہا ہے۔ بالخصوص بینکنگ اور فائنینس کے استحکام اور پھیلاؤ کے ضمن میں ۔سرمایہ دارانہ ملکیت کے نظاماتی تسلط کے قیام میں بھی بادشاہ اور سرمایہ کاروں کا اشتراک عمل فیصلہ کن ثابت ہوا۔سرمایہ دارانہ ملکیت کے پھیلاؤ کے خلاف عوامی مزاحمت کو بغاوت قانوناًجرم قرار دیا گیا اور چودھویں صدی عیسوی میں ایسے باغیوں کو سخت ترین سزائیں دی گئیں جو سرکاری اور شہری زمینوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔دھیرے دھیرے عوام کو ان تمام غیر سرمایہ دارانہ حقوق سے محروم کر دیا گیا جو انہیں جاگیردارانہ (feudal) دورمیں قانوناً اور روایتی طورپر حاصل تھے ۔

1200 تا 1400عیسوی کے دورمیں contract law کا دائرہ مستقل پھیلتا رہا ۔مطلق العنان بادشاہوں نے اس پھیلاو کو اپنے حکم اعلیٰ (sovriagnity) کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا۔ اس دور کے اختتام تک ان کے ہاتھوں میں قانون سازی کے اختیارات مرتکز ہوگئے ،کانٹریکٹ لاء کے پھیلاؤنے پورے معاشرہ پر مارکیٹی تعقل اور تحکیم کو غالب کردیا ۔کنٹریکٹ عمل داری کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ جتنا زیادہ کانٹریکٹ گنجلک (complex) ہوگا اتنے زیادہ اس کے شرکاء کی نشاندہی مشکل ہوگی ۔بالخصوص فائنینشل کانٹریکٹ کے شرکاٗ کی۔ anonymity تووسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی ہے اور derivatives کا کاروبار اس ہی anonymity کو فروغ دیکر پھیلتا ہے ۔ملکیت کا تصور بھی پیچیدہ تر ہوتا چلاجاتا ہے ۔جب تمسکات وحصص اور bill of exchange وغیرہ کی تجارت عام ہوجاتی ہے تو سرمایہ /دولت کی ملکیت کا تعین کرنا مشکل ہوتا جاتا ہے ۔

اصل اہمیت کا کانٹریکٹ کی ساخت (form) کی ہوجاتی ہے۔ کنٹریکٹ کے شرکا کے ارادہ کی نہیں ۔

سن 1200 تا 1400 کے دورانیہ میں سرمایہ کی فائنینشل مارکٹوں کے پھیلاوٗ (financialisation) میں جنوبی اور وسطی یورپ کے یہودیوں نے ایک اہم کردار ادا کیا ۔یہودیوں کی بستیاں تمام آزاد شہروں میں قائم تھیں اور ان کو نوابوںکی سرپرستی عموماً حاصل تھی ۔

ان کو عیسائی ہاریوں اور دستکارکارکنوں کو نوکررکھنے کی ممانعت تھی۔ ان کی اراضی کی ملکیتیں بھی نہایت محدود تھیں، لہذا انہوں نے ساہو کاروں سناروں اور سود خوروں کے پیشے اختیار کئے۔ سودی کاروبار پر یہودی غالب تھے گوکہ اس ضمن میں ان کی اجارہ داری نہیں تھی بہت سے یہودی بہت سے عیسائیوں کے سودی کاروبار مخفی رکھنے کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔

اس پورے دورمیں گاہ گاہ یہودیوں کا قتل عام ہوتا رہتا تھا (Knights عموماً صلیبی جنگوں کے لئے روانہ ہونے سے پہلے اپنے شہر کے یہودیوں کا قتل عام کیا کرتے)اور ان کو شہربدر کیا جاتا رہتا تھا۔ یہودی بستیوں میں غربت اور افلاس عام تھی لیکن یہودیوں نے تجارتی کانٹریکٹ میں سود کو مخفی رکھنے کے نت نئے طریقہ ایجاد کئے ۔

1300عیسوی کے بعد زری معیشت (money economy) نے زرعی شعبہ میں دخول حاصل کرنا شروع کیا۔ زرعی پیدوار اور تجارت میں cash اور زرعی قرضوں credits کا استعمال بڑھنے لگا۔ زرعی شعبہ میں بھی کانٹریکٹ کی بنیادپر معاملات طے کئے جانے لگے، یوں شہری اور زرعی معیشت کو intigegrate کیا جانے لگا۔ زرعی املاک بھی سرمایہ دارانہ خطوط پر مرتب کی جانے لگیں ۔سرمایہ کاروں نے دیہی شعبہ کے افلاس سے بھرپور فائدہ اٹھاکر بڑے پیمانے پر اراضی خریدی ۔

کانٹریکٹ لا کی ایجاد اور پھیلاؤ خالصتاً ریاستی اور سرمایہ کاری وکیلوں کی اختراع تھی ۔عوام تو کانٹریکٹ پڑھ نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ عموماً ان پڑھ تھے اور کانٹریکٹ لاطینی زبان میں لکھے جاتے تھے ۔کانٹریکٹ لاعوام پر ریاست اور سرمایہ کاروں نے جبراً مسلط کیا (یہی بات پاکستان کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے جہاں قانونی نظام کی کاروباری زبان انگریزی ہے اور قانونی مسودے عوام کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے) پوری دنیا میں کبھی سرمایہ دارانہ تغلب عوام کی مرضی کا نتیجہ نہ تھا ۔سرمایہ دارانہ تغلب کی عوامی تائید کوجمہوری عمل کے ذریعے وسعت دینا دھیرے دھیرے کئی صدیوں میں ممکن ہوا ۔

سن 1300 کے آخری چند سالوںمیں یورپ طاعون کا شکار ہوگیا۔ 1381 میں انگلستان میں بڑے پیمانے پر ہاریوں نے بغاوت کردی ۔یہ بغاوت سرمایہ دارانہ دیہی ملکیت کی تحدید کا سبب بنی اور دیہی اراضی کا بڑاحصہ مشترکہ ملکیت (common lands) قرار دیا گیا جس پر سب کو چراگاہیں قائم کرنے کا حق تھا ۔لیکن اس بغاوت کے نتیجہ میں بے روزگار اور بے دخل ہاریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ،زرعی بے روزگاری کے اس اضافہ نے انگلستان میں صنعتی سرمایہ داری کی بنیاد فراہم کی ۔

پندرھویں او ر سولہویں صدی عیسوی سرمایہ دارانہ تغلب کے عروج میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان صدیوں میں دوواقعات نے سرمایہ دارانہ ریاستی تغلب کی بنیاد فراہم کی ایک تو جنوبی اور شمالی امریکہ میں قدیم باشندوں کا قتل عام اور وہاں کی دولت کا لوٹ مار شروع ہوا اور سونا، چاندی دیگر دھاتیں اور اجناس کے یورپ میں انبار لگنا شروع ہوئے، دوسرے جاہلیت خالصہ کی مہلک ترین منہج یعنی سائنس کی دریافت ہوئی۔ نئے نئے آلات کی ایجاد تسخیر کائنات اور بربادی ماحول(rape of the envirnment) کو آسان ترکرکے یورپی پیداواری استطاعت کو دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے کے قابل بناتا رہا۔

1400تا 1600عیسوی کے دورمیں سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ ملکیت نے تقریباً ہر مغربی یورپی ملک میں فیصلہ کن تحکم حاصل کرلیا ۔اس دور میں سرمایہ دار بینکر ،تاجر اور پیشہ ور اجتماعیتوں میں منظم ہوئے اورا نہوں نے قومی ریاستی سطح پر سیاسی غلبہ کی ضرورت کا احساس حاصل کیا ۔فیکٹری نظام کی ابتداء بھی اس ہی دور سے ہوئی ۔سرمایہ دارانہ تاجر سرمایہ دارانہ صنعت کا ر بن گئے اور بڑھوتری سرمایہ کی نئی نئی راہیں کھلنے لگیں ۔جو بے روزگار ہاری زرعی شعبہ سے بے دخل کئے جارہے تھے وہ صنعتی شعبہ میں اجرتی مزدوروں کی فوج کے طورپر شامل ہوئے ۔قومی معیشتوں کی intigeration اور قومی ریاستوں کے استحکام نے سرمایہ دارانہ تجارت اور مارکیٹ کارفرمائی کے فروغ پر لاگو بہت سی رکاوٹیں دور کردیں ۔

ان ہی صدیوںمیں انسان پرست (humanist) فکر نے یورپ میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ یہ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا دور کہلاتا ہے( Humanist فکر کی ایک اہم تشریح Thomas Man کی ایک کی کتاب Utopia میں پیش کی گئی ہے جو 1516میں شائع ہوئی) برطانوی پارلیمنٹ کی فنانشل اور سیاسی قیادتی رول میں اضافہ بھی سولہویں صدی سے ہی شروع ہوتا ہے سولہوی/ سترویں صدی کالیسا میں دوبڑی بغاوت (schison) کا بھی زمانہ ہے یہ Luthar اور Calvin نے اس ہی دورمیں پوپ کو چیلنج کیا بادشاہ کے ہاتھ مضبوط کئے اور Calvin نے سوئزر لینڈ میں ایک نیم سرمایہ دارانہ ریپبلک قائم کرلی ۔1550 عیسوی کے بعد سے یورپ بڑے پیمانہ پر تورم (Inflation) کا شکاررہا اور ارتکاز سرمایہ میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔

اس دور میں تحریک تحدید (enclosure movemnet) کا بھی آغاز ہوا وہ اراضی جو 1388کے بعد سے مشترکہ ملکیت (common lands) کے استعمال کےلیے چھوڑدی گئی تھی اس پر سرمایہ کاروں نے قبضہ کرنا شروع کیا اور تحدید مشترکہ اراضی کی یہ بین الاقوامی تحریک زرعی شعبہ میں سرمایہ دارانہ ملکیت کے قیام کا ایک اہم ذریعہ بنی ۔اراضی کے قوانین (land laws) میں ترمیم کی ضرورت سامنے آئی اور اس کے لئے ایک طاقتور مرکزی ریاست کا قیام ضروری تھا ۔اس دور میں سرمایہ کاروں نے ایک طاقتور ریاست کے قیام کی جدوجہد کو بھر پور اعانت فراہم کی

1660عیسوی میں انگلستان میں اراضی کو ایک سرمایہ دارانہ اثاثہ کے طورپر تسلیم کیا گیا اور اس کی آزادانہ ملکیتی وخرید وفروخت کو قانوناً جائز قرار دیا گیا ۔نئے اراضی کے قانون نے تمام غیر سرمایہ دارانہ ملکیتی حقوق اور فرائض معطل کردیئے۔ ان میں زمینداروں کے وہ فرائض بھی شامل تھے جو ان کو ہاریوں کی اعانت فراہم کرنے پر مجبور کرتے تھے ۔ان مراعات کی تعطلی کے خلاف کئی مقامات پر منظم مزاحمت ہوئی۔ تحریک تحدید (enclusive movement) نے خرید وفروخت اراضی میں بہت اضافہ کیا اور سرمایہ دارانہ زراعت کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔سرمایہ دارانہ زرعی ملکیت کے پھیلاؤ نے بے شمار عیسائی خانقاہوں(monastaries) کو برباد کردیا۔ ہاریوں اور کپڑے کی صنعت کے مزدوروں نے خانقاہوں کے انہدام کو روکنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانیں قربان کیں ۔تحریک تحدید کے خلاف بھی عوامی مزاحمت عام تھی اور عوام کلیسا کو قدیم طرز زندگی کے محافظ کے طورپر عزت دیتے تھے اور اس کو سرمایہ داروں کا حریف سمجھتے تھے۔ 16ویں صدی میں انگلستان کے ایوان بالا (House of Lords) بڑے پیمانے پر پادریوں کو نکالا گیا اور ان کی جگہ سرمایہ داروں کو نامزد کیا گیا ۔تحریک تحدید(enclusive movement) نے انگلستان میں صنعتی انقلاب کی بنیاد ڈالی ۔

اس دور میں ریاست اور سرمایہ کاروں کے ذریعے اشتراک عمل میں قدیم سماجی نظام تباہ کیا گیا۔سرمایہ دارانہ ملکیت غالب آئی اور سرمایہ دارانہ عقلیت کا تحکم قائم کیا گیا۔ اس دور میں انگلستان میں پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیارات میں توسیع کی گئی اور یوں مطلق العنان بادشاہت سے ریپبلکن نظام کی طرف مراجعت ممکن بنائی گئی۔ سرمایہ دارانہ کانٹریکٹ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کارنے معاشرتی روابط کی ترتیب نو کی۔ کانٹریکٹ لا خالصتاً سرمایہ دارانہ ریاست کی تخلیق ہے۔ اس کی تنفیذ کے لئے ریاستی نوکر شاہی (عدلیہ اور انتظامیہ) کے معاشرتی کردار میں اضافہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔سولہویں صدی کے آخر میں خانقاہوں پر قبضہ کی قانونی توجیہہ جو انگلستان میں مرتب کی گئی وہ کانٹریکٹ لا کی تشریح پر مبنی تھی ۔زرعی معیشت میں سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دینے میں سرمایہ دارانہ قانون کے اطلاق اور تشریح نے فیصلہ کن کرادا ادا کیا ۔

انگلستان کے قدیم روایتی قانون (common law) میں law of merchent اور law of contract کو پیوست کیا گیا ۔چانسلر کو یہ حق دیا گیا کہ وہ equity قوانین کی تنفیذ کے ذریعہ قانون سازی کرے۔ ان equity قوانین کا مقصد common law کو سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کا ذریعہ بنانا تھا ۔ equity قوانین کا اطلاق عموماً تجارتی تنازعات کے ضمن میں ہوتا تھا۔ کارپوریشنوں کو اپنے مخصوص عدالتی نظام کے قیام کی بھی اجازت تھی (ان کو merchent courts کہتے تھے۔ غرض کہ بادشاہی ریاست (monarcky)کے توسط سے ایک مستحکم سرمایہ دارانہ قانونی نظام 16ویں صدی انگلستان میں کارفرما تھا ۔

لیکن مطلق العنان بادشاہت ایک سرمایہ دارانہ ادارہ نہ تھا اس نے کلیسا کو بے دخل کرکے زرعی شعبہ میں سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دیکر اور قانونی نظام میں سرمایہ دارانہ اصلاحات کے ذریعہ سرمایہ داروں کے سیاسی غلبہ کی راہ ہموار کی تھی لیکن وہ سرمایہ داروں کے مکمل ریاستی اور معاشرتی غلبہ کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کرتا تھا ۔ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے بادشاہ کے اختیارات کی کمی کی ضرورت تھی اور سترھویں اور اٹھارویں صدی کے کئی بڑے انقلاب برطانیہ 1640 تا 1688 فرانس 1787 اور امریکہ 1776 میں مطلق العنان بادشاہت کے خاتمہ اور ایک جمہوری ریپبلکن ریاست کے قیام کا ذریعہ بنے .

فرانس میں سرمایہ دارانہ ریاستی غلبہ کا اعلان Code Napolian کے اجراسےہوا جو مارچ 1804 میں نافذ ہوا ۔اس code نے سرمایہ دارانہ تصور کانٹریکٹ اور سرمایہ دارانہ تصورملکیت کو من وعن قبول کیا اور ان کی عمومی معاشرتی تنفیذ کی ذمہ داری قبول کی ۔1789 کے انقلاب کو برپا کرنے میں سرمایہ دارانہ سرمایہ کاروں، دانش وروں ،مزدوروں اور کسانوں سب نے حصہ لیا تھا اور اس انقلابی جدوجہد کی مذہبی حلقوں کے علاوہ دیگر غیر سرمایہ دارانہ عوامی گروہوں کی حمایت بھی حاصل تھی لیکن Code Napolian میں جس قانونی اور ریاستی تحکمی نظام کی تشکیل کی گئی وہ خالصتاً سرمایہ کاروں کے مفادات کا غماز تھا ۔انقلاب تو تمام سرمایہ دارگروہوں کی متحدہ جدوجہد کا نتیجہ تھا، لیکن Code Napolian اس بات کا اعلان تھا کہ سرمایہ کاروں نے تمام دیگر سرمایہ دار گروہوں بالخصوص ہاریوں اور مزدوروں کو شکست دے دی ہے ۔سرمایہ کاروں نے جو ریاستی نظریہ (state ideology) آخر کار اپنایا وہ Montesquese کی فکر سے اخذ تھا ۔

سترھویں صدی کی ابتدا سے فرانس میں ریاستی نمائندگی کا ایک نظام فعال تھا Estate general کے نام سے ایک قومی سطح کا ادارہ موجود تھا جس میں تین گروہوں نوابوں اور مذہبی پیشواؤں اور Commons کو نمائندگی حاصل تھی اس ادارہ کے اجلاس بادشاہ وقتاًفوقتاً مشاورت اور ٹیکسوں کی منظوری کےلئے طلب کرتا تھا ۔ Communs s میں سرمایہ کار پیشہ ور طبقہ دانشور ،دستکار اور چھوٹے زمینداروں کے نمائندہ شامل تھے communs . کی قیادت عموماً سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں ہوتی تھی ان کی کوشش ہوتی تھی کہ نوابین کے خلاف اپنی جدوجہد کی تائید میں عوام کو متحرک (mobilze) کرتے رہیں ۔

سرمایہ کاروں کے نظریاتی تفوق میں مونٹسکیو کی فکر اور قانون دانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس فکر اور اس گروہ کے ذریعے ہی سے سرمایہ کاروں نے غالب عیسائی فکر اور معاشرت کو نیچا دکھایا ۔مونٹیسکیو کو فرانسیسی بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کا وکیل کہا گیا ہے۔ 1789کے فوراً بعدEstates general میں اقتدار قانون دانوں کے ہاتھوں میں مرتکز تھا۔بادشاہی دور میں ایسی قانون سازی ہوچکی تھی جس نے تجارتی اور صنعتی شعبہ contract law اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحکم قائم کردیاتھا۔ قانونی نظام میں یہ نت نئی تبدیلیاں فائنینس (finances) کے فروغ میں بہت اہم ثابت ہوئیں. اگست 1789 میں قومی اسمبلی میں جو قانون زرعی اراضی کی مبینہ ضبطی کےضمن میں پاس کیا گیا وہ عملاً زرعی شعبہ میں سرمایہ دارانہ ملکیت کے فروغ کا ذریعہ بنا ۔نوابوں کی زمین ضبط نہیں کی گئی بلکہ خرید وفروخت کا ذریعہ قرار دی گئی اور یہ خریدو فروخت سرمایہ دارانہ کانٹریکٹ معاہدوں کے تحت منظم کی گئی ۔اراضی کی جبراً ضبطی ایک انقلابی نعرہ تھا جو کبھی عملاً حقیقت کا روپ نہ دھار سکا بہت کم ہاری زمین خریدنے کی استطاعت رکھتے تھے اور وہ اجرتی مزدور بننے پر مجبور ہوگئے ۔صرف کلیسا اور بادشاہ کی اراضی پر جبراً قبضہ کیا گیا اور یہ زمین بھی نیلام کےذریعہ سرمایہ کاروں کو فروخت کردی گئی۔ جو نواب ملک چھوڑکر بھاگ گئے تھے ان کی اراضی پر بھی سرمایہ کاروں کا قبضہ ہوگیا۔

انقلاب کی قوت محرکہ فائنینسز(Financiers) تھے جن کو اس بات کا خطرہ تھا کہ انہوں نے نوابوں اور ریاست کو جو قرضے دیئے ہیں وہ ادا نہ کئے جاسکیں گے اور وہ دیوالیہ ہوجائیں گے لہذا انہوں نے commons کی انقلابی جدوجہدمیں قائدانہ رول ادا کیا ۔ فائنینسز نے مارکیٹی اصولوں کی کارفرمائی کو مستحکم اور رائج شدہ نظاماتی پابندیوں کو توڑنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ۔ guilds کے نظام کا انہدام فائنینسز اور دیگر سرمایہ کاروں اور مزدوروں کے تعاون کا نتیجہ تھا لیکن 1791 میں منظور شدہ قانون نے مزدوروں کے سماجی حقوق کو تسلیم نہیں کیا ۔

19ویں صدی میں سامراجی ملکوں (فرانس ،امریکہ ،برطانیہ اور جرمنی)میں سرمایہ دارانہ تغلب معاشرت اور ریاست غالب آچکی تھی اور عالمی سرمایہ دارانہ غلبہ سامراجی تحکم کی شکل اختیار کرچکا تھا ۔بین الاقوامی تجارت اور مواصلاتی نظام سرمایہ دارانہ خطوط پر مرتب ہوگئے تھےاور انسانیت کی عظیم اکثریت کے بیشتر معاشرے گوکہ غیر سرمایہ دارانہ طرز زندگی نہیں اپنائے ہوئے تھی لیکن سرمایہ کا تحکم عالمگیری تھا اور سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) اور سیاسی ادارہ سازی کی کوئی قابل ذکر قوت مقابلہ کرنے کے لئے باقی نہیں رہی تھی ۔اس لئے اس دور کو(جو 1914 میں ختم ہوا) Pax Britanica کہتے ہیں۔

انیسویں صدی کے ابتدائی دورمیں سرمایہ کا روں کو یہ گمان تھا کہ ان کا گروہ بلاشرکت غیرے نظاماتی اقتدار کا مالک رہ سکتا ہے اور اقتدار میں کسی دوسرے سرمایہ دارانہ گروہ کو شریک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔لیکن 1870 کی دہائی سے انگلستان میں اور بعد میں دوسرے سرمایہ کارانہ تغلب کے ممالک میں یہ تاثر زائل ہونے لگا اور صنعتی مزدوروں (جو آبادی کا تیزی سے بڑھتا ہوا حصہ تھے ) کے سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کےلئے قانون سازی کی جانے لگی ۔اس قانون سازی کا جوازوہ مکتب جسے Neo classical economics کہتے ہیں فراہم کرتی ہے ۔

18 ویں اور 19ویں صدی کے ابتدائی دورمیں مزدوروں کی حالت بہت ابتر تھی اور وہ سرمایہ دارانہ ظلم اور استحصال کا شکار تھے۔ 1820 سے لیکر 1910 تک بیشتر سرمایہ کارانہ تغلب والے ملکوںمیں ایسی قانون سازی عمل میں آئی جس نے مزدوروں کو ملازمتی تحفظ ،صحت اور تعلیم کی سہولتیں ،یونین سازی اور اجتماعی سودا کاری کے حقوق اور قومی بیمہ کاری National insurance کی مراعات فراہم کی گئیں۔

اس دورمیں کئی سرمایہ دارانہ ریاستوں میں صنعتی مزدور سرمایہ دارانہ تنظیموں میں متحد ہوئے۔ یہ تنظیمی ٹریڈ یونین (trade unions) بنیں اور ان کی جدوجہد کا مقصد مزدوروں کے سرمایہ درانہ حقوق کا تحفظ اور اجرتوں کی” منصفانہ” فراہمی کا فروغ تھا۔ یہ احساس بہت جلد عام ہوگیا کہ محض فیکٹری اور مخصوص صنعت تک اگر یہ جدوجہد محدود رہی تو کامیابی کے امکان نہیں ہیں، لہذا مزدوروں نے اپنی سیاسی جماعتیں بنانا شروع کردی ۔

یہ سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ پارٹیاں تھیں اور ان کا ایک اہم مطالبہ رائے دہندگان (electorate) کی تعداد میں اضافہ تھا۔ یہ مطالبہ بتدریج تسلیم کیا جاتا رہا اور بیسویں صدی کی ابتدا تک کلی طورپر نافذ ہوگیا ۔جب سے اب تک تمام سرمایہ دارانہ ممالک میں بالغ رائے دہی (Universal Sufferage) کی بنیاد پر جمہوری نظام کارفرما ہے ۔

بیسویں صدی میں کئی ممالک میں اور کئی مرتبہ سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ پارٹیاں بلا شرکت غیرے اقتدار میں بھی آئیں اور انہوں نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مشترکہ حکومتیں بھی قائم کیں۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں سے سرمایہ داری کا جمہوری عمل پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے ۔

سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں کا سنہری دور 1945 تا 1973 تھا جب بیشتر اہم سرمایہ داروں ممالک میں Keynsian پالیساں اختیار کی گئیں اور یونینوں کے سیاسی اختیارات بڑھ گئے 1973 کے بعد سے عالمی سرمایہ دارانہ نظام stagflation کا شکار ہوگیا اور Keynsian پالیسیاں بے روزگاری اور تورم (inflation) میں اضافہ کو روکنے میں ناکام نظر آنے لگیں ۔

اس کے رد عمل کے طورپر یونینوں کے اختیار ات کو محدود کیا گیا اور کچھ سوشل ڈیموکریٹ پالیساں رد کی گئیں لیکن جو فلاحی مراعات عوام کو دی گئی تھیں وہ کم نہ کی جاسکیں ۔زر اور financials کی ملکی اور بین الممالک ترسیل پر سے تقریباً تمام پابندیاں ہٹا لی گئیں جس کے نتیجہ میں ملکی اور نجی قرضے بہت بڑھ گئے ۔یہ پورا دور 1989 تا 2023 کی شدید بحرانوں سے دوچار ہوا جن میں دو 2008-2009) اور حالیہ بحران جو 2020 سے شروع ہوا ہے عالمی نوعیت کے تھے۔ ان بحرانوں کے نتیجہ میں ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک ) امریکہ، ہنگری،پولینڈ ،فرانس،اسرائیل اور بھارت میں( استبدادی سرمایہ دارانہ تحریکوں جنہیں Paleo Conservatism کہتے ہیں کو عوامی پذیرائی حاصل ہوئی (دیکھئے باب 2)یہ neo libralism کی ایک نئی تعبیر ہے جو قوم پرستی کا عروج ظاہرکرتی ہے ۔اور اس تحریک کی کامیابی کے نتیجہ میں عالمی انتشار اوربڑھ گیاہے۔ دوسامراجی سرمایہ دارانہ قوتوں امریکہ اور چین میں ایک نئی سرد جنگ چھڑنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس دورمیں سائنسی جاہلیت کے عروج کے نتائج وباؤں کے پھیلاؤ مواصلات کی اجارہ کاری اور ماحولیاتی ابتری کی شکل میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔

ان بحرانوں اور خطرات کے پیش نظر سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی تضادات مستقل بڑھ رہے ہیں۔ کئی سامراجی ادارے NBER,OECD,IMF وغیرہ مدت سے عالمی سرمایہ دارانہ پیدواری نظاموں میں مستقل کمی بے روزگاری اور آمدنی اور دولت کی غیر مساویانہ تقسیم میں اضافہ کی مدت سے پشن گوئی کررہے ہیں۔ آزاد مارکیٹیوں پر اجارہ داری چھائی ہوئی ہے اور ریاستی مداخلت پر ان کا انحصار مستقل بڑھ رہاہے ۔کچھ محققین یہاں تک کہتے ہیں کہ مستقبل میں اس بات کا امکان ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ دارانہ مارکیٹ کا متبادل ثابت ہو اور روس اور چین اس نوعیت کی تبدیلی کو ایک مخصوص طرز پیدوار کی کارفرمائی سے منسلک کرتے ہیں ۔

تسلسل سے جاری پیدواری ارتقاء معاشی استحکام اور تقسیم آمدنی دولت میں توازن سرمایہ دارانہ نظام کی عوامی جوازیت (polpular legitimacy) کو فروغ دینے کے لئے عموماً ضروری سمجھا گیا ہے۔ حالیہ بحران ( 2008 سے شروع ہوکر آج تلک جاری رہنے والے بحران( سرمایہ دارانہ تاریخ میں منفرد ہے۔ ان بحرانوں کے تین کلیدیرجحانات ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔تقسیم دولت اور آمدنی کی بڑھتی ہوئی نامساویت گرتی ہوئی شرع نمو(GDP growth) کو تقویت پہچاتی ہے اور گرتی ہوئی شرع نمو کے نتیجہ میں ریاستی اور نجی قرضہ جاتی حجم میں ہوشربا اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے جس سے مالیاتی اور مالی استحکام متاثر ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہےکہ حالیہ بحران سرمایہ داری کے روایتی تجارتی چکر (trade cycle) کی طرح کا نہیں، یہ فی الواقع نظاماتی بحران ہے اس نظاماتی بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ کار وہ عوامی مراعات بڑے پیمانہ پر منسوخ کردیں جو سوشل ڈیموکریسی کے دورمیں دی گئی تھیں ۔اس عمل کو سامراجی ادارہBank of International Settelment (BIS) , “exchange flexibility “ کہتا ہے.

ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں حتی کہ چین میں بھی یہ ناممکن ہے۔ سرمایہ دارانہ فکر میں عوامی تائید کے حصول کو ہمیشہ سے ضروری سمجھا گیا ہے )دیکھیئے باب نمبر1( اور جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کا جزولاینفک مانا گیا ہے ۔جاہلی علمیت اور نظریات کے فروغ نے عوام کے بڑے حصہ کو حرص اور حسد کا اسیر بنا دیا ہے اور عوام کی قیادت تو تقریبا ً بالکلیہ حریص اور حاسد)یعنی سرمایہ داروں( کے ہاتھوں میں مرتکز ہوگئی ہے ۔مذہبی گروہ یا تو بالکل بے بس اور لاچار کردیئے گئے ہیں یا وہ بھی سوشل ڈیموکریٹ ایجنڈا اپنائے ہوئے ہیں، لہذا عوامی تائید سرمایہ دارانہ مراعات کی فراہمی سے وابستہ ہوگئی ہے ۔

1980 کے بعد سے سرمایہ کاروں کی حکومتوں نے عوامی سرمایہ دارانہ مراعات کم کرنا شروع کی ہیں تو سیاسی عمل میں عوامی شرکت میں واضح کمی آئی ہے ۔بیشتر ممالک میں انتخابات میں ووٹروں کی شرح گری ہے اور معروف (mainstreame) سیاسی جماعتوں سے مایوسی اور انخلا کا عمل جاری ہے۔ 21ویں صدی میں انتہا پسند قوم پرست جماعتوں کا عروج بھی شروع ہوگیا اور یہ بھی جمہوری عمل سے عوامی مایوسی کا ایک اظہار ہے Colin Crouch نے اسے "پس جمہوریت" (post democracy) کا دور کہاہے ۔ٹیکس ادائیگیوں میں بھی کمی آئی اور ایسے بین الاقوامی سامراجی اداروں (FATF,WIPO,WTO,EU,IMF) وغیرہ کا اثر بڑھا اور جو جمہوری عمل سے لاتعلق ہونے کے باوجود ریاستی اختیارت کو غصب کرتے ہیں ۔قومی غیر جمہوری اداروں بالخصوص مرکزی بینکوں کا اثر ورسوخ بھی بہت بڑھا ۔سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا ایک گروہ عوامی تائید کے اس زوال کو پسندیدگی کی نگاہ سے بھی دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی حاکمیت کے لئے یہ ناگزیر ہے ۔

دورحاضر میں سرمایہ دارانہ بحرانوں کے گہرے ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں کیونکہ دیگر بحرانی ادوار کے برخلاف آج سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دینے کی کوئی قابل عمل دوسری ایسی حکمت عملی تجویز نہیں کی گئی جو موجود طرز سرمایہ کاری (regime of accumulation) سے مراجعت ممکن بناسکے( 1930کی دہائی میں جب neo classical پالیسیاں ناکام ثابت ہوئیں تو ان کی جگہ Keynesian پالیسیوں نے لے لی تھی لیکن سرمایہ داراتی نظاماتی انہدام کا عمل رفتہ رفتہ اور قدم بقدم آگے بڑھ رہاہے اور ہر انہدامی عمل کے رد عمل کے طور پر مارکیٹی اور ریاستی وقتی اصلاحات نافذ کی جارہی ہیں ۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عمل اور رد عمل کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور یہ بھی بالکل ممکن ہے کہ اس کشمکش کے نتیجہ میں ایک نیا سرمایہ دارانہ طرز بڑھوتری (regime of accumulation) غالب آجائے ۔

یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ جمہوریت اور سرمایہ داری کا تعلق حادثاتی (contigent) ہے لازمی نہیں ہے، سرمایہ داری خدا سے بغاوت اور حرص وہوس کی پرستش کو عام کرنے والا نظام اور طرز زندگی ہے ۔ان اوصاف خبیثہ کا معاشرتی پھیلاؤ عوامی تائید کے بغیر ممکن نہیں لہذا اپنے ہر دورمیں سرمایہ داروں نے عوامی تائید حاصل کرنے کی جدوجہد کی ہے لیکن اس تائید کی نوعیت اور مقدار میں کمی بیشی آتی رہی ہے ۔مثلاً 13-12ویں صدی کے Naples میں یہ تائید علامتی اور نہ ہونے کے برابر تھی ۔موجودہ امریکہ میں اپنے عروج کو پہنچی ہوئی ہے ۔پھریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری عمل کو خدا کی بغاوت کے خلاف بغاوت(negation of the negation ) برپا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔جیسا آج اسلامی ایران میں ہورہاہے(اور ان شاء اللہ کل پاکستان میں ہوگا)کوئی وجہ نہیں کہ ایک نو دریافتہ طرز بڑھوتری (regime of accumulation) جمہوری عمل کی سخت تردید نہ کردے جیسے جیسے سرمایہ دارانہ ترقی کی رفتار گرے گی ویسے ویسے دولت اور آمدنی سرمایہ کار اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوگی اور عوام میں حرص اور ہوس کےرجحانات فروغ پائیں گے ۔سرمایہ دارانہ روحانیت اور علمیت کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں عوام اور خواص کا ایک بڑا حصہ ان اوصاف خبیثہ کو اپنا چکا ہے جب تک یہ ذہنیت اور روحانیت غالب ہیں اس بات کے امکانات موجود رہیں گے کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات کا اپنے تمام تر داخلی تضادات کے باجود کا احیاء (reiuvination)ہوتا رہے ۔

سرمایہ داری کا مدمقابل ہمیشہ سے مذہب ہی رہا ہے ۔یہ ایک مذہبی معاشرت اور ریاست کو مسخر کرکے ہی غالب آیا اور (جیسا کہ ہم نے دیکھا ) تاریخ کے ہردور میں اس کی مخالفت مذہبی افراد اور گروہوں نے کی ہے کیونکہ انسان پرستی کی رد خداپرستی کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔آج بھی سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو چیلنج صرف اور صرف مذہبی روحانیت اور عقلیت ہی کرسکتی ہے۔

لیکن اسلام کے علاوہ تمام مذاہب عالم ،عیسائیت ،یہودیت ،ہندومت ،بدھ ازم سرمایہ دارانہ نظام حیات میں ضم ہوگئے ہیں ۔معاشرتی طور پر انہوں نے دہریت (secularism) کی بالادستی کو قبول کرلیا ہے اورنظریہ toleration کے پیروکار ہوگئے ہیں، ان کا اپنا کوئی ریاستی محاکمہ موجود نہیں وہ یا تو لبرلزم کے وکیل ہیں یا قوم پرستی کی مذہبی توجیہہ بیان کرتے ہیں ۔

مسلمانوں میں بھی سرمایہ دارانہ غلبہ کو قبول کرنے کے نقیب اوروکیل موجود ہیں ۔لیکن علمائے کرام اور صوفیاء عظام کی صدیوں سے جاری جدوجہد کے نتیجہ میں اسلامی علمیت اور روحانیت محفوظ ہے اور سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت (rationality) اور روحانیت نے اس عظیم قلعہ میں جودراڑیں پیدا کی ہیں ان کو رفع کرنا ممکن ہے۔ لہذا سرمایہ داری کو آج اصل خطرہ احیاء اسلام ہی سے ہے اور سامراج کے سرخیل یہ ہم سے بہتر طورپر جانتے ہیں ۔

انہدام سرمایہ داری کی شعوری جدوجہد مسلم ممالک میں شروع ہوچکی ہے آج ان ممالک میں مذہبی اور روحانی بیداری کی ایک طاقتور لہر آئی ہوئی ہے اور کروڑوں مخلصین دین ایک اسلامی طرز زندگی اپنارہے ہیں۔ اس بات کا احساس بھی ہے کہ ریاستی اقتدار کے حصول کے بغیر نہ اسلامی انفرادی شناخت محفوظ رہ سکے گی نہ اسلامی معاشرت پنپ سکے گی ۔اسلامی سیاسی جماعتوں میں جمہوری طریقوں سےاور مجاہدین اسلام عسکری جدوجہد کےذریعہ غلبہ دین کے لئے کوشاں ہیں۔ ان تمام اسلامی قوتوں کو ایک انقلابی حکمت عملی کی بنیاد پر مجتمع کیا جائے تو سرمایہ دارانہ تغلب کو مؤثر انداز میں چیلنج کیاجاسکتا ہے گوکہ یہ لڑائی لازماً کئی صدیوں پر محیط ہوگی۔

موج مضطر کس طرح بنتی ہے جوئے شیر دیکھ

4.2۔سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست

سرمایہ دارانہ نظام ایک مخصوص انفرادیت ،معاشرت اور ریاست تخلیق کرتاہے ۔سرمایہ دارانہ نظام ان غیر جبری تعلقات کامربوط جال ہے جس کا مرکز اور محور مارکیٹ ہے۔سرمایہ دارانہ ریاست وہ تحکیمی ادارتی صف بندی ہے جو سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کی تنظیم سازی کو ممکن بناتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام زندگی ایک کلیت(totality) ہے جس میں سرمایہ دارانہ طرز زندگی اپنانا فطری (natural) ہوتا چلا جاتا ہے اور غیر سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کے پنپنے کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے جاتے ہیں۔اس کلیت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کی حاکمیت(sovreigenity) غیر محدود اور غیر مشروط ہو۔ اس مطلق العنان حاکمیت (sovreigenity) کے اظہار کے لئےوہ کئی ذرائع استعمال کرتی ہے جس میں قانون سب سے اہم ہے(دیکھیئے اس باب کا اگلا سیکشن)

سرمایہ دارانہ معاشرت کی تنظیم (formation) کا نٹریکٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔کانٹریکٹ سرمایہ کے تحکم کو آزادی اور مساوات کے پردوں میں ملفوف کرتاہے، عملاً ہرشخص سرمایہ کی غلامی پر مجبور ہوتا ہے لیکن کانٹریکٹ اس مجبوری کو کانٹریکٹ کنندگان کے آزادانہ اور مساویانہ انتخاب کا نتیجہ گردانتا ہے۔ کانٹریکٹ کنندگان اصولاً آزاد اور عملاً غلام ہوتا ہے، اس اصولی آزاد اور عملی غلامی کے پشت پر ریاستی قوت (force) ہوتی ہے ریاست جس مساوات کی صنعت سازی (manufacturing) کرتی ہےاور یہی اصولی آزادی اور عملی غلامی ہے ۔ہر سیٹیزن مساوایانہ طورپر سرمایہ کا ایک آزاد غلام ہوتا ہے سرمایہ دارانہ معاشرت میں آزادی اور مساوات کے اور کوئی معانی نہیں ہوتے ۔سیٹزن کا ہر عمل ریشنل ہوتا ہے یعنی اس کا واحد مقصد اپنے سرمایہ ) حرص اور حسد( میں اضافہ ہوتا ہے ۔

جب ہر سیٹیزن اپنے ذاتی سرمایہ (حرص اور حسد) کی بڑھوتری کی جدوجہد کرتاہے تو تصادم کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور مسابقتی (competative) عمل کے جاری رہنے کا نتیجہ نظاماتی انتشار(chaos) میں ظاہر ہوسکتا ہے ۔آدم سمتھ کا خیال تھا کہ ایسانہیں اور ایک دست غیب (invisible hand) مسابقتی کشمکش منظم کرتی ہے جویہ خود معاشی استحکام (equilibrium) پیدا کرنے کا ضامن ہوتی ہے۔ تاریخ نے یہ رائے غلط ثابت کی اور نظاماتی انتشار کو دفع کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ ریاست کو معاشی اور معاشرتی عمل پر اپنا تحکم قائم رکھنا پڑا ہے، اس تحکم کا ریشنل مقصد بڑھوتری سرمایہ عمومی (rate of accumulation of capital in general) ہے ۔

اصولاً سرمایہ دارانہ ریاست کو سرمایہ عمومی(capital in general) کا آلہ کارہونا چاہئے اس کو "ریاستی غیر جانبداری " (state autonancy) کہتے ہیں یعنی ریاست کسی ایک سرمایہ دار دھڑے اور سرمایہ داروں کے کسی ایک گروہ یا نوکر شاہی یا مزدوروں یا متوسط طبقہ کے مفادات کو نہیں بلکہ تمام سرمایہ داروں کے اجتمای مفادات کو فروغ دینے کی ذمہ دار ہے ۔عملاً ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے اور کوئی ایک سرمایہ دارانہ دھڑا ریاست پر قبضہ کرلیتا ہے اور جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مخصوص مفادات کو عمومی سرمایہ دارانہ مفاد کے طورپر منوانے کی کوشش کرتا ہے ۔

چونکہ سرمایہ دارانہ معاشرت اصولاً آزادی اور مساوات کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے لہذا اس میں یکسانیت کا عروج ہوتا ہے۔ ہرسیٹیزن دوسرے سیٹیزن کا عکس نظر آتا ہے۔ سب کا مقصد حیات بڑھوتری سرمایہ اور سب کے مساوی سرمایہ دارانہ حقوق اور فرائض یکساں ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرت ایک mass society ہوتی ہے۔ سیٹیزن کا یہ ہجوم(mass) اشیاء (commodities) کے اس ہجوم (mass) کے حصول کی جدوجہد میں اپنی زندگی کھپاتا رہتاہے جو مارکیٹ میں ایک سیلاب کی طرح امڈتی رہتی ہیں ۔یہ اشیاء بھی ان معنوں میں یکساں ہوتی ہیں کہ ان کے پیدواراور تقسیم کا واحد مقصد بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنا ہوتا ہے ۔

جو جاہلی علمیت ہجوم(mass) کا مطالعہ کرتی ہے اس کو demography کہتے ہیں اس کا خالق Thomos Malthus اور اس کا کلیدی تصور population ہے پا پولیشن وہ ہجوم ہے جس کی یکساں خصوصیات اور میلانات کو عددی (quantitative) بنیادوں پر شمار کرتے رہنا demography کا دائرہ کار ہے۔ demography جس سوال کا جواب دیناچاہتی ہے وہ یہ ہے کہ population میں نظم (order) کیسے پیدا کیا جا سکتااورکیسے قائم رکھا جاسکتا ہے ۔ پا پولیشن کو شمار کرنے کا مقصد اس کو سرمایہ دارانہ معاشرت میں ضم کرنے کے لئے کنٹرول کرنا ہے ۔

پا پولیشن سرمایہ دارانہ معاشرت کی پہچان ہے اور سرمایہ دارانہ معاشرت سے مخصوص ہے، کیونکہ اس ہی معاشرت میں افراد تنہا کرکے مساویانہ حقوق اور فرائض کے حامل بنادیئے جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کے عروج سے قبل پو پولیشن کا تصور بالکل اجنبی تھا ہماری یہ عیسائی تاریخ میں آدم شماری (census)کبھی نہیں کی گئی اور پو پولیشن صرف ان معاشرتوں میں متصور کی جاسکتی ہے جہاں یکساں سرمایہ دارانہ حقوق او ر فرائض کے حامل ان لاتعداد اشیاء (commodities) کے حصول کی تلاش میں اپنی زندگی صرف کرتے ہیں جو بڑھوتری سرمایہ کے عمل کوجاری رکھنے کےلئے پیداوار تقسیم کی جارہی ہیں سرمایہ دارانہ ریاست پو پولیشن کو منظم کرکے ہی اپنا تحکم برقرار رکھتی ہے اشیاء کی طرح افراد)سیٹیزن ( کی ہجومی پھیلاؤ ( mass production) سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے ۔سرمایہ کی بڑھوتری کو فروغ دینے کے لئے ضروری تھا کہ انسانیت کو بھی سرمایہ کاری کا ایک جزو بنایا جائے ۔اس کو (human capital formation)کہتے ہیں اور 18ویں صدی کے انگلستان میں یہ خیال عام تھا کہ دیہی مفلوک حال مزدور جو شہروں میں آبادہورہے ہیں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا ایک نہایت اہم ذریعہ (source) ہیں ۔عمومی بالغ رائےدیہی (Universal suffrage) کا انعقاد اور دیگر جمہوری اصلاحات بھی پو پولیشن کو جاننے اور اس کو کنٹرول کرنے کے اہم ذریعہ کے طورپر تفویظ کئے گئے ۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے دو پہلو ہیں ۔اس غلبہ کے نتیجہ میں ایک طرف دولت کو سرمایہ میں سمو دیا گیا اور دوسرتی طرف انسانیت کو پویلیوشن میں تبدیل کیا گیا ۔سولہویں صدی کے آکر سے یہ پیولیشن اجرتی مزدور بنتی چلی گئی سرمایہ دارانہ پیدواری عمل کے نتیجہ میں مشین مزدوروں کی جگہ لیکرن ان کو بے دخل کرتی رہتی ہے ۔اس کے نتیجہ میں جو بے روزگاری پیداہوئی ہے وہ اجرتوں کوکم رکھتی ہے اور منافع کو بڑھاتی ہے لیکن سرمایہ دارانہ ملکوں میں سوشل ڈیموکریٹ حقوق کی فراہمی کے بعد یہرجحان متاثر ہوا ہے اور اب غیر سرمایہ کاروں کے قومی آمدنی کے حصہ میں کمی کرنا ممکن نہیں رہا ۔یہ بھی ایک سرمایہ دارانہ نظاماتی تضاد ہے جس کا کسی حد تک تدارک ترقی یافتہ ممالک کی گرتی ہوئی آبادی سے ہوتا ہے(لیکن اس کے نتیجہ میں پینشن لینے والوں کی تعداد مستقل بڑھ رہی ہے)۔

پو پولیشن کو کنٹرول کرنا سرمایہ دارانہ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔یہی ریاستی انتظامیہ (state administration) کا اصل دائرہ کار ہے اس کنٹرول کے لئے جاہلی علم نفسیات (psychology) نے ایسے تصورات 19ویں صدی کے آخر میں ایجاد کئے جو انسان کی ذہنی صلاحیت کو ایک عمومی صلاحیتی پیمانہ (intellecgece qoutient) کی بنیاد پر ناپ سکتے ہیں اور جن کی پیمائش سے ایک نارمل (normal) ہیومن بینگ یعنی سرمایہ دارانہ انفرادیت کا تصور برآمد ہوتا ہے ۔ایک نارمل ہومن بینگ وہ ہے جو بڑھوتری سرمایہ کو عقل کا تقاضا سمجھتا ہے اور جن کا عمل بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کی کارفرمائی کا مقصد اسی نارمل سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تخلیق اور اسکی عمومیت ہے ۔

سرمایہ داری ایک کلیتی (totalising) نظام اور طرز حیات ہے جس کا محور اور مرکزی عمل بڑھوتری سرمایہ ہے ۔کوئی بھی معاشرہ کلیتاً سرمایہ دارانہ نہیں ہوتا اور انفرادیت اور معاشرت کے بہت سے پہلو سرمایہ دارانہ جاہلی تعقل (rationalisation) کی گرفت سے آزادہوتے ہیں ۔1970 کی دہائی میں پیش کردہ ragulation theory اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے اور اس نے جو social structure of accumulation process کا تصور پیش کیا ہے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرتی ہئیت (social structure) کے کون سے عناصر ایک مخصوص نظم بڑھوتری (regime of accumulation) سے ہم آہنگ ہیں اور یہ ہیئتیں (یعنی سرمایہ دارانہ معاشرت) سرمایہ دارانہ ریاستی کارفرمائی کو متاثر کیسے کرتی ہیں ۔ ریگیولیشن نظریہ اس عمل کو (co-determination of accumulation process ) کہتا ہے اور اس کے یہ معنی لئے جاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام ریاست اور معاشرت کسی نہ کسی حد تک خود انحصاری (relatively autonomous) ہوتے ہیں ۔

مشہور اطالوی مارکسٹ انٹونیوگرامچی (Antonio Gramsci) اس رائے سے اتفاق نہیں کرتااور اس کی رائے میں سرمایہ دارانہ ریاست ایک ایسی کلیت ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرہ کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ گرامچی کا تصور hegemony اسی رائے کا عکاس ہے .

Bob Jesscop کی رائے میں سرمایہ دارانہ ریاست کے دومنفرد فرائض (functions) ہیں ایک تو یہ کہ وہ قومی سطح پر احساس یکجہتی پیدا کرے جس کی بنیادپر بیرونی ریاستی اور غیر ریاستی مفروضہ دشمنوں سے مزاحمت جاری رکھی جاسکے ۔دوسرے ملک کے اندر سرمایہ دارانہ عمل کی ایسی تنظیم جو بڑھوتری سرمایہ کو مستقلاً جاری رکھ سکے ۔یورپی تاریخ میں پہلا فریضہ قوم پرستی کو فروغ دے کر حاصل ہوتا ہے اور دوسرا سرمایہ کاری کی راہ کی رکاوٹوں کو منہدم کرکے ۔ان دونوں فرائض (functions) کی انجام دہی متصادم بھی ہوسکتی ہے مثلاً امریکہ میں قوم پرستی کا فروغ عالمی سرمایہ دارانہ نظم کو خطرہ میں ڈال رہاہے اور ان دونوں فرائض کی ادائیگی میں توازن رکھنے کے لئے سرمایہ دارانہ ریاست کو معاشرتی قوت سے مصالحت (compromise) کی ضرورت پڑتی ۔سرمایہ دارانہ ریاست ہمیشہ تغیراتی عمل سے گزرتی رہتی ہے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) اور روحانیت انسان کو ہیومن بنانے کے لئےعمل پیداوار اور عمل تبدل (exchange system) کو استعمال کرتی ہے ۔جتنا زیادہ معاشرہ میں سرمایہ دارانہ عمل پیدوار اور عمل تبدل حاوی (dominent) ہوگا اتنا زیادہ سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality)اور روحانیت انفرادی زندگی پر غالب آئےگی۔مارکیٹ اورمنصوبہ بندی (plaining) کےپھیلاؤ کے ذریعہ لبرل اور اشتراکی سرمایہ دارانہ معاشرتوں میں تمام سماجی روابط سرمایہ دارانہ عقلیت کے تابع کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے اور ریاستی اور معاشرتی ادارہ(اسکول ،کارپوریشن ،تعیشاتی اور تفریحی ادارہ ) دونوں اس کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ Michcel Walzer اس کو colonization of the society by the state کہتاہے لیکن وہ مکمل طورپر کامیاب کبھی نہیں ہوتے ۔اس کی ایک وجہ تو سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات ہیں جو روز بہ روز بڑھ رہے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان ہیومن بینگ نہیں ہے وہ فطرتاً خدا کا باغی نہیں اللہ کا بندہ ہے اور خوب جانتا ہے کہ دلوں کا سکون تو صرف ذکراللہ ہی میں مضمر ہے ۔اس لئے انفرادی اور معاشرتی زندگی کے کچھ گوشے ہمیشہ سرمایہ دارانہ دست بردسے محفوظ اور مامون رہتے ہیں ۔

ریاستی اور معاشرتی روابطی عمل سے بیشتر سرمایہ دارانہ تضادات رفع نہیں ہوتے نہ لازماً غیر سرمایہ دارانہ اجتماعیت کا دائرہ محدود ہوتا ہے ریاست اور معاشرہ میں تقسیم اقتدار بھی غیر متعین ہے (گوکہ عسکری اختیارات کلی طورپر ریاست کو سونپ دیئے گئے ہیں ) اور یہ کہنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک ریاستی یا سماجی کردار اداکررہے ہیں۔مثلاً عدالتوں کا سماجی کردار بھی ہے اور اسکول اور یونیورسٹیاں بھی ایک ریاستی کردار اداکرتے ہیں۔

اگرہم سرمایہ داری کو ایک نظاماتی کلیت تسلیم کرلیں تو یہ مارکسی نظریہ کہ ریاست سرمایہ کاروں (بورژوا) کی آلہ کار ہے غلط نظر آتا ہے کیونکہ پورژوا اور پیردلتاریہ دونوں سرمایہ دارانہ طبقات ہیں اور دنوں کا مشترکہ مفاد سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار کو مہمیز دینے میں ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ معاشرت اس مشترکہ مفاد کے حصول کی جدوجہد کرتے ہیں ۔

تقابلی خود اختیارات (relative autonomy) کا اظہار اس ہی بات کا غماز ہے کہ طبقاتی مفادات کے علی الرغم سرمایہ دارانہ ریاست بڑھوتری سرمایہ عمومی کے مقصد کو مقدم رکھتی ہے ۔ریاستی انتظامی اور پالیسی ماہرین (administrative experts) سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کو تواوزن طور پر مہمیز دینے ہی کی مہارت رکھتے ہیں ۔ریاستی اور معاشرتی سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی بڑھوتری سرمایہ عمومی (capital in general) کو فروغ دینے کے لئے کی جانے کی کوشش کی جاتی ۔گوکہ اس میں نظاماتی تضادات اور غیر سرمایہ دارانہ قوتوں کی مداخلت کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ پالیسی ساز ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے ۔

سرمایہ دارانہ ریاست میں سرمایہ عمومی حکمراں (Sovreign) ہوتا ہے ۔کوئی سرمایہ دارانہ دھڑا (سرمایہ کار ،پرولتاریہ ریاستی ماہرین )حاکم نہیں ہوتا ۔لینن نے اپنے رسالہ State and Revolation میں کہا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت سرمایہ عمومی کے تحکم کو مستقل بنانے کے لئے سب سے موزوں اور مستحکم ادارتی صف بندی ہے اور جب پارلیمانی جمہوری نظام قائم ہوجاتا ہے تو سرمایہ عمومی کا تحکم مستقل ہوجاتا ہے ۔یہ رائے درست نہیں اور اشتراکی اور استبدادای جمہوری ادارتی صف بندی بھی سرمایہ عمومی کے تحکم کے قیام اور استحکام کا ذریعہ بنتی رہتی ہیں ۔ایک مخصوص ادارتی صف بندی )پارلیمانی ،اشتراکی استبدادی( کسی حد تک ہی بڑھوتری سرمایہ کو مقدم معاشرتی قوت کو برقرار رکھ سکتی ہےکئی اور باتوں پرمنحصر ہے مثلاً یہ کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کس حد تک اس عمل کی راہ میں رکاوٹ ہیں معاشرتی اور ریاستی عمل کبھی بھی مستقلاًسرمایہ دارانہ تعقل (rationality) کے تابع نہیں ہوتا اور سرمایہ عمومی کی حکمرانی کے خلاف مذہبی جہد ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک جاری رہتی ہے ۔

اسلامی انقلابیوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اسلامی جدوجہد کسی ایک سرمایہ دارانہ گروہ (سرمایہ کاروں ،محنت کشوں ریاستی اہل کاروں) کے خلاف نہیں کوئی بھی سرمایہ دارانہ دھڑایا اس کا (faction) معاشرتی اور ریاستی اقتدارپر قابض ہو کر اس بات پر مجبور ہوجاتا ہے کہ سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کی ایسی حکمت عملی اپنائے جس کو تمام سرمایہ داراوں کی حمایت حاصل ہو یہی جمہوری عمل کی اساس ہے ہماری جدوجہد کا مقصد معاشرت اور ریاست سے سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) اور روحانیت کے تغلب کو منہدم کرنے کی جدوجہد ہے ۔

4.3۔ سرمایہ دارانہ ریاستی تحکم کے ذرائع

4.3.1۔قانون

سرمایہ دارانہ ریاست قانون اور ایڈمنسٹریشن (administration) کے ذریعہ سرمایہ دارانہ معاشرہ کو تخلیق کرتی ہے ۔قانون سازی ہی کے ذریعہ سرمایہ دارانہ معاشرہ کو سرمایہ دارانہ طبقوں میں منقسم کیا جاتا ہے اور تاریخ میں سرمایہ دارانہ ریاست کا وجود سرمایہ دارانہ معاشرت سے بیشتر ظہورپذیر ہوا ۔سرمایہ دارانہ معاشرت کے پھیلاؤ میں سرمایہ دارانہ ریاست نے ایک اہم کردار ادا کیا ۔سرمایہ دارانہ سیاسی نظام ایک ایڈمنسٹریشن (administation) سے جس میں قومی سطح پر ہرسیٹیزن کی ادارتی تنظیم سازی ،نگرانی اور نگہداشت کی جاتی ہے ۔اس لئے فرانس میں سیٹیزن کوadministrator بھی کہاجاتا ہے ۔

ظاہر میں آزادی ،باطل میں گرفتاری

ہر فرد اس سیاسی نظام کی ایک مساوی اکائی تصور کیا جاتا ہے۔ administrator کا تصور تصور سیٹیزن شپ کی تکمیل ہے ایڈمنسٹریشن کے ذریعہ ہی ریاست اپنی تعمیر کرتی ہے اور ہرسرمایہ درانہ ریاست (پارلیمانی اشتراکی استبدادی ) لازماً ایک ایڈمنسٹریشن کی ہوتی ہے ۔ایڈمنسٹریشن پرائیویٹ لا (private law) سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ اس کی تنفیذ میں سیٹزن ریاست کے براہ راست مقابل/مخاطب ہوتا ہے جبکہ پرائیویٹ لاء کے تنازعات میں دو یا دو سے زیادہ سٹیزن کے درمیاں فیصلہ سازی کی جاتی ہے ۔قانون جوکہ تمام سرمایہ دارانہ ریاستوں میں مقننہ کی تخلیق ہوتا ہے ہمیشہ مخصوص گروہوں اور مخصوص حالات و معاملات کی تنظیم (regulation) سے متعلق ہوتا ہے اور قانونی ضوابط (procedures) مستقل تبدیلی کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں ۔سرمایہ دارانہ قانونی نظام کی یہ خصوصیت اس کی آفاقی اخلاقیات (universal applicability) کی نفی کرتی ہے اصولاً سب سیٹیزن کے حقوق وفرائض یکساں ہوتے ہیں عملاً ایسا نہیں ہوتا اور مختلف گروہوں کے حقوق وفرائض میں فرق ہوتا ہے ۔قانونی نظام جس واحد آفاقی حق (Universal right) کو تسلیم کرتاہے وہ حق سرمایہ دارانہ ملکیت ہے (سرمایہ دارانہ ملکیت جان، رائے اور اموال پر محیط ہے) جیسا کہ رالس (Rawls) نے واضح کیا ہے سرمایہ دارانہ عدل ضوابطی (formal procedural) اصولوں کی پابندی کا نام ہے ۔سرمایہ دارانہ عدل کی کوئی تجسیمی (substantive) ماہیت نہیں ۔

لیکن اس formality کے باوجود جو ضوابط وضع کئے جاتے ہیں ان کا مقصد سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو جاری رکھنا ہوتا ہے اور انفرادی اور گروہی حقوق وفرائض کی تشریح سرمایہ دارانہ حق ملکیت کے آفاقی اطلاق کے تناظر میں ہی کیا جاتا ہے ۔قوانین اس لئے مستقل بدلتے رہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ ملکیت کی آ فاقیت (Universality) کو قائم رکھنے /فروغ دینے کا معاشرتی تناظراور اس کی حکمت عملی مستقلاً تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔

چونکہ یہ معاشرتی تناظر اور تزویراتی حکمت عملی بدلتی رہتی ہیں لہذا قانونی نظام کو مستقلاً adjust کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لئے ایڈمنسٹریٹو ضوابط (administrative procedure) کو مقننہ(پارلیمنٹ اور سینٹ) کی عمل داری سے تقابلی خود اختیاریت (relative autonomy) دی گئی ہے۔ نوکر شاہی ایڈمنسٹریٹو ضوابط قوانین ،آرڈیننس (statuture and ordinance) خود بناتی ہے ۔اس بیرون مقننہ قانون سازی میں عدلیہ ایک اہم کردار ادا کرتی رہتی ہے ۔ایڈمنسٹریٹو لاء اور مقننہ کا تخلیق شدہ قانون دونوں تحکم سرمایہ دارانہ ملکیت کو مستحکم کرتے ہیں ۔آج کی سرمایہ دارانہ ریاست (خواہ پارلیمانی ،خواہ اشتراکی ) میں انتظامیہ اور مقننہ دونوں قانون سازی کے عمل میں شریک رہتے ہیں ۔ایڈمنسٹریٹو لاء کے ذریعہ دستوری قوانین کی تشریح عام ہے ۔ایڈمنسٹریٹو قانون ساز اپنے صوابدیدکے مطابق انفرادی معاملات میں فیصلہ کرتاہے وہ روایتی قانون (common law) کی تعمیل کا پابندنہیں ہوتا ۔ریاستی ایڈمنسٹریٹر (administrator) ان ماہرین (experts) میں نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظاماتی جبرکو محفوظ رکھتے ہیں ۔آج سرمایہ دارانہ ریاستوں (خواہ پارلیمانی خواہ اشتراکی )میں قانون اور ایڈمنسٹریشن میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔آج ایڈمنسٹریٹو لا سرمایہ دارانہ قانونی نظام کا بڑا حصہ ہے ۔

قانون اور ایڈمنسٹریشن کی تنفیذ کا یہ ملغوبہ اس قدر گنجلک(complex) ہوگیا ہے کہ جمہوری ریاستوں کو دستوری (constitutional) کہنا مضحکہ خیز لگتا ہے ۔ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک میں بھی عوام کی بہت بڑی اکثریت نہ ایڈمنسٹریٹو ضوابط کو سمجھتی ہے نہ قانونی شقوں کو، وہ اس نظاماتی جبر کا شکار ہے اس ہی جبر کو آزادی کہتے ہیں اور جمہوری عمل کے ذریعہ اس جبر کو عوام کے لئے قابل برداشت بنایا جاتا ہے ۔

سرمایہ دارانہ قانون )بشمول ایڈمنسٹریشن ( تحکم سرمایہ کا ایک ذریعہ ہے یہ سرمایہ دارانہ ملکیت کے تحفظ اور فروغ کو ممکن بناتا ہے اس کی تنفیذ کا کوئی اور مقصد نہیں۔ اس قانونی اور ایڈمنسٹریٹو جبر کے ذریعے ہی سرمایہ دارانہ ملکیت کو universal کیاجاتا ہے۔ اسی لئے تحکم قانون (rule of law) کو تحکم قانون سرمایہ (rule of law of Capital) کہتے ہیں ۔

عملاً عدلیہ کے حقوق لا محدود ہوتے جارہے ہیں ،منصفوں کی تعظیم کو فرض عین تصور کیاجاتا ہے اور جج کو اختیار ہے کہ ایک گستاخ مدعی کو مقدمہ کے دوران اپنا دفاع کرنے سے روک دے۔ عدالتیں وہ سرمایہ دارانہ آلہ ہیں جہاں سرمایہ داری اپنے نظاماتی رعب کا بھر پور انداز سے اظہار کرتی ہے ۔جیل خانہ دھڑا دھڑ بھرے جارہے ہیں (امریکہ میں 2019 میں مجموعی قیدیوں کی تعداد دوسرے OECDممالک سے اوسطاً 7 گنا زیادہ تھی) اس سے واضح ہوتا ہے کہ کرمنل قانون کی تنفیذ معاشرتی جبر کو مستحکم کرنے کا ایک ذریعہ ہے محصورین میں مفلوک الحال افراد کی بہت بڑی اکثریت پائی جاتی ہے۔ ان کو جو دستوری حقوق ایک سرمایہ دارانہ ریاست(خواہ پارلیمانی خواہ اشتراکی ) میں فراہم کئے جاتے ہیں ان کی اطلاقی تشریح صرف اور صرف ججوں ہی کی صوابدید ہے۔جج عموماً ایسی تعبیرات مرتب کرتے ہیں جو معیار ملزموں کے دستور ی حقوق بالخصوص مقدمہ کے دوران حق دفاع کو محدود کرتی ہیں ۔ریاست جو وکلاء (counsel) ملزموں کی طرف سے مقررکرتی ہیں(بیشتر ملزموں کے پاس ایسے وکیل مقررکرنے کے پیسے نہیں ہوتے ) وہ نااہل ہوتے ہیں اور جو ریاستی مشاہرہ ان کو دیا جاتا ہے وہ بہت کم بالکل واجبی ہوتا ہےMichacel Tegar اپنی کتاب Mytholgies of State میں امریکہ میں اس کے شواہد بیان کرتا ہے) ایک وکیل کو سینکڑوں مقدمات تفویض کئے جاتے ہیں ۔بہت سے ملزموں کو بغیر کسی counsil کے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ غریب ملزمان مہینوں اپنی پیشی کے انتظار میں بغیر سماعت کے جیلوں میں بند رہتے ہیں۔ مقرر کونسلوں کی کارکردگی جانچنے کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہوتا ۔

مفروضہ ملزمان کی بہت بڑی اکثریت پولیس ٹارچر (torture) اور دیگر تعدیبی کارروائیوں کے ذریعہ اپنے مبینہ جرم کو قبول کرنے پر مجبور کردی جاتی ہے۔ یہ ریاست کے مقرر counsel عموماً مفروضہ ملزموں کو اقبال جرم کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔چونکہ پاکستان کی قانونی زبان انگریزی ، لہذا بیشتر مفروضہ ملزمان جانتے ہی نہیں کہ ان کو کس جرم کی کتنی سزا دی جارہی ہے اور وہ وکیلوں اور ججوں کے ہاتھوں میں مجبور ہوتے ہیں ان کو نہ اپنے دستوری حقوق کا پتہ ہوتا ہے نہ وہ قانونی نظاماتی کارفرمائی سے واقف ہوتے ہیں ۔ ملزمان کو ان کے دستوری حقوق اور قانونی ضوابط سے آگاہ کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا ۔ایک مرتبہ ملزم نے اپنا مفروضہ جرم قبول کرلیا توجج جو سزا بھی تجویز کرے اس کے خلاف اپیل کی اجازت نہیں ہوتی ۔ان لاعلم ،معصوم اور مظلوم مفروضہ ملزموں کو سرمایہ دارانہ عدالتی نظام "آزاد"تصور کرتا ہے سرمایہ دارانہ قانونی کارروائی ایک بھیانک دیومالائی افسانے (mythology) کے علاوہ کچھ نہیں ۔

سرمایہ دارانہ ریاستوں خواہ پارلیمانی خواہ اشتراکی کا قانونی عمل (legal process) خالصتاً ضوابطگی (procedural ) اور ہیٗتی (structural formal) ہے جس کو جرم کی نوعیت اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے محرکات سے بہت کم سروکار ہے وہ عمل کی قانونی حیثیت کو سرمایہ دارانہ ضوابط کی پابندی کی بنیاد پر پرکھ کر حکم لگاتا ہے اور مبینہ ملزم کی "آزادی "اور خودمختاری (autonomy) کو مفروض کرتا ہے ۔وہ ایک ایسے تصور عدل کا عکاس ہے جس کی کوئی ماہیت (substance) نہیں۔ ایک ایسا تصور عدل جو جوا کھیلنے کو جائز گردانتا ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ ضوابط کا پابند ہے اور اپنی بیٹی کو زنا کرنے سے روکنے کو جرم قرار دیتا ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے ۔

یہ قانونی نظاماتی خصوصیات اس لئے موجود ہیں کیونکہ اس قانونی نظام کی کارفرمائی کا اصل اور بنیادی مقصد بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو معاشرہ پر غالب کرنا ہے اور سرمایہ عمومی ایک منفی معاشرتی قوت (social force) حرص اور حسد ہے جوہرنفس میں سرائیت کرسکتا اور کوئی اورمتعین تشکیل اپنانے پر مجبور نہیں ۔

قانونی نظاماتی جبر آزادی اظہار رائے کے تقدس کا بھی قائل ہے۔ آزادی اظہار رائے جمہوری نظام کا ایک مفروضہ ستون ہے ۔عملاًجمہوری ریاستوں )خواہ پارلیمانی خواہ اشتراکی ( میں آزادی اظہار رائے نہایت محدود ہوتا جارہاہے ۔

بیسوی صدی کی ابتدا سے اور بالخصوص 2001 کے بعد تحفظ (security) کے نام پر حکومتی مخالفین کے خلاف کاروائیاں پوری دنیا میں عام ہیں اور تحفظی ضروریات (security imperitives) کا دائرہ کار وسیع سے وسیع ہوتا جارہاہے ۔حکومت کی مخالفت کو دبانے کے لئے قانونی نظام کا استعمال عام ہے اور قانونی چارہ جوئی کو یوں وضع کیا گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرتی اور سیاسی غلبہ کو قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے چیلنج کرنا عملاً ناممکن ہوتا جارہاہے۔ آپ ہر رائے کا اظہار کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ رائے بڑھوتری سرمایہ کے جاری رہنے میں حائل نہ ہو ۔سرمایہ دارانہ ملکیت مقدس ہے، پورا قانونی نظام سرمایہ دارانہ ملکیت کے تحفظ اور فروغ کے لئے ہی کارفرماہے۔ سرمایہ دارانہ ملکیت )خواۃ کارپوریٹ خواہ نیم کوپریٹوخواہ ریاستی( کے انہدام کی وکالت کسی حالت میں بھی قانوناً جائز قرار نہیں دی جاسکتی۔ اس بات کی ضمانت سرمایہ دارانہ دستور دیتا ہے کہ ہر سرمایہ دار )بشمول ریاست ( کو اپنی ملکیت کو جس طرح چاہے استعمال کرنے کا قانونی حق ہےبشرطیکہ یہ استعال بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنے لئے اختیار کیا گیا ہو ۔آزادی رائے کا حق اس بنیادی سرمایہ دارانہ حق کی لازماً ماتحت ہوتا ہے ۔رائے کی یہ تحدید بھی آفاقی ہے کیونکہ سرمایہ داری میں ہر شعبے کو سرمایہ دارانہ ملکیت )خواہ نجی خواہ ریاستی ( میں شامل کیا جاسکتاہے اور تمام انفرادیتیں اور اجتماعیتیں سرمایہ دارانہ ملکیت رکھنے کا حق رکھتی ہیں ۔تمام حقوق )بشمول حق اظہار رائے ( اس ہی سرمایہ دارانہ حق ملکیت کے تابع ہوتے ہیں ۔

سرمایہ دارانہ ملکیت کا یہ قانونی تصور انگریز بادشاہ ہنری ہشتم کے وقت سے رائج ہواجب اس نے 1535 تا 1547 کے دورمیں کلیسا اور خانقاہوں کی اراضی پر ریاستی قبضہ کیا اس قبضہ کے نتیجہ میں وہ تمام حقوق معطل ہوگئے جو ہاریوں کو زمیندار (feudal) نظام میں حاصل تھے ۔

آج کے دورمیں ذرائع مواصلات اور اطلاعات )میڈیا ،انٹرنیٹ ( وغیرہ تیزی سے سرمایہ دارانہ ملکیت خواہ نجی خواہ ریاستی کی گرفت میں آرہے ہیں ، جیسے جیسے ذرائع مواصلات کی اجارہ کاری بڑھ رہی ہے ویسے ویسے آزادی اظہار کا حق محدود سے محدود تر ہوتا جارہاہے۔ سرمایہ دارانہ کارپوریشن نجی اور سرکاری دونوں قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ عوامی ظہار رائے کےحق کومحدود کرنے کے لئے مستقل استعمال کرتی رہتی ہیں ۔ دستور کی شقیں مواصلتی اداروں Internet agencies) )کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ مخالف آواز کو نشر نہ کریں اس ہی وجہ سے عالمی میڈیا عالمی سامراج کا ترجمان (mouth peice) بن گیا ہے آج میڈیا ایک بہت بڑی سرمایہ دار صنعت کی شکل اختیار کرگیا ہےجہاں کارپوریشن کی اجارہ داریاں قائم ہیں جن کا مقصد سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کو فطری ثابت کرنا اور مخالف آراء کو کچلنا ہے ۔سرمایہ دارانہ معاشروں میں کارپوریشنوں کی قوت ہر فرد کی قوت سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور رائے عامہ کارپوریشن ہی تخلیق کرتی ہے۔ جمہوری عمل کارپوریشنوں کی کارفرمائی کے محور اور مرکز کے گرد گھومتا ہے ۔آج اطلاعات (information) آزاد نہیں، سرمایہ دارانہ ملکیت)خواہ ریاستی خواہ نجی ( کا حصہ بن گئی ہے، وہ ایسی شے (commodity) بن گئی ہے جس کو مستقل خرید ا بیچا جارہاہے ۔ان حالات میں آزادی اظہار رائے ایک لغو اور لایعنی تصور ہے ۔

جمہوری عمل کو محدود کرنے کا ایک بڑھتا ہوا اہم ذریعہ ریاستی راز بھی ہیں (اس ہی طرح کارپوریشنوں کی کارفرمائی کی تفصیلات تک عوام کی رسائی ان کے trade recrets جن کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے, جیسے جیسے سرمایہ دارانہ تحکم ایک حفاظتی ریاست (security state) کی شکل اختیار کرتا جارہا ہیں ویسے ویسے ریاستیں اپنے اطلاعاتی نظام کو سرمایہ دارانہ ملکیت کے دائرہ میں شامل کرتی جارہی ہے اور اس پر مکمل ا جارہ داری کا دعویٰ کررہی ہے ۔ریاستی رازوں کی بھرمار ہوتی جارہی ہے اور عوامی اطلاعاتی محرومی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان رازوں کو افشا ٗ کرنا قانون ایک جرم قرار دیتا ہے اور جمہوری نظام عوامی تائیدا س اطلاعاتی عوامی محرومی کے باجود طلب کرتا ہے عوام کو معلو م ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس چیز کی تائید کررہے ہیں اور کیوں۔

سرمایہ دارانہ قانون نہ غیر جانبدار (neutral ) ہے نہ مساواتی وہ بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جواز فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔قانونی نظام سرمایہ دارانہ نظاماتی ہیٗت کا ایک تقابلی خود اختیاری (relative automoman) جزو ہے جو بڑھوتری سرمایہ کی امکانی ضرورتوں کے ساتھ تبدیل ہوتار ہتا ہے، لیکن تبدیلی کا یہ عمل لازماً متوازن نہیں ہوتا اور اس بات کا مکان موجود رہتاہے کہ قانونی نظام کی تبدیلی کا یہ عمل بڑھوتری سرمایہ کے نظاماتی ضرورتوں کا ساتھ نہ دے اور کم از کم وقتی طورپر کسی نہ کسی حد تک بڑھوتری سرمایہ کی راہیں مسدودکردے۔ اس تحرکی عدم توازن کو اسلامی انقلابی سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب میں رخنہ ڈالنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ۔

سرمایہ دارانہ قانونی انفرادیت (legal subjectivity) کے مخصوص نہیں آفاقی (Universal) حقوق ہوتے ہیں ۔اصولاً فرد کو کو حق ملکیت حاصل ہے لیکن مخصوص شے کی ملکیت کا حق وہ نہیں رکھتا آزادی اور مساوات کا یہ تصور تمام معاشرتی تعلقات پر محیط ہوتا ہے ۔سرمایہ دارانہ ریاست ان کی اصولی (abstract) حقوق کی فراہمی کے لئے قائم کی جاتی ہے اور جس حد تک مارکیٹ نظم کا پھیلاؤ ان میں وقوع پذیر ہورہاہے اس حد تک یہ بات اشتراکی اور استبدادی جمہوریتوں کے لئے بھی درست ہے سرمایہ دارانہ قانون ہمہ گیر ہے وہ تمام معاشرتی روابط کو اپنے دائرہ کارمیں سمو لے لیتا ہے اور سرمایہ دارانہ معاشرتی تنظٰیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔محنتی قوت (labour power) کا نظاماتی خریدو فروخت )اس کی(commodification قانون سرمایہ کی تنفیذ کو آزاد اور مساویانہ طورپر خود مختار کانٹریکٹس (contracts) میں ممکن اور لازمی بناتا ہے ۔سرمایہ دارانہ قانون کا نظاماتی تحکم سرمایہ داری کے جواز کے لئے ضروری ہے اور سرمایہ دارانہ جبر اور تعدیب (exploitation) کو جاری رکھنے کے لئے بھی تحکم قانون سرمایہ کا مقصد بڑھوتری سرمایہ کو جاری رکھتا ہے ۔

سرمایہ دارانہ قانونی تحکم تمام افراد اور معاشرتی گروہوں پر یکساں لاگوہوتا ہے ۔مزدوروں پر،سرمایہ کاروں پر ،تاجروں پر ،ہاریوں پر ،اہل دانش پر اور معاشرہ کے دیگر تمام گروہوں کے عمل کووہ ایک واحد کسوٹی پر جانچتا ہے اور ہر فرد گروہ کو سزا وجزا بڑھوتری سرمایہ میں اس کے حصہ کے مطابق دیتا ہے لیکن قانونی نظام کی اس نوعیت کی کارفرمائی بڑھوتری سرمایہ کے عمل میں رکاوٹیں بھی ڈال سکتی ہے اور قانونی تنفیذ کے نظام میں تبدیلی کے لئے ہمیشہ سیاسی کشمکش جاری رہتی ہے تاکہ اصولی غیر جانبدارانہ حقوق کی فراہمی بڑھوتری سرمایہ کی مخصوص ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے ۔یہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضاد بھی اسلامی انقلابیوں کو قانون کو انہدام سرمایہ دارانہ نظام کے ایک ذریعہ کے طورپر استعمال کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، اصولاً سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ عمومی(capital in general) کوعوامی مفاد کو فروغ کا ذریعہ ہونے دینے کا دعویٰ کرتی ہے ۔عملاً ایسا نہیں ہوتا اور وہ غالب سرمایہ دارانہ دھڑے سرمایہ کاروں کا کوئی faction محنت کشوں یا ان کے نمائندوں ،دانش وروں وغیرہ یا ان کے اتحاد کے مخصوص مفادات کو مفاد سرمایہ عمومی کے طوپرر فروغ دیتی ہے اورسیاسی تبدیلی کے ساتھ سرمایہ عمومی کے مفاد کا تصور بھی تبدیل ہوتا رہتاہے ۔قانون نظام کی تفصیل میں رد وبدل بھی عام ہے ۔

تحکیم قانون سرمایہ سرمایہ دارانہ تعلب کا ایک ناکافی ذریعہ ہے ۔اس کا اطلاق سیٹیزن کی آزاد اور مساویانی معاشرت کے ارتباط کے لئے ضروری ہے لیکن چونکہ آزادی اور مساوات اصولی ہوتی ہے عملی نہیں ہوتی لہٰذا اس کی قانونی تعبیرات کو بدلنے کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے اور جتنا زیادہ ریاست مارکیٹی عمل میں دخل انداز ہوتی ہے اتنا زیادہ یہ آزادیاں محدود ہوتی جاتی ہیں۔لیکن جب تک یہ آزادیاں اصلاً تسلیم کی جاتی رہیں جمہوری عمل جاری رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اشتراکی او راستبدادی ریاستوں میں بھی تحکم قانون سرمایہ نافذ ہے کیونکہ تمام جمہوریتوں میں قانون میں تبدیلی اصولاً عوام کے نمائندوں کی)اکثریتی ( آرا پر اصولاًمنحصر ہوتی ہے ۔

دورحاضر میں ایڈمنسٹریشن(Ordinance, Statutes, administrative law) اور ماورائے دستور ریاستی اقدام پارلیمانی اشتراکی اور استبدادی سب ریاستوں میں بڑھے ہیں اور اس سے جمہوری نظام کمزور پڑا ہے ،یہی ماورائے دستور قانون سازی ہے اور اس میں دستوری قانون سازی میں بڑھتا ہوا تصادم بھی اسلامی انقلابی عمل کے فروغ کے مواقع فراہم کرتاہے۔ ایک دستوری جمہوریت میں دستوری قانون سازی کے دو ادارتی سرچشمہ ہوتے ہیں ۔عدلیہ اور مقننہ ان دونوں کی تنظیم طریقہ کار اور اہداف میں بھی تضادات کی کمی نہیں اور ان تضادات سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔

ان تضادات اور کمزوریوں کے باوجود تحکم قانون سرمایہ کی نظاماتی افادیت (effectiveness) سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔اس کی تنفیذ کے نتیجہ میں معاشی عمل مسابقتی اجتماعیتوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے ،سرمایہ دارانہ سیاسی ادارتی صف بندی عمل میں آتی ہے، سرمایہ دارانہ ریاست سماجی کثرتیت (pluralism) کے باوجود ایک ایسی سیاسی وحدت تعمیر کرتی ہے جو تمام سیٹیزن کے مشترکہ سرمایہ دارانہ مفادات کا آلہ کار ہے یہ ریاست وہ متحد قوت ہوتی ہے جو مفاد عامہ کو اپنی ادارتی مشینری (beaurocracy) کے ذریعہ غیر جانبدار اور ریشنل انداز سے فروغ دینے کا دعویٰ کرتی ہے ۔

غیر سرمایہ دارانہ معاشرتوں میں جو جوازی نظریات (legitimation ideologies) غالب ہوتے ہیں وہ مذہبی ہوتے ہیں، سرمایہ دارانہ معاشروں میں ان کی جگہ قانونی نظریات جنہیں legal Ideology کہتے ہیں لے لیتی ہیں۔ legal Ideology معاشرتی انفرادی تقسیم اور قومی مفاداتی یکجہتی دونوں کا ریشنل جواز پیش کرتی ہے اور اس کی گرفت معاشرہ پر اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ نظام کے باغی بھی اپنی جدوجہد کا جوا ز اس ہی نظریہ کی بنیاد پر مرتب کرتے ہیں ۔پاکستان کی تمام اسلامی جماعتیں تحکم قانون (rule of law) کی حامی ہیں یہ جانے بغیر کہ تحکم قانون کا مطلب سرمایہ دارانہ تناظر میں تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital ) ہی ہے یہ بات بھی محل نظر نہیں رہتی کہ سرمایہ دارانہ ریاستی عمل قانونی اور غیر قانونی(یعنی ماورائے دستور) کا اقدامات کا مجموعہ ہے اور جیسے جیسے ارتکاز سرمایہ اور سامراجی تسلط بڑھ رہاہے سرمایہ دارانہ ریاستیں غیر دستوری قانون سازی پر انحصار بڑھا رہی ہیں ۔

دورحاضر میں پارلیمانی اور استبدادی جمہوریتوں میں تفریق مشکل ہوتی جارہی ہے کیونکہ استبدادی ریاستیں ماورائے دستور قانون سازی کے ساتھ ساتھ عوامی تائید کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے نئے نئے طریقے ایجادکررہی ہیں اور پارلیمانی جمہوریتوں میں سیاسی جماعتیں ایڈمنسٹریٹو(administrative) قانون پر زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں ۔آج کل پارلیمانی جمہوریتوں میں بھی سیاسی جماعتیں ریاست پر قبضہ نہیں کرتیں بلکہ ریاستیں سیاسی جماعتوں پر قبضہ کرلتی ہیں۔ استبدادی جمہوریتوں کی کارفرمائی سے واضح ہوگیا ہے کہ پارلیمانی ادارتی صف بندی عوامی نمائندگی کو نافذ کرنے کا واحد طریقہ نہیں۔

عموماً تحکم قانون (rule of law) سے ایک ایسے دستوری قانونی نظام کی تنفیذ کی جاتی ہے جو بنیادی سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق )حق زندگی ،رائے اور ملکیت( کی بالادستی قائم کرے لیکن استبدادی اور پارلیمانی جمہوریتوں میں بڑھتی ہوئی مماثلت سے واضح ہوتا ہے کہ تحکم قانون سرمایہ دستور کا قید ی نہیں ۔بڑھوتری سرمایہ کو معاشرتی اصل الاصول کی تنفیذ کے لئے ان بنیادی حقوق کو انفرادی سطح پر معطل بھی کیاجاسکتا ہے اور ماورائے دستورقانون سازی بھی جمہوری عمل )یعنی عوامی تائید کی فراہمی ( کو جاری رکھنے کا طریقہ ہوسکتا ہے ۔ہم تحکم قانون سرمایہ (rule of law) کو اس وقت نافذ سمجھیں گے جب تک معاشرتی تحرک کا مقصدبڑھوتری سرمایہ کو لیا جائے ۔بڑھوتری سرمایہ کو مستقلاً جاری رکھنا محض ایک معاشی عمل نہیں۔ اس کے لئے سماجی سیاسی اور علمی ذرائع بھی استعمال کرنا ضروری ہوتے ہیں ۔سرمایہ دارانہ قانونی نظام کی تقابلی خود اختیاریت (relative autonomy) اس ہی حقیقت کو آشکاراکرتی ہے ۔سرمایہ دارانہ قانون ایک ایسا نامکمل فریم ورک ہے جو ان تمام حرکیات میں ریشنل ارتباط پیدا کرنے کی کوشش کرتاہے اور اس جستجو میں وہ کبھی کامیاب ہوتا ہے اور کبھی کامیاب نہیں ہوتا ۔

4.3.2۔ سرمایہ دارانہ ملکیت

جیسا کہ ہم نے جان لاک (John Lock) کے سب سیکشن میں بیان کیا کہ سرمایہ دارانہ تصور ملکیت کے تین اجزا ہیں ۔جان، رائے اور مال بنیادی اور یہ مفروض کیاگیا ہے کہ ہرفرد )ہومن بینگ( اپنے بدن کا خود مختار مالک ہے ۔جب وہ اپنی جان کو فطری (natural) شے میں بذریعہ محنت (labour) کھپاتا ہے تو وہ اس کا مال بن جاتی ہے ۔ہرشے کی قدر اس میں کھپائی گئی محنت سے متعین ہوتی ہے ۔اس نظریہ کو labour theoury of value کہتے ہیں اور یہ نظریہ Petty, Locke, Smith,Ricardo اور Marx نے اپنایا ہے۔ مال اگر سرمایہ دارانہ زر (دیکھئے اگلا سب سیکشن) کی حیثیت میں جمع کیاجائے تو اس کی حد مقرر نہیں کی جاسکتی کیونکہ سرمایہ دارانہ زر کا پھیلاؤ اصولاً لامتناہی ہے ۔

ہرہیومن بینگ کا حق /فرض ہے کہ وہ جان ،مال اور رائے کو سرمایہ کی بڑھوتری میں کھپاتا ہے۔(یہ لامتناہی طورپر پربڑھتا ہوا زراور قرضہ سرمایہ کی تجسیم ہے ) جو افراد ایسا نہیں کرتے اور اپنی جان رائے اور مال کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں وہ ہیومن بینگ نہیں اور ان کو ان کے جان مال اور آزادی رائے سے محروم کرنا ہیومن بینگ کا فرض ہے ۔اسی بنیادپر لاک نے امریکہ کےقدیم باشندوں کا اور مائیکل والزر (Michale Walzer) نے طالبان ،افغانستا ن کے قتل عام اور ان کے املاک کے لوٹ مار کو جائز قرار دیا اور یہی حالیہ جاری امریکی دہشت گردی کی جنگ کا رہنما اصول ہے ۔

سرمایہ دارانہ نظام میں شے اور فرد کا تعلق قانون متعین کرتا ہے ،کوئی شے کسی کی ملکیت صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ اس کوتحکم قانون سرمایہ کے تناظرمیں حاصل کیا گیا ہو ۔قانون ملکیت کاایک مقصد شے کو شے اور فرد سے فرد کو جدا کرنا ہوتا ہے ۔افراد اور شے میں جو خلا پیدا کیا گیا ہے اس کو ریاست /قانون پر کرتاہے، سرمایہ دارانہ ملکیت کے بغیر سرمایہ دارانہ ریاست کا وجود ناممکن ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام حق ملکیت آفاقی (Universal) ہوتا ہے ۔ہرفرد اصولاً ہر شے کا مالک ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کا حصول قانونی ہو (فرد کو اصلاً ایک مالک تصور کیا جاتا ہے (چونکہ ہرفرد کے پاس اس کا اپناجسم ہے ) اور اس لحاظ سے تمام افراد مساوی حیثیت کے حامل تصور کئے جاتے ہیں اس مساویت کا اظہار ذیلی قانونی نظاموں کا Tort and Trespass وغیرہ میں مرتب کیا گیا ہے ۔

سرمایہ دارانہ قانون ملکیت قدیم رومی قانون سے ماخوذ ہے جس میں قانونی شخصیت (legal personl hood) اور ریاستی تحکم (sovreignity) کے تصورات موجود تھے ۔یہ تصورات عیسائیت کے عروج کے زمانے میں معطل(dorment) رہے اور ان کا احیاء اٹلی کے سرمایہ دارانہ جزیروں سے 11/12صدی میں شروع ہوا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ تصورملکیت فطری نہیں تاریخی ہے۔

سرمایہ درانہ عمل کا محور ومرکز عمل تبدل (exchange) ہے۔اس عمل کو جاری رکھنے کے لئے ہمیشہ سرمایہ دارانہ زر کا استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ زر سرمایہ دارانہ مالی نظام کی تخلیق ہوتا ہے اور اس کی ماہیت سیاسی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ روپے کے نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر شائع کی جاتی ہے ، سرمایہ دارانہ زروہ زر ہے جوعمل تبدل کو آفاقی (Universal) بنا کر اس کو بڑھوتری سرمایہ کا ایک ذریعہ بنا دیتا ہے ۔زر کی عام مقبولیت اور سیٹیزن کی عام شناخت کی وجہ یہ ہے کہ دونوں سیاسی /قانونی وجود رکھتے ہیں، دونوں سرمایہ دارانہ ملکیت کا اظہار ہیں، یہ ملکیتی نظام سیٹیزن اور زر دونوں کو بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنے ے لئے استعمال کرتا ہے ۔اس کے لئے سرمایہ دارانہ ریاست کا وجود لازمی ہے جو معاشرہ (civil society) کے اوپر سرمایہ دارانہ تحکم مسلط کرتی ہے اور دورحاضر میں یہ تسلط جمہوری ہوتا ہے ۔

سرمایہ دارانہ عمل کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ جان ،رائے، اور مال مستقلاً سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے گزرتارہے ۔جب جان ،رائے اور مال کا استعمال کسی اور مقصد کے لئے کیاجاتا ہے تو وہ سرمایہ میں نہیں ڈھلتے ۔سرمایہ دار سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے آزاد اورمجبور ہوتا ہے، اگر جان مال یا رائے کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کرے تو دیوالیہ ہوکرسرمایہ دارانہ نظام گردش سے خارج ہوجاتا ہے ۔سرمایہ عمومی(capital in general) بڑھوتری سرمایہ کی رفتارمعین کرتا ہے سرمایہ عمومی کی معاشرتی کارفرمائی مسابقت (competition) کو فروغ دینے پر منحصر ہے اور سرمایہ دارانہ مسابقت حرص اور حسد کے جذبات کو فروغ دے کر سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کا عمل جاری رکھنے پر مجبور /آزاد کرتی رہتی ہے ۔

سرمایہ دارانہ زر کی مکمل ترین شکل فائنینس (finance) ہے جہاں زر کی مقداری بڑھوتری (quantitative accumulation) کے علاوہ کچھ ریشنل نہیں رہتا اور فائنینسز (financers) کو اس سے غرض نہیں رہتی کہ کن اشیاء ،ابدان اور ذرائع سے گزر کر اس کا مال سرمایہ میں تبدیل ہوتاجارہاہے ۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تجسیم کارپوریشن ہے ،کارپوریشن ایسا شخص قانونی (legal person) ہے جس کامقصد صرف اور صرف بڑھوتری سرمایہ ہے خواہ یہ بڑھوتری کا عمل کسی بھی شے یا فعل سے گزرکر حاصل ہو ،کارپوریشن جس قانونی اصول کی بنیاد پر بنائی گئی ہے اسے Limited libality کا اصول کہتے ہیں یعنی کارپوریشن میں پیسہ لگانے والا سرمایہ کار کمپنی کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں صرف وہی پیسہ کھوئے گا جواس نے کارپوریشن کے کاروبارمیں لگایا ہے ۔اس کی باقی ماندہ دولت محفوظ رہے گی ۔اس طرح اس کے سرمایہ کو اس کی ذاتی دولت سے الگ کردیا جاتاہے اور اصولا کارپوریشن ہی اس کے سرمایہ کی اصل مالک گردانی جاتی ہے ۔سرمایہ فرد کی وہ دولت ہے جو مستقلاً بڑھوتری سرمایہ کی جستجو میں لگی رہتی ہے اگر فرد اپنا مال کارپوریٹ نظام سے نکال لے تو وہ سرمایہ نہیں رہتا ۔قانوناً فرد کارپوریشن میں لگائے ہوئے مال کے استعمال کا ذمہ دارنہیں رہتا ۔اگر یہ مال غیرقانونی طورپر استعمال کیا جارہاہے تو قانونی چارہ جوئی کارپوریشن کے خلاف کی جائیگی فرد کے خلاف نہیں ۔کارپوریشن سرمایہ کی تجسیم ان معنوں میں ہے کہ وہ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

کارپوریٹ نظام اجرت محنت کش کو سرمایہ دار بنا دیتا ہے، محنت کش اپنی بدنی /دماغی صلاحیتوں کو کارپوریشن کے سپرد کرکے ان کو بڑھوتری سرمایہ کاذریعہ بنا دیتا ہے، شیئرہولڈر(share holder) کی طرح محنت کش کو بھی اس سے کوئی سروکار نہیں رہتا کہ کارپوریشن سرمایہ کاری کس طرح اور اس مقصد کے لئے کررہی ہے ۔اس طرح محنت کش کی بدنی /ذہنی صلاحیتیں بھی سرمایہ دارانہ ملکیت کا ایک جزو بن جاتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ قانون دولت اور محنت دونوں کی نئی تخلیق کرتا ہے اور دونوں میں وہ نوعی یکسانیت (equvalance)پیدا کرتا ہے جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ کانٹریکٹ وجود میں آتے ہیں۔

سرمایہ کار اور محنت کشوں ،سرمایہ داروں کے اندر حرص اور ہوس کی اوصاف خبیثہ پرورش پاتی رہتی ہیں۔ دونوں کی شخصیت ایک ہی مقصد بڑھوتری سرمایہ کے لئے تعمیر کی گئی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تعاون بھی کرتے ہیں اور ان میں تصادم بھی ہوسکتا ہے ،اس تصادم کی وجہ سرمایہ دارانہ محنت کش کی سرمایہ دارنہ مال سے تقابلی(relative)محرومی ہے ۔سرمایہ دارانہ محنت کش سرمایہ دارانہ ما ل کی گردش حاصل ہونے والے فائدہ میں حصہ بڑھانے کے لئے جدوجہدکرتا ہے ۔محنت کش کو یہ احساس رہتا ہے کہ قانونی مساویانہ حیثیت محض فرضی ہے، حقیقتاً وہ سرمایہ کا غلام ہے کیونکہ دولت مندکارپوریشن سے فاصلے پر ہوتے ہیں، کارپوریشن کے اعمال کے براہ راست ذمہ دار نہیں ہوتے لہذا ان کا احساس محرومی کم ہوتا ہے۔ سرمایہ کے بڑھوتری کے عمل کی ذمہ د اری شیئرہولڈز (Share holder)کے نمائندوں کوmanagement سونپی جاتی ہے عموماًجمہوری عمل کے ذریعہ لہذا وہ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ کارپوریشن کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں اس میں ان کا حصہ محنت کشوں سے کئی گنا زیادہ ہوتاہے ۔

بدنی/ذہنی صلاحیتوں کو بڑھوتری سرمایہ کے لئے مستقلاً بیچتے رہنا کوئی فطری عمل نہیں اور اس کو فطری ظاہرکرنے کےلئے ایک سرمایہ دارانہ ریاست کا وجود لازمی ہے سرمایہ دارانہ ریاست ایک ایسی انفرادیت تعمیرکرتی ہے جو اصولاً آزاد اور خودمختار ہے اور ملکیت کا لامحدود abstract حق رکھتی ہے لیکن عملاً کسی چیز کی مالک نہیں یہ اس لئے ضروری ہے ۔کہ کوئی شخص جس کے پاس اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے لئے کافی مال ہے کبھی اپنی بدنی /دماغی صلاحیتیں مستقلاً سرمایہ کو نہیں بیچتا ہے ضرورتیں جتنی کم ہوں گی اتنے ہی مال کی ضرورت ہو کم ہوگی اس ہی لئے اسلام اور عیسائیت قناعت اور فقر کی صفات پر زور دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں محنت کش ایسا فرد ہوتا ہے جس کو اصولاً لامحدود (abstract) ملکیت کا حق ہوتاہے لیکن اس کے پاس اپنے بد ن کے علاوہ اس کی کوئی سرمایہ دارانہ ملکیت نہیں ہوتی یہ اس میں حرص اور ہوس کی اوصاف خبیثہ کی مستقل پرورش کرتی رہتی ہے اس کا احساس محرومی ناکامی اور بیگانگی (alienation)اس کی روحانیت کو مسخ کردیتے ہیں سرمایہ دارانہ ریاست اس احساس محرومی اور بیگا نگیت کو رفع کے لئے جمہوری عمل کو استعمال کرتی ہے ۔

تمام جمہوری حقوق ،حق آزادی رائے ،قانونی مساویت ،ووٹ دینے کا حق ،حق ہڑتال(right to strike) اس ہی حقیقت کے پرتو ہیں کہ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں عظیم اکثریت ایسے افراد پرمشتمل ہوتی ہے جو سوائے جان کے کوئی اثاثہ نہیں رکھتے )اور ظاہر ہے کہ ان کی جان بھی اپنی ملکیت نہیں ہوتی کیونکہ خدا جب چاہے معذور بھی کرسکتاہے اور موت بھی دے سکتاہے اور یوں وہ اپنے بدن پر اختیار سے محروم ہوجاتے ہیں(جیسا کہ ہیگل نے کہا تھا ان کا احساس لازماً غموں اور حسرتوں سے بھرجاتا ہے ۔

کارپوریشن ایک ہٗیت (structure) ہے ۔اس کی کارفرمائی ان افراد کی کارفرمائی پر منحصرہوتی ہے جو لوگ سرمایہ کی بڑھوتری کی حکمت عملی مرتب کرتے ہیں وہ منیجمنٹ (management) کہلاتے ہیں ۔یہ کارپوریشن کے مالک نہیں ہوتے بلکہ ان کا سربراہ (chief executive) عموماً شئیرہولڈرز (share holder) کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے ۔باقی تمام منیجر(سینئر ،مڈل،لیول اور جونیئر) اپنی فنی مہارت کی بنیاد پر نامزد کئے جاتے ہیں۔ سربراہ (chief executive) بھی عموماً ایک ماہر (expert) ہوتا ہے ۔جس مہارت (expertee) کی بنیادپرمنیجمنٹ نامزد کی جاتی ہے وہ بڑھورتری سرمایہ کی مہارت ہے۔منیجمنٹ کی قانونی ذمہ د اری ہےکہ وہ ایسی تزویراتی حکمت عملی مرتب کرتے رہیں جس سے سرمایہ کی قدر(Share holders value) میں مستقل اضافہ ہوتا رہے ۔اگر وہ یہ کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور عموماً board of director ان کو برطرف کردیتا ہے ۔

منیجمنٹ سرمایہ کے دماغ کام کرتے ہیں ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ روحانیت سے سب سے زیادہ مکلف (internalised) ہوں گے چونکہ سرمایہ اپنی شدید ترین (intensified) شکل فائنینس(finance) کی صوررت میں اختیار کرتاہے لہذا فائنینشل مینجروں کو دیگر مینجروں پر سبقت حاصل ہوتی ہے اور عموماً ان کا سربراہ (Chief executive) ایک فائنینشل منیجر یہ اکاؤنٹنٹ ہی ہوتاہے چونکہ سرمایہ دارانہ روحانیت سے سب سے زیادہ منیجر ہی متاثر ہوتے ہیں لہذا وہی سب سے زیادہ کرپٹ(currupt) بدعنوان ،دھوکہ باز اور دروغ گوہوتے ہیں ۔

چونکہ سرمایہ کاری کا عمل مسابقتی ہوتا ہے لہذا مارکیٹ میں دھوکہ دہی اور دھاندلی اور بدمعاشی مستقل جاری رہتی ہے )یہ بات پارلیمانی اور اشتراکی سرمایہ داری دنوں کے لئے درست ہے (منیجرز اپنی کارپوریشن کے سرمائے کو فروغ دینے کے لئے سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کےامکانات کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں ۔لہذا مارکیٹی عمل کو regulate کرنے کے لئے کسی بیرونی قوت کی ضروت ہوتی ہے یہ کردار سرمایہ دار ریاستی منیجر ادا کرتے ہیں سرمایہ عمومی کی مستقل بڑھوتری کوجاری رکھنے کے لئے قومی معیشت میں جو حکمت عملی نافذ کی جاتی ہے اس macro economic policyکہتے ہیں اس کی تفصیل ہم آخری سب سیکشن میں بیان کریں گے۔ قومی سطح پر لوٹ مار ،سامراج کی کاسہ لیسی اور تابعداری کے یہی (macro economic) پالیسی ساز ذمہ دار ہوتے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا سرمایہ دارانہ ملکیت ایک مخصوص نوعیت کا معاہدہ ہے جس کو کانٹریکٹ کہتے ہیں۔ معاہدہ کا یہ سرمایہ دارانہ تصور قدیم رومن قانون سے ماخوذ ہے جو ہزاروں سال تک معطل رہااور جوسرمایہ داروں کے سیاسی عروج کے ساتھ دوبارہ نافذ العمل ہوا۔دورحاضر کے کانٹریکٹ لاء کی تشکیل 17ویں صدی کے فرانس سے شروع ہوئی ہے اور یہ قدیم رومن قانون کی انسان پرست (humanist)تحریک کا ایک پہلو تھا جو تجارتی قانون (commercial law) سے متصل تھا ۔ریاستی نوکر شاہی کی توسیع نے بالخصوص 17ویں صدی انگلستان میں کانٹریکٹ لا کی ترتیب (elaboaration) اور تنفیذ میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔کانٹریکٹ لا کی پہلی ملک گیر تنفیذ ہنری ہشتم (Henry the VIII) کے دور سے راہبوں اور خانقاہوں کی اراضی پر قبضہ اور ان کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت سے شروع ہوئی انگلستان میں 1400 اور 1600صدی عیسوی کے درمیان قدیم common law جو روایتی اور رسومی تھا اس میں تجارتی اور جہازرانی کے تصورات (بالخصوص merchernt lawشامل ہونے لگے ۔اس ہی دورمیں equity قانون )وہ قانون جس کی تنفیذ کی Chancellarکی ذمہ داری تھی( تجارتی معاملات کے سلجھانے کے لئے استعمال کئے جانے لگا equity law کانٹریکٹ لا کی تشکیل میں بہت اہم مقام ہے کیونکہequity law تجارتی تناظر میں ایسے فیصلہ صادرکرنے کا مجاز تھا جو common lawکے فیصلوں سے مختلف ہوتے تھے ۔تجارتی اور اراضی کے متعلق جھگڑوں کو سلجھانے کے لئے ایک علیحدہ عدالتی نظام وضع کیا گیا ۔اس دور میں چارٹرڈ کارپوریشنوں کو ان مخصوص عدالتوں میں حق چارہ جوئی تفویض کیا گیا جو law of merchentکے تحت کرنی تھیں۔

فائنینس کے پھیلاؤ نے کانٹریکٹ لاء کی تشکیل اور ترتیب میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے فائنینس کا دارومدارمستقبل کے وعدوں (future contracts) پر بڑھتا گیا اور کانٹریکٹ نے مستقبل کے دعوووں کی تکمیل (fulfilment) کی راہ ہموار کی ۔اگر آج کا کیا گیا وعدہ مستقبل میں ایفا نہ کیا جاسکا تو قابل چارہ جوئی دھوکہ (fraud) قرار دیا گیا ۔سرمایہ دارانہ ملکیت کی جزوی تحدید کی کوشش بھی کئی گئی 1381کے کامیاب ہاریوں کے انقلاب کے بعد آزاد زرعی اراضی کو انگلستان میں ہاریوں کے سپرد کردیا گیا اور زمین چراگاہوں اور جنگلات کے ایک بڑاحصہ کے مشترکہ استعمال کے لئے مختص کیا گیا ۔اس نظام کو copy hold system کہتے تھے لیکنcopy hold system معاہدات کی تنفیذکی ذمہ داری جن عدالتوں کو سونپی گئیں ان کے سربراہ وہی زمیندارہواکرتے تھے جو پہلے اراضی کے مالک تھے لہذا دوسال کی جاری کشمکش کے بعد کاپی ہولڈر نظام منتشر ہوگیا۔ اس پورے عرصےمیں ہاریوں کے خلاف زمینداروں کو شاہی دربار کی بھرپور حمایت حاصل رہی ۔

سرمایہ دارانہ تصور ملکیت عیسائی یااسلامی تصور ملکیت سے مختلف ہے ۔ عیسائی تصورملکیت املاک کو خدمت کا ذریعہ قرار دیتی ہے جیسا کہ پادریTowneyنے لکھا ہے :

"ملکیت محض معاشی اختیارات کے حصول کا ذریعہ نہیں اس کا مقصدبڑھوتری آمدنی نہیں بلکہ ان فرائض کی ادائیگی ہے جو مالک پر اس کے حصول کے نتیجہ میں عائد ہوتے ہیں۔جو ان فرائض کو نظرانداز کرتاہے اور املاک کو محض آمدنی کا ذریعہ بناتا ہے وہ ملکیت کا استحصال کرتاہے اور اپنی روحانی پستی کا اظہار کرتا ہے"

ان حقوق میں ہاریوں کی مالی اور سماجی اعانت ،ا سکی اراضی سے بے دخلی کی ممانعت اور آبی اور قدرتی وسائل اور کچھ اراضی کا مشترکہ استعمال شامل ہیں ۔سرمایہ دارانہ تصور ملکیت میں یہ تمام حقوق اور فرائض معطل کردیئے جاتے ہیں ۔1660میں قانون سازی کے ذریعہ انگلستان کی تمام اراضی کو سرمایہ دارانہ ملکیت میں تبدیل کردیا گیا اس کی آزادانہ خرید وفروخت کا حق تسلیم کرلیا گیا ۔غیر زمینداروں کے وہ تمام حقوق معطل ہو گئے جو عیسائی تغلب کے دورمیں انہیں حاصل تھے اور زمین کے استعمال کا واحد مقصدبڑھوتری سرمایہ ہوگیا اس کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ طرز پیداوار(mode of production) انگریز زراعت میں عام ہوتا چلا گیا ۔انگلستان میں اراضی کو سرمایہ کے تحکم کے زیر نگیں کرنے میں Henrry VIII کی خانقاہوں اور کلیسا کی اراضی کی جبری فیصلہ کی مہمات نے اہم کردار ادا کیا ۔یہ اراضی قریباً سب کی سب سرمایہ کاروں کو فروخت کی جاتی رہی ۔خانقاہوں کی اراضی کی جبری فیصلہ کی ان تحریکوں نے اراضی کے سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کو چند دہائیوں میں نہایت وسیع کردیا ۔جیسا کہ ہم نے دیکھا ہاریوں نے خانقاہوں کی سرمایہ کاری کے خلاف شدیدمزاحمت کی ۔

سرمایہ دارانہ ملکیت کا پھیلاؤ سرمایہ دارانہ تحکم کا ایک اہم ذریعہ ہے یہ ملکیت جان ،مال اور اور رائے تینوں شکلیں اختیار کرسکتی ہیں ۔اس کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں معاشرہ میں حرص اور ہوس کے اوصاف خبیثہ ایک وبا کی طرح پھیلتے ہیں کیونکہ یہ وہ نظم ملکیت ہے جو بڑھوتری سرمایہ کو معاشرتی زندگی کے اصل الاصول کے طوپر نافذ کرتاہے۔

4.3.3۔ قانون محنت(labour law)

سرمایہ دار عمل دوگرہوں کی کارفرمائی پر منحصر ہوتاہے ۔سرمایہ دارانہ سرمایہ کا ر اور سرمایہ دارانہ محنت کش(پاکستان میں غیر سرمایہ دارانہ دولت مندوں اور غیر سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو حلال کاروبار کرتے ہیں لیکن یہ بھی سرمایہ کے چکر (circle of capital) کے اس وجہ سے محکوم ہیں کہ سرمایہ دارانہ زر اور سرمایہ دارانہ پیداوار اور خدمتیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں) یہ دونوں بڑھوتری سرمایہ کو مقصد حیات کے طورپر اختیار کئے ہوتے ہیں لیکن نظام میں ان کی حیثیت جداگانہ ہوتی ہے ۔سرمایہ کارسرمایہ کے چکر (circle of capital) کو منظم کرنے اور جاری رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ اس چکر کوکنٹرول کرتے ہیں اس کے برعکس محنت کش سرمایہ دارانہ نظام میں مفعول کی حیثیت اختیار کئے ہوتے ہیں۔ مسابقت (competition) بڑھوتری سرمایہ کی کارفرمائی کا بنیادی اصول ہے،یہ مسابقت دونوں گروہوں کے اندر بھی جاری رہتی ہے اور دونوں گروہوں کے مابین بھی۔

سرمایہ کاروں اور محنت کشوں کی مسابقت کو منظم کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ چونکہ محنت کش سرمایہ کے چکر کو کنٹرل نہیں کرتے لہذا اس کا احتمال ہمیشہ رہتاہے کہ وہ سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے اپنے حاصل شدہ حصہ کو ناکافی سمجھیں اور اس چکر کو ہڑتالوں وغیرہ سے معطل کردیں ۔سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلابات اس ہی نوعیت کی مزاحمت کا نتیجہ ہوتے ہیں قانون محنت (labour law) اس ہی نوعیت کی بغاوت کے امکانات کو رفع کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور پارلیمانی اور اشتراکی سرمایہ دارانہ ممالک کے قانونی محنت کے نظاموں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے ۔اشتراکی سرمایہ دارانہ ممالک میں محنت کشوں پر ریاستی استبدادی گرفت پارلیمانی ممالک کے مقابلہ میں کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے ۔پارلیمانی سرمایہ دارانہ ممالک میں محنت کشوں کو ہڑتال کا حق حاصل ہے لیکن اشتراکی سرمایہ دارانہ ممالک میں ایسا عموماً نہیں ہے ۔

قانون محنت اجرتی معاہدہ کے گرد مرتب ہوتا ہے ۔اس معاہدہ کے تحت محنت کش اپنی بدنی اور دماغی صلاحیتیں ایک مخصوص مدت کے لئے ایک مخصوص زری اجرت (money wage) کے عوض فروخت کرتے رہنے کا معاہدہ کرتاہے یہ اجرتی کانٹریکٹ ایک ایسے ملازمتی کانٹریکٹ (employeement contract) کا حصہ ہوتاہے جو ملازمت کی دوسری شرائط کی تفصیل بیان کرتا ہے ۔بیسویں اور اکیسویں صدی میں ملازمتی کانٹریکٹ ترقی یافتہ پارلیمانی ممالک میں ملازمتی کانٹریکٹس کے عملاً تین شریک ہوگئے ہیں۔ کارپوریشن ،محنت کش اور حکومت، کیونکہ حکومت اب بہت سے ایسے غیر اجرتی فوائد و مراعات) ،national insurance, basic income بے روزگاری الاوئنس وغیرہ(فراہم کرتی ہے جو پہلے یا تو سرے سے موجودنہیں تھے یا کسی نہ کسی حد تک ان کا بوجھ کارپوریشنوں پر پڑتا تھا یہ بات بالخصوص یورپی یونین کے ممالک کے لئے درست ہے ۔اس تبدیلی کے نتیجہ میں ان ممالک میں تقسیم آمدنی میں نامساویت کارجحان بڑھا ہے اور بے روزگاری بھی ۔بین الاقوامی پابندیوں کے انہدام نے بھی انرجحانات کو فروغ دیا ہے۔

دور حاضر میں قانون محنت میں تبدیلیاں بین الاقوامی تجارتی نظام کی قانونی ترتیب نو سے متاثر ہوئی ہیں۔ 1980 کے بعد ترسیل زر اور اشیاء پر قانونی پابندیاں مجہول ( libralise ) کی جارہی ہیں لیکن محنت کشوں کی غیر ملکی منتقلی (Immigration) پر پابندیاں سخت سے سخت کی جارہی ہیں لہذا عالمی تجارتی نظام کی مجہولی (liberalisation) سے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم طریقہ ملکی قانونی ملازمتی نظام کو مجہول تر (liberalise) کرنا رہ گیا ہے اس مجہولیت (liberalization) کے نتیجہ میں بے روزگاری میں اضافہ اور اجرتوں میں مستقل کمی واقع ہورہی ہے ۔ملازمتی قانون نظام کی بڑھتی ہوئی مجہولیت بین الاقوامی سطح پر محنت کش طبقہ کےدرمیان مسابقت کو مہمیز دے رہی ہے ایک ایسی مزاحمت جسے معاشی نظام کی تہہ تک کی دوڑ (race to the bottom) سے تعبیر کیا گیا ہے ۔یہ سرمایہ دارانہ نظام میں فائنینس کی تحکیمی بالادستی (hegemony) کا ایک مظہر ہے جو بڑھوتری سرمایہ کے مفادات اپنے لئے زیادہ سے زیادہ اور محنت کشوں کے لئے کم سے کم مختص کررہا ہے۔

آج سرمایہ دارانہ پالیسی ساز company law and law of merchant کی جدید تعبیرات کو مقدس تصورکرتے ہیں اور ملازمت کے قانون کو company law اور تجارتی قانون کی حالیہ ضرورتیں پوری کرنے کے لئے توڑمروڑ رہے ہیں 1944 میں محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کے تحفظ کے لئے ایک بین الاقوامی تنظیم (International Labour Organization) بنائی گئی تھی لیکن آج یہ سامراجی ادارہ ملازمت کے قانون کی بیخ کنی اورکئی اور محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کی پامالی کی بھرپور تائید کررہاہے۔

اس قسم کی پیش رفت نے ثابت کردیاہے کہ تحکم قانون (rule of law) مارکیٹی تعقل (market rationalilty) کی تنفیذ کا ایک ذریعہ ہے، یعنی تحکم قانون کے نظام کو اس طرح وضع کیا جائیگا جو مارکیٹی عمل (بڑھوتری سرمایہ ) کوجاری رکھنے اور فروغ دینے کے لئے ضروری ہے۔ مارکیٹ قانون کے تابع نہیں قانون مارکیٹ کے تابع ہے ۔یہ بات بالخصوص محنت کے مارکیٹ (labour market) کے لئے درست ہے ۔ہرسال World Bank ایک رپورٹ شائع کرتی ہے Doing Business اس رپورٹ میں ہرسال دنیا کے تقریبا ً تمام ملکی قانونی نظاموں کو مارکیٹوں میں کارکردگی اور مسابقتی پیمانوں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے اور ان قانونی اقدمات کی تبلیغ کی جاتی ہے جو بڑھوتری سرمایہ کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں ۔

ان اقدامات میں اوقات کار میں تخفیف ،ملازمت کی شرائط ،برطرفی کے ضوابط محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق میں توسیع ،جز وقتی ملازمت کے شرائط ،کمپنی انشورنس (insurance) کی فراہمی اور یونینوں سے روابط شامل ہیں ۔رپورٹ کا مقصد ممالک کی محنتی قانونی نظام کو اتنا ڈھیلا اور مجہول(liberalized and flexable) بنانا ہے کہ اجرتیں کم سے کم ہوتی جائیں اور محنت کشوں کو جلداز جلد برطرف کرنا آسان سے آسان تر ہوتا چلا جائے ۔مارکیٹی مسابقت کو فروغ دینا اب تحکم قانون (rule of law) کا اصل الاصول بن گیا ہے ۔مارکیٹی تعقل (market rationality) کا قانون محنت پریہ تسلط جمہوری نظام کو کھوکھلا کررہا ہے کیونکہ اس تسلط کا مطلب یہ ہے کہ اس قانونی نظام کو وضع کرنے میں عوام کی رائے غیر اہم ہوتی چلی جائے گی۔ سرمایہ دارانہ معاشروں میں عوام کی اکثریت اپنے حرص اور ہوس کو پرورش کرنے کے لئے اجرتوں اور دیگر ملازمتی سہولتوں پر انحصارکرتی ہے اور ان کو مارکیٹی ریشنلٹی (market rationality) کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اجرتوں/ملازمتی سہولتوں میں مستقل کمی برداشت کرنے پر راضی کرنا ایک مشکل کام ثابت ہوا ہے ۔دورحاضرمیں بڑھوتری سرمایہ کو فروغ دینے کےلئے عوام کی اجرتوں کے انجماد کے ساتھ ساتھ تقسیم آمدنی او ر دولت کی ناہمواری میں مستقل اضافہ ہوتا رہنا بھی ضروری ہے اور بڑھتی ہوئی نامساویت سرمایہ کاروں اور محنت کشوں میں تصادم کا ذریعہ بنتا جاتا ہے ۔اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے کمپنی لاء (company law) کارپوریشن کے تحکمی نظام کو corporate governace نظریہ کے تحت کسی نہ کسی حد تک جمہور یانے (democrate) کی کوشش کی گئی ہے ۔

قانون محنت ہمیشہ سے تحکم قانون سرمایہ کا ایک جزو رہاہے ۔لیکن سوشل ڈیموکریسی کے عروج کے دور 1973 تا 1945 تک وہ بڑھوتری سرمایہ کے عمل اور مارکیٹٰ ریشنلٹی کے تقاضوں کی فی الفور ادائیگی کسی نہ کسی حد تک محدودکرنا تھا اور یہ احساس عام تھا کہ محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کو فروغ دینا نظاماتی استحکام کے لئے ضروری ہے ۔محنتی قانونی نظام کی حالیہ مجہولی (libralization) فائنینشل (financial) مارکیٹوں کے وسیع ترین پھیلاؤ کا ایک نتیجہ ہے۔ کیونکہ یہ مارکیٹ حددرجہ سیال (fluid) ہیں اور برق رفتاری سے سرمایہ کی ترتیب نو (restructuring) کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سود اور سٹے کی آمدنی حاصل کرنے کے لئے کرتے رہتے ہیں ۔اس کے نتیجہ میں ریاستوں اور کارپوریشنوں پر قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا ہے اور جو مراعات پہلے محنت کشوں کو دی جاتی تھیں وہ بہت مہنگی پڑنے لگی ہیں، محنت کش سرمایہ دار سرمایہ دارنہ ارتقا کا شکا رہوتے جارہے ہیں۔

لیبر لاء اس پوئر لاء (poor law) سے ماخوذ ہے جس کی تنفیذ کا مقصد سرمایہ داری کے ابتدائی دورمیں محنت کشوں کا طبقہ ایسا پیدا کرنا تھا جو ہرقسم کی املاک )سوائے اپنی جانوں کے( سے محروم اور بالکل مفلوک الحال ہوں، اس ہمہ گیرافلاس کو پیدا کرنے والا ایک اہم ادارہ وہ جیل خانے تھے جہاں محنت کش سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کو جاری رکھنے پر مجبور کئے جاتے تھے ۔

یہ ادارہ 18ویں صدی کےآخر میں قائم کئے گئے مفلوک الحال گروہوں کی پرورش کلیسائی تنظیموں (hurishes) کی ذمہ داری ہوتی تھی لیکن دھیرے دھیرے اجرتی نظام(wage systems) اس قسم کی امداد (releif) پر غالب آتا گیا 1834میں Poor Law amendment ایکٹ کی تنفیذ کے بعدعملاً ریاست نےاس ادارہ پر ایک union of parishes قائم کرکے قبضہ کرلیا جس کا ایک منتخب board of governers ہوتا تھا جمہوری عمل کا محنت کشوں کی تنظیم سازی کا یہ اول ترین انتظام تھا، اس جمہوری عمل سے ریاست نے محنت کشوں کی تنظیم کی ذمہ داری قبول کرلی۔ 1887 کے ریاستی دستاویز پوری آبادی کودوحصوں میں تقسیم کرتی ہے وہ جو ملازم(employed) ہیں اور وہ جو بیروزگار(unemployed) ہیں۔ اس تقسیم سے ظاہرہوتاہے کہ 1890 کی دہائی کے بعد سے ریاست اجرتی نظام کی آفاقیت (Universality) کوپہچانے لگی، ہربےروزگار شخص اصولاً محنتی کانٹریکٹ (labout contract) میں شمولیت کا مکلف گردانے جانے لگا ۔اجرتی نظام کی اس آفاقیت (Universality) نے ریاستی امداد (relief) کو ایک نئے قالب میں ڈھال دیا۔ 1911کا برطانوی National Insurance act نے اس ضرورت کا بھرپور ادراک کیا ۔

National Insurance کا انعقاد )پہلے انگلستان میں اور بعد میں دیگر سرمایہ دارانہ ممالک میں( یہ جمہوری تاریخ کا ایک اہم موڑہے اور اس کاتوسیع حق رائےدہی (franchaise)سے گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں عمل بیسوی صدی کی ابتداء سے شروع ہوئے ۔سرمایہ دارانہ نظام میں ہر محنت کش )یعنی غیر سرمایہ کار سرمایہ دار( بیروزگاری )محرومی وسائل بودوباش اور عیاشی( کے خطرہ سے دوچاررہتا ہے لیکن ریاست اس کی ذمہ داری لیتی ہے کہ بے روزگاری (retrenchment) کی صورت میں اسے ایک متعین آمدنی ملتی رہے گی اس تحفظی ضمانت (Insurance) کی بنیاد پر اس سے سرمایہ دارانہ ضوابطی جبر کی تائید حاصل کرنے کی جدوجہد جاری رہتی ہے ۔یہی جمہوری عمل کی اساس ہے ۔

اس ہی تناظرمیں وہ معاہدہ مرتب کیا گیا ہے جس کو لیبر کانٹریکٹ (labour contract) کہتے ہیں اور محنت کو سرمایہ دارانہ عمل میں سمونے کے لئے بنایا جاتا ہے۔ لیبر کانٹریکٹ قانون سرمایہ داری اور ملکیت کے ساتھ مل کر کارپوریشن کو اس کے ملازمین کے لئے ایک خودمختار ریاست بنادیتا ہے۔ لیبر کانٹریکٹ کے تحت محنت کش اپنی بدنی قوت کو ایک مخصوص وقت کے لئے سرمایہ کار کے ہاتھ فروخت کردیتا ہے اور یوں اپنی واحد ملکیت)بدنی قوت( سے محروم ہوکراپنی آزادی کو کھو دیتا ہے، یوں معاشرہ کی عظیم اکثریت کا آزادی کے کھونے کا یہ عمل حصول آزادی عمومی )بڑھوتری سرمایہ( کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔

سرمایہ دارانہ نظام میں بدنی قوت ایک قابل خرید وفروخت (commodity) شےہے جس کی قیمت اس کی اجرت ہے، یہ اجرت اس شے کے ستعمال کے بعد ادا کی جاتی ہے اس کے حصول کے وقت نہیں اور اس قیمت کا کوئی تعلق اس شے )بدنی قوت ( کی افزائش (subsistance) کی ضروریات سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعین اس کی سرمایہ کاری کے عمل کو جاری رکھنےکی صلاحیت کے مطابق ہوتا ہے ۔لیبر کانٹریکٹ کا دائرہ کار بدنی قوت کی نشودنمائی ضروریات کو پورا کرنے پر محیط نہیں اور اس کی ذمہ داری کارپوریشن پر نہیں ڈالتا جیسا کہ ہم نے دیکھایہ سرمایہ دارانہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ریاستی انتظامیہ (national insurance ) پولیس ،نظام محصولیات وغیرہ کام کرتے ہیں ۔ریاست کے اس نظاماتی تعاون کے بغیر لیبر کانٹریکٹ کی معاشرتی تنفیذ ناممکن ہے ۔

فطرتاً کوئی شخص نہ سرمایہ کار ہوتا ہے نہ محنت کش ،سرمایہ دار فطرتاً وہ عبداللہ ہوتا ہے سرمایہ کار اور محنت کش کی تخلیق میں سرمایہ دارانہ ریاست ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، محنت کش کی شخصیت سازی (subjectification) سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک عمل ہے سرمایہ دارانہ نظام میں انفرادی محنت کش کارپوریشن کے سامنے اپنے آپ کو بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہے اس لاچاری کو رفع کر نےکے لئے اور اس کو آزادی وخودمختاری کا احساس دلانے کے لئے سرمایہ دارنہ ریاستوں ٹریڈ یونین سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کی اجتماعیتیں قائم کرتی ہیں ۔1871 کے بعد سے برطانیہ میں قانونی طوپر ٹریڈ یونین کو کارپوریشنوں سے اجتماعی سودا کاری (collective bargaining) کرنے والی جائز (legitimate)محنت کشوں کے نمائندہ کے طورپر قبول کرلیا گیا اور 1917 سے کمیونسٹ پارٹیاں روس ،چین وغیرہ میں سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدارمیں شریک ہیں۔ لبرل اور اشتراکی ملکوں میں ٹریڈ یونین اور سوشل ڈیموکریٹ پارٹیاں ریاستی انتظامیہ کا ایک ادارہ ہیں ۔

جمہوری ریاست (خواہ پارلیمانی خواہ اشتراکی تمام سرمایہ داروں ( سرمایہ کاروں ،محنت کشوں،پالیسی سازوں وغیرہ) کی نمائندہ ریاست ہوتی ہے ۔وہ سرمایہ کاروں اور محنت کشوں کے مساوی حقوق کو اصولاً مساوی اس لئے تسلیم کرتی ہے کیونکہ وہ دونوں گروہوں کو سرمایہ دارانہ انفرادیت (subjectivity) کا حامل گردانتی ہے، سرمایہ کار اور محنت کش دومتوازن پہیہ ہیں جو سرمایہ داری کی گاڑی کو آگے دھکیلتے رہتے ہیں لیکن محنت کشوں کے اصولی مساوی حقوق کی فراہمی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کی اپنی نمائندہ تنظیمیں (ٹریڈ یونین یا کمیونسٹ ، سوشل ڈیموکریٹ پارٹیاں) کو بااختیار اور کسی نہ کسی حد تک شریک اقتدار تسلیم کیا جائے جن ممالک میں ٹریڈ یونین یا کمیونسٹ پارٹیاں غیر فعال نہیں (مثلا پاکستان اور امریکہ) وہاں محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق پامال ہوتے رہتے ہیں اور ان کو سرمایہ کا آلہ کار بنانے کے لئے معاشرتی دباؤ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ سرمایہ دارانہ کانٹریکٹ کبھی بھی contractors خود قائم نہیں کرتے ۔کانٹریکٹ ہمیشہ سرمایہ دارانہ ریاست بذریعہ قانون قائم کرتی ہے ۔یہ بات محنت کے کانٹریکٹس (labout contracts) کے لئے بالخصوص درست ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کش اپنی مالی محرومیوں کے سبب اپنی بدنی قوت(اپنا واحد ملک)مستقل بیچتے رہنے پر مجبور ہے اور یہ محرومی اس کی مفروضہ آزادی اور خود مختاری کی کھلی نفی ہے۔ ریاست قانون محنت (labour law) کے ذریعہ اس حقیقت کی پردہ پوشی کا انتظام کرتی رہتی ہے ۔لبرل سرمایہ دارانہ ریاست اس پردہ پوشی کے لئے عموماً حق ہڑتال (right to the strike) کو تسلیم کرتی ہیں اور محنت کشوں کو اپنے کانٹریکٹ کے ماورا قوت کے استعمال کا (ضواطی پابندیوں کے ساتھ ) حق دیتی ہیں لیکن 1980 کے بعد سے اب تک لبر ل ریاستوں میں یہ ضوابطی پابندیاں سخت سے سخت ہوتی جارہی ہیں اور ضروری صنعتوں (essential industires) میں ریاست اس حق کو عموماً معطل رکھتی ہے ۔

4.3.4۔پولیس اور فوج

قانون کسی معاشرہ پر سرمایہ دارانہ جبر)آزادی( کے مسلط کرنے کا ایک ضروری لیکن ناکافی ذریعہ ہے۔عموماًعوام سرمایہ دارانہ قانون کی پابندی پر مجبور کئے جاتے ہیں وہ اس کی پابندی پر راضی نہیں ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاستوں (خواہ لبرل ،خواہ اشتراکی ،خواہ سوشل ڈیموکریٹ) مستقلاً ماورائے قانون اقدام کرتی رہتی ہے اور تنفیذ قانون کے لئے بھی اس کو ریاستی قوت کا استعمال مستقلاً کرنا پڑتا ہے ۔ اس ریاستی قوت کے استعمال کا مقصد سرمایہ دارانہ ملکیت کا فروغ اور تحفظ ہے یاد رہے کہ سرمایہ دارانہ ملکیت میں جان ،مال اور رائے تینوں شامل ہیں اور قوت کا استعمال ان تینوں کو بڑھوتری سرمایہ کا ذریعہ بناتا ہے ۔

سرمایہ دارانہ ملکیت کاقیام بزور شمشیر عمل میں آیا۔امریکہ قدیم باشندوں کا قتل عام اور لوٹ مار سوویت یونین کے چھ ملین ہاریوں (muzhiks) کا قتل انگلستان او ائیرلینڈ کے دیہی باشندوں کی بے دخلی اور ان کی املاک پر جبری قبضہ سامراج کی آج تک جاری رہنے والی دہشت گردی اس شرمناک تحریک کے المناک باب ہیں ۔

لیکن اس قتل عام اور لوٹ مار کی بنیاد پر جو نظام قائم ہوا اس کا انحصار ضبط کی گئی املاک کے مستقل تبدل (exchange) یہ تھا اور اس نظام تبدل (system of exchange) نے اس وحثت اور درندگی کو ڈھانپنے کا کام کیا جو سرمایہ دارانہ عمل کی اساس ہے ۔سامراج کے گماشتے مونٹیسکیو سے لیکر آدم سمتھ تک “gentel commerce” کا راگ الاپتے رہے اور یہ مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی سرمایہ دارانہ نظام کی روز مرہ کی زندگی کا وحشیانہ قوت کے استعمال سے کوئی تعلق نہیں ۔محنت کے خریدوفروخت کا عمل قوت کے استعمال سے بالخصوص بری ہے لیکن یہ ایسا جھوٹ ہے جو سرچڑھ کے بولتا ہے ۔

اس جھوٹ کا ایک اظہار تو اس امر سے ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظم (oder) قائم رکھنے کے لئے ریاست کو مخصوص آلہ قوت استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ محنت کشوں میں سے ہی سے ایک ایسا گروہ نکال کر اس کی پیشہ وررانہ تربیت استعمال قوت کے لئے مختص کرنا پڑتی ہے ۔ہرسرمایہ دارانہ ملک کی ایک پولیس اور فوج ہوتی ہے جو تنفیذ قانون اور قیام استحکام (order) کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ریاست اپنےتحکم مطلق (sovreignity) کے حق کا اظہار آخر کار (ultimatily) پولیس اور فوج کے استعمال کے ذریعہ ہی کرتی ہے۔

سرمایہ دارنہ استحکام ایک وسیع تصور ہے اس کا مقصد محض کانٹریکٹس کی تنفیذ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کا فروغ ہے لہذا سرمایہ دارانہ اخلاقیات کی ترویج اور اشاعت بھی فوج اور پولیس کی ایک ذمہ داری ہے ۔پولیس اور فوج صرف سرمایہ دارانہ استحکام کی ہئیت (structure) کے نگراں نہیں اس کی اساس(substance)کے بھی نگراں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اکثر سرمایہ دار ملکوں میں طبی پولیس (medical police) اور دماغی امراض سےمتعلق پولیس کے علیحدہ شعبہ قائم کئے جاتے ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سماجی کارکنانsocial workers) )کی جو بھرتی کی جاتی رہی وہ بھی معاشرتی پولیس ہی شمار کی جانی چاہئے (آدم اسمتھ نے اپنا تصورScience of Police, کو political economy کہا تھا،ریاستی معاشرتی حکمت عملی کی تنفیذ پولیس ہی کے ذریعہ کی جانی چاہئے بقول آدم اسمتھ )

سرمایہ دارانہ معاشرتی استحکام (order) کے لئے ضروری ہے کہ محنت (labout) مستقلاً ایک شے (commodity) بنائی جاتی رہے جو مستقلاً خریدی اور بیچی جاتی رہے لہذا س استحکام کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ خاندان کو کمیونسٹی ،فیکٹری اور مارکیٹ ہرسطح پر سرمایہ دارانہ اخلاقیات اور فروغ پائے لہذا پولیس )بشمول سوشل پولیس( کا دائرہ کار اصولاً خاندان گروہ ،فیکٹری ،مارکیٹ ہر سطح پر محیط ہونا چاہئے ۔ان معنوں میں ہر سرمایہ دارانہ ریاست )صرف استبدادی جمہوریتیں ہی نہیں ( ایک پولیس اسٹیٹ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں آزادی کی اصل اساس (real substance) جبر ہی ہے ۔

ریاستی نوکر شاہی کی توسیع کے ساتھ ساتھ ترویج سرمایہ دارانہ اقتدار اور فروغ سرمایہ دارانہ عوامی بہبود (welfare provsian) کے دائرہ کار علیحدہ کردیئے گئے اور پولیس اور فوج کی بنیادی ذمہ داری تنفیذ قانون کو ہی تصور کیا جاتا ہے لیکن اصولاً وہ تمام ریاستی ادارے جو سرمایہ دارانہ فلاح (welfare) اور اخلاقیات (morality) کو فروغ دیتے ہیں پولیس ہی کے زمرہ میں شمار کئے جانے چا ہییں ۔آج پولیس اور فوج کے دائرہ کار کی تنفیذ قانون تک تحدید کا سبب یہ ہے کہ تنفیذ قانون کا عمل قوت کے استعمال کا زیادہ متقاضی ہے اور لوگوں کا اعتماد سرمایہ دارانہ عدل کی قانونی فراہمی سے اٹھتا جارہاہے ۔سرمایہ دارانہ معاشرتی انتشار ار کے خطرات مستقل بڑھتے جارہے ہیں ۔اطلاعاتی سیلاب(information avalanche) پولسینگ کے لئے نئے نئے خطرات بھی پیدا کررہاہے اور معاشرتی سازشوں اور تخریب کاری (survallance and espionage) کے نئے نئے جال بچھانے کے مواقع بھی فراہم کررہاہے ۔

دور حاضر میں فوج اور پولیس کے کردار میں تخصیص کرنا مشکل ہوتا جارہاہے ۔کیونکہ سامراجی افواج اب بیرونی مداخلت سے کہیں زیادہ اندرونی سرمایہ دارانہ استحکام کی فراہمی کا کام انجام دے رہی ہیں۔امریکہ تک میں خفیہ ایجنسیوں کا ایک وسیع جال بچھایا جاچکا ہے اور ناپسندیدہ افراد کی غیر دستوری گم شدگیوں کی خبریں مستقل آتی رہتی ہیں ۔ایشیاء ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں فوج گاہ گاہ حکومت پر قبضہ کرتی رہتی ہے اور جمہوری جماعتیں جو حکومتیں قائم کرتی ہیں وہ بھی اکثر فوج کے زیر نگیں ہوتی ہیں ۔ان حالات میں فوج کاملکی سرمایہ دارانہ نظاماتی استحکام کی ذمہ داریاں سنبھال لینا معمول بن گیا ہے ۔اس نوعیت کے اقدام سے جمہوری نظام لازماً کمزور نہیں پڑتا ۔عوامی سرمایہ دارانہ طبقہ ان اقدام کو نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ ان کی تائید بھی کرتے رہتے ہیں مثلاً پاکستان کے ہرفوجی حکمران کو کچھ عرصہ تک کسی نہ کسی حد تک عوامی تائید حاصل رہتی ہے۔

فوجی حکمران عموماً نمائندگی کے نظام کو ازسرنو مرتب کرتے ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو مستحکم کرنے کے لئے مارکیٹ میں مداخلت بھی کرتے ہیں اور اس کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں ۔عموماً سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق کو ساقط نہیں کرتے اور سامراج سے تصاد م سے پرہیز کرتے ہیں ۔یہ ریپبلکن طرز جموہریت کی جانب ایک نامکمل قدم ہوتا ہے لیکن اس سے بنیادی سرمایہ دارانہ نظاماتی تصادات رفع نہیں ہوتے، لہٰذا وقت ،گزرنے کے ساتھ ساتھ فوجی حکمران اپنی ابتدائی عوامی تائید کھو تے جاتے ہیں اور جلد یا بدیر دستوری نظام کی بالادستی قائم ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ انتقال اقتدار کا عمل عموماًعلامتی ہوتا ہے اورسابق فوجی حکمران اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے میں کامیاب ہوتے رہتے ہیں ۔اس قسم کے سرمایہ دارانہ ریاستی بحران سرمایہ دارانہ ہمہ گیر نظاماتی بحرانوں کا ایک حصہ بنتے جارہے ہیں۔

4.3.5۔ ماہرین اور بیوروکریسی

سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کو قائم اور کارفرما رکھنے میں مقننہ سے کہیں زیادہ اہم ادارہ نوکر شاہی (beaurocracy) کا ہے جیسا کہ بیسویں صدی کی ابتدا میں میکس ویبر (Max Weber) نے واضح کیا تھا۔ سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) کے تقاضوں کے مطابق ریاستی نظام کو مرتب کرنا اور کارفرما رکھنا نوکر شاہی کی ذمہ داری ہے ۔نوکر شاہی کے افراد کی جس صلاحیت کی بنیاد پر ان کو نامزد کیا جاتا ہے وہ بڑھوتری سرمایہ کی ریشنل تنظٰیم سازی کی مہارت ہے ۔نوکر شاہی سرمایہ دارانہ نظام کی ہر تنظیمی سطح پر پائی جاتی ہے۔ فوج میں بھی پولیس میں بھی ،مرکزی صوبائی اور مقامی انتظامیہ میں بھی کارپوریشنوں اور بینکوں میں بھی بین الاقوامی تنظیموں میں بھی ۔ہم یہاں صرف وفاقی سطح کی ریاستی نوکر شاہی کا ذکر کریں گے ۔

نوکر شاہی صرف پالیسی (policy) کے تنفیذ کے ذمہ دار نہیں، وہ سرمایہ دار ریاستی نظام کے اصلی پالیسی ساز بھی ہیں مقننہ میں منظوری کے لئے پیش ہونے والا ہر مسودہ مختلف وزرات کے بیوروکریٹس ہی تیارکرتے ہیں اور اس کی تنفیذ کے ضوابط بھی وہی متعین کرتے ہیں، اس کے علاوہ ordinances administrative law اور statutes کی ذمہ داری بلاشرکت غیر ے نوکر شاہی کو سونپ دی گئی ہے ۔قانون کی ترتیب اور تنفیذ کے اس پورے عمل میں جمہوری عمل کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں تائید صرف آخری مرحلہ میں کسی قانون کی عوامی نمائندگان سے (عوام سے نہیں) لی جاتی ہے یہی تائید اس پورے جابرانہ عمل کی توجیہہ (legitimation) فراہم کرتا ہے ۔

دورحاضر میں ریاستی بیوروکریسی کا یک حصہ ماہرین (experts) پرمشتمل ہوتا ہے ۔یہ ریاستی اداروں میں بھی ہوتے ہیں ،بین الاقوامی تنظیموں میں بھی تھنک ٹینک (think tank) میں بھی اور یونیورسٹیوں میں بھی۔ ویبر نے ریاستی نوکر شاہی کو جمہوریت کا "پنجرہ" (iron cage) کہا تھا آج اس پنجرہ میں قفل ڈالنے والے ماہرین (experts) ہی ہیں۔

ماہرین وہ نظریاتی تناظر مرتب کرتے ہیں جو عام فہم مسائل کے ادراک پر محیط ہوتا ہے ۔یہ تناظر لازماً سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت (سائنس اور سوشل سائنس ) سے ماخوذ ہوتا ہے( مسلم ممالک میں اسلامی علمیت اس تناظر کے تعین میں کوئی قابل ذکر کردار اس لئے ادا نہیں کرتی کیوں کہ ابھی تک علمائے اسلام نے اسلامی علوم کی بنیاد پر دور حاضر کے مسائل کا نقد مرتب کرنے کی طرف توجہ نہیں دی) اس تناظر میں جومشاہدات کئے جاتے ہیں ان کو واقعہ (facts) کے طورپر پیش کیا جاتا ہے(مثلاً مولانا تقی عثمانی اپنی کتاب "اسلامی معیشت وتجارت "میں قانون طلب ورسد(law of supply and demand) کو ایک واقعہ(fact) کے طورپر پیش کرتے ہیں، ایک سرمایہ دارانہ نظاماتی حادثےکے طورپر نہیں) اس قسم کے تجزیہ کی بنیاد پر ماہرین)بشمول مولانا تقی عثمانی( سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو ایک فطری تقاضا کہتے ہیں ۔یوں سرمایہ دارانہ جبرکی لازمیت قابل قبول اور common sence بن جاتی ہے اور مسلم حکومتیں بھی سود اور سٹہ کے کاروبار کو جاری رکھنے کو ناگزیر سمجھتی ہیں ۔سرمایہ دارانہ جبر کو عوامی تائید اور معاشرتی جواز دلانے کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی کارفرمائی کے ہر پہلو کو common sence کی تصدیق مستقلاً دلائی جاتی رہے ۔

ماہرین وہ سرمایہ دار ہیں جو سرمایہ دارانہ حادثات (contingencies) کو ابدی حقیقت بنا کر انفرادیت اور معاشرت پرمسلط کرتے رہتے ہیں ۔جو لوگ ان حادثات (contiegencies) کو حقائق ابدی کے طورپر قبول کرنے پرراضی نہیں ہوتے ماہرین ان کے قتل عام اور وسائل سے محرومی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں(اس قسم کی منصوبہ بندی میں مشہور فلاسفر Rchard Rorty, Micchal Walzar, Jargen Habermas سب شریک ہیں Rorty اور Walzar تو مر گئے Habermass ابھی 94 سال کا ہے، یہ کافر ابھی تک جہنم واصل نہیں ہوا۔David Kemmedy بھی ان مفکرین میں شامل ہے ۔یہ ماہرین نہ صرف سرمایہ داری کی ابدیت پر ایمان لے آئے ہیں بلکہ اس خبیث تصور کو آفاقی (universal) باور کرانے کی جدوجہد میں مستقل لگے ہوئے ہیں، وہ لازماً سامراج کے آلہ کار ہیں کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ عالمی نظاماتی تغلب کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

ماہرین کا اعتقادی تناظر یہ ہے کہ بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنا ناگزیر ہے ۔بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے انہوں نے سائنس اور سوشل سائنسز(جاہلیت خالصہ) کے ذریعہ مختلف النوع ٹیکنالوجیز وضع کی ہیں اور ان ٹیکنالوجیز(technologies) کی تنظیم کے لئے مخصوص نوعیت کی ادارہ سازی بھی کی ہے ۔ان ٹیکنالوجیز کے نارمل (normal) استعمال سے بڑھوتری سرمایہ کا ہدف ہی حاصل ہوتا ہے(گو کہ ان ٹیکنولوجیز کے غیر معمولی انقلابی استعمال سے سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو کمزور بھی کیاجاسکتا ہے) ان ٹکنالوجیز کی پیہم ناکامی کے باوجود جوکہ وباؤں کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی ابتری کے فروغ سے عیاں ہے اس سائنٹیفک منہج (scientific methodologies) سے رجوع نہیں کیا جاسکتا ۔جوسرمایہ دارانہ تغلب کو قائم رکھنے کے لئے لازم ہے ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال اس ریاستی ایڈمنسٹریٹیو (administrative) نظام کے تابع ہے جو اس کو سہارا دیئے ہوئے ہے ۔ٹیکنالوجیکل دریافت اور استعمال کے پیچھے دور حاضر میں سامراجی سیاسی مقاصد اور حکمت عملیاں (strategies) ہمیشہ کارفرما رہتی ہیں ۔ماہرین ٹیکنالوجیکل پیش رفت کو غیر سیاسی اقدام کے طورپر پیش کرکے ان کی عوامی تائید میں اضافہ کرتے رہتے ہیں یوں ماہرین جمہوری نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ماہرین جس تصور تحکیم (Governance) کی تنفیذ کے خواہاں ہیں وہ کارپوریٹ تحکیم (corporate governance) کے تصور سے مماثل ہے جہاں حصص کے مالکان اور دوسرے stake holder بڑھوتری سرمایہ کے واحد ہدف کے حصو ل کے لئے منیجمنٹ کی کارکردگی کو جانچتےرہتے ہیں اور اس جانچ پڑتال کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہوتا ۔قومی جمہوری عمل میں بڑھوتری سرمایہ کے ہدف کی تردید کی جو گنجائش رہتی ہے ماہرین کے وضع کردہ نظریاتی نظام میں اس کو باکل ختم کردیا جاتا ہے ۔ماہرین تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) کے اطلاق اور تسلط کو زندگی کے ہرشعبہ پر حاوی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

آج ماہرین اور جاہلانہ ) علمیت کانظاماتی تسلط سرمایہ دارانہ تحکم کا ایک اہم جزو ہے ۔ماہرین مفروضہ حقائق کی بناد پر مطلوبہ عمل کی نشاندہی کا کام انجام دیتے ہیں ۔ماہرین کی بنیادی وابستگی (loyality) سرمایہ دارانہ علمیاتی اور ریاستی تغلب سے ہے ۔ ماہرین سب سے زیادہ ریشنل افراد ہوتے ہیں اس ہی عقلیت (rationality) کی بنیاد پر وہ قومی مفاد کی ایسی تعبیر مرتب کرتے رہتے ہیں جو بڑھوتری سرمایہ کے ہدف سے ہم آہنگ ہو۔ اس کا م کا مقصد غیر سرمایہ دارانہ افراد اور رجحانات کے خلاف قانونی اور دہشت گردانہ کاروائیوں کی مستقل ترتیب نو ہوتا ہے ۔امریکہ دہشت گردی کی جنگ ان ہی خطوط پر لڑرہاہے جو ماہرین نے وضع کی ہیں اور ان ہی ماہرین نے طے کیا ہے کہ انسان پرست مداخلت (humanitarian intervention) اس دہشت گردی کا نظریاتی جواز ہے ۔

ماہرین کی اس نوعیت کی کارفرمائی جنگ کے میدان تک محدود نہیں ۔وہ تمام ملکی اور بین الاقوامی معاملات اور کاروائیوں اور ترسیلات اپنی )جاہلانہ(علمیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ تناظر میں فریم (frame) کرتے ہیں اور اپنے ٹیکنیکل کام سے عالمی کارفرمائی کی سرمایہ دارانہ تفہیم مرتب کرتے ہیں ۔ اس تعبیراتی خاکہ کہ تنفیذ کے لئے تزویراتی حکمت عملی مرتب کرتے رہتے ہیں وہ فیصلوں کی تنفیذ کے عموماً ذمہ دارنہیں ہوتے،یہ کام عموماً ریاستی نوکر شاہی کرتی ہے، لیکن فیصلوں کو وضع اور مختلف حکمت عملیوں کی تجاویز مرتب کرتے ہیں، وہ عوام اور خواص(elite) کےاختلافات کو مفاد عامہ )یعنی بڑھوتری سرمایہ ( کے نکتہ نظر سے جانچتے ہیں اور معاشرہ میں ایک ایسی ریشنل اجتماعی (consensual) رائے عامہ کے ابھرنےکی رائےہموار کرتے ہیں جو مفاد عامہ )بڑھوتری سرمایہ ( کے حصول کا ذریعہ بنے ۔ماہرین جمہوری عمل کو مربوط کرتے ہیں یہ ارتباط کمزور صرف اس صورت میں پڑسکتاہے اگر لوگ جمہوری عمل کو کسی غیر سرمایہ دارانہ مقصد)مثلاً نفاذ شریعت( کے لئے استعمال کریں ۔

لیکن ماہرین معاملات اور تعلقات کو سرمایہ دارانہ تناظرمیں مرتب (frame) کرنے میں کامیاب کبھی کبھی اور کسی حد تک ہی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرسرمایہ دارانہ معاشرہ نے ایک مذہبی معاشرہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ انسان ہیومن بینگ نہیں، انسان کسی نہ کسی حد تک اپنے عبداللہ ہونے کا احساس ضرور رکھتا ہے ۔لہذا سرمایہ دارانہ جاہلانہ علمیت (rationality) انسانی انفرادیت اور معاشرت کے ہر پہلو کو مسخر نہیں کرپاتی اورغیر ریشنل عمل )مثلاً خدا کی پرستش( کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے ۔پاکستان میں یورپ کے مقابلہ میں ریشنلٹی کا دائرہ تنفیذ بہت محدود ہے لہذا یہاں ماہرین کی نظاماتی کارکردگی بھی نسبتاً کمزور ہے، اس کمزوری کو رفع کرنے کے لئے پاکستانی سرمایہ دارانہ اشرافیہ ریاستی اقتدار سامراجی اداروں آئی ایم ایف ،ڈبلیو ٹی او اور امریکی ادارہ ترقی(USAID) کے سپرد کررہےہیں،تاکہ جمہوری عمل ٹیکنیکل (Techunicalise) ہوتا جائے اور سرمایہ کی بڑھوتری کو قومی مفاد کے طور پر عوامی مقبولیت حاصل ہوجائے ۔بین الاقوامی قانونی اور ضوابطگی (regulatory) نظام نیم سرمایہ دارانہ ممالک پر ماہرین کا تسلط قائم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سرمایہ دارانہ بحرانوں کے ادوار کے علاوہ ریاستی فیصلہ سازوں پر ماہرین کا اثر عموماً بڑھتا رہتا ہے ۔گاہ گاہ ماہرین سرمایہ دارانہ حکومتوں کی وزارتوں ،انتظامیہ اور مقننہ میں عہدہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔

ماہرین مسائل کی تفہیم مرتب کرتے ہیں، مثلاً غربت کیا ہے ؟اس کو دور کرنا کیوں ضروری ہے اور کیسے دور کیا جاسکتا ہے؟ان تمام سوالات کے جوابات ان نظریاتی منہاج (technical paradigms) کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں جو ماہرین نے اکنامکس اور سوشیالوجی (economics and sociology) کے طور پر مرتب کئے ہیں ۔قانونی ماہرین کے نظریات کی بنیاد پر عالمی دہشت گردانہ پالیسیاں مرتب بھی کی جاتی ہیں اور ان کا جوا ز بھی پیش کیا جاتاہے اور تحکم مطلق (sovreignity) کی نئی نئی تشریحات مرتب کی جاتی ہیں ۔انسان پرست حقوق (human rights) کی بنیادوں پر وکیلوں نے عدل کا ایک بالکل نیا تصور عام کیا ہے جس کی بنیاد پر بین الاقوامی قانون سازی کی جارہی ہے ۔ماہرین دنیا کو ویسا بنانے کے لئے دلیلیں مرتب کر رہئے ہیں جیسا وہ دنیا کو دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ایک مکمل ،ترقی پذیر سرمایہ دارانہ دنیا کیونکہ یہی جاہلی عقلیت (rationality) کاتقاضہ ہے ۔

ماہرین کا پالیسی سازی کے عمل میں اثر ورسوخ (authority) ان کی تجویز کردہ پالیسیوں کی ریزیبلینس (reasonableness) پرہوتا ہے ان کی پالیسیاں اس حد تک ریزن ایبل (reasonable) تسلیم کی جاتی ہیں جس حد تک کسی معاشرہ میں ریشنلٹی غالب ہے اور سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کی مستقل جدوجہد معاشرتی عمل کا اصل الا صول بن جائے جن معاشروں میں ریشنلٹی کی گرفت کمزور یا غیر مستحکم ہوتی ہے وہاں ماہرین کا اثر محدود ہوتا ہے اور ان کی مجوزہ پالیسیوں کو تائید حاصل نہیں ہوتی ۔

ماہرین مطلب پرست (opportunist) ہوتے ہیں ۔تحکم قانون سرمایہ سےان کی وفاداری غیر مشروط ہوتی ہے کیونکہ وہ لازماً ریشنل (rational) ہوتے ہیں لیکن تحکم قانون سرمایہ کے کئی طریقہ کار ہوسکتے ہیں ۔لبرل اشتراکی ،استبدادی ریاستیں اور معاشرہ میں غالب common sense کبھی ایک طریقہ کو قبول کرتی ہے کبھی دوسرے طریقہ کو۔ ماہرین وہ مرغان وقتی ہیں جو ہوا کے ساتھ ساتھ اپنارخ بدلتے رہتے ہیں ۔مثلاً پاکستان کا مشہور چیف ماہر معاشیات (economist) محبوب الحق ،ایوب خان کے دور میں لبرل بنتا تھا۔ بھٹوکے دورمیں اشتراکی اور ضیاء الحق مرحوم کے دورمیں استبدادی بن گیا ۔

ماہرین کی صفوں میں کرپٹ (currupt) سرمایہ داروں کی کمی نہیں۔ کرپٹ سرمایہ دار وہ ہے جو اپنے ذاتی سرمایہ کی بڑھوتری کو سرمایہ عمومی (capital in general) کی بڑھوتری پر ترجیح دے ۔ماہرین کی مجوزہ ایسی بہت سے پالیسیوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جن کی تنفیذ کے نتیجہ میں کسی مخصوص گروہ کے سرمایہ دارانہ مفادات کو اس طرح فروغ دیا گیا کہ اس کے نتیجہ میں سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے عمل کو نقصان پہنچا ۔

ماہرین کی کارفرمائی کو ریشنلائزیشن (rationalization) کا عمل کہاجانا چاہئے ۔وہ پالیسی سازوں کو یہ بتاتے ہیں کہ بڑھوتری سرمایہ کے مقصد اعلیٰ (end in itself) کے حصول کے کون کون سے طرائق اختیار کئے جاسکتے ہیں اور ہر طریقے کے اختیار کئے جانے کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں ۔ماہرین کا بنیادی تکلم، مباحثہ(discourse) ہوتا ہے ۔طے شدہ مفروضات کی بنیاد پر وہ اپنے دلائل مرتب کرتے رہتےہیں جو فیصلہ سازوں کے لئے مسائل کی تفہیم کا ذریعہ بنتے ہیں ۔وہ طے شدہ مفروضات )جو خارج البحث ہوتے ہیں( کو قانونی اور ادارتی تشکیل عطاکرتے ہیں۔ یہ ادارتی اور قانونی ادارہ سازی کے عمل میں بھی بحث کا حصہ ہوتا رہاہے اور اس پر گفتگو ہوتی رہتی ہے کہ کون سی ہئیت سازی اور حقوق وفرائض کی تقسیم حصول مفروضہ مقصد اعلیٰ )بڑھوتری سرمایہ ( کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے ۔اس گفتگو میں پالیسی ساز مختلف ماہرین (قانوں داں ،اکنامسٹ ،سائنس دانوں وغیرہ) کو شامل کرتے ہیں ان ماہرین کے زوایہ نگاہ مختلف ہوتے ہیں لیکن سب بڑھوتری سرمایہ کو مقصد اعلیٰ کے طورپر قبول کرتے ہیں، یہ سب کا مشترکہ مفروضہ ہوتا ہے ۔ اس بنیادی اتفاق کے باوجود اختلافات کا دائرہ نہایت وسیع ہوتا ہے اور جیسے جیسے پالیسیاں ناکام ہوتی جاتی ہیں (بڑھوتری سرمایہ کاعمومی مقصد حاصل نہیں ہوتا یا اس میں ناہمواریاں پیدا ہوتی ہیں) ویسے ویسے یہ دائرہ وسیع تر ہوتا رہتا ہے ۔اشتراکی ماہرین ،سوشل ڈیموکریٹ ماہرین سے مختلف رائے دیتے ،ہیں حالانکہ دونوں کا ہدف بڑھوتری سرمایہ ہی ہوتا ہے ۔قانونی ماہرین دہشت گردی کی جنگ جاری رکھنے کے جواز بھی مرتب کرتے ہیں اور عالمی امن کے فروغ کی تجاویز بھی دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں عوامل میں توازن پیدا کرنا بڑھوتری سرمایہ کے لئے ضروری ہے ۔

ماہرین نتائج پرست (pragmatic) بھی ہوتے ہیں کسی عمل کا بڑھوتری سرمایہ عمومی )مقصد اعلیٰ ( پر اثر ناپنا ایک نہایت مشکل کام ہے اور اصولاً ناممکن ہے مثلاً اس میں شک نہیں کہ طالبان کی امارت کو تباہ کرنا بڑھوتری سرمایہ کے لئے مفید ہے لیکن طالبان کی بربادی کے لئے کتنا بڑا ہلاکت خیز بم گرایا جائے یہ فیصلہ کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ اگر ایک لاکھ افراد شہید ہوگئے تو یورپی یونین ناراض بھی ہوسکتی ہے اور روس طالبان کی پشت پناہی پر آمادہ بھی ہوسکتا ہے اوریہ سب بڑھوتری سرمایہ کے لئے مضر ہے ۔مستقبل کی اس قسم کی غیر یقینیت (uncertainities) ماہرین میں اختلافات کو جنم دیتی رہتی ہے ۔

ماہرین کا باہمی اور پالیسی سازوں سے اشتراک ایک پیچیدہ اور گنجلک (complex and over determined) عمل ہے، گوکہ سب کا مطلوب مفروضہ مقصد اعلیٰ بڑھوتری سرمایہ عمومی ایک ہی ہے اس مقصد کے حصول کا طریقہ مبہم اور غیر متعین ہے ۔لہٰذا ماہرین اور پالیسی سازوں اور ان کے دھڑوں میں اختلافات بھی دائمی ہیں اور ان گروہوں کے شرکاء اپنی نظریاتی اور تزویراتی حیثیت بھی مستقل بدلتے رہتے ہیں ،ان تضادات سے فائدہ اٹھانے کی ایک اسلامی انقلابی حکمت عملی مرتب کی جاسکتی ہے ۔

لیکن اس نوعیت کا نظریاتی اور منہجی (ideological and paradigmatic) لچک (flexiblity) ماہرین کے سیاسی اثرورسوخ کو فروغ بھی دیتا ہے کیونکہ ہر پالیسی مجموعہ (policy set) کی توجیہہ بیان کرنے اور اس کو رائج شدہ غالب (common sense)سے متعین کرنے کے لئے ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے اور ایسے ماہرین ہمیشہ موجود رہتے ہیں جوکسی بھی پالیسی مجموعہ (policy set) کی حمایت کے حق میں دلیلیں مرتب کرنے پر آمادہ ہوجا ئیں ۔

ماہرین مختلف النوع منہاج اور تناظرات سے اپنے دلائل مرتب کرتے ہیں اور موجودہ سرمایہ دارانہ بحرانی دورمیں ان کا سیاسی اثر اس بات پر بڑی حد تک منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان منہاج سے حاصل شدہ زاویہ نگاہ کو کیسے مربوط کرکے وقتی ضروریات کے مطابق پالیسیاں تجویز کرسکتے ہیں ۔وہ محض معیشت دان ،محض قانون داں محض لبرل محض اشتراکی نہیں ہوتے بلکہ ان تمام منہاج اور نظریات کو توڑمروڑ کرایک متفق علیہ پالیسی اجتماعیت (policy set) کی وکالت کرتے ہیں ( اس کی بہترین مثال Jusepn Stiglitzکی فکر ہے)لیکن اس سے بڑھوتری سرمایہ کی مقصد اعلیٰ کے طورپر ان کی وابستگی متاثر نہیں ہوسکتی ۔مثلاً کوئی امریکی ریاستی ماہر آج یہ نہیں کہہ سکتا کہ اغلام بازی کو اس لئے ممنوعہ قرار دیا جائے کہ یہ خدا کا حکم ہے ۔یہی امریکہ کہ common sense ہے ۔

ماہرین (professional and intellectual) اٹھارھویں صدی کی تحریک تنویر کی پیدوارہیں ۔وہ جاہلی علمیت ریشنلیٹی کے اہم ترین علم برادر ہیں ۔وہ سرمایہ دارانہ معاشرت کو انسانیت کی معراج تصور کرتے ہیں اور تنویری ثقافتی روایات کے پرستار ہیں ۔وہ دنیا میں ہر طبقہ معاشرہ کو جاہلی سرمایہ دارانہ خطوط پر ڈھالنے کی پالیسی ساز اور ادارتی صف بندی کے عمل کی حکمت عملی مرتب کررہے ہیں ،ان کے دائرہ عمل کو ریاستی اور معاشرتی سطح پر محدود کرنا اسلامی جدوجہد کی ایک اہم ضرورت ہے ۔

سرمایہ دارانہ پالیسی ساز ی میں ماہرین کا اثر ورسوخ بڑھتا جارہاہے یہ جمہوری عمل (عوام کی تائید کے حصول) کو کمزور نہیں کرتا، یہ درست ہے کہ ریشنلیٹی سرمایہ کی بڑھوتری کا کوئی واحد صحیح طریقہ بتانے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور رائج الوقت طریقہ مارکٹی ،اشتراکی ،استبدادی ،انارکسٹ) لازماً غیر ریشنل (irrational ) بنیادوں پراطلاق کیا جاتا ہے اور انتخابات اس ہی نوعیت کے غیر ریشنل فیصلہ سازی کا ایک ایسا طریقہ ہے جس کے انقلابی استعمال سے سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں، لیکن ایک مرتبہ یہ غیر ریشنل فیصلہ ہوگیا تو ریشنلٹی اس کو اپنے آھنی پنجرہ (iron cage) میں جکڑ لینے کی کوشش کرتی ہے اور جب تک لوگوں کا ریشنلٹی پر ایمان ہے وہ ماہرین کے اس گروہ کی تابعداری کو برضا رغبت قبول کرتے رہتے ہیں۔

اسلامی انقلابی جدوجہد کا مقصد معاشرہ سے ریشنلیٹی کے اس فاسد ایمان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے، اس کے لئے محض اسلامی انقلابی بنیادوں پر انتخابات جیتنا کبھی کافی نہیں ہوسکتا بلکہ معاشرہ کی ایسی ساختی ترتیب نو ضروری ہے جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کو لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کی محرک قوت بنادے ۔

چشم رحمت بہ کرم سوئے غلاماں بہ دگر
جن کے ایمان کی یہ حالت ہے حضور انورؐ
پوجتے ہیں خرد علم و ہنر کے پتھر
ہے صنم خانہ جہاں اور یہ اس کے آرز

4.3.6۔ حرام خور

ہرسرمایہ دار حرام خور نہیں ہوتا حرص اور ہوس کی پرورش حرام خوری کے بغیر بھی ممکن ہے ۔پھر پاکستان جیسے مسلم ممالک میں تو مخلصین دین کی ایک ایسی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو سرمایہ دارانہ جبر کا شکا ر ہے (ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں مخلصین دین کی تعداد 2018 میں 2 کروڑ یعنی آبادی کا تقریباً 10 فیصد تھی) مخلصین دین میں محنت کش ،چھوٹے اور بڑے کاروباری اور تاجر ، صنعت کار، ہاری، زمیندار ،فوجی ،سرکاری اور نجی شعبہ کے دفتر ی ملازمین سب پائے جاتے ہیں ۔ یہ سب گردش سرمایہ کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں اور حرام خوری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ دنیا کو ابدی نہیں سمجھتے، یہ آخرت کی تیار ی کررہے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں یہ سرمایہ دار نہیں ہیں ۔

سرمایہ داروں میں بہت سے ایسے ہیں جو براہ راست حرام خوری سے دانستہ یانادانستہ بچے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی حد تک ان کا ذریعہ معاش حلال ہے۔ وہ حرص اور ہوس کے اسیر ہیں لیکن ان اوصاف خبیثہ کی پرورش کے لئے حرام طرائق سے کما حقہ ہو مستفیض نہیں ہوتے ہیں ۔ان کے رزق میں حرام شامل ہے لیکن حرام کا حصہ غالب نہیں ہے ۔

ہم حرام خور ان سرمایہ داروں کو کہتے ہیں جن کے ذرائع حصول آمدنی اور دولت تقریباً کلیتا ً حرام پر مشتمل ہے ۔یہ بینکر (بشمول اسلامی بینکرز) (دیکھئے علماء دیوبند کا اسلامی بنکاری کے متعلق فتویٰ،Ansari (2010)Money and Banking in Pakistan, Oxford University Press Karachi) اور فائنینسر ہیں۔ حرام خوری کا جو طریقہ سرمایہ داری نے عام کیا ہے وہ سود اور سٹہ کی مارکیٹوں میں سرمایہ دارانہ زر کی پیدا وار اور خرید وفروخت کی تنظیم پر مبنی ہے اس نوعیت کی حرام خوری کو منظم کرنے کا سرکاری ادارہ اسٹیٹ بینک ہے اور زر کے کاروباری ( بینکر او ر فائنینسر ) وہ حرام خور ہیں جو سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کی کارفرمائی کے ذریعہ سرمایہ دارانہ زر کے پھیلاؤ کا معاشرتی تغلب مستحکم کرتے رہتے ہیں ۔

4.4۔ سرمایہ دارانہ زر

سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جو اپنی مقدار میں اضافے کے لیے معاشرے میں مستقل گردش کرتا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ زر سرمایہ کی تجسیم ہے۔ سرمایہ کی اصلیت، یعنی اس کی روح حرص اور حسد ہے۔ زر اور سرمایہ دارانہ زر کے فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مثال پیش خدمت ہے: ادریس بازار میں کپڑا فرخت کرنے کے لیے لاتا ہے، اس کپڑ ے کو وہ زر میں تبدیل کرتا ہے اور اس زر کو اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدنے کے لیے استعمال کرتا ہے یعنی:

اس اشاریہ میں Cسے مراد کپڑا ہے، Mسے مراد زر ہے اور C1 سے مراد کھاناہے۔اس سے واضح ہوتا ہے:

اسلامی اقتصادی نظام میں زر یہی کردار ادا کرتا ہے۔ زر وہ ذریعہ ہو تا ہے جو ضروریات پوری کرنے کا وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ تمام غیر سر مایہ دارانہ نظاموں میں زر کا یہ فطری فعل ہے۔ اب اس اشاریہ کو دیکھیے:

اس اشاریہ کے مطابق ہنری زرM لے کر مشینری خریدتا ہے اور مزدوروں کو ملازم رکھتا ہے تاکہ کپڑا بنائے اور اس کپڑے سے حاصل شدہ رقم M1 مزید زر M11 اور M11 کو مزید زر M111 کمانے کے لیے لگاتا رہتا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ

سرمایہ دارانہ زر(MM1M11M111M∞)ہے۔ سرمایہ دارانہ زر کی بڑھوتری کی کوئی انتہا نہیں۔ یہی بات(Infinity) کی علامت)∞( ظاہر کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ زر حرص و حسد کی تجسیم ہے اور حرص اور حسد کی کوئی انتہا نہیں (نفوس میں شہوت اور غضب میں لامتناہی اضافہ ہوتا رہنا ممکن ہے) ۔لہٰذا سرمایہ دارانہ زر ہندسوں کی شکل اختیار کرتا ہے کیوں کہ ہندسوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ یہودی سٹہ باز ڈیوڈ ریکارڈو کو اس بات کا احساس تھا کہ سرمایہ دارانہ زر کا تعلق ہر مرئی شے مثلاً سونا، چاندی سے منقطع کیا جا سکتا ہے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ حکومت اپنے منشا اور مقاصد کے مطابق سرمایہ دارانہ زر کی مقدار کو خود متعین کر سکتی ہے اور اس مجبوری سے نجات پا سکتی ہے کہ کسی دھات کی لازماً محدود رسد زر کی مقدار کی بڑھوتری کو مقید کرلے۔ سرمایہ دارانہ زر نے کئی شکلیں اختیار کی ہیں اور اس کی تاریخ بیان کرنے سے اس وقت فائدہ نہ ہو گا۔ ریکارڈو کے وقت تک سرمایہ دارانہ زر کی معروف شکل بینک نوٹ تھی۔ ریکارڈو نے اس کے اجراء کے ایسے اصول بیان کیے تھے کہ اس کی قدر کا انحصار سونے چاندی پہ کم ہوتا چلا جائے۔ اب سرمایہ دارانہ زر کی اہم ترین شکل کمپیوٹر میموری میں اندراجات ہیں اور ہر سرمایہ دارانہ حکومت کا جاری کردہ زر ان معنوں میں سرمایہ دارانہ زر میں تبدیل ہو گیا ہے کہ

اب ہم یہ دیکھیں گے کہ سرمایہ دارانہ زر کا پیداواری عمل کیسے منظم ہوتا ہے؟۔ اس عمل کے دو شریک ہیں:
۱۔ مرکزی بینک (مثلاً اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا امریکا کا فیڈرل ریزرو سسٹم)

۲۔ نجی بینک (مثلاً حبیب بینک یابینک آف امریکا)

سرمایہ دارانہ زر([211] )کی پیداوار کی عمل ذیل میں دیے گئے مثال سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نیشنل بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ Rs.1,00,000

نیشنل بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ Rs.90,000

یونائیٹڈ بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ Rs.81,000

الائیڈ بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ Rs.72,800

اور سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ اس فامولے کے مطابق ہوتاہے:

جہاں CMسے مراد سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ، d سے مراد ریزرو ریشو اور TRسے مراد مجموعی ڈیپازٹ ہیں۔ ہماری مثال میں d=0.1 (دس فی صد) اور TR یعنی مجموعی ڈیپازٹ 1,00,000 ہیں۔ لہٰذا مجموعی سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ دس لاکھ ہو گا۔

اسٹیٹ بینک کے ایک لاکھ کے تمسکات خریدنے کے نتیجے میں مجموعی سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ دس لاکھ کا ہوا۔ ان ایک لاکھ روپوں میں سے نوے ہزار روپے کمرشل بینکوں نے قرضہ دے کر اور ایک لاکھ کے تمسکات بیچ کر پیدا کیے یعنی سرمایہ دارانہ زر میں نوے فی صد اضافہ کمرشل بینکوں نے کیا۔ مرکزی بینک کی جاری کردہ Reserve moneyکو Mo اور مجموعی زر کوBroad money,، M2 یا M3 کہتے ہیں۔ انگلستان اور امریکا میں Reserve money اور Broad money کا عموماً دو یا تین فی صد ہوتا ہے یعنی اٹھانوے فی صد زر ڈپوزٹ لینے والے نجی بینک پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں ۲۰۱۳ء میں غیر سرمایہ دارانہ زر (یعنی کرنسی) کا Broad money میں تناسب ۲۰ فی صد تھا۔ Reserve moneyکا تناسب Broad money میں تقریباً ۶۷ فی صد تھا۔ جیسے جیسے پراگرس رونما ہوتی ہے ریزو منی اور کرنسی کا M3 میں تناسب گرتا جاتا ہے۔

اس سے واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک نہیں بلکہ کمرشل بینک سرمایہ دارانہ زرکے اصلی تخلیق کار ہیں۔ کمرشل بینک قرضہ دے کر سرمایہ دارانہ زر پیدا کرتے ہیں۔ وہ قرضہ اپنے منافع کو Maximise کرنے کے لیے دیتے ہیں۔بینکوں کا منافع زیادہ تر دو شرح سود میں فرق پر منحصر ہوتا ہے: rI اور rd۔ rI وہ سود ہے جو وہ اپنے قرض داروں سے لیتے ہیں اور rd وہ سود ہے جو بینک اپنے ڈپوزٹرز کو دیتے ہیں۔

کمرشل بینک زر کی پیداوار اس کی مانگ کے مطابق بڑھانے پر کسی حد تک مجبور بھی ہوتے ہیں کیوں کہ جو قرضے انہوں نے پہلے دیے ہوئے ہوتے ہیں وہ جب وقت پر نہیں ملتے تو ان کو Roll-over کر کے نئے قرضوں کی شکل میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ اسی طرح قرض کی طے شدہ حد سے زیادہ کی اجازت بیش تر معاہدوں کا حصہ ہوتی ہے۔ جیسے جیسے کمرشل بینک کے قرضے بڑھتے ہیں ان کی ریزرو زر کی مانگ بھی بڑھتی ہے۔ کمرشل بینکوں کی سیالیت (Liquidity) کے تحفظ کے لیے ان کے ریزرو میں اضافہ لازمی ہے۔ لہٰذا اگر اسٹیٹ بینک مطلوبہ مقدار میں ریزرو نہ بڑھائے تو ملک بینک کاری کے بحران میں مبتلا ہو سکتا ہے جیسا کہ امریکا اور کئی یورپی ممالک میں ۲۰۰۷ء کے بعد ہوا اور ان ممالک کے سنٹرل بینکوں کو کئی سو کھرب ڈالر کی مالیت کا Reserve money جاری کر کے کمرشل بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانا پڑا۔ ان حالات میں امریکی مرکزی بینک (جسے Federal reserve systemکہتے ہیں) کے کئی صدور نے بار بار اعتراف کیا ہے کہ مرکزی بینک زر کی مقدار (Money supply)متعین کرنے کی استعداد کھو چکا ہے اور جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام پراگرس کرتا ہے کمرشل بینکوں کی گرفت اس کے زری نظام پر مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے ۔جیسے جیسے سرمایہ دارانہ فنانشل نظام وسعت پذیر ہوتا ہے نئے نئے فنانشل ادارے سرمایہ دارانہ زر کی نئی نئی قسمیں متعارف کراتے ہیں۔ ان ایجادات کو Near moneyکہا جاتا ہے اور یہ مختلف قسم کی Derivative کی شکل اختیار کرتے ہیں جو نیم تمسکات (Securities) اور نیم زر ہوتے ہیں۔ ان کی رسد پر سنٹرل بینک کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور ان Derivatives پر سنٹرل بینکوں کا عدم کنٹرول ۲۰۰۷ء کے بعدآنے والے عالمی فنانشل بحران کا اہم سبب بنا۔ ایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ نظام میں سنٹرل بینک شرح سود آزادانہ طور پر متعین کر سکتا ہے نہ زر کی مقدار۔ اس کو شرح سود کا وہ Structure اور رسد Reserve زر کی وہ سطح متعین کرنی پڑتی ہے جو کمرشل بینکوں اور دیگر فنانشل کارپوریشنوں کو بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ ۱۹۷۳ء کے بعد بین الاقوامی ترسیل زر پر تقریباً تمام پابندیاں بتدریج ختم کی جاتی رہی ہیں۔آج کوئی ملکی زر کسی مرئی شے (سونا، چاندی) میں متبدل نہیں اور ہر قومی زر کی تقابلی قدر سرمایہ دارانہ بازاروں میں متعین ہوتی ہے اور کسی سنٹرل بینک کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ ملکی زر کی بین الاقوامی ترسیل پر پابندی عائد کرے ۔نہ وہ اس کا مجاز ہے کہ اپنے ملکی زر کی بین الاقوامی تقابلی قدر متعین کرے۔ ہر قومی زر کی قدر اور تعداد سودخوروں، سٹے بازوں اور ساہوکاروں کی ترجیحات اور ضروریات کے مطابق باہمی رسہ کشی اور مارکیٹ مسابقت کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے۔Greenجو اس وقت کے امریکی سنٹرل بینک کا چیئرمین تھا، نے ۱۹۹۳ء میں کہہ دیا تھا کہ اب زر کی مقدار اور اس کی تقابلی قدر (خواہ شرح سود کی شکل میں ہو یا Exchange rateکی شکل میں) کو قومی معاشی پالیسی کے اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

آج سود اور سٹہ کے مارکیٹ صعنت ،زراعت ،تجارت اور خدمت (services) کے کاروباروں پر چھائے ہوئے ہیں ۔اس کی وجہ سرمایہ دارانہ ملکیت کا ارتقاء ہے۔ ہر قابل فروخت شے (commodity) مثلاً تیل ،گیہوں ،اراضی ،حکومتی اعتبار کی قدر کو تمسکات (securities) اور حصص کی شکل میں ڈھالا جارہاہے ۔اس عمل کو securitisation کہتے ہیں، یہ تمسکات (securities) پوری دنیا میں ہرمنٹ بیچی اور خریدی جارہی ہیں اور ان کی قیمت مستقلاً اتار چڑھاؤ کے عمل سے گزر رہی ہے، ان تمسکات (securities) کی قیمت کا تعین وہ حرام خورکرتے ہیں جن کو توقع ہوتی ہے کہ مطلوبہ تمسکات یا حصص کی خرید وفروخت سے ان کومنافع ہوگا لہذا صنعت کار ،تاجر ،کسان ،حکومتیں سب ان حرام خوروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ۔اگر کپڑا بنانے والے کارخانوں کی حصص کی قیمتیں گر جائیں تو کپڑے کی صنعت دیوالیہ ہوجائیگی ۔اگر گیہوں کے مستقبل کے سٹہ کے سودے سستے ترہو جائیں تو ایک عام کسان اور ہاری ماراجاتا ہے اگر حرام خور پاکستانی روپے کی قیمت کم کرتے رہیں تو حکومتی اعتبار مجروح ہوجاتا ہے اور ملکی معیشت زوال پزیر ہوجاتی ہے ۔تمام معاشی کارفرمائی کا انحصار اس بات پر ہوجاتا ہے کہ حرامخوروں کو کتنا نفع کمانے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں ۔

ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات

نہایت افسوس کی بات ہے کہ سولہوی اور سترھویں صدی کے عیسائی پادریوں کی طرح آج اکنامکس اور فائنانس سے نا بلد ماڈرنسٹ علماٗ،مدارس اور ان کے تلامذہ نے بھی اس حرام خوری کے لئے اسلامی جواز مرتب کرلیا ہے اور حیلہ بہانوں سے حرام خوری کے ہر طریقہ کو گاہےگاہےشریعت کے دائرہ میں لایا جارہاہے اورہرسال مسلمانوں کی دولت اربوں کھربوں کے لحاظ سے سرمایہ دارانہ فائنینشل مارکیٹوں میں جھونکی جارہی ہے الحمداللہ مخلصین دین کی عظیم اکثریت اس فتنہ سے محفوظ ہے اور مساجد ،مدارس اور خانقاہوں کی بڑی تعداد اسلامی بینکاری کے اس منحوس جال میں نہیں پھنسی۔

4.5۔ میکرومینجمنٹ

سرمایہ دارانہ املا کی ارتقاء کے نتیجہ ہیں سرمایہ دارانہ عمل پر حرام خوری غالب آگئی ہے اور نظاماتی طورپر فائنینسز (حرام خوروں ) کا غلبہ صنعت ،تجارت ،زراعت اور خدمت (services) پر قائم ہوگیا ہے اس غلبہ کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظاماتی اندرونی بحرانوں (crises) کے وقوع پذیر ہونے کے امکانا ت بہت بڑھ گئے ہیں ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حرام خوری (Finance (کا یہ پورا کاروبار قرضوں کی لین دین پر منحصر ہے ۔قرضوں کے لین دین کا یہ پورانظام مستقبل کے تخمینات پر منحصر ہے اور ان تخمینات (expectations) کو متعین کرنے کی کوئی منطقی بنیادنہیں ۔ یہ ریت پر کھڑا کیا گیا ایسا محل ہے جو ہر وقت اپنے گرنے کی بشارت دیتا رہتاہے ۔جب بھی ادائیگیاں (payments) مطالبات (claims) سے کم ہوں گی بحرانی کیفیت کے پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہوگا اور دورحاضر میں ادائیگیاں محفوظ مطالبات سے مستقلاً کم ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملکی کارپوریٹ اور خاندانی قرضہ مستقلاً دنیا بھر میں بڑھتے چلے جارہے ہیں اور مطالبات کے پورا کرنے کے لئے قرضہ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا اور سود اور سٹہ پر انحصار کرنے والی یہ غلیظ اور پلید معیشت بحرانوں کے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہے ۔

بیسویں اور اکیسویں صدی میں یہ بحران بار بار آتے رہتے ہیں ،کبھی کبھی یہ بحران پوری سرمایہ دارانہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ بات 1929, 2008اور حالیہ بحران2020 کے بارے میں کہی جاسکتی ہے جب کسی ایک ملک (امریکہ /چین ) میں شروع ہوکر یہ بحران پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں پھیل گئے ہرجگہ پیدواری شرع نمو (GDP growth rate) اورشرع سرمایہ کاری (Investment /GDP ratio) گری ۔بے روزگاری میں ہوشربااضافہ اور کاروبار بڑے پیمانے پر دیوالیہ ہوگئےہیں ۔

ان بحرانوں کی وقوع پذیری کا سبب حرام خور بازاروں کا عدم توازن ہی نہیں ہوتا ۔سائنسی تباہ کاریاں بھی ان اسباب میں شامل ہیں ۔مثلاً حالیہ بحران جو جنوری 2020 سے شروع ہوا اس کا سبب حرامخور (financial) مارکیٹوں کی ناہمواریاں نہیں بلکہCOVID19 کی وباء کا پھیلنا ہے اور جیسا کہ ہم باب 7میں تفصیل سے بیان کریں گے COVID19 کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ وہ کیمیائی اور ادویاتی اختراعات ہیں جو فارما کمپنیاں اور دیگر biochemical لیبارٹریوںمیں دوسری جنگ کے وقت سے جاری ہیں اور جو نئے نئے جراثیم (pathogeons) کی ایجاد کرکے صحت کے نظام کو تباہ کررہے ہیں۔

AIDS کی بیماری کی طرح SARS اور COVID بھی ایک جدید سائنسی ایجاد ہے۔ایک اور خطرناک ترین پیش رفت geo-engineerning کی شکل میں کی جارہی ہے ،متبادل ذرائع توانائی (alternative energy) کی تلاش bio-geo- chemical balances کو بالکل تباہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے اور ماحولیاتی ابتری کو کم کرنے کی جستجو عالمی ماحولیاتی نظام کی مکمل تباہی پر منتہج ہوکر دنیا کو انسانی زندگی کے لئے مطلقاً ناموزوں بنا سکتے ہیں۔ آج سائنس اپنے جاہلیت خالصہ ہونے کا ثبوت اپنی تباہ کاریوں سے خود پیش کررہی ہے ۔

سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نمٹنے کے لئے جو سائنسی منہج اپنا یا گیا ہے اس کو keynesianism کہتے اور یہ 1929 کی بحران کی پیداوار ہے۔ keynesism کا مقصد محنت کشوں کو ریاستی نظام میں سمونا تھا اس کے لئے جو قدم اٹھایا گیا وہ بے روزگاری کے مکمل خاتمہ کو یقینی بنانا تھا ۔یہ ہدف کبھی بھی پوری طرح سے حاصل نہ ہوسکا لیکن سرمایہ داری کے سنہری دور 1946)تا (1973میں امیر ممالک میں بے روزگاری کو مجموعی labour fource کے دویا تین فی صد تک کم کردیا گیا ۔محنت کشوں کو سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں سمونے کے لئے ضروری تھا کہ ان کے سرمایہ دارانہ نمائندوں ٹریڈ یونینوں اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کو اقتدار میں شریک کیاجائے ۔

Keynes نے کہاکہ بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے حقیقی اجرتوں (real wages) میں کمی نہیں زیادتی کی ضرورت ہے, کیونکہ اجرت ترسیل سرمایہ (circulation of capital) کے عمل کو مہمیز دیتی ہے, وہ محض ایک پیداوری خرچہ (cost of production) نہیں Keynesizm سرمایہ عمومی کے مفادات کو فروغ دیتی ہے۔ انفرادی سرمایہ دار کے لئے اجرت ایک پیداواری خرچہ (cost of production) ہے لیکن اجرتیں مجمومی صرف (aggregate consumtion) کا اہم ترین حصہ ہوتی ہیں اور گردش سرمایہ (circulation of capital) کی روانی اور رفتار متعین کرتی ہیں ۔ Keynes کو اس بات کا بھی پورا حساس تھا کہ ٹریڈ یونینوں کی جدوجہد انفرادی سرمایہ کاروں یا دوسرے محنت کشوں کے خلاف ہوتی ہے۔ سرمایہ عمومی کے خلاف نہیں ہوتی، لہٰذا وہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کا حصہ بنائی جاسکتی ہیں ۔سرمایہ کاروں اور محنت کشوں کے اس سرمایہ دارانہ اتحاد کا اظہار national income accounting کے ضوابط کی فروغ میں عیاں ہوتا ہے ۔آج قومی مفاد کے ناپنے کا متفق علیہ پیمانہ national income کی بڑھوتری کو قرار دیا جاتا ہے ۔

Keynesianپالیسی national income کی اجرتوں ،سود ،رہن اور منافع میں ایسی تقسیم کی کوشش کرتی ہے جس کے نتیجہ میں قومی آمدنی کی رفتار نمو (rate of growth of GNP) بڑھتی رہے لیکن یہ ہدف مارکیٹی کارفرمائی کے توسط سے ہی بڑی حد تک انجام دیا جاتا ہے اور پالیسی ساز ی کے ذریعے سرمایہ دارانہ ریاست سرمایہ دارانہ عمل میں اس طرح دخیل ہوتی ہےکہ اس میں اور معاشرہ میں فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور معاشرتی عمل کے ہر شعبہ کو ریاست متاثر کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہے ۔یوں Keynesian پالیسیوں کی کامیابی کا دارومدار مارکیٹیرجحانات پر منحصر ہوتا چلا گیا ۔

جیسا کہ ہم نے دیکھا Keynesianپالیسی کا بنیادی ہدف بے روزگاری کا خاتمہ اور ایک اونچی اجرتی معیشت (high wage economy) کا فروغ تھا ۔اس کےلئے جو پالیسی سازی کی گئی اس کے دو پہلو تھے ۔ 1929 کے بحران میں نجی سرمایہ کاری امریکہ اور یورپ میں بہت کم ہوگئی تھی اور بے روزگاری کے پھیلاؤکا یہی سب سے نمایاں سبب تھا ۔سرمایہ کاری کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے سرکاری سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ کیا جانے لگا۔ یہ سرمایہ کاری فوجی صنعیت کے فروغ پر مرکوز تھی اور شہری تعمیرات (civic infrastructure) شعبہ میں بھی کھپائی جارہی تھیں ۔ اس سرمایہ کاری کو ممکن بنانے کے لئے امریکی اور یورپی حکومتوں نے بہت بڑے پیمانے پر قرضے لئے جس کے نتیجہ میں بجٹ کا خسارہ (defecit) تیزی سے بڑھا Keynesizm کے مطابق ریاستی خسارہ بڑھنا کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا، کیوں کہ ریاستی سرمایہ کاری کی بڑھوتری کے نتیجہ میں مجموعی قومی آمدنی (national income) او ر مجموعی مانگ میں اضافہ ہوگیا جس کے نتیجہ میں حکومتی ٹیکس کی وصولیاں اور نجی سرمایہ کاری دونوں بڑھنے لگیں ۔ مجموعی پیدوار (aggregate supply) میں ہی اتنا اضافہ ہوگیا کہ مجموعی مانگ (agreegate demand) کے اضافہ کو absorb کرلیا جائے گا او رشرع تورم (rate of inflation) معمولی رہے گا ۔پھر ریاستی قرضہ جاتی ادائیگیوں کو آسان بنانے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے ریاست شرع سود کو کم رکھنے اور غیر ملکی ترسیل سرمایہ دارانہ اخراج پر سخت پابندیاں عائد رکھے ہوئے تھی ۔

یہ پالیسیاں 1945 سے 1973 تک نسبتاً کامیاب رہیں ۔بیروزگاری بہت کم ہوگئی ۔سرمایہ کاری اور مجموعی قومی آمدنی کی شرع نمو اونچی رہیں ۔شرح تورم (rate of inflation) کم رہا ۔اجرتوں میں اس پورے دوران اضافہ ہوتا رہا اور محنت کشوں کے سرمایہ دار نمائندوں کے مطالبات بھی معقول(reasonable) رہے اور وہ سرمایہ دارانہ ریاست کے ذمہ دار (responsible) شریک اقتدار ثابت ہوتے رہے ۔لبرل جمہوریت سوشل ڈیموکرسی میں تبدیل ہوتی گئی کیوں کہ محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ نمائندوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی بالادستی national insurance اور اپنی ریاستی اقتداری شرکت کے عوض قبول کرلی ۔1974 کے بعد یہ پالیسی ناکام ہوتی چلی گئی اور بین الاقوامی حوادثات نے اس نظام کو متزلزل کردیا ۔ایک نو ستمبر 1971 میں صدرنکسن نے امریکی ڈالر کو غیر متبدل قرار دے کر عالمی نظام ترسیل زر کو دھچکا لگایا جس کے نتیجہ میں قومی سطح پر ترسیل زر پر کنٹرول رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا چلا گیا ۔(1944 میں طے ہوا تھا کہ تمام قومی سرمایہ دارانہ زر ڈالر کے مقابلہ میں متعین شرح تبدل کے مطابق تبدیل کئے جائیں گے اور امریکہ نے گارنٹی دی تھی کہ 35 ڈالرکے عوض ایک اونس سوددیتا رہئے گا ،ستمبر 1971 کے بعد ڈالر کی قیمت رسد اور طلب کے حساب سے متعین کی جانے لگی) 1973کی عرب اسرائیلی جنگ کے نتیجہ میں تیل کی قیمتوں میں بہت بڑے اضافہ ہوتے رہے اس کے نتیجہ میں یورپ اور امریکہ کے پیدواری خرچ(production cost) میں اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاری گری ،شرع سود میں اضافہ کرنا لازمی ہوگیا ۔بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور شرح تورم (rate of inflation) بھی بہت بڑھی ۔حقیقی اجرتیں (real wages) منجمد ہوگئیں اور محنت کشوں کی نمائندہ تنظیمیں "غیر حقیقت پسند انہ (un reasonable ) مطالبات کرنے لگیں ۔اٹلی ،فرانس ،برطانیہ اور کئی دیگر ممالک میں ہڑتالیں عام ہوگئیں اور کینیزین /سوشل ڈیموکریٹ پالیساں بتدریج عوامی تائید کھو تی چلی گئیں ۔

تھیچر (Thatcher) ریگن(Reagon) اور کوہل (Kohl) کی انتخابی کامیابیوں کے نتیجہ میں سوشل ڈیموکریٹ پالیساں کم از کم وقتی طور پر رد کردی گئیں ۔محنت کشوں کی ریاستی اعانتوں میں تخفیف ضرور ہوئی اور حقیقی اجرتوں کی سطح میں اضافہ کی رفتار کم ہوگئی لیکن national insurance کا جو نظام سوشل ڈیموکریسی کے دور عروج میں کارفرماتھا وہ قائم رہا بلکہ مستحکم ہوگیا ۔

2007 کے شروع سے ہونے والا بحران 1929 کے بحران سے مختلف ہے یہ حرام خوری نظام )بالخصوص بینکاری( کے عدم توازن کا نتیجہ ہے ۔2002 سے امریکی بینکوں نے بڑے پیمانے پر ایسے قرضے دیئے جن کی ادائیگی ناممکن تھی، اس کے علاوہ حرام خوری کی نظاماتی مجہولی (financial liberalisation) کے سبب ہرقسم کے derivatives اور تمسکات کی اتنی بھرمار ہوگئی کہ انفرادی واجبات کا صحیح اندازہ لگانا مشکل سے مشکل ہوگیا اور کئی بڑے بینک اور حرام خورادارے (NBFIs) دیوالیہ ہوتے چلے گئے ۔اس کے نتیجہ میں پہلے امریکہ میں اور بعد میں کئی یورپی اور ایشیائی ممالک میں سرمایہ کاری ختم ہوگئی ۔بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور قومی پیدوار کی شرع نمو منجمد ہوگئی ۔

اس بحران پہ قابو پانے کے لئے امریکہ ،چین ،جاپان اور دیگر یورپی ممالک نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کے بلاسود تمسکات بینکوں اور دوسرے حرام خوراداروں کو دیئے تاکہ وہ دیوالیہ ہونے سے بچے رہیں۔ یہ بھی Keynesian پالیسی کی ایک شکل ہے فرق یہ ہے کہ پہلے کے مقابلہ میں اب سرمایہ دارانہ ریاست محنت کشوں کے بجائے سرمایہ کاروں کو اعانت فراہم کرتی ہیں اور اسکابنیادی انحصار زری (monetary) پالیسی پر ہوتا ہے مالیاتی (fiscal) پالیسی پر نہیں ۔اس حکمت عملی کو اپنا نے کے نتیجہ میں حرام خوری کے نظاماتی استحکام مزیددگرنوں ہوا ہے اور قومی کاروباری اور خاندانی قرضہ جات ناقابل یقین حد تک بڑھ گئے لیکن سٹہ کا مارکیٹ ترقی پذیر ہے ۔ 2019 تک قومی آمدنی اور سرمایہ کاری بڑھی تھی اور بے روزگاری میں بیشتر سرمایہ دارانہ ممالک میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔ 2019میں یہ رائے عام تھی کہ پچھلے بحران کے تمام منفی رجحانات رفع ہوگئے ہیں۔

2020 سے جو بحران شروع ہوا ہے وہ بھی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک اندرونی بحران ہی ہے ۔یہ بحران اس بات کی علامت ہے کہ جاہلی علمیت یعنی سائنس کا شیرازہ بکھر نا شروع ہوگیا ہے ۔پچھلی چار صدیوں میں سائنسی ترقی ہی ے سرمایہ دارانہ نظام پیداوار اور تبدل کو وسعت اور استحکام دیا ہوا تھا ۔اس جاہلی علمیت کے تضادات سامنے آرہے ہیں اور یہ واضح ہوتا جارہاہے کہ سائنسی منہج کی پیروی کرکے انسانیت اپنے آپ کو تباہ کررہی ہے ۔ جاہلی علمیت کی شکست وریخت کایہ عمل گھمبیر ہوتا چلاجائے گا اور جب تک سائنسی منہج ترک نہ کیا گیا اس نوعیت کے بحرانوں کو صرف وقتی طور پر کم کرنے کا کام انجام دیا جا سکے گا۔COVID19 کو ختم کرنے والی ویکسین دریافت ہوگئی جائے لیکن bio chemical اختراعات کے جو طرائق فارما کمپنیاں اور لیبارٹریاں اختیار کئے ہوئے ہیں وہ نئے نئے جراثیم (pathogene) پیدا کرتی رہیں گی اور نئی نئی وبائیں وقتاً فوقتاً پھوٹتی رہیں گی ۔یہ بات ان متوقع بحرانوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے جو آئی ٹی اور geo engineering کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں آتے رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ سائنسی منہج کو ترک کرنا سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) اور نظام زندگی کے لئے بالکل ناممکن ہے ۔

فی الحال عالمی کساد بازاری سے نمٹنے کے لئے امریکہ ،چین ،یورپ ور جاپان نے جو حکمت عملی اپنائی ہے اس کا انحصار پھر ریاستی مالی اور مالیاتی (fiscal and monetory) اقدام پر ہے ۔

بین الاقوامی اور اندروں ملک کی تجارت شدید متاثر ہے ۔امریکہ ،چین اور یورپی ممالک نے ایک بار پھر کئی ہزار کھرب ڈالر نوٹ چھاپ کر اور بے سودی تمسکات کے اجرا کے طوپر معیشت میں جھونک دیئے ہیں۔ اس بحران کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آئی ٹی کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں بڑی کمپنیاں اور حرام خور شعبہ اس کے اشارات سے قدرے محفوظ رہے اور بیشتر سٹہ کے مارکیٹ (stock market) ترقی کررہے ہیں ۔چھوٹے کاروبار بند پڑے ہیں لیکن Amazon اور Google ,Facebook کے منافع اور ان کے حصص کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں تقسیم دولت اور آمدنی کی نامساویت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نامساویت کا یہ بڑھاؤ سرمایہ دارانہ عوام کو سرمایہ دارانہ اشرافیہ سے بدظن کررہاہے لیکن سرمایہ دارانہ عوام جمہوری" آھنی پنجرہ "میں قید ہیں اور اس پنجرہ کے ٹوٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ۔

ظاہرہے کہ یہ ریاستی پالیساں سرمایہ دارانہ نظام کی اصلی بڑھتی ہوئی کمزوریوں کورفع نہیں کرسکتیں یہ کمزوریاں اس کا جاہلی علمی منہج یعنی سائنس پر انحصار ہے اور الحمد اللہ اس بنیادی کمزوری کا سرمایہ دارانہ اشرافیہ خواہ دانشور خواہ ماہرین ،خواہ سیاست دان ،خواہ کارپوریشنوں کےسربراہ ،خواہ حرام خور کو احساس تک نہیں کہ جس صنعت کی کارفرمائی نے کروناوائرس تخلیق کی یعنی pharmaceutical اس ہی صنعت سے اس کے سدباب کی تمام تر توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور صنعت کی بڑھتی ہوئی متوقع تباہ کاریوں کا کوئی احساس نہیں ۔

اس ہی عطار کے لونڈے سے دوا لیتےہیں

سرمایہ داری زوال پذیر ی کے ایک طویل دور میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ دور صدیوں پر محیط ہوسکتا ہے۔ اس پورے دورمیں بحران آتے رہیں گے اور بیشتر بحرانوں کے اپنے پیش روسے زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر (complex) ہونے کی توقع ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی ارتباط تتربتر (deconstruct) بھی ہوتا رہے گا اور اس کو ازسرنومرتب (reconstruct) کرنے کی کبھی کامیاب کبھی ناکام کوششیں بھی ہوتی رہیں گی، لیکن سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات بڑھتے رہیں گے اور جاہلیت خالصہ (rationality) کی نامعقولیت ظاہر ہوتی رہے گی۔

لیکن سرمایہ دارانہ نظام خود بخود تباہ نہ ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ اصلاً ایک روحانی قوت ہے ۔جیسا کہ حضرت مولانا محمد مارک ڈیوک پکتھال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا وہ تکاثر حرص اور ہوس کی تجسیم ہے۔ جب تک اہل ہوس (سرمایہ دار) معاشرہ اور یاست پر غالب رہیں گے اور جب تک لوگ ان کے غلبہ کو برداشت یا قبول کرنے پر آمادہ رہیں گے اس وقت تک سرمایہ کا راج (سامراج ) قائم رہے گا ۔حوادثات اور بحران اس نظام کو کمزور تو کرسکتے ہیں لیکن اس کا مکمل انہدام اس وقت ممکن ہوگا جب اسلامی انقلابی اہل ہوس(سرمایہ داروں ) سے معاشرتی اور ریاستی اقتدار چھین لیں گے ۔

سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں اسلامی روحانیت کا فروغ ہو۔ لوگ اخروی زندگی کو دنیا پر ترجیح دیں ۔دنیا میں جنت بنانے کی احمقانہ جستجو ترک کرنے پر آمادہ ہوں ، جاہلیت خالصہ سائنس اور سوشل سائنس کی اصلیت کو پہچان لیں ۔اسلامی علمیت کو وسعت دے کر دور حاضر کے مسائل کا احاطہ کریں ۔اسلامی تاریخ کو معتبر سمجھیں اور اپنی تہذیبی روایات سے ماخوذ رسوم ورواج کا احیاءکریں۔

اور اس کے ساتھ ساتھ مخلصین دین کی ایسی ادارتی صف بندی ہو جو سرمایہ دارانہ اقتدار کو معاشرہ اور ریاست کی ہرسطح پر بے دخل کرنے کی پیہم جدوجہد کرتی رہے۔ ہمیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی بیرون (Exterior) نہیں اور اس کے تضادات کو مہمیز دیکر ہی ہم اس کا انہدام ممکن بنا سکتے ہیں ،اس کے لئے ہم نے جمہوری عمل اور اس کے تضادات سے پورا پورا فائد اٹھانے کا عزم کیا ہے ۔

ہم نے یہ جدوجہد سامراج کے عروج کے دور سے شروع کی ہوئی ہے اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس جہاد کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے کیونکہ بنی نوع انسان کا مستقبل ان کی آخرت کا انحصار اسلامی انقلابیوں کی پیش رفت سے ہی وابستہ ہے ۔

ہر اک منتظر تیری یلغار کا

باب 5

یہ بھی ایک سرمایہ دار کی ہے جنگ زرگری

سرمایہ دارانہ ریاست

5.1۔ سرمایہ داری اور جمہوریت

جمہوریت عوامی تائید حاصل کرنے کی سیاسی تنظیم ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ تائید بڑھوتری سرمایہ کو ہدف اعلیٰ کے طورپر قبول کرنے سے لیجاتی ہے ۔سرمایہ کی بڑھوتری کا ہدف عوام اور خواص میں عمومی طور پر حرص اور ہوس کے فروغ ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔سرمایہ حرص اور ہوس کی تجسیم (concrete form) ہے۔ سرمایہ داری کی بنیادی قدر مساوی آزادی(equal freedom) ہے جو معاشرہ اور ریاست میں سرمایہ دارانہ انفرادیت کی بنیاد پر قائم ہونی ہے ۔

سرمایہ داری کا بنیادی نظریاتی پیغام یہ ہے کہ انسان ہیومن بینگ (autonomous) ہے اور دنیا ابدی ہے (کیونکہ موت حرص و ہوس کو ختم کردیتی ہے) ۔ہیومن بینگ انفرادی اور اجتماعی طورپر حصول رضائے الٰہی کی جستجو نہیں کرتا یہ ایک غیرریشنل فعل ہے، کیونکہ ہیومن بینگ خود تخلیقی ہے ۔وہ اپنی ذات اور کائنات کو خود تخلیق کرتا ہے اور اپنے افعال کے لئے خدا کو جواب دہ نہیں، وہ حق کا خالق بھی ہے اور قانون سازی سے اس حق کا اظہار کرتا ہے، ہیومن بینگ کو اس بات کا استحقاق ہے کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہئے ۔سرمایہ دارانہ معاشرتیں اور ریاستیں لازماً دہریہ (secular) ہوتی ہیں جہاں مذہب کو ایک آرٹ کے طورپر برداشت کئے جانے کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔

مذہبی معاشرتیں اور ریاستیں(آج واحد مذہبی ریاست کا تصور اسلامی ہے، کبھی یہودیوں کی پاس بھی یہ تصور موجود تھا، عیسایوں نے مذہبی ریاست کا تصورچوتھی صدی عیسوی میںConstaintine کی حاکمیت قبول کر کے ترک کردیا جس کے بعد عیسائیت Augestine) کےDoctrine of the Two Swords, God and Kingdom of Man کا نظریہ ایجاد کرکے دہریت کو اپنالیا) اسلام انسان کو ہیومن بینگ نہیں عبداللہ بنانا چاہتا ہے ۔وہ حرص اور ہوس کے جذبات کو مسخر کرنا چاہتا ہے ۔خلیفہ عوام کا نمائندہ نہیں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا نائب اور جانشین ہوتا ہے ۔اس کوعوامی خواہشات کے مطابق حکومت کرنے کی ذمہ داری نہیں سونپی جاتی وہ ایسا امام عادل ہوتا ہے کہ جو لوگوں کو خدا کی اطاعت کا پابند بناتا ہے ۔اسلامی معاشرتی اور ریاستی کارفرمائی (functioning) کا مقصد مساوی آزادی کا فروغ نہیں بلکہ حصول رضائے الٰہی اور اخروی کا میابی ہوتا ہے۔

مذہبی معاشرتیں تو کبھی جمہوری نہیں بنائی جاسکتیں )کیونکہ وہ ہدایت کے اصول پر قائم ہیں ( سرمایہ داری کے غلبہ کے دور میں اسلامی ریاستیں تزویراتی بنیادوں(on strategic ground) جمہوری عمل کو اپنا بھی سکتی ہیں )جیسا کہ حالیہ دور میں ایران میں کیاجارہاہے) ،لیکن جمہوری عمل کا استعمال انفرادی سطح پر لازماً اسلامی روحانیت کو کمزور کرتا رہتا ہے کیونکہ اس کی پیروکاری اسلامی اعتقادات کی عملی تردید ہوتی ہے ۔لہذا اسلامی انقلابیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عوامی تحرک پیدا کرنے اور قائم رکھنے کے لئے غیر جمہوری طرائق دریافت کرتے رہیں ۔

اس کے برعکس سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کے قیام اور استحکام کے لئے آج جمہوری عمل کی تشکیل اور ترویج (institutionalisation) لازمی ہے ۔بغیر اس کے حرص اور ہوس کی آلہ کار عقلیت (rationality) اور روحانیت آفاقی (Universal) نہیں بنائی جاسکتی ۔اب ہرسرمایہ دارانہ ریاست لازماً ایک جمہوری ریاست ہوتی ہے کیونکہ وہ حرص اور ہوس کو مقبول عام بنا کر ہی اپنا حکومتی جواز (justification) فراہم کرتی رہتی ہے ۔

ان جمہوریتوں میں 11ویں اور 12ویں صدی کی اٹلی میں قائم کردہ ساحلی حکومتیں 14 اور ا15 ویں صدی کی وسطی یورپ کی شہری حکومتیں 19ویں صدی کی لبر ل حکومتیں اور دور حاضر کی پارلیمانی اشتراکی اور استبدادی حکومتیں سب شامل ہیں(غیر سرمایہ دارانہ جمہوریتیں قدیم یونان اور روم میں پائی جاتی تھیں) بالغ رائے دہی پر انتخابی نظام کا استعمال عوامی تائید حاصل کرنے کے لئے توبیسویں صدی سے اپنایا گیا لیکن بالغ رائے دہی (Universal Saffrage) کی فراہمی کو جمہوریت کے ہم معنی سمجھنے کا کوئی جواز نہیں ۔یہ عوامی تائید کے حصول کا ایک کمزور ذریعہ ہے جو وقتاً فوقتاً ہی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔عوامی تائید کے حصول کے اس سے کہیں زیادہ مؤثر ذریعہ ہیں جو صدیوں سے استعمال ہورہے ہیں ۔مثلا ً مارکیٹی نظام کاقیام اور کارفرمائی حرص اور ہوس کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے ۔تعلیمی نظام کو دہریانہ(securalised) کرنےکی پیہم جستجو جس نے مذہبی عقلیت کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنے کا عزم کیا ہوا ہے بھی اہم ہے۔مذہبی رسو م وروایات کی مستقل تضحیک او رتحقیر ،فواحش کا وہ سیلا ب جو سرمایہ دارانہ میڈیا (media) لائے ہوئے ہے معاشرہ میں اغراضی گروہوں (interest group) کی صف بندی جو ہیومن اور سوشل رائٹس کی پیہم جستجو کرتی رہتی ہیں ۔یہ سب حرص اور ہوس کو (universilize) کرنے ہی کے ذرائع ہیں اور ہر سرمایہ دارانہ ریاست )خواہ لبرل ،خواہ اشتراکی ،خواہ سوشل ڈیموکریٹ خواہ استبدادی ان کو منظم بھی کررہی ہے اور فروغ بھی دے رہی ہے۔ بالغ رائے دہی پر مبنی انتخابی عمل اور نظام نمائندگی کو کمزور کرنے )جیسا کہ استبدای ریاستیں کرتی رہتی ہیں( لازماً جمہوری عمل کوکمزور نہیں کرتیں ۔

سرمایہ داری او رجمہوریت کا تعلق ان معنوں میں جوہری ہے حادثاتی نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنا وجودی جواز حرص اور ہوس کے عقلیت اور روحانیت کی عوامی تائید ہی سے حاصل کرسکتا ہے چاہے یہ تائید بہ رضااور رغبت(voluntarily) حاصل کی جائے یا بحالت مجبوری ، مثلاً سامراج کے تسلط کے نتیجہ میں۔ لیکن اگر عوام میں حرص اورہوس کے فروغ کے مواقع محدود ہوں تو جمہوری عمل سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کا ذریعہ نہیں بنتا جیسا کہ قدیم یونان میں نہ بنا اس ہی طرح انتخابی عمل کو سرمایہ دارانہ تغلب کو کمزور کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے (جیسا کہ 1978 کے بعد میں ایران میں ہورہاہے ) اس ہی طرح جمہوری نظام کے دیگر اجزا(تعلیم ،میڈیا ،معاشرتی صف بندی ) بھی کسی نہ کسی حد تک انہدام سرمایہ داری کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔بشرطیکہ ایک ہماہ پہلو تزویراتی حکمت عملی کے تناظر میں ایسا کرنے کی کوشش کی جائے، ان معنوں میں جمہوری نظام کی کچھ جہتوں کا تعلق سرمایہ دارانہ جہت سے حادثاتی (contingent) بنایا جاسکتا ہے (بشرطیکہ اسلامی انقلابی اس کی صلاحیت پیدا کریں)۔

ہرسرمایہ دارانہ ریاست (کم از کم دورحاضر میں ) ایک جمہوری ریاست ہوتی ہے لیکن مختلف ریاستیں جمہوری عمل کی ترتیب اور تنظیم مختلف انداز میں کرتی ہیں ۔طریقہ کار کے اس اختلاف کی بنیاد پر انہیں نے زیادہ یا کم جمہوری نہیں کہاجاسکتا ۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کفر ایک امت ہے۔ "

5.2۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی ہیئت اور ماہیت

اس سب سیکشن میں ہم ان ساختی اورماہیاتی خصوصیتوں کا بیان پیش کریں گے جو تمام اقسام کے دور حاضر کی سرمایہ دار انہ ریاستوں ۔پارلیمانی ،اشتراکی ،سوشل ڈیموکریٹ استبدادی میں پائی جاتی ہیں ۔

معاشرہ رضا کارانہ (voluntary)صف بندی سے تشکیل پاتا ہے، یعنی افراد اپنی مرضی سے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ریاست نظامِ اقتدار کا نام ہے یعنی ایک جبری صف بندی کی تشکیل کی جاتی ہے۔ اب سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست میں اصل اقتدار کس کو حاصل ہو تا ہے؟ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست میں اصل اقتدار ان کو حاصل ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے مؤید ہوتے ہیں۔سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے کہ انسان کو تمتع فی الارض کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ انسان کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے زیادہ سے زیادہ مساوی مواقع ملیں، تو جو لوگ سرمایہ دارانہ ریاست میں صاحبِ اقتدار ہوتے ہیں، وہ اسی سرمایہ دارانہ عقلیت کے بارے میں راسخ العقیدہ ہوتے ہیں اوریہی اُن کے اقتدار کا جواز ہے۔

اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت پرایمان رکھنے والوں کا اقتدار کیسے قائم ہوتا ہے؟ اور کیسے مستحکم ہوتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب پورا معاشرہ سرمایہ دارانہ تعقل کو اصل عقلیت کے طور پر قبول کرلے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی تمام یا زیادہ سے زیادہ فیصلے ہوں، گویا سرمایہ دارانہ عقلیت کو آفاقی بنا کر اقتدار کو مستحکم کیا جاتا ہے۔ جس قدر اس سرمایہ دارانہ عقلیت کی توسیع ہو گی، جس قدر سرمایہ دارانہ عقلیت کو معاشرہ میں قبولیتِ عامہ حاصل ہوتی جائے گی، جتنا سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھنے والے اور سرمایہ دارانہ عقلیت کے داعی اس میں کامیاب ہوں گے، اتنا ہی ان کا اقتدار مستحکم ہوگا۔

ریاست ایک نظامِ اقتدار کا نام ہے جس کے پاس اپنے فیصلوں کے نفاذ کے لیے ایک مخصوص علاقہ اور اس کی آبادی کے اوپر قوتِ نافذہ بھی موجود ہو، سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھنے والے وہ اپنے فیصلو ں کے نفاذ کے لیے ریاست کی قوت کو استعمال کرسکیں۔

سرمایہ دارانہ لبرل ریاست میں دو مختلف طریقوں سے نظامِ اقتدار مرتب کیا جاتا ہے یعنی اس کے دو مختلف ڈھانچے ہوتے ہیں۔یہ دو ڈھانچہ پارلیمانی اور ڈیکٹورل(doctoral) ہیں۔

بظاہر ان دونوں طرز ہائے اقتدار کی ترتیب وتنظیم مختلف ہوتی ہے لیکن عملاً ان دونوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عقلیت ہی غالب آتی ہے ، یعنی یہ دو قالب ہیں لیکن ان دونوں کی روح ’’سرمایہ دارانہ عقلیت‘‘ ہی ہے۔ ان دونوں طرزِ اقتدار کو استعمال کر کے سرمایہ دارانہ عقلیت ہی کو آفاقی بنایا جاتا ہے اور ان بظاہر دو مختلف طرزِ اقتدار میں فیصلے سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی کیے جاتے ہیں اور اسی کو مقبول عام بنائے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دینی جماعتوں کی توجہ’’سرمایہ دارانہ عقلیت ‘‘ کی مرکزی بحث کے بجائے اس کے قالب یعنی آمریت اور پارلیمانیت پر مرکوز ہوگئی ہے۔ پاکستان میں دینی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ان کو پارلیمانی طرز کی حکومت میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی زیادہ آزادی میسر آتی ہے(گو کہ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کو زیادہ فائدہ آمریت کی حکومتوں نے پہنچایا ہے) لیکن ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پارلیمانیت یا آمریت میں روح ایک ہی کارفرما ہے، اور ان کے متبادل کی بجائے انہی دونوں میں گنجائشیں تلاش کرنے سے ان دونوں نظاموں ہی کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ گنجائش تلاش کرنے سے یہ دونوں نظام کمزور نہیں ہوتے یا ان کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔

فرماں روائی کے طریقۂ عمل (Governance process)سے مرادہے کہ کس طریقے سے احکام صادر کیے جارہے ہیں او رکس طریقے سے احکام نافذ کیے جارہے ہیں؟۔ نظامِ اقتدار کو مرتب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محض احکام دئیے نہ جارہے ہوں بلکہ ان کو نافذ کرنے کے لیے بھی پوری حکمت عملی اور مشینری موجود ہو۔

اس سلسلے میں دو مختلف تصورات پائے جاتے ہیں:

ایک تصور تویہ ہے کہ ہر فرد فطرتاً یہی چاہتا ہے کہ تمتع فی الارض اور خواہشات کو پورا کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آئیں، یعنی معاشرہ اس بات پر راضی ہے اور معاشرے کے ہر فرد کی یہی خواہش ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت پر ہی زندگی کے ہر شعبہ کے ہر دائرہ کار میں فیصلے کیے جائیں اور سرمایہ دارانہ عقلیت ہی کو غلبہ حاصل ہو۔ یہی وہ نقطۂ نگاہ ہے جو جو اٹھارویں صدی کے اندر Scottish enlightenment کے مفکروں اورکانٹ کی فکر میں ملتا ہے کہ فطرت ِ انسانی کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشات کی تسکین ہو۔ لہٰذا اسٹیٹ کو سوسائٹی پر تسلط کی ضرورت نہیں بلکہ ریاست معاشرے کے مختلف افراد جو خواہشات رکھتے ہیں انہی کو پورا اور نافذ کرنے کا معقول ترین طریقہ وضع کرتی ہے۔ گویا سرمایہ دارانہ لبرل ریاست سرمایہ دارانہ معاشرے کی خواہشات کو پورا کرنے کا ’’ذریعہ‘‘ ہوتی ہے، لہٰذا اصولاً وہ اس کے تابع ہوتی ہے۔

دوسرا تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے افراد نہیں جانتے کہ انہیں کیا چاہنا چاہیے۔ وہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں، لہٰذا ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو سرمایہ دارانہ اصلی عقلیت کی نمائندہ ہو ، یہی گروہ پوری انسانیت کا نمائندہ گروہ ہے۔ اس گروہ کی ذمہ داری ہے کہ آمریت قائم کرکے لوگوں کو مجبور کریں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے مطابق تمام فیصلے کئے جائیں۔ گویا ریاست محض معاشرے کی تابع نہیں ہے بلکہ اس کو معاشرے پر غالب ہونا چاہیے اور اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عقلیتِ سرمایہ کو معاشرتی سطح پراور انفرادی سطح پر نافذکرنے کے لیے نظامِ اقتدار کھڑا کرے۔ اب یہ گروہ کون سا ہے ۔اس کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے(وہ مزدوروں کی آمریت یامخصوص طبقہ یا قوم ہو سکتی ہے)

واضح رہے کہ یہ دونوں تصورات و نظریات ریاست کے اندر خواہشاتِ نفسانیہ کی زیادہ سے زیادہ تکمیل کی جدوجہد ہی کوجوازفراہم کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مختلف ہے۔ ایک طریقے میں ریاست معاشرہ کے ماتحت ہے اور ریاست ان خواہشات کو پورا کررہی ہے جو معاشرے کی حرکیات Dynamicمیں خودبخود ابھر کر سامنے آرہی ہیں اور ریاست ان کی ترتیب، تقدیم اورتاخیر کا ایک ذریعہ ہے۔ دوسرے طریقہ میں ریاست کو معاشرے پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ لوگوں کو کیا چاہنا چاہیے اور اس کے حصول کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کے حاملین سرمایہ دارانہ نظامِ اقتدار کو معاشرتی سطح پر مرتب کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے انہیں تین بنیادی فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں۔

۱۔مارکیٹ کے اندر واحد پیمانہ تعین قدر سرمائے کا عمل بن جائے۔

۲۔سرمائے کی بڑھوتری کا تعقل پورے معاشرے پر حاوی ہوجائے اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت سے ماورا ہو۔

۳۔ نمبر1اور نمبر2کو قبولیتِ عامہ اور جوازِ عمومی حاصل ہو جائے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کو غالب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے ہر دائرہ کار میں تمام اعمال کو ایک مخصوص واحد عمل کے اردگرد مجتمع کر دیا جائے، یعنی سرمائے کی بڑھوتری مستقل تیز ہوتی چلی جائے اور سرمائے کی بڑھوتری محض خود اپنا جواز ہو۔ ہر معاشرتی یا انفرادی عمل کا مقصدِ اولین (Ultimate end)یہی ہو،کیوں کہ سرمایہ(Capital)ہی ’’آزادی‘‘(Freedom) کی مجسم شکل ہے۔

یہ عمل پہلے مارکیٹ کی سطح پر ہوتا ہے۔جہاں اس کو واحد معقول پیمانۂ خیروشر کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے اور کسی بھی عمل کو صرف اسی بنیاد پر جانچا جاتا ہے کہ اس مخصوص عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار میں تیزی آرہی ہے یا کمی ہورہی ہے ۔ یعنی فر د کے مخصوص عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔ اگر زیدکی مخصوص نوکری کے نتیجے میں سرمائے کی بڑھوتری کی رفتار میں اس سے کم اضافہ ہوتا ہے جتنا ایک اسٹاک بروکر کی کاوش کے نتیجے میں ہوتا ہے تو معقول بات اور جائز یہی ہے کہ زید کی تنخواہ اسٹاک بروکر کے مقابلے میں کم ہو کیوں کہ سرمائے کی بڑھوتری کے عمل کو آگے بڑھانے میں زید کا حصہ (Contribution)اس سے کم ہے جو اسٹاک بروکر کا ہے۔ گویا مارکیٹ کی سطح پر جو معقول پیمانۂ خیروشر مسلط ہو جاتا ہے اور جسے قبول کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک فرد کو تمتع فی الارض کی جواجازت دی جاتی ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ وہ سرمائے کی بڑھوتری کے عمل کو کتنا مہمیز کردیتا ہے۔

معاشرے کے اندر مارکیٹ ایک دائرہ کار ہے۔ مارکیٹ کے باہر بھی فرد بہت سے تعلقات کو تشکیل دیتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ وہ ان تعلقات کی تشکیل بھی سرمایہ دارانہ عقلیت یا بڑھوتریٔ سرمایہ کی بنیاد پر کرے، مثلاً خاندانی تعلقات عموماً ایثار ومحبت کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ عقلیت میں راسخ العقیدہ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑھوتریٔ سرمایہ کا اصول (Principal of Capital accumlation) جو واحد معقول پیمانے کے طور پر مارکیٹ میں تسلیم کر لیا گیا ہے یہ صرف مارکیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ آفاقی ہو جائے، خاندان بھی مارکیٹ کا حصہ ہوجائیں، افراد رشتۂ ازواج میں منسلک ہوتے ہوئے ایمانداری، نسب وشرافت، خاندان اور کفو کو اہمیت نہ دیں بلکہ کیرئیر یا پیسہ کو مدّ نظر رکھیں۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے بھی سرمایہ دارانہ تعقل کو نظر اندازنہ کریں ۔ برادریاں‘ قبیلے ‘ قوم اور حتیٰ کہ مذہبی ادارے بھی مارکیٹ کے اس تعقل کا حصہ بن جائیں۔ فرد صرف مارکیٹ کے عمل میں سرمائے کا ایجنٹ نہ ہو بلکہ زندگی کا ہر کردار نبھاتے ہوئے وہ سرمائے کا آلہ کار ہو، اس کو (Capitalist socialisation) کہتے ہیں ۔

تیسرا فرض یہی ہوتا ہے کہ یہ دونوں طرح کے فرائض محض زبردستی نافذ نہ کیے جار ہے ہوں بلکہ ان کو قبولیت عامہ اور جوازِ عمومی حاصل ہو۔ عام آدمی کے لیے یہی معقول پیمانۂ خیروشر اور پیمانۂ عمل بن جائے، اور جب فرد کا ہر عمل بڑھوتریٔ سرمایہ کے تحت آجائے تو فرد خود اپنے دل میں یہ محسوس کرے کہ میں کامیاب ہوگیاہوں، اور زندگی کے ہر شعبے کے اندر سرمائے کی بڑھوتری کو مہمیز کرنے کی بنیاد پر اپنی مرضی سے اپنے اعمال کا تعین رہا۔ کسی معاشرے میں کس قدر سرمایہ دارانہ جبر کی ضرورت ہے اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ افراد کتنے سرمایہ دار ہوچکے ہیں۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کوئی فطری چیز نہیں ہے بلکہ انتہائی غیر فطری چیز ہے، اس لیے سرمایہ دارانہ تعقل کو پورے نظامِ زندگی پر غالب کرنے کے لیے خصوصی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں مخصوص افراد اور اداروں کی اہمیت ہوتی ہے۔ پہلے ہم ان افراد کا تذکرہ کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبولیتِ عامہ دلوانے اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو غلبہ دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

(۱)دانشور Intellectual

یہ وہ فرد ہے جو قدیم مذہبی علمیت اور قیادت کا فطری مخالف ہے۔ مذہبی علمیت کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ہر عمل کی انجام دہی سے پہلے اللہ تاعلیٰ کی رضامندی و مرضی تلاش کی جائے۔ احکامات کا استنباط اس طرح کیا جائے کہ اللہ کی مرضی ومنشأسے قریب تر ہو نا ممکن ہوسکے اور اللہ تاعلیٰ کی مرضی کی اطاعت ممکن ہوسکے۔ اس کے برعکس دانشور کا ظہور اٹھارویں صدی میں ہوا اور یہ مذہبی علمیت کے برعکس سرمایہ دارانہ علمیت کا علم بردار ہوتا ہے۔ یہ مذہبی علمیت کے علی الرغم ادراکِ حقیقت کا قائل ہوتا ہے۔ یہ انسان کی آزاد ی اور مساوات کا قائل ہوتا ہے اور ان راہوں کی نشاندہی کرتا ہے جن کے نتیجے میں انسانیت زیادہ سے زیادہ مساوی آزادی حاصل کر کے اپنی خواہشات (نفسانیہ) کو پورا کر سکتی ہے۔

(۲)کلچرل ہیروز

اس ریاستی نظام میں چوں کہ تمتع فی الارض اور نفسانی خواہشات کی تکمیل عمل کے قدرکی تعیین کی بنیاد بنتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کی نشوونما اور تشہیر کی بہت ضرورت ہوتی ہے جو اس کام میں کامیاب ہو جائیں، عموماً یہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔

(3)اسپورٹس مین

سرمایہ دارانہ نظام میں کھیلوں (لہو ولعب) کی خاص اہمیت ہے ۔ مقامی سطح سے لے کر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک کھیلوں کے مقابلوں کا ایک مستقل سلسلہ سرمایہ دارانہ ریاستوں کے تعاون سے جاری رہتا ہے اور مختلف قسم کے کھیل کھیلنے والوں کو ہیروز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

(4) سائنسدان(سائنسز سے وابستہ افراد میں فزیکل اور سوشل سائنسز سے وابستہ افرادشامل ہیں)

یہ وہ افرادہیں جنہوں نے کائنات کی طبعی قوتوں پر انسان کا غلبہ اور اختیار بڑھا دیا ہے اور اس اختیار کو بڑھانے کا مقصد تمتع فی الارض ہے۔ ایک زمانے میں یہ فزیکل سائنسدان ہوتے تھے، مگر آج کل میڈیسن اور بائیو ٹکنالوجی سے وابستہ افراد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

ان ہیروز(Heroes)کو یہ مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ یہ افراد معاشرے کے رول ماڈل بن جائیں۔ لوگ ان کلچرل ہیروز کو بزرگانِ دین کی جگہ رکھنے لگیں ۔ علماء اور صوفیاء کو بے وقوف سمجھنے لگیں اور اصلی عوامی لیڈر شپ کا منصب اس طرح کے لوگوں کے پاس آ جائے۔ اصلی عوامی لیڈر شپ عموماً سیاسی نہیں ہوتی بلکہ اصلی عوامی لیڈر شپ ان کلچرل ہیروز کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ ان کلچرل ہیروز کے ’’مداح‘‘ اپنی زندگی میں ان کا طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

(5) ٹیکنو کریٹ اور بیورو کریٹ

ٹیکنوکریسی اور بیورو کریسی بھی سرمایہ دارانہ ریاستوں کے انتظام سے متعلق خاص چیز ہے۔ یہ ایسی اشرافیہ ہوتی ہے جو سرمایہ داری کے مجموعی مفادات کی بنیاد پرانفرادی سرمایہ دارانہ عمل کی تحدید اور ترتیب کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس کا اپنا مفاد اس میں پنہاں ہوتا ہے کہ سرمایہ داری کے مجموعی مفادات کتنے حاصل ہو رہے ہیں؟ ان کو سرمائے کے مجموعی مفادات کے نمائندوں کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مستقل مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی عمومی ایجنٹ پیدا نہیں ہوتا۔ مارکیٹ کا جو طریقہ اورنظم قائم ہے اس میں ہر کمپنی اپنے مفادات کی نگرانی اور تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہوتی ہے۔ اس کو صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ اس کا منافع زیادہ سے زیادہ ہو جائے۔ اس لیے اس نظم میں عمومی سرمائے کے تحفظ کے نمائندے نہیں ہوتے جو ا س بات پر نظر رکھ سکیں کہ کوئی مخصوص کمپنی اپنا منافع زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے کوئی ایسا کام تو نہیں کر رہی جس سے مجموعی بڑھوتریٔ سرمایہ کو روکا جارہا ہے۔ ٹیکنو کریسی اور بیوروکریسی یہ بتاتی ہے کہ تمتع فی الارض کا بہترین طریقہ کیا ہے اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر مجموعی سرمایہ کے ایجنٹوں کا رول ادا کریں گے۔ ان کی وفاداریاں اور غیر جانبداریاں (impartiality) سرمایہ دارانہ نظام سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں مخصوص امتحانی نظام سے گزار کر سامنے لایا جاتا ہے اور عوامی نمائندوں کے برعکس ان کی حیثیت ایک مستقل نوعیت کی ہوتی ہے۔ قانون سازی میں بھی یہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی سرمایہ دارانہ نظریئے پرایمان رکھنے والے ہو سکتے ہیں، چاہے لبرل ہوں یا مسلم قوم پرست یا کمیونسٹ … سرمایہ دارانہ نظام کا تقاضا ہے کہ ایسا گروہ مستقل تیار ہوتا رہے اور یہ نظریاتی گروہ برسرِ اقتدار بھی ہو اور اس کا اقتدار مقبولِ عام بھی ہو۔

(6)آرمڈ فورسز (armed forces) اور پولیس

اس کی زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں… یہ سرمایہ داری کو لاحق خطرے کے وقت سامنے آتے ہیں اور سرمایہ داری کا آخری دفاع یہی لوگ کرتے ہیں۔ ہر ملک کی عموماً اپنی آرمی، پولیس اور ریزروفورسزوغیرہ ہوتی ہیں۔

(7)استعماری ایجنٹ (Imperialist oversight agents)

یہ وہ مقامی افراد ہوتے ہیں جن کا فکری تناظر ، جن کے مفادات اور وفاداریاں عالمی استعمار کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ نظام ایک عالمی نظام ہوگیا ہے اور سرمایہ داری کی جو اصل قوتِ نافذہ ہے، وہ امریکہ ہے۔ لہٰذا امریکی اس قوت نافذہ کی ایک ضرورت یہ ہوتی ہے کہ براہِ راست اپنے افراد کے بجائے وہ ایسے مقامی افراد کے ذریعے حکومت کے کاموں میں دخیل ہو جن کی بنیادی وفاداریاں امریکن ایمپائر کے ساتھ ہوں۔ وہ بودوباش تو مقامی لوگوں کا سا رکھیں لیکن تمام تر طرزِ زندگی ایمپائر کی سی ہو، گویا یہ ایمپائر کے غیر مقامی شہری (non national citizens)ہوتے ہیں۔ انگریزوں کی حکومت نے جب محسوس کیا کہ ان کی حکومت کو مقبولیت حاصل نہیں ہے تو انہوں نے مختلف طریقوں خصوصاً تعلیمی نظام کے ذریعے ایسے لوگ تیار کیے اور صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پوری تیسری دنیا کے اندر ایسے لوگوں کی پوری نسل تیار کی گئی جو فطرتاً ایمپائر ہی کے لوگ ہوں۔ یہ لوگ کلیدی حکومتی عہدوں پر فائز کیے جاتے ہیں۔

ہم ان افراد کا تذکرہ کر چکے ہیں جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبولیتِ عامہ اور غلبہ دلانے میں ریاستی نظام اہم کردار اد ا کرتے ہیں ۔اب ان ریاستی اداروں کا تذکرہ ہے جن کے ذریعے یہ افراد اقتدار کی ترتیب عمل میں لاتے ہیں۔

(ا)کارپوریشن

کارپوریشن کے اندر نظامِ اقتدار سرمایہ داری اپنی کامل ترین شکل میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک فرد سرمایہ دارانہ بندھنوں میں ایسے جکڑا ہوتا ہے کہ بڑھوتریٔ سرمایہ کا ایجنٹ بننے کے سوا اور کچھ ممکن نہیں ہوتا۔ کارپوریشن کے اندر جو ترتیبِ نظم ہوتی ہے اس کے نتیجے میں معاش کے پورے عمل پر جس طرح سرمایہ دارانہ عقلیت غالب آتی ہے اور کہیں غالب نہیں آتی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کارپوریشن کے ذریعے ذاتی ملکیت کو ختم کر کے سرمائے کی ملکیت قائم کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کے ذریعہ انسان کے جاگتے اوقات میں انسان کو خاص قسم کے نظم و ضبط میں سمو دیا جاتا ہے اور اس کے ان اوقات میں اسے سرمائے کا غلام بنا دیا جاتا ہے۔ کارپوریشن وہ شخصِ قانونی ہے جس کا اکیلا وظیفہ یہ ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری کے پیمانے پر اپنے تمام اعمال کو مرتب کرے۔ کارپوریشن کو چلانے والے منیجر ہوتے ہیں، جو عملاً بڑھوتریٔ سرمایہ کی مشین ہوتے ہیں وہ اپنے ماتحت ملازمین کو بھی اس واحد پیمانے پر پرکھتے ہیں کہ وہ بڑھوتری سرمایہ کا باعث بن رہے ہیں کہ نہیں… ایک معیشت میں جس قدر کارپوریشن کا عمل دخل بڑھتاہے اتنی ہی ذاتی ملکیت کم ہو جاتی ہے۔

(2)بینک اور مالی ادارے

کارپوریشن کے علاوہ دوسرا ذریعہ بینک اور فنانشل ادارے ہیں۔ یہ بھی خالصتاً سرمایہ دارانہ ادارے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری کی بنیاد پر قدر کے تعین کا ایسا نظام نافذ اور قائم کریں کہ زر کی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ (capital market) پیداواری عمل کے نظام پر حکم لگانے کی پوزیشن میں آجائے۔ اس کے لیے بنک یہ فریضہ انجام دیتے ہیں کہ لوگوں کی بچتوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تاکہ لوگ اپنے فاضل سرمائے کو خود استعمال نہ کریں بلکہ بینک میں کھاتے کھول لیں اور بینک اس رقم کو سرمایہ کے چکر (circle of capital)میں شامل کر دیں۔ انہی اداروں کے ذریعے سرمایہ داری کو عالمگیر کرنے میں مدد ملتی ہے۔

(3)فنانشل ریگولیشن (زری تحکیم)

سرمایہ دارانہ نظام میں مختلف کمپنیاں اپنے اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے مسلسل مسابقت کرتی ہیں۔ اس لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ نظر رکھتی ہے کہ اس مسابقت کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام بحیثیت مجموعی کسی نظاماتی بحران سے دوچار نہ ہو۔ یہ ریگولیٹری اتھارٹی نظاماتی بحران سے بچانے کے لیے پیسہ کی رفتارِ پیداوار میں کمی یا زیادتی کا فیصلہ کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ خاص حکومت کا کام لگتا ہے ، لیکن اب صرف اسٹیٹ بینک یہ کام نہیں کرتا بلکہ عالمی مالیاتی اور زری ادارے بھی اس میں دخل اندازی کرتے ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں بھی ایسی ریٹنگ (Rating) ایجنسیاں آ گئی ہیں مثلاً جے پی مورگن وغیرہ جن کا اس سلسلے میں اہم کردار ہوتا ہے۔

(4)لیبر یونینز

ٹریڈ یونینز بھی سرمایہ دارانہ عقلیت کو غالب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انفرادی طور پر تو کارپوریشن کے اندر ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے ذریعے ہی یہ کام کیا جارہا ہے، لیکن اجتماعی طور پر مزدوروں کو سرمایہ دارانہ عقلیت سے بہرہ ور کرنے کا کام مزدور یونینز بھی کرتی ہیں۔ وہ مزدور قوتوں کو اس مقصد کے گرد منظم کرتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے فروغ کے نتیجے میں جو فوائد حاصل ہو رہے ہیں ‘ ان میں اپنا حصہ طلب کریں اور مزدور بھی اجتماعی طورپر سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو مہمیز کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ان کے مفادات بڑھوتریٔ سرمایہ کے اہداف سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہو سکیں۔

(5)انتظامیہ (مقامی اورقومی )

کسی بھی ملک کے معاملات چلانے کے لیے ا نتظامیہ کو مختلف شعبو ں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے مثلاً داخلہ امور، خارجہ امور، دفاعی امور، تعلیمی امور، معاشی امور… اور ان سب امور کو چلانے کے لیے ہر ملک میں انتظامیہ کا ادارہ ہوتا ہے، جس کی تنظیم مقامی سے لے کر قومی سطح تک موجود ہوتی ہے۔ انتظامیہ کے ادارے کا کام محض قانون کا نفاذ نہیں ہوتا بلکہ وہ قانون سازی میں بھی نمایاں طور پر حصہ لیتا ہے۔ اکثر قوانین کے مسودے انتظامیہ ہی تیار کرتی ہے۔ عملاً انتظامیہ ہی مقننہ کی رہنمائی کرتی ہے اور اس پر حاوی ہوتی ہے اور اس کو سرمایہ دارانہ ڈگر سے نہیں ہٹنے دیتی۔

(6)میڈیا

جس میں اخبارات ورسائل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ دائرہ اقتدار کو وسیع کرنے کا اہم ادارہ ہے۔ میڈیا کے سب شعبے یعنی انٹر ٹینمنٹ، ایڈورٹائزنگ اور انفارمیشن پہنچانے کا عمل سرمایہ دارانہ نظامِ اقتدار کے استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو رول ماڈل اور ہیرو بنایا جاتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ کے ذریعے سرمایہ دارانہ کارپوریشن کے مال کی طلب پیدا کر کے اس کی کھپت ممکن بنائی جاتی ہے اور انفارمیشن پہنچانے کے عمل کو بھی مختلف طریقوں (لائسنسنگ پر کنٹرول) کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ میڈیا کا وسیع نیٹ ورک سرمایہ دارانہ ریاست کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔

(7)عدالتیں

عدلیہ بنیادی طورپر دستور کی محافظ ہوتی ہے۔ یہ دستور کی بنیاد پر شہریوں کے دو فریقوں یا سٹیزن اور مملکت اور اس کے مختلف اداروں کے درمیان متنازعہ امور کے فیصلے کرتی ہے۔ ان معنوں میں کورٹس کا بنیادی فریضہ روزمرہ معاملات دستور سے ہم آہنگ تشریح و توضیح کرنا اور مخصوص معاملات پر اس کا اطلاق کرنا ہے۔ دستور جیسا کہ ہم جانتے ہیں ‘ ایسی آزادیوں اور حقوق کے مجموعے کا نام ہے جو فرد کو سرمائے کی بڑھوتری کے فرض کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ اور آزادی کا تحفظ ہے۔

(8)پولیس

پولیس کے محکمہ کا سرمایہ دارانہ اشرافیہ اور عدلیہ سے مخصوص نوعیت کا تعلق ہوتا ہے۔ ریاست میں سرمایہ دارانہ عدل کے تقاضوں کی بنیاد پر جو فیصلے کیے جاتے ہیں، ان فیصلوں کا نفاذ پولیس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ اور ریاست جس مخصوص نہج پر استوار ہوتے ہیں اس مخصوص نہج سے انحراف کرنے والوں پر پولیس نظر رکھتی ہے۔ بعض اوقات سرمایہ دارانہ اشرافیہ اپنے مخالفین کو کچلنے کا کام بھی پولیس سے لیتے ہیں۔

(9)آرمڈ فورسز

سرمایہ دارانہ ریاستیں اصولاً قومی ریاستیں ہوتی ہیں اور اصولاً اس قومی ریاست کو اقتدار اعلیٰ حاصل ہوتا ہے، یعنی نہ تو اندرونِ ملک کوئی فرد یا گروہ ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتاہے اورنہ کوئی بیرونی طاقت یا گروہ اس نیشن اسٹیٹ کی مرضی کے بغیر اس کے حاصل کردہ اختیار کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اقتدارِ اعلیٰ کے اس تحفظ کے لیے بنیادی طورپر فوج کا ادارہ ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کا آخری دفاع آرمڈ فورسز ہی کرتی ہیں۔

(10)مقننہ (legislature)

مقننہ عموماً دو ایوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایوانِ زیریں عوام کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے اور ایوانِ بالا میں مخصوص طبقوں یا علاقوں کو نمائندگی دی جاتی ہے۔ انتخاب کی غرض سے تمام ملک کو مختلف حلقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہرحلقے سے اراکین کی مقررہ تعداد ایک متعینہ مدت کے لیے ایوانِ زیریں میں نمائندگی حاصل کرتی ہے۔ اصولی طورپر مقننہ کا اولین فرض قانون سازی ہوتاہے اور عوام کے نمائندے معاشرہ کے بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق قانون بناتے ہیں۔ قوانین میں ردوبدل کرنا یا ان کی تنسیخ کرنا بھی مقننہ کا کام ہوتا ہے اور تمام ارکان کے بحث ومباحثہ اور اظہارِ خیال کے بعد مقننہ کو اختیار ہوتا ہے کہ کثرتِ رائے سے پیش کیے جانے والے بل کو منظور کردے، لیکن فی الواقع جدید دور میں یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ مقننہ کا کردار مسلسل کم ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو وہی ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاستوں کو عالمی سرمایہ دارانہ استعمار اپنی مرضی کے قوانین بنانے پر مجبور کرتی ہے اور عموماً یہ کام ٹیکنو کریسی کرتی ہے۔ مقامی ٹیکنو کریسی بھی صرف وہ اقدامات بروئے کار لاتی ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ قوانین سے ہم آہنگ ہوں۔ جب مقننہ کا بنیادی فریضہ ہی ادا نہ ہوتو گویا یہ کمزور ترین ادارہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی چند جزوی وجوہات ایسی ہیں کہ مقننہ کا کردار کم سے کم ہوتا جارہا ہے، مثلاً ہر انفرادی ممبر اپنی جماعت کی طرف سے پیش کیے گئے بل پر عموماً توثیق ہی کرتا ہے، چناں چہ اس عمل سے اس کی عدم دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔ مقننہ کے اندر متعلقہ شعبے کے ماہرین مثلاً دفاعی، معاشی، تعلیمی، معاشرتی ماہرین کم ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس شعبہ سے متعلق قانون سازی کی سکت ہی اپنے اندر نہیں پاتے۔ لہٰذا صرف پاکستان کی مثال ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ ہر جگہ اب پارلیمنٹ یا مقننہ کا کوئی کردار نہیں رہ گیا۔ پارلیمنٹ تو محض کھیل تماشا ہے کیوں کہ حکومتوں میں تبدیلیوں کے نتیجے میں پالیسیوں کے اندر کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی۔

(11)عالمی ریٹنگ ایجنسیاں اور نگراں ایجنسیاں

اب بین الاقوامی سطح پر ایسے ادارے وجود میں آچکے ہیں جو ملکی سطح پر اہم ترین امور پر مکمل دخیل ہو چکے ہیں، مثلاً آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، یونائیٹڈ نیشن کے مختلف ادارے۔ انہوں نے قومی اداروں سے مخصوص نوعیت کا تعلق استوار کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس صرف یہ سکت نہیں ہے کہ وہ ہماری معاشی پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرے بلکہ وہ اپنے فیصلے کے نفاذ کا ایک خاص میکنزم بھی رکھتا ہے۔ اسی طرح اب پرائیوٹ سیکٹر کی ریٹنگ ایجنسیوں کا ظہور بھی ہورہا ہے۔ یہ ایجنسیاں سرمایہ دارانہ اصولوں کی بنیاد پر ملکوں کی کارکردگی کو مسلسل جانچتی رہتی ہیں اور ان کی جانچ کا اثر کسی ملک میں ہونے والی بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔

(12)تعلیمی نظام

سرمایہ دارانہ علمیت اس وقت غالب آتی ہے جب مذہبی علمیت سے لوگوں پر اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ یہ عمل مغرب کے اندر اٹھارویں صدی میں پروان چڑھا۔ کلیسا جو کہ قدیم مذہبی علمیت کا علمبردار تھا‘ اس کو دورِ تنویر کے مفکرین نے شکست دے دی۔ تنویری فکر کی بنیاد پر جن علوم کا ظہور ہوا اسے فزیکل سائنس اور سوشل سائنسز کہا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظامِ کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو جواز فراہم کرنے والے علوم ہیں۔ ان کی بنیاد پر مغرب کا پورا نظام تعلیم تشکیل پایا۔ تیسری دنیا پر استعماری طاقتوں کے غلبے کے بعد وہاں بھی یہی تعلیمی نظام مستحکم ہوا۔ اب یہی اسکول کی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کا مکمل نظام ہے جسے لوگوں نے برضاورغبت قبول کر لیا ہے اور مذہبی علوم کے بجائے اس تعلیمی نظام میں پڑھائے جانے والے علوم کو فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔ تعلیمی نظام کے ان اداروں کے ذریعے سرمایہ دارانہ عقلیت کو جوازِ عمومی اور قبولیتِ عامہ فراہم کی جارہی ہے۔

اب تک جن حاملینِ اقتدار اداروں یا processes کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں اہمیت کے لحاظ سے کوئی ترتیب قائم نہیں کی گئی بلکہ ان کا محض تعارف اور خاکہ پیش کر دیا گیا۔ دراصل سرمایہ دارانہ ریاست دو مختلف دائر ہ ہائے کار میں تقسیم ہو جاتی ہے، یعنی پارلیمانی طرزِ حکومت اور آمرانہ (Authoritarian) طرزِ حکومت… پارلیمانی طرزِ حکومت میں ان اداروں کی تقدیم اور ترتیب اس سے مختلف ہوتی ہے جو آمریت میں ہوتی ہے۔ ذیل میں پارلیمانی طرزِ حکومت کی ممکنہ ترجیحی ترتیب کی فہرست دی جاتی ہے۔

۱۔بینک اور فنانشل ادارے

۲۔فنانشل ریگولیشن کے ادارے، کارپوریشن

۳۔انٹلیکچوئل

۴۔استعماری ایجنٹ

۵۔میڈیا

۶۔عدالتیں

۷۔بین الاقوامی نگراں ایجنسیاں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیاں

۸۔مقننہ

۹۔پولیس

۱۰۔آرمڈ فورسز

۱۱۔ٹریڈ یونین

جب کہ آمریت یا Authoritarianریاست میں ممکنہ ترجیحی ترتیب ذیل کے مطابق ہو سکتی ہے۔

(ا)پولیس

(۲)آرمڈ فورسز

(۳)استعماری ایجنٹ

(۴)عدالتیں

(۵)میڈیا

(۶)انٹلیکچوئل

(۷)بینک اور فنانشل ادارے

(۸)فنانشل ریگولیشن کے ادارے

(۹)بین الاقوامی نگراں ایجنسیاں

(۱۰)مقننہ

اب تک جن Personnel اور اداروں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان کے بارے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ افراد اور ادارے حکومت نہیں کر رہے بلکہ ان کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ حکومت اور اقتدار اس چھوٹے سے گروپ کا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو پورے طور پر قبول کیے ہوئے ہے اور اس عقلیت کی عالمگیریت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔ ایسے لوگ ان تمام افراد اور اداروں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے اندر بھی پائے جاتے ہیں اور باہر بھی… اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھوٹا سا گروپ اپنی حکومت کیسے کرتا ہے؟ یہ اپنی حکومت دو طریقوں سے کرتا ہے:

۱۔نمائندگی(Representation)

۲۔نفاذِ احکام بذریعہ طاقت (Mediation)

پہلے طریقے میں یہ باور کرانے کی کوشش کرائی جاتی ہے کہ اس پر کوئی نزاع موجود نہیں ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری ہی قدر کے تعین کا واحد پیمانہ ہے۔ سب لوگ اس کے قائل ہیں اور یہی اصول ہم کو نمائندگی کا جواز فراہم کرتا ہے، کیوں کہ ہم ہی اس مفادِ عامہ کو فروغ دینے والی قوت ہیں اور ہم ان تمام افراد اور اداروں کے ذریعہ وہی کررہے ہیں جس کو مقبولیتِ عامہ حاصل ہے۔ تینوں طرح کی سرمایہ دارانہ ریاستیں چاہے وہ(۱)لبرل ہوں (۲)اشتراکی ہوں (۳)قوم پرست ہوں، اس جائز نمائندگی کا دعوی کرتی ہیں۔

mediationکے طریقے میں سرمائے کے عمومی مفاد کی ایک خاص تعبیر غالب اشرافیہ بزورِ قوت نافذ کرتی ہے۔ چوں کہ سرمایہ داری ایک جاہلیت ہے اور اس جاہلیت سے کسی قدر بھی خیر کا تصور نہیں کیا جا سکتا اس لیے لامحالہ بیک وقت سرمائے کے مفاد ِ عمومی کی مختلف جہتوں سے مختلف تعبیریں کی جاتی ہیں۔ لیکن وہ چھوٹا سا گروپ جو کہ حکومت کر رہا ہے ، وہ mediationکے ذریعہ یہ باور کراتا ہے کہ سرمایہ دارانہ مفادات کاجو تصور وہ رکھتا ہے، وہی درست ہے اور اس کے عمومی مفاد کی تعبیر کے مخالف انفرادی سرمایہ دارانہ مفادات کی تعبیروں کی تحدید کی جائے اور سرمائے کے عمومی مفاد کے تحفظ کے لیے اس کے تصور کے مطابق معاشرے اور ریاست کی صورت گری کی جائے۔

یہ دونوں کام بیک وقت کیے جارہے ہوتے ہیں ،یعنی غالب اشرافیہ کی تعبیرِ مفاد عمومی کو مسلط بھی کیا جارہا ہوتا ہے اور نمائندگی کے اداروں کے ذریعہ اس مخصوص تعبیر کے حق میں رائے بھی بنائی جا رہی ہوتی ہے۔ نمائندگی جن اداروں (proceses)کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔انٹرسٹ گروپس……… Interest Groups

۲۔ ہیروز کی پرستش……… Heroes

۳۔سیاسی پارٹیاں……Political Parties

۴۔ایڈمنسٹریشن اینڈ کورٹس… Administration and courts

(1)انٹرسٹ گروپس

انٹرسٹ گروپس وہ ہوتے ہیں جو کسی سرمایہ دارانہ حق کی طلب کی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرتے ہیں۔ مثلاً پانی، صفائی وسیوریج کے مسائل، تعلیم، عورتوں پر ظلم وغیرہ وغیرہ… ظاہر ہے کہ جب اس قسم کے سرمایہ دارانہ حقوق کی بنیادپر لوگوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں جمع ہونے والوں کی اخلاقی اور مذہبی حالت کی بنیاد پر کوئی تخصیص روا نہیں رکھی جاتی، مثلاً وہ مسلمان ہے یا قادیانی یا کوئی اور ، اسی طرح نمازی وپرہیز گار ہے یا زانی‘ شرابی اور بے نمازی… بس ان کا مخصوص سرمایہ دارانہ حق کی طلب پر متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔ گویا ان انٹرسٹ گروپس کے ذریعہ وہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ جو حرص وحسد کو عالمگیر کرنا چاہتی ہے‘ معاشرتی نفوذ کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ حقوق کو طلب کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو ہی مستحکم کیا جاتا ہے۔ ان انٹرسٹ گروپس کی کارفرمائی کے نتیجے میں غیر سرمایہ دارانہ نظام نہیں برپا کیاجا سکتا۔

(2) ہیروز

سائنٹیفک ہیروز ہوں یا میڈیا کے ہیروز یاکھلاڑیوں، ان کی امیج بلڈنگ کر کے بھی معاشرے میں نفوذ کیا جاتا ہے، کیوں کہ اگر یہ لوگ مقبولِ عام ہوتے ہیں تو سرمایہ دارانہ عقلیت بھی مقبولِ عام ہوتی ہے۔

(3)سیاسی پارٹیاں

بنیادی طورپر سیاسی پارٹیاں بھی سرمایہ داری سے مختص ہیں۔ سرمایہ داری سے پہلے جو مختلف گروہ اور طبقات سیاسی عمل میں شامل ہوتے تھے ان میں سیاسی پارٹیوں کی similaritiesتو تلاش کی جا سکتی ہیں، لیکن جن معنوںمیں اب سیاسی پارٹیاں خصوصاً اپوزیشن پارٹیاں وجود رکھتی ہیں، وہ سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے نہیں تھیں۔ مختلف پارٹیاں ایک ہی سیاسی نظام پر بنیادی طورپر متفق ہوتی ہیں۔ اس نظام پر اصولی اتفاق کے بعد ان کے اختلافات جزوی اور فروعی ہوتے ہیں۔ یہ پارٹیاںلوگوں کو ایک اجتماعیت فراہم کرتی ہیں۔ لوگ ان کی لیڈر شپ کو اپناتے ہیں اور اپنا ایک خاص تشخص اور اپنی ایک خاص شناخت ان کے ذریعہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خاص تشخص اور شناخت کےفروغ کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ یہ پارٹیاں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے نفوذ کا اس لیے اہم ذریعہ ہیں کہ ان کی بنیادیں،شناخت اور تشخص اصولی طورپر سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام ہی سے وابستہ ہوتی ہیں۔

(4) ایڈمنسٹریشن اور کورٹس

قانون کا نفاذ اس طریقے سے کیا جاتا ہے کہ وہ قانون غیر جانبدار نظر آئے۔ فیصلے ایسے ہوں کہ وہ مفادِ عامہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ طور پر کیے جائیں تا کہ سرمایہ دارانہ نظام پر ایمان متزلزل نہ ہو اور کسی غیر سرمایہ دارانہ نظام کی جانب جھکاؤ نہ ہو۔

(5)سرمایہ دارانہ تحریکیں

سرمایہ دارانہ تحریکیں مثلاً قوم پرست، اشتراکی یا انارکسٹ تحریکیں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے نفوذ کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی ہیں، کیوں کہ ان میں بھی غیر سرکاری تنظیموں (NGOs )اور پروفیشنلز ایسوسی ایشنز اور انٹرسٹ گروپس کی طرح سرمایہ دارانہ حقوق کو ہی طلب کیا جاتا ہے۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ اشرافیہ ہی کی سبقت قائم کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ عقلیت ہی عمومیت اختیار کرتی ہے۔

قوم پرست اور اشتراکی تحریکیں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بڑی کامیاب تحریکیں رہی ہیں، لیکن انہوں نے بھی لبرل سرمایہ داروں کی جگہ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ داروں کی حاکمیت قائم کی ہے، کوئی غیر سرمایہ دارانہ نظام نہیں قائم کیا۔

1۔ Mediation

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے Mediation کے ذریعہ سرمایہ کے عمومی مفاد کی ایک خاص تعبیر کو نافذ کیا جاتا ہے۔ Mediationمندرجہ ذیل اداروں اور طریقوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

(ا)فوج و پولیس

(۲)کورٹس اور عدلیہ کا نظام

(۳)شمولیت (سیاسی مخالفین کو ساتھ ملانا)

(۴)اخراج (مخالفین کو بے دست وپا کر دینا)

(۵)سوشل ویلفیئر

(۶)صنعتی تعلقات

ایک خاص قسم کے ڈسپلن کو نافذ کرنے کے لیے سب سے اہم ادارے تو پولیس اور فوج ہیں۔ اس کے علاوہ کورٹس اور عدلیہ کا نظام ہے۔ یہ اس لیے اہم ہیں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت میں راسخ العقیدہ لوگ جو فیصلے کرتے ہیں اس میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ فیصلے مقبولِ عام بھی ہوں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی بہت اہم ہے اور اس بات کو بھی ممکن بنایا جاتا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی عمل ہو تو ان کوسزا بھی دی جا سکے۔ اس کے لیے مذکورہ ادارے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

2۔شمولیت (Co-option)

اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے گروہوں کو ساتھ ملا لیا جائے جو کسی طرح راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہوں اور جو سرمایہ دارانہ نظام کے اپوزیشنل گروپ نظر آتے ہوں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں’’ شمولیت ‘‘کی ایک بہترین مثال سوشل ڈیمو کریسی کی ہے۔ سوشل ڈیموکریسی کے ذریعہ سوشلسٹ طرزِ فکر کے حاملین کو اس کا قائل کر لیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام میں محدود حقوق کی طلب پر اکتفا کر لیں۔ سوشل ڈیموکریسی میں مزدور نے اپنی جدوجہد اس پر مرکوز کر دی کہ اس نظام میں میرا وہ حصہ مجھے نہیں دیا جارہا جس کا میں حق دار ہوں، لہٰذا مزدوروں کی جماعت کو حکومت میں شامل کر لیا جائے۔ اس طرح محدود حقوق فراہم کرکے اورمراعات فراہم کر کے انقلابی جدوجہد سے ان کو دست کش کرا لیا جاتا ہے۔ co.optionکی اور بھی مثالیں ہو سکتی ہیں مثلاً اسلامی جماعتوں کو بھی اگر سرمایہ دارانہ حکومت میں شامل کر لیا جائے تو وہ سرمایہ دارانہ نظامِ ریاست کا ایک جواز فراہم کر سکتی ہیں اور اسلامی امارت و خلافت کی جدوجہد سے دست کش ہو سکتی ہیں اور اس بات پر راضی ہوسکتی ہیں کہ محدود مراعات حاصل کر لیں اور معمولی اور بے ضرر قسم کے علامتی اسلامی اقدامات پر مطمئن ہو جائیں۔ اس co.optionسے co.opt ہونے والا گروہ اپنی فطری constituencyسے دور ہوتا چلا جاتا ہے اوراسconstituencyمیں اپنی legitimacyکھو دیتا ہے۔

3۔ اخراج (Exclusion)

سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی عمل اور سیاسی عمل اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ قوت ان ہاتھوں میں مرتکز ہوتی چلی جاتی ہے جو سرمایہ کی بڑھوتری کے اصول کو بنیادی عقیدہ بنا لیتے ہیں اور جو یہ عقیدہ نہیں رکھتے انہیں اس قابل نہیں رہنے دیا جاتا کہ وہ مجموعی سیاسی یا معاشی عمل میں کوئی فیصل کردار ادا کرسکیں۔ صوفیاء کرام کی معاشرتی اور ریاستی حیثیت کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکیں۔

4۔ سوشل ویلفئیر

آخری چیز سوشل ویلفیئر ہے۔ یعنی رفاہِ عامہ کے کاموں پر ہی ساری جدوجہد کو مرکوز کردیا جائے اور عوام کو سیاست علیا کے معاملات سے ہٹا کر مرکزی معاملہ یہی رہ جائے کہ رفاہِ عامہ کے کتنے کام ہو رہے ہیں؟ اسی طرح سوشل ویلفیئر سسٹم اور نیشنل انشورنس کا پورا نظام ہے جس کے ذریعہ سرمائے کے مفاِد عمومی کی ایک خاص تعبیر کے نفاذ کو ممکن بنایا جاتا ہے اور یہ طریقے ہیں جن سے سرمایہ دارانہ ڈسپلن قائم ہوتا ہے۔

بطورِ نمائندگی جن اداروں اور طریقہ کار کا تذکرہ ہوا اور بطورِ Mediation جن اداروں اور طریقہ کار کاتذکرہ ہوا ان کو پارلیمانی حکومتوں میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور استبدادی (ڈکٹیٹر شپ) حکومتوں میں بھی ۔ ذیل میں وہ مختلف ترتیب بیان کی جاتی ہے جوہمارے خیال میں مختلف طرز کی حکومتوں میں ممکن ہے۔ نمائندگی کے ادارے اگر پارلیمانی حکومت میں ہو ں تو ان کی مندرجہ ذیل ترتیب ہو سکتی ہے:

(۱) انٹرسٹ گروپس (۲)سیاسی جماعتیں (۳)ہیروز (۴)انتظامیہ اور کورٹس (۵) سوشل سروسز

نمائندگی کے اداروں کی ترتیب استبدادی حکومت میں مندرجہ ذیل طریقے سے ممکن ہے:

(۱)عوامی تحریکیں (۲)ہیروز (۳)انتظامیہ اور کورٹس (۴)سوشل سروسز (۵)انٹرسٹ گروپس

اسی طرح Mediationکے اداروں کی ترتیب پارلیمانی حکومت میں مندرجہ ذیل ہو سکتی ہے:

(۱)کورٹس اور عدلیہ کا نظام (۲)شمولیت (Mediation ) (۳)سوشل ویلفیئر (۴)اخراج (۵)پولیس اور فوج

اس کے علاوہ Mediationکے اداروں کی ترتیب استبدادی حکومتوں میں یوں ممکن ہے:

(۱)کورٹس اور عدلیہ کا نظام (۲)پولیس اور فوج (۳)اخراج (۴)شمولیت (۵)سوشل ویلفیئر

اب تک سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک عمومی خاکہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم کسی جگہ اسلامی نظام کو غالب کرنا چاہتے ہیں تو وہاں سے سرمایہ دارانہ نظام کا کلیتاً انہدام ضروری ہے، کیوں کہ اسلامی نظام اورسرمایہ دارانہ نظام میں اختلاف جزوی نہیں بلکہ اصولی اور بنیادی ہے۔ اب یہ اسلامی نظام کی پیش قدمی اور سرمایہ دارانہ نظام کا کسی مخصوص ملک سے اخراج کس طرح ممکن ہو گا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخصوص ملک سرمایہ داری اور اس کی مخصوص نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

5.3۔ پارلیمانی جمہوری ریاست

اب ہم سرمایہ دارانہ جمہوری ریاستوں کی ساختی خصوصیات کا تذکرہ کریں گے ۔

پارلیمانی جمہوریتوں میں مارکیٹی عمل کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے لبرل نظریات کے مطابق ریاست مارکیٹ کو سہارا دینے والا ادارہ ہونا چاہئے۔ ریاست وہ قانونی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے جس میں ایک خاص نوعیت کی سرمایہ دارانہ ملکیت کو تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ اس ملکیت کی نوعیت نجی (private) ہوتی ہے ۔ لیکن یہ نجی صرف ان معنوں میں ہوتی ہے کہ ان کا کنٹرول غیر ریاستی کارپوریشنوں کے پاس ہوتا ہے (یہ انفرادی، شخصی ملکیت نہیں ہوتی)۔اور یہ سٹے کے مارکیٹ کے تابع ہوتی ہیں ۔ان کارپوریشنوں کو سود اور سٹے کے مارکیٹی خلفشار (crises) سے محفوظ رکھنے کے لئے پارلیمانی ریاست بنیادی طورپر مالی اورمالیاتی (fiscal and monetory) پالیسیوں پر انحصارکرتی ہے ۔پارلیمانی ریاستوں میں عموماً ریاست نجی سرمایہ کاروں کا آلہ کار (agent) ہوتی ہے پارلیمانی ریاست کے بنیادی وفرائض نجی سرمایہ کاروں اور محنت کشوں کے تصاد م کو رفع کرنا دولت اور آمدنی کو بڑھوتری سرمایہ کا ذریعہ بنانا اور ریاستی نظام میں نجی سرمایہ کاروں کے بدلتے ہوئے مفادات کے مطابق تبدیلی کرتے رہنا ہوتے ہیں۔

لبرل ریاست سرمایہ دارانہ ملکیت کے تحفظ اور فروغ کے لئے بنیادی طورپر سیاسی اور انتظامی اقدامات پر انحصار کرتی ہے ۔قانون سازی عدالتوں کے فیصلوں اور پولیس اور نوکر شاہی (beurocracy) کے اقدامات کے ذریعہ محنت کشوں اور سرمایہ کاروں دونوں گروہوں میں سرمایہ دارانہ نظم وضبط اور سرمایہ دارانہ تحکم کی تابعداری کو فروغ دیا جاتا ہے ۔19ویں صدی میں (اور 1929 کے بحران تک لبرل ریاست عموماً خود بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری اور مارکیٹی انخلا (market intervention) سے اجتناب کیا کرتی تھی ۔لیکن اب (بالخصوص 2007 کے بحران کے بعد کے دورمیں ) ایسا نہیں ہے اور لبرل ریاست بڑے پیمانے پر مالی (monetory) اور مالیاتی (fiscal) اقدامات کے ذریعہ مستقلاً سرمایہ کاروں کی اعانت کرتی رہتی ہے ۔اس ہی طرح لبرل ریاست بڑ ے پیمانے پر محنت کشوں کی حقیقی اجرتوں کو گرنے سے روکنے کے لئے ایک ہمہ گیر national insurance کا پروگرام چلاتی رہتی ہے اور بالخصوص کساد بازاری کےادوار میں محنت کشوں کی اعانت دوسرے ذرائع سے بھی کرتی رہتی ہے ،اس لحاظ سے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹک ریاستوں میں فاصلے کم ہوتے ہیں ۔

اس قسم کی لبر ل ریاست "نیولبرل" بھی ہو سکتی ہے نیولبرل ریاست میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ محنت کشوں کی اجتماعیت کو منتشر کیا جائے ۔سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں کو قوت سے محروم کیا جائے یا انہیں لبرل پالیسیاں قبول کرنے پرراضی /مجبور کیا جائے (جیسے Tony Blair اور Bill Clinton کی پارٹیوں نے نیو لبرل پالیسیاں نافظ کیں)۔ٹریڈ یونینیوں کی قانوی مراعات (immunities)کو کم کیاجاتا ہے انہیں ختم نہیں کیا جاتا کیونکہ نیولبرل حکومتیں حق ہڑتال کو قانوناً تسلیم کرتی ہیں) اور عوام کو اس بات کا قائل کیاجاتاہےکہ کہ سوشل ڈیموکریٹک دورمیں بہت سے ایسی پالیسیاں اختیار کی گئیں تھیں ،مثلاً صنعتوں کو قومیانا ،ٹیکسوں میں اضافہ ،یوننیوں کی ریاستی عمل میں شرکت ،نوکر شاہی کی مارکیٹی اور معاشرتی دسترس کا فروغ ) جو بڑھوتری سرمایہ کے لئے مضر تھیں اور ان پالیسیوں کو ختم کرکے بڑھوتری سرمایہ کی رفتار تیز کی جاسکتی ہے جو سب کے مفاد میں ہے ۔سرمایہ کاروں کے بھی، محنت کشوں کے بھی، نوکر شاہی کے بھی وغیرہ ۔لبرل نیولبرل ،سوشل ڈیموکریٹ سب ریاستیں جمہوری عمل کے ذریعہ جس میں میڈیا کا استعمال ا ور پولیس کاروائیاں سب سے اہم ہیں، عوام کو اپنا ہم نوا بنانے کی مستقل تگ ودو کرتی رہتی ہیں۔ مشہور کافر سوشیولوجسٹ Stnart Hall کے مطابق اس قسم کے نیولبرل ریاستی اقدامات ،بنیادی دستوری انفرادی حقوق(fundamental rights) کوکمزور کرتی ہیں اور یوں تحکم قانون سرمایہ کو اس کے اصولی بنیادوں سے محروم کرتی ہیں لیکن ہماری رائے میں یہ بات درست نہیں ۔کیونکہ قانون سرمایہ دارانہ تحکم کو قائم کرنے کا محض ایک ذریعہ ہے واحد ذریعہ نہیں اور استبدادی ریاستوں کی طرح لبرل نیولبرل ریاست ان دوسرے ذرائع سے بھی کام لیتی ہے۔اس کے باوجود نیولبرل ریاست ان قانونی ،مالی اور مالیاتی ضوابط کی پابند رہتی ہے جو اس کو اپنے لبرل ورثہ سے ملی ہے ۔نیولبرل اور استبدادی جمہوریتوں میں بھی فاصلے کم ہوتے جارہے ہیں )جیسا کہ ٹرمپ اور مودی کی حکومتوں سے ثابت ہوتا ہے( لیکن یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ نیولبرل ریاست میں اس نوعیت کی تبدیلیاں )ہندوستان یا امریکہ ( میں آخر کار استبدادی جمہوریتوں کے غلبہ کی راہ ہموار کردیں گی ۔

نیولبرل ریاستیں عموماً مقننہ کے اختیارات محدود کرتی ہیں اور فیصلہ سازی کی تشکیل اور تنظیم میں نوکر شاہی اور بالخصوص ماہرین اور حرام خوروں (فائنینشل مارکیٹوں میں غالب اجارہ داروں کے مینیجروں) کے ریاستی اختیارات بڑھاتی رہتی ہیں ۔اس نوعیت کے اقدام ملکی اور بین الملکی دونوں سطح پر ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس ضمن میں یورپی یونین اور آئی ایم ایف ،WTO کا کردار بہت واضح ہے یہ تینوں ادارہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو نیولبرل بنیادوں پر مرتب کرنے کی جستجو مدت سے کررہے ہیں ۔

پارلیمانی تخفیف اختیارات سے جمہوری عمل لازما ً کمزور نہیں ہوتا کیونکہ مقننہ ،عدلیہ ،نوکر شاہی، کارپوریشن حرام خور،فوج ،پولیس ،میڈیاسب سرمایہ دارانہ نظام ریاست کا حصہ ہیں اور اختیارات کاایک ادارہ )مقننہ (سے دوسرے ادارہ )نوکر شاہی ،حرام خوروں( تک منتقل ہونے کا مطلب اختیارات کی عوامی جوازیت (popular legitimacy) میں تخفیف نہیں۔ عوام اس نوعیت کی تبدیلی اختیارات کی توسیع انتخابات اور دیگر ذرائع سے تاخیر کرتے رہتے ہیں ۔نیولبرل حکومتیں جمہوری عمل کے نتیجہ میں قائم ہوتی ہیں اور جمہوری عمل ان کے استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے ۔وہ جمہوریت کو مجروح نہیں کرتیں بلکہ عمومی جمہوری تناظر میں کارفرما رہتی ہیں۔ مارگریٹ تھیچر، ریگن اور مودی سب کی حکومتیں بھرپور عوامی تائید کی بنیاد پر قائم ہوئیں اور رہیں۔

سرمایہ دارانہ ریاست میں پارلیمانی حاکم اعلیٰ نہیں ہوتے ۔سرمایہ حاکم اعلیٰ (soverigne) ہوتا ہے سیٹیزن سرمایہ کے غلا م ہوتے ہیں ۔پارلیمانی اختیارات کی کمی پیشی سے اس غلامی پر کچھ اثر نہیں پڑتا اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیولبرل ریاستی عمل تضادات سے مبرا ہے ۔

نیولبرل ریاست )سوشل ڈیموکریٹ اور استبدادی ریاستوں کی طرح( مارکیٹ میں مداخلت پر مجبوررہتی ہیں۔ یہ مداخلت لازماً خصوصی(particularist) ہوتی ہیں اور مخصوس سرمایہ کاروں ،حرام خوروں اور محنت کشوں کے مفادات کو دوسرے سرمایہ کاروں وحرام خوروں اور محنت کشوں کے مفادات پر ترجیح دیتی ہیں جس سے معاشرتی تصادم فروغ پاتا ہے اور قوم کئی مفاداتی محاذوں میں تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے ۔یوں سرمایہ دارانہ تعقل (rationality) کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوتا اور اس پر معاشرتی اعتقاد مستحکم کرنا مشکل ہوتا جاتا ہے ۔

پھرپارلیمان اور سیاسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی لاچارگی کے باعث کچھ لوگ اپنے مفاداتی مطالبات دیگر ذرائع سے مرتب اور پیش کرنے لگتے ہیں یہ نئی سماجی تحریکیں(New Social Movement) نیولبرل طرز حکومت کو کمزور کرتی ہیں اور ان حکومتوں کا سوشل ڈیموکریٹک اور استبدادی نظام کی طرف مراجعت کو تیز کرتی ہیں، یہ نیوسوشل موومنٹس سرمایہ دارانہ اصلاح (reforms) کی جمہوری تحریکیں ہوتی ہیں جو لہوو لعب اور فواحش کا سہارا لیکر معاشرہ میں خود غرضی کو فروغ دیتی ہیں (ان تحریکوں میں عوام اور خواص کا ایک نہایت قلیل گروہ حصہ لیتا ہے اور وہ بھی بہت محدود وقت کے لئے، مثلاً Occupy Wall Street کی مشہور تحریک میں تخمینوں کے مطابق نیویارک کے ایک فی صد باشندے بھی شریک نہ ہوئے) چونکہ یہ فواحش کو عام کرنے والی تحریکیں ہوتی ہیں لہذا انہیں سرمایہ دارانہ میڈیا کا بھرپورتعاون حاصل ہوتا ہے ۔

ایک روایتی نیولبرل سٹیٹ(تھیچر ،ریگن ،کوہل کے دور کی ) عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے مربوط اور منسلک ہونے کی جدوجہد کرتی ہے جو ریاستی ادارہ یہ فرض انجام دیتا رہتاہے وہ اسٹیٹ بینک ہے۔ ان ریاستوں میں اسٹیٹ بینک کو حکومتی گرفت سے آزاد کرکے عالمی حرام خور مارکیٹوں اور اس کے غالب حرام خوروں ،اجارہ داروں کی غلامی میں دے دیا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے حرام خور پالیسی ساز ملکی حرام خور مارکیٹوں میں قیمتوں کا تعین عالمی حرام خور مارکیٹوں کے تسلط کی بنیاد پر کرتے ہیں ۔ملک میں سود کی شرع اور زرمبادلہ کی شرح(rate of exchange) بین الاقوامی حرام خور مارکیٹوں کے رجحانات کے مطابق تعین کی جاتی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں )بالخصوص آئی ایم ایف ( کو مائکرواکنامک (macro economics) کی پالیسی سازی کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے ۔مقامی ریاستی اہل کار سامراج کے غلام کے طورپر کام کرتے ہیں اور ان پر عالمی حرام خوروں کے نمائندے جیسا کہ اسحاق ڈار اور رضاباقر حاکم کے طور پر آئی ایم ایف نامزد کرتاہے ۔

لیکن عالمی سرمایہ دارانہ تسلط کا یہ نظام کچھ نیولبرل ریاستوں میں کمزور بھی پڑجاتا ہے ۔اس کی سب سے اہم مثال ٹرمپ کی حکومت ہے (پولینڈ اور ہنگری کی موجودہ حکومتوں نے بھی اپنے ممالک پر EU کی گرفت کم کرنے کی کوشش کی اور جانسن کا برطانیہ EU سے نکل گیا ہے،) ۔یہ پاپو لسٹ(polpuist ) نیولبرل حکومتیں عموماً قوم پرستی کا سہارا لیکر جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور قوم پرستی لا محالہ اقتدار کو قومی سطح پر مرتکز کرنے اور غیر اقوام اور اداروں کے تسلط کی رد کرنے کا متقاضی ہے ۔

لبرل اور نیولبرل ریاستیں سرمایہ کاروں(بشمول حرام خوروں)کی نظاماتی بالادستی کے قیام اور استحکام کو ممکن بنانے کا ذریعہ ہوتی ہیں ۔وہ یہ کام قانونی طورپر بھی کرتی ہیں اور ماورائے قانون اقدامات کے ذریعہ بھی۔ ان کی انتظامی ،معاشی ،معاشرتی خارجہ پالیسی کا یہی ہدف اعلیٰ (end in itself) ہوتا ہے اور اس لحاظ سے ان کے پالیسی ساز بالکل یکسو ہوتے ہیں۔ وہ سرمایہ کاروں کے آلہ کار (agent) ہوتے ہیں ۔سرمایہ دارانہ نظام کے تمام گروہوں اور افراد کے آلہ کار نہیں ہوتے گوکہ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی بالادستی کا جواز (legitimation) جمہوری عمل کے ذریعہ مسلسل حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

لبرل ریاست کا ارتقا دومخصوص ادوار سے گزرا ہے اور دونوں ادوار میں لبرل ریاست سرمایہ کا روں کی آلہ کار رہی ہے ۔پہلے دورمیں سرمایہ دارانہ ملکیت منتشر تھی اوراس دور میں ایسی عمومی قانون سازی پر اکتفا کیا جاتا تھا جو سب سرمایہ کے ایجنٹوں پر یکساں طورپر لاگو ہو، اس دورمیں مقننہ کے اختیارات کسی قدر وسیع تھے ۔جب ارتکاز سرمایہ بڑھا تو مارکیٹوں میں ریاستی مداخلت سرمایہ کاروں کی ضرورت بن گئی، یہ مداخلت لازماً سرمایہ دارانہ تعقل کی بنیاد پر ہی کی جاسکتی تھی اور جیسے جیسے سرمایہ دارانہ تعقل کی بنیاد پر فیصلہ سازی کا دائرہ بڑھا ویسے ویسے عوامی (popular) فیصلہ سازی کا دائرہ محدود ہوتا چلا گیا، لہذا اختیار پارلیمنٹ سے نوکر شاہی ،ماہرین ،حرام خوروں ،مارکیٹوں وغیرہ کی طرف منتقل ہوتے رہے۔ جمہوری عمل اس تبدیلی اختیارات کی تائید میں متحرک (mobilise) کیاجانے لگا اور پارلیمنٹ ایک لاچار کھیل تماشا بنتی چلی گئی ۔

لبرل ریاستوں میں عوام نہ سیاسی فیصلہ ساز ہوتے ہیں نہ فیصلوں کے تنفیذی عمل کے شریک کار ۔ان کا کردار غالب سرمایہ دارانہ ،سیاسی نظام کے cheer leaders کا ہوتا ہے اور وہ صرف تالیاں بجانے نعرہ لگانے، گالیاں بکنے اور ووٹ دینے کا فریضہ انجام دیتے ہیں, انتخابی عمل اس فریضے کی ادائیگی کا ذریعہ ہوتا ہے ۔

مگر انتخابی عمل کو سرمایہ دارانہ تغلب کے تعطل او رانہدام کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ یہ استعمال انقلابی عمل کا محض ایک جزو ہو اور ریاستی قوت کو غیر سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم کرنے کا انتظام کیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں اس قسم کی ایک نامکمل کوشش جاری ہے اور ان شاء اللہ دوسرےمسلم ممالک میں اسلامی تحریکات مستقبل میں اس قسم کے تجربات کریں گی ۔

انتخابات کو سرمایہ دارانہ انہدام کے ذریعے کے طورپر استعمال کرنے کے مواقع صرف لبرل سرمایہ دارانہ ریاستوں میں موجود ہیں، اشتراکی اور استبدادی ریاستوں میں موجود نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشتراکی اور استبدادی سرمایہ دارانہ نظاموں میں انتخابی عمل مجروح کردیا جاتاہے اور وہ سرمایہ دارانہ اشرافیاتی گردش(circulation of elite) کا عموماً ذریعہ نہیں بنتا ۔اشرافیہ کا تقابل اور تصادم خفیہ ہوکر ایک جماعت کے اندر محدود ہوجاتا ہے ،ان ریاستوں میں سرمایہ دارانہ تضادات کوانتخابی عمل کے ذریعہ مہمیز نہیں دیا جاسکتا ۔

لبرل جمہوریتیں اب مداخلتی (intervention) ریاستیں بن گئی ہیں اور ان کا تحکیمی نظام پارلیمانی عمل سے کہیں زیادہ انتظامی ضوابط کی کارفرمائی پر مبنی ہوگیا ہے ۔انتظامی ضوابطی تحکم کے ذریعہ محنت کے مارکیٹ (labour market) کی تنظیم ،ریاستی سرمایہ کار اور فلاحی پروگرام کی تنفیذ عمل میں آتی ہے ۔اس انتظامی تحکمی نظام کی کارفرمائی کا تعلق دستوری قانو نی نظام سےگنجلک ہوتا ہے ۔انتظامی تحکمی ضوابطی نظام کا جواز اصولاً دستوری قانون ہی فراہم کرتا ہے ،لیکن اس اصولی مطابقت کے باوجود عملی طورپر بہت سے انتظامی ضوابطی اقدام دستوری قانون سے متصادم ہوتے اور تحکم قانون سرمایہ کے یہ دونوں اجزا (دستوری قانون اور انتظامی ضوابط)ایک دوسرے میں آسانی سے ایک ایکائی کے طورپر مدغم (integrate) نہیں ہوتے ۔

تحکمی نظام کا یہ دائمی تضاد خطرہ پیدا کرتا رہتا ہے کہ انتخابی عمل کے ذریعہ سرمایہ کاروں کا کوئی دھڑا بھی برسراقتدار نہ آئے ۔کوئی اور سرمایہ دار طبقہ(محنت کش،ٹیکنوکریٹ دانشور ) برسراقتدار آجا ئیں ۔ریاست لبرل نہ رہے بلکہ سوشلسٹ یا استبدادی بن جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ غیر سرمایہ دار (اسلامی تحریکیں) اقتدار پر قبضہ کرلیں ۔ان خطرات کو ٹالنے کے لئے ہی دستوری قانون اور ہیومن رائٹس کی تقدیس پر اصرار کیا جاتا ہے اور ایسے تمام انتخابات کالعدم قرار دیئے جانے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں اسلامی انقلابی فتح یاب ہوں ، یہ بھی ایک قابل غور حقیقت ہے کہ جب سوشلسٹ یافاشسٹ قوتیں کامیاب ہوتی ہیں تو انتخابات کالعدم قرارنہیں دئے جاتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اشتراکیت /قوم پرستی وغیرہ کی کامیابی سے سرمایہ دارانہ تغلب متاثر نہیں ہوتا۔ اقتدار محض ایک سرمایہ دارانہ گروہ سے دوسرے سرمایہ دارانہ گروہ کی جانب منتقل ہوجاتا ہے ۔

لبرل ریاستوں میں عوام بالکل بے اثر نہیں ہوتے وہ cheer leaders ضرور ہوتے ہیں لیکن جس سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی پالیسیوں کو وہ (cheer) کریں وہی برسراقتدار آتا ہے اور کم از کم اصولاً عوام کو خوش رکھنا برسراقتدار سرمایہ دارانہ دھڑے کی ایک اہم ذمہ داری ہوتی ہے جو میڈیا اس کو مستقل یاد دلاتی رہتی ہے۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی مستقل گردش (circulation) کو ممکن بنا کر پارلیمانی کارفرمائی سرمایہ دارانہ تحکم کے عمل میں ایسی لچک پیدا کردیتی ہے کہ وہ سرمایہ کاری کی بدلتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرتارہے اور گاہ گاہ آنے والے نظاماتی بحرانوں سے نبردآزما ہوتا رہے ۔یہ لچک اشتراکی او راستبدادی ریاستی نظاموں میں قدر کم پائی جاتی ہے(گو کہ چین نے 1979 اور 2017 کےدساتیر میں اسی ہی لچک کا مظاہرہ کیا ہے)۔

پارلیمنٹری نظم تحکم چند مخصوص حالات ہی میں سرمایہ دارانہ تحکیم کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوتا ہے ۔یہ سرمایہ دارانہ دھڑوں کی پیہم مسابقت کے باوجود ان کو متحد رکھنے کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ عوام میں سرمایہ دارانہ تحکم کی جوازیت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتاہے ۔پارلیمانی نظام میں عموماً عوام ایسے معتدل (moderate) سیاسی جماعتوں /منشوروں کی حمایت پر آمادہ ہوتے ہیں جو رائج شدہ معاشی اور سیاسی نظام کی بتدریج اصلاح (reform) کےذریعہ سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے دعویٰ دار ہوتی ہیں۔ عوام عموماً ان قوتوں کا ساتھ نہیں دیتے جو نظاماتی تغیر کی کوشش کرتی ہیں ۔پارلیمنٹرین قومی مفادات کا ایسا مفہوم مرتب کرتے ہیں جو عوام کے لئے قابل فہم ہوتا ہے ۔پارلیمانی ادارتی صف بندی نظاماتی تغیر اور تبدل کے عمل کو بہت مشکل بنا دیتا ہے ۔یہ بات ریاستی انتظامی مشینری (نوکر شاہی ،عدلیہ کارپوریشن اور حرام خوراداروں میڈیا،پولیس وغیرہ ) کی نظام نمائندگی سے علیحدگی کے بارے میں بالخصوص کہی جاسکتی ہے ان اداروں میں عوام کی کوئی نمائندگی نہیں ہوتی، یہ ادارے مستقل قائم اور کارفرمارہتے ہیں، پارلیمنٹ پر عملاً بالادست ہوتے ہیں اور نظاماتی استحکام اور تسلسل ان ہی کی کارفرمائی کا نتیجہ ہوتا ہے، گو کہ یہ تنظیمی ادارہ تخلیق ترتیب اور تنفیذ قانون میں ایک اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں لیکن دستوری قانون میں تبدیلی کی ذمہ داری عوامی نمائندوں (پارلیمنٹ) کے پاس رہتی ہے اور اس وجہ سے گوکہ عوام ایڈمنسٹریشن کے سامنے بالکل بے بس ہوتے ہیں لیکن اس بے بسی کو وہ عقلیت (rationality) کا تقاضا اور جائز تصور کرتے ہیں ۔

پارلیمانی نظام میں ریاست نجی سرمایہ کاروں اور مارکیٹی کارفرامائی کی ماتحتی قبول کرلیتی ہے ۔جیسے جیسے ارتکاز سرمایہ کا رجحان بڑھتا ہے ویسے ویسے سرمایہ دارانہ مسابقت اجارہ دار انہ بنتی چلی جاتی ہے اور مارکیٹی عمل کو منظم (regulate) کرنے اور مارکیٹ میں ریاست کی براہ راست مداخلت کی ضرورت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ان حالات میں عمومی قانون سازی پر اکتفا کرنا ممکن نہیں رہتا اور مارکیٹی تنظیمی (regulatory) اور انخلائی (intervention) اقدام کی ضروت بڑھتی جاتی ہے ۔یوں سرمایہ دارانہ دھڑوں میں اتحاد قائم رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے اور ریاست لازماً مخصوص سرمایہ دار گروہوں کی قیدی بن جاتی ہے ۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی تحرک کا یہ بھی ایک بنیادی تضاد ہے کہ سرمایہ دارانہ نظاموں میں عوام تو منتشر (individuate) ہوتے جاتے ہیں لیکن سرمایہ مرتکز (concentrate and centralize) ہوتا چلا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ ایک مخصوص سرمایہ کار گروہ کی آلہ کار بن جاتی ہے اور سرمایہ کار طبقہ میں اتحاد قائم رکھنے کی صلاحیت بتدریج کم ہو جاتی ہے ۔اس ہی طرح عوام بھی پارلیمانی عمل سے اپنی وابستگی کم کرتے رہتے ہیں۔ حکومتی پالیسیاں جلد جلدبدلتی رہتی ہیں اور بڑھوتری سرمایہ کے عمل سے ان کا تعلق مبہم اور ناقابل فہم ہوتا چلاجاتا ہے ۔سیاسی اور انتظامی ریاستی قوتوں میں رسہ کشی شروع ہوجاتی ہےا ور نظاماتی استحکام متزلزل ہوجاتا ہے ۔

یوں معاشی بحران ایک سیاسی بحران کو جنم دے سکتا ہے اور چونکہ کوئی نہیں جان سکتا کہ سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کی ضرورتیں کیا ہیں اور کیسے پوری کی جاسکتی ہیں؟ اس لئے یہ بحران گہرے ہوتے رہنے کا خطرہ ہمیشہ موجو درہتاہے ۔

تاریخی طورپر ان بحرانوں سے نبردآزمائی کا جو طریقہ )کم از کم وقتی طور پر ( سب سے زیادہ کامیاب ہوا ہے وہ پالیسی سازی اور تنفیذی عمل کی ٹیکنولائزیشن (technololgation) اور ریشنلائزیشن (rationalization) ہے ۔جیسے جیسے پالیسی ساز اور تنفیذی عمل ٹیکنولوجائز اور ریشنلائزہوتا جاتا ہے،ویسے ویسے پارلیمنٹ کا عمل محدود اور انتظامیہ (نوکر شاہی ،کارپوریشن ،حرام خوروں ،ماہرین ،میڈیا عدلیہ وغیرہ) کا دائرہ اثر وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ administrative lawدستوری قانون پر غالب آتا چلا جاتا ہے اس سب سے جمہوری عمل لازماً کمزور نہیں پڑتا بلکہ عوامی تائید کے حصول کے غیر انتخابی ذرائع زیادہ اہمیت حاصل کرلیتے ہیں ۔پارلیمنٹ کی بڑھتی ہوئی بے بسی جمہوری نظام کے انتشار کا لازماً ذریعہ نہیں بنتی ۔

دور حاضر کے ہر سرمایہ دارانہ نظام )لبرل ،اشتراکی ،سوشل ڈیموکریٹ ،استبدادی( میں ایک منتخب پارلیمنٹ موجودہوتی ہے ۔اس کا نظاماتی اثر اور دائرہ کار ہر جگہ محدود ہورہاہے کہیں زیادہ کہیں کم ۔لیکن اس کے وجود کو کہیں خطرہ نہیں ۔اس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام نمائندگی (representation) کے ادارہ کی اہمیت ہے ۔نمائندگی کے ذریعہ ہی عوام کو جمہوری پنجرہ میں قید کیا جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی، مساوات اور ترقی) کے عوامی volentry اظہار کاوابستگی اس سے زیادہ موثر طریقہ ابھی تک ایجاد نہیں کیا گیا، گوکہ ہر جگہ یہ کرنے کی کوشش جاری ہیں ۔ان معنوں میں دور حاضر میں اب سرمایہ داری اور جمہوریت کا تعلق حادثاتی (centingent) نہیں رہا بلکہ جو بری ہوگیا ہے اور یہ واضح ہوگیا ہے کہ جمہوری نظام کو تباہ کئے بغیر سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو ختم نہیں کیاجاسکتا ۔

5.4۔ استبدادی جمہوری ریاست

استبدادی جمہوریت کی مکمل ترین شکل فاشسٹ (facist) ریاست ہے لیکن سرمایہ دارانہ تاریخ میں فاشزم ریاستی تنظیم کا ایک غیر معمولی (exceptional) طریقہ رہاہے۔ حقیقی اور مکمل فاشسٹ ریاست کے غلبہ کا دورانیہ سرمایہ داری کی تاریخ میں نہایت مختصر ہے ۔موسولینی کی حکومت 25 سال قائم رہی، ہٹلر کی 12 سال ،نیم فاشسٹ حکومتوں کا دورانیہ اس سے کہیں زیادہ ہے اور آج بھی نیولبرل ریاستوں )ہندوستان، امریکہ ،پولینڈ ،ہنگری وغیرہ میں ( فاشسٹ حکومتی رجحان پروان چڑھ رہے ہیں۔ مسلم دنیا میں بھی)مصر، عراق ،شام ۔افریقہ کے کئی ممالک( نیم فاشسٹ حکومتیں برسر اقتدار رہی ہیں اور ہیں ۔

فاشزم اور نیم فاشزم ہمیشہ قوم پرستی کا سہارا لیتی ہیں ،وہ اپنی قوم کے لئے سرمایہ کی بڑھوتری کو مقدم ہدف کے طور پر قبول کرتی ہیں، وہ سرما یہ کاروں کے اس گروہ کی تحکیم کو قائم اور مستحکم کرنا چاہتی ہیں جو قومی سرمایہ کی بڑھوتری کو دوسرے ہر مقصد پر ترجیح دیتاہے ۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قومی سرمایہ کاروں کا یہ گروہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے ۔ا س گروہ کی قیادت تو بڑ ے اجارہ داروں اور حرامخوروں کے ہاتھ میں نہ رہے لیکن ان کے مفادات ہمیشہ مقدم رہیں، کیونکہ سرمایہ کی بڑھوتری کا عمل لازماً ارتکاز سرمایہ کا متقاضی ہے ۔

اس کے باوجود فاشسٹوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ قوم پرست گروہ میں معاشرہ کے ہر گروہ کو شامل کر لیں ۔دستکاروں ،محنت کشوں ،کسانوں چھوٹے دوکانداروں ،تاجروں ،ماہرین ،اہل دانش سب کو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہرگروہ اپنے مخصوص گروہی مفادات کو قومی سرمایہ کی بڑھوتری کے پیمانے پر پرکھنے اور قومی سرمایہ کی بڑھوتری کی خاطر اپنے گروہی مفادات کو قربان کرنے پر آمادہ ہو ۔تمام گروہی مفاداتی تنظیمیں (ٹریڈ یونین بزنس ایسوسی ایشن(business association) دانشوروں اور معاشرتی اجتماعیتیں )ایک ایسی جماعت اور ریاست کی قیادت کو قبول کرلیں جو قومی سطح پر بڑھوتری سرمایہ کی رفتار کو تیز کرنے کی جستجو کررہی ہے ۔

فاشسٹ اور نیم فاشسٹ ریاستوں میں جاری جمہوری عمل کا مقصد ایک ایسی قومی ہمہ گیر تحریک جاری رکھنا اور اس کو عوامی تائید دلانا ہوتا ہے جو قومی سرمایہ کی بڑھوتری کے لئے ہر قربانی دینے پر لوگوں کو آمادہ کرتی رہے ۔فاشسٹ ریاستوں میں انتخابی عمل تو مجروح ہوجاتا ہے لیکن ریفرنڈم (refrendom) جاری رہتے ہیں۔ جماعتی کثرتیت (party pluralism) کو ختم کرکےفاشسٹ جماعت کی مستقل سیاسی اجارہ داری قائم کردی جاتی ہے ۔نیم فاشسٹ ریاستوں میں اس قسم کے اقدام کی کوشش جاری رہتی ہے جو کبھی کامیاب ہوتی ہے) مثلاً ناصر کا مصر( اور بیشتر کامیاب نہیں ہوتی )مثلاً مودی کا ہندوستان ،ٹرمپ کا امریکہ

فاشسٹ اور نیم فاشسٹ ریاستوں میں نظریاتی تبلیغ پر بہت زور دیا جاتا ہے ۔لوگوں کو قومی سرمایہ کی بڑھوتری کے ہدف کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے رہنے پر آمادہ کرتے رہنا کوئی آسان کام نہیں، اس کے لئے ریاستی جبر کو بیوروکریٹک (beaurucratic) کارروائی کی شکل میں توسیع دیتے رہنا لازمی ہے۔ فاشسٹ ریاستوں میں نوکر شاہی کا معاشرتی دخول بہت بڑھ جاتا ہے ۔ریاست کے مختلف شعبہ (عدلیہ ،انتظامیہ ،فوج اور پولیس اور میڈیا) کی ادارتی علیحدگی (relative autonomy) ختم یا کم کردی جاتی ہےاور نئی نئی ادارتی صف بندیوں کے ذریعہ ان تمام شعبوں کو ایک نظم اعلیٰ کے ماتحت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

فاشسٹ اور نیم فاشسٹ ریاستوں میں ایڈمنسٹریٹو قانون (administrative law) کا دائرہ اطلاق وسیع تر ہوتا جاتا ہے ،لیکن عموماً غیرقومی افراد (یعنی وہ جو دشمن قوم تصور کئے جاتے مثلاً یہودی ،مسلمان، ہندو، کمیونسٹ وغیرہ) کے انفرادی سرمایہ دارانہ حقوق محفوظ نہیں رہتے ہیں ۔ فاشسٹ اور نیم فاشسٹ ریاستوں میں ریاستی قوت کا استعمال بڑھتا جاتا ہے اور اکثر قوت کو استعمال کرنے والے ایسے غیر ریاستی ادارہ اور افراد ہوتے ہیں جنہیں ریاستی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔

فاشسٹ اور نیم فاشسٹ ریاستی قومی سرمایہ کی بڑھوتری کو فروغ دینے کی جو حکمت عملی اپناتی ہیں وہ لازماً کسی نہ کسی سرمایہ دارانہ گروہ کے اغراض یمفادات کی عکاس ہوتی ہے ۔کسی کو نہیں معلوم ہوسکتا کہ قومی سرمایہ کی بڑھوتری بڑھانے کی صحیح حکمت عملی کون سی ہے کیونکہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس صحیح حکمت عملی کی نوعیت میں تبدیلی لازمی ہے ۔سرمایہ دارانہ گروہوں میں تقدیم ملکی بڑھوتری سرمایہ پر اتفاق ہو جائے تب بھی اس کی حکمت عملی کی تبدیلی کے لئے کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے ۔فاشسٹ نظام میں یہ کشمکش پس پردہ چلی جاتی ہیں اور متصادم گروہوں میں اس طرح کی مصالحت (compromises) نہیں ہوپاتی جولبرل نظام میں عام ہے اور جس کی بنیاد پر نظاماتی استحکام قائم رہتاہے۔ اس نوعیت کی کشمکش سے آنکھیں بند کئے رکھنا اور اس کو مخفی رکھنے کی کوششیں فاشسٹ نظام تحکیم کی اہم کمزوری ہے جس سے نظاماتی استحکام بری طرح متاثر ہوتا ہے ۔

فاشسٹ ریاست اپنی خود اختیاریت (autonomy) کا دعویٰ کرتی ہے۔اس کا قائداور اس کی حکمران جماعت اجارہ داروں اور حرام خوروں کے مفادات کو ترجیح ضرور دیتی ہے کیونکہ قومی سرمایہ کی بڑھوتری کے لئے یہ ضروری ہے لیکن فاشسٹ قائد اور پارٹی اپنے آپ کو پوری قوم کا نمائندہ تصور کرتی ہے اور اگر اجارہ داروں اور حرامخوروں کا کوئی گروہ قومی مفاد (بڑھوتری قومی سرمایہ)کے خلاف کوئی کام کرے تو فاشسٹ اس کی سرکشی کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن یہ ایک ناکام کوشش ہوگی ،قومی سرمایہ کی بڑھوتری لازماً کسی مخصوص سرمایہ دارانہ گروہ کے مفاد کی عکاس ہوتی ہے اور کوئی نہیں جان سکتا کہ اصولاً عوامی مفاد (بڑھوتری سرمایہ قومی) کو فروغ دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے ۔لہذا فاشسٹ ریاست کی خود اختیاریت (autonomy) کلی نہیں تقابلی (relative) ہوتی ہے وہ مخصوص حالات میں لبرل ریاست سے زیادہ خود اختیاری بھی ہوسکتی ہے اور کم بھی ۔

فاشسٹ معاشی صف بندی کسی نہ کسی حد تک کوآپریٹیو (cooperative) نظام سے مماثل ہے۔ دونوں میں ریاست یا اس کا کوئی جزو ایک ایسی معیشت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں نجی سرمایہ دار ملکیت عام ہوتی ہے ۔فرق یہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ کووپریٹیونظام (cooperative systems) کی توجہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کے فوائد کی تنفیذ تقسیم سے ہوتی ہے جبکہ فاشسٹ کوآپریٹیوارتکاز سرمایہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا ۔فاشسٹ جرمنی اور اٹلی نےکوآپریٹیو سرمایہ داری کو فروغ دیا گیا ۔

فاشسٹ نظاموں میں کوآپریٹوز(cooperatives) کاکردار سوشل ڈیموکریٹ نظام سے بہت مختلف ہوتا ہے ۔سوشل ڈیموکریٹک نظام میں کوآپریٹوز سرمایہ داری کو نظریاتی جواز(ideological justefication) فراہم کرنے کا یک ذریعہ ہوتی ہیں )ارتکاز سرمایہ کے منفی تقسیمی اشارات کو کم کرنے کا ذریعہ( فاشسٹ نظام میں وہ ریاست یا غالب فاشسٹ جماعت کے ماتحت اور اس کا آلہ کار ہوتی ہیں اور محنت کشوں کی اجتماعیت کو توڑنے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتی ہیں ۔

فاشسٹ ریاست قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے ملکی آبادی کو دوحصوں میں تقسیم کردیتی ہے ۔یہ تقسیم عموماً نسل یا مذہبی شاخت کے بنیاد پر کی جاتی ہے، مثلاً مودی کی ریاست ایک نسل پرست ہندو ریاست ہے وہ ہندو ریاست نہیں ہے نہ کبھی ہندو ریاست بن سکتی ہے کیونکہ قدیم ہندو سیاسی فکر اور عمل (practice) سے اس کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وہ ایک جدید سرمایہ دارانہ ریاست ہے،ہندوستان میں بسنے والے 37کروڑ مسلمانوں(امریکی ادارہ Globel Demographic Survey Instituteکے 2019 Projection کے مطابق) کو وہ ہندوستانی قوم کا محکوم جزو تصور کرتی ہے اور ان کے سرمایہ دارانہ دستوری حقوق کو محدود کرنا ریاست کا فرض تصورکرتی ہے ۔اسرائیل کی آبادی میں عربوں (مسلمانوں اور عیسائیوں ) کی آبادی ملکی آبادی کا تقریباً 35فیصد ہے، ان سب کو دوسرے درجہ کا شہری تصور کیا جاتا ہے (اسرائیل ایک فاشسٹ ریاست نہیں بلکہ لبرل اور فاشسٹ سیاسی ہیئتوں (Structures)کا تضاداتی ریاستی نظام ہے) ہٹلر کی جرمنی نے ایک کروڑ غیر جرمنیوں کے سرمایہ دارانہ شہری حقوق سلب کئے اور کئی لاکھ یہودیوں اور Gypsis کا قتل عام کرتی رہی ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ نیم فاشسٹ ریاستیں )ہندوستان،اسرائیل 1995 سے قبل کا جنوبی افریقہ ( لبرل جمہوری اور فاشسٹ پالیسیوں کا انضمام ہم آہنگ طریقوں سے کرسکتی ہیں اور سامراجی ریاستوں کے لئے یہ کرنا تو بالکل ناگزیر ہوتا ہے ۔امریکی ریاست نے صدیوں تک قدیم باشندوں کا کروڑوں کی تعداد میں قتل عام لبرل پالیسیوں کے ساتھ ساتھ جاری رکھا 1857 کے جہاد سے تقریباً 1869تک برطانوی سامراج لاکھوں ہندوستانیوں کو تہ تیغ کرتا رہا۔

فاشسٹ ریاستیں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے عملاً دوقومیں تخلیق کرتی ہیں ایک حاکم قوم جو جمہور پر مشتمل ہوتی ہے اور جس کے تحرک کو فروغ دینے کی ریاست جدوجہد کرتی ہے اور ایک ،دشمن قوم جس کو کچلا جاتا ہے اور تمام سرمایہ دارانہ حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے ۔اس محکوم قوم کے افراد کے حاکم قوم میں شمولیت کے مواقع نہایت محدود ہوتے ہیں اور ریاست اس نوعیت کی شمولیت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔

فاشسٹ ریاست تمام معاشر تی معاشی اورثقافتی عمل پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔تنفیذی اور تشکیلی قوت مقننہ (parliment) سے انتظامیہ (executive) کی طرف منتقل ہوجاتی ہے بلکہ ریاست کے مختلف شعبوں میں تخصیص کا ر مدغم اور مبہم ہوجاتا ہے ۔سیاسی جماعتی کثریت ختم کردی جاتی ہے اور ریاستی قوت کی معاشرتی تنظیم کے لئے وسیع پیمانے پر ایسی جمہوری ادارہ ساز ی کی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی عمل میں اختلافی رجحانات دبا دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ایک ایسا جمہوری عوامی ادارتی اتحاد قائم کردیا جاتا ہے جونظریاتی اور سیاسی اختلافات کو کچلنے کے لئے ہمہ وقت متحرک رہتا ہے ۔(اس کی دور حاضر کی بہترین مثال مثلاً سنگھ پریوار کی ادارتی صف بندی ہے (ماضی میں نازی (Nazi) پارٹی بھی انہی خطوط پر منظم کی گئی تھی ۔ یہ جمہوری عوامی اتحاد ریاست کا حصہ نہیں ہوتا گوکہ ریاستی تعاون پر انحصار کرتا ہے ۔ریاستی کارفرمائی کی ذمہ داری فاشسٹ حکمران پارٹی کی ہوتی ہے جو معاشرہ کے ہر شعبہ میں موجود رہنے اور اس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ریاست اور اس کی جمہوری عوامی تنظیم کا کام ایسی نظریاتی تبلیغ کو جاری رکھنا ہوتا ہےجوفاشسٹ اقتداری نظام کا جواز (legitimacy) مرتب کرکے اس کو مقبول عام بنائے ۔

فاشسٹ ریاستوں میں تحکم قانون سرمایہ کا انتظام بنیادی طور پر ایڈمنسٹریٹیو(administrative)قانون کے ذریعہ کیا جاتا ہے اور دستوری قانون کی حیثیت علامتی (symbolic) ہوتی چلی جاتی ہے اس کی بنیادی وجہ ریاست کی بڑھتی ہوئی معاشرتی )بالخصوص معاشی ( مداخلت ہے ۔ایڈمنسٹریٹیوقانون کی تحکیم میں پولیس اور خفیہ اداروں (intelligence agencies) کا کردار بہت بڑھ جاتا ہے ۔

فاشسٹ ریاستوں میں جمہوری عمل کا مرکز ومحور سیاسی جماعتیں نہیں رہتیں اور ان کے نمائندگانی کردار عوام اور خواص دونوں کے لئے مجروح ہوجاتا ہے ۔نمائندگی ان سینکڑوں اداروں اور لابی گروپس (lobbying groups) کی ذمہ داری ہوجاتی ہے۔جو معاشرہ اور ریاستی نظام کے اندر قائم کی گئیں ہیں ۔اس سے جمہوری عمل کمزور نہیں پڑتا بلکہ عوامی تائید کے حصول کے ذرائع تبدیل ہوجاتے ہیں گوکہ جمہوری عمل صرف مرعات یافتہ قوم تک محدود رہتاہے اور مظلوم دشمن قوم سے تائید حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی (اس لحاظ سے ہندستان اور اسرائیل نامکمل فاشسٹ ریاستیں ہیں کیونکہ وہاں دشمن قوموں (مسلمانوں، عربوں) سے تائید حاصل کرنے کی کچھ نہ کچھ کوششیں کی جاری رہتی ہیں)۔پارلیمنٹ کی بڑھتی ہوئی بے بسی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ فاشسٹ ریاستوں میں غالب قوم کی نمائندگی کے مواقع لازماً محدود کردیئے جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فاشسٹ ریاستیں کوآپریٹیو (cooperative) طرز تنظیم کا اکثر سہارا لیتی ہیں ۔

ہرسرمایہ دارانہ ریاست کی طرح فاشسٹ ریاست بھی سرمایہ عمومی (capital in general) کی نمائندہ اور آلہ کار (agent) بننے کی کوشش کرتی ہے ۔اس کےلئے جمہوری عمل )عوام کی تائید کا حصول( کا جاری رہنا ضروری ہے ۔اس کے لئے وہ سیاسی عمل کو لبرل ریاستوں سے مختلف طور پر منظم کرتی ہے اور اس کا انحصاری پارلیمنٹ اور دستوری قانون یہ کم اور ریاستی معاشرتی مداخلاتی (interventionist) ادارتی صف بندی پر زیادہ ہوتا ہے ۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ فاشٹ ریاستیں جمہوری ریاستیں نہیں ہوتیں ناجائز اور غلط ہے ۔

اس میں شک نہیں کہ فاشزم انسان پرستی کی ذلیل ترین شکل ہے ۔فاشسٹ تحریکوں اور ریاستوں کا رہنما ایک مفروضہ فوق البشر )نطشے کا (Ubermasch ہوتا ہے ،جس کی مرعات یافتہ قوم کے عوا م و خواص پرستش کرتے ہیں ۔

حقیقتاً فاشسٹ ریاستوں میں یہ فوق البشر اکیلا قانون ساز ہوتا ہے اور خیر وشر متعین کرنے کی اس کی غیر مشروط ذمہ داری ہوتی ہے ۔اس نوعیت کے مفروضہ فوق البشر اشتراکی نظاموں میں بھی پائے جاتے ہیں (مثلاً لینن ،سٹالین ،ماؤ ،ژی کم وغیرہ) جیسا کہ ہم آگے چل کے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، اشتراکی ریاست استبدادی جمہوری ریاست کی ایک قسم ہے ۔

اور فاشسٹ/نیوفاشسٹ ریاستی نظام سے مماثلت ان ریاستی نظاموںمیں بھی کم نہیں جنہیں پوسٹ لبرل نیولبرل کہاجاتا ہے اور جہاں ایک طاقتور پارلیمان میں اکثریت رکھنے والی جماعت کو بڑے پیمانہ پر عوامی تائید حاصل ہوتی ہے ۔یہ قوم پرست ریاستی گروہ ایک نئی مقبول عامcommon Sence تعبیر کرتاہے(common sense کا یہ تصوراطالوی کمیونسٹ کافرAntonio Gramsci نے پیش کیااور اسی سے مراد وہ مفرضات ہیں جن کو کسی معاشرہ میں بلادلیل قبول کیا جاتا ہے، سرمایہ دارانہ common sence کی بنیاد الوہیت انسانی کا مفروضہ ہے جو روائیتی معاشرتی اقدار کو مارکیٹی نظام کی کارفرمائی کے تصور سے جوڑ دیتا ہے یہ ریاستیں عوامی تائید اپنی معاشی اور سماجی پالیسیوں تمام طبقوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کی پالیسیاں معاشرتی عمل پر مارکیٹی جبر کو ہر ذریعہ financial deregulation نجکاری ،ٹیکسوں میں کمی ،سٹے کی توسیع وغیرہ سے مسلط کرتی رہتی ہیں۔

اس نئی common senceکی بنیاد پر عوامی تائید کو مستحکم کرنے کے لئے ان نیولبرل /نیوفاشسٹ حکومتوں کو عموماً اپنےاندرونی مخالفین کو بے دردی کے کچلنا بھی پڑتا ہے اور سامراجی جنگوں میں بھرپور شرکت بھی کرنا پڑتی ہے ۔مثلاتھیچر (Thechar) نے اپنے دور میں فاک لینڈ(Falkland)کی لڑائی لڑئی اور کانکنوں(miners) کی مزاحمت کو کچلا بھی، ٹونی بلیر(Blair)عراق اور افغانستان میں امریکہ کا شریک کار رہا۔ ٹرمپ پوری دنیامیں دہشت گردی کا سیلاب برپا رکھا اور پوری 19ویں صدی میں لبرل ریاستوں نے اپنے کالونیز(colonies) میں فاشسٹ پالیسیوں کو دستوریت (constitutional) کا حصہ بنائے رکھا ۔

ہندوستانی نیولبرل ازم نیو فاشزم کی جڑوں کی نشاندہی بنگالی کافر رنجیت گوہا (Guha) نے اپنی کتاب Dominance Without Hegemony میں کی ہے،اس نظام میں عوامی تائید جبر(Dominance) سے زیادہ تبلیغ (Persuasion) اور ریاستی عمل میں عوامی اشتراک کار سے (collabaration) سے حاصل کی جاتی ہے۔ ریاستی قوت کا استعمال ہندواکثریت کے خلاف محدود رکھا جاتا ہے اور زیادہ تر جبر کا شکار مسلمان اقلیت اور فاشزم کے نظریاتی مخالفین ہی ہوتے ہیں ،اس کے برعکس فاشسٹ ریاستوں میں ریاستی جبر ریاستی تبلیغ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔گوہا کے مطابق ہندوستانی نیوفاشزم کی وجہ تصور دھرم اور جاتی میں پایا جاتا ہے ۔بھکتی کا تصور بھی ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔نہرو کی حکومت نے سامراجی نظم کےریاستی جبر کے اداروں کومن و عن قبول کرلیا اور مسلمانوں اور مخالفین پر جبر کی نفاذ کے لئے مودی حکومت انہیں اداروں کا سہارا لیتی ہے ۔

دور حاضر کا بین الاقوامی اقتصادی نظام فاشسٹ اصولوں پر نیولبرل انداز سے منظم کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کوئی حاکم اعلیٰ (sovreign) ریاست موجود نہیں لیکن ایسے اصول اور ضوابط نافظ العمل ہیں جو سرمایہ دارانہ تحکیم کے تسلط کو لازمی بناتے ہیں بین الاقوامی ادارہ IMF,WTO,FATF,ISO, rating agenciesوغیرہ ان اصولوں کی نظریاتی وکالت بھی کرتی ہیں اور جتاتی ہیں کہ ان کی پابندی ہیومینٹی کی فلاح کی ضامن ہے اور ان کی تنفیذ کی نگرانی بھی کرتی ہیں ۔ان سے روگردانی کی سزا امریکہ اور اقوام متحدہ sanction کی شکل میں مستقل دیتا رہتاہے ۔تمام جمہوری حکومتیں اس عالمی معاشی فاشسٹ تنظیم اقتداری کی تابعداری کی پابند ہیں، یہ سامراج(imperialism) کی جدید ترین شکل ہے اور اس کی تعمیر میں لبرل اور فاشسٹ فکر وعمل کا برابر کا حصہ ہے ۔اس جبر کو مربوط کرنے میں حرام خور(financial) اداروں اور مارکیٹوں کا ایک کلیدی کردار ہے ۔ان معنوں میں آج کل تحکم قانون سرمایہ (rule of law of capital) نے دستوری قانون کو اپنے اندر جذب کرلیا ہے لیکن یہ ایک تضاداتی انضمام ہے اور اس کے خلاف ہی سرمایہ دارانہ قوم پرست تحریکیں اٹھ رہی ہیں اور چین اور امریکہ میں سرد یا گرم جنگ اور سرمایہ دارانہ نظاماتی حدوں پر مجاہدین اسلام کی مزاحمت فاشزم اور لبرل ازم کے اس نظاماتی آمیزش کو درہم برہم بھی کرسکتی ہے ۔ا ور یہی بات سرمایہ دارانہ ممالک میں سرمایہ دارانہ مخالف جدوجہد کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے ۔

نیولبرل ازم کی سب سے اہم خصوصیت نظم پیداوار اور تبدل(exchange) پر حرام خور مارکیٹوں کا تحکم قائم کرنا ہے ۔نیولبرل نظام حاکمیت اعلیٰ (sovreignity) سود خوراور سٹہ بازوں کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے۔ سود خور اور سٹہ باز نظاماتی حاکم اور بادشاہ بنتے جاتےہیں ۔نیولبرل ریاست حرام خوروں کے اس تسلط کو معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں مستحکم کرکے بھر پور اعانت کرتی ہے ۔

جب بڑھوتری سرمایہ کا عمل حرام خور بازاروں میں مرتکز ہوجاتا ہے تو سرمایہ دارانہ نظاماتی استحکام متزلزل ہوجاتا ہے ۔جلد از جلد زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کارجحان سرمایہ کاری پر غالب آجاتا ہے ۔سرمایہ کارانہ خطرات (investment risk) بہت بڑھ جاتے ہے ۔ملازمتوں کا نظام غیر محفوظ (precarious) ہوجاتا ہے ۔سرمایہ دارانہ بحرانوں کے وقوع کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ان بحرانوں سے نبرد آزما ئی کے لئے ریاستی سہاروں کی شدید ضرورت پڑتی رہتی ہے ۔حرامخور معیشت کی کارفرمائی اور ریاستی مداخلت کے نتیجہ میں آمدنی اور دولت کی تقسیم کی نامساویت بہت بڑھ جاتی ہے ۔

غریب سرمایہ دارانہ ممالک میں نیولبرل/نیو فاشسٹ تحکم کا انعقاد عموماً جبری طریقوں سے ہوتا ہے اور کبھی کبھی اس کا پیش خیمہ ایک فوجی بغاوت ثابت ہوتی ہے۔ چلی میں یہی ہوا ہے لیکن پاکستان میں ایک جمہوری حکومت)بینظیر کی 1988 کی حکومت( نے نیولبرل نظام کی تنفیذ کی ابتدا کی ,غریب ممالک میں نیولبرل نظم کے انعقاد اور تسلسل میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا خصوصی کردار رہاہے( IMFکے Financial Sector Adjustment loan اور ورلڈ بنک کے Structural Adjustment Programmes , 1980 کی دھائی سے پاکستان میں اور دیگر غریب ممالک میں نافذ ہیں اور اس ہی وقت سے غریب سرمایہ دارانہ ممالک میں نیو لبرل ازم کا عروج شروع ہوا ۔

نیولبرل ازم / نیو فاشزم فرد ،معاشرہ اور ریاست کے تعلقاتی نظام کی ترتیب نو کرتی ہے وہ انفرادیت کو مسخ کرکے اس کو تصرف (consumption) کے عمل میں ضم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور فرد کو احساس دلاتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک معاشی حیوان (economic animal) ہے اور وہ اپنی ذات کا اظہار مارکیٹی مسابقت (market competition) میں شرکت کے ذریعہ ہی کرسکتا ہے ۔معاشرہ ایک وسیع ترین قومی مارکیٹی ارتباط کے علاوہ اور کچھ نہیں اور ریاست اس ارتباط کو قائم رکھنے اور مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے ۔

فاشسٹ ریاست کا فرض ہے کہ وہ فرد کو وہ قربانیاں دینے پر راضی /مجبور کرے جوقومی بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو جاری اور مستقل مستحکم رکھنے کے لئے ضروری ہے قوم پرستی وہ نظریاتی اساس ہے جس کو استعمال کرکے نیولبرل / نیو فاشسٹ ریاستیں ان استبدادی ریاستیں قوم کا جواز فراہم کرتی ہیں جو بڑھوتری سرمایہ کی جستجو کو جاری رکھنے کے لئے عوام سے قربانیاں طلب کی جاتی ہیں۔

نیولبرل/ نیو فاشسٹ تحکم کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ ریاستی جابرانہ پالیسیاں اور وہ جبری ادارے طاقتور بنائے جائیں اور مشاورتی ادارےان کے ماتحت دے کر جائیں، لہٰذا نیولبرل ریاست عموماً ایک تحفظاتی اور مزاحمتی ریاست (surveillance state) بنتی چلی جاتی ہے اور اس میں ایڈمنسٹریٹیو قانون (administrative law) دستوری قانون پر غالب آتا جاتا ہے ۔

نیولبرل نظاماتی جبر میں اضافہ کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی جمہوری حیثیت متاثر ہورہی ہے ۔مشاورتی عمل کی تحدید ہر جدید سرمایہ دارانہ سیاسی نظام میں ہورہی ہے )ہر جگہ رائے عامہ میڈیا تعمیر کرتا ہے( کہیں زیادہ کہیں کم ۔اس معاشرتی تحدید کے باوجود نیولبرل /نیو فاشسٹ نظام عوامی تائید حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔مغربی ممالک میں ان کو یہ تائید آزادانہ اتنخابی عمل سے فراہم ہوتی رہتی ہے اور غریب ممالک میں عوام عموماً بغاوت نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دارانہ ظلم کوبرداشت کرتے رہتے ہیں ۔بہت کم ممالک میں نیولبرل حکومتوں کے خلاف سوشل ڈیموکریٹک حکومتیں کا میا ب ہوئی ہیں اورعموماًاستبدادی پالیسیاں ترک نہیں کی گئیں ۔

نیولبرل /نیم فاشسٹ ریاستوں میں عوام منتشر ،غیر منظم اور قوت سے محروم (disempowered) ہوتے چلے جاتے ہیں ۔حلال )غیر سرمایہ دارانہ ( معیشت کا دائرہ سکڑتا جاتا ہے ۔نیولبرل نظاماتی مخالفین کی قوت مدافعت کم ہوتی رہتی ہے ۔اس نظام سے مراجعت کا تصور مبہم سے مبہم تر ہوتا چلا جاتا ہے ۔دستوری قانونی تحکم پر اعتماد کم ہوتا جاتا ہے ۔نیولبرل /نیم فاشسٹ تحکم کے سرمایہ دارانہ مخالفین اس پر کرپشن کے الزام لگاتے ہیں اور کرپشن کا سرچشمہ نیولبرل اشرافیہ کو ٹہراتےہیں۔ عمومانظاماتی سربراہ )جمال ناصر،نیپولین نائریری،عمران خان( کو غیرکرپٹ لیکن ان کے درباریوں کو کرپٹ کہاجاتا ہے ۔

چونکہ نیولبرل /نیو فاشسٹ نظام میں عوامی عمومی معاشرتی صف بندیاں کمزور کردی جاتی ہیں۔ لہٰذا اس نظام کے خلاف سرمایہ دارانہ تحریک نسلی لسانی اور ثقافتی جہتوں میں ڈھل جاتی ہے اور نظاماتی تبدیلی کے مطالبات ایک نظریاتی (ideological) رنگ اختیارنہیں کرپاتے ہیں، چونکہ کسی نہ کسی نوعیت کی قوم پرستی اس نظریاتی جھکاؤ میں مضمر ہوتی ہے لہذا یہ نظریاتی جھکاؤ نیولبرل ریاست کو ایک مکمل فاشسٹ ریاست میں تبدیل کرنے کاایک اہم محرک ہوتا ہے ۔نیولبرل تحریکات کے رہنما چالباز اور مکار ہوتے ہیں )عمران خان، ٹرمپ ( وہ عوامی تحریکات کو نظاماتی تبدیلی کا جھانسہ دیکر اپنا سیاسی تغلب قائم کرتے ہیں ۔یہ قائدین سابقہ ادا کار اور کھلاڑی )ٹرمپ عمران خان( بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی showmen ship مقبولیت کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔یہ قوم پرست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عالمی سرمایہ دارانہ حرامخوری کے نظام سے جڑے رہتے ہیں۔

یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ عمران خان کی حکومت نے پاکستان کو ایک نیولبرل /نیم فاشسٹ ریاست بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے ۔عمران خان کا اقتدار فوج کے مرہون منت تھااور اس کی حکومت پر فوج کے تسلط سے پاکستان کو ایک تحفظ ساز (survaellance) ریاست بنادیا ہے جہاں ایڈمنسٹریٹو (administrative law) دستوری قانون پر غالب ہے تبدیلی کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور معاشی نظام پرانے خطوط پر ہی قائم اور کارفرماہے ۔عمران خان نے آئی ایم ایف اور عالمی خرام خور مارکیٹوں کی غلامی بخوشی قبول کرلی ہے ۔اس نظام کی سرمایہ دارانہ مخالفت )مسلم لیگ،پیپلزپارٹی( اس قدر کمزور ہے کہ برسراقتدار آکر وہ ان پالیسیوں میں کسی بنیادی تبدیلی کا تصور تک نہیں کرسکتی بلکہ زیادہ گمان اس بات کا ہے کہ مسلم لیگ /پیپلزپارٹی کی حکومت بھی نیولبرل قالب میں ڈھل جائیگی ۔ آخر کار نیولبرل پالیسیوں کی بنیاد بینظیر بھٹو نے ہی 1988 میں رکھ دی تھی۔ پاکستانی ریاست تیزی سے ایک فاشسٹ ریاست بنتی جاری رہی ہے اور ہمیں اسلامی انقلابی جدوجہد اس ہی تناظر میں مرتب کرنا ہے ۔

5.5۔ اشتراکی جمہوری ریاست

سوشلسٹ نظریہ ریاست کی بنیاد 1870 کی دہائی میں مارکس اور اینگلز کی انارکسٹوں )بالخصوص بکامن) سےبحثوں میں ڈالی گئی،ان بحثوں کے دوران مارکس اور اینگلز نے Communist Manefestoمیں" نظریہ جمہوری آمریت محنت کشاں" (Democratic Dictatorship of the proletariat) پیش کردیا تھا اس تصور کی تشریح Bakunin اور بلانکوئے Blanqui کی ساتھ کی گئی بحثوں ہی میں ملتی ہے ۔

محنت کشوں کی آمرانہ جمہوریت کے قیام کا مطلب محنت کشوں کا ریاست پر قبضہ ہے,یہ قبضہ سرمایہ کاروں کے خلاف بغاوت سے بھی قائم ہوسکتا اورلبرل /نیم جمہوری عمل میں شرکت کے ذریعے بھی۔ انارکسٹوں کی طرح مارکس بھی ریاستی نظام کی تحلیل کی ضرورت (اور لازمیت( کا قائل تھا لیکن اس کے خیال میں یہ واقعہ مستقبل بعید میں رونما ہوگا اورمدت دراز تک ایک ایسی ریاست قائم رہے گی جو محنت کشوں کی جمہوری آمریت ہوگی ۔مارکس کے مطابق لبرل جمہوری عمل کے ذریعہ بہت سے ایسے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں جو بغاوتی طریقے سے ریاست پر قبضہ کے ذریعہ انہیں حاصل نہیں ہوسکتے لہذا پرولوٹریٹ کولبرل دستوری نظام میں اپنی جمہوری آمریت کے قیام کے مواقع تلاش کرتا رہنا چاہے اور بغاوت(Insurection) کا مرحلہ صرف اس وقت آئیگا جب ایسے تمام مواقع معدوم ہوجائیں ۔1872 کی فرسٹ انٹرنیشنل کی Hague کانگریس میں مارکس نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ اور برطانیہ میں دستوری جمہوری طریقہ سے پرولتاریہ کی جمہوری آمریت قائم کی جاسکتی ہے(اس کانگریس میں بکانن(Bakunin) کو First International سے نکال دیا گیا تھا)۔

لیکن ریاستی تغلب کے حصول کے بعد پرولتاریہ جمہوری عمل کو اپنے طبقہ تک محدودکرلے گی ۔غیر پرولتاریہ کے جمہوری عمل کے مواقع معدوم کردیے جائیں گے ۔مارکس کے لحاظ سے یہ ایک اشتراکی نظم میں معاشرت کے قیام اور استحکام کے لئے ضروری ہے ۔اشتراکی معاشرتی تغلب کا بنیادی ذریعہ نجی سرمایہ دارانہ ملکیت کا انہدام اور ریاستی سرمایہ دارانہ ملکیت کا فروغ اور استحکام ہوگا ۔یہ عمل مدت دراز تک جاری رہے گا اور اس پورے تاریخی دورمیں پرولتاری جمہوریت آمرانہ ہوگی ۔ مارکس (اور ماؤ) کے تصور میں آمرانہ کارفرمائی اس لئے ضروری ہے کہ نجی سرمایہ کارانہ طبقہ اور ہاری ریاست کی ملکیت کی(غیر جمہوری) تخریب کاری کرتے رہیں گے۔(یاد رہے کہ اسٹالن نے اپنے دور اقتدار میں تقریباً 3.5 ملین ہاریوں کا قتل عام کیا تھا)۔

مارکس کے مطابق پرولتاری انہ آمریت سے مراد پورے محنت کش طبقہ کے جمہوری اقتدار کا قیام ہے کسی نمائندہ جماعت )کمیونسٹ پارٹی( کی ریاستی تحکیمی اجارہ داری نہیں (مارکس کے بقول اس نوعیت کا اقتدار چند ہفتوں کے لئے پیرس کمیوں(Paris Commune) نے 1871 میں قائم کردیا تھا( پرولتارین طبقہ میں جمہوری عمل نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس کے ذریعہ اس طبقہ کی حکومت قائم کردی جائیگی ۔ پرولتاریہ کسی دوسرے کی حکومت یا اپنی حکومت کی محض تائید نہیں کریں گے بلکہ وہ خود حکومت کریں گے (یہ اصولاً ناممکن ہےعوام نے کبھی کہیں حکومت کی ہے نہ کر سکتے ہیں، لیکن جمہوری نظریات (democratic theory) اس نامعقول مفروضہ پر قائم ہیں کہ عوامی تائید کا مطلب عوامی حکومت کا قیام ہے) پرولتاری طبقہ ریاستی قوت نجی سرمایہ کاروں کے استحصال کے لئے استعمال کریگا ۔غیر پرولتاریہ پر جاری استحصال پرولتاری طبقاتی جمہوریت کے قیام اور استحکام کےلئے ضروری ہے۔

پرولتاریہ آمریت ،مارکس کے خیال میں ان معنوں میں بھی جمہوری ہوتی ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ ریاستی ملکیت کے غلبہ سے معاشرے کا ہرفرد ایک پرولتاری بنتا چلا جاتا ہے ۔اجرت کا نظام آفاقی(Universal) ہوکر تمام افراد کو اپنے اندر سمو لیتا ہےا ور دنیا میں کوئی غیر پرولتاری باقی نہیں رہتا مارکس کےمفروضہ کمیونزم کے دور میں کسی آمریت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ریاست تحلیل(wither away) ہوجاتی ہے اور سرمایہ دارانہ ترقی کے نتیجہ میں ہرشخص کی ہر خواہش پورے کرنے کے لامحدود وسائل فراہم ہوجاتے ہیں۔حقیقی اشتراکی جمہوریتوں (سوویت یونین ،چین وغیرہ) نے ثابت کردیاہے کہ "ایں خیال است ومہال است و جنوں"

مارکس نے لبرل جمہوریت کو بورژوا کی آمریت (Dictatorship of the bourgoisie) کہا اور واضح کیا کہ دستوری حقوق کی فراہمی کے دعوے گمراہ کن ہیں جب تک سرمایہ دارانہ نجی ملکیت غالب ہے آزادی رائے اور دیگر آزادیاں کوئی معانی نہیں رکھتی کیونکہ محنت کش اپنی صلاحیتوں کو سرمایہ کاروں کے متعین کردہ طریقوں اور نرخ پر بیچنے پر مجبور ہے ۔لہذا بورژوا جمہوریت ایک دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں اور حقیقی جمہوریت پرولتاریانہ آمریت ہی ہے لیکن پرولتاریہ آمریت ایک نامکمل جمہوریت ہے (کیونکہ معاشرہ میں بسنے والے غیر پرولتاری اس سے محروم رہتے ہیں) اورمکمل جمہوریت(نفس امارہ کے احکامات کی غیر مشروط غلامی) صرف کمیونسٹ دور میں قائم ہوگی ۔

مارکس نے نجی سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کو تاریخی طورپرانحطاط پذیر سمجھا لیکن اس کے انہدام کے لئے یہ بھی ضروری تصور کیا کہ ایک پرولتاری جماعت ایسی سیاسی جدوجہد کرے جو پارلیمانی اور بغاوتی عمل دونوں پر مشتمل ہو ۔قومی سطح پر پہلی ایسی جماعت جو منظم کی گئی وہ German social democratic party تھی اور مارکس اور اینگلس دونوں اس کے حمایتی تھے ,یہ 19 ویں صدی کے اوخر کی پیداوار ہے۔اس کے کئی ڈھڑے تھے سب اپنے آپ کو مارکسسٹ(Marxsist) کہتے تھے، لیکن Social democrate دھڑے نے جس کا قائد Bernstien تھا بغاوتی سیاست کو رد کردیا تھا, یہ پارٹی لبرل جبری نظام سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دیگر ترقی پسند جماعتوں بشمول بورژوا جماعتوں سے اتحاد بھی کرتی تھی، بشرطیکہ اس نوعیت کے اتحاد کے نتیجہ میں پرولتاری اپنی طبقاتی انفرادیت سے دستبردار نہ ہوجائیں ۔ پہلی اشتراکی ریاست چند ہفتوں کےلئے پیرس کمیون کی شکل میں 1871 میں قائم ہوئی ۔پیرس کی چند سٹرکوں پر مشتمل اس ریاستی نظام کو مارکس نے ایک Ideal اورماڈل قرار دیا۔ یہ ریاست بادشاہ اور فوج کے خلا ف کامیاب بغاوت سے قائم ہوئی۔ اس کے تمام عہدہ دار قلیل مدت کے لئے بالغ رائے دہی کی بنیادپر منتخب کئے جاتے رہے ۔تمام لوگ ہتھیار بند کردیے گئے تمام پادریوں کو برخاست کردیا گیا اور ان کی املاک ضبط کرلی گئیں ۔فیصلہ سازی کا عمل بحرانی ہوگیا اور تاریخی طور پر یہ واضح نہیں کہ فیصلہ کیسے کئے جاتے تھے ۔فرانسیسی فوج نے خون ریز مزاحمت سے اس کمیون کو ختم کردیا ۔لیکن یہ پرولتاری انہ آمریت ایک مقدس تجربہ کے طور پر مارکسی فکرکا جزو ضرور بن گیا ہے لیکن حقیقتاً اس آمریت کی کارفرمائی میں پرولتاریہ کا کیا کردار تھا یا تاریخی طورپر بالکل واضح نہیں اور اس ریاست میں پرولتاریہ کون تھے؟ یہ بھی واضح نہیں، کیونکہ اس ریاست نے کبھی بھی نجی ملکیت کے خاتمہ کے غیرمبہم احکام جاری نہیں کئے ۔

پرولتا رین جمہوری آمریت کے تصور کی جو تشریح لینن نے کی اس کے مطابق سوویت یونین کاریاستی نظام مرتب کیا گیا۔اس تصور کے مطابق پرولتارین آمریت وہ اصل )نامکمل( جمہوریت ہے جو نجی سرمایہ داروں کے استحصال کو ختم کرنے کے لئے نجی سرمایہ داروں اور دوسرے غیرپرولتاری طبقات کے جمہوری حقوق سلب کرلیتی ہے ۔اس ریاست میں نمائندگی کا حق صرف اس کو ہوتا ہے جو حق (یعنی مارکسزم کی لنینی تشریح)پر ایمان رکھتے ہیں اور قانون سازی (legislative) اور قانون تنفیذی (executive) عمل ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتے ہیں اورپرولتاری نمائندگان دونوں شعبوں میں کارفرما ہوتے ہیں ۔چونکہ لینن کے مطابق پرلتاریہ کے آمریت کے دور میں اکثریت اجرت پیشہ (prolitariate) کی ہوگی لہذا کثریتی فیصلہ ریشنلٹی (کی مارکسی تشریح) کی بنیاد پر کئے جائیں گے اور اس اکثریت میں نزاع مفقود ہوجائیگا ۔یہی اصل آزادی اور اصل جمہوریت کی طرف مراجعت ہے ۔

لینن نے 1903 سے 1917 تک تمام انتخابات میں حصہ لیا )اور اس کی جماعت عموماً ناکام رہی ( لیکن جب مصلح بغاوت کے ذریعہ اس کو اقتدار حاصل ہوا( اکتوبر 1917 ) تو اس نے فوراً ہی دستور ساز اسمبلی کو برطرف کردیا (جنوری 1918) 1917 کی بغاوت کے وقت روس اور اس کی کولونیز (colonies) میں صنعتی محنت کشوں (پرولتاریہ ) کی تعداد آبادی میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھی اور لینن کی جماعت Bolsheviks کو پرولتاریہ میں اکثریتی حمایت صرف 1917 کے دوتین مہینوں میں حاصل رہی ۔ہاریوں کی آبادی میں عظیم اکثریت تھی اور ہاریوں میں Bolsheviks کا اثر بالکل واجبی تھا ۔زار روس کے خلاف فروری 1917 میں انقلاب Social Revolation ary Party نے برپا کیا تھا اور اس جماعت کے ارکان اور RSDLP کے دھڑے (Memshevik جن کو پرولتاریہ کی اکثریت کی حمایت 1917،1918 میں حاصل رہی ) کا سفاکانہ قتل عام لینن نے 1917 سے 1921 تک جاری رکھا ۔

پارلیمنٹ کی جگہ سویٹوں (Soveite) کا ایک ملک گیر نظام قائم کیا گیا جس میں صرف صنعتی محنت کشوں کی قیادت روا رکھی گئی اور بہت جلد (یعنی 1919 تک ) یہ ادارہ ریاستی نظام کا آلہ کار بنا اور 1919 میں لینن نے اقرار کیاکہ ان کے مقتدرین عام پرولتاریہ نہیں بلکہ ایک مخصوص پرولتاریہ اشرافیہ کے افراد ہیں ۔

1918 میں روس پر فرانس ،برطانیہ اور امریکہ نے حملہ کردیا اور خانہ جنگی چھڑ گئی جو 1921 تک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔ 1919-20میں شدید قحط پڑا اوراس سب کے نتیجہ میں روس میں پرولتاریہ کا وجود تقریباً ختم ہوکے رہ گیا ۔اب پرولتاریہ آمریت کا مطلب لینن اور بولشوک جماعت کی جمہوری آمریت تھا اور یہ یک جماعتی جمہوری آمریت 1991 تک قائم رہی ۔اس پورے دورمیں پارٹی تطہیر کے کئی مراحل سے گزری۔ پہلی تطہیر (purge) لینن نے 1921 میں کیا جس میں کی بولشوک Bolshevik چوٹی کے رہنما نکالے بھی گئے اور قتل بھی کئے گئے ۔تطہیر (purges) کا عمل اپنے عروج پر اسٹالن کےدور میں پہنچا، اس کے باوجود پارٹی کی ممبر شپ تیزی سے بڑھی اور لوگوں میں اس کے اقتدار کو قبول کرنے کا رجحان بھی Brezhnevکے دور تک بڑھتا رہا ،لہذا ایک جماعتی آمریت جمہوری ہی رہی اسی عوامی تائید کی بنیاد پر سوویت یونین دوسری جنگ عظیم کی سب سے بڑی فاتح ثابت ہوئی۔

اشتراکی ریاستی عمل کے جمہوری رجحان کو بر قرار رکھنے کے لئے عوامی تحرک(mass mobilization)کو مستقل مہمیز دیتے رہنا ضروری ہوتا ہے، اشتراکی بغاوت کی روح حسد اور غضب ہے،جب ایک ہیومن بینگ کےنفس پر حسد اور غضب کاجذبہ حرص کے جذبہ پر غالب آجاتا ہے تووہ اجتماعی سرمایہ دارانہ فوائد حاصل کرنے کے لئےعظیم ترین قربانیا ں دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے،یہ بات قوم پرستوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہےجب تک ایک اشتراکیت یا قوم پرستی کا شیدائی اپنے نظاماتی حریف کو پہچانتا رہے اور اس کے خلاف نفرت سے بھرا رہئےوہ اشتراکی اور قوم پرستانہ اقتدار کی تائید کرتا رہے گا۔یہ بات ماوٗ(Mao) بھی خوب اچھی طرح جانتا تھااور اس کا1966 سے لے کر1974 کا ثقافتی انقلاب (Cultural revolution) چینی عوام کے جذبہ غضب اور نفرت کو مہمیز دینے کے لئے برپا کیا گیا تھا یہی آمرانہ جمہوریت کی اساس ہے۔

سوویت یونین کے سقوط کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آمرانہ جمہوریت کی یہ ضرورت پس پشت ڈال دی گئی۔وہاں کا سب سے مقبول عام جمہوری قائد جوزف اسٹالن تھا جس نے ساڑھے پانچ ملین ہاریوں کا قتل کیا۔ اس کے پورے دور میں عوام کو مستقل متحرک رکھنے کی مہمات جاری رہیں۔اس کے جانشین(خورشیف، برژنیف، گوربا چوف وغیرہ ، یہ تحرک برقرار نہ رکھ سکے،گورباچوف کی امریکہ دوستی نے جمہوری آمریت کی قبر پر آخری کیل ٹھونکی۔ حرص کا شیطان غضب کے شیطان پر روس میں غالب آگیا، اشتراکیت بے معنی نظر آنے لگی اور آمرانہ جمہوریت کا نظام تباہ ہو گیا۔

سوویت یونین ایک آمرانہ جمہوریت ضرور تھی لیکن پرولوٹیریٹ کی آمرانہ جمہوریت ہر گز نہیں تھی۔صرف 1917 کےآخر اور 1918 کے تقریباًچند مہینوں تک بولشویک جماعت کو پرولتاریہ کے نمائندگان کی اکژیت کی حمایت حاصل تھی)کئی مصنفین اس کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس کے شواہد غیر واضح ہیں( پرولتاریہ کے نمائندے تنظیمی factory committees تھیں جو کارخانوں کی سطح پرمنظم تھیں اور حکومتی تابعداری کو قبول کرنے پر آماہ نہ تھیں ۔

1918 میں لینن نے انfactory commettie کو بے دردی سے کچل دیا اور اس کے بعد سے سوویت یونین کے سقوط کے وقت تک پرولتاریت کی یہ تنظیمیں بولشویک جماعت میں ضم کرلی گئیں اور اس پورے دورمیں پرولتاریہ کی کوئی آزاد نمائندگی قائم نہ ہوسکی ۔

بولشوک پارٹی نے بھی اپنی پرولتاری انہ نمائندگی کی حیثیت خانہ جنگی اور NEP کے دور میں کھو دی ۔خانہ جنگی کا دور 1918 سے 1921 تک کا ہے جس میں پرولتاریہ طبقہ کے افراد اتنے بڑے پیمانہ پر جنگ میں اور قحط سالی سے مارے گئے کہ پر وادتار یہ کا وجود تقریبا معدوم ہو گیا۔ NEP کے دور میں 1921 تا 1924،1924 میں لینن جہنم واصل ہو گیااور اسٹالن اور ٹراوسکی میں اقتدار کی کشمکش جاری ہوئی اسٹالن کو مکمل غلبہ 1928-29 میں حاصل ہوا) لینن نے نجی صنعت کاری اور تجارت کو فروغ دیا اور نجی سرمایہ داری ریاستی سرمایہ داری پر غالب آگئی اس دورمیں پڑے پیمانے پر بولشوک پارٹی میں زار کے زمانہ کے اہل کار(Beaurocrats) شامل ہوئے اور سٹالن کے دور 1929 تا 1953 میں بولشویک جماعت پر ریاستی نوکر شاہی کا غلبہ مستحکم ہوگیا اور آخر وقت (1991) تک یہ غلبہ قائم رہا ۔

اس میں شک نہیں کہ سوویت دور پرولتاریہ کی تعداد بالخصوص 1929 کے بعد سے بہت تیزی سے بڑھی اور اگر پرولتاریہ سے مراد اجرت پانے والے کی لی جائے تو کم از کم اسٹالن کے دورمیں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سوویت یونین میں پرولتاریہ کی عظیم اکثریت موجود تھی ۔ سٹالن کی collectivination کی تحریک نے بہت بڑے پیمانے پر لاکھوں ہاریوں کو قتل کیا اور انہیں اجرتی مزدور بننے پر مجبو ر بھی کیا اور پرولتاریہ کا آبادی میں تناسب سوویت یونین کے خاتمے تک نمایاں رہا ۔

او رپرولتاریہ اقتدار میں شریک بھی کسی نہ کسی حد تک رہے گو کہ یہ شرکت اقتدار منفی نوعیت کی تھی۔ جو معاشی نظام مرتب کیا گیااس میں ایک عام محنت کش کو اپنے پیدواری عمل کی نوعیت اور رفتار کو منٹین کرنے کے محدود اختیارات حاصل رہے، یہی تقسیم اقتدار سوویت نظام کو جمہوری بناتی ہے ۔پرولتاریہ کے نچلے حصے نے اس محدود اقتدار کے حصول کے عوض نوکر شاہی ،دانش ور،سپروائزر ،پارٹی انتظامیہ وغیرہ کی بالاد ستی قبول کرلی ۔

ہرسرمایہ دارانہ ملک کی طرح سوویت یونین میں بھی ذاتی ملکیت تحلیل کردی گئی ان معنوں میں کہ نہ بالائی پرولتاری )نہ ریاستی جماعتی نوکر شاہی ،نہ حرام خور ،نہ سپروائزر ،نہ دانشور سرمایہ کے مالک تھے نہ محنت کش نہ ہاری دولت کا مالک سرمایہ(حرص اور ہوس ) تھا ۔تمام ذیلی گروہ پیدواری اور تقسیمی عمل کی کسی حدتک کنٹرول کرتے تھےلیکن ریاستی سرمایہ کاری میں نجی سرمایہ کاری کے برخلاف معاشی تحرک کا دارومدار مارکیٹ پر نہیں پلان (plan) پر ہوتا ہے اور قیمتیں ،اجرتیں اور سرمایہ کاری کی مقدار پلان متعین کرتا ہے ۔مارکیٹ نہیں اور چونکہ سوویت نظام پلاننگ کا فعل ریاستی نوکر شاہی کے لئے مختص تھا اور یہ ہی لوگ پیدواری اور سرمایہ کاری کے اہداف ،قیمتیں اور اجرتیں متعین کرتے تھے لہذا وہ اقتداری عمل میں غالب تھے ۔

اصولاً اور کم از کم سٹالن کے دور تک عملاً سرمایہ کار فرمیں پلان کی تابعداری پر مجبوررہیں اور اس جبر کو قائم رکھنے کے لئے ربع صدی تک بدترین استبدادی اقدام روا رکھے گئے اور پورے ملک پر خوف ودہشت کی فضا مسلط کردی گئی ۔اسٹالن کے دورمیں ریاستی نوکر شاہی ،بولشویک پارٹی پر مکمل طورپر غالب آگئی اور بالائی اور نچلی پرولوٹریٹ میں سماجی فاصلے بہت بڑھ گئے جو سوویت نظام کے انہدام تک قائم رہے ۔یہی دور تھا جب نوکر شاہی کے سرمایہ دارانہ مراعات(بہتر گھر ،سامان تعیش، کھیل تماشے، تعلیمی سہولتیں)بہت بڑھا دیئے گئے اور تقسیم آمدنی میں غیر مساویت کارجحان پروان چڑھنے لگا۔

سوویت یونین میں معاشی تحکم کا ذریعہ مرکزی پلان کو بنایا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشی عمل کا ہدف ملکی سرمایہ کی بڑھوتری قرار پائی ۔فرمیں اپنے انفرادی ادارہ کے منافع کی بڑھوتری کی جستجو ترک کرکے پلان کئے گئے پیدواری اہداف کے حصول کو ترجیح دینے لگے ۔حرام خور مارکیٹوں کی کارفرمائی محدود ہوگئی ۔یہ مارکیٹ سوویت یونین میں کبھی معدوم نہ ہوئے، مثلاً اسٹالن کے دور میں بینکاری اور سودکا حرامخور نظام کارفرما رہا اور بڑھوتری سرمایہ نے اشیاء (تیل ،گیس ،لوہے ،مشینری اجناس ) کی شکل اختیار کرلی ۔فیکٹر منیجر پلان کے دیئے گئے پیدوار اہداف کو پر کرنے اور نوکر شاہی کو خوش رکھنے کو ترجیح دینے لگا اور یوں سرمایہ دارانہ مسابقتی (competative) عمل مجروح ہوگیا۔ سوویت فرم منیجروں کا یہرجحان خرو شیف ،برژنیف اور گوربا چوف کی اصلاحات کےباوجود آخر وقت تک قائم رہا ۔

پلان کے اہداف میں سبقت لیجانے کی مجروح مسابقتی دوڑ نے سوویت معیشت کو over production کا دائمی مریض بنادیا۔ ہرفیکٹری پلان کے دیے گئے اہداف سے زیادہ پیدوار جلد از جلد پورا کرنے کی جستجو کرتی اور اس دوڑ میں ناقص اور ناقابل استعمال مال کے معاشرہ میں ڈھیر لگ گئے۔ یہ ناقص مال فرموں کے درمیان خریدا اور بیچا جاتا رہا کیونکہ فرموں کے منیجر ایک دوسرے سے تعاون اور اشتراک عمل کرتے رہے، ان کو مجموعی بڑھوتری سرمایہ کی رفتار کو مہمیز دینے کی فکر نہ تھی، وہ تو ریاستی پلاننز کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔یہ ریاستی planners اور ان کی administration سرمایہ عمومی کےefficient نمائندہ کے طورپر عمل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ۔

نجی سرمایہ داروں کی طرح ریاستی سرمایہ دار (سرمایہ کار اور محنت کش دونوں ) حرص اور ہوس کے اسیر ہوتے ہیں ان کی کارفرمائی کا مقصد اپنے مادی فوائد کی بڑھوتری کا حصول ہوتا نجی اور اور یاستی سرمایہ دار دونوں اپنے مفاد کے لئے جس یونٹ کو وہ کنٹرول کرتے ہیں اس کو ذاتی ترقی کا ذریعہ بناتے ہیں دونوں کو مجموعی بڑھوتری سرمایہ سے کوئی غرض نہیں ہوتی لیکن نجی سرمایہ دارانہ نظام پر مارکیٹ(بالخصوص حرام خور مارکیٹوں) کا ڈسپلن (disapline) نافذ رہتا ہے اور یہ کسی نہ کسی حد تک نجی سرمایہ کارانہ جدوجہد کو سرمایہ عمومی کی بڑھوتری سے مربوط کرتا ہے ۔ریاستی سرمایہ دار اس مقصد کو پلاننگ (planing) کے ذریعہ حاصل کرنے کی عموماً ناکام کوشش کرتے ہیں۔

جب تک سوویت یونین ایک نسبتاً چھوٹی اور سادہ (non complex) معیشت رہا مرکزی سرمایہ دار استبدادی ذرائع سے یہ مقصد کسی نہ کسی حد تک حاصل کرتے رہے ،پلاننگ کے اہداف حاصل ہوتے رہے اور 1930 کی دہائی میں سوویت یونین کی رفتار ،ترقی مغربی ممالک سے زیادہ رہی لیکن جب سوویت معیشت بڑی اور گنجلک(complex) ہوگئی تو استبدادی عمل اس مقصد کے حصول کے لئے ناکارہ ثابت ہونے لگا (خوروشیف کے دور سے ) اور استبدادکی جگہ ایڈمنسٹریشن (administration) نے لے لی لیکن ایڈمنسٹریشن استبدار کا efficient متبادل ثابت نہ ہوا اور پلان کے اہداف کے حصول بے معنیٰ ثابت ہونے لگے (اس لحاظ سے کہ اہداف کاغذی طور پر ناقص پیداوار کی بھر مار سے حاصل ہوتے تھے) اور بتدریج سوویت یونین مارکیٹی اصلاحات کو اپنانے پر مجبور ہوتا چلا گیا ۔

ا س نظام میں سرمایہ اشیاء (products) اور خدمتوں (services) کی شکل اختیار کرلیتا ہے، سرمایہ کار اور محنت کشوں دونوں کے لئے زر کا حصول اتنا اہم نہیں ہوتا جنتا ریاستی مراعات اور عنایات (previlages) کا حصول ۔یہ بات حاکم اشرافیہ (state elite) کے لئے بھی درست ہے اور ایک مزدور کے لئے بھی ۔اس ہی وجہ سے لینن کے وقت سے Bolshevik پارٹی کے چوٹی کے قائدین تک کرپشن (کرپشن سے مراد اپنے ذاتی مفاد کو بڑھوتری سرمایہ عمومی پر مقدم رکھنا ہے)میں ملوث رہے ہیں۔ ریاستی اشرافیہ یا ایڈمنسٹریشن کو کنٹرول کرتی تھی اور ایڈمنسٹریشن کے عمل (process) کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنے کے مواقع وافر تھے ۔ریاستی اشرافیہ معاشرے پر مارکیٹی ڈسپلن بغیر مارکیٹ کی آزادیاں فراہم کئے مسلط کرنا چاہتی تھی اور یہی عدم استحکام (insstability) کی بنیادی وجہ تھی ۔

NEPکے اختتام (1929)کے بعد سے اپنے سقوط (1991) تک سوویت یو نین نے ٹیکنالوجی اور مشینری کی پیداوارپر خصوصی زور دیا لیکن اس کے باوجود وہاں غیر ہنر مند ہاتھوں سے کام کرنے والے (unskilled manual worker) کی محنت کشوں کی تعداد کا تناسب عمومی آبادی میں ہمیشہ بڑھتا رہا۔ سب سے اہم صنعتوں میں مرمت کرنے والی صنعت (repair and maintenance) ہمیشہ شمار کی جاتی رہی کام کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے ایک عظیم الشان فوج مستقل بھرتی کی جاتی رہی ۔یہ سب گرتے ہوئے معیار پیداواری معیار کے ثبوت ہیں ۔زیادہ تر پیداوار ناقص ہوتی تھی(کچھ حصہ بالکل ناقابل استعمال ہوتا تھا ،کچھ ایسا کہ اس کے استعمال سے پیداواری خرچہ مستقل بڑھتا رہتا تھا۔ کچھ ایسا کہ کہ اس کا طریقہ استعمال اس کو ناقص بنا دیتا تھا) ایڈمنسٹریٹو اشرافیہ اور مرکزی پلانز اس ناقص پیدواری نظام کو برداشت بھی کرتے رہے اور اس کی کارفرمائی سے ان کا تحکم متزلزل بھی نہیں ہوا، پلان کے اہداف کے تمام دعوے مضحکہ خیز ہوگئے، یہ اشرافیہ کے نظاماتی اقتدار کو محدود کرنے کی ایک اہم وجہ ہے ۔ایڈمنسٹریٹو اشرافیہ اس بات پر مجبور ہوگئی کہ وہ اپنا نظاماتی اقتدار محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایسا مصالحتی کردار ادا کریں جو اس ناقص معیشت کو کارفرما رکھنے کے لئے ضروری ہے ۔

ایڈمنسٹریٹو اشرافیہ کی یہ پسپائی محنت کش سرمایہ داروں کی منفی قوت کا اظہار ہے اور یہ منفی قوت خروشیف کے دور سے مستقل بڑھتی رہی، جب تعذیب(persecution) میں تخفیف ہوئی (اسٹالن نے لاکھومزدوروں کو کئی سالوں کے لئے جبری مشقت کے لئے جیلوں میں مقید کردیا تھا)تو محنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق بڑھادیئےگئے اور وہ سوویت نظام میں نجی سرمایہ داری کے مقابل میں کہیں زیادہ تھے، پیشہ ور اور غیر ہنر مند محنت کشوں کی اجرتوں میں فرق بہت کم تھا، محنت کشوں کو حاصل ریاستی مراعاتیں وافر تھیں ۔ملازمت کی فراہمی کی ضمانت دی گئی تھی اور نہ اجرت نہ ریاستی مراعات کا تعلق محنت کش کی کارکردگی (productivity) سے تھا، رہائشی اور شہری مواصلت (Urban transport) کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری تھی ۔

محنت کشوں پر ایڈمنسٹریٹو اشرافیہ کا کنٹرول مارکیٹی نہیں انتظامی نوعیت کا تھا، مثلاً محنت کشوں کی تبدیلی ملازمت اور نقل وحرکت پر سخت پابندیاں عائد تھیں دستاویزی پابندیاں بھی بہت گنجلک اور پچیدہ تھیں لاکھوں مزدور غیر قانونی شہری مہاجرین (urban immigrants) جو عموماً ریاستی تعذیب کا شکار اور ریاستی مراعات سے محروم تھے اپنے مادی فوائد کے تحفظ کے لئے ایک عام محنت کش کو انتظامیہ سے مستقل مصالحت کرنا پڑتی تھی ۔

لیکن نجی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ایک عام سوویت محنت کش کو پیدواری عمل (work process) پر کہیں زیادہ اختیار تھا۔ وہ اپنی رفتا ر کار متعین کرنے پر نسبتاً آزاد تھا ۔ فیکٹری کی انتظامیہ میں آدھے سے زیادہ دستی (manual)محنت کش ہوتے تھے۔ اس وجہ سے منیجمنٹ کا رکنوں کی پیدواری عمل پر اختیار کو برداشت کرتے تھے اور کارکنوں کو مطمئن رکھنا منیجمنٹ کے مفاد میں ہوتا تھا منیجمنٹ کے پاس کارکنان کو ڈیسپلن کرنےکے ذرائع بہت محدود تھے نہ وہ کارکنوں کو نکال سکتے تھے نہ وہ ان کی اجرتیں اور مراعات کم یازیادہ کرسکتے تھے ۔

منیجمنٹ کا عمل پیدوار پر کنٹرول نہایت محدود تھا ،سروے شماریات سے ثابت ہوتا ہے کہ 1970 کی دہائی میں سوویت کارخانوں میں اوقات کارمتعین شرح سے تقریباً 37فیصد کم رہے، محنت کشوں میں شراب نوشی اور غیر حاضری اتنی عام تھی کہ بعض اوقات بڑے بڑے کارخانہ بند کئے جاتے تھے (زناکاری اتنی عام تھی کہ کچھ بڑے بڑے شہروں میں حرامی بچوں کی پیدائش کی تعداد نکاحی اولادں سے زیادہ ہوگئی ) ہر فیکٹری میں غیر ضروری فاضل کارکنوں کی بھر مار تھی ۔سروے شماریت سے واضح ہوتا ہے کہ ایک عام کارکن پیداوار عمل (Work process) میں بہت کم دلچسپی لیتا تھا ۔

ریاستی اشرافیہ کا ایک ہدف 1917 کی بغاوت سے لیکر 1991تک محنت کش طبقہ کے اجتماع کو منتشر کرنا رہا ہے، اس لئے فیکٹری کمیٹیوں اور ٹریڈ یونینوں کو برباد کردیا گیا ۔پیداواری عمل پر محدود کارکنی اختیار کو فروغ دینے کا ایک مقصد کارکنوں کو منتشر رکھنا بھی تھا۔ اس نظام میں ہرکارکن فرداًفرداً انتظامیہ سے مراعات کے حصول کے لئے مستقل negotiate کرتا رہنے پر مجبور تھا ۔

سوویت نظام میں پیدواری عمل پر کارکنوں کو جو منفی اختیارات دیئے گئے وہ بھی نظام کی بربادی کا باعث بنے، اس منفی امتیاز کو محنت کشوں نے )کارآمد( پیداوار کو کم کرنے کے لئے استعمال کیا اور اس کے نتیجہ میں عمومی سرمایہ اور اس سے حاصل شدہ آمدنی میں تخفیف لازمی ہوگئی، جب یہ تخفیف )ناکارہ اشیاء کی فراہمی کی صورت میں ( آشکارہ ہوئی تو ایڈمنسٹریٹو اشرافیہ کو کارکنوں کی مراعات کی فراہمی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی اور مارکیٹی تحکم (discipline) کا انعقاد لازمی ہوتا چلا گیا یہی 1954 سے لیکر 1991 تک جاری رہنے والی اصلاحات کی یہی وجہ ہے ۔

سوویت اشتراکی سرمایہ دارانہ محنت کش جس تضاد کا شکار تھے وہ یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو اپنی ناقص کارکردگی کے سبب کررہے ہوتے تھے لیکن اپنے ذاتی سرمائے کی بڑھوتری (اونچےسے اونچے معیاری زندگی )کے حصول کے طلب گار بھی ہوتے تھے۔

سوشلسٹ سرمایہ دارانہ نظام فاشسٹ نظام سے ان معنوں میں قریب ہے کہ دونوں نظاموں میں فیصلہ سازی اور فیصلہ تنفیذی کا عمل beaurocratise ہوجاتا ہے ۔سوشلٹ نظام میں چونکہ فیصلوں کی تنفیذ کے نتائج عموماً وہ نہیں ہوتے جو پلانر چاہتے ہیں لہذا مرکزی قیادت (سنٹرل کمیٹی USSR) کے عملی اختیارات فاشسٹ ڈکٹیٹر کے مقابلہ میں کم ہوتے ہیں اور یہ کہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ اصل نظاماتی فیصلہ ساز کون ہے؟ پلان کے اہداف مختلف النوع ہوتے ہیں اور متصادم بھی ہوسکتے ہیں ان کے حصول کے طرائق بھی تفصیل سے مرتب نہیں کئے جاسکتے ۔پالیسی سازی اور تنفیذی عمل لا تعداد مفاداتی گروہوں (interest group) کے باہمی تعاون اور تصادم میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور سینٹرل کمیٹی(central committe) ان مفاداتی گروہ کے مفاداتی تطبیق کو برقرار رکھنے کی ضرورت کی پابند ہوجاتی ہے۔ اس نظام میں وہ نظاماتی ڈسپلن (disapline) قائم رکھنا جو ایک مارکیٹی سرمایہ دارانہ نظام میں پایا جاتا ہے عمومی حالات میں ناممکن ہوتا ہےاور یہ بھی مشکل ہوتا جاتا ہے کہ سینٹرل کمیٹی( وہ ادارہ جو مصالحتی ادارہ ہے جو اس نظام کی بقا اور سلامتی کو ہر دوسرے ہدف پر ترجیح دیتی ہے)معیشت پر کنڑول رکھے۔سینڑل کمیٹی کے ارکان میں ریاستی سرمایہ کار اور محنت کش دونوں شامل ہوتے ہیں۔(جس حد تک اشتراکی نظام میں مارکیٹی نظام کوپیوست کیا جائے اسی حد تک سرمایہ اشیاء کے ساتھ ساتھ Finance کی شکل میں جمع ہوتا ہے اور چین میں 1978 کے بعد سے یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ چین کا تجزیہ ہم اگلے باب میں کریں گے)

اس میں شک نہیں کہ سوشلسٹ ریاست سرمایہ دارانہ بھی ہے اور جمہوری بھی ،ان ریاستوں میں سرمایہ اشیاءاور خدمتوں کی شکل میں بڑھوتری کے عمل سے گزرتا ہے ۔اقتدار سرمایہ دارانہ ریاستی اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ محنت کشوں میں تقسیم ہوتا ہے ،یہی اس نظام کی جمہوری اساس ہے ۔اپنے ابتدائی دورمیں یہ حکمت عملی سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دینے میں کا میاب ہوتی ہے لیکن معیشت کے پھیلاؤ اور پیچیدہ (complex) ہونےکے ساتھ ساتھ اس نظام میں مارکیٹی اصلاحات کو نافذ کئے بغیر اس کو قائم نہیں رکھا جاسکتا ۔

5.6۔ سوشل ڈیموکریٹ ریاست

ویسے تو سوشل ڈیموکریٹ تحریک 19ویں صدی کی پیداور ہے لیکن اس کی اساسی ادارتی صف بندی –کوآپریٹ ازم (co-operatism) سرمایہ داری کےہر دورمیں کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے ۔اس سب سیکشن میں ہم صرف سوشل ڈیموکریٹک (Social democratic) نظام میں پائی جانے والی کوآپریٹ ازم پر توجہ دیں گے ۔اس کو لبرل کوآپریٹ ازم (liberal coperatism) بھی کہا گیا ہے (کووپریٹنرم کی فاششٹ شکل کی تشریح ہم 5.4 میں کر چکے ہیں)اس سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل ڈیموکریسی لبرل اور اشتراکی سرمایہ داری ادارں اور پالیسیوں کے انضمام کی ایک کوشش ہے ۔

بڑھوتری سرمایہ کے عمل کو سہولت سے جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ کاروں اور سرمایہ دار محنت کشوں میں تعاون(co-operation) کو فروغ دیا جائے ۔ایک جدید ریاست میں سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی کی مفاہمتی تطبیق پیدا کرنے کی صلاحیت مخصوص حالات میں کھودیتی ہیں او رجمہوری /انتخابی عمل انہیں ایسی پالیسیاں اختیار کرنے پر مجبو رکردیتا ہے جو سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے لئے ناموزوں ہوتی ہیں، ان حالات میں حکومت معاشی پالیسی سازی اور تنفیذی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک سرمایہ کاروں اور محنت کش تنظیموں کے سپرد کردیتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ ریاستی ایڈمنسٹریشن کی نگرانی میں یہ تنظیمیں سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے لئے ایسی پالیسیاں تفویض کریں گی جن کو دونوں فریقوں کی حمایت حاصل ہو ۔ریاستی ذمہ داریوں کی اس نوعیت کی تحدید سیاسی جماعتوں کو معاشی پالیسی کو ریشنلائز (rationalize) کرکے اس کو انتخابی عمل سے علیحدہ کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔

سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں سرمایہ دار محنت کشوں اور ان کی تنظیموں (ٹریڈ یونینوں) کی نمائندہ جماعتیں ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ یہ دعویٰ عموماً جھوٹا ثابت ہوتا ہے ۔امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کسی معنی میں بھی سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی نمائندہ جماعت کبھی نہیں رہی۔ سوشل ڈیموکریٹ پارٹیاں دستوری نظام میں رہتے ہوئے سرمایہ دارمحنت کشوں کے سرمایہ دارانہ حقوق اور مفادات کو فروغ دینے کی جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن جیسے جیسے سرمایہ کاروں اور سرمایہ دارانہ محنت کشوں کے تعا ون ادارتی ڈھانچہ کے دائرہ کار میں توسیع ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے پارلیمان کی کارفرمائی محدود اور کمزور ہوتی جاتی ہے ۔اس کے باوجود لبرل کوآپریٹ ازم پارلیمان کا نعم البدل ثابت نہیں ہو تی کیونکہ اسکا دائرہ کار کبھی بھی بہت سےایسے عمومی امور پر محیط نہیں ہوسکتا )مثلاً خارجہ پالیسی، پولیسنگ کانظام( جو پارلیمانی عمل اور یاستی ایڈمنسٹریشن سے وابستہ ہیں سوشل ڈیموکریٹک نظام کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ کاروں اور سرمایہ دار محنت کشوں( کی جمہوری طورپر منتخب قیادت( میں اشتراک فروغ پائے ۔دونوں فریق ریشنل ہوں اور ان میں اس پر اتفاق ہوکہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ بڑھوتری سرمایہ عمومی کو ممکن بنانے کے لئے اس سے حاصل شدہ منافع کی کیسے تقسیم ہو۔سرمایہ دارانہ محنت کشوں کا سرمایہ کے اضافہ میں فوائد (Surplu) میں حصہ عادلانہ ہو )"عادلانہ" اجرت اور مراعات وہ ہے جس کو ادا کرنے سے سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار maximize ہوجائے) ۔سرمایہ دارانہ محنت کش اس عادلانہ اجرت)اور مراعات( سے زیادہ حاصل کرنے کی طلب نہ کریں ۔سرمایہ کار اور ریاست اس عادلانہ اجرت سے کم دینے پر اصرار نہ کرے ۔

ظاہر ہے کہ عادلانہ اجرت اور سطح مراعات متعین کرنا ناممکن ہے کیونکہ سرمایہ کی بڑھوتری کا کوئی منفرد (Unique) ریشنل طریقہ متعین نہیں کیاجاسکتا وہ ہمیشہ ظن اور تخمین پرمنحصر رہتاہے (دیکھئے باب 1) ۔لہذا سرمایہ کاروں اور سرمایہ دار محنت کشوں کی قیادت کا تعاونی عمل ہمیشہ تضادات کاشکار رہتاہے اور سوشل ڈیموکریٹک نظام غیر مستحکم اور متزلزل رہتا ہے ۔پھر پارلیمنٹ اور لبرل کوآپریٹو اداروں میں تصادم اور نزاع بھی عام ہے اور لبر ل کو کووآپریٹیو نظام میں کئے گئے)مقننہ علیہ( فیصلے ہمیشہ پارلیمنٹ کی اکثریت کے لئے قابل قبول نہیں ہوتے ۔پارلیمنٹ میں عموماًسرمایہ کاروں او ر غیر منظم محنت کشوں اور دیگر عوام کے نمائندوں کی اکثریت ہوتی ہے ۔پارلیمنٹ او رلبرل کووآپریٹو تنظیموں کے اختلافات کو manage کرنے کے لئے ریاستی ایڈمنسٹریشن اپنا کردار اداکرتی ہے ۔جس کے نتیجہ میں اس کی قوت نافذہ میں اضافہ اور پارلیمنٹ کی قوت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔

دورحاضر میں سوشل ڈیموکریسی کا اساسی نظریہ Keysianisim رہاہے ۔ویسے تو سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں انیسویں صدی کی پیداوار ہیں لیکن حقیقی اور دیرپا اقتدار انہیں دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی حاصل ہوا (کچھ سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں پہلی جنگ عظیم کے بعد میں مخلوط حکومتوں میں شریک رہیں)یورپی سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں نے ڈکٹیٹرشپ آف دی پرووٹرینٹ کا نظریہ ترک کرکے پارلیمانی نظام کے ذریعہ اپنے اقتدر کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ۔اور سرمایہ دارانہ ریاستی معاشی پالیسیوں کو سرمایہ دارنہ محنت کشوں کے مفادات کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا ۔ Keynes کے مطابق سرمایہ دارانہ معیشت کی خود کار فرمائی (self functioning) کساد بازای اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کو جنم دیتی ہے اور ارتکاز سرمایہ کے اسرجحان کو ختم کرنے کے لئے ریاستی سرمایہ کاری ،ریاستی قرضوں اورسرمایہ دارانہ زر کی بڑھوتری اور اجرتوں میں مستقل اضافہ کی ضرورت ہے ۔اس نوعیت کی پالیسی کو اپنا کر سرمایہ دارانہ معیشت تجارتی چکر(trade cycle) سے ہمیشہ کے لئے نجات پائے گی اور مستقلاً مستحکم ترقی (steady state growth) کرتی رہے گی، چونکہ سرمایہ دارانہ محنت کشوں کے مفادات )اجرتوں اور مراعات( میں اضافے عمومی مانگ(aggregate demand) میں اضافہ کا بنیادی سبب ہوتا ہے لہذا سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی اجرتوں/مراعات میں اضافہ بڑھوتری سرمایہ (اور سرمایہ دارانہ منافع کومہمیز دینے کے لئے ضروری ہے۔

جدید سرمایہ دارانہ نظام اجارادہ رانہ (Oligopholistic) ہے اور سرمایہ مرتکز ہوتا چلاجارہاہے ۔ایک عام سرمایہ درانہ محنت کش لیبر مارکیٹ (labout market) میں اپنی اجرت/مراعات متعین کرانےمیں کوئی فعال کردار ادا نہیں کرسکتا، لہذا اگر اجرتوں اور مراعات کو بڑھانا ہے تو سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی اجارہ داریاں (trade union confederation) کے مسابقتی حقوق(collective bargening rights) کو تسلیم کیاجانا اور ان کےتحکمی عمل میں شرکت کو قانوناً جائز قرار دینا ضروری ہے ۔

Keysainisim کے بحرانی دور (1971-1979) میں(اس دور کو Stagflation کادور کہتے( ہیں جبKeynesian توقعات کے بر خلاف تورم(inflation)بڑھا اور مجموعی پیداواری شرع نمو (rate of growth of GDP)گری تو سرمایہ دارانہ محنت کشوں اور ان کی نمائندہ تنظیموں کے مطالبات ریشنل نہ رہے انہوں نے اپنی تنظیموں کے دائرہ کار کے سیاسی عمل اورریاستی ایڈمنسٹریشن میں مداخلت کو بڑھانے کے مطالبات کئے اور اجرتوں اور مراعات میں کمی کی ہڑتالوں کے ذریعہ سخت مزاحمت کی(اٹلی فرانس اور بر طانیہ میں مزاحمت شدید ترین تھی)۔یہ مطالبات سرمایہ کاروں کے لئے قابل قبول نہ تھے کیونکہ ان کے قبول کرنے کا مطلب سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی تنظیموں کا ریاستی نظام پر غلبہ حاصل کرنا تھا اور یہ لبرل نظام کے مکمل انہدام کا باعث ہوسکتا تھا۔ یہ مطالبات اس لئے بھی منظور نہ کئے جاسکے کہ مغربی ممالک میں سرمایہ دار محنت کشوں کی تنظیمیں کمزور تھیں۔

ان میں بہت سےسرمایہ دارانہ (اور نیز سرمایہ دارانہ ) محنت کش شامل نہیں تھے۔ سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں میں ان کا اثرمحدود تھا (فرانس ، جرمنی برطانیہ اور امریکہ کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوںمیں یونین ممبروں کےعلاوہ بہت سے لوگ شامل تھے) ان کی انتظامی صلاحیت اور اپنے بائیں بازو کے ارکان پر کنٹرول کمزور تھا اور جرمنی کے علاوہ ہر جگہ اجتماعی مسابقتی عمل (collective bargaining) مرتکز نہیں فیکٹری کی سطح پر منتشر تھا۔

اس کے علاوہ مغربی ممالک کے دائیں بازو کی جماعتوں نے 1980کی دہائی میں سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں کو انتخابی شکست دینے کے بعد اس فلاحی ریاستی نظام (Welfare state systems) کو برقرار رکھا جو سوشل ڈیموکریٹک راج میں قائم کیا گیا تھا ۔1979 سے لیکر آج تک مغربی ممالک میں حقیقی اجرتیں تو یقیناً منجمد ہوئیں ۔یونینوں کے اجتماعی سودہ کاری کے قانونی حقوق تو یقینا محدود کیے گئے لیکن قومی انشورینس (National Isurance) کا نظام کسی نہ کسی شکل میں قائم رہا اور صحت اور تعلیم کے ضمن میں جو مراعات محنت کشوں کو دی گئی تھیں وہ برقرار رہیں ۔یونینوں کا وجود برداشت کیا جاتا رہا اور حق ہڑتال کو ختم نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی بڑی تعداددائیں لبرل اور نیولبرل سیاسی جماعتوں کی ہمنوا بن گئیں کئی سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں کو (Blair 1997-2007, Clinton 1992-2000, Obama 2004-12) انہی پالیسیوں کو جاری رکھنا پڑاجو لبرل پارٹیوں نے نافظ کیں تھیں اور یونینوں کی کسمپسری ان سوشلسٹ ڈیموکریسی حکومتوں کے دورمیں کم نہ ہوئی ۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ فلاحیت(welfareism) سوشل ڈیموکریسی کے ہم معنی نہیں ۔انیسویں صدی میں Louis Naloleon IIIاور Bismark بھی Welfarist حکومتوں کے سربراہ تھے اور دور حاضر میں بھیMerkel اور Trump کے تحت یہی نظام کارفرما رہے ۔سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ دار محنت کشوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ آخر الذکر کو کسی حدتک بھی ریاستی اقتدار میں شریک کریں ۔ضروری صرف یہ ہے کہ سرمایہ کار مستقلاً سرمایہ دارانہ محنت کشوں کے مادی معیار زندگی میں اضافہ کرنے کی پالیسیاں اختیار کریں یہ عمل لبرل جمہوریت کی پائیداری کا ضامن ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں حرص اور حسد غالب رہے ۔تاریخی عمل سے ثابت ہوا ہے کہ معیار زندگی کی مستقل بہتری جاری رکھنے کے لئے یہ ضروری ہےکہ معاشرہ کے نچلی سطح تک کچھ نہ کچھ اختیارات فراہم کئے جائیں ۔لہذا نازی جرمنی میں یونینوں کا نظاماتی کردار کو سفاکیت سے کچل دیا گیا لیکن مقامی سطح پر کسی نہ کسی حد تک اجتماعی سودا کاری کو برداشت کیا گیا،یہ ایک جمہوری عمل تھا کیونکہ اس نازی نظام کو عوامی تائید حاصل ہوئی۔ اس ہی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے سرمایہ دارانہ حکومتیں سوشل ڈیموکریسی کی ہیّت (form) کو برقرار رکھے ہوئے یونینوں میں متعدل قیادت اور ان کے ادارتی تحکم (یعنی یونین کے اندر اس کے عام ممبروں پر تحکم) کوفروغ دیتی ہیں ۔معتدل قیادت ریشنل ہوتی ہے اور سرمایہ درانہ غلبہ کو سرمایہ دارانہ محنت کشوں کے مفاد میں تصور کرتی ہے ۔

سوشل ڈیموکریٹ نظام میں اقتدار تقسیم ہوجاتا ہے ۔پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا اثر دستوری پابندیوں کی وجہ سے قائم رہتاہے ۔ریاستی انتظامیہ کے تقابلی (relative) اقتدار کا سبب یہ ہے کہ اسی کے ذریعے سرمایہ دارانہ محنت کش نمائندہ تنظیموں کی کارفرمائی کو ریگیولیٹ (regulate) کیا جاتا ہے اور یہ سرمایہ دارانہ محنت کش نمائندہ تنظیمیں بھی اقتدار میں شریک ہوتی ہیں ۔ان تینوں ادارتی صف بندیوںمیں اقتداری تقسیمی توازن برقرار رکھنا عموماً بدلتار رہتا ہے ۔اور یہ سوشل ڈیموکریٹک نظام کے انتشارکا ایک ہم سبب ثابت ہوسکتا ہے ۔اس کے علاوہ سرمایہ دارانہ محنت کش نمائندہ تنظیموں سے غیر معاشی امور کے تعاون کا کوئی تصور موجود نہیں ہوتا ۔یہ تنظیمیں غیر معاشی معاملات میں مداخلت کی اہلیت نہیں رکھتیں کیونکہ ان کے ممبران کا معاشرتی تناظر وہی ہوتا ہے جو سرمایہ کاروں اور ریاستی نوکرشاہی کاہے ۔یہ مفروضہ اکثر پورے کارپوریٹ نظام کے لئے درست ثابت نہیں ہوتا (یہ بات برطانیہ کے 1884-1983 کے کانکنوں(miners) کی ہڑتال اور تحریک سے واضح ہوتی ہے)۔

سوشل ڈیموکریٹک نظام خود انحصاری نہیں ہوتابلکہ عموماً ایک لبرل دستوری نظام میں پیوست ہوتا ہے لبرل جمہوری ادارہ اور طرز کارفرمائی سوشل ڈیموکریسی کی کمزوریوں کو کسی نہ کسی حد تک وضع کرتی ہیں سوشل ڈیموکریٹک نظام میں بیشتر لبرل دستوری سرمایہ دار حقوق فراہم کئے جاتے ہیں اور مارکیٹی تحکم ایک reformed شکل میں جاری رہتا ہے ۔اقتدار کے شرکاء میں اضافہ ہوتاجاتاہے لیکن سرمایہ داروں کی تقابلی (relative) بالادستی برقرار رہتی ہے ۔اگر اس تقابلی بالادستی کو چیلنج کیا جائے تو سوشل ڈیموکریٹک نظام تباہ ہوجاتا ہے اور اس تباہی کے نتیجہ میں نیم استبدار لبرل )تھیچر( یا مکمل استبدادی جمہوری )ہٹلر ( نظام لے لیتاہے ۔

سوشل ڈیموکریٹک نظام کے مارکیٹ پر انحصار اس نظام میں حرامخوروں کے بڑھتے ہوئے اقتدار سے ہوتاہے ۔سوشل ڈیموکریٹک نظام میں سرمایہ دارانہ محنت کش نمائندہ تنظیمیں عموماً اجرتوں اور ریاستی مراعات میں اضافے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں ۔اجرتوں کی بڑھوتری منافع کی شرح پر منفی طورپر اثر انداز ہوتی ہے، لہٰذا سرمایہ کار حقیقی اجرتوں(real wages) کو منجمد رکھنے(یا کم از کم شرح نمو پیداواریت (productive growth rate) سے کم رکھنے) کی کوشش کرتے ہیں ۔ اجرتوں کے اس انجماد کے باوجود سرمایہ دارانہ محنت کشوں کے معیار زندگی اور سطح صرف بڑھاتے رہنے کی نظاماتی ضرورت برقرار رہتی ہے ۔اس کے لئے حرام خور نظام بڑے پیمانے پر سرمایہ دار محنت کشوں کو نجی قرضہ فراہم کرتا رہتاہے اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ دار محنت کشوں کو دی گئی ریاستی مراعات بھی کم نہیں کی جاسکتیں اور ریاست بھی بڑے پیمانے پر حرام خوروں سے قرضہ لینے پر مجبور ہوجاتی ہے پھر چونکہ سوشل جمہوری ریاستیں عموماً سامراجی ریاستیں ہوتی ہیں(فرانس ،برطانیہ ،کلنٹن اور اوباما کے دور کا امریکہ ) لہذا دہشت گردی کو جاری رکھنے کے لئے بھی قرضے لئے جاتے ہیں اور قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیداوارسے کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے یوں سوشل جمہوری نظام پر حرام خور غالب آتے چلے جاتے ہیں اور ریاست، کارپوریشن عوام سب ان کے رحم وکرم پہ ہوتے ہیں۔

5.7۔ خلاصہ

دنیا بھر کی اسلامی جماعتیں (مجاہدیں اسلام کے علاوہ )سوشل ڈیموکریٹ فکر اور پالیسیوں سے مغلوب ہیں یہ اپنی تاریخی روایات سے غیر وابستگی کا نتیجہ ہے ۔قرون اولیٰ اور خلافت راشدہ کے دورکی ایک مضحکہ خیز سوشل ڈیموکریٹ تاریخ مدت دراز سے مرتب کی جارہی ہے (برصغیر میں خلیفہ عبدالحکیم اور شبلی نعمانی نے یہ افسانہ سب سے پہلے گڑھا) اسلامی تعلیمات اور روایات کو توڑ مروڑ کر ان کو مغربی کافرانہ سانچے میں ڈھالنے کی یہ مزموم روایات ہمارے تر میمی (revisionist) مفکرین میں عام ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری 14 سوسالہ تاریخ میں نہ کبھی کسی امام )امام ماوردیؒ،امام محمدؒ،امام ابن خلدون،امام فیض آبادیؒ،امام ولی اللہ رحمہم اللہ( نے سوشل ڈیموکریٹ تصورات کی تصدیق کی نہ کسی سلطان نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کے مماثل پالیسیاں اپنائیں، فلاحی ریاست کا تصور اسلام کے لئے اتنا ہی اجنبی ہے جتنا دیگر دہریہ ریاستوں کا ۔

ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں دستوری ،اشتراکی ،سوشل ڈیموکریٹ، استبدادی ،معاشرہ میں تغلب سرمایہ )حرص وہوس( ہی کا ذریعہ ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان سب کے اجزائے ترکیبی بڑی حد تک یکسا ں ہیں ۔سب میں عدلیہ ،مقننہ ،انتظامیہ ،کارپوریشن ،حرام خور مارکیٹیں ،پولیس اور میڈیا کارفرما ہیں ،مختلف سرمایہ دار ریاستوںمیں ان اداروں کے دائرہ کار ضرور مختلف ہیں لیکن ہرجگہ ہر ادارہ تحکم سرمایہ ہی کا حصہ ہے ۔یہ سب جمہوری ریاستیں ہیں اور جمہوری کارفرمائی کا مقصد تحکم سرمایہ کے لئے عمومی تائید کا حصول ہے ۔کہیں بھی عوا م بالواسطہ اقتدار میں شریک نہیں ہوتے کیونکہ یہ اصولاً ناممکن ہے ۔ہرریاست میں نمائندگی کا ایک نظام موجود ہے جس کے ذریعہ سرمایہ کے غلام خواہ سرمایہ کار ،خواہ حرام خور،خواہ محنت کش ،خواہ ماہرین ،خواہ بیوروکریٹ اپنے حرص وہوس کوپروان چڑھاتے اور سرمایہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔ اس گھناؤنے اور خبیث نظام اقتدار کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکنا اسلامی انقلابیوں کی ذمہ داری ہے ۔

باب 6

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

(سامراج اور جمہوریت)

جمہوریت اور سامراجیت کا ساتھ قدیمی ہے ۔قدیم اینتھنس اور قدیم روم کی ریبپلک نے بھی اپنے امپیریلسٹ نظا م قائم کئے تھے۔ قرون وسطی کی جمہوری ریاستوں نےبھی(نسبتاً چھوٹے پیمانے پر ) اپنے استعماری نظام قائم کئے تھے ۔دور حاضر کی جمہوری ریاستیں (برطانیہ ،فرانس ،جرمنی بیلجیم ،نیدر لینڈ ،ڈینمارک، چین ، روس اور امریکہ) مدت دراز تک سامراجی رہی ہیں یا تو ان کے نیچے سامراجی نظام قائم رہے ہیں یہ وہ کسی وسیع تر سامراجی نظام میں پیوست رہی ہیں۔ہر قسم کی سرمایہ دارانہ جمہوریت ۔لبرل استبدادی،سامراجی رہی ہے۔ آج صرف امریکی اور مغربی یورپی سامراج موجود نہیں ۔چین بھی ایک عظیم سامراجی قوت ہے۔ کل یہی بات سوویت یونین کے بارے میں کہی جاسکتی تھی (سوویت یونین کے سقوط کے بعد بھی روس نے شمال وسطی ایشیاء میں اپنا سامراجی نظام قائم رکھا ہے) ۔

اس باب میں ہم سرمایہ دارانہ جمہوری ریاستوں کی سامراجی حکمت عملی پر گفتگو کریں گے (سامراج اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی اس پیوستگی کے با وجود ایک سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست کا سامراجی یا سامراجی نظام سے منسلک ہونا ضروری نہیں)۔

6.1۔ جدید سامراجی نظام کی ابتدا

دور حاضر کی سامراجیت کی جڑیں 16ویں اور 17ویں صدی کی انگریز ،پرتگالی،ہسپانوی،فرانسیسی اور ولندیزی جنگی مہمات میں پائی جاتی ہیں یہ مہمات شمالی اور جنوبی امریکہ پر مرکوز تھیں (گوکہ اس سے پہلے مغربی افریقہ اور بحر ہند کے کچھ آبادیوں میں چھوٹی چھوٹی سامراجی تجارتی چوکیاں قائم کرلی گئی تھیں) ۔یورپی اقدام کی امریکی دہشت گردی کا مقصد محض لوٹ مار نہ ہی تھا بلکہ بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی کے ذریعے وہاں کی وسیع اراضی پر قبضہ بھی تھا۔ 18ویں صدی کے وسط تک تقریباً پورے شمالی اور جنوبی امریکہ پر یورپینیوں کا قبضہ ہوگیا ۔وہاں مقامی آبادی کروڑوں کی تعداد میں قتل کردیئے گئے اور جو بچ رہے وہ بالکل محروم اور مجبور بنا دیئے گئے ۔

یہ قتل عام اور علاقائی بے دخلی کا عمل انیسویں صدی تک جاری رہا۔اور جمہوری امریکہ اس کا محور اور مرکز رہا ۔یہ بات کسی کو یا د نہیں کہ امریکہ جنگ آزادی (1783-1774) صرف برطانیہ کے خلا ف نہ لڑ ی گئی بلکہ اس کا اہم ہدف قدیم قبائل (Icelaware, Cherkee, Muskoners, Seneca, Mowhak, Shwane اور Miama ) کا صفحہ ہستی سے مٹادینا بھی تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس جنگ میں قدیم قبائل نے برطانوی فوج کا ساتھ دیا ۔

امریکی اعلامیہ آزادی Declaration of Independence قدیم قبائلیوں کے خلاف جنگ (Indian Wars) کا اعلامیہ بھی تھا ۔برطانیہ سے آزادی کے حصول کا مقصد تمام قدیم قبائل کے علاقوں پر یورپینیوں کا غیر مشروط قبضہ تھا اور 1776سے ڈیڑھ صدی بعد تک یہ مسابقاتی توسیع جاری رہی قدیم قبائل کا قتل عام بھی جاری رہا، وہ پیچھے بھی دھکیلے جاتے رہے حتیٰ کہ پورا براعظم ان سے چھین لیا گیا (یہ ہی عمل کینیڈا اور جنوبی امریکہ میں برطانیہ،فرانس ہسپانیہ اور پرتگال نے جاری رکھا)۔آج تک بے غیرت امریکی جمہوریت کی اس دردناک تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔اور مشہور امریکی فلسفی رچرڈ رارٹی (Richard Rorty) کہتاہے "ہم نے اپنےآپ کو معاف کردیا ہے"

صدیوں تک جاری رہنے والی ان بہیمانہ قتل عام اور لوٹ مار کی تحریکات میں تمام یورپی امریکی شامل رہے۔ ریاستی فوجی بھی مقامی ملیشیاین (Malitias)بھی عام شہری بھی اور تمام یورپی امریکی عوام کی ان قاتلوں کومکمل حمایت اور تعاون حاصل رہا،کلیسا بھی پوری دل جمعی کے ساتھ قاتلوں اور لٹیروں سے معاونت کرتا رہا، دہشت گرد جتھے جب قدیم بستیوں پر حملہ آور ہوئے تھے تو ان کےایک ہاتھ میں بندوق اور دوسرے میں انجیل مقدس ہوتی تھی ۔کلیسا کی دوہزار سالہ تاریخ کا شاید یہ سب سے گھناؤنا جرم ہے ۔

یہ قتل عام امریکی جمہوری سرمایہ دارانہ نظام کے پھیلاؤ کا ایک اہم ذریعہ بنی ۔سونا چاندی اور دیگر دھاتوں کے لوٹے ہوئے ذخائر امریکی )اور یورپی( شہروں میں ار تکاز سرمایہ کا ذریعہ بنے ۔قبضہ کی ہوئی اراضی پر اگائے جانے والے اجناس اورکپاس وغیرہ نے زرعی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد فراہم کی ۔حرام خور مارکیٹیں قائم ہونے لگیں جن میں بڑے پیمانے پر اراضی اور اجناس کی سٹہ بازی منظم کی جانے لگی ۔جمہوری نظام کا پھیلاؤ اور استحکام بھی انہی مہمات کے ذریعے عمل میں آیا۔ مقبوضہ علاقوں کے سفید فام رہائشیوں نے کانگریس میں نمائندگی حاصل کی ۔نئے نئے صوبے (states) وفاق میں شامل ہوتے رہے اور ہر صوبے میں نمائندہ جمہوری مقننہ قائم کی گئی ۔قتل عام اور لوٹ مار منظم کرنے اور جاری رکھنے کی ذمہ داری انہی وفاقی اور صوبائی نمائندہ جمہوری اداروں کو سونپی گئی ۔1785 کے منظور شدہ دستور نے قدیم قبائلی مقبوضہ اراضی کی نیلام کاری کے عمل کو منظم کیا۔ 1787 کے Ohio county ordinance نے قبائلی مقبوضہ اراضی کو فوجی اور ریاستی(fedral) قرار دینے کی بنیاد رکھی یہ ordinance وفاق کے جاری شدہ پہلے دو قوانین میں سے تھا ۔

امریکہ کے پہلے صدرGeorge Washington نے Ohioکے علاقہ میں فوج کشی کرکے ہزاروں ایکڑ اراضی پر ذاتی قبضہ کرلیا اور اس زمین کی سٹہ بازی (speculation) کے نتیجہ میں ایک امیر ترین شخص بن گیا۔ امریکہ کی پہلی سفید فام اشرافیہ اس قسم کے سٹہ بازوں سے بھری پڑی تھی اور انہی بدمعاشوں اور حرام خوروں نے امریکی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بنیاد رکھی ۔

امریکی بین الاقوامی سامراجیت کی بنیاد بھی قدیم قبائلی جنگوں سے برآمد ہوئی ۔19ویں صدی کی ابتدا ء میں امریکی صدر Monroe نے اعلان کردیا تھا کہ آخر کار ریاست ہائے متحدہ پورے شمالی امریکہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ اس صدی میں ہسپانیہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

امریکی دستور میں دوسری ترمیم (Second Amendment) 1791میں منظور کی گئی اس ترمیم کے مطابق یہ ہر امریکی گورے شہری کا بنیادی حق قرار دیا گیا کہ وہ قدیم قبائلی اراضی پر قبضہ کرے اور اس حق کے استعمال کے لئے ایک گورے امریکی سیٹزن کا ہتھیار بند ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا اور قدیم قبائل کا استحصال ہر گورے امریکی کا حق اور ذمہ داری قرار دیا گیا ۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ وہ پہلا ملک ہے جو ایک سرمایہ دارانہ جمہوریت کے طورپر قائم کیا گیا۔ یہ امر بنی نوع انسان کی ایک بڑی نسل کی مکمل تباہی اور ایک دوسری نسل سے اغوا شدہ لاکھوں غلاموں کے استحصال کے کاموجب بنا ۔

امریکی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی آبیاری قدیم قبائلیوں کی خون ریزی اور سیاہ فام افریقیوں (جن میں لاکھوں مسلمان بھی شامل تھے ) کے پسینہ نے کی ہے ۔

لیکن سامراج صرف سرمایہ دارانہ جمہوری ممالک کی تخلیق نہیں۔ اس تخلیق میں کلیسا (اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یہودیت ، ہندو مت اور چین بھی شامل ہو گئے) ، اس شرمناک ہولناک اندوہناک تاریخ کے ابتدائی دور ہی سے اس کو کلیسا کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور یہ سرپرستی آج تک جاری ہے

پندرھویں صدی کے وسط میں (1455ء) کلیسا نے ایک نیا اعتقاداتی مسودہ شائع کیا جس کو Doctrine of Discovery کہتے ہیں۔ یہ باقاعدہ عیسائی قوانین کا جزو شمارکیا گیا اور عیسائیت کے اولین وضع کردہ بین الاقوامی قوانین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت عیسائی ریاستوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا کہ وہ غیر عیسائی ممالک پر قبضہ کریں ۔وہاں کے لوگوں کو قتل کریں یا غلام بنائیں اور وہاں کے وسائل کو لوٹیں۔ پہلے اس قانون کا اطلاق ہسپانیہ اور پرتگال کی فتوحات پر ہوتا تھا اور پوپ نے 1494ء کے Treaty of Tordesillasکے تحت پوری غیر عیسائی دنیا کو پرتگال اور ہسپانیہ کے نوآبادیاتی نظام کے زیرنگیں کرنے کی اجازت دے دی۔ پندرھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک فرانس، برطانیہ، ولندیز، بلجیم اور امریکا نے اسی قانون کو اپنی سامراجی دہشت گردی کا جواز بنایا۔

اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں امریکا پر قبضہ کے بعد سامراج کی توجہ ایشیا اور افریقا پر مرکوز ہو گئی۔ بڑی سامراجی ریاستیں (برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈ، ریاست ہائے متحدہ امریکا) سب سرمایہ دارانہ جمہوریتیں تھیں اور نوآبادیات پر قبضہ کے لیے ان میں تصادم بھی ہوتا رہتا تھا اور یہ پرانی غیر جمہوری ریاستوں (ہسپانیہ، پرتگال) کو نوآبادی علاقوں سے بے دخل بھی کرتی رہتی تھیں۔ ایشیا اور افریقا کے جن علاقوں پر قبضہ کیا گیا ان کو نوآبادیات کہنا غلط ہے۔ یہاں پر بھی بڑے پیمانے پر قتل عام روا رکھا گیا (مثلا ً 1857ء کے جہاد کے بعد تقریباً ستر ہزار علما اور مشائخ شہید کیے گئے) مگر باضابطہ نسل کشی کی پالیسی نہ اختیار کی گئی۔ الجیریااورتیونس کے علاوہ ایشیائی اور افریقی علاقوں میں عموماً سرکاری سول ملازمین اور فوجیوں اور سرمایہ کار تاجروں کی تعداد بھی محدود تھی۔ عام سفید فارم تارکین وطن نہ ہونے کے برابر تھے۔

ایشیائی اور افریقی سامراجی مقبوضات کا مقصد لوٹ مار تھا۔ لوٹ کھسوٹ کے دو طریقے اختیار کیے گئے۔ ایشیائی اور افریقی دولت ہر سال ایک منظم مالی اور مالیاتی نظامت کے تحت یورپ اور امریکا منتقل کی جاتی رہی۔ اتنی دولت منتقل کی گئی کہ اس کا مجموعی اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔ صرف ہندوستان سے 1750ء سے لے کر 1932ء تک کئی ارب پونڈ کا اثاثہ منتقل کیا گیا اور ہر سال ہر یورپی ملک کا توازن ادائیگی اپنی نوآبادیات کے ساتھ انیسویں صدی میں مثبت رہتا تھا۔ کالونی کے انتظامی اور فوج کشی کے تمام اخراجات خود کالونی سے حاصل کیے جاتے تھے۔ دوسری طرف کالونیوں کو یورپی اور امریکی صنعتی پیداوار کے مارکیٹ کے طور پر منظم کیا گیا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ کالونیوں کی اپنی صنعتوں کو تباہ کیا جائے اور ان کو یورپی اور امریکی تجارتی اور صنعتی شعبوں کے ماتحت کیا جائے۔ بنگال کی کپڑے اور چین کی ریشم کی صنعت کو اسی حکمت عملی کے تحت تباہ کیا گیا اور ان ممالک میں جو سرمایہ دارانہ نظام پروان چڑھا یا گیا وہ کلیتاً ”مادر معیشت“ کا ایک ذیلی شعبہ تھا۔ اس عمل کو development of underdevelopment کہا جاتا ہے۔

کالونیل پالیسی کی کامیابی کا پورا انحصار یورپ اور امریکا نے ان غداروں پر رکھا جو سامراج کے آلہ کار بننے اور سامراجی نظام سے مستفید ہونے پر تیار ہوئے۔ ان غداروں کی پرورش کرنے کے لیے برطانیہ نے 1799ء میں Permanent Settlement Act ہندوستان میں نافذ کیا جس کے نتیجہ میں ہندوستان میں زمین داری کا نظام نافذ ہوا۔ یہ غدار وہ زمین دار تھے جنہوں نے علاقائی جنگوں (اور 1857ء کے جہاد میں) مجاہدین کے خلاف بنگال، میسور اور اودھ میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ پنجاب اور سندھ کے مخدوم زادےبھی اس لعنتی گروہ میں شامل ہو گئے۔ ڈیڑھ سو سال تک یہ انگریز سرکار کے محصول کنندگان کا کردار ادا کرتے رہے۔ یہ برطانوی انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنے زیر اثر عوام کو بڑے پیمانہ پر اس سامراجی فوج میں بھرتی کروایا جس نے انگریز کے لیے ہندوستان فتح کیا۔

غداروں کی دوسری کھیپ علی گڑھ میں تیار کی گئی جس کا سرخیل سرسید غدار تھا۔ سرسید غدار 1857ء کے جہاد کا غدار تھا جس پر اس جہاد کی پسپائی کے بعد انگریزوں نے نوازشوں کی بارش کر دی۔ 1833ء میں لارڈ میکالے نے ہندوستان میں انگریزی نظام تعلیم کے اجرا کی تجویز پیش کی تھی جس کو مسلمانوں میں عملی جامہ سرسید غدار ہی نے پہنایا۔ اس نظام تعلیم کے نفاذ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنے دینی اور تہذیبی ورثہ سے ناآشنا اور مغربی فکر (جاہلیت خالصہ ) اور تہذیب کا دلدادہ ہو گیا۔ انگریز نے اس ہی گروہ کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کی۔ اپنی انتظامیہ میں شامل کیا۔ ریاستی ذمہ داریاں سونپیں، فوجی عہدے دئیے اور سیاسی عمل میں اس کو اپنا شریک کار بنا لیا۔

یہ عمل صرف ہندوستان میں نہیں ایشیا اور افریقا کی تمام کالونیوں میں کسی نہ کسی حد تک اور کسی نہ کسی طریقہ سے اپنایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظریات (قوم پرستی، لبرل ازم، اشتراکیت) غداروں کے اس مغرب زدہ گروہ میں عام ہوئے۔ اس کا پہلا اظہار عرب دنیا میں ہوا جب قوم پرست غداروں نے انگریز سامراج سے مل کر سلطنت اسلامیہ کو برباد کیا اور پہلی جنگ کے خاتمہ کے بعد سامراج کی سربراہی میں قومی ریاستیں قائم کیں۔ اس کے بعد ایشیا کے کئی ممالک برصغیر ، چین، فلپائن، ایران وغیرہ میں قومی سرمایہ دارجمہوری ریاستیں قائم ہوئیں اور 1960ء کی دہائی میں یہ عمل افریقا میں بھی پھیل گیا([212])۔

کچھ قومی سرمایہ دارانہ ریاستیں سامراج مخالف تھیں۔ بیش تر مغرب کی حلیف بننے کی خواہش رکھتی تھیں مثلاً جناح صاحب نے اپنی مزموم 11؍1947ء کی جوتقریر کی (جس میں مذہب کو ایک نجی معاملہ قرار دیا تھا) اس میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کا تہنیتی پیغام نہات فخر سے پڑھ کر سنایا تھا اور تقریباً تمام مغربی اور مرکزی افریقی ممالک فرانس سے علیحدہ ہونے کے بعد فرانکوفون نظام کا حصہ بنے رہے اور آج تک وہاں فرانسیسی اور امریکی فوجی اڈے قائم ہیں([213])۔ چین، ویت نام اور انڈونیشیا بہت جلد سوویت سامراج کے حلیف بن گئے۔ 1979ء کے ایرانی اسلامی تغلب سے قبل کسی ملک میں بھی غیر مغربی غیر سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی حاکمیت قائم نہ ہو سکی۔ نوآزاد ریاستوں میں جو نظام اقتدار مرتب کیا گیا وہ یا تو مغربی پارلیمانی نظام کا چربہ تھا یا سوویت نظام کا۔ کئی ممالک میں پارلیمانی نظام کو مسترد کر کے استبدادی جمہوریتیں قائم ہوئیں لیکن چین کے علاوہ کوئی ملک بھی معاشی خود انحصاریت حاصل نہ کر سکا۔ 1944ء میں امریکا اور برطانیہ کے وضع کردہ بریٹن وڈز عالمی نظام معیشت سے سب منسلک رہے اور جب 1973ء میں یہ نظام منتشر ہوا تب بھی نیوکالونیل ممالک کو معاشی خود انحصاریت نصیب نہ ہو سکی۔

1973ء میں عرب اسرائیل جنگ کے نتیجہ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ایسا لگا کہ عرب ممالک کے پاس وہ وسائل آ گئے ہیں جس کی بنیاد پر وہ معاشی طور پر مغربی شکنجے سے آزادی حاصل کر سکیں لیکن سعودی عرب، امارات، عراق، ایران، انڈونیشیا وغیرہ کے حکمران تو سامراج کے لے پالک تھے انہوں نے اپنا پیسہ مغربی حرام خور بازاروں میں جھونک دیا۔ ملکی سرمایہ کاری کی کنجیاں ملٹی نیشنلز کے ہاتھوں میں دے دیں اور اپنے فوجی نظام کو سامراجی نظام دفاع اور استحصال کا حصہ بنا لیا۔ یوں جب تیل کی قیمتیں منجمد ہونا شروع ہوئیں تو عرب دنیا اتنی بے بس اور لاچار تھی کہ جتنی وہ تیل کے ذخائر کی دریافت سے پہلےنہ تھی ۔

یوں ایشیا اور افریقا سے ریاستی انخلا کے بعد سے سامراج کی گرفت کمزور نہیں پڑی گو کہ اس کی ہیئت اور نوعیت تبدیل ہو گئی۔ اب یہ گرفت معاشی ہے اور وہ اس ادارتی انضمام سے پیدا ہوتی ہے جو نیو کالونیوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ذیلی حیثیت سے سموئے ہوئے ہے۔ بنیادی طور پر آج کے سامراجی نظام پر حرام خور مارکیٹوں کا راج ہے ۔عالمی طور پر حاکم اعلیٰ حرام خور سرمایہ ہے اور وہ حکومت اپنے ان غلاموں کے ذریعہ کر رہا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت (ریشنلٹی، جہالت خالصہ) کے ماننے والے ہیں۔ سرمایے کے یہ غلام ہر جگہ صاحب اقتدار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اور نیو کالونیوں میں بھی اور اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے جمہوری عمل کو استعمال کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا جمہوری عمل تضاداتی ہے۔

1991ء میں سوویت یونین تباہ ہو گیا اور آناً فاناً سوویت حلقہ کے تمام ممالک حرام خور مارکیٹوں کے زیر تسلط آ گئے۔ 1976ء میں ایک مختصر سول جنگ کے بعد چین نے عالمی حرام خور مارکیٹوں میں انضمام کی جدوجہد شروع کر دی۔ 1980ء کی دہائی میں ویت نام اور کمبوڈیا امریکا کے زیر نگیں آ گئے اور ایسا لگتا تھا کہ بالخصوص کلنٹن، بش اور اوباما کے ادوارِ صدارت کے دورمیں عالمگیریت ہر جگہ فتح یاب ہو گئی۔ لیکن 9-2008ء اور 2020ء کے بحرانوں نے گلوبلائزیشن کے لیے اہم چیلنج پیدا کر دیے۔ 2016ء میں ٹرمپ صدر منتخب ہو گیا اور پولینڈ اور ہنگری میں مستحکم قوم پرست حکومتیں قائم ہو گئیں۔ 2020ء میں برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا اور فرانس اور جرمنی میں ایک طاقت ور قوم پرست حزب اختلاف وجود میں آ گئی اور چین اور اس کی قیادت میں اپنے قومی مفادات کو فروغ دینے کے لیے رجحانات زور پکڑ گئے۔ بھارت میں ہندو قوم پرستی (ہندو توا) کا عروج ہوا اور یہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔

؏ دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

6.2۔ حالیہ سامراجی نظام کی خصوصیات

دورِ حاضر کا سامراجی نظام دو قسم کی مسابقتوں کا تضاداتی اجتماع ہے۔ مارکیٹیں اور علاقائی سیاسی کارپوریشنیں اور حرام خور ادارہ مارکیٹوں میں اپنی اجارہ داریاں قائم رکھنے اور توسیع دینے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب چند عظیم قوتیں امریکا، چین، روس اور بھارت اپنے علاقائی غلبہ کے تسلط کی توسیع کے لیے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ دورِ حاضر کی سامراجیت میں ملکوں اور سرمایہ دارانہ کمپنیوں کے مفادات اور ان مفادات کو فروغ دینے کے لیے اپنائی گئی حکمت عملیاں ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔

دورِ حاضر کی سامراجیت کا یہ ایک نظاماتی تضاد ہے کہ سرمایہ دار کمپنیوں (نجی اور ریاستی) کے مفادات ”عظیم طاقتوں“ کے قومی مفادات سے کلیتاً ہم آہنگ نہیں۔ مثلاً چین کے سامراجی علاقائی پھیلاؤ کو روکنا امریکا کے قومی مفاد میں عموماً سمجھا جاتا ہے لیکن امریکی، چینی جنگی تصادم بین الاقوامی حرام خور مارکیٹوں میں بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ آج کا سامراجی نظام کثیر قطبی ان معنوں میں ہے کہ امریکا کی بالادستی کو چین اور روس مختلف علاقوں میں چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ اس لحاظ سے بھی کثیر قطبی ہے کہ سرمایہ کی ایسی عالمی شناخت حرام خور بازاروں اور ملٹی نیشنلز کے ذریعہ قائم ہو گئی ہے جو ریاستی اقتدار سے ماورا ہے اور جو سیاسی میدان میں ایک نسبتاً آزاد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کثیر قطبی سامراج اس سامراجی نظام سے نوعی طور پر مختلف ہے جو سرد جنگ (1945ء سے 1991ء) کے دوران کارفرما تھا۔ نہ صرف اقتصادی اور سیاسی علاقائی مفادات ایک دوسرے میں پیوست ہیں بلکہ ان کے انفرادی دائرہ کار کا تعین بھی تقریباً ناممکن ہے۔ مثلاً یہ کہنا درست ہے کہ امریکا کا عراق پر دہشت گردی مسلط کرنے کا مقصد اپنی تیل کی کمپنیوں اور ان سے منسلک حرام خور مارکیٹوں میں فوری اضافہ نہ تھا لیکن اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اس دہشت گردی کے نتیجہ میں دیگر سامراجی اور نیم سامراجی ممالک کی کمپنیاں عراقی تیل کی لوٹ مار سے محروم ہو گئیں اور اس کا تعین کرنا بھی تقریباً ناممکن ہے کہ امریکی عراقی دہشت گردی کے نتیجہ میں عالمی سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کی رفتار میں اضافہ ہوا یا نہیں۔

ہر سرمایہ دارانہ ریاست کے قیام کا مقصد بڑھوتری سرمایہ ہی ہے اور اس تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہرریاست کی بین الاقوامی عسکری اور سیاسی جدوجہد بھی بڑھوتری سرمایہ کا ہی ہدف رکھتی ہے خواہ اس ہدف کا حصول کتنا بھی بلاواسطہ اور طویل المدت ذرائع سے کیا جائے۔ ان معنوں میں معاشی اور قومی علاقائی سیاسی مفادات ایک دوسرے میں ایسے مدغم ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ کرنا نہایت دشوار نظر آتا ہے۔ عالمی نظام میں امریکا کی فوجی بالادستی معاشی طور پر بھی اس نظام میں اس کی سب سے اہم مسابقتی قوت ہے۔

آج عالمی نظام کثیر الجہتی ہونے کے باوجود ایک معنوں میں یکجہتی بھی ہے۔ انیسویں صدی کی طرح آج بھی پوری دنیا پر سرمایہ دارانہ معاشی اور سیاسی اور علمی تغلب قائم ہے۔ امریکا کے مخالف ممالک چین اور روس بھی سرمایہ دارانہ ممالک ہیں اور سرمایہ دارانہ عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کا چین بار بار اعلان کرتا رہتا ہے۔ اس نظاماتی تغلب سے نجات کی کوششیں یقیناً ممکن ہیں (ایک ایسی کوشش ایران اور افغانستان میں فی الحال جاری ہے)۔ لیکن اس نوعیت کی جدوجہد کی کامیابی کے امکانات محدود، مشکوک اور یقیناً طویل المدت ہیں۔

سوویت یونین کے دورِ اقتدار میں بڑھوتری سرمایہ کو منظم کرنے کے دو منفرد طرائق نافذ تھے۔ ایک مارکیٹی اور دوسرا ذریعہ قومی حد بندی کے ذریعہ۔ آج عالمی سطح پر مارکیٹی نظام غالب آ گیا ہے۔ عالمی نظام میں تنظیمی دوئی ختم ہو گئی ہے۔ چینی قومی منصوبہ بندی کا دائرہ کار سکڑتا جا رہا ہے لیکن سیاسی طور پر وہ تنظیمی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوئی جو انیسیوں صدی میں پائی جاتی تھی۔

1945ء تا 1991ء کے دور میں امریکا کو کم از کم مغربی دنیا میں نظریاتی حلیف میسر تھے جو اس کے سامراجی نظام کی حریف کمیونزم کے پھیلاؤ کے خوف سے متاثر تھے۔ 1991ء کے بعد سے سامراجی نظریاتی گرفت کمزور ہوئی ہے اور آج نہ امریکا کے کوئی نظریاتی حلیف ہیں نہ چین کے۔ بیشتر یورپی ممالک چین کی بیلٹ اینڈ روڈ اسکیم کا خیر مقدم اورچین کے قائم کردہ انفراسٹرکچر بینک سے تعاون کرتے ہیں اور ویت نام اور کمبوڈیا کی کمونسٹ ریاستیں امریکا کی حلیف ہیں۔ ”اسلامی خطرہ“سے نبٹنے کے لیے چند وسطی افریقی ممالک امریکی، فرانسیسی عسکری دہشت گردی پر انحصار کر رہے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں جمہوری عمل معطل کرنا پڑا ہے اور ان کے ظالم غدار حکمرانوں کو عوامی تائید حاصل نہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک امریکا اور چین دونوں سے بھیک طلب کر رہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اس نظریاتی تقابلی پسپائی کے باوجود امریکا کا نظاماتی تغلب قائم ہے اس تغلب کی بنیاد امریکا کی عسکری بالادستی ہے اور امریکا اپنے حلیفوں کو اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں (عراق، افغانستان، یوگوسلاویہ) شرکت پر مجبور کر کے یہ یاد دلاتا ہے۔ پھر امریکا کے دنیا بھر کے ملکوں اور سمندروں میں تقریباً ایک ہزار فوجی اڈے قائم ہیں جو صرف چین اور روس اور شمالی کوریا ہی کی نہیں اپنے حلیفوں کی بھی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ سائبر وارفیئر کے ذریعہ ملکی نظاموں کی تخریب کاری امریکی دہشت گرد جنگی حکمت عملی کا اہم جزو ہے۔ آج امریکا، چین اور روس کی ناکہ بندی کے در پے ہے تاکہ یہ ممالک علاقائی اتحادوں (روس اور مغربی یورپ، چین اور جاپان) کا حصہ نہ بن جائیں۔

چینی سامراجیت نشوونما پانے کے مراحل سےگزر رہی ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کے بعد چین نے اپنی ملحقہ آزاد ریاستوں (مشرقی ترکستان اور تبت) پر قبضہ کر لیا اور اس نے ان میں بدترین دہشت گردی روا رکھی ہے۔ لاکھوں مسلمان اور بدھسٹ عقوبت خانوں میں مدتوں سے قید ہیں۔ اسرائیل کی طرح ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر غیر مسلم آباد کیے جا رہے ہیں اور وہاں کے معدنی وسائل کو بے دریغ لوٹا جا رہا ہے۔ جنوبی بحرالکاہل میں چین انڈونیشیا، ملائشیا اور فلپائن کے جزیروں پر قبضہ کر رہا ہے او ر افریقا اور ایشیا میں اس کی بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک پراجیکٹس اس کی سامراجی توسیع پسندی کی پالیسی کے غماز ہیں۔

چین اور امریکا کی مسابقت سیاسی علاقائی نوعیت کی ہے۔ اس کے عالمی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں لیکن وہ ابھی دبے ہوئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ امریکا عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں چین کے مکمل انضمام سے خائف ہے۔ امریکا اور چین میں حالیہ سرد جنگ کے جو خطرات پائے جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ لیکن اس سرد جنگ کی شدت اس پر منحصر ہو گی کہ امریکی اور چینی سرمایہ دارانہ نظاموں کو کس حد تک ایک دوسرے سے غیر منسلک کیا جا سکتا ہے۔

2021-2020ء کے وبائی بحران سے امریکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ لاکھوں امریکی مر گئے۔ سرمایہ کاری (سٹے بازی کے علاوہ) کی سطح گر گئی۔ بیروزگاری عام ہو گئی۔ تقسیم آمدنی اور دولت میں مساویت کو فروغ دینے کے مطالبات زور پکڑ گئے اور جوبائیڈن کے صدر بننے سے ان مطالبات کو سرے سے نظرانداز کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ امریکا کے سامراجی تغلب کے برقرار رہنے کے ضمن میں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان سب کا امریکی دفاعی اخراجات پر کیا اثر پڑے گا۔

امریکا کی بیش تر دہشت گردانہ کارروائیاں ناکام رہی ہیں۔ شمالی کوریا، ویت نام، کمبوڈیا لاؤس، افغانستان، عراق، صومالیہ میں ناکامی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ٹرمپ نے شام، افغانستان، عراق اور جرمنی سے اپنی فوجیں کسی حد تک واپس بلائیں تھیں اور افغانستان سے مکمل انخلا برداشت کرلیا۔ لیکن بڈن اس نے امریکا کے نیوکلیئر اخراجات بے تحاشا بڑھا دیے ہیں اور سمندری فوجی تنصیبات میں تخفیف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

لہٰذا گمان یہی ہے کہ مستقبل میں امریکا کی عالمی نظاماتی عسکری بالادستی مجروح نہ ہو گی اور عسکری طور پر اس کا کوئی قابل ذکر (چین، روس اور یورپی یونین سمیت )مدمقابل سامنے نہ آئے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا علاقائی پسپائی کا سامنا نہیں کرتا۔ وہ تو طالبان سے شکست کھا چکا ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ چین اس کو جنوبی بحرالکاہل میں اور روس یوکرائن اور شام اور ایشیا ئے کوچک میں اس کو شکست دے دے۔ لیکن اس قسم کی شکستوں سے امریکا کا عالمی نظاماتی غلبہ قدرے کم متاثر ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین ”پرامن ترقی“ کی بات کرتا ہے۔ یہ ترقی اس وقت تک پرامن رہے گی(مشرقی ترکستان کے علاوہ) جب تک چین کو یہ اندازہ نہ ہو جائے کہ وہ امریکا کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ 2010ء میں چینی محققین نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر مجموعی قومی آمدنی کی اوسط ترقی کی رفتار سات یا آٹھ فیصد رہی تو یہ ہدف تیس سال میں حاصل ہو گا([214])۔

سامراجی جنگیں جمہوری عمل کا ایک حصہ ہیں۔ ان جنگوں کے ذریعہ جنگجو ممالک میں عوامی تائید حاصل کی جاتی ہے۔ آج جو بڈن چین سے رسہ کشی اپنی انتخابی کامیابی کے حصول کے لیے ہی کر رہا ہے۔ بش کے عراق اور افغانستان پر حملہ کی تائید بہت بڑے پیمانے پر امریکی عوام نے کی۔ اپنے ابتدائی دور میں امریکا کی ویت نام پر مسلط دہشت گردی مقبول عام تھی۔ یورپ اور امریکا کی جنگ مخالف تحریکوں کا حشر عبرت ناک ہوا۔ وہ باسی کڑھی میں ابال سے زیادہ کچھ نہ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے عوام امریکی دہشت گردی کے پرجوش حامی ہیں کیوں کہ ایک عام امریکی اور امریکن ریاستیں دہشت گردی سے مستفیض ہوتی ہیں۔ اسی لیے امام خمینی نے فرمایا تھا ”میں یہ نہیں کہتا کہ امریکا شیطان بزرگ ہے میں کہتا ہوں کہ ہر امریکی شیطان بزرگ ہے“۔

سامراجی نظام عدم استحکام کا شکار ہے۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹی معیشت خود انحصاری نہیں۔ اس کی کارفرمائی کے نتیجہ میں خود بہ خود پیداوار، بچتوں اور سرمایہ کاری میں عمومی استحکام قائم نہیں ہوتا۔ سرمایہ دارانہ ریاست مارکیٹی کارفرمائی کا حدود اربعہ اور اس کی نوعیت متعین کرتی ہے۔ قانوناً بھی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے ذریعہ بھی۔ فرانسیسی محقق Michel Agliettaاس کو “Regime of accumulation” کہتا ہے۔ ہر ریاست اپنا نظم سرمایہ کاری خود متعین کرتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ تمام سرمایہ دارانہ ریاستیں قومی ہیں اور عالمی مارکیٹی سطح پر کوئی سرمایہ دارانہ ریاست موجود نہیں۔ لہٰذا عالمی سامراجی نظم سرمایہ داری مجہول اور کمزور ہے۔ سامراجی بین الاقوامی ادارے (آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او، ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن) وغیرہ نے کچھ ضوابط اور اصول کارفرمائی تجویز اور کسی حد تک نافذ کیے ہیں لیکن ان اداروں کا اثر محدود ہے۔ عملاً سامراجی حرام خور مارکیٹیں آئی ایم ایف پر غالب ہیں اور عظیم طاقتیں (امریکا اور چین) ان اداروںکو اپنی خارجہ پالیسیوں کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ان اداروں کا تحکم صرف مقروض اور مفلوک الحال ممالک (پاکستان، مصر اور ارجنٹینا) وغیرہ پر چلتا ہے اور ارجنٹینا کی مثال سے ثابت ہے کہ یہ مقروض ممالک بھی قرضہ کی ادائیگی سے انکار کرکے آئی ایم ایف سے بغاوت کرتے رہتے ہیں۔ بھارت بھی ڈبلیو ٹی او کے احکامات کواکثر خاطر میں نہیں لاتا۔

سرمایہ داری کے حالیہ بحرانوں(1999-1997، 2010-2008) اور 2020ء تا حال میں ان بین الاقوامی سامراجی اداروں نے کوئی موثر کردار ادا نہ کیا۔ 1999-1997ء کا بحران جو مشرقی ایشیا میں رونما ہوا اس کے دوران کوریا، ملائشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا نے آئی ایم ایف کی مجوزہ پالیسیوں کو رد کر دیا اور بڑے پیمانے پرسرکاری سرمایہ کاری اور سرکاری خسارہ میں اضافہ کیا۔ 2010-2008ء کے بحران سے نبٹنے کے لیے جو پالیسی وضع اور نافذ کی گئی وہ امریکی فیڈرل ریزرو بینک اور دیگر حرام خور قومی مرکزی بینکوں نے مرتب کی اور انہوں نے اس معاملہ میں آئی ایم ایف سے مشورہ تک کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ 2020 کے بحران سے نکلنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی لیکن یہ یقینی ہے کہ اس حکمت عملی کی تشکیل و تنفیذ قومی ادارے ہی کریں گے اور اس میں بھی آئی ایم ایف وغیرہ کا کوئی کردار نہ ہو گا۔

امریکا اور چین (اور کسی حد تک یورپی یونین) کی قومی پالیسیاں عالمی سرمایہ کاری کی نوعیت اور رفتار متعین کرتی ہیں۔ ان قومی پالیسیوں میں ارتباط قائم رکھنا ایک پیچیدہ اور تضاداتی عمل ہے۔ گو کہ چین اور امریکا دونوں سرمایہ دار ممالک ہیں اور دونوں کا مقصد بڑھوتری سرمایہ ہی ہے لیکن یہ قومی ریاستیں ہیں اور جمہوری عمل کے ذریعہ جو عوامی جواز ان کی پالیسیوں کو حاصل ہوتا ہے وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ قومی سطح پر بڑھوتری سرمایہ کو عالمی مجموعی سرمایہ کی بڑھوتری پر ترجیح دیں۔ یہی قوم پرستی کے دیر پا اثر کی وجہ ہے۔ سامراج ابھی تک ایک بھی عالمی جمہور نہ پیدا کر سکا۔ ایک ایسا جمہور جو عالمی سطح پر بڑھوتری سرمایہ عمومی کی حکمت عملی کی تنفیذ کی تائید کرے۔ ابھی تک عظیم قوتیں (امریکا، چین، روس) ملکی سطح پر سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو عالمی سرمایے کی بڑھوتری کے عمل سے ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کی ملکی سرمایہ کارانہ حکمت عملیاں متصادم بھی ہوتی ہیں اور ان کے منفی اثرات عالمی سرمایہ کارانہ بڑھوتری پر بھی مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ سامراجی نظام میں عالمی سرمایہ عمومی کا کوئی تحکیمی ایجنٹ موجود نہیں۔ لہٰذا عالمی حرام خور مارکیٹوں میں استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

ایک قومی ریاست ہونے کے باوجود امریکا کے سیاسی نظام میں ان عناصر کا دباؤ موجود ہے جو عالمی بڑھوتری سرمایہ سے مستفید ہوتی ہیں یعنی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی حرام خور مارکیٹ کے کھلاڑی۔ کلنٹن اور اوباما کے دورِ صدارت میں ان لوگوں نے امریکی معاشی پالیسی کے ذریعہ عالمی مالیاتی اور مالی استحکام کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی لیکن مقصد ہمیشہ عالمی نظام کو امریکی معاشی اور سیاسی تفوق کے لیے استعمال کرنا ہی تھا۔ ٹرمپ نے یہ پالیسی رد کر دی لیکن بڈن کے دور میں اس قسم کی پالیسیوں کے احیا کے واضح امکانات موجود ہیں۔چین بھی روایتی سرمایہ دارانہ اصولوں کی عالمی سطح پر تنفیذ اور عالمی سرمایہ دارانہ معاشی استحکام کے فروغ کی حمایت کرتا ہے لیکن موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام لبرل ہے اور چین ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ سیاسی معیشت ہے۔ اس کا پوری طرح عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں انضمام مشکل ہے۔ چین میں مارکیٹی کارفرمائی تو فروغ پا رہی ہے لیکن وہاں کی اکثر بڑی کمپنیاں اور بیش تر حرام خور ادارے اب بھی سرکاری ہیں جن پر کمیونسٹ پارٹی کا تسلط ہے۔ ترسیل زر اور چین کی کرنسی کا شرح تبدل بھی آزادانہ طور پر متعین نہیں ہوتا۔1933 سے1938ء تک کے دور میں ایک اور استبدادی جمہوری سرمایہ دارانہ ریاست نازی جرمنی نے عالمی لبرل نظام سے منسلک ہونے کی ناکام کوشش کی تھی۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں چین کے انضمام کے لیے ضروری ہے کہ یا تو چینی سیاسی معیشت لبرل ہو جائے([215])یا عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی کسی حد تک غیر لبرل بنیادوں پر تشکیل اور تنفیذ ہو۔ فی الحال یہ دونوں باتیں بعید از قیاس نظر آتی ہیں۔ لہٰذا غالب گمان یہی ہے کہ چین امریکا کی طرح عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی کارفرمائی کو اپنی قومی سرمایہ دارانہ بڑھوتری کے ذریعہ کے طورپر استعمال کرتا رہے گا۔

سامراجی عمل کو اپنے قومی مفاد کے حصول کےلئے استعمال کرنے کی ضرورت چین اور امریکا کو ایسی پالیسیاں اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے جس کے نتیجہ میں دونوں ممالک میں قرضوں کے انبار لگ گئے ہیں۔ امریکا کا توازن ادائیگی کا خسارہ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور وہ دھڑا دھڑ ڈالر چھاپے جا رہا ہے۔ چین کے بینکوں کے ناقابل ادائیگی قرضے تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی زری نظام کے کارفرمائی اصولوں کی اصلاح سرمایہ دارانہ ممالک پچھلے بحران کے بعد نہ کر سکے اور اب بھی ان کے تضاداتی مفادات کے ٹکراؤسے یہ ناممکن نظر آتا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ زری نظام کی اصلاح کا لازمی نتیجہ قومی حاکمیت اعلیٰ (sovreignity)کے حق کی تحدید ہے اور اس کے لیے کوئی عظیم طاقت آمادہ نہیں۔

تضاداتی مفادات کے اس ٹکراؤ نے سامراجی ممالک کا انحصار حرام خور مارکیٹوں اور ان پر قابض حرام خور اجارہ داروں پر بہت بڑھا دیا ہے۔ آج مغربی سرمایہ دارانہ ممالک میں حرام خور شعبہ کی بالادستی عروج پر ہے([216]) اور اس کے سبب قومی پیداوار کی شرح نمو زوال پذیر ہے۔ صنعتی سرمایہ کاری کی شرح گر رہی ہے اور دولت مادی اشیا کے شعبوں سے کھنچ کر حرام خور شکلیں (حصص، تمسکات، قرضہ جات) اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حرام خور مارکیٹوں کا تعلق مادی اشیا کے مارکیٹوں سے کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔ مثلاً مارچ 2020ء سے جولائی 2020ء سے ہر بڑے سرمایہ دارانہ ملک (امریکا، چین، جرمنی، برطانیہ، جاپان) میں مادی اشیا کے مارکیٹ کساد بازاری کا شکار رہی لیکن وہاں کے سٹے کے بازار مستحکم رہے اور کرنسی کے مارکیٹوں میں بھی خلفشار رونما نہ ہوا۔

سرمایہ داری کے پٹھو معیشت دانوں نے 2012ء میں یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ اب سرمایہ دارانہ معیشت کبھی بھی اس رفتار سے ترقی نہ کر سکے گی جو اس کو 1960ء تا 1990ء کی دہائیوں میں حاصل تھی۔ عدم ترقی کا یہ دور دائمی ثابت ہو گا اور اس دور میں گاہے گاہے فنانشل بحران آتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ یہ پیش گوئی 2020ء کے حالیہ بحران سے بہت قبل کر دی گئی تھی۔ عدم ترقی کے اس رجحان کا ایک بنیادی سبب سرمایہ دارانہ معیشتوں میں بڑھتی ہوئی اجارہ داری ہے جس کے سبب منافع میں تو اضافہ ہوتا ہے لیکن منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع کم ہوتے جاتے ہیں اور فاضل سرمایہ کے انبار لگ جاتے ہیں۔ یہ فاضل سرمایہ حرام خور مارکیٹوں میں کھپا دیا جاتا ہے اور بتدریج مادی اشیا کے مارکیٹوں کی رفتار کار متعین کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس عمل کو سرمایہ کاری کی حرام کاری financialization of capital accumulation کہتے ہیں۔ اس حرام کاری کے نتیجہ میں معیشت پر سٹہ بازی کا عمل غالب آ جاتا ہے اور پوری معیشت میں قیمتوں کا تعین ظن اور تخمین کے مطابق (ان اشیا کی حقیقی پیداواری لاگت کے مطابق نہیں) کیا جانے لگتا ہے۔ فاضل سرمایہ فنانشل(حرام خور) اثاثہ کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے۔ اس اثاثہ کو ficticious asset بھی کہتے ہیں یعنی فرضی سرمایہ۔ فرضی اس لیے کہ اس قسم کے کاروبار کے جاری رہنے کا انحصار اس مفروضہ پر ہے کہ معینہ وقت پر ادائیگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ تمام derivatives فرضی ہوتے ہیں اور ایک حرام خور سرمایہ کار معیشت لازماً قرضوں (نجی اور سرکاری) کے بوجھ تلے دبتی چلی جاتی ہے۔ قرضوں کے ان پہاڑوں کو مینج (manage)کرنے کی ذمہ داری حرام خور مرکزی بینک سنبھالتے ہیں۔

آج حرام خور سرمایہ کاری کا یہ گھناؤنا نظام بڑی حد تک گلوبلائز ہو گیا ہے گو کہ غریب ممالک اس سے کسی قدرے محفوظ ہیں۔ ان پر اس نظام کا تحکم مسلط کرنے کی مستقل جستجو آئی ایم ایف کر رہا ہے([217])اور پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں نجی اور سرکاری قرضوں کے انبار کھڑے ہو گئے ہیں۔ مرکزی بینک قرضوں کی اس برق رفتار ترقی کو روکنے سے قاصر ہیں اور سود کی شرح میں تخفیف قرضوں کی رفتار کی بڑھوتری میں نہ مادی اشیا کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو مہمیز دے سکی نہ حرام خور مارکیٹوں میں فاضل سرمایہ کی منتقلی کو۔ اس لیے ہر ملک بلکہ ہر فرد زیادہ سے زیادہ مقروض ہوتا چلا جا رہا ہے([218])۔

سرمایہ کاری کی حرام خوریت ایک خود تخریبی عمل ہے۔ وہ کچھ عرصہ تک کچھ شعبوں میں مصنوعی معاشی خوش حالی پیدا کرتا ہے لیکن آخر کار ایک ایسے بحران پر منتج ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظاماتی معاشی استحکام کی چولیں ہلا دیتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ادائیگیاں پوری کرنے کی سکت قرضہ لینےوالوں میں باقی نہیں رہتی اور ایسے وقت سرمایہ دارانہ ریاست کو حرام خور اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر مزید قرض جار ی کرنا پڑتے ہیں۔ دور حاضر میں ایسے مواقع جلد جلد آتے رہتے ہیں اور اس وجہ سے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی مارکیٹوں میں ریاستی مداخلت مزید بڑھتی رہتی ہے اور آج کی سرمایہ دارانہ معیشت میں ریاستی مداخلت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ وہ حرام خور اداروں اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی اصل پشتیبان ہیں کیونکہ ان کی پالیسیوں کے نتیجہ میں اجرتیں منجمد ہیں لیکن حرام خور اثاثوں کی قیمتیں مستقل بڑھ رہی ہیں۔

سرمایہ کی حرام خوریت کا اثر معاشی نظام میں محنت کشوں کی حیثیت پر بھی پڑا ہے۔ 2010-2008ء کے بحران میں جو بے روزگاری بڑھی تھی اس پر تو یورپ اور امریکا میں 2014ء تک قابو پا لیا گیا۔ خدمتی شعبوں کے پھیلاؤ کے نیتجہ میں کارکنوں کو زوال پذیر شعبوں سے ترقی پذیر شعبوں کی طرف منتقلی کا عمل کامیابی سے جاری رہا اور 21-2020ء میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس کے نتیجہ میں جو بیروزگاری بڑھی ہے اس پر بھی قابو پا لیا گیا لیکن مخفی بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ جزوقتی اور غیر محفوظ ملازمتوں میں کثرت سے پوری دنیا میں اضافہ ہوا ہے اور محنت کشوں کو اپنا معیار زندگی برقرار رکھنے کے لیے قرضوں اور حکومتی عنایات پر زیادہ انحصار کرنا پڑا ہے اور چونکہ فلاحی ریاست کا ادارتی اور پالیسی ڈھانچہ محفوظ ہے (غریب ملکوں میں نہیں) لہٰذا سرمایہ کاری کی حرام خوری کی پالیسیوں کی قومی تنفیذ کی جمہوری بنیادیں قائم ہیں اور ان پالیسیوں کو عوامی تائید حاصل ہے۔ مخفی بے روزگاری کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مادی سرمایہ (مشینری، پلانٹ، اراضی) کی شرح استعمال میں پوری دنیا میں کمی آ رہی ہے۔ بیمار کارخانوں کا حجم پوری دنیا میں بڑھ رہا ہے اور مال کا وہ حصہ جو بیچا نہیں جا سکتا گوداموں میں بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بات اجناس کے کاروبار کے لیے بھی درست ہے۔ 2015ء تک تقریباً چار ہزار ارب ڈالر کی ایسی بچتیں امریکی کارپوریشنوں کے پاس موجود تھیں جو کسی قسم کی سرمایہ کاری میں نہیں لگائی گئیں۔ ان سے صرف بینکوں کا دیا گیا سود حاصل کیا جارہا تھا جہاں یہ کیش کی شکل میں جمع تھیں۔

دور حاضر کی عالمی سرمایہ داری ایک ایسی انحطاطی معیشت ہے جس میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ حرام خور سرمایہ کاری کے سبب کچھ عرصہ کے لیے کچھ شعبوں میں معاشی خوش حالی پیدا ہوجاتی ہے لیکن جب ادائیگیوں اور مطالبات میں حرام خور مارکیٹوں میں توازن برقرار نہیں رہتا تو معاشی بحران آ جاتے ہیں اور زوال پذیری کے رجحان غالب آ جاتے ہیں۔ ان حالات میں ایک کمزور سرمایہ دارانہ معیشت جیسے پاکستان کو عالمی مارکیٹوں کے زیرنگیں کرنا (جیسا کہ عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے مشورہ پر کر رہی تھی) اپنے سینے میں خود خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔

کیا عالمی سرمایہ دارانہ معیشت اس انحطاطی دور سے نکل سکے گی ؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ 1990ء کی دہائی میں مواصلاتی ٹیکنالوجی کے عروج سے جوتوقعات باندھی گئی تھیں وہ تو پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ تیس سال سے یہ ٹیکنالوجی سرمایہ دارانہ معیشت میں پھیل رہی ہے لیکن اس پھیلاؤ سے نہ مجموعی پیداواری شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے نہ مجموعی سرمایہ کاری کی شرح میں۔ ملازمتوں کی بڑھوتری پر تو آئی ٹی پھیلاؤ کا اثر بحیثیت مجموعی منفی ہی ہے۔ ہاں آئی ٹی کمپنیوں کے حرام خور اثاثوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور آئی ٹی صنعت کی بڑھوتری سے اجارہ داری کے رجحان کو تقویت ملی ہے۔

انحطاطی بحرانی معیشت سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ حرام خور سرمایہ داری کی نظاماتی بالادستی کو ختم کیا جائے لیکن ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں ایسی حکمت عملی اپنانے کی کوئی جمہوری بنیادیں موجود نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوامی اجرتوں کو گرنے سے بچانے کے لیے قرضوں کی وافر فراہمی ناگزیر ہے اور اس کے لیے حرام خور شعبہ کا پھیلاؤ لازمی ہے۔ اس کے برعکس اگر اجرتوں کو براہ راست بڑھایا جائے تو اس کا اثرانحطاطی معیشت کے شرح منافع پر پڑے گا اور اس سے کساد بازاری کا رجحان مزید مضبوط ہو جائے گا اور یہ سرمایہ کاروں کے گروہ کے لیے قابل قبول نہیں۔ حرام خور سرمایہ کاروں کی گرفت سرمایہ دارانہ ریاست اور مارکیٹ پر آج نہایت مضبوط ہے۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام خطرات سے گھرا ہوا ہے۔ ابھی تک تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ پالیسی ساز ان خطرات سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ وہ کسی بنیادی نظاماتی تبدیلی کا تصور نہیں کر رہے۔ سرمایہ دارانہ ترقی یافتہ ممالک کے جمہور اس نوعیت کی تبدیلی کے خواہاں نظر نہیں آتے۔ 2010-2008ء کے بحران سے نبٹنے کے لیے جو حکمت عملی سرمایہ دارانہ ممالک نے اپنائی تھی (اور جس کے نتیجہ میں وقتی طور پر بحران پر قابو پا لیا گیا تھا) اس کی دو اہم خصوصیات تھیں۔ ایک تو یہ کہ امریکی فیڈرل ریزروسسٹم نے بڑے پیمانے پر یورپی نیم دیوالیہ بینکوں کو سیالیت کی شکل میں امداد فراہم کی۔ دوسرے یہ کہ بحران کو رفع کرنے کی وضع کردہ حکمت عملی کی تنفیذ میں چین امریکا کے ساتھ مکمل تعاون کرتا رہا۔ 2020-21ء کے بحرانی دور میں امریکا اور چین میں اس قسم کا تعاون نظر نہیں آتا۔ چین تعاون پر آمادہ ہے بشرطیکہ امریکا اس تعاون کو جاری رکھنے کے لیے ایسی قیمت طلب نہ کرے جو چینی ریاست کی عالمی سامراجی گرفت کو کمزور کر دے۔ اسی لیے وہ جنوری 2020ء میں کیے گئے امریکا چین تجارتی معاہدہ سے منحرف نہیں ہو رہا۔ چین سب سے زیادہ پریشان ان پابندیوں سے ہے جو امریکا اس کی ٹیکنالوجیکل ترقی پر عائد کررہا ہے۔ صدر شی کے 2025ء کے تصور کے مطابق دس سال تک چین کو ٹیکنولوجیکل میدان میں امریکا کے ہم پلہ قوت بن جانا چاہیے اور فی الحال امریکا اس چیز کو ناممکن بنانے کے لیے چینی ٹیکنولوجیکل ارتقا کی تحدید پر اصرار کر رہا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ جس نوعیت کا عمیق تعاون 2009ء کے بعد بڑی طاقتوں میں فروغ پا رہا تھا اس پر اب قائم رہنا دشوار ہے اور بڑی طاقتوں کی باہمی رسہ کشی عالمی حرام خور مارکیٹوں میں خلفشار اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے بحرانی رجحانات کو ترقی دیتی رہے گی۔

سامراجی نظام کو مستحکم کرنے والی ایک اہم قوت آج کے دور میں میڈیا ہے۔ سامراجی میڈیا کا مستقل نشر ہوتا ہوا پیغام یہ ہے کہ جمہوری نظام میں صارف حاکم اعلیٰ ہوتا ہے لیکن صارف کی مانگ کو بھی اشتہارات کے ذریعہ میڈیا مستقل تخلیق کرتا رہتا ہے۔ میڈیا سرمایہ کاروں کا آلہ کار بن کر رہ گیا ہے اور حق آزادی اظہار رائے کی تحدید کا ذریعہ ہے۔ صرف وہی آراء مقبول عام ہونے دی جاتی ہیں جو سامراجی سرمایہ دارانہ مفادات کو فروغ دینے والی ہوں۔ جمہوری عمل میڈیا کے جال میں آج جیسے پھنسا ہوا ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ عموماً میڈیا کی توجہ ہر معاملے میں بڑھوتری سرمایہ کی اثراندازی پر ہوتی ہے اوراس کی مذہبی، سماجی، علمیاتی تمام بحثیں اسی مرکزی نکتہ پر مرکوز ہوتی ہیں کیونکہ جاہلی علمیت یعنی سوشل سائنس میڈیا سٹڈیز کے شعبہ جوکے ماہرین پیدا کرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام کی دائمی فوقیت کو مفروض کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر میڈیا جمہوری عمل کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے۔ ایک سیاسی محقق(Colin Crouch) دور حاضر کی جمہوریت کو پوسٹ ڈیموکریسی کہتا ہے۔ اس جمہوری نظام میں عوام وہ رائے رکھتے ہیں جو رائے ان کو میڈیا طوطے کی طرح سکھاتا ہے۔ یہ رائے سرمایہ کار اور دیگر مقتدر حلقے مستقل تخلیق کرتے رہتے ہیں۔ آج عوام زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ اطلاعات کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ انتظامی معاملات میں عوامی شمولیت کے مواقع بڑھ رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود میڈیا کے ذریعے سرمایہ دارانہ اختلافی آراء کے اظہار کے مواقع بالکل معدوم کر دیے گئے ہیں اور عالمی میڈیا صنعت مٹھی بھر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور حرام خور فنانشل اداروں کی مستحکم اجارہ داری میں ہے۔

آج میڈیا سرمایہ دارانہ ریاست کا ویسا ہی ایک جزو ہے جیسا کہ انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ اور پولیس۔ گو کہ لبرل جمہوریتوں میں میڈیا کا کنٹرول نجی ہاتھوں میں ہے۔ میڈیا کے کنٹرولر اور مالکان خود سرمایہ کار ہیں او ران کے اور دیگر سرمایہ کاروں، حرام خوروں اور ریاستی اہل کاروں کے نظریاتی اور سماجی تناظر ہم آہنگ ہیں۔ اس نظام میں میڈیا کا اصل فریضہ سٹیزن کو کنزیومر بنانا اور عقیدہ بڑھوتری سرمایہ کو مستحکم کرناہے۔ میڈیا سرمایہ دارانہ ممالک کی خارجی پالیسی کا اہم ترین ہتھیار ہے۔ امریکی دہشت گردی عالمی میڈیا کی ہم نوائی اور بھرپور تعاون کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی۔ میڈیا نے عراق اور افغانستان میں امریکی دہشت گردی کی ایک مثبت تصویر پیش کر کے اس دہشت گردی کو امریکی اور یورپی عوام کے لیے قابل قبول بنا دیا۔ میڈیا عوام کو سرمایہ کاروں کی تحکیم قبول کروائے رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ حق کی تعبیر کرتا ہے اور تمام واقعات کی اسی حق کے مطابق تعبیرات مرتب کرتا رہتا ہے۔

میڈیا صنعت سرمایہ دارانہ روحانیت اور ثقافت کو فروغ دینے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ یہ روحانیت اور ثقافت عریانی اور فحاشی کے ذریعہ پھیلتی ہے۔ عیاشی اور فحاشی کو فروغ دینا سامراجی میڈیا کی ایک اہم بنیادی ذمہ داری ہے۔ اور اس کی مذہب دشمنی کی عکاس ہے۔ آج میڈیا اس گھناؤنی اور غلیظ روحانیت کو عام کرنے کے لیے اغلام بازی اور ہم جنس پرستی پر پورا زور دے رہا ہے۔ پورنوگرافی کی کئی ہزار کھرب پیدا کرنے والی صنعت ہر گھر میں ٹیلی وژن او رانٹرنیٹ کے ذریعہ گھس آئی ہے اور شہوت اور غضب کو پروان چڑھانے والی یہ شیطانی قوتیں سامراجی سرمایہ دارانہ جمہوری معاشرت کی روح رواں ہیں۔ یہی فحش گانے اور فلمیں امریکی سامراج کی اصل سافٹ پاور (soft power) ہیں۔

آج کے سرمایہ دارانہ مواصلاتی نظام کو communicative capitalism بھی کہا گیا ہے۔ اس نظام کا محور و مرکز تفریحی مواد کی بھرمار ہے اور اطلاعات/خبروں تک کو تفریحی مواد میں سمو کر ان کی مارکیٹی تشریح نشر کی جاتی ہے۔ نشریات میں غالب نظام تحکیم کے آدرشوں کو چیلنج نہیں کیا جاتا کیونکہ میڈیا خود اس نظام تحکیم کا ایک جزو ہے۔ روایتی اور جدید میڈیا صنعت پر سرمایہ کار اجارہ دار چھائے ہوئے ہیں۔ ایپل، فیس بک اور گوگل دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی اجارہ دار کمپنیوں میں شامل ہیں۔ 2018ء میں صرف پانچ ملٹی نیشنل کمپنیاں امریکا میں نوے فی صد اخبارات کو کنٹرول کرتی تھیں۔ ایپل اور Spotifyعالمی سٹریمنگ مارکیٹ کا 63 فیصد کنٹرول کرتی ہیں۔ فیس بک دنیا کا سب سے اہم ڈیجیٹل خبروں کا پلیٹ فارم ہے۔ گوگل دنیا کے نوے فیصد ڈیسک ٹاپ سکرینوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ بقول فنانشل ٹائمز یہ کمپنیا ں آئی ٹی صنعت پر اتنی حاوی ہیں کہ اس صنعت کے اصول کارفرمائی متعین کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا اور آئی ٹی سروسز کا عروج میڈیا کی کارفرمائی کو تبدیل نہیں کر رہا۔ روایتی اور جدید میڈیا دونوں سرمایہ دارانہ ریاست اور مارکیٹ کے آلہ کار ہیں۔ وہ اطلاعات اور آراء کو ایک ہی طرح سے وضع کر رہے ہیں۔ دونوں کا مقصد سٹیزن کو صارف بنانا اور سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو معقول ثابت کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی اور جدید مواصلاتی ذرائع دونوں کا انحصار مارکیٹی آمدنی اور منافع کے حصول اور ریاستی خوشنودی کے برقرار رکھنے پر ہے۔ پبلک میڈیا بھی انہی کاروباری اصولوں پر عمل درآمد کرتے ہیں جن پر نجی میڈیا ادارے کیونکہ دونوں ہی سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ ریاست کے آلہ کار ہیں۔ دونوں سرمایہ دارانہ تحکم کو فروغ دیتے ہیں اور مخالف آراء کو مضحکہ خیز مشہور کرتے ہیں اور نامعقول بنا کر پیش کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی عموماً فحشیات اور لغویات غالب رہتی ہیں۔ اس میں بھی انٹرنیٹ کمپنیوں کا ہاتھ ہے۔ ان کے طریقہ کار کے مطابق وہی مواد پلیٹ فارموں پر بار بار نشر کیا جاتا ہے جو سنسنی خیز اور تفریحی نوعیت کا ہو۔ ریاست بھی انٹرنیٹ سروسز کی نشریات سنسر کرتی ہے اور چین میں ریاستی مخالفت کا اظہار اب تک تقریباً ناممکن ہے۔

میڈیا کی حالیہ تنظیم کے ذریعہ سرمایہ دارانہ مقتدرہ یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ حق وہ ہے جس کو وہ حق سمجھتے ہیں اور اس واحد حق کا اظہار ہی حق آزادی رائے کا اظہار ہے۔ جمہوری عمل کو اس طرح مرتب کیا جا رہا ہے کہ اس واحد حق کا اظہار ہر ایک فرد کو معقول نظر آئے۔ اس واحد جمہوری حق کی تشریح میڈیا کی ذمہ داری ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں میڈیا ایک طاقت ور اور وسیع قوت ہے۔ وہ جمہوری عمل کی ایک خاص نوعیت کی تعبیر کررہا ہے لیکن یہ قوت لامحدود نہیں ہے۔ کئی مواقع پر میڈیا کے پسندیدہ کردار انتخابات میں شکست کھا گئے ہیں مثلاً ہلیری کلنٹن اور کئی مواقع پر میڈیا رائےعامہ کی تشکیل میں ناکام بھی رہا ہے مثلاً 2014ء کا برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنے کا ریفرنڈم۔ میڈیا پر سے عوام کا اعتبار اٹھایا بھی جا سکتا ہے اور دنیا میں سرمایہ دارانہ اور غیر سرمایہ دارانہ انقلابی انٹرنیٹ سروسز اور سوشل میڈیا کو اس غرض کےلئے استعمال بھی کر رہے ہیں۔ ہر سرمایہ دارانہ تحکیمی ادارے کی طرح میڈیا بھی بنیادی طور پر ایک تضادات سے بھرپور عنصر ہے۔ اسی طرح احتجاجی سیاست اور عوامی مظاہرے بھی میڈیا کے اندرونی تضاداتی رجحانات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جمہوری عمل میڈیا کے نافذ شدہ حدود کو پھلانگ بھی سکتا ہے۔ کسی ملک/معاشرہ میں اکیلا میڈیا ہی رائے عامہ تعمیر نہیں کرتا۔ رائے عامہ یعنی معاشرتی رائے کی تخلیق میں کئی دیگر محرکات بھی ہوتے ہیں۔ پاکستانی عوامی رائے میں اسلامی عقائد اور روایات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستانی میڈیا پر دہریوں کی گرفت مضبوط ہے لیکن شدید خواہش کے باوجود وہ اس ذریعہ سے اغلام بازی کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ اگر جمہوری اسلامی انقلابی عمل کے ذریعہ عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ غالب سرمایہ دارانہ نظام ان کے عقائد اور میلانات کو مٹانے اور کچلنے کا ذریعہ ہے تو میڈیا کے اثر کو محدود کیا جا سکتا ہے اور یوں معاشرتی سطح پر سامراجی سرمایہ دارانہ نظاماتی جوازیت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

لبرل جمہوریت کا ایک بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ اطلاعات ایک بیچی اور خریدی جانے والی شے نہیں بلکہ عوام کو آزادانہ اور بلاقیمت فراہم کی جانی چاہییں ہے اور یہ معاشرتی خصوصیت فرد کی خود ارادیت کو متعین کرتی ہے۔ فرد آزاد انہی معنوں میں آزاد ہے کہ وہ ایک غیر تجارتی اطلاعاتی تناظر میں یہ فیصلہ کرتا ہے کہ سرمایے کی بڑھوتری کے عمل سے کیسے مستفید ہو گا۔ لیکن دورحاضر میں اطلاعات کو میڈیا کے ذریعہ ایک تجارتی شے بنا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کموڈٹی بن گئی ہیں اور بیچی اور خریدی جاتی ہیں۔ اور اس اطلاعاتی کاروبار پر ریاستی اور مارکیٹی اجارہ داریاں قائم ہو گئی ہیں۔ یہ جمہوریت کو پس جمہوریت میں تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور سامراجی تغلب کا ایک اہم ہتھیار۔ عالمی خبروں کی تخلیق اور تفہیم ہر خبر رساں ایجنسی کے ذریعہ مارکیٹی اور ریاستی اجارہ داری معاشرے پر مسلط کی جاتی ہے۔ عملاً میڈیا بالخصوص سرکاری میڈیا ریاستی بیوروکریسی کا حصہ بن گئے ہیں۔ امریکی سرکاری میڈیا وہاں کے مارکیٹی نظام سے منسلک ہے۔ لیکن نجی میڈیا میں بھی عوامی نمایندگی کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ان صنعتوں میں یا تو تقرریاں مارکیٹی عمل سے کی جاتی ہیں یا ریاستی صوابدید سے۔ ہر جمہوریت میں نمایندگی مقننہ تک محدود ہے اور عوامی تائید کے حصول کے لیے دیگر ریاستی اداروں میں نمایندگی کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ میڈیا رائے عامہ کی تعمیر کرتا ہے،لیکن اس تعمیر میں عوام یا عوامی نمایندگان کا کوئی حصہ نہیں۔

آج سامراج ڈیجیٹل جمہوریت (digital democracy) کو فروغ دینے کی فکر میں ہے۔ یعنی انتخابات اور ریفرنڈم (referendam) کے انعقاد میں انٹرنیٹ سروسز کا استعمال۔ اول تو جن ٹیکنولوجیز کی بنیاد پر انٹرنیٹ سروسز فراہم کی جاتی ہیں وہ اس نوعیت کے خام مال پر مبنی ہیں جن کی مقدار دنیا میں محدود ہے جن کے نکالنے کا عمل نہایت پر خطر اور جن کا استعمال ماحولیاتی اور معاشرتی ابتری کا باعث ہوتا ہے([219])۔پھر نیم سرمایہ دارانہ ممالک جیسے پاکستان میں عوام کو انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز سے روشناس کرانا بھی ایک طویل المدت مہنگی مہم ریاستی جدوجہد کا متقاضی ہو گا جو انٹرنیٹ سروسزکو بہت بڑی حد تک سرمایہ کے تجارتی چکر کا حصہ بنادے گی اور یہ جمہوری عمل کی سرمایہ کاری کے مترادف ہو گا جس سے اس کی جوازیت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

انتخابی عمل کی delegitimation سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے تناظر میں ہی متوقع ہے ۔ یہ سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کو چیلنج نہ کرے گی اور چونکہ انٹرنیٹ ریاستی اور مارکیٹی تخریب کاری اور مخبری کے وافر مواقع فراہم کرتا ہے لہٰذا انتخابی /ریفرنڈم کی ڈیجیٹلائزیشن کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور ریاست کی عوامی رائے عامہ پر گرفت اور مضبوط ہو گی۔ وہ عالمی سطح پرنہ صرف ایک سرمایہ دارانہ انفرادیت سازی کرے گی بلکہ کر رہی ہے۔ آج دنیا بھر میں networked supply chains کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایک cyber proletariat وجود میں آ گئی ہے جو automated اور algorithmic سوفٹ ویئر پر انحصار کرنے والی production technologies کے استعمال کی وجہ سے مستقل پر خطر اور غیر محفوظ نوکریاں کرنے پر مجبور ہے۔ یہ سائبر پرولتاریہ اتنی دبی اور پسی ہوتی ہے کہ اپنی بڑھتی ہوئی زبوں حالی اور بے بسی کے باوجود نظام سے بغاوت کا تصور نہیں کر سکتی۔ لیکن اس میں جذبہ حسد اور انتقام ہنوز پرورش پا رہا ہے۔ اس سائبر پرولتاریہ کی نگرانی سائبر ماہرین کر رہے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا سائبر ٹیکنالوجیز کا فروغ ہے اور جو سرمایہ دارانہ سامراج کے فرنٹ لائن فوجیوں کا کردار انجام دے رہے ہیں۔

آج انٹرنیٹ ٹیکنالوجی سے سرمایہ دارانہ سامراجی تخریب کاری کا ایک اہم ذریعہ ہے لیکن یہ واحد ذریعہ نہیں۔ سامراج کے منہ سے آج تک خون ٹپک رہا ہے اور امریکا اور فرانس دنیا بھر میں دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دہشت گردی کا نظریاتی جواز جونظریہ فراہم کرتا ہے اس کو ہیومن مداخلت (humanitarian intervention) کہا جاتا ہے۔

2000ء کی دہائی کی ابتدا میں بش نے اعلان کیا کہ امریکا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے جہاں چاہے اپنے مفروضہ ملکی تحفظ کی خاطر بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے فوجی حملہ کر کے قبضہ جما لے۔ اس اعلان کو بش ڈاکٹرائن کہتے ہیں۔ یہ ڈاکٹرائن ہیومن رائٹس کے عقیدہ کا ایک عملی اظہار ہے۔ ہیومنسٹ مداخلت کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ہیومن رائٹس اتنے اہم ہیں کہ ان کی مفروضہ پامالی اس بات کو جائز بناتی ہے کہ جو ریاست اس مفروضہ پامالی کی مرتکب ہے اس کے حق حاکمیت کو کچل دیا جائے۔ دہریہ ریاست کا حق حاکمیت(sovreingyh) سب سے پہلے 1685ء میں Treaty of Westphalia میں تسلیم کیا گیا اور 1945ء میں اقوام متحدہ کے چارٹر میں اسے تسلیم کر لیا گیا۔ ہیومن رائٹس وہ سرمایہ دارانہ حقوق ہیں جو ہر فرد کا یہ حق/فرض تسلیم کرتے ہیں کہ اپنی جان، رائے اور ملکیت کو بڑھوتری سرمایہ کے لیے وقف کر دے([220])۔

ہیومنسٹ مداخلت پر عمل کرنے کا جواز 2004ء سے مرتب کیا جا رہا ہے جب اقوام متحدہ کے اجلاس میں حق تحفظ (right to protect) کا اعلامیہ قبول کیا گیا۔ گو کہ اس ”حق“ پر عمل درآمد اس سے قبل امریکا نے عراق اور یوگوسلاویہ پر حملہ کر کے کرنا شروع کر دیا تھا۔ humanitarian intervention کا یہ اقدام عالمی قوانین کے تناظر سے ماورائی حیثیت رکھتا ہے۔ بش، اوباما, ٹرمپ اور بڈن کی مستقل جاری رہنے والی بمباری کی مہمات بین الاقوامی قانون کی نگاہ میں ناجائز لیکن humanitarian intervention کے نظریہ کے مطابق امریکا کا فرض تصور کیا جاتا ہے۔ humanitarian intervention بین الاقوامی سرمایہ دارانہ قانون کی تشکیل نو کی ایک کوشش ہے۔ اس کا مقصد عالمی سامراجی دہشت گردانہ کارروائیوں کو زیادہ لچکدار اور موثر بنانا ہے۔

سرمایہ دارانہ قانون اصولی مساویت کے تناظر میں عملی قوت کی تقسیمی نامساویت کا جواز پیش کرتا ہے۔ افراد کے درمیان بھی اور اقوام کے درمیان بھی۔

پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

بین الاقوامی قانون سرمایہ دارانہ نظام کی ترتیب کاری کا ایک عنصر ہے لیکن ریاستی قانون کی طرح وہ اقداری اور ادارتی طور پر اپنا ایک منفرد تشخص رکھتا ہے۔ لہٰذا ریاستی نظام قانون کی طرح بین الاقوامی قوانین کی جہتیں سرمایہ دارانہ تغلب کو مجروح کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ موجودہ بین الاقوامی قوانین کی کچھ شقوں کا سامراجی دہشت گردی سے تحفظ کے لیے بھی استعمال کرنا بھی ممکن ہے۔

دورِ حاضر کا بین الاقوامی قانون قدرتی وسائل پر قومی تحکم اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اثاثوں پر حکومتی قبضہ اور عالمی حرام خور مارکیٹوں کی کارفرمائی کی قومی دسترس کی تحدید کی اجازت دیتا ہے۔ یہ سب قومی ریاستوں کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرنے کا نتیجہ ہے۔ اگر قومی ریاستی حاکمیت اعلیٰ کا حق سلب کر لیا جائے (جیسا کہ عالمی دہشت گردی humanitarian intervention کی تنفیذ سے ہو رہا ہے) تو اس کے نتیجہ میں عالمی سرمایہ کے مقابلہ میں قومی ریاستوں کی بے بسی بڑھتی چلی جائے گی۔

عالمی دہشت گردی (humanitarian intervention) کوئی نئی سامراجی حکمت عملی نہیں۔ یہ عمل سولھویں صدی سے جاری ہے۔ جب برطانیہ، فرانس، ہسپانیہ، پرتگال، ولندیز اور امریکا نے امریکا، ایشیا اور افریقہ کے بیش تر ممالک میں ”ہیومنٹیرین مداخلت“ کی اور عیسائیت اور مغربی تہذیب کے پھیلاؤ کی ضرورت کو اس کا جواز بنایا۔ یہ مداخلت 1945ء کے بعد بھی جاری رہی اور عالمی دہشت گردی (ہیومینٹیرین مداخلت) کا نظریہ اس کا جدید جواز ہے۔ آج ہر ایسی ریاست کے خلاف عالمی دہشت گردی جائز قرار دی جاتی ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام یا اس کی عظیم طاقتوں کے لیے مفروضہ خطرات پیدا کرتی ہوئی ان بڑی طاقتوں کو نظر آتی ہو۔

اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق اس کی سکیورٹی کونسل کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کی اجازت دے بشرطیکہ جس ریاست کے خلاف دہشت گردی کی اجازت دی جا رہی ہو اس نے خود اس دہشت گردی کی درخواست دی ہو۔ اس ریاست کی سالمیت کو سکیورٹی کونسل کی نظرمیں خطرہ ہو۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں Article 2(7), 2(4) ہیومینٹیرین مداخلت کی اجازت نہیں دیتا لیکن سکیورٹی کونسل نے عراق پر امریکی دہشت گردی کو جائز قرار دیا۔ 1990ء کی دہائی میں اس نے یوگوسلاویہ اور روانڈا پر دہشت گردی کے تسلط کو unlawful but legitimate قرار دیا ۔ یہ ہیومینٹیرین مداخلت کے نظریہ کا جواز مرتب کرنے کی طرف ایک اہم قدم تھا اور حق تحفظ (right to protect) کا 1994ء میں منظور شدہ اعلامیہ اسی “illegal but legitimate” تصور کی تشریح ہے۔ یہ اعلامیہ ریاست کے حق حاکمیت اعلیٰ کو اس کے فراہمی سرمایہ دارانہ حقوق سے مشروط قرار دیتا ہے۔ جو ریاست سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کی ضمانت نہیں دیتی اس کے خلاف اقوام متحدہ کے ہر ممبر کو سکیورٹی کونسل سے اجازت لیے بغیر دہشت گرد کارروائیاں کرنے کا حق ہے اور دہشت گرد قوت (امریکا، فرانس اور نیٹو) خود یہ طے کرے گا کہ کون سا ملک سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کے فرائض انجام نہیں دے رہا۔ فرانس مالی پر بمباری اسی R2P اعلامیہ کے تناظر میں جاری رکھے ہوئے ہے۔ R2P کا استعمال ان مہمات کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں غریب ممالک کی حکومتیں سرمایہ دارانہ اندرونی خلفشار کو رفع نہیں کر پاتیں چہ جائیکہ انہوں نے سامراجی مداخلت کی گزارش کی ہو۔ پاکستان پر امریکی ڈرون حملے اسی نوعیت کی کارروائی ہے۔

R2P کی جوازیت کی بنیاد پر اقوام متحدہ نے کوت دی وو، مالی ، سوڈان اور صومالیہ اور شام میں ہیومینٹیرین مداخلت کی اجازت دے دی لیکن بھارت اور میانمار میں مسلم نسل کشی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جا سکی۔ عالمی دہشت گردی (humanitarian intervention) کا فروغ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک کلیدی ہدف ہے۔ اپنی عالمی دہشت گردی کے ذریعے امریکا ہر مفتوحہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ سرمایہ دارانہ حقوق(ہیومن رائٹس) کا تحفظ جمہوری نظاماتی غلبہ کو قائم رکھنے کے لیے ایک لازمی جزو ہے۔ خون آشام امریکا شمشیر بدست انسانیت پر حملہ آور ہے اور یہ سفاکانہ دہشت گردی جمہوریت کے فروغ اور بقا کے لیے کی جا رہی ہے۔

اسی دہشت گردی کو جاری رکھنے کے لیے امریکا (کلنٹن، بش، اوباما، ٹرمپ کے دور حکومت میں) بین الاقوامی قانون کی پروا نہیں کرتا۔ وہ دہشت گردی کو جاری رکھنا اپنے عالمی سیاسی اور معاشی غلبہ کو قائم رکھنے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ چونکہ امریکا آج ایک غالب قوت ہے اس لیے اس بات کا امکان غالب ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ قانون ترمیم اور تنسیخ کے ذریعہ ریاستی عالمی دہشت گردی کا نظاماتی جواز جلد یا بدیر مرتب کر لے گا۔

لیکن اس جواز کی بنیاد پر عمل کرنے کو صرف غریب اور کمزور سرمایہ دارانہ ممالک کی حاکمیت اعلیٰ تک محدود کیا جائے گا۔ آج چین اور بھارت میں مسلمانوں کے سرمایہ دارانہ حقوق بری طرح کچلے جا رہے ہیں۔ میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے لیکن امریکا ان ممالک کے خلاف کارروائی کرنے کی نہ خواہش رکھتا ہے نہ قوت۔ ان ممالک کی حاکمیت اعلیٰ کو R2P سے کوئی خطرہ نہیں۔

عالمی دہشت گردی humanitarian intervention کے ذریعہ جن غریب ممالک کو امریکا فتح کرتا ہے (عراق سابقہ افغانستان) وہاں کی ریاستی اور معاشی ساخت کو لبرل سرمایہ داری کے اصولوں کے مطابق ترتیب نو کی جاتی ہے اور وہ عالمی سرمایہ کار اور حرام خور مارکیٹوں کے ماتحت آ جاتے ہیں۔ ان پر امریکا کا نظاماتی ، ریاستی تسلط قائم ہو جاتا ہے۔ عالمی دہشت گردی (humanitarian intervention) کے ذریعہ امریکا دنیا بھر میں اپنی نئی کالونیاں بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بہت سے غریب ممالک کو اس ضرورت کا احساس ہے کہ وہ اپنے آپ کو عالمی دہشت گردی یعنی R2P کے اطلاق سے محفوظ رکھیں (افسوس کہ ان ممالک میں پاکستان شامل نہیں)۔ سرمایہ دارانہ حقوق (ہیومن رائٹس) کی فراہمی اس تحفظ کا ذریعہ نہیں کیونکہ امریکا کسی بہانے سے کسی ملک پر کبھی بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ یہ بات 2003ء کی عراق کے خلاف دہشت گردی سے ثابت ہے جہاں صدام حکومت کے کسی سرمایہ دارانہ حق کے سلب کرنے کی کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی۔ عالمی دہشت گردی (ہیومینٹیرین مداخلت) سے تحفظ کا واحد ذریعہ ریاستی عسکری قوت میں اضافہ ہے کیونکہ امریکا ایک بزدل قوم ہے۔ 1945ء کے بعد سے آج تک اس نے کوئی ایسی جنگ نہیں لڑی جہاں طاقت کا توازن مساویانہ ہو۔ وہ صرف کمزور اور لاچاروں پر ہی حملہ آور ہوتا ہے (اور عموماً ان سے بھی شکست کھا کر فرار ہو جاتا ہے مثلاً ویت نام، کوریا، طالبان کا افغانستان وغیرہ ۔

امریکی تسلط کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک سامراجی حکمت عملی عالمگیریت ہے۔ اپنے ابتدائی دور میں ٹرمپ کی صدارت کے دور سے قبل تک یہ نیولبرل پالیسی ایجنڈا سے منسلک تھی اور بڈن کے دور میں بھی ایسا ہی ہے گلوبلائزیشن کے ذریعہ تجارتی اور حرام خور (زر، سٹہ اور فیوچرز) مارکیٹوں پر ریاست کی گرفت تحلیل کی جاتی تھی۔ گلوبلائزیشن اور نیولبرل پالیسیوں میں مکمل ارتباط نہ تھا مثلاً چین 1978ء کے بعد گلوبلائزیشن کا پرجوش حامی رہا لیکن اس کی داخلہ پالیسیوں کو ڈینگ (Deng)کے دور حاکمیت سے لے کر آج تک صحیح معنوں میں لبرل نہیں کہا جا سکتا۔ آج گلوبلائزیشن کی ایک مہلک قوت قوم پرستی بنتی نظر آ رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیولبرل ازم اور گلوبلائزیشن پالیسیوں کا تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ ہنگری اور پولینڈ کے حکمران نیولبرل پالیسیوں کی عالمی اور ملکی تنفیذ کو قبول کر رہے ہیں۔ ترکی کا موجودہ حکمران طیب اردگان بھی ایک نیو لبرل ایجنڈا پر کاربند ہے اور اس نے یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی مہم کو تیز کر دیا ہے۔

چین کی مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ گلوبلائزیشن اور نیولبرل ازم کا تعلق گنجلک ہے اور ایک کمزور ریاست جو گلوبلائزیشن میں انضمام کو قبول کرتی ہے ۔ نیولبرل پالیسیوں کو قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہیں لیکن اندرونی اور بین الاقوامی طور پر ایک طاقت ور ریاست گلوبلائزیشن کو اپنے قومی مفادات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کر سکتی ہے اور اپنی داخلی پالیسیاں بنانے اور نافذ کرنے میں نیولبرل پالیسیاں اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہوتی۔

نیولبرل گلوبلائزیشن سے ایسی ریاستوں کی تعمیر کی جاتی ہے جو سرمایہ کاروں کے تحکم کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ محنت کشوں کے قانونی اختیارات کی کڑی تحدید کرتی ہیں۔ چونکہ قومی سرمایہ کاروں کے حقوق عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں بالخصوص حرام خور مارکیٹوں سے پیوست ہوتے ہیں لہٰذا گلوبلائزڈ ریاستیں ان مارکیٹوں اور ان سے ملحق بین الاقوامی اداروں مثلاً آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او وغیرہ کا تحکم قبول کرتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ لبرل پالیسیوں کے ساتھ ساتھ کچھ استبدادی جمہوری پالیسیاں بھی شامل کی جائیں (اس قسم کی پالیسی آمیزش کو Crouch ”پس جمہوریت“ کہتا ہے)۔ عالمی سرمایہ کی اپنی کوئی ریاست موجود نہیں۔ قومی ریاستوں پر اس کا تحکم ان معنوں میں محدود ہے کہ ریاستی تحکمی نظام میں دیگر قوتیں بھی موجود ہیں جو بالواسطہ اس نظام اقتدار کی کارفرمائی کو چلا رہی ہیں اور عالمی سرمایہ کو ان کے ذریعہ ہی اپنا تحکمی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ ان دیگر قوتوں کے پاس اندرونی ریاستی جبر کے تمام جمہوری اختیارات ہوتے ہیں۔

عالمی ریاست کی عدم موجودگی کی وجہ سے جو نظاماتی خلا پید اہو گیا ہے وہ امریکا پر کرنے کی (کسی حد تک ناکام) کوشش کرتا ہے۔ لیکن امریکا خود ایک سرمایہ دارانہ قومی ریاست ہے اور اس کی کارفرمائی اس کے قومی جمہوری عمل کے تناظر میں مرتب کی جاتی ہے۔ امریکا عالمی سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دینے کے لیے جو پالیسیاں اختیار کرتا ہے وہ لازماً امریکی قومی سرمایہ دارانہ مفادات کا اظہار ہوتی ہیں کیونکہ قومی جمہوری عمل ہی ان پالیسیوں کی جوازیت مرتب کرتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ امریکی قومی سرمایہ دارانہ مفادات کو فروغ دینے والی پالیسیاں عالمی سرمایہ کی بڑھوتری کا ذریعہ بنیں۔ امریکا اپنے قومی سرمایہ دارانہ مفاد کے فروغ کے لیے دیگر تمام سرمایہ دارانہ ممالک کا حق حاکمیت اعلیٰ تحدید کرنے کی (کسی حد تک ناکام) کوشش کرتا ہے۔ صدر بش نے امریکی عالمی دہشت گردی کو 2002ء میں ایک ”نہ ختم ہونے والا کام“ کہا تھا۔ امریکی دہشت گردی کا تسلسل اسی نہ ختم ہونے والے کام کا ایک ذریعہ ہے ۔ یہ نہ ختم ہونے والا کام دنیا کی تمام جمہوریتوں (بشمول امریکا) کو لبرل سے استبدادی security states میں تبدیل کر رہا ہے۔

امریکا کے قومی سرمایہ دارانہ مفادات کو فروغ دینے والی پالیسیاں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں حکومتوں کے دور میں اپنائی جا تی رہی ہیں۔ مثلاً اوباما نے ایک ہزار ارب ڈالر امریکا کی نیوکلیئراسلحہ سازی کے لیے خرچ کیے اور اس نے دہشت گردی کی جنگ تیز کردی لیکن اوباما کو اس بات کا احساس تھا کہ 2010-2008ء کے بحرانی دور میں امریکی مفادات کا تحفظ دوسرے سرمایہ دارانہ ممالک کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ لہٰذا اس نے ایسی پالیسیاں اختیار کیں جس سے پورا سرمایہ دارانہ نظام بحران سے نکل سکے۔ کھربوں ڈالر کی رقومات یورپی بینکوں کو دیوالیہ سے بچانے کے لیے اوباما نے خرچ کیے۔ علاقائی تجارتی تعاون کو فروغ دیا اور بین الاقوامی سرمایہ دارانہ اداروں کو مستحکم کیا۔ اوباما کو اس دور میں چین، جاپان اور یورپی ممالک کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ اس دور میں امریکا کا مرکزی بینک Federal Reserve System تمام سرمایہ دارانہ ممالک کے مالیاتی نظاموں کی رفتار کار متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے لگا۔ لیکن چین (اور کسی حد تک بھارت) پر امریکی مالیاتی تغلب کمزور ہی رہا کیونکہ چین کے زیادہ تر بینک سرکاری تحویل میں تھے اور چین حرام خور مارکیٹوں کی کارفرمائی میں ریاستی مداخلت کرتا تھا (اور ہے)۔

2010-2008 کے بحران نے نیولبرل ممالک کےریاستی نظام کو استحکام اور تقویت بخشی۔ لبرل پالیسیاں اور ادارے مضبوط ہوئے۔ آج بھی بین الاقوامی سرمایہ دارانہ پیداواری نظام رسدی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ بیش تر اشیا مثلاً ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے پرزے کئی ممالک میں بنائے جاتے ہیں اور اس پورے پیداواری عمل کو منظم وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ریٹیل خریدار کمپنیاں کرتی ہیں جو بڑے سرمایہ دارانہ ممالک میں مقیم ہیں او ر جو صرف حرام خوری (فنانس)، مارکیٹنگ اور منصوبہ بندی (کارپوریٹ پلاننگ) کا کام کرتی ہیں۔ غریب ممالک کے کاریگر، محنت کش اور ہاری مستقل ان ہی ملٹی نیشنلز کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ ملٹی نیشنلز منافع کے عموماً 95 فیصد پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ یہ پورا نظام نیو لبرل سرمایہ دارانہ تجارتی اصولوں پر مرتب ہے۔ رسدی زنجیروں میں یہ استطاعت ہے کہ وہ پوری دنیا کے پیداواری نظم کو اپنے اندر سمو لیں۔ لیکن الحمدللہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا اورکاروبار بہت بڑے پیمانے پر عالمی پیدوار رسدی زنجیروں کی دسترس سے باہر ہے اور غیر سرمایہ دارانہ اصولوں کی بنیاد پر جاری ہے۔ ثم الحمدللہ۔ 2020ء کا بحران رسدی زنجیروں کو بہت سے شعبوں میں کمزور کر رہا ہے۔

ٹرمپ اور نیا دایاں بازو نیو لبرل پالیسیوں کو رد نہیں کرتا۔ قومی سطح پر وہ ایک نیولبرل نظریاتی اورادارتی تناظر میں کام کرتا ہے لیکن استبدادی جمہوری ردعمل کا ایک اظہار ہے جو نیولبرل ازم کی اس مخصوص تشریح کو رد کرتا ہے جو غالب لبرل اشرافیہ نے اپنائی ہوئی ہے۔ وہ جمہوری نظام پر ماہرین کے تسلط کے خلاف ایک ایسا ردعمل ہے جو عوامی تحرک (popular mobilization) کے ذریعے نظاماتی استبدادی جمہوریت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس اظہار کے ذریعے امریکا و دیگر سرمایہ دارانہ ممالک کی حاکمیت اعلیٰ کی تحدید کو مزید مستحکم اور وسیع کرنا چاہتا ہے۔اور اپنے اس کردار میں کسی تبدیلی کا خواہاں نہیں۔ امریکا کے بانی کافر مفکر تھامس جیفرسن نے امریکا کو سامراج کو جبری آزادی کہا تھا۔ اپنی سامراجیت کی جبری آزادی کی فراہمی میں کمی کا ٹرمپ اور نیا دایاں بازو کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ گلوبلائزیشن کے عمل کی ایک تشریح نو مرتب کر رہے ہیں (تھے)۔ یہ بات ٹرمپ کی حکومت سے واضح ہو گئی ہے کہ نیا دایاں بازو اپنے تمام مقاصد اور اہداف ایک لبرل دستوری نظاماتی تناظر میں حاصل کر سکتا ہے اور اس دستوری ڈھانچہ میں اس کو کسی بنیادی تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔

نئے دائیں بازو کے نظریہ کو paleo-conservatism کہتے ہیں۔ یہ نظریہ قومی تاریخی روایات کو فروغ دینے اور ان کی بنیاد پر معاشرت کو سراہتا ہے۔ مارکیٹی انفرادیت کے پھیلاؤ کو معاشرتی حدود میں محدود رکھنے کا قائل ہے۔ فلاحی ریاستی اقدام کو مضر تصور کرتا ہے کیونکہ اس سے خاندان کا ادارہ اور اس میں مرد کی قوامیت کمزور پڑتی ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کو مغربی تاریخی اور تہذیبی روایات (بالخصوص عیسائیت اور صہیونیت) سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیتا ہے۔ وہ ثقافتی کثیر الجہتی (multiculturalism) کا مخالف ہے اور الزام لگاتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ریاستی نوکر شاہی نے لبرل بین الاقوامی تجارت کو فروغ دے کر امریکی انفرادی شناخت کو مجروح کیا ہے۔ اس سے امریکی صنعتی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوئی ہے اور عالمگیریت کے ذریعے گوری نسل کا نظاماتی تسلط بھی متاثر ہواہے۔ عالمگیریت کی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے لازم ہے کہ امریکا ان بین الاقوامی معاہدات کی تنسیخ کرے جو لبرل خطوط پر مرتب کیے گئے ہیں اور ان جنگوں سے نکل جائے جو وہ مستقل ہار رہا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر امریکا سے بے دخل کیا جائے۔

Paleoconservatism نیولبرل ازم کی نظاماتی ناکامی کاردعمل ہے۔ نیولبرل نظام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ مارکیٹی آزادی کو فروغ دے کر ہر فرد کو ایک entrepreneur بنا دے گا لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ مارکیٹ کو منظم کرنے کی ضرورت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ریاستی نوکر شاہی کا حجم اور اس کی مداخلت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اشرافیہ کو کرپٹ اعمال([221])کے وافر مواقع میسر آنے لگتے ہیں۔

paleoconcervatism الزام لگاتی ہے کہ نیولبرل عالمگیریت نے امریکی معاشی اور سیاسی نظام کو کرپشن کے دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ ٹرمپ کا عروج اس کرپٹ نیولبرل ریاستی اشرافیہ کے خلاف امریکی جمہور کے ایک بڑے حصہ کی منظم بغاوت کا عکاس ہے۔ اس جمہورمیں سفید فام سرمایہ دارانہ محنت کشوں کا ایک جم غفیر شامل ہے۔ اس جم غفیر نے اپنی ثقافتی اور نظریاتی روایات کو اپنے مادی مفادات پر ترجیح دی۔ سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی نیولبرل نظام کے خلاف اس بغاوت میں امریکا کےمتوسط طبقہ نے بھی ساتھ دیا۔

ٹرمپ کی کامیابی جمہوری عمل کی تصدیق ہے۔ اس کے ذریعہ اس ریشنلٹی کو چیلنج کیا گیا جو نیو لبرل دور میں ماہرین اور حرام خوروں (فنانسرز) کو سیاسی نظام پر حاصل ہو گئی تھی۔ یہ سرمایہ دارانہ ریاستی سیاسی نظام کی جمہوریت کاری کا ایک طریقہ ہے۔ اس نوعیت کی جمہوریت سازی کے امکانات مشہور کافر نازی مفکر Helmut Schmidt نے 1930ء کی دہائی میں واضح کر دیے تھے۔ لیکن استبدادی جمہوریت سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے ٹرمپ بار بار اعلان کرتا رہا ہے کہ وہ امریکا کو ایک سرمایہ دارانہ کاروبار کی طرف چلائے گا۔

سرمایہ دارانہ نظام آج معاشی طور پر عالمگیر ہو گیا ہے لیکن اس کو کوئی عالمی ریاست میسر نہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا یہ خلا کسی حد تک امریکا پورا کرتا ہے اور اس کا قومی معاشی نظام عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر کسی حد تک حاوی ہے اور اس میں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور محنتی مارکیٹوں کے ذریعہ نتھی ہے۔

paleoconservatism اس ارتباط کو توڑنا نہیں از سر نو مرتب کرنا چاہتی ہے۔ وہ امریکی نظاماتی بالادستی کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی خواہاں ہے اور اس بات سے خائف ہے کہ کوئی اور طاقت یعنی چین اس نظاماتی بالادستی کو چیلنج کرے۔ ٹرمپ کی گلوبل تزویراتی حکمت عملی کثیر الجہتی ارتباط سے ہٹ کر دوئی (bilateral) ارتباط کو فروغ دیتی ہے۔ اسی لیے وہ اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں سے تو نکل رہا ہے لیکن دو فریقی معاہدوں کی تشکیل اور تعمیر کا خواہاں رہا ہے۔ ایران سے کئے گئے نیوکلیئر تحدیدی معاہدہ کوفسخ اس امید پر کیا گیا کہ ایران کو مزید سخت تحدیدی شرائط پر مجبور کیا جا سکے گا۔ یہی رویہ شمالی کوریا کے معاملے میں بھی اپنایا گیا ۔ طالبان سے مذاکرات کا مقصد بھی یہی تھا کہ افغانستان کو عالمی جمہوری سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط پر راضی کیا جائے۔

امریکا کی گلوبل برتری کی جستجو کا بنیادی ذریعہ امریکی اصولوں اور standards کا عالمی پھیلاؤ ہے۔ امریکا نے جو معاہدے کیے ہیں مثلاً NAFTA (شمالی امریکی آزاد تجارتی معاہدہ )ان کا مقصد امریکی اسٹینڈرڈز کا معاہد ممالک پر تسلط ہے۔ امریکا اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی ضوابط متعین کرنے والے اداروں مثلاً ISO اور ریٹنگ ایجنسیز کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آج بہت بڑی حد تک دنیا میں سرمایہ دارانہ کاروبار اور پیداوار جن اصولوں اور پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے وہ وہی ہیں جو امریکا میں لاگو ہیں۔ چین سے معاہدات میں جو تعطل پایا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بالخصوص علمیاتی ملکیت (intellectual property) کے شعبہ میں چین امریکی پیمانوں اور ضوابط کو اپنانے میں بہت مشکل سےتیار ہوتا ہے۔ چین میں 24 شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بالکل ممنوع ہے۔ مزید 35 شعبوں میں اشتراکی سرمایہ کاری (joint ventures) کی اجازت ہے اور عالمی ترسیل زر کا نظام بھی نسبتاً غیر مارکیٹی ہے([222])۔

امریکی قانونی ضوابط کی بین الاقوامی عدالتیں میں کارفرما ہیں۔ امریکی حکومت اپنی اس دیرینہ حکمت عملی کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وہ اپنے بین الملکی معاہدات کی ترتیب نو اس مقصد کے لیے کر رہی ہے کہ امریکی معیارات اور ضوابط کا اطلاق زیادہ وسیع ہو۔ اس کو اس بات کا احساس ہے کہ بین الاقوامی معاہدات کے مقابلہ میں دو ملکی معاہدات میں امریکا کی مسابقتی قوت زیادہ ہوتی ہے اور وہ ان متعدد دو ملکی معاہدات کے ذریعے بین الاقوامی نظام کو امریکی مفادات کے حصول کا ذریعہ زیادہ موثر انداز میں بنا سکتا ہے۔ یہ گلوبلائزیشن کی ترتیب نو ہے ۔ گلوبلائزڈ نظام کو ترک کرنا امریکا کے لیے اس لیے ناممکن ہے کہ آج 60 فیصد تجارت اور لین دین ایک اجارہ دار کارپوریشن اپنی ہی ذیلی کمپنیوں کے ساتھ کرتی ہے جو دوسرے ممالک میں مقیم ہوتی ہیں۔ ٹرمپ نے اسٹیل، المونیم وغیرہ پر درآمداتی محصولات نافذ کی تھیں ہیں وہ بھی وقتی نوعیت کی تھیں اور جیسا کہ چین سے کیے گئے 2020 کے تجارتی معاہدہ سے ثابت ہوتا ہے کسی وقت بھی ہٹائے جا سکتی ہیں۔ یہ محصولات دو طرفی مذاکرات میں امریکی مسابقتی قوت بڑھانے کے ذریعہ کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس میں شک نہیں کہ امریکا کا حصہ عالمی پیداوار اور آمدنی میں گھٹا ہے اور امریکی سرکاری اور نجی قرضہ جات بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ امریکی عالمی تسلط کم ہوا ہے درست نہیں۔ یہ تسلط کم نہیں ہوا۔ اس کی نوعیت بدل گئی ہے۔ یہ تسلط گلوبلائزڈ ہو گیا ہے اور گلوبلائزڈ سرمایہ دارانہ نظام میں بہت سے امریکی مفادات مضمر ہیں۔ ڈالر دنیا کی واحد بین الاقوامی کرنسی ہے اور امریکا پر ڈالر چھاپنے پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ امریکی بین الاقوامی قرضوں پر سود نہایت معمولی ہے (اور اس کے تعین میں بھی امریکی مرکزی بینک FRS کا ہاتھ ہے۔ جو بین الاقوامی قرضہ امریکا دیتا ہے اس پر شرح سود کہیں زیادہ ہے۔ بیش تر ٹیکنولوجیکل شعبوں میں امریکی ملٹی نیشنل کا تسلط قائم ہے۔ امریکی کھرب پتی امریکا سے زیادہ منافع اپنے غیر ملکی کاروبار سے کماتے ہیں۔ پھر اس سب کے پیچھے امریکی فوجی قوت ہے جس کا کوئی دوسرا ملک سہارا لیے بغیر سرمایہ دارانہ نظام میں ترقی نہیں کر سکتا۔

امریکا ان تمام مفادات کونظر انداز کرکے گلوبلائزیشن کو ترک کر نےکا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ کی کوشش صرف یہ تھی کہ گلوبلائزڈ نظام کی تعمیر نو سے امریکا کو اس کی کارفرمائی سے حاصل شدہ مفادات میں اضافہ ہو اور اس کوشش کے پیچھے امریکی جمہور کی تائید موجود ہے اور اس تائید کی بنیاد قوم پرستی کا جذبہ ہے۔ امریکی عوام کہہ رہے ہیں بڑھوتری سرمایہ کا وہ طریقہ اختیار کیا جائے جس سے ہم سب سے زیادہ مستفید ہوں اور ہمارے ملک کا نظاماتی تحکمی تسلط پوری دنیا پر قائم ہو۔

ٹرمپ کی یہ حکمت عملی ناکام بھی ثابت ہو ئی ۔ بڈن کے دور میں گمان یہی ہے کہ گلوبلائزیشن کی جہت بدل جائے گی اور اوباما کے دور کی طرح امریکا پھر سے کثیر الجہتی حکمت عملی پر کاربند ہو کر اقوام متحدہ کے ماتحت اداروں کے ذریعہ عالمی نیولبرل سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دینے کی حکمت عملی اختیار کرے گااور اس کے لیے بڈن کو عوامی تائید بھی حاصل ہو جائے گی لیکن اس سے امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ہدف تبدیل نہیں ہو ا۔ یہ ہدف امریکی نظاماتی تسلط کو برقرار رکھنا ہے ،چاہے کثیر الجہتی معاہدات کے ذریعہ ہو یا دو فریقی معاہدات اور رویوں کے ذریعے سے۔ حکمت عملی کی اس جزوی تبدیلی سے امریکی دہشت گردانہ جارحیت تو متاثر نہ ہو گی اوباما ٹرمپ سے بڑا دہشت گرد تھا۔ اس نے کہیں زیادہ افغانیوں، سامیوں، عراقیوں وغیرہ کو قتل کیا نسبتاً ٹرمپ کے لیکن چین سے مخاصمت کم ہونے کا امکان ضرور موجود ہے اور سامراجی نظام کے دو بڑے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں یا کم از کم کرنے کی کوشش کریں یہ ممکن ہے۔

اوباما اور ٹرمپ حکومتی پالیسیوں میں ایک اور یکسانیت تارکین وطن کے معاملہ میں ہے۔ اوباما تارکین وطن کے خلاف بکواس تو نہیں کرتا تھا لیکن اس نے 2008 سے 2011 تک ٹرمپ کے 2017 تا 2020 کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ تارکین وطن کو گرفتار کیا اور امریکا سے نکالا۔

یورپی ممالک اور امریکا کی تارکین وطن کی پالیسی کا مقصد ہمیشہ اپنی ملکی معیشت کو فائدہ پہنچانا رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے یہ حکومتیں تارکین وطن کی قانونی تعداد اور اس تعداد کی ترتیب مرتب کرتی ہیں (کتنے ہنرمند، پیشہ ور ماہرین اور کتنے غیر تربیت یافتہ ورکر لیئے جائیں گے)۔ گلوبلائزڈ نظام میں سرمایہ کی ترسیل پر تقریباً تمام تحدیدات ہٹا لی گئی ہیں لیکن محنت کشوں کی غیر ملکی آمد و رفت کو امریکا اور یورپی ممالک سختی سے کنٹرول کرتے ہیں۔

تارکین وطن کی نقل مکانی کے محرکات ”نادار“ ممالک (پاکستان، میکسیکو وغیرہ) کے لیبر مارکیٹ کے رجحانات ہی نہیں ہوتے۔ اس میں مہمان نواز (امریکا، یورپ) ممالک کی پالیسیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ مہمان نواز (host) ممالک کی پالیسیاں نادار ممالک سے تارکین وطن کو دھکیلتی (ترک وطن پر آمادہ) کرتی ہیں۔ ان پالیسیوں میں سامراجی جنگ کا تسلط ، ماحولیاتی ابتری کا عروج (جو قحط سالی اور بے روزگاری کو جنم دیتا ہے) اور عالمی سامراجی ترتیب نو کی حکمت عملیاں شامل ہیں۔

دور حاضر میں تارکین وطن کی آمدورفت کا سیلاب اس وقت سے شروع ہوا جب ہسپانیہ، پرتگال، برطانیہ اور فرانس نے افریقہ سے لاکھوں غلاموں کو قید کر کے امریکیوں کے ہاتھ بیچ دیا۔ انیسویں صدی میں ہندوستانی اور چینی مزدوروں کی بہت بڑی کھیپ برطانیہ اور فرانس اپنی نوآبادیات میں منتقل کرتی ہیں۔ ان میں سے بیش تر تارکین وطن اپنے مہمان نواز ممالک کے رہائشی بن گئے اور اس خطرہ کو ٹالنے کے لیے مہمان نواز ممالک نے عارضی رہائشی پالیسیاں اپنائیں جن کے تحت تارکین وطن مہمان نواز ملکوں میں رہائشیں ان کی ملازمت کے دورانیہ سے منسلک کر دی گئیں۔

تارکین وطن میں عورتوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور یہ عورتیں عموماً ایسی خدمتی صنعتوں میں کا م کر رہی ہیں جن کا انحصار ریاستی اعانت پر ہے (ہسپتال، بوڑھوں کی رہائش گاہیں، sex services وغیرہ) لہٰذا تارکین وطن یورپ اور امریکا کی فلاحی ریاست کے اہم ترین اہل کار بن گئے ہیں۔ ترک وطن کا یہ نظام مسلمان ممالک میں خاندانوں کی تباہی اور انتشار کا ایک اہم ذریعہ بن رہا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت تارکین وطن کی دو اقسام ہیں کارکن اور پناہ گزین۔ اور دونوں کے مختلف حقوق مہمان نواز ملکوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ پناہ گزین بھی عموماً کارکن ہی ہوتے ہیں گو کہ ان کے سرمایہ دارانہ اجرتی حقوق محدود ہیں۔ کارکن اور پناہ گزین دونوں یورپ، امریکا، مشرق بعید (ملائشیا، سنگاپور، کوریا، جاپان وغیرہ) اور خلیج کے ممالک میں سرمایہ دارانہ محنت کشوں کا سب سے مجبور، بے کس اور سیال عنصر ہوتے ہیں۔

لیکن تارکین وطن کی ایک قسم ان کی بھی ہوتی ہے جو سرمایہ کاری کے عوض غیر ملکی شہریت خریدتے ہیں۔ کئی مغربی ممالک (امریکا، برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، اسپین، ہنگری، مالٹا وغیرہ) نے Citizenship by Investment Progams (CIP)کو قانونی حیثیت دی ہے اور اس کے تحت سب سے بڑے خریدار چینی اور عرب ممالک کے ارب پتی ہیں۔ 2018ء میں امریکا کے فروخت CIP ویزا میں سے چینیوں نے 70 فیصد خریدے تھے اور سب سے زیادہ CIP ویزا کی جو خریداری کی جاتی ہے وہ امیر ممالک میں اراضی اور حرام خور مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کی شکل اختیار کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ایک گلوبلائزڈ سرمایہ کار طبقہ سیاسی اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے اور یہ سرمایہ دارانہ قوم پرستوں کے لیے خطرہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ گلوبلائزڈ سرمایہ کار مفلوک الحال تارکین وطن کے سیاسی رجحانات کو متاثر کر سکتے ہیں اور غریب ممالک سے ترسیل سرمایہ داری کے ذریعہ تقسیم آمدنی اور دولت کو غیر مساویانہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تارکین وطن کی بہت بڑی اکثریت غریب اور مفلوک الحال افراد پر مشتمل ہوتی ہے اور ان کے ترک وطن کے نتیجہ میں مہمان نواز ممالک میں سطح اجرت گرتی ہے۔ پھر تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر بھی مہمان نواز ممالک میں گھس آتی ہے اور امریکا اور جنوبی یورپ کی کئی صنعتیں (زراعت، تعمیرات اور صحت ، sex servicesاور رفاہ عامہ) بالخصوص انہی غیر قانونی تارکین وطن کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کو نہایت کم اجرتیں دے کر ہی یہ صنعتیں اپنی مارکیٹی مسابقتی حیثیت برقرار رکھ سکتی ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ امریکا میں immigration control سے تارکین وطن کی تعداد کم نہیں ہو تی بلکہ اس سے غیر قانونی تارکین میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

سرحدی کنٹرول کا نظام تارکین وطن کے انخلا میں تفریق کا سبب ہے۔ ماہرین اور اعلیٰ ہنر مندوں کے لیے مخصوص مراعات دیے جاتے ہیں اور immigration control کا ایک مقصد غریب ممالک میں تربیت یافتہ محنتی قوت کو سرمایہ دارانہ ممالک میں منتقل کرنا بھی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت غریب ممالک ڈاکٹروں اور سائنس دانوں سے محروم کیے جا رہے ہیں۔

2001ء کے بعد سے مغربی ممالک کی تارکین وطن کی داخلہ کی پالیسی تحفظاتی (securitise) کی جا رہی ہے۔ یہ جمہوری ریاستی استبداد کے پھیلاؤ کا ایک طریقہ ہے۔ بیش تر سرمایہ دارانہ سیاسی نظاموں میں تحفظاتی اداروں کا جمہوری رول بڑھ رہا ہے اور ریاستی مخبری اور تخریب کاری عام شہری کی نگرانی اورسرپرستی کے لیے کثرت سے کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کے اطلاق کے لئے تارکین وطن کی نگرانی اور تخریب کاری کے لیے ہیومن رائٹس کی اصطلاحات استعمال کی جا رہی ہیں۔ مثلاً تارکین وطن کے حق نقل مکانی کو محدود کرنا جدید غلامی کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ 2015ء میں یورپی حکمرانوں نے اپنے ممالک میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کا جواز پیش کیا تھا کہ تارکین وطن کے خلاف ان کی بحری عسکری کارروائیاں جدید غلامی (human trafficking) کی روک تھام کے لیے کی گئی ہیں۔

امریکا اور یورپ میں امیگریشن کنٹرول کی صنعت کی نج کاری تیزی سے عمل میں آ رہی ہے۔ کمپنیوں کو تارکین وطن کے محصولاتی ادارے سپرد کیے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نجی شعبہ ریاستی حفاظتی نظام کا آلہ کار بن رہا ہے اور استبدادی جمہوری رجحانات کو تقویت دی جا رہی ہے۔ خلیج کے ممالک میں تارکین وطن کا کنٹرول عام ہے اور اس کی وجہ سے وہاں کا عام شہری ریاستی اشرافیہ کا ہم نوا بن گیا ہے اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

2015ء کے بعد سے افریقی عرب ممالک اور ترکی یورپی تارکین وطن کی تحدیدی پالیسی کے تنفیذی نظام کا جزو بن گئے ہیں ۔ یورپین سرحدوں کی حفاظت عرب ، ترک اور افریقی لاطینی امریکی ممالک کی فوج اور ریاستی انتظامیہ کر رہی ہے۔ اس بین الملکی تعاون سے عرب افریقی اور ترکی ممالک کی استبدادی ریاستیں مضبوط ہو رہی ہیں اور سامراجی نظام کا حصہ بن رہی ہیں۔ یہ سب ہیومن رائٹس کی فراہمی کے جواز کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ Europol European Police Agency آج ہیومن رائٹس کے فروغ کی ایک بہت اہم دعوے دار ہے۔

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

جن ملکوں مثلاً پاکستان، مصر، فلپائن وغیرہ سے بڑی تعداد میں تارکین وطن نقل مکانی کر گئے ہیں وہ ان تارکین وطن کے سالانہ ترسیل زر پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ آج دنیا میں تقریباً ایک ارب لوگ ترسیل زر کے اس کاروبار سے متاثر ہیں۔ کئی ممالک بشمول پاکستان ایک عام سال میں تارکین وطن کی ترسیل زر کی رقومات غیر ملکی سرمایہ کاری اور امدادی رقوم سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ رقوم خاندانی نظام کی بتدریج تباہی کی وہ قیمت ہے جو پاکستان عالمی سامراجی سرمایہ سے حاصل کرتا ہے لیکن یہ سرمایہ دارانہ بحران کی درآمد کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ اگر گلف کے ممالک میں تیل کی قیمتیں گرنے کے نتیجہ میں تعمیراتی صنعت متاثر ہوتو لاکھوں پاکستانی تارکین وطن بے روزگار ہو جائیں گے اور سعودی عرب اور امارات انہیں ملک بدر کر دیں گی،یوں خلیج کا بحران پاکستان میں منتقل ہو جائے گا۔ جولائی 2017ء میں سعودی عرب کے ایک سرکاری منصوبہ کے تحت گاہے گاہے دس لاکھ تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

عرب ممالک میں مقیم تارکین وطن کے سرمایہ دارانہ حقوق کی تحدید انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ وہ سرمایہ کے غلام تو ہیں لیکن حصول اجرت کے علاوہ اس بندگی کے تمام فیوض سے محروم ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ ریاست کے بندے “سٹیزن” نہیں بالواسطہ طور پر ان سرمایہ دارانہ کمپنیوں کے غلام ہیں جو انہیں عارضی ملازمتیں فراہم کرتی ہیں۔ اس کے باوجود ریاست ان کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔ سٹیزن شپ کے حقوق سے محرومی کا مطلب ہے قانونی نظاماتی اجنبیت۔ ان کے ”کفیل“ ان کے حاکم ہیں۔

تارکین وطن میں مسلط نظاماتی ظلم جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ خلیجی ریاستوں میں اس ظلم کے ذریعہ قومی آبادی (نیشنلز) کی تائید حاصل کی جاتی ہے کیونکہ نیشنلز تارکین وطن پرڈھائے جانے والے مظالم سے براہ راست مستفید ہوتےہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں ریاستی اشرافیہ کے نظاماتی تغلب کے ہم نوا بن جاتے ہیں۔ 2015ء سے لے کر آج تک یورپ کی امیگریشن پالیسی استبدادی خطوط پر مرتب کی جا رہی ہے۔ تارکین وطن کو یورپ کے لیے ایک معاشی اور ثقافتی خطرہ کے طور پر میڈیا اور حکومت پیش کر رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ہزاروں تارکین وطن بحر متوسط میں یورپی سمندری فوجی بیڑوں نے دبا دیے۔ لاکھوں تارکین وطن تعذیبی مراکز میں محبوس ہیں۔ ان کی نگرانی پولیس کے کتے کر رہے ہیں۔ وہ بھوکوں مر رہے ہیں۔ ان میں وبائیں پھیل رہی ہیں۔ وہ جیلوں میں بند کیے جا رہے ہیں جہاں انہیں کوڑے لگائے جا رہے ہیں۔ یہ سب ہیومن رائٹس تحکم قانون اور ہیومن رائٹس کی فراہمی کے جواز کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اور یورپی جمہوری عمل کا جزو لاینفک ہے۔ ان اعمال کو یورپی عوام کی مکمل تائید حاصل ہے اور فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، بلجیم، ڈنمارک، آسٹریا، پولینڈ، ہنگری وغیرہ کی کئی بااثر سیاسی جماعتیں امیگریشن پالیسی کو مزید سخت کرنے کی عوامی مہمات چلا رہی ہیں۔

امریکا میں جنوبی امریکا کے تارکین وطن سے اس ہی نوعیت کا سلوک جاری ہے۔ پناہ گزینوں کو سرحدی تعذیب خانوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ ماں باپ سے ان کے نوزائیدہ بچے چھینے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کی مستقل سراغ رسانی اور بے دخلی کا عمل جاری ہے اور ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ یہ بھی ہیومن رائٹس کے جواز کے ساتھ تحکم قانون کے تناظر میں کیا جا رہا ہے اور اس کو امریکی عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں ایک سخت امیگریشن پالیسی کی تنفیذ کے حق میں ہیں۔ اوباما نے ٹرمپ کے مقابلہ میں کہیں زیادہ غیر قانونی تارکین وطن امریکا سے نکالے۔

افغانستان، شام، عراق، لیبیا وغیرہ پر امریکی اور یورپی دہشت گردی نے پناہ گزینوں کا ایک سیلاب جاری کر دیا۔ اسی پناہ گزینوں کے بحران سے مستفید ہونے کے لیے سرمایہ دارانہ ممالک اور ان کی بین الاقوامی ایجنسیوں نے ایک ہمہ جہت حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ ان پالیسیوں کے ذریعے پسماندہ ممالک کی عالمی سرمایہ دارانہ محکومیت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بڑھایا جا رہا ہے۔ پناہ گزین افراد کو لبنان اور اردن میں نج کاری اور مارکیٹی مجہولیت (market liberalization) کی پالیسیاں اپنانے کا جواز بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی قرضہ اور امداد اسی شرط پر دی جارہی ہے کہ ملکی پالیسیاں لبرلائز کی جائیں گی۔ اس شرط کے ساتھ ورلڈ بینک،آئی ایم ایف، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک، یورپین انویسٹمنٹ بینک اور یورپین بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ پسماندہ ممالک کو سودی قرضہ دے رہے ہیں۔ پسماندہ ممالک کی معیشتوں کی لبرلائزیشن کو ایک انسان پرست (humanitarian) جواز دیا جا رہا ہے۔ پسماندہ ممالک کے بین الاقوامی قرضہ بے اندازہ بڑھ رہے ہیں اور ان پر عالمی حرام خور مارکیٹوں کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔

6.3۔ سامراج اور پسماندہ ممالک

عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی اکثریت پسماندہ ممالک پر مشتمل ہے([223])۔ بڑھوتری سرمایہ کا عمل لازماً ارتکازی ہوتا ہے۔ سرمایہ کھنچ کھنچ کر ایک مقام پر مجتمع ہوتا چلا جاتا رہتا ہے۔ لہٰذا جیسا کہ فرانسیسی کافر محقق Thomas Piketty نے کہا ہے نامساویت کا فروغ ایک سرمایہ دارانہ نظاماتی خصوصیت ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اگر نامساویت کو فی کس آمدنی کے پیمانہ پر ناپا جائے تو 1980ء سے لے کر 1995ء تک نامساویت ملکوں کے درمیان بڑھی ہے جس کے بعد وہ ایک اونچی سطح پر مستحکم ہو گئی۔ نامساویت کو ناپنے کایہ طریقہ درست نہیں کیونکہ نامساویت ملکوں کے درمیان کے علاوہ ملکوں کے اندر بھی فروغ پائی جاتی ہے۔ ایک اور کافر محقق Branko Milamovic نے دنیا بھر کی آبادی کو دس آمدنی گروہوں میں تقسیم کیا ۔ پہلے دس فیصد وہ جن کا مجموعی آمدنی کا حصہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ آخری دس فیصد وہ جن کا حصہ دنیا بھر کی آمدنی میں سب سے کم ہے۔ ان تخمینوں کے تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1988ء تا 2011ء تک عالمی آمدنی میں جو اضافہ ہوا اس کے نتیجہ میں اس دورانیہ میں امیر ترین ایک فی صد آبادی کی آمدنی 65 فیصد بڑھی۔ دنیا کے امیر ترین ایک فی صد آدھے سے زیادہ امریکی پائے گئے۔ امریکا کے بارہ فیصد امیر ترین افراد دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد میں شامل ہیں۔ 1988ء تا 2011ء تک عالمی آمدنی میں جو اضافہ ہوا ۔ اس کا 60 فیصد حصہ دنیا کے امیر ترین 5 فیصد افراد کو حاصل ہوا۔

Milanovic کی تحقیق کے مطابق انیسویں صدی کی ابتدا یعنی عالمی سرمایہ دارانہ غلبہ سے قبل تمام ایشیائی ممالک میں امیر اور غریب طبقہ کی آمدنی میں فرق صرف 20 فیصد کا تھا۔ ان کا معیار زندگی یکسا ں تھا۔ (امام اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ اور سلطان التتمش رحمہ اللہ علیہ غریب آدمی تھے جو ٹوپیاں سی کر اپنا گزر بسر کرتے تھے)

1988ء تا 2011ء کے عالمی آمدنی کے اضافہ کا صفر اعشاریہ 3 فیصد دنیا کے 5 فیصد غریب ترین افراد کے حصہ میں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دور حاضر میں بین الانفرادی آمدنی کی نامساویت بڑھ رہی ہے۔ لیکن بین الملکی نامساویت منجمد ہے۔ 1970ء میں امریکا کی فی کس آمدنی چین سے 20 گنا زیادہ تھی۔ 2018ء میں امریکی فی کس آمدنی چین کی فی کس آمدنی سے صرف 4 گنا زیادہ رہ گئی۔ بحیثیت مجموعی ایشیا کی فی کس آمدنی 1970ء کے مقابلہ میں 2015 ء میں 4 گنا بڑھ گئی۔

ان رجحانات کی نشان دہی سے ثابت ہوتا ہے کہ نامساویت انفرادی ممالک کے اندر بڑھ رہی ہے اور گو کہ کچھ سرمایہ دارانہ ممالک مثلاً چین ایشیائی شیر، خلیجی امارتیں، سرمایہ دارانہ ترقی کی دوڑ میں آگے نکل گئے ہیں بیش تر افریقی لاطینی امریکی اور ایشیائی ممالک اب بھی پسماندہ ہیں۔ تیسری دنیا دو حصوں میں منقسم ہو گئی ۔ چند ممالک سرمایہ کے عالمی چکر سے منسلک ہو گئے ہیں لیکن وہ بیش تر تیسری دنیا کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ نامساویت کی بڑھوتری کا یہ انداز سرمایہ دارانہ نظاماتی تعقل کا فطری اظہار ہے۔ امریکی کافر محقق Larry Bartels کے مطابق ارتکاز سرمایہ کا یہ طرز پوری دنیا میں استبدادی جمہوریت کو فروغ دے سکتا ہے۔ لیکن بین الانفرادی نامساویت کا بڑھنا سرمایہ دارانہ نظام کے لیے کوئی خاص خطرہ نہیں۔ سترھویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کئی سرمایہ دارانہ ممالک میں نامساویت کی سطح موجودہ سطح سے کم نہ تھی۔ Bartels کے مطابق جو سرمایہ دارانہ ممالک جتنا زیادہ امیر ہیں وہاں اتنی ہی بڑھتی ہوئی نامساویت کی سطح عوام قبول کرنے پر تیار ہوتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی قیام کے ابتدائی دور میں نامساویت بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ 1990ء کی دہائی میں سابقہ سوویت یونین کے ممالک میں اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کی قبر پر لبرل سرمایہ دارانہ نظام تعمیر کیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں اس دور میں سابقہ سوویت یونین میں تقریباً 40 لاکھ افراد افلاس، بے روزگاری اور بیماریوں کی زد میں آ کر مرے لیکن نظاماتی ساخت تبدیل ہو گئی اور عوام نے اس اندوہناک تبدل کے خلاف بغاوت نہ کی۔

یورپ اور امریکا میں انفرادی نامساویت کے بڑھنے کا ایک اثر وہاں کے غریب عوام کی صحت میں ابتری ہے۔ امیروں کی اوسط عمر بڑھ رہی ہے لیکن محنت کشوں کی اوسط عمر امریکا میں گر رہی ہے۔ غریبوں کی آمدنی میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن ان کا طرز خرچ غیر صحت مندانہ ہے۔ شراب نوشی اور تمباکو نوشی کی روک تھام کی مہمیں بری طرح ناکام ہو رہی ہیں۔ محنت کشوں کے صحتی زوال کے نتیجہ میں اقتصادی پیداوار کی سطح گر رہی ہے اور یہ مجموعی شرح نمو کے گرنے کا ایک اہم سبب ہے۔ اس ضمن میں سوشل ویلفیئر کا نظام نسبتاً ناکارہ ہے کیونکہ اس کے تحت غریبوں کو آمدنی تو فراہم کی جا سکتی ہے لیکن ان کا طرز خرچ متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ رائج شدہ طبی صنعت بھی جاہلیت خالصہ یعنی سائنس کا ایک شعبہ ہے۔ اس سے امراض دبائے تو جا سکتے ہیں ان کو مستقلاً شفا نہیں دی جا سکتی۔ ادویاتی صنعت نئے نئے جراثیم دواؤں کی شکل میں ایجاد کر رہی ہے۔ وبائیں پھوٹ رہی ہیں اور ان پر قابو پانے کے طریقے ناقص ہیں([224])۔

چند سرمایہ دارانہ ایشیائی ممالک نے 1970ء کی دہائی کے بعد سے نمایاں ترقی کی ہے۔ ان میں چین سرفہرست ہے لیکن جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور بھی شامل ہیں([225])۔کئی چینی، ہندوستانی اور جنوبی کورین کمپنیاں بین الاقوامی اجارہ دایاں بن گئی ہیں اور چینی، عرب، کورین اور افریقی ارب پتی بڑے پیمانے پر یورپ اور امریکا میں املاک اور کارپوریشنیں خرید رہے ہیں اور عالمی حرام خور مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق 2018ء صرف ”اسلامی“ بینکوں سے تقریباً تین ارب ڈالر عالمی حرام خور مارکیٹوں میں منتقل ہوئے ہیں۔ عیاشی کی صنعتوں آرٹ، سیاحت، میوزیم، موسیقی، رقص کے بہت بڑے بیوپاری اور خریدار چینی، عرب اور ہندوستانی ہیں۔ عرب، چینی اور کورین ارب پتیوں کے تجارتی اور خاندانی مقدمات یورپی اور امریکی عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ ہالی ووڈ میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ایک چینی ارب پتی نے کی ہے۔ چین کے سرمایہ کاروں نے بہت بڑے پیمانے میں یورپی اور امریکی آئی ٹی اور شراب کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ 2015ء میں عالمی عیاشی کی صنعت کی مجموعی فروخت میں چینیوں کا حصہ 44 فیصد تھا۔ 2018ء میں خلیجی عرب عالمی موسیقی کی صنعت (آلات، ریکارڈ وغیرہ) کے تیسرے نمبر کے سب سے بڑے خریدار تھے۔ چین اور بھارت نئی حرام خور (financial)ٹیکنالوجی کو دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے اپنا رہے ہیں۔

امریکن اور یورپی کمپنیاں چینی اور روسی کمپنیوں سے اشتراک عمل کر رہی ہیں۔ مثلاً 2018ء میں پتہ چلا کہ فیس بک اپنے ذاتی استعمال کرنے والوں کے کوائف روس کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کو فراہم فراہم کرتا رہا ہے۔ چینی اور امریکی کمپنیوں کا اشتراک عمل اب تو روز کا معمول بن گیا ہے۔

اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ چین ، بھارت، خلیجی عرب، روس، کوریا ، تھائی لینڈ اور تائیوان میں ایک ایسا عالمی سرمایہ کار گروہ قائم ہو گیا ہے جس کے مفادات یورپی، امریکی، جاپانی سرمایہ دارانہ نظم سے منسلک ہیں۔ سرمایہ داری کو ”مغربی “ تصور کرنا درست نہیں۔ سرمایہ داری حرص اور ہوس کی روحانیت اور اس روحانیت کی ادارتی تنظیم ہے۔ حرص اور ہوس کی عمومیت کی یہ وبا کہیں بھی پھیل سکتی ہے یعنی سرمایہ دارانہ جمہوریت خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، خواہ استبدادی کہیں بھی جڑ پکڑ سکتی ہے([226])۔

غیر مغربی سرمایہ کاروں کے ارب پتی گروہ کے عروج سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پسماندہ ممالک کا مغربی مرکزی حکومتوں اور مارکیٹوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ 2010-2008 اور 2020 کے بحرانوں نے تمام پسماندہ ممالک کو متاثر کیا۔ ان ممالک کو بھی جن کے توازن ادائیگی بڑے بڑے سرپلس سالانہ پیش کر تے ہیں مثلاً چین، جنوبی کوریا وغیرہ۔ تمام پسماندہ ممالک بشمول چین میں ان بحرانوں کے نتیجہ میں پیداواری شرح نمو میں کمی واقع ہوئی ہے۔

مدت دراز سے بیش تر پسماندہ ممالک نے برآمداتی حوصلہ افزائی کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے یہاں اجرتوں کو کم سے کم کیا تاکہ سستا مال اور اشیا برآمد کی جا سکیں اور بیرونی سرمایہ کاری پر سے ہر قسم کی پابندی ہٹا دیں۔ ان پالیسیوں کے انعقاد کے نتیجہ میں (اور سرمایہ کاروں کی کارفرمائی کے توسط سے ) سرمایہ بڑے پیمانے پر پسماندہ ممالک سے مرکزی ممالک اور مارکیٹوں کی طرف مستقلا منتقل ہوتا رہا۔ پسماندہ ممالک نے مرکزی ممالک کے حرام خور نظام (فنانشل سسٹم) میں کھربوں ڈالر محفوظات (ریزروز) کی شکل میں منجمد کر دیے ہیں اور ان ممالک کے محفوظات بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف مستقلاً زور ڈالتا رہا۔ آج چین کے تقریباً ایک ہزار پانچ سو ارب ڈالر کے محفوظات امریکی سرکاری تمسکات (ٹریژری بلز) کی شکل میں منجمد ہیں۔ اس ترسیل زر کے نتیجہ میں پسماندہ ممالک میں شرح سرمایہ کاری گری۔ چینی ترقی کا دارومدار امریکی مالیاتی نظام کی صحت پر بڑھتا چلا جارہا ہے۔

چونکہ پسماندہ ممالک برآمداتی افزائش کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں اور چونکہ ان کے برآمدات کا رخ مرکزی مغربی ممالک کی طرف ہے لہٰذا مغربی مرکزی ممالک کی درآمداتی مانگ پسماندہ ممالک کی رفتارِ ترقی کو بڑی حد تک متعین کرتی ہے۔ مرکزی ممالک میں درآمدات کی یہ مانگ قرضوں کی بڑھوتری سے وابستہ ہے (کیونکہ وہاں اجرتیں منجمد ہیں) اور جب 2010-2008 کا بحران آیا تو یہ درآمداتی مانگ گرگئی اور یوں بحران مرکزی ممالک سے پسماندہ ممالک میں منتقل ہو گیا۔

2008ء کے بحران سے آج تک پسماندہ ممالک پر آئی ایم ایف ، ڈبلیو ٹی او اور دیگر سامراجی اداروں کی گرفت مضبوط ہے اور وہ ان ممالک کو خود انحصاری معاشی پالیسیاں اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ توجہ اب بھی برآمدات کے فروغ، سرکاری بجٹ خسارہ کی کمی اورقومی اندرونی مانگ کو دبانے پر ہے۔ ان پالیسیوں کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں پسماندہ ممالک ایک ایسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے مزید نتھی ہوتے چلے جا رہے ہیں جو بحران یافتہ اور روبہ تنزل ہے۔ آئی ایم ایف کے اندازوں کے مطابق عالمی رفتار نمو 2020ء میں منفی اور 2021ء میں ایک یا دو فیصد رہنے کا امکان ہے۔2022 اور 2023 کے ائی ایم ایف کے شرح نموکے تخمینہ بھی مایوس کن ہیں

ایشیا کے چار پانچ ملکوں کے علاوہ تقریباً 150 پسماندہ ممالک کا مجموعی عالمی پیداوار میں حصہ 2008ء سے 2015ء تک تقریباً سات فیصد رہا۔ پھر نامساویت بھی اپنے عروج پر ہے۔ دنیا کی پانچ سب سے بڑی کپڑے بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایک سربراہ کی صرف چار دن کی اجرت ایک عام بنگلہ دیشی کپڑے کی صنعت کار مزدور کی پوری زندگی کی حاصل شدہ اجرت کے برابر 2017ء میں پائی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الملکی مساویت میں فروغ کا رجحان سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے ایک دوسرے کے قریب آنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

برآمدات پر انحصار سے پسماندہ ممالک عالمی منڈیوں کے قیمتی رجحانات سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ پسماندہ ممالک خام مال، زرعی اور معدنی اشیا اور سستی صنعتی اشیا برآمد اور مشینری اور ٹیکنیکل خدمتیں درآمد کرتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ سے لے کر آج تک خام مال کی قیمتیں گرنے اور مشینری وغیرہ کی قیمتیں بڑھنے کا ایک عام رجحان پایا جاتا ہے۔ 2012ء سے آج تک پسماندہ ممالک کی برآمدات کی قیمتیں ان کی درآمدات کی قیمتوں کے مقابلہ میں زوال پذیر ہیں اور بحیثیت مجموعی پسماندہ ممالک کا اوسط شرح تجارت گر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے ایک مشین درآمد کرنے کے لیے 100 ٹن کپاس برآمد کرنا پڑتی تھی تو اب ایک مشین درآمد کرنے کے لیے 150 ٹن کپاس برآمد کرنا پڑے گی۔ اس نوعیت کا استحصال سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کی کارفرمائی کے نتیجہ میں مستقلاً جاری ہے۔ اس رجحان کو تقویت پسماندہ ممالک کی اپنی برآمداتی اشیا کی قیمتیں اور برآمداتی صنعتوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی تنخواہیں کم کرنے کی پالیسیاں بھی تقویت دے رہی ہیں۔ 2012ء کے بعد سے آج تک پسماندہ ممالک کے برآمدات کی تقابلی قیمتیں صرف مرکزی ممالک کے ساتھ نہیں چین کے ساتھ بھی گری ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی انضمام کا ایک نتیجہ پسماندہ ممالک کے بین الاقوامی قرضوں میں بڑا اضافہ رہا ہے۔ تقریباً تمام پسماندہ ممالک عالمی حرام خور مارکیٹوں کے بڑے پیمانے پر مقروض ہیں۔ صرف بیرونی نہیں پسماندہ ممالک کے قومی (اندرونی) قرضوں میں بھی وسیع اضافہ ہوا ہے۔ 2010ء سے 2017ء تک چین کا مجموعی پیداوار اور مجموعی قرضہ ریشو دو گنا ہو گیا۔ قرضوں کی اس بڑھوتری کے سبب پسماندہ ممالک کی معیشت اور سیاسی نظام میں ملکی اور غیر ملکی حرام خوری کا اثر اور وزن بہت بڑھ گیا ہے۔

پسماندہ ممالک کا انحصار چین پر بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ چین کی تیز رفتار ترقی کے نتیجہ میں پسماندہ ممالک اور چین کی تجارت تیزی سے بڑھی ہے۔ چین نے پوری پسماندہ دنیا میں رسدی زنجیروں کاا یک وسیع جال پھیلا دیا ہے اوریہ رسدی زنجیریں مرکزی ممالک کے پیداوار ی اور تجارتی نظاموں سے منسلک ہیں۔ یوں چینی معیشت سے انضمام عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی انضمام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ چینی سرمایہ بھی بڑے پیمانے پر پسماندہ ممالک میں داخل ہوا ہے اور یہ سرمایہ کاری بھی عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی انضمام کا ایک ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔ چین موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نیولبرل خطوط پر کارفرمائی کا حامی اور وکیل ہےاور اس نظام کو مستحکم کرنے کا بار بار ارادہ ظاہر کرتا رہتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی انضمامی رجحانات ترقی پذیر ہیں ملکی سٹہ کے مارکیٹ آج جتنے integrated ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔ جو چند ایشیائی ممالک ترقی کر گئے ہیں وہ بھی اور بیش تر پسماندہ ممالک بھی عالمی سامراجی نظام سے قریب تر منسلک ہوتے جا رہے ہیں لیکن قوم پرست رجحانات کے عروج سے سامراج کو یقیناً خطرہ ہے۔ اگر قوم پرست رجحانات کے عروج کے نتیجہ میں لبرل سرمایہ دارانہ نظام منتشر ہوا اور امریکا اور چین میںتجارتی یا کسی اور نوعیت کی جنگ چھڑی (اور چین پوری کوشش کر رہا ہے کہ ایسا نہ ہو اور لبرل سامراجی نظام محفوظ رہے([227]))تو یہ شیرازہ بکھر سکتا ہے۔

چند لاطینی امریکی ممالک نے انیسویں صدی کے اخیر سے عالمی سرمایہ دارانہ سامراجی نظام میں علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حکمت عملی کی تنفیذ کا ذریعہ خام مال کے ذخائر (بالخصوص معدنیات) کا قومی تحویل میں لینا اور تیز صنعتی ترقی کرنے کی کوشش تھی۔ یہ حکمت عملی بار بار رد کی گئی ہے اور استبدادی جمہوریتوں نے اس کی جگہ نیولبرل سامراجی انضمامی حکمت عملی اپنائی ہے۔ آج صرف وینزویلا ، کیوبا (اور شاید نکاراگوا([228]))کی حکومتیں اس قوم پرست، نیم سوشل ڈیموکریٹ نیم اشتراکی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ ان حکومتوں کو منظم محنت کشوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ ان میں سے بیش تر حکومتوں نے لبرل دستوری ڈھانچہ میں محدود ترمیم کی مثلاً پیرو نے ارجنٹینا میں شاویز نے وینزویلا میں کوریا (Correa)نے اکیوڈور میں صرف کاسترو اور اس کے جانشینوں نے لبرل دستوری ڈھانچہ کو کلیتاً رد کر دیا۔ بولیویا میں قدیم باشندوں کے ادارتی نظام کو دستوری نظام میں شامل کرنےکی (ناکام) کوشش کی جو اب تقریباً کلیتا ً رد کر دی گئی ہے([229])۔

ریاستی خود مختاری کو فروغ دینے کی اس پالیسی کی ناکامی کے کئی وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ دستوری جمہوری ڈھانچہ کے برقرار رہنے کے نتیجہ میں ان ممالک میں (کیوبا کے علاوہ([230]))نجی سرمایہ کار اور گروہ سیاسی اور معاشی طور پر طاقت ور رہا اور امریکا سامراج کی بھرپور اعانت اور پشت پناہی کی بدولت مستقل تخریب کاری کرتا رہا۔ دوسرے یہ کہ یہ بائیں بازو کی حکومتیں ایک تضاداتی اتحاد پر مشتمل تھیں۔ اس اتحاد کے دو فریق تھے۔ ایک قدیم باشندے اور دوسرے اشتراکیت سے متاثر سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی تنظیمیں([231])۔ ان دونوں کے اہداف مختلف ہیں۔ اشتراکی تیز رفتار سرمایہ دارانہ قومی ترقی کے خواہاں ہیں جب کہ قدیم باشندوں کا مقصد اپنی اراضی کا تحفظ اور اپنے قدیم رسوم و رواج اور تہذیبی ادارتی صف بندی کا فروغ ہے۔

ظاہر ہے کہ قدیم ادارتی صف بندی اور طرز زندگی سرمایہ دارانہ نظاماتی تسلط (خواہ اشتراکی، خواہ لبرل) کے تناظر میں نہیں پنپ سکتی۔ اشتراکی سرمایہ داروں نے لاطینی امریکی ممالک کی تیز رفتار سرمایہ دارانہ ترقی کو ممکن بنانے کے لیے معدنی دولت سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ یہ معدنی وسائل قدیم قبائلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کو نکالنے کے لیے ملٹی نیشنل اور قومی معدنی اجارہ داریوں کی ملکیت ان قدیم علاقوں میں مسلط کرنے کی ناگزیر ضرورت پڑی۔ اشتراکی سرمایہ داروں کی حکومتوں نے ان اجارہ داریوں کے تسلط کو قائم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بولیویا، پیرو اور ایکواڈور وغیرہ میں قدیم باشندوں کو بے دخل کیا اور یوں قدیم قبائل سے ان کا سیاسی اتحاد کمزور سے کمزور ہوتا چلا گیا۔

اشتراکی سرمایہ دارانہ حکومتوں نے عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں سے اپنا ناتا نہ توڑا۔ ان میں جو ترقی ہوئی اس کا کلی انحصار معدنی اور زرعی برآمدات کی بڑھوتری پر رہا۔ انہوں نے جن ملٹی نیشنل کی ملکی شاخوں کو قومیایا ان کے مرکزی نظام سے کاروباری تعلقات استوار کیے رکھے۔ لہٰذا ان کی قومی اجارہ داریاں بھی اپنی بین الاقوامی تجارت کے لیے بین الاقوامی ملٹی نیشنل اور عالمی مارکیٹوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کا نجی سرمایہ دارانہ شعبہ عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام سے نتھی رہا لبرل سامراج کی اشتراکی پالیسیوں اور ادارتی صف بندیوں کی اس کی تخریب کاری کی صلاحیت مستقل بڑھتی رہی۔

اشتراکی سرمایہ دار حکومتوں کی ناکامی کا سب سے اہم سبب یہ تھا کہ جس عوامی تائید کی بنیاد پر یہ حکومتیں قائم ہوئی تھیں وہ معدوم ہوتی چلی گئی۔ اس عوامی تائید کا سبب وہ فلاح عامہ کے اقدامات تھے جن کا اشتراکی سرمایہ داروں نے وعدہ کیا تھا۔ جب تک معدنیات (بالخصوص تیل اور تانبے) اور زرعی اشیا کی عالمی قیمتیں بڑھتی رہیں، اشتراکی سرمایہ دار ریاستوں کو وافر وسائل حاصل ہوتے رہے اور ان وسائل کو نہایت فراخ دلی سے عوامی بہبود کو فروغ دینے کے لیے خرچ کیا جاتا رہا۔ اس دور میں وینزویلا، کیوبا، بولیویا، ایکواڈور وغیرہ میں غربت تیزی سے گری۔ عام آدمی کی سطح زندگی بلند ہوئی، صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی نے خوب ترقی کی۔ لیکن ان ممالک کی عالمی سرمایہ دارانہ انحصاریت کم نہ ہوئی۔ کوئی ملک بھی انڈسٹریلائز نہ ہو سکا اور جب تیل اور دیگر معدنیات اور زرعی اشیا کی بین الاقوامی قیمتیں گریں تو لاطینی امریکی اشتراکی سرمایہ دار حکومتیں شدید بحران کا شکار ہو گئیں۔ وہی عوام جو ان کے پشتیبان تھے ان سے متنفر ہو گئے اور کیوں نہ ہو عوام سے وعدہ ہی معیار زندگی میں بہتری کا کیا گیا تھا۔ جب یہ وعدہ پورا کرنا ناممکن ہو گیا تو عوامی تائید برقرار نہ رہی اور جمہوری عمل کے ذریعہ ہی اشتراکی سرمایہ دارانہ حکومتوں کی بساط لپیٹ دی جانےلگی۔

اسلامی ایران بھی تیل کی عالمی قیمت کے گرنے سے شدید متاثر ہوا ہے۔ ایران پر ایک مدت تک جتنی سخت پابندیاں عائد کی جاتی رہیں ویسی کسی لاطینی ملک (سوائے وینزویلا ) پر عائد نہ کی گئیں۔ اس کے باوجود ایرانی معیشت مستحکم ہے اور جمہوری عمل کا استعمال سامراجی تخریب کاری کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلابی قیادت نے کبھی بھی عوام کو دنیا میں جنت بنانے کی دعوت نہ دی۔ انہوں نے عوام کی مذہبیت کو ابھارا۔ شوق شہادت کو مہمیز دیا۔ جب تک فقہائے عظام اور علمائے کرام درویشانہ زندگی اختیار کیے رہیں گے عوام ان کی تقلید کرتے رہیں گے اور سامراج کے تخریب کاری کے مواقع معدوم ہوتے چلے جائیں گے۔

جوانو قابل تقلید ہے اقدام عالم کا
جبیں لوح غیرت پر لکھا ہے نام عالم کا

انقلاب اسلامی کے بعد سے آج تک ایران نے قومی معیشت کے فروغ پر ، برآمدات پر نہیں، زور دیا ہے اور تیز رفتار صنعت کاری ایرانی پالیسی کا اہم ترین جزو ہے۔ آئی ٹی کے شعبہ میں بالخصوص ایران نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ بقول Peter Frankopan حیرت کی بات ہے کہ دنیا میں تیز ترین ترقی کرنے والا آئی ٹی مرکز ایران میں ہے ۔ سینکڑوں آئی ٹی کمپنیاں کارفرما ہیں۔ اس کے علاوہ نت نئے زرعی پیداواری طریقے، میڈیکل آلات اور کپڑے کی صنعت کی مشینری میں اختراعات کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان اختراعات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عام ہے([232])۔

سامراجی دنیا دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ابھی تک دنیا میں کچھ حقیقی کالونیاں بھی باقی ہیں۔ فلسطین، پورٹوریکو، عراق، مشرقی ترکستان، تبت، فلسطین ،کشمیر جن پر سامراج براہ راست حکومت کرتاہے۔ اس کے علاوہ بیش تر ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکا میں ایسی ”آزاد“ ریاستیں قائم ہیں جو کسی نہ کسی حد تک سامراج کی باج گزار ہیں([233])۔ان ممالک پر سامراجی غلبہ صرف عسکری اور سیاسی نہیں تہذیبی اور ثقافتی بھی ہے۔ مغربی تعلیم (جاہلیت خالصہ) ، میڈیا، موسیقی، فحشیات ان نیم کالونیوں کی معاشرت پر چھائی ہوئی ہیں۔ باقاعدگی سے ہر سال لاکھوں مغربی تاجر، سیاح، صحافی، مشنریز، فوجی، سفیر، اراضی کے سٹہ باز وغیرہ نیم کالونیوں میں آتے رہتے ہیں اور ان کو خوش رکھنے کے لیے مقامی خدمت گاروں کی ایک فوج ظفر موج ہر وقت مستعد رہتی ہے۔ نیم کالونیوں کی فکری، سیاسی اور معاشی اشرافیہ اور سامراجی پیشہ وروں اور اہل کاروں میں تعاون اور اشتراک عمل معمول بن گیا ہے۔ نیم کالونیوں کی اشرافیہ صدق دل سے ماڈرنائزیشن پر ایمان لے آئی ہے۔ یہ سامراجی باج گزار اشرافیہ نظریاتی طور پر ، لبرل، اشتراکی، قوم پرست سوشل ڈیموکریٹ اور انارکسٹ ہوتے ہیں۔ راسخ العقیدہ مسلمان، ہندو، عیسائی یا یہودی نہیں ہو سکتے۔ ان میں جو جذباتی طور پرہندو مسلمان اور یہودی شامل ہیں وہ سرمایہ داری کی ایک مذہبی تشریح پیش کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں ریشنیلٹی اصل عقلیت ہے جاہلیت خالصہ نہیں۔

یہ نیم کالونیل اشرافیہ مغرب کے مقابلہ میں احساس کمتری کا شکار ہے۔ اس کو اس بات کا احساس ہے کہ جمہوری عمل کے ذریعہ اس کو اس نوعیت کا معاشرتی تغلب حاصل نہیں جو مغربی سرمایہ دارانہ اشرافیہ کو حاصل ہے۔ سرمایہ دارانہ آدرشوں میں مذہبی پیوندکاری نیوکالونیل اشرافیہ سرمایہ دارانہ نظام کو قابل قبول (یا قابل برداشت) بنانے کے لیے کرتی ہے۔ نیوکالونیل اشرافیہ کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام قومی بھی ہو سکتا ہے اور مثال کے طور پر ہندوتوا سرمایہ داری امریکی یا چینی سرمایہ داری سے ممیز اور برتر ہے لیکن یہ سب سرمایہ دارانہ نظام ہی ہیں کیونکہ ان کا ہدف اعلیٰ فروغ آزادی ہے۔ ان کا تعقل ریشنیلٹی (خود غرضانہ عقلیت ) ہے اور معاش کو زندگی کے تمام دیگر شعبوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کا کلیدی مفروضہ یہ ہے کہ معاشی مسئلہ دائمی ہے، دنیا میں ہر جگہ اور ہروقت یہ مسئلہ مقدم رہا ہے([234])۔حیات اصلاً ایک مادی عمل ہے اور ہر فرد اپنی حیات کو ابدی تصور کرنے پر مجبور ہے۔

نیم کالونیوں کی ریاستی اور فکری اشرافیہ ان ممالک کے غیر مشروط حاکم نہیں کسی نہ کسی درجہ میں اور کسی نہ کسی حد تک۔ کہیں زیادہ کہیں کم عالمی سرمایہ دارانہ سامراج کے غلام ہیں۔ ان کی یہ غلامی تقابلی (relative) ہے کچھ غلام - نہرو، سوئیکارنو، کاسترو، ہوچی منہ – سرمایہ کے کسی مخصوص مرکز (امریکا، چین، روس، یورپ) کے خلاف بغاوت بھی کر سکتے ہیں عموماً دوسرے سرمایہ دارانہ مراکز کی اعانت کی بدولت لیکن چونکہ یہ سب سرمایہ کے عقیدت مند وفادار ہیں لہٰذا ان کی تقابلی خود مختاری لازماً محدود ہے اور مرکز کی طرح نیم کالونیوں اور کالونیوں پر بھی سرمایہ دارانہ تحکم ہی ہے۔ اس نظام میں عظیم قوتوں – امریکا اور چین ([235])– اور اس کی اشرافیہ کی حیثیت مقدم ہے اور نیو کالونیز کے حکمران ان کے سفیر اور ایلچی ہیں۔ جیسے رومن ایمپائر کے دور میں ہوا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کی کوئی عالمی ریاست قائم نہیں اور سرمایہ دار عالمی نظام (بشمول سامراج) مجہول ہے۔ بہرصورت نیم کالونیل دنیا پر عالمی سرمایہ کاتحکم اسی غلام اشرافیہ کے توسط سے مسلط کیا جاتا ہے۔

6.4۔ سامراجی دہشت گرد نمبر1 – ریاست ہائے متحدہ امریکا

امام خمینی نے فرمایا ”ہر امریکی شیطان بزرگ ہے“۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کا قیام تاریخ انسانی کا سب سے الم ناک واقعہ ہے۔ اس ذلیل و خبیث قوم نے کروڑوں انسانوں کو قتل کیا ہے اور اس کی عالمی لوٹ مار کی تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ دنیا کی پہلی سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست ہے اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بھیانک درندگی کی مکمل تصویر امریکا ہی پیش کرتا ہے۔

سولھویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی تک امریکا نے تقریباً آٹھ کروڑ قدیم باشندوں کو قتل کر کے ایک پورے براعظم پر قبضہ جما لیا۔ اس وقت سے آج تک امریکی استعمار وسعت پذیر ہے۔ آج امریکی استعمار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور گلوبلائزیشن اس کا آلہ کار ہے۔

ابتداءً امریکی وفاق (فیڈریشن) تیرہ ریاستوں پر محیط تھا جو براعظم کے مشرقی علاقہ میں پھیلی ہوئی تھیں اور ان میں تحکم شروع ہی سے جمہوری خطوط پر مرتب کیا گیا تھا۔ جیسے جیسے قدیم باشندےقتل کیے جاتے رہے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جاتا رہا ویسے ویسے یہ جمہوری تحکم پھیلتا رہا ۔ یہ جمہوری عمل سفید فاموں تک محدود تھا اور سفید فام جمہور اس استعماری توسیع کے پرزور سپاہی ہر دور میں رہے اور آج بھی ہیں۔ جمہوری عمل میں قدیم باشندوں اور افریقہ سے اغوا کیے گئے غلاموں کا کوئی حصہ نہ تھا۔

براعظم سے باہر بھی امریکا نے کالونیاں بنا لیں۔ ان کالونیوں کو territories کہا گیا۔ ان territories کے باشندے بھی امریکی جمہوری نظام میں سٹیزن نہ گردانے گئے ان پر بھی سفید فام جمہور کا تسلط قائم رہا (اور ہے)۔ ان territories میں کیوبا، فلپائن، پورٹوریکو اور بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس میں 93 جزیرے شامل رہے ہیں۔ اس کے برخلاف اسپین اور میکسیکو کی جنگوں سے حاصل شدہ وسیع فتوحات اور مقبوضات میں سفید فاموں کا سیلاب بہت جلد آ گیا۔ اور یہ علاقہ بھی جمہوری نظم ریاست میں شامل کر لیے گئے۔

دوسری جنگ کے بعد نئی امریکہ کالونیاں بنانے سے پرہیز کر رہا ہے ۔ سرد جنگ کے دور میں اور آج بھی امریکا جمہوریت کے فروغ کاسب سے بڑا دعوے دار ہے۔ اس کے نظاماتی تحکم کی توجیہ جمہوری اقدار کی وکالت سے ہوتی ہے۔ ان حالات میں ایسی نئی کالونیاں بنانا جہاں جمہوری عمل محدود یا معطل ہو امریکا کے لیے باعث شرم ساری ثابت ہوتا ہے۔ پھر آج گلوبلائزیشن کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں امریکا کو نئی کالونیوں کی ضرورت نہیں رہی۔ گلوبلائزیشن کے ذریعہ امریکا نے پوری دنیا میں نیم کالونیوں کا ایک وسیع جال پھیلا دیا ہے۔ یہ نئی نیم کالونیاں امریکی بحری بیڑے اور فوجی اڈوں کی قیام گاہیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نیم کالونیاں حرام خور نظام کے ذریعہ بھی امریکی استعمار میں سمو دی گئی ہیں۔ ان کالونیوں اور نیم کالونیوں کو پرخطر سائنٹفک تجربات کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً پورٹوریکو میں ہزاروں افراد کی نس بندی مانع حمل صنعت کو فروغ دینے کے لیے کئی سال تک امریکیوں نے جاری رکھی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکیوں نے فلپائن([236]) میں وسیع پیمانہ پر جنگی تجربے کیے جس کی وجہ سے لاکھوں فلپائنی مارے گئے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی جغرافیائی استعمار نے نکتوں (points)کی شکل اختیار کررہا ہے۔ یہ نکتہ امریکی فوجی اڈے ہیں جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ٹیکنیکل اختراعات نے ممکن بنا دیا کہ امریکی عسکری قوت چند مقامات پر مجتمع کر کے پوری دنیا پر امریکی ریاستی تسلط کی تنفیذ کی جاسکے۔ یہ نکتے(points) پوری دنیا میں امریکی سیاسی قوت کو پھیلا کر امریکی عالمی بالادستی کو مستحکم کرتے ہیں۔ یہ نکتے خود ان معنوں میں استعماری نہیں جیسے انیسویں صدی کے کالونیل نظام ہوا کرتے تھے بلکہ عالمی امریکی استعمار کی ہیئت سازی کا ذریعہ ہیں۔ ان نکتوں کے وجود کا جواز نظریہ قومی تحفظ کی ضرورت پیش کرتا ہے۔

دورِ حاضر کے امریکی استعماری نظام میں صرف فوجی اڈے ہی شامل نہیں۔ اس نظام میں باج گزار ریاستیں بین الاقوامی معاہد ے ریاستیں بھی اور ادارے بھی نیم کالونیاں اور کالونیاں بھی شامل ہیں۔ امریکی نظام استعمار کی ہیئت نہایت پیچیدہ اور گنجلگ ہے لیکن اس کا مقصد بالکل واضح ہے یعنی مارکیٹوں اور عسکری مقامات پر کنٹرول کا حصول ۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی بحرالکاہل اور بحر منجمد پر امریکا اپنی عسکری گرفت آج بھی نہایت مضبوطی سے قائم کیے ہوئے ہے۔

امریکا نے بیسویں صدی میں کئی ممالک پر عسکری قبضہ کیا ہے۔ ڈومینکن ریپبلک، نکاراگوا، ہیٹی، جرمنی، اٹلی، جاپان، افغانستان، عراق وغیرہ۔ لیکن کبھی ان علاقوں کو اپنی ریاست میں ضم نہیں کیا۔ اس نے ہر جگہ اپنے مقبوضہ علاقہ کے ملکی نظام تحکیم کو جمہور ی خطوط پر منظم کرنے کی کوشش کی اور اس کے ذریعہ ان ممالک پر اپنی باجگزار غدار اشرافیہ کو اقتدارمیں لایا یعنی ان نیم کالونیوں میں امریکا ان مقامی پٹھوؤں کے ذریعہ حکومت کر رہا ہے جو اس کی عسکری قوت کے بل بوتے پر اپنے ملکوں میں حکمران بنا دیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام ممالک میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

امریکی نظاماتی برتری اور تغلب کی چار جہتیں ہیں۔

1۔ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے فوجی اڈے جو نیوکلیئر تجربات اور عسکری کارفرمائی کا محور و مرکز ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے جزیروں اور نیم کالونیوں میں قائم ہیں۔ ان میں امریکی کالونیاں بھی شامل ہیں اور نیم کالونیاں بھی جیسے جاپان لیکن ہر جگہ یہ اڈے امریکی تحکم کے زیر سایہ ہیں اور مقامی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

2۔ ایک تزویراتی بین الملکی سیاسی اتحادوں کا نظام جس کا مرکزی ادارہ نیٹو ہے اور اس میں متعدد دو فریقی، سہ فریقی سیاسی اور اقتصادی ادارے بھی شامل ہیں اور یہ امریکی عسکری قوت کے زیر سایہ کام کر رہے ہیں۔

3۔ عالمی حرام خور مارکیٹی نظام جس کی مینجمنٹ کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک امریکی مرکزی بینک نے سنبھالی ہوئی ہے۔

4۔ خام مال بالخصوص تیل اور گیس کی مارکیٹیں جو عالمی حرام خور مارکیٹی نظام سے منسلک ہیں اور جن کی نگرانی بھی کسی نہ کسی حد تک امریکا کرتا رہتاہے۔

ان چار جہتوں کو ایک مربوط خارجہ پالیسی میں سمونا ایک تضاداتی عمل ہے اور اس تضاد کے نتیجہ میں امریکا عموماً اپنے نظاماتی تحکم کو فروغ دینے میں کامیاب نہیں ہوتا اور اس کا مدمقابل چین اس کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

6.5۔ سامراجی دہشت گردی میں امریکہ کا کردار

1945ء سے لے کر 2020ء تک امریکی افواج نے 67 ممالک پر بڑے 224 حملے کیے ہیں۔ اس کے آٹھ سو سے زائد فوجی اڈے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ امریکی فوجی روابط کئی بین الاقوامی عسکری اتحادوں کو مربوط کرتے ہیں۔ امریکی مقبوضہ جزائر فوجی اسلحہ کے ذخیرے، حملوں کے لانچنگ پیڈ، عسکری لیبارٹریوں اور منصوبہ بندی کے مراکز ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے حلیف باج گزار ممالک (سعودی عرب، امارات، قطر، مصر) کو امریکی فوج نے بحری اور ہوائی کیرئیر بنا دیا ہے جہاں سے وہ عالمی مواصلاتی نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتاہے۔ دہران کی آدھی آبادی امریکی شہریوں پر مشتمل ہے۔ امریکی فوج اپنی بزدلی اور ظلم کے لیے دنیا میں مشہور ہے۔ وہ افغانستان سے ایک پٹے ہوئے کتے کی طرح بھاگ گیا لیکن اس نے وہاں پانچ سو ملین ٹن کے نیپام بم گرائے۔ امریکی ہوائی فوج کی ٹیکنالوجی بے مثال ہے اور بری اور بحری فوج کا ہوائی فوج پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ خلیجی جنگ میں وقتی کامیابی کا سبب گلوبل پوزیشننگ سسٹم اور سمارٹ بم باری کا استعمال کرنا تھا۔ امریکی فضائیہ نے عراق پر حملے جزیرہ نمائے عرب ہی سے کیے۔ اس دوران امریکا نے پورے جزیرہ نما کو ایک بہت بڑا فوجی، ہوائی اور بحری بیس بنا دیا۔ یہ بیس آج بھی قائم ہے اور امریکی فوجی عرب دنیا کے قلب میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہود و نصاریٰ کو جزیرہ سے نکال دو ، اب اس حکم کی تعمیل کون کرے گا؟

امریکا کی دہشت گردانہ جنگ وہ چیدہ چیدہ ملکوں ،افغانستان، عراق، شام، مغربی افریقا اور لاطینی امریکا کے چند ممالک میں جاری ہے اور اس کا دارومدار اسی ٹیکنالوجی پر ہے جو اس نے عراقی جنگ میں استعمال کی تھی۔ آج امریکا بڑےملکوں سے جنگ نہیں لڑتا۔ چین کا کیا سوال وہ تو وینزویلا، کیوبا، بولیویا او رایران تک پر بھی حملہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے دستے حلیف ملکوں (پاکستان، یوکرائیں ،صومالیہ، لیبیا) میں حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے شکار نہتے عام شہری ہوتے ہیں۔ امریکی سی آئی اے کے مطابق اوباما کے دور میں پاکستان میں ڈرون حملوں میں تقریباً تین ہزار شہری شہید کیے گئے۔ حلیف ممالک کی حکومتیں لاچار تماشائی بنی رہتی ہیں اور ان کی حاکمیت اعلیٰ کے دعووں کی دھجیاں اڑتی رہتی ہیں۔

لیکن دہشت گرد جنگ لڑنے کی یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ہو رہی ہے۔ اس کا مقبرہ افغانستان میں بن چکا ہے جہاں امریکی دہشت گردوں اور ان کے غدار ملکی جاسوسوں کو پسپائی پر پسپائی اٹھانی پڑ ری ہے۔ جی پی ایس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ افواج اور سیاسی تنظیموں کا دائرہ اثر محدود کیا جا سکتا ہے۔ شوق شہادت سے معمور مجاہد آگے ہی آگے بڑھتے رہتے ہیں بشرطیکہ انہیں علاقہ کی عوام کی تائید اور نصرت حاصل ہو۔ امریکی بزدل افواج اپنے بیس اور کیمپوں میں مقید ہوتے چلے جاتے ہیں اور مجاہدین سے مقابلہ کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ عراق میں امریکی فوجی ریپبلکن پیلس کے ارد گرد گرین زون میں محصور ہیں۔

لیکن عراق اور افغانستان میں ایک بنیادی فرق ہے۔ افغانستان میں طالبان کو عوامی تائید حاصل ہے۔ عراق اور شام میں مسلم امہ میں تفرقہ پھوٹ پڑا ہے اور شیعہ اور سنی آپس میں برسرپیکار ہیں اور بحیثیت مجموعی عراق میں شیعہ حلقے اور ان کی مذہبی قیادت امریکا کے نافذ کردہ جمہوری نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس وجہ سے عراق پر امریکا کی سیاسی عسکری گرفت مضبوط ہے اور عراقی ریاستی قیادت کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ جب اس نے امریکی افواج کے انخلا کی 2019ء میں گزارش کی تو امریکی وزیر خارجہ نے اس کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور عراقی سرکار کچھ نہ کر سکی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجاہدین کی کامیابی کا انحصار اتحاد نصرت الہٰی اور حصول تائید عوام پر منحصر ہوتا ہے۔

عوامی مزاحمت کےنتیجہ میں ”مہمان نواز“ ممالک میں امریکی فوجی اڈے خالی بھی کروائے جاتے رہے ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں ہوائی تک میں عوامی پرامن تحرک کے ذریعہ ایک امریکی فوجی اڈہ بند کیا گیا۔ اسی بنیاد پر 1992ء میں فلپائن میں امریکی فوجی تنصیبات کو ختم کرایا گیا۔ پورٹوریکو میں اسی طرح 2003ء میں امریکی فوجی اڈہ بند کیا گیا۔ 2005ء میں ازبکستان نے امریکی ہوائی اڈے بند کیے۔ 2009ء میں کرغستانی عوام کے احتجاج کے نتیجہ میں امریکی اڈے بند کیے گئے۔

امریکی دہشت گردی کی جنگ کا ایک ہتھیار اذیت کاری (ٹارچر) اور ناکہ بندی بھی ہے۔ مبینہ گوریلوں کی اذیت کاری، ریاستی مخبری اور گرفتاریاں امریکا اور اس کے حلیف ممالک میں ایک وبا کی طرح پھوٹ پڑی ہیں اور اب تو امریکا کی خفیہ ریاستی ایجنسیوں کا نظم پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ سی آئی اے نے 2000ء کے بعد سے سینکڑوں مبینہ گوریلے مصر، ازبکستان، اردن اور مراکش کے عقوبت خانوں میں منتقل کیے ہیں۔ جن ممالک کی حکومتیں ان کی بدترین اذیت کاری کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ گوانتاناموبے اور ابوغریب اور دیگر ”سیاہ علاقوں“ میں قیدیوں کو اذیت دینا سرفہرست ہے۔ امریکی وحشی درندے قرآن مجید کو پیروں تلے روندنے اور مقدس صحائف کو غلاظت میں ڈبونے کا عمل انجام دیتےہیں۔

امریکا ایک ذلیل، خبیث اور بزدل قوم ہے۔ دہشت گردی کی جنگ وہ اپنے باج گزارحلیفوں کے تعاون کے بغیر نہیں لڑ سکتی۔ یہ پٹھو اپنے ممالک (مصر، کولمبیا، ازبکستان) میں امریکی فوج کے لیے مبینہ گوریلوں کو سخت ترین اذیت بھی دے رہے ہیں۔ اپنے عوام کی ناکہ بندی اور مخبری بھی کر رہے ہیں۔ اپنے فوجی مروا بھی رہے ہیں اور امریکی بھیک کے سہارے اپنے رائے عامہ کو امریکی دہشت گردی جاری رہنے کو قبول /برداشت کرنے پر تیار بھی کر رہے ہیں۔ یہ دورِ حاضر کا عالمی جمہوری عمل ہے اور یوں امریکی اقدار کو آفاقی کہا جا رہا ہے۔ امریکا کے ذلیل اور خبیث اور بزدل عوام اس عمل کی بھرپور تائید کر رہے ہیں۔ ہر امریکی حکومت اپنے سامراجی ایجنڈے پر عمل درآمد کرتی رہتی ہے اور اس میں اس کو بھرپور عوامی تائید حاصل رہی ہے۔ مثلاً اوباما کی حکومت نے چار جنگیں مسلم دنیا میں جاری رکھیں۔ دو اعلانیہ جنگیں (عراق اور افغانستان میں) اور دو غیر اعلانیہ جنگیں (پاکستان اور صومالیہ میں)۔ اوباما لیبیا پر حملہ آور ہوا اور شام میں اپنے پٹھو سیاسی اتحاد کو ہتھیار، قوم اور مواصلت کی سہولتیں فراہم کیں۔ یمن میں سعودی دہشت گردی کی پشت پناہی کی اور بڑے پیمانہ پر امریکی ہتھیار سعودی اور امارتی فوجوں کو پہنچے۔ اوباما نے اپنی جنگی دہشت گردی کو انسان پرست مداخلت کا نام دیا۔ اسرائیل اور مصر کو مجاہدین فلسطین کو کچلنے کے لیے ہتھیار اور رقوم فراہم کیں۔ یمن میں تخریب کاری کے ذریعہ ایک پٹھو سرکار مسلط کی ۔ امریکانے نیوکلیئر صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیا۔ کیوبا کی ناکہ بندی جاری رکھی اور گوانتا ناموبے پر قبضہ مستحکم کیا۔ ان تمام کارروائیوں کے نتیجہ میں اوباما کی عوامی مقبولیت مستقل بڑھتی ہی رہی۔

ٹرمپ اوباما کا جا نشین تھا۔ کم از کم جہاں تک اس کی سامراج نوازی کا سوال ہے ٹرمپ کا نعرہ تھا ”امریکا کو دوبارہ عظیم بناؤ“۔ وہ بھی امریکی فوج اور نیوکلیئر تنصیبات پر بے دریغ خرچ کرتا رہا ۔ اس کے دور میں امریکا کے آٹھ سو سے زائد سمندری اور زمینی اڈے پھلتے پھولتے رہے ہیں۔ اس کے عوامی ہم نوا دہشت گردی اور عالمی تسلط کے فروغ کے پرزور حامی ہیں۔ ان میں سے سب سے آگے صہیونی اورتبلیغی عیسائی (Evangalist)ہیں جنہوں نے امریکا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت (ریپبلکن پارٹی) پر قبضہ کر لیا ہے۔

لیکن ٹرمپ ایک قوم پرست ہے۔ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے اس کے خیال میں ضروری تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو امریکی برتری کے حصول کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ وہ نیٹو کا مخالف نہیں لیکن اس چیز کی کوشش کر رہا تھا کہ امریکا میں نیٹو میں کیے جانے والے اخراجات میں کمی ہو اور یہ بوجھ جرمنی، فرانس اور ترکی وغیرہ اٹھائیں۔ وہ جو معاہدہ توڑ رہا تھا ، روس اور ایران سے ان کی ترتیب نو کی کوشش کرتا تھا جیسا کہ نافٹا معاہدہ کی ترمیم سے واضح ہوتا ہے۔ اس نے امریکی فوجی اخراجات کو تین گنا بڑھانے کا 2017ء میں وعدہ کیا تھا۔

اوباما، اس کے پیش واؤں اور ٹرمپ کی پالیسیوں کی مماثلت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی سامراج کو فروغ دینا امریکی جمہوری ریاست کی کارفرمائی کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڈن بھی فوجی اخراجات بڑھانے اور امریکی عالمی عسکری فوجی تغلب کو فروغ دینے کے وعدے کر رہا ہے اور یہ حرام خور دوبارہ صدر منتخب ہوکر امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادی تبدیلی نہیں کرے گا۔ امریکی سامراجی حکمت عملی پر دو جماعتی(bipartisan) اتفاق ہے۔ اس کو دونوں بڑی جماعتوں (ڈیموکریٹ اور ریپبلکن) کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے کیونکہ امریکی ذلیل اور خبیث عوام اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ امریکی جمہوریت اپنی پوری تاریخ میں قدیم باشندے، فلپائنیوں، ویت نامیوں، عراقیوں، کمبوڈیوں، شامیوں اور افغانیوں کا خون پیتی رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خون کی یہ پیاس بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہی امریکی اقدار کے عالمی پھیلاؤ کا عملی اظہار ہے۔

امریکی عالمی تسلط کے تین پہلو ہیں۔ سیاسی جس کا ذریعہ عسکریت ہے۔ معاشی جو عالمی حرام خور مارکیٹوں کے ذریعہ سے قائم ہوتی ہے اور ثقافتی جس کا سرچشمہ میڈیا اور اس سے ملحقہ صنعتیں ہیں۔ امریکی عسکری اور اقتصادی تغلب کسی نہ کسی حد تک زوال پذیر ہے۔ گوریلوں نے کئی مقامات (ویت نام، کیوبا، افغانستان، مغربی افریقا) پر امریکی اور فرانسیسی افواج کو پسپا کیا ہے اور کچھ ممالک (چین، شمالی، کوریا، وینزویلا، ایران) پر امریکی سامراجی گرفت کمزور پڑی ہے۔ عالمی سرمایہ کی ترسیل پر بھی امریکی ریاستی تحکم نہیں اور بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور حرام خور مارکیٹیں امریکی ریاستی اداروں کی حکم عدولی کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ امریکی تغلب کے اس انحطاط کو روکنے کے لیے ابتدا میں امریکا نے جو حکمت عملی اختیار کی وہ عالم گیریت کی حکمت عملی تھی جو مارکیٹوں پر ریاستی کنٹرول کو مجہول کرنے پر زور دیتی تھی۔ اس حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں کثیر فریقی تعاون کی ضرورت تھی اور امریکا نے بڑے سرمایہ دار ممالک کو یہ یقین دلایا کہ اس کا عالمی تغلب ان تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ 2008ء تا 2010ء کے بحران پر قابو پانے کے لیے یہ حکمت عملی مفید ثابت ہوئی۔

1996ء کے بعد سے غیر ترقی یافتہ دنیا میں نیوکلیئر ہتھیاروں اور صلاحیت کا پھیلاؤ بھی امریکی نظاماتی تغلب کے لیے ایک خطرہ بن گیا ہے ،کیونکہ نیوکلیئر مسلح ممالک پر فوج کشی بہت مہنگی پڑ سکتی تھی۔ ان ممالک میں اسرائیل، چین، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا شامل ہیں لیکن کئی دوسرے ممالک (انڈونیشیا، ایران، ترکی، سعودی عرب) بھی نیوکلیئر صلاحیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ روس کا نیوکلیئر اسلحہ خانہ تو مدت سے موجود ہے اور پیوٹن کی حکومت نے اس میں توسیع کی ہے۔

کوئی بھی امریکی حکومت اپنی سامراجی برتری ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتی۔ یہ اس کے باوجود کہ اپنی بزدلی کے سبب امریکا کسی دوسرے بڑےملک سے باضابطہ جنگ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ اس کے سرمایہ کار بھی اس کو ایسا کرنے سے روکتے ہیں کیونکہ اس سے عالمی حرام خور بازاروں میں بحران آنے کا خطرہ ہے۔ چین سے باقاعدہ عسکری نبردآزمائی کا کیا سوال امریکا تو اپنے ساحل سے چند میل دور چھوٹے سے جزیرہ کیوبا سے بھی جنگ نہیں لڑ سکتا۔

امریکی سامراجی مداخلت کا ذریعہ جمہوری ہے۔ اس نے دنیا کے تقریبا ہر ملک میں اپنے ہم خیال اور ہم نوا پیدا کر لیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تنویری علمیت اور عقلیت پر ایمان لے آئے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو عقل کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ اس اشرافیہ میں جو سامراج مخالف قوم پرست ہیں وہ بھی امریکا سے مصالحت چاہتے ہیں تصادم نہیں۔ یہ اشرافیہ انیسویں صدی میں سامراجی قوتوں نے پیدا کی ہے اور آج پوری دنیا میں برسراقتدار ہے۔ ان کے اقتدار کی بنیاد وہ عوامی جمہوری تائید ہے جو ان کو بیش تر ممالک میں حاصل ہے کیونکہ عوام کی اکثریت بھی جاہلی علمیت (ریشنلٹی) کی نظاماتی فوقیت کو تسلیم کرتی ہے۔لیکن یہ اشرافیہ متحد نہیں۔ ان میں وہ قوم پرست بھی شامل ہیں جو اپنے ملکوں پر امریکی سامراجی تسلط کو کم کرنا چاہتے ہیں اور کبھی کبھی اس قوم پرست اشرافیہ کو ریاستی اقتدار بھی حاصل ہوتا رہتا ہے مثلاً انڈونیشیا میں سوئیکارنو، گھانا میں نکروما، کیوبا میں کاسترو، وینزویلا میں شاویز، چین میں شی۔ اگر یہ قوم پرست دستوری جمہوری عمل جاری رکھیں تو امریکا کو بڑے پیمانے پر اپنے گھس بیٹھیے داخل کرنے اور تخریب کاری کرنے کے مواقع ہاتھ آجاتے ہیں۔ اگر یہ استبدادی جمہوریت قائم رکھیں تو امریکا دستوری جمہوری جدوجہد کو اپناتا ہے اور مظاہروں، دھرنوں اور ہڑتالوں وغیرہ کے ذریعہ حکومت کا تحتہ الٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسا کہ اس نے چین (1989)، یوکرائن (2015)، بولیویا (2019) میں کیا اور آج بیلاروس، وینزویلا اور ہانگ کانگ میں کر رہا ہے۔ یہ سب انسان پرست مداخلت کی کارروائیاں ہیں۔ غرض کہ جمہوریت امریکی سامراج کا ایک ہتھیار ہے۔ لیکن اس ہتھیار کو امریکی سامراج کو بے دخل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

6.5۔ سامراجی دہشت گرد: عوامی جمہوریہ چین

چین ایک سامراجی قوت ہے۔ کمیونسٹ دور (1949 تا حال) میں اس نے دو ریاستوں مشرقی ترکستان اور تبت پر قبضہ کیا ہے۔ مشرقی ترکستان میں قدرتی وسائل کا ایک وسیع ذخیرہ ہے۔ وہاں توانائی اور دھاتوں کے ذخائر وافر ہیں۔ چین کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ اس کے آدھے سے زیادہ کوئلے کے ذخائر اور تقریباً 25 فیصد تیل کے ذخائر مشرقی ترکستان میں پائے جاتے ہیں۔

چین نے مشرقی ترکستان کو ایک وسیع جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ مشرقی ترکستان میں چینی سیکورٹی اخراجات 2017ء میں 2016ء کے مقابلہ میں دگنے کر دیے گئے اور یہ مستقل بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ مشرقی ترکستان کے مسلمان (جن میں اکثریت اوغر نژاد ہے لیکن ان میں تاجک اور کچھ چینی مسلمان بھی شامل ہیں) سخت ترین ریاستی تعصب کا شکار ہیں۔ وہ مشرقی ترکستان کے اندر یا باہر حکومت کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کر سکتے۔ اسلامی نام نہیں رکھ سکتے۔ داڑھیاں نہیں بڑھا سکتے۔ روزے نہیں رکھ سکتے۔ لاکھوں مسلمان ”تعلیمی“جیلوں میں محبوس ہیں۔ ان جیلوں میں پارٹی اور ریاستی حکم کے تحت لوگ داخل کیے جاتے ہیں اور ان جیلوں کی کارفرمائی پر کسی عدالت کو کوئی اختیار نہیں۔ چینی حکومت دھڑلے سے ان جیلوں کے وجود ہی سے انکار کرتی ہے۔ مشرقی ترکستان کے کچھ علاقوں کی آبادی کے 80 فیصد مسلمان ان جیلوں میں قید ہیں۔ چین اپنے ہمسایہ ممالک سے چینی اوغر مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر اپنے ملک میں لا کر قید کر رہا ہے۔

ان جیلوں میں اسلامی عقائد، رسوم اور روایات کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمان دین اور بالخصوص عبادات کو ترک کر دیں۔ مسلمانوں کو ذہنی مریض اور اسلامی تعلیمات کو فرسودہ اور لایعنی کہا جاتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی یوتھ لیگ اسلام دشمن پروپیگنڈا کو پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ جن جیلوں میں مسلمان بند ہیں ان کو کمیونسٹ یوتھ لیگ والے ”تعلیمی بستیاں“ کہتے ہیں اور چینی حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بہت سے مسلمان محض اپنے عقائد کی وجہ سے قید ہیں۔ چینی قانون کے تحت ان سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوا۔ صدر شی نے 2019ء میں ان مسلمانوں کے لیے کہا ”ان کو ایسے چوہے سمجھو جن کے لیے پیچھے سڑکوں پر ہر کوئی یہ کہتا ہوا بھاگ رہا ہے کہ ان کو مارو“۔ اس حکم پرعمل ابھی تک جاری ہے۔ تبت کے قزاقChin Quauguo کے مشرقی ترکستان میں تعیناتی کے بعد یہ عمل زور پا گیا ہے۔ وہ اس علاقہ میں کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری ہے۔ اس نے اپنے پہلے سال اقتدار میں نوے ہزار پولیس اہل کار بھرتی کیے۔ اس کے عہد میں مشرقی ترکستان میں روزہ رکھنے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ کچھ مسلمانوں کو برف سے بھرے گہرے کنووں میں قید کر دیا گیا۔

مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کی آمد و رفت پر کنٹرول کرنے کے لیے چین نے مقبوضہ افغانستان، تاجکستان اور پاکستان سے Quadrilateral Cooperation and Coordination Mechanism کے ذریعہ معاہدہ کئے جس کا مقصد مشرقی ترکستان کی آبادی کی نقل و حرکت پر نگرانی ہے۔ ان ممالک کی افواج سرحدوں کے دونوں طرف مشرقی ترکستانی مسلمانوں کی نگرانی پر محصور ہیں۔ ان کے ذمہ صرف افراد کی آمد و رفت کی ناکہ بندی نہیں وہ خیالات اور نظریات کی ترسیل کی تحدید کے بھی پابند ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان، پاکستان اور تاجکستان سے اسلامی لٹریچر بھیجنے پر کڑی سنسرشپ عاید ہے۔ پاکستان کی پندرہ ہزار افراد پر مشتمل نئی سی پیک فورس چینی سیکورٹی نظام کا حصہ ہے۔

آج کل چینی سیکورٹی نظام اور اس کی سامراجی حکمت عملی کا کلیدی عنصر One Belt One Road کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر چین میں مدت سے کام ہو رہا تھا لیکن 2012ء میں صدر شی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا گیا۔ One Belt کے ذریعہ چینی زمینی مواصلت کے نظام کو ایشیائی ممالک میں پھیلایا جا رہا ہے اور One Road سے ساری دنیا میں چینی سمندری دسترس کو بڑھایا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت عالمی حرام خور اداروں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جن کی وساطت سے بڑے پیمانہ پر تعمیراتی اور دیگر انفراسٹرکچرل پروجیکٹس کے لیے سودی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ آج تقریباً ایک ہزار پراجیکٹس کو یہ حرام خور ادارے سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔ چینی کارپوریشنیں بھی اس منصوبہ میں سرمایہ کارانہ کرداراختیار کر رہی ہیں۔ تقریباً نوے ممالک OBOR کا حصہ بن گئے ہیں اور یہ ممالک جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور جزائر غرب اوقیانوس میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جو ممالک OBOR کے شریک کار بن گئے ہیں ان کی آبادی تقریباً ساڑھے چار بلین اور ان کی مجموعی سالانہ پیداوار دنیا کی سالانہ پیداوار کا تقریباً تیس فیصد ہے۔ OBOR سے متعلق سرمایہ کاری 2013ء سے نہایت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اب OBOR پروجیکٹس میں سائبر سپیس اور خلاسے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں۔

OBOR سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے تین اہداف ہیں۔ سب سے اہم ہدف قدرتی وسائل بالخصوص توانائی کے ذخائر پرچینی قبضہ ہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وسیع پائپ لائنیں مرکزی ایشیا اور روس سے ملحق بچھائی جا رہی ہیں۔ دوسرے بین الاقوامی منصوبوں کے ذریعہ توانائی کی رسد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایسے معاہدے سعودی عرب، ایران اورعرب امارات سے کیے گئے ہیں۔ قازقستان سے نیوکلیئر فیول کی فراہمی کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ غذائی اشیا اور پانی کے وسائل کی فراہمی پر بھی توجہ ہے۔ OBOR کا ایک اور ہدف چینی برآمدات کو تیزی سے بڑھانا ہے۔ چینی دھاتوں، سیمنٹ اور اسٹیل کی صنعت مدت سےover capacity کا شکار ہیں۔ یعنی ان کی پیداواری استطاعت ملکی مانگ سے تجاوز کر گئی ہے۔ OBOR کے ذریعہ یہ فاضل پیداوار اچھے داموں معاہد ملکوں کو برآمد کی جاتی ہے۔ چین میں بے روزگاری بھی پھیل رہی ہے اور چینی مزدوروں، ٹیکنیشنوں اور مینجروں کو معاہد ممالک میں برآمد بھی کیا جا رہا ہے۔ OBOR سے متعلق پروجیکٹس کےمینجر تقریباً کلیتاً اور کارکن بڑی تعداد دمیں چینی ہی رکھے جاتے ہیں۔ OBOR پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے نتیجہ میں چین کی اندرونی قومی معیشت بھی ترقی کر رہی ہے۔ امریکی، برطانوی اور فرانسیسی سامراج بھی بیرونی سرمایہ کاری سے اپنی ملکی معیشت کو ترقی دیتے رہے ہیں۔پھر OBOR کا سب سے اہم ہدف عسکری ہے۔ یہ چینی عسکری حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ OBOR کے ذریعہ مشرقی ترکستان پر قبضہ قائم رکھنے اور وہاں کے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے میں پاکستان، افغانستان اور تاجکستان Quadrilateral Cooperation and Coordination Mechanism کے تحت چین کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی بحرالکاہل میں چینی پیش رفت جاری ہے جہاں 2013ء سے چین مصنوعی جزیرہ تعمیر کر رہا ہے جس کے علاقہ کے ملکوں کو عسکری چھاؤنیوں میں تبدیل کیا جا نے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان جزیروں میں ہوائی اڈے، زیر زمین توانائی کے ذخیرہ اندوزی کے سامان اور فوجی بیرکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ 2018ء میں ان جزائر میں اینٹی شپ میزائل، لانگ رینج سرفیس ٹو ایئر میزائل وغیرہ بھی نصب کیے گئے ہیں۔ چین نے اس پورے علاقہ کو پورے فوجی اڈے کی شکل دینے کا ارادہ کیا ہے اور اس علاقہ سے امریکی، ویت نامی اور انڈونیشیائی دفاع کوکلی طور پر بے دخل کرنے کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سے بحری تجارتی راستے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ شمالی بحر الکاہل میں چین اور جاپان کے درمیان تنازعات جاری ہیں۔

چین نئی تجارتی سمندری شاہراہیں کھولنے کا خواہاں ہے۔ اسی وجہ سے وہ OBOR کے تحت بندرگاہوں میں مواصلاتی نظام کی توسیع کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ان بندرگاہوں کی انتظامیہ پر چینی سرکار اور کمپنیاں اپنا تسلط قائم کرنے کی جستجو کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال گوادر کی بندرگاہ ہے۔ مالدیپ، سری لنکا، سولومن جزائر اور جبوتی میں چین ایسی بندرگاہیں تعمیر کر رہا ہے۔ سری لنکن بندرگاہ Hambanthota کا قصہ مشہور ہے جس کی تعمیر اور توسیع کے لیے چین نے قرضے دیے اور جب ادائیگی نہ ہو سکی تو اس بندرگاہ کو اپنے تسلط میں لے لیا۔ بالکل اسی طرح انیسویں صدی میں برطانیہ نے ہانگ کانگ پر قبضہ کیا تھا۔ چین نے اٹلی، ہسپانیہ، بلجیم اور یونان کی کئی بندرگاہیں خریدی ہیں۔ چین نے افریقا میں اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ پورے افریقی براعظم کو خرید لے گا۔ لاطینی امریکا بھی معدنی وسائل سے بھرا پڑا ہے اور ان پر بھی چینی تسلط بڑھتا جا رہا ہے۔ چین نے ایک digital belt and road scheme پروگرام کے ذریعہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس، نینو ٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ کو پورے علاقہ میں پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

OBOR منصوبہ کو آگے بڑھانے میں بہت سی رکاوٹیں بھی ہیں۔ چینی ٹھیکے دار کمپنیاں، ریاستی اہل کار اور ملحقہ ملکوں کے عہدے دار اور سرمایہ کار ان منصوبوں کو کرپشن کے ذریعہ سبوتاژ کر رہے ہیں۔ اکثر پروجیکٹس پر کام اس طرح نہیں ہوتا جیسا کہ منصوبوں میں طے کیا جاتا ہے۔ کئی پروجیکٹس معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہوتے۔ قلیل المدت منافع خوری (بالخصوص سود کی شکل میں) کا رجحان پروجیکٹس کے دیر پا اثرات کو نظرانداز کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

پھر قرض کی ادائیگی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ چینی حکام خود کہتے ہیں کہ پاکستان کودیا گیا 80 فیصد قرض ، میانمار کو دیا گیا 50 فیصد قرض اور مرکزی ایشیائی ممالک کو دیا گیا تقریباً 37 فیصد قرض غالباً ناقابل ادائیگی ہے۔ OBOR پروجیکٹس سے دوسرے ملکوں کو بھی کم فائدہ ملتا ہے کیونکہ ان پروجیکٹس کو چلانے والے 90 فیصد کنٹریکٹر چینی ہیں۔ OBOR کے ممالک سے چینی درآمدات محدود ہیں۔ پاکستان کا چین سے توازنِ کاروبار ہمیشہ بہت بڑے خسارہ میں رہا ہے اور سی پیک کی وجہ سے یہ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان، کرغستان، تاجکستان، لاؤس، منگولیا، کانگو اور کینیا کے چینی قرضے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ یہ ممالک عنقریب ساورن ڈیفالٹ پر مجبور ہو جائیں گے۔ 2011ء میں تاجکستان کئی سو کلومیٹر زمین قرضوں کی معافی کے عوض چین کو دے چکا ہے۔ دی جبوتی میں بھی چین اراضی کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔

OBOR کے پھیلاؤ کی امریکا مخالفت کر رہا ہے کیونکہ یہ چینی سامراجی تزویراتی حکمت عملی کا جزو ہے۔ جبوتی میں امریکی فوجی اڈہ بنا دیا گیا ہے اور وہاں ٹرمینل خریدنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا اور چین میں جبوتی کی بندرگاہوں پر قبضہ کرنے کے لیے مقابلہ مدت سے جاری ہے۔ چین نے وہاں ایک نیول بیس تعمیر کی ہے او بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے۔ OBOR پروجیکٹس کے تحت امریکا چین پر اطلاعاتی اور علمی اور ٹیکنالوجی اور ملکیت چرانے کے الزام لگا رہا ہے۔ چین اور امریکا ایک دوسرے پر مسلسل سائبر حملے کر رہے ہیں۔ جنوبی اور مشرقی چینی سمندر میں چینی امریکی مقابلہ شدت اختیار کر گیا ہے اور امریکا نے جنوبی بحرالکاہل میں قائم کردہ مصنوعی چینی جزیرہ تباہ کرنے کی بار بار دھمکیاں دی ہیں۔ چین نے مغربی بحرالکاہل میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی استعداد حاصل کر لی ہے۔ چین اب جنوبی چینی سمندر پر فوجی تسلط حاصل کر چکا ہے اور ہر دوسری قوت (امریکا، انڈونیشیا، فلپائن، ویت نام) کو وہاں سے بے دخل کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اگر جنوبی بحرالکاہل میں چین اور امریکا میں جنگ چھڑ جائے تو فاتح کون سی سامراجی قوت ہو گی۔

اس تناظر میں سی پیک کی اسکیم کودیکھا جاناچاہیے۔ اس کی تنصیبات آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان علاقوں سے گزرتی ہیں لہٰذا ہند-چین تنازع پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بھارت اور امریکا دونوں نے بار بار سی پیک اسکیم کی مخالفت کی ہے اور بھارت نے OBOR کا حصہ بننے کی چینی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ سی پیک OBOR کا سب سے بڑا جزو ہے۔ چین اور امریکا دونوں کے لیے پاکستان کی تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ امریکا نے طالبان کے خلاف افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی جنگ لڑی۔ 1954ء سے امریکا پاکستانی فوج کی تربیت کر رہا ہے۔ پاکستان میں اسلامی رجحانات کے پھیلاؤ کو 2001ء کے بعد سے امریکا تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔

پاک چین تعلقات میں گہرائی 1970ء کی دہائی میں آنا شروع ہوئی اور 1962ء کی ہند چینی جنگ کے بعد چین پاکستان کا آہنی دوست بن گیا۔ پاکستانی فوج چینی ہتھیار کثرت سے حاصل کرنے لگی۔ پاکستان میں چینی امداد اور سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور سی پیک منصوبہ کے تحت چین نے تقریباً 60 ہزار ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ سی پیک منصوبہ بندوں کو توقع ہے کہ اس اسکیم کے تحت چینی سرمایہ کاری پاکستانی صنعت، زراعت، سیاحت، مواصلات، تعمیرات، توانائی اور آبی وسائل کے شعبوں میں تیزی سے بڑھے گی۔ امید کی جاتی ہے کہ اس سرمایہ کاری سے چینی کمپنیوں کی دسترس پاکستانی اندرونی مارکیٹوں تک بڑھے گی اور یہ سرمایہ کاری مغربی چین کے صوبوں میں رفتارِ ترقی کو مہمیز دے گی۔ سی پیک کے چینی منصوبہ بند مرکزی پنجاب میں زرعی سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

چینی حکومت کی دستاویز Long Term Plan جو 2015ء میں شائع ہوا ہے، سے واضح ہوتا ہے کہ چین مرکزی پنجاب کے زرعی شعبہ کو مغربی چینی صوبوں کے زرعی نظام سے منسلک کرنا چاہتا ہے اور ان منصوبہ بندوں کو امید ہے کہ اس سے مغربی صوبوں کا زرعی نظام اتنی ترقی کرے گا کہ مشرقی ترکستان میں بڑے پیمانے پر چینی نژاد آبادکار آ جائیں اور وہاں کی مسلم آبادی کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔ سی پیک اسکیم کے تحت سرمایہ کاری کا اصل ذریعہ چینی کمپنیاں اور حرام خور ادارے ہیں ۔ اس سے پاکستانی معیشت کا چین پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں میں شرکت بندی عام ہو رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں اور کچھ شعبوں (مثلاً جوتا سازی) میں بے روزگار ی پھیل رہی ہے۔ چینی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی کے شعبہ پر چھاتی چلی جا رہی ہے۔ سی پیک پروجیکٹس میں چینی مینجروں، ٹیکنیکل ماہرین اور عام محنت کشوں کی بہت بڑی کھیپ کا م کر رہی ہے۔چینی ادارے پاکستانی ریاستی سیکورٹی نظام سے اشتراک عمل کر رہے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ پر چینی سرمایہ کاری خلیج فارس اور مغربی ایشیا میں چینی عمل دخل بڑھانے کا ذریعہ ہے۔

چین نے پاکستانی معاشی نظاماتی حکمت عملی کے تناظر میں اپنی پیش رفت جاری رکھی ہے۔ اس میں کسی تبدیلی کی کوشش نہیں کی۔ اس کی سرکاری، نیم سرکاری اور نجی کارپوریشنیں اور حرام خور ادارے اسی نیولبرل معاشی نظاماتی تحکم کے تناظر میں کام کر رہے ہیں جو ہر پاکستانی حکومت 1988ء کے بعد سے اپنائے ہوئے ہے۔ آج پاکستانی سرمایہ داری کو جلا بخشنا چینی سرمایہ کاری کاایک اہم ہدف ہے۔ چین پاکستان کے کوئلے، تانبے ، سونے اور گیس کے ذخائر پر اپنا تسلط مستحکم کر رہا ہے اور اس تسلط کے اضافہ سے مقامی سرمایہ کار اشرافیہ بھی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ کوئلے کی صنعت میں سرمایہ کاری کے ذریعہ چین ماحولیاتی طور پر مضر پروجیکٹس سندھ اور بلوچستان منتقل کر رہاہے۔

پاکستان کے ریاستی سیکورٹی نظام کو مستحکم کرنا سی پیک منصوبہ کا ایک اہم جزو ہے۔ اس کے تحت پاکستان میں ایک ملک گیر فائبر آپٹک کیبل کا جال بچھایا جائے گا جس کے ذریعہ پاکستانی اطلاعاتی نظام پر چینی دسترس بہت بڑھ جائے گی۔ اس کے ذریعہ ایک ڈیجیٹل ٹیلی وژن نیٹ ورک کے قیام کا منصوبہ ہے جو پاکستان میں چینی ثقافتی نشریات عام کرے گا۔ یوں چینی سامراج پاکستانی جمہوریت کی کارفرمائی میں داخلہ حاصل کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

سی پیک منصوبہ کو چین-بھارت تعلقات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ 2017ء میں چین –بھارت تجارتی حجم تقریباً نوے بلین ڈالر تھا جو پاک چین تجارت کے حجم سے کئی گنا زیادہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت-چین سیاسی اور عسکری تصادم بھی بڑھا ہے۔ ان تنازعاتی رجحانات کے تناظر میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مستقبل میں چینی پاکستانی دوستی کا مستقبل کیا ہے۔ گمان یہی ہے کہ چین بھارت کی اس کوشش کو کہ پاکستان کو بنگلہ دیش اور بھوٹان کی طرح نیم کالونی بنانے کی مہم میں مزاحمت کرتا رہے گا۔ سی پیک کی تنفیذ سے اب تک دو اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک اس منصوبہ کے دوران پاکستان میں سرمایہ دارانہ جمہوری نظام مستحکم ہو گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستی اور سرمایہ کار اشرافیہ کو اپنا ایک نیا طاقت ور حلیف مل گیا ہے جس کے نتیجہ میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں بالخصوص امریکا کے مقابلہ میں اس کی مسابقتی قوت بڑھ گئی ہے بشرطیکہ اس قوت کا دانشمندانہ استعمال کرنے کی اہلیت ہو۔لیکن قوت میں یہ اضافہ اس نوعیت کا نہیں جس طرح کا غیر جانب داری تحریک کے دور میں سوئیکارنو کو حاصل ہوا تھا۔ سوویت یونین نے کبھی بھارت، انڈونیشیا، مصر، گھانا وغیرہ میں اس نوعیت کی مداخلت نہیں کی جیسی آج چین پاکستان میں کر رہا ہے۔ پاکستان خود انحصاری پالیسیاں اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا انحصار چینی سرمایہ کاری پر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستانی معدنی وسائل مواصلاتی انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں پر چینی دسترس میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان پر چینی قرضہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہر سال ساڑھے تین ملین ڈالر محض سود کے ادا کرنا پڑتے ہیں اور خود چینی کہہ رہے ہیں کہ 90 فیصد قرضہ ادا کرنا ناممکن ہے۔ ان حالات میں یہ ناممکن نظر نہیں آتا کہ پاکستان سی پیک کے ذریعہ چین کی ایک نیم کالونی میں تبدیل ہو جائے۔

چینی سامراجی حکمت عملی کا گہرا تعلق چین کے قومی، معاشی سیاسی نظام سے ہے۔ چین انیسویں صدی کے آخری زمانے سے لے کر آج تک ہمیشہ ایک سرمایہ دارانہ ملک رہا ہے۔ کمیونسٹ انقلاب سے وہ ایک ریاستی سرمایہ داری میں تبدیل ہو گیا۔ آج وہاں کے نظام میں نجی سرمایہ کاری کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے لیکن ریاستی سرمایہ کاری بھی جاری ہے اور ریاست اور پارٹی کا کنٹرول سرمایہ کارانہ عمل پر مستحکم اور مضبوط ہے۔ نیولبرل اور ریاستی تحکماتی پالیسیوں کا ایک مخصوص امتزاج آج چین میں مرتب کر لیا گیا ہے۔ مارکیٹ چینی ریاستی پالیسی سازی کا ایک اہم جزو بن گئی ہے۔ چین عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ایک شریک کے طور پر شامل ہو گیا ہے اور اس نظام کی تشکیل نو کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں رکھتا۔

چینی کارپوریشنوں میں مینجمنٹ وہی کردار ادا کرتی ہے جو مارکیٹی سرمایہ دارانہ نظام میں معمول ہے لیکن بڑھوتری سرمایہ عمومی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ بڑی سرکاری کارپوریشنوں کی یا حرام خور ماکیٹوں کی نہیں۔ نجی کارپوریشنیں اپنے سرمایہ کی بڑھوتری کی جستجو کرتی ہیں اور ان پر قومی منصوبہ بندی کا تحکم ڈھیلاہے۔ پلان کا تشکیلی عمل جمہوری ہے جو کمیونسٹ پارتی اور ریاستی بیوروکریسی کے اشتراک سے جاری رہتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے جس کے 2020ء میں 93 ملین ممبر ہیں جو اس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری جماعت بنا دیتی ہے۔ ہر جمہوری جماعت کی طرح اس کی ہیئت بھی درجہ بند ہے۔ اس جماعت میں مشاورت عام ہے اور ہر سطح پر انتخابی عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ چین ایک فلاحی سرمایہ دارانہ ریاست ہے۔ پارٹی کی شاخیں ہر قسم کی ادارتی صف بندی (کارپوریشن، حرام خور ادارے، بیوروکریسی) میں پائی جاتی ہیں اور ہر سطح پر جمہوری تحکم اور مشاورت کو منظم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ریاست کا کنٹرول تعلیم، صحت، توانائی، حرام خور اداروں اور معدنیات پر اجارہ دارانہ ہے اور یہ اجارہ داری قومی حاکمیت اعلیٰ کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے۔

خود چینی حکام اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں شدید نامساویت ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ پارٹی کے ممبران اور ریاستی اہل کاروں پر کرپشن کے الزام عام ہیں۔ یہ اشرافیہ ایسی پرتعیش زندگی گزار رہی ہے جس کو عوام حسرت بھری آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ عوام کی اشتراکیت سے نظریاتی وابستگی کم ہو رہی ہے اور اس کی جگہ قوم پرستی لے رہی ہے۔ قومی منصوبہ بندی کا نظام غیر موثر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ حرام خور شعبہ کی نیم نج کاری ہے۔ چین میں سٹہ بازار کارفرما ہیں جہاں ریاستی اور نجی کارپوریشنوں کے حصص فروخت ہوتے ہیں۔ چین کے سب سے بڑے بینکوں کے حصص امریکی بینکوں نے خرید لیے ہیں۔ چینی حرام خور شعبہ عالمی حرام خور مارکیٹ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان2007 تا 2010ء کے بحران کے بعد بہت بڑھ گیا ہے۔ چینی حرام خور اداروں کے ناقابل ادائیگی قرضہ جات بہت زیادہ ہیں۔ چینی سرمایہ کارچینی حرام خور نظام کو عالمی حرام خور مارکیٹوں میں مدغم کرنے کے لیے حکومت پر مستقل دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔ امریکی سامراج بھی اس کے لیے زور لگا رہا ہے۔

اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے چین آہستہ آہستہ ایک متبادل عالمی حرام خور نظام کی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فی الحال اس نوزائیدہ نظام کے دو کلیدی ادارے ہیں۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور چائنہ ڈویلپمنٹ بینک۔ اس نوزائیدہ نظام کی مخالفت امریکا اپنے چینی حلیفوں (جو چینی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی بیوروکریسی دونوں جگہ موجود ہیں) کے ساتھ مل کر کررہا ہے۔ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی کوشش ہے کہ یہ دونوں بینک عالمی حرام خور نظام میں ضم ہو جائیں اور اس کے امکانات قوی ہیں کیونکہ آج تک چین نے امریکی عالمی حرام خور بالادستی کو چیلنج کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے اور بار بار کہا ہے کہ اس کا ڈالر کی عالمی کرنسی کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی اپنے بینکوں کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مستقبل میں چینی کرنسی کی عالمی ریزرو حیثیت بڑھ جائے گی۔ AIDB اور CDB وغیرہ کی کارفرمائی کے نتیجہ میں چینی حرام خور (فنانشل) تعلقات OBOR کے شرکا ممالک پر زیادہ منظم اور ضوابطی ہو گئے ہیں۔ ان معنوں میں چینی پیش رفت امریکی حرام خور نظاماتی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہے۔

1979ء کے بعد چین نے تیز رفتار سرمایہ دارانہ ترقی ضرور کی ہے لیکن جس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر یہ ترقی کی گئی وہ یا تو درآمداتی تھی یا اس کو استعمال کرنے والی بیرونی ملٹی نیشنلز تھیں۔ بیرونی سرمایہ کاری پر انحصار بڑھنے کا ایک سبب چینی نجی شعبہ کا تیز پھیلاؤ ہے جو اختراعات کے بجائے نقل کو فروغ دیتا ہے۔ ریاستی کارپوریشنوں کی نج کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ طریقوں کی تقلید کو فروغ دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے چین میں بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے اور مجموعی آمدنی میں محنت کشوں کے حصہ کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ چین میں آمدنی کی تقسیمی نامساویت امریکا سے زیادہ ہے۔ امیر ترین ایک فیصد چینی ملک کی تینتیس فیصد دولت کے مالک ہیں۔

چینی پالیسی کا ایک اہم ہدف قومی تحکیم اعلیٰ کا تحفظ ہے۔ س کے لیے پالیسی ساز کہتے ہیں کہ چین کو کلیدی ٹیکنولوجیز، ٹیکنولوجیکل معیارات اور برانڈز پر کنٹرول رکھنا لازم ہے لیکن ان تینوں شعبوں میں چینی ریاستی کنٹرول چینی نجی سرمایہ کار ملٹی نیشنلز کے اشتراک سے مستقلاً کم کر رہے ہیں۔ چین کا انحصار عالمی مارکیٹوں پر 2008ء کے بحران کے بعد تیزی سے بڑھا ہے۔ اس بحران سے نبٹنے کے لیے چین نے اپنی 2010ء کی قومی آمدنی کا 19 فیصد حرام خور اداروں اور کارپوریشنوں کو بچانے کے لیے خرچ کیا ۔ 2007ء میں چینی وزیراعظم نے کہا تھا کہ ”چینی معیشت غیر مستحکم، غیر توازنی اور غیر مربوط ہے اور ترقی جاری نہیں رکھی جا سکتی“۔ چینی زائد از مانگ پیداوار کی ایک وجہ مقامی اور مرکزی حکومت کے پیداواری منصوبوں میں تصادم اور تضاد ہے۔ سٹہ بازی کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے اور نجی، سرکاری، مقامی قرضوں کےپہاڑ کھڑے ہو گئے ہیں۔ غیر قانونی ادارتی سرمایہ کاروں کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے۔

آج بھی چینی معیشت کی فی کارکنی پیداواری سکت(factor productivity) صرف مغربی سرمایہ دارانہ ممالک ہی سے نہیں جنوبی کوریا، تائیوان، سنگاپور وغیرہ سے بھی کم ہے۔ لہٰذا اب بھی کسی نہ کسی حد تک چین کو اپنی بین الاقوامی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اجرتوں کی تخفیف پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پیداواری سکت میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ آج 1990ء کی دہائی کے مقابلہ میں سرمایہ کاری کی ضرورت دوگنی ہوگئی ہے ۔

چینی کارپوریشنوں کی (جو بڑی حد تک سرکاری ہیں) مغربی ممالک میں سرمایہ کاری زیادہ منافع بخش نہیں لیکن یہ بھی واضح ہے کہ چین ٹیکنالوجیکل رسدی زنجیروں میں اوپر اٹھ رہا ہے۔ آئی سی ٹی کی چینی برآمدات تیزی سے بڑھی ہیں لیکن یہ برآمدات زیادہ تر اسمبلی اشیا کی نوعیت کی ہوتی ہیں جن پر کنٹرول چین میں مقیم ملٹی نیشنلز کا ہوتا ہے۔ بیرونی ملٹی نیشنلز چین کے تقریباً تمام انٹلیکچوئل رائٹس کو کنٹرول کرتی ہیں۔

چین کی قدرتی وسائل کی مانگ اس کی داخلی رسد سے بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کی ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا میں دلچسپی کا ایک اہم سبب یہاں کے تیل، معدنیات اور زرعی اشیا کا حصول ہے۔ چینی برآمدات کا تقریباً بیس فیصد ہر سال امریکا کو جاتا ہے۔ امریکی حکومتی تمسکات کا تقریباً تیس فیصد چینی ریزرو پر مشتمل ہے۔ امریکا میں رکھے گئے چینی ریزرو کی وجہ سے ہی ڈالر کی عالمی شرح تبدل مستحکم رہتی ہے اور امریکا چین سے بہت بڑے پیمانہ پر ہر سال درآمدات حاصل کرتا ہے۔ ڈالر کی شرح میں کمی چینی برآمدات اور ریزروز کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی ریاستی اشرافیہ کے تمام دھڑوں کو اس بات کا احساس ہے کہ ابھی چین کسی بڑے عالمی سیاسی تصادم سے نقصان اٹھائے گا۔ لہٰذا وہ اپنے تمام حریفوں (امریکا، روس، بھارت، جنوبی کوریا، جاپان) سے مستقل افہام و تفہیم اور معاونت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود چینی فوجی اخراجات 2008ء سے 2018ء تک سالانہ تقریباً 13 فیصد کی رفتار سے بڑھتے رہے۔ چینی ملٹری ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کرتی رہی ہے اور اب چین سیٹلائٹ کمیونی کیشن اینڈ سرویلنس سسٹم، سائبر وار فیئر ٹیکنالوجی اور میزائل بنانے کے قابل ہو گیا ہے۔ بلیو واٹر ٹیکنالوجی کی ترقی پر چینی سائنس دان بہت زور دے رہے ہیں تاکہ امریکی بحریہ کا خلیج فارس اور جنوبی اور مشرقی چینی سمندروں میں موثر مقابلہ کیا جا سکے۔

ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مزاحمت کو روکنے کے لیے بھی چینی حکام بڑے پیمانے پر اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ 1989ء میں یہ مزاحمت تیانامن اسکوائر میں ابھری اور 2017ء سے 2019ء تک اس کا مرکز ہانگ کانگ تھا۔ دوسرے ممالک (یوکرائن، وینزویلا، بیلاروس، ایران) کی طرح چین میں بھی ان مزاحمتوں کے پیچھے امریکی سامراج کا ہاتھ تھا لیکن کم از کم ہانگ کانگ میں عوام کے کئی منظم اور غیر منظم گروہوں نے بھی امریکی گھس بیٹھیوں کا ساتھ دیا۔ بڑھتا ہوا افراطِ زر بالخصوص غذائی قیمتوں کے اضافے نے عوام کو بے چین کر دیا ہے اور وہ اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کے تحفظ کے خواہاں ہیں اور محنت کش گاہے گاہے ہڑتالیں (بالخصوص شمالی چین میں) ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف کرتے رہتے ہیں۔ 2011ء میں جنوبی چین کے گوانگ ڈونگ دیہات سے منتقل ہونے والے باشندوں نے کئی بلوے کیے۔ آج سرکاری اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر سال کئی ملین افراد ہر سال چھوٹے اور بڑے احتجاجوں میں شامل ہوتے ہیں۔ لیکن اس نوعیت کی مزاحمت سے کمیونسٹ پارٹی کی عوامی جمہوری گرفت کمزور نہیں ہورہی۔ 2000ء سے چینی کمیونسٹ پارٹی نے سہ نمایندگی (three represents) کا ڈاکٹرائن (عقیدہ) اپنایا ہوا ہے یعنی پارٹی چینی معاشرہ کے تین طبقوں کی نمایندگی کرتی ہے: نجی سرمایہ کار، متوسط طبقہ، دانشور اور محنت کش عوام۔ یہ واضح نہیں کہ کیا اب پارٹی نے پرولتاری آمریت کا نظریہ ترک کر دیا ہے یا نہیں۔ چین کا نجی سرمایہ کاروں کا طبقہ پوری طرح ریاستی انتظامیہ سے منسلک ہو گیا ہے۔ لیکن صدر شی کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ محنت کش عوام کا (جو پارٹی سے باہر غیر منظم ہیں) اب بھی پالیسی سازی کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس طرح کے احتجاج سے چین میں جمہوری نظام مضبوط اور مستحکم ہوا ہے۔

2020ء میں Covid 19کی وبا سے نبٹنے کے فوراً بعد چین میں کرپشن کے خلاف جو عوامی مزاحمتی مہم حکومت کی سرپرستی میں چلائی جا رہی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ثقافتی انقلابی دور کی طرح کا عوامی جمہوری تحرک پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ضرورت کا آج بھی پارٹی کو احساس ہے۔ شی کے دور (2012ء تا حال) اور اس سے پہلے بھی کرپشن کے خلاف کئی مہمات چلائی گئیں اور ان کے ذریعہ نجی سرمایہ کاروں اور ریاستی اہل کاروں میں ربط و تعاون بڑھتا ہے۔ بہت سے نجی سرمایہ کار ریاستی اشرافیہ کے اہل کار تھے جن کے ہاتھوں سستے داموں ریاستی کارپوریشنیں فروخت کی گئی ہیں۔ بہت سی مبینہ اجتماعی کمپنیاں بھی اسی قسم کے نئے سرمایہ کاروں کے قبضہ میں ہیں۔ آج نجی اور سرکاری ملکیت آپس میں اتنی مدغم ہیں کہ یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ کون سی کارپوریشن کس حد تک نجی یا سرکاری ہے۔ یہ عمل ریاستی جماعتی اشرافیہ کا نجی سرمایہ دار طبقہ میں ادغام کا غماز ہے۔

1950ء کی دہائی کے وسط سے اہل دانش کا حجم پارٹی میں بڑھتا چلا جا رہا ہے (ثقافتی دور(1966-1974) میں ان کی چھانٹی کی گئی تھی)۔ ان دانش وروں اور ماہرین کا اثر پالیسی سازی کے عمل میں اتنا ہی وسیع ہے جتنا امریکا یا کسی یورپی ملک میں۔ چینی محنت کشوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو دیہی علاقوں سے نکل کر شہروں کی صنعتی شہروں میں آباد ہوئے ہیں۔ چین کی تیز رفتار صنعتی ترقی کے نتیجہ میں اس قسم کے مزدوروں

کی شہری مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ منتقلی کے اس رجحان کو ریاستی پالیسیوں نے بھی مہمیز دی کیونکہ زراعت پر ٹیکسوں کا بوجھ 1985ء کے بعد سے آج تک بڑھ رہا ہے اور زرعی پیداوار کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود کسانوں کا معیار زندگی اور فی کس آمدنی بڑھ رہی ہے اور اس کی ایک اہم وجہ زرعی شعبہ میں بہت بڑی نجی سرمایہ دارانہ کارپوریشنوں(dragon heads) کی کارفرمائی ہے۔ آج زرعی شعبہ میں ایک بڑا دیہی محنت کشوں کا طبقہ وجود میں آ گیا ہے،جنہوں نے اپنی زمینیں dragon heads کے ہاتھ بیچ دی ہیں۔ دیہی سرمایہ کار بھی فروغ پا رہے ہیں کیونکہ دیہی نظم پیداوار ماکیٹائز ہوتا جا رہا ہے۔

چین میں جمہوریت تو پنپ رہی ہے لیکن لبرل جمہوریت کے فروغ پانے کے امکانات نہایت محدود ہیں۔ چند امریکہ نواز اہل دانش کے سوا کوئی بھی لبرل جمہوریت کے فروغ کا حامی نہیں۔ نہ پارٹی اشرافیہ کا کوئی دھڑا ، نہ نجی سرمایہ کار، نہ صنعتی اور دیہی سرمایہ کار ، نہ محنت کش نہ عوام (یہ بات ہانگ کانگ کے لیے نہیں کہی جا سکتی)۔ پارٹی کی حمایت کا ایک بڑا سرچشمہ نجی سرمایہ کار ہیں۔ 50 کے قریب ارب پتی آج CCP کی Chinese People’s Political Consultative Committee کے ممبر ہیں۔ متوسط طبقہ کے چند امریکہ نواز دانشوروں کے سوا عوام پارٹی کے پرجوش نوا ہیں۔ محنت کش غیر منظم اور منتشر ہیں اور جو کچھ نظم ان میں پایا جاتا ہے وہ پارٹی کے اندر ہی قائم کیا گیا ہے۔ پارٹی کے 93 ملین ممبروں میں بڑی اکثریت محنت کشوں ہی کی ہے لہٰذا جو کچھ وقتی مزاحمت عوام ہڑتالوں، احتجاجوں وغیرہ کے ذریعے کرتے ہیں وہ مقامی سطح تک محدود رہتی ہے اور اس کو امریکی سامراج ملک گیر بنانے میں ہمیشہ بری طرح ناکام رہتا ہے (یہ بات بھی ہانگ کانگ کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی)۔ پارٹی نے محنت کشوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کی ایک کامیاب پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اور چونکہ چینی محنت کش بحیثیت مجموعی سرمایہ دار ہیں لہٰذا ان کے درمیان مفاداتی کشمکش فروغ پاتی ہے۔ محنت کشوں میں اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کی طلب تو موجود ہے لیکن ان حقوق کی لبرل تشریح ان کے لیے اجنبی ہے کیونکہ ان کا چینی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بات کا امکان ضرور موجود ہے کہ جیسے جیسے چین میں تنویری علمیت (جاہلیت خالصہ) پھیلتی جائے گی ویسے ویسے سرمایہ دارانہ حقوق کی طلب میں اضافہ ہو لیکن ایسا ہونا ناگزیر نہیں۔ تنویری علمیت (جاہلیت خالصہ) استبدادی جمہوریت کو بھی مستحکم کر سکتی ہے جیسا کہ سوویت روس اور نازی جرمنی کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے۔

چینی سامراج حکمت عملی اس کی قومی نظاماتی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ ضرورتیں حسب ذیل ہیں۔

1۔ چین کی سرمایہ دارانہ ترقی کی رفتار کو جاری رکھنا اور عوام کے معیار زندگی اور خوش حالی میں مستقل اضافہ تاکہ وہ رائج شدہ جمہوری نظام کی تائید کرتے رہیں۔

2۔ کثیر تعداد سے قدرتی وسائل (تیل، گیس، معدنیات، اجناس، پانی وغیرہ) کا حصول ۔ اس کے لیے مشرقی ترکستان اور تبت پر استبدادی نظام کا تسلط اور دنیا بھر کے ممالک سے OBOR پروجیکٹس کے ذریعہ تعلقات کی توسیع اور ترتیب نو کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

3۔ کم از کم جب تک چینی ریاستی قوت عالمی نظاماتی تسلط (globle systemic hegemony) کی اہلیت حاصل نہ کر لے اس وقت تک کسی بڑے غیر ملکی تصادم (امریکہ ، بھارت، روس) سے چین کو بچائے رکھنا۔

4۔ ممکنہ امریکی یا بھارتی عسکری مداخلت سے اپنے ملک کو محفوظ رکھنا جس کے لیے چینی عسکری دائرہ عمل کی توسیع (بالخصوص بحر الکاہل اور خلیج فارس میں) اور عسکری مزاحمت کی صلاحیت میں اضافہ (ملٹری ٹیکنالوجی کی تیز رفتار اپ گریڈ کے ذریعہ)

ان مقاصد کے حصول کے لیے جو تزویراتی حکمت عملی اپنائی گئی ہے وہ گلوبلائزڈ سرمایہ دارانہ نظام میں انضمام کی ہے۔ اس نظام کی ادارتی تشکیل نو کا چین کم از کم فی الحال کوئی ارادہ ظاہر نہیں کر رہا۔ چین ایک سرمایہ دارانہ ملک ہےاور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا استحکام اس کی سرمایہ دارانہ ترقی کے لیے ضروری ہے۔ وہ تجارتی مجہولی (liberation) کے فروغ اور عالمی حرام خور مارکیٹوں میں ادغام کو استبدادی جمہوریت کے استحکام کے لیے مفید سمجھتا ہے۔ 1989ء کے بعد سے چین نے گلوبلائزڈ سرمایہ دارانہ معیشت کو اپنی وسیع معیشت کو کھول کر اور اپنی عظیم محنت کش قوت کو عالمی پیداواری عمل کا حصہ بنا کر بہت سہارا دیا ہے۔

چین عالمی سرمایہ دارانہ ارتقا کا ایک مرکز بن گیا ہے اور اس نے یہ مقام عالمی سرمایہ دارانہ ضوابطی تحکم کی ماتحتی قبول کر کے حاصل کیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے ادغام نے معاشرت کو ہر سطح پر متاثر کیا ہے۔ چین میں افلاس تیزی سے گرا ہے لیکن اس کے ساتھ نامساویت تیزی سے بڑھی ہے۔ دوسرے سرمایہ دارانہ ممالک کی طرح چین میں بھی سٹیزن صارف بن گیا ہے اور جس خود اختیارت کا وہ طالب ہے وہ صرفی خودمختاری (consumer autonomy) ہے۔ پورے معاشرہ میں حرص ایک وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ عوام گلوبلائزیشن کے پرزور حامی ہیں۔ یہی آج چین کی mass line ہے۔

چینی معشیت اب خود انحصاری نہیں رہی (یا کم از کم خود انحصاریت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے) اس کا انحصار ابھرتی مارکیٹوں اور بیرونی سرمایہ کاری اور درآمداتی ٹیکنالوجی پر بڑھتا جا رہا ہے۔ چین بہت بڑے پیمانہ پر بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ OBOR پروجیکٹس چینی کروڑپتی اور ارب پتی ہر سال اربوں ڈالر قانونی اور غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقل کر تے ہیں۔ دولت کی حرامکاری عالمی حرام خور مارکیٹوں کے توسط سے تیزی جاری ہے۔ تقریباً تمام بڑی کارپوریشنوں بشمول ریاستی کارپوریشنوں کے جزوی بیرونی ملکیت عام ہے۔ قومی سائبر سکیورٹی خطرے میں ہے اور امریکا، جاپان اور آسٹریلیا اور جنوبی کوریا چین کے سائبر نظام میں تخریب کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین کا اندرونی تحفظاتی نظام پر ہر سال بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کیا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ امریکی تخریب کاری کا شکار ہے (جیسا کہ ہانگ کانگ کی مزاحمت سے عیاں ہوتا ہے)۔

چینی گلوبلائزیشن پالیسی تضادات کا شکار ہے۔ وہ بیک وقت قوم پرستانہ بھی ہے اور نیولبرل بھی۔ اسی تضاد کے نتیجہ میں چینی سیاسی معیشت دو سمتعوں میں کھینچتی رہتی ہے۔ ایک طرف بیرونی مارکیٹوں، عالمی حرام خور بازاروں اور اندرونی اور بیرونی قرضوں کی بڑھوتری جاری ہے۔ دوسری جانب امریکا اور کسی نہ کسی حد تک بھارت سے عسکری اور سیاسی مقابلہ کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ OBOR کے ذریعہ چینی معیشت کا جغرافیہ پھیلاؤ بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے کیونکہ OBOR کے بیش تر حلیف ممالک نہایت غیر مستحکم سیاسی نظام رکھتے ہیں۔ اس نے OBOR پر جو اربوں ڈالر قرضے دیے گئے ہیں ان کی واپسی مشکوک ہے اور ان کی عدم ادائیگی چینی معیشت کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو سکتی ہے۔ پھر چین پر امریکی بحری گھیراؤ بھی بڑھنے کا خطرہ ہے اور چینی درآمدات (بالخصوص تیل اور گیس) کی ترسیل کے راستے امریکی بحریہ کی زد میں ہیں۔ عسکری مقابلہ کے بڑھاؤ کے باوجود چین امریکا سے مصالحت پر مجبور ہے۔

نظریاتی طور پر بھی چین تضادات کا شکار ہے۔ روایتی اشتراکی عقائد کمزور پڑ رہے ہیں اور ان کی ایک جدید قوم پرستانہ تعبیر(Socialism with Chinese Characteristics) اپنائی گئی ہے لیکن محنت کش طبقوں میں تحرک جاری رکھنے اور بالائی سطح پر کرپشن کرنے کے لیے ماؤازم کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ پارٹی کا نظریہ سہ نمائندگی (Doctrine of Three Representatives) بھی عوام کی نظروں میں مشکوک ہوتا جا رہا ہے اور پارٹی کو محض سرمایہ کاروں اور ریاستی اہل کاروں کا نمایندہ سمجھا جا رہا ہے ، اس سے پارٹی اور ریاست کی جمہوری شناخت متاثر ہو رہی ہے۔ اس جمہوری شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے سامراجی پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں کیونکہ سامراجیت کی روحانی قوت قوم پرستی ہی فراہم کرتی ہے اور چین کے عوام سامراجی پالیسی کے فروغ کے بھرپور حامی ہیں۔ وہ چین کی گلوبلائزیشن کی حکمت عملی کو چینی سامراجیت کے فروغ کا حصہ ہی سمجھتے ہیں۔ Socialism with Chinese Characteristics کا یہی مطلب ہے۔

6.6۔ چینی امریکی سامراج کا مخاصماتی تعاون

امریکی سامراج اپنی عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے پر پرعزم ہے اور امریکی عوام اس مقصد کے حصول کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ مارچ2015ء میں امریکا کی کونسل آف فارن ریلیشنز(CFR) نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا US Global Strategy Towards China ۔ یہ کونسل تقریباً ایک صدی سے کارفرما ہے اور دنیا کی طاقت ور اور موثر ترین سیاسی مشاورتوں میں شامل ہے اور امریکی خارجہ پالیسی سازی میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ دستاویز امریکا کی چینی تزویراتی حکمت عملی کی صحیح عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی میں چین وہ واحد قوت ہے جو امریکی عالمی بالادستی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مصنفین کے خیال میں چین عسکری، معاشی، ٹیکنالوجیکل اور سفارتی قوت بغیر تصادم کو فروغ دینے پر مجتمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ لیکن چین کا مقصد دھیرے دھیرے امریکی عالمی برتری کو تباہ کرنے کا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین اپنی قومی بالادستی پہلے ایشیا میں اور پھر پوری دنیا میں قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

CFR کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے چین ایک چار نکاتی پروگرام پر عمل کر رہا ہے۔ معاشی ارتقا اور اندرونی تحفظاتی نظام کے ذریعہ وہ اپنی جمہوری عوامی تائید کو فروغ دے رہا ہے([237])۔وہ اپنے ہمسایہ ممالک میں اپنا معاشی اور سفارتی رعب قائم کر رہا ہے۔ یہ امریکا کو اس کے علاقائی باجگزار حلیفوں سے محروم کرنے کا طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ چین بحرالکاہل، بحر ہند اور خلیج فارس میں امریکی دسترس کو محدود کرنا چاہتا ہے تاکہ چینی مقام عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں مستحکم ہو۔ چین کے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات سے بھی CFR کے مطابق امریکا کو خطرہ ہے۔

CFR کے مطابق امریکا نے چین کو 1980ء کے بعد سے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کے لیے جو سہولتی پالیسی اپنائی تھی وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کو ترک کر کے اب امریکی پالیسی کو متوازن ہو جانا چاہیے۔ امریکا کو ایک وسیع بحرالکاہلی تعاون معاہدہ میں شامل ہو جانا چاہیے جس کا مقصد چین کو ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی کو روکنا ہونا چاہیے([238])۔چین کو محدود کرنے کے لیے امریکا کا ایشیائی تیل اور گیس کے ذخائر پر تسلط کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ چین کو امریکی تیل اور گیس کی درآمدات فوراً بند کی جائیں۔

امریکی عالمی عسکری بالادستی کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے بالخصوص نیوکلیئر ہتھیاروں، ڈرون حملہ آوروں اور زیرآب ہتھیاروں کے شعبوں میں بحرالکاہل میں امریکی بلاسٹک میزائل تنصیبات نظام کو فروغ دیا جائے۔ بحرالکاہل میں آزادانہ فوجی اور تجارتی مواصلت کو یقینی بنایا جائے ۔ جنوبی اور مشرقی چینی سمندر پر امریکی مداخلت بڑھا دی جائے اور ان سمندروں کے اردگرد ممالک سے عسکری تعاون کو فروغ دیا جائے۔ چین سے جاری سائبر جنگ کو منظم اور وسیع کیا جائے۔ قریب ترین عسکری تعاون کے ذریعہ جاپان، بھارت، آسٹریلیا ، شمالی کوریا، تائیوان، فلپائن، انڈونیشیا، سنگاپور، ملائشیا، ویت نام اور میانمار کی ادارتی صف بندی کی جائے۔ امریکی جاپانی تعاون کو ایشیا میں امریکی تسلط کے فروغ کا کلیدی درجہ قرار دیا گیا ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ آسٹریلیا کو پوری امریکی عسکری تنصیباتی نظام کا حصہ بالخصوص بحر ہند میں بنا لیا جائے۔

بھارت کو بھی اس منصوبہ میں امریکا کا قریب ترین عسکری ساتھی قرار دیا گیا ہے۔ CFR کے مطابق بھارت اکیلا چینی علاقائی بالادستی کو محدود کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ رپورٹ بھارت کی نیوکلیئر صلاحیت کےفروغ کو امریکی ایشیائی بالادستی کو فروغ دینے کا ذریعہ کہتا ہے اور بھارت کو بڑے پیمانے پر امریکی ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی کی پرزور وکالت کرتا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ بھارتی سامراجی پیش رفت جو جنوبی ایشیا اور مشرقی بحر ہند کے علاقہ میں مرتب کی جا رہی ہے اس کی امریکا کو بھرپور حمایت کرنا چاہیے۔

اس جارحانہ خارجہ پالیسی کو اختیار کرنے کے باوجود امریکا کی سفارتی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بالخصوص چین کے ہمسایہ ممالک کو یہ باور کرایا جائے کہ امریکا چین سے تصادم نہیں چاہتا اور امریکا کے نہیں چین کے عزائم جارحانہ ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ آج چین نہیں امریکا اپنی عالمی بالادستی کو محفوظ رکھنے کے لیے عسکری جارحیت کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ چینی سامراجی پالیسی (اپنے مقبوضہ علاقوں بالخصوص مشرقی ترکستان اور تبت کے علاوہ) معاشی استبداد کے پھیلاؤ پر مبنی ہے عسکری پیش رفت پر نہیں۔

امریکی جارحانہ عزائم اور اقدام کے باوجود چینی سامراج امریکا سے مصالحت کا خواہاں ہے۔ وہ تیس سال کے عرصہ سے امریکا کو سستی اشیا اور سستا قرضہ (اپنے TB Reserves) کی شکل میں فراہم کرتا رہا ہے۔ چین کا اپنی امریکی برآمدات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے اور 2022ء کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی محصولات کے نفاذ کے باوجود یہ برآمدات بڑھتی جا رہی ہیں۔ چین کی امریکی حکومتی تمسکات میں کمی نہیں ہوئی اور آج ان TBs میں چینی سرمایہ کاری تقریباً 2 بلین ڈالر کی ہے۔ ان TBs کی اوسطاً شرح حقیقی سود صفر اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔ کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی اشرافیہ میں امریکی حمایتی موجود ہیں۔ یہ وہ مشرقی اور ساحلی صوبوں کے سرمایہ کار ہیں جو چینی امریکی برآمدات کے سہارے منافع بخش کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے سیاسی اثر کا نتیجہ ہے کہ چینی میکرواکنامک پالیسی ملکی مانگ کو فروغ دینے کے بجائے برآمدات کی حوصلہ افزائی پر مرکوز رہتی ہے۔ اس طبقہ کے کئی افراد عالمی حرام خور مارکیٹوں کے اہم کھلاڑی بن گئے ہیں۔ امریکی معیشت کی ترقی چینی برآمدات کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین امریکا کو ریزروز کی شکل میں سستے ترین قرض دینے پر مجبور ہے۔ عالمی حرام خور مارکیٹوں میں بحران بھی چینی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال چین کا امریکی برآمدات اور عالمی سرمایہ کاری پر انحصار کے کم ہونے کے کوئی امکان نہیں۔ نہ اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے کہ چینی برآمدات عالمی رسدی حلقوں میں assemblage کے درجہ سے ترقی کریں۔

اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ چینی پیداواری نظام نہایت طاقت ور ہے۔ 2020ء کے بحران کے بعد چینی معیشت جس تیزی سے سنبھلی ہے اس کی سرمایہ دارانہ دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ ٹرمپ کی عائد کردہ تمام تر پابندیوں کے باوجود چینی برآمدات امریکا کو تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور چینی ٹیکنالوجیکل ترقی جاری ہے لیکن عالمی حرام خور مارکیٹوں پر انحصار کم نہیں ہو رہا اور نجی اور سرکاری قرضہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی اور حکومت میں ایک ایسا طاقت ور اور بااثر دھڑا موجود ہے جو خود انحصاریت کی پالیسی اپنانے کے خلاف ہے اور قوم پرستانہ رجحانات کے فروغ کے باوجود اسی دھڑے کو عوامی جمہوری تائید حاصل ہے۔ حکومت اور پارٹی برآمدات پر انحصار میں کمی اور دیہی ترقی مانگ میں اضافہ کی باتیں تو بہت کرتی ہے اور امریکی تمسکات میں سرمایہ کاری کے خطرات سے بھی آگاہ نظر آتی ہے لیکن ان پالیسیوں پر عمل درآمد نہایت مجہول ہے۔ کیا قوم پرستی کا فروغ پارٹی اور ریاست میں اس اشرافیہ کا اثر جو ”برآمداتی انحصاریت“ کی وکیل ہے کم کر دے گی؟ ابھی اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کیونکہ چین نیولبرل پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے اور انہی پالیسیوں کو عوامی جمہوری تائید حاصل ہے۔ چینی عوام امریکا سے تصادم کے حق میں نہیں۔ وہ ایک ChiAmerican global order چاہتے ہیں جس میں امریکا اور چین مساوی سامراجی شریک کار ہوں۔

چینی قوم پرستی کی تازہ ترین تعبیر صدر شی کی فکر سے ملتی ہے۔ 2017ء میں پارٹی نے اپنی انیسویں کانگریس میں جو عقیدہ اپنایا اس کو Xi Jinping Thought on Socialism with Chinese Characteristics for a New Era کہتے ہیں۔ شی عقیدہ کی تعبیر ایک نئے ”چینی خواب“ کی وضاحت ہے جس کے مطابق تمام چین کے معیار زندگی میں اضافہ قومی قوت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے تحکم کے ذریعہ رونما ہوتا رہے گا۔ چینی خواب کی ان دو اہداف (انفرادی مادی بہتری اور قومی قوت میں اضافہ) کو کانگریس نے دستوری تحفظ دے دیا ہے یعنی چینی جمہوری نظام میں اس عقیدہ کی تردید بغاوت کا درجہ حاصل کر گئی ہے۔ قومی قوت میں اضافہ کا مطلب علاقائی (عسکری، سیاسی، معاشی) بالادستی لیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ عالمی اشتراکی انقلاب جس کا ماؤ خواہاں تھا اب چینی خواب کا حصہ نہیں۔

چینی خواب میں چینیوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔ چین کا ہر سٹیزن چینی نہیں۔ چینی وہ ہے جو پانچ ہزار سالہ ثقافتی روایات سے وابستہ ہو۔ سنگاپوری، تائیوانی، امریکا اور یورپ میں تارکین وطن سب چینی ہیں لیکن اوغر، تبتی، تاجک، ترک حتیٰ کہ چینی مسلمان بھی چینی نہیں۔ اس خواب کے مطابق چینی نسل دنیا کی سب سے ترقی یافتہ اور خوش حال تہذیب اور ریاست کی تعمیر کرے گی لیکن رہے گی چینی۔ ظاہر ہے دنیا کو چینی بنانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا دنیا کو ہندو بنانا، یہودی بنانا، جرمن بنانا ناممکن ہے۔ چینی قومیتی شناخت نسل پرست ہے۔

عقیدہ Socialism with Chinese Characteristics in a New Era کے مطابق 2035ء تک چین کو سائنسی اختراعات میں دنیا کا ایک عظیم قائد بنا دیا جائے گا۔ 2050ء تک چینی عظمت دنیا کے سرمایہ دارانہ کارپوریٹ نظام میں قائم کر دی جائے گی لیکن یہ واضح نہیں کہ کیا یہ اختراعی اور کارپوریشنل عظمت سیاسی اور عسکری بالادستی کا ذریعہ بنے گی ۔ اس بارے میں خواب خاموش ہے۔ کیا چینی بالادستی مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا تک محدود رہے گی؟ OBOR کے تحت پوری دنیا میں سرمایہ کاری کی گئی ہے لیکن چین کے حرام خور ادارے عالمی نیولبرل حرام خور نظام میں پیوست رہے ہیں اور اس نظام میں بالادستی حاصل کرنے کی کوئی منظم کوشش چین نہیں کر رہا۔

چینی عسکری جارحانہ کارروائیاں جنوبی چینی سمندر تک محدود ہیں (بھارت سے بڑے پیمانے پر عسکری تصادم پر چین کو مجبور کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرنا چینی خواب کا حصہ نہیں)۔ 2010ء میں چین نے جنوبی چینی سمندر کو تبت، ہانگ کانگ اور تائیوان کے مماثل قرار دے دیا تھا اور یہ علاقہ ویت نام، ملائشیا، انڈونیشیا، فلپائن اور برونائی کی سمندری سرحدوں (exclusive fishing zone)کو عبورکرتی ہیں۔ اس علاقہ میں امریکی تسلط کو کمزور کرنا بھی چین کے عسکری منصوبوں کا حصہ ہے۔ اسی وجہ سے چینی عسکری اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور چین نے عسکری اڈے قائم کرنے شروع کر دیے ہیں۔

چینی خواب اور امریکی خواب میں ایک بنیادی فرق ہے۔ امریکی خواب کی اپیل عمومی ہے۔ امریکی خواب دیکھنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ لبرل اقدار کو پوجنے والے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ اشتراکیت کو ترک کر کے چین نے اپنی عالمی عوامی حمایت کو مجروح کیا ہے۔ آج مشرق بعید میں کوئی چینی خواب نہیں دیکھتا اور بیش تر افراد چین کے تہذیبی اور سیاسی پھیلاؤ (معاشی پھیلاؤ نہیں) کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں چینی حمایت افاداتی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ نظریاتی بنیادوں پر نہیں کی جاتی۔ جنوبی بحرالکاہل کے تمام ساحلی ملکوں نے امریکی فوجی اور سفارتی امداد کی چین کی پیش رفت روکنے کے لیے درخواست کی ہے اور امریکی فضائیہ، بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے ساتھ فوجی مشقیں انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ویت نام، سنگاپور، برونائی اور فلپائن کرتے رہتے ہیں۔ مشرقی ایشیا میں امریکی فوجی پڑاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ ان تمام ملکوں میں چینی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

2018ء کے بعد OBOR کی اسکیمیں سری لنکا، ملائشیا، کمبوڈیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ویت نام میں دیوالیہ کے دہانے پر کھڑی ہیں اور چینی قرضوں کی ادائیگی مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ OBOR پروجیکٹس بحیثیت مجموعی اگر کامیاب بھی ہو جائیں تو وہ چین کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کا ہی کردار ادا کریں گے کیونکہ بلااستثنا یہ تمام پروجیکٹس عالمی سرمایہ دارانہ حلقوں میں پیوست ہیں۔ چین جو انفراسٹرکچر دنیا بھر میں تعمیر کر رہا ہے اس کا بہترین استعمال عالمی سرمایہ دارانہ ملٹی نیشنلز ہی کر سکتی ہیں۔ یہ بالکل واضح نہیں کہ اس عمل سے امریکی عالمی بالادستی کیسے اور کس حد تک کم ہو گی۔

چین کی برآمدات بڑی حد تک ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتی ہیں۔ 2018ء میں ملٹی نیشنلز چینی برآمدات کے تقریباً 46 فیصد کی ذمہ دار تھیں۔ چین کی اونچی ٹیکنالوجی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ 2018ء میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے فراہم کیا۔ ان ٹیکنالوجیکل برآمدات کا صرف 17 فیصد چینی کمپنیوں نے برآمد کیا۔ چینی کمپنیاں ملٹی نیشنلز کی ذیلی پارٹنر نہیں ہیں۔ مثلاً Foxcom امریکی ملٹی نیشنل Apple کے لیے آئی فون اسمبل کرتی ہے۔ ہواوے کے علاوہ چین کی سب سے بڑی الیکٹرانک برآمد کرنے والی کمپنیاں سب غیرملکی ملٹی نیشنل ہیں۔ چینی قومی مارکیٹ کے کئی شعبوں میں بھی غیر ملکی کمپنیاں اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ کئی امریکی کمپنیاں ان میں شامل ہیں(دیکھئے جدول 6.1)۔ اس سے امریکی سرمایہ کی چینی قومی مارکیٹ میں دسترس واضح ہوتی ہے۔ چینی حرام خور مارکیٹوں میں بھی امریکی دسترس بڑھ رہی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں چینی معیشتی پیوستگی گنجلک ہے۔ چینی ریاست تیز رفتار ٹیکنالوجیکل ترقی کے ذریعہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی وقعت اور خودمختاری کسی نہ کسی حد تک بڑھانے کی اہلیت رکھتی ہے لیکن ایروسپیس، میڈیکل ٹیکنالوجی، آٹوموبائلز، سافٹ ڈرنکس وغیرہ کے شعبوں میں وہ ملٹی نیشنل سرمایہ کاری پر انحصار کرتی ہے۔ برآمدات کا انحصار بہت بڑی حد تک ملٹی نیشنل سرمایہ کاری پر ہے۔ عالمی حرام خور مارکیٹوں پر بھی انحصار بڑھتا جا رہا ہے گو اس کی تحدید کی کوشش ریاست وقتاً فوقتاً کرتی رہتی ہے۔

جدول: امریکی ملٹی نیشنلز کا چینی مارکیٹ میں حصہ، 2018ء

Company

Sector

Share

Google

Smart phones

71.2

Apple

Smart phones

28.6

Microsoft

Desktop systems

90

Intel

Semiconductors

11

Cisco

Electronic Switches

55

General Electric

Large Hydro Equipment

20

General Electric

Nuclear Medicine

39

General Electric

MRI Scans

34

Boeing

Airplanes

45

Proctor & Gamble

Haircare

36

Proctor & Gamble

Oral care

16

Pfizer

Medicine

5

Coca Cola

Soft Drinks

63

Pepsi Cola

Soft Drinks

30

Nike

Sports ware

19

Yum Breads

Fast Food

14

McDonald’s

Fast Food

14

Starbucks

Coffee Shops

53

Las Vegas Sands

Casinos

25

لیکن اس انحصاریت کے باوجود چین باجگزار ریاست نہیں۔ وہ ایک خود مختار سامراج ہے جو امریکا سے مشرقی اور جنوبی بحر الکاہل میں ”سرد“ عسکری مقابلہ کی متحمل ہو سکتی ہے۔ یہ مقابلہ دنیا کے دوسرے علاقوں (جنوبی ایشیا، افریقا، مشرق وسطیٰ) تک نہیں پھیل سکتا۔ نظاماتی تصادم سے چین گریز کرتا رہے گا کیونکہ چینی جمہور اس قسم کے تصادم کی تائید نہ کریں گے کیونکہ اس سے ان کا مستقبل مستقل اونچا ہوتا ہوا معیار زندگی خطرے میں پڑتا ہے۔ چین ایک جمہوری سامراج ہے جہاں عوامی رائے کی پیروی حکام کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ فاشسٹ نہیں استبدادی جمہوریت ہے۔

صدر شی کو امید ہے کہ چینی معیشت کی عالمی نظاماتی پیوستگی دھیرے دھیرے (2050ء تک) بغیر کسی بڑے تصادم کو جنم دیے امریکی بالادستی کو مجروح کرتی چلی جائے گی۔ ہماری رائے میں OBOR کے منصوبوں کی جزوی ناکامی اور عالمی حرام خور مارکیٹوں میں انضمام کے منفی نتائج ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ امریکا کی معاشی برتری تو یقیناً چین کے مقابلہ میں کم ہوتی رہے گی لیکن سیاسی اور عسکری فوقیت اور عالمی بالادستی کو کوئی خطرہ نہیں (کم از کم اس مستقبل میں جس کے بارے میں پیش گوئی ممکن ہے)۔ امریکی نظاماتی بالادستی کو بہت سے خطرات ہیں وبائی، ماحولیاتی، ٹیکنالوجیکل، ثقافتی وغیرہ لیکن سامراج کا پھیلاؤ کوئی بڑا خطرہ نہیں۔

6.7 ۔ علاقائی سامراجی دہشت گرد: جمہوریہ بھارت

امریکی معاشی قوت کے بتدریج زوال سے سامراجی نظام کمزور نہیں پڑتا۔ امریکی چینی مخاصمت بھی سامراجی نظام میں دراڑ نہیں ڈالتی۔ امریکی عسکری غلبہ مستحکم ہے اور چین نے عسکری طور پر کہیں بھی امریکا کا مقابلہ نہیں کیا ہے نہ افغانستان میں نہ عراق میں نہ شام میں نہ وینزویلا میں (جیسا کہ امریکا اور سابقہ سوویت یونین میں بھی کبھی عسکری تصادم نہیں ہوا تھا)۔ جنوبی سمندری چین میں اس نوعیت کے تصادم کے امکانات موجود ہیں لیکن ابھی تک چینی جارحیت کے سامنے امریکا گریز اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود چین اور سابقہ سوویت یونین امریکا سے مزاحم ممالک کی مدد ضرور کرتے ہیں لیکن سرد جنگ کے دورانیہ (1985-1945)دورانیہ کے برخلاف آج یہ مدد معاشی اور ٹیکنالوجیکل ہوتی ہے عسکری مداخلت کی شکل اختیار نہیں کرتی۔

چونکہ امریکا خود جنگ لڑنا نہیں چاہتا لہٰذا اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے علاقائی طاقت ور حلیف پیدا کرے جو امریکی سامراجی مفادات کو فروغ دے سکیں۔ اس کے نتیجہ میں علاقائی ذیلی سامراجی نظام مرتب ہو رہا ہے جس کے ذریعہ بلاواسطہ طور پر امریکی عسکری اور سفارتی قوت منتخب علاقوں میں پروجیکٹ ہو رہی ہے۔ یہ سامراجی شریک کار ممالک امریکا کے ایسے حلیف ہیں جن کی ریاستی خود مختاری کو برداشت کرنے پر امریکی سامراج آج مجبور ہے۔ ان ذیلی سامراجی دہشت گرد ممالک میں اسرائیل، بھارت اور سعودی عرب شامل ہیں۔ یہ تینوں ایشیا میں ہیں۔ برازیل اور نائجیریا کو اپنا حلیف بنانے کی امریکی کوشش فی الحال ناکام نظر آتی ہے۔ چین اور روس بھی اس حکمت عملی کو اپنانے کے خواہاں ہیں اور اگر پاکستان میں ایک طاقت ور قوم پرست ریاست قائم ہو جائے تو چین کی یہ کوشش ہو گی کہ پاکستان اس قسم کا کردار ادا کرے لیکن پاکستانی سیاستی معیشت پر امریکی اثر گہرا ہے اور فی الحال چین کی یہ امید پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔

بھارت کو ایک طاقت ور ذیلی سامراج بنانے میں امریکا کامیاب نظر آتا ہے۔ 1991ء کے بعد سے بھارتی معاشی پالیسی نیولبرل خطوط پر مرتب ہو گئی اور نجی سرمایہ کاری توانائی، ٹیلی کمیونی کیشن، انفراسٹرکچر، کان کنی، شہری ہوابازی، حرام خور اداروں (بینک اور انشورنس کمپنیوں ) اور کئی دوسرے شعبوں میں فروغ پانے لگی۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستانی سیاسی معیشت میں حرام خور اشرافیہ کو اہمیت حاصل ہو گئی۔ قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے اس اشرافیہ کا قبضہ ریاستی اثاثوں پر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مشہور فرانسیسی کافر معیشت دان تھامس پکیٹی نے بھارتی جمہوریت کو ارب پتیوں کا راج کہا ہے۔ 1991ء کے بعد سے تقسیم آمدنی کی نامساویت بھارت میں ہوش ربا انداز سے بڑھی ہے۔ دولت اور سرمایہ چند اجارہ داروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا جا رہا ہے۔ بے روزگاری اتنی بڑھی ہے کہ دنیا بھر میں بھارتی ارتقائی عمل کو ”بے روزگارانہ ارتقا“ کہا جا رہا ہے۔ حرام خور اشرافیہ اور دیگر سرمایہ کار بھارتی جمہوری عمل پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کے عطیات کی بنیاد پر ہی انتخابات جیتے جاتے ہیں اور یہ عطیات ریاستی اثاثوں اور سرکاری بینکوں کے سستے قرضوں کے عوض ہر سیاسی جماعت کو ملتے رہتے ہیں۔ یہ کارپوریٹ جمہوریت امریکی جمہوریت کا چربہ ہے۔ بھارت میں کرپشن اتنا عام ہے کہ ارون کمار کے مطابق 2013ء میں کالی معیشت کا حجم بھارتی مجموعی سالانہ پیداوار میں 62 فیصد تھا۔

بھارتی سرمایہ کار عالمی حرام خور بازاروں میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری کالے دھن کو سفید کرنے اور ٹیکس چوری کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ بھارتی سٹہ کا مارکیٹ عالمی سٹہ مارکیٹوں سے ملحق ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ عالمی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارتی معیشت کا انحصار عالمی حرام خور مارکیٹی رجحانات پر اتنا بڑھ گیا ہے کہ حکومتی پالیسی کا ایک اہم مقصد حرام خوروں کو مطمئن رکھنا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی حرام خور سرمایہ کاروں کا اڈہ (انٹرنیشنل فنانشل انسٹی ٹیوٹ) اب بھارتی سٹہ مارکیٹ کو ایک Tax Haven (ٹیکس بچانے کا علاقہ ) تصور کرتاہے۔ نجی و سرکاری شراکت داری کے ذریعہ حرام خور سرمایہ کاری ریاستی شعبہ میں بھی پیوست ہو گئی ہے۔ ان PPP پروجیکٹس میں نجی سرمایہ کاروں کو مینجمنٹ کے تقریباً تمام اختیارات سونپ دیے جاتے ہیں اور بھارتی سرمایہ کار آج عالمی سرمایہ کار طبقہ کے اہم ارکان میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مثلاً مکیش امبانی ریلائنس انڈسٹریز کا مینجنگ ڈائریکٹر بنک آف امریکا کا ڈائریکٹر اور امریکی کونسل آف فارن ریلیشنز کا مشیر رہ چکا ہے۔ اس کے سیاسی اثرات لامحدود ہیں اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے مددگاروں میں شامل ہے۔ بھارت BMC نے امریکی اور برطانوی انویسٹمنٹ بینکنگ، سکیورٹیز کارپوریشنوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارتی کھرب پتیوں کی بیرونی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بھارتی صنعتی، خدمتی، معدنیاتی اور زرعی شعبہ میں بیرون ملک کمپنیاں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ بھارت میں چینی سرمایہ کاری بھی جاری ہے اور چین بھارت تجارت کا حجم بھی ترقی کر رہا ہے۔

بھارتی سرمایہ کار کارپوریشنیں بھی ریاستی تحفظاتی نظام کا حصہ بن رہی ہیں مثلاً Essar Group جنوبی چھتیس گڑھ میں بھارتی فوج سے معاہدہ کیے ہوئے ہے جس میں ٹاٹا سٹیل بھی شریک ہے۔ اس کا مقصد وہاں جاری ماوسٹ بغاوت کو کچلنا ہے۔ بستر اوربیجاپور میں فوجی کارروائی کے ذریعہ ہزاروں کسانوں کی زمینیں چھین کر کارپوریشنوں کو دی گئی اور دی جا رہی ہیں۔ یہ زمینیں ٹاٹا سٹیل اور Essar Group کو دی جا رہی ہیں۔ خصوصی برآمداتی مراکز آد واسیوں کے بڑے پیمانے پر بے دخلی سے قائم کیے جا رہے ہیں اور ان زمینوں پر ملکی اور غیر ملکی کارپوریشنیں قبضہ کر رہی ہیں۔ ملٹی نیشنل سرمایہ کاری بھارتی معدنی شعبہ میں بہت نمایاں ہے۔

بھارتی سیاست میں سرمایہ کار بالخصوص حرام خور سرمایہ کاروں کا غلبہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ چین کی طرح سرکاری اور نجی دائرہ کار میں تفریق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سیاست ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ہر زمانے میں اور ہر جگہ حرام خور اشرافیہ کی پشت پناہی کی ہے اور قومی دولت لوٹنے میں ان کی مدد کی ہے۔ دونوں جماعتوں کا پالیسی ایجنڈہ نیولبرل سامراجی ہے اور اس پر 1991ء سے عمل کیا جا رہا ہے۔ لیکن ریاست کا سامراجی رجحان اس کے نیولبرل رجحان سے قدیم ہے۔48-1947ء میں حیدر آباد دکن، جوناگڑھ اور کشمیر پر قبضہ کیا گیا اور اس وقت سے سری لنکا، بھوٹان اور نیپال پر سامراجی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ 1991ء کے بعد اس سامراجی رجحان کو سرمایہ کار طبقہ کی بھرپور اور غیرمشروط حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بھارتی حرام خور اور صنعتی طبقہ عالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹوں میں ماتحتی انحصاریت اختیار کیے ہوئے ہے۔ بھارتی دفاعی، صنعتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجیکل کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک امریکی رعایتی ٹیکنالوجیکل درآمدات پر ہے۔ بھارتی بڑے سرمایہ دار قوم پرست نہیں وہ سامراج کے ہم نوا اس لیے ہیں کہ بھارت کو علاقائی دہشت گرد سامراجی قوت بنانا امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہدف ہے۔

بھارتی سرمایہ کاروں کا ایک بڑا جزو گلوبلائزڈ ہو گیا ہے۔ ان کا کاروبار ان کا پیسہ ان کی اولاد مغربی دنیا میں مقیم ہیں۔ نیولبرل سیاسی رجحان ان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جن سنگھ کی قوم پرستی کو اپنے نیولبرل ایجنڈے کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور فی الحال ان کا قبضہ بھارتی وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت خارجہ میں مکمل ہے۔ (اب گاندھی کی سوادیشی تحریک بھارت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکی ہے)

بھارتی سیاسی معیشت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی جغرافیائی حدود میں بالخصوص سرحدوں پر غیر سرمایہ دارانہ معاشرت اور معیشت بھی موجود ہے۔ یہ بات چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، آسام، ناگالینڈ، آندھرا پردیش اور شمال مشرقی صوبہ جات کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ ان علاقوں کے قدرتی وسائل ، کانوں، جنگلوں، اراضی پر سرمایہ دار قبضہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ قبضہ ریاستی عسکری قوت کے استعمال کے بغیر نہیں کیا جا سکتالہٰذا ان علاقوں میں ”اندرونی سامراجی“ پالیسی ایجنڈے پر برس ہا برس سے عمل کیا جا رہا ہے۔ اور ان تمام علاقوں میں سامراج کے خلاف مزاحمت علیحدگی تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ بھارت ایک مصنوعی اکائی ہے جس کو برطانوی سامراج نے عجلت میں تعمیر کیا اور ”اندرونی سامراجی عمل“ کے ذریعہ بھارتی ریاست اپنی جغرافیائی وحدت قائم کیے ہوئے ہے۔ اس اندرونی سامراجی جدوجہد کا گہرا تعلق بھارت کی بیرونی سامراجیت سے بھی ہے۔

چین کی طرح بھارت میں بھی اندرونی کالونیاں موجود ہیں۔ چین میں مشرقی ترکستان اور تبت بھارت میں مقبوضہ کشمیر، ناگالینڈ، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش کے کچھ علاقے ان اندرونی کالونیوں میں بھارت اور چین دونوں جگہ فوج اور پولیس بدترین قتل عام اور لوٹ مار کر رہی ہے۔ نازی جرمنی کی طرح دونوں ملکوں میں ایک ”اندرونی دشمن“ تلاش کر لیا گیا ہے۔ دونوں ممالک میں اسی مشترکہ دشمن کی صفوں میں بہت بڑی حد تک مسلمان شامل ہیں۔ دونوں ممالک میں جمہوری تحکم کو جواز فراہم کرنے کے لیے قوم پرستی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ چین میں قوم پرستی کی پیوندکاری اشتراکیت کے ساتھ کی جا رہی ہے بھارت میں لبرل ازم کے ساتھ۔

چین ایک مکمل استبدادی جمہوریت ہے۔ بھارت میں استبدادی جمہوریت قائم کی جا رہی ہے۔ سنگھ پریوار غالباً دنیا کی دوسری بڑی جمہوری تحریک ہے جس کے باعمل متوسلین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ گجراتی مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی عوامی دیوتا کی طرح پوجا جاتا ہے۔ بی جے پی کو 2014 ء اور 2019ء کے انتخابات میں سرمایہ کاروں کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ دونوں انتخابی مہمات میں عطیات کی بنیاد پر بی جے پی نے دس بلین روپے خرچ کیے۔ سرمایہ کار ہر سطح پر (وفاقی، صوبائی، شہری اور مقامی) بھارتی سیاسی نظام میں غالب ہیں۔ بھارت میں سرمایہ کاروں کی اسی نظاماتی بالادستی کو عوامی تائید حاصل ہے۔

بھارتی دستور حکومت ہند ایکٹ 1935ء کا چربہ ہے۔ بھارتی دستور کے 247 دفعات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 سے لیے گئے ہیں۔ یہ دستور سرمایہ دارانہ نظم ملکیت اور تصور عدل کی تنفیذ کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ بھارتی معاشرت کے لیے ایک اجنبی دستور ہے کیونکہ وہاں کے عوام کی اکثریت سرمایہ دارانہ ملکیت سے ناآشنا اور تمدنی طور پر جاتی اور مذہبی اجتماعیتوں میں منظم ہیں۔ دستور اس غیر سرمایہ دارانہ معاشرت پر سرمایہ دارانہ تحکم نافذ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جمہوریت بھارت کو تنویری بنانے کی کوشش ہے۔ بھارتی دستور کے ماخذات برطانیہ کا میگنا کارٹا، انقلاب فرانس اور امریکا کا اعلانِ آزادی ہے۔ ہندو توا اسی جمہوری جدوجہد کو عوام تائید دلانے کی ایک کوشش ہے۔

دوسری لبرل جمہوریتوں کی طرح بھارت میں بھی سرمایہ دارانہ سیاسی حقوق کی فراہمی مشروط ہیں مثلاً 1950ء میں نہرو نے Prevention Detention Act نافذ کر کے ہزاروں افراد کو ماورائے قانون (دستور کی دفعہ 22(3)(b) کے تحت گرفتار کیا اور آج بھی اس دفعہ کے تحت مودی سرکار مظاہرین کو جیلوں میں بھر رہی ہے۔ اس کے بعد سے آج تک ایسے ایکٹ نافذ کیے گئے جو سرمایہ دارانہ آزادی رائے اور اجتماع کو نسخ کرتے ہیں۔ یہ سب برطانوی کریمنل ایکٹ 1905ء کا تسلسل ہیں۔

حقیقت میں لبرل جمہوریت کا ایک تضاد یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ حق ملکیت، سرمایہ دارانہ سیاسی حقوق (آزادی رائے اور اجتماع) کی لازماً تحدید کرتا ہے۔ ان سیاسی سرمایہ دارانہ حقوق کو لامحالہ معطل کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان کے نفاذ سے سرمایہ کا نظاماتی تحکم خطرہ میں پڑ جائے۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں میں فیصلہ سازی ہمیشہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ عوام اس اشرافیائی تحکم کی محض تائید کرتے ہیں۔ پھر سرمایہ دارانہ اشرافیہ کبھی بھی متحد نہیں ہو سکتی (کیونکہ سرمایہ عمومی کا کوئی نمایندہ موجود نہیں) اور سرمایہ دارانہ ریاست پراشرافیہ کا مخصوص گروہ ہی قابض ہوتا ہے اور سرمایہ عمومی کے بڑھوتری کی ایک مخصوص حکمت عملی کی تنفیذ اور تشریح کرتا ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ عوام اس مخصوص تشریح کو قبول نہ کریں تو خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کا عمل ہی معطل نہ پڑ جائے۔ اس خطرہ کو ٹالنے کے لیے سرمایہ دارانہ سیاسی حقوق کا تعطل لازمی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جمہوری نظام میں دستوری قانون کے ساتھ ساتھ ایڈمنسٹریٹو قانون کی تنفیذ بھی لازمی ہے کہیں کم کہیں زیادہ۔

جمہوری نظام میں عوام ریاستی فیصلہ سازی کے عمل میں دخیل نہیں ہوتے۔ سرمایہ دارانہ جمہوری حقوق کو بھی عوام کو اس حد تک دیے جاتے ہیں جس حد تک ان حقوق کی فراہمی کے نتیجہ میں بڑھوتری سرمایہ مجموعی کے عمل کو تقویت ملتی ہے لیکن پونجھ راج (rule of capital)کی تائید کرتے رہنا عوام کا جمہوری حق/فرض ہے۔ بھارت میں اس پونجھ راج کی تائید کا حق/فرض ہندو توا نظریات کی بنیاد پر بڑی حد تک فراہم کیا جاتا ہے۔ بھارتی جمہوری نظام میں دیگر نظریاتی قوتیں 1990ء سے کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔

ہندو توا تحریک کی ابتدا تو بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ہو چکی تھی لیکن اس کے حالیہ عروج کی ذمہ دار کانگریس پارٹی ہے جس نے 1989ء میں بابری مسجد کے علاقہ میں رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی۔ رام جنم بھومی تحریک کو ہوا دی اور بھاگلپور ( 1989ء) ممبئی(1993)اور گجرات (2002)میں سنگھ پریوار کی دہشت گردی، لوٹ مار اور قتل و غارت کو فوجی اور سرکاری اعانت فراہم کی۔ یہ سب واقعات بھارتی جمہوری نظاماتی ارتقا کے اہم سنگ میل ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بلوے جن میں ہزاروں افراد شہید کر دیے جاتے ہیں ہندوستان میں 1947 ء سے مسلسل جاری ہیں۔ یہ بھارتی جمہوریت کا اٹوٹ انگ ہیں اور پونجھ راج کو جواز فراہم کرنے کا ایک اہم طریقہ۔ مقبوضہ کشمیر اور شمالی مشرقی صوبوں میں یہ ریاستی دہشت گردی ایسی بھیانک ترین تصویر پیش کرتی ہے جہاں بھارتی قانون Armed Forces (Special Powers) Act بھارتی قابض فوج کو قتل عام، عصمت دری، ٹارچر، اغوا کرنے اور لوٹ مار کی کھلی اجازت دیتی ہے اور پورے مقبوضہ کشمیر کو ایک وسیع جیل میں 2019ء سے اب تک تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس تمام ظلم و ستم اور دہشت گردی کو بھارتی عوامی حمایت حاصل ہے جس کا اظہار وہ جمہوری عمل کے ذریعہ کرتے رہتے ہیں۔ بھارتی جمہوریت نہایت مضبوط ہے، ریاستی اشرافیہ، حرام خوروں، بڑے صنعتی سرمایہ کاروں، ملٹی نیشنل کارپوریشنوں اور امیر زمین داروں پر مشتمل ہے جس کو ایک ابھرتی ہوئی دیہی اور شہری متوسط طبقے اور ریاستی اہل کاروں کی اعانت حاصل ہے۔ محکومین جو بھارتی آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں جمہوریت کی زنجیروں میں جکڑے گئے ہیں اور انتخابات اور سیاسی پارٹی کارفرمائی کے ذریعہ سرمایہ راج کے تحکم کی تائید پر مجبور ہیں۔ اس عوامی اکثریت کو جاتی نظام نے منتشر کر دیا ہے۔

لبرل اور استبدادی نظاماتی خصوصیات کا یہ امتزاج بھارت میں سرمایہ دارانہ تحکم کے فروغ کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا ہے اور اس کا کوئی امکان نہیں کہ بھار ت میں ایک مکمل استبدادی (فاشسٹ، اشتراکی) جمہوری نظام قائم ہو۔ اس لبرل استبدادیت کی ایک نظریاتی توجیہہ ہندو توا فراہم کرتی ہے۔

ہندو توا کا ہدف بھارت کو ایک براہمنی دہری (secular)ریاست بنانا ہے۔ لیکن یہ براہمی دہریت سرمایہ داری کا جزو ہے۔ اس کی ثقافتی، مذہبی، سیاسی تعبیرات تو مرتب کی جا رہی ہیں لیکن اس کی کوئی جداگانہ معاشی تعبیر نہیں۔ 72- 1871ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق برہمن برصغیر کی آبادی کا اس وقت دس فیصد تھے اور ظاہر ہے کوئی برہمن نہیں بنایا جا سکتا۔ ہندو بنانے کی تحریک(سدھی پاک کرنا) 1875ء سے جاری ہے۔ یہ شودر جاتیوں، داسیوں اور ہرجنوں وغیرہ کو ان کے ہندو ہونے کا احساس دلاتی ہے لیکن غیر ہندو (مسلمانوں، عیسائیوں اور بودھوںوغیرہ)میں بری طرح ناکام ہے۔2015ء کی ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمان آبادی کا 0.001 فیصد بھی مرتد نہیں ہوا اور مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم کے باوجود ہر سال تقریباً ایک لاکھ ہندو مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔

ہندو توا کا بانی سوامی دیانند سرسوتی تھا۔ ہندو سبھا 1914ء میں قائم ہوئی۔ ویر ساورکر کی مشہور کتاب Who is a Hindustani 1923ء میں شائع ہوئی اور راشٹریہ سیوک سنگھ 1925ء میں وجود میں آئی۔ 1890ء کی دہائی سے بال گنگا دھر نے قدیم ہندومت میں قوم پرستی کے نظریات کو سمونے کی کوشش شروع کی۔ 1996ء میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ (SCC(1)(130) کے مطابق دہریت (secularism)بھارتی دستور کے مطابق ہندو طرز زندگی کی ترویج کا ذریعہ ہے۔

ہندو توا کوئی مذہب نہیں۔ وہ ایک سیاسی نظریہ ہے جو ہندو راشٹرہ (state)کے قیام کے لیے قدیم ہندو عقائد اور تاریخی روایات کا سہارا لیتا ہےاور اپنی عوامی اپیل اسی ہندو روایتی وابستگی سے حاصل کرتا ہے۔ ساورکر نے آر ایس ایس کو ایک عسکری تنظیم بنایا اور مسلمانوں سے ایک سول وار لڑنے کے لیے تیار کیا ۔ مسلمانوں کو ویسا ہی اندرونی دشمن گردانا جیسا یہودیوں کو جرمن فاشسٹ کہتے تھے۔ آر ایس ایس نے تمام مسلم کش فسادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ سنگھ پریوار سے ملحق تنظیموں کی ہزاروں شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں جہاں لاکھوں مسلم دشمن جنگجوؤں اور دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ ان شاخوں نے ریاستی اداروں، عدالتوں اور تعلیم گاہوں پر بہت اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ دستور کی لبرل دفعات کی ہندو توائی تعبیر عام ہے۔ آج بھی بھارتی آبادی کی اکثریت مسلمانوں ، دلتوں، آدی واسیوں اور نچلے جاتیوں پر مشتمل ہے لیکن یہ اکثریت منقسم جمہوری عمل سے مفلوج اور معاشی قوت سے محروم ہے۔ برہمنی دہریت نے بھارت میں ایک نہایت دیر پا اور مضبوط جمہوری شکنجہ میں اس اکثریت کو جکڑ رکھا ہے۔ اس نظام کے دو سہارے ہیں۔ نیو لبرل ازم اور اندرونی اور بیرونی سامراجیت۔ بھارتی جمہوری نظام کے تمام شریک کار بھارتی ریاست کی نیولبرل اور سامراجی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہیں۔ حرام خور اور دوسرے بڑے سرمایہ کار نہات دل جمعی کے ساتھ ہندو توا نظریات کی ریاستی غلبہ کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ ہندو توا ریاستی غلبہ 1989ء سے راجیو گاندھی کی حکومت میں شروع ہوا۔ ویسے تو کانگرس اپنے ابتدائی دور ہی سے ہندو توائی رجحانات سے متاثر رہی۔ رام راجیہ کا نعرہ گاندھی نے ستیہ گرہ تحریک کے دوران ہی لگا دیا تھا۔ مدن موہن مالویہ جو ہندو مہا سبھا کا صدر تھا 1909، 1918، 1930 اور 1932 ء میں کانگرس کا صدر بھی رہا۔ کے ایم منشی اور ولبھائی پٹیل بھی ہندو مت کے فلسفہ سے بہت متاثرتھے۔ راجیو گاندھی نے اپنی 1992ء کی انتخابی مہم رام راجیہ کا نعرہ لگا کر شروع کی۔ 2019ء کی انتخابی مہم میں بھی کانگریس نے ہندو توائی آدرشوں کا سہارا لیا۔ ہندو توائیت سنگھ پریوار سے مخصوص نہیں دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس نظریہ سے متاثر ہیں گو کہ ان جماعتوں میں یہ نظریہ غالب نہیں۔

ہندو توائیت کے عروج کے دور میں کانگریس اور بی جے پی دونوں نے نیو لبرل پالیسیاں اختیار کیں۔ بھارتی جنتا پارٹی انتخابی عمل ہی کے ذریعہ اقتدار میں آئی اور اسی نے دستوری تناظر میں سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق کی نامکمل تشریح نو جاری رکھی ہے۔ اس کی معاشی پالیسیاں راجیو گاندھی اور من موہن سنگھ کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ دونوں حکومتوں نے اس بات کی کوشش کی کہ حرام خور اور بڑے سرمایہ کار اشرافیہ کا نمایندہ دھڑا ریاستی کارفرمائی میں شریک کار ہو جائے۔

حرام خور اور بڑے سرمایہ کار اشرافیہ کو عوامی تائید کی ضرورت رہتی ہے۔ بالخصوص اس صورت میں جب دو تہائی عوام محرومین اور معطونین کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں اور نیولبرل پالیسیوں کے نتیجہ میں تقسیم آمدنی اور دولت روز بروز غیر مساویانہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ توجیہہ کی یہ ضرورت ہندو توا نظریات کی عمومیت پوری کرتی ہے۔ بھارتی ارب پتیوں اور عام مزدور کی آمدنی میں آج دس لاکھ گنا کا فرق ہے ۔ ہندو توا ئیت آمدنی کے اس فرق اور اس کے اسباب سے بحث نہیں کرتی بلکہ اس کو فطری گردانتی ہے۔ بھارتی حرام خور اور بڑے صنعت کار اپنی ملکی اقتصادی لوٹ مار سے کمائی ہوئی دولت کو بیرونی سرمایہ کاری اور سامراجی توسیعاتی مہمات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیے جانا پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی داخلی معیشت زائد پیداوار کا شکار ہے اور برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اتنا ضروری ہو گیا ہے اور بھارتی معیشت میں حرام خوریت تیزی سے ترقی پذیر ہے۔ آبادی کا 12 سے 15 فیصد حصہ ایک نئے متوسط طبقہ پر مشتمل ہے (150 یا 200 ملین افراد) اس طبقہ میں صارفیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ امراکے طرز زندگی کا نقال ہے اور آزادی کا مطلب مادی ترقی کو لیتا ہے۔ یہ سٹیزن کی نظاماتی بالادستی کا مطلب صارف کی بالادستی گردانتا ہے۔ ہندو توائیت کی ڈویلپمنٹ کو فروغ دینے کی پالیسیاں اسی متوسط طبقہ کو حامی بناتی ہیں۔

اعلیٰ حرام خور اور سرمایہ کار عموماً ہندو توائی ہیں۔ وہ ہندوتوائیت کو اپنے مفادات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ امبانی برادران(مکیش اور دھاد بھائی) اور رتن ٹاٹا وغیرہ مودی کی تعریف کرنے سے نہیں تھکتے۔ انہوں نے ہندو رسوم کو اپنا کر ہندو توائیت کے ذریعہ اپنے سرمایہ دارانہ لوٹ مار کو جمہوری جواز فراہم کیا ہے۔ ہندو توائیت نے ایک ریاستی سرمایہ کاری منڈل اتحاد(state-business-temple cooperation) کو مستحکم کیا ہے۔ہندو توائیت کی طرف حرام خوروں اور بڑے سرمایہ کاروں کے التفات کا بنیادی سبب اس سوشل ڈیموکریسی کی ناکامی ہے جو پنڈت نہرو نے بھارت پر مسلط کی تھی۔ سوشل ڈیموکریٹ نظام حرام خور اور بڑے نجی سرمایہ دارانہ شعبوں کی تحدید کرتا تھا لیکن بھارتی عوام کی مفلوک الحالی کو رفع نہ کر سکا۔ بتدریج عوام سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں سے مایوس ہوتے چلے گئے۔ سوشل ڈیموکریٹک آدرش بھی بھارتی تہذیبی تاریخی تناظر میں بالکل اجنبی تھیں اور بھارتی جمہور نے اپنی تائید گاہے گاہے ایک ایسی نظریاتی منہج کی طرف منتقل کر دی جو ان کی تہذیبی اور مذہبی روایات کی ایک ماڈرن سرمایہ دارانہ تشریح پیش کرتی تھی۔

رومیلا تھاپڑ لکھتی ہے ”کئی معنوں میں ہندو توا ہندو ازم کی ضد ہے“۔ وہ ہندو توائیت کو Syndicated Hindutism کہتی ہے۔ وہ ہندو مذہب کی اصل فطرت (essential natrue)کو مسخ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ہندو توائیت ہندو مذہب اور تہذیب کی برہمنی تعبیر ہے۔ وہ ہندو مت کی دیگر تعبیرات(شرماترم، مھکتی تحریک، لوک ہندو ازم) کی تردید ہے۔ یہ غیر برہمنی ہندو مذہب جاتی کے تصور کو رد کرتے ہیں اور ویدوں اور دھرم شاستروں کی تعلیمات کو جزواً رد کرتے ہیں۔ ان غیر برہمنی ہندو مذاہب میں رام راجیہ یا ہندو راشٹرا کا کوئی تصور نہیں ملتا۔

ہندومت تاریخ میں ہندو راشٹریہ کا تصور بالکل اجنبی ہے اور مسلمانوں سے نفرت کرنے کا حربہ بھی بالکل نیا ہے۔ آج برصغیر کے تقریباً چالیس فیصد سابق ہندو مسلمان ہو چکے ہیں اور لاکھوں مشرف بہ اسلام ہوتے جا رہے ہیں۔ شدھی اور گھرواپسی کی تحاریک بری طرح ناکام ہیں۔ کروڑوں ہندو مزارات، درگاہوں اور خانقاہوں میں روزانہ حاضری دیتے ہیں۔ ایک ہندو شاعر کہتا ہے

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں

کچھ مسلماں کا محمد ﷺپہ اجارہ تو نہیں

”محمدﷺ صاحب کی جے بولو“ ایک محترم ہندو قائد ہی کی تصنیف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صہیونیت (Zionism)کی طرح برہمنی ہندو ازم کا احیا بھی ایک منظم سیاسی تحریک کے ذریعہ کیا گیا۔ اسی احیا کا کام ان لاکھوں شاخوں کے ذریعہ کیا گیا جو راشٹریہ سیوک سنگھ نےکئی دہائیوں سے ملک کے طول و عرض میں قائم کر رکھی ہیں اور جو روزانہ تقریباً ایک کروڑ ہندوؤں کی جسمانی، ذہنی، ثقافتی اور سیاسی تربیت کرتی ہیں۔ سنگھ پریوار نے اس نظام کی معاونت تقریباً ہر شعبہ زندگی میں برادر تنظیمیں قائم کی ہوئی ہیں اور اس کارفرمائی کا اثر اتنا گہرا ہے کہ برہمن تو برہمن، آدی واسی، دلت اور شودر جاتیوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے مرد و خواتین گجرات، راجستھان، بہار، مہاراشٹر، اترپردیش یہاں تک کہ چھتیس گڑھ تک میں ان شاخوں اور تنظیموں کے فعال کارکن بن گئے ہیں۔ سنگھ پریوار کے دہشت گردوں کی تنظیم اور ان کی سیاسی گرفت اس قدر طاقت ور ہے کہ غیر ہندو توا عناصر جمہوری سطح پر ان کی مخالفت کی بھاری قیمت دینے پر آمادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنگھ پریوار کا تغلب عمومی ہو گیا ہے اور مستقبل قریب میں اس کا سیاسی یا معاشرتی طاقتور حریف ابھرنے کے امکانات بہت محدود ہیں۔

جو نیولبرل پالیسیاں ہندو توا سرکار نے اپنائی ہے اس کا ایک لازمی نتیجہ زائد از ضرورت پیداوار ہے۔ چونکہ بھارت میں تقسیم آمدنی اور دولت کی نامساویت بڑھتی جا رہی ہے لہٰذا بھارتی عوام کی قوت خرید اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا سرمایہ کاروں کا انحصار برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری کی تیزی سے بڑھتے رہنے پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ زر کی پشت پناہی ہمیشہ سرمایہ دارانہ ریاست کرتی ہے۔ بھارتی حرام خوروں اور بڑے سرمایہ داروں کو اس کا احساس ہے کہ بھارتی ریاستی تسلط کے دائرہ عمل میں توسیع کے بغیر بیرونی مارکیٹ محفوظ نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا وہ بھارتی ریاست کی امریکی باجگزاری کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس سے انہیں امید ہے کہ ان کا کاروبار عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں منافع بخش طور پر پیوست ہو جائے گا اور نیولبرل پالیسی ایجنڈا اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔

بھارتی امریکن گٹھ جوڑ کی اہمیت امریکی پالیسی سازوں کی نظر میں معاشی سے زیادہ سیاسی ہے۔ امریکا بھارت کو علاقائی سامراجی دہشت گردقوت بنانا چاہتا ہے جو اس علاقے میں امریکی مفادات کو فروغ دے۔ بھارتی حرام خور اور بڑے سرمایہ کار اسی امریکی خواہش کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن بھارت ایک عام باج گزار ریاست نہیں۔ وہ ایک ذیلی سامراجی ریاست ہے اور اس کی علاقائی تغلب کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ امریکا بھارتی ریاست کی مشروط خود اختیاریت کو کسی نہ کسی حد تک تسلیم کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی سامراج کے کچھ اپنے علاقائی پروجیکٹس بھی ہیں جو پوری طرح امریکی سامراجی حکمت عملی سے ملحق نہیں۔

دو ایسے پراجیکٹس اکھنڈ بھارت اور بھارت ورشہ کے پروجیکٹس ہیں جو ہندو توا سرکار کو بہت عزیز ہیں۔ اکھنڈ بھارت پروجیکٹ کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور مالدیپ کو بھارت میں ضم کرنا یا کم از کم بھارت کی نیو کالونیاں بنانا ہے۔ بھارت ورشہ (Greater India)پروجیکٹ کا مقصد بحرہند اور خلیج فارس، مشرقی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے پورے علاقہ میں بھارتی تسلط کا قیام ہے۔ جو ممالک بھارت ورشہ پروجیکٹ کی زد میں آتے ہیں ان میں متحدہ عرب امارات، ایران، سری لنکا، میانمار، تھائی لینڈ، ملائشیا اور انڈونیشیا ، کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ شامل ہیں۔

ان دونوں پروجیکٹس کی بھارتی حرام خور اور بڑے سرمایہ کار بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ بھارتی اندرونی گرتی ہوئی مانگ (جو بڑھتی ہوئی تقسیمی نامساویت کا نتیجہ ہے) کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور حرام خوروں کے لیے علاقائی مارکیٹوں میں تسلط نہایت اہم ہو گیا ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ اس تسلط کو استحکام دینے کے لیے بھارتی ریاستی علاقائی مارکیٹ تغلب ضروری ہے۔ بھارتی ریاست کئی سالوں سے جنوبی اشیا کے علاقہ میں سرکاری طور پر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس کا بڑھتا ہوا عسکری خرچہ بھی نجی سرمایہ کاروں کے منافع میں اضافہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ امریکی اور فرانسیسی ملٹی نیشنلز اور بھارتی نجی کارپوریشنیں بھارتی ریاستی سرمایہ کاری کے مدت سے شریک کار ہیں لہٰذا بھارتی علاقائی سامراجی پھیلاؤ سے بھارتی نجی کارپوریشنوں کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنلز بھی مستفید ہو رہی ہیں۔ اکھنڈ بھارت کے پروجیکٹ کو امریکا پوری طرح سپورٹ نہیں کرتا۔ اس کو خطرہ ہے کہ بھارتی جارحیت کے نتیجہ میں پاکستان میں چینی اثر و رسوخ بڑھ جائے گا لیکن وہ اپنے ذیلی سامراج کی مشروط خود اختیاریت (relative autonomy)کو مجروح نہیں کرنا چاہتا ۔ امریکا بھارت کی کشمیری دہشت گردی اور عسکری بزدلانہ من مانی کو پسند نہیں کرتا لیکن اس کو برداشت کرنے پر مجبور ہے۔

اس کے برعکس بھارت ورشہ پروجیکٹ امریکا کی تحدید چین (containment of Chaina)کا اہم ترین حصہ ہے اور اس کو ہر امریکی سرکار (کلنٹن، بش ، اوباما ٹرمپ) )کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ اس تحدید چین پالیسی میں امریکا کے شریک کار جاپان، آسٹریلیا اور بھارت ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد چین کی عسکری، معاشی، سیاسی اور سفارتی ناکہ بندی اور امریکا، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر زور ڈال رہا ہے کہ وہ اپنی چین مخالف کارروائیوں میں تطبیق پیدا کریں۔

بھارتی بحریہ بحرہند میں امریکا کی سب سے بڑی حفاظت کار قوت بن گئی ہے۔ بھارتی عسکری ٹیکنالوجی کا انحصار امریکا اور اسرائیل پر بڑھ گیا ہے اور بھارت نے امریکا اور اسرائیل سے قومی تحفظاتی معاہدہ (homeland security deal)کیا ہے۔ امریکا نے بھارت کو اپنا کلیدی عسکری شریک (major defence partner)قرار دے دیا ہے اور جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی فراہم کی جا رہی ہے۔ امریکا بھارت میں قومی اصلاح سازی کو “made in India”مہم کے تناظر میں فروغ دے رہا ہے اور ایک ایسا صنعتی، عسکری نظام بنانے میں مدد دے رہا ہے جو عالمی رسدی حلقوں(globale supply chain) سے ملحق ہو۔ اب بھارت امریکا ساتویں بحری بیرے کو خدمات فراہم کرنے کا سب سے اہم علاقائی ذمہ دار ہے۔ پہلی خلیجی جنگ (اگست 1990 تا فروری 1991) میں امریکن جنگی طیارے بھارت میں تیل سے بھرے جاتے تھے۔ اگست 2016ء میں ہندو توا سرکار نے امریکا کے ساتھ Logistic Exchange Memorendum of Agreement (LEMA) پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ملک اپنے اپنے عسکری اڈوں پر ایک دوسرے کو رسد کی فراہمی ، مرمت اور اسلحہ سازی کی سہولت فراہم کرتے ہیں ۔ LEMA کا مقصد بھارتی اور امریکی فوجوں کی مشترکہ کارروائیوں کو فروغ دینا ہے۔ LEMA کے ضمن میں بھارتی عسکری اڈے اور بندرگاہیں امریکن سامراجی جارحیت کو منظم کرنے کے مراکز بن گئے ہیں۔ بھارت امریکا کی جاری دہشت گردی کی جنگ کا ہتھیار بند ساتھی بن گیا ہے۔ اسرائیل بھی اس سامراجی نظام کا حلیف ہے۔ مسلم دنیا میں اپنا تحکم مستحکم کرنے کے لیے امریکن سامراج بھارتی اور اسرائیلی علاقائی سامراجیت کو فروغ دے رہا ہے اور ان دونوں ذیلی سامراجیتوں کی مشروط خود اختیاریت کو برداشت کرنے پر مجبور ہے۔

امریکا بھارتی علاقائی سامراج کی حوصلہ افزائی اپنی تحدید چین کی پالیسی کے ضمن میں کر رہا ہے اور اس حوصلہ افزائی کی ابتدا 1962ء کی چینی بھارتی جنگ سے ہوئی ہے۔ بھارتی سامراج چین کی OBOR پروجیکٹ کا کھلا مخالف ہے ۔ بھارت OBOR کو اپنے مقبوضہ کشمیر کے تسلط کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔ وہ سی پیک اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو بھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ چینی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں ممکنہ طور پر پاکستان میں سرمایہ دارانہ ترقی سے بھی بھارت خائف ہے اور اندیشہ ظاہر کرتا ہے کہ اس سے پاکستان کی استعدادِ دفاع میں اضافہ ہو گا۔

چینی بھارتی سرحدی جھڑپیں 2017ء سے جاری ہیں اور چینی عسکری پیش رفت کے نتیجہ میں بھارتی شمالی مشرقی صوبہ ریاست سے کاٹ دیے جا سکتے ہیں۔ پھر بھارتی فوج اپنی چینی حریفوں سے ہمیشہ شکست کھاتی رہی ہے اور چینی فوج اپنی ٹیکنالوجیکل استعداد میں بھارتی فوج سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہے۔بحرہند میں بھی بھارتی چینی مقابلہ سخت ہے۔ پاکستان چین کے تعاون سے اپنی بحری عسکری استعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔ 2016ء میں اس نے چین سے کئی آبدوزیں خریدیں اور 2017ء میں ایک آبدوز سے چلائی جانے والی میزائل(Babar III) کا کامیاب تجربہ کیا۔ چین نے بحر ہند میں اپنے ہتھیار بند جہازوں کا گشت بڑھا رہا ہے۔ آٹھ سے چودہ تک چینی جہاز ہر وقت بحر ہند میں گشت کرتے رہئے ہیں ان جہازوں میں میزایئل بردار جہاز بھی شامل ہیں اور ان سے تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہےچین نے مالدیپ میں فوجی تنصیبات کی نفاذ میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور مالدیپ کی حکومت بھارتی سامراج گرفت ڈھیلا کر رہئ ہے۔ بھارت اور چین میںIntercontinental ballistic missile تجربات کے ضمن میں 2018 سے مقابلہ تیز ہو گیا ہے۔امریکہ کے اشارہ پر بھارت نے ایسے میزائل بنانے کا پروگرام آگے بڑھایا ہے جن کی زد میں چین کے بیشر مشرقی ساحل علاقہ آسکتے ہیں۔2018 میں 23 رکنی (جن میں بھارت آسٹریلیا، ملیشیا، مینانمار، نیدرلینڈ، عمان ، کمبوڈیا اور امریکہ شامل تھے) جنگی بحری مشقیں کی گئی جن کا مقصد چین کو دھمکانہ تھا۔

بھارت درشہ کے پروجیکٹ کے تناظر میں بھارت امریکہ کی جنگ لڑتا رہے گا اور اکھنڈ بھارت کی جنگ کوامریکہ کوبرداشت کرنا پڑے گا۔بھارت کی کوشش ہوگی اکھنڈ بھارت کی جنگ کو بھارت ورشہ کی جنگ کا حصہ بنادے۔ وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔ اور ناکام بھی اور پاکستان سے اس کے تعلقات کا انحصار انہی دونوں جنگوں کے ارتباط یا تصادم پر ہوتا ہے۔

بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور اکھنڈ بھارت اور بھارت ورشہ دونوں پروجیکٹس کو عوام کے بڑے اور فعال اور منظم حصہ کی حمایت حاصل ہے۔ ہندوتوائیت ایک عوامی تحریک ہے جس پر ایک مخصوص برہمن اشرافیہ نے قبضہ کیا ہے۔ اس معاشرتی تغلب کی بنیاد دو نظریات فراہم کرتے ہیں اسلام دشمنی اور معاشی ارتقا کی ضرورت۔ اسلام دشمنی بھارتی عوام میں اتنی مقبول عام نہیں جتنی معاشی ارتقا اور معیار زندگی میں مادی بہتری کی ضرورت کا نظریہ مقبول ہے۔ حرص کا پھیلاؤ بھارتی معاشرت میں ہمہ گیر ہے۔ مودی سرکار کی معاشی پالیسی 2016 ء کے بعد قدر ناکام ہو رہی ہے۔ بھارتی قومی پیداوار کی شرح 2015ء کے بعد سے گر رہی ہے۔ مودی سرکار نے کئی سخت غلطیاں کی ہیں مثلاً اس کی مارچ/اپریل 2020ء میں کووڈ 19 مخالف مہم بری طرح ناکام ہوئی۔ اس سے کووڈ کے پھیلاؤ میں کمی نہ ہوئی نہ معاشی استحکام نصیب ہوا۔ اپریل تا جولائی 2020ء کے دوران میں بھارتی قومی آمدنی 2.4 فیصد گری۔جوشرع گراوٹ دنیا میں سب ملکوں سے بڑھ کر ہےسرمایہ کاری منجمد ہوگئی ہے ۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔ ایک کروڑ کے قریب افلاس کا شکار ہیں۔ بھارتی معیشت کے آیندہ سالوں میں سنبھالا لینے کے امکانات محدود ہیں کیونکہ اس کا انحصار عالمی مارکیٹوں پر ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ معیشت طویل المدت کساد بازاری کا شکار ہے۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ 2024ء کے انتخابات میں ہندوتوائیت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے امکانات محدود ہیں۔ 2019ء کے بعد سے آج تک ہندو توائی ریاست کے ہر شعبہ (فوج، پولیس، عدلیہ، نوکرشاہی، میڈیا، تعلیمی اور تشہیری ادارے) کی جزوی احاطہ بندی کر کے اپنی نظاماتی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔ سنگھ پریوار کا معاشرتی تحکم اور تنظیم بھی مستحکم ہے۔ کوئی متبادل نظریاتی تحریک یا معاشرتی و سیاسی صف بندی ابھرتی نظر نہیں آتی۔

لیکن ریاستی دستوری ڈھانچہ کمزور نہیں کیا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار اس کی اجازت نہیں دے رہے وہ اپنا تبدل اقتدار کا حق محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ جب تک انتخابی عمل جاری رہے گا (اور اس کے تعطل کے فی الحال کو ئی امکا نات موجود ہیں )اس وقت تک عوام کو یہ موقع ملتا رہے گا کہ ایک سرمایہ دارانہ گروہ کی جگہ دوسرے سرمایہ دارانہ گروہ کے تسلط کی تائید کریں۔ کوئی بھی سرمایہ دارانہ گروہ بھارت میں جمہوری عمل کے ذریعہ اقتدار میں آئے بھارتی سامراجیت میں کمی نہیں آئے گی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بھارت ورشہ اور اکھنڈ بھارت کے پروجیکٹس سرمایہ داروں کے مفاد کے عکاس ہیں اور عوام میں مقبول ہیں لیکن بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت کو امریکا نے عالمی سامراجی نظام میں پیوست کر لیا ہے۔ بھارت کی ریاستی خوداختیاریت مجروح و محدود ہے۔ وہ امریکا کی باجگزار ریاست بن گیا ہے اور امریکا بھارت کو ایک دہشت گرد علاقائی سامراجی قوت بنائے بغیر چینی سامراج سے مقابلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

6.8۔ سامراجی گھس بیٹھیے

سامراجی ممالک پوری دنیا میں اپنے کارندے بھیجتے رہتے ہیں۔ یہ وہ پیشہ ور تنخواہ دار ماہرین ہوتے ہیں جو سامراجی ممالک باجگزار ممالک کی ریاستی بیوروکریسی ، عدلیہ، فوج اور پولیس اورمیڈیا میں تعینات کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں سامراج نے مخبری اور تخریب کاری کا ایک جال بچھایا ہوا ہے اور یہی گھس بیٹھیے اس تخریب کار نیٹ ورک کے آنکھ، کان، ہاتھ اور پیر اور وقتاً فوقتاً زبان بھی ہیں۔

لیکن پوری سرمایہ دارانہ اشرافیہ سامراجی گھس بیٹھیوں پر مشتمل نہیں ہوتی۔ بے شک سرمایہ دارانہ اشرافیہ جاہلیت خالصہ(science) پر ایمان لے آئی ہے اور اس کی نظاماتی تحکم کا مقصد ماڈرنائزیشن ہی ہے لیکن اس اشرافیہ کا غالب عنصر اپنی نظاماتی مشروط خود اختیاریت (relative autonomy)کا تحفظ اور فروغ ہے اور اس کو یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ سامراجی دہشت گرد ممالک جو پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہیں وہ اس کے اقتدار اور اس کے مفادات کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔ لہٰذا سامراجی پالیسیوں کے ضمن میں باجگزار سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا رویہ عموماً خود غرض اور مطلب پرستانہ (pragmatic)ہوتا ہے۔ وہ سامراجی نظام میں مشروط وابستگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسی وابستگی جس سے ان کا اقتدار محفوظ رہے اور ان کے دائرہ اختیار میں بڑھوتری ہوتی رہے۔

کبھی کبھی باجگزار اشرافیہ کا یہ رویہ سامراج کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں سامراج اپنا ہیومن رائٹس کا ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ ہیومن رائٹس کی دہائی سعودی، اسرائیلی، بھارتی دہشت گردی کے خلاف کبھی نہیں دی جاتی کیونکہ سعودی، اسرائیلی اور بھارتی دہشت گردی عالمی سامراجیت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی صرف مشرقی یورپ، شمالی کوریا ، ہانگ کانگ، عراق، ایران، شام اور افغانستان میں نظر آتی ہے۔

ہیومن رائٹس ہتھیار کے استعمال کے دو طریقے ہیں۔ انسان پرست مداخلت اور جمہوری احتجاج۔ یہ دونوں طریقے اندرونی گھس بیٹھیوں اور غیر ملکی تخریب کاروں کے تعاون سے عمل میں لائے جاتے ہیں۔ ہیومینٹرین مداخلت کے تجربے یوگوسلاویہ، لیبیا اور افغانستان میں کیے گئے جو یوگوسلاویہ کے علاوہ کہیں بھی زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکے۔ آج ایران ، وینزویلا اور شمالی کوریا کو ہیومینٹرین مداخلت کا خطرہ ہے۔ جمہوری احتجاج ہیومینٹیرین مداخلت سے کہیں زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے (گوکہ 1989ء میں چین میں یہ ناکام ہوا)۔ سب سے زیادہ کامیابی 1989ء سے 1991ء تک سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے ممالک میں ہوئی جہاں کا اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام مطلقاً تباہ کر دیا گیا۔ دوسری بڑی کامیابی 2011ء میں عرب بہار کی صورت میں ہوئی جہاں کئی نئی استبدادی حکومتیں قائم کی گئیں۔ یوکرین میں یہ تجربہ جزواً کامیاب رہا اور ہانگ کانگ ، بیلاروس اور لبنان میں ابھی نتائج آنے کو ہیں۔ سوڈان کی اسلامی حکومت 2019ء میں اسی نوعیت کے جمہوری تحرک کے ذریعہ ختم کی گئی۔

ان جمہوری احتجاجی تحریکوں کی نمایندہ خصوصیات یہ ہیں۔ ان کی پشت پناہی پر سامراج، اندرونی گھس بیٹھیوں اور بیرونی تخریب کاروں کے علاوہ ہیومن رائٹس کا واویلا مچانے والی این جی اوز اور مفاداتی گروہوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ یک جہتی تحاریک ہوتی ہیں اور ان کے تمام متفرق مطالبات لبرل انفرادی حقوق کی فراہمی پر منتج ہوتے ہیں۔ ظاہر میں یہ غیر منظم نظر آتی ہیں اور ان کی کوئی قیادت نظر نہیں آتی لیکن ان کو خفیہ طور پر سامراجی قوتیں منظم کرتی ہیں اور سامراج ان کی قیادت کی ذمہ دار وقت کی حزب اختلاف کے لبرل عناصر کو سونپ دیتا ہے۔ ان کی کامیابی کی صورت میں یا تو ایک لبرل قیادت برسراقتدار آتی ہے (یوکرین، تیونس) یا ایک سامراج کی باجگزار استبدادی جمہوری قیادت (مصر، الجیریا)۔

مسلم ممالک میں یہ جمہوری احتجاجی تحاریک عموماً اسلام دشمن ہوتی ہیں۔ ان کا ثقافتی ماحول نہایت غلیظ اور گھناؤنا ہوتا ہے۔ موسیقی ان کی آواز اور رقص ان کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے اجتماعات میں شرع مطہرہ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔ ان کے دوران انارکسٹ، لبرل، اشتراکی، قوم پرست سب متحد ہو کر اسلامی شعار پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان کی مجلسوں میں زناکاری اور اغلام بازی کو عام کیا جاتا ہے۔

اگر اسلامی گروہ ان تحریکوں میں شامل ہوں تو تحریک کی کامیابی کے بعد قائم کردہ حکومتیں ان کو کچل دیتی ہیں مثلاً اخوان کے ساتھ مصر میں 2019ء میں یہی ہوا اور سیسی کی دہشت گردی کا تمام دہریہ گروہوں نے ساتھ دیا، لبرلوں نے بھی اشتراکیوں نے بھی قوم پرستوں نے بھی انارکسٹوں نے بھی۔ (سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کفر امت واحدہ ہے“)۔ سوڈان میں 2017ء جو دہریہ سرکار فوج اور لبرل گٹھ جوڑ سے قائم ہوئی وہ سابقہ اسلامی حکومت کے تمام شرعی احکامات کو معطل کرتی جا رہی ہے۔

جو ضمیر فروش، ذلیل، غدار سامراجی گھس بیٹھیے بنتے ہیں ان کی تعداد محدود ہوتی ہے لیکن ان کی سیاسی اور معاشی قوت بڑھتی رہتی ہے (بالخصوص جمہوری نظا م میں) کیونکہ ان کے پیچھے سامراج کا پیسہ اور سیاسی اور سفارتی اثر ہوتا ہے۔ سامراج کی کوشش ہوتی ہے کہ ان گھس بیٹھیوں کو حکومتی بیوروکریسی، فوج اور میڈیا میں تعینات کر دے۔ مثلاً آئی ایم ایف کے اصرار پر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر اور حفیظ شیخ کو فنانس وزیر مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل شوکت عزیز کو ملک کا وزیر اعظم اور شاہد جاوید برکی کو وزیر خزانہ بنوایا گیا تھا۔

سامراج کے دو اور آلہ کار بھی ہیں۔ ایک وہ غدار جو امریکا اور یورپ میں مقیم ہیں لیکن جن کا تعلق مسلم ممالک اور دیگر پسماندہ ممالک سے ہے۔ ان میں دو نام ولی نصر اور حسین حقانی کے ہیں۔ ہارورڈ کا ایک مصری نژاد فرد محسن مہدی بھی اس قسم سے ہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ شاہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ولی نصر کے باپ حسین نصر نے بھی یہی کام کیا تھا۔ ان جیسے غدار امریکا اور یورپی ممالک کی سامراجی حکمت عملی مرتب کرنے میں مستقلاً ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سامراج کا دوسرا سہارا اقوام متحدہ سے تعلق رکھنے والا وہ بین الاقوامی ادارتی نیٹ ورک ہے جو عالمی تجارت اور ترسیل زر اور ٹیکنالوجی وغیرہ کی نہ کسی حد تک نگرانی کرتا ہے۔ اس کی نگرانی کا دائرہ کار اب عملاً باجگزار ملکوں تک محدود ہو گیا ہے۔ اس نیٹ ورک میں آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او، ورلڈ بینک اور اس کے ذیلی بینک مثلاً ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک، افریقی ڈویلپمنٹ بینک، اسلامی ڈویلپمنٹ بینک ، ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن اور terrorist financing پر نظر رکھنے والے ادارے شامل ہیں۔ یہ ادارے محض ترسیل زر اور تجارت وغیرہ کے معیارات مقرر نہیں کرتے بلکہ باجگزار ممالک پر اپنی من پسند پالیسیاں تھوپتے رہتے ہیں۔ مثلاً آئی ایم ایف کی 2019ء میں پاکستان پر مسلط کیا گیا EFF 2019-2023 کا پروگرام ہے۔ اس بین الاقوامی ادارتی نیٹ ورک سے متصل نجی Standard Setting Agencies and Rating Agencies کا ایک اور وسیع نیٹ ورک ہے جو مستقلاً باجگزار ممالک کی کارکردگی کی جانچ پڑتا ل کرتا رہتا ہے۔ یہ پورا ادارتی نظام لبرل اصولوں اور خطوط پر مرتب کیا گیا ہے اور اس کو عالمی حرام خوروں اور دیگر سرمایہ کاروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

مختصراً یہ کہ سامراجی نظام نہایت مضبوط اور گنجلک (complex)ہے۔ امریکن عالمی عسکری بالادستی کو جوچیلنج ہے وہ صرف ایک علاقہ تک (جنوب بحرالکاہل) تک محدود ہے۔ چینی ابھار یقیناً رونما ہوا ہے لیکن چین بھی ایک سرمایہ دارانہ سامراجی قوت ہے اور اپنے سمندری حدود کے علاوہ ہر جگہ امریکا سے مفاہمت کا خواستگار ہے۔ عالمی سطح پر امریکی اور چینی عسکری استطاعت کا کوئی مقابلہ نہیں ۔ کووڈ 19 کے بحران سے یقیناً امریکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن اس کے سنبھالا لینے کے امکانات نہ صرف موجود بلکہ غالب ہیں۔ چین نے بین الاقوامی سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کی ترتیب نو کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ وہ اسی سامراجی نظاماتی تناظر میں اپنی سامراجیت کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ یہی بات روس اور بھارت اور اسرائیل کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔

امریکا، چین، روس، بھارت، اسرائیل ہر جگہ سامراجی پالیسیوں کو عوامی تائید حاصل ہے۔ سامراجیت جمہوری عمل کے ذریعہ ہی فروغ پا رہی ہے۔ اپنی ابتدائے وقت سے لے کر آج تک سرمایہ داری ایک دہشت گرد، خون آشام معاشرت، معیشت اور سیاست کو قائم کیے ہوئے ہے اور اٹھارویں صدی کے بعد سے کم از کم اس دہشت گردی اور وحشت ناکی کی پشت پناہی پر جمہوری عمل ہی رہا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ سرمایہ داری اور جمہوریت کا یہ ارتباط اب خودبخود کمزور پڑ جائے۔

باب 7

فرنگ رہ گزر سیل بے پناہ میں ہے

(سرمایہ داری کے حالیہ بحران)

سرمایہ داری ایک غیر فطری نظام حیات اور طرز ندگی ہے جو انسانیت پر شیاطین نے مسلط کیا ہے اس میں لاتعداد تضادات ہیں اور انسانی فطرت ان کے خلاف مستقل بغاوت پر آمادہ رہتی ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ دارانہ نظام کی ہر جہت (اقداری، معاشی، ماحولیاتی، معاشرتی) گاہے گاہے بحران کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ ہم ان تمام بحرانوں کو سرمایہ دارانہ اندرونی بحران کہتے ہیں کیونکہ ان کو سرمایہ دارانہ عمل ہی جنم دیتا ہے۔ اس باب میں ہم ان شا اللہ ان بحرانوں کا تذکرہ کریں گے۔

7.1۔ اقداری اور ثقافتی بحران

کلچر سے مراد وہ طرز زندگی ہے جو کسی معاشرت میں رائج ہوتا ہے۔ یہ طرز زندگی انسانیت خود تخلیق کرتی ہے۔ طرز زندگی ان اقدار کا اظہار ہوتا ہے جو کسی معاشرت میں مقبول عام ہوتے ہیں اور جن کی بنیاد پر معاشرتی عمل کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرت اسی حد تک اسلامی ہے جس حد تک عمل کا جواز اسلامی اقدار کی بنیاد پر پیش اور قبول کیا جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرت پر ماڈرنائزیشن اسی حد تک جاری ہے جس حد تک اسلامی اقدار کی جگہ ماڈرن اقدار (آزادی، مساوات، ترقی) عمل کے جواز کے طور پر اس معاشرت میں قبول کیے جا رہے ہیں۔

معاشرے میں رائج شدہ طرز زندگی ایک مخصوص انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ اسلامی طرز زندگی اسلامی اور ماڈرن طرز زندگی ماڈرن انفرادیت کو جنم دیتی ہے۔ ماڈرن انفرادیت سرمایہ دارانہ انفرادیت کا دوسرا نام ہے۔ یہ انفرادیت غیر مستحکم ہوتی ہے۔ یہ حرص و ہوس سےمغلوب تو ہوتی ہے لیکن اپنے ان جذبات خبیثہ کی تسکین کے لیے کسی مستقل اور متعین منہج کو اختیار کرنے کی بجائے مختلف النوع اور باہمی طور پر متضاد تجربات کرتی رہتی ہے اور کبھی بھی تسکین نہیں پاتی۔ پوسٹ سٹرکچرلسٹ کفار اور ان کے مسلم مقلدین مثلاً اکبر ایس احمد اس عمل کو خود تخلیقیت کہتے ہیں۔ یعنی ایک ماڈرن/پوسٹ ماڈرن فرد مستقلاً اپنے آپ کو دریافت یا ایجاد کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا سوداگر بنتا رہتا ہے۔ اس مسلسل انتشاری عمل سے گزرتے رہنے کے نتیجہ میں ایک ماڈرن/پوسٹ ماڈرن شخص اپنی ذات اور اپنے معاشرتی مقام کا شعور کھو دیتا ہے۔

اس انتشار کے باوجود انفرادیت سرمایہ دارانہ ہی رہتی ہے ک سرمایہ دارانہ نظام(یعنی سرمایہ دارانہ معاشرت کی اقتداری اور ادارتی صف بندی)قوت اور تحکیم(اس کو مشہور فرانسیسی کافر مشیل فوکو پاور /نالج کہتا ہے)کے ذریعے اس انفرادیت کو مقید کئے رکھتے ہیں۔اس قوت/علمیت کے (جاہلی)غلبہ کے خلاف پوسٹ ماڈرن انفرادیت ہمیشہ ناکام بغاوت کرنے پر آمادہ رہتی ہے۔اس پیہم ناگزیر ناکامی کے سبب ایک ماڈرن /پوسٹ ماڈرن شخص ہمیشہ مایوس ، پریشان اور ذہنی اور اعصابی الجھاو کا شکار رہتا ہے۔چونکہ سرمایہ جمع کرتے رہنے کے لئے سرمایہ جمع کرتے رہنا ایک بے معنی عمل ہے لہٰذاجو انفرادیت اس عمل پر مجبور ہو جاتی ہےاس کو ہر فعل بے معنی اور لغو نظر آتا ہے۔ جیسا کہ دریدا کہتا ہے کہ عبارت کے تمام معنیٰ یکساں درست ہیں،خواہ ایک دوسرے سے کتنے مختلف کیوں نہ ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام معنیٰ بےمعنیٰ اور لغو ہیں۔ حقیقت کا کوئی متعین وجود نہیں۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کی طرح پوسٹ Culturialist کفار بھی حقیقت کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ہر فرد اپنا تصور حق اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر خود تعمیر کرتا رہتا ہےاور اصل حقیقت تک کسی کو بھی رسائی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ اس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تسلیم کیاجاتا۔

سرمایہ داری آج اپنے پس جدیدی (پوسٹ ماڈرنسٹ) دور میں ہے۔ پوسٹ ماڈرنٹی ماڈرنٹی کا تسلسل ہے گوکہ یہ کچھ ماڈرنسٹ آدرشوں کی جزوی نفی بھی ہے ۔پوسٹ ماڈرن ازم ماڈرن ازم کی شدید شکل ہے۔ مثلاً ماڈرن معاشرہ میں زندگی کے کچھ شعبے مثلاً خاندانی اور برادریانہ زندگی مارکیٹ کے عمل سے باہر تھے اور جدید طرز زندگی ان سے متاثر ہوتا تھا۔ پوسٹ ماڈرن دور میں مارکیٹ زندگی کے ہر شعبہ میں غالب ہے اور صَرف (consumption) کی بڑھوتری اور تنوع طرز زندگی پر حاوی آ جاتا ہے۔ خاندان کا ہر فرد اپنا طرز زندگی خود منتخب کرتا ہے۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی صارفیت کو فروغ دینے اور زندگی کو اس حد تک متشکل کرتے ہیں کہ حقائق وہ ہو جاتے ہیں جو میڈیا چاہتا ہے کہ وہ نظر آئیں۔ حقائق کی ان مسخ شدہ تصویروں کو فرانسیسی مفکر بودریلا simulacra کہتاہے۔

پوسٹ ماڈرن معاشرہ کو media saturated society بھی کہا گیا ہے یعنی ایک ایسا معاشرہ جہاں میڈیا کا تحکمی اثر غالب ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے ورچوئل (فرضی) حقائق اصل حقیقت کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ایسے طرز زندگی کی خصوصیت سطحیت ہے یعنی وہ ظاہر پرست ہوتی ہے۔ اس سطحیت کا اہم ترین اظہار نظاماتی تعبیرات کی تردید ہے۔ نظاماتی تعبیرات سے مراد وہ تعبیرات ہیں جو زندگی کی مربوط اور مکمل تشریح پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں مثلاً اسلام، عیسائیت، لبرل ازم، اشتراکیت وغیرہ۔ پوسٹ ماڈرن فرد نہ مسلمان ہوتا ہے نہ عیسائی نہ لبرل ہوتا ہے نہ اشتراکی۔ اس کو غرض صرف حرص اور ہوس کے فروغ سے ہوتی ہے۔ پوسٹ ماڈرن انفرادیت سرمایہ دارانہ انفرادیت کی مکمل ترین تصویر ہے کیونکہ صارفیت کی بڑھوتری کا واحد ذریعہ سرمایہ کی بڑھوتری ہے جس عمل میں شرکت پر پوسٹ ماڈرن فرد آمادہ اور مجبور ہے۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت بقول التھوسر interpellated انفرادیت ہے یعنی ایسی انفرادیت جو سرمایہ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے وجود میں آتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام لازماً ایک غیر محفوظ اور پرخطر نظام زندگی ہے (کوئی بھی شخص کسی بھی وقت دیوالیہ ہو سکتا ہے یا مرسکتا ہے)۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ انفرادیت بھی غیر محفوظ اور خطرات سے گھری ہوئی ہوتی ہے۔

تنویری فلسفہ کے مطابق ہر شخص ایک متعین انفرادیت کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کی یہ انفرادیت ایک ایسی اکائی تصور کی گئی جو ناقابل تقسیم ہے یہ انفرادیت ریشنل تصور کی گئی یعنی ماورائے معاشرتی اثرات اس بات کی اہل کے اپنے حرص اور حسد (سرمایہ) کو فروغ دینے کا بہترین طریقہ منطق کے استعمال کے ذریعہ خود متعین کر لے۔ پوسٹ ماڈرن تصور انفرادیت نہ یکجا ہے نہ ریشنل ان معنوں میں کہ اس کو معلوم نہیں کہ اس کے شہوت و غضب (حرص اور ہوس) کو فروغ دینے کے لیے کون سا طرز عمل بہترین ہے۔ وہ انتشار ذات کی شکار بھی ہے اور افتراق عمل کی بھی۔ بقول فوکو اس پر بڑھوتری سرمایہ کا ایک مخصوص طریقہ علم اور قوت کے ذریعے جبراً مسلط کیا جاتا ہے۔ ریاست اور معاشرہ اس کی مستقل نگرانی کر کے اس کی آزادیوں کو محدود کرتا رہتا ہے۔ کہیں اسے انبیا کرام کو گالیاں دینے سے روکا جاتا ہے کہیں اغلام بازی سے۔ اس کا احساس تنہائی ، ناکامی اور گھن ہنوز ترقی پذیر ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کا مقصد حیات، حرص اور ہوس کی انتہائی تسکین کا حصول کس طریقہ سے حاصل ہو گا۔ اس کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔

سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار
غلامی سے بہتر ہے بے یقینی

پوسٹ ماڈرن افراد اپنی شناخت بے یقینی کے تناظر میں مستقل تخلیق کرتے رہتے ہیں اور وہ اپنی کسی انفرادی شناخت کا وفادار نہیں ہوتے۔ Zygmunt Bauman نے پوسٹ ماڈرن انفرادیت کی یہ خصوصیات بیان کی ہیں۔

1۔ وہ ایک ٹہلتا ہوا تماش بین ہوتا ہے۔ ٹک دیکھ لیا دل شاد کیا خوش وقت ہوئے اور چل نکلے۔ وہ نظاروں سے محفوظ ہوتا رہتا ہے اور مشاہدہ کا کوئی متعین مقصد نہیں ہوتا۔

2۔ آوارہ گرد یا بے مقصد مٹر گشت ہوتا ہے جس کا کوئی مستقر نہیں یہ کہیں بھی سکون نہیں پاتا۔ وہ ہر جگہ اجنبی ہوتا ہے۔

3۔ سیاح مٹرگشت کی طرح یہ بھی جگہ جگہ گھومتا رہتا ہے۔ یہ تنوع اور ذات کی نئی نئی تخلیق کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

4۔ یہ کھلاڑی ہے۔ یہ زندگی کو کھل سمجھ کر اہتمام کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے اور اس کا محدود مقصد وقتی جیت ہے۔

پوسٹ ماڈرن انفرادیت کے یہ چار اظہار شخصیت کو منقسم، منتشر اور بے مقصد ظاہر کرتے ہیں۔ پوسٹ ماڈرن انفرادیت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لذت کا حصول ہے لیکن اس کو معلوم نہیں کہ زیادہ سے زیادہ لذت کس طرز زندگی کو اختیار کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔ پوسٹ ماڈرن سرمایہ دارانہ نظام میں انفرادیت کی تخلیق کے مواقع غیر محدود نہیں ہوتے۔ س عمل کو مارکیٹ اور ریاست دونوں متاثر کرتے ہیں۔ اگر تماش بین ، آوارہ گرد، سیاح اور کھلاڑی کی انفرادیتیں ابھر رہی ہیں تو وہ اس لیے کہ وہ سرمایہ دارانہ تحکم (مارکیٹی اور ریاستی) سے مطابقت رکھتی ہیں۔ گو کہ یہ تطبیق تزویراتی ہے۔ پوسٹ ماڈرن طرز زندگی مذہبی انفرادیت کے اظہار کی اصولاً اجازت تو دیتا ہے لیکن عملاً اس طرز حیات میں اسلامی شخصیت سازی کے امکانات نہایت محدود ہیں۔ سرمایہ داری اپنے پوسٹ ماڈرن دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم ، ماڈرن ازم کی انتہائی شکل ہے۔ اس کی تردید نہیں۔ یہ اس کے باوجود کہ پوسٹ ماڈرن ازم تنویری عقلیت سے بغاوت کرتی ہے اور اس کے کلیدی مفکرین (فوکو، دلیوز ، دریدا ، رارٹی وغیرہ) نے ثابت کر دیا ہے کہ آزادی، مساوات اور ترقی بے معنی اور لغو تصورات ہیں جن کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ایک فعل عبث ہے۔ اس فکر نے ایک ایسی انفرادیت کو جنم دیا ہے جو حرص و ہوس کی انتہائی تسکین کے بہترین طریقہ کی دریافت کو اصولاً ناممکن سمجھتی ہے ۔ یہ سرمایہ داری کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے کیونکہ اس نے سرمایہ دارانہ علمیت اور عقیدہ کی جڑ کھوکھلی کر دی ہے۔ سرمایہ داری کے اپنے مفکرین اس کو ایک لایعنی اور مہمل نظام زندگی کہہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اس کے اپنے تصورعدل کا وجود ممکن ہی نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں افراد فروغِ آزادی (جس کا حصول ممکن ہی نہیں) کے حصو ل کے لیے ناممکن اور ناکام تجربات کرتے رہنے پر مجبور ہے۔ نہ آزادی کا حصول ممکن ہے اور نہ پراگرس کا۔

پوسٹ ماڈرن مکاتب فکر ثابت کرتے ہیں کہ ریشنل عمل (وہ عمل جو انفرادی مفادات کے فروغ کی جستجو کو سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے عمل سے منطبق کر دے) ممکن ہی نہیں اور وہ عمل جسے ریشنل تصور کیا جاتا ہے عموماً منفی نتائج پر منتج ہوتا ہے یعنی اس سے آزادی (بڑھوتری سرمایہ) کی تحدید ہوتی ہے۔ تمام معاشرتی جاہلی علوم (اکنامکس، سوشیولوجی، سائیکالوجی، پولیٹیکل سائنس، جیورسپروڈنس) وغیرہ محض قوت کے ہتھیار ہیں۔ ان کو مقتدر گروہوں نے اپنے مفادات کے فروغ کے لیے مرتب کیا ہے۔ وہ کسی حقیقت کا بیان نہیں کیونکہ حقیقت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ حق وہ ہے جو کسی وقت کوئی غالب اور جابر گروہ تخلیق کرتا ہے۔ کسی ماورائی اخلاقی نظام کا کوئی وجود نہیں۔ سائنس (فزکس وغیرہ) کے ذریعے نہ ہم کائناتی حقائق کا شعور حاصل کر سکتے ہیں نہ کوئی حقیقت بیان کر سکتے ہیں کیوں کہ ایسی کسی حقیقت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ کائنات کا وجود محض ایک ناقابل تفہیم حادثہ ہے۔ نہ کائنات اور نہ انسانی وجود مقصدی ہے۔ سرمایہ داری کے وجود کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ پوسٹ ماڈرنسٹ (مثلاً رچرڈ رارٹی) اس کو دوسرے نظاموں سے برتر اس لیے نہیں کہتے کہ وہ کسی حق کا اظہار ہے بلکہ صرف اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے دوسرے نظام ہائے زندگیوں کو حادثتاً شکست دے دی ہے۔

پوسٹ ماڈرنسٹ صرف ان معنوں میں تنویری افکار اور اخلاقیات کے آفاقی ہونے سے انکار نہیں کرتے کہ وہ کسی حق کی نشاندہی نہیں کرتے۔ وہ سرمایہ دارانہ تہذیبی عالمگیریت کے بھی قائل نہیں۔ رارٹی اور چارلس ٹیلر دونوں کہتے ہیں کہ انسان اپنے تہذیبی تناظر سے باہر نہیں آ سکتا۔ تمام پوسٹ ماڈرنسٹ اس رائے کے قائل نہیں۔ لیکن وٹگنسٹائن، دریدا، ہائیڈیگر اور Dewey کی یہی رائے ہے اور اسی کی بنا پر ان کافروں کو اس بات پر اصرار ہے کہ ایک مغربی لبرل ہیومن بینگ سرمایہ داری کی وکالت پر مجبور ہے گوکہ وہ اس وکالت کی کوئی علمی یا اخلاقی توجیہ بیان کرنے سے قاصر ہے۔ وہ تاریخی حادثہ کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) کو دیگر تہذیبی اقدار پر برتر سمجھنے پر مجبور ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ عدل صرف اس چیز کو تسلیم کرتے ہیں جو مغربی تاریخی الحادی روایات سے برآمد ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے عدل ہونے کا کوئی علمی یا اخلاقی جواز بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ جو حق اور عدل کے ان معنوں کے مخالف ہیں ان کو یا تو قتل کر دینا چاہیے یا مغلوب رکھنا چاہیے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم تنویری علمیت کو لغو اور بے معنی ماننے کے باوجود تنویری اقدار کو رد نہیں کرتا۔ وہ مغربی تاریخی روایات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آزادی، مساوات اور ترقی کو علمیاتی نہیں جمالیاتی بنیادوں پر قبول کرتا ہے۔ وہ تنویری اقدار اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو بزور شمشیر پوری دنیا پر مسلط کیے جانے کا حامی ہے۔ وہ سامراج کا پرزور وکیل ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) اور اخلاقیات کی شکست و ریخت ایک بحران کی نشان دہی ضرور کرتی ہے۔ آج وہ نظریاتی بنیادیں غیر مستحکم ہو گئی ہیں جن پر سرمایہ دارانہ سامراج پندرھویں صدی سے قائم تھا۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے انتشار، سرمایہ دارانہ معاشرت کے بکھراؤ، مایوسی، یاسیت، غیر مقصدیت اور آوارگی کے عام پھیلاؤ کا یہی بنیادی سبب ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ سرمایہ دارانہ زندگی جو کثافتیں پیدا کرتی ہے ان سے نجات کی راہیں تلاش کی جائیں۔ پوری دنیا میں مذہب کی طرف رجوع کے رجحانات عیاں ہیں وہ اس قسم کی تبدیلی کی نشان دہی کرتی ہیں لیکن ابھی سرمایہ داری کے خلاف بغاوت اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ بیش تر افراد پر سرمایہ دارانہ علمیت کا جاہلیت خالصہ ہونا واضح نہیں۔ بہت کم لوگ سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) کی حقیقت سے واقف ہیں اور ان اقدار کی مجموعی معاشرتی تردید کسی نئی کامن سینس کو جنم نہیں دے رہی ہیں۔ مایوس، دل شکستہ افراد بھی سرمایہ دارانہ مخالف جتھوں میں منظم ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اپنی علمی نامعقولیت اور اخلاقی بانجھ پن کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام زندگی ایک طویل تاریخی دور تک غالب رہے گا اور جمہوری عمل اس غلبہ کو مستحکم کرتا رہے گا۔ یہ غلبہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرمایہ داری کو مذہبی (یعنی اسلامی) بنیادوں پر معاشرتی اور ریاستی سطح پر منظم طور پر چیلنج نہ کیا جائے۔

7.2۔معاشی بحران

سرمایہ داری کی تاریخ معاشی بحرانوں سے بھری پڑی ہے۔ معاشی بحران اس کیفیت کو کہتے ہیں جب

1۔ حرام خور مارکیٹوں میں مطالبات اور ادائیگیوں میں توازن ایک طویل عرصہ کے لیے غیر متوازن ہو جائے۔

2۔ اشیا کے مارکیٹوں میں طلب اور رسد ایک لمبے عرصہ کے لیے غیر متواز ن ہو جائے جس کے نتیجہ میں بیروزگاری پھیلے یا زائد از ضرورت پیداوار کی بھرمار ہو جائے۔

3۔ ریاستی زر سے اعتبار اٹھنے کا اندیشہ ہو جائے اور تورم (inflation)بہت بڑھ جائے۔

ان تینوں میں سے کوئی ایک کیفیت بھی اگر زور پکڑ جائے تو معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ مثلاً 2008 تا 2010ء کا بحران حرام خور مارکیٹوں میں عدم توازن سے پیدا ہوا تھا۔

سرمایہ دارانہ معیشت کبھی بھی استحکام کی حالت میں نہیں رہتی۔ رسد اور طلب، واجبات اور مطالبات میں مستقلاً اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی ایک دوسرے کے برابر نہیں ہوتے۔ اس عمل کو تجارتی چکر کہتے ہیں۔ اور تجارتی چکر کے دو ادوار ہوتے ہیں۔ ایک دور inflation (تورم) کا دور ہے جب طلب رسد سے زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ دوسرا دور recessionکا دور ہے جب رسد طلب سے زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ مارکیٹوں کی خود کارفرمائی اور حکومتی اقدام کے ذریعے recession اور inflation پر ایک قلیل دورانیہ میں قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن اگر recession طویل ہو جائے تو اس کو بحران کہتے ہیں۔ جو recession 2008ء میں آیا اس کا دورانیہ تقریباً 18 ماہ تھا لیکن جو معاشی بحران 2020 سے جاری ہے وہ آج تک پوری طور پر ختم نہیں ہوا ۔

امریکی بجٹ آفس کے اندازوں کے مطابق سرمایہ دارانہ پیداواری شرح نمو کبھی بھی 2001ء تا 2008ء کی شرح نمو کے برابر نہیں ہوگی۔ بیسویں صدی کا سب سے شدید بحران 1929ء میں شروع ہوا اور تقریباً 8 سال تک جاری رہا۔ اس سے قبل بحران عموماً ملکی ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد سے بحران عالمی ہو گئے ہیں اس کی وجہ سرمایہ دارانہ مارکیٹوں (اشیا، اطلاعات اور حرام خور) کا بڑھتا ہوا عالمی ارتباط ہے۔ 2020ء میں سرمایہ دارانہ نظام عالمی طور پر اتنا مربوط ہو گیا کہ ایک ملک کا بحران بہت جلد پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ عالمی معاشی بحران سے اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت خود کفیل بنا دی جائے اور اس کے عالمی حرام خور اور اشیا کے مارکیٹوں سے روابط بتدریج منقطع کیے جائیں۔

معاشی بحرانوں کے ظہور کی وجہ کے بارے میں معاشی ماہرین میں اختلاف ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم (مرکزی بینک) کے سربراہوں کے مطابق بحرانوں کی وجہ دریافت کی ہی نہیں جا سکتی۔ نوبل انعام یافتہ کافر معیشت دان George Akerley سرمایہ کاروں کی حیوانی جبلت کے اظہار کو بحرانوں کی وجہ بیان کرتا ہے۔ آسٹڑین معیشت دانوں نے 1930ء کی دہائی میں یہ نظریہ پیش کیا کہ بحرانوں کے وقوع کا سبب سرمایہ کاروں کے غلط سابقہ فیصلے ہوتے ہیں اور بحران (ریسیشن) خود بخود مارکیٹی عمل کے ذریعہ درستگی کا باعث بنتاجاتا ۔ Milton Frideman 1929ء کے بحران کی وجہ فیڈرل ریزرو سسٹم کی غلطیوں کو بتاتا ہے۔ Keynes کے مطابق بحرانوں کی بنیادی وجہ مجموعی مانگ میں زوال ہوتا ہے۔ مارکس کے مطابق بحران اس رجحان کا نتیجہ ہیں کہ جیسے جیسے سرمایہ کار ی بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے عمومی شرح منافع گرتا جاتا ہے۔ منجمد سرمایہ کاری اور حاصل شدہ اضافی قدر کی شرح گرتی رہتی ہے۔ حرام خور مارکیٹوں میں سٹے بازوں کے غلط تخمینوں کو بحرانوں کا سبب گرداناجاتا ہے۔

آج حرام خور مارکیٹوں میں سرمایہ کاری اشیا اور خدمتی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مثلاً 2019ء میں امریکن کارپوریشنوں کی حرام خور مارکیٹوں میں سرمایہ کاری تقریباً تین ہزار بلین ڈالرتھی لیکن حرام خور سرمایہ کاری کا منافع کسی نہ کسی مادی شے یا خدمت پر منحصر ہوتا ہے (تعمیرات، اجناس، توانائی، دھاتیں وغیرہ) ۔ جب اشیا اور خدمتوں میں سرمایہ کاری گرتی ہے تو لازماً حرام خور مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔ حرام خور اور اشیا کے مارکیٹی رجحان میں عدم توازن بحران کا ایک اہم سبب ہے۔

دورحاضر کا عالمی بحران تمام بڑے سرمایہ دارانہ ملکوں (امریکا، یورپی یونین، جاپان) کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہوتاہے۔ اس میں کسی حد تک واحد استثنا چین کا ہے جو ریاستی سرمایہ کاری ، ترسیل سرمایہ پر پابندیوں اور کمیونسٹ پارٹی کے تحکم کی وجہ سے بحرانی کیفیات پر قابو پاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہر جگہ ریاستی مالی اور مالیاتی پالیسیاں پیداواری شرح نمو کو بڑھانے میں ناکام ہو گئی ہیں ،چین میں بھی شرح نمو 2020 سے گری ہے۔ طویل المدت سرمایہ دارانہ بحران کا تصور ایک روسی معیشت دان Kondrateiff نے پیش کیا جس کے مطابق تجارتی چکر کا حتمی دورانیہ 70 سالہ ہے۔ 70 سال میں تجارتی چکر پورا ہو جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ معیشت خود بخود تجارتی چکر کے ترقی کے دور میں داخل ہو جاتی ہے۔ مارکس اور لیون ٹراٹسکی کے مطابق ہر طویل المدت تجارتی چکر اپنے پیش رو سے گہرا ہوتا ہے اور آخرکار سرمایہ دارانہ نظام اپنے اندرونی تضادات کے سبب منتشر ہو جائیگا لیکن ان کے مطابق اس نظاماتی انتشار کو برپا کرنے کے لیے طبقاتی کشمکش کو فروغ دینا ضروری ہے۔

طویل المدت بحران میں دنیا بھر میں شرح سرمایہ کاری اور شرح منافع میں کمی آتی ہے۔ ضرورت سے زائد پیداوار اور حرام خور بازاروں میں سٹہ بازی بڑھی ہے۔ منجمد سرمایہ بہت تیزی سے فرسودہ ہوتا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں سرمایہ کاری پر خرچہ بڑھا ہے 2021 کے بعد تورم عود کر آیا ہے۔ حرام خور سرمایہ کاری میں بڑھوتری کے سبب ایسی عظیم اجارہ داریاں وجود میں آ گئی ہیں جن کی قرقی نظاماتی انتشار کا سبب ثابت ہو سکتی ہے اور ریاست ان کو سنبھالا دینے پر مجبور ہے۔ تقریباً ہر شعبہ میں یہ عظیم اجارہ داریاں براہ راست ریاستی سہارے پر چل رہی ہیں،(اجناس، ہوابازی، بینکاری، آئی ٹی، اسٹیل، گاڑیاں) اور ان کی شرح منافع گر رہی ہے۔ اس سب کے نتیجہ میں قرضہ جات ہوش ربا انداز میں بڑھے ہیں۔ چین تک میں مجموعی قرضہ اورمجموعی پیداوار کی شرح 160 فیصد سے 300 فیصد 2006 ء تا 2019ء کےدوران ہو گئی۔

دنیا کا سب سے بڑا بینکنگ کا نظام آج چین میں ہے۔ ان بینکوں کے ناقابل ادائیگی واجبات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حرام خور مارکیٹوں اور اشیا اور خدمتوں کے مارکیٹوں میں بحرانی دور میں تعلق نہایت کمزور ہو گیا ہےحالانکہ حرام خور بازاروں کے استحکام اور صحت کا انحصار اشیاکے مارکیٹی رجحانات پر ہے۔ آج پوری دنیا میں اشیا کے مارکیٹ سکڑ رہے ہیں اور بیش تر بڑے سرمایہ دارانہ کاروبار کی شرح نمو منفی کے قریب ہے لیکن امریکی سٹہ مارکیٹ میں چڑھاؤ کا رجحان ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ معیشت کے بڑھتے ہوئے انتشار کا واضح ثبوت ہے۔

حرام خور مارکیٹوں کے کاروبار میں طویل بحرانی دور (2008ء تا حال) میں ہوش ربا اضافہ collateralized debt obligations, securitization and shadow banking کی بے اندازہ عمومیت اور بڑھوتری سے ہوتی ہے۔ اسی طرح derivatives کا کاروبار بھی خوب فروغ پا رہا ہے۔ hedge funds, money market funds اور investment trusts سب اس حرام خوری کے آلہ کار ہیں۔ حرام خور مارکیٹوں کی اس تیز رفتار ترقی اور تنوع کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظاماتی انتشار اور عدم استحکام کے خطرات ہنوز بڑھتے جا رہے ہیں۔

پیداوار ی شرح نمو میں مستقل گراوٹ اور ریاستی قرضوں میں ہوش ربا اضافہ کے نتیجہ میں بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے اور تقسیم دولت و آمدنی تیزی سے غیر مساویانہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایک مقروض اور ترقی پذیر ریاست کے لیے عوامی فلاحی خدمات فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی انتشار بھی رونما ہو رہا ہے۔ بڑے سرمایہ دارانہ ممالک کے عوام اپنے معیار زندگی میں کمی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کے عوام مرکزی جمہوری جماعتوں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان انتہا پسند سیاسی جماعتوں کی حمایت کر رہے ہیں جو فاشزم کی طرف مائل ہیں۔ اس سے ملکی اور عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام کو وجودی خطرہ درپیش ہے۔ لیکن عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام کو قانون، پیداواری رسدی زنجیروں اور حرام خور مارکیٹوں کے ارتباط نے جکڑ رکھا ہے اور اس کو منتشر کرنے کے امکانات نہایت محدود ہیں۔

ان حالات میں سرمایہ دارانہ معیشت شدید غیر یقینیت کا شکار ہے۔ اور مارکیٹوں میں استحکام قائم رکھنے کی تمام ذمہ داری سرمایہ دارانہ ریاستوں پر آ پڑی ہے۔ 2008ء تا 2010ء کے ریسیشن سے نکلنے میں سرمایہ دارانہ ریاستی عمل اور اس عمل کی عالمی سطح پر تطبیق نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ لیکن یہ ریاستی اقدام بحران کے بنیادی سبب جس کا اظہار پیداواری شرح نمو کے گرنے کے رجحان سے ہوتا ہے کو رفع نہ کر سکیں اور سود کی کمی اور ریاستی تمسکات کی اجرا کی پالیسی ان معنوں میں ناکام ہوئی کہ اس کے نتیجہ میں مارکیٹوں میں استحکام تو وقتی طور پر قائم ہو گیا لیکن نہ سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا نہ پیداواری شرح نمو میں اور آج سرمایہ دارانہ نظام وہیں کھڑا ہے جہاں 2008ء میں تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ آج چین اور امریکا میں اختلافات بڑھ گئے ہیں اور اس نوعیت کا عالمی مفاہمتی عمل جو 2006ء تا 2010ء میں رونما ہوا تھا آج مشکل نظر آتا ہے۔

ریسیشن اور طویل المدت بحران دونوں سرمایہ دارانہ تاریخ کا حصہ ہیں اور ابھی تک یہ نظام ان تجارتی چکروں پر قابو پاتا رہا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ حالیہ بحران دائمی ثابت ہو اور اس کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات کا شیرازہ بکھر جائے۔ یقیناً سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے داخلی تضادات نہایت گھمبیر ہیں اور زیادہ امکان اسی کا ہے کہ اس جیسے اور اس سے گہرے بحران آتے رہیں گے اور ان پر جو قابو پا لینےکے طریقہ اختیار کئے جائینگے وہ نامکمل ، ادھورے اور گنجلک ثابت ہوں گے۔ لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ریاستی اور مارکیٹی اشتراک عمل کو زیادہ موثر انداز میں مرتب نہ کیا جا سکے۔ حرام خور اور اشیائی بازاروں کےارتباط کو فروغ نہ دیا جا سکے اور شرح پیداواری میں استحکام اور بڑھوتری نہ لائی جا سکے۔ یہ سب وقتی طور پر ہوتا رہے گا اور معاشی نظاماتی خلفشار کےنتیجہ میں ہم تاریخ کے سرمایہ دارانہ تغلب کے دور سےنہ نکل سکیں گے۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کا اصل سہارا جمہوری عمل ہے۔ جب تک تنویری علمیت (جاہلیت خالصہ) کوتفوق حاصل ہے اور وہ معاشرتی کامن سینس ہے اور جب تک سیاسی طور پر فعال عوام افاداتی (utilitarian) اخلاقیات کو اپنائے ہوئے ہیں یعنی حرص اور ہوس کے شیاطین ان کے قلوب کو مسخر کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت تک وہ سرمایہ دارانہ تغلب کے حامی رہیں گے۔ اس کی تائید کرتے رہیں گے۔ اوراس خبیث علمیت اور اخلاقیات کا اظہار لبرل ازم، اشتراکیت، فاشزم کے ذریعہ ہوتار ہےگا لہٰذا یہ تو ممکن ہے کہ ابلیس کے پیرو عوام استبدادی جمہوری نظام کو لبرل جمہوری نظام برتر ترجیح دینے لگیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ تغلب کو رد کریں۔ یہ کرنا ہے تو عوام کو شیطان کی پرستش سے باز آنا پڑے گا اور ماننا پڑے گا کہ

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آزری

ہم اسلامی انقلابی ہیں ۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ ہمارا عوام کو پیغام ہے

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ وپیوند

بتان وہم و گماں لاالہ الا اللہ

عوام میں مذہبی روحانیت کا فروغ دیناہماری بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے بغیر انہدام سرمایہ داری کا تصور کرنا ایک دیوانے کے خواب کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

7.3۔ وبائی بحران

یہ بھی سرمایہ دارانہ نظام کا اندرونی بحران ہے جس کو سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) نے جنم دیا ہے۔ کوئی external shock نہیں جاہلیت خالصہ کا مہلک ترین مظہر سائنس ہے جس نے نسل انسانی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج سائنس کی تباہ کاریاں وبائی بحران اور ماحولیاتی بحران کی شکل میں سب پر عیاں ہیں۔ دسمبر 2023 تک تقریباً ساٹھ ملین افراد کرونا 19 کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور تقریباً 11 لاکھ وفات پا چکے ہیں۔ ماحولیاتی بحران ہر طرف عیاں ہے۔ ایمازون اور آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے۔ جزیرہ مالدیپ اور کیپ وردی ڈوبے جا رہے ہیں۔ خشک سالی بھی عام ہے اور طوفان باد و باراں بھی پانی کی قلت کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

جس جاہلی علمیت کو آج سائنس کہتے ہیں اس کی ایجاد سترھویں صدی میں ہوئی اور جیسا کہ نیوٹن نے کہا تھا اس کا مقصد انسانی ارادہ کو کائناتی قوتوں پر مسلط کرنا ہے۔ یہ عمل پچھلی چار صدیوں سے جاری ہےسرمایہ دارانہ تاریخ کا یہی مادی اظہار ہے۔ اور کائناتی استحصال کے نتیجہ میں آج انسانیت کا وجود خطرہ میں پڑ گیا ہے۔

طبی اور ادویاتی اختراعات کے باعث دنیا بھر میں نئی نئی وبائیں پھوٹ رہی ہیں۔ ان وباؤں کا باعث وہ نئے جروثمے ہیں جو ان اختراعات کے ردعمل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ان جرثوموں کو اینٹی بائیوٹک ریزسٹنٹ جرثومے کہا جاتا ہے۔ یہ جرثومہ کی قسم کئی ادویات کے خلاف مدافعت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

ہر روز کروڑوں افراد ایسے وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں جن کے علاج کے لیے کوئی دوا موجود نہیں۔ آج ادویہ کش جرثومے پوری دنیا میں پھیلی ایک عالمی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

بیسویں صدی میں یہ خیال ایلوپیتھک طب کی دنیا میں عام تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب تمام امراض پر قابو پا لیا جائے گا اور انسانی زندگی کو لامتناہی وسعت دے دی جائے گی اور شاید موت پر بھی قابو پا لیاجائے۔ آج جب صرف ایک وبائی مرض کرونا19 سے لاکھوں لوگ مر رہے ہیں تو کہنا پڑتا ہے

ایں خیال است محال است و جنوں

وبائی بحران انسانی وجود کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا ماحولیاتی بحران۔ ادویاتی ایجادات نہ صرف یہ کہ غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں۔ بلکہ نئے نئے وبائی امراض کو جنم دے رہی ہیں۔

اینٹی بائیوٹک (جرثومہ کش ادویات) کی ناکامی کی تاریخ طویل ہیں۔ پنسلین کی دریافت 1926ء میں ہوئی۔ اس کا عام استعمال امریکی فوجی اڈوں میں 1940ء کی دہائی سے شروع ہوا۔ جنگ کے خاتمہ کے بعد کئی دوسری اینٹی بائیوٹکس دریافت کر لی گئیں۔

بیکٹیریا(bacteria) دنیا کی سب سے پرانی اور سب سے کثیر الاثر نوع حیات ہے۔ انسانی جسم میں 39 ٹریلین بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف نوقسم کے بیکٹیریا امراض کو جنم دے سکتے ہیں باقی بیش تر بیکٹیریا انسانی حیات کے لیے مفید ہیں۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کی ایجاد کے کچھ سال بعد ہی بیکٹیریا میں ان کے خلاف مدافعت کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے اور گاہے گاہے ہر نئی اینٹی بائیوٹک دوا بے اثر ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ آج واضح ہے کہ دوا ساز بیکٹیریا کے خلاف یہ جنگ ہار چکےہیں۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں سو سے زیادہ اینٹی بائیوٹک ادویات کی قسمیں مارکیٹ میں آئیں لیکن اس کھیپ میں آخری بڑا اضافہ 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ اکیسویں صدی میں نئی اینٹی بائیوٹک ادویات کی ایجاد نہ ہونے کے برابر ہے اور بیش تر ادویاتی کمپنیوں نے اینٹی بائیوٹک تحقیق بالکل منقطع کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایڈز، سارس اور کووڈ19 کے خلاف ویکسین کی دریافت میں تاخیر ہوئی ہے۔

آج ایسے وبائی امراض جو دواؤں کا اثر قبول نہیں کرتے انسانی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ بن گئے ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس نئے نئے جرثوموں کو جنم دے رہی ہیں۔ ایسے جرثومے جو ادویاتی مدافعت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک برطانوی تحقیق نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2050 تک سالانہ وباؤں سے مرنے والوں کی تعداد دس ملین سالانہ ہو جائے گی۔ آج یہ اندازہ مضحکہ خیز نظر آتا ہے جب کہ 2020ء کے پہلے 9 مہینوں میں کووڈ19 نے تیس ملین افراد مار ڈالے ہیں۔ 2020ء کے پہلے نو مہینوں میں ہر سیکنڈ پر ایک وبائی موت واقع ہوئی ہے۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کی ناکامی کے سبب ان سے متعلق بیش تر طبی ضوابط خطرناک ہوجا تے ہیں۔ چھوت کو کنٹرول نہ کیا جا سکے تو ہر جراحی پرخطر ہوجاتی ہے۔ اوپن ہارٹ سرجری، آرگن ٹرانسپلانٹ، کیموتھراپی، سیزیرین ڈلیوری یہ سب شدید خطرناک عمل ہو جائیں گے۔ اسپتال جرثوموں سے بھر جائیں گے۔ پرانے امراض ٹی بی ، ملیریا، جذام عود کر آئیں گے۔ ڈبلیو ایچ او کی سابق ڈائریکٹر فرماتی ہیں کہ اینٹی بائیوٹک کی ناکامی پورے طبی نظام کو تباہ کر دے گی۔ آج ایسے جرثومے موجود ہیں جو تمام ادویات سے مکمل مدافعت کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اکیسویں صدی کے آخر تک اینٹی بائیوٹکس کے مکمل طور پر ناکام ہونے اور ایلوپیتھک طب کی مکمل تباہی کا خطرہ موجود ہے۔

ہر سرمایہ دارانہ بحران غریب ملکوں میں امیر ملکوں سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے تخمینہ کے مطابق وبائی بحران بھی غریب ملکوں کو نسبتاً زیادہ متاثر کرے گا۔ امیر ممالک میں ٹی بی، ہیضہ کا اینٹی بائیوٹکس نے تقریباً خاتمہ کر دیا ہے لیکن غریب ممالک میں ان امراض کے خلاف استعمال کی جانے والی ادویات بے کار ثابت ہو رہی ہیں۔ آج بھی غریب ممالک میں 65 ملین ٹی بی کے کیسز ہر سال ہوتے ہیں جن میں تقریباً دس فیصد ناقابل علاج قرار دیے جاتے ہیں۔ امیر سرمایہ دارانہ ممالک میں صرف 17 فیصد اینٹی بائیوٹکس اب تک ناکارہ ثابت ہوئی ہیں۔ غریب ممالک میں ایسی اینٹی بائیوٹکس جو بے اثر ہیں مجموعی اینٹی بائیوٹکس ادویات کی چالیس فیصد سے زیادہ ہیں اور غریب ممالک میں جرثوموں میں اینٹی بائیوٹکس مدافعت کی صلاحیت امیر ممالک کے مقابلہ میں پانچ سے سات گنا رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کے استعمال نے بیکٹیریا کو اس قابل بنا دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کھا کر اپنی افزائش کر سکیں۔ وہ بیکٹیریا جو اینٹی بائیوٹکس سے مدافعت نہیں کر سکتے ختم ہوتے جا رہے ہیں اور وہ بیکٹیریا جو مدافعتی صلاحیت کے حامل ہیں ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے وبائی مدافعاتی بیکٹیریا کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ غالباً یہ چینی زرعی فارموں کے جانوروں میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ہی تھا جس نے کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی کی افزائش کی اور اس وائرس کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کی۔

اینٹی بائیوٹکس کی یہ خصوصیت ہے کہ جتنا ان کا استعمال بڑھتا ہے اتنی ہی ان کی افادیت میں کمی آتی جاتی ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کا یہ وسیع عالم گیر پھیلاؤ اور ادویاتی کمپنیوں کے منافع کی پیہم جستجو کا نتیجہ ہے۔ پنسلین اور دوسری اینٹی بائیوٹکس کی بکری کو جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعہ فروغ دیا گیا اور ان کو ایسے امراض کے لیے بھی تجویز کیا جانے لگا جن کی شفا سے ان اینٹی بائیوٹکس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ لپ اسٹک تک میں پنسلین کا استعمال کیا جانے لگا۔ نئی نئی اینٹی بائیوٹکس دریافت کی جانے لگیں تاکہ product differentiation کے ذریعہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکے۔

ان میں زیادہ تر ادویات بے اثر ہونے کے ساتھ ساتھ بیکٹیریا کی ادویاتی مدافعت میں اضافہ کا سبب بھی بنتی رہیں۔ ڈاکٹروں نے ادویاتی کمپنیوں کی ان اشتراکی مہمات میں بھرپور ساتھ دیا اور دھڑا دھڑ ایسی ادویات تشخیص کرتے رہے جو بے اثر بھی تھیں ۔اور جن سےادویاتی مدافعاتی بیکٹیریا کی افزائش نسل بھی ہوتی تھی۔ 2016ء کے سروے کے مطابق امریکی ڈاکٹروں کی تیس فیصد تشخیصات اسی نوعیت کی تھیں۔ آج ادویاتی صنعت دنیا کی منافع بخش ترین صنعتوں میں شامل ہے۔ وہ دنیا کی کرپٹ ترین صنعتوں میں بھی شامل ہے۔ 1991ء سے 2015ء تک امریکی دوا ساز کمپنیوں نے 35.7 بلین ڈالر فراڈ کے مقدمات طے کرنے پر خرچ کیے۔ ان مقدمات کی تعداد 373 تھی۔ ادویاتی کمپنیاں اس قسم کے خرچہ کو پیداواری اخراجات شمار کرتی ہیں۔ غریب ممالک میں بین الاقوامی ادویاتی کمپنیوں کی دھوکہ دہی اور جعل سازی کی کوئی حد نہیں۔ ادویاتی کمپنیوں کی پالیسیوں نے دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹکس کی مانگ اس کی حقیقی ضرورت سے کہیں زیادہ بڑھا رہی ہے۔ سی این این کے مطابق اب اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ایک شناختی ضرورت بن گیا ہے۔ 2000 تا 2015ء میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بھارت میں 103 فیصد، چین میں 79 فیصد اور پاکستان میں 65 فیصد بڑھا ہے۔ استعمال شدہ اینٹی بائیوٹکس کا 60 فیصد حصہ فضلہ کے طور پر خارج ہو کر ماحول میں شامل ہو جاتا ہے اور نالوں، دریاؤں ، زمینوں اور کھیتوں میں جرثوموں کی افزائش نسل کا باعث بنتا ہے۔

اینٹی بائیوٹکس بہت بڑی مقدار میں جانوروں کی غذاوں میں شامل کیے جاتے ہیں۔ جدید معیشت میں جانور خانوں کا نظام خوراک اور کھپت اینٹی بائیوٹک جرثوموں کی افزائش کے اہم مراکز ہیں اور اس کا قوی امکان ہے کہ جنگلی جانوروں کی ان علاقوں تک رسائی کروناوائرس کی افزائش کاسبب بنی ہو۔ صنعتی ماحولیاتی آلودگی بھی جرثوموں کی افزائش نسل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جنوبی کوریا، تائیوان اور پاکستان میں ادویاتی صنعتی آلودگی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

سائنسی اختراعات کے نتیجہ میں اینٹی بائیوٹک مدافعت رکھنے والے بیکٹیریا (اے ایم آر) کی تعداد بے تحاشا بڑھ رہی ہے۔ وبائیں پھیل رہی ہیں ۔ جس شخص میں بھی اے ایم آر موجود ہیں (خواہ وہ صحت مند ہی کیوں نہ ہو) جب بھی وہ سانس لیتا ہے یا چھوتا ہے تو اربوں اے ایم آر کو دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ بیسویں صدی سے قبل اے ایم آر کی تعداد نہایت محدود تھی کیونکہ ان کو جنم دینے والی ادویات ناپید تھیں۔ ادویاتی صنعت ، نکاسی کے نظام ، کھاد بنانے کے کارخانے اور کھاد استعمال کرنے والے کھیت سب اے ایم آر کو تخلیق کیے جا رہے ہیں۔ اے ایم آر کی افزائش کے مخصوص مقامات تو شروع ہی سے موجود تھے لیکن سائنسی اختراعات کے نتیجہ میں پوری دنیا ایک ہاٹ اسپاٹ (hot spot)بنتی جا رہی ہے اور سائنس نئی نئی وباؤں کو جنم دے رہی ہے۔

کرونا وائرس چمگادڑوں سے نکالی لیکن 2019ء سے قبل کے سات ہزار سالوں میں وہ ناپید تھا اور چمگادڑوں کی نسلیں محفوظ تھیں۔ 2019ء میں وہ چمگادڑوں میں کہاں سے آئی۔ کرونا وائرس ووہان کی لیبارٹری کی پیداوار نہ بھی ہو تو بھی وہ بلاواسطہ سائنسی تخلیق سے بیکٹیریا کی بیش تر اقسام مدافعت کے خلیے کوقبول کرتی جا رہی ہیں اور ان مدافعتی خلیوں کے پھیلاؤ کو روکنے والی کوئی حدبندیاں موجود نہیں ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ریزسٹنٹ جینز کا بیکٹیریا کی اقسام میں عالمگیر پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ وہ بیکٹیریا جو انسانی صحت کے لیے مفید ہیں بتدریج تباہ کیے جا رہے ہیں۔

ماحولیاتی ابتری کے آغاز کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ اس عمل میں ہوش ربا اضافہ 1950ء کے بعد سے ہوا اور اس ہوش ربا اضافہ کا سبب سائنٹفک بنیاد پر پیداواری (صنعتی، زرعی، مواصلاتی) نظام کی ترتیب نو ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کا پھیلاؤ ماحولیاتی ابتری کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک اہم پہلو ہے۔ سرمایہ دارانہ علمیت کا ایک بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ انسانی بقا کا انحصار سائنٹفک ارتقا پر ہے اور سائنٹفک ارتقا کو مہمیز دینے والی اصل قوت بڑھوتری سرمایہ کی جستجو ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کے پھیلاؤ کے تاریخی تجربہ نے یہ عقیدہ بالکل غلط ثابت کر دیا ہے۔ ہر سائنسی ایجاد کی طرح اینٹی بائیوٹک ایجادات بھی ابتداءً نہایت موثر اور کامیاب نظر آئیں اور بہت سے متعدی امراض پر قابو پا لیا گیا۔ لیکن ہر سائنسی تجربہ کی طرح اینٹی بائیوٹک ایجادات کا دیرپا اثر نہایت مہلک ثابت ہو رہا ہے اور ان کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں ماحولیاتی ابتری ہوش ربا رفتار سے بڑھ رہی ہے اور انسانیت تباہی کے دہانے پر آ کھڑی ہوتی ہے۔

آج بیش تر ادویاتی کمپنیوں نے اینٹی بائیوٹکس میں تحقیق ترک کر دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا کاروبار اتنا منافع بخش نہیں رہا جتنا دوسری دواؤں کا اور مارکیٹ کا غیر متبدل حکم یہ ہے کہ پیسہ وہاں لگاؤ جہاں منافع کمانے کے بہترین مواقع ہوں۔ سرمایہ دارانہ علمیت کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ادویاتی کمپنیاں انسانیت کو تباہ کر رہی ہیں۔ اگر اینٹی بائیوٹک کی پیداوار ختم بھی کر دی جائے تو سائنس کے پاس اس ماحولیاتی ابتری کو رفع کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں جو اے ایم آر اور ریزسٹنٹ جینز کے اب تک پھیلاؤ کے نتیجہ میں رونما ہو چکا ہے۔

سائنس جاہلیت خالصہ ہے۔ کائنات کی تسخیر کی یہ جستجو لازماً ناکام ثابت ہوتی رہے گی اور اس جستجو میں انسانیت خود اپنی تباہی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ سائنسی علمیت کی تسخیر کے بغیر انسانیت اپنی تباہی کی راہ پر گامزن رہے گی۔ سرمایہ درانہ تاریخ کے عروج کی ابتدا امریکا کے قدیم باشندوں کے قتل عام سے ہوئی۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ سرمایہ داری کا اختتام پوری نوع انسانی کے قتل عام کا ذریعہ بنے۔

7.4۔ ماحولیاتی بحران

آج یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جس جیولوجیکل دور میں انسانیت پچھلے گیارہ ہزار سال سے رہ رہی تھی اور جس کو Holocene کہتے ہیں وہ 1950ء کے لگ بھگ ختم ہو گیا ہے اور اب ہم Anthropocene کے جیولوجیکل دور میں رہ رہے ہیں۔ اس دور میں ہیومن عمل کائناتی قدرتی تواز ن کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اس نئے جیولوجیکل دور میں گرمی بڑھ رہی ہے۔ جنگلات برباد ہو رہے ہیں، خشک سالی پھیل رہی، جانوروں اور حشرات الارض کی نسلیں معدوم ہو رہی ہیں۔ طوفان اور سیلابوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔

Anthropocene کی اصطلاح سب سے پہلے کافر محقق Paul Cruzten نے استعمال کی۔ Cruzten نے کہا کہ کیمیائی اجزا کا بڑھتا ہوا استعمال دنیا پر چھائے اوزون چادر کو تباہ کر رہا ہے۔ کائناتی توازنات (balances)کی بربادی دنیا کو انسانی آبادی کے لیے ناقابل رہائش بناتا جا رہا ہے۔ International Geological and Biological Group کی حالیہ تحقیقات نے اینتھروپوسین دور کی خصوصیات کو واضح کیا ہے۔ ماحولیاتی ابتری کا باعث تیز رفتار سائنٹفک صنعتی ترقی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ سرمایہ دارانہ دور میں پیداواری اور صارفانہ نظاموں میں جو تبدیلیاں آئی ہیں اور جو انسانی رویوں میں تبدیلیوں کی غماز ہیں۔ وہ ماحولیاتی ابتری کو فروغ دے رہی ہیں۔

جیسے جیسے فی کس آمدنی، فی کس استعمال توانائی اور فی کس استعمال آب وغیرہ بڑھ رہا ہے ویسے ویسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج، اوزون چادر کی بربادی ، جنگلات کی ویرانی، خشک سالی، جانوروں کی نسل کشی وغیرہ بھی بڑھی ہیں۔ 1950ء کے بعد سے ارتقا کے ان رجحانات کی رفتار نہایت تیز ہے اور 1950ء کے بعد کے دور کو International Geological and Biological Group ”دی گریٹ ایکسلریشن“ کا دور کہتا ہے۔ کئی محققین کہتے ہیں کہ دنیا ایسے چھٹے دور تباہی میں داخل ہو چکی ہے جب نسلیں معدوم ہوجاتی ہیں۔ گرین ہاؤس گیس کا ماحول میں اندراج ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے اور گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی کوئلے، گیس اور تیل کی پیداوار اور ایسی اشیا کی تیاری جو ناقابل تسخیر ہیں بالخصوص پلاسٹک ماحولیاتی ابتری کو مہمیز دے رہی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام پیداوار اور تصرف نے نظم کائنات اور انسانی عمل میں ایک ایسا رخنہ پیدا کر دیا ہے جو پاٹا نہیں جا سکتا۔

محققین کے مطابق اس صدی کے آخر تک ماحولیاتی آلودگی اتنی بڑھے گی کہ تہذیب یافتہ زندگی (یعنی سرمایہ دارانہ طرز حیات) گزارنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ماحولیاتی ابتری کا سبب سرمایہ دارانہ طرز حیات کے پھیلاؤ کے علاوہ اور کچھ نہیں لیکن جو بین الاقوامی منصوبے پیرس 2015ء اور اس کے بعد کی کانفرنسوں میں ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے ضمن میں بنائے جا رہے ہیں ان کو اس بات کا احساس بالکل نہیں۔ ان سب کا انحصار نئی نئی سائنٹفک اور ٹیکنولوجیکل اختراعات پر ہے اور وہ اسی ذریعہ کے استعمال سے ماحولیاتی بحران سے نجات حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یعنی سائنس جس کے استعمال سے یہ اندوہناک صورت حال پیدا ہوئی ہےاس کے استعمال کو اس کا حل متصور کیا جا رہا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سرمایہ دارانہ پالیسی سازوں نے وباؤں کے پھیلاؤ کے ضمن میں اختیار کیا تھا۔

سرمایہ داری فطرت کا استحصال کر رہی ہے۔ وہ قدرتی قوتوں کو بڑھوتری سرمایہ کے تعقل کے تابع کر رہی ہے۔ سرمایہ دار ہر شے اور عمل کو مارکیٹ کے احاطہ میں مقید کرنے کی کوشش کرتارہتا ہے۔ اسی عمل کو کموڈیفی کیشن(commodification) کہتے ہیں یعنی ہر شے اور ہر عمل کو بیچنے اور خریدنے کا ذریعہ بنا کر اس سے بڑھوتری سرمایہ کو فروغ دیا جاتا رہے۔ پیہم کوشش جاری رہتی ہے کہ ہر شے اورہر عمل سرمایہ دارانہ ملکیت (خواہ نجی خواہ سرکاری) کی شکل اختیار کرے۔ سرمایہ داری کا پھیلاؤ کموڈیفی کیشن کے دائرہ کار کے پھیلاؤ کا دوسرا نام ہے۔ قبل از سرمایہ دارانہ ادوار میں عموماً عورتوں کی محنت خریدی اور بیچی نہیں جاتی تھی۔ سامراج کے غلبہ سے قبل ایشیا اور افریقہ کے قدرتی وسائل (پانی، توانائی وغیرہ) سرمایہ دارانہ ملکیت نہ تھے۔ اب سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے تصرف میں یہ قدرتی وسائل بھی آ گئے ہیں اور کسی نہ کسی حد تک عورتوں کی محنت بھی۔

قدرت کے سرمایہ دارانہ استحصال([239]) کو سب کافر سرمایہ دارانہ نقیبوں نے سراہا ہے۔ ریکارڈو نے بھی ہیگل نے بھی مارکس نے بھی([240])۔ سرمایہ دار قدرتی وسائل کو مال مفت گردانتے ہیں۔ یہ مال سب کے لیے مفت نہیں تصور کیا جاتا۔ صرف سرمایہ داروں کے لیے مفت ہوتا ہے تاکہ وہ اس کو سرمایہ دارانہ ملکیت میں تبدیل کر سکیں۔جب سرمایہ دار قدرتی وسائل مثلاً پانی یا تیل غصب کرتا ہے تو وہ قدرت کو اس وسیلہ (پانی، تیل) سے خالی کرتا ہے۔ اس جگہ کو پر نہیں کرتا۔ امریکا کے قدیم باشندے سرمایہ دار نہ تھے۔ انہوں نے زمین کو سرمایہ دارانہ ملکیت میں تبدیل نہ کیا۔ اسی عمل کی پاداش میں فلسفی جان لاک نے ان کے قتل عام اور ان کے وسائل کی لوٹ مار کو جائز قرار دیا۔ قدیم باشندوں کے قتل عام کے ذریعہ براعظم امریکا کے قدرتی وسائل کو کموڈیفائی کر لیا گیا([241])۔یہ سب عیسائی اور یورپ کی حوصلہ افزائی کے باعث کیا گیا ۔

سرمایہ دارانہ ارتقا کا لازماً نتیجہ ماحولیاتی ابتری کی شکل میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ سرمایہ کو ہر وقت اپنے دائرہ کار کو پھیلانے اور ان علاقوں اور وسائل کو اپنے زیر تسلط لانے کی ضرورت رہتی ہے جو سرمایہ کی گردش کے باہر ہوتے ہیں۔ قدرتی وسائل اور آزاد زمینوں پر سرمایہ دارانہ قبضہ سولھویں صدی سے جاری ہے اور آج دنیا بھر میں پائپ لائنوں کےپھیلاؤ اور معدنی وسائل کی نجکاری کے ذریعہ زور پکڑ رہا ہے۔ یہ سب سرمایہ کے چکر کموڈیفی کیشن کے پھیلاؤ کے ذریعہ وسعت دینے کے طریقے ہیں۔ Andreas Mahn کہتا ہے کہ کموڈیفی کیشن نے جو پس جدیدی معاشرت پیدا کی ہے وہ سرابی ہے۔ ماحول تمثیلات اور تشبیہات سے اتنا پر ہو گئی ہے کہ حقیقت سرابوں میں کھو گئی ہے۔

ایک عام گھرانہ آئینہ خانہ کی اسکرینوں کی بھرمار سے مسحور ہو گیا اور اپنی تاریخی تہذیبی روایات سے بالکل کٹ گیا ہے۔ مواصلات کا طوفان انسانیت کو غرق کیے جا رہا ہے۔ اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کی دراندازی بھی ماحولیاتی ابتری کا ایک جزو ہے اور اس دراندازی نے معاشرت اور قدرت کے باہمی ربط کو مسخ کر دیا ہے کیونکہ آئی ٹی صنعت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ حقیقت کو تمثیلات کے ذریعہ تخلیق کیا جا سکتا ہے لہٰذا حقیقت کچھ نہیں۔ آئی ٹی کا پھیلاؤ کموڈیفی کیشن کے فروغ میں ایک اہم ذریعہ ہے۔ آئی ٹی کموڈیفی کیشن کے ذریعہ معاشرتی شیرازہ بکھر رہا ہے۔ اخلاقی اور روحانی ماحول پراگندہ ہو رہا ہے([242])۔

آج ماحولیاتی بڑھتی ہوئی ابتری کا احساس عام ہے۔ روحانی اور اخلاقی ابتری کے بڑھنے کا کوئی احساس نہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ماحولیاتی ابتری کو روکنے کی جو تجاویز حکومتیں اور اقوام متحدہ وغیرہ اپنا رہی ہیں وہ خالصتاً ٹیکنالوجیکل ہیں۔ کچھ ناقدین کے علاوہ جمہور پالیسی ساز نہ پیداوار/تصرف کی کمی کو ماحولیاتی ابتری کو روکنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں نہ سرمایہ دارانہ نظام میں کسی تشکیلی تبدیلی کو۔ان کے خیال میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال اور افزائش نسل انسانی کی روک تھام مارکیٹی کارفرمائی کو اس قابل بنا دے گی کہ وہ ماحولیاتی ابتری کا سدباب کر سکے یعنی ماحولیاتی ابتری سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان پالیسی سازوں کی رائے میں مقابل توانائی کے غیر معدنی وسائل کے استعمال، جیوانجینئرنگ کے فروغ اور دنیا بھر میں توانائی کے اخراج کے منطقی اثرات کو زائل کرنے والے انفراسٹرکچر کے قیام کے ذریعہ ماحولیاتی ابتری کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کی رائے میں سرمایہ کی بڑھوتری اصولاً لامحدود ہے(یہ رائے بہت سے مارکسسٹوں مثلاً Liegh Phillips اور Michal Rozworki کی بھی ہے) ۔ معیار زندگی میں اضافہ کے لیے مستقل سرمایہ کی بڑھوتری ناگزیر ہے۔ اس رائے سے سب متفق ہیں۔ لبرل بھی اشتراکی بھی قوم پرست بھی انارکسٹ بھی([243])۔ Leigh Phillips لکھتا ہے کہ قدرت کا تقاضا ہے کہ ہم قدرت کا استعمال جاری رکھیں۔ نیوکلیئر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کا اہم ذریعہ گردانا جا رہا ہے۔ سائنس کے ذریعہ تسخیر کائنات کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ دار قدرت کی تخلیق نو کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ Oliver Morton نے 2015ء میں کتاب لکھی The Planet Remade سرمایہ داری کو سبز رنگ دیا جا رہا ہے۔ Carbon Capture and Squestration Plants جوخلا سے کاربن کو کھینچ کر ٹیلوں میں دفن کر دیتے ہیں، سے امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ تجاویز کموڈیفی کیشن کے عمل کو جیو انجینئرینگ کے ذریعہ تیز کرنے کو ماحولیاتی بحران کے حل کے طور پر پیش کرتی ہیں تاکہ بڑھوتری سرمایہ مستقل تیز رفتاری سے جاری رہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری اس لیے ضروری ہے کہ سرمایہ ہی آزادی کی واحد ممکنہ آفاقی تجسیم ہے اور آزادی کا فروغ اور سرمایہ کی بڑھوتری ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔

جو ٹیکنالوجیکل حل ماحولیاتی آلودگی کے بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے دیے جا رہے ہیں وہ نہایت پرخطر ہیں۔ مثلاً CCS تنصیبات کا پھیلاؤ پر جو خرچہ متوقع ہے وہ اس سے زیادہ ہے جو موجودہ عالمی توانائی نظام کے انفراسٹرکچر کو کارفرما رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور جیسا کہ ہم آگے بیان کریں گے گرین انرجی کی تمام تجاویز بہت بڑے ماحولیاتی اور معاشرتی خطرات کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بیش تر کم از کم فی الحال ناقابل عمل ہیں۔

سرمایہ دارانہ طرز حیات میں جمہور کی مادی ضرورتوں کو بے اندازہ تیزی سے بڑھایا جاتا رہتا ہے۔جمہور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خواہشات کی پرستش کے ذریعے دنیا میں جنت بنائی جا سکتی ہے حقیقت اس کے برعکس خواہشات کی جمہوری پیروی دنیا کو دوزخ بنا رہی ہے اور ماحولیاتی بحران اس جمہوری دوزخ سازی کا ایک بھیانک پہلو ہے۔

اکیسویں صدی میں چند کافر معیشت دان اور عمرانی ماہرین نے بڑھوتری سرمایہ کی رفتار کے انجماد، ڈی گروتھ کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق جس پر عمل کہیں بھی نہیں ہو رہا اور نہ کہیں ہونے کا کوئی امکان موجود ہے سرمایہ کاری کی موجودہ رفتار میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ مکتب فکر سرمایہ کاری کی ساختی تبدیلی کی وکالت کرتا ہے۔ کچھ ایسی سرمایہ کاری ہو جو متبادل ذریعہ توانائی کے شعبہ میں کی جا رہی ہے،اس کو تیزی سے بڑھتے رہنا چاہیے اور کچھ شعبوں میں سرمایہ کاری مثلاً تیل اور گیس اور گوشت اور ہوائی صحافت کے شعبہ والی ، میں سرمایہ کاری کی تخفیف ہونی چاہیے۔ امیر ممالک میں سرمایہ کاری کی بڑھوتری کی رفتار کم اور غریب ممالک میں زیادہ ہونا چاہیے وغیرہ۔

اس قسم کی ساختی تبدیلی کسی نہ کسی حد تک رونما ہو ناممکن ہے۔ گو کہ کوئلے، تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کم نہیں ہو رہی لیکن متبادل توانائی کے شعبہ میں 2018ء میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کےباوجود فی کس توانائی کا استعمال کم نہیں ہو رہا بڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا 2008ء سے آج تک سرمایہ کاری کی رفتار بھی کم ہوئی ہے، منجمد نہیں ہوئی۔ اور پیداواری شرح نمو بھی گری ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ فوسل فیولز شعبہ سے سرمایہ کی متبادل توانائی شعبہ کی طرف منتقلی ہے اور نہ کوئی پالیسی ساز سرمایہ کاری کی رفتار میں کمی کو معاشی نظاماتی استحکام کا ذریعہ گردانتا ہے۔ تمام سرمایہ دارانہ پالیسی ساز اس کو معاشی بحران کہتے ہیں اور سرمایہ کاری اور پیداواری شرح نمو کو بڑھانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ تمام پالیسی سازوں کا مقصد جمہور کی سطح زندگی میں مستقل اضافہ کی تلاش ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری ، منافع خوری اور سطح صَرف میں مستقل اضافہ حرص و ہوس کی پرورش اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تحکم استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور حرص و ہوس کا یہ عالمگیر پھیلاؤ ماحولیاتی ابتری اور نوع انسانی کی تباہی کا اصل سبب ہے۔ سرمایہ دارانہ پالیسی ساز ٹیکنالوجیکل اختراعات کو ماحولیاتی ابتری کی روک تھام کے لیے اس لیے فروغ دے رہے ہیں کیونکہ وہ حرص و ہوس کی عالمی حکمرانی کے استحکام کے خواہاں ہیں۔ سرمایہ دارانہ تحکم کے تناظر میں ماحولیاتی بحران کو شاید سست رفتار تو کیا جا سکتا ہے روکا نہیں جا سکتا۔

یہ ٹیکنالوجیکل اختراعات ابھی تک عموماً ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ مثلاً کئی امیر ممالک نے پچھلے تقریباً بیس سال سے وقتاً فوقتاً تیل، کوئلے اور گیس کا استعمال کرنے کے لیے کاربن کے اخراج پر محصولات نافذ کیے اور کاربن اخراجی حدود وضع کیں جو مارکیٹ میں بیچی خریدی جا سکتی تھیں عموماً ان ذرائع سے کاربن اخراج میں یہ تو بالکل کمی واضح نہ ہوئی یا بہت کم فرق پڑا (اس ضمن میں صرف جرمنی کا تجربہ کامیاب کہا جا سکتا ہے)۔

تیل، گیس اور کوئلے کی صنعت نہایت منافع بخش ہے اور اس صنعت کی سرکاری کارپوریشنیں بھی اتنی بڑی منافع خور ہیں جتنی نجی کمپنیاں ۔ لہٰذا تبدیلی ملکیت جس کا تجربہ کئی لاطینی امریکی ممالک میں کیا گیا ہے۔ اس سے بھی کاربن کے اخراج پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

پھر رفتار سرمایہ کاری میں انجماد کا سب سے زیادہ اثر ملازمتوں کی فراہمی پر پڑتا ہے۔ جو سرمایہ دارانہ معیشتیں ترقی نہیں کرتیں وہاں بیروزگاری عام ہو جاتی ہے ۔ 2020ء میں سرکاری تخمینوں کے مطابق امریکا میں بارہ فیصد لوگ بے روزگار تھے اور چھپی ہوئی بے روزگاری اس سے کہیں زیادہ رہتی تھی۔ جمہور معیار زندگی میں کسی تبدیلی کو برداشت نہیں کر سکتے لہٰذا جب بیروزگاری اور مخفی بیروزگاری بڑھتی ہے تو امیر سرمایہ دارانہ حکومتوں کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک بڑھ جاتے ہیں اور قرضہ جاتی بحران گہرے سے گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے ڈی گروتھ کے علم بردار دعویٰ کرتے ہیں کہ سرمایہ کاری میں کمی کا نتیجہ معیارِ زندگی میں کمی نہیں ہو گا۔ ٹم جیکسن کی مشہور کتاب کا نام ہے Prosperity Without Growth جو 2017ء میں شائع ہوئی۔

سرمایہ کاری کی رفتار نمو کی کمی کے باعث معاشی نامساویت بڑھتی ہے اور ڈی گروتھ تناظر میں اس سےسرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی مشکل ہونے کا امکان ہے ۔ ڈی گروتھ فلسفہ کے سرمایہ دارانہ ناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حرص اور ہوس کا فروغ تمام حریص اور حاسد جمہور خواہ وہ سرمایہ کار ہوں خواہ محنت کش یاکوئی اور ، کے لیے ضروری ہے۔ ڈی گروتھ ایجنڈا پر عمل کرنا سیاسی طور پر بالکل ناممکن ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ جمہور کی مرضی کے بالکل خلاف ہے۔

ماحولیاتی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اس بحران کو روکنے کے لیے امیر سرمایہ دارانہ ممالک میں پچھلے چند سال سے ایک سبز منصوبہ کی تجاویز دی جا رہی ہیں جو بنیادی طور پر ریاستی مراعات اور سرمایہ کاری کی فراہمی کے ذریعہ سرمایہ دارانہ بڑھوتری کو مستحکم بنانے کے منصوبے ہیں۔ ان منصوبوں کو سبز کینزین ازم بھی کہا گیا ہے۔ مستحکم بڑھوتری کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے وکیلوں مثلاً 2012ء میں قائم کی گئی Climate Justice Alliance جس کی تقریباً ستر شریک تنظیمیں ہیں، کے تمام مطالبات روایتی سوشل ڈیموکریٹ ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت امریکا میں بیس ملین ماحولیاتی ملازمتوں کی فراہمی کا وعدہ ہے۔ ان سب نوکریوں میں اونچی اجرتیں دی جائیں گی۔ معیار زندگی اور سطح صَرف میں کمی کا کوئی تصور ان تجاویز میں موجود نہیں۔ 2018ء میں امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی نے ایک سبز قرار داد منظور کی جس میں اسی نوعیت کے مطالبات تھے۔ ان مطالبات میں امریکی فوجی اخراجات میں کمی یا حرام خور نظاماتی کارفرمائی کی مداخلت کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔

ان منصوبوں کی شدید مخالفت ملٹی نیشنلز کر رہی ہیں اور ان پر عمل درآمد کا کوئی امکان (مثلاً جوبڈن کی صدارت کے دور میں) موجود نہیں۔ سبز اصلاحی پالیسیاں ماحولیاتی بحران کا سدباب کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ ان کا انحصار جن پالیسی ماڈیولز پر ہے وہ مارکیٹی حرکیات کی بنیاد پر کاربن وغیرہ کے اخراج کو سرمایہ کارانہ بڑھوتری کے مستحکم سطح سے ہم آہنگی کے مفروضوں پر قائم ہیں، ان کو integrated assessment models کہا جاتا ہے اور یہ مفروضات عموماً غیر حقیقت پسندانہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ماڈل سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کو مفروض کرتے ہیں، معاشرتی تبدیلیوں کو سرےسے نظر انداز کرتے ہوئے پورا بھروسہ ٹیکنالوجیکل اختراعات پر رکھتے ہیں اور رسد اور طلب میں تغیر کا اہم ترین سبب قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو گردانتے ہیں۔ یہ ماڈل ماحولیاتی ابتری کی رفتار اور اس کے معاشرتی اور معاشی اثرات کی تصویر کشی تو کرتی ہیں لیکن اس کی روک تھام کے ذریعہ کی نشان دہی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

ان ماڈلز کا انحصار بڑی حد تک بائیوانرجی اور اس کے کاربن اخراج کے قید کر کے جمع کرنے پر Bio Energy Carbon Capture and Storage (BCCS) پر ہے۔ اگر اس منصوبہ پر عمل درآمد کیا جائے تو بھارت کے رقبہ سے دگنی بڑی اراضی کو استعمال میں لانے کی ضرورت پڑے گی اور اتنے پانی کی ضرورت پڑے گی جو آج پوری دنیا کی زراعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

موسمی گرمی کو کم کرنے کی وہ تمام اسکیمیں جو BCCSکے mitigation models سے برآمد ہوئی ہیں مسلسل ناکام ثابت ہوتی جا رہی ہیں اور ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج مستقل بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ پالیسیاں ان نامساویانہ رجحانات کو کم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں جن کی بنا پر سرمایہ دارانہ نظام میں فوسل فیولز اور اس سے متعلقہ اشیا کی مانگ میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔ ماحولیاتی عدل کی جو عوامی تحریکیں امیر سرمایہ دارانہ ممالک میں برپا ہیں (مثلاً امریکا اور یورپی ممالک کی extraction rebellionتحریک) ان میں سے کوئی بھی مجموعی صَرفی مانگ کو کم کرنے کی کوئی تجویز پیش نہیں کرتی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ماحولیاتی عدل کا یہ تصور سرمایہ دارانہ عدل ہی کی ایک تشریح ہے اور سرمایہ دارانہ عدل آزادی کے فروغ کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور ایک آزاد فرد حرص ہو ہوس کا لازماً غلام ہوتا ہے۔ وہ بڑھوتری سرمایہ اور صَرف کے لامحدود اضافہ کیے جانے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ یہی آزادی کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ وہ ماحول کو تباہ کیے جاتے رہنے پر مجبور ہے کیونکہ یہی آزادی کا اظہار ہے آزادی کی پرستش کو ترک نہ کیا گیا تو ماحولیاتی تباہی ناگزیر ہے۔

قومی اور بین الاقوامی شماریات میں توانائی اور معاشی عمل کے جو تخمینے لگائے جاتے ہیں وہ صرف پرائمری توانائی (کوئلے، خام تیل) کے استعمال کو شمار کرتے۔ معاشی عمل کو جاری رکھنے کے لیے جو مجموعی (توانائی بجلی ، گیسولین وغیرہ ) استعمال ہوتی ہےاس کو شمار نہیں کرتے اور لازماً primary energy use/output کا ریشو energy use/ output سے کم ہوتا ہے۔ primary energy/output میں کمی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ energy use/ output کا ریشو بھی گر رہا ہے اور حقیقتاً یہ دوسرا ریشو دنیا میں کہیں بھی نہیں گر رہا۔

اس کے علاوہ نیو کلاسیکی معاشیات کا یہ مفروضہ کہ ہر قسم کی توانائی دوسری توانائی کے عوض استعمال کی جا سکتی ہے ۔ ایک ملکی نظام کی aggregate energy efficiency کو بڑھانا ایک نہایت مہنگا عمل ہے اور تحقیق نے ثابت کیا کہ چین تک کے لیے کم از کم فی الحال ناممکن ہے۔

سرمایہ دارانہ استعمال شدہ توانائی کا فضلہ مستقل فضا میں پھیلتا رہتا ہے۔ اس عمل کے نتیجہ میں بھی توانائی کے استعمال کی افادیت اور توانائی کے ذرائع میں substitutability کے امکان محدود ہوتے رہتے ہیں۔ تیل اور گیس کی مکمل substitutionمتبادل ذریعہ توانائی سے عالمی سطح پر بالکل ناممکن ہے۔ جیسا کہ شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کے ضمن میں عیاں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مکمل متبادل ذرائع توانائی کا استعمال ناممکن ہے اور اگر سرمایہ دارانہ بڑھوتری کا عمل تیز رفتاری سے جاری رہا تو ماحولیاتی ابتری لازماً بڑھتی جائے گی۔

2017ء سے 2019ء تک تیل ، گیس اور کوئلے وغیرہ کے کاربن کے اخراج میں مستقل اضافہ ہوتا رہا۔ یہ مفروضہ سرمایہ کارانہ عمل جاری رکھنے کے لیے قدرتی وسائل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، بالکل غلط ہے۔ 2012ء کی ایک تحقیق کے مطابق دس فیصد پیداواری اضافہ کے لیے 6 فیصد زاید قدرتی وسائل کا استعمال عمل میں آتا ہے۔ قدرتی وسائل کا استعمال کو کم کرنے کی تقریباً تمام اسکیمیں سرمایہ دارانہ جمہور کے معیار زندگی کو منفی طور پر متاثر کرتی ہیں لہٰذا عوام ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ ماحولیاتی ابتری کے جاری رہنے کا ایک بنیادی سبب سرمایہ دارانہ جمہوری عمل کی کارفرمائی ہے۔

آج دنیا میں ماحولیاتی ابتری کو روکنے کے لیے جو سب سے اہم طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ جیو انجینئرنگ کا طریقہ ہے۔ جیو انجینئرنگ فطرت کے خلاف جنگ ہے۔ جیو انجینئرنگ کے ذریعہ ماحول بالخصوص موسم پر سرمایہ کے تسلط کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔جیو انجینئرنگ کے سرپرستوں میں بل گیٹس، Richard Branson, Shell Corporation, Mobil, International Panel on Climae Change چین، امریکا اور یورپی حکومتیں سب شامل ہیں۔ جیوانجینئرنگ کی تحریک کی ابتدا سوویت جمہوری رہنما سٹالن نے 1940ء کی دہائی میں اپنے Great Transformation of Natureپروجیکٹ سے کر دی تھی۔ جیوانجینئرنگ کے دو مروجہ طریقے Solar Radiation Management (SRM) یعنی شمسی ریڈی ایشن کو کم کرنا اور Carbon Dioxide Removal (CDR) یعنی کاربن کے اخراجات کی منتقلی ہیں، Marine Cloud Brightening جس کے ذریعہ سمندروں پر چھائے ہوئے بادلوں کو سورج کی ریڈی ایشن جذب کرنے کے قابل بنا دینے کی کوشش کی جاتی ہے،یہ بھی ایک پرانی جیوانجینئرنگ تکنیک ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ماحولیاتی ابتری کی وجوہات کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کرتیں محض اس کی علامات کو ختم کرنے کی جستجو کرتی ہیں اور اس لحاظ سے بائیوانجینئرنگ اور سائنسی ایلوپیتھک میڈیسن کے منہاج ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ اور ان کےضمنی اثرات نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ثابت کیا گیا ہے کہ SDM کا استعمال وسیع پیمانے پر خشک سالی کا باعث بن سکتا ہے جس سے زراعت بری طرح مجروح ہو سکتی ہے۔ اس سے دنیا پر چھائی ہوئی اوزون کی چادر بھی مجروح ہو سکتی ہے۔ تیزابی بارش برسنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ SDM کا استعمال ایک مستقل عمل کے طور پر جاری رکھنا پڑے گا کیونکہ جب بھی اس کا اختتام کیا گیا عالمی درجہ حرارت فوراً دو سے تین سینٹی گریڈ بڑھ جائے گا۔ اس کو سائنس دان the termination effectکہتے ہیں۔

Marine Cloud Brightening کی ٹیکنالوجی بھی جنوبی امریکا میں وسیع خشک سالی کا باعث بنے گی اور سمندری تیزابیت کی روک تھام مشکل ہو جائے گی۔ مچھلیوں اور سمندری نسلوں کی معدومی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ CDRاسکیموں کو اپنانا تقریباً ناممکن ہے۔ ان کے نفاذ کے لیے اتنی اراضی کی ضرورت ہے جو پورے آسٹریلیا کے براعظم کے برابر ہے۔ CDR بالخصوص BCCS اسکیموں کی لاگت سینکڑوں کھرب ڈالر 2015ء میں estimate کی گئی۔ BCCS اسکیموں کی تنفیذکے نتیجہ میں اجناس کی پیداوار شدید کم ہو جائے گی اور لاکھوں چھوٹے کسانوں کو بے دخل کرنا پڑے گا۔ CDR اسکیموں کے بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے اتنا پانی درکار ہو گا جو آج مجموعی طور پر عالمی زراعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

غرض کہ جیوانجینئرنگ ایلوپیتھک میڈیسن کی طرح ماحولیاتی اسباب کے کچھ اسباب رفع کرنے کے لیے اس سے مہلک ماحولیاتی ابتری جنم دینے والے دوسرے اسباب کو پیدا کر رہی ہے۔ لیکن بائیوانجینئرنگ ٹیکنالوجیز تیزی سے اپنائی جا رہی ہیں کیونکہ یہ بڑھوتری سرمایہ کو جاری رکھنے اور جمہوری حرص وہوس کو فروغ دینےکا ایک ایسا ذریعہ ہیں جو سب کو اس غلط فہمی میں مبتلا رکھتا ہے کہ سرمایہ دارانہ تعقل(rationality) قدرت پر غالب آ سکتا ہے۔

قدرتی وسائل کے ذخیرے معدنی ، توانائی اور زرعی وسائل خالی ہو تے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس فنانشل اثاثوں کی شکل میں سرمایہ کے انبار لگ رہے ہیں کیونکہ نہ حرص و حسدکی کوئی حدہے نہ حرام خور ذرائع ارتکاز اور سرمایہ کی۔ جو دھاتیں اور معدنی خام مال متبادل توانائی پیدا کرنے کے لیے چاہئیں ان کے ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ رجحان سب سے عیاں چین میں ہے جہاں متبادل توانائی کی بڑھتی ہوئی صنعت پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہی ہے اور پانی کی قلت چین میں اجناس اور دیگر غذائی اشیا کی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی طرح متبادل توانائی بالخصوص شمسی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے لیے زمینی علاقے بھی محدود ہیں۔ چین کی OBOR پروجیکٹس روایتی توانائی (تیل اور گیس) کی پیداوار میں بے اندازہ اضافہ کا باعث رہے ہیں اور تیل اور گیس ملٹی نیشنلز کی عالمی سیاسی قوت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تیل ، گیس اور کوئلے کا استعمال سامراجی فوجی تنصیابت میں نہایت وافر ہے اور ان تنصیبات کی تحدید کے کوئی امکانات موجود نہیں۔

ماحولیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی سرمایہ دارانہ منصوبے روبہ عمل ہیں۔ سمندری پانی سے نمک خارج کرنے کے پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔ امیر ممالک میں تجرباتی بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔ اراضی پر سٹہ بازی فروغ پا رہی ہے۔ آگ اور سیلابوں سے متعلق انشورنس اسکیمیں پنپ رہی ہیں۔غرض ماحولیاتی بحران سرمایہ کی بڑھوتری کو کئی طریقوں سے مہمیز دے رہا ہے۔

متبادل توانائی کو فروغ دینے کے لیے جس خام مال کی ضرورت ہے اس کے حصول کے لیے سامراجی قوتوں میں رسہ کشی جاری ہے۔ امریکا اس کےحصول کے لیے عسکری اقدامات پر انحصار کررہا ہے اس کے برعکس چین خام مال کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر OBOR کے ذریعہ بین الاقوامی معاہدات کا سہارا لیے ہوئے ہے۔ معدنی خام مال کے اخراجی عمل میں توانائی کا استعمال بڑھتا جا رہاہے۔ یہ رجحان تانبے کے اخراج میں بہت واضح ہے۔ جیسے جیسے خام مال کی مانگ بڑھے گی ویسے ویسے اس اس کے اخراج میں صرف کی گئی توانائی میں بھی اضافہ بڑھتا رہے گا۔ شمسی اور فضائی ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ کے لیے پانی کے بہت بڑے پیمانے کے استعمال کی ضرورت ہے۔ آبی وسائل پر قبضہ کرنے کی سامراجی جدوجہد اسی لیے زور پکڑ رہی ہے۔ 2020ء میں چین شدید آبی قلت کا شکار ہوا۔ بھارت، پاکستان، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پانی کی قلت عام ہوتی جا رہی ہے۔ خام مال کے عالمی استعمال میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ متبادل توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال اور جیو انجینئرنگ کے منصوبے ماحولیاتی بحران کو کم نہیں کر رہے اس کو زیادہ پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ان کے اپنانے کے نتیجہ میں پانی اور غذائی قلت میں اضافہ ہونے، معدنی ذخائر کے خالی ہونے، بے روزگاری کے پھیلنے اور سمندری تیزابیت کے بڑھنے کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

سرمایہ داری دنیا میں جہنم قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے جیسا کہ Marya Piercyکہتی ہے:

This is how our world ended in lies and greed vast and numerous maggots dining on the corpse of hope.

7.5۔ اطلاعاتی اور مواصلاتی بحران

اکیسویں صدی میں سب سے اہم ٹیکنالوجیکل پیش رفت آئی ٹی کے شعبہ میں ہوئی ہے۔ ایک ایسے تناظر میں جب سرمایہ دارانہ معاشی نظام بے قابو اور سیاسی اور سماجی استحکام خطرہ میں بڑھتا جا رہا ہے۔ اس نظاماتی انتشار کی سب سے بڑی علامت وہ نامساویت ہے جو معاشرہ میں پھیلتی جا رہی ہے اور جس کی وجہ سے سرمایہ دارانہ عدل کا تصور تک کرنا آج ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

آج دنیا میں کمپیوٹیشنل منہج عام ہوتا جا رہا ہے اور یہ منہج فکر حقیقت کی ترجمانی سے قاصر ہے۔ یہ حقیقت کے فرضی چربہ اتارتی ہے جو حقائق کو مجروح کرتے ہیں اور حقیقت کے جو پہلو کمپیوٹیشنل فکر کے دائرہ کار سے ماورا ہیں ان کے بارے میں انسان کو سوچنے کے قابل نہیں رکھا گیا ہے۔ مثلاً خیر کی کوئی تعریف کمپیوٹیشنل منہج فکر سے برآمد نہیں ہوتی۔

کمپیوٹرز دنیا کو ناقابل تفہیم بناتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کمپیوٹر کی بنیاد پر قائم کی گئی مصنوعی تفکری نیٹ ورکس کی مکمل تفہیم کا حصول ممکن ہی نہیں اور مصنوعی تفکری آلات خودکارفرمائی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر کمپیوٹیشنل فعل مستقلاً بادلوں میں پیوست ہے اور بادلوں کی مرکبات کی تفہیم نہایت محدود ہے۔ آج یہ بادل بہت سی ریاستی اور معاشرتی اعمال اور فیصلوں کو چھپائے رکھتے ہیں۔ کارپوریشنوں کے اقدام، حرام خور اداروں کے اعمال ، حکومتوں کے فیصلے اور ان سب کی تفہیم مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

ناتفہیمیت /جہالت کا یہ فروغ دانستہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بادل سرمایہ دارانہ سامراج کا ایک ہتھیار ہیں۔ فیس بک اور گوگل سامراجی سرمایہ دارانہ آوارہ ہیں اورانہوں نے اپنی عالمی ایمپائر قائم رکھی ہوئی ہے۔ ان کے نظام اطلاعات عوام کی ای میلز، فون، ذاتی کوائف وغیرہ اپنے سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے دنیا کے دور دراز علاقوں میں جمع اور استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک، گوگل، ٹک ٹاک وغیرہ اپنی کارفرمائی کو عوام سے مخفی رکھتی ہیں۔ سرمایہ کار کمپنیوں کی ان اخفائی پالیسیوں کو قانونی تحفظ سرمایہ دارانہ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے مثلاً WIPO فراہم کرتے ہیں۔ اب سرمایہ دارانہ ترقی کے لیے ہمیں بادلوں کی حرکیات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے اور یہ کارفرمائی سرمایہ کی بڑھوتری کو لامتناہی بنانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ خواہ اس کے لئےکتنی بڑی ماحولیاتی اور معاشرتی قیمت دینی پڑے۔

کمپیوٹر کی دنیا سے حاصل کردہ اطلاعات کی بھرمار تفکر کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ اس اطلاعاتی سیلاب کو منظم کرنا تقریباً ناممکن ہے اور یہ حقیقت کی کسی مربوط تصویر کشی کرنے کے قابل نہیں۔ کمپیوٹر منہج فکر کا پیغام ہے کہ بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دیتے رہنا ناگزیر ہے خواہ اس جستجو میں دنیا دوزخ بنتی چلی جائے۔

آئی ٹی کا مقصد اعلیٰ جان وان نیومن نے اس کا ابتدائی دور میں یوں بیان کیا ”تمام مستحکم اعمال کی پیش گوئی اور تمام غیر مستحکم اعمال پر کنٹرول“([244])۔ آج انسان ایک ایسے کمپیوٹیشنل نظام کے ماتحت زندگی بسر کر رہا ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور سیٹلائٹس کے ذریعے خلا تک میں پیوست ہے۔ یہ کمپیوٹیشنل نظام اپنی مکمل شکل میں آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے ۔ اس عظیم مشین کی ایجاد دوسری جنگ عظیم کے دوران ہوئی اور یہ ہمیشہ سامراجی ہتھیار کے طور پر استعمال کی جا تی ہے۔ یہ کمپیوٹیشنل نظام مخفی اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ ایک سامراجی ہتھیار ہے۔

لیکن تاریخ سے ثابت ہے کہ کمپیوٹیشنل پیش گوئیاں عموماً غلط ثابت ہوتی ہیں۔ سٹہ بازاروں کے اتار چڑھاؤ سائنٹفک تجربات اورموسمی تبدیلیوں کے بارے میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹیشنل نظاماتی کارفرمائی کا عمل اصولاً ناقابل فہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ٹارگٹڈ ڈرون حملوں سے مجاہدین سے کہیں زیادہ عام شہری شہید ہوتے ہیں۔ کمپیوٹیشنل منہج تصوراتی اور حقیقی حالات میں تفریق نہیں کر پاتا۔

یہ مفروضہ غلط ہے کہ کمپیوٹیشنل منہج فکر کے اطلاق کے نتیجہ میں حقیقی دنیا واقعی نظرآتی ہے اور انسان زندگی کے مختلف شعبوں میں کائناتی اور معاشرتی قوتوں کو اپنے ارادہ کے تابع کرنے کا اہل ہوتا جاتا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ کمپیوٹیشنل منہج کے اطلاق سے دنیا غیر واضح اور گنجلک نظرآنے لگتی ہے۔ کمپیوٹیشنل قوت میں اضافہ ارتکاز سرمایہ کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ کمپیوٹیشنل منہج کے اطلاق کے ذریعہ سرمایہ دارانہ تحکم کو فروغ دیا جا رہا ہے اور وہ زندگی کے ہر مسئلہ کو بڑھوتری سرمایہ پر تولتی ہے اور چونکہ سرمایہ کی پرستش کائنات اور معاشرت کو تباہ کرتی جا رہی ہے لہٰذا کمپیوٹیشنل منہج کا اطلاق کائنات اور معاشرت کی تفہیم میں لازماً ناکام ہورہا ہے۔ کمپیوٹرائزیشن کا پھیلاؤ دنیا اور معاشرت کی مصنوعی غیر حقیقی تصویر کشی کر کے سرمایہ دارانہ تغلب کو مستحکم کر رہی ہے۔

کمپیوٹرائزیشن کا نہایت وسیع استعمال عالمی تخریب کاری اور مخبری کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جی پی ایس جو سامراجی حکومتوں اور سرمایہ دارانہ اداروں کے کنٹرول میں ہے امریکی حکومت کے لیے ممکن بناتا ہے کہ وہ عالمی سگنلنگ کے پورے نظام کو اپنے زیر تسلط لے آئے۔ یہ مخبری کا نظام پوری معاشرتی زندگی پر محیط ہو گیا ہے۔ معاشرتی دنیا ایک کوڈ اسپیس میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہے ۔ ایسے میں آزادی کا حصول عملاً تو کیا اصولاً بھی ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ پر الگورتھمک منطق محیط ہوتی جا رہی ہے۔

کمپیوٹیشن سرمایہ دارانہ قوت کے معاشرتی پھیلاؤ کا سبب ہے۔ کمپیوٹیشنل ثقافت کی سب سے بڑی نشانی فحاشی کا عالم گیر پھیلاؤ ہے۔ سرمایہ داری حرص و ہوس کے تغلب کا دوسرا نام ہے اور حرص و ہوس کے پھیلاؤ کا سب سے اہم طریقہ پورنوگرافی ہے جس کو آئی ٹی کی صنعت نے بام عروج تک پہنچا دیا ہے۔ یہ گھناؤنا کاروبار اب گھر گھر میں پھیلایا جا رہا ہے۔

آئی ٹی کمپنیاں جہاں ہاتھ ڈالتی ہیں وہاں اپنا پورا تسلط قائم کر لیتی ہیں۔ گوگل آج جاہلی علمیاتی نظام کا اجارہ دار ہے ۔فیس بک معاشرتی تعلقات کی ترکیبی اجارہ داری کا حامل ہے۔ یہ اجارہ داریاں ایسے کمپیوٹیشنل عمل کے ذریعہ قائم کی گئی ہیں جو خود کار ہے اور جس کو جمہوری غیر اقداری اور غیر سائنسی تصور کروایاجاتا ہے۔ کمپیوٹیشنل عمل پر سرمایہ کا بادل چھایا ہوا ہے۔ جمہوری کمپیوٹرائزڈ نظام کو تو دیکھ ہم نہیں سکتے لیکن ہم اس کی کارفرمائی پر ایمان لانے پر مجبور ہیں۔ اسی عمل کو خود تخلیقیت کہتے ہیں۔ کمپیوٹیشنل ایمانیات سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مسخ کر دیتی ہے۔ آٹومیٹڈ نظاموں سے حاصل کی گئی اطلاعات اکثر ہوائی حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ کمپیوٹیشنل منہج پر ایمان انسانی فکر کو مسخ کر رہا ہے۔ انسان مشینوں کی طرح سوچنے لگا ہے۔

کمپیوٹر ماڈل مستقبل کی تصویر کشی میں اس لیے ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کی جمع کردہ ڈیٹا ماضی سے اخذ کیا جاتا ہے اور یہ اطلاعات عموماً عددی ہوتی ہیں۔ جن رجحانات کے بارے میں عددی اطلاعات نہیں ملتیں اور جو غیر یقینیاں ماضی کے حالات میں موجود ہوتی ہیں اور جو اطلاعات ماڈل کی ہیئت سے مطابقت نہیں رکھتیں ان کو ماڈل نظرانداز کر کے ماضی کی اطلاعات کو مستقبل میں پروجیکٹ کرتا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ اطلاعات میں ساختی تعلقات مستقبل میں ماضی کے مطابق رہیں گے۔ یہ ایک بالکل غیر حقیقت پسندانہ مفروضہ ہے چونکہ مستقبل ماضی نہیں ہوتا وہ غیر یقینی بھی ہوتا ہے اور اس میں عددی مرکبات کی ساخت بھی بدلتی رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر ماڈل کی بنیاد پر نہ 2008ء کا معاشی بحران predict کیا جا سکا نہ 2020ء کا نہ ماحولیاتی بحران کے واقعات (سیلابوں، خشک سالی، سمندری تیزابیت) کی آمد کی نشان دہی کی جا سکی۔ کمپیوٹر ماڈلنگ کا یہ مفروضہ کہ ہر مسئلہ کاایک ہی حل ہے جو مشینی عقلیت کے ذریعہ ہی دریافت کیا جا سکتا ہے بالکل غلط ثابت ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حقیقت وہ نہیں جس کا کمپیوٹرائزیشن ادراک حاصل کر سکے۔

انٹرنیٹ کی طرح پورا سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا نیٹ ورکس کا نیٹ ورک ہے جو نہایت غیر مستحکم تقسیم در تقسیم ذمہ داریوں اور جواب دہیوں کی آماجگاہ اور غیر محفوظ ہے۔ کمپیوٹرائزیشن نے نظاماتی عدم تحفظ اور عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔ اور آئی سی ٹی نظام کی کارفرمائی مستقبل میں بڑھتی ہوئی گرمی کو متاثرکرنے کا ایک سبب ہے۔ آئی ٹی نظام کی کارفرمائی پوری سرمایہ دارانہ معیشت اور نظام اقتدار کو متاثر کررہی ہے کیونکہ آج بڑھوتری سرمایہ کے عمل کا انحصار کمپیوٹرائزیشن پر بہت بڑھ گیا ہے۔

کمپیوٹرائزڈ نظام بے اندازہ گرمی کے اخراج کا باعث بنتا ہے اور اس نظام کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشننگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ آئی ٹی تنصیبات اراضی کا ایک بڑا حصہ زیر تسلط لا رہی ہیں۔ بالائے زمین بھی زیر زمین بھی اور یہ سب مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے ماحولیاتی کثافت کے نتیجہ میں سطح سمندر اونچی ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے آئی ٹی کی زیر زمین تنصیبات خطرہ میں پڑتی جا رہی ہیں۔ وائی فائی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ آئی سی ٹی صنعت ماحولیاتی گرمی میں اتنا اضافہ کر رہی ہے جتنا عالمی ہوا باز صنعت۔ اگلے دس سالوں میں آئی ٹی صنعت کا عالمی گرمی کا اخراج تین گنا بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی مزید ماحولیاتی خطرات پیدا کر رہی ہے۔ کیونکہ اس کےارتقا کے لئے زیادہ توانائی والے معدنی وسائل کااستعمال لازم ہے۔ پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مستقبل کی جو تصویر دکھا رہی ہے وہ بالکل غیر حقیقی ہے اور بار بار عملی تجربات یہ ثابت کرتے آئے ہیں۔ آئی ٹی جہالت، توہمات اور گمانوں کو پھیلا کر جہالت کو عام کر رہی ہے۔ سرمایہ داری اب اپنے تاریک دور میں داخل ہو رہی ہے۔ آئی ٹی صنعت اور ماحولیاتی ابتری انسانی ذہنی صلاحیت کو مفلوج کر رہی ہیں([245])۔ 2008ء کے ایک جریدہ (WIRED ) کے مضمون میں Chris Andreas نے دعویٰ کیا کہ اطلاعات کا جو انبار آج جمع ہوتا جا رہا ہے اس کے استعمال کے نتیجہ میں سائنٹفک منہج ناکارہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماڈلز کو مفروضہ حقائق بتانے کی ضرورت باقی نہیں رہی بلکہ ڈیٹا کو کمپیوٹر نظاموں سے گزار کر حقیقت کی صحیح تصویر برآمد کرتے رہیں گے۔ سوچنے سمجھنے، نظریات ترتیب دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس سب کا متبادل کمپیوٹیشنل کیلکولیشن ہے۔ سائنسی تجربیت اور تفکر فرسودہ ثابت ہو گیا ہے اور بگ ڈیٹا پر بڑھتا ہوا انحصار سائنسی جاہلیت کا اظہار ہے اور جہالت کا یہ اقرار بِگ ڈیٹا کی کارستانیوں تک محدود نہیں ۔ de Solla Price کے مطابق آج سائنسی منہج عمل تسخیر سے گزر رہا ہے اور سائنس بِگ ڈیٹا سے معنی اخذ کرنے کے قابل نہیں رہی۔ سرمایہ داریdata overflow یعنی اطلاعات کی بھرمار کا شکار ہے۔

یہ بات ادویاتی صنعت کے اس رجحان سے ثابت ہے کہ بڑھتے ہوئے سرمایہ کاری کے باوجود نئی ادویات کی ایجاد بہت کم ہو رہی ہے۔ نئی ادویاتی تحقیق آٹومیٹڈ ہو گئی ہے اور یہ اس کی نتیجہ خیزی میں کمی کی اہم وجہ ہے۔ اس کا بنیادی سبب انسٹرومنٹیشن پر بڑھتا ہوا انحصار اور نئی اختراعات کے محدود مواقع فراہم کرنا ہے۔

کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی کا استعمال بے مقصد نہیں۔ اس کا مقصد بڑھوتری سرمایہ ہے۔ کمپیوٹیشنل منہج فکر کو اپنا کر فرد اسی مقصد کو قبول کرتا ہے ۔ چونکہ کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی بڑھوتری سرمایہ کے تمام پہلوؤں کو خاطر میں لانے سے قاصر ہے ۔ بالخصوص وہ پہلو جو عددی تخمینہ کے دائرہ میں نہیں آتے مثلاً سرمایہ دارانہ عدل کی تنفیذ۔ اور چونکہ وہ بڑھوتری سرمایہ کا واحد ”صحیح“ طریقہ کار متعین نہیں کر سکتی لہٰذاجو سوچ وہ پیدا کرتی ہے وہ دو معنوں میں ناقص ہوتی ہے۔ اس سوچ کی بنیاد پر نہ سرمایہ دارانہ عدل قائم کیا جا سکتا ہے نہ سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نجات پائی جا سکتی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ سوچ حقیقت میں صحیح تصویر کشی کرنے سے قاصر رہتی ہے۔

جیسا کہ کافر فلسفی Guy Debordکے مطابق سرمایہ داری نے زندگی کو ایک تماشا بنا دیا ہے اور آئی ٹی بنیادی طور پر تماشا سازی کی صنعت ہے۔ تماشوں نے حقیقت کو ایسے ڈھانپ لیا ہے کہ حقیقت تک رسائی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ فرد تماشوں میں کھو گیا ہے اور اپنے عمل اور فکر پر اس کا اختیار ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سب فرضی دنیا کے اسیر ہو کر حقیقی دنیا سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ریاست اب فکر کی مستقل مخبرانہ نگرانی کر رہی ہے۔ مخبری کا یہ نظام جو زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے آنکھوں سے اوجھل رکھا گیا ہے۔

ڈیٹا سنٹرز کا ملک گیر پھیلاؤ جمہور کی زندگی پر سرمایہ (حرص و ہوس) کو مسلط کرنے کا آلہ کار ہے۔ حرام خور مارکیٹوں کے بدلتے ہوئے رجحانات کی اطلاعات اب دنیا میں برق رفتاری سے پھیلتی ہیں۔ اس برق رفتار ترسیل اطلاعات پر قبضہ ان ماہرین کا ہے جو ایسے خفیہ ایلگورتھم وضع کرتے ہیں جو اس ترسیل اطلاعات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس سے جمہور کے لیے سٹہ مارکیٹوں کی کارفرمائی ناقابل فہم بھی ہوتی جا رہی ہے اور ارتکاز سرمایہ میں تیز رفتار ترقی بھی ممکن ہوتی جا رہی ہے۔ ہر بڑے سٹہ مارکیٹ میں کئی اندھیرے کنویں موجود ہیں جو جمہور کی دسترس سے باہر ہیں۔ ان اندھیرے کنووں میں عوام کی بچتوں کے سودے ان کی مرضی کے بغیر ہوتے رہتے ہیں اور ماہر سٹہ باز جمہور کی زندگیوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ سٹہ مارکیٹوں کی کارفرمائی سے ارتکاز سرمایہ بے تحاشا بڑھ رہا ہے اور جمہور اس پورے عمل سے بالکل لاعلم ہوتے جا رہے ہیں۔ آئی ٹی کی عملیت سرمایہ دارانہ نامساویت کو بڑھانے میں اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی بدولت آج سرمایہ دارانہ عدل کا حصول ناممکن ہو گیا ہے۔ خود تخلیقیت اور مصنوعی ذہانت سرمایہ دارانہ معاشروں میں بے روزگاری کو فروغ دے رہے ہیں۔ صرف وہی بے روزگار نہیں ہو رہے جو آئی ٹی سے بے بہرہ ہیں وہ بھی بے روزگار ہیں جو آئی ٹی صنعت سے وابستہ ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت اب سافٹ ویئر کو خود تخلیق کرنے کی اہلیت حاصل کر رہی ہے۔ جیسے جیسے خود تخلیقیت (آٹو میشن) معاشی نظام میں پیوست ہو رہی ہے ویسے ویسے انسانی محنت کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔ روبوٹ مزدوروں کی جگہ لے رہے ہیں۔ بلکہ آئی ٹی زدہ مشینوں کا تسلط سرمایہ دارانہ کارکردگی پر اتنا گہرا ہے کہ انسان روبوٹ بنتے جا رہے ہیں۔ محنت کش مشینوں کے احکام بجا لا رہے ہیں۔ ان کو پیداواری عمل کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ مشین کے بندے ہیں۔

ایسے جمہور کو آزاد اور خود مختار سمجھنا جو آئی ٹی کا غلام ہو کیا معنی رکھتا ہے؟ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روبوٹی کارکن اپنا نظم کارکردگی متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا جا سکتا ہے۔ روبوٹوں کی یونین نہیں بنائی جا سکتی۔

آئی ٹی نے سرمایہ دارانہ دنیا کو دھندلا دیا ہے وہ فیصلے جو جمہور کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں یا تو مشینیں کرتی ہیں یا وہ چند ماہرین جو اس جہالت کے واقف کار اور بڑھوتری سرمایہ کے آلہ کار ہیں۔ ان فیصلوں کے اطلاق سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی ابتری بڑھی ہے۔ سامراجی عزائم حاصل کرنے کے لیے لاکھوں افراد کو قتل کیا جاتا رہتا ہے اور معاشرہ بھی تتر بتر ہوتا رہتا ہے۔ جمہور جانے بغیر آئی ٹی صنعت کے مظالم کا شکار ہیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ مشینی تحکم کے اس دور میں یہ کہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ اس جمہوری مظلومیت کو فروغ دینے والی اصلی قوت کون سی ہے۔ اس دھندلائی ہوئی سرمایہ داری کا بادل ڈھکی چھپی کیلکولیشن کے ذریعہ جمہور پر چھایا رہتا ہے۔ چونکہ یہ کیلکولیشن مخفی اور مبہم ہیں لہٰذا ان کا معاشرتی اثر خوف اور بے یقینی کے پھیلاؤ کی شکل میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔

آئی ٹی کی کارفرمائی کے ذریعہ جو دنیا تعمیر کی جا رہی ہے وہاں معاشی نامساویت اپنے عروج پر ہے۔ عالمی سطح پر مارکیٹی اور ریاستی مخبری کا نظام پھیل رہا ہے۔ قومی ریاستی نظام انتشار کا شکار ہیں۔ ارتکازی اجارہ داریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ماحولیاتی ابتری فروغ پا رہی ہے۔ اور سرمایہ دارانہ پالیسی ساز ریاست میں بھی اور مارکیٹ میں بھی اس ٹیکنالوجیکل ارتقا کو مہمیز دیتے جا رہے ہیں۔ یہ عمل ناقابل فہم ہے کیونکہ سرمایہ کی بڑھوتری کی جستجو (حرص اور ہوس کے لامتناہی فروغ) کی کوئی عقلی توجیہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ یہ جاہلیت خالصہ کا مظہر ہے اور آج ہم ابوجہل کے راج کے دور میں رہ رہے ہیں۔

جہالت کا یہ مظہر سب سے واضح طور پرمصنوعی ذہانت کے ضمن میں عیاں ہے۔ کوئی نہیں جانتا مشینیں کیسے سوچتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت جس ماڈل پر انحصار کرتی ہیں جس کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ نظام قدرت کی کارفرمائی تک انسانی ذہنی رجحانات کو نظرانداز کر کے ہی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی مفروضہ کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر مستقبل کی پیش گوئی کرتا ہے ۔ لیکن یہ مفروضہ کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی کارفرمائی کے نتائج پالیسی سازوں کی اقداری ترجیحات کو منعکس نہیں کرتیں، بالکل لغو اور بے معنی ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی لازماً ایک مخصوص نظم اقدار اور خواہشات کی غماز ہوتی ہے مثلاً دہشت گردی ایک سامراجی تصور ہے اور اس عمل کے ادراک کی جو تشریحات مصنوعی ذہانت مشینیں مرتب کرتی ہیں وہ اسی اقداری تصور کی غماز ہوتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت والی مشینوں میں جو ڈیٹا داخل کیا جاتا ہے وہ ان رجحانات کا عکاس ہے جو سرمایہ دارانہ معاشروں میں عام ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے Trever Pagdin نے امریکی مصنوعی ذہانت تشبیہات کو نسل پرست قرار دیا ہے اور امریکی پولیس میں نسل پرست رجحانات کے اضافہ کا ایک سبب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال بیان کیا ہے۔

مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی حقیقت کی جو تصویر کشی کرتی ہے وہ اتنی گنجلک ہے کہ صرف مشینیں ہی اس کی منطق کو سمجھ سکنے کے قابل ہوتی ہیں۔ انسانی ذہن ان کروڑوں اربوں تعلقاتی نظاموں کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے جس کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کے فیصلے برآمد ہوتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت واقعات کے ایسے معنی اخذ کرتی ہے جو اصولاً ناقابل توجیہ ہوتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں جانتا کہ ایک مصنوعی ذہانت والی مشین فیصلہ کیسے کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت دنیا کو فرضی تشبیہات سے بھر کر جہالت کو عام کر رہی ہے۔ وہ ایسے واقعات کی تصویر کشی کر رہی ہے جو کبھی رونما نہیں ہوئے۔ مصنوعی ذہانت خود مصنوعی ہے اور وہ ایک مصنوعی ناقابل تصور مستقبل کی تصویر کشی کرتی رہتی ہے جو جہالت کے بادل میں چھپا ہوا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مشینیں اپنے راز انسانیت پر عیاں نہیں کرتیں۔

کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی حقائق کو اتنا مسخ کردیتی ہے کہ جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا”سچے جھوٹوں” سے بھرگئی ہے۔ معاشرتی اعتماد اسی لیے مجروح ہو رہا ہے کہ حقائق کی جھوٹی تشریح بڑھوتری سرمایہ کو جاری رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے اور سامراجی تغلب کو برقرار رکھنے کے لیے ۔ امریکی سی آئی اے بہت بڑے پیمانہ پر آئی ٹی صنعت میں سرمایہ کاری کر رہی ہے اور یہ اس کی معاشرتی مخبری کو وسعت دینے کے لیے لازمی ہے۔ پوری دنیا میں خفیہ ایجنسیوں کا اقتدار اور دائرہ عمل آئی ٹی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ذریعہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ ایجنسیاں اپنی کارروائیوں کی پردہ پوشی کے لیے دنیا کو تاریک سے تاریک تر بنائے جا رہی ہیں ۔ ہر سرمایہ دارانہ جمہوری حکومتی نظام خفیہ گیری کا مرکز بن گیا ہے۔ مثلاً امریکا چار بلین سے زیادہ صفحات کو اپنے خفیہ ذخائر میں 2016ء تک محفوظ کیے ہوئے تھا۔ ٹرمپ سی آئی اے اور ایف بی آئی سے کینیڈی کے قتل کے متعلق دستاویز حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکا اور یورپ کے مخبری کا نظام کو کارفرما رکھنے میں حکومت ، کارپوریشن ، آئی ٹی کمپنیاں سب شامل ہیں۔وہ کئی سو ملین شہریوں کے کوائف مستقل جمع کرتا رہتا ہے۔ اور یہ نظام پورے سامراجی نظام پر بھی محیط ہے۔ 19 سامراجی حکومتیں امریکا ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، ڈنمارک، ولندیز، فرانس، ناروے، جرمنی، بیلجئم ، اٹلی، ہسپانیہ او رسویڈن عالمی مخبری کے اس نظام کو مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں۔ اس نظاماتی کارفرمائی کی ایک نا مکمل تصویر Edward Snowden نے اپنے انکشافات میں پیش کی ہے۔ یہ مخبری کا نظام امریکی جنگ دہشت گردی کو منظم کرنے اور جاری رکھنے کا اہم ترین ہتھیار ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہور اس مخبری نظام کے حامی ہیں و ہ اس کو اپنے مفادات کے فروغ کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔

کمپیوٹیشنل علمیت مخبری کی محتاج ہے وہ علم جو ڈیٹا کی شکل اختیار نہیں کرتا کمپیوٹیشن کے دائرہ کار سے خارج ہے اور کمپیوٹیشن کے پھیلاؤ کا مطلب ہے ڈیٹا کا تجزیوں تک محدود ہو جانا اور تمام علم مخبری کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہر سرمایہ دار مخبر بنتا جا رہا ہے اور مخبری اور تخریب کاری معاشرتی زندگی روشن اندھیرے (enlightened dark age) کی آماجگاہ بنتی جارہی ہے۔ اس روشن اندھیرے میں ہر شے منور ہے لیکن کچھ نظر نہیں آتا۔ انسان بے بس اور لاچار ہے۔ سرمایہ کا تحکم کمپیوٹر کے توسط سے ہر چیز کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ یہی آزادی ہے۔

اس روشن اندھیر نگری میں مایوسی، ناکامی کااحساس اور لاچاریت عام ہے لیکن سرمایہ دارانہ انفرادیت اس آزادی کے خلاف بغاوت نہیں کرتی کیوں کہ یہی حرص و ہوس کی پرورش کا طریقہ ہے۔ جیسے جیسے مخبری اور بے اعتمادی بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے یہ راج مستحکم ہوتا جاتا ہے۔

مخبری کے پھیلاؤ کا ایک مظہر اس احساس کا عام ہونا ہے کہ سب سازشوں کا شکار ہیں۔ اس چیز کو پیرانویا کہتے ہیں۔ دنیا ناقابل فہم بنا دی گئی ہے لہٰذا سازشوں پر ایمان لانا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ ہر شخص سمجھتا ہے کہ کوئی اس کو خفیہ طور پر دیکھ رہا ہے اور واقعتاً ایسا ہی ہے لیکن اندھیری نگری میں دیکھنے والوں کا تعین کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ دیکھنے والوں کو بھی دیکھا جا رہا ہے اور کوئی کسی کو جواب دہ نہیں۔ دور حاضر کا جمہوری عمل یہی ہے۔

عام مسلمان سمجھنے لگے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہودیوں کی سازش ہے۔ اس مفروضہ کو نہ ثابت کیا جا سکتا ہے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے کیونکہ کون سے یہودی کیسے سب کچھ کر رہے ہیں اس کا تعین کرناناممکن ہے۔ ہر فرد یہودی سازش کی مختلف النوع تعبیریں پیش کرتا ہے اور ان کی تصدیق کاکوئی پیمانہ موجود نہیں۔ ایک عام آدمی ہر چیز پر یقین لا سکتا ہے کیونکہ اصل حقیقت کمپیوٹیشنل بادل نے ڈھانپ رکھی ہے۔

نظریہ سازش حقیقت کا اظہار نہیں کرتی لیکن قوت کی نظاماتی ترتیب اور ارتکاز کو عیاں کرتی ہے۔ یہودی عالمی سازش کے طریقہ کار اور مقصد کا تعین سازشی نظریہ کے ذریعہ نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسرائیل سامراج کا ہراول دستہ ہے اور حرام خور مارکیٹوں اور عالمی میڈیا پر چند یہودی نژاد چھائے ہوئے ہیں۔ میرا گمان یہ ہے کہ یہ یہودی نژاد رہنما اور حرام خور یہودیت کے غدار ہیں اور ان میں اورعام سرمایہ داروں میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن میں یہ بات ثابت نہیں کر سکتا نہ یہودی سازش پر ایمان لانے والے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہودی نژاد رہنما اور حرام خور اصلاً یہودی ہیں اصلاً سرمایہ دار نہیں۔

سازشی نظریہ امریکی خارجہ پالیسی کی اہم بنیاد ہے۔ سب سے پہلے امریکا کے قدیم باشندے پھرسیاہ فام پھرنسل تارکین وطن پھر کمیونسٹ پھر مسلمان اور آج کل چینی اور روسیوں کے بھیانک ترین خاکہ امریکی حکومت اور میڈیا مستقل مرتب کرتا آ رہا ہے۔ امریکی سازشی نظریہ امریکی چار سو سال سے جاری دہشت گردی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ فریڈرک جیمسن کے مطابق نظریہ سازش سرمایہ دارانہ نظام کی کلی تفہیم کی ایک ناکام کوشش ہے ۔ نظریہ سازش سرمایہ دارانہ نظاماتی نافہیمیت پر پردہ ڈالنے کے لیے دیومالائی افسانے گھڑنے کا دوسرا نام ہے۔

معاشرہ میں سازشی نظریہ کا پھیلاؤ حرص اور ہوس اور شہوت اور غضب کی عمومیت کا غماز ہے۔ سازشی نظریہ پر ایمان لانے والا فرد اپنے دشمن کا حاسد ہوتا ہے۔ وہ اس کے خلاف متبادل سازش برپا کر کے اس سے قوت چھین لینے کی جستجو کرتا ہے۔ دشمن کو ایسا غیر تصور کیا جاتا ہے جس کو کبھی اپنایا نہیں جا سکتا۔ حسد اور غضب کے یہ جذبات سازشی مومنین کے روحانی اور اخلاقی ترفع کو کچل دیتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرت حرص ، حسد، شہوت اور غضب کو مستقل مہمیز دیتی رہتی ہے۔ اور اس گھناؤنی فضا میں نظریہ سازش کا عام ہونا لازمی ہے۔ انٹرنیٹ مواصلت کے ذریعے مختلف توہمات پر ایمان لانے والے ایک دوسرے کے عقائد کو تقویت پہنچاتے رہتے ہیں۔

سرمایہ داری میں ہر چیز دھندلا گئی ہے۔ جنگ جو مستقل جاری ہے اسی دھند میں مخفی ہے۔ اس خفیہ جنگ کے طور طریقے سائبر حملے ، پروپیگنڈا، پابندیاں(sanctions) اور سیاسی تخریب کاری ہیں جو ہر سرمایہ دارانہ قوت ہر وقت جاری رکھتی ہے۔ اس کی منصوبہ بندی مستقل سامراج کر رہا ہے اور اس نے ہر ملک اور ہر سرمایہ دار کو دوسرے کا متوقع دشمن بنا دیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کس پر کس وقت کون حملہ آور ہو جائے اور کیسے سب سرمایہ دار روشن اندھیرے کے مکین ہیں۔ اس روشن اندھیرے کو بڑی حد تک آئی ٹی نے پیدا کیا ہے۔

اس روشن اندھیرے کا ایک غالب اظہارنظریہ سازش ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارنہ کلیت کی تفہیم کی (ناکام) کوشش ہے اور ایسی کوئی دوسری کوشش مرتب نہیں کی جا رہی۔

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی دو اور تین سال کی عمر کے بچوں کی تربیت کا ذریعہ بن گیا ہے۔ چلڈرن یوٹیوب بچوں کو بے معنی نشریات سے کئی کئی گھنٹوں تک مقید رکھ رہا ہے۔ یہ نشریات تفریحی اور تعلیمی مواد کو ضرر رساں مواد سے ملا کر پیش کرتی ہیں اور بچوں میں عریانی اور جنسی بیداری کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ مثلاً rape themed شاٹس دکھائی جا رہی ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تین سال کی عمر کی بچیاں عمل تناسل میں اپنی دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔

بہت سا فحش اور ضرر رساں مواد الگورتھمز کا امتزاج خود بہ خود وضع کرتا رہتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے نامعلوم ادارے ان فحشیات کو بچوں میں پھیلاتے رہے ہیں بچوں سے جنسی زیادتی کی عالمگیر صنعت انٹرنیٹ ہی سے ترقی پا رہی ہے اور اس کے فراہم کرنے والوں کا پتہ لگانا نہایت دشوار ہے۔ آج کل امریکا میں Q-Anon یہ رائے پھیلا رہا ہے کہ ٹرمپ کے مخالف عالمی pedophilia ہیں اور اس رائے کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کا کوئی امکان موجود نہیں۔

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی بچوں میں صنفی اور متشددانہ جذبات کے اظہار کا اہم ذریعہ ہے۔ بچوں کے اس استحصال سے سرمایہ دارانہ انٹرنیٹ کمپنیاں اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔ گوگل اور یوٹیوب بچوں کو ضرر رساں مواد سے تحفظ کے جو انتظامات کر رہی ہیں وہ بیش تر بے اثر ہیں کیونکہ اول تو ضرر رساں کا ان کا تصور ہی ناقص ہے۔ اس تصورمیں جنسی اطلاعات کو عام کرنا شامل نہیں۔ اور دوسرے کوئی ایسے اقدام کرنا ممکن ہی نہیں جن سے الگورتھم کی خود تخلیقیت اور فحش فروش کمپنیوں کا گوگل وغیرہ سے ناجائز اور جائز فائدہ اٹھانے کا سدباب کیا جا سکے۔ اس کے لیے پورے انٹرنیٹ نظام کو یکسر معطل کرنا پڑے گا۔ آج کی ابہامی بادل کی چھاؤں میں روشن تاریکی کی معاشرت ، معیشت اور سیاسی نظام میں یہ ممکن نہیں۔

آج پروپیگنڈا کی دسترس میں سب عوام ہیں اور وہ چیز جسے فیک نیوز کہتے ہیں ہر شخص انٹرنیٹ کے ذریعہ پھیلا سکتا ہے۔ فیک نیوز کے پھیلاؤ کا مقصد حسد کو فروغ دینا اور معاشرتی اور سیاسی ابہام کو بڑھانا ہے۔ ایک نفسیاتی جنگ جاری ہے اور اس نفسیاتی جنگ میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر شخص شریک ہو سکتا ہے۔ آج جمہوریت کے نئے معنی یہ ہیں کہ ہر انتخاب لازماً rigged ہوتا ہے اور مختلف سیاسی سماجی اور اقتصادی گروہ اس کے نتائج مرتب کرنے میں مستقل تخریب کاری جاری رکھیں گے ۔ جمہوریھی ابہامی بادل کے زیر سایہ آ گئی ہے اور اس کے چلانے والوں کی نشان دہی نہیں کی جا سکتی۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ یہ چلانے والے کون ہیں اور کیوں کیا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی کارفرمائی نہایت موثر ہے۔

ٹیکنالوجی بشمول آئی ٹی غیر اقداری نہیں وہ سرمایہ دارانہ اقداری نظام کی غماز ہے۔ آئی ٹی ٹیکنالوجی ظلم، دہشت گردی، عیاشی اور فحاشی کو اس لیے فروغ دیتی ہے کہ انہی اوصاف خبیثہ کا فروغ سرمایہ دارانہ تحکم کے استحکام کا ذریعہ ہے۔ یہ بات اس امر سے واضح ہے کہ سرمایہ دارانہ کمپنیاں، سرمایہ دارانہ ریاستیں، سرمایہ دارانہ بین الاقوامی ادارے سب اس ٹیکنالوجی کو پھیلا رہے ہیں۔ آئی ٹی سامراجی سرمایہ داری کا جدید ہتھیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دوسری جنگ عظیم کے بعد نوآبادیاتی نظام تحلیل ہوا تو سامراجی قوتوں نے ان علاقوں پرoff shore sites کےذریعہ قبضہ جمائے رکھا جہاں سے فائبر آپٹک تنصیبات عالمی ترسیل سرمایہ کو ممکن بناتے ہیں۔ عالمی مواصلاتی نظام پر سامراجی تسلط جتنا مستحکم آج ہے پہلے کبھی نہ تھا۔

اطلاعات علم نہیں۔ اطلاعات اصولاً لامحدود ہیں (سرمایہ کی طرح) لیکن ان کی بہتات علمیت کو ڈھانپ لیتی ہے ۔ ڈیٹا سماجی، اخلاقی اور روحانی تنزل کی پردہ پوشی کرتا ہے اور ان کے اسباب سمجھنے سے قاصر ہے۔ مخبری کا نظام عالمگیر ہے۔ لیکن اربوں ڈالروں سے چلایا جانے والا یہ نظام بالکل ناکام ہے ۔ 99 فیصد اطلاعات جو مخبری کے ذریعہ جمع کی جاتی ہیں بالکل لایعنی اور مہمل ہوتی ہیں۔ مخبری کے نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت افغانستان میں امریکہ پر طالبان عالیشان کی فتح ہے۔ وسطی اور مغربی افریقہ میں بھی شباب نے فرانسیسی نظام مخبری کو تقریباً بالکل تباہ کر دیا ہے۔ سرمایہ دارانہ پالیسی سازوں کے لیے اطلاعاتی بھرمار موثر پالیسی سازی ناممکن بنا رہی ہے۔ علم اطلاعات کے بادل میں ڈھک گیا ہے اور سوچ اور فکر ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ فکر ڈیٹا میں مقید ہو کر رہ گئی ہے۔

انٹرنیٹ جہالت کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہے اور اس کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں جمہور میں تنہائی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہو گئی ہے۔ آئی ٹی ارتکاز سرمایہ کا آج ایک اہم ذریعہ ہے۔ سرمایہ دارانہ اجارہ دار متعین کرتے ہیں کہ کون سی اطلاعات عام کی جائیں اور جمہور میں سے کس کی رسائی ان اطلاعات تک ہو۔ براڈ بینڈ تک رسائی محدود ہے اور عموماً جمہور چند براڈ بینڈز کے قیدی ہیں۔ پاکستان ہی میں نہیں امریکا تک میں۔ اکثریت انٹرنیٹ رسائی سے محروم ہے([246])۔ انٹرنیٹ صنعت دنیا کی سب سے زیادہ اجارہ دارانہ صنعتوں میں شامل ہے۔ اور ہر اجارہ داری کی طرح انٹرنیٹ اجارہ داریاں بھی اس کی من مانی قیمتیں وصول کرتی ہیں۔ اس صنعت میں ارتکاز سرمایہ نہایت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور چند ملٹی بلین کمپنیوں کا تسلط پوری صنعت پر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت کو پھیلانے کا ذریعہ اشتہارات کی وہ بھرمار ہے جو انٹرنیٹ پر پائی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ جمہور کے ذاتی کوائف سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے لیے جمع کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ کوائف جمہور کی مخبری کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست اور مارکیٹ دونوں استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ معاشرہ میں سرمایہ دارانہ رائے سازی کا ذریعہ ہے۔ انٹرنیٹ کارفرمائی کے نتیجہ میں خبر اور اشتہار میں فرق غائب ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی عمل کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے۔ Nicholas Lare کے مطابق انٹرنیٹ کا رکن فرضی افراد بنتے جا رہے ہیں۔ وہ اپنے کام میں ماہر اور چابک دست ہوتے جا رہے ہیں لیکن ان کی شخصیت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ آئی ٹی کا پیداواری اور ترسیلی عمل لازماً ارتکازی ہے یہی وجہ ہے کہ چند ملٹی بلین کمپنیاں سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے پیداواری اور ترسیلی نظام پر تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ رسدی اجارہ دارانہ رجحان اطلاعات کی فراہمی اور استعمال کو متعین کرتی ہے۔

انٹرنیٹ صنعت کی بڑھوتری اور سرمایہ دارانہ مجموعی پیداوار کے اضافہ میں تعلق بہت مبہم ہے۔ صرف چند مخصوص شعبوں اور چند کمپنیوں کے لیے آئی ٹی کا استعمال پیداواری اور منافع میں بڑھوتری کا باعث ہوتا ہے۔ جن ممالک میں آئی ٹی کی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے (امریکا، مغربی یورپ، جاپان) وہاں کا مجموعی شرح نمو تقریباً منجمد ہے۔ آئی ٹی کا پھیلاؤ ان ممالک میں بیروزگاری کو بڑھانے کا بھی سبب ہے۔ خود آئی ٹی صنعت میں بھی بے روزگاری اور چھپی بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں کی کارکردگی کا تعلق ملکی پیداواری معیشتوں سے منقطع ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ 2020ء میں امریکا کی پیداواری شرح یقیناً منفی رہی لیکن ایپل، گوگل اور ایمازون بہت تیزی سے بڑھ بھی رہی ہیں اور بے اندازہ منافع بھی کما رہی ہیں۔ آئی ٹی کمپنیوں میں مسابقت اجارہ دارانہ مسابقت ہے۔ یہ بات سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے بالخصوص درست ہے۔ سافٹ ویئر کی قیمتیں گر رہی ہیں لہٰذا آئی ٹی اجارہ دار گوگل، ایمازون وغیرہ اپنی اجارہ دارانہ قوت ترسیل اشیا کے مارکیٹوں میں پھیلا رہے ہیں۔ آئی ٹی کمپنیاں سرمایہ دارانہ ارتکازی رجحان کو نظاماتی سطح پر فروغ دے رہی ہے ۔ آئی ٹی دھیرے دھیرے پورے سرمایہ دارانہ مارکیٹ پر اپنا اجارہ دارانہ تسلط قائم کر رہی ہے۔

آئی ٹی کا پھیلاؤ محنت کشوں کے درمیان بھی نامساوی تقسیم آمدنی کا سبب ہے۔ آئی ٹی بڑے پیمانے پر متوسط طبقہ میں بے روزگاری پیدا کر کے ان چند ماہرین کی آمدنی کا اضافہ بن رہی ہے ان ڈیٹا سنٹرز کو کنٹرول کرتے ہیں جن پر نیٹ کا انحصار ہے۔ صحافتی اور نشریاتی صنعتوں کے پروفیشنل کارکن آئی ٹی کی پیدا کردہ بے روزگاری کے شکار ہیں۔ آئی ٹی کا استعمال اور اس کی مواصلت پرنٹ میڈیا کے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ آئی ٹی کے ذریعے جو تشبیہات سامنے آتی ہیں وہ تیزی سے بدلتی ہوئی حادثاتی اور وقتی ہوتی ہیں۔ ان پر توجہ دینے سے فکر غیر مربوط اور منتشر ہوتی رہتی ہے۔ فکر خود کمپیوٹرائز ہوتی جا رہی ہے۔ آئی ٹی ذہنی صلاحیتوں کو مدقوق اور روایتی ثقافت اقدار کو مجروح کر رہی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ ذہن کی ساخت ، عمل اور تجربات سے متاثر ہوتی رہتی ہے۔ ذہن میں نیورانز(neuro logical) کی ترتیبی تبدیلیاں اور نئے نیورانز کی تخلیق علمی اور عملی تجربات سے متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ سوچنے کا انداز ذہن کے نیورالوجیکل ساخت پر اثرانداز ہوتا ہے اور انسانی سوچ اور عمل کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اطلاعات کی بھرمار بے توجہی کی عادت کو فروغ دیتی ہے۔ منطقی فکر کو فروغ دینے والے نیورانز مجروح ہوتے رہتے ہیں۔ ذہن لامعنویت کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ آئی ٹی کے دور میں گہرا تفکر اور روحانی ارتقا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسی آوارہ ، مریض، سرمایہ دارانہ معاشرت کی ٹیکنالوجی ہے جس میں جمہور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں اور زندگی میں معنی کی تلاش بے معنی ہوتی جارہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جمہور میں آوارگی ،بے توجہی ، یکسانیت اور بے معنویت کو فروغ بھی دے رہی ہے اور اس کا اظہار بھی ہے۔

آئی ٹی ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر پیداواری عمل کا جزو بنتی جا رہی ہے اور ان صنعتوں کی بڑھوتری کا انحصار جس معدنی خام مال پر ہے اس کے عالمی ذخائر خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ German Mineral Resrouces Agency کی 2016ء کی تحقیق کے مطابق 2035ء تک لیتھیم، لائٹ ریئر ارتھ میٹلز، ہیوی ریئر ارتھ میٹلز، کوبالٹ ، کاپر وغیرہ کی صنعتی مانگ ان کی ممکنہ رسد سے 2 سے 4 گنا زیادہ ہو جائے گی۔ ان دھاتوں کی برآمد پر کئی ممالک (بشمول چین) نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ آئی ٹی پر انحصار کرنے والی صنعتوں کا وجود خطرہ میں ہے اور آئی ٹی کی صنعت کی تحدید کا ایک ممکنہ سبب ثابت ہو سکتا ہے۔

مشینی خودکاریت کا بڑھتا ہوا سیلاب سرمایہ دارانہ محنت کشوں کو اپنے اندر ڈبو رہا ہے۔ آٹومیشن کا مقصد انسانی پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں اس کو سرمایہ دارانہ عمل سے خارج کرنا ہے۔ 2017ء کی ایک تحقیق کے مطابق امریکی 47 فیصد ملازمتیں مطلقاً خود کارفرما ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق 1960 کی دہائی میں پائی جانے والی 37 فیصد امریکا میں ملازمتیں آج آٹومیشن کی وجہ سے معدوم ہوگئی ہیں۔ سرمایہ دارانہ انحصار آٹومیشن پر بڑھتا جا رہا ہے اور یوں جمہور کا بڑھتا ہوا حصہ سرمایہ دارانہ پیداواری اور تبدلی عمل سے خارج کیے جا رہے ہیں اوریہ جمہوری معاشرت کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

کئی دہائیوں سے امیر سرمایہ دارانہ ملکوں میں سرمایہ دارانہ محنتوں کشوں کی آمدنی مجموعی قومی آمدنی کے تناسب کے اعتبار سےگرتی رہی ہے۔ 1990 میں 68 فیصد ہوا کرتی تھی 2015ء میں 58 فیصد رہ گئی۔ سرمایہ دار محنت کشوں کی اجرتیں منجمد اور ان کی تقسیم میں نامساویت کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ۔ لیبر مارکیٹ میں سرمایہ دارانہ محنت کشوں کی قوت مسابقت گھٹتی جا رہی ہے۔ محنت کشوں کی سرمایہ کارانہ مانگ گرتی جا رہی ہے جبکہ ان کی صَرفی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔

آٹومیشن ایک ایسی عالمی معیشت میں تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی مجموعی پیداواری نمور گر رہی ہے۔ اس معیشت میں چھپی بے روزگاری عام ہو رہی ہے۔ آج سرمایہ دار محنت کشوں کو صنعت سے نکال ر ہےہیں اور وہ حکومتی شعبوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ امیر سرمایہ دارانہ ملکوں میں 72 فیصد ملازمتیں خدمتی شعبوں کی ہیں۔ صنعتی پیداوار مستقل بڑھ رہی ہے۔ اس کا سبب لیبر پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں بلکہ اجرتوں کا انجماد ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ امریکا میں مجموعی پیداواری صلاحیت میں 2011ء تا 2017ء تک میں جو کمی آئی ہے اس کا ایک سبب آئی ٹی کی صنعت اور آٹومیشن میں سرمایہ کاری بھی ہے۔ صنعتی شعبہ سے متعلقہ پوشیدہ بے روزگاری کا پھیلاؤ غریب سرمایہ دارانہ ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ آٹومیشن کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں سرمایہ ایسی صنعتوں سے فرار ہو رہا ہے جہاں محنت کشوں کی مانگ زیادہ پڑتی ہے کیونکہ مارکیٹی مسابقتی قوت میں اضافہ کی وجہ سے آٹو میشن ضروری ہوتی جا رہی ہے۔ اور یہ سرمایہ دارانہ محنت کشوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اونچی پیداواری صلاحیت اونچی اجرتوں والے شعبوں سے کم اجرتوں اور کم پیداواری صلاحیت والے شعبوں کی طرف منتقل ہوتے رہیں۔ اور اس سے ان کی آمدنی اور ان کاصَرف مستقل گرتا رہتا ہے۔ صنعتی شعبہ سے سرمایہ حرام خور شعبہ کی طرف بھی منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ حرام خور شعبہ میں آٹومیشن تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کی محنت کشوں کی مانگ نہایت محدود ہے۔ جب کہ حرام خور شعبہ کا پھیلاؤ مجموعی قرضوں کی بے تحاشا بڑھوتری کو مہمیز دے کر سرمایہ دارانہ بحرانی رجحان کی پرورش کرتا رہتا ہے۔

آئی ٹی نے سرمایہ دارانہ نظام کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس کے عالمگیر پھیلاؤ کا سب سے اہم نتیجہ نامساویت کا ہوش ربا فروغ ہے اور نامساویت کا یہ فروغ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کو ناممکن بنا رہاہے ۔ آئی ٹی کے پھیلاؤ نے واضح کر دیا ہے کہ سرمایہ دارانہ اقدار بھیانک سراب کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آزادی سرمایہ کی غلامی کا دوسرا نام ہے۔ آئی ٹی محروموں کی صفوں میں بے اندازہ اضافہ کر رہی ہے اور دوسر ی طرف کائناتی نظام کی تباہی کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ جمہور اس اجتماعی خود کشی پر راضی ہیں۔ مجبوروں کو اپنے مظلوم ہونے کا احساس نہایت کم اور مبہم ہے۔ وہ انفرادی طور پر مایوس، پریشان اور اکتاہٹ اور لامعنویت کا شکار تو ہیں لیکن نظاماتی بغاوت پر آمادہ نہیں۔ وہ حرص اور ہوس کی پوجا کیے جا رہے ہیں۔

آئی ٹی انسانی محنت کو سرمایہ کے چکر کے لیے فالتو بنا رہی ہے اور ارتکاز قوت و دولت کو اتنی وسعت دے رہی ہے کہ چند عظیم سرمایہ دارانہ کارپوریشنوں اور سرمایہ دارانہ ریاست کے علاوہ سب یعنی جمہور بے بس ہوتے جا رہے ہیں ۔ جمہور کی بے بسی کا فروغ جابرانہ نہیں ہے جمہوری ہے ۔ مارکیٹ کا دائرہ کار پورے معاشرے پر محیط ہوتا جا رہا ہے اور سٹیزن برضا ورغبت صارف بنتے جا رہے ہیں۔

آئی ٹی انسانی ذہنی صلاحیت کو مجروح کرتی ہے۔ وہ انسانی معاشرتی روابط کو برباد کرتی ہے۔ وہ فرد کی نظاماتی بے بسی میں اضافہ کا باعث ہے لیکن آئی ٹی جمہور میں مقبول عام ہے۔ ان کی زندگیاں یاسیت، تنہائی اور لامعنویت سے بھری پڑی ہیں لیکن وہ اپنی اس ذہنی اورروحانی پلیدگی سے نجات پانے کے خواہاں نہیں۔ وہ اس کو ممکن ہی نہیں سمجھتے۔ وہ جاہلیت خالصہ کے اسیر اور حرص و ہوس کے غلام ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ سرمایہ دارانہ استحصال سے نجات کا واحد راستہ اسلامی بیداری ہے۔ انہیں خبر نہیں کہ قلوب کا اطمینان تو صرف اللہ کے ذکر میں ملتا ہے۔ سرمایہ داری نے حضرت عیسیٰ کی تعلیمات کو رد کر کے ریاست اور معاشرہ پر قبضہ کیا تھا۔ آج سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا پیغام سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات مسخرکرنے کے لیے برسرپیکار ہے۔

7.6۔ نفسیاتی بحران

جمہور اپنی انفرادی شناخت طرز صَرف (consumption)میں تلاش کرتا ہے۔اس کے تصور میں صَرف جتنا زیادہ اور جتنا متنوع ہو گا شخصیت اتنی اجاگر اور منفرد ہو گی۔ دور حاضر میں یہ مفروضہ عام ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں زیادہ تر اشیا جمہور کی انفرادیت کو آشکار کرنے کے لیے بیچی جاتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ مانگ کے محور پر گھومتا ہے۔ ضرورت کے محور پر نہیں۔ آج ایسی اشیا نسبتاً چھوٹے پیمانے پر تیار کی جاتی ہیں جو صارفین کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ کے سیکڑوں برانڈ مارکیٹ میں ہیں اور ہر برانڈ ایک مخصوص مانگ (preference)کو پورا کرنے کا دعوے دار ہے۔ مانگ کی اس تفریق نے قیمتوں اور قرضوں میں اضافہ کیا ہے۔ قیمتوں اور قرضوں کی بڑھوتری سے معاشرہ پر سرمایہ دارانہ اقتدار تیزی سے غالب آئے ہیں۔ مارکیٹنگ بیسویں صدی کی چھٹی ساتویں دہائی کی ایجاد ہے اور مارکیٹنگ وہ جاہلی علمیت ہے جس کے ذریعہ مانگ کی بڑھوتری اور مانگ کے تنوع کوممکن بنایا جاتا ہے۔ آج صارف عمل تشکیل اشیا میں شریک ہیں اور یوں سرمایہ دارانہ معاشرت مستحکم ہوتی جا رہی ہے اور سرمایہ دارانہ انفرادیت عام ہوتی جاتی ہے۔ 1960ء کی دہائی سے یورپ اور امریکا میں خاندانی اور معاشرتی کردار کمزور پڑ گیا اور اس معاشرتی خلا کو بھی مارکیٹ نے ہی پر کیا۔ جمہور کی زندگی میں باپ کی جگہ مینجر نے لے لی اور یہ معاشرتی تغیر آزادی کے فروغ کا ذریعہ بنا ہے۔ مذہب کی جگہ کھیل تماشوں نے لے لی اور جمہور تماش بین مدہوش، عیاش، جوشیلے غضب ناک ہوتے چلے گئے ہیں۔ کھیل تماشوں کی شیطانی روحانیت نے جمہور کے نفوس پر قبضہ جما لیا۔ خود مذہبی ادارے رسوم و رواج سرمایہ کی گرفت میں آ کر کھیل تماشہ بنتے جا رہے ہیں([247])۔

خریدنے کا عمل خود شناسی اور خود اظہاری کاذریعہ بن گیا ہے۔ خریدنے کے عمل کے ذریعے جو شخصیت تعمیر ہوتی ہے وہ تنہا، خود تکلمانہ اور خود انتخابی ہوتی ہے۔ ایسی شخصیتیں اپنی گروہی شناخت (قومی، مذہبی، طبقاتی) کھودیتی ہیں۔ وہ خود انحصاری بھی ہوتی ہیں اور اپنی انفرادیت کی شناخت میں کسی اور کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں۔ ہدایت سے فرار ہی آزادی ہے۔ یہ انفرادیت اپنی شناخت جلدی جلدی تبدیل کرتی رہتی ہے اور شناختی تبدیلی کا جواز کسی کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ یہ شخصیت اپنی گروہی وابستگیاں صَرفی مماثلت کی بنیاد پر متعین کرتی ہے۔ مذہبی ، نظریاتی، قومی یا طبقاتی مماثلت کی بنیاد پر نہیں۔ یہ گلوبلائزڈ انفرادیت ہے۔ مثلاً پاکستان میں امریکی طرز صَرف اختیار کرنے والی اور امریکی صارفین سے وابستگی کا اظہار کرنے والی گلوبلائزڈ شخصیت پائی جاتی ہے۔

صارفیت (کنزیومرازم) نے ریاستی عمل کو بھی متاثر کیا ہے مثلاً آج بیش تر حکومتیں یہ مفروضہ قبول کرتی ہیں کہ نجی کارپوریشنیں جمہوری مانگ کو پر کرنے کی سرکاری کارپوریشنوں کے مقابلہ میں زیادہ موثر ہیں لہٰذا نج کاری کا عمل ہر جگہ جاری ہے۔ امریکی فوج نے آئی ٹی صنعت کو نجی شعبہ کے حوالے کر کے بڑھوتری اور ارتکاز سرمایہ کو فروغ دیا۔ آج ایک عام سٹیزن ریاستی خدمتوں کو اشیائے صرف تصور کرتا ہے اور ان خدمتوں کا خریدار بن گیا ہے۔ ریاستی اہلکار اپنے آپ کو جمہوری نمایندہ نہیں بلکہ جمہور کی مانگ کو پر کرنے والے آجر تصور کرنے لگے ہیں۔ پبلک مینجمنٹ وہ علمیت ہے جو ریاستی عمل کو مارکیٹ کے تابع کرتی ہے۔ آج ریاستی اور نجی کارپوریشنوں اور محکمات کے عمل میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ حکومتیں جمہور کے حقوق کے تعین اور تقسیم وسائل کے ضمن میں مارکیٹی اصولوں پر کاربند ہوتی جا رہی ہیں۔

جمہوری نظام میں جمہور کبھی بھی فیصلہ ساز نہیں ہوتے لیکن دور حاضر کی جمہوریتوں میں جمہور کی فیصلہ سازی ممکن ہی نہیں رہی کیونکہ جمہور صارف بن گئے ہیں اور صارف اپنی انفرادی مانگ کو کسی خارجی پیمانہ پر نہیں پرکھتا نہ اس انفرادی مانگ کواجتماعی ضرورتوں سے منطبق کرنے کا قائل ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم بار بار کہتے آئے ہیں سرمایہ عمومی کا کوئی نمایندہ نہ مارکیٹ میں ہوتا ہے نہ ریاست میں۔ لہٰذا مفاد عامہ کا تصور ہمیشہ تضاداتی رہتا ہے اور جب سٹیزن صارف بن جائیں تو جمہور مفاد عامہ کے مخصوص تصور میں سرے سے دلچسپی لینا ہی چھوڑ دیتے ہیں اور ریاستی فیصلہ کے عمل سے ان کا ربط بالکل منقطع ہو جاتا ہے۔ اور سیاسی عمل میں جمہور کی شرکت انتخابات اور ریفرنڈم کے ذریعہ کھیل تماشا بن کے رہ جاتی ہے۔ جب سٹیزن صارف بن جائیں تو وہ فیصلہ سازی کے عمل اور اس کے مضمرات کو سمجھنے کی اہلیت کھوتے جاتے ہیں۔ ریاستی نظام جب مارکیٹائز ہوتا ہے تو مارکیٹ کے استحکام کو فروغ دینے کی صلاحیت لازماً کھوتا جاتا ہے۔ ریاست کی کمزوری کا ایک اور اظہار مطالباتی یک رخی تحریکوں کا ابھرنا ہے جو مخصوص ریاستی پالیسیوں کو رد کرتی ہیں لیکن جن کے پاس نظاماتی تبدیلی کے لیے اپنے انفرادی مفادات کو قربان کرنے کا کوئی جذبہ کارفرما نہیں ہوتا۔ سیاسی شرکت ان معنوں میں مارکیٹائز ہو جاتی ہے کہ اس کا مقصد مخصوص پالیسیوں کی حمایت یا اپنے اغراض کی برآوری ہوتا ہے کسی نظاماتی نظریاتی تناظر سے وابستگی نہیں۔

سیاسی عمل کی مارکیٹائزیشن محرومین کی صفوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہے کیونکہ ریاستی مارکیٹائزیشن کا لازمی نتیجہ ریاستی عمومی خدمات میں کٹوتی ہے اور محرومین ریاستی عمومی خدمات سے زیادہ تر استفادہ کرتے ہیں۔ اس احساس محرومی کی بڑھوتری کا نتیجہ نظاماتی بغاوت نہیں ہوتا بلکہ محرومین جمہوری عمل سے لاتعلق ہوتے جاتے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں محرومین کی انتخابی شرکت کی شرح مستقلاًگر رہی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں جمہور بے بس ہوتے جا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام فرد کو ہر قسم کی ملکیت سے محروم کرتا جاتا ہے ۔ جان کی ملکیت سے، مال کی ملکیت سے، رائے کی ملکیت سے اور سرمایہ (حرص و ہوس کی شیطانی قوتیں) فرد کی جان، مال اور رائے کا مالک اور مختار کل بن جاتا ہے۔ ان ملکیتوں کو شیطان (سرمایہ) کے سپرد کر دینے کا مطلب ہے نفسی پراگندگی اور مایوسی، تنہائی اور اکتاہٹ کے احساس کا فروغ پانا۔ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ یہ ملکیتیں اللہ تعالیٰ کے سپرد کی جائیں اور اس سپردگی (فنا) کا نتیجہ نفس مطمئنہ کا ظہور ہوتا ہے۔

حقیقت کے ادراک کے لیے جان، مال اور رائے کو اللہ کے سپرد کرنا ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل ہی حقائق کا خالق ہے۔ حقیقت کا ادراک نوعی حسیات سے نہیں ہوتا کیونکہ نوع انسانی محض اللہ کی ایک تخلیق ہے۔ انسان ادراک حقیقت نفس امارہ کی تابع داری کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتا۔ انسان اپنی خواہشات کے مطابق حقیقت کی تخلیق نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو لازماً مایوس، پریشان اور ناکام ہو گا۔ انسان نہ خود تخلیقی ہے نہ تخلیق حقائق کی اہلیت رکھتاہے۔ سرمایہ دار اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ کائنات ان کے توسیعی جسم کا حصہ ہے جس کو نفس امارہ کے احکام کی بجاآوری کے لیے ا ستعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ رائے بھی بالکل غلط ہے کہ انسان کسی نوع کا جزو ہے اور ا س کی نوعی شناخت اس کی انفرادی شناخت کو متعین کرتی ہے۔ ہر شخص اپنی ذات میں ایک منفرد وجود اور اللہ کے سامنے اکیلا جواب دہ ہے۔ انسان پرستی بدترین نسل پرستی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

سرمایہ دارانہ عقائد اور طرز زندگی کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں پوری دنیا میں ذہنی امراض ایک وبا کی طرح پھیل ر ہے ہیں۔ اور دنیا بھر میں اس کے مزید تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔2019 کے ایک سروے کے مطابق صرف شیزوفرینیا کے مریضوں کی تعداد تقریباً 25 ملین ہے۔ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد کامیابی خودکشیاں کرتے ہیں۔ آج امیر ممالک میں ذہنی امراض دورانیہ عمر گھٹنے کا سب سے اہم سبب ہیں۔ یورپی یونین کے 27 فیصد باشندے جن کی عمر یں 18 اور 65 کے درمیان ہیں کسی نہ کسی وقت ذہنی مریض رہے ہیں۔ امریکا میں صورت حال اس سے کہیں زیادہ ابتر ہے۔ وہاں ایک ایسا شخص جس کی ذہنی صحت کو مشکوک کہا گیا ہے۔ 2024 میں دوبارہ صدر منتخب ہو سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ذہنی صحت کا اضافہ سرمایہ دارانہ معاشرت کے پھیلاؤ کا منطقی نتیجہ ہے۔

سرمایہ دارانہ کارکنیت جمہور کے لیے ایک نہایت اکتا دینے والا بوریت سے بھرپور لایعنی عمل ہوتا ہے۔ اور ایک عام کارکن اس عمل سے جلد از جلد چھٹکارا پانے کی جستجو کرتارہتا ہے۔ تفریح بھی لامعنویت سے بھری پڑی ہے جو سستی اور کاہلی کو تماش بینوں میں فروغ دیتی ہے۔ صارفیت حسد کومہمیز دیتا ہے اور جمہور معیار زندگی کو بڑھاتے رہنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں۔ نیوراسس سرمایہ دارانہ معاشرت کی عام ذہنی کیفیت ہے۔ جمہور کا فرد اپنے آپ کو معاشرہ سے کٹا ہوا اور اپنی اصلیت سے ناآشنا پاتا ہے۔ ہر سرمایہ دار خواہ سرمایہ کار خواہ محنت کش خواہ کوئی اور اپنے اوپر مستقل ظلم کرتا رہتا ہے۔

سرمایہ دارانہ طرز زندگی اختیار کرنے والا اپنے نفس امارہ کا بندہ بن جاتا ہے اور نفس امارہ کے احکام پر عمل کرنے والا کبھی قلبی سکون اور روحانی آسودگی حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص اپنی ذات کو حرص و ہوس کے شیطانوں کے سپرد کر دیتا ہے وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ کے سپرد کر دیتا ہے جو اس کو ہمیشہ جلاتی رہتی ہے۔

2018ء کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ کی مجموعی لیبر فورس کے 47 فیصد افراد اپنے کام سے مطمئن نہیں اور اس کو بے معنی سمجھتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں دن کا بڑا حصہ پیشہ ہی میں صرف کیا جاتا ہے اور لوگ اپنی شناخت پیشہ ہی سے اخذ کرتے ہیں ۔ پیشہ سے اکتاہٹ کا مطلب ہے شناختی انتشار اور یہ ذہنی / روحانی تناؤ اور ناآسودگی کا ایک اہم سبب ہے۔ پھر لامعنویت سرمایہ دارانہ ثقافتی زندگی میں بھی پھیلتی ہے۔ تمام تعلقات سطحی اور غیر مستحکم ہوتے جاتے ہیں۔ تنہائی ایک وبا کی طرح پورے معاشرے میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ 2016 میں برطانیہ میں ایک وزیر تنہائی مقرر کیا گیا ۔ 2018ء میں 45 فیصد برطانوی شہریوں نے تنہائی کا احساس ظاہر کیا اور 30 فیصد نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں۔ مادی مسابقت افراد میں حسد اور دوری پیدا کرتی رہتی ہے۔ نظاماتی مسابقت کو منظم کر کے سرمایہ دارانہ طرز زندگی تنہائی اور اکتاہٹ کو معاشرہ کی کلیدی خصوصیت بنا دیتا ہے۔

قمار بازی، منشیات کی عمومیت اور زناکاری ہر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معاشرت کا جزو لاینفک ہے۔ مغموم اور تنہا فرد مدہوشی میں اپنا غم بھلانے کی مستقل کوشش کرتے رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ تاریخ انسانی کے گھناؤنے ترین، غلیظ، خبیث اور پلید ترین معاشروں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان معاشروں میں اخلاص، پاکیزگی، تقویٰ اور عفت کا تصور بالکل اجنبی ہو جاتا ہے۔ جنسی بے راہ روی کا یہ عالم ہے کہ آج پوپ فرانسس اور سابق صدر باراک اوباما دونوں اغلام بازی کے وکیل بن گئے ہیں۔ ایسے میں ذہنی امراض کا عام ہونا ایک لازمی امر ہے۔

ذہنی امراض کی عمومیت ایک سبب صارفیت کا پھیلاؤ ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشروں میں اشتہار بازی اور مارکیٹنگ کے ذریعے مہنگی سے مہنگی اشیا کا انبار لگانے پر لوگوں کو مستقل آمادہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان اشیا کے استعمال سے تسکین کا حصول ناممکن ہے۔ یہ محض مسابقت اور حسد کے جذبہ کو فروغ دے کر ذہنی تناؤ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس کا اثر 2018ء کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں ذہنی بیماریاں بچوں میں سب سے زیادہ ہے۔ زناکی عمومیت، خاندان کی شکست و ریخت کے اضافہ کے نتیجہ میں بن بیاہی مائیں (جوبرطانیہ میں تیزرفتاری سے بڑھ رہی ہیں) اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتیں اور اس کمی کوپورا کرنے کے لیے بچوں کو خودکار کھلونے دے دیتی ہیں۔ یہ کھلونے ماں کی جگہ نہیں لے سکتے اور بچے شدید ذہنی اورجذباتی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ذہنی امراض کے پھیلاؤ کا کوئی علاج جاہلی علم نفسیات اور اس کے ماہرین کے پاس نہیں۔ کیونکہ یہ جاہلی علم تو اس شخص کو معذور تصور کرتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظم کار (ورک پراسس) میں حصہ نہ لے سکے۔ یہ ماہرین نفسیاتی امراض کو محض انفرادی نوعیت کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور اس کے معاشرتی اور نظاماتی محرکات کا نہ شعور رکھتے ہیں نہ ان محرکات کے سدباب کا ان ماہرین کے پاس کوئی حل موجود ہے۔ جب تک سرمایہ دارانہ تغلب قائم رہے گا اس وقت تک فرد مایوسیوں، پریشانیوں، لامعنویت اور اکتاہٹ سے دو چار ہوتا رہے گا اور پورا سرمایہ دارانہ معاشرہ ذہنی امراض سے بھرتا رہے گا۔ اس نظاماتی ظلم کا اصل شکار سرمایہ دارانہ معاشروں میں پائے جانے والے بوڑھے اور بچے بالخصوص ہیں۔

7.7۔ کیا سرمایہ دارانہ بحران نظاماتی انہدام پر منتج ہوں گے

سرمایہ دارانہ بحران، معاشی، معاشرتی، اقداری، وبائی، ماحولیاتی، مواصلاتی نہایت گہرے اور گھمبیر ہیں اور ان کے اثرات نہایت دور رس اور دیر پا ثابت ہو رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام پہلے بھی بحرانی ادوار سے دو چار ہو چکا ہے لیکن دور حاضر کے بحران جتنے ہمہ گیر اور ہمہ پہلو ہیں اتنے شائد پہلے کبھی نہ تھے۔ انیسویں صدی سے یہ خیال عام ہے کہ اپنے اندرونی بحرانوں کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ نظام خود بخود تحلیل ہو جائے گا لیکن جن لوگوں نے یہ خیال پیش کیا انہوں نے سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام سے مراد سرمایہ دارانہ نظاماتی تشکیل نو ہی لیا۔ مارکس نے لبرل نجی سرمایہ داری کی تسخیر کے نتیجہ میں ریاستی /اجتماعی سرمایہ داری کو فروغ دینے کی وکالت کی۔ ریاستی سرمایہ داری کئی ممالک میں بیسویں صدی میں کارفرما ہوئی لیکن کہیں بھی سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزحیات سے مراجعت نہ ہو سکی۔ آج بھی جو کافر سرمایہ دارانہ انہدام کے خواب دیکھتے ہیں وہ سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) کو قبول کرتے ہیں۔ اور سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت کے پیروکار ان کفار کے خیالی خاکے”پس سرمایہ داری“ کی مبہم تصویروں کے علاوہ کچھ نہیں۔

سرمایہ داری ایک شیطانی روحانی قوت ہے جیسا کہ امام محمد مارماڈیویک پکتھالؒ نے آج سے نوے سال پہلے فرما دیا تھا یہ سر مایہ داری تکاثر کا عام ہونا ہے۔ جب تک نفوس حرص اور حسد ، شہوت اور غضب سے مغلوب رہیں گے اور جب تک جاہلی علمیت پر ایمان قائم ہے اس وقت تک سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی اقتدار ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اسلامی انقلابی سرمایہ دارانہ تضادات کو مہمیز دے کر سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کے کام کو تیز یقیناً کر سکتے ہیں اور ان کو ایسا کرتے رہنا چاہیے۔ لیکن اس سے نظاماتی انہدام کی فی الفور کلی شکست و ریخت کی توقع رکھنا عبث ہے۔ اسلامی انقلابیوں کی اصل جدوجہد معاشرہ میں مذہبیت اور روحانیت کو فروغ دینا ہے۔ اس میں ہمارے فطری حلیف علمائے کرام اور صوفیہ عظام ہیں جو صدیوں سے یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اگر علما اور صوفیہ کی اس مساعی جلیلہ کو سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کا ذریعہ بنایا جائے تو کامیابی کے امکانات روشن ہیں([248])۔

اس کام میں کتنا عرصہ لگے گا۔ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ایک کافر نظام زندگی اور طرز حیات سے تھا اور آپ نے 23 سال میں اس کا مکمل انہدام کر دیا۔ اور اس عظیم الشان کامیابی کی بنیاد پر ہم نے 12 سو سال تک دنیا کے وسیع علاقہ پر حکومت کی۔ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئےسرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کام کی ابتدا کر سکتے ہیں۔ اگر اس فرض کی تکمیل میں صدیاں بھی لگ جائیں تو ہم اس کو جاری رکھیں گے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ اقامت دین کی اس جدوجہد کا صلہ ہمیں آخرت میں یقینا ً ملے گا۔

صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل

یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہٰ اسی میں ہے

باب 8

شرکت میان حق و باطل نہ کر قبول

سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی شرعی حیثیت

مولانا محمد احمد حافظ

آج جب کوئی شخص شعور کی دنیا میں قدم رکھتا ہے اور چیزوں کو سوچنے اور ان کو پرکھنے لگتا ہے تو اس کے سامنے سوالات کا ایک ہجوم ہوتا ہے… انہی سوالات میں سے کچھ سوال حیاتِ اجتماعی کے نظم ونسق، اخلاقی اقدار اور مابعدالطبیعات سے متعلق ہوتے ہیں۔

بحیثیت مسلمان اگر دیکھا جائے تو جس دین کے ہم پیروکار اور ماننے والے ہیں اس کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ دین کامل اور مکمل ہے اور یہی دین تاقیامِ قیامت باقی رہے گا، مگر جب ہم فکر وعقیدہ کی دنیا سے باہر قدم رکھ کر عملی سطح پر دیکھتے ہیں تو عقیدہ اور عمل میں گہرا تضاد نظر آتاہے۔ مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی طور پر تقریباً تیرہ سو سال تک مسلم دنیا میں خلافت قائم رہی، شریعت کا نفاذ رہا۔ لوگوں کے معاملات قرآن وسنت کے مطابق حل ہوتے رہے مگر یکایک ہم دیکھتے ہیں کہ منظر بدل گیا ہے اور ہم نے دین کو صرف فرد کی سطح تک محدود کرکے اجتماعی سطح پر ایک ایسے نظام کو قبول کرلیا ہے جو فی الواقع ہمارا اپنا نہیں بلکہ مغرب سے درآمد شدہ ہے۔ اس نظام کی اپنی کونیات، تعلیمات اور مابعد الطبیعات ہیں… مجموعی طور پر ہم اس نظام کو سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی سے تعبیر کرتے ہیں اس کا سیاسی نظام جمہوریت کہلاتا ہے(جوکہ ڈیما کریسی کا اردو ترجمہ ہے) اس نظام کو ہم نے 1920ء سے گلے لگایا اور تمام تر قباحتوں کے باوجودآج تک اِسے اپنائے ہوئے ہیں… ہمارے خیال میں گزشتہ ایک صدی (تقریباً) کے تجربات ہمارے لیے بہت سے بنیادی فیصلوں کے متقاضی ہیں مگر ہم پھر بھی اس نظام کو اپنانے پر مُصِرْ ہیں۔

سردست جو اہم سوال ہے وہ یہ ہے کہ کیا جمہوریت ہی وہ واحد نظام ہے جو بنی نوعِ انسان کی فوز وفلاح کا ضامن ہے؟کیا یہ واحد اور آخری حق ہے جسے اپنائے رکھنے پر ہم مجبور ہیں؟کیا جمہوری نظام میں باربار کی شمولیت، کئی مرتبہ کی شکستوں، تقسیم درتقسیم کا خمیازہ بھگتنے اور بھاری اکثریت کے ساتھ فتح کے باوجود منزل سے ہمکنار نہ ہوسکنے کے بعد بھی ہم اسے گلے لگائے رکھیں گے؟اس نظام میں شمولیت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیا شریعت کو معطل کرکے ہم اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں؟ کیا شریعت پر کافرانہ نظام کی بالادستی قبول کی جاسکتی ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر اہل علم کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج وقت آگیا ہے کہ ہم 1920ء کے بعد اپنائی گئی سیاسی حکمت عملی پر ازسرنو غور کریں اور قرآن وسنت کی طرف مراجعت کے لیے اپنے آپ کو آمادہ وتیار کریں۔

ہماری نظر میں جمہوری سسٹم کوئی غیراقداری نظام نہیں۔ اس کی اپنی علمیات، کونیات اور مابعدالطبیعات ہیں۔ جمہوری نظام کا سرمایہ داری، انسانی حقوق، لبرل قوانین، لبرل عدلیہ اور انتظامیہ سے گہرا اور مربوط تعلق ہے۔ آیندہ سطور میں ہم اسی ربط وتعلق کو واضح کرنے اور اس پر اسلامی نکتہ نگاہ سے حکم لگانے کی طالب علمانہ کوشش کریں گے اگرچہ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وفوق کل ذی علم علیم!!

8.1۔ فرد، معاشرہ اور ریاست کا باہمی تعلق

معاشرہ ہو یا ریاست اس کا وجود فرد کے گرد گھومتا ہے۔ فرد کو نفی کردیں تو معاشرہ کوئی وجود نہیں رکھتا۔ اسی طرح محض ریاست کوئی حسّی چیز نہیں۔ انسانی دنیا کے تمام معاملات فرد کے گرد گھومتے ہیں، مثلاً صہیب ایک فرد ہے، اس کا جو تعلق عمر، طلحہ اور عبدالرزاق کے ساتھ ہے وہ معاشرت ہے اور صہیب کا وہ تعلق جو حکمران کے ساتھ ہےوہ ریاست کہلاتی ہے، یہ نہیں کہ فرد نہ ہو اور معاشرہ بھی قائم ہو اور ریاست بھی! چناں چہ فرد اگر صالح ہے، شریعت کا پابند اور دینی اقدار کا احترام کرتا ہے تو معاشرہ مذہبی ہوگا اور ریاست بھی مذہبی ہوگی۔ فرد اگر کسی مذہب کا پابند نہیں ہے بلکہ فری (FREE) یعنی ’’آزاد‘‘ ہے تو معاشرہ لبرل اور سیکولر ہوگا، اسی طرح ریاست بھی سیکولر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی انفرادیت اور سرمایہ دارانہ انفرادیت میں شرق وغرب کا فرق ہے۔

8.2۔مذہبی انفرادیت کیا ہے؟

مذہبی انفرادیت میں بنیادی چیز عبدیت ہے، عبدیت کا مطلب ہے کہ انسان ایک خارجی اور اَن دیکھے وجود کو اپنا الٰہ ومعبود مان لے، اُس کی خواہش، منشاء اور رضامندی کے لیے اپنی ساری خواہشوں کو فنا کردے، اس کے کہے پر چلے اور منع کرنے پر رک جائے۔

8.3۔سرمایہ دارانہ انفرادیت

سرمایہ دارانہ انفرادیت یہ ہے کہ انسان کسی کا عبد نہیں بلکہ وہ آزاد (FREE) ہے۔ آزاد ان معنوں میں ہے کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکے اور جس چیز کی خواہش اس کا نفس امارہ کرے اسے حاصل کرسکے۔ خواہشات بے پناہ ہیں اور انسان کو خواہشات کی تکمیل کے لیے بنیادی طور پر جس چیز کی ضرورت ہے وہ ’’سرمایہ‘‘ ہے۔ سرمایہ ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس کے ذریعے تمتع فی الارض اور تمتع فی الدنیا کے امکانات وقوع پذیر ہوسکتے ہیں۔ ایک بات جو یاد رکھنے کی ہے یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت مابعد الموت سے بحث نہیں کرتی ہے بلکہ اس کے نزدیک موت ہی اختتامِ زندگی ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality)میں زیادہ سے زیادہ سرمائے کا حصول اسی دنیا کو جنت بنانے کے سوا کچھ نہیں، اسی لیے ایک سرمایہ دار انسان کی ساری تگ ودو اور کدوکاوش کا محور محض سرمائے کا حصول ہوتا ہے۔

8.4۔سرمایہ دارانہ انفرادیت کیونکر وجود میں آئی؟

سرمایہ دارانہ انفرادیت کیوں کر وجود میں آئی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں پندرھویں سولہویں اور سترھویں صدی کے ادوار میں عیسائیت کی شکست وریخت کا مطالعہ کرنا ہوگا یہ وہ تمام عرصہ ہے جب عیسائیت یورپ میں اپنے آپ سے نبردآزما تھی پادریوں کی من مانی تفسیر انجیل، غیرمنطقی عقائد ونظریات اور متضاد افکار وخیالات نے عام عیسائی فرد کو اپنے عقیدے سے متزلزل کردیا تھا۔ مثلاً:

پوپ خدا کا نمایندہ سمجھا جاتا، اور وہ جسے چاہتا جہنم کی وعید سناتا اور جسے چاہتا جنت کی بشارت سے سرفراز کردیتا، دوسرے لفظوں میں پوپ کو الوہیت کا درجہ حاصل تھا۔ عیسائی پادریوں کے ہاں عام افراد اور خواص کے لیے یکساں احکام نہیں تھے بلکہ وہ مذہبی احکام میں امیر اور غریب کا فرق کرتے تھے، سود جو عیسائی معاشرے میں حرام خیال کیا جاتا تھا مختلف حیلوں کے ذریعے اسے حلال کر لیا جاتا۔ (جس کی ایک شکل ہمارے ہاں اسلامی بینکاری کے نام سے وجود میں آنے والی سودی بینکاری ہے) شادی نہ کرنا، عبادات میں غلو وغیرہ اس غیرفطری درجہ بندی جس کا یقینا اصل دین عیسوی سے کوئی تعلق نہ تھا، کی وجہ سے عیسائی معاشرے میں طبقاتی کشمکش کا آغاز ہوا۔ اسی ماحول میں مارٹن نوتھر جو خود بھی عیسائی پادری تھا اس نے عیسائیت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور تحریک اصلاح کی بنیاد رکھی۔ جِسے بعد میں کیلون(Calvin) نے مزید تقویت بخشی۔ آگے چل کر یہ تحریک اصلاح پروٹسٹنٹ ازم کے نام سے متعارف ہوئی۔ پروٹسٹنٹ ازم کے بنیادی نکات درج ذیل تھے:

۱۔ ہر عیسائی کو بائبل کی تفسیر کرنے کا مکمل اور مساوی حق ہے۔

۲۔ خدا اور بندے کا باہمی تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد تک موقوف ہوگیا ہے۔

۳۔ کسی شخص کو کسی دوسرے کے معاشرتی درجے کے تعین کا کوئی مذہبی حق حاصل نہیں۔

۴۔ دنیوی کامیابی اخروی کامیابی کا پیش خیمہ ہے۔ جو شخص دنیا میں مادی طور پر کامیاب ہے وہی آخرت میں بھی کامیاب ہے۔

مارٹن لوتھر اور کیلون کی یہ تحریک عیسائی معاشروں میں نہایت تیزی سے مقبول ہوئی۔ اس لیے کہ لوگوں کو مجہول الفکر عیسائی پادریوں کے چنگل سے نکلنے کی راہ دکھائی دی تھی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگلا راستہ بھی خوش کن نہ تھا۔ مارٹن لوتھر نے وہ بنیادیں فراہم کر دی تھیں جن کے ذریعے لوگوں کو مذہب سے راہ فرار ڈھونڈنے میں آسانی ہوگئی۔ جب پروٹسٹنٹ ازم لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے لگا تو کیتھولک چرچ نے ایک خاص محکمہ تفتیش قائم کیا جس نے چند سالوں کے عرصے میں اسپین، اٹلی اور جرمنی وغیرہ میں لاکھوں انسانوں کو تعذیب وعقوبت میں مبتلا کیا، ہزاروں افراد کو ہلاک کیا گیا۔

اسی زمانے میں یورپ کے مشہور فلسفی ڈیکارٹ ( ۱۵۹۶-۱۶۵۰)نے جدید فلسفہ وفکر کی حدود کا نہ صرف تعین کیا بلکہ عیسائیت کو بھی جدید فلسفیانہ بنیادوں پر رد کردیا۔

ڈیکارٹ نے انسانی ادراکات میں کسی بھی خارجی عامل کو رد کردیا اور سیلف نالج (Self knowledeg) کی خالص عقلی (rational)دلیل دی۔ اس کے پیش کردہ فلسفے کے مطابق:

’’علمی اور عقلی بنیادوں پر کوئی بھی انسان اپنے سوا کسی بھی چیز خواہ وہ خیالات ہوں یا اقدار، معیارات خیر وشرہوں یا وحی اور چاہے خدا کا وجود، غرض کسی بھی چیز کا انکار کرسکتا ہے۔ اکیلی میری (reason) ذات میرا وجود ہے۔ جس کا ہونا کسی بھی قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ ڈیکارٹ کے نزدیک واحد قائم بالذات سچ ’’میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں‘‘ [I think there for I am]یعنی میں اپنے اسی دنیا میں ہونے کا جواز اپنے اندر رکھتا ہوں، میرا وجود کسی خارجی ذریعے حقیقت مطلق یا خالق کائنات کا مرہون منت نہیں ہے۔ ڈیکارٹ کے مطابق میری عقل (reason)کی استطاعت نہیں کہ میرے اپنے وجود کے سوا کسی بھی دوسری ذات کے وجود کا ماورائے شک جواز پیش کرسکوں، اس طرح ڈیکارٹ نے ایک ایسی علمیت کی بنیاد رکھی جوکہ [وحی] سے ماوراء تھی اور دوم ریب [Doubt] پر قائم تھی۔‘‘

ڈیکارٹ کے پیش کردہ تصور انسان کو بعد کے مغربی مفکرین نے آگے بڑھایا اور انسان کے حق آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جو خیر وشر کے تعین اور تحدید میں بذات خود ایک پیمانہ ہے۔ یہ شخص ہر طرح کے شک وشبہے سے عاری قرار پایا اور مغربی فلسفیوں (ڈیکارٹ، کانٹ، میکس ویبر، جیفرسن،نطشے، روسو وغیرہ) کے نزدیک کائنات کو صرف اور صرف انسانی پیمانوں پر پرکھنا ہی علمیت کی میراث قرار پایا۔ یوں انسان پرستی (ہیومنزم) کو اقداری ڈھانچے میں کلیدی اور قطعی حیثیت حاصل ہوئی۔

8.5۔ ہیومن ازم کیا ہے؟

انسان کو کائنات کا محور ومرکز قرار دینا ہی ہیومن ازم ہے انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی کے مطابق :

Humanism is that philosophical and literary movement originated in Italy in th second half of the fourteenth century and diffused into other countries of Europe, coming to constitute one of the factors of modrn culture.

ترجمہ: ہیومنزم وہ فلسفیانہ اور ادبی تحریک ہے جو چودہویں صدی عیسوی کے نصف ثانی تک میں اٹلی میں پیدا ہوئی اور وہاں سے یورپ کے دوسرے ملکوں میں پھیل گئی جو بالآخر جدید ثقافت کی تشکیل کے اسباب میں سے ایک سبب بنی۔

اس کی حقیقتوں سے بحث کرتے ہوئے درج کیا گیا:

Humanism is also any philosophy which recognizes the value or dignity of man and makes him the measure of all things and takes human nature, its limits, or its interest as its theme.

ترجمہ: ہیومنزم ہر اس فلاسفی کو بھی کہتے ہیں جو انسانی قدر یا عزت کو تسلیم کرے اور اسے تمام چیزوں کا میزان قرار دیا جو صرف انسانی طبیعت کو اپنی فکر کی حد یا دائرۂ کار کی حیثیت سے لے۔

ہیومن ازم کی تحریک اپنی اصل کے اعتبار سے وحی الٰہی اور ہدایت ربانی کی ضد تھی۔ اس تحریک کا مقصد عیسائی معاشرے میں تصورِالٰہ، تصور رسول اور تصور آخرت کو ختم کر دینا تھا، چناں چہ اس تحریک نے عیسائیوں کو ہر اس ہدایت کے انکار کی طرف ابھارا جو ربانی یا آسمانی ہو، اور ہر اس ضابطے سے بغاوت پر آمادہ کیا جس کی بنیاد ہدایت الٰہی تھی۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجین اینڈ ایتھکس میں بیان کیا گیا:

“Humanism in philosophy is opposed to Naturalism and Absolutism; it designates the philosophical attitude which regards the interpretation of human experience as the primary concern of human knowledge for this purpose.”

ترجمہ: فلسفہ میں ہیومن ازم ہر طرح کی فطریت اور کلیت کی ضد ہے۔ یہ ایک ایسا فلسفیانہ رجحان دیتا ہے جو انسانی تجربوں کی تشریحات کو ہر طرح کے فلسفہ کا اولین مرکز توجہ قرار دے اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کام کے لیے انسانی علم کافی ہے۔

8.6۔ ریشنلزم یا عقلیت پرستی

جب انسان ہی کو کائنات کا میزان ٹھہرایا گیا تو لازم ہوا کہ انسان محض اپنی عقل پر بھروسہ کرے اور وہ کسی بھی خارجی قدر، وحی اور ہدایت کا انکار کردے۔ وہ کائنات میں کار فرما عقائد، نظریات اور افکار وخیالات کو اپنی عقل کی میزان میں پرکھ کر فیصلہ کرے کہ وہ ریزن ایبل (Reasan able) ہیں کہ نہیں؟

ریشنلزم لاطینی لفظ Ratio سے مشتق ہے جس کا معنی ہے عقل یا Reason انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے مطابق ریشنلزم کی روح ان فلاسفروں سے مربوط ہے جو سترہویں اور اٹھارویں صدی میں یورپ میں پیدا ہوئے جن میں ڈیکارٹ(1650-1495)، اسپنوزا (1677-1632) اور لیبنز (1716-1646)شامل ہیں۔

ان مغربی فلاسفروں کے مطابق عقل کی بنیاد پر قطعی اور آفاقی سچ کا حصول ممکن ہے، چناں چہ جب انسان کو ہی تمام خیر وشر کے تعین کا حق حاصل ہے تو ایسی صورت میں خداپرستی کا کیا سوال؟ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو جدید فکر نے خدا کی جگہ ایک عقل پرست شخص کو بٹھا دیا، ڈیکارٹ کا کہنا تھا کہ ’’وہ ایک ایسی چیز کو حق کیوں کہے جو محض تصوراتی معلوم ہوتی ہے‘‘۔

ریشنلزم کی یہ فکرتمام یورپ میں سرایت کر گئی اور اس نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ اس فکر جدید کے پیغامبر ڈیکارٹ کے علاوہ والٹیئر، کانٹ، نطشے، شوپن ہار، ہیگل، فیورباخ، مارکس اور اینگلز وغیرہ تھے ان تمام فلسفیوں کی مجموعی فکر کا خلاصہ یہ تھا:

۱۔ انسان کائنات کا محور ومرکز [Anthropocentricity]

۲۔ آزادی بنیادی آئیڈیل ہے [Freedom is ideal]

۳۔ مساوات بنیادی قدر ہے [Equality is value]

۴۔ عقلیت معیار ہے [Reason is the criterion]

جب انسان کائنات کا محور ومرکز ہے اور آزادی بنیادی آئیڈیل ہے نیز عقل ہی معیار خیر وشر ہے تو پھر لازم ہوا کہ انسان اپنے آپ کی یا اپنی خواہش نفس کی پرستش کرے۔ خواہش نفس کی تکمیل اسی دنیا کو جنت بنائے بغیر ممکن نہیں جس کے لیے سرمایہ بنیادی ضرورت ہے۔ چونکہ مغربی مفکرین کے نزدیک کائنات کے دائمی ہونے کی نفی نہیں اس لیے انسان چاہتا ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے قیام کو طویل اور پرتکلف بنانے کی تگ ودو کرے۔جدیدعلمیت(Modren Epistemology) لوگوں کو جس کلمے پر جمع کر رہی ہے وہ لاالہ الا الانسان یعنی ’’کوئی معبود نہیں سوائے انسان کے ۔ چناںچہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی الوہیت کے اظہار کے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرے۔

8.7۔انسانی حقوق کا ماخذ

انسانی حقوق کے تمام تر تصورات اسی سرمایہ دارانہ عقلیت سے نکلے ہیں اور مغربی فلاسفروں کی اسی جاہلانہ فکر کی روشنی میں انسانی حقوق کامنشور تیار کیا گیا ہے۔ تہذیبِ جدید کے نزدیک ’’حقوق انسانی کا چارٹر‘‘ جسے یواین او نے اپنے ممبر ممالک پر لاگو کیا ہے یہ دورِ حاضر کا واحد اور آخری ’’حق‘‘ ہے اور ناقابلِ چیلنج ہے، اسی بنیاد پر یواین او کے تمام ممبر ممالک اس چارٹر پر دستخط کرنے کے پابند ہیں۔ یواین او کے کسی ممبر ملک میں ایسی کوئی سی بھی قانون سازی یا اجتماعی سرگرمی بروئے کار نہیں آسکتی جو حقوقِ انسانی کے چارٹر کے خلاف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حقوق انسانی چارٹر کو سرمایہ دارانہ مذہب کا نصابی صحیفہ ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

انسانی حقوق کے چارٹر کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے تین بنیادی ارکان ہیں: (۱) آزادی (۲)مساوات (۳) ترقی۔

انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق:

(۱) آزادی سے مراد یہ ہے کہ انسان آسمانی وحی کا محتاج نہیں اور نہ ہی انسان کو کسی مذہب کی ضرورت ہے، اس لیے کہ انسان اب ڈارک ایج (دورِظلمت) سے نکل آیا ہے۔ اب وہ اپنی عقل کی بنیاد پر اپنے لیے خیروشر کے پیمانے خود وضع کرسکتا ہے، وہ جو چاہنا چاہے چاہ سکتا ہے اور جو کرنا چاہے کر سکتا ہے، کوئی مذہب، عقیدہ اور اخلاقی ضابطہ اس کی چاہت میں حائل نہیں ہوسکتا۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان خود خدا ہے اور وہ اپنی ہی پرستش کرتا ہے۔

(۲) مساوات سے مراد یہ ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے برابر ہے، علم، بزرگی، مرد ہونا، استاذ یا باپ ہونا فضیلت کا کوئی درجہ نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب الیکشن ہوتے ہیں تو تمام ووٹروں کا ووٹ یکساں ہوتا ہے، عالم وزاہد اور زانی شرابی کا ووٹ برابر تصور کیا جاتا ہے۔

(۳) تیسری چیز ترقی ہے، جس کا مطلب ہے کہ انسان کو اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کمانے اور تمتع فی الدنیا کا حق حاصل ہے، چوں کہ انسانی حقوق کے مطابق ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو بھی فکر وعقیدہ رکھے (ریاست اس پر قدغن نہیں لگا سکتی) اس لیے ترقی کی اس دوڑ میں سود، سٹہ، جوا، دھوکہ، فریب، جبر وظلم سب روا ہے، حتیٰ کہ اگر ایک عورت اپنا جسم بیچ کر زیادہ سے زیادہ سرمایہ جمع کرنا چاہے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ ایسا کرے۔

8.8۔جمہوریت کیا ہے؟

اب ہم آتے ہیں جمہوریت کی طرف! … جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی سیاسی اور معاشرتی تنظیم… اور حقوقِ انسانی کے نفاذ کا آلہ کار ڈھانچہ ہے۔ جمہوریت ایسا تنظیمی ڈھانچہ ہے جو جبر کا ایک ایسا ماحول وضع کرتا ہے کہ فرد اللہ تاعلیٰ کی مرضی ومنشاء کو ترک کرکے صرف اپنی خواہش اور سرمائے کی بندگی کرے۔

ہم گزشتہ سطور میں واضح کرچکے ہیں کہ مغرب کا ایک خاص تصور انسان ہے جس کے مطابق انسان قائم بالذات ہے اور وہ ان معنوں میں آزاد ہے کہ اپنے لیے خیر وشر کے پیمانے خود وضع کرسکتا ہے۔

تاریخی طور پر جمہوریت کا تصور کئی سو سال قبل از مسیح بھی موجود تھا۔ افلاطون کی ’’ریپبلک‘‘ جمہوریت ہی کی ایک شرح ہے۔ یونان اور سلطنت روما کے مختلف ادوار میں بھی جمہوریت رائج رہی۔ پھر ایک عرصے تک یورپی ممالک میں بادشاہت قائم رہی… مگر ایک بات جو نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ کہ جمہوریت کبھی بھی کسی مذہبی معاشرے سے وابستہ نہیں رہی۔ اس لیے کہ جمہوریت کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ یہ صرف مذہب مخالف معاشروں سے ہی وابستہ ہوسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جمہوریت منکر الٰہ ورسول معاشروں کی حکومتی اور ریاستی صف بندی کا ایک خاص طریقہ ہے۔ جدید دور کی جمہوریت کا ایک خاص پس منظر اور اس کا ایک خاص تصور انسان ہے۔

جناب زاہد صدیق مغل کے بقول:

’’جمہوریت کو علمی بنیادیں فراہم کرنے کے سلسلے میں تھامس ہابس (Thomas Hobbas, 1588-1679)، جان لاک (John Locke, 1632-1704) اور جاک روسو (Jacques Rousseau, 1712-1778) کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نظام حکومت کی بنیاد ایک خودمختار (Autonomouy)، آزاد (Free) اور قائم بالذات (Self-oletermined) تصور فرد پر قائم ہے۔ اس تصور انسان کو ہیومن کہتے ہیں۔ یعنی یہ ایک ایسا ریاستی نظام ہے جس میں حکومت کا مقصد افراد کی زیادہ سے زیادہ آزادی کو ممکن بنانا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ خواہشات کو جیسے وہ چاہیں پورا کرسکیں۔

جمہوری سسٹم کی پہلی بنیاد انتخابات ہیں، جن میں مختلف لوگ امیدوار بنتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے ممبر بنیں گے۔ ریاست کے افراد انہیں مساوی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں، یعنی مرد وعورت، عالم وجاہل زاہد ومتقی اور چور ڈاکو زانی، شرابی سب مساوی بنیادوں پر اپنے اپنے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔ امیدوار بھی انتخابات میں مساوی حیثیت میں حصہ لیتے ہیں اس لیے کہ پارلیمنٹ کا رکن ایک شیخ الحدیث بھی بن سکتا ہے اور چور اچکا، منافع خور، اسمگلر اور قاتلوں کا سرغنہ بھی رکن بن سکتا ہے… الیکشن کے بعد جو لوگ پارلیمنٹ میں جاتے ہیں وہ پہلے ایک دستور وضع کرتے ہیں ( یا پہلے سے ایک وضع شدہ دستور ہوتا ہے جو اصلاً انسانی حقوق کے تابع ہوتا ہے) پھر اسی دستور کی روشنی میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ اس سارے عمل میں کتاب اللہ کا کوئی رول نہیں ہوتا۔

گوکہ پاکستان کے دستور میں ایک قراردادِ مقاصد کے ذریعے پارلیمنٹ کتاب وسنت کی روشنی میں قانون سازی کی پابند ہے مگر اس حقیقت سے جائے فرار نہیں کہ قرار دادِ مقاصد کی حیثیت محض ایک ’’علامت‘‘ کی ہے۔ پھر اس میں بھی آزادیٔ فرد کے تمام تصورات کو اس طرح سمو دیا گیا ہے کہ بالآخر حقوق انسانی کا کافرانہ ومشرکانہ چارٹرہی بالادست ٹھہرتا ہے۔

جمہوری سسٹم میں بیوروکریسی یا انتظامیہ (محکمہ جاتی افراد، پولیس، فوج) اور عدلیہ، یہ تمام حکومتی طبقے سرمایہ دارانہ تصورات اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام ونفاذ کے ضامن ہوتے ہیں… یوں جمہوری سسٹم کے ذریعے سرمایہ دارانہ جبر کا ماحول پروان چڑھتا ہے جہاں ہر انسان اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ:

٭ مذہب کو اپنی اجتماعی زندگی سے نکال کر انفرادی زندگی تک محدود کردے۔

٭ عبادت الٰہی کو حتی الامکان کم وقت دے اور سرمائے کی بڑھوتری کے لیے زیادہ وقت صرف کرے۔

٭ اپنے معاشرتی تعلقات کو محدود کردے۔

٭ دینی تعلیمات کو سیکھنے کی بجائے سوشل سائنسز کو فوقیت دے تاکہ وہ سرمائے کی بڑھوتری میں زیادہ بہتر انداز میں شمولیت کرسکے۔ دینی مدارس میں اصلاحات کے لیے مغربی ممالک کا دباؤ اور مدارس میں سوشل سائنسز اور کمپیوٹر سائنسزکو داخل کرنے کا مطالبہ اسی لیے ہے کہ وہ علماء کو اور طلبہ کو بے کارِمحض سمجھتے ہیں اور انہیں ’’کارآمد‘‘ بنانے کے لیے اس قسم کی اصلاحات پرزور دیتے ہیں ایک طرف تو بات ہے دوسری طرف یہ مقصد بھی ہے مدارس کے نظام میں دخل اندازی کرکے وارثانِ محراب ومنبر کو توکل، قناعت اور زہد وتقویٰ کی راہ سے ہٹا کر مادیت کا پرستار بنا دیا جائے۔

اس تفصیل کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جمہوریت اپنے ماخذات کی بنیاد پر اسلام سے مکمل طور پر متصادم اور باطل نظریہ ونظام ہے، اس نظام میں حصہ لینا، ووٹ دینا اور لینا مندرجہ ذیل وجوہ کی بناء پر درست نہیں۔

8.9۔ جمہوریت عبدیت کا انکار ہے

جمہوری حکومت کی پہلی بنیاد حاکمیتِ عوام ہے، جمہوریت کی تعریف ہی یہ ہے: Goverment of the people by the people for the people. یعنی ’’عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لئے‘‘… یہ جمہوریت کا پہلا بنیادی اصول ہے۔ جو کھلا کلمۂ کفر ہے اس لیے کہ اس میں اللہ تاعلیٰ کی حاکمیت اور اقتدار کے انکار کے علاوہ انسان کی بندگی کا بھی انکار ہے۔ دوسرے لفظوں میں حاکمیتِ انسان کا مطلب انسان کو اللہ تاعلیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

اَلَالَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْر (الاعراف)

لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْن (القصص)

وَلَایُشْرِکُ فِی حُکْمِہٖ احداً (الکہف)

اِنِ الْحُکْمُ اِلّاﷲِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلّا اِیّاہٗ (الیوسف)

ان آیات کے علاوہ بھی متعدد آیات ہیں جن میں اللہ تاعلیٰ کی ذاتِ اقدس ہی حکم وحکومت کے سزاوار ہے۔ قانونِ شریعت میں انسان اللہ کا بندہ اور خلیفہ ہے، اسے یہ حق نہیں کہ خودخدا بن بیٹھے۔ بہرحال ان آیات کی روشنی میں جب ہم جمہوری عمل کا جائزہ لیتے ہیں تو مندرجہ ذیل قباحتیں سامنے آتی ہیں:

8.10۔جمہوریت شرک فی الحکم ہے

مقنن اللہ تاعلیٰ کی ذات ہے، انسان عبد ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ وہ قوانینِ شریعت کو بلاچوں وچرا تسلیم کرے اور ان پر عمل درآمد کرے۔ انسان کو حق حاصل نہیں کہ وہ خودقانون ساز بن کر بیٹھ جائے اور حاکمیتِ الہٰ میں شریک ہو جائے۔ ایسا کرنا شرک فی الحکم ہے۔ (یہ بات یاد رہے کہ یہ بات شرک جب ہے کہ انسان اللہ تاعلیٰ کو اپنا معبود والہٰ بھی مانتا ہو، اگر وہ حاکمیتِ انسان کا یہ مطلب لے کہ ذات باری تاعلیٰ کا کوئی وجود نہیں وہ خود ہی حاکم ہے تو یہ دہریّت ہے)

قرآن مجید میں شرک کے بارے میں فیصلہ ہے کہ:

اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمان۔ ۱۳)

’’بے شک شرک ظلمِ عظیم ہے‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَن یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَن یَّشاء (النساء۔۱۱۶)

’’بے شک اللہ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اس کے علاوہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔‘‘

جمہوریت انسانوں کو یہ حق فراہم کرتی ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنی حاکمیت کو قائم کریں، پارلیمنٹ میں اپنے نمایندے بھیجیں قانون سازی کریں، چناںچہ یہ عمل شرک ہونے کے سبب باطل ہے۔

8.11۔الٰہی نظام سے بغاوت کا سرچشمہ

الف: جمہوری قوانین کے ماخذ انسانی حقوق کے چارٹر میں انسانوں کا پہلا حق آزادی (Freedom) کو تسلیم کیا گیا ہے۔ آزادی کا یہ حق انسانی حقوق کا بہت خاص حق ہے اور ہرممکن کوشش کی گئی ہے کہ آزادی (اللہ تاعلیٰ سے بغاوت، راہِ بندگی سے فرار) کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ آزادیٔ رائے، آزادیٔ اظہار، آزادیٔ مذہب وعقیدہ، آزادیٔ نسواں اور کئی دیگر قسم کی آزادیوں کو اس ایک فارم (form)میں سمو دیا گیا ہے۔ چناںچہ جمہوری پارلیمنٹ میں جو بھی قانون سازی کی جاتی ہے وہ آزادی کی تمام اقسام کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے، ہم یہ بتا آئے ہیں کہ انسانی حقوق کے چارٹر میں انسانوں کو دی گئی آزادی کا مطلب انکارِ بندگی کے سوا کچھ نہیں۔

قرآنی فکر کے مطابق انسان آزاد نہیں ہے، وہ بندہ ہے اللہ وحدہ لاشریک کا، چنانچہ اسے حکم ہے کہ وہ اسی کی بندگی کرے، بندگی بھی ایسی جس میں غیراللہ کی بندگی کا شائبہ بھی نہ ہو۔

وَمَااُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوْآ اِلھٰاً وَّاحِداًلَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَسُبْحَانَہ عُمَّایُشْرِکُوْن

’’انہیں صرف ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘

وَمَااُمِرُوْا اِلَّالِیَعْبُدُوا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاءَ (البیّنہ:۵)

’’اور نہیں حکم دئیے گئے مگر یہ کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں اس کی خالص طاقت کے ساتھ بالکل یکسوہوکر‘‘۔

اسی طرح قرآن مجید میں دیگر کئی مقامات پر اپنی بندگی کو خالص اللہ تاعلیٰ کے لیے وقف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، قرآنی احکام کے بعد کہیں اس بات کی گنجائش نہیں رہتی کہ اسلام کے دائرے سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام کی طرف اور کسی قسم کے ’’ازم‘‘ کی طرف نگاہِ التفات کی جائے۔ انسان کو اگر آزاد اور خود مختارتصور کیا جائے تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ رب کا بندہ نہیں رہا تو شیطان کا بندہ ہے، .

انسانی حقوق کا دوسرا رکن مساوات (EQUALITY) ہے۔ مساوات کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ مرد وعورت، عالم وجاہل، بدکار ونیکوکار ایک ڈاکو اور متقی انسان سب برابر ہیں۔ کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں۔ اسی معنی میں ہر انسان کا ووٹ برابر ہے، ہر انسان پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا اہل ہے اور ہر انسان ترقی کے عمل میں شریک ہوسکتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے مطابق تمام انسان قانون کی نظر میں برابر ہیں، جبکہ اسلام میں مساوات کا ایسا کوئی تصور نہیں۔ اسلام مرد اور عورت میں فرق کرتا ہے۔ وہ ذمّی اور معاہد میں فرق کرتا ہے وہ عالم اور جاہل میں فرق کرتا ہے، اسلام ہر شخص کے ہر موضوع پر رائے دینے کا قائل نہیں۔ مرد بیک وقت چار شادیاں کرسکتا ہے عورت نہیں۔ مرد طلاق دیتا ہے عورت نہیں۔ جمہوریت کا نصابی صحیفہ ’’انسانی حقوق کا چارٹر‘‘ ہر انسان کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنے لیے جیسا چاہیں خیر وشر کا پیمانہ تجویز کرسکتے ہیں۔ قرآن ان تمام تصوراتِ مساوات کو رد کرتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے

ورفعنا بعضم فوق بعض درجات (الآیۃ)… لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل (الآیۃ) … لایستوی اصحاب النار واصحاب الجنۃ (الآیۃ)… ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون (الآیۃ) … چنانچہ مساوات کی مندرجہ بالا فکر اسلام سے مکمل طور پر متصادم اور باطل ہے۔

انسانی حقوق کے چارٹر کا تیسرا بنیادی رکن ترقی (PROGRESS) ہے۔ چوںکہ سرمایہ دارانہ علمیت کے پاس موت کے بعد زندگی کا کوئی تصور نہیں اس لیے انسان کی تمام تگ ودو کا محور یہی دنیوی زندگی ہے۔ چناںچہ انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق ہر انسان کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ جمع کرنے اور سامانِ تعیش حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس معنیٰ میں ترقی کا مطلب سرمائے کی بڑھوتری بڑے بڑھوتری کے عمل کو تیز تر کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ بینک، اسٹاک ایکسچینج اسی بڑھوتری سرمایہ اور حرص وحسد کے فروغ کے ادارے ہیں تکاثر کا عمل دہرایا جاتا ہے ، سود، سٹہ، جوا، دھوکہ فریب اور ٹیکسزسرمایہ دارانہ معیشت کا خاص ہتھیار ہیں۔ ان اداروں سے وابستہ افراد کی زندگی کا محور ومقصد محض پیسہ ہوتا ہے اور وہ ہر اس طریقے کو اختیار کرتے ہیں جس کے ذریعے سرمایہ اکٹھا ہوسکے۔

اسلام اس طرز فکر کو مکمل ردکرتا ہے۔ قرآن مجید دنیوی زندگی کو اس معنی میں اہمیت نہیں دیتا کہ انسان لذات کے حصول اور خواہشات نفس کی تکمیل میں لگ کر اپنے مقصدِ اصلی کو بھول جائے۔ اور زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی ہوس میں مبتلا ہوجائے، بلکہ وہ دنیوی زندگی کو لہوولعب، دھوکہ وفریب قرار دیتا ہے۔ چناںچہ قران مجید میں ارشاد ہے:

اِعْلَمُوْا اَنَّما الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَھْوٌ وَزِیْنَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُر فِی الاِمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ۔کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہُ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرّاً ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَاماً وَفِی الآخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَمَغْفِرَۃٌ مِنَ اﷲِ وَرِضْوَانَ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّامَتَاعُ الْغُرُوْر۔ (الحدید:۲۰)

’’جان رکھو! دنیا کی زندگی… لہو ولعب، زینت اور مال اولاد کے معاملے میں باہمی تفاخر وتکاثر ہے (اس کی) مثال بارش کی ہے جس کی اگائی ہوئی فصل کافروں کے دل موہ لے پھر وہ بھڑک اٹھے اور تم اسے زرد دیکھو اور پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔ اور آخرت میں ایک عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

8.12۔تکمیل دین کا انکار

قرآن مجید میں فرمادیا گیا ہے

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً…

اکمالِ دین اور اتمام نعمت کے بعد کافرانہ نظام حکومت کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا اور اس پر مداومت اختیار کیے رکھنا تکمیل دین اور اتمام نعمت کا انکار ہے۔ تکمیل دین واتمام نعمت کا مطلب ہی یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے آغا زہونے والے دینِ اسلام کا سلسلہ تدریجی مراحل طے کرتا ہوا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر اپنے اوج کمال کو پہنچ گیا، اللہ تاعلیٰ نے اپنی آخرت کتاب ہدایت نازل کردی اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تاعلیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ ہمارے نزدیک عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر زمانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیث مبارکہ خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونہم کا عین مصداق تھا۔

تمام مسلمانو ں کے لیے دین اسلام کی صورت میں ایک خاص طریقہ اور ضابطۂ حیات متعین کردیا گیا ہے۔ اب اس ضابطے سے باہر نکلنا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَاوَصَّیٰ بِہٖ نُوْحاً وَّالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرَاہِیْمَ وَمُوْسیٰ وَعِیْسیٰ اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلَاتَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ، کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَاتَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ۔ (الشوریٰ۔۱۳)

’’ اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پید انہ کرو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طر ف تم نے ان کو دعوت دے رہے ہو۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

ثُمَّ جَعَلْنَاکَ عَلیٰ شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَائَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْن (الجاثیہ۔ ۱۸)

’’پھر ہم نے تم کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا تو تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔‘‘

قرآن مجید کی ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے طریقۂ زندگی، ضابطۂ حیات، دائرۂ کار خواہ انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی معاملات قانون شریعت ہی ہے، اس سے انحراف کی راہیں تلاش کرنا اور کسی دوسرے طریقۂ زندگی کو پسند کرنا جائز نہیں ۔

ہمارے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت اختیار کرنے اور اس پورے نظام کو اس طرح اپنے اوپر حاوی کرلینا کہ شریعت معطل ہوجائے، احکام دین کھلم کھلا پامال ہونے لگیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جانے لگے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ہندو ہوجائے عیسائیت قبول کرلے یا بدھ مت اختیار کرلے، اس لیے کہ جمہوری نظام کو قبول کرنے اس پر مداومت اختیار کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ شریعت اب چند اجزاء مثلاً عبادات کے علاوہ اور کچھ قابل عمل نہیں اور خلافت کا ادارہ ناقابلِ قیام ہے۔ ظاہر ہے یہ فکر اور طرزعمل اللہ تاعلیٰ کے ہاں سند قبولیت حاصل نہیں کرسکتا، بلکہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تاعلیٰ کا اعلان ہے:

وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالاِسْلَامِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبِلْ مِنْہُ وَھُوَ فِی الآخِرَۃِ مَنَ الْخَاسِرِیْن (آل عمران:۸۵)

’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب بنے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔‘‘

آخرت کی نامرادی اور خسارہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت بھی ایک دوسری جگہ ارشاد فرمادی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَمَنْ یُّشَاقِّقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَہُ الْھُدیٰ وَیَتَّبِعْ غَیْرَسَبِیْلِ الْمُؤْمَنِیْنِ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَائَ تْ مَصِیْراً (النساء: ۱۱۵)

’’اور جو کوئی راہِ ہدایت واضح ہوچلنے کے بعد رسول کی مخالفت کرے گا اور مسلمانوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے گا تو ہم اس کے بعد اس کو اسی راہ پر ڈالیں گے جس پر وہ پڑا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ براٹھکانا ہے۔‘‘

جمہوری نظام کفار کا طرز حکومت وسیاست ہے چناںچہ غیرسبیل المؤمنین ہے۔ اللہ تاعلیٰ کی ہدایت آچکنے کے بعد کوئی دوسری راہ اختیار کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے مؤمنین کے راستے سے الگ راہ نکالنا اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے اور شرک ہر طرح کی برائیوں کا منبع ہے کیونکہ مشرک اللہ سے کٹ کر اپنی باگ شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے اور جو شخص اپنی باگ شیطان کے ہاتھوں میں تھما دے وہ معاشرے کا بدترین انسان ہوتا ہے۔ غیرسبیل المؤمنین کے شرک ہونے کا قرینہ اگلی آیت ہے جس میں مذکورہ آیت (ومن یشاقق الرسول الخ) کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے۔

اِنَ اﷲَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکْ بِہٖ وَیغفر مادون ذالک لمن یشاء ومن یشرک باﷲ فقد ضل ضلالاً بعیداً (النساء: ۱۱۶)

’’بے شک اللہ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اس کے نیچے جس چیز کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔‘‘

8.13۔ اکثریتی بنیادوں پر فیصلوں کا باطل فلسفہ

جمہوری سسٹم میں فیصلوں کی بنیاد کتاب اللہ، علم وحکمت نہیں بلکہ اکثریت جس چیز کو چاہے اس چاہت اور خواہش کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جس امیدوار کو زیادہ ووٹ مل جائیں خواہ کس قدر کرپٹ آدمی ہو مگر دوسری طرف کوئی شریف امیدوار تھا اور اہل آدمی بھی ہے تب بھی مقابلے میں چوں کہ پہلاشخص زیادہ ووٹ لے چکا ہے اس لیے وہی کامیاب کہلائے گا۔ اسی طرح پارلیمنٹ میں بھی قوانین اکثریت کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں۔ اکثریت کی بنیاد پر فیصلوں کا انعقاد بہت بڑی گمراہی اور ضلالت ہے، پھر جب اکثریت بڑی جہلِ مرکب ہوتو اس کی گمراہی ضلالت میں کیا شک وشبہ ہوسکتا ہے۔ یہ اکثریت جب پارلیمنٹ میں قوانین مرتب کرے گی تو اپنی افتادِ طبع، نفسانی خواہشات اور جہالت کی بنیاد پر کرے گی۔ چناںچہ زنا کا فروغ، سودی کاروبار کا استحکام اس پارلیمنٹ کا خاص وظیفہ ٹھہرتا ہے ( جیسا کہ ہم حقوقِ نسواں بل دیکھتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ اسلام نے محض اکثریت کی بنیاد پر فیصلوں کو رد کیا ہے اور اکثریت کی پیروی کو ضلالت وگمراہی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیلِ اﷲِ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْن (الانعام:۱۱۶)

’’اور اس زمین والوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ اگر تم نے ان کی بات مانی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔ یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔‘‘

آیت کریمہ میں صرف اکثریت کو رد نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بارے میں یہ حقیقت بھی بیان کردی گئی کہ ان کے فیصلے محکم بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے بلکہ وہ ظن وتخمین سے کام لیتے اورہوا میں تیر چلاتے ہیں… بھلا ایسے لوگ بھی ملت کی قیادت وسیادت کے لیے اہل ہوسکتے ہیں؟… پھر اکثریت کو کسی ایک جگہ قرار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے ہی عہد کو باربار بدلتے رہتے ہیں اور یہ فساق وفجار کی خاص نشانی ہے۔ دیکھئے قرآن مجید میں کس خوبی سے اس بات کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِنْ عَہْدٍ، وَاِنْ وَجَدْنَا اَکْثَرَھُمْ لَفَاسِقِیْن (الاعراف:۱۰۲)

’’اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی، ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے‘‘۔

دورنبوت اور دور صحابہ وتابعین میں بھی کبھی اکثریت کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیے گئے۔ ذخیرۂ احادیث میں بھی ہمیں کوئی ایک حدیث نہیں ملتی جس میں اکثریت کے فکر ونظر اور فیصلوں کو سراہا گیا ہو اور اکثریت کو بطورِ اصول قبول کیا گیا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ عموماً اکثریت کا فلسفہ باطل، گمراہی اور فسق وفجور کے سوا کچھ نہیں۔

8.14۔ تقسیم اور پارٹی بازی

اسلام دین توحید ہے، وہ امت کو وحدت کا عقیدہ ونظریہ دیتا ہے، اسلام کے نزدیک تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں وہ ایک جسم کی مانند ہیں، قرآن مجید نے مسلمانوں کو، خواہ عرب کے ہوں یا عجم کے، شرق میں رہتے ہوں یا غرب میں سب کو ’’امت واحدہ‘‘ کا عقیدہ دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ (المؤمنون:۵۲)

’’بے شک تمہاری امت ہی ایک امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

مثل المؤمنین فی توادھم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد اذا اشتکیٰ عضو تداعی لہ سائرا الجسد باالسہر والحمیٰ (مسلم)

’’مسلمانوں کی مثال باہمی مودت ومرحمت اور محبت اور ہمدردی میں ایسی ہے جسے ایک جسم کی، اگر اس کے ایک عضو میں کوئی شکایت پید اہوتی ہے تو سارا جسم اس تکلیف میں شریک ہوجاتا ہے۔‘‘

اسی کے ہم معنی صحیحین کی حدیث ہے:

المؤمن للمؤمن کاالبنیان یشد بعضہ بعضا

’’ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے ایسا ہے جیسے کسی دیوار کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے۔‘‘

ان آیات واحادیث سے واضح ہوتا ہے کہ وحدت امت، اتحاد واتفاقِ امت اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنااہم ہے۔ وحدتِ امت گویا مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا بنیادی مصدر ہے۔ اور جوشخص اس وحدت کو ختم کرنے کے درپے ہو اس کے لیے شدید وعیدیں ہیں۔

ایک طرف دین اسلام کا یہ حکم ہے دوسری طرف تقسیم، پارٹی بازی اور گروہ بندی جمہوری نظام کا بنیادی عنصر ہے۔ کامیاب جمہوریت وہی تصور کی جاتی ہے جہاں حزب اقتدار کے مقابلے میں ایک مضبوط حزب اختلاف بھی ہو۔ یہ حزب اختلاف ایک پارٹی پر مشتمل ہوسکتی ہے اور کئی پارٹیوں کا مجموعہ بھی۔ بعینہٖ یہی صورت اقتدار کی ہوسکتی ہے، ہر پارٹی کے اپنے نظریات اور اپنے اہداف ہوتے ہیں۔ جمہوری سسٹم میں حصہ لینے والی تمام جماعتیں حقوق کی سیاست کر رہی ہوتی ہیں۔ حقوق کی سیاست کا مطلب اغراض کی سیاست ہے مثلاً ایک قوم پرست جماعت محض اپنی قوم کے مفادات کی سیاست کرتی ہے وہ اپنے دائرۂ کار میں دوسری قوم کوشامل نہیں کرتی، لسانی بنیادوں پر قائم کوئی بھی جماعت دوسرے لسانی گروہ کے لیے کام نہیں کرتی۔ فرقہ کی بنیادوں پر قائم کوئی بھی جماعت دوسرے فرقہ یا جماعت کے مفاد کے لیے ہرگز کام نہیں کرتی۔ چوںکہ اغراض سب کی جداجدا ہوتی ہیں اس لیے ہر چند افراد کا گروہ اپنی ایک جماعت بنا کر سرگرم ہوجاتا ہے، یوں تقسیم درتقسیم کا یہ عمل بڑھتا چلا جاتا ہے، آج ہم اس کے بھیانک نتائج کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں، سیکولر اور قوم پرست جماعتوں کی ہم بات نہیں کرتے ہاں علماء کی جماعتیں ہی کئی کئی گروہوں میں بٹ گئیں۔ جمہوری سسٹم میں مسلسل شمولیت کی وجہ سے اہل دین کی قوت بکھر گئی، ان کا رعب اٹھ گیا، وہ اجتماعی موقف نہ ہونے کی وجہ سے کوئی آواز اٹھاتے ہیں تو صدابصحرا ثابت ہوتی ہے، ان کے جائز مطالبات کو بھی درخوراعتنانہیں سمجھا جاتا، فاسق وجابر حکمران اتنے جری ہوچکے ہیں کہ مسجدیں میں شہید کردیں۔ معصوم طلبہ اور حیاء وعفت کی پیکر طالبات کا قتل عام کریں مجاہدین کو تہ تیغ کریں، جہاد کو دہشت گردی قرار دیں… مجاہدین اسلام کو پکڑ پکڑ کر بگرام، گوانتاناموبے اور ملک کے کونے کونے میں قائم عقوبت خانوں اور اذیت گاہوں کو آباد کریں… انہیں کھلی چھوٹ ہے۔

8.15۔ جمہوری ریاست میں پارلیمنٹ کا کردار

پارلیمنٹ جمہوری ریاست کا وہ ادارہ ہے جہاں عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمایندوں کو بھیجتے ہیں تاکہ وہ ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ان کے مفاد میں قانون سازی کریں۔ بادی النظر میں یہی سمجھا جاتا ہے مگر اصلاً پارلیمنٹ سرمایہ داری کے نفاذ کا ادارہ ہے۔ سر مایہ دارانہ اداروں کی اسی کے ذریعے نموہوتی ہے۔ پارلیمنٹ میں وہی قانون سازی کی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ مذہب وعقیدہ سے مطابقت رکھتی ہو، اگر عوامی خواہش اس کے برعکس ہوتو اس کی مزاحمت کی جاتی ہے بصورت دیگر اس پورے نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم صوبہ سرحد کی ایم ایم اے حکومت کے 2008-2002 حسبہ بل کے ضمن میں دیکھتے ہیں یا جیسے الجزائر میں اسلامک فرنٹ کی کامیابی کے باوجود پورے نظام کی بساط لپیٹ دی گئی ۔ ارکان پارلیمنٹ مقنن یا قانون ساز ہوتے ہیں اور یہ قانون سازی مذہب سرمایہ داری کے نصابی صحیفے انسانی حقوق کے چارٹر کے دئیے گئے دائرے میں رہتے ہوئے ہوتی ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع امت کو حوالہ نہیں بنایا جاتا، بلکہ قرآن وسنت کے علی الرغم قانون سازی ہوتی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو حکم اور حکومت کے وہ تمام اختیارات جو اللہ رب العزت کو سز اوار ہیں وہ ارکارن پارلیمنٹ اپنے لیے خاص کرلیتے ہیں ۔ حقوقِ نسواں بل، سود کے حق میں حکومت کے فیصلے، عائلی قوانین، اور کئی دیگر ظالمانہ استبدادی قوانین ارکانِ پارلیمنٹ کی اسی الوہیت کے مظہر ہیں۔ قرآن کریم اور سنت میں اس قسم کی قانون سازی کی کوئی گنجائش نہیں خصوصاً جو شخص اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلائے اور پھر مقنن بھی بن بیٹھے، یہ ایمان واسلام کے ساتھ بدترین مذاق ہے، قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے:

۱۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَن لَّا تَعْبُدُوْا اِلّا اِیَّاہ (یوسف:۴۰)

’’اختیار واقتدار صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو‘‘۔

۲۔ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہُ لِلّٰہ (آل عمران۔۱۵۴)

’’تحقیق سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے‘‘

ایک طرف قرآن حکیم کی آیات محکمات ہیں دوسری طرف ارکان پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہیں قانون بنا دیں خواہ وہ کتاب اللہ کے خلاف میں ہی کیوں نہ ہو… یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ ہماری نظر میں:

٭ اللہ رب العالمین کی بجائےکتاب اللہ کے استرداد کا مرکز ہے۔

٭ انسانوں کی حاکمیتِ اعلیٰ اور اقتدار اعلیٰ کا مظہر ہے۔

٭ کافرانہ ومشرکانہ اقتدار کا منبع ہے۔

٭ فحاشی وعریانی، زناوشراب اور اباحیت زدہ معاشرے کے تحفظ اور فروغ کا ادارہ ہے۔

٭ سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کی ادارتی صف بندی کرنے کا مرکز ہے۔

یہ ہم نے جمہوریت کے بارے میں چند اصولی باتیں ذکر کی ہیں اور سرمایہ دارانہ مذہب کے چند اساسی نظریات کا تجزیہ کیا ہے۔ ابھی جمہوری ریاست کی عدلیہ کا کردار زیربحث نہیں لایا جاسکا جو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ جب سرمایہ دارانہ عدل کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ظلم ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ سرمایہ دارانہ مذہب جس چیز کو عدل تصور کرتا ہے اسلام کے نزدیک وہ عین ظلم ہے جیسے نظریۂ آزادی اور جس چیز کو اسلام عدل قرار دیتا ہے سرمایہ دارانہ مذہب اسے ظلم قرار دیتا ہےمثلاً عبدیت، بندگیٔ الہٰ مثلاً اسلامی احکام یاجیسے چور کا ہاتھ کاٹنا، زانی کو سنگسار کرنا، شراب پینے پر کوڑے لگانا وغیرہ۔

سردست جو تفصیل ہمارے سامنے آئی ہے اس کے مطابق سرمایہ داری جمہوریت، انسانی حقوق کا چارٹرکفر مطلق، شرک، ضلالت وگمراہی، بغاوت الٰہی اور بدترین ظلم وتعدی کا مجموعہ ہے۔ ہم نے اس نظام کو اسی طرح کفر مطلق کہا ہے جس طرح یہودیت، عیسائیت، ہندومت، بدھ مت، اور سکھ مت کفر مطلق ہیں۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد اب ہمارے لیے آسان ہوگیا ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں بھی خامہ فرمائی کرسکیں۔

8.16۔ ووٹ کیا ہے؟

ووٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک رائے، شہادت اور مشورہ ہے… اوّلاً ہمیں یہ رائے تسلیم کرنے میں تامّل ہے، ووٹ نہ رائے ہے نہ شہادت اور نہ ہی مشورہ… ثانیاً اگر یہ سب مان بھی لیا جائے تو پچھلی تفصیل کو تسلیم کرنے کے بعد ووٹ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ووٹ دینے والا اپنی طرف سے ایک نمایندہ بھیج رہا ہے جو جمہوری نظام میں شرکت کرے، پارلیمنٹ کا ممبر بن کر شرک، بغاوتِ الٰہی اور ظلم وتعدی کا مرتکب ہو۔ کیا اسلام میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کوئی شخص مذکورہ منکرات کے ارتکاب کے لیے رائے اور گواہی دے اور کیا ایسی گواہی اور ایسا مشورہ جائزامر کے ضمن میں آئے گا؟… ظاہر ہے شریعت اسلامیہ میں ایسی کسی گواہی اور مشورے کی گنجائش نہیں… ایسی رائے، گواہی اور مشورہ سب باطل ہیں… اس کا ارتکاب کرنے والا عنداللہ مجرم ہے۔

دوسری بات یہ کہ اگر کہا جائے کہ اہل اور دیانت دار شخص کو ووٹ دیا جائے تو بھی وہ دیانت دار شخص جائے گا تواسی جمہوری سسٹم میں!… اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگر بالفرض ہمارے ہاں ہندومت غالب آجائے اور مندر کو پارلیمنٹ کی حیثیت دے دی جائے اور اعلان کیا جائے کہ مندر ہی آیندہ تما م سیاسی ومعاشرتی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا اور مسلمان بھی اس مند ر کے ممبر بننے لگیں، اپنی عبادات کے علاوہ پوجا پاٹ کے نظام کو قبول کرلیں اور پروہت بننے میں فخر محسوس کریں تو جس طرح اسلام میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں اسی طرح پارلیمنٹ کا ممبر بننے کی بھی گنجائش نہیں۔ مندر میں بتوں کی پوجا کی جاتی ہے جبکہ پارلیمنٹ میں انسان اپنی بندگی کرتاہے یا سرمائے کی بندگی، جیسے مندر ہندومت کے عملی اظہار کی جگہ ہے اسی طرح پارلیمنٹ مذہبِ سرمایہ داری (جو کفر مطلق ہے) کے اظہار کی جگہ ہے۔ تو جس طرح پنڈت پروہت بننے کی اسلام میں قطعی گنجائش نہیں اسی طرح پارلیمنٹ کا ممبر بننے کی گنجائش کیوں کر نکالی جاسکتی ہے؟

ہماری نظر میں ووٹ نہ مشورہ کی حیثیت رکھتا ہے نہ گواہی کی بلکہ سرمایہ دارانہ نظم میں جس طرح انسان اپنی آزادی کا اظہار سرمائے کے ذریعے کرتا ہے اسی طرح وہ اپنی آزادی کا اظہار ووٹ کے ذریعے بھی کرتا ہے۔ ووٹ کے بارے میں وہ اپنے سرچشمۂ قوت، منبعِ اقتدار واختیار ہونے یعنی اپنا خدا خود ہونے کا اعلان کرتاہے۔

پھر اگر ووٹ کو بالفرض مشورہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو کیا مشورہ سے متعلق جتنی بھی اسلامی تعلیمات ہیں وہ یہاںپائی جاتی ہیں؟ ووٹنگ میں بلاقیدِجنس ومذہب ہر شخص حصہ لے سکتا ہے، کیا اسلامی نکتۂ نگاہ سے مشورہ ورائے ہر شخص سے لیا جاسکتا ہے؟ مثلاً کہیں اسلامی ریاست میں کسی جگہ قاضی مقرر کرنا ہوتوکیا اس کام کے لیے صرف علماء وصلحاء اور اتقیاء سے مشورہ لیا جائے گایا ان کے ساتھ بھنگی، چرسی، زانی، شرابی، ڈاکو کو بھی مشورے میں شامل کیا جائے گا؟… یا مثلاً کہیں بیماریوں کی آفت آگئی ہے اور وہاں ماہر ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے تو اس کے لیے ماہر ڈاکٹروں سے ہی مشورہ لیا جائے گا یا قصائیوں، نائیوں اور طبلہ سارنگی بجانے والوں کو بھی مشورے میں شامل کیاجائے گا؟

اسلام نے تو مشورے کے بارے میں خاص تعلیمات دی ہیں، حدیث شریف میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کے بعد ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس میں قرآن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور آپ سے بھی اس کا کوئی حکم ہمیں نہیں ملا تو ہم کس طرح عمل کریں؟

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اجمعوا لہ العابدین من امتی واجعلوہ بینکم شوریٰ ولاتقضوا برأی واحد (روح المعانی)

’’اس کے لیے میری امت کے عبادت گزاروں کو جمع کرلو اورآپس میں مشورہ طے کرلو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔‘‘

اس روایت کے بعض الفاظ میں فقہاء وعابدین کا لفظ آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ مشورہ ان لوگوں سے لینا چاہیے جو فقہاء یعنی دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور عبادت گزار ہوں۔ صاحبِ روح المعانی نے لکھا ہے کہ جو مشورہ اس طریق پر نہیں ہے بلکہ بے علم، بے دین (یعنی فسّاق وفجّار) لوگوں میں دائر ہوگا اس کا فساد اس کی صلاح پر غالب رہے گا۔

اگر ووٹ کو گواہی تسلیم کیا جائے تو کیا یہاں گواہی کی شرائط اور حدودوقیود موجود ہیں؟ مثلاً گواہ عادل ہو، بالغ ہو، شریف ہو، کہ پنج وقتہ نمازی ہو، حلال وحرام کو جانتا ہو، یہاں بیش تر اکثریت ایسی ہے، جو طہارت اور نماز کے بنیادی مسائل سے بھی واقف نہیں۔ فقہاء نے درج ذیل اشخاص کی گواہی ناقابل قبول قرار دی ہے:

(۱) نماز روزے کا عمداً تارک ہو، (۲) یتیم کا مال کھانے والا (۳) زانی اور زانیہ (۴) لواط کا مرتکب (۵) جس پر حد قذف لگ چکی ہو (۶) چور ڈاکو (۷) ماں باپ کی حق تلفی کرنے والا (۸) خائن اور خائنہ…

اگر کہا جائے کہ ووٹ ایک امانت ہے سوال ہوگا کہ یہ امانت بندوں کو کس نے تفویض کی؟ آیا اللہ تاعلیٰ کی طرف سے تفویض ہوئی یا جمہوریت نے تفویض کی؟ یقینا اللہ تاعلیٰ کی طرف سے نہیں کہا گیا کہ جب تمہیں امیر مقرر کرنا ہوتو سب لوگ مل کر ووٹ ڈالا کرو، نہ ہی سنت سے اور تعاملِ امت سے اس عمل کی کوئی توثیق ملتی ہے۔ہاں! جمہوریت کی تفویض کردہ امانت ہوسکتی ہے مگر باطل امانت ہے، یہ ایسی ہی امانت ہے کہ جیسے کوئی شخص شراب کی بوتل آپ کے پاس بطور امانت رکھنے آئے تو کیا آپ اس بوتل کو دیکھتے ہی توڑنے کے درپے ہوں گے یا حفاظت سے رکھنے کی کوشش کریں گے؟

بعض لوگ بہت دور کی کوڑی لاتے ہیں اور ووٹ کو بیعت کا قائم مقام قرار دیتے ہیں ووٹ بھلا بیعت کے قائم مقام کیسے ہوسکتا ہے؟ بیعت سمع وطاعت کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہاں تسلیم کرنے کے سوا دوسرا راستہ نہیں جبکہ ووٹ آزادی کے اظہار کا ذریعہ ہے یہاں آپ آزاد ہیں کہ چاہیں تو مسلم لیگ کو ووٹ دیں چاہیں تو پی پی پی کو چاہیں تو کسی دیانت دار شخص کو ووٹ دے دیں۔چاہیں کسی ڈاکو یا زانی کو۔

ووٹ کے حوالے سے چند دیگر عملی مسائل بھی ہیں مثلاً:

ووٹروں کی اکثریت اپنے ضمیر کی آزادی کے مطابق ووٹ نہیں دے پاتی، وہ اگر کسی امیدوار کو غلط اور نااہل سمجھتا ہے تو وہ اپنی پارٹی کی رائے، قبیلے کے فیصلے یا برادری کی حمایت کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے کہ اسی نااہل شخص کو ووٹ دے ،یہ جبر سرمایہ دارنہ نظام کا اندرونی تضاد ہے۔

مختلف سیاسی جماعتیں آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کرتی ہیں اس صورت میں ووٹر آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے پاسدار ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک مذہبی جماعت نے مسلم لیگ ق کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ، ق لیگ بلاشبہ علماء خصوصاًلال مسجد کے معصوم طلبہ وطالبات کی قاتل جماعت ہے مگر جہاں اس مذہبی جماعت کے ووٹر موجود ہیں او رق لیگ کا امیدوار کھڑ اہے تو اس کے ووٹر ق لیگ کو ووٹ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔

ووٹوں کی خرید وفروخت بھی ہوتی ہے، بھاری رقوم خرچ کرکے لوگوں سے ووٹ خریدے جاتے ہیں۔

ووٹوں کے حصول کے لیے بھاری اخراجات کرکے باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے، اس مہم پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو اسراف وتبذیر کے زمرے میں آتے ہیں۔

ووٹوں کے حصول کے لیے مخالفین پر بدترین اور شرمناک الزامات لگائے جاتے ہیں، اس سلسلے میں تمام اخلاقی قدروں اور معاشرتی تقاضوں کو یکسر پامال کر دیا جاتا ہے۔

الیکشن کے دوران خفیہ اداروں کی مداخلت اب کوئی مخفی بات نہیں ہے، حکمران ٹولہ آیندہ اپنی مرضی کا سیٹ اپ لانے کے لیے خفیہ اداروں کے ذریعے ایسا جال بچھاتا ہے کہ نتائج میں بس انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے۔

یہ بات بھی اہل نظر سے مخفی نہیں کہ بالادست قوتیں اپنے من پسند امیدواروں کو جتوانے کے لیے دھمکی، دھونس سے کام لینے کے علاوہ خفیہ طور پر بیلٹ بکس میں اضافی ووٹ ڈلوا دیتی ہیں، بہت سے فوت شدہ لوگوں کے شناختی کارڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان تمام امور کے ہوتے ہوئے ووٹ کو شہادت، امانت اور مشورہ قرار دینا ایک خطا ہے، جن علماء نے ووٹ کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے اسے مشورہ، امانت اور شہادت ہونے کے فتاویٰ جاری فرمائے ہیں غالباً انہوں نے اس پورے نظام کا گہری نگاہ سے مطالعہ نہیں فرمایا ورنہ وہ ضرور اس قسم کے فتاویٰ صادر کرنے سے اجتناب کرتے۔

ووٹ استبدادی نظام کی توثیق وتایید کا ذریعہ ہے:

ہماری نظر میں ووٹ دینا مشرکانہ نظام ریاست وسیاست کے قیام واستحکام کا ذریعہ ہے، یہ شرک کے ارتکاب اور کفر کی تایید کے علاوہ ظلم واستبداد کی حکومت کی حمایت کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان واتقوا اﷲ(الآیہ)

قرآن مجید میں انہی لوگوں کو ہدایت یافتہ قرار دیا ہے گیاجو اپنے ایمان کو شرک وظلم سے آلودہ نہیں کرتے۔ چناںچہ ارشاد ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰمنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اولٰئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُھْتَدُوْنَ (الانعام:۸۲)

’’جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا وہی لوگ ہیں جن کے لیے امن وچین ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

8.8کیا ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کوئی چیز ہے؟

اس سوال کا سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ … ’’کیا اسلامی کفر بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے؟‘‘… ظاہر ہے کہ کوئی بھی ذی ہوش انسان اس کا قائل نہیں ہوگا۔

دراصل غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں کسی اصطلاح کے ساتھ اسلامی لگانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ اس لیے کہ وہ اپنی اصل میں اسلامی نہیں ہوتی… اکثر وبیشتر اصطلاحات جن کے ساتھ اسلامی کا لفظ ہو مشتبہ ہوتی ہیں جیسے ’’اسلامی بینکاری‘‘، ’’اسلامی ٹی وی چینلز‘‘… آپ اسلامی بینکاری کی اصطلاح استعمال کریں اور سمجھیں کہ اب یہ چیز جائز ہوگئی… یہ ممکن نہیں، اس لیے کہ بینکاری کا تمام تر نظم سود، سٹے اور جوئے پر مشتمل ہے۔ پھر آپ یہ بھی سوچئے کہ کبھی آپ سے کسی نے کہا’’اسلامی نماز‘‘ … ’’اسلامی جہاد‘‘ یا ’’اسلامی حج‘‘ یہاں اسلامی کا لفظ لگانے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ یہ تمام اصطلاحات اور ان کا مصداق اسلام کے اندر فطری ہیں کبھی کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا کہ ’’حج‘‘ بولا جائے اور اور اس سے کوئی شخص گنگا کا اشنان سمجھے یا بیساکھی کی طرف ذہن جائے!… یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں اس طرح کی اصطلاح نظر آئے لازمی ہے کہ وہاں توقف کیا جائے اور خوب غور فکر کے بعد اس کے اسلامی یا غیراسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔

’’اسلامی جمہوریت‘‘ بھی ایسی ہی ایک اصطلاح ہے جس کے بارے میں غوروفکر کی ضرورت ہے، بہت سے دانش وروں کا کہنا ہے کہ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت دو مختلف چیزیں ہیں،بعض کا کہنا ہے کہ اسلام اور جمہوریت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں(نعوذباللہ من ذالک) [ یہ مغالطہ آمیز بات ہے ۔ا سلام نے ہمیں خلافت کا عقیدہ دیا ہے(قال انی جاعلٌ فی الارض خلیفۃ۔ الآیۃ)۔ خلافت اور جمہوریت کے اصول وفروع میں زمین آسمان کا فرق ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خواہی نخواہی اسلام کے نظام خلافت کو جمہوریت ہی باور کرانے کی کوشش کریں یا جمہوریت کو عین اسلام قرار دینے کا ناٹک رچائیں۔

جمہوریت DEMOCRAY کا اردو ترجمہ ہے۔ ڈیموکریسی کا مولد ومنشاء مغرب ہے۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ڈیموکریسی جسے جمہوریت کہا جاتا ہے پانچ چھ سو سال قبل از مسیح بھی موجود تھی۔ یونان میں جمہوریت رائج رہی۔ پھر مغرب میں ایک عرصے بعد ڈیموکریسی کااحیاء ہوا۔ ایک بات تاریخی تناظر میں طے ہے کہ جمہوریت کبھی کسی مذہبی معاشرے میں رائج نہیں رہی بلکہ اللہ کے باغی معاشروں میں رائج رہی ہے۔ اس نظام کو انہی معاشروں نے قبول کیا جو اللہ تاعلیٰ اور انبیاء علیہم السلام کے منکر معاشرے تھے… لہٰذا جب ڈیموکریسی کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ کوئی اسلامی اصطلاح ہے بلکہ کافرانہ اصطلاح ہے تو اس کا استعمال کیونکر جائز ہوا؟

باب 9

سلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیں

اسلامی خلافت اور موجودہ مسلم ریاستیں

مولانامحمد زاہد صدیق مغل

9.1۔ مقاصد وترتیب

خلافت اسلامیہ کا قیام مسلمانوں پر اللہ تعالی کے مقرر کردہ فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے جس کے قیام کو امت مسلمہ نے دور نبوی ﷺ سے لیکرخلافت عثمانیہ کے زوال تک بغیر کسی وقفے کے جاری و ساری رکھا۔ اس مضمون میں ہم خلافت اسلامیہ کا تاریخی تجزیہ کرکے یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ مسلم ریاستیں کسی بھی معنی میں خلافت کہلانے کی مستحق نہیں لہذا انکے خلاف خروج و جہاد کے بارے میں وہ موقف اختیار کرنا درست نہیں جو علماء متقدمین نے امارت اسلامیہ کے تناظر میں اختیار کیا تھا۔ مباحث مضمون کو ہم تین حصوں میں بیان کریں گے:

۱) پہلے حصے میں ہم تاریخ اسلامی کے تسلسل کی اہمیت پرروشنی ڈالیں گے ، جس سے مطالعہ تاریخ اسلامی کا درست طریقہ معلوم ہوگا ۔

۲) پھر خلافت اسلامی کی درجہ بندی بیان کرکے مسئلہ خروج پر بحث کریں گے ۔

۳) آخر میں موجودہ مسلم ریاستوں اور اسلامی خلافت کا اصولی فرق واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ جس سے موجودہ دور میں مجاہدین کی انقلابی جدوجہد کی حیثیت واضح ہو گی ۔

مضمون کے آخر میں موضوع سے متعلق اہم سوالات و اشکالات کے جوابات بھی شامل کئے جائیں گے ۔ (وما توفیقی الا باللہ)

9.2۔ اسلامی تاریخ کے تسلسل کی اہمیت

مغربی تہذیب کے غلبے کے نتیجے میں جو فکری گمراہیاں مسلمانوں میں عام ہوئیں ان میں سے ایک اسلامی تاریخ کو جمہوری پیمانوں پر جانچنے کا رویہ بھی ہے۔ جب اسلامی تاریخ کو اس پیمانے پر پرکھا گیا تو کئی مفکرین اس عجیب و غریب نتیجے پر پہنچے کہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ ان مفکرین کو خلافت راشدہ کے بعد کی ساری اسلامی تاریخ ایک غیر اسلامی تاریخ دکھائی دینے لگی جسے بدنا م کرنے کیلئے ’ملوکیت‘ بمعنی ’خلافت کی ضد‘ کا عنوان دیا گیا ۔ خلافت و ملوکیت کی یہ تفریق اسلامی علمیت کیلئے ان معنی میں اجنبی تھی کہ بیسویں صدی سے پہلے کسی معتبر اسلامی مجتہدنے اسلامی تاریخ کا تجزیہ اس تصور دوئی کے ساتھ بیان نہیں کیا کیونکہ امام ماوردیؒ اور ابن خلدونؒ سے لیکر شاہ ولی اللہ ؒ تک تمام سیاسی مفکرین نے اسلامی تاریخ کو درجات خلافت کی تطبیق ہی کے تناظر میں لکھا ہے۔

ان جدید مفکرین نے اپنے تجزیے کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی کہ ملوکیت لازماً بری اور غیر اسلامی شے ہے اور اسلام کا ’اصلی‘ سیاسی نظام جمہوری اقدار کے ہم معنی ہے ۔ اس مفروضے کی صداقت پر انہیں اتنا یقین تھا کہ اسکے حق میں کوئی قطعی شرعی نص پیش کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی اور محض قیاس آرائیوں کے زور پر بڑے بڑے نتیجے اخذ کرلئے گئے۔ حالانکہ قرآن مجید کی کسی ایک آیت یا رسول اللہ ﷺ کی کسی ایک بھی حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ملوکیت حرام ہے اور اس سے بچو۔ حیرت ہے جو قرآن مسلمانوں کی معاشی و معاشرتی تنظیم میں سود و زنا کو علی الاعلان حرام قرار دیتا ہے وہی قرآن سیاسی تنظیم کے سب سے بڑے مزعومہ شر یعنی ملوکیت کی حرمت بیان کرنے پر مکمل طور پر خاموش ہے۔ قرآن سے ملوکیت کی حرمت ثابت کرنا تو رہا درکنار خود قرآن مجید سے اسکا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں کئی انبیاء کرام کا طلب ملوکیت کیلئے دعا فرمانا ذکر ہے اور اللہ تعالی نے انہیں اس دعا کرنے سے منع نہیں فرمایا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ایسے تمام مفکرین تضاد بیانی کرتے ہوئے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے دور حکومت کو خلافت راشدہ کے مثل مانتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ؒ بھی تو ایک ملک ہی تھے پھر انکی تعریف کے کیا معنی ؟پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر آج کے دور میں ’خدائی جمہوریت‘ اور ’اسلامی جمہوریت‘ کے نام پر خلافت کی ’جمہوری تعبیر‘ کی جاسکتی ہے تو ’شخصی تعبیر ‘ کیو نکر نا ممکن ہے، جبکہ اول الذکر کی نہ تو کوئی دلیل کسی معتبر مجتہد کے ہاں ملتی ہے اور نہ ہی اسکی نظیر خلافت راشدہ میں موجود ہے جبکہ موخر الذکر کی نظیر ’نامزدگی‘ کی صورت خلافت راشدہ میں بھی ملتی ہے اور تمام مسلم آئمہ مثلاً امام ماوردیؒ، ابن خلدونؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ سب کے نزدیک اسکی اجازت ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ملوکیت لازماً غیر اسلامی نہیں ہوتی اگرچہ یہ آئیڈیل بھی نہیں ہے ۔ جو شے ملوکیت کو بری بناتی ہے وہ اسکا بذات خود ملوکیت ہونا نہیں بلکہ اسکا غلط استعمال ہے اور یہ بات صرف ملوکیت کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر طریقہ حکومت کیلئے درست ہے۔ دورحاضر کے مفکرین نے اسلامی تاریخ کی ملوکیت کو کسی مطلق العنان بادشاہت پر قیاس کررکھا ہے جہاں بادشاہ کا حکم نامہ قانون کا ماخذ ہو تا ہے ، جب کہ یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے کہ اسلامی تاریخ میں کوئی ایسی مطلق العنان ملوکیت قائم تھی کیونکہ ہماری ملوکیت مذہبی تھی جسکی تفصیل آگے آرہی ہے۔ لیکن اس بیان سے قبل ہم ان منطقی نتائج کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو اس مفروضے کو مان لینے کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کہ ملوکیت لازماً غیر اسلامی ہوتی ہے اور خلافت راشدہ کے بعد کوئی غیر اسلامی نظام قائم ہوگیاتھا۔

۱) ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اسلامی نظام زندگی کی عمر صرف تیس برس تھی

۲) ا ب اولاً تو اسلامی نظام زندگی قائم نہیں ہو سکتا اور اگر ہو بھی گیا تو زیادہ عرصہ قائم نہ رہے گاکیونکہ جب آپﷺ کے صحابہؓ جیسی عظیم ہستیاں ہی اسے تیس سال سے زیادہ قائم نہ رکھ سکیں تو ہم جیسے نا تواں اور کمزور ایمان والوں کی کیا حیثیت ؟

۳) جب اسلام ماضی کے انسانوں کے سیاسی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے تو دور جدید کے پیچیدہ انسانی مسائل کیونکر حل کرپائے گا ؟ دور جدید میں اسلام کی عملیت کے امکانات صرف اسی حد تک سمجھے جاسکتے ہیں جس قدر یہ ماضی میں عمل پذیر رہ چکا ہو۔ اگر اسلامی تاریخ نا کامی کا شاخسانہ ہے تو غیر مسلم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہونگے کہ اسلام میں عمل پذیری کی وہ قوت ہی نہیں جسکے ذریعے یہ اپنے ماننے والوں کی زندگیاں تبدیل کرسکے۔

۴) اسلام کو ماضی اور حال کے مردان حق کی زندگی کی روشنی میں ایک تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہ کرنے کا مطلب طالبان حق سے یہ کہنا ہے کہ اسلام محض ایک ایسا خیالی نظریہ یا مردہ فلسفہ ہے جو ماضی بعید میں اپنی موت مر چکا، جسکا ذکر صرف کتابوں میں ہی مل سکتا ہے نیز موجودہ عملی حالات میں یہ نا ممکن العمل ہے ۔ اسکے بغیر اسلام کسی عملی نمونے اور زرخیز تاریخی ثقافت نہیں بلکہ صرف چند تخیلاتی، نا قابل فہم، مبہم اور غیر متاثر کن اصولوں کا نام رہ جاتا ہے جسکا عملی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں

۵) پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پوری اسلامی تاریخ کے مسلمان بشمول تمام مفسرین، محدثین ، مجتہدین ، صوفیاء یہاں تک کہ مجددین امت بھی ایک جاہلی نظام زندگی کے ما تحت زندگیا ں گزارتے رہے (العیاذ باللہ)

۶) اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر ملوکیت کے بعد ایک غیر اسلامی جاہلی نظام آگیا تھا تو اسکے قیام و استحکام کا الزام معاذ اللہ صحابہ کرام ؓ پر پڑتا ہے ، یعنی اسے قائم کرنے والےحضرت امیر معاویہؓ اور خاموش رہ کر استحکام دینے والے دیگر صحابہ ؓتھے۔

اگر کوئی ان نتائج کو قبول کرنے کیلئے تیار ہے تو بھلے اسلامی تاریخ کو جہالت کا شاخسانہ قرار دے مگر ایک مسلمان کیلئے تو یہ اسکے ایمان گنوانے کے مترادف ہی ہوگا کہ وہ صحابہ کرامؓ پر ایسے رکیک حملے کرنے کی جرات کرے۔

اسلامی تاریخ کو کوسنے کی ایک وجہ یہ بھی گھڑلی گئی ہے کہ ہماری تاریخ میں اسلامی تعلیمات اپنی سو فیصد آئیڈیل شکل میں موجود نہ تھیں ۔ یہ ایک ایسا غیر معقول رویہ ہے جسکی زد سے تو خلافت راشدہ بھی نہیں بچ سکتی۔ آخر یہ دعوی کون کر سکتا ہے کہ خلفائے راشدین معصوم تھے؟ اور در حقیقت اسی گروہ کے لوگو ں نے اپنے تجزیوں میں خلفائے راشدین پر بھی تنقیدیں کی ہیں تو پھر یہ سو فیصد کے فلسفے کا نشتر صرف ملوکیت ہی کو کیوں گھائل کرتا ہے؟ نیز ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان مفکرین کی جدوجہد کے نتیجے میں اگر کوئی اسلامی ریاست قائم ہو گی تو کیا وہ ’سو فیصد آئیڈیل خلافت ‘ ہوگی؟ پھر جب ان مفکرین سے پوچھا جائے کہ چلئے یہ بتائیے کہ خلافت اسلامی کیا ہے تو اسکے لئے وہ جتنی بھی شرائط پیش کرتے ہیں وہ سب کی سب دور ملوکیت میں پوری ہوجاتی ہیں لیکن اسکے باوجود وہ ملوکیت کو خلافت نہ ماننے پر مصر رہتے ہیں۔ ان مفکرین کے ایسے تضادات میں ملوث ہوجانے کی تین بڑی وجوہات ہیں:

اولاً: اسلامی نظام سیاست پر گفتگو کرتے وقت متقدمین کو یکسر نظر انداز کرکے جمہوریت کے تناظر میں اسلامی نظام ریاست کی تعبیر نو بیان کرنا ۔ چنانچہ آپ کسی بھی جدید مفکر کی سیاسی فکر پڑھتے چلے جائیے کسی ایک مقام پر بھی وہ اپنے تصور ات مثلاً ’خدائی جمہوریت‘ (Theo-democracy) یا ’اسلامی جمہوریت‘ کے حق میں متقدمین کا قول پیش نہیں کرتے کیونکہ یہ تصور تو انہوں نے فارابی، جان لاک اور روسو وغیرہ سے مستعار لیا ہوا ہے جسکا اسلامی علمیت میں کوئی نام و نشان ہے ہی نہیں

ثانیاً: حکومت کو ریاست کے ہم معنی سمجھ لینا، حالانکہ حکومت تو ریاست (نظام اقتدار) کا محض ایک جز ہے نہ کہ کل ریاست ۔ نظام اقتدار کا دائرہ خاندان سے لیکر حکومت تک پھیلا ہوتا ہے جس میں نظام تعلیم، معاشرتی تعلقات کی حد بندیاں ، نظام تعزیر ، قضا ، حسبہ اور انہیں نافذ کرنے والے ادارے وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں جن میں سے ایک اہم مگر جز وی ادارہ حکومت بھی ہوتا ہے۔ دور ملوکیت میں جو اصل خرابی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ ’اہل الرائے ‘ کے مشورے سے خلیفہ کی نامزدگی کا نظام ختم ہو گیا اور ریاست و حکومت کے اس فرق کو نہ پہچاننے کی وجہ سے خلافت راشدہ کے بعد اسلامی نظام اقتدار میں آنے والی جزوی تبدیلی کو جدید مفکرین نے بذات خود اسلامی ریاست کی تبدیلی پر محمول کر لیا ۔ ریاست اور حکومت کا فرق اور اسکا تعلق ایک مکمل مضمون ہے جسکی تفصیلات یہاں بیان کرنا ممکن نہیں، البتہ بعض مقامات پر ہم اسکی طرف اشارہ کریں گے

ثالثاً: ریاست و حکومت کے اس فرق کو نہ سمجھنے کی بناء پر بادشاہوں کو مطلق العنان اور ہر قید سے مکمل طور پر آزاد فرض کرلینا۔ اس میں شک نہیں کہ بادشاہ اگرچہ متغلب تھے مگر علماء کی بالادستی اور دیگر سیاسی و معاشرتی قیود سے بے نیاز نہ تھے۔ مثلاً خلافت عثمانیہ کے زمانے میں جب اندلس کے عیسائی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے تو سلیم اول جو انتہائی بہادر مگر سخت مزاج بادشاہ تھا نے اسکے جواب میں سلطنت عثمانیہ کی عیسائی آبادی کے قتل عام کا ارادہ کیا۔ مگر شیخ الاسلام علی جمالیؒ نے اسے یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیا، اور اسلامی تاریخ میں اس نوع کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ مکمل مطلق العنان حکمرانی محض ایک فرضی خواب ہے جو عملاً کبھی وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ اسکی مثال گھر کے ادارے سے سمجھی جاسکتی ہے جہاں مرد باوجود قوام ہونے کے اولاد کے بالغ ہوجانے کے بعد اپنی بیوی اور بچوں کی خواہشات اور رائے کا احترام کئے بغیر نہ تو اپنا اقتدار قائم رکھ سکتاہے اور نہ ہی اپنے فیصلے مسلط کرسکتا ہے۔ اسی طرح ایک خاندان کا بزرگ یا گاؤں کا سر پنچ وغیرہ اپنی مرضی چلانے کیلئے آزاد نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح بادشاہ مختلف قبیلوں کے سردار، علماء ، قاضی ، سلطنت کے دیگر عمال و صوفیاء کو نظر انداز کرکے زیادہ دیر حکمرانی نہ کرسکتا تھا، اسے اپنے اقتدار کی سند کیلئے لامحالہ مذہبی جواز ہی ڈھونڈنا پڑتا تھا۔

9.3۔خلافت اسلامی کے درجات

اس وضاحت کے بعد اب ہم مطالعہ تاریخ اسلامی کے اس طریقے کی وضاحت کرتے ہیں جو علمائے متقدمین کے دور سے مقبول رہا ہے، جسکے مطابق اسلامی تاریخ کو خلافت و ملوکیت کی تفریق کی بجائے درجات خلافت کی تطبیق کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسلامی خلافت وریاست (نظام اقتدار) کی بنیاد نیابت رسولﷺ ہے، یعنی یہ ماننا کہ انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات میں فیصلے اس بنیاد پر ہونگے کہ شارع کی رضا کیا ہے ، حکمران خود بھی اس پر عمل کریگا اور عوام کو بھی عمل کرائے گا ۔ اس نیابت میں درجات کی مثال درحقیقت درجات ایمان کی سی ہے ، یعنی جیسے مسلمانوں کے ایمان کے درجات ہوتے ہیں، کچھ وہ ہیں جنہیں ہم ابو بکرؓ و عمرؓ وصحابہؓ کہتے ہیں ، کچھ اس سے کم ایمان رکھتے ہیں، کچھ ہم جیسے کمزور ایمان والے ہیں، ان میں بھی کچھ کم درجے کے فاسق ہیں اور کچھ انتہا ئی درجے کے فاسق، لیکن اس تفاوت درجات کے باوجود سب کے سب مسلمان ہی ہیں ۔ گو کہ مطلوب اصل تو صحابہؓ جیسا ایمان ہی ہے لیکن اس درجہ ایمانی سے کم ایمان والے لوگوں کو ہم مسلمان کہنے کے بجائے کچھ اور نہیں کہتے۔ بعینہ یہی معاملہ خلافت کا بھی ہے کہ اس میں ایک درجہ وہ ہے جسے ہم ’خلافت راشدہ ‘ کہتے ہیں جو خلافت اسلامی کے اظہار کا بلند ترین درجہ تھا جبکہ اسکے بعد گو کہ خلافت تو موجود رہی مگر اسکے اظہار کا وہ معیاری درجہ مفقو دہوگیا۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت کا آئیڈیل نظام باقی نہ رہا اور مطلوب اصلی وہی نظام ہے لہذا ہم بعد والے دور کو خلافت کے بجائے کسی اور نام (مثلاً مسلمانوں کی تاریخ) سے پکاریں گے تو یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخض یہ کہے کہ چونکہ آئیڈیل اور مطلو ب ایمان تو صحابہؓ کا ہی تھا اور اسکے بعد مطلوب ایمان کا درجہ قائم نہ رہا لہذا ہم بعد والے لوگوں کو مسلمان کے علاوہ کچھ اور کہیں گے۔

عقلاً بھی خلافت کو درجات کے تناظر میں دیکھنا قرین قیاس ہے کیونکہ انسانی زندگی کا اظہار فرد، معاشرے اور ریاست کی جن تین سطحوں پر ہوتا ہے اس میں زوال پذیری کی تین اہم خصوصیات ہوتی ہیں (۱) پورے نظام حیات پر بیک وقت زوال طاری نہیں ہوجاتا بلکہ زوال جزواً جزواً اثر پذیر ہوتا ہے، (۲) زوال یکدم کسی حادثاتی واقعے مثلاً زلزلے کے طور پر نازل نہیں ہوجایا کرتا کہ لوگ آناً فاناً ایک طریقہ حیات چھوڑ کر کسی نئے طرز زندگی کو اختیار کرلیتے ہیں، بلکہ معاشرتی تعلقات کے نتیجے میں ابھرنے والی روایتی اکائیوں اور اداروں کی تدریجاً تحلیل کی صورت میں آیا کرتا ہے، (۳) زوال کسی خط مستقیم (Linear relation) کی مانند نہیں ہوتا کہ ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف ایک مسلسل عمل کی طرح چلتا ہی چلا جاتا ہے بلکہ زوال کے مجموعی عمل کے اندر بھی نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، یعنی کبھی پستی زیادہ ہوتی ہے اور کبھی کم۔ یہ بات رسول اللہﷺ کی اس حدیث میں ارشاد فرمائی گئی جسے ہر جمعے کے خطبے میں دہرایا جاتا ہے خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم، یعنی امت مسلمہ کا زوال تدریجی عمل ہوگا نہ کہ کوئی حادثاتی واقعہ ۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خلافت راشدہ کے بعد تنزل کا اظہار صرف ریاست و حکومت کی سطح پر ہی نہ ہوا تھا، بلکہ یہ زوال انفرادیت اور معاشرت کی سطح پر بھی تھا ، یعنی دنیا سے بے رغبتی، فکر آخرت، اتحاد امت، استیصال کفر کا جذبہ، داخلی شر پسندی سے حفاظت وغیرہ کا وہ ابتدائی ماحول بھی قائم نہ رہا تھا جو خلافت راشدہ کا خاصہ تھا اور یہ انفرادیت و معاشرت کا تنزل ہی تھا جسکا اظہار ریاست کی سطح پر ہمیں ’خلافت راشدہ ‘ سے ’محض خلافت ‘ کی تبدیلی کی صورت میں نظر آتا ہے۔

خلافت کا معنی جیسے بیان کیا گیا تمام معاملات میں نیابت رسولﷺ ہے۔ جیسے ہر ریاست کے ذمے چند اندرونی اور بیرونی مقاصد کا حصول اور اسکے لئے لائحہ عمل وضع کرنا ہو تا ہے، اسی طرح خلافت کے بھی دو تقاضے ہیں: ریاست کے اندرونی معاملات کی سطح پر اقامت دین کیلئے نفاذ شریعت ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیاد پر نظام اقتدار کی تشکیل اور بیرونی معاملات میں اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے جہاد وتبلیغ کا کام مر تب کرنا۔ درجات خلافت کی تفصیلات درج ذیل طریقے سے بیان کی جاسکتی ہے:

الف) خلافت راشدہ ،اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیابت رسولﷺ میں بندگان خدا کی اصلاح ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ، نفاذ شریعت واعلاء کلمۃ اللہ کیلئے جہاد کے سواء ذاتی سطح پر ہرگز بھی کچھ مطلوب نہ ہو ۔ یعنی اتباع نفس و مرغوبات نفسانیہ کا ہرگز بھی کوئی گذر نہیں ہوتا ،یہاں تک کہ رخصتوں ، مباحات و توسع کے بجائے عزیمت ، تقوی و احتیاط کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس رویے کی وضاحت خلفائے راشدین کے طرز عمل کی دو مثالوں سے ہوجاتی ہے: (۱) باوجود اسکے کہ اسلام میں خلیفہ کیلئے متوسط درجے کا معیار زندگی اختیار کرنا جائز ہے خلفائے راشدین نے ہمیشہ کم سے کم تر پر ہی اکتفا کیا (۲) باوجود اسکے کہ خلیفہ کیلئے اپنی حفاظت کا مناسب بندوبست کرنا جائز ہے خلفائے راشدین نے کبھی اسکا اہتمام نہ فرمایا حالانکہ تین خلفاء شہید تک ہوئے ۔ نیابت رسولﷺ میں اختیار عزیمت و احتیاط کا یہ پہلو ہر معاملے میں اپنایا جاتا تھا اور خلفائے راشدین کے طرز عمل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کسی بھی خلیفہ راشد نے اقتدار کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنے کی ادنی درجے میں بھی کوشش نہیں کی۔ درحقیقت یہی وہ پہلو ہے جو خلافت رشدہ کو محض خلافت سے ممیز کرتا ہے ۔

ب ) خلافت /امارت / سلطنت سے مراد یہ ہے کہ نفاذ شریعت و جہاد کے ساتھ ساتھ دنیاوی مقاصد، مثلاً مرغوبا ت نفسانیہ ، مال وجاہ کی خواہش، اقرباء پروری، امصار و بلدان پر تسلط اور طول حکومت کی آرزو وغیرہ بھی شامل حال ہوجاتے ہیں ۔ اس ہوا ہوس کے بھی کئی مراتب ہیں جنکی بناء پر خلافت کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے:

اول: امارت عادلہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان حکمران عادل ہو، جیسے عمر بن عبد العزیزؒ، سلیمان بن عبد الملکؒ، اورنگ زیب عالمگیر ؒوغیرہم ۔ یعنی نیابت رسولﷺ میں حاکم کے ہاتھ سے ظاہر شریعت نہ چھوٹتی ہو، نہ ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوتا ہو۔ اگر معصیت میں مبتلا ہو بھی جائے تو اس پر دوام اختیار نہ کرتاہو نیز مباحات کے درجے میں لذات نفسانیہ تلاش کرلیتا ہو

دوئم : امارت جابرہ سے مراد فاسق مسلمان حکمران ہے لیکن اسکا فسق انتہائی درجے کا نہ ہو۔ یہ ایسا حاکم ہوتا ہے جس سے بعض احکامات شرعیہ میں کوتاہی ہوجاتی ہو، یعنی اطاعت نفس میں دائرہ شریعت سے باہر نکل کر فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر اس پر پشیماں بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی توبہ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود نفاذ شریعت و مقاصد شریعت بجا لانے کی سعی کرتا رہتا ہے

سوئم : امارت ضالہ کا معنی ایسا مسلمان حکمران ہے جو انتہائی فاسق ،فاجر و ظالم ہو۔ جو زمانہ بھر کا فاسق و عیاش ہوتا ہے، جبر وتکبر ، ظلم و تعدی کی بنیاد ڈالتا ہے، نفس پرستی میں ہمت صرف کرتا ہے، فسق و فجور کے طریقوں کو عام کرنے کو اپنی پالیسی بنا لیتا ہے

چہارم : ا مارت کفر ایک ایسی ریاست ہے جہاں حکمران کافر ہو یا کفریہ احکامات پر عمل پیرا ہو ۔ ایسا شخص خود ساختہ قوانین کو شرع پر ترجیح دیتا ہے، سنت و ملت کے طریقے کی اہانت اور اسپر طنز و اعتراض کرتا ہے ، الحاد و زندقہ کی بنیاد رکھتا ہے، دشمنان اسلام کے ہاتھ مضبو ط کرتا ہے

اس تقسیم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہماری تاریخ میں اقتدار ( نظام جبر ) بحیثیت مجموعی اسلامی تھا گو کہ اچھی بری حکومتیں آتی رہیں ۔ یقیناً اسلامی تاریخ میں برائیاں رہی ہیں، مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسلامی ریاست ناپید ہوگئی تھی، بلکہ صرف اس لئے کہ مسلمان فرشتے نہیں بلکہ دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہی ہیں جن سے غلطی اور گناہ کا صدور ممکن ہے۔ چنانچہ بیرونی طور پر اسلام مخالف طاقتوں کا مقابلہ اور ان سے جہاد اور اندرون ملک مذہبی و تمدنی زندگی کے تمام شعبوں میں احکامات شرعیہ کے نفاذ کے مقاصد مختلف درجات میں ادا کئے جاتے رہے، گو خلافت راشدہ کے بعد اسکے ساتھ ذاتی مفادات اور عملی کوتاہیوں کے معاملات بھی شامل حال ہوگئے تھے ۔

9.4 ۔مسئلہ خروج کی وضاحت

خروج سے مراد فاسق مسلمان حکمران کے خلاف بذریعہ قوت نہی عن المنکر کرناہے۔ خروج کی اصل اطاعت امیر کااطاعت شارع سے مشروط ہو نا اور مسلمانوں پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا لازم ہونا ہے ۔ یہ امر کہ خروج کب کیا جائے علماء کے ہاں ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے میں درج ذیل امور اہمیت کے حامل ہیں:

٭ علماء کا اس امر میں اجماع ہے کہ امام عادل کی اطاعت واجب ہے اور اسکی اطاعت سے نکلنا ان تمام وعیدوں کا مصداق بننا ہے جو احادیث میں الجماعۃ سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کیلئے بیان ہوئی ہیں۔ ایسے عادل حاکم کا تختہ الٹنے کیلئے ہتھیار اٹھانا یا اسکے اقتدار کو کمزور کرنے کیلئے گروہ بندی کرنا بغاوت کے زمرے میں شمار ہوگا اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ باغیوں کا سا معاملہ کیا جائے گا۔

٭ اسی طرح خروج کے مفاسد سے بچنے کیلئے امارت جابرہ کے خلاف بھی خروج نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ چھوٹے منکر کی جگہ بڑے منکر کا خدشہ مول لینے کے مترادف ہے۔ لیکن بذریعہ قوت نہی عن المنکر نہ کرنے کا مطلب حکمرانوں کو کھلا چھوڑ دینے یا ہر درجے میں نہی عن المنکر ترک کردینے کے مترادف نہیں ۔ شیخ عبد المنعم المصطفی حلیم نے ایسے حاکم کی اطاعت کے رویے پر نہایت خوبصورت بات کہی ہے کہ اس صورت حال میں اطاعت سلبی نہیں کہ جس میں نہ تو نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت ہے اور نہ ہی ظالموں کے سامنے حق کہنا، بلکہ یہ رشد وہدایت اور حکمتوں پر مبنی ایجابی اطاعت ہے جو باطل کے سامنے نہ تو ذلت و رسوائی اور حقارت پر مبنی ہے اور نہ ہی ظالموں کے اثر و رسوخ سے خوف کھانے والی۔ چنانچہ ظالم حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کے نمونے ہمارے سلف صالحین کی زندگیوں میں بے شمار ملتے ہیں ۔

٭ مسئلہ خروج میں فقہاء کا اختلاف اس مرحلے پر ہوتا ہے جب امارت ضالہ یعنی انتہائی فاسق و ظالم حاکم کے خلاف خروج درپیش ہو ۔ اس میں شک نہیں کہ اہل سنت کے علماء کی ایک بڑی تعداد کے خیا ل میں ایسے حاکم کے خلاف بھی خروج جائز نہیں جسکی وجہ انکے نزدیک مسلمانوں میں دنگا و فساد ، کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی شان و شوکت کم ہوجانے کا خوف نیز بہت سے مصالح دینیہ کا فوت ہوجانا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خروج کے خلاف ان علماء کے فتوے کی وجہ یہ نہیں کہ انکے نزدیک خروج سرے سے شرعاًجائز ہے ہی نہیں، بلکہ اس رویے کی وجہ عالم اسباب میں تاریخی طور پراکثر اوقات اس طریقہ کار کی ناکامی رہی ہے، مثلاً امام حسینؓ و عبد اللہ بن زبیرؓ کو بنو امیہ کے خلاف بظاہر کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی اور مسلمانوں کی خون ریزی ہوئی۔

٭ جس طرح علماء کی ایک بڑی تعداد امارت ضالہ کے خلاف خروج کرنے کی مخالف ہے بالکل اسی طرح کئی جید علماء کرام جن کے سرخیل امام ابوحنیفہؒ ہیں کے خیا ل میں خروج نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ بوقت قوت واجب ہے کیوں کہ مسلمانوں پر شریعت اسلامی قائم کرنا اور فاسق امام کی جگہ امام عادل کا قیام لازم ہے چاہے اسکے لئے جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا:

قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لا ینال عہد الظالمین (بقرۃ: ۱۲۴)۔

علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ظالم اصولاً منصب امامت کا حقدار ہے ہی نہیں ۔ اسی طرح ارشاد ہوا:

ان اللہ یامرکم ان تؤدواالامانات الی اھلھا (نساء: ۵۸)

جس سے پتہ چلا کہ منصب امامت ایسے شخص کو دینا چاہئے جو اسکا اہل ہے یعنی اسکی شرائط پورا کرتا ہو۔ حدیث شریف میں اصول بیان ہوا کہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ (متفق علیہ)اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا :

لاتطیعواامر المسرفین الذین یفسدون فی الارض ولا یصلحون (شعراء : ۲۔۱۵۱)

نیز

یا ایہا الذین امنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردواکم علی اعقابکم فتنقلبوا خاسرین (آل عمران : ۱۴۹)

اسی طرح فرمایا گیا

یاایہا الذین امنوا کونوا قوامین للہ شہداء بالقسط۔

ان نصوص سے معلوم ہوا کہ امیر کی اطاعت اطاعت شارع سے مشروط ہے اور فسق و فجور اور نظام باطل برپا کرنے والوں کی اطاعت جائز نہیں ،نیز مسلمانوں پر عدل و قسط پر قائم رہنا لازم ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا :

ستکون امراء فتعرفون و تنکرون فمن عرف بری ومن انکر سلم ولکن رضی و تابع قالوا افلا نقاتلہم قال لا ما صلوا (مسلم)

جس سے پتہ چلا کہ فاسق حکمرانوں کی اطاعت کی کم از کم شرط یہ ہے کہ وہ نظام صلوۃقائم کریں ۔ اسکے علاوہ ایسی کئی احادیث ہیں جن سے حکمرانوں کے خلاف بذریعہ قوت نہی عن المنکر پر استدلال ہوتا ہے ۔ پھر خیر القرون میں خروج کی سب سے اعلی نظیر امام حسینؓ کے طرز عمل میں نظر آتی ہے جسکا مقصد اسلامی خلافت و ریاست کو امارت و سلطنت کے بجائے خلافت راشدہ کی طرف پلٹادینے کی جدوجہد کرنا تھا، دوسرے لفظوں میں امام صاحب ؓ کی جدوجہد اختیار عزیمت کی اعلی مثال ہے ور اس حسینی قافلے کو علماء امت نے پسند فرمایا ۔ معرکہ حسینؓ و یزید پر تین قسم کے رویے سامنے آئے ہیں :

الف) ایک گروہ امام حسینؓ کو صائب اور یزید کو نہ صرف خاطی سمجھتا ہے بلکہ اسپر لعنت بھی کرتا ہے

ب) دوسراگروہ امام حسینؓ کو صائب اور یزید کو خاطی سمجھتا ہے مگر اسپر لعنت نہیں کرتا جسکی وجہ یا تو ایسا کرنا اسلامی مزاج کے خلاف ہونا ہے یا یزید کو امام صاحب کے قتل سے ابتداً بری الذمہ سمجھنا ہے ۔۔۔واللہ اعلم

ج) تیسرا گروہ امام حسینؓ کے مقابلے میں یزید کو صائب گردانتا ہے ۔ یہ رویہ اہل سنت کے ہاں مردود ہے

٭ خروج کی اجازت دینے والے علماء کے نزدیک بھی اسکی اجازت چند شرائط کے ساتھ ہے:

اول: خروج تب کیا جائے جب بگاڑ بڑی نوعیت کا ہو ، یعنی جب حکمران کھلے بندوں واضح احکامات شرعیہ کی دھجیاں بکھیرنے لگیں۔ دوسرے لفظوں میں خروج امارۃ ضالہ و کفر کے خلاف کرنا چاہئے۔ علماء کے اقوال میں تطبیق دینے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ علماء کے خلاف خروج قول کو امارۃ عادلہ اور جابرہ کے خلاف خروج پر محمول کرلیا جائے کیونکہ بصورت دیگر یہ واضح نصوص کے خلاف ہوگا جیسا کہ اوپربیان کی گئیں واللہ اعلم بالصواب

دوئم: حالات اتنے ساز گار اور قوت اتنی ہو کہ خروج کی صورت میں کامیابی کے امکانات روشن ہوں ۔ کامیابی کے امکانات اور تیاری کے مراحل بہر حال اجتہادی مسائل ہیں کیونکہ نہ تو حالات ہی ہمیشہ یکساں کیفیت کے ہوتے ہیں اور نہ تیاری کے لگے بندھے اصول ہیں بلکہ تیاری کی کیفیت و مراحل کو در پیش حالات پر منطبق کرنے کے نتیجے میں ایک حکمت عملی وضع کرناہوتی ہے جسکی نوعیت ہمیشہ مختلف ہواکرتی ہے۔ البتہ جدوجہد کے متوقع نتائج کے اعتبار سے علامہ ابن قیم ؒ کی بات بہت خوبصورت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ انکار منکر کے چار درجات ہیں:

۱) ایک منکر ختم ہوجائے اور اسکی جگہ معروف قائم ہوجائے، ایسا کرنا مشروع ہے

۲) ایک منکر کم ہوجائے اگرچہ ختم نہ ہو، یہ بھی مشروع ہے

۳) ایک منکر ختم ہوجائے مگر اسکی جگہ ویسا ہی منکر قائم ہوجائے، یہ اجتہادی مسئلہ ہے (کہ آیا واقعی اسی درجے کا دوسرا منکر آجائے گا یا نہیں )

۴) ایک منکر ختم ہوجائے مگر اسکی جگہ اس سے بھی بڑا منکر قائم ہوجائے، ایسا کرنا حرام ہے

اس تفصیل سے یہ مسئلہ بھی واضح ہواکہ خروج کے وقت یہ خیال بھی رکھنا چاہئے کہ کہیں اس سے کفار کو فائدہ نہ پہنچے ۔ مثال کے طور پر اگر خروج اسطرح کیا جائے کہ مشرف کی حکومت تو ختم ہوجائے مگر اسکی جگہ امریکہ کی حکومت قائم ہوجائے تو یہ یقینا ایک چھوٹے شر کے مقابلے میں بڑا شر قائم ہو جانے والی کیفیت پیدا کردینا ہے۔

خیال رہے گو کہ خروج کی یہ شرائط امام حسینؓ کے طرز عمل پر پوری اترتی ہیں، مگر اس بحث و شرائط کو ان پر لاگو کرنا درست طرز عمل نہیں کیونکہ وہ ان بحثوں سے پہلے ہو گزرے اور آئمہ حضرات نے یہ شرائط اپنے دور کے حالات اور ماضی کی کوششوں کے نتائج مدنظر رکھتے ہوئے رکھی ہیں۔ ویسے بھی کسی امام کے اجتہادی اصول یا مسئلے پر کسی صحابی کے عمل کو جانچنا اصولاً غلط ہے کیونکہ عمل صحابی بذات خود اجتہاد سے بڑھ کر شرعی دلیل ہے، خصوصاً کہ جب وہ عمل کسی مجتہد صحابی کا ہو۔ بعض ناصبی قسم کے لوگ امام حسینؓ کے طرز عمل کے مقابلے میں امت مسلمہ کو یہ کہہ کر امام حسنؓ کا طرز عمل اپنانے کی تلقین فرماتے ہیں کہ امام حسینؓ کا طرز عمل امت کو توڑنے جب کہ امام حسنؓ کا طرز عمل امت کو جوڑنے کی مثال ہے لہذا ہمیں توڑنے والے کے بجائے جوڑنے والے کی پیروی کرنی چاہئے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ کے دونوں ہی شہزادے امت کیلئے مشعل راہ ہیں: ایک کا طرز عمل یہ سکھاتا ہے کہ جب سامنے امیر معاویہؓ جیسی عظیم المرتبت شخصیت ہو تو حسنؓ کا سا معاملہ کرو اور جب مقابلہ یزید سے ہو تو حسین ؓ کی عزیمت دیکھو۔گویا حسنینؓ کے طرز عمل میں فرق کسی تضاد پر مبنی نہیں بلکہ دو مختلف حالات میں مختلف رویوں کی صورت کا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ فرق تضاد کا نہیں بلکہ تنوع کا ہے۔

٭ رہی یہ بات کہ جب بذریعہ قوت خروج کی استطاعت نہ ہو تو کیا کیا جائے تو اسکا جوا ب ہے مناسب تیاری، یعنی ایسی صورت میں خروج کی تیاری کرنا لازم ہے کیونکہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ہواکرتا ہے ۔ شیخ عبد المنعم المصطفی حلیم فرماتے ہیں کہ اس تیاری کی کئی صورتیں اور درجے ممکن ہیں:

۱) حسب استطاعت فکری و عملی تیاری کرنا تاکہ خروج کی راہ ہموار ہو اور امت مسلمہ کو باطل کے غلبے سے نجات ملے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: اعدوالہم ما استطعتم من قوۃ (انفال: ۶۰)

۲) حکمرانوں سے علیحدگی اختیار کرکے نظام باطل کی مضبوطی کا باعث نہ بننا۔ یعنی ایسے امور ترک کردئیے جائیں جن سے ان کی سلطنت مضبوط ہو یا ملک پر انکا اثرو رسوخ بڑھے۔ اسکی اعلیٰ مثال امام ابوحنیفہؒ کی زندگی میں نظر آتی ہے جنہوں نے باوجود سرکاری جبر کے منصور کی سلطنت میں قاضی القضاۃکا عہدہ قبول نہ کیا ۔

۳) انکے آئین و باطل قوانین کو برضا و رغبت تسلیم نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسی بات کی جائے جو اعتراف حاکمیت یا قبولیت نظام کا فائدہ دے اور اگر کچھ لوگ متفق ہوکر ان سے علیحدہ ہونے اور انکے خلاف تیاری کرنے کے رویے کو اپنائیں تو انکا ساتھ دینا چاہئے تا کہ باطل نظام اقتدار کمزور ہو اور اس سے نجات مل سکے۔ یاد رہے کہ باطل نظام اقتدار پر مطمئن رہنا درحقیقت اس سے رضا مندی کی علامت ہے کیونکہ اقتدار کے معاملے میں لاتعلقی یا نیوٹرل رویے کی کوئی حقیقت نہیں ، یعنی یا تو آپ کسی نظام اقتدار کے خلاف ہوتے ہیں یا اسکے حق میں انکے درمیان کوئی راستہ موجود نہیں۔ ہماری اکثر دینی جماعتیں اس غلط فہمی پر فخر کرتی ہیں کہ وہ غیر سیاسی جماعتیں ہیں حالانکہ انکی اس بات کا مطلب اسکے سواء اور کچھ نہیں کہ انہوں نے باطل نظام اقتدار کی سیادت اور اس سے مصالحت قبول کرلی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان غیر سیاسی دینی جماعتوں کے ممبران اپنے حلیف سیاسی دینی جماعتوں (مثلاً ایم ایم اے ) کے بجائے لادینی سیاسی جماعتوں (مثلاً مسلم لیگ وغیرہ) میں تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے ۔

9.5۔خلافت اور موجودہ ریاستوں میں اصولی فرق

ان بنیادی مباحث کے بعد اب ہم خلافت اور موجودہ مسلم ریاستوں کے بنیادی فرق پر روشنی ڈالتے ہیں جس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں خیر القرون کی خلافت تو کجا خلافت عثمانیہ وامارت مغلیہ کے ہم پلہ بھی نہیں۔ درج ذیل تمام فرق بذات خود تفصیل طلب موضوعا ت ہیں لیکن نفس مضمون کا لحاظ اور خوف طوالت ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم اختصار کے ساتھ کچھ عرض کرتے ہیں۔

اول: قومی ریاست بمقابلہ اسلامی ریاست

خلافت اور موجودہ ریاستوں کا پہلا فرق یہ ہے کہ اب ہم نے قومی ریاستیں قائم کرلی ہیں، جبکہ پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا ۔ قوم کا مطلب ہے ایک مخصوص جغرافیائی حدود کی بناء پر اپنا تشخص تلاش کرنا، جیسے پاکستانی، عراقی وغیرہ۔ یہ ویزے اور ایمبسیوں (embacies) کی بھرمار اسی قوم پرستانہ تصور تشخص کا نتیجہ ہے ۔ قوم پرستی کی چند بنیادی صفات ہیں: ( ۱) اسکی بنیاد نفرت ہوتی ہے یعنی قوم پرستی اپنی قوم کے علاوہ دوسروں کو اپنا حریف سمجھنے کا تقاضا کرتی ہے ، (۲) خیر وشر کو قومی پیمانوں پر طے کیا جاتا ہے، یعنی خیر اسی شے کو سمجھتا ہے جو ایک مخصوص جغرافئے میں رہنے والے افراد کے لئے بہتر ہو جیسا کہ موجودہ جہاد افغانستان کے وقت ہماری حکومت نے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے نعرے میں کیا، (۳) قوم ہمیشہ اپنے لئے جیتی ہے ، اسکا مطمع نظر مادی ترقی اور حصول طاقت کے ذریعے صرف ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا ہوتا ہے، اسی معنی میں قومی ریاست سرمایہ دارانہ ریاست ہوتی ہے جسکا مقصد افراد کی آزادی یعنی سرمائے میں لا متناہی اضافہ کرنا ہوتا ہے (خیال رہے کہ قوم پرستی سرمایہ داری کی مختلف تعبیرات میں سے ایک تعبیر ہی ہے)، (۴) قوم کے پاس مادی ترقی و خوش حالی کے علاوہ نوع انسانی کی فلاح و ہدایت کا کوئی دوسرا لائحہ عمل نہیں ہوتا ، سرمائے کی بڑھوتری ہی وہ واحد خیر ہے جسے قوم خود بھی اپناتی ہے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتی ہے، (۵) قومیت کبھی جغرافیائی حدود پار نہیں کرسکتی یعنی قوم پرستانہ نظرئیے کے لئے کسی دوسرے علاقے کے رہنے والے لوگوں کو اپنی شناخت میں سمو لینے کی صلاحیت نہیں ہوتی، (۶) اسی لئے قومی ریاست ہمیشہ ایک استعماری ریاست ہوتی ہے جسکا مقصد دوسروں کو مغلوب کرنا ہوتا ہے ،یعنی ایک قوم پرست شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکی قوم باقی سب قوموںپر غالب آجائے اور انہیں محکوم بنا کر رکھے، لہذاہر وہ کام ’خیر‘ کہلاتا ہے جو قوم کے غلبے کاباعث بنے ۔ قومیت کا یہ تشخص اور اسکا استحکام و پھیلاؤ امت کے اس بنیادی تصور ہی کے خلاف ہے جہاں جغرافیائی حدود بے معنی ہیں اور جسکے مطابق اسے اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے جینا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا: کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (آل عمران: ۱۱۰)، یعنی امت مسلمہ کا مقصد بنی نوع آدم کی اصلاح ہے ۔ اس تصور ملت میں صرف دو ہی گروہ ہیں، ایک امت اجابت اور دوسری امت دعوت، گویا یہاں امت مسلمہ کا تعلق ملت کفر کے ساتھ نفرت کے اصول پر نہیں بلکہ دعوت و اصلاح کے اصول پر استوار ہے اور اگر کسی وجہ سے ملت کفر کے ساتھ لڑائی و دشمنی کا معاملہ ہے بھی تو اس لئے نہیں کہ دنیا کے مال و متاع پر قبضہ کرنے کے نتیجے میں وہ ہم سے آگے نکل گئے ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ وہ حق کی اس دعوت کے پھیلاؤ میں مزاحمت کا باعث بن رہے ہیں جو انسانوں کے خالق نے انکے لئے پسند فرمایا ہے۔ تصور قومیت اور امت کبھی ایک ساتھ پنپ نہیں سکتے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اول الذکر کی بنیاد نفرت جبکہ موخر الذکر کی محبت ہے۔ اسلامی ریاست استعماری نہیں بلکہ جہادی ہوتی ہے جہاں ریاست کی توسیع کا مقصد دوسروں کو محکوم بنانا نہیں بلکہ دعوت و تبلیغ اسلام کے مواقع پیدا کرکے دوسروں کو امت مسلمہ میں شریک کرنا ہوتا ہے اور اس تسخیر قلوب کے مقصد کیلئے طاقت سے بڑھ کر کردار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ اسلامی خلافتیں ہمیشہ جہادی رہی ہیں ،یہاں تک کہ خلافت عثمانیہ و سلطنت مغلیہ بھی جہادی ریاستیں ہی تھیں جن میں پھیلاؤ آتا رہا، مثلاً خلافت عثمانیہ عثمان خاں کے دور ۱۲۸۸ میں صرف ساڑھے سات ہزار مربع میل سے شروع ہوکر محمدفاتح کے دور ۱۴۸۱ تک ایک لاکھ مربع میل سے بھی زیادہ ہوگئی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ آخر دور میں ہم نے ریاست کی توسیع کو اسلامی انفرادیت اور معاشرت کے کام سے کاٹ دیا تھا اور یہی ہمارے زوال کی اصل وجہ تھی کیونکہ اسکی وجہ سے دائرہ اسلام میں شامل ہونے والے غیر مسلمین کی تعداد کم سے کم تر ہوتی چلی گئی جس سے اسلامی شخصیت و معاشرت غیر مانوس ہوگئے اور نتیجتاً ہماری ریاست افراد کو اجنبی اور جبر لگنے لگی جسکے زوال پر وہ خوشی محسوس کرتے۔

دوئم : نمائندگی عوام بمقابلہ نیابت رسولﷺ

موجودہ جمہوری ریاستوں میں عوام کو رعایا کے بجائے citizens یعنی اصل حاکم (autonomous) مانا جاتا ہے اور ریاست و حکومت محض عوام کی سوچ اور خوا ہشات کو پورا کرنے کے لئے عوام کی نمائندگی کا نام ہے ، یعنی حکومت چلانے والے افراد عوامی نمائندے(representatives) ہوتے ہیں جنکا مقصد حصول لذت کی ذہنیت کا عموم اور عوام کی خواہشات کی تسکین کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ یہی عوامی نمائندگی جمہوریت کی حقیقت ہے جہاں مفاد ات ہی وہ پیمانہ ہیں جس پر ریاست و جمہور کے تعلق کو پرکھا جاتا ہے، حاکم و محکوم کے درمیان یہی رشتہ ہے، قیادت اور عوام کے مابین یہی میثاق وفا ہے۔ جو اسے پورا کرے اسکی حمایت کی جا تی ہے اور جو عوام کی جھولی کو مراعات و سہولیات سے نہ بھر سکے اس کا عمل قابل اتباع نہیں ہوتا۔ سارا جمہوری فلسفہ اس چھتری کے تحت قائم ادارے اور این جی اوز وغیرہ اسی عقیدے کے فروغ کا وسیلہ ہیں۔ جمہوریت کا معنی ہی یہ ہے کہ فیصلے عوام کی مرضی اور خواہشات کی بناء پر ہونے چاہئیں، گویا اسکا مطلب خیروشر کا منبع انسانی خواہشات کو مان لینا ہے۔ اسکے مقابلے میں اسلامی ریاست میں عوام رعایا (subject) ہوتے ہیں اور خلیفہ عوام الناس کا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا نمائندہ ہوتا ہے جسکی ذمہ داری عوام الناس کی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کی ذہنیت عام کرنا ہوتا ہے، نہ یہ کہ خود عوام کی خواہشات کے پیچھے چلنا ۔ انہی معنی میں جو ریاست جتنی زیادہ جمہوری ہوتی ہے اتنی ہی غیر اسلامی ہوتی ہے ۔ گویاجمہوریت میں پیری مریدی کا تعلق ہی الٹ جاتا ہے ، یہاں عوام بجائے مرید کے پیر (فیصلہ کرنے اور ہدایت دینے والے ) بن جاتے ہیں اور حاکم جسکا کام لوگو ں کی رشدوہدایت کا انتظام کرنا ہوتا ہے ان معنی میں مرید ہوجاتا ہے کہ ہر کام سے پہلے عوام الناس کی خواہشات کی طرف دیکھتا ہے۔ لوگوں نے ووٹ کو بیعت کا متبادل سمجھ لیا ہے حالانکہ ووٹ توبیعت کی عین ضد ہے۔ بیعت کا مطلب حصول ہدایت کیلئے عوام کا اپنے نفس کو کسی بلند تر ہستی کے سپرد کردینا ہے جبکہ ووٹ کا معنی عوام کی حکمرانی قبول کرکے حاکم کا خود کو انکے نفس کے سپرد کردینا ہے۔ اسلامی علمیت میں خیروشر کی تعیین میں عوام کی خواہشات اور اسکی کثرت کی کوئی شرعی حیثیت ہے ہی نہیں بلکہ خلافت میں فیصلے اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ کسی معاملے میں شارع کی منشا و رضا حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے اور ظاہر ہے یہ طےکرنے والے علماء ہی ہوتے ہیں جو در حقیقت قرآن و سنت کا علم رکھتے ہیں۔ چنانچہ نمائندگی عوام کا تصور نہ تو کبھی کسی اسلامی ریاست بشمول خلافت راشد ہ میں ہی ملتا ہے اور نہ ہی اسلامی علمیت میں اسکا کوئی ذکر ہے ، دوسرے لفظوں میں عوام الناس کی حاکمیت اور نمائندگی کے تصورات بدعت سیئہ ہیں۔

سوئم : سوشل سائنسز بمقابلہ علوم شرعیہ کی بالادستی

اسلامی ریاست کے قیام کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک اسلامی علوم (یعنی علم الکلام، فقہ اور تصوف) کا معاشرتی غلبہ نہ قائم ہو جائے کیونکہ نظام علم ہی ریاستی حکمت عملی اور اسے نافذ کرنے والے افراد مہیا کرتا ہے ۔ ہر نظام علمیت معاشرے میں تین بنیادی مقاصد انجام دیتا ہے: (۱) غالب علمی و ثقافتی ورثے کو اس طرح اگلی نسل تک منتقل کرنا کہ اسے حاصل کئے بغیر معاشرے میں کامیاب زندگی کا تصور نا ممکن ہو جائے، (۲) افراد کو چندمخصوص مقاصد زندگی اور معاشرتی اقدار بطور مقصد حیات قبول کرنے پر تیار کرکے معاشرے میں فکری ہم آہنگی پیدا کرنا، (۳) افراد کے تعلقات کے نتیجے میں قائم شدہ معاشرے اور ریاست کو پیش آمدہ مسائل حل کرنے کیلئے حکمت عملی اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے اس علمیت کے حامل با صلاحیت افراد فراہم کرنا۔ چنانچہ کوئی معاشرہ و ریاست تبھی اسلامی بن سکتی ہے کہ جب اسکی غالب علمیت سائنس (بشمول فطری و سوشل سائنسز) نہیں بلکہ اسلامی علمیت ہو کیونکہ جب تک اسلامی علمیت غالب نہیں ہوگی معاشرتی فیصلوں اور ریاستی حکمت عملی کی اسلامی بنیاد فراہم نہیں کی جاسکتی۔ اسلامی علمیت در حقیقت علم الکلام ، فقہ، اور تصوف کی صورت میں متشکل ہوکر سامنے آئی ہے، مثلاً علم اصول فقہ اور فقہ کا مقصد قرآن و سنت میں وارد شدہ نصوص سے وہ اصول اخذ کرنا ہے جنکی روشنی میں یہ طے کیا جا سکے کہ ان گنت انسانی اعمال و افعال سے رضا ئے الہی کے حصول کا درست طریقہ کیا ہے، نیز یہ معلوم کیا جا سکے کہ افراد کے تعلقات کو کن ضروری بندشوں کا پا بند بنا کر معاشرے کو احکامات الہی کے تابع کیا جاسکتا ہے ۔ بالکل اسی طرح سوشل سائنسز کا دائرہ کار سرمایہ دارانہ معاشرہ و ریاست کا جواز ، اسکے امکانِ قیام کیلئے ضروری حالات کی نشاندہی و ریاستی لائحہ عمل کی ترتیب و تنظیم کرنا ہے۔ سوشل سائنسز کا مقصد ایک طرف سرمایہ دارانہ شخصیت ، معاشرے و ریاست کی علمی توجیہہ پیش کرنا ہے اور دوسری طرف یہ افراد کے تعلقات میں آزادی کی ان لازمی حدود کا تعین کرنے کے اصول وضع کرتی ہیں جنکے نتیجے میں سرمایہ دارانہ معاشرتی و ریاستی صف بندی وجود میں آسکے ۔ دوسرے لفظوں میں سو شل سائنسز کا دائرہ عمل ایک ایسے نئے دستور، ایک ایسے نئے قانون، ایک ایسے نئے معا شرتی نظام و سیاسی ڈھانچے کا قیا م ہے جسے الہامی اور آسمانی قانون سے کوئی واسطہ یا رابطہ نہ ہو،جہاں کوئی رعایا (subjects) نہ ہو بلکہ سب شہری (citizens) ہوں ۔ اس پس منظر میں اسلامی تاریخ اور موجودہ ریاستوں پر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ہماری پوری تاریخ میں جو علمیت غالب رہی وہ اسلامی علمیت (یعنی کلام، فقہ اور تصوف) تھی جسکا واضح مظہر موجودہ درس نظامی ہے جو در حقیقت سلطنت مغلیہ میں ایک طرح کا سول سرونٹ کورس تھا ۔ چنانچہ ہماری تاریخ میں اسلامی علمیت ہی کی بنیاد پر ریاستی حکمت عملی وضع کی جاتی تھی، گو کہ اس حکمت عملی میں حکمران اپنے بعض ذاتی مفادات کو بھی شامل کردیتے تھے۔ اسکی مثال بالکل اسی طرح ہے جیسے دور حاضر میں ریاستی حکمت عملی سوشل سائنسز بالخصوص علم معاشیات کے اصولوں سے طے کی جاتی ہے اور حکمران طبقہ اسی حکمت عملی کے اندر رہتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ سب دیکھ سکتے ہیں کہ جوں جوں سائنسی علمیت کو عروج حاصل ہوتا ہے اسی رفتار سے اسلامی علمیت معاشروں میں بے معنی ہوتی چلی جاتی ہے۔ سائنسی علم کا معنی لامحدود انسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے کائنات پر ارادہ انسانی کا تسلط قائم کرنا ہے۔ سائنسی علمیت کے مطابق علم رضا ئے الہی کے حصول کا طریقہ جان لینا نہیں، بلکہ تسخیر کا ئنا ت یا با الفاظ دیگر انسانی ارادے کے کائناتی قوتوں پر تسلط قائم کرنے کا طریقہ جان لینے کا نام ہے اور سائنسی علمیت اس جاہلانہ ذہنیت و جنون کو پروان چڑھاتی ہے کہ انسانی عقل (reason)کو استعمال کر کے فطرت کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا نا نیز انسانی ارادے کو خود اسکے اپنے سواء ہر بالا تر قوت سے آزاد کرنا عین ممکن ہے ۔ دوسرے لفظوں میں سائنسی علمیت کا مقصد انسان کو خود اپنا خدا بننے کا مکلف بنانا ہے۔ یہ تصور علم ایک ایسی شخصیت کا علمی جواز فراہم کرتا ہے جو انبیاء کرام کی تعلیمات سے کوسوں دور اور اخلاق رزیلہ سے متصف ہونے کے با وجود بھی معا شرے میں ایک با عزت علمی مقام پر فائز ہوسکتی ہے، یہ علمیت ایسا ریاستی لائحہ عمل فراہم کرتی ہے جس میں فیصلوں کی بنیاد شارع کی رضا کے بجائے لوگوں کی خواہشات ہوتی ہے۔ چونکہ موجودہ مسلم ریاستوں میں غالب علمیت یہی جاہلی علمیت ہے لہذا یہ کسی بھی معنی میں اسلامی خلافت کے ہم پلہ نہیں ہیں ,بلکہ جیسے جیسے ہمارے ممالک اس علمیت کے شکنجے میں پھنستے جارہے ہیں اتنا ہی زیادہ یہ استعمار کے وفادار اور طاغوتی نظام کے حامی و ناصر بنتے جا رہے ہیں۔

چہارم : دوستور (ہیومن رائٹس ) بمقابلہ شریعت (نظام قضاء ) کی بالادستی

ہمارے ملکوں کا نظام قانون آئین یا دستور پر مبنی ہے اور دستور وہ شے ہے جو حاکمیت الٰہی کی نفی اور حاکمیت انسان کی بالا دستی قائم کرتا ہے اور نفاذ شریعت کے امکانات کالعدم کردیتا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ دستور کتاب الہی کا متبادل ہے اور جمہوری ریاستوں میں اسے ویسی ہی تقدیس حاصل ہوتی ہے جیسی مذہبی ریاستوں میں کتاب الہی کو دستورمیں قانون سازی کی بنیاد ہیومن رائٹس ہوتے ہیں جسکے مطابق فرد کو اپنی آزادی استعمال کرکے خواہشات کی تسکین کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس قانون سازی کے دو بڑے مقاصد ہوتے ہیں:

(الف) ہر فرد کے اس حق کو ممکن بنانا کہ وہ زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل کرسکے (یعنی جو چاہنا چاہے چاہ سکے اور اسے حاصل کرنے کا زیادہ سے زیادہ مکلف ہو سکے) یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کی عین ویسی ہی آزادی میں رکارٹ نہ بنے۔یعنی اس بات کو طے کرنے کیلئے کہ افراد کو کیا کرنے کی اجازت ہوگی اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا تمام افراد کو اس عمل کی اجازت دینے کے بعد بھی اس عمل کو کرنا ممکن ہے یا نہیں؟ مثلاً فرض کریں ایک شخص چاہتا ہے کہ وہ شراب پئے،اب سوال یہ ہے کہ اگر تمام افراد ایسا کریں تو کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ چونکہ تمام افراد کو اس فعل کی اجازت دینے سے افراد کی خواہشات میں کوئی تصادم لازم نہیں آتا، لہذا شراب پینا بالکل درست عمل ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ شراب پی کر کار چلائے تو یہ ٹھیک نہیں کیونکہ اگر تمام افرادکو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے تو کوئی بھی شخص گاڑی نہیں چلا سکتاجس سے واضح ہوا کہ شراب پینا توٹھیک عمل ہے مگر شراب پی کر گاڑی چلانا غلط ہے۔اس اصول کے مطابق ایک بھائی کا اپنی بہن سے ، باپ کا بیٹی سے اور بیٹے کا ماں سے بدکاری کرنا عین درست عمل ہے کیو نکہ اگر تمام افراد ایسا کرنے لگیں تو بھی ایسا کرنے میں افراد کی خواہشات میں ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔اخلاقیت کے اسی اصول کو کانٹ (Kant)کا آفاقی اصول (Principle of universalisability)کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ایک فرد کا ہر وہ فعل اور خواہش قانوناًجائز ہے جسے وہ خواہشات میں ٹکراؤ آئے بغیر تمام انسانوں کو کرنے کی اجازت دینے پر تیار ہوسکتا ہے۔

(ب) ہر فرد کے اس مساوی حق کو ممکن بنانا کہ وہ دوسروں کو اپنی آزادی اس طرح استعمال کرنے پر مجبور کرسکے جس سے وہ دوسرا شخص اس فرد کی آزادی میں مداخلت نہ کر سکے ۔یعنی اگر ایک باپ اپنی بیٹی کو یونیورسٹی کے کسی رات کے فنکشن میں جانے سے منع کرے تو اس بیٹی کو اس بات کا حق حاصل ہونا چاہئے کہ و ہ پولیس کو بلواکر اپنے باپ کو جیل بھجوا دے اور خود یونیورسٹی جا سکے۔ اسی طرح اگر ایک باپ اپنی اولاد کو نماز نہ ادا کرنے پر سرزنش کرے تو اولاد کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ باپ کو انکی آزادی میں مداخلت کرنے سے روک سکیں۔

دستور کے مطابق افراد کی خواہشات ہی وہ اساس ہیں جو ایک جمہوری معاشرے میں قانون سازی کی واحد بنیاد بن سکتی ہیں، نیز یہ کہ افراداپنے اس حق کو اس طرح استعمال کریں کہ جس کے نتیجے میں افراد کی خواہشات میں اس طرح تحدید ہو کہ افراد کی آزادی میں بحیثیت مجموعی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہوسکے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری اکثر و بیشتر ریاستیں ہیومن رائٹس پر مبنی دستوری و جمہوری ریاستیں ہیں جسکا صاف مطلب ہوا کہ یہ لبرل سیکولر ریاستیں ہیں۔ اسکے بر خلاف خلافت کا منصب نظام قضاء کا تقاضا کرتا ہے جہاں فیصلے شرع کی روشنی میں طے کئے جاتے ہوں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پوری اسلامی تاریخ میں ریاستی قانون کی بنیاد شریعت رہی ہے جسکا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہماری عدالتوں میں نظام قضاء قائم تھا جہاں اسلامی علمیت کے ماہرافراد شریعت کی روشنی میں فیصلے کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ مغلیہ سلطان امام عالمگیرؒ نے کوئی دستور نہیں بلکہ فقہاء کرام کے فتاووں کو جمع کرکے اسے اپنی سلطنت کا قانون بنادیاتھا جس سے معلوم ہوا کہ افراد کے معاملات شرعی احکامات کے مطابق طے ہوتے تھے ۔ اسی طرح ہمارے ہاں حسبہ کا ادارہ بھی قائم تھا جسکا مقصد نہی عن المنکر کی بنیاد پر لوگوں سے اطاعت کرانا تھا۔ الغرض حاکمیت دستور اور نفاذ شریعت و اعلاء کلمۃ اللہ دو متضاد مقاصد ہیں ، نظام قضاء و حسبہ اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب اسلامی علمیت اور اسکے حاملین افراد کا معاشرتی غلبہ ہو نہ کہ دستور اور سوشل سائنسز کا۔

پنجم : مذہبی معاشرت بمقابلہ سول سوسائٹی

معاشرے سے مراد وہ ادارے ہیں جو افرادکے ان تعلقات سے وجود میں آتے ہیں جنہیں وہ برضاو رغبت اختیار کرتے ہیں۔ کسی بھی معاشرتی صف بندی کی نوعیت افراد کے ان مقاصد اور ان اقدار پر مبنی ہوتی ہے جنکے حصول کی خاطر میں وہ آپس میں تعلقات قائم کرتے ہیں، یعنی معاشرتی تنظیم کی ہئیت اور نوعیت اس بات پر منحصر ہے کہ جو افراد یہ معاشرہ بنا رہے ہیں ان کے میلانات ، رجحانات اور خواہشات کیا ہیں اور وہ دوسروں سے تعلقات استوار کر کے کن مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ چونکہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہر فرد اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا چاہتا ہے، لہذا لوگ جس بنیاد پر اپنے تعلقات قائم کرتے ہیں وہ انکی ’ذاتی غرض ‘ (Self-interest)ہوتی ہے یعنی ہر فرد ان تعلقات و روابط کے ذریعے اپنی کسی ذاتی خواہش ہی کی تکمیل کرنا چاہتا ہے ۔ ایسے تعلقات سے تعمیر ہونے والے معاشرے کو مارکیٹ یا سول سوسائٹی کہتے ہیں جہاں ہر تعلق اغراض کی طلب و رسد (Demand and Supply) کے اصول پر قائم ہوتا ہے ۔ ایسی سوسائٹی میں ہر شخص اپنی اغراض کی بنیاد پر interest-groups (غرضی گروہ) بناتا ہے، مثلاً محلہ و مارکیٹ کمیٹیاں، مزدور تنظیمیں، اساتذہ و طلبہ تنظیمیں، صارفین و تاجروں کی یونین، عورتوں اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں و دیگر این جی اوز وغیرہ اسکے اظہار کے مختلف طریقے ہیں ،جہاں تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی یا محبت نہیں بلکہ اغراض ہوتی ہیں۔ جتنے زیادہ افراد ان اداروں پر منحصر ہوتے چلے جاتے ہیں سول سوسائٹی اتنی ہی مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے ۔ نتیجتاً ذاتی اغراض و حقوق کی ذہنیت و سیاست پختہ ہوتی چلی جاتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا اصل مقصد ہے ۔ سول سوسائٹی کی اکائیاں تبھی وجود میں آتی ہیں جب خاندان کا ادارہ کمزور ہوجاتا ہے، یہ اکائیاں فرد کی زندگی کے اس خلاء کو پر کرنے کیلئے وجود میں آتی ہیں جو روایتی اداروں کے ختم ہوجانے سے پیدا ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی درحقیقت مذہبی معاشرت کی ضد ہے جہاں تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی ، محبت اور باہمی تعاون کا جذبہ ہوتا ہے اور ان جذبات پر مبنی تعلقات سے جو فطری ادارہ تشکیل پاتا ہے اسے خاندان و برادری کہتے ہیں جو اسلامی معاشرت کا جزاول ہے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں ہماری معاشرت اسلامی تھی ، تعلقات کی بنیاد صلہ رحمی تھی جسکی وجہ سے خاندان مضبوط تھے، حرص و حسد کو معاشرتی عموم حاصل نہ تھا، مخلوط معاشرت کی وبا ظاہر نہ ہوئی تھی اورتقریباً تمام افراد تزکیہ نفس کیلئے صوفیاء کے سلسلوں سے منسلک تھے ۔ موجودہ مسلم ریاستوں میں جو معاشرت عام ہورہی ہے وہ اسلامی نہیں بلکہ سول سوسائٹی ہے جسکا سب سے بڑا اظہار خاندان و برادری کی کمزوری، بے حیائی و فحاشی کے فروغ اور افراد کا خانقاہوں سے لاتعلق ہوجانے کی صورت میں واضح ہے۔ کہ ہماری حکومتیں جس نوعیت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں وہ سول سوسائٹی کو مضبوط اور مذہبی معاشرت کو کمزور کرنے کیلئے موثر ترین ہتھیار ہے۔

9.6۔موجودہ مسلم ریاستوں کے خلاف انقلابی حکمت عملی کی شرعی حیثیت

اب ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ موجودہ مسلم ریاستوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ اگر ایک لمحے کیلئے درج بالا تفصیلات کو نظر انداز کر بھی دیا جائے تو بھی موجودہ مسلم ریا ستوں کا صریح طور پر فسق و فجور میں مبتلا ہونا عین واضح ہے جوانکے امارت ضالہ ہونے کا ثبوت ہے جس صورت میں انکے خلاف خروج جائز ٹہرتا ہے، اور اگر یہ ریاستیں کفریہ کام کریں تو پھر بدرجہ اولی خروج (بمعنی جہاد) کی مستحق ہونگی ۔ لیکن اوپر بیان کی گئی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ موجودہ ریا ستیں دانستہ و نا دانستہ طور پر ایک ایسے کفر یہ نظام پر مبنی اوراسکی حامی و ناصر ہیں جہاں خدا کے بجائے عوام کی حاکمیت اور شرع کے بجائے دستور نافذ ہے، لہذا یہ بحیثیت ریاست کافرانہ ریاستیں ہیں گو کہ انہیں چلانے والے مسلمان ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہماری افواج و پولیس، بیوروکریسی اور عدلیہ وغیرہ کے ممبران مسلمان ہی ہیں جن میں سے کئی ایک مخلصین بھی ہیں ، مگر یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عیسائی ریاست قائم کرکے اسکے قانون کے ما تحت زندگیاں بسر کرنے لگیں یا جیسے مسلمان سودی بینکنگ پر مبنی نظام زر چلارہے ہیں۔ انہیں معنی میں موجودہ دور میں پائی جانے والی صورت حال نئی اور منفرد ہے کہ ’قومی نوعیت ‘ کے مسلمان حکمران اس سے پہلے کبھی کسی ’باطل نظام ‘ کے تحت حکمرانی نہیں کرتے تھے ، بلکہ ان کا جرم فسق و فجور کی نوعیت کا ہوتا تھا نہ کہ کسی نظام باطل کے حامی و ناصر ہونے کا ۔ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں جس علمیت، قانون ، معاشرت و سیاست کو فروغ دے رہی ہیں وہ سرمایہ دارانہ خدوخال پر مبنی ہیں جن کا اسلام سے ہر گز کوئی تعلق نہیں اور اس میں کون شک کر سکتا ہے کہ جب مسلم آبادیوں پر نظام کفر غالب ہو تو اسکے خلاف جہاد کرنا لازم ہے ، حالت اضطراری کی بات الگ ہے اگرچہ کہ اس دور میں بھی تیاری کرنا لازم ہے ۔ گو کہ ایسی صورت حال میں جہادکے فرض عین و کفایہ ہونے کی بحث کی جاسکتی ہے لیکن جس شخص پر اس باطل نظام کی حقیقت واضح ہوجائے کم از کم اسپر تو بقدر استطاعت جہاد لازم ہے۔ ۔۔واللہ اعلم بالصواب

اس مقام پر ایک وضاحت کردینا ضروری ہے جو اکثر و بیشتر غلط فہمی کا باعث بنتی ہے اور وہ یہ کہ جہاد کی جو بحث اور شرائط کتب فقہ میں ملتی ہیں وہ اسلامی اور کفریہ ’ریاست ‘ کے تناظر میں ہے ، یعنی تحفظ دین کا جہاد (جب کفار مسلمانوں کے علاقوں پر لشکر کشی کریں) فرض عین جبکہ غلبہ دین کا جہاد (جب مسلمان کفار کے علاقوں پر لشکر کشی کریں) فرض کفایہ ہوتا ہے۔ جہاد کی ان شرائط کو جو اسلامی ریاست کے تناظر میں وضع کی گئیں تھیں انہیں موجودہ کافرانہ قومی مسلم ریاستوں کے خلاف جدوجہد کرنے پر منطبق کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ اسی طرح علمائے متقدمین نے خروج کے خلاف جو فتوے دئیے تھے انہیں بھی موجودہ صورت حال پر منطبق کرنا درست نہیں کیونکہ یہاں تو سرے سے وہ اسلامی ریاست ہی مفقودہے جس کے خلاف خروج پر وہ فتوے دئیے گئے تھے۔ ہماری فقہ کے اہم اصول پہلی اور دوسری صدی ہجری میں مرتب ہوئے کہ جب بنوامیہ اور عباسی خلافتیں قائم تھیں ، آج کے دور میں تو مسلمان آبادیوں اور حکمرانوں سب پر طاغوت کا غلبہ ہے لہذا ہمیں مجاہدین اور انقلابیوں کی جدوجہد کا دفاع کرنا چاہئے نہ کہ انہیں ان اصولوں پر سو فیصد منطبق کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو فقہاء کرام نے خلافت اسلامیہ کے تناظر میں مرتب کئے تھے۔ پس فتوی دینے میں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں وہ کفار کو فائدہ پہنچانے کا باعث نہ بنے ۔

اس تفصیل سے خروج اور جہاد میں فرق کی بحث بھی بے معنی ہوجا تی ہے کیونکہ خروج بھی جہاد ہی ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے افضل الجہاد کلمۃ الحق عند السلطان الجائر، نیز تفسیر جصاص میں نفس زکیہ کے خروج کے حق میں امام ابوحنیفہؒ کا قول منقول ہے کہ آپ نے اسے کفار کے خلاف جہاد سے افضل قرا ر دیا ۔ دونوں کوششوں میں فرق یہ ہے کہ اگر یہ جدوجہد اسلامی نظام زندگی کے اندر فاسق و ظالم مسلمان حکمران کے خلاف ہو تو ’خروج‘ کہلاتی ہے اور اگر غیر اسلامی باطل نظام زندگی کے خلاف ہو تو ’جہاد ‘ کہلائے گی، البتہ اس مسلمانیت کے فرق کی بنا ء پر دونوں کے فقہی معاملات میں بھی فرق کیا جائے گا (مثلاً یہ کہ مسلمانوں کو غلام نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی انکے اموال کو مال غنیمت سمجھا جائے گا وغیرہ وغیرہ)۔ اسلامی تاریخ میں اس نوع کے جہاد کی مثالیں تاتاریوں کے خلاف علامہ ابن تیمیہؒ اور دیگر علماء کی قیادت میں نیز صلاح الدین ایوبی ؒ کے زمانے میں فاطمی حکومت کے خلاف جہاد کی صورت میں موجود ہیں۔

خوب یاد رہے کہ ہماری جدوجہد کا مقصد موجودہ نظام اقتدار کے اندر شمولیت نہیں بلکہ ایک متبادل نظام زندگی اور اقتدار قائم کرنا ہے جہاں عوام یا کسی فرد کے بجائے ’اہل الرائے ‘ کا اقتدار قائم ہو جنکی مرضی و مشورے سے ہی ریاست کے امور طے پائیں ۔ ملوکیت میں ریاست کے ایک جز ’تبدیلی حکومت کے طریقے ‘ میں یہی خرابی پیدا ہوگئی تھی کہ خلیفہ کا تعین اہل الرائے کے ہاتھ سے چھن گیا تھا جسکی وجہ سے دیگر مسائل پیدا ہوئے۔ اسی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں جہاں اہل الرائے کو اقتدار کے تمام اداروں سے بے دخل کردیا گیا ہے وہاں نظام اقتدار میں کتنی خرابیاں پیدا ہوئی ہونگی کیونکہ ریاست اہل الرائے کے اقتدار سے جتنی دور ہوتی ہے اتنی ہی غیر اسلامی ہوتی ہے ۔ چنانچہ جہاد اور خروج کے بغیر عموماً اقتدار نہیں بلکہ حکومتیں تبدیل ہوا کرتی ہیں کیونکہ قانون کے اندر رہ کر کی جانے والی جدوجہد توloyal disobedience (تابعدارانہ مخلص نا فرمانی ) ہوتی ہے جسکے نتیجے میں نظام اقتدار تبدیل نہیں ہوتے۔ نظام باطل کے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اقتدار تبدیل کرنے کی خواہش رکھنا self-defeating (تضاد پر مبنی ) اصول ہے کیونکہ ہر نظام اقتدار کے قوانین اسکے اپنے استحکام کیلئے بنائے جاتے ہیں نہ کہ اسے ڈھادینے کے لئے۔ disobedience Loyal کے زریعے اقتدار تبدیل کرنے کی غلط فہمی اس لئے پیدا ہوئی کہ ہم نے قانون کو ’غیر اقداری‘ (value-neutral) سمجھ لیا ہے حالانکہ ہر قانون ایک مخصوص انفرادیت و معاشرت نافذ کرنے کیلئے وضع کیا جاتا ہے اور یہی حال ہیومن رائٹس پر مبنی دوستوری قانون کا بھی ہے جسکا مقصد سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن) ، معاشرت (سول سوسائٹی) اور ریاست (ریپبلک) کا قیام و فروغ ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں سچ بات سمجھنے ، کہنے اور اسپر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

اشکال (1): کیا پاکستان کے آئین میں قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہ کرسکنے کا آرٹیکل اسے اسلامی ریاست نہیں بنا دیتا ؟

٭ پہلی بات : ۱۹۴۹ کی قرارداد مقاصد ہو یا ۱۹۷۳ کا دستور، علماء اسمیں ایسے ہی دھوکہ کھا گئے جیسے سترہویں ترمیم کے وقت مشرف سے دھوکہ کھا گئے تھے۔ علماء پر دستوری ریاست اور ہیومن رائٹس کی حقیقت صحیح طریقے سے واضح نہ ہو سکی تھی جسکی بناء پر انہوں نے دستور میں مذہب کی پیوندکاری کرنے کی کوششیں کیں، حالانکہ جس شے کو اصولاً رد کرنا چاہئے تھا وہ بذات خود ہیومن رائٹس پر مبنی دستوری قانون ہے جو کہ کتاب و سنت کا عملی متبادل ہے۔ ہیومن رائٹس پر مبنی دستور میں مذہبی پیوندکاری کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عقیدہ تثلیث میں توحید تلاش کرنا۔ ہوسکتا ہے علماء نے ۱۹۴۹ میں یہ پوزیشن سوشلزم کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بناء پر اختیار کی ہو (واللہ اعلم ) ۔ لیکن اصل غلطی ۱۹۴۹ میں نہیں بلکہ ۱۹۲۰ سے شروع ہوئی کہ جب خلافت اسلامی برپا کرنے کیلئے انقلابی جدوجہد سے مایوس ہوکر علماء نے ریاست کو غیر اقدار ی سمجھ کر تحریک خلافت کے بجائے تحریک استخلاص وطن کا ساتھ دینا شروع کیا

٭ دوسری بات : قرار داد مقاصد ہو یا ۱۹۷۳ کا دستور، یہ شقیں تو ریاست کو کافرانہ نظام کے ماتحت چلانے کا بہانہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شقیں ہمیشہ طاق نسیاں پر پڑی رہتی ہیں اور ہمارے ملک میں بے شمار قوانین خلاف شرع ہونے کے باوجود پچھلے 50 سالوں سے عدلیہ ٹس سے مس نہیں ہوتی، بلکہ اسکے بجائے جب کبھی کوئی اسلامی قانون نافذ کرنے کا معاملہ پیش آئے تو اسکی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے جیسا کہ سود کے خلاف قانون اور حسبہ بل کے معاملات میں دیکھا گیا

٭ تیسری بات : ان اسلامی نما شقوں کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ انہیں خود ’ہم نے‘ دستور میں رکھا ہے اور اگر ’ہم‘ چاہیں تو انہیں ختم بھی کرسکتے ہیں گویا اصل حاکمیت ’ہماری ‘ ہی ہے ۔ پھر ان شقوں پر مبنی شرعی قوانین کی نوعیت کسی بالادست قانون کی نہیں بلکہ وفاقی شرعی عدالت کے ایک ’مشورے‘ کی ہوتی ہے جنہیں عدالت عظمیٰ چاہے تو رد کرسکتی ہے، گویا اصل حاکمیت تو دستوری قانون ہی کی ہوگی اور شارع کی بات بس ایک مشورے کے طور پر کہی اور سنی جا سکتی ہےاور وہ بھی کبھی کبھی۔۔۔العیاذباللہ

٭ چوتھی بات : اسلامی ریاست صرف قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ ’نہ‘ کرنے کی پابند نہیں ہوتی بلکہ ہر فیصلہ قرآن وسنت اور اسلامی علمیت کی روشنی میں کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ شرع کے دائرے کو تشکیل قانون میں صرف اس حد تک محدود کرنا کہ قانون کا کوئی فیصلہ شرع کے خلاف نہ ہو اس مفروضے پر مبنی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی دائرہ عمل ایسا بھی ہے جہاں شارع نے انسان کو اپنی خواہشات پر چلنے کیلئے آزاد چھوڑ دیا ہے ،نیز قانون کا دائرہ شرع کے دائرے سے وسیع تر ہے۔ جبکہ اصل معاملہ اسکے عین برعکس ہے کہ شریعت ہمیں ہر معاملے کا حکم قرآن و سنت کی روشنی میں طے کرنے کا طریقہ بتاتی ہے اور اسلامی ریاست کا یہ وظیفہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن و سنت پر مبنی اہل الرائے کے مشورے سے تمام معاملات پر حکم لگائے ۔ شرع محض فرائض ، واجبات اور محرمات کا ہی نام نہیں بلکہ اس کا دائرہ سنن، مندوب، مستحب، مکروہ ، اساء ت و خلاف اولی کے درجات تک اسطرح پھیلا ہوا ہے کہ پیدائش سے لیکر موت تک کوئی ادنی سے ادنی انسانی فعل بھی اسکی گرفت سے باہر نہیں۔ لہذا طے کرنے کی بات یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ شرع کے خلاف نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ ہر فیصلہ شرع کے تقاضوں کے مطابق ہو کیونکہ اول الذکر رویہ شرع کو فرائض اور محرمات تک محدود کردیتا ہے

اشکال (2) : اگر باطل حکومت کو تبدیل کرنا ضروری ہے تو آخر ائمہ اربعہ وغیرہ نے اتنا اثر و رسوخ ہونے کے باوجود آج کے دور کی طرح جتھا بندی کرکے بنوامیہ و عباس کے خلاف خروج کیوں نہ کیا ؟

٭ پہلی بات: ائمہ اربعہؒ کا circle of influence (اثرورسوخ ) خود انکے اپنے دور میں اتنا وسیع تھا ہی نہیں جتنا آج ہمیں نظر آتا ہے ۔ مثلاً امام ابوحنیفہؒ کو انکی زندگی میں لوگوں نے امام اعظم نہیں مان لیا تھا بلکہ اس میں صدیاں لگیں۔ انکے دور میں تو انکے ہم پلہ کئی دیگر ائمہ حضرات موجود تھے ، بلکہ انکی زندگی میں تو لوگوں نے کئی وجوہات کی بناء پر ان پر خوب جرح کی تھی جسکا ذکر کتابوں میں ملتا ہے ۔ لہذا یہ مفروضہ کہ انہیں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل تھی ایک غلط مفروضہ ہے

٭ دوسری بات: ضروری نہیں ہر وہ شخص جو کسی اعلی علمی سطح پر فائز ہو وہ سیاسی محاذ آرائی کا رجحان بھی رکھتا ہو ۔ ہم اپنے دور میں اسکی کئی مثالیں دیکھ سکتے ہیں، مثلاً علامہ غلام رسول سعیدی، مفتی تقی عثمانی، مولانا سلیم اللہ وغیرہ کا بڑا علمی مقام ہے، ہزاروں کی تعداد میں انکے شاگرد ہیں جنکا پھر اپنا ایک وسیع حلقہ احباب ہے لیکن اسکے باوجود یہ علماء مسند علم سنبھالے ہوئے ہیں اور کسی قسم کی سیاسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنتے

٭ تیسری بات: پھر ان ائمہ نے یہ کب لکھا کہ ایسا کرنا ہی حرام ہے۔ ائمہ اربعہ کا کسی کام کو نہ کرنا ادلہ احکامات شرعیہ میں سے تو نہیں ۔ مثلاً ائمہ اربعہ میں سے کسی نے کفار کے خلاف عملاً جہاد میں حصہ نہ لیا تو کیا اسکا مطلب یہ ہو گیا کہ جہاد کی اہمیت ہی کم ہے؟ درحقیقت جو کام وہ اچھی طریقے سے کر سکتے تھے انہوں نےکیا ، لیکن جو نہیں کرسکے تو انکا نہ کرنا اسکے غلط ہوجا نے کی کوئی دلیل نہیں ۔ انہوں نے جو عظیم علمی کارنامہ کر دکھایا امت ہمیشہ کیلئے اسپر انکی احسان مند رہے گی

٭ چوتھی بات: یہ مفروضہ بھی غلط ہے کہ ان ائمہ نے کسی قسم کی سیاسی جدوجہد کی ہی نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ کا نفس زکیہ کے خروج کا ساتھ دینا تو سب کو معلوم ہے ، امام صاحب کے سیاسی نظریات کیسے تھے یہ جاننے کیلئے آپ کے بارے میں امام اوزاعیؒ کا یہ مشہور قول ہی کافی ہے کہ ’ہم نے ابو حنیفہؒ کی سب باتوں پر صبر کیا یہاں تک کہ وہ حکومت کے خلاف تلوار لیکر باہر نکل آیا‘۔ اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ نے بھی قربانیوں کی جو بے مثال تاریخ رقم کی ہے اسے کون بھلا سکتا ہے؟

اشکال (3): اگر امام حسینؓ درست تھے تو دیگر صحابہؓ نے یزید کے خلاف خروج کیوں نہ کیا؟

٭ پہلی بات: مسئلہ خروج ہے ہی اجتہادی مسئلہ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ، اس امر میں بہر حال اختلاف ہے کہ کس وقت تک امیر کی اطاعت کرتے رہنا ضروری ہے ۔ مثلاً ایک حدیث میں اس وقت تک امیر کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کفر بواح (یعنی واضح کفر) کا اظہار نہ ہونے لگے۔ اب حدیث کے الفاظ کفر بواح کی تعبیر میں اختلاف ہو سکتا ہے دیگر صحابہؓ کا اپنا اجتہاد تھا جبکہ امام صاحب ؓ کا اپنا اور دونوں ہی مجتہد تھے۔ ہوسکتا ہے دیگر صحابہؓ کے نزدیک کفر بواح سے مراد کفریہ عقیدہ ہو اور امام حسینؓ اور عبداللہ بن زبیرؓکے نزدیک اس سے مراد ترک فرائض ہو جیسا کہ انکے لئے بھی کفر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، مثلاً من ترک الصلوۃ متعمد ا فقد کفر

٭ دوسری بات: ہو سکتا ہے دیگر صحابہؓ نے مسلمانوں کی مزید خون ریزی کے خدشے کی بناء پر یزید کو قبول کرلیا ہو، ویسے بھی حضرت علی ؓو امیر معاویہؓ کی جنگوں کے نتیجے میں مسلمانوں کی باہمی خون ریزی کی یادیں ابھی تازہ تھیں، نیز ہو سکتا ہے انکے خیال میں یہ تبدیلی نظام خلافت کے ایک جز (اہل الرائے کے مشورے سے خلیفہ کے تعین) کی مستقل تبدیلی پر محمول نہ ہو ۔ امام حسینؓ نے عزیمت اختیار کی، انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ یزید کی امارت محض ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ خلافت اب مورثی بننے جارہی ہے اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ وہ ٹھیک تھے ، پھر بڑی تعداد میں اہل کوفہ کے یقین دلانے پر انہیں کامیابی کا امکان بھی نظر آرہا تھا

٭ تیسری بات: دیگر صحابہؓ نے ایسا کرنے پر امام حسینؓ کو برا بھلا کب کہا؟ ا سکے برعکس سب کی ہمدردیاں آپؓ کے ساتھ تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یزیدی لشکر نے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کیا تو کئی صحا بہ نے اس کھلے فسق و فجور کو دیکھ لینے کے بعد اپنی بیعت فسخ کرکے حضرت عبدللہ بن زبیرؓ کا ساتھ دیا گویا اب حالات انہیں بالکل واضح نظر آنے لگے تھے

٭ چوتھی بات: عین ممکن ہے کوئی شخص امام صاحب ؓ کی حکمت عملی سے اختلاف کرتے ہوئے اس میں اجتہادی غلطی ثابت کردکھائے کہ انہیں کوفہ جانے کے بجائے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے ساتھ ملکر مکہ و مدینہ کو ہی اپنی مشترکہ جدوجہد کا مرکز بنانا چاہئے تھا وغیرہ وغیرہ، مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالی کے ہاں نہ تو کامیابی کامعیار زمین کے کسی ٹکڑے کو فتح کرلینا یا اسپر اپنی زندگی میں عملاً کوئی آئیڈیل نظام ہمیشہ کیلئے بالفعل قائم کردینا ہے اور نہ ہی اسکے ہاں کسی شخص کا مقام اس بات سے طے ہوتا ہے کہ کسی فعل کو انجام دیتے ہوئے اس نے کتنی اجتہادی غلطیاں کیں، بلکہ جو شے اسکے ہاں مقبول ہے وہ تقویٰ اور اخلاص پر مبنی ایسی جدوجہد ہے جسکا مقصد دنیا کو سرکار دو عالم ﷺ کے دور کی طرف پلٹا دینا ہے کیونکہ اسلامی ریاست کی dynamics میں یہی مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ خیرو لقرون کی طرف مراجعت کے عمل سے دو چار رہے

٭ پانچویں بات: صحابہؓ کے آپسی اختلافات میں ہمیں منصف بن کر کسی ایک گروہ کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہنے کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ صحابہ کے بارے میں یہ ارشاد نبوی ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہئے فی اصحابی لا تتخذوہم غرضا من بعدی۔ انکامقام بہت بلند ہے اور وہ جو بھی کرتے تھے پورے خلوص نیت کے ساتھ اسلام ہی کیلئے کرتے تھے ۔

باب 10

مسائل نظری میں الجھ گیا ہے خطیب

(تھیوڈیموکریسی کا سراب)

مولانا مودودیؒ کی فکر چند اہم خاموشیاں اور کمزوریاں

ہماری رائے میں جماعت اسلامی کے انحطاط اور انجماد (stasis and entropy)کی بنیادی وجہ وہ اہم خاموشیاں اور کمزوریاں ہیں جو مولانا مودودیؒ کے مرتب شدہ نظریاتی سیاسی خاکہ میں مضمر ہیں ۔مولانا مودودیؒ نے اسلامی جدوجہدکو دستوری جمہوری تناظر میں ترتیب دینے کا جواز پیش کیا اور اس نظریاتی تناظر میں جو حکمت عملی مرتب فرمائی وہ اصولاًمعروضی (abstract) تھی اور اس کا پاکستان کے زمینی معاشرتی اور سیاسی خصوصیات سے الحاق نہایت محدود تھا ۔یہ نظریاتی خاکہ برصغیر کی ایک ہزار سال پرانی متحرک غلبہ اور تحفظ دین کی تحاریک سے سہو نظر کرتا ہے اوراس کا قدیم ائمہ سیاسیہ (امام ابن خلدونؒ ،امام ماوردی ؒ،شاہ ولی اللہ ؒ کی فکر سےبھی اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

اس نظریاتی ڈھانچہ (frame work) کی گرفت جماعت کے تنظیمی نظام پر بھی نہایت مضبوط ہے اور اس کے تناظر میں جو جماعتی دستور مرتب کیا گیا اس پر عمل پیرائی جماعت کو پاکستانی اسلامی تحریکات سے علیحدہ (Isolate) کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔

اس نظریاتی خاکہ کی بنیاد پر جماعت کے 8سالہ عملی تجربات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دستوری ریاستی (non inresectory)جدوجہد سے معاشرہ میں وہ اخلاقی اور روحانی تغیر پذیر رونما نہیں ہوتا جو عمومی عوامی اسلامی تحرک (mass Islamic mobilization) کو پیدا کرنے اور جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے بلکہ جدوجہد مبینہ انقلابی جماعت کو غالب معاشرتی نظام میں سمونے کا ذریعہ بن جاتی ہے (1)

اس باب میں پہلے مولانا مودودیؒ کا مغرب کے پیش کردہ چیلنجوں کا تجزیہ بیان کریں گے ۔اس کے بعد اس حکمت عملی کے خدوخال بیان کریں گے جو مولانا مودودی کی فکر میں ان چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لئے تجویز کی گئی ہیں اور آخر میں اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہوکر جماعت کی کارکردگی کا تجزیہ کریں گے ۔

10.1۔ مولانا مودودیؒ کی فکر میں مغرب کے چیلنج کا ادراک

مولانا مودودیؒ وہ واحد متکلم اسلام ہیں جنہوں نے مغرب کو جاہلیت خالصہ کہا ۔آپ کا یہ اجتہاد آپ کی فکر کی کلیدی شناخت ہے اور یہی آپ کی فکر دیوبندی اور بریلوی علماء کی فکر ہے ایک جانب اور مسلم ماڈرنسٹوں(علامہ اقبال،محمد علی جوہرؒ) کی فکر سے دوسری جانب ممیز کرتی ہے (2) بقول مولانا مودودیؒ "جاہلیت خالصہ"دیگر جاہلیتوں (بت پرستی ،عیسائیت ہمہ اوست سے منفرد ہے ۔جاہلیت خالصہ کے علمیاتی مفروضات حزب ذیل ہیں۔

مغرب جاہلیت خالصہ اس لئے ہے کہ اس کی تہذیبی نشودنما مادیت (materialism) کی بنیاد پر ہوئی۔ اس کا فلسفہ اس کا سائنس،اس کے اخلاقیات ،اس کی معاشرت ،اس کے قانون سب کے سب غیر حقیقی مفروضات پر قائم ہیں اور یہ اس کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں ۔اس لازمی تباہی کا سبب یہ ہے کہ مغر ب نے خدا سے منہ موڑ لیا ہے او رنفس امارہ کی پرستش اختیار کرلی ہے ۔( تنقیہات صفحہ 26-25)

مولانا مودودیؒ تہذیبوں میں تصادم کے قائل ہیں ۔ایک جانب ایک مضمل ،منجمد اور زوال پذیر اسلامی تہذیب سے اور دوسری جانب ایک طاقتور ،توانا روشن خیال مغربی تہذیب سے ،لہذا مسلمان ہر محاذ پر شکست کھارہے ہیں اور ان کے دلوں اور دماغ پر مغرب قبضہ کئے جارہاہے (تفہیمات صفحہ 31) لیکن یہ مقابلہ اصل اسلام سے نہیں ہورہا، اگر مقابلہ اصل اسلام سے ہوتو دنیا کی کوئی طاقت اس کو زیر نہیں کرسکتی ۔لیکن آج اصل اسلام پر کوئی عمل پیرا نہیں ۔اس کے قانون کی بنیاد پرانفرادی زندگیاں مرتب ہورہی ہیں نہ معاشرتی زندگی (تفہیمات صفحہ 31) ۔

مولانا مودودیؒ مغربی تہذیبی خودکشی کی دووجوہات بیان فرماتے ہیں۔تحریک ضبط تولید اور تحریک قوم پرستی ۔بقول مولانا مودودیؒ یہ دونوں مغربی انفرادیت اور معاشرت کی جڑیں مستقلاً کھوکھلی کرتی جارہی ہیں (مغربی تہذیب کی خود کشی ترجمان القرآن 1944 صفحہ ۱۰)بقول مولانا مودودیؒ مغربی تہذیب کی اساس نہ عقلیت پرمبنی ہے نہ فطرت پر ۔وہ صرف انسانی خواہشات کی پیروی کو مقدم رکھتی ہے ۔نفس کے احکامات کی تعمیل لازمی(imperative) گردانی گئی ہے ۔تحریک نشاۃ ثانیہ اور تحریک تنویر دونوں دوحقیقی عقلیت اور فطرت کے خلاف بغاوت ہیں۔اس علمیت کا انحصار صرف مادی تجربیت پر رکھا گیا ہے۔اس فکر نےہدایت فطرت سے نہیں خواہشات نفسانی سے حاصل کی۔اس کا تصور قدرمقداری (quantitative) اور افادیاتی(utilitarian) ہوگیا (تفہیمات صفحہ 96)

مغربی تہذیبی مابعدالطبیعاتی مفروضات وعقائد کی اس کڑی اصولی تنقید کے باوجود مولانا مودودیؒ آزادی کو بحیثیت ایک نظامتی قدر کے قبول کرتے ہیں (تحریک آزادی ہند اور مسلمان جلد 2 1972 صفحہ 32)اور ان کی فکر میں اس بات کا مبہم سے مبہم اشارہ بھی نہیں ملتا کہ آزادی ہی قدر مطلق (value in itself) ہے جس کی بنیاد پرمغربی نظام زندگی اور طرز حیات (یعنی سرمایہ داری مرکوز ہیں، یہ مولانا مودودیؒ کی فکر کی ایک نہایت اہم کمزوری ہے اور اس ہی وجہ سے آپ نے سرمایہ دارانہ نظام کی جو تنقید فرمائی وہ نامکمل اور غیر مربوط ہے ۔

شاید اس سے زیادہ حیرت انگیز بات آپ کی نیم خاموشی اور نیم تصدیق سائنٹیفک منہج(scientific method) کے ضمن میں ہے ۔آپ سائنٹیفک میتھڈکے علمیاتی تفوق کو تسلیم کرتے ہیں اور اس منہج کے تناظر میں کئی علمیاتی کاوشوں کو ترقی گردانتے ہیں۔آپ کی رائے میں مسلمانوں کو حالیہ سائنٹیفک آلات اور ایجادات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے، بقول مولانا مودودیؒ یہ سائنٹیفک وسائل اور ٹیکنولوجی خدا کا دیا ہو ا عطیہ ہیں اور خدا کے دیئے ہوئے قانون کے تحت ان سے پورا پورا استفادہ کیا جانا چاہئے (تفہیمات جلد دوئم صفحہ 34) ۔مولانا مودودیؒ تمام سائنسز طبعی ،معاشرتی سائنسز کو غیر اقداری(value neutral) تصورکرتے تھے ان کی رائے میں تحریک اسلامی کو رجعتی( 4)اورreactionary نہیں ہونا چاہئے بلکہ دور حاضر کی ایجادات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہئے (مسلمان اور جدید سیاسی کشمکش 2011صفحہ316)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا مودودیؒ کی فکر مغرب کی تہذیب کی تردید کا مطلب ماڈرن ازم(یا سرمایہ داری) کی تردید نہیں بلکہ رائج شدہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی ایسی اسلام کاری ہے جن کے نتیجہ میں نہ طرز زندگی بدلے نہ نظام زندگی بلکہ دونوں میں ایسی اصلاحات رائج ہوں جس کی بنیاد پر موجودہ فاسد مابعد الطبیعاتی عقائد کی جگہ اسلامی عقائد لےلیں ۔جاہلیت خالصہ کی جزوی اصلاح کو کیسےقابل عمل بنایا جائے اس کی واحد تشریح مولانا مودودیؒ نے اپنے نظریہ الٰہی جمہوریت(Theo democracy) میں پیش فرمائی ہے ۔

مولانا مودودیؒ تحریک تنویر کے مابعدالطبیعاتی اعتقادات کو رد کرتے ہیں لیکن ان ہی اعتقادات کی بنیاد پر مروجہ سائنٹیفک علمیت اور دارتی صف بندی کی اصلاح کو ممکن سمجھتے ہیں، الٰہی جمہوریت (Theo democracy) کا تصور اس بنیاد ی مفروضہ پر قائم ہے کہ جمہوریت ایک غیر اقداری (value neutral) نظام ہے ۔وہ کسی تہذیب وثقافت کے لئے اجنبی نہیں ۔

10.2۔ مغرب سے کیسے مقابلہ کیاجائے

بقول مولانا مودودیؒ مقابلہ کا مقصد ریاست مدینہ میں رائج طرز حیات کی طرف مراجعت نہیں۔ انقلاب کا مقصد دور حاضر کی تہذیب کو ترک کرکے ۷ویں صدی کے عرب معاشرت کا احیاء نہیں بقول مولانا مودودیؒ ایسا کرنا اسلامی تعلیمات کی روح کے بالکل خلا ف ہوگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی اتباع کامطلب یہ ہے کہ ہم ماڈرن زمانہ کے سائنٹیفک اور ادارتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھاکر اسلامی تہذیب کا احیاء کریں (تفہیمات 2011 صفحہ 315) لہذا غلبہ دین کی جدوجہد modernization ہی کی ایک تحریک ہے اور "الٰہی جمہوریت (Theo democracy) کا نظریہ اسلامی سیاسی تشکیل کی ماڈرنائزیشن کی توجیہہ مرتب کرتا ہے۔

نظریہ تھیو ڈیموکریسی کلاسیکی اسلامی فکر کے لئے ایک بالکل اجنبی نظریہ ہے اس نظریہ کے مطابق

اپنے ۱۹۴۰ کے مقالے اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے ؟”میں مولانا مودودیؒ نے اپنے تصور اقامت دین (یعنی قیام حکومت الٰہیہ کا جوخلاصہ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے

قیام پاکستان کے بعد مولانا مودودیؒ نے اس تصور اقامت دین میں دستوری جدوجہد کو شامل کردیا۔ آپ ذہنی انقلاب کے بجائے سیاسی انقلاب کی وقتی افادیت کے قائل ہوگئے اور پاکستان میں حکومت الٰہیہ کا قیام آپکی جماعت کا قلیل المدت (short term) مقصدٹھہرا جس کے وقوع کےلئے کسی طویل المدت ذہنی انقلاب کے برپا ہونے کا انتظام نہیں کیا جاسکتا تھا ۔۱۹۴۸ میں جماعت نے اسلامی دستور کے نفاذ اور قیام حکومت الٰہیہ کے لئے پہلی بار ایک عوامی مہم چلائی گئی اورقرارداد مقاصد کی ۱۹۴۹ میں دستور سازاسمبلی میں منظوری کے بعد جمہوری عمل کی بھرپور تائید کی اور اس وقت سے لیکر اپنے انتقال (۱۹۷۹) تک مولانا مودودیؒ جمہوری عمل میں شرکت ہی کو اقامت دین کا اصل قابل عمل ذریعہ سمجھتے رہے۔

مولانا مودودی ؒ کے مطابق ایک ایسے ملک میں جہاں ایک جمہوری دستور نافذ ہوشریعت حکومت کے قیام کے غیر دستوری طریقے اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتی لہذا پاکستان میں تنفیذ حکومت الٰہیہ کا ذریعہ انتخابات میں شرکت ہی ہے (اسلامی ریاست صفحہ ۲۰۲-۲۰۳)

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیامولانا مودودیؒ کا "حکومت الٰہیہ " کا تصور تاریخ اسلامی میں بالکل اجنبی ہے۔ مولاناکی سیاسی فکر کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔

یہ حکومت الٰہیہ کی تنظیم کا ایک غیر اسلامی خاکہ ہے جس کی اسلام کاری مولانا مودودی ؒ نے تنفیذشریعت کے ذریعہ کی ہے ۔تقریباً اس ہی قسم کا تصور ریاست اٹھارویں صدی کے فرانسیسی مفکر مونٹسکو (French political philosopher Montesquieu)کے یہاں بھی ملتا ہے ۔

چونکہ مولانا مودودیؒ کی فکر غیر تاریخی اور معروضی ہے اس پر غالب عقلیت کا اثر نہایت گہرا نظرآتاہے وہ سوشل سائنسز کو غیر اقداری(value neutral) تصور کرتے ہیں اور انہوں نے جان لاک (Johan Locke)کی سیاسی فکر کا بہت گہرا اثرقبول کیاہے ۔لاک (Johan Locke)کی طرح مولانا مودودیؒ بھی سیاسی عمل کو اخلاقی عقلیت کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے ہیں او راخلاقی عقلیت کے اظہار کا مقصد دنیاوی زندگی کی ترتیب اور تطہیر ہے ۔معرفت الٰہی اس کا لازمی نتیجہ ہے(اسلام کا روحانی نظام صفحہ نمبر 14)لاک کی طرح مولانا مودودیؒ کی فکر میں بھی آزادی ایک کلیدی قدر ہے لہذا آپ اپنے اس عقیدہ پر زور دیتے ہیں کہ گوحاکمیت تو اللہ کے لئے مختص ہے لیکن ہر شہری خلیفہ اللہ ہے اور نظام خلافت چلانے کے مسادی حقوق رکھتا ہے ۔کسی کو حق نہیں کہ وہ عام شہری کو اس کے دائمی حق خلافت سے محروم کردے ۔اسلامی حاکم محض سیٹیزن کے اس حق خلافت کو مرکزی کردیتا ہے ۔ملوکیت خلافت کی رد ہے (اسلامی ریاست صفحہ ۱۳۹-۱۴۲) مولانا مودودیؒ تمام لبرل حقوق انسانی (human right) کی تصدیق اور تائید کرتے ہیں۔(اسلامی ریاست صفحہ ۳۹۲-۳۸۷) ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مولانا مودودیؒ ایسے لبرل نظام اقتدار کی کارفرمائی کی وکالت کرتے ہیں جو حدود شریعہ کے ماتحت اور اس کے تناظر میں مرتب کیا جائےلبرل ازم ایک انقلابی نظریہ ہے اور لاک اوراس کے پیروکار لبرل ریاستی نظام کے برپا کرنے کے لئے قیام ایک خونی انقلابی جدوجہد کے قائل تھے لیکن وہ لبرل نظام کے خلاف کسی انقلابی پرتشدد جدوجہد کو جائز نہ سمجھتے تھے ۔قیام پاکستان کے بعد مولانا مودودیؒ کو ایک لبرل دستوری نظام ورثہ میں ملا وہ پوری زندگی اس نظام کے وفادار اور تابع رہے ۔وہ سمجھتے تھے کہ حکومت الٰہیہ کا قیام لبرل نظام معاشرت کے اندر ہی سے پر امن جمہوری دستوری جدوجہد کے ذریعہ ہی برآمد ہوگا ۔مولانا مودودی ؒ کا متصور انقلابی عمل معاشرتی نہیں اخلاقی ہے ۔ مولانا کی فکر میں اخلاقی تغیر کا ذریعہ حصول تعلیم ہے (بالخصوص وہ علم جو مولانا مودودیؒ کی اپنی تحریروں اور نصوص صحیحہ میں ان کی تعبیر سے حاصل کیا جاتا ہے (9)معاشرتی ادارتی تشکیل نو سے مولانا کو کوئی دلچسپی نہیں وہ لوگ جو مطلوبہ علم (یعنی مولانا مودودیؒ کی تشریحات نصوص صحیحہ حاصل کرلیں گے بتدریج رائج معاشرتی اور حکومتی اداروں (بالخصوص مقننہ میں) اقتدار حاصل کرلیں گے اس کے لئے نہ کسی غیر دستوری پر تشدد جدوجہد برپا کرنے کی ضرورت پڑیگی نہ معاشرتی اور ریاستی اداروں کی تشکیل نو کی ،بلکہ حکومت الٰہیہ اس فطری طریقے سے قائم ہوجائیگی (اسلامی ریاست صفحہ ۱۴۹)

مولانا مودودیؒ کی فکر میں اخلاقی تغیرمیں ایک دوسرے ذریعہ کی نشان دہی بھی کی گئی ہے ۔وہ ہےانتخابی عمل ۔بقول مولانا مودودیؒ جن ممالک بالغ رائے دہی (Universal suffrage) رائج ہے وہاں انتخابات میں شمولیت عوام کے خیالات ،رحجانات اور پسند یدگیوں کو بدلنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوئے ہیں اس شمولیت کے ذریعہ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاسکتا ہے ان کو اسلامی نظام کی حمایت پر ابھارا جاسکتا ہے اور عوام کی خود غرضی اور ان کی نسلی اور معاشی عصبیتوں کو کم کیا جاسکتا ہے سیاسیرجحانات میں تبدیلی لانا کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں (اسلامی ریاست صفحہ ۲۱۲تا۲۱۱) سیاسی اور مذہبی تربیت جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ بقول مولانا مودودیؒ ایک متقی پرہیز گار شخص ہونا ایک الگ چیز ہے اور ایک باشعور اسلامی ووٹر ہونا جو معاشی اور خود غرضانہ افاد یتوں کو رد کرے بالکل ایک علیحدہ چیز ہے (اسلامی دستور صفحۃ ۲۱۳) (9)انتخابی شرکت کے ذریعہ حالیہ سیاسی نظام کو چلانے کی صلاحیت بھی حاصل کی جاتی ہے ۔

انتخابی شکستوں سے خائف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ شکستیں گاہ ِگاہِ عوامی اسلامی بیدار ی پیدا کرنے کے ذرائع ہیں اور بقول مولانا مودودیؒ وہ وقت جلد یا بدیر آئیگا جب اپنی تمام تردھاندلیوں اور ناانصافیوں کے باوجود انتخابی عمل حکومت الٰہیہ قائم کرنے کی راہ ہموار کردینگے ۔مقننہ میں محدود (ایک دوسیٹوں پر) شرکت سے بھی قوت میں بے اندازہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے ۔بقول مولانا مودودیؒ (یہ تحریر ۱۹۵۷ کی ہے) اگر پاکستانی اسمبلی میں اسلامی نظام کے نفاذ کی تجویز ایک قرارداد کے طورپر پیش کی جائے تواس کی مخالفت کی جرأت کسی کی نہیں ہوسکتی (تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل صفحہ۱۳)

مولانا مودودیؒ کی فکر کی سب سے اہم خاموشی معاشرتی تغیر کے عمل کے سلسلہ میں پائی جاتی ہے۔ اسلامی تہذیب کے لئے تعلیم اور انتخابی عمل کے ذرائع ہی کی نشاندہی کی گئی ہے اور کسی عمل کی نہیں ۔جس انفرادیت اور جس حکومت کے تغیر کے مولانامودودیؒ متمنی ہیں اس کو ایک معاشرتی خلا میں مقید تصور کرتے ہیں۔اس تصور کے مطابق انفرادی اور ریاستی کارفرمائی معاشرتی عمل سے لاتعلق اور آزاد ہے۔ مولانا کی فکر کی معروضیت اور غیر تاریخیت کا اظہار اس فکر کی معاشرتی لاتعلقی (Social disendededness) سے ہوتا ہے ۔مولانا ہندوستانی مسلم سوسائٹی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معاشرتی تجزیہ میں سلفیت اور حنبلیت کارجحان غالب ہے ۔برصغیر کی متصوفیانہ فکر جس کے نتیجہ میں کروڑوں ہندومسلمان ہوئے )مولانا مودودیؒ کی فکرسے دور سے بھی واسطہ نہیں (10)آپ کے بقول معاشرتی تغیر موجودہ معاشرتی اداروں (برادریوں, پنچایتیوں ،خانقاہوں ،مدارس ،مساجد ،بازار) کی کارفرمائی میں شمولیت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کو ایک بالادست اشرافیہ تعلیمی اور جمہوری اقدام کے ذریعہ پورے مسلم معاشرت پر مسلط کریگی ۔

مولانا کی فکر میں اس بات کا اقرار ملتا ہے کہ مسلمانان ہند اسلام سے شدید محبت رکھتے ہیں (تاریخ آزادی ہند اور مسلمانان صفحہ ۲۱۲) لیکن اس عشق کو مہمیز دینے کے لئے برصغیر میں رائج اور شرعاً معتبرطرائق سے استفادہ کا کوئی تصور نہیں ملتا ۔ رائج شدہ طرائق تبلیغ سے بھی مولانا مایوس نظرآتے ہیں (تنقیہات صفحہ ۲۲۲)عوام کی مذہبی وابستگی کو دائمی تصور کیا گیا ہے اور اس کو فروغ دینے کے جس واحد عمل کی نشان دہی کی گئی ہے وہ فرد میں زندگی کے ہر شعبہ میں ذمہ داری اکااحساس پیدا کرنا ہے اور فرض کیا گیا ہے کہ ذمہ داری خود بخود روحانی ترقی کا باعث بنے گا (تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں صفحہ ۴۰) معرفت احسان سلوک یہ سب مولانا کی فکر میں بالکل ناپید تصورات ہیں ،یہاں تک کہ مولانا مودودیؒ امام غزالی ؒ کی صوفیانہ روش پر معترض نظر آتے ہیں اور اس کو اسلامی "تہذیبی زوال" کا ایک سبب بیان کرتے ہیں (تجدید واحیائے دین صفحہ ۷۱) بزرگان قادریہ اور چشتیہ جن کی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں آج آدھا برصغیر مسلمان ہے ان کی فکر کا کوئی اثر تو مولانا کی تحریرات میں نہیںملتا۔

مولانا مودودیؒ کی رائے میں معاشرتی تغیر لانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک نسبتاً چھوٹا مخلص، باصلاحیت ،تربیت یافتہ (12) گروہ کافرما ہو ۔یہ گروہ عوام کو متاثر ،مرعوب اور راضی کرکے اسلامی نظام زندگی کا معاشرتی تفوق (hegemony) قائم کردیگا ۔اسلامی نظام کا غلبہ اس باصلاحیت گروہ کے رائج شدہ معاشرتی صف بندیوں (برادریوں،خانقاہوں،بازاروں میں نفوذ کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ یہ مخلص صالحین جمہوری جدوجہد میں حصہ لیکر عوام کی حمایت کی بنیاد پر ایک مثالی حکومت قائم کردینگے اور اسلامی حکومت کا قیام ہی غلبہ دین کا ہم معنی ہے ۔

پاکستان میں کسی مزاحمتی ،عسکری (insurrectionary) تحریک برپا کرنے کی ضروت نہیں کیونکہ مولانا مودودیؒ کے بقول تحریک آزادی ہند (جوایک مسلم قوم پرستانہ تحریک تھی) کے نتیجہ میں ایک اسلامی ملک وجود میں آگیا (جہاں قرارداد مقاصد منظور کرلی گئی ہے )

لیکن جمہوری عمل میں نظریاتی پیش رفت (ideological penetration) کے لئے ایک خاص قسم کی جماعت کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔ایک ایسی جماعت جو کسی گروہ یا طبقے سے وابستہ نہ ہو بلکہ مولانا مودودیؒ کے تصور اقامت دین کو بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔اس میں صرف وہ مخلصین دین شریک ہوں جو مولانا مودودی ؒ کے تصور اقامت دین کو "عقیدہ" کے طور پر یقین رکھتے ہوں ۔مخلصین دین کی یہ مخصوص اشرافیہ اپنی نظریاتی شناخت برقرار رکھنے کے لئے "جمہوری" مرکزیت (Democratic centralism)کے اصولوں کے تحت منظم کیا جائے ۔

ایک Democratic centralism جماعت میں

۔ اپنے مخصوص مخاطبین (وہ جو پارٹی کےپیغام کو قبول کرنے کی طرف زیا وہ مائل نظر آتے ہیں) منتخب کرتی ہے

۔ ان منتخب حلقوں میں اپنے نظریات کی تشہیر کرتی ہے

۔ اور ان کو پارٹی سے ملحقہ برادر تنظیموں میں منظم کرنے کی کوشش کرتی ہے

ان پارٹیوں کو vanguard کہاجاتا ہے آج دنیا میں سب سے کامیاب vanguard پارٹی چین کی کیمونسٹ پارٹی ہے۔جب مولانا مودودی ؒ نے جماعت کی تشکیل کا کام شروع کیا تو دنیا میں دوکا میاب vanguard پارٹیاں موجودتھیں۔یوایس ایس آر(USSR)کی کیمونسٹ پارٹی اور ہٹلر کی Naziپارٹی۔مولانا مودودیؒ ان ہی دومثالیوں سے متاثر ہوئے (گوکہ اپنی تحریروں میں ان کا یہ اپنی لبرل فکر کے ماخذات کا کہیں حوالہ نہیں دیا گیا)

جماعت اسلامی کو انہی خطوط پر منظم کیا گیا ہے (13) ظاہر ہے کہ جماعت کا تصور ہمارے لئے بالکل اجنبی ہے ۔برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ میں مسلمان کبھی اس طرح منظم نہ کئے گئے اور جماعت کو پاکستانی معاشرہ میں اجنبی بنانے کی سب سے بڑی وجہ اس کی پارٹی ساخت اور اس کا دستور ہے ۔

10.3۔ حکمت عملی کے نتائج

جماعت اسلامی اپنی کارفرمائی کے تعین اور توجیہہ کے لئے مولانا مودودیؒ کی فکر پر کلیتاً انحصار کرتی ہے۔ جید دیوبندی ،اہل حدیث اور ندوی علماء ۱۹۴۲سے ۱۹۵۸ تک جماعت چھوڑتے رہے اور مولانا امین احسن اصلاحی کے جانے بعد مولانا مودودی کی حیثیت کا کوئی عالم جماعت کو میسر نہیں آیا ۔۱۹۵۸ کے بعد سے غیر علماء ترمیمیوں ( revisionists) کا ایک گروہ جماعت پر چھا گیا ہے ۔جس کی قیادت پروفیسر خورشید احمد کررہے ہیں (12) اور انہوں نے مولانا مودودیؒ کی فکر کے تناظر میں جماعت کی حکمت عملی مروج کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ کسی نظریاتی ارتقاء (theoretical advance) کو فروغ نہ دے سکے اور مولانا مودودیؒ کی فکر کی خاموشیاں او رکمزوریاں رفع نہ ہوسکیں اور وقت گزرنے کے ساتھ جماعت کی نظریاتی اساس کمزور پڑتی چلی جارہی ہے ۔

مولانا کی فکر میں نظریاتی اور معاشرتی جدوجہد کی تبطیق کے ضمن میں کچھ موجود نہیں ۔کیا ایک vanguardپارٹی democratic centralistہیئت رکھنے والی جماعت معاشرتی ،نظریاتی دخول ( impenetration) کاذریعہ بن سکتی ہے اور اگر ہاں تو کیسے اس سوال کا کوئی جواب جماعت کے پاس موجود نہیں ۔مولانا مودودیؒ کے اجتہادات اور برصغیر میں غالب صوفیاء ،دیوبندی ،بریلوی اور شیعہ آدرشوں سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے یہ سوال بھی جماعت کے لئے خارج البحث ہے۔جماعت کو اس بات کا فہم نہیں (اور اس فہم کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی) کہ ملک کا غالب نظریاتی ماحول (جو بریلویت، دیوبندیت،شیعیت ،مسلم قوم پرستی اور modernist آدرشوں کے ایک مخصوص نیم تضاداتی ملغوبہ (contradictions concatenation) پر مبنی ہے کس طرح معاشرتیرجحانات پسندیدگیوں اور معاشرتی صف بندیوں کو متاثر کررہاہے ۔جماعت پاکستان کے سیاسی نظم کی ترتیب نو کو ایک معاشرتی عمل تصور نہیں کرتی ۔

ایک نئے نظریاتی پیغام کی بنیاد پر ریاستی اشرافیہ کے مخصوص گروہوں کو متاثر کیا جاسکتا ہے لیکن صرف سازگار حالات میں اور اپنے نظریات کے فروغ کے لئے مخصوص "سازگار حالات"پیدا کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانا خود انقلابی جماعت کی ذمہ داری ہے (15) جماعت نہ یہ جانتی ہے کہ کون سا سیا سی سماجی ماحول اس کے نظریات کےتفوق کے لئے موزوں ہے نہ ہی اس ماحول کو قائم کرنے کی کوئی اہلیت رکھتی ہے ۔مثلاً پاکستان کی تاریخ میں دومرتبہ ساز گار انقلابی ماحول پیدا ہوا ۱۹۷۷ کی تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوران اور عمران خان کی ۲۰۱۴ کی گھیراو کے دوران لیکن دونوں مرتبہ ہماری قیادت نے یہ مواقع ضائع کردیئے اور مولانا مودودیؒ اور سراج الحق سرمایہ داری کے مصالحتی وکیل کا کردار اداکرتے ہوئے نظرآئے یہ ہمارے انقلابی نظریاتی کھوکھلا پن کی واضح ترین دلیل ہے ۔

اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم ۱۹۵۱ سے۲۰۲۳ تک مستقل الیکشن لڑتے آئے ہیں لیکن اپنی پے درپے عبرتناک شکستوں کے باوجود ہم کو یہ بالکل احسا س نہیں کہ نارمل روایتی انتخابی عمل انقلاب ساز ماحول کی پرورش نہیں کرتا بلکہ انتخابی عمل کو انقلابی بنائے بغیر نظریاتی غلبہ کے امکانات پیدا کرنا ناممکن ہوتا ہے ہم نے کبھی انتخابات کو انقلابی بنیادپر نہیں لڑا ۔

علمائے ایران کے برخلاف جماعت نے اپنے نظریاتی آدرشوں کی توجیہہ برصغیر میں غالب اسلامی مکالمہ میں مرتب کرنے کی کوشش کی نہ اپنے نظریات کی بنیاد پر معاشرتی اداروں میں نفوظ کی۔اتحاد اسلامی کی وہ ہمیشہ حمایتی رہی ہے 16قاضی حسین احمد ؒ کے دور امارت( ۱۹۸۷تا۲۰۰۹)میں اس پرزیادہ زور دیا گیا لیکن یہ اتحاد ہمیشہ ایک سیاسی ضرورت کی حیثیت سے کیا گیا اور اسلامی سیاسی جماعتوں کی بالائی سطحوں تک محدود رہا 17۔اس اتحاد کے نتیجہ میں نظریاتی تطبیق اور ارتباط کا عمل بالکل مفقود رہا اور اتحاد میں شامل اسلامی جماعتوں کے کارکن روحانی اور دینی طورپر ایک دوسرے کے قریب نہ آسکے ۔

معروضی بیانیئے (ideologies) مثلاً لبرل ازم اور اشتراکیت عوامی تحریک کو جنم دے سکتی ہیں بشرطیکہ ان معروضی نظریات کی بنیاد پر منفرد عملی پروگرام شروع کئے جائیں 18لیکن جماعت مولانا مودودیؒ کے نظریات کی بنیاد پرکوئی منفرد مخصوص اسلامی پالیسیوں کو تشکیل کبھی نہ دے ۔سکی جماعت کی مجوزہ معاشی اور سیاسی پالیسیاں اس کو پاکستانی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہونے کا اشارہ دیتے اس کے تمام انتخابی منشور (۱۹۷۰،۱۹۷۷،۱۹۸۹،۱۹۸۸،۱۹۹۳،۲۰۰۲،۲۰۰۸،۲۰۱۳،۲۰۱۸اور ۲۰۲۳ ) ایک عام لبرل سوشل ڈیموکریٹ اور مسلم قوم پرست ایجنڈہ بیان کرتے ہیں ۔ان منشوروں میں دی گئی تجاویز کا خلاصہ یہ ہے ۔

یہ تمام کی تمام لبرل قوم پرستانہ اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیا ں ہیں جن کو مسلم لیگ ،تحریک انصاف،پیپلزپارٹی ،اے این پی پورے شرح صدر کے ساتھ اصولاًقبول کرسکتی ہیں۔

جماعت اسلامی کے منشوروں میں چند مذہبی تجاویز یں بھی ہیں مثلاً

جماعت نظاماتی تغیرکے داعی ہے اس کے لئے اس بات پرغور کرنا ضروری ہے کہ اس کی بنائی ہوئی پالیسیوں کی تنفیذ سے غلبہ دین کیسے ممکن ہوگا۔اگر اس کی دی گئی مذہبی تجاویز نافذ کی گئیں تو معاشرہ میں مذہبیت کو فروغ ملے گا 21۔لیکن ان مذہبی تجاویز کا جماعت کی دی ہوئی لبرل ،قوم پرست اور سوشل ڈیموکریٹ تجاویز کی تنفیذ سے کیا تعلق ہے ۔کیا ہم ایک مذہبی انفرادیت کو ایک معاشرتی دہریت(مثلاً لبرل، قوم پرست اور سوشل ڈیموکریٹ معاشرت) میں سمونے کی جدوجہد کو غلبہ دین سمجھ بیٹھے ہیں ۔

ملک کی تمام اسلامی جماعتیں اسلامی انفرادیت کو فروغ دے رہی ہیں 22اور الحمداللہ اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہیں لیکن مخلصین دین سرمایہ دارانہ معاشرت میں پھنستے چلے جارہے ہیں ان کی اجتماعی معاشرتی ثقافت ہنوز روبہ زوال ہے اور وہ دہریہ اقتدار کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں جماعت اسلامی کی دعوت تو نظاماتی تغیرپر مرکوز ہے۔ یہ ہماری ہی ذمہ داری ہے کہ متقی مسلمانوں کو بااختیار بنائیں ۔ہمارے امتناع سود کے وعدہ عملاً کوئی معنی نہیں رکھتے اگر ہم بازار کی سطح پر ایک ایسے تمویلی نظام کو کار فرما نہ کر دیں جو سودی کاروبار اور اسلامی بینکاری کے فراڈ کو بتدریج منتشر نہ کرتا چلاجائے 23۔ہمارے نفاذ شریعت کے وعدے عملاًاس وقت تک بے معنی رہیں گے جب تک ہم محلہ کی سطح پر بین المسالک افتاء اورقضا اور تنفیذ فتاویٰ کا ایک جال نہ قائم کردیں ۔ہماری مذہبی تہذیبی پیش رفت اس وقت تک بے معنی اور لاحاصل رہے گی جب تک ہم اسلامی رسوم ورواج کی تطہیر اور احیاء کی بنیاد پر عوامی ثقافتی زندگی پر حاوی نہ آجائیں 24۔ ہماری استعماری غلبہ مخالف کوششیں بے سود رہیں گی جب تک ہم جاہلی تنویری عقلیت (Enlightenment epistemology) کےرد اور تسخیر کے لئے مولانا مودودیؒ کے اجتہاد "مغرب جاہلیت خالصہ ہے" کی بنیاد پر ایک علم کلام مرتب کرنے کےلئے جدوجہد کو Institutionalizeنہ کرسکیں ۔

مولانا مودودیؒ کا پیغام نہ خواص سمجھ سکے نہ مخلصین دین ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت مولانا ؒ کے معروضاتی ،غیر تاریخی ادبیات کو معاشرتی طورپر نافذ العمل نہ بنا سکی۔معاشرتی ادارتی صف بندی کا کوئی تصور مولانا ؒ کی فکر میں موجود نہ تھا ۔جماعت نے سیاسی عمل کو معاشرتی طوپر ترتیب نو دینے کی کوئی ضرورت نہ جانی ۔سیاسی عمل معاشرتی عمل غیر تناظری(de-contextualized) نہیں ہوتا ۔وہ اپنے معاشرتی ماحول سے ادارتی طورپر پیوست ہوتا ہے ۔نظاماتی تغیر کی خواہاں جماعتوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے سیاسی عمل کو بااثربنانے کے لئے ایک ایسا معاشرتی ماحول پیدا کریں جس میں ان کی سیاسی جدوجہد پنپ سکے ۔یہی ریاست میں ریاست (state within state) قائم کرنے کا عمل ہے اور اس بات کو واضح کرنا ہے کہ اقتدار کسی واقعہ (مثلاانتخابات میں کامیابی ) کے ذریعہ ایک دم منتقل نہیں ہوتا بلکہ دھیرے دھیرے انقلابیوں کے ہاتھوں میں معاشرتی ادارتی تفوق کے ذریعہ جمع ہوتا رہتا ہے اور انقلابی واقعہ(الیکشن میں کامیابی یہ کامیاب خروج) محض اس طویل المدت انتقال اقتدار کا تتمہ ہوتی ہے 25۔

حقیقت یہ ہے کہ جماعت کا تصور اسلامی ریاست نہایت محدود ہے مولانا ؒ تو ہمیشہ ریاست اور حکومت کو ہم معنی سمجھتے رہے ۔قیام پاکستان سے لیکر آج تک جماعت ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کرنے کی خواہاں رہی ہے۔

جماعت کے ہر انتخابی منشور میں اس بات پر فخر کا اظہار کیا گیا ہے، اس کے وزراء اور شہری ناظمین (mayors) کا دامن کرپشن سے بے داغ رہاہے اور انہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو فروغ دینے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی ۔جماعت نے عوام کے سامنے اپنے آپ کو سرمایہ داری کے مخلص ،دیانتدار خادم کے طورپر ہمیشہ پیش کیا ہے اس کی الیکشن کی عبرتناک شکستیں اس بات کی غماز ہیں کہ پاکستانی عوام میں سرمایہ دارانہ اخلاقیات کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ۔

مولانا مودودیؒ کی فکر میں سرمایہ دارانہ نظام کو محض ایک معاشی ہییت(structure) تصور کیا گیا ہے ۔اس کی انفرادیت اور معاشرتی جڑوں کا کوئی شعور نظر نہیں آتا مولانا ارتکاز دولت اور غیر مساوی تقسیم دولت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اجارہ داری کے فروغ کو سرمایہ دارانہ بازار کی کارفرمائی کا لازمی نتیجہ نہیں سمجھتے وہ سرمایہ دارانہ ملکیت اور ذاتی ملکیت میں فرق نہیں کرتے اور ریاستی سرمایہ دارانہ ملکیت کا کوئی تصور ان کے پاس موجود نہیں ۔وہ سرمایہ دارانہ قوانین کی کارفرمائی (بالخصوص قوانین رسد وطلب) 26کو فطری اور دائمی تصور کرتے ہیں ۔(اسلام اور جدیدمعاشی نظریات صفحہ ۳۳) وہ اشتراکیت کے مخالف ہیں لیکن سوشل ڈیمو کریسی کی کوئی تنقید ان کے ہاں نہیں ملتی اورسوشل ڈیموکریٹ فکر جماعت کی پالیسی سازی پراس حد تک چھا گئی ہے کہ موجودہ امیر جناب سراج الحق اپنا تعارف ایک مزدور کے بیٹے کے طورپر کرانے میں فخر محسوس کرتے ہیں سوشل ڈیموکریٹ آدرش پاکستانی معاشرت کے لئے بالکل اجنبی ہیں اور ہمارے یونینوں کے کام کے انحطاط اور انتشار کی ایک بڑی وجہ سوشل ڈیموکریٹ ایجنڈہ کا اختیار کرنا اور سرمایہ دارانہ ملکیت کی براہ راست مخالفت ترک کرنا ہی رہی ہے ۔

ماضی میں دومرتبہ جماعت عوامی مزاحمتی تحریک پیدا کرنے اور کچھ عرصہ تک قائم رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔۴۹-۱۹۴۸ میں اس تحرک کی بنیاد عوام کو یہ احساس دلانا تھا کہ مسلم لیگ کی حکومت تحریک پاکستان کے دوران کئے ہوئے اسلامی سلطنت کے وعدوں سے منحرف ہو رہی ہے ۔۱۹۷۷ کی عوامی مہم کی کامیابی کا سبب عوام میں یہ احساس دلانا تھا کہ بھٹو اسلام کا غدار ہے اور اپنے دہریہ استبدادی اقتدار کو دوام بخشنے کی کوشش کررہاہے ۔لیکن دونوں تحریکوں کے ذریعہ ہمیں صرف نمائشی علاماتی کامیابی حاصل ہوئی 27اس کی وجہ یہ تھی کہ جب تحریک اپنے عروج پر پہنچی اور بحران نظاماتی ہوگیا تو ہم نے دونوں بار مقتدراشرافیہ سے سمجھوتہ کرنے کی راہ اختیار کی کیونکہ ہم اقتداری نظام کی ترتیب نو کی نہ صلاحیت رکھتے تھے نہ ہمارے پاس تحریک کے کارکنوں کو معاشرتی سطح پر اقتداری اداروں میں منظم کرنے کا کوئی پروگرام موجود تھا ۔لہذا کامیابی کا تاثر تو ہمیں ملا لیکن ان تحریکوں کا فائدہ دہریہ قوتوں کو حاصل ہوا ۔بالکل احرار کی کامیاب تحریکوں کی طرح کوئی معاشرتی تغیر رونما نہ ہوااور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار مزید مستحکم ہوگیا ۔

ہر وینگار پارٹی کی طرح جماعت کو بھی ایک (mass base) اور منظم دستوں (regiments) کی ضرورت ہے مولانا مودودیؒ نے جماعت کی تنظیم سازی رکنیت لیننسٹ (Lininist) خطوط پر کی ہے، لیکن آپ نے یہ بات فراموش کردی اس قسم کی پارٹیوں کی ماس بیس (mass base) پرولتاریہ اور اس کے ریجمنٹ سویٹ(Soviets) یا کمیون( Commune) ہوتے ہیں ۔جماعت کے دستور رکنیت کے مطابق صرف ان کی رکنیت منظور کی جاسکتی ہے جو کبائر سے اجتناب کریں اور حلال رزق پر اکتفا کریں 28 ایسے مخلصین دین ان کی تعداد کروڑوں میں ہے لیکن ان میں سے جماعت کو ایک فیصد ارکان بھی میسر نہ آئے یعنی جماعت اپنی ماس بیس سے بالکل کٹی ہوئی ہے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جماعت کے دستور کی شق نمبر۳ میں دیا گیا عقیدہ تمام مخلصین دین کو جماعت کے قریب لانے میں ایک رکاوٹ کھڑی کرتا ہے 29اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس عقیدہ کو برصغیر میں غالب مذہبی نظریاتی مکالمہ (discourse)میں سمونے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہم نے مولانامودودیؒ کی فکر کی اکابر علماء اور صوفیائے برصغیرکے اشارات اور افادات سے منطبق کرنے کی کوئی منظم جدوجہد نہ کی، لہذا جماعت اسلامی اپنی فطری ماس بیس سے کٹتی چلی جارہی ہے حالانکہ مولانا مودودیؒ ایک ایسے راسخ العقیدہ متکلم اسلام ہیں جن کے مابعد الطبیعاتی مفروضات اور تصورات امت کے اجماعی موقف سے سرمو اختلاف نہیں رکھتے 30

ماس بیس کی محرومی کے ساتھ ہماری معاشرتی ادارتی صف بندی (regiment ) بھی نہایت محدود نظریاتی طورپر معلق (dysfunctional) ہیں ہماری سب سے وسیع کامیابی اس ضمن میں اسلامی جمعیت طلبہ کی تنظیم ہے لیکن وہ ماڈرن ازم کا سب سے بڑا شکار نظرآتی ہے ۔اس ہی کے تربیت یافتہ افراد نے جماعت کی پالیسی سازی کے عمل سے علماء کو بے دخل کیا ہے اور اور یہی لوگ جماعت میں ماڈرنسٹ فکر کی مقبولیت اور ماڈرنسٹ ادارتی تشکیکیت کو فروغ دے رہے ہیں ۔ہرسال اسلامی جمعیت طلباء کی صفوں سے سرمایہ داری کے وفادار انجنیئروں ،سول سرونٹس ،وکیلوں اور ڈاکٹروں کی کھیپ برآمد ہوتی ہے جن کے معاشرتی عمل میں نظاماتی تغیر کے شعور کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ۔

ہم نے ملک میں الخدمت کے ذریعہ رفاہ عامہ کا کام منظم کرنے کوشش کی ہے لیکن یہ سب خالصتاً سوشل ڈیموکریٹ خطوط پر مرتب ہے (اور اسی لئے سامراجی رفاہی ادارہ اس کے ساتھ تعاون پر آمادہ نظرآتے ہیں)اس کام سے نہ تحفظ دین کی تحریکات کو تقویت ملتی ہے نہ غلبہ دین کی تحریکات کو بلکہ یہ تو سرمایہ دارانہ عدل کی اسلام کاری کوفروغ دینے کا ایک مؤثر طریقہ بن کے رہ گیا ہے ۔

جماعت کے ارکان اور پالیسی سازاداروں میں نظریاتی ( theoretical)مکالمہ مفقود ہوکررہ گیا ہے اور جماعت کا پریس اور تحقیقی ادارہ پارٹی پالیسی پر بحث کو شجر ممنوعہ گردانتے ہیں ۔وہ رائج پالیسیوں کی مستقل وکالت تک اپنے آپ کو محدود رکھتے ہیں ان کی دیگر اشاعتیں عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں جن میں اختلافی مواد کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔

10.4۔ خلاصہ

جماعت کے معاشرتی زوال کا سب سے اہم مظہر اس کا اسٹریٹ پاور کھودینا ہے۔اس معاشرتی زوال کی اجمالاً دووجوہات بیان کی جاسکتی ہیں۔

پاکستانی معاشرت کی جن ابھرتی ہوئی خصوصیات سے سہو نظر کرکے جماعت کی سیاسی اور معاشری حکمت عملی مرتب کی گئیں ہیں وہ حسب ذیل ہیں ۔

شکم کی آگ لئے پھرتی ہے شہر بہ شہر

سگ زمانہ ہیں، یہ کیا اور انکی ہجر ت کیا36

یہ طبقہ ریاستی پالیسی سازی کے عمل پر چھایا ہوا ہے 37۔اس کے علاوہ ایک زرعی اور تجارتی اشرافیہ بھی موجود ہے جوریاستی پالیسی کی تنفیذ میں اور نظام اقتدار کی مقبولیت (legitimacy) کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں برادریوں کی کارفرمائی کے ذریعہ یہ اس نظام ترسیل فوائد اور وفاداریوں ( Systems of clientage and patronage ) کو قائم رکھے ہوئے ہیں جن کے ذریعہ جمہوری عمل کے شمارات اور تحکیم سے عوام مستفیذ ہوتے ہیں۔

گدائی میں بھی وہ اللہ والے ہوں غیور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ ہو یارا

یہ کام محلہ بازار اور مسجد کی بنیاد پر قائم خودانحصاری ادارتی صف بندی سے کیا جاسکتا ہے اس طرح کی کوئی بھی اسکیم کبھی بھی ہمارے زیر غور نہ رہی ۔پاکستانی عوام کا بہت بڑا عنصر معاشرتی اورریاستی تکلم میں شرکت کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ناخواندگی عام ہےا ور وہ جو خواندہ بھی ہیں نظریاتی مباحث سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔اس عظیم اکثریت کی معاشرتی کارفرمائی خالصتاً رواجی اور روایتی ہے ۔رسوم ورواج کی اشاعت اور مقامی تہذیبی رجحانات کو فروغ دینے سے پہلو تہی کا مطلب عوام کی زندگی سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلینا ہےپاکستانی عوام کی عظیم اکثریت نہ ہمارے مکالمہ کو سمجھنے کی ضرورت محسو س کرتے ہیں نہ ہم نے یہ مکالمہ ان کے لئے مانوس بنانے کی کوشش کی ہے ۔

جیسے جیسے جماعت ماڈرنا ئزہوتی چلی جاتی ہے ویسے ویسے اس کی پاکستانی معاشرتی اجنبیت بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ مولانا مودودیؒ کے ان دوکلیدی اجتہادات

کی عملی تشریح بیان کرنے کی صلاحیت کھوتی چلی جاتی ہے ۔بہت سے ناقدین جماعت کے زوال کو دائمی اور اس کے انحطاط اور انتشار کو لازمی سمجھتے ہیں ۔اس کے برخلاف ہمارے خیال میں جماعت کا احیاء ممکن بھی ہے اور ناگزیر بھی ناگزیر اس لئے کہ وہ مولانا مودودیؒ کی فکر کی فطری وارث ہے اور مولانا کے دوکلیدی اجتہادات

وہ بنیاد فراہم کرتے ہیں جن کی تفسیر اور تشریح مرتب کرکے مخلصین دین دورحاضر میں تجدید واحیاء دین کا مقدس فریضہ ادا کرسکتے ہیں ۔آج سرمایہ داری کا غلبہ عالمی ہے سرمایہ دارانہ نظام زندگی اورزندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہوگیا ہے ۔اس نے تمام مذاہب ،یہودیت ،عیسائیت ،ہندومت کو اپنے اندر سمو لیا42،سرمایہ دارانہ علمیت ،معاشرت،جمالیات اور سیاسیات پوری دنیا کو مسخر کیے ہوئے ہے۔

اسلامی تہذیب کو مغربیا نے کی جدوجہد سامراج نے مستشرقین(orientalism )فکر کو فروغ دیکر کی۔ آج مسلم سیاستدان ،مسلم مدبرین(intellectuals) اور مسلم سماجی کارکن اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کی اس مذموم مہم میں پورے شرح صدر کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں اور ان کی صفوں میں علمائے کرام بھی شامل ہوتے جارہے ہیں ۔43 ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ مغرب کے غلبہ کا مطلب سرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ کے علاوہ کچھ نہیں ۔آج سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزحیات اسلامی نظام زندگی پر چھایا ہوا ہے ۔

دورحاضر میں اسلام کو ایک مکمل خود کفیل نظام زندگی کہنے کا مطلب ہے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی مکمل تردید ۔دورحاضر میں مغرب کو جاہلیت خالصہ کہنے کا مطلب ہے سرمایہ دارانہ عقلیت ،جمالیات اور معاشرت کی مکمل تردید ۔سرمایہ دارانہ غلبہ کا مقابلہ ان ہی دواجتہادات کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے اس مقابلہ کی کوئی اور نظریاتی اساس نہیں ہوسکتی ۔مولانا مودودیؒ وہ مجتہد اور متکلم اسلام ہیں جنہوں نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے مقابلہ کے بنیادی اصول مرتب فرمائے ہیں ،جب تک یہ مقابلہ جاری ہے او رجب تک ہم مکمل سرمایہ دارانہ عقلیت او رمعاشرت کو مسخر نہیں کرلیتے مولانا مودودیؒ کی فکر مخلصین دین کی رہنمائی کرتی رہے گی ۔یہ طویل دورجدوجہد مولانا مودودیؒ کا دور ہے اس پورے دور میں ہم مولانا مودودیؒ کی فکر کی تطہیر ،تشریح اور تفسیر اور تنقید کی بنیاد پر ہی ہم سرمایہ دارانہ غلبہ کا مقابلہ کرتے رہیں گے ۔

حاشیہ

  1. اور رائج شدہ اخلاقیات ہمیشہ انقلابی جماعت کے کارکنوں کو بڑی حدتک متاثر کرتی ہے ۔ کچھ کارکن جو ان اخلاقیات کو رد کرتے ہیں جماعت پر اخلاقی انحطاط کا الزام لگا کر الگ ہوجاتے ہیں لیکن جاری سیاسی کشمکش سے علیحدگی کے منحرفین معاشرے میں عمومی اخلاقی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور "دیکھو ہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو" کی تصویر بن جاتے ہیں
  2. علمائے دیوبند وبریلوی ،اہل حدیث و شیعہ مغربی تہذیب کی کلیت پر عموماً حکم نہیں لگاتے وہ اس ضمن میں خاموشی اختیار کرتے ہیں ۔راسخ العقیدہ ماڈرنسٹ (علامہ اقبال ،مولانا تقی عثمانی مغربی تہذیب کے مخصوص آدرش (مثلاً تجربیت سرمایہ داری) کو اسلام سے ماخوذ گردانتے ہیں
  3. دیکھئے ایک اور اہم مکالہ "مغربی تہذیب کی خودکشی"جو ۱۹۳۸ میں ترجمان القرآن میں شائع ہوا ۔
  4. سائنٹیفک ترقی کو رد کرنے والی تحریک
  5. یہ بھی ایک اجنبی تصور ہے اور اس کی بنیاد پر کئی دیوبندی علماء مولانا مودودیؒ کی سیاسی فکر کو بدعتی کہتےہیں ۔مولانا مودودیؒ نظام زندگی سے بھی مراد حکومت ہی لیتے ہیں ۔
  6. یہ بات آپ کی ۱۹۴۷ کی سیاسی فکر کے بارے میں درست نہیں جہاں آپ ایک دینی انقلاب کو تغیر ریاست کے لئے ضروری گردانتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
  7. شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ علیہ کا ذکر تجدید واحیاء دین میں موجود ہے لیکن مولانا نے شاہ صاحب رحمہ اللہ علیہ کی سیاسی فکر کا کوئی تجزیہ نہ کیا نہ ان کے دیے ہوئے نظریات کی بنیاد پر اپنی فکر مرتب فرمائی
  8. جس کے قیام کے لئے مولانا مودودیؒ نے خود کوئی جدوجہد نہ کی تھی بلکہ قومی آزادی کی تحریکات سے لاتعلق رہے تھے ۔
  9. اس ہی پر جماعت اسلامی کا تربیتی اور تعلیمی نصاب مرتب ہے اور اس میں مولانا مودودیؒ کے علاوہ علماء او رمشائخ کی تالیفات سے برائے نام استفادہ کیا گیا ہے،نتخابی نظام میں شرکت کے نتیجہ میں جو منفی اشارات تحریک کے کارکنوں کی اخلاقیات پر مرتب ہوئے ہیں ان کو دفع کرنے کی کوئی تجویز مولانا مودودیؒ کی فکر میں نہیں ملتی ۔
  10. بلکہ مارکس کی طرح ایک مقام پر روحانیت کو افیومopium) )سے تشبیہ دیتے ہیں (رسائل ومسائل صفحہ ۴۱۲)
  11. لیکن امام غزالی رحمہ اللہ کے مرتب علمیاتی منہج کی بھرپور تائید اور معتزلہ کی مکمل تردید مولانا مودودیؒ کی فکر میں ملتی ہیں (تجدید واحیاء دین صفحہ ۷۳-۶۹) اس تردیدہی کی بنیاد پر آپ علامہ اقبال کی تصنیف (Reconstruction of Religious Thought in Islam) کا رد مرتب کرتے ہیں۔
  12. دیکھئے اگلا باب
  13. اس کا تجزیہ ہم آئندہ باب میں کریں گے
  14. ترمیموں (revisionists) کے دوسرے اہم رہنما خرم مراد تھے جن کا ۱۹۹۶ میں انتقال ہوگیا
  15. ظاہر ہے سازگار حالات کو پیداکرنے کی اکیلی مکلف انقلابی جماعت نہیں ہوتی بہت کچھ اس کے اختیار سے ہمیشہ باہر رہتاہے ,انقلابی عمل کے رفتار کار کو انقلابی سازگار حالات سے منطبق کرنا انقلابی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے ۔
  16. گوکہ مولانا مودودی ؒ کی فکر میں اتحاد اسلامی پر کوئی خاص زور نہیں دیا گیا اور آپ نے صوفیاء کرام اور مدارس سے اپنے آپ کو فاصلہ پررکھا
  17. اس سطح پر بھی اختلافات (مثلاً مشرف کی حکومت کے بارے میں اختیارکئے گئے رویہ میں ظاہرہوتے رہے
  18. مثلاً اشتراکیت کی بنیاد پر طبقاتی کشمکش (class struggle) کو مہمیز دینے کا پروگرام
  19. عملاً یہ تحکیم قانون کے سرمایہ ( Rule of law of capital) ہےکیونکہ سرمایہ دارانہ تصور ملکیت کو قبول کیا گیا ہے
  20. لیکن اسلامی بینکوں کے بارے میں خاموشی
  21. اس ہی وجہ سے پاکستان کی تمام دینی جماعتیں اس نوعیت کی تجاویز دینے پر اکتفا کرتی ہیں کیونکہ وہ سب دفاع دین کی تحریکیں ہیں
  22. اور اس عمل میں ہمارا حصہ نہایت محدود ہے
  23. اس نوعیت کی ایک تجویز جناب یونس قادری کی کتاب "اسلامی بینکاری کا متبادل میں دی گئی ہے
  24. اس ضمن میں پاکستانی زبانوں اور علاقائی ثقافت میں صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی روح پھونکنا نہایت ضروری ہے
  25. انتقال اقتدار کی یہ ترتیب صرف سرمایہ درانہ غلبہ کے دور سے تعلق رکھتی ہے دیگر ادوار سے نہیں ۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سرمایہ درانہ دور میں انقلابی واقعہ (قیام ریاست) دائمی نہیں ہوتا بلکہ اس کو فوراً چیلنج کیا جاتا ہے ۔جس کے نتیجہ میں مرکزی اقتدار اخراج توانائی (entropy) کا شکار ہوتی ہے ۔اس اخراج توانائی کو رروکنے کے لئے بھی معاشرتی اقدام اور استحکام کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے لہذا انقلابی واقعہ(قیام ریاست) کے بعد بھی مصلحین کی جماعتوں اور انقلابیوں پر تعاون اور اشتراک عمل کی اتنی ہی ضرورت رہتی ہے جتنی انقلابی واقع سے پہلے
  26. Law of supply and demand
  27. قرار داد مقاصد کی منظوری اور ضیاء الحق کی اسلامی حکومت کا قیام ، جماعت کا وینگارڈ پارٹی اس کے دستور میں دی گئی اس کی تنظیمی ساخت سےعیاں ہے ۔
  28. اور دستور میں دیئے گئے مخصوص عقیدہ (شق ۳) کو قبول کریں
  29. اس کی تفصیل آئندہ باب میں آرہی ہے
  30. اس بات کا اقرار مولانا یوسف لدھیانوی ؒ نے تفہیم القرآن پر تبصرہ کے دوران فرمایا ہے، مولانا کی کوئی (Intellectual biography) جوا ن کا مقام راسخ العقیدہ اسلامی متکلمین کے تاریخ دھارے میں متعین کرنے کی کوشش کرے آج تک تحریر نہیں کی گئی ۔جماعت میں مولانا کی فکر پر جو کام ہوا س کو hagiographic کہنا غلط نہیں
  31. اس پر تفصیلی تجزیہ آئندہ باب میں پیش کیا گیا ہے
  32. پاکستانی زبانوں کے ادیبات اور مقامی رسوم ورواج کی تطہیر اور فروغ میں ہمارا کوئی حصہ نہیں
  33. جیسا کہ لبنان کے مشرق اور جنوبی علاقوں میں حزب اللہ نے کرکےدکھا دیا
  34. یہ بات ہماری ۱۹۵۳ کی تحریک میں شمولیت میں درست نہیں جب مولانا مودودیؒ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن اس تحریک کے اختتام کو بھی ہم نے قبول کرلیا اور کوئی انقلابی اقدام نہ کرسکے
  35. اس گروہ کی نمائندہ شخصیت اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر باقررضا ہیں
  36. اس طبقہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ اردو اور دیگر پاکستانی زبانیں نہ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں
  37. اور عمران خان کے دورمیں اس کا اثر بہت بڑھ گیا ۔
  38. Durr-e-Shahwar ”Estimating the Middle Class in Pakistan, Islamabad, Pakistan Institute of Development studies Working paper No.77(2011)
  39. Adams (1966)” The Ideology of Molana Modudi” in DE Sounth, South Asia Policy and Beligion, New Jersey, Princenton, Binder, Islamic Liberalism (1988), Chicago , Chicago University Press, Esposit (1983), Voice of Rescergent Islam. New Yale OUP Euben(1999), Enemy in the Miror ,New Haven Yale UP, Caborius (2002), Religion in Pakistan Policy” In Mumtaz S(etal), Pakistan, The contours of state and Society, Karachi OUP Haider Z (2011), Ideologicaly Adrift” in Lodhi M.(ed), Pakistan Beyibal The Grison Stat, Karzdu , , ,R Hasan (2002), Faith Lines, Karachi OUP, Jacksor (2011), Molana Modudi and Political Islam, New York Routledge Moten (1984), Pure and Practical Ideology Islamic Quortarly (28) Nsir, V ( (1994), The Vanguard of the Islamic Revolution Berkley Umid (alfirance Perin, Norr V (1991), Mododi and Making of Islamic Revolution, New Yala OUI etc.
  40. اس لٹریچر کے تراجم اسلوب کے لحاظ سے نہایت ناقص اور مجہول ہیں
  41. اور ان کی اہمیت الیکشن کے دوران بڑھتی ہے۔ کیونکہ ان کے ذریعہ جماعت کو وافر مقدار میں عطیات ملتے ہیں۔
  42. عیسائیت لبرل ازم اور ہندومت اور یہودیت نیشنلزم میں collapseکرگئی ہیں اور لبرل ازم اور نیشنلزم سرمایہ درانہ نظریات ہیں
  43. پاکستان میں جو علما سرمایہ داری کی اسلام کاری کی مہم میں شامل ہیں ان میں مولانا تقی عثمانی اور مولانا منیب الرحمٰن اور مولانا زاہدالراشدی نمایاں ہیں ۔

باب 11

آہ وہ تیرنیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

(پاکستانی جمہوریت)

11.1۔ کیا پاکستان ایک لبرل ریاست بنتا جا رہاہے؟

1951ء سے پاکستان مغربی لبرل بلاک کا حصہ بن گیا ہے اور 2001ء سے وہ امریکا کی دہشت گردی کی جنگ کا ایک شریک کار ہے لیکن استعماری قوتیں بالخصوص امریکا ہمیشہ اس کو شک کی نظر سے دیکھتی آئی ہیں اور اس کے تعاون کو اخلاص پر مبنی نہیں سمجھتیں۔ پاکستان کے مغرب کا مستحکم حمایتی بننے کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان میں لبرل ادارےاور روایات جڑ پکڑیں۔ اصولاً پاکستان مغربی اتحاد سے لاتعلق ہوسکتا ہے کیوں کہ وہ ایک بڑا اور وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اس کی ایران، افغانستان اور ترکی سے جغرافیائی قربت بھی اس کی خود مختاری کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ پہلے ہم یہ بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ ایک ریاست لبرل ساخت اور ماہیت کیسے حاصل کرتی ہے۔ پھر پاکستانی ریاست کی خصوصیات پر توجہ مرکوز کریں گے اور اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ کس حد تک پاکستانی ریاست لبرل بنتی جا رہی ہے۔ آخر میں ان عوامل اور قوتوں کی نشان دہی کریں گے جو پاکستان کو ایک لبرل ریاست بننے میں مدد سے سکتی ہیں۔

11.2۔ لبرل ریاستی نظا م کیسے قائم ہوتی ہے؟

اجمالاً لبرل نظامِ ریاست کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

  1. لبرل ریاست سرمایہ دارانہ حقوق اور اقدار سے مخلص ہوتی ہے۔
  2. لبرل ریاست دہریہ(سیکولر) ہوتی ہے اور کسی مذہبی روایت سے مخلص نہیں ہوتی۔
  3. لبرل ریاست مارکیٹ کی آلہ کار ہوتی ہے وہ مسابقتی عمل میں مداخلت سےاصولاً پرہیز کرتی ہے۔
  4. ریاست کی پالیسیاں تین اہداف کے حصول پر مرکوز ہوتی ہیں :
  1. چونکہ مارکیٹ کا عمل لازماً نامساویت کو فروغ دیتا ہے لہٰذا ریاست نامساویانہ تقسیم وسائل اور اقتدار کوmanageکرنے کے لیے مخالف گروہوں میں مصالحت کو فروغ دیتی ہے۔
  2. اس مصالحتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا جمہوری نظام مرتب ہو جس کے ذریعہ اقتدار مختلف گروہوں کے درمیان بلاتشدد تبدیل ہوتارہے۔
  3. ریاست کا یہ فرض بھی ہے کہ ہر شہری سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) کے حصول کو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد سے ہم آہنگ تصور کرے۔

دورحاضر میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں لبرل معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ غیر لبرل سیاسی پالیسیاں کو اختیار کیا گیا ہے سب سے اہم مثال اس ضمن میں چین کی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ لبرل پالیسی اختیار کرنے والی تمام ریاستیں لبرل سیاسی پالیسیاں اپنائیں۔ ماڈرنائزیشن لازماًلبرل سیاسی نظام کے ابھرنے سے منسلک نہیں اس کے برخلاف تاریخی طورپر دیکھا گیا ہے کہ ماڈرنائزیشن عموماً قوم پرستی کے فروغ کا نتیجہ ہوتا ہے اور برصغیر میں قوم پرست تحریکیں (کانگریس، مسلم لیگ) لبرل جمہوریت کی مدعی تھیں۔ نوآزاد قوم پرست حکومتوں کو استعماری نظام کے ماتحت کرنے کا عمل جسے (state desovereignization ) کہتے ہیں ان ممالک میں لبرل نظام کو لازماً کمزور کرتا ہے۔

لبرل سیاسی نظام کا قیام اور استحکام اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ایک سرمایہ کار گروہ ریاستی سطح پر با اقتدار ہو اور اس کا یہ اقتدار عوام کی نگاہوں میں جائز ہو۔ عوام کی نگاہوں میں یہ جواز حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کار اشرافیہ اور محنت کشوں میں ادارتی (institutionalized) تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی ریاستیں (جنہیں کنگز لبرل قوم پرست ریاستیں کہتا ہے (اکثر بین الاقوامی منڈیوں میں کامیاب بھی ہوتی ہیں لیکن غیر لبرل ریاستیں چین، جنوبی کوریا بھی ایسی کامیابی حاصل کرلیتی ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں بہتر کارفرمائی کسی ملک کو ریاستی سطح پر لبرل پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے کافی نہیں گوکہ بین الاقوامی معاشی اور تجارتی نظام پورے کا پورا لبرل اصولوں پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ ایک لبرل ریاست امریکا کی عالمی نظاماتی بالادستی (Hegemony)ان ممالک کو بھی لبرل نہیں بنا پاتی مثلاً عراق،کولمبیا وغیرہ جہاں عالمی بالادست (hegemon) براہ راست ریاست پر غلبہ حاصل کرلے۔ لبرل انفرادیت اور معاشرت کو فروغ دینے کے لیے ہیومن رائٹس (بالخصوص حقِ سرمایہ دارانہ ملکیت اور حق رائے دہی) کی فراہمی ضروری ہے۔ لبرل انفرادیت کا فروغ، شہری اوسط آمدنی والے طبقوں اور منظم مزدوروں میں سب سے زیادہ ہوتا دیکھا گیا ہے۔ لبرل اقدار اور نظاماتی خصوصیات کا فروغ ریاستی اشرافیہ میں تضادات کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مذہبیت پر انحصار بھی لبرلرجحانات کے فروغ میں ایک اہم کردارادا کرتا ہے۔ معاشرت مذہبی کے بجائے جتنا جلد سول (civil)ہوتی جائے گی اتنی تیزی سے لبرل ازم ملک میں ترقی کرے گا۔

سیاسی لبرل ازم میں زوال پذیری کے اشارے بھی نوٹ کیے گئے ہیں۔ جمہوری نظام آمریت کے پردہ کاکام بھی دے سکتا ہے اور چونکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کی اصل وابستگی بڑھوترئ سرمایہ سے ہوتی ہے لہٰذا وہ آمریتیں جو معاشی ترقی کو مہمیز دیں جمہوری نظام کے مقابل زیادہ معاشرتی مقبولت بھی حاصل کرلیتی ہیں۔ فوکویاما (Fukuyama) کی رائے ہے کہ عالمگیریت کا عمل قومی وسطی طبقہ(middle class) کمزور کررہا ہے لہٰذا جمہوریرجحانات بھی زوال پذیر ہیں۔

لبرل انفرادیت، سیاسی نظام میں شراکت کی خواہاں ہوئی ہے، ماتحتی (Subjectification) یا مشاہداتی (Spectatorship) نہیں ہوتی۔ ایک شراکتی انفرادیت حقوق کی طلب گار ہوتی ہے اور یہ حقوق خدا کے دیے ہوئے نہیں بلکہ رائے عامہ کا اجماع (consensus) ان حقوق کو متعین کرتا ہے۔ لبرل انفرادیت ایک متنوع معاشرہ میں فروغ پاتی ہے جہاں مختلفرجحانات رکھنے والے گروہ اپنے انفرادی مفادات کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اور یہ جدوجہد انٹرسٹ گروپس کی شکل میں منظم ہوتی ہے اور یہ انٹرسٹ گروپس بھی عمومی جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں۔

نوعمرانیات (Neo-Sociology) کا مکتب فکر جمہوری عمل کی کمزوری کا ایک سبب یہ بتاتاہے کہ دور حاضر میں قومی ریاست عالمی حاکمیت (Global Governance) کا ایسا ذیلی مرکز بنتی جارہی ہے جو سرمایہ دارانہ قوتوں، ٹیکنالوجی، زر، میڈیا اور تارکین وطن کے بے ہنگم اور ناقابل تعین (unpredictable) بہاؤ کو منظم کرنے کی پیہم جستجو کرتی رہتی ہے۔ ان ناقابل تعین ہر لمحہ سیال سرمایہ دارانہ قوتوں کا بہاؤلبرل تعقل (Rationality) اورلبرل اقتدار کو بری طرح مجروح کرتا ہے او رلبرل معاشروں میں پرورش پانے والی انفرادیت گنجلک (complexified) ہوجاتی ہے۔ نسلی اور مذہبی تشخص کا احیا ہوتا ہے اور یہ گنجلک انفرادیت لبرل شہریت کی جڑوں کوکھوکھلا کر کے سیاسی نظام کو کمزور کردیتی ہے، ریاست کا دائرہ عمل سکڑنے لگتا ہے اوراس سکڑنے کا اظہار نج کاری کا وہ سیلاب ہے جو 1980ء کے بعد پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں آیا ہوا ہے۔

لیکن اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ عالمگیریت سرمایہ داری ہی کی گلوبلائزیشن ہے اور جن خطوط پر یہ گلوبلائزیشن فنانشل، تجارتی اور ٹیکنولوجیکل مارکیٹوں میں منظم کی جارہی ہیں وہ لبرل اصولوں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں اور کسی قومی سیاسی نظام کو سرمایہ کی گلوبل جکڑ میں جکڑ دینے کا مقصد اصولاً وہاں کی لبرل قیادت کے ہاتھ مضبوط کر دینا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ تضادات میں سے ایک اہم تضاد ہے کہ عملاً اکثر ایسا نہیں ہوتا اور سرمایہ کے گلوبل حاکمیتی نظام میں سموئی جانی والی قومی لبرل ریاستیں کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ سرمایہ داری کے اس اہم تزویراتیرجحان سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

ذیل کے جدول میں ایک لبرل نظام کی کلیدی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔

۱

شہریوں کا نظاماتی شراکتی (Participative)رجحان

۲

ٹیکنولوجیکل مفادات رکھنے والی اوسط آمدنی رکھنے والی اشرافیہ کی معاشرتی بالادستی

۳

سرمایہ کار طبقہ کی معاشرتی بالادستی

۴

لبرل قوم پرستی کا نظریاتی معاشرتی غلبہ

۵

عالمی سرمایہ کے چکروں(تجارت،فائنانس، ٹیکنالوجی) میں شمولیتیرجحان

۶

مینجمنٹ اور منظم مزدوروں میں تعاون اور اشتراک عمل

۷

جمہوری ادارتی صف بندی کا ارتقا

۸

حکومتی اشرافیہ میں مسابقتی کشمکش

۹

نظاماتی تغیر وتبدل کا مقصد لبرل حکومتی نظام کا فروغ اور استحکام

۱۰

غیر لبرل سیاسی قوتوں کا انتشار

11.3 ۔کیا پاکستانی ریاست لبرل بنتی جاری ہے؟

اب ہم درج بالا جدول کے اندراجات کے مطابق پاکستان کے ریاستی نظام کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان میں شہری باشندوں (Urban Dwellers) کا حجم عمومی آبادی میں تیزی سے بڑھ رہاہے اس کے باجود خاندانی، برادری، قبائلی روایات مستحکم اور معاشرتی طورپر بااثر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کاحصہ ہونے کا ایک مبہم تصور بھی کسی حد تک عام ہے۔ پاکستانی اسلامی انفرادیت نصوص صحیحہ کی ان تشریحات اور تعبیرات کی بنیاد پر مرتب ہوئی جو برصغیر کے تاریخی اور روایتی ورثہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اس اسلامی انفرادیت کی تشکیل میں صوفیائےچشتیہ اور قادریہ نے ایک اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں اسلامی تشخص ہندوستانی سماج میں اجنبی نہ رہا جس کے نتیجہ میں کروڑوں غیرمسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ لیکن انیسویں صدی سے رجوع الی القرآن اور اہل حدیث(غیرمقلدین) کی اصلاحی تحریکات نے ان روایتی تشریحات پر تشکیک کا اظہار کیا اور سترھویں صدی سے جاری تحریکات ِ صوفیہ کے زوال کے نتیجہ میں بھی ان تحریکات میں وحدتِ ادیان فکر کے اشارات نمایاں ہوگئے۔ اسلامی جذباتیت اور اسلامی علمیت کے اظہار میں فاصلے بڑھتے گئے اور اس کا سب سے نمایاں مظہروہ بریلوی، دیوبندی اختلاف ہے جس نے استعماری پشت پناہی کے ذریعہ اسلامی معاشرت کو دولخت کرکے رکھ دیا ہے۔

ہماری خاندانی اور تہذیبی زندگی میں اسلامی رسوم ورواج نمایاں ہیں اور اسلامی جذباتیت فروغ پارہی ہے لیکن ہماری معاشی اور سیاسی زندگی سے اس جذباتیب کے اظہار کا تعلق کم سے کم ہوتا جارہاہے اور پاکستانی مسلمانوں کی بہت بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی اکثریت سرمایہ دارانہ معاشرت اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں محکومیت قبول کرنے پر مجبور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہماری مسجدیں بھرتی جارہی ہیں، درگاہیں مرجع عوام ہیں لیکن 2018ء کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو ملا کر دس فیصد ووٹ ملے اور ہمارا ریاستی اثر و نفوذ تقریباً بالکل معدوم ہوکررہ گیا ہے۔ اسلامی انفرادیت کا ریاستی اظہار ناپید ہوتا جارہاہے اور ہماری واحد سیاسی اثررکھنے والی جماعت جمعیت علمائے اسلام دہریہ جماعتوں سے اشتراک عمل پر اپنے آپ کو مجبور پاتی ہے۔

برادریوں اور قبائلی زندگی میں غیراسلامی روایات اوررجحانات بھی ترقی کر رہے ہیں جن کا تعلق ہندو روایات، تقسیم معاشرت اور نظام ذات پات سے ہے۔ یہ معاشرتی تفریق گروہ بندی اور نسلی عصبیت کو فروغ دیتے ہیں اور قبائلی زندگی میں اسلامی روایات کے پنپنے کی راہ میں رکاوٹ کا کام دیتے ہیں۔ پاکستانی اسلامی انفرادیت کا اظہار تضادات کا شکار ہے۔ ایک عام پاکستانی مسلمان اسلام کو بحیثیت ایک نظام قدر کے صریحاً(Explicitly) قبول کرتا ہے لیکن اس کی عملی معاشرتی اور معاشی زندگی ان اقدار پر عمل پیرا ہونے کی ناممکنیت Impracticality))کا اظہارہے۔ ہمارے تمام دساتیر (۱۹۵۶، ۱۹۶۲، ۱۹۷۳) اور ان کی ترجیحات میں اسلامی قانونی بالادستی کا اقرار کیا گیا ہے لیکن ہر دستورکے ماتحت ریاستی کارفرمائی اسلامی قانون کے نفاذ سے انکارکرتی ہے۔ اللہ تاعلیٰ کی حاکمیت sovereignty))کے دستوری اقرار کے باوجود پاکستانی ریاست اسلامی نہیں کیوں کہ نہ یہاں شرع نافذ ہے، نہ ریاستی پالیسیاں اسلامی علمیت کی بنیاد پر مرتب ہوئی ہیں، نہ تاریخ اسلامی میں رائج نظام سلطنت اور خلافت سےا س کا کوئی دور کا بھی تعلق ہے۔ پاکستانی ریاست کا پہلا وزیر قانون جگن ناتھ منڈل ایک ہندو تھا جس کو جناح صاحب نے اگست ۱۹۴۷ء میں مقرر کیا اور اس وقت تک سے آج تک پاکستان ایک خالص دہریہ ریاست بنی رہی ہے جس کی عملی کارفرمائی ایک جاہلی علمیت کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے اور جو ہمیشہ سے استعمار کی ایک باج گزار ریاست رہی ہے۔

تحریک پاکستان( ۱۹۴۷-۱۹۳۷) کے دورمیں مسلم قوم پرستی کا نظریہ عوام کو متحرک کرنے کا ذریعہ بنا مسلم قوم پرستی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے وہ اسلامی شعائر اور اسلامی جذباتیت کو سرمایہ دارانہ اہداف اور قومی مادی ترقی کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔ مسلم قوم پرستی کی محرک روح ہندوں سے رشک اور حسد ہے۔ قیام پاکستان کے بعدملک میں ہندوؤں کی معاشی گرفت بہت کمزور پڑگئی اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم قوم پرستی کی عوامی مقبولیت میں زوال نا گزیر تھا۔ دھیرے دھیرے مسلم قوم پرستی کی جگہ لسانی، صوبائی اور برادری کی قوم پرستی نے لے لی اور پھر پاکستانی قوم پرستی مشرف کا نعرہ ”سب سے پہلے پاکستان“بھی فروغ پانے لگی ہے۔ مسلم قوم پرستی اور برادی کی قوم پرستیاں کسی حد تک دہریت اورماڈرن ازم کےرجحانات سے متصادم ہیں اور اس مزاحمت کو اپنے روایتی طرزِ حیات کو تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ گردانتی ہیں لیکن ”پاکستانی قوم پرستی“ کھلم کھلا معاشرہ کو دہریہ بنانے اور ماڈرنائزیشن (modernization) کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ آج غالب سیاسی اشرافیہ میں مقبول عام نظریہ پاکستانی قوم پرستی ہی ہے لیکن اس غالب سیاسی اشرافیہ کے معاشرتی تعلقات عوام سے بڑی حد تک محدود ہیں، لہٰذا عوام میں پاکستانی قوم پرستی اور لبرل نظریات مقبول نہیں۔ عوام کا سیاسی رجحان شراکتی نہیں بلکہ تماش بین (Spectator) کا ہوگیا ہے۔ وہ نظام اقتدار کی کارفرمائی سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے لیکن اس نظام اقتدار کو اپنے ذاتی او رگروہی مادی مفادات کو فروغ دینا کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔

سیاسی اور معاشرتی اشرافیہ کا طرزِ حیات عوام سے دور ہوتا چلا جارہاہے لیکن اس کے باوجود سیاسی اشرافیہ کی نظاماتی قوت کا سرچشمہ برادری اور قبائلی نظام ہی ہے اور یہ اشرافیہ ریاستی عمل کو اپنے برادریانہ مادی مفادات کو فروغ دینے کے استعمال کرتی ہے۔ لہٰذا پاکستانی سیاسی اشرافیہ اس حد تک ”پیشہ وارانہ“نہیں جو ایک ترقی پذیر سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کے لیے ضروری ہے۔ جب دشمن ہمیں ایک ناکام ریاست(Failed State) کہتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہماری ریاستی اشرافیہ صحیح (یعنی سرمایہ دارانہ) پیشہ واریت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ لہٰذا معاشرتی جدیدیت(Social Modernity) کو کما حقہ فروغ دینے سے قاصر ہے۔ ماڈرن طرزِ حیات اختیار کرنے کی استطاعت بہت کم پاکستانیوں کو میسر ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق اعلیٰ ترین طبقہ ملک کی آبادی کا صرف صفر اعشاریہ ایک فی صد ہے(یعنی تقریباً 2.1ملین لوگ 2017 کی رائے شماری کے مطابق)۔ ایک محقق درِّنایاب کے مطابق اوسط آمدنی والے طبقے کی تعداد 2011ء میں 61ملین افراد پر مشتمل تھی لیکن درنایاب کے مطابق ان 61ملین میں سے 40ملین وہ ہیں جو مڈل کلاس بننے کی آرزو رکھتے ہیں اور وہ ہیں جن کو ہروقت یہ خطرہ لاحق رہتاہے کہ وہ مڈل کلاس کے معیار زندگی کو برقرار نہ رکھ سکیں گے۔ لہٰذا اصل مڈل کلاس 2011ء میں درنایاب کے نتیجہ کے مطابق تقریباً 21ملین افراد پر مشتمل تھی۔ ایک اور تخمینہ کے مطابق مستحکم (hard core) مڈل کلاس کی تعداد 2017ء میں 26ملین بتائی گئی ہے (اس وقت کی مجموعی آبادی کا تقریباً 4فی صد)۔

یہ تخمینہ غیر معتبر ان معنوں میں ہے کہ ان میں حلقوں کی نشان دہی کی واحد بنیاد ان طبقوں کے زیر استعمال اشیائے صَرف کو لیا گیا ہے جس کے پاس بھی فریج،ٹی وی، موٹرسائیکل ہے وہ مڈل کلاس شمار کیا گیا ہے، بشمول ماسیوں اوربھکاریوں کے۔ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ مفروضہ ہے۔ پھر اعلیٰ اور مڈل کلاس میں اقدار کی کشمکش بھی جاری ہے اور طبقاتی بنیادوں پر انفرادیت کی شناخت کرنا معاشرتی مادی تشکیل کو لازماً متصور کرتا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ اور متوسط طبقوں میں دینیرجحان بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سے اعلیٰ آمدنی والے اور متوسط خاندان اسلامی تمدن اور اسلامی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں تقسیم آمدنی اور تقسیم دولت کی نامساویت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ پچھلی دہائی میں ملک کی غریب ترین 25فی صد آبادی کا حصہ مجموعی قومی آمدنی میں گرا ہے۔ شہری نامساویت دیہی نامساویت سے زیادہ ہے۔ تقسیمی نامساویت بڑھ رہی ہے لیکن مفلوک الحالی (absolute poverty) میں کمی آتی جارہی ہے۔ ملک کی آبادی کا وہ حصہ جو سطح مفلوک الحالی سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہے 2011ء میں40 فی صد ہواکرتا تھا۔ اب 33فیصد رہ گیا ہے۔ یہ رجحان سرمایہ دارانہ ارتقا کا نمایندہ نشان ہے اور تقریباً تمام سرمایہ دار ترقی کرتے ہوئے ملکوں میں پایاجاتا ہے۔ ان حالات میں ردعملی، مزاحمتی، سرمایہ دارانہ انفرادیت، اشتراکی اور فرقہ وارانہ انفرادیت پنپتی ہے ،کیوں کہ اس قسم کی انفرادیت کے ”جذباتِ محرکہ“ نفرت اور حسد ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی نامساویت مذہبی فرقہ واریت کو تقویت پہنچارہی ہے۔ فرقہ وارانہ تحریکیں سرمایہ دارانہ تحریکیں ہیں کیوں کہ ان کا جذبہ محرکہ اپنے مخالف فرقوں سے حسد اور نفرت کا جذبہ ہے اور ان کا مقصد اپنے مخالف فرقوں کو سرمایہ دارانہ وسائل سے محروم کردینا ہے۔1970ء کی دہائی میں ہم نے پاکستان میں اشتراکیت کو فیصلہ کن شکست دی تھی اور اب اشتراکی اشارات صحافیوں کے بالاخانوں تک محدو د ہوگئے ہیں۔ اس کے برعکس سوشل ڈیموکریسی ایک طاقتور مزاحمتی سرمایہ دارانہ عوامی جدوجہد کی بنیاد فراہم کرسکتی ہے لیکن فی الحال اس پر پاکستانی سیاسی اشرافیہ اور پاکستان میں کام کرنے والی استعماری ایجنسیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی کے عبرتناک انجام کی واضح ترین مثال عمران خان اور اس کی دہریہ تحریک انصاف بن گئی ہیں۔

نظاماتی سطح پر پاکستان شروع سے ہی ایک لبرل ریاست اور معیشت بنا رہاہے۔ جناح صاحب ایک مستند لبرل تھے جو اسلام کو لبرل ازم کی بہترین تشریح تصورکرتے تھے۔ پاکستان کا ہردستور لبرل حقوق (ہیومن رائٹس) کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے اور یہاں کی فوجی قیادت نےبھی عموماً ان حقوق کو معطل نہیں کیا۔ پاکستان کا قانونی نظام پورے کا پورا لبرل خطوط پر مرتب کیا گیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ لبرل معاشی پالیسیاں اختیار کی ہیں اور عالمی لبرل استعمار کی ایک باج گزار ریاست رہے ہیں۔ اس کے باوجود لبرل انفرادیت پنپ نہ سکی۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ تو یہ ہے کہ اسلامی اور روایتی معاشرت زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں غالب رہی ہے اور اس کے تناظر میں لبرل اور تنویری اقدار ہمیں اصولاً غیر معقول ہی نظرآتی رہی ہیں۔ ایک عام پاکستانی خواہ امیر خواہ غریب خواہ، مزدور، خواہ منیجر، جذباتی اور حسی سطح پر مسلمان ہے وہ گناہ کو گناہ سمجھ کر کرتا ہے لیکن

یہ مانا فرائض میں ہیں سب ہی قاصر
نہ مشغول باطن نہ پابند ظاہر
مساجد سے غائب جو ملا ہی میں حاضر
مگر ان میں ایسے نہ فاسق نہ فاجر
کہ مذہب پہ حملے ہیں جو ہر طرف سے
یہ دیکھ ان کو ہٹ جائیں راہ سلف سے

وہ چند ملین لوگ بھی جواشرافیہ (elite) میں شامل ہیں وہ بھی مخلص لبرل اور تنویری نہیں۔ انہوں نے بھی لبرل اصولوں و ضوابط، اداروں اور آدرشوں کو اپنے گروہی مفادات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا ہے اور پاکستان کا دستوری ریاستی نظام ظاہر طورپر لبرل نظرآتاہے لیکن اصلاً لبرل نہیں۔ ریاستی نظاماتی تغلب معاشرتی سطح پر نہایت محدود اور کمزور ہے اور معاشرتی اور انفرادیاتی ماڈرنائزیشن (Modernization) کا بنیادی محرک معاشی ہے تہذیبی نہیں لیکن معاشی ارتقاکی رفتار جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک کے مقابلہ بہت کم ہے۔ 2023ء تا 2020ء کے دورانیہ میں پاکستانی مجموعی پیداوار(GDP) کی اوسط سالانہ شرح نمو 2فیصدسے بھی کم رہی (بھارت میں تقریباً6فیصد تھی) اور فی کس ۔ منجمد اوسط سرمایہ کاری (gross capital formation) کی سالانہ شرح نمو2020-23میں صفر اعشاریہ چھ فیصد رہی۔ بڑا صنعتی شعبہ رو بہ زوال ہے اور وہ مجموعی روزگار کا دس فیصد بھی فراہم نہیں کرتا۔ ٹیکنالوجیکل ترقی کی رفتار سے نمو نہایت سست ہے اور یہی بین الاقوامی مارکیٹوں میں پاکستانی مسابقتی قوت کے زوال کی اصل وجہ بیان کی جاتی ہے۔

پاکستانی ماڈرنائزیشن (modernization) کو فروغ دینے والی دواہم قوتیں فوجی اور سول انتظامیہ ہیں لیکن ان گروہوں کا ماڈرنائزیشن (Modernization) میں کردار محدود ہے کیوں کہ یہ اپنے اوپر قانونی دستوری ریاستی بالادستی (Rule of the law of capital) کو قبول نہیں کرتے۔ ریاستی ادارتی کارفرمائی کا عمل اب وہ نہیں رہا جو انگریز نے یہاں تعمیر کیا تھا بلکہ اس کا رفرمائی کو انتظامیہ اپنے اور منسلک گروہوں کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے ترتیب نو کے ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔ انتظامیہ کے سرکردہ افراد لبرل اقدار کو قبول نہیں کرتے، جمہوری اور لبرل ریاستی بیانیے (state discourse) کو اپنے گروہی مقاصد کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

انتظامیہ کی سب سے منظم اور مضبوط قوت فوج ہے۔ خواجہ ناظم الدین رحمہ اللہ علیہ کی برطرفی کے بعد سے فوج مقتدرہ کا اہم ترین جزو بن کر ابھری ہے، اس میں ماڈرنائزیشن کےرجحانات رکھنے والے وہ افسر اہمیت رکھتے ہیں جن کی اعلیٰ تربیت امریکا میں اور امریکی تعاون کی نتیجہ میں ہوئی اور جو ایوب خان کے دور اور پرویز مشرف کے دور میں بھرتی کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس اسلامی رجحانات رکھنے والے افسر ضیاء الحق مرحوم کے نظام تربیت سے متاثر ہوئے ہیں (یہ اب عموماً ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں) لیکن فوج میں نظریاتی کشمکش تقریباً ناپید ہے اوراپنی قیادت کے احکام کو بلا چوں وچرا تسلیم کرنے کارجحان غالب ہے۔ اوریہ بھی درست ہے کہ فوج کو متحد رکھنے والی اصل قوتیں، مسلم اورپاکستانی قوم پرستی ہیں۔ انہی نظریات کی بنیاد پر فوج ”قومی مفاد“ کے تصور کی تشریح کرتی ہے اور اس تشریح کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی سازی کے عمل پر اپنا تغلب ناگزیر گردانتی ہے۔

فوج کا اندرونی اتحاد نہایت طاقتور ہے۔ فوجی آمر ایوب، یحییٰ، مشرف اپنا اقتدار اس وقت تک برقرار رکھ سکے جب تک اعلیٰ (senior)جنرل اس کے حق میںرہئے اور انہی سینئر جنرلوں کی رائے کے مطابق فوجی ریاستی اقتدار ترک کیا جاتا ہے۔ فوج اپنے اندرترقیوں اور تقرریوں میں سیاسی مداخلت برداشت کرنے پر راضی نہیں ہے۔ وہ غیر معمولی اقدام(مثلاً2009ء کا سوات آپریشن وغیرہ کو ) دستوری اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کر کے جاری رکھنے کو حق بجانب سمجھتی ہے۔

اعلیٰ سول انتظامیہ بھی لبرل اقدار اور طرز حکومت سے مخلص نہیں۔ سول انتظامیہ زوال پذیر ہے اور اونچے طبقہ سے متعلق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سول سروس میں شمولیت اختیار نہیں کرتے۔ سول سروسز میں نئے شامل ہونے والے افسران پولیس کے محکمہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جبری رجحان رکھتے ہیں اور رائج شدہ سیاسی مراعاتی نظام کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سول انتظامیہ میں اب ایک ایسے گروہ کی شمولیت بھی عمل میں آئی ہے جو براہ راست استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ یہ ورلڈ بینک،ایشین ڈیولپمنٹ بینک(ADB) اور امریکی امدادی ادارہ (USAID) سے حاصل شدہ بھیک کے منتظم (Managers) ہوتے ہیں اور ان کے اقدار اور ان کا طرزِ حیات اپنے سامراجی آقاؤں کا چربہ ہوتا ہے لیکن اس طبقہ کی تعداد نہایت محدود ہے اور عوامی زندگی پر ان کا معاشرتی اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس طبقہ کے محدود معاشرتی اثرکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو یورپ اور امریکا برآمد کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سامراجی تعلیمی ادارہ آغاخان یونیورسٹی، لمز، آئی بی اے وغیرہ بھی اپنے تہذیبی اشارات سے متاثر طلبہ کی بڑی تعداد کو امریکا برآمد کردیتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں بھی لبرل اور جمہوری اقدار اور طریقہ کار مفقود ہیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن،ق وغیرہ) اے این پی وغیرہ سب موروثی جماعتیں ہیں ان میں اور تحریک انصاف میں اندرونی جمہوری عمل ناپید ہے۔ سول انتظامیہ کی طرح سیاسی جماعتیں بھی زوال پذیر ادارہ ہیں اور عوامی زندگی سے ان کا ربط و تعلق نہایت محدود ہے۔ یہ بات تحریک انصاف کی حالیہ پیش رفت سے ثابت ہوتی ہے۔ 2018ء کے انتخابات جیتنے کے لیے اس کو پرانے منتخب اشرافیہ(electable) اور انتظامیہ بالخصوص فوج کا سہارا لینا پڑا۔ عوامی تائید عموماً بے اثر ثابت ہوئی۔ پاکستان کا تجارتی اور صنعت کاری کا طبقہ دوحصوں میں منقسم ہے۔ عوام کی اکثریت خود اپنا روزگار پیدا کرتی ہے ایک عام پاکستانی ملازم نہیں ہوتا اور اس کا ذاتی کاروبار (ٹھیلا، رکشاوالا، پرچون فروش، کاشت کار) ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ دار نہیں ہوتا ان معنوں میں کہ نہ اس کا سود کے مارکیٹ (money market) سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ سٹہ کے مارکیٹ (capital market) سے۔ ایک عام پاکستانی عموماً حلال رزق کماتا ہے( 90فیصد پاکستانیوں کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں اور سٹہ بازوں کی تعداد ملکی آبادی کے صفر اعشاریہ ایک فی صد سے بھی کم ہے)۔

ایک عام پاکستانی پر سرمایہ دارانہ جبر کے تسلط کا سب سے اہم ذریعہ حکومتی بالواسطہ محصولات(indirect tax) کا نظام ہے اور بجلی، گیس اور پانی وغیرہ کے اخراجات تو حکومت نجی ادارے اور سامراجی ادارے مستقل بڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ جبر اور مارکیٹ میں روزافزوں بڑھتاہوا اشرافیہ کا پرتعیش تصرفی رجحان Elite’s luxurious consumptive trend)) کسی نہ کسی حد تک عوام میں سرمایہ دارانہ اقدار اوررجحانات کو مہمیز دیتا رہتا ہے۔ اسی سرمایہ دارانہ اثر کومحدود کرنے والی اصل قوت عوام کی مذہبیت اور برادری کا نظام ہے جس میں ہمارے روایتی بازار بھی سموئے ہوئے ہیں۔ ان بازاروں کے انہدام کی مہم شاپنگ مال کو فروغ دے کربڑے شہروں میں حکومت اور سرمایہ کار عرصہ سے چلائے ہوئے ہیں۔

ہمارے بڑے تاجر اور صنعت کار بھی مذہبیرجحان رکھتے ہیں اور ان کے تعاون ہی سے مدارس اور مساجد آباد ہیں لیکن اس طبقے کامذہبی رجحان سیکولر ہے جوان کی کاروبار ی زندگی کو بہت کم متاثر کرتا ہے۔ وہ ریاستی نظام کو حصول مراعات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان میں غالب نظریاتی تشخص مسلم قوم پرستی کا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ استعمار نواز معاشی پالیسیوں کی تردید کرتے ہیں اور قومی خود انحصاری کو فروغ دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کی تعداد اور ان کا معاشرتی اور ریاستی اقتدار میں حجم نہایت محدود ہے اور اس کی بنیادی وجہ صنعتی شعبہ کا زوال اور فنانشل مارکیٹ میں بڑھتا ہوا ارتکاز وسائل رہاہے۔

مزدوروں کی معاشی اور معاشرتی قوت بھی نہایت کمزور اور زوال پذیر ہے۔ حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق مجموعی آبادی کا صرف 33فیصد لیبرفورس میں شامل ہے (یعنی تقریباً۶۸ ملین افراد)۔ اجرتی ملازمین لیبر فور(labor force) کا صرف ۳۵فیصد ہیں(یعنی ۲۲ملین کے لگ بھگ)۔ روزگار میں اضافہ کی رفتار آبادی میں اضافہ کی رفتار کی آدھی ہے۔ شہری روزگار کی بڑھوتری کی رفتار تو ایک فیصد سالانہ سے بھی کم ہے۔ صرف تقریباً بیس ہزار افراد لیبر یونینوں(labor union) میں شامل ہیں یعنی مجموعی لبیرفورس کا صفراعشاریہ ۳فیصد۔ شہری لیبرفورس کا ۷۳فیصد غیر دستاویزی (informal sector) ہے جس پر حکومت کی گرفت صرف ٹیکس وصولی تک محدود ہے۔

منظم محنت کش سوشل ڈیموکریٹ تحریک کے روح رواں ہوتے ہیں اور ہماری تاریخ میں بھی ۱۹۷۰ء کی دہائی کی ابتدا میں پیپلز پارٹی ایک سوشل ڈیموکریٹ قوت کے طورپر ابھری تھی لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے منظم مزدورقوتوں کے ساتھ بدترین غداری کی، ان کا قتل عام کیااور ان کی ادارتی قوت کو کچل کے رکھ دی۔ 1976ء سے لے کر آج تک پاکستان میں مزدوروں کی ایک بھی کامیاب ہرتال نہ ہو سکی۔ اسلامی جماعتیں بھی مزدوروں کو منظم کرنے کی جستجو گاہے گاہے کرتی رہی ہیں لیکن وہ ابھی اس ضمن میں بری طرح ناکام ہیں جیسا (National Labor Federation) کی شکست و ریخت سے واضح ہوتا ہے۔

الحمدللہ عوامی زندگی کی سطح پر سرمایہ دارانہ قانون کی گرفت محدود ہے۔ اس کی وجہ قبائلی اور پنچایتی قانونی کارفرمائی ہے جو شرع مطہرہ سے بڑی حد تک ماخوذ ہے اور جو لبرل اقدامات اور ہیومن رائٹس کی عمومی فراہمی کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ نیم شرعی طرز عدالت عوام میں مقبول ہے اور اس کی تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود ریاستی اشرافیہ ہماری اس قوت کے اظہار کو برداشت کرنے پر مجبور ہے۔

پاکستانی حکومت روزبروز کمزور ہوتی جارہی ہے ،اندورنی طورپر بھی بیرونی طورپر بھی۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں مجموعی حکومتی خرچ(gross public expenditure) مجموعی قومی آمدنی (GDP) کا تقریباً ۲۴فیصد تھا۔ 2000ء تا ۲۰۱۰ء کی دہائی میں سے گھٹ کر۱۸فیصد رہ گیا۔ حکومتی معاشی دخل اندازی کو کم کرنے کاا یک بڑا ذریعہ آئی ایم ایف کا بڑھتا ہوا اثر ہے جو قومی بجٹ خسارہ کو کم کرنے اور نج کاری کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔

بیرونی کمزوریوں کا سب سے بڑا سبب امریکی باج گزاری ہے۔ پاکستانی ریاستی ڈھانچے میں امریکا نے بڑےدراڑ پیدا کر لیے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں امریکی لابی لیاقت علی خان کے وقت سے برسرپیکار رہی ہے اور کئی چوٹی کے سیاست دان اور سرکاری افسران(مبشرحسن، محمد علی بوگرا، شاہد جاوید برکی، ایم ایم احمد، حسین حقانی وغیرہ) امریکی ایجنٹ نکلے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے کئی ممبران امریکی قومیت رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری ملکی تحفظاتی پالیسی، نیوکلیئرعدم پھیلا ؤ کی پالیسی اور ترسیل زر(money laundering) کی پالیسی امریکی اثر سے محفوظ نہیں۔ وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ تجارت نے جدا جدا امریکا کے ساتھ دوطرفہ معاہدے کر رکھے ہیں اور ان وزارتوں میں (اور اسٹیٹ بینک میں) کام کرنے والے کئی عہدے دار وقتاًفوقتاً امریکا سے مالی اور تزویراتی اعانت پاتے رہتے ہیں۔ان حالات کے پیش نظرپاکستان کو ایک خود تحکیمی (self-governed) ریاست کہنا مشکل ہے اور اوباما کے دور میں پالیسی سازوں نے پاکستان کو امریکی جنوبی ایشیائی دفاعی نظام کے علاقائی مرکز کے طورپر تصور کیا تھا اور اسی تناظر میں آج تک پاکستان امریکی دہشت گرد کارروائیوں کی اعانت کر رہاہے۔ شمالی علاقہ جات پر ڈرون حملے برداشت کر تارہاہے اور امریکی جنگی رسد کی فراہمی میں معاونت کر تارہا ہے۔

لیکن امریکا پاکستانی تعاون سے مطمئن نہیں۔ اس نے ۲۰۱۷ء میں جنگی اعانت عارضی طورپر منسوخ کر دی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پاکستانی فوج براہ راست طالبان کے خلاف اس کی ہاری ہوئی جنگ میں شرکت کرے۔ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے جو پاکستان پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ،لہٰذا پاکستان اور امریکا میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ ایک مسلم یا پاکستانی قوم پرست حکومت امریکا سے بتدریج لاتعلق ہوتی چلی جائے اور پاکستان کا سیاسی انحصار امریکی استعمار سے چینی استعمار کی طرف منتقل کر دے۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں پاکستان ایک نہایت کمزور اور مجہول کھلاڑی ہے۔ ۲۰۱۰ء میں پاکستان کی مجموعی پیداوار تقریباً 334بلین تھی جوکہ عالمی مجموعی پیداوار کا صفر اعشاریہ 4فیصد بھی نہیں بنتا۔ پاکستانی مجموعی برآمدات اور درآمدات ۲۰۱۸ء میں عالمی مجموعی برآمدات اور درآمدات کا صفر اعشاریہ ۲فیصد(0.2) بھی نہیں۔ پاکستان فی الواقع ایک خود کفیل معیشت ہے۔ ہمارے مجموعی برآمدات اور درآمدات ہماری مجموعی قومی پیداوار(GNP)کا ایک سال میں اوسطاً ۲۵فیصد بھی نہیں۔ یوں ایک عام (typical) سال میں ہمارے بیلنس آف پیمنٹس کےرواں(current) حسابات کا خسارہ ہمارے فنانشل اکاؤنٹ کے نفع سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہماری سودی ادائیگیاں ہماری امدادی قرضہ جاتی وصولیوں کے تقریباً برابر ہوتی ہیں۔ بیرونی نجی سرمایہ کاری قومی مجموعی سرمایہ کاری کا تقریباً ۴فیصد ہوتی ہے۔ ان اعداد وشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ہم عملاً بالکل خود کفیل ہیں اور بیرونی قرضہ جات صرف پرانا سود اور قرضہ جاتی اصل اداکرنے کے لیےلیے جاتے ہیں اور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ پرانے قرضے کون کھا گیا۔ پاکستانی فنانشل ترسیلات بین الاقوامی سرمایہ کے مارکیٹوں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ ۲۰۱۸ء میں ہمارا مجموعی بین الاقوامی قرضہ تقریباً اسی ملین ڈالرتھا۔لاطینی امریکی اور جنوبی یورپ کے ممالک کے بین الاقوامی قرضہ جات ہم سے کئی گنا زیادہ ہیں اور جب یہ ممالک ادائیگیوں سے انکارکرتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں آتی۔ اگرہم اپنے بین الاقوامی قرضے (repudiate) اداکرنے سے منع کردیں تو بین الاقوامی مارکیٹوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوگا اور کوئی بینک دیوالیہ نہ ہوگا۔ کسی ترقی یافتہ سرمایہ دار ملک کی تمسکات کے مارکیٹ میں بحران نہیں آئے گا۔ لندن، ٹوکیو، سنگاپور، نیویارک کسی بھی جگہ حصص کی قیمتوں پر کچھ اثر نہ پڑے گا اور پاکستان میں بھی بیرونی قرضہ جات نسخ (repudiate) کرنے کا کوئی منفی معاشی اثر مرتب نہ ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پر جوسامراجی دباؤہے وہ خالصتاً سیاسی ہے معاشی نہیں۔

جمہوری اور لبرل اقدار کی عدم مقبولیت کے باجود پاکستان کی ۷۶سالہ تاریخ کم از کم دوبار۱۹۶۹-۱۹۶۸اور ۱۹۷۷ء میں بحالی جمہوریت کی تحریکیں چلیں۔ ۱۹۷۷ءکی تحریک اپنے آخری دور میں ایک اسلامی مزاحمت کی شکل اختیار کر گئی لیکن ان تحریکات کا نظاماتی اثر نہایت محدود رہا۔ ان کے نتیجہ میں سول اور فوجی آمریت ہی مستحکم ہوئی کوئی لبرل حکومت قائم نہ ہو سکی۔ حکومتی تبدیلی چارگروہوں کے مابین مصالحت کے ذریعہ عمل میں آئی۔ یہ چارگروپ فوجی اعلیٰ جنرل، سول افسرشاہی، موروثی سیاست دان اور بالخصوص بیرونی سامراجی ممالک امریکا اور سعودی عرب ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومتوں کی تبدیلی تو عمل میں آئی لیکن ریاستی حیثیت اور ریاستی ترجیحات کی کارفرمائی ویسے کی ویسے ہی رہی۔ اشرافیہ کے سیاسی مصالحت کا مقصدپاکستانی ریاست کی داخلی اور خارجہ پالیسی سازی کے تسلسل کو برقرار رکھنا رہاہے۔

ریاستی ساختی تغیر (change in state structure)جتنا کچھ بھی عمل میں آیا ہے اس کا مقصد غالب ریاستی اشرافیہ کے معاشرتی اثر وقوت کو برقرار رکھنا ہے۔ ریاستی ذرائع کو اپنے گروہ اپنی برادریوں کو مراعات فراہم کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔ پولیس علاقائی چوہدریوں، وڈیروں اور نوابین کا آلہ کار بنا دی گئی ہے۔ مقامی حکومتی نظام(local government) کو بھی عملاً مفلوج کر دیا گیا ہے۔ ریاستی عدالتی نظام بھی مفلوج ہے اور ایک عام پاکستانی اس نظام پر اعتبار کھو چکا ہے۔ ۲۰۰۸ء کے بعد سے یہ عدالتی نظام سیاسی مقاصد کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہاہے اور لاطینی امریکی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن مخالف مہمات غالب سیاسی اشرافیہ کی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔

پاکستانی ریاستی خصوصیات

لبرل ریاست کی خصوصیات

پاکستانی ریاست کی خصوصیات

مذہبی اقدار کو ختم کرکے دہریہ اقتدار کو اقدار نافذ کرنا

غیراقداری تغیر، دہریہ اداروں اور پالیسیوں کا مذہبی جواز پیش کرنے کی ضرورت کا اقرار، اسلامی روایات کی محدود اثر اندازی

سیاسی شراکتی انفرادیت

غیر شراکتی سیاسی انفرادیت(سیاسی عمل سے محض گروہی مفادات کے حصول کی توقع)، قوت سے محرومی کا احساس

عالمی مغربی تشخص

مغربی تشخص صرف انگریزی بولنے والی اعلیٰ انتظامیہ تک محدود، اس گروہ کا اثر پالیسی ساز ی میں زیادہ اور پالیسیوں کی تنفیذ میں محدود ہے

پالیسی سازی اور پالیسی تنفیذ میں سائنٹفک میتھڈ کے منہج کا تفوق

پالیسی سازی اور پالیسی گفتگو میں سائنٹفک منہج کا کثیر استعمال لیکن پالیسی کارفرمائی اور تنفیذ میں گروہی مقاصد کو فروغ دینے کی کوشش

تکنیکی ماہر اور اوسط طبقہ کا معاشرتی تفوق

مڈل کلاس چھوٹی اور نسبتا بے اثر

بڑے سرمایہ کاروں کا معاشرتی تفوق

بڑے سرمایہ کاروں کا پالیسی سازی میں اثر محدود ہے ان کے روابط اور رشتہ بڑے جاگیرداروں اور نوکرشاہی سے مستحکم

محنت کشوں اور سرمایہ کاروں میں تعاون

محنت کشوں کی معاشرتی، سیاسی اور معاشی قوت نہایت کم اور زوال پذیر

جمہوری اداروں کا فروغ اور ہیومن رائٹس کی عمومی فراہمی

تمام دساتیر ہیومن رائٹس کی فراہمی کی گارنٹی دیتے ہیں لیکن عوامی مقامی ادارتی سطح پر ان کی خلاف ورزی عام ہے ۔فوج کے علاوہ تمام ریاستی ادارے کسی نہ کسی حد تک برادریوں کے سیاسی اثر کےغماز، فوج غیر معمولی اقدام دستور ی تناظر کے باہر کرتی ہے

غیرجمہوری حکومتوں میں کشمکش

فوجی حکومتیں اعلیٰ جنرلوں کے اتفاق پر منحصر، قومی اور جمہوری حکومتوں میں پالیسی سازی کا عمل اور پالیسی ترجیحات یکساں، حکومتی تبدیلی پر امریکا اور سعودی عرب کا نمایاں اثر

عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے منسلکی

عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے تعلق معاشی طور پر نہایت کمزور- پاکستان ایک خود کفیل معیشت

ریاستی خود مختاری

کمزور ہوتی ہوئی ریاستی خود مختاری کی وجہ، امریکا اور بین الاقوامی اداروں آئی ایم ایف کی دخل اندازی -بیرونی آمدنی میں مسلسل کمی

11.4۔ پاکستانی معاشرتی تناظر میں اسلامی جدوجہد

پاکستانی ریاست ایک ناہموار رفتار سے ماڈرنائزڈ ہو رہی ہے اور ریاستی ماڈرنائزیشن کا اثر معاشرت پر بھی پڑ رہاہے۔ ماڈرنائزیشن کا اصل محرک لبرل اقدار اور کارفرمائی کافروغ نہیں بلکہ معاشی عمل ہے۔ اس سرمایہ دارانہ معاشی عمل کے زیر تسلط پورا معاشرہ کسی نہ کسی طور پر آ چکا ہے لہٰذا پاکستانی ماڈرنائزیشن سے مقابلہ کا اصل میدان پاکستانی معاشرہ اور معیشت ہے، پاکستانی ریاست نہیں۔ پاکستانی ماڈرنائزیشن کو شکست دینے والی اصل قوت عوامی اسلامی جذباتیت ہے نہ کہ اسلامی علمیت، یا اسلامی انتظامی فعالیت ہے۔ یہ بات تحریک ختم نبوت(۱۹۵۳،۱۹۷۶)، تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم( 1977 )اور تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (۲۰۱۷ء) کی جدوجہد سے ثابت ہے۔ جب تک اسلامی جزباتیت ، اسلامی علمیت اور اسلامی انتظامی فعالیت فروغ دینے کا ذریعہ نہ بنے پاکستانی معاشرہ اور ریاستی ماڈرنائزیشن کے عمل کو پیچھے نہیں دھکیلا جاسکتا اور مخلصین دین کی سیاسی اور معاشرتی قوت میں اضافہ کا ذریعہ نہیں بنایاجا سکتا۔

لہٰذا غلبہ دین اور تحفظ دین کی جدوجہد کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام راسخ العقیدہ جماعتیں اور تحریکات ایک ایسے پلیٹ فارم پر متحد اور کارفرماہوجائیں جو اسلامی علمیت اسلامی انتظام فعالیت اور اسلامی جذباتیت کی جدوجہدوں کو مربوط کردے۔ ہم گاہے گاہے فدائیان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن نہ ان مخلصین دین کی ہنگامی بنیادوں پر تعلیم وتربیت کا انتظام کرسکے نہ ان کی معاشرتی اور معاشی صف بندی کا۔ جب جب ہماری تحریکات کو علامتی کامیابی نصیب ہوئی اورہمارے ”مطالبات تسلیم کرلیے گئے“ تو اس کا نتیجہ تحریک کی پسپائی ہی کی صورت میں برآمد ہوا اور وہ لاکھوں مخلصین دین جو تحریک کے دوران متحرک ہوئے تھے منتشر ہوکر سرمایہ دارانہ معاشرت میں دوبارہ شریک ہو گئے اور مخلصین دین کی معاشرتی قوت میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔ پاکستانی تحریکات تحفظ اور غلبہ دین کو ماڈرنائزیشن سے جو موثر چیلنجز درپیش ہیں وہ یہ ہیں:

باب 12

میں ڈھونڈ رہا ہوں سم افرنگ کا تریاق

(مجوزہ حکمت عملی)

اب ہم انہدام سرمایہ داری کے لیے چند تجاویز مرتب کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ تجاویز ابتدائی نوعیت کی ہیں اور اس امید کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں کہ ان کی تفصیلی تنقید کا عمل شروع ہو جائے گا اور اس تنقید کے نتیجہ میں مخلصین دین جامع اور مربوط انداز میں سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کا کام پاکستان میں جاری رکھ سکیں گے۔

12.1۔ذاتی کم مائیگیاں اور استدلال کی کمزوریاں

یہ تحریر چند ایسےا شخاص کی ہے جو صرف ناظرہ قرآن مجید پڑھے ہوئے ہیں اور علوم اسلامی سے نابلد ہیں۔ اور ان کی اخلاقی اور روحانی حالت بھی نہایت پست ہے اور وہ اپنے آپ کو بالکل اس کا اہل نہیں سمجھتے کہ ایک مربوط اسلامی نقد مرتب کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ابواب کے علاوہ جو علمانے تحریر فرمائے ہیں کتاب میں نصوص صحیحہ سے ماخذات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ مصنف کو احساس ہے کہ وہ نصوص کی صحیح تعبیر پیش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے؎

تو اے مولائے یثرب میری چارہ سازی کر

مری دانش ہے افرنگی مرا ایمان ہے زناری

اور ہماری افرنگی دانش کا حال بھی یہ ہے کہ وہ بھی نہایت سطحی ہے۔ جن کفار فلاسفہ، معیشت دانوں، قانونی، عمرانی اور سیاسی ماہرین کی فکر اور عمل کا نقد پیش کیا گیا ہے ان کے کام اور کلام سے بھی واقفیت واجبی سی ہے جس میں گہرائی نہیں جس کے نتیجہ میں تنقید نامکمل، غیر مربوط اور تضاداتی رہ گئی ہے۔ پھر سرمایہ دارانہ جمالیات (آرٹ، آرکی ٹیکچر اور موسیقی وغیرہ) کا سرے سے ذکر نہیں۔ اس لیے سرمایہ دارانہ معاشرت اور اس میں جمہوری عمل کے پھیلاؤ کی نامکمل تصویر پیش کی گئی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام کمزوریوں کے باوجود یہ کتاب کیوں لکھی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج مخلصین دین سرمایہ داری اور بالخصوص جمہوری عمل کی اصلیت سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ دور حاضر میں تحفظ دین اور غلبہ دین کو اصل خطرہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی کارفرمائی سے ہے نہ کہ عیسائیت، یہودیت اور ہندو مت سے(ان سب کو سرمایہ دارانہ جمہوری نظام نے اپنے اندر جذب کر لیا ہے)۔ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد پیچھے دھکیلی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں پوی دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوئی ہے۔ جاہلی علمیت (سائنس) کی واضح تباہ کاریوں کے باوجود اس سے مفر ممکن نظر نہیں آتا۔ مخلصین دین بھی اسی جاہلیت خالصہ (سائنس اور سوشل سائنسز) کو غیر اقداری سمجھ رہے ہیں اور ہم میں سے بہت سے کفار کی زبان بولنے لگے ہیں۔

12.2۔سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر

سرمایہ دارانہ علمیاتی غلبہ سترھویں اور ریاستی غلبہ اٹھارھویں صدی سے قائم ہونا شروع ہوا۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ تغلب کا دورانیہ چار سو سال سے زیادہ کا ہے۔ غالباً اس کا انہدامی عمل بھی کئی صدیوں پر محیط ہو گا۔ ہمیں اپنے آپ کو ایک طویل المدت جہاد کے لیے تیار کرنا ہے جس کی ابھی ابتدا ہوئی ہے اور جس میں ہماری کئی نسلیں ان شاء اللہ حصہ لیں گی۔ ایک طویل جنگ جس کے دنیاوی نتائج غیر یقینی ہیں۔ مخلصین دین اس وقت لڑ سکتے ہیں جب ان میں عقیدہ آخرت مضبوط ہو۔ہم یہ جنگ کسی دنیاوی فائدے یا فتح کے حصول کے لیے نہیں حصولِ رضائے الٰہی کے لیے لڑیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا اجر آخرت میں ہمیں یقیناً مل جائے گا خواہ اس دنیا میں ہمیں کتنی شکستیں اور ناکامیاں کیوں نہ دیکھنی پڑیں۔

دیر سے امتِ مرحومہ کھڑی روتی ہے
اب شفاعت میں توقف میرے مولا کیاہے

عقیدہ آخرت کی بنیاد پر ہی یہ جہاد جاری رہ سکتا ہے کیونکہ ظاہر ہے موجودہ نسل کی زندگیوں میں دنیاوی طور پر یہ جہاد نتیجہ خیز ثابت نہ ہو گا۔ ان حالات میں اسلامی انقلابی عمل پر یقین رکھنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ قدم قدم پر ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ انقلاب اسلامی پر یقین اس طرح مستحکم ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو معتبر سمجھیں۔ ہم نے تقریباً تیرہ سو سال تک دنیا کے بڑے حصہ پر خلافت قائم رکھی جب سرمایہ دارانہ علمیت کا کوئی وجود نہ تھا اور نہ ہی سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کا۔ اس عمل کو یقیناً پھر سے دہرایا جا سکتا ہے اور دنیا کو سرمایہ دارانہ جمہوریت کی غلاظت سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ لازماً ایک طویل المدت عمل ہے۔

سرمایہ داری ایک کُل ہے جس نے جمہوری عمل کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ ا س کی نظاماتی تسخیر اس کےاندرون ہی سے اس کے تضادات کو مہمیز دیتے ہوئے ممکن ہے۔ آج ہم سب سرمایہ دارانہ جبر کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ سرمایہ دارانہ زر جس کی بنیاد سودی سکہ رائج الوقت ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون کی پابندی سے مفر نہیں۔ سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) معاشرہ کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں سرمایہ دارانہ نظاماتی بیرون کی تلاش صرف ان سرحدی علاقوں تک میں ہو سکتی ہے جو سامراج کی گرفت سے آزاد ہیں یا آزاد کرائے جا سکتے ہیں۔ لیکن سرحدی مقبوضہ علاقوں سےمرکزی سرمایہ دارانہ عالمی نظاماتی تحکم کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

پھر ہم پاکستان میں رہتے ہیں جو ایک کمزور ملک ہے۔ اس کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی میں تین فیصد کاحصہ بھی نہیں۔ اس کے معاشی اور سیاسی وسائل بھی محدود ہیں۔ اس ملک کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں معاملات میں دخل دینے کی ہم کوئی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان حالات کے پیش نظر پاکستان میں رہتے ہوئے عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کی منصوبہ بندی تقریباً ناممکن ہے۔ اور ہم اس کی اہلیت نہیں رکھتے۔

اس کے باوجود اس باب میں میں اپنی چند تجاویز مرتب کرنے کی کوشش کریں گا جن کے انعقاد کے ذریعہ ہم پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

12.3۔جمہوری نظام کے استعمال کی ناگزیریت

کتاب میں شامل علما کے دونوں مضامین سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوری عمل کا اسلامی سیاست میں کوئی مقام نہیں۔ خلافت جمہوریت کی ضد ہے۔ سامراجی غلبہ سے قبل کی ہماری تاریخ میں جمہوری عمل کبھی رائج نہ تھا۔ ”الٰہی جمہوریت“ (تھیوڈیموکریسی) کوئی چیز نہیں۔ جمہوریت کی اسلام کاری کاعمل اسلامی تاریخ کو غیر معتبر ثابت کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

لیکن اس کے باوجود بیسویں صدی کے برصغیر کے علما کا اس پر اجماع ہے کہ آج کے حالات میں جمہوری عمل میں شرکت جائز ہے۔ ترکی کےعلما نے عثمانی خلافت کے دور میں جمہوری عمل کو حرام قرار دیا تھا۔ ہمارے علما نے اس فتوے سے رجوع کیوں فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے دور میں ہم جمہوری عمل کی پابندی پر مجبور نہ تھے۔ حالیہ سامراجی دور میں ہم جمہوری عمل کی تابع داری پرمجبور ہیں۔

آج کے دور میں جمہوری عمل کو حرام قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے سرمایہ دارانہ زر (کرنسی) کو حرام قرار دینا۔ یہ با ت اصولاً مکمل درست ہے اور عملاً بالکل ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داری نے ہم کو بہت سے حرام کاموں کے کرنے پر ہمیں مجبور کر رکھا ہے اور چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی بیرون نہیں لہٰذا ہم ان حرام کاموں سے ایسے اجتناب نہیں کر سکتے کہ اس عمل کے ذریعہ سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام ممکن ہو۔

سرمایہ دارانہ نظاماتی کلیت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مخلصین دین کے گروہ سرمایہ دارانہ نظام کے مختلف حصوں کی اصلاح پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ کوئی تعلیمی شعبہ میں کام کر رہا ہے۔ کوئی تطہیر نفوس کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ کوئی سیاسی اور ریاستی تنظیمی عمل میں شریک ہے اور سب یہ سمجھتے ہیں کہ جزوی تگ و دو تحفظ اور غلبہ دین کو ممکن بنانے کی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس غیر مربوط جزوی کوشش کے نتیجہ میں مخلصین دین کی اجتماعی اقتداری قوت میں اضافہ نہیں ہوتا اور سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کے امکانات پیدا نہیں ہوتے۔

حقیقت یہ ہے کہ جمہوری عمل وہ ذریعہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظاماتی کلیت کو جواز بھی فراہم کرتا ہے اور جو اس کلیت کو منتشرکرنے میں بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ جمہوری عمل سے سہو نظر یہ اس میں روایتی انداز میں شرکت سرمایہ دارانہ نظاماتی تحکم کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔ جمہوری عمل کی تسخیر اور تخریب کاری انہدام سرمایہ داری کے لیے لازم ہے۔

جمہوری عمل کا تسخیری عمل سرمایہ داری کے بیرون سے بھی ممکن ہے۔ یقیناً دنیا میں ایسے مقامات موجود ہیں جو سامراج کی گرفت سے باہر ہیں، نکالے گئے ہیں اور نکالے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ایران، افغانستان، مغربی اور وسطی افریقہ کے چند علاقے اور ان علاقوں میں ایک غیر سرمایہ دارانہ نظام کے قیام کی کوشش جاری ہے لیکن ان کی حرکیات سرمایہ دارانہ مارکیٹی اور ریاستی مرکزی عمل کو متاثر نہیں کرتی اور ان حرکیات سے سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) اور سرمایہ دارانہ تحکم کی جوازیت متاثر نہیں ہوتی۔ سرمایہ دارانہ مراکز میں ان حرکیات کے پھیلاؤ کے امکانات نہایت محدود ہیں اور ان کے وقتی نتائج عموماً منفی ثابت ہوتے ہیں۔

12.4۔مجوزہ حکمت عملی

ان تحدیدات کے تناظر میں سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی مندرجہ ذیل تجویزیں مرتب کی گئی ہیں۔ ان کی ممکنہ تنفیذ کا مقصد پاکستان میں سرمایہ دارانہ انہدامی جدوجہد کا آغاز کرنا ہے۔ اس میں جمہوری عمل کااستعمال اہمیت کا حامل ہے۔

جمہوریت ایسے سیاسی نظام کو کہتے ہیں جہاں عوامی تائید (عوامی شمولیت نہیں) کی بنیاد پر تحکیمی فیصلوں کی جوازیت مرتب کی جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جمہوری تائید غیر سرمایہ دارانہ اقدار اور اغراض کو بھی جواز فراہم کر سکتی ہے جیسا کہ قدیم ایتھنز اور روم میں ہوتا تھا اور جیسا کہ اسلامی ایران میں آج بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا جمہوریت اور سرمایہ داری کا تعلق حادثاتی ہے جمہوریت غیر سرمایہ دارانہ بھی رہی ہے اور جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ انہدام کے لیے بھی تاریخی طورپر بار بار استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ داروں نے جمہوری رائے اور تائید کو مرتب کرنے کے لیے سیکڑوں غیر جمہوری طرائق بھی استعمال کیے ہیں اور کیے جا رہے ہیں۔ جمہوری رائے کو سرمایہ دارانہ مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کا عمل معاشرتی ہے، محض سیاسی نہیں ۔

ہمارے اندازے کے مطابق ملک میں مخلصین دین کی تعداد ملک کی آبادی کی تقریباً7 یا 8 فیصد ہے یعنی ڈیڑھ کروڑ سے 2.2 کروڑ([249])۔مخلصین دین سے مراد وہ لوگ ہیں جو غلبہ اورتحفظ دین کے مقاصد کو اولیت دیتے ہیں اور جن کی دینی عصبیت ان کی قومی، معاشی، گروہی، لسانی عصبیتوں پر حاوی ہیں۔ پاکستان میں ان کو اسلامی جماعتوں کے ووٹر تصور کرنا اس لیے مناسب لگتا ہے کہ اسلامی جماعتوں کو سوشل ڈیموکریٹ، لبرل اور قوم پرستانہ نظریات پر عوامی تائید حاصل نہیں ہوتی بلکہ ان کو ووٹ وہی لوگ دیتے ہیں جو ان سے وابستگی کے ذریعہ اپنی انفرادیت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔

غلبہ دین کا مطلب کم از کم پاکستان میں ان ڈیڑھ سے دو کروڑ مخلصین دین کو معاشرتی اور ریاستی سطح پر طاقت ور اور بااقتدار بنانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ انہی مخلصین دین کے تحرک اور تنظیم کے ذریعہ پاکستان کو اسلامی جذبات سے سرشار کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ اس ہی ہدف کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہیں۔

روحانی بیداری

پاکستان کا روحانی ماحول نہایت مکدر ہے۔ عوامی ہدایت کا نظام شکست و ریخت کا تین سو سال سے شکار ہے ؎

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند

عوامی ہدایت کا جو نظام ہماری تاریخ میں قائم کیا گیا ہے اور جس پر امت کا اجماع ہے وہ نظام تصوف ہے۔ اس نظام پر سامراج نے Permanent Settlement Act 1799 کے ذریعہ قبضہ کر لیا سندھ اور پنجاب کے بیش تر مخدوم خاندان سامراج کے آلہ کار بن گئے اور انہوں نے روحانی تربیت کی تنظیم کو دنیاوی مقاصد کا ذریعہ بنا لیا۔ عوامی روحانیت طلب دنیا کے تابع ہو گئی۔ رہی سہی کسر تقسیم برصغیر نے پوری کر دی جس کے نتیجہ میں عوام کا صوفی سلسلوں سے تعلق کمزور ہوتا چلا گیا اور خانقاہی نظام تتر بتر ہو گیا۔ ہندوستان میں بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی۔

پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں
وہ درویش و سلطاں کی آماجگاہیں
کھلی تھیں جہاں علم باطن کی راہیں
فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں
کہاں ہیں وہ حزب الٰہی کے پھندے
کہاں ہیں وہ اللہ کے نیک بندے

عوامی روحانی ابتری کا عالم یہ ہے کہ اب اسلامی حرام خوری یعنی اسلامی بینک کاری کا جواز تو علماء بیان کر رہے ہیں لیکن فاتحہ، درود، میلاد شریف اور وہ رسوم و رواج جو بارھویں صدی عیسوی سے برصغیر میں اسلامی معاشرت کو عام کرنے کا ذریعہ بنے ہیں ان کو ”بدعت ضلالہ“ قرار دیا جا رہا ہے۔

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

اسلامی دعوت بنیادی طور پر قلب کو مخاطب کرتی ہے اور اہل دل ہی اسلامی دعوت کے فطری امام ہیں۔ اگر قلب عشق سے سرشار نہ ہو تو انسان لازماً نفس امارہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ وہ یا تو بندگی رب کا سرے سے قائل نہیں رہتا یا نفس امارہ کی بندگی کوبندگی رب کا وسیلہ سمجھنے لگتا ہے۔ غلبہ دین کے لیے لازم ہے کہ پاکستانی معاشرت میں اسلامی روحانیت عام ہو۔ لوگوں کے قلوب عشق الٰہی کے نور سے معمور ہوں۔ عوام کے دلوں کو خواہشات نفسانی سے پاک کرنا اور لوگوں کے حال کو بدلنا دعوت اسلامی کے تغلب کے لیے اشد ضروری ہے۔

پاکستانی عوام ابھی تک رب کی بندگی کے انکاری نہیں لیکن عموماً اور مخلصین دین کے علاوہ رب کی بندگی کا دائرہ اپنی نجی زندگی تک محدود رکھتے ہیں۔ اپنی اجتماعی زندگی میں بندگی رب کو یا تو ممکن نہیں سمجھتے یا اس کو ضروری نہیں گردانتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت بڑی اکثریت (2018ء کے انتخابی نتائج کے مطابق تقریباً 90 فیصد) دہریانہ اور سامراجی معاشی اور سیاسی پالیسی سازوں کی تائید کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ان میں جاہلانہ علمیت کی جوازیت کو قبول کرنا ہے۔ ان کی نظر میں جاہلی علمیت غیر اقداری ہے اور اسلامی علمیت اجتماعی معاملات میں رہنمائی فراہم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

عوام کو بندگی رب پر آمادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نظام ارشاد کی تطہیر اور توسیع عمل میں لائی جائے۔ اسلامی تاریخ میں پیری مریدی ہی وہ عوامی روحانی تربیتی نظام ہے جس کے توسط سے شیخ مرید کے وجود میں تصرف فرما کر اس کی قلبی کیفیات کو تبدیل کرتاہے۔ عوام کے قلوب میں حرص اور ہوس کے احساسات پرورش پا رہے ہیں اور عوام کی اجتماعی زندگی (پبلک لائف) میں یہی احساسات غالب ہیں۔ عوام کا حال یعنی معاشرہ اور ریاست سے ان کا تعلق حرص اور ہوس کے احساسات کے تغلب کی عکاسی کرتا ہے۔

عوام کے حال کو تبدیل کیے بغیر ان کی تائید حاصل کرنے کی جدوجہد کا مقصد حرص و ہوس کے معاشرتی اور ریاستی تغلب کو جواز فراہم کرنا ہے اور پاکستانی اسلامی سیاسی جماعتیں یہی کر رہی ہیں۔وہ سرمایہ دارانہ حقوق اور سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کرنے کی جستجو کر رہی ہیں۔ اس عمل کے نتیجہ میں ان کا سیاسی ایجنڈا بہت بڑی حد تک سیکولرائز ہو گیا ہے۔ ان کی وضع کردہ پالیسیاں لبرل، سوشل ڈیموکریٹ اور قوم پرستانہ ہوتی ہیں۔ وہ سرمایہ داری کی اسلامی وکیل بن گئی ہیں اور ان میں اور دہریہ سیاسی جماعتوں میں اشتراک عمل معمول بن گیا ہے([250])۔

عوام عقائد کے فساد کا شکار ہیں۔ وہ نجی زندگی میں بڑی حد تک عقیدہ توحید و آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اورذاتی زندگی میں انہی عقائد کی روشنی میں عمل کرتے ہیں۔ اجتماعی زندگی (پبلک لائف) میں وہ دنیا پرست ہیں اور حرص و ہوس ان کے عمل پر غالب ہے۔ عقائد کا درست ہونا حال کے درست ہونے پر اور کائنات میں اپنے صحیح مقام کو پہنچانے پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک عام پاکستانی احساس کی کثافت کا شکار ہے۔ اس کا قلب شہوت و غضب کے احساسات سے مغلوب ہے۔ اس پر اضطرار، یاسیت اور گھن (nausea)کی کیفیت بالعموم طاری رہتی ہے۔

تحفظ و غلبہ دین کا تقاضا ہے کہ لوگوں کاحال اور ان کی قلبی کیفیات تبدیل کی جائیں۔ نجی زندگی میں بھی اور بالخصوص اجتماعی معاملات کے تناظر میں بھی۔ اصلاح معاشرہ اور قیام ریاست اسلامی خود مطلوب نہیں بلکہ محض تطہیر قلوب کے ذریعہ ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ میں اسلامی روحانیت کو عام کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔ ہماری تاریخی اور تہذیبی روایات کے استحکام کے نتیجہ میں اور ان روایات کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کی جدوجہد جو علمائے کرام اور صوفیا ئے عظام نے صدیوں سے جاری رکھی ہے، کی وجہ سے آج بھی عوام الناس کی صفوں میں مخلصین دین موجود ہیں۔ مخلصین دین وہ لوگ ہیں جو جاہلی عقلیت پر ایمان نہیں لائے اور جو سرمایہ دارانہ تحکم کی تابعداری پر مجبور ہیں راضی نہیں۔ ہمارے اندازہ کے مطابق 2020ء میں پاکستان میں مخلصین دین کی تعداد ڈیڑھ سے دو کروڑ تک ہے۔

لیکن یہ مخلصین دین نہ متحرک ہیں نہ منظم۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام سے کسی اجتماعی مقابلہ کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ سرمایہ دارانہ تغلب کے ضمن میں ان کا رویہ عموماً اجتناب، گریز اور پہلو تہی کا ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ معاشرتی اور ریاستی قوت سے محروم کیے جا رہے ہیں بلکہ اس بتدریج محرومی کو ناگزیر بھی تصور کرتے ہیں اور اس محرومیت پر قانع بھی ہیں۔

معاشرہ اور ریاست میں مخلصین دین کے اثر اور اقتدار کو بڑھا کر ہی عوام الناس میں اسلامی روحانیت کا فروغ ممکن ہے۔ مخلصین دین کی صفوں میں منظم گروہ بھی پائے جاتے ہیں۔ مخلصین دین کی بڑی اسلامی جماعتیں بھی ہیں مثلاً دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت اور بڑی سیاسی جماعتیں بھی مثلاً تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جمعیت علمائے اسلام۔ ان جماعتوں کے لیے بالکل ممکن ہے کہ وہ مخلصین دین کے معاشرتی اور ریاستی اقتدار میں اضافہ کو اپنے عوامی تخاطب اور ارتباط کا ذریعہ بنائیں۔

منظم اسلامی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ مخلصین دین کو عوام سے محبت کرنا سکھائیں کیونکہ دعوت اسلامی کی بنیاد لازماً محبت ہی ہوتی ہے۔ مخلصین دین فقر و غنا کی صفات کو ترقی دینے کی صلاحیت پیدا کریں۔ ان میں یہ استعداد پیدا کریں کہ وہ عوام کی قلبی کیفیات کے تغیر کو ممکن بنا سکیں۔ ان کو عوام کا مرشد بنانے کی کوشش کی جائے۔ مخلصین دین اور اسلامی گروہوں کے کارکن محض عوام کو راہ دکھانے والے نہیں ان کو منزل کی طرف گامزن کرنے والے، ان کی حفاظت کرنے والے، ہر گام پر ان کی مدد کرنے والے اور رہنمائی کرنے والے بن جائیں۔ مخلصین دین عوام کو ان کے اپنے حال پر نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ان کو عوام کو اپناتا ہے۔ مخلصین دین عوام کی مستقل اور مسلسل نگہداشت کی ذمہ داری قبول کریں۔ مخلصین دین عوام کو سرمایہ داری کے خلاف ایک ایسے جہاد کے لیے منظم کریں جو صدیوں تک جاری رہے گا۔

یہ کام صوفی سلاسل سے تعلق پیدا کیے بغیر ناممکن ہے کیونکہ تصوف ہی ہماری تاریخ کی معتبر عوامی تحریک ہے اور اس ہی کے ذریعہ عوام میں اسلامی روحانیت عام کی گئی ہے۔ تصوف ایک نہایت کامیاب عوامی تحریک ہے اور آج تک اسلامی معاشرت کو قائم رکھنے میں صوفیا ئےعظام کی مساعی جلیلہ نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے صوفیا کی تعلیمات کے ذریعہ ہی عوام میں حرص و ہوس، شہوت و غضب کے میلات کی تحدید کی ہے۔ آج سرمایہ دارانہ سامراجی غلبہ کے نتیجہ میں یہ تحریک کمزور پڑ گئی لیکن اس کے احیا کے بغیر معاشرتی اور ریاستی سطح پر تحفظ اور غلبہ دین کا فریضہ انجام نہیں دیا جا سکتا اور عوام کو سرمایہ کے بندہ کے بجائے خدا کا بندہ نہیں بنایا جا سکتا۔

سرمایہ دارانہ عالمی نظاماتی تغلب کا ایک پہلو علمیاتی بھی ہے۔ پندرھویں صدی کے بعد سے سرمایہ دارانہ تعقل (rationality) فکر پر غالب آنا شروع ہوا اور آج فلسفہ، سائنس اور سوشل سائنس کی شکل میں تمام عالم پر غالب ہے۔ اس جاہلیت خالصہ کے عالمی غلبہ نے انسانیت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کا اظہار ہنوز بڑھتے ہوئے ثقافتی ، معاشی، ماحولیاتی، وبائی، مواصلاتی اور نفسیاتی بحرانوں سے ہو رہا ہےلیکن اس علمیاتی منہج کا کوئی ایسا متبادل مرتب نہیں کیا جا رہا جو ان بحرانوں سے نکلنے کی راہ ہموار کر سکے۔ پاکستان میں بھی پوری سرمایہ دارانہ پالیسی ساز اشرافیہ اور عوام کا ایک بڑا حصہ اس جاہلیت خالصہ پر غیر متزلزل ایمان لے آئے ہیں۔

سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) کا عالمی سیاسی غلبہ کئی صدیوں میں قائم ہوا اور اس کے انہدام کا عمل بھی صدیوں پر محیط ہو گا۔ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں (سوائے حیات بعد از موت) کہ جہاں سرمایہ دارانہ علمیت (جاہلیت خالصہ) کا غلبہ نہ ہو۔ سرمایہ دارانہ علمی منہج کے انہدام کا پہلا مرحلہ اس کا منفی نقد مرتب کرنا ہے یعنی ان مفروضاتی اور تجزیاتی تضادات کو عیاں کرنا ہے جو اس جاہلیت خالصہ میں موجود ہیں۔ اس کام کی بہترین مثال حضرت حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ کا ارسطو اور اس کے معتزلہ شاگردوں کی فکر کا نقد ہے۔ ہماری کتاب Rejecting Freedom and Progress اور دروس سرمایہ داری میں امام صاحب کی فکر کاخلاصہ بیان کرنے کی طالب علمانہ کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں سرمایہ دارانہ اور جمہوری فکر کا نقد بھی مرتب کیا گیا ہے۔

لیکن ظاہر ہے کہ یہ جمہوریت اور سرمایہ داری کا کوئی مربوط اور مکمل نقد نہیں۔ کہاں امام صاحب رحمہ اللہ کے فرمودات اور کہاں ہم جیسے جاہلوں کے لغویات۔ امام صاحب رحمہ اللہ نے صرف ارسطوی فکر کے اندرونی تضادات نہ بیان فرمائے بلکہ نصوص صحیحہ کی کسوٹی پر اس فکر کو جانچا اور متکلمین سے دو قدم بڑھ کر اس الحادی فکر کو غیر معقول اور غیر منقول دونوں ثابت کر دیا۔ آج ہمیں سرمایہ دارانہ فکر کا حتمی اسلامی نقد مرتب کرنے کے کام کی ابتدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مخلصین دین کے جو گروہ یہ کام کرنے کا عزم کریں ان کے لیے ضروری ہے کہ

یہ سب کام طویل المدت ہے اور صدیوں تک جاری رہے گا (ان شاء اللہ)۔ کیا اس سے انہدام سرمایہ داری ممکن ہو گا اور کب ہو گا، ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔ لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس کو جاری رکھنے والے تحفظ دین اور غلبہ دین کے سپاہی ان شاء اللہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے کیونکہ ان کا مقصد حصول رضائے الٰہی ہے انہدام سرمایہ داری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس طویل جنگ میں شریک ہیں جس کا ان کی زندگیوں میں نتیجہ خیز ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

سرمایہ داری کے خلاف یہ طویل المدت جنگ ہمیں اسی نظاماتی تناظر میں لڑنی ہے۔ اس جنگ کا فیصلہ کن میدان معاشرہ ہے (ریاست نہیں)۔ ہمیں سول سوسائٹی کی احاطہ بندیوں کو بتدریج منہدم کر کے بتدریج معاشرہ کی مذہبیت کو از سرنو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستانی معاشرت کی مذہبی بنیادیں کمزور ضرورہوئی ہیں منہدم نہیں ہوئیں۔ سول سوسائٹی کا دخول عموماً بڑے شہروں کے امراء اور اونچے متوسط طبقہ کی آبادیوں اور ان کے ملحقہ اداروں (تعلیم گاہوں، اسپتالوں، ثقافتی مراکز) تک محدود ہے گو کہ سول سوسائٹی کا دائرہ اثر سامراجی پشت پناہی کے سبب پھیل رہا ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی ملک میں ڈیڑھ سے دو کروڑ مخلصین دین موجود ہیں اور یہ معاشرہ کی ہر صف بندی میں پائے جاتے ہیں، کہیں کم کہیں زیادہ، تاجروں میں بھی، صنعت کاروں میں بھی، زمینداروں میں بھی، وکلا اور پیشہ وروں میں بھی، مزدروں میں بھی، ہاریوں میں بھی ، چھوٹے کاروباریوں میں بھی، ریاستی اداروں فوج، پولیس، انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ، میڈیا، کارپوریشنوں میں موجود ہیں۔ یہ سب اپنی ذاتی زندگیوں کو احکامات شروع مطہرہ کے مطابق ڈھالنے کی مخلصانہ حتی المقدور کوششیں کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسجدیں بھری پڑی ہیں۔ رمضان کا احترام کیا جاتا ہے۔ بڑی تعداد میں حفاظ اور علما تیار کیے جا رہے ہیں۔ اسلامی رسوم و روایات (عیدین، عروس، تعزیہ داری) نہایت شان و شوکت سے منائے جاتے ہیں۔ صدقات اور خیرات وافر مقدار میں دیے جارہے ہیں۔

اس معاشرت میں اسلامی عصبیت کو فروغ دینا کوئی مشکل کام نہیں اور بہت سی جماعتیں یہ کام پورے ملک میں مدت ہائے دراز سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن جاری جدوجہد میں دو کمزوریاں ہیں:- مصلحین کی جماعتیں اپنی دعوت کو عوام کی ذاتی زندگی کی اصلاح تک محدود کیے ہوئے ہیں اور اس دعوت کی توسیع کے ذریعہ مصلحین دین کی معاشرتی قوت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اسلامی سیاسی جماعتیں اس انفرادی اصلاحی کوشش کو اپنی ریاستی جدوجہد کی بنیاد نہیں بنا رہیں اور ان کے ریاستی عمل کے نتیجہ میں مخلصین دین کا نظاماتی اقتدار فروغ نہیں پاتا۔ مخلصین دین کے نظاماتی انتشار اور قوت نافذہ سے محرومی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوام کی اجتماعی زندگی کو متاثر نہیں کر پاتے۔ عوام جاہلی عقلیت کو ہی معقول تصور کیے رہتے ہیں۔ علوم اسلامی کا دائرہ اجتماعی زندگی کا احاطہ نہیں کر پاتا اور پبلک لائف میں اتباع خواہشات نفسانی ہی معقول جواز عمل کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ یہاں تک ہےکہ اسلامی سیاسی جماعتیں تک قوم پرست، لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کے ذریعہ عوام کے سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے وعدے کرتی رہتی ہیں۔

ان حالات میں جمہوری عمل کی توسیع یعنی اسلامی جماعتوں کی عوامی تائید حاصل کرنے کی جدوجہد لاحاصل ثابت ہوئی ہے کیونکہ جمہوری عمل کے معاشرتی پھیلاؤ سے اتباع خواہشات نفسانی کاعمل معقول اور مقبول بنتا چلا جاتا ہے اور پبلک لائف میں اطاعتِ احکاماتِ شرع مطہرہ ناممکن ہوتا جاتا ہے۔ معاشرہ کی پبلک لائف کو اسلامی ہدایت سے سرشار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو غیر جمہوری طور پر منظم کیا جائے۔ یہی سول سوسائٹی کے انہدام اور اسلامی معاشرت کے غلبہ کا ذریعہ بنے گا۔

پاکستانی معاشرہ میں تین اہم ترین غیر جمہوری ادارتی صف بندیاں موجود ہیں:

1۔ خاندان اور برادریاں

2۔ مساجد، مدارس اور خانقاہیں

3۔ بازار

یہ سب بنیادی طور پر اسلای ادارے ہیں اور ان کا ہماری تاریخی روایات سے نامیاتی تعلق ہےلیکن جو سرمایہ دارانہ نظام میں بتدریج ضم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کوسرمایہ دارانہ تعقل اور تحکم سے جدا کرنے کے لیے چند تجاویز پیش کررہئے ہیں۔ یہ سوال کہ ان تجاویز پر کیسے عمل درآمد ممکن ہو سکتا ہے اس باب کے آخری سب سیکشن میں اٹھایا جائے گا۔

خاندانی اور برادریانہ نظام سرمایہ دارانہ دراندازیوں کے باوجود پورے ملک میں مضبوط ہے۔ گو کہ شہر کے اونچے طبقوں میں خاندان محدود ہوتے جا رہے ہیں۔برادریانہ اور قبائلی روابط کم زور ہو رہے ہیں اور اسلامی رسوم و رواج ترک کیے جا رہے ہیں۔ یہ رجحانات نچلے متوسط طبقوں اور غربا کے علاقوں میں عام نہیں۔ ان علاقوں میں محلہ داری عام ہے۔ محلے داری کا فروغ عوامی سطح پر اسلامی تشخص کے احیا کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح خاندان اور برادریوں میں بزرگوں کی حیثیت اور وقت کو فروغ دے کر بھی اسلامی رجحانات کو فروغ دیا جا سکتا ہے کیونکہ ہمارے بزرگ عموماً عبادت گزار ہوتے ہیں اور خوفِ آخرت ان میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ ایسےبرادریانہ اجتماعات عام ہوں جہاں بزرگوں کی سرپرستی میں اجتماعی اور معاشرتی فیصلے کیے جائیں۔ امید ہے کہ یہ فیصلے دینی عصبیت کو اجاگر کریں گے۔

خاندانی زندگی کی ماڈرنائزیشن کا ایک بڑا سبب علاقائی ثقافت کا زوال ہے۔ یہ علاقائی ثقافت پورے ملک میں اسلامی روایات کی مقامی عکاس ہے۔ ہر صوبہ کے مشاہیر اکابر شاعر اور ادیب عموماً صوفی بزرگ ہی تھے اور ان کی کوششوں کے نتیجہ میں ہی ان علاقوں کے عوام مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ہم نے اپنی علاقائی زبانوں میں اسلامی ادب کے فروغ کے لیے کوئی مربوط اور منظم کوشش نہیں کی۔ آج صدیوں سے رائج عوامی اسلامی رسوم و رواج بھی مشکوک بتائے جاتے رہے ہیں اور ترک کیے جا رہے ہیں۔ ان رجحانات کو رد کر کے اور علاقائی ثقافتی اور عوامی مذہبی رسوم و رواج کو فروغ دے کر بھی میڈیا کے مسلط شدہ طوفانِ عریانی کا مقابلہ کیا جا سکتاہے۔

پھر خاندانی اور برادریانہ نظام کے انتشار کا ایک اور اہم سبب مشترکہ خاندانی نظام کا ترک کیا جانا ہے۔ یہ رجحان محدود ہے لیکن حکومت اس کو جھوٹے گویوں کی تشہیر کے ذریعہ فروغ دے رہی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کو مستحکم کرنا اسلامی معاشرت کو فروغ دے سکتاہے۔ خاندانی نظام کے انتشار میں خواتین کی بڑھتی ہوئی ملازمت کا رجحان بھی اہمیت کا حامل ہے۔ خواتین کو گھروں سے نکال کر سرمایہ دارانہ محنت کش بنانے کی یہ مہم مدت سے ملک میں جاری ہے اور آزادی نسواں اور آزادی اغلام بازاں (LGBTQ) کی تحریکات سامراج کی سرپرستی میں متحرک ہیں۔ خواتین کی ملازمت اور ان کی پیشہ ورانہ تعلیم کی حوصلہ شکنی کرنا بھی ضروری ہے اور ایک نسبتاً آسان کام بھی کیونکہ پاکستانی معاشرہ میں عزت، غیرت اور عفت کو اب بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

تحریک حقوق نسواں اور تحریک اغلام بازاں ابھی تک مقبول عام تحریکیں نہیں۔ ان کو فحاشی کا فروغ سمجھا جاتا ہے۔ فحاشی ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کو برداشت کرنے کا عوامی رجحان بھی بڑھ رہا ہے لیکن فحشیات کا خاندانی نظام میں دخول اب بھی عموماً معیوب تسلیم کیا جاتا ہے۔ فحاشی کی معاشرتی روک تھام بھی خاندانی اور برادریانہ نظام کے استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔

یہ تمام ایسی تجاویز ہیں جن کی تنفیذ سے خاندانی نظام کو اسلامی ہدایت کا محور و مرکز بنایا جا سکتا ہے اور س کے جمہوریانے (democratization) کے عمل کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی ہدایت کے فروغ کے نتیجہ میں لوگوں میں اپنی خاندانی زندگی میں شرع مطہرہ کی تعلیمات کے مطیع اور اپنے نفسی میلانات کو شرعی احکامات کی روشنی میں پرکھنے کی عادت عام ہو گی۔

ہماری تاریخ میں مسجد اور خانقاہ وہ ادارے ہیں جو امت کی مرکزیت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ الحمدللہ آج بھی یہ ادارے آباد ہیں لیکن ان کا اثر مخلصین دین کی (عوام کی نہیں) نجی زندگیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پبلک لائف (نہ مخلصین دین کی نہ عوام کی) سے ان اداروں کا تعلق تقریباً منقطع ہو گیا ہے۔ ان اداروں کے معاشرتی اثر و رسوخ کے احیاکے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ ان تجاویز کی تنفیذ کے نتیجہ میں معاشرتی جمہوریت کا عمل کمزور ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے ضرورت اتحاد مسالک کی ہے۔ محلہ کی سطح پر بین المسالک اوقاف المساجد قائم ہوں جس میں بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ مسالک کا مشترکہ معاشرتی لائحہ عمل متعین کیا جائے۔ علوم باطنی کی تعلیم خانقاہوں میں مشترکہ طور پر دی جائے اور مسجد میں دارالافتا اور دارالقضا قائم کیے جائیں اور مسجدوں سے جاری فتاویٰ کی عملی تنفیذ کا اہتمام مخلصین دین کی منظم کوشش کے ذریعہ کی جائے۔ ہر مسجد اپنے مسلک کے مطابق فتاویٰ اور احکام جاری کرے۔ دعوت عمومی مشترکہ ہو مثلاً محلہ بھر میں تمام مساجد سے ایک ہی جمعہ کا خطبہ نشر کیا جائے۔ اسی طرح مخلصین دین کو ائمہ مساجد کی قیادت میں متحد کیا جائے اور عمومی ردبدعت کی مہم اسی ادارتی صف بندی کے تحت منظم ہو۔ کوشش کی جائے کہ ائمہ مساجد محلہ کے واحد جائز معاشرتی رہنما کےطور پر عام طور پر پہچانے جائیں۔ اور زیادہ سے زیادہ مخلصین دین محلہ کے پبلک لائف کےمعاملات (پانی، بجلی، سڑکوں اور صفائی کا انتظام، اسکولوں اور اسپتالوں کی فیس اور بازاروں میں قیمتوں کا تعین) کے انتظام میں فیصل کردار ادا کریں۔

محلے کی سطح پر بین المسالک اوقاف مساجد لوکل گورنمنٹ کا متبادل بن جائے اور بیرونی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں محلہ کے موقف کی وکالت وفاق المساجد کا سربراہ ہی کرے۔ یہ پورا نظام غیر جمہوری خطوط پر منظم کیا جائے اور ہر سطح پر ذمہ داریاں محلہ کے صالح اور متقی اہل رائے کی نامزدگیوں کے ذریعہ تفویض کی جائیں۔ آج یہ بات کتنی بھی اجنبی کیوں نہ لگے لیکن یہی ہماری تاریخ میں عموماً رائج شدہ طریقہ ہے اور نامزدگی کے اسی طریقہ سے پاکستانی مخلصین دین مانوس ہیں اور وہ رائج شدہ جمہوری عمل کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اس طریقہ تنظیم اور تحریک سے مخلصین دین محلہ کی سطح پر بتدریج بااختیار ہوتے جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مخلصین دین محلہ کی روزمرہ کی زندگی کی تنظیم اور ترتیب میں دخیل ہوں تاکہ عوام کی تکالیف دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ مثلاً ماحولیاتی تنزل سے پیدا ہونے والے خطرات، وباؤں کے پھیلاؤ، غذائی قلت، پانی کی کمی، بجلی کا تعطل، قحط سالی اور طوفانی تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لیے محلہ کی سطح پرمندرجہ ذیل projects قائم کرنا ممکن ہیں۔ مثلاً

اس نوعیت کے کام ائمہ مساجد کی قیادت میں اور مخلصین دین کے ذریعہ کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن لازم ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام میں ضم نہ ہو جائیں اور اس سے مخلصین دین کا معاشرتی اقتدار بھی فروغ پا ئے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کام معاشرہ میں اسلامی روحانیت اورمذہبیت کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہو۔ محض رفاہ عامہ نہ ہو۔ اسی طرح مخلصین دین اور ائمہ مساجد سرمایہ دارانہ مظلوم طبقوں یعنی مزدوروں اور ہاریوں کی تنظیموں میں داخل ہو سکتے ہیں اور پیری مریدی کے نظام کے استحکام اور رائج شدہ رسوم و رواج کی تطہیر کے ذریعہ ان طبقوں کی اسلامی عصبیت کو ابھار سکتے ہیں۔

مزدوروں اور ہاریوں کے برعکس چھوٹے کاروباریوں کی صفوں میں اسلامی رجحانات قدرے زیادہ مستحکم ہیں۔ اب بھی پاکستان میں حرام خوری عام نہیں۔ مشکل سے بارہ فیصد عوام کے بینکوں میں کھاتے ہیں اور سٹہ کے بازار کی شرکت کی شرح ملکی آبادی کی دو فیصد سے بھی کم ہے۔ زیادہ تر لوگ سرمایہ دارانہ ملازمتی جکڑبندیوں سے آزاد ہیں۔ وہ خودکفیل ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں ایک غیر سرمایہ دارانہ معاشی نظام نہ صرف یہ کہ قائم ہے بلکہ سرمایہ دارانہ ریاستی جبر سے قدرآزاد بھی ہے۔ سامراج کی نافذ کردہ دستاویزیت کی تمام مہمات پیہم ناکام ہو رہی ہیں۔

لیکن یہ غیرسرمایہ دارانہ معیشت منظم نہیں اور حرام خور اداروں کے نظاماتی تسلط کے نتیجہ میں حلال کاروبار اپنا دائرہ کار وسیع نہیں کر پاتا۔ ایک چھوٹا دوکان دار، ایک چھوٹا کسان، ایک چھوٹا کارخانہ دار جو حرام خوری سے گریز کرتا ہے ہمیشہ چھوٹا ہی رہتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں حلال معیشت کا پھیلاؤ زیادہ تر ردعملی ہے اقدامی نہیں ہے۔ حلال معیشت کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب سرمایہ دارانہ معیشت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں کا بڑھاؤ ہے۔

حلال معیشت کو وضع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حرام خور نظام ترسیل اور تقسیم زر کا ایک متبادل نظام قائم کیا جائے جیسا کہ لبنان اور ملیشیا کے چند علاقوں میں اسلامی گروہوں نے قائم کیا ہے مثلاً:

اس نوعیت کی اسکیم کئی برسوں سے حزب اللہ اور کچھ عرصہ تک دارارقم کے نام سے چلائی جاتی رہی۔ اس سے غیر سرمایہ دارانہ زر کے قیام اور فروغ کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور حلال معیشت تیزی سے پھیلتی ہے اسلامی تصور ملکیت کو عام کرنے کا بھی یہ ایک موثر طریقہ ہے۔ لیکن اس کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ حلال کاروباری سرمایہ دار نہ بن جائیں اور اسلامی تمویلی نظام حرام خوری نظام میں ضم نہ ہو جائے۔ لہٰذا یہ اسکیم کامیاب جب ہو سکتی ہے جب یہ پورے معاشرے میں روحانیت اور مذہبیت پھیلانے کا ایک جزو ہو۔ تنہا اس کا اجرا مطلوب نتائج کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ حلال کاروباری اگر عشق الٰہی، تقویٰ، قناعت اور خوف آخرت سے سرشار نہ ہوں گے تو لامحالہ ان کے قلو ب پر حرص و ہوس کےشیاطین قبضہ جما لیں گے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ جو جماعت یہ کام کرے وہ متعلقہ تاجروں اور صنعت کاروں اور بچت کنندگان کی روحانی اور مذہبی تربیت کا خصوصی انتظام کرے۔ اس تربیتی نظام کو اسلامی نظام تمویل کا ایک اہم جزو بنا لیا جائے جو صوفیا کرام کی نگرانی اور ائمہ مساجد کی رہ نمائی میں کارفرما ہو۔ دارارقم اور حزب اللہ نے اس بات کی کوشش کی ہے۔ جزاک اللہ

ہم معاشرہ کو غیر جمہوریانہ خطوط پر منظم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ عوام مخلصین دین کی غیر مشروط قیادت قبول کریں اور حصول رضائے الٰہی کی جستجو نفسانی خواہشات کی پیروی پر غالب آ جائے۔ ہم عوام کی تائید ان کے سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور ان کی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ عوامی میلانات اور رجحانات بدل جائیں۔

تیری دعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری

میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے

معاشرتی de-democratization ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ یہ اسلامی تاریخی اصل دھارے سے اپنے روابط کومستحکم کرنے کا ذریعہ ہے اوراس کے لیے معاشرتی، روحانی اور علمیاتی بنیادیں موجود ہیں۔ آج جب سرمایہ دارانہ نظام اور طرز زندگی شدید ترین بحرانوں (ماحولیاتی، وبائی، علمیاتی،نفسیاتی، ثقافتی اور مواصلاتی) کا شکار ہےکو اس نظام کو منتشر کرنے کے وافر امکانات موجود ہیں۔

لیکن آج سرمایہ داری کو کسی گہرے سیاسی بحران کا سامنا نہیں۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ ریاست کے دائرہ کار اور روابط از سر نو مرتب کیے جا رہے ہیں۔ پوری دنیا پر سامراجی گرفت مضبوط ہے اور نئے سامراجی مراکز ابھر رہے ہیں (چین، بھارت، اسرائیل)۔ سرمایہ دارانہ قانونی تحکم کی وسعت ہمہ گیر ہے۔ ایسے میں جمہوری عمل کو ریاستی سطح پرکلیتاً مسترد کرنا صرف ان سرحدی علاقوں تک ممکن ہے جہاں سرمایہ دارانہ مارکیٹی اور ریاستی تحکم کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ یہ علاقے نہایت محدود ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام سے انکی کی علیحدگی کا کوئی اثر سرمایہ دارانہ مرکزیت پر مرتب نہیں ہوتا۔ مارکیٹ کی سطح پر نہ ریاست کی سطح پر۔ پھر سامراج میں ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ جمانے کی صلاحیت موجود ہے اور سوائے افغانستان اور ایران کے ہر جگہ ایسا ہی ہوا ہے مثلاً ویت نام، کمبوڈیا، شام، عراق، مالی، برکینا فاسو، چیچنیا وغیرہ۔

لہٰذا سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی انہدام کا عمل اس نظام کے اندر ہی سے مرتب کرنا ہو گا اور اس کے لیے ریاستی سطح پر جمہوری نظام سے استفادہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا لازم ہے۔ دور حاضر میں ہم ریاستی سطح پر جمہوری عمل میں مداخلت کرنے پر مجبور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ برصغیر کے علمانے جمہوری عمل میں شرکت کی عموماً اجازت دی ہے۔ 1920 سے جاری یہ شرکت نتیجہ خیز بھی ثابت ہوئی ہے اور اس شرکت کے ذریعہ ہم دینی شعار اور دینی نظام تعلیم و تربیت کو جاری رکھ سکے ہیں۔

لیکن جمہوری عمل شرکت کا جوطریقہ ہم نے اپنایا ہے وہ غلبہ دین اور سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی راہ ہموار نہیں کرتا۔ اس نوعیت کی شرکت کے نتیجہ میں اسلامی انفرادیت مجروح ہوئی ہے۔ اسلامی سیاسی ایجنڈا سیکولرائز ہوتا چلا جاتا ہے اور ملک پر سامراج کی گرفت کمزور نہیں پڑتی۔ دعوتی جماعتیں ہماری سیاسی جدوجہد سے علیحدہ رہتی ہیں اور اس غلط فہمی کا شکار رہتی ہیں کہ انتخابی عمل کو مسترد کر کے وہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کو رد کر رہی ہیں۔ انتخابی محدود کامیابیوں کے نتیجہ میں مخلصین دین میں سیاسی ناوابستگی کے رجحان پھیلتے ہیں۔ وہ نہ منظم ہو پائے ہیں نہ متحد، اسلامی سیاسی جماعتیں اپنے فطری حلقہ اثر سے علیحدہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔

اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اسلامی جماعتوں کے رکن جمہوریت کو ایک اسلامی طرز حکومت تصور کرنے لگتے ہیں۔ ان کے روابط اپنی تہذیبی تاریخی روایات سے منقطع ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی تاریخی سیاسی روایات کو شک اور نفرت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی جبرکا جمہوری عمل کی کارفرمائی سے سہو نظر کر لیتے ہیں اور جمہوری عمل کو غیر اقداری تصور کرنے لگتے ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کے نہیں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں جزوی اسلامی شمولیت کے قائل ہو جاتے ہیں۔ وہ ایک شریعہ پابند سرمایہ داری کے قیام کو ممکن سمجھتے ہیں۔ یہ وہ راہ ہے جس پر چل کر سترھویں صدی میں عیسائی ریاستوں نے سرمایہ داری سے سمجھوتا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سے سرمایہ داری میں اصلاح تو نہ ہو سکی یہ ہوا کہ عیسائیت بحیثیت ایک طرز حیات فنا ہو گئی۔

ہم جمہوری عمل کی تحلیل کی معاشرہ اور ریاست دونوں سطحوں پر کوشش کریں گے۔ لیکن ریاستی سطح پر ہماری یہ کوشش لازماً بلاواسطہ نہ ہو گی کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی بیرون نہیں اور ہم جمہوری عمل کے تضادات کو مہمیز دے کر ہی اس نظام کی تسخیر کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہماری ریاستی حکمت عملی ہماری معاشرتی حکمت عملی سے مربوط ہو گی اور دونوں کا ہدف عوام میں عبدیت کا شعور اور خوف آخرت کا فروغ ہے۔ یعنی ہماری نظاماتی حکمت عملی شمولی ہے۔ معاشرتی ادارتی صف بندی اورتحرک سیاسی ادارہ سازی اور تحرک کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس شمولی مربوط نظاماتی حکمت عملی کی تنفیذ کے لیے ایک اہم ضرورت مخلصین دین کی صفوں میں تنظیمی اتحاد ہے۔ آج مخلصین دین منتشر ہیں۔ ان میں ایک عام فرد امت کے اجتماعی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور اپنی ذاتی روحانی اور اخلاقی بہتری پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ مخلصین دین کی نظاماتی لاچاری اور بے چارگی کو ناقابل تبدل تصور کرتا ہے۔ نظام ہائے ہدایت (صوفی سلاسل، مدارس، اسلامی جماعتوں) سے اس کا تعلق محدود اور واجبی ہے۔ مخلصین دین کاایک نہایت قلیل حصہ کسی نظم کا حصہ ہے۔

اسلامی جماعتیں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ مصلحین کی جماعتیں جو انفرادی اصلاح اور روحانی اور اخلاقی تربیت کا کام کرتی ہیں اور جن کا دائرہ اثر معاشرے تک محدود ہے اور اسلامی سیاسی جماعتیں جو ریاستی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ مصلحین کی جماعتوں اور اسلامی سیاسی جماعتوں میں اشتراک عمل مفقود ہے۔ نتیجتاً کوئی بھی ایک ملک غیر ہمہ جہت حکمت عملی تشکیل نہیں ہو پاتی جو تحریک تحفظ دین اور تحریک غلبہ دین کو مربوط کر دے اور جس کی تنفیذ کے نتیجہ میں ملکی سطح پر مخلصین دین کے نظاماتی اقتدار میں اضافہ ہو۔

لہٰذا پہلی ضرورت ایک ایسے اسلامی اتحاد کے قیام کی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ (اصولاً سب) راسخ العقیدہ اسلامی جماعتیں اور گروہ شامل ہوں۔ اس اتحاد کی بنیاد یہ اصولی موقف ہو کہ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کو لازماً ایک مربوط حکمت عملی کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد میں عدم ارتباط ہماری نظاماتی کمزوری کا ایک اہم سبب ہے۔ ہر دعوتی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کام کا جو اثر ریاستی فیصلے پر مرتب ہو رہا ہے اس کا ادراک کرے۔ ہر سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ریاستی جدوجہد کے معاشرتی اثرات کا اندازہ لگاتی رہے اور ہر جماعت کا فرض ہے کہ اپنی انفرادی کوششوں کو اجتماعی جدوجہد سے اس طرح مربوط کرے کہ غلبہ دین اور تحفظ دین کی ہمہ گیر جستجوئیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی چلی جائیں۔

ایک ایسی نظاماتی تزویراتی حکمت عملی کی تنفیذ اور تشکیل ایک نہایت مشکل کام ہے۔ یہی اسلامی انقلابی عمل کا پیش خیمہ ہے اور یہ عمل کوئی واقعہ نہیں۔ یہ حالات کے تغیر کے ساتھ مستقل جاری رہتا ہے اور تنظیمی اور نظریاتی لچک اس عمل کی اہم خصوصیات ہیں۔ اس عمل کے ذریعہ تقلیدی اجتہادکے ذریعہ منفرد اور متنوع اسلامی گروہوں اور جماعتوں کے نظریات اور تنظیمی ساخت میں تعمیری ارتباط پیدا کیا جاتا رہتا ہے۔ اس عمل کے جاری رہنے کے نتیجہ میں انقلابی عمل معاشرتی اور ریاستی سطح پر کارفرما ہوتاچلا جاتا ہے۔ یہ عمل جتنا پھیلے گا اتنا زیادہ عوام سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) یعنی نفس امارہ کی غلامی سے نجات پائیں گے اور بندگی رب قبول کریں گے۔اور اس عمل کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی تضادات کو مہمیز دینے میں کامیابیاں حاصل کرنے کی اہلیت حاصل کرتے رہیں گے۔ان شااللہ

تحفظ دین اور غلبہ دین کی تحریکات کو مربوط کرکے اقامت دین کی جو حکمت عملی آج کے دور میں (پاکستان میں) کارآمد ثابت ہو سکتی ہے وہ سرمایہ دارانہ قوتوں کو قدم بہ قدم پیچھے دھکیلنے کی حکمت عملی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد سرمایہ دارانہ تحکم اور سرمایہ دارانہ جواز معاشرتی اور ریاستی سطح پر بتدریج اور مدت تک مجروح کرنے کی حکمت عملی ہے۔ اس حکمت عملی کو کلازوِٹس نے “war of position” سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی ایسی جنگ جس میں دشمن کے ایک کے بعددوسرے مورچے پر گاہے گاہے قبضہ کیا جاتا رہے۔

ایک لحاظ سے یہ گوریلا جنگ کی ضد ہے۔ گوریلا جنگ میں دشمن کے علاقہ پر ایک عسکری حملہ کے ذریعہ قبضہ کر لیا جاتا ہے اور پھر باقی علاقہ پر اپنا مکمل تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان یا دیگر بڑے سرمایہ دارانہ علاقوں میں گوریلا جنگ کی کامیابی کے امکانات موجود نہیں۔ پاکستان کے دیہی اور شہری علاقے ایک دوسرے سے پیوست ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی فوج کو بہت بڑی حد تک قومی تائید حاصل ہے اور گوریلا کسی شہری تائید کی امید نہیں رکھ سکتے۔ سامراج کی گرفت نہایت مضبوط ہے۔ یہ حالات گوریلا جنگ کے لیے نہایت ناموزوں ہیں۔

”وار آف پوزیشن“ میں علاقوں پر قبضہ کر کے دشمن کو وہاں سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ ہر جگہ اس کی نظاماتی قوت اور جوازیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ متحدہ اسلامی تحریک عوام کی روزمرہ کی زندگی میں دخیل ہو کراس میں اسلامی روح پھونکے۔ مذہبی، سماجی، معاشی زندگی کو محلہ کی سطح پر یوں منظم کرے کہ عوام کے میلانات اور ترجیحات تبدیل ہوتے رہیں۔ اس حکمت عملی کی تنفیذ کا مقامی ادارہ صرف مسجد ہی ہو سکتی ہے۔ مسجد ہماری مذہبی اور روحانی زندگی کا ہمیشہ سے مرکز رہی ہے۔ مسجد کے معاشرتی اور سیاسی اقتدار کو فروغ دینے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کیے جا سکتے ہیں:

یہ مخلصین دین کو غیر جمہوری بنیادوں پر متحد اور منظم کرنے کی تجویز ہے۔ اس تجویز میں ترمیم و توسیع اور اس کی تنفیذ کے لیے ایک بین النظریاتی مرکزی تنظیم کی ضرورت ہے جو نظریاتی افتراق کے باوجود مخلصین دین کے مختلف گروہوں کو منظم اور متحرک رکھنے کی جدوجہد جاری رکھ سکے اور جو اس احساس کو فروغ بھی دے اور عملی جامہ بھی پہنانے کی جدوجہد بھی جاری رکھ سکے کہ ملک میں تحفظ دین اور غلبہ دین کے کام کو مربوط کیے بغیر مخلصین دین نظاماتی طور پر ہمیشہ لاچار اور بے بس رہیں گے اور دینی علوم اور روحانیت کا دائرہ کار ہمیشہ سکڑتا چلا جائے گا۔ اس مرکزی تنظیم کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہوں:

معاشرتی سطح پر اور اپنی تنظیمی صفوں میں جمہوری عمل کی تنسیخ آج کے دور میں ممکن ہے لیکن ریاستی سطح پر بالکلیہ ممکن نہیں۔ آج ہم سرمایہ داری کے خلاف ایک ”وار آف پوزیشن“ کی ابتدا کر رہے ہیں۔ ”وار آف پوزیشن“ اور دخول (entryism) کی حکمت عملی میں بنیادی فرق ہے۔ دخول کی حکمت عملی کے تحت مخالف نظام کے مراکز قوت پر قبضہ جما کر ان ہی اداروں کے ذریعہ نظام پر غالب آنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دخول کی یہ حکمت عملی یوروکمیونسٹ پارٹیوں نے اٹلی اور فرانس میں 1970ء کی دہائی میں اپنائی۔اس کی ایک تازہ مثال جماعت اسلامی کی انتظامیہ سے ساز باز کر کے کراچی کی میئرشپ حاصل کرنے کی حالیہ کوشش ہے۔ شمولیت کی حکمت عملی کے ذریعہ نہ سرمایہ دارانہ اداروں کی تسخیر کی کوشش کی جاتی ہے نہ سرمایہ دارانہ روحانیت کی تردید کی بلکہ سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ شمولیت کے ذریعہ نظاماتی تبدیلی مطلوب نہیں بلکہ سرمایہ داری کو نئے مخلص، ایمان دار اور جفاکش کارکن فراہم کرنا ہوتا ہے۔

”وار آف پوزیشن“ کی حکمت عملی اپنانے والے بھی سرمایہ دارانہ اقتداری اداروں میں شامل ہوتے ہیں لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر غیر سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی بھی کرتے ہیں اور سرمایہ دارانہ اقتداری اداروں میں ان کے شامل ہونے کا مقصد اقتدار کو سرمایہ دارانہ اداروں سے بتدریج غیر سرمایہ دارانہ مراکز کی طرف منتقل کرنا ہوتا ہے۔ اس حکمت عملی کو اپنا کر وہ قدم بہ قدم سرمایہ دارانہ نظاماتی تسخیر کا عمل جاری رکھتے ہیں۔

اصولاً ہر سرمایہ دارانہ اقتداری ادارہ ”وار آف پوزیشن“ کا ہدف بن سکتا ہے بہ شرطیکہ اس کا متبادل غیر سرمایہ دارانہ مرکز اقتدار قائم ہو اور ”وار آف پوزیشن“ جتنی ہمہ گیر ہو گی اس کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی روشن ہوں گے۔ پاکستانی جمہوریت کے تناظر میں دو اہم ادارتی صف بندیاں جہاں اسلامی ”وار آف پوزیشن“ کی ابتداکی جا سکتی ہے، نظام قانون اور نظام انتخابات اور پارلیمانی نمایندگی ہے۔ اب ہم ان دونوں نظاموں میں ”وار آف پوزیشن“ کی حکمت عملی بیان کریں گے۔

پاکستانی قانونی نظام گہرے تضادات کا شکار ہے اس کے دو سرچشمے ہیں۔ ایک دستور جو لبرل خطوط پر مرتب کیا گیا ہے اور وہ لبرل انفرادی حقوق کی فراہمی کی اصولاً ضمانت دیتا ہے۔ دوسرا وہ انتظامی قوانین جو سرمایہ دارانہ نظاماتی تحفظ کے فروغ کے لیے نافذ کیے جاتے ہیں۔ جیسے جیسے پاکستانی ریاست کمزور ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے انتظامی غیر دستوری نظام اور SROs کا دائرہ کار بڑھتا چلا جاتا ہے اور دستوری اور ماورائے دستور قانونی نظام میں تضادات بڑھتے جاتے ہیں۔ انفرادی لبرل حقوق کی فراہمی معطل ہوتی جاتی ہے اور خفیہ تحفظاتی اور مخبر ادارے نظام اقتدار پر غیر جوازی قبضہ حاصل کیے جاتے ہیں۔

آج غیر دستوری قانون کی گرفت اسلامی گروہوں پر بالخصوص نہایت سخت ہے۔ وہ مخبر اداروں کے نشانہ پر ہیں اور ہر قسم کا غیر قانونی جبر و استبداد برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ بین المسالک اسلامی اتحاد ایک ملک گیر وکلاء کی تنظیم قائم کر سکتا ہے جس کا مقصد غیر دستوری قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری رکھنا ہو اور دستوری اور غیر دستوری قوانین کے تضاد کو واضح کرتا رہتا ہو۔ یہ مستقل چارہ جوئی دستور کی پناہ میں جاری رہے گی اوراس کی پیش رفت سے امید کی جا سکتی ہے کہ ریاست پر مخبر تنظیموں کی گرفت کمزور پڑے گی اور اسلامی گروہوں کی غیر قانونی تعذیب اور نگرانی مشکل ہوتی جائے گی۔

”وار آف پوزیشن“ کو جاری رکھنے کا دوسرا طریقہ انتخابات کا انقلابی استعمال ہو سکتا ہے۔ انتخابات وہ عمل ہیں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کو جوازیت عوامی تائید کے ذریعہ حاصل ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان میں عوام کی اکثریت انتخابات کو جوازی عمل کے طور پر قبول کرتے ہیں اور نظاماتی جوازیت کو مرتب کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ مقبول عام نہیں اور نہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ کسی دوسرے طریقہ حکومت کو سردست مقبول عام بنا سکیں۔ انتخاب میں عدم شرکت اس سرمایہ دارانہ تحکیمی جوازیت کو کمزور نہیں کرتی۔ پاکستان میں الیکشن بائیکاٹ کی تمام تحریکات بری طرح ناکام رہی ہیں۔

لیکن جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے انتخابی عمل سرمایہ دارانہ نظاماتی جبر کی تردید کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ غیر جمہوری بنیادوں پر متحد اور منظم عوام انتخابی عمل کو اقامت دین کی فراہمی کی ادائیگی کا ذریعہ بھی بنا سکتے ہیں۔گو کہ یہ کام سرمایہ دارانہ نظام میں عموماً ایک اسلامی حکومت کے قیام کا ذریعہ نہیں ہو سکتا لیکن اس انتخابی عمل کے ذریعہ سرمایہ دارانہ اداروں سے اسلامی اداروں تک اقتدار کے انتقال کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ اس طرح ”وار آف پوزیشن“مندرجہ ذیل خطوط پر منظم کی اور لڑی جا سکتی ہے:

انتخابات کو غلبہ دین کاذریعہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کی ایسی غیرجمہوری تنظیم کی جائے جس کے نتیجہ میں عوام مخلصین دین کی قیادت میں بتدریج منظم اور متحرک ہوتے چلے جائیں۔ یہ کیے بغیر جمہوری عمل میں شرکت خواہ وہ انتخابات کے ذریعہ خواہ احتجاج کے ذریعہ ایک دخولی حکمت عملی ہے۔ یہ دخولی حکمت عملی ہم 1920ء سے (جمعیت علمائے ہند کے قیام کےوقت سے) اپنائے ہوئے ہیں اور اس کے اپنانے سے جو فوائد حاصل ہوئے ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ سب سے اہم فایدہ یہ ہوا کہ سامراج کے غلبہ کے دور میں ہمیں اسلامی علمی اور روحانی ورثہ کو محفوظ رکھنے کی پناگاہیں (مساجد، مدارس، خوانقاہیں) میسر آ گئیں جن کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں اسلامی روحانیت معاشرتی سطح پر محفوظ ہے اور ایک عام پاکستانی آج بھی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر قربانی دینے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر پاکستانی کے دل کی صدا ہے ؎

سنتا ہوں کہ محشر میں سرکار آئیں گے
ہم جیسے گناہ گاروں کو دوزخ سے بچائیں گے

لیکن اس دخولی حکمت عملی کو اپنا کر ہم سرمایہ دارانہ نظام تحکم میں ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔ مخلصین دین نظاماتی جبر کا شکار ہیں۔ وہ محروم، مجبور اور لاچار ہوتے جا رہے ہیں۔ قوم پرستی اور لبرل ازم غالب آ گئی ہے۔ سامراج کی نظاماتی گرفت مضبوط سے مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ آج پاکستان میں اسلامی قوتوں کو وہی خطرہ موجود ہے جو سترھویں صدی میں عیسائیت کو یورپ میں درپیش تھا یعنی سرمایہ دارانہ جبر میں ضم ہو جانے کا خطرہ ،کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس خطرہ کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی تیاری نہ کریں۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کو شدید بحرانوں کا سامنا ہے۔ اعتقادی اور نظریاتی سطح پر بھی، علمیاتی سطح پر بھی، ثقافتی سطح پر بھی، ماحولیاتی سطح پر بھی، طبی سطح پر بھی، مواصلاتی اور اطلاعاتی سطح پر بھی۔ ان تضادات کو ملکی سطح پر مہمیز دینے کے لیے ایک سیاسی حکمت عملی ان صفحات میں بیان کی گئی ہے۔ یہ انتخابات کے انقلابی استعمال کا ایک اسلامی طریقہ ہے جو اس ہمہ گیر مقاماتی جدوجہد کا ایک حصہ ہے جو اس باب میں بیان کی گئیں۔

خلاصہ

ومافوفیقی الا باللہ

  1. دیکھیے: سرمایہ دارانہ عقائد و نظریات، سرمایہ داری کے نقیب اور Rejecting Freedom and Democracy۔ یہ کتب 03332122756 سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    ↑

  2. مفتوحہ علاقوں میں (جو لازماً سرمایہ دارانہ نظاماتی سرحدوں تک ہی محدود رہیں گے) جمہوری نظام کو رد کرنا ممکن بھی ہے اور ضروری بھی لیکن ان علاقوں میں بھی جو اسلامی ریاستیں قائم کی جائیں گی ان کو بھی عالمی سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب کے تناظر میں ہی اپنی کارفرمائی مرتب کرنا پڑے گی مثلاً ایران،افغانستان ۔

    ↑

  3. سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کا تجزیہ ہم اپنی حاشیہ نمبر ایک میں دی گئی کتب (دروس سرمایہ داری )میں پیش کر چکے ہیں۔

    ↑

  4. Mann, M. (2005) The Dark Side of Democracy Cambridge University Press, London. ↑

  5. دیکھیے باب ششم۔

    ↑

  6. کچھ تفصیل باب دوم میں بیان کی گئی ہے۔

    ↑

  7. دیکھیے باب سوم۔

    ↑

  8. نفس مطمئنہ کا کوئی تصور کانٹ یا کسی دوسرے سرمایہ دارانہ مفکر کے پاس موجود نہیں۔

    ↑

  9. Nozick, R. (1974). Anarchy, State and Utopia, Macmillan, New York ↑

  10. اس کی تفصیل باب پنجم سیکشن 5.2.2 میں ملاحظہ کیجیے۔

    ↑

  11. سرمایہ دارانہ عدل کا ایک تصور دیکھنے کے لیے ملاحظہ ہو:

    G. A. Cohen, Freedom, Justice and Capitalism, Deutcher Memorial Lecture LSE London, 1980. ↑

  12. معتزلہ ملحدین بالخصوص فارابی کے ہاں ”مدینہ الفضیلہ“ کا جو خاکہ پیش کیا گیا تھا وہ افلاطون کی ری پبلک سے مشابہ ہے لیکن ایسی فکر ہمارے سیاسی نظریات میں کہیں نظر نہیں آتی۔

    ↑

  13. لاک اور روسو کی فکر کا جائزہ باب سوم میں پیش کیا گیا ہے۔

    ↑

  14. اس نظریہ کی جدید ترین تشریح Rawls نے پیش کی ہے جس کی تفصیل بھی باب سوم میں دی گئی ہے۔

    ↑

  15. دیکھیے سیکشن 1.3.9۔

    ↑

  16. Berlin (1967). Four Eras on Philosophy, Oxford University Press, London. ↑

  17. اس کی تفصیل ہبرماس کی فکر میں ملتی ہے۔ دیکھیے باب 3.8 اور 6.3.2۔

    ↑

  18. Zezik, S. (2005). “Against Human Rights” New Left Review, 11:34, pp. 115-134. ↑

  19. دیکھیے سیکشن 6.3.2۔

    ↑

  20. اٹھارھویں صدی کی وہ فکری تحریک جس نے جمہوری فکر کی توجیہہ بیان کی، ملاحظہ ہو:

    Adorno & Horkheimer (1969). The Dialectics of Enlightenment, New York. ↑

  21. Balibar, E., quoted in Zezik (2005), p. 124 ↑

  22. Balibar, E. (2007). “Is a Philosophy of Human Rights Possible?” Soua Mlaatx Quarterly vol. 105 no. 2-3, pp. 320-321. ↑

  23. اس کی کچھ تفصیل سیکشن 5.4.1 میں دیکھیے۔

    ↑

  24. Donelly says, “Without the enjoyments of human rights one… will be ... alienated from one’s moral nature (1989, p. 17). ↑

  25. یہاں میں نے لفظ moral کو روحانیت سے تعبیر کیا ہے کیوں کہ تنویری تصور moral کا کوئی ہم معنی ترجمہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ Morality اخلاقیات (ethics) نہیں۔ اخلاقیات (ethics) فرد کے دوسروں سے تعلقات کا جواز بیان کرتی ہے۔ جب کہ morality فرد کے ذاتی حال اور انفرادی میلانات کی ترتیب کا بیان ہے۔ تنویری فکر میں اخلاقیات اور morality کو universalizability کے اصول کے ذریعہ مدغم کر دیا گیا ہے۔

    ↑

  26. لاک نے تین ہیومن رائٹس کی نشان دہی کی تھی 1۔ حق زندگی، 2۔ حق آزادی، 3۔ حق ملکیت۔ جیفرسن نے اس میں چوتھا ”حق خوش حالی“ کا اضافہ کیا دیکھیے باب سوم۔

    ↑

  27. لاک جسم کو املاک (پراپرٹی) کا بنیادی جزو گردانتا ہے۔ دیکھیے باب 3.2۔

    ↑

  28. دیکھیے سیکشن 1.3.2۔

    ↑

  29. تفصیل کے لیے دیکھیے باب پنجم۔

    ↑

  30. Weber, M. (1954) Economy and Society Vol. 1, New York. ↑

  31. Kay, G & Matt J. Political Order, Land Labor, London, p. 2, 17-18. ↑

  32. Taylor, C. (2003) The Source of the Self, New York. ↑

  33. سرمایہ دارانہ معاشرہ میں بڑھوتری سرمایہ کے بغیر کسی کارِ خیر کی انجام دہی غیر ممکن ہوتی چلی جاتی ہے۔

    ↑

  34. پریگماٹزم (مطلب پرستی) کی یہ بنیادی تعلیم ہے۔

    ↑

  35. دیکھیے باب سوم۔

    ↑

  36. یاد رکھیے سائنس کا مقصد تفہیم کائنات نہیں، تسخیر کائنات بشمول تسخیر انسانیت ہے۔

    ↑

  37. Habermas, J. (2018). Philosopical Introduction, Cambridge, Chapter 5. ↑

  38. Habermas, J. (2004)/ The Divided West, New York. Chap. 5. ↑

  39. احیاء العلوم الدین کتاب العلم، ترجمہ مولانا حبیب الحسن، 1931ء، لاہور۔

    ↑

  40. دیکھیے باب ہفتم۔

    ↑

  41. اس بات کی تشریح آگے آ رہی ہے اور دیکھیے سیکشن 5.4.1۔

    ↑

  42. Adorno & Horkheimer, Dialectics of Enlightenment, New York, p. 73-78. ↑

  43. Quoted in Zizek (2005), p. 124-125. ↑

  44. Dahl, R. (1989). Democracy and the Citizen, New York, p. 88. ↑

  45. ان حدود کی نشان دہی باب پنجم میں کی گئی ہے۔

    ↑

  46. دیکھیے باب گیارہ۔

    ↑

  47. Quoted in Hermann, B. (1989) Lincoln and the Constitution, p. 21 ↑

  48. Dworkin, R. (1986) Law’s Empire Cambridge, p. viii. ↑

  49. Appleby, J. (1987). “The American Heritage,” The Journal of American History Vol 74, no. 2, p. 804. ↑

  50. واضح رہے کہ انتخابات میں نمایندوں کو عموماً 50 فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔

    ↑

  51. دیکھیے اگلا سیکشن۔

    ↑

  52. واضح رہے کہ انتخابات میں نمایندوں کو عموماً 50 فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔

    ↑

  53. دیکھیے باب سوم۔

    ↑

  54. Benhabib, S. Democracy and Difference New Haven. ↑

  55. Rorty, R. (1984) “Idealistic Foundations and Social Practices,” in Benhabib, S. (2004) Democracy and Difference, pp. 333-335 ↑

  56. جس کی تنفیذ سرمایہ دارانہ نظام میں ناممکن ہے لہٰذا ایسے جمہوری فیصلہ کو رد کیا جانا ناگزیر ہے۔

    ↑

  57. World Bank Globalization and Localization, Washington. ↑

  58. Quoted in Ansari, J. A. “The Many Faces of Democracy,” Market Forces, Vol. 3, no. 2, pp. 5-11. ↑

  59. Thatcher, M. & Sweet, A. S. “Theory and Practice of Delegation to Non-Majoritarian Institutions,” West European Politics, Vol. 25, no. 1, pp. 1-22 ↑

  60. Man, P. “Ruling the World,” New Left Review, pp. 17-49. ↑

  61. ماؤ (Mao) کی فکر لینن کی فکر کی ایک تشریح ہے اور اس میں نظریہ جمہوریت کے علاوہ کچھ نہیں۔

    ↑

  62. Barber, B. (2004) “Foundationalism and Democracy” in Benhabb, S. Democracy and Difference New York, p. 348-359. ↑

  63. اوپر ہم ثابت کر چکے ہیں کہ لبرل ازم کا یہ دعویٰ کہ کوئی مخصوص تصور خیر مطلق نہیں جھوٹا دعویٰ ہے۔

    ↑

  64. ریپبلکن نظاموں میں لبرل جمہوریتوں کے مقابلہ میں سیاسی عمل میں عوامی شرکت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

    ↑

  65. Marx, K. & Engels, F. (1987) The Communist Manifesto, Moscow. ↑

  66. پرولتاریہ کو اکثریتی اور مفادِ عامہ کا نمایندہ طبقہ گردانا جاتا ہے سوشلسٹ فکر میں۔

    ↑

  67. J. (2015) The Rise and Fall of Ancient Greeece Princeton. ↑

  68. یہ اصطلاح Thorstein Veblen کی ہے دیکھیے:

    Veblen, T. (1954). The Theory of Leisure Class, New York ↑

  69. Dahl, R. (1989). Democracy and Its Critics, pp. 344-345. ↑

  70. Harman, J. (1986). Political Theory, New York, pp. 16-20. ↑

  71. دیکھیے باب سوم۔

    ↑

  72. یہی بات روسو نے کیلون کی قائم کردہ ریاست کے بارے میں بھی کہی تھی۔

    ↑

  73. تفصیل کے لیے دیکھیے ہماری کتاب دروسِ سرمایہ داری، باب اول اور دوم۔

    ↑

  74. Mann, M. (1986). The Sources of Social Power, Vol. 1, Cambridge. ↑

  75. Ansari, J.A. (2010). Money and Banking in Pakistan, Karachi. ↑

  76. کچھ مصنفین کا خیال ہے کہ سرمایہ داری سب سے پہلے ولندیز میں غالب آئی۔

    ↑

  77. Dobb, M. (1946). Studies in the Development of Capitalism, Cambridge.

    ↑

  78. Brennin, R. (1993). Markets and Revolution, Cambridge. ↑

  79. Hudsan, J. (2002). Diggers Class Struggle in the English Revolution, London. ↑

  80. Winstaley, G. (1975). The Law of Freedom, Harmondsworth. ↑

  81. لیکن وہ عورتوں کے جمہوری عمل میں شرکت کے مخالف تھے۔

    ↑

  82. جنہیں وہ the elect کہتا تھا۔

    ↑

  83. Hammond, R. & Hammond, B. (1995). The Labour 1760-1832, London. ↑

  84. Habermas, J. (1987). The Philosophical Discourse of Modernity, Cambridge. ↑

  85. کچھ تخمینوں کے مطابق ان کی تعداد اسّی ہزار تھی۔

    ↑

  86. امریکی آبادی 2019 میں تقریباً 330 ملین تھی۔

    ↑

  87. Marx, K & Fredrick Engels (1975). Collected Works Vol XXIV, London, p. 200. ↑

  88. Lenin, V.I. (1972). Collected Works Vol. IX, Moscow, p. 44. ↑

  89. اس کو بریٹن وڈ سسٹم کہتے ہیں۔ اس معاہدہ کے تحت امریکا نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی کوئی ملک پینتیس ڈالر دے گا تو امریکی خزانہ اسے ایک اونس سونا دے گا۔ ستمبر 1971 میں صدر نکسن نے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا۔

    ↑

  90. Grouch, C. (2004). Post-Democracy, Cambridge. ↑

  91. ٹولیریشن کو برداشت نہیں کہا جانا چاہیے،یہ ایک سر مایہ دارانہ تصور ہے جس کی لغوی معنویت کا تر جمہ کرنا ناممکن ہے۔

    ↑

  92. لاک کے خیال میں عہد نامہ قدیم (Old Testament) سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اس نوعیت کے معاہدہ کی بنیاد پر اپنی حکومت بنائی تھی۔

    ↑

  93. لاک عموماًحکومت کالفظ استعمال کرتاہے لیکن اس کا سیاسی ادارہ جاتی خاکہ ریاستی ہے۔

    ↑

  94. دہریت اور ابلیس پرستی کی تبلیغ ایک ہیومن رائٹ ہے جس کو تمام لبرل، سوشل ڈیموکریٹ اور اشتراکی ممالک دستوری تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ افریقی اور ایشیائی سرمایہ دارانہ ممالک میں مذہبی معاشرت کی بالادستی کے نتیجے میں ان معاصی کی کچھ ریاستی روک تھام موجود ہے۔

    ↑

  95. اور کینیڈا اور ناروے کے بیش تر اسکول اپنے طلبہ کے لیے جنسی کھلونے مفت فراہم کرتے ہیں۔ ان ممالک اور ڈنمارک میں جنسی تجربہ گاہیں بھی مڈل اور ہائی اسکولوں میں قائم کی گئی ہیں۔ Utah یونی ورسٹی کی ایک ۲۰۱۲ء کی تحقیق کے مطابق مکمل زنا کا پہلا تجربہ برضا ورغبت امریکی گورے بچے سات سال کی عمر میں عموماً کرتے ہیں۔ جنسی کھیل کھیلنا چار سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔

    ↑

  96. یعنی سرمایہ کے کارکن مینیجر، ریاستی اور دیگر ادارتی حکام عاملین وغیرہ۔

    ↑

  97. فرانس کے دو اہم سوشل ڈیموکریٹ بانیوں میں سے ہے۔

    ↑

  98. جان اسٹوارٹ مل کا باپ جیمز مل بھی ایک مشہور فلسفی اور بینتھم کا قریبی ذاتی دوست تھا۔

    ↑

  99. یہ طریقہ تحقیق مل نے اس دور کے فرانسیسی سوشیالوجسٹ کومٹے کی فکر سے اخذ کیا۔

    ↑

  100. یہی رائے امریکی دستورسازوں میڈیسن اور ہملٹن کی تھی جنہوں نے ریاستی ادارتی تقسیم اختیارات کی تقسیم کے ذریعے اس کی پیش بندی کرنے کی کوشش کی۔

    ↑

  101. مل کی رائے میں اخلاقی تعلیم کی فراہمی کی ذمہ دار باشعور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے صرف حکومت کی نہیں۔

    ↑

  102. اخلاقی ترقی سے مراد صرف فرد کو اعلیٰ لذات کی تقدیم دینا ہے۔

    ↑

  103. یعنی ایسی اشرافیہ جس کے ارکان اعلیٰ لذات کی تقدیم کو فروغ دیتے ہوں۔

    ↑

  104. یعنی اعلیٰ لذات کی تقدیم کی حساسیت۔

    ↑

  105. یعنی اعلیٰ لذات کی تقدیم کی حساسیت کا حامل۔

    ↑

  106. اور کالونیز میں تو نمایندہ حکومت کے وجود کو لازماً محدود ہونا چاہیے۔

    ↑

  107. ایسا نظام قدیم ایتھنز میں موجود رہا ہے۔

    ↑

  108. یہی وجہ ہے کہ نمایندہ جمہوری نظام کے ذریعے غیرسرمایہ دارانہ حکومت (اسلامی، پاپائی، قدیم چینی) کبھی قائم نہیں کی جا سکتی جب کہ ہر قسم کی سرمایہ دارانہ حکومت (لبرل، اشتراکی، قوم پرست) نمایندہ نظام کے ذریعے حکومت کر سکتی ہے۔

    ↑

  109. یہ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوتی ہے: کارپوریٹ بیوروکریسی اور ریاستی بیوروکریسی

    ↑

  110. یہ بات تینوں بیوروکریسیز (پارلیمانی انتظامی اور عدلیاتی) کے لیے درست ہے۔

    ↑

  111. مل تقریباً ۳۵ سال اندیا آفس کا اہل کار رہا۔ اس نے برٹش پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوئی الیکشن نہیں لڑا۔ اس نے اپنی تمام مقبول کتابیں انڈیا آفس میں ملازمت کے دوران لکھیں۔ مل کے افکار کا برطانیہ کی ہندوستان پر تسلط کی حکمت عملی مرتب کرنے کا گہرا اثر ہمیشہ رہا۔

    ↑

  112. مل نے تھامس ہیئر کی انتخابی اصلاح کی تجویز کی ممانعت کی جس کا مقصد پارلیمنٹ اکثریت کے اثر کو کم کرنا تھا۔ 

    ↑

  113. یعنی وہ لوگ جو اعلیٰ لذات کے نظاماتی فروغ کو مقصد حکمرانی کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

    ↑

  114. مل کا اپنا جنسی کردار نہایت گھناؤنا تھا۔ وہ ۱۸۳۰ء سے ۱۸۵۱ء تک ایک شادی شدہ عورت Harriat Taylor کے ساتھ رہا۔ Harriat Taylor کا شوہر ۱۸۴۹ء میں مر گیا اور مل نے ۱۸۵۱ء میں اس سے شادی کر لی۔ ۱۸۵۸ء میں Harriat مر گئی تو مل نے اس کی بیٹی کو اپنے گھر میں ڈال لیا اور اپنی موت تک اس کی بیٹی سے زنا کرتا رہا۔ مل ۱۸۷۳ء میں مرا۔

    ↑

  115. اس نے مشہور دہریہ کی انتخابی مہم میں ۱۸۶۸ء میں مالی اعانت کی جس کے نتیجے میں مل خود ۱۸۶۸ء کا انتخاب ہار گیا۔ اسقاطِ حمل کو فروغ دینے کی ایک مہم میں شمولیت کی وجہ سے مل کو ۱۸۲۴ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    ↑

  116. اور مذاہب اس نوعیت کی تحدید کے نفاذ کی کوشش کرتے ہیں۔

    ↑

  117. بقول George Style مل نیوکلاسیک تصورات کے ابتدائی پیش کرنے والوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔

    ↑

  118. اکبر نے کہا تھا افسوس فرعون کو کالج کی نہ سوجھی، مل کو کالج کی سوجھ گئی۔

    ↑

  119. یعنی اعلیٰ لذات کی فوقیت کے فروغ کی عمومی حساسیت۔

    ↑

  120. مل کی سب سے اہم کتاب "On Liberty" کا سب سے اہم اور مرکزی خیال ہے۔

    ↑

  121. جیسے جیسے جمہوری سیاسی نظام مستحکم ہوتا ہے ووٹ دینے والوں کا تناسب عمومی دہندگان میں کم ہوتا جاتا ہے۔ یہ رجحان دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں مغربی یورپی ممالک میں بہت نمایاں ہے۔

    ↑

  122. عبدیت کا تصور بت پرست مذاہب وغیرہ میں نہیں پایا جاتا ۔

    ↑

  123. مل کے جنازے کو لے کر اس کے گھر سے صرف اس کی داشتہ اور چار افراد چلے لیکن جب وہ قبرستان پہنچنے تو انہوں نے دیکھا کہ عوام کا بڑا گروہ تدفین کے میں شرکت کے لیے موجود ہے۔

    ↑

  124. یہ بات جرمنی، جاپان اور روس کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی؛ ان تینوں ممالک میں قوم پرست سرمایہ دارانہ پالیسیاں اختیار کی گئیں اور امریکا میں بھی کسی حد تک قوم پرستانہ فکر کی بنیاد پر پالیسی سازی کی جاتی رہی۔ ۱۹۱۷ء میں روس میں سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب برپا ہو گیا۔

    ↑

  125. بیسویں صدی کا سب سے اہم سرمایہ دارانہ سیاسی فلسفی۔

    ↑

  126. اپنے پروفیسر بننے کی تقریب میں اس نے اٹھارہ بوتلیں شراب کی پی کر اساتذہ اور طلباء کے سامنے بہترین رقص پیش کیا۔ یہ واقعہ ہارورڈ کی تاریخ میں سنہرے حروف سے رقم کیا جاتاہے۔

    ↑

  127. یاد رہے کہ لاک کے مطابق سرمایہ دارانہ پراپرٹی کے تین مظاہر ہیں :انسانی جان، آراء اور مال۔

    ↑

  128. یہ ٹوکو ولے Tocquiville کا خیال تھا جس نے اٹھارھویں صدی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی سرمایہ داری اس سے ملتی جلتی جنت تعمیر کرنے کے لیے ریڈ انڈینز کاقتل عام کر رہی ہے۔

    ↑

  129. فرق یہ ہے کہ نوزیک سرمایہ دارانہ ملکیت کی انفرادی اور مارکس سرمایہ دارانہ ملکیت کی اجتماعی تشکیل کا قائل ہے۔

    ↑

  130. Thatalion, Reagen, Merkel, Blair, Bushوغیرہ کی حکومتیں۔

    ↑

  131. نوزیک یہ تسلیم کرتاہے کہ اصولاً یا عملاً یہ ممکن ہے کہ جن لوگوں کے پراپرٹی حقوق محدود کیے جا رہے ہیں ان کو اس کا معاوضہ دیا جائے لیکن یہ اس کے خیال میں عملاً ممکن نہیں۔

    ↑

  132. دیکھیے وہ ابواب جہاں کانٹ اور اسمتھ کی فکر کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

    ↑

  133. لاک پراپرٹی کا اہم ترین جزو آراء یا ضمیر کو تصور کرتا ہے۔ لاک کے مطابق ہیومن بینگ وہ ہے جس کا ضمیر خواہشاتِ نفسانی کی تابع عقلیت کی اطاعت کو حق کے طور پر قبول کرتا ہے۔ لاک کے دور میں اکثریت عیسائیوں کی تھی۔ ریشنل ملحد ایک قلیل اقلیت تھے لوگوں کو ریشنل ملحد بنانا لاک کا اصل مشن تھا۔ نوزیک کے دور میں امریکیوں کی عظیم اکثریت ریشنل ملحدین پر مشتمل تھی۔

    ↑

  134. یہ لاک کی Labour theory of valueاورLockeon proviseہے۔ 

    ↑

  135. ان ریاستوں میں Tea party کے کچھ حلقے اپنی ریاست کو امریکی وفاق سے علیحدہ کرنے کی جدوجہد بھی کر رہے ہیں لیکن ان کو عوام کی کوئی تائید حاصل نہیں۔

    ↑

  136. اور کشمیر لیکن کشمیر پر ہندوستان کے قبضے کا کوئی ذکر امریکی بحثوں میں نہیں ملتا۔

    ↑

  137. یہ شخص Cornell Universityمیں فلسفے کا پروفیسر ہے۔

    ↑

  138. لوتھر نے لکھا:

    Man is by nature unable to want God to be God, indeed he himself wants to be God. ↑

  139. یہ نظریہ سینٹ آگستائن نے چوتھی صدی عیسوی میں پیش کیا اور کیتھولک فکر اس کو قبول کرتی تھی۔

    ↑

  140. لوتھر نے ارسطو کے جو اثرات سکالسٹک الٰہیات پر مرتب ہوئے تھے اس کے ضمن میں یہ رائے دی تھی۔

    ↑

  141. مثلاً عیسائیت ترک کر کے یہودی یا فطرت پرست (Pagan) ہو جائے۔

    ↑

  142. گو کہ وہ قدیم اسرائیل کو حکومت الٰہیہ کا ایک نمونہ گردانتے ہیں۔ 

    ↑

  143. اس ضمن میں لوتھر حضرت داؤد، حضرت سلیمان، اسکندر اعظم اور کسریٰ کو بھی شامل کرتا ہے۔ یہ سب غیرعیسائی تھے۔

    ↑

  144. آغاخانی بھی اپنے امام کو قرآن ناطق کہتے ہیں۔

    ↑

  145. مارکس کے تصور سپی شی بینگ میں بھی Wundermann کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

    ↑

  146. اٹلی اور جرمنی متحدہ قومی ریاستیں انیسویں صدی میں بنیں اور انہوں نے اپنی استعماری فتوحات کا آغاز انیسویں صدی سے کیا۔

    ↑

  147. اصولاً لبرل سرمایہ داری کی مطلوبہ اجتماعیت صارف کی اجتماعیت ہے لیکن اس اجتماعیت کا دائرہ عمل مارکیٹ ہے اور مارکیٹ خود انحصاری بلکہ اپنے تحفظ اور تنظیم کے لیے ایک غیرمارکیٹ اجتماعیت یعنی ریاستی اجتماعیت پر لازماً انحصار کرتی ہے اور چوں کہ ریاستیں تاحال قومی ہی ہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ لبرل ازم عموماً قومی اجتماعیت کے تناظر میں ہی نشوونما پاتا ہے اور بیش تر لبرل مفکرین اس بات کو اصولاً ناممکن سمجھتے ہیں کہ ایک عالمی سرمایہ دارانہ اجتماعیت وجود میں آئے۔ 

    ↑

  148. نطشے ایک پروٹسٹنٹ پادری کا بیٹا تھا۔ اپنی ابتدائی عمر میں وہ جرمن موسیقار ویگنر کا والہانہ مداح تھا لیکن چند سال بعد اس سے دل برداشتہ اس وجہ سے ہوا کہ ویگنر کی ایک تصنیف عیسائیت کی تعریف و توصیف کرتی تھی۔ عیسائیت سے اپنی نفرت کا اظہار نطشے نے ویگنر پر شدید اور بالکل بے جا تنقید کر کے بھی کیا۔ کچھ سوانح نگاروں کے بقول نطشے ایک پوشیدہ اغلام باز تھا۔ نطشے ۱۸۴۴ء میں پیدا ہوا۔ ۱۸۸۸ء میں مستقل طور پر پاگل ہو کر ۱۹۰۰ء میں مر گیا۔ ۱۸۷۹ء کے بعد سے وہ مخبوط الحواس ہو گیا تھا۔

    ↑

  149. جس Zarathustra کی زبان سے نطشے اس کتاب میں کفریات اگلواتا ہے اس کا تاریخی شخصیت جناب زرتشت سے کوئی تعلق نہیں۔

    ↑

  150. نطشے کا ہیگل کی طرح پسندیدہ ترین تاریخی کردار نپولین تھا۔

    ↑

  151. نطشے انسان کی موت کی بھی خبر دے گیا چوں کہ دور حاضر میں خدا کی موت کے بعد نہ خدا سے محبت نہ نفرت کی جا سکتی ہے لہٰذا اختتامی آدمی کے لیے اپنے وجود کو قائم رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ نطشے کے خیال میں اس دور میں انسان مرا نہیں بلکہ مر رہا ہے۔ یہی دورحاضر کا المیہ ہے۔

    ↑

  152. نطشے کے خیال میں جناب زرتشت ایسے ہی فوق البشر تھے۔

    ↑

  153. یہ نطشے کے اعتقاد آواگون کا نتیجہ ہے۔

    ↑

  154. لیکن نطشے یہودیت کا مخالف نہ تھا مذہب پر اس کی تمام تر تنقید عیسائیت پر مرکوز تھی۔

    ↑

  155. یہ نکتہ مجھے زاہد صدیق مغل صاحب نے سمجھایا ہے۔

    ↑

  156. اس کے علاوہ سوشل ڈیموکریسی اور انارکزم نے بھی سرمایہ دارانہ عدل کے نظریات مرتب کیے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ تصورات لبرل ازم اور اشتراکی فکر کی آمیزش ہیں۔ انارکسٹ تصورات کی تفصیل پوسٹ ماڈرنسٹ نظریات کے تجزیہ میں بیان کی جائے گی۔

    ↑

  157. "A Theory of Justice" ۱۹۷۱ء اور "Law of the People" ۲۰۰۳ء میں چھپی ایک اور اہم کتاب "Political Liberalism" رالز نے ۱۹۹۵ء میں چھپوائی۔ رالز ۲۰۰۴ء میں مر گیا۔ "Political Liberalism" بھی فوجی وظیفہ سے فنانس کی گئی تھی۔

    ↑

  158. ظاہر ہے کہ کانٹ اور رالز اور ان جیسے دہریوں کے پاس نفسِ مطمئنہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔

    ↑

  159. بالخصوص احکامِ شرع کو معطل کر دیتا ہے۔

    ↑

  160. رالز ہارورڈ میں بحیثیت زانی مشہور تھا اور کئی انڈرگریجوایٹ طالبات نے اس کے ساتھ زناکاری کے واقعات بیان کیے ہیں۔ اس کی موت کے بعد اس کی بیوی نے کہا میں کبھی رالز کے معاشقوں کی راہ میں حائل نہ ہوئی۔

    ↑

  161. ڈنمارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنانے والوں کے خلاف مہم چلانے والوں، جن میں عیسائی بھی شامل تھے کے مقدموں میں، ڈنمارک کے وزیراعظم نے مشورہ دیا تھا کہ سرمایہ دارانہ حق اظہار رائے کو محدود نہیں کیا جا سکتا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کر کے بدلہ لے لیں۔

    ↑

  162. لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کے مطابق انفرادی آزادی اور قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کے مطابق گروہی آزادی۔

    ↑

  163. کانٹ کی sovereign سے مرادمطلق العنان بادشاہ ہے۔

    ↑

  164. مارکس کی طرح کانٹ بھی ایک ایسی خیالی جنت کی تصویر مرتب کرتا ہے جہاں نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کا تطبیقی عمل خود بخودیکساں ہو جاتا ہے۔ کانٹ اس خیالی جنت کو Kingdom of Ends کہتا ہے اور نیوکلاسیکی اکنامسٹس اور دورِحاضر کے کچھ لبرل پولیٹیکل سائنٹسٹ مثلاً نوزیک اور ہائیک کے مطابق موجودہ جمہوری نظام نے بذریعہ سرمایہ داری یہ Kingdom of Ends قائم کر دی ہے۔

    ↑

  165. ریشنیلٹی سے مراد خود غرضی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  166. کلاسیکی لبرل روسو، لاک اور کانٹ اس تحدید کو قبول نہیں کرتے اور اسی فرق کی بنیاد پر میں رالز کو ایک سوشل ڈیموکریٹ سمجھتا ہوں۔

    ↑

  167. سرمایہ دار ہر وہ شخص ہے جس کے قلب پر حرص اور حسد کے شیطان نے قبضہ کر لیا ہے۔

    ↑

  168. سرمایہ داری کی سب سے مشہور تشریحِ عدل Utilitarian مفکرین نے پیش کی ہے۔ اس تشریح میں رالز کی تشریح سرمایہ دارانہ عدل میں جو مماثلت ہے وہ تفصیل سے Sandel نے “A Theory of Justice” پر تبصرہ میں بیان کی ہے۔

    ↑

  169. کچھ سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے معاشرتی حقوق (حق ملازمت، صحت، تعلیم وغیرہ) بھی ضروری گردانتے ہیں لیکن ان سوشل رائٹس کی فراہمی کے ذریعے وہ تقسیمی مساوات کے قیام کو لازمی نہیں گردانتے۔ اشتراکی بھی تقسیمی مساوات کو Dictatorship of the proltariat کے دور میں ناقابل الحصول تصور کرتے ہیں۔

    ↑

  170. اور دوسرا اصول عدل تقسیمی آزادی کی تحدید کا جواز بیان کرتا ہے۔

    ↑

  171. واضح رہے کہ یہ سرمایہ دارانہ حق ازلی مقام کی مشاورت سے برآمد نہیں ہوتا بلکہ اس وجودیاتی مفروضے کا اظہار ہے جو ازلی مقام کے اراکین بحیثیت ہیومن بینگ کے رکھتے ہیں۔ یہ حق ان کو شیطان نے ودیعت کیا۔ یہی ان کی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ ان کا فرض ہے کہ تمام سٹیزن کو یہ سرمایہ دارانہ حق فراہم کریں تاکہ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا ہر سٹیزن دہریہ یعنی سیکولر بن کر حرص وہوس کے شیطان کو اپنا نفس سپرد کر دے۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی مقصود بالذات ہے۔ اسی طرح جیسے بڑھوتری سرمایہ مقصود بالذات ہے۔ بڑھوتری سرمایہ اور ہیومن رائٹس کی فراہمی کا مقصد آزادی کا لامتناہی فروغ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  172. یعنی ان کے اطلاق کے نتیجے میں سٹیزن کی مساوی آزادی کو فروغ نہ دیا جا سکے۔

    ↑

  173. اس بحث کو پوسٹ ماڈرن مفکرین نے وسعت دی ہے۔

    ↑

  174. عیسائی تصورِ الوہیت انسانی نظریہ تثلیث سے ماخوذ ہے۔

    ↑

  175. عیسائیت کا تصور ازلی گناہ ۔

    ↑

  176. یہ درست ہے کہ ہر فرد میں شہوت اور غضب کے جذبات فطرتاً موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیکی کے رجحانات بھی انسانی نفس میں موجود ہوتے ہیں اور یہ بھی فطری ہی ہوتے ہیں۔ تمام مذاہب تعلیم دیتے ہیں کہ فرد کے قلب میں نیک رجحانات کا غلبہ ہو۔

    ↑

  177. یہ چیز ریشنیلٹی کہلاتی ہے۔

    ↑

  178. اگر عوام لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کو ردّ کر دیں تو حکومت بدل جائے گی لیکن نظام تبدیل نہ ہو گا اور لذات کے فروغ کی جدوجہد مستقل رہے گی۔ رالز کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا کسی کو حق نہیں۔

    ↑

  179. پرولتاریہ قوم کے مساوی مفادات۔

    ↑

  180. ایک دہریہ ذاتی طور پر مذہبی رسومات انجام دے سکتا ہے لیکن مذہب سے مقاصد زندگی اور تفہیم ذات اخذ نہیں کرتا۔ دہریہ فرد کا دین سرمایہ داری ہوتا ہے گوکہ اس کا مذہب عیسائیت، اسلام، ہندومت وغیرہ ہو سکتا ہے۔

    ↑

  181. امام محمد مارماڈیوک پکتھال فرماتے تھے مغربی تہذیب کوئی چیز نہیں۔ مغرب وحشی ہو گیا ہے۔

    ↑

  182. یہ جستجو لازماً کامیاب نہیں ہوتی کیوں کہ بڑھوترئ سرمایہ کے حصول کا کوئی واحد صحیح طریقہ موجود نہیں۔ پابندئ ریشنل ضوابط اس وقت لازم ہے جب کہ جمہوری عمل کے ذریعے وہ تبدیل نہ کر دیے جائیں۔ اس بات کا کچھ لوگوں کے خیال میں رالز کے پاس خیرمطلق کا کوئی تصور موجود نہیں، میں اس رائے کو قبول نہیں کرتا۔ میری رائے میں رالز اور utilitarianism کے تصور خیر یکساں ہیں یعنی بڑھوترئ سرمایہ۔

    ↑

  183. بذریعہ نفس امارہ۔

    ↑

  184. یاد رہے کہ وہ ہیومن نہیں یعنی جو افراد بڑھوترئ سرمایہ کو مقصدِ حیات اور معاشرت کے قبول نہیں کرتے مثلاً ریڈ انڈینز یا طالبان ان کو ہیومن رائٹس حاصل نہیں۔

    ↑

  185. ۲۰۱۱ء کے بعد امریکا نے جزوی طور پر ہیومن رائٹس کو موقوف کر دیا ہے اور کا جواز پیش کیا ہے کہ امریکا حالت جنگ میں ہے۔

    ↑

  186. وٹگنسٹائن اور ہائیڈیگر نے موت پر کچھ نہ کچھ لکھا ہے لیکن اپنے نظام فکر میں ان تاثرات کو سمونے کی کوشش نہیں کی۔

    ↑

  187. وہ ۱۹۲۹ء میں پیدا ہوا اور اب تک زندہ ہے۔ ↑

  188. اس ادارہ کو فرینکفرٹ اسکول کہتے ہیں۔ ↑

  189. ریشنلٹی سے مراد وہ عقلیت ہے جو خواہشاتِ نفسانی کی سب سے موثر طریقہ تکمیل کی راہ بتاتی ہے۔

    ↑

  190. اس کی تفصیل ہیبرماس کی کتاب "Theory of Communicative Action" 3rd Volumeمیں موجود ہے جو ۱۹۸۱ء میں انگریزی میں شائع ہوئی۔

    ↑

  191. لائف ورلڈ کا تصور ہابرماس نے ہائیڈیگر اور ہزرل (Husserl) کی فکر سے اخذ کیا۔

    ↑

  192. ویبر کی رائے تھی کہ لائف ورلڈ مختلف شعبوں میں( سائنس، آرٹ، سیاست وغیرہ) منقسم ہے، اداراکِ حقیقت کے مختلف اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ ہابرماس اس رائے سے اختلاف کرتا ہے اور اس کوModernismکی ایک بنیادی کمزوری کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    ↑

  193. ہابرماس کی فکر پر ایک فرانسیسی سوشیولوجسٹ ایمائل درخائم(Emile Durkheim) کا اثر بھی پایا جاتا ہے۔

    ↑

  194. فوکو کی فکر کا تجزیہ اگلے سیکشن میں پیش کیا گیا ہے۔

    ↑

  195. ہابرماس اس بات کو قبول کرتا ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں مواصلت پوری طرح غیرجبری نہیں ہوتی اور مارکیٹ اور ریاست کی کارفرمائی لازماً کسی نہ کسی حد تک مواصلت پر جبر مسلط کرتی ہے۔ وہ اس نظاماتی جبر کو کم کرنے کی تجویزیں پیش کرتا ہے اور یہی اس کی سوشل ڈیموکریٹ سیاسی فکر کی بنیاد ہے۔ اس ضمن میں بھی ہابرماس کی فکر پوسٹ ماڈرنسٹ فلسفیوں بالخصوص فوکو اور دیلوز سے واضح مطابقت رکھتی ہے۔

    ↑

  196. یعنی وہ انفرادیت جو غیرجبری مواصلت کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔

    ↑

  197. یعنی ایسے طریقے جن سے آئی سی ٹی کو کنٹرول کرنے والی کارپوریشنوں کے منافع میں اضافہ نہیں ہوتا۔

    ↑

  198. اور مارکسسٹوں کے برخلاف طبقاتی کش مکش کو ناگزیر نہیں سمجھتا ہے۔

    ↑

  199. آفاقیت سے مراد محض کسی لسانی گروہ (language community)کے وہ مفروضات ہیں جن کو وہ لسانی گروہ ریشنل تصور کرتا ہے۔

    ↑

  200. ان مفکرین کے نظریات کا تجزیہ ہابرماس نے اپنی کتاب "In Philosophical Discourses of Modernity" میں پیش کیا ہے۔

    ↑

  201. یہ truth claims اندرونی (immanent) اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص تہذیب کی پیداوار ہوتے ہیں اور لازماً ماورائی(Transcedent) اس لیے نہیں ہوتے کہ کسی آفاقی حقیقت کی نشان دہی کادعویٰ کرتے ہیں ۔

    ↑

  202. بالکل جیسے والدین بچے کو آگ میں ہاتھ ڈالنے سے باز رکھتے ہیں۔ یہ مثال ہابرماس کی ہے۔

    ↑

  203. ۲۰۱۴ء میں یوگنڈا کی حکومت نے اغلام بازی کو غیرقانونی قرار دیا تو اقوام متحدہ اور امریکا اور یورپی ممالک مستقلاً اس قانون کو نسخ کرنے کے لیے یوگنڈا کی حکومت پر زور ڈال رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ اقوام متحدہ میں منظور شدہ ہیومن رائٹس کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اور اوباما نے یوگنڈا پر معاشی پابندیاں لگانے کی بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

    ↑

  204. یہ کلنٹن اور بش دوم کا مشیر رہا اور اس کا باپ حسین نصر شاہِ ایران کا وزیر ثقافت تھا جس نے انقلاب اسلامی کے بعد امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ ولی نصر جماعت اسلامی پاکستان کے خلاف بھی جاسوسی کرتا رہا ہے۔

    ↑

  205. اس کے خیال میں امریکا کو جنگ افغانستان اس طرح لڑنا چاہیے تھی جیسے نیٹو نے کوسووا میں لڑی یا بھارت نے سقوط ِحیدر آباد کے لیے۔

    ↑

  206. لاک کے مطابق ٹالرنس سے مراد یہ ہے کہ فرد ذاتی زندگی اپنے مذہبی عقائد کو حق گردانتے ہوئے سیاسی نظام میں تمام تصوراتِ خیر کو یکساں قدر کے حامل ہونے کے طور پر قبول کرے۔ سیاسی نظام کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی کے علاوہ کسی خاص مذہبی تصورِ حق کی کارفرمائی کا حصول نہ ہو۔

    ↑

  207. یہ رالزکی رائے بھی ہے کہ جو لوگ آزادی یعنی بڑھوترئ سرمایہ کی اقدار کو قبول نہیں کرتے ان سے مکالمہ ناممکن ہے۔ ایسے لوگوں یعنی مسلمانوں کو گولی مار دینی چاہیے۔

    ↑

  208. ہیبرماس کے خیال میں اگر ۲۰۰۲ء میں افغانستان میں جنگ کے بجائے پولیس آپریشن (police operation) کیا جاتا تو امریکہ طالبان کو شکست دینے میں زیادہ کامیاب رہتا لیکن اس کو افسوس ہے کہ شمالی اتحاد نے اس کی یہ بات نہیں مانی۔

    ↑

  209. Inter-Subjectسے ہیبرماس کی مراد ایک ایسی مخلوط انفرادیت ہے جو مختلف انفرادیتوں کی غیرجبری مواصلت میں شرکت سے تعمیر کی جاتی ہے۔

    ↑

  210. ہیبرماس مسلم دنیا کی جماعتوں کی اس نوعیت کی (اسلامی جمہوری) جدوجہد کا بھی مخالف ہے لیکن اس قسم کی جدوجہد کو برداشت کرنے پر آمادہ ہے کیوں کہ اس کو توقع ہے کہ اسلامی جمہوری عمل ایسی غیر جبری مواصلات کے مواقع فراہم کرے گی جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ Intersubject تعمیر کیا جا سکے۔

    ↑

  211. سرمایہ دارانہ معاشرے میں غیر سرمایہ دارانہ زر عموماً کرنسی کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ وہ زر ہے جو اپنی بڑھوتری کی تلاش میں گردش نہیں کرتا بلکہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    ↑

  212. لاطینی امریکا میں قوم پرست ریاستیں انیسویں صدی سے قائم ہونا شروع ہوئیں لیکن یہ یورپی تارکین وطن کی ریاستیں تھیں وہاں کے قدیم باشندہ ان قومی ریاستوں میں ویسے ہی محروم اور مظلوم رہے جیسے وہ ہسپانوی اور پرتگالی سامراجی دور میں تھے۔

    ↑

  213. ↑

  214. 2019ء میں چین کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 5.5 فیصد رہی اور 2020ء میں یہ شرح گر کر 2.0 فیصد ہو جانے کی توقع ہے۔

    ↑

  215. اس کا مطلب ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کی تحکیمی اجارہ داری ختم ہو جائے۔

    ↑

  216. چین میں بھی حرام خور مارکیٹ پھیل گئے ہیں لیکن وہ نظاماتی طور پر غالب نہیں۔

    ↑

  217. پاکستان پر آئی ایم ایف کا مسلط کردہ EF2019-23 کا پروگرام اسی طرح کی ایک کوشش ہے۔

    ↑

  218. سوائے ان لوگوں کے جو حرام خور مارکیٹوں سے لین دین نہیں کرتے۔

    ↑

  219. دیکھیےباب 7

    ↑

  220. دیکھیےباب اول

    ↑

  221. یاد رہے کہ کرپشن سے مراد اپنے ذاتی مفاد کو بڑھوتری سرمایہ عمومی کے مقصد پر ترجیح دینا ہے۔

    ↑

  222. لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چین عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو غیر مارکیٹی اصولوں پر مرتب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ↑

  223. اس میں چین اور روس شامل نہیں گو کہ ان ممالک کی فی کس آمدنی بھی قدرے کم ہے۔

    ↑

  224. دیکھیے باب ہفتم۔

    ↑

  225. کچھ لوگ اس فہرست میں ملائشیا اور ویت نام کو بھی شامل کرتے ہیں۔

    ↑

  226. یاد رہے کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے پھیلنے سے مراد حرص اور ہوس کی عقلیت کو عوامی تائید کی فراہمی ہے۔

    ↑

  227. دیکھیے باب ہفتم۔

    ↑

  228. Oretago کی میکسیکو کی حکومت بھی شاید اس گروپ میں شامل کی جا سکتی ہے۔

    ↑

  229. وینزویلا میں ایسا نہیں ہے جہاں قدیم باشندے تعداد میں بہت کم ہیں۔

    ↑

  230. بولیویا وہ واحد لاطینی امریکی ملک ہے جہاں قدیم باشندوں کی اکثریت اب بھی موجود ہے۔ پیرو میں بھی ان کی تعداد خاصی ہے۔

    ↑

  231. کم از کم کاسترو کی موت تک۔

    ↑

  232. Frankopan, P. (2018). The Silk Roads: A New History of the World (London: Bloomsbury Publishing.

    ↑

  233. یوکرین ، کوسوو اور بیلاروس کو بھی اسی گروپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    ↑

  234. دیکھیے انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کااسلامی حل، ضمیمہ باب 4۔

    ↑

  235. اور شاید روس۔

    ↑

  236. اس وقت فلپائن ایک امریکی کالونی تھا۔

    ↑

  237. CFR اس عمل کو جمہوری نہیں کہتا۔

    ↑

  238. TTPs کی اوباما سرکار نے ابتدا کی تھی لیکن ٹرمپ نے اس سے امریکا کو نکال لیا۔

    ↑

  239. یعنی قدرتی قوتوں کو بڑھوتری سرمایہ کا ذریعہ بنانے کو۔

    ↑

  240. اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اشتراکی ملکیت سرمایہ دارانہ ملکیت کی ایک قسم ہے۔

    ↑

  241. اٹھارھویں صدی کی ابتدا میں برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس میں کہا گیا خدا نے ہمیں قدیم باشندوں پر کتے چھوڑنے اور ان کی کھال اتارنے کے ہتھیار دیے ہیں اور ہر کھال کے عوض 100 پونڈ اور اس سے زیادہ رقم فراہم کرنے کی اجازت دی۔

    ↑

  242. دیکھیے سیکشن 7.5۔

    ↑

  243. اشتراکیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ ترقی کو روکنے کی بھی بات کرتا ہے لیکن پالیسی سازی میں اس گروہ کی کوئی اہمیت نہیں اور معیارِ زندگی کی مستقل بہتری کی ضرورت کو یہ گروہ بھی رد نہیں کرتے۔

    ↑

  244. All stable processes we shall predict, all unstable processes we shall control. ↑

  245. تحقیق سے ثابت ہے کہ جب کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج اکیسویں صدی کے آخر تک ایک ہزار پی پی ایم سے تجاوز کر جائے گا (ابھی یہ 430 پی پی ایم ہے) تو انسانی ذہنی صلاحیت دو اعشاریہ ایک فیصد گھٹ جائے گی۔

    ↑

  246. 2019ء میں امریکا میں صرف 51 فیصد گھرانے آن لائن تھے۔

    ↑

  247. اس کی سب سے واضح مثال Evangelical Christians کی محافل ہیں۔

    ↑

  248. انہدام سرمایہ داری کی ایک جزوی اسکیم کتاب کے آخری باب میں پیش کی گئی ہے۔

    ↑

  249. 2018ء کے انتخابات یں بارہ اسلامی جماعتوں کو کل میں تقریباً سات فیصد ووٹ ملے تھے۔ اگر بالفرض جن لوگوں نے ووٹ نہیں دے ان بالغوں میں بھی اسلامی جماعتوں کے حمایتیوں کی تعداد 7 فیصد تھی تو آج کی آبادی 220 ملین کے حساب سے یہ تعداد ڈیڑھ کروڑ بنتی ہے۔

    ↑

  250. مثلاً 2020ء قائم ہونے والی پی ڈی ایم کی سربراہی تو جمعیت علمائے اسلام کر رہی ہے لیکن اس کے مطالبات میں کسی مطالبہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

    ↑