کتب خانہLibrary

← Naqeeb Final 20th June 2019

Naqeeb Final 20th June 2019.docxڈاؤن لوڈ

سرمایہ داری کے نقیب

ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

لیگسی بکس،نیو اردو بازار، لاہور

کتاب کے مواد کو کسی بھی شکل میں استعمال کرنے کے لیے تحریری اجازت ضروری ہے۔

نام کتاب: سرمایہ داری کے نقیب

مصنف : ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

صفحات: 694

سائز: 20*26/8

طبع اول: مئی 2019ء

تعداد: ایک ہزار

قیمت: 1400 روپے

ناشر: لیگسی بکس ، سیکنڈ فلور مکہ سنٹر، نیواردو بازار لاہور

برائے وراثت پبلیکیشنز

فون نمبر: 0322-4539047

باہتمام: بابر علیــــــــــــــــــــــ قانونی مشیر: رانا مقصود الحق، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

70 گرام آرٹ پیپر پر یونی کوڈ میں کمپوز ہو کر الکریم پرنٹرز لاہور سے طبع ہوئی۔

فہرست مندرجات

ابتدائیہ 11

1۔سرمایہ داری کا تعارف 13

1.1۔سرمایہ داری کی تاریخ 13

1.2۔ سرمایہ داری کی خصوصیات 24

1.3۔سرمایہ داری کا مستقبل 28

سرمایہ داری کے لبرل نقیب 37

2۔ جان لاک 38

2.1۔لاک کی تجربی علمیات 38

2.2۔لاک کے سیاسی نظریات 41

3۔امانوئل کانٹ 47

3.1۔ رائٹس آف مین یعنی ہیومن رائٹس 49

3.2۔پراگرس 54

3.3۔سرمایہ دارانہ قانونی ریاست 55

3.4۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام 57

3.5۔ اخلاقیات اور ریاستی تنظیم 59

4۔ امریکی دستورکے مصنفین 61

4.1۔ امریکی ریاست فروغِ سرمایہ داری کا ذریعہ 63

5۔ ایڈم اسمتھ اور ڈیوڈریکارڈو 72

5.1۔ اکنامکس کی اعتقاداتی بنیادیں 72

5.2۔ سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ معاشرت 76

5.3۔سرمایہ دارانہ نظام میں تقسیمِ دولت 81

5.4۔سرمایہ دارانہ زر کی تشکیل 85

6۔ انگریز اور آسٹرین نیو کلاسیکی معیشت دان 87

6.1۔نظریہ افادیت 87

6.2۔ مارجنلزم 90

6.3۔مارجنلسٹ نظریہ قیمت 93

6.4۔ مارجنل ازم کاتصورِمعاشرہ 96

7۔ ہائیک، فریڈمین اور نوزیک 100

7.1۔ ریاستی سرمایہ کاری کی تنقید 101

7.2۔ سرمایہ دارانہ زر 106

7.3۔ مانٹرازم 111

7.4۔ سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق 115

ضمیمہ :امریکی اور اسرائیلی لوٹ مار سرمایہ دارانہ عدل سے انحراف نہیں 121

8۔ مینجریل ازم اور اکیسویں صدی کے اہم اکنامک مکاتب فکر 123

8.1۔مینیجریل ازم 123

8.2۔ دورِ حاضر کے چند اہم لبرل اکنامک مکاتب فکر 135

9۔ محمد علی جناح 152

سرمایہ داری کے اشتراکی نقیب 160

10۔ کارل مارکس 161

10.1۔ مارکس کی دنیا وی جنت کی خصوصیات 161

10.2۔ لبرل اور اشتراکی سرمایہ داری کا موازنہ 164

10.3۔ لبرل سرمایہ داری کی مارکسی تنقید 167

11۔ لینن 176

11.1۔ لینن کا مارکس ازم 176

11.2۔ پرولتاری آمریت میں پارٹی کی مرکزیت 180

11.3۔ سرمایہ دارانہ اشتراکی جدوجہد میں عوام کا کردار 184

11.4۔ سوویت سرمایہ داری 189

12۔ ماؤزے تنگ اور ڈینگ 198

12.1۔ ماؤ کا مارکس ازم 200

12.2۔ کمیونسٹ چینی سرمایہ داری ۱۹۴۹ء تا ۱۹۷۸ء 207

12.3۔ ڈینگ کا مارکس ازم 218

12.4۔ کمیونسٹ سرمایہ داری ۱۹۷۹ء تا حال 227

ضمیمہ : ہندوستانی ماؤ ازم 247

13۔ گرامچی، لوکاکس اور التھوسر 251

13.1۔ انفرادی شناخت کا تعین 252

13.2۔ معاشرتی تسلط 253

13.3۔ انقلابی حکمت عملی 257

13.4۔ وین گارڈ پارٹی اور مظلوم طبقے 259

13.5۔ طبقاتی حساسیت کا فروغ 263

13.6۔ لبرل اقدار کی پرولتاری تصدیق 271

13.7۔ اشتراکی انفرادیت کا انتشار 275

14۔ مسلم نیشنل کمیونزم اور سلطان گیلیو 285

14.1۔ سوشل ازم اور قوم پرستی 285

14.2۔ مسلم نیشنل کمیونزم کا عروج و زوال 290

14.3۔ مسلم قوم پرست کمیونسٹ نظریات 293

ضمیمہ اول: مسلمانوں میں مذہب مخالف پروپیگنڈا کا طریقہ 298

ضمیمہ دوم :لاطینی امریکا 303

کیا وینزویلا میں امریکی دہشت گردی اور تخریب کاری کامیاب ہو گی؟ 304

سرمایہ داری کے قوم پرست نقیب 308

15۔ نطشے اور ہائیڈیگر 309

15.1۔ فرد کی تاریخی شناخت 312

15.2۔ عیسائیت کی تذلیل 315

15.3۔ فوق البشریت 318

15.4۔ امریکا کی نطشین خارجہ پالیسی 320

15.5۔ وجود اور لاابدیت 328

15.6۔ ہائیڈیگر اور نازی ازم 332

16۔ لسٹ اور شمٹ 337

16.1۔ قوم سازی کے معاشی عوامل 337

16.2۔ فاشسٹ سرمایہ داری 344

ضمیمہ:اسرائیلی زائن ازم 352

17۔ لاطن امریکی ڈپنڈنسیا 359

17.1۔ مکتب ڈپنڈنسیا 359

17.2۔ لاطینی امریکی پس ماندگی میں یورپ اور امریکا کا کردار 360

17.3۔ قوم پرست حکومتوں کی استعماری اعانت 366

سرمایہ داری کے سوشل ڈیموکریٹ نقیب 373

18۔ جان اسٹوارٹ مِل اور میکس ویبر 374

18.1۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی پارلیمانی جدوجہد 376

18.2۔ سرمایہ دارانہ اصلاحات 388

18.3۔ مغرب کا زوال 396

19۔ کینز اور پوسٹ کینزینز 401

19.1۔ سرمایہ دارانہ بحران 401

19.2۔ سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نمٹنے میں سرمایہ دارانہ ریاست کا کردار 405

19.3۔ سوشل ڈیموکریسی کے معاشی پروگرام کی شکست و ریخت 414

19.4۔ سرمایہ داری کا حالیہ بحران اور سوشل ڈیموکریسی 419

20۔ جان رالز 432

20.1۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور اقدار 432

20.2۔ تصورِ انفرادیت 433

20.3۔ ازلی مقام 437

20.4۔ سرمایہ دارانہ معاشرت 442

20.5۔ حق اور خیر 445

21۔ یورگن ہابرماس اور پیری بورود 453

21.1۔ ریشنلٹی کی آفاقیت 454

21.2۔ آزادی ، سرمایہ داری کے فروغ کی حکمت عملی 461

21.3۔ ہابرماس کی اسلام دشمنی 468

21.4۔ ہیومن رائٹس امپیریل ازم 472

21.5۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات 482

22۔ اقبال احمد 486

22.1۔ اقبال کی اسلام دشمنی 487

22.2۔ استعمار کا پاکستان 496

22.3۔ استعمار کی خدمت کیسے ہو؟ 501

سرمایہ داری کے پوسٹ ماڈرنسٹ نقیب 506

23۔ شوپن ہاور، فرائیڈ اور ڈیوی 507

23.1۔ تنویری علمیات سے بغاوت 508

23.2۔ ہیومن بینگ کی لازمی ابلیسیت 511

23.3۔ مطلب پرستی بذریعہ جمہوریت 517

24۔ مشیل فوکو 526

24.1۔ سرمایہ دارانہ خودشناسی 526

24.2۔ سرمایہ دارانہ علمیت 531

24.3۔ سرمایہ دارانہ تحکیم 532

24.4۔ پوسٹ ماڈرن ازم اور لبرل ازم 537

25۔ رچرڈ رارٹی اور چارلس ٹیلر 546

25.1۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مابعدالطبیعیات 546

25.2۔ پوسٹ ماڈرنسٹوں کی استعمار نوازی 557

25.3۔ امپیریل ازم کی ہیومنسٹ پوسٹ ماڈرن توجیہ 562

26۔ جائلس دلیوز 571

26.1۔ ادراکِ ذات 571

26.2۔ خواہشاتِ نفسانی 573

26.3۔ عورت بنتے رہو، حیوان بنتے رہو 579

26.4۔ سرمایہ داری کی ناگزیریت 585

26.5۔ اثرات 595

27۔ اکبر ایس احمد 599

27.1۔ اسلام کی پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح 600

27.2۔ پوسٹ ماڈرنسٹ اسلام کے غلبہ کی حکمت عملی 606

سرمایہ داری کے اسلامی نقیب 615

28۔ علامہ علی شریعتی 616

28.1۔ اسلامی سوشل ازم 616

28.2۔ سوشلسٹ ترجمانی کی اعتقادی بنیادیں 618

28.3۔ علامہ شریعتی کا اسلامی خلوص 627

29۔ مولانا محمد تقی عثمانی 631

29.1۔ سرمایہ داری کی عیسائی کاری 633

29.2۔ سود کی اسلام کاری کے خلاف علمائے دیوبند کا فتویٰ 642

29.3۔ سرمایہ داری کی اسلام کاری 647

30۔ پروفیسر خورشید احمد اور اسلامی معیشت دان 653

30.1۔ مولانا مودودیؒ کی فکر کی اہمیت اور اس کی کم زوریاں 653

30.2۔ سرمایہ داری کی اسلام کاری: اسلامک اکنامکس 658

30.3۔ سرمایہ دارانہ نظام میں جماعت اسلامی کے انضمام کے وکیل پروفیسر خورشید احمد 665

31۔ سرمایہ داری کے انہدام کی حکمت عملی 671

31.1۔ سرمایہ داری سے نبرد آزمائی کی ضرورت کے احساس کا فقدان 672

31.2۔ پاکستانی سرمایہ داری کی خصوصیات 676

31.3۔ انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد: چند تجاویز 682

ابتدائیہ

آج جس طرز اور نظامِ زندگی سے اسلام کا مقابلہ ہے وہ سرمایہ داری ہے، اس بات کا احساس مسلم عوام کو ہے نہ علماء و قائدین کو۔ سرمایہ داری کا غلبہ آج عالمگیری ہے، دنیا کا کوئی خطہ نہیں جہاں سرمایہ دارانہ عقلیت اور سرمایہ دارانہ روحانیت کا غلبہ نہ ہو۔سرمایہ داری کا وجود سہ جہتی ہے؛ سرمایہ داری ایک انفرادیت بھی ہے ایک معاشرت بھی ہے اور ایک ریاست بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت یہ ہے کہ فرد اپنے نفس کو حرص اور ہوس کے شیاطین کے سپرد کر دے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت اس انفرادیت کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہے اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام اس انفرادیت کے نظاماتی غلبہ کو ممکن بناتا ہے۔ سرمایہ دارانہ علمیت وہ منہج ہے جو نفسِ امارہ کے ہر حکم کی تعمیل کو عقل کا تقاضا ثابت کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظامِ زندگی کا کلمہ” لا الٰہ الّا انسان“ ہے۔اس اجمال کی تفصیل ہماری تین کتابوں ”سرمایہ دارانہ نظام کا تعارف“، ”سرمایہ دارانہ نظام کا تنقیدی جائزہ“ اور ”سرمایہ دارانہ عقائد و نظریات“ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ آج سرمایہ دارانہ علمیت نے اسلام کے علاوہ تمام علمی تہذیبوں کو مسخر کر لیا ہے، عیسائیت کو بھی، یہودیت کو بھی، ہندو مت کو بھی، بدھ مت کو بھی۔ اسلامی دنیا میں بھی سرمایہ دارانہ علمیت کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے اور علمائے اسلام کا سوادِاعظم سائنس اور سوشل سائنس اور دہریہ فلسفہ کو معتبر اور غیر اقداری منہاج تصور کرنے لگے ہیں اور ترمیمی (revisionist)علماء اسلامیت کو ان مناہج میں سمونے کی جدوجہد صدیوں سے جا ری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اس رویہ کو چیلنج نہ کیا گیا تو اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ سرمایہ داری اسلام کو بھی اسی طرح مسخر کر لے گی جیسے اس نے یہودیت،عیسائیت اور ہندو مت کو مسخر کر لیا ہے۔

یہ کتاب جن مصنفین کی فکر کا تجزیہ پیش کرتی ہے وہ سرمایہ داری کی تاریخ میں اس کے اہم ترین نقیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس تجزیہ سے یہ واضح کرنے کی کو شش کی گئی ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی خالصتاً کفر اور اسلامی انفرادیت ، معاشرت اور تحکم کی ضد ہے۔ اس تجزیہ سے سرمایہ دارانہ علمیت کی نامعقولیت اور اس کے اندرونی تضادات ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔

گو کہ یہ کتاب ابتدائی نوعیت کی ہے اور اسلوب عام فہم ہے لیکن میرے خیال میں اس کے مطالعہ سے قبل قاری کو ہماری کتاب ”سرمایہ دارانہ عقائد اور نظریات“ دیکھ لینی چاہیے۔یہ کتاب درج ذیل افراد کے لیے کار آمد ثابت ہو سکتی ہے:

کتاب کا ہرباب منفرد ہے،اس کا علیحدہ علیحدہ مطالعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر کتاب ایک اسٹڈی سرکل میں دیکھی جا رہی ہوتو بہتر ہو گا کہ سرکل میں علما، طلبہ اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ سب شامل ہوں۔یہ ایک ابتدائی کو شش ہے اور اللہ تعالیٰ سے ہماری یہ دعا ہے کہ اس کے پڑھنے والوں کو اس سے بہتر اور عمیق اسلامی تجزیہ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

1۔سرمایہ داری کا تعارف

1.1۔سرمایہ داری کی تاریخ 

تحریکِ تنویر[1](Enlightenment) کے کلیدی مفکرین کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہیومن بینگ کی بلوغت (Maturity) کا اظہار ہے۔بقول کانٹ جب تک انسان نابالغ تھا وہ خدا پر انحصار کرتا تھا اور اپنے آپ کو خدا کا محتاج گردانتا تھا؛ سترھویں صدی کی سائنسی پیش رفت نے انسان کو بالغ کر دیااور اس کو احساس ہو گیا کہ وہ خود خدا ہے، قائم بالذات ہے، خالقِ کائنات اور صمد ہے۔

یورپ میں یہ احساس کہ فرد خود خداہے (یعنی انسان ہیومن بینگ ہے، آدمی نہیں ہے) بتدریج وقو ع پذیر ہوا اور اس کا تاریخی تناظر عیسائی نظام زندگی کی شکست و ریخت فراہم کرتی ہے۔ عیسائیت یورپ میں ساڑھے تین سو سال کی جد وجہد کے نتیجے میں بتدریج غالب آئی۔ پہلی، دوسری اور تیسری صدی عیسوی میں عیسائی مبلغین اور رہ نما یورپ میں اجنبی، مظلوم اور مفلوک الحال تھے۔ یورپ کے ہر خطے میں بت پرستی(مخصوص درختوں کی پوجا اور چشموں اور آب شاروں کی پرستش) اور جا دوگروں کی پرستش عام تھی اور خلاقِ رذیلہ، انفرادی و معاشرتی زندگی کو مسخر کیے ہوئے تھے۔ ان حالات میں عیسائی مہاجرین مبلغین[2]نے جو معاشرتی حکمت عملی اختیار کی اس کے دو پہلو تھے۔

اول، اعلیٰ درجہ کی روحانیت اور اعلیٰ اخلاق کا فروغِ عام۔ عیسائی اجتماعیتیں یورپ کے تاریک معاشرے میں روشنی کے مینار بن گئیں اور عیسائی رہ نماؤں نے اعلیٰ ترین روحانی اور اخلاقی اطوار کا نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے دین کی اشاعت اور فروغ کےلیے بے مثال قربانیاں دیں۔ اس کے نتیجے میں ان رہ نماؤں کا معاشرتی تفوق قائم ہو گیا اور معاشرے کے صالح ترین اور لا ئق ترین افراد عیسائی حلقوں میں شامل ہو گئے اور عیسائی رہ نماؤں کو اپنا مرشد تسلیم کر لیا۔ پہلی اور دوسری صدی عیسوی میں عیسائی رہ نماؤں نے جو معاشرتی انقلاب برپا کیا وہ ایسا نمونہ پیش کرتا ہے جس کو اپنا کر یورپ کے موجودہ مسلمان مہاجرین یورپ کو تہذیبی طور پر مسخر کر سکتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو قدیم عیسائیت اسلام ہی کی ایک نا مکمل تشریح ہے۔

دوم،لیکن اس کے ساتھ ساتھ سید نا پطرس(St. Peter) رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد عیسائی پیشواؤں نے یورپی کفر سے مصالحت کی راہ اختیار کر لی۔ اس مصالحت کے تین پہلو تھے۔ سب سے خطرناک پہلو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیما ت کو مسخ کر کے یورپی کفریہ اعتقادات سے ہم آہنگ کیا جا نے لگا۔ اس کام کا بیڑا پال (St.Paul) نے اٹھایاجس نے شریعتِ موسوی کے وہ تمام احکا م مسترد کردیے جن پر سید نا عیسیٰ علیہ السلام کاربند تھے۔ پہلی اور دوسری صدی کی یورپی عیسائیت نظریۂ تثلیث (Doctrine of Trinity) سے قطعاً نا واقف تھی لیکن اس نا معقول اور مشرکانہ نظریہ کو عیسائیت کا بنیادی عقیدہ بنادیا گیا۔ دوسری طرف دیومالائی رسوم و رواج مثلاً کرسمس، ایسٹر اور Saint Daysکو عیسائیت پر مسلط کر دیا گیا اور مجسمہ اور درخت کو گرجا گھر میں گھسا کر ان کی پو جا کی جا نے لگی۔ یروشلم کے عیسائی مبلغین سے اسی بنا پر تعلقات بالکل ختم ہو گئے اور یورپی عیسائیت سلطنت روم کا لاحقہ بن کر رہ گئی۔ جب چو تھی صدی عیسوی میں کونسٹنٹائن(Constantine)نے عیسائی مذہب قبول کیا تو عیسائی نظم اقتدار رومن نظم اقتدار میں مدغم ہو گیا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کا عوامی اثر کم ہو گیا اور عیسائی مبلغین اور پیشوا وہ اخلاقی اور روحانی معیارات قائم نہ رکھ سکے جن کی بنیاد پر معاشرتی سطح پر عیسائیت کی اخلاقی بالادستی مقبول ہوئی تھی۔ پاپائی نو کر شاہی رومن ریاستی نوکر شاہی سے بتدریج منسلک ہوتی چلی گئی اور عیسائی غلبہ کو قائم اور مستحکم کر نے کے لیے رومی ریاستی اقتدار کو استعمال کیا جانے لگا۔

تقریباًایک ہزار سال تک(چوتھی صدی عیسوی سے چودھویں صدی عیسوی تک) یورپ پر عیسائی معاشرت غالب رہی اور سلطنت روما اور بازنطین کے انحطاط سے عیسائی نظام اقتدار مضبوط ہوا ، لیکن اس پورے دور میں عیسائیت کی روحانی اور اخلاقی طاقت زوال پذیر رہی۔ چرچ کے اندراور عوامی سطحوں پر اخلاقِ رذیلہ کا فروغ ہوا اور عیسائی معاشرتی تفوق عیسائی ریاستی غلبہ کا بتدریج محتاج ہوتا چلاگیا۔ اسی دور میں عیسائیت کا اسلام سے تعارف ہوا لیکن عیسائی مذہبی رہ نماؤں نے ہمیشہ اسلام کو اپنا دشمن گردانااور اسلام کو یورپ سے نکالنے کے لیے جابر اور سفاک حکمرانوں مثلاً Fredrick II, Charlemagne وغیرہ کا ساتھ دیا۔ چند عیسائی راہبوں بالخصوص سینٹ فرانسس (Saint Francis of Assisi) نے اس ضرورت کو پہچانا کہ اسلامی تعلیمات کا فروغ یورپ میں ضروری ہے۔تیرھویں صدی عیسوی میں سینٹ فرانسس نے یورپ میں اسلامی تعلیمات پیش کیں۔ آپ نے صلیبی جنگوں کو ختم کرنے کےلیے بھی جدوجہد کی۔ آپ نے یورپ میں ایک صوفی سلسلہ کے قیام کی کوشش کی۔ تیرھویں صدی عیسوی میں موحدین کی ایک طاقت ور تحریک شمالی اسپین اور جنوبی فرانس میں ابھری جس کوCatharکی تحریک کہتے ہیں اور جس کے خلاف پوپ انوسنٹ (Pope Innocent) سوئم نے اس وقت شاہِ فرانس کے ساتھ مل کر ایک صلیبی جنگ لڑی اور Cathars کی تحریک کو جبراً کچل دیا گیا۔ آٹھویں تا پندرھویں صدی تک اسلامی سلطنتیں اسپین میں قائم رہیں لیکن اسپین کی مسلم جامعات میں ہمیشہ معتزلہ اور قدریہ فرقو ں کا غلبہ رہا اور انہی فرقوں کی تعلیمات سے عیسائی طلبہ اور علماء متاثر ہوئے اور انہی تعلیمات کے نتیجے میں یورپی عیسائیت پر نوافلاطونیت (Neo Platonism) اور ارسطو (Aristotle) کے منہج غالب آگئے۔

مسلم دنیامیں تو اس دور میں افلاطون اور ارسطو کے پیروکاروں کو امام اشعری، امام غزالی اور امام ابن تیمیہ رحمہم اللہ اجمعین نے فیصلہ کن فکری شکست دی تھی اور اسلامی علمیاتی اور روحانی منہج کو محفوظ رکھا۔یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ علمیت اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی یورپی تہذیبی اور سیاسی غلبہ سے قبل کبھی نہ ابھر سکا۔مسلم ماڈرنسٹوں کو اس بات کا افسوس ہے لہٰذا علامہ اقبال (Reconstruction of Religious Thought in Islam) سے لے کر امیر علی(A History of the Saracens)اور ڈاکٹر فضل الرحمان (Islam) تک سب امام غزالی رحمہ اللہ کو مسلم دنیا کی پس ماندگی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ پس ماندگی سے مراد یہی ہے کہ مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی پنپ نہ سکا؛ ہو نا تو یہ چاہیے تھا کہ یو رپ سے پہلے عرب دنیا سرمایہ دارانہ نظام زندگی اپناتی کیوں کہ یونانی فکر تک رسائی پہلے معتزلہ کو حاصل ہوئی تھی اور ان کے ذریعے یہ فکر یورپ تک پہنچی۔ اس کے بر عکس یورپ میں گیارھویں صدی کے بعد نوافلاطو نیت اور ارسطو کی فکر کا ملغوبہ عیسائی علمیت پر مکمل طور پر غالب آگیااور اس غلبہ کا اظہار جس علمیاتی منہج کے ذریعے کیا گیااس کو Scholasticism کہتے ہیں۔ اس کا سب سے اہم مفکرSt. Acquinas ہے جو اپنے آپ کو امام غزالی رحمہ اللہ کے ہسپانوی نا قد ابن رشد کاشاگردبننے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ارسطو کی فکر کے غلبہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی عقائد کا جواز نصوص سے نہیں بلکہ ارسطوی معقولات(Aristotalian Logic)کی بنیا د پر مرتب کیا جانے لگا۔ گیارھویں اور بارھویں صدی عیسوی سے عیسائی عقائد کی معقولیت کو خود پادریوں نے چیلنج کرنا شروع کر دیا،بالخصوص نظریہ تثلیث ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ کافرانہ علمیت کو سائنس نے Scholasticismکے با غیوں سے آگے بڑھ کر ارسطو کی منطقی معقولیت کو چیلنج کیا۔چوں کہ عیسائی اعتقادات کا جوازارسطو ی منطق ہی فراہم کر تی تھی لہٰذاارسطو کی فکر کی غیر معقولیت کا اثبات عیسائیت کے عقائد اور اعمال کی نفی تھی۔ سولھویں اور بالخصوص سترھویں صدی عیسوی میں چار بہت با اثرسائنس دانوں کی فکر کا غلبہ ہوا، ان میں کوپرنیکس، کیپلر، نیوٹن اور گلیلیو شامل ہیں۔ اس فکر نے عیسائیت کے تصورِ تخلیقیت اور تصورِکائنات کو مشاہدہ(Empiricist Observation)کے خلاف حقیقت ثابت کیا۔ سائنس کی فتح عیسائیت کی شکست ان معنوں میں تھی کہ عیسائی Scholastics کا دعویٰ کہ عیسائی عقائد و نظریات کو ارسطوی معقولیت ثابت کر سکتی ہے، جھوٹا ثابت کر دیاگیااور سائنس نے ثابت کر دیاکہ انسان اس با ت پر قادر ہے کہ اپنے مشاہدے، تجربہ اور تفکر کی بنیاد پر کائنات کے مادّی، ساختی اور حرکتی عمل کا ادراک حاصل کر کے مادّی کائناتی قوتوں کو اپنے ارادہ کا تابع بناسکے۔ ان حقائق تک رسائی کےلیے وہ وحی کا محتاج نہیں بلکہ آسمانی الٰہیات اور کوسمولو جی کائناتی ساخت اور مادّی تغیر کا جو تصور پیش کر تی ہیں وہ بر بنائے حقیقت نہیں۔

سترھویں صدی عیسوی کی فتوحات اور ایجادات نے اٹھارھویں صدی میں تحریک تنویر کی کامیابی کی راہ ہموارکر دی۔ تحریکِ تنویر کا بنیادی دعویٰ ہے کہ انسان کسی معاملہ میں بھی وحی کا محتاج نہیں؛ وہ احدہے، صمد ہے، قائم بالذات ہے اور اپنی ذات کا بھی خالق ہے اوراپنی کائنات کا بھی۔ تحریکِ تنویر کے ان مفروضات کو ”ہیومن ازم“ کہتے ہیں اور یہ مفروضات بھی اتنے ہی ماورائے ادراک ہیں جتنے مذہبی الٰہیاتی مفروضات۔ کوئی تجربہ ، مشاہدہ یا تفکریہ ثابت نہیں کرتاکہ انسان ”ہیومن بینگ“ہے، احد ، صمد اور قائم بالذات اور خالق کائنات ہے۔یہی وجہ ہے کہ سائنس کے مو جد عیسائیت کے باغی نہ تھے۔کوپرنیکس ایک پادری مرا؛کیپلرنہایت مذہبی پروٹسٹنٹ تھا؛ نیوٹن کی آخری کتاب پروٹسٹنٹ عقائد کا دفاع ہے۔لیکن سائنس نے عیسائی علمیاتی منہج Scholasticismکو غیر معقول ثابت کردیا اور ایسے ذرائع فراہم کیے جن کے ذریعے وہ لوگ جو ہیومن بن کر انسانی الوہیت اور ربوبیت پر ایمان لے آئے تھے، کائناتی مادّی قوتوں کو اپنی نفسانی خواہشات کی تسکین کےلیے استعمال کر نے کے مکلف ہو گئے۔سائنس ان معنوں میں اقداری نہیں کہ وہ انسانی الوہیت اور ربوبیت کے عقائد قبول کر تی ہے۔ وہ ان معنوں میں اقداری ہے کہ وہ صرف ان معاشروں میں پنپ سکتی ہے جہاں غالب طبقات انسانی الوہیت اور ربوبیت پر ایمان رکھتے ہوں اور تسخیر کائنات کو مقصدِ حیات کے طور پر قبول کرتے ہوں۔ سائنس سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی فطری علمیت ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے غلبہ کی بنیادی وجہ عیسائی علمیاتی تسخیر نہیں بلکہ وہ روحانی اور اخلاقی گراوٹ اور زوال ہے جس کا پہلے بڑے پیمانے پر اظہار گیارھویں اور بارھویں صدی میں عیسائی افواج نے صلیبی جنگوں میں کیا۔اس درندگی کااظہار بڑے پیمانے پر مسلم اسپین میں چودھویں اور پندرھویں صدی عیسوی میں کیا گیا اور سولھویں صدی کی ابتدا سے ہر بڑا یورپی ملک (انگلستان، فرانس، اسپین، ولندیز اور پرتگال) شمالی اور جنوبی امریکا پر پل پڑا۔ بے اندازہ لوٹ مار کر کے ایک پورے براعظم کو تاراج کر دیاگیا؛ ایک ترقی یافتہ نہتا تہذیب فنا کر دی گئی اور آٹھ کروڑ سر خ ہندیوں (Red Indians) کا قتل عام چار صدیوں تک جا ری رہا۔ بلاشبہ متحدہ ریاست ہائے امریکا کا قیام اور اس کی تو سیع تاریخ انسانی کا سب سے گھناؤنا جرم ہے اور اس خبیث اور ذلیل ریاست کو صفحہ ہستی سے مٹاناناگزیر ہے۔

اٹھارھویں صدی کی ابتدا میں وحشت اور درندگی کے اس یورپی سیلاب نے افریقا اور ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بر طانوی، فرانسیسی، ولندیزی، پرتگالی اور امریکی نوآبادیاتی ریاستیں (Empires)قائم ہوئیں۔ یورپی ممالک نے اسّی کروڑ افراد کو قتل کر ڈالا اور یورپ نے دنیاکی دولت لوٹ لی۔ سولھویں صدی کے بعد سے یورپ میں سونے چاندی ، ہیرے جواہرات اور اجناس کے انبارلگ گئے اور اس مسلسل لوٹی ہوئی دولت سے انگلستان،فرانس، ولندیز، اسپین اور پر تگال کا ہر گھرانہ مستفید ہوا۔ ان حالات میں حرص و ہوس، شہوت اور غضب ، خود غرضی اور بہیمیت کا پھیلنا ایک فطری اور لازمی عمل تھااور اسی عالمی قتل وغارت اور لوٹ مارنے اس اخلاقی اور روحانی فضا کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں ایک عام یورپی باشندہ سرمایہ دارانہ اقدار، سرمایہ دارانہ اخلاق اور سرمایہ دارانہ روحانیت کو قبول کرنے پر آمادہ ہوا اور معاشرے پر وہ طبقات غالب ہوئے جو سب سے زیادہ حریص،حاسد ،سفاک ، خود غرض اور خدا دشمن تھے۔

صلیبی جنگوں کی ابتدا سے لے کر اب تک یورپی اور امریکی عالمی قتل و غارت اور لوٹ مارجاری ہے۔ ایک ہزار سال سے زیادہ کے اس عرصہ میں ہر مرحلہ پر عیسائی مذہبی پیشوا استعمار کے فطری حلیف ثابت ہوئے اور استعماری فتوحات سے پوری پوری طرح مستفید ہوئے ہیں۔ شمالی امریکا میں سرخ ہندیوں کے قتل عام کی ابتدا کرنے والے اوراس کے پرجوش وکیل مقدس مذہبی پیشوا تھے جن کو اب تک امریکی احترام کے ساتھPilgrim Fathers کے مقدس نام سے یاد کر تے ہیں؛ پاپائے روم نے پورے جنوبی امریکا کو اسپین اور پر تگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ولندیز(Netherland) کی جزائر شرق الہند(Indonesia) یلغار بھی ایک خالص مذہبی مشن تھا۔ چین، افریقا، فلپائن، فجی اور جزائر بحرالکاہل میں بھی عیسائی مبلغین استعماری فوجوں کے ہراول دستوں کا فریضہ انجام دیتے رہے۔آج بھی ایشیا اور افریقا کے ہر ملک میں عیسائی اقلیتیں استعماری ملکوں کی قریب ترین اور فطری حلیف بنی ہوئی ہیں۔

عیسائیت کے اس منافقانہ اشتراک و بہیمیت کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیت کے روحانی اورا خلاقی تعلقات معاشرتی طور پر بے اعتبار اور لغو تصور کیے جانے لگے اور لوگوں نے عیسائی تعلیمات سے روگردانی کی راہ بتدریج اختیار کی۔ جب عیسائیت کو سائنس اور تحریکِ تنویر سے مقابلہ کا مر حلہ پیش آیا تویورپ کی عظیم اکثریت عیسائی آدرشوں کی معقولیت کی قائل نہ رہی تھی۔ وہ عیسائی تعلیمات اور رویے تو بطور عادتاً اختیار کیے ہوئے تھے یا نظام اقتدار اُن کو اِس پر مجبور کیے ہوئے تھا۔

سرمایہ دارانہ نظام کو ہمہ گیر طور پر سب سے پہلے اٹلی کے کچھ شہروں میں تیرھویں صدی عیسوی میں اپنا یا گیا۔یہ شہر پوپ اور یورپ کے مرکزی نظام اقتدار سے کا فی حد تک آزاد تھے، ان شہروں میں سب سے اہم نیپلز، فلورنس، میلان اور وینس تھے۔ پوپ کے نظام اقتدار کا نام ’’ہولی رومن ایمپائر‘‘تھا،یہ شارلمین کی فتوحات کے بعد آٹھویں صدی عیسوی میں قائم ہوااور تقریباً سات سو سال تک کسی نہ کسی شکل میں قائم رہا؛ ’’ہولی رومن ایمپائر‘‘کے اقتدار کو پوپ اور فرانس، انگلستان اور Bavarian بادشاہتوں نے جنگوں کے ذریعے کمزور کر کے بے اثر کر دیا۔ اس طبقہ کا سیاسی غلبہ تھا جس کو بعد میں بورژوا (bourgeoisie) کہا جا نے لگا۔ یہ طبقہ بین الاقوامی سطح پر سودی لین دین ، تجارت اور جہاز رانی کرتا تھا۔ اس میں بالخصوص یہودی نمایاں تھے۔ اسی طبقہ نے بینک کاری اور فائنانس ایجاد کیے۔ ان شہروں میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سر مایہ دارانہ ریاست قائم ہوئی اور ان ریاستوں نے آزادی اور ترقی بحیثیت قومی اہداف کے اپنائے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں ان اطالوی شہروں کے سربراہ یورپ کے امیر ترین تاجر، ساہوکار اور سٹہ بازبن گئے۔ پورے یورپ میں ساہو کاری ، بینک کاری، سٹہ بازی اور سرمایہ دارانہ زر کا جال بچھادیا گیا۔ سرمایہ دارانہ زر سے مراد وہ زر ہے جو سودی لین دین کی بنیاد پر بینک کاری نظام زر تخلیق کرتا ہے اور جس کے پیچھے صرف سرمایہ دارانہ ریاست کااعتبار ہوتا ہے۔ سر مایہ دارانہ زر کی قدر (Value)کسی دوسری شے سونا، چاندی ، اجناس وغیرہ میں متعین نہیں۔ آ ج کل سرمایہ دارانہ زر کا تحفظ اندراجات کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ تحریک تنویر برپا ہونے تک(یعنی اٹھارھویں صدی کے وسط تک)پورے یورپ پر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار غالب آچکا تھا۔ سر مایہ داری کی ابتدا کی دوسری تعبیرات بھی بیان کی جا تی ہیں۔ Ellen Wood اور Robert Brenner کہتے ہیں کہ سر مایہ دارانہ نظام زندگی پہلے انگلستان میں پندرھویں صدی میں عام ہوا۔کچھ تحقیقات کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو سب سے پہلے فرانسیسی شہر Marseillesمیں اختیار کیا گیا۔

تیرھویں صدی عیسوی سے پاپائے روم اور ’’ہولی رومن ایمپائر‘‘کے درمیان اقتدار کی کش مکش جاری تھی۔ اس کش مکش میں پوپ نے قو می بادشاہوں کو ’’ہولی رومن ایمپائر‘‘کے خلاف استعمال کیا اور فرانس اور انگلستان کے باد شاہوں کے تعاون کے ذریعے پوپ نے ’’ہولی رومن ایمپائر‘‘کو شکست دے دی۔ لیکن یہ بادشاہتیں تو سیع پسند تھیں اور ہر مطلق العنان حکمران مستقل حالت جنگ میں رہتا تھا۔ اس جنگی خرچہ کو برداشت کرنے کے لیے اس کو بڑے پیمانے پر قرض لینا پڑتا تھا، صر ف سرمایہ دارانہ ساہو کار، سٹہ باز ، سود خور فنانسرز ہی یہ قرضہ فراہم کر سکتے تھے، لہٰذا ہر قومی بادشاہت میں سرمایہ دارانہ طبقات کا اقتدار مستحکم سے مستحکم ہوتا چلا گیا۔

سترھویں صدی عیسوی میں عیسائیت نے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو روکنے کےلیے آخری جنگ لڑی اور کیلوِن نے سوئٹزرلینڈ میں اورکرامویل نے انگلستان میں مذہبی ریاستیں قائم کر دیں۔ لیکن ان ریاستوں کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تسخیر نہیں محض اس کی تحدید تھا، لہٰذاسوئٹزرلینڈاور انگلستان دونوں جگہ سودی معیشت کو قبول کیا گیا اور جس چیز کو اسلامی بینک کاری کہا جاتاہے اس کی ابتدا سترھویں صدی کی سوئس اور انگریز تجارتی اور مذہبی بحثوں میں ملتی ہے۔کیلوِن اورکرامویل کامقصد سر مایہ دارانہ نظام زندگی کو عیسائیت سے ہم آہنگ کرنا تھا اور یہ کو شش ناکام اس وجہ سے ہوئی کہ سرمایہ داری اپنی فطرت کے مطابق ایک خدا دشمن نظام زندگی ہےجس میں ہیومن بینگ اپنی الوہیت اور ربوبیت کا اظہار کرتا ہے۔ سرمایہ داری کسی مذہبی اقتدار کو بر داشت نہیں کر سکتی۔ یہی کوشش آج اسلامی بینک کار، اسلامی جمہوریت کے وکیل اور اسلامی معیشت دان کر رہے ہیں۔ 

گو کہ مطلق العنان بادشاہتیں مذہبی نظام اقتدار کو محدود کرتی ہیں لیکن اس قسم کی سلطنت میں سرمایہ دارانہ نظام اقتدار پورے طور پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مطلق العنان بادشاہ اپنے ارادہ کے معاشرتی اور ریاستی تفوق کا جواز خدائی مرضی ہی میں مضمر گردانتاہے ۔ ایک مطلق العنان بادشاہ مثلاً شاہ عبداللہ السعود اور ایک ڈکٹیٹر مثلاً بشارالاسد میں یہی فرق ہے، ڈکٹیٹر اپنے آپ کوہیومن بینگ کے ارادۂ عمومی (General Will) کا نمایندہ (Representative) گردانتا ہے۔ یورپ میں اس جواز کو بادشاہ کا مقدس حق "Divine right of the king"کہا جاتا تھا۔ اس کی بنیاد خدائی دو تلواروں (Doctrine of two divine Swords) کا نظریہ فراہم کر تا ہے جو پانچویں صدی سے یورپ میں چرچ پیش کرتا تھا۔ سرمایہ داری کے تقریباً تمام وکیلوں نے کہا ہے کہ سر مایہ داری کے لیے سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کر کے ایک نمایندہ ریپبلک کا قیام ضروری ہے۔یہ لبرل بھی ہو سکتی ہے ، اشتراکی بھی اور قوم پرست بھی اور شخصی آمریت بھی۔

سترھویں صدی کے بعد سے دنیا میں کئی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا ہوئے ہیں جن کے نتیجہ میں مستحکم قومی سرمایہ دارانہ ریاستیں وجود میں آئی ہیں۔ سب سے پہلا کامیاب سرمایہ دارانہ انقلاب انگلستان کا شان دار انقلاب(Glorious Revolution) تھا جو ۱۶۸۸ء میں برپا کیا گیا۔ کرامویل کی فوج کے ایک دھڑے Levellers نے ایک سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کی ۱۶۵۰ء کی دہائی میں کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد سے کامیاب سرمایہ دارانہ انقلابات کی (نا مکمل) فہرست کچھ یوں مرتب کی جا سکتی ہے:

ان انقلابات کے نتیجہ میں ہر جگہ مستحکم سرمایہ دارانہ نظام اقتدار ملکی سطح پر قائم ہو گیا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے قیام سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے اختتام (۱۹۴۵ء) تک طاقت ور سرمایہ دارانہ قومی ریاستوں میں تصادم عام تھا اورلینن اورہابسن کا گمان تھا کہ یہی تصادم غیر اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے انہدام کا باعث ہو گالیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ ۱۹۴۵ء کے بعد تمام طاقت ور سرمایہ دارانہ قومی ریاستوں نے امریکی سیاسی اور عسکری حاکمیت کو تسلیم کر لیا اور ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ریاستیں صرف غیر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ریاستوں مثلاًویت نام، نکاراگوا، عراق، سربیا وغیرہ اور غیر سرمایہ دارانہ اجتماعیتوں مثلاً القائدہ، طالبان، حماس، حزب اللہ، مالی، یمن کے مفتوح علاقوں اور ایران کے خلاف جنگیں لڑتی ہیں آپس میں جنگیں نہیں لڑتیں۔ سرد جنگ کے دورمیں (۱۹۴۵ء سے گوربا چوف کے برسر اقتدار آنے تک) امریکا اور سویت یونین میں کوئی براہ راست تصادم نہیں ہوا۔ چین امریکا کا سب سے بڑاتجارتی ساتھی ہے اور اس نے کھربوں ڈالر کی امریکی حکومتی تمسکات(US Federal Securities) میں سرمایہ کاری کی ہے۔ یورپی یونین کے ممالک اور ہندوستان امریکا کے سب سے قریب باج گزار حلیف ہیں اور امریکی استعمار کی پشت پناہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔کچھ سرمایہ دارانہ مفکرین کا خیال ہے کہ طاقت ور سرمایہ دارانہ قومی ریاستوں کا یہ باہمی تعاون اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں جس کو ”گلوبلائزیشن کا دور“ کہا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد سرمایہ دارانہ دنیا دو مخالف لیکن غیر متحارب کیمپوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک کیمپ کی قیادت سوویت یونین کر رہا تھااور دوسرے کی امریکا۔ امریکی کیمپ نے اشتراکی کیمپ کے اثرات محدودکر نے کے لیے دو معاہدے کیے:

اس معاہدہ کے تحت ہر معاہد حکومت کو اس بات کی اجازت تھی کہ وہ اپنے زر کی قیمت متعین کرے[3] اورملک کے اندر باہر ترسیلِ زر پر جو پابندیاں لگائی گئیں اس کے نتیجہ میں۱۹۴۵ء سے ۱۹۷۳ء تک عالمی قرضہ جات اور تمسکات اور حصص (Stocks and Bonds) کے بازار منظم نہ ہو سکے۔

۱۹۷۳ء میں امریکی صدر نکسن نے سونے اور ڈالر کے تعلق کو ختم کر دیا کیوں کہ ویت نام کی جنگ کے اخراجات کے سبب امریکا اس قابل نہ رہا تھا کہ ۳۵ ڈالر کے عوض دوسرے ممالک کو ایک اونس سو نا دے سکے۔ اس وقت سے اب تک کسی قومی زر کا کسی شے (سونا، چاندی، اجناس) سے کوئی تعلق نہیں اور ہر زر کا شرح تبدل یا تو حکومتی مرکزی بنک متعین کرتا ہے یا یہ شرح تبدل عالمی زر کے مارکیٹ میں آزادانہ لین دین کی بنیاد پر متعین کیا جاتا ہے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے بعد سے سرمایے کی بین الاقوامی تر سیل پر ملکی پابندیاں بہت تیزی سے کم کی جانے لگی ہیں اور سود اور سٹہ کا ایک ایسا عالمی بازار قائم ہو گیا ہے جس کا دائرہ کار نہایت سرعت سے وسعت پذیر ہے۔ سرمایے کے زر پر ریاستی گرفت تیزی سے کمزور ہو رہی ہے اور سرمایہ کو یہ آزادی حاصل ہو گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ منافع کی تلاش میں وہ جب چاہے ملکی سر حدوں کو عبور کرلے، یعنی سرمایہ اب گلوبلائز ہو تا جارہا ہے۔

گلوبلائز یشن کے اس عمل کو فروغ دینے میں انٹر نیٹ کی دریافت نے بھی مدد دی ہے۔ انٹرنیٹ امریکی فوج کے سربراہ ادارہ US Department of Defence کی ایجادہے جس کو ۱۹۹۰ء کی دہائی میں کمرشلائز کیا گیا۔اس کمرشلائزیشن سے اطلاعات کی تر سیل نہایت آسان اور تیز رفتار ہو گئی ہے اور اس نے بھی سرمایے کی فعالیت کو فروغ دینے میں ایک کلیدی کردار اداکیا ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ دارانہ ملکیت نہایت طاقت ور ہو گئی ہے۔ سرمایہ دارانہ ملکیت سے مراد وہ تنظیم ہے جہاں لگائی ہوئی دولت کے استعمال کا حق صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جو اس دولت کے استعمال کو صرف مزید دولت جمع کرنے کےلیے استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں ان لوگوں کو ”مینجمنٹ “کہتے ہیں۔ یہ دولت کے مالک نہیں ہوتے سرمایہ دارانہ دولت کے قانونی مالکان اس کو استعمال نہیں کر سکتے صرف اپنامنافع (Dividend) حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے حصص بیچ کر Capital Gain حاصل کر سکتے ہیں۔ اشیا کی مارکیٹوں، زر کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹوں پر مٹھی بھر کارپوریشنز غالب آگئی ہیں، وہ ہی اشیا کی قیمتیں اور سر مایہ کی ترسیل کی رفتار اور راہ متعین کر تی ہیں۔ ان مطلق العنان کارپو ریشنوں کے آگے قومی حکومتیں روز بروز بے بس ہوتی جا رہی ہیں۔

سر مایہ دارانہ قومی ریاستی اقتدار کو محدود کرنے میں اقوام متحدہ بھی اہم کر دار ادا کر رہی ہے۔اس کی دو ذیلی تنظیموںWorld Trade Organization اور World Intellectual Property Organization نے سر مایہ دارانہ ملکیت کو عام کرنے کےلیے ایسی قانون سازی کی ہے جس کے نتیجہ میں حکومتوں کی اشیا، اطلاعات اور ملکیت کی تر سیل پر تحدید کی استطاعت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔انہی قوانین کے زیر سایہ ایسی نجی بین الاقوامی کمپنیوں کاکام چل رہا ہے جو ہر ملک میں اس بات کی جانچ کرتی رہتی ہیں کہ وہاں کی حکومت اور نجی ادارے کس حد تک ان قوانین کے پابند ہیں، ان کارپوریشنوں کو Rating Agencies اور Standard setting Agencies کہتے ہیں جن میں سب سے معروف ISC اور IAS ہیں۔

۲۰۰۵ء میں اقوام متحدہ میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس کا حق دیا گیا ہے کہ وہ اس ملک میں فوجی اور سیاسی مداخلت کرے جہاں اس کے خیال میں ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کیے جانے کاامکان ہے۔ یہ قرارداد افغانستان، لیبیا، سربیا اور شام کے خلاف امریکی جا رحیت کو جواز فراہم کرتی ہے۔ ۱۹۷۹ء کے بعد چین اور ۱۹۹۱ء کے بعد روس امریکا کے حلیف اور عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن گئے ہیں اور سرمایہ دارانہ ریاستوں کی طاقت میں کمی کوبرداشت کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

1.2۔ سرمایہ داری کی خصوصیات

سرمایہ داری اس نظامِ زندگی کو کہتے ہیں جس میں حرص اور حسد کی عقلیت کا غلبہ ہو۔ ہر وہ شخص سرمایہ دار ہے جس کی زندگی کا مقصد کائنات پر اپنی خواہشات کو مسلط کرنا ہو۔ اس چیز کو آزادی کہتے ہیں اور آزادی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی بنیادی قدر ہے۔ ہر سرمایہ دار کی زندگی کا مقصد اپنی آزادی کو مستقل ترقی دینا ہوتا ہے تاکہ کائنات کی تمام قوتوں کو مسخر کر کے اس کی تمام خواہشاتِ نفسانی پوری کی جا سکیں۔ سرمایہ دارانہ عقلیت اسی مقصد کے حصول کا راستہ بتاتی ہے اور اس عقلیت کا یہ بنیادی دعویٰ ہے کہ انسان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کائنات کی تمام قوتوں کو اپنی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ بنائے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت جس مابعدالطبیعیاتی مفروضے پر قائم ہے وہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا بنیادی عقیدہ ہے اور وہ ہے ”لاا لٰہ الا انسان“۔ اس کلمہ پر ایمان لانا سرمایہ دارانہ انفرادیت کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ اس عقیدہ کے اظہار کے لیے جو معاشرت قائم کی جا تی ہے اس کو سرمایہ دارانہ معاشرت یا”سول سوسائٹی“ کہتے ہیں۔ سول سوسائٹی میں حرص اور حسد سے مغلوب افراد اپنے باہمی اشتراکِ عمل کا دائرہ کار متعین کرتے ہیں۔ حرص و حسد سے مغلوب انفرادیت کو ہیومن بینگ(Human being) کہتے ہیں۔ مشہور فلسفی مشل فوکو کے مطابق ہیومن بینگ کا تصور سترھویں صدی میں پیدا ہوا جس نے عیسائی تصورِ آدمیت (mankind)کو مسخر کیا۔

ہیومن بینگ وہ شخصیت ہے جو ”لاا لٰہ الا انسان“ کے کلمہ پر ایما ن لا کر اپنی ربوبیت اور مطلق العنانیت کا دعویٰ کرتی ہے اور فروغِ آزادی کے ذریعے اس ربوبیت اور مطلق العنانیت کے اظہار کی جستجو کرتی ہے۔ اس جستجو میں وہ دوسرے ہیومن بینگ سے اس بنیاد پر تعلقات استوار کرتا ہے کہ وہ فروغِ آزادی کے عمل میں اس کے معاون بن جائیں۔ ہر ہیومن بینگ دوسرے ہیومن بینگ کو اپنے اغراض کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے اور اس دوسرے ہیومن بینگ کے اغراض کے حصول کے لیے تعاون پر اس شرط پر آمادہ ہو تا ہے کہ اس تعاون کے نتیجہ میں اس کی اپنی جستجوئے آزادی اور ترقی فروغ پائے۔ اس باہمی اشتراکِ عمل کی ادارتی صف بندی کو ”مارکیٹ“ کہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں مارکیٹ ہر نوعیت کے تعلقات پر بتدریج غالب آتی چلی جاتی ہے،جیسے جیسے انسان ہیومن بینگ بنتےچلے جا تے ہیں ویسے ویسے ان کے تعلقات Marketise ہوتے چلے جا تے ہیں۔ محبت، صلہ رحمی اور مذہبی عصبیت کی بنیاد پر قائم تعلقات کے دائرہ کار محدود سے محدود تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔مشہور عمرانی مفکر Karl Polanyi نے لکھا ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں مارکیٹ،تعلقات کے دیگر تمام نظاموں پر مسلط ہو جاتی ہے۔ مارکیٹ کا نظام خاندان، قبیلہ، عبادت گاہ، تعلیمی اداروں، نظام پیداوار، نظام ترسیلِ زر، تفریحات اور نظام حکومت کو Coloniseکر لیتا ہے۔

سرمایہ دارانہ معاشرت بالخصوص مارکیٹ کے تحفظ اور فروغ کےلیے ایک خاص نوعیت کی ”ریاست“ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ریاست کو Representative Republic کہتے ہیں۔ غیر سرمایہ دارانہ ریپبلک کا وجود بھی ممکن ہے مثلاً اسپین اور روم کی Republics لیکن ان میں نمایندگی نہیں ہوتی۔یہ Representative Republic ایک معاشرتی معاہدے(Social Contract)کی بنیاد پر قائم ہو تی ہے اور اس عمرانی معاہدے کی عملی شکل دستور(Constitution) ہوتا ہے۔ یہ دستور نظام اقتدار کو ان باتوں کا پابند کرتا ہے کہ

جہا ں بھی حرص و حسد سے مغلوب انفردیت ، اغراضی عقلیت سے مغلوب معاشرت اور حصولِ آزادی کو مقصد کے طور پر قبول کرنے والا نظام اقتدار قائم ہوا ہے وہاں سر مایہ دارانہ نظام زندگی غالب آگیا ہے۔ سرمایہ داری محض ایک معاشی تنظیم نہیں، اس کی اپنی انفرادیت ، معاشرت اور ریاستی تنظیم ہے۔ اور سرمایہ دارانہ انفرادیت ،سرمایہ دارانہ معاشرت اور سر مایہ دارانہ ریاست کا فطری (Organic)تعلق اور ارتباط ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ سرمایہ دارانہ انفرادیت غیر سرمایہ دارانہ معاشر ت اورغیر سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں غالب آجائے۔ یہ بھی ناممکن ہے کہ اسلامی شخصیت سرمایہ دارانہ معاشرت اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں غالب آجائے۔ علمائے دین اس بات کو نہیں سمجھتے مثلاً تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی اور تنظیمِ اسلامی سرمایہ دارانہ شخصیت کے انہدام کےلیے گراں قدر دعوتی اور علمی جدوجہد میں مصروف رہتی ہیں لیکن سرمایہ دارانہ معاشرت اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے انہدام کی جدوجہد غیر ضروری سمجھتی ہیں اور عملاً اس جدوجہد سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہر اسلامی جماعت سرمایہ دارانہ نظام زندگی سے ہمہ جہت نبرد آزما ہو، لیکن مختلف اسلامی جماعتوں کا سرمایہ داری کے انہدام کی جدوجہد میں تعاون اور ارتباط پیدا کرنا لازم اور ضروری ہے۔ کچھ علما مثلاً مولانا تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید احمد سرمایہ داری کو ایک نظام زندگی نہیں سمجھتے اور اس نظام زندگی میں اسلامی بینک کاری اور اسلامی جمہوریت کے لاحقہ کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں اسلامی پیوندکاری کے لیے مختلف حیلے پیش کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے اقدام کی بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور ریاستی نظام کے ارتباط سے ناواقفیت ہے۔

سرمایہ داری ایک نظام زندگی ہے لیکن اس کی نظریاتی توجیہات (Ideologies) بہت سی ہیں مثلاً لبرل ازم، سوشل ازم، سوشل ڈیموکریسی، قوم پرستی، انارکزم اور پوسٹ ماڈرن ازم۔یہ سب سر مایہ دارانہ نظریات ہیں کیوں کہ یہ سب بنیادی سر مایہ دارانہ مابعدالطبیعیاتی مفروضوں پر اعتقاد رکھتی ہیں۔ ان سب کا کلمہ ”لا الٰہ الاانسان“ ہے اور یہ سب انسان کوہیومن بینگ بنانے کی جستجو کر تی ہیں۔ یہ سب آزادی، مساوات اور ترقی کو بحیثیت اہداف کے قبول کرتی ہیں۔ ان سب کا یہ دعویٰ ہے کہ انسان ایک خود تخلیقی (Self Creator) ، مطلق العنان اور قائم بالذات وجود ہے اور معاشرت اور ریاست کی تنظیم کا مقصدِ اعلیٰ انسان کی ربوبیت اور مطلق العنانیت کو فروغ دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

ان نظریات میں اختلاف اہداف کے بارے میں نہیں بلکہ اہداف کے حصول کے طریقۂ کارکے بارے میں ہے۔ یہ نظریات سرمایہ دارانہ انفرادیت ،معاشرت اور ریاست کے فروغ کے جو طریقۂ کاربتاتے ہیں ان میں اختلاف ہے۔ لبرل ازم میں ریاست کا مقصد فردِ واحد کی آزادی کو فروغ دینا ہوتاہے۔ اشتراکیت کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کا مقصد مزدور طبقہ (Proletariat)کی آزادی کا فروغ ہے، کیوں کہ یہی طبقہ ہیومن بینگ کا جائز نمایندہ ہے اور اس کی آمریت (Dictatorship) کے قیام کے بغیر مجموعی نو عی آزادی کو فروغ نہیں دیاجا سکتا۔ سوشل ڈیمو کریٹس کی رائے میں سرمایہ دار ریاست کو گروہی اور انفرادی آزادی کے فروغ میں توازن پیداکرنا چاہیے۔انارکسٹوں کی رائے میں سرمایہ دارانہ نظام کو کسی نظام اقتدار کی ضرورت نہیں اور ہرریاست لازماً فروغِ آزادی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو تی ہے، لہٰذا نظام ریاست کو تحلیل کر دینا چاہیے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ فروغِ آزادی کو بحیثیت واحد اقداری ہدف کے جمالیاتی(Aesthetic) بنیادوں پر قبول کر تے ہیں، لیکن ان کی رائے میں ہر معاشرتی اور ریاستی نظم(Discipline) نے کسی نہ کسی حد تک آزادی کے فروغ کو محدود کر دیا ہے، لہٰذا ہر نظم کے خلاف جدوجہد کرتے رہنا چاہیے گو کہ سرمایہ دارانہ عقلیت یہ نہیں بتاتی کہ فروغِ آزادی کے لیے کون سا نظم موزوں ترین ہے۔

ان نظریاتی اختلافات سے ثابت ہو تا ہے کہ سر مایہ دارانہ نظام زندگی مختلف ادارہ جاتی اشکال اختیار کر سکتا ہے۔ انارکسٹ شخصیت، لبرل شخصیت سے مختلف ہو تی ہے۔ لبرل معاشرہ سوشل ڈیمو کریٹ معاشرے سے جدا چیزہے۔ لبرل ریاستی تنظیم، اشتراکی ریپبلک سے مختلف ہے، لیکن یہ سب سر مایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف مظاہر ہیں۔

اس کتاب میں ہم لبرل، سوشلسٹ، سو شل ڈیمو کریٹ، قوم پرست ، پوسٹ ماڈرنسٹ اور اسلامی سرمایہ داری کے وکیلوں کی آراء کا تجزیہ پیش کریں گے۔اس تجزیے کا مقصد یہ ثابت کر نا ہے کہ سرمایہ داری کو ئی فطری اور ٹیکنیکل نظمِ انفرادیت، معاشرت اور ریاست نہیں بلکہ سرمایہ داری ایک نہایت غیر فطری، باطل اور فاسد اقدار والا غلیظ نظام زندگی ہے جو خدا سے بغاوت اور فطر ت انسانی سے جنگ کے مترادف ہے ۔یہ ایک اسلام دشمن نظام زندگی ہے جس کی مکمل تسخیر کے بغیر دین کا تحفظ اور غلبہ ناممکن ہے۔لہٰذا سر مایہ دارانہ انفرادیت ، معاشرت اور نظام اقتدار کے انہدام کی جستجو کرنا آج کے دور میں ایک فرضِ کفایہ ہے۔ تمام جماعتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں سرمایہ دارانہ انفرادیت ، معاشرت اور ریاست کے خلاف برپا جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔

1.3۔سرمایہ داری کا مستقبل

سرمایہ دارانہ نظام زندگی ابدی نہیں۔ معلوم تاریخ کا دورتقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال پر محیط ہے، سرمایہ داری بحیثیت ایک نظام زندگی کے زیادہ سے زیادہ سات سو سال سے موجود ہے (اور ان میں بھی تقریباً چار پانچ سو سال سر مایہ دارانہ نظام زندگی کا دائرہ کار نہایت محدود رہا، سرمایہ داری کو عالمی غلبہ انیسویں صدی کی ابتدا سے ہوا اور اس میں مستقل وسعت ہو تی جا رہی ہے)۔ جن عقائد پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی قائم ہے (ہیومن بینگ کی الوہیت اور کائنات کی ابدیت) وہ منطقی نہیں ما بعد الطبیعیاتی ہیں۔ ان عقائد کو ردّ کرنے میں عقل مزاحم ہے نہ وجدان؛ اور ظاہر ہے کہ وحی تو ان عقائد کے باطل ہونے کا کھلا اعلان کرتی ہے۔

موجودہ دور کی پوسٹ ماڈرنسٹ فکر سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی اور ترقی) کو ناقابلِ حصول گردانتی ہے اور سر مایہ دارانہ علمیت کو لا یعنی اور لغو گردانتی ہے۔ سر مایہ داری کی تاریخ اس با ت پر شاہد ہے کہ سرمایہ دارانہ آبادیوں کی بہت بڑی اور مستقل بڑھتی ہوئی اکثریت آزادی اور ترقی سے متمتع نہیں ہوتی اور مستقل احساس محرومی کا شکار رہتی ہے۔ سر مایہ داری کی تاریخ کو بجا طور پر”پیداوار کے بحرانوں کی تاریخ“ بھی کہا گیا ہے اور علم معاشیات کی ایک جہت Business Cycle theory اس اجمال کی تفصیل بیان کرنے کےلیے تشکیل دی گئی ہے۔اس تھیوری کے مطابق:

سر مایہ دارانہ بحران کیا ہے؟ بحران کے تصو ر کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اشیا کی مارکیٹ اور فنانس کی مارکیٹ کے تعلق کو سمجھا جائے۔ فنانشل مارکیٹ دو ہیں۔ زر یا سود کی مارکیٹ اور اموال یا سٹہ کی مارکیٹ۔ زر کی مارکیٹ پورے معاشرے سے بنکوں کے ذریعہ بچتیں کھینچ کھینچ کر جمع کرتی ہے، ان بچتوں کی بنیاد پر بینک سرمایہ دارانہ زر تخلیق کرتا ہے[4] اور سودی لین دین کی بنیاد پر ان بچتوں کو ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو اس کو سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار میں اضافہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ملکیتوں (Share) کی مارکیٹ Securitisation کے عمل کے ذریعہ سرمایہ دارانہ ملکیت قائم کرتا ہے[5]۔ سرمایہ دارانہ ملکیت ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، سرمایہ دارانہ ملکیت وہ ملکیت ہے:

ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں سر مایہ دارانہ ملکیت سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کے ذریعہ معیشت میں اصل فاعل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کو فعالیں کارپو ریشن کہتے ہیں۔ ایک عام کارپوریشن کے سیکڑوں ہزاروں قانونی مالک ہوتے ہیں اور چوں کہ کارپوریشن کے حصص ہر وقت سٹہ کی مارکیٹ میں بیچے اور خریدے جا رہے ہوتے ہیں لہٰذا یہ قانونی ملکیت ہر لمحہ تبدیل ہو رہی ہوتی ہے۔ کارپو ریشنوں کے مالکوں کا اس کے چلانے میں بالکل ویسے ہی کوئی حصہ نہیں ہوتا جس طرح ایک عام ووٹر جمہوری حکومت چلانے میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ سال میں ایک دفعہ Annual General Meeting میں جمع ہو کر قانونی مالکوں کی ایک نہایت محدود اقلیت[6] شریک ہو کر مینجمنٹ کی حکمت عملی کی تصدیق کر دیتی ہے۔ کارپوریشنوں کو چلانے کے اصل ذمہ دار اور چلانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس بات کے ماہر ہوتے ہیں کہ کارپوریشن کے اثاثے کو استعمال کر کے اس کے سرمایے میں تیز سے تیز رفتار بڑھوتری لائی جا سکے۔ حقیقت میں سرمایہ دارانہ ملکیت کا اصل مالک خود سرمایہ (یعنی حرص و حسد) ہوتا ہے اور باقی تمام لوگ کارپوریشن کے قانونی مالک، اس کی مینجمنٹ اس کے ملازمین، اس کے Regulators سرمایہ کے غلام ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو اس بات کا اختیار نہیں ہوتا کہ کارپوریشن کے اثاثے کو بڑھوتری سرمایے کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کریں ۔اگر وہ یہ جسارت کریں گے تو کارپوریشن سٹہ کے بازار میں دیوالیہ ہو جائے گی اس کے حصص کی قیمت ختم ہو جائے گی اور وہ سب بر طرف کر دیے جائیں گے۔

سر مایہ دارانہ معاشروں میں غیر سرمایہ دارانہ ملکیت بھی موجود ہوتی ہے (یہ ان اثاثوں پر مشتمل ہوتی ہے جو securitize نہیں کیے گئے) لیکن قرض کے لین دین اور سرمایہ دارانہ کارپوریشن سے لین دین اور بین الاقوامی تجارت میں شمولیت کی بنیاد پر یہ سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ کے ماتحت کر دی جاتی ہے[7] ۔

سرمایہ دارانہ بحران فنانشل مارکیٹوں میں شروع ہو کر پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ ان بحرانوں کی علامات یہ ہیں:

مثلاً جو بحران08ـ ۲۰۰۷ء میں امریکا میں شروع ہوا وہ امریکی کرنسی کی بے اعتباری کا بحران نہیں تھا (جیسا کہ جر منی کا ۱۹۱۹ء سے شروع ہونے والا بحران)۔ اس بحران کو بینک کاری کے بحران سے تعبیر کیا جا تا ہے اور اس بحران سے امریکی سٹہ کا بازار قدرے متاثر نہ ہوا (نمایاں کمی صرف بینکوں کے حصص میں آئی) اور اس بحران سے حکومت کی ساکھ متاثر نہیں ہوئی۔ اس کے بر خلاف 10-۲۰۰۹ء میں جو بحران یورپ میں آیا اس سے یونان، آئرلینڈ، اسپین، پرتگال اور اٹلی کی حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی۔ امریکی اور بر طانوی حکومتوں نے ٹیکس دہندگان کے ہزاروں کھرب ڈالر بینکوں اور فنانشل کمپنیوں کو بچانے کےلیے لٹا دیے۔ یونان، ہنگری اور پرتگال یہ نہ کر سکے اور بینکوں کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف، یورپی یونین اور جر منی سے کڑی شرائط پر بھیک وصول کرنا پڑی[8]۔

بحرانوں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ بحران کسی نوعیت کا بھی ہو اس کے نتیجہ میں بہت بڑے پیمانہ پر بے روزگاری پھیلتی ہے،عوام کی آمدنی میں تخفیف ہو تی ہے، کاروبار ٹھپ ہو جا تے ہیں اور ملکیت قرق کر لی جاتی ہے۔ ہر صورت میں سر مایہ دارانہ بحران کا خمیازہ عوام ہی برداشت کرتے ہیں، وہی عوام جن کا سرمایہ دارانہ ملکیت کو چلانے میں کوئی حصہ نہیں ہوتا اور جو سرمایہ دارانہ پالیسی سازی میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔
بحران سر مایہ دارانہ علمیت کی نامعقولیت کا سب سے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر شے اور عمل کی قدر اس تخمینے کی بنیاد پر لگائی جاتی ہے کہ اس عمل کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجہ میں سر مایہ کی بڑھوتری میں کتنا اضافہ ہو گا لیکن یہ تخمینہ لگانے والا کوئی ایسا عامل موجود نہیں جو یہ متعین کر سکے کہ عمومی سرمایہ میں کتنا اضافہ ہو گا۔ ہر کارپوریشن کی مینجمنٹ پوچھتی ہے کہ کسی خاص عمل کے نتیجہ میں اس کے اپنے سرمایہ کی بڑھوتری میں کتنا اضافہ ہو گا، لہٰذا سود اور سٹہ کے بازاروں میں تعینِ قدر ان مارکیٹوں پر قابض چند لحیم شحیم اجارہ دار کارپو ریشنوں کے مفادات کا عکاس ہوتی ہیں، سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مرتب نہیں کی جاتی۔ Average rate of profit اور Average rate of Accumulation کبھی بھی اس سطح پر نہیں ہو تے جس پر قیمتوں کے استحکام کے ساتھ مادی اور انسانی وسائل کو پورے طور پر استعمال کیا جا سکے[9]۔

Public Choice Theory اور مارکیٹ سو شل ازم کے نظریات سے ثابت ہوا کہ سرمایہ دارانہ ریاست (خواہ وہ لبرل ہو یااشتراکی) ایسی منصوبہ بندی اصولاً کبھی نہیں کر سکتی جس کے نتیجہ میں قیمتوں کے استحکام کے ساتھ وسائل کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ بڑھوتری سرمایہ کی رفتار اپنی ممکنہ حدود تک پہنچ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سر مایہ دارانہ ریاست پر جو لوگ قابض ہوتے ہیں وہ اپنے ذاتی، گروہی اور مادّی مفادات کے حصول کےلیے ہی پالیسی سازی کرتے ہیں اور کسی معنی میں عمومی سرمایے کے نمایندے نہیں ہوتے[10]۔

سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ناممکن ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو اس کی صلاحیت کے مطابق بڑھوتری سرمایہ کے عمل میں اپنا پورا حصہ ڈالنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کو Equality of Opportunity کہتے ہیں۔ اور ہر شخص کو جو صلہ دیا جائے وہ اس کے مطابق ہو جو اس نے سرمایہ کی بڑھوتری کو بروئے کار لانے کے لیے کی ہے[11]۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ خود اپنے پیمانہ عدل کے مطابق ایک ظالم معاشرہ ہے۔ ان معاشروں میں ایک عظیم اکثریت ہمیشہ محروم و مظلوم خود سرمایہ دارانہ اقدار کے مطابق دو معنوں میں رہتی ہے:

لہٰذا عموماً سرمایہ دارانہ معاشروں میں ایک طرف ارتکازِ دولت اور قوت ہوتا ہے،وسائل اور اقتدار کم سے کم ہاتھوں میں مر تکز ہوتا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف بے روزگاری اور بے کاری میں مستقل اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج یورپی ممالک میں باروزگار محنت کار مجموعی بالغ آبادی کا قلیل اور گھٹتا ہوا حصہ ہیں۔ آبادی کا بڑا اور بڑھتا ہوا حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو سرمایہ کے چکر میں صرف صارف کے طور پر حصہ دار ہیں۔ ان میں نوجوان طالب علم، بے روزگار افراد اور پنشن یافتہ کروڑوں لوگ شامل ہیں۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معاشروں میں اس بے کار جم غفیر کو ریاستی پنشنوں اور بینک قرضوں کی بنیاد پر ایک بڑھتا ہوا معیارِ زندگی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل اور دیگر تفریحات میں ان کو مشغول رکھ کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بے کاری کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کو چلانے اور اس سے مستفید ہونے میں حصہ دار اور شریک ہیں۔ یہ حکمتِ عملی غیر ترقی یافتہ لبرل جمہوری ریاستوں مثلاً بھارت اور پاکستان میں بھی کامیاب ہوئی ہے اور بے کار اور محروم عوام نظام اقتدار کو چیلنج نہیں کرتے۔ ترقی یافتہ لبرل جمہوریتوں میں عوامی مزاحمتی تحاریک (مثلاً World Social Forum, Occupy Wall Street, Anti Neuclar اور Green Movements جو کھیل تماشے کے علاوہ کچھ نہیں) میں شامل ہو کر سکون حاصل کرتے ہیں۔ غیر ترقی یافتہ لبرل جمہوریتوں میں مزاحمتی تحریکیں گوریلا تنظیمیں بن جاتی ہیں۔ جن کے مراکز پس ماندہ علاقوں میں ہوتے ہیں اور جو نہ تو عوامی مقبولیت حاصل کر سکتی ہیں اور نہ سرمایہ دارانہ مراکز میں پیش رفت کے قابل ہوتی ہیں[12]۔

غیر لبرل سر مایہ دارانہ ریاستوں کے خلاف عوامی بغاوتیں رونما ہوتی ہیں۔ ان ریاستوں میں حکومت وہ مراعات اور حقوق عوام کو فراہم نہیں کر پاتیں جن کے نتیجہ میں عوام اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ نظام میں شریک کار سمجھتے ہیں[13]۔اس نوعیت کی عوامی بغاوتیں ۱۹۸۹ء کے بعد مشرقی یورپ میں اور ۲۰۱۱ء کے بعد عرب دنیا میں رونما ہوئیں لیکن یہ سرما یہ دارانہ انقلاب ہیں۔ ان تحا ر یک میں شامل عوام کا مطالبہ لبرل حقوق اور سرمایہ دارانہ فوائد سے مستفید ہونا ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام ان انقلابات کا مقصد نہیں ہوتا۔ وسطی ایشیا اور عرب دنیا میں اسلامی تحاریک نے ان انقلابات سے جو توقعا ت وابستہ کی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں اور ہم وسطی ایشیا اور عرب دنیا میں کہیں بھی اسلامی ریاستی نظام نہ قائم کر سکے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی تضادات بہت ہیں اور سر مایہ داری ہر دور میں ایک سنگین بحران سے دوچار ہوئی ہے[14] اور اس نظام کے انہدام کے مواقع گاہے بگاہے انقلابیوں کو میسر آتے رہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اصل قوت اس کے اعتقادات ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی عیسائی اعتقادات کی شکست اور انتشار کے بعد ہی غالب ہوا۔ تیرھویں صدی کے بعد یورپ کی بڑی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے حصہ نے اپنے اعمال کا ناتا عیسائی اعتقادات سے توڑ دیا۔ وہ خدا پرست، متقی،عفیف اور آخرت میں جواب دہی کے لیے متفکر نہیں رہے۔ وہ دنیا پرست حریص، حاسد، سفاک اور مطلب پرست ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سر مایہ دارانہ عقلیت مقبول عام ہوئی اور اس بنیاد پر کیے جانے والے ریاستی اور معاشرتی فیصلے معقول گردانے جانے لگے ۔ جب تک لوگ آزادی اور ترقی پر ایمان رکھیں گے اور اپنی زندگی کا مقصد حصولِ آزادی اور ترقی سمجھیں گے اس وقت تک سرمایہ دارانہ نظام زندگی اپنے ہر بحران سے کامیاب اور سرخرو نکل آئے گا کیوں کہ سر مایہ دارانہ نظام زندگی ہی حصول اور فروغِ آزادی اور ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ سر مایہ دارانہ نظام زندگی کا غلبہ بنیادی طور پر آزادی اور ترقی پر ایمان رکھنے والوں کا عالمی غلبہ ہے۔

یہ کتاب ان مفکرین کے نظریات کا تجزیہ پیش کرتی ہے جنہوں نے سر مایہ دارانہ عقائد اور ان کی عملی تشریحات کی تو جیحات پیش کی ہیں۔ اس فکر کو سمجھے بغیر سر مایہ دارانہ نظام زندگی کے انہدام کی مر بوط حکمت عملی واضح نہیں کی جا سکتی۔ کتاب کے آخری باب میں ایسی حکمت عملی کا ایک خاکہ مرتب کیا گیا ہے۔

سرمایہ داری کے لبرل نقیب

2۔ جان لاک

جان لاک (۱۶۳۲ء تا۱۷۰۴ء) لبرل سر مایہ داری کے موثر ترین فلسفیوں میں شمار کیا جاتاہے۔ اس کے اشارات سرمایہ دارانہ علمیات (Epistemology) پر بھی اتنے گہرے ہیں جتنے سرمایہ دارانہ سیاسیات پر۔ جان (John Locke) کی علمیات اور اس کے سیاسی فلسفہ میں گہرا تعلق ہے۔اس خیال کو لاک کے فرانسیسی پیروؤں نے اصرار کے ساتھ پیش کیا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اور لاک کے امریکی پیرو سیاسیات کو ایک سائنس (Political Science)گر دانتے ہیں۔

2.1۔لاک کی تجربی علمیات 

لاک وحی کو علم کے ایک سر چشمہ کے طور پر قبول کر تا ہے لیکن وہ لکھتا ہے کہ ’’وحی کو عقل کے پیمانہ پر ہی جانچا جا سکتا ہے‘‘۔ مختلف النوع ذاتی الہامات کو پرکھنے کا واحد پیمانہ وہ شواہد (Proofs) ہیں جو ا ن کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جا تے ہیں۔لاک کے دور میں کئی عیسائی فرقے ذاتی الہام کی بنیاد پر علمیاتی تعبیرات کی تصدیق کر تے تھے۔ اس نوعیت کی توجیہات کو لاک Dogma کہتا ہے ۔ Dogma وہ اعتقادات ہیں جن کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

لاک عقلیت کی ایک مخصوص تشریح پیش کرتا ہے۔لاک لکھتا ہے کہ عقلی مطالعہ کے دو حصے ہیں۔ پہلے یہ متعین کرنا کہ ہم کامل وثوق سے کیا جان سکتے ہیں، دوسرے ان مفروضات اور خیالات (Proposition) کی تحقیق جن کو قبول کر کے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، گو کہ ان مفروضات اور خیالات کے حق ہونے کا محض امکان (Probability) موجود ہے اور کامل تحقیق سے ان کا حق ہونا ثابت نہیں کیا جا سکتا؛ اور کسی چیز کے حق ہونے کا امکان (Probability) اس بات سے متعین ہے کہ وہ ہمارے تجربات اور مشاہدات سے کتنی مطابقت رکھتا ہے۔بقول لاک تھائی لینڈنے یورپی مہمانوں کی باتوں پر یقین کرنا اس وقت ترک کیا جب ان مہمانوں نے برف کا تذکرہ کیا۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر لاک عقیدۂ برداشت (Doctorine of Toleration) کی وکالت کرتا ہے۔

ٹولیریشن [15]سے مراد یہ ہے کہ عملی طور پر بیش تر کارآمد معقولیت کو تسلیم کر لینا چاہے اور اپنے امکانی طور پر معقول نظریات اور آراء کے حق ہونے پر اصرار کرناعقلیت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ وہ تمام آراء اور نظریات حق ہو سکتے ہیں جن سے مثبت عملی نتائج بر آمد ہونے کا امکان ہو، ایسی تمام آراء کے اظہار اور ان کے امکانی حق کی گنجائش کو تسلیم کیا جا نا چاہیے اور کسی شخص یا گروہ کو ایسی رائے تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا نا چاہیے جو امکانی طور پر مثبت نتائج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

یہ نظریہ ٹولیریشن، جن مثبت نتائج کے امکانی بروئے کار آنے کے پیمانہ پر مختلف آراء کو برداشت کرتا ہے وہ بڑھوترئ سر مایہ ہی ہے۔چوں کہ حزب اللہ اور دیگر شدت پسند مجاہدین اسلام کی آراء کا بڑھوترئ سرمایہ کا امکانی ذریعہ بننا تقریباً ناممکن ہے لہٰذا یہ آراء برداشت نہیں کی جا سکتیں اور امریکا کے ریڈ انڈینز اور افغانستان کے طالبان نظریہ ٹولیریشن سے باہر اور قتلِ عام کے مستحق ہیں۔ 

لاک نے جس فلسفیانہ مکتبہ فکر کی بنیاد ڈالی اس کو تجربیت(Empericism)کہتے ہیں۔ Empericist فکر کے مطابق علم کا اصل ماخذ انسانی مشاہدات اور تجربات ہیں گو کہ منطق، ریاضی اور وحی بھی علم کے سر چشمے ہو سکتے ہیں لیکن ان کی فراہم کردہ معلومات کی تجربہ اور مشاہدہ کی بنیاد پر ہی تصدیق کی جا سکتی ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو وہ عملاًعلم کے دائرہ سے خارج ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لا ک کی فکر میں منطق، ریاضی اور وحی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر مثبت نتائج یعنی بڑھوترئ سرمایہ حاصل کر نے کے محض ذرائع ہیں۔ مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر ہی انسانی ذہن میں خیالات متشکل ہو تے ہیں اور کوئی تصور فطری یا جبلی نہیں۔علم کے حصول کے صرف دو ذرائع ہیں:حسیات (sensation) اورتفکر (perception)۔حواسِ خمسہ کے ذریعے ہی مشاہدہ ممکن ہے اور مشاہدات کے معنی تفکر سے ہی اخذ کیے جاتے ہیں علم کسی اور طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

لاک کی مابعد الطبیعیاتی فکر ان تمام حقائق کی علمیت کا انکار کر تی ہے جن تک حواسِ خمسہ کی رسائی نہیں۔ لہٰذا اس کی فکر میں عمومیت کی حقیقت محض لُغوی(Linguistic) ہے۔ غیر امپیریسسٹ مابعد الطبیعیاتی علمیت عمومیتوں کی جو تشریح اور تعبیر پیش کرتی ہے وہ صرف الفاظ پر مشتمل ہے اور وجود صرف انفرادی اشیاء کا ہو تا ہے؛ وحی کی بنیاد پر حاصل شدہ معلومات کی حیثیت ان الفاظ کی حقیقت کے سوا کچھ اور نہیں جو محض مقدمات میں وارد ہوئے ہیں۔لاک کے نظامِ فکر میں علم کی بنیاد مشاہدہ ہے اور مشاہدہ حسیات سے حاصل ہوتا ہے جس کی تعبیرات تفکر کی بنیاد پر مرتب ہو تی ہیں۔ لاک یا اُس کے بعد آنے والا کوئی بھی امپیریسسٹ اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ ”ہم کیوں اور کیسے کسی عمل کو مشاہدہ کی بنیاد پر مثبت نتائج پیدا کر نے والا گردانتے ہیں اور مثبت نتائج کا پیمانہ کیا ہے اور کیوں؟“

ان سوالات کو اٹھائے بغیرلا ک کا دعویٰ ہے کہ محسوسات سے حاصل شدہ معلومات سے جو تصوّرات ہم اخذ کر تے ہیں ان کی بنیاد ہماری انفرادی ذاتی اغراض ہیں۔ لاک کے بقول ’’(ہم) کیا چاہتے ہیں ۔ خوشی اور صرف خوشی یعنی لذّات کی انتہا (اور) لذّات کے انتہائی حصول کا ذریعہ آزادی کی جدوجہد ہے‘‘۔لاک کہتا ہے کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ فوری اور انفرادی لذّات کی جستجو کو طویل المدّت اور اجتماعی لذات کے انتہائی حصول کی جستجو کے ماتحت کر دیا جائے۔ جو صفت فرد کو یہ کرنے پر اکساتی ہے اس کو لاک پروڈینس (Prudence)کہتا ہے۔ گو کہ پروڈینس کا تصور انجیل میں بھی ہے لیکن عیسائی تصور پروڈینس اور سرمایہ دارانہ تصور پروڈینس بالکل جدا چیزیں ہیں۔پروڈینس ایک کامیاب سر مایہ دار کی اہم صفت ہے کیوں کہ ایک کا میاب سرمایہ دار عقل کے اس فیصلہ پر عمل کرتا ہے کہ طویل المدت اور اجتماعی لذات کی انتہا کے لیے قلیل المدت اور انفرادی لذت کے حصول کی جدوجہدکو لازماً محدود کیا جانا چاہیے۔

پروڈینس کی تبلیغ لبرل سر مایہ داری کی بنیادی اخلاقی تعلیم سے ماخوذ ہے۔لاک خود نہایت پروڈینٹ تھا اس نے اپنی کتاب مطلق العنان بادشاہوں چارلس دوم اور جیمس اول کے دور میں نہیں چھپوائی ۔ ۱۶۸۳ء میں اپنے مربی Lord Shaftesbury کے ساتھ ہالینڈ بھاگ گیا اور۱۶۸۸ء کے انقلاب کی کامیابی کے بعد انگلستان واپس آکر نئی حکومت کا کاسہ لیس بن گیا۔ ویبر نے بعد میں لکھا ہے کہ سرمایہ داری کے ابتدائی دور میں چوں کہ سرمایہ کاری اپنی ذاتی بچتوں پر منحصر ہوتی تھی لہٰذا پروڈنٹ لوگ( جو طویل مدت فائدہ کے لیے پس انداز کرتے تھے) ہی کامیاب سرمایہ دار بنتے تھے۔ اس کے برعکس لبرل مبلغین عوام کو Imprudent ہونے کا طعنہ کثرت سے دیتے تھے اور غربت کی بنیادی وجہ Imprudence کو شمار کرتے تھے۔

لا ک کی رائے میں انفرادی اور اجتماعی لذّات کو انتہا تک لے جانے کی جدوجہدایک دوسرے کی معاون ہیں۔ یہ لبرل سرمایہ داری کا ایک کلیدی عقیدہ ہے۔لیکن Prudent اشخاص اس عقیدہ پر جبر اور اکراہ کے ساتھ عمل پیرا ہو تے ہیں اور سر مایہ دارانہ معاشروں میں عظیم اکثریت ہمیشہ غیرپروڈینٹ افراد پر مشتمل رہی ہے۔ لاک کی رائے میں Prudent ہونے کے لیے خدا اور آخرت پر یقین رکھنا بھی ضروری ہے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں یہ نا ممکن ہوتاچلاجاتا ہے۔ لا ک کے خیال میں لوگوں کے پروڈینٹ ہونے کے لیے یہ بھی ضروری کہ ان کے پاس سرمایہ دارانہ ملکیت ہو۔ وہ لکھتا ہے:

Where there is no property, there is no justice.

اور سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ ملکیت کھنچ کھنچ کر نہایت محدود لوگوں کے پاس مرتکز ہو جا تی ہے اور ذاتی ملکیت کا دائرہ کار نہایت محدود ہو جاتا ہے۔Imprudentعوام کا وجود سرمایہ دارانہ ریاست اور معاشرہ میں لازم ہے اور Imprudent افراد سے اختیارات طلب کر نا سر مایہ دارانہ قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی کو Rule of law (قانون کی حکمرانی) کہتے ہیں اور Rule of law ،Rule of Capital کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

2.2۔لاک کے سیاسی نظریات

Rule of law یعنیRule of Capital کامقصد لوگوں کو پروڈینس کو قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہی لبرل تصورِ آزادی لاک کے مطابق ’’فطری دور(state of nature)“میں موجود تھااور لوگ اس بات سے واقف اور اس نظریہ کے قائل تھے کہ ان کو Prudent ہونا چاہیے لیکن کوئی ایسا نظام اور ضابطہ اقتدار موجود نہیں تھا جو لوگوں کو اس بات پر مجبور کرے کہ ان کا عمل Prudentہو۔ اگر کوئی فرد اپنے قلیل المدت ذاتی مفاد کو فروغ دینے کے لیے اجتماعیت کے طویل المدت مفاد کونقصان پہنچائے تو اس کو اس بات سے باز رکھنے والی یا سزا دینے والی کوئی طاقت موجود نہیں تھی اور معاشرے میں جنگ برپا ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ جنگ کے اس امکان کو ختم کر نے کے لیے ’’فطری دور‘‘سے معاشرتی دور (Civil society) کی طرف مراجعت نا گزیر ہے۔ یہ مراجعت اس لیے ضروری ہے کہ ’’قانونِ فطرت‘‘ کی کوئی تنظیمی قوت نہیں ہو تی۔قانونِ فطرت کا تصور سینٹ آگستائن نے چوتھی صدی میں دیا تھا اور سود لینے دینے کو ’’قانونِ فطرت‘‘ کے خلاف حرام قرار دیا تھا۔ اس کے بر عکس اس نے سود کی توجیہ بھی اسی قانونِ فطرت کی بنیاد پر بیان کی ہے۔لاک کے خیال میںLaw of Natureیعنی قانونِ فطرتLaw of Reason ہی ہے لیکن لاک اور قرونِ وسطیٰ کے عیسائی تصورِ قانونِ فطرت میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ عیسائی مفکرہی قانونِ فطرت کو اس عقلیت سے تعبیر کرتے تھے جو رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ تھی۔ ظاہر ہے کہ لاک کا تصور Law of reason اس سے مختلف ہے۔ لاک کے مطابق عقل کا تقاضا یعنی Law of Reason / nature یہ ہے کہ فرد Prudent ہو۔

فطری دور(State of nature)میں فرد اپنے حقوق کا تحفظ خود کرنے پر مجبور ہے۔ اس مجبوری کوختم کرنے کے لیے ایک ملک کے باشندے ایک خاص نوعیت کامعاہدہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قومی ریاستیں اور حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔یہ معاہدہ عالمی نہیں ہوتااور عالمی سیاسی نظام فطری دورہی میں رہتا ہے کیوں کہ عالمی سطح پر کوئی مقتدر (Sovereign) حکومت نہیں قائم کی جا سکتی۔قومی حکومت کے قیام کا بنیادی مقصد لاک کے مطابق لوگوں کی ملکیت کا تحفظ ہے۔قومی حکومت قوانین کے ذریعے یہ فریضہ انجام دیتی ہے۔ ریاستی قوانین،قوانینِ فطرت پر مبنی ہیں اور بنیادی قانونِ فطرت یہ ہے کہ ہر شخص کی پراپرٹی محفوظ رہے۔ اپنی پراپرٹی سے کُلّی طور پر متمتع ہونا ہر شخص کا فطری حق ہے۔ ریاستی قوانین افراد کو ان کی ملکیت سے متمتع کر نے کے لیے وضع کیے جا تے ہیں۔ گو کہ فطری قوانین سے ان کا تعلق ہوتا ہے(فطری قوانین خدا نے بنائے ہیں،گو کہ وہ کہیں لکھے ہوئے نہیں ) لیکن ان کا ماخذایک معاشرتی معاہدہ ہوتا ہے انجیل یا عیسائی تفکرات نہیں۔

لاک کے مطابق یہ معاشرتی معاہدہ ایک ملک کے تمام شہریوں کے درمیان کیا جا تا ہے اور انہی معاہدہ کرنے والوں میں چند کو حکومت چلانے کا اختیار سونپا جاتا ہے۔حکومت کرنے والے اس معاہدہ کے پابند ہوتے ہیں اور اگر وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف بغاوت (Civil War)جائزہے۔چوں کہ اس معاہدے کا مقصدپراپرٹی سے متمتع ہونا ہوتا ہے لہٰذا جن کے پاس پراپرٹی نہیں وہ اس معاہدہ میں شریک نہیں ہو سکتے۔ مطلق العنان بادشاہ بھی اس ریاست کا شہری نہیں ہو سکتا کیوں کہ وہ اس معاہدہ میں شریک نہیں ہو تا بلکہ اپنی ذاتی مرضی کی بنیاد پر قانون سازی کر کے ہر شے کو اپنے تابع کر لیتا ہے۔اس معاشرتی معاہدہ کے تحت عوام اپنے حقوق کے تحفظ کا انفرادی حق اپنی ایک نمایندہ حکومت کو سونپ دیتے ہیں[16]۔ حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی فرد سے اس کی ملکیت چھین لے۔ ٹیکس کی وصول یابی کے جواز کے طور پر لاک یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ ایک نمایندہ حکومت میں ٹیکس عوامی اکثریت کی منظوری کے مطابق وصول کیے جاتے ہیں لیکن وہ اکثریت کا یہ حق تسلیم نہیں کرتا کہ وہ کسی فرد کو اثاثوں سے محروم کر دے۔ لاک کے مطابق اثاثے پراپرٹی کا صرف ایک جزو ہیں۔حکومت کو یہ حق بھی نہیں کہ اپنے شہریوں کو کسی خاص عقیدہ کا پابند ہونے پر مجبور کرے۔حکومت کو لازماً سیکولرہونا چاہیے، معاشرتی معاہدہ میں مضمربنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہر شہری کا مقدم مقصدِ حیات اپنی پراپرٹی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا ہے اور اس مقصدِ حیات کو حاصل کرنے کے لیے وہ ریاست قائم کر تا ہے لہٰذا ریاست تمام دیگر عقائد کو لغو اور لایعنی گردانتی ہے۔ تمام دیگر عقائد کو انہی معنوں میں یکساں گردانتی ہے کہ وہ یکساں طور پر لغو اور بے معنی ہیں اور نظام عدل اور اقتدار کے قیام اور کارفرمائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

لا ک نے اپنے تصور ’’پراپرٹی ‘‘ کو اپنے نظریہ قدر سے اخذ کیا ہے اس نظریہ قدر کو Labour Theory of Value کہتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق انسان اپنی محنت کو قدرت میں شامل کر کے پراپرٹی حاصل کرتا ہے۔ مثلاً جنگل میں جو سیب اُگ رہے ہیں وہ کسی کی پر اپرٹی نہیں۔ جب ادریس اسماعیل ان سیبوں کو چنتا ہے تو وہ ادریس اسماعیل کی پراپرٹی بن جاتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ادریس اسماعیل نے قدرت میں اپنی محنت شامل کر کے ان کو اپنا بنایا ہے خود بخود یہ سیب ادریس اسماعیل کے پاس کبھی نہ آتے۔اگر ہوا کا جھکڑ چلنے کی وجہ سے اس کے سر پر تابڑ توڑ گرتے تو ادریس اسماعیل بے ہوش ہو جاتا۔ہر وہ شے جس میں کسی نے اپنی محنت شامل کی ہے اس شخص کی ملکیت ہو جاتی ہے۔لاک ابتدا میں ملکیت کی تحدید کا قائل نظر آتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ایک شخص کو اتنے آلوچے(Plums)نہیں اُگانے چاہییں جن کا وہ استعمال نہ کر سکے اورآلوچے سڑ جائیں۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ سونا چاندی کے انبار جمع کرنے کی کوئی حد نہیں کیوں کہ سونے اور چاندی کے سڑنے کا کوئی امکان نہیں۔لہٰذا زرکے تصوّر کی عمومیت نے ملکیت کی تحدید کو عملاً ختم کر دیا ہے۔جب تک محنت زر میں متشکل ہوتی رہے ملکیت کے اضافہ کی کوئی حد نہیں۔ لاک کے خیال میں زر کی تخلیق اسی معاشرتی معاہدہ کے نتیجہ میں عمل میں آئی ہے جس کے نتیجہ میں حکومت قائم کر کے ’’فطری دور‘‘سے سول سوسائٹی تک مراجعت ممکن ہوئی۔

سول سوسائٹی کے قیام کا مقصد پراپرٹی کا تحفظ اور فروغ ہے۔پراپرٹی کی جو تعریف لاک کرتا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ لاک کی مراد سرمایہ دارانہ ملکیت ہے۔لاک کے مطابق پراپرٹی کے تین اجزاء ہیں: انسانی جان،انسانی آزادی اورانسانی املاک۔جب ان تینوں اشیاء کو مربوط کر کے سرمایے کی بڑھوتری کی جستجو کی جاتی ہے تو پراپرٹی کو نمو میسر آتی ہے جہاں اور جس معاشرے میں یہ تینوں ایک دوسرے سے مربوط نہیں وہاں پراپرٹی فروغ نہیں پاتی۔انفرادی ملکیت کو ہیومن رائٹس اور جسمانی محنت میں شامل کرنے سے ہی پراپرٹی یعنی سرمایہ دارانہ ملکیت وجود میں آتی ہے اور فروغ پاتی ہے ۔ انسانی جان کا تحفظ اور شخصی آراء اور اعتقادات میں تنوع کا تحفظ اس بات سے مشروط ہے کہ یہ انسانی جان اور اعتقادات اور املاک، پراپرٹی کی بڑھوتری کے لیے وقف ہوں۔یہی وہ معاشرتی معاہدہ ہے جس کی بنیادپر بقول لاک سول سوسائٹی قائم ہوتی ہے اور عمل کرتی ہے۔جو افراد اپنی جان، اپنی آراء اور اعتقادات اور اپنی ذاتی املاک کو پراپرٹی کی بڑھوتری کے لیے استعمال نہیں کرتے وہ اس معاشرتی معاہدہ سے باہر ہیں جیسے کہ امریکا کے قدیم باشندے ریڈ انڈینز۔ان ریڈ انڈینز کو اجتماعی طور پر تین صدیوں تک قتل کرنا، ایک پورے براعظم میں پھیلی ہوئی ان کی املاک کو غصب کرنا اور ان کی معاشرتی زندگی اورتہذیب کو کچل دینایہ سب لاک کے پیروؤں نے اپنافرض سمجھ کر ادا کیا اور کہا کہ ہم اس پر مجبور ہیں کیوں کہ اس کے بغیر امریکا میں پراپرٹی فروغ نہیں پا سکتی، قتل عام اورمنصوبہ بند لوٹ مار کے بغیر سرمایہ کا ارتکاز ناممکن ہے۔حکومت کامقصد پراپرٹی یا Capital accumulation کافروغ ہے ۔لاک نے ریاست[17] کا جو خاکہ پیش کیا ہے وہ اس کی رائے میں پراپرٹی یعنی Capital accumulation کے فروغ کے لیے سب سے بہتر سیاسی ادارہ جاتی صف بندی ہے۔

مجلسِ آئین و اصلاح و رعایت و حقوق

یہ بھی ایک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

لاک کے مطابق ریاست ان سطح پرمشتمل ہونی چاہیے:

۱۔مقننہ (Legislative) ۲۔ انتظامیہ (Executive) ۳۔ عدلیہ(Judiciary)

ان تینوں اداروں کو ایک دوسرے سے آزادہوناچاہیے۔مقننہ کو بالادست ہونا چاہیے اور اگر انتظامیہ مقننہ کی بالادستی کو قبول نہ کرے تو اس انتظامیہ یعنی حکومت کے خلاف سول وار نہیں عوامی بغاوت برپا کرنا جائز ہے۔جب تک مقننہ کی بالادستی عملًاتسلیم کی جاتی رہے عوامی بغاوت جائز نہیں۔ مقننہ لازماً پراپرٹی رکھنے والے عوام کی نمایندہ ہونی چاہیے اور پراپرٹی رکھنے والے عوام کو اس کاحق ہے کہ گاہے گاہے مقننہ کو منتخب کریں اور ان انتخابات کی بنیاد پرہی حکومتیں قائم کی جائیں۔

لاک کے مطابق پراپرٹی محض املاک نہیں بلکہ پراپرٹی میں جان اور آراء بھی شامل ہیں۔ پراپرٹی ان جانوں، آراء اوراملاک کوکہتے ہیں جوبڑھوترئ سرمایہ کےلیے وقف کی جائیں۔ مقننہ انہی جانوں، آراء اور املاک کی نمایندہ ہوتی ہے۔ اگر ملک میں تمام افراد اپنی جانیں، آراء اور املاک بڑھوترئ سرمایہ کے لیے وقف کر دیں تو بالغ رائے دہی کے اصول کی بنیاد پر مقننہ وجود میں آ کر کام آ سکتی ہے۔لاک کے دور میں انگلستان میں ایسا نہ تھا۔لہٰذا لاک نے غریب طبقہ اور عورتوں کو رائے دہندگان کی صف سے خارج کرنے کی سفارش کی۔ اسی طرح جب امریکی دستور بنا (لاک کے مرنے کے تقریباً۸۰ سال بعد) تو عورتوں، غلاموں اور ریڈانڈینز کو (جو دھڑا دھڑ قتل کیے جارہے تھے) رائے دہندگانِ ریاست کے شہری شمار نہ کیا گیا۔یہ اس لیے کہ انگلستان کی عورتیں اور غربا اور امریکا کے ریڈ انڈینز غلام اور عورتیں اپنے ہیومن بینگ ہونے کا شعور نہیں رکھتے تھے اور انہوں نے اپنی جانوں، آراء اور املاک کو بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔

آج ساری دنیا میں بالغ رائے دہی کے اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن مستحکم سرمایہ دارانہ حکومتیں صرف ان علاقوں میں بنائی جا سکتی ہیں جہاں عمومی طور پر جانوں، آراء اور املاک کو بڑھوترئ سرمایہ کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔ یہ بات یورپ، امریکا (شمالی و جنوبی) ،روس اور بھارت وغیرہ کے بارے میں یقین سے کہی جا سکتی ہے لیکن ایران، لبنان، الجیریا اور مصر کے انتخابی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ بالغ رائے دہی کے اصول کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ ریاست کی تسخیر کی جدوجہد کو آگے بڑھانا بھی ممکن ہے۔ لہٰذا جہاں بھی استعماری سرمایہ دارانہ قوتوں کے لیے ممکن ہوتا ہے وہ ایسے انتخابات کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومتوں کو ختم کر دیتی ہیں جن کے ذریعہ وہ لوگ برسراقتدار لائے ہوں جنہوں نے اپنی جانیں، آراء اور املاک بڑھوترئ سرمایہ کے سپردنہ کی ہوں اور نہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن استعمار کے لیے ایسی سرمایہ دارانہ مخالف حکومتیں برطرف کرنا ہر جگہ ممکن نہیں۔ انہوں نے مصر میں اور الجزائر میں یہ کامیابی سے کر دیا ہے لیکن ایران، لبنان اور غزہ میں یہ نہ کر سکے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پرقائم انتخابی عمل کو سرمایہ دارانہ نظام کی تسخیر کے لیے مخصوص حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

3۔امانوئل کانٹ

جرمن فلسفی کانٹ (۱۷۱۴ءتا۱۸۰۴ء) اپنی سیاسی فکر میں لاک اور روسو سے متاثر تھا۔ وہ تجربیت (Empiricism)کا مخالف تھا اور اس نے لبرل سرمایہ دارانہ سیاست کی معروضی (Abstract) اخلاقی فلسفیانہ بنیادیں فراہم کیں جن کو بعد میں Deontologicalآدرش کہاگیاہے۔امانوئل کانٹ(Immanuel Kant) کا نظریۂ ریاست (Reichkstat) اس کے تصورِ قانون اور تصورِ دائمی امن (Eternal peace)پر مبنی ہے۔

کانٹ کے تصورِ ریاست کو Reichkstatکہتے ہیں، ریخ اسٹیٹ وہ نظام اقتدار ہے جس کی بنیاد قانون پر مبنی ہو۔ ریخ اسٹیٹ قانون کے ذریعے امن قائم کرتی ہے اور برقرار رکھتی ہے۔ قیام اور استحکامِ امن قومی اور بین الاقوامی سطح پر ریخ اسٹیٹ کا اصل وظیفہ ہے۔ اس امن کی بنیاد پر قانون اور یہ قانون عقلیت کی بنیاد پر وضع کیا جاتا ہے۔ انسانی فطرت اور تاریخِ انسانی بقول کانٹ کا تقاضا ہے کہ ریخ اسٹیٹ قائم کی جائے تاکہ عقلی بنیادوں پر آزادی کی جستجو Univeraslisable ہو سکے اور امن قائم رہ سکے۔

کانٹ کے نظریہ کے مطابق فطرتِ انسانی آزادی اور اٹانومی (Autonomy) کی متقاضی ہےجب کہ قوانینِ فطرت انسان پر جبر مسلط کرتے ہیں لہٰذا فطرتِ انسانی اور کائناتی نظام (Physical nature)میں تضادہے، ظاہری اشیاء کو کانٹ فنومینا (Phenomenon) کہتا ہے اور اس کے خیال میں ان ظاہری اشیاء اور کیفیات کو ہم سائنس (Science) کے ذریعے جان سکتے ہیں، اس کے برعکس اشیاء کی حقیقت کو وہ نومینون (noumenon) کہتاہے اور ان کو تیقن کے ساتھ جانا جا سکتا ہے لیکن مورالٹی (Morality) ان نومینون (noumenon) کاکچھ نہ کچھ شعور حاصل کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔عقل کے ذریعے نومینون کی لاعلمی کے باوجود انسان آزادی حاصل کرتا ہے اور آزادی تسخیر کائنات کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے۔

اس آزادی کوکانٹ اٹانومی (Autonomy)کہتا ہے۔ ایک اٹانومسٹ (Autonomist) انسان ان معنوں میں آزاد اور خودمختار اور خودتخلیقی ہے کہ وہ اپنا تصورِ خیر اور شر ضابطہ اخلاق اور تصورِ حیات و کائنات خود متعین کرتا ہے، وہ کسی خارجی قوت مثلاً خدا، فطرت یا تاریخ پر انحصار نہیں کرتا بلکہ وہ ایک خودمختار قانون ساز(Legislator)ہے۔ وہ اشیائے کائنات (Phenomenon) کو ان کی حقیقت ودیعت کرتاہے۔ وہ صرف ان قوانین کی اطاعت کاقائل ہے جو اس نے خود اپنی مرضی سے تخلیق کیے ہیں اور یہ قوانین مقدس اس لیے ہیں کہ ان قوانین کو نوعِ انسانی کے ہر فرد پر اس طرح لاگو کیا جا سکتا ہے کہ اس کی اٹانومی فروغ پائے۔ کانٹ کے مطابق کسی قانون کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ

یہ قانون انسانوں کے درمیان تفریق نہیں کرتا اور ان معنوں میں غیر جانب دار (Impartial) ہے کہ اس کے اطلاق کے نتیجے میں ہر انسان کی اٹانومی (خود مختاریت اور خود تخلیقیت) فروغ پاتی ہے۔ یہ خود تخلیقی یونیورسلائزایبل قانون، قانونِ سرمایہ داری ہے، اور کانٹ Rule of Law سے Rule of Capital ہی مراد لیتا ہے۔ اس یونیورسلائزایبل قانون کو کانٹ (Moral law)کہتا ہے اور یہ مورل لاء آزادی کی آفاقیت کی تشریح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانٹ کی اخلاقی (Moral)فکر کو راز (Raz) نے Morality of freedom کہا ہے، انسان (جس کو آئندہ ہیومن بینگ کہا جائے گا،کانٹ یہ اصطلاح استعمال نہیں کرتا) اصولاً پابند تو صرف اس قانونِ آزادی (Moral law)کا ہے جو اس نے خود تخلیق کیا لیکن قوانیِن فطرت نے اس کو عملًا مجبور کر رکھا ہے کہ اپنی خواہشات کی تکمیل لازماً فطری قوانین کے ماتحت کرے۔ لہٰذا آزادی کے دائرہ کار اور ضرورت کے دائرہ کار میں تضاد اور تصادم موجودہے اور انسانی جدوجہد ضرورت کے دائرہ کار سے آزادی کے دائرہ کار کی طرف مراجعت کی جستجوہے۔ ضرورت کو آزادی کا بتدریج تابع کر کے انسان نیک عمل ( یعنی وہ عمل جو آزادی کو فروغ دے) کو حصولِ لذات (Happiness)کا ذریعہ بنا سکتے ہیں[18]۔ فطرت کو فروغِ آزادی کا ذریعہ بنانا ممکن بھی ہے اور ناگریز بھی۔کانٹ کے مطابق سیاسی عمل حصولِ لذات کی جدوجہد کو جدوجہد ِارادی میں سمونا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب سیاسی نظام رائٹ آف مین(Right of man)کے تفوق کا اظہار ہو۔ رائٹ آف مین، ہیومن رائٹ ہی ہےاور اٹانومی کو سیاسی شکل دینا ان کا اصل وظیفہ ہے۔ ہیومن رائٹ کی تقدیم کی بنیاد پر ایک ایسا سیاسی نظام تشکیل کیا جا سکتا ہے جہاں حصولِ لذات کی جدوجہد کو اس بنیاد پر جواز فراہم کیا جا سکے کہ یہ جدوجہد یونیورسلائزایبل ہو۔ یہی سرمایہ دارانہ نظام زندگی ہے جہاں عمومی لذات کو اس طرح بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مجموعی لذات کے اضافے کے نتیجے میں معاشرے کا ہر فرد اپنی خواہشات کی تکمیل کا زیادہ سے زیادہ مکلف ہو جائے۔ 

کانٹ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ حصولِ لذات کی جدوجہد ہی فروغِ آزادی کا ذریعہ بن سکتی ہے، گویا امنِ عامہ آزادی کے فروغ کی جدوجہد کا منطقی تقاضا ہے لیکن لاک کے اثر کے تحت کانٹ تسلیم کرتا ہے کہ امن کا فروغ تحفظِ جان اور پراپرٹی کی جستجو کے نتیجے میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ہیومن رائٹس کی یہی تقدیم سول سوسائٹی کے قیام کی بنیاد بنتی ہے۔بقول کانٹ سول سوسائٹی تاریخی طور پر اس لیے قائم ہوتی ہے کہ سول سوسائٹی میں حصولِ لذات سہل ثابت ہو۔سول سوسائٹی کا اصل مقصد لذات کا فروغ اور پراپرٹی کا تحفظ ہوتا ہے۔

3.1۔ رائٹس آف مین یعنی ہیومن رائٹس

کانٹ کے مطابق بنیادی ہیومن رائٹ حق خود تخلیقیت (Right of self determination) ہے۔ ہر فرد کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ کسی ایسے قانون کو جائز نہیں گردانے گا جس کو اس نے بلااکراہ خود تخلیق نہ کیا ہو۔ جب فرد اس عقیدے کو قبول کر لیتا ہے تو وہ بالغ (Mature) اور روشن خیال (Enlightened) ہو جاتا ہے۔
بالغ اور روشن خیال فرد اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ تمام افراد کی اخلاقی قدر(Moral worth) یکساں ہے اسی لیے ہیومن رائٹس سب کی مشترکہ پراپرٹی ہے، یہ کہ تمام افراد خود تخلیقیت کے یکساں حق دار ہیں عقلیت کا لازمی مفروضہ ہے۔ تعقل (Reason) یا تفہیم (Understanding) سے ثابت نہیں بلکہ اس عقیدے کو قبول کیے بغیر عقلیت اور تفہیم ممکن نہیں۔ بقول کانٹ Original Causeکو لازم فرض کیے بغیر مادی Effect کو نہیں سمجھا جا سکتا اور سائنسی علم ناممکن ہو جاتا ہے۔مادی دنیا کی تفہیم اسی وقت ممکن ہے جب ایک روشن خیال فرد اپنے ذہن میں مضمر بلاثبوت(A priori)مفروضات کی بنیاد پر ان اطلاعات کو تصوراتی شکل میں ڈھالے جو تجربہ فردکے ذہن کو فراہم کرتا ہے۔ خودانحصاریت ایک درست نظریہ ہے اس لیے نہیں کہ یہ عقل سے ثابت ہے بلکہ یہ تسخیرکائنات کو ممکن بنا کر نوعی آزادی کو فروغ دیتا ہے۔ خدا کو مسبب الاسباب سمجھنا ایک غلط نظریہ ہے اس لیے نہیں کہ یہ عقل کے خلاف ہے بلکہ اس لیے کہ یہ نوع کی آزادی اور اس کی خودتخلیقیت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ تسخیر کائنات یعنی سرمایہ داری کی جدوجہد فروغِ شعورِ خود تخلیقیت ہی کی جدوجہد ہے۔ چوں کہ انسانی تاریخ میں لبرل سرمایہ داری کے ظہور سے قبل خود تخلیقیت کی سیاسی جدوجہد کبھی نہ کی گئی لہٰذا ہیومن رائٹس کے بقاء اور استحکام کے لیے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا جا سکتا۔ لبرل سرمایہ داری سے پہلے کی تاریخ ظلمت کی تاریخ (Dark ages)ہے، آزادی کے خواہاں افراد اس سے کچھ نہیں سیکھ سکتے۔ ہیومن رائٹس کا مآخذ تاریخ انسانی یامسودہ مقدس (کانٹ کی مراد بائبل سے ہے) نہیں بلکہ روشن خیال ہیومن بینگ کا وجدان، میلانات اور جبلی مفروضات ہیں جو اس کو تسخیرکائنات (سرمایہ داری) کےلیے عقل اور تجربہ سے کام لینا سکھاتی ہیں۔ روشن خیال ہیومن بینگ کے عمل اور فکر کی واحد تحدید نوعی آزادی فراہم کرتی ہے۔ خدا، رسول، امام، مرشد، استاد، ماں باپ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بالغ روشن خیال ہیومن بینگ کے فکر یا عمل کا تعین کریں کیوں کہ تسخیر کائنات یعنی فروغِ لذات کے ذریعے ہی آزادی میسر آتی ہے۔ لہٰذا روشن خیال ہیومن بینگ کے فکر و عمل کا تعین صرف شیطان (یعنی نفس امارہ )کو تفویض کیاگیاہے۔

عقل نفس (Will)کی مطیع ہے کیوں کہ بقول کانٹ نفس خیر ہے۔ نفس (Will) خیر (Good) ہے خواہ اس کا مقصد خیر کا حصول ہو یا نہ ہو۔ نفس قانون کی مکمل تابع داری اس وقت قبول کرتا ہے جب قانون نفس کے ارادوں کا غماز اور اس کا تعمیر شدہ ہو۔ قانون روشن خیال ہیومن بینگ کے will کا عکس ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت قانونِ نفس (یعنی شیطان)ہی کی اطاعت ہے۔کانٹ ہر ہیومن بینگ کی مساوی Dignity کا قائل ہے کیوں کہ اس کی رائے میں ہیومینیٹی (یعنی شیطنت بقول فاسٹر) خود ڈگنیٹی (شرف) ہے یہ شرف انسان اس وقت کھوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو (یا کسی اور انسان کو) غیرکے ارادے کے تابع کرتاہے۔ اپنے نفس کا بندہ مشرف ہے، عبداللہ ہیومن بینگ نہیں۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حصولِ رضائے الٰہی کے لیے اپنی زندگی وقف کرے، یہ ہیومن رائٹس کے متضاد ہے۔ ایسا انسان اٹانومس نہیں Hetronomous ہوتا ہے، اور یہ ہیومینیٹی کی تذلیل ہے۔ہر فرد اپنے نفس کا بندہ یعنی ہیومن بینگ بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اس کو جانوروں سے ممیز کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس کی تعظیم اور عمومی فراہمی کے نتیجے میں تمام انسان اٹانومس بن جائیں گے اور یہ اپنی عقلیت کو اپنی نفسانیت کے تابع کر دیں گے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ سیاسی نظام میں تمام انسانوں کو خواہ وہ ہیومن بینگ ہوں یا نہ ہوں، مساوی قدر کا حامل تصور کیا جاتا ہے اور ہیومن رائٹس سب کو فراہم کیے جاتے ہیں۔

نفس خیر مطلق صرف اس لیے ہے کہ وہ صرف اپنی تابع داری کا اس انداز میں قائل ہے کہ اس کے احکامات قانون کے ذریعے یونیورسلائزایبل ہوں۔ایسے قانون کی تکریم فرضِ عین ہے جو نفس کے یونیورسلائزایبل احکامات کاغماز ہو۔ اس کی وضاحت کے لیے کانٹ ایک مثال دیتاہے، وہ پوچھتا ہے کہ مجھ کو ایک ایسا قرض واپس کرنے کاوعدہ کرناچاہیے جو میں جانتا ہوں میں واپس نہیں کر سکوں گا؟ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اگر سب لوگ ایسے قرض واپس کرنے کا وعدہ کریں جو وہ جانتے ہیں کہ وہ کبھی واپس نہیں کر سکتے تو قرضوں کا پورا نظام بیٹھ جائے گا اور پراپرٹی ختم ہو جائے گی۔ چوں کہ یہ فعل یونیورسلائزایبل نہیں لہٰذا نفس کی اتباع اس سے اجتناب کرنے میں ہے، اس کے کرنے میں نہیں۔ نفس کا ’’حکم مطلق یہ ہے کہ ان فیصلوں کے مطابق عمل کیا جائے جو یونیورسلائزایبل ہوں“۔ یہ وہ واحد فرض عین ہے جس کو کانٹ قبول کرتاہے اور اسی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تصدیق کی جاتی ہے کیوں کہ نفس کی خواہشات کے حصول کی جدوجہد کو سرمایہ کے ذریعے ہی یونیورسلائز کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری سے تمام انسان مستقلاً مستفید ہو سکتے ہیں کیوں کہ جب سرمایہ، سرمایہ دارانہ زر کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کی بڑھوتری کی کوئی حد نہیں رہتی لیکن اس حکم مطلق (Categorical imperative) کی بنیاد پر سرمایہ کی بڑھوتری کے وہ طریقے استعمال نہیں کیے جا سکتے جو یونیورسلائز ایبل نہ ہوں۔

حکمِ مطلق کاتقاضا ہے کہ ہر فردکے نفس کے احکام کی تکریم کی جائے اور اس کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ اپنے نفس کے یونیورسلائزایبل احکام کی اتباع کرے۔ ہر فرد end-in-himself ہے ان معنوں میں کہ اس کی یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کا حصول سب کا مقصد ہے کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں۔ چوں کہ بڑھوترئ سرمایہ وہ واحد عملی ذریعہ ہے جو ہر فرد کی خواہشات کی یونیورسلائزایبل تکمیل کو ممکن بناتا ہے لہٰذا عملی طور پر حکم مطلق بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو مہمیز دینے کے علاوہ کچھ نہیں ،یہی ہیومن رائٹس کی بنیاد ہے[19]اور اسی فرضِ عین کی ادائیگی (”حکم مطلق“ کی ادائیگی) آزادی اور پراپرٹی کے تحفظ اور فروغ کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔

خود مختار اور خود تخلیقی نفوس ایک ’’سلطلنتِ مقاصد“(Kingdom of ends) تعمیر کرتے ہیں جس میں تمام افراد فرضِ عین (حکم مطلق) کے مطیع ہوتے ہیں اور ایسے قوانین وضع کرتے ہیں جو اس فرضِ عین کی ادائیگی کےلیے معقول، ضروری اور جامع ہوں۔ ’’سلطنت مقاصد“ ایک ایسی ری پبلک ہے جہاں ہر سٹیزن راعی بھی ہے اور رعایا بھی، وہ خواہشاتِ نفسانی کی یونیورسلائزیشن کی تکمیل کے لیے قانون سازی کرتا ہے اور ان قوانین کی اتباع کو اپنا فرضِ عین گرادنتا ہے۔اس ری پبلک میں جو قانون نافذہوتے ہیں وہ لازماًLaw of capitalان معنوں میں ہوتے ہیں کہ بڑھوترئ سرمایہ کی مستقل جدوجہد وہ واحد عملی طریقہ ہے جس کے ذریعے یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل اور فروغ ممکن ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ تکمیل اور فروغِ خواہشات نفسانی کا کوئی اور عملی ذریعہ موجود نہیں۔ اس ری پبلک میں ہر سٹیزن کا واحد باہمی فرضِ عین بڑھوترئ سرمایہ کی یونیورسلائز یشن کے لیے مستقل جدوجہدہے۔

اس ری پبلک کا کلیدی تصورِ نیکی ”عدل“ ہے۔ ری پبلک میں ”عدل“ کے قیام کے لیے ہر خود مختار، اور خود تشکیلی فردکےلیے ضروری ہے کہ وہ ہر دوسرے فرد کی خود مختاریت اور خود تشکیلیت کو تسلیم کرے اور یونیورسلائز ایبل قوانین کی اتباع کی بنیاد پر اپنی ذاتی خواہشاتِ نفسانی کی جدوجہد کو منظم اور محدود کرے۔ہر نظام زندگی کا اپنا تصور عدل ہوتا ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور قول ہے کہ ’’کافر حکومت چل سکتی ہے ظالم حکومت نہیں چل سکتی“۔ اس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد یہ ہے کہ جو حکومت خود اپنے تصورِعدل پہ قائم نہ ہو وہ نہیں چل سکتی۔ یہاں کانٹ سرمایہ دارانہ تصورِ عدل پیش کر رہاہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست میں سرمایہ دارانہ عدل قائم کرنے کی کو شش کی جاتی رہتی ہے،اس میں اسلامی تصورِ عدل یعنی نفاذِشریعت قائم نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ دارانہ عدل کی ایک اور تشریح Theory of marginal productivityہے جو انیسویں صدی میں پیش کی گئی۔ ری پبلک میں نفس کی کسی خواہش کو اصل (Intrinsic) قدر تسلیم نہیں کیا جاتا، کوئی عمل یا خواہش قدر نہیں رکھتا۔ وہ Valueless ہے اور ان معنوں میں تمام اعمال اور خواہشات مساوی یعنی صفر قدر کے حامل ہیں لیکن وہ قدرِ مطلق کے حصول کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ”خیر مطلق“ ری پبلک کے مجموعی سٹیزن کی خواہشاتِ نفسانی کی یونیورسلائز یشن کر کے انتہائی تسکین کے حصول کی جدوجہد ہے۔ اسی جدوجہدکے نتیجے میں ہر سٹیزن دوسرے سٹیزن کی اٹانومی کو باہمی تعاون کی بنیاد پر فروغ دیتاہے۔ عملاً یہ صرف بڑھوترئ سرمایہ ہی سے ممکن ہے لہٰذاکانٹ کی ”سلطنتِ مقاصد“ کے قیام کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو وسعت دینا ہے اور تمام انفرادی اعمال کی قدر بڑھوترئ سرمایہ کے عمل میں اپنا حصہ ڈالنے سے ہی بنتی ہے اور اس فرضِ عین کی ادائیگی میں سب افراد معاون ہیں۔ یہ فرضِ عین ہر سٹیزن کے لیے لازم کرتاہے کہ:

یہ ری پبلک میں مقدم اور اعلیٰ ترین انفرادی فرائض ہیں اور انہی سے ہیومن رائٹس برآمد ہوتے ہیں۔ اور ان حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کیے بغیر بڑھوترئ سرمایہ کی جدوجہد کو منظم نہیں کیا جا سکتا۔ کانٹ کے مطابق حقوق صرف قانونی ہوتے ہیں اخلاقی نہیں ہوتے ہیں۔ وہ اخلاقیات جن کی عیسائیت تصدیق کرتی ہے قانون کا جواز یا اس کی بنیاد فراہم نہیں کرتےکیوں کہ یہ قانون Law of capitalہے Law of God نہیں۔ ری پبلک کے نمایندہ منتظم کا فرض ہے کہ وہ یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کے حصول کے لیے قانون سازی کرے اگر یہ قوانین عیسائی تصورِ اخلاق سے متصادم ہیں تو یہ ان کی حکم عدولی کا جواز نہیں، ری پبلک کا سٹیزن ہر حال میں ان قوانین پر عمل کرنے کا ذمہ دارہے لیکن وہ اس نمایندہ اقتدار کی تبدیلی کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کر سکتا ہے۔

3.2۔پراگرس

کانٹ کے مطابق یونیورسلائز ایبل خواہشات کے تابع عقلیت کےفروغ کے نتیجے میں ایک سرمایہ دارانہ قانونی ریاست کا قیام اور استحکام ہوتا ہے، اس لیگل اسٹیٹ کا وجود ایک خود مختار انفرادیت کے نمو کےلیے ضروری ہے۔ ایک اٹانومس سٹیزن کو پراگرس کے امکان پر ایمان لانا چاہیے گو کہ کانٹ کے مطابق تاریخی عمل پراگرس کی ناگزیریت کو ثابت نہیں کرتا۔ ایک اٹانومس فرد کو پراگرس کے مقاصد (یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کی تسکین یا سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری) کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ بقول کانٹ فطرتِ انسانی اس نوعیت کی جدوجہد میں رکاوٹ نہیں ڈالتی کیوں کہ انفرادی لذات کے حصول کی جستجو اور یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کے حصول کی جدوجہد (جسے کانٹ Virtueکہتاہے) آپس میں متصادم نہیں نہ قوانین فطرت ان دو جدوجہدوں کے ارتباط میں رخنہ انداز ہیں۔ فرضِ عین کی ادائیگی (یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کو فروغ دینا) اور انفرادی اغراض کی جستجو کی جدوجہد ہم آہنگ ہیں۔
تاریخ انسانی سے غرض (Interest) اور فرض (Duty)کی یہ ہم آہنگی واضح ہوتی ہے۔ انفرادی اغراض کی جدوجہد کے ذریعہ ہی یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کا مسلسل فروغ ہوا ہے اور مسلسل ہوتا رہ سکتا ہے کیوں کہ کانٹ کے مطابق انسان بحیثیت نوع کے ابدی ہے۔ ایڈم اسمتھ نے اسی خیال کو”دستِ غیب“ "Doctrine of the invisible hand"کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسمتھ کے مطابق Doctrine of the invisible hand قانونِ فطرت سے ماخوذہے۔ فطرت خود اپنی تسخیر میں ان معنوں میں معاون ہے کہ وہ انفرادی اغراض کی جستجو کو حصولِ آزادی یا بڑھوترئ سرمایہ یا یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کے حصول کے فروغ کاذریعہ بناتی ہے۔ کانٹ کے مطابق اجتماعی مفادات انفرادی کمزوریوں سے ہی برآمد ہوتے ہیں۔ قانونِ سرمایہ کی ریاست کا قیام اور استحکام انفرادی خود غرضیوں، شہوت رانی اور انفرادی حرص و حسدکے فروغ پر لازماً منحصر ہے۔ عقلیت، خواہشات کی پرورش اور نمو کے ذریعے ہی فروغ پاتی ہے۔ عیاشی، استحصال اور تشدد کے ذریعہ ہی سوشل کنٹریکٹ وجود میں آتاہے اور سول سوسائٹی قائم ہوتی ہے۔ خواہشات کو ہوا دے کر ہی فرد اس تنظیم کی ضرورت کو پہچان سکتاہے جس کے قیام کے بغیر یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کا فروغ اور سرمایہ دارانہ قانونی ریاست کا وجود میں آنا ناممکن ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ یعنی سول سوسائٹی اور سرمایہ دارانہ ریاست عیاشی، اغراض، حرص، حسد، شہوات اور دیگر منکرات کی تنظیم اور اظہار کا معقول ذریعہ ہیں۔ خودغرضی، شہوت پرستی اور حسد فطرتِ انسانی کی ناقابل تسخیر اساس ہیں؛ سرمایہ دارانہ معاشرہ اور سرمایہ دارانہ ریاست انہی فطرتی قوتوں کو استعمال کر کے اپنے فرضِ عین(خواہشاتِ نفسانی کی تسکین) کی مسلسل جدوجہد کی ادائیگی کو ممکن بناتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور لیگل اسٹیٹ میں یہ تمام اوصافِ خبیثہ، شہوت رانی، حرص، حسد اور خودغرضی ایک منظم انداز میں فروغ پاتے ہیں۔ فرضِ عین کی ادائیگی کی جستجو ایک ایسی تنظیم فراہم کرتی ہے جو انفرادی سفاکیت کو اجتماعی اشتراکِ عمل میں ڈھال دیتی ہے اور اجتماعی خود غرضیاں اجتماعی انانیت میں سمو دی جاتی ہیں۔

3.3۔سرمایہ دارانہ قانونی ریاست

سرمایہ دارانہ قانون فرضِ عین کی ادائیگی کے ضابطے متعین کرتا ہے۔ فرضِ عین یہ ہے کہ یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی مسلسل جدوجہد کی جائے۔ سرمایہ دارانہ ریاست اسی قانون کی تنفیذ کی تنظیم ہے۔ قانون صرف یہ جانچنے کا پیمانہ فراہم کرتاہے کہ سرمایہ دارانہ فرضِ عین (یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کی جدوجہد) تسلسل سے ادا ہو رہا ہے، اس کا کوئی اور مقصد نہیں۔ اس فرضِ عین کی ادائیگی کے لیے جو وسیلہ ضروری ہے اس کو ہیومن رائٹس کہتے ہیں۔ بنیادی ہیومن رائٹ یہ ہے کہ ہر فرد ہر وہ عمل کر سکنے کا مجاز ہے جس کی ادائیگی سے کسی دوسرے کا حق نہ چھن جائے یا محدود ہو، سرمایہ دارانہ قانون اس ہیومن رائٹ کے فروغ کے علاوہ کچھ نہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست انفرادی آزادی کی ایسی تحدیدات کو ممنوع قرار دیتی ہے جس کے نتیجے میں اجتماعی آزادی کے فروغ میں رکاوٹ ہو۔ وہ صرف اس انفرادیت اور معاشرت کو فروغ دیتی ہے جو یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کے نمو کو بطور ”خیر مطلق“ اور ”عدل“ کے قبول کرتی ہوں۔ لیگل اسٹیٹ سیکولر ان معنوں میں ہے کہ وہ ان تمام مذاہبِ عالم کی دشمن ہے جو خواہشات کے مسلسل اضافے کو تعینِ قدر کا پیمانہ نہیں مانتے (مثلاًاسلام ،عیسائیت،ہندومت وغیرہ)۔ ریخ اسٹیٹ لازماً ایک ری پبلک ہو گی اور اس ریاست کے وجود کا واحد مقصد لوگوں کی انفرادی آزادیوں میں اضافہ ہو گا اور کچھ نہیں۔ اس کے قیام کے نتیجے میں:

یہی سرمایہ دارانہ ملکیت ہے اور اس کے قیام اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حق کی ایسی تشریح کی جائے کہ اُن کی آزادی محدود ہو جو حق (یعنی قانون) کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اُن کی آزادی بھی محدود کرے جن کو سول سوسائٹی میں شامل کیا جانا ناممکن ہے مثلاً ریڈ انڈینز، نوآبادیاتی ممالک کے باشندے، غلام وغیرہ۔

قانون کی تنفیذ (اور اس کے نتیجے میں انفرادی آزادیوں کی تحدید) کی ذمہ داری ایک ایسے نمایندہ اجتماعی نفس کے سپرد کی جائے گی جو ایک معاشرتی معاہدہ کے ذریعے وجود میں لائی گئی ہے۔ اس اجتماعی نفس کے احکامات کے نافذ کردہ احکام کی تکمیل ہر انفرادی نفس کے احکام کی ہی تکمیل ہے۔ چوں کہ اجتماعی نفس ایک ایسے معاہدے کے ذریعے تشکیل پاتاہے جس میں تمام انفرادی نفوس برضا و رغبت شامل ہوتے ہیں اس لیے یہ اجتماعی نفس (جسے کانٹ Body of citizenکہتا ہے) واحدالٰہ (Sovereign) ہے۔ ریخ اسٹیٹ (سرمایہ دارانہ قانونی ریاست) ہر فرد کو یہ آزادی دیتی ہے کہ ہر ایسے قانون کی معقولیت سے انکار کر دے جو باہمی رضا سے قائم ہونے والے اجتماعی نفس نے نہ بنایا ہو۔ اسی وجہ سے سرمایہ دارانہ قانونی ریاست مذہبی قوانین کو لازماً ردّ کرتی ہے اور ان کے جواز کی انکاری ہے۔ انہی معنوں میں سرمایہ دارانہ ریاست لازماً سیکولر طرز حکومت ہوتی ہے۔ کانٹ کے مطابق یہی واحد جائز نظم ریاست و حکومت ہے۔

کانٹ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے دائرہ کار اور اختیارات میں فرق کرتا ہے۔ الٰہ (Sovereign) صرف مقننہ ہے، مقننہ کی الوہیت (Soveregnity) ہی ایک بھیڑ (Mob) کو ایک مہذب اجتماعیت میں تبدیل کرتی ہے اور اگر یہ الٰہ انفرادی آزادیوں کے بلااکراہ اشتراک سے تشکیل نہ دیا جائے تو بھیڑ مہذب اجتماعیت میں نہیں ڈھلتی۔ لہٰذا حصولِ رضائے الٰہی کے لیے قائم کیا گیا نظام (جیساکہ CromwellیاCalvinنے قائم کیاتھا) جائز نہیں، نہ مطلق العنان بادشاہت (مثلاً Louis XIVکا نظام ) جائز ہے۔

3.4۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام

لاک کی طرح کانٹ بھی اس بات کا قائل ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست ملکی سطح پر قائم ہوسکتی ہے، بین الاقوامی سطح پر نہیں کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر سول سوسائٹی قائم نہیں کی جا سکتی اور وہاں State of nature ہی قائم رہتی ہے۔ کوئی مقننہ الٰہ (Sovereign) نہیں ہوتا اور اشتراکِ عمل کا فروغ اور جنگ کی ممانعت انفرادی حکمرانوں کی صواب دید پر منحصر ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ بین الاقوامی نظام میں جنگ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ عالمی الٰہ (Sovereign) کی غیر موجودگی سرمایہ دارانہ نظام کی فطری دَور سے سول سوسائٹی کی طرف مراجعت ناممکن بنا دیتی ہے۔

کانٹ کے خیال میں بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل اختیار کرنا ناممکن ہے۔ اس کی بجائے یہ ممکن ہے کہ انفرادی سرمایہ دارانہ ریاستیں ایک ایسے عالمی دستور کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں جو جنگ کو ناممکن بنا دے۔ اس دستور کی بنیاد ایسے بین الاقوامی معاہدوں پر ہونی چاہیے جو سرمایہ دارانہ ریاستوں کے مابین وقتاً فوقتاً طے کیے جاتے ہیں۔ کانٹ ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے جواس دستور کی شقات کی تشکیل اور تنفیذ کی ذمہ داری ادا کرے۔ کانٹ امید رکھتا ہے کہ جیسے جیسے سرمایہ کی بڑھوتری وقوع پذیر ہو گی اس بین الاقوامی دستور کی حاکمیت اور اس کے دائرہ کار میں اضافہ ہو گا،سرمایہ دارانہ قومی ریاستیں بتدریج اس عالمی دستور کی پابند ہوتی جائیں گی جو امن عامہ کی ضمانت دے گا اور سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو مہمیز دے گا۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں کئی مرتبہ ایسی بین الاقوامی تنظیمیں بنی ہیں۔ سب سے اہم اور وسیع دائرہ کار رکھنے والی تنظیم اقوام متحدہ ہے۔ ۱۹۴۴ء سے اس نے مستقل سرمایہ دارانہ تجارت اور انویسٹمنٹ کے لیے قانون سازی کی ہے۔ اس کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن وغیرہ کے تحت ایک عالمی سرمایہ دارانہ پبلک انتظامی ڈھانچہ وجود میں آ گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے سرمایہ دارانہ جنگ اور امن کی تنظیم میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی وساطت سے ہی دو عظیم سرمایہ دارانہ ریاستوں امریکا اور سویت یونین میں باہمی تعاون ممکن ہوا اور سرد جنگ کے دور میں کبھی ان دو سرمایہ دارانہ ریاستوں میں تصادم نہیں ہوا۔ ۱۹۹۰ء کے بعد سے اقوام متحدہ امریکا کی عالمی بہیمیت کی پشت پناہ اور اس کو قانونی جواز فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر مستقل کام کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ اپنی امن فوج کے ذریعے امریکی جنگیں بھی لڑتی ہے اور عراق، سربیا، نکاراگوا، لیبیا وغیرہ میں امریکی حملوں کو قانونی جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ اس طرح اقوام متحد ہ نے جنگ کو ترقی (پراگرس) کا وسیلہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اقوام متحدہ کی مدد سے وہ عالمی صلیبی جنگ آج بھی جاری ہے جو گیارھویں صدی سے سرمایہ دارانہ عالمی نظام کے غلبے اور پراگرس کے تسلسل کے لیے شروع کی گئی تھی۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ اور امریکا کی کمزوری یہ ہے کہ وہ سرمایہ داری کے خلاف غیر سرمایہ دارانہ جنگ کو محدود نہ کر سکے، یہی چیز ان کو مجاہدین سے مذاکرات پر مجبور کرتی ہے۔ ۲۰۰۵ء میں امریکا اور چین کی کوششوں سے عالمی سرمایہ دارانہ دستور کی تشکیل کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا گیا۔ یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں R2P اعلامیہ کی منظوری ہے۔ اس اعلامیے کے تحت اقوام متحدہ نے استعماری قوتوں کا یہ حق تسلیم کر لیا کہ وہ کسی بھی ایسے ملک میں فوجی مداخلت کر سکتی ہیں جہاں ان کے خیال میں ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ کانٹ سے متاثر فلسفی یورگن ہابرماس اس کو عالمی سرمایہ دارانہ دستور سازی کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل گردانتا ہے۔ عالمی امن کے فروغ کا مطلب سرمایہ دارانہ جنگ اور بین الاقوامی قوانین کو پراگرس (سرمایہ کی بڑھوتری ) کا ذریعہ بناناہے۔ کانٹ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عالمی امن کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذاہب عالم ہیں۔ سرمایہ دارانہ جنگ و امن (وہ جنگ و امن جس کا نتیجہ پراگرس ہو) مذہبی جنگ و امن کو مسخر کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، سرمایہ دارانہ ریاستوں میں باہمی جنگ، کانٹ کے بقول بتدریج ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ ممالک میں عقلیت بتدریج مذہبیت کو فتح کر لیتی ہے اور لوگ ٹولیرینس کی ضرورت کے قائل ہو جاتے ہیں۔ یہ Rational relegion لازماً پراگرس کا ذریعہ بنتا ہے کیوں کہ یہ انفرادی اغراض کے حصول کی جدوجہد کو جواز فراہم کرتاہےجیساکہ کانٹ کے دور میں پروٹسٹنٹ ازم کر رہا تھا۔ اغراض کی آلہ کار سرمایہ دارانہ تجارت اور کمرشل روحانیت کی معاشرتی بالادستی غیر سرمایہ دارانہ جنگ (جہاد) کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ کانٹ لکھتاہے کہ ریاست کا سب سے موثر ہتھیار زر ہے اور جب سرمایہ دارانہ ریاست کے شہری عبدالدینار بن جاتے ہیں تو غیر سرمایہ دارانہ جنگ اور غیر سرمایہ دارانہ امن (نفاذِ شریعت) ناممکن ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ شخصیت دولت کے لامتناہی اضافے کی مستقل متلاشی رہتی ہے اور سرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد کرتی ہے لہٰذا حرص و حسد کی عوامی مقبولیت ہی سرمایہ دارانہ جنگ و سرمایہ دارانہ امن کے استحکام کی ضامن ہیں۔ عوام جتنے روشن خیال ہوں گے غیر سرمایہ دارانہ جنگ اور امن اتنا ہی ناممکن ہو جائے گا۔ روشن خیال اجتماعی سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری کو اپنے واحد فرضِ عین کے طور پر قبول کرتے ہیں۔سرمایہ دارانہ امن کے فروغ کی دو بنیادی ضرورتیں ہیں، ایک یہ کہ لوگ روشن خیال ہوں، دوسرے یہ کہ سرمایہ دارانہ متصادم قوتیں متوازن قوتوں کی حامل ہوں (کانٹ اس کو equilibrium of forceکہتاہے)۔

3.5۔ اخلاقیات اور ریاستی تنظیم

سرمایہ دارانہ متقی کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کی نگاہ میں اپنی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کی جدوجہد اجتماعی خواہشاتِ نفسانی کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہو،اسی چیز کو کانٹ Practical reason یا Morality کہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ تقویٰ کیسے پیدا ہوتا ہے، اس سلسلے میں کانٹ اپنی مختلف کتابوں میں متضاد رائے دیتا ہے۔”Religion with the limits of reason” والے مقالے میں جو تصور پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے سیکولر تعلیم کے ذریعے لوگوں کو روشن خیال کیا جائے گا پھر سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ممکن ہو گا۔ “On perpetual Peace”والے رسالے میں وہ سرمایہ دارانہ ری پبلک کے قیام اور استحکام کےلیے اس قسم کی تعلیم کو ضروری نہیں سمجھتا۔ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا قیام اور استحکام ان حالات میں بھی ممکن ہے کہ اس کو جود میں لانے والے سرمایہ دارانہ تقویٰ کے حامل نہ ہوں بلکہ انفرادی اغراض کے حصول کو اجتماعی خواہشاتِ نفسانی کے حصول پر مقدم رکھتے ہوں۔ سرمایہ دارانہ ری پبلک ’’شیطانوں کی بستی ‘‘(بقول کانٹ "Nation of devils")بھی قائم کر سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاستی دستور باشندوں کو روشن خیال کرنے کا ذریعہ بن سکتاہے۔

میری رائے میں سرمایہ دارانہ تاریخ سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں سرمایہ دارانہ متقیوں (وہ جو مجموعی خواہشات نفسانی کے فروغ کو اپنے ذاتی اغراض کے فروغ پر مقدم رکھتے ہیں) کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے[20]۔سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبول کرنے والے اہل دانش (Intellectuals) کا ایک محدود گروہ ہوتا ہے (جو عموماً سرمایہ دارانہ متقیوں پر مشتمل نہیں ہوتا) جو ایسے دستور اور قوانین وضع کرتے ہیں جن کی تنفیذ سرمایہ دارانہ اشرافیہ (کارپوریشنوں کے منیجرز، سٹے باز، سود خور، سیاست دان، بیورکریٹس، اعلیٰ فوجی نوکر شاہی ) کے معاشرتی غلبے کو ممکن بناتی ہے۔ یہ اشرافیہ عظیم عوامی اکثریت کو ان دستاویز اور قوانین کی ماتحتی پر مجبور کرتی ہے اور پراگرس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ قانون کی تکریم ’’فطرت ثانیہ‘‘بنتی رہتی ہے اور نفسانی خواہشات کے حصول کی جدوجہد عقلیت کے واحد تقاضے کے طور پر مجموعی سطح پر قبول کی جانے لگتی ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون اور دستور وہ تنظیم نافذ کرتی ہیں جو انفرادی خواہشات کے حصول کی جدوجہد کو اس بنیاد پر محدود کرتی ہے کہ یہ انفرادی جدوجہد اجتماعی اغراضِ نفسانی کے حصول کی جدوجہد پر منفی اثر نہ ڈالے۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں اجتماعی فیصلہ عموماً سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلیے کیا جاتا ہے۔گو کہ لوگ اپنے انفرادی اغراض کے حصول کے لیے سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضوں کی خلاف ورزی اس حدتک کرتے ہیں جہاں تک ان کو ایسا کرنے کے مواقع میسر ہوں (دنیا میں سب سے زیادہ سرمایہ دارانہ جرائم امریکا میں ہی ہوتے ہیں)۔

4۔ امریکی دستورکے مصنفین

امریکی دستور کے پیچھے دو مفکرین کی آراء سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں: الیگزینڈر ہملٹن اور جیمس میڈیسن(Alexander Hamilton & James Madison)۔ انہوں نے ۱۷۸۸ء میں Federalist Papers کے نام سے ایک کتاب لکھی جو امریکی دستور کی بنیادی ماخذ اور اس کی روح کی غماز ہے۔ دستور کا مقصد ایک ری پبلکن حکومت کا قیام اور استحکام ہے جو آزادی اور پراپرٹی کو فروغ دے۔ یہ مقصد ہملٹن اور میڈیسن کے بقول ایک کمزور کنفیڈریشن کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا؛ اس کے حصول کےلیے ایک طاقت ور فیڈرل یونین کی حکومت کی ضرورت ہے۔ہملٹن اور میڈیسن نےFederalist Papers ایک فرضی مصنف Pablus کے نام سے شائع کی تھی۔ ان مصنفین کا دعویٰ تھا کہ ایک طاقت ورحکومت انفرادی آزادیوں کی تحدید نہیں کرے گی، سب کے ہیومن رائٹس محفوظ رہیں گے بلکہ مجوزہ Unionist دستور ان حقوق (بالخصوص پراپرٹی) کے فروغ کا اہم ذریعہ ثابت ہو گا۔

۱۷۷۶ء کی بغاوت کے بعد امریکی گوروں نے ریڈ انڈین عوام کا قتلِ عام اور ان کے املاک پر قبضہ کرنے کا عمل نہایت تیز کر دیا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کا قیام بلاشبہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا ظلم ہے ۔بغاوت کی کامیابی کے بعد امریکا میں تیرہ ریاستیں وجود میں آئیں جنہوں نے ایک ایسی کنفیڈریشن قائم کی جو اپنے آپ کوالٰہ (sovereign)نہیں منواتی تھی۔ الٰہ (Sovereign) انفرادی ریاستوں کے عوامی نمایندے تھے یعنی ہر ریاست ایک ری پبلک تھی اور اپنے حدود میں فروغِ آزادی اور پراپرٹی کا فریضہ انجام دیتی تھی۔ ہملٹن اور میڈیسن کا دعویٰ تھا کہ یہ کمزور ریاستیں ہیں اور ان کے ذریعے آزادی اور پراپرٹی سرمایہ دارانہ ملکیت کو فروغ دینے کافریضہ کماحقہ ادا نہیں کیا جا سکتا۔confederational ریاستی حکومتیں مختلف کمزوریوں کا شکار تھیں، ہملٹن اور میڈیسن نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بڑی اور طاقت ور حکومتیں بھی عوامی نمایندہ ہوسکتی ہیں[21]۔ ہملٹن اور میڈیسن امریکی بغاوت اور امریکی دستور کو یکتا اور نرالا گرادنتے ہیں۔ ان کی رائے میں۱۷۷۶ء سے قبل کوئی ایسی حکومت دنیا میں قائم نہیں ہوئی (اور نہ کبھی اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام اور لوٹ مار پر قائم کی گئی) جیسی امریکا میں وجود میں آئی لیکن اس عظیم کارنامے کے باوجود امریکی باغی ایک طاقت ور ریپبلکن ریاست کاساختی تصورنہ پیش کر سکے ۔تاریخ میں تین مختلف قسم کی ریپبلکن حکومتیں قائم ہوئی ہیں:

ہملٹن اور میڈیسن نے جس ری پبلکن نظام کا تصور پیش کیا وہ جمہوری ہے اور اس میں تمام بالغ گورے مردوں کو حق رائے دینے کے اصول کو قبو ل کیا گیا۔حکومت گورے بالغ مردوں کے نمایندگان کے ہاتھوں میں اور یہ نمایندے periodic انتخابات کے ذریعے چنے جائیں گے۔ امریکی جمہوریت خالص ان معنوں میں تو نہیں ہو گی کہ عوام خود حکومت کریں گے (جیسے قدیم ایتھنز میں کرتے تھے) بلکہ نمایندگان کی جمہوریت ہو گی۔ گورے بالغ مرد اپنے میں سے چنے ہوئے نمایندوں کو حکومت کرنے کا حق وقتاً فوقتاً تفویض کرتے رہیں گے۔ نمایندگی کی اس نوعیت کی مسلسل توثیق کے نتیجے میں قائم حکومت کو فیڈرلسٹ پیپرز میں پاپولر گورنمنٹ کہا گیا ہے اور Popular Governmentکو Democracy کا ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔ ہملٹن اور میڈیسن کی رائے میں نمایندہ جمہوریت (Popular Government) ان نقائص سے مبرا ہے جو Pure جمہوریت میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق Pure جمہوریت کا سب سے بڑ انقص دھڑے بندی Factionalism ہے جس کے نتیجے میں عوام جذبات میں بہہ کر ایسے فیصلے کرتے ہیں جو حقوق انسانی اور پراپرٹی کے فروغ کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ہملٹن اور میڈیسن کے مطابق جب نمایندگی اختیاری اور عوامی (عوام سے مراد صرف گورے بالغ مرد ہیں) ہو تو ری پبلک جمہوری حکومت مقبول عام ہو جاتی ہے۔ امریکی دستور ان معنوں میں یکتا اور نرالا ہے کہ اس نے تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ عوامی مقبولیت اور نمایندگی کو ایک نظام ریاست اور حکومت میں جمع کر دیا۔ہملٹن اور میڈیسن کی رائے میں ری پبلک کو فروغِ آزادی اور پراپرٹی کا مقبولِ عام ذریعہ بنانے کےلیے لازم ہے کہ اس ریاستی نظام میں

ہملٹن اور میڈیسن کے مطابق ری پبلک کو آزادی اور پراپرٹی (یعنی سرمایہ ) کے تحفظ کا ذریعہ بنانے کا یہ طریقہ اس نئی علمیت کی بنیاد پر واضح کیا گیا تھا، جس کو پولیٹیکل سائنس کہتے ہیں جو کہ لاک، مانٹسکیواور پین (Paine) نے تنویری فکر کی بنیاد پر اٹھارھویں صدی میں مرتب کی تھی۔ یہی Political Science جمہوری، ریپریزنٹیٹو ری پبلک کی مقبولیت کااظہارہے۔

4.1۔ امریکی ریاست فروغِ سرمایہ داری کا ذریعہ

ہملٹن اور میڈیسن کے مطابق غیر سرمایہ دارانہ ری پبلک کی تین کمزوریاں تھیں:

ان کمزوریوں کو رفع کرنے کے لیے پہلا قدم جو اٹھانا چاہیے وہ یہ ہے کہ حکام کو عوام کی خواہشات کی تکمیل کا آلہ کار بنا دینا چاہیے،حکومتی اختیارات عوام کے نمایندوں کے ہاتھوں میں مرتکز کر دینے چاہییں۔ ان نمایندگان کی حکومت کی تبدیلی کا اختیار صرف عوام کو دیا جائے اور یہ نمایندگان عوام کی اصولی الوہیت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیے جائیں۔ ان حالات میں عوام سے سرمایہ دارانہ حقوق آزادی اور پراپرٹی کے تحفظ کی مکمل ضمانت لی جا سکتی ہے۔ ان حقوق کے تحفظ اور فروغ کےلیے یہ بھی ضروری ہے کہ ریاستی اداروں میں Doctrine of checks and balancesکی بنیاد پر اختیارات کی تقسیم متوازن ہو۔

اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ عوام کی خواہشات سرمایہ (آزادی اور پراپرٹی) کے فروغ کی ضرورت سے ہم آہنگ ہوں گی؟ اٹھارھویں صدی امریکا میں ایسے عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو عہدنامہ قدیم (Old Testament) کی بنیاد پر ریاستی نظام چلانا چاہتے تھے اور انہوں نے۱۷۸۵ء کے بعد سے امریکی فیڈرل دستور کی منظم مخالفت کی تھی (ایسے عیسائی آج بھی امریکا میں موجود ہیں اور ری پبلکن پارٹی میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے امریکا کو ایک کنفیڈریشن بنانے کی مہم چلا رکھی ہے)۔ ہملٹن اور میڈیسن سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک غیر سرمایہ دارانہ اکثریت یعنی مذہبی ریاست قائم کرنے کے خواہش مند عیسائیوں[23] کو سرمایہ دارانہ اقلیت پر جبر کرنے سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ہملٹن اور میڈیسن جو تجویز پیش کرتے ہیں اس کوMultiplicity of doctrines کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے ذریعے ہملٹن اور میڈیسن کا دعویٰ ہے کہ اس خطرے کو عوام کی سطح پر بھی ختم کیا جا سکتا ہے اور نمایندگان کی سطح پر بھی۔ نمایندگان کی سطح پر ریاستی اداروں میں قوت کی متوازن تقسیم Doctrine of check and balance کی بنیاد پریہ خطرہ منہدم کیا جا سکتا ہے۔ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اہل کار اگر مختلف ہوں تو ان میں وہ لوگ ضرور موجود ہوں گے جو عوام کی غیر سرمایہ دارانہ خواہشات کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ تقسیم اختیارات میں توازن سب سے زیادہ مقننہ کے اختیارات کی تحدید کا ذریعہ ہے کیوں کہ ہملٹن اور میڈیسن کے مطابق مقننہ ہی غیر سرمایہ دارانہ عوامی رجحانات سے متاثرہونے کا میلان رکھتی ہے۔ لہٰذا امریکی دستور عدلیہ اور انتظامیہ کو ایسے اختیارات اور وسائل فراہم کرتاہے جو اس کو مقننہ کے غیر سرمایہ دارانہ اقدامات کو ناقابلِ عمل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

ہملٹن اور میڈیسن پولیٹیکل سائنس (بالخصوص روسو اور لاک )کے اس نظریے کو قبول کرتے ہیں کہ عوام کا اصل مفاد اس میں ہے کہ ان کی آزادی اور پراپرٹی (سرمایہ ) میں ترقی ہو۔ ریڈ انڈینز کے وحشیانہ قتل اور ایک براعظم کی منظم لوٹ مارنے یہ بات ثابت کر دی ہے۔ اگر عوام یا مقننہ میں ان کے نمایندگان اس اصل مفاد کے منافی اقدامات پر مصر ہوں تو ان کے انتظامی اور عدلیاتی نمایندگان کو اس بات کا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات ناممکن العمل بنا دیں اور دستور کی اصل روح کے مطابق بڑھوتری آزادی اور سرمایہ کی جدوجہد کو جاری رکھیں۔ صدر کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ عوام کے غلط (یعنی غیرسرمایہ دارانہ ) فیصلوں کو قبول کرنے سے انکار کر دے اور عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ عوام کے ہر فیصلے کو دستوری اصولوں کی کسوٹی پر پرکھیں۔ دستور جنرل وِل (General will)کی بالادستی کی ضمانت ہیومن رائٹس کی تقدیس کو قبول کر کے دیتا ہے اور یہی سرمایہ دارنہ نظام زندگی کے بنیادی عقائد ہیں۔ لہٰذا عوام کا کوئی بھی ایسا فیصلہ جو بڑھوترئ آزادی اور پراپرٹی (سرمایہ) کی راہ میں مزاحم ہو، کو قانوناً ناممکن بنا دیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عقائد کے استحکام کے لیے دستور میں جو ذرائع رکھے گئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

ہملٹن اور میڈیسن کی رائے میں ریاستی صدر اور بالخصوص عدلیہ عوام کے اصل مفاد یعنی بڑھوترئ آزادی اور پراپرٹی کے نمایندہ ہیں۔ صدر اور عدلیہ سرمایہ عمومی یعنی عوام کے اصلی مفاد کے نمایندے ہیں اور ان کا ذاتی مفاد عوام کے اصلی مفاد (بڑھوترئ سرمایہ) کے تحفظ اور فروغ میں مضمر ہے ۔وہ اپنی ذاتی خود غرضی کی بنیاد پر اصلی مفاد ِعامہ (بڑھوترئ آزادی اور پراپرٹی) کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔اصلی مفادِ عامہ کو فروغ دینا ہی ان کے ذاتی اقتدار اور معاشرتی عزت کا ضامن ہے اوریہی صدر اور ججوں کی پروفیشنل ethicہے[24]۔

صدور اور جج سرمایہ عمومی ( عوام کے اصلی مفاد) کے فروغ کو حسبِ ذیل وجوہ کی بنیاد پر تسلیم کرتے ہیں:

نمایندہ جمہوریت کا مقصد ایسے حکام فراہم کرنا ہے جو عوام کے مقابلے میں بہتر انداز میں حکومت کر سکیں اور بہتری کے ناپنے کا پیمانہ عوام کے اصل مفاد (بڑھوترئ سرمایہ ) کا فروغ ہے۔ ایک کامیاب ریپریزنٹیٹو ری پبلک میں عوام اپنے سے بہتر لوگوں کو یعنی ان لوگوں کو جو بہتر انداز میں بڑھوترئ سرمایہ عمومی (عوام کے اصلی مفاد) کو فروغ دے سکیں، حکومت کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ یہ منتخب حکام عوام میں سے ہوتے ہیں لیکن عوام نہیں ہوتے، عوام سے بہتر ہوتے ہیں۔ ان بہتر لوگوں کی حکومت دو اصولوں کار فرما ہوتی ہے:اصولِ نمایندگی اور اصولِ متوازن تقسیم اور ادارتی اختیارات۔

ہملٹن اور میڈیسن اس بات سے خائف تھے کہ اٹھارھویں صدی امریکا میں زیادہ تر گورے مرد سرمایہ دارانہ املاک نہیں رکھتے تھے۔ میری رائے میں ریڈ انڈینز کا قتل اور براعظمی لوٹ مار یہ بات ثابت کرتی ہے کہ زیادہ تر گورے مرد اپنے جسم کو سرمایہ دارانہ پراپرٹی تصور کرتے تھے اور ان کا ضمیر بھی حرص و حسد کے تابع تھا اور سرمایہ دارانہ املاک (جسے لاک Estates کہتا ہے) نہ رکھنے کے باوجود وہ سرمایہ دارانہ عقلیت اور اس عقلیت پر تعمیر شدہ معاشرتی اور ریاستی نظام کو قبول کرتے تھے۔ ان کو ڈر تھا کہ غریب اپنے ریاستی اقتدار کو امراء کی املاک پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ جب ہملٹن اور میڈیسن اپنی کتا ب The Federalist لکھ رہے تھے تو انقلاب فرانس رونما ہو رہا تھا (۸۸۔ ۱۷۸۷ء) اور خدشہ تھا کہ امریکا کا لبرل سرمایہ دارانہ انقلاب ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب سے شکست نہ کھا جائے۔ ایک جمہوری ری پبلک میں غریبوں کو امیروں کی املاک چھیننے سے صرف اس طرح باز رکھا جا سکتا ہے کہ ان کو ایسی طاقت اور تنظیم سے محروم کر دیا جائے جو اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہملٹن اور میڈیسن کی رائے میں جمہوری ری پبلکن ریاست کا رقبہ جتنا وسیع ہو گا اور اس کی آبادی جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی عوام کے لیے اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنا مشکل ہو گا۔ایک بڑی اور گنجان آبادی والی جمہوری ری پبلک میں عوامی مفاداتی اختلافات زیادہ ہوں گے اور ان کی آپس کی کش مکش فروغ پائے گی اس کے ساتھ ساتھ طبقہ امراء کے لیے بھی یہ قدرے آسان ہو گا کہ غریب طبقوں کے ان اختلافات سے فائدہ اٹھائے؛ غریبوں کے کچھ جتھوں کو اپنے ساتھ ملا لے اور غریب طبقوں کے باہمی تصادم سے اپنے لیے تحفظ اور استحکام کے مواقع پیداکرے۔ ایک بڑی نمایندہ جمہوریت میں ہملٹن اور میڈیسن کے مطابق غرباء اور امراء کے درمیان طبقاتی تصادم ناممکن ہوتا چلا جاتا ہے[25]۔ ہملٹن، میڈیسن اور ایڈم اسمتھ کی رائے میں طبقاتی کش مکش کے امکانات سرمایہ دارانہ ملکیت اور تجارت کے فروغ کے ساتھ بڑی جمہوری ری پبلکن میں کم ہوتے چلے جاتے ہیں (روس اور چین میں سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب اس لیے رونما ہوئے کہ بڑی ہونے کے باوجود ان ریاستوں میں سرمایہ دارانہ ملکیت اور تجارت عام نہ تھی)۔ ہملٹن اور میڈیسن کی رائے میں غرباء کو امیروں کے خلاف متحد ہونے سے مذہبی اختلافات کو برداشت کرنے سے بھی دفع کیا جا سکتا ہے لیکن بقول میڈیسن معاشرے میں طبقات کے اندر کے تصادم کی وجہ مذہبی افتراق نہیں۔ طبقات کی اندرونی کش مکش کی بنیادی وجہ اس بات میں مضمرہے کہ ایک طبقہ (مثلاً غریبوں) میں کئی قسم کی پراپرٹی موجود ہوتی ہے، کچھ غریبوں کے پاس صرف اپنا جسم ہوتا ہے (یاد رہے کہ لاک انسانی جسم کو تصور پراپرٹی میں شامل کرتا ہے اور ہملٹن اور میڈیسن پراپرٹی کے اس تصور کو قبول کرتے ہیں) اور وہ دوسروں کی زمینوں میں اور کارخانوں میں مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، کچھ غریب زمین داروں سے بٹائی کی شرائط پر زمین لے کر اس پر کاشت کرتے ہیں،کچھ لوگ کباڑ کے ٹھیلے لگاتے ہیں وغیرہ۔ یہ سب پراپرٹی کی مختلف اقسام ہیں اور ان مختلف نوع کے پراپرٹی مالکان کے ذاتی گروہی مفادات بھی ایک دوسرے مختلف اور متصادم ہوتے ہیں مثلاً اگر زمیندار بٹائی کی شرائط سخت کر کے زمین کا کرایہ بڑھائے گا تو یہ مزارع کے مفاد کے خلاف ہو گا لیکن اس کے نتیجے میں ہاری (یعنی وہ کسان جو اپنی کوئی زمین نہیں رکھتابلکہ اجرت پر کام کرتاہے) اس کی اجرت میں اضافے کے امکانات موجود ہیں۔ لہٰذا مزارع اور ہاری کے انفرادی گروہی مفادات مختلف اور متصادم ہوتے ہیں اور اس مفاداتی تصادم کو فروغ دے کر زمیندار طبقہ غریبوں کو بحیثیت مجموعی اپنے خلاف متحد ہونے سے باز رکھتا ہے۔ امیر طبقوں میں بھی مختلف گروہوں کے مفادات مختلف اور متصاد م ہو سکتے ہیں۔ بینک کاروں اور سٹے بازوں کے مفادات صنعت کاروں سے مختلف ہو سکتے ہیں (مثلاً روپے کی بین الاقوامی قیمت میں کمی اشیاء برآمد کرنے والے صنعت کاروں کے مفاد میں اور بینک کاروں کے مفاد کے منافی ہے)۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ لبرل جمہوری نظام کا تحفظ اسی بات میں مضمر ہے کہ مفادات کے تضاد کی بنیاد پر طبقاتی انتشار کو فروغ دیا جائے اور ایک ایسا درمیانی طبقہ ابھرے جو دونوں متوقع متصادم طبقوں یعنی غریبوں اور امیروں سے تعلق رکھے۔ اس مڈل کلاس کا طرزِ زندگی اور کلچر امیروں کے قیام کے مفادات پر وضع ہو لیکن غریبوں کی طرح اس مڈل کلاس کی رسائی ملکیتوں میں محدود ہو۔ عموماً لبرل جمہوریتوں میں عوامی نمایندے اسی مڈل کلاس سے منتخب کیے جاتے ہیں۔

ریپریزنٹیٹو جمہوریت اس وقت مستحکم ہوتی ہے جب اس کے تمام سٹیزن اور رائے دہندگان کے پاس سرمایہ دارانہ ملکیت ہو خواہ بدن کی شکل میں خواہ فکر اور سوچ کی شکل میں خواہ املاک کی شکل میں۔ سرمایہ دارانہ پراپرٹی وہ پراپرٹی ہے جس کے استعمال کا مقصد آزادی اور سرمایہ کا فروغ ہو۔ انسانی فکر، بدن اور املاک کو جب اس مقصد کےلیے استعمال کیا جائے گا تو یہ بدن اور فکر اور مال سرمایہ دارانہ ملکیت بن جاتی ہیں۔ ریپریزنٹیٹو جمہوریت میں ہر رائے دہندہ اصولاً اپنے بدن اور فکر اور ملکیت کو بڑھوترئ سرمایہ سے منسوب کر دیتا ہے۔ ریپریزنٹیٹو جمہوری نظام کا استحکام ہملٹن اور میڈیسن کی رائے کے مطابق مندرجہ ذیل باتوں پر ہوتا ہے:

حکومت نے آزادیاں دے رکھی ہیں
ترقی کی راہیں ہر اک سو کھلی ہیں
صدا دشت و صحرا سے یہ آ رہی ہے
کہ راجہ سے پرجا تلک سب سکھی ہیں

امریکا دنیا کی سب سے ظالم اور سفاک ریاست ہے[26] لیکن اپنے رائے دہندگان کے لیے land of hope and gloryہے جہاں ترقی اور آسائش لامحدود ہیں۔ ہر رائے دہندہ کا ذاتی مفاد اس میں ہے کہ وہ امریکی ظلم اور سفاکیت سے پورے طور پر مستفید ہو۔ امام خمینی نے فرمایا تھا کہ’’میں یہ نہیں کہتا کہ امریکا شیطان بزرگ ہے میں کہتا ہوں کہ ہر امریکی شیطان بزرگ ہے‘‘۔ سرمایہ کاری کی رفتار تیز سے تیز ہوتی رہے اور ہر آدمی کا معیارِ زندگی مستقل بڑھتا رہے اور اس کے ذاتی مفادات اس کو زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتے رہیں۔ہملٹن اور میڈیسن کو اس بات پر کامل یقین ہے کہ اس ظالم اور سفاک نظم اقتدار کی بقاء اس بات پر منحصر ہے کہ ریپریزنٹیٹو جمہوری ریاست کے رائے دہندگان حریص اور حاسد ہوں اور اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کو ہی معیار خیر و شر کے طور پر تسلیم کریں۔ ان کے نمایندے ان معنوں میں روشن خیال ہوں کہ عوام کی خود غرضیوں کے اظہار کےلیے ایسے قانونی، انتظامی اور عدلیاتی ادارتی ڈھانچے تعمیر کریں جو انفرادی خود غرضیوں کی مسلسل جاری رہنے والی جدوجہد کو عمومی خواہشاتِ نفسانی کے حصول اور فروغ کا ذریعہ بنا دیں۔ امریکی دستور وہ تناظر(Frame work) فراہم کرتا ہے جس پر اس نوعیت کا ریاستی نظام تعمیر کیا گیا ہے۔
یہ نظام ریاست اس بات میں کامیاب ہے کہ اس نے اپنے رائے دہندگان کی فہرست میں توسیع کی ہے۔

عورتیں اور سیاہ فام افراد بھی اب الیکٹوریٹ میں شامل ہیں اور اب امریکا میں شاید ایسے لوگ موجود نہیں جو آزادی اور ترقی کو بحیثیت سیاسی اہداف کے قبول نہ کرتے ہوں۔ ہر امریکی کے سیاسی عمل کی بنیاد انفرادی حرص و حسد کے تابع ہے اور اس کا اہم ثبوت اس بات میں ملتاہے کہ امریکی عیسائی گروہ بالخصوص ایونجلسٹ دستورِ امریکا کی تقدیس کے سب سے بڑے مبلغ ہیں اور حرص و حسد کی عمومی مقبولیت کی وکالت عیسائی آدرشوں کی بنیاد پر کرتے ہیں اور امریکی استعماری جدوجہد کے ویسے ہی پشت پناہ اور حلیف ہیں جیسے اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے عیسائی مبلغین اور گرجے ریڈانڈینز کے قتلِ عام کے مبلغ اور وکیل تھے۔ عیسائیوں، Zionistsاور Tea partyکی یہی بنیادی تعلیم ہے۔ امریکی ریپریزنٹیٹو جمہوری نظام کو خطرہ معاشی بحرانوں سے ہے۔ یہ بحران بیسویں اور اکیسویں صدی میں زیادہ شدید ہو گئے۔ ۲۰۰۷ء میں امریکی بینک کاری نظام میں بحران رونما ہوا اس پر ابھی تک پوری طرح قابو نہیں پایا گیا۔ بینکوں کو بچانے کے لیے کئی سو کھرب ڈالر کے ریاستی قرضے دیے گئے جن کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریاست بہت بڑے پیمانے پر مقروض ہو گئی۔ توازنِ ادائیگی کا خسارہ بھی مستقل بڑھ رہا ہے۔ بے روزگاری کی سطح اونچی ہے۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد مستقل کم ہو رہی ہے اور آبادی میں بوڑھوں کی شرح میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ تقسیم دولت نہایت نامساویانہ ہے اور ۱۹۸۰ء سے یہ نامساویت مسلسل رو بہ ترقی ہے۔ پچھلے بیس سال سے ایک عام امریکی کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان حالات میں امریکا میں ایک مزاحمتی تحریک نمودار ہوئی ہے جسےoccupy wall street کہتے ہیں لیکن یہ سرمایہ دارانہ مخالف تحریک نہیں بلکہ اس تحریک کے ذریعے وہ لوگ جو اپنے آپ کو محروم عوام (۹۹ فی صد) کا نمایندہ تصور کرتے ہیں سرمایہ دارانہ منتظمین سے آزادی اور پراپرٹی میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔اس تحریک میں شامل لوگ حرص و حسد اور خود غرضی کو رد نہیں کرتے بلکہ یہ امریکی عوام کو اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد پر اکساتے ہیں۔یہ کوئی سرمایہ دارانہ انقلابی تحریک بھی نہیں۔ اس کی ادارتی شناخت اور قیادت مبہم ہے، اس کے نظریات تضادات کا مجموعہ ہیں۔ امریکی ریاستی نظام کی سرمایہ دارانہ تشکیل نو کے لیے اس کے پاس کوئی واضح تجاویز اور مربوط پالیسی ایجنڈا موجود نہیں۔ امریکا کا موجودہ ریاستی نظام اس تحریک کو آسانی سے ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام دنیا بھر میں (بشمول امریکا ) اس وقت تک محفوظ ہے جب تک اس کی مخالفت ایسی مذہبی تعلیمات کی بنیاد پر نہ کی جائے جو حرص و حسد کو انفرادی زندگیوں سے محو کر کے معاشرتی اور ریاستی سطح پر آزادی اور سرمایہ دارانہ ملکیت کے فروغ کی جدوجہد کو ناممکن بنا دے۔

5۔ ایڈم اسمتھ اور ڈیوڈریکارڈو

ایڈم اسمتھ (Adam Smith) ان اہم غداروں اور ملک فروشوں میں سے تھا جنہوں نے اپنے ملک اسکاٹ لینڈ پر انگریزوں کے تسلط کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انگلستان نے اسکاٹ لینڈ پر قبضہ ۱۷۰۷ء میں ایک طویل جنگ (جو چودھویں سے اٹھارھویں صدی تک وقتاً فوقتاً بھڑکتی رہی) اور وحشیانہ مظالم ڈھانے کے بعد حاصل کیا۔ اسکاٹ لینڈ کو غصب کرنے کے لیے انگریزوں نے جو حکمت عملی اپنائی اس کا اہم جزو جنوبی اور مشرقی اسکاٹ لینڈ میں ایک غدار قوم فروش اشرافیہ کا گروہ تھا جو پہاڑیوں کے سرفروش حریت پسندوں کی مخالفت و مخبری کریں۔ اس اشرافیہ کے دو اہم ارکان ڈیوڈ ہیوم اور ایڈم اسمتھ تھے۔

علم معاشیات کا دوسرا اہم ترین ابتدائی موجد[27] ایک یہودی سودخور سٹے باز تھا جس کا نام ڈیوڈ ریکارڈو تھا۔ لندن اسٹاک ایکسچینج کے ابتدائی دور میں اس کا ایک کلیدی رکن تھا اور سٹے بازی ریکارڈو کا خاندانی پیشہ تھا۔ چودہ سال کی عمر میں ریکارڈو(David Ricardo) کل وقتی سٹے باز بن گیا اور اکیس سال تک پہنچتے پہنچے وہ لندن کے سٹے بازوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ بینک آف انگلینڈ کے زری سودوں کے کاروبار سے بھی ریکارڈو نے بہت فائدہ اٹھایا۔ سود اور سٹے کے کاروبار سے ریکارڈو نے اپنی ذاتی دولت کو تقریباً تیس سالوں میں ۸۷۵ گنا بڑھایا[28]۔ ۱۸۱۹ء میں برٹش پارلیمنٹ کا ممبر منتخب ہوا اور حکومت اور حز ب اختلاف دونوں اس کی آراء کو اہمیت دیتی تھیں۔

5.1۔ اکنامکس کی اعتقاداتی بنیادیں

ایڈم اسمتھ، جا ن لاک کا پیرو اِن معنوں میں ہے کہ جس اعتقادی تناظر کو یہ دونوں مفکرین فطری سمجھتے ہیں وہ بڑی حد تک مماثل ہیں۔ ان اعتقادات کا اظہار معاشی عمل کے ذریعے اور معاشی دائرہ (بالخصوص مارکیٹ) میں ہوتا ہے یہ وہ نکتہ ہے جس کا اسمتھ نے لاک کی فکر میں اضافہ کیا۔

اسمتھ نے اپنا تصورِ فطرت اور ہیومن اپنی کتاب Theory of Moral Sentiments میں بیان کیا ہے۔ اسمتھ کے خیال میں نیکی (Virtue)وہ خیر ہے جس کی دوسرے ہیومن بینگ تعریف کریں۔ نیکی کا اظہار عمل کے ذریعے ہوتا ہے اور ہر عمل کی بنیاد جذبات یا خواہشات ہوتے ہیں۔اسمتھ کہتاہے کہ کسی جذبے یا خواہش کی قدر دو بنیادوں پر طے کی جا سکتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کا محرک (cause or motive)کیا ہے اور دوسرے یہ کہ محرک کی بنیاد پر ایک عمل کی درستگی یا موزونیت کا تعین کیا جاتا ہے اور اس افادیت یا خوبی کا تعین عمل کے نتائج پر ہوتاہے۔ لہٰذا اخلاقی اقدار[29]اور Ethical معیارات کی بنیاد پر انفرادی اقدار کا تعین کیا جاتا ہے۔ Ethics افراد کا باہمی تعلقات کا جواز تلاش کرتی ہے اور یہ اس انفرادی میلان کو وصف حمیدہ تصور کرتی ہے جس کے اظہارکے نتیجہ میں دوسرے ہیومن بینگ کی خودارادیت محدود نہ ہو۔ کسی انفرادی رجحان کی کوئی قدر اصلی نہیں۔ اس کی قدر صرف اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ ہیومن اٹانومی کو فروغ دینے میں کتنا مددگار ہے مثلاً زنا کرنے کی خواہش رکھنانہ اچھاہے نہ برا، زنا اس وقت قابلِ قبول ہے جب یہ بالرضا کیا جائے۔ اگر زناکاری کو بحیثیت ایک صنعت کے فروغ دیا جائے تاکہ عمومی معاشرتی سرمایہ (آزادی)بڑھے تو زنا ایک مستحسن عمل بن جاتاہے اور سرمایہ کی مارکیٹ اس کو فروغ دینے والی کارپوریشنوں کی قدر متعین کرتی ہے۔خواہشاتِ نفسانی کی موزونیت ان کی افادیت کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے۔ ہیومن بینگ کے وجود کی بنیاد اس کا نفس امارہ ہے۔کسی خواہش کی موزونیت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک ہمددری کا اظہار ہے۔ ہمدردی اسمتھ کا ایک کلیدی تصور ہے۔ اس سے وہ خواہشات کی نوعی ہم آہنگی (fellow feeling) مراد لیتاہے۔ ایک ہیومن بینگ کی خواہشات دوسرے ہیومن بینگ کی خواہشات کی غماز پہلے ہیومن بینگ کی تصوراتی صلاحیت کی بنیاد پر ہو جاتی ہیں۔ ایک غیرجانب دار ناظر کسی ہیومن بینگ کی خواہش اس وقت موزوں گردانتا ہے جب وہ اس ہیومن بینگ کی خواہش خود اپنی خواہش سے مکمل طور پرہم آہنگ تصور کرتا ہے۔ اس طرح غیر جانب دار ناظر اس ہیومن بینگ سے Sympathise کرتا ہے جس کے عمل کو وہ جانچ رہا ہے۔ sympathy کا یہ تصور کانٹ کے تصور Universalablity سے قریب ہے۔

کسی فعل یا جذبے کی قدر اس کے نتائج کی بنیاد پر بھی کی جانی چاہیے[30]۔ اسمتھ کے خیال میں اگر غیر جانب دار ناظر جذبات سے Sympathasies کرے جو فاعل کے عمل کے نتیجے میں مفعول نے محسوس کیے ہیں تو غیر جانب دار ناظر فاعل کے عمل کو قابل قدر قرار دے گا بشرطیکہ یہ نتائج مفعول میں مثبت جذبات بیدار کر رہے ہوں۔ لہٰذا کسی فاعل کے کسی عمل کا نیک قرار دیے جانے کی دو شرائط ہیں:

لہٰذا تعینِ قدر میں دو جذبات فیصل کردار ادا کرتے ہیں: ایک sympathy اور دوسرے imagination۔ یہ دونوں جذبات فطری ہیں عقلی نہیں۔ اسمتھ ان جذبات کو sub-rational capacities کہتا ہے۔ بقول اسمتھ دونوں sub rational جذبات ہیومن بینگ کو دوسرے کے وجود سے ہم آہنگی فطری طور پر فراہم کرتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر ہیومن بینگ نوعی ادراک کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔ اسی نوعی ادراک کا اظہار اس بات میں ہے کہ ایک ہیومن بینگ اس بات کی فطری خواہش رکھتا ہے کہ دوسرے ہیومن بینگ اس کو (اور اس کے اعمال کو) پسندیدگی کی نظرسے دیکھیں اور اسمتھ کے مطابق دوسروں کی تحسین حاصل کرنے کی یہی خواہش انسانی معاشرے میں نیکی (Virtue) کے فروغ کی اصل محرک ہے۔

ہیومن فطرت قانونِ فطرت (law of nature)کی غمازہے اور نیک عمل (یعنی وہ عمل جس کی دوسرے ہیومن بینگ تعریف کریں) کرنے کی خواہش فطری ہے۔ یہ تصور خیر غیر جانب دار ناظر کو ہیومینیٹی کا ایسا نمایندہ تصور کرتا ہے جو انفرادی جذبات اور اعمال کو نوعی بقاء اور فروغ کی بنیاد پر پرکھے اور تعقل کو نوعی اور انفرادی میلانات کو sympathy اور imagination کی بنیاد پر ہم آہنگ کرنے میں مدد دے۔ اسمتھ کے بزرگ دوستDavid Humeنے کہا تھا کہ عقل خواہشات کی غلام ہے اور اسمتھ اس رائے سے بڑی حد تک متفق نظر آتاہے۔

اسمتھ کی فکر میں سرمایہ دارانہ حکومت معاشرے میں غیر جانب دار ناظر کا کردار ادا کرتی ہے لیکن حکومت کوئی فطری شے نہیں۔ بقول اسمتھ حکومت کا وجود ایک ایسے عمل کا نتیجہ ہے جس میں انسانوں نے اپنے مفادات کے فروغ اور تحفظ کے حصول کے لیے معقول (rational) ادارتی صف بندی کو قبول کیا۔ بقول اسمتھ ہیومن فطرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ لوگوں کا عمل benevolent ہو یعنی نوعی خود غرضیوں کو انفرادی خود غرضیوں پر ترجیح دی جائے لیکن حکومت اس مقصد کے لیے وجود میں نہیں آتی۔ حکومت کے قیام کا مقصد عدل کا فروغ ہے (ہر نظام زندگی کا اپنا تصورِ عدل ہوتاہے) اور سرمایہ دارانہ ریاست کا نظام عدل ایک ہیومن بینگ سے دوسرے ہیومن بینگ کو نقصان پہنچانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا نام ہے۔اس کے برعکس Benevolence دوسرے کی آزادی اور خود اختیاری کو فروغ دینے کا متقاضی ہے۔ اسمتھ اپنا تصورِآزادی ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ’’ہر وہ کام کرنا جو دوسرا ہیومن بینگ مجھ کو کرنے پر مجبور کرنے کا حق رکھتاہے‘‘۔ عدل کا تقاضا ہے کہ قانون کی پابندی کی جائے۔ کون سے قانون کی؟ قانون فطرت (Law of nature) کی ،اور اسمتھ کا تصورِ قانون فطرت وہی ہے جو لاک کا ہے۔

عدل کا قیام اخلاقیات (Ethics)کا مقصد نہیں۔ اسمتھ کے مطابق قیام عدل جس جذبے کی تسکین کا باعث بنتاہے وہ جذبہ انتقام ہے۔ قانون فطرت اسی جذبہ انتقام کا غمازہے اور ریاست کا قیام اسی جذبہ انتقام اور باہمی نفرت کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس جذبہ انتقام اور منفرد منافرت کا اظہار فطری سطح پر بین الاقوامی تعلقات کے ضمن میں ہوتاہے۔ (لا ک اور اسمتھ دونوں ریاستی تعلقات کو state of nature اور قانون فطرت (Law of nature)کے اظہار کادائرہ کار تصور کرتے ہیں)۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی قوم سے محبت دوسری اقوام سے نفرت اور مسابقت کی غماز ہے۔ بین الاقوامی تعلق جذبہ سمپتھی (Sympathy) پر نہیں جذبہ مسابقت پر استوار ہے۔ اسمتھ کہتا ہے کہ انسان فطرت کے اعتبار سے خودغرض بھی ہے اورsympatheticبھی اور معاشرہ اور ریاست جذبہ خودغرضی اور جذبہ sympathy کے امتزاج کا اظہار ہے۔

5.2۔ سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ معاشرت

سرمایہ دارانہ معاشرہ اِس اصول پر قائم ہے کہ ہر ہیومن بینگ کو اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کےلیے ایک ایسا آزاد ماحول فراہم کیا جائے جہاں نفسانی خواہشات کی تسکین کے وسائل مستقلاً بڑھتے رہیں۔ ذاتی اغراض کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ ان اغراض کا حصول مجموعی معاشرتی آزادی (سرمایہ) کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔ سرمایہ دارانہ حکومت کا فرض ہے کہ انفرادی مسابقت کو اس طرح منظم کیا جائے کہ اس کے نتیجے میں مجموعی معاشرتی آزادی (سرمایہ) مستقل فروغ پاتی رہے۔

اسمتھ کے مطابق معاشرہ جذبہ ہمدردی(Sympathy) پر قائم ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اس سے ہمدردی کریں لیکن وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس ہمدردی کی بنیاد اس کی کامیابی سے محرومی نہ ہو۔ لہٰذا معاشرتی سطح پر انفرادی ہمدردی کے حصول کی جستجو انفرادی کامیابی کے حصول کی جدوجہد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔معاشرے میں تحسین عموماً ان اعمال کے حصے میں نہیں آتی جوخیرخواہی (benevolence) پر مبنی ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے نتیجے میں عموماً مجموعی سرمایہ میں بڑھوتری وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس وہ اعمال جو خود غرضیوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں عموماً بڑھوترئ سرمایہ کا باعث بنتے ہیں اور انہیں معاشرتی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

خود غرضی کے جذبات خود قابل تحسین نہیں لیکن ان کے نتائج قابل تحسین ہیں کیوں کہ اس طریقے سے مجموعی سرمایہ (آزادی) میں بڑھوتری کو تیز کیا جا سکتا ہے اور بقول اسمتھ قدرت کا ہم پر یہ احسان ہے کہ اس نے جذبہ ایثار اور ہمدردی کو سرمایہ کی بڑھوتری کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا۔ اس سے اسمتھ یہ نتائج اخذ کرتا ہے کہ معاشرتی قدر حصولِ دولت (یعنی سرمایہ) کی جدوجہد اور اس جدوجہد کی کامیابی کے حصول میں ہے، نیکی کے حصول کی جدوجہد اور نیکی فروغ پانے میں نہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ اسی اصول پر کارفرما رہتے ہیں اور معاشرتی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام میں دولت (یعنی سرمایہ) کی بڑھوتری کو ہی قدر کے پیمانے کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور نیکی کی جستجو ایک بے وقعت (valueless) اور مہمل عمل بن جاتاہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ حرص اور حسد کو فروغ دینے کو ہی اپنا مقصد وجود گردانتا ہے۔ بقول اسمتھ نیکی کو ذاتی اغراض پر قربان کیے بغیر ہیومنیٹی کی بقا اور ترقی ناممکن ہے۔

بقول اسمتھ سرمایہ دارانہ معاشرے کی بنیاد مارکیٹ ہوتی ہے۔ مارکیٹ بازار نہیں ہوتی۔ تاریخ انسانی میں بازار ہمیشہ معاشرے کے ماتحت ہوتے ہیں اور قیمت کا تعین ایک معاشرتی عمل ہوتا ہے۔ مارکیٹ سرمایہ دارانہ معاشرہ کو مسخر کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور تیرھویں صدی میں اٹلی کے بحر متوسط کے ساحلوں پر پہلی مرتبہ قائم کیے گئے اور مارکیٹ میں ایک ایسا دستِ غیب (invisible hand)کارفرما ہوتا ہے جو انفرادی خود غرضیوں کے حصول کی لاتعداد جدوجہدوں کو اس طرح مرتب کرتا ہے کہ اس ترتیب کے نتیجہ میں مجموعی سرمایہ کی بڑھوتری کا عمل خودبخود فروغ پاتا ہے۔ مارکیٹ میں ہر سودے باز اپنے منافع کو منتہا حد تک پہنچانے کےلیے کام کرتاہے۔ وہ جس حد تک سودے کاری کرتاہے وہ خالصتاً خودغرض ہے اور اس کا نیکی، ہمدردی اور خیرخواہی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

سرمایہ دارانہ ریاست کا بنیادی فرض مارکیٹ کا فروغ اور تحفظ ہے۔ ریاست کو قیمتوں کے تعین کے عمل میں بالکل دخل انداز نہیں ہونا چاہیے جب تک یہ عمل اجارہ داروں کی دست برد سے محفوظ رہے۔ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم عدل کے منافی ہے اور مارکیٹ تقسیم وسائل کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتی۔ ریکارڈو نے اس مسئلے پر خاص توجہ دی ہے اور سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے تقسیم دولت کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔معاشرہ یعنی مارکیٹ اور ریاست میں ہومن بینگ ایک سیاسی ایجنٹ کے طور پر شریک ہوتا ہے، یہ ایک اخلاقی حیثیت ہے۔ مورلیٹی کا تعلق اس کے غیر معاہداتی تعلقات سے ہے اور تعلقات کے اس دائرے میں Sympathy اورخیرخواہی کے اظہار کا موقع ہے۔ ریاست اور مارکیٹ کے دائرے میں ہیومن بینگ ہمدرد ہو سکتا ہے نہ خیرخواہ۔ مارکیٹ میں ہیومن بینگ کو دھوکا دینا اور اپنے مخالف کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ بقول اسمتھ مارکیٹ اور ریاست پر خودغرضیوں کا راج لازم ہے۔ یہی عقل کا تقاضا ہے کیوں کہ فطرت نے اس بات کا انتظام کیا ہے کہ خود غرضیوں کی جستجو میں خودبخود مجموعی آزادی (سرمایہ) انتہائی حد چھو لیتی ہے۔

اسمتھ اور ریکارڈو سرمایہ داری (اس کو وہ آزاد معیشت کہتے ہیں) کے عریاں وکیل تھے۔ انہوں نے مجموعی قومی آمدنی (Gross national product)کا تصور دیا اور GNP کی آخری حدوں کو معاشرتی ہدف اولیٰ کہا کیوں کہ GNP ہی وہ اقداری شماریہ ہے جو مجموعی لذاتِ نفسانی کی پیمایش کر سکتا ہے۔ ریاست اور معاشرتی وجود کا مقصد اولیٰ GNP کی انتہا ہے نیکیوں کے فروغ کا اس ہدف کے حصول سے کوئی تعلق نہیں۔ اسمتھ اس بات پر مسلسل اصرار کرتا ہے اور اسی بنیاد پر اپنی فکر کو عیسائی اور سیکولر مورل فلسفیوں (مثلاً لاک جو Prudence پر زور دیتا ہے اور کانٹ جو فرائض کا تصور پیش کرتا ہے) سے ممیز کرتا ہے۔ GNP کی انتہا کےلیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں ہر فرد کو اس کی مکمل آزادی ہو کہ اپنی خواہشات کی تکمیل کی بھرپور جستجو کرے اور مسابقت اس بات کی ضامن ہے کہ خود غرضیوں کی انفرادی جدوجہد میں مجموعی لذاتِ نفسانی کی انتہا پر منتج ہوئے بغیر کسی فرد یا کسی ادارہ کے مجموعی سرمایہ کے فروغ کو حاصل کیا جائے۔’’دستِ غیب وہ خودکار میکنزم ہے جو انفرادی خود غرضیوں کی جدوجہد کو”جی این پی“ کی بڑھوتری کے حصول کے لیے منظم کرتا ہے۔ پالیسی سازوں یعنی حکومت کی اصل دل چسپی افراد کی اخلاقی یا مذہبی تربیت سے نہیں بلکہ محنت کاروں کی پیداواری کارکردگی میں اضافے سے ہونی چاہیے۔ مزدوروں کی فلاح کی ذمہ داری حکومت کی ذمہ داری ہے کیوں کہ مارکیٹ میں متعین ہونے والی اجرتیں ناکافی ہیں اور بغیر حکومتی امداد کے مزدوروں کی پیداواری کارکردگی میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔

حکومت کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ تجار اور صنعت کاروں کو اجارہ داریاں قائم کرنے سے روکے اور ان کو قیمتوں کے تعین میں دخل اندازی نہ کرنے دے۔ اس طبقہ کے پاس وہ قوت ہے کہ اپنے انفرادی مفادات مجموعی لذات کے فروغ کی راہ میں مزاحم بنا دے۔ اسمتھ لیبر تھیوری آف ویلیو (یاد رہے کہ یہ نظریہ لاک نے پیش کیا تھا) کا قائل ہے لیکن اس نظریے کے ارتقا اور تدوین کا اصل کام ریکارڈو نے کیا۔ اسمتھ کی رائے میں گو قدر صرف محنت کا نتیجہ ہے لیکن اس قدر کی تقسیم میں سرمایہ کے مالکان اور زمین داروں کا بھی حصہ ہوتاہے۔ ا سمتھ تسلیم کرتا ہے کہ یہ بات اخلاقی معیارات کے خلاف ہے لیکن اس تقسیم کو قبول کرنے کا جواز وہ یہ بیان کرتاہے کہ اس سے مجموعی لذات کے فروغ میں اضافہ ہوتا ہے (دلیل یہ ہے کہ مزدور اپنی آمدنی سے سرمایہ کاری نہیں کرتے جب کہ دوسرے طبقات اپنی آمدنی کا بڑا حصہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں)۔تقسیم دولت پر گفت گو کرتے ہوئے اسمتھ مطلوبہ نتائج (فروغِ سرمایہ کے حصول) کو اخلاقی تقاضوں سے مقدم تصور کرتاہے۔

اسمتھ سرمایہ دارانہ نظام کو ’’نظامِ آزادئ اخلاق‘‘ کا نام دیتا ہے۔ آزادی اس نظام کی کلیدی قدر ہے اور بقول اسمتھ قدرت کا منشا اور اصول بھی یہ ہے کہ ہیومن بینگ مکمل آزادی سے مستفید ہوتا رہے۔ فطرتاً ہر ہیومن بینگ اپنی آزادی (سرمایہ) کو فروغ دینے کی مستقل کوشش کرتا ہے اور ریاست کو اس جدوجہد میں ہر ہیومن بینگ کی اس وقت تک مدد کرتے رہنا چاہیے جب تک جدوجہد مجموعی لذات (GNP) کے فروغ میں رکاوٹ نہ بنے۔ عقل کا کام یہ ہے کہ

جب عقل اپنے ان دونوں فراہم کردہ اصولوں کی مخلص تابع داری اختیار کر لیتی ہے تو وہ Reason بن جاتی ہے، عقلیت کا یہ تصور لاک اور ہیوم کے تصوراتِ عقلیت سے واضح مماثلت رکھتاہے۔ ان مفکرین کے مطابق تمام صاحبِ عقل ہیومن بینگ ایسے حکمرانوں کی حاکمیت قبول کر لیتے ہیں جو

سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کے قیام کا مقصد ایک ایسی معاشرتی اور ریاستی تنظیم سازی ہے جس کے نتیجے میں آزادی (سرمایہ) کے فروغ کی لامتناہی جدوجہد جاری اور ساری رہے۔ اس جدوجہد کو جاری رکھنے کا کوئی عقلی یا اخلاقی جواز بیان نہیں کیا گیا (اس نوعیت کا جواز کسی سرمایہ دارانہ فلسفی نے پیش نہیں کیا)۔ بڑھوترئ سرمایہ (آزادی) مقصد اعلیٰ اور اپنا جواز خود ہے۔ یہ ”لا الٰہ الاانسان“ کے کلمہ خبیثہ کی عملی تشریح ہے۔ بقول کانٹ ہر ہیومن بینگ کو اس بات پر ایمان لانا لازم ہے کہ ’’فرد کا وجود خود اپنا جواز ہے‘‘۔ وہ کسی اور مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں۔

عقل اور قانون دونوں تسخیر کائنات اور خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کے حصول کا راستہ بتانے والے ذرائع ہیں۔ فرد عقل اور قانون کی ماتحتی قبول کر کے اپنی خواہشاتِ نفسانی کے حصول اور فروغ کی جدوجہد تمام دیگر ہیومن بینگ کی ایسی ہی جدوجہد سے ہم آہنگ اس طرح کرتا ہے کہ مجموعی آزادی کی شکل (GDP) میں مستقل بڑھتی رہے۔ انفرادی خود غرضیوں کی لامتناہی جدوجہد کے ذریعے ہی پراگرس(جی این پی میں مسلسل اضافہ ) ممکن ہوتی ہے۔ بقول اسمتھ عیسائی قرونِ وسطیٰ کی تہذیب اور معاشرت کو جس چیز نے تسخیر کیا وہ سرمایہ دارانہ تجارت تھی۔ ایسی تجارت جس کا مقصد ضروریات کو پورا کرنا نہیں بلکہ سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار میں مستقل اضافہ ہو۔ اسمتھ کے مطابق عیسائیت کو نشاۃِ ثانیہ اور تحریکِ تنویر نے شکست نہیں دی، عیسائیت کو شکست سرمایہ دارانہ تجارت کے عالمی فروغ نے دی۔ اسی تجارت کی توسیع کے نتیجے میں حرص و حسد ایک وبا کی طرح پورے (عیسائی) معاشرے میں پھیلا اور ہر شخص خدا کا نہیں بلکہ اپنے نفس کا بندہ بن گیا۔ اسمتھ لکھتاہے ’’عیسائیت پر فتح پانے والے دو گروہ تھے ایک امراء اور نواب اور دوسرے ساہو کار اور تاجر۔ یہ دونوں طبقے ہی اس بات کے ذمہ دار تھے کہ پورے عیسائی معاشرے میں خود غرضیوں کی جدوجہد کو عمومی مقصدیت بنا دیں ‘‘۔ یہ طبقے اتنے کامیاب تھے کہ چرچ تک خود غرضی کی اسیر عقلیت کا جواز پیش کرنے لگا[31]۔ اسمتھ اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ امریکا کے قتل عام اور لوٹ مار اور استعماری تجارت کے فروغ نے یورپی عیسائی معاشرے کو برباد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اسمتھ کے مطابق امریکا کی فتح تاریخ انسانی کا سب سے اہم واقعہ ہے۔

اسمتھ کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ حرص و حسد معاشرتی سطح پر خودبخود پروان نہیں چڑھتیں۔ ان اوصافِ رذیلہ کے فروغ کے لیے استعماری لوٹ مار کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام (وہ نظامِ تعلیم جس کا مقصد افراد کو سرمایہ کی بڑھوتری کا ذریعہ بنانا ہے، سرمایہ دارانہ تعلیم سے آدمی ہیومن بینگ بن جاتاہے) کے لیے بھی جدوجہد کرنی چاہیے، ریاست کو مفت پرائمری تعلیم فراہم کرنی چاہیے۔ ریاست کو اس بات کا بھی اہتمام کرنا چاہیے کہ مذہبی انتشار فروغ پائے۔ اسمتھ کہتا ہے برطانیہ میں عیسائیت کو تین ہزار ایسے چھوٹے چھوٹے فرقوں میں تقسیم کر دینا چاہیے جو ملکی وحدت کو پارہ پارہ کر دیں اور ہر فرقے کی پوری توجہ ملکی معاملات سے ہٹ کر اپنے نظریاتی تشخص کے دفاع اور فروغ پر مخصوص ہو۔ ریاست کو ان تمام فرقوں کے درمیان ایک غیر جانب دار ناظر کا کردار ادا کرنا چاہیے اور فرقہ ورانہ بحثوں کو فروغ دیتے ہوئے کسی کو بھی حاکمیتِ قانونِ سرمایہ سے حکم عدولی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ یہ اسمتھ کا تصورِ سیکولر ازم ہے۔

ریاست کو سائنس اور آرٹس بالخصوص تھیٹر اور ناچ کے ہر طریقے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیوں کہ سائنس اور آرٹس دونوں شہوت رانی کے جذبات کو فروغ دیتی ہیں اور خود غرضیوں کی جدوجہد کو مہمیز فراہم کرتی ہیں۔اسمتھ اس بات سے امید رکھتا ہے کہ وہ ریاست جو آزاد معیشت کو فروغ دے، سرمایہ دارانہ تعلیم (بشمول آرٹس، سائنس اور سرمایہ دارانہ ثقافت) کو عام کرے اور فرقہ واریت کو برداشت کرے (یعنی سیکولر ہو) سرمایہ دارانہ عالمگیری عمومیت کی آلہ کار بن سکتی ہے اور اس کے اقتدار کے استحکام کے نتیجے میں ہر انسان ہیومن بینگ بن سکتا ہے اور غیر جانب دار ناظر کے فرمودات کو عقل کو تقاضے کے طور پر قبول کر کے قانونِ سرمایہ کی حاکمیت کی اطاعت پر راضی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسمتھ کے پیرو ریکارڈو کو یہ احساس تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی تقسیم دولت اس راہ میں حائل ہو سکتی ہے اور سرمایہ دارانہ معاشرت طبقاتی کش مکش کا شکار ہو سکتی ہے۔ ریکارڈو نے اپنی پوری توجہ اسی مسئلہ پر مرکوز کی۔

5.3۔سرمایہ دارانہ نظام میں تقسیمِ دولت

ریکارڈو سرمایہ دارانہ معاشرے کو مختلف طبقات میں تقسیم متصور کرتا ہے۔ ہر طبقہ ایک مخصوص معاشی فریضہ انجام دیتا ہے اور اس کے طبقاتی مفادات جداگانہ ہوتے ہیں، طبقاتی تعلقات طبقاتی مفادات کی پیہم جدوجہد میں استوار ہوتے ہیں۔ ریکارڈو انہی تعلقات کو سرمایہ دارانہ معاشرت سے تعبیر کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ معیشت (یعنی مارکیٹ) وہ محور اور مرکز ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرتی تغیر کے عمل کو منظم کرتی ہے۔ معاشرے کی بنیاد معیشت ہے؛ اخلاقیات، سیاسیات اور مذاہب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں[32]۔

طبقات کے باہمی تعلقات کا سوال ریکارڈو نے جس دور میں اٹھایا اس دور میں انگلستان نپولین سے لڑی جانے والی جنگوں کے اثرات برداشت کر رہا تھا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں اجناس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا اور زمین کی اجرتیں بھی تیزی سے بڑھنے لگیں۔ اس کے برعکس صنعت کاروں کے منافعے اور اجرتیں نسبتاً کم ہوئیں اور ملکی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو گئی۔ عوام بھوکوں مرنے لگے اور اس بات کا خطرہ پیدا ہوا کہ وہ دولت مند طبقوں کے خلاف بغاوت نہ کر دیں۔ حکمرانوں کو احساس ہوا کہ ریاستی معاشی حکمت عملی کو اس متوقع بغاوت کو ٹالنے کے لیے موثر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

ریکارڈو انگلستان کے اہم ترین سٹے بازوں میں شامل تھا اور اس کے نظریاتی کام کا بنیادی محرک سرمایہ دارانہ نظام کا تحفظ تھا۔ ریکارڈو کے خیال میں اسمتھ اور اس سے پہلے کے معیشت دان جس سوال کا جواب نہ دے سکے وہ یہ تھا کہ ’’وہ کون سے فطری قوانین ہیں جو GNP کو اجرت، منافع اور کرایے میں منقسم کرتے ہیں۔ ریکارڈو نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی اور ایسی ریاستی حکمت عملی تجویز کی جو ان فطری اصولوں پر مبنی ہو اور ان سے مستفید ہو کر سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو فروغ دے سکے۔ریکارڈو نے لاک اور اسمتھ کی وضع کردہ فکر کی توسیع کی۔ ریکارڈو کے مطابق کسی شے کی قدر اس کی پیداوار کی محنت کے دورانیے سے متعین ہوتی ہے۔مثلاً ایک میز بنانے میں ایک مزدور دس گھنٹے صرف کرتا ہے اور ایک کرسی بنانے میں وہ پانچ گھنٹے صرف کرتا ہے تو دو کرسیوں کی قدر ایک میز کے برابر ہونی چاہیے۔ شے کی قدر کا کوئی تعلق اس اجرت، منافع اور کرایے سے نہیں جو اس کے نتیجے میں ادا کی جائے گی بلکہ اجرت، کرایہ اور منافع شے کی قدر کے مختلف حصے ہیں۔

قدر کے حصوں کا تعین جن ’’اصولوں‘‘ کی بنیاد پر ہوتا ہے ان کے بارے میں ریکارڈو نے دو نظریات پیش کیے: ایک نظریہ اجرت اور ایک نظریہ کرایہ۔ منافع کو وہ صرف قدر کا وہ حصہ گردانتا ہے جو اجرت یا کرایہ کی مد میں صرف نہ کیا جائے یعنی

لہٰذا منافع کا تعین علیحدہ ’’قانون فطرت ‘‘کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ کرائے کی تھیوری یہ ہے کہ بنجر زمین کا کوئی کرایہ نہیں اور جیسے جیسے قطعاتِ اراضی کی زرخیزی بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے ان کا کرایہ بڑھتا جاتا ہے اور سب سے زیادہ کرایہ سب سے زیادہ زرخیز قطعہ اراضی کو ملتا ہے۔ جتنا زیادہ فرق بنجر اور زرخیز ترین اراضی کی زرخیزی میں ہو گا کرایہ اتنا زیادہ ہو گا۔

ریکارڈو کے مطابق اجرت کا تعین محنت کشوں کی رسد اور طلب پر منحصر ہے۔ جب مارکیٹ میں لیبر کی تعداد ان کی مانگ کے مقابلے میں بڑھے گی تو اجرتیں گریں گی۔ اصولاً اجرت اس سطح کے اردگرد متعین ہو گی جو مزدوروں کو زندہ رہنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس نظریے کو subsistence theory of wages کہتے ہیں اوریہ سطح جس کے نتیجے میں اگر اجرتیں گریں اورمزدور طبقہ منتشر ہو جائے، مزدوروں کی عادات اور روایات پر منحصر ہے۔ریکارڈو کہتا ہے کہ اگر قانون سازی کے ذریعے اجرتوں کوsubsistence کی سطح سے اونچا کیا گیا تو: 

ریکارڈو کا پیغام یہ ہے کہ اجرتوں کو subsistence پر ہی رہنا چاہیے اور ریاست کو کوئی ایسے اقدام نہ کرنے چاہییں کہ اجرتیں اس فطری subsistence سطح سے بلند ہوں کیوں کہ ایسے اقدامات مزدور طبقے کے حقیقی مفادات کے منافی ہیں ان اقدامات کے نتیجے میں یا تو مزدوروں کی آبادی بڑھے گی (ان کی سطح زندگی نہیں) یا وہ بے روزگار ہو جائیں گے۔

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار

انتہائی سادگی سے کھا گیا مزدور مات[33]

ریکارڈو کے مطابق منافع وہ قدر ہے جو اجرت اور کرایہ کو منہا کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔

محنت کشوں کو جو اجرت دی جاتی ہے وہ قدر کا ایک حصہ ہوتی ہے، وہ حصہ جو محنت کشوں کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے لہٰذا منافع کا تعین ایسے ہوتاہے:

اسsubsistence سطح پر متعین کی گئی اجرت کو ریکارڈومحنت کی فطری قیمت کہتا ہے۔ ریکارڈو کے مطابق مجموعی قومی آمدنی یعنی GNP کی مقدار متعین ہے اور اس کا تعین محنت کاروں کی پیداواری استطاعت سے ہوتا ہے۔ یہ متعین مجموعی پیداوار تین طبقوں محنت کشوں، زمین داروں، صنعت کاروں اور ساہوکاروں میں اجرت، کرایہ اور منافع کی شکل میں تقسیم کی جاتی ہے اور گو کہ اجرت اور کرایہ کا تعین قوانینِ فطرت، ویج فنڈ اور Land diffrential productivities کی بنیاد پر ہوتا ہے، لیکن ان کا تعین جس طرح عمل میں آتا ہے وہ عمل مربوط ہے۔

ریکارڈو کے خیال میں سرمایہ دارانہ نظام فطرتاً روبہ زوال اور انہدام کی طرف مائل ہے۔ جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے کسان بنجر سے بنجر زمین کاشت کرنے پر مجبور ہیں اور Wage fund میں (انفرادی اجرتوں میں نہیں) اضافہ ناگزیر ہوتا جا رہا ہے لہٰذا مجموعی آمدنی میں منافع کا حصہ کم اور اجرتوں اور کرایے کا حصہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ریاست کو ان رجحانات کو ختم کرنے کے لیے پالیسی سازی کرنی چاہیے۔ ریکارڈو نے چار پالیسی تجاویز پیش کیں اور ان سب کو کچھ ترمیم کے ساتھ پہلے انگلستان اور بعد میں بیش تر سرمایہ دارانہ ممالک میں اپنا لیا گیا:

  1. بین الاقوامی تجارت کا فروغ اور محصولات میں بدرجہ تخفیف۔ اس کے نتیجے میں ریکارڈو کہتا ہے کہ اناج کی قیمتوں اور subsistence اجرت میں کمی ہو گی اور زمین کا کرایہ بھی کم ہو گا۔
  2. ایسے اقدامات کا خاتمہ جن کے نتیجے میں اجرتوں میں اضافہ ہو مثلاً ریکارڈو کے دور میں انگلستان میں ایسے قوانین موجود تھے (انہیں Poor lawsکہتے تھے اور ریکارڈو نے ان کی تنسیخ کی بھرپور کوشش کی ) جن کی بنیاد پر غریبوں اور بے روزگاروں کو آمدنی اور رہائش فراہم کی جاتی تھی۔
  3. ایسے ٹیکسوں کا نفاذ جو زمینداروں کی آمدنی پر ہوں اور جو مجموعی قومی آمدنی میں کرایہ کا تناسب کم اور منافع کا تناسب زیادہ کر دیں۔
  4. سرمایہ دارانہ زر کی تشکیل۔

5.4۔سرمایہ دارانہ زر کی تشکیل

اپنی سٹے بازی کے عروج کے دور میں ریکارڈو نے بینک آف انگلینڈ کے منتظمین سے قریبی تعلقات استوار کیے۔ اپنے دور میں ریکارڈو بینک آف انگلینڈ کے تمسکات Bonds کا سب سے بڑا بیوپاری تھا۔ نپولین کی جنگوں میں انگلستان کا سرکاری قرضہ بے تحاشا بڑھ گیا اور ریکارڈو نے جنگی تمسکات کے لین دین سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سرمایہ دارانہ زر کی تشکیل کے بارے میں ریکارڈو نے جو تجویز دی اس کو وہ اپنا سب سے بڑا فکری کارنامہ قرار دیتا تھا۔ انیسویں صدی میں بیش تر سرمایہ دارانہ ممالک میں ملکی کرنسی سونے یا چاندی کے متبادل ہوتی تھی اور عموماً سکے کی قیمت اس سونے یا چاندی کے وزن کے مطابق کی جاتی تھی جو ایک سکے میں شامل کیا جاتا تھا۔ نپولین کی جنگوں کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی قیمت یورپی بازاروں میں تیزی سے بڑھنے لگی اور برطانوی کرنسی میں شرح تبدل گرنے لگا۔ اس زمانے میں بینک آف انگلینڈ نے ایسی کاغذی کرنسی کا اجراء کیا تھا جو سرمایہ دارانہ زرکی ابتدائی شکل تھی کیوں کہ بینک آف انگلینڈ کے نوٹوں کو ملک کے اندر سونا یا چاندی میں کسی مقررہ شرح میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری بینک آف انگلینڈ نے قبول نہیں کی تھی۔ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے یہ نوٹ استعمال نہیں کیے جاتے تھے کیوں کہ انگلستان کی معیشت کا دارومدار بین الاقوامی تجارت پر بہت زیادہ تھا لہٰذا جب سونے کی قیمت بڑھتی تھی تو بین الاقوامی مارکیٹ میں انگلستان کی اس کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی تھی جو ان بازاروں میں استعمال ہوتی تھی (بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ نوٹ نہیں)۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ بینک آف انگلینڈ کے کاغذی نوٹ ضرورت سے زیادہ جاری کر دیے گئے ہیں اورافراطِ زر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ریکارڈو نے ثابت کرنے کی کو شش کی کہ کاغذی نوٹوں کے اجراء کی حد متعین کی جا سکتی ہے۔

ریکارڈو نے ثابت کیا کہ سرمایہ دارانہ زر(وہ زر جس کے اجراء کا بنیادی مقصد بڑھوترئ سرمایہ کا اصول ہو) کی کوئی ذاتی قدر نہیں ہوتی اور اس کے اجراء اور رسد کو اس طرح ترتیب کیا جا سکتا ہے کہ افراطِ زر یا معاشی کساد بازاری رونما نہ ہو۔ ریکارڈو نے اس بات کی وکالت کی کہ بینک آف انگلینڈ کو سرمایہ دارانہ زر (غیر متبدل کاغذی نوٹ) چھاپنے کی اجازت دی جائے اور کسی دوسرے بینک یا حکومت کو خود یہ اختیار نہ دیا جائے۔ اس طرح بینک آف انگلینڈ کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور وہ بغیر کسی خرچ برداشت کیے کاغذی زر کا اجراء کر سکے گا۔ اس کاغذی کرنسی کے اجراء کی حد کا تعین اس بات پر منحصر ہو گا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی کرنسی کی شرح مستحکم رہے۔یہ شرح یا نرخ سونے میں طے کیا جاتا تھا لہٰذا پیپر کرنسی کی قدر کا بلاواسطہ تعلق سونے کی قیمت سے برقرار ہو گا۔ آج کل سرمایہ دارانہ زر پورے طور پر بینکوں کے قبضے میں آ گیا ہے۔ ڈالر، پاؤنڈ، یورو وغیرہ کی کوئی متبادل قیمت نہیں سب inconvertible ہیں۔ بینک کاری نظام اپنے منافع کو Maximise کرنے کے لیے جتنی مقدار میں چاہتا ہے سرمایہ دارانہ مرکزی بینک کے تعاون سے جاری اور منہا کرتا ہے۔ریکارڈو کی تجاویز کو بینک آف انگلینڈ اور برطانوی پارلیمنٹ نے ۱۸۱۷ء میں منظور کر لیا۔

اسمتھ اور ریکارڈو نے اقتصادیات کو ایک سائنس بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سائنس کو اکنامکس کہتے ہیں۔ اکنامکس کا علمیاتی منہج کانٹ کی تصوریت اور ہیوم کی تجربیت کا امتزاج ہے اور ریکارڈو کی تصانیف نے اس منہج کو سرمایہ دارانہ انفرادی اور اجتماعی حکمت عملی کی اساسی بنیاد بنا کر دکھایا۔ انیسویں صدی کے بعد سے دیگر سوشل سائنسز سائیکالوجی، سوشیالوجی، پولیٹیکل سائنس وغیرہ اسی علمیاتی منہج کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور ریاستی غلبے اور تحفظ کےلیے راہ ہموار کرتی ہیں۔

6۔ انگریز اور آسٹرین نیو کلاسیکی معیشت دان

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے علمیاتی منہج کا سب سے واضح اظہار اکنامکس میں ہوتا ہے۔ جس سائنس کو آج اکنامکس کہا جاتا ہے اس کا تعلق اٹھارھویں صدی کے تحریک تنویر کے مفکرین سے ہے لیکن اس کے موجودہ اصول اور دائرہ کار انیسویں صدی کے مفکرین نے مرتب کیے جن کو نیوکلاسیکی اکنامسٹس کہا جاتا ہے۔ اس مکتبہ فکر کا ایک بانی بینتھم (Jeremy Bentham) تھا۔بینتھمکو ریڈیکل فلاسفہ کا قائد بھی کہا جاتا ہے لیکن اس کی ریڈیکلزم مذہب دشمنی تک محدود تھی (بینتھم اور اس کے پیروکاروں نے اپنے دور میں صنعت کاروں اور ساہوکار طبقوں کا ساتھ دیا اور اس کو حکومت میں اثر اسی بنیاد پر نصیب ہوا)۔ بینتھم کی فکر پر لاک کی چھاپ واضح طور پر نظر آتی ہے لیکن لاک کے برعکس بینتھم کھلم کھلا اپنی دہریت کا اقرار اور خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ ۱۸۳۰ء کی دہائی کے بعد سے خدا کے وجود کا انکار اور دہریت کو بیش تر یورپی ممالک میں برداشت کیا جانے لگا۔ اس زمانے سے قبل یورپی معاشرہ اور ریاستیں دہریت کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں تھیں۔ امریکا میں دہریت کو برداشت کرنے کی روایت صدر لنکن کے دور میں پڑی۔

بینتھم جس نظریے کے لیے مشہور ہے اسے نظریہ افادیت(Utilitarianism) کہتے ہیں۔ یہ نظریہ بینتھم سے بہت پہلے پیش کیا جا چکا تھا مثلاً لاک اور ہیوم کی فکر میں نظریہ افادیت کے اشارے پائے جاتے ہیں لیکن بینتھم کی فکر کی ندرت اس بات میں تھی کہ اس نے نظریہ افادیت کو قانون سازی کی بنیاد پر مروج کرنے کی کوشش کی اور برطانیہ میں اس ضمن میں ایک قلیل عرصہ میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی۔

6.1۔نظریہ افادیت

اس نظریے کے مطابق کسی عمل کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار نتائج پر منحصر ہے۔ بینتھم کے مطابق ’’اچھا‘‘سے مراد ’’لذت بخش ‘‘اور برے سے مراد ’’اذیت بخش‘‘ہے۔ جیسے جیسے اطلاعات اور مشاہدات میں اضافہ ہو گا ویسے ویسے ہیومن معاشرہ ترقی کرے گا۔ ترقی سے مراد یہ ہے کہ لذات کا فروغ ہو گا اور تکلیف میں کمی ہو گی بشرطیکہ ان اطلاعات اور تجربات کو معاشرتی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پرانے خیالات، رسوم و رواج اور مذاہب کو سمجھا گیا۔ وہ تجربات و مشاہدات علم کا ذریعہ بنتے ہیں جو لوگ حصولِ لذت کے لیے کرتے ہیں اور بینتھم کے خیال میں لذات اور اذیت کو سائنٹفک بنیادوں پر ناپا جا سکتا ہے۔ حصولِ لذات کے علاوہ خیر کے جانچنے کا اور کوئی پیمانہ نہیں۔ حصولِ لذات کی جستجو کی بنیاد پر ایسا معاشرتی نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں فیصلے ریشنلٹی کی بنیاد پر کیے جاتے ہوں اور جہاں قانون سازی تاریخی اور مذہبی روایات کے مطابق نہیں بلکہ عقل کے تقاضوں کے مطابق کی جائے۔عقل ہمیں ان قوانین سے روشناس کراتی ہے جو زیادہ سے زیادہ ہیومن بینگ کو زیادہ سے زیادہ لذات مہیا کرنے کےلیے ضروری ہیں۔ اس کو Greatest Happiness Principal (GHP) کہتے ہیں اور یہ افادیت پسندی کا رہنما اصول ہے یعنی ’’وہ فعل احسن ہے (مثلاً سودخوری، زنا بالرضا، تصرف فی الارض ) جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ ہیومن بینگ کو زیادہ سے زیادہ لذات حاصل ہوتی ہیں‘‘۔ فلسفیانہ مباحث اس اصول (GHP) کو کانٹ کے Categorical imperativeسے مختلف بھی بیان کرتی ہیں اور GHP اور Categorical imperative کے اصولوں میں ہم آہنگی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ اس دوسری رائے کا سب سے مدلل اظہار Harsanyiکی تحریروں میں ملتا ہے۔

بینتھم کی رائے میں اس اصول کی بنیاد پر جو قانون سازی کی جائے گی اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں ہیومن بینگ کے باہمی تعلقات تضادات سے پاک اور پرامن ہوں گے لیکن یہ قوانین انفرادی اخلاقی اصلاح یا تغیر کا باعث نہیں بن سکتے۔ ہیومن بینگ فطری طور پر خودغرض ہوتا ہے لہٰذا GHPکی بنیاد پر بنائے گئے قوانین جن اعمال کی لذات کو کم یا ان کی اذیت کو زیادہ گردانیں گے اور اس بنیاد پر قانون سازی کریں گے ان کو ان قوانین کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کیا جانا پڑے گا۔ GHP ایک آفاقی اصول ہے اور ہر جگہ اور ہر زمانے میں اس اصول کے مطابق ہی قانون سازی کی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اکنامکس کے اصول مثلاً طلب و رسد آفاقی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی بنیاد پر جو پالیسیاں بنائی جانی چاہییں ان کو تاریخی روایات اور جغرافیائی حالت کی بنا پر ان آفاقی اصولوں کے اطلاق کو ممکن بنانا ہوتاہے۔ لہٰذا فرانس کا سرمایہ دارانہ نظام زندگی امریکا اور جاپان کے سرمایہ دارانہ نظام زندگی سے لازماً کسی حد تک مختلف ہے۔ بینتھم کو اس بات کا شعور تھا لیکن نیوکلاسیکی اکانومسٹس اس بات کو عموماً نظر انداز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس انسٹی ٹیوشنل اکنامکس جو نیوکلاسیکل اکنامکس ہی کی ایک شاخ ہے اس بات پر زور دیتی ہے کہ جیسے جیسے کوئی معاشرہ ترقی کرتاہے اس میں آفاقی اصولوں کا اطلاق آسان ہوتا چلا جاتا ہے اور مذہبی عقلیت اور تہذیب نامعقول گردانی جاتی ہے۔

بینتھم کے مطابق ترقی سے مراد ’’بہتر اور زیادہ کھانا، اونچا ہوتا ہوا معیارِ زندگی اور ترقی کرتے ہوئے مساوی مواقع‘‘ کا فروغ ہے۔ انہی اہداف کا اصول معاشرتی اصلاح کا قابلِ حصول منطقی مقصد ہونا چاہیے اور اس مقصد کا عیسائی مقاصد دینیہ کا کوئی واسطہ نہیں۔ ان پالیسیوں سے لوگوں کی روحانی یا اخلاقی حالت بہتر نہ ہو گی (یہ ان پالیسیوں کے نفاذ کا مقصد ہی نہیں) لیکن اس سے حصولِ لذات میں مستقل اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس لذات کے حصول کی بڑھوتری کو بینتھم Well beingکہتا ہے۔ بینتھم کے مطابق اخلاق یا روحانی کیفیات کی تطہیر ایک لغو اور لایعنی تصور ہے کیوں کہ GHP کے علاوہ کسی ایسے اصول کا وجود ہی نہیں جو خیر کی آفاقی حیثیت بیان کرے اور GHP افراد کے اخلاقی اور روحانی حالات میں تغیر لانے سے قاصر ہے۔ GHP کی بنیاد پر بنائے ہوئے قوانین ان تمام تصوراتِ خیر (بالخصوص عیسائی تصور خیر) کے حصول کو ناممکن بناتے چلے جاتے ہیں جو خیر کو فروغِ حصولِ لذات کے علاوہ کوئی اور چیز تصور کرتے ہیں۔

چوں کہ لذات کے فروغ انتہا کی جدوجہد فطرت کا تقاضا ہے لہٰذا عوام کو یہ پورا موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی انفرادی حصولِ لذات کی جدوجہد میں آزاد ہوں۔ حکومت کے دو فرائض ہیں:

قانون سازی اور تنفیذ کا مقصد ہر فرد کی فروغِ لذات کی جدوجہد میں معاونت کرنا ہونا چاہیے۔ پالیسی ساز معاشرے کے وہ چند افراد ہوں گے جو پورے طور پر GHP کی معقولیت کے قائل ہیں۔ وہ اسمتھ کے غیر جانب دار ناظر کی مانند ہوں گے اور Well being(معاشرتی لذات کے فروغ) کو اپنی ذاتی لذات کے فروغ پر ترجیح دیں گے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت ان حکام کو یہ بات باور کرائے گی کہ:

قانون کی حکمرانی سرمایہ کے قانون کی حکمرانی ان معنوں میں ہے کہ قانون کی تنفیذ کا مقصد کسی خاص فرد مثلاً بادشاہ یا گروہ مثلاً ساہوکاروں کے انفرادی یا گروہی مفادات کا تحفظ یا فروغ نہیں۔ قانون کی تنفیذ کا واحد مقصد GNP یعنی اجتماعی سرمایہ کی بڑھوتری ہے۔ قانون بادشاہوں، ساہوکاروں، مزدوروں، کسانوں سب کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کا واحد مطالبہ ہر فرد اور ہر گروہ سے یہ ہے کہ بڑھوتری سرمایہ کے آفاقی مقصد کو اپنے انفرادی اور گروہی مقاصد پر ہر حال میں مقدم رکھے کیوں کہ یہی زیادہ سے زیادہ خواہشات کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

6.2۔ مارجنلزم

بینتھم کے جانشین تین اکنامسٹ جیونس، والرا اور مینگر تھے۔ ان کو اور ان کے مکتبہ فکر کے پیروؤں کو Marginalist کہا جاتا ہے اور یہ مکتبہ فکر پچھلے ڈیڑھ سو سال سے اکنامکس کی سائنس پر غالب رہا ہے۔ میری رائے میں Marginalism ہی اکنامکس کا فطری منہج ہے اور اس سے ہٹ کر جو اکنامکس تجزیے کیے جاتے ہیں وہ پولیٹیکل اکانومی کے زمرے میں شمار کیے جانے چاہییں۔ میکرو اکنامکس کی بنیادیں بھی Marginalist ہی ہیں اسلامی اکنامکس بھی Marginalism کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ Marginalism یوٹیلیٹیرین ازم کی سائنٹفک تشریح ہے۔ لیکن مینگر کوUtilitarianکہنا ایک مشکل بات ہے۔ اس کی فکر پرجرمن Historical School کا خاصا اثر تھا۔ Marginalism جس بنیادی سوال سے بحث کرتی ہے وہ مارکیٹ میں انفرادی اشیاء کی قیمت کے تعین کا سوال ہے۔ یہ کلاسیکی اکنامکس کے لیے ایک ضمنی سوال تھا۔ انہوں نے سوال کا جواب دینے کے لیے جو نظریہ قدر پیش کیا اس کی بنیاد شے کی افادیت پر تھی۔ Marginalism نے لیبر تھیوری آف ویلیو کو ردّ کر دیا۔ Marginalists کے مطابق:

لہٰذا سرمایہ دارانہ معاشرے میں معاشی عدل ٹیکنیکل اور سائنٹفک عوامل کے ذریعے خودبخود قائم ہو جاتا ہے۔ عدل کے قیام کےلیے کسی سیاسی اقدام کی کوئی ضرورت نہیں۔ Marginalistفکر ۱۸۷۰ء کی دہائی میں پیدا ہوئی لیکن اس کا معاشرتی اثر ۱۸۸۰ء اور ۱۸۹۰ء کی دہائیوں میں حاصل ہوا۔ یہ دور یورپ میں مزدور تحریک کے ابھرنے کا دور تھا اور یہ مزدور تحریک اندرونی خلفشار کا شکار تھی اور اصلاح پسند دھڑے مزدور تحریک پر غالب آ گئے اور ان کی فتح میں Marginalist فکر نے ایک اہم کردار ادا کیا۔

Marginalist اکنامکس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ حکومت کو تعین قیمت کے عمل سے قطعاً لاتعلق رہناچاہیے۔ سب سے پہلے Jeveons نے ثابت کیا کہ برطانوی کوئلے کی مارکیٹ میں جو قیمتیں متعین ہوتی ہیں وہ کوئلے کی مانگ کو کوئلے کی رسد کے بالکل برابر کر دیتی ہیں اور رسد اور طلب کا یہ توازن اس بات کا غماز ہے کہ قوانینِ فطرت (یعنی قوت رسد و طلب) کی بنیاد پر متعین ہونے والی قیمتیں عادلانہ (Efficient) قیمتیں ہیں۔ لہٰذا وسائل کی وہ تقسیم بہترین نتائج برآمد کرتی ہے جو ایک آزاد مارکیٹ کی کارفرمائی کے نتیجے میں ظاہر ہو۔ Marginalist اکنامکس کی اصل دلچسپی اجرتوں کے تعین کے عمل سے تھی۔ ان کے نظریات کے مطابق لیبر مارکیٹ میں قیمت یعنی اجرت کا تعین بھی وہی فطری قوتیں (طلب و رسد) کرتی ہیں جو اشیاء کے بازاروں میں یہ کام انجام دیتی ہیں۔مزدوروں کے رسد و طلب کے توازن کے نتیجے میں جو اجرت متعین ہو وہ عادلانہ اجرت ان معنوں میں ہوتی ہے کہ مزدور کو وہی معاوضہ دیا جاتا ہے جو اس کی محنت کے نتیجے میں شے کی قیمت میں شامل ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ اجرت کا اس نوعیت کا تعین اس بات کا بھی ضامن ہوتا ہے کہ مزدوروں کی رسد ان کی طلب کے بالکل برابر رہتی ہے، ایسی لیبر مارکیٹ میں بے روزگاری کا وجود ناممکن ہے۔ لہٰذا Menger نے اصرار کے ساتھ کہا ہے کہ حکومت کا اجرتوں کے تعین میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

Menger نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرمایہ دارانہ ادارہ بالخصوص مارکیٹ، زر اور نظام بینک کاری کسی باضابطہ پالیسی کے نتیجے میں قائم نہیں کیے گئے۔ یہ سرمایہ دارانہ ادارے تعقل فطری کا اظہار ہیں اور جب افراد نے اپنے خواہشات کے حصول کی جدوجہد کی تو ہر ادارہ خودبخود ایک تاریخی عمل کے طور پر ظہور پذیر ہو گیا۔ Marginalist اس بات کا برملا اقرار کرتے ہیں کہ عموماً مارکیٹ میں قیمتیں آزادانہ رسد اور طلب کے توازن کے ذریعے متعین نہیں ہوتیں اور غیر یقینی حالات اور حادثات، سیاسی مداخلت توازن کے اس عمل سے رونما ہونے میں مداخلت کرتی ہیں۔ لیکن Marginalist اکنامکس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقی تصویر کشی نہیں بلکہ یہ سائنس وہ اصول مرتب کرتی ہے جن کی پیروی کر کے مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ دارانہ عدل قائم کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اجارہ داری، حادثات اور غیریقینیت کے قیمت کے تعین پر اثرات سے سہو نظر جائز ہے اور Marginalist تجزیے کے ذریعے وہ اصول بیان کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر وسائل کی سرمایہ دارانہ، عادلانہ تقسیم ممکن ہو سکتی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ قیمتوں کا تعین آزادانہ توازن طلب اور رسد کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور سرمایہ دارانہ حکومت اسی اصول کو اپنی پالیسی کی بنیاد بنا کر سرمایہ دارانہ عدل قائم رکھ سکتی ہے۔

6.3۔مارجنلسٹ نظریہ قیمت

مارجنلسٹ تجزیہ کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ خواہشات لامحدود ہیں اور وسائل ان کے مقابلے میں محدود ہیں۔ اپنی خواہشات کی تکمیل کےلیے افراد اشیاء اس طرح بیچتے اور خریدتے ہیں کہ حاصل شدہ مجموعی یوٹیلیٹی زیادہ سے زیادہ ہو لیکن کسی شے کی قیمت اس سے حاصل شدہ مجموعی یوٹیلیٹی کے برابر نہیں ہوتی بلکہ اس یوٹیلیٹی کے برابر ہوتی جو اس شے کے آخری جزو (Marginal unit)کے استعمال سے حاصل ہوتی ہے اس یوٹیلیٹی کو (Marginal utility)کہتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قیمت کا انحصار اس کی کمیابی پر منحصر ہے چوں کہ ہوا کمیاب نہیں لہٰذا اس کا کوئی Marginal unit اور کوئی قیمت نہیں۔ جو اشیاء کمیاب نہیں مارکیٹ میں ان کی کوئی قدر (قیمت) نہیں (سرمایہ دارانہ معاشرے اور علمیت میں قدر کے اظہار کا واحد پیمانہ قیمت ہے)۔ قیمتیں ہمیشہ تقابلی قدر کا اظہار کرتی ہیں ۔اگر ایک کاپی کی قیمت سو روپے ہے اور ایک پنسل کی قیمت دس روپے ہے تو کاپی پنسل سے دس گنا زیادہ قیمت (قدر) رکھتی ہے۔چوں کہ قیمتیں اشیا سے حاصل شدہ Marginal utility کے برابر متصور کی جاتی ہیں لہٰذا ایک معقول صارف اس طرح خرچ کرے گا کہ جو قیمتیں وہ ادا کرے وہ اس کی مجموعی یوٹیلیٹی کو انتہائی حد تک پہنچا دے۔ وہ اس تناسب سے اشیا خریدے گا جس سے ہر شے سے حاصل شدہ Marginal utility ہر دوسری خریدی ہوئی شے سے حاصل شدہ Marginal utility کے برابر ہو گی ۔اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کا امکان موجود ہے کہ ( کسی شے کو زیادہ یا کم خرید کر اپنے وسائل کے استعمال کے ذریعے اپنی مجموعی یوٹیلیٹی میں اضافہ کرے) جو قیمتیں وہ ادا کرے گا وہ Effecient یعنی بہترین ان معنوں میں ہوں گی کہ

۱۔ ان کو ادا کر کے وہ ایسے محدود وسائل کو اس طرح خرچ کر رہا ہے کہ اس کی حاصل شدہ مجموعی یوٹیلیٹی maximise ہو رہی ہے۔

۲۔ چوں کہ خریدنے اور بیچنے والے دونوں ہی عاقل ہیں لہٰذا دونوں مارکیٹ میں اپنی خواہشات کو maximise کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لہٰذا صرف وہی چیزیں فروخت کی جائیں گی جن کی طلب ہو۔ قیمتوں کا Marginal utility کے برابر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رسد اور طلب ہمیشہ توازن میں رہیں گی (یعنی ہر شے کی طلب اس کی رسد کے برابر ہو گی، مجموعی بچتیں مجموعی سرمایہ کاری کے برابر ہوں گی نہ بے روزگاری ہو گی نہ افراطِ زر یا کساد بازاری)۔

۳۔ وہ قیمتیں جو اشیا کی Relative marginal utility کے برابر ہوں گی عادلانہ قیمتیں ہوں گی، کیوں کہ یہ صارف اور ساہوکار کے آزادانہ فیصلوں کی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں۔ جنہیں آزاد اور معقول افراد[34] نے اپنے محدود وسائل کو استعمال کر کے اپنی مجموعی یوٹیلیٹی کو maximise کرنے کے لیے کیے ہیں۔

اشتراکی سرمایہ داری کے نقیبوں نے اس تصورِ عدل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس تخیل کے درست ہونے کے لیے لازم ہے کہ بازار میں داخل ہونے والے ہر فرد کے پاس مساوی (محدود) وسائل ہوں اگر ایسا نہیں تو قیمتیں جن Relative marginal utilities کے برابر ہوں گی، وہ ان ترجیحات کی غماز ہوں گی جو زیادہ وسائل والے افراد کی ترجیحات ہیں۔ لیکن اشتراکی سرمایہ داری کے نقیبوں کو اس بات پر اعتراض نہیں کہ قیمتوں کا تعین مجموعی یوٹیلیٹی کی maximisation کے ہدف کے اصول کے لیے ہی کیا جانا چاہیے اور جیسا کہ ایک مشہور اشتراکی سرمایہ دارانہ نقیب Ludwig Misesنے ثابت کیا کہ اشتراکی منصوبہ بندی میں جو قیمتیں متعین کی جاتی ہیں وہ قیمتیں ایک آزاد سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی خودکاریت کی بنیاد پر متعین قیمتوں کے برابر ہوتی ہیں۔ نیوکلاسیکی اکنامسٹ نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ حاضر اور موجود سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں قیمت کے تعین کی تشریح پیش کر رہے ہیں، انہوں نے یہ بات بیان کرنے کی کوشش کی تھی کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں قیمت کن اصولوں کے تحت متعین ہونی چاہیے۔

مارکیٹ میں ہر فرد اپنی مجموعی یوٹیلیٹی کو maximise کرنا چاہتا ہے خریدنے والی شے سے یوٹیلیٹی صَرف کے ذریعے حاصل کرتا ہے بیچنے والا یوٹیلیٹی اس منافع سے حاصل کرتا ہے جس کو شے بیچ کر حاصل کرتا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ بازاروں میں بیچنے والے عموماً فرد نہیں ہوتے فرمیں ہوتی ہیں (جہاں بیچنے والے افراد ہوں وہ بازار ہوتے ہیں،سرمایہ دارانہ مارکیٹ نہیں ہوتے مثلاً کراچی کی سبزی منڈی یا پنڈی کے راجہ بازار میں کرخندار؛ مسلم ممالک میں بازار ایک روایتی اسلامی ادارہ ہے جس کا معاشرے سے گہرا تعلق ہے) اور فرم جو منافع کماتی ہیں اس کا نہایت قلیل حصہ ذاتی صرف میں خرچ ہوتا ہے۔ فرمیں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور یہی منافع کا فطری استعمال سرمایہ دارانہ معاشرے میں ہے۔

سرمایہ دارانہ ملکیت کی اساسی تجسیم کارپوریشن وہ شخص قانونی ہے جس کا مقصد وجود اپنے حصص کی قیمت کی لامتناہی بڑھوتری ہے۔ وہ منافع کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اپنے ابتدائی دور سے ۱۹۷۳ء تک کارپوریشن کا اصلی دائرہ کار صنعتی شعبہ تھا۔کارپوریشنوں کی ابتدا سترھویں صدی کی پہلی دہائیوں سے شمار کی جاتی ہے بیسویں صدی کی آخری چوتھائی تک فنانشل مارکیٹ کا دائرہ کار سرمایہ کی بین الاقوامی پر پابندیوں اور Fixed exchange rate نظام کی پابندیوں کے نتیجے میں قدرے محدود رہا۔ عموماً سرمایہ دارانہ زر کا دائرہ کار قومی معیشتوں تک محدود تھا۔ کارپوریشنیں پیداواری عمل میں جو اشیا خریدتی تھیں وہ مزدوری، خام مال اور مشینری تھا۔مارجینل اکانومسٹس کے تجزیے کے مطابق کارپوریشن یہ عوامل پیداوار اس تناسب سے خریدے جاتے ہیں، جو ہر عامل پیداوار سے حاصل شدہ اختتامی (Marginal product) ہر دوسرے خریدے ہوئے عامل پیداوار کی اختتامی پیداوار کے برابر کر دے۔ اسی تناسب سے عوامل پیداوار خرید کر کارپوریشنیں اپنے منافع کو maximise کر سکتی ہیں (ورنہ ایک عامل پیداوار کو بڑھا اور دوسرے کی خریداری کو کم کر کے مجموعی منافع بڑھایا جا سکتا ہے)۔ جس طرح ہر شے کی قیمت اس کی Marginal utility کے برابر متعین ہوتی ہے اسی طرح ہر عامل پیداوار محنت، سرمایہ وغیرہ کی قیمت بھی اس کی Marginal پیداوار کے برابر ہوتی ہے اگر ایسا نہ ہو تو کارپوریشن کسی دوسرے عامل پیداوار کو خرید کر اپنا منافع بڑھا سکتی ہے۔

اس نظریے کو Theory of marginal productivityکہتے ہیں اور اس نظریے کے مطابق ہر عامل پیداوار کو وہی معاوضہ دیا جاتا ہے جو اس کے استعمال سے مجموعی پیداوار میں اضافے کے طور پر ظاہر ہوا ہے۔ مزدور کو اتنی اجرت دی جاتی ہے جو اس کی محنت کے صرف کرنے کے نتیجے میں مجموعی پیداوار میں اضافے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ ساہوکار کو وہی شرح سود دیا جاتا ہے جو اس سے لیے گئے قرضے کے نتیجے میں مجموعی پیداوار میں وقوع پذیر ہوا ہے اور پیداوار کی قدر تقابلی Marginal utilitiesکی برابری کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر عامل پیداوار کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ اس اضافی یوٹیلیٹی Marginal utility کے مطابق ہوتا ہے جو اس کے استعمال کے نتیجے میں مجموعی یوٹیلیٹی میں رونما ہوتا ہے۔ Theory of marginal utility سرمایہ دارانہ تصورِ عدل کی ایک اہم تشریح ہے (واحد تشریح نہیں ایک اور اہم تشریح رالز نے پیش کی ہے جس کاتجزیہ بعد میں کیا جائے گا) ۔اس نظریے کے مطابق عدل یہ ہے کہ ہر شخص کو وہ معاوضہ دیا جائے جو اس کی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں شمولیت کے نتیجے میں رونما ہو۔تقسیم وسائل اور آمدنی کا وہی نظم عادلانہ ہے جو عوامل پیداوار (مزدور، رہن دار، ساہوکار، صنعت کار) کو ان کی بڑھوتری سرمایہ کے فعل میں ان کے حصے کے مطابق معاوضہ دے۔ یہ نظام عادلانہ اس لیے بھی ہے کہ اس میں تمام شرکاء اپنی مرضی کے مطابق چیزیں خریدتے، بیچتے اور اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ تمام افراد ہوں یعنی ان کے افعال کا واحد مقصد اپنی مجموعی یوٹیلیٹی کا لامتناہی اضافہ ہو۔ اس کی Maximisation ہو۔ مارکیٹ خودبخود ان کی عمومی یوٹیلیٹی کی maximisation کی اس جدوجہد کو منظم کرتی ہے، حکومت کو مارکیٹ کے اس تعینِ قیمت کے عمل میں قطعاً مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

6.4۔ مارجنل ازم کاتصورِمعاشرہ

مارجنلسٹ سرمایہ دارانہ معاشرہ کو فکری ارتقاء کا لازمی نتیجہ تصور کرتے ہیں۔ ایک ملک کی روایات اور تاریخ کچھ بھی ہو یہ بات علمی ترقی کے نتیجے میں بتدریج عیاں ہوتی چلی جائے گی کہ محدود وسائل کے منصفانہ اور بہترین نتائج پیدا کرنے والی Efficient تقسیم اور استعمال کے لیے سرمایہ دارانہ اداروں کا قیام اور سرمایہ دارانہ عقلیت کا معاشرتی غلبہ ناگزیر ہے۔ تمام سرمایہ دارانہ ادارے مارکیٹ ،بینک، زر، پراپرٹی، قانون، پارلیمنٹ(بینک اور پارلیمنٹ خالصتاً سرمایہ دارانہ ادارے ہیں غیر سرمایہ دارانہ نظام میں موجود نہیں رہ سکتے۔ زر، ملکیت اور قانون کو سرمایہ دارانہ نظریے نے ایک خاص انداز میں مسخر کر لیا ہے۔) انفرادی آزادانہ عقلیت کا فطری اور ادارتی اظہار ہیں۔ یہ کسی منصوبہ بندی یا Contract کے ذریعے وجود میں نہیں آئے بلکہ فرد واحد کی فطری جستجو ہے۔ خود اداریت، خو د تخلیقیت اور تسخیر کائنات کے فطری جذبات کے اظہار کے نتیجے میں evolve ہوئے ہیں۔ ہر ہیومن بینگ کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ اس کی خود ارادیت میں اضافہ ہوتا رہے۔ اکنامکس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ اکنامکس وہ سائنس ہے جو انسان کو یہ بتاتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات بہترین طریقے سے کیسے پورے کر سکتا ہے خواہ وہ خواہشات کچھ بھی ہوں (اس دعوے کی بنیاد پر اکنامکس کو ایک positive اور ویلیو نیوٹرل کہا گیا ہے۔ کوئی بھی سائنس ویلیو نیوٹرل نہیں ہو سکتی کیوں کہ جیسا کہ نیوٹن نے کہا تھا کہ سائنس کا مقصد ہی تسخیر کائنات ہے یہی وہ چیز ہے جو اس کو ٹیکنالوجی سے جدا کرتی ہے)۔ اکنامکس صرف autonomyکی خواہش کی تکمیل کی راہ دکھاتی ہے۔ autonomy یہ ہے کہ ہر ہیومن بینگ:

سرمایہ دارانہ معاشرہ اس معاشرہ کو کہتے ہیں جہاں ہر شے اور عمل کی تقابلی قدر اس اصول کی بنیاد پر مرتب کی جا رہی ہو کہ اس فعل کے ذریعے سرمایہ کی بڑھوتری میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔ سرمایہ دولت کی مسخ شدہ اور ظالمانہ شکل ہے۔ سرمایہ وہ دولت ہے جو مستقل اپنے اضافے کی تلاش میں گردش کرتی رہتی ہے اور اس نہ ختم ہونے والی گردش کے نتیجے میں سرمایہ حرص و ہوس کی معاشرتی تجسیم بن جاتاہے۔ نیوکلاسیکل اکنامکس کے مطابق دولت کو سرمایہ میں سمو دینا عقل کا تقاضا ہے۔ مارکیٹ میں ہیومن بینگ بغیر کسی جبر کے اپنی خواہشاتِ نفسانی اور اس کی ترجیحات کے حصول کی جدوجہد کر سکتا ہے۔ مارکیٹ خودارادیت کے اظہار کا فطری دائرہ کار ہے۔ مارکیٹ اجتماعی خیر کو غیر ضروری اور محدود کر کے انفرادی پسند کو اجتماعی فیصلوں کی بنیاد بنا دیتا ہے ہر شخص جو چاہے وہ کر سکتا ہے بشرطیکہ اس کے پاس یہ کرنے کے لیے سرمایہ موجود ہو لہٰذا ہر شخص کی اصل پسند سرمایہ کی بڑھوتری ہوتی ہے۔سرمایہ کے ذریعے آپ اپنی دیگر تمام پسندیدگیوں کے حصول کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشروں میں جو بنیادی پسند تمام ذیلی مخصوص پسندوں پر حاوی ہوتی ہے وہ’’ پسند کی پسند‘‘ ہے۔ ہر ہیومن بینگ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ جو بھی شے یا فعل پسند کرے اس کی حصول کے ذرائع (یعنی سرمایہ ) اس کے پاس زیادہ سے زیادہ مقدار میں موجود ہوں۔ اس پسند کی پسند کا دوسرا نام حرص ہے۔ ہر ہیومن بینگ لازماً بنیادی طور پر حریص ہوتا ہے ۔سرمایہ ،معاشرہ اور ریاست میں اسی پسند کی پسند کی عمل داری ہے۔انفرادی پسندوں کو اس طرح منظم کیا جاتا ہے کہ انفرادی پسند اجتماعی پسند کی پسند کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے وہ پسندیدگیاں (مثلاً عبادت) جو پسند کی پسند کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بنائی جا سکتیں ،ان کو معاشرتی طور پر بے قدر بنا دیا جاتا ہے یہی سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے۔جو لوگ پسند کی پسند کی انفرادی اور معاشرتی تقدیم کے قائل ہیں ان کو سرمایہ دارانہ معاشرت میں جاہل تصور کیا جاتا ہے اور ان جاہلوں پر قانونی جبر جائز تصور کیا جاتا ہے۔

جیونس کا دعویٰ تھا کہ حرص سے مغلوب انفرادیت یعنی ہومن بینگ فطری ہے اور حرص کی فطری جستجو کے نتیجے میں معاشرے نے مارکیٹ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مارکیٹ میں تعمیر کردہ تمام قیمتیں کرایہ، سود، حصص کا نرخ، زر مبادلہ، اجرت، اشیا کی قیمتیں سب فطری طور پر خودبخود متعین ہو جاتی ہیں اور یہ سب قیمتیں عادلانہ بھی ہیں اور بہترین نتائج بھی انہی کی بنیاد پر برآمد ہوتے ہیں۔ اکنامکس ٹیکنیکل ان معنوں میں ہے کہ جن اصولوں کی بنیاد پر وہ تقسیم وسائل کرتا ہے، ان کا واحد اخلاقی اور سیاسی دعویٰ یہی ہے کہ حرص کی عالمگیریت کو فروغ دینا مقصد وجود (خواہ انفرادی، خواہ اجتماعی) اور عقلیت کا تقاضا ہے۔ اگر اس مفروضے کو فطری تسلیم کر لیا جائے تو اکنامک قوانین کی بنیاد پر پالیسی سازی کا کوئی اور اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں۔ اکنامکس غیر اقداری ہونے کا یہی مطلب ہے۔ لیکن ایسا معاشرہ جہاں شے کی قیمتوں، اجرتوں، سود اور منافع کا تعین صرف قانون رسد اور طلب اور قانون مارجنل پروڈکٹیویٹی کی بنیاد پر ہوتا ہے کہیں بھی اور کبھی بھی موجود نہ تھا اورنہ ہے۔نیو کلاسیکل اکنامسٹس کا یہ دعویٰ کبھی بھی سچ نہ رہا کہ سرمایہ دارانہ معاشرے کی جو تصویر وہ پیدا کر رہے ہیں ان کا آئیڈیلسٹک دعویٰ ہے۔ وہ ایسے اصول بیان کرتے ہیں جن کی بنیاد پر کارپوریشنیں اور حکومتیں ایسی پالیسی سازی کر سکتی ہیں جن کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی رہے ۔ایسے ہی معاشرے میں انفرادی و اجتماعی خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کے بہترین مواقع میسر آتے ہیں۔ اکنامکس وہ پیمانہ فراہم کرتی ہے جس کی بنیاد پر ہر سرمایہ دارانہ نظام کی کارکردگی ناپی جا سکتی ہے اور یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ

تمام نیوکلاسیکل اکنامسٹس نے ایسی بہت سی اصلاحات اور تجاویز پیش کیں جن سے ان کے ملک میں حرص کی عالمگیریت کے فروغ میں حائل رکاوٹیں منہدم ہوں۔ بہت سوں نے بالخصوص Wickstead اور Bohm Baverck نے عیسائی اور یہودی مذاہب کی نامعقولیت پر زور دیا۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد سرمایہ دارانہ مسابقت کو فروغ دینا تھا اور بیش تر نیوکلاسیکل اکنامسٹس اجارہ داری پر تحدیدکے قائل تھے۔ Weiser کے علاوہ تقریباً تمام نیوکلاسیکل اکنامسٹوں نے اس بات پر زور دیا کہ لیبر مارکیٹ میں اجارہ داری نہایت مضر ہے اور یہ اجارہ داری ٹریڈیونین قائم کرتی ہیں۔ ٹریڈ یونین کی قیادت کو قوت استعمال کر کے اجرتوں کو بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ مارجنل پروڈکٹیویٹی کے اصول کے بنیاد پر متعین اجرتوں کو قبول کرنا چاہیے۔ لیبر مینجمنٹ کا حریف نہیں اس کا ساجھی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی میں لیبر کا مفاد ہے۔ اس خیال کو سوشل ڈیموکریٹ نے اپنے مکتبہ فکر کی بنیاد بنایا ہے۔

نیوکلاسیکل فکر تقابلی قدر کا تعین صارف کی ترجیحاتی خواہشات کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اس شے کی قدر زیادہ ہوتی ہے جس کو حاصل کرنے کی خواہش کو صارف ترجیح دے اور اس شے کی قدر کی بنیاد پر عوامل پیداوار مزدور، مینجمنٹ، حصص کنندہ، ساہوکار، زمیندار کی آمدنی متعین ہوتی ہے۔ یہ آمدنی اس contribution کے برابر ہونی چاہیے جو اس عامل پیداوار کی کار فر مائی کے نتیجے میں مجموعی آمدنی (GNP) میں ہوا ہے۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا رہنما اصول ہے اور پالیسی سازی اسی اصول کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔نیوکلاسیکل فکر کی پہلی بااثر تنقید سرمایہ دارانہ اشتراکیوں بالخصوص Marx اور اس کے پیروؤں نے پیش کی۔

7۔ ہائیک، فریڈمین اور نوزیک

۱۸۸۰ء سے لے کر ۱۹۳۰ء کی دہائی کے وسط تک نیو کلاسکی فکر غالب رہی اور برطانیہ اور امریکا میں پا لیسی سازی عموماً اسی مکتب فکر کی تعلیمات کے مطابق ہوتی رہی[35]۔ ۱۹۲۹ء کی عظیم کساد بازاری نے نیو کلاسیکی فکر کو بڑا دھچکا لگایا۔ بیش تر سٹے کے بازار شدید بحران کا شکار ہو گئے اور یورپ اور امریکا میں کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے۔ روزویلٹ کے امریکا کے صدر بننے کے بعد قومی پالیسی سازی کینز کی فکر پر مرتب ہونے لگی۔ ۱۹۳۷ء سے ۱۹۷۹ء کا دور Keynesian فکر کے غلبے کا دور ہے۔ Keynesian فکر سوشل ڈیموکریٹ پالیسی سازی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

۱۹۷۰ء کی دہائی میں نیوکلاسیکل فکر کا احیاء عمل میں آیا اور پہلے تھیچر نے برطانیہ میں اور پھر ریگن نے امریکا میں نیوکلاسیکل نظریات کی بنیاد پر پالیسی سازی کرنا شروع کی۔ اس کے بعد جرمنی اور فرانس اور اٹلی کی سوشل ڈیموکریٹ حکومت نے نیوکلاسیکل فکر کو ہی اپنی پالیسی سازی کی بنیاد بنا لیا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او،ورلڈبینک، اسلامی ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ نیوکلاسیکی پالیسیوں کو پوری دنیا پر مسلط کرنے لگے۔ اس دور میں کئی مالیاتی بحران آئے اور سب سے شدید بحران ۲۰۰۷ء میں امریکا میں آیا جس نے بہت سے بینکوں اور کئی یورپی ممالک کو دیوالیہ کر کے رکھ دیا مثلاً یونان، آئرلینڈ، پرتگال، ہنگری اور اسپین وغیرہ اور حکومتوں کو کھربوں ڈالر بینکوں کو بچانے کے لیے خرچ کرنا پڑے۔ لیکن ان بحرانوں کے باوجود نیوکلاسیکل فکر کا کوئی متبادل نظریاتی فریم ورک قائم نہ ہو سکا اور آج بھی دنیا بھر میں پالیسی سازی نیوکلاسیکل بنیاد پر ہوتی ہے (باستثنا چین اور چھوٹے لاطینی افریقی ممالک)۔ نیوکلاسیکی احیائی فکر میں جن تین اہم مفکرین کے نام آتے ہیں وہ Friedrich August von Hayek، فریڈمین(Milton Friedman) اور نوزیک(Robert Nozick) ہیں۔ تھیچر اور ریگن دونوں ہائیک کے مرید ہونے کا اقرار کرتے تھے، فریڈمین اکنامسٹ اور نوزیک پولیٹیکل سائنٹسٹ ہے۔

7.1۔ ریاستی سرمایہ کاری کی تنقید

کینزینز کی رائے میں بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری کرے جہاں شرح منافع نجی سرمایہ کاری کو کھینچ کر لانے کے لیے ناکافی ہے۔ ہائیک کی رائے میں سرکاری سرمایہ کاری آزاد معیشت کو تباہ کر دیتی ہے اور ایک سوشل ڈیموکریٹ اور ایک سوشلسٹ معیشت میں انفرادی آزادی برقرار نہیں رہ سکتی۔ ہائیک، مینگر اور Boh Baverck کا پیرو تھا اور اس نے ۱۹۳۰ء کی دہائی سے کینزین افکار کی تنقید شروع کر دی تھی (لیکن ہائیک کے خیالات کو سیاسی پذیرائی ۱۹۸۰ء کی دہائی میں نصیب ہوئی)۔ ہائیک کہتا ہے کہ ایک آزاد معیشت میں استحکام اور ترقی خودبخود رونما ہوتی ہے اور حکومت کی معیشت پر اثراندازی اور مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کی تمام کوششیں لازماً ناکام ہوتی ہیں۔ معیشت کے استحکام اور ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مزدور سودا کار انجمنوں کا کردار ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں ان ٹریڈ یونینز کی اعانت سے ہی قائم ہوتی ہیں اور لیبر مارکیٹ میں یہ ٹریڈ یونینوں کو قانونی حمایت اور دیگر مراعات فراہم کرتی ہیں۔ یونینیں ہڑتالوں کی دھمکی دے کر اپنی سوداکاری کے نتیجے میں اجرت کو اس کی متوازن سطح سے بہت بلند کر دیتی ہیں؛ آجر یہ اجرتی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور بے روزگاری میں اضافے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ لہٰذا ہائیک کی رائے میں یونینوں کے حقوق میں توسیع کرنے کے لیے سوشل ڈیموکریٹ حکومت جو قانون سازی کرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ معیشت کے استحکام اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومتوں کو یونین کی سوداکاری کی قوت کو منہدم کر دینا چاہیے۔ تھیچر اور ریگن نے ہائیک کی تجویز پر پوری تندہی سے عمل کیا۔ لیکن ہائیک نیوکلاسیکی اکنامکس کے تصورِ توازن کو ردّ کرتا ہے۔ مارکیٹ کبھی قرار کی حالت میں نہیں رہتی، توازن ہمیشہ بگڑتا رہتا ہے اور مسابقت ایسے نتائج پیداکرتی رہتی ہے جو توقعات سے مختلف ہوتے ہیں۔ مارکیٹ توازن نہیں بلکہ نظم پیدا کرتی ہے اور یہ نظم ان معنوں میں بہترین ہوتا ہے کہ یہ آزادی زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔ ہائیک کے مطابق مارکیٹ جو ناہم واری پیدا کرتی ہے وہ سرمایہ دارانہ عدل قائم نہیں کرتی یعنی عوامل پیداوار کو ان کی marginal productivity کے مطابق معاوضے نہیں دیے جاتے۔ ہائیک کہتا ہے کہ مارکیٹ میں تقسیم وسائل عادلانہ نہیں ہو سکتی کیوں کہ کوئی فرد یا ادارہ تقسیم نہیں کرتا بلکہ یہ تقسیم خودبخود لین دین کے عمل کے نتیجے میں مستقل تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہے۔ ہائیک سرمایہ دارانہ عدل کے نیوکلاسیکل تصور کو ردّ نہیں کرتا۔اس کا خیال ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل کا نیوکلاسیکی تصور درست ہے لیکن ناقابلِ حصول ہے۔ یہ رویہ کہ سرمایہ دارانہ تصور، عقائد اور نظریات کو بیک وقت درست بھی اور ناقابلِ حصول بھی تسلیم کیا جائے گا پوسٹ ماڈرن ازم کہلاتا ہے۔

ہائیک کی فکر کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظم کی کارفرمائی میں سرمایہ دارانہ زر جو کردار ادا کرتا ہے اس کے بارے میں مبہم اور متضاد آراء اپنی تحریروں میں پیش کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ زر ہی تقابلی قدر کے ناپنے کا پیمانہ ہے اور سرمایہ دارانہ زر اپنی مارکیٹوں کے ذریعے ہی سرمایہ دارانہ نظام زندگی پر حکومت کرتاہے۔ سرمایہ دارانہ زر کے کردار اور حیثیت کو سمجھے بغیر سرمایہ دارانہ نظم کی تفہیم ادھوری رہتی ہے۔

ہائیک کے مطابق لچک دار اجرتی نظام کا وجود ہی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے لیکن وہ اور اس کے پیرو اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فطری سطح بے روزگاری ہوتی ہے۔ اجرتوں کی متوازن سطح وہ ہے جو اجرت کو لیبر کی اختتامی پیداواری صلاحیت (Marginal productivity) کے برابر کر دے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ معیشت ترقی کرتی ہے مشینری لیبر کو پیداواری عمل سے بے دخل کرتی چلی جاتی ہے مثلاً کمپیوٹر کے عام استعمال سے ہزاروں لاکھوں کلرک اور سیکریٹری وغیرہ بے روزگار ہوتے ہیں اور ایسے افراد جن کی کمپیوٹر استعمال کرنے کی صلاحیت مارکیٹ ضروریات کے برابر ہو امریکا اور یورپ کے ممالک تک میں نہایت محدود ہے۔ لہٰذا ہر سال بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی توقع سرمایہ دارانہ پیداواری اور کاروباری عمل کی خودکاری اور technicalisationکی وجہ سے بڑھتی جاتی ہے اور اس معاشی عمل کی technicalisationکے نتیجے میں بڑھنے والی بے روزگاری کو natural rate of employment کہا جاتا ہے۔

ہائیک اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنیکل پراگرس وقوع پذیر ہو گی ویسے ویسے آمدنی اور اجرت کی تقسیمی نامساویت میں اضافہ ہو گا۔ منیجرز، حصص کنندگان اور ساہوکاروں کی آمدنی اور دولت میں ہوشربا اضافہ ہو گا اور عوام مقابلتاً محروم ہوتے چلے جائیں گے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام ترقی کرتا ہے تقابلی افلاس (relative poverty)میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے گو کہ حقیقی افلاس (absolute poverty) کم ہوتا چلا جاتا ہے مثلاً ۱۹۷۰ء کے بعد سے اب تک ایک عام امریکی کا معیارِ زندگی مستقل بڑھ رہا ہے۔ اس بات کے باوجود کہ امریکا میں اوسط آمدنی اپنی قوتِ خرید کے لحاظ سے ۱۹۷۰ء سے لے کر ۲۰۱۳ ء تک منجمد رہی ہے اور معیارِ زندگی میں اضافہ آمدنی کے ذریعے نہیں بلکہ بینکوں سے قرضہ لے کر ممکن ہو سکا۔ آمدنی (قوتِ خرید کے لحاظ سے) منجمد ہے لیکن اخراجات کے مستقل اضافے کے نتیجہ میں امریکا میں ۲۰۰۷ء میں بینک کاری کا جو بحران رونما ہوا اس پر ابھی تک پوری طور پر قابو نہ پایا جا سکا۔ ایک عام امریکی کے اخراجات میں مستقل اضافہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اس کی حرص و حسد کو مستقل بڑھاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی یہ خصوصیت ہے کہ خواہشات ہمیشہ وسائل سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتی ہیں۔ ہر ہیومن بینگ اپنی آزادی یعنی تعیشات میں اضافے کا ہمیشہ خواہش مند رہتا ہے۔ اس کی آمدنی اور دولت کتنی بھی بڑھ جائے وہ کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ ۲۰۰۹ء سے امریکا میں "Occupy wall street" کی جو تحریک جاری ہے وہ اس بات کی غماز ہے کہ نامساویانہ تقسیم دولت اور آمدنی نے اس ایک فی صد آبادی کے خلاف جس کے پاس قومی دولت کا بڑا حصہ ہے عوام کےنفرت و حسد کو ابھارا۔ عوام بھوکوں نہیں مر رہے عوام کی سطح زندگی میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے لیکن ایک فی صد اشرافیہ کا طرزِ بود و باش عوام کی نظروں میں بھی ہے (میڈیا اور صنعتِ اشتہارات کی وجہ سے) اور ان کی دسترس سے باہر بھی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دولت اور آمدنی کی غیرمساوی تقسیم میں مستقل اضافہ عوام میں بے چینی، دہشت گردی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہا ہے۔ ہائیک کو اس بات کا احساس ہے کہ بڑھتی ہوئی تقسیمی ناہمواریاں سرمایہ دارانہ پراگرس کے لیے ناگزیر بھی ہیں اور پرخطر بھی۔ لیکن اس خطرے کو ٹالنے کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست کے سوشل امدادی پروگرام کوئی منضبط کردار ادا نہیں کر سکے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کو تقسیم دولت اور آمدنی کے عمل میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اس رائے کی سب سے واضح تشریح ہائیک کے امریکی شاگرد بالخصوص Lucas اور Sargent نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں پیش کی۔ اس مکتب فکر کو New classical school(جدید کلاسیکل مکتب فکر) کہا جاتا ہے۔

ان جدید کلاسیکل اکنامسٹس نے ۱۹۷۰ء میں رونما ہونے والے افراطِ زر کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ حکومتوں کی ان میکرو اکنامک پالیسیوں کو ٹھہرایا جس کے ذریعے ان حکومتوں نے تعین قیمت کے عمل میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کی تھی۔ جدید کلاسیکل اکنامسٹ کے مطابق کینز کے پیروکار یہ بات فراموش کر گئے کہ سرمایہ دارانہ میکرو اکنامکس کو سرمایہ دارانہ انفرادیت کی بنیادوں پر قائم کیا جانا چاہیے۔ ہر سرمایہ دارانہ صارف ساہوکار اور بیوپاری سرمایہ دارانہ عقلیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی توقعات سرمایہ دارانہ معقولیت کا اظہار کرتی ہیں اس چیز کو rational expectationکہتے ہیں۔ ہر سرمایہ دارانہ فرد (خواہ وہ صارف ہو، ساہوکار ہو یا بیوپاری ہو) کو اپنی انفرادی یوٹیلیٹی کو Maximise کرنے کی جستجو کرنا چاہیے لہٰذا سرمایہ دارانہ مارکیٹ اصولاً ہمیشہ بہترین نتائج برآمد کرتی ہے۔ اسمتھ کا دستِ غیب (Invisible hand) مارکیٹوں کے ذریعے وسائل کی بہترین تقسیم عمل میں لاتا ہے۔ اگر مارکیٹوں میں ریاستی مداخلت ختم کر دی جائے تو وہ خودبخود کساد بازاری کو ختم کر دیں گی۔

بقول جدید کلاسیکی اکنامسٹس کساد بازاری آجروں کے عمل کے نتیجے میں خود بخود ختم ہوتی ہے۔ حکومت کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مارکیٹوں کو زیادہ سے زیادہ خودکاری کے مواقع فراہم کرے؛ متعین قیمتوں کے عمل سے مطلق سروکار نہ رکھے اور پیداواری استطاعت کو فروغ دینے کے لیے آجروں پر ٹیکس کا بوجھ کم سے کم کر دے۔ اس مکتبہ فکر کو supply side economics بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کینز اور اس کے پیروکاروں کے برعکس supply siders سرمایہ دارانہ حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طلب کو متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ رسد کو بڑھانے کے لیے آجروں اور ساہوکاروں کو مراعات فراہم کریں۔ Prescott اور Laffer نے دعویٰ کیا کہ ٹیکسوں میں کمی کر کے مجموعی حکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے کیوں کہ ٹیکس کے بوجھ کی کمی تیزی سے پیداوار کی بڑھوتری میں اضافے کا باعث بنے گی۔ ان جدید کلاسیکی اکنامسٹس نے حکومتی اخراجات کی کمی پر بھی زور دیا اور سرمایہ دارانہ حکومتوں کی زر کی تشکیلیت کے عمل کو محدود کرنے پر بھی زور دیا۔ جدید کلاسیکی اکنامسٹس نج کاری اور مارکیٹ کی تحکیم کی کمی کے پر زور حامی ہیں اور ہائیک کےآسٹرین پیرو Schumpeterکی فکر سے بھی متاثر ہیں۔

مارکیٹ کے خودبخود توازن اور عمومی تطبیق کا تصور والرس نے پیش کیا۔ والرس کا کہنا تھا کہ اشیا کی مارکیٹ، لیبر مارکیٹ اور اثاثے کی مارکیٹ میں ایسا ربط موجود ہے کہ جب ایک مارکیٹ میں توازن قائم کرنے والی قوتیں متحرک ہوتی ہیں تو وہ دوسری مارکیٹوں میں ہم آہنگ قوتوں کو متحرک کر کے وہاں بھی توازن پیدا کر دیتی ہیں۔ اگر کپڑے کی قیمت کا اضافہ ہو گا تو کپڑا بنانے والے مزدوروں کی اجرت اور کپڑے کے کارخانہ داروں کے منافع اور ان کو قرضہ دینے والے ساہوکاروں کے سود میں بھی اضافہ ہو گا۔ تمام سرمایہ دارانہ مارکیٹیں مربوط ہیں اور ان میں آہنگ تغیرات اس طرح پیدا ہوتے ہیں کہ ہر شے اور ہر عامل پیداوار کی رسد و طلب برابر ہو جاتی ہیں۔ یہ General equiliberiumہے اور اس بنیاد پر جو قیمتیں اشیا اور ذرائع پیداوار کی مارکیٹوں میں قائم ہوتی ہیں وہ عادلانہ اور بہترین قیمتیں ہوتی ہیں۔ان مارکیٹوں میں مستقل ناہمواریاں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور اس کے نتیجے میں مسابقت کو محدود کرنے والی اجارہ داریاں وجود میں آتی رہتی ہیں اور انہی اجارہ داریوں کو مستحکم کرنے اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے آجر نئی نئی ایجادات مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ لہٰذا مارکیٹ میں عدم توازن کی وجہ سے جو بحران پیدا ہوتے ہیں وہ خودبخود ختم ہو جاتے ہیں اور ایجادات کے ابھرنے اور ایجادات کے ذریعے مسخر ہونے کے تسلسل کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام مستقل ترقی کرتا رہتا ہے۔ اسمتھ، ریکارڈو، مارکس، کینز سب نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شرح منافع میں کمی آتی چلی جائے گی۔جوزف شومپٹر (Schumpeter) اس بات سے انکار کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظم معیشت کے انہدام کے کسی امکان کا قائل نہیں۔شومپٹر،ہائیک کی فکر سے متاثر تھا لیکن اس کو ہائیک کا پیرو نہیں کہا جا سکتا۔ شومپٹرطوائفوں کے سرپرست کے طور پر مشہور تھا اور ۱۹۳۰ء کی دہائی میں طوائفوں کی سیاسی اعانت کی وجہ سے مختصر عرصہ کے لیے آسڑیا میں وزیر ثقافت اور مالیات رہا۔ آسڑیا پر ہٹلر کے قبضے کے بعد وہ امریکا فرار ہو گیا اور امریکا میں ہی مرا۔ شومپٹر کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام مستقل تخریبی تعمیر (creative distruction)کے عمل سے گزرتا رہتا ہے اور اس تخریبی تعمیر (جو بحرانوں کی شکل اختیار کرتی ہے) سے مستقل پراگرس ہوتی رہتی ہے۔ حکومت کو اس تخریبی تعمیر کے عمل کی اپنی پالیسیوں کے ذریعے اعانت کرنی چاہیے۔ اس عمل سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

بحیثیت مجموعی ہائیک اور اس کے امریکی اور آسٹرین پیروکار سرمایہ دارانہ حکومت کو سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ ایک لبرل سرمایہ دارانہ حکومت کے پاس بنیادی طور پر پالیسی اقدامات کے دو مواقع ہوتے ہیں۔ زری پالیسی کے ذریعے وہ سرمایہ دارانہ زر اور شرح سود کو متاثر کر سکتی ہے اور مالیاتی پالیسی کے ذریعے مجموعی صرف اور سرمایہ کاری پر اثرانداز ہواجا سکتا ہے۔ ان دونوں پالیسیوں کا مقصد سرمایہ دارانہ اجتماعی عدل کا قیام اور استحکام ہے۔ ہائیک کے مطابق اجتماعی عدل ایک لغو تصور ہے، عدل صرف افراد کے ساتھ ان کی انفرادی حیثیت میں تنفیذ قانون کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ریاست یہ فرض ہیومن رائٹس کی حفاظت اور فروغ کے ذریعے کرتی ہے اور مارکیٹ میں مسابقتی عمل بھی انفرادی عدل کو فروغ دیتا ہے گو کہ اجارہ داریوں کا فروغ اور دیگر پیداواری اور تقسیمی ناہمواریاں مارکیٹ میں حادثات کے ذریعے ناانصافیاں بھی پیدا کرتی ہیں۔ ہائیک کی رائے میں سرمایہ دارانہ حکومت کو ان ناانصافیوں کو رفع کرنے کے لیے مالیاتی (Fiscal) اور زری (Monetory) پالیسی کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ فریڈمین اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتا۔ فریڈمین کے خیالات کا تجزیہ پیش کرنے سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ زر کیا ہے۔

7.2۔ سرمایہ دارانہ زر

سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جو اپنی مقدار میں اضافے کے لیے معاشرے میں مستقل گردش کرتا رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ زر سرمایہ کی تجسیم ہے۔ سرمایہ کی اصلیت، یعنی اس کی روح حرص اور حسد ہے۔ زر اور سرمایہ دارانہ زر کے فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مثال پیش خدمت ہے: ادریس بازار میں کپڑا فرخت کرنے کے لیے لاتا ہے، اس کپڑ ے کو وہ زر میں تبدیل کرتا ہے اور اس زر کو اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدنے کے لیے استعمال کرتا ہے یعنی:

اس اشاریہ میں Cسے مراد کپڑا ہے، Mسے مراد زر ہے اور C1 سے مراد کھاناہے۔اس سے واضح ہوتا ہے:

اسلامی اقتصادی نظام میں زر یہی کردار ادا کرتا ہے۔ زر وہ ذریعہ ہو تا ہے جو ضروریات پوری کرنے کا وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ تمام غیر سر مایہ دارانہ نظاموں میں زر کا یہ فطری فعل ہے۔ اب اس اشاریہ کو دیکھیے:

اس اشاریہ کے مطابق ہنری زرM لے کر مشینری خریدتا ہے اور مزدوروں کو ملازم رکھتا ہے تاکہ کپڑا بنائے اور اس کپڑے سے حاصل شدہ رقم M1 مزید زر M11 اور M11 کو مزید زر M111 کمانے کے لیے لگاتا رہتا ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ

سرمایہ دارانہ زر(M…M1…M11…M111…M∞)ہے۔ سرمایہ دارانہ زر کی بڑھوتری کی کوئی انتہا نہیں۔ یہی بات(Infinity) کی علامت)∞( ظاہر کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ زر حرص و حسد کی تجسیم ہے اور حرص اور حسد کی کوئی انتہا نہیں (نفوس میں شہوت اور غضب میں لامتناہی اضافہ ہوتا رہنا ممکن ہے) ۔لہٰذا سرمایہ دارانہ زر ہندسوں کی شکل اختیار کرتا ہے کیوں کہ ہندسوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ یہودی سٹہ باز ڈیوڈ ریکارڈو کو اس بات کا احساس تھا کہ سرمایہ دارانہ زر کا تعلق ہر مرئی شے مثلاً سونا، چاندی سے منقطع کیا جا سکتا ہے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ حکومت اپنے منشا اور مقاصد کے مطابق سرمایہ دارانہ زر کی مقدار کو خود متعین کر سکتی ہے اور اس مجبوری سے نجات پا سکتی ہے کہ کسی دھات کی لازماً محدود رسد زر کی مقدار کی بڑھوتری کو مقید کرے۔ سرمایہ دارانہ زر نے کئی شکلیں اختیار کی ہیں اور اس کی تاریخ بیان کرنے سے اس وقت فائدہ نہ ہو گا۔ ریکارڈو کے وقت تک سرمایہ دارانہ زر کی معروف شکل بینک نوٹ تھی۔ ریکارڈو نے اس کے اجراء کے ایسے اصول بیان کیے تھے کہ اس کی قدر کا انحصار سونے چاندی پہ کم ہوتا چلا جائے۔ اب سرمایہ دارانہ زر کی اہم ترین شکل کمپیوٹر میموری میں اندراجات ہیں اور ہر سرمایہ دارانہ حکومت کا جاری کردہ زر ان معنوں میں سرمایہ دارانہ زر میں تبدیل ہو گیا ہے کہ

اب ہم یہ دیکھیں گے کہ سرمایہ دارانہ زر کا پیداواری عمل کیسے منظم ہوتا ہے۔ اس عمل کے دو شریک ہیں:
۱۔ مرکزی بینک (مثلاً اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا امریکا کا فیڈرل ریزرو سسٹم)

۲۔ نجی بینک (مثلاً حبیب بینک یابینک آف امریکا)

سرمایہ دارانہ زر[36] کی پیداوار کی عمل ذیل میں دیے گئے مثال سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نیشنل بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ 1,00,000

نیشنل بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ 90,000

یونائیٹڈ بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ 81,000

الائیڈ بینک کے ڈپوزٹ میں اضافہ 72,800

اور سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ اس فامولے کے مطابق ہوتاہے:

جہاں CMسے مراد سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ، d سے مراد ریزرو ریشو اور TRسے مراد مجموعی ریزرو ہیں۔ ہماری مثال میں d=0.1 (دس فی صد) اور TR یعنی مجموعی ریزرو 1,00,000 ہیں۔ لہٰذا مجموعی سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ دس لاکھ ہو گا۔

اسٹیٹ بینک کے ایک لاکھ کے تمسکات خریدنے کے نتیجے میں مجموعی سرمایہ دارانہ زر میں اضافہ دس لاکھ کا ہوا۔ ان ایک لاکھ روپوں میں سے نوے ہزار روپے کمرشل بینکوں نے قرضہ دے کر اور ایک لاکھ کے تمسکات بیچ کر پیدا کیے یعنی سرمایہ دارانہ زر میں نوے فی صد اضافہ کمرشل بینکوں نے کیا۔ مرکزی بینک کی جاری کردہ Reserve moneyپر Mo اور مجموعی زر کوBroad money,، M2 یا M3 کہتے ہیں۔ انگلستان اور امریکا میں Reserve money اور Broad money کا عموماً دو یا تین فی صد ہوتا ہے یعنی ستانوے یا اٹھانوے فی صد زر ڈپوزٹ لینے والے نجی بینک پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں ۲۰۱۳ء میں غیر سرمایہ دارانہ زر (یعنی کرنسی) کا Broad money میں تناسب ۲۰ فی صد ہے۔ Reserve moneyکا تناسب Broad money میں تقریباً ۶۷ فی صد ہے۔ جیسے جیسے پراگرس رونما ہوتی ہے ریزو منی اور کرنسی M3 کا تناسب گرتا جاتا ہے۔

اس سے واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک نہیں بلکہ کمرشل بینک سرمایہ دارانہ زرکے اصلی تخلیق کار ہیں۔ کمرشل بینک قرضہ دے کر سرمایہ دارانہ زر پیدا کرتے ہیں۔ وہ قرضہ اپنے منافع کو Maximise کرنے کے لیے دیتے ہیں۔بینکوں کا منافع زیادہ تر دو شرح سود میں فرق پر منحصر ہوتا ہے: rI اور rd۔ rI وہ سود ہے جو وہ اپنے قرض داروں سے لیتے ہیں اور rd وہ سود ہے جو بینک اپنے ڈپوزٹرز کو دیتے ہیں۔

کمرشل بینک زر کی پیداوار اس کی مانگ کے مطابق بڑھانے پر کسی حد تک مجبور بھی ہوتے ہیں کیوں کہ جو قرضے انہوں نے پہلے دیے ہوئے ہوتے ہیں وہ جب وقت پر نہیں ملتے تو ان کو Roll-over کر کے نئے قرضوں کی شکل میں ڈھالنا پڑتا ہے۔ اسی طرح قرض کی طے شدہ حد سے زیادہ کی اجازت بیش تر معاہدوں کا حصہ ہوتی ہے۔ جیسے جیسے کمرشل بینک کے قرضے بڑھتے ہیں ان کی ریزرو زر کی مانگ بھی بڑھتی ہے۔ کمرشل بینکوں کی سیالیت (Liquidity) کے تحفظ کے لیے ان کے ریزرو میں اضافہ لازمی ہے۔ لہٰذا اگر اسٹیٹ بینک مطلوبہ مقدار میں ریزرو نہ بڑھائے تو ملک بینک کاری کے بحران میں مبتلا ہو سکتا ہے جیسا کہ امریکا اور کئی یورپی ممالک میں ۲۰۰۷ء کے بعد ہوا اور ان ممالک کے سنٹرل بینکوں کو کئی سو کھرب ڈالر کی مالیت کا Reserve money جاری کر کے کمرشل بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانا پڑا۔ ان حالات میں امریکی مرکزی بینک (جسے Federal reserve systemکہتے ہیں) کے کئی صدور نے بار بار اعتراف کیا ہے کہ مرکزی بینک زر کی مقدار (Money supply)متعین کرنے کی استعداد کھو چکا ہے اور جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام پراگرس کرتا ہے کمرشل بینکوں کی گرفت اس کے زری نظام پر مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے ۔جیسے جیسے سرمایہ دارانہ فنانشل نظام وسعت پذیر ہوتا ہے نئے نئے فنانشل ادارے سرمایہ دارانہ زر کی نئی نئی قسمیں متعارف کراتے ہیں۔ ان ایجادات کو Near moneyکہا جاتا ہے اور یہ مختلف قسم کی Derivative کی شکل اختیار کرتے ہیں جو نیم تمسکات (Securities) اور نیم زر ہوتے ہیں۔ ان کی رسد پر سنٹرل بینک کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور ان Derivatives پر سنٹرل بینکوں کا عدم کنٹرول ۲۰۰۷ء کے بعدآنے والے عالمی فنانشل بحران کا اہم سبب بنا۔ ایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ نظام میں سنٹرل بینک شرح سود آزادانہ طور پر متعین کر سکتا ہے نہ زر کی مقدار۔ اس کو شرح سود کا وہ Structure اور رسد Reserve زر کی وہ سطح متعین کرنی پڑتی ہے جو کمرشل بینکوں اور دیگر فنانشل کارپوریشنوں کو بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ ۱۹۷۳ء کے بعد بین الاقوامی ترسیل زر پر تقریباً تمام پابندیاں بتدریج ختم کی جاتی رہی ہیں۔آج کوئی ملکی زر کسی مرئی شے (سونا، چاندی) میں متبدل نہیں اور ہر قومی زر کی تقابلی قدر سرمایہ دارانہ بازاروں میں متعین ہوتی ہے اور کسی سنٹرل بینک کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ ملکی زر کی بین الاقوامی ترسیل پر پابندی عائد کرے ۔نہ وہ اس کا مجاز ہے کہ اپنے ملکی زر کی بین الاقوامی تقابلی قدر متعین کرے۔ ہر قومی زر کی قدر اور تعداد سودخوروں، سٹے بازوں اور ساہوکاروں کی ترجیحات اور ضروریات کے مطابق باہمی رسہ کشی اور مارکیٹ مسابقت کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے۔Greenجو اس وقت امریکی سنٹرل بینک کا چیئرمین تھا، نے ۱۹۹۳ء میں کہہ دیا تھا کہ اب زر کی مقدار اور اس کی تقابلی قدر (خواہ شرح سود کی شکل میں ہو یا Exchange rateکی شکل میں) کو قومی معاشی پالیسی کے اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

7.3۔ مانٹرازم

اب ہم ملٹن فریڈمین کے خیالات کے تجزیے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ فریڈمین بنیادی طور پر کینز کا ناقد ہے لیکن کچھ جدید کلاسیکی اکنامسٹ فریڈمین کو کینزین ہونے کا الزام دیتے ہیں۔ فریڈمین کے کینز پر دو بنیادی اعتراضات تھے:

فریڈمین نے قیمتوں اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ بڑھنے کے رجحان کو Stagflation کا نام دیا۔ کینز کا دعویٰ تھا کہ اگر ریاستی سرمایہ کاری کے ذریعے بے روزگاری کو ختم کیا گیا تو اس کے نتیجے میں قیمتوں کی سطح میں بہت معمولی اضافہ ہو گا۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں یورپ اور امریکا میں قیمتیں تیزی سے بڑھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ فریڈمین نے اس دوہرے عدم توازن کا سبب کینزین مالیاتی اور زری پالیسیوں کی تفویض کو گردانا۔ فریڈمین نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طلب آمدنی کا اعتبار زر کی مقدار اور اس تناسب پر ہوتا ہے جس کے مطابق لوگ آمدنی کو زر کی شکل میں رکھنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ یہ تناسب بقول فریڈمین مستحکم ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل نہیں ہوتا لہٰذا عملًا مجموعی طلب صِرف مقدارِ زر کی تبدیلی پر منحصر ہوتی ہے۔ کینزین پالیسیوں نے معیشت میں مقدارِ زر کو تیزی سے بڑھا یا لیکن اس کے نتیجے میں صرف مجموعی طلب میں اضافہ ہوا مجموعی رسد میں نہیں۔ لہٰذا مقدارِ زرمیں اضافہ کر کے حکومت صرف قیمتیں بڑھا سکتی ہے اور جب قیمتیں بڑھیں گی تو اجرتیں بھی بڑھیں گی اور چوں کہ مجموعی پیداوار نہیں بڑھی لہٰذا اجرتوں کے بڑھنے کے نتیجے میں شرح منافع کم ہوا اور منافع کی کمی کے نتیجے میں روزگار کی فراہمی میں کمی ہوئی۔ یہی Stagnationکی وہ کیفیت ہے جس میں قیمتیں اور بے روزگاری ساتھ ساتھ بڑھتی ہے اور بقول فریڈ مین اور میٹزلرMetzler کے کینزین مالی اور زری پالیسیاں Stagflationary حالات کی ذمہ دار ہیں۔ جب زر کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے تو شرح سود گرتی ہے کیوں کہ قرضے سرمایہ دارانہ زر ہی میں دیے جاتے اور سود سرمایہ دارانہ زر میں قرضہ لینے کی صورت ہے اور جب قرضوں کی مقدار بڑھتی ہے تو قانون طلب اور رسد کے مطابق اس کی قیمت (شرح سود) میں کمی ہوتی ہے لیکن فریڈمین اور دیگر Monetorists کے خیال میں اس سے لوگوں کی آمدنی کو سرمایہ دارانہ زر کی شکل میں رکھنے کے تناسب میں فرق نہیں پڑتا اور مجموعی طلب کا واحد (یا سب سے اہم )متعین کنندہ مجموعی مقدارِ زر ہی ہے۔

فریڈمین کی اصل دل چسپی افراطِ زر (Inflation) کو کم کرنے کی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ چوں کہ

قیمتوں میں تغیر =پیداوار میں تغیر یا قیمتوں میں تغیر÷مقدارِ زر میں تغیر

لہٰذااگر تغیرِ زر کو تغیرِ پیداوار کے برابر رکھا جائے تو قیمتوں میں اضافہ ناممکن ہے۔ قیمتوں میں اضافہ (Inflation) کو ختم کرنے کےلیے ضروری ہے کہ مقدارِ زر میں اضافے کو حقیقی پیداواری اضافے کے برابر رکھا جائے۔ اور سرمایہ دارانہ حکومت کے لیے مقدارِ زر میں اضافہ کو حقیقی پیداوار [37] کے برابر رکھنا ممکن ہے کیوں کہ وہ ریزرو زر کی واحد بنانے والی ایجنسی ہے اور وہ یہ بھی معلوم کر سکتی ہے کہ ایک خاص مقدار (مثلاً دس فی صد) ریزرو زر میں اضافے کے لیے نتیجے میں کس قدر اضافہ مجموعی مقدارِ زر (M2,M3) میں ہو گا۔

فریڈمین اور اس کے پیرو سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ حکومت کو براہ راست بے روزگاری کی سطح کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ روزگار پیدا کرنے کے لیے حکومت جو اخراجات برداشت کرتی ہے اس سے محض بجٹ کا خسارہ بڑھتا ہے اور بجٹ خسارے میں اضافہ مقدارِ زر میں اضافے کا اہم ترین جزو ہے۔ بجٹ خسارہ بڑھا کر حکومت صرف Inflation کو فروغ دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں صرف قیمتیں بڑھتی ہیں ۔مجموعی پیداوار یامجموعی روزگار مستقل بنیادوں پر نہیں بڑھ سکتا۔

تھیچر اور ریگن کی حکومتوں نے۱۹۸۰ء کی دہائی میں فریڈمین کے نظریات پر عمل کرنے کی کوشش کی اور بینک آف انگلینڈ اور فیڈرل ریزرو بینک کے ذریعے کوشش کی کہ ملکی ریزرو زر میں اضافہ اس تناسب سے ہو کہ حقیقی پیداواری اضافہ اور مجموعی رسد زر M3) یا (M2 میں اضافہ برابر رہے لیکن دونوں حکومتیں یہ کرنے میں بالکل ناکام نہیں اور چند سالوں کے اندر اندر اس حکمت عملی کو خیرباد کہنا پڑا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انگلستان اور امریکا میں ریزرو زر(MO)مجموعی رسد زر کا صرف دو تین فی صد ہوتا ہے مجموعی رسد زر کی ۹۸ فی صد مقدار تو کمرشل بینک اور دوسرے فنانشل ادارے پیدا کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں مرکزی بینک حکومت کا آلہ کار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ یہ تو ملکی اور عالمی سودخوروں، سٹے بازوں اور ساہوکاروں کے تابع ہوتا ہے اور ریزرو زر کو اس خاص حد تک پیدا کرنا ہر سرمایہ دارانہ مرکزی بینک کی مارکیٹ مجبوری ہے۔ چوں کہ مرکزی بینک خود ایک سودخور ساہوکار ہوتا ہے جس کا اولین مقصدسرمایہ دارانہ زری مارکیٹوں میں استحکام قائم رکھناہے۔

جدید کلاسیکی اکنامسٹس[38] نے فریڈمین کو کینز کا گورباچوف کہا ہے یعنی وہ کینز کی تعلیمات کی ایک ایسی نئی تعبیر[39] پیش کرتا ہے جس کے نتیجے میں حکومت کا مارکیٹ پر تسلط قائم رہے۔ جدید کلاسیکی اکنامسٹس مارکیٹ پر حکومت کے تسلط کو مطلقاً ختم کرنا چاہتے ہیں؛ ان کے مطابق ہیومن بینگ اپنی توقعات عقلی بنیادوں پر متعین کرتے ہیں اس چیز کو Rational expectationکہتے ہیں [40]۔ حکومت کی پالیساں لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتیں۔ اگر حکومت مقدارِ زر بڑھا دیتی ہے تو لوگ فوراً پہچان جاتے ہیں کہ اس سے حقیقی معنوں میں اجرت بڑھے گی نہ منافع، محض قیمتیں بڑھیں گی۔ لہٰذا پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے نہ روزگار میں،محض قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور زری پالیسی لازماً بالکل ناکام ہو جاتی ہے۔

جدید کلاسیکی اکنامکس کی ایک شاخ Real Business Cycle Theoryکہلاتی ہے۔اس شاخ کے اکنامسٹس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مرکزی بینک مقدارِ زر متعین کرنے میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ سرمایہ دارانہ زر کی توازنی مقدار اس کی مانگ متعین کرتی ہے۔ کمرشل بینک اتنا زر تخلیق کرتے ہیں جتنا ان کے منافع کو Maximise کرنے کے لیے کسی خاص سطح پر مانگ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ہر دوسری سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی طرح زر کی مارکیٹ میں بہترین اور منصفانہ قیمت (یعنی سود) رسد اور طلب میں توازن خودبخود قائم ہو جاتا ہے اور مرکزی بینک کو اس مارکیٹ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ اور ایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ معیشت میں مرکزی بینک اس مارکیٹ میں موثر دخل اندازی کے قابل بھی نہیں رہتا کیوں کہ ریزرو زر (M0) اور کرنسی مجموعی زر (M2) کے نتیجے میں تین فی صد سےزیادہ نہیں ہوتی۔

اکنامکس کے دیگر نظریاتی مکاتب کی طرح یہ اکنامسٹس بھی سرمایہ دارانہ idealistic تصویر پیش کر رہے ہیں[41]۔ اور ان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عام حالات میں سرمایہ دارانہ مارکیٹ اپنے آپ کو خود regulate کر لیتی ہے اور حکومتی دخل اندازی کی ضرورت کم سے کم رہ جاتی ہے [42]۔ اس مکتبہ فکرکی سیاسی اور فلسفیانہ وضاحت نوزیک (Robert Nozick)نے پیش کی۔

7.4۔ سرمایہ دارانہ انفرادی حقوق

رابرٹ نوزیک کی شہرت کی دو وجوہات ہیں۔ وہ جان رالز [43] کی فکر کا سب سے اہم ناقد ہے اور اپنے دور کا ہارورڈ یونی ورسٹی کا سب سے باکمال شرابی مانا جاتا ہے [44]۔

نوزیک ،لاک اور ہائیک کا پیرو ہے۔ وہ اپنے آپ کو Libertarian کہتا ہے یعنی ایسا لبرل جو انارکسٹوں کے خلاف ریاست کے وجود کی ضرورت کا تو قائل ہے لیکن ریاست کے وجود کو ایک ناگزیر شر گردانتا ہے اور ریاست کی معاشرتی مداخلت کو کم ترین کرنا چاہتا ہے۔ جس قسم کی ریاست کے وجود کی ناگزیریت کا نوزیک قائل ہے اس کو minimalist ریاست کہتے ہیں۔ ہائیک اور لاک کی طرح نوزیک بھی ایک Idealist ہے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کو کیسا ہونا چاہیے وہ یہ نہیں بتاتا کہ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست واقعتاً کیسی ہوتی ہے۔

لاک کی طرح نوزیک بھی اسٹیٹ کے وجود کی توجیہ اپنی بحث کے آغاز کے طور پر لیتا ہے۔ ریاست ایک ایسے معاشرے سے خوبخود ابھری جہاں نجی سیکورٹی ایجنسیاں فیس لے کر لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی تھیں۔ نوزیک لاک کے برخلاف کسی معاہدے کا قائل نہیں۔ یہ خودبخود ابھرنے والی ریاست ایک minimalist state ہوتی ہے جس کا دائرہ کار اپنے سٹیزن کی جان، مال اور رائے کے تحفظ فراہم کرنے تک محدود ہوتا ہے۔ اس minimalist ریاست کو دولت کی مارکیٹ میں متعین شدہ تقسیم میں تبدیلی کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ سرمایہ دارانہ عدل کا قیام مارکیٹ کی ذمہ داری ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست مارکیٹ کو تحفظ فراہم کرتی ہے، براہ راست عدل کے قیام کے لیے اقدام نہیں کرتی۔

نوزیک سرمایہ دارانہ عدل کا ایک مخصوص تصور پیش کرتا ہے۔ لاک کی طرح نوزیک بھی عدل کا بنیادی تقاضا سرمایہ دارانہ پراپرٹی کے تحفظ کو گردانتا ہے[45]۔ یہ رالز کے تصورِ سرمایہ دارانہ ملکیت اور یوٹیلیٹیرین تصورِ سرمایہ دارانہ ملکیت سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ نوزیک کے مطابق ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ ملکیت میں ایک مختلف تقسیم آمدنی اور وسائل قائم کرنے کے لیے تصرف کرے (رالز اور یوٹیلیٹیرین مفکر اس نوعیت کے تصرف کا جواز پیش کر کے اس کی تحدید کے اصول بیان کرتے ہیں)۔ نوزیک مطابق لوگوں کا بنیادی حق، حق ملکیت ہی ہے۔ ایک فرد جو وسائل لے کر مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے ان وسائل پر کسی اور کا کوئی حق نہیں اور سرمایہ دارانہ ریاست کسی جواز کو پیش کر کے وسائل سے اس فرد کو محروم نہیں کر سکتی۔ فرد کے پاس یہ وسائل کہاں سے آئے اور کیا تقسیم ذرائع کہ جس پر مارکیٹ وجود میں آئی وہ عادلانہ ہے؟ یہ سوال نوزیک نہیں اٹھاتا (اور اسی وجہ سے اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ نوزیک کا تصورِ سرمایہ دارانہ ملکیت اخلاص یعنی Moral نہیں محض قانونی ہے۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت پراپرٹی متعین کرتی ہے۔ پراپرٹی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی شناخت بھی ہے اور اس کی حدود بھی متعین کرتی ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ انفرادیت متعین کرنے والی ان شناختوں کو منہدم کرے۔ وہ تو ان کے تحفظ اور توسیع کے لیے وجود میں آئی ہے ۔فرد کا بنیادی حق اس کے تصرف میں سرمایہ دارانہ ملکیت اور تحفظ کا فروغ ہے۔

نوزیک کے نظریہ حقوق (Theory of entitle money)کے مطابق ہر فرد اس پراپرٹی پر تصرف کا حق رکھتا ہے جوا س نے مارکیٹ میں داخل ہونے سے قبل فطری تقسیم ذرائع اور دولت کی بنیاد پر یا مارکیٹ میں کاروبار کے ذریعے حاصل کیے ہوں۔ یہی نوزیک کا تصورِ عدل ہے ۔یہ تصور رالز کے تصورِ عدل سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ رالز قبل از مارکیٹ تقسیم وسائل کو لازماً منصفانہ تسلیم نہیں کرتا۔ یوٹیلیٹیرین تصورِ عدل سے نوزیک کا تصورِ عدل ان معنوں میں مختلف ہے کہ یوٹیلیٹیرین مفکرین اس تقسیم عدل کو منصفانہ نہیں گردانتے جس کے نتیجے میں مجموعی حصول لذات (GNP)زیادہ سے زیادہ ہو۔ چوں کہ نوزیک مارکیٹ کے کاروبار کے نتیجے میں حاصل شدہ حقوق ملکیت (Entitelment) کو جائز تصور کرتا ہے؛اور چوں کہ آئیڈیل مارکیٹ تقسیم وسائل Marginal productivity اور Marginal costکی برابری کے اصول کے مطابق کرتا ہے یعنی ہر ذرائع پیداوار اور اس کے حامل کو وہ اجرت /سود/کرایہ منافع ملتا ہے جو اس کے بڑھوتری سرمایہ کے پیدا کرنے کے مطابق ہو۔ لہٰذا نوزیک اور یوٹیلیٹیرین تصورات سرمایہ دارانہ عدل میں مماثل ہیں۔

نوزیک کی اہم ترین کتاب “State and Utopia” ہے۔”یوٹوپیا“ تصوراتی جنت کو کہتے ہیں اور یورپ میں ان تصوراتی جنتوں کا تخیل اس وقت سے عام ہوا (اٹھارھویں صدی کی ابتدا) جب سے حقیقی جنت پر سے ایمان اٹھنا شروع ہوا۔ نوزیک جس خیالی جنت کا خاکہ پیش کرتا ہے اس میں ہر فرد کے پاس سرمایہ دارانہ ملکیت اس مقدار میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کے مطابق اپنی ذاتی جنت خود تعمیر کر سکے۔ جن لوگوں کے خیالی جنت کے تصورات ایک دوسرے سے مماثل ہوں وہ اس بات میں آزاد ہوں گے کہ معاشرتیں تعمیر کریں اور رضا کارانہ اپنے وسائل سے ایک دوسرے کی مدد کریں اور تمام افراد اور معاشرتیں ایک ایسی قومی ریاست حصہ ہوں جو ان کے سرمایہ دارانہ حقوقِ ملکیت کا تحفظ فراہم کرے گی لیکن اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرے گی۔نوزیک کے مطابق یہ خیالی جنت سرمایہ داری کے فطری ارتقا کے نتیجے میں خودبخود قائم ہو جائے گی[46] ۔ اس خیالی جنت میں ہر ہیومن بینگ کی اپنی پراپرٹی ہو گی وہ اس پراپرٹی کی بنیاد پر اپنی انفرادی جنت خود تعمیر کرے گا۔نوزیک کی خیالی جنت اور مارکس کی خیالی جنت میں بنیادی مماثلت یہ ہے کہ ان دونوں خیالی جنتوں میں ہر فرد مطلقاً آزاد ہو گا اور ہر فرد اپنی خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کے قابل ہو گا [47]۔

۱۹۸۰ء کی دہائی میں امریکا اور یورپ میں کینزین پالیسیوں کے خلاف جو ردِعمل وقوع پذیر ہوا اس کو نیوکنٹروویٹیزم(New controvitism)کہتے ہیں اور ان کے پیروکاروں کو نیوکان (New Con)کہا جاتا ہے۔ ان نیو کان حلقوں نے نوزیک کی تعلیمات کی بہت قدردانی کی اور نوزیک کو ایک اہم مرشد کا درجہ دیا۔ ان نیوکان کا مقصد سرمایہ دارانہ ریاست کی مارکیٹ میں دخل اندازی کو ختم کرنا تھا۔ نازک کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ مارکیٹ جو تقسیم وسائل کرتی ہے سرمایہ دارانہ ریاست کو یہ حق نہیں کہ ٹیکسیشن کے ذریعے اس تقسیم وسائل کو اس طرح تبدیل کرے کہ مجموعی قومی وسائل (GNP) میں کم آمدنی والوں کا حصہ بڑھ جائے۔ بقول نازک ایسا کرنا عدل کے تقاضوں کے خلاف ہے کیوں کہ یہ بنیادی ہیومن رائٹ، رائٹ آف پراپرٹی کی تحدید کرتا ہے۔ یورپ اور امریکا کی نیوکان حکومتوں[48] کا پورا زور ٹیکسوں کو حکومت کے غریبوں کے امدادی اخراجات کو کم کرنے پر رہاہے اور نوزیک بتاتا ہے کہ یہی سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضا ہے۔ سرمایہ دارانہ ویلفئیراسٹیٹ کا قیام سرمایہ دارانہ عدل کے تقاضوں کے منافی ہے اور لوگوں کے حق ملکیت کو ٹیکسوں کے ذریعے محدود کرنا ان کے انفرادی تشخص (جس کا واحد اظہار ذاتی پراپرٹی کے اس استعمال سے ہوتا ہے جو فرد اپنی مخصوص خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کےلیے کرتا ہے) کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے [49]۔ نوزیک مینجمنٹ سائنس کی بانی آئن رینڈ کے اس نظریے کی پر زور تائید کرتا ہے کہ معاشرت اور ریاست کو اس طرح منظم کیا جانا چاہیے کہ کچھ ہیومن بینگ ایک ریشنل وجود کے طور پرا پنی بقا کی پیہم جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ Rationality وہ عقلیت ہے جو خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہے [50]۔ لہٰذا Rationality کو فروغ دینے کے لیے ایک ایسے معاشرتی اور ریاستی نظام (یعنی سرمایہ دارانہ نظام) کا وجود ضروری ہے جہاں افراد کا رائٹ آف پراپرٹی (یعنی ہیومن رائٹس) کو محدود نہ کیا جائے اور rationalافراد اپنی پراپرٹی (یعنی جان، مال اور آراء) استعمال کرتے ہوئے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی جدوجہد مستقل جاری رکھ سکیں۔

لاک کے برخلاف اور رینڈ کے مماثل نوزیک پراپرٹی کی اہم ترین شکل املاک کو تصور کرتا ہے [51]۔ لہٰذا اس کےلیے یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ املاک کے حصول کا عادلانہ طریقہ کیا ہے۔ نازک کے مطابق حصول املاک دو طریقوں سے جائز ہے:

ان تصورات کو نیوکان (Neo Cons)نے قبول کر کے بڑے پیمانے پر پالیسی سازی کی بالخصوص ان امریکی ریاستوں میں ری پبلکن پارٹی کے دھڑے Tea partyکو اقتدار حاصل ہوا [53]۔ لیکن Nozickeon فکر کو دو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے اہم چیلنج یہ کہ۲۰۰۷ء سے جاری بحران نے ثابت کر دیاکہ سرمایہ دارانہ ریاست، سرمایہ دارانہ مارکیٹ ہی کی آلہ کار ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست ہی عوام کے ٹیکسوں کو استعمال کر کے بینکوں اور دوسرے فنانشل اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں Neo keynesians اور Post keynesians کا احیا ہوا ۔دوسرا چیلنج یہ کہ اگر نوزیک کے تصور سرمایہ دارانہ عدل کو تسلیم کر لیا جائے تو امریکا اور اسرائیل کا[54]پر قبضہ سرمایہ دارانہ عدل کے برخلاف ہے اور امریکی اور فلسطینی املاک کو ان کے ممالک کے قدیمی باشندوں کو لوٹا دینا چاہیے۔ اس چیلنج کا جواب نوزیک کے یہودی شاگرد ڈیوڈ لائنز David Lyons [55]نے دیا۔ اس نے ثابت کیا کہ امریکی اور فلسطینی املاک پر قبضہ سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضا ہی ہے اور ان املاک کی واپسی ظلم عظیم ہو گی۔

ضمیمہ :امریکی اور اسرائیلی لوٹ مار سرمایہ دارانہ عدل سے انحراف نہیں[56]

۱۷۹۰ء میں امریکی کانگریس نے ایک قانون پاس کیا جس کے تحت انڈین املاک کے حصول کے ہر معاہدے کو وفاق سے منظور کرانا لازم قرار دیا گیا۔ ریڈ انڈینز کی املاک کی بہیمانہ لوٹ مار پندرھویں سے صدی سے اکیسویں صدی تک جاری رہی ہے اور ایک محتاط تخمینے کے مطابق لوٹی ہوئی املاک کا صفر اعشاریہ صفر دو فی صد بھی ۱۷۹۰ء کے قانون کے تحت کانگریس کا منظور شدہ نہیں۔

۱۹۸۰ء کے بعد کئی ریڈ انڈین قبائل نے امریکی عدالتوں میں ان املاک کی واپسی کا دعویٰ کیا جو اس قانون کے ماورا ان سے چھینی گئی۔ لائنز کے مطابق ان دعووں کو رد کرنے کی جو وجوہات Nozikian نظریات فراہم کرتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔املاک کا غاصب اگر اس کو بڑھوتری پیداوار پر (یعنی سرمایہ کاری) کے لیے استعمال کرے تو وہ جائز مالک کے حقوق کو سلب نہیں کرتا اگر جائز مالک اس سے اتنی پیداوار ِسرمایہ حاصل نہ کر رہا ہو جتنی غاصب کرتا ہے، غصب کے عمل سے مجموعی لذات (GNP) میں اضافہ ہوتا ہے[57]۔ اس مجموعی اضافہ لذات (GNP) سے ریڈ انڈین اور ان تمام نسلیں مستفیض ہوئی ہیں لہٰذا ان کی املاک کو غصب کر کے یورپیوں نے ظلم نہیں، ریڈ انڈین قبائل پر احسان کیا [58]۔

2۔ ریڈ انڈین قبائل کے املاکی دعووں کو تسلیم کیا گیا تو وہ نہ صرف امریکیوں کے حقوق ملکیت کو مجروح کریں گے بلکہ چوں کہ ان قبائل نے بتصریح کہا ہے کہ وہ اس ملکیت سے اپنا قدیم نظام زندگی (غیر سرمایہ دارانہ نظام زندگی) فروغ دینے کے لیے مختص کریں گے لہٰذا اس سے مجموعی قومی سرمایہ کاری اور فروغ لذات (GNP) منفی طور پر متاثر ہو گی اور تمام امریکیوں کو نقصان ہو گا۔

3۔ انفرادی ریڈ انڈین کے کوئی حقوق تسلیم نہیں کیے جا سکتے کیوں کہ سرمایہ دارانہ انفرادی ملکیت کا کوئی تصور قدیم ریڈ انڈین معاشروں میں نہ تھا اور اجتماعی ملکیت بھی سرمایہ دارانہ خطوط پر مرتب نہ تھی۔ ریڈ انڈین قبائل ملکیت کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر رہے وہ ایک نیا ملک مانگ رہے ہیں اس کا حق دستور امریکا ان کو نہیں دیتا [59]۔

4۔ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ریڈ انڈین املاک پر پہلے قبضہ کرنے والے حق بجانب نہ تھے (اور Lyons یہ تسلیم نہیں کرتا) تو یہ ایک ناانصافی ہے جس کی اب تلافی ممکن نہیں کیوں کہ یہ غاصبین مر گئے ہیں اور موجودہ ریڈ انڈینز کا کوئی حق وراثت ثابت نہیں[60]۔

ان تصریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل ظلم ہے اس تصورِ عدل کو تسلیم کیا جائے تو یہ ریڈ انڈین اور فلسطینیوں کا قتل عام اور ان کے املاک سے ان کی جبری بے دخلی ان کے ساتھ کیے گئے احسان تصور کیے جائیں گے کیوں کہ سرمایہ دارانہ فطرت حرص اور حسد، شہوت اور غضب سے مغلوب ہوتی ہے لہٰذا ہر وہ شخص جو سرمایہ دارانہ عقلیت (خواہشات نفسانی کے تابع علمیت) کی تابع داری کرتا ہے نہ صرف یہ کہ لازماً ظالم، سفاک اور بے رحم ہوتا ہے بلکہ اپنی سفاکیت اور ظلم پر فخر اور ناز کرتا ہے۔ امریکا جس کا قیام تاریخ انسانی کا عظیم ترین ظلم ہے (۸۰ کروڑ ریڈ انڈینوں کا قتل عام پانچ صدیوں تک مسلسل جاری رہا) اپنے آپ کو Land of hope and gloryکہتا ہے اور اسرائیل اور غزہ میں جاری رہنے والی بہیمیت کے باوجود خود کو مشرق وسطیٰ کی جنت ارضی گردانتاہے۔

8۔ مینجریل ازم اور اکیسویں صدی کے اہم اکنامک مکاتب فکر

8.1۔مینیجریل ازم

مینجمنٹ سائنس انیسویں صدی کے آخری پچپن سالوں میں امریکا میں وضع کی گئی۔ مینیجریل ازم وہ طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے جس پر عمل کر کے کارپوریشن اپنے سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار کو Maximise کر سکتی ہے۔ مینجمنٹ ان بنیادی سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرتی ہے کہ کارپوریشن کے اندر بہترین نظم اختیارات کیا ہونا چاہیے تاکہ وہ مسلسل اپنے زیر اختیار سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار کو تیز سے تیز کر سکے۔

اس سوال کو سرمایہ دارانہ فلسفے کی ایک شاخ Business Ethicsنے بھی اٹھایا ہے اور کچھ مفکرین مینجمنٹ[61] کو Applied business Ethicsکہتے ہیں [62]۔ مینجمنٹ کا کسی دیگر سرمایہ دارانہ علمی منہاج سے تعلق جن میں سوشیولوجی، اکنامکس، انتھروپولوجی، سرمایہ دارانہ فلسفہ، پولیٹیکل سائنس، نفسیات، شماریات اور انجینئرنگ شامل ہیں اسی وجہ سےمینجمنٹ کو Interdiscliplinary علمیاتی منہج کہا جاتا ہے[63] ۔ اب ہم چھہ اہم مینجمنٹ مکاتب فکر کا تجزیہ پیش کریں گے۔ مینجمنٹ کے مندرجہ ذیل مکاتب فکر ہیں۔

8.1.1۔یونیورسل فنکشنل اپروچ

اس مکتبہ فکر کا بانی ہنری فوئل (Henry Foyel) تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ ہر تنظیم چلانے کے اصول سرمایہ دارانہ عقلیت پر ہی مرتب کیے جانے چاہییں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں صرف کارپوریشن ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کا قانونی مقصدِ وجود اپنی تحویل میں سرمایے کی بڑھوتری کو Maximise کرنا ہوتا ہے دوسری تنظیموں مثلاً وزارتِ خارجہ، گرجا گھر، پٹواری کی دکان، سیاسی جماعت اور تحقیقی ادارہ کا یہ مقصد نہیں ہوتا[64]۔ لیکن Universal Functional نظریے کے مطابق یہ تمام تنظیمیں بہترین کاری گری سرمایہ دارانہ عقلیت پر مرتب اصولوں کی بنیاد پر اپنے داخلی انتظام کو مروج کر کے ہی حاصل کر سکتی ہیں۔ ایک کامیاب منیجر فواحش کا اڈہ بھی چلا سکتا ہے اور گرجا گھر بھی، بینک بھی چلا سکتا ہے اور پولیس اسٹیشن بھی کیوں کہ ان تمام اداروں کی بہترین کارکردگی کے حصول کےلیےمینجمنٹ کے اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر منیجر کو خواہ وہ طوائف گھر کا ہو یا گرجا گھر کا پانچ فرائض انجام دینا ہوتے ہیں۔ منصوبہ بندی(Planning)، تنظیم(Order)،تحکیم(Command)،مواصلت(Communication) اور تنفیذ(Control)۔ان فریضوں کو انجام دینے کا مقصد ان وسائل میں مستقل اور لامحدود اضافہ ہے جو تنظیم کے قانونی مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے۔

مثلاً گرجا گھر کا مقصد خاکروبوں کو عیسائی بنانا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ خاکروبوں کی آبادی میں اسکول اور ہسپتال قائم کیے جائیں۔یہ کام امریکی USAID سے خیرات حاصل کر کے ہی کیا جا سکتا ہے اور نئے نئے خاکروب بستیوں میں نئے نئے اسکول اور ہسپتال قائم کیے جا سکتے ہیں۔امریکی امداد، امریکی پالیسی کی تشہیر سے مشروط ہے۔لہٰذا گرجا کی مینجمنٹ امریکی پالیسیوں کو ایجنڈے میں اپنا کر زیادہ سے زیادہ خاکروبوں کو عیسائی بنا سکتی ہے۔ یوں گرجا کی مینجمنٹ گرجا کو کارپوریٹ دنیا سے متعلق اور مربوط کر دیتی ہے کیوں کہ امریکا کارپوریٹ دنیا کا سرخیل ہے اور اس کا سیاسی غلبہ سرمایہ دارانہ نظام کا ضامن ہے۔ اگر گرجا مینجمنٹ پانچوں مینجرل فنکشن احسن طریقہ سے انجام دے تو اس کی کارفرمائی خاکروبوں کو عیسائی بنانے کے عمل کو بڑھوتری سرمایے کے عمل سے مربوط کر سکتی ہے۔

8.1.2۔سائنٹفک مینجمنٹ

اس مکتبہ فکر میں پیداواری عمل کی ترتیب کے مطالعے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ پیداواری عمل کی تنظیم ایسی ہونی چاہیے کہ کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ، اعلیٰ سے اعلیٰ کوالٹی کی اشیا بنائی جائیں اور ناقص اشیا کی پیداوار کو ختم کیا جاسکے۔ سائنٹفک مینجمنٹ افراد اور مشینوں کے نظام ارتباط میں بہتری لانے کے عمل پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس مکتبہ فکر کا بانی Frederick Taylor ہے۔ ٹیلر ایک اسٹیل مل میں منیجر تھا اور اس بات سے پریشان تھا کہ مزدوروں کی پیداواری سکت بڑھانے کے لیے پیداواری نظام کو منظم نہیں کیا گیا ہے اور نہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کا کوئی انتظام ہے۔ ٹیلر صنعتی مینجمنٹ کے عمل کو ایک ’’ذہنی انقلاب‘‘کے ذریعے تبدیل کرنے کا خواہاں تھا۔

ٹیلر کے مطابق اس ذہنی انقلاب کو برپا کرنے کے لیے چار اقدام ضروری ہیں۔ پیداواری عمل کے ہر حصے[65] کو ایسے اسٹینڈرڈز کی بنیاد پر مرتب کیا جائے گا جو تجربات کی بنیاد پر بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے اسٹینڈرڈز بھی وضع کیے جائیں گے جو ہر پیداواری حرکت کی کم سے کم مدت کو متعین کر سکیں،پھر ایسے اوزار استعمال میں لائے جائیں جن کے ذریعے کارکن کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام پیداواری عمل کے ہر شعبے میں انجام دے سکیں [66]۔ اس نئے طریقے پیداوار کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ورکرز کو مستقل تربیت دی جاتی رہے اور اجرت میں اضافے کو پیداوار میں اضافہ کے متعین Standards سےمنسلک کیا جانا چاہیے۔ ٹیلر کے خیال میں مزدوروں کی پیداوار میں اضافہ کا بنیادی محرک ان کی اجرتوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پیداواری نظام کے سائنٹفک ترتیب نو کے تصور کو Taylorism کہا گیا ہے۔

8.1.3۔کوالٹی مینجمنٹ

ٹیلر کی تعلیمات بڑے پیمانے پر اسٹینڈرڈ کے مطابق پیداوار کی تنظیم پر زور دیتی تھی۔ ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کی دہائی میں اس بات کا احساس عام ہوا کہ امریکی پیداوار کی کوالٹی جاپان اور جرمنی کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے امریکی برآمدات ان ممالک کی برآمدات کا مقابلہ نہیں کر پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی صنعت میں شرح ضیاع[67] دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ کئی مینجمنٹ دانوں نے رائے دی کہ معیار کی اس کمی کی وجہ یہ تھی کہ عام کارکنان کو پیداواری معیار کو بہتر بنانے کے لیے راضی نہیں کیا جاتا اور شماریاتی تجربوں کی بنیاد پر شرح ضیاع کے عوامل کا اندازہ نہیں لگایا جاتا۔Deming اور Juran [68]نے اس بات پر زور دیا کہ پیداوار کے مینجمنٹ کے عمل میں عام کارکنان کو حصہ دینے کی ضرورت ہے اور اس سے پیداوار کا معیار بہت بڑھ سکتا ہے۔جیورن نے کہا کہ ایک عام کارکن کارپوریشن کا داخلی خریدار ہے اس کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک روا نہیں رکھنا چاہیے۔ کارپوریشنوں میں پیداواری ٹیمیں بنانے کی ضرورت ہے اور ہر کارپوریشن کو اپنے خام مال فراہم کرنے والی فرموں کے ساتھ اشتراک عمل قائم کرنا چاہیے۔

جیورن کے شاگرد Freigenbuam نے Total quality control کا تصور پیش کیا۔ اس کے مطابق کارپوریشنوں کا پورا دائرہ کار پیداوار، ملازمین کے تعلقات، سرمایہ کاری اور اموال کے حصول، اشیا کی فروخت کو معیار میں اضافہ کے ارد گرد مرتب کیا جانا چاہیے۔

پورا سرمایہ دارانہ عمل، پیداوار، ترسیل اور تمویل (فنانس) معیار بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے اور معیار کا تعین مارکیٹ میں اس کا خریدنے والا کرتا ہے۔ جس چیز کو کسٹمر مہنگے سے مہنگے داموں میں خریدنے کو پسند کرے وہ سب سے بہتر معیار کی ہے لہٰذا معیار کو بہتر بنانا کارپوریشن کے مقصد وجود بڑھوتری سرمایہ کی انتہاکے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ ٹوٹل کوالٹی کنٹرول پر عمل کرنے کےلیے جس منہج کو اپنایا گیا اس کو آپریشن مینجمنٹ کہتے ہیں۔ آپریشن مینجمنٹ سرمایہ کاری کے پورے عمل (پیداوار، ترسیل و تقسیم اور تمویل) کو بہتر (یعنی زیادہ منافع فراہم کرنے والی) اشیا اور خدمات کی فراہمی کےلیے منظم کرنے کے طریقے بتاتا ہے ۔

8.1.4۔ہیومن ریلیشن مینجمنٹ

اس مکتبہ فکر میں بنیادی اہمیت کارپوریشن کے ملازمین کو دی جاتی ہے۔ اس مکتبہ فکر کو تحریک بھی کہا گیا ہے۔ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں امریکا میں مزدور یونین کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا اور لاکھوں صنعتی مزدور ان یونینوں میں شامل ہو کر صنعت کاروں سے بہتر اجرتوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرنے لگے[69]۔ امریکا میں ہڑتالیں تیزی سے پھیلنے لگیں۔ ۱۹۲۹ء میں رونما ہونے والی کساد بازاری نے مزدوروں اور صنعت کاروں میں تصادم کو فروغ دیا۔ ۱۹۳۵ء میں امریکی مقننہ نے Wagner actکی منظوری دے دی جس کے مطابق یونینوں کا حق اجتماعی سوداکاری (Collective bargaining)تسلیم کر لیا گیا اور تعینِ اجرت کے عمل میں یونینیں قانونی شریک کار ہو گئیں۔ صنعت کار یونینوں کی اس تیزی سے بڑھتی ہوئی جارحانہ پیش رفت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ہیومن ریلیشن مینجمنٹ کی تحریک کا مقصد یونینوں نے جو صنعت کاروں کےلیے مسائل پیدا کر دیے تھے ان سے نبرد آزما ہونا تھا۔

اس دور میں سوشل سائنٹفک تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملازمین کی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ کی وجہ اجرت یا فیکٹری میں دی گئی سہولیات (Working condition)میں اضافہ نہیں بلکہ کارکنان کے تعلقات بالخصوص کارکنان اور ان کے افسران کے تعلقات میں بہتری کی صورت میں رونما ہوتا ہے [70]۔ لہٰذا ہیومن ریلیشن مینجمنٹ مکتبہ فکر کے محققین کی تعلیم یہ ہے کہ کارخانے میں ایسا ماحول اور کلچر قائم کیا جائے جس میں ملازم سکون اور عافیت حاصل کرے [71]۔ اس مکتب فکر کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ مینیجرز کو ملازمین سے احکامات قبول کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے جذبات اور میلانات کو ملحوظ خاطر رکھ کر بہتر کارکردگی کی ترغیب فراہم کرنی چاہیے۔کارخانے اور دفتر میں باہمی اتحاد، تعاون اور جمہوری فضا پیدا کرنی چاہیے۔ ایک تھیوری کے مطابق ایک عام صنعتی کارکن، حوصلہ مند اور غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اور کارخانے اور دفتر میں ایسا ماحول ہونا چاہیے کہ وہ اپنی حوصلہ مندی اور تخلیقی صلاحیت کا بھرپور اظہار کرتا رہے۔ کارپوریشن کے کام کو ملازمین کےلیے پرلطف بنانے کی ضرورت ہے اور مینیجرز کو اس بات کا احسا س ہونا چاہیے کہ ہر کارکن خود مینجمنٹ کی صلاحیت رکھتا ہے [72]۔

اس بنیاد پر ایک نیا ذیلی منہج مروج ہوا۔ اس کو Organizational behaviourکہتے ہیں اس کا مقصد اداروں میں انسانی تعامل (Behaviour) کے میلانات متعین کرنا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایسی پالیسی اپنائی جانے لگی جس سے کارپوریشن کا ایک عام کارکن Organization manبن جائے۔ وہ اپنی شناخت اس کارپوریشن سے کرے جس میں وہ کام کرتاہے۔ کارپوریشن اس کا گھر، اس کا خاندان، اس کا گرجا اور اس کا ملک ہونا چاہیے۔ وہ اپنی شناخت کارپوریشن میں کھو دے۔ وہ IBM،Ford،Pepsi،Mitsubishi کا بندہ بن جائے اور ان کارپوریشنوں کے مفاد یعنی ان کی دسترس میں موجود سرمایے کی بڑھوتری کو اپنی زندگی کے مقصد کے طور پر قبول کرے اور وہ اجرت میں اضافے کےلیے جدوجہد نہ کرے بلکہ کارپوریشن کے منافع اور ساکھ میں بہتری کے لیے جدوجہد کرے اور اس بات کا یقین واثق رکھے کہ اس کی ذاتی، معاشرتی عزت اور اس کی اجرت اسی طریقے سے بڑھ سکتی ہے کہ Ford اور Pepsi کا منافع اور مارکیٹ ساکھ ترقی کرے۔
یہ انسانی سرمایہ(Human capital)بنانے کا طریقہ ہے اور اس کو ہیومن ریسورس مینجمنٹ کہتے ہیں۔ ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے ماہرین کا اصرار ہے کہ سرمایہ کی بنیاد نہ مشین ہے نہ اسٹینڈرڈ نہ کارکردگی کے ضوابط،سرمایہ کی اصل اساس ا نفرادیت ہے۔ مینجمنٹ کا اولین فرض ہے کہ کارپوریشن کے تمام کارکنان کو انسانوں سے ہیومن کیپٹل میں تبدیل کر دے [73]۔

Organizational behaviourاور ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے ماہرین یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مختلف ثقافتی نظاموں (امریکی، جاپانی، افریقی اور اسلامی) میں ہیومن کیپٹل کیسے تخلیق کیا جا سکتا ہے۔
سسٹمز تھیوری یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کارپوریشن کے بندہ یعنی ہیومن کیپٹل کو سرمایہ دارانہ نظام کا بندہ کیسے بنایا جائے۔ کارپوریٹ مینجمنٹ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ضم ہے۔اس نظام زندگی کے بے شمار پہلو اسے متاثر کرتے ہیں۔ کارپوریشن ایک نظام ہے جو اپنے شرکا میں ایک خاص مقصدیت نظم کارکردگی اور نظم اطلاعات قائم کرتا ہے لیکن چوں کہ جو مقصدیت، نظم کارکردگی اور نظم ترسیل اطلاعات کارپوریشن میں قائم ہے وہ ایک وسیع تر مسلسل فاعل کل نظام (Whole System)کا حصہ ہوتا ہے لہٰذا جامد نہیں تغیر پذیر ہوتا ہے۔کارپوریشن کےنظم اطاعت، ترسیل اطلاعات اور مقصد کاتعلق سرمایہ دارانہ سول سوسائٹی اور ریاست دونوں کے نظامِ فروغِ مقصدیت، نظام ترسیل اطلاعات اور نظام اطاعت سے ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں سول سوسائٹی کے ادارے (خاندان ،تعلیمی ادارہ اور گرجا وغیرہ) کارپوریشن کے ماتحت ہوتے ہیں۔ وہ کارپوریشن کےلیے وسائل فراہم کرتے ہیں[74]۔ اصولاً کارپوریشن ریاست کے ماتحت ہوتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام ایک Closed systemیعنی ایک مکمل نظام حیات ہے اور اپنے ماحول پر غالب آتے جانا اس کی کارفرمائی کا بنیادی منہج ہے ۔ لیکن کارپوریشن ایک اوپن سسٹم ہے۔ ایک نظام جو اپنے ماحول سے مستقل وسائل لیتا رہتا ہے۔ بہترین کارپوریشن ایک Learning organization ہوتی ہے وہ اپنے ماحولیاتی اقدامات سے مسلسل سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔Chaos theory نے واضح کیا ہے کہ نظاموں میں تغیر متعین کرنے والے اصولوں کا ادراک تقریباً ناممکن ہے[75]۔مثلاً مارکس اور اس کے پیروؤں کی رائے لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی کارکردگی اس کی خود تسخیریت (Self destruction)کے امکان وضع کرتی ہے۔ جدید کلاسیکی اکنامسٹس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی اس کی ابدیت کی ضامن ہے۔ Chaos theory کے ماڈل کی بنیاد پر ان دونوں میں سے کوئی بات ثابت نہیں کی جا سکتی۔ کارپوریشن کے مینجر کو ہمیشہ یہ چیلنج درپیش رہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تغیرات کارپوریشن میں مقصدیت، نظام اطاعت اور نظام ترسیل اطلاعات کےلیے مواقع اور خطرات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ کارپوریشن کی مینجمنٹ کا فریضہ ہے کہ ماحولیاتی تغیرات کو اپنی تحویل میں سرمایے کی بڑھوتری کو Maximise کرنے کے لیے استعمال کرتی رہے۔

8.1.5۔واقعاتی اپروچ

چوں کہ سرمایہ داری ایک غیر معقول جاہلی نظام ہے[76] لہٰذا اس کے پاس خیر مطلق کا تصور موجود نہیں۔ قدر کا تعین ہمیشہ تخمینی (Speculative) بنیادوں پر کیا جاتا ہے اور جیسا کہ Choas theory واضح کرتی ہے کہ یقین کے ساتھ کبھی نہیں کہا جا سکتا کہ کن اقدامات کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ Contingency theoryاس بات کو قبول کرتی ہے کہ مینجمنٹ نظریات میں سے کسی ایک کو حق اور دوسرے کو غلط نہیں کہا جا سکتا سب نظریات کچھ صداقت اور کچھ ابطال پر مشتمل ہیں اور کارپوریشن کے مخصوص حالات متعین کرتے ہیں کہ کس مینجمنٹ نظریے پر عمل کیا جائے۔ مثلاً اگر کارپوریشن بنگلہ دیش میں موزے بنا رہی ہے تو اس کے لیے سائنٹفک مینجمنٹ رویہ شاید زیاد ہ موزوں ہو اور اگر وہ پیرس میں میوزموں کے لیے تصاویر اور مجسمے بنا رہی ہے تو شاید ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے نظریات پر عمل کرنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو۔ لیکن اگر مارکیٹ میں موزوں کا فیشن بدل جائے اور موزے آرٹ کے اظہار کے لیے استعمال کیے جانے لگیں تو ہو سکتا ہے کہ بنگلہ دیشی کارپوریشن کو اپنے کارکنان کی تخلیقیت کو ابھارنے کے لیے ہیومن ریسورس مینجمنٹ کا طریقہ اختیار کرنا پڑے۔ پھر ملکی ثقافتی روایات بھی مینجمنٹ رویوں کی افادیت کو متاثر کرتی ہیں۔ امریکا میں کارکنان کو منظم کرنے کےلیے نسبتاً سخت نظاماتی درجہ بندی مفید ثابت ہوتی ہے۔ جاپان میں کارکن مطیع اور نظم کے پابند ہوتے ہیں لہٰذا جاپانی کارپوریشن جاپانی خاندانوں کے نظام اطاعت کی بنیاد پر اپنا تنظیمی ڈھانچہ استوار کرتی ہے۔ Contingency نظریات کے حاملین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کارپوریشن کے اندرونی نظام فروغِ مقصدیت، نظام اطاعت اور نظام ترسیل اطلاعات کا تعلق ماحول میں پائے جانے والے اپنے ہی نظاموں سے مربوط اور معلق ہوتے ہیں لہٰذا مختلف النوع محرکات کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر ایک کامیاب مینجمنٹ حکمت عملی (جس کا مقصد ایک مخصوص ماحول میں کارپوریشن کے زیر تسلط سرمایہ کی بڑھوتری کو Maximise کرناہے) مرتب نہیں کی جا سکتی۔

مینجمنٹ تھیوری کابنیادی پیغام یہ ہے کہ کارپوریشن جتنی کامیابی کے ساتھ اپنے کارکنان کوآرگنائزیشنل مین بنائے گی اور سرمایہ دارانہ انفرادیت کو فروغ دے گی اتنی زیادہ اپنے سرمایے کی بڑھوتری کو Maximise کرنے میں کامیاب ہو گی بشرطیہ کہ اس نے اپنے ماحول (یعنی سول سوسائٹی اور اسٹیٹ) میں بدلتے ہوئے حالات اور ترجیحات سے فائدہ اٹھانا سیکھ لیا ہے۔ تھامس پیٹر اور رابرٹ ویٹرمین نے اپنی مشہورکتاب[77] میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی کامیاب ترین کارپوریشنیں وہ ہیں جن میں:

منیجر کارکنان کی اقدار پر کھلے عام بحث کو فروغ دیتے ہیں اور ان اقدار کو کارپوریشن کے اقدار سے منسلک کرنے کے لیے فرضی اور حقیقی مثالی کہانیوں کی بھرپور تشہیر کرتے ہیں۔

منیجرز حکم نہیں دیتے بلکہ ایسی مثالی شخصیت بننے کی کوشش کرتے ہیں جن کو کارکن اپنا ہیرو تصور کرنے لگیں۔

ہر سطح کے منیجر عام کارکنان سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی پیہم جستجو کرتے ہیں وہ ہر قسم کے کام میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں آفس اور کارخانوں اور دکانوں میں مستقل چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اس کو Managment by wandering round(MBWA)کہا گیا ہے Water man اور Peters اس کی افادیت پر خاص زور ڈالتے ہیں۔

مینجمنٹ سائنس کا بنیادی مقصد سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تخلیق ہے۔ سرمایہ داری نے جس انفرادیت کی تسخیر کی وہ عیسائی انفرادیت تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے غلبے سے قبل یورپ کا ایک عام باشندہ اپنی شناخت نہ اپنی معاشی حیثیت سے لیتا تھانہ اپنی نسل سے۔ وہ اپنے آپ کو بنیادی طور پر نہ زمیندار یا کسان اور نہ انگریز نہ فرانسیسی بلکہ بنیادی طور پر اپنے آپ کو عیسائی سمجھتا تھا [78]۔سرمایہ دارانہ نظریات، قوم پرستی نے ایک عام یورپی کو جرمن یا انگریز بنایا اور سرمایہ دارانہ نظریہ سوشل ڈیموکریسی نے یورپی کی شناخت کو عیسائیت سے تبدیل کر کے مزدور کی کر دی[79]۔

سرمایہ دارانہ انفرادیت مزدور کی انفرادیت ہے اور بقول مارکس سرمایے کی ابتدا مزدور بنا کر ہوتی ہے۔ اصلی سرمایہ دار مزدور ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے غلبے سے پہلے مزدور کا وجود نہایت محدود تھا۔ سترھویں صدی میں یورپ کی آبادی کے بالغ مردوں میں سے صرف تین فی صد اجرت پر گزارہ کرتے تھے[80]۔ آج بھی پاکستان کی لیبر فورس میں ہمہ وقتی اجرت پر کام کرنے والوں کا تناسب صرف گیارہ فی صد ہے [81]۔ غیرسرمایہ دارانہ نظاموں میں لوگ آمدنی حاصل کرنے میں خود کفیل ہوتے ہیں اور اجرت پر کسی دوسرے کے لیے کام کرنا ایک معیوب بات سمجھی جاتی ہے۔ سرمایے کا معاشرتی غلبہ اجرت کو عالمگیر بنائے بغیر ناممکن ہے۔ سرمایہ داری ہر فرد کو مزدور بنا دیتی ہے۔ کس کا مزدور؟ سرمایے کا مزدور۔ کیوں کہ مارکیٹ اور ریاست میں حکمرانی صرف سرمایے کی ہوتی ہے۔ ہر سرمایہ دارانہ ریاست اور ہر کارپوریشن بڑھوترئ سرمایہ کا واحد فریضہ مستقل انجام دیتی ہے۔ ملکیت سرمایے کی ہوتی ہے خواہ وہ کارپوریشن کی شکل میں ہو خواہ ریاستی ادارے کی شکل میں۔ سرمایہ دارانہ ملکیت انفرادی ملکیت کو مغلوب کر لیتی ہے[82]۔ اور ہر شخص خواہ کارکن خواہ منیجر خواہ بینک کار خواہ قومی یا بین الاقوامی دفتری، سرمایہ دارانہ ملکیت کا اسیر اور سرمایہ کا تنخواہ دار ملازم ہو جاتا ہے [83]۔ ہر شخص سرمایے کی گردش کو تیز کر کے اجرت کمانے والا سرمایہ کا بندہ بن جاتا ہے اس بندگی کو ہی مزدور کہتے ہیں۔ مزدور ہر وہ شخص ہے جس کی اپنی ذاتی وقعت اس کی سرمایے کی خدمت کی نوعیت اور کارکردگی سے متعین ہوتی ہے سرمایہ دار اور مزدور ہم معنی شناخت ہیں۔

8.1.6۔آرٹسٹک مینجمنٹ

انیسویں صدی کے وسط میں مارکس نے واضح کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظم کارکردگی اور اطاعت اظہارِ ذات سے نہ ہو۔ میری رائے میں پاکستان میں ایسے لوگوں کی بڑی اکثریت موجود ہے جو سرمایہ دارانہ بحران سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ بحرانی ادوار میں ان کا کاروبار اور ان کی آمدنی تیزی سے بڑھتی ہے۔

مزدور اپنے اوقات کارپوریشن کو فروخت کر دیتا ہے اور کام کے اس دورانیہ (آٹھ دس گھنٹوں) میں مزدور کارپوریشن کی مینجمنٹ کے تابع ہونے پر مجبور ہوتا ہے۔ جو چیز وہ بناتاہے اس سے لے لی جاتی ہے اور مزدور اپنے اظہار ذات کے لیے ا س تجربے سے کماحقہ مستفید نہیں ہو پاتا۔ یہ مارکس کا نظریہ alienationہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں Harry Bravermanنے Taylorism کی ایک جامع تنقید پیش کی اور ثابت کیا کہ بیش تر مزدور تھکا دینے والی اور اکتا دینے والی مشغولیتوں میں پھنسے رہنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں [84]۔ مزدوروں کے لیے فیکٹری اور آفس میں گزارے ہوئے اوقات قید خانے جیسے حالات ہوتے ہیں۔ فیکٹری اور آفس میں اظہارِ ذات کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔ مزدور فیکٹری اور آفس میں زندہ مردہ (Zombie) ہوتے ہیں مقصد اور معنی چھٹی کے بعد مزدوروں کی زندگی میں داخل ہوتا ہے فیکٹری اور آفس میں گزارے ہوئے اوقات کار کے دوران نہیں[85]۔

۱۹۶۸ء کے بعد سرمایہ داری کی نظم کاکردگی اور اطاعت پر تنقید زور پکڑ گئی اور بالخصوص فرانس اور اٹلی میں طاقت ور مزدور تحریکیں اٹھیں جنہوں نے وہاں کی لبرل سرمایہ دارانہ معیشت کو مفلوج کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا اس خطرے کو فرو کرنے کے لیے فرانس میں ایک نیا مینجمنٹ مکتب فکر ابھرا۔ جس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظم کاکردگی کو دل چسپ،تخلیقی، اور مزے دار بنا دینا تھا اور مارکس اور Braverman اور ان کے پیروؤں کے کیے ہوئے اعتراضات کو غیر معقول بنا دینا تھا۔ اس فکر میں پورا زور اس بات پر رکھا جاتا ہے کہ مینیجر اور کارکن ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اور دونوں کا مفاد ایک ہی ہےیعنی سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار میں تیزی۔ اور طبقاتی درجہ بندی فیکٹری اور آفس کے اندر سے جلد از جلد ختم کر دینی چاہیے اور آرٹسٹک مینجمنٹ سائنس نے ایسی قابل عمل تجاویز کے انبار لگا دیے جن کو اپنا کر کارپوریشن نظم کارکردگی اور اطاعت کی تنظیم نو کر سکتی تھی۔

ان تجاویز پر عمل کر کے فرانس اور اٹلی میں بڑی بڑی قومی اور بین الاقوامی کارپوریشنوں کی تنظیمی ترتیب نو عمل میں آئی۔ کارپوریشنوں کو ستواں "Lean" بتایا گیا اور بہت سادہ کام جو کارپوریشن خود کرتی تھی گاہکوں کو تفویض کر دیا گیا۔ کارکنان کو اس بات پر اکسایا گیا کہ وہ ان تفویض کردہ کاموں کو کرنے کی مکمل ذمہ داری کو قبول کر کے ایسی چھوٹی چھوٹی کاروباری تنظیمیں بنائیں جو تجارتی معاہدوں کی بنیاد پر کارپوریشنوں کی باج گزار بن جائیں۔تحلیل مرکزیت کی حکمت عملی اپنائی گئی اور صدر دفتر کی ذمہ داریاں چند کلیدی افعال تک محدود کر دی گئیں۔ کارکنان کو Work teamکی شکل میں منظم کیا گیا اور ڈیپارٹمنٹل درجہ بندی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ Work teamکو ایک قلیل مدتی پروجیکٹ دیے گئے جن کی کامیاب تکمیل پر نیا پروجیکٹ دیا جاتا اور Work teamکی ازسرنو ترتیب عمل میں آتی۔ کارپوریشنوں میں ان ٹیموں کے مواصلاتی نیٹ ورک بنائے گئے۔ دفتری درجہ بندی کے نظام کی تحلیل کے نتیجہ میں تنظیم کے اندر ترقیوں کا نظام اپنی وقعت کھو بیٹھا اور کارکردگی کے معاوضوں کی تقسیم نظام مراتب کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلاواسطہ سرمایے کی بڑھوتری میں اضافے سے مربوط کر دی گئی۔ درجہ بندی کے کمزور پڑنے کے نتیجے میں کارپوریشن کا ہر رکن (خواہ مینیجر خواہ لیبر خواہ شیئر ہولڈر) پالیسی سازی کے مشاورتی عمل میں اصولاً شریک بنا دیا گیا اور سب جس ہدف کی جستجو کرتے وہ کارپوریشن کے زیر تسلط سرمایے کی رفتار بڑھوتری ہوتا ہے۔

اس طریقہ تنظیم کارکردگی کو اپنا کر کارپوریشن کے ہر سطح کے کارکن کی آزادی، خود انحصاریت اور تخلیقیت کو فروغ دیا جانے لگا اور فروغِ آزادی تنظیمی درجہ بندی کی تحلیل، مشاورتی فیصلہ سازی اور تنوع کارکردگی[86] (Multi tasking) کارکنان کی خود احتسابی میں اضافے کا باعث ثابت ہوا۔ جب کارپوریشن کا ہر سطح کا کارکن سرمایے کا ایک مخلص بندہ بن جاتاہے توایسے بندے کے ضمیر پر سرمایہ خود قبضہ کر لیتا ہے۔ ہر بندہ خود اپنا مینیجر بن جاتا ہے۔ وہ مستقل اپنے آپ سے یہ سوال کرتا رہتا ہے کہ میں نے جو عمل کیا وہ کارپوریشن کے منافع، اس کی شہرت میں اضافے کا باعث بنے گا یا نہیں۔ سرمایہ کے بندے کو کسی دوسرے مینیجر کی نگہداشت اور قیادت کی ضرورت نہیں رہتی۔ سرمایے کے سنہرے جال میں وہ اپنا جیلر خود بن جاتا ہے۔

کارپوریشن کی یہ نئی آرٹسٹک حکمت عملی فرانس اور اٹلی میں بہت کامیاب ثابت ہوئی۔ اس مینجمنٹ اور حکمت عملی کو اپنا کر لیبر یونینوں اور کمیونسٹ پارٹیوں کو عبرت ناک شکست دی گئی ۔ تقریباً ستّر لاکھ مزدوروں نے یونینوں اور کمیونسٹ پارٹیوں کو ۱۹۸۰ء اور۱۹۹۰ء کی دہائیوں میں خیرباد کہا۔ ستّر کی دہائیوں میں پیہم کش مکش کے نتیجے میں اجتماعی سودا کاری کا نظام تعین اجرت مردہ ہو گیا۔ فیکٹریوں اور دفاتر میں کارکردگی کی تنظیم سے متعلق تنازعات تقریباً ناپید ہو گئے۔ ہر بڑی ہڑتالی مہم ذلت آمیز ناکامی سے دو چار ہوئی۔ طبقاتی تقسیم وسائل کو مساواتی بنانے کی جدوجہد معدوم ہو گئی۔ کارکنوں نے منیجرز کو جمہوری قائد کے طور پر تصور کرنا سیکھ لیا۔ آرٹسٹک مینجمنٹ سرمایہ دارانہ عدل کی حقانیت کی ایک نئی اور برتر تشریح کے طور پر سامنے آئی۔ آرٹسٹک مینجمنٹ نے سرمایہ داری میں ایک نئی روح پھونک دی۔

آج یورپ میں لبرل سرمایہ داری کی حاکمیت کو چیلنج کرنے والا کوئی حریف نہیں نہ عیسائیت نہ اسلام، نہ قوم پرستی نہ اشتراکیت۔ یورپ اور امریکا کی عظیم اکثریت سرمایہ دارانہ انفرادیت کو قبو ل کر چکی ہے اور مینجمنٹ سائنسز نے خدا کے بندے کو سرمایے کا بندہ بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

8.2۔ دورِ حاضر کے چند اہم لبرل اکنامک مکاتب فکر

یہ تمام مکاتب فکر کسی نہ کسی طریقے سے نیوکلاسیکی اکنامک منہج کا تسلسل ہیں لہٰذا ان کا تفصیلی تذکرہ ضروری نہیں۔ ذیل میں ہم ان مکاتب کی نمایاں خصوصیات بیان کرنے پر اکتفا کریں گے۔

8.2.1۔ سرافا کی فکر

سرافا ۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۰ء کی دہائی میں ایک مارکسسٹ اور اطالوی کمیونسٹ پارٹی کے مشہور جنرل سیکرٹری (Antonio Gramsci)کا معتمد خاص تھا ،بعد میں کینز کی وساطت سے وہ کیمبرج میں پروفیسر ہو گیا۔سرافا نے نیوکلاسیکی فکر کی تنقید مرتب کی۔ اپنی واحدکتاب Production of commodities by means of commodities میں سرافا نے ثابت کیا کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین رسد و طلب کی قوتوں کے توازن پر منحصر نہیں ۔قیمتوں کا تعین پیداواری نظام کی تکنیکی ساکھ اور تنظیم اور آمدنی کی اجرتوں اور منافعوں کی تقسیم کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ آمدنی کی تقسیم شرح سرمایہ کاری کو متعین کرتی ہے۔ آمدنی کی اجرتوں اور منافع میں تقسیم Marginal productivityکے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتی۔ سرافا نے ثابت کیا کہ اجرتی اور غیر اجرتی ذرائع آمدنی (سود، کرایہ اور منافع) میں آمدنی کی تقسیم لیبر اور ان ذرائع پیداوار کے منیجروں میں پیہم کش مکش کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ نیوکلاسیکی اکنامسٹ جس آئیڈیل مارکیٹ عمل کا تصور پیش کرتے ہیں وہ اصولاً ناممکن الوجود ہےاور نیوکلاسیکی تصورِ تعینِ شرحِ منافع غیر متعین ہے[87] مارکیٹ میں جیسے جیسے شرح منافع میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے پیداواری عمل میں لیبر کا استعمال اور مجموعی آمدنی میں اجرتوں کا حصہ کم ہوتا جاتا ہے۔

سرافا اور اس کے معتقدین نیوکلاسیکی اکنامسٹس کی عدم منطقیت ثابت کرتے ہیں لیکن مارکیٹ میں قیمت کے تعین کا کوئی دوسرا تصور پیش نہیں کرتے اور سرافا کا بنیادی پیغام لبرلز کی طرح یہی رہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ بحرانوں کا بنیادی سبب اجرتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر سرافا اور اس کے پیرو اپنے آپ کو نیو ریکارڈین کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دورِ حاضر کے نیو سرافین توازن کے تصور کو قبول کرتے ہیں اور وہ جو Mathematical modelsعموماً پیش کرتے ہیں وہ جامد توازن کی حالت میں معیشتوں کے ماڈل ہوتے ہیں جس جامد توازن مارکیٹ کا نقشہ یہ جدید سرافین پیش کرتے ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے۔

نیوکلاسیکل اکنامکس پر سرافہ کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ معیشت کا درست آئیڈیل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ۱۹۶۶ء میں سرافا کا ایک اہم مضمون Economic journal نے شائع کیا تھا جس میں اس نے نیوکلاسیکل اکنامکس کو سرمایہ دارانہ بزنس مینوں کے لیے بےکار کہا تھا کیوں کہ نیوکلاسیکل ماڈل اس بات کا لحاظ نہیں رکھتا کہ اشیا یکساں نہیں متفرق [88]ہوتی ہیں اور اس کے لیے مارکیٹنگ کے اخراجات مستقل بڑھتے رہتے ہیں اور نہ اشیا کی مارکیٹ فنانشل مارکیٹ پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن نیوکلاسیکی اکنامکس کی ان کمزوریوں کی نشان دہی کرنے کے باوجود سرافا اور نیوسرافین نے لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت (یعنی مارکیٹ) اور ریاست کی ترتیب نو کا کوئی خاکہ پیش نہیں کیا۔

8.2.2۔نیوآسٹرین مکتب فکر

یہ ان اکنامسٹس پر مشتمل ہے جو Bohem,Baverk ,Menger, Walzer اور Hayek کے شاگرد ہیں (جو سب آسٹرین تھے) لیکن آج کل زیادہ تر Neo Austrianامریکا میں ہوتے ہیں۔ ان کا پیش رو جوزف شومپٹر تھا جو آسٹریا کا وزیر رہ چکا تھا اور طوائفوں کی سرپرستی کے لیے مشہور تھا۔ یہ ۱۹۳۷ء میں بھاگ کر امریکا آیا اور اپنی موت تک Harvardمیں پروفیسر لگا رہا۔

جوزف شومپٹر پوری زندگی لبرل رہا لیکن اس نے نیوکلاسیکی ا کنامکس پر اعتراض کیے۔ ہائیک کی طرح جوزف شومپٹر بھی تصورِ توازن کو ردّ کرتا ہے۔ مارکیٹ مستقل متحرک رہتی ہے اور طلب اور رسد میں تعلق مستقل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کارپوریشن ہر لمحہ اس چیز کی جستجو کرتی رہتی ہے کہ نئی نئی ایجادات کے ذریعے مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم اور مستحکم کرے۔ مارکیٹ میں مساویانہ مسابقت ختم ہوتی جاتی ہے اور اس کی جگہ اجارہ دارانہ مسابقت لے لیتی ہے۔ اپنی اجارہ دارانہ مسابقتی حیثیت کو قائم کرنے اور محفوظ رکھنے کی جدوجہد ہی منافع میں اضافے کو ممکن بناتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت اجارہ دارانہ مسابقت کو فروغ دیے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ سرمایہ دارانہ پراگرس تسخیری تعمیر کے ذریعے رونما ہوتی ہے۔

نیو آسٹرینز کے مطابق سرمایہ دارانہ حکومت کا فرض ہے کہ اجارہ دارانہ مسابقت کو آسان بنائے ،مارکیٹ میں داخل ہو کر خود ایک اجارہ دارنہ بن بیٹھے [89]بلکہ نج کاری کے ذریعے قومی سرمایہ نجی کارپوریشن کے سپرد کر دے، اجارہ داریاں توڑنے والی پالیسی اختیار نہ کرے اور بالخصوص اس بات کی پیہم جدوجہد کرے کہ مزدور یونینوں کی سوداکاری کی قوت کم سے کم ہوتی جائے۔ مارکیٹ تقسیم وسائل میں جو ناہمواریاں پیدا کرتی ہے اور جن کی وجہ سے تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد سرمایہ دارانہ بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کوریاست رفع نہیں کر سکتی[90]۔

نیوآسٹرین مثلاً John Tomlinsonاس بات پر زور دیتے ہیں کہ سرمایہ داری ان معنوں میں ایک فطری نظام ہے کہ وہ خود تخلیقی ہے اور اس کے قیام اور ترقی کے لیے کسی بیرونی سہارے یا تعاون کی ضرورت نہیں[91]۔ سرمایہ دارانہ عمل کا ہر پہلو پیداوار صرف، تقسیم، فنانس، غیریقینیت سے متاثر ہے لیکن نیوآسٹرین سرمایہ دارانہ تنظیم معاشرت میں اتنی لچک ہے کہ وہ تمام غیریقینی حالات اپنے نظم کے استحکام و فروغ کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ لچک کی یہ صلاحیت دوسرے نظاموں میں (کم ازکم اس حد تک موجود نہیں)۔ غیریقینیت سے کماحقہ مستفید ہونے والا سرمایہ داروں کا پیرو وہ ہے جو تمام خطرات کو چیلنج کے طور پر قبول کر کے ترقی کی نئی راہیں نکالتا ہے[92]۔یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگرنیو آسٹرین کے مطابق تمام سرمایہ دارانہ ادارے فطری ہیں تو سرمایہ دارانہ ریاست کو اس اصول سے کس بنیاد پر مستعار قرار دیا جا سکتا ہے۔ سترھویں صدی کے بعد سے آج تک سرمایہ دارانہ ریاست کا مارکیٹ میں عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے (مثلاً ۲۰۰۷ء سے آج تک جاری رہنے والے بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے امریکی اور یورپی ریاستوں نے کھربوں ڈالر زر کے بازار میں داخل کیے [93])کیا مارکیٹ میں ریاست کے عمل کو کم کرنے کے اقدام غیر فطری ہیں؟

دورِ حاضر کا سب سے موثر نیوآسٹرین Murray Rothbard ہے اور جیسا کہ اس نے لکھا ہے کہ یہ مکتبہ فکر نیوکلاسیکی مفروضات کی ترمیم نہیں تنسیخ ہے۔ دونوں مارکیٹ میں ریاستی عمل دخل کو کم کرنے پر اصرار کرتے ہیں نیوآسٹرین مکتبہ Monetarism کے بھی قریب ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ زر کو ایک فطری شے گردانتا ہے اور سرمایہ دارانہ زر کی مقدار کا تعین مارکیٹ کے آزادانہ عمل کے ذریعے رونما ہونے کا قائل ہے۔

8.2.3۔کمپلیکسٹی تھیوری

Complexity theoryکو ’’نظریہ‘‘ کہنا شاید درست نہیں۔ نظریہ سے زیادہ ایک منہج (Method) ہے۔ ریاضیات میں پیچیدہ نظاموں کی خودکاری (Self functioning)کو سمجھنے کے لیے فرانسیسی ریاضی دان ہنری پورن کارے (Henri Porncare) نے نظریہ انتشار(Chaos theory) ۱۸۹۹ء میں وضع کیا۔ معاشی نظام کی کارفرمائی کو سمجھنے کے لیے اس منہج کا استعمال کمپیوٹروں کے عام ہونے کے بعد ہوا۔ اس منہج کو استعمال کرنے کا مقصد پیچیدہ نظاموں کی ظاہری انتشارِ کارفرمائی کے پوشیدہ نظاماتی اصولوں کی شناخت ہے۔ انتشاری نظام کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے Simulate کیے جاتے ہیں اور ان نظاموں کے مختلف حصوں کو شاک دے کر نظام کی کارفرمائی کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور اس کے اصولِ خودکارفرمائی کی نشان دہی کی کوشش کی جاتی ہے۔

فرض کیجیے کہ مخصوص ریاضیاتی ضوابط کے مطابق کراچی اسٹاک ایکسچینج کی کارفرمائی کا ایک ماڈل بناتے ہیں اس ماڈل میں وہ سیکڑوں عوامل شامل کیے جاتے ہیں جو انفرادی حصص کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً شرح سود، بینکوں کے پھنسے ہوئے قرضہ جات، شرح افراطِ زر، سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے،سٹے بازوں کی شراب نوشی کی عادت، مانع حمل ادویات کا استعمال، گندم کی فصل، ہندوستان سے جنگ کے امکان، لیاری میں فساد کا رجحان وغیرہ وغیرہ۔ اپنے ماڈل میں کسی ایک عامل مثلاً شرح سود کو ایک دم سے سو فی صد بڑھا دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کا اثر دوسرے عامل پر کیا ہوا۔ شرح سود کو شاک دینے سے جو ردِعمل مجموعی طور پر اور انفرادی عوامل پر مرتب ہوتا ہے اس کی بنا پر اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سٹے کی مارکیٹ میں تعمیر قیمت کیسے رونما ہوتی ہے؟ کسی مخصوص حصص اور مجموعی حصص[94] میں تغیر کیوں اور کیسے آتا ہے ؟ اسے Complexity analysisکہتے ہیں۔

Complexity نظریے کے مطابق کسی نظام کے اجزاء میں روابط سیدھے نہیں ہوتے بلکہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور انہی پیچیدہ روابط کا استحکام خود کار فرما ہوتا ہے۔ اگر اجزا کے روابط مستحکم ہوں تو اجزا کا مجموعی نظام نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ وہ خودکارفرما نہیں ہوتا۔ غیر خودکارفرما اجتماعیتیں لازماً منتشر ہو جاتی ہیں سرمایہ دارانہ نظام بظاہر مستحکم نظر نہیں آتا اور مارکیٹ میں تصادم، خلفشار اور بحران پیہم رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام پچھلے پانچ، چھ سو سالوں سے قائم ہے منتشر نہیں ہوا اور Chaos theoryنے (ریاضیاتی بنیادوں پر) یہ ثابت کیا ہے کہ خودکارفرمائی نظام کےلیے مستحکم ہونا ضروری نہیں۔

یہ بات ۱۹۶۳ء میں موسمیاتی ماہر E.P.Lorenz نے ثابت کی۔ Lorenzنے ثابت کیا کہ موسمیاتی تغیرات کے لیے کئی نظام ہیں جو آپس میں منسلک ہیں، غیر متوازن ہیں لیکن نظاموں کا ارتباط منتشر نہیں ہوتا اور غیر متوازن تغیرات ہی اس نظاماتی تنظیم کو قائم رکھنے کا باعث ہوتے ہیں۔

اس Complexity Theoryسے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ سرمایہ داری ایک غیر مستحکم خود کار فرمائی نظام ہے جواپنے مختلف عدم توازنی تغیرات کو اپنے استحکام کو قائم کرنے کے لیے مربوط کرتا رہتا ہے۔ نظام سرمایہ داری تباہی کی طرف مائل نہیں لیکن عدم توازن سرمایہ دارانہ عمل کا جزولاینفک ہے۔ نیوکلاسیکل اکنامکس جو توازن کو مارکیٹ عمل میں تلاش کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے سرمایہ دارانہ نظام کی تفہیم سے قاصر ہے۔عدم توازن کے تسلسل کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام مستقل گردش میں رہتا ہے، ہر کساد بازاری کا دور ایک نئے دور ارتقا کو خود جنم دیتا ہے جس میں سے پھرایک دور کساد بازاری برآمد ہوتا ہے اور تغیر کا یہ چکر ہمیشہ چلتا رہے گا۔ کسی دور میں بھی سرمایہ داری اپنے آپ کو خود تباہ نہیں کرے گی بلکہ اس کی خودکارفرمائی صلاحیت اس کے ابدی وجودکی ضامن ہے۔

لیکن مارکیٹوں کے مستقل عدم استحکام کے پیچھے وہ کون سے عوامل کار فرما ہیں جو سرمایہ داری کی خود کار فرمائی اور بقا کو ممکن بناتے ہیں؟Complexity theoristکے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ بیش تر Complexity theorist سرمایہ داری کو محض ایک معاشی نظام تصور کرتے ہیں۔ ان کے ماڈلز سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ابدی نہیں۔ معلوم تاریخ کے سات ہزار سالوں میں سے سرمایہ دارانہ نظام زندگی زیادہ سے زیادہ چھہ سو سال موجود رہا [95] اس کے برعکس موسمیاتی نظام کی کوئی تاریخ نہیں۔ Complexity theorist سرمایہ دارانہ تاریخ اور اس کی فکر کے ارتقا سے عموماً ناواقف ہوتے ہیں وہ نہ یہ بتا سکتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا آغاز کیسے ہوا اورنہ اس کے وجود کو لاحق خطرات سے آگاہی دے سکتے ہیں۔

Complexity theoryایک وسیع تر مکتب فکر کی شاخ ہے جسے Structuralism کہتے ہیں۔ اس کے اہم ترین مفکر Levi Straussاور Althusser ہیں [96]۔ Structuralism اقدامی فوقیت سے انکار کرتی ہے لہٰذا Structuralist لبرل نہیں ہوتے[97]۔ ان کے خیال میں ہر نظام کی ہیئت اس کے وجود کو قائم رکھتی ہے اور فرد اس ہیئت کا محض ایک آلہ کار ہوتا ہے۔ اس کے اعمال ناگزیر ہیئتی تقاضوں کے تابع ہیں۔وہ تاریخ کو ہیئت بلاتشخص تصور کرتے ہیں۔Complexity theoristان مفروضات کو قبول کر کے ان کا اطلاق نیوکلاسیکی اکنامکس کے تصورا ت پر کرتے ہیں۔ وہ نیوکلاسکی تصور سرمایہ داری کو ابدی گردان کر اس کی خودکارفرمائی کی ہیئتی تصویر کشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ناگزیر جہتوں کی نشان دہی کی کوشش کرتے ہیں جن کے ذریعے نظام خودبخود اپنی بقا اور ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ اس Complex تصور پر انفرادی اعمال کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔ Complexity theoryآزادی کی مجبوری کی تصویر کشی ہے۔

8.2.4۔ انسٹی ٹیوشنل اکنامکس

اس مکتبہ فکر کی ابتدا انیسویں صدی کے وسط میں ہوئی جس چیز کو آج انسٹی ٹیوشنل اکنامکس کہتے ہیں وہ ابتدا میں ایک مکتبہ فکر German historical schoolسے آسڑین اکنامسٹس کی چپقلش کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔German Historical School کا سب سے اہم مفکر Gustav Von Schmoller تھا (۱۸۳۷ء تا۱۹۱۸ء) جو ۱۸۸۴ء سے اپنی موت تک جرمنی (Prussia) کا رکن پارلیمنٹ رہا۔ شمیولر نے کلاسیکی اور نیوکلاسیکی اکنامک تصورات کو جرمن سرمایہ دارانہ حقائق کی کسوٹی پر جانچنے کی کوشش کی ۔جیسا کہ مشہور فلسفی Delthey نے لکھا ہے کہ شمیولر نے معاشی عمل کی نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی بنیادوں کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نیوکلاسیکل فکر پر بنیادی اعتراض یہ تھا کہ انسان ویسا نہیں جیسا نیوکلاسیکل اکنامکس اسے متصور کرتی ہے[98]۔ انسان کو ہیومن بینگ بنانے کی ذمہ داری شمیولر کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ مارکیٹ کا عمل خودبخود انسان کو ہیومن بینگ نہیں بنا دیتا [99]لہٰذا شیمولر نے ایسی سوشل اور اسٹیٹ پالیسیاں وضع کرنے کی کوشش کی جن کے ذریعے آزادی اور ترقی فروغ پا سکیں۔

آسٹرین اکنامسٹ (Menger, Weiser, Schumpeter etc)ہیومن بینگ کے لازمی وجود کو عقلیت کا تقاضا سمجھتے ہیں اورتوازن کے نیوکلاسیکل نظریے کے قائل نہیں لیکن ان کے خیال میں تخریبی تعمیر کا عمل مارکیٹ بحران کو رفع کر کے سرمایہ دارانہ نظام کی لامتناہی ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ وہ سوشل ریفارم کی ضرورت سے انکار نہیں کرتے لیکن وہ ایسے ریفامز کی وکالت کرتے ہیں جو مارکیٹ کی خودکارفرمائی کو فروغ دیں اور سرمایہ دار ریاست کو مارکیٹ کے تابع کر دیں۔ Menger اور Bohn Baverk نے تفصیل سے ثابت کرنے کی کوشش کی تمام سرمایہ دار ادارے کارپوریٹ ملکیت، مارکیٹ، سرمایہ دارانہ نظام پیداوار وغیرہ فطری اور عقل کے تقاضے پورا کرنے والے ہیں اور یہ خودبخود وجود میں آئے ہیں ،انہیں کسی نے شعوری طور پر ڈیزائن نہیں کیا۔ معاشرتی منصوبہ بندی ایک بے سود عمل ہے کیوں کہ علم تاریخ میں خود غرضانہ مسابقتیں انفرادی جدوجہد کے تسلسل کے نتیجے بغیر کسی منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہیں۔ German Historical School اور Marxists ان مفروضات کی تردید کرتے تھے لہٰذا آسٹرین اکنامسٹ Schumpeter اور مارکس کے شدید نظریاتی حریف تھے۔

بیسویں صدی کے نمایاں ترین Institutionalist economistسب امریکن ہیں اور پرانے آسٹرین اکنامسٹس کے جانشین ہیں۔ ذیل میں میں Williamson کی فکر پیش کرتا ہوں[100]۔

انسٹی ٹیوشنل اکنامکس کا مقصد سرمایہ دارانہ اداروں کے سوداکاری کے خرچے کو کم سے کم کرنا ہے [101]۔ سودے کاری سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعے ایک شے ایک مستقل وجود اکائی سے دوسری مستقل وجود اکائی تک منتقل کی جاتی ہے[102]۔ یہ وہ عمل ہے جس سے شے یا اس کا بدل (قیمت، سود، اجرت، منافع) منتقل ہوتا ہے، اس عمل کی لاگت کو کم سے کم کرنے کے لیے تمام سرمایہ دارانہ ادارے بنائے جاتے ہیں۔ انسٹی ٹیوشنل اکنامکس اس بات کا مطالعہ کرتی ہے کہ اس سوداکاری لاگت (Transaction cost)کو تنظیم تحکیم واطاعت، تنظیم احتساب اور تنظیم منصوبہ بندی اور پالیسی تغیرات کے ذریعے کس طرح کم سے کم کیا جاتا ہے۔

ادارہ تعلقات کی تنظیم اور نظام اطاعت اور تحکیم کی کارفرمائی کا دوسرا نام ہے۔ سرمایہ دارانہ تعلقات کو بقا اور تسلسل فراہم کرنے کےلیے مخصوص نظام ہائے اطاعت اور تحکیم وضع کیے گئے ہیں۔ سرمایہ دارانہ قانون، اکنامسٹ اور مینجمنٹ وہ اصول و ضوابط فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر نظام تحکیم اور اطلاعات کو ایسے وضع کیا جا سکتا ہے کہ ان کے اندر Transaction مثلاً مینیجر اور کارکن کے مابین Transaction اور ان کے مابین Transaction کی لاگت کم سے کم کی جا سکے۔ Coase نے واضح کیا کہ سرمایہ دارانہ تعلقات کارپوریشن کے اندر بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اور مارکیٹ میں بھی کون سے افعال کارپوریشن کے اندر منظم اور کون سے افعال کے ضمن میں کارپوریشن مارکیٹ پر انحصار کرے، اس بات کا فیصلہ اس امر پر ہونا چاہیے کہ کس طریقے کی سوداکاری لاگت (Transaction cost) کم ہے[103]۔ لیولن (Llevellyn) نے کہا کہ سرمایہ دارانہ قانون اور معاہدہ کے ذریعے تمام معاشرتی تعلقات کو ایسے سانچے میں ڈھال دیا جاتا ہے جس کے ذریعے ان تعلقات کو قائم رکھنے کے لیے Transaction costکم سے کم کی جاتی ہے۔

نظام اطاعت و تحکیم مارکیٹ میں نہیں قائم کیا جا سکتا وہاں ہر سودا کار اصولاً و قانوناً (عملاً نہیں) مساوی حیثیت کا حامل ہوتا ہے اور کسی کو کسی معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا[104] ۔کارپوریشن میں ایک نظام اطاعت (قانوناً اور معاہدے کے ذریعے سے) قائم کیا جاتا ہے اس کو Organizational Heirarchyکہتے ہیں۔ کسی Transaction کو کارپوریشن میں ادا کیا جائے یا اس کو مارکیٹ میں لایا جائے یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ اس Transaction پر خرچہ مارکیٹ میں زیادہ ہو گا یا کارپوریشن میں۔ کارپوریشن کو Herberl Simon نے ایک ایسا نظام تعاون کہا جہاں ارادتاً ضوابطی تعلقات استوار کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مارکیٹ میں تعلقاتی نظام کے قیام کا کوئی اجتماعی مقصد نہیں ہوتا۔ کارپوریشن میں جو عقلیت کارفرما ہوتی ہے وہ اس اجتماعی مقصد کے تابع ہوتی ہے جس مقصد کے حصول کےلیے کارپوریشن کوشاں ہوتی ہے۔ کارپوریشن کے تمام اہل کاروں کا واحد اجتماعی مقصد بڑھوترئ منافع/سرمایہ ہے۔ قانون اس کو کارپوریشن کا واحد فرض عین قرار دیتا ہے۔ اگر کارپوریشن یہ واحد مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اسے دیوالیہ قرار دیا جاتا ہے۔ لہٰذا جس عقلیت کی بنیاد پر کارپوریشن کا نظام اطاعت و تحکیم وضع کیا جاتا ہے وہ منافع/سرمایہ کی مسلسل بڑھوتری کے واحد اجتماعی مقصد کے لازماً تابع ہوتا ہے۔

اس نظام اطاعت و تحکیم میں مستقل رد و بدل کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ بڑھوترئ سرمایہ/منافع کے مواقع مستقل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ Institutional اکنامسٹ اس بات کو پہچانتے ہیں کہ انسان فطرتاً بڑھوترئ سرمایہ کو انفرادی یا اجتماعی مقصد آفاقی کے قبول نہیں کرتا۔ کارپوریشن کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ہر کارکن (خواہ مینیجر ہو خواہ مزدور) کو Organization man بنائے [105]۔ Organization manبنانے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں اور کارکنان کی نفسیات، ان کی ثقافت، ان کی تکنیکی صلاحیت، ان کی سیاسی دوستی میں تبدیلیوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان طریقوں میں تبدیلی ضروری ہے [106]۔ ظاہر ہے کہ بیرونی ماحولیاتی تبدیلیاں بھی کارپوریشن کے نظام اطاعت میں تبدیلی کی متقاضی ہوتی ہے[107]۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کارپوریشن مارکیٹ کے تابع ہے، کارپوریٹ مارکیٹ میں سرمایہ دارانہ انفرادیت کا اظہار ہے۔ کارپوریشن کے ذریعے کارکنان کی انفرادیتوں کو مربوط کر کے[108]ایک مخصوص سرمایہ پر مرکوز سرمایہ دارانہ اجتماعی انفردیت کارپوریشن کے ذریعے تعمیر کی جاتی ہے۔

Institutional اکنامکس کہتی ہے کہ مارکیٹ ویسے نہیں ہوتی جیسے کلاسیکی اور نیوکلاسیکی اکنامکس انہیں تصور کرتی ہے وہ پرفیکٹ یعنی مساویانہ مسابقت کا دائرہ کار نہیں ہوتی۔ ہر کارپوریشن مارکیٹ پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ دور حاضر میں مارکیٹ پر حاوی ہونے کا اہم ترین ذریعہ اطلاعات کی اجارہ داری ہے۔ Kenneth Arrowنے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں اطلاعات کی اجارہ داری کے مضمرات سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کے لیے سمجھنے کی کوشش کی۔ اطلاعاتی اجارہ داری بھروسے کا فقدان پیدا کرتی ہے اور یہ فقدان سرمایہ دارانہ عمل کے سلسلے میں اہم رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ اگر مینیجر اطلاعات پر قابض ہے اور مزدور کو ان سے محروم رکھتا ہے تو مزدور کا بھروسا مجروح ہوتا ہے۔ اگر ایپل، گوگل کو اطلاعات سے محروم رکھتی ہے تو گوگل ایپل پر بھروسا کیسے رکھ سکتی ہے لہٰذا مینیجر اور مزدور اور گوگل اور ایپل ایسے معاہدے کرتے ہیں جن کے ذریعے معاہدین کی انفرادی بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہدکا اجتماعی بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد بن جاناممکن ہوتا جاتا ہے۔ Arrow نے کہا تھا کہ اجتماعی نظاماتِ معاہدہ بازی اور نظامات ِتحکیم کی تشکیل کی ضرورت ہے جو سرمایہ دارانہ نظام میں (مارکیٹ میں اور کارپوریشن میں) بھروسے کو فروغ دے سکیں[109]۔ Robert Summers نے واضح کیا کہ سرمایہ دارانہ قانون اطلاع کے ذریعے معاشرتی فقدانِ اعتماد کو فروغ نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ سرمایہ دارانہ قانونی نظام (مذہبی قانونی نظاموں کے برخلاف) ادائیگی فرائض پر مرکوز نہیں انفرادی حقوق کی طلب پر زور دیتا ہے۔ Agred Cisondler نے کارپوریشن کی تنظیمی اطاعات کو وضع کرنے کی ایسی تجاویز پیش کیں جن کے ذریعے کارکنوں اور منیجروں کا ایک دوسرے پر اعتماد بڑھایا جا سکے۔ Coase اور Williamson نے کارپوریشن کے نظام اطاعت کو ایک سیاسی نظام اقتدار سے تشبیہ دی اور ان سیاسی عوامل کی نشان دہی کی جو سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر کارپوریشن کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔انسٹی ٹیوشنل اکنامکس کارپوریشن کو ایک نظام اطاعت و تحکیم (Structure of governance) کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ کلاسیکی تصورِ کارپوریشن سے مختلف ہے جس میں کارپوریشن ایک تکنیکی آلہ پیداوار سمجھی جاتی ہے[110] ۔

انسٹی ٹیوشنل اکنامسٹس کا دعویٰ ہے کہ ہر وہ تعلقاتی نظام جو معاہدے کی بنیاد پر وضع کیا گیا Transaction منہج کی بنیاد پر متصور کیا جا سکتا ہے اور یہی اس نظام تعلقات کی تفہیم کا بہترین طریقہ ہے۔ امریکی نوبل انعام یافتہ اکنامسٹ خاندان کو تعلقات کا ایسا نظام سمجھتا ہے جس کا مقصد بچے پیدا اور پرورش کرنے کی Transaction costکو کم سے کم کرنا ہے[111]۔ Breton, Coase اور Wintribe ریاستی نوکرشاہی کے پالیسی ساز اعمال کا تجزیہ اسی تناظر میں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ریاستی ریگولیٹری نظام سیاسی اور معاشی Transaction کی لاگت کم کرنے کے لیے وضع کیے جاتے ہیں۔

انسٹی ٹیوشنل اکنامکس نیوکلاسیکی اکنامکس سے اس بات پر متفق ہے کہ ہر عمل (صرف معاشی عمل نہیں) کا بنیادی محرک انفرادی لذات کی بڑھوتری ہے لیکن Institutionalistکی رائے میں نیوکلاسیکل اکنامسٹ سرمایہ دارانہ پالیسی سازی (خواہ کارپوریشن میں یا ریاست سطح) کے عمل کو سمجھنے کے لیے مناسب علمی تناظر پیش نہیں کرتے[112]۔ مارکیٹ سے باہر کے سرمایہ دارانہ عمل کو نیوکلاسیکل بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ سرمایہ دارانہ اداروں، خاندان، نوکرشاہی، کارپوریشن، سوشل ایسوسی ایشنز[113] (Social assosiations) ،گرجا، میں انتظامی تنوع اس لیے پایا جاتا ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ ادارہ اپنے مخصوص حالات کے مطابق Transaction costکو مسلسل کم کرتے رہنے کی کوشش کرتا ہے یہ کوشش کبھی کامیاب ہوتی اور کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ نیوکلاسیکی اکنامسٹ کی طرح Institutionalist بھی پالیسی سازی کا مقصد سرمایہ دارانہ عقلیت کے آفاقی غلبے کو قرار دیتے ہیں۔ نیوکلاسیکی (اور جدید کلاسیکی) اکنامسٹ کے مطابق پالیسی کا ہدف مارکیٹ کو زیادہ سے زیادہ آزادی فراہم کرناہے۔ Institutionalist کے مطابق پالیسی کا ہدف ایسی ادارہ سازی ہے جس کے نتیجے میں تما م نظاماتی Transaction costکم سے کم ہوتی رہیں۔ دونوں کی قسم کی پالیسیاں سرمایہ دارانہ عقلیت کی آفاقی غلبے کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں۔

سرمایہ دارانہ ادارہ سازی اسی لیے ضروری ہے کہ انسان ابھی تک پوری طرح ہیومن بینگ (شیطان ) نہیں بنا ادارہ سازی کے اقدام انسان کو ہیومن بینگ (شیطان) بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ Schumpeter نے کہا تھا کہ ادارہ سازی کے تنوع نے سرمایہ دارانہ نظام کی آفاقیت کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ Institutionalist کے مطابق سرمایہ دارانہ ادارے فطری سے زیادہ عقلی ہیں۔ Mayha کے مطابق چوں کہ سرمایہ دارانہ ادارےپالیسی سازی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں (اور سرمایہ دارانہ قانون اس ضمن میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے [114] ) لہٰذا ادارہ سازی کا ہر عمل لازماً سرمایہ دارانہ عقلیت کو فروغ نہیں دیتا ۔ادارہ سازی کے عمل میں پالیسی سازوں سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ Williamson کی رائے میں موجودہ ادارہ سازی کی سب سے بڑی کمزوری اس بات میں مضمر ہے کہ وہ خریدار اور سوداکار، مینیجر اور کارکن بیوروکریٹ اور سٹیزن میں اعتماد کو فروغ دینے سے قاصر ہے۔

8.2.5۔ کرداری اکنامکس

Behavioural Economics کو نفسیاتی اکنامکس بھی کہتے ہیں۔ Institutional اکنامکس کی طرح یہ بھی نیوکلاسیکی اور جدید کلاسیکی اکنامسٹس کا ایک اعتراضی فٹ نوٹ ہے۔ اس منہج نے ان تحقیقاتی مفروضات کی شرح کرنے کی کوشش کی ہے جو نیوکلاسیکی اور جدید کلاسیکی اکنامسٹس ہیومن فرد کے برتاؤ کے بارے میں کر کے اپنے اکنامک ماڈل بناتے ہیں[115]۔ایک مرکزی مسئلہ جویہ نظریہ اٹھاتا ہے انتخاب کے محرکات کا ہے۔ Prospect theory نقصانات سے محفوظ رہنے کے برتاؤ کا تجزیہ کرتی ہے۔ Behavioural economicsکے دیگر شعبہ جات تعینِ اوقاتِ عمل اور اجتماعی ترجیحات کے تعین کے عمل کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ Behavioural economist اس بات پر زور دیتے ہیں کہ برتاؤ اور انتخاب کے بنیادی عوا مل نفسیاتی ہیں اور نیو کلاسیکی اور جدید کلاسیکی اکنامسٹس جن نفسیاتی مفروضات کی بنیاد پر اپنے ماڈل تعمیر کرتے ہیں ان کے مضمرات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔

Behavioural economistعموماً کسی نیوکلاسیکی ماڈل کے کچھ مفروضوں کو علم نفسیات کی بنیاد پر تبدیل کر کے نیوکلاسیکی ماڈل کو حقیقی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس Modification کی توجیہہ یہ پیش کرتے ہیں کہ برتاؤ کو ویسا بنانے کے لیے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے یہ جاننا ناگزیر ہے کہ آج برتاؤ ویسا کیوں نہیں جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ نیوکلاسیکی، جدید کلاسیکی اور Behaviourist اکنامسٹ میں بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ انسان کو ہیومن بینگ (یعنی شیطان) ہونا چاہیے اور اس کا برتاؤ سرمایہ دارانہ عقلیت کی واحد بنیاد پر متعین ہونا چاہیے۔ اختلاف اس بات پر ہے کہ انسان شیطان (ہیومن بینگ) ہے (یہ جدید کلاسکی اکنامسٹ کی رائے ہے ) یا مارکیٹ انسان کو لازماً شیطان بنا رہی ہیں (یہ نیوکلاسکی اکنامسٹ کی رائے ہے) [116]۔ یا انسان کو شیطان بنانے کےلیے وسیع پالیسی سازی کی ضرورت ہے بالخصوص کارپوریشن اور سول سوسائٹی میں (یہ Behavioural اکنامسٹ کی رائے ہے)۔کبھی کبھی یہ اختلاف ان معنوں میں شدید ہو جاتا ہے کہ کسی ایک مفروضے کی ترمیم نیو کلاسیکی ماڈل کے تمام مفروضات کی ترمیم کی متقاضی نظر آتی ہے۔ لیکن عموماً Behavioural اکنامسٹ اس قسم کی جرات نہیں کرتے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے ماڈل وضع کریں جو آسانی سے نیوکلاسیکی تعلیمات کا حصہ بن سکیں۔

Behavioural اکنامسٹس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انفرادی انتخابات اپنے ثقافتی تناظر سے لازماً متاثر ہوتے ہیں لیکن ان کے خیال میں نظاماتی احاطہ بندی کے ذریعے ان ماحولیاتی/ثقافتی تناظر کا انفرادی انتخابی عمل پر اثر کم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک عالم کا بیٹا سودی لین دین کا مخالف ہوتا ہے لیکن اسٹیٹ بینک میں اس کو ملازم رکھ کر اس کو بآسانی سود کی اسلام کاری کی ضرورت کا قائل کیا جا سکتا ہے۔ Behavioural اکنامسٹس نے کامیابی کے ساتھ لیبر مینجمنٹ کی اجتماعی سوداکاری کے ضمن میں تسلسل سے ایسی تجاویز دی ہیں جن سے لیبر کے نمایندوں کو کارپوریشن کے مفاد کو لیبر کا مفاد سمجھا دیا گیا ہے۔

Behavioural اکنامسٹس ان ذرائع کی نشان دہی کرتے ہیں جن سے انسان میں حرص کو فروغ دے کر (اسے Temptation اکنامکس کہا گیا ہے) سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر فیصلہ سازی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے[117] نظاماتی احاطہ بندی حرص و حسد اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو فروغ دے کر انسان کو شیطان ہیومن بینگ بناتی ہے۔ Behavioural اکنامکس عموماً مارکیٹ توازن کے تصور کو قبول کرتی ہے ۔ مارکیٹ میں عدم توازن پیدا کرنے والی قوتیں مثلاً سیکھنے نقل کرنے اور ترمیمیت (Adoptation) بالآخر توازن کے قیام کا باعث ہو سکتی ہیں[118]۔

تصورِ توازن کی تصدیق نیوکلاسیکی اور Behaviourist اکنامسٹ کی قربت ظاہر کرتی ہے لیکن Behaviourist اکنامسٹس عموماً ان حالات کی نشان دہی میں ناکام رہے ہیں جن میں فرد اپنے تجربات کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عقلیت سیکھنے، اس کی نقل اتارنے اور اس کے مطابق اپنے رویے کو تبدیل کرنے پر مائل ہو جاتا ہے۔ Chaos theory کے مطابق یہ عمل نہایت پیچیدہ ہے اور کبھی مکمل نہیں ہوتا لہٰذا تمام سرمایہ دارانہ مارکیٹس ہمیشہ غیر متوازن میں رہتی ہیں ان میں خلفشار آتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کا بحیثیت مجموعی تباہ ہو جانا ممکن رہتا ہے۔Behaviouristاکنامکس جس بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ”فرد کی لالچ، حرص اور ہوس کیسے مسلسل بڑھائی جا سکتی ہے ؟‘‘[119]۔

Kulremiouan Danialنے اپنا پورا تحقیقی ایجنڈا شہوت کو مہمیز دینے والے محرکات پر مرکوز کیا۔ پالیسی سازی اور تنفیذ کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا چاہیے کہ ان اشیا کے حصول سے انہیں لذت حاصل ہوتی ہے جو سرمایہ دارانہ عمل انہیں فراہم کر سکتا ہے[120]۔ Behaviouralist اکنامسٹ نیو کلاسیکی اکنامکس کی ذیلی شاخ Welfareاکنامکس کو انفرادی اخلاق سازی سے منطبق کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس تناظر کے مطابق Welfare اکنامکس ایک ایسی Moral philosophy ہے جس کی بنیاد پر انفرادی تصور خیر و شر کو فیشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نیوکلاسیکی اکنامکس کی طرح Behavioural اکنامسٹ بھی محض Applied utilitarianہی ہے۔یہ ممکن ہے کہ فرد اس بات کا تعین کرنے میں کہ اپنے کسی عمل سے کتنی لذت حاصل ہوتی ہے غلطی کرے لیکن اس معاملے میں حکومت بھی غلطی کر سکتی ہے لہٰذا نیو کلاسیکی تعلیمات کا نتیجہ درست ہے کہ افراد کی ظاہری ترجیحات کی بنیاد پر پالیسی سازی کرنی چاہیے بشرطیکہ افراد ہیومن بینگ (شیطان) ہوں انسان نہ ہوں۔ یہ نتیجہ Chic نے امریکی پالیسی سازی کے مطالعے سے اخذ کیا اور جیسا کہ امام خمینی نے فرمایا وہاں ہیومن بینگز کی غالب اکثریت ہے’’ہر امریکی شیطان بزرگ ہے ‘‘۔ Breeno Blaisکہتا ہے کہ یہ والدین اور سول سوسائٹی کا فرض ہے (ریاست کا فرض نہیں) کہ وہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ایسی توقعات اور ترجیحات اپنائیں جو سرمایہ دارانہ نظام زندگی پورا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے جو لوگ ایسی ترجیحات اور توقعات کا اظہار اور Unrealisable prefrencesکا اظہار کرتے ہیں مثلاً عیسائی راہب ان کو وہ پاگل قرار دیتا ہے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت جاہلیت خالصہ ہے۔ سرمایہ دار لبرل انفرادیت شیطنت کے علاوہ کچھ نہیں۔ لبرل معاشرہ تاریخ انسان کا گھناؤنا ترین معاشرہ ہے جو اپنے تعلیمی، معاشی اور ثقافتی نظام کے ذریعے ہوس، شہوت پرستی اور سفاکیت کی پیہم تعلیم دیتا ہے اور لبرل فلسفہ شہوت رانی اور سفاکیت کے پیہم فروغ کا مربوط جواز فراہم کرتا ہے۔

9۔ محمد علی جناح

جناح صاحب ایک راسخ العقیدہ مخلص مسلمان تھے۔ جیسے جیسے عمر گزرتی گئی آپ کا ایمان اور خلوص پختہ سے پختہ ہوتا چلا گیا۔ ۱۹۴۶ء میں آ پ نے ایک خطاب میں فرمایا:

میری اب واحد خواہش یہ ہے کہ میں خدا کے حضور پیش ہوں تو خداوند کہے: جناح تم پیدا مسلمان ہوئے، پوری زندگی مسلمان رہے اور موت بھی تمہیں مسلمانوں کی طرح آئی، تم نے کبھی مسلمانوں سے غداری نہ کی۔

لیکن آپ کی پوری سیاسی زندگی قوم پرستی کے فروغ کے لیے وقف تھی۔ آپ کی پوری تعلیم لبرل مغربی تھی اور مسلمانوں کی جن زبانوں سے واقف تھے وہ تھیں گجراتی اور کاٹھیاواری۔ ان زبانوں میں اسلامی ادب محدود ہے ۔ آپ نے بحیثیت وکیل اور وائسرائے کی کونسل کے ممبر ایسے مقدمات لیے جن کا تعلق مسلم پرسنل لاء سے تھا۔ اس سلسلے کے ذریعے سے مشہور کامیابی وائسرائے کی لجسلیٹو کونسل سے وقف بل کی منظور ی تھی جو جناح صاحب کی مساعی کا نتیجہ تھی۔ لیکن آپ نے اسلامی قوانین کا جو بھی مطالعہ کیا وہ انگریز مستشرقین کی کتب سے کیا اور آپ کو نصوصِ صحیحہ تک بالواسطہ رسائی حاصل نہ تھی۔ جناح صاحب کو قرآن مجید سے خاص لگاؤ تھا لیکن جو ترجمہ آپ کے زیر مطالعہ عموماً رہتا تھا وہ انگریزی زبان میں تھا۔مسلم سیاسی فکر اور قدیم علمائے سیاست امام ماوردی، امام ابویعلیٰ، امام ابن خلدون، شاہ ولی اللہ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہم اللہ اجمعین کے خیالات سے جناح واقف نہ تھے اور آپ کی تقریروں اور تحریروں میں ان کا بالکل ذکر نہیں ہے۔

آپ کی پوری سیاسی جدوجہد ایک لبرل دستوری وکیل کی جدوجہد تھی جس کا مقصد مسلمانوں کے معاشی، سیاسی، معاشرتی حقوق کا فروغ اور دفاع تھا۔ یہ وہی حقوق ہیں جو ایک لبرل دستور ایک سٹیزن کو دیتا ہے۔ جناح صاحب کا مطالبہ یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو لبرل دستوری حقوق مہیا کیے جائیں اور اس کے لیے اگر جمہوریت کی قربانی دینا پڑے تو دستوری تحفظات کے ذریعے ایسا کرنا مناسب ہے۔ جناح صاحب کی بنیادی وفاداری دستوری حقوق (ہیومن رائٹس) سے تھی جمہوری عمل سے نہ تھی۔ ان معنوں میں یہ لاک اور میڈیسن کے پیرو تھے۔ انہیں امریکا سے خاص لگاؤ تھا۔ اپنی ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کی تقریر کا خلاصہ انہوں نے اس تار سے پڑھ کر سنایا جو امریکی وزیر خارجہ نے ان کو دیا تھا۔ امریکی عوام سے کئی بار مسٹر جناح نے خطاب کیا۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی امریکا نواز پالیسی کی بنیاد جناح صاحب نے ۱۹۴۸ء میں رکھ دی تھی۔

جناح صاحب نے اپنی سیاست کا آغاز انگریزی حکومت کے قریبی معتمد ین دادا بھائی نورو جی اور گوکھلے کی شاگردی میں کیا۔ اسی وجہ سے وہ جلد وائسرائے کے معتمدین میں شامل ہو گئے اور انڈین لجسلیٹو کونسل میں بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ان کو رکن بنا لیا گیا۔ اس دور میں وہ انڈین نیشنل کانگریس میں بھی شامل ہو گئے اور ان دونوں پلیٹ فارموں سے ہندوستانی مسلمانوں کے لبرل حقوق کے تحفظ اور فروغ کی جدوجہد کرتے رہے۔ آپ ۱۹۱۲ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور کانگریس اور مسلم لیگ میں اشتراکِ عمل پیدا کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ انہی کی کوششوں کے نتیجے میں ۱۹۱۶ء کا مشہور لکھنؤ پیکٹ منظور کیا گیا جس کے ذریعے کانگریس نے مسلمانوں کے جداگانہ نمایندگی کے اصول اور مسلم لیگ کی نمایندگانی حیثیت کو مشروط طور پر قبول کیا۔

جناح صاحب تحریک خلافت کے خلاف تھے اور تحریک ریشمی رومال اور تحریک خلافت میں جناح صاحب، علامہ اقبال اور مسلم لیگ نے کوئی حصہ نہیں لیا۔ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ جناح صاحب کے لیے امت کا تصور اجنبی تھا۔ وہ مسلمانانِ ہند کو ایک جداگانہ قوم تصور کرتے تھے، ایک ایسی قوم جو برصغیر میں دستوری جدوجہد کے ذریعے سے لبرل حقوق وغیرہ کو مقدم رکھے اور بین الاقوامی تنازعات میں اپنے آپ کو نہ الجھائے۔ مسلم قومیت کا تصور سرسید نے واضح کیا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ بالکل اجنبی تصور تھا۔ اکبر نے ۱۸۹۴ء میں کہا تھا:

دیکھو! اے قوم کہتے ہیں جسے
چند لڑکے تھے مشن اسکول کے

سرسید جہاد ۱۸۵۷ء کا غدار اور انگریزی استعمار کا کارپرداز تھا۔ وہ انگریزی فکر اور تہذیب کو علم اور تہذیب کی معراج سمجھتا تھا اور اسلامی فکر اور تہذیب کی ایسی تعبیر نو مرتب کر رہا تھا جو انگریزی غلبہ کا جواز فراہم کرے۔ سرسید اس بات سے پریشان تھا کہ ہندوؤں نے اپنے آپ کو ایک قومی تشخص میں ڈھال کر دستوری لبرل حقوق حاصل کرلیے ہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ مسلمان بھی اسی راہ پر چلیں اور مسلم قوم ہندو قوم پر سبقت لے جائے۔جناح صاحب جس قوم پرستی کے قائل تھے اس کی بنیاد ثقافتی تھی مذہبی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا:

That we have changed faiths on ground for a demand for Pakistan.

ہمارا مطالبہ پاکستان اسی بنیاد پر ہے کہ ہم ہندو سے مسلمان ہو گئے ہیں۔

A muslim which converted...become(s) an outcast..(t)he Hindus cease to have anything to do with him...(the Muslim) has to live in (a) distance separate and antagonistic social codes.

جب ایک ہندو مسلمان ہو جاتا ہے تو یہاں کے ہندو کے لیے وہ اچھوت ہو جاتا ہے اور مسلمان کو ایک جداگانہ اور حریفانہ طرز زندگی اختیار کرنا پڑتا ہے۔

مسلمان ان معنوں میں ایک قوم ہیں کہ ہندو قوم نے ان کو اپنے معاشرتی نظام سے نکال دیا ہے۔یہی دو قومی نظریہ کی بنیاد ہے۔ ’’مسلم قوم‘‘ جس کا تصور سرسید نے ۱۸۸۸ء کو پیش کیا تھااور جسے جناح صاحب اور ڈاکٹر اقبال نے قبول کیا، اپنے قومی و ریاستی اقتدار کے لیے بالکل انہی خطوط پر جدوجہد کرتی ہے جیسے ہندوقوم، یہودی قوم، جرمن قوم اور بدھ قوم۔ وہ اپنے سرمایہ دارانہ مفادات اور لبرل دستوری حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہے۔ جناح صاحب نے ۱۹۳۴ء میں مسلم لیگ کے صدر بننے اور اس وقت سے لے کر قیام پاکستان تک مسلسل مسلم قوم کے تحفظات کی جدوجہد کرتے رہے۔ مسلم لیگ کا اختلاف جمعیت علمائے ہند، تحریک احرار اور جماعت اسلامی سے اسی بنیاد پر تھا کہ موخرالذکر جماعتیں مسلم قومیت کے تصور کو قبول نہیں کرتی تھیں۔ جمعیت علمائے ہند مسلمانوں کو ہندوستانی قوم کا حصہ سمجھتی تھی اور اس کی رائے میں تحریک استخلاص وطن ہندوستان میں غلبہ دین اسلام کی راہ ہموار کر سکتی تھی۔ تحریک احرار اور جماعت اسلامی مسلمانوں کو ’’حزب اللہ‘‘ تصور کرتی ہیں قوم نہیں۔ صوفیہ کرام نے بحیثیت مجموعی مسلم قومیت کا تصور قبول کر کے مسلم لیگ کا بالخصوص مسلم اکثریت کے صوبوں میں بھرپور ساتھ دیا۔خاک سار اور خدائی خدمت گار قوم پرست تحریکیں تھیں لیکن خدائی خدمت گار اشتراکی تھے اور خاک سار فاشسٹ تھے۔ مسلم لیگ ایک لبرل جماعت تھی لہٰذا ان دونوں سے اشتراکِ عمل ناممکن تھا۔ 

۱۹۳۷ء کی انتخابی شکست کے بعد جناح صاحب کو اس بات کا احساس ہوا کہ مسلم لیگ کو ایک عوامی جماعت بنانے کی شدید ضرورت ہے لہٰذا لبرل دستوری خطوط پر وسیع پیمانے پر مسلم لیگ کی از سرنو تنظیم سازی کی گئی۔ انگریز حکومت سے قرب کو کم کیا گیا اور پہلی مرتبہ ہندوستان کی مکمل خود مختاری کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ کانگریس سے اختلافات کو ہوا دی گئی اور کانگریس سے سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ وعدہ خلافی کرتے ہوئے اس نے اپنی صوبائی وزارتوں میں مسلم لیگ کو حصہ نہیں دیا۔ کانگریس کے خلاف ایک ثقافتی محاذ کھولا گیا اور اس کی صوبائی حکومتوں کی اسلام دشمنی اور ہندو ثقافتی مظاہر کے فروغ کو اجاگر کیا گیا۔ ۱۹۳۷ء کے بعد سے مسلم لیگ نے اپنے آپ کو مسلمانانِ ہند کی واحد نمایندہ جماعت کی حیثیت سے منوانے کو دیگر تمام مقاصد پر ترجیح دی اورجناح صاحب مسلمانان ہند کا واحد ترجمان ہونے کا دعویٰ کرنے لگے۔ ۱۹۳۷ء کے بعد سے مسلم لیگ مسلمانوں کی معاشی زبوں حالی کی نوحہ خواں بھی بن گئی اور اپنے اشتراکی سرمایہ دارانہ معاونین کے توسط سے اس نے ’’ترقی ہند اصلاحی پروگرام‘‘ وضع کرنے کا بیڑا اٹھایا لیکن جناح صاحب اشتراکی سرمایہ دارانہ فکر سے کبھی متاثر نہ ہوئے اور ان کا پورا زور ہمیشہ دستوری لبرل حقوق کے تحفظ اور فروغ پر ہی رہا۔

جناح صاحب خواتین کے سیاسی حقوق کے حامی اور پردہ کے مخالف تھے۔مسٹر جناح نے مسلمانوں کو بینک بنانے پر آمادہ کیا اور حبیب بینک اور آسٹرل ایشیا بینک مسٹر جناح کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔ جناح صاحب کی سرپرستی میں مسلم ایوان ہائے تجارت بھی قائم کیے گئے تھے۔ ۱۹۴۷ء تک مسلم لیگ ایک ملک گیر لبرل اور قوم پرست جماعت بن چکی تھی جس نے سات سال کے قلیل عرصے میں ایک نیا مسلم ملک بنا لیا۔
۱۹۳۷ء سے لے کر جناح صاحب کی وفات تک مسلم لیگ اسلام کا سہارا لیے رہی۔ تحریک پاکستان کے دوران شعائر اور مظاہر سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا اور دیوبندی اور بریلوی علماکرام ہی مسلم لیگ کے سب سے معزز نمایندے تھے لیکن اپنی چالیس سالہ سیاسی زندگی میں جناح صاحب نے علماکرام کو پالسی سازی میں کلیدی اہمیت نہ دی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ دیوبندی، بریلوی اور شیعہ علما جناح صاحب کے قریب تھے وہ خود اپنے آپ کو پالسی تنفیذات کا اہل نہ سمجھتے تھے اور مشاورت پر اکتفا کرتے تھے۔ علما پر مشتمل جو دستور ساز کمیٹیاں وقتاً فوقتاً مسلم لیگ بناتی رہی ان کی رپورٹیں ہمیشہ سردخانہ کی نذر ہوتی رہیں اور جناح صاحب ان رپورٹوں کا مطالعہ کرتے تھے نہ ان کی بنیاد پر کسی قسم کی پالیسی وضع کرتے تھے۔ جن علما کو جناح صاحب کا قرب حاصل تھا انہوں نے کبھی لبرل دستوریت پر کوئی اصولی اعتراض نہ کیا اور ان سب نے مسلم قوم پرستی کو قبول کرلیا۔ مسلم لیگ کی پالیسی سازی کے معاملے میں علما کی حالت یہ تھی کہ جب جناح صاحب نے اپنی کابینہ میں جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون مقرر کیا تو نہ مولاناشبیر احمد عثمانی نے اور نہ مولانا حمید بدایونی نے یہ اعتراض کیا کہ ایک ہندو وزیر قانون کے تحت ملک میں نفاذ شریعت کیسے ممکن ہو گی؟ اسی طرح جب ۸؍ اگست کے صدارتی خطبہ میں جناح صاحب نے کہا:

’’مذہب کا ریاست کے معاملات سے کچھ تعلق نہیں‘‘

تو مولانا شبیر احمد عثمانی دستور ساز اسمبلی میں خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے۔ اسی طرح کسی عالم نے ا لیسنگ کے کمانڈر اِن چیف بننے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کیا ایک غیر مسلم کی کمان میں جہاد ممکن ہے؟ کیا تعجب ہے کہ پاکستانی فوج جہاد کشمیر ۱۹۴۸ء میں حصہ نہ لے سکی۔

کانگریس کی طرح مسلم لیگ میں بھی علما ہمیشہ شوبوائے بنے رہے ہیں۔ جناح صاحب پاکستان کو ایک خودمختار دستوری جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں تمام لبرل حقوق ہر شہری کو فراہم کیے جائیں، ہر شہری برابر کا سٹیزن ہو اور پالیسی سازی کا مقصد معاشی ، سیاسی اور ارتقائی تھا۔ ۱۹۳۰ء میں ڈاکٹر اقبال نے جو مسلم ریاست کا تصور پیش کیا اس کے بارے میں ان کے بقول غیر مسلموں کو یہ خطرہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہاں کسی قسم کی مذہبی حکومت قائم ہو گی۔ نہ یہ ریاست کسی بیرونی مسلم حملہ آور فوج کی معاونت کرے گی۔ اسی خطبہ میں اقبال نے خلافت کے معاملے میں اتاترک کے فیصلوں کی بھرپور حمایت کی اور ان پابندیوں کی حمایت کی جو اتاترک نے علما پر نافذ کی تھیں۔

جناح صاحب کا تصورِ ریاست ان کے دستور سازاسمبلیوں کے دیے گئے پہلے صدارتی خطبہ سے واضح ہوتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا:

اس عظیم ریاست پاکستان کو خوش حال بنانے کے لیے ہماری توجہ صرف اور صرف لوگوں کی بہبود کو فروغ دینے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ تمہیں ماضی کو بھول کر اس بات کو فراموش کرنا ہو گا کہ تم کسی مذہبی گروہ سے تعلق رکھتے ہو۔اس بات پر یقین کرنا چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک اس ریاست کا پاسبان اور ہر سٹیزن مساوی حقوق کا حامل ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلم گروہ بندی اور ہندو گروہ بندی کے اختلافات معدوم ہو جائیں گے۔ تم اذان پر چاہے مسجد جاؤ چاہے مندر جاؤ۔ تمہارے مذہبی تشخص کا ریاستی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ تم اس بنیادی اصول پر کارفرما ہو کہ تمام سٹیزن اس ریاست میں مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ انگلستان میں بھی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کافرق مٹ چکا ہے۔ ہر شخص برطانیہ عظمیٰ کا سٹیزن ہے اور ہر سٹیزن کے حقوق مساوی ہیں۔ یہی ہمارا مقصد عالی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ ہندو ہندو رہے نہ مسلمان مسلمان رہے گا۔ ان معنوں میں نہیں کہ لوگوں کی مذہبی شناخت ختم ہو جائے گی۔ یہ تو ایک انفرادی عقیدہ کا معاملہ ہے ۔ مذہبی شناخت سیاسی حدود پر ختم ہو جائے گی کیوں کہ ہر فرد ریاست کا مساوی حقوق رکھنے والا سٹیزن ہو گا۔ میرا برتاؤ ہر شخص سے غیرجانب داری اور عدل پر مبنی ہو گا۔میرے خیال میں مذہبی جھگڑے سے زیادہ کوئی بڑی رکاوٹ ہندوستان کی آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ اگر یہ جھگڑے نہ ہوتے تو ہم بہت پہلے آزاد ہو چکے ہوتے۔

جناح صاحب عدل اور غیر جانب داری کے قیام کا وعدہ کر رہے ہیں لیکن کون سا عدل اور کیسی غیرجانب داری؟ سرمایہ دارانہ عدل اور سیکولر غیر جانب داری۔اسٹینلے والپول کہتا ہے کہ اس صدارتی خطبہ کے پیچھے جو اصل ماخذ ہے وہ لاک کا A Letter Concerning to Governmentہے۔ 

جناح صاحب اپنی پوری سیاسی زندگی کے دوران مسلمان قوم کو برطانوی دستوری روایات سے ماخوذ حقوق اور عادلانہ برتاؤ دلانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ انہوں نے ساری زندگی کبھی بھی لبرل تصورات آزادی، مساوات اور ترقی پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کسی غیرسرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کی کوئی کوشش نہ کی۔ کابینہ نے کسی عالم کو قریب تک نہ پھٹکنے دیا۔ منڈل کو وزیر قانون اور الیسنگ کو کمانڈر اِن چیف بنایا۔ جارج کمنگن کو صوبہ سرحد کی گورنری دینے کی پیش کش کی۔ جناح صاحب اپنے دور اقتدار میں ایک اسلامی حکمران نہ تھےلیکن تحریک پاکستان کے دوران اور بالخصوص ۴۸-۱۹۴۷ء میں بتدریج اسلام کے قریب ہوتے چلے گئے۔ قرآن مجید سے مستقل استفادہ کرتے رہے تھے اور تمام غیر اسلامی شعائر ترک کرنے کی بھرپور کوشش اپنی ذاتی زندگی میں کی۔ آپ کو اسلام کی حقانیت پر کامل ایمان تھا۔ کمال اتاترک کے برعکس آپ نے اسلام کو ملک کی ثقافت اور معاشرت سے نکالنے کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ حضرت امیر ملت پیر جماعت علی شاہ رحمہ اللہ کے ایک مکتوب کے جواب میں جناح صاحب نے ۱۹۴۳ء میں لکھا:

آپ نے مجھے قرآن مجید کا ایک نسخہ مرحمت فرمایا ہے کیوں کہ میں مسلمانوں کا رہنما ہوں۔ بلاشبہ قرآن سے علم حاصل کیے بغیر مسلمانوں کی قیادت ناممکن ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں مستقلاً قرآن کا مطالعہ کرتا رہوں گا اور علما سے ہدایت حاصل کرتا رہوں گا۔

آپ نے مجھے جائے نماز تحفہ میں دی تاکہ میں عبادت کرنا سیکھ جاؤں۔ اگر میں اللہ کا مطیع نہ بنوں تو مسلمانوں سے یہ کیسے توقع رکھ سکتا ہوں کہ وہ میری پیروی کریں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ باقاعدگی سے نماز پڑھا کروں گا۔آپ نے مجھے ایک تسبیح بھیجی ہے ، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کا ورد کیا کروں گا۔

آپ نے قیام پاکستان سے لے کر اپنی موت تک یہ تمام وعدے نبھائے اور ۱۹۴۸ء میں برملا پاکستان میں نفاذ شریعت کے حق میں بیان دیالیکن جناح صاحب دین کا لبرل جمہوری تصور رکھتے تھے۔ تحریک پاکستان کے دوران آپ نے تقاریر میں اس بات پر زور دیا کہ جمہوری دستوریت اسلامی نظام سیاسی کی اساس ہے۔ بلاشبہ جناح صاحب ایک مسلم لبرل تھے اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ لبرل ازم کی جو اسلامی تشریح سرسید، سید امیر علی، اشتیاق حسین قریشی وغیرہ نے مرتب کی ہے وہی اسلامی سیاسی نظام کی صحیح عکاسی کرتی ہے۔ خلافت ایک جمہوری نظام ہے۔ میثاق مدینہ دنیا کا پہلا دستور ہے۔ اقلیتوں کے مساوی شہری حقوق کا تصور خالص اسلامی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں تواتر کے ساتھ جناح صاحب دس سال تک دہراتے رہے ۔

اپنی چودہ اگست کی دستور ساز اسمبلی کی تقریر میں جناح صاحب نے مغل بادشاہ اکبر کو سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیرو کہا حالانکہ اکبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید نفرت کرتا تھا کیوں کہ ناصبی تھا اور اس نے بچوں کا نام محمد رکھنے پر پابندی عائد کردی تھی۔جناح صاحب ایک مذہبی ریاست کے قیام کے مخالف تھے۔ حکومت میں علما کی مداخلت کے خلاف تھے اور دستور ساز اسمبلی اور کابینہ میں علما کی شمولیت کو ضروری نہ سمجھتے تھے۔ فروری ۱۹۴۸ء میں امریکی شہریوں سے ایک ریڈیائی خطاب میں جناح صاحب نے کہا:

پاکستان کسی حال میں بھی ایک مذہبی ریاست جہاں کسی مذہبی مقصد کے لیے حکومت کی جاتی ہے، ہرگز نہیں ہو گا ۔ تمام غیر مسلم ہندو، عیسائی، پارسی سب پاکستانی ہیں۔ تمام پاکستانیوں مسلم اور غیرمسلم کو مساوی سٹیزن کے حقوق دیے گئے ہیں۔

ایک نہایت ذہین، مخلص اور راسخ العقیدہ مسلمان سیاست دان لبرل ازم کو اسلامی تعلیمات کی صحیح تشریح کیسے تسلیم کرنے لگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرسید کا لایا ہوا فکری انقلاب برصغیر میں کامیاب ہو گیا اور ہماری علمی اور سیاسی اشرافیہ سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبول کرکے سرمایہ دارانہ نظریات (لبرل ازم، قوم پرستی، اشتراکیت، سوشل ڈیموکریسی) کی اسلامی تشریحات مرتب کرنے لگی۔ علما نے دیوبند اور بریلی میں تحفظ دین کا کام بخوبی انجام دیا اور سرسید نے اسلامی اعتقاداتی منہج کی جو کوشش کی تھی وہ قطعاً ناکام ثابت ہوئی لیکن ۱۸۵۷ء کی بعد کی تحاریک جہاد سے پہلو تہی کے نتیجہ میں غلبہ دین کی جدوجہد عملاً معطل ہو گئی اور علما، صوفیہ، سیاسی اور فکری اشرافیہ اور عوام سب نے انگریز استعمار سے مشروط معاونت کی راہ اختیار کی۔ حضرت شیخ الہند کی مالٹا سے واپسی اور جمعیت علمائے ہند کے قیام کے وقت سے آج تک ہندوستان اور پاکستان کے مسلمان اسی راہ پر گام زن ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو جاہلیت خالصہ نہیں سمجھتے۔ سرمایہ دارانہ عقائد (آزادی، مساوات اور ترقی) کی اسلامی تشریحات پیش کیں اور سرمایہ دارانہ نظریات (لبرل ازم، اشتراکیت، سوشل ڈیموکریسی، قوم پرستی) میں اسلامی پیوندکاری کا عمل ہر سطح پر جاری ہے۔

جناح صاحب کی سیاسی جدوجہد لبرل قوم پرستی میں اسلامی پیوندکاری کی مہم کا ایک مرحلہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ جناح صاحب کے اخلاص اور للہیت کا بھرپور صلہ دے، ان کی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور جنت میں ان کے درجات بلند فرمائے۔

سرمایہ داری کے اشتراکی نقیب

10۔ کارل مارکس

سرمایہ داری کا تصور کارل مارکس کی ایجاد ہے اوروہ ہمیشہ اپنے آپ کو سرمایہ داری کا حریف سمجھتا رہا ۔ میں کارل مارکس کو ایک سرمایہ دار سمجھتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی عقائد (آزادی، مساوات اور ترقی) پر کامل ایمان رکھتا ہے اور ہر وہ شخص جو اِن عقائد پر ایمان لائے وہ ایک سرمایہ دار ہے۔

آزادی، مساوات اور ترقی وہ اہداف ہیں جن کے عمومی حصول کے لیے مارکس نے اپنی طالب علمی کے دور سے لے کر اپنی موت تک (پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ) مستقل فکری اور سیاسی جدوجہد کی اور اسی طویل جدوجہد کے دوران جلاوطنی کی صعوبتیں نہایت استقلال اور ثابت قدمی سے برداشت کیں۔ مارکس ان معنوں میں ایک مخلص ترین سرمایہ دار تھا کہ انسانیت کی آزادی، مساوات اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے اس نے اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔

آزادی، مساوات اور ترقی پر مارکس کے ایمان کی تفصیل بیان کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس نے ’’خیالی جنت‘‘ کی تصویر اپنی متعدد تصنیفات میں مرتب کی ہے، اس کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے۔

10.1۔ مارکس کی دنیا وی جنت کی خصوصیات 

۱۔ اس خیالی جنت میں تقسیم کار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہر فرد وہ کر سکنے کے قابل ہو گا جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ 

۲۔ ہر فرد کی بنیادی ضرورت یہ ہو گی کہ وہ دوسروں کے لیے اور دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔

۳۔ انفرادی ملکیت مستقلاً ختم ہو جائے گی۔ ہر فرد کو ہر شے کے استعمال کا مساوی حق ہو گا۔

۴۔ انسانیت تمام کائناتی قوتوں کو مسخر کر کے قوانینِ فطرت پر اپنا ارادہ مسلط کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

۵۔ تمام قسم کی ادارتی تنظیم ختم ہو جائے گی۔ نہ خاندان باقی رہے گا نہ مارکیٹ نہ قوم نہ ریاست ۔قانون بھی ختم ہو جائے گا۔ نہ کسی کو کسی بات پر سزا دی جائے گی نہ کسی کو کسی چیز پر مجبور کیاجائے گا۔

اس کمیونسٹ معاشرے میں انفرادیت منتشر نہ ہو گی اور بدنی اور ذہنی محنت میں فرق ختم ہو جائے گا۔ ہر شخص پیداواری عمل، سائنٹفک تحقیق اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرے گا۔ ہر شخص میں سائنس دان، کاری گر، شکاری، کاشت کار اور بھانڈ بننے کی یکساں صلاحیت ہو گی اور جب چاہے گا بہترین سائنسی تحقیق کرے گا اور جب چاہے گا ایک ماہر بھانڈ کی طرح ناچے گا۔

ہر فرد کو یہ احساس ہو گاکہ وہ ہیومنٹی کا محض ایک آلہ کار ہے۔ ہیومنٹی کے اس آلہ کار کو مارکس ’’اسپیشی بینگ‘‘ کہتا ہے۔ اسپیشی بینگ کسی فرض کی ادائیگی کا قائل نہیں۔ کمیونسٹ سوسائٹی میں فرض اور حقوق دونوں معدوم ہو جائیں گے۔ وہ اپنی نوع کو خوش کر کے ہی اپنی خوشی حاصل کرتا ہے کیوں کہ ہیومنٹی یعنی شیطنت اس میں حلول کر جائے گی۔ انفرادی ذات نوعی ذات میں گم ہو جائے گی۔ انفرادی اختلافات اور تنازعات مطلقاً ختم ہو جائیں گے کیوں کہ اشیا اور خدمتوں کی کم یابی بالکل ختم ہو جائے گی۔ ہر شخص ہر وہ شے اور خدمت حاصل کر سکے گا جو وہ حاصل کرنا چاہے گا۔ کسی دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اپنے آپ کو محروم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔

کم یابی پر فتح ہیومنٹی کی تمام قدرتی قوتوں پر فتح کا دوسرا نام ہے۔ کمیونسٹ سوسائٹی میں ہیومن خدا بن جاتا ہے۔ وہ کائنات پر غالب آ جاتا ہے۔ وہ سائنس پر حاوی ہو کر جو چاہے وہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ مارکس کے الفاظ میں ’’آدمی کمیونسٹ سوسائٹی میں خدا بن جاتا ہے اور وہ کائنات کی از سرِ نو تخلیق کرتاہے‘‘۔ لیبر اسی ہیومن کی خالقیت کے اظہار کے ذریعے کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ اسی نوعیت کی لیبر کے ذریعے آزادی حاصل کی جاتی ہے کیوں کہ آزادی ہیومن کی تخلیقیت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔جو شخص ہیومنٹی کو خالق کائنات بنانے کا متمنی ہو وہ لازماً مذہب کا شدید ترین دشمن ثابت ہوتا ہے۔اسی دور میں اللہ کا سب سے بڑا دشمن اور یہودیت کا پکا مخالف نطشے بھی تھا۔ مارکس کے مطابق کمیونسٹ سوسائٹی سوشلسٹ سوسائٹی سے برآمد ہوتی ہے۔ مارکس سوشل ازم کو ’’مزدوروں کی آمریت‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ سوشلسٹ نظام کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

مارکس کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ’’سرمایے کو بورژوا حلقے سے چھیننا اور ریاست کے ہاتھوں میں مرتکز کرنا اور معاشرتی پیداواری سکت کو زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلد ترقی دینا ہے“۔سوشلسٹ دور میں تقسیم آمدنی میں نامساویت ختم نہیں ہوتی۔ اس دور میں ریاستی قوت پر پرولتاریہ اور کسانوں کی اجارہ داری ہو گی اور بے دخل کیے ہوئے بورژواؤں اور جاگیرداروں کے جمہوری حقوق تسلیم نہیں کیے جائیں گے۔ سوشلسٹ ریاست میں انتخابی عمل جاری رہے گا اور اس کے نتیجے میں لوگ جب چاہیں گے اپنے نمایندگان کو تبدیل کرتے رہیں گے۔ ایسی ریاست ہر فرد کے دفاع کی ذمہ داری قبول کرے گی اور فوجی نظام ختم کر دیا جائے گا۔ 

سوشلسٹ ریاست قائم ہوتے ہی اوقاتِ کار دس گھنٹے سے کم کر کے پانچ گھنٹے کر دیے جائیں گے لیکن اس کے باوجود دولت کی پیداوار میں ہوش ربا اضافہ ہو گا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مارکس کو توقع تھی کہ سوشلسٹ انقلاب ترقی یافتہ ترین ممالک میں رونما ہو گا جہاں صنعتی ترقی کا عمل مدت سے جاری ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سوشلسٹ ریاست منصوبہ بندی کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل کو مہمیز دے گی اور ریاستی منصوبہ بندی نجی سرمایہ کاری کے مقابلے میں سرمایے کی بڑھوتری کو فروغ دینے کے لیے کہیں زیادہ موثر ثابت ہو گی۔ ریاستی منصوبہ بندی سرمایہ دارانہ عقلیت کا اعلیٰ ترین اظہار ہے اور وہ ان تمام غلطیوں اور ناہم واریوں کو رفع کرنے کا موثر ذریعہ بنے گی جو مارکیٹ کا غیرمتوازن عمل تقسیم وسائل جنم دیتا ہے۔ 
پیداوار اور سرمایے کی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ ہیومن خواہشات میں بھی اضافہ ہو گا لیکن پیداوار میں اضافہ خواہشات میں اضافہ سے کہیں زیادہ تیز ہو گا۔ اجرتوں اور معیار زندگی کے تیزی سے مستقل اضافے کے ذریعے مزدور کو اس کی کی گئی محنت کے مطابق اشیا اور خدمت ’’مشترکہ سوشل فنڈ‘‘ سے فراہم کی جائیں گی۔ یہ مشترکہ سوشل فنڈ مارکیٹ کا متبادل ہو گا۔ خرید و فروخت کا عمل بتدریج معطل کر دیا جائے گا اور معیشت میں زر کا کردار بھی بتدریج کم کیا جائے گا۔ لیکن سوشلسٹ ریاست فائنانس کو منظم کرے گی اور ریاستی اور انفرادی سود موجود رہیں گے۔

مارکس کے مطابق سوشلسٹ دور میں دولت اتنی زیادہ ہو گی کہ ہر فرد اپنی خواہش بغیر کسی دوسرے کو محروم کیے پوری کرے گا اور دولت میں اضافہ کی رفتار خواہشات میں اضافہ کی رفتار سے بہت تیز ہو گی اور کمیونسٹ سوسائٹی میں سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی چلی جائے گی۔دولت کی فراوانی کے نتیجے میں فرد ’’سپی شی بینگ‘‘ بن جائے گا۔ فرد پورے یقین کے ساتھ اپنے آپ کو انسانیت میں محو کر دے گا اور اس کی ذاتی اغراض کا حصول اجتماعی نوعی خواہشات کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا۔ ہر فرد محض ہیومن ہو گا۔ اس کی وابستگی نہ کسی مذہب سے ہو گی نہ کسی خاندان سے نہ کسی قوم سے نہ کسی طبقہ سے۔ ان حالات میں طبقاتی آمریت یعنی پرولتاری آمریت کی ضرورت نہ رہے گی اور ریاستی نظام خود بخود دھیرے دھیرے تحلیل ہوتا چلا جائے گا۔ اسی نظریہ کو "Withering away of the state" کہتے ہیں۔ کمیونسٹ سوسائٹی میں ہر فرد اپنے نفس کا بندہ بن جائے گا۔

10.2۔ لبرل اور اشتراکی سرمایہ داری کا موازنہ

اشتراکیت اور لبرل ازم کی مابعدالطبیعیاتی بنیادیں اور ان کے عقائد مشترک ہیں۔ یہ دونوں نظریات تحریک تنویر کی صحیح تعبیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دورِ حاضر کے ایک مشہور فلسفی چارلس ٹیلر نے دعویٰ کیا ہے کہ مارکس ایک انفرادیت پسند مفکر تھا۔ اسی لیے جب وہ کمیونسٹ سوسائٹی کی تصویر کشی کرتا ہے تو وہ اس خیالی جنت کی ادارتی صف بندی پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس کی پوری توجہ کمیونسٹ انفرادیت کی خصوصیات بیان کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ لبرل ازم اور اشتراکیت دونوں انسان کو شیطان بنانے کی مہمات ہیں۔ یہ دونوں نظریات انسان کوخدا سے بغاوت پر آمادہ کر کے اپنی انفرادی یا نوعی خدائی کا دعویٰ کرنے پر اکساتی ہیں۔لبرل ازم اور اشتراکیت کا یہ مشترکہ دعویٰ ہے کہ ہر فرد کی جبلت اس کو خدا یعنی اپنے نفس کا بندہ بننے پر آمادہ کرتی ہے۔ لبرلوں اور اشتراکیوں میں نزاع اس بنا پر نہیں کہ انسان کو خدا بننا چاہیے یا نہیں۔ دونوں انسان کو ایک صنم بنانے کی ضرورت پر متفق ہیں۔ اختلاف اس بات پر ہے کہ فرد کو خدا کیسے بنایا جائے۔ پرولتاری آمریت کے زیر اثر مارکیٹ کے ذریعے یا سرمایہ دارانہ ریاست کی مارکیٹ کے ذریعے۔

مارکس کی فکر کے دو مآخذ ہیں، ایک ہیگل اور دوسرے ریکارڈو کے نظریات۔ ہیگل کے مطابق مجرد عقلیت اپنا اظہار تاریخ اور فطرت میں ایسے فرد کے اعمال کے ذریعے کرتی ہے جو دنیا کو عقلیت محض کی تخلیق کے طور پر پہچانتا ہے۔ ایسا فرد سپرٹ کا آلہ کار ہے اور سپرٹ خدا ہے۔ خدا کا نام ہیگل نے Geistرکھا ہے۔ لہٰذا ریشنل انفرادی ارادہ خدا ہے۔ خدا ہر ریشنل فرد کے ارادہ میں حلول کر گیا ہے اور تاریخی عمل کے تواتر سے فرد اپنی حقیقت سے واقف ہوتا جاتا ہے۔ تاریخ ریشنل فرد کی تخلیقیت اور ربوبیت کے مسلسل فروغ کا اظہار ہے۔ اسی چیز کو ہیگل آزادی کہتا ہے۔ فرد کا ارادہ یہ یقین ہے کہ وہ حق اور کائنات کا خالق اور ربّ ہے۔ انفرادی ارادہ ایسے قوانین اور ادارے تعمیر کرتا ہے جو عقلیت مجرد کی تجسیم نو ہیں۔ یہ قوانین اور ادارے اخلاقی حیات کو ممکن بناتے ہیں اور ان اداروں اور قوانین کی کارفرمائی اس یقین کو تقویت بخشتی ہے کہ فرد آزاد یعنی خدا ہے۔ مجرد عقلیت آفاقی ارادے کو مخصوص ارادوں میں مجسم کر کے اپنی خود شناسی کی جدوجہد مسلسل کرتی رہتی ہے۔ یہ جدوجہد جدلیاتی ہوتی ہے اور فرد کا ہر مخصوص اظہارِ تخلیقیت اور ربوبیت نامکمل اور ناحق ہوتا ہے۔ اسی یقین کو رفع کرنے کے لیے مجرد عقلیت ایک نیا مخصوص اظہار تعمیر کرتی ہے جو پچھلے نقائص کو واضح کرتا ہے لیکن اس فردکے اس نئے اظہارِ تخلیقیت و ربوبیت میں پھر کچھ نقائص رہ جاتے ہیں لہٰذا عقلیت مجرد کی تگ و دو جاری رہتی ہے۔ اس نظریہ کو جدلیاتی آئیڈیل ازم کہتے ہیں اور مارکس نے اپنا تصور تاریخ ’’جدلیاتی مادیت‘‘ اسی منہج پر مرتب کیا۔ 

ہیگل کے مطابق تخلیقیت اور ربوبیت کے احساس کے فروغ کا یہ عمل فرد کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ربوبیت اور تخلیقیت کے مکمل اظہار کے لیے ضروری ہے کہ ایک معاشرہ بنایا جائے جس میں مخصوص ارادے آفاقی ارادے میں اس طرح ضم ہو جاتے ہیں کہ آفاقی ارادے کی قانونی اور ادارتی تجسیم انفرادی مخصوص ارادوں کی ربوبیت اور تخلیقیت کا اظہار ممکن بنا دیتی ہے۔ یہ قوانین اور ارادہ فرد کو حقوق فراہم کرتے ہیں۔ جن حقوق کی ہیگل تصدیق کرتا ہے وہ ہیں حقِ املاک، حقِ آزادئ رائے اور حقِ تصرف۔ یہ سب کلاسیکی لبرل حقوق ہیں اور اسی وجہ سے ہیگل کے بہت سے شاگردوں نے اسے ایک لبرل مفکر کہا ہے۔

افراد کو ان حقوق کی فراہمی کے بغیر مخصوص ارادوں کو ارادۂ آفاقی کے اظہارِ ربوبیت اور تخلیقیت کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا لیکن ہیگل کے ان انفرادی حقوق کی فراہمی مخصوص ارادوں اور ارادۂ آفاقی میں ضم ہو جانے کےلیے کافی نہیں۔ مخصوص ارادوں کا فطری دائرہ مارکیٹ ہے اور ہیگل صراحت سے مارکیٹ کو سول سوسائٹی کہتا ہے۔ وہ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ مارکیٹ میں کنٹریکٹ کے ذریعے ارادۂ آفاقی تعمیر نہیں ہوتا کیوں کہ مارکیٹ کنٹریکٹ کے ذریعے تو محض ایک مخصوص ارادے یعنی فرد کو دوسرے فرد کے مخصوص ارادوں اور خواہشات کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ کوئی نیا اجتماعی ارادہ وجود میں نہیں آتا۔
ہیگل کے مطابق فرد محض اپنے ارادہ اور خواہشات کی اتباع کر کے حقیقتاً آزاد نہیں ہوتا۔فرد کو حقیقی آزادی اس وقت میسر آتی ہے جب وہ اپنے مخصوص ارادہ کو خیر مطلق سے منطبق کرے۔ جو انفرادی ارادہ خیرمطلق کا مظہر ہو ہیگل اسے "Moral Will"کہتا ہے۔ یہ خیر مطلق تمام افراد کو ویلفیئر دینے کےلیے صرف انفرادی حقوق فراہم نہیں کرتی بلکہ وہ تمام حقوق جن کی تصدیق سوشل ڈیموکریٹ کرتے ہیں۔ ہیگل کو اس کا بھی احساس تھا کہ انفرادی اور ویلفیئر حقوق کی فراہمی ایک دوسرے کی تحدید کرتے ہیں۔ 
ویلفیئر رائٹس کی فراہمی کی ضرورت کو قبول کر کے ارادۂ انفرادی معاشرتی ارادے سے منطبق ہو جاتا ہے۔ فرد حقیقی طور پر آزاد اسی وقت ہوتا ہے جب وہ پہچان لے کہ اپنے ذاتی اغراض کے حصول کی جدوجہد کو اجتماعی اغراض کے حصول کی جدوجہد کا لازماً لاحقہ ہونا چاہیے۔

ویلفیئر حقوق صرف ریاست فراہم کر سکتی ہے اور ریاست کا قیام اور معاشرتی غلبہ مخصوص ارادوں کے ارادۂ آفاقی سے منطبق ہونے کےلیے لازم ہے۔ ریاستی زندگی، اخلاقی زندگی کا اعلیٰ و ارفع ترین مظہر ہے اور ریاستی زندگی میں ہی فرد کو حقیقی آزادی میسر آتی ہے۔ ہیگل جرمن ڈکٹیٹر بسمارک کی ریاست کو ایک بہتر نظام سمجھتا تھا جو بتدریج ہیومن اور ویلفیئر رائٹس کی فراہمی میں اضافے کر رہی تھی۔ وہ امریکی ریاست کا بھی مداح تھا اور برملا کہتا تھا کہ ایک مثالی ریاست کے قیام کی توقع سب سے زیادہ اسی امریکی ریاست سے کی جا سکتی ہے جو ہیگل کے دور میں لاکھوں سرخ ہندیوں کو مسلسل قتل کرتے چلی جا رہی تھی۔

مارکس کے مطابق انسان کامل ہوتا ہے۔ یہ تصور لبرل تصورِ انفرادیت سے متصادم نہیں۔ لبرل ازم بھی فرد کو تخلیقیت اور ربوبیت کا مظہر سمجھتی ہے لیکن اس ربوبیت اور تخلیقیت کے اظہار کےلیے فرد کے کسی اجتماعیت میں ضم ہونے کی قائل ہے اور ارادۂ عمومی کو ارادۂ انفرادی کا مطیع قرار دیتی ہے، اس کا ادغام قرار نہیں دیتی۔ اشتراکیت اور قوم پرستی کے علی الرغم لبرل ازم کسی ایسی جدوجہد کی ضرورت کو تسلیم نہیں کرتی جس سے انفرادیت اجتماعیت میں ضم ہو جائے۔لیکن لبرل ازم، اشتراکت اور قوم پرستی تینوں نظریات کی بنیادی قدر آزادی ہی ہے اور اس اعتقادی یک سانیت کی بنیاد پر ہم ان تینوں کو سرمایہ دارانہ نظریات کہتے ہیں۔ 

آزادی وہ اساس ہے جس کی بنیاد پر مارکس نے تصوراتِ فطرت اور تاریخ کو مرتب کیا ۔ آزادی، مساوات اور ترقی لبرل ازم اور اشتراکیت کی مطلق و مشترک اقدار ہیں۔ یہ دونوں نظریات تحریک تنویر کی تشریحات ہیں۔ فرق اس امر میں ہے کہ آزادی، مساوات اور ترقی حاصل کیسے کی جائے۔ لبرل مفکرین کی رائے میں کانٹ کا تصورفنامنل سیلف (نفسِ امارہ) اور نامنل سیلف (نفسِ لوامہ)ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ اور نفس لوامہ ، نفس امارہ کے صحیح کرنے سے ہی ٹھیک کیا جا سکتا ہے اور جمہوریت وہ عمل ہے جس کے ذریعے نفسِ لوامہ کی تطہیر عمل میں آتی ہے۔

لبرل ریاست کا فرض ہے کہ نفسِ لوامہ کی اس جمہوری تطہیر کے ذریعے فرد کو زیادہ سے زیادہ اختیارات فراہم کرے۔ اس کے برعکس اشتراکی مفکرین نفسِ لوامہ کی تطہیر ایک ایسے تاریخی عمل کا نتیجہ سمجھتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک متمول معاشرہ قائم ہو، جہاں وسائل کی فراوانی ہر فرد کے مکمل تسخیر کائنات کو ممکن بنا کر اس کی ربوبیت اور تخلیقیت کو عملی جامہ پہنا دے۔لبرل سرمایہ داری پر مارکس کی تنقید کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ اس نظام میں ترقی محدود ہو جاتی ہے اور عام آدمی آزادی حاصل نہیں کر سکتا۔ معاشرتی و معاشی ناہم واریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور حقوقِ انسانی کی عمومی فراہمی کا دعویٰ ایک دھوکا ثابت ہوتا ہے۔ لبرل معاشرتی اور ریاستی صف بندی کا انہدام فروغِ آزادی اور سرمایے کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہے۔

10.3۔ لبرل سرمایہ داری کی مارکسی تنقید

برٹرینڈ رسل اپنی مشہور کتاب "History of Western Philosophy" میں مارکس کو مغرب کا آخری نظاماتی مفکر کہتا ہے اور میری رائے میں یہ رائے درست ہے کیوں کہ مارکس کے بعد کسی مغربی مفکر نے سرمایہ داری کو بحیثیت ایک نظام زندگی بیان کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور اشتراکیت وہ آخری نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی ترتیبِ نو کا تصور پیش کرتا ہے۔ اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی ترتیبِ نو کی متقاضی ہے، سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تسخیر کی متقاضی نہیں ہے۔

مارکس لبرل سرمایہ داری کا باغی اور ایک جرأت مند انقلابی تھا۔ وہ پوری زندگی لبرل سرمایہ داری کے خلاف لڑتا رہا۔ وہ پرولتاریہ کے حقوق اور اقتدار کے فروغ کے لیے ساری زندگی جدوجہد کرتاہے۔ اس نے اپنی انقلابی جدوجہد ۲۲ سال کی عمر سے شروع کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود کبھی بھی کی کیرئیر سازی پر توجہ نہ دی۔ وہ ایک بے باک اور نڈر صحافی تھا اور جن پرچوں کی وہ ادارت کرتا تھا وہ تواتر کے ساتھ بین قرار دیے جاتے رہے۔ ۱۸۴۲ء سے ۱۸۴۹ء تک ایک سرگرم سیاسی کارکن کی حیثیت سے فرانس اور جرمنی کی کمیونسٹ انقلابی تحریک میں حصہ لیتا رہا۔ ۱۸۴۷ء میں اینگلز کے ساتھ اپنا مشہور کتابچہ ’’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ لکھا جو پچھلے دو سو سال سے سرمایہ دارانہ انقلابی سیاست کا سنگ میل بنا ہوا ہے۔ انقلابیت کی بنیاد اس کا فطری جذبۂ نفرت اور انتقام تھا جو انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ ۱۸۴۳ء میں مشہور انارکسٹ مفکر Bukharinنے مارکس کے کردار کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی ہے:

موسیو مارکس حد سے زیادہ نروس، فتنہ جو، مغرور اور حاسد شخصیت کا مالک ہے۔ کوئی ایسا جھوٹ یا بہتان نہیں جو وہ ان لوگوں کے خلاف بولنے سے رہ جائے جنہوں نے مارکس کے نظریات کی مخالفت کر کے مارکس کے جذبۂ نفرت اور انتقام کو اکسایا ہے۔ مخالفین کے خلاف سازش کرنا مارکس کی فطرت ثانیہ ہے۔ لیکن مارکس نہایت ذہین ہے اور اس کے مطالعہ کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ادق مباحث کا فہم حاصل کرنے کی صلاحیت لاجواب ہے۔

جب سے مارکس کو احساس ہوا کہ اشتراکی انقلاب مزدور جدوجہد کے بغیر رونما نہیں ہو سکتا تب سے اس نے اپنی ساری زندگی پرولتاریوں کو اسی جدوجہد کے لیے تیار اور منظم کرنے کےلیے وقف کر دی۔ ۱۸۴۰ء کی دہائی کی ابتدا میں اس نے کمیونسٹ لیگ قائم کی جو فرانس، جرمن، انگلستان اور بلجیم میں پھیلی۔ مارکس کی سب سے اہم کتاب "Das Kapital"کا بنیادی مقصد اشتراکیت کو ایک سائنس بنا دینا ہے۔ اس کتاب میں مارکس نے کوشش کی ہے کہ ان قوانین کی نشان دہی کی جائے جن کی کارفرمائی کے نتیجے میں لبرل سرمایہ دارانہ مارکیٹ، لبرل سرمایہ دارانہ ریاست اور معاشرت کے توسع سے اشیا کی تخلیق کے ذریعے سرمایے کی بڑھوتری اور ارتکاز کو مستقل بنایا جائے۔ اس کتاب میں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی ان داخلی کمزوریوں کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی گئی جن کے اسباب لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام اور سرمایہ دارانہ نظام کی اشتراکی ترتیب نو کے امکانات پیدا ہو جائیں۔ لیکن یہ کتاب اس حکمت عملی کی احاطہ بندی نہیں کرتی جس کو اپنا کر پرولتاریہ اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ 

مارکس لبرل سرمایہ داری کی ایک مادی تنقید پیش کرتا ہے۔ قدیم مادہ پرستوں کے خلاف مارکس خارجی حقائق کو قبول کرنے کا قائل نہیں جنہیں قبول کرنے پر انسان مجبور ہے۔ خارجی اشیا کی معنویت ان کے انسانی استحصال ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا قدیم مادہ پرستوں کے برخلاف مارکس حقیقت کی تعمیر میں ارادۂ انسانی کی شمولیت کا قائل ہے۔ یہ نظریہ سرمایہ دارانہ انقلاب میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔

تاریخی مادیت فرد اور قدرت کے مسلسل اشتراک کو فکری اور سماجی تعمیر کا باعث بتاتی ہے۔مارکس کے مطابق تاریخ کو رواں رکھنے والی قوت طبقہ ہے۔ اس کے خیال میں اس نے یہ بات سائنسی طو رپر ثابت کر دی ہے اور اس کا نظریہ ڈارون کے نظریہ ارتقا کی معاشرتی تشریح ہے۔ مارکس نے بار بار یہ بات دہرائی ہے کہ وہ پرولتاری طبقے کی حمایت اخلاقی بنیادوں پر نہیں کرتا بلکہ اس لیے کرتا ہے کہ اس نے سائنسی تحقیق کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ پرولتاری طبقہ ہی تاریخی ارتقا یعنی پراگرس کا محرک ہو سکتا ہے۔ پراگرس سے مارکس کی مراد زیادہ سے زیادہ پیداوار یعنی سرمایے کی بڑھوتری کے علاوہ کچھ نہیں۔ وہ اس پراگرس کو فطری آفاقی قانون قرار دیتا ہے۔

پراگرس کا بنیادی محرک طبقاتی کش مکش ہے اور طبقاتی کش مکش کا تصور مارکس نے ریکارڈو کی پیش کردہ ’’لیبر تھیوری آف ویلیو‘‘سے اخذ کیا ہے۔ ریکارڈو کی طرح مارکس کسی شے کی قدر خالصتاً اس میں شامل محنت سے تعبیر کرتا ہے۔ اگر ایک میز بنانے کے لیے ایک مزدور دس گھنٹے صرف کرے اور ایک کرسی بنانے کے لیے وہ پانچ گھنٹے صرف کرے تو ایک میز کی قدر دو کرسیوں کے برابر ہے ۔ اگر اس مفروضہ کو قبول کر لیا جائے تو مارکس کے خیال میں قدر کا واحد حق دار مزدور ہے۔ مالک کو اس قدر سے کوئی حصہ نہیں ملنا چاہیے۔ 

اس مفروضے کی بنیاد پر مارکس اپنا تصورِ ظلم مرتب کرتاہے۔ مارکس کے مطابق ظلم یہ ہے کہ مزدور کو اس شے کی قدر کی مکمل تحویل سے محروم کر دیا جائے۔ یہ ظلم سرمایہ دارانہ نظمِ پیداوار و تقسیم کا لازمی جزو ہے۔ سرمایہ دارانہ اصولوں کی پابندی سے یہ ظلم پیدا ہوتا ہے نہ کہ ان کی پامالی سے۔ مارکس کے نظریہ ظلم کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:

۱۔ ہر مزدور کے اندر محنت کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

۲۔ یہ صلاحیت لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں ایک شے ہے۔

۳۔ ہر دوسری شے کی طرح لیبر پاور کی قدر اس کی پیداوار میں شامل محنت کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔
۴۔ لیبر پاور کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کے لیے ایک خاص مقدار میں اشیائے خور و نوش اور خدمات کی ضرورت ہوتی ہے۔

۵۔ انہی اشیا کی قدر لیبر پاور کی قدر کو متعین کرتی ہے۔ مثلاً اگر مزدور اس کے خاندان کو زندہ رہنے کے لیے ان اشیا کی ایک مقدار درکار ہے جس کی قدر M=1000ہو تو اس مزدور کی لیبر پاور کی قدر بھی R=1000ہو گی۔
۶۔ فرض کریں کہ یہ مزدور ایک کپڑے کے کارخانے میں ملازم ہے اور کام کا دورانیہ دس گھنٹے ہے۔لیکن پانچ گھنٹے کے اندر اندر یہ مزدور اتنے بنیانیں، موزے اور دستانے بنا لیتا ہے جن کی قدر M=1000ہے۔ یہی M=1000اس کی اجرت ہو گی۔باقی پانچ گھنٹے میں وہ موزے وغیرہ بنا کر جو کچھ پیدا کرے گا اس کو مارکس ’’سرپلس ویلیو‘‘ یعنی اضافی قدر کہتا ہے۔

7۔ اور لبرل سرمایہ دارانہ نظام اور قانون کے مطابق مالک کو سرپلس ویلیو پر مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ وہ اس سرپلس ویلیو کا قانونی مالک ہے اور مزدور کا استحصال مزدور کو مسلسل ہر پیداواری اور تقسیم کے عمل کے ذریعے مستقلاً گراتا رہتا ہے۔ لبرل قانون اور لبرل ریاست کی نگاہ میں یہ استحصال جائز ہے، کوئی جرم نہیں [121]۔
مارکس یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی کے لیے شرح استحصال کا مستقل بڑھتے رہنا ضروری ہے۔ اس بات کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:

۱۔ مارکس کے مطابق شے کی لاگت کو یوں تصور کیا جا سکتا ہے:

O = C + V + S

جہاں Oسے مراد مجموعی لاگت ہے۔ Cسے مراد وہ لاگت ہے جو مشینری کو استعمال کرنے پرآتی ہے۔ اس مشینری کو مارکس Dead Labourکہتا ہے کیوں کہ اس کو صَرف شدہ محنت کی صلاحیت کے اخراج سے تعمیر کیا گیاہے۔Vسے مراد اجرت ہے۔ Sسے مراد مجموعی لاگت کا وہ حصہ ہے جو مالک کا سرمایہ دارانہ قانونی حق ہے۔
۲۔ سرمایہ دارانہ عمل کو تین شرحوں کی حرکت کی بنیاد پر سمجھا جا سکتا ہے۔ C/Y یعنی منجمد سرمایہ (مشینری) بہ موازنہ فعال سرمایہ (اجرت)۔ اسے مارکس Organic Compositon of Capitalکہتا ہے۔S/Vیعنی اضافی قدر بہ موازنہ اجرت کو مارکس rate of exploitationیعنی شرح استحصال قرار دیتا ہے۔S/C+V اضافی قدر بہ موازنہ مشینری اور اجرت پر کیے گئے اخراجات کو مارکس شرح منافع کہتا ہے۔اس صورت میں شرح استحصال کو دگنا کر کے شرح منافع کو بھی دگنا کیا جا سکتا ہے۔یہی لبرل سرمایہ دارانہ عمل ہے لیکن مارکس کے مطابق مستقلاً شرح استحصال کو بڑھاتے رہنا ممکن نہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی کے ساتھ شرح منافع میں گرنے کا رجحان موجود ہے۔ یہی ریکارڈو کا بھی خیال تھا اور دونوں اس عمل کو Law of the tendency of the rate of profit to fallکہتے تھے۔

مالکان مستقل شرح استحصال بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور مارکس کے خیال میں جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام ترقی کرتا ہے مزدوروں کی حالت بری سے بری ہوتی جاتی ہے۔ وہ لبرل سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بالآخر خونیں انقلاب ذریعے سرمایہ دارانہ اشتراکی نظام یعنی پرولتاریوں کی آمریت قائم کرتے ہیں۔
مارکس لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں بحران رونما ہونے کی اور بھی کئی وجوہ بیان کرتا ہے۔ اس کے مطابق جیسے جیسے سرمایے کی بڑھوتری کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے مالکان میں مسابقت شدید ہوتی جاتی ہے۔ اشیا اور خدمات کی فراہمی بڑھتی ہے لیکن معاشرے کی قوت خرید نہیں بڑھتی۔ اشیا اور خدمات فروخت نہیں کی جا سکتیں اور ان کا فاضل انبار لگ جاتا ہے جس کے نتیجے میں شرح منافع گر جاتی ہے۔ بیروزگاری بڑھتی ہے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان نظریات کو Under Consumption Theories بھی کہا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بیروزگار مفلوک الحال مزدوروں کی فوج وجود میں آتی ہے جس کا کوئی انفرادی یا ذاتی مفاد لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی بقا سے وابستہ نہیں۔ مارکس کے یہ تصورات ریکارڈو کی کتاب سے ماخوذ ہیں اس فرق کے ساتھ کہ ریکارڈو بیروزگاروں کو انقلاب برپا کرنے والی قوت نہیں سمجھتا۔ 

انقلاب لانا پرولتاریہ کا کام ہے۔ انقلاب خود بخود نہیں رو نما ہوتا۔ ہر بحران کے بعد تجدید کے امکانات موجود رہتے ہیں اور بقول Schumpeterمارکس وہ پہلا مفکر ہے جو سرمایہ دارانہ معیشت کے گردشی عمل کی تشریح کرتاہے۔ اس تشریح میں سرمایہ دارانہ ارتقا کے تین تصور پیش کیے گئے ہیں۔ نیوکلاسیکی نظریہ کے مطابق سرمایہ دارانہ ارتقا ایک سیدھی لکیر کی طرح مستقل ہوتا رہتا ہے اور کوئی تجارتی گردش رونما نہیں ہوتی۔ Schumpeter کے مطابق سرمایہ دارانہ ارتقا ناہمواریوں کا شکار ہوتا ہے لیکن ہر بحران کے بعد تجدید رونما ہوتی رہتی ہے اور سرمایہ دارانہ ارتقا لامتناہی ہوتا ہے۔ کلاسیکی تصور میں سرمایہ دارانہ انحطاط ناگزیر ہے اور بڑھوتری کی رفتار subsistenceکی سطح پر آ جاتی ہے[122]۔

مارکس کے مطابق ارتقا کا عمل تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک لبرل سرمایہ داری کا دور ہے جس میں ارتقا اتار چڑھاؤ کے ساتھ رونما ہوتا رہتا ہے۔ پھر پرولتاریہ انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔ دوسرا سوشلسٹ سرمایہ داری کا دور ہے جہاں گردش ختم ہو جاتی ہے لیکن ترقی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ تیسرا کمیونسٹ سرمایہ داری کا دور ہے جہاں سرمایہ دارانہ ارتقا لامتناہی اور لامحدود ہو جاتا ہے۔ مارکس اور Schumpeter دونوں لبرل سرمایہ داری کے بالآخر انہدام اور اشتراکی سرمایہ داری کی بالآخر فتح کے قائل تھے[123]۔

لیکن سوشلسٹ سرمایہ داری کب قائم ہو گی اس کا انحصار پرولتاریہ کی جدوجہد پر منحصر ہے۔ مارکس کا نظریہ مادیت پرستی یہ ہے کہ فطرت خود بخود تبدیل نہیں ہوتی اس کی تبدیلی کو رونما کرنے کے لیے اس پر فرد کو عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ لبرل سرمایہ داری کو اشتراکی سرمایہ داری میں تبدیل کرنے کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں لیکن سوشلسٹ سرمایہ داری کے قیام کے لیے جس عمل کی ضرورت ہے وہ انقلاب ہے اور یہ عمل صرف پرولتاریہ بحیثیت ایک طبقہ کے انجام دے سکتی ہے۔لیکن اس عمل کی نوعیت کیا ہے اور پرولتاریہ کو اسے انجام دینے کے لیے کیسے تیار کیا جاسکتا ہے اس کی تفصیل مارکس نے نہیں بلکہ لینن اور ماؤ نے بیان کی۔ اور وہ اپنے اپنے ملکوں میں لبرل سرمایہ داری کو سوشلسٹ سرمایہ داری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

سوشلسٹ سرمایہ داری کو ریاستی سرمایہ داری بھی کہا گیا ہے کیوں کہ سوشلسٹ سرمایہ دارانہ نظام میں ریاستی ملکیت کارپوریٹ ملکیت کے ہم معنی ہے اور ریاستی ملکیت اور کارپوریٹ ملکیت دونوں کی نوعیت سرمایہ دارانہ ہے ، ذاتی ملکیت نہیں۔ ریاستی ملکیت کے ذریعے سوشلسٹ ریاست علمی، مذہبی، معاشرتی زندگی کے پر پہلو پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مارکس پیداواری ملکیتی نظام کو انفراسٹرکچر اور علمی اور معاشرتی نظام کو سپرسٹرکچر کہتا ہے اور اس کے مطابق انفراسٹرکچر کی کارفرمائی سپرسٹرکچر کی کارفرمائی کو متعین کرتی ہے۔ ریاستی ملکیت کا معاشرتی اور سیاسی غلبہ ہر فرد کو آزادی دلانے کے لیے لازم ہے کیوں کہ ریاستی ملکیت فرد کی تخلیق سے محرومی سے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس چیز کو مارکس alienationکہتا ہے۔ alienationمارکیٹ میں وجود میں آتی ہے جہاں صرف مالکان آزاد ہوتے ہیں اور مزدوروں سے ان کی پیداواری تخلیق چھین کر سرپلس ویلیو حاصل کرتے ہیں۔ مارکس کے مطابق لبرل سول سوسائٹی فرد کو جو حقوق فراہم کرتی ہے وہ اس کو انسانیت سے الگ کر کے اس کی alienationمیں اضافہ کر دیتے ہیں۔ سوشلسٹ سرمایہ داری میں سوشل رائٹس انفرادی ہیومن رائٹس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ مارکس کے مطابق جو ریاست ان حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے قائم ہوتی ہے وہ ایک استبدادی، طبقاتی ریاست ہوتی ہے جو جمہوری عمل کے ذریعے عوام کو انفرادی آزادی سے محروم کر دیتی ہے۔ ہیومن بینگ کو آزادی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فرد کو نوعِ انسانیت میں سمو دے اور اس کو ہر فطری پابندی سے آزاد کر دے اور اس آزادی کی فراہمی کےلیے ہر محدود اور اجتماعی ادارتی صف بندی مثلاً خاندان، گرجا، طبقہ اور ریاست کا نوعی اجتماعیت میں ضم ہونا لازم ہے۔ اور لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست اس نوعیت کے انضمام کو ناممکن بنانے کے لیے ہی کارفرمائی کرتی ہے۔

پرولتاریہ سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے ایک موزوں طبقہ ہے۔ مارکس کے مطابق نہ اس کے پاس ذاتی ملکیت ہے اور نہ ہی وہ ذاتی ملکیت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے[124]۔ وہ ذرائع پیداوار کی ذاتی ملکیت کے نظام کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے[125]۔ لیکن ذاتی ملکیت کو ختم کرنا طبقاتی نظام کو ختم کر دینا ہے اور سوشلسٹ سرمایہ دارانہ ریاست میں پرولتاری آمریت کے ذریعے بتدریج طبقاتی نظام اور طبقاتی کش مکش ختم کرنے سے ریاست مرجھا جاتی ہے اور ہیومینٹی کمیونسٹ دور میں داخل ہو جاتی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ سوشلسٹ سرمایہ داری ایک قسم کی سرمایہ داری ہی ہے، سرمایہ داری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ وہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے سرمایہ دارانہ اہداف کی عمومی فراہمی کی وجہ سے ہی جنم لیتی ہے اور انہی اہداف یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کے فروغ کے لیے سرمایہ دارانہ نظامِ معاشرت و ریاست کی ایک نئی ادارتی صف بندی کرتی ہے۔اشتراکی انفرادیت لبرل انفرادیت سے مختلف ہوتی ہے۔ اشتراکی اور قوم پرست سرمایہ دارحریص نہیں ہوتا، وہ اپنے گروہ، طبقہ یا قوم کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ مارکس، لینن، ماؤ اور شی گویرا قربانی اور ایثار کی قابلِ رشک مثالیں ہیں۔ آج بھی کولمبیا کے گوریلے، آندھرا پردیش اور جھارکھنڈ کے ماؤسٹ اور تامل ٹائیگر عظیم قربانیاں نصف صدی سے پیش کر رہے ہیں۔ لیکن ایک سوشلسٹ کے اخلاق طبقاتی ہوتے ہیں آفاقی نہیں ہوتے۔ اس کے لیے گناہ کوئی چیز نہیں۔ مثلاً مارکس ایک عادی زانی تھا اور ایک حرامی بچے کا باپ تھا جو اس کی نوکرانی کے بطن سے پیدا ہوا اور اس کا شدید دکھ مارکس کی باوفا بیوی کو پوری زندگی رہا[126]۔اشتراکی اور قوم پرست افراد کی ذاتی زندگی عموماً نہایت غلیظ اور گھناؤنی ہوتی ہے [127]۔ ایک مخلص سوشلسٹ اور قوم پرست کارکن کا قلب جذبۂ حسد اور انتقام سے مغلوب ہوتا ہے۔ یہی حسد اور نفرت اس کی انقلابی جدوجہد کے اصل روحانی مآخذ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے دشمن سے شدید ترین نفرت کرتا ہے اور اس کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر جھوٹ، فریب، دغابازی اور مکاری کو اپنا فرض عین تصور کرتا ہے اور اس پر نمایاں فخر کرتا ہے۔

مارکس کا خیال تھا کہ اشتراکی انفرادیت کی یہ خصوصیت سوشلسٹ دور میں کم ہوتے ہوتے کمیونسٹ دور میں بالکل معدوم ہو جائے گی اور کمیونسٹ معاشرت کروڑوں دوستوں پر مشتمل ہو گی۔ نفرت اور حسد کو ترک کرنے کی وجہ مارکس کے مطابق دولت کی فراوانی ہو گی۔ ہر شخص ہر وہ شے اور خدمت بغیر کسی کو محروم کیے حاصل کر سکے گا جس کی اس کو خواہش ہو گی۔ لہٰذا نفرت اور حسد کی کوئی گنجائش موجود نہیں رہے گی۔ مارکس کی دیگر پیش گوئیوں [128]کی طرح یہ پیش گوئی بھی غلط ثابت ہوئی۔ کمیونسٹ معاشرہ کہیں رونما نہیں ہوا۔ کسی سوشلسٹ ریاست کے وسائل کے فروغ کی رفتار خواہشات کے فروغ کی رفتار سے تیز نہ ہو سکی اور ہر جگہ نفس غیر مطمئن اور ہل من مزید کا نعرہ لگاتارہا۔ حسد اور نفرت ختم نہ ہوئی اور حرص جس کو انقلابی دور میں دبا دیا گیا تھا دوبارہ عمومی سطح پر عود کر آئی۔ ۱۹۹۰کے درمیان میں بیش تر اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستوں میں لبرل انقلاب برپا ہوئے اور وہ عالمی لبرل نظام میں ضم ہوتی چلی جا رہی ہیں [129]۔

11۔ لینن

ولادیمیر الیچ الیانوف (جس نے اپنا نام لینن رکھا )اور ماؤزے تنگ تاریخ کے سب سے کامیاب اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلابی تھے لیکن دونوں کی مارکس ازم اس نظریہ سرمایہ داری کی ایک مخصوص تشریح تھی [130]۔ ہم پہلے لینن کی فکر کی تاریخ پیش کرتے ہیں۔

11.1۔ لینن کا مارکس ازم

لینن کے بیش تر لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معترضین دعویٰ کرتے ہیں کہ لینن ایک منافق مارکسسٹ تھا۔ سرد جنگ کے دورانیہ (۱۹۴۶ء تا ۱۹۹۱ء) میں امریکی اور مغربی یورپی حکومتوں نے سوویت یونین پر جو عالمی تخریبی مہم جاری رکھی تھی، اس میں اس بات پر خاص توجہ دی اور سوشلسٹ عناصر اور جماعتوں میں سوویت یونین کے مخالف دھڑوں کو بااثر بنادیا۔ اس مہم میں ان کو برطانیہ، یوگوسلاویہ، ہنگری، ہندوستان اور چین میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے [131]۔ عموماً یہ سوشلسٹ تخریب کار اپنے آپ کو ٹراٹسکی ظاہر کرتے تھے[132]۔ پاکستان میں امریکی سوشلسٹ تخریب کار اپنے آپ کو ماؤنواز کہتے تھے۔

لینن اپنے بچپن ہی سے ایک انقلابی تھا۔ جب وہ تیرہ سال کا تھا تو اس کے بھائی کو پھانسی چڑھا دیا گیاکیوں کہ وہ اس وقت کے زار کو قتل کرنے کی سازش میں شریک تھا۔ وہ دس سال سےNarodnikتحریک کا رکن تھا اور یہ تحریک ۱۸۶۰ء کی دہائی کے وسط سے زار کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد برپا کیے ہوئے تھی۔ Narodniksکو عموماً انارکسٹ کہا گیا ہے۔ ان کی رائے میں انقلاب لانے کے لیے ریاستی اشرافیہ کے چنیدہ چنیدہ افراد کو قتل کرنے کے ذریعے کاشت کاروں کو عسکری انقلابی جدوجہد برپا کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اور اس عوامی جدوجہد کے نتیجے میں خود بخود سرمایہ دارانہ معاشرہ ظہور پذیر ہو جائے گا۔ Narodnikکی رائے میں قدیم رومی تہذیب کے فراہم کردہ وسائل استعمال کر کے چند منتخب انقلابی روس میں سرمایہ دارانہ نظم معاشرت اور ریاست کو منہدم کر سکتے ہیں بشرطیکہ یہ انقلابی بڑی سے بڑی جانی اور مالی قربانی دے کر عوم میں مثالی ہیرو کی حیثیت حاصل کر لیں۔ Narodnikسرمایہ دارانہ ریاستی اور معاشرتی ادارتی صف بندی کی تحلیل کا عزم رکھنے کے باوجود سرمایہ دارانہ عقائد یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کو پوری طرح قبول کرتے تھے۔ ان کی رائے میں سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کی تسخیر کے ذریعے ہی سرمایہ دارانہ اہداف عوام کو دلائے جا سکتے ہیں۔ وہ عیسائیت کے شدید دشمن تھے اور روسی مذہبی پیشوا مذہب پسندوں کی تنظیم کے اہل کاروں کا قتل اتنا ہی ضروری سمجھتے تھے جتنا کہ ریاست کے رہنماؤں کا۔ Narodnikحلقوں میں دیوی دیوتاؤں اور شیطان کی پوجا عام تھی۔ ان کا سب سے مشہور رہنما سفلی علوم کا ماہر تھا۔اپنے بچپن کے دور میں لینن Narodnikتحریک سے متاثر ہوا۔ ۱۸۹۰ء کی دہائی کے وسط سے وہ Plekhanovکی فکر سے متاثر ہونا شروع ہوا۔Plekhanov روسی کمیونسٹ پارٹی کا بانی تھا[133]۔

Narodnikمفکرین اور Plekhanovمادہ پرست تھے۔ Narodnikاور روسی کمیونزم کے بانیوں کے مشترک عقائد آزادی، مساوات اور ترقی تھے۔ Narodnikمفکرین کے مطابق یہ قدیم روسی دیہی معاشرت اور معیشت کے اقدار تھے اور کسان بستیوں میں انہی اقدار کے فروغ کے لیے ادارتی صف بندی کی جاتی تھی۔ Plekhanovجرمن فلسفی Ludwig Feuerbach سےمتاثر تھا[134]۔Plekhanovنے جس بنیادی چیز پر بحث کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں کی عظیم اکثریت عیسائی اقدار پر ایمان رکھتی ہے وہاں آزادی، مساوات اور ترقی کو معقول اور معتبر اقدار کی حیثیت سے کیسے منوایا جائے[135]۔ Plekhanovکی رائے میں ان اقدار کا فطری علم بردار وہ نیا پرولتاری حلقہ بنایا جا سکتا تھا جو صنعتی ترقی کے نتیجے میں روسی شہروں میں ابھر رہا تھا۔ کمیونسٹ جماعت کا بنیادی کام پرولتاریہ کو ان فطری اور معاشرتی قوانین سے واقف کرانا تھا جن پر عمل کر کے سوشلسٹ انقلابی ایک ایسے معاشرے میں سوشلسٹ سرمایہ دارانہ نظام قائم کر سکتے ہیں جہاں کا عام آدمی سرمایہ دارانہ عقائد پر ایمان نہ رکھتا تھا۔ پیداوار وہ عمل ہے جس کے ذریعہ قوانینِ فطرت کو ارادۂ انسانی کے ذریعے موزوں طور پر استعمال کر کے آزادی حاصل کی جا سکتی ہے اور پرولتاریہ اسی عمل کی محرک ہے۔

لینن نے Plekhanovکے ان خیالات کی ناقدانہ تشریح اپنی کتاب میں پیش کی ہے۔ لینن کے فلسفیانہ تصورات انسانی ارادہ کی فطری مادی قوتوں کی ماتحتی اور انحصار پر زور دیتے ہیں اور مارکسی فکر کے ان مباحث کو نظرانداز کرتے ہیں جو ارادۂانسانی کو تعمیر کا کلیدی محرک بیان کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر مارکس مادیت پسندی کو ہیومینسٹ گردانتا ہے۔ ہیومن ازم کے مطابق قوانینِ فطرت فروغِ آزادی کو ایک ایسے تاریخی عمل کے ذریعے بناتے ہیں جس میں ارادۂ انسانی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ لینن تاریخی عمل کی فیصل فعلیت کا قائل نظر نہیں آتااور Narodnikکی طرح اس بات کو ممکن تصور کرتا ہے کہ تاریخ کی منطق کے علی الرغم انقلابی عمل کے ذریعے معاشرتی اور ریاستی تبدیلی لانا ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

یہ خیال Narodnikکا بھی تھا جس کے مطابق یہ ضروری نہ تھا کہ روس کسی لبرل سرمایہ دارانہ دور سے گزرے جس کے توسط سے ایک سوشلسٹ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک آزاد، مساویانہ اور ترقی یافتہ معاشرت روسی استبداد کے بالواسطہ انہدام کے بعد فوراً قائم کرنے کو ممکن سمجھتے تھے۔ لینن اور ٹراٹسکی دونوں اس رائے کو قبول کرتے تھے کہ زار کی ریاست کو ختم کر کے فی الفور ایک سوشلسٹ معاشرت اور ریاست قائم کی جا سکتی ہے اور دیگر مارکسسٹوں کے برخلاف یہ دونوں مفکر اس بات کا انکار کرتے تھے کہ زار کے خلاف جو انقلاب برپا ہو گا وہ لازماً ایک لبرل انقلاب ہو گا جو ایک طویل عرصہ بعد سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب کی راہ ہموار کرے گا۔ اس نظریہ کو جس کا موجد ٹراٹسکی ہے ’’تھیوری آف پرماننٹ ریوولوشن‘‘ کہتے ہیں اور اس نظریہ کو لینن نے ۱۹۱۴ء کے بعد سے قبول کر لیا۔ روس کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک موثر دھڑا جس کی قیادت Plekhanovاور Martovکر رہے تھے، اس نظریہ کو ردّ کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ پارٹی کو دوسری قوتوں کے ساتھ لبرل سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔
لینن کے فلسفہ کے مطابق تاریخ کے اس جبر کو قبول کرنا ضروری نہیں۔ پرولتاریہ اپنی تاریخ خود رقم کر کے اپنے آپ کو ہر قسم کے سرمایہ دارانہ استحصال، خواہ زاری، خواہ لبرل [136]، سے آزاد کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ قوانین تاریخی مادیت کو سمجھ لے اور ان اصولوں پر عمل کر کے اشتراکی انقلاب برپا کر دے۔ 

تاریخی مادیت کا جو تصور Plekhanovنے مرتب کیا اس کو لینن قبول کرتا ہے۔ اس تصور کے مطابق تاریخ کا رخ قوانین فطرت متعین کرتے ہیں لیکن تاریخی تغیر کی رفتار انسانی ارادہ متعین کرتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی اساس کا تعین معاشرتی مادی ضروریات کی بنیاد پر ہوتا ہے لیکن معاشرتی ادارتی صف بندی کی ہیئت کا تعین طبقاتی جدوجہد کے نتیجے میں ہوتا ہے۔پرولتاریہ کو تاریخی مادیت کی سائنس سے آگاہ کرنے والے پروفیشنل انقلابی ہیں۔ یہ پروفیشنل انقلابی مغربی سوشل سائنسز اور مغربی انقلابی تصورات کی تاریخ سے آگاہی کی بنیاد پر پرولتاریہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ لینن روسی تاریخی تجربات اور معاشرتی تنظیم نو کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا۔ اور اس معاملے میں اس کی فکر Narodnikمفکرین سے کوسوں دور تھی جو روسی معاشرت کے فروغ کو اپنا انقلاب کامیاب بنانے کا اہم ترین ذریعہ سمجھتے تھے[137]۔ لینن ہمیشہ فرانس اور جرمنی کے معاشرتی اور سیاسی تجربات کو دہرانے کا خواہاں رہا اور روسی کمیونسٹ پارٹی روسی علمیاتی اور ثقافتی روایات سے کٹی ہوئی تھی۔

لینن کے مطابق یہ پروفیشنل انقلابیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرولتاریہ کو اس کے اصل مفادات سے آگاہ کریں۔ لیکن اس سے قبل Chernskevspyنے ان پروفیشنل انقلابیوں کو ایک سخت گیر تنظیم میں مرتکز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور لینن اسے۱۹۰۱ء سے قبول کرتا تھا۔ یہ پروفیشنل انقلابی تاریخی عمل کی رفتار کو تیز کر کے سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کر سکتے ہیں کیوں کہ تاریخی تعمیر کا رخ اسی جانب ہے۔ یہی پروفیشنل انقلابی وہ ہیئت متعین کرتے ہیں جو سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس ادارتی قوم کو بالشویک پارٹی کہتے ہیں۔لینن تاریخی تدریجی تبدیلی کے لیے انتظار کرنے کا قائل نہیں تھا۔ دنیا کی بیش تر کمیونسٹ جماعتوں نے لینن کی یہ تعبیر قبول نہیں کی[138]۔ لیننی اور غیر لیننی میں اہم فرق ان کے جمہوری رویہ کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ غیر لیننی کمیونسٹ جمہوری عمل کے تسلسل کو سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب کو استحکام فراہم کرنے کا ناگزیر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس لیننی کمیونسٹ لبرل ریاستی نظام کے انہدام کے قائل ہیں اور عملاً لیننی جماعتوں میں جمہوری عمل پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی کارفرمائی تک محدود رہتا ہے۔ انقلاب کو برپا کرنے اور اس کو جاری رکھنے کی بنیادی ذمہ داری پارٹی کی سنٹرل کمیٹی ہی کو سونپ دی جاتی ہے [139]۔ 

11.2۔ پرولتاری آمریت میں پارٹی کی مرکزیت

لینن کے تصورِ پارٹی کو کمیونسٹ قائدین کی اکثریت نے قبول نہیں کیا اور اس کے نتیجے میں روس کی کمیونسٹ پارٹی RSDLP اپنے دور میں کانگریس میں تقسیم ہو گئی۔ اس کانگریس کا مقصد RSDLP کی دستور سازی تھی اور ۲؍اگست ۱۹۰۳ء میں منعقد ہوئی۔ پارٹی تنظیم کی اپنی تجاویز لینن نے اپنے کتابچے "One Step Forward, Two Step Back" کے ذریعہ پیش کیں۔ یہ تجاویز RSDLPکی اکثریت نے قبول کر لیں لیکن ایک بڑی اقلیت جس میں تقریباً صف اول کے قائدین شامل تھے پارٹی سے نکل گئی اور اپنی جماعت سازی انہی خطوط پر کی جو RSDLPکی پرانی روایات کے مطابق تھیں [140]۔

لینن کی تجاویز کی پہلی قسط Rosa Luxemburgکے کتابچے "Marxism or Leninsim" میں ۱۹۰۴ء کے اوائل میں شائع ہوئی[141]۔ لینن کے مطابق RSDLPکی سنٹرل کمیٹی کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ پارٹی کی تمام مقامی اور ذیلی کمیٹیوں کو نام زد کرے۔ اس زمانہ میں RSDLPصرف روس میں نہیں جرمنی، سوئٹز لینڈ اور بلجیم میں بھی قائم تھی۔ پارٹی ڈسپلن کی تشریح اور پارٹی اصولِ کار کا حق بھی صرف سنٹرل کمیٹی کی ذمہ داری ہو گی۔ اس کو اختیار ہے کہ پارٹی کے ہر فرد کو جب چاہے معطل کر دے۔ سنٹرل کمیٹی پارٹی کی اعلیٰ ترین تنظیموں کی ممبرشپ اور پارٹی کانگریس کے مندوبین کی نمایندگی کی مجاز ہوتی۔ پالیسی سازی صرف سنٹرل کمیٹی کے احکام کی تنفیذ کا آلہ کار ہو گی۔

Luxemburgکے مطابق یہ تجاویز فرانسیسی انارکسٹ Louis Augusteکی تنظیمی حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ وہ انارکسٹ جماعت کو پروفیشنل انقلابیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی نہایت منظم اور اعلیٰ ترین انتظامی مرکزیت کی حامل جماعت بنانا چاہتا تھا۔ اور بقول لکسمبرگ لینن نے جمہوری آمریت کا تصور اسی کی فکر سے اخذ کیا۔ لکسمبرگ کے خیال میں Augusteکا یہ انقلابی سازش برپا کرنے والا تنظیمی گروہ اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے قطعاً ناموزوں ہے کیوں کہ اس سے پرولتاری عوام اور انقلابی اشتراکی جماعت میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور پارٹی صرف سنٹرل کمیٹی میں بیٹھے ہوئے مٹھی بھر پروفیشنل انقلابیوں کی سازشی منصوبہ بندی کو نافذ کرنے کی ایک مشین بن جاتی ہے۔ صرف سنٹرل کمیٹی سوچنے سمجھنے اور پالیسی وضع کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اور چوں کہ جو حکمت عملی تجویز کی جاتی ہے اس کی نوعیت ایک سازش کی ہوتی ہے لہٰذا اس حکمت عملی کو پوشیدہ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور یہ عمل سنٹرل کمیٹی کے پروفیشنل انقلابیوں کو پارٹی کے عام کارکنوں سے عام اور پرولتاریوں سے بھی دور کر دیتا ہے[142]۔

لکسمبرگ کے بقول اس دوری کے نتیجے میں لیننی پارٹی پرولتاریہ کو اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے منظم نہیں کر پاتی۔ لینن کے خیال میں پرولتاریہ فیکٹری کے نظام میں شمولیت کے نتیجے میں منظم ہوتے جا رہے ہیں لیکن لکسمبرگ فیکٹری نظام کو پرولتاریہ کی انقلابی تنظیم کے لیے بالکل غیرموزوں خیال کرتی ہے۔ اس کے مطابق اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب کی جامع اور مکمل منصوبہ بندی ممکن نہیں۔ انقلاب پرولتاریہ کے خود ارادی اقدامات سے برآمد ہوتا ہے اور ان اقدامات کو پارٹی روک سکتی ہے نہ ان کے موضوع کی متعین تشریح مرتب کرتی ہے جس کو عملی جامہ پہناکر لبرل سرمایہ داری یا غیر سرمایہ دارانہ نظام کو اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وہ مظلومین یعنی پرولتاریہ اور کاشت کاروں کے حقوق کی جدوجہد کرتی ہے۔ اس کی تنظیم جمہوری مرکزیت کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔ وہ پرولتاریہ کو ان کے حقیقی طبقاتی مفادات کا شعور دلاتی ہے۔

لیننی پارٹی پرولتاری فوج کا ہراول دستہ ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی کام ایسی حکمت عملی کی تشریح و تنفیذ ہے جو لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے بطن سے سوشلسٹ سرمایہ دارانہ نظام برآمد کرتی ہے۔ پرولتاری یہ حکمت عملی خود وضع کر سکتی ہے نہ اس کے براہِ راست اقدام کے ذریعے اس حکمت عملی کا نفاذ ممکن ہے۔ پارٹی کی قیادت موجود نہ ہو تو پرولتاریہ صرف لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی اجرت بڑھانے کی ضرورت کا شعور پیدا کرتی ہے۔ انقلابی شعور یہ ہے کہ پرولتاریہ کا اصل مفاد لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی تسخیر میں ممکن ہے[143]۔ پرولتاری آمریت صرف ہراول دستہ برپا کر سکتا ہے۔ لکسمبرگ اور انارکسٹوں کے خیال میں پرولتاری آمریت خود بخود قائم نہیں ہوتی بلکہ ہراول دستہ اس کو قائم بھی کرتا ہے اور چلاتا بھی ہے۔ 

لینن کے مطابق پرولتاری آمریت قائم کرنے کا کوئی حتمی خاکہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کو چلانے کے لیے ہراول دستے کا کام ہے کہ وہ پالیسی سازی کی توضیح [144]اور نفیذ [145]کے ذریعے موجودہ حالات کے تناظر میں سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب کے لیے ایک طویل مدت تک ایک ایسی پرولتاری آمریت چلاتا رہے جس کے نتیجے میں برق رفتاری سے پیداوار میں اضافہ ہوتا رہے۔ اس کے نتیجے میں آخرکار وہ حالات پیدا ہو جائیں گے جہاں طبقات کا وجود ختم ہو جائے گا، ریاستی نظام مرجھا جائے گا اور مارکس کی خیالی جنت یعنی کمیونسٹ سوسائٹی قائم ہو جائے گی جس میں ہر شخص مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو گا اور اپنی تمام نفسانی خواہشات کو فوراً پورا کرنے کا مکلف ہو گا۔

انقلاب کی کامیابی کا انحصار کلیتہً دو باتوں پر ہے۔ ایک یہ کہ پارٹی کی قیادت کو مارکسزم کی صحیح تفہیم [146]حاصل ہو کیوں کہ مارکس ازم فزکس کی طرح ایک سائنس ہے جو اُن فطری قوانین کی نشان دہی کرتی ہے جن کے ماتحت معاشرتی تغیر رونما ہوتا ہے[147]۔ دوسرے یہ کہ اس صحیح علمیت کی بنیاد پر درست انقلابی عمل مرتب کیا جائے۔ یہ دونوں کام سنٹرل کمیٹی کو تفویض کیے گئے۔ اس چیز کو لینن جمہوری مرکزیت کہتا تھا۔ یہ نظام جمہوری ان معنوں میں ہے کہ سنٹرل کمیٹی پارٹی کے تمام کارکن منتخب ہوتے ہیں اور سنٹرل کمیٹی کا ہر رکن پالیسی سازی کے عمل میں شرکت کا یکساں اور بھرپور حق رکھتا ہے[148]۔ یہ نظام مرکزی ان معنوں میں ہے کہ پارٹی کا ہر فرد سنٹرل کمیٹی کے ارکان کی ماتحتی قبول کرتا ہے اور ان کی وضع کردہ پالیسی پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ Hayاور Charles نے کہا ہے کہ جمہوری مرکزیتی نظام میں عام پارٹی کارکن سنٹرل کمیٹی کے ارکان کا نمایندہ ہوتا ہے۔ سنٹرل کمیٹی کے ارکان پارٹی کے عام کارکنوں کے نمایندہ نہیں ان کے کمانڈر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے پارٹی کے عام رکن کو کامریڈ کہا جاتا ہے۔

11.3۔ سرمایہ دارانہ اشتراکی جدوجہد میں عوام کا کردار

امریکہ نواز مارکسی اور غیرمارکسی مفکرین کی رائے میں لینن نے ۱۹۱۷ء میں حالات سے فائدہ اٹھا کر شورش برپا کی اور اس کو عوامی حمایت حاصل نہ تھی۔ یہ شورش روسی عوام کے خلاف ایسی سازش تھی جس کا واحد مقصد اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔ یہ الزام کہ انقلابی محض ایک ڈکٹیٹرشپ قائم کرنا چاہتے ہیں Narodnik تحریک پر بھی مدت سے لگایا جا رہا تھا لیکن لینن اور Narodnikکے پروگرام میں تین معاملات میں فرق تھا:

ابتدا ہی سے لینن پرولتاریہ اور کاشت کاروں کے حالات سے واقفیت کی بھرپور کوشش کرتا تھا۔ یہ بات اس کی کتاب "Development of Capitalism in Russia" جو ۱۸۹۹ء میں شائع ہوئی، سے واضح ہے اور اس کی بیوی Nadezhda Krupskaya کی تصنیف Memoirs of Leninمیں ان وسیع کوششوں کی تفصیل ملتی ہے جو لینن نے کاشت کاروں اور مزدوروں کے حالات سے باخبر ہونے کے لیے ساری زندگی کی۔ ۱۹۰۵ء تا ۱۹۱۴ء کا دور بالشویک انقلابی جدوجہد کا پرآشوب ترین دور ہے اور اس پورے دور میں بالشویک جماعت کو دوسری حکومت مخالف جماعتوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تعاون حاصل رہا۔

۱۹۱۲ء سے۱۹۱۴ء تک بالشویک مزاحمت خالصتاً ایک مزدور تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔ اس بات کا اظہار روسی حکومت نے برملا کیا ہے۔ ۱۹۱۷ء کے انتخابات میں پورے روس کی نمایند ہ مزدور تنظیم میں بالشویک جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوئی۔ اسی دور میں لینن نے انتخابی عمل کو انقلابی نتائج حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کی حکمت عملی مرتب کی اور ہر اہم انتخاب میں بالشویک جماعت نے حصہ لیا۔ اسی دور میں لینن نے ملک بھر میں پھیلتی ہوئی مزدوروں کی تنظیموں جنہیں سوویت کہتے تھے، کی اہمیت کا اندازہ لگایاور بالشویک پارٹی کے کام کو سوویتوں کے کام سے مربوط کرنے کی بھرپور کوشش کی [149]۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ ۱۹۱۶ء تک لینن روس میں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ کو پرولتاریہ کے لیے مفید سمجھتا تھا اور ۱۸۹۸ء سے لے کر ۱۹۱۵ء تک اس کی تمام تحریروں میں یہ رائے موجود ہے کہ زار کے خلاف جو انقلاب برپا ہو گا وہ ایک لبرل انقلاب ہو گا اور ایک لبرل جمہوری ریاست کا قیام پرولتاری انقلاب کی راہ ہموار کرے گا اور یہ پرولتاری انقلاب مدت بعد رونما ہو گا۔اس خیال سے رجوع لینن نے پہلی بار اپنے رسالہ "State and Revolution" میں کیا جو ۱۹۱۶ء میں شائع ہوا اور اپنے نئے عقائد کی تشریح کے لیے روس میں واپسی کے بعد ۱۹۱۷ء میں کی۔ ۱۹۱۶ء کے بعد سے لینن کی رائے یہ تھی کہ سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب ایک راست اقدام کے ذریعہ بالشویک جماعت برپا کر سکتی ہے اور اس راست اقدام کو کامیاب بنانے کے لیے:

۱۔ کاشت کار طبقہ اور پرولتاریہ کا اشتراک اور تعاون ضروری ہے۔

۲۔ لبرل ریاستی نظام کا انہدام اس پرولتاری اور کاشت کار طبقہ کے اتحاد کے ذریعے ممکن ہے۔

لیکن لینن Narodnikکے برخلاف اس بات کا قائل نہ تھا کہ کاشت کاروں کی قدیم روایتی تنظیم اشتراکی سرمایہ داری کی پیش خیمہ تنظیم ہے اور اس کو ملک گیر وسعت دے کر اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔یہ تصور کہ پرولتاریہ اور کاشت کاروں کے تعاون سے بالشویک جماعت فی الفور لبرل اقتدار کو مسخرکر کے سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب برپا کر سکتی ہے Theory of Permanent Revolution کہلاتا ہے اور اس کا موجد ٹراٹسکی ہے جو ۱۹۰۲ء سے ۱۹۱۶ء تک لینن کا مخالف تھا۔ لینن نے اس بات پر زور دیا کہ جو لبرل حکومت ۱۹۱۷ء میں قائم ہوئی ہے وہ کاشت کاروں کا یہ مطالبہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے کہ زرعی املاک زمین داروں سے لے کر کاشت کاروں کو دی جائیں اور روس کو پہلی جنگ عظیم سے نکالنے میں بھی ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کاشت کاروں کو برداشت کرنی پڑیں۔ ۱۹۱۶ء کے بعد سے پورے روس میں مقامی کاشت کاروں کی بغاوتیں عام ہو گئیں اور لینن نے ان بغاوتوں کو پرولتاری شہری جدوجہد سے مربوط کر دیا۔ لینن نے جو سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کیا اس کا اہم ترین مقصد روس کے زرعی مسئلے کا دائمی حل پیش کرنا تھا اور یہ حل اس بات میں مضمر تھا کہ کاشت کاروں کو مزدور بنا دیا جائے۔ لینن اپنی زندگی میں یہ نہ کر سکا لیکن اسٹالن نے اس یہ ہدف حاصل کرکے اپنے آپ کو لینن کا اصل اور جائز جانشین ثابت کر دیا۔

اپنے دو رسالوں “What to be done?”اور “Two Tactics of Social Democracy in Democratic Revolution” میں لینن لکھتا ہے کہ گو کمیونسٹ پارٹی پرولتاریہ کی جماعت ہے لیکن انقلاب برپا کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ دوسرے طبقات کی حمایت حاصل کرے۔ لیکن لینن کی فکر میں پرولتاریہ یا کوئی اور طبقہ کمیونسٹ پارٹی کو کنٹرول کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ کمیونسٹ پارٹی اپنی سنٹرل کمیٹی کے ذریعے تمام طبقات بشمول پرولتاریہ پر حکم رانی کا حق رکھتی ہے کیوں کہ وہ پرولتاریہ اور تما م طبقوں[150] کے حقیقی مفادات کا صحیح شعور رکھتی ہے اور ان حقیقی مفادات کے فروغ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی یہ اس لیے کر سکتی ہے کیوں کہ وہ مارکسی سائنس کی صحیح تشریح مرتب کرنے کی اجارہ دار ہے[151]۔ کوئی فرد کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو مارکس ازم پر ایمان لاکر کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو سکتا ہے بشرطیکہ سنٹرل کمیٹی یا اس کا ذیلی ادارہ اس ایمان کے راسخ ہونے کی تصدیق کرے۔ کمیونسٹ پارٹی ان معنوں میں جمہوری ہے کہ ہر شخص مارکس ازم کی اس تشریح پر جو کمیونسٹ پارٹی پیش کر رہی ہے پارٹی کا رکن بن سکتا ہے اور تمام ارکان کو مساوی حقوق میسر ہوتے ہیں۔ تمام ارکان سنٹرل کمیٹی کو منتخب کرتے ہیں اور سنٹرل کمیٹی کے فیصلوں کی تنفیذ ہر کارکن کا مساوی فرض ہے۔

کمیونسٹ پارٹی ان معنوں میں جمہوری نہیں کہ وہ پرولتاریہ یا کسی اور طبقہ کا یہ حق تسلیم کرے کہ وہ لیننی پارٹی کو انتخابات کے ذریعے ریاستی اقتدار سے محروم کر دے۔ انقلابی جمہوری آمریت کا یہ تصور صرف لینن اور مارکس نے پیش کیا ہے۔ وہ کمیونسٹ پارٹیاں جو اقتدار بچانے کے باوجود انتخابی عمل کے ذریعہ اپنے ریاستی اقتدار کی بے دخلی کو قبول کرتی ہیں مارکس ازم اور لینن ازم دونوں سے رجوع کرتی ہیں۔

روس کی عظیم اکثریت ۱۹۱۷ء میں کاشت کاروں پر مشتمل تھی اور کاشت کاروں کی نمایندہ جماعت کا نام Social Revolutionary Party تھا جو ہر انتخاب میں دیہی علاقوں میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی تھی اور جس نے فروری ۱۹۱۷ء کے انقلاب برپا کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ بالشویک کا اثر کاشت کاروں میں محدود تھا اور اثر پیدا کرنے کے لیے بالشویک جماعت کو ’’زمین کسانوں کی ملکیت ہے‘‘ کا نعرہ قبول کرنا پڑا جو ان کے تصورِ ملکیت کے صریحاً خلاف تھا[152]۔ اس نعرے کی بنیاد پر بالشویک پارٹی نے اپنے آپ کو پرولتاریہ اور کاشت کاروں دونوں طبقوں کی نمایندہ جماعت ہونے کا دعویٰ کیا۔ بالشویک جماعت نے ان دونوں طبقوں سے بالاتر ہو کر ان میں اشتراکِ عمل پیدا کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب کی کامیابی کے بعد یہ بالاتر جماعت ایک نئی ریاستی اشرافیہ کا کردار اختیار کر گئی۔ جولائی سے اکتوبر ۱۹۱۷ء کے مختصر عرصے کے علاوہ زرعی علاقوں میں بالشویک جماعت کو کبھی بھی اکثریتی حمایت حاصل نہ رہی اور کاشت کاروں کی اکثریتی وابستگی بحیثیت Social Revolutionary Party کے ساتھ رہی جس کی فروری ۱۹۱۷ء میں قائم ہونے والی حکومت کے خلاف لینن نے انقلاب برپا کیا تھا۔ اس جماعت کو ۱۹۱۸ء تا ۱۹۲۰ء کے دور میں لینن نے ریاستی استبدادی مشینری استعمال کر کے کچل دیا۔ ۱۹۱۸ء سے ۱۹۳۱ء تک روس اور اس کے نوآبادیاتی علاقوں میں ایک بھرپور عوامی جنگ جاری رہی جس میں کئی یورپی ممالک نے روس میں گھس کر زار کے وفادار فوجی دھڑوں کو ساتھ ملا کر لینن کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ اس دور میں کسان متحارب گروہ لینن کی فوج ریڈ آرمی کے شانہ بشانہ لڑے کیوں کہ ۱۹۱۸ء میں لینن نے جاگیردارانہ نظام منہدم کر کے اراضی کسانوں کے قبضہ میں دے دی تھی اور اس بات کا یقین تھا کہ اگر زار کے حمایتی کامیاب ہو گئے تو کسانوں سے ان کی زمینیں چھن جائیں گی۔

سول وار میں بالشویکوں نے ٹراٹسکی اور لینن کی قیادت میں زار کی فوج اور اس کے یورپی اتحادی ممالک کی افواج کو شکست دی۔ اس طویل جنگ میں بالشویک جماعت نے عدیم المثال قربانیاں پیش کیں اور اس کے بیش تر کارکن جن کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی، مارے گئے۔ جنگ کے بعد ریاستی انتظامیہ کی تشکیل نو میں لینن کے لیے مشکل یہ تھی کہ بیش تر مخلص بالشویک کارکن جنگ میں مارے جا چکے تھے اس لیے اس کو مجبوراً پرانی زاری نوکر شاہی کو استعمال کرنا پڑا۔

سول وار کے دوران کمیونسٹوں کی دو بڑی جماعتیں تھیں۔ ایک تو کسان جو اپنی حال ہی میں حاصل شدہ املاک کا دفاع کر رہے تھے اور دوسرے غیر روسی قوم پرست جماعتیں بالخصوص مسلم ریاستیں۔ لینن اپنے ابتدائی دور میں روسی قوم پرستی کا شدید مخالف تھا اور ۱۹۰۵ء سے متواتر غیر روسی قوم پرست جماعتوں سے وعدہ کرتا رہا کہ اقتدار میں آ کر بالشویک جماعت تمام غیر ضروری ریاستوں کی حق خود مختاری تسلیم کر کے ان کو آزاد کر دے گی۔ فروری ۱۹۱۷ء کے انقلاب کے بعد تقریباً تمام غیرروسی ریاستیں آزاد ہو گئیں اور ان کی حکومتوں اور افواج نے بالشویکوں کا بھرپور ساتھ دیا کیوں کہ ان کا اندازہ تھا کہ زاری افواج کی فتح کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کی قومی آزادی فی الفور ختم ہو جائے گی۔لیکن ان کا یہ خدشہ خود سرخ فوج نے سول وار کے دوران ہی سچ کر دکھایا۔ جہاں جہاں اس کو کامیابی حاصل ہوئی اس نے قوم پرست جماعتوں کو سفاکی سے تہس نہس کر دیا اور اقتدار علاقائی کمیونسٹ پارٹیوں کے سپرد کر دیا۔ یہ علاقائی کمیونسٹ جماعتیں بالشویکوں کی پٹھو اور کاسہ لیس تھیں۔ سوویت یونین کے قیام پر آمادہ ہو کر ان پٹھو کمیونسٹ جماعتوں نے اپنی ملکی آزادی ختم کر دی۔

بالشویک جماعت کو مغربی ممالک کی بائیں بازو کی جماعتوں سے کوئی مدد نہ ملی۔ جرمنی کی مارکسی جماعت بالشویکوں کی نظریاتی مخالف تھی۔ اس کے ایک دھڑے نے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر انقلاب برپا کرنے کی ناکام کوشش کی جو جرمن فوج نے چند ہفتوں میں کچل دی۔ جنگ کے فوراً بعد جرمنی اور آسٹریا میں سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں بذریعہ انتخاب اقتدار میں آئیں اور فرانس اور برطانیہ میں بھی سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کا سیاسی اثر بڑھا لیکن یہ جماعتیں بالشویکوں سے نفرت کرنے والی جماعتیں تھیں اور لبرل نظام اقتدار میں حصہ داری کی خواہاں تھیں۔ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں اٹلی، فرانس اور یونان میں طاقت ور کمیونسٹ جماعتیں قائم ہوئیں جو سب بالشویک جماعت کی حمایتی تھیں لیکن یہ کبھی انقلاب لا کر حکومت نہ بنا سکیں۔
اپنی ۱۹۱۷ء سے قبل کی تحریروں میں لینن مارکس کی اس رائے سے متفق نظر آتا ہے کہ اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب پہلے ترقی یافتہ لبرل سرمایہ دارانہ ممالک میں وقوع پذیر ہو گا اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام ایک ترقی یافتہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام سے ہی برآمد ہو سکتا ہے۔ ٹراٹسکی بھی اسی نظریہ کا قائل تھا اور بحیثیت وزیر جنگ اس نے اسی بات پر زور دیا کہ روسی انقلاب کو محفوظ رکھنے کے لیے لازم ہے کہ روسی حکومت مغربی ممالک کی انقلابی تحریکوں سے بھرپور تعاون کرے۔ ۱۹۲۱ء میں سول جنگ کو ختم نہ کیا جائے بلکہ جرمنی اور بولیویا تک اس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے۔ لینن سمجھتا تھا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا جب اس نوعیت کے اقدام کامیاب ہو سکتے ہیں لہٰذا ۱۹۲۱ء میں سرخ فوج کی فیصلہ کن فتح کے بعد جنگ ختم کر دی گئی اور بالشویک حکومت کی پوری توجہ سوویت یونین میں اشتراکی نظام اقتدار کو قائم اور مستحکم کرنے پر مرکوز ہو گئی۔ لیکن میری رائے میں لینن نے مغربی یورپ میں کمیونسٹ راست اقدام کی حکمت عملی کو کبھی ردّ نہیں کیا اور Socialism in one country اس کا نہیں بلکہ اسٹالن کا تصور ہے۔ لینن کی موت کے بعد ٹراٹسکی اور اسٹالن درمیان اقتدار کی کش مکش کے نتیجے میں بالشویکوں کی بین الاقوامی پالیسی میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔ ۱۹۲۱ء تک وہ اپنے ریاستی اقتدارکو عالمی اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے لیکن ۱۹۲۱ء کے بعد سے سوویت یونین کے خاتمہ تک بالشویک حکمت عملی، بین الاقوامی کمیونسٹ اور قوم پرست ملکی جدوجہد کو سوویت یونین کی سرمایہ داری کو فروغ دینے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی کوشش کے نتیجے میں پہلے سوویت یونین اور یوگوسلاویہ میں تنازعہ ہوا اور بعد میں اس سے کہیں زیادہ اہم تنازعہ سوویت چینی کش مکش کی صورت میں رونما ہوا۔

11.4۔ سوویت سرمایہ داری

سوویت یونین عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں برق رفتار ترقی کی اہم ترین مثالوں میں شامل ہے۔ ۱۹۲۳ء تا ۱۹۷۳ء کے پچاس سالہ دور میں سوویت یونین ایک پس ماندہ، مفلوک الحال، بیرونی سرمایے کے شکنجے میں جکڑے ہوئے نظام سے دنیا کی دوسری بڑی عالمی سرمایہ دارانہ قوت بن گیا۔ وہ دوسری جنگ عظیم کا سب سے بڑا فاتح تھا۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی اس کی سائنسی اور ٹیکنالوجیکل ترقی امریکا کو پیچھے چھوڑ گئی تھی۔ ایک تہائی دنیا اس کے زیر تسلط تھی اور سرد جنگ کے پورے دورانیے میں امریکا کو کبھی بھی سوویت روس سے براہ راست مقابلہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔چین نے بھی ۱۹۷۹ء کے بعد سے بحیثیت ایک سرمایہ دارانہ نظام حیرت انگیز ترقی کی ہے لیکن سوویت یونین کی سرمایہ دارانہ ترقی خود ساختہ ہے۔ اس کو کبھی لبرل نظام سرمایہ داری پر انحصار نہ کرنا پڑا۔ اس کے برعکس ۱۹۷۹ء سے چین کی سرمایہ داری کا دارومدار امریکا کے بازاروں پر ہے اور چینی سرمایہ داری امریکی تجارت اور فنانشل مارکیٹوں کے زیرسایہ ترقی کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کبھی بھی امریکا کے لیے اس نوعیت کا عسکری چیلنج پیش نہیں کر سکا جو سوویت یونین نے سرد جنگ کے دورانیے میں پیش کیا تھا۔

سوویت یونین کی سرمایہ دارانہ ترقی کی بنیاد ان پالیسیوں نے رکھی جو لینن نے ۱۹۲۱ء کے بعد سے اختیار کیں اور جن کو اسٹالن نے اپنے اقتدار میں آنے کے بعد توسیع فراہم کی[153]۔ بالشویک اقتدار کے پہلے چار (۱۹۱۸ء تا ۱۹۲۱ء) سال کمیونزم جنگ کا دورانیہ کہلاتے ہیں جب پوری روسی سلطنت میں سول جنگ چھڑی رہی۔ جنوری ۱۹۱۸ء میں لینن نے روسی پارلیمنٹ کو برطرف کر دیا۔ لینن نے ۱۹۱۸ء میں مزدور تنظیموں پر پابندی لگا دی اور جرمنی کے ساتھ ایک ذلت آمیز معاہدۂ امن پر دستخط کیے۔ کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے دھڑے مانشویک اور Social Revolutionary Partyکو کالعدم قرار دے کر ان کے قائدین کو گرفتار اور قتل کر دیا۔ اور ایک جماعتی نظام اقتدار قائم کر دیا گیا۔ جنگی کمیونزم کے دور میں اجناس کو بڑے منظم طریقے سے کسانوں سے چھین کر شہری آبادی کو فراہم کیا جاتا رہا۔ 

انقلاب سے قبل ہی لینن نے یہ تصور پیش کیا کہ اشتراکی سرمایہ داری ریاستی سرمایہ داری ہو گی ۔ اس نے اپنے کتابچے "State and Revolution" میں لینن نے برطانوی پوسٹ آفس کونمایندہ سرمایہ دارانہ پیداواری ادارہ کہا ہے لیکن اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ سوشلسٹ ریاستی سرمایہ دارانہ اداروں میں تمام کارکنوں کو مساوی تنخواہیں دی جائیں گی۔ لیکن اپریل ۱۹۱۸ء میں لینن نے اقرار کیا کہ اشتراکی ریاستی اداروں میں اجرتی تفریق ناگزیر ہے۔ سوویت یونین کے وجود کے پورے دور میں اجرتی نامساویت بڑھتی رہی اور مختلف کمیونسٹ مفکرین اس کی نئی نئی توجیہات پیش کرتے رہے[154]۔۱۹۱۸ء میں لینن نے زر اور مارکیٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ دونوں اقدامات چند ماہ میں ناکام ہو گئے اور سول وار کے اختتام پر لینن کو اس بات کا کامل یقین ہو گیا کہ کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لیے ریاستی سرمایہ داری کا احیا ناگزیر ہے [155]۔ 

مارکس نے سرمایہ دارانہ معیشت کی جو خصوصیات بیان کی تھیں ذرائع پیداوار پر طبقاتی اجارہ داری[156]، خریدوفروخت کے لیے پیداواری نظام کی کارفرمائی، اجرتی محنت اور سرمایہ کاری، وہ سب کی سب سوویت یونین میں بتدریج قائم کر دی گئیں۔ وار کمیونزم کے دور میں جو فیصلہ کن قدم لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے اٹھایا گیا وہ تمام صنعتی اور فنانشل اداروں کو قومی ریاستی تحویل میں لینے کا عمل تھا۔ انقلاب سے قبل بھی بہت سے صنعتی ادارے ریاستی ملکیت میں تھے۔ اور ان کے علاوہ دو بڑے صنعتی اور فنانشل ادارے جو روس میں تھے غیر ملکی تھے۔ جرمن، فرانسیسی اور انگلستانی کمپنیوں نے ۱۸۷۰ء کے بعد سے بڑے پیمانہ پر روس میں سرمایہ کاری کی تھی۔ تمام غیرملکی سرمایہ انقلاب کے بعد روس سے نکال لیا گیا اور ان اداروں کو ریاستی تحویل میں لینا آسان ہو گیا۔ روسی نجی شعبہ کی صنعتی اور فنانشل کمپنیاں بہت چھوٹی اور کم تعداد میں تھیں۔ ان کی بہت بڑی اکثریت بند ہو گئی اور درآمدات و برآمدات کا کاروبار سول وار کے دور میں بالکل ختم ہو گیا۔ ۱۹۲۱ء تک روس کی معیشت کا انحصار تقریباً کلیتہً زراعت پر ہو گیا۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل روس میں جو صنعتی اور فنانشل ترقی ہوئی تھی وہ تقریباً بالکل ختم ہو گئی صرف کان کنی کی صنعت اور مواصلاتی نظام کسی حد تک محفوظ رہا۔

۱۹۲۱ء میں لینن نے لکھا ’’اب ہمارا مقصد سرمایہ داری کو پرولتاری ریاست کی سرپرستی میں ترقی دینا ہے‘‘۔ ۱۹۲۱ء میں لینن نے ایک نئی معاشی حکمت عملی کااعلان کیا۔ اس کا دورانیہ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۲۸ء تک ہے جب پہلا معاشی منصوبہ نافذ کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت وہ ملکی صنعتی ادارے جو ۱۹۱۸ء سے بند پڑے تھے اپنے روسی نجی شعبہ کے مالکان کو واپس کر دیے گئے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دی گئی کہ وہ روس واپس آ کر اپنی املاک دوبارہ حاصل کریں[157]۔ سٹہ کے بازار کا احیا عمل میں لایا گیا اور حکومت نے ریاستی تمسکات جاری کیے لیکن ان کی خریدوفروخت محدود رہی۔ سودی لین دین کا کاروبار دوبارہ منظم کیا گیا اور وسیع پیمانے پر بچت کھاتوں کا اجرا کیا گیا۔ زرعی شعبے میں جبری اجناس کی وصول یابی کے نظام کو لچک دار بنایا گیا اور کاشت کاروں کو اناج کی منڈیوں کی قیمتوں کی بنا پر اپنی پیداوار کا زیادہ حصہ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی[158]۔ اجناس کی بڑھتی ہوئی آزادانہ خریدوفروخت کے نتیجے میں بڑی زمین داریاں پھر سے قائم ہونے لگیں اور کامیاب کاشت کاری کے ذریعے ایک نیا متمول زمین دار طبقہ قائم ہو گیا۔ ۱۹۲۶ء تک صنعتی معیشت میں کامیاب نجی سرمایہ کاروں کا طبقہ بھی وجود میں آ گیا اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے نتیجے میں ۱۹۲۶ء تک صنعتی پیداوار قبل از انقلاب کی سطح سے تجاوز کر گئی۔

صنعتی ترقی کو فروغ دینا شروع ہی سے بالشویکوں کی اہم ترین ترجیح تھی۔ تیزرفتار صنعتی ترقی کے لیے ضروری تھا کہ زرعی شعبے سے جو خام مال حاصل کیا جا رہا ہے اس کی قیمت کم اور صنعتی شعبہ جو مال زراعت کے شعبہ کو فروخت کر رہا ہے اس کی قیمت بڑھائی جائے۔ نئی اقتصادی پالیسی کے ابتدائی دور میں زرعی اشیا کی قیمتیں صنعتی شعبہ کی قیمتوں کے مقابلے میں تیز رفتاری سے گرتی رہیں۔ ستمبر ۱۹۲۳ء میں صنعتی قیمتوں کا اشاریہ ۱۹۱۳ء کے مقابلے میں نوے فی صد زیادہ اور زرعی قیمتوں کا اشاریہ پچیس فی صد کم تھا۔ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۲۳ء تک سوویت معیشت میں زرعی اور صنعتی قیمتوں میں تبدیلی کے متضاد رجحان سے زرعی پیداوار شدید طور پر متاثر ہو رہی تھی۔ستمبر ۱۹۲۲ء میں ریاستی قیمتوں پر جبری وصول یابی کی تخفیف اور آزاد اجناس کی منڈیوں کے فروغ کے نتیجے میں یہ رجحان کم ہونے لگا۔ صنعتی قیمتیں گرنے لگیں اور زرعی اشیا کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ مارچ ۱۹۲۴ء میں زرعی قیمتوں کا اشاریہ ۱۹۱۳ء کے مقابلے میں صرف دو فی صد کم اور صنعتی قیمتوں کا اشاریہ صرف بیس فی صد زیادہ تھا۔

۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۷ء تک بالشویک جماعت میں اندرونی خلفشار کا دور ہے۔ ۱۹۲۳ء میں لینن بیمار پڑا اور اس کی آواز سلب ہو گئی، دماغی قوت بھی متاثر ہوئی اور اس نے اسٹالن کو پارٹی کا سیکریٹری جنرل نامزد کر دیا۔ ۱۹۲۴ء میں لینن مر گیا اور ٹراٹسکی کی کش مکش شدت اختیار کر گئی۔ کش مکش کی ابتدا بالشویک جماعت کے دائیں اور بائیں بازو کے درمیان تھی اور دو اکنامسٹ اس میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ دایاں بازو NEP کے اقدامات کی توسیع کرنا چاہتا تھا اور بالخصوص زرعی ترقی اور اس کی بنیاد پر بیرونی تجارت کے فروغ پر زور دیتا تھا۔ بایاں بازو ٹراٹسکی کی قیادت میں NEP کی توسیع کا مخالف تھا اور کہتا تھا کہ زرعی شعبہ کو سہولتیں فراہم کرنے کے نتیجے میں لازماً صنعت کاری کی رفتار سست پڑے گی اور ریاست کے ہاتھ معاشی زمام کار NEP کی طرف منتقل ہوتی چلی جائے گی اور سوویت یونین عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو جائے گا۔ ابتدا میں اسٹالن ان دونوں دھڑوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی جستجو کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن ان دونوں کی کش مکش سے فائدہ اٹھا کر اسٹالن نے بخارن کو قتل کر دیا اور ٹراٹسکی کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا اور بالشویک پارٹی پر اپنا شخصی اقتدار مسلط کر دیا۔۱۹۲۷ء میں بلاشرکت غیرے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اسٹالن نے Probaski کے وضع کردہ صنعت کاری پروگرام کوعملی جامہ پہنایا۔

۱۹۲۸ء میں سوویت یونین کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ نافذ کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد اس کاشت کار طبقے کو ختم کرنا تھا جو زرعی اجناس کی منڈیوں کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے امیر ہوتے جا رہے تھے اور بڑی بڑی زرعی ملکیتیں ان کے قبضہ میں آ رہی تھیں۔ انہیں جبری وصول یابیوں کے نظام کے تحت کیا گیا اور صنعتی اشیا کی قیمتیں زرعی اشیا کی قیمتوں کے مقابلہ میں تیزی سے بڑھنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں صنعتی منافع اور صنعتی سرمایہ کاری کی رفتار تیزی سے بڑھی اور صنعتی منافع اور سرمایہ کاری کی رفتار تیز کرنے کے لیے صنعتی مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافے کو منجمد کر دیا گیا۔ ان صنعتوں میں سرمایہ کاری کی گئی جو مشینری اور ذرائع پیداوار بناتی تھیں۔ روزمرہ کی اشیا بنانے والی اشیا کی صنعتوں کی حوصلہ شکنی کی گئی اور صنعتی شعبہ اور تجارتی شعبہ میں نجی ملکیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔

زرعی شعبہ میں وسیع پیمانے پر اجتماعی کھیت منظم کیے گئے۔ کسانوں سے املاک چھین لی گئیں اور دوسرے اور تیسرے پلانوں کے دور میں تقریباً چالیس لاکھ کسانوں کو قتل کر دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنی زمینوں کے چھن جانے کے خلاف مزاحمت کرتے تھے۔ تعجب کی بات ہے کہ وسیع اراضی چھن جانے کے باوجود روسی عیسائیت، قائدین اور انتظامیہ نے اس مزاحمت میں کوئی حصہ نہیں لیا اور اسٹالن کے دور اقتدار (۱۹۲۷ء تا ۱۹۵۲ء) میں بالشویک جماعت کی اعلانیہ دہریت کے باوجود روسی عیسائیت کمیونسٹ پارٹی کی شریک کار بنی رہی۔ اسٹالن کی تحریک میں روسی چرچ نے ایک نہایت گھناؤنا اور مکروہ کردار ادا کیا[159]۔اسٹالن کی پالیسیوں کے نتیجے میں زرعی پیداوار تیزی سے کم ہوئی۔ کسانوں نے لاکھوں بھیڑ بکریاں اور گھوڑے ذبح کر ڈالے اور روس میں قحط پڑ گیا۔

زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے بالشویک جماعت نے ریاستی استبدادی ذرائع کا وسیع ترین استعمال کیا۔ اجتماعی فارم کے پیداواری اہداف حاصل کرنے کے لیے ہر فارم میں مخبری کا ایک وسیع جال بچھایاگیا اور جو کسان ان اہداف کے حصول کے لیے بھرپور محنت نہیں کرتے تھے ان کو سخت ترین سزائیں مسلسل بارہ سال تک دی جاتی رہیں۔ اس ریاستی استبداد کے نتیجے میں زرعی پیداوار ۱۹۳۰ء کی دہائی سے بڑھنے لگی۔ صنعتی شعبہ میں ٹریڈ یونینوں کو ریاستی استبداد کا نشانہ بنایا گیا۔ ۱۹۳۰ء میں بڑے پیمانے پر ٹریڈ یونین لیڈروں کا قتل عام کیا گیا اور اگلے سال سے یونین ریاستی استبدادی نظام میں ضم ہو گئی۔ ان کا مقصد پلان کے اہداف کا حصول اور صنعت کے شعبہ کے اخراجات میں کمی کی اسکیمیں وضع کرنا تھا۔ اجتماعی سودے بازی کا کوئی امکان موجود نہیں رہا۔ اجرتوں کا تعین صرف مینجمنٹ کرنے لگی۔ ہڑتال، غیرحاضری، تاخیر سے آمد اور سستی جرائم قرار دیے گئے اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ جبری محنت کا ایک وسیع قومی نظام مرتب کیا گیا اور آبی بند، سڑکوں، سونے، تیل اور گیس کی کان کنی کے لیے لاکھوں جبری مزدوروں کو کئی کئی مہینوں تک مسلسل مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں تیس لاکھ مزدور کام کرتے کرتے مر گئے۔ روسی صنعت لاکھوں بے گناہ مزدوروں کی لاشوں پر کھڑی کی گئی ہے۔

ان پالیسیوں کو اپنانے کے نتیجے میں سوویت معیشت نے ۱۹۲۸ء تا ۱۹۳۹ء کے دورانیے میں برق رفتاری سے ترقی کی۔ سرمایہ کاری کی رفتار تمام لبرل سرمایہ دارانہ ممالک کی سرمایہ کاری کی رفتار سے بہت زیادہ تھی۔ زرعی اور صنعتی پیداوار بہت تیزی سے بڑھی۔ بیروزگاری جو ۱۹۲۰ء کی دہائی میں بیس لاکھ سے زیادہ مزدوروں پر مشتمل تھی، بالکل ختم ہو گئی۔ افراطِ زر کا کوئی ظاہری وجود باقی نہ رہا اور مجموعی آمدنی اور فی کس قومی آمدنی میں مستقل اضافہ ہوتا رہا۔ اسی سرمایہ دارانہ ترقی نے یہ ممکن بنا دیا کہ دوسری جنگ عظیم کا فاتح سوویت روس ہی تھا۔دوسری جنگ عظیم میں عظیم الشان فتح حاصل کرنے کے بعد تقریباً ۱۹۵۶ء تک سوویت یونین نے یہی پالیسیاں اختیار کیے رکھیں اور اس ملک کی سرمایہ کاری اور قومی آمدنی کی بڑھوتری کی رفتار مغربی یورپ اور شمالی امریکا کی لبرل سرمایہ دارانہ ریاستوں کی بڑھوتری کی رفتار سے واضح طور پر زیادہ رہی۔ ۱۹۲۸ء سے مسلسل جاری اس برق رفتار سرمایہ کاری کی ترقی نے خروشیف کو اس بات کا حوصلہ دیا کہ اس نے ۱۹۵۸ء میں امریکا کو للکارا ’’ہم تمہیں عن قریب دفن کر دیں گے‘‘۔

خروشیف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ریاستی استبدادی پالیسیاں بتدریج نرم کی جانے لگیں۔ مزدوروں کی سزاؤں اور فیکٹری ڈسپلن میں کمی کی گئی۔ جبری کیمپ ختم کر دیے گئے۔ کسانوں سے جبری وصول یابی کا نظام بھی لبرلائز کر دیا گیا اور قیمتوں کے تعین میں رسد اور طلب کی قوتوں کے کردار کو تسلیم کیا جانے لگا۔ اسٹالن کے دور میں وزارتیں ہر فیکٹری کے پیداواری سالانہ اہداف مقرر کرتی تھیں، وزارت منصوبہ بندی ہر شے کی قیمت متعین کرتی تھی۔ اس پورے نظام کو بہ تدریج لبرلائز کیا گیا۔گو کہ لبرلائزیشن کی رفتار قدرے سست تھی لیکن گورباچوف کے دور حکومت تک سوویت یونین ریاستی منصوبہ بندی کا دائرہ اختیار محدود اور مارکیٹ کا دائرہ اختیار تسلسل کے ساتھ بڑھتا رہا۔ استبدادی اور آمرانہ پالیسیوں کے اختتام کے نتیجے میں سوویت یونین میں ۱۹۷۴ء کے بعد سے سرمایہ کاری کی رفتار بڑھوتری مستقل گرتی رہی۔ ۱۹۶۸ء کے بعد سے سوویت یونین نے بڑے پیمانے پر عالمی مالیاتی اداروں اور بینکوں سے قرضے لینے شروع کیے اور درآمد و برآمد کا کاروبار بڑی تیزی سے فروغ پانے لگا۔ بین الاقوامی تجارت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی ماتحتی قبول کر کے سوویت یونین نے امریکا، جرمنی، فرانس اور جاپان کے لیے یہ ممکن بنا دیا کہ وہ بڑے پیمانے پر سوویت یونین میں تخریب کاری کریں اور ان لبرل سرمایہ دارانہ ملکوں نے سوویت یونین کے ۱۹۸۰ء کے وسط سے شروع ہونے والے بحران سے پورا پورا فائدہ اٹھاکر کمیونسٹ پارٹی میں اپنے حمایتی داخل کر دیے۔ ان تخریب کاروں کی کوششوں سے سوویت یونین ۱۹۹۱ء میں مسمار ہو گیا اور اس وقت سے آج تک سابق سوویت یونین ریاستیں بشمول روس اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام سے لبرل سرمایہ دارانہ ریاستی اور معاشرتی نظم کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے ہیں [160]۔

اشتراکی سرمایہ داری کی ناکامی کی بنیادی وجہ اشتراکی سرمایہ دارانہ انفرادیت کا عدم وجود ہے۔ اشتراکی سرمایہ دارانہ انفرادیت غضب اور نفرت سے مغلوب انفرادیت ہے۔ یہ انفرادیت کمیونسٹ جماعتوں میں پیدا کی گئی اور نفرت اور غضب سے مغلوب ہو کر کمیونسٹ کارکنوں نے اضطراری ادوار میں جان و مال کی عدیم المثال قربانیاں دیں۔ ان ادوار میں وہ عام روسی شہریوں کی نظر میں یقیناًقابل تقلید ہیرو بن گئے اور ان کی عوامی پیروی کی جانے لگی۔ سول وار کے دور میں کمیونسٹ پارٹی کو بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی حاصل رہی۔
لیکن جب حالات معمول پر آئے تو نہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کا جذبہ ایثار و سرفروشی باقی رہا نہ ملک کی سا لمیت باقی رہی۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس کی فوجیں اپنے روسی حلیفوں کے ساتھ ذلت آمیز شکست کھا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئیں۔ بورژوا اور زمین دار طبقہ بالکل ختم کر دیا گیا۔ تمام کمیونسٹ جماعتیں پورے سوویت یونین میں بے دردی سے کچل دی گئیں اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی مطلق العنان حاکم بن گئی۔ ایثار اور خود فروشی کی اب کوئی ضرورت باقی نہ رہی اور NEP کے دور سے کمیونسٹ قیادت نے سفاکانہ اور عیاشانہ طرز زندگی اختیار کیا۔ ۱۹۲۲ء سے ۱۹۳۱ء کے دورِلینن کے کئی معاشقے اور جنسی بے رہ روی کے قصے مشہور ہیں۔ لینن کی موت کے بعد اسٹالن اور ٹراٹسکی کی خانہ جنگی نے کمیونسٹ پارٹی کے امیج کو شدید مجروح کیا اور ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۹ء تک جاری رہنے والی ریاستی دہشت گردی نے عوام کو کمیونسٹ جماعت کا دشمن بنا دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دور میں یہ نفرت سرد پڑ گئی کیوں کہ اس دور میں جرمنی نے لاکھوں روسی قتل کیے اور اسٹالن نے قوم پرستی کے جذبات کو فروغ دیا۔

روسی فوج کی شان دار کامیابیوں نے عوام میں اسٹالن کی مقبولیت کو دوبارہ زندہ کر دیا لیکن اس کی موت کے بعد سے کوئی بھی کمیونسٹ عوامی مقبولیت حاصل نہ کر سکا۔ سرد جنگ کے پورے دور میں سوویت یونین نے بزدلانہ مصالحتی رویہ اختیار کیے رکھا اور کہیں بھی امریکا کا براہِ راست مقابلہ نہ کیا۔ عوام کی نظروں میں کمیونسٹ حکومت قابل نفرت ہوتی چلی گئی اور اس قابل نفرت کمیونسٹ قیادت سے نجات پانے کے لیے عوام بے تاب ہو گئے۔ سوویت یونین اور دیگر مشرقی یورپی ممالک کے عوام امریکا کو اپنا دشمن نہیں اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے اور گورباچوف کے دورحکومت میں ان کویقین آ گیا کہ امریکی اعانت کے بغیر وہ کمیونسٹ اقتدار سے نجات نہ پا سکیں گے۔

مارکس اور لینن دونوں کی توقع تھی کہ پرولتاری آمریت یعنی سوشل ازم کے دور میں سوویت مین [161] وجود میں آئے گا۔ سوویت مین وہ انفرادیت ہے جو اپنے ذاتی مفاد پر پرولتاری طبقے کے مفاد[162] کو ہر حال میں فوقیت دیتی ہے اور اپنی جان اور مال اور آزادی کو طبقاتی مفادات کو فروغ دینے کے لیے ہر وقت بے تاب رہتی ہے۔ یہ سوویت مین مختصر وقفوں کےلیے (۱۹۳۵ء ۔۱۹۴۰، ۱۹۲۸ء ۔۱۹۳۱ء، ۱۹۱۱ء ۔۱۹۱۹ء) کمیونسٹ پارٹی میں نمودار ہوا اور سوویت معاشرے میں اس کا عمومی وجود صرف دوسری جنگ کے دور تک محدود رہا [163]۔ نارمل حالات میں سوویت مین اپنا وجود برقرار رکھنے سے قاصر ہوتا ہے اور سوشلسٹ انفرادیت لامحالہ لبرل انفرادیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ کام کمیونسٹ پارٹی میں بھی ہوتا ہے اور تمام سوشلسٹ معاشرہ اور ہر جگہ ہیومن بینگ اپنے ذاتی مفاد کو گروہی یا نوعی مفادات پر ترجیح دینے لگتا ہے اور اس کی عقلیت اس کی خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہو جاتی ہے۔ وہ حرص کا بندہ بن جاتا ہے۔ سوشلسٹ معاشرہ مارکس کی خیالی جنت کی طرف مراجعت نہیں کرتا بلکہ بالغ ہو کر لبرل معاشرے میں دوبارہ ضم ہو جاتا ہے کیوں کہ لبرل معاشرہ ہی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو فروغ دینے کا سب سے موثر ذریعہ ہے اور یہی بات لبرل ریاست کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔

12۔ ماؤزے تنگ اور ڈینگ

کیا چینی سرمایہ دارانہ نظام بتدریج لبرلائز ہو رہا ہے؟ ماؤ نے ساری زندگی اس لبرلائزیشن کے خلاف جدوجہد کی۔ ۱۹۷۸ء تک کمیونسٹ پارٹی پر ماؤ کی فکر کا مکمل غلبہ رہا اور ماؤ کے خلاف کمیونسٹ پارٹی کے اندر تمام بغاوتیں بری طرح ناکام ہوئیں۔ ماؤ کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے تھا اور اپنی موت تک وہ ان دو کمیونسٹوں میں سے تھا جو کمیونسٹ پارٹی کی پہلی قومی کانگریس منعقدہ نومبر ۱۹۲۱ء بمقام شنگھائی میں شریک ہوئے تھے [164]۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار ۱۹۳۵ء میں حاصل ہوا۔

چین میں مارکسی افکار کی ترویج انقلاب روس سے کافی قبل شروع ہو گئی تھی۔ مبتدی مارکسسٹ مفکرین اور رہنماؤں میں Lex Hen Chax, Chen Tuhsiu, Ho Shuheing اور Tung Piwa شامل تھے [165]۔

کمیونسٹوں نے Sun Tat-sen کی حکومت کی۱۹۱۱ء سے حمایت کی۔ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۲۵ء تک کمیونسٹوں اور Kuomintang جماعت میں تعاون قائم رہا اور لینن اور اسٹالن کی حکومتوں نے Kuomintangحکومت کو اپنا حلیف گردانا۔ Sun Yat-sen کی موت کے بعد Ching Kaushek اور کمیونسٹوں میں گہرے اختلافات پیدا ہو گئے اور ۱۹۲۷ء میں کمیونسٹوں نے حکومت کے خلاف عام ہڑتال کر دی۔ انہوں نے شنگھائی پر قبضہ کر لیا اور فوج کی چھہ بٹالینوں نے کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ Chang Kaushek کی افواج نے بغاوت کو سختی سے کچل دیا اور پانچ ہزار سے زیادہ کمیونسٹ حامی مارے گئے۔ کمیونسٹوں کو حکومت سے نکال دیا گیا۔ جوابی کارروائی میں کمنونسٹوں نے اپنی فوج ’’پیپلز لبریشن آرمی (PLA) قائم کی۔

ماؤ نے کمیونسٹ پارٹی میں اپنا اقتدار PLA کے ذریعے ہی قائم کیا۔ PLA نے ملک میں اپنے انقلابی گڑھ قائم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۲۷ء تک چینی کمیونسٹ حمایت ایک شہری قوت تھی لیکن شنگھائی کی ناکام بغاوت کے بعد اس کو شہروں میں کام کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔

۱۹۳۲ء میں جاپان نے چین پر حملہ کر دیا اور ایک وسیع علاقے پر جاپانی قابض ہو گئے۔ ۱۹۳۳ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے اپنا تاریخی لانگ مارچ شروع کیا جو دو سال تک جاری رہا۔ PLA کی قیادت میں شہروں سے نکل کر کمیونسٹ حامی اپنے علاقوں کی طرف سفر کرتے رہے جہاں نہ Kuomintangکا قبضہ تھا نہ جاپانیوں کا۔ یہ لانگ مارچ ۱۹۳۵ء میں دورافتادہ علاقے پنان کے غاروں میں جا کر ختم ہوا۔ ۱۹۳۵ء سے ۱۹۳۷ء کے دور میں PLA کی فتوحات میں اضافہ ہوتا رہا اور اس کے برعکس چین کی قومی فوج جاپانیوں کے خلاف ہر جگہ پسپا ہوتی رہی۔۱۹۳۷ء میں کمیونسٹوں اور Kuomintang نے جاپانی افواج کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا۔ ۱۹۳۷ء سے کمیونسٹ دوبارہ حکومت کا حصہ بن گئے۔ دیہی علاقوں میں ان کا نظام اقتدار محفوظ اور وسیع تر ہوتا چلا گیا اور وہ دوبارہ شہروں میں اپنا حلقہ اثر قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ۱۹۴۵ء میں جاپانی شکست خوردہ افواج چین سے نکالنے پر امریکا نے مجبور کر دیں۔ ۱۹۴۹ء سے ۱۹۵۷ء تک چین میں سول وار جاری رہی جس کے اختتام پر کمیونسٹ حکومت بیجنگ میں قائم ہو گئی اور Cheng Kaishek کو تائیوان فرار ہونا پڑا[166]۔ 

۱۹۳۵ء سے قبل چینی کمیونسٹ پارٹی میں مختلف دھڑے موجود تھے اور ۱۹۲۵ء تک کے دور میں شہروں سے انخلا کی حکمت عملی پر اختلافات پیدا ہوئے لیکن PLA کی عسکری کامیابیوں نے اس حکمت عملی کی درستگی پر بیش تر ممبروں کو قائل کر لیا۔ ۱۹۳۵ء سے ۱۹۵۰ء تک ماؤ کی فکر کمیونسٹ پارٹی پر غالب رہی اور ۱۹۵۰ء سے ۱۹۷۸ء تک اسی فکر کی بنیاد پر ریاستی پالیسی سازی کی جاتی رہی لیکن ۱۹۵۰ء کے بعد سے پارٹی میں فکری اور نظریاتی اختلافات ابھرنے لگے اور اپنے دور اقتدار میں کئی دفعہ اپنے پارٹی مخالف رہنما کے خلاف عوامی مہمات چلانی پڑیں۔ ماؤ کی موت کے بعد اس کی فکری اساس کی تشریح نو عمل میں آئی اور اس کے ایک قدیم پارٹی مخالف Deng Xaoping کے نظریات پالیسی سازی میں اہمیت اختیار کر گئے۔ آج چینی کمیونسٹ پارٹی ماؤ اور ڈینگ دونوں کو اپنا رہنما گردانتی ہے اور ریاستی حکمت عملی دونوں رہنماؤں کی تعلیمات کے مطابق بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے برخلاف چین سے باہر ماؤسٹ جماعتیں مثلاً ہندوستان، نیپال، فرانس، بولیویا وغیرہ میں، ڈینگ کو مرتد اور غدار تصور کرتی ہیں۔

12.1۔ ماؤ کا مارکس ازم

ماؤ کی نظریاتی تعلیمات بنیادی طور پر اس کی تین کتابوں سے اخذ کی جاتی ہیں[167]۔ ماؤ کے مطابق ’’علم کی حقانیت‘‘معاشرتی عمل سے ہی ثابت کی جا سکتی ہے۔ بیرونی دنیا کے حقائق کا ادراک معاشرتی عمل سے حاصل شدہ نتائج سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ معاشرتی عمل علم کو جنم دیتا ہے اور اس علم کی حقانیت کو جانچنے کا واحد پیمانہ وہ عمل ہے جو اس علم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ماؤ کی فکر کی تجرباتیت اور نتائجیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی نظر میں حق وہ عمل ہے جو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے مفید ہو۔ مارکسی نظریہ جدلیاتی مادیت اس لیے ہے کہ اس نظریہ کی بنیادپر جو معاشرتی جدوجہد کی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں آزادی اور ترقی فروغ پاتی ہے۔

لیکن آزادی اور ترقی کا فروغ کیوں ضروری ہے اور کمیونسٹ انقلاب کیوں وہ واحد ذریعہ ہے جس کے نتیجے میں آزادی اور ترقی فروغ پا سکتی ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے کی ماؤ کوشش نہیں کرتا۔ اس کا خیال ہے کہ مخلص لوگ لازماً آزادی اور مساوات کا فروغ چاہتے ہیں اور یہی ان کے مخلص ہونے کی پہچان ہے۔ جیسے جیسے یہ مخلصین انقلابی جدوجہد میں ذاتی طور پر شریک ہوتے جائیں گے ان کو آزادی اور ترقی کے فروغ کے اس طریقہ کار کی حقانیت واضح ہوتی چلی جائے گی۔ حق کی شناخت کا تقاضا ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ مشاہدات اور تجربات میں شرکت کی جائے اور ان سے نتائج اخذ کیے جائیں [168]۔حق تاریخی تجربات اور فکری مباحث کے مطالعہ سے اخذ نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ مارکس اور اینگلز اور لینن جدلیاتی مادیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں[169]، بلکہ مخلص کارکن کے اپنے اندر اور کمیونسٹ پارٹی کے کامیاب تجربات[170] اور معاشرتی عمل بالخصوص پارٹی کے عمل میں ہے اور عمل اور نظریہ کی صحیح تشریح ماؤ کی فکر میں ملتی ہے۔ وہ جو چینی تجربات سے اخذ کردہ ماؤسٹ تشریح حقیقت پر مارکس اور لینن کے نظریات کی بنیاد سے تصادم کا اظہار کرتے ہیں نظریاتی متشدد ہیں اور انہی کے خلاف "On Practice"لکھی گئی تھی۔

معاشرتی عمل ہمہ جہت ہے۔ ماؤ کے مطابق وہ طبقاتی کش مکش سیاسی تغیر، سائنسی اور فنی تجربات میں رونما ہوتا ہے۔ انقلاب کے برپا ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک طبقاتی کش مکش جاری رہے گی۔ یہ ماؤسٹ فکر کا ایک بنیادی مفروضہ ہے جو کم از کم مارکس کے ہاں نہیں پایا جاتا [171]۔ لیکن اشتراکی ریاست میں یہ طبقاتی کش مکش پیداواری نظام میں نہیں بلکہ سیاسی نظام بالخصوص کمیونسٹ پارٹی کے اندر وقوع پذیر ہو گی۔ ماؤ کے دور میں اس کی سب سے نمایاں مثال ’’عظیم ثقافتی انقلاب‘‘ ہے جو ۱۹۶۶ء سے ایک دہائی بعد تک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔

طبقاتی کش مکش کے سوشلسٹ دور میں جاری رہنے کا یہ تصور ماؤ کے نظریہ تضادات کا ایک پہلو ہے۔ ماؤ کے مطابق کسی شے میں تغیر اس کے اندرونی تضادات کے ٹکراؤ کے نتیجے میں رونما ہوتا ہے اور یہی تغیر بنیادی وجہ ہے۔ خارجی تعبیرات اسی نوعیت میں ردعمل پیدا کر سکتے ہیں لیکن ان کا اثر ثانوی حیثیت کا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ماؤ جو بنیادی سوال اٹھاتا ہے وہ یہ ہے ’’تضادات کو رفع کیسے کیا جائے؟“ اپنے اس مفروضے کے باوجود کہ شے میں تغیر اندرونی تضادات کی بنیاد پر ہوتا ہے ماؤ تضادات کو رفع کرنے کے عمل میں بیرونی قوتوں کو فیصلہ کن قرار دیتا ہے۔ لہٰذا بورژوا اور پرولتاریہ کے تضاد کو کمیونسٹ پارٹی انقلا ب برپا کر کے رفع کرتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی یہ تضاد اس وجہ سے رفع کر سکتی ہے کہ اس کی تنظیم ٹھوس اور اس کی تجویز کردہ حکمت عملی ایسی تھی کہ پارٹی میں نمودار ہونے والی کم زوریوں پر قابو پا لیا گیا۔ یہ صحیح پارٹی لائن متعین کرنا پارٹی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

ماؤ کے تصورات کے مطابق مادی حالات میں تغیرات سے زیادہ اہم قیادت کی درست پارٹی لائن متعین کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ جب ماؤ کمیونسٹ پارٹی کی پالیسی کے تغیرات بیان کرتا ہے تو مادی حالات کے مقابلہ میں قیادت کے رویہ اور خیالات فوراً واضح ہو جاتے ہیں۔ بقول ماؤ ۱۹۲۷ء میں پارٹی نابالغ تھی۔ ۱۹۲۷ء سے ۱۹۳۵ء تک اہم نمو ہوئی اور ۱۹۳۵ء کے بعد جب ماؤ کا اقتدار قائم ہوا تو اس نے صحیح لائن اختیار کی۔ اس پورے تجزیے میں یہ بالکل واضح ہے کہ فیصل شے قیادت کی نظریاتی درستی سے حالات کا تغیر نہیں۔ پارٹی کی قیادت درست رویہ اس لیے اختیار نہیں کرتی کہ وہ پرولتاریہ کی حقیقی نمایندہ جماعت ہے۔ اور پرولتاریہ کو تاریخی عمل کے نتیجہ میں لازماً انسانیت کا نجات دہندہ طبقہ مارکس نے کہا تھا۔ پارٹی پرولتاریہ کی نمایندہ جماعت اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اس کی قیادت صحیح پارٹی لائن مرتب کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

لینن کی طرح ماؤ بھی انقلابی عمل کا بنیادی محرک کمیونسٹ پارٹی کو سمجھتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی میں تضادات موجود ہوتے ہیں اور ان تضادات کو رفع کرنے کا طریقہ تنفیذ اور خود تنقیدیت ہے۔ تضادات کا مطلب دشمنی نہیں۔ تضادات ماؤ کے بقول تنفیذ اور خود تنقیدیت کے ذریعہ رفع کیے جا سکتے ہیں۔ اشتراکی غلبہ کے بعد بورژوا اور پرولتاریہ کے درمیان تضادات کو بھی پرامن طریقوں سے رفع کیا جا سکتا ہے اگر کمیونسٹ پارٹی صحیح پارٹی لائن اختیار کرے لیکن کچھ مواقع پر ان تضادات کو رفع کرنے کے لیے پرتشدد طریقوں کا اختیار کرنا ضروری ہے اور یہ پرامن اور پرتشدد طبقاتی کش مکش سوشل ازم کے دور میں پارٹی کے اندر بھی جاری رہتی ہے اور پارٹی کے باہر بھی۔

لینن کی طرح ماؤ بھی اصلاً ایک انقلابی تھا۔ اس نے مارکسسٹ نظریات کو چین میں اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا[172]۔ ماؤ کا فلسفہ اس کی سیاسی جدوجہد کے تابع تھا۔ اس کی سیاسی جدوجہد اس کی نظریاتی وابستگی کی تشریح نہ تھی۔ جیسا کہ اس نے خود کہا تھا وہ سیاسی عمل کی حاکمیت کا قائل تھا اور ماؤ کے فلسفیانہ نظریات اس کی سیاسی جدوجہد کے تابع ہیں۔ ماؤ کی کامیابی بنیادی طور پر PLA کی مرہونِ منت تھی۔ ماؤ نے چودہ سال تک ایک ایسی جنگ لڑی جس نے ایک گوریلا مزاحمت کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ اس کا یہ کارنامہ یگانہ روزگار ہے۔ ابھی تک ویت نام کے علاوہ کسی بھی گوریلا جدوجہد نے کامیابی کے ساتھ اپنے آپ کو ایک عوامی تحریک میں ڈھالنے میں کامیابی حاصل نہیں کی ہے اور ویت نام کے برخلاف یہ کام ماؤ نے بغیر کسی بیرونی امداد کے کیا تھا[173]۔ ماؤ ایک غریب کسانوں کی فوج کو فیصلہ کن فتح دلانے میں کامیاب ہوا اور اس کی پارٹی جس طرح ایک شہری سے دیہی قوت والی جماعت میں تبدیل ہو گئی ان دونوں کاموں کی تاریخی نظیر بہت کم ملتی ہے۔ عموماً کسان بغاوتیں ناکام ہوئی ہیں اور عموماً کسان حکومت نہیں کرتے ان پر حکومت کی جاتی ہے۔ بالشویک جماعت ۱۹۲۰ء کی دہائی کے وسط تک اپنی دیہی مقبولیت تقریباً بالکل کھو چکی تھی۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کو کسانوں کی اعانت آج تک حاصل ہے اور اس کے نظام حکمرانی کو استحکام بخشنے والا کسان اعانت سے مضبوط سہارا فراہم کرتا ہے۔

ماؤ نے کاشت کار طبقہ کی انقلابی جدوجہد میں اہمیت پر زور اس وقت سے دینا شروع کیا جب کمیونسٹ پارٹی کا ابھی چین میں کوئی وجود نہ تھا[174]۔ اس نے بڑے زمین داروں کو استعماری قوتوں کا آلہ کار گردانا۔ کسان طبقہ کو وہ تین ذیلی طبقات میں تقسیم کرتا ہے: امیر کسان، متوسط کسان اور غریب کسان طبقہ۔ غریب طبقہ دو اور ذیلی طبقوں میں تقسیم ہے: مفلس کسان اور غیر مفلس کسان۔ ماؤ کی تعلیمات کے مطابق کمیونسٹ پارٹی اور چینی پرولتاریہ کے اصل حلیف غریب کسان ہیں۔ درمیانے اور امیر کسانوں کا طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر انقلابی جدوجہد میں شامل نہیں ہوتا۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انقلابی جدوجہد کبھی کامیاب بھی ہو سکتی ہے۔ ماؤ کے مطابق متوسط کسان طبقوں میں مذہب، قدیم چینی روایات اور کنفیوشس کے افکار کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے اور یہ بھی ان کو جدوجہد میں شرکت کرنے سے روکتی ہیں۔

چین میں تاریخی طور پر کسان بغاوتیں وقتاً فوقتاً رونما ہوتی رہتی تھیں۔ سن یات سن کی موت کے بعد چین کے کئی علاقوں میں یہ بغاوتیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور ماؤ کے مطابق کمیونسٹ جماعت کو ان بغاوتوں سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ جنان کی بغاوت کے تفصیلی مطالعہ کے بعد ماؤ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اصل انقلابی قوت غریب کسان ہی فراہم کرتے ہیں۔ ۱۹۲۶ء سے جنان کے کسانوں نے پہلے ایک خفیہ تحریک کے ذریعہ تنظیم سازی کی اور پھر ان تنظیموں کے ذریعے بڑے زمین داروں کو علاقے سے نکالنے کی عوامی مہم برپا کی اور بیش تر بڑے زمین دار اپنی املاک چھوڑ کر شنگھائی بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ رفتہ رفتہ یہ کسان تنظیمیں مقامی حکومتوں کی شکل اختیار کرتی چلی گئیں اور ریاستی اقتدار ان کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگا۔ ۱۹۳۷ء میں یہ عمل اپنے عروج پر تھا اور ماؤ نے ۱۹۲۷ء میں اس علاقے کے طویل دورے کے بعد یہ رائے قائم کی کہ کمیونسٹ پارٹی کو زمین داروں کی بے دخلی کی عسکری جدوجہد میں بھرپور حصہ لینا چاہیے اور نئی قائم شدہ کسان تنظیموں میں داخل ہو کر ان کی انتظامی کم زوریاں دور کر کے ان کو لوٹ مار اور غیرمنظم اشتعال انگیزی سے باز رکھنا چاہیے۔

۱۹۲۷ء کے بعد سے کمیونسٹ عسکری جدوجہد منظم ہونے لگی۔ اس سرخ فوج کی بنیادِ نو اُن سات بٹالینوں نے کی جنہوں نے شنگھائی کی بغاوت میں کمیونسٹ پارٹی کا ساتھ دیا تھا لیکن ۱۹۲۹ء کے بعد یہ سرخ فوج بتدریج ایک کسان فوج بن گئی جس کا نام "Peoples Liberation Army (PLA) رکھا گیا اور لبریشن سے مراد دیہی علاقوں سے زمین داروں کا منظم انخلا نہیں تھا۔ PLA جو علاقہ بھی فتح کرتی وہاں کسان راج کا اعلان کردیا جاتا اور اس کسان راج کو منظم کرنے والی موثر قوت کمیونسٹ پارٹی فراہم کرتی تھی۔ ۱۹۴۴ء سے ۱۹۴۹ء کے دور میں چینی صنعتی مراکز اور بڑے شہروں نے اسی کسان فوج PLA کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ چینی انقلاب برپا کرنے والی عوامی قوت کسان تھے۔ یہ قوت PLA کی شکل میں منظم تھی اور اس نے ۱۹۳۵ء سے ۱۹۳۹ء تک مستقل عسکری جدوجہد کے ذریعے علاقہ جات فتح کر کے وہاں اپنا اقتدار قائم کیا۔ اس کے برعکس جس راست اقدام کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی نے اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کیا اس کا دورانیہ صرف سات ماہ تھا۔ روسی اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب کی اصل فاعل قوت پرولتاریہ کی تھی جو سوویت کی شکل میں منظم تھے۔ چینی سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب کی اصل محرک قوت غریب کسان اور وہ PLA کی بٹالینوں کے تحت منظم تھے۔

ماؤ کی معاشی پالیسی سازی کے بارے میں افکار زیادہ تر انقلاب کی کامیابی کے بعد مرتب کیے گئے۔ سول وار کے دور (۱۹۳۵ء تا ۱۹۴۹ء) میں تمام توجہ فکری جدوجہد پر تھی اور منصوبہ بندی کے امکانات محدود تھے۔ عموماً زمین داروں سے چھینی ہوئی زمینیں انفرادی کسان خاندانوں کے قبضہ میں آ گئیں گو کہ کچھ علاقوں میں اجتماعی ملکیت کے تجربات بھی کیے گئے۔ مربوط معاشی پالیسی کی تفصیل انقلاب کے بعد منظر عام پر آئی۔ اس ضمن میں ایک کلیدی کتابچہ "On the Ten Great Relationships" ہے جو ۱۹۵۱ء میں تحریر کی گئی اس کے مطابق معاشی پالیسی کے مقاصد حسب ذیل ہیں۔

۱۔ ترقی کے ساتھ ساتھ تقسیم آمدنی میں مساوات کو فروغ دینا۔

۲۔ خود کفالت کو معیشت کی ہر سطح (قومی، صوبائی، شہری اور دیہی) پر فروغ دینا

۳۔ منصوبہ بندی کے عمل کی غیر مرکزیت (De-centralization) کو فروغ دینا اور منصوبہ بندی کے عمل کو حکومت کی تمام سطحوں تک پھیلانا۔

۴۔ منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے جو ترجیحات اور انعامات (incentives) فراہم کیے جائیں وہ زیادہ تر نظریاتی ہوں مادی نہ ہوں[175]۔

۵۔ ذہنی اور جسمانی محنت کے فرق کو ختم کرکے موزوں اجرتی اور تربیتی پالیسیاں وضع کی جائیں۔

۶۔ معیشت کا رہنما شعبہ (Leading Sector) بھاری صنعتی شعبہ ہو لیکن اس کی ترقی چھوٹی صنعت اور زراعت کے شعبہ جات کی ترقی سے متوازن رکھی جائے۔

۷۔ علاقائی ترقی میں توازن رکھا جائے۔

۸۔ چینی معیشت میں جدید اور چینی روایتی ٹیکنالوجیز کو متوازن فروغ دیا جائے۔

۹۔ چھوٹی صنعت کا فروغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس شعبہ سے حاصل شدہ سرمایہ کاری کے وسائل میں زرعی شعبہ اہم ہے۔ ان وسائل کی وصول یابی کی ضرورت کم کرکے کسانوں کو زیادہ آمدنی فراہم کی جا سکتی ہے[176]۔
۱۰۔ سب سے اہم پہلو یہ کہ معاشی ترقی کی رفتار اور ترتیب نظام تحکم اور اقتدار کی ترقی سے ہم آہنگ ہو اور معیشت پر کمیونسٹ پارٹی کی گرفت مضبوط ہو جائے۔ ایسی معاشی قوتوں کو ابھرنے کا موقع فراہم نہ کیا جائے کہ مزدور کسان سیاسی اتحاد کے ریاستی اقتدار کے لیے خطرہ بن جائے۔ یہی Politics in command کے عالم گیر نظریہ کا مطلب ہے۔

۱۱۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر فرد کو ملازمت فراہم کرے اور سب کو آمدنی فراہم کرےاور معیار زندگی میں اضافہ ہوتا رہے۔

ماؤ ایک مارکسسٹ انقلابی ہے اور ہر مارکسسٹ انقلابی کی طرح وہ بھی ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کا خواہاں ہے۔ اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب کا مقصد آزادی، مساوات اور ترقی کے فروغ کے علاوہ اور کچھ نہیں اور آزادی، مساوات اور ترقی سرمایہ داری کے ذریعہ ہی فروغ پاتی ہیں۔ لہٰذا ماؤ کی قیادت میں جن علاقوں میں کمیونسٹ فوج PLA اور پارٹی نے ۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۹ء تک قبضہ کیا وہاں سرمایہ کاری بڑھانے کی بھرپور کوشش اور سرمایہ کاری کی رفتار کو تیز کرنا ۱۹۴۹ء سے ۱۹۷۶ء تک چینی حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل رہا۔ لیکن ماؤ معاشی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انفرادی، شعبہ جاتی اور علاقائی ناہمواریوں کو محدود کرنے اور متوازن ارتقا کا بھی قائل ہے اور اس کی حکومت نے ایسی پالیسیاں اختیار کیں جن کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی رفتار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دولت اور آمدنی اس کی انفرادی شعبہ جاتی اور صوبائی نامساویانہ تقسیم میں کمی ہو۔لینن کی طرح ماؤ بھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پیداواری اثاثہ جات کو حکومتی تحویل میں لے کر ذاتی ملکیت کو ختم کرنا ضروری سمجھتا ہے اور مارکیٹ کو ختم کرکے ریاستی منصوبہ بندی کے ذریعہ سرمایہ کاری کو منظم کرنا چاہتا ہے۔

لینن اور اسٹالن کے برخلاف ماؤ کی رائے میں ریاستی منصوبہ بندی کا نظام ڈی سنٹرالائزڈ ہے۔ وہ ادارتی، شعبہ جاتی، ضلعی اور صوبائی معاشی خود انحصاری پر زور دیتا ہے۔ ماؤ کی رائے میں منصوبہ بندی نظام کی یہ غیرمرکزیت اختیارات کی غیر مساویانہ تقسیم کو کم کرنے کا اہم ذریعہ ہے ۔لینن کی طرح ماؤ بھی انقلاب برپا کرنا اور اس کو جاری رکھنا کمیونسٹ پارٹی کی ذمہ داری گردانتا ہے۔ ماؤ کی پارٹی سوویت کمیونسٹ پارٹی کی طرح ایک vanguard جماعت ہے لیکن بالشویک جماعت کے برعکس انقلاب کی اصل محرک قوت پرولتاریہ نہیں کاشت کار ہوتے ہیں۔ ماؤسٹ پارٹی ان کی فوج بنا کر سرمایہ دارانہ گڑھوں پر قبضہ کرتی ہے اور کسانوں کو انقلاب سے متعلق رکھنا پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔

اس کے باوجود اسٹالن کی طرح Collectivisation [177]کے ذریعہ کاشت کاروں کو نیم پرولتاری بنانا ماؤ کی ترجیحات میں تھا۔مارکس اور لینن کی طرح ماؤ بھی ایک کٹر ملحد، خدا بیزار اور مذہب دشمن شخص تھا۔ اس نے ثقافتی انقلاب کے دور (۱۹۶۶ء تا ۱۹۷۷ء) میں مسلمانوں پر شدید ظلم ڈھائے۔ کمیونسٹ فوج PLA اور ریڈ گارڈز نے مسلم علاقوں میں کئی بار قتل عام کیا۔ مسلمانوں کے گھروں اور مسجدوں کو نذر آتش کیا گیا۔ مسجدوں میں سور پالے گئے۔ مسلمانوں کی لاشوں کو سور اور گدھوں کی کھالوں میں لپیٹ کر جلایا گیا[178]۔ چینی قدیم مذہبی اور اخلاقی روایات بالخصوص کنفیوشس ازم اور داؤازم کی تردید اور تذلیل ماؤ کے دور حکومت میں مستقل جاری رہی۔ ماکس اور لینن کی طرح ماؤ بھی مذہبی پیشواؤں کو لٹیروں کا آلہ کار سمجھتا تھا۔

12.2۔ کمیونسٹ چینی سرمایہ داری ۱۹۴۹ء تا ۱۹۷۸ء 

ذیل کے جدول میں ہم ماؤ کے دورِ حکومت میں ترقی کی رفتار کے انڈیکس پیش کر رہے ہیں۔ یہ انڈیکس ایک امریکی مخبر Alfred Eakotemنے مرتب کیے ہیں۔

جدول 1: ماؤ کے دور میں چینی معاشی ترقی (100=1950ء)

سال

زرعی پیداواری انڈیکس

صنعتی پیداواری انڈیکس

مجموعی پیداواری انڈیکس

فی کس آمدنی انڈیکس

1950ء

100

100

100

100

1952ء

108

151

117

111

1955ء

112

195

136

124

1960ء

91

317

155

136

1965ء

126

338

182

147

1970ء

145

419

221

172

1975ء

166

429

نامعلوم

نامعلوم

حکومت چین کے مطابق ماؤ کے دور میں ۱۹۵۰ء کے مقابلہ میں صنعتی پیداوار چار گنا ہو گئی۔ اس کے برعکس زرعی پیداوار صرف ۶۶ء۱ فی صد بڑھی اور اس کی رفتار بڑھوتری سالانہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اس کے برعکس اس پورے دورانیہ میں صنعتی ترقی ایک بڑھتی ہوئی رفتار سے مستقل ترقی کرتی رہی۔ ماؤ کے دور میں مجموعی پیداوار دوگنی سے زیادہ ہو گئی اور فی کس آمدنی ۸ فی صد بڑھی۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ماؤ کا دور تیز رفتار سرمایہ دارانہ ترقی کا دور تھا اور موجودہ استعماری پروپیگنڈا کہ ماؤ کے دور میں چینی معیشت انحطاط کا شکار رہی، حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

ماؤ نے صنعت کاری پر خصوصی توجہ دی۔ صنعتی شعبہ کا مجموعی پیداوار میں حصہ ۱۹۵۰ء میں تقریباً ۲۵ فی صد تھا یہ ۱۹۷۵ء میں بڑھ کر ۵۵ فی صد ہو گیا۔ زرعی شعبہ کا مجموعی پیداوار میں حصہ اس دور میں تقریباً ۶۰ فی صد سے گھٹ کر ۲۸ فی صد ہو گیا۔ انقلاب کے وقت چینی صنعتیں چھوٹی ہوا کرتی تھیں اور ان کی پیداوار روزمرہ کے استعمال کی حدتک محدود تھی۔ ۱۹۵۰ء میں چھوٹی صنعتوں کا حصہ مجموعی صنعتی پیداوار میں تقریباً ۷۵ فی صد تھا۔ ۱۹۷۵ء میں گھٹ کر ۵۰ فی صد رہ گیا اور بھاری صنعتیں جن کا حصہ ۱۹۵۰ء میں مجموعی صنعتی پیداوار میں ۲۵ فی صد تھا۔ ۱۹۷۵ء میں بڑھ کر تقریباً ۵۰ فی صد ہو گیا[179]۔

ماؤ کی حکومت نے سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دی۔ صنعتی مجموعی منجمد سرمایہ کاری ۱۹۵۵ء میں ۲ بلین ۳۲۶ ملین سے بڑھ کر ۱۹۷۵ء میں تقریباً نو بلین ہو گئی۔ یعنی ماؤ کے دور میں صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری چوگنی ہو گئی۔ جدول نمبر ۲ میں مجموعی سرمایہ کاری کی رفتار دی گئی ہے۔ یہ سرخ فوج کے دور میں مستقل بڑھتی رہی اور ۱۹۷۵ء تک چینی سرمایہ کاری کی رفتار دنیا کی سب سے زیادہ شرح سرمایہ کاری میں شمار کی جانے لگی۔
سرمایہ کاری کے باعث ہر بڑی صنعت کی پیداواری سکت میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ جدول3 میں ۱۹۵۲ء سے ۱۹۷۵ء تک کے دور میں صنعتی شعبہ کی پیداوار میں سکت سرمایہ کاری کےسبب ہونے والے اضافہ کا وہ تخمینہ پیش کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ نے مرتب کیا ہے۔

جدول 2: مجموعی سرمایہ کاری

سال

مجموعی قومی آمدنی میں سرمایہ کاری کا حصہ

1952ء

2104

1957ء

2409

1965ء

2701

1975ء

3605

ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ماؤ نے اپنے دورِ حکومت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھرپور توجہ دی۔ اس کی معاشی حکمت عملی کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی اس بے مثال ترقی کے باوجود عام لوگوں کا معیار زندگی بھی بڑھتا رہا۔

جدول 3: پیداواری سکت میں اضافہ 1953ء تا 1975ء

صنعت

شماریہ

مجموعی اضافہ

خام لوہا

دس ہزار ٹن

12214

اسٹیل

--

3660

توانائی کی پیداوار

--

3930

پٹرول کی صنعت

--

8509

کیمیکل کھاد

--

761

لکڑی

--

2632

ٹیکسٹائل مشینری

--

976

ریلوے

--

20144

سڑکوں کی تعمیر

--

2093290

Source: UNDP, People’s Republic of China

۱۹۵۶ء سے ۱۹۷۵ء تک کے دور میں مخصوص قومی آمدنی کی ترقی کی سالانہ شرح ۶۰۰ فی صد رہی۔ صنعتی شعبہ میں ۱۹۷۸ء میں اجرتوں کی اوسط شرح ۱۹۵۳ء کے مقابلہ میں تقریباً ۵۰ فی صد زیادہ تھی۔ ماؤ کے دورِ حکومت میں افراطِ زر (inflation) بالکل نہیں تھا اور قیمتوں میں اضافہ کی سالانہ رفتار صرف ایک فی صد تھی۔ ۱۹۵۳ء کے مقابلے میں ۱۹۷۵ء میں مجموعی چینی قومی آمدنی چار گنا بڑھ گئی تھی۔ ۱۹۴۹ء کے مقابلے میں مجموعی قومی آمدنی ۱۹۷۵ء کے مقابلے میں سات گنا زیادہ تھی۔ لیکن ۱۹۷۶ء میں چین ایک سیاسی بحران سے دوچار تھا اور یہ بحران کمیونسٹ پارٹی کے اندر پایا جاتا تھا۔ ماؤ کے حامی جن کو ۱۹۷۵ء تا ۱۹۷۶ء کے دور میں گینگ آف فور کہا گیا اور جن میں ماؤ کی بیوی بھی شامل تھی، ایسی پالیسیاں اختیار کرنے کے حق میں نہ تھے جن کے نتیجے میں نجی شعبہ معاشی قوت کا محور بن جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ایسا ہوا تو کمیونسٹ پارٹی کی معاشرتی سیاسی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی۔ اس کے برعکس کمیونسٹ پارٹی کا ’’دایاں بازو‘‘ جن کی قیادت ڈینگ ژباوینگ کر رہا تھا، سمجھتا تھا کہ نجی شعبہ کو معاشی ترقی کے مواقع فراہم کرنے سے کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو گا۔ ان ’’دائیں بازو‘‘ کے رہنماؤں کو عمومی طور پر عوامی پذیرائی حاصل تھی کیوں کہ سوویت عوام کی طرح چینی عوام بھی اشتراکی تنظیم معاشرت اور حیثیت کو ترک کرنا چاہتے تھے۔ عوام میں لالچ، خودغرضی اور عشرت پسندی عود کر آئی تھی اور وہ دیکھ رہے تھے کہ پرولتاری آمریت مارکس کی خیالی جنت (communist society) کی طرف پیش رفت ہونا ناممکن ہے۔ سوویت عوام کے برخلاف چینی عوام کمیونسٹ پارٹی کی حاکمیت سے بدظن نہ تھے۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں زیادہ معاشرتی اور معاشی آزادیوں اور ترقی کے مواقع کے حصول کے خواہاں تھے۔

ماؤ کے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کی رفتار میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ ابتدائی دس سالوں میں کمیونسٹ پارٹی نے سوویت امداد پر کافی انحصار کیا۔ ماؤ کے سوویت یونین سے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ سوویت یونین kuomintang جماعت کی حامی ۱۹۶۴ء تک رہی اور ماؤ نے چینی کمیونسٹ پارٹی میں سوویت نواز قائدین کی مرضی کے خلاف اپنی انقلابی عسکری جدوجہد مرتب کی[180]۔ ۱۹۵۳ء تک چینی کمیونسٹ پارٹی کے بیش تر سوویت نواز قائدین خارج کیے جا چکے تھے لیکن کوریا کی جنگ (۱۹۵۱ء تا ۱۹۵۳ء) کے سبب سوویت یونین چین کی واحد بیرونی مارکیٹ تھی جہاں سے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور ماہرین حاصل کیے جاتے تھے۔

۱۹۵۰ء کی دہائی کے وسط تک دیہی علاقوں میں انفرادی ملکیت کو ختم نہیں کیا اور چھوٹے تجارتی اور صنعتی کاروبار شہروں میں بھی چلنے دیے۔ ۱۹۵۳ء کے بعد سے عوامی مہمات کے ذریعے شہروں کے بیش تر کاروباروں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا اور زرعی علاقوں کی اجتماعی ملکیت کو فروغ دیا جانے لگا۔ ۱۹۵۶ء تک نجی ملکیت عملاًختم کر دی گئی اور صرف قومی اور اجتماعی ملکیت کی بنیاد پر پوری معیشت کو منظم کیا گیا۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی منصوبہ بندی سوویت یونین کی طرح اعلیٰ درجہ کی مرکزیت (high level of centralization) پر مروج تھی اور مرکزی منصوبہ بند ادارہ فیکٹری کی سطح تک تمام اہداف مقرر کرتا تھا۔ اس دور میں سرمایہ کاری نے صنعتی شعبہ کو ترجیح دی اور پہلے پانچ سالہ منصوبے (۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۷ء) میں زرعی شعبہ کا سرمایہ کاری میں حصہ صرف سات فی صد تھا جب کہ اس زمانہ میں یہ شعبہ مجموعی ملازمتوں میں ۸۵ فی صد افراد کےلیے روزگار فراہم کرتا تھا۔ اس دور میں سوویت منصوبہ بندوں کی طرح چین نے بھی زرعی اشیا کی قیمتوں کو صنعتی اشیا کی قیمتوں کے مقابلے میں کم رکھا تاکہ سرمایہ زرعی شعبہ سے نکل کر صنعتی شعبہ میں مرتکز ہو۔

ماؤ اور اس کے ساتھیوں کو اندیشہ تھا کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں کاشت کار دل برداشتہ ہو کر کمیونسٹ پارٹی سے بدظن ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ چینی معیشت کا سوویت یونین پر انحصار بڑھتا چلا جا رہا ہے اور چین اپنی قومی خود مختاری کھو رہا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں ماؤ نے Hundred Flowers Movement کا انعقاد کیا اس تحریک کا نعرہ تھا ’’سو پھولوں کو کھلنے دو‘‘ اور اس تحریک میں آزادی اظہار رائے پر زور دیا گیا۔ معیشت پر ریاست کی گرفت کو ڈھیلا کیا گیا۔ چھوٹی ضروریات کی اشیاء کے لیے نجی مارکیٹ قائم کرنے کی اجازت دی گئی اور مغربی ممالک کے مواصلاتی اور کاروباری تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی[181]۔ امریکا نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے گھس بیٹھیے چین میں داخل کر دیے۔ ان گھس بیٹھیوں نے جو کہ زیادہ تر امریکی تعلیم یافتہ دانش ور تھے اور چینی یونی ورسٹیوں میں نوکریاں کرتے تھے، کمیونسٹ پارٹی کے خلاف نفرتی مہمات (agitation) منظم کرنے کی کوششیں کیں۔ ۱۹۵۶ء میں سرمایہ کاری کی بڑھوتری کی رفتار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

۱۹۵۷ء میں ماؤ نے Hundred Flowers Movement کو ختم کر دیا اور معیشت اور سیاست پر کمیونسٹ پارٹی کی گرفت کو سخت کر دیا۔ ۱۹۵۸ء میں پہلی مرتبہ ماؤ نے سوویت یونین پر کھلی تنقید کی اور چین کے منصوبہ بندی کے نظام کی ترتیب نو کی ابتدا کی۔ وقت کے ساتھ سوویت یونین پر تنقید شدید ہوتی گئی اور ۱۹۶۲ء میں سوویت یونین نے اپنی امداد سے چلنے والے تمام منصوبے بند کر کے اپنے تمام ماہرین کو چین سے واپس بلا لیا۔۱۹۶۰ء کی دہائی میں ماؤ نے دو عوامی مہمات چلائیں۔ پہلی مہم کا نام Great Leap Forwardتھا اور اس کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری اور عمومی پیداوار کے ارتقا کی رفتار کو تیز کرناتھا اور چینی معیشت کو بحیثیت مجموعی بھی اور اس کے جزویات[182] کو بھی خود کفیل بنانا تھا۔ پیداوار اور سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانے کے لیے مادی مفادات کی فراہمی کے بجائے معاشرتی تحسین اور جذبہ ایثار اور قربانی پر زور دیا گیا۔ Great Leap Forward کے دور میں جب زرعی شعبہ میں Collectivisationیعنی اراضی کو جمع کر کے اس پر کاشت کاروں کی اجتماعی ملکیت قائم کرنا، کی تحریک کو مہمیز فراہم کیا گیا تو کسانوں کے معاوضے ان کی ضروریات کے مطابق متعین کیے جاتے تھے[183]۔ صنعتی شعبہ میں بھی اجرتوں کے فرق کو ختم کرنے کی جدوجہد ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۶ء تک مسلسل جاری رہی۔ 

شعبہ جاتی خود کفالت پر اصرار ماؤ کی تعلیمات کا ایک اہم جزو مارکس کے specie being کی طرح ماؤ کا doumanshou بیک وقت کاری گر، کاشت کار، فوجی اور طالب علم ہوتا ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور ان معنوں میں قدرت پر حاوی ہوتا ہے۔ اس کی اکیلی وابستگی قومی سرمایہ کاری کی رفتار بڑھوتری کو فروغ دینے سے ہوتی ہے۔ یہی اس کا مقصد حیات ہوتا ہے۔اگر ہر صوبہ، ہر ضلع، ہر شہر، ہر دیہات، ہر کارخانہ اور ہر اجتماعی کھیت کو خود کفیل بنانا ہے تو لازماً ہر معاشی اکائی کو اپنی منصوبہ بندی خود کرنے کا اہل بنانا ضروری ہے۔ چینی منصوبہ بندی کا نظام ۱۹۶۲ء کے بعد سے بتدریج decentralize یعنی غیر مرکزی کر دیا گیا اور معیشت کی ہر سطح پر مقامی منصوبہ بندی کا نظام قائم کیا گیا۔ یہ سوویت تصورِ منصوبہ بندی جو اعلیٰ مرکزیت کاغماض ہے یہ بالکل مختلف تصور ہے[184]۔

Great Leap Forward کے دوران خود کفالت کو ہر سطح پر فروغ دینے کےلیے بڑے پیمانہ پر صنعتی تجربات کیے گئے جو ناکام ثابت ہوئے۔ ان میں سب سے مشہور گھریلو اسٹیل سازی کے تجربات تھے۔ یہ تجربات ماؤ کے اس اعتقاد پر مبنی تھے کہ doumanshou کی تخلیقی صلاحیتیں لامحدود ہیں۔ ہر doumanshou سائنس دان بھی ہے اور آرٹسٹ بھی، فلسفی بھی ہے، وہ ہر کام کر سکتا ہے۔ لہٰذا معاشرہ میں سپیشلسٹ سائنس دانوں کو خاص مقام دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ پروفیشنل سائنس دان، فلسفی اور آرٹسٹ عموماً (ماؤ کی رائے میں) تخریب کار ہوتے ہیں۔ وہ یا تو امریکا کے ہاتھ بک جاتے ہیں یا قدیم چینی روایات کا احیا کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ماؤ ان پروفیشنل سائنس دانوں اور فلسفیوں کی معاشرتی قوت اور اثر کو ختم کرنے کی پیہم جستجو کرتا رہا۔

Great Leap Forward کے دور میں دیہی اراضی کی اجتماعیت کی مہم بہت تیز کر دی گئی۔ کاشت کاروں کے خاندانی نظام کو منتشر کرنے کےلیے اجتماعی رہن سہن کو فروغ دیا گیا۔ خاندانی کھیتوں اور باغوں کی اراضی محدود کر دی گئی۔ ہزاروں دیہی منڈیوں کو بند کر دیا گیا۔ شہروں میں بھی نجی چھوٹے کاروباروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اجتماعی ملکیت کو شہری معیشت میں بھی فروغ دینے کی جدوجہد کی گئی۔
۱۹۶۴ء تا ۱۹۷۰ء کے دور میں سرمایہ کاری کی رفتار کو تیز سے تیز کرنے کی جستجو کی گئی۔ سرمایہ کاری کی مجموعی آمدنی میں مستقل اضافہ ہوتا رہا لیکن یہ سرمایہ کاری مجموعی پیداوار میں خاطرخواہ اضافے کا باعث نہ بن سکی۔ سرمایہ کاری سے حاصل شدہ پیداوار کی شرح Great Leap Forward کے دور میں تقریباً ۳۳ فی صد گری۔ اس دور میں زرعی پیداوار کی شرح نمو بھی خاصی کم ہوئی اور بعض علاقوں میں قحط کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کے نتیجے میں کسان مر گئے[185]۔

۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۶ء کا دور کمیونسٹ پارٹی کے اندرونی کش مکش کا دور ہے جس میں ایک نیا ’’دایاں بازو“Great Leap Forward میں رائج شدہ پالیسیوں کو ختم کرنے کی جدوجہد کرتا نظر آتا ہے۔ یہ نیا دایاں بازو ۱۹۶۶ء میں شکست کھا گیا لیکن۱۹۷۷ء میں اس کو کامیابی نصیب ہوئی اور اس وقت یہی گروہ چین پر حکومت کر رہا ہے[186]۔

۱۹۶۶ء میں ماؤ نے ’’عظیم پرولتاری ثقافتی انقلاب‘‘ برپا کیا۔ اس کا مقصد کمیونسٹ پارٹی کی تشکیل نو تھی۔ انقلاب کے بعد سے ۱۹۶۶ء تک کمیونسٹ پارٹی نے پورے ملک میں عوامی تنظیموں کا جال پھیلایا اور کوشش کی ہر چینی مرد ، عورت اور بچہ کسی نہ کسی تنظیم (ٹریڈ یونین، طلبہ ایسو سی ایشن، پروفیشنل ایسوسی ایشن، ملیشیا، عورتوں کی تنظیم) میں شامل ہو۔ ہر تنظیم کی قیادت کمیونسٹ پارٹی کے نمایندوں کے ہاتھوں میں تھی اور کمیونسٹ پارٹی اکیلی پالیسی سازی کا فریضہ انجام دیتی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کا یہ نظام معاشرتی اقتدار لینن کے تصور جمہوری مرکزیت کا غماض تھا۔ ماؤ کے خیال میں ۱۹۶۰ء کے وسط تک چینی کمیونسٹ جماعت ایک نوکر شاہی بن گئی تھی جو عملاً انقلاب کے توضیح کے عمل میں رکاوٹیں ڈال رہی تھی۔ پارٹی قیادت میں خودغرضی بڑھتی جا رہی تھی اور یہ لیڈر معاشرے میں خودغرضیوں کو فروغ دے رہے تھے اور اس طرح لبرل سرمایہ داری کے احیا کی راہ ہموار کر رہے تھے۔

ثقافتی انقلاب کے ذریعے ماؤ نے پارٹی بیوروکریسی اور ابھرتی ہوئی ریاستی ٹیکنوکریٹک اشرافیہ کی معاشرتی اور سیاسی قوت کو توڑنے کی جدوجہد کی۔ ثقافتی انقلاب کے درمیان کوشش کی گئی کہ سیاسی قوت عوامی انقلابیوں کی طرف منتقل ہو۔ یہ انقلابی doumanshou ہونے کادعویٰ کرتے تھے اور ان کے اقتدار کی بنیاد ان کی نظریاتی وفاداری تھی۔ انقلاب کی فتح کے لیے یہ اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تیار رہتے تھے۔ ثقافتی انقلاب ان پارٹی رہنماؤں کو اقتدار سے محروم کرنے کی جدوجہد جو لبرل سرمایہ دارانہ سڑک کے راہی تھے[187] اور لبرل سرمایہ داری کے احیا کےلیے کوشاں تھے۔ یہ وہ انقلاب تھا جس کے نتیجے میں بقول سن بیاؤ ہرفرد، ہر نوجوان، ہر بوڑھا ریاستی معاملات میں دخیل ہو گیا اور پرولتاریہ کی آمریت کو مستحکم کرنے کی مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ پارٹی کے اندر لبرل سرمایہ داروں اور ان کے خلاف مسلسل جدوجہد کی ضرورت کا ادراک ماؤ کی رائے میں مارکسی نظریات میں لینن کے بعد کے دور کی سب سے اہم تشریح ہے۔ 

ثقافتی دور میں ماؤ کی عام پرستش کی جانے لگی۔ سن بیاؤ نے کہا ’’ماؤ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا عبقری ہے۔ ماؤ کا فرمایا ہوا ہر لفظ درست اور الحق ہے“۔ ریاستی پالیسی خواہ وہ کتنی ہی ٹیکنیکل یا اسٹریٹجک کیوں نہ ہو، کا جواز ماؤ کے ارشادات سے اخذ کیا جانے لگا۔ ماؤ کے فرمودات وحی کا درجہ اختیار کر گئے۔ ماؤ نے پارٹی کی عوامی تنقید کے لیے دروازہ کھول دیالیکن یہ تنقید صرف وہ لوگ کر سکتے تھے جو انقلاب کو جاری رکھنے کے لیے مسلسل قربانیاں دینے کےلیے تیار تھے۔ ماؤ کے پرستار تھے اور اپنے آپ کو ایک فوج کی شکل میں منظم کرنے کا ارادہ اور اہلیت رکھتے تھے۔ ماؤ نے ثقافتی انقلاب کے دوران برابر خطرے کی نشان دہی کی کہ خود غرضی اور مطلب پرستی صرف پارٹی میں نہیں پورے معاشرے میں بھی پھیل سکتی ہے اگر اس کے خلاف مہمات کی شکل میں عوامی جدوجہد نہ کی جائے۔ یہ جدوجہد ان گروہوں کو کرنے پر اکسایا گیا( نوجوان، یونی ورسٹیوں کے طلبہ اور غریب کاشت کار) جو ماؤ کی رائے میں خودغرض اور مطلب پرستی کے رجحانات سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے تھے۔ نوجوان بالخصوص ۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۰ء کی دہائیوں کے انقلابی عمل میں شریک نہ ہوتے تھے۔ ثقافتی انقلاب ان کےلیے انقلابی ماحول اور انقلابی تجربات فراہم کرنے کا ذریعہ تھا اور ماؤ کو امید تھی کہ عوامی انقلابی بیداری اور جدوجہد کے نتیجے میں پارٹی بھی اپنے ماضی کی طرف پلٹے گی اور اس میں پرورش پانے والے خودغرضی اور مطلب پرستی کے رجحانات ختم ہو جائیں گے۔

لیکن ثقافتی انقلاب ایک ناکام تجربہ ثابت ہوا۔ ریڈ گارڈز اور ثقافتی انقلابی نہایت سفاک،ظالم اور حاسد ثابت ہوئے۔ انہوں نے لاکھوں افراد کو قتل کیا اور اقلیتیں بالخصوص مسلمان ان کے ظلم اور تشدد کا مخصوص ہدف بنے[188]۔ انقلابی عمل کے نتیجے میں گروہی رقابتیں خود انقلابیوں کے حلقوں میں ایک وبا کی شکل اختیار کر گئیں۔ پورا چینی معاشرہ خلفشار کا شکار ہو گیا۔ شہروں میں بالخصوص بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا اور ۱۹۳۰ء اور ۱۹۷۰ء میں جو انقلابی تنظیم قائم کی گئی تھی اس کو ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء میں دوبارہ استوار کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں پارٹی کے اندر اور باہر ثقافتی انقلابی عمل کو ختم کرنے کی خواہش زور پکڑتی گئی اور ثقافتی انقلاب کے مخالفین بالغ النظر، فہیم اور معاشرتی اور سیاسی امن کے ضامن سمجھے جانے لگے۔ ان مخالفین نے منافقت کا سہارا لیا۔ وہ نظام پر ماؤ اور ثقافتی انقلابی عمل کے پرزور حامی ہوتے تھے لیکن عملاً انقلابی قوتوں کے اقتدار کو کھوکھلا کرنے کی جستجو میں لگے رہتے تھے۔ ثقافتی انقلاب پارٹی بیوروکریسی کی تسخیر اور تنظیم نو میں بالکل ناکام ثابت ہوا۔ اپنی موت (۱۹۷۶ء) سے قبل ماؤ کو اس بات کا احساس ہو چکا تھا اور وہ ثقافتی انقلابی عمل کے مزید پھیلاؤ کی حمایت نہیں کرتا تھا[189]۔

ثقافتی انقلابی عمل کے دور میں مجموعی سرمایہ کاری کی رفتار سست ہوئی لیکن سرمایہ کاری کی فعالیت (factor efficiency) گری اور سرمایہ کاری efficiency کے زوال کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی پیداوار کی شرح نمو کم ہوتی ہے۔ ثقاتی انقلاب کے دور میں یہی ہوا۔ سرمایہ کاری مجموعی آمدنی کا ۳۰ سے ۴۰ فی صد ہو گئی لیکن مجموعی آمدنی کی رفتارِ ترقی کم ہو گئی۔ اسی دور میں چین کے ہمسایہ ممالک جاپان، تائیوان، ہانگ کانگ، سنگاپور اور جنوبی کوریا کی رفتار ترقی چین سے خاصی زیادہ ہو گئی تھی اور چین میں اس بات کا احساس عام تھا کہ معاشرتی خلفشار نے چینی عوام اس اونچے معیار زندگی سے محروم کر دیا جو ہمسایہ ممالک کے باشندوں کو حاصل ہو رہا ہے ۔۱۹۷۱ء میں ماؤ نے چین کا دروازہ امریکی تخریب کاری کے لیے کھول دیا۔ یہ سوویت یونین سے بڑھتی ہوئی دشمنی کا نتیجہ تھا۔ امریکا نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ثقافتی انقلاب سے متاثر ناراض چینی کمیونسٹ لیڈروں اور دانش وروں سے تعلقات استوار کرنے کا عمل زور شور سے شروع ہو گیا۔ یہی کمیونسٹ قیادت ماؤ اور اس کی فکر کو شکست دینے میں ۱۹۷۸ء میں کامیاب ہو گئی۔

ثقافتی انقلاب کے دور میں سرمایہ دارانہ اہداف آزادی اور ترقی سے انحراف کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ریاستی پالیسی کا مقصد ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صنعتی جدید ترین معیشت رہا۔ ارتکاز سرمایہ اور بڑی صنعتی تنظیم کو فروغ دیا گیا۔ کاشت کاروں کو اجرتی مزدور بنانے کی جدوجہد جاری رہی ۔ کمیونسٹ پارٹی کی دسویں قومی کانگریس نے ایک مزدور لیڈر وینگ ہنگوون کو حکومت کی قیادت کا تیسرا اہم ترین عہدہ ۱۹۷۸ء میں سپرد کر دیا اور قدیم چینی روایات کے خلاف مہمات بڑی شہری فیکٹریوں میں مرتکز رکھی گئیں۔ثقافتی انقلاب کے دور میں عوام اور پارٹی قیادت کی تعلیمات میں نمایاں فرق رونما نہیں ہوا۔ عوام کی بہت بڑی اکثریت اس انقلابی جدوجہد سے لاتعلق رہی۔ کش مکش اور تعلیمی سیشن نمائشی اور کسی حد تک تفریحی صورت اختیار کر گئے۔ پارٹی کے اندر قوت صرف ماؤ کے سیاسی اور فوجی حلقوں کے ہاتھ میں مرتکز ہو گئی۔ عوام نے یہ رجحانات بخوشی قبول کر لیے کیوں کہ ان کے بدلے میں ان کو ایک مستقل بڑھتا ہوا معیارِ زندگی حاصل ہو رہا تھا جو ان کو تاریخی طور پر کبھی میسر نہ رہا تھا۔ جب ماؤ نے ۱۹۷۴ء میں ثقافتی انقلاب کے مقاصد کا باضابطہ اعلان کیا تو سب نے ٹھنڈے پیٹوں اس کو قبول کیا اور قیادت کے اس دعویٰ کو قبول کیا کہ نظریاتی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور پارٹی پر اب انقلابی رجحانات رکھنے والے کارکنوں کا غلبہ قائم ہو گیا ہے۔

حقیقتاً کمیونسٹ پارٹی میں کش مکش قیادت کی اوپری سطح تک محدود رہی اور پارٹی کی زیریں قیادت نے منافقانہ رویہ اختیار کر کے ان عہدوں اور مفادات کو محفوظ رکھا۔ ڈینگ ژافینگ پورے ثقافتی انقلاب کے دور میں کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں شامل رہا اور پارٹی کی قیادت سے برطرفی ۱۹۷۶ء میں عمل میں آئی۔ ہر وین گارڈ پارٹی کی طرح چینی کمیونسٹ پارٹی بھی اپنی منافقت اور طریقہ کار کو خفیہ رکھنے پر زور دیتی۔ ثقافتی انقلاب کے دور میں یہ خفیہ رجحان بہت بڑھ گیا اور اس کے نتیجے میں پارٹی کے فیصلہ سازی کے عمل میں عوام کی شمولیت ناپید ہو گئی۔ فیصلہ سازی کا عمل چند اعلیٰ قائدین کے درمیان خفیہ بحثوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ۱۹۴۹ء سے ۱۹۷۸ء تک سرمایہ کاری کے فروغ اور سرمایہ کی شعبہ جاتی تقسیم کے بارے میں تمام فیصلہ چین میں کمیونسٹ کے مٹھی بھر چوٹی کے قائدین کرتے رہے اور یہی وہ چیز ہے جس کو ۱۹۷۸ء کے بعد پالیسی تغیرات نے اصلاً تبدیل کر دیا۔ لیکن عوامی مہمات کے ذریعے اس مٹھی بھر قیادت نے ۱۹۴۹ء سے آج تک ایسی عوامی تائید حاصل کر رکھی ہے جو سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کو صرف زیادہ سے زیادہ ایک دہائی حاصل رہی[190]۔ پارٹی فیصلہ سازی کی خفیہ گیری اور اس کے دائیں اور بائیں بازو کی یکساں عوامی مقبولیت ۱۹۴۹ء سے آج تک قائم ہے۔ لیکن اس دیرینہ عوامی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے اب عوامی مہمات درکار نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ثقافتی انقلاب کے خلفشار کے بعد سے عوام مہمات سے بیزار ہو گئے ہیں۔

12.3۔ ڈینگ کا مارکس ازم

ڈینگ ژیاؤپنگ کمیونسٹ پارٹی میں ثقافتی انقلاب کا سب سے بڑا مخالف تھا اور اس نے مخالفت کا برملا اظہار ۱۹۷۵ء میں کیا۔ وہ سابق صدر لیو شاوقی کا جانشین سمجھا جاتا تھا اور ثقافتی انقلاب کے دور سے قبل پارٹی کے کئی کلیدی عہدوں پر فائز رہا تھا۔ ڈینگ ماؤ کے برخلاف ایک دانش ور نہیں ایک مدبر تھا۔ اس کے ملفوظات زیادہ تر تقریروں اور گفت گوؤں کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ انہی ملفوظات سے اس کے تصورات کو اخذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ڈینگ نے کہا کہ ہم ماؤ کے فرمودات کو من و عن تسلیم نہیں کرسکتے۔ ماؤ کے احکامات کو ان کے مقامی اور وقتی سیاق و سباق سے جدا کرنا غلط ہے۔ ماؤ نے خود بار بار کہا ہے کہ اس نے غلطیاں کی ہیں۔ یہ بات مارکس، لینن، اسٹالن سب کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ تاریخی مادیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر شخص سے غلطی کرنے کا احتمال ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ماؤ کی مجموعی فکر کے مطالعہ کی ضرورت ہے اور مجموعی فکری ورثہ کی بنیاد پر سوشل ازم کی فتح کےلیے پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ ماؤ کی فکر ایک مربوط نظام فکر ہے اس کو لچر اور عامیانہ نہیں بنانا چاہیے اور اسی چیز کی کوشش لن بیاؤ نے کی تھی۔ماؤ کی فکر کو توڑنا، مسخ کرنا اس کو ذلیل کرنا یہی ہے کہ اس کو بحیثیت مجموعی نظام فکر یا پالیسی کا ماخذ نہ بنایا جائے لیکن چار بدمعاشوں کا جتھا (Gang of four) اور ان کا مفکر دیانگ چنفاؤ چند جملوں کا سہارا لے کر ماؤ کی فکر کو مسخ کر رہے ہیں۔ ماؤ زے تنگ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ عوام ہی تاریخ کی محرک قوت ہیں۔ ماؤ ایک عظیم مارکسسٹ ہے اور ماؤ فکر مارکس ازم ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ ماؤ فکر کے مختلف النوع زاویے ہیں جن کا ادراک ان کو ایک نظام فکر کے طور پر سمجھے بغیر نہیں ہو سکتا۔ماؤ نے لینن کے تصور پارٹی سازی کو آگے بڑھایا۔ جب ہم پہاڑوں میں اپنی فوج تشکیل دے رہے تھے اس وقت بھی کامریڈ ماؤ نے پارٹی کا ایک مربوط تصور پیش کیا۔ اس نے اسی کی بنیاد پر جاپانیوں کو ۱۹۳۷ء تا ۱۹۴۳ء میں شکست فاش دی اور اسی نظریہ کی بدولت ہم آزادی کی جنگ ۱۹۲۹ء تا ۱۹۴۶ء میں جیتے۔ ۱۹۵۷ء میں کامریڈ ماؤ نے کہا ہمارا مقصد ایک ایسا سیاسی معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں مرکزیت بھی ہو اور جمہوریت بھی، تنظیم بھی ہو اور آزادی تھی۔ اس طرح ہم ایک سوشلسٹ معاشرہ، ایک جدید ترین چینی نظام قائم کر کے اپنے ملک کی سالمیت اور ترقی کی ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔ہماری پارٹی اعلیٰ درجہ کی مرکزیت اور اعلیٰ درجہ کی جمہوریت کی غماض ہے۔ ہماراعام کارکن خود احتسابی کے ذریعے پارٹی ڈسپلن اپنے اوپر نافذ کرتا ہے۔ جمہوریت اور مرکزیت، آزادی اور ڈسپلن کے اسی امتزاج نے ہماری عظیم کامیابیوں کو ممکن بنایا ہے۔

جمہوریت کو مرکزیت سے مربوط کرنا اہم کام ہے لیکن اس سے بھی اہم حق تو حقائق تلاش کرنا او رعوامی امنگوں کی بنیاد پر ریاستی سازی ہے۔ اسی طریقے سے پارٹی کارکنوں کو ۹۰ فی صد عوام کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ ماؤزے تنگ ایک مخلص اور مکمل ترین مادہ پرست تھے۔ وہ ہر حال میں عوام پر بھروسا کرنے اور عوام کی خواہشات کا احترام کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ عوام کے مطالبات کو تسلیم کرتے تھے اور عوام کے خواہشات کو تکمیل کرنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔چار بدمعاشوں کے گروہ (Gang of Four) نے پارٹی کی جمہوری روایات کو مجروح کیا انہوں نے عوامی جذبات سے سہو نظر کیا اور حقائق سے آنکھیں بند کر لیں۔ پرانے تجربہ کار رہنما اور کارکن تک حقائق کے اظہار سے ڈرنے لگے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام معاملات کو کھل کر سامنے لایا جائے۔ ان پر جمہوری ماحول میں تفصیلی بحث اور عوام کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ پارٹی پر برحق تنقید کریں۔پارٹی کے طریقہ کار میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے طریقہ کار کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہونا لازم ہے۔ چار بدمعاش پارٹی کو تباہ کر رہے تھے تو پارٹی کے ۹۹ فی صد ممبران اور عوام کی بہت بڑی اکثریت نے ان کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ پارٹی ہمارے ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے[191]۔ مجھے یقین ہے کہ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی قیادت میں ہم پوری پارٹی، پوری فوج اور سارے عوام کو متحد کر کے ماؤ زے تنگ فکر کے عظیم جھنڈے تلے چین کو ایک جدید ترین معیشت بنا دیں گے۔ یہی اشتراکیت اور پرولتاریہ ڈکٹیٹرشپ کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔

معاوضہ لوگوں کو ان کے کام کے مطابق دو۔ یہ ایک سوشلسٹ اصول ہے۔ سرمایہ دارانہ اصول نہیں ہے۔ معاوضہ کا تعین کارکردگی اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہمیں کارکن کے سیاسی رجحان کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے لیکن سیاسی فعالیت کا اظہار پیداوار کی کارکردگی سے ہی ہوتا ہے۔ آمدنی کا تعین لوگوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ ان کی سیاسی کارکردگی کی بنیاد پر۔کارکردگی کو فروغ دینے کے لیے مادی مراعات فراہم کرنا لازمی ہے۔ کارکنوں کو بونس دینے کا نظام دوبارہ رائج کیا جانا چاہیے۔ کارکردگی میں ترقی اسی طرح ممکن ہے۔اگر ہمیں معاشی ترقی کی رفتار بڑھانا ہے تو ہمیں کارخانوں کی فنی صلاحیت کو ترقی دینا ہو گی اور ان میں مخصوص شعبوں سے وابستگی کو فروغ دینا ہو گا۔ ہر معاشی ادارہ ہر فیکٹری میں کارکنوں کی کارکردگی کو بڑھا کر اس چیز کا مستقل جائزہ لینا ہو گا کہ اس کے مالی حسابات کاروبار کی صحیح تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ہر فیکٹری ہر ادارہ کا فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع کمائے۔ کارکنوں کو اپنی فرموں سے ویسی ہی محبت کرنا چاہیے جیسی وہ اپنے خاندانوں سے کرتے ہیں۔

ہر فرم میں ایسا مینجمنٹ نظام قائم کیا جائے جس کے تحت فیکٹری کا ڈائریکٹر پارٹی کمیٹی کی قیادت میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے والی حکمت عملی کی ترویج اور تنفیذ کی ذاتی ذمہ داری قبول کرے۔ ٹریڈ یونینوں کا فرض ہے کہ وہ عام کارکنوں کو مینجمنٹ کی صلاح کاری کی ضرورت کا درس دیں۔ مزدور کارکنوں کو اعلیٰ درجہ کے مرکزیت شدہ (centralized) مینجمنٹ نظام کی ماتحتی خوشی سے قبول کرنی چاہیے اور فرم کے اعلیٰ حکام کے اقتدار کو برقرار رکھنے میں بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ اس کے باوجود فرم میں کارکنوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ مزدور کارکنوں کو حق ہونا چاہیے کہ وہ مینجر کو برخاست کرنے یا ان کو سزا دینے کی سفارشات اعلیٰ حکام تک پہنچا سکیں۔ یہی democratic centralization ہے جس پر ہم یقین رکھتے ہیں۔
ہمیں سوشلسٹ جدیدیت کے کام کو فوقیت دینی چاہیے۔ ہم نے ۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۸ء تک جاری رہنے والے بحران پر مکمل اور فیصلہ کن فتح حاصل کر لی ہے۔ لہٰذا عظیم کامیابی سے پورے ملک میں امن اور استحکام قائم کر دیا گیا ہے۔ ہم نے سن بیاؤ اور چار بدمعاشوں کے گروہ کو شکست دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ہم مارکس ازم، لینن ازم اور ماؤزے تنگ فکر کے مخلص پیروکار ہیں اور اس نظریہ کو ہمیشہ سربلند رکھیں گے۔

ہم نے اپنی حکمت عملی بنیادی طور پر تبدیل کر لی ہے۔ ہم سوشلسٹ جدیدیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ تمام عوام اور پوری پارٹی سوشلسٹ جدیدیت کی پالیسی کی حامی ہے۔ ہماری سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ایک ایسا بین الاقوامی ماحول پیدا ہو گیا ہے جہاں سوشلسٹ جدیدیت کے لیے فضا سازگار ہے۔ ہم نے امریکا اور جاپان کے ساتھ معمول کے مطابق سفارتی تعلقات استوار کیے ہیں،سوویت یونین کی یہ کوشش کہ چین عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو، ناکام ہو گئی ہے۔

ہمیں معیشت کو ان تمام جکڑبندیوں سے آزاد کرنا ہے جن کی وجہ سے سرمایہ کاری کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ ہمیں معاشی جدیدیت کی بنیادیں مستحکم کرنا ہیں۔ خسارہ پیدا کرنے والی قومی فیکٹریوں کو دوبارہ منظم کرنا ہے۔ ضرورت پڑی تو یہ بند بھی کی جا سکتی ہیں۔ ہمیں پوری معیشت کو نئے خطوط پر ازسرنو استوار کرنا ہے۔
سوشلسٹ جدیدیت کی مخالفت صرف چار بدمعاشوں کے ساتھی نہیں کر رہے۔ وہ لوگ بھی مخالفت کر رہے ہیں جو سوشل ازم، پرولتاری آمریت، پارٹی کی قیادت اور مارکس ازم، لینن ازم اور ماؤازم کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری معیشت نوکر شاہی کی حد سے زیادہ عمیق پابندیوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ہمارے رہنما اصول یہ ہیں: حق کو حقائق سے اخذ کرنا، عوام کے مطالبات کی اتباع اور بھرپور محنت کی فرضیت۔ ہمارا اولین اور اہم ترین مقصد چین کی ماڈرنائزیشن ہے۔ ماڈرنائزیشن کے حصول کی ان تھک جدوجہد کے ذریعے سے ہم مارکسی ماؤازم سے اپنی وفاداری کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ ماڈرنائزیشن کی جدوجہد کو ترک کرنا مارکس ازم کو ترک کرنا ہے۔ ماڈرنائزیشن کو فروغ دینا ہر فرد کے انفرادی مفاد میں ہے۔جس ماڈرنائزیشن کے حصول کی ہم جدوجہد کر رہے ہیں وہ چینی ماڈرنائزیشن ہے۔ ہم اب بھی ایک غریب ملک ہیں اور ہماری سائنسی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیت بہت محدود ہے۔ ہماری معیشت ابھی ایک زرعی معیشت اور نوے فی صد لوگ کاشت کار ہیں۔ قابلِ کاشت اراضی بہت محدود ہے، صنعت کاری اور سرمایہ کاری کو تیز ترین فروغ دیے بغیر ان مسائل سے نبردآزما نہیں ہوا جا سکتا۔ہماری پالیسی کے چار رہنما اصول یہ ہیں:

۱۔ ہمیں سوشلسٹ راہ پر گامزن رہنا ہے۔

۲۔ ہمیں پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔

۳۔ ہمیں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو مضبوط کرنا ہے۔

۴۔ ہمیں مارکس، لینن اور ماؤ فکر کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔

چار بدمعاشوں کے گروہ نے مارکس ازم، لینن ازم،ماؤ ازم کی جو تشریح پیش کی ہے وہ غربت کو فروغ دینے کا جواز پیش کرتی ہے۔ اس کے برعکس ہم سائنٹفک سوشل ازم کے پیرو ہیں۔ ہم مارکس۔لینن۔ماؤ ازم کو ایک سائنسی منہج سمجھتے ہیں۔ لن بیاؤ اور چار بدمعاشوں کے ساتھ مستقل یہ بہتان طرازی کر رہا ہے کہ ہم مارکس—لینن— ماؤ ازم کو ترک کر بیٹھے ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ہم پارٹی کے اندر اور باہر ان لوگوں کی بھی اتنی ہی مخالفت کرتے ہیں جو مارکس—لینن— ماؤ ازم کی ڈھکی چھپی تنقید کرتے ہیں جتنے ہم چار بدمعاشوں کی شدت پسند بائیں بازویت (Ultra Leftism) [192]کے خلاف ہیں۔ ہم کو ان لوگوں کی شدت سے مخالفت کرنا ہے جوہماری پالیسی کے چار بنیادی اصولوں کی صداقت پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ چار بدمعاشوں کے ساتھی اور سوشل ازم اور مارکس—لینن— ماؤ ازم کے مخالفین دونوں ماڈرنائزیشن کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔سوشل ازم اور صرف سوشل ازم ہی چین کو مضبوط اور ترقی کی راہ پر گام زن رکھ سکتا ہے۔ سوشل ازم سے انحراف چین کو لامحالہ ایک نیم ترقیانہ، پس ماندہ، استعمار کا باج گزار اور کالونی بنا دے گا۔ سوشل ازم پر عمل کرکے ہم لبرل معیشت کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار اور زیادہ پائیدار ترقی کریں گے۔ ہم نے سوشل ازم کے ذریعے ہی چار بدمعاشوں کے گروہ کو باآسانی شکست دی ہے۔ سوشلسٹ معیشت اجتماعی ملکیت پر منظم کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کی مادی اور ثقافتی خواہشات کی تکمیل ہے۔ اس کے برعکس لبرل معیشت اجارہ داروں کے ہاتھوں میں حد سے بڑھے ہوئے منافع کے ارتکاز کو ممکن بناتی ہے۔ لبرل معیشت مستقل لوٹ مار اور بحرانوں کا شکار رہتی ہے۔ اس میں مایوسی اور اخلاقی بے راہ روی فروغ پاتی ہے۔ صرف سوشلسٹ نظام ہی میں تمام لوگوں کے مشترکہ قدریں قائم کی جا سکتی ہیں۔

اس کے باوجود ہمیں لبرل معیشتوں سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی ہی نہیں حاصل کرنی بلکہ ان کے علاوہ وہ تمام ادارتی تجربات جن کو ہم ایسے اشتراکی اہداف کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، ان سے بھی مستفید ہونا ہے۔ لیکن ہم لبرل نظام کو کبھی رائج نہ ہونے دیں گے۔ہمیں پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو مستحکم کرنا ہے۔ یہی سوشلسٹ جمہوریت ہے۔ چار بدمعاشوں کے گروہ نے اشتراکی جمہوریت میں اپنی ہمہ جہت ڈکٹیٹرشپ قائم کی تھی [193]۔ جمہوریت کے بغیر نہ اشتراکیت کا فروغ ممکن ہے نہ ماڈرنائزیشن کا۔ لیکن ہم اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ پارٹی کے اندر ایک بورژوا طبقہ موجود ہے [194]۔ تاہم اس بات کا یقین کہ اب لبرل نظام سرمایہ داری چین میں دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے [195]۔ یہاں ردِ انقلابی مجرم اور دشمن ممالک کے گماشتے اب بھی موجود ہیں اور وہ اشتراکی نظام کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ لیکن اس قسم کے لوگوں کے خلاف کارروائیاں طبقاتی کش مکش کی حیثیت نہیں رکھتیں۔جب تک استعمار موجود ہے پرولتاری ڈکٹیٹرشپ ختم نہیں ہو سکتی۔ فوج، پولیس، عدالتیں اور جیل خانے سب موجود رہیں گے۔ یہ سب سوشلسٹ جمہوریت کے فروغ کے لیے ضروری ہیں۔

ہمیں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہے۔ اس کےبغیر نہ پرولتاری جمہوریت قائم کی جا سکتی ہے اور نہ ماڈرنائزیشن ممکن ہے۔ یہی لینن کی اہم ترین تعلیم ہے۔ چار بدمعاشوں کے گروہ نے کمیونسٹ پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے چینی عوام نے ان کی بھرپور مخالفت کی۔ پوری قوم کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے عظیم توقعات قائم کیے ہوئے ہے۔ موجودہ حالت میں ہم کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے محرومی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پارٹی کے قائدانہ کردار کو کمزور کرنا سوشل ازم سے غداری ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کے بغیر ماڈرنائزیشن کی جدوجہد ہوا میں تحلیل ہو جائے گی۔ہم نے مارکس—لینن— ماؤ ازم کی سائنٹفک حیثیت کو دوبارہ آشکارا کر دیا ہے۔ یہی سائنس پارٹی کی رہنما ہے۔ ماؤازم، مارکس ازم، لینن ازم کے متعین آفاقی اصولوں کی بنیاد پر چینی انقلابی جدوجہد کی تفہیم اور تنفیذ سے ماؤ فکر کی بنیاد پر ہی ہم نے ۱۹۴۹ء میں پورے ملک پر غلبہ حاصل کیا اور ۱۹۵۶ء تک سوشلسٹ ماڈرنائزیشن کی بنیادیں مستحکم کر دیں۔ ماؤ زے تنگ تھاٹ کی محرومی کی وجہ سے ہی hegemonismنے فروغ پایا ہے[196]۔ اسی hegemonism کا مقابلہ کرنے کے لیے چیئرمین ماؤ نے امریکا اور جاپان سے معمول کے مطابق تعلقات استوار کرنے کی جدوجہد کی ابتدا کی۔ ہماری خارجہ پالیسی میں تبدیلی اس بات کو ممکن بناتی ہے کہ ہم سازگار بین الاقوامی ماحول میں اپنی ماڈرنائزیشن کی جدوجہد جاری رکھیں۔

ہر آدمی کی طرح چیئرمین ماؤ نے بھی غلطیاں کیں لیکن اپنی تابناک زندگی میں اس نے جو عظیم کارنامے انجام دیے ان کا ان غلطیوں سے کیا مقابلہ۔ ماؤ کی فکر کو اس کے سائنٹفک سیاق اور سباق سے جدا کر کے تنقید کرنے پر پارٹی سخت سزا دے گی۔ یہی مارکس ازم اور فطرت کا تقاضا ہے۔ ہم ماؤ زے تنگ تھاٹ کا جھنڈا ہر حال میں بلند رکھیں گے۔حال میں کچھ ہیومن رائٹس کے فروغ کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ غیرملکی میڈیا ان کے مطالبات کو بھرپور طریقے سے ہوا دے رہا ہے۔ ہم اس قسم کی آزادی کو برداشت کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں کیوں کہ یہ ہمارے دستور کے منافی ہے[197]۔ یہ لبرل تخریب کار ماڈرنائزیشن کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ہم جمہوری مرکزیت پر عمل پیرا ہیں۔ اس نظام میں انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اجتماعی مفادات کا تحفظ ہی حقیقی انفرادی مفادات کے تحفظ کا ضامن ہے۔ ہماری جمہوریت بورژوا جمہوریت سے اصلاً مختلف ہے۔پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو مضبوط نہ کیا گیا تو چین بدامنی، خلفشار، مزاحمتی اکھاڑ پچھاڑ اور نہ ختم ہونے والے بحرانوں کا شکار ہو جائے گا۔ اور یہ سب کے لیے برا ہو گا۔ چین کے عوام کے لیے بھی برا ہو گا۔ پارٹی کے لیے بھی، چین کے بین الاقوامی دوستوں کے لیے بھی اور ان کے لیے بھی جو محض چین سے تجارت بڑھانے کے لیے یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

ہم چینیوں اور غیرملکیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ مستقبل میں ہم بیرون ملکیوں سے تعلقات کو تیزی سے بڑھائیں گے لیکن ہم پوری کوشش کریں گے کہ ہماری نوجوان نسل دیگر ممالک کی تہذیب سے متاثر ہو کر اپنی قومی خود داری کا سودا نہ کرے۔اگر پارٹی کی عوامی مقبولیت کو قائم رکھنا ہے تو پارٹی کارکنوں کو اعلیٰ اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنا ہو گا۔ انہیں پارٹی ڈسپلن اور ریاستی قوانین کا احترام کرنا ہو گا۔ پارٹی میں گروہ بندی کو ختم کرنا ہو گا۔ اپنے قائدانہ مراتب کو ذاتی فوائد حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے سے پرہیز کرنا ہو گا۔ عیش پسندی اور اسراف سے دامن بچاناہو گا اور عوام کے مفادات کے فروغ کے لیے ذاتی مفاد پر حال میں ترجیح دینا ہوگی۔ ان کو عوام کے دکھ درد میں شریک ہونا ہو گا اور عوامی فلاح کو فروغ دینے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے پر آمادہ رہنا ہو گا۔ انہیں عوامی تنقید کو خوش دلی سے برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہو گی۔

ہم بیرونی سرمایہ کاری کو قبول کرتے ہیں لیکن اس کو ہمیشہ ملکی معیشت میں ثانوی حیثیت حاصل رہے گی۔ بنیادی طور پر ہم ملکی ریاستی سرمایہ کاری پر انحصار کرتے رہیں گے۔ بیرونی سرمایہ کاری کا مجموعی سرمایہ کاری میں تناسب بہت محدود رکھا جائے گا اور ہم اس کو اپنے ملکیتی نظام پر اثرانداز نہ ہونے دیں گے۔ چیئرمین ماؤ کی تعلیمات کے مطابق ہم ذرائع پیدوار کی سوشلسٹ اجتماعی ملکیت کو فروغ دیں گے۔ اگر بیرونی سرمایہ کاری کے کچھ متعین اثرات معاشرت اور معیشت پر پڑے تو ہم ان سے نبٹنے کے لیے تیار ہیں۔ہر قسم کی سرمایہ داری، فیوڈل ازم سے بہتر ہے اور سرمایہ دارانہ ممالک میں بہت کچھ سرمایہ داری کے زمرے میں نہیں آتا۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ جو بھی ایک قسم کی سائنس ہی ہے دوسرے ممالک میں بھی اپنائی جا سکتی ہے۔ ہم باہر سے سائنس، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ لیں گے اور ان کو اپنی سوشلسٹ معیشت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کریں گے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، مینجمنٹ یہ آفاقی قوانین ہیں ان کا کسی طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔

لوگوں کے ذاتی مفادات کو فروغ اشتراکیت کے دور میں ایک رہنما اصول ہے۔ ہمیں ریاستی، اجتماعی اور انفرادی مفادات کو اس میں سمو دینا ہے۔ اسی طرح یہ عام لوگوں کو اشتراکی پیداوار کو فروغ دینے کے عمل میں بھرپور تعاون پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ کمیونزم کے دور میں تمام ذاتی مطالبات اور مفادات کی تکمیل ممکن ہو جائے گی۔

ڈینگ کے نظریات کی تلخیص اس طرح پیش کی جا سکتی ہے:

۱۔ ڈینگ اپنے آپ کو ایک مارکسسٹ اور ماؤ کا مخلص پیروکار تصور کرتا ہے [198]۔ ماؤ کے فلسفیانہ نظریات پر اس کی کوئی تنقید یا نئی تشریح نہیں ملتی۔ اس نے ماؤ کی سیاسی حکمت عملی کی ایک نئی تشریح پیش کی ہے۔

۲۔ اس کی جدوجہد پرولتاری آمریت کو مستحکم کرنے کی جدوجہد تھی۔ وہ اپنے آپ کو جمہوری مرکزیت اور پارٹی کو دائمی معاشرتی اور ریاستی قیادت کو قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتا تھا۔

۳۔ ثقافتی انقلاب سے مراجعت پرولتاری آمریت کو مضبوط کرنے کے لیے ہی ضروری گردانتا تھا۔ اس کے خیال میں ثقافتی انقلاب نے عوام کو پارٹی قیادت سے دور کر دیا تھا اور پارٹی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری تھا کہ لوگوں کے انفرادی مفادات کو فروغ دینے کی اہمیت کا اندازہ کیا جائے۔ 

۴۔حصولِ لذات سے وابستہ لوگوں کے ذاتی اغراض کی جستجو[199] کو اشتراکی سرمایہ داری کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا ہے تو ضروری ہے کہ ریاست کی معیشت پر گرفت کو ڈھیلا کیا جائے۔ پرولتاری آمریت کو مستحکم کرنے کےلیے معاشرت اور معیشت کو تیزی سے ماڈرن کرنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۷۹ء میں ڈینگ نے ۲۰۰۰ء تک چین کو ایک ترقی یافتہ جدید ترین معیشت اور معاشرت میں تبدیل کرنے کا ہدف پارٹی کے لیے متعین کیا تھا۔

۵۔ ماڈرنائزیشن کےلیے انفرادی سرمایہ کاری کی اجازت دینا چاہیے۔ لوگ یہی چاہتے ہیں۔ ڈینگ نے اس حقیقت سے یہی حق اخذ کیا اور ریاستی اور اجتماعی ملکیت سے منسلک اور نجی انفرادی اور کارپوریٹ ملکیت کے فروغ کے لیے پالیسی وضع کی۔

۶۔ ماڈرنائزیشن کے لیے مغرب کے تعاون کو فروغ دینا لازمی تصور کیا گیا۔ یہ تعاون محض سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ براہِ راست سٹہ مارکیٹ (stock market) اور زر کے مارکیٹ (bond and labour market) کے ذریعے امریکی، یورپی، جاپانی اور بیرونی دنیا [200]سے بڑے پیمانے پر سرمایے کے حصول کے لیے جدوجہد کی گئی۔ 

۷۔ ڈینگ پر جلد ہی سرمایہ کاری کی حقیقت سے یہ حق واضح ہو گیا کہ ریاستی اور کارپوریٹ ملکیت میں کوئی اساسی فرق موجود نہیں۔ دونوں سرمایہ دارانہ ملکیتیں ہیں اور کارفرمائی سائنسی مینجمنٹ ہے۔ ۱۹۸۰ء کے بعد پوری چینی معیشت پر مینجمنٹ سائنس چھا گئی اور اس کی تعلیمات کے مطابق تمام بڑا کاروبار چلایا جانے لگا۔ اور پرولتاری آمریتی ریاست اس اشتراکی سرمایہ دارانہ معیشت کی نگران کی حیثیت اختیار کر گئی۔

12.4۔ کمیونسٹ سرمایہ داری ۱۹۷۹ء تا حال

اب چین سرمایہ دارانہ عالمی نظام کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ وہ یورپی یونین، جاپان اور امریکا کو سب سے بڑی برآمد کنندہ (exporter) ہے۔ اس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر دنیا کے ہر ملک سے زیادہ ہیں۔ پچھلے تیس سال سے اس کی قومی فی کس سرمایہ کاری کی رفتار دنیا کے ہر بڑے سرمایہ کار ملک سے کئی گنا تیز ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ دنیا کے اہم ترین بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں شامل ہے۔ اس کے سرمایہ کار اور اس کے سفارت کار ہر براعظم کے ہر کونے میں موجود ہیں اور اب وہ ایک اہم بین الاقوامی سیاسی اور عسکری قوت ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کو ہمیشہ کاشت کار عوام کی اعانت حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ collectivisation کی مہم جو ۱۹۴۹ء کے بعد چلائی گئی وہ کامیاب بھی رہی اور کسی خون خرابے کی ضرورت نہیں پڑی [201]۔ یہی بات Great Leap Forward کی اصلاحات کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ ثقافتی انقلاب سے بھی کاشت کار طبقہ نسبتاً کم متاثر ہوا۔ زیادہ تر خلفشار شہروں تک اور کمیونسٹ پارٹی کی اپنی سطحوں تک محدود رہا[202]۔ 
ڈینگ کے دورِ اقتدار میں کاشت کار چینی آبادی کا ۷۰ فی صد تھے۔ وہ حوصلہ مند تھے اور پارٹی سے توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے اور دیہی علاقوں میں پارٹی کو عمومی حمایت حاصل تھی۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں آزمودہ کار، سرد و گرم چشیدہ، صعوبتوں کو تحمل اور بردباری سے سال ہا سال برداشت کرنے والے رہنما شامل تھے۔ ڈینگ کے ساتھ کے رہنما Yong Sharqkkun, Chon Yum, Boyelba اور Peny Zehn تھے۔ یہ سب ماؤ کے قریبی ساتھی تھے۔ ان سب نے ۱۹۲۰ء کی دہائی میں کمیونسٹ پارٹی پر کیے جانے والے مظالم برداشت کیے تھے۔ یہ سب لانگ مارچ کے شرکا تھے اور انہوں نے دس سال تک جاپانیوں اور Koumintang کے خلاف گوریلا جنگ لڑی تھی۔ ۱۹۲۹ء کے بعد کمیونسٹ کی اصل قیادت تھی اور ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۵ء تک انہوں نے چینی معاشی اور معاشرتی حکمت عملی وضع کی تھی[203]۔ 

ان پر اپنی جدوجہد کے نتیجے میں یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی تھی کہ اشتراکیت ریاستی سرمایہ داری کے علاوہ کچھ نہیں۔ انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں کوئی انفرادیت وجود میں نہیں آئی تھی۔ چینی عوام مادی آسائشوں ہی کے پرستار ہیں ان کو کمیونسٹ پارٹی سے وفادار رکھنا ہے تو پارٹی کو ماڈرنائزیشن کے عمل کو تیز سے تیز تر کرنا ہو گا کیوں کہ اس طرح ہی عوامی خواہشات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔اور عوام کی طرح کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت doumanshaou افراد پر مشتمل نہ رہی۔ اپنے دورِ اقتدار یا قیادت میں عیاش، مطلب پرست اور خودغرض ہو گئی۔ ۱۹۷۸ء کے بعد کے دور میں اس قیادت کے افراد ارب پتی بن گئے۔ انہوں نے (خود ڈینگ) اپنے ذاتی مفادات کو فروغ دینے کے لیے ریاستی نوکرشاہی اور پارٹی کی تنظیم سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سرمایہ دارانہ معاشرت خواہ لبرل خواہ سوشلسٹ، مارکس کا specie beingیا ماؤ کا duomanshaou پیدا نہیں کرتی وہ اسمتھ کا اکنامک مین اور برلن کا پرائیویٹ فرد پیدا کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اشتراکی اور قوم پرست سرمایہ داریاں بتدریج لبرلائز ہوتی رہتی ہیں۔

۱۹۷۸ء کے بعد ریاستی، اجتماعی اور نجی ملکیتوں میں اشتراکِ عمل فروغ دیا جانے لگا۔ اصولاً تمام دیہی اور صنعتی ملکیت ماسوائے بیرونی ملٹی نیشنل سبسڈیز [204]کے ریاست کی تھی اور ریاست طویل دیہی معاہدوں کی بنیاد پر ان املاک کو کاشت کاروں اور صنعت کاروں کو فراہم کرتی تھی۔ Great Leap Forward کے دور میں ہی ریاستی نظام کو غیر مرکزی بنا دیا گیا تھا اور ۱۹۷۸ء میں اس کی غیرمرکزیت کو تیزی سے فروغ دیا گیا اور علاقائی حکومتی اداروں کو مقامی سرمایہ کاری اور پیداواری بڑھوتری کو فروغ دینے کے لیے ہر قسم کی مراعات فراہم کی جانے لگیں۔ ہر مقامی حکومت اپنے علاقے کی سب سے اہم سرمایہ دارانہ اکائی بن گئی اور صوبہ جاتی اور ضلعی حکومتی سرمایہ دارانہ مسابقت کے ذریعے ہی سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل نو عمل میں آئی۔

۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۴ء کے دور میں کاشت کار معیشت کے فروغ اور کاشت کار طبقہ کے مفادات کے تحفظ پر خاص توجہ دی گئی۔ اس دور میں شہروں میں لبرل آزادیوں بالخصوص آزادیِ تحریر کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ان نئی اصلاحات کے لیے عوامی حمایتی فضاپیدا کی جائے۔

۱۹۸۴ء کے بعد کمیونسٹ اشرافیہ معاشرتی لبرل ازم کے تیزی سے پھیلاؤ سے خطرہ محسوس کرنے لگی۔ لبرل ازم ایک طرز زندگی اور طرز فکر کے دانش ور طبقوں، طالب علموں، آرٹسٹوں، ادیبوں، بھانڈوں وغیرہ[205] کو بہت تیزی سے متاثر کر رہا تھا اور وہ لبرل آزادیوں کے فروغ کا مطالبہ کر رہے تھے۔استعماربالخصوص امریکا، تائیوان اور ہانگ کانگ نے چینی طالب علموں، ادیبوں اور بھانڈوں کو اپنا آلہ کار بنا لیا۔ لبرل جمہوری حقوق کی پہلی تنظیم ۱۹۸۶ء میں شروع ہوئی اور پارٹی کی قیادت اس سے نبردآزما ہونے کے رویہ کے بارے میں منقسم ہو گئی[206]۔ اسی دور میں کرپشن پر عوامی توجہ مرکوز ہونے لگی اور اس سے انکار کرنا ناممکن ہو گیا کہ کرپشن کو فروغ دینے والی اصلی قوت کمیونسٹ پارٹی ہے ۔

مئی ۱۹۸۹ء میں استعماریوں نے اپنی ترپ چال چلی اور وہی حکمت عملی اپنائی جس کے نتیجے میں امریکا مشرقی یورپ کی کمیونسٹ حکومتوں کو گرانے میں کامیاب ہوا تھا۔ امریکی اور تائیوانی گھس بیٹھیوں نے چینی بھانڈوں اور اوباش طالب علموں کو اکسا کر Tianaman کے چوراہے پر قبضہ کر لیا۔ استعماری قوتیں بین الاقوامی کمپنیوں اور بینکوں کے ساتھ تمام بڑے چینی شہروں میں موجود تھیں۔ انہوں نے ہر جگہ اوباشوں، طالب علموں اور بھانڈوں کو اپنا آلہ کار بنایا۔لیکن کمیونسٹ پارٹی کی جنگ آزمودہ انقلابی قیادت نے استعمار اور اس کے چینی کاسہ لیسوں کو فیصلہ کن شکست دی۔ مئی ۱۹۸۹ء میں ڈینگ نے کہا ’’کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اصلاحات کے ذریعے لبرل نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا ہرگز یہ مقصد نہیں‘‘۔ استعماری تخریب کاری کو شکست دینے میں کاشت کار اور مزدور طبقوں نے کمیونسٹ پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا کیوں کہ ان کو لبرل آزادیوں کے فروغ سے کوئی دل چسپی نہ تھی اور وہ کمیونسٹ پارٹی کو اپنی نمایندہ قیادت تصور کرتے تھے۔ لیکن Tianaman کی مزاحمتی تحریک پر قابو پانے کے بعد کمیونسٹ پارٹی نے معاشی اور معاشرتی لبرلائزیشن کی پالیسی کو جاری رکھا۔ ۱۹۹۲ء میں ڈینگ نے کہا ’’ہمیں اصل خطرہ دائیں بازو سے نہیں۔ ان سے جو معیشت کی لبرلائزیشن کے مخالف ہیں۔ اسی سال چین میں سٹہ کا مارکیٹ (Stock market) قائم کیا گیا اور ڈینگ نے اس کو پارٹی کی ایک شان دار کارنامہ گردانا۔

۱۹۹۰ء کی دہائی چینی سرمایہ کاری برق رفتاری سے بڑھی اور معاشی لبرلائزیشن کا عمل تیز سے تیز تر کر دیا گیا۔ بیش تر ریاستی تحویل کی فرموں کو منافع کمانے کی مشین بنا دیا گیا۔ نج کار ی کا عمل تیز کر دیا گیا اور اس کا دائرہ دیہی معیشت تک پھیلا۔ ریاستی فرموں سے بڑے پیمانے پر مزدور نکا ل دیے گئے اور ۲۰۰۴ء تک نجی شعبہ میں ملازمین کی تعداد سرکاری شعبہ کے ملازمین سے زیادہ ہو گئی۔ اجتماعی ملکیت تقریباً ختم ہو گئی [207]۔ اس کے باوجود ریاست نے کلیدی شعبوں یعنی توانائی، معدنیات، دھات بالخصوص اسٹیل کی صنعتوں اور اسلحہ سازی کی صنعتوں پر اپنا تسلط قائم رکھا۔ بیرونی تجارت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ امریکی، جاپانی، یورپی، تائیوانی، سنگاپوری سرمایہ ایک سیلاب کی شکل میں چین میں داخل ہونے لگا۔ لیکن بیرونی دنیا سے تعلقات کے فروغ اور عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت حاصل کرنے کے باوجود[208] چینی ریاست نے فنانشل شعبہ پر اپنی گرفت ڈھیلی نہ کی۔ ترسیلِ زر پر پابندیاں عائد رہیں، تعین شرحِ مبادلہ حکومت کی گرفت میں رہی اور بینکنگ کے نظام پر ریاستی قبضہ رہا اور فنانشل لبرلائزیشن کے امریکا اور آئی ایم ایف کے ڈالے گئے دباؤ کے سامنے چینی کمیونسٹ پارٹی کبھی سرنگوں نہ ہوئی۔

۱۹۸۶ء سے ۲۰۱۰ء تک ایک عام شہری کا معیارِ زندگی تقریباً دس گنا بڑھ گیا تھا اور ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۳ء تک اوسطاً سرمایہ کاری کی رفتار ساڑھے سات فی صد رہی۔ شہری آبادی کا تناسب مجموعی آبادی میں اب دوتہائی سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ دنیا کی عیاش ترین قوم ہے۔ چین کے زرمبادلہ میں محفوظ ذخائر اب تقریباً ساڑھے تین کھرب ہیں جو دنیا کے ہر ملک کے ذخائر سے زیادہ ہیں اور ان میں تقریباً ۹۳ فی صد تک امریکی ریاستی تمسکات کی شکل میں امریکی بینکوں میں محفوظ ہیں۔کچھ مارکسسٹ مفکرین نے چین کے اصلاحات کے دور کو لینن کی نیو اکنامک پالیسی کے دور سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لینن سمجھتا تھا کہ ریاستی سرمایہ داری کی تعمیر میں لبرل سرمایہ اور لبرل مارکیٹوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ خواہ یہ لبرل سرمایہ اور تجارت ملک کے اندر ہو یا بیرونی۔ اگر ریاست پر پارٹی کی گرفت مضبوط ہو تو معیشت کی لبرلائزیشن پرولتاری آمریت کو فروغ دے سکتی ہے۔ چینی کمیونسٹوں نے یہ ثابت کر دیا ہے اور لبرل اصلاحات کو اشتراکی سرمایہ داری کے فروغ کا ایک اہم جزو بنا دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کو اپنا سازگار عالمی ماحول میسر آیاہے جو لینن کو کبھی میسر نہ تھا۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ چینی کمیونسٹ پارٹی جو عوامی تائید ہمیشہ حاصل رہی ہے وہ لینن کو صرف ۱۹۱۷ء سے ۱۹۲۴ء تک حاصل تھی اور بالشویک پارٹی میں اس کی نوعیت کی تبدیلیاں کبھی بھی نہ ہو سکیں جو چینی کمیونسٹ پارٹی میں مستقل جاری رہیں۔

چینی سرمایہ داری کارپوریٹ ملکیت اور لبرل مارکیٹ کے مکمل معاشرتی غلبہ کی راہ پر گام زن ہے۔ آج تقریباً تمام چینی یونی ورسٹیوں میں نیوکلاسیکل اکنامکس غالب معاشی منہج کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ نجی کارپوریٹ سرمایہ کار اب کمیونسٹ پارٹی کے ممبر بنائے جاتے ہیں اور کچھ علاقوں میں سنٹرل کمیٹی کا اثر معدوم ہو گیا ہے اور پارٹی کی تعلیم گاہوں میں کلاسیکل اکنامکس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ مارکس کے مطابق کارپوریٹ اور ریاستی ملکیت میں کوئی اساسی فرق نہیں دونوں ہی نجی ملکیت کو ختم کرنے کا ذریعہ ہیں اور مزدوروں کو بڑے پیمانے پر حصص خرید کر نجی ملکیت کو ختم کر دینا چاہیے۔ ریاستی فرموں اور کارپوریٹ فرموں کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں دونوں ہی سرمایہ کاری کی بڑھوتری کے مقصد کے لیے کام کرتی ہیں۔ اشتراکی ملک وہ ہے جو ٹیکس نظام کے ذریعہ عوام کی بہبود کےلیے رقم فرموں کے منافع سے حاصل کرتی ہے۔ چوں کہ تمام لبرل معیشتیں یہی کرتی ہیں لہٰذا وہ بھی بالخصوص امریکا کسی نہ کسی حد تک سوشلسٹ ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ مینجر اور مزدور میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں محنت کش ہیں۔ مینجر وہ مزدور ہے کہ سرمایہ کاری کے خطرات مول لیتا ہے۔ لہٰذا وہ بھی پرولتاریہ کا رکن ہے۔ چین میں پوسٹ ماڈرنسٹ [209]اور ادبی اور ثقافتی اشرافیہ کے حلقوں میں والٹر بینجمن اور مارٹن ہائیڈیگر کی فکر کا اثر واضح ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم کا یہ احیا سوشل ازم کی مخالفت قوت کے طور پر ابھرا ہے اور یہ ۱۹۴۹ء کے انقلاب کو چینی تاریخ کے کلیدی اور فیصلہ کن موڑ کے طور پر قبول نہیں کرتا۔ وہ قدیم چینی روایات، یادداشتوں اور اخلاقیات کی ایک نئی مقبولِ عام تشریح پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

پوسٹ ماڈرن ازم حق کے وجود کا انکاری ہے۔ کوئی نظام فکر و حیات(لبرل ازم، سوشل ازم، قوم پرستی، قدیمی چینی مذہب اور اخلاقی تصورات) منفرد طور پر حق نہیں۔ ان سب کو تجرباتی بنیادوں پر آزما کر حق کی مخصوص حالت میں نفس کی خواہشات کی تکمیل کے لیے ایک فائدہ مند حق تخلیق کرنے کی جدوجہد مستقل جاری رہنی چاہیے۔ لہٰذا اشتراکی ادارتی صف بندی، مارکیٹائزیشن، نج کاری ان سب کے تنقیدی تجربہ کی ضرورت ہے اور ان ظواہر کی بنیاد پر ایک مربوط چینی معاشرت کی جدوجہد ایک سراب اور دھوکا ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ پیروکاروں کی رائے میں ماؤسٹ اور ڈینگسٹ دونوں نئے معاشرتی تجربات کی راہ میں حائل ہیں۔ڈینگسٹ چینی پوسٹ ماڈرن ازم کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں کیوں کہ وہ عوامیت اور تاریخی چینی روایتی شناخت کو ہوا دینے والی تحریک ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ ریاستی غیر مرکزیت اور مقامیت کی ریاستی قوت کو منتشر کرکے مقامی شناخت کو فروغ دینے کی سعی کرتے ہیں اور یہ چین کے اس پچاس فی صد علاقے کے لیے خطرہ ہے جہاں جہاں غیرچینی اقلیتیں رہتی ہیں اور جہاں قومی مختاری کی تحاریک کے خلاف کمیونسٹ پارٹی ۱۹۴۹ء کے بعد سے ہر دور میں فوجی کارروائی کرتی رہتی ہے۔ڈینگسٹ کہتے ہیں کہ چینی مارکس ازم نہ صرف چینی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ سنکیانگ، گانزو اور تبت کی آزادی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، یہ ماؤ کے ثقافتی انقلاب کا ایک نیا احیا ہے جو پورے ملک میں بے امنی اور انتشار پھیلا رہی ہے۔

پوسٹ ماڈرنسٹ نظریات کے پھیلاؤ کا باعث وہ معاشرتی تغیرات ہیں جو چین میں ۱۹۸۹ء کی مہم کو کچلنے کے بعد سے رونما ہو رہے ہیں۔ ۱۹۸۹ء کے بعد چینی دولت میں بے اندازہ اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ سرمایہ کی شکل میں ہوا۔ سرمایہ وہ دولت ہے جو مستقل اپنے اضافے کی تلاش میں مارکیٹوں میں چکر لگاتی رہتی ہے۔ چینی سرمایہ نے بنیادی طور پر تین شکلیں اختیار کی ہیں: زرِ مبادلہ کے ذخائر(foreign exchange reserves)، فنانشل اثاثے اور برآمدات۔ اس کے ساتھ ساتھ دولت اور آمدنی کی نامساویانہ تقسیم میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام چینی کا معیار زندگی دس گنا بڑھا لیکن سٹہ بازوں، ساہوکاروں، ریاستی اشرافیہ کا معیار زندگی ۱۹۸۹ء کے مقابلہ میں ایک ہزار گنا بڑھا ہوا ہے۔ چین میں absolute غربت تقریباً ختم ہو گئی ہے لیکن relative یعنی تقابلی غربت روزافزوں بڑھتی چلی جا رہی ہے[210]۔ اشیااور سرمایہ دارانہ ذرائع کا انبار لگایا جا رہا ہے لیکن کاشت کاروں اور مزدوروں کی عظیم اکثریت اپنی ہر دم بڑھتی ہوئی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنے آپ کو محروم تصور کرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی درمیانے اور امیر طبقوں کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ہر سرمایہ دار معیشت خواہ لبرل، خواہ سوشلسٹ، خواہ قوم پرست، کی طرح چینی معیشت بھی فاضل پیداوار کے بحران کا شکارہے۔ بچتیں اور سرمایہ کاری کی رفتارِ بڑھوتری آسمان کو چھو رہی ہے۔ قابل فروخت اشیا کے انبار لگ گئے ہیں لیکن قوتِ خرید میں اضافہ کی رفتار سست ہے کیوں کہ آمدنی اور دولت کی تقسیم نامساویانہ ہوتی چلی جا رہی ہے[211]۔ اور عدم تحفظ کا احساس لوگوں کو مستقل بچتوں اور سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسراف اور عیاشی کے مناظر عام ہیں اور دولت مند لوگوں کا طرزِ زندگی اپنانا ہر چینی کی زندگی کا اولین مقصد بن کر رہ گیا ہے۔ خواہشاتِ نفسانی ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ چینی معاشرت عالمی سرمایہ دارانہ معاشرت میں مطلقاً جذب ہو گئی ہے۔ ایسے ماحول میں پوسٹ ماڈرنسٹ آدرشوں اور طرزِ فکر کا پھیلنا ایک فطری عمل ہے اور چینی معاشرت کو عالمی سرمایہ دارانہ معاشرت میں ضم کرنے کا بنیادی آلہ مواصلاتی ٹیکنالوجی ہے۔

چینی معاشرت شدید ہیجان کا شکار ہے۔ یہاں مختلف نظام فکر، نظام اقتدار، نظام کار اور نظام مواصلت ایک دوسرے سے متصادم اور ایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ ان متنوع تجربات سے گزر کر ایک عام چینی انتشارِ فکر کا شکار ہے۔ دیہی اور شہری زندگی ذاتی اور ریاستی سرمایہ دارانہ نظام ملکیت ایک دوسرے میں سموئی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں اشتراکی آدرش لازماً لغو اور بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔مغرب امید کرتا ہے کہ ان حالات میں کمیونسٹ پارٹی اپنی نظریاتی بالادستی اور ادارتی تفوق برقرار نہ رکھ سکے گی۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ کمیونسٹ پارٹی نے بین الاقوامی معیشت چینی معیشت اور معاشرت کے ادغام کو ایک خطرہ کے طور پر محسوس کر لیا ہے اور اس خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے چینی قوم پرستی کا سہارا لیا ہے۔ پارٹی عام چینی کے مادی مفادات کے مطابق کردار ادا کر رہی ہے اور چینی شہریوں کو احساس دلا رہی ہے کہ یہ مفادات مخصوص ہیں[212] اور ان کے تحفظ کےلیے کمیونسٹ پارٹی کا اقتدار اور پرولتاری آمریت ناگزیر ہے۔ چینی ثقافتی تشخص کو محفوظ رکھنے کے لیے کمیونسٹ پارٹی قدیم چینی تہذیبی روایات کا سہارا نہیں لیتی۔ وہ ماڈرنائزیشن کو ناگزیر سمجھتی ہے لیکن ماڈرنائزیشن کے حصول کے لیے ایک منفرد چینی معاشرت کو قائم کرنا چاہتی ہے اور ان معنوں میں چین میں ۱۹۸۹ء کے بعد کیے جانے والے تجربات ٹوکوگاوا جاپان کے انیسویں صدی کے آخر کے ثقافتی اور معاشی تجربات سے ہم آہنگ ہیں۔ مغرب سے درآمد شدہ نظریات کو قومیانے کی ضرورت کا احساس ماؤ کو بھی تھا اور ۱۹۵۰ء کی دہائی سے ہی چینی خصوصیات والی اشتراکیت کو فروغ دینے پر اصرار کیا جانے لگا۔ چینی ماڈرن ازم سے مانوس ہو کر اس سے محفوظ ہونا چاہتے ہیں۔ آج چین ماڈرنائزیشن کو غیر مغربیانے (de-Westernization) کے کسی حد تک کامیاب تجربے سے گزر رہا ہے۔ یہی چینی پوسٹ ماڈرن ازم ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی ایک نئی تشریح ہے، اس کی تردید نہیں۔

چینی ماڈرن ازم پرولتاری ڈکٹیٹرشپ سے متصادم نہیں، پارٹی نے معاشرتی اور معاشی سطح پر جمہوریت کو فروغ دیا ہے اور اس کے بدلے میں معاشرتی اور معاشی قوتیں پارٹی کے اقتدار کو قبول کرنے پر رضامند ہیں۔ ایک عام چینی اب اپنی شناخت اپنی قوتِ صرف (consumption power) میں پاتا ہے۔ جب تک پرولتاری ڈکٹیٹرشپ اس شناخت کی پرورش کرتی رہے گی اس ڈکٹیٹرشپ کو کوئی نظاماتی خطرہ در پیش نہیں۔ پارٹی قیادت اور چینی عوام کے تصورات، خواہشات اور اہداف یکساں ہیں اور ریاست اور معاشرہ ان مشترکہ اقدار اور ترجیحات کے عکاس ہیں۔ چینی معاشرت ایک ایسی سول سوسائٹی ہے جس کو پرولتاری ڈکٹیٹرشپ نے ہی تعمیر کیا ہے اور کمیونسٹ پارٹی کی سیاسی بالادستی اس کے قیام، استحکام اور فروغ کی ضامن ہے۔ چینی سول سوسائٹی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف بغاوت کیسے کر سکتی ہے۔

چینی سول سوسائٹی عیاش، خودغرض، سفاک صارفین کی بالاداستی کا اکھاڑا ہے جہاں سرمایہ دارانہ بدعنوانی کے خلاف مستقل جدوجہد ہوتی رہتی ہے[213]۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو معطل کرنے کی کوئی تحریک ہے نہ پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو کسی مقامی لبرل قوت سے خطرہ ہے[214]۔ نسبتاً غریب عوام خواہ کسان، خواہ مزدور کمیونسٹ پارٹی کو اپنا فطری نجات دہندہ تصور کرتے ہیں اور ہر سال غریب عوام پر مشتمل سیکڑوں وفود دوردراز علاقوں سے سفر کر کے بیجنگ میں مرکزی پارٹی قیادت کو عرض داشت پیش کرتے ہیں اور عموماً پارٹی ان کے مطالبات کو تسلیم کر لیتی ہے[215]۔ مشہور چینی مصنف Xudong Zang کہتا ہے چینی معاشرہ مقامی عالم گیریت کا اثر ہے۔ یہ معاشرہ عیاشی، خودغرضی اور نفس پرستی کو پوری طرح قبول کر چکا ہے جو کہ چینی تہذیبی آدرشوں کی نفی ہے۔ ہر کسی کو صرف اپنی ذات اور اپنے چھوٹے سے مقامی اردگرد کی آزادی اور ترقی کو فروغ دینے سے غرض ہے۔ اس کے کوئی آفاقی نظریات اور مقاصد نہیں۔ سرمایہ نے اس کی روح پر قبضہ کر لیا ہے، اس کے دماغ پر نہیں۔

چین کے سب سے کامیاب سرمایہ کار وہ ہیں جو پارٹی کے موجودہ یا سابقہ اونچے درجے کے عہدہ دار ہیں یا ان عہدے داران کے وابستگان۔ چینی سرمایہ کاری کے فروغ کا سب سے اہم ذریعہ ریاستی املاک کی نج کاری رہی ہے اور بقول Sun Liping نج کاری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقعہ ریاستی اشرافیہ نے کبھی ضائع نہیں کیا۔ یہ نو دولتی اشرافیہ اب چین پر معاشی، سیاسی اور معاشرتی غلبہ حاصل کرے گی اور فی الواقع حکومت پارٹی کے ذریعے یہی لوگ کر رہے ہیں اور اپنا غلبہ قائم رکھنے کے لیے یہ پارٹی کی تنظیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ معاشی کرپشن کی نتظیم پارٹی کے ادارتی ڈھانچے سے فائدہ اٹھا کر ہی موثر بنائی اور اب رشوت، بھتہ، دھاندلی چینی معیشت کا روحِ رواں بن گئے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی اداروں کی خریدوفروخت عام ہے۔ کرپشن کے انسداد کی وقتاً فوقتاً چلائی جانے والی تحریکات محض اشرافیہ کے گروہی تصادم کا اظہار بن گئی ہیں۔

چینی اشرافیہ تقریباً ۷۰ لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ مرکزی اور مقامی اعلیٰ ریاستی افسران پر مشتمل ہے۔ یہ اشرافیہ پارٹی سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ ان میں سے بیش تر پارٹی میں ۱۹۷۸ء کے بعد سے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان لوگوں کی مدد سے ایک معاشی اشرافیہ وجود میں آئی ہے جو زیادہ تر سیاسی اشرافیہ کے قرابت داروں پر مشتمل ہے۔ یہ معاشی اشرافیہ ریاستی کارپوریشنوں اور بینکوں کے اعلیٰ درجہ کے مینجروں پر مشتمل ہے۔ معاشی اشرافیہ میں نجی بڑی کمپنیوں کی اعلیٰ مینجمنٹ بھی شامل ہے ۔ ان میں اکثر پارٹی کے وابستگان شامل ہیں۔ چھوٹے نجی کاروباری مقامی حکومتوں کے وابستگان ہیں۔ ان کا انحصار ریاستی تعاون پر کم ہے اور دوسرے ممالک کے کاروباریوں کی طرح انہوں نے اپنی الگ ایسوسی ایشنز بنائی ہیں جو کمیونسٹ پارٹی کے باہر ریاستی اداروں میں اپنی نمایندگی کے لیے جستجو کر رہی ہیں۔ اس طبقہ کا اہم ترین مطالبہ نجی کارپوریٹ ملکیت کا فروغ اور اس فروغ کےلیے قانون سازی ہے۔اشرافیہ کے ان تینوں دھڑوں کا طرزِ زندگی یکساں ہے اور سب آسائشوں سے بھرپور اور مصروف ترین زندگی گزار رہے ہیں۔۱۹۸۷ء کے بعد سے دانش ور اشرافیہ بھی ابھر آئی ہے جس کا معاشرتی اور پبلک رائے کی تعمیر میں اثر بڑھ رہا ہے[216]۔ یہ عموماً کمیونسٹ پارٹی کے دائیں بازو کے حلیف ہیں لیکن ان کو شکایت ہے کہ پارٹی نے ان کے مادی مفادات کو فروغ نہیں دیا اور ان میں بھی خودغرضی اور مطلب پرستی عام ہے۔

چینی مڈل کلاس کی بالائی سطح تقریباً تین کروڑ افراد پر مشتمل ہے[217]۔ نچلی سطح کی تعداد ۸ کروڑ ہے۔ مڈل کلاس تعلیم یافتہ اور تیز رفتار معاشی ترقی اور غریب اور امیر کے درمیان فرق کو کم کرنے کی حامی ہے۔ پارٹی سے اس کے روابط محدود ہیں۔چین کا مزدور طبقہ بڑے پیمانے پر خلفشار کا شکار ہے۔ ۱۹۸۹ء کے بعد ملازمتیں محفوظ نہ رہیں اور چین میں ایک فری لیبر مارکیٹ قائم ہو چکی ہے۔ پارٹی کے روابط مزدور طبقے کے ساتھ ڈھیلے ہو نے لگے اور کارپوریٹ مینجروں کا اثر و رسوخ فرموں کے اندر مستحکم ہو گیا۔ فرموں کے اعلیٰ مینجر وہاں پائی جانے والی پارٹی تنظیم کے سربراہ بھی ہوتے ہیں اوروہاں کی ٹریڈ یونین کا سربراہ بھی ایک کارپوریٹ مینجر کو بنا دیا جاتا ہے۔ ریاستی فرموں میں مزدور تنظیموں کا نمایندہ بھی مینجر ہی ہوتا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں پارٹی سے مایوسی لیبر طبقے میں عام ہے اور پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کا تصور اجنبی ہو گیا ہے۔

جو غیرملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں چین میں قائم ہوئی ہیں ان میں بھی ٹریڈ یونین اور کمیونسٹ پارٹی کی برانچ قائم کی جاتی ہے۔ لیکن یہ چینی مینجریل سطح کے افسروں کی ماتحتی میں کام کرتی ہیں۔ ان کا مقصد کارکنوں کی تنخواہوں اور مراعات میں مستقل اضافہ ہوتا ہے۔ غیرملکی فرموں کا سرمایہ مجموعی چینی سرمایے کا ۱۵ فی صد ہے۔ طبقاتی کش مکش روز بروز بے معنی ہوتی جا رہی ہے اور چین بھر میں ایسے بزنس اسکول موجود ہیں جو ہیومن ریسورس مینجمنٹ کی تعلیم دے رہے ہیں[218]۔ ان بزنس اسکولوں کا نصاب امریکا اور جاپان سے لیا گیا ہے۔ایشیا کی تائیوانی، سنگاپوری اور ہانگ کانگی[219] ملٹی نیشنل کمپنیوں میں یورپی اور امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں مزدوروں سے کچھ زیادہ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اوقات کار عموماً ۱۲ گھنٹے اور سات دن کے ہوتے ہیں۔ اجرتیں بہت کم ہوتی ہیں۔ صنعتی حادثات عام ہیں۔ یہاں طبقاتی کش مکش کے مظاہرے نظر آتے ہیں اور عام کارکن ایشیائی غیر ملکی مینجروں کے اختیارات کو کم کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن ایشین ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملازمین عموماً ان مزدوروں پر مشتمل ہوتے ہیں جو دور دراز علاقوں سے نکل کر شہروں میں نئے نئے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ مقامی حکومت ایشیائی کمپنیوں کے مالکان کے ظلم و زیادتی کی پشت پناہ بن گئی ہے اور مزدوروں کے دستوری حقوق ایشیائی کمپنیوں میں بے دردی سے کچلے جاتے ہیں۔ مقامی حکومتیں غیرملکی مینجروں کا ساتھ اس لیے دیتی ہیں کیوں کہ ان حکومتوں کے درمیان اپنے علاقے میں زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی مسابقت ہر وقت جاری رہتی ہے۔

چینی کاشت کاری اصلاحات کے پہلے دور (۱۹۷۰ء تا ۱۹۸۴ء) میں نسبتاً خوش حالی ہے۔ ان پر ریاستی پابندیاں کم کر دی گئی ہیں اور ذاتی ملکیت کو فروغ دیا گیا ہے۔ دیہی صنعتوں کے لیے ایک نئی طرز کی کمپنیاں Town and Village Entrepreneurs تیزی سے پھیلنے لگیں اور ان میں کاشت کاروں کا نمایاں حصہ تھا۔ لیکن ۱۹۸۴ء کے بعد ریاستی پالیسی پھر سے تیز رفتار ترین صنعتی ترقی پر زور دینے لگی۔ زراعت پر ٹیکس بڑھا دیے گئے اورٹیکس کی وصول یابی کا نظام ناقابلِ برداشت حد تک سخت کر دیا گیا۔ ٹیکس جمع کرنے والوں کو اجرتیں کاشت کاروں کو خود برداشت کرنا پڑتی ہیں اور ٹیکس انتظامیہ ہوش ربا کرپشن کو پروان چڑھاتی ہے۔جدید مشینری اور کھاد وغیرہ کی فراہمی بڑے پیمانے پر نہایت دشوار ثابت ہوئی۔ کاشت کاروں کی آمدنی نہایت کم ہے اور وہ اب بھی چینی آبادی کا ۶۵ فی صد ہیں۔ ہر سال کاشت کاروں اور مقامی حکومتی منتظمین میں جھگڑے بڑے پیمانے پر رونما ہوتے رہتے ہیں۔

چینی معاشرہ کی نچلی ترین سطح وہ دس کروڑ افراد ہیں جو شہروں کے بے روزگاروں اور دیہی مفلسوں پر مشتمل ہے۔ یہ چینی مستضعفین ہیں۔ ان میں قانون شکنی کے رجحانات تیزی سے پھیل رہے ہیں اور عمرانی تحقیق (sociological research) سے واضح ہوتا ہے کہ صرف انفرادی جرائم فروغ نہیں پارہے بلکہ قانون توڑنا اس طبقہ میں ایک قابلِ فخر عمل کے طور پر مانا جانے لگا ہے[220]۔ چین میں غیرقانونی معیشت بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ غیرقانونی معیشت چینی معاشرت اور سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسی مثالیں عام ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی ایسی غیرقانونی معیشت کو برداشت ہی نہیں کر رہی اس کو فروغ دے رہی ہے۔چینی معاشرت شدید انتشار کا شکار ہے۔ ایک قلیل اقلیت ایک ایسی وسیع اکثریت پر ریاستی اور مارکیٹ کے جبر کے ذریعے مسلط ہے جو نظام کی کارفرمائی سے غیر وابستہ ہے۔ اس لحاظ سے چین ایک لاطینی امریکی ملک کی معاشرت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ عوام دہشت گردی، پیداواری تخریب کاری، ہڑتالوں اور انتظامیہ کو مفلوج کر نے والے ا عمال کو انتقام کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں اور ان کی معاشرتی افادیت کے بھی قائل ہیں۔ ان حالات میں اشتراکی سرمایہ دارانہ آدرش بالکل بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ 

جنوبی کوریا کی طرح چین نے بھی اپنے بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے لبرل سرمایہ داری پر انحصار کیا ہے۔ ترقی کو جاری رکھنے کے لیے بیرونی تجارت اور بیرونی سرمایہ پر انحصار کیا گیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے چین بین الاقوامی سرمایہ دارانہ لبرل نظام معیشت کے رہنما اصولوں کی تابع داری قبول کرے گا ویسے ویسے سیاسی استحکام کو قائم رکھنا مشکل ہوتا چلا جاے گا کیوں کہ بین الاقوامی لبرل نظاماتی اصولوں کی پابندی لامحالہ دولت اور آمدنی کی معاشرتی تقسیم کو غیرمساویانہ ترین بنا دے گی۔ دولت اور آمدنی کم سے کم افراد اور اداروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے گی اور محرومین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ یہ محرومین حسد، غضب اور حرص سے شدید ترین طور پر مغلوب ہو جائیں گے اور ان حالات میں سیاسی استحکام کو برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔لبرل استعمار چین کی اس نظاماتی کم زوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہی چین کو عالمی لبرل سرمایہ درانہ قوانین کی پابندی پر مجبور کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ۲۰۱۶ء میں چینی معیشت دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ دارانہ معیشت ہو گی۔ کیا یہ ایک لبرل سرمایہ دارانہ معیشت ہو گی؟

۲۰۰۸ء کے عالمی سرمایہ دارانہ بحران نے چین کو متاثر کیا اور چینی حکومت نے قومی سرمایہ دارانہ نظام کو سنبھالا دینے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا (مجموعی آمدنی کا ۱۵ فی صد) امدادی پیکج نافذ کیا۔ لیکن ۲۰۰۷ء میں اس وقت کے وزیراعظم ون جیاباؤ نے اپنے پیپلز کانگریس کے خطاب میں کہا تھا چینی معیشت غیرمربوط، غیرمستحکم اور غیرمتوازن ہے۔ ترقی کی موجودہ رفتار قائم رکھنا نہایت مشکل ہے۔ بین الاقوامی لبرل سرمایہ دارانہ معیشت چینی سرمایہ دارانہ نظام پر انحصار کرتی ہے۔اس کی وجوہات یہ ہیں:

1۔برآمدات پر زرِ مبادلہ زیادہ تر امریکا اور یورپ کو جاتا ہےتاہم مشرقی ایشیا کا حصہ بڑھ رہا ہے۔

۲۔ چینی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو امریکی قومی تمسکات کی شکل میں رکھا جاتا ہے۔

۳۔ آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود چین کرنسی کی شرح تبدل کو کم رکھتا ہے۔

۲۰۰۹ء کے بحران کے نتیجے میں برآمدات میں خاصی کمی ہوئی لیکن حکومتی امدادی پیکج [221]نے ترقی کی رفتار کو سنبھالا دیا اور سرمایہ کاری کے اس تیز رفتار اضافہ کے باوجود سرمایہ کی پیداواری سکت گر رہی ہے[222]۔ 

چینی سرمایہ بین الاقوامی سرمایہ میں بتدریج ضم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ بات سودی کاروبار اور سٹہ بازی کے ہوش ربا فروغ سے سب سے زیادہ عیاں ہوتی ہے جس نے امریکا کی طرح چین میں بھی ایک رہائشی تعمیراتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ آج پورے چین میں لاکھوں نیم تعمیر شدہ مکانات خالی پڑے ہیں کیوں کہ جن لوگوں نے ان کو بنانے کےلیے قرضے لیے تھے وہ سود کی ادائیگی کے قابل نہیں رہے۔ یہی حال امریکا میں ہے۔
۲۰۱۱ء میں ۱۹۹۴ء کے مقابلے میں بیرونی برآمدات میں سرمایہ کاری دگنی ہو گئی۔ ۲۰۰۶ء کے مقابلے میں ۲۰۱۰ء میں چین کا مجموعی عالمی معیشت میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حصہ ۴۲ فی صد زیادہ تھا۔ اب چین خود بھی بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس بیرونی سرمایہ کاری کو سرکاری ادارہ China Investment Corporation چلاتا ہے۔ چین میں ۹۹ فی صد بیرونی سرمایہ کاری سرکاری ہی ہوتی ہے اور اس بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے ہی بین الاقوامی فنانس اور اشیا کے بازاروں میں اپنی ساکھ قائم کر رہا ہے۔
۲۰۱۲ء میں چین دنیا کا چوتھا سب سے بڑا عالمی بیرونی سرمایہ کار بن گیا ہے ۔ یہ سرمایہ کاری ۱۸۱ ممالک میں ہو رہی ہے۔

چینی ٹیکنالوجیکل ترقی سست رفتار ہے لیکن فرمیں جدید ترین ٹیکنالوجی پیدا اور استعمال کر رہی ہیں۔ جیسا کہ جدول ۴ سے واضح ہے کہ دنیا کی سو سب سے بڑی کمپنیوں میں ۲۰۱۲ء میں آٹھ چینی کمپنیاں شامل تھیں۔

جدول ۴: سرمایہ دارانہ دنیا کی سو سب سے بڑی کمپنیوں میں چینی کمپنیوں کا مقام

نام

رینک

شعبہ

اثاثے (ملین ڈالر)

Industrial & Commercial Bank of China

2

فنانس

1351378

Peterochina

2

آئل اینڈ گیس

1326591

Cortwch Bank

7

فنانس

1232608

Bank of China

29

فنانس

145977

CNOOC

46

آئل اینڈ گیس

112500

Senope

49

آئل اینڈ گیس

107900

China Life Insurance

85

فنانس

94680

China Sbenna Energy

67

آئل اینڈ گیس

89770

دنیا کے دوسرا اور ساتویں سب سے بڑے بینک چینی سرکاری بینک ہیں اور دنیا کی سود اور سٹے کی مارکیٹوں کے روحِ رواں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں بین الاقوامی مارکیٹوں میں چینی سرمایہ دار کمپنیوں کا تسلط مستحکم ہے۔ اپنی چھہ ہزار سالہ تاریخ میں چین ہمیشہ ایک استعماری قوت رہا ہے۔ آج بھی چین کا ۵۰ فی صد سے زائد رقبہ نوآبادیات پر مشتمل ہے جس میں سب سے اہم مشرقی ترکستان کا علاقہ ہے۔ ان نوآبادیاتی علاقوں کے عوام کے ساتھ چین کا رویہ ہمیشہ نہایت ظالمانہ، غاصبانہ اور سفاکانہ رہا ہے۔ آج بھی سنکیانگ، گانزو اور تبت میں چینی بربریت اور درندگی اپنے عروج پر ہے۔ ہر سرمایہ دارانہ معیشت کی طرح چین بھی وسیع استعماری عزائم رکھتا ہے اور اپنا معاشی تسلط قائم کر کے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا پر بالخصوص اپنا غلبہ قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ جیسے جیسے چین کے اپنے خام مال کے وسائل کم ہو رہے ہیں وہ دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضہ جمانے کی سعی کر رہا ہے۔ اس معاملے میں تین افریقی ممالک انگولا، سوڈان اور جنوبی افریقہ خاص طور پر چین کے نشانے پر ہیں اور وہاں وسیع پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

لیکن چینی استعمار امریکی استعمار کا حریف نہیں ہے۔ ہر سال چینی برآمدات کا تقریباً بیس فی صد امریکا جاتا ہے اور امریکا کے ساتھ چین کا تجارتی توازن بہت بڑا منافع چین کو دیتا ہے۔ امریکی سرکاری تمسکات کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار چین ہی ہے[223]۔ ۲۰۰۸ء کے بحران سے نکالنے کے لیے چین نے یورپی ممالک کو بہت بڑے قرضے فراہم کیے اور چین کے مرکزی بینک کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے ۲۰۱۱ء میں کہا ’’چین کا قومی مفاد اسی میں ہے کہ وہ یورپ کی مدد کرتا رہے‘‘۔ اسی طرح چینی معیشت کی ترقی اس بات پر منحصر ہے کہ امریکی معیشت مستحکم رہے، ڈالر مضبوط رہے اور امریکا کے سرکاری اخراجات بڑھتے رہیں۔ اس اشتراکِ مفادات اور بڑھتے ہوئے تعاون کے باوجود چین امریکی استعمار سے خائف ہے۔ چین نے عراق و افغانستان اور ۱۹۸۰ء کی ایران عراق جنگ میں امریکی استعمار کی مخالفت نہ کی اور اس کی ایک بڑی وجہ چین کی شدید اسلام دشمنی ہے[224]۔ لیکن شمالی کوریا، بحرالکاہل اور جنوبی بحرچین میں امریکی مداخلت کی مزاحمت کر رہا ہے اور اپنی بحری قوت کو فروغ دینا اس کے اہم پالیسی اہداف میں شامل ہے۔ امریکا سے مقابلہ اور اپنے استعماری عزائم کو مقبول عام بنانے کے لیے اب کمیونسٹ قیادت قوم پرستانہ جذبات کو فروغ دے رہی ہے۔ ویت نام کی جنگ میں ماؤ نے یہی کام کمیونسٹ عصبیت سے کیا تھا۔

لیکن چینی مقتدرین کو اصلی خطرہ اپنے عوام سے ہے امریکا سے نہیں۔ عوام مستقل اس بات پر مصر ہیں کہ چین کی آبادی کے ایک فی صد کا ملکی دولت کے ۴۰ فی صد حصہ پر قبضہ ہے۔ عوام حرص و غضب سے مغلوب ہیں۔ وہ حکمرانوں کو اپنی مادی محرومی کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ان کی نظر میں حکمران نظام کو اپنے ذاتی اغراض کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور نظریاتی گفت گو محض لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لبرل اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام میں یہ بنیادی فرق ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں عوام حکومت کو اپنی محرومیوں کا ذمہ دار نہیں سمجھتے بلکہ ان کی رائے میں مارکیٹ کی ٹیکنیکل کارفرمائی اور افراد کی نااہلی عام آدمی کی محرومیوں کا باعث ہوتی ہے اور حکمران طبقہ کا مارکیٹ کی کارفرمائی متعین کرنے سے کوئی بنیادی تعلق نہیں۔ لہٰذا حکمران طبقہ عوام کے غضب اور نفرت کا نشانہ نہیں بنتا۔ اس کے ساتھ ساتھ لبرل جمہوریت عوام میں یہ تاثر بھی عام کرتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے حکمران بدل سکتے ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر لبرل سرمایہ داری میں حکمرانی استحصالیوں کا نظاماتی تسلط زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ اشتراکی سرمایہ داری میں یہ تاثر عام ہوتا ہے کہ حکمرانوں کا مارکیٹ پر قبضہ ہے اور وہ پالیسی سازی کے ذریعے عوام کو خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل سے محروم رکھ رہے ہیں لہٰذا وہ تمام عوامی غیظ و غضب کا نشانہ حکمران بنتے ہیں اور یہ رائے عام ہوتی جاتی ہے کہ مارکیٹ پر حکمرانوں کا تسلط ختم کر کے عوام سرمایہ کاری کے عمل سے پوری طرح سے مستفید ہو سکیں گے۔چین میں حکومت مخالف مظاہرے بڑھ رہے ہیں اور روز بروز پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں۔ چین میں ارب پتیوں کی تعداد ۲۰۰۰ء میں ۳۴ تھی، ۲۰۱۱ء میں یہ تقریباً۵۰۰ ہو گئی اور یہ سب ریاست کے تعاون اور نظاماتی کرپشن کو استعمال کر کے ہی ارب پتی بنے ہیں۔ ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۲ء تک چینی مزدوروں اور بے روزگار شہری باشندوں نے اوسطاً روزانہ ۵۱۶ ہنگامے کیے[225]۔ چینی حکمران انتشار کا شکار ہیں۔ مرکزی اور علاقائی [226] مزدوروں کے رہنما مراعات بڑھانے پر زور دیتےہیں اور چینی معیشت کو ملکی خرچ بڑھانے کے ہدف پر مرتکز کرنے کا خواہاں ہے لیکن اس سے چینی فرموں کی بین الاقوامی سکت مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ 

۱۹۹۰ء کی دہائی کے شروع سے چین میں ماؤازم کا احیا ہوا ہے اور ۲۰۱۳ء میں Bo Xilau کا حکومت اور پارٹی کی قیادت سے اخراج ماؤازم کے بڑھتے ہوئے اثر کی نشان دہی کرتا ہے۔Bo Xilau نے سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پر ایک مقامی معیشت تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کو چین بھر میں HongKong Model کا نام دیا گیا اور اس کا Guangdong Model سے موازنہ کیا جو مارکیٹ آزادیوں کو فروغ دینے، نامساویانہ تقسیم دولت اور آمدنی کو بڑھانے اور چین کو برآمدات اور سرمایہ کاری کے ذریعے بین الاقوامی لبرل نظام میں ضم کرنے پر مرکوز تھا اور جس کی بنیاد پر ۱۹۸۹ء سے اب تک چین میں پالیسی سازی جاری ہے۔

Chengquang کو۱۹۹۷ء میں ایک صوبہ بنا دیا گیا۔ یہ ایک پس ماندہ صوبہ ہے جہاں کی آبادی ۷۰ فی صد دیہی ہے۔ Bo نے دیہی اور شہری معیشت کو صوبائی سطح پر مدغم کرنے کی کوشش کی۔ Bo ایک مشہور کمیونسٹ انقلابی قائد کا بیٹا ہے اور پارٹی کی مرکزی قومی قیادت سے اس کے قریبی روابط تھے۔ Chengquang میں کامیابی حاصل کرنے کو Bo مرکز میں قائدانہ حیثیت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ Chengquang کی اصلاحات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ سرکاری معیشت کے دائرہ کار کی وسعت پذیری

۲۔ کسانوں اور مزدوروں کی ریاستی اعانت میں اضافہ

۳۔ نج کاری کے عمل کا خاتمہ

۴۔ دیہی تارکین کے شہری رہائشی حقوق میں اضافہ

۵۔ کارکنوں کے فرم کی مینجمنٹ میں حصہ داری کے حقوق میں اضافہ

۶۔ بہت چھوٹے کاروباروں کے فروغ کے لیے ریاستی اعانت کی فراہمی

۷۔ مقامی کمیونسٹ پارٹی پر عوامی تنقید اور تبصرہ کی ثقافتی انقلاب والی روایت کا احیا اور نفاذ

۸۔ پالیسی سازی کا بنیادی مقصد عوامی بہبود کو فروغ دینا ہو گا

۹۔ ایک صوبہ جاتی جرائم اور کرپشن مہم کا اجرا جس میں پارٹی اور ریاستی عہدہ داروں اور فرموں کے مینجروں کا احتساب کیا گیا۔ یہ مہم کامیاب ہوئی اور اس کے نتیجے میں پارٹی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

۱۰۔ پارٹی عہدے داروں کو ہفتہ وار عوامی دوروں کا پابند بنانا اور ان دوروں کے دوران ان عہدے داروں کےلیے لازم ہے کہ وہ عوام کے ساتھ بود و باش کریں اور پیداواری محنت میں شریک ہوں۔

۱۱۔ ہر پارٹی عہدے دار کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ ایک غریب رشتہ دار کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرے۔

۱۲۔ وسیع انقلابی عوامی اجتماعات کا فروغ جن میں ماؤ کی تحریروں کا مطالعہ، انقلابی تنقیحات اور ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔ Bo نے ان اجتماعات میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

چینی عوام کا ایک قابلِ ذکر حصہ اپنی نظاماتی نفرت کا اظہار ماؤسٹ نظریات اور doumanshou اخلاقیات سے وابستگی کے طور پر کر رہا ہے۔ Bo نے ان اخلاقیات کو فروغ دینے کی وسیع پیمانے پر کوشش کی۔ صوبائی ٹیلی وژن پر سے کمپنیوں کا اثر ختم کر دیا اور ان پر ریاستی تسلط میں اضافہ کر دیا۔Bo نے یہ تمام ماؤسٹ اصلاحات پارٹی اور ریاست کے انتظامی ڈھانچہ کو استعمال کرتے ہوئے ہی نافذ کیے۔ Bo نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پارٹی ابھی چاہے تو اپنے آپ کو مزدور کسان معاشرت میں سمو سکتی ہے اور معاشرتی لبرلائزیشن کو فروغ دیتے رہنا پارٹی کی بقا کے لیے ضروری نہیں۔ ۲۰۱۲ء میں Bo اور اس کے ساتھیوں کو تمام ریاستی اور پارٹی عہدوں سے برطرف کر دیا گیا اور ان میں سے بیش تر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں[227]۔ ۲۰۱۳ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے ایک بار پھر لبرل معاشی اور معاشرتی اصلاحات کے ڈینگسٹ پروگرام کو تیز کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ پرولتاری ڈکٹیٹرشپ اور پارٹی کی سیاسی اجارہ داری کو کسی کو بھی چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

جدول نمبر ۵ میں ہم ۱۹۷۸ء کے بعد سے چینی معیشت میں تغیرات کا ایک مجموعی خاکہ پیش کرتے ہیں۔

جدول ۵: چینی سرمایہ داری ترقی کا اشاریہ ۱۹۷۸ تا ۲۰۱۲ء (مجموعی آمدنی کا فی صد حصہ)

1978ء

85-1978ء

90-1986ء

95-1991ء

00-1996ء

06-2001ء

12-2007ء

مجموعی آمدنی کی ترقی

8.3

10.7

7.9

12.3

8.6

9.7

8.9

محنت کشوں کا حصہ

52.3

51.3

41.4

39.7

38

31

سرمایہ کاری

33.6

33.9

36.5

39

36.8

40.6

44.4

نجی خرچ

66.4

51.8

50.2

45.5

45.8

40.7

55.6

سرکاری خرچ

14.6

13.6

14.6

14.5

14.9

55.6

برآمدات

11.4

16.7

22.9

21.2

39.9

31

Source: Government of China Statistical Yearbook

اس جدول سے واضح ہوتا ہے کہ 

۱۔ ۱۹۷۸ء تا ۲۰۱۲ء چینی معیشت برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ پورے دورانیہ میں مجموعی قومی آمدنی کا اوسط شرح اضافہ ۵ء۹ فی صد ہے جو دنیا کے تیز ترین رفتارِ ارتقا میں شامل ہے۔ آج چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ ۲۰۱۶ء تک امریکا سے سبقت لے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

۲۔ ا س برق رفتار ترقی کا بنیادی محرک سرمایہ کاری ہے۔مجموعی آمدنی میں سرمایہ کاری کا حصہ ۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۱ء کی سطح (۳۳ فی صد) سے بڑھ کر ۲۰۰۷ء تا ۲۰۱۲ء میں ۲ء۴۴ فی صد ہو گیا۔ کسی بھی بڑے سرمایہ دارانہ ملک میں جو تیزی سے ترقی کر رہا ہے سرمایہ کاری کی مجموعی آمدنی میں اتنی اونچی شرح نہیں مثلاً ہندوستان میں یہ شرح ۳۰ فی صد کے لگ بھگ ہے۔

۳۔ مجموعی سرمایہ کاری کی شرح کے اضافے کے ساتھ ساتھ دیہی اور شہری محنت کشوں کی قومی آمدنی کا حصہ ۱۹۸۰ء تا ۱۹۸۵ء کے دورانیہ میں ۵۲ فی صد سے گر کر ۲۰۰۷ء تا ۲۰۱۲ء کے دورانیے میں ۳۱ فی صد رہ گیا۔ اس سے ایک طرف اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ چین میں دولت کا غیرمساویانہ تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے دوسری طرف یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ چین کی تیز رفتار ترقی برقرار رکھنے کے لیے بیرونی تجارت اور ملکی سرمایہ کاری اصل محرک ہیں۔ متعدد اعلانوں کے باوجود چین ملکی طلب میں اضافہ کو معاشی ترقی کا محور بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

۴۔ چین کی سرمایہ دارانہ ترقی کا اصل انحصار بیرونی دنیا پر ہے۔ ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۵ء کے دور میں مجموعی آمدنی کا صرف ۱۱ فی صد برآمدات سے حاصل ہوتا تھا اب یہ تناسب بڑھ کر ۳۱ فی صد ہو گیا ہے۔ بیرونی سرمایہ دارانہ معیشت میں ضم ہونے کے دو اہم طریقے اختیار کیے گئے ہیں۔ ایک چینی بینک کاری کا بین الاقوامی فنانشل مارکیٹوں میں فروغ اور دوسرے امریکی سرکاری تمسکات میں چینی محفوظات کی وسیع ترین سرمایہ کاری۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں طریقے چینی حکومت کے توسط سے کیے جاتے ہیں۔ چینی بینک سرکاری بینک اور زرمبادلہ کے ذخائر پر حکومت ہی کا قبضہ ہے۔

ان رجحانات سے واضح ہوتا ہے کہ چین دنیا کی طاقت ور ترین سرمایہ دارانہ اجتماعیتوں میں شامل ہے۔ وہ عالمی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا اہم ترین ستون ہے۔ لیکن چین ایک لبرل جمہوریت نہیں ایک پرولتاری ڈکٹیٹرشپ ہے۔ یہی اشتراکی سرمایہ داری ہے۔

چین کے کمیونسٹ حکمران پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو مستحکم کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں او رابھی تک لبرل سرمایہ دارانہ استعمار کی پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو کمزور کرنے کی تخریب کاری قابل ذکر حد تک کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ ماضی قریب میں لبرل معاشی نظام کو عوامی آمریت کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کا کامیاب تجربہ نازی جرمنی نے ۱۹۳۰ء کی دہائی میں کیا تھا اور جاپان نے بھی۔ ان آمریتوں کو ختم کرنے کے لیے لبرل استعماریوں کو دو عالمی جنگیں لڑنا پڑی تھیں اور تخریب کاری کارگر ثابت ہوئی۔ آج سرمایہ دارانہ استعمار چین سے ایک عالم گیر جنگ لڑنے کی سکت نہیں رکھتا لہٰذا زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ تخریب کاری مہمات کی پیہم ناکامی کے سبب لبرل جمہوریتیں پرولتاری ڈکٹیٹرشپ سے مصلحانہ سمجھوتا کریں گی اور اشتراکی اور لبرل سرمایہ دارانہ قوتوں میں سرمایہ دارانہ بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل فروغ پائے گا۔

ضمیمہ : ہندوستانی ماؤ ازم

۲۰۰۶ء میں من موہن سنگھ نے ماؤازم کو ہندوستانی قومی سالمیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ ہندوستانی ماؤ ازم ۱۹۶۰ء کی دہائی کی پیداوار ہے۔ چرومزمدار نے مغربی بنگال کی کمیونسٹ پارٹی کی صوبائی حکومت کی لبرل معاشی پالیسیوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے جماعت CPI-ML[228] تشکیل دی۔پہلی بغاوت نکسل باڑی میں کی گئی لیکن[229] جلد ہی یہ تحریک وسط ہندوستان کے کئی علاقوں میں پھیل گئی۔ ہندوستانی ماؤ بھارت کو ایک نیم جاگیردارانہ معاشرت کہتے ہیں اور اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے کسانوں کو اصل محرک انقلابی طبقہ گردانتے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کی حکمت عملی وہی ہے جو ماؤ نے ۱۹۴۵ء سے ۱۹۴۹ء تک اختیار کی تھی یعنی دیہی اور دور دراز علاقوں میں اپنا اقتدار قائم کر کے شہروں کا گھیراؤ کیا جائے[230]۔ ان کی خاص توجہ اودامی بے زمین کاشت کاروں کی مسلح تنظیم پر ہے۔ ہندوستانی ماؤسٹوں کا اثر بہار، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش اور بنگال کے ان علاقوں تک محدود ہے جہاں ادوامی بڑی تعداد میں موجود ہیں[231]۔ اودامی مفلوک الحال ہیں اور حکومت، بین الاقوامی کمپنیاں اور شہری باشندے ان کو بتدریج ان کے قدیم جنگلی رہائشی علاقوں سے بے دخل کر رہے ہیں۔جنگل میں رہائش پذیر قبائلیوں نے جھاڑکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اڑیسہ میں کان کن کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے خلاف مسلح مزاحمت کی ہے اور صوبائی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ کان کن کمپنیوں کو جنگل کے رہائشیوں کو بے دخل کرنے کے لیے سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

ہندوستانی ماؤسٹ تحریک کے پہلے دور (۱۹۶۷ء تا ۱۹۷۲ء) میں پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد شہروں سے جنگلی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرتی رہی۔ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائی خالصتاً ایک عسکری گوریلا تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ۲۰۰۰ء کی دہائی میں اس نے چھتیس گڑھ میں سول بغاوت برپا کر دی ہے۔ گوریلا جدوجہد کا عسکری دھڑا کمیونسٹ پارٹی ماؤسٹ CPI-Maoist[232] برپا کیے ہوئے ہے۔ CPI-ML اب ایک دستوری جماعت بن گئی ہے جو انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔

CPI-Maoist ایک خفیہ وین گارڈ غیرقانونی جماعت ہے۔ پارٹی نے شہری متوسط طبقے کے نوجوانوں کو دیہی علاقوں میں بھیجا تاکہ وہ کاشت کاری کی ایک انقلابی جدوجہد منظم کریں اور گوریلا جنگ کو توسیع دیں۔ گوریلا جنگ کا مقصد جنگلات کی کٹائی پر کام کرنے والوں کی تیزی سے بے دخلی اور حکومت کی زمین پر قبضہ حاصل کرنا ہوتا تھا۔ پولیس تھانوں پر حملوں کو بغاوت کا طریقہ کار بنایا گیا۔ اسی طرح دیہی مزدوروں کے اجرتی استحصال کے خلاف مزاحمت فروغ دی گئی۔ ابتدائی دور میں گوریلا کارروائیاں حکومت سختی سے کچل دیتی اور ۱۹۷۳ء میں نکسل باڑی بغاوت کے خاتمے کا اعلان آندھراپردیش، اوڑیسہ اور مغربی بنگال کی حکومتیں بار بار کرتی رہیں[233]۔ ۱۹۸۰ء کے ابتدائی سالوں میں ماؤسٹ تحریک بنگال کے علاقے میں دوبارہ منظم ہوئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوامی ادارتی صف بندی تھی۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ہندوستانی ماؤسٹوں کی توجہ مسلح دستوں کے قیام اور تھانوں پرحملوں کی تنظیم تک محدود رہتی تھی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں انہوں نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں دیہی مزدوروں کی انجمنیں، طالب علموں، نوجوانوں کی تنظیمیں اور دیگر عوامی اجتماعیتیں تشکیل دیں اور کوشش کی ماؤازم کو بحیثیت سیاسی نظریہ کے عوامی مقبولیت دلائیں۔ اس دور میں ماؤسٹوں نے رفاحی کاموں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی لیکن سب کام ضمنی حیثیت رکھتے تھے۔ اصل امید عسکری جماعت سے وابستہ تھی۔ اس دور میں آندھرا پردیش کے ماؤسٹوں کا لیڈر سیتارمینا تھا۔ وہ عوامی ادارتی صف بندی کو اس طرح عسکری جدوجہد سے مربوط کرنا چاہتا تھا کہ یہ احساس علاقہ میں عام ہو جائے کہ اگر ماؤسٹ کو علاقے سے نکال دیا گیا تو تمام غریب اور مفلوک الحال طبقہ کچل دیا جائے گا۔ تلنگانہ میں اودامیوں اور کاشت کار مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی گئی اور حکومت کے افسران اور زمین داروں کو علاقے سے بے دخل کیا گیا۔

CPI-ML کے لبریشن گروپ نے قانونی اور غیرقانونی جدوجہد کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی کوشش کی[234]۔ لیکن اس کا جنگ جو دھڑا اس حکمت عملی کا ہمیشہ مخالف رہا اور اس نے ریاست کو علاقوں سے بے دخل کرنے پر مکمل انحصار کیا۔ تلنگانہ کے مفتوحہ علاقوں کو ایک فوجی بیس بنانے کی کوشش کی گئی اور ماؤسٹ جماعت ایک انقلابی فوج کی شکل اختیار کر گئی۔ ہندوستانی پولیس نے علاقے پر حملہ کر دیا اور اب یہ گوریلا جنگ چھتیس گڑھ اور اڑیسہ کے ملحقہ علاقوں تک پھیل گئی ہے۔ اور یہ جنگ ہندوستانیوں اور بیرونی کمپنیوں کی علاقائی کان کنی کے مفادات کو تحفظ دینے اور فروغ دینے کا ذریعہ بن گئی ہے۔

آج یہ جنگ ہندوستان کی گیارہ ریاستوں میں گاہے گاہے بھڑکتی رہتی ہے اور بی جے پی کی صوبائی اور کانگریس کی مرکزی حکومتیں ان کو ختم کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کا استعمال کرتی رہتی ہیں لیکن چینی ماؤسٹوں کے لانگ مارچ اور ۱۹۴۵ء تا ۱۹۴۹ء تک جاری رہنے والی ’’پیپلز وار‘‘ کے برعکس ہندوستانی پولیس اور فوج کو مستقلاً علاقہ سے بے دخل نہیں کیا جا سکا۔ماؤسٹ یہ جنگ اودامی قبائلیوں کے تعاون سے لڑ رہے ہیں۔ اشتراک عمل کی بنیاد پر ہندوستانی ریاست اور قومی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا علاقے کے وسائل پر قبضہ اور اودامیوں پر استبداد خاصہ ہے لیکن اس اشتراکِ مقاصد کے باوجود قبائلیوں اور ماؤسٹوں میں اختلاف بڑھ رہا ہے۔ ماؤسٹوں نے اپنے زیر نگیں علاقوں میں حکومتی ترقیاتی منصوبے تباہ کر دیے ہیں اور بڑے پیمانے پر مفروضہ غدار قبائلی قیادت کا گاہے گاہے قتل عام کیا ہے۔ ایک وین گارڈ پارٹی ہونے کے سبب ماؤسٹوں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ عوام کو فیصلہ برائے عمل میں شریک کریں۔ اس کے نتیجے میں باہمی شک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔

علاقوں سے باہر ماؤسٹوں کا اثر صرف دانش ور اشرافیہ اور کالج کے چند طالب علموں کے گروہوں تک محدود ہے۔ ماؤسٹوں کا سب سے منظم اور بہیمانہ قتل عام ہندوستان کی قانونی کمیونسٹ پارٹیوں CPIاور CPIM اور ان کی حکومتوں نے کیا ہے۔ یہ امکان کم ہے کہ ہندوستان کی ماؤسٹ گوریلا جدوجہد ایک عوامی تحریک بن جائے گی۔ فی الحال ایسا ہونے کے اشارے نہیں [235]۔ 

بہرصورت ہندوستانی ماؤازم سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف ہی ایک جدوجہد ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کا ذریعہ نہیں بن سکتی کیوں کہ اس کے پیچھے جو جذبات کام کر رہے ہیں وہ حسد، غضب اور نفرت ہی کے جذبات ہیں اور ان جذبات کے فروغ کا ذریعے سرمایہ دارانہ نظام زندگی لبرل سے اشتراکی ہو جاتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔ ہندوستانی ماؤسٹوں کے نظریاتی لٹریچر سے بالکل واضح ہے کہ وہ اشتراکی سرمایہ داری ہی کے نقیب ہیں اور یہی ان کے اور ان کے مفتوحہ علاقوں کے قبائلیوں کے مابین اختلاف کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اپنے مفتوحہ علاقوں میں ماؤسٹوں نے مذاہب اور قبائلی رسوم و رواج کو نہایت سختی اور بے رحمی سے اکھاڑ پھینکا ہے اور کھلم کھلا دہریت کا پرچار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قبائلیوں کے لیے یہ ایک نہایت تکلیف دہ کارروائی ہے اور وہ دہریت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

واضح ہو کہ سرمایہ دارانہ ظلم کو ختم کرنے والی تحریکیں سرمایہ دارانہ عدل کو قائم کرنے کی تحریکیں ہوتی ہیں، سرمایہ داری کے انہدام کی تحریکیں نہیں۔ ان تحریکوں کی کامیابی کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی از سر نو مرتب ہو کر عوامی مقبولیت اور معاشرتی قوت حاصل کر لیتاہے۔

13۔ گرامچی، لوکاکس اور التھوسر

انتونیو گرامچی (Antonio Gramsci)اطالوی کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری اور مغربی یورپ کے اہم ترین اشتراکی مفکرین میں شامل ہے۔ اس کے مرنے کے نصف صدی کے بعد گرامچی فکر نے یوروکمیونزم کی تحریک کو نظریاتی بنیاد فراہم کی اور یوروکمیونزم کو بحیثیت ایک نظریہ کے اختیار کرنے کے نتیجے میں مغربی یورپ کی طاقت ور ترین کمیونسٹ جماعتیں اٹلی، فرانس، اسپین اور جرمنی میں بالکل تباہ ہو گئی ہیں اور مارکسی فکر سے عملاً سوشل ڈیموکریٹ فکر میں ضم ہو گئی ہیں [236]۔

گرامچی ۱۸۹۱ء میں پیدا ہوا۔ ۱۹۱۵ء کے بعد سے تاعمر اشتراکی جدوجہد میں شامل رہا۔ ۱۹۲۱ء میں دوسرے انقلابیوں کے تعاون سے اس نے کمیونسٹ پارٹی بنائی۔ ۲۳-۱۹۲۲ء میں ماسکو میں بین الاقوامی تنظیم ’’کمیونسٹ انٹرنیشنل‘‘ کا رکن رہا۔ ۱۹۲۴ء میں اطالوی مقننہ میں مسولینی کے خلاف اشتراکی قائد کے طور پر ابھرا۔ ۱۹۲۶ء میں کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکریٹری مقرر ہوا اور اسی مسولینی کی حکومت نے اس کو دس سال کی قید کاٹنے کے لیے جیل بھیج دیا۔ ۱۹۳۷ء میں رہائی کے فوراً بعد گرامچی مر گیا۔

گرامچی فکر جس دور میں پروان چڑھی وہ مغربی یورپ میں کمیونسٹ تحریک کے لیے ایک پرآشوب دور تھا۔ سوویت انقلاب کی کامیابی کے بعد جرمنی، اٹلی اور مشرقی یورپ کے چند ممالک میں اشتراکی انقلابی جدوجہد کی کامیابی کی توقع تھی لیکن یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ بائیں بازو کی سیاست خلفشار کا شکار ہو رہی تھی سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں زور پکڑ رہی تھیں اور مارکسسٹ جماعتیں دھڑا بندی کا شکار تھیں۔ یورپ میں سوویت یونین کے مماثل انقلابی جدوجہد بارآور ہوتی نظر نہیں آتی تھی۔ ان حالات میں مارکسسٹ مفکرین کی توجہ انفرادی اشتراکی انفرادیت کی نشوونما کی طرف مبذول ہو گئی۔

13.1۔ انفرادی شناخت کا تعین

گرامچی کا مقابلہ جس سیاسی قوت سے تھا وہ فاشزم تھی جو آناً فاناً اٹلی میں قوت اور عوامی مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔ فاشسٹ پارٹی کی جڑیں طبقہ پرولتاریہ میں بھی مضبوط ہوتی جا رہی تھیں اور وہ اس طبقہ میں کمیونسٹ رجحانات کو شکست دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی تھی۔ ان حالات میں گرامچی کے خیال میں انفرادی شناخت کے متعین ہونے کے عمل کو سمجھے بغیر کمیونسٹوں کے لیے حصولِ اقتدار ناممکن ہے۔

گرامچی کے مطابق فرد حقیقت کا ادراک کسی معروضی بیرونی سچائی تک رسائی حاصل کرکے نہیں کرتا۔ حقیقت کا ادراک محض اپنی خواہشات اور ضروریات کا ادراک ہے[237]۔ ہمارا تصورِ حیات و کائنات اپنی خواہشات کے حصول کی جدوجہد کی تعبیر ہے اور کچھ نہیں۔ لہٰذا لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت میں دو جداگانہ تصورِ کائنات اور حیات ہیں یعنی بورژوا تصور اور پرولتاری تصور،کیوں کہ لبرل معاشرت میں بورژوا طبقہ اور پرولتاری طبقہ کے حالات اور مسائل مختلف ہیں اور جب تک طبقاتی مغائرت موجود رہے گی دونوں مختلف اور متصادم تصوراتِ حیات اور کائنات موجود رہیں گے[238]۔لیکن بورژوا اور پرولتاری تخیلات ہر انفرادی شعور میں موجود ہوتے ہیں، بورژوا طبقہ میں بھی اور پرولتاری طبقہ میں بھی۔ لبرل معاشرت میں بورژوا طبقہ ثقافتی، معاشی اور سیاسی طور پر غالب رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بورژوا طبقہ کے افراد کے شعور میں پرولتاری تصور حقیقت نہایت کم زور ہوتا ہے گو کہ کچھ بورژوا اہل دانش اس سے متاثر ہوتے ہیں[239]۔ لیکن بورژوا اپنے شناختی اور فکری غلبہ کو استعمال کر کے پرولتاریہ کے افراد میں بورژوا تصورات حیات اور کائنات کو فروغ دینے میں بہت کامیاب ہوتے ہیں۔ لبرل معاشروں میں پرولتاریہ طبقہ کے افراد عموماً فکری طور پر اس لیے مفلوج ہوتے ہیں کہ ان کے پرولتاری تخیل پر بورژوا تخیلات کو مسلط کر دیتی ہے اور وہ اپنا حقیقی عرفانِ ذات حاصل کرنے سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی ذات میں پایا جانے والا یہ مسلط کردہ بورژوا تخیلات کا غلبہ ان کو اپنے طبقہ کی وابستگی اور اپنے حقیقی مفادات کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے سے غافل کر دیتا ہے۔ یہی محنت کش طبقہ کی بے عملی اور انقلابی جدوجہد سے لاتعلقی کا بنیادی سبب ہے۔ 

طبقاتی شعور کا فروغ پانا ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے محنت کش محض مینجروں کے خلاف لاشعوری نفرت کے جذبات کی بنیاد پر ایسے نظاماتی مفادات اور اپنی انقلابی استعداد کا بھرپور ادراک حاصل کرتے ہیں۔ مزاحمتی جدوجہد ایسے حالات پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں انقلابی شعور پیدا ہو لیکن محنت کش طبقہ کے شعور کو ایک معاشرتی قوت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مزاحمتی جدوجہد کو منظم کیا جائے۔ مزاحمتی جدوجہد کو منظم کرنے کا کام صر ف انقلابی جماعت اپنے دانش وروں کی رہنمائی کے ذریعے انجام دے سکتی ہے۔ مزدور طبقہ خود بخود مزاحمتی جدوجہد کا نہ تسلسل قائم رکھ سکتا ہے نہ منظم ہو سکتا ہے [240]۔ انقلابی جماعت پرولتاریہ کی قیادت کرتی ہے اور انقلابی پیش رفت کے زمانی اور مکانی امکانات سے بھرپور طور پر مستفید ہونے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی مرتب کرتی ہے۔پرولتاری انفرادی اور طبقاتی تشخص کی نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر نظریاتی اور تنظیمی جدوجہد کی جائے۔ اس نظریاتی اور تنظیمی جدوجہد کے ذریعے پارٹی پرولتاریہ کو اپنا معاشرتی تسلط قائم کرنے اور مستحکم کرنے کے قابل بناتی ہے۔

13.2۔ معاشرتی تسلط

معاشرتی تسلط (Hegemony) گرامچی کا ایک کلیدی نظریاتی تصور ہے۔ اس تصور کو اس نے اپنی قید کے زمانہ میں پوری طرح واضح کیا اور اس کی پوری تشریح اس کے ان نوٹس میں ملتی ہے جو اس نے قید کے دس سالوں (۱۹۲۶ء تا ۱۹۳۶ء) میں مرتب کیے[241]۔گرامچی کے مطابق کوئی گروہ ریاستی اقتدار اس وقت تک مستحکم طور پر حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ معاشرے پر اپنا تسلط مستحکم طور پر قائم نہ کرے۔ ریاستی اقتدار کی بنیاد لازماً معاشرتی تسلط ہی ہوتا ہے اور یہی برسراقتدار گروہ کی نظاماتی قیادت کا ضامن ہے۔ گرامچی کے مطابق ریاست نظاماتی جبر قائم رکھنے والے اداروں (انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ، فوج، پولیس وغیرہ) پر مشتمل ہے جب کہ معاشرہ ان ثقافتی اداروں (اسکول، چرچ، ایسوسی ایشنز) پر مشتمل ہے جو عوام نے خود قائم کیے ہیں۔ ہیگل کے برخلاف گرامچی سول سوسائٹی کو مارکیٹ کے ہم معنی تصور نہیں کرتا بلکہ اس کے مطابق سول سوسائٹی میں بہت سے ادارے موجود وتے ہیں جو مارکیٹ کے بحرانوں سے سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں(مثلاً بے روزگاروں کو خاندانی اعانت، بیزار اور مایوس مزدوروں کو مذہبی تسکین فراہم کرنا وغیرہ)۔ سول سوسائٹی کے اداروں کے ذریعے ہی نظاماتی غالب گروہ اپنے نظریات اور آئیڈیالوجی معاشرے پر مسلط کرتا ہے۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ سول سوسائٹیز نہایت طاقت ور اور گنجلک ادارتی صف بندی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس زارسٹ روس میں سول سوسائٹی نہایت کمزور تھی اور زارسٹ مقتدرین کی کمزوری کی یہی ایک بنیادی وجہ تھی۔

ریاستی غلبہ حاصل کرنے سے قبل انقلابی پرولتاری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ سول سوسائٹی میں اپنا تسلط قائم اور مستحکم کرے۔ معاشرتی تسلط حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی حکمت عملی ضروری ہے جو بتدریج معاشرتی ادارتی صف بندی کو مسخر کرے۔ گرامچی اس حکمت عملی کو "war of poritan" کہتاہے[242]۔ اور اس کو بالشویکوں کی انقلابی حکمت عملی سے ممیز کرتا ہے۔ بقول گرامچی بالشویکوں نے ایک war of manuver برپا کی تھی۔ ایک ایسی جنگ جس میں انقلابیوں نے ریاستی نظام کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر یک بارگی یلغار کے ذریعے فتح حاصل کر لی تھی۔ یہ حکمت عملی بقول گرامچی ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان ممالک میں سول سوسائٹی نہایت مستحکم اور طاقت ور ہے۔ یورپی کمیونسٹ جماعتیں ۱۹۷۰ء کی دہائی میں گرامچی کی war of puritan لڑتے لڑتے ہی اٹلی، فرانس اور اسپین کی لبرل سرمایہ دارانہ ریاستی نظاموں میں ضم ہو گئیں [243]۔

چوں کہ سول سوسائٹی کی ادارتی صف بندی مارکیٹ کے بحران کے نظاماتی اثر کو کم کرتی ہے لہٰذا ایسے بحرانوں کے زمانے میں انقلابی یلغار کے مواقع ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں محدود ہوتے ہیں۔ گرامچی کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست محض اس نظام کا بیرونی دفاعی مورچہ ہے۔ اس مورچہ کو فتح کرنے سے سرمایہ دارانہ لبرل نظام منہدم نہیں ہوتا کیوں کہ بیرونی مورچہ کے پیچھے سرمایہ دارانہ لبرل نظام کی اصل طاقت ور صف بندیاں سوسل سوسائٹی کی شکل میں محفوظ رہتی ہیں اور یہی انقلابی یلغار کو ناکام بنا دیتی ہیں۔ لیکن ریاستی اور معاشرتی نظام میں ربط ہے اور ان کی انفرادی خود کفالت محدود ہے۔ یہ ادارے بیک وقت ریاستی اور معاشرتی ہوتے ہیں[244]۔ گرامچی کے مطابق سول سوسائٹی میں پرولتاری تسلط پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کی نفی ہے۔لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں بورژوا معاشرتی تسلط معاشی اور معاشرتی اور سیاسی دائرہ عمل کے جدا ہونے کا پرچار کرتے ہیں۔ بورژوا عوام کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ معاشی عمل کا ریاستی اور سیاسی تنظیم قوت سے کوئی تعلق نہیں اور بورژوا کے معاشرتی تسلط کا استحکام اسی پروپیگنڈے کی کامیابی پر منحصر ہوتا ہے۔

پرولتاری معاشرتی تسلط ہمہ جہت ہوتا ہے۔ گرامچی کے مطابق اس تسلط کو قائم کرنے کے لیے پرولتاریہ مظلوم طبقوں کا ایک اتحاد قائم کرتی ہے اور ان مظلوم طبقوں بالخصوص کاشت کاروں پر اپنا معاشرتی تسلط قائم کرتی ہے۔ اس تسلط کو قائم کر نے کے لیے پرولتاریہ کو ان مظلوم طبقات کے مفادات کو فروغ دیتے ہوئے اپنے کچھ طبقاتی مفادات کو قربان کرنے پڑتے ہیں اور ایک مصلحانہ رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں ثقافتی تسلط برقرار رہتا ہے۔ ثقافتی تسلط قائم کرنے کے لیے پرولتاریہ کو دیگر مظلوم طبقوں کے نظریاتی آدرشوں کو منہدم اور مغلوب کرنا ہوتا ہے۔ اٹلی میں سب سے اہم مظلوم طبقہ جنوب کے کاشت کار تھے اور ان کا نظریاتی آدرش کیتھولک عیسائیت تھا لہٰذا کیتھولک عیسائیت کو مسخر اور مفلوج کرنا پرولتاری معاشرتی تسلط قائم کرنے کے لیے ضروری ہے[245]۔ گرامچی ایک کٹر دہریہ تھا جس نے اپنی موت کے وقت بھی کسی پادری کو اپنے قریب نہ آنے دیا۔ اس کی تحریریں عیسائیت اور گرجا کے خلاف ہرزہ سرائی سے بھری پڑی ہیں۔ عیسائیت کی تسخیر کے ذریعے مظلوم طبقوں کا اتحاد ایک اہم آفاقی نظریہ تعمیر کر سکتا ہے جس کا مکمل معاشرتی غلبہ ممکن ہے۔

یہ مظلومین کا نظریاتی آفاقی غلبہ بورژوا کے نظریاتی غلبے کو مسخر کرے گا اور بورژوا کا معاشرتی غلبہ منہدم ہو جائے گا۔ بورژوا کا معاشرتی غلبہ قوت کے استعمال اور رضامندی کے فروغ دونوں پر قائم ہے۔ معاشرتی رضامندی کو قائم کرنا، مستحکم رکھنا اور مسخر کرنا دانش وروں کا فریضہ ہے اور یہ دانش ور معاشرے کو راہ دکھاتے ہیں، سمت دیتے ہیں۔ ان کا دائرہ عمل سوسائٹی ہوتی ہے ریاست نہیں ہوتی کیوں کہ ریاست کا عمل جبر ہے، تبلیغ اور تعلیم نہیں[246]۔ لیکن ریاستی نظام بھی گرامچی کے مطابق رضامندی کو فروغ دینے کا موقعہ فراہم کرتاہے اور جمہوری عمل بالخصوص سیاسی غلبہ پر رضامندی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بورژوا کے معاشرتی غلبہ کا اہم ترین جزو نظریاتی آدرشوں کے ذریعے سے اپنے تسلط پر معاشرہ کو رضامند کرنا ہے۔ بورژوا اس بات میں کامیاب ہو گیا ہے کہ لوگوں کو اپنے وضع کردہ علمی اور تکنیکی آدرشوں کو فطری اور عقل کا تقاضا سمجھ کر قبول کر لینے پر راضی کرے۔ لہٰذا بورژوا کا معاشرتی تسلط بنیادی طور پر ایک علمیاتی اور قانونی تسلط ہے[247]۔ چوں کہ ریاست قانون کی تفصیل اور تنفیذ کرتی ہے لہٰذا ریاست بھی بورژوا غلبہ پر عوام کی رضامندی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ریاست اور سول سوسائٹی ایک ہی نظام زندگی یعنی سرمایہ داری کے دو دائرہ کار ہیں اور ان میں ربط لازمی ہے۔ اور دونوں دائروں میں قوت کا استعمال اور رضامندی کو فروغ دینے کا عمل جاری رہتا ہے[248]۔ گرامچی کے ہاں یہ احساس قدرے مبہم ہے کہ سرمایہ داری میں ریاست ہی سول سوسائٹی کی نگران، پشت پناہ اور ریگولیٹر ہے[249]۔ لیکن لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں فاشسٹ اور قوم پرست سرمایہ دارانہ نظام کے برخلاف ریاست سول سوسائٹی پر حاوی نہیں ہوتی[250]۔ لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں سول سوسائٹی کے ادارے اسکول، میڈیا، ٹریڈ یونین، این جی او وغیرہ ریاست سے خاصی آزادی رکھتے ہیں اور اپنی اس آزادی کو فروغ دے کر ہی یہ تاثر برقرار رکھتے ہیں کہ وہ نظام اقتدار کا حصہ نہیں[251]۔ بحیثیت مجموعی گرامچی کی تحریروں میں یہ تاثر ملتا ہے کہ بورژوا اقتدار بنیادی طور پر عوام بالخصوص پرولتاریہ کی رضامندی پر قائم ہے اور انقلابی جماعت کا اصل کام یہ ہے کہ اس رضامندی کو ختم کرے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ گرامچی مسلح جدوجہد کو یک سر رد کرتا ہے غلط ہے[252]۔ مسلح جدوجہد کرنے کےلیے بھی متحاربین کو اس جدوجہد پرراضی کرنا ضروری ہے[253]۔ انقلابی عمل کے ذریعے عوام ریاست کو مسلح قوت کے استعمال پر مجبور کر دیتے ہیں لیکن اگر عوام کے کلیدی طبقات کو پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ کو قبول کرنے پر راضی کر لیا جائے تو ریاست غیر موثر ہو جاتی ہے۔ 

گرامچی کے مطابق پرولتاریہ کے لیے ممکن ہے کہ وہ بورژوا پر بھی معاشرتی تسلط اپنے organic intellectual کے ذریعے حاصل کرے۔ اس تسلط کے حصول کا مطلب یہ ہے کہ بورژوا افراد بھی اس بات کے قائل ہو جائیں کہ ان کے مفادات اس تصورِ حیات و کائنات کو قبول کرنے میں ہیں جو پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کے قیام و استحکام کو عقل کا تقاضا گردانتا ہے۔ اگر یہ ممکن ہے تو لازماً مسلح جدوجہد کی نوبت نہیں آ سکتی۔ اور یورو کمیونسٹ جماعتوں نے گرامچی کی تعلیمات سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔

13.3۔ انقلابی حکمت عملی

کمیونسٹ پارٹی میں پرولتاریہ کو سرمایہ دارانہ معاشرے میں ایک قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ اس کے بغیر وہ سرمایہ دارانہ ریاست میں برسراقتدار نہیں آ سکتی۔ لہٰذا پارٹی کا اہم کام سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو اس ادارتی شکل میں قائم رضامندی سے محروم کرنا تھا جو سول سوسائٹی میں اس کو حاصل تھی۔ بورژوا جمہوری ریاست اس جاگیردارانہ روسی ریاست سے مختلف تھی جس کے خلاف لینن نے کامیاب سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کیا تھا اور صرف مختلف ہی نہیں لبرل جمہوری سرمایہ دارانہ ریاست جاگیردارانہ ریاست ہے۔ 

لبرل جمہوری سرمایہ دارانہ نظام جبر کے پیچھے عوامی رضامندی کی قوت جو اس ریاست کو میسر ہے وہ زارِ روس کو ۱۹۱۲ء میں حاصل نہ رہی۔ گرامچی کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ لبرل جمہوریت کے خلاف انقلابی جماعت کو ایک war of position لڑنی ہے۔ یعنی ایک ایسی جنگ جس میں بتدریج ایک کے بعد دوسری لبرل سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی فصیل عبور کی جاتی رہے۔ اس جنگ کا مقصد عوام کو انقلابی مارکسی نظریات کو قبول کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ اس کے لیے ایسی جدوجہد جو نظریاتی فرقہ واریت سے پاک ہو اور تمام ’’مظلوم‘‘ طبقوں اور ان کی نمایندہ جماعتوں سے روابط استوار رکھتی ہو، کی بنیاد پر منحصر ہے[254]۔ اس متحدہ محاذ کا مقصد عوام یعنی پرولتاریہ، کاشت کار اور دانش وروں کی نظریاتی وابستگی کو فروغ دینا ہے۔ گرامچی کی فکر میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ war of position انقلابی جدوجہد کی فیصل کامیابی پر منتج ہو گی یا ایک ہمہ گیر خاتمے کے لیے پرولتاریہ کو تیارکرنے کا ذریعہ بنے گی جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ لبرل اقتدار ختم کر دیا جائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا war of position کے ذریعے عوام اور پارٹی کو ہمہ گیر خاتمے کے لیے تیار کیا جانا ضروری ہے اور اگر ضروری ہے تو کیا اس حکمت عملی کو اپنا کر ممکن بنایا جا سکتاہے؟ گرامچی ان سوالات کے کوئی غیرمبہم جواب نہیں دیتا اور Eurocommunist پارٹیوں کا تجربہ نشان دہی کرتا ہے کہ war of position لڑ کر ہمہ گیر خاتمہ ناممکن ہو جاتا ہے اور انقلابی جماعت لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست میں ضم ہو جاتی ہے۔ اگر سول سوسائٹی لبرل سرمایہ داری کا مرکزی قلعہ ہے تو اس کی فتح کے بعد ریاست خود بخود منہدم ہو جائے گی اور اس کی مسلح فتح کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Eurocommunist پارٹیوں کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ یہ خام خیالی ہے۔ سول سوسائٹی میں علمیاتی اور ثقافتی غلبہ حاصل کرنے کی جدوجہد کے نتیجے میں لبرل سرمایہ دارانہ ریاست انقلابی کمیونسٹ پارٹی پر قبضہ کر لیتی ہے۔ پارٹی لبرل سرمایہ دارانہ سیاسی نظام میں ضم ہو جاتی ہے اور پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ قائم کرنا ممکن نہیں رہتا۔ گرامچی کی تجویز کردہ سیاسی حکمت عملی کا ایک تضاد یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو معاشرے کی سطح پر ’’مظلوم‘‘ طبقوں کے مابین افہام و تفہیم، رواداری اور سمجھوتے کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے لیکن دوسری طرف اس پر بھی اصرار کرتا ہے کہ اس کی تجویز کردہ war of position صرف ایک ایسی وین گارڈ پارٹی ہی جیت سکتی ہے جو اعلیٰ درجہ کا ڈسپلن رکھتی ہو اور اپنی قیادت کے احکامات کی کسی حکم عدولی کو برداشت نہ کرے۔ لینن نے اس رویہ کو ’’جمہوری مرکزیت‘‘ کہا تھا اور جمہوری مرکزیت کی بنیاد پر منظم پارٹی میں عملاً جمہوریت صرف اس کی چوٹی کی قیادت تک محدود رہتی ہے کیوں کہ اس پارٹی میں صرف سنٹرل کمیٹی ہی پالیسی سازی کرتی ہے اور باقی تمام ارکان محض پالیسی تنفیذ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایک ایسی وین گارڈ پارٹی کیسے war of position لڑ سکتی ہے۔ وہ کیسے مصلحانہ اور رواداری کا رویہ، جو اس کی اندرونی پارٹی زندگی میں مفقود ہے، اپنے معاشرتی حلیف مظلوم طبقوں کے تعلقاتی نظام میں اختیار کر سکتی ہے۔ مظلوم طبقات پارٹی کی جمہوریت کو قبول کرنے پر کیسے راضی کیے جائیں اور اگر وہ راضی کر لیے گئے تو پھر مصالحت اور معاملہ فہمی کی کیوں ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ ان سوالات کے جوابات گرامچی نے نہیں دیے اور Eurocommunist پارٹیوں کے تجربہ سے ثابت ہے کہ war of position لڑنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کے نتیجے میں پارٹی ایک ڈیموکریٹک سنٹرلسٹ وین گارڈ پارٹی نہیں رہتی۔ وہ بتدریج ایک عام سوشل ڈیموکریٹ بن کر پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کے قیام کی جدوجہد ترک کر دیتی ہے۔ war of position بالآخر ہمہ گیر خاتمے کو ناممکن بنا دیتی ہے اور گرامچی ان دونوں جنگی حکمت عملیوں کو مربوط بنانے کی کوئی تجویز پیش نہیں کرتا۔

13.4۔ وین گارڈ پارٹی اور مظلوم طبقے

مارکسی فکر میں معاشی نظام کو معاشرتی تنظیم (social formation) کی بنیاد اور ثقافتی، سیاسی اور مذہبی تعلقات کو بالائی حیثیت (super structure) تصور کیا گیا ہے اور سپر اسٹرکچر میں تغیرات کو بنیاد میں تغیرات پر منحصر گردانا کیا گیا ہے۔ مارکسسٹوں میں ہمیشہ مفکرین کا ایک ایسا گروہ موجود رہا ہے جو ثقافتی، سیاسی اور مذہبی تبدیلیوں کو غیراہم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انقلابی امکانات معاشی حالات میں تغیر کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں۔ گرامچی اس رویہ کو economisim کہتا ہے[255] اور اس رویہ کو ردّ کرتا ہے۔ اس کی رائے میں سپراسٹرکچر کے عناصر (ثقافتی، سیاسی اور نظریاتی)محض معاشی تغیرات کا مظہر ہیں بلکہ ایک حد تک خود انحصاری (autonomous) ہوتے ہیں۔ ہر ملک میں معاشی، ثقافتی، نظریاتی اور سیاسی نظاموں کا انطباق اس ملک کے جغرافیے اور تاریخی تناظر کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور یہ نظام ارتباط اس ملک کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے[256]۔ لہٰذا گرامچی کے مطابق ہر ملک میں ایک مخصوص اشتراکی انقلابی جدوجہد منظم کرنے کی ضرورت ہے۔

اشتراکی پارٹی لبرل نظام سرمایہ داری میں اس بات پر مجبور ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ قومی نظام میں رہتے ہوئے اور لبرل اداروں اور ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی جدوجہد جاری رکھے۔ مظلوم طبقوں کی روایتی تنظیمیں بالخصوص ٹریڈ یونین سرمایہ دارانہ اداروں سے سمجھوتا اختیار کرتی ہیں۔ اس کی نظاماتی مخالفت نعروں اور خیالی جنتوں (Utopias) کی تشریح تک محدود رہتی ہے۔ انقلابی سوشلسٹ جماعت کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مظلوم طبقوں میں ایک اپنا ارادۂ اجتماعی (collective will) تعمیر کرے جو لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کا خواہاں ہو اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے گروہی مفادات کے فروغ کا خواہاں نہ ہو[257]۔ انقلابی اشتراکی جماعت انفرادی لبرل سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف جدوجہد کو ایک ایسی ہمہ گیر معاشرتی جدوجہد میں سمو دیتی ہے جو سرمایہ دارانہ لبرل نظام اقتدار یعنی ریاست کو منہدم کر کے اشتراکی غلبہ یعنی پرولتاری ڈکٹیٹرشپ قائم کر دیتی ہے۔

اس اجتماعی ارادہ کی تعمیر مظلوم طبقوں کے فرد کے ذہن اور قلب میں رونما ہوتی ہے۔ مظلوم طبقوں کے ہر فرد میں یہ جذبہ پیدا کرنا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے انہدام کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد سمجھے اور اپنی تمام تر جدوجہد اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کر دے۔ لہٰذا انقلابی سوشلسٹ پارٹی کا فرض ہے کہ وہ مظلوم طبقوں کے ہر فرد کی خود شناسی کے عمل کو متاثر کر کے اس کو ارادۂ اجتماعی کا مظہر بنا دے۔ پارٹی کے کام میں نظریاتی اور علمیاتی جدوجہد کی خاص اہمیت ہے۔ اس نظریاتی جدوجہد میں کامیابی حاصل کیے بغیر پارٹی نہ سول سوسائٹی میں تسلط حاصل کر سکتی ہے اور نہ ریاستی اقتدار۔ پارٹی مظلوم طبقوں کی نظریاتی رہ نمائی کی ذمہ داری اختیار کرتی ہے۔ یہ رہ نمائی [258]اس وقت ممکن ہوتی ہے جب مظلوم طبقوں کے افراد بغیر اکراہ پارٹی کی قائدانہ حیثیت کو قبول کرتے ہیں۔ترقی یافتہ لبرل ممالک میں سول سوسائٹی کی خودانحصاریت کی صلاحیت پوری طرح آشکار ہوتی ہے۔ یہ سول سوسائٹی بورژوا کے طبقاتی مفادات کو سب لوگوں کے مفاداتِ عامہ ہونے کے نظریاتی جواز کو فروغ دیتی ہے۔ مظلوم طبقوں کے افراد اپنا انفرادی مفاد اسی میں سمجھتے ہیں کہ بورژوا سول سوسائٹی اور ریاست کی کارفرمائی محفوظ، متوازن اور مائل بہ ترقی رہے۔

انقلابی جماعت کا فرض ہے کہ وہ مظلوم طبقوں کی اس تفہیم معاشرت کو بنیادی طور پر تبدیل کرے۔ مظلوم طبقوں کے مفکرین ان طبقوں میں یہ احساس پیدا کریں کہ ان کا اصل مفاد لبرل نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے مفادات کے فروغ سے وابستہ نہیں بلکہ ان مواقع سے استفادہ کرنے سے ہے جو لبرل نظام کے داخلی تضادات اس کی تسخیر کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ یہ مفکرین ثابت کریں گے کہ مظلوم طبقوں بالخصوص پرولتاریوں کے مفادات کا فروغ یعنی لبرل نظم معاشرت کی تسخیر مفادِ عامہ ہے اور عقل کا تقاضا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد مرتب کی جائے اور انسانیت کی آزادی کے فروغ اور اس کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو سوشلسٹ خطوط پر مرتب کیا جائے۔ اس نظریاتی فتح کے بغیر معاشرتی تغلب قائم نہیں کیا جا سکتا اور سرمایہ دارانہ معاشی بحران خود بخود اس نظریاتی فتح پر منتج نہیں ہوتا۔
وین گارڈ جماعت انقلابات سے صرف اس صورت میں فائدہ اٹھا سکتی ہے کہ وہ ان امکانات کا صحیح نظریاتی ادراک اور ان کے موثر استعمال کا فہم رکھتی ہو اور اس علم کو عوام تک پہنچانے کا معقول انتظام کر سکے۔ اس طرح پارٹی اس ارادۂ اجتماعی کی تعمیر کر سکتی ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے ناگزیر ہے اور جو مظلوم طبقوں کے اتحاد کا مظہر ہوتا ہے۔

وین گارڈ پارٹی تین گروہوں کو متحد اور منظم کرتی ہے: پرولتاریہ، مظلوم طبقہ اور دانش ور۔پرولتاریہ مظلومین کا قائد گروہ ہے اور وہ یہ قائدانہ کردار اس وقت ادا کر سکتا ہے جب پیداواری عمل میں ایک فیصلہ کن قائدانہ کردار ادا کرے اور اس کی خود انحصاریت اور نئے نئے پیداواری اور انتظامی فیصلے کرنے کی استعداد فروغ پائے۔ ایک لبرل پیداواری نظام میں فیکٹری میں مزدور کی خودارادیت کو بالکل کچل دیا جاتا ہے اور اوقاتِ کار میں عملاً مزدور مینیجر کا تابع اور اس کا غلام ہوتا ہے۔پہلی جنگ عظیم کے فوراً بعد اٹلی کے شہر تورن میں مزدوروں نے کئی فیکٹریوں پر قبضہ کر کے ایک نیا تنظیمی ادارہ قائم کیا جس کا نام ’’فیکٹری کونسل‘‘ تھا۔ اس فیکٹری کونسل میں مزدور خودمختار منتظمین کے طور پر فیکٹری کا نظم سنبھال لیتے تھے اور عملاً مالکان اور مینیجروں کو بے دخل کر دیتے تھے۔ گرامچی ان فیکٹری کونسلوں کا پرزور حامی تھا۔ اس کے خیال میں ان کے ذریعے پرولتاریہ ریاست میں غلبہ حاصل کرنے کا علم حاصل کر سکتی ہے۔ ان کونسلوں کے ذریعے وین گارڈ پارٹی کا کام پرولتاریہ کی عملی جدوجہد سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ گرامچی کے مطابق ٹریڈ یونین پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے[259]۔ ان فیکٹری کمیٹیوں نے دکھا دیا کہ ریاست پر قبضہ کیے بغیر وین گارڈ پارٹی اور اس سے وابستہ پرولتاریہ سول سوسائٹی میں کس طرح قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ گرامچی اس پر بھی زور دیتا ہے کہ پرولتاریہ کو مظلوم طبقوں کی قیادت کرنے میں اس کو جنوبی اٹلی کے کاشت کاروں کے مفادات کے فروغ کی طرف خاص توجہ دینی ہو گی۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر تورن میں جاری انقلابی جدوجہد کے ساتھ ساتھ جنوبی اٹلی میں کاشت کاروں کی جدوجہد بھی زور پکڑ رہی تھی اور گرامچی سمجھتا تھا کہ پرولتاریہ اور کاشت کاروں کی جدوجہد کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا انقلابی جماعت کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس ارتباط کو قائم کیے بغیر نہ مظلوم طبقوں پر پرولتاریہ کی قیادت قائم کی جا سکتی ہے اور نہ وین گارڈ وہ قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں فرد اپنے تہذیبی اور نظریاتی رجحانات کو معاشرہ سے اکھاڑ پھینک سکتا ہے اور گرامچی کی رائے میں ایک مزدور(کسان) اتحاد قائم نہ ہو سکا تو لازماً کاشت کار طبقہ بورژوا کا حلیف بن کر انقلاب کو شکست دے دے گا۔

گرامچی کے مطابق انقلابی جدوجہد کا ایک اہم ترین جزو ایک نئے ثقافتی آدرش کا معاشرتی غلبہ ہے۔ یہ نیا آدرش (Ideology) غالب سرمایہ دارانہ ثقافتی آدرش کی نفی نہیں کرے گا کیوں کہ لبرل اور اشتراکی نظریات یکساں اہداف (آزادی، مساوات اور ترقی)کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بالکل اسی لبرل آدرش نامکمل اور متضاد حیثیت کی نشان دہی کرے گا اور ثابت کرے گا کہ اشتراکی تنظیم معاشرت کیسے یہ تضادات رفع کر کے آزادی، مساوات اور ترقی کے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ تحریک تنویر اور تحریک رومانویت کی اس نئی نظریاتی تعمیر کی بنا پر ہی مظلوم طبقوں کا وہ اتحاد قائم کیا جا سکے گا جو نظاماتی تغلب حاصل کر سکے۔

گرامچی کے مطابق وین گارڈ پارٹی کا اہم ترین فریضہ مظلوم طبقوں کو تعلیم دینا ہے۔ اسی طرح انقلابی طبقاتی حساسیت(شعور)پیدا کی جا سکتی ہے۔ طبقاتی حساسیت کو فروغ دینے کے لیے وین گارڈ پارٹی اپنے ہر کارکن کو کسی نہ کسی حد تک ایک دانش ور بنا دیتی ہے اور یہ عوامی دانش ور نظریاتی اور سیاسی کام کو مربوط کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔

13.5۔ طبقاتی حساسیت کا فروغ

طبقاتی حساسیت کا فروغ ایک اور اہم مارکسسٹ لوکاکس کا مرکزی فکری محور تھا۔ Gyorgy Lukacs (۱۹۷۱ء تا ۱۸۸۵ء) ایک ہنگرین فلسفی تھا[260]۔ لوکاکس کی کتاب History and Class Conscious مارکسی فکری تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ لوکاکس کے مطابق سرمایہ دارانہ تعلقات پر لبرل مارکسسٹ کا تسلط اتنا مستحکم ہوتا ہے کہ تمام معاشی، سیاسی، ثقافتی اور فکری روابط سرمایہ دارانہ تعقل کا مظہر بن گئے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ تعقل کا یہ غلبہ محض تشکیلی ہے فعالیتی نہیں ہے۔ تنویری تعقل انفرادی اشیاء اور اعمال کی تشریح ممکن بناتا ہے لیکن نظام کی عمومی کارفرمائی کا عرفان مرتب نہیں کر پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علمیت سپیشلائزیشن کو فروغ دیتی ہے اور ایک اسپیشل علمیت مثلاً پولیٹیکل سائنس سے محدود اور نامکمل ہوتا ہے۔ تنویری علمیت کی اس عمومی لامعنویت کا سبب مارکسسٹ اکانومی کا عمل پیداوار ہے۔ یہ عمل کموڈیٹیز (Commodities) پیدا کرتا ہے۔ مارکسسٹ مفکرین کموڈٹی اس شے کو کہتے ہیں جو فروخت ہونے کے لیے بنائی جائے تاکہ اس فروخت کے نتیجہ میں سرمایہ حاصل ہو۔ کموڈٹی کی فروخت سے جو قدر حاصل ہوتی ہے اس کا صرف ایک حصہ مزدور کو اجرت کی شکل میں ملتا ہے اور اضافی قدر (surplus value) [261]پر مینیجر قبضہ کر لیتا ہے۔کموڈٹی مزدور کی پیداوار ہے۔ اس پیداوار کے ذریعہ مزدور اظہارِ ذات بھی کرتا ہے اور پیداواری عمل سے گزرنے کے نتیجے میں اس کو عرفانِ ذات بھی حاصل ہوتا ہے لیکن چوں کہ کموڈٹی مزدور سے چھین لی جاتی ہے اور چوں کہ پیداواری عمل کے جاری رہنے کے مقصد یعنی اضافی قدر کی بڑھوتری سے اس کو کچھ سروکار نہیں لہٰذا مزدور اپنے عمل اور اپنی ذات سے غیریت (Alienation)کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا عرفان اور ادراکِ ذات انتشار کا شکار ہو جاتا ہے[262]۔ 

یہ انتشارِ ذات سرمایہ دارانہ لبرل معاشرت کی عمومی خصوصیت ہوتی ہے اور اس معاشرہ کا ہر فرد معاشرہ کی کلی تفہیم سے محروم رہتا ہے۔ اس کا معاشرتی زندگی کا شعور منتشر اور غیرمربوط ہوتا ہے اور وہ کلی معاشرتی کارفرمائی کے عمل کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ بقول لوکاکس سوسائٹی کی مجموعی کارفرمائی کا شعور صرف پرولتاریہ بحیثیت ایک طبقہ کے حاصل کر سکتا ہے[263]۔ مارکس کے دو اہم تصورات "class in itself" اور "class for itself" ہیں۔ پرولتاریہ اپنی اصلیت اور ماہیت کے لحاظ سے ایک class in itself ہے۔ ہر محنت کش پرولتاریہ کارکن اس لیے ہے کہ وہ پیداواری عمل میں بحیثیت surplus value پیدا کرنے والی انفرادیت کے طور پر شریک ہے۔ یہی اس کی ذات کی اصلیت ہے کیوں کہ بقول مارکس عرفان اور ادراک ذات عمل پیداوار سے وجود میں آتا ہے۔ لہٰذا ہر مزدور لازماً پرولتاریہ کا رکن ہے۔ وہ کسی اور طبقہ کا رکن نہیں بن سکتا۔

اس کے برعکس class for itself سے مراد یہ ہے کہ پرولتاریہ اپنے اصل مفاد یعنی سرمایہ پر دائمی قبضہ بذریعہ استحکام پرولتاری ڈکٹیٹرشپ، کے لیے منظم ہو کر جدوجہد کرے۔ جو محنت کش پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کے قیام کے ذریعے پرولتاریہ کے سرمایہ پر دائمی قبضہ کے حصول کی جدوجہد نہیں کر رہا [264]وہ پرولتاریہ کارکن ہونے کے باوجود پرولتاریہ کے لیے جدوجہد نہیں کر رہا لہٰذا وہ class for itself کی جتھا بندی میں شامل نہیں۔ لوکاکس کے مطابق class in itself اس وقت class for itself بنتی ہے جب لبرل سرمایہ دارانہ معاشرے کی کلی کارفرمائی کا شعور اس کو حاصل ہوتا ہے۔

پرولتاریہ بقول لوکاکس class for itself بننے کی اہلیت رکھتی ہے، وہ سرمایہ دارانہ اداروں، علمیات اور تصورات کا اجتماعی شعور حاصل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اسی چیز کو لوکاکس طبقاتی حساسیت کہتا ہے اور گو کہ یہ حساسیت طبقاتی ہوتی ہے لیکن اسی حساسیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ لبرل معاشرت کی کلی کارفرمائی کا درست شعور حاصل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس معاشرت کا اصل وظیفہ کموڈٹی کی پیداوار ہے اور مزدور ہی کموڈٹی پروڈکشن کے ذریعے اس اضافی قدر کے پیداواری عمل کا بنیادی محرک ہے[265]۔ طبقاتی شعور کی اصلی ماہیت کا اظہار مارکس نے اپنے تصور مادی جدلیات (Historical Materialism) میں پیش کر دیا ہے اور historical materialism ہی لبرل معاشرتی کلی کارفرمائی کی درست عکاسی کرتی ہے، historical materialism سرمایہ دارانہ لبرل معاشرت کی مکمل خود شناخت کی علمیت ہے۔ صرف پرولتاریہ کی آزاد خودارادیت ہی تاریخی تغیر برپا کر سکتی ہے۔

لوکاکس کے مطابق پرولتاریہ کو تاریخی تغیر کے عمل میں یہ کلیدی حیثیت اس لیے حاصل ہے کہ وہ ایک آفاقی طبقہ ہے یعنی سرمایہ دارانہ معاشرہ میں ہر فرد اصلاً اپنی شناخت کا ادراک پیداواری عمل میں شمولیت سے ہی حاصل کرتا ہے۔ اسی معاشرے کا ہر فرد سرمایہ کا بندہ ہے کیوں کہ پیداواری عمل کو مہمیز دے کر ہی سرمایہ کی مستقل اور لامتناہی بڑھوتری کے ذریعے فرد آزادی اور خودتشکیلیت حاصل کرتا ہے۔ لہٰذا پرولتاریہ کا طبقاتی مفاد اسی میں ہے کہ معاشرے میں تمام طبقے بشمول پرولتاری طبقہ منہدم ہو جائیں اور ہر فرد تمام ادارتی بندشیں توڑ کر سرمایہ کی غیرمشروط بندگی قبول کر لے[266]۔ اس کے برعکس بورژوا طبقہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ لبرل ادارتی صف بندیاں قائم رکھے کیوں کہ ان اداروں کے توسط سے ہی وہ مزدور کا استحصال کر سکتا ہے۔ بورژوا کا طبقاتی مفاد طبقاتی معاشرت کو برقرار رکھنے میں ہے۔ بورژوا ایک آفاقی طبقہ نہیں بن سکتا۔ وہ سرمایہ کو لامتناہی فروغ دینے سے قاصر ہے۔ لہٰذا بورژوا کی علمی اور معاشرتی حقائق کی تفہیم لازماً محدود اور نامکمل ہے اور اس بورژوا علمیت کو آفاقی بنانے کے لیے لازم ہے کہ اس پر پرولتاری فکری تعمیر مسلط ہو۔

پرولتاریہ یہ آفاقی حساسیت بتدریج پیداواری اور سیاسی دائرہ کار میں جدوجہد میں شرکت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ کوئی ایک عمل طبقاتی حساسیت کے ورود کا باعث نہیں بن سکتا۔ انقلاب اس پیہم جدوجہد کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وین گارڈ پارٹی پرولتاریہ کی طبقاتی حساسیت کو مستقل فروغ دیتی رہتی ہے۔ وین گارڈ پارٹی اپنے تنظیمی اقدامات سے وہ ہیئتی(structural) صف بندی فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے طبقاتی حساسیت میں بتدریج اضافہ ہوتا رہتا ہے اور پرولتاریہ اپنے حقیقی مفادات یعنی لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جستجو کو اپنے وقتی مفادات یعنی سرمایہ دارانہ لبرل نظام میں رہتے ہوئے بہتر اجرتوں کے حصول کی جدوجہد پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔

لیکن یہ اعتراض عموماً اٹھایا گیا ہے [267] کہ لوکاکس پرولتاری طبقاتی حساسیت کے ورود اور فروغ کے عمل پر تفصیلی بحث نہیں کرتا اور اس عمل میں شریک قوتوں کی حکمت عملی واضح نہیں کرتا[268]۔ طبقاتی حساسیت کے فروغ پر لوکاکس نے جو زور دیا ہے اس کی بنیاد پر اس کے مارکسسٹ ناقدین لوکاکس کو آئیڈیالسٹ مفکر ہونے کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے مارکس کے مادی فلسفہ (historical materialism) کو ایک آئیڈیلسٹ تعبیر پیش کی ہے اور اس کی فکر پر اس کے استاد Summel اور طالب علم ساتھی میکس ویبر کا اثر غالب ہے[269]۔ 

لوکاکس کی فکر کے آئیڈیلسٹ عنصر کو سمجھ کو ہم لبرل اور اشتراکی سرمایہ داری کی نظریاتی ہم آہنگی کی نوعیت سے واقف ہو سکتے ہیں[270]۔ لوکاکس کی فکر میں ایک اہم آئیڈیلسٹ تصور Reification ہے۔ Reification وہ عمل ہے جو لوگوں کے باہمی تعلقات کو اشیاء کے تعلقات بنا کر پیش کرتا ہے۔ پیداواری عمل معاشرتی تعلقات کا ڈھانچہ نظر نہیں آتا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ٹیکنیکل تعمیر ہے جو فطری قوانین مثلاً قانونِ رسد و طلب کے تابع ہے۔ لبرل سرمایہ داری Reification میں مستقل فروغ دیتی رہتی ہے۔ Reification کے ذریعے ہی مزدور کی ذات انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ مزدور اپنے آپ کو تخلیق کار تصور نہیں کرتا بلکہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ ایک تکنیکی عمل محض ایک آلہ پیداوار ہے اور وہ قوانینِ فطرت (law of supply & demand) کی ماتحتی پر مجبور ہے۔ یہ ماتحتی تعقل کا تقاضا ہے۔ یہ قوانین فطرت حقیقت کو منتشر کر دیتے ہیں۔ یہی speculation ہے اور speculation علم کو جزو تک محدود کر دیتی ہے۔ بورژوا علمیت کُل کے شعور سے مبرا ہے[271]۔ جزویت کی عقلیت کا اظہار نوکرشاہی کی کارفرمائی میں ہوتا ہے۔ یہ نوکرشاہی مارکسسٹ کارپوریشن اور ریاستی اداروں میں ایک ہی طرح سے کام کرتی ہے۔ مارکیٹ اور ریاست کے عمل کو چھوٹے چھوٹے زمروں میں توڑ کر ان کی سیاسی اور نظاماتی معنویت کو اخفا کر دیتی ہے۔ اس عمل کو depoletisation کہا جاتا ہے اور یہی depoletisation مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریٹو سائنسز کا طرہ امتیاز ہے اور یہی سائنسی منہج بورژوا کے تمام علوم پر غالب ہو کر اس علمیت کو بحیثیت مجموعی نامکمل اور غیرمربوط بناتا ہے۔ یہ speculation علمیت بورژوا کا ایک اہم نظریاتی ہتھیار ہے جو لبرل سرمایہ داری کو ایک ہمیشہ قائم رہنے والے ایسے نظام کے طور پر مفروض کرتی ہے جو غیرمتبدل قوانین فطرت اور تعقل پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم کر دیا گیا ہے۔

لوکاکس کے مطابق اس نامکمل علمیت کی تکمیل بورژوا معاشرت میں اس لیے ناممکن ہے کہ اس کی تکمیل بورژوا کے طبقاتی مفادات کے مخالف ہے۔ کانٹ اور ہیگل نے جس عقلیت کی بنیاد پر ہیومن فکر اور معاشرت کی تفہیم اور تشکیل نو کی کوشش کی تھی وہ اس بات کی متقاضی ہے وہ بورژوا علمیت اور معاشرت کے انہدام کی ضرورت کو قبول کر کے پرولتاریہ کو تاریخ انسانی میں ظاہر ہونے والی اضافیت کے طور پر پہچانے۔ بقول لوکاکس پرولتاریہ تاریخ انسانی کا موضوع بھی ہے اور اس کا مقصد بھی۔ پرولتاریہ بھی کل کے شعور اور تفہیم کو ممکن بنانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس سے نہ مارکس کو انکار ہے نہ لینن کو نہ لوکاکس کو نہ پرولتاریہ کے غلبہ کا امکان بورژوا معاشرت ہی پرولتاری غلبہ کو ممکن بناتی ہے کیوں کہ بورژوا معاشرت میں آزادی کے فروغ کے لیے پیداواری عمل کو معاشرتی بنا دیا گیا [272]۔

عمومی حالات میں پرولتاریہ کے احساسات اور رویہ Reification کو محدود نہیں کر پاتے۔ یہ شعورِ کل پرولتاریہ کو بحیثیت ایک طبقہ کے جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور اس طبقاتی حساسیت کا حصول پرولتاریہ کی معاشرتی قیادت کے قیام کے ہم معنی ہے۔ اصلاً لوکاکس کے تصور میں طبقاتی حساسیت ایک ایسی روحانیت ہے جو ’’علمِ کُل‘‘ کے حصول کے نتیجے میں پرولتاریہ کو بحیثیت ایک طبقہ کے حاصل ہوتی ہے۔ اسی ’’علم کُل‘‘ کو لوکاکس مارکس کی historical materialism گردانتا ہے اور اس historical materialism کو پرولتاریہ کے ہاتھ کا ایسا جنگی ہتھیار سمجھتا ہے جس کے ذریعے بورژوا معاشرتی Reification کا پردہ چاک کیا جا سکتا ہے[273]۔ historical materialism کی بنیاد پر کچھ مفکرین نے لوکاکس کو اس سائنس مخالف تحریک کا مارکسی ترجمان کہا ہے جو انیسویں صدی میں جرمنی میں فروغ پا رہی تھی۔

میری رائے میں لوکاکس کو سائنس اور صنعتی ترقی کا مخالف کہنا درست نہیں[274]۔ یہ درست ہے کہ وہ دیگر بورژوا علوم کی طرح سائنس کو ایک نامکمل اور محدود حساسیت تصور کرتا تھا۔ وہ پرولتاریہ کو ایک ایسی روحانی قوت تصور کرتا تھا جس کا غلبہ مادی قوتوں سے زیادہ روحانی اور اخلاقی شعور کے حصول پر منحصر ہوتا ہے۔ طبقاتی حساسیت لوکاکس کے لیے ایک غیرمبہم تصور ہے۔ پرولتاریہ کی آفاقی حساسیت ایک خالص شعور ہے جو بورژوا علمیت پر قائم تو ضرور ہے (کیوں کہ بورژوا اور پرولتاری علمیت دونوں کا مقصد حصولِ آزادی اور بڑھوتری سرمایہ ہے) لیکن اپنی آفاقیت کی بنا پر اس سے بالکل منفرد ہے۔ میری رائے میں یہ ایک ناقابل فہم نظریہ ہے کیونکہ شے اپنی بنیاد سے وابستگی منقطع کر کے لازماً اپنا وجود کھو دیتی ہے الّا اس کے وہ کوئی دوسری بنیاد پر استوار ہو اور لوکاکس کے ہاں پرولتاری حساسیت کی کسی دوسری بنیاد کی نشان دہی نہیں کی گئی۔ لوکاکس کے مطابق اس آفاقی حساسیت کا اظہار صرف سرمایہ داری کے بحران کے دور میں ہوتا ہے یعنی بورژوا عقلیت اور معاشرت کے انتشار کے بغیر اس نامکمل اور غیرمربوط معاشرت اور علمیت کو پرولتاری آفاقی حساسیت کی بنیاد پر مکمل اور مربوط نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اس سے ظاہر ہے کہ بورژوا فکری اور نظاماتی انتشار کے فراہم کردہ مواقع سے فائدہ اٹھائے بغیر پرولتاری آفاقی حساسیت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھا کر پرولتاری آفاقی حساسیت کے ابھرنے کے امکان پیدا کرنا وین گارڈ پارٹی کا کام ہے۔ پارٹی پرولتاریہ کو آفاقی شعور دلانے کی استعداد کیسے پیدا کرے ، لوکاکس اس سوال کو نہیں اٹھاتا۔لوکاکس آفاقی پرولتاری حساسیت کے حصول کو پرولتاری معاشرتی غلبہ کے مترادف سمجھتا ہے۔ یعنی پرولتاری آفاقی حساسیت کا حصول بورژوا اور پرولتاری طبقوں کو مدغم کر دیتی ہے اور بغیر تصادم کے دونوں طبقے اس آفاقی حساسیت اور عقلیت کو قبول کر کے فروغِ آزادی یعنی سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری کے لیے نظاماتی تعمیر نو کا کام انجام دینے لگے ہیں۔ ہم دورِ حاضر کے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک یورپ، امریکا، چین، جنوبی کوریا، جاپان، چلی میں اس عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان ممالک میں بورژوا اور پرولتاری کی تخصیص بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر فرد سرمایہ کا اجرتی کارکن ہے۔ ذاتی ملکیت کو کارپوریٹ ملکیت نے پورے طور پر مغلوب کر لیا ہے اور آزادی کی ترقی اور سرمایہ کے فروغ کی پیہم جستجو پر سب کا اتفاق ہے۔ اور اب ان ممالک میں طبقاتی کش مکش کا کوئی امکان موجود نہیں رہا۔ آزادی کی اخلاقیات ’’الدین‘‘ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور ہر فرد کے حصولِ لذات کی ضامن ریاست بن گئی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ممالک لبرل ہیں یا سوشلسٹ۔

لوکاکس کی کلیدی تحریرات میں اشتراکی ادارتی صف بندی کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ وین گارڈ پارٹی اور پرولتاری طبقہ کے تعلق پر سیرحاصل گفتگو کہیں نہیں ملتی نہ پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کی کوئی تفصیل دی گئی ہے۔ اپنے رسالہ Lenin[275] میں اس نے اپنے خیالات کو لینن کی فکر سے مماثل بنانے کی کوشش کی ہے اور پرولتاری طبقہ میں تفریق کے عمل کو پہچانا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں اپنے وقتی مفاد کی جستجو کے لیے لیبر جو ٹریڈ یونین بناتا ہے اس کو اپنی ایک نوکر شاہی وجود میں لاتی ہے جو تعلیم اور فنی مہارت اور معیارِ زندگی کے اعتبار سے پرولتاری سے ایک اونچی سطح پر ہوتی ہے اور جس کے مفادات مینیجروں سے سمجھوتا کرنے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ یونین نوکرشاہی پرولتاریہ میں آفاقی طبقاتی حساسیت کے فروغ کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔اپنے اس رسالہ میں لوکاکس لبرل جمہوری ریاستی نظام کو بھی پرولتاری آفاقی طبقاتی حساسیت کے فروغ کی راہ میں ایک رکاوٹ گردانتا ہے۔ یہ نظام پرولتاریہ کو بحیثیت ایک طبقہ کے منتشر کر دیتا ہے۔ لبرل جمہوری نظام بورژوا طبقہ کے معاشرتی تغلب کا سب سے اہم ضامن ہے[276]۔ انتخابی عمل میں ہرفرد اپنی جداگانہ رائے کا اظہار کرتا ہے لیکن اپنی جمہوری عمل کے پیچھے انتظامیہ اور عدلیہ کے ادارہ بورژوا کی حاکمیت کو محفوظ کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ بورژوا معاشرتی ادارے سب اس بات کے ضامن ہوتے ہیں کہ بورژوا کا ریاستی استحکام رہے اور پرولتاریہ کے افراد بحیثیت منفرد سٹیزن انتخابی عمل کے ذریعہ بورژوا حاکمیت کی تصدیق کریں۔ لبرل جمہوری ریاست پرولتاریہ کی آفاقی حساسیت کو فروغ نہیں پانے دیتی۔

13.6۔ لبرل اقدار کی پرولتاری تصدیق

۱۹۲۶ء کے بعد کی تحریروں میں لوکاکس لبرل نظریات کی تصدیق کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ۱۹۲۶ء سے لے کر خروشیف کے برسراقتدار آنے تک یہ ایک منفی تنقید ہے کیوں کہ اس دور میں لوکاکس سوویت یونین کی بنائی ہوئی بین الاقوامی تنظیم کا عہدے دار رہا اور اس نے اسٹالن کی حکم عدولی کی کبھی جرأت نہ کی۔
اپنے ۱۹۲۶ء کے ایک مضمون میں لوکاکس اس خیال کا اظہار کرتا ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کسی ثقافتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ لبرل ثقافت کے بیش تر عناصر کے فروغ کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ لوکاکس اس حقیقت سے مصالحت کی ضرورت پر زور دیتا ہے کیوں کہ فلسفہ کا کام یہ ہے کہ حقیقت کو سمجھے کیوں کہ حقیقت ہی عقلیت کا تقاضا ہے[277]۔ یعنی سوویت یونین میں اسٹالن کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہوئی لیکن کوئی نیا ثقافتی انقلاب برپا نہ ہو سکا۔ یہی حقیقت عقل کا تقاضا بن کر لوکاکس کے سامنے آیا اور لوکاکس نے اس حقیقت سے مصالحت کر لی[278]۔ ۱۹۲۸ء میں لوکاکس نے ہنگرین کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے کانگریس کے سامنے اپنا ایک مقالہ پیش کیا جو Blum Thesis کے نام سے مشہور ہوا۔ اس مقالہ میں لوکاکس نے ہنگرین جماعت کو مشورہ دیا کہ وہ ہنگری میں ایک سوویت ریاست کے قیام کی جدوجہد کو ترک کر دے اور ایک بورژوا معاشرت اورریاست کے قیام کو اپنا مقصد بنا لے جو اس وقت ہنگری کی فاشسٹ (Fascist) حکومت کی متبادل ہو۔ لیکن یہ رائے اس وقت قبول نہ کی گئی اور لوکاکس کو مجبور کیا گیا کہ وہ ایک معافی نامہ تحریر کرے، اپنے غلط ہونے کا اقرار کرے[279]۔ لیکن ۱۹۳۴ء میں لوکاکس نے برملا کہا کہ اس کا یہ معافی نامہ منافقت کے سوا کچھ نہیں اور وہ اپنی Blum Thesis میں پیش کردہ آراء کو اب بھی درست تصور کرتا ہے۔ ۱۹۶۷ء میں لوکاکس نے کہا کہ Blum Thesis میں مَیں نے جو پوزیشن اختیار کی وہی میری اس کے بعد کی تمام نظریاتی اور سیاسی جدوجہد کی بنیاد رہی ہے۔ ۱۹۳۳ء میں ہنگرین کمیونسٹ پارٹی نے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں سے محاذ آرائی ترک کر دی اور لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں سے متحدہ محاذ (united front) بنا کر فاشسٹوں کو شکست دینے کی کوشش کی۔ ۱۹۳۴ء کے بعد سے لوکاکس اس یونائیٹڈ فرنٹ حکمت عملی کا سب سے اہم نظریاتی وکیل بن کر سامنے آیا۔ اس نے بورژوا ثقافتی ورثے، لبرل فلسفہ، تاریخ اور آرٹ اور جمالیات کو کھل کر اشتراکی نظریات کے تتمہ کے طور پر پیش کیا۔ لوکاکس نے کوشش کی کہ متحدہ محاذ سیاست تک محدود نہ رہے بلکہ لبرل سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ ایک ثقافتی اور نظریاتی متحدہ محاذ مستحکم ہو جائے اور جو کمیونسٹ مفکرین مثلاً Brecht لبرل ثقافت کو اس دور میں ردّ کرتے تھے ان پر لوکاکس نے سخت تنقید کی۔

۳۹/۱۹۳۸ء کے سوویت یونین نے ہٹلر کے ساتھ مصالحانہ کوششوں کا آغاز کیا اور ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۱ء تک کمیونزم کی فکر سے فاشزم کی تنقید غائب ہو گئی۔ اس دور میں لوکاکس خاموش رہا لیکن ۱۹۵۶ء کے بعد[280] جب اس نے اسٹالن کی بھرپور تنقید کی تو اس نے کہا کہ وہ اسٹالن ازم کا مخالف ان تمام ادوار میں رہا ہے۔ جب اسٹالن نے بورژوا جمہوری جماعتوں سے مخالفت کا رویہ اختیار کیا تو ان ادوار میں لوکاکس اپنی مخالفت کو مخفی رکھنے پر مجبور تھا۔ اس مصلحت کوشی کے باوجود لوکاکس کو ۱۹۴۱ء میں ماسکو میں گرفتار کر لیا گیا[281] اور اس سے ایک بار پھر ایک معافی نامہ لکھوایا گیا[282]۔

۱۹۳۴ء کے بعد سے لوکاکس کی مسلسل کوشش اشتراکی اور لبرل نظریات میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر مرکوز رہی۔ وہ اس نوعیت کی مفاہمت کو ناگزیر سمجھتا تھا کیوں کہ سوشلسٹ نظریات اس کی فکر میں لبرل فکر کی تکمیل ان معنوں میں تھے کہ وہ انسان پرست (humanist) ثقافت اور آزادانہ معاشرت ہی کو فروغ دیتے تھے۔ لوکاکس کے مطابق پرولتاریہ کا انقلابی حصہ تنویری اوررومانوی فلسفہ کی بہترین روایات کا جائز وارث ہے۔ لوکاکس بلاشبہ ایک مخلص کمیونسٹ تھا۔ اس نے کبھی کمیونسٹ تحریک اور پرولتارین فکر سے اپنے مفادات کے لیے غداری نہیں کی۔ اس نے اسٹالن کے ساتھ جو مصلحانہ رویہ اختیار کیے رکھا اس کا مقصد پرولتاریہ کے حکومتی نظام کو مستحکم کرنا تھا۔ اس نے کبھی کمیونسٹ دنیا نہیں چھوڑی[283]۔ وہ کمیونسٹ جدوجہد کو لبرل جمہوری اور ثقافتی نظام میں سمو دینے ہی کو کمیونسٹ تحریک کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔

لوکاکس نے خروشیف کی پالیسیوں کی بھرپور تائید کی۔ وہ خروشیف کے تصور ’’پرامن بقائے باہمی“ (peaceful coexistence) جس کے ذریعہ سوویت اور مغربی ممالک میں اشتراکِ عمل کی نئی راہیں استوار ہوئیں، کا بھرپور حامی تھا۔ خروشیف کے دور میں لوکاکس نے لینن پر بھی اپنی مرتب تنقید کی اور اسٹالن کو لینن کی غلطیوں کا وارث قرار دیا۔ اس نے معاشی ترقی کو اشراکی کامیابی کا سب سے اہم ضامن قرار دیا اور لکھا کہ لبرل ممالک سے اصل مقابلہ معاشی ترقی (economic development) کے ضمن میں ہے[284]۔  ۱۹۸۰ء میں یورپ اور امریکا میں سول لبرٹیز (Civil Liberties)اور شخصی آزادی بالخصوص جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے کی تحریک بھڑک اٹھی تو لوکاکس نے ان تحاریک کا بھرپور خیرمقدم کیا اور فروغِ آزادی کو سوشلسٹ انقلاب کا اولین مقصد قرار دیا۔

لوکاکس کی لبرل نظریات اور ثقافت کی تصدیق منافقت یا ارتداد پر مبنی نہیں اس کے اخلاص اور فکری ارتقا پر مبنی ہے۔ لوکاکس مندرجہ ذیل حقائق کی تصدیق کرتا ہے:

۱۔ لبرل ازم اور سوشل ازم کے اہداف اور عقائد ایک ہی ہیں یعنی آزادی، مساوات اور ترقی۔ ان اہداف کے حصول کے لیے جس حساسیت (Consciousness)کو فروغ پانا چاہیے وہ یہ ہے کہ فرد کے ذاتی بڑھوترئ سرمایہ کی جدوجہد اجتماعی بڑھوترئ آزادی اور سرمایہ کی جدوجہد کا ذریعہ بن جائے۔ اسی چیز کو لاک "material political virtue" اور لوکاکس "Ascriptive proletarian class consciousness" کہتا ہے۔

۲۔ اس "Ascriptive proletarian class consciousness" یا Material political virtue کو فروغ دینے کے لیے ذاتی ملکیت کا خاتمہ اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا غلبہ ضروری ہے۔

۳۔ سرمایہ دارانہ ملکیت کی دو بنیادی شکلیں ہیں: کارپوریٹ ملکیت اور ریاستی ملکیت [285]۔

۴۔ جب ان مین سے کوئی بھی ملکیت معاشرے پر غالب آ جاتی ہے تو سرمایہ دارانہ اجتماعیتیں بورژوا اور پرولتاریہ ختم ہو جاتی ہیں۔ ہر شخص سرمایہ کا اجرتی ملازم بن جاتا ہے خواہ مزدور، خواہ مینیجر، خواہ ریاستی نوکر۔

۵۔ سرمایہ دارانہ معاشرت( خواہ لبرل، خواہ سوشلسٹ) ایک غیرطبقاتی (Classless) معاشرت ہوتی ہے جہاں سرمایہ دارانہ عقلیت، سرمایہ دارانہ ملکیت کے ذریعے حکومت کر کے فروغِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کی پیہم جدوجہد کو منظم کرتی ہے۔

۶۔ بڑھوترئ سرمایہ اور فروغِ آزادی کی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے اس نوعیت کی انفرادیت، معاشرت اور ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔

لوکاکس کی رائے تھی کہ بڑھوترئ آزادی کا فریضہ لبرل ریاستیں بھی انجام دے سکتی ہیں اور سوشلسٹ ریاستیں بھی اور پرامن بقائے باہمی(Peaceful coexistence)میں ان دو قسم کی ریاستوں میں تعاون اور مسابقت جاری رہنی چاہیے۔ سوویت روس اور مشرقی یورپ کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رائے درست ہے اور لبرل ازم ایک ایسی دلدل ہے جس میں تمام سرمایہ دارانہ نظریات اور تنظیمیں دفن ہو جاتی ہیں لیکن چین میں[286] پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ مستحکم ہے اور لبرل ممالک سے تعاون اور مسابقت ہنوز فروغ پا رہی ہے لہٰذا لوکاکس کی فکر کو تاریخی تجربات کی بنیاد پر ردّ نہیں کیا جا سکتا۔

13.7۔ اشتراکی انفرادیت کا انتشار

مارکس اور اس کے پیروؤں کے مطابق سوشلسٹ سرمایہ دارانہ انقلاب ایک اجتماعی انفرادیت کے ظہور پذیر ہونے پر منحصر ہے۔ یہ اجتماعی انفرادیت وہ پرولتاریہ طبقہ ہے جو اپنے حقیقی تاریخی مقام اور معاشرتی مقام سے واقف ہو جاتا ہے۔ اس اجتماعی انفرادیت کو "Class for itself" کہا جاتا ہے اور اس کی ڈکٹیٹرشپ کے قیام اور استحکام سے وہ انفرادیت ظہور میں آتی ہے جس کو مارکس "Specie Being" کہتا ہے [287]۔ لیکن اشتراکی جدوجہد کے نتیجہ میں یہ اجتماعی انفرادیت مستحکم نہ ہو سکی اور روس اور چین میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام اپنے متصورہ حقیقی طبقاتی مفادات کو فراموش کرتے گئے اور ان کی زندگی کا مقصد اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل ہو گیا[288]۔ مغربی یورپ میں ۱۹۴۵ء کے بعد سے سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں نے کمیونسٹ پارٹیوں کی عوامی مقبولیت کو کم اسی بنیاد پر کیا کہ یہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹیاں پرولتاریہ کے لبرل نظاماتی مفادات (اجرتوں میں اضافہ اور سرمایہ دارانہ ملکیت میں شمولیت کے حصول کے لیے قانون سازی)کو فروغ دینے کے لیے ایک کامیاب حکمت عملی تجویز دی جس کی بنیاد پر فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی وغیرہ میں کئی مرتبہ سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں قائم ہوئیں اور کہیں بھی کمیونسٹ پارٹی مزدوروں کی اکثریتی نمایندہ جماعت نہ بن سکی [289]۔ان حالات میں پرولتاریہ کے ایک "Class for itself"بننے کے امکانات معدوم ہوتے چلے گئے [290]۔ اور یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ کیا اشتراکی سرمایہ دارانہ انقلابی جدوجہد بغیر پرولتاریہ ایک "Class for itself"بنے جاری رکھنا ممکن ہے ۔ لوئی التھوسر (Louis Althusser) نے اسی مسئلہ کو اپنی فکری کاوشوں کا محور و مرکز بنایا۔

التھوسر مارکس اور فرائیڈ کی فکر میں ایک مماثلت کا قائل ہے۔ اس کے مطابق ان دونوں مفکرین نے واضح کہا ہے کہ تاریخی عمل ایک ہیئت (Structure)کی حیثیت رکھتا ہے جس میں انسانی شخصیت کو مرکزی مقام حاصل نہیں۔ وہ تاریخ کو ایک عمل بنانے والی شخصیت "Process as a subject"قرار دیتا ہے۔ ہر تاریخی اجتماعیت (Social Structure) ایک ایسی ہیئت (Structure)ہے جس کی کئی مخصوص سیاسی، معاشی، نظریاتی اور علمیاتی جہتیں ہوتی ہیں۔ ہر جہت خودانحصاری ہوتی ہے اور اپنی مخصوص منطق کے تحت اپنی ترقی اور ارتقا کو ممکن بناتی ہے۔ان جہتوں کی کوئی مرکزیت نہیں ہوتی۔ تاریخی تغیر کا کوئی ایک محرک نہیں ہوتا بلکہ معاشی جہت کی ایک جہت کے ذریعے پورے نظام پر اپنا تسلط قائم رکھتی ہے لیکن یہ تسلط تاریخی عمل میں کبھی عیاں نہیں ہوتا لہٰذا گو کہ تاریخی تغیر میں معاشی جہت آخرکار فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے لیکن عملاً اس جہت کی یہ حیثیت ہمیشہ مبہم رہتی ہے۔ لہٰذا یہ صحیح ہے کہ ہر تاریخی تغیر کو محض اس کے معاشی محرک سے منسوب کیا جائے [291]۔کسی ایک عمل کو تاریخی تغیر کا باعث قرار دینا تاریخی تغیر کی ہمہ جہتی سے سہو نظر ہے۔ التھوسر کے مطابق انیسویں اور بیسویں صدی کی مارکسی فکر کی یہ کمزوری ہے کہ وہ تغیراتی عمل کے کسی ایک بنیادی محرک کی نشان دہی پر توجہ مرکوز کرتی ہے (جیسا کہ Second International میں شامل مارکسسٹ مفکرین سرمایہ دارانہ بحران کو اور لوکاکس reification کو تاریخی عمل کا واحد محرک گردانتے تھے)۔ التھوسر کے خیال میں تاریخی تغیر کی گنجلک[292] (complex) اور ہمہ جہت حیثیت کا صحیح تجزیہ مارکس کی آخری زمانے کی تحریروں بالخصوص Das Kapital کی پہلی جلد میں ملتا ہے[293] جن میں التھوسر کے مطابق مارکس نے اپنے پرانے علمیاتی منہج[294] کو ترک کر دیا۔ التھوسر کے مطابق مارکس کی پختہ (mature)فکر انسانی مرکزیت (Humanism)کو ردّ کرتی ہے۔ 

چوں کہ نظریاتی جہت، معاشی جہت سے جدا ہے اور اپنی اندرونی منطق کے مطابق اس کی کارفرمائی متعین ہوتی ہے لہٰذا یہ ممکن ہے کہ معاشی جہت میں تبدیلی رونما ہو لیکن نظریاتی جہت اس کے تغیر کا اظہار نہ کر سکے۔ ۱۹۴۰ء کی دہائی میں التھوسر نے اسی دلیل کی بنیاد پر اسٹالن کے پارٹی کے اندر اور باہر قتل عام کا جواز پیش کیا۔ اس نے کہا کہ گو کہ ۱۹۱۷ء کے انقلاب کی کامیابی کے نتیجے میں سوویت یونین کی معاشی جہت تبدیل ہو گئی تھی لیکن اس تبدیلی کا مکمل اثر سوویت یونین کی نظریاتی جہت پر نہ پڑا اور پارٹی کے اندر اور معاشرے میں بالخصوص دیہی معاشرے میں ایسے عناصر موجود تھے جو انقلاب کی مخالفت کرتے تھے اور جن کو بڑے پیمانے پر قتل کرنا ناگزیر تھا۔ اسی نوعیت کی دلیل التھوسر کے پیروکاروں کے ایک گروہ نے ماؤ کے ۱۹۶۶ء میں شروع ہونے والے ثقافتی انقلاب کے حق میں دی اور اس دور (۱۹۷۳ء ۔۱۹۲۵ء) میں فرانس میں مارکسسٹوں اک ایک طاقت ور دھڑا موجود تھا۔ 

نظریاتی جہت کی معاشی بنیاد (Economic Base) کی اس خود ارادی (Autonomy) کے نتیجہ میں غیرمارکسی یعنی لبرل تصورات سے استفادہ بھی التھوسر کی نظر میں ناگزیر ہو گیا۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کے دانش ور بورژوا اور پرولتاری سائنس میں تفریق کرتے تھے اور ہر اس علمی تجزیہ کو جو Historical Materialism کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جاتا تھا، غیرمستند اور سازشی قرار دے کر ردّ کر دیتے تھے۔ التھوسر نے اس رویہ کو برملا پاگل پن کہا۔ التھوسر کے مطابق چوں کہ نظریاتی جہات منطقی لحاظ سے خود انحصاری (Autonomous) ہوتی ہیں لہٰذا ان کا ایک دوسرے سے تعلق اور نظام کی دوسری جہات (سیاسی، معاشی، ثقافتی) سے تعلق لازماً غیرمتعین اور مبہم ہوتا ہے[295]۔ التھوسر کی رائے میں مارکسی فکر کو کمیونسٹ پارٹی کی سیاسی جدوجہد سے متعلق کرنا ممکن نہیں اور مارکسسٹ نظریات (Marxist Theory) لازماً دیگر لبرل نظریات کے تناظر کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

التھوسر نظریہ (Theory) اور عمل (Practice) میں فاصلہ کا قائل ہے اور وہ بیسویں صدی کی دوسری نصف کا سب سے اہم اور سب سے گہرا پروفیشنل مارکسی مفکر ہے لیکن وہ تمام زندگی ایک سیاسی کارکن رہا۔ وہ ۱۹۴۸ء میں کمیونسٹ پارٹی کا رکن بنا اور اس نے کمیونسٹ پارٹی کبھی نہیں چھوڑی۔ ۱۹۶۰ء میں جب وہ اور اس کے پیروکار ثقافتی انقلاب کے پرزور حامی بن گئے تو اس نے فرنچ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت پر شدید تنقید کی[296]۔ التھوسر کے نظریات اور پارٹی پالیسیوں میں شدید اور بڑھتے ہوئے اختلاف کا بہت گہرا اثر التھوسر کی ذہنی صحت پر ہوا۔ ۱۹۶۰ء کے بعد سے اس پر دیوانگی کے شدید دورے پڑنے لگے۔ نومبر ۱۹۸۰ء میں اس نے اپنی بیوی کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا اور اس کے بعد اس کو پاگل خانے میں داخل کر دیا گیا جہاں ۱۹۹۰ء میں وہ مر گیا [297]۔ 

التھوسر کی فکر میں بنیادی خصوصیت اس کا گنجلک پن (Complexity) ہے۔ وہ ایک منفرد ’’نظریہ خواندہ“(Theory of Reading) ہے۔ متن (Text) کے معنی اس کے الفاظ پوشیدہ کر دیتے ہیں [298]۔متن کے معنی تک رسائی ان خاموشیوں (Silences) اور فاصلوں (Gaps) کو پُر کرنے سے حاصل ہوتی ہے جو نظریاتی تجزیہ ممکن بناتا ہے۔ متن کا یہ ابہام لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت کے فطری ابہام کا غماز ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معاشرت وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔ اس نظام میں افراد محض نظاماتی قوتوں اور رجحانات کے بوجھ بردار (Bearers) ہوتے ہیں۔ وہ ان خصوصیات کے مصنف نہیں ہوتے نہ ان میں تغیرات کو جنم دے سکتے ہیں۔ افراد نظاماتی ہیئتی جہتوں کے ماتحت عاملین (Subjects)ہوتے ہیں۔ نظریاتی جہت افراد کو نظاماتی خصوصیات اور قوتوں کا حامل بناتے ہیں۔ افراد کو نظاماتی ہیئت کے بوجھ بردار بنانے کے عمل کو التھوسر "Interpolation"کہتا ہے۔ اس "interpolated" افراد کو یہ دھوکا دیا جاتا ہے کہ وہ آزاد اور خودمختار ہیں اور حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں۔ اس دھوکا دہی کے سبب افراد کو نظاماتی جہات کے متعین شدہ فرائض کی ادائیگی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ لبرل معاشرے میں "Interpolation" کا یہ عمل اسکول، گرجا، سیاسی جماعتیں اور ٹریڈیونینز انجام دیتے ہیں۔ ہر ریاست کو "Interpolation" کا یہ عمل جاری رکھنا پڑتا ہے اور لبرل سوسائٹی کی طرح پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ میں نظریاتی جہت کی "Interpolation" کے عمل کو جاری رکھنے پر مجبور ہے[299]۔ اس تناظر میں یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ کسی سیاسی عمل کا کیا نتیجہ برآمد ہو گا اور لبرل اور سوشلسٹ نظریاتی منہجی جہات اور ان کے عمل "Interpolation" میں تفریق کرنا بھی مشکل ہے۔

التھوسر نے جو سوال اٹھایا وہ تاریخی تبدیلی کے ہیئتی (Structural) محرکات اور تاریخی تغیر کے عمل میں انفرادیت سے متعلق ہے۔ کیا تاریخی تبدیلی پیداواری قوتوں میں تغیر کی بنا پر لازماً ہوتی جاتی ہے یا کیا اس تبدیلی کو بروئے کار لانے کے لیے محنت کش طبقہ (جو مارکسی انفرادیت کا تصور ہے ) اس تغیر کے رونما ہونے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے؟ دوسری جنگ عظیم کے تیس سال بعد تک عام اراکین اور مفکرین اس پر غور کر رہے تھے [300]۔ ان میں Levi-Strauss کی فکر سے التھوسر خاص طور پر متاثر تھا۔ وہ ایک Anthropologist تھا اور اس کی تحقیق قدیم اور جدید معاشروں کے تقابل پر مبنی تھی۔ اس کی مشہور کتاب "The Savage Mind" میں ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قدیم اور جدید دور میں انسانی ذہنیت یکساں ہوتی ہے۔ اس خیال کی بنیاد پر التھوسر تاریخی تبدیلی کے ہیئتی محرکات کی نشان دہی کی کوشش کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت میں تغیرات کے عوامل کثیرالجہاتی ہیں اور یہی تاریخی شخصیات بشمول پرولتاریہ کو مرتب (Constitute) کرتے ہیں۔ اس کی فکر میں شخصیات کی کوئی اہمیت نہیں وہ محض نظریاتی جہت کے پرتو ہیں۔

التھوسر کی سیاسی جدوجہد اس کی نظریاتی فکر سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اپنی مشہور کتاب "Reading Capital" میں وہ کہتا ہے کہ ’’ہجوم (masses) تاریخ ساز ہوتے ہیں گو کہ مرد اور عورتیں تاریخ ساز نہیں ہوتے‘‘ لیکن اپنی اس رائے کو وہ اپنی نظاماتی فکر میں سمونے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ التھوسر کی فکر میں فلسفیانہ اور سیاسی مباحث کا کوئی نظریاتی تعلق نظر نہیں آتا۔ بحیثیت فلسفی وہ مارکس کے تصور تاریخی مادیت (Historical Materialism) کا قائل نظر نہیں آتا۔ بحیثیت سیاسی مفکر وہ اس تصور کی تردید نہیں کرتا اور اسٹالن ازم کے بارے میں اس کا رویہ اس تصور (Historical Materialism) کی تردید پر مبنی نہیں۔ التھوسر اسٹالن کے ظلم و ستم سے سہو نظر کرتا ہے اور اس کی کامیابیوں کو قابل ستائش کہتا ہے [301]۔ التھوسر کے خیال میں اسٹالن کی شخصی کمزوریاں اس کی نظاماتی کامیابیوں کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ اسٹالن کی شخصیت ان نظریاتی اور سیاسی جہات کا اظہار تھی جو سوویت یونین میں ابھری تھیں اور التھوسر کی رائے میں اسٹالن کا وجود سوویت یونین میں اشتراکی سرمایہ داری کے غلبہ کے لیے ناگزیر تھا۔

دیگر فرانسیسی مارکسسٹوں کی طرح التھوسر بھی پرولتاریہ کے انقلابی کردارسے مایوس ہے۔ اس مایوسی کی وجہ پرولتاریہ کا انتشار ہے۔ جدوجہد کے دوران پرولتاریہ طبقاتی شعور تو حاصل کرتا ہے، اس کا اظہار لامحالہ غلطیوں سے بھرپور ہوتا ہے کیوں کہ بقول التھوسر کوئی ایسی قوت موجود نہیں جو پرولتاریہ کے اقدامات کی درستی کا تعین کر سکے۔ یہ رائے التھوسر نے فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کی پیہم شکستوں کے تناظر میں بنائی [302]۔ چوں کہ التھوسر کسی آفاقی حق کے وجود کا قائل نظر نہیں آتا لہٰذا وہ کہتا ہے کہ پرولتاریہ یا اس کی نمایندہ وین گارڈ پارٹی جو حکمت عملی اختیار کرے اس کے صحیح یا غلط ہونے کا تعین اس کے مقصد کے حصول کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے کسی اصولی حقیقت کی بنیاد پر نہیں۔ غلطیوں سے بچنے کا انحصار غلطیوں کے مفصل تجزیہ پر ہوتا ہے اور اسی کوتاہی کی بنیاد پر التھوسر فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کی مسلسل تنقید کرتا ہے۔

ہیئتی جہتوں کی خودانحصاری پر اصرار کے باوجود التھوسر عمل کی اہمیت کا انکاری نہیں۔ ہر جہت (نظریاتی، معاشی وغیرہ) مخصوص عمل (Practice)کا دائرۂ عمل ہے اور مختلف جہتی Practices کو کسی ایک کلی Practice میں ضم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر Practice کے مخصوص جزو (Elements) ہوتے ہیں مثلاً معاشی جہت کے جزو دیہی مزدور، مقصدِ پیداوار، ذرائع پیداوار اور استحصالی طبقہ ان اجزاء کو ترتیب دے کر مخصوص نوعیت کے تعلقات پیداوار (Relations of Production) قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح دیگر تمام جہات میں بھی مخصوص تعلقات پیداوار استوار ہوتے ہیں۔ سیاسی جہت موجودہ معاشرتی تعلقات پر محنت کرنے سے مطلوبہ معاشرتی تعلقات پیدا کرتی ہے۔

نظریاتی جہت مطلوبہ نظریات، تخیلات اور اظہار نمایندگی (Forms of Representation) پیدا کرتی ہے۔ نظریاتی جہت کا بنیادی عنصر یعنی اس کا خام مال فکر (Thought) ہے اور فکر کی ترتیب اس کے مطلوبہ نظریات کی پیداوار کے عمل کا دیگر جہات (سیاسی، معاشی) پر کوئی بنیادی انحصار نہیں ہوتا گو کہ ان تمام جہات میں تعلق موجود ہوتا ہے۔ التھوسر کے بقول Historical Materialism وہ سائنس ہے جو ہر جہت کے عمل پیداوار کا تجزیہ کر کے اس کے باہمی ارتباط کے پیدا ہونے والی اس معاشرتی تنظیم (Social Formation) کا ادراک حاصل کرتی ہے جو ایک خاص وقت میں کارفرما ہوتا ہے۔

نظریاتی جہت کی کارفرمائی کا ایک مخصوص تصور التھوسر پیش کرتا ہے۔ یہ جہت جو خام مال استعمال کرتی ہے اس پر بورژوا فکر[303] پہلے سے کارفرما ہوتی ہے لہٰذا یہ خام حقائق اور بورژوا تصورات دونوں کا حامل ہوتی ہے۔صحیح فکر[304] کے عمل سے گزر کر ان تصورات سے حقیقی علمیت برآمد کی جا سکتی ہے۔نظریاتی جہت کی کارفرمائی کے نتیجے میں جو شے (Product) بنائی جاتی ہے وہ شے کا حقیقی تصور ہے (کوئی مادی شے نہیں) لہٰذا تصوراتی جہت بورژوا فکر (خام مال) پر عمل کر کے ایک نئی فکر پیدا کرتی ہے[305]۔ التھوسر کی فکر میں تفکری جہت سے حاصل شدہ شے یعنی حقیقی ادراک (Object of Knowledge) اور حقیقی شے کے درمیان فاصلہ موجود رہتا ہے۔

التھوسر کے مطابق ہر سائنس کا اپنا علمی تناظر ہوتا ہے اس کو وہ "Probelematique" کہتا ہے۔ یہ "Problematique" اس سائنس کے بنیادی تصورات (Concepts) کے عمل ارتباط کا تعین کرتا ہے۔ ہر تصور کی نوعیت اور کارفرمائی (Function) کا تعین کرتا ہے اور ان سوالات کی نشان دہی کرتا ہے جو اس سائنس کے دائرہ عمل میں اٹھائے جا سکتے ہیں اور ان سوالات اور معاملات کی نشان دہی بھی کرتا ہے جو ایک مخصوص سائنسی Problematique نہیں اٹھا سکتی [306]۔ التھوسر کی فکر میں Paradigm علم کے تعین کے عمل میں فرد کی جگہ لے لیتا ہے۔ Paradigm کی حیثیت ہی مستقبل کے وژن کو مرتب کرتی ہے اور Paradigm کے دائرہ کار میں اس کی کارفرمائی کو فروغ دینے میں جو رکاوٹیں موجود ہیں ان کو وضع کرنے کی راہ بتائی ہے۔ کسی Problematique کی کارفرمائی حقیقت کے ادراک کا اصل محرک ہے، انسانی ذہن یہ کام نہیں کر سکتا۔التھوسر کے بقول مارکس ازم ایک سائنسی جہت بھی ہے اور ایک نظریاتی جہت بھی۔ گو کہ مارکسی سائنسی جہت مارکسی نظریاتی جہت پر قائم ہے لیکن سائنسی جہت کی کارفرمائی نظریاتی جہت پر قابض ہو جاتی ہے[307] ۔ اس قبضے کی کارفرمائی کے لیے افراد اور طبقہ وہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں جو سائنسی جہت سے واجب ہوتے ہیں۔

مارکسی سائنس اس ادراک کو ممکن بناتی ہے کہ ہر معاشرتی نظامِ کُل مختلف جہتوں کی ایک مخصوص ہیئت (Structure of Structures) ہے۔ ہر جہت اپنا مخصوص مقصد، ہیئت اور طریقِ کارفرمائی رکھتی ہے۔ ہر جہت کا دوسری جہتوں سے تعلق ہے لیکن کسی جہت کی کارفرمائی کسی دوسری جہت کی کارفرمائی کو مطلقاً متعین نہیں کرتی۔ کسی معاشرتی تغیر کا انحصار معاشی جہت کی کارفرمائی پر عملاً کبھی بھی اکیلا منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس ارتباط پر منحصر ہے جو معاشی جہت، سیاسی جہت، نظریاتی جہت،علمیاتی جہت وغیرہ کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ہر جہت میں لاتعداد تعلقاتی تضادات موجود ہوتے ہیں اور صرف معاشی تضاد (بورژوا اور پرولتاریہ کی معاشی کش مکش) معاشرتی تغیر کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتے۔ التھوسر کے مطابق مارکس ازم کو ہجوم کی جدوجہد کا پراڈکٹ تصور کرنا یا پرولتاری طبقاتی حساسیت (Class Consciousness) کے ہم معنی سمجھنا ایک غلط سیاسی رویے جو جنم دیتا ہے جس کو التھوسر spontaneous کہتا ہے یعنی سیاسی حکمت عملی عوامی عمل اور ردِعمل کی بنیاد پر متعین کرنا [308]۔ طبقہ (Class) اور طبقاتی کش مکش (Class Conflict) اور عمل استحصال (Exploitation) کے تصورات سیاسی جہت کی کارفرمائی کے ادراک کو ممکن نہیں بناتے[309] ۔ سائنس اور لسانیات دونوں معاشی جہت کی کارفرمائی سے متعین نہیں ہوتے اور اسٹالن کی طرح التھوسر بھی ان جہتوں کو مارکسی تصور سپراسٹرکچر[310] میں شامل نہیں کرتا۔ مارکسی سائنسی جہت پرولتاری جدوجہد کے باہر پیدا ہوتی ہے اور اس جہت کو پرولتاری جدوجہد سے مربوط کرنا وین گارڈ پارٹی کا فرض ہے۔

مارکسی سائنس علمیت پیدا کرتی ہے۔ پرولتاری جدوجہد علمیت پیدا نہیں کرتی بلکہ اس سائنسی جہت پر جو طبقاتی حساسیت سے برآمد نہیں ہوتی، پر انحصار کرتی ہے۔ طبقاتی جدوجہد عقلیت (Rationality) کا اظہار نہیں ہوتی۔ التھوسر کی فکر انسانی عمل کی فعالیت، اس کے تغیراتی دور میں فیصلہ کن صلاحیت کی نفی کرتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو مارکسسٹ، ہیومن ازم اور ہیگل کی فکر کا مخالف کہتا ہے۔ بیسویں صدی میں مارکسسٹ ہیومن ازم کا اہم ترین مفکر لوکاکس گزرا ہے اور ہیومن ازم کے اثبات کے نتیجے میں لوکاکس لبرل فکر کے قریب سے قریب تر ہوتا گیا ۔اس کے برعکس التھوسر ایک Structuralist مفکر تھا جس نے نظاماتی ہیئتوں (Structures) کی خودکارفرمائی کو عمل تغیر کا باعث قرار دیا لیکن اس رویہ کو اختیار کر کے وہ تنویری سائنسی منہاج کے مارکسی اور لبرل نظریاتی منہاج سے لاتعلقی کا قائل ہو گیا اور پرولتاریہ کی طبقاتی جدوجہد کو افشائے حقیقت کے ذریعے کے طور پر ترک کرتانظر آتا ہے[311]۔ التھوسر کے مطابق تنویری سائنس ایسے حقائق کا ادراک ممکن بناتی ہے جو آفاقی توہیں لیکن کسی انفرادی طبقاتی حساسیت یا مفاد کا اظہار نہیں۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ان حقائق کے ادراک سے کون سے مقاصد یا مفادات کا حصول ممکن ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ تحریک تنویر کے مقاصد (آزادی، مساوات اور ترقی) ہیں جو محض کسی مخصوص طبقہ کے مفادات نہیں بلکہ ہیومن بینگ کے مفادِ عامہ ہیں[312] ۔ اگر تنویری سائنسی جہت پرولتاری حساسیت سے ماورا ہے تو پھر یہ اس بات کا اثبات ہے کہ تنویری سائنس لبرل ازم، سوشل ازم، قوم پرستی اور انارکزم کا مشترکہ ورثہ ہے کیوں کہ یہ سائنس طبیعی (Physical) اور سماجی (Social) تسخیرکائنات کے ذریعے ہیومن بینگ کےلیے حصولِ آزادی، مساوات اور ترقی ممکن بناتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ تین عشروں تک جدوجہد کرنے کے نتیجے میں التھوسر نے یہ رائے قائم کی کہ مارکس ازم اور لبرل ازم کی علمیاتی بنیاد اور آفاقی مقاصد ایک ہی ہیں اور تحریک تنویر کا تصورِ علمیت ”سائنس“ اشتراکیوں اور لبرلوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔ مارکس کی بھی یہی رائے تھی۔

14۔ مسلم نیشنل کمیونزم اور سلطان گیلیو

14.1۔ سوشل ازم اور قوم پرستی

قوم پرستی ایک یورپی نظریہ ہے۔ قوم پرست وہ شخص ہے جو کسی خاص نسلی اجتماعیت (Nationality) کے ریاستی اقتدار کے حصول کی جدوجہد کو جائز تصور کرتا ہے۔ قومی ریاستی تحکم اور خودمختاری (National Self-determination) کا جواز ہیگلین (Hegelian) دلیل کی بنیاد پر دیا جاتا ہے کہ قومی شناخت کا اظہار قومی ریاست کے قیام ذریعہ ہی ممکن ہے اور ریاست اس اظہارِ تشخص کی اعلیٰ ترین صف بندی فراہم کرتی ہے۔ قومی حساسیت (National Consciousness) کے کئی ماخذات ہو سکتے ہیں اور ان ماخذات کی کارفرمائی (Functionality) یکساں نہیں ہوتی۔ مثلاً مذہبی بنیادوں پر ہی یہودیوں نے ۱۹۴۸ء نے ریاست قائم کی لیکن مذہبی (اسلامی) حساسیت نے ہی سلطنتِ عثمانیہ کو کبھی قومی ریاست نہ بننے دیا [313]۔ حقیقت یہ ہے کہ نسلی عصبیت مذہبی عصبیت کو مغلوب کر کے مذہب کو قومی تشخص میں سمو کر Secularise کر دیتی ہے[314] اور قومی حاکمیت (Nationality Sovereignty) الٰہی حاکمیت (حکومتِ الٰہیہ) کی جگہ لے لیتی ہے۔قوم پرست اشرافیہ خود کو قومی ارادہ (National Will) کے واحد جائز مرتب اور ترجمان کے طور پر منوانے کے لیے قومی آزادی (National Liberty) کی تحریک کے ذریعے کوشش کرتی ہے۔ اس تحریک کا مقصد قوم کے لیے آزادی، مساوات اور ترقی کی فراہمی اور فروغ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے قوم پرستی کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا ایک نظریہ (Ideology) کہنے میں ہم حق بجانب ہیں۔

قوم پرستی جس انفرادیت کی آزادی اور ترقی کی جستجو کرتی ہے وہ ایک اجتماعی انفرادیت ہے۔ قوم کے تمام افراد اسی تصور کے مطابق اپنی شخصی انفرادیت قوم کی اجتماعیت میں ضم کر دیتے ہیں اور قومی حقوق اور اغراض کے فروغ کے لیے اپنے انفرادی حقوق اور اغراض کو قربان کرنے کی ضرورت اور جواز کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اشتراکیت جو اجتماعیت تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ طبقہ پرولتاریہ کی اجتماعیت ہے اور فرد کو اس طبقہ کے مفادات اور اغراض کے حصول کے لیے اپنے انفرادی حقوق اور اغراض سرنڈر کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ پرولتاریہ نوعِ انسانی کا نمایندہ طبقہ متصور کیا جاتا ہے اور اشتراکی اس طبقہ کے غلبہ کو پوری نوعِ انسانی کے حصولِ آزادی، مساوات اور ترقی کا ذریعہ گردانتے ہیں۔ اسی طرح قوم پرست کسی مخصوص قوم کو انسانیت کا نمایندہ تصور کرتے ہیں مثلاً جرمن، جاپانی، اٹالین اردو بولنے والے اور اسی قوم کے نظاماتی غلبہ کو تمام نوعِ انسانی کی آزادی اور فلاح کے حصول کے لیے ناگزیر تصور کرتے ہیں۔ اشتراکی اور قوم پرست دونوں اجتماعی حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور بیرونی استعماری قوتوں کے خلاف ان دونوں گروہوں کے درمیان اشتراکِ عمل ایک معمول کی بات ہے۔ یہ دونوں نظریات استعماری بھی ہو سکتے ہیں اور استعمار مخالف بھی [315]۔ 

سوشلسٹ اور قوم پرست دونوں سول سوسائٹی کو سرمایہ دارانہ ریاست کی تحویل میں لے آتے ہیں اور ریاست اجتماعی آزادی اور قوت کے فروغ کے ہدف کو انفرادی فلاح کے فروغ پر مقدم رکھتی ہے۔ اشتراکی اور قوم پرست ریاستیں مارکیٹ کے عمل کو محدود کر کے اس پر سرمایہ دارانہ ریاستی تحکم (Regulation) قائم کرتی ہیں۔ وہ تیزرفتار معاشی ترقی (Development) کو اہم ترین ریاستی قوت کے طور پر قبول کرتی ہیں۔ وہ قومی مارکیٹ میں غیرقومی تسلط (خواہ یہ بیرونی سرمایہ کاری، بیرونی قرضہ جات یا بیرونی امداد) ختم کرنے کی جستجو کرتی ہیں۔ قوم پرست اور سوشلسٹ ریاستیں دونوں سامراجی تسلط کو تیز رفتار معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانتی ہیں اور ملک کے ان شہریوں جن کے استعمار سے تعلقات نہ ہوں، کے اثر کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ قوم پرست اور سوشلسٹ ریاستیں انفرادی نجی ملکیت کو عموماً منصوبہ بندی کے ذریعے ریاستی نظام کے ماتحت لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ دونوں قسم کی ریاستیں بالخصوص ذریعہ پیداوار بنانے والی صنعتوں[316] کو قومی تحویل میں لے لیتی ہیں۔ لیکن قوم پرست ریاستیں ایک قومی سرمایہ دار طبقہ کے فروغ کو بھی اہمیت دیتی ہیں اور ریاست ایسے طبقہ کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی ساکھ کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیتی ہے[317]۔ اور اس طبقہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مارکیٹ کی کارفرمائی کو وسعت دینے کی ضرورت کا ادراک بھی موجود ہوتا ہے۔

مارکسسٹ ادیب قوم پرستی اور سوشل ازم کی ہم آہنگی کا اقرار کرتے ہیں۔ مارکس قوم پرستی کو ایک ترقی پسند نظریہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ پرولتاریہ ڈکٹیٹرشپ کے دور میں قومیں موجودرہیں گی۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا ہے ’’پرولتاری جدوجہد ابتداً قومی جدوجہد کی شکل اختیار کرتی ہے‘‘لیکن اس کے باوجود مارکس یورپی استعماری جدوجہد کا حامی تھا کیوں کہ اس کے مطابق نوآبادیاتی نظام کے فروغ کے نتیجے میں یورپ اور افریقہ کے وہ جنگلی جن کی بقول مارکس کوئی تاریخ نہیں، آزادی اور ترقی کی نعمتوں سے بہرہ ور ہو سکیں گے۔ مارکس کے مطابق حقِ قومی خود انحصاریت (Right of National Self-determination) کی جدوجہد اس آزادی ہی کا ثمرہ ہے جو استعماریت ممکن بناتی ہے لہٰذا مارکس ان تمام قومی آزادی کی تحریکوں کا حامی ہے جو بین الاقوامی پرولتاریہ کی جدوجہد کی معاون بن سکتی ہیں۔ مارکس امید رکھتا تھا کہ پرولتاریہ ڈکٹیٹرشپ کی معاشی کامیابیوں سے لوگوں کی قومی وابستگیاں کمزور پڑ جائیں گی کیوں کہ آخر قومی جدوجہد بھی آزادی، مساوات اور ترقی کے حصول کے لیے ہوتی ہے اور جب پرولتاری ڈکٹیٹرشپ ان اہداف کا حصول ممکن بنا دے گی تو قومی تشخص غیراہم ہو جائے گا [318]۔

لینن نے ’’مسئلہ قومیت‘‘ پر خصوصی توجہ دی[319]۔ اس نے زار کی سلطنت کی مختلف قومیتوں کی Republics کے درمیان ایسا نظام تقسیم اقتدار وضع کرنے کی کوشش کی جو پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو پورے علاقے میں مستحکم کر دے۔ اس نے غیرروسی Republics یعنی یوکرائن اور بیلارس کو روسی ری پبلک میں ضم کرنے کی تجویز کی شدید مخالفت کی۔ وہ روسی احساسِ برتری اور تفاخر کے خلاف لکھتاتھا اور کہتا تھا کہ قوم پرستی کا جواز صرف مظلوم اور محکوم قومیں فراہم کر سکتی ہیں۔ روسی قوم پرستی کے فروغ کا کوئی جواز نہیں۔وہ غیرروسی اقوام کے ’’قومی حقوق‘‘ کی تائید کرتا تھااور کہتا تھا کہ ان اقوام کی مادری زبانیں ہی ان کے علاقوں کا ذریعہ تدریس اور تعلیم ہونی چاہییں۔ وہ کہتا تھا کہ ان تمام ناانصافیوں کا ازالہ ہونا چاہیے جو زار کی حکومت نے غیرروسی اقوام کے ساتھ روا رکھی تھیں۔لینن کے مطابق کسی چھوٹی یعنی غیرروسی قوم کی پرولتاریہ کا رویہ اس ضمن میں مسلط ہو کہ وہاں قومی حقوق کی فراہمی اور فروغ کی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے کیوں کہ قومی ناانصافیاں بین الاقوامی پرولتاری اتحاد کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور ان ناانصافیوں کے خاتمے سے غیر روسی پرولتاریہ کا اعتماد روسی پرولتاریہ پر بڑھے گا۔لہٰذا غیرروسی چھوٹی قوموں کو ایسی مراعات فراہم نہ کی جانی چاہییں جن سے روسی پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ کمزور پڑنے کا خطرہ ہو۔ لینن کہتا تھا کہ غیرروسی چھوٹی اقوام کے ثقافتی حقوق کی فراہمی جائز اور روا ہے لیکن ان کو ایسے سیاسی حقوق نہیں دیے جا سکتے جو مرکزی سوویت حکومت (پرولتاریہ ڈکٹیٹرشپ) کو کمزور کردے۔ یعنی غیرروسی اقوام کو سوویت یونین کا سقوط کر کے اپنا مخصوص قومی نظام اقتدار قائم کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ سوویت مرکزیت کی طاقت ہی اس بات کا ضامن ہے کہ پرولتاریہ کی آزادی مسلسل فروغ پاتی رہے گی[320]۔

یہ تحریریں لینن کے دورِ حکومت کی ہیں۔ انقلاب سے قبل مئی ۱۹۱۷ء میں لینن اور اسٹالن دونوں نے غیرروسی اقوام کی حقِ خودارادیت اور روس سے الگ ہو کر آزاد ریاستیں قائم کرنے کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ اپنی حکومت قائم کرنے کے فوراً بعد یعنی ۸؍نومبر۱۹۱۷ء کو بولشوائی حکومتی ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ غیرروسی قوموں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور کسی قوم کو اس کی مرضی کے خلاف روسی سلطنت میں شامل نہیں کیا جائے گا[321]۔ سلطنتِ روس میں شامل غیرروسی اقوام اگر چاہیں تو اپنی آزاد خود مختار ریاستیں قائم کر سکتی ہیں۔

۱۹۱۸ء کے روسی مقبوضات میں ۸۱ آزاد ریاستیں قائم ہو گئیں[322] اور ان میں سے بیش تر کو بولشوائی حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ غیرروسی اقوام کی آزادی کو تسلیم کر کے بولشوائیوں کو فوراً شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اقوام کی حمایت حاصل ہونے کی توقع تھی۔ جنوری ۱۹۱۸ء سے بڑے پیمانے پر زار کے سابق حامیوں فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر ریڈ آرمی کے خلاف جنگ شروع کر دی جو اگلے تین سال جاری رہی اور بیش تر معرکے غیر روسی علاقوں میں ہی لڑے گئے۔ زار کے حامی (White Russian) غیر روسی علاقوں کی آزادی کے سخت مخالف تھے۔ بیش تر نوآبادیاتی علاقوں میں بولشوائی فوج کے غیر روسی قوتوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا اور اس تعاون نے بولشوائی فتح کو ممکن بنانے میں بقول اسٹالن ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

لیکن یہ واضح ہو گیا کہ ریاستی خود مختاری کی یہ پالیسی محض مجبوری کے تحت اپنائی گئی ہے۔ اسی مہینے اسٹالن نے لکھا کہ مقبوضات کی خودمختاری کا تعین وہاں کی پرولتاریہ کی مرضی کے مطابق کیا جائے گا اور چوں کہ ان علاقوں میں عموماً پرولتاری طبقہ نہ ہونے کے برابر تھا لہٰذا واضح ہو گیا کہ بولشوائی ان ملکوں میں اپنی کاسہ لیس جماعتوں کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ جنوری ۱۹۱۸ء میں لینن نے لکھا کہ اگر حق خودارادیت کی فراہمی اشتراکی حکومت کے مفادات کے منافی ہو تو ہم بلاجھجک حق خودارادیت کو فراموش کرنے پر مجبور کریں گے۔ مارچ ۱۹۱۹ء میں ایک قرارداد کے ذریعے بولشوائی پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ غیرروسی قوموں کا حق خودارادیت صرف ان حالات میں تسلیم کرے گی جب ایک آزاد مملکت کے قیام کے ذریعے وہاں کی پرولتاریہ کے مفادات فروغ پائیں اور جن علاقوں میں اس کی یعنی روسی بولشوائی پارٹی کی رائے میں ایسا نہیں وہاں آزادی کی تحریک کو انقلابی قرار دے کر کچل دیا جائے گا۔ یہ رویہ منافقت کی واضح مثال ہے کیوں کہ بیش تر غیر روسی علاقوں میں پرولتاریہ کا وجود ہی نہ تھا۔

۱۹۱۹ء کے بعد سے بولشوائیوں نے نو آزاد غیر روسی ریاستوں کو فوج کشی کے ذریعے روس میں ضم کرنا شروع کر دیا۔ لینن نے خود نوآبادیاتی ریاستوں کی ازسرنو فتح کی مہم کی نگرانی کی۔ ریڈ آرمی اور مقامی کاسہ لیس کمیونسٹ جماعتوں کی کوششوں سے بیش تر غیرروسی علاقے ۱۹۲۲ء تک دوبارہ فتح کیے جا چکے تھے [323]۔ اس دور میں روسی فوج نے مفتوحہ علاقوں میں بے دریغ قتل عام روا رکھا۔ ہر جگہ مقامی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم کر دی گئی۔ یہ پارٹیاں روسی بولشوائیوں کی کاسہ لیس باج گزار جماعتیں تھیں اور ان میں ہمیشہ کلیدی عہدوں پر مقامی روسی باشندے فائز رہتے تھے۔

14.2۔ مسلم نیشنل کمیونزم کا عروج و زوال

اس تحریک نے اشتراکیت اور قوم پرستی کے امتزاج سے ایک نظریہ ”مسلم نیشنل کمیونزم“تشکیل دیا اور اس نظریہ کی بنیاد پر قومی خودمختاری کے حصول اور تحفظ کےلیے ایک طویل جدوجہد کی جو ۱۹۰۰ء سے ۱۹۱۸ء تک جاری رہی۔ اس کا سب سے اہم قائد اور فکری رہنما میر سلطان گلیو تھا۔سلطان گلیو ۱۸۸۰ء میں پیدا ہوا اور ۱۹۳۹ء یا ۱۹۴۰ء میں اس کو اسٹالن نے قتل کر دیا۔ یہ تاتاری النسل تھا۔ وہ نومبر ۱۹۱۷ء میں روسی بولشوائی جماعت کا رکن بنا اور بہت جلد ترقی کر کے بولشوائی جماعت کا سب سے اہم مسلم رہنما بن گیا [324]۔۱۹۲۳ء میں اس کو اسٹالن نے گرفتار کیا اور بولشویک پارٹی سے نکال دیا۔ ۱۹۲۸ء میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور دس سالہ قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ ۱۹۳۹ء یا ۱۹۴۰ء میں وہ قتل کر دیا گیا۔

روسی نوآبادیاتی مفتوحات کے مسلم علاقوں میں انیسویں صدی کے آخر میں جن اسلام مخالف رجحانات کا فروغ ہوا ان کو ’’جدیدی‘‘ تحریک کہتے ہیں۔ یہ روسی اور فرانسیسی فکر سے متاثر تحریک تھی جو تقلید کو ردّ کر کے اسلام کی مادہ پرست (Materialist) تشریح کرتی تھی اور بدعات کے فروغ کو اجتہاد کا نام دیتی ہے۔ اس تحریک کے رہنما علماکرام اور صوفیہ عظام کے شدید مخالف تھے اور مدارس کے مقابلے میں ’’جدید مکتب‘‘رائج کرتے تھے۔ مسلم نیشنل کمیونسٹ اس فکر سے متاثر تھے[325]۔ مسلم نیشنل کمیونسٹ آسٹرین مارکسسٹ اوٹوباور (Otto Bauer) کی فکر سے بھی متاثر تھے۔ Bauer علاقائی ثقافتی خودمختاری کی اہمیت پر زور دیتا تھا اور قومی تشخص کو اشتراکی انقلاب برپا کرنے کا ایک اہم ذریعہ گردانتا تھا۔ مسلم نیشنل کمیونسٹ جدیدیوں کی طرح علما کرام سے شدید نفرت کرتے تھے اور اسلامی تعلیمی اداروں کو ’’جہالت کا سرچشمہ‘‘ کہتے تھے۔ پہلی مسلم نیشنل کمیونسٹ پارٹی ’’ہمت‘‘ ۱۹۰۴ء میں قائم ہوئی اور ۱۹۰۵ء کی چپقلش کے بعد بولشوائیوں کی قریبی حلیف بنی رہی گو کہ ۱۹۲۰ء تک بولشوائی جماعت میں ضم نہ ہوئی کیوں کہ ’’ہمت پارٹی‘‘ کے رہنماؤں کے خیال میں آذربائیجان کے مسلم عوام کی نفسیات روسیوں سے مختلف تھی اور اس نوعیت کے انضمام سے ’’ہمت پارٹی‘‘غیر مقبول ہو سکتی ہے[326]۔

مسلم قوم پرست بولشوائیوں کی کامیاب اقدامی حکمت عملی کی وجہ سےاشتراکیت سےمتاثر ہوئے۔ اس حکمت عملی کو اپنا کر عوامی جدوجہد اور زیرزمین اقدامات موثرطریقہ سے انجام دیا جا سکتے تھے۔ بولشوائی اور مسلم نیشنل قوم پرست دونوں زار انتظامیہ سے مستقلاً برسرپیکار تھے اور اس جدوجہد میں بولشوائی مسلم نیشنل کمیونسٹوں کو اپنا برابر کا حلیف کہتے تھے۔ سلطان گلیو نے کہا ’’میں نے اشتراکیت اپنی قوم سے محبت کی وجہ سے قبول کی‘‘۔ اشتراکی اور قوم پرست نظریہ کی آمیزش کے نتیجے میں علاقائی تاریخ کی ازسرنو تشریح پیش کی جانے لگی جو ترک قوم کے ادبی، فنی اور ثقافتی ورثے کو پسند کرتی تھی اور اسلامی شعائر اور رواجوں کو جہالت کہتی تھی۔ مسلم نیشنل کمیونسٹ اپنے آپ کو چنگیز خان اور ہلاکو کا جانشین کہتے تھے[327]۔ 

۱۹۰۵ء سے ۱۹۲۱ء تک مسلم قوم پرست لبرل جماعتوں میں پائے جاتے تھے اور کمیونسٹ جماعتوں میں بھی اور لبرل اور کمیونسٹ جماعتوں میں مسلم علاقوں میں اشتراک عمل عام تھا[328]۔ مسلم قوم پرست کمیونسٹ بولشوائی پالیسیوں کی قوم پرستانہ تشریحات پیش کرتے تھے۔ گلیو نے ۱۹۱۸ء بولشوائیوں کی زرعی اصلاحات کو روسیوں کو تاتار علاقوں سے بے دخل کرنے کی کوشش بتایا۔ ۱۹۱۷ء میں مسلم علاقوں میں مسلم نیشنل کمیونسٹوں نے اشتراکیت کے دفاع کے لیے ’’قومی کمیٹیاں‘‘ قائم کیں جو نومبر ۱۹۱۷ء سے مئی ۱۹۱۸ء تک بولشوائیوں کے ساتھ برسرپیکار رہیں لیکن ۱۹۱۸ء میں بولشوائیوں نے ان کو باقاعدہ مہمات کے ذریعے ختم کر دیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ مسلمانوں کے نسلی اغراض کو فروغ دے رہی ہیں۔ سول وار کے دور میں مسلم نیشنلسٹ قائدین کو بالشویک جماعتوں کی علاقائی قیادت میں شامل اور مرکزی وزارتوں میں بھی ان کو حصہ دیا گیا[329]۔ ۱۹۲۰ء کے بعد سے مسلم نیشنل کمیونسٹوں کو بتدریج ان عہدوں سے برطرف کیا جانے لگا اور وفاقی وزارت اور علاقائی بالشویک جماعتوں کی قیادت پر روسی تسلط مستحکم کہا جانے لگا۔ مسلم نیشنلسٹ کمیونسٹوں نے اقتدار میں شرکت کو قومی آزادی کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور وہ مرکزی اور علاقائی بولشوائی نظام اقتدار سے دست برداری کے نتیجے میں سخت مایوس ہوئے۔

مسلم نیشنلسٹ کمیونسٹوں کے برخلاف مجاہدین اسلام نے کبھی بولشوائیوں سے توقعات قائم نہ کیں۔ ۱۹۱۸ء میں تحریک جہاد اور ۱۹۳۲ء تک سوویت یونین کے کئی علاقوں (فرغانہ، داغستان، چیچنیا، ترکمانستان وغیرہ) میں یہ مزاحمت جاری رہی۔ اس کی قیادت نقشبندی اور قادری صوفیہ کے ہاتھوں میں تھی۔ مجاہدین اسلام نے سوشلسٹ اور قوم پرست رجحانات کی مکمل مخالفت کی۔ نقشبندیہ اور پاساویہ شیوخ شروع میں مسلم نیشنل کمیونسٹوں کے شدید نظریاتی اور عسکری مخالف رہے اور انہوں نے ہمیشہ بلاجھجک مسلم نیشنل کمیونسٹوں کے قائدین کو کافر اور مرتدقرار دیا۔

۱۹۲۳ء میں جب گلیو کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا مسلم نیشنل کمیونسٹوں کا دورِ ابتلا شروع ہوتا ہے۔ مسلم علاقوں میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے بعد بولشوائیوں کے اپنے سابقہ مسلم نیشنلسٹ حلیفوں کو کچلنے پر کمر باندھی۔ مسلم نیشنلسٹ کمیونسٹ گروپوں کو زیرزمین پناہ لینا پڑی اور ان کی تمام مہمات مثلاً ترکستان کی علاقائی تقسیم کی مخالفت، روسی رسم الخط کے نفاذ کی مخالفت کی اور ان سب سے بڑھ کر پارٹی ERK کے قانونی تحفظ کی کوشش بے دردی سے کچل دی گئی۔ بیش تر مسلم قوم پرست کمیونسٹ قائدین کو قتل کر دیا گیا۔ سلطان گلیو کی دوسری گرفتاری (۱۹۲۸ء) کے وقت تک مسلم نیشنل کمیونسٹ تحریک کا نام و نشان عملاً مٹ چکا تھا۔

14.3۔ مسلم قوم پرست کمیونسٹ نظریات

مسلم نیشنلسٹ کمیونزم کے نظریات کو سوویت یونین میں سلطان گلیوازم کہا گیا[330]۔ سلطان گلیوازم بنیادی طور پر ایک سیاسی نظریہ ہے جو مارکس ازم کی قوم پرستانہ تشریح پیش کرتا ہے۔ یہ تشریح مارکس کے مابعدالطبیعیاتی نظریات اور عقائد کو بلاکسی ترمیم کے قبول کرتی ہے لہٰذا سلطان گلیوازم کو ماننے والے ویسے ہی کافر اور مرتد ہیں جیسے دیگر سوشلسٹ[331]۔سلطان گلیو ازم کے مآخذاتی نصوص میں ہمیں فلسفیانہ بحثیں بالکل نہیں ملتیں اور اسلام پر جو تنقید ہے وہ مارکسی مابعدالطبیعیاتی مفروضات کو حق قبول کر کے کی گئی ہے۔
سلطان گلیوازم ’’پرولتاری قومیتوں‘‘ کا نظریہ پیش کرتا ہے۔ گلیو اپنا یہ تصور لینن کی ۱۹۱۶ء کی تحریر "Imperialism in the Higher Stage of Capitalism" سے اخذ کرتا ہے۔ لینن نے اسی رسالہ میں کہا تھا کہ اشتراکی انقلاب سب سے پہلے سرمایہ دارانہ عالمی نظام کے کمزور ترین حصہ میں رونما ہو گا [332] کیوں کہ استعماری عمل (imperialism) نے دنیا بھر کے بورژوا اور پرولتاریہ طبقہ کو متحدہ کر دیا ہے۔ لینن کی توجیہ یہ تھی کہ جب ایک کمزور پرولتاریہ اپنے ملک میں انقلاب برپا کر دے گی تو مغربی ممالک کی طاقت ور پرولتاریہ اس کی مدد کو آئے گی اور اپنے ممالک میں بھی پرولتاری انقلاب برپا کر دے گی۔ یہ امید غلط ثابت ہوئی۔ روسی انقلاب کے نتیجے میں عالمی انقلاب برپا نہ ہوا اور اسٹالن کو ’’اشتراکی ملکی نظام‘‘ کا نظریہ اپنانا پڑا۔
گلیو نے کہا کہ انسانیت قومی طبقات میں تقسیم ہے۔ دنیا میں بورژوا قومیں اور پرولتاری قومیں برسرپیکار ہیں۔ پرولتاری قوموں پر استعماریت کے ذریعے مستقل ظلم ہو رہا ہے۔ تمام مسلم قومیں روس کے اندر اور باہر ہر جگہ پرولتاری (مظلوم قومیں) ہیں۔ مسلم ممالک کے تمام طبقات استعمار کا شکار ہیں اور استعمار سب کا استحصال کر رہا ہے۔ لہٰذا مسلم ممالک کے تمام طبقات پرولتاریہ میں شامل ہیں اور ان ممالک کی قومی آزادی کی جدوجہد اشتراکی تحریک ہی ہے۔ آج کے دور میں ہونے والی اشتراکی جدوجہد طبقات کے درمیان نہیں پرولتاری اور بورژوا اقوام کے درمیان لڑی جا رہی ہے اور پرولتاری اقوام کے بورژوا اور زمین دار اسی طرح استحصال کا شکار ہیں جس طرح وہاں کے کسان اور مزدور ۔ لہٰذا قومی آزادی کی جدوجہد بورژوا، زمین دار، کسان اور مزدوروں کی پرولتاری ممالک میں ایک مشترکہ جدوجہد ہے۔ اشتراکی انقلاب قومی تشخص کو ختم نہیں کرتا اس کو اجاگر کرتا ہے۔ اس جدوجہد کے ذریعے ہی مظلوم اقوام کے تمام طبقات اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں کہ جب وہ استعماری ظلم کا مشترکہ طور پر شکار ہیں اور انہیں آپس کے تنازعات ترک کر کے استعمار کے خلاف جنگ لڑنا چاہیے۔ اشتراکی جدوجہد کے ذریعے ہی مظلوم اقوام حقیقی معنوں میں پرولتاریہ بن جاتے ہیں۔ مظلوم اقوام میں اندرونی طبقاتی کش مکش کو ایک طویل مدت تک موقوف کر دینا چاہیے اور تمام طبقات کو ان اقوام کی معاشی ترقی کے لیے متحدہ جدوجہد کے لیے تیار کرنا چاہیے[333]۔ وین گارڈ پارٹی کا کام پرولتاری اقوام میں تمام طبقات کو قومی ترقی کے حصول کے لیے متحد کرنا ہے اور پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ ایک قوم پرست ڈکٹیٹرشپ ہوتی ہے ۔ اتحاد کی بنیاد قومی تشخص ہوتا ہے، طبقاتی تشخص نہیں ہوتا۔ پرولتاری ممالک میں جو سوشلسٹ انقلاب برپا ہو رہا ہے اس کی شناخت قومی ہوتی ہے طبقاتی نہیں ہوتی۔ ان ممالک میں اشتراکی انقلاب طبقاتی کش مکش کے بغیر رونما ہوتا ہے۔ ترقی اور آزادی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم پرولتاری اقوام میں قومی مفادات کو طبقاتی مفادات پر مقدم گردانا جائے۔

گلیو نے مرکزی بولشوائی جماعت پر اشتراکی استعماریت کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ روس کے مقبوضات میں پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کے قیام کے نتیجے میں روسیوں کی گرفت مقامی انتظامی اور عدالتی نظام پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی تھی۔ مقامی بولشوائی جماعتوں کے عہدہ دار تقریباً تمام کے تمام روسی تھے اور ان جماعتوں کی رکنیت میں بھی مسلمان نہ ہونے کے برابر تھے۔ گلیو نے کہا کہ اقتدار کی اس Russification کے نتیجے میں مسلم نوآبادیات کا استحصال جاری ہے اور روس مسلم مالک کی دولت لوٹ رہا ہے ۔ لہٰذا بقول گلیو مسلم ممالک میں ایک آزاد کمیونسٹ تحریک برپا کرنے کی ضرورت ہے جو خالصتاً ان علاقوں کے اقوام کے مفادات کا تحفظ کرے۔ اشتراکی عالم گیر انسانیت پرست انقلاب صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے کہ اس کی قیادت مظلوم اقوام کے ہاتھوں میں ہو۔ گلیو کی رائے میں اگر سوویت نظام میں روسیوں کی بالادستی قائم رہی تو نظام سلطنت اور معاشرت لازماً منہدم ہوجائے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سوویت یونین میں مظلوم قومیتوں کی بالادستی قائم کی جائے اور روسی اسی بالادستی کو قبول کریں۔ 

مارکس اور لینن کی فکر کو قومیانے کی اس تحریک میں گلیو نے مارکسی عقائد اور مابعد الطبیعیاتی مفروضات کو کبھی چیلنج نہ کیا۔ مسلم قوم پرستوں اور روسی بولشوائیوں کے عقائد اور معاشرتی مقاصد ہمیشہ ایک ہی رہے اور مسلم کمیونسٹ قوم پرستوں نے مارکسی فکر کو قومیانے کے لیے مضحکہ خیز تاویلات بھی پیش کیں مثلاً گلیو نے وعدہ کیا کہ مارکس کا تصور Dialectical Materialsim سب سے پہلے چنگیز خان کے دور میں منگولوں نے پوری طرح مرتب کیا۔ مسلم کمیونسٹ قوم پرستوں کا مقصد قومی آزادی کا فروغ بذریعہ قیام بین الاقوامی مساوات تھا۔ گلیو کا دعویٰ تھا کہ روس کے اندر اور باہر کی تمام مسلم قومیتیں ترقی پسند قومیں ہیں اور ان کی تاریخ اور روایات میں اشتراکی اور قوم پرستانہ رجحانات نہایت مستحکم ہیں۔

مسلم قوم پرست کمیونسٹ چاہتے تھے کہ اسلام کو سیکولرائز کیا جائے اور انیسویں صدی کی تحریک جدیدیت نے اس ضمن میں جو پیش رفت کی تھی اس کے مداح تھے۔ جدیدیوں کی طرح اسلام کے مذہبی تصورات اور نظم کو تباہ کرنا چاہتے تھے لیکن مسلم اقوام کی رسوم و روایات کے تحفظ اور فروغ کے خواہاں تھے۔ وہ علماکرام اور صوفیہ کرام کے شدید ترین مخالف تھے اور جب بھی موقع ملتا تھا علماو صوفیہ کی تضحیک اور قتل عام روا رکھتے تھے۔ مسلم قوم پرست کمیونسٹ کٹر دہریہ اور ملحد تھے اور گلیو نے فخریہ بیان کیا کہ اس نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی [334]۔ 

مسلم قوم پرست کمیونسٹ پوری دنیا میں اسلام کو بحیثیت ایک مذہب کے تباہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ سوویت یونین کو ایک ایسا بیس (Base) تصور کرتے تھے جہاں بیٹھ کر پوری اسلامی دنیا میں کمیونسٹ نظریات اور نظام اقتدار کو برآمد کیا جا سکتا ہے۔ گلیو کے مطابق دنیا بھر میں مسلم قوم پرست سوویت یونین کے سب سے اہم حلیف ہیں۔ اس کے ساتھی نارمینو نے سوویت حکومت سے اپیل کی کہ آذربائیجان کو آزاد مملکت تسلیم کر لیا جائے اور آذربائیجان کے ذریعے پوری ترک اور فارسی بولنے والی اقوام میں کمیونسٹ نظریات اور نظام اقتدار پھیلایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی نوآبادیاتی قیادت فراہم کرنے والا ادارہ قائم کیا جائے جو کمیونزم سے مماثل لیکن اس سے آزاد ہو[335]۔ گلیو نے مسلم دنیا میں کمیونسٹ اقتدار قائم کرنے کے لیے ایک اشتراکی مسلم فوج کے قیام کی بھی وکالت کی جس کی کمان سوویت یونین میں شامل مسلم قوم پرست کمیونسٹ حکومتوں کے ہاتھ میں ہو۔

گلیو کی رائے میں سوویت یونین کا اشتراکی انقلاب صرف اس صورت میں محفوظ رہا سکتا تھا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اشتراکی انقلاب برپا کیا جائے۔ ٹراٹسکی کی بھی یہی رائے تھی اور بحیثیت وزیرجنگ اس نے اس بات کی وکالت کی تھی کہ سول وار کی فتح کے بعد سوویت یونین مغربی یورپ بالخصوص جرمنی میں فوجی مداخلت کرے۔ لینن اور اسٹالن نے اس رائے کی مخالفت کی اور ۱۹۲۱ء تک یہ بات بالکل واضح ہو گئی تھی کہ کسی مغربی یورپی ملک میں انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا[336]۔ گلیو نے کہا کہ اب اشتراکی بین الاقوامی جدوجہد مشرق کی طرف منتقل ہونی چاہیے اور ایران، ترکی اور شام میں انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کو تیز کر دینا چاہیے۔ یہ رائے بھی مسترد کر دی گئی اور اسٹالن کی "Balancing Socialim in One Country" کی حکمت عملی اپنا لی گئی۔ سوویت حکومت نے مشرقی ممالک میں براہ راست دخل اندازی سے گریز کیا اور قوم پرست تحریکوں کی ویسے ہی اخلاقی مدد پر اکتفا کیا جیسا کہ موجودہ پاکستانی حکومت کشمیری قومی مزاحمت کی حمایت کر رہی ہے۔ کسی بھی مسلم ملک میں سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب برپا نہ کیا جا سکا۔

مسلم نیشنل کمیونزم اپنا کوئی بھی متعین شدہ ہدف حاصل نہ کر سکی۔ نہ سوویت مسلم ریاستیں خودمختار ہو سکیں نہ قومی کمیونسٹ پارٹیاں روسی تسلط سے چھڑائی جا سکیں نہ مسلم یا ترک ثقافت کو روسی تغلب سے محفوظ رکھا جا سکا۔ لیکن اس تحریک کے دیرپااثرات موجود ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد مسلم علاقوں میں جو ریاستیں قائم ہوئیں وہ مسلم کمیونسٹ قوم پرستانہ پالیسیاں ہی اپنائے ہوئے ہیں گو کہ وہ اپنے آپ کو لبرل ریاستیں کہتی ہیں لیکن اپنے عوام کو لبرل حقوق فراہم نہیں کرتیں۔ ان ریاستوں میں پالیسی سازی اور پالیسی تنفیذ کا عمل انہی اصولوں اور اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو انہیں سوویت ورثہ سے حاصل ہوا ہے۔ لیکن نظام معاشرت اور نظام اقتدار کو قومیانے کی جدوجہد تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور مقامی روسیوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم میں صرف روسی استعمار حائل ہے۔ قوم پرستانہ اقدار یعنی قومی آزادی اور قومی ترقی عوام میں قبولیت عام رکھتے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں اسلامی جدوجہد گوریلا جنگ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اسی طرح ان ممالک میں کسی لبرل سرمایہ دارانہ انقلاب کا امکان بہت کم ہے۔ یہ ریاستیں چین سے بہت مماثل ہیں فرق صرف یہ ہے کہ چین اپنے آپ کو ایک کمیونسٹ ریاست کہتا ہے اور سابق سوویت مسلم ریاستیں اپنے آپ کو کمیونسٹ ریاستیں نہیں کہتیں اور اس کی وجہ بھی روس میں کمیونزم کی شکست ہے۔

نیشنل کمیونزم نے عرب دنیا اور لاطینی امریکا میں بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ جمال عبدالناصر کی حکومت اور حزب الباعث کی سیریا اور عراق کی حکومتیں مسلم نیشنل کمیونسٹ حکومتیں کہی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان ممالک میں نیشنل کمیونزم عوامی پذیرائی کھو چکی ہیں اور لبرلوں اور اسلامی طبقوں میں مستحکم عوامی حمایت حاصل کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ یہ بات لیبیا اور الجیریا کے لیے بھی کہی جا سکتی ہے۔ لاطینی امریکا میں نیشنل کمیونسٹ حکومتیں قائم ہیں لیکن یہ حکومتیں کیوبا کے علاوہ کہیں بھی اپنے نظام اقتدار سے امریکی استعمار کو فیصلہ کن طور پر بے دخل نہ کر سکیں [337]۔ 

اس تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ قوم پرستی اور سوشل ازم میں گہری مماثلت ہے اور یہ دونوں سرمایہ دارانہ نظریات ہیں۔ اور دونوں آزادی، مساوات اور ترقی کے ایک مخصوص نمایندہ گروہ کے لیے حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ سوشل ازم کے مطابق یہ نمایندہ گروہ پرولتاریہ اور قوم پرستی کے مطابق یہ نمایندہ گروہ قوم ہے۔ گلیو نے ’’پرولتاریہ قومیت‘‘ کا تصور دے کر ان دونوں اجتماعیتوں کو متحد کر دیا اور قوم پرست اشتراکی حکومتوں کے عمل سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اشتراکی اور قوم پرستانہ معاشرتی اور ریاستی نظام میں خاص یکسانیت پائی جاتی ہے۔

ضمیمہ اول: مسلمانوں میں مذہب مخالف پروپیگنڈا کا طریقہ

تحریر: میر شہید سلطان گلیو (اگست، ستمبر ۱۹۲۱ء)

مسلم اقوام میں مذہب مخالف پراپیگنڈا کرنا ایک نہایت مشکل اور نازک کام ہے کیوں کہ اسلام مسلمانوں کی زندگیوں میں ایک خاص اور اہم مفاد رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم کمیونسٹوں کے لیے مذہب مخالف پروپیگنڈہ کی اشد ضرورت مسلّم ہے۔ اور یہ مذہب مخالف پروپیگنڈا صرف سوویت مسلم ریاستوں میں نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا میں تیزی سے جاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پروپیگنڈا سے مطلوبہ نتائج جلد از جلد اور کم سے کم قیمت پر کیسے حاصل کیے جائیں۔

ہم کو اگر اپنے دشمن کو شکست دینا ہے تو ہمارے لیے اس کو جاننا ضروری ہے۔ ہمیں اسلام کی نوعیت پر غور کر کے اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ کیا دوسرے مذاہب کے خلاف پروپیگنڈا کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ اسلام کے خلاف بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟

دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں اسلام کی عمر سب سے کم ہے۔ لہٰذا دیگر مذاہب کے مقابلے میں وہ سب سے زیادہ توانا اور طاقت ور ہے۔ اسلام نے اپنی معاشرتی اور سیاسی تنظیموں کو مخصوص رکھا ہے جب کہ دوسرے مذاہب یہ نہ کر سکے اور محض اخلاقی تعلیمات اور عبادات تک محدود ہو گئے ہیں۔ اسلامی شریعت ایک ہمہ گیر نظام قانون ہے جو مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے۔

اسلام کی بہت سی تعلیمات قابل ستائش ہیں مثلاً تعلیم کی فراہمی کی تاکید، محنت کی عظمت، نکاح و طلاق کے قواعد، قدرتی وسائل اور زمینوں میں ذاتی ملکیت کی ممانعت، جادو، قماربازی، عیاشی اور شراب نوشی کی ممانعت اور اس کا نظام محاصل وغیرہ۔چوں کہ اسلام کی معاشرتی اور سیاسی تعلیمات وقیع اور ہمہ گیر ہیں لہٰذا اپنے پیروؤں پر اس کی روحانی گرفت دوسرے مذاہب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے۔ لہٰذا اسلامی اثرات کو ختم کرنے کی مہم بہت پیچیدہ اور دشوار گزار ہوتی ہے۔ مولویوں اور صوفیوں کو مسلم معاشرت میں جو عزت اور اقتدار حاصل ہے وہ دوسرے مذاہب میں پادریوں اور پجاریوں سے بہت زیادہ ہمہ گیر اور دیر پا ہے۔

روسی آبادی میں دس سے بارہ ہزار افراد کی آبادی کے لیے ایک گرجا ہے اس کے برعکس سات سو سے ایک ہزار کی مسلم آبادی کے لیے ایک مسجد ہوتی ہے اور ہر مسجد میں کم از کم تین مولوی ہوتے ہیں۔مولویوں کی معاشرتی اور سیاسی حیثیت نہایت مضبوط ہے۔ ایک مولوی بیک وقت پجاری بھی ہوتا ہے اور مدرسہ چلانے والا معلم بھی۔ وہ قاضی بھی ہوتا ہے اور اوقاف کا منتظم بھی۔ وہ لوگوں کے خانگی معاملات بالخصوص نکاح و طلاق سے متعلق معاملات کا بھی نگران ہوتا ہے اور عموماً حکمت کو بھی ایک پیشے کے طور پر اختیار کرتا ہے۔

مولوی مسلم عوام کا منتخب نمایندہ ہوتا ہے اور رومی پادری کے برخلاف اس کو کوئی بالائی مذہبی بیوروکریسی مقرر نہیں کرتی لہٰذا مولوی کی سیاسی اور معاشرتی قیادت کا مسلم عوام کی نظروں میں مستحکم جواز موجود ہے۔ یہ بات تاتاری ملّا اور ازبکی علماء دونوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ ازبکی علماء اپنے آپ کو عوام کا خادم کہتے ہیں اور عوامی خواہشات اور احساسات کی بھرپور نمایندگی کرتے ہیں۔ ان کا عمل بنیادی طور پر جمہوری ہوتا ہے اور مسلم کاشت کاروں سے ان کا تعلق پادریوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

مسلم عوام میں مذہب مخالف پروپیگنڈا کرنا اس لیے بھی دشوار ہے کہ عرب، ترک، تاتاری، ازبک وغیرہ سب یورپی یا روسی استعمار کا کئی سو سالوں سے شکار ہیں۔ مغربی ممالک بڑے پیمانے پر مسلمان قوموں کا استحصال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی استحصالی نظام کی کارفرمائی کے نتیجے میں یورپی معاشی ترقی ممکن ہوئی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں مسلم عوام مغرب سے شدید دشمنی کرنے لگے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپ اسلام سے مستقل نبردآزما ہے اور چوں کہ مسلم عوام پوری اسلامی دنیا کو ایک سیاسی اور ثقافتی اکائی تصور کرتے ہیں اور نسلی، قبائلی اور لسانی عصبیت مسلم معاشروں میں ناپید ہے لہٰذا ہر مسلمان یورپ کو اسلامی سیاسی اتحاد پارہ پارہ کرنے والا اپنا ازلی دشمن تصور کرتا ہے۔مسلم عوام کو اسلام سے شدید جذباتی لگاؤ ہے اور وہ تمام عالم اسلام کو بلاتمیز نسل خود کو ایک مظلوم اور جبراً مغلوب تصور کرتے ہیں۔ اسلامی داعی اور مبلغین عوام کی اسلامی جذباتیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان حالات میں مسلم علاقوں میں اسلام مخالف جدوجہد جاری رکھنا نہایت کٹھن اور مشکل کام ہے۔

روس میں ہمارے لیے اسلام مخالف جدوجہد جاری رکھنا اور بھی مشکل ہے کیوں کہ عام مسلمان ہم کو ان عیسائی پادریوں جیسا سمجھتے ہیں جو صدیوں سے زار کی حکومت کی سرپرستی میں اربوں روپیہ خرچ کر کے اسلامی شعائر کی تضحیک پر تلے رہے ہیں۔ ان کی پشت پناہی کے لیے روسی استعمار نے مسلم علاقوں میں کئی ایسے تحقیقی ادارے اور مکاتب قائم کیے جن کا مقصد اسلام سے جنگ کرنا تھا۔ انہوں نے جو اسلام مخالف پروپیگنڈا کیا وہ بالکل ناقص اور بے اثر ثابت ہوا۔ بلاشبہ یہ کرپٹ ترین اور ذلیل ترین لوگ تھے۔آج ہم کو انہی لوگوں کا وارث سمجھا جاتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلم عوام جاہل، اجڈ اور معاشرتی طور پر نہایت پس ماندہ ہیں۔ جدید تہذیب ان کو چھو کر بھی نہیں گئی۔ اسی جہالت اور پس ماندگی کے نتیجے میں ان علاقوں میں مذہبی دیوانگی ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔

روس کے مسلمانوں کو کمیونزم نے آزاد تو کر دیا لیکن ان کی تہذیبی پس ماندگی اور ان کا اسلام سے لگاؤ ان کو اس آزادی سے مستفیض نہیں ہونے دے رہا۔ ان حالات میں اسلام مخالف جدوجہد نہایت ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ موثر اسلام مخالف جدوجہد مسلم علاقوں میں کیسے منظم کی جائے۔

سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم مصلحت اندیشی سے کام لیں۔ جارحانہ رویہ اختیار نہ کریں اور اسلام مخالف جدوجہد پر کوئی نوکر شاہی مسلط نہ ہونے دیں۔ ہم اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کو اسلام کے خلاف جنگ میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ ہمیں اپنے مخالفین یعنی مولویوں سے وہ ہتھیار چھین لینے چاہییں جن سے وہ ہم کو شکست دے سکتے ہیں۔ ہمیں ببانگِ دہل اس بات کا اعلان کرتے رہنا چاہیے کہ ہم کسی مذہب کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ صرف اپنے الحاد اور دہریت کا پرچار کر رہے ہیں اور یہ ہمارا ہیومن رائٹ اور دستوری حق ہے۔ اس طرح واضح ہو جائے گا کہ ہمارا عیسائیت اور زار کے پروردہ عیسائی مبلغین سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم کو مسلم عوام کو باور کرانا ہو گا کہ الحاد اور دہریت کا پرچار ان ترک اور تاتار مسلم جدیدی مفکرین کے کام کا تسلسل اور تتمہ ہے جو انیسویں صدی میں ڈھکے چھپے انداز میں کا م کرتے تھے۔ الحاد اور دہریت کے پرچار کا کوئی تعلق عیسائی تبلیغ کے کام سے نہیں۔کچھ عیسائی مبلغین ہماری صفوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان گھس بیٹھیوں کو ذلیل کر کے جلد از جلد اپنی صفوں سے نکال دینا چاہیے۔

اسلام مخالف پروپیگنڈا کی مہمات ان مسلم کمیونسٹوں کے سپرد کردینی چاہیے جو منافق نہ ہوں۔ کمیونزم پَر خلوصِ دل سے ایمان لائے ہوں، اسلام کو جہالت تسلیم کر چکے ہوں اور کسی ذاتی مفاد کے حصول کے لیے یہ کام نہیں کر رہے ہوں بلکہ ان کا مقصد الحاد اور دہریت کا فروغ ہو۔

اسلام مخالف پروپیگنڈا ایک مشکل کام ہے اور اس کو موثر طریقہ سے انجام دینے کے لیے خاص نوعیت کی صلاحیت درکار ہے محض پمفلٹ چھاپنا، کانفرنس منعقد کرنا کافی نہیں۔ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثالیں قائم کرنی ہیں۔ ہمیں زبانی مزاحمت کے برخلاف اسلام مخالف عملی مزاحمت برپا کرنی ہے۔ ہم جس مسلمان پر کام کر رہے ہیں اس کو کبھی یہ اندازہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس کو اسلامی عقائد کو ردّ کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اس بات کا خیال نہ رکھا گیا تو وہ ہم سے قبل از وقت نفرت کرنے لگے گا اور ہم سے دور بھاگ جائے گا۔

ایک مسلم گاؤں، کارخانہ میں ایک کٹر مسلم کمیونسٹ کا وجود جو اسلامی عبادت اور رسوم کی پابندی نہیں کرتا، کئی بڑی بڑی کانفرنسوں سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کو اس بات کا عادی بننا چاہیے کہ ان کی آبادیوں میں ملحد اور دہریہ بھی رہتے بستے ہیں۔ مسلمانوں کی ایسی مخلص دہریوں سے دوستی کروانا چاہیے جو وجودِ باری تعالیٰ کا کھل کر انکار کرے لیکن معاشرے میں ایک اچھے انسان کے طور پر پہچانا جائے، محنتی ہو، ہم درد ہو، دوسروں کی مدد کرنے والا ہو وغیرہ اور اپنے عمل سے مولویوں کے اس پروپیگنڈا کو جھوٹا ثابت کرے کہ ملحد دہریہ انسان کے روپ میں شیطان ہوتا ہے۔

اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں کہ عام مسلمان کو ہم اپنے کے لیے ایک نمونہ کی شخصیت یعنی زیادہ تہذیب یافتہ، زیادہ حوصلہ مند، زیادہ محنتی سمجھنے لگیں تو ہم اسلام کے خلاف نظریاتی جنگ لازماً جیت جائیں گے۔
اس طریقہ کار کی افادیت کی کئی زندہ مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ میں ایک تاتار بستی میں گیا، لوگوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ایک جنگلی تاتاری بولشوائی وہاں آیا تھا۔ وہ تلوار اور پستول سے مسلح تھا۔ اس نے لوگوں کو جمع کیا، خدا کو گالیاں دیں، قرآن کو قدموں تلے روندا اور کہا کہ دیکھو میں قرآن کی بے حرمتی کرتا ہوں اور مجھے کچھ نہیں ہوتا لہٰذا خدا کا کوئی وجود نہیں۔ لوگ مشتعل ہو گئے اور اسے قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔
اس کے برعکس اسی علاقہ میں ایک ہنس مکھ اور ملن سار روسی بولشوائی آیا۔ اس نے لوگوں کو جمع کر کے کٹر پادریوں کی بدعنوانیوں کے قصے سنائے۔ لوگ محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے مولوی بھی ایسے ہی ہوتے ہیں اور ہم کو الو بنا کر اپنا مطلب نکالتے ہیں۔

میں ایک بستی میں گیا وہاں ایک ملحد دہریہ کمیونسٹ رہتا تھا۔ اس ملحد نے عید قربان کی نماز نہ پڑھی اور بستی کا ایک نوجوان بھی عید گاہ نہ گیا [338]۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کلامی اور تحریری پروپیگنڈا نہ کیا جائے۔ لیکن کلامی اور تحریری پروپیگنڈا اس وقت کارگر ہوتا ہے جب اس کے لیے زمین تیار کر لی گئی ہو مثلاً فیکٹریوں میں ہم ملحدانہ کمیونسٹ ماحول قائم کرنے میں کافی کامیاب ہو گئے ہیں۔ اگر ان فیکٹریوں کے مسلم مزدوروں کے لیے مخصوص ملحدانہ کانفرنسیں منعقد کی جائیں اور ملحدانہ ادب آسان زبان میں تیار کیا جائے تو یہ پراثر ہو سکتا ہے۔

لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام مخالف پروپیگنڈا کی ناکامی کی اصل وجہ مسلم اقوام کی تہذیبی پس ماندگی، سیاسی بے شعوری اور اخلاقی گراوٹ ہے۔ آزاد ریاستوں کے قیام کے بعد بھی مسلمان انتظامی معاملات میں شمولیت سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ اگر مذہب مخالف پروپیگنڈا کو کامیاب بنانا ہے تو لازم ہے کہ مسلمانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ بااختیار سوویت شہری ہیں اور روسیوں کے ساتھ مساوی حقوق اور اختیارات رکھتے ہیں۔ ہمیں صرف کاغذی نہیں عملی طور پر ثابت کرنا ہو گا کہ مسلم اور روسی عوام کی سیاسی اور معاشرتی حیثیت یکساں ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو تیزی سے بڑھایا جائے، مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی انتظامیہ میں اہم مقام دیا جائے، ان کو ترغیب دی جائے کہ وہ ریاستی سیاسی عمل کا حصہ بنیں اور ان علاقوں میں کمیونسٹ پارٹی کے کاموں کی توسیع اور ترویج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ بغیر اس کے مذہب مخالف پروپیگنڈہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتا۔

ضمیمہ دوم :لاطینی امریکا

قوم پرست حکومتیں قوم پرست تحریکوں کی کامیابی کے نتیجے میں قائم ہوتی ہیں اور قوم پرست تحریکیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے استعمار مخالف ہوتی ہیں۔ وہ قومی سرمایہ داری کو فروغ دینا چاہتی ہیں[339]۔ تمام لاطینی امریکی قوم پرست حکومتیں اپنے ملک میں امریکا کی معاشی اور سیاسی گرفت کو کمزور کرنا چاہتی ہیں لیکن چوں کہ قوم پرست حکومتیں سرمایہ دارانہ حکومتیں ہوتی ہیں لہٰذا وہ لازماً عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے تعلقات ختم نہیں کر سکتیں۔ آج سرمایہ دارانہ ریاستی نظام گلابلائز ہو رہا ہے اور اس گلوبلائزڈ نظام ریاست کی قوت تنفیذ امریکی ریاست فراہم کرتی ہے۔ امریکی فوجی اور استبدادی قوت کے استعمال کے ذریعے عالمی سرمایہ کو ہر ملک میں تحفظ حاصل ہے اور بین الاقوامی قوانین تجارت و مالیات، ترسیل ٹیکنالوجی اور نظم ملکیت سرمایہ کاری کے عالمی فروغ کے لیے ہی وضع کیے گئے ہیں۔ تمام بین الاقوامی ادارے امریکا کے باج گزار ہیں اور امریکا کی نظامی فوقیت ہی عالمی قانون کی حکمرانی کو ممکن بناتی ہے۔ یہ قانون کی حکمرانی اپنی اصل کے اعتبار سے سرمایہ کی حکمرانی ہے۔

یہ ناممکن ہے کہ ایک ملک سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی اور ترقی) کے حصول کی جدوجہد کرے۔ بڑے سرمایہ درانہ ممالک چین، روس، ہندوستان اور انڈونیشیا عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں تقسیم اقتدار کے رائج شدہ توازن کو چیلنج کر سکتے ہیں اور ان بڑے سرمایہ دارانہ ممالک پر امریکی استعماری گرفت بتدریج ڈھیلی ہوتی جا رہی ہے لیکن کوئی بھی لاطینی امریکی ملک وہ عسکری قوت نہیں رکھتا جو اس کو امریکا کی عالمی نظاماتی فوقیت کو چیلنج کرنے کا مکلف بنا دے[340]۔ 

عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے مستفیذ ہونے کے لیے امریکی نظاماتی فوقیت قبول کرنا کم از کم چھوٹے غیریورپی ممالک کے لیے ایک لازمی شرط ہے اور کوئی بھی قوم پرست حکومت اس شرط اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی ماتحت حیثیت کو قبول کرنے سے پہلوتہی نہیں کر سکتی۔ قوم پرست لاطینی امریکی ممالک نے بحیثیت مجموعی ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن سے ان کی عالمی نظاماتی ماتحتی کی شرائط ان کے حق میں تبدیل کر لی گئی ہیں بالخصوص ارجنٹینا، برازیل، یوراگوئے اور چلی کے حق میں ایسی تبدیلیاں بہت موثر رہی ہیں۔ علاقائی تعاون کی ادارتی صف بندی خاصی مفید ثابت ہوئی ہے اور ان علاقائی تنظیموں کو امریکی تعاون حاصل ہے۔ امریکا کو امید ہے کہ جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد اس نے جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے قوم پرستوں سے تعاون کر کے مشرق بعید میں کمیونزم کو شکست دی تھی ویسے ہی لاطینی امریکی قوم پرست حکومتوں سے اشتراک عمل کے ذریعے وینزویلا اور کیوبا کو تہس نہس کر دے گا۔

کیا وینزویلا میں امریکی دہشت گردی اور تخریب کاری کامیاب ہو گی؟

ہوگوشاویز کے مطابق وینزویلا کی حکومت کا مقصد اکیسویں صدی کے اشتراکی نظام کا قیام نہیں؛ یہ انیسویں صدی کا اشتراکی نظام جمہوری ہے اور شاویز اور اس کے جانشین صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت چکے ہیں۔ انقلابی حکومت نے لبرل جمہوری نظام کو معطل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ دستوری اصلاحات کے باوجود ریاستی انتظامی نظام کی ساخت اور اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی اور لبرل آزادیاں اور ہیومن رائٹس کبھی معطل نہیں کیے نہ حزب اختلاف جماعتوں پر کوئی پابندیاں عائد کی گئیں۔
شاویز اور اس کے جانشینوں نے غربا اور شہری کچی آبادیوں میں بسنے والوں کو سیاسی سطح پر اپنی بستیوں میں منظم مہم چلانے کی اجازت دی اور ان کے شہری، جمہوری اور انتظامی اختیارات میں توسیع کی اور نومنظم مقامی آبادیاں ریاست اور حکمران جماعت کی تحکیم سے بڑی حد تک آزاد کر دی گئی ہیں لیکن غریب عوام کا یہی جاری رہنے والا تحرک قوم پرست حکم رانوں کو سیاسی استحکام فراہم کرتا ہے اور اسی سیاسی تحرک کی بنیاد پر قوم پرست حکومت استعمار مخالف پالیسی سازی عمل میں لاتی ہے۔ ۲۰۰۶ء کے بعد سے شاویز نے ان قائم کردہ مقامی عوامی اداروں کو ریاستی نوکر شاہی پر مقتدر بنانے کی جدوجہد شروع کی۔ ان عوامی اداروں کی وفاقی تنظیمیں قائم ہوئیں اور ان نمایندہ وفاق کو ریاستی مشینری کی نگرانی اور اسے جواب طلبی کے فرائض سونپے گئے۔ 
شاویز کی کوشش تھی کہ ایک معاشرتی بورژوا ریاست کو منہدم کر دے لیکن بورژوا ریاست کے تمام اداروں بالخصوص فوج، پولیس، میڈیا، عدلیہ اور انتظامیہ پر امریکا نواز اشرافیہ کی گرفت نہایت مستحکم ہے اور اس لیے نئے عوامی اداروں کے بڑھتے ہوئے دستوری اختیارات کے استعمال کی بھرپور مزاحمت کی ہے اور ساتھ ساتھ نئے عوامی اداروں کی قیادت کو ریاستی کرپشن میں شریک کار بنانے کی حکمت عملی بھی اختیار کی گئی جس میں وینزویلا کی روایتی اشرافیہ بڑی حد تک کامیاب رہی۔ شاویز کرپشن کے الزمات سے خود ہمیشہ بری رہا لیکن ۲۰۰۷ء کے بعد اس کے اختیارات میں توسیع مستقل کی جاتی رہی اور اس کی جماعت نے اس پر ایک ڈکٹیٹر کی حیثیت اختیار کرنے کا الزام لگایا۔

نئے عوامی اداروں[341] کی قیادت اور کارکنوں کو خریدنے اور بے راہ رو بنانے کے لیے امریکی تخریب کاروں بالخصوص یو ایس ایڈ نے ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۲ء تک ستر کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ مقامی ادارتی صف بندیوں کے قیام کے نتیجے میں عوامی تضادات اور تفرقہ ختم نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کے عوامی تضادات اور اختیارات کو ختم کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ عوام کی روحانی اور اخلاقی کردار سازی ممکن ہو۔ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ تحریکیں عوام کی اخلاقی تربیت جذبہ نفرت اور حسد کو فروغ دے کر کرتی ہیں۔ جب قوم یا طبقہ کے وجود کو واضح اور بڑا خطرہ درپیش ہو تو اس تربیت کے نتیجے میں قوم پرست یا اشتراکی فرد اپنی قوم یا طبقہ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ لیکن جب اس نوعیت کا وجودی خطرہ مبہم ہو تو قوم پرست اور اشتراکی فرد کی نفرت اور حسد کا ہدف نئے قوم پرستانہ یا اشتراکی نظام حکومت کے اہل کار ہوتے ہیں کیوں کہ وہی اس نئے نظام کی برکات سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ قوم پرست یا اشتراکی نظام کے دشمنوں کے پروپیگنڈہ کے لیے تر نوالہ بن جاتے ہیں یہی کچھ وینزویلا میں ہو رہا ہے۔ اور امریکا مایوسی، بے راہ روی، خلفشار اور بغاوت پھیلانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ فروری ۲۰۱۴ء سے جاری وینزویلا کے فسادات سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک طاقت ور نظام مخالف ہجوم قائم کر لیا ہے[342]۔

جمہوری اور استبدادی نظام دونوں استعمار نواز ہجومی تحرک کے موقع فراہم کرتے ہیں اور ان عوامی تحاریک کا بنیادی مطالبہ معاشی خوش حالی اور ہیومن رائٹس کا فروغ ہوتا ہے۔ یہ ہجومی تحاریک استعماری مواصلاتی نظام اور استعماری این جی اوز کے ذریعے منظم کی جاتی ہیں اور معاشرے میں امریکی تخریب کار اور دہشت گرد اداروں کی گرفت جتنی مستحکم اور ترقی پذیر ہو اتنا ہی ان تحریکوں کو کامیابی نصیب ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ چوں کہ ان استعمار نواز ہجومی تحریکوں کی کامیابی کے نتیجے میں عموماً لبرل امریکی باج گزار حکومتیں ہی قائم ہوتی ہیں لہٰذا میڈیا، پرانے ریاستی اہل کاروں اور سرمایہ کاروں کی پشت پناہی ان تحاریک کو حاصل ہوتی ہے اور قوم پرست حکومتیں ان سے شکست کھا جاتی ہیں[343]۔ قوم پرست حکومت بشمول وینزویلا کی موجودہ حکومت کی بنیادی نظاماتی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے قطع تعلقی کا تصور نہیں کر سکتیں۔ شاویز کی حکومت کی کامیابی کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۷ء کے عرصہ میں وینزویلا کے برآمد کردہ تیل کی قیمت میں تقریبا ۲۲۷ فی صد کا اضافہ ہوا اور جو معاشی سہولتیں اس دور میں فراہم کی گئیں ان کا انحصار تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ کی بنیاد پر ہی ممکن تھا۔ شاویز نے کبھی بھی بین الاقوامی منڈیوں اور فنانشل مارکیٹوں سے تعلقات منقطع کرنے کو ترجیح نہ دی۔ اس کی کوشش تھی کہ ان مارکیٹوں میں وینزویلا کی ملکی مسابقتی ساکھ بڑھائی جائے اور اس کے لیے اس نے علاقائی معاشی بلاک بنانے کی کوشش کی۔ یہ کوشش اگر کامیاب ہو جاتی اور بالخصوص برازیل اور ارجنٹینا اس بلاک میں فعال استعمار مخالف کردار ادا کرتے تو لاطینی امریکا کی قوم پرست تحریک برصغیر پر امریکی استعماری گرفت کو کمزور کرنے میں غالباً کامیاب ہو جاتی۔

قوم پرست تحریکیں استعمار مخالف ہوتی ہیں لیکن چوں کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ہی سے منسلک ہوتی ہیں لہٰذا قوم پرست عمل ممکن ہوتا ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں لبرل اور اشتراکی سرمایہ دارانہ حکومتوں کی طرح قوم پرست سرمایہ دارانہ حکومتوں کے لیے بھی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔

سرمایہ داری کے قوم پرست نقیب

15۔ نطشے اور ہائیڈیگر

قوم پرستی کی ابتدا پوپ اور اس کے باغی پادریوں کی کشمکش سے ہوئی۔ اس بغاوت نے سولھویں صدی میں زور پکڑا اور اس کے اہم ترین سربراہ مارٹن لوتھر کنگ اور جان کیلون(John Calvin) تھے۔ یہ دونوں پادری تھے اور ان کی بغاوت کیتھولک ازم کے خلاف ایک مذہبی بغاوت تھی۔ ان کے عقائد میں یہ باتیں شامل تھیں:

۱۔ انسان فطرتاً گناہ گار ہے اور خدا بننا چاہتا ہے [344]۔

۲۔ حق کا اظہار صرف کتاب الٰہی کے الفاظ کے ذریعے ممکن ہے۔ عیسائی گرجا کی تاریخی تاویلات اور فلسفیانہ سکالسٹک مباحث نصوص صحیحہ نہیں۔

۳۔ انسان دو سلطنتوں کا باسی ہے۔ روحانی سلطنت جہاں اس کے ضمیر کی تربیت کی جاتی ہے اور شہری سلطنت جہاں اس کی دنیاوی زندگی گزارنے کے اصول مرتب ہوتے ہیں[345]۔

۴۔ روحانی سلطنت میں انسان مطلقاً آزاد ہے اور شہری سلطنت میں مطلقاً مجبور اور غلام ہے۔

۵۔ یہ دونوں سلطنتیں خدا کی حاکمیت عالی کے تحت ہیں اور خدا نے بادشاہ کو صاحب اقتدار بنایا ہے۔

۶۔ یہ دونوں سلطنتیں آپس میں اس طرح پیوست ہیں کہ ان میں تفوق (کون سی سلطنت برتر ہے) کا سوال اٹھانا مہمل ہے۔

۷۔ لیکن اس پیوستگی کے باوجود دونوں کا دائرہ کار مختلف ہے اور شیطان مستقل اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ان دو سلطنتوں کے دائرہ کار کو خلط ملط کر دے۔ شیطان کوشش کرتا ہے کہ بادشاہ کو اس پر آمادہ کرے کہ وہ تعلیمات الٰہیہ کی ایک مخصوص تشریح کو ریاستی قوت کے ذریعہ نافذ کرے اور شیطان یہ بھی کوشش کرتا ہے کہ پوپ میں ریاستی قانون سازی میں دخل اندازی کر کے سول سلطنت میں بادشاہ کے اختیار کو غصب کرے۔
۸۔ بادشای کی حاکمیت کا ماخذ خدا کی مرضی ہے۔ خدا خود بادشاہ کو مقرر کرتا ہے اور بادشاہ نہ پوپ کا ماتحت ہے نہ چرچ کا اور نہ عوام کا۔

۹۔ تمام عیسائی چرچ کے یکساں رکن ہیں۔ پادریوں کو عام عیسائیوں پر فوقیت حاصل نہیں۔ چرچ کے نظام میں درجہ بندی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن پادریوں کو عیسائی عوام بشمول بادشاہ کی روحانی پیشوائی کا فریضہ انجام دینے کا حق حاصل ہے۔

۱۰۔ سول ریاست چرچ کی نگران ہے اور اس کو یہ حق حاصل ہے کہ ضروت پڑنے پر چرچ کی اس طرح اصلاح عمل میں لائے کہ چرچ اپنے حقیقی فرائض ادا کرنے سے قاصر نہ ہو جائے۔ اس عقیدہ کی بنیاد پر پروٹسٹنٹ فرقوں نے یورپی سلطنتوں کے مطلق العنان بادشاہوں کو پوپ کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے سولھویں اور سترھویں صدی میں مسلسل استعمال کیا۔

لوتھر کے مطابق انجیل دنیاوی سلطنتوں کے چلانے کے لیے ایسے احکام فراہم نہیں کرتی جن کی بنیاد پر سول قانون سازی کی جا سکے۔ الٰہیات کا دائرہ کار سیاسیات سے علیحدہ اور سیاست میں رہنمائی عقلیت اور تجربیت سے حاصل کی جاتی ہے نصوص سے نہیں۔ سیاسیات میں رہنمائی اسی ارسطو سے حاصل کی جائے گی جس کو لوتھر نے ایک damned, conceated rascally heathen قرار دیا تھا[346]۔ لوتھر کے مطابق بادشاہ کے اختیارات لامحدود ہیں اور اس کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے سوائے اس کے کہ وہ خدا کے واضح روحانی ارشادات کی خلاف ورزی کرے[347]۔ لیکن اس حالت میں بھی حکم عدولی جائز ہے عسکری بغاوت کسی حالت میں بھی جائز نہیں۔ لوتھر اور کیلون دونوں صریحاً اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ حکومت الٰہیہ قائم کریں[348]۔ ریاستی قانون سازی خالصتاً ریاستی قانون سازوں کی ذمہ داری ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس ضمن میں کوئی ہدایات صادر نہیں فرمائیں۔ ریاستی قانون سازی لازماً اس اصول پر مرتب ہوتی ہے کہ گو کہ روحانی اعتبار سے تمام انسان برابر ہیں مگر دنیاوی معاملات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے معاشی اور معاشرتی درجہ بندی ضروری ہے۔

چوں کہ دنیاوی قوانین انسان بناتے ہیں (عقل اور تجربہ کی بنیاد پر، الٰہی تعلیمات کی بنیاد پر نہیں) اس لیے دنیاوی ریاستی نظام مستقل شکست و ریخت کا شکار ہوتا رہتا ہے اور اس کے مکمل تعمیر نو کی وقتاً فوقتاً ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ یہ کام ایک فوق البشر کرتا ہے۔ اس فوق البشر کو لوتھر Wundermann کہتا ہے[349]یہ فوق البشر کسی قانون کے ماتحت نہیں ہوتا وہ بغاوت کرنے کا مجاز ہوتا ہے اور لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی پیروی کریں۔ وہ خود صحیفہ ناطق ہوتا ہے[350] ۔ یہ تمام خصوصیات نطشے کے تصور فوق البشر (Ubermench) میں پائی جاتی ہیں اس فرق کے ساتھ کہ Wundermann خدا کا فرستادہ ہوتا ہے جب کہ Ubermench انسانیت کا نمایندہ ہوتا ہے[351] ۔

سولھویں تا اٹھارھویں صدی کے یورپ میں مطلق العنان بادشاہتوں کے غلبہ کا دور تھا۔ اس دور میں یورپ میں قومی ریاستیں قائم ہوئیں اور انہی ریاستوں نے عیسائی فرقہ وارانہ جنگیں لڑیں جن میں انگلستان اور ولندیز نے پروٹسٹنٹوں کا ساتھ دیا اور اسپین اور فرانس نے پوپ کا۔ قوم پرستی ہی نے Christendom کو یورپ بنا دیا اور ایک عام آدمی اپنی شناخت قوم سے اخذ کرنے لگا۔ وہ بنیادی طور پر فرانسیسی یا برطانوی بن گیا اور اس کی عیسائیت اس کی قومی شناخت کے تابع ہو گئی۔ سولھویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک تمام بڑی یورپی قوموں نے استعماری مہمات جاری رکھیں[352]۔ استعماریت اور قوم پرستی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ استعماری فتوحات کے نتیجے میں ایک عام برطانوی، فرانسیسی، ہسپانوی، ولندیزی اور پرتگالی کو بہت مادی فائدہ حاصل ہوا۔ پورا یورپ سونے اور چاندی اور اجناس کے ذخیروں سے مالا مال ہو گیا۔ ہر یورپی خاندان اس عالمی لوٹ مار سے مستفید ہوا اور اس کے نتیجے میں عیسائی مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کی دھجیاں اڑ گئیں۔ ہر یورپی ملک میں حرص و ہوس، سفاکیت، خودغرضی اور دنیا پرستی ایک وبا کی طرح پھیلنے لگی اور چوں کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ چرچ خود اس عالمی لوٹ مار سے پوری طرح مستفید ہو رہے تھے لہٰذا وہ عوامی روحانی اور اخلاقی زوال کو روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ ان حالات میں قوم پرستی کی ایک لہر آگ کی طرح پورے پورے یورپ کو جھلسا دینا ناگزیر ہو گیا۔

15.1۔ فرد کی تاریخی شناخت

عیسائیت کی طرح سرمایہ دارانہ فکر بھی آفاقی ہے۔ اس کے لیے اجتماعیتیں تعمیر کرنا ہر آفاقی مکتب فکر کے لیے ایک دشوار گزار فعل ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے دو غیرمذہبی اجتماعیتیں قائم کی ہیں؛ قومی اجتماعیت اور طبقاتی اجتماعیت [353]۔ یہ دونوں اجتماعیتیں تاریخی ہیں۔ نطشے(Friedrich Wilhelm Nietzsche) نے اپنی ابتدائی تحریروں میں جس سوال پر غور کیا وہ تاریخ سےصحیح نتائج اخذ کرنے کا سوال تھا۔ اس ضمن میں اس کی سب سے اہم تصنیف “The Uses and Abuses of History” ہے جو ۱۸۵۴ء میں چھپی۔ اس کتاب میں وہ ہیگل کے نظریہ تاریخی ارتقا پر تنقید کرتا ہے۔ ہیگل ماڈرن انفرادیت کو عالمی تاریخ کی پیداشدہ اعلیٰ ترین تخلیق گردانتا ہے۔ ہیگل انیسویں صدی کے یورپ کو انسانی ترقی کی معراج کہتا ہے اور نظریہ اختتام تاریخ کا قائل ہے۔ وہ تاریخی ارتقا کو عقلیت کا تقاضا تصور کرتا ہے۔ نطشے ان تمام نظریات کو ردّ کرتا ہے۔ اس کے مطابق تاریخ ظلم، ناانصافی اور جہالت سے بھری ہوئی ہے اور اس کا اختتام (جس سے وہ انکار کرتا ہے) ہیومینٹی کے زوال کا باعث ہو گا۔

نطشے کے مطابق انسان تاریخ سے لاتعلق نہیں ہو سکتا کیوں کہ تاریخ ایک نوعی حادثات کی حیثیت رکھتی ہے اور تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ہیومن بینگ ایک ناقابل تکمیل ناقص وجود ہے۔ ہیومن بینگ کو سکون اور فرحت نسیان سے حاصل ہوتی ہے۔ ہیومن بینگ کو حال میں اس طرح زندہ رہنا چاہیے کہ وہ ماضی کی تمام تلخیاں بھول جائے۔ایک صحت مند ترقی یافتہ سماجی تناظر تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تاریخی تجربات سے صرف وہ واقعات یاد رکھیں جو ہمارے لیے مثبت ہوں اور ان تمام واقعات کو فراموش کر دیں جو دورِحاضر اور اس کی توجیحات پر منفی اثر ڈالتے ہوں۔ مثلاً امریکی قوم اپنے ابتدائی باشندوں کے تعمیری کارناموں کو یاد رکھے لیکن اس بات کو بھول جائے کہ امریکی سفید فاموں نے آٹھ کروڑ ریڈانڈینز افراد کا تین صدیوں تک بہیمانہ قتل مستقل جاری رکھا۔ہیومن بینگ کا آفاقی تناظر ان مفروضات پر مبنی ہوتا ہے جن کو وہ درست تسلیم کرتا ہے۔ اسی آفاقی تناظر میں تاریخی تعمیرات معنی خیز اور مثبت ہو سکتی ہیں۔ مثلاً اگر امریکیوں کا آفاقی تناظر یہ ہے کہ یورپ کے سفید فام تارکین وطن کو خدا نے امریکا میں ایک دنیوی جنت تعمیر کرنے پر مامور کیا تھا تو ان کا فرض ہے کہ وہ آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کے پیہم جاری رہنے والے قتل عام کو بھول جائیں۔

نطشے کے مطابق تاریخ کو تین طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ Monumental تاریخ جو عظمت کے قابل تقلید نمونے فراہم کر سکے۔ Antiquarian تاریخ فرد کا قومی اور نسلی رسوم و روایات سے وابستگی اور جذباتی عقیدت کو قائم رکھے اور Oral تاریخ جو ماضی کے غیرمثبت تجربات مثلاً آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کے قتل عام کی ایسی تعبیرات پیش کرے (ریڈ انڈینز کا قتل اس لیے ضروری تھا کہ کیوں کہ وہ قدرتی وسائل ضائع کرتے تھے یا آدم خور تھے وغیرہ) جو رائج شدہ آفاقی تناظر میں مثبت طور پر سموئی جا سکے۔تاریخ کا منفی اور مضر استعمال بھی کیا جا سکتا ہے مثلاً ریڈ انڈین سرداروں کے صبر، اخلاص، مہمان نوازی اور بہادری کا بیان۔ ایسی مذہبی روایات کا تذکرہ جو قومی شان و شوکت کی جستجو کو غیراہم اور گم راہ کن قرار دیتی ہیں۔ تاریخی واقعات کی ایسی تشریح جو تاریخی واقعات کے مثبت اثرات سے مستفید ہونے کی راہ میں حائل ہو مثلاً ان ریڈ انڈین غداروں کے کارناموں سے سہوِ نظر جن کی غداری کے نتیجے میں ریڈانڈینز کا یہ قتل عام نہایت کم خرچ پر جاری رکھا سکا۔

تاریخ کو کسی آفاقی حق کے اظہار کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ کو سائنس بنانے کی کوشش اس کی افادیت کو ختم کر دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معروضی حق کا کوئی وجود نہیں۔ ہیومن بینگ جس کلی تناظر پر یقین رکھتا ہے اس کے مفروضات لازماً خود اختیاری اور حادثاتی ہوتے ہیں۔ یہ تاریخ سے اخذ نہیں کیے جاتے بلکہ تاریخی مطالعہ اور تجربہ کا مقصد ان حادثاتی تناظراتی مفروضات کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ہیومن بینگ پیہم وہ بنتا رہتا ہے جو وہ بنتا رہنا چاہتا ہے۔ اسی معنی میں وہ اپنا وجود خود تخلیق کرتا ہے۔ نطشے اس عمل کو Tendency of becoming کہتا ہے۔

حق اور زندگی میں تصادم ہے۔ حق یہ ہے کہ حقیقت مطلق کا کوئی وجود نہیں ہے اور ہر تناظر لغو، مبہم، لایعنی اور حادثاتی ہوتا ہے۔ لیکن ہیومن بینگ اس حقیقت کو قبول کر کے زندہ نہیں رہ سکتا وہ لازماً اپنے تناظر اور اس کے بنیادی مفروضات کو معروضی حق تصور کرنے پر مجبور ہے۔ زندگی علم کے بغیر ممکن ہے لیکن علم بغیر زندگی کے ناممکن ہے۔ لہٰذا ہیومن بینگ کے لیے لازم ہے کہ لامحالہ لایعنی تناظر کو حقیقت مطلق تصور کرے۔ ہر تناظر لازماً دیومالائی ہوتا ہے لیکن اپنے دیومالائی تناظر کو حق تسلیم کر کے ہیومن بینگ شرف حاصل کرتا ہے۔ اس دیومالائی تناظر کی بقا اور فروغ کے لیے ہیومن بینگ بڑی سے بڑی قربانی دیتا ہے۔ تاریخ ساز وہی عظیم ہیرو ہوتے ہیں جو کسی دیومالائی حادثاتی تناظر کے استحکام اور فروغ کے لیے عظیم قربانیاں دیتے ہیں اور کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنے دیومالائی تناظر پر غیرمتزلزل اور پختہ ترین ایمان رکھتے ہیں۔ تاریخ ساز افراد نئے تناظر تخلیق کرتے ہیں۔ وہ خود بھی ان تناظر کی معروضی حقانیت پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور ہیومینٹی کے بڑے گروہ کو اسی تناظر پر ایمان لانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ان ہیروز کا رخ مستقبل کی طرف ہوتا ہے اور وہی سابقہ تاریخ ساز ہیروز سے سبق حاصل کرنے کے مکلف ہوتے ہیں۔ حقیقت کا بیان لازماً اس کی ایک مخصوص تشریح ہوتی ہے۔ ہم اپنی تاریخ خود وضع کرتے ہیں اور ہماری تاریخی تعبیرات کو شوکت اور عظمت کا مظہر ہونا چاہیے، پستی اور ناکامی کی داستان نہیں۔ مثلاً تاریخ تحریک پاکستان لکھتے ہوئے ہمیں ان سیاسی کامیابیوں پر توجہ دینی چاہیے جن کے نتیجے میں سات سال کے قلیل عرصے میں ایک نئی سلطنت وجود میں آئی اور ان پندرہ لاکھ مسلمانوں کا ذکر نہیں جو ۴۸-۱۹۴۷ء میں تحریک پاکستان کی کامیابی کے نتیجے میں بے یار و مددگار قتل کیے گئے۔

نطشے ایک عالی ترین شان دار تاریخی تناظر تعمیر کرتا ہے۔ اس کے خیال میں تہذیبی ارتقا کی معراج قدیم یونانی تہذیب نے حاصل کی۔ ترقی کی یہ معراج قوم یونان نے اس لیے حاصل کی کہ وہاں ایک تخلیقی اشرافیہ کا غلبہ مستحکم تھا۔ اشرافیہ کے غلبہ کے لیے ضروری ہے کہ احساسات اور معاشرت میں فاصلے بڑھتے چلے جائیں۔ معاشرہ میں اشرافیہ کے مراتب بلند سے بلند تر اور غلاموں کی حیثیت پست سے پست تر ہو تی چلی جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ احساسات اور ادراک کی کثیر الجہتی میں اضافہ ہوتا چلا جائے اور عالی ترین تفکرات کا فاصلہ روزمرہ کے فہم معاملات سے زیادہ سے زیادہ ہوتا چلا جائے۔ یونانی تہذیب ایک شدید درجہ بند معاشرہ تھا جہاں غلاموں کی تحقیر مستقل بڑھتی جاتی تھی اور مستقل مسابقت کے ذریعے اشرافیہ میں تقدم اور درجہ بندی ہنوز ترقی پذیر رہتی تھی۔

نطشے کے مطابق یونانی تہذیب کا معراج اس کے المیاتی شہ پارہ ہیں[354]۔ فکری ارتقا کے نتیجے میں یونانی المیہ نگار پہلی مرتبہ اس راز کو پا گئے کہ انسان کی تقدیر پر مایوسی اور تاریکی کے علاوہ کچھ نہیں۔ انسان ایک ایسی کائنات کا باسی ہے جو بے مقصد حادثاتی طور پر وجود میں آئی اور جہاں لامعنویت کا راج ہے اور جہاں زندہ رہنا مسلسل دکھ سہتے رہنا ہے۔ لیکن یونانی المیہ انسان کو سبق دیتا ہے کہ اس بے ہنگم اور لایعنی کائنات میں فطری قوتوں کے خلاف مستقل نبردآزما رہنا ضروری ہے اور قدرت کے خلاف یہی مستقل بغاوت اور سرکشی انسان کو ایک شان دار اور پرشکوہ زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔

15.2۔ عیسائیت کی تذلیل

نطشے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے شدید ترین نفرت کرتا تھا ۔ نطشے کے مطابق عیسائیت غلاموں کی اخلاقیات ہے۔ حاکمانہ اخلاقیات قوت کے حصول اور فروغ کو اپنی بنیادی قدر کے طور پر قبول کرتی ہے۔ حاکم ظالم اور سفاک اس لیے ہوتے ہیں کہ اپنے ظلم کے ذریعے اپنی قوت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ مظلوموں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں کیوں کہ مظلومیت، کمزوری کا اظہار ہے اور حاکمانہ اخلاقیات کے مطابق کمزوری سے بری کوئی چیز نہیں۔ اس کے برعکس عیسائیت یعنی غلامانہ اخلاقیات قوت اور اس کے اظہار کو گناہ کہتی ہے۔ جو اوصاف کمزوری کا اظہار ہوں مثلاً انکساری اور حفظ مراتب کی تعظیم، عیسائیت ان کو نیکی کہتی ہے۔ عیسائیت اس بات کو فراموش کر دیتی ہے کہ حکمران کی قوت اور اس کا اظہار فطری ہے۔ وہ اس کو اختیاری گردانتی ہے اور ہر قوت کے اظہار کی مذمت کرتی ہے۔ عیسائیت فطری جذبات کو کچل کے رکھ دیتی ہے۔ عیسائیت ایک معاشرت کو فروغ دیتی ہے جو بقول نطشے ناقص، مریض اور روبہ تنزل معاشرت ہوتی ہے۔ 

عیسائیت نے اپنی تباہی کا خود موقع فراہم کیا۔ عیسائی تفکرات کے نتیجے میں روحانی بالیدگی پیدا ہوئی اور انسان اس قابل ہو گیا ہے کہ آفاقی اصول خود وضع کر سکے۔ عیسائیت جس آفاقیت کی تعلیم دیتی ہے وہ لغو اور مہمل ہے لیکن عیسائی علمیاتی کاوش ہی نے سائنس کو جنم دیا ہے اور اب ایسے آفاقی اصولوں کی توضیح ممکن ہو گئی ہے جو حقیقی معنوں میں آفاقی ہیں اور جن کو رو بہ عمل لا کر نطشے عیسائیت کو پیچھے چھوڑنا ممکن سمجھتا ہے۔ نطشے کے خیالات میں اس کا دور تاریخ کے بدترین ادوار میں شامل ہے۔ عیسائیت نے جمہوریت اور سوشل ازم کو جنم دیا تھا اور جمہوریت اور سوشل ازم دونوں غلامانہ اخلاقیات یعنی عیسائیت کا مظہر ہیں کیوں کہ ان کی بنیادی تعلیم معاشرتی مساوات کو فروغ دینے والی ہے۔ دورحاضر یعنی انیسویں صدی کے آخر کی معاشرت ایک ذلیل اور پس ماندہ ہجومی انفرادیت تعمیر کرتی ہے۔ حقوق انسانی کا تصور غلامانہ اخلاقیات کے فروغ کا ذریعہ ہے اور دستوری جمہوری اور اشتراکی ریاستی نظام اعلیٰ اور ارفع جذبات اور ان کے اظہار کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ ان کا قانون انسان کی فطری شہوانی جبلتوں کو کچل دیتا ہے۔ ریاستی اقدامات کا مقصد معاشرہ سے الم اور دکھ کو ختم کرنا ہے لیکن وجود تو لازماً ایک المیہ اور دکھ سے بھرپور واقع ہوا ہے۔ الم اور دکھ کے خاتمے کا مطلب انسانی عظمت اور شوکت کا خاتمہ ہے۔ نطشے کے دور میں سائنس بھی انسانی عظمت اور شوکت کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بن رہی کیوں کہ وہ ایسے آفاقی اصولوں کے ادراک کی جستجو کر رہی ہے جو واقعتاً حق ہوں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حق کا کوئی معروضی وجود نہیں ہے اور بقول نطشے خدا مر گیا ہے۔ خدا کی ذات پر اب یقین نہیں کیا جا سکتا، یہ عقیدہ عقل کے خلاف ہے۔

نطشے نے عیسائیت کی تذلیل کے لیے جو کتاب لکھی اس کا نام "Thus Spoke Zarathustra" ہے اور یہ اس کے خیال میں الحاد کی انجیل ہے جس میں عیسائی تصورات حق و خیر کو مہمل اور غیرمعقول کہا گیا ہے۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ حقیقی وجود صرف اسی مادی دنیا کا ہے جس کو انسان محسوس کر سکتا ہے اور جس میں وہ زندگی بسر کر رہا ہے؛ اخروی دنیا کا کوئی وجود نہیں۔ یہ محض عیسائیت کی من گھڑت کہانی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ حقیقت یہ نہیں کہ خدا نے انسان کو پید کیا، حقیقت یہ ہے کہ انسانی فکر نے خدا کو وجود بخشا۔ چوں کہ انسان نے خدا کو پیدا کیا لہٰذا انسان خدا کو قتل کرنے کا مکلف ہے اور اس نے موجودہ ترقی یافتہ دور میں خدا کو قتل کر دیا ہے۔ عیسائی تعلیمات ہی نے انسان کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ خدا کو قتل کر دے۔ خدا کی پرستش نے تاریخ میں حق کی پرستش کا روپ دھارا اور حق کی اسی پرستش نے سائنس کو جنم دیا۔ سائنس ہی نے خدا کو قتل کر ڈالا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی حقیقت موجود نہیں۔ سائنس کسی مابعد الطبیعیاتی حقیقت کو ثابت نہیں کر سکتی اور اب تمام مسلّمات اور نظریات مہمل اور لایعنی دکھائی دیتے ہیں انسان کسی مفروضہ حقیقت پر ایمان نہیں لا سکتا۔

"Thus Spoke Zarathustra" میں نطشے لکھتا ہے کہ عیسائیت نے انسان کو ایک اونٹ بنا دیا ہے اور اس اونٹ نے خود اپنے اوپر اخلاقیات اور روحانیت کا بوجھ لاد لیا ہے[355]۔ یہ اونٹ بے مقصد صحرا نوردی کر رہا ہے اور اپنی اصل عظمت اور شوکت پر نادم اور شرمندہ ہے لیکن عظمت اور شوکت کا یہ فطری احساس صحرا نوردی کے دوران اس اونٹ کو ایک شیر بنا دیتا ہے۔ وہ اخلاقیات اور روحانیت کا بوجھ اپنے اوپر سے اتار پھینکتا ہے۔ وہ تمام فرائض کا انکار کر کے کہتا ہے کہ وہ کسی کا تابع نہیں، وہ کروں گا جو خود چاہوں گا۔ یہ شیر اخلاقیات اور اقدار سے تو نجات حاصل کر لیتا ہے لیکن کسی نئی اقدار اور اخلاقیات کو وضع نہیں کر پاتا۔
شیر کی صحرا نوردی بے مقصد ہوتی ہے اور بقول نطشے یہی دورحاضر کا المیہ ہے۔ اس دور میں انسان کسی حقیقت پر ایمان و یقین نہیں رکھ سکتا۔ دورِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ انسان ایک بے مقصد اور لامعنوی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس لامعنویت سے نجات نظریہ قوم پرستی فراہم کرتی ہے اور نطشے جس قوم پرستی کا قائل تھا وہ یورپین قوم پرستی تھی جرمن قوم پرستی نہیں تھی[356]۔ قوم پرستی شوکت اور عظمت کی پرستش سکھاتی ہے۔ وہ ایک نئی اشرافیہ تخلیق کرتی ہے جو انسان کے لیے ممکن بناتی ہے کہ وہ بے راہ روی اور گمراہی کی ایک کے بعد دوسری حد پھلانگتا چلا جائے۔ بقول نطشے ’’یہی میرا تصور ارتقا ہے‘‘۔ ضلالت میں ترقی کرتے چلے جانے کی جدوجہد اور تکبر کی مسلسل جستجو انسان کو فوق البشر (Ubermensh) بنا دیتی ہے اور یہی سپرمین (Ubermensh) یورپی قوم پرستی کی تجسیم ہے۔

15.3۔ فوق البشریت

خدا کی موت کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ انسان تمام جستجو اور کاوش کو ترک کر دیں۔ وہ تمام اقدار اور مقاصد کے حصول کی جدوجہد کو ترک کر کے محض ایک آرام دہ زندگی گزارنے پر اکتفا کریں۔ موجودہ معاشرے میں اکثریت یہی رویہ اختیار کرتی ہے اور نطشے ایسے افراد کو آخری یا اختتامی آدمی کہتا ہے۔ عوام اسی اختتامی آدمی کو اپنا مثالیہ تصور کرنے لگے ہیں[357]۔

اس المیہ سے ابدی نجات تو ممکن نہیں لیکن اگر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ خدا کی موت کے ذریعے وہ حقیقی آزادی حاصل کر گیا ہے تو وہ مستقبل کے اقدار تخلیق کر سکتا ہے۔ وہ ایک ایسا سنہرا حیوان بن سکتا ہے جو پوری معصومیت کے ساتھ تسخیر کائنات کا عمل جاری رکھے۔ انسان جان گیا ہے کہ کوئی حقیقت وجود نہیں رکھتی اور چوں کہ کوئی حقیقت موجود نہیں لہٰذا ہر وہ چیز ممکن ہے جس کی انسان خواہش رکھتا ہے۔ احساس گناہ سے آزاد ہو کر انسان خود خدا بن گیا ہے یا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عیسائیت کی جگہ نطشے نے جس آفاقی نظریے کی وکالت کی ہے اس کو "Will to Power" یعنی قوت کی پرستش کا نام دیا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق:

۱۔ انسان کی فطرت حیوانی ہے۔

۲۔ وہ فطرتاً تسخیر کائنات اور تخریب کائنات کا خواہش مند ہے۔

۳۔ چوں کہ کوئی آفاقی حقیقت موجود نہیں انسان مکمل طور پر آزاد ہے کہ وہ تخلیق اور تسخیر کائنات کا جو طریقہ اختیار کرنا چاہے کرے۔

۴۔ انسان قادرمطلق ہے اور قائم بالذات ہے۔ اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے دعوائے الوہیت کا مستقل اظہار کرتا رہے۔ اس اظہار الوہیت کا کوئی اور مقصد نہیں اور وہ خود اپنا مقصد ہے۔

نطشے کو سرمایہ دارانہ نقیب کہنا اس لیے روا ہے کہ قوت کا اجتماع اور ارتکاز عملاً سرمایہ کے ذریعے ہی ہوتا ہے اور سرمایہ کے ارتکاز کا کوئی اور مقصد نہیں۔ وہ خود اپنا وجہ وجود اور جواز ہے۔

عقلیت اور شعور خواہشِ اظہارِ الوہیت کے ذرائع اور اس خواہش کے تابع ہیں۔ نیکی تخلیقیت اور فہم اس تخلیقیت کا شعوری اظہار ہے۔ ذات خواہشات کا اجتماع ہے اور غالب خواہش اظہارِ الوہیت کی خواہش ہے۔
اظہارِ الوہیت کےلیے ایک غیرمساویانہ درجہ بند معاشرہ کا وجود لازم ہے جہاں المیہ فروغ پائے۔ اظہارِ الوہیت کی خواہش اس المیے کو برقرار رکھتی ہے۔ نطشےانسانی المیہ کے ابدی وجود کا قائل ہے اور اپنے استاد شوپن ہاور(Arthur Schopenhauer) کی طرح فلسفہ آواگون کا قائل ہے۔ فلسفہ آواگون پر اعتقاد کے نتیجے میں نطشے معاشرے میں اونچ نیچ کے ابدی وجود کو لازمی تصور کرتا ہے۔ 

فوق البشر اظہارِ الوہیت کی شخصیت کاری ہے۔ وہ شعوری طور پر مادی ظواہر کی تخلیق کرتا ہے۔ فوق البشر ایک ایسا متقی ہوتا ہے جو کبھی خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتا[358] ۔ دور حاضر میں فوق البشر کے وجود ارادہ کے ذریعے تخلیق کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا وجود لازمی یا تاریخی عمل کا منطقی نتیجہ نہیں۔ فوق البشر ایک بچے کی طرح معصوم ہوتا ہے وہ اپنی ذات میں مگن ہوتا ہے اور کائنات سے کھیلتا ہے۔ اس کھیل کے دوران وہ لامعنویت سے بھری دنیا کو نئے معنی دیتا ہے۔ ایسے معانی جو کھیل کے دوران وہ خود تخلیق کرتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسے فوق البشر بار بار آتے رہتے ہیں[359] اور ہر فوق البشر نے ایسے اقدار خود تخلیق کیے ہیں۔ وہ تمام قوانین سے بالاتر ہوتا ہے لیکن اظہارِ الوہیت کی جستجو کے نتیجے میں آلام و مصائب سے مستقل دوچار ہوتا رہتا ہے۔ نطشے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوق البشر ایک سیاسی رہبر نہیں ہوتا بلکہ عوام سے دوری اختیار کرتا ہے۔ نطشے کی فکر میں دورحاضر کی سیاسی بحرانوں کا کوئی واضح حل نہیں ملتا۔لیکن نطشے کی فکر کے گہرے سیاسی اثرات بیسویں صدی میں مرتب ہوئے اور یورپ اور ایشیا کی فاشسٹ تحاریک نطشے کی فکر سے بہت متاثر ہوئیں۔ امریکی خارجہ پالیسی بھی نطشے کی فکر کی بھرپور طور پر غماز ہے اور ہم امریکی خارجہ پالیسی کو نطشین قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔ بلاشبہ دور حاضر کا فوق البشر امریکی قوم اور عام امریکی سٹیزن ہے اس لیے امام خمینی نے فرمایا ’’میں یہ نہیں کہتا کہ امریکا شیطان بزرگ ہے، میں کہتا ہوں کہ ہر امریکی شیطان بزرگ ہے“۔نطشے جنگ کا پرستار تھا اور انسانیت کا مستقبل مستقل جنگ میں دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حاکم اور برتر قوم کو محکوم اور پس ماندہ لوگوں پر سائنسی تجربات کے ذریعے اپنی خود ارادیت کے فروغ کی جستجو کرتے رہنا چاہیے۔ پس ماندہ اقوام کو قتل عام کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے [360]۔

15.4۔ امریکا کی نطشین خارجہ پالیسی

امریکی خارجہ پالیسی حکومتی تبدیلی سے بہت کم متاثر ہوتی ہے۔ حکمران جماعتوں کا تصور قومی مفاد اور ان کے خارجہ پالیسی کے مقاصد بڑی حد تک یکساں ہوتے ہیں۔ امریکا میں ایک ایسا مختصر خارجہ پالیسی ساز طبقہ موجود ہے جو ہر حکومتی ادارے پر اپنی ترجیحات نافذ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

امریکی ریاست کا قیام تاریخ انسانی کا سب سے بھیانک جرم ہے۔ اس ریاست کے قیام اور توسیع کے نتیجے میں تقریباً چار سو سال تک آٹھ کروڑ انسان نہایت سفاکی، چال بازی اور درندگی سے قتل کیے جاتے رہے اور ایک پورے براعظم کو نہایت منظم انداز میں لوٹا گیا۔ امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد امریکا کے قدیم باشندوں [361] کے قتل عام اور لوٹ مار اور اراضی سے جبراً بے دخل کیے جانے کے تسلسل کے دور میں رکھی گئی ہے۔ اس قتل و غارت اور لوٹ مار کے نتیجے میں دنیا کا سب سے پہلا سرمایہ دارانہ معاشرہ اور سب سے پہلی سرمایہ دارانہ ریاست وجود میں آئی۔

ریڈانڈینز کا قتل عام اور ان کی املاک پر قبضہ ایک نہایت آسان اور نہایت سستا عمل ثابت ہوا[362] اور امریکی درندوں کے ہاتھ بہت جلد بے تحاشا اراضی اور معدنی اور زرعی دولت آ گئی پھر ریڈ انڈینوں کا قتل عام عیسائیت کے نام پر کیا گیا اور ریاست کے قیام کا مقصد شروع ہی سے فروغ آزادی یعنی بڑھوترئ سرمایہ قرار دیا گیا۔ لہٰذا امریکی درندوں کی خارجہ پالیسی کی بنیاد دو ایسے اصولوں پر رکھی گئی جو آج تک اس خارجہ پالیسی کے دائمی مقدمہ کی حیثیت رکھتے ہیں:

۱۔ امریکی درندے خدا کے پسندیدہ ہیں۔

۲۔ جن کا فرض ہے کہ جہاں بھی ممکن ہو سرمایہ داری کے ریاستی تحکم کو فروغ دیں۔

امریکی درندوں کی پانچ سو سال سے جاری رہنے والی استعماری جدوجہد کی یہی نظریاتی بنیادیں ہیں۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں امریکی درندہ جان ایڈمز لکھتا ہے ’’ہماری پاک صالح ری پبلک تا ابد قائم رہے گی اور پوری دنیا پر حکومت کرے گی‘‘۔ امریکی درندے انڈریو ریگن نے اسی نظریہ کی بنیاد پر اپنی صدارت کے دور میں میکسیکو کے آدھے سے زیادہ ملک پر قبضہ کر لیا۔ اس نے کہا کہ خدا نے ہمیں پورا براعظم فتح کرنے کا مشن بخشا ہے۔ انیسویں صدی سے استعماری عزائم کا اظہار جنگوں کے ساتھ ساتھ تجارت کے ذریعے کیا جانے لگا اور فلپائن، ہوائی، چین اور جاپان کو مختلف کارروائیوں اور حربوں سے شکار کیا گیا۔ جزائر غرب الہند میں کئی کو غلام بنایا گیا[363]۔ 

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی درندے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اور ٹھیکے دار بن بیٹھے اور عالمی نظام پر امریکی درندگی کا ابدی تسلط امریکی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول کے طور پر صریحاً قبول کر لیا گیا[364] اور یہ بات تسلیم کر لی گئی کہ امریکی استعماری تفوق کے دفاع کےلیے ایک اقدامی عالمی خارجہ پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ امریکی درندوں نے ایک ایسا عالمی معاشی نظام وضع کیا( جس کو Bretton Woods سسٹم کہتے ہیں)جس کےذریعے امریکی سرمایہ داری عالمی معیشت کو اپنے زیرنگیں کرے۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے[365] اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے اور سردجنگ کے دوران امریکی درندگی کا عالمی تفوق امریکی خارجہ پالیسی کا مقصد اولیٰ بن گیا۔ امریکی خارجہ پالیسی کی تشکیل اور تنفیذ کرنے والے ادارے جوائنٹ چیفس آف سٹاف، ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس، انٹرنیشنل سکیورٹی کونسل اور سی آئی اے ہیں۔ امریکی درندگی کی سالمیت کے لیے یہ ضروری قرار پایا ہے کہ اس کا عالمی استعماری تسلط ابدی طور پر محفوظ رہے۔ امریکی درندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے لازم ہے کہ امریکی درندگی دنیا کے ہر ملک کے ہر دفاعی اور سیاسی اور معاشی اور معاشرتی تغیر کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ یہی امریکی درندوں کی نیشنل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی اساس ہے۔

سرد جنگ کے دور (۱۹۴۶ء تا ۱۹۹۱ء) تک امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد سوویت یونین کو پے در پے شکست دے کر اپنی عالمی بالادستی کو مستحکم کرنا رہا۔ امریکی سرمایہ کی بڑھوتری کو فروغ دینا اس دور میں امریکی خارجہ پالیسی کا ثانوی ہدف تھا۔ سوویت یونین کے خلاف مسلسل جنگ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا میں اس پورے دور میں مسلسل جاری رہی۔ ان ممالک کو زیرنگیں کر کے امریکا نے اپنی عالمی سلطنت قائم کرنے کی جستجو مستقل جاری رکھی۔ امریکی دہشت گردی کا آغاز سرد جنگ کے دور سے ہوتا ہے۔

امریکی قوت کا عالمی خوف پھیلائے بغیر امریکی وحشیوں کی عالمی بالادستی قائم نہیں رکھی جا سکتی۔ یورپ اور جاپان تو امریکی وحشیوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم باری کر کے دہشت زدہ کر دیے تھے اور انہوں نے امریکی بالادستی کو بلاچون و چرا مکمل طور پر قبول کر لیا تھا۔ ۱۹۴۹ء میں یورپی افواج کو نیٹو نے اپنی آہنی گرفت میں جکڑ لیا اور یہ گرفت اس وقت سے لے کر آج تک مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ ۱۹۴۳ء سے ۱۹۴۵ء کے دور میں یونان میں بڑے پیمانے پر امریکی دہشت گردوں نے قتل عام کے ذریعے استعمار مخالف مزاحمت کو وحشیانہ مظالم ڈھا کر کچل دیا۔ سرد جنگ کے دور میں امریکی درندوں نے اپنے ملک میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے انبار لگا دیے اور ۱۹۷۲ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد سوویت نیوکلیئر ہتھیاروں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھی۔ ۱۹۷۰ء تک امریکی قزاق بحراوقیانوس اور بحرالکاہل پر مکمل تسلط حاصل کر چکے تھے۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط تک ۱۷۱؍ ممالک میں امریکی دہشت گردوں نے چار ہزار کے لگ بھگ فوجی ادارے قائم کر لیے۔ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا میں امریکی سفاکوں نے دروغ، چال بازی اور فوجی دہشت گردی کے ذریعے اپنی باج گزار حکومتیں قائم کر لیں[366]۔ امریکی دہشت گردوں نے اپنی مخالف حکومتوں کے خلاف پوری دنیا میں ایک ہمہ گیر نفسیاتی جنگ چھیڑ دی۔ سرد جنگ کے دور میں امریکا نے تیسری دنیا میں بالعموم آمروں کا ساتھ دیا [367]۔

۱۹۴۵ء سے لے کر آج تک افریقا، ایشیا اور لاطینی امریکا میں اپنی حلیف حکومتوں کو قائم کرنے اور مستحکم بنانے کے لیے امریکی درندوں نے کرپشن، فضائی بم باری، فوجی بغاوت، میزائل حملے، بحری ناکہ بندی، ریاستی ادارتی تخریب کاری اور اذیت کا بے دریغ اور تسلسل کے ساتھ استعمال کیا۔ ایشیا اور افریقا بالخصوص لاطینی امریکی ممالک امریکی سفاکیت اور بہیمیت کا مسلسل شکار ہوتے رہے۔ مکمل تباہ کار بم باری کا آغاز ویت نام، کمبوڈیا اور لاؤس سے کیا گیا اور تاحال نکاراگوا، ڈومینکن ری پبلک، کوریا، سنٹرل افریقن ری پبلک، پانامہ، سربیا، ایل سلواڈور، عراق، لیبیا، افغانستان اور پاکستان اس بزدلانہ سفاکیت اوردرندگی کا گاہے گاہے شکار ہوتے رہتے ہیں[368]۔ ویت نام میں قتل عام کے ذریعے امریکی درندوں نے تقریباً تیس لاکھ افراد کو قتل کیا اور عراق اور افغانستان میں امریکی قتل عام کی تعداد اس کے لگ بھگ ہے اور تاحال جاری ہے۔ اس کے علاوہ ۱۹۲۸ء سے آج تک امریکی درندے اسرائیلی وحشیانہ سفاکیت کے پشت پناہ اور حلیف بنے ہوئے ہیں[369] اور اسرائیلی نیوکلیئر ہتھیاروں کے تحفظ کی ذمہ داری امریکی افواج نے صریحاً قبول کر لی ہے[370]۔ لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آج تک لاتعداد فوجی دستے اور جنگی جہاز بھیج کر شہروں اور صوبوں پر عارضی قبضہ کیا ہے۔ گوئٹے مالا، بولیویا، یوراگوئے، چلی، ڈومینکن ری پبلک اور پیرو امریکی فوج کشی، بم باری اور تعذیب کا مستقل شکار ہوتے رہتے ہیں [371]۔

جب جمی کارٹر امریکی صدر بنا تو اس نے امریکی سفاکانہ دہشت گرد خارجہ پالیسی کو جاری رکھنے کا جواز نظریہ ہیومن رائٹس قرار دیا اور اس وقت سے آج تک ہیومن رائٹس کو فروغ دینے کی بنیاد پر امریکی بہیمیت اور دہشت گردی جاری رکھی جاتی ہے[372]۔ اسی نظریہ ہیومن رائٹس کو جواز بنا کر امریکی درندے کارٹر نے کمبوڈیا کی اس حکومت کو امداد فراہم کی جس کا سربراہ پل پاٹ تھا اور جس نے لاکھوں کمبوڈی باشندوں کو قتل اور جلاوطن کیا تھا۔ نظریہ ہیومن رائٹس کی بنیاد پر امریکی درندوں نے اقوام متحدہ کو اپنا آلہ کار بنا لیا اور اقوام متحدہ کی فوجی کارروائیوں کے ذریعے ہیومن رائٹس استعماری نظام مرتب کیا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس استعماریت کے اہم ترین شکار ممالک میں کانگو، ہنڈراس[373]، موزمبیق، انگولا، نمیبیا، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ نظریہ ہیومن رائٹس کی بنیاد پر غیرملکی بکاؤ فوجیوں کے دستے تیار کیے جو امریکا کی طرف سے اپنے ملک کے خلاف لڑتے تھے۔اس ضمن میں سب سے پہلی کامیاب کارروائی کوسٹاریکا کی صف بندی تھی جو کوسٹاریکا میں نکاراگوا کی سینڈرسٹ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کی گئی۔ ہیومن رائٹس استعماریت کے تناظر میں امریکی درندوں نے ہنگری، پولینڈ، چیکوسلواکیہ، سابق یوگوسلاویہ، مشرقی جرمنی اور سوویت یونین میں بڑے پیمانے پر تخریب کاری کی جس کے نتیجے میں وہاں کا نظام حکومت منہدم ہو گیا[374]۔ 

صدام حسین امریکی درندوں کا پالا ہوا مہرہ تھا لیکن سادات، شاہ فہد اور مبارک کے برخلاف اس پر عرب قوم پرستی غالب تھی اور وہ گاہے گاہے امریکا کی حکم عدولی کرتا۔ اس کو سزا دینے کا یہ طریقہ سوچا گیا کہ اس کو بغداد میں مقیم امریکی سفیر نے دھوکا دے کر کویت پرقبضہ کرنے کی شہہ دی اور پھر ۱۹۹۱ء میں عراق پر فوج کشی کر کے اور ہیومن رائٹس کے تحفظ کو جواز بنا کر عراق پر اقوام متحدہ کی معاشی پابندیاں عائد کر کے بے دست و پا کر دیا گیا۔ یہ پابندیاں بارہ سال تک مسلط رہیں اور ان کے نتیجے میں لاکھوں عراقی بالخصوص بچے شہید ہوئے۔ اور عراقیوں کے بارہ سال تک جاری رہنے والے قتل عام میں سعودی عرب امریکا کا قریب ترین ساتھ بنا رہا۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکا نے آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، ورلڈ بینک اور ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے ذریعے پوری دنیا پر لبرل استعماری نظم معیشت اور قوانین مسلط کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں میکسیکو، روس، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، ارجنٹینا اور کئی دیگر ممالک میں شدید بحران پیدا ہوا اور وہ عالمی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے۔ ان ممالک کی معاشی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر امریکا نے ان پر اپنی فوجی گرفت مستحکم کر لی اور پوری دنیا میں امریکی فوجی اڈے تیزی سے پھیلنے لگے۔ ۱۹۹۵ء میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ نے نیٹو کے ذریعے ایک ملک یوگوسلاویہ پر حملہ کیا اور یوگوسلاویہ پر امریکی بم باری کو تحفظ حقوق انسانی کا جواز فراہم کیا گیا۔ ۱۹۹۵ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے ذریعے امریکا اور دیگر استعماری قوتوں کو اس کا حق دیا گیا کہ وہ حقوق انسانی کے مفروضہ تحفظات کے نام پر جب چاہیں اور جس ملک پر چاہیں فوج کشی کر کے قبضہ کر سکتی ہیں[375]۔ یہاں سے ہیومن رائٹس استعماریت کا دور شروع ہوا اور اس کا بانی امریکی زانی، دروغ گو دہشت گرد بل کلنٹن تھا۔

ہیومن رائٹس استعماریت کے دور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس دور میں جو فوجی ٹیکنالوجی امریکا استعمال کرتا ہے وہ اس کی بزدلی کی غماز ہے۔ یوگوسلاویہ پر حملہ میں امریکا کاایک فوجی بھی نہیں مارا گیا کیوں کہ ہوائی ٹارگٹ کلنگ اور ڈرون حملوں پر مکمل انحصار کیا گیا۔ ہیومن رائٹس استعماریت کے اصولوں کے تحت زانی دروغ گو دہشت گرد امریکی صدر بل کلنٹن نے ۱۹۹۵ء کے بعد سے اقوام متحدہ کے توسط سے ایسی معاشی پابندیاں عاید کیں جن کے نتیجے میں ساڑھے سات لاکھ امریکی مارے گئے جن میں بیش تر تعداد بچوں کی تھی۔
۲۰۰۱ء میں امریکا پر جوابی حملہ کے بعد امریکی دہشت گردی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ دروغ گوئی اور بہتان طرازی کی نئی حدود عبور کر کے امریکا نے عراق میں weapons of mass destruction کی موجودگی کا دعویٰ کیا اور بہت جلد ثابت ہو گیا کہ ان ہتھیاروں کا وہاں کوئی وجود نہیں۔ اس کے باوجود عراق پر جنگ مسلط کرکے امریکا سات سال تک عراقیوں کا قتل عام کرتا رہا۔ دسمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے افغانستان پر بھی امریکا نے حملہ کر دیا اور پچھلے چودہ سال سے وہاں امریکا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تقریباً ایک کروڑ افغانی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں اور ملکی وسائل کو بے دریغ امریکی لوٹ رہے ہیں۔ ایک تخمینہ کے مطابق امریکا نے افغانستان کی معیشت جو نقصان پہنچایا ہے وہ تین کھرب ڈالر سے متجاوز ہے۔ امریکا کی افغانستان میں جاری رہنے والی دہشت گردی کو روس اور چین دونوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔

باراک اوباما نے جارج ڈبلیو بش کی استعماری خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس نے Gatis Brenmen, Petreus اور McCrystal کو اپنے عہدوں پر قائم رکھا اور یہی چار امریکی دہشت گردی کی جنگ کی حکمت عملی کے اصل قائد تھے۔ اس نے افغانستان اور پاکستان کے خلاف امریکی دہشت گردی میں ہوش ربا اضافہ کیا اور بزدلانہ ڈرون حملوں پر خاص طور پر انحصار کیا۔ اپنے پہلے دور صدارت میں مرتدزادہ اوباما نے پاکستان پر بش کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ڈرون حملے کیے اور ہزاروں بچوں اور خواتین کو شہید کیا۔ اوباما نہایت ظالم اور سفاک شخص ہے۔ اس نے قانون سازی کے ذریعے اپنے جنگی مجرموں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور جن لوگوں نے ان جنگی جرائم کو آشکارا کیا ان کو وحشیانہ تعذیب کا نشانہ بنایا۔ ہیومن رائٹس کو جواز بنا کر وحشی اوباما نے لیبیا پر سفاکانہ بم باری تین ماہ جاری رکھی۔ اوباما امریکی نیوکلیئر قوت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے نافذ شدہ معاشی پابندیوں کا سہارا لیتا ہے۔ اس بدمعاش نے ایران کو کئی مرتبہ دھمکیاں دی ہیں لیکن اس کی فطری بزدلی اس کو ایران پر حملہ کرنے سے باز رکھے ہوئے ہے۔ اوباما نے خود ایران میں تخریب کاری کی سرپرستی اور نگرانی کی ہے[376] ۔یہ دہشت گرد ایران کے خلاف ایک غیراعلانیہ سائبر جنگ ۲۰۰۶ء سے جاری رکھے ہوئے۔

اوباما شیعہ سنی اختلافات کو مستقل ہوا دے رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان میں اوباما استعمار مخالف جدوجہد شیعہ سنی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی فطری بزدلی کے باعث اس جنگ میں براہ راست شریک نہیں ہونا چاہتا۔ قطر، سعودی عرب، پاکستان، عراق، کویت اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومتوں کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکا آج عراق اور افغانستان میں شیعوں کا حلیف اور شام، لبنان، سعودی عرب، بحرین اور ترکی میں سنیوں کا حلیف ہے۔ اوباما بدمعاش کی سب سے بڑی خواہش حزب اللہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہے کیوں کہ یہی (اور حماس) اسرائیل کے وجود کے لیے اصل خطرہ ہے[377]۔اوباما نے ہندوستان کی تخریب کاری اور چین کی ناکہ بندی پر بھی خاص توجہ دی ہے اور بحرالکاہل میں اپنی فوجی تنصیبات میں اضافہ کر کے چین اور اس کے حلیفوں کے خلاف محاذ مضبوط کر لیا ہے۔

امریکی تاریخ میں اوباما سفاک ترین، ظالم ترین اور شاید ذلیل ترین صدر ہے[378]۔ اس کے دور میں لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جس پیمانے پر تخریب کاری، ٹارگٹ کلنگ، لاجسٹک ٹریک ڈاؤن کے ذریعے الیکٹرونک حملے، امریکیوں اور غیرامریکی شہریوں کا قتل، قومی مواصلاتی نظاموں کی مخبری اور قیدیوں پر تعذیب جاری رہی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اوباما امریکی قوم کی فطری بزدلی سے بخوبی واقف ہے لہٰذا وہ تخریب کاری، دہشت گردی، سفاکیت اور کمزوروں پر ظلم کے ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جس سے امریکی جانی نقصان کم سے کم ہو۔ اس کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ امریکی فوجی براہ راست میدان جنگ میں نہ آئیں بلکہ دشمن کو نقصان دور رہ کر پہنچایا جائے۔ اس حکمت عملی کو balancing کہا جاتا ہے اور امریکی قوم اپنی اس بزدلی پر نازاں ہے۔ امریکی جنگ اب بنیادی طور پر تخریب کاری، دھوکا دہی اور محکوم اقوام کے فوجیوں کے ذریعے لڑی جاتی ہے اور پوری دنیا میں امریکا نے سازشوں اور مخبری کا ایک وسیع جال پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے وہ حکومتوں، سرکاری اداروں اور پرائیویٹ کمپنیوں میں مسلسل تخریب کاری کے عمل کو جاری رکھتا ہے۔ اس پیہم مخبری اور تخریب کاری کو جاری رکھنے کے لیے سب سے آگے جو ادارہ ہے اس کو اسپیشل آپریشنز کونسل کہا جاتا ہے اور اس کے پسندیدہ آلہ کار اقوام متحدہ کے ادارے ہیں۔
نطشے کے اصل جانشین ہٹلر، مسولینی نہیں اینڈریوجیکسن، ابراہام لنکن، روزویلٹ، وڈروولسن، ہیری برومن، جان کینیڈی، رچرڈ نکسن، جمی کارٹر، جارج بش اور اس کا بیٹا، بل کلنٹن اور اوباما ہیں۔ ان سب امریکی صدور نے سفاکیت، ظلم، درندگی، دروغ گوئی، مکاری، بزدلی، جنسی بے راہ روی اور دہشت گردی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی تاریخ انسانی میں نظیر نہیں ملتی۔ یہ سب نطشے کے فوق البشر ہیں اور ان پر لامحدود قوت کے حصول کا بھوت سوار رہا ہے۔ یہ اپنی درندگی، سفاکیت، دھوکا دہی اور مظالم پر فخر کرتے ہیں[379]۔ یہ پیہم ظلم کیے جاتے ہیں اور نطشے کی تعلیم کے مطابق اس درندگی کو بھولتے بھی جاتے ہیں۔ دورحاضر کے امریکی فلسفی رچرڈ رارٹی نے لکھا ہے ہم امریکی خدا کو جواب دہ نہیں خود اپنے آپ کو جواب دہ ہیں۔ ہمیں حق حاصل ہے کہ اپنے تمام مظالم کو خود معاف کر دیں۔ ان کو کوئی احساس گناہ نہیں۔ یہ اپنے آپ کو معصوم عن الخطا تصور کرتے ہیں۔ بلاشبہ امام خمینی نے صحیح فرمایا ہر امریکی شیطان بزرگ ہے۔

15.5۔ وجود اور لاابدیت

امریکی خارجہ پالیسی کو Nihilist بھی کہا گیا ہے اور بیسویں صدی میں Nihilism کا اہم ترین وکیل مارٹن ہائیڈیگر(Martin Heidegger) تھا جو نطشے سے بہت متاثر تھا۔ نہیلزم کسی دائمی وجود کا قائل نہیں۔ نہیلزم نطشے کے مقولہ ’’خدا مر گیا ہے‘‘ کی ایک تشریح ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق کوئی حقیقت دائمی نہیں اور ہر وجود مستقل تعمیر کے عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ نہیلزم کے اظہار کی دو شکلیں ہیں۔ ایک نہیلسٹ رویہ یہ ہے کہ چوں کہ دنیا میں کسی حقیقت کا کوئی وجود نہیں لہٰذا کسی عظیم مقصد کے لیے جدوجہد بے معنی اور فضول ہے۔ ہیومن کو اپنی نفسانی خواہشات کے حصول کے لیے کلی طور پر وقف کر دینا چاہیے۔ یہ عیاشانہ نہیلزم ہے۔ اس کے برعکس وحشیانہ نہیلزم یہ ہے کہ چوں کہ کوئی حق نہیں لہٰذا سب کچھ ممکن ہے جو ہیومن چاہے۔ تمام معیارات خیروشر لایعنی اور لغو ہیں اور واحد قوت محرکہ غلبہ کے حصول کی خواہش ہے۔ ہیومن بینگ اپنی مرضی کو کائنات پر مسلط کرنے کی مستقل جستجو سائنس کے ذریعے بھی کرتا ہے اور سیاسی تفوق کے حصول کے ذریعے بھی۔ہائیڈیگر کا دعویٰ ہے کہ مغربی فلسفہ میں وجود کی حقیقت کو غلط سمجھا جا رہا ہے اور اس غلط فہمی ہی نے مغربی تہذیب کو تباہی سے دو چار کر دیا ہے۔ چوں کہ مغرب وجود کی حقیقت کی غلط تعبیر کرتا ہے لہٰذا اس کی فکر اور اس فکر سے برآمد شدہ نظریات اور تصورات گم راہ کن اور ضرر رساں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مغرب میں لاابدیت (nothingness) ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔

وجود کی کج فہمی کا سب سے اہم مظہر ہائیڈیگر کے مطابق افلاطون ہے جو انسانی وجود کو ایک دائمی اور ابدی حقیقت تصور کرتا ہے۔ وہ وجودی تغیر کے امکان کو ردّ کرتا ہے۔ افلاطون کا یہ تصورِ وجود پوری مغربی فکر پر صدیوں غالب رہا ہے اور اس کا غلبہ اتنا مستحکم رہا ہے کہ مغربی مفکرین اس سوال ہی کو بھول گئے ہیں کہ وجود کی حقیقت کیا ہے۔ بقول ہائیڈیگر مغربی فکر کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ وجود کی حقیقت کو معلوم کرنے کی سعی فراموش کر چکا ہے۔ ہائیڈیگر اس خصوصیت کو forgetfulness of being کہتا ہے۔

وجود کی حقیقت کی ناآشنائی اور فراموشی کے نتیجے میں نہیلزم نے فروغ پایا۔ تمام معیارات خیروشر لایعنی نظر آنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں وحشیانہ خواہشات کی تکمیل معاشرہ کا شعار بن گیا۔ لیکن بقول ہائیڈیگر نہیلزم محض ایک منفی رجحان نہیں۔ نہلسٹ رویہ کی عمومیت کے نتیجے میں یہ بھی ممکن ہو گیا کہ انسان ہیومن بینگ کی حقیقت کو تخلیق کر سکے۔ مغرب کا انسان نہیلزم کے اس امکان سے مستفید صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ مغربی تصور ذات[380] اور ذات کی حقیقت کی فراموشی کے رویے کو ترک کر کے وجود کی حقیقت کی شناسائی کی اہمیت کو تسلیم کرے۔

ہائیڈیگر نے اپنی مشہور کتاب "Being and Time" میں ہیومن بینگ[381] کو ایک تاریخی وجود کے طور پر متصور کیا ہے۔ دازن (Dasien) کاوقت سے گہرا ربط ہے۔ دازن کی تخلیق میں وقت ایک اہم کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دازن ایک تاریخی وجود ہے اور تاریخی عمل کے ذریعے ہی دازن کی حقیقت کا ادراک ممکن ہے۔ ادراک وجود وہ بنیاد ہے جس پر علم کے حصول کی جستجو ممکن ہو جاتی ہے۔ ادراک وجود کی جستجو کو فراموش کر کے انسان نطشے کا Last Man بن گیا ہے۔ اس نے آزادی، عظمت، حسن اور فراست کو ترک کر کے محض اپنے آپ کو حصولِ لذت اور سہولت کی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا ہے۔ وہ شمار کرنے والا حیوان calculating being بن گیا ہے جس کے لیے ندرت اور تخلیقی تخیل ناممکن ہے۔

دازن کے ادراک کی فراموشی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغرب اس مغالطہ میں مبتلا ہے کہ وہ دازن کی حقیقت سے خوب واقف ہے۔ افلاطون اور اس کے پیرو [382]دازن اور وقت کے تعلق کو فراموش کرتے ہیں۔ وہ دازن کو ایسی ابدی حقیقت تصور کرتے ہیں جن پر وقت اثرانداز نہیں ہوتا اور جس میں تغیر رونما نہیں ہوتا لیکن دیگر تمام اشیا کی طرح دازن (انسانی وجود) بھی مسلسل تغیر پذیر ہے[383]۔ دازن تاریخی تغیر سے تعمیر اور تبدیل ہوتا رہتا ہے اور دازن کےلیے تاریخ سے ماورا ہونا ممکن نہیں۔ ہائیڈیگر اسی کو facticity کہتا ہے۔
ہائیڈیگر کے بقول دازن (ہیومن وجود) Sein (وجود) کا سب سے زیادہ منفرد مظہر ہے کیوں کہ صرف دازن ہی وجود کی حقیقت کے ادراک کی جستجو کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یعنی دازن ہی اپنے مستقبل کے بارے میں متفکر ہے۔ بیج درخت بن جاتا ہے۔ درخت کے علاوہ اور کچھ نہیں بن سکتا اور بیج کے درخت بننے میں بیج کے ارادہ کو کوئی دخل نہیں۔ بقول ہائیڈیگر دازن وہ واحد وجود ہے جس کے کئی ممکنہ مستقبل ہو سکتے ہیں۔ دازن وہ واحد وجود ہے جو اپنے مستقبل کے بارے میں متفکر رہتا ہے اور تاریخی عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کی تخلیق کی جستجو کرتا رہتا ہے۔ دازن ایک تاریخی وجود ہے۔ تاریخی عمل کے ادراک کے ذریعے ہائیڈیگر کو توقع ہے کہ صرف دازن کی حقیقت آشکارا نہیں ہو گی بلکہ تمام وجود کی حقیقت کا ادراک بھی کسی نہ کسی حد تک ممکن ہو جائے گا۔

"Time and Being" جس بنیادی سوال سے بحث کرتی ہے وہ تغیر وجود ہے [384]۔ دازن ہمیشہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پھینکا ہوا پاتا ہے کہ جہاں وجودوں کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے۔ فرد کا بنیادی وجود ہمیشہ ایک مخصوص نظام تعلقات کا حصہ ہوتا ہے جس نظام میں فرد اپنے آپ کو پیوست پاتا ہے۔ یہ نظام وجود کے اعمال کی نوعیت اور مقصدیت کی ایک مخصوص تشریح پیش کرتا ہے۔بیش تر وقت فرد اس نظام کے اقدار، معیارات، ترجیحات اور ضوابط کو قبول کر کے ویسی ہی زندگی گزارتا ہے جیسا اس نظام میں رائج معروف تصور کی جاتی ہے۔رائج شدہ اقدار اور ضوابط کی اس پابندی کو ہائیڈیگر زوال پذیری کہتا ہے۔ فرد وہی کرتا ہے جو وہ سب کرتے ہیں اور اس کی زندگی غیر معتبر اور مصنوعی ہوتی ہے۔ جو وجود رائج اقدار اور ضوابط کو بغیر تنقید قبول کرے اس کو ہائیڈیگر "the they selves" کہتا ہے یعنی ایسا فرد جس کے زندہ رہنے کا طریقہ وہ سب "the they" متعین کریں۔

بقول ہائیڈیگر وجود کے ادراک کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب روزمرہ زندگی گزارتے ہوئے فرد کو موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک غیر معتبر اور مصنوعی وجود[385] موت کو دوسروں کے حادثہ کے طور پر محسوس کرتا ہے ایک ذاتی تجربہ کے طور پر محسوس نہیں کرتا۔ اس کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ موت اس کا مستقبل ہے اور ہر لمحہ یہ مستقبل حال کی طرف راجع ہے۔ موت کا حقیقی اور معتبر ادراک فرد میں وہ روحانی خلش پیدا کرتا ہے جو اس کے وجود کے ادراک کے لیے ناگزیر ہے۔انفرادی موت کی لامحالیت (Inevitablitiy) فرد کو احساس دلاتی ہے کہ وہ جو مقاصد انفرادی طور پر حاصل کر سکتا ہے وہ محدود اور تاریخی طور پر بڑی حد تک متعین ہیں لیکن چوں کہ انفرادی موت کا حقیقی ادراک وجود مطلق کے ادراک کا ذریعہ ہے لہٰذا ایسے ذاتی امکانات کی لازمی محدودیت کے احساسات کے ساتھ ساتھ فرد اپنی اجتماعیت کے تاریخی امکانات کا ادراک بھی حاصل کرتا ہے۔"Time and Being" ان معنوں میں ایک نامکمل کتاب ہے کہ موت کے معتبر طریقہ ادراک اور تجربہ کی تفصیل نہ بیان کی جا سکی۔ دازن اور بالخصوص وجود مطلق کے امکانی مستقبل کے شعور کی بنیاد پر عمل اور وجود کی تعمیر کی فلسفیانہ توجیح بھی پیش نہ کی جا سکی [386]۔

15.6۔ ہائیڈیگر اور نازی ازم

۱۹۲۰ء کی دہائی کے وسط سے ہائیڈیگر نے نازی تحریک سے اپنی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ اس کے خیال میں نازی معاشرتی اور سیاسی غلبہ کے نتیجے میں ایک ایسی باہمت اور عقلیت پرست سیاست اور اخلاقیات کے وجود میں آنے کا امکان تھا جو ذات کے حقیقی اور معتبر ادراک کو ممکن بنا دےگی۔ معاشرتی اصلاح اور ریاستی تعمیر نو کے عمل میں ہائیڈیگر نے اپنی یونی ورسٹی کو نازی جماعت کے لیے فکری قیادت فراہم کرنے کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں اور اپنی سربراہی کے دوران ہائیڈیگر کو ان اساتذہ سے مقابلہ کرنا پڑا جو اس کی مجوزہ اصلاحات کے مخالف تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ نازی پارٹی کی یونی ورسٹی میں دخل اندازی سے بھی ہائیڈیگر دل برداشتہ ہو گیا[387] اس کے باوجود ہائیڈیگر کی نازی حکومت سے توقعات کسی نہ کسی حد تک قائم رہیں۔ ۱۹۵۳ء میں اپنی کتاب "Introduction to Metaphysics" میں اس نے نازی پارٹی کو ایک عظیم تحریک کہا اور نازی فکر میں موجود عظیم اندرونی حقیقت کا اعتراف کیا۔ ہائیڈیگر نے کبھی ان بیانات سے رجوع نہیں کیا جو اس نے نازیوں کے حق میں ان کے دورِ اقتدار میں دیے تھے[388]۔

ہائیڈیگر کے فلسفہ اور نازی فکر میں کیا مماثلت ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہائیڈیگر کے تصورِ جدید انفرادیت کو زیربحث لائیں۔ ہائیڈیگر کے مطابق دورِجدید کا نمایندہ فرد ایک ایسی دنیا کا رہائشی ہے جہاں زندگی کے ہر شعبہ پر ٹیکنالوجی غالب آ گئی ہے اور ایک عام آدمی نوعی طور پر ایک عامل اور کارکن بن گیا ہے۔ نازی ازم اور مارکس ازم دونوں اس تصورِ انسانیت کو قبول کرتے ہیں اور ہائیڈیگر کو امید تھی کہ نازی ازم کا یہ تصور انفرادیت ایک اعلیٰ، عظمت پرست اخلاقیات اور سیاسی نظام کی تشکیل کی بنیاد فراہم کرے گا لیکن ہائیڈیگر کی توقعات کے برخلاف نازی قیادت کی عظمت کی جستجو نسل کشی اور جنگ و جدل پر منتج ہوئی اور اسی قتل و غارت کو انہوں نے جرمن قوم کی آزادی اور ترقی کے فروغ کا ذریعہ سمجھا۔

۱۹۴۵ء سے لے کر اپنی موت تک ہائیڈیگر نازی ازم کی اسی کج فہمی پر غور کرتا رہا۔ اس کی رائے میں نازی ازم کی ناکامی ماڈرن ازم کی ناکامی کا ایک مظہر ہے۔ جدید انفرادیت خودانحصاری اور آزادی مطلق کی دعوے دار ہے۔ اس دعوے کے نتیجے میں انسان کائنات میں اجنبی ہو جاتا ہے۔ وہ فطرت سے ہم آہنگ نہیں رہتا بلکہ فطرت اپنے ارادے کے ماتحت کر کے اس کی تسخیر کرنا چاہتا ہے۔ یہ کام سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جاتا ہے[389] لیکن ٹیکنالوجی صرف فطری قوتوں کو مسخر نہیں کرتی فطرت انسانی کو بھی مسخر کرتی ہے اور کچھ افراد کو کچھ دیگر افراد کی حاکمیت قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے لہٰذا ماڈرن معاشرہ انفرادی تصادم اور کش مکش سے بھر جاتا ہے۔ اس کش مکش کو منظم کرنے اور ضرررساں نہ ہونے دینے کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ معاشرتی اور ریاستی سطح پر درجہ بندی، تحکم اور تقسیم کے ادارہ مراتب کا ایسا وسیع جال بچھایا جائے جو ہر شخص کو دورِ حاضر کی ٹیکنالوجیکل ضروریات کو فروغ دینے کا ایک آلہ کار بنا دے۔ طبقاتی کش مکش کی بنیادی وجہ ہائیڈیگر کے مطابق تسخیر کائنات کے ٹیکنالوجیکل عمل کا تسلسل ہے۔ چوں کہ ماڈرن فرد آزادی کی پرستش کرتا ہے اور چوں کہ آزادی کا فروغ لازماً کائنات کی ٹیکنالوجیکل تسخیر ہے لہٰذا جدید معاشرتوں میں سماجی اور ریاستی ٹیکنالوجائزیشن بھی ناگزیر ہے اور انفرادی اور گروہی تصادم اور کش مکش بھی ناگزیر ہے۔ اس کش مکش کے نتیجے میں انسان خود ٹیکنالوجی کا آلہ بن جاتا ہے۔ طلب آزادی اس کو ٹیکنالوجی کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ وجود کی تفہیم کے قابل نہیں رہتا، وہ نطشے کا لاسٹ مین بن کر ہائیڈیگر کے ’’دیگر سب‘‘ جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ طلب آزادی کو مقصد حیات بنانے کا یہی المیہ ہے۔

انسان وجود کی حقیقت تاریخ میں تلاش کرتا ہے۔ تاریخ حیات کو ایک زمانی تسلسل عطا کرتی ہے لیکن وجود کی لامعنویت سے چھٹکارا دلانے سے خود قاصر ہے کیوں کہ وہ کسی بامعنی مستقل کی نشان دہی نہیں کرسکتی۔ اپنی تاریخ کی تعبیر انسان لامحالہ ایسے نظریاتی مفروضوں کی بنیاد پر کرنے پر مجبور ہے جو غیرعقلی اور arbitrary ہوتے ہیں۔ تاریخ مخصوص مفروضاتی نظریاتی تناظر کے لازماً تابع رہتی ہے[390]۔ جو تاریخ آزادی کی جستجو کا جواز بیان کرتی ہے (یعنی مارڈنٹی کی تاریخ) وہ تسخیر کائنات کو مقصد حیات متصور کرتی ہے اور اس تاریخی تعبیر کے زیراثر گروہ یہ تسخیری عمل فطرت پر بھی مسلط کرتے ہیں اور انسانیت پر بھی۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی نہ ختم ہونے والی جنگ کی صورت میں نکلتا ہے جس میں انفرادی ذاتی لامعنویت کو عبور کرنے کا ذریعہ گروہی تسخیر کائنات کے مشن کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ آزادی کی جستجو کے نتیجے میں ہیومن بینگ وحشی درندہ بن جاتا ہے۔

ہائیڈیگر کہتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام کی تین اشکال ہیں: امریکن ازم، مارکس ازم اور نازی ازم۔ اس کی رائے میں ان تینوں تصورات اور طرز حیات اور معاشرت کی مابعد الطبیعیاتی بنیادیں یکساں ہیں اور یہ تینوں نہیلزم کے غماز ہیں۔ ان تینوں طرز ہائےمعاشرت میں ذاتی زندگی لامعنی ہو کر رہ گئی ہے اور ہر جگہ ذاتی زندگی پر اجتماعی حیات غالب آ گئی ہے اور اجتماعی حیاتی جہتوں نے انفرادی حیات پر اپنی آمریت قائم کر لی ہے۔ سائنس، معاشیات، ٹیکنالوجی اور ریاستی پالیسی کی آمریت روز بہ روز مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لبرل ازم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی غلام ہے اور اس نے کارپوریشن کے ذریعے فرد کی زندگی کو معاشی بڑھوتری کا آلہ کار بنا لیا ہے۔ یہی کام مارکس ازم نے بھی کیا۔ امریکن ازم اور مارکس ازم دونوں انفرادی ذات کو معاشرتی تنظیم کا محض ایک اظہار سمجھتی ہیں اور عقلیت کی ایک ایسی تعبیر پیش کرتی ہیں جس میں علم کی معراج شماریاتی حیوانیت ہے اور عقل کا فریضہ صرف یہ رہ گیا ہے کہ تسخیرکائنات کے عمل میں ارتقا کو ناپا جاتا رہے۔ نازی ازم عقل کی جگہ نوعی جبلت کی تحکیم کی قائل ہے۔ یہ نوعی جبلت انسانیت کے ایک مخصوص گروہ کو لامحدود قوت حاصل کرنے پر اکساتی ہے اور تاریخ میں غالب محرکِ تغیر نطشے کا "Will to Power" ہی ہے۔ اس will to power کی تجسیم وہ قیادت ہے جو نطشے کے Ubermensh کی مماثل ہے اور ان کے انہی ارادہ انفرادی ذات کی لامعنویت پر پردہ ڈال کر اس کے گروہی مقاصد کی مفروضہ معنویت میں ضم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لیکن یہ سحر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا کیوں کہ نازی ازم کا تصور ذات Ubermensh اور لاسٹ مین بنیادی طور پر حیوانی ہے اور حیوانی وجود کسی معنویت کا دائمی اظہار نہیں کر سکتا۔

ہائیڈیگر کے مطابق مغربی فکر اور تہذیب کا مستقبل تاریک ہے کیوں کہ وہ وجود کی معنویت کی جستجو کو ترک کر چکا ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں وجود کی معنویت کے سوال کو اسی طرح اٹھایا جا سکتا ہے جس طرح سقراط سے قبل یونانی فلسفیوں نے اس سوال کو اٹھایا تھا۔ ہائیڈیگر کے مطابق نہیلزم اس سوال کو ازسرنو اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ نہیلزم کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ وجود کی کوئی مستحکم بنیاد نہیں بلکہ وجود کی ایک وسیع ہیجان سے بھرپور ایک خلا ہے۔ نہیلزم کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ مذہب، اخلاقیات، سیاست اور معاشرت کی کوئی مستحکم بنیاد نہیں اور مغربی مفکرین مذہبی، سیاسی اور معاشرتی وجود کی حقیقت بیان کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔
ہائیڈیگر کے مطابق نہیلزم یہ ممکن بنا دیتا ہے کہ ہم وجود کی نوعیت کے بارے میں جو سوال اٹھا رہے ہیں اس کو تبدیل کر دیں۔ ہم یہ نہ پوچھیں کہ” وجود کیا ہے“ کیوں کہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا[391] بلکہ ہم یہ پوچھیں کہ وجود کیسے کارفرما ہے؟ سائنس یہی کرتی ہے ،وہ وجود کی اصلیت جاننے سے قاصر ہے لیکن اشیاء میں تغیر کے عمل کو سمجھ کر ان کو ارادۂ انسانی کے تابع کر کے تسخیر کائنات کا ذریعہ بنا دیتی ہے[392]۔کارفرمائی کی یہ تفہیم تاریخی عمل میں جاری رہتی ہے۔ تاریخ فقط fate کی طرف مراجعت کا عمل ہے۔ ہر تاریخی دور کارفرمائی کے عمل کی تفہیم میں شے کی حقیقت کے مختلف تصورات وضع کرتا ہے جن کی نفی اگلا تاریخی دور کر دیتا ہے۔ یہ عمل کبھی ختم ہونے والا نہیں اور ابدیت فقط fate کی طرف مراجعت کا عمل ہے[393]۔مغربی تہذیب نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ ہیومن بینگ fate سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت پیدا کرے۔ دور حاضر کی سیاسیات اور ٹیکنالوجی وجود کی کارفرمائی کی ایک اعلیٰ تفہیم پیش کرتی ہیں۔ دورِحاضر کی ٹیکنالوجی اور سیاسیات ہیومن بینگ کو قدیم مفروضاتِ وجود سے آزاد کرنے کا ذریعہ ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور سیاسیات تفہیم نوعیت تغیر ذات کے لیے ناگزیر ہیں لیکن یہ تغیر ذات کیا سیاسی علمیاتی اور ثقافتی شکل اختیار کرے گی۔ fate کیا ہے؟ اس کا جواب ہائیڈیگر کے پاس موجود نہیں اور اس بارے میں وہ ویسے ہی خاموش ہے جیسے موت کے بارے میں[394] ۔ fate کی حتمیت کو قبول کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنی انفرادی موت کو ایک authentic واقعہ کے طور پر قبول کرنے کی تیاری کی جائے اور یہ بھی کہ اپنی قوم کی تاریخی جدوجہد فروغ تفہیم ذات یعنی حصولِ تسخیرِ کائنات اور آزادی میں انفرادی جدوجہد کو سمو دیا جائے۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے فرد کو بڑی سے بڑی قربانی دینے پر آمادہ ہونا چاہیے لیکن ہائیڈیگر یہ بیان نہیں کر سکا کہ ان قربانیوں کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ کیا قومی جدوجہد سےتسخیرکائنات اور تسخیرکائنات کے نتیجے کی اصل نوعیت واضح ہو جائے گی۔ اصولاً تو یہ ناممکن ہے کیوں کہ بقول ہائیڈیگر وجود کی ماہیت صرف عدم وجود ہے اور تاریخی عمل سے عدم وجود تغیر کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں اور ہر تاریخی دور اپنے پچھلے ادوار کے تصوراتِ وجود کی لامعنویت کا اظہار ہوتا ہے۔ کیا نہیلزم کوقبول کر کے Ubermensh کی بہیمیت کے آفاقی غلبہ کی راہ تیار کی جا رہی ہے؟ کیا فرد کی قضا (fate) کچھ اور ہے؟ ہائیڈیگر ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیتا۔ لیکن تسخیر انسانیت اور تسخیر کائنات کی ابدی جدوجہد میں پنہاں جو خطرات پیوستہ ہیں اور جن کا اظہار ہٹلر کے دور حکومت میں کسی حد تک ہوا، ان کی بنیاد پر ہائیڈیگر نے اس سعی کے جواز کو کبھی ترک نہ کیا۔ گو کہ وہ خود نازی حکومت کے خاتمے کے بعد اکتیس سال تک زندہ رہا۔

ہائیڈیگر سرمایہ دارانہ علمیت اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی فطری خباثت اور شیطنت سے بخوبی واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آزادی یعنی سرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد کا نتیجہ بہیمیت کے فروغ کے علاوہ کچھ نہیں۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ سرمایہ کی بڑھوتری یعنی آزادی کی جدوجہد ایک مہمل، ناقابلِ حصول اور نامعقول کاوش ہے اور ان معنوں میں نطشے کی طرح ہائیڈیگر بھی پوسٹ ماڈرنسٹ مکتب فکر کے بانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔لیکن ہم اس کو سرمایہ داری کا نقیب کہنے میں اس لیے حق بجانب ہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ عمل یعنی سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی، سائنس اور تنظیم معاشرت اور ریاست کےلیے ناگزیر سمجھتا تھا۔ اس کی رائے میں وجود کی کوئی ابدی حقیقت نہیں اور تسخیر کائنات کا عمل یعنی بڑھوترئ سرمایہ کی جدوجہد کے ذریعے ہی انسانی ارادہ کائنات پر تسلط حاصل کرنے کا مکلف ہے لہٰذا آزادی کی لامعنویت اور فطری خباثت کے باوجود اس کو بحیثیت ایک قدر کے قبول کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی دورحاضر کی پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کی ایک خصوصیت ہے اور انفرادی آزادی کو ناقابل حصول ہدف کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کو ایک اقداری ہدف کے طور پر قبول کرتی ہے۔

16۔ لسٹ اور شمٹ

سرمایہ دارانہ نظام زندگی مذہبی اجتماعیت کو تحلیل کر کے تاریخی طور پر دو اجتماعیتیں پیدا کر چکا ہے: قومی اجتماعیت اور طبقاتی اجتماعیت[395]۔

مغربی یورپ میں قومی اجتماعیت نے عیسائی اجتماعیت کو مسخر اور منتشر کیا اور سولھویں صدی سے اب تک قوم سازی کا عمل جاری رہا ہے[396]۔ چوں کہ قوم سازی ایک سرمایہ دارانہ معاشرت کی تنظیم ہے لہٰذا قوم سازی کے عمل میں معاشی عوامل لازماً کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

16.1۔ قوم سازی کے معاشی عوامل

اس بات کی تشریح کے لیے جن مفکرین کے نظریات کا احاطہ کرنا مفید ہو سکتا ہے ان میں سے ایک اہم مفکر فریڈرک لسٹ (Fredrick List) ہے۔ وہ ۱۷۸۹ء میں جرمنی میں پیدا ہوا[397]۔ اس دور میں جرمن بولنے والے عوام متعدد آزاد ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے اور جرمن رجواڑے یورپ کے پس ماندہ ترین علاقوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ زندگی بھر لسٹ نے جرمن ریاستوں کو متحد کر کے ایک عظیم معاشی قوت بنانے کی جدوجہد کی۔گوکہ لسٹ مغربی یورپ کے اہم معیشت دانوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن بنیادی طور پر وہ ایک سیاست دان اور سیاسی صحافی تھا۔ وہ پوری زندگی جرمن سیاسی ریاستی اتحاد کی تعمیر کی جنگ لڑتا رہا۔ اس جنگ کو اس پیہم ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ان ناکامیوں سے تنگ آ کر ہی اس نے ۱۸۴۶ء میں خودکشی کی۔ لیکن اس کی جدوجہد رائیگاں نہ گئی اور اس کی موت کے بعد پروشین مدبر بسمارک نے جرمن ریاستوں کو متحد کر کے جرمنی کو ایک عظیم قوت بنا دیا[398]۔

لسٹ دو مرتبہ اپنی ریاست Wutenberg کی مجلس قانون ساز کا رکن منتخب ہوا۔ Wutenberg کی مقننہ میں لسٹ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ لسٹ ریاست کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ان مراعات اور خصوصی ترجیحات کو سمجھتا تھا جو قدیم معاشی صف بندیوں کو دی گئی تھیں۔ لسٹ نے ان مراعات کو ختم کرنے کی جدوجہد کی جس کی شدید مخالفت ہوئی۔ لیکن ریاست برلن نے لسٹ کی تجاویز پر عمل کر کے ریاست کے اندر تمام محصولات کو ختم کر کے ایک آزاد معیشت قائم کر دی۔ ۱۸۱۸ء کے بعد سے لسٹ نے پورے جرمن علاقہ کے دورے کیے[399] تاکہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھائے کہ قومی مفاد اس بات میں مضمر ہے کہ تمام جرمن ریاستیں تجارت اور سرمایہ کاری پر نافذ پابندیاں ختم کر کے ایک مشترکہ جرمن علاقہ تعمیر کریں۔سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ریاستی نوکرشاہی بھی لسٹ کی مخالف ہو گئی کیوں کہ ریاستی معاشی پابندیوں کا خاتمہ نوکرشاہی کے اختیارات میں تخفیف کا ایک اہم سبب بن سکتا تھا۔ لسٹ نے ریاستی نوکرشاہی کی نااہلی، بدعنوانی، سفاکیت اور ظلم کی اپنے اخباری مقالات میں تشہیر کی اور نوکرشاہی اور سیاست دانوں کی مزاحمت کے نتیجے میں اس کو پہلے قید کیا گیا اور بعد میں جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا۔لسٹ نے اپنی جلاوطنی کا دور امریکا میں گزارا۔ امریکا میں لسٹ نے اپنی واحد انگریزی کتاب "American Political Economy" ۱۸۲۷ء میں لکھی اور اس کی سب سے اہم کتاب "Das Nationale System der Politischen Okanomie"[400] بنیادی طور پر انہی نظریات کی تفصیل اور ترتیب ہے جو "American Political Economy" میں پہلی بار پیش کیے گئے تھے۔

ان کتابوں نے ایڈم اسمتھ اور ریکارڈو کی تعلیمات کی مخالفت کی۔ لسٹ کے مطابق معاشی پالیسی کا مقصد انفرادی صارف کی فلاح کو فروغ دینا نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشی حکمت عملی کا ہدف پوری معیشت کی ترقی کو قرار دینا چاہیے۔ اجتماعی قومی معیشت پر توجہ دینے کے نظریہ کی وجہ سے کچھ اکانومسٹس لسٹ کو معاشیات کلاں (Macroeconomics) کے بانیوں میں شمار کرتے ہیں۔ لسٹ نے ریکارڈو کی وضع کردہ Theory of Comparative Advantage کی بھی مخالفت کی۔ اس نظریہ کے مطابق آزاد بین الاقوامی تجارت تمام فریقوں کے فائدے کے لیے مفید ثابت کی گئی۔ لسٹ نے ثابت کیا کہ آزادانہ بین الاقوامی تجارت صرف طاقت ور اور ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کو فروغ دیتی ہے اور غریب اور پس ماندہ ممالک آزاد بین الاقوامی تجارت سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ آزادانہ بین الاقوامی نظام میں شمولیت کے نتیجے میں پس ماندہ ممالک میں صنعت کاری نہیں ہوتی اور ان کی مسابقتی قوت ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کمزور سے کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔لہٰذا کمزور اور پس ماندہ ممالک کو آزاد بین الاقوامی تجارت میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کو درآمدات پر محصول اور دوسری پابندیاں عائد کرنا چاہیے اور اپنی صنعتوں کو فروغ دینا چاہیے۔ جب پس ماندہ ممالک پس ماندہ نہ رہیں اور ان کی مسابقتی قوت بین الاقوامی بازاروں میں ترقی یافتہ ممالک کے مساوی ہو جائے تو انہیں درآمدات پر محصولات وغیرہ ختم کر دینا چاہیے۔صنعتوں کی ترقی اور ان کی بین الاقوامی بازاروں میں قوت مسابقت بڑھانے کےلیے ان کو محصولات اور دوسری مراعات دے کر محفوظ رکھنا ضروری ہے جب تک وہ عہد طفولیت میں ہوں۔ بالکل جیسے بچے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایک جواں مرد سے مقابلہ کرے گا ویسے ہی امریکا یا جرمنی کی نئی اور کم زور صنعتوں سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ برطانوی صنعتوں جو ایک حد سے زیادہ بین الاقوامی بازاروں میں کارفرما ہیں، مساویانہ مسابقت کر پائیں گی۔ یہ لسٹ کی بنیادی دلیل ہے اور اس کی بنیاد پر وہ بین الاقوامی تجارت میں سرمایہ دارانہ ریاست کی مداخلت کا قائل تھا۔

لیکن اگر ریاستی مراعات یافتہ صنعتوں کو بالغ ہونے سے روک دیں تو یہ مراعاتی نظام ملک کے لیے مضر ثابت ہو گا۔ بچے کو ہمیشہ بچہ نہیں رہنا چاہیے۔ لہٰذا وقت کے ساتھ ساتھ صنعتوں کو حاصل مراعات بالخصوص محصولات جو درآمدات پر لگائی گئی ہیں، میں بتدریج کمی ہوتی رہنی چاہیے۔ جب جرمنی یا امریکا مکمل طور پر مسابقت کا مکلف ہو جائے تو کھلی بین الاقوامی تجارت کی پالیسی اختیار کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اصولاً لسٹ آزادانہ بین الاقوامی تجارت کا مخالف نہ تھا۔ اس کے اور کلاسیکی اکنامسٹس اسمتھ اور ریکارڈو کے نظریات میں جو فرق تھا وہ اس بنا پر تھا کہ لسٹ معاشی عمل کو متحرک زاویہ سے دیکھتا ہے جب کہ اسمتھ اور ریکارڈو معاشی عمل کی ایک ساکن حالت کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی توجہ معاشی ارتقائی عمل پر نہیں بلکہ توازن پر ہے۔
معاشی ارتقا کے تجزیے میں لسٹ قومی معیشت کے تین مراحل کی نشان دہی کرتا ہے۔ پہلا مرحلہ جب معیشت صرف زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں زراعت کے ساتھ ساتھ صنعتیں بھی وجود میں آ جاتی ہیں اور قومی معیشت میں ان کا مقداری حجم بڑھ جاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں زراعت، صنعت اور خدمت تینوں شعبہ جات کارفرما ہوتے ہیں اور ترقی یافتہ بالغ معیشت اسی مرحلہ میں قائم ہوتی ہے۔ آزادانہ بین الاقوامی تجارتی پالیسی اختیار کرنا اسی دور میں فائدہ مند ہوتی ہے۔ پہلے دو مراحل میں حکومت ترقی کے حصول کے لیے نوزائیدہ صنعتوں کی حفاظت کے لیے محصولات لگانے پر مجبور ہے لیکن اس مجبوری کو جلد از جلد ختم ہو جانا چاہیے اور اکنامک پالیسی کا ہدف آزادانہ تجارتی نظام میں مساوی مسابقتی قوت کی بنیاد پر شمولیت ہے۔ اس تجزیہ کی بنیاد یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لسٹ آزادانہ بین الاقوامی تجارت کا کوئی اصولی مخالف نہیں۔ اسی وجہ سے جان اسٹوارٹ مل نے اپنی کتاب "Principles of Political Economy" میں لسٹ کے نظریہ Infant Industry کی تصدیق کی ہے اور اس کو آزادانہ بین الاقوامی تجارت کے فروغ سے متصادم قرار نہیں دیا۔ 

امریکا میں لسٹ نے کھیتی باڑی بھی کی۔ وہ ایک کان کا مالک بھی بن گیا اور مشہور امریکی قاتل صدر اینڈریو جیکسن کا مشیر بھی رہا۔ جیکسن نے قانون سازی کے ذریعے ریڈ انڈین قبیلوں سے لاکھوں ایکڑ زمین چھینی اور کئی لاکھ ریڈانڈین قتل کیے۔ اس لوٹ مار اور پیہم جاری سفاکانہ قتل عام کے نتیجے میں امریکی ریاستی تسلط کا رقبہ نہایت تیزی سے وسیع ہوا۔ لسٹ اینڈریو جیکسن کی استعمارانہ بہیمیت کا بھرپور معاون رہا۔لسٹ اپنی پوری زندگی استعماری نظام کے فروغ کا حامی اور وکیل رہا۔ ریڈانڈین قبائل کے قتل عام اور بے دخلی کو لسٹ اس لیے ضروری سمجھتا تھا کہ اس کے بغیر امریکی ریاستوں میں ریلوے کا وسیع جال نہیں بچھایا جا سکتا تھا۔ ۱۸۳۰ء میں قاتل اینڈریو جیکسن نے لسٹ کو امریکی سفیر بنا کر ہیمبرگ بھیج دیا اور اس کو اس بات سے خوشی ہوئی کہ ۱۸۳۲ء میں جرمن محصولاتی اشتراک قائم کرنے کے قریب تھی۔ لسٹ نے واپس آ کر اس ادارے کے قیام کے لیے اور ایک متحدہ جرمن معیشت کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ اس نے اپنی توجہ صرف ریاست تک محدود نہ رکھی بلکہ صنعت کاروں اور تاجروں کو اس ادارے کا حامی بنانے کے لیے ایک ایسے ریل کے نظام کے جلد از جلد قیام کے حق میں پروپیگنڈا کیا جو بڑے بڑے جرمن شہروں کو ملا دے اور بے اندازہ منافع کمانے کے مواقع فراہم کرے۔لسٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریلوے نظام کے قیام کے نتیجے میں ریاستوں کی جنگی صلاحیت میں تیزی سے ترقی ہو گی اور جنگی مواصلاتی نظام مستحکم ہو جائے گا۔ اس نے پہلی جنگ عظیم کی پیش گوئی کی لیکن اس کی خواہش تھی کہ اس جنگ میں جرمنی اور برطانیہ اتحادی ہوں اور فرانس اور روس کا مقابلہ کریں۔ جرمن انگریزی اتحاد کو فروغ دینے کے لیے لسٹ نے انگلستان کا دورہ کیا۔

لسٹ کی اکنامک قوم پرستی کی بنیاد اس کی یہ رائے ہے کہ قومی معیشت ہی نہ کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری یا تجارت ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ اکنامک پالیسی کا بنیادی مقصد قومی معیشت اور اندرونی مانگ کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی معیشت میں شمولیت ترقی کی بنیاد فراہم نہیں کر سکتی۔ محصولات کے نفاذ کا مقصد لسٹ کے مطابق قومی صنعتوں کی پیداواری سکت میں اضافہ ہونا چاہیے۔ اس لیے وہ جن محصولات کے نفاذ پر زور دیتا تھا ان کو تعلیمی محصولات کہتا تھا۔ 

بین الاقوامی تجارتی پالیسی کو لسٹ قومی معیشت کی مجموعی ترقی کے ایک ذریعے کے طور پر متصور کرتا ہے۔ تجارتی پالیسی لسٹ کے مطابق تزویراتی ہونی چاہیے جس کا مقصد انفرادی صارف کی لذت میں اضافہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا ارتقا ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس کلاسیکی اکنامسٹس آزادانہ تجارتی پالیسی کاجواز انفرادی صارف کی لذت کے فروغ کی بنیاد پر کرتے تھے۔ لسٹ انفرادی لذات کے فروغ کے ہدف کو ردّ نہیں کرتا لیکن ملکی مجموعی معیشت کی ترقی کو اولیت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جب مجموعی معاشی ترقی اتنی ہو جائے کہ ملک بین الاقوامی بازار میں مساویانہ مسابقتی قوت حاصل کرے تب آزادانہ تجارتی پالیسی اختیار کر کے صارف کی لذات کے فروغ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل قومی معیشت کی مجموعی ترقی کو ترجیح دینا چاہیے انفرادی صارف کی لذات کے فروغ کو نہیں۔

جب بین الاقوامی مسابقتی قوت میں خاطرخواہ اضافہ ہو جائے تو آزادانہ تجارتی پالیسی اس مسابقتی قوت کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ لسٹ اپنی پالیسی کو تعلیمی آزادانہ پالیسی کہتا ہے یعنی یہ پالیسی ملکی صنعت کاروں، کسانوں اور تاجروں کو مسابقت میں اضافے کے گر سکھانے کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔
نیم ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں اپنی موت کے چند سالوں بعد ہی لسٹ کو ایک مرشد کادرجہ حاصل ہو گیا۔ جرمنی، امریکا، جاپان اور کئی یورپی ممالک نے لسٹ کی تجویز کردہ تزویراتی پالیسی اختیار کی اور بین الاقوامی تجارت کو قومی سرمایہ دارانہ معیشت کی ترقی کا ایک ذریعہ بنایا۔ پروشیا کے مشہور حکمران بسمارک نے محصولات کو وسیع پیمانے پر ملکی صنعتوں اور زراعت کو تحفظ دینے اور فروغ دینے کے لیے استعمال کیا۔
لسٹ نے جس نوعیت کی قوم پرستی کی وکالت کی ہے وہ لبرل قوم پرستی ہے۔ لسٹ خود ایک فری میسن تھا اور ساری زندگی لبرل سیاسی اقدار کی وکالت کرتا رہا۔ وہ ہمیشہ آمریت کا مخالف رہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ لبرل قوانین کے تناظر میں ہی سرمایہ دارانہ قومی معیشت ترقی کرتی ہے اور اس نقطہ نظر کو صرف دورِحاضر کی متحدہ جرمنی نے اختیار نہیں کیا بلکہ یورپی یونین جو اٹھائیس یورپی ممالک پر مشتمل ہے لسٹ کے اس پیغام کو قبول کر چکی ہے کہ:

۱۔ سیاسی اور قانونی نظام کو لبرل اصولوں کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔

۲۔ ایک وسیع مشترکہ منڈی میں آزادانہ تجارت اور صنعت کاری کو فروغ دینا چاہیے اور اس کے لیے ایک مشترکہ زری پالیسی کا نفاذ ضروری ہے [401]۔

۳۔ یورپی یونین میں شامل ممالک نے ایک مشترکہ بین الاقوامی تجارتی پالیسی بھی وضع کی ہے جس کے ذریعے وہ درآمدات پر محصول لگا کر اپنی زراعت اور صنعتوں کو حفاظت فراہم کرتے ہیں اور اپنی زراعت اور صنعتوں اور فنانس کو ترقی دینے کے لیے وسیع پیمانے پر حکومتی مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

لبرل قوم پرست استعمار کے حامی ہوتے ہیں۔ لسٹ بھی جرمن استعماری حکمت عملی کے بانیوں میں تھا۔ وہ جنگ عظیم کو ناگزیر سمجھتا تھا اور خواہاں تھا کہ برطانیہ اور جرمنی ایک مشترکہ استعماری محاذ تشکیل دیں جس کا مقصد پوری دنیا پر بلاشرکت غیرے حکم رانی ہو۔ اس استعماری اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لسٹ روس کو سمجھتا تھا۔ لسٹ امریکی استعمار کا مداح تھا۔ اپنے آپ کو امریک مفکر ہیملٹن کا پیرو کہتا تھا اور اپنے تصور Infant Industry[402] کو ہیملٹن کی فکر سے اخذ گردانتا تھا۔ لسٹ لبرل استعماریت کے فروغ کے لیے فنانس اور فنانشل مارکیٹ کی ترقی کو ناگزیر سمجھتا تھا۔ وہ سرمایہ دارانہ زر کی تخلیق کا پرجوش حامی تھا۔ سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جو سرمایہ دارانہ ریاست خود تخلیق کرتی ہے اور اس کے پیچھے کوئی ٹھوس اثاثہ یعنی سونا یا چاندی نہیں ہوتا۔ اپنے قیام امریکا کے دوران لسٹ نے امریکی ریلوے نظام کی تعمیر کو بڑی حد تک سرمایہ دارانہ زر کی فراہمی کے ذریعے ہی ممکن بنایا ہے۔ جرمنی واپس آنے کے بعد پروشیا کی حکومت کو کئی بار تجاویز دیں کہ وہ سرمایہ دارانہ زر کے ذریعے جرمنی میں ریلوے نظام کی تعمیر کو فنانس کرے۔

قومی سرمایہ داری کے فروغ میں لسٹ نے سرمایہ دارانہ ریاست کے کلیدی کردار پر زور دیا۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے فروغ اور تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور فعال سرمایہ دارانہ ریاست کا قیام ناگزیر ہے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ خودانحصاری نہیں ہوتی۔ کلاسیکی اکنامسٹس کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست کو محض ایک بیرونی چوکیدار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس لسٹ کہتا ہے کہ ریاست کو سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے فروغ کےلیے سرمایہ دارانہ قومی ریاست کو ایک اور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کو قومی سرمایہ کاروں کی معاون اور پشت پناہ قوت کا کردار ادا کرنا چاہیے اور سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت صرف سرمایہ دارانہ ریاست ہی رکھتی ہے [403]۔ بہت سے ممالک (جرمنی، امریکا، روس، جاپان، چین، جنوبی کوریا وغیرہ) میں سرمایہ دارانہ ریاست کا قیام سرمایہ دارانہ مارکیٹ سے پہلے وجود میں آیا اور سرمایہ دارانہ ریاست نے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے معاشرتی غلبے کو قائم کرنے میں ایک اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کو فروغ دینے والی ریاستیں لبرل حقوق فراہم کر سکتی ہیں اور لبرل دستوریت اور مارکیٹ پر تحکم کی پالیسیوں کو بیک وقت اختیار کرنے میں کوئی تضاد نہیں۔ اسی طرح لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ ریاستیں عموماً استعماری بھی رہی ہیں جیسا کہ امریکا، برطانیہ، فرانس، ولندیز اور ہندوستان[404] کی تاریخ سے ثابت ہے۔ لسٹ جان اسٹوارٹ مل ، منرو اور ہابرماس یہ سب لبرل استعماریت کے وکیل رہے ہیں اور تاریخی طور پر ثابت ہے کہ لبرل ازم استعماری نظام کو مرتب کرنے کے کامیاب ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔

16.2۔ فاشسٹ سرمایہ داری

قوم پرستی اور استعماریت لازماً لبرل یا سوشل ڈیموکریٹ نظام کا شاخسانہ ہیں۔ انیسویں، بیسویں اور اکیسویں صدی میں غیرلبرل سرمایہ دارانہ حکومتوں نے استعماریت کو فروغ دیا ہے۔ اشتراکی سرمایہ دارانہ استعماریت کا تجزیہ لینن اورماؤ اور ڈونگ زیاؤپنگ والے ابواب میں پیش کیا گیا ہے۔ اب ہم فاشسٹ سرمایہ دارانہ استعماریت اور قوم پرستی کے ایک کلیدی مفکر کے تصورات کا تجزیہ پیش کریں گے۔

اس مفکر کا نام کارل شمٹ(Carl Schmitt) تھا اور اس نے کانٹ کے تصور لبرل عالمی ثقافت اور شناخت[405] کی ایک جامع تنقید مرتب کی۔ وہ پارلیمانی جمہوریت کا بھی ایک اہم ناقد تھا۔ شمٹ نے بین الاقوامی تعلقات نظریہ قانون اور سیاسی فلسفہ سے متعلق تفصیل سے بحث کی ہے اور اس کے خیالات امریکی دہشت گردی جو ۲۰۰۱ء سے نئے جوش و خروش سے منظم کی گئی ہے، کے اہم ترین ماخذات میں شامل ہیں۔ 

دورحاضر کی امریکی عالمی دہشت گردی کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

۱۔ وہ ایک تنہا پسند قوم پرستی پر مبنی ہے جس کو نیوکنزویٹوازم کہتے ہیں اور جس کے مطابق امریکی قوم یہودی قوم کی طرح خدا کی پسندیدہ ترین قوم ہے جس کو خدا نے تمام عالم پر حکمرانی کے لیے منتخب کیا ہے۔

۲۔ لہٰذا وہ کسی بین الاقوامی قانون اور ضابطہ اخلاق کی پابند نہیں۔

۳۔ اور امریکا کو یہ حق ہے کہ اپنے تمام حلیف اقوام و ممالک کو اپنا دست نگر اور باج گزار بنا لے۔

۴۔ اور ان تمام اقوام اور ممالک کو جو امریکی تابع داری قبول کرنے سے انکار کریں بین الاقوامی نظام سے خارج کر کے ان کو دہشت گرد اور غنڈہ ریاستیں قرار دے۔

اس نظری تناظر کو شمٹ کی سیاسی فکر تقویت دیتی ہے۔ شمٹ اس بین الاقوامی قانونی نظام کی وکالت کرتا ہے جو معاہدہ ویسٹ فیلیا (۱۶۴۸ء)کے بعد سے پہلی جنگ عظیم کے بعد تک نافذ رہا[406]۔ اس دور میں قانوناً ہر خودمختار قومی ریاست کا یہ اصول حق تسلیم کیا جاتا تھا کہ وہ دیگر ریاستوں کے خلاف اعلان جنگ کر دے۔ بین الاقوامی قانون کے اس تصور کے مطابق:

۱۔ قومی ریاست بین الاقوامی نظام کی واحد رکن ہے یعنی افراد یا ادارے کسی بین الاقوامی انفرادیت کے حامل نہیں [407]۔

۲۔ لہٰذا صرف قومی ریاستیں جنگ اور امن کے معاہدے کرنے کا قانونی حق رکھتی ہیں۔

۳۔ قومی ریاست مطلق العنان سیکولر حاکمیت کی حامل ہوتی ہے۔

۴۔ حاکمیت کا یہ اختیار کلی طور پر ریاستی انتظامیہ یعنی بادشاہ یا ڈکٹیٹر کو حاصل ہوتا ہے۔

۵۔ جنگ نظریاتی نہیں ہوتی۔ جنگ کا مقصد قوت اور حکمرانی کی توسیع ہے۔ لہٰذا جنگ کے تمام قومی ریاستی فریق حق بجانب اور عدل پر کاربند ہوتے ہیں۔ نظریاتی کش مکش کا دائرہ کار قومی ریاست کے اندر پائی جانے والی سول سوسائٹی تک محدود تصور کیا جاتا ہے۔

۶۔ چونکہ صرف ریاست کو عسکریت اور تشدد کالامحدود اور بلاشرکت غیرے حق حاصل ہے لہٰذا سول سوسائٹی میں پائی جانے والی نظریاتی کش مکش لازماً پرامن ہونی چاہیے۔ اور سول سوسائٹی میں برپا پرتشدد کش مکش قومی قانون کے دائرہ کار میں ہونی چاہیے۔ ان قوانین کو توڑنے والے ممبر قومی مجرم قرار دیے جائیں گے۔ اس کے برعکس بین الاقوامی قانون پرتشدد کارروائی یعنی جنگ کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ اس کارروائی کو ایک ریاست نے شروع کیا ہو۔ جنگ شروع کرنے اور جاری رکھنے کے لیے کسی نظریاتی جواز کی ضرورت تسلیم نہیں کی گئی۔

جو بین الاقوامی پبلک قانون ریاستوں کے اعلان جنگ کو تسلیم کرتا ہے وہ بقول شمٹ ریاستوں کے لیے یہ بھی لازم کرتا ہے کہ وہ محاربین اور غیر جانب دار ، مسلح افواج اور غیرمسلح عوام اور حالت جنگ اور حالت امن میں واضح تفریق ملحوظ خاطر رکھے۔ شمٹ کے مطابق اس واضح تفریق کی بنیاد پر ہی جنگ تہذیب کو فروغ دینے اور انسانیت کی بقا کو ترقی دینے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مہذب جنگ یعنی وہ جنگ جو یورپی اور امریکی اقوام نے ۱۶۱۵سے ۱۹۱۴ء تک لڑی، بین الاقوامی قوانین کی پابند ہوتی ہے [408]۔ مہذب جنگ کرنے والے فریقین قوانینِ جنگ قائم کرتے ہیں اور ان کا لحاظ کرتے ہیں۔

شمٹ عیسائیت کے تصورِ عادلانہ جنگ کو ردّ کرتا ہے۔ ہر جنگ جو مطلق العنان سلطنتوں کے مابین ہو جائز ہے اور اس کا نظریاتی جواز تلاش کرنا ایک مہمل عمل ہے۔ پندرھویں اور سولھویں صدی کی جو مذہبی جنگیں یورپ میں لڑی گئیں وہ نظریاتی جنگیں تھیں اور ان میں ہر فریق اپنے دشمن کو باطل پرست اور گمراہ تصور کرتا تھا اور اسی جواز کی بنیاد پر اس کے خلاف نبرد آزما تھا اور جنگ کا مقصد عیسائی نظام زندگی کا فروغ تھا۔ ۱۶۴۸ء کے بعد لڑی جانے والی جنگیں نظریاتی نہیں تزویراتی تھیں۔ کوئی فریق کسی اخلاقی آفاقیت کا دعوے دار نہ ہوتا تھا بلکہ صرف اپنے اقتدارِ اعلیٰ کی توسیع کی خاطر برسرپیکار ہوتا تھا۔ وہ اپنے مخالف ملک کو گمراہ اور باطل پرست تصور نہیں کرتا تھا بلکہ انہی تہذیبی روایات کا علم بردار گردانتا تھا جس کو وہ خود اپنائے ہوئے ہوتا تھا۔ بین الاقوامی قانون یکساں مہذب فریقوں کو مہذب جنگ کے قواعد و ضوابط کا پابند بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے اوریہ قومی مملکتوں کے مطلق العنان اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرتا ہے اور بین الاقوامی معاشرت کی انارکزم کو منظم کرنے والا ایک تناظر فراہم کرتا ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد جو صلح نامہ مرتب کیا گیا اس نے جرمنی پر ایک ظالمانہ جنگ برپا کرنے کا الزام لگا کر اس ملک کو جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرایا اور جرمنی پر ناقابل برداشت جرمانہ نافذ کیا۔ شمٹ کہتا ہے کہ اس وقت تک کے وضع کردہ بین الاقوامی قانونی نظام میں اس قسم کے اقدام کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی قوانین جنگ میں جو ترمیمات ۱۹۱۹ء کے بعد کی گئی ہیں اس کے نتیجے میں پبلک بین الریاستی قانون عالمی داخلی قانون بن گیا اور یہ نیا قانون عیسائی تصور عادلانہ جنگ کی طرف مراجعت ہے جو مہذب جنگ اور ریاستی مطلق العنان خودمختاری کے تصورات کی نفی کرتا ہے۔ بین الاقوامی قانون جنگ کی یہ مسخ شدہ شکل مہذب دشمن کے تصور کا انہدام اور اس کے نتیجے میں جنگ کا ہر فریق اپنے مخالف ملک اور قوم کو ہیومینٹی کا دشمن گردانتا ہے اور اس دشمن ہیومینٹی کے خلاف ہر قسم کے ظلم و ستم کو جائز تصور کرتا ہے۔ یہ لبرل تصور جنگ ہے اور اس کا مقصد ہر غیرلبرل فرد، معاشرت اور قوم کو ہیومینٹی کا دشمن قرار دے کر اس کو فنا کر دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

۲۰۰۱ء کے بعد امریکی دہشت گرد ایسی ہی عادلانہ جنگ لڑ رہے ہیں اور بش اسی جنگ کو صلیبی جنگ کا تسلسل قرار دینے میں حق بجانب تھا۔ اس عادلانہ جنگ میں ہر وہ فرد اور ملک جو امریکا کا ساتھی نہیں انسانیت کا دشمن قرار دیا گیا ہے۔ امریکا کا ہر مخالف انسان نہیں حیوان ہے۔ امریکا کے مخالفین کی نسل کشی اسی طرح فرض عین ہے جیسے آٹھ ملین ریڈ انڈینوں کی نسل کشی جو تین صدیوں تک امریکی نہایت فرض شناسی سے سرانجام دیتے رہے۔ اگر ممکن ہو تو ہیومینٹی کی بقا کے لیے ناگزیر ہے کہ امریکا کے ہر مخالف کو بدترین تعذیب اور ٹارچر کا شکار بنایا جائے۔ چوں کہ امریکا کا ہر مخالف ہیومینٹی کا ازلی دشمن ہے لہٰذا اس سے کبھی بھی صلح نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک ختم نہ ہونے والی جنگ ہے کیوں کہ اس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ امریکا کا ہر مخالف فرد اور قوم یا توموت کے گھاٹ اتار دیا جائے یا ان کو لبرل بنا دیا جائے[409]۔

لبرل عادلانہ جنگ غیرلبرل انفرادیت، معاشرت اور ریاست کی مکمل تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ لبرل دہشت گرد کسی غیرلبرل فرد، معاشرہ یا ریاست کو بین الاقوامی نظام کے قانونی رکن کے طور پر قبول نہیں کرتا لیکن اگر غیرلبرل افراد یا اقوام لبرل استعماریوں کی باج گزاری تسلیم کریں تو ان کا وجود برداشت کیاجاتا ہے۔ لبرل استعماری ممالک اپنے اس حق کا دعویٰ کرتے ہیں کہ غیرلبرل ممالک پر حملہ کر کے ان کو لبرل اقدار کو قبول کرنے پر مجبور کریں۔ ۲۰۰۵ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک اعلامیہ کے ذریعے جسے R2P کہتے ہیں[410] لبرل استعماری ممالک کے اس حق کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا اور اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے امریکی دہشت گردوں نے عراق ، افغانستان، سربیا، لیبیا اور صومالیہ [411] پر فوج کشی کی۔ اسی نوعیت کی دہشت گردی کو بین الاقوامی قانون Humanitarian Intervention کہتا ہے۔ انسانیت پسندانہ مداخلت لبرل جنگ کی قانونی شکل ہے۔ امریکی دہشت گرد اس اقدام کو spaceless universalism بھی کہتے ہیں۔شمٹ spaceless universalism کے مقابلے میں GroBrume کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس سے مراد ایسے وسیع علاقے ہیں جہاں ایک استعماری ملک غالب ہو۔ لبرل GroBrume اور اشتراکی GroBrume مختلف نوعیت کی انفرادیت، معاشرت اور ریاست پر مشتمل ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں۔ اگر ان کے درمیان جنگ ہو تو ۱۶۴۸ء تا ۱۹۱۳ء تک کے دور کی مہذب نوعیت کی جنگ ہو جس کا مقصد کسی عالمی نظریاتی غلبہ کا قیام نہ ہو بلکہ جنگ کا خاتمہ ایک نئے معاہدہ امن پر ہو جو ایک نئی تقسیم اختیارات اور قوت کو قانونی جواز فراہم کرے۔

شمٹ کا ایک مخصوص نظریہ ریاست ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ریاست کا جواز انفرادی حقوق کی فراہمی نہیں بلکہ امن اور نظم کی فراہمی ہے۔ نظم کے استحکام کے لیے ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب نظم کو خطرہ میں محسوس کرے تو ایک حالت ایمرجنسی کا اعلان کرکے ان بنیادی حقوق کو معطل کر دے جو سٹیزن کو دستوری طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ حق سربراہِ مملکت کو حاصل ہوتا ہے اور اسی حق کی بنیاد پر سربراہِ مملکت کو مطلق العنان حاکمیت کا سرچشمہ گردانا جاتا ہے[412]۔

ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد ریاست کا تحفظ اور نظم کا استحکام ہوتا ہے۔ ایمرجنسی، ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بننے والے اندرونی دشمنوں کو ان تمام حقوق سے محروم کر دیتی ہے جن کو استعمال کر کے وہ ریاست کی وحدانیت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ریاست کی بقا اور اجتماعی خودانحصاریت سیاسی اور معاشرتی یکسانیت کا فروغ ضروری ہے اور ریاست اور اس کے سربراہ کافرض ہے کہ وہ ریاست کے تحفظ اور نظم کے استحکام کے لیے انتشار انفرادیت سے معاشرہ اور ریاست کو بچائے۔ لبرل جمہوریت اسی نوعیت کا انتشار انفرادیت پیدا کرتی ہے۔ بقول شمٹ سرمایہ دارانہ معاشرت اور معیشت کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اقوام کے اندر انفرادی اور طبقاتی تصادم کو جنم دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں ریاست اور نظم عمومی کا استحکام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرتی اور سیاسی یکسانیت اور ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ اس یکسانیت کو پیدا کرنے کے تین ذرائع ہیں:

۱۔ حکمران کی مطلق العنان حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔

۲۔ غیرممالک کے خلاف اقدام مہذب جنگ۔

۳۔ ریاست کا ان باشندوں کے خلاف ظلم (ان کو بنیادی حقوق سے محروم کرکے) جو اس یکسانیت کی راہ میں حائل ہوں۔

شمٹ کے مطابق قومی یکسانیت لازماً نسلی ہو گی۔ ایک نسل کو باور کرا دیا جائے کہ اندرونی اور بیرونی دشمن مستقل اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور یہ سازشیں اس کے نسلی وجود کو خطرہ میں ڈال رہی ہیں۔ معاشرتی خوف و ہراس کی ایک ایسی مستقل فضا پیدا کی جائے کہ نسلی قوم کے تمام افراد اپنے تمام اختلافات کو فراموش کر کے اپنے نسلی قائدین کے اندھے پیرو بن جائیں اور ان نسلی قائدین کی بلاتامل تابع داری کو اپنی قومی بقا کے لیے لازمی تصور کریں۔ شمٹ اسی عمل کو جمہوریت کہتا ہے اور اس جمہوریت کا اظہار ان گاہے گاہے منعقد ہونے والے ہجومی اجتماعیت کو گردانتا ہے جن کے ذریعے نسل کا ایک فرد اپنے نسلی قائد کے لیے ہرقربانی دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

شمٹ نازی پارٹی کا حامی ویمر ری پبلک کے دور ہی میں بن گیا تھا۔ ۱۹۳۲ء میں وہ نازی جماعت کا رکن بن گیا۔ وہ ہٹلر کی جنگی مہمات کا حامی تھا۔ ان فتوحات کی بدولت وہ دائرہ حاکمیت مستقل وسعت پذیر ہوتا جا رہا تھا جہاں جرمن نسل کا نظام اقتدار مستحکم ہو۔ ان فتوحات کے ذریعے جرمن نسل کا معاشرتی اور سیاسی نظام دنیا میں قائم کیا جاتا ہے۔ جرمن سیاسی نظام کے قیام اور فروغ کے لیے علاقائی قبضہ کی توسیع ناگزیر ہے کیوں کہ یہ ارضی قبضہ سیاسی نظام کی مادی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ قانون اسی ارضی قبضہ جاتی قانون کی تنفیذ کو ممکن بناتا ہے۔ قانون آفاقی اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر وضع نہیں کیا جاتا بلکہ قوم اسے اپنے زور بازو سے فتوحات کے ذریعے اپنے دائرہ حاکمیت، اپنی قومی روایات اور ترجیحات کی بنیاد پر قائم کرتی ہے۔ مطلق العنان حکمران دستور ساز ہے۔ دستور کا تابع نہیں۔ انفرادی حقوق کا سرچشمہ نسلی قوت ہے۔ مقتدر اعلیٰ کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اور جس کے لیے چاہے ان انفرادی حقوق معطل کر دے۔ بقول شمٹ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جرمن استعماریت حق کی واضح ترین تشریح ہے۔ شمٹ نے امریکی صدر وڈرو ولسن کے اس منافقانہ رویے کی شدید تنقید کی جو ولسن نے معاہدہ ورسیلز کے موقع پر ظاہر کیا۔ ولسن کے مطابق پوری دنیا کو لبرل بین الاقوامی قانون کے تابع ہو جانا چاہیے لیکن شمالی اور جنوبی امریکا میں اسی لبرل بین الاقوامی قانون کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں اور سب قوموں کو امریکا کا یہ حق تسلیم کرنا چاہیے کہ شمالی اور جنوبی امریکا میں ریاست ہائے متحدہ امریکا خودمختار حاکمیت اعلیٰ کا واحد سرچشمہ ہے۔

شمٹ کا تصور مطلق العنان حاکمیت کے سربراہ مملکت کو غیرمحدود اختیارات کا حامل بیان کرتا ہے۔ یہ نسلی نمایندہ فرماں روا نطشے کا Ubermensh فوق البشر ہے جو توسیع سلطنت بذریعہ جنگ اور اندرونی دشمن کی محرومی بذریعہ نسلی مظالم اور دستوری حقوق کی عدم فراہمی، نسلی نظام اقتدار کو مستقل توسیع دیتا رہتا ہے۔ اور دنیا پر اپنا نسلی تحکم واضح سے واضح کرتا رہتا ہے۔ شمٹ ہٹلر کی نسل کشی کا امریکا کی ریڈ انڈینوں کی نسل کشی سے موازنہ کرتا ہے۔ وہ ان دونوں اقدامات کو حق بجانب تصور کرتا ہے کیوں کہ ان کے ذریعے ہی امریکی اور جرمن سیاسی نظام قائم ہو سکے لیکن ریڈ انڈینز کا قتل عام ہٹلر کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع تھا، جس کا شمٹ کو افسوس ہے، کیوں کہ امریکیوں نے آٹھ کروڑ ریڈ انڈین قتل کیے جو ہٹلر کے قتل عام (جو اس نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں تقریباً دس سال تک جاری رکھا) سے سات گنا زیادہ تھا[413]۔

شمٹ سرمایہ دارانہ ریاست کو سرمایہ عمومی کا نمایندہ سمجھتا ہے۔ سرمایہ عمومی کا شمٹ کا تصور عالمی نہیں (جیسا کہ لبرل سرمایہ داروں کا خیال ہے) بلکہ قومی ہے۔ فاشسٹ ریاست سول سوسائٹی اور مارکیٹ میں ان نجی قوتوں کی تحدید کرتی ہے جو قوم کے مجموعی مادی مفادات کے فروغ کی راہ میں اپنے انفرادی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ قومی مفاد کسی نظریہ کے فروغ میں مضمر نہیں۔ بلکہ قومی مفاد سے مراد ہے قومی کی آزادی، خود مختاری، قوت اور سرمایہ میں لامتناہی اور مسلسل اضافہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فاشسٹ ریاست اشتراکی ریاست کی طرح ایک سرمایہ دارانہ ریاست ہوتی ہے۔ فاشسٹ ریاست اتنی قوت رکھتی ہے کہ وہ معاشرہ میں سیاسی اور سماجی اختلافات کو اپنے فیصلوں کے ذریعے دبا سکے۔ فاشسٹ ریاست مستقل توسیع کے عمل سے گزرتی رہتی ہے لہٰذا اس میں غیرقومیں شامل ہوتی رہتی ہیں لہٰذا فاشسٹ ریاست لازماً ایک استعماری ریاست ہوتی ہے۔ وہ ایک ایسا مستقل پھیلتا ہوا دائرہ اقتدار قائم کرتی ہے جہاں غالب قوم محکوم قوموں اور ریاستوں کو جبر کے ذریعے غالب قوم کے مفادات کے حصول کا ذریعہ بناتی ہیں۔ محکوم قوموں (پاکستان) اور ریاستوں کی آزادی غالب قوم (امریکا) کی رضامندی سے مشروط ہوتی ہے۔ امریکا جب چاہے پاکستان پر ڈرون حملے کر سکتا ہے۔ امریکا یہ بھی حق ہے کہ وہ سوفٹ پاور کے استعمال کے ذریعے ہر پاکستانی کو یہ باور کرائے کہ وہ امریکی مفادات کے فروغ کو عقل کا تقاضا سمجھنے لگے اور امریکا کی غلامی پر فخر کرنے لگے۔

ہر مقتدر نظام اقتدار دوسرے مقتدر نظام اقتدار سے مستقل کش مکش جاری رکھے اور امریکا کو یہ حق ہے کہ وہ کبھی جنگ اور کبھی مصلحتانہ امن کے ذریعے روس، چین، ہندوستان کے دائرہ اقتدار کی تحدید کی مستقل جدوجہد کرتا رہے۔ امریکا کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے جس سٹیزن کو جب چاہے بنیادی دستوری حقوق سے تحفظ ریاست کی توجیح کی بنیاد پر معطل کر دے۔ تاحال امریکی ریاست اس حق کا استعمال اپنے تقریباً تمام سٹیزن کی وسیع ترین مخبری کے ذریعے مسلسل کر رہی ہے۔ امریکا اپنے سٹیزنز کے خلاف دہشت گردی مزدور قائدین کو ان کے دستوری حقوق سے محروم کر کے گاہے گاہے کرتا رہتا ہے۔

ضمیمہ:اسرائیلی زائن ازم

اسرائیل کا قیام زائنسٹ تحریکی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسرائیل کی توسیع کا مقصد بھی اہم ہے اور اس کے لیے پیہم جدوجہد جاری ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم کامیابی ۱۹۶۷ء میں اسرائیلی فتوحات ہیں جن کے ذریعے اردن، شام اور مصر کے وسیع علاقوں پر مستقل قبضہ برقرار رکھا گیا ہے۔ توسیع اسرائیل کے ضمن میں ایک اور اہم کامیابی عرب باج گزار ریاستوں کا قیام ہے۔ آج سعودی عرب، خلیجی ریاستیں، عراق اور مصر کو امریکی باج گزار مملکتیں بنا لیا گیا ہے اور ان تمام ممالک کی افواج امریکی کمانڈ کے ماتحت اور اسرائیل کی پشت پناہ ہیں[414]۔ اسے دو اسرائیلی مفکر Herman Peled اور Yaov Peled شمولی اخراج (Inclusive-exclusion) کا نام دیتے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت ۱۹۴۸ء میں مقبوضہ علاقوں میں یہودی اکثریت قائم کر دی گئی اور یہاں اسرائیلی شہریوں بشمول غیریہودی اسرائیلی شہریوں کو لبرل دستوری حقوق حاصل ہیں۔ ۱۹۶۷ء کے بعد سے مقبوضہ علاقوں میں ریاستی استبداد کے ذریعے حکومت کی جاتی ہے۔ یہاں لبرل دستوری حقوق معطل ہیں اور ان علاقوں میں بسنے والے غیریہودیوں کو اسرائیلی سٹیزن تصور نہیں کیا جاتا ۔ اب قبضہ جاتی نظام اس قدر وسیع، گنجلک اور مضبوط ہو گیا ہے کہ وہ ۱۹۴۸ء میں قبضہ کیے ہوئے علاقوں میں قائم جمہوری حکومت کی گرفت سے تقریباً آزاد ہو گیا ہے۔ لیکن ۱۹۶۷ء کے بعد کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جو نظام قائم کیا گیا ہے وہ ابھی اسی سامراجی زائنسٹ حکمت عملی کا مظہر ہے جس کی بنیاد پر ۱۹۴۸ء میں اسرائیلی ریاست اور معاشرہ تعمیر کیا گیا ہے۔

اس حکمت عملی کا مرکزی محور اخراج ہے اور اخراج کا یہ عمل ۱۹۲۰ء کی دہائی سے آج تک جاری ہے۔ اخراجی حکمت عملی کو فلسطینی معیشت، معاشرت اور ریاستی نظام سے بے دخل کرنے کی حکمت عملی ہے اور اس کا پہلا مظہر ۱۹۴۸ء کی جنگ کے بعد لاکھوں عربوں کو مفتوحہ علاقوں سے نکال کر کیا گیا۔ اصولاً یہ وہی حکمت عملی ہے جو امریکا نے پندرھویں صدی سے انیسویں صدی تک ریڈ انڈین عوام کے خلاف اختیار کی تھی لیکن اسرائیلی زائنسٹ اس بڑے پیمانے پر عربوں کے قتل عام کا نظام مرتب نہ کر سکے جو امریکیوں نے ریڈ انڈینز کے خلاف منظم کیا تھا۔

اسرائیلی زائنسٹ اور امریکی نوآبادیاتی حکمت عملی کی مماثلت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسرائیلی زائن ازم کی نظریاتی بنیاد وہی امریکی پروٹسٹنٹ ازم فراہم کرتی ہے جس کی بنیاد پر دورحاضر میں امریکا ایونجلک ازم کا فروغ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں عیسائی زائن ازم تیزی سے پھیل رہی ہے اور ایونجلیکل حلقے امریکا کے سب سے بڑے پشت پناہ ہیں۔ امریکا اور اسرائیل دونوں جگہ زائن ازم نے یہودیت کو شدید نقصان پہنچایا اور قدیم یہودی تعلیمات سے اپنے تمام تر روابط تقریباً مکمل طور پر منقطع کر دیے اور اسرائیل اور امریکا دونوں جگہ مذہبی یہودی زائن ازم کے سب سے متشدد مخالفین میں شامل ہیں[415]۔ اسرائیل ایک زائنسٹ ریاست ہے ایک یہودی ریاست نہیں ہے۔ گو کہ دستور اس کو ایک یہودی ریاست کہتا ہے۔

ہر قوم پرست نظریہ کی طرح یہ ایک استعماری اظہار کی خواہش مند ہے۔ زائنسٹ نظریہ کا مادروطن ۱۹۴۸ء کے مقبوضہ جاتی علاقے ہیں[416] اور ۱۹۶۷ء کے بعد سے حاصل شدہ مقبوضات کی نوآبادیاں ہیں۔ کچھ مبصرین کویت، سعودی عرب اور مصر کو بھی اسرائیل کی زیرنگیں ریاستیں گردانتے ہیں کیوں کہ ان ممالک کی افواج کی کمان بلاواسطہ امریکا اور بالواسطہ اسرائیل کے قبضہ میں ہے [417] ۔ ہر نوآبادیاتی نظام کی طرح اسرائیل بھی اپنے مادروطن کو جو اس نے عربوں کو تہہ تیغ کر کے اور بے دخل کر کے حاصل کیا تھا، ایسی ادارتی صف بندی میں لایا ہے جس سے غاصب قوم کا دائمی قبضہ قائم ہو۔ امریکا کی طرح اسرائیلی ہوم لینڈ میں بھی پہلے یہودیوں کی اکثریت قائم کی گئی اور پھر لبرل جمہوری نظام کے قیام کے ذریعے اس اکثریت کو دائمی اقتدار کا وارث بنا دیا گیا۔ جہاں بھی نوآبادیاتی ریاستیں اپنی قومی اکثریت قائم کر لیتی ہیں وہ عموماً لبرل جمہوری نظام کے تسلط کے ذریعے ہی اپنے اقتدار کو دائمی بناتی ہیں[418]۔ تاریخ شاہد ہے کہ لبرل ازم اور استعماریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ ۱۹۶۷ء کے بعد کے مقبوضہ علاقوں سے عرب باشندوں کو نکالا نہیں جا سکا۔ لہٰذا جمہوری لبرل نظام کی ان علاقوں میں توسیع ممکن نہیں۔ ان علاقوں میں غیرسٹیزن کی اکثریت ہے اور ان میں سے ایک اسرائیلی باج گزار مقتدرہ برآمد کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور ان علاقوں میں جہادی تحریکات بالخصوص حماس کا اثر و نفوذ ترقی پذیر ہے۔ لہٰذا ۱۹۶۷ء کے بعد کے مفتوحہ علاقوں میں غیرعرب اسرائیلی سٹیزن کی آمریت اور تحکم قائم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ۱۹۶۷ء کے بعد کے مقبوضہ علاقوں میں جمہوری علاقوں میں غیر عرب اسرائیلی سٹیزن موجود ہیں جب کہ ان علاقوں کے عرب باشندوں پر اسرائیلی فوج حکومت کر رہی ہے۔ ۱۹۴۸ء کے مقبوضہ علاقوں میں ایک جمہوری اور ۱۹۶۷ء کے بعد کے مقبوضہ علاقوں میں ایک آمرانہ زائنسٹ حکومت قائم ہے۔ دونوں نظام ہائے اقتدار کا واحد مقصد زائنسٹ مقاصد یعنی اسرائیلی قوم کی قوت میں اضافہ کا حصول ہے۔

۱۹۴۸ء کے مفتوحہ علاقوں میں جو جمہوری دستوری نظام قائم ہے وہ اصولاً عرب سٹیزن کی حکومت میں شمولیت کا انکار نہیں کرتا لیکن کبھی کسی عرب جماعت کو اسرائیلی حکومت میں شمولیت حاصل نہیں ہوئی اور یہی بات ریاستی اداروں کی سربراہی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ اسی طرح عربوں کو ۱۹۴۸ء کے مقبوضہ علاقوں میں ایک دائمی اقلیت رکھنے کے لیے دو قوانین نافذ ہیں:

۱۔ کوئی بے دخل فلسطینی ان علاقوں میں واپس آنے کا حق نہیں رکھتا۔

۲۔ غیراسرائیلی یہودی اسرائیل میں آ کر مستقل اقامت اختیار کر کے اسرائیلی سٹیزن بن سکتا ہے۔

زائن ازم نطشین فلسفہ کی ایک مخصوص قوم پرستانہ تشریح ہے۔ زائن ازم یہودی مذہبی تعلیمات کو ویسے ہی مسخ کرتی ہے جیسے ہندوتوا وید کی تعلیمات کو اور مسلم قوم پرستی اسلامی تعلیمات کو مسخ کرتی ہیں۔ زائن ازم یہودیوں کو ایک جدید قوم بنانے کی تحریک ہے۔ ہندوتوا اور مسلم قوم پرستی کے لیے زائن ازم کے لیے یہ کام نسبتاً آسان تھا کیوں کہ اپنی تین ہزار سالہ تاریخ میں غیرمذہبی یہودی ایک قومی شناخت سے شناسا تھا اور یہودیوں پر پندرھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک یورپ میں جو شدید ظلم روا رکھا گیا اس نے قومی شعور کو مہمیز فراہم کیا۔ صدیوں تک جاری رہنے والے اس ظلم سے نجات کی خواہش یورپی یہودی بستیوں میں عام تھی اور اس کا بہترین ذریعہ یروشلم کی واپسی کو تصور کیا جانے لگا۔ فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے اولین معمار ۹۵۰۰ مشرقی یورپی زائنسٹ تھے جو ۱۹۰۴ء اور ۱۹۲۳ء کے دوران فلسطین میں آباد ہوئے۔ اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی مجموعی تعداد تقریبا آٹھ ہزار تھی۔ ان ۹۵۰۰ "Pioneers" نے فلسطین میں اسرائیلی نظام اقتدار کی ادارتی اور ثقافتی بنیادیں استوار کیں۔ انہوں نے زرعی اراضی حاصل کی، صنعتی اور تجارتی ادارے قائم کیے، لیبریونین بنائی اور فلسطینی قدیم روایتی ادارتی صف بندی سے کئی گنا زیادہ طاقت ور ہو گئےاور ان کے ذریعے زائنسٹوں نے فلسطینی معیشت اور معاشرت پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا۔ Pioneers نے فلسطین کے عرب باشندوں کی اراضی چھیننے کا وہی جواز پیش کیا جو امریکی Pilgrim Fathers نے ریڈ انڈین علاقوں پر قبضہ کے ضمن میں بیان کیا تھا۔ Pioneers اور Pilgrim Fathers نے کہا: ’’عرب اور ریڈانڈین ایسے وحشی درندے ہیں جو اپنی اراضی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ اس زمین کو سرمایہ نہیں سمجھتے اور اس کو بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ نہیں بناتے لہٰذا ہم ایسی ضائع اراضی پر قبضہ کرنے میں حق بجانب ہیں تاکہ آزادی اور ترقی کو فروغ دیں۔“

جیسا کہ ہم کئی پچھلے ابواب میں واضح کر چکے ہیں ہیومن رائٹس کے نظریہ کے تحت جان، رائے اور املاک کا حق صرف ان کو حاصل ہے جو جان، رائے اور مال کو بڑھوتری سرمایہ کے لیے وقف کرتے ہیں کیوں کہ اسرائیلی Pioneers اور امریکی پلگرم فادرز ہیومن رائٹس پر ایمان رکھتے تھے لہٰذا وہ ریڈ انڈین اور فلسطینیوں پر قبضہ اور ریڈ انڈین اور فلسطینیوں کے قتل عام کو اپنا حق تصور کرتے تھے کیوں کہ فلسطینی اور ریڈانڈین اپنی جانوں، اپنی آراء اور اپنی اراضی کو بڑھوتری سرمایہ کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔ Pioneers نے عربوں کو جنگلی خچر[419]اور پلگرم فادرز نے ریڈانڈینز کو بھینسے کہا۔ ریڈ انڈینز اور فلسطینی ہیومن نہیں حیوان تصور کیے گئے اور ان کو مارنا اور ہانکنا اتنا ہی جائز سمجھا گیا جتنا خچروں اور بھینسوں کو مارنا اور ہانکنا[420]۔ یہی Pioneers اور پلگرم فادرز کا تہذیبی ورثہ ہے جس پر اسرائیل اور امریکا آج تک عمل کرتے ہیں اور اسی وحشی تہذیب کے علم بردار ہیں۔

اسرائیلی زائن ازم قیام اسرائیل کے وقت سے لے کر آج تک خوف کا شکار ہے۔ وہ فلسطینیوں اور مذہبی یہودیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خوف زدہ ہے۔ یہ مذہبی یہودی زیادہ تر غیریورپی ہیں اور یورپی یہودیوں اشکانزا سے ویسی ہی نفرت کرتے ہیں جیسے عربوں سے۔ مذہبی یہودی اشکانزا کی صفوں میں بالکل ناپید ہیں اور غیریورپی یہودیوں میں بھی ان کی تعداد نہایت قلیل ہے۔ اسرائیلی کیبنٹ یعنی پارلیمان میں ان کی نمایندگی ویسے ہی رہتی ہے جیسے پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اسلامی جماعتوں کی۔ پاکستانی اسلامی جماعتوں کی طرح اسرائیلی مذہبی جماعتیں بھی یہودی قوم پرستی سے شدید طور پر متاثر ہیں۔ یہ مذہبی جماعتیں اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کرتی ہیں کیوں کہ ریاستی زندگی کے ہر شعبہ سے یہودیت کو بے دخل کرنے کے باوجود اسرائیلی دستور اسرائیل کو ایک یہودی ریاست قرار دیتا ہے۔ بالکل یہی دلیل پاکستان کی مذہبی جماعتیں پاکستان کے اسلامی تشخص کے ضمن میں دیتی ہیں۔

اسرائیل کی تمام سیاسی جماعتیں ان معنوں میں زائنسٹ ہیں کہ وہ اسرائیل کے وجود کو حق بجانب سمجھتی ہیں۔ اسرائیل کے زائنسٹ تشخص کے تحفظ کو ضروری سمجھتی ہیں اور اسرائیلی نظام حکومت کو ابدی یہودی تفوق کو مقدس گردانتی ہیں۔ یہ ایک مشترکہ سیاسی اعتقادی تناظر ہے جس کے ضمن میں بائیں اور دائیں بازو کی جماعتوں میں کوئی تخصیص نہیں[421] ۔ اس کے برعکس یہودی مذہبی حلقوں سے اسرائیل کے وجود اور اس کے مظالم اور دہشت گردی کے خلاف تسلسل سے آواز اٹھائی جاتی ہے بالخصوص یورپ میں۔ تمام اسرائیلی سیاسی جماعتیں اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ مقبوضہ فلسطین میں اب اسرائیلی شہری اقلیت میں ہیں اور ان کی یہ اقلیتی حیثیت بڑھتی چلی جا رہی ہے[422]اور دن بدن فلسطینیوں کا قتل عام، ان کی بے دخلی اور ان پر آمریت مسلط کرنا مہنگے سے مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لہٰذا اسرائیلی جماعتوں میں ایک نئے ریاستی نظام کی تشکیل کی وکالت بڑھ رہی ہے۔ اس نظم ریاست کو کاسموپولیٹکل ڈیموکریسی کہتے ہیں۔ 

اس تصور جمہوریت کے مطابق ایک ایسا دستوری نظام نافذ کیا جانا چاہیے جو نسلی تفریق کو تسلیم کرتی ہے۔ اسرائیل میں دو مختلف نسلیں آباد ہیں: یہودی نسل اور فلسطینی نسل۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دونوں نسلوں کے جمہوری حقوق مساوی نہیں۔ اسرائیل کا قیام ناانصافیوں کے ازالہ کے لیے لازم تھا جو یہودی نسل پر صدیوں سے روا رکھا گیا۔ فلسطینیوں کو تاریخ کے اس سبق کو کشادہ دلی سے قبول کر کے یہودی نسل کا اسرائیل پر دائمی اقتدار تسلیم کر لینا چاہیے۔ ان کو یہ بات مان لینی چاہیے کہ فلسطینیوں کو جو جمہوری حق دیے گئے ہیں ان حقوق کو استعمال کر کے وہ یہودی النسل سٹیزنز کو ان کے دائمی ریاستی اقتدار سے کبھی محروم نہ کریں گے خواہ وہ ریاست کی کتنی ہی چھوٹی اقلیت کیوں نہ بن جائیں۔ فلسطینی اسرائیلی حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ یہودی نسل کے دائمی اقتدار اور زائن ازم کے مقاصد اعلیٰ یعنی اسرائیلی ریاست کی قوت میں مستقل اضافہ کوقبول کر لیں۔ یہ زائنسٹ مقاصد اعلیٰ ویسے ہی سیاسی عمل سے ماورا تصور کیے جائیں گے جیسے ہیومن رائٹس کی دستوری فوقیت کا نظریہ جمہوری عمل سے ماورا تصور کیا جاتا ہے [423]۔

اسرائیلی زائن ازم اسی نوآبادیاتی اور استقرائی تحریک کا تسلسل ہے جس کی سب سے کامیاب مثال امریکا پیش کرتا ہے۔ زائن ازم فاشزم کی پوسٹ ماڈرنسٹ شکل ہے۔ اس نے شمٹ کی state of exception نصف صدی سے ایک وسیع مقبوضہ علاقہ پر قائم رکھی ہوئی ہے۔ لیکن یہ state of exception ایک لبرل جمہوری نظام حکومت کا ایک ذیلی شعبہ ہے[424]۔ فاشزم اور لبرل طرز حکومت کا یہ امتزاج اسرائیل تک محدود نہیں۔ امریکا بھی اسی امتزاج کی بنیاد پر اپنے پوسٹ نوآبادیاتی علاقوں (پانامہ، نکاراگوا، ڈومینکن ری پبلک، چلی، جزائر غرب الہند، فلپائن، جنوبی کوریا، جاپان، پاکستان، افغانستان، خلیجی ریاستوں، سعودی عرب، اردن، کینیا، یوگنڈا، ترکی، یونانی قبرص وغیرہ) پر حکومت کر رہا ہے۔ یہ سب ممالک عملاً کاسموپولیٹن جمہوری نظام کو قبول کر چکے ہیں۔ ان کے شہریوں کو تمام لبرل جمہوری حقوق حاصل ہیں سوائے اس حق کے کہ وہ اپنے ملکی اقتدار امریکا کی دائمی عالمی سیاسی برتری اور تحکم کو ردّ کرنے کے لیے استعمال کریں۔ کاسموپولیٹکل جمہوریت کے اس عالمی نظام میں نیٹو میں شامل تمام ممالک بھی شامل ہیں۔

اشتراکیت کی طرح لبرل ازم اور فاشزم بھی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے نظریات ہیں۔ فاشزم لبرل ازم کے یکساں مقاصد فروغ آزادی، حصولِ ترقی اور لامتناہی بڑھوترئ سرمایہ ہیں۔ آج عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تحفط کے لیے لبرل ازم اور فاشزم مدغم ہو رہے ہیں اور کاسموسوشلائزیشن جمہوریت کا عروج ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔

17۔ لاطن امریکی ڈپنڈنسیا

17.1۔ مکتب ڈپنڈنسیا

لبرل سرمایہ داری کی مخالفت کا ایک اہم مرکز انیسویں صدی سے لے کر آج تک لاطینی امریکا رہا ہے۔ اس مخالفت کی فکری بنیادیں جن مصنفوں نے مرتب کی ہیں ان کو بالعموم ڈپنڈنسیا مکتب فکر کا معمار اور پیروکار تصور کیا جاتا ہے۔ اس مکتب فکر کے بنیادی دعوے حسب ذیل ہیں:

۱۔ نوآبادیاتی دنیا کی پس ماندگی کی بنیادی وجہ استعماری نظام کی ماتحتی ہے۔

۲۔ یہ ماتحتی بنیادی طور پر معاشی ہے اور نوآبادیاتی ملکوں کی سیاسی آزادی کے حصول کے بعد ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے ایک نئی جہتی شکل اختیار کر لی ہے۔

۳۔ اس ماتحتی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نوآبادیات[425] میں ایک ایسی قوم پرست سرمایہ دارانہ ریاست تشکیل دی جائے جو اپنی ملکی معیشتوں کا تعلق بین الاقوامی لبرل سرمایہ دارانہ مارکیٹوں سے یا تو ختم کر دے یا ازسرنو ترتیب دے اور بین الاقوامی سرمایہ جو ان نئی آبادیات میں موجود ہے اس کے دائرہ عمل کو ریاستی گرفت میں بڑی حد تک محدود کرے۔

۴۔ اس نوعیت کے اقدامات کرنے کے لیے لازم ہے کہ نیوکالونیز کی قوم پرست حکومتیں وسیع پیمانے پر علاقائی تعاون کی ادارتی صف بندی کریں۔

۵۔ ان پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر قوم پرست حکومتیں سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات اور ترقی اپنے ممالک کے عوام کے لیے حاصل کر سکتی ہیں۔

۶۔ نیوکالونیز میں قوم پرست حکومتیں جو عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام سے نبردآزما ہوں انقلابی عمل کے ذریعے قائم کی جا سکتی ہیں اور جمہوری عمل کے ذریعے یہ حکومتیں طبقات نہیں ہوتیں بلکہ نوآبادیاتی ملک کا ہر طبقہ سوائے اس کے جس کے مادی مفادات لبرل عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک ہوتے ہیں، ان حکومتوں کا حمایتی ہوتا ہے [426]۔ نیوکالونیز میں بنیادی اجتماعی شناخت قومی ہوتی ہے طبقاتی نہیں ہوتی۔

۷۔ ایسی قوم پرست تحریکیں لبرل نظام ریاست کی کش مکش کے دور میں عموماً مارکسسٹ ہوتی ہیں اور دیگر سوشلسٹ جماعتوں سے اشتراک عمل پر زور دیتی ہیں لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد کمیونسٹ جماعتوں کے اثر و نفوذ کو ختم کر کے ان کے اہم سیاسی اہداف میں شامل ہوتا ہے اور کمیونسٹ جماعتوں کو غیرقانونی قرار دے کر ان کو سیاسی عمل سے بے دخل کرنے کی سعی کرتی ہیں [427]۔

17.2۔ لاطینی امریکی پس ماندگی میں یورپ اور امریکا کا کردار

لاطینی امریکا میں ریڈانڈینز کا قتل عام اور نسل کشی، ہسپانوی اور پرتگالیوں نے پندرھویں صدی سے اٹھارھویں صدی تک منظم طور پر جاری رکھی لیکن یہ نسل کشی اور قتل عام اتنے بڑے پیمانے پر نہ کیا جا سکا جتنا امریکا اور کینیڈا میں جہاں پوری ریڈانڈین تہذیب کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ آج بھی کئی لاطینی امریکی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ستائیس لاکھ ریڈانڈین موجود ہیں[428]۔

ہسپانوی اور پرتگالی استعماریوں نے لاطینی امریکا میں جو حکومتیں قائم کیں ان کا مقصد یورپی ممالک کو زرعی اور معدنیاتی خام مال فراہم کرنا تھا۔ لاطینی امریکی ممالک میں بڑی بڑی زرعی ملکیتیں اور plantations قائم کی گئیں۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر کان کنی کو فروغ دیا گیا اور کروڑوں ٹن چاندی، سونا اور دوسری دھاتیں یورپ کو برآمد کی گئیں۔ زرعی برآمدات میں اجناس ، شکر اور جانوروں کی کھالیں نمایاں تھیں۔ اسپین کا قبضہ لاطینی امریکا پر سولھویں صدی سے انیسویں صدی کے ابتدائی دور تک قائم رہا [429]۔ اس دور میں لاطینی ممالک میں ایک جاگیردارانہ نظام معیشت اور معاشرت کو عروج دیا گیا اور مقامی اقتدار بڑے بڑے وزیروں کے ہاتھ میں تھا جن کو ہسپانوی سٹیزن شپ حاصل تھی۔ ان وڈیروں کی معاشی خوش حالی اسپین اور دیگر یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ کے ساتھ فروغ تجارت اور سرمایہ کاری پر منحصر تھی۔ ان وڈیروں نے لاطینی امریکا کی صنعتی ترقی کو اپنے مفادات کے لیے مضر گردانا اور ایسی پالیسیاں اختیار کیں جن سے لاطینی امریکی ممالک میں بڑی صنعتیں قائم نہ کی جا سکیں۔ اس دور میں لاطینی امریکی فنانس پر مکمل طور پر یورپین ممالک کا قبضہ تھا۔ اسی طرح لاطینی امریکی تجارت پر بھی اسپینی حکومت کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔ ۱۷۷۶ء میں جب تیرہ شمالی امریکی ریاستوں نے برطانیہ کے خلاف بغاوت کی تو اسپین اور فرانس دونوں نے اس بغاوت کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس کے نتیجے میں لاطینی امریکی اشرافیہ اور عوام ملکی خودمختاری کے فوائد سے آگاہ ہوئے اور ان ممالک میں قوم پرست نظریات کی پذیرائی ہونے لگی۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں نپولین نے اسپین پر قبضہ کر کے اپنے بھائی کو اسپین کا بادشاہ بنا دیا اور کئی لاطینی امریکی ممالک میں تحریک آزادی پھوٹ پڑی۔ ان تحریکات آزادی کی روح رواں اور قیادت مقامی وڈیرہ اشرافیہ ہی کر رہی تھی[430]۔ جب یہ تحریکات آزادی کامیاب ہوئیں تو مقامی وزیروں اور بڑے تاجروں کی حکومتیں ہی اقتدار میں آئیں۔ ان مقامی وڈیروں کی آپس کی لڑائیاں تیزی سے پھیلیں اور بہت جلد اسپینی لاطینی امریکا کئی چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں میں منقسم ہو گیا۔ یہ ریاستیں آپس میں متصادم رہیں لیکن سب کی سب یورپی ممالک اور شمالی امریکا کی رفتہ رفتہ باج گزار بن گئیں۔ 

چوں کہ اسپین نے ان تحریکات قومی آزادی کی مخالفت کی تھی لہٰذا ان ریاستوں کی بین الاقوامی تجارت کا رجحان پہلے برطانیہ اور بالآخر ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جانب ہو گیا۔ حصولِ آزادی کے بعد بھی لاطینی امریکی ریاستیں زرعی اور معدنیاتی خام مال برآمد کرتی تھیں لیکن اسپین کو نہیں۔ برطانیہ اور امریکا کا مقامی حکمران طبقہ بدستور ملکی صنعتی ترقی کو اپنے گروہی مقاصد کے لیے مضر سمجھتا تھا۔ وڈیروں کے اقتدار میں آنے کے نتیجے میں ارتکاز اراضی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور نوآبادیاتی تجارتی روابط برطانیہ اور امریکا کے ساتھ مستحکم سے مستحکم تر ہوتے چلے گئے۔ لاطینی امریکی ممالک نے یورپی اور امریکی بزنس کے ساتھ روابط کو مزید فروغ دیا اور یورپی ممالک سے تارکین وطن کی اپنے ممالک میں آبادکاری کے لیے مراعات فراہم کیں (یہ رجحان ارجنٹینا میں بالخصوص نمایاں تھا)۔ بین الاقوامی تجارت اور یورپین تارکین وطن کی آبادکاری کے نتیجے میں لاطینی امریکی ممالک آزاد ہونے کے بعد بین الاقوامی سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک زیرنگیں اور ماتحت حصہ بن گئے۔ ان پالیسیوں کو اختیار کرنے کے نتیجے میں لاطینی امریکی ممالک میں معاشی ناہمواریاں تیزی سے بڑھنے لگیں۔ معاشرہ تیزی سے ایک چھوٹی نہایت امیر مقتدرہ اور ایک عظیم تیزی سے بڑھتے ہوئے اور مفلوک الحال ہوتے ہوئے طبقہ مفلسین اور محرومین میں تقسیم ہو گیا۔ آزاد لاطینی امریکی ممالک کی مقتدرہ کے تمام طبقہ شدت سے نسل پرست تھے اور وہ ریڈ انڈین جو قتل نہ کیے جا سکے ان کو شہری اور دیہی علاقوں میں ملازمت سے محروم کرنا ایک قومی پالیسی کی حیثیت اختیار کر گیا تاکہ یہ جنگلوں، پہاڑوں اور غیرآباد علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جائیں اور یورپ سے آئے ہوئے تارکین وطن کے لیے معیشت میں گنجائش پیدا ہو ۔

انیسیویں صدی کے آخر میں لاطینی امریکی ممالک میں زراعت اور معدنیات پر منحصر صنعتیں قائم ہوئیں اور ان ممالک میں جدید مواصلاتی نظام بالخصوص ریلوے کی تعمیر کی شروعات ہوئیں۔ اس صنعتی اور مواصلاتی ترقی میں بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مقامی سرمایہ کاروں نے وسیع پیمانے پر برٹش، جرمن اور امریکی بینکوں سے قرضہ جات حاصل کر کے ان صنعتوں میں سرمایہ کاری کی۔ اس کے نتیجے میں لاطینی امریکی قومی معیشتوں کی بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام میں ماتحت پیوندکاری مزید مستحکم ہوئی۔ لاطینی امریکی ممالک کی ماتحتی کا نمایاں اظہار مندرجہ ذیل حقائق سے ہوتا ہے:

۱۔ ان ممالک کی معیشتیں شعبہ زراعت اور کان کنی پر انحصار کرتی تھیں۔ جدید صنعتی اور قومی فنانس کا حجم مجموعی قومی پیداوار میں نسبتاً محدود تھا۔

۲۔ جو صنعت کاری اور فنانس کے شعبہ جات موجود تھے ان کا انحصار بیرونی سرمایہ کاری پر زیادہ تھا۔ مثلاً صنعتی اور مواصلاتی سرمایہ کاری بیرونی بینکوں کے قرضوں پر منحصر تھی۔

۳۔ لاطینی امریکی ممالک کے تجارتی اور سرمایہ کارانہ روابط صرف چند یورپی ممالک اور امریکا تک محدود تھے۔
۴۔ بین الاقوامی کسادبازاری کا غیرمعمولی اثر لاطینی امریکی پیداواری عمل پر گاہے گاہے رونماہوتا تھا۔ ۱۹۳۰ء کی دہائی میں جاری رہنے والی کساد بازاری نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ لاطینی امریکی ممالک یورپی اور امریکی معیشتوں کے ماتحت باج گزار ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے قومی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے محصولات کو استعمال کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھنے لگا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ اور امریکا سے بحری تجارت جرمن ناکہ بندی کے سبب شدید طور پر متاثر ہوتی تھی۔ مواصلاتی نظام اور کان کنی کے شعبہ میں ریاستی سرمایہ کاری نے بیرونی سرمایہ کاری کی کمی کو پورا کرنے کی کچھ کوشش شروع کی لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی اور یورپی کمپنیوں نے لاطینی امریکی ممالک کے معدنی وسائل پر قبضہ جمانے کی کامیاب کوشش کی۔ ان ممالک کی سیاسی مقتدرہ نے بین الاقوامی کان کن کمپنیوں سے قریبی روابط استوار کیے اور لاطینی امریکی مقتدرہ کی بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام سے وابستگی مزید مستحکم ہو گئی۔ مقامی مقتدرہ کی اسی ماتحت وابستگی کے رجحان سے فائدہ اٹھا کر امریکا نے بیش تر لاطینی ممالک کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اپنا باج گزار بنا رکھا ہے۔ امریکی تسلط اور مقامی مقتدرہ کی ماتحت وابستگی کے خلاف قوم پرست تحریکوں نے عوامی ردعمل منظم کیا اور کئی امریکی ممالک میں گاہے گاہے قوم پرست حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ قوم پرستوں کو نمایاں ترین کامیابیاں میکسیکو، ارجنٹینا، ایکواڈور اور یوراگوئے میں حاصل ہوئی ہے لیکن ان تمام قوم پرست انقلابوں کو امریکی اپنی نظاماتی ماتحتی قبول کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ کیوبا میں جو کمیونسٹ حکومت ۱۹۶۰ء میں قائم ہوئی تھی وہ فیدل کاسترو کی موت کے باوجود ابھی تک لبرل سرمایہ دارانہ بین الاقوامی نظام کا حصہ نہ بنائی جا سکی۔ نکاراگوا اور ہنڈراس کے نیم قوم پرست نیم اشتراکی انقلابات کو امریکا شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ چلی کے اشتراکی انقلاب کو بھی امریکا نے شکست دے دی ہے۔ آج کل وینزویلا اور بولیویا میں قائم نیم اشتراکی، نیم قوم پرست حکومتوں کو تحلیل کرنے کی امریکی مہم زور شور سے جاری ہے [431]۔

امریکا کی ان واضح کامیابیوں کے باوجود قوم پرست جماعتوں کی عوامی مقبولیت موجود ہے اور پورے لاطینی امریکی برصغیر میں ریاست ہائے امریکا سے شدید نفرت کی جاتی ہے۔ لاطینی امریکا میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کی پیہم فتوحات کا اہم ترین سبب لاطینی امریکی افواج کا امریکی افواج کی ماتحتی ہے اور عموماً لاطینی امریکی جنرل امریکا مخالف حکومتوں کا خاتمہ کرتے ہیں [432]۔لاطینی امریکی ممالک میں جب بھی قوم پرست جمہوری حکومتیں قائم ہوئی ہیں تو انہوں نے:

۱۔ بڑے پیمانے پر زرعی اصلاحات نافذ کر کے وڈیروں کی اراضی ملکیت کی تحدید کرنے کی کوشش کی ہے۔

۲۔معدنیاتی شعبہ میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کو بے دخل کر کے کانوں کو قومی تحویل میں لیا ہے۔

۳۔ درآمدات پر محصول نافذ کر کے قومی صنعتوں کو ترقی دینے کی کوشش کی ہے۔

۴۔ ان مزدوروں کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافہ کیا ہے جو یونینوں کے رکن ہیں اور انکم سپورٹ پروگرام ملک کے ذریعے غریب ترین طبقوں کے لیے ایک متعین آمدنی کی فراہمی کی کوشش کی ہے۔

قوم پرست جماعتیں اس رائے پر بحیثیت مجموعی متفق ہیں کہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام میں ماتحت شمولیت کے نتیجے میں لاطینی امریکی ممالک مستقل خسارہ میں رہتے ہیں۔ جس نظریہ کی بنیاد پر اس رائے کی وکالت کی گئی اس کو نظریہ غیرمساواتی تبدل (Unequal Exchange) کہتے ہیں۔ اس نظریہ کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے نظام میں ماتحت شمولیت کے نتیجے میں لاطینی امریکی ممالک ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔ یورپی اور امریکی سرمایہ کار کمپنیاں اپنا زیادہ تر منافع لاطینی امریکی ممالک سے مختلف طریقوں سے نکال لے جاتی ہیں[433] اور ملک میں جو سرمایہ کاری کرتی ہیں وہ مقامی بینکوں سے حاصل کیے گئے قرضوں کی بنیاد پر کرتی ہیں باہر سے لائے ہوئے زرمبادلہ کی بنیاد پر نہیں۔ بین الاقوامی کمپنیاں لاطینی امریکی ممالک میں بہت کم منافع ظاہر کر کے بہت کم ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

لاطینی امریکی ممالک جو اشیا برآمد کرتے ہیں ان کی قیمتیں بین الاقوامی بازاروں میں گرتی رہتی ہیں۔ اس کے برعکس لاطینی امریکی ممالک جو چیزیں درآمد کرتے ہیں ان کی قیمتیں مستقل بڑھتی رہتی ہیں۔ لہٰذا لاطینی امریکی ممالک کے رواں کھاتے کا سالانہ خسارہ مستقل بڑھتا رہتا ہے اور ان کی کرنسی کی بین الاقوامی حقیقی قیمت بھی مستقل گرتی رہتی ہے اور ہر بین الاقوامی تجارتی عمل میں شمولیت کے نتیجے میں بین الاقوامی بازاروں میں لاطینی امریکی ممالک کی مسابقتی قوت کم ہوتی جاتی ہے۔یہ بات طویل المدت اعداد و شمار کی بنیاد پر ارجنٹائنی اکنامسٹ راؤل پربش نے ثابت کی۔ لہٰذا اگر ترقی کرنا ہے تو لاطینی امریکی ممالک کو قومی مارکیٹوں کو فروغ دینے پر توجہ دینا چاہیے اور بین الاقوامی تجارت پر ماتحت انحصار ختم کر دینا چاہیے۔

بیسویں صدی کی ابتدا سے لے کر آج تک قوم پرست جماعتوں کو لاطینی امریکی ممالک میں گاہے گاہے عوامی حمایت حاصل ہوتی رہی ہے۔ ہجومی مطالبات[434] میں اشیائے خورو نوش، صحت و تعلیم کی سہولیات کی سستی فراہمی، قرضہ جات کی فراہمی، کرپشن اور بے روزگاری کا خاتمہ اور حکومتی انتظامیہ کی اصلاح شامل رہی ہیں۔ یہ ہجومی تحریکیں لبرل سیاسی آزادیوں کی مخالف بھی ہوتی ہیں۔ یہ ہجومی تحاریک لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی حکمت عملی کو ردّ کرتی ہیں لیکن لبرل جمہوری حقوق کی فراہمی کی خواہاں ہوتی ہیں[435]۔ اگر یہ تحریکیں کامیاب ہوں تو ان کے ذریعے قوم پرست جماعتیں اقتدار حاصل کر لیتی ہیں اور ایسی قوم پرست جماعتوں کو استعمار کا تعاون حاصل رہتا ہے۔ مثلاً ارجنٹائنی صدر کچنر جو ہجومی تحریک کا نمایندہ حکمران تھا آئی ایم ایف کی آنکھ کا تارہ بن گیا۔ ۲۰۰۲ء میں ارجنٹینا نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی معطل کر دی تھی۔ کچنر کے دور اقتدار (۲۰۰۲ء تا ۲۰۰۷ء) میں آئی ایم ایف نے اس جرم کو معاف کر دیا اور ارجنٹینا کے بیرونی قرضہ جات کے حجم میں پچاس فی صد سے زیادہ کمی کر دی[436] ۔

17.3۔ قوم پرست حکومتوں کی استعماری اعانت

قوم پرست جماعتیں جب تک حزب اختلاف میں ہوں تو استعمار مخالف رویہ اور پالیسیاں اختیارکرتی ہیں اور استعماری قوتیں بھی ان کو اپنا حریف گردانتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد قوم پرست جماعتیں ایسی پالیسیاں اختیار کرتی ہیں جو استعمار کے لیے قابل قبول ہوں۔ مثلاً کچنر نے ارجنٹائنی کرنسی کی شرح مبادلہ میں کمی کی۔ جس کے نتیجے میں اجرتوں میں کمی ہوئی، نج کاری کے عمل کو فروغ دیا۔ پنشن کے نظام کو ریاست کی تحویل سے نکال کر فنانشل مارکیٹ کی تحویل میں دیا اور ان پالیسی تبدیلیوں کے نتیجے میں قومی آمدنی میں منافع ہوا۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کے عوض استعماری قوتوں نے کچنر کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ درآمدات پر اور ملک سے ترسیل زر پر حکومتی ضوابط عائد کرے اور قومی صنعتوں کو فروغ دے۔ کچنر آئی ایم ایف اور امریکا کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہو گیا کہ اس نوعیت کی پالیسیاں اختیار کرنا ملکی معاشی بحران کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے ۔کچنر ایک مقبول عام صدر تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہجومی تحاریک بھی استعمار مخالف نہیں ہوتیں۔ ان کی استعمار مخالفت محض سرمایہ دارانہ فوائد اور حقوق سے محرومی کا اظہار ہوتا ہے۔ جب قوم پرست حکومتیں ہجوم کو سرمایہ دارانہ لذات اور حقوق فراہم کرتی ہیں تو ہجوم بھی استعمار سے سمجھوتا کو فائدہ مند تصور کر کے قبول کر لیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ مطالباتی ہجومی تحاریک کے ذریعے نظاماتی سماجی یا ریاستی تبدیلی برپا نہیں کی جا سکتی۔

اقتدار میں آنے کے بعد قوم پرست جماعتیں ہجوم کو منتشر کر کے اس میں سے ایسے گروہ منظم کرتی ہیں جو قوم پرست جماعت کے موالی بن جائیں۔ ان موالیوں کو ریاستی مراعات فراہم کی جاتی ہیں اور نچلی سطح کے ریاستی عہدے دے دیے جاتے ہیں۔ ان کا فرض ہوتا ہے کہ ہجومی تحریک کو منتشر اور غیرسیاسی بنائیں۔ ہجومی تحریک بہت جلد مراعات یافتہ اور محرومین کے گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور حکومتی تعاون کے ذریعے مراعات یافتہ دھڑا محرومین کو بے دست و پا کر دیتا ہے۔ہجومی تحاریک کے محرومین بھی سرمایہ دارانہ ظلم کے خاتمے اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام[437]کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کےلیے جدوجہد نہیں کرتے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے انہدام کا کوئی مربوط تصور محرومین کو میسر نہیں ہوتا لہٰذا ہجومی تحریک کے انتشار کے بعد محرومین کی جدوجہد سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کی جدوجہد ہی رہتی ہے لیکن محرومین نے جو امیدیں جمہوری نظام سے وابستہ کی تھیں وہ یقیناً ٹوٹ جاتی ہیں اور ہجومی محرومین ریاست مخالف گوریلا دھڑوں سے وابستگیاں استوار کرنے پر مائل ہو جاتے ہیں۔ لاطینی امریکی کئی ممالک میں (کولمبیا، نکاراگوا، ہنڈراس، برازیل، ایکواڈور، پیرو، چلی) میں گوریلا تحاریک چل رہی ہیں اور ہر جگہ قوم پرست حکومتوں سے اسی طرح نبردآزما ہیں جیسے مشرقی بنگال میں نکسلائٹ تحریک،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور مارکسسٹ انڈیا کی حکومت سے نبردآزما ہیں۔ ان گوریلا تحریکوں کا مقصد بھی سرمایہ دارانہ عدل کا قیام ہے لیکن یہ جنگلوں اور پہاڑوں تک محدود ہیں لہٰذا ان کی سیاسی کامیابی کے امکانات مفقود ہیں۔

محرومین کی سیاسی پس ماندگی کا دوسرا اہم سبب لاطینی امریکا میں جمہوری عمل کا فروغ ہے۔ نمایندہ جمہوری نظام کی کامیابی کا انحصار اسی پر ہے کہ عوام کی اکثریت سیاسی عمل سے بتدریج لاتعلق ہوتی چلی جائے۔ وہ مقتدرہ پر بھروسا کرنے لگیں اور ان کی آراء سرمایہ دارانہ میڈیا تشکیل دے۔ جمہوری عمل کھیل تماشا اورتفریح کا ذریعہ بن جائے اور جمہوری عمل کے ذریعے حقیقی نظاماتی تبدیلیوں کے رونما ہونے کے امکانات محدود تر ہو جائیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں اور منشور اصلاً یکساں ہوں اور حکومتی تبدیلی کا عمل ریاستی پالیسیوں کے تبدل کا باعث نہ ہو۔ ان حالات میں محرومین کا سیاسی عمل سے مایوس ہو کر مہماتی جدوجہد سے لاتعلق ہو جانا ناگزیر ہے۔ وہ صرف ملک میں تبدیلی کے رونما ہونے سے مایوس نہیں ہوتے۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی کی یلغار ان کو اس بات سے بھی ناامید کرتی ہے کہ قومی حکومت بین الاقوامی سرمایہ اور استعمار کی مرضی کے علی الرغم کوئی اقدام کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ نمایندہ جمہوری نظام قوم پرست نظریاتی تناظر میں سرمایہ دارانہ اقتدار میں شریک گروہوں کو منظم کرکےسرمایہ دارانہ نظام کے مظلومین کو منتشر کرتی ہے۔ محرومین کو منتشر کرنے کے لیے لاطینی امریکا میں targetted income support programs کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ ان پروگراموں کے ذریعے منتخب محرومین کے گروہوں کو ماہانہ رقومات تقسیم کی جاتی ہیں[438] گو کہ یہ رقومات نہایت قلیل ہوتی ہیں لیکن موالی ساز نظام سازی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے اور استعماری ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

لیکن موالی سازی کے ذریعے سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف جدوجہد کی تحریکات کو مفلوج کرنے کی حکمت عملی ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ماتحت شمولیت کا ایک نتیجہ لاطینی امریکی ممالک میں بڑھتی ہوئی نامساویت ہے۔ مقتدر طبقہ اور ان کے موالیوں کا سطح زندگی جیسے جیسے بڑھ رہا ہے ویسے ویسے محرومین کی صفوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور محرومین کا احساس محرومی بھی بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محرومین کا ہجوم اب جمہوری نظام سے بھی مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ ۱۹۹۹ء کے بعد سے قوم پرست حکومتوں کے خلاف اس قسم کی صف بندی غیرسرمایہ دارانہ اداروں کے ارد گرد ہو رہی ہے۔ اس کے مزاحمتی گروہ فیکٹریاں نہیں محلے ہیں۔ ان کی صفوں میں وہ محرومین شامل ہیں جن کو سرمایہ دارانہ نظام میں حصول ملازمت کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ یہ بے روزگار نہیں ناقابلِ ملازمت ہیں۔ لیکن کیا سرمایہ دارانہ نظام سے خارج کیے جانے والے یہ محرومین سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد ترک کر کے انہدام سرمایہ داری کی تحریک برپا کر سکیں گے، اس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی مخالفت صرف مذہبی بنیادوں پر کی جا سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ اہداف اور اقدار کی تردید صرف مذہب کرتا ہے۔ آزادی کا ردّ عبادت، مساوات کا ردّ صرف ہدایت، ترقی کا ردّ صرف معرفت ہے۔ لیکن لاطینی امریکا میں غالب مذہبیت سرمایہ داری سے سمجھوتا کرنے والی مذہبیت ہے۔ پندرھویں صدی سے بیسویں صدی تک لاطینی کیتھولک چرچ استعمار کا قریبی حلیف رہا۔ بیسویں صدی کے بعد بھی یہ روابط قائم ہیں اور بیسویں صدی کی ابتدا سے ایک قوم پرست اور اشتراکیت نواز کیتھولک تحریک لاطینی امریکا میں ابھری ہے۔ اس کو لبریشن تھیولوجی کہتے ہیں۔ ایکواڈور کا حالیہ صدر اسی تحریک کا حمایتی ہے۔ موجودہ پوپ فرانسس جو ارجنٹینا کا شہری ہے، لبریشن تھیولوجی سے متاثر ہے۔ ان حالات میں یہ توضیح نہیں کی جا سکتی کہ لاطینی امریکا میں سرمایہ دارانہ مخالف انفرادیت اوراجتماعیت ابھر سکے[439]۔

اس کے باوجود لبرل سرمایہ داری کو پچھلی دو دہائیوں سے لاطینی امریکی قوم پرست نیم اشتراکی سرمایہ دارانہ حکومتوں نے بارہا چیلنج کیا ہے اوروقتاً فوقتاً چلی، ارجنٹینا، یوراگوئے، ایکواڈور، نکاراگوا اور وینزویلا میں غیرلبرل سرمایہ دارانہ حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں۔ فوج کشی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے ذریعے امریکا ان حکومتوں کو گاہے گاہے ختم کرنے میں کامیاب ہوتا رہتا ہے۔ لیکن قوم پرست نیم اشتراکی مزاحمت عود کر آتی ہے۔ لاطینی امریکا میں جاری کش مکش عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی اس نوعیت کی اندرونی نمایاں کش مکش ہے جیسی سرد جنگ کے دوران امریکا اور روس کے درمیان جاری رہی۔ چینی کمیونسٹوں کو اس کا بھرپور احساس ہے اور وہ لاطینی امریکا پر اپنی معاشی گرفت مضبوط کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ لاطینی امریکا میں قوم پرست قوتوں کی مستحکم کامیابی امریکا کو دائمی طور پر کمزور کر کے اس کا عالمی تسلط ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ۱۹۸۰ء کی دہائی تک امریکا آمرانہ جتھوں کے ذریعے بیش تر لاطینی امریکی تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کرتا تھا لیکن اسّی کی دہائی میں لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں امریکا نواز جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں اور امریکا ایک اہم ترین لاطینی امریکی ہجومی تحریک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا اور یہ تحریک میکسیکو میں قائم امریکی باج گزار حکومت کی پشت پناہ بن گئی۔ اس کے بعد ایک قلیل عرصہ تک ایسا لگا جیسے ہجومی قوم پرست تحاریک جمہوری عمل سے مایوس ہو گئی ہیں کیوں کہ جمہوری عمل کی کامیابی کے نتیجے میں ایسی حکومتیں قائم ہوتی ہیں جو امریکا کی دست راست بن کر لاطینی امریکا کی دولت کو لوٹنے میں عالمی استعمار کی مدد کرتی ہیں۔ لہٰذا قوم پرست تحریکوں نے مزاحمتی اورقانونی نافرمانی کا طریقہ کار اپنایا[440] ۔لیکن عوامی سطح پر بھی ۱۹۹۰ء کی دہائی کی ابتدا تک بہت سے لاطینی امریکی ممالک اور امریکا کی معیشت میں ساختی اشتراک تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ عوامی سطح پر اس ساختی اشتراک کا سب سے اہم ذریعہ وہ چھوٹی صنعتیں تھیں جن کو Maquaildoras کہا جاتا ہے۔ یہ لاطینی امریکا میں قائم ایسے کاروبار ہیں جو امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اپنی تیار کردہ مصنوعات مستقلاً بیچتی ہیں اور ان امریکی ملٹی نیشنل کی طویل المدت سب کنٹریکٹر بن جاتی ہیں۔ یہ پہلے صرف میکسیکو اور امریکا کی سرحد پر قائم تھیں لیکن اب پورے لاطینی امریکا میں ان کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے لاطینی امریکا میں امریکی سیاح ایک وبا کی طرح فحاشی، برہنگی، عیاشی اور منشیات کا ایک سیلاب لے آئے ہیں۔ فحاشی اور سیاست کے کاروبار سے کروڑوں لاطینی امریکی باشندے منسلک ہیں جو امریکیوں کو خوش کرنا اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکی ملٹی نیشنلز نے برازیل، بولیویا، یوراگوئے، میکسیکو، کولمبیا اور چلی میں لاکھوں ایکڑ اراضی خرید لی ہے اور وہاں لاکھوں لاطینی امریکا سے ایسے اجناس اور پھل اگا رہے ہیں جو امریکا برآمد کیے جاتے ہیں[441]۔ لاکھوں لاطینی امریکی امریکا میں مقیم ہو گئے ہیں اور ۲۰۱۱ء میں انہوں نے سوبلین ڈالر سے زیادہ رقم امریکا سے لاطینی امریکی ممالک کو remitteances کی شکل میں بھیجی۔ غرض کہ امریکا اور لاطینی امریکی ممالک کے عوامی اقتصادی روابط نہایت مضبوط اور تیزی سے پھیلتے ہوئے ہیں۔ لاطینی امریکا کی روایتی غیرسرمایہ دارانہ معیشت بالکل منہدم ہو گئی ہے اور لاطینی امریکا عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو کر رہ گیا ہے۔
لیکن انضمام (integration) کے اس فروغ کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکا کے عوام کی ہوس اور ان کا احساس محرومی بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکا کی طرح لاطینی امریکی ممالک میں بھی معاشی اور آمدنی کی نامساویانہ تقسیم بڑھ رہی ہے اور اس احساس محرومی کے عروج کے نتیجے میں امریکا سے نفرت اور لبرل سرمایہ دارانہ پالیسیوں کی مخالفت کی عوامی لہر ۱۹۹۰ء کی دہائی میں لاطینی امریکا میں اٹھی۔ جن سیاسی قوتوں نے اس عوامی لہر سے فائدہ اٹھایا وہ نامساویت کو رہائشی پالیسیوں کے ذریعے محدود کرنا چاہتی ہیں لیکن عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے تعلق ختم کرنا ممکن نہیں سمجھتیں۔ ان کی رائے میں یہ ممکن ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ایک ایسا نیا سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے جو تحدید نامساویت، قومی ترقی اور عالمی نظام سے منسلک رہنے کی حکمت عملیوں کو منسلک کر سکتا ہے۔ عالمی سرمایہ داری یعنی امریکا سے اس نوعیت کی سودے بازی میں سب سے زیادہ کامیاب کچنر اور اس کے جانشین اور لولااور اس کے جانشینوں کی حکومتیں رہی ہیں۔ بولیویا، پیرو اور ایکواڈور کی قوم پرست حکومتوں کو بھی اس نوعیت کے سمجھوتے کرنے میں خاصی کامیابی ہوئی ہے۔ اس کے برعکس وینزویلا اور امریکا کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں اور ہوگوشاویز کی موت کے بعد بھی امریکا نے وینزویلا کی حکومت کو گرانے کے لیے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی اور تخریب کاری جاری رکھی ہے۔

نئی قوم پرست حکومتیں جمہوری عمل کے ذریعے ہی برسراقتدار آتی ہیں[442] اور ان حکومتوں کے قیام کا ایک نتیجہ قانونی نافرمانی کے رجحان کا خاتمہ ہے۔ لیکن ان کے جمہوری اقتدار کے قیام سے نامساویت کا رجحان الٹایا نہیں جا سکا سوائے وینزویلا کے۔ لاطینی امریکی قوم پرست حکومت میں استعمار بالخصوص امریکا سے سودے بازی کر کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ اس سودے بازی کے نتیجے میں:

۱۔ بین الاقوامی قرضوں کی واپسی اور سودی ترسیلات کے نئے دورانیے مقرر ہوئے۔ (برازیل، ایکواڈور، ارجنٹینا)
۲۔ آئی ایم ایف کی وضع کردہ معاشی اصلاحات (Structural Program) ”اصلاح شدہ‘‘ شکل میں جاری ہیں۔ (برازیل، پیرو، نکاراگوا، یوراگوئے، میکسیکو)

۳۔ امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ماتحت آؤٹ سورسنگ کے روابط بدستور مستحکم کیے گئے۔ (میکسیکو، برازیل اور بیش تر مرکزی امریکی ریاستیں)

۴۔ حکمران قوم پرست جماعتوں کے بااثر قائدین بڑے پیمانے پر سرمایہ کار بن گئے اور امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے اپنے کاروبار کو ملحق کر لیا۔ (نکاراگوا، میکسیکو، برازیل، ایکواڈور)۔

۵۔ انتظامی مرکزیت کو کم کرنے کے لیے ایسی انقلابی اسکیمیں نافذ کی گئیں جن کے نتیجے میں مقامی سطح پر ایسے ادارے قوت حاصل کریں جو استعمار نواز معاشی صف بندی کو فروغ دیں۔ پورے ملک میں این جی اوز کا نیٹ ورک بچھا دیا گیا جو مقامی معاشی مفادات کے فروغ کے لیے عوامی جدوجہد کو منظم کرتا ہے۔ اس عوامی ’’ردِّ انقلاب‘‘صف بندی کو یوایس ایڈ اور امریکی حکومت نے بھرپور مدد دی۔ (نکاراگوا، چلی، برازیل، ارجنٹینا)
۶۔ سرمایہ دارانہ ملکیتی تشخص کی ایک شکل سے دوسری شکل (ریاستی ملکیت) کی طرف محدود مراجعت ہوئی اور کئی قوم پرست لاطینی امریکی حکومتوں نے بڑے پیمانے پر بالخصوص کان کنی کے شعبہ میں قومی ملکیتی تحویل کا دائرہ کار وسیع کیا (وینزویلا، بولیویا، ایکواڈور، پیرو) ۔لیکن نیشنلائزیشن کی یہ مہم بین الاقوامی کان کن اور توانائی کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تعاون اور اشتراک عمل کی بنیاد پر منظم کی گئی اور اس کے نتیجے میں نئی قومیائی ہوئی فرمیں کارپوریٹ ہی رہیں۔ ان کا مقصد سرمایہ کی بڑھوتری رہا اور ان کے حصص عالمی سٹہ بازاروں (اسٹاک ایکسچینج) میں مسلسل بیچے خریدے جاتے ہیں۔

امریکا نے لاطینی امریکی قوم پرست جماعتوں کی وضع کردہ قومی معاشی حکمت عملی باکراہ قبول کر لی ہے۔ لیکن اب گو کہ ہر لاطینی امریکی ملک میں لبرل جماعتوں کا ہی حلیف ہے اور تخریب کاری اور دہشت گردی کی مخفی مہمات کے ذریعے انہی لبرل جماعتوں کو برسراقتدار لانے کی بھرپور جدوجہد کرتا رہتا ہے لیکن قوم پرست حکومتوں کے تسلسل کے ساتھ سودے بازی کو اپنے لیے مفید تصور کرتا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں امریکی اصولی مخالفت صرف وینزویلا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وینزویلا پچھلے پندرہ سال سے کیوبا کا حلیف ہے اور ابھی تک وینزویلا کی حکومت کی پالیسیاں اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کے قیام پر مرکوز ہیں۔ لہٰذا امریکا وینزویلا میں انتشار اور لاقانونیت، دہشت گردی اور عوامی سفاکیت کو فروغ دینے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

سرمایہ داری کے سوشل ڈیموکریٹ نقیب

18۔ جان اسٹوارٹ مِل اور میکس ویبر

سوشل ڈیموکریسی اس سرمایہ دارانہ نظریہ کوکہتے ہیں جو لبرل اور اشتراکی تصورات اور پالیسیوں کی آمیزش کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے اہم تضادات کو واضح کر کے سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو کرتا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی لبرل طرز معاشرت کی تصدیق کرتی ہے اور لبرل معاشروں کی طرح سوشل ڈیموکریٹ معاشرے بھی خودغرضی، شہوت پرستی، جنسی بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ کی غلاظتوں سے سرشار ہوتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ حرامی بچے سوشل ڈیموکریٹ (سویڈن) میں، سب سے زیادہ اغلام باز بھی سوشل ڈیموکریٹ (نیدرلینڈ) ممالک میں ہی پائے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ طلاقیں بھی سوشل ڈیموکریٹ (فن لینڈ) ممالک میں دی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ خودکشیاں بھی سوشل ڈیموکریٹ ممالک (سوئٹزرلینڈ) میں کی جاتی ہیں۔ دہریوں اور ابلیس پرستوں کا قومی آبادی میں تناسب بھی سوشل ڈیموکریٹ ملک (نیدر لینڈ) میں سب سے زیادہ ہے [443]۔ 

لبرل ازم اور اشتراکیت کی طرح سوشل ڈیموکریسی کی نظر میں جنسی بے راہ روی آزادی کا ایک فطری طریقہ ہے اور جنسی بے راہ روی اور دہریت کے فروغ کے لیے معاشرتی مواقع فراہم کیے جانے چاہییں[444]۔
سوشل ڈیموکریسی کی نظر میں ظلم صرف معاشی محرومی کا فروغ ہے۔ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی فطری کارفرمائی پورے معاشرے میں ارتکاز دولت اور قوت اور معاشی محرومی کو فروغ دیتی ہے۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ معاشرت شہوت پرست ہے لہٰذا ہمیشہ اور ہر جگہ لذات کے حصول کی طلب آمدنی اور ذرائع کی رسد سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، خواہ قوم پرست، خواہ سوشل ڈیموکریٹ کتنی بھی ترقی کر لیں، کتنی بھی دولت اور سامان تعیش اکٹھا کر لیں ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہتے ہیں اور یہی احساس محرومی غالب معاشرتی رویہ بن جاتا ہے۔ کوئی فرد اپنی زندگی سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا کیوں کہ وہ ہمیشہ اپنے معیارِ زندگی کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے اور معاشرتی عمل کا حاصل ہی بے اطمینانی کا فروغ ہے۔ کسی غیر عیسائی مغربی مفکر کے پاس نفس مطمئنہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔

ویسے یہ احساس محرومی سرمایہ دارانہ معاشرت میں شامل ہر شخص کا مستقل حال ہوتا ہے۔ وہ اس احساسِ محرومی سے کبھی نجات حاصل نہیں کر سکتا خواہ کتنا ہی مال دار کیوں نہ ہو جائے۔ اس ابدی مایوسی سے فرار کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ جو لوگ سرمایہ کے چکر میں شامل ہوتے ہیں[445] وہ حصولِ دولت، اقتدار اور مناصب کی کش مکش میں لگے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو سرمایہ کے چکر سے باہر ہوتے ہیں یعنی بے روزگار، پنشن یافتہ افراد، غیرسرمایہ دارانہ کاروبار کرنے والے وغیرہ وہ سرمایہ کے عاملین سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔

اپنے عروج کے اوائل میں سرمایہ دارانہ قومی نظام عموماً طبقات میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ایک ایسا جم غفیر پیدا ہو جاتا ہے جس کی سرمایہ کے مارکیٹس میں مسابقتی قوت کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ محنت کشوں کا طبقہ ہوتا ہے اور اپنی مسابقتی قوت کو بڑھا کر سرمایہ سے بہتر سودے بازی کے لیے یہ طبقہ مزدور انجمنیں قائم کرتا ہے۔ سوشل ڈیموکریسی انہی ٹریڈ یونینز کی جدوجہد کا سیاسی اظہار ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ ناانصافی کے خلاف جدوجہد سرمایہ دارانہ مارکیٹس میں تقسیم دولت کو زیادہ مساویانہ بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ اشتراکیوں کی طرح وہ مارکیٹ کا انہدام ضروری نہیں سمجھتے نہ کسی مزدوروں کی آمریت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ لبرل ریاست اور اس کے دستور کے فراہم کردہ ہیومن رائٹس کو قبول کرنے والی ایک ایسی حکومت کا قیام چاہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ عدل قائم کرے اور مارکیٹ کو اس طرح ریگولیٹ کرے کہ ارتکاز سرمایہ کے رجحان کی تحدید ہو اور سرمایہ کی گردش کے نتیجے میں حاصل شدہ اضافی قدر اجرتوں کا حصہ زیادہ اور منافع، سود، رہن وغیرہ کا کم حصہ ہو۔

18.1۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی پارلیمانی جدوجہد

اس فکر کی ابتدا اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے فرانس[446] اور برطانیہ میں ہوئی۔ جان اسٹوارٹ مل (۱۸۷۳۔۱۸۰۶ء) کی فکر سوشل ڈیموکریسی نظریات کی تدوین میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ مل ایک utilitarian فلسفی تھا اور مشہور utilitarian مفکر جرمی بینتھم کا ذاتی تربیت یافتہ شاگرد تھا[447]۔ Utilitarianism کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ ہیومن بینگ کی بنیادی قوت محرکہ حصولِ لذات کی پیہم جدوجہد ہے۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر Utilitarianism وہ اصول مرتب کرنے کی کوشش کرتی ہے جن کی بنیاد پر پالیسی سازی کے ذریعے حصولِ منتہائے لذات ممکن ہو سکے۔

مل کے مطابق سیاسی عمل کے تجزیہ کے لیے جس طریقہ پر عمل کرنا چاہیے اس کو Reverse Deductive Method کہتے ہیں۔ اس طریقۂ تجزیہ کے مطابق:

۱۔ پہلے مشاہدہ کی بنیاد پر ایسے قوانین کی نشان دہی کی جائے جو اسباب اور نتائج کے تعلق کے رجحانات کو مطمئن کریں۔

۲۔ پھر ان قوانین کی تصدیق ان مفروضہ قوانین کی بنیاد پر کی جائے جو فطرت انسانی کے غماز ہیں۔

۳۔ جب کسی انفرادی سیاسی تعبیر یا پالیسی (بذریعہ پارلیمانی قانون سازی) کا تجزیہ کیا جائے تو مشاہدہ کی بنیاد پر اخذ شدہ قوانین پر انحصار کرنا کافی ہے۔ اگر مقصد اس قانون کے فوری اثر کا تعین کرنا ہو۔

۴۔ لیکن اگر اس سیاسی پالیسی کے اثرات کا تجزیہ مقصود ہے جو اس کے اطلاق کے نتیجے میں تہذیبی ترقی پر مرتب ہوں گے تو لازم ہے کہ اس قانون یا پالیسی کی فطرت انسانی سے مطابقت کی بھی تحقیق کی جائے۔ یہ مطابقت اس سیاسی عمل کے قوانین سے اخذ کرنے پر منحصر ہے جو فطرت انسانی کے غماز ہیں [448]۔

مل تاریخ میں ارتقا کو لازم تصور نہیں کرتا لیکن تہذیبی ارتقا کو ممکن بھی سمجھتا ہے اور ضروری بھی۔ مل کے خیال میں تاریخ کے مطالعہ سے وہ مدارج (Stages) بھی واضح ہو جاتے ہیں جو ترقی کی جستجو میں ہیومن بینگ نے طے کیے ہیں اور ان ناگزیر اقدامات کی نشان دہی بھی ممکن ہے جو ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے لازم ہیں۔درست اور مطلوب سیاسی حکمت عملی وہ ہے جو ایک معاشرہ کو تاریخی ارتقا کی راہ پر گامزن کرنے کا آلہ کار بنے، محض وقتی مسائل کے حل پر توجہ نہ دے۔ مل کے مطابق ترقی سے مراد زیادہ سے زیادہ حصولِ لذت ہے۔ انگلستان ہندوستان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے انگلستان میں ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ لذات کا حصول ممکن ہے۔ اپنی مشہور کتاب Utilitarianism میں مل کہتا ہے ہیومن بینگ لذات کے حصول کا خواہاں ہے لہٰذا حصولِ لذات ہی مقصد حیات و سیاسیات ہونا چاہیے۔

مل نے ساری زندگی برطانیہ کے انڈیا آفس میں ملازمت کی۔ انڈیا آفس وہ ادارہ تھا جو ہندوستان میں برطانوی استعماری حکمت عملی مرتب کرتا تھا۔ جہاد ۱۸۵۷ء کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر دی گئی اور ہندوستان سلطنت برطانیہ کی ایک کالونی بنا دیا گیا تو مل نے انگریز استعماری حکمت عملی مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مل کے خیال میں استعماری پالیسی کا مقصد ہندوستان کو برطانیہ کی طرح ایک ترقی یافتہ تہذیب کا گہوراہ بنانا چاہیے تھا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان میں حکومت کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو ہندوستان کو ایک مہذب، ترقی یافتہ ملک بنانے کی خواہش اور اہلیت رکھتے ہوں۔ اور یہ بات صرف ہندوستان کے لیے نہیں خود برطانیہ کے لیے بھی ضروری ہے۔ترقی کا سفر تین مدارج پر مشتمل ہے:

۱۔ ماورائی (Mythological) ۲۔مذہبی (Theological) ۳۔ سائنسی (Experimental) 

لازم نہیں کہ کوئی معاشرہ ایک درجہ سے دوسرے درجہ تک ترقی کر ے۔ غیر معمولی ذہین اشرافیہ اپنے عمل، فکر اور جدوجہد کے ذریعے ہی ارتقا کو ممکن بناتی ہے۔ ان غیرمعمولی افراد کی صلاحیتوں کا فروغ صرف ایک آزاد معاشرے میں ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا بڑھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی آزادیوں کا فروغ ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے لازم ہے۔ آزادانہ ماحول غیرمعمولی ذہین افراد کے لیے یہ بات ممکن بناتا ہے کہ وہ رائج شدہ میلانات، خیالات اور طریقوں کو چیلنج کر کے ان کا متبادل تجویز کر سکیں۔ 

مل کے مطابق انیسویں صدی میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک اور معاشرے امریکا اور مغربی یورپ میں پائے جاتے تھے۔ ترقی یافتہ ملک و معاشرت کی پہچان یہ ہے کہ وہاں ذمہ دار حکومت کے ہاتھ میں اقتدار ہو اور سائنٹفک علمیت غالب ہو۔ ترقی کا سب سے اہم سبب سوشل سائنٹفک علمیت کا فروغ ہے۔ یہ خیال بھی مل نے کومٹے کی فکر سے اخذ کیا ہے۔ ترقی کا عمل یورپ اور امریکا میں اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ سوشل سائنسز کی فراہم کردہ علمیت کے فروغ کے نتیجے میں ہنوز جاری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مل اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ترقی کے سفر میں معاشرتی مساوات کا فروغ بذریعہ جمہوری عمل بھی لازم ہے۔ اس معاملہ پر مل فرانسیسی مفکر ٹاکویل (Tocqueville) سے متاثر ہے۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں ٹاکویل نے امریکا کا دورہ کر کے امریکا کو ایک مثالی جمہوری ملک بیان کیا اور ہیگل کی طرح پیش گوئی کی کہ سرمایہ دارانہ دنیا کی قیادت بالآخر امریکا ہی کرے گا۔معاشرتی مساوات کی ناگزیر بڑھتی ہوئی بڑھوتری کو مل پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا کیوں کہ اس کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہو جانے کا امکان تھا کہ اقتدار ذہین اشرافیہ کے ہاتھ سے نکل جائے۔ مل اس بات کو ممکن سمجھتا تھا کہ معاشرتی مساوات کے فروغ سے اس خطرہ کو سیاسی حکمت عملی کے ذریعے manage کیا جا سکتا ہے[449]۔

کلاسیکی utilitarian فکر میں ریاست کا مقصد وجود (raison d'être) زیادہ سے زیادہ سٹیزن کے لیے لذات کا فروغ تھا۔ اس کو Greatest Happiness Principle (GHP) کہتے تھے اور کلاسیکی utilitarian بینتھم، جیمس مل اور ان کے پیرو ہیوم کے مطابق ریاستی پالیسی سازی اسی اصول کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔ مل GHP کو بحیثیت ماخذ ریاستی پالیسی تسلیم کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ لذات دو قسم کی ہوتی ہیں اعلیٰ اور ادنیٰ۔ ذہنی اور روحانی لذات بدنی لذات سے اعلیٰ درجہ کی لذات ہوتی ہیں۔ زندگی کا مقصد ان لذات کا فروغ ہونا چاہیے اور ان کے حصول کے لیے ادنیٰ لذات کی قربانی دینا اور تکالیف برداشت کرنا جائز ہے۔ مل نے اس بات سے تین نتائج اخذ کیے:

۱۔ وہ معاشرہ زیادہ ترقی یافتہ ہے جہاں لوگ اعلیٰ لذات کے حصول کی جستجو کرتے ہیں لہٰذا ترقی کے حصول کے لیے اعلیٰ لذات کے فروغ کی جدوجہد لازمی ہے۔

۲۔ اعلیٰ لذات کا فروغ صرف ایک آزادی پرست معاشرے میں ممکن ہے۔

۳۔ عدل کا قیام اور طمانیت کا فروغ اس بات پر منحصر ہے کہ لوگ ایک ایسے معاشرہ میں رہیں جہاں اعلیٰ لذات کے فروغ کی جستجو مقدم ہو۔

جو لوگ اعلیٰ لذات کے فروغ کی تقدیم کے قائل ہوتے ہیں وہ اعلیٰ اخلاق اور کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ بہترین شہری بھی ہوتے ہیں اور بہترین مفکر و مدبر بھی کیوں کہ سائنسی ترقی کا انحصار انہی کرداروں اور اخلاقیات کے فروغ پر منحصر ہے جو اعلیٰ لذات کے حصول کی جستجو کرنے والے اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔
حکومت کا مقصد وجود ان لذات کی فراہمی نہیں جن کی طلب اس کے سٹیزن کسی وقت ظاہر کریں بلکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے سٹیزن کی ایسی تربیت کرے جس کے نتیجے میں وہ اعلیٰ لذات کے حصول کو مقدم قرار دینے لگے۔ اخلاقی تعلیم کی فراہمی حکومت اہم ترین ذمہ داری ہے۔ حکومت محض سٹیزن کی خواہشات کی تکمیل کی ذمہ دار نہیں ان کی اخلاقی ترقی کی بھی ذمہ دار ہے اور اخلاقی ترقی سے مراد یہ ہے کہ سٹیزن اعلیٰ لذات کو مقدم سمجھنے لگیں [450]۔

ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا حق صرف اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہونا چاہیے کہ اعلیٰ لذات کو مقدم رکھنے کی ضرورت کا شعور رکھتے ہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ ایسے نابغہ روزگار افراد کو زیادہ سے زیادہ آزادیاں فراہم کی جائیں تاکہ اظہار ذات کے متنوع طرائق کو فروغ دے کر معاشرتی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔ جمہوری عمل اس معاشرتی تنوع کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے اور جمہوری ریاستیں غیرجمہوری ریاستوں سے اسی لیے بہتر ہیں کہ اظہار ذات اور فروغ آزادی کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہیں لیکن جمہوری عمل کو اسی اشرافیہ کے سیاسی اقتدار کی برطرفی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں جو اعلیٰ لذات کی تقدیم کی جدوجہد کر رہی ہو۔ایک اچھی حکومت وہ ہے جو استحکام اور امن کو قائم رکھتے ہوئے ترقی کو فروغ دیتی ہے۔ وہ اپنے عوام کو ایسی تعلیم دیتی ہے اور ان کی ایسی تربیت کرتی ہے جو ان میں اعلیٰ لذات کو مقدم رکھنے اور برتنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ ریاستی ادارتی صف بندی اس طرح کی جانی چاہیے کہ عوامی اخلاقی[451] اور انتظامی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی تعلیم و تربیت ہے لیکن یہ تعلیم و تربیت عوام کی ثقافتی کیفیت پر منحصر ہونی چاہیے۔ جو تعلیم اور تربیت انگلستان کے لیے موزوں ہے وہ ہندوستان کے عوام کے لیے موزوں نہیں کیوں کہ ہندوستان کے عوام وحشی، روایتی، قدامت پسند اور وہمی ہیں۔ برطانوی حکومت پہلے ان کو مطیع بننے اور مطیع رہنے کا سبق سکھائے گی پھر ان کو محنت کی عادی بنائے گی۔ پھر ان کو روشن خیالی کا سبق دے گی اور اس طرح ان میں سے کالے انگریزوں کا ایک ایسا گروہ برآمد کرے گی جو اعلیٰ لذات کی تقدیم کے قائل ہوں اور یوں دھیرے دھیرے ان کالے انگریزوں کو اقتدار سونپ کر ہندوستان کو سیلف گورنمنٹ کے قابل بنائے گی۔

مل بار بار اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ وحشیوں کے لیے جمہوریت موزوں طریقہ حکومت نہیں۔ اگر وحشیوں کو جمہوری حکومت سونپ دی جائے تو وہ کبھی ترقی نہ کر سکیں گے۔ کبھی بھی اعلیٰ لذات کی تقدیم کا احساس ان میں فروغ نہ پا سکے گا۔ لہٰذا برطانوی استبدادی اقتدار ہندوستان کی ترقی کے لیے لازمی ہے۔ مل روشن خیال اشرافیہ[452] کے معاشرتی اور معاشی تغلب کا قائل ہے لیکن ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں نمایندہ جمہوریت کو روشن خیال اشرافیہ کی استبدادی حکومت پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کی وہ تین وجوہات بیان کرتا ہے:

۱۔ انفرادی حقوق کی فراہمی کی ضمانت صرف شخصی آزادی کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔

۲۔ بقول مل تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد معاشرہ اور ریاست ترقی کی دوڑ میں سبقت لے جاتے ہیں ۔

۳۔ تنوع کردار اور صلاحیتوں کے پھلنے پھولنے اور اخلاقی حساسیت کے فروغ کے لیے آزاد سیاسی نظام کا قیام ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملکوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نمایندہ حکومت لوگوں کے حقوق کا تحفظ بھی کرتی ہے اور ان کی مادی اور اخلاقی ترقی[453] کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے لہٰذا نمایندہ جمہوری حکومت ترقی کے حصول کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ملک کے لوگ اس سے مستفید ہونے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ جہاں لوگ وحشی ہوں مثلاً ہندوستان وہاں استعماری استبدادی نظام سلطنت کے ذریعے نمایندہ حکومت کے قیام کےلیے دھیرے دھیرے عوام کو مہذب اور بااخلاق[454] بنایا جا سکتا ہے۔

نمایندہ حکومت میں مل کے مطابق منتخب نمایندگان (یعنی ارکان پارلیمنٹ) کو خود حکومت نہیں کرنی چاہیے۔ عوام میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے نمایندے منتخب کریں جو کاروبار ریاست چلانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ ایک ترقی یافتہ ملک میں بھی حکومت کرنا ماہرین کا کام ہے[455]۔یہ ماہرین انتظامیہ میں بھی ہوتے ہیں، عدلیہ میں بھی اورمقننہ میں بھی (مقننہ میں یہ ماہرین وزرا اور پارلیمانی سیکریٹری ہوتے ہیں)۔ یہ ماہرین منتخب نہیں کیے جاتے بلکہ نظام تعلیم ان کی تشکیل کرتا ہے۔ حکومت کرنا انہی ماہرین کا کام ہے اور عوامی نمایندگان صرف ان ماہر حکمرانوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ نمایندہ جمہوریت لازماً نوکرشاہی کی حکومت ہوتی ہے کیوں کہ نوکرشاہی ہی ملک کو مہذب اور تہذیب یافتہ بنا کر ترقی کی راہ پر مستقل گامزن رکھنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔

مل کی رائے میں پارلیمنٹ محض ایک مجلس مباحث ہے۔ پارلیمنٹ کو وہ "Committee on Greviences" اور "Congress of Opinions" کہتاہے۔ پارلیمنٹ ہر سطح معاشرے کی نمایندہ ہوتی ہے۔ جاہلوں کے نمایندہ بھی منتخب ہوتے ہیں اور اہل فہم کے نمایندہ بھی۔ حکومت یعنی پارلیمانی، انتظامی اور عدلیہ کی بیوروکریسی کے سامنے ہر طبقہ عوام کو اپنی شکایات پیش کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ ہر طبقہ کی خواہشات کے اظہار کا موقع فراہم کرے اور پبلک معاملات میں اختلافی آرا پر بحث اور غوروفکر کے وافر مواقع فراہم کرے۔

مل اس بات کو قبول کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے جمہوری نظام حکومت کا قیام ضروری ہے۔ لیکن امریکی دستور سازوں (ہملٹن، میڈیسن، جیفرسن) کی طرح مل کو احساس ہے کہ ایسا جمہوری نظام جس میں عوام خود حکومت کریں[456] سرمایہ دارانہ نظم علمیت اور معاشرت کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا حکومتی نظام سے عوام کو فاصلہ پر رکھنا ضروری ہے تاکہ حکومت کی کارفرمائی کا مقصد بڑھوتری حکومت کے علاوہ کوئی اور نہ ہو جائے [457]۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام نظم ریاست کو اپنی ریاستی خواہشات کے حصول کا ذریعہ گردانیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے مل نے جو حل تجویز کیا اس کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ انتخابات کے ذریعے عوام کو اپنے نمایندہ منتخب کرنے کا حق گاہے گاہے دیا جاتا ہے۔

۲۔ یہ نمایندے حکومت کے نگران ہوں اور عوامی خواہشات اور مطالبات کو حکومت کے سامنے مستقل پارلیمانی بحثوں کے ذریعے پیش کرتے رہیں۔

۳۔ حکومت کی ذمہ داری پارلیمانی، انتظامی اور عدلیاتی بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہو لیکن یہ بیوروکریسی عوامی نمایندوں کے سامنے جواب دہ ہو۔

۴۔ یہ بیوروکریسی منتخب نہ ہو بلکہ سرمایہ دارانہ نظام تعلیم کے ذریعے ترقی کر کے ابھرے۔

ہر سرمایہ دارانہ نظام میں حکومت بیوروکریسی ہی کرتی ہے لیکن چوں کہ بیوروکریسی روزمرہ کے انتظامی معاملات میں مستقل الجھی رہتی ہے[458] لہٰذا اس میں نئے نئے تجربات کرنے اور نئی نئی راہیں نکالنے کے رجحانات محدود ہوتے ہیں۔ مل کو امید تھی کہ ذہین اور اعلیٰ عقلیت رکھنے والے پارلیمانی نمایندے جو مستقل بحث اور تفکر کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں بیوروکریسی کی موثر رہنمائی کر کے اس کو نئے زاویہ نگاہ سے روشناس کرا کے نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دیں گے[459]۔ 

مل نمایندہ جمہوریت کو اکثریت کی حکومت سے تعبیر نہیں کرتا۔ اس کے دور میں برطانیہ میں اکثریت ان کی تھی جو سرمایہ دارانہ ملکیت نہیں رکھتے تھے۔ مل کو خطرہ تھا کہ اگر اس محنت کش طبقہ کی اکثریتی حکومت قائم ہو گئی تو وہ سرمایہ دارانہ ملکیت کو ختم کر دیں گے اور مل کے خیال میں یہ معاشرتی ترقی اور تہذیبی ارتقا کے لیے ایک نہایت مضر پالیسی ہو گی۔ لہٰذا نمایندہ جمہوریت میں بیوروکریٹائزیشن کے ذریعے ایسی ادارتی صف بندی کرنی چاہیے جو عوام کو حکومتی عمل سے فاصلہ پر رکھے ہوئے ہو۔ ان کو اپنے اظہار خیال اور تحفظ سرمایہ دارانہ کا موقع فراہم کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

۱۔ پارلیمان ایک مشاورتی مجلس ہو۔

۲۔ پارلیمان میں ایک مضبوط حزب اختلاف ہو جو ریاستی پالیسی پر ویسے ہی اثرانداز ہو جیسے اکثریتی جماعت۔

۳۔ حکومت پارلیمان نہیں بلکہ ریاستی بیوروکریسی کرے۔

۴۔ دستور سرمایہ دارانہ حقوق کی ضمانت فراہم کرے اور جمہوری عمل کے ذریعے یہ سرمایہ دارانہ حقوق کبھی معطل نہ کیے جا سکیں[460]۔

مل نے پارلیمنٹ میں اکثریتی بالادستی کو کمزور کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں[461] ۔ اس کے خیال میں ایک منتخب نمایندہ کو محض اپنے حلقہ کی آراء کی نمایندگی نہیں کرنی چاہیے بلکہ پورے معاشرے کے مفاد یعنی سرمایہ کہ بڑھوتری کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ یعنی ہر نمایندہ فی الاصل سرمایہ کی نمایندگی کرے اور اپنے حلقہ کے عوام کی نمایندگی اسی تناظر میں کرے۔مل ہمیشہ اکثریت کی پارلیمانی بالادستی سے خائف رہا۔ جو لوگ معاشرتی اخلاقیات کی تعلیمات سے بہرہ ور کیے جا چکے ہیں[462] مل ان کو "the instructed" کہتا ہے۔ ان کی تعداد اس قسم سے بہت کم تھی جس کو مل "uninstructed" کہتا ہے۔ ہیوم کی تجویز کردہ personal representation کی تجویز کے ساتھ ساتھ مل اس بات کی بھی وکالت کرتا ہے کہ ہر انسٹرکٹڈ فرد کو کئی ووٹ دیے جائیں۔ اس کے علاوہ uninstructed سرمایہ کے مالکین کو plural voting کا حق دیا جائے۔ یہ اس لیے کہ اعلیٰ لذات کے فروغ کا مطلب ہی سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری ہے اور یہی ترقی کا اصل ہے۔ لہٰذا پارلیمنٹ میں instructed افراد کی قوت کو بڑھا کر مل اس بات کو یقینی بنانا چاہتا تھا کہ حکومت (جو کہ لازماً سرمایہ دارانہ بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہو گی) کی نگرانی وہ instructed افراد کریں جو تقدیم بڑھوتری سرمایہ (یعنی تقدیم اعلیٰ لذات) کی فرضیت کو پالیسی سازی کا مقصد سمجھیں۔

مل کی سب سے اہم کتاب "On Liberty" ہے۔ اس کتاب میں نمایندہ جمہوریت کو اعلیٰ ترین ریاستی صف بندی قرار دیتا ہے اور اس کی رائے میں جیسے جیسے ایک ملک ترقی کرتا ہے وہ نمایندہ جمہوری نظام کو اپناتا ہے جمہوری نمایندہ نظام کی اقداری اساس آزادی ہے لیکن آزادی کے استحکام اور فروغ کو دو اہم نظاماتی اور نظریاتی خطرات درپیش ہیں۔ ایک خطرہ عیسائیت سے ہے جو روایتی عیسائی اقدار کی بنیاد جنسی آزادیوں پر تحدید کرتی ہے[463]۔ مل ایک دہریہ تھا[464] اور تحریک نسواں اور جنسی بے راہ روی کے فروغ کا بھرپور حامی تھا۔
مل کے خیال میں عیسائیت سے زیادہ خطرناک وہ اشتراکی مفکرین تھے جو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے شخصی اور مارکیٹ کی آزادی کی تحدید کا پرچار کر رہے تھے۔ وہ محنت کشوں کو مشتعل کر کے ان کو سرمایہ کے مالکوں کی نافرمانی اور حکم عدولی کا سبق پڑھا رہے تھے۔ نمایندہ جمہوری نظام میں یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ محنت کشوں کا جم غفیر جو سرمایہ دارانہ ملکیت سے محروم ہے، انفرادی آزادیوں بالخصوص مارکیٹ کی آزادیوں کو اپنی ملکیتی محرومی کو ختم کرنے کے لیے معطل کر دے اور انفرادی آزادیوں کی تحدید ترقی کو ناممکن بنا دے گی کیوں کہ ترقی کا مطلب ہی یہ ہے کہ فرد اعلیٰ لذات کے فروغ کو اپنی ذات کی معنویت سمجھے۔

چوں کہ سرمایہ (حرص و حسد) ایک روحانی قوت ہے لہٰذا وہ نفس انسانی میں ہی فروغ پاتا ہے۔ شخصی آزادیوں کی تحدید نفس امارہ کے میلانات فاحشہ (حرص و حسد) ہی کی تحدید ہے[465] ۔ لہٰذا انفرادیت کا فروغ اعلیٰ لذات کی فوقیت کا ادراک اور سرمایہ کی بڑھوتری کی تقدیم ایک ہی عمل کے دو مختلف پہلو ہیں۔ اشتراکی بنیاد پر انفرادیت اور انفرادی آزادی کو کچلے جانے کا خطرہ ہے۔ انفرادی خود ارادیت کو فروغ دینا ہر فرد ہر طبقہ ہر ادارہ اور ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی دوسرے فرد کی خود ارادیت کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرے۔ یہ ایک انارکسٹ خیال ہے لیکن مل کے خیال میں ایک منظم اور پرامن معاشرہ کے لیے ضروری ہے کہ گو ہم سب افراد کی خود ارادیت کو تسلیم کریں (یہ حق غیرمہذب یعنی بقول مل savages یعنی وحشیوں کو نہیں دیا جانا چاہیے) لیکن ریاست اور معاشرہ کا یہ حق تسلیم کریں کہ وہ مہذب فرد کو دوسرے مہذب فرد کی خود ارادیت سے محروم نہ کرے۔ ریاستی تحکم کا یہ تصور مل نے لاک سے اخذ کیا۔چوں کہ مل کے مطابق فرد خود مختار ہے اور چوں کہ رائے اس کی اپنی انفرادی ملکیت ہے لہٰذا اظہار رائے پر تحدید اصولاً ناقابل تحدید ہے۔ لیکن آزادی اظہار رائے اس بات سے مشروط ہے کہ وہ کسی مہذب نظام معاشرت کو معطل کرنے کا ذریعہ نہ بنے مثلاً کسی اشتراکی کو حق ہے کہ کسی ذخیرہ اندوز کے سامنے جمع ہجوم کو اشتعال دلائے۔ کسی اسلامی انقلابی کو حق نہیں کہ وہ ان ستّر ہزار علما کو پھانسی دینے کے خلاف عوام کو مشتعل کرے جن کو برطانیہ نے ۱۸۵۸ء میں شہید کیا تھا۔ یہ مل کی رائے تھی۔

اشتراکی مفکرین حکومت کو معاشرہ میں وسیع مداخلتی اختیارات دینے کے قائل ہیں۔ اصولاً مل حکومتی معاشرتی اور معاشی توسیع اختیارات کا مخالف ہے اور کہتا ہے کہ ریاستی دائرہ عمل کی توسیع سے انفرادی آزادیاں لازماً محدود ہوتی ہیں۔ لیکن تقسیم دولت کے ضمن میں مل ریاستی مداخلت کو ضروری سمجھتا ہے۔ پیداواری عمل میں ریاست کی براہ راست شرکت کا مل قائل نہیں اور پیداواری عمل کو قوانین رسد و طلب کے تحت مرتب کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ مل کلاسیکی اور نیوکلاسیکی اکنامک مکتب فکر کے درمیان ایک مواصلاتی کردار ہے[466]۔ کلاسیکی اکنامسٹس کی طرح مل اجارہ داری کی تحدید کے لیے ریاستی مداخلت کا قائل تھا۔ اپنی کتاب "Principles of Political Economy" میں اس نے اس کا بھی اقرار کیا ہے کہ ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ محنت کش طبقہ کا معیار زندگی لبرل سرمایہ دارانہ معاشرہ کے مقابلہ میں بہتر ہو لیکن چوں کہ اشتراکی سرمایہ دارانہ نظم معیشت شخصی آزادیاں محدود کرتا ہے لہٰذا اس میں لامحدود ترقی یعنی لامحدود بڑھوتری سرمایہ کی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔
مل کی رائے میں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات ضروری ہیں:

۱۔ ایسے تعلیمی اور تربیتی نظام کا قیام جو فرد کو اعلیٰ لذات کے فروغ کی فرضیت کا قائل کر دے۔

۲۔ ایک ایسی دستوری نمایندہ جمہوری نظام کا قیام جہاں حکومت بیوروکریسی کرے اور پارلیمان اس بیوروکریسی کی نگران ہو۔

۳۔ ایک ایسے معاشرہ کا قیام و استحکام جو زیادہ سے زیادہ انفرادی خود مختاری کی گنجائش فراہم کرے۔
۴۔ لیکن جن ممالک میں اعلیٰ لذات کی فوقیت کی فرضیت کا احساس موجود نہیں یعنی بقول مل کے جہاں وحشی رہتے ہیں وہاں استعماری تحکم ہی موزوں ہے۔ وہاں نہ شخصی آزادیوں کی تقدیس کو خاطر میں لانا ضروری ہے اورنہ نمایندہ جمہوری نظام کا قیام ضروری ہے۔ وہاں استعمار کو بزور شمشیر اور بزور تعلیم[467] رائج شدہ نظام کو اکھاڑ پھینک کر تہذیبی ارتقا[468] کے عمل کی ابتدا کرنا چاہیے ۔

۵۔ utilitarianism سے وابستگی کے باوجود مل پر تحریک رومانویت کا اثر بھی نمایاں ہے۔ وہ انیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام میں مالکان سرمایہ اور مزدور طبقہ میں بڑھتی ہوئی کش مکش کا انکار نہیں کرتا لیکن اس کو امید ہے کہ تعلیم اور تہذیب کے پھیلاؤ کے نتیجہ میں مالکان اور مزدور ایک دوسرے کو اپنا حلیف اور ساتھی سمجھنے لگیں گے۔ رویہ کی اس تبدیلی کے رونما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کے حقوق کے دائرہ میں اضافہ کیا جائے۔ جس کو بعد میں سوشل ڈیموکریٹ مفکرین نے سوشل رائٹس کہا۔ ان کے کچھ مبہم اشارات مل کی فکر میں ملتے ہیں لیکن مل کی اصل توجہ ایسے گروہوں کو سرمایہ دارانہ سیاسی نظام میں سمونے کی ہے جو اس کے دورتک اس عمل سے باہر تھے۔ مل تحریک نسواں کا پرجوش فکری اور سیاسی رہ نما تھا اور عورتوں کو حق رائے دہی دلانے کی جدوجہد اپنے پورے پارلیمانی کیریئر (۱۸۶۳-۱۹۶۸ء) میں کرتا رہا۔ اس کا پورا زور اس بات کو ثابت کرنے پہ تھا کہ ہیومن رائٹس کی فراہمی اور GHP کی بنیاد پر پالیسی سازی میں کوئی تضاد نہیں[469]۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت ایک جمہوری نظام میں فروغ پاتی ہے۔ جمہوری نظام میں ذاتی آزادیوں کے فروغ کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ہوتی ہے اور بیش تر لوگ سیاسی عمل سے لاتعلق ہو کر ہی اپنی انفرادیت[470] کا اظہار کرتے ہیں۔

۶۔ لیکن انفرادیت کا فروغ مساویت کو ختم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ مساویت اور انفرادیت کا یہ تضاد جس کا سب سے نمایاں اظہار مارکیٹ میں ہوتا ہے، مل کو بھی پریشان کرتا رہا اور اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے ہی اس نے حقوق کے دائرہ کار کی توسیع کی وکالت کی۔

اصولاً سرمایہ دارانہ نظام مساوی آزادی کی فراہمی کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہیومن بینگ آزاد اور خودمختار ہونے کا فطری حق رکھتا ہے اور اسی فطری حق کی فراہمی کے لیے سرمایہ داری عبدیت[471] سے انکار کر کے مذہب سے بغاوت کرتی ہے لیکن عملاً آزادی کے فروغ کی جدوجہد بالخصوص مارکیٹ میں نامساویت کو فروغ دیتی ہے اور آزادی کی ترقی کے ساتھ مساویت معدوم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی پیچیدہ تر ہوتی جاتی ہے کیوں کہ جیسے جیسے ارتکاز سرمایہ میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے محرومین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ محرومین سرمایہ دار ہی ہوتے ہیں یعنی ان کے نفوس اور قلوب پر حرص و حسد کے شیاطین کا قبضہ ہوتا ہے لیکن یہ یا تو سرمایہ کی گردش کے باہر ہوتے ہیں یا اس گردش میں ان کی شمولیت ان کی مجبوریوں کا اظہار ہوتی ہے۔ اگر محرومین متنشر نہ ہوں اور ایک خودانحصاری طبقہ بن جائیں تو یہ سرمایہ کاروں کے معاشرتی اور ریاستی تسلط کو موثر طریقہ سے چیلنج کر سکتے ہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد سرمایہ دارانہ ریاست کی لبرل تشکیل کو منہدم کر سکتی ہے۔

انیسویں صدی میں یورپ کے لبرل جمہوری ریاستوں کو سرمایہ دار محرومین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے شدید خطرہ محسوس ہونے لگا۔ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ سرمایہ دارانہ محرومین کی طاقت ٹریڈ یونینز اور اشتراکی اور قوم پرست جماعتوں کی شکل میں منظم ہونے لگے۔ اس نئے خطرہ سے نبردآزما ہونے کے لیے لبرل مفکرین کی صفوں سے ایک نیا مکتب فکر برآمد ہوا جس کا مقصد ایسی اصلاحات کی نشان دہی کرنا تھا جو سرمایہ دارانہ محرومین کو جمہوری ریاستی تشکیل کے خلاف بغاوت سے باز رکھے اور لبرل نظم معیشت اور حکمرانی میں اس سرمایہ دارانہ محرومین کی شرکت کی گنجائش پیدا کر کے سرمایہ دارانہ عدل کے تقاضے پورے کرے۔ اس مکتب فکر کو سوشل ڈیموکریٹک رویہ کہتے ہیں۔ مل ان کا پیش رو تھا۔ وہ محرومین میں مقبول تھا [472]اور اس کے پیروکاروں نے اس کی فکر کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ اصلاحات کا ایک ایسا مرکب تشکیل دیا جو جمہوری ریاستی نظام کو محفوظ رکھتے ہوئے سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے کچھ تقاضے پورے کرے۔

18.2۔ سرمایہ دارانہ اصلاحات

سرمایہ دارانہ ریفارمز کی تجاویز کو تشکیل دینے کے لیے ایک نئی سوشل سائنس انیسویں صدی میں ایجاد کی گئی۔ اس سوشل سائنس کو سوشیالوجی کا نام دیا گیا [473]۔ سرمایہ دارانہ ریفارمز کا مقصد آمدنی کی تقسیم کو منصفانہ بنانا تھا۔ یعنی سرمایہ دارانہ انصاف اور عدل کی طرف معاشرتی مراجعت۔ سوشل ڈیموکریٹ مفکرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مارکیٹ کی خودکارفرمائی کے نتیجے میں جو تقسیم آمدنی وجود میں آتی ہے وہ عادلانہ نہیں ہوتی کیوں کہ مارکیٹ میں سرمایہ کے مالکان اور منتظمین کی مسابقتی قوت مزدوروں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کو ایسے اقدار بروئے کار لانے چاہییں جس کے نتیجہ میں مزدوروں کا مجموعی قومی آمدنی میں حصہ بڑھے۔ لبرلز اور نیوکلاسیکل اکانومسٹس سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ معاشرے میں طبقاتی کش مکش کو ایک منفی فعل نہیں سمجھتے بلکہ ان کی رائے میں جمہوری ریاست کو ایسی اصلاحات (دستوری اور قانونی) نافذ کرنی چاہییں جن کے نتیجے میں مزدروں کی نمایندہ تنظیمیں قومی سیاسی اہداف کے حصول کو اپنے طبقاتی مفادات سے وابستہ تصور کرنے لگیں۔ انیسویں صدی کے یورپی سوشل ڈیموکریٹس کی رائے میں قوم پرستی وہ نظریاتی مبحث فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے مزدور تنظیموں کو قومی دھارے میں آسانی سے شمولیت پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ جرمنی کے سوشل ڈیموکریٹ حلقوں میں بالخصوص عام تھا[474]۔

اس قسم کے خیالات کا اظہار میکس ویبر کی فکر میں ملتا ہے۔ ویبر جرمن ہسٹوریکل سکول کے بائیں بازو سے متاثر تھا[475]۔ ویبر سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ کو جرمنی کی ترقی کے لیے ضروری سمجھتا تھا لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے ورود سے جرمن معاشرت کو کچھ نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ جرمن دیہی روایات مجروح ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں جرمن ریاست کی قوت اثرانداز ہوتی ہے اور جرمنی کا دفاعی نظام کمزور پڑا ہے۔ ویبر نے ابھرتے ہوئے مزدور طبقہ کی اخلاقی پس ماندگی اور قومی روایات سے لاتعلقی سے متاثر تھا۔ ویبر اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ ایک طاقت ور جرمن ریاست کے استحکام کے لیے ایک ایسے طبقہ کا وجود ضروری ہے جو سرمایہ دارانہ اخلاقیات خود انحصاری، مسابقت اور ترقی کی جستجو کا حامل ہو۔ اس کے خیال میں یہ چھوٹے کاروباریوں کا طبقہ ہے۔

تاریخی تناظریت اور قومی روایات کی اہمیت کے اقرار کے باوجود ویبر اکنامکس کو ایک سائنس تسلیم کرتا ہے۔ اکنامک تجزیہ ان معنوں میں سائنسی ہے کہ اس سے کوئی اخلاقیات برآمد نہیں ہوتی۔ اکنامک تجزیہ حقیقت کا معروضی ادراک ممکن بناتا ہے جس کے نتیجے میں ایسے قوانین معاشرت اخذ کیے جا سکتے ہیں جو آفاقی رجحانات کے غماز ہوں۔ تاریخی تناظریت ان معروضی اصولوں اور آفاقی اخلاقیات کو محدود نہیں کرتی۔ اکنامک تجزیہ جن آفاقی سوشل قوانین کا ادراک ممکن بناتا ہے ان کا بنیادی مفروضہ معاشی عقلیت کا وجود ہے۔ معاشی عقلیت سے مراد یہ ہے کہ فرد کم سے کم ذرائع استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ مفاد حاصل کرے۔ لیکن ویبر کے مطابق یہ عقلیت اور اس سے متعلق اخلاقیات ہر معاشرے میں نہیں پائی جاتیں۔ یہ عقلیت ایک خاص تاریخی تناظر رکھتی ہے اور مغربی یورپ کے تاریخی ارتقا کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے[476] ۔ اس عقلیت کے معاشرتی غلبہ کے نتیجے میں ایسے تنازعات رونما ہو رہے ہیں جو پہلے موجود نہ تھے۔
طبقاتی کش مکش بھی ان میں سے ایک تنازعہ ہے جو غیرسرمایہ دارانہ معاشرتوں میں نہیں پائے جاتے۔ ویبر کی مشہور کتاب "Capitalism and the Protestant Ethics" میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت اور اس سے متعلق اخلاقیات پروٹسٹنٹ عیسائیت کے روحانی اور اخلاقی رویوں اور رجحانات سے برآمد ہوئی ہیں۔ لیکن ویبر آسٹرین اکانومسٹ کارل مینگر کی طرح اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ جو ادارے اس عقلیت کی کارفرمائی کے غماز ہیں (مارکیٹ، نظام زر، سرمایہ دارانہ ملکیت، پیداواری تقسیم وغیرہ) وہ سب لاتعداد انفرادی انتخابوں کے فطری امتزاج کی بنیاد پر ظہور میں آتے ہیں۔ کسی ریاست یا معاشرتی قوت کی منصوبہ بندی کے تحت ان کو قائم نہیں کیا ہے۔ لہٰذا یہ تمام ادارے اکنامک عقلیت ہی کے مظاہر اور ان معنوں میں معروضی ہیں۔

نیوکلاسیکل اکنامسٹس کی طرح ویبر بھی انفرادی سرمایہ دارانہ اخلاقیات کو معقول سمجھتا ہے لیکن اس کے خیال میں اس اخلاقیات کو قومی ترقی اور سیاسی اور ثقافتی قوت کے فروغ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ انفرادی عمل ویبر کے مطابق صرف سرمایہ دارانہ نظام میں ہی معقول ہوتا ہے۔ معقول عمل کی دو خصوصیات ہوتی ہیں:

۱۔ عامل اپنے مقاصد عقلی بنیادوں فائدہ اور نقصان کے ظن و تخمین کی بنیاد پر خود منتخب کرتا ہے۔ یہ مقصد آزادی اورشخصی اختیار کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ آزادی اور اختیار میں اضافہ کا مطلب بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

۲۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جو عمل کیا جاتا ہے وہ ان توقعات اور اندازوں پر مبنی ہوتا ہے جو عامل فرد اشیا اور افراد کے عمل کی بنیاد پر مرتب کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں چوں کہ اشیاء کے عمل کا تعین سائنسی تحقیق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور چوں کہ تمام افراد کا عمل معقول[477] ہوتا ہے لہٰذا یہ توقعات بھی ریشنل ہوتی ہیں اور تعلقات کا جو نظام افراد کے درمیان اور عامل اور اشیا کے حاملین کے مابین مرتب کیا جاتا ہے وہ عامل کے مقصد عالی یعنی بڑھوتری سرمایہ کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

صرف سرمایہ دارانہ نظام میں ریشنیلٹی کا ظہور ممکن ہے[478] غیر سرمایہ دارانہ یعنی مذہبی نظاموں میں غیرمعقول لازماً ان معنوں میں ہوتا ہے کہ اس کا تعین جذبات[479] کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، فروغ آزدی/سرمایہ کے امکانات کو ملحوظ خاطر رکھ کر نہیں کیا جاتا۔

سوشل سائنس بالخصوص نیوکلاسیکی اکنامکس کا معروضی اصولوں کی دریافت کا دعویٰ اس لیے درست ہے کہ صرف سرمایہ دارانہ نظام میں ہی ریشنل عمل ممکن ہے۔ غیرسرمایہ دارانہ بالخصوص مذہبی معاشرہ ریشنیلٹی سے محروم جاہلی معاشرہ ہے۔ شیطنت (Humanness) کا اظہار سرمایہ دارانہ عقلیت کے ذریعے ہوتا ہے۔
ریشنل عملیت کے اظہار کے لیے سرمایہ دارانہ مارکیٹوں (اشیا کے مارکیٹوں اور فنانشل مارکیٹوں) کا نظاماتی غلبہ لازم ہے۔ سرمایہ دارانہ کاروباری اداروں کے ریشنل عمل کا فطری دائرہ کار سرمایہ دارانہ مارکیٹ ہے۔ مارکیٹ کو مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیے اور پیداواری تقسیم کار، تعین قیمت و اجرت، لین دین کے اصول، قرضہ جات کا نظام سب کا مقصد سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز فراہم کرنا ہونا چاہیے کیوں کہ یہی چیز ریشنل عمل کو معاشرتی تقدیم عطا کرتی ہے۔ لیکن اس ریشنیلٹی کا ظہور خود بخود نہیں ہو جاتا اور غیرسرمایہ دارانہ یعنی مذہبی معاشرتیں اور ریاستیں خود بخود سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں تحلیل نہیں ہو جاتیں۔ اس عمل کے وقوع کے لیے مذہب کی اس نوعیت کی بیخ کنی اور تشریح نو ضروری ہے جیسی پندرھویں، سولھویں اور سترھویں صدی میں پروٹسٹنٹ پادریوں بالخصوص کیلون نے یورپ میں کی[480]۔ ویبر کا دعویٰ ہے کہ نیوکلاسیکی تصور ’’معاشی فرد“ (Homo economicus) پروٹسٹنٹ کی تخلیق ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ عقلیت اور اس سے متعلق اخلاقیات اور معاشرتی اور ادارتی صف بندی کی تاریخی شمولیت کی بنیاد پر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سرمایہ دارانہ نظام انفرادیت، معاشرت اور ریاست ہیومنٹی کی معراج ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا عالمی غلبہ تہذیبی ارتقا کا غیر متبدل تقاضا ہے کیوں کہ صرف سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ہی ہیومن بینگ ریشنل عمل کو آفاقی بنا کر اپنی خالقیت، احدیت اور صمدیت کے دعویٰ کی تصدیق کی جستجو کر سکتا ہے۔ کسی اور نظام زندگی کے تحت انسان خدا بننے کی جستجو نظام سے ٹکرائے بغیر نہیں کر سکتا۔

چوں کہ سرمایہ دارانہ نظام ترقی کی معراج ہے لہٰذا ہر جگہ اس کے ابھرنے کے امکانات موجود ہیں۔ سرمایہ دارانہ ادارے (سرمایہ دارانہ ملکیت، سرمایہ دارانہ تقسیم، سرمایہ دارانہ زر وغیرہ) ہیومن ریشنیلٹی کا اظہار ہیں۔ یہ ادارے ہر اس معاشرے میں ابھرے ہیں جہاں لوگ ریشنل ہو جائیں[481] لیکن کوئی آدمی مکمل طور پر ریشنل نہیں ہو سکتا[482] ۔ اس کے اندر محبت، خودسپردگی اور عبدیت کی طرف جو فطری میلان ہے وہ کبھی مکمل طور پر فنا نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے انسان کبھی بھی کامل ہیومن بینگ نہیں بن سکتا۔ہر انسان ریشنل سرمایہ دارانہ اداروں کی کارفرمائی میں کسی نہ کسی حد تک رخنہ ڈالتا رہتاہے اور مذہب افراد اور گروہ تو معاشرہ کی ادارتی ریشنلائزیشن کی تنظیم کی مخالفت کرتے ہیں[483]۔ سوشیالوجی کا کام یہ ہے کہ:

۱۔ وہ اس بات کو تسلیم کرے کہ مارکیٹ کی کارفرمائی کے جو معروضی اصولِ علم اکنامکس نے مرتب کیے ہیں ان کو پیمانہ کے طور پر قبول کرے۔

۲۔ ہر ادارہ کی عملی کارفرمائی کو ان پیمانوں پر ناپ کر اس کی ریشنیلٹی کا تعین کرے۔

۳۔ ایسے قوانین اور ضوابط کی نشان دہی کرے جن کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ اداروں کی کارفرمائی کو زیادہ ریشنل بنایا جا سکے اور ان اداروں کی ریشنل کارفرمائی کی راہ میں جو معاشرتی رکاوٹیں مذہب کھڑی کرتا ہے ان کو منہدم کیا جا سکے۔ 

ویبر کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے جو بنیادی ادارتی صف بندی کی گئی اس کو ریاستی بیوروکریسی کہتے ہیں۔ اس ریاستی بیوروکریسی کا مقصد مذہبی اقدار اور ضوابط کی کارفرمائی کو معطل کر کے ایسے معقول ضوابط اور طریقہ کار کو مقبول عام بنانا ہے جس کے نتیجے میں کاروبارِ زندگی آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کے حصول کا ذریعہ بن جائے؛ مذہبی ضوابط و رجحانات، رواج اور اقدار غیرمعقول اور مہمل گردانے جانے کے نتیجہ میں معاشرتی زندگی کی تنظیم سازی اور ریگولیشن سے معطل ہو جائیں۔

بیوروکریسی اس عمومی ریشنیلٹی کا اظہار ہے جس کی بنیاد پر مخصوص ریشنیلٹی کی کارفرمائی کو نظاماتی سطح پر مرتب کیا جاتا ہے۔ بیوروکریسی کی کارفرمائی کے نتیجے میں تمام معاشرتی ادارے (سیاسی، مذہبی اور معاشی) بتدریج ریشنل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ویبر مارکس اور نیوکلاسیکی اکانومسٹس کے برخلاف اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاشی، سیاسی اور مذہبی ادارے خودانحصاری ہوتے ہیں۔ سیاسی ادارے مارکیٹ میں کارفرما نہیں ہوتے۔ مذہبی اداروں کو سیاسی اداروں سے لاتعلق رہنا چاہیے[484]۔ لیکن جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام زندگی عروج حاصل کرتا ہے ویسے ویسے مذہبی اور سیاسی ادارے بھی ریشنلائز ہوتے چلے جاتے ہیں اور مذہبی اور سیاسی اقدار، روایات اور ضوابط فروغ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کے اہم ذرائع بن جاتے ہیں اور مذہبی اور سیاسی ضوابط کی تبدیلی میں ریاستی بیوروکریسی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور معاشی سیاسی اور مذہبی اقدار کی ہم آہنگی کو فروغ دے کر ایک ریشنل ثقافت اور تہذیب کو مضبوط سے مضبوط کرنا بھی ریاستی بیوروکریسی کا فرض ہے۔

بیوروکریسی وہ معروضی اصول و ضوابط متعین کرتی ہے جن کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ مقصد عالی یعنی فروغ کلی آزادی یا بڑھوترئ سرمایہ عمومی کا حصول عملاً ممکن ہو۔ یہی رہنما اصول قانون سازی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں لیکن چوں کہ ضوابط اور قوانین معروضی اور عمومی ہوتے ہیں لہٰذا ان کے اطلاق کی قیمت معاشرتی ناانصافی کے ظہور کی صورت میں دینا پڑتی ہے۔ مثلاً ویبر کہتا ہے کہ قانون سازی کا مقصد سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ کیے بغیر اس کی بڑھوتری آزادی/سرمایہ کا حصول ناممکن ہے لیکن سرمایہ دارانہ ملکیت کے فروغ کے نتیجے میں لازماً مزدور طبقہ اپنی آزادی سے محروم ہو جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ معاشرہ میں نامساویت کا فروغ لازمی ہے۔ ویبر کو اس بات احساس تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی ایک پیچیدہ اور ناممکن کام ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ویبر کو اس بات کا احساس تھا کہ ریشنیلٹی کا فروغ نہ عقلیت کا تقاضا ہے نہ فطرت کا۔ ریشنیلٹی کا فروغ محض ایک تاریخی حادثہ ہے جو ماڈرن یورپ میں رونما ہوا اور جس کی تاریخی ابدیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ریشنل معروضیت، ضوابط اور طریقہ کار کو ہر وقت اور ہر جگہ چیلنج کیا جا سکتا ہے اور معاشرہ اور ریاست کی سرمایہ دارانہ بالخصوص لبرل اور قوم پرست تشکیل عقل کا تقاضا ہے نہ فطرت کا ۔ اس نظم اطاعت اور وابستگی کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام ہمیشہ ریفارم کا محتاج رہتا ہے۔جن سرمایہ دارانہ ریفارمز کا ویبر حامی تھا ان کی سب سے مربوط تفصیل اس کے ایک ہم عصر سوشیالوجسٹ Weiser نے مرتب کی۔ان اصلاحات کا مقصد سرمایہ دارانہ محرومین کو اپنی بڑھتی ہوئی شکایات اور محرومیوں کے باوجود سرمایہ دارانہ نظم ریاست و معاشرت سے منسلک رکھنا تھا۔ مارکیٹ کا عمل مساوات کو فروغ نہیں دیتا بلکہ ارتکاز دولت و قوت کو فروغ دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست کو مارکیٹ کی اس روش کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کرنےچاہییں:

۱۔ قانون سازی کے ذریعے مارکیٹ میں اجارہ داری کی تحدید کرنی چاہیے۔

۲۔ قانون سازی کے ذریعے ٹریڈ یونینز کی قوت مسابقت میں اضافہ ممکن بنانا چاہیے تاکہ وہ مزدوروں کے اجتماعی سرمایہ دارانہ حقوق کے فروغ کے لیے جدوجہد کرتی رہے اور سرمایہ دارانہ کارپوریشن کی فیصلہ سازی کے عمل میں مزدوروں کی موثر نمایندگی ممکن ہو۔

۳۔ محرومین کی آمدنی میں اضافہ کے لیے ریاست کو وظائف، سوشل انشورنس اور دیگر مراعات فراہم کرنی چاہییں تاکہ ایک کم از کم مطلوب آمدنی سب کو میسر ہو اور کوئی سٹیزن بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائے۔

۴۔ محصولات کا نظام ایسا ہو کہ غریبوں پر ٹیکس کا بوجھ کم اور امیروں پر زیادہ ہو [485]۔

۵۔ ریاست ان تمام کاروباروں کو قومی تحویل میں لے جو منافع بخش نہ ہوں لیکن اہم اشیا و خدمات فراہم کرتے ہوں جو معاشرہ کی بنیادی ضرورت کی ہوں۔ Weiser ایسے کاروباروں میں صحت، تعلیم، ادویات اور بھاری صنعتوں اور معدنیات کو شامل کرتا ہے۔

ایسے ریفارمز سے نامساویت تو ختم نہیں کی جا سکتی لیکن بیش تر سوشل ڈیموکریٹ بشمول Weiser کا خیال تھا کہ ان ریفارمز کے اطلاق کے نتیجے میں محرومین لبرل تنظیم معاشرت اور ریاست کوقبول کرنے پر راضی کیے جا سکتے ہیں اور ان کا تشدد پسند اشتراکی رجحان کم کیا جا سکتا ہے۔ ان ریفارمز سے معاشرہ سے مذہب کا اثر بھی زائل کیا جاسکتا ہے کیوں کہ معاشرتی خدمات کی فراہمی کے فرئض مذہبی ادارے ہی ادا کرتے ہیں اور اس فراہمی کو تبلیغ اور دعوت کے کام سے منسلک کرتے ہیں۔ جب ریاست عمل کے اس دائرہ کار سے مذہبی اداروں کو بے دخل کرتی ہے یا ان اداروں کے رفاہی کاموں کا تجزیہ سرمایہ دارانہ قوانین کے ذریعے کرتی ہے تو معاشرہ اور ریاست کو سیکولرائز کرنے کا یہ ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ یورپ کا تجربہ یہی بتاتا ہے اور ویبر کو اس بات کا احساس تھا۔

ویبر سرمایہ دارانہ ریفارمز کے اطلاق کا حامی تھا لیکن اس کی افادیت کا زیادہ متوقع نہ تھا۔ وہ سرمایہ دارانہ تنظیم معاشرت سے اس قدر مایوس تھا کہ اس کا گہرا اثر اس کی ذہنی صحت پر پڑا۔ ۳۳ سال کی عمر میں وہ پاگل ہو گیا اور چار سال تک زیرعلاج رہا۔ اس کی رائے جمہوری نظام اور لبرل آزادیوں کو ایک آمرانہ ریاست بتدریج ختم کرتی جاتی ہے اور بیوروکریٹائزیشن کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کے نتیجے میں انفرادی آزادی اور حریت فکر کا دائرہ محدود سے محدود تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان رجحانات سے ریشنلائزیشن کے عملی تعطل کے امکانات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ویبر کے خیال میں مغربی تہذیب اور وہ تنویری علمیت جس کا یہ تہذیب اعلیٰ ترین مظہر ہے شدید خطرات سے دو چار ہے۔ لبرل سرمایہ داری کے تضادات ہنوز ترقی پذیر نظر آتے ہیں اور ویبر کی رائے میں اشتراکیت ان نظاماتی تضادات کو رفع کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی کیوں کہ وہ بھی بیوروکریٹائزیشن کی اسیر ہے[486]۔

18.3۔ مغرب کا زوال

ویبر نے مغرب کے زوال کے امکانات پر کئی مقامات پر غور کیا ہے[487]۔ چوں کہ تحریک تنویر سے ماخوذ اقدار (آزادی، مساوات اور ترقی) ایک تاریخی حادثہ کے نتیجے میں فروغ پائے لہٰذا ان کے دائمی ہونے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ ویبر غیر تنویری اقدار پر مرتب نظام زندگی کے ورود اور فروغ کے امکان کو ردّ نہیں کرتا۔ خود مغرب میں اقداری کش مکش جاری ہے۔ منتخب شدہ اقدار کی بنیاد پر ہی مشاہدہ اور ادراکِ حقیقت ممکن ہے لہٰذا بنیادی طور پر سائنسی طریقہ گو کہ بقول ویبر بذات خود معروضی ہوتا ہے لیکن معروضی حقائق کا ادراک فراہم نہیں کرتا۔ سائنسی علمیت کی بنیاد ان مابعد الطبیعیاتی اور اخلاقی مفروضات پر ہوتی ہے جو خود معقول اور معروضی حقائق کے غماز نہیں ہوتے۔ لہٰذا معاشرہ کے مطالعہ کے لیے لازم ہے کہ سائنس دان ایسے مثالی مفروضہ خاکے تخلیق کریں جن کی بنیاد پر معاشرتی عمل کو پرکھا جا سکے مثلا جائز حکمرانی کو جانچنے کے لیے ویبر تین مثالیہ خاکے تجویز کرتا ہے:

۱۔ ریشنل قانونی نظام تحکیم جس کی بنیاد قانون کی حکمرانی اور بیوروکریٹک تنظیم اقتدار پر ہوتی ہے[488]۔

۲۔ روایتی نظام تحکیم جو قدیم طرائق انتظام کو مقدس مانتا ہے۔

۳۔ کرشماتی تحکیم جہاں کوئی فوق البشر ہدایت کے سرچشمہ کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور اس کے احکام کی پابندی کو مقدس فریضہ تصور کیا جاتا ہے۔

ان تینوں میں سے کسی ایک مثالی خاکہ کو معیار بنانے کی کوئی عقلی دلیل نہیں دی جا سکتی[489]۔

ویبر جس مثالیہ کی بنیاد پر اپنا معاشرتی تجزیہ مرتب کرتا ہے اس کو وہ تعبیراتی سوشیالوجی (Interpretive Sociology) کہتا ہے۔ معاشرتی عمل کا تجزیہ انفرادی میلانات، ترجیحات اور خواہشات کی تشریح ہے۔ نیوکلاسیکی اکنامکس بھی قدر کا تعین انفرادی خواہشات و ترجیحات کی بنیاد پر کرتی ہے لہٰذا ویبر اور نیوکلاسیکی اکنامسٹس کی معاشرتی تفہیم کی بنیاد انیسویں صدی کی انفرادیت ہے لیکن ویبر کو نیوکلاسیکی اکنامسٹس کے برخلاف اس بات کا احساس ہے کہ یہ انفرادیت ریشنل ہے معقول نہیں اور اس کے آفاقی ہونے کے امکانات تقریباً ناپید ہیں۔ ویبر کی مغربی تہذیب کے مستقبل سے مایوسی کی یہ ایک بنیادی وجہ ہے۔ ریشنیلٹی مغربی تہذیب کی اساس ہے اور اس کا اعلیٰ ترین اظہار ویبر کے مطابق بیوروکریسی میں ہوتا ہے۔ بیوروکریٹک تنظیم تحکیم ہر سطح پر قوت اور دولت کے استعمال کا سب سے زیادہ فائدہ مند (Efficient) طریقہ ہے۔ کسی نظام تحکیم کی افادیت کو جانچنے کا درست پیمانہ ویبر کے بقول اس کا زیادہ سے زیادہ بہتر پیدا کرنے کی صلاحیت ہے کیوں کہ بقول ویبر زندگی کا اصل مقصد سرمایہ جمع کرنا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کی کبھی نہ ختم ہونے والی جدوجہد نظام تحکیم سرمایہ داری کی اصل روح ہے۔ اسی سرمایہ دارانہ روح سے سرمایہ دارانہ اخلاقیات ماخوذ کی جاتی ہیں۔ ہر فرد کا فرض عین ہے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ جمع کرنے کی معاشرتی جدوجہد میں اپنا حصہ ادا کرے۔

سرمایہ دارانہ روحانیت کا اظہار ریشنیلٹی میں ہوتا ہے۔ پروٹسٹنٹ[490] اخلاقیات بیوروکریٹک تنظیم اور مارکیٹ کے کارفرمائی کے ضوابط سب ریشنل ہیں اور اسی وجہ سے ان میں دائمی خودمنتخب کردہ ربط موجودہ ریاستی بیوروکریسی اور مارکیٹ کی آزادانہ مسابقتی تنظیم لازم و ملزوم ہیں گو کہ ان دونوں اعمال کے تاریخی تناظرات مختلف ہیں۔ ماخذات کے اسی اختلاف کے باعث سیاسی اور معاشی عمل کی تفہیم کے لیے جو علمیاتی طرائق موزوں ہو سکتے ہیں ان میں ابھی تک اختلاف ہے۔ علمیاتی منہاج کا یہ اختلاف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظم میں گروہ بندیاں مختلف بنیادوں پر تعمیر ہوتی ہیں۔

ویبر سرمایہ دارانہ نظم کی دو اہم گروہ بندیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرت میں طبقات پیداواری تقسیم کار، تقسیم اقتدار اور قدر کی اضافی تقسیم کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس معیارِ زندگی میں فرق کی بنیاد پر سٹیٹس گروپس قائم ہوتے ہیں اور ان گروپس میں فرق صرف اصرافیت کے نظام سے استفادہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ کسی ایک اصول کی بنیاد پر منقسم نہیں ہوتا۔ وہ ہمہ جہت ہے اور ہر گروہ مختلف معیارات کی بنیاد پر[491] اپنے مخالفین کو قوت کے حصول سے محروم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ اپنے اقتدار کا جواز فراہم کرنے اور دوسرے گروہوں کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے غالب گروہ آئیڈیالوجی تعمیر کرتے ہیں۔ ان آئیڈیالوجیز کو ویبر کائناتی خاکہ کہتا ہے۔

ویبر کی فکر میں مذہب بھی اس قسم کی ایک آئیڈیالوجی ہے۔ ویبر نے مذہب کی تفہیم کا جو طریقہ اختیار کیا اس کو آرگنائزیشنل میٹریل ازم کہا جانا چاہیے۔ ویبر کے مطابق معاشرہ کی گروہی صف بندی اور مقتدر گروہ کے نظاماتی اقدار اس مخصوص مذہبی آئیڈیالوجی کے اختیار کیے جانے کا باعث ہوتا ہے لیکن چوں کہ مذہبی آئیڈیالوجی کا مقصد غالب طبقہ کے مفادات کو مفادات عمومی کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے لہٰذا مذہبی عقائد، رسومات اور علمیت کی تشہیر اور تبلیغ میں مذہبی تشریح کسی نہ کسی حد تک خودکارفرمائی ہوتی ہے اور وہ بیوروکریسی یعنی چرچ جو ان تصورات کی تشریح اور تبلیغ اور مذہبی احکامات کی تنفیذ کا ذمہ دار ہوتا ہے اس کو نظاماتی autonomy کسی نہ کسی حد تک حاصل ہو جاتی ہے۔ اس مذہبی بیوروکریسی کے نظاماتی مفادات غالب سوشل (سیاسی اور معاشرتی) سٹیٹس گروپس کے مفادات سے کلیتہً ہم آہنگ نہیں ہوتے۔

مغربی تہذیب کے عروج کا اہم سبب ویبر کے مطابق یہ ہے کہ مذہبی مقتدر گروہ (ریاستی بیوروکریسی، سرمایہ کار اور مذہبی قیادت) ریشنل ہو گئے اور اس اعتقادی یکسانیت کے نتیجے میں وہ نظام مواصلت قائم ہوا جس کے ذریعے تینوں غالب گروہوں کے درمیان اشتراک عمل معمول بن گیا اور ایسی قانون سازی ممکن ہوئی جو آزادی و ترقی کے فروغ کے لیے ضروری تھی۔ مغرب میں غالب سماجی گروہوں میں اشتراک عمل بقول ویبر تحریک تنویر کی عیسائی کاری تھی [492]۔ 

لیکن مغرب میں جو تنظیمی ہیئت، ریاست، مارکیٹ اور نظریاتی اداروں میں غالب آئی وہ بیوروکریسی تھی اور یہ بیوروکریٹک تنظیم معاشرت جدت پسندی اور تنوع پذیری کی روش کو محدود کر کے فروغِ ترقی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔ اس رجحان کے ردِعمل کے طور پر مغربی معاشرہ گاہے گاہے بحرانوں کا شکار ہوتا رہتا ہے اور ان بحرانوں کے نتیجے میں ایسی کرشماتی قیادت غالب آ جاتی ہے جو نظاماتی توازن کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ آزادی اور ترقی کی مجنونانہ جستجو تمام ضوابط اور قوانین کو کچل کر نظاماتی خلفشار اور تصادم کو فروغ دیتی ہے۔

یہ خلفشار اور بیوروکریٹک نظام کی ریشنل ضوابط سازی (جو لازماً غیرمعقول ہوتی ہے) یہ تاثر عام کر دیتی ہے کہ زندگی میں کوئی معنویت موجود نہیں۔ ہر عمل، ہر فکر اور ہر رویہ اصولاً لغو ہے اور انفرادی زندگی لامعنویت کا شکار ہو جاتی ہے۔ انسان آزاد ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے اور چوں کہ آزادی کی کوئی اصل نہیں لہٰذا آزادی کی جستجو منطقی طور پر لامعنویت کے دائمی ہونے کا ادراک ہے[493]۔ پروٹسٹنٹ اور تنویری علمیاتی بحثوں نے قدیم عیسائی اقدار اور اخلاقیات کی غیر ریشنیلٹی ثابت کر کے ان پر ایمان لانا اور عمل کرنا بے معنی بنا دیا ہے۔ لیکن ریشنل عقائد اور اخلاقیات کی بھی کوئی عقلی بنیاد نہیں لہٰذا ریشنل اعتقادات اور اعمال بھی اتنے ہی لایعنی اور لغو اور مہمل ہیں جتنے غیرریشنل عقائد اور اخلاقیات۔ آزادی وہ آہنی پنجرہ ہے جس میں مغرب میں بسنے والا ہر فرد اپنے آپ کو محبوس محسوس کرتا ہے۔

سرمایہ دارانہ عدل کے قیام سے ویبر مایوس نظر آتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام آزادی کا ایسا جبر ہے جہاں بیش تر افراد آزادی سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔ یہی ریشنیلٹی کے نظام کا تقاضا ہے اور اس کا ذریعہ بیوروکریسی ہے جو لبرل سوشلسٹ قوم پرست ہر نوعیت کے سرمایہ دارانہ نظام کے ہر ادارے (فوج، عدلیہ، مارکیٹ، سیاسی جماعتوں، اسکولوں، تحقیقی اداروں) میں اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے۔ بیوروکریٹائزیشن ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے اور معاشرتی بیوروکریٹائزیشن کو کم کرنے کی جدوجہد لازماً ناکام ثابت ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے نظام اقتدار میں تبدیلی لانے کے عمل سے فرد آزادی کے آہنی پنجرے سے آزادی حاصل نہیں کر سکتا اور بیوروکریسی کا نظاماتی تسلط متزلزل نہیں ہوتا۔ ویبر کے خیال میں دنیا کو ترک کیے بغیر (یعنی اپنی ریشنیلٹی کو ردّ کیے بغیر) سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔

ویبر زندگی بعدالموت کا قائل نہ تھا لہٰذا رہبانیت کو ممکن نہ سمجھتا تھا اور نہ ہی پسندیدہ۔ اس کے خیال میں بیوروکریسی کے آہنی پنجرے کی جکڑبندیوں کو کم زور کرنے کے لیے جمہوریت کے انعقاد مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے جمہوری نظام عوام کے ایک مطلق العنان کرشماتی قائد کو منتخب کر کے اس کے آگے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں اور تمام شخصی اور معاشرتی حقوق اسی کرشماتی قائد کے سپرد کر دیتے ہیں۔ یہ کرشماتی قائد رائج شدہ قوانین، ضوابط اور اداروں کی توڑ پھوڑ کے ذریعے آزادی اور ترقی کے فروغ کی نئی نئی راہیں نکالتا ہے[494]۔

ویبر سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کو بھی ناممکن سمجھتا تھا اور سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کو بھی۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظاماتی اصلاحات کی چند تجاویز پیش کیں لیکن ان پالیسی اقدامات کے انعقاد میں جو نتائج برآمد ہونے کا امکان تھا اس سے زیادہ مطمئن نہیں۔ دیگر کلیدی سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کینز، رالز، پارسنز، ہابرماس وغیرہ کے برخلاف ویبر سرمایہ دارانہ نظام کے مستقبل سے زیادہ پرامید نہ تھا۔ آزادی اور ترقی کی لامعنویت کے احساس اور اقرار کے باوجود ویبر ان اقدار کو ترک کرنے پر کبھی تیار نہ تھا۔

19۔ کینز اور پوسٹ کینزینز

19.1۔ سرمایہ دارانہ بحران

سرمایہ دارانہ معاشی عمل ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔ کچھ عرصہ تک پیداوار، سرمایہ کاری، قرضہ جات، روزگار، آمدنی اور قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں۔ اس کو سرمایہ داری کے پھیلاؤ کا دور کہا جاتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ تک سطح پیداوار، سرمایہ کاری، آمدنی، ملازمتوں کے استحکام کا دور ہوتا ہے۔ اس کو معراج کہتے ہیں۔ اس کے بعد زوال کا دور آتا ہے جب آمدنی، پیداوار، ملازمتیں اور سرمایہ کاری گرنے لگتی ہیں۔ یہ تنزل کا دور ہوتا ہے۔ خاص سطح تک گر کر پیداوار، صنعت کاری وغیرہ پھر مستحکم ہو جاتے ہیں۔ اس کو ٹرف یعنی پستی کہتے ہیں۔اکنامکس سرمایہ دارانہ پیداوار، ملازمتوں، سرمایہ کاری، قیمتوں وغیرہ میں اس اتار چڑھاؤ کی کوئی حتمی توجیہ نہیں کرتی۔ مختلف اکنامسٹس سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی دائمی گردش کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں اور کساد بازاری اور تورم (inflation) سے نجات کے لیے مختلف النوع پالیسیوں کی وکالت کرتے ہیں۔ ان مباحث کو اکنامکس میں بزنس سائیکل تھیوری کا نام دیا گیا ہے۔

دورحاضر میں Chaos Theory نے ثابت کر دیا ہے کہ مارکیٹ میں توازن[495] کا کوئی وجود نہیں ہر مارکیٹ میں ایسے اتفاقات بہت کم رونما ہوتے ہیں کہ رسد طلب کے برابر ہو۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا اور مارکیٹوں میں توازن کے قیام کی طرف کوئی رجحان نہیں ہوتا[496]۔ مارکیٹس ہر لمحہ غیرمتوازن رہتی ہیں۔ مارکیٹ کی اس مستقل ہیجانی عدم توازن کی کیفیت میں رہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری سٹہ بازی کا دوسرا نام ہے۔ اس کی تفصیل انگریز اکنامسٹ کینز (John Maynard Keynes) نے بیان کی ہے۔

سرمایہ داری کی تاریخ معاشی بحرانوں کی تاریخ ہے۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں مغربی یورپ کے کئی ممالک میں شدید بحران آئے اور جب سے سرمایہ دارانہ نظام زندگی عالم گیر غلبہ حاصل کر گیا ہے تو بحران بھی عالم گیر ہو گئے ہیں۔ پہلا عالم گیر بحران ۱۹۱۰ء تا ۱۹۱۴ء میں رونما ہوا۔ اور پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۸ءتا۱۹۱۴ء) اس کا ایک نتیجہ تھی۔ سرمایہ داری کی تاریخ کا عظیم ترین بحران ۱۹۲۹ء میں رونما ہوا۔ ۱۹۷۰ء کے بعد سے سرمایہ دارانہ بحرانوں سے دوچار ہو گئی ہے۔ ۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۹ء تک یورپ اور امریکا کا بحران، ۱۹۸۲ء میں میکسیکو میں شروع ہونے والا بحران جس کے عالم گیر نظاماتی نتائج برآمد ہوئے۔ ۱۹۹۷ء میں مشرقی ایشیا میں شروع ہونے والا اور ۱۹۹۸ء میں شروع ہونے والا بحران اور ۲۰۰۱ء میں ارجنٹینا کا بحران، یہ سب عالمی معاشی بحران تھے۔ اس دور میں سب سے اہم عالمی نظاماتی بحران وہ ہے جس کی ابتدا ۲۰۰۷ء میں امریکا میں ہوئی اور جس کے اثرات شدید ترین شکل میں یورپ میں اب تک ظاہر ہو رہے ہیں۔ اور اب یہ خطرہ ہے کہ اس بحران کے اثرات مشرقی ایشیا اور ہندوستان تک پھیل جائیں گے۔ ۲۰۱۴ء کے وسط تک جن ممالک میں ریکوری شروع ہوئی ہے ان میں سرفہرست امریکا ہے۔ وہاں پیداوار میں اضافہ کی رفتار نہایت مضمحل ہے۔ یورپ میں تو بے روزگاری کی سطح افرادی قوت کے ۱۵فی صد پر مدتوں سے منجمد ہو کر رہ گئی ہے اور ۲۰۱۴ء میں جی ڈی پی میں شرح اضافہ زیادہ سے زیادہ صفر اعشاریہ پانچ فی صد کا متوقع ہے۔ جاپان میں کساد بازاری دو عشروں سے جاری ہے اور اس کے مستقلاً ختم ہونے کے امکانات غیریقینی ہیں۔ پالیسی ساز حلقوں میں یہ رائے عام ہے کہ ۲۰۰۷ء کے بعد کا سب سے بڑا اور ہمہ گیر بحران ہے۔
سرمایہ دارانہ بحرانوں (خواہ قومی خواہ عالمی) کا مرکز ہمیشہ فنانشل مارکیٹس ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدر کا تعین انہی بازاروں میں سود اور سٹہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ فنانشل مارکیٹ میں مطالبات اور ادائیگیوں کی سودہ بازی پوری دنیا میں ہر منٹ جاری رہتی ہے۔ ان مطالبات اور ادائیگیوں کا محور قرض کے کاروبار پر ہوتا ہے۔ حکومتی تمسکات کے فروخت کی بنیاد پر مرکزی بینک ریزرو، جس کے پیچھے کوئی اثاثہ (سونا چاندی وغیرہ) نہیں ہوتا[497]۔ بینک زر کی تخلیق اپنے ڈیپازٹس کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یہ ڈیپازٹس بینک کا اپنے کھاتہ داروں سے لیا گیا قرضہ ہے[498]۔ حکومت اور کارپوریشن تمسکات مستقل بچتیں رہتی ہیں۔ ان تمسکات کی ادائیگی کا دورانیہ ایک رات سے لے کر پچیس سال تک کا ہوتا ہے اور حکومت عموماً پرانے قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے حاصل کر کے ہی کرتی ہے [499]لہٰذا حکومتی قرضہ مستقلاً بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

حصص کے بازار میں بھی حاضر سودے فوری ادائیگیوں کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں[500] باقی حصص کے تمام سودوں میں قرض کسی نہ کسی شکل میں ضرور شامل ہوتا ہے۔ پھر حصص کے حاضر سودے کرنے والے عموماً قرضہ جاتی کاروبار یعنی تمسکات، Derivatives, Debentures اور مستقبلی لین دین میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگر حصص کی قدر گر جائے تو وہ دیوالیہ ہو جاتے ہیں اور ادائیگیوں کی تاریخوں پر ڈیفالٹ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انشورنس اور ڈبینچر کا بڑھتا ہوا سیلاب پورے سرمایہ دارانہ عمل کو قرضوں میں ڈبو دیتا ہے[501]۔

سرمایہ دارانہ کاروبار وہی کاروبار ہے جو سود کے بازار یا سٹہ کے بازار سے منسلک ہو[502]۔ بحران اسی وقت رونما ہوتا ہے جب کسی بڑی فنانشل مارکیٹ میں (اور فی زمانہ ہر بڑی فنانشل مارکیٹ پوری دنیا کی بڑی فنانشل مارکیٹوں سے وابستہ اور منسلک ہوتی ہے) مقررہ وقت پر مطالبات پورے نہ کیے جا سکیں۔ ادائیگی کے لیے قرض دار اداروں کے پاس وقت مقررہ پر سرمایہ موجود نہ ہو اور وہ اپنے قرض ادا کرنے کے دعوے پورے نہ کر سکیں اور اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیں۔ ان کے اثاثوں کی قدر سٹہ کے بازار میں ایک دم گر جائے اور اس گراوٹ سے تمام سرمایہ دارانہ کاروبار متاثر ہو۔ قرضہ دینے والے اداروں کے اثاثہ کی قیمتیں بھی collapse ہو جائیں اور قرض دینے والے ادارے اپنے قرضہ دار اداروں کی طرح خود بھی دیوالیہ ہو جائیں۔
سرمایہ دارانہ بحرانوں کی ابتدا تو ہمیشہ فنانشل مارکیٹوں میں ہوتی ہے لیکن ان کا اثر بہت جلت اشیا اور خدمات کی مارکیٹوں پر پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام کارپوریشنز کے حصص کی قدر سٹہ کی مارکیٹ میں متعین ہوتی ہے اور ہر پیداواری اور خدمتی ملٹی نیشنل کاروباری قرضہ بھی لیتی ہے، تمسکات بھی جاری کرتی ہے اور دیگر فنانشل کاروبار میں بھی ملوث ہوتی ہے[503] لہٰذا جب فنانشل ادارے دیوالیہ ہونے لگتے ہیں تو اشیا اور خدمتوں کی مارکیٹس میں بھی سرمایہ کاری گرنے لگتی ہے، لوگوں کو بڑے پیمانہ پر برخاست کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں عمومی قومی آمدنی گرتی ہے اور ملکی اشیا کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور پورا سرمایہ دارانہ معاشی نظام متزلزل ہو جاتا ہے۔ 

۲۰۰۷ء میں شروع ہونے والے بحران نے دو مختلف شکلیں اختیار کیں۔ کلنٹن کے صدر بننے کے بعد یعنی ۱۹۹۴ء میں امریکا میں معاشی بحالی کا دور شروع ہوا۔ اس دور کی ابتدا انٹرنیٹ ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی تیز رفتار کمیونی کیشن سے ہوا۔ قیمتیں مستحکم رہیں اور شرح منافع میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اثاثوں کے قدر کے تخمینوں (جو سٹہ باز مستقل لگاتے رہتے ہیں) میں اضافہ ہوا اور بینکوں نے فنانشل شعبہ پر لگائی ہوئی پابندیوں میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر قرض دیے۔ بالخصوص رہن کا کاروبار بہت تیزی سے پھیلا اور کھربوں ڈالر کے قرضے ان افراد کو دیے گئے جن میں ادائیگی کی سکت نہایت محدود تھی۔ ان قرضوں کو sub price mortgage کا نام دیا گیا۔ ۲۰۰۷ء سے قرض نادہندگی عام ہو گئی اور مکانوں اور اراضی کے قدر کے تخمینوں (جو سٹہ باز لگاتے تھے) میں مستقل کمی آنے لگی۔ امریکا اور برطانیہ میں ۲۰۰۷ء اور ۲۰۰۸ء میں چند بڑے بینک اور فنانشل ادارے دیوالیہ ہو گئے۔ کساد بازاری کا دور شروع ہو گیا۔ بے روزگاری تیزی سے بڑھنے لگی اور سرمایہ کاری کی شرح تیزی سے گرنے لگی۔

۲۰۰۷ء سے رونما ہونے والے بحران کی دوسری شکل حکومتی تھی۔ جب بین الاقوامی بینکوں اور سرمایہ کاروں نے ۱۹9۰ء کی دہائی سے ۲۰۰۵ء تک آسان شرطوں پر سستے قرضہ دینا شروع کیے تو نسبتاً کم ترقی یافتہ یورپی حکومتوں نے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی قرضے بھی لیے اور عالمی سٹہ بازوں میں حکومتی تمسکات بھی جاری کیں۔ ان ممالک میں اسپین، پرتگال، آئرلینڈ، آئس لینڈ اور یونان سب سے نمایاں تھے۔ ان ممالک کی سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں نے ان قرضوں کو ایسے شعبوں میں خرچ کیا جن سے ان ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہوا۔ جب برطانیہ، جرمنی، امریکا وغیرہ میں کساد بازاری کا دور شروع ہوا تو وہاں کے بینکوں نے مقروض ممالک سے قرضہ واپس کرنے کے مطالبات شدید کر دیے اور مقروض ممالک کے تمسکات کی قدر بین الاقوامی فنانشل مارکیٹوں میں ایک دم سے collapse کر گئی اور یہ ممالک (پرتگال، ہنگری، یونان، آئرلینڈ وغیرہ) اپنے بین الاقوامی حکومتی قرضہ کو ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ جس بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری پر انہوں نے بھروسا کیا تھا وہ ایک دم سے ان ممالک سے فرار ہو گئی اور ان ممالک میں غربت، بے روزگاری اور کساد بازاری کا ایک طوفان آ گیا۔

19.2۔ سرمایہ دارانہ بحرانوں سے نمٹنے میں سرمایہ دارانہ ریاست کا کردار

۲۰۰۷ء میں رونما ہونے والے ان دونوں نوعیت کے بحرانوں پر اب تک کسی نہ کسی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ ان بحرانوں کی بیخ کنی کرنے میں قومی سرمایہ دارانہ ریاست اور بین الاقوامی سرمایہ دارانہ ریاستی اداروں (آئی ایم ایف، یورپی یونین، یورپی بینک)نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا عظیم ترین بحران ۱۹۲۹ء میں بھی ریاستی حکمت عملی کی تنفیذ کے نتیجہ میں ختم کیا گیا تھا۔ جان مینارڈ کینز وہ اکانومسٹ ہے جس نے سرمایہ دارانہ ریاست کے سرمایہ دارانہ معیشت کو مستقل طور پر ریگولیٹ کرنے کے ضوابط متعین کیے۔ ان ضوابط کے علمیاتی منہج کو میکرواکنامکس کہتے ہیں۔ 

کینز نے نیوکلاسیکی اکنامکس کے کچھ بنیادی مفروضات کو چیلنج کیا اور سرمایہ دارانہ نظم معیشت کا تصور دیا جو نیوکلاسیکی تصور معیشت سے خاصا مختلف تھا لیکن کینز لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ اور فروغ کا خواہاں تھا وہ کوئی اشتراکی نہ تھا۔ وہ سرمایہ دارانہ سیاسی اور معاشرتی نظام کی کارفرمائی کو زیادہ موثر بنانے کے لیے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی نگہداشت کے طریقے میں ریفارمز کو ضروری تصور کرتا تھا [504]۔

کینز اور ویبر میں کئی مماثلتیں موجود ہیں۔ دونوں عیسائیت کو ترک کر کے دہریت کے قائل ہوئے۔ دونوں utilitarian فلسفہ سے مایوس تھے کیوں کہ ان کی رائے میں اس فلسفہ کی بنیاد پر مرتب پالیسی ثقافتی اور علمی اشرافیہ کی معاشرتی اور سیاسی بالادستی کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ دونوں ایسی اصلاحات کے حامی تھے جو لبرل اقدار کے فروغ کے لیے سرمایہ دارانہ ظلم اور استحصال کو کم کرنے کی راہ استوار کرے۔

کینز کو یقین تھا کہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح ممکن ہے اور میکرو مینجمنٹ کے ذریعے سرمایہ دارانہ سماجی، سیاسی اور معاشی نظام سب کے لیے قابل قبول بنایا جا سکتاہے۔ کینز کی رائے میں نیوکلاسیکی اکنامکس سرمایہ دارانہ معیشت کو درست انداز میں پیش کرنے کے اصول مرتب نہیں کرتی۔ بنیادی نیوکلاسیکی عقیدہ یہ ہے کہ مارکیٹ خود بخود ایک ایسا توازن پیدا کرتی ہے جو معاشرہ میں موجود تمام وسائل کو استعمال میں لاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت کی غیر اختیاری بے روزگاری اور اضافی مال جو فروخت نہ کیا جا سکے، کا وجود ممکن ہی نہیں کیوں کہ رسد خود اپنی طلب پیدا کرتی ہے۔ ملک میں مال پیدا کرنے پر جو خرچ کیا جاتا ہے وہ سب کسی نہ کسی آمدنی کی شکل اختیار کر لیتا ہے لہٰذا خرچ اور آمدنی ہمیشہ برابر رہتے ہیں اور فاضل مال جمع رہنے اور لوگوں کے بے روزگار رہنے کا امکان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مارکیٹ کی خودکارفرمائی میں رخنے ڈالے جائیں اور معاشی بحران کا بنیادی سبب سرمایہ دارانہ ریاستوں کی وہ غلطیاں ہوتی ہیں جن کے نفاذ کے نتیجے میں مارکیٹ کی خودکاریت مجروح ہوتی ہے[505]۔

کینز نے اس نظریہ کی تردید کی اور کہا کہ یہ مفروضہ کہ جو کچھ کمایا جاتا ہے وہ لازماً خرچ کر دیا جاتا ہے، غلط ہے۔ مجموعی طلب مجموعی آمدنی سے کم اس لیے ہوتی ہے کہ آمدنی کا ایک حصہ بچا لیا جاتا ہے، ایک حصہ درآمدات پر خرچ کیا جاتا ہے اور یہ حصہ ملک کی پیداوار پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور ایک حصہ ٹیکس کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے۔ لہٰذا قومی مانگ قومی آمدنی سے کم ہو گی اگر:

۱۔ بچت سرمایہ کاری سے زیادہ ہو۔

۲۔ درآمدات پر خرچ برآمدات کی کمائی سے زیادہ ہو۔

۳۔ حکومت کی آمدنی حکومت کے خرچ سے زیادہ ہو۔

اگر یہ تینوں کیفیات موجود ہوں تو رسد خود اپنی طلب پیدا کرتی ہے، کا اصول کارفرما نہیں ہوتا۔ طلب رسد سے کم ہوتی ہے اور ملکی محنت اور سرمایہ کا ایک حصہ بے کار پڑا رہتا ہے۔ کینز کے مطابق بہت سی بچتیں سرمایہ کاری میں خرچ نہیں ہوتیں بلکہ لوگوں کے پاس بے کار پڑی رہتی ہیں۔ کینز اسی چیز کو ہورڈنگ کہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں جو لوگ بچت کرتے ہیں ان کے مقاصد الگ ہوتے ہیں۔ بچت سیالیت برقرار رکھنے کےلیے کی جاتی ہے؛ ناگہانی آفات سے مقابلہ کرنے کےلیے اور موقع محل دیکھ کر سٹہ کھیلنے کے لیے عام لوگ آمدنی کا ایک حصہ پس انداز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس سرمایہ کار[506] ہی سرمایہ کاری[507] کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کا مقصد سود اور منافع[508] کمانا ہوتا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ سرمایہ کار اتنی ہی سرمایہ کاری کریں جتنی بچت عوام کسی وقت کر رہے ہوں۔ اگر کسی وقت سرمایہ کاری بچت کی سطح سے کم ہو گی تو اتنی پیداوار نہیں ہو گی جتنی مجموعی وسائل کو استعمال کر کے ممکن ہے (کینز اس کو پوٹینشل آؤٹ پُٹ کہتا ہے) اور کچھ افراد افرادی وسائل اور اثاثے (زمین، مشینری، خام مال وغیرہ) بے کار پڑے رہ جائیں گے۔ 

سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہمیشہ خلفشاری توقعات کا شکار رہتا ہے۔ کینز کو اس بات کا شدید احساس تھا۔ سرمایہ کاری کا عمل دراصل سٹہ بازی ہی ہے کیوں کہ سرمایہ کاری لازماً سرمایہ دارانہ زر میں ہی کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ زر کی کوئی اصل قدر نہیں ہوتی۔ اس کی قدر کا تعین کرنے والی اصل چیز شرح سود ہے اور شرح سود کی کوئی فطری قیمت نہیں کیوں کہ جس چیز کی وہ قیمت ہے یعنی سرمایہ دارانہ زر، اس کی کوئی پیداواری لاگت نہیں۔ مرکزی بینک جتنا چاہے زیزرو زر تخلیق یا تباہ کر سکتا ہے۔ کینز اس بنیاد پر شرح سود کو کم کرنے اور اصولاً اس کو صفر کرنے کا قائل ہے۔ اس کی نظر میں سود کو کم کرنا اور بالآخر صفر کر دینا سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔

سرمایہ کاری فطرتاً ایک پرخطر عمل ہے۔ سرمایہ کار سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے لیکن کبھی بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کہ آج جو سرمایہ لگایا گیا ہے وہ اپنی مدت حیات میں کتنا اضافی سرمایہ پیدا کرے گا۔ ہر سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں خطرات مول لینے پر مجبور ہے اور جتنے طویل عرصہ کے لیے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے خطرات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ مثلاً نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے مینیجرز کا خطرہ نسبتاً کم ہے کیوں کہ وہ جن حصص اور تمسکات میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ فی الفور فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس تیل تلاش کرنے والی کارپوریشن کے خطرات زیادہ ہیں کیوں کہ اس کا سرمایہ کئی سال کے لیے اسی کاروبار میں منجمد ہو جاتا ہے۔

ہر قسم کے سرمایہ دارانہ اثاثہ (حصص، بلڈنگ، مشینری، خام مال، تمسکات وغیرہ) کی قیمت سٹہ کے بازار میں متعین ہوتی ہے۔ اور سٹہ کے کاروبار خالصتاً مستقبل کے سرمایہ کارانہ اندازوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی کوئی اور بنیاد نہیں ہوتی۔ عام سرمایہ کار بقول کینز حیوانی جبلت کی بنیاد پر بھیڑ چال چلتے ہیں۔ کبھی اثاثہ کی قیمتوں میں مستقل کئی مہینوں تک بے اندازہ اضافہ ہوتا رہتا ہے تو کبھی ایک دم مندی آ جاتی ہے اور اثاثہ کی قیمتیں گرنے لگتی ہیں۔ سٹہ کے کاروبار کے ماہرین کی ایک ایسی کھیپ پیدا ہو گئی ہے جو اس غیرمتوقع اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے میں مہارت رکھتی ہے اور اپنے انفرادی نفع اسی اتار چڑھاؤ کے عمل پر مستقل اثرانداز ہوتی رہتی ہے۔ کینز کہتا ہے کہ ان حالات میں یہ توقع رکھنا کہ لازماً کسی وقت اتنی سرمایہ کاری ہو گی جو کسی ملک کے تمام وسائل کو استعمال کرنے کے پوٹینشل آؤٹ پُٹ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس توقع کا کوئی جواز نہیں۔
سرمایہ کاری کی سطح اور اس سطح میں تغیر مجموعی آمدنی کو متعین کرتی ہے جب سرمایہ کاری گرتی ہے تو مجموعی قومی آمدن جی ڈی پی بھی گرتی ہے اور قومی روزگار بھی۔نیوکلاسیکل اکانومسٹس کا کہنا تھا کہ چوں کہ کساد بازاری نجی سرمایہ کاری میں تنزل کی وجہ سے رونما ہوتی ہے لہٰذا کساد بازاری کو ختم کرنے کے لیے اور نجی سرمایہ کاری کو مہمیز دینے کے لیے کساد بازاری کے دور میں حکومتوں کے سرکاری اخراجات کو کم کرنا چاہیے اور چوں کہ سرکاری اخراجات میں اضافہ کا ایک بنیادی ذریعہ ریزرو زر[509]میں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا جب حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے گی تو ریزرو زر کی مقدار بھی گرے گی اور قرضہ جات بھی لازماً کم ہو جائیں گے[510]۔

کینز اس قسم کی معاشی پالیسی کو سرمایہ دارانہ نظام کے لیے مہلک سمجھتا تھا۔ کساد بازاری کے دور میں اگر قرضہ جات اور حکومتی اخراجات کم کرنے کے نتیجے میں وہ مانگ جس کے پیچھے خریداری قوت موجود ہے، گرے گی اور جی ڈی پی اور ملازمتوں کی سطح مزید نیچے جائے گی اور ان حالات میں نجی سرمایہ کاری بڑھنے کے امکانات معدوم ہوتے چلے جائیں گے۔

کینز سرمایہ داری کے تحفظ اور فروغ کے لیے ریاستی سرمایہ کاری کو ضروری سمجھتا ہے۔ حکومتی خرچ اور ریاستی سرمایہ کاری کے اضافہ کے نتیجہ میں effective demand بڑھائی جا سکتی ہے اور حکومتی ادارہ سود اور سٹہ کی مارکیٹوں پر اپنا تحکم قائم کر کے نجی سرمایہ داروں کی توقعات اور تخمینوں پر اس طرح اثرانداز ہو سکتے ہیں کہ قومی ممکنہ پیداواری سطح حاصل کرنا اور اس سطح میں اضافہ کرنا نجی سرمایہ کاروں کی منافع میں اضافہ کی جستجو سے ہم آہنگ ہو جائے۔ اس کے لیے شرح سود کو کم سے کم رکھنا بھی ضروری ہے۔

کینز ریاست کو سرمایہ دارانہ نظام کا محض چوکیدار نہیں سمجھتا تھا بلکہ اس کی رائے میں ریاست سرمایہ کا ویسا ہی ایک عامل وسیلہ ہے جیسے نجی سرمایہ کار۔ ریاستی سرمایہ کاری کا حجم سرمایہ دارانہ ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہتاہے اور جن شعبوں میں شرح منافع نسبتاًکم لیکن ان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری قومی پیداوار کو بڑھانے اور عمومی شرح منافع کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے (مثلاً مواصلاتی نظام، توانائی، معدنیات، تعلیم، صحت وغیرہ) وہاں حکومتی سرمایہ کاری کو فیصلہ کن کردار ادا کرناچاہیے۔

ان شعبوں اور صنعتوں کو قومیانے سے یا ان میں ریاستی سرمایہ کاری نجی سرمایہ کاری پر حاوی کی جائے یا ان کی پیدا کی ہوئی اشیا کے بازاروں میں قیمتوں کا تعین حکومت کی مرضی کے مطابق ہو۔ کینز کی رائے میں ریاستی سرمایہ کاری میں اس نوعیت کا اضافہ لبرل سیاسی نظام کی کارفرمائی سے بآسانی ہم آہنگ بنایا جا سکتا ہے۔
سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں نے ۱۹۳۳ء سے لے کر ۱۹۷۰ء کی دہائی کی ابتدا تک ریاستی سرمایہ دارانہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ ابتدا میں اس کی وجہ ان حکومتوں کا جنگ جویانہ کردار تھا۔ امریکا نے روزویلٹ کے صدر بننے کے بعد بڑے پیمانہ پر اسلحہ سازی اور جنگ کی دوسری تیاریاں فروغ دیں اور برطانیہ میں چیمبرلین کی حکومت، روزویلٹ سے دو قدم آگے تھی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو ریاستی اخراجات بے تحاشا بڑھنے لگے۔ کلیدی صنعتوں پر ریاستی قبضہ کر لیا گیا۔ راشننگ اور تعین قیمت کو وسعت دی گئی اور منصوبہ بندی عام ہو گئی۔ بین الاقوامی فنانشل نظام ۱۹۳۱ء میں منتشر ہو گیا تھا[511] اور ۱۹۲۸ء سے ۱۹۴۵ء تک ہر سرمایہ دارانہ ترقی یافتہ ملک اپنی بین الاقوامی تجارت اور فنانس پر مکمل ریاستی کنٹرول نافذ کیے رہا[512]۔ روزویلٹ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ریاستی اخراجات کا ایک بڑا حصہ عوام کی معاشی بہبود کے لیے بھی خرچ کیا جانے لگا[513]۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لے کر آج تک بڑے سرمایہ دارانہ ممالک کے فوجی اور بہبود عام سے متعلق ریاستی اخراجات مستقل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ گوکہ کینزین ازم بحیثیت پالیسی ساز فلسفہ کے سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں کے لیے بھی اتنی قابل قبو ل نہیں رہی جتنی وہ سرمایہ داری کے سنہری دور (۱۹۱۰ء تا ۱۹۴۵ء) تک تھی۔ کینزین ازم کی مقبولیت میں کمی ایک وجہ نیوکلاسیکی اکنامکس کا نئی شکلوں میں ارتقا ہے۔ اس کے نتیجے میں سوشل ڈیوکریٹ حکومتوں کی مارکیٹ کے نظام پر گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔ کئی صنعتیں جو قومیا لی گئی تھیں اور بہت سی ریاستی خدمات نجی شعبہ کو پھر فروخت کر دی گئی ہیں اس عمل کو نج کاری کہتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت اور فنانشل ترسیلات کے نظام پر سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت بہت کمزور پڑ گئی ہے۔ ایک اور نظاماتی تبدیلی جو واضح ہوئی ہے وہ مزدور تنظیموں کی معاشی اور معاشرتی قوتوں میں مستقل کمی ہے۔ ان ممالک میں افرادی قوت کا ایک مستقل کم ہوتا ہوا حصہ یونینز میں رکنیت اختیار کرنا ہے۔ 

انیسویں صدی کے آخر سے ۱۹۸۰ء تک سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کی رکنیت کا سب سے فعال حصہ یونینز کے ارکان پر مشتمل ہوتا تھا۔ یونین کی رکنیت کی کمی نے سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کی سیاسی قوت کم ہونے کا خطرہ پیدا کیا ہے اور بیش تر امریکی اور یورپی سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں مزدور طبقہ کی حمایتی نہیں رہی ہیں اور ان کی پالیسیوں اور رجحانات اور لبرل جماعتوں کے رویوں اور پالیسیوں میں فرق ختم ہوتا جا رہا ہے۔ آج بیش تر مغربی سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں لبرل اور کنزرویٹو جماعتوں کی طرح نج کاری، مارکیٹ آزادیوں کے فروغ اور بین الاقوامی فنانشل مارکیٹوں کی بالادستی کو مستحکم کرنے والی پالیسیوں کی وکیل بن گئی ہیں[514]۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مغرب میں کینزین نظریات حکومتوں میں مقبول ہو گئے اور بیش تر مغربی ممالک کی زری اور مالی پالیسیوں میں ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں:

۱۔شرح سود کم رہی اور ریزرو میں اور مجموعی مقدارِ زر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

۲۔حکومتوں کے بجٹ عموماً خسارہ پر مبنی ہونے لگے۔ حکومتی اخراجات اور سرکاری قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

۳۔حکومت نے فوج اور بہبود عام بالخصوص صحت اور تعلیم پر اخراجات میں تیزی سے اضافہ کیا۔

۴۔بہت سی کلیدی صنعتیں قومیا لی گئیں[515]۔ 

۵۔ٹریڈ یونین کی مسابقتی قوت میں نئی قانون سازی کے ذریعے اضافہ کیا گیا اور گاہے گاہے ٹریڈ یونینز حکومت کا حصہ بنتی رہنے لگیں۔

۶۔ بین الاقوامی تجارت کو تو لبرلائز کیاگیا اور صنعتی اشیا کی بین الاقوامی تجارت پر لگائے گئے محصولات معاہدوں کے ذریعے کم کیے گئے لیکن بین الاقوامی ترسیل زر پر قومی حکومتوں کی گرفت مضبوط رہی اور ہر حکومت اپنی کرنسی کا شرح تبدل خود متعین کرتی تھی[516]۔

۱۹۵۰ء سے ۱۹۷۰ء تک بیس برسوں کو سرمایہ دارانہ نظام کا ’’عہد زریں‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دور میں مجموعی ملکی پیداوار، سرمایہ کاری، ملازمتیں اور اجرتیں تیزی سے بڑھیں اور قیمتیں مستحکم رہیں۔ کچھ اکنامسٹس کے خیال میں یہ ترقی کینزین پالیسیوں کا نتیجہ تھا اور ان کی رائے میں کینزین پالیسیوں کو اختیار کر کے سرمایہ دارانہ نظام نے تورم اور کساد بازی کے اتار چڑھاؤ کے رجحان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا لیا ہے۔ اس زمانہ کے سب سے اہم سوشل ڈیموکریٹ مفکر گراس لینڈ نےکئی کتابوں میں یہ دعویٰ کیا کہ کینزین پالیسیاں اختیار کر کے لبرل معیشتوں کو مکمل طور پر اشتراکی بنا لیا گیا ہے اور سوشل ڈیموکریسی نے یہ تغیر لبرل انفرادی حقوق اور جمہوری نظام کو محفوظ رکھ کر انجام دیا ہے۔ اشتراکی انقلاب برپا کرنے کی اب کوئی توجیہہ باقی نہیں رہی۔
Grossland کی طرح کینز کے نیوکلاسیکی شارحین نے واضح کہا گو کہ کینز Sayo کا کلیہ ردّ کرتا ہے اور مارکیٹ کی خودکارفرمائی کے نتیجے میں ایسے توازن کے وجود کا قائل نہیں جس میں معاشرہ کے کل وسائل استعمال اور تمام افراد کو ملازمت فراہم ہو لیکن بنیادی نیوکلاسیکل مفروضات اور تصورات کو ردّ نہیں کرتا۔ جو میکرواکنامکس کینز نے ایجاد کی ہے اس میں نیوکلاسیکی مائیکرواکنامکس کے بنیادی مفروضات موجود ہیں۔ انفرادی مانگ اور رسد کو اگر مارکیٹ کی سطح پر مجتمع کیا سکتا ہے تو مارکیٹوں کی مانگ اور رسد مجتمع کر کے پیداواری اور زرعی شعبہ کی کارفرمائی کی بنیاد پر برآمد اجتماعی قیمتوں بالخصوص شرح سود اور مجموعی آمدنی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ J.R.Hlok کے ایجاد کردہ IS-LM تجرباتی فریم ورک کے ذریعے کینزین نظریات کو نیوکلاسیکی نظریات سے مربوط کر دیا گیا۔ اس نیوکلاسیکی کینزین مکتب فکر کے مطابق حکومت کا کام ہے کہ مجموعی بچتوں کا تخمینہ لگا کر زرعی اور مالیاتی پالیسی کے ذریعے اتنی سرمایہ کاری ممکن بنائے جو کل وسائل کو استعمال کرنے والے توازن کو اجتماعی سطح پر قائم کرے۔ اس مکتب فکر کے ایک اہم ناقد کے مطابق اس تجزیہ کا مطلب ہے کہ کینزین معاشیات نیوکلاسیکی اکنامکس کا ایک ذیلی شعبہ ہے۔ چوں کہ مجموعی بچتیں صرف نجی شعبہ پیش کرتا ہے لہٰذا جو Full Employment Equilibrium سرمایہ کاری کو متعین کر کے قائم کیا جائے گا وہ جو اجتماعی قیمتیں ظاہر کرے گا اسی کی بنیاد پر اجرتوں کا تعین ہو گا۔ اگر اجرتیں اس سطح سے اوپر منجمد ہو جائیں تو نظام Full Employment Equilibrium برقرار نہ رہ سکے گا۔ لہٰذا معاشی توازن کو full employment کی سطح پر رکھنے کا بنیادی محرک نجی شعبہ کی بچتیں ہی ہیں اور سرمایہ دارانہ حکومت اور بچتوں کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی سطح متعین کرتی ہے۔ Full employment Equilibrium کی سطح پر متعین اجرت کی بنیاد پر رونما ہونے والی ملازمتوں کی سطح اور اس سے اونچی سطح اجرت پر مطمئن ہونے والی ملازمت کی سطح کے درمیان جو بے روزگاری پائی جائے اس کو فطری سطح بے روزگاری (Natural rate of unemployment) کہا گیا ہے اور اس کوکم قیمتوں کی عمومی سطح کو بڑھائے بغیر ناممکن سمجھا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کینز کے سب سے اہم ناقد ملٹن فرائیڈمین کے بقول نیوکلاسیکی اور کینزین تصور معاشی ساخت اور کارفرمائی میں بنیادی ہم آہنگی موجود ہے۔

سرمایہ داری کا عہد زریں ۱۹۷۰ء کی دہائی کے اوائل میں ختم ہو گیا اور اس اختتام کا اعلان امریکی دہشت گرد صدر رچرڈ نکسن (جو اس وقت ویت نام کے قتل عام میں مصروف تھا) نے ڈالر کو سونے سے منقطع کر کے کیا۔ ۱۹۷۰ء کے بعد سے دس بارہ سال تک پوری مغربی دنیا میں قیمتیں اور بے روزگاری ایک ساتھ تیزی سے بڑھتی رہیں۔ اس عمل کو Stagflation کہتے ہیں۔ یہ دور کینزین ازم کا دورِ زوال ہے۔ ۱۹۷۹ء اور ۱۹۸۰ء میں تھیچر اور ریگن کی حکومت قائم ہوئی اور جلد ہی Kuhl جرمنی میں برسراقتدار آ گیا۔ یہ حکومتیں سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کی شدید مخالف تھیں اور ۱۹۷۰ء کی دہائی کو مشکلات کا سبب ریاستی کینزین پالیسیوں کو ہی سمجھتی تھیں۔ ان حکومتوں اور ان سے وابستہ اکنامسٹس نے کہا کہ کینزین نظریات کو اپنا کر سرمایہ دارانہ حکومتوں نے مارکیٹ کی کارفرمائی کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ یہ لوگ ایڈم اسمتھ کے "Invisible Hand" اور J.B.Say کے کلیہ (رسد اپنی طلب خود پیدا کرتی ہے) پر یقین رکھتے تھےانہوں نے کہا کہ Stagflation سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ:

۱۔ مرکزی بینک کو سیاسی کنٹرول سے آزاد کر کے محض قیمتوں کو مستحکم رکھنے کا ذمہ دار بنا دینا چاہیے اور سود میں اضافہ کی شرح کو مجموعی پیداوار میں اضافہ کی شرح کے مطابق کر دینا چاہیے۔

۲۔ حکومتی بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

۳۔ نج کاری کو فروغ دینا چاہیے اور بیش تر قومیائی ہوئی صنعتیں نجی شعبہ کو واپس کر دینی چاہییں۔

۴۔ یونینز کی مسابقتی قوت کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر قانون سازی اور معاشی جبر کا استعمال کرنا چاہیے۔
۵۔ فنانشل مارکیٹ کو زیادہ سے زیادہ آزادی دینی چاہیے اور فنانشل مارکیٹس پر ریاستی کنٹرول کو محدود کر کے بین الاقوامی ترسیل زر کو مستقل جاری رہنے والا عمل بنا دینا چاہیے۔ اس رجحان کو فروغ دینے میں ۱۹۹۰ء میں عام کی جانے والی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور Web based communication system نے کلیدی کردار ادا کیا۔

19.3۔ سوشل ڈیموکریسی کے معاشی پروگرام کی شکست و ریخت

۱۹۹۰ء کے بعد کے دور میں بھی کئی جگہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹیوں نے اپنی حکومتیں بنائی ہیں (کلنٹن، بلیئر، شرودز، ہولاندے، اوباما) لیکن ان حکومتوں نے لبرل معاشی پالیسی ایجنڈے پر عمل کیا ہے۔ ان حکومتوں نے لبرل معاشی تصورات اور پالیسیوں کی تنفیذ کی اور مارکیٹ کی آزادانہ کارفرمائی کے دائرہ کار کو وسعت دی۔ ان حکومتوں کے پالیسی ساز اس بات کے قائل ہو گئے کہ حکومت معیشت کی رفتارِ کار کو بڑھانے اور گھٹانے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکتی۔ لوگوں کی توقعات ریشنل ہوتی ہیں اور ان ریشنل توقعات کی بنیاد پر وہ حکومت کی ہر پالیسی کو غیرموثر بنا دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حکومت مقدارِ زر اور ریاستی سرمایہ کاری بڑھا کر مجموعی پیداوار اور ملازمتیں نہیں بڑھا سکتی[517]۔ اگر مجموعی رسد کو بڑھایا جائے تو مجموعی آمدنی، پیداوار اور ملازمتیں بڑھ سکتی ہیں لیکن مجموعی رسد کو بڑھانا نجی شعبہ کا کام ہے۔ اس کا بنیادی محرک تکنیکی ارتقا ہے[518]۔ حکومت براہ راست اس پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر حکومت محصولات کو کم کر دے اور سرکاری اداروں کو نجی شعبہ کے سپرد کر دے اور مارکیٹ بالخصوص فنانشل مارکیٹ پر پابندیاں ختم کر دے تو نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس معاشی حکمت عملی کو Supply side economics کہتے ہیں اور ریشنل توقعات نظریات سے اس کا قریبی تعلق ہے۔ Supply side economics صرف لبرل اور کنزرویٹو حکومتوں نے نہیں بلیئر، شرودز، کلنٹن، ہولاندے اور اوباما کی سوشل ڈیموکریٹک حکومتیں بھی اسی حکمت عملی پر کاربند رہیں۔

سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں نے ۱۹۸۰ء کی دہائی سے ۲۰۰۸ء تک لبرل معاشی پالیسیاں اختیار کیں اور بالخصوص اوباما اور ہولینڈر کی حکومتوں[519]نے۔دورِحاضر کے کینزینز نے ان پالیسیوں پر تنقید کی۔ ان جدید کینزیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: نیوکنزین اور پوسٹ کینزین۔ نیوکینزین کی تنقید مقابلتاً دبی زبان سے ہے۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اجارہ داری، اطلاعات کی مساویانہ تقسیم اور نج کاری اور سرمایہ دارانہ زر کے نظاماتی اثرات کے نتیجے میں مارکیٹ کی خودکارفرمائی efficient نتائج پیدا نہیں کرتی۔ مارکیٹ سیلف ریگولیٹری ادارہ نہیں بلکہ اس کی نگرانی کے لیے معاشرتی غیرمساویانہ تقسیم آمدنی اور دولت اور مستقل بے روزگاری کی سطح میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور گاہے گاہے سرمایہ دارانہ بحران آتے رہیں گے[520]۔ نیوکینزین اکنامسٹس ایک ایسی مائیکرو اکنامک پالیسی کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد تورم اور کساد بازاری کے بحرانوں کو ختم کرنا ہو۔ تورمی (Inflationary) ادوار میں حکومت کو مالی اور زری پالیسی کے ذریعے مجموعی مانگ کو کم کرنے اور کساد بازاری بحرانوں میں مجموعی مانگ کو بڑھانے کی مائیکرواکنامک حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اور اس سے مارکیٹ کی اور نجی شعبہ کی خودکارفرمائی مثبت طور پر متاثر ہو گی۔ ۲۰۰۷ء کے بحران کے بعد کے دور میں سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل حکومتوں دونوں نے اس حکمت عملی کو قبول کیا ہے۔ نیوکینزین اکنامسٹس ریشنل توقعات کے نظریات کو ردّ نہیں کرتے لیکن ان کی رائے میں ریشنل توقعات کے اثرانداز ہونے میں وقت لگتا ہے اور حکومت معاشی عمل پر اسی مدت کے دوران اثر انداز ہو سکتی ہے جب ریشنل توقعات پوری طرح کارفرما نہیں ہوتیں۔ نیوکینزین اجرتوں کے انجماد کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں اور یونینز کی لیبر مارکیٹ میں اجارہ داری کو ختم کرنے کی ضرورت کے بھی قائل ہیں۔

پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی تنقید زیادہ وسیع ہے۔ اس مکتب فکر کی بنیاد Nicholas Kalclor نے ۱۹۷۷ء میں اپنے مقالہ "Monetarism" سے رکھی۔ اس کی رائے میں نیوکینزین اور نیوکلاسیکل اکنامسٹس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ حکومت سرمایہ دارانہ زر کی مقدار مقرر کر سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ زر کی مقدار کا تعین نظاماتی عمل کی بنیاد پر متعین ہوتا ہے۔ ہر سرمایہ دارانہ معیشت اتنا سرمایہ دارانہ زر جاری کرنے پر مجبور ہے جو سرمایہ کاروں کی زر کی مانگ کو پورا کرے۔ اور زر کی یہ مانگ سرمایہ کاروں کی منافع کمانے کے تخمینوں پر مبنی ہے۔ زر کی رسد نظام کے اندر متعین ہوتی ہے اور حکومت زر کے مقدار کو نہیں نظام کے باہر سے معیشت پر مسلط نہیں کر سکتی۔ کچھ پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی رائے میں حکومت کو ریزرو زر کی مقدار متعین کرنے کا اختیار ہر سرمایہ دارانہ نظام میں باقی رہتا ہے۔ Wynne Godly کے مطابق حکومت زر کا تعین نہیں کر سکتی لیکن شرح سود کے تعین میں کسی حد تک خود مختار ہے۔اگران مفروضوں کو قبول کر لیا جائے تو مائیکرو اکنامکس کے زری پالیسی پر اثر انداز ہونے کا امکان موجود نہیں۔مقدارِ زر میں کمی بیشی سے نہ اجتماعی مانگ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے نہ مجموعی ملازمت، آمدنی اور قیمتوں کو۔ اگر حکومتی اختیار کو سودی زر کی حیثیت سے سمجھا جائے تو زری پالیسی کے میکرواکنامک اثرات کے محدود ہونے کا قائل ہونا پڑتا ہے۔

پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی نظر میں سرمایہ دارانہ حکومتوں کا موثر پالیسی ہتھیار مالی ہے۔ کینز کی طرح پوسٹ کینزین اکنامسٹس بھی بجٹ خسارہ کو گھٹا کر مجموعی قومی آمدنی اور ملازمتوں میں اضافہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور نیوکلاسیکی اکنامسٹس کے برخلاف اگر یہ بجٹ خسارہ نوٹ چھاپ کر کیا جائے تو اس کا تورمی اثر محدود ہو گا۔ یہ عمل حکومتی تمسکات کے اجراء کے نتیجہ میں بجٹ خسارہ کو پر کرنے کے لیے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمسکات کے اجرا کے نتیجے میں مجموعی ہیئت شرح سود اوپر اٹھے گا اور شرح سود کے بڑھنے کے نتیجے میں قیمتیں بڑھیں گی۔ نوٹ چھاپنے کے نتیجے میں شرح سود کے کم ہونے کے امکانات نہیں اور قیمتوں میں اضافہ کا امکان محدود ہو گا۔

جس حد تک حکومتوں کو تعین سود کا اختیار ہے تو حکومت کو شرح سود کم رکھنا چاہیے۔ بالخصوص نیوکلاسیکی اکنامسٹس کی رائے میں شرح سود میں اضافہ کو مجموعی قیمتوں میں اضافہ سے منسلک کر دیا جائے، غلط ہے کیوں کہ اس طرح نجی شعبہ میں غیر فنانشل قرضوں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے نظام کے دیوالیہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی رائے میں تورمی دور میں شرح سود کو کم سے کم رکھنا ضروری ہے کیوں کہ اس طرح غیرفنانشل کارپوریشنوں کا منافع محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اجرتوں کو کم کر کے تورم کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تمام کینزین مکاتب فکر کی متفقہ رائے ہے۔
پوسٹ کینزین معیشت دانوں کی رائے میں اجرتوں کو بڑھانے اور تورم کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت ان صنعتوں میں براہ راست سرمایہ کاری کرے جو اجرتی اشیا مثلاً اشیائے خور و نوش، توانائی، گاڑیاں صحت اورتعلیم تیار کرتی ہیں، ان صنعتوں میں نجی سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرنا کافی نہیں۔ پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی رائے میں اس سے تقسیم آمدن بھی زیادہ مساویانہ ہونے کا امکان ہے ۔ بحیثیت مجموعی پوسٹ کینزین اکنامسٹس سرمایہ دارانہ نظام میں تقسیم آمدنی کے مساویانہ ہونے سے مایوس ہیں کیوں کہ ان کی رائے میں سرمایہ دارانہ معیشت میں مقدار زر کا تعین پبلک اور دیگر کھاتہ دار فنانشل ادارے کرتے ہیں اور قیمتوں، سرمایہ کاری، آمدنی، اجرتوں اور ملازمت کی سطح کا تعین بنیادی طور پر قدر کی رسد کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک سرمایہ دارانہ معیشت میں فنانشل شعبہ پیداواری شعبہ پر حاوی ہوتا ہے۔ اس نظام میں مقتدر اعلیٰ بینک ہوتے ہیں صارف نہیں۔ وہ ان اجرتوں اور بچتوں کو مہیا اور قبول کرنے پر مجبور ہیں جو فنانشل ادارے متعین کرتے ہیں۔ بینکوں کے اس اقتدار اعلیٰ کا مظہر شرح سود کی وہ ترتیب ہے جو قرضہ جاتی زر جاری کرکے بینک اور دیگر فنانشل ادارے زر کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ میں قائم کرتے ہیں۔

قرضہ جاتی زر کا اجرا غیر فنانشل کارپوریشن اور بینکوں کے درمیان مشاورت اور سودے بازی پر منحصر ہوتا ہے۔ پوسٹ کینزین اکنامسٹس کے مطابق بحران اس وقت رونما ہوتا ہے جب یا تو بینک آپس میں طے شدہ شرح سود پر اتنا قرضہ غیرفنانشل کارپوریشن کو فراہم نہیں کرتے جتنی ان کارپوریشنوں کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر باہمی طے شدہ سود پر غیرفنانشل کارپوریشن اتنا قرضہ لینے سے انکار کر دیتی ہیں جو بینک دینا چاہتے ہیں۔پوسٹ کینزین پالیسی تجاویز مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ حکومت مارکیٹ کو ریگولیٹ کر کے ہی ایسا توازن قائم کر سکتی ہے جو تمام وسائل کو استعمال کرے یعنی full employment equilibrium۔ ایسا توزن مارکیٹ میں خود بخود قائم نہیں ہو سکتا۔

۲۔ مارکیٹ کی خودکارفرمائی کے ذریعہ نامساویت کار رجحان ترقی پاتا ہے۔ اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ حکومت کو اشیائے صرف کی تقسیم اور پیداوار کے لیے ریاستی سرمایہ کاری کرنا چاہیے۔ بڑھتی ہوئی نامساویت کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے محض مراعات فراہم کرنا یا ٹیکس کے اقدامات کرنا کافی نہیں۔
۳۔ سرمایہ دارانہ حکومت کو ایسی زری پالیسی اختیار کرنا چاہیے جو پیداواری ترقی کو فروغ دے۔ کساد بازاری کے دور میں بجٹ خسارہ کو فروغ دینا چاہیے اور اس کے لیے طویل المدت تمسکات کو جاری نہ کرنا چاہیے بلکہ خسارہ نوٹ چھاپ کر یعنی مرکزی بینک سے نہایت واجبی شرح سود پر قرضہ لے کر پورا کرنا چاہیے۔ سرمایہ دارانہ حکومتوں کو کوشش کرنا چاہیے کہ شرح سود کم سے کم کیا جائے۔ پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی رائے میں شرح سود کو صفر کیا جا سکتا ہے جب کہ کینز کی رائے میں گو کہ ایسا کرنا مفید ہے لیکن سرمایہ دارانہ معیشت میں بینکوں کی اجارہ دارانہ مسابقتی قوت کی وجہ سے ممکن نہیں۔

۴۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پوسٹ کینزین اکنامسٹس کا ایک نیا مکتبہ فکر سامنے آیا جسے Stock Flow Consistency Approach کہتے ہیں[521]۔ اس مکتب فکر کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست کو اپنے تحکم کے لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو بینک کاری کے پورے نظام کو قومیا لے یا پھر مرکزی بینک تمام مارکیٹوں میں full employment equilibrium کے قیام کو یعنی سرمایہ کی عمومی شرح کو زیادہ سے زیادہ کرنے کو پالیسی کا ہدف بنا کر مقدارِ سرمایہ دارانہ زر اور پورے سودی ہیئتی نظام کو تشکیل دے۔ اس نظام کو کریڈٹ پلاننگ یعنی قرضہ جاتی منصوبہ بندی کہتے ہیں۔ اس کے تحت مرکزی بینک نجی بینکوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ کس شعبہ کو ہر سال کتنا قرضہ دیں گے اور سارے قرضوں پر سود لیا اور دیا جاتا ہے اس کی سطح بھی مرکزی بینک متعین کرتا ہے[522] ۔

۲۰۰۷ء سے شروع ہونے والے بحرانی دور میں پوسٹ کینزین کی چیدہ چیدہ پالیسیوں کو سوشل ڈیموکریٹک حکومتوں اور لبرل حکومتوں نے بھی اختیار کیا اور اب سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل اور قدامت پسند جماعتوں کے معاشی ایجنڈے میں فرق کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

19.4۔ سرمایہ داری کا حالیہ بحران اور سوشل ڈیموکریسی

اگر مجموعی قومی آمدنی کے پیمانہ پر ناپا جائے تو ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک (شمالی امریکا اور مغربی یورپ) دسمبر ۲۰۰۷ء سے جون ۲۰۰۹ء تک کسادبازاری میں مبتلا رہے۔ اس دوران ان ممالک میں مجموعی پیداواری شرح منفی رہی۔ ۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۰ء تک ان ممالک میں سرمایہ کاری کی شرح نمو بھی منفی رہی۔ ۱۹۲۹ء کی کسادبازاری کے دور کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اور اس وجہ سے مغربی اکنامسٹس ۰۹-۲۰۰۸ء کے دور کو ’’عظیم کسادبازاری“ (Great Depression) کا دور کہتے ہیں۔ منافع کی شرح بھی نہایت تیز رفتاری سے گری بالخصوص فنانشل اداروں کی سطح منافع بہت زیادہ متاثر ہوئی اور کئی بڑے بڑے بینک اور فنانشل ادارے دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ گئے اور جن فنانشل اداروں کو حکومت نے نہیں بچایا وہ دیوالیہ ہو گئے[523] ۔ امریکا، چین، جاپان، برطانیہ اور جرمنی کی حکومتوں نے کھربوں ڈالر بینکوں کو مدد دے کر ان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ فنانشل اداروں کو اتنا ’’اعانتی پیکج‘‘ دینا پڑا کہ وہ عملاً قومیا لیے گئے گوکہ ان کی مینجمنٹ نجی شعبہ کے پاس رہی۔ بینکوں کو بچانے کے لیے سرمایہ دارانہ حکومتوں نے جو کھربوں ڈالر خرچ کیے وہ یا تو عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہوئے یا نوٹ چھاپ کر۔ اور نوٹ دھڑا دھڑ چھاپنے کا عمل امریکا میں ابھی تک جاری ہے۔ اسی کو Quantitative Earning (QE) کہتے ہیں اور امریکی مرکزی بینک کے سربراہوں کا دعویٰ ہے کہ QE ختم کر دی جائے تو امریکی معیشت جو ۲۰۱۰ء سے مثبت جی ڈی پی شرح نمو دکھا رہی ہے یقیناً فوراً بیٹھ جائے۔

نوٹ چھاپنے اور تمسکات کے اجرا کے نتیجے میں ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ حکومتی قرضہ جات نہایت تیزی سے بڑھے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے حکومتی قرضوں کی شرح مجموعی قومی آمدنی کی شرح ۲۰۰۵ء میں تقریباً ۷۰ فی صد تھی۔ ۲۰۱۰ء میں یہ شرح بڑھ کر ۱۰۰ فی صد ہو گئی۔ کسادبازاری کے دور میں ترقی یافتہ ممالک میں بے روزگاری تیزی سے بڑھی اور مغربی یورپ کے کئی ممالک میں پندرہ فی صد سے تجاوز کر گئی۔ امریکا میں حقیقی بے روزگاری کی شرح جو حکومتی تخمینوں سے متجاوز ہوتی ہے، اس دور میں دس سے تیرہ فی صد شمار کی گئی۔

امریکی حکومت میں مثبت شرح نمو ۲۰۰۹ء کے آخر تک شروع ہو گئی لیکن مارچ ۲۰۱۴ء تک یہ شرح نمو اس سطح تک نہ پہنچ سکی جو امریکا کو ۲۰۰۷ء کی تیسری دہائی تک حاصل تھی لہٰذا ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں جو بحالی رونما ہوئی ہے اس کو نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ اور پچھلے ساٹھ سال کے عرصے میں کسی بھی کسادبازاری کے دور میں بحالی کے وقوع ہونے میں اتنا عرصہ نہیں لگا جتنا ۲۰۰۸ء کی کسادبازاری کے بعد[524] ۔ تین سالہ بحالی کے باوجود ۲۰۱۴ء کی ابتدا میں صرف افراد نہیں سرمایہ کا ایک بہت بڑا حصہ بھی ’’بے روزگار‘‘ ہے۔ صنعتی شعبہ میں بیس فی صد پیداوار استعمال نہیں ہو رہی اور صرف مزدور بے روزگار نہیں مشینیں بھی بند پڑی ہیں اور افرادی قوت میں ایک تہائی ملازمت تلاش ہی نہیں کرتی کیوں کہ ان میں سے بہت سے لوگ ملازمت حاصل کرنے کے امکان سے مایوس ہو گئے ہیں۔ فی کس آمدنی میں اضافہ ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں منفی رہا۔ ۲۰۱۰ء کے وسط تک مثبت دو فی صد ہو گیا لیکن اس وقت سے مستقل گر رہا ہے۔ ۲۰۰۷ء میں فی کس آمدنی میں اضافہ ایک فی صد سے بھی کم ہو گیا ہے۔

مغربی یورپ کے بیش تر ممالک کا حال امریکا سے زیادہ خراب ہے۔ مغربی یورپ میں بحالی کا دور ۲۰۱۳ء کے وسط میں شروع ہوا اور اس سال بھی یورپی شرح نمو صرف صفر اعشاریہ سات فی صد رہی۔ تمام بحالی صرف جرمنی میں مرکوز ہے اور جرمنی کے علاوہ کسی یورپی ملک میں بحالی کا رجحان مستحکم نہیں۔ ان حالات میں یورپ نے جن پالیسیوں کا سہارا لیا ہے ان کو درستگی کی حکمت عملی کہتے ہیں۔ درستگی کی اس پالیسی کا اصل مقصد شرح منافع میں اضافہ ہے اور یہ ریاستی قرضہ اور بجٹ خسارہ کو کم کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے مجموعی مانگ میں اضافہ کے ذریعے نہیں۔ یہ دورِحاضر کی لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں کی متفقہ رائے ہے اور عالمی بینک، آئی ایم ایف ڈبلیو ٹی او اور دیگر بین الاقوامی ادارے اسی رائے کی تشہیر کرتے ہیں۔

اس حکمت عملی کی تنفیذ کے نتیجے میں حقیقی اجرتیں[525] گری ہیں اور مجموعی حکومتی آمدنی میں خاطرخواہ کمی آئی ہے۔ کارپوریشنوں پر لگائے گئے ٹیکس بھی بڑھے اور یورپ میں بالخصوص نج کاری کا عمل فروغ نہ پا سکا[526]۔ یورپ اور امریکا میں دورِ بحالی شرح منافع کساد بازاری کے دور کے قبل کی سطح تک نہ پہنچ سکا اور ۲۰۱۱ء کے بعد روبہ تنزل ہے۔ کارپوریٹ قرضوں میں ۲۰۰۸ء تا ۲۰۱۴ء کے دوران جو ہوش ربا اضافہ ہوا ہے اس کی وجہ سے سرمایہ کاری اور منافع کی شرح کے اضافہ میں کمی آئی ہے۔ جب تک شرح منافع اور سرمایہ کاری کا رجحان واضح طور پر تبدیل نہیں ہوتا یعنی ۲۰۰۷ء کی سطح سے تجاوز کر کے مزید اضافہ مستقل بڑھوتری جاری نہیں رہتی، بحالی کا عمل کمزور اور غیریقینی رہے گا اور بہت سے اکنامسٹس کی رائے میں ۲۰۰۷ء سے شروع ہونے والی کسادبازاری ۱۸۷۳ء میں شروع ہونے والی کسادبازاری سے مماثل ہے جو بیس سال تک جاری رہی گوکہ اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ ان تخمینوں کے مطابق ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک ۲۰۲۵ء تک مستحکم بحالی کے دور میں داخل نہ ہو سکیں گے۔ 

۲۰۱۰ء کے بعد سے جتنی کچھ بحالی آئی اس کی بنیادی وجہ بڑی بڑی کارپوریشنوں اور بینکوں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے کیا گیا ریاستی خرچہ ہے جو یورپ، امریکا، چین اور جاپان میں کئی ٹریلین (کئی سو کھرب) سے تجاوز کر گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست نجی کارپوریشنوں کے تحفظ کے لیے بہت بڑے پیمانہ پر خرچہ کر رہی ہے اور یہ خرچہ عوام کے ٹیکسوں سے کیا جا رہا ہے اور ایسی پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں جن کے نتیجے میں عوام کی حقیقی اجرتیں منجمد رہیں۔ ۲۰۱۰ء کے بعد سے اب تک امریکا اور یورپ کے کئی ممالک کے مرکزی بینک کے قرضہ جاتی سود کی شرح صفر رہی جس کی وجہ سے ہزاروں کارپوریشنیں قرضہ لے کر دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہیں۔

کیا ان پالیسیوں کو کینزین یا پوسٹ کینزین کہا جا سکتا ہے؟ یہ پوسٹ کینزین اس حد تک ہیں کہ بحالی کے واسطے ان کا انحصار بنیادی طور پر زری پالیسی پر ہے۔ یورپی اور امریکی حکومتیں نجی شعبہ کو بچانے کے لیے بے تحاشا نوٹ چھاپ رہی ہیں اور شرح سود کو نچلی ترین سطح پر منجمد کر دیا ہے۔ کینزین اور پوسٹ کینزین اکنامسٹس کی رائے میں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست عوام کی قوت خرید اور عوام کی سوداکاری (Collective Bargaining) میں اضافہ کرے اور اشیائے خور و نوش اور معاشرتی خدمات بالخصوص تعلیم، صحت اور مواصلات کی وافر فراہمی کو ممکن بنائے۔ بحالی کو فروغ دینے والی پالیسیاں ریاست کو سرمایہ کاروں کا آلہ کار بنا رہی ہیں۔ اس کو امیروں کا کینزین ازم کہا گیا ہے۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کے نتیجے میں حقیقی اجرتیں منجمد ہو گئی ہیں۔ تقسیم آمدن نہایت غیرمساوی ہو گئی ہے اور کارپوریشنوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مالی بوجھ ٹیکس دہندگان کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ لیکن نج کاری کا عمل یورپ اور امریکا میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور حکومتی قرضہ جات نہایت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر نجی کارپوریشنوں کو جو ریاستی مدد حاصل ہے وہ ختم کر دی جائے تو یقیناً کسادبازاری کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے امریکا کا مرکزی بینک کئی مرتبہ اعلان کرنے کے باوجود نہ قرضہ جاتی شرح سود کو مضبوط ہونے دیتا ہے نہ دھڑا دھڑ نوٹ چھاپنے کی پالیسی کو ترک کر رہا ہے۔ جو بحالی ۲۰۱۴ء تک رونما ہوئی ہے وہ ان معنوں میں مصنوعی ہے کہ نجی کارپوریشنیں اور بینک ریاستی بیساکھیوں پر کھڑے ہیں۔ جب بھی یہ بیساکھیاں ہٹا لی جائیں تو کساد بازاری کے لوٹ آنے کا شدید خطرہ رونما ہو گا۔

یہ بیساکھیاں لبرل حکومتوں نے بھی فراہم کی ہیں اور سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں نے بھی۔ اب یہ بات ناقابل تردید ہو گئی ہے کہ سرمایہ دارانہ عمل کو فروغ دینے والی اصل قوت سرمایہ دارانہ ریاست ہے اور بحرانی ادوار میں یہ ریاست سرمایہ عمومی کی نمایندہ قوت بن جاتی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے۔ اسی وجہ سے اوباما اور ہولینڈر اور براؤن سب حکومتی اقدام سے کارپوریشنوں اور بینکوں کی بھی مدد کر رہے ہیں اور درستی پالیسی کے ذریعے عوام کی اجرتوں کو منجمد رکھ کر تقسیم آمدنی کو غیرمساویانہ بنا رہے ہیں۔

امریکا میں ریاست کا معاشی کردار ۲۰۰۷ء میں شروع ہونے والے بحران کے بعد نہایت تیزی سے بڑھا ہے۔ آج ریاست ہر صنعتی شعبہ ہسپتالوں، بیش تر تعلیمی اداروں اور پورے زرعی شعبہ کو وسیع پیمانہ پر اعانت دیتی ہے۔ قیمتوں کے تعین میں ریاست کا کلیدی کردار ہے۔ حکومتی قرضہ ہوش ربا انداز میں بڑھ رہا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں امریکا کا بجٹ خسارہ ایک سو چار ٹریلین ڈالر ہے۔ نوٹ چھاپ کر سٹہ کے مارکیٹ میں تیزی مستقل لائی جا رہی ہے لیکن نوٹ چھاپنے کے نتیجے میں بھی اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں حقیقی اجرتیں گر رہی ہیں۔ ریاستی مداخلت کی یہ تمام راہیں سوشل ڈیموکریٹ (کلنٹن اور اوباما) اور قوم پرست لبرل (دونوں بش) حکومتوں کے اشتراک عمل سے ہو رہی ہیں۔ ری پبلکن اور ڈیموکریٹک معاشی پالیسیوں میں فرق محض واجبی ہے۔

عالم گیریت (Globalization) سوشل ڈیموکریسی اور لبرل ازم کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔ گلوبلائزیشن کو تکنیکی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو وسعت دینے کی سیاسی تحریک ہے جو بڑی سرمایہ دارانہ ریاستیں (امریکا، یورپی یونین، چین) سوویت نظام کے خاتمہ سے چلا رہی ہیں۔ اس کی تیاری دوسری جنگ عظیم کے دوران ہی میں شروع ہو گئی تھی جب امریکی وزارت دفاع نے خطیر رقم صرف کر کے انٹرنیٹ ایجاد کیا۔ گلوبلائزیشن کے عمل کی چیدہ چیدہ خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ ملک کے اندر اور بیرون ملک ترسیل زر پر زیادہ سے زیادہ حد تک پابندیاں ختم کرتے رہنا۔

۲۔ ٹیکنالوجیکل عملیت کو کارپوریٹ نظام میں سمو دینا، اس کی کارپوریٹائزیشن (سرمایہ دارانہ ملکیت بنانا) اور اس کی ترسیل اور استعمال کو بڑھوترئ سرمایہ کے عمل سے منسلک کرنا۔

۳۔ بین الاقوامی تجارت میں براہ راست محصولات کم کر نا اور ہر ملک کے پیداواری حکومتی نظام ایسے معیارات کے تابع کرنا جو عالمی بڑھوترئ سرمایہ کا تقاضا کرتے ہیں۔

۴۔ افرادی قوت کی بین الاقوامی آمدورفت کو اس طرح مینج کرنا کہ یہ قومی جمہوری نظام کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
۵۔ تمام قومی ریاستوں کو امریکا کا باج گزار بنانا اور ان کی حاکمیت کو ایسے بین الاقوامی اداروں کے ماتحت کرنا جو امریکا کے زیر تسلط ہیں۔ ان اداروں میں نیٹو، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی فورم، فنانشل سکیورٹی (اور اس کے ذیلی علاقائی بینک مثلاً ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ) اور کچھ نجی ادارے مثلاً آئی ایس او، آئی اے ایس شامل ہیں۔

۶۔ سرمایہ دارانہ میڈیا کی عالمی اجارہ داری کا فروغ اور میڈیا کے ذریعے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ اقدار، پالیسیوں اور طرز معاشرت بالخصوص عیاشی، فحاشی اور دہریت کا فروغ۔

۷۔ پوری دنیا میں استعماری مخبری اور دہشت گردی کا ایسا جال بچھانا جو امریکا مخالف ممالک میں عوامی جمہوری بغاوت منظم کر کے ان ملکوں پر امریکی تسلط قائم اور مستحکم کریں [527]۔ سوشل ڈیموکریٹ حکومتیں ہمیشہ سے امریکی استعمار کی پرزور حمایتی رہی ہیں[528]۔

۲۰۰۸ء کے بحران کا سبب فنانشل اداروں کی بین الاقوامی اور قومی کارکردگی تھی۔ اس بات سے کوئی اکنامسٹ انکار نہیں کر سکتا اور یہ مادر پدر آزادانہ کاروبار ممکن اس لیے ہوا کہ ۱۹۷۳ء کے بعد سے امریکا اور مغربی یورپ میں تقریباً ہر سوشل ڈیموکریٹ اور ہر لبرل حکومت فنانشل شعبہ پر سے بتدریج ریاستی پابندیاں اٹھاتی رہی اور فنانشل اداروں کو خود احتسابی کے اختیارات دیے جاتے رہے۔ لیکن اس کے کھلے اقرار کے باوجود کہ ۲۰۰۸ء میں آیا ہوا بحران انہی آزادیوں اور خود احتسابی کی فراہمی کا ثمر تھی، کسی بھی سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل حکومت نے اپنے ملک کے فنانشل شعبہ پر بامعنی پابندیاں عائد نہیں کیں اور ان فنانشل اداروں کو کھربوں ڈالر کی سرکاری اعانت سال ہا سال فراہم کی جاتی رہی جو عملاً غیرمشروط تھی۔ اسی طرح کسی سوشل ڈیموکریٹ حکومت نے گلوبلائزڈ نظام تجارت، نظام ترسیل، ٹیکنالوجی اور اطلاعات، میڈیا کی کارکردگی یا امریکا کی منظم تخریب کاری اور ریاستی دہشت گردی کو تبدیل کرنے کی نہ کبھی کوئی خواہش ظاہر کی اور نہ کبھی کوئی اقدام کیا۔

Bretton Woods کے دور (۱۹۴۵ء تا ۱۹۷۳ء) کے اختتام کے بعد سے عالمی سرمایہ دارانہ نظام جس تغیر سے گزر رہا ہے اس کو فنانشلائزیشن کہتے ہیں۔ اس دور کی خصوصیت یہ ہے کہ معیشت میں فنانشل شعبہ کا حجم پیداواری شعبہ سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور فنانشل شعبہ پیداواری شعبہ پر حاوی ہو جاتا ہے۔ فنانشل شعبہ کے معاشی ہیئتی غلبہ کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ فنانشل اشیا اور خدمات کی طلب لامحدود ہوتی ہے۔ سرمایہ کار ایک، سو، ہزار، لاکھ، ارب، کھرب تمسکات خریدنے کی خواہش رکھ سکتا ہے لیکن وہ کئی کھرب جوتے پہننے کی خواہش نہیں رکھ سکتا۔ صنعتی اور زرعی اشیا کی مانگ محدود ہے۔ فنانشل اشیا کی مانگ لامحدود ہے۔ آبادی کی تعداد صنعتی اشیا کی مانگ کو محدود کر رہی ہے۔ آج امریکا کی آبادی ۳۱۲؍ ملین ہے اگر ہر امریکی ایک سو جوتے ہر سال بھی پہنے تو جوتوں کی مجموعی مانگ تیس ارب بیس کروڑ جوتوں تک محدود ہو جائے گی۔پھر جوتوں کی مانگ تقسیم آمدنی سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ بیس فی صد امریکی عوام بھوکے مر رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ سال میں ایک جوڑا جوتا خرید سکتے ہیں۔ امریکا کی آمدنی کا تقریباً پچیس فی صد صرف ایک فی صد آبادی ہڑپ کر جاتی ہے۔ ننانوے فی صد آبادی کی مانگ ان کی فی کس آمدنی مقابلتاً کم ہونے کی وجہ سے محدود ہے۔

سوشل ڈیموکریسی کے پاس کوئی ایسا ایجنڈا موجود نہیں جس سے وہ آبادی کی تعداد کو بڑھانے یا نامساویانہ تقسیم آمدنی کو کم کرے۔ سوشل ڈیموکریسی عیاشی، عریانی اور فحاشی کو فروغ دیتی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں سوشل ڈیموکریٹ ہم جنس پرستوں، مخنثوں، رنڈیوں اور فحش فروشوں کے سب سے بڑے اور سب سے اونچے سروں میں وکالت کرنے والے نظر آتے ہیں[529] اور زناکاری، منع حمل کے طریقے عام ہوئے بغیر نہیں پھیل سکتی بالخصوص ایسے سرمایہ دارانہ معاشروں میں جہاں تقریباً صد فی صد عورتیں ملازمت پیشہ ہوں۔ لہٰذا ہر مغربی ملک میں آبادی میں اضافہ کا تناسب گر رہا ہے[530] ۔ لہٰذا ’’قدرتاً‘‘[531]پیداواری اشیا کی طلب کم ہو رہی ہے۔

سوشل ڈیموکریسی تقسیم آمدنی اور دولت میں مساویت کو فروغ دینے سے قاصر ہے اس کے باوجود کہ سوشل ڈیموکریٹک اقدامات کے نفاذ کے نتیجے میں عام افراد کی سطح زندگی میں اضافہ ہوتا ہے اور اصل غربت کم ہو جاتی ہے لیکن ان اقدامات کے تحت تقابلی غربت کم نہیں ہوتی۔ امیر امیرتر ہوتے چلے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں عوامی یاسیت اصل غربت کم ہونے کے باوجود بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے ارتکاز سرمایہ کے بغیر سرمایہ کی بڑھوتری برائے بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

فنانشلائزیشن کے نتیجے میں ایسے خطرات پیدا ہوتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کے لیے کئی پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں اور ان خطرات کو رفع کرنے کے لیے کوئی مربوط حکمت عملی ابھی تک وضع نہیں کی جا سکی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فنانشلائزیشن کے نتیجے میں مستقل بے روزگاری عام ہو جاتی ہے۔ فنانشل شعبہ خود بہت کم افراد کو براہ راست ملازمت فراہم کرتا ہے اور فنانشلائزیشن کا لازمی نتیجہ احساس محرومی میں اضافہ اور ملازمتوں میں کمی کی صورت میں رونما ہوتا ہے[532]۔ پھر فنانشلائزیشن کے نتیجے میں حکومتی اور نجی قرضہ جات نہایت سرعت کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ ۲۰۰۸ء کے بحران پر قابو پانے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی گئی وہ ان معنوں میں پوسٹ کینزین تھی کہ نجی قرضوں کو پورا کرنے کی سکت نہ رکھنے والے اداروں کو ریاستی قرضہ دے کر بچا لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہرملک میں مجموعی قرضہ بہت تیزی سے بڑھا اور آج امریکا کا مجموعی قرضہ اس کی سالانہ پیداوار سے تیس فی صد زیادہ ہے۔ قرضوں کا یہ برق رفتاری سے بڑھتا ہوا ڈھیر کسی وقت بھی ادائیگیوں کے پورے نظام کو متزلزل کر سکتا ہے[533]۔ 

پھر فنانشلائزیشن کے نتیجے میں تورم کے عود آنے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ ۲۰۰۸ء کے بحران پر قابو پانے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس میں تورم سے بچنے کے لیے حقیقی اجرتوں کو منجمد رکھنے کا انتظام کیا گیا لہٰذا جو بحالی آئی ہے وہ اجرتوں اور ملازمتوں میں خاطرہ خواہ اضافہ کیے بغیر رونما ہوئی ہے۔ اس سے سیاسی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اجرتیں منجمد ہوں اور ریاستی اعانت اور مراعات جو عوام کو میسر ہوں ان میں تخفیف کی جائے تو عوامی ہیجان اور یاسیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔ مغربی ممالک کے عوام سرمایہ داری کے مخالف نہیں ہوتے محض سرمایہ کاروں کے مخالف ہوتے ہیں۔ وہ بڑھوترئ سرمایہ کے ذریعے حاصل شدہ قدر اور فوائد میں اپنا حصہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں کیوں کہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام خواہ لبرل، خواہ قوم پرست، خواہ اشتراکی، خواہ سوشل ڈیموکریٹ، عوامی تائید پر قائم ہوتا ہے لہٰذا سرمایہ دارانہ پالیسیوں کی عوامی رائے کی بنیاد پر تصدیق قائم رکھنا لازم ہو جاتا ہے۔ اسی عمل کو جمہوریت کہتے ہیں۔ جب عوام اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ مفادات سے محروم تصور کرنے لگیں تو یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ سرمایہ کاروں کے خلاف (سرمایہ داری کے خلاف نہیں) بغاوت کر دیں گے۔ ایسی عوامی بغاوتیں قومی اور اشتراکی سرمایہ کاروں کے خلاف امریکا مستقل منظم کرتا رہتا ہے۔ یہی ’’عرب بہار‘‘ اور ترکی، وینزویلا اور یوکرائن کی عوامی بغاوتوں کی نوعیت ہے۔ اگر یہ بغاوتیں کامیاب ہو جائیں تو قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ کاروں کے بجائے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل سرمایہ کار برسراقتدار آ جاتے ہیں۔ لیکن ایسی عوامی بغاوتوں سے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ کار اپنے برسراقتدار ملکوں میں خائف رہتے ہیں۔ ان ممالک میں سرمایہ دارانہ عوام کو مضمحل اور مطیع رکھنا دو اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سب سے اہم کردار میڈیا ادا کرتا ہے جو عوام کی رائے سازی کا فرض انجام دیتا ہے۔ وہ عوام کو باور کراتا ہے کہ سرمایہ کاروں کے کس ٹولے کی کون سی پالیسی ریشنل ہے اور عوام کو اس ٹولے کی کیوں اور کتنی حمایت کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ٹریڈ یونین عوام کو سرمایہ کاروں سے اجتماعی سودے بازی کے ذریعے مستقل مطالباتی گفت و شنید میں ملوث اور مصروف رکھتی ہیں اور وقتاً فوقتاً عمومی ہڑتالوں کے ذریعے نظاماتی سرمایہ دارانہ مطالبات کو فروغ دیتی ہیں۔ ٹریڈ یونین ایک سوشل ڈیموکریٹ ادارہ ہے اور ان کے ذریعے دیگر مصالحتی، مطالباتی اور مزاحمتی طریقے اختیار کر کے سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام سے مایوس ہونے سے روکتی ہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کو ایک مقبول عام پراجیکٹ بنانے کی کوشش جاری رکھتی ہیں۔

آج کل سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل پالیسیاں یکساں ہوتی جا رہی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام اور فروغ میں سوشل ڈیموکریسی کا سب سے اہم کردار یہ ہے کہ اس کے تناظر میں ایسی پالیسیاں وضع کی گئیں جنہوں نے سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ ریاست کی کارفرمائی کو زیادہ موثر بنا دیا۔ آج یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو سہارا دینے والی ایک اہم قوت سرمایہ دارانہ ریاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کینزین ازم کے نیوکلاسیکی ایجنٹ اور میکرواکنامکس کے پرچارک مخالفین کی تمام تر نظریاتی اور سیاسی کوششوں کے باوجود مغرب میں کوئی بھی حکومت خواہ لبرل، خواہ سوشل ڈیموکریٹ خواہ فاشسٹ ریاستی اخراجات کو کم نہیں کر سکی اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ریاست لازماً ایک Welfare State ہی ہوتی ہے۔ ریاست کو افرادی قوت کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے صحت، تعلیم اور مواصلاتی اور فزیکل انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانہ پر مستقل خرچ کرنا ہوتا ہے اور ریاست کے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات بھی عوامی فلاح کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں[534]۔ فلاحی اخراجات کی فراہمی کے ذریعے عوام کو سرمایہ دارانہ ہیئتی تنظیم میں سمو لیا جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست پر عوامی انحصاریت منظم کی جاتی ہے[535]۔ ویلفیئر خدمات کی فراہمی کے ذریعے ریاست عوام کی سرمایہ دارانہ نظام سے وابستگی اور وفاداری کو فروغ دیتی ہے۔

ویلفیئر ریاست سرمایہ کاروں کی ریاست ہوتی ہے مزدوروں کی ریاست نہیں ہوتی گوکہ اسے سرمایہ دار عوام (جن میں مزدور بھی شامل ہیں) کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ لبرل جماعتوں کی طرح سوشل ڈیموکریٹ تحاریک بھی سرمایہ کاروں کی قوت کو مستحکم کرتی ہیں کیوں کہ لبرل ازم کی طرح سوشل ڈیموکریسی بھی سرمایہ داری کا ایک نظریہ ہے اور سوشل ڈیموکریٹک تنظیم اقتدار کا مقصد بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری کے حصول کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

۲۰۰۸ء کے بعد تمام ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں ریاستی اخراجات کا مجموعی قومی آمدنی میں حصہ بڑھا ہے گو آئی ایم ایف اور یورپی یونین کے ادارے نسبتاً غریب سرمایہ دارانہ ممالک کو جو مدد دیتے ہیں وہ اس شرح کو کم کرنے سے مشروط کرتے ہیں۔ اسی طرح حکومتی اخراجات کو وہ حصہ جو عوامی فلاحی خدمات پر خرچ ہوتا ہے وہ بھی مستقل بڑھا ہے۔ مثلاً برطانیہ میں مجموعی حکومتی خرچہ کا وہ حصہ جو تعلیم، صحت، سوشل سکیورٹی اور معاشرتی امداد کے لیے مختص ہے، ۱۹۷۹ء میں تھیچر حکومت میں پچاس فی صد تھا۔ ۲۰۱۳ء میں یہ شرح بڑھ کر تریسٹھ فی صد ہو گئی ہے۔ یہ وہ رشوت ہے کہ جو سرمایہ کار عوام کو دینے پر مجبور ہیں تاکہ عوام سرمایہ دارانہ نظام سے اپنی وفاداری قائم رکھیں اور جمہوری مطالباتی سیاست کے ذریعے سرمایہ کی مستقل حکمرانی کے لیے جواز فراہم کرتے رہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ:

۱۔ سرمایہ دارانہ ریاست اب ویلفیئر ریاست ہونے پر مجبور ہے خواہ لبرلوں کی حکومت ہو، سوشلسٹوں، قوم پرستوں یا سوشل ڈیموکریٹس کی۔

۲۔ مجموعی ریاستی اخراجات میں مستقل اضافہ شرح منافع بڑھانے اور بین الاقوامی مسابقتی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

۳۔ لہٰذا دفاعی اخراجات اور ویلفیئر اخراجات کو کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی عوامی وفاداری قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں اور ملک کی پیداواری استطاعت کو بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہیں[536]۔ 

سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل ویلفیئر پالیسیوں میں ایک نظریاتی فرق ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ سوشل رائٹس کے قائل ہیں۔ یورپ کی سوشل ڈیموکریٹ تحریک نے عوام میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ان کو معاشرتی حقوق، تعلیم کا حق، رہائش کا حق، صحت یابی کا حق، روزگار کا حق، معیار زندگی مستقل بتدریج بڑھتے رہنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ لبرل آئیڈیالوجسٹ ان سوشل حقوق کے کسی جواز کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست کا فرض صرف قانون سرمایہ کی حاکمیت کے ذریعے ہیومن رائٹس کی فراہمی ہے اور ان ہیومن رائٹس کی فراہمی کے ذریعے عوام کی سرمایہ دارانہ وابستگیاں قائم رکھی جا سکتی ہیں۔ میری رائے میں یہ بات درست نہیں اور سرمایہ دارانہ عوام اپنے سوشل رائٹس کے تحفظ اور فروغ کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے۔۲۰۱۳ء کے وسط میں سویڈن میں بڑے پیمانے پر شہری بلوے ہوئے۔ سویڈن میں جہاں جنگ عظیم کے بعد سے اب تک سوشل ڈیموکریٹ برسراقتدار رہے ہیں، موجودہ حکومت جب ویلفیئر کی فراہمی میں تخفیف کی کوشش کی تو کئی ہفتوں تک عوامی مزاحمت جاری رہی۔سوشل ڈیموکریٹ تحریک کی سیاسی قوت طبقاتی شناخت کے زوال سے یقیناً متاثر ہوتی ہے۔ اس تحریک کے عروج کے ادوار میں مغربی معاشرہ طبقاتی تقسیم کے مظہر تھے اور ایک عام مزدور اپنے آپ کو ایک منفرد طبقہ کا رکن تصور کرتا تھا جس کے معاشرتی اور معاشی ارتقا کے مواقع محدود تھے اور جس کا طرز معاشرت بورژوا طبقہ سے جداگانہ تھا۔ آج یہ طبقاتی تشخص کو معدوم کر رہی ہے۔ سرمایہ کاروں نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ کی تکنیک استعمال کر کے معاشی عمل کو اس طرح منظم کیا ہے کہ عام کارکن طبقاتی شعور کو ترک کر دے اور مینیجر اور مزدور کا فرق ختم ہو جائے[537]۔طبقاتی حساسیت کا یوں غیر اہم ہو جانا اشتراکی سرمایہ دارانہ تحاریک کو بھی کمزور کر رہا ہے اور سرمایہ دارانہ سوشل ڈیموکریٹ تحاریک کو بھی۔

دورحاضر میں سوشل ڈیموکریٹ تحریکیں اسلامی دنیا میں عوامی پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ ہر بڑی اسلامی تحریک (اخوان المسلمین، جماعت اسلامی، ملی سلامت پارٹی) کے منشور اور معاشرتی پالیسی ایجنڈے میں سوشل ڈیموکریٹ نعرے، مطالبات اور تناظرات شامل ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کا اسلامی جواز پیش کیا جا رہا ہے اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کو اسلامی ویلفیئر اسٹیٹ کا روپ دیا جا رہا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اسلام کاری کی سب سے مہلک اور تباہ کن صورت ہے اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کو اپنا کر تحریکات اسلامی نے اپنے وجود کو خطرہ میں ڈال لیا ہے۔

20۔ جان رالز

20.1۔ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور اقدار

ہر نظام زندگی کا اپنا ایک مخصوص تصورِ ذات اور اپنا ایک مخصوص تصورِ عدل ہوتا ہے۔ اسی تصورِ ذات اور تصورِعدل سے وہ اپنا مطلوب (آئیڈیل) تصورِ معاشرت اور ریاست اخذ کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی ترویج اور تدوین کا مقصد سرمایہ دارانہ فرد کے لیے سرمایہ دارانہ عدل فراہم کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام اور استحکام کے لیے ایک مخصوص قسم کی معاشرت(civil society) اور ایک مخصوص قسم کی ریاست (representative republic)کا قیام لازمی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’کافر حکومت تو قائم رہ سکتی ہے، غیرعادل حکومت قائم نہیں رہ سکتی‘‘۔ اصل عدل تو نفاذِ شریعت ہے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک کافر حکومت نفاذِ شریعت کا فعل تو انجام نہیں دے سکتی۔ مولاعلی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک ایسی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے جو شریعت کو نافذ نہ کرے لیکن ایسی حکومت قائم نہیں رہ سکتی جو خود اپنے تصورِ عدل کے قیام اور تنفیذ کے لیے مستقل کوشاں نہ رہے[538]۔

سرمایہ دارانہ تصوراتِ انفرادیت اور عدل کی تین مختلف تشریحات لبرل ازم، سوشل ازم اور قوم پرستی نے وضع کی ہیں[539]۔بیسویں صدی میں لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تصورات کو فاشسٹ اور اشتراکی نظریات سے شدید خطرات کا سامنا ہوا اور روس اور جرمنی دستوری ری پبلک(constitutional republic) کو منہدم کر کے عوامی ری پبلک(people republic) فاشسٹ اور اشتراکی سرمایہ داروں نے قائم کر لیں۔ ۱۹۶۸ء کے بعد سے مغربی یورپ اور امریکا میں ایسی تحریکیں چلیں جنہوں نے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ نظم اقتدار کو متزلزل کر دیا اور لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تصورِ عدل لغو اور ظالمانہ گردانا جانے لگا۔ امریکا میں بالخصوص ویت نام جنگ میں مستقل پسپائی اور بڑھتی ہوئی لام بندی اور عسکری مہمات کے ردِعمل کے طور پر لبرل سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف عوامی بغاوتیں فروغ پانے لگیں۔ امریکی حکومت نے اس خطرہ سے نبٹنے کے لیے امریکی فوج کے ذریعے بڑے پیمانے پر امریکی یونی ورسٹیوں (ہارورڈ، جان ہوپکن، جارج واشنگٹن، کولمیبا اور پرنسٹن)کو خطیر رقوم دیں تاکہ سیاسی نظریاتی مباحث کے احیا کے ذریعے لبرل تصورِ عدل کی حقانیت ثابت کی جا سکے اور اشتراکی نظریاتی دلائل کو ردّ کیا جا سکے۔جان رالز(John Rawls) نے اپنی مشہور کتاب "A Theory of Justice" اسی فوجی مہم کے حصہ کے طور پر لکھی۔ وہ ہارورڈ میں پروفیسر اور امریکی وزارت جنگ کا وظیفہ خوار اپنی پوری زندگی میں رہا۔ اس کی آخری کتاب "The Law of Peoples" بھی فوجی وظیفہ کے ذریعے فنانس کی گئی[540]۔

20.2۔ تصورِ انفرادیت

رالز کانٹ کی تعلیمات کی تشریح کو پیش کرتا ہے۔ کانٹ کے مطابق ریزن یعنی وہ عقلیت جو نفس کے تابع ہو دو قسم کے احکامات کی تابع داری کرتی ہے۔ ایک طرف تو نفسِ امارہ کے احکامات کی تابع داری کا وسیلہ ہے اور بتاتی ہے کہ خواہشاتِ نفسانی (حصول لذات)کو کیسے پورا کیا جائے۔ دوسری طرف ریزن(reason) یہ بتاتی ہے کہ نفسِ لوامہ (discriminating self) کس اصول کے مطابق نفسِ امارہ کے احکامات کو پورا کرنے والے اعمال کی قدر متعین کرتا ہے[541]۔ اس نوعیت کی ریشنیلٹی کو کانٹ pure practical reason کہتا ہے۔ pure practical reason ایسا آفاقی اصول(catagorical imperative) وضع کرتی ہے جس کا اطلاق ہر فعل کی قدر کے تعین کےلیے بلازمان و مکاں (ہر حالت میں) ہوتا ہے یعنی نفسِ لوامہ (Categorical Imperative) کا حکم احکام خداوندی[542] کے احکام کی جگہ لے لیتا ہے۔کانٹ Categorical Imperative کے تصور کو اس طرح بیان کرتا ہے:

Act only on that maxim, whereby thou can at the same time will that it should become a universal law.

یعنی (نفسِ امارہ) کے صرف اسی حکم کی تعمیل کرو جس کو تم ایک آفاقی قانون بنانے کا جواز پیش کر سکتے ہو۔

مثلاً رالز کا نفس اس کو گاڑی چرانے کا حکم دیتا ہے تو وہ اس حکم کو آفاقی قانون بنانے پر راضی نہیں ہو سکتا کیوں کہ پھر اس کی اور سب لوگوں کی گاڑیاں چوری ہوتی رہیں گی جس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ملکیت ختم ہو جائے گی۔اس کے برعکس اگر رالز کا نفس زنا بالرضا کا حکم دے[543] تو اس کو ایک آفاقی قانون بنایا جا سکتا ہے کیوں کہ اس سے کوئی بھی سرمایہ دارانہ حق یا فرض معدوم نہیں ہوتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہر وہ فعل جو سرمایہ دارانہ نظام میں ایک آفاقی قانون کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جائز ہے۔

نفسِ امارہ کے احکام کا جواز اصول universalisibility فراہم کرتا ہے۔ رالز کی آزادانہ زناکاری کا جواز یہ ہے کہ آزادانہ زناکاری کی بنیاد پر ایک آفاقی اصولِ حاکمیت سرمایہ دارانہ نظام میں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
universalisibility کو جوازی اصول کے طور پر قبول کیے جانے کا تعین تین نتائج ہیں:

۱۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر فرد کے حقوق مساوی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ رالز کو زنا کرنے کا حق اس لیے حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک مشہور پروفیسر ہے بلکہ اس کو یہ حق سرمایہ دارانہ نظام میں ایک فرد ہونے کی وجہ سے حاصل ہے اور دوسرے تمام افراد کو بھی یہ مساوی حق حاصل ہے۔ اس کی طالبہ کو بھی، اس کی بیوی کو بھی اور صدر کلنٹن کو بھی وغیرہ۔

۲۔ آفاقی قوانین سرمایہ دارانہ نظام کے ہر باشندہ کی ایسی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھ کر تفویض کیے جاتے ہیں جو universalisable ہوں مثلاً پوپ برناڈاٹ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکا کرتا تھا۔ انبیاکرام کو گالیاں دینے سے کوئی سرمایہ دارانہ حق یا فرض معدوم نہیں ہوتا لہٰذا برناڈاٹ کو حق اظہارِ رائے کا تحفظ حاصل ہے اور جیسے جیسے عیسائیت کا نظاماتی اثر کم ہو رہا ہے ویسے ویسے یورپ، امریکا میں توہینِ الٰہی (Blasphemy Law) کے قوانین عملاً معطل ہو کر رہ گئے ہیں[544] ۔ 

۳۔ سرمایہ دارانہ قوانین کی ماخذاتی قدر صرف آزادی ہے[545]۔ 

سرمایہ دارانہ قوانین کسی اور قدر خدا ترسی ، غیرت، صلہ رحمی، اخلاص وغیرہ کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کا مقصد صرف آزادی کا فروغ یعنی سرمایہ کی بڑھوتری ہوتا ہے۔ سرمایہ کا قانون(rule of law) حرص و ہوس، شہوت و غضب اور خدا سے بغاوت کی حاکمیت ہے۔

اصولاً سرمایہ دارانہ معاشرہ کا ہر فرد مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر فرد کا ذاتی طور پر منتخب کردہ مقصدِ حیات یکساں قدر کا حامل ہے۔ ایک شخص کا مقصدِ زندگی زناکاری ہے اور کسی دوسرے کا مقصدِ حیات عبادتِ خداوندی ہے۔ نظاماتی سطح پر رالز اور کانٹ کے مطابق یہ دونوں مقاصد یکساں قدر کے حامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست کا مقصد ہر فرد کو اپنے ذاتی طور(autonomously determined) پر متعین مقصد کو حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے اس طرح سے کہ کسی دوسرے فرد کا ذاتی طور پر منتخب کردہ (autonomously etermined)مقصدِ حیات حاصل کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔ سرمایہ دارانہ ریاست زانی کو زناکاری اور عابد کو عبادت گزاری کے فروغ کے لیے ایسے ضابطے متعین دیتی ہے جن کی تنفیذ کے نتیجے میں عبادت گزاری کا فروغ زناکاری کی راہ میں اور زناکاری کا فروغ عبادت گزاری کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بننے پائے۔ pure practical reason کی بنیاد پر تعمیرکردہ نظم معاشرت اور ریاست کا کوئی اخلاقی خاصہ (ethical essence)نہیں ہوتا۔ وہ کسی اخلاقی قدر کو کسی دوسری اخلاقی قدر پر فوقیت نہیں دیتا۔ وہ ان سب اقدار کو جمع (concatenate)کرنے کا وسیلہ ہوتا ہے اور یہ concatenation اس اصول پر مرتب کرتا ہے کہ تمام اخلاقی پیمانے یکساں قدر کے حامل ہیں۔ اور کسی اصول اخلاقیات کو کسی دوسرے اخلاقی اصول کی بنیاد پر عمل پیرا ہونے میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔ یہی سیکولرازم (دہریت) ہے کیوں کہ اسی نظام میں ہر شخص کو خود اپنا خدا تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہر فرد خود اپنے لیے معیار شر اور خیر مقرر کرتا ہے اور کسی خدا کو دوسرے خدا کے autonomously منتخب معیارات خیروشر کو مسترد کرنے کا حق نہیں۔ ہر انفرادی خدا قائم بالذات ہے، احد اور الصمد ہے۔ کانٹ کہتا ہے:

Man exists as an end-in-himself not mearly as a means to be arbitrarily used by this or that will.

یعنی ہر فرد کے وجود کا اظہار اور بقا خود مقصد اعلیٰ ہے۔ فرد کسی دوسری ذات (یعنی اللہ تعالیٰ) کے متعین کردہ مقاصد کے حصول کا محض ایک ذریعہ نہیں۔

قدر کے تعین کا مکلف صرف فرد کا انفرادی ارادہ ہے۔ وہ اپنے ضوابط اور قوانین خود متعین کرتا ہے اور کسی دوسرے ارادہ (devine or Sovereign will) [546]کو اپنے وضع کردہ قوانین اور ضوابط پر مسلط کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ ہر فرد کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اوپر ایسی پابندیاں عائد کرے جو ان خواہشات کے حصول کو ہر دوسرے شخص کے حصولِ خواہشات نفسانی کے عمل میں مزاحم نہ ہو ں۔ یہی اخلاقی عمل ہے اور سیکولر نظام اخلاقیات اسی اصول کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔لیکن نفسِ امارہ کے احکامات (حصولِ لذات) اور نفسِ لوامہ کے احکامات (universalisation) کی تطبیق خود بخود پیدا نہیں ہو جاتی[547]۔ اس کے لیے ایک عمرانی معاہدہ (social contract)کے وجود میں آنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس عمرانی معاہدہ پر وہ ’’اصولِ عدالت“(principle of Justice) مرتب کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کی تعمیل میں تطبیق پیدا کی جا سکے۔

20.3۔ ازلی مقام

رالز نے ان اصولِ عدالت کے انتخاب کے لیے جو تصوراتی خاکہ دیا اس کو ازلی مقام(original position) کہا ہے۔ وہ تصور کرتا ہے کہ اس مقام پر ایسے افراد جمع ہو جاتے ہیں جو خودغرض ہیں لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ جب ان کے منتخب کردہ اصولِ عدل کے ماتحت نظام قائم ہو گا تو وہ خود انفرادی طور پر اس نظام میں کتنے وسائل کے حامل ہوں گے لہٰذا اصولِ عدل کی تدوین کا اصل مقصد نظاماتی وسائل کی ایسی تقسیم کو ممکن بنانا ہے جس کی بنیاد پر نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کے عمل میں تطبیق پیدا کی جا سکے۔ ازلی مقام میں اصولِ عدل منتخب کرنے والے اپنی انفرادی صلاحیتوں، میلانات اور مقاصدِ حیات سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ اصولِ عدل ایک پردہ جہالت (veil of ignorance)کے پیچھے بیٹھے ہوئے منتخب کرتے ہیں۔ وہ اصولِ عدل اپنے مخصوص میلانات اور خواہشات کی بنیاد پر منتخب نہیں کرتے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں شامل اور اس کی معقولیت کے قائل ہرفرد کے عمومی مطمح نگاہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر کرتے ہیں۔ چوں کہ ازلی مقام میں شامل افراد یہ نہیں جانتے کہ جب سرمایہ دارانہ نظام میں ان کے منتخب کردہ اصولِ عدل نافذ ہوں گے تو ان کی انفرادی اغراض، میلانات اور وسائل تک رسائی کیا ہو گی لہٰذا ان کی خودغرضی یعنی ریشنیلٹی کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے اصولِ عدل منتخب کریں جو ہر سرمایہ دارانہ فرد کے اغراض اور میلانات کو فروغ دینے والے ہوں[548]۔ یہی وجہ ہے کہ ازلی مقام میں پردہ جہالت(vail of ignorance) کے پیچھے سے منتخب کردہ اصولِ عدل تمام انفرادی نفوسِ امارہ کے احکامات کی تکمیل کو وضع کرنے کے لیے ایک ایسا نظام قوانین و ضوابط مرتب کر سکتے ہیں جو ان احکامات کی تعمیل میں مزاحم نہ ہو۔ازلی مقام میں پردہ جہالت کے پیچھے سے جو اصولِ عدل منتخب کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں:

۱۔ ایسی قانون سازی اور ضوابط سازی کی جائے گی جو ہر فرد کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ آزادی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کو Principle of Maximisation of Liberty کہا گیا ہے۔

۲۔ وسائل کی تقسیم اس طرح کی جا ئے گی کہ معاشرہ کے سب سے محروم گروہوں(disadvantaged groups) کے وسائل میں اضافہ ہوتا رہے۔ تقسیمِ وسائل میں نامساویت اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب:

اسی اصول کو رالز کا Difference Principle کہتے ہیں۔ اس difference principle کو محروم گروہ میں شامل افراد برضا و رغبت قبول کریں گے کیوں کہ وہ ریشنل یعنی خودغرض ہیں اور جانتے ہیں کہ نامساوی تقسیم وسائل سے سرمایہ کہ بڑھوتری میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس اضافہ سے وہ مستفید ہو رہے ہیں۔ اس اصول کو قبول کرنے سے معاشرے میں ان کی خودارادیت متاثر نہیں ہو رہی اور ان کی اصولی مساویانہ حیثیت بحیثیت خودکار قانون ساز محفوظ ہے۔ 

رالز اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکام کی اطاعت میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے انفرادی آزادی اور معاشرتی مساوات دونوں کو محدود کرنا پڑے گا[549]۔ لیکن یہ تحدید آزادی و مساوات کسی بیرونی قانون (خدا یا بادشاہ کے حکم) کی بنیاد پر لاگو نہ ہو گا بلکہ خود مختار(autonomous)، احد اور الصمد افراد ایک دوسرے سے باہمی تعاون کو جاری رکھنے کے لیے اپنے اوپر خود نافذ کریں گے۔

ظاہر ہے کہ ازلی مقام کوئی تاریخی واقعہ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ چند خودغرض اور ریشنل افراد کسی جہالت کے پردہ کے پیچھے بیٹھ گئے ہوں اور باہمی مشاورت سے رالز کے تجویز کردہ اصولِ عدل مرتب کرلیے گئے ہوں۔ درحقیقت ازلی مقام وہ ذہنی کیفیت ہے جو رالز کے مطابق اصولِ عدل مرتب کرتے ہوئے مرتبین کو اپنے اوپر طاری کر لینی چاہیے۔ ازلی مقام ان متفقہ مفروضات کی آئینہ دار ہے جو مختلف صلاحیتیں اور میلانات رکھنے والے سرمایہ دار[550] رکھتے ہیں۔ غیرسرمایہ دار (وہ جنہوں نے اپنے نفس کوشیاطین حرص و ہوس کے سپرد نہیں کیا مثلاً عیسائی، یہودی، مسلمان) ظاہر ہے ان مشترکہ مفروضات پر ایمان نہیں لائے لہٰذا ان کے لیے رالز کے وضع کردہ اصول عدل لغو ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رالز سرمایہ دارانہ تصورِعدل کی تشریح پیش کرتا ہے [551]۔ سرمایہ داروں کامشترکہ عقیدہ (مفروضہ) یہ ہے کہ آزادی میں لامتناہی اضافہ زندگی کا واحد مقصد ہے۔ اسی چیز کو ریشنیلٹی کہتے ہیں۔ یہ سب سرمایہ داروں (خواہ مزدور، خواہ مینیجر، خواہ ریاستی اہل کار) کا مشترکہ ontological presupposition ہے۔ یعنی ہیومن بینگ وہی ہے جس کو لامتناہی آزادی کی مستقل طلب اس کی جبلت کا اظہار ہو۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی اس فطری جبلت کے اظہار کےلیے ایسے معاشرتی تعلقات استوار کرے جو اس کی انفرادی کاوش حصولِ لذات میں معاون ہوں۔ رالز کے ہاں نفسِ لوامہ کے تقاضے پورے کرنا محض نفسِ امارہ کے احکامات کی تعمیل کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے۔

رالز کے مطابق سرمایہ دارانہ عدل کا بنیادی مقصد انفرادی حقوق کی فراہمی ہے۔ بنیادی ہیومن رائٹ یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنی آزادی یعنی خواہشاتِ نفسانی کی آسودگی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ حق کسی قانون سازی کے ذریعے نہیں بلکہ فطری طور پر ہیومن بینگ کو شیطان نے عطا کیا ہے۔ یہ شیطانی ودیعت کردہ حق وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر تمام قانون سازی اور تمام سرمایہ دارانہ اداروں ( کارپوریشن، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ، فوج، میڈیا وغیرہ)کی حقانیت پرکھی جاتی ہے۔ یعنی ہر سرمایہ دارانہ ادارہ کے وجود کا حتمی جواز یہ ہے کہ وہ ہیومن بینگ کو اس کے نفسِ امارہ کے احکامات بجا لانے میں کتنی معاونت فراہم کرتا ہے یعنی مساوی آزادی کی فراہمی میں۔ یاد رہے کہ مساوی آزادی کی فراہمی سے مراد یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ادارہ ہر شخص کو اپنی انفرادی آزادی کو فروغ دینے کے مواقع اس طرح فراہم کرے کہ حصولِ انفرادی آزادی کی یہ جدوجہد کسی دوسرے فرد کی حصولِ آزادی (لذات) کی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

رالز کی فکر (جوکہ سوشل ڈیموکریسی کی فکر کی ایک مقبولِ عام تشریح ہے) میں مساوات کی دو حیثیتیں تسلیم کی گئی ہیں۔ ایک چیز تقسیمی مساوات (distributive equality) ہے۔ رالز کے مطابق تقسیمی مساوات سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے لیے ضروری نہیں۔ اگر تقسیمی مساوات کو کم کرنے کے نتیجے میں سب سے مظلوم طبقہ کے حصولِ لذات میں (معاشی ترقی کے ذریعے) اضافہ ممکن ہو تو سرمایہ دارانہ عدل کا تقاضاہے کہ تقسیمی نامساویت کو فروغ دیا جائے۔ رالز سے پہلے ایک اور معروف سوشل ڈیموکریٹ Anthony Grosland نے بھی یہ بات واضح کی تھی [552]۔مساوات کی دوسری نوعیت حقوقی مساوات ہے۔ رالز اور تمام لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کی متفقہ رائے کے مطابق اس حقوقی مساوات کی فراہمی سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے لازمی ہے۔

سرمایہ دارانہ ری پبلک کے ہر سٹیزن خواہ مرد یا عورت یاہجڑامسلمان یا کافر، کالا، گورا، پڑھا لکھا، ان پڑھ، امیرو غریب سب کا یہ مساوی سرمایہ دارانہ حق ہے کہ وہ اپنے نفسِ امارہ کے احکامات کی اطاعت جس طرح چاہے کرے۔ وہ اٹانومس، احد، الصمد، خودتشکیلی ہے کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کی نفسِ امارہ کی تابع داری میں مخل ہو۔ سوائے اس کے کہ اس دخل اندازی کا مقصد فرد کو نفس کی ایسی تابع داری سے باز رکھنا ہو جو دوسروں کی آزادانہ لذات کے حصول میں رکاوٹ ڈال رہی ہو۔ رالز کا پہلا اصولِ عدل انفرادی آزادی یعنی لذات کے فروغ کی فرضیت بیان کرتا ہے[553]۔ ہر سرمایہ دار خواہ مزدور، خواہ مینجر خواہ کوئی اور[554] لازماً کسی نہ کسی سرمایہ دارانہ ری پبلک کا سٹیزن ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا وجود سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے [555]۔

بنیادی سرمایہ دارانہ حقوق ہیومن رائٹس ہیں۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا ہر سٹیزن ایک ہیومن بینگ ہوتا ہے لہٰذا ہیومن رائٹس ہر سٹیزن کو لازماً مساوی طور پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ بات سرمایہ دارانہ ری پبلک کے دستور کے مقدمہ (premable to the constitution) میں تحریر ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ ری پبلک اصولاً ہر سٹیزن کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ ریاستی عمل کی تصدیق یا تنقید کرے گو کہ ریاستی اقدام کی تنفیذ میں ایک عام سٹیزن کا حصہ محدود ہوتا جا رہا ہے، اور میڈیا کی بڑھتی ہوئی کارفرمائی کے نتیجے میں ایک عام سٹیزن کی ریاستی تنفیذ کی صلاحیت بھی مستقل مجروح ہوتی جا رہی ہے۔

رالز یہ بات واضح کرتا ہے کہ دہریہ لبرل ری پبلک اخلاق اور اقدار کے بارے میں غیر جانب دار (neutral) نہیں ہوتی۔ رالز جس بنیادی اخلاقی اصول کی وکالت کرتا ہے وہ حسب ذیل ہے:

سٹیزن کا فرض ہے کہ وہ ایسے قوانین کی پابندی کرے جو سرمایہ دارانہ منصفانہ اقدامات کو فروغ دینے کے لیے موجودہ سرمایہ دارانہ منصف اداروں نے وضع کیے ہیں بشرطیکہ یہ ادارے ایک ایسے معاہدہ کے تحت وجود میں آئے ہوں جو خودغرض ریشنل افراد نے برضا و رغبت خود تشکیل دیے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قوانین و ضوابط سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کے لیے موزوں نہ ہوں[556] لیکن سٹیزن کو ان غیرعادلانہ قوانین کی پابندی کرنی چاہیے کیوں کہ ان کو سرمایہ دارانہ عادل اور معتبر(legitimate) اداروں نے تشکیل دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لبرل نظام اقتدار کے خلاف کسی قسم کی جدوجہد(نہ عسکری نہ احتجاجی نہ جمہوری) جائز نہیں۔ احتجاجی، جمہوری اور عسکری جدوجہد صرف لبرل حقوق کی فراہمی اور تحفظ کے لیے جائز ہے یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے قیام اور استحکام کےلیے سرمایہ دارانہ لبرل اور سوشلسٹ ڈیموکریٹ تاریخ کی اعلیٰ ترین اجتماعی ادارتی صف بندیاں ہیں۔ سرمایہ دارانہ لبرل ریاستی نظام کا باغی اپنی ہیومنٹی کے خلاف بغاوت کر رہا ہے اور قتل کا مستحق ہے۔ہر فرد رالز کے مطابق فطرتاً لبرل یا سوشل ڈیموکریٹ ہے۔ وہ جب بھی نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کی تطبیق کی جستجو کرتا ہے ازلی مقام میں چلا جاتا ہے اور اس فعل سے اپنی بنیادی فطری ہیومینٹی (شیطنت) کا اظہار کرتا ہے۔

تمام لبرل مفکرین ہابز، روسو، لاک، کانٹ اور رالز اقداری غیر وابستگی کو لبرل اخلاقی تصورات کے ہم معنی گردانتے ہیں۔ انسان فطرتاً ہیومن بینگ یعنی ایک شیطان ہے۔ وہ فطرتاً خودغرض یعنی ریشنل، لالچی، حاسد اور سفاک ہے۔ انہی اوصافِ خبیثہ کا اظہار خودتخلیقیت (self creation)سے ہوتا ہے اور خود ارادیت (self determination)یعنی اٹانومی کی جستجو اخلاقی عمل ہے۔ وہ ہیومن بینگ کی انفرادی خباثتوں کو اس طرح منظم کرے گی کہ کسی کی نفس پرستی کی جدوجہد دوسرے کی نفس پرستی کی تگ و دو میں حائل نہ ہو۔ یہی سرمایہ دارانہ عدل ہے اور اسی فاسد عدل کے قیام کے لیے دستوری سرمایہ دارانہ ری پبلک قائم کی جاتی ہے۔ دستوری سرمایہ دارانہ ری پبلک اقدار کے معاملے میں غیر جانب دار نہیں۔ وہ ابلیسی اخلاقیات کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

20.4۔ سرمایہ دارانہ معاشرت

تمام لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین بشمول رالز کا یہ مفروضہ ہے کہ معاشرہ فطری طور پر خودغرض (ریشنل) افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ نفسِ امارہ کے احکامات کی تابع داری فطری ہے۔ خدا کے حکم کی تابع داری یا اپنے بھائی کی محبت کی بنیاد پر عمل کرنا غیر فطری عمل ہے۔ لاک کہتا ہے ’’آزاد وہ ہے جو کسی دوسرے ( یعنی خدا )کی مرضی کو ملحوظ خاطر رکھ کر عمل نہیں کرتا۔ وہ خود مختار ہوتا ہے جو کسی پر (یعنی خد)ا پر انحصار نہیں کرتا۔‘‘ کسی دوسرے سے اشتراکِ عمل کی بنیاد ہیومن بینگ کی خودغرضی ہے۔ اسلامی معاشرہ اور اسلامی ریاست ان معنوں میں غیرفطری ہیں کہ وہ خدا کی رضا کے حصول کے لیے اخلاق سازی اور ادارتی صف بندی روبہ عمل لاتی ہیں اور اسلامی ریاست اور معاشرہ کے خلاف ہر قسم کی بغاوت جائز ہے کیوں کہ ان کے انہدام کے بغیر ایک لبرل سوشل ڈیموکریٹ معاشرتی اور ریاستی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے برعکس لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معاشرتی اور ریاستی صف بندی کے خلاف اسلامی جدوجہد (خواہ عسکری، خواہ اجتماعی خواہ جمہوری) بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ دورحاضر میں لوگ خود بخود سے لالچی، حاسد، خودغرض یعنی ریشنل اور سفاک نہیں بنتے۔ ان کو سرمایہ دارانہ میڈیا، سرمایہ دارانہ نوکرشاہی، سرمایہ دارانہ نظام تعلیم و صحت، سرمایہ دارانہ مقننہ خودغرض، حاسد اور حریص بناتی رہتی ہے۔ اس شیطانی ضمیرسازی جس کا مقصد اسلامی اخلاقیات کو معاشرہ کے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہے، کے خلاف جدوجہد بھی ناجائز ہے۔ اس بات کے باوجود کہ آج کے سرمایہ دارانہ معاشرہ میں رائے سازی ایک صنعت بن گئی ہے لیکن اس سے فرد کی انفرادی آزادی سلب نہیں ہوتی۔ صرف اس کی آزادی کے اخلاق اور ایمانیاتِ رذیلہ کے خلاف بغاوت کرنے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ رائے سازی کا مقصد انفرادی آزادی کو فروغ دیتے رہنا ہے اور وہ آزاد ہونے کے نئے نئے طریقے وضع کرتی ہے لہٰذا شیطانی فطرت کے تقاضے پورے کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

ہر سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی ادارہ اور وہ اصولِ عدل جن کی بنیاد پر وہ تعمیر کیے گئے ہیں انفرادی خودغرضی اور بہیمیت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ میں ہر فرد دوسرے فرد کو اپنے خودغرضانہ مفاسد کے حصول کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ عیسائی اور اسلامی تحاریک نے مذہبی تعلیمات، روایات اور اداروں کو ہیومن اور سوشل رائٹس کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ جماعتیں لبرل معاشرت اور دستوری ریاستی صف بندی میں ضم ہو گئی ہیں اور اس انضمام کا جواز عیسائی اور اسلامی اقدار اور روایات کی بنیاد پر پیش کرتی ہیں۔ سوائے طالبان کے میں کسی ایسی اسلامی سیاسی جماعت سے واقف نہیں جس کا منشور اور پالیسی ایجنڈا لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں سے مغلظ نہ ہو۔

کچھ مبصرین کی رائے میں عیسائیت کی طرح لبرل ازم بھی انسان کی الوہیت کا قائل ہے[557]۔ لبرل ازم اور عیسائیت انسان میں خدائی اور شیطانی صفات کی آمیزش کے قائل ہیں[558] لیکن عیسائیت مفروضہ فطری شیطنت کو عبادت اور ریاضت کے ذریعے ختم کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کے برعکس لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی مفروضہ انسانی فطری شیطنت پر نازاں ہیں اور شیطنت کو فروغ دینے کے لیے ہی معاشرت اور ریاست کی تشکیل اور ترتیب عمل میں لاتی ہیں۔ عیسائیت حرص و حسد، شہوت و غضب کو کچلنے کی سعی کرتی ہے تو لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی حرص و حسد، شہوت و غضب کو معاشرے میں پنپنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی عیسائیت کی ضد ہے۔

لبرل ازم اور سوشل ڈیموکریسی ہر فرد کو حرص وحسد سے مغلوب بھی کرنا چاہتی ہے اور ہر فرد کے اندر اس بات کا شعور بھی پیدا کرنا چاہتی ہے کہ یہ ضروری ہے کہ پورے معاشرے میں یہی صفات غالب ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کی جدوجہد ایسی عمومی معاشرتی جدوجہد سے مربوط کی جائے اور ایسی معاشرتی اور ریاستی پالیسیاں وضع کی جائیں جو فرد کو اس کا احساس دلائیں کہ اس کی ذاتی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے تمام افراد کو موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کے فروغ کے لیے جدوجہد کر سکیں۔ انسان نہ فطرتاً فروغِ لذات کو زندگی کے مقصد کے طور پر قبول کرتا ہے[559] اور نہ انفرادی اور اجتماعی لذات کے فروغ کی جدوجہد کا لازم و ملزوم ہونے کا فطرتاً یا عقلاً قائل ہوتا ہے۔ لبرل معاشرہ میں نظام تعلیم، میڈیا، بیوروکریٹک ضوابط اور اشتہار وغیرہ کے ذریعے فرد کی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ:

۱۔ اپنے آپ کو حرص و حسد کے شیطانوں کے سپرد کردینا عقل کا تقاضا سمجھے۔

۲۔ اور انفرادی اور اجتماعی حصولِ لذات کی تطبیق کی ضرورت کا بھی قائل ہو جائے۔

جو افراد ان دونوں صفات کے حامل ہو جاتے ہیں[560] وہی جمہوری ریاست کی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور جمہوری عمل بالخصوص انتخابی عمل کے ذریعے وقتاً فوقتاً اس بات کی تصدیق کرتے رہتے ہیں کہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ اشرافیہ کی جو پالیسیاں وضع کر رہی ہے، وہ ہر فرد کی جدوجہدِ حصولِ لذات کو فروغ دینے کے لیے موزوں ہیں اور ان پالیسیوں کے ذریعے عمومی معاشرتی جدوجہدِ حصولِ لذات بھی کماحقہ فروغ پا رہی ہے[561]۔
عمومی معاشرتی لذات کو فروغ دینے کے رویہ کو رالز Point of view of the whole (اجتماعی نقطہ نظر) کہتا ہے اور مصر ہے کہ تمام تر سرمایہ دارانہ تعلیم و تربیت کے باوجود سب لوگ یہ اجتماعی نقطہ نظر اختیار نہیں کرتے۔ وہ ذاتی یا اجتماعی لذات کے حصول کو عمل کے جواز کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ ان کا عمل اجتماعی نقطہ نظر پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ان کے عمل کی بنیاد حصول رضائے الٰہی[562] کی کاوش ہوتی ہے۔ ایسے افراد سرمایہ دارانہ معاشرہ میں مساوی قدر (equal moral worth)کے حامل نہیں ہوسکتے جب تک وہ دہریہ نہ بن جائیں اورحصولِ رضائے الٰہی کی جگہ اجتماعی نقطہ نظر کو اپنے معاشرتی عمل کی بنیاد کے جواز کے طور پر قبول نہ کر لیں[563]۔

20.5۔ حق اور خیر

رالز کا دعویٰ ہے کہ اس کے وضع کردہ اصولِ عدل مغرب میں رائج شدہ اخلاقی معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔ اسی ہم آہنگی کو رالز ان اصولوں کی حقانیت کی ایک اہم دلیل سمجھتا ہے۔ وہ ان اصولوں کو مغربی غالب اور رائج شدہ رجحانات اور معیارات کی عکاسی سمجھتا ہے اور وہ روحانی بے چارگی اور اخلاقی پستی جس میں آج مغربی تہذیب[564] گر گئی ہے اسی کو اخلاقی ارتقا کے معراج کے طور پر پیش کرتا ہے۔ رالز کے ہاں اخلاقی ارتقا کا واحد مطلب یہ ہے کہ زندگی کے مادی وسائل (آمدنی، دولت، تحکم اور اقتدار) سرمایہ دارانہ عدل کے اصولوں کے مطابق معاشرے میں تقسیم کیے جائیں۔ اخلاقی ترقی کا اس کے علاوہ اور کوئی اظہار ممکن نہیں۔ اس سرمایہ دارانہ عادلانہ تقسیم کی ترتیب ان معاشرتی علوم کی فراہم کردہ تعلیمات کے مطابق ہو گی جو مغرب میں رائج ہیں۔ علم وہی جہالت ہے جو تحریک تنویر کے ورثہ کے طور پر مغرب نے حاصل کی ہے۔

اصل قدر (objective value) صرف آمدنی، دولت، تحکم اور اقتدار ہی ہیں۔ ان میں اضافہ اصل قدر میں اضافہ کا ہم معنی ہے۔ آمدنی، دولت، قوت کس لیے استعمال کی جائیں یہ بالکل غیراہم ہے۔ زندگی کے معنی اسی جدوجہد میں مضمر ہیں جو آمدنی، دولت اور قوت میں اضافہ کے لیے مستقل جاری ہے اور یہ جدوجہد اور اس کے نتیجے میں حاصل شدہ آمدنی، دولت اورقوت ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ خیرمطلق حصولِ دولت، آمدنی، قوت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ رالز اس مفروضہ کی صداقت کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرتا کیوں کہ اس مفروضہ کے لیے کوئی دلیل فراہم کرنے کا مطلب ہے کہ سوشل سائنسز ہیومن فطرت اور برتاؤ(human nature and behaviour) کے بارے میں جو تصورات پیش کرتے ہیں وہ درست نہیں۔ رالز کے لیے یہ سب اخلاقی حقائق(moral data) ہیں۔ یہ مفروضہ اخلاقی حقائق تین اجزا پر مشتمل ہے:

۱۔ ہیومن بینگ فطرتاً حاسد، حریص اور خود تخلیقیت اور خودارادیت(autonomy) کا خواہاں ہے۔

۲۔ اصل قدر صرف آمدنی، دولت، اقتدار اور تحکم میں پائی جاتی ہے اور انہی اشیا میں مستقل اضافہ کرتے رہنا زندگی کا اصل مقصد ہے۔

۳۔ سوشل سائنسز ہیومن وجود اور برتاؤ کے بارے میں صحیح علمیت فراہم کرتے ہیں۔

اس مفروضہ (moral data) کی بنیاد پر رالز نے اپنے اصولِ عدالت وضع کیے ہیں۔ یہی اخلاقی حقائق رالز کے وضع کردہ اصولوں کا اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ 

آمدنی، دولت اور قوت میں مستقل بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہی قدر مطلق، دائمی، اخلاقی معیار اور categorical imperative ہے۔ رالز کہتا ہے کہ قیامِ عدل کا تعین محض غیرجانب دارانہ ضوابط (fair procedure) کی پابندی سے ہوتا ہے خواہ ان غیرجانب دارانہ ضوابط کا کوئی بھی نتیجہ نکلے۔ رالز اس ضمن میں جوا کھیلنے کی مثال دیتا ہے۔ جوا کھیلنے کا ہر وہ نتیجہ عادلانہ ہے جو طے شدہ اور غیر جانب دارانہ پابندیوں پر عمل کرنے سے برآمد ہو۔ اسی طرح خود غرض، ریشنل سٹیزن نے بڑھوترئ سرمایہ کے لیے جو بھی غیرجانب دارانہ ضوابط اور قوانین وضع کیے ہیں ان کی پابندی کرنا عدل کا تقاضا ہے اور عدل کے قیام کا مقصد کسی اور خیرمطلق کا حصول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریشنل سٹیزن کے نمایندوں کے وضع کردہ قوانین کو کسی دوسرے اخلاقی ضابطہ مثلاً شریعت اسلامی یا عیسائی اخلاقیات کے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ رالزا ور تمام دہریہ اپنے سے کسی بالاتر ضابطہ کے وجود کے قائل نہیں۔

ہیومن بینگ خود معیارات خیروشر متعین کرنے کا مکلف ہے۔ یہی اس کی خود ارادیت، خودتخلیقیت کا اظہار ہے۔ ہر ہیومن بینگ خواہ اغلام باز، خواہ منکر خدا، خواہ صوفی بزرگ ، خواہ عالم دین اپنی humanness میں مساوی قدر کا حامل ہے۔ کسی کے آزادانہ منتخب شدہ طرزِ حیات کو کسی دوسرے آزادانہ منتخب شدہ طرزِ حیات پر ترجیح دینے کا کوئی جواز نہیں۔ ایک اغلام باز اور ایک صوفی بزرگ یکساں احترام کے مستحق ہیں بشرطیکہ وہ اغلام بازی اور ریاضت، ریشنل عوامی نمایندہ کے غیر جانب دارارنہ ضوابط کی پابندی کے تناظر میں کرتے ہوں۔ یہ دہریت ہے اور تاریخِ انسانی میں اس سے اسفل ضلالت اور گھناؤنی روش کے اظہار اور وکالت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ یہ شرف مغرب ہی کے حصے میں آیا ہے۔

رالز کے مطابق خیرمطلق تو ریشنلی متعین ضوابط کی پابندی کے مطابق آمدنی، دولت اور قوت میں اضافہ کی جستجو ہے[565]۔ یہ جستجو معاشرے میں جاری ہے لیکن رالز اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ نجی زندگی میں تصورِ خیر بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے لیکن ان نجی تصوراتِ خیر کا اطلاق معاشرتی زندگی پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے میں رالز کے وضع کردہ اصولِ عدالت ہمیشہ نافذ رہیں گے اور عدل کا معیار یہی ہو گا کہ ریشنل سٹیزن کے منتخب کردہ غیرجانب دار ضوابط کی کتنی پابندی کی جا رہی ہے۔

رالز کہتا ہے کہ لوگ مذہبی اعتقادات ایسے اختیار کرتے ہیں جیسے وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تفریح کے لیے روم جائیں یا پیرس۔ جس طرح ازلی مقام میں جہالت کے پردے کے پیچھے بیٹھے ہوئے اصولِ عدالت طے کرتے ہیں؛اس پردہ جہالت کے پیچھے عیسایت داخل نہیں ہو سکتی۔ ازلی مقام پر کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ سب دہریہ ہوتے ہیں اور جب وہ پردہ جہالت سے نکل کر سرمایہ دارانہ معاشرے میں وارد ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ نیم ریشنل، بے وقوف عیسائیت اختیار کر لیں لیکن ان کو لازماً ایسے عیسائی اعتقادات اور اعمال کو ریشنل طور پر منتخب کردہ غیرجانب دار ضوابط کے تناظر میں پابندکرنا ہو گی۔رالز کی فکر میں مذہب کی کوئی وقت نہیں۔ ہر الہامی مذہب قیام عدل اور حصول علم کو حق کی شناخت کا وسیلہ سمجھتا ہے اور کسی بھی مذہب نے کبھی بھی بڑھوترئ سرمایہ کو خیرمطلق کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ عیسائیت اور اسلام میں تو بڑھوترئ سرمایہ کو رذائل میں شمار کیا گیا ہے۔ازلی مقام میں مذہبی تفکرات بالخصوص فکرِآخرت کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں اور سوشل سائنسز تو مذہبی حقیقت اور علمیت کی تردید اور تسخیر کے لیے وضع کی گئی ہیں۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معاشروں میں مذہب کھیل تماشے سے زیادہ کی اہمیت کا حامل کبھی بھی نہیں گردانا گیا اور لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ دہریت کے فروغ کا اہم ترین مقصد مذہبیت کا انہدام ہے۔لیکن کھیل تماشوں کو بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے اور آج تفریح فراہم کرنے کی صنعت کئی سرمایہ دارانہ ممالک میں سب سے زیادہ منافع بخش صنعتوں میں شامل ہے۔ امریکا اور ہندوستان میں مذہب کی سرمایہ کاری تیزی سے جاری ہے اور عیسائی اور ہندو مذہبی پیشوا مذہبی رسوم، تقریبات اور دعوت کو سرمایہ کے حصول کا ذریعہ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں اور ان کے مریدین مذہبی تقریبات اور رسومات میں شرکت کے ذریعے حصولِ لذت سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس قسم کی مذہبیت کو لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ معاشرے میں خوب فروغ دیا جاتاہے ۔

خیر مطلق تو بڑھوترئ سرمایہ ہی ہے لیکن دنیا میں دوسرے تصوراتِ خیر بھی موجود ہیں۔ رالز کا دعویٰ ہے کہ وہ جو اصولِ عدل پیش کر رہا ہے اس کی بنیاد پر ایسے غیرجانب دارانہ ضوابط وضع کیے جا سکتے ہیں جو ایک مختلف النوع معاشرت کی کارفرمائی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ اس مختلف النوع معاشرت میں کئی تصوراتِ خیر (مذہبی، آرٹسٹک، سائنٹفک، فلسفیانہ) پنپ سکتے ہیں۔ بقول رالز ہر تصور خیر میں یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ ریشنیلٹی کے مفروضات قبول کرے۔ یعنی ہر تصور خیر کے لیے یہ قابل قبول ہو کہ 

۱ ۔ہیومن بینگ مساوی آزادی کے حصول کا طالب ہے۔

۲۔ حصولِ مساوی آزادی کے لیے آمدنی، دولت اور قوت کی لامتناہی بڑھوتری لازم ہے۔

۳۔ سوشل سائنسز وہ علمیت فراہم کرتی ہیں جو سرمایہ کی اس لامتناہی بڑھوتری کو ممکن بنائے۔

۴۔ دستوری نمایندہ جمہوری نظام وہ غیر جانب دارانہ ضوابط وضع کرتا ہے جو ہر سٹیزن کے لیے مساوی آزادی کے حصول کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

دستوری نمایندہ جمہوری نظم ریاست ابدی اور آفاقی ہے۔ اس کا وجود اور استحکام ریشنیلٹی کا تقاضا ہے۔ ہر تصورِ خیر کو اس نظام سے ایسی مطابقت استوار کرنی چاہیے کہ ہر تصورِ خیر بڑھوترئ سرمایہ کا ذریعہ بن جائے کیوں کہ بڑھوترئ سرمایہ ہی خیر مطلق ہے اور دیگر تمام تصوراتِ خیر محض اس کے پرتو ہیں۔را لز کے وضع کردہ اصولِ عدل وہ پیمانہ ہیں جن پر ہر تصورِ خیر کی حقانیت کو جانچا جانا چاہیے۔ عیسائیت اس حد تک حق ہے جس حد تک وہ مساوی آزادی کو فروغ دینے والے غیرجانب دارانہ ضوابط کی تصدیق کرتی ہے اور سرمایہ کی بڑھوتری کا ذریعہ بنتی ہے۔

رالز کے مطابق خیرمطلق (سرمایہ کی بڑھوتری) کی فراہمی کا ناگزیر لوازمہ معاشرتی عدل کا قیام ہے اور انہی معنوں میں عدل بنیادی معاشرتی وصف ہے۔ اس وصف کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کا ادراک کیا جائے کہ ہر ہیومن بینگ خودمختار ہے اور اس خودمختاری کے تحفظ کے لیے ابلیس نے اس کو حقوق تفویض کیے ہیں[566] اس ہیومن رائٹس کی کسی بنیاد پر بھی تنسیخ گوارا نہیں[567]۔ یہی لبرل سوشل ڈیموکریٹ اور اشتراکی قوم پرست سرمایہ دارانہ نظریات میں بنیادی فرق ہے۔ اشتراکی قوم پرست نظریات بھی آزادی کی تردید نہیں کرتے لیکن گروہی عمومی مفادات کے حصول کے لیے انفرادی آزادی کو موقوف کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ نظام میں انفرادی اور اجتماعی مفادات کے حصول کی جدوجہد میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ہیومن رائٹس کو سوائے حالت جنگ کے موقوف کرنا گوارا نہیں ہوتا[568]۔

یہ ہیومن رائٹس ایک ایسے فرد کو ودیعت کیے گئے ہیں جس کی ذات اس کی صفات سے تعمیر نہیں کی جاتی لیکن اس انفرادیت کی یہ خصوصیت لازمی ہے کہ وہ خوداختیاری اور خود تخلیقی ہو۔ یہی خوداختیاریت اس کو ریشنل بناتی ہے اور اس خود اختیاریت کو ترک کرنے اور غیر کو اپنی ذات میں تصرف کرنے کی اجازت دینا اپنی ریشنیلٹی اور ہیومینٹی کو ترک کر کرنے کے مترادف ہے۔ کوئی ہیومن بینگ خدا کی بندگی نہیں اختیار کر سکتا کیوں کہ خدا کی بندگی اختیار کرنے کا لازمی مطلب خود اختیاری کو ترک کرنا ہے۔ اسی طرح کوئی ہیومن بینگ محبت کی بنیاد پر معاشرتی تعلقات قائم نہیں کر سکتا کیوں کہ محبت بھی تصرف فی الذات کا ایک طریقہ ہے اور محبت کرنے والا لازماً ریشنل نہیں رہتا۔ لہٰذا جب خود اختیاری افراد دوسرے خود اختیاری افراد سے معاشرتی تعلقات استوار کرتے ہیں تو اس کا مقصد ایک دوسرے کے ذریعے اپنے ذاتی اغراض کے حصول کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ غیرجانب دار ضوابط کی تخلیق اور پابندی اس نوعیت کے معاشرتی تعلقات کے قیام اور فروغ کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے اور اس سول سوسائٹی میں بقول رالز اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ مختلف نیم ریشنل تصوراتِ خیر کو اس طرح منطبق کرے کہ بڑھوترئ سرمایہ کی پرامن جدوجہد کو سب ریشنیلٹی کے تقاضا کے طور پر قبول کر لیں۔خود اختیاری فرد کوئی بھی تصورِ خیر اختیار کر سکتا ہے بشرطیکہ یہ تصورِخیر بڑھوترئ سرمایہ کی تنظیم سازی سے منطبق کیا جا سکے۔ ریشنیلٹی کے علاوہ کوئی بھی صفت کے اختیار کرنے یا ترک کرنے سے ذات کی انفرادیت متاثر نہیں ہوتی کیوں کہ ہیومن بینگ خود تخلیقی ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی ذات کے لیے کوئی بھی خیر منتخب کر سکتا ہے لیکن وہ یہ کبھی نہیں جان سکتا کہ اس کی اپنی اصلیت کیا ہے۔ ہیومن بینگ خودتخلیقیت کے فریب میں گرفتار ہو کر ادراکِ ذات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا ہے۔ 

تفہیم ذات کےلیے تردیدِ خودتخلیقیت لازم ہے۔ یہ ایک امرواقع ہے کہ کوئی بھی اپنی ذات تخلیق نہیں کرتا۔ خالق کائنات تو اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور خود اختیاریت کے وعدے قطعاً جھوٹے ہیں اور یہ جھوٹ ہر فرد کی موت کے وقت اظہر من الشمس ہو جاتا ہے لیکن کانٹ سے لے کر پوسٹ ماڈرن مفکرین کے ہاں موت کا کوئی ادراک موجود نہیں[569] اور اگر موت خارج از بحث ہو تو ذات کی حقیقت بیان کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ عرفانِ ذات سے محروم آزادی میں مقید سرمایہ دار فرد لازماً نفسِ امارہ کا غلام بن جاتا ہے۔ خواہشات کی تقابلی شدت کے علاوہ کسی اور پیمانے پر اپنے اغراض کا تعین نہیں کر سکتا اور رالز اور پوسٹ ماڈرن مفکرین اس پر متفق ہیں کہ حصولِ لذات اور تعمیلِ احکامِ نفسِ لوامہ کے علاوہ زندگی کا کوئی مقصد ہو ہی نہیں سکتا۔ 
اس سے واضح ہوتا ہے کہ رالز کے تصورِ سرمایہ دارانہ عدل کی بنیاد وہ مابعدالطبیعیاتی عقائد فراہم کرتے ہیں جو تنویری فکر نے فراہم کیے ہیں۔ ان عقائد سے ماورا سرمایہ دارانہ نظام اور وہاں رائج شدہ عدل کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ عقائد الہامی مذاہب کے عقائد کا ردّ ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور اسلام میں جو عالمی کش مکش جاری ہے وہ عقائد اور ایمانیات ہی کی کش مکش ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ عقائد غالب آ گئے تو اسلام ایک عالم گیر خطرہ سے دوچار ہو جائے گا۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ تنظیم معاشرت اور ریاست یعنی دستوری نمایندہ ری پبلک وہ ناگزیر وسیلے ہیں جن کے ذریعے ملحدانہ سرمایہ دارانہ عقائد کا عالم گیر غلبہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور رالز اسی کوشش کی توجیہ بیان کرتا ہے۔ رالز کا عقیدہ ہے کہ دستوری جمہوری نظام ’’تاریخ کا اختتام‘‘ہے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی ابدی ہے۔ اس نظام زندگی کی بنیاد لاالہ الا انسان کا کلمہ خبیثہ فراہم کرتا ہے اور سرمایہ داری کے نقیب (لبرل، سوشلسٹ، سوشل ڈیموکریٹ، قوم پرست)سب کا دعویٰ ہے کہ فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کلمہ خبیثہ پر ایمان لایا جائے اور اپنی ذاتی یا اپنے گروہ کی الوہیت اور ربوبیت قائم کرنے کو زندگی کے واحد مقصد کے طور پر قبول کیا جائے۔ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ دستوری نمایندہ ریاست کے قیام کا مقصد ایسی انفرادیت کی تشکیل ہے جو خدا سے بغاوت کو انسانیت کی معراج تصور کرے اور تمام نجی تصوراتِ خیر کو بڑھوترئ سرمایہ کے قدرِ مطلق سے منطبق کرنا عقل کا تقاضا ہے۔ یہ فاسد عقائد مغرب نے عیسائیت کو ترک کر کے اپنائے ہیں اور ہماری انقلابی جدوجہد انہی فاسد عقائد کی تردید اور انہدام کا مقصد رکھتی ہے۔ مغرب کی اخلاقی پستی اور روحانی کم مائیگی کے سبب ہی سرمایہ دارانہ اہداف کی عام مقبولیت ہی دستوری ریاست کے ابدی ہونے کے واہمے کو فروغ دیتی ہے۔ مغرب کا انسان ہیومن بینگ بن گیا ہے۔ اس نے خودشناسی کو ناممکن سمجھ کر اپنے نفس کو حرص و حسد کے شیاطین کے سپرد کر دیا ہے۔ نفسِ امارہ کے احکامات کی تعمیل کے سوا اس کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہیں۔ یہ تنہا، پریشان خیال، روحانیت سے بے بہرہ، بے زار شخص ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جو خود اس کی نظر میں معنویت سے محروم ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد رالز کی پرائمری گڈز یعنی دولت، آمدنی اور اقتدار میں لامتناہی اضافہ ہے۔ لیکن یہ قوت، یہ دولت اور یہ آمدنی کس لیے جمع کی جا رہی ہے؟ سرمایہ کی بڑھوتری اور آزادی کے فروغ سے کیا حاصل ہو گا؟ اس کا رالز یا سرمایہ داری کے کسی اور نقیب کے پاس کوئی جواب نہیں۔
ہمیں سرمایہ داری کے خوف زدہ، پریشان خیال، تنہا فرد کو سمجھانا ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل خواہ لبرل، خواہ سوشلسٹ، خواہ سوشل ڈیموکریٹ، خواہ قوم پرست، ظلم کا دوسرا نام ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد لازماً ایک استحصالی جدوجہد ہے اور اس استحصال کا انہدام صرف مذہبی بنیاد پر ممکن ہے۔ کیوں کہ مذہب خود شناسی اور خدا شناسی کو ممکن بناتا ہے اور ایک نظام زندگی تعمیر کرتا ہے جو ان ٹھوس اور سچے مابعدالطبیعیاتی عقائد پر استوار ہے جو انبیاکرام علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت تک پہنچائے۔

21۔ یورگن ہابرماس اور پیری بورود

بیسویں صدی کی ابتدا سے سرمایہ دارانہ نظام کی علمیاتی آدرشیں مغرب میں تنقید کا شکار ہیں۔ تنویری فکر کے ان معترضین کو پوسٹ ماڈرنسٹ کہتے ہیں۔ ان مفکرین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تنویری فکر (Enlightenment Thought) آفاقی نہیں اور جن اہداف کے حصول کا لائحہ عمل مرتب کرنے کا یہ فکر دعویٰ کرتی ہے وہ اہداف یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کسی طور بھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ تنویری فکر زمانی اور مکانی طور پر محدود ہے اورجس علمیت کو اس نے فروغ دیا ہے وہ ادراکِ حقیقت کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین تنویری اقدار کو ردّ نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ حصولِ آزادی کی جستجو جاری رکھنے کا جواز علمیاتی نہیں بلکہ جمالیاتی (aesthetic) ہے۔ آزادی کی جستجو کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ایک شاہ کار فن پارہ (work of art) بنایا جا سکتا ہے اور تاریخ نے اہل مغرب کو یہ سبق دیا ہے۔ چند اہم پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کی فکر کا تجزیہ ہم کتاب کے اگلے سیکشن میں پیش کریں گے۔

تنویری علمیت کی ساکھ کو درپیش پوسٹ ماڈرنسٹ چیلنج کا مقابلہ کرنے والا سب سے اہم مفکر یورگن ہابرماس (Jürgen Habermas) ہے[570]۔ ہابرماس کا استاد ایڈارنو (Adorno) بیسویں صدی کے ابتدائی دور کے اہم ترین پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین میں سے تھا اور اس نے اپنے ادارے میں مارکس ازم کی پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح اور تنقید ۱۹۲۰ء اور ۱۹۳۰ء کی دہائیوں میں مرتب کی۔ اسی ادارے میں ہابرماس کئی سال تک ایڈارنو کے ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ ابتدائی دور میں ہابرماس کا رجحان اپنے استاد اور ساتھیوں کی طرح مارکس ازم کی طرف تھا لیکن پوسٹ ماڈرنسٹ اور مارکسسٹ اثرات ہابرماس کی فکر[571] سے بتدریج کم ہوتے گئے اور اب و ہ ایک راسخ العقیدہ سوشل ڈیموکریٹ اور تنویری فکر کا مخلص وکیل بن گیا ہے۔

21.1۔ ریشنلٹی کی آفاقیت

ہابرماس کے مطابق ریشنلٹی آفاقیت کی ترجمان زبان ہے[572]۔ جب ایک شخص دوسرے سے گفت گو کرتا ہے تو لازماً خطاب کرنے والے اور مخاطب میں اتفاقِ مطالب ہوتا ہے۔ تخاطب کی یہ آفاقیت مواصلاتی عمل (Communicative Action) میں اتفاقِ مفاہیم کا ناگزیر وسیلہ ہے۔مواصلاتی عمل آفاقی اتفاقِ مفاہیم کو ممکن بنانے کے لیے ہی رونما ہوتا ہے۔ خطاب کرنے والا مخاطب کو معقول دلائل کے ذریعے اپنے نقطہ نگاہ کو قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر مخاطب خطاب کرنے والے کی بات مان لے تو خطاب کرنے والے کے دعوائے صداقت پر فریقین میں ایک سمجھوتا (Understanding) پیدا ہو جاتا ہے جو قوت کے ذریعے قائم نہیں کیا گیا بلکہ جس کی بنیاد اشتراکِ معنویت میں مضمر ہے۔ مواصلاتی عمل کا مقصد اتفاقِ مفاہیم پیدا کرنا ہے اور ہابرماس کے مطابق غیرجبری مواصلاتی عمل (Uncoerced Communicative Action) کی بنیاد پر ہی خودمختار، ترقی یافتہ (emancipated)معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایسا معاشرہ کسی اعتقاداتی ہم آہنگی مثلاً عیسائیت یا مارکس ازم پر ایمان لانے کے نتیجے میں ظہور پذیر نہیں ہوتا۔ ایک آزادانہ، خوداختیاری ترقی یافتہ معاشرہ قائم کرنا ہے تو مواصلاتی عمل کو ہر بندش سے آزاد کرنا ناگزیر ہے۔ اس طریقہ سے وجود میں آنے والا معاشرہ خودمختار اور ترقی یافتہ اس وجہ سے ہو گا کہ غیرجبری مواصلاتی عمل(Uncoerced Communicative Action) حقیقت کی تفہیم کو مستقلاً فروغ دیتا رہے گا[573]۔ 

لیکن اس کی تفہیم کا مقصد کیا ہے؟ مغربی مفکرین عموماً (اور اس میں فرینکفرٹ ا سکول کے مفکرین ایڈارنو اور ہارک ہائیمر بھی شامل ہیں) ادراکِ حقیقت بذریعہ ریشنلٹی کا مقصد انفرادی اغراضِ نفسانی کے حصول کو بتاتے چلے آئے ہیں۔ ہابرماس اس چیز کو ’’انفرادی ریشنلٹی“ (Subjective Rationality) کہتا ہے اور اعتراض کرتا ہے کہ اس تصورِ ریشنلٹی سے یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ انفرادی ذات کی تعمیر ایک مواصلاتی عمل میں فرد اپنا ذاتی شعور دوسروں سے ارتباط اور تعلق پیدا کر کے ہی حاصل کرتا ہے اور یہ ارتباط ایک ایسے مواصلاتی نظام میں شرکت کے نتیجے میں قائم ہوتا ہے جو نظاماتی اشتراکِ مفاہیم کو بنانے کے لیے خود بخود وجود (Autonomously) میں آتا ہے۔ نظاماتی اشتراکِ مفاہیم جو غیرجبری مواصلت کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے ہابرماس کے مطابق حقیقت کے ادراک کو ممکن بناتا ہے اور نظاماتی مشترکہ مفاہیم آفاقی ہوتے ہیں۔
اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے۔ ہیبرماس جرمنی میں پیدا ہوا۔ وہ جرمن زبان کے استعمال کے ذریعے معاشرے کے دوسرے افراد سے مواصلت کے ذریعے ہی وہ زنا کے عمل کی اقداری حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ یہ مواصلاتی نظام اس کو باور کراتا ہے کہ زنا باالرضا ایک احسن عمل ہے اور عیسائیت نے زناکاری پر جو پابندیاں لگائی تھیں وہ غیرمنطقی اور غیرریشنل(Irrational) ہیں۔ زناکاری کی جو توجیہات جرمن زبان میں پیش کی گئی ہیں ان کا فارسی میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا اگر ایرانیوں اور ہیبرماس کے درمیان غیرجبری مواصلت قائم ہو جائے تو یہ ناگزیر ہے کہ رفتہ رفتہ ایرانی مسلمان پر بھی یہ آفاقی حقیقت آشکار ہو کہ زنا بالرضا ایک معروف اور مستحسن عمل ہے اور اسلام نے اس پر جو قدغن لگائی وہ غیرمنطقی اور نامعقول ہے۔ انقلاب اسلامی کے بعد سے ہیارماس گاہے گاہے ایران کے دورے کرتا رہتا ہے جہاں کئی اجتماعات میں اس کو غیرجبری مواصلت کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جہاں وہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ نظریات کی تبلیغ کرتا رہتا ہے۔ اس کو یہ امید ہے کہ وہ ایران کو اسلام ترک کرنے پر آمادہ کر لے گا۔

علمیت ایک مواصلاتی عمل ہے۔ ریشنلٹی مواصلاتی عمل سے تعمیر ہوتی ہے۔ ادراکِ ذات انفرادیت کو متعلقی انفرادیت میں سمو دیتی ہے۔ علم، شعور اور ادراکِ حقیقت ہی متعلقی انفرادیت (Inter- Subjectivity) فراہم کرتی ہے۔ انفرادی ریشنلٹی Inter-Subjectivity کا ایک حصہ ہے۔ انفرادی ریشنلٹی خواہشاتِ نفسانی کے حصول کا بہترین طریقہ بتاتی ہے۔ Inter-Subjectivity شعورِ حقیقت کا ذریعہ ہے۔ وہ انفرادی ریشنلٹی کو منور(Englihten)کرتی ہے اور فرد پر یہ واضح کرتی ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی جدوجہد کو اس حقیقت سے مربوط اور ہم آہنگ کیا جائے جو فرد پر غیرجبری مواصلت کے ذریعے عیاں ہوتی رہتی ہے۔ اسی چیز کو ہابرماس انڈرسٹینڈنگ(understanding) کہتا ہے۔

فرد انڈرسٹینڈنگ مخصوص طرزِ حیات(Life-world)میں حاصل کرتا ہے۔ یہ لائف ورلڈ[574] کچھ مفروضات (Presumpsitions) کی بنیاد پر اشیا اور اعمال کی تشریح کو ممکن بناتی ہے۔ ایک لسانی معاشرت (Linguistic Community) کی لائف ورلڈ یعنی مشترکہ مفروضات اس کو دوسری لسانی معاشرت سے جدا کرتی ہے۔ اور یہ افتراق زمانی بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پندرھویں صدی میں جرمن لائف ورلڈ میں خدا کو ایک مطلق العنان، قائم بالذات حاکم اعلیٰ تصور کیا جاتا تھا۔ اب جرمن لائف ورلڈ میں خدا کا یہ تصور ترک کر دیا گیا ہے اور ہیومن بینگ کو مطلق العنان خودتخلیقی (Autonomous) تصور کیا جاتا ہے۔ Inter-Subjective ریشنلٹی کا تقاضا ہے کہ ان مفروضات کو پرکھے کہ کیا خدا کا وہ تصور جو پندرھویں صدی کی جرمن لائف ورلڈ فرض کیے ہوئے تھی ریشنل ہے؟ یعنی کیا یہ تصور حقیقت کی تشریح کے لیے موزوں ہے جو خواہشاتِ نفسانی کے حصول کی جدوجہد کو آفاقیت (Objectification)کے حصول کی کاوش سے ہم آہنگ اور مربوط کر دے؟ Inter-Subjectivity کی تعبیر اور غیرجبری مواصلت کے ذریعے وہ اصول اور پیمانے اخذ کیے جا سکتے ہیں جن کی کارفرمائی کے ذریعے حقیقت کے ادراک کو مطابقت خواہشاتِ نفسانی کے حصول سے مربوط کی جا سکتی ہے۔ یہ اصول اور پیمانہ ان معنوں میں آفاقی اور حقیقی ہے کہ یہ لائف ورلڈ کے ہر شعبہ پر یعنی سائنس، اخلاقیات، سیاسیات پر یکساں لاگو ہوتے ہیں[575]۔

لائف ورلڈ کے ساتھ ساتھ ہابرماس کے مطابق ایک نظام زندگی بھی کارفرما ہوتا ہے۔ ہابرماس کا تصور نظام امریکی سوشیالوجسٹ Talcott Parsons کی کتاب "The Social System" سے ماخوذ ہے[576]۔ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگیInter-Subjective، انفراد یاتی مواصلات (جو پہلے کے مقابلہ میں یعنی عیسائی دور کے مقابلہ میں کم جبری (coerced) ہوتی ہے)، پیدا کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اس Inter-Subjective individuality کے عمل (Action) کے اظہار کو اس طرح منظم کرتی ہے کہ ان کے غیرمتوقع نتائج (Unintended consequences) کے اثرات کو سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی (life world) اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی مستقل تقویم اور ترقی میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ ہابرماس کے مطاق اس نظام زندگی کو کارفرما رکھنے کےلیے جو ادارتی مشینری سرمایہ داری نے تعمیر کی ہے اس کے دو اہم اجزا ہیں، ایک بیوروکریٹک ریاست اور دوسرے مارکیٹ اکانومی۔ Talcott Parsons کی طرح ہابرماس بھی سرمایہ دارانہ نظام کو معاشی اور سیاسی ذیلی نظاموں (sub systems) میں تقسیم کرتا ہے۔ معاشی ذیلی نظام میں تعلقات اور مواصلت تقسیم زر(Money) کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے اور سیاسی ریاستی نظام میں تقسیم قوت کے ذریعے ان دونوں ذیلی نظاموں میں مواصلت لسانی نہیں ہوتی لہٰذا ان ذیلی نظاموں کی کارفرمائی کی مکمل تفہیم نہ ممکن ہے نہ ضروری۔ ہابرماس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی کے اصول ان معنوں میں غیراختیاری ہیں کہ ان کو قبول کرنا ناگزیر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اسی مفروضہ ناگزیریت کا اظہار مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ فلسفی مشل فوکو (Michel Foucault)بھی کیا ہے جس کی فکر کی ایک بھرپور تنقید ہابرماس کے یہاں ملتی ہے[577]۔سرمایہ دارانہ نظام کو قبول کرنا سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کو مربوط (Integrate) کرنے کے لیے ناگزیر ہے اور سرمایہ دارانہ طرزِزندگی اختیار کرنا اس لیے ناگزیر ہے کہ یہی طرزِ زندگی زیادہ سے زیادہ غیرجبری مواصلت کے ذریعے ایسی Inter-Subjective تعمیر کرتا ہے جو حقیقت کا ادراک کر سکے[578] ۔کانٹ کے ناگزیر فرض (Categorical Imperative) کے طرز پر ہابرماس بھی دو ناگزیر احکامات وضع کرتا ہے:

۱۔ لائف ورلڈ میں غیرجبری لسانی مواصلت کے ذریعے ایسے باہمی متفقہ حقائق کی جستجو جو انفرادی تعمیلِ احکامِ نفسانی کو آفاقی حقائق سے ہم آہنگ کر دے۔ عملاً یہ آفاقی حقائق ایک لسانی معاشرے (Linguistic Community) کے ان مفروضات کے مجموعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں جس کو وہ لسانی معاشرہ ریشنل تصور کرتا ہے۔

۲۔ سسٹم میں مارکیٹ اور ریاست کی سرمایہ دارانہ تنظیم کو قبول کرنا ،کیوں کہ یہ تنظیم سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کی مستقل افزائش (Reproduction) اور فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

سسٹم اور لائف ورلڈ کو باہم مدغم نہیں کیا جا سکتا اور بقول ہابرماس مارکس ازم کی یہی بنیادی غلطی ہے کہ وہ دو ذیلی نظاموں کو مشترکہ اصولِ کارفرمائی کی بنیاد متصور کرتا ہے۔ لیکن ہابرماس کو اس بات کا احساس ہے کہ نظام اور طرززِندگی کی جداگانہ حیثیت کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا دعویٰ کہ Inter-Subjectivity کی ظہور پذیری کے ذریعے حقیقت کا ادراک ممکن ہے بڑی حد تک مجروح ہو جاتا ہے۔ Inter-Subject[579] مارکیٹ اورریاست کا خالق نہیں ہوتا بلکہ ان کے جبر کو کسی نہ کسی حد تک قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ زیادہ خطرناک بات ہابرماس کے مطابق یہ ہے کہ نظام بتدریج لائف ورلڈ کو فتح کرتا جاتا ہے اور مارکیٹ اور ریاستی سطح پر کارفرما عقلیت لائف ورلڈ کی غیرجبری مواصلت کو محدود کرتی جاتی ہے۔ لہٰذا مارکیٹ اور ریاست کے پیداکردہ جبر کو محدود کرنے کے لیے وہ سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں اختیار کی جانی چاہییں جو سرمایہ دارانہ نظام میں غیرجبری مواصلت پر پابندیوں کو کم کرتی ہیں۔ ہابرماس کے مطابق جبر کے فروغ کا سب سے اہم اظہار سرمایہ دارانہ معاشرت میں بڑھتی ہوئی نامساویت ہے۔ اس نامساویت کو محدود کرنے کے لیے ہابرماس کہتا ہے کہ ضروری ہے کہ ٹریڈیونینز کی مارکیٹ میں مسابقتی قوت (Collective Bargaining) بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور جمہوری عوامی بیداری کے ذریعے ریاست کو کینزین میکرو اکنامک پالیسیاں اختیار کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ شرح سود میں مستقل کمی اور ریاستی سرمایہ کاری میں مستقل اضافہ پر ہابرماس زور دیتا ہے۔ ہابرماس سرمایہ دارانہ لائف ورلڈ میں سرمایہ دارانہ نظام کی مداخلت کو محدود کرنے کے لیے اس بات کو بھی بہت ضروری قرار دیتا ہے کہ مواصلاتی نظام کی صنعت کاری کو ختم کیا جائے۔ ۱۹۹۰ء کے بعد سے یہ عمل نہایت تیزی سے پوری دنیا میں جاری ہے اور آئی سی ٹی (Infromation and Communication Technology) کے فروغ کے ذریعے اطلاعات کی فراہمی ایک معاشرتی عمل (life world) نہیں بلکہ ایک نظاماتی عمل بن گیا ہے۔ مواصلاتی نظام کی یہ نج کاری (Commodification and Privatization) اس کو مارکیٹ کے معاشرہ پر مسلط کردہ جبر کے اظہار کا آلہ بنا رہی ہیں اور وہ مخالفانہ آوازیں جو بڑھوترئ سرمایہ کی غیرمقبول طرائق[580] کی وکیل ہیں دب کر رہ گئی ہیں۔ ان حالات میں غیرجبری مواصلت مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن ہابرماس کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ آئی سی ٹی اور میڈیا کی نج کاری کو ختم کیا جائے تو سرمایہ دارانہ عالم گیریت کو فروغ دے کر سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کے آدرشوں کی آفاقیت کو فروغ دینا نا ممکن ہو جائے گا۔ لہٰذا آئی سی ٹی صنعت کی استعماری اور فواحش کو فروغ دینے کی گرفت کو کمزور کرنے کے لیے اسلامی حکومت ایران نے جو پابندیاں لگا رکھی ہیں ہابرماس ان کا شدید ترین مخالف ہے۔اپنے استادوں ہارک ہائیمر، ایڈارنو، ویبر اور پارسنز کے برخلاف ہابرماس سرمایہ دارانہ طرزِ معاشرت اور نظام سے مایوس نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام حیات کے فروغ کے ذریعے حقیقت کا ادراک اور تنویری اہداف یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کا فروغ ممکن ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے بنیادی تضاد کا قائل نہیں [581]۔ 

سرمایہ دارانہ معاشرت میں بڑھتی ہوئی غیرجبری مواصلت فروغ پاتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایسا Inter-Subject بھی وجود میں آتا ہے جو انفرادی ریشنلٹی کو آفاقی ادراکِ حقیقت کی جستجو سے ہم آہنگ کر سکے۔ ہابرماس پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کی طرح اس رائے کو قبول کرتا ہے کہ ریشنلٹی کوئی ماورائی قوت نہیں۔ وہ ایک لسانی، تاریخی اور ثقافتی تناظر میں وجود حاصل کرتی ہے لیکن ریشنلٹی کی یہ تناظریت (Immanence) اس کی آفاقیت کو ردّ نہیں کرتی[582]۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیرجبری مواصلت کے ذریعے ہیومن بینگ اپنے مفروضات، تفکرات اور منہاج کو مستقل تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور چوں کہ ہر زبان دوسری زبان میں ترجمہ کی جا سکتی ہے لہٰذا غیرجبری مواصلت تمام لسانی گروہوں میں جاری رہ سکتی ہے اور ایک آفاقی ریشنل اتحادِ رائے (consensus)قائم ہوتا رہتا ہے۔ حق، عدل اور قدر کے وہی آفاقی معنی ہیں جو مستقل جاری رہنے والے عالمی غیرجبری مواصلاتی عمل سے ظاہر ہوتے ہیں۔ مفروضات، اعتقادات اور منہاج مستقل معاشرتی عمل کے حاصل شدہ نتائج کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں اور ان کی صداقت کو یہی تجرباتی عمل مستقل مطمئن کرتا رہتا ہے۔ حق وہی ہے جو عمل کی افادیت (conscequences)سے ثابت ہو۔ لسانی غیرجبری مواصلت دنیا اور Inter-subject کی تعمیر کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چوں کہ غیرجبری مواصلاتی عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے لہٰذا حقیقت کا جو ادراک وہ ممکن بناتا ہے اس میں مستقل ترمیم کی گنجائش باقی رہتی ہے اور یہ ترمیم مستقلاً ہوتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجرباتی عمل تصورات منہاج اور مفروضات کے مثبت اور منفی پہلو دونوں کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین فوکو، ہائیڈیگر، دریدا، بادلیئر وغیرہ نے تنویری تصوراتِ آفاقیت، عدل، حق وغیرہ پر جو تنقید پیش کی ہے وہ ان تصورات کے منفی پہلو تک محدود ہے اور یہ ایک نامکمل تنقید ہے[583]۔ ہابرماس نے ایک ایسی مکمل تنقید مرتب کرنے کی کوشش کی ہے جو بقول اس کے ان تصورات کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھتی ہے اور اس تنقید کے نتیجے میں ہابرماس کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلیدی تنویری تصورات بنیادی طور پر معقول ہیں لیکن ان میں ترمیم کی گنجائش مستقل موجود رہتی ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹوں نے وہ نقصانات شمار کیے ہیں جو دنیا کو تحریک تنویر کی کامیابی کے نتیجے میں برداشت کرنا پڑے لیکن ہابرماس جب ان نقصانات کا ان فائدوں سے موازنہ کرتا ہے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ تحریکِ تنویر ادراکِ حق اور عدل اور قدر کی مجموعی طور پر ایک کامیاب جدوجہد ہے اور اس تحریک کو ہابرماس جاری رکھے ہوئے ہے۔

تحریک تنویر کی یہ تنقید کہ وہ ایک مخصوص مقامی تہذیبی تناظرسے اپنے تصورات اخذ کرتی ہے ،مناسب نہیں ،کیوں کہ تمام تصورات لازماً کسی مخصوص تہذیبی تناظر میں پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ ناگزیر ہے لیکن ادعائے حق (Truth claims) لازماً آفاقی بھی ہوتے ہیں[584] اور بقول ہابرماس جن آفاقی حقائق کی تحریک تنویر نے نشان دہی کی وہ اس کی عالمی کامیابی کے نتیجہ میں تصدیق حاصل کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے تمام تر اعتراضات کے باوجود پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین تنویری اقدار یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کو ردّ نہیں کرتے۔تحریک تنویر کو جاری رکھنے کا ہابرماس کی رائے میں سب سے اہم ذریعہ جمہوریت کا فروغ ہے۔ اس کے مطابق جیسے جیسے جمہوری عمل کا دائرہ کار وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے غیرجبری مواصلت معاشرہ میں عام ہوتی ہے اور مارکیٹ اور بیوروکریسی کے مسلط کردہ لائف ورلڈ پر جبر کو چیلنج کرنے کے مواقع بڑھتے جاتے ہیں۔

21.2۔ آزادی ، سرمایہ داری کے فروغ کی حکمت عملی

ہابرماس کے مطابق آزادی یعنی سرمایہ داری کے فروغ کا اصل ذریعہ بلاجبر مواصلت کا فروغ ہے۔ مواصلت پر جبر (control) مارکیٹ اور ریاست دونوں عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جبر کی توجیہ اور تنفیذ کے لیے خاص علمیاتی منہاج اٹھارھویں صدی کے بعد ایجاد کیے گئے۔ ان مناہج میں سے دو سائنس اور تفسیری علوم (hermeneutics) مارکیٹ اور ریاستی جبر کی تنفیذ کا آلہ کار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو ڈسپلن (discipline) کہا جاتا ہے۔ یہ فکر کو ایسے ضابطوں میں مقید کر دیتے ہیں جو مارکیٹ اور ریاستی احکام کی تابع داری کو ایک معقول اور فطری تقاضا کو پورا کرنے والا عمل بنا دیتا ہے۔ لیکن ان ضوابط اور مارکیٹ اور ریاست کے جو احکام ان قواعد سے ماخوذ ہیں، کو قبول کرنا انفرادی آزادی اور بلاجبر مواصلت کی تحدید ہے۔ فلسفہ اور سوشیالوجی وہ علوم ہیں جو ہیومن بینگ کو طبیعی اور تفسیری علوم (Physical & hermeneutic sciences) اور ان کے وضع کردہ اصولوں اور ضوابط پر آزادانہ تنقید کے قابل بناتے ہیں۔ فلسفہ اور سوشیالوجی کو ہابرماس آزادی دلانے والی سائنسز (Emancipatory Sciences) کہتا ہے۔ یہ سائنسز ہیومن بینگ کو اس کی انفرادی غرض (Interest) سے استثنا دلاتے اور اس کی اصل غرض کی نوعیت سے آگاہ کرتے ہیں۔یہ اصل غرض بلاجبر مواصلت کے فروغ کے ذریعے ایک ایسے اجماعِ آراء اور اقدار کا قیام، استحکام اور فروغ ہے جو انفرادی نفوس (امارہ) کے احکام کی تکمیل کی جستجو کو ایسے مربوط کرے کہ وہ نوعی غرض (Specie Interest) کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔ یہ نوعی غرض اجتماعی آزادی اور سرمایہ عمومی (Capital in General) کی بڑھوتری کے علاوہ اور کچھ نہیں اور یہی ہیومن بینگ کی اصل غرض ہے لیکن بیش تر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں۔ وہ بلاجبر مواصلت کے فروغ کی جدوجہد کی ضرورت سے واقف نہیں۔ ان کی انفرادی جدوجہد ان کے ذاتی اغراض کے حصول تک محدود رہتی ہے۔ یہ فزیکل اور ہرمینیوٹیکل علوم کے ضوابط کے اسیر ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہیومنٹی کی اصل غرض (Real interest)کے حصول کی جدوجہد کو انفرادی اغراض کی جدوجہد سے مربوط کرنے کا راستہ یہی ہے جویہ علمیاتی منہاج بتاتے ہیں اور عام افراد کو اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ فزیکل اور ہرمینیوٹیکل علوم (Physical and Hermeneutical Sciences) مارکیٹ اور ریاست کے معاشرتی جبر کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ حقیقتاً آزاد نہیں اور جس جبر کا وہ شکار ہیں اس کی نوعیت سے بھی وہ ناواقف رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں جب کہ نہ ان کی فکر آزاد ہوتی ہے نہ ان کا عمل۔ وہ علمیاتی ضوابطی زنجیروں یعنی معاشرتی قوانین، رسوم و رواج، تاریخ و روایت کو گلے میں ڈالے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی کے ہار ہیں۔

تنقیدی علوم یعنی فلسفہ اور سوشیالوجی کے علما کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو اس خوابِ غفلت سے بیدار کریں اور حقیقی آزادی یعنی خواہشاتِ نفسانی کی انفرادی جدوجہد کو بلاجبر مواصلت کے ذریعے فروغِ سرمایہ عمومی کی جدوجہد کی فرضیت سے آگاہ کریں۔ یہ فرضِ عین ہے فرض کفایہ نہیں ہے۔ ہر شخص پر بحیثیت ہیومن بینگ یہ لازم آتا ہے کہ وہ اپنی اصل غرض یعنی فروغِ عمومی غرض کے حصول کی جدوجہد میں اپنی پوری زندگی کھپا دے۔ ہیومن بینگ کی اصل غرض بڑھوترئ سرمایہ عمومی یعنی آزادی کے علاوہ اور کچھ نہیں اور اس غرض کا حصول غیرجبری مواصلاتی نظام کی توسیع اور فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔تنقیدی علما ء ہر ہیومن بینگ کے اندر اس کے اصل غرض کے حصول کی تڑپ پیدا کریں۔ یہ علما نیک و بد، خیر و شر، حق و باطل کی ایسی تشریح مرتب کریں جو ہیومن بینگ پر واضح کرے کہ اپنی اصل غرض یعنی بڑھوترئ سرمایہ یعنی عمومی آزادی کے لیے فکر و عمل کو کیسے ترتیب دی جانی چاہیے۔ یہ علما عوام کو عہدِ طفولیت سے نکال کر عہدِ بلوغت میں داخل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ علما عوام کی تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہیں اور ان کو اپنی اصل غرض کو بھلانے اور اس کے حصول کی جدوجہد کو نقصان پہنچانے سے باز رکھتے ہیں[585]۔ 
مثلاً جنسی بے راہ روی کو فروغ دینا تنقیدی (Emancipatory) علما ء کی اہم ذمہ داری ہے۔ ہزاروں سال تک نکاح کو ایک لازمی معاشرتی ضرورت سمجھا گیا لیکن ہابرماس مارکسسٹوں کی اس رائے سے متفق ہے کہ نکاح تو محض شخصی ملکیت کی بقا(سرمایہ دارانہ ملکیت پر تحدید) کا ایک ذریعہ تھا اور جنسی بے راہ روی کے ذریعے فروغ آزادی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ جنسی بے راہ روی کو فروغ دینا تنقیدی علما کی ایک اہم ذمہ داری ہے اور ہابرماس عام شہوت رانی، اغلام بازی اور زناگیری کی تحریکات کا پرجوش حامی ہے۔ یہ تحریک ایل جی بی ٹی (Lesbian, Gay, Bisexual and Transexual Movement) کے نام سے مغرب میں خوب پھل پھول رہی ہے۔ اور ایشیا اور افریقا میں ان کو فروغ دینے کے لیے اقوام متحدہ نے کئی اقدامات کیے ہیں [586]۔

تنقیدی علما کارپوریشنوں اور ریاستی پالیسیوں کا جائزہ لے کر یہ متعین کرتے ہیں کہ ان پالیسیوں کی تنفیذ کے نتیجے میں بلاجبر مواصلت اور ہیومنٹی کے اصل غرض یعنی فروغِ نوعی آزادی یا سرمایہ کی بڑھوتری کے حصول میں کتنی مدد ملے گی۔ وہ پالیسیاں جو ان اہداف کے حصول کے لیے مضر ہیں ان کی تردید کی جانی چاہیے۔ تنقیدی علما عوام کو اپنے حقیقی مفاد سے آگاہ کر کے وہ اندرونی اور بیرونی رکاوٹیں دور کرتے ہیں جو فروغِ آزادی عمومی کی راہ میں حائل ہیں۔ وہ ہیومن بینگ کو رسوم و رواج، مذہبی میلانات اور فزیکل اور ہرمینیوٹیکل علوم کے وضع کردہ ضوابط کی ناگزیریت کے احساس سے بھی چھٹکارا دلاتے ہیں اور معاشرے میں یہ صلاحیت بھی پیدا کرتے ہیں کہ ہر ہیومن بینگ کارپوریشنوں اور ریاستی پالیسیوں کو پرکھیں کہ کون سی پالیسی محض کسی خاص مفاد کےلیے وضع کی گئی ہے اور اس کا کتنا منفی اثر حصولِ غرضِ حقیقی (یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی یعنی آزادی) پر پڑ رہا ہے اور کون سی پالیسیاں کارپوریشنوں اور ریاستی مقتدرین کے مفادات کے حصول کی جدوجہد کو فی الواقع حصولِ مفادِ عمومی کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔ اگر تنقیدی علما اپنا یہ فرض بحسن و خوبی ادا کریں تو ہر ہیومن بینگ اپنے آپ کوان اندرونی اور بیرونی جکڑبندیوں سے آزاد کرنے کے قابل ہو جائے گا جو اس کے اصلی غرض کے حصول کی راہ میں مذہب، تاریخ، سیاست، کاروبار اور طبیعی اور ہرمینیوٹیکل علوم نے لگائی ہیں۔

حقیقی مفادِعمومی یعنی بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی کے حصول کا ذریعہ بلاجبر مواصلت کی عمومیت پر مارکیٹ، ریاست، مذہب اور غیرتنقیدی علوم کے جبر کو ختم کرنے کا ایک اہم ذریعہ جمہوریت ہے لیکن ایک جمہوری نظام سے لازماً ایسے فیصلے یا پالیسیاں برآمد نہ ہوں گی جو مواصلت پر مسلط جبر کو کم کر دیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تنقیدی علما عوام میں اپنے حقیقی مفاد یعنی بڑھوترئ سرمایہ یعنی آزادی کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہوں۔ جس قدر علمائے جہالت اس تنقیدی فرض کو ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے اسی قدر جمہوری عمل سے مثبت نتائج (یعنی ان پالیسیوں کی حمایت جو انفرادی اغراض کی جدوجہد کو حصول مفادِ عمومی سے ہم آہنگ کرتی ہیں) برآمد ہوں گے۔ جن ملکوں میں یہ علمائے جہالت موجود نہ ہوں مثلاً افغانستان یا جہاں یہ غیراثر ہوں مثلاً ایران وہاں جمہوری عمل سے مثبت نتائج کے برآمد ہونے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ان علمائے جہالتِ کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہابرماس مستقلاً ایران کے دورے کرتا رہتا ہے۔ ان دوروں کو یورپی اور امریکی فوجی ایجنسیاں یونی ورسٹیوں کے توسط سے فنانس کرتی ہیں۔

لہٰذا علمائے جہالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی معاشرتی ترتیب پیدا کریں جس کے نتیجے میں جمہوریت مثبت نتائج (یعنی ان پالیسیوں کی حمایت جو انفرادی اغراض کی جدوجہد کو بڑھوترئ سرمایہ عمومی کی جدوجہد سے مربوط کرتی ہیں) پیدا کرے۔ اس ضمن میں ہابرماس ادارتی صف بندی پر زور دیتا ہے۔ ان اداروں کا مقصد آزادی کو فروغ دینا اور عوام میں مفادِ عمومی( یعنی بلاجبر مواصلت کی توسیع) کی جدوجہد کی فرضیت کا احساس دلانا ہونا چاہیے۔ اور ان اداروں کی کارفرمائی کے نتیجے میں مفاداتِ خصوصی (کارپوریشنوں، بیوروکریسی اور سیاسی پارٹیوں کے مفادات) کو اغراضِ اجتماعی سے مربوط کرنا بھی مقصود ہے۔ یہ ادارے معاشرتی یا عمومی ریشنلٹی کے غماز ہوں گے اور چوں کہ ادراکِ حق غیرجبری مواصلاتی عمل سے تشکیل پاتا اور تبدیل ہوتا رہتا ہے لہٰذا یہ ادارے فرد کی آزادی کو پابند نہیں کریں گے (جیسا کہ فوکو اوردریدا وغیرہ سمجھتے ہیں) بلکہ آزدی کے اظہار اور تشکیل کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ حصولِ مفادِ اجتماعی یعنی فروغِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ عمومی کا بنیادی انحصار اس غیرجبری مواصلاتی عمل کے فروغ پر ہے جس کے ذریعے انفرادی شخصیتیں ایک ایسی Inter-Subjectivity میں سمو جائیں جو ادراکِ حقیقتِ یعنی انفرادی خواہشاتِ نفسانی کی اتباع کو نوعی غرض یعنی بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی سے مربوط کر دے۔ ظاہر ہے کہ یہ Inter-Subjetctivity محض سرمایہ دارانہ انفرادیت کی ایک شکل ہے اور ہابرماس سرمایہ دارانہ شخصی اور سماجی عالم گیریت کا وکیل ہے۔

ہابرماس کے مطابق مثبت جمہوریت (یعنی وہ جمہوریت جو انفرادی بندگی نفس کو اجتماعی پرستش سرما یہ آزادی سے مربوط کرنے کا ذریعہ بننے والی پالیسیوں کی تصدیق کرے) کے فروغ کی راہ میں ان پالیسیوں کو جن کو جدید کنزرویٹو(Neocon) پالیسیاں کہا جاتا ہے بڑی رکاوٹ ہیں ان پالیسیوں کا نفاذ ۱۹۸۰ء میں ریگن، تھیچر اور کول وغیرہ کے برسراقتدار آنے کے بعد ہوا۔ یہ پالیسیاں کینزین ازم کی تردید کرتی تھیں اور مارکیٹ پر ریاستی پابندیاں ختم کر دیتی تھیں۔ ان کے نفاذ کے نتیجے میں سود اور سٹہ کی مارکیٹ عالمی بنا دی گئی اور ان پر قومی تحدیدی گرفت نہایت کمزور کر دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپ میں بالخصوص نج کاری کا ایک سیلاب آگیا اور ریاستی املاک کوڑیوں کے مول نجی کارپوریشنوں کے ہاتھ فروخت کی جانے لگیں۔ امریکا نے ریگن، بش، کلنٹن اور بش کے بیٹے کے دور میں نسبتاً کم آمدنی والے طبقوں کو ریاستی امداد کی فراہمی میں بھی نمایاں تخفیف کی اور یورپ کی کئی حکومتوں نے اس قسم کی کمی کرنے کی کوشش کی۔ ہابرماس ان نیوکنزرویٹو پالیسیوں کا شدید مخالف ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان کے نفاذ کے نتیجے میں تقسیم دولت اور آمدنی نہایت نامساویانہ ہو جاتی ہے اور فنانشل مارکیٹوں پر ریاستی گرفت کم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کارپوریشنوں کی انفرادی حصولِ منافع کی جدوجہد معاشرتی تنقید اور جمہوری عمل کی تحدید سے بالاتر کر دیا گیا ہے۔ ہابرماس کے مطابق یہ سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور کرنے کا وطیرہ ہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں غیرمراعات یافتہ گروہ (Underpreviliged section) پالیسی سازی میں حقیقی شرکت سے محروم کیے جا رہے ہیں اور غیرجبری مواصلاتی نظام کے فروغ میں غیرجمہوری رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ہابرماس کینزین پالیسیوں کے ازسرنو انعقاد کا حامی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ غیرمراعات یافتہ افراد کی حکومتی امداد میں اضافہ ہو۔ ٹریڈ یونین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور تشکیل اور ترسیل زر (Money creation and transfer) پر ریاستی پابندیاں تقسیم وسائل کو زیادہ مساویانہ بنانے کے لیے نافذ کی جائیں۔ دیگر سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کی طرح ہابرماس بھی اس نوعیت کے اقدام کو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اس کی نظر میں سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرتی اور سیاسی نظام قائم ہو جہاں بلاجبر مواصلت فروغ پا سکے۔

ہابرماس کی نظر میں بلاجبر مواصلت کے فروغ کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ قوم پرستی ہے۔ قوم پرستی بلاجبر مواصلت سے اس لیے متصادم ہے کہ وہ مفادِ عمومی کے ہدف کو ترک (یعنی ہیومنٹی کے لیے مجموعی سرمایہ یعنی آزادی کی بڑھوتری) کر کے ایک مخصوص گروہ جرمن، امریکن قوم کے مفادِ عمومی کو ترجیح دیتی ہے اور اسی تناظر میں اس کی کارپوریشنیں اور حکومتیں پالیسی سازی بھی کرتی ہیں اور عالمی مواصلاتی نظام میں شرکت بھی۔ ہابرماس کے خیال میں دورِ حاضر میں یورپین یونین کا قیام قوم پرستی کی قوت کو کم کرنے والی سب سے اہم پیش رفت ہے۔ وہ یورپی کمیشن کا گاہے گاہے مشیر بھی رہا ہے اور اس کے تحقیقی پروجیکٹس کو یورپی یونین مالی امداد بھی فراہم کرتی رہتی ہے۔ہابرماس کی خواہش ہے کہ یورپی یونین جلدی ایک وفاقی ریاست بن جائے اور اس میں شامل ممالک صوبوں کی حیثیت اختیار کر لیں اور ان سب پر ایک مشترکہ یورپین دستور لاگو ہو اور سب کی ایک مشترکہ فوجی، خارجی اور اکنامک پالیسی ہو۔ کسی صوبہ کو حق خود ارادیت بحیثیت قوم حاصل نہ رہے اور الحاق سے علیحدگی (seccesion) کا کوئی حق تسلیم نہ کیا جائے۔ ابتدا ء میں یہ یورپی وفاق شاید ان چھہ ممالک تک محدود رہے جو ۱۹۵۷ء میں پہلے ای ای سی معاہدہ میں شریک تھے۔ اس کو ہابرماس "Core Europe" کہتا ہے لیکن دوسرے یورپی ممالک کے لیے اس وفاق کو اپنے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ یہ یورپی وفاق امریکی عالمی بالادستی (Systemic Hegemoy) کے مقابل قوت کے طور پر ابھرے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل اور ترتیب میں ایک موثر کردار ادا کرے۔

یورپین وفاق کے قیام اور ارتقا کے لیے ایک یورپین شناخت کا وجود میں آنا لازمی ہے۔ یہ یورپی شناخت قومی شناخت کو سمو لے گی۔ یورپی شناخت کی بنیاد اس تیقن پر تعمیر کی جائے گی کہ وفاق کے تمام سٹیزن کا سیاسی مستقبل یکساں ہے اور اس مشترکہ مستقبل کے حصول اور تحفظ کے لیے دو اقدام ضروری ہیں۔ اولاً ان فلاحی حقوق کا تحفظ جو یورپی ریاستوں میں طویل سیاسی جدوجہد سے عوام نے حاصل کیے ہیں۔ دوم ایک ایسے کثیر الجہتی(cosmopolitan) سیاسی عالمی نظا م کا تحفظ جو بین الاقوامی قانون (International law)کی پاس داری کو مقدس فریضے کے طور پر قبول کرتا ہو۔

ہابرماس کی رائے میں یورپی تشخص کے تعمیری عمل میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ افتراق گروہی مقاصد کو اپنے اندر سمو سکے۔ ہابرماس کہتا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹک اقدامات کے ذریعے یورپی ممالک اس خونی تصادم سے محفوظ رہے جو کمیونزم نے دنیا کے دوسرے حصوں میں برپا کیے اور مزدور اور سرمایہ دار اپنے گروہی افتراق کے باوجود اپنے مشترک سرمایہ دارانہ مفادات کے فروغ کے لیے تعاون پر آمادہ رہے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ حکومتیں بھی گروہی اختلافات کے باوجود اسی نوعیت کے تعاون پر راضی نہ کی جائیں۔ یورپین شناخت کی تعبیر افتراق مذاہب کو سول سوسائٹی میں سمو کر بھی حاصل ہوتی ہے۔ پورے یو رپ میں مذہب کو سیاست سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور پورے یورپ میں دہریت کا راج ہے۔ یہ دہری (سیکولر) ریاست فلاحی بھی ہے اور اس کی مارکیٹ جو معاشرتی ناہمواریاں پیدا کرتی ہے ان کو کم کر کے سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ دیاجا سکتا ہے۔ امریکا اور مشرقی ایشیا کے مقابلے میں یورپی معاشروں میں نظریاتی شعور زیادہ اجاگر ہے اور سیاسی جماعتوں میں جاری نظریاتی کش مکش کی بنیاد پر مسلسل سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی جستجو جاری رہتی ہے۔ یورپ میں سرمایہ دارانہ عدل کا تصور امریکا کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے۔ یہاں عوام مساویانہ معاشرتی حقوق کی فراہمی کو سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے لازمی تصور کرتے ہیں جب کہ امریکا اور مشرقی ایشیا میں معاشرتی حقوق کی فراہمی کی جدوجہد کمزور ہے اور یہاں سرمایہ دارانہ عدل کا تصور محض مسابقتی مواقع کی مساویانہ فراہمی (Equality of Opportunity) تک محدود ہے۔

۹۲-۱۹۹۱ء کی خلیجی جنگ کے دوران ہابرماس نے امریکی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ اس کے مطابق امریکی خلیجی جارحیت ان لبرل اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی بنیاد پر نیا عالمی استعماری نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے ہابرماس کے بقول ہیومن رائٹس کے اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہابرماس اصرار کرتا ہے کہ وہ امریکا کی خلیج میں مداخلت کی مخالفت امریکی دستور کے اصولوں اور روح کی بنیاد پر کرتا ہے۔ امریکا کی مخالفت لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ اصولوں کا دفاع ہے۔ ہابرماس نے کہا کہ وہ محض اس گروہ کا مخالف ہے جو مخصوص حالات سے فائدہ اٹھا کر امریکا میں حکم ران بنا ہوا ہے (یعنی بش اول کی حکومت)۔ ہابرماس امریکی معاشرت اور امریکا میں رائج سیاسی نظام کا مخالف نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکا پر کیے جانے والے جوابی حملے کو نفرت سے دیکھتا ہے اور اس کی تمام تر ہمدردیاں امریکا کے ساتھ ہیں۔ وہ ۱۹۶۵ء کے بعد سے ہر سال امریکا کا دورہ کرتا رہتا ہے اور امریکا میں جو لبرل قوتیں سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں ان کا حامی ہے۔ ہابرماس کہتا ہے کہ وہ رچرڈ رارٹی (Richard Rorty) کی فکر سے بہت کچھ اخذ کرتا ہے اور جیسا کہ ہم اگلے سیکشن میں دیکھیں گے کہ رچرڈ رارٹی وہ شخص ہے جس کے خیال میں امریکا کو حق ہے کہ وہ اپنے تمام تاریخی جرائم بالخصوص ریڈ انڈینز کے سفاکانہ قتل عام کے لیے خود کو معاف کر دے۔

ہابرماس ان امریکا مخالف عوامی مظاہروں کا حامی ہے جو خلیجی بہیمیت کے خلاف یورپ میں برپا کیے گئے لیکن اسلامی ممالک میں جو امریکا مخالف تحریکیں اٹھیں ان کی حمایت نہیں کرتا کیوں کہ اس کے مطابق یہ تحریکیں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جستجو نہیں کر رہی ہیں۔ ہابرماس ایک اسلام دشمن فلسفی ہے۔ یہ بات ہم ذیل میں ذرا تفصیل سے بیان کریں گے۔

21.3۔ ہابرماس کی اسلام دشمنی

انقلابِ ایران کے فوراً بعد ہابرماس کو یہ احساس ہو گیا کہ غلبہ اسلام سرمایہ درانہ لبرل عالمی نظام کی بقا اور فروغ کے لیے ایک اہم خطرہ ہے یعنی بنی صدر کے دورِ حکومت میں ہابرماس نے انقلاب مخالف ایرانی دانش وروں سے قریبی روابط استوار کیے اور اس وقت سے اب تک مستقل ایرانی جامعات کے ذریعہ تخریب کاری کی مہم چلائے ہوئے ہے۔ وہ بدنام زمانہ امریکی ولی نصر [587] کا قریبی ساتھی ہے۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے فوراً بعد ہابرماس نے امریکا کا دورہ کیا اور نیویارک میں اس واقعہ کے پیچھے جو جذبہ کارفرما تھا اس کو قابل نفرت، بزدلانہ اور غدارانہ قرار دیا۔ اس نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اسلامی دہشت گردی کے خلاف پوری تہذیبی دنیا کو ایک عالمی جنگ لڑنے کے لیے کمربستہ ہو جانا چاہیے اور دہشت گردوں اور حریت پسند برسرپیکار گوریلا گروہوں میں فرق کرنا چاہیے۔ حریت پسند ایک قومی ریاست بنا کر سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو جاتے ہیں لیکن اسلامی دہشت گرد سرمایہ داری کے انہدام کی جدوجہد کر رہے ہیں لہٰذا ان سے مصالحت کا کوئی امکان موجود نہیں۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے امریکا نے افغانستان پر جو جنگ مسلط کی ہابرماس اس کو ایک اصولی عادلانہ جنگ کہتا ہے گو کہ اس جنگ کی حکمت عملی سے پوری طرح متفق نہیں[588]۔ اسلامی دہشت گردوں کے خلاف جنگ ان کے اپنے ممالک تک محدود نہیں رہ سکتی کیوں کہ ان اسلامی دہشت گردوں نے یورپ اور امریکا پر بھی حملہ کر دیا ہے اور یہاں ان کے مقابلہ کے لیے حکومتیں بالخصوص حکومتِ امریکا جو اقدامات کر رہی ہے ان کے نتیجے میں بنیادی ہیومن رائٹس اور سٹیزن کے حقوق مجروح ہو رہے ہیں اور اس بات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کہ لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ نظام پر عام شہری کا اعتماد کم یا ختم ہو جائے۔ اسلامی دہشت گردوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ دہریہ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ عدل عین ظلم ہے اور سیاسی نظام کی تشکیل اور تنفیذ اللہ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق ہونی چاہیے عوام کی مرضی کے مطابق نہیں۔ وہ ریاستی نظام کی کثیر ملکیت (plurality) کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اسلامی تصوراتِ عدل دائمی اور آفاقی ہیں، حادثاتی نہیں۔ بالفاظ دیگر اسلامی دہشت گردوں کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کو مطلق العنان، احد،صمد اور فرماں روا قانون ساز مانتے ہیں اور اسلامی معاشرتی اور ریاستی نظام کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سموئے جانے کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ اسلامی دہشت گرد ریشنل نہیں وہ آزادی کے دشمن ہیں اور خود ارادیت (Autonomy) کے منکر ہیں اور بندگی رب پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ یورپی تحریکاتِ اصلاح(Reformation & Counter reformation) سے کوئی سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں۔ نہ وہ لاک کے نظریہ ٹالرنس[589] پر ایمان لاتے ہیں اور نہ مذہبی علمیت کو سائنٹفک اور تنویری فلسفیانہ جاہلیت سے ہم آہنگ کرنے پر راضی ہیں۔ ہابرماس اسلامی جمہوریت کے تصور کو مہمل اور مضر گردانتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ایک دہری (سیکولر)نظام کے قیام اور تفہیم کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریت کو سیکولر ازم کو فروغ دینے والے حربہ کی افادیت کے ضمن میں ہابرماس اور ایرانی منافقین بالخصوص مجاہدین خلق کے حلقوں میں طویل بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔ 

ہابرماس کے مطابق اگر مغرب کو اسلامی دہشت گردوں کو شکست دینا ہے تو اس کو اسلام پر مغرب کی تہذیبی اور علمیاتی فوقیت ثابت کرنا ہو گی۔ مغرب کی عسکری مہمات بھی ضروری اور مفید ہیں بالخصوص افغانستان میں لیکن وہ کافی نہیں۔ اسلامی اقدار اور تہذیب کووحشیانہ اور جاہلانہ ثابت کرنا مغرب کا فرض ہے اور یہ کام اخلاقیات ہیومن رائٹس کو فروغ دے کر بخوبی انجام دیا جا سکتا ہے۔اسلامی دہشت گردوں کو غیرجبری مواصلاتی نظام میں شریک نہیں کیا جا سکتا[590]۔ مغرب کا ہدف اسلامی دہشت گردوں کو اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی طور پر تنہا کر دینا ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا کو مغرب پر بھروسا کرنا سیکھنا ضروری ہے۔ یہ کام مغربی پولیس آپریشن کے ذریعہ آسان ہو جائے گا(جیسا کہ بقول ہابر ماس کوسووا میں ہوا) ۔ ان اقدا م سے مسلمان ممالک کے عوام کو دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ بیرونی امداد کو بھی اس کام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے[591]۔ مسلم دنیا میں مغرب کو اپنے آپ کو تہذیبی قوت کے طور پر پیش کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی نامساویت (International Inequality) کم کی جائے اور گلوبل سطح پر سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے دانش وروں اور عوام کے ساتھ مغرب کو ایک ایسی غیرجبری مواصلت پر زور دینا چاہیے جو ایک عالمی Inter-Subject[592] کو وجود میں لائے جس کے معیارات، احساسات، تفکرات اور تصورات یکساں ہوں۔ یہ Inter-Subject لازماً سرمایہ کی بڑھوتری کی فوقیت اور معاشرتی اور ریاستی دہریت کی قائل ہو گی۔ بقول ہابرماس یہ Inter-Subjectivity ایک بین الاقوامی معاشرت کے طور پر اقوام متحدہ بتدریج تعمیر کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ وہ ہیومن رائٹس کے پامال کرنے والوں کو یعنی اسلامی دہشت گردوں کو کڑی سزائیں دے۔ افغانستان کی استعماری پٹھو حکومت کی پشت پناہی کر کے اقوام متحدہ کی Peace keeping Forces یہ فرض بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی فوجی صلاحیتوں میں فروغ دینے کی بقول ہابرماس شدید ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ مسلم دنیا پر ٹالرنس کو بزور شمشیر نافذ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اغلام بازی اور آزاد شہوت رانی ایک بنیادی ہیومن رائٹ ہے۔ اقوام متحدہ مسلم دنیا کو اغلام بازی اور آزاد زناکاری کو ٹالریٹ کرنے پر مجبور کرے گی۔ ٹالرنس کی کوئی حد نہیں صرف سرمایہ دارانہ عدل کی حقانیت کی مخالفت کو ٹالریٹ نہیں کیا جا سکتا۔ مغرب اسلامی دہشت گردوں کو ٹالریٹ نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ ہیومن رائٹس کو مقدس نہیں مانتے اور سرمایہ دارانہ عدل کو ظلم سمجھ کر اس کو ختم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ جو مسلمان مثلاً مولانا تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید ہیومن رائٹس کی اسلامی توجیہ پیش کر رہے ہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کو ایک اسلامی فریضہ گردانتے ہیں ان کو یقیناً ٹالریٹ کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن سے غیرجبری مواصلت کے ذریعے مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ Inter-Subject قائم کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی دہشت گرد سرمایہ دارانہ دستور کے تقدس کے قائل نہیں۔ وہ دستور کو تبدیل کرنے کے دستوری طریقوں کے پابند نہیں۔ دیگر مخالفین یعنی قوم پرست، اشتراکی، مسلم اصلاح پسندوں (revisionists) کے برخلاف اسلامی دہشت گرد سرمایہ دارانہ عدل کی کوئی مختلف یعنی قوم پرست، اشتراکی، اسلامی تشریح پیش نہیں کرتے۔ اگر اسلامی دہشت گرد اقتدار سنبھال لیں تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام عمل میں لائیں گے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو شرع اسلامی سے محض مقید (constraint)نہ کریں گے[593]۔ لہٰذا دستور میں اسلامی دہشت گردی کو ٹالریٹ کرنے کے کوئی معنی نہیں۔ اسلامی دہشت گرد سرمایہ داری کے دائمی اور ازلی دشمن ہیں اس کے برعکس قوم پرست، اشتراکی اور اسلامی اصلاح کار (Revisionists)ایک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت کو ایک دوسرے سرمایہ دارانہ نظام (قوم پرست، اشتراکی، اسلامی) کی تعمیر کے لیے کرتے ہیں۔ قوم پرست، اشتراکی، اسلامی اصلاح کار سرمایہ دارانہ نظام کے حلیف ہیں اس کے دشمن نہیں۔ قوم پرست، اشتراکی اور اسلامی اصلاح کار ایک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی پر تنقید سرمایہ دارانہ عدل کے اصولوں کی بنیاد پر ہی کرتے ہیں اور یہ اصول لبرل ،سوشلسٹ،سوشل ڈیموکریٹ، قوم پرست اور اسلامی اصلاح کاری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام نظاماتی تشریحات میں ہیومن رائٹس کی تقدیس سب کا جزو ایمان ہے۔

21.4۔ ہیومن رائٹس امپیریل ازم

ہابرماس کے مطابق اسلامی دہشت گردی سے عالمی نظام سرمایہ داری اور اس کے طرزِ زندگی کو جو خطرہ درپیش ہے اس کا سدباب قومی خود اختیاریت (State Sovereignty) کی تحدید کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ ہابرماس یاد دلاتا ہے کہ اٹھارھویں صدی میں کانٹ کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے فروغ کے لیے ایک بین السماجی معاشرتی (Cosmopoliton) ریاستی نظام کا قیام ضروری ہے۔ یہ کاسموپولیٹن نظام بین الاقوامی قانونی نظام کو ایک متفقہ دستوری ڈھانچے میں مربوط کر کے قائم کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانونی نظام پر اس قسم کے دستوری تسلط کا عمل دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ نے گلوبل ضوابط اور ادارتی صف بندی کے ذریعے تیز کر دیا ہے[594]۔ ہابرماس کے بقول اب ایک گلوبل معاشرت (Global Society) کی تعمیر کی جا رہی ہے جو لازماً ریاستوں کی خود اختیاریت کو محدود کر رہی ہے۔

ہابرماس کی رائے میں اب ایک گلوبل سرمایہ دارانہ نظام کے تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی امن عامہ، جمہوریت اور ہیومن رائٹس کا فروغ مشترکہ سیاسی اہداف ہیں۔ اب اقوام عالم اس بارے میں گفت گو نہیں کرتیں کہ کیا سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، ترقی، ہیومن رائٹس کے علاوہ کوئی اور معاشرتی اور ریاستی اہداف قابلِ قبول ہیں(مثلاً اسلامی اقدار و اہداف) بلکہ افتراق صرف اس ضمن میں ہے کہ سرمایہ دارانہ عدل (آزادی اور ہیومن رائٹس کا فروغ) کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہابرماس کی رائے میں سرمایہ دارانہ گلوبل عدل کے قیام کا بہترین ذریعہ بین الاقوامی قانونی نظام کو ایک گلوبل دستور کے ماتحت کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے جو لبرل اصول حکمرانی کا عکاس ہو۔ ہابرماس امریکا کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ عالمی نظام قانون پر لبرل دستوری تسلط کو قائم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

سترھویں صدی[595] کے بعد سے مغربی اقوام نے جس بین الاقوامی نظام قانون کی تنفیذ کو قبول کیا ہے وہ ہر ریاست کو خود مختار عامل(Sovereign Agent)کے طور پر قبول کرتاہے۔ ہر ریاست کو اس نظام میں جنگ کرنے، صلح کرنے اور معاہدہ کرنے اور معاہدہ فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہے اور کسی سرمایہ دارانہ ریاست کو کسی دوسری سرمایہ دارانہ ریاست کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے کا حق حاصل نہیں۔ یہی ریاستی خود مختاری کا مطلب ہے اور ۱۶۴۸ء سے ۲۰۰۵ء تک کسی بین الاقوامی ادارہ کو یہ اختیار کم از کم اصولی طور پر تفویض نہیں کیا گیا کہ وہ کسی ریاست کے حق خود ا ختیاریت کو محدود کرے۔ اس وقت تک بین الاقوامی ادارہ لیگ آف نیشن اور اقوام متحدہ خود قوت کا سرچشمہ نہیں بلکہ اپنی ممبر ریاستوں کی تقابلی(Relative) قوت کے عکاس سمجھے جاتے رہے۔ لیکن ہابرماس کے مطابق کانٹ کو اس بات کا احساس تھا کہ سرمایہ دارانہ قومی ریاستیں لازماً ایک عالمی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا حصہ ہیں اور سرمایہ دارانہ قومی ریاستی داخلی امن اور ترقی(فروغ آزادی) کا دارومدار اس امر پر ہے کہ عالمی سطح پر ایک سرمایہ دارانہ دستور کی تنفیذ ہو جو ہر ریاست کو بین السماجی (کاسموپولیٹن) قانون کی پابندی پر مجبور کرے۔ کانٹ کے خیال میں سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کےلیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قانون(قومی ریاستوں کی خود اختیاریت کو تسلیم کرتا ہے) کی جگہ ایک بین السماجی قانون ہو جو قومی ریاستوں کو ایک عالمی سرمایہ دارانہ دستور کا پابند بنا دے۔ کانٹ کو امید تھی کہ اس طرح ایک عالمی سرمایہ دارانہ ریاست (World state) وجود میں آ جائے گی۔

ہابرماس کہتا ہے کہ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ ریاست کا وجود ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی(life world) کے مختلف اظہار ہوتے ہیں۔ جاپانی سرمایہ داری، اسلامی سرمایہ داری اور امریکی سرمایہ داری مختلف طرزِ معاشرت کا اظہار کرتے ہیں اور ہر طرزِ معاشرت اپنے مخصوص تاریخی روایات اور میلانات کی غماز ہوتی ہے۔ جاپانی، اسلامی، امریکی طرزِ معاشرت کے فروغ کے لیے ایک خودمختار سرمایہ دارانہ قومی ریاست کا وجود لازم ہے اور کم از کم ابھی تک ریشنلائزیشن کے عمل سے ایک عالمی سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی تخلیق نہیں کیا جاسکا۔لہٰذا ایک عالمی سرمایہ دارانہ ریاست انفرادی اور اجتماعی معاشرتی آزادی کو لازماً محدود کر دے گی۔ ہابرماس کے خیال میں اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ ایک عالمی سرمایہ دارانہ ریاست غیرجمہوری بن جائے [596]۔ 

ہابرماس کی رائے میں قومی سرمایہ دارانہ ریاستوں کو ایک کثیر المعاشرتی (Cosmopolitan) دستور میں ضم کرنا اس لیے ایک ممکن اور احسن عمل ہے کہ قومی اور کثیر المعاشرتی (Cosmopolitan)دساتیر دونوں سرمایہ دارانہ اصولِ حکم رانی پر مرتب ہیں۔ دونوں قسم کے دساتیر سٹیزن کی خودرادیت کو تسلیم کرتے ہیں اور سٹیزن کے اجتماع کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ فروغِ آزادی کے جس طریقہ کو مفید تصور کرتے ہیں اس کی تقلید کریں۔ دونوں دساتیر انسانوں کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ہیومن رائٹس اور سرمایہ دارانہ تصورِ عدل کو ردّ کر کے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کے لیے جدوجہد کریں۔

موجودہ بین الاقوامی نظام انہی سرمایہ دارانہ تصورات، حقوق اور عدل پر قائم ہے جو قومی سرمایہ دارانہ ریاستوں کے دستوری نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں لیکن بین الاقوامی قانون کے پاس وہ قوت نافذہ موجود نہیں جو ان ریاستوں کو سزا دے سکے جو سرمایہ دارانہ حقوق سے اپنے سٹیزن کو محروم کرتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ قومی ریاستوں کی خود ارادیت کو محدود کیے بغیر ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کے لیے قومی ریاستوں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ بین الاقوامی قانون کو ایک عالمی سرمایہ دارانہ دستوری نظام میں سمونے کی جدوجہد ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کرنے والی قومی ریاستوں کو قانونی سزا دینے اور ان پر سرمایہ دارانہ دہشت گردی مسلط کرنے کا جواز فراہم کرنے کی کاوش ہے۔ ہابرماس کہتا ہے کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی تجارتی تنظیم(WTO) کے دساتیر وہ تناظر (Framework) فراہم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر ایک بین المعاشرتی دستور وضع کیا جائے جس کی تنفیذ تمام قومی ریاستوں پر ہو اور جو ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کرنے والی ریاستوں کو سزا دینے، ان پر سرمایہ دارانہ دہشت گردی مسلط کرنے کا قانونی جواز فراہم کرے۔
۲۰۰۵ء کے بعد سے اقوام متحدہ نے اپنے آپ کو حق دے دیا ہے کہ وہ مجرم حکومتوں(criminal governments) اور ناکام ریاستوں میں فوجی مداخلت کر کے ان ریاستوں اور حکومتوں کو ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کرنے کی کڑی سزا دے۔ چوں کہ اقوام متحدہ ۱۹۹۱ء کے بعد سے امریکی وزارتِ دفاع کا عملاً ایک ذیلی ماتحت ادارہ بن گئی ہے لہٰذا مجرم حکومتوں کو سزا دینے کا یہ عمل امریکی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ امریکا جو خود دنیا کی سب سے بڑی مجرم، وحشی اور دہشت گرد ریاست ہے اس نے ظاہر ہے کہ اپنے آپ کو اب تک کوئی سزا نہیں دی کیوں کہ امریکی دہشت گردی کا شکار صرف سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف اسلامی دہشت گرد ہوتے ہیں[597]۔ کیا اقوام متحدہ میں یہ سکت ہے کہ امریکا کو آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کے قتل عام کی سزا دے؟ تاریخ انسانی کا یہ سب سے بڑا اور سب سے گھناؤنا جرم ہے جو ہیومن رائٹس کے فلسفہ کے تحت ایک قابل تحسین عمل ہے کیوں کہ ریڈانڈین تو ہیومن بینگ نہ تھے۔ ان کو امریکی صدر اینڈریو جیکسن نے بھیڑیے اور امریکی صدر ابراہم لنکن نے ’’بھینسوں سے بدتر‘‘ کہا۔ ان کو قتل کر کے ہی امریکا میں دستوری ریاست قائم ہوئی۔ اسی طرح لاکھوں ویت نامیوں، عراقیوں اور افغانیوں کا امریکی قتل عام ایک قابل تحسین عمل ہے اور کوئی بھی نہیں کہتا کہ اقوام متحدہ کے ۲۰۰۵ء میں منظور شدہ قرارداد[598] کے تحت امریکا کو سزا دینی چاہیے۔ بقول مشہور امریکی فلسفی مائیکل والزر، عراقی اور افغانی اونٹ اور گدھے تھے اور ان کا قتل عام بھی امریکا نے ہیومن رائٹس کے تحفظ کا فرض عین ادا کرنے کے لیے کیا۔

امریکا کو سرمایہ دارانہ بالادستی برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے کہ تمام سرمایہ دارانہ ریاستوں کی خود اختیاریت کو محدود کرے اور ایک عالمی ریاست تشکیل دیے بغیر ایسے ادارے اور ضوابط وضع کیے جائیں جو امریکا کے لیے یہ ممکن بنا دیں کہ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے فوجی اور غیرفوجی مداخلت(یعنی sanctionsکے نفوذ) کے ذریعے اپنی مخالف ریاستوں کو سزا دے۔ یہ بین الاقوامی ادارہ اور ضوابط ایک ایسا عالمی دستور اور نظام چلائیں جو غیرسرمایہ دارانہ حکومتوں اور ریاستوں کو مجرم قرار دیں اور ان کو سزا دینے کا جواز فراہم کریں۔ اس بین الاقوامی دستوری نظام کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کو جنگ اور تصادم سے محفوظ رکھنا ہو گا اور ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کرنے والی حکومتوں کو سزا دینا ہو گا، اس کے اور کوئی فرائض نہ ہوں گے۔ اور ہابرماس کی رائے میں اسی وجہ سے ہم اسے ایک بین الاقوامی دستور کہہ سکتے ہیں۔ یہ کوئی عالمی ریاست قائم نہیں کرے گا اور امریکا کی نظاماتی بالادستی کو دوام بخشنے کا ذریعہ بنے گا لیکن ایسے عالمی دستوری استعماری نظام میں اتنی گنجائش موجود رہے گی کہ ہر سرمایہ دارانہ ملک اپنا سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی خود متعین کر سکیں۔
ہابرماس کو اس بات کا احساس ہے کہ جس عالمی دستوری نظام کی وہ وکالت کر رہا ہے اس کو جمہوری عمل سے جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے وضع کردہ ضوابط اور قوانین کی جمہوری تصدیق تو سرے سے ممکن ہی نہیں ہوئی یا نہایت کمزور ہوئی [599]۔ لیکن ہابرماس کہتا ہے کہ چوں کہ عالمی دستوری نظام کا بنیادی مقصد ہیومن رائٹس کا تحفظ اور تحکیم قانون سرمایہ داری(Rule of the law of Capital) ہے[600] لہٰذا اس کی تصدیق کی کوئی ضرورت نہیں۔ سرمایہ دارانہ عدل کا فروغ اور ہیومن رائٹس کی فراہمی ہر سرمایہ دارانہ دستور کا مقدمہ ہوتا ہے اور انسان ہیومن بینگ بنتاہی اس وقت ہے جب وہ ہیومن رائٹس پر ایمان لائے لہٰذا ہیومن رائٹس کی تردید کا حق ہیومن بینگ کو نہیں دیا جا سکتا۔ جو ہیومن رائٹس کو مقدس عقیدہ کے طور پر قبول نہیں کرتے ان کو رائے دینے کا کیا حق ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ویسے ہی قتل کر دینا چاہیے جیسے امریکا نے ریڈانڈینز، عراقیوں اور افغانیوں کو قتل کیا۔

ہابرماس کہتا ہے کہ جن معاشروں(life world) میں ہیومن رائٹس کا عقیدہ مفقود تھاوہاں جمہوری عمل بھی ناپید تھا[601] کیوں کہ ہیومن رائٹس پر ایمان لانا ریشنلٹی(خود غرضی) کا تقاضا ہے۔ ریشنل افراد ہی ہیومن بینگ ہوتے ہیں۔ وہی اپنی خود ارادیت یعنی آزادی کو فروغ دینے کو زندگی کا مقصدِ عالی تصور کرتے ہیں۔ ایک ریشنل لائف ورلڈ میں سرمایے کی بڑھوتری یعنی آزادی کےلیے ہی قوانین وضع کیے جاتے ہیں۔ جمہوری عمل سے ان کا قریبی تعلق یہ ہے کہ یہ عمل ان کی تصدیق اور ترمیم کرتا ہے۔ لیکن جمہوری عمل ان کی اعتقاداتی بنیاد کو ردّ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہی بات قومی سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے لیے بھی درست ہے اور اس عالمی دستوریت کے لیے بھی جو سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ اور ہیومن رائٹس کے فروغ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعے اس نئی سرمایہ دارانہ استعماریت کی تردید تو نہیں کی جاسکتی لیکن جمہوری عمل اس نئے دستوری عالمی سرمایہ دارانہ استعماریت کو تقویت پہنچانے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہابرماس کہتا ہے کہ میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پوری دنیا میں اس دستور کی باج گذاری کی مقبولیت کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرے اور ہر ملک کے عوام کو قائل کرے کہ جب امریکی حکومت کسی حکومت کو مجرم قرار دے تو یہ جائز اور مستحسن ہے کہ اقوام متحدہ کے اداروں کو استعمال کر کے اس مجرم ملک اور اس کے عوام پر امریکا بم باری، تخریب کاری اور معاشی پابندیاں عائد کر کے وحشیانہ قتل و غارت مسلط کرے۔

عالمی دہشت گردی کا جو نیا جواز ہابرماس نے امریکا کو فراہم کیا ہے اس کی مقبولیت کو فروغ دینے کےلیے ہابرماس مذہبی حلقوں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے مستقل جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ ہابرماس کی طرح پوپ برناڈٹ۱۶ بھی ایک متشدد اسلام دشمن ہے[602]۔ ۲۰۰۵ء میں پوپ بنتے ہی اس بدمعاش نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی اور اپنے چھہ سالہ دورِ پاپائیت میں اسلام کو گالیاں بکتا رہا۔ہابرماس کو ۲۰۰۱ء کے بعد سے اس بات کا شدید احساس ہے کہ پوری دنیا میں(بشمول یورپ اور امریکا) مذہبی بیداری بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ اس بات سے خائف ہے کہ عیسائی حلقے بھی کسی نہ کسی حد تک سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی (Life world)سے براء ت کا رویہ اختیار کر لیں گے اور اگر ایسا ہوا تو اصل عیسائیت یعنی اسلام کا مغرب میں احیا نا گزیر ہو جائے گا۔ Ratzinger کے پوپ بننے کے بعد ہابرماس نے اس کے ساتھ مل کر عیسائیوں کو دہریت کے دائرے میں رکھنے کے لیے نئی جدوجہد کا آغاز کیا اور فلسفہ اور مذہب (یعنی عیسائیت )کے مابین مکالمے پر زور دیا۔ پوپ برناڈٹ ۱۶ اور ہابرماس نے مکالمہ کا آغاز اکیسویں صدی کی ابتدا میں اٹلی کے ایک رسالہ میں شائع ہونے والے اپنے مضامین سے کیا۔ یہ دونوں دہریے ایک ہی قسم کی معاشرت اور نظام کے قیام اور فروغ کے خواہاں ہیں لیکن اس معاشرت کے وجود اور غلبہ کے مختلف جواز پیش کرتے ہیں۔ تحریک تنویر اور کیتھولک مسخ شدہ عیسائیت میں مکالمہ اور نظاماتی اتفاق قائم کرنے کی جستجو ہے۔ اس مہم کی ایک اہم مثال پوپ برناڈٹ14 کا مکالمہ ہے[603]۔

ہابرماس کہتا ہے کہ ماڈرن دہری ریاست ہیومن رائٹس کے تصور پر قائم ہے اور اس کی رائے میں کیتھولک عیسائیت بھی ہیومن رائٹس کی قائل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیتھولک عیسائیت فرد کو خودمختار، آزاد اور مساوی قدر اور حیثیت رکھنے والا عامل(Agent)تصور کرتی ہے۔ لہٰذا اس تصور کو قبول کرتے ہوئے اگر اخلاقیات اور قانون کی کوئی دہری تاویل پیش کی جائے تو وہ کیتھولک عیسائیت کے لیے قابل قبول ہونی چاہیے اور ایک ایسا دستور ریاست جو لوگوں نے خود اپنی مرضی سے قبول کیا ہے کیتھولک عیسائیت کو اس کے وجود پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دستور کی بنیاد پرایک ریاست کے سٹیزن وہ قانون وضع کرتے ہیں جو ان کی خود مختاریت کا غماز ہو اور یہ قانون لازماً (انفرادی اور اجتماعی )آزادی کو فروغ دینے والا قانون ہوتا ہے۔ اس قانون کی حکم رانی(Rule of law) کے ذریعے سٹیزن اپنی حاکمیت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ قانون (اور اس قانون کی حاکمیت) خود اپنا جواز ہے کیوں کہ اس کی کوئی اساس (substance) نہیں ہوتی۔ یہ محض ضوابط کی ایک تنظیم ہوتا ہے اور ان ضوابط (Procedures)کے ذریعے تمام سٹیزن کی یکساں آزادی اور خود اختیاریت کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ تمام سٹیزن، ان کے نظریات خواہ کچھ بھی ہوں(عیسائی ، مسلمان یا ملحد)، سب ان ضوابط کو قبول کر سکتے ہیں کیوں کہ ان ضوابط میں اتنی گنجائش ہے کہ یہ عقائد اور نظریات کے افتراق کو تسلیم کرنے کے باوجود ان عقائد کے رکھنے والوں کی مساوی آزادانہ اور خودمختارانہ حیثیت کو تسلیم کریں۔ ہر نظریہ رکھنے والے کے لیے ان ضوابط کی حاکمیت کو تسلیم کرنا ریشنلٹی کا تقاضا ہے کیوں کہ اس طرح وہ اپنی مساویانہ آزادانہ خودمختاریت کو محفوظ کرتا ہے اور اس خودمختاریت کے فروغ کی پرامن راہ ہموار کرتا ہے۔ ایک دستوری جمہوری ریاست کی کارفرمائی کی ایک لازمی شرط یہ ہے کہ آزاد، خودمختار سٹیزن صرف اپنی انفرادی آزادی کو فروغ دینے میں دل چسپی نہ رکھیں بلکہ ان کی جدوجہد کا ایک مقصد اجتماعی آزادی (سرمایہ کی بڑھوتری) کا فروغ بھی ہو۔ اس اجتماعی آزادی کو فروغ دینے کی ذمہ داری کا احساس گروہی یگانگت (social solidarity)سے پیدا ہوتا ہے اور گو کہ ہابرماس کی رائے میں یہ احساس یگانگت جمہوری عمل میں شرکت بھی پیدا کرتی ہے لیکن اس یگانگت کو تقویت دینے والی دیگر معاشرتی قوتیں بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ مفادِ عامہ (اجتماعی آزادی اور سرمایے کی بڑھوتری) کا فروغ جمہوری عمل کے ذریعے احساسِ یگانگت کو فروغ دیتا ہے اور ہابرماس اس وجہ سے سوشل ڈیموکریٹ اصلاحات کا حامی ہے۔ اسی طرح قوم پرستی بھی گروہی یگانگت کو فروغ دینے والی یورپ میں ایک اہم معاشرتی قوت ہے۔

ہابرماس کی رائے میں مغرب میں احساسِ یگانگت دو وجوہات سے کم زور پڑ رہا ہے۔ ایک وجہ قومی سطح پر بڑھتی ہوئی نامساویت ہے۔ اس کی ذمہ دار نیولبرل(Neo Con) پالیسیاں ہیں جو یورپ اور امریکا کے بیش تر ممالک نے ۱۹۸۰ء کی دہائی سے اپنائی ہوئی ہیں۔ ان پالیسیوں کی تنفیذ کے نتیجے میں مارکیٹ کو ریاست کی گرفت سے آزاد کر دیا گیا اور معاشرتی فیصلوں میں جمہوری شرکت کی گنجائش محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہے۔ دوسرے بین الاقوامی سطح پر ایسے ادارے (مثلاً یورپی یونیں ،IMF,WTOوغیرہ) زیادہ بااختیار ہو گئے ہیں جو جمہوری عمل کے تسلط سے نسبتاً آزاد ہیں۔ ان دونوں وجوہات کی بنا پر معاشی نامساویت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور سماجی یگانگت کم زور پڑ رہی ہے۔

اس بڑھتی ہوئی معاشرتی بے گانگی نے ایک طرف تو پوسٹ ماڈرن ازم کو جنم دیا ہے جس کی رائے میں مغرب زوال پذیر ہے اور جو اہداف تحریک تنویر نے اپنے لیے منتخب کیے وہ ناقابلِ حصول ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سماجی یگانگت کو فروغ دینے کے لیے لازم ہے کہ مغرب میں عیسائی طرزِ زندگی اور نظام زندگی کا احیا ہو۔ اور ایران کی طرح یورپ بھی دہریت کو ردّ کر دے۔ ان حالات میں یورپ میں فلسفہ اور مذہب میں ایک وسیع اشتراکِ عمل کی ضرورت ہے۔ ہابرماس کے مطابق مذہب کوئی علمیت نہیں لیکن مذہب احساسات اور رجحانات کے تعین کا ایک اہم سرچشمہ ہے۔

عیسائیت نے احساسات کو عبادات، رسوم اور روایات کے ذریعے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک پروان چڑھایا ہے۔ اور اسی وجہ سے عیسائی گروہ بندیاں (communities) وہ روحانی طمانیت فراہم کرتی ہیں جو دہریہ گروہ بندیاں فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔روحانی طمانیت علم کے فروغ سے حاصل نہیں ہو سکتی، علم یعنی فلسفہ اور سائنس اپنی روحانی اور حساس(emotive) کم مائیگی کو خود ختم نہیں کر سکتے۔ اس کام کے لیے عیسائیت کے ساتھ اشتراک عمل ناگزیر ہے۔ مغربی فلسفہ کی عیسائی بنیادوں سے انکار ناممکن ہے[604]۔ مثلاً ابن اللہ کے تصور ہی سے خودمختار انفرادیت(autonomous being) کا تصور ماخوذ ہے اور مساوی آزادی کا تصور بھی۔ یہ عقیدہ کیتھولک مذہب بلکہ تمام عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو ابن اللہ مانتے ہیں[605] اور ملحدین کا تو بنیادی کلمہ ہی لاالہ الا انسان ہے۔ لہٰذا اس بات کا امکان موجود ہے کہ عیسائی عقائد کی ایسی ملحدانہ تشریح مرتب کی جائے جو تمام یورپ کے لیے قابل قبول ہو[606]۔ دستوری دہریہ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام نظریات اور رجحانات کو فروغ دے جو غیرجمہوری قوتوں کے بڑھتے ہوئے تسلط کے نتیجے میں معاشرتی بے گانگی کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ملحدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیکولر معاشرے اور ریاست میں عیسائیت کے لیے گنجائش پیدا کریں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں عیسائی بھی غیرجبری مواصلاتی عمل میں شریک ہو کر دہریت کو تقویت دیں اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے بے گانگی کے عمل کو کم کریں۔ دہریوں کو عیسائی روایات اور گروہ بندیوں کو محض نہ ٹالریٹ کرنا چاہیے اور مذہبی عقائد اور اعمال کو ذاتی زندگی تک محدود رکھنے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ عیسائی روایات، رسوم، اعتقادات، عبادات اور تعلیم کو پبلک زندگی سے اس طرح مربوط کرنا چاہیے کہ عیسائیت دہری نظام میں بڑھتی ہوئی بے گانگی کو کم کرنے کا ایک اہم معاشرتی وسیلہ بن جائے۔

مذہبی (بالخصوص عیسائی) گروہوں کو غیر جبری پبلک مواصلاتی نظام میں شامل کر کے ان کا سیاسی اثر قبول کرنے کی گنجائش دہریت فراہم کر سکتی ہے لیکن غیرجبری پبلک مواصلاتی نظام میں مذہب کو شریک ہونے کی اجازت اس صورت میں دی جا سکتی ہے کہ:

۱۔ مذہب اس بات کو قبول کرے کہ اس کی اپنی کوئی علمیت نہیں۔ وہ کائنات اور حیات کی حقیقت کے بارے میں جو دعویٰ کرتا ہے وہ دیومالائی(mythical) نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کو درست صرف اس صورت میں تسلیم کیا جا سکتا ہے جب تحریک تنویر سے برآمد شدہ عقلیت(سائنس،سوشل سائنس اور فلسفے) کی ایک تشریح کے طور پر وضع اور بیان کیا جائے۔

۲۔ مذہب اس بات کو بھی قبول کرے کہ اس کا پیش کردہ طرزِ زندگی معاشرتی غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ ایک مخصوص طرزِ زندگی ہے جو صرف وہ چھوٹی اقلیت اختیار کر سکتی ہے جس میں جذباتیت ریشنلٹی(خود غرضی) پر حاوی ہو۔ چرسی، بھنگی، اور آوارہ گروہ(vagabonds) وغیرہ اسی نوعیت کی اقلیتیں ہیں اور چرسیوں، بھنگیوں اور آوارہ گردوں کی طرح مذہبی گروہوں کو بھی ٹالریٹ کرنے کی سکت دہری سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں موجود ہے۔

چرسی، بھنگی، آوارہ گرد، آرٹسٹ اور مذہبی گروہ سب سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا حصہ ہیں۔ مذہبی گروہوں کو اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو فروغ دینے کے ایک وسیلے کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ ان کو پبلک غیرجبری مواصلاتی نظام میں شریک ہو کر تنویری اقدار اور ضوابط کی ایک ایسی مذہبی تشریح پیش کرنا چاہیے جو سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی، مساوات اور ترقی) کے حصول کی جدوجہد کو جذباتی جواز فراہم کرے اور اس معاشرتی بے گانگی(Aleination) کو کم کرے جو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے فروغ کے نتیجہ اور سو شل ڈیمو کریٹ پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھتی جا رہی ہے۔ہابرماس کو امید ہے کہ چرسیوں، بھنگیوں اور آوارہ گردوں کے مقابلے میں یہ کام مذہبی حلقے زیادہ موثر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ تنویری فکر عیسائی تصورات کی ایک جزوی تشریح نو ہی تو ہے۔ آج بھی دو پوپ بینی ڈکٹ ۱۴ اور فرانسس اول[607] ہابرماس کے ہم نوا ہیں۔ اٹلی اور جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹیوں نے صدیوں سے یہی ایجنڈے اپنائے ہوئے ہیں اور ان ممالک اور فرانس کی عیسائی ٹریڈ یونین کے وفاقوں کا بھی یہ ہی رویہ ہے ۔ مسلم دنیا میں اسلامی جمہوریت، اسلامی دستوریت اور اسلامی بینک کاری کے حق میں بھی اسلامی جماعتوں کا پروپیگنڈا عام ہے اور یہ سب جماعتیں ایک اسلامی سوشل ڈیموکریٹ دستوری ویلفیئر ریاست قائم کرنے کی آرزو رکھتی ہیں۔ لیکن ایران میں اپنی سال ہا سال کی جدوجہد کے باوجود ہابرماس اس پیش رفت سے مطمئن نہیں۔ امید پر دنیا قائم ہے کون جانے معتدل علماء (Moderate Clerics)ہابرماس کی یہ خواہش پوری کر کے ایران کو بھی عالمی سرمایہ دارانہ استعماری نظام اور طرز زندگی میں ضم کرنے کی راہ ہموار کر دیں۔

21.5۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات

ہابرماس کے پوسٹ ماڈرنسٹ اور اشتراکی نقادوں نے اس نظریہ کی تردید کی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں غیرجبری مواصلت کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان نقادوں میں ایک اہم نام پیری بوردو (Pierre Bourdieu) ہے[608] جو کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خصوصیت کبھی نہ ختم ہونے والی کش مکش ہے۔ یہ کش مکش تقسیم وسائل کے بارے میں بھی ہے اور تقسیم وسائل کے اصولوں کی مقبولیت کے بارے میں بھی۔ بوردو کے مطابق افراد ہر شعبہ زندگی میں اپنے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے مستقل جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ نظریات اور اشارات(Symbols)کی تخلیق اور تبلیغ بھی اسی غرض کو پورا کرنے کے لیے جاری رہتی ہے اور بودرو کے اس خیال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ افادہ پرست (Utilitarianism) فکر کو ایک بنیادی مفروضے کو قبول کرتا ہے۔ لیکن بوردو اس بات کا بھی قائل ہے کہ معاشرہ میں ایسی ساختیں (structures) اور ادارے موجود ہوتے ہیں جو انفرادی خواہش (conciousness)اور ارادہ کے اظہار کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتے۔ ہر فرد اپنے آپ کو اس ہیئتی ادارتی نظام میں کسی خاص مقام پر پاتا ہے اور لازماً محدود وسائل کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے مستقل جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ ان وسائل کو بودرو سرمایہ کہتا ہے اور بودرو کے مطابق سرمایہ کہ تین قسمیں ہیں:ثقافتی سرمایہ،معاشی سرمایہ اورعلاماتی سرمایہ۔

علاماتی سرمایہ سے بودرو کی مراد سرمایے کی وہ شکل ہے جو معاشی اور ثقافتی سرمایہ کی مختلف اقسام اس وقت حاصل کرتی ہیں جب وہ مقبولیت عامہ (legitimacy)حاصل کریں۔ معاشی، معاشرتی اور علاماتی سرمایہ کی ملکیت کے حصول کے ذریعے ہی نظاماتی تحکم (Social Power) حاصل کیا جا سکتا ہے۔ معاشی اور معاشرتی سرمایہ کو علاماتی سرمایہ میں تبدیل کرنے کی جدوجہد مستقل جاری رہتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی انحصاریت (economic dependence)کو اخلاقی انحصاریت (ethical dependence)میں تبدیل کر کے ہی سرمایہ دارانہ نظام ادارتی اقتدار کی ترتیب ممکن بنائی جاتی ہے۔ وسائل یعنی سرمایہ سے محروم افراد اور گروہ اپنی اس محرومی کو اس لیے قبول کرتے ہیں کہ وہ ضوابطی اور ادارتی کارفرمائی کو جائز سمجھنے پر راضی کر لیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم رونما ہوتی رہتی ہے۔ علاماتی سرمایہ ہر فرد میں ایک مخصوص تصورِ خوداظہاریت پیدا کرتا ہے اور ہر فرد کا نظاماتی تشخص اس کے طرزِ تصرف سے بھی اتنا ہی متاثر ہوتا ہے جتنا پیداواری نظام میں اس کی شرکت ہے[609]۔ہر فرد زیادہ سے زیادہ وسائل کے حصول کی جدوجہد یعنی بڑھوترئ سرمایہ کو مقدم رکھتا ہے لیکن ہر فرد کا تصورِ آزادی اور خود ارادیت یکساں نہیں۔ ایک آرٹسٹ کا تصورِآزادی خود اظہاریت ایک مزدور کے تصور ِخود ارادیت سے لازماً جدا ہو گا۔ مزدور آرٹ کا جواز خود آرٹ کے عمل کی توسیع میں نہیں دیکھے گا بلکہ آرٹ کو زندگی سے مربوط کرے گا۔ جو مزدور آرٹسٹک رجحان رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو مزدور طبقہ سے منفرد تصور کرے گا اور آرٹسٹک کمیونٹی سے روابط استوار کرے گا۔ لیکن وہ یہ کام معاشی وسائل کی دست یابی کے بغیر نہیں کر سکتا لہٰذا مزدور طبقہ میں آرٹسٹک انفرادیت کا ظہور کم کم ہی ہوتا ہے۔

معاشی سرمایہ انسانی ثقافتی سرمایہ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ معاشی اور ثقافتی سرمایہ کی تقسیم تضاداتی ہو سکتی ہے۔ مثلاً غالب طبقے میں معاشی قوت ریاستی اور مارکیٹ کے مینجروں کے ہاتھ میں ہے لیکن ثقافتی سرمایہ پروفیسروں، سائنس دانوں اور دوسرے عبقریوں(Intellectuals) کے ہاتھ میں ہے۔ طبقاتی کش مکش طبقات کے اندر بھی اتنی ہی شدت سے جاری رہتی ہے جتنا طبقات کے درمیان۔ ہر فرد اپنے معاشرتی مقام کے لحاظ سے اپنی سماجی قوت میں اضافہ کی جدوجہد میں مستقل شامل رہتا ہے اس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام میں اپنے غلبہ کو زیادہ سے زیادہ مقبول عام بنانا ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے لازم ہے کہ وہ جن وسائل پر حاوی ہو(معاشی یا ثقافتی) نظاماتی اقدار میں ان کی نظاماتی بالادستی کو فروغ دینے کے لیے جدوجہد کرتا رہے۔ ہر فرد اپنے نظاماتی مقام سے سرمایہ دارانہ عدل کی وہ تشریح پیش کرتا ہے جو اس کے انفرادی اور طبقاتی غلبہ کو زیادہ سے زیادہ جواز فراہم کرے۔ ہر دائرہ کار( اس کو بوردو feildکہتا ہے) میں مختلف وسائل رکھنے والے افراد کے درمیان کش مکش جاری رہتی ہے مثلاً آرٹ کے میدان میں کمرشل آرٹسٹوں کے پاس معاشی وسائل ہوتے ہیں اور تجریدی آرٹسٹ غریب ہوتے ہیں۔ لیکن بہترین تجریدی آرٹسٹوں کے پاس دولت کمانے کے وافر مواقع موجود رہتے ہیں لہٰذا اس میدان کار میں ثقافتی وسائل کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ چوں کہ ہر فرد سرمایہ دارانہ معاشرہ میں کسی نہ کسی طبقہ میں شامل ہے لہٰذا اس کے میلانات اور رویے ان امکانات کے تناظر میں مرتب ہوتے ہیں جو اس طبقہ کے طرزِ زندگی کے غماز ہوتے ہیں۔ بودرو اس تناظراتی امکان کو Habitus کہتا ہے۔ پرولتاریہ کی habitus اس کے محدود معاشی وسائل کی غماز ہیں لہٰذا ایک عام پرولتاری کی پسندیدگیاں سادہ اور کم خرچ ہوں گی اور اس کا تصور خود ارادیت اتنا گھمبیر اور پیچیدہ نہ ہو گا جتنا ایک عام بورژوا شخص کا۔ ہر habitus اپنی مخصوص صلاحیتیں بھی پیدا کرتی ہے اور جو تعلقاتی نظام وجود میں آتا ہے وہ اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ داخلی اور بین النظاماتی کش مکش کے باوجود اپنے آپ کو مستقل بار بار جنم (Reproduce)دیتا ہے۔ لہٰذا سرمایہ درانہ نظام میں کش مکش بھی دائمی ہے اور نظاماتی خودتخلیقیت مستقل جاری رہتی ہے۔اس خود تخلیقیت کے پیچھے کوئی شعوری قوت موجود نہیں ہوتی۔ دائرے کے اندر جاری رہنے والی کش مکش اور دائروں کے درمیان جاری رہنے والی کش مکش سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو مستقل تخلیق کرتی رہتی ہیں۔ ان کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا انہدام ممکن نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں مستقل جدوجہد سرمایہ درانہ نظام کے استحکام اور فروغ کا باعث بنتی ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کا باعث نہیں بنتی۔ سرمایہ آزادی کی واحد تجسیم ہے اور سرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد جو تنظیمی حدود عمل پر عائد کرتی ہے وہ ناقابلِ عبور ہیں۔ان حدود کو عبور کرنے کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام کو مستقل ری پروڈیوس کرتی رہتی ہیں لہٰذا یہ جدوجہد لامعنی اور نامعقول ہے۔ لیکن یہ جدوجہد زندگی کو آرٹ بنا دیتی ہے لہٰذا زندگی کو لہو و لعب سے منطبق کرنا ایک مستحسن عمل ہے۔ کالج دی فرانس میں اپنے افتتاحی خطاب میں بوردو نے معاشرت کو خدا کہا [610] لیکن اس کی پوری فکر اس بات کی عکاس ہے کہ معاشرہ ہرگز خدا نہیں کیوں کہ وہ حیات انسانی کو معنویت عطا کرنے سے قاصر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ کا کوئی وجود نہیں وہ تو محض افراد کے رضاکارانہ تعلقات کا مجموعہ ہے۔

22۔ اقبال احمد

پاکستانی سوشل ڈیموکریسی کی دو مختلف شکلیں ہیں۔ ایک وہ جو مسلم نیشنل ازم سے وابستہ ہو گئی ہے اور جس نے اسلامی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی پاکستان کو متاثر کیا[611]۔ دوسری وہ جو پاکستان کمیونسٹ پارٹی اور کمیونسٹ لیبر تحریک کے انتشار کے بعد امریکی استعمار نے پروان چڑھائی۔ امریکا نے اسی سوشل ڈیموکریسی کو فروغ دے کر لبرلوں اور سوشلسٹوں کے درمیان روابط بڑھائے یہاں تک کہ اب لبرل اور سوشلسٹ حلقے یک جان دو قالب ہو گئے ہیں۔ دونوں کی پرورش امریکا کرتا ہے اور دونوں نے سوشل ڈیموکریٹ پالیسی ایجنڈا اختیار کیا ہے۔ دونوں کی اہم قدر مشترک ان کی اسلام دشمنی ہے۔ اقبال (Eqbal)[612] اس گروہ کے اہم قائدین میں شامل تھا [613]۔ 

اقبال دو امریکی دہریوں ایڈورڈ سعید (Edward Said) اور نوم چومسکی کا قریبی ساتھی تھا۔ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ کی دہائیوں میں وہ اپنے آپ کو مارکسسٹ کہتا تھا۔ وہ ہندوستانی ریاستی اشرافیہ سے بھی قریبی تعلقات رکھتا تھا اور ۱۹۹۰ء تک پاکستان میں اس کا داخلہ ممنوع تھا۔ ویت نام کی جنگ کے اختتام (۱۹۷۵ء) کے بعد اس کے تعلقات امریکی ریاستی انتظامیہ سے استوار ہو گئے۔ وہ 1960ء کی دہائی میں امریکا منتقل ہو گیا تھا اور یونی ورسٹی سے ریٹائرمنٹ سے کچھ ہی عرصہ قبل اس کو امریکی حکومت نے اسلام آباد منتقل کر دیا۔ پاکستان آنے کے بعد اس نے اپنی سابقہ مارکس ازم کو ترک کر دیا اور کثیر الجہتی جمہوریت (Pluralist Democracy) کا وکیل بن گیا۔ امریکا میں اقبال نے اسرائیل میں جمہوریت کے نظام کے فروغ کے لیے جدوجہد کی اور فلسطین کی تحریک آزادی کو دہریت کو مکمل صمیم قلب کے ساتھ قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ اس نے عربوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جمہوریت کو قبول کریں اور عرب قوم پرستی اور اسلام کو ترک کر دیں۔ اقبال نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کا دعویٰ بالکل باطل ہے اور ارضِ فلسطین پر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں سب کا مشترکہ حق بنتا ہے۔اقبال ہر اسلامی سیاسی اظہار کو فاشزم قرار دیتا تھا۔ جب ہندوستان نے۱۹۹۸ء ایٹمی دھماکہ کیا تو اقبال نے پاکستانی جوابی نیوکلیئر دھماکے کی شدت سے مخالفت کی اور ہندوستان کی تزویراتی باج گزاری قبول کرنے پر اصرار کیا۔۱۹۹۸ء میں ہی اقبال مر گیا۔ اس کی موت کی منظر کشی اس کے آغاخانی داماد پرویز ہودبھائی نے اپنی کتاب میں کی ہے وہ لکھتا ہے:

بستر مرگ پر اقبال جانتے تھے کہ موت قریب ہے لیکن انہوں نے کوئی دعا کی نہ اقرار عقیدت۔ اپنے الحادی نظریات پر سختی سے ڈٹے رہے۔ موت کے وقت اقبال نے کسی مذہبی جذباتیت سے تسکین حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ بستر مرگ پر وہ مستقل نرسوں سے ہنسی مذاق اور چھیڑچھاڑ کرتے رہے۔

یوں اقبال ایک منکر حق کی موت مر گیا اور یہ بات سوشل ڈیموکریسی کے مخلصین مثلاً پرویز ہودبھائی کے لیے قابلِ فخر ہے۔

22.1۔ اقبال کی اسلام دشمنی

اپنے اس دور میں جب اقبال اپنے آپ کو مارکسسٹ کہتا تھا وہ انقلابی عسکری جدوجہد کا حامی تھا۔ اس نے ویت نام، چین اور کیوبا کی پرتشدد کمیونسٹ تحریکوں کی ستائش کی اور اس کی پاداش میں کئی امریکی یونی ورسٹیوں سے نکالا گیا۔ جب امریکا نے اس کو پاکستان بھیجا تو افغان مجاہدین کی جدوجہد کی مخالفت اس کے اہم ترین فرائض میں شامل تھی۔ امریکی محکمہ دفاع نے اقبال کو اس بات کی اجازت دی کہ ۱۹۸۰ء کی دہائی ہی میں وہ افغان مجاہدین کی مخالفت کرے حالانکہ ان مجاہدین سے امریکا خود عسکری تعاون کررہا تھا۔

اقبال کے بقول کمیونسٹوں کے لیے عسکری جدوجہد جائز ہے مجاہدین کے لیے جائز نہیں۔ کمیونسٹ عسکریت بقول اس کے نہایت محدود اور صرف انقلاب دشمنوں کے خلاف ہوتی ہے۔ عام شہری اس سے متاثر نہیں ہوتے۔ یہ بات بالکل جھوٹ ہے اورچینی، ویت نامی اور لاطینی امریکی کمیونسٹ جماعتوں اور حکومتوں کی تاریخ وحشیانہ عوامی بربریت سے بھری پڑی ہے۔ مثلاً کمبوڈیا کی کمیونسٹ پارٹی(Khemr Rouge) نے ۱۹۳۷ء میں باقاعدہ یہ پالیسی اختیار کی کہ مسلمان دیہاتوں (جہا ں چان مسلمان سیکڑوں سال سے آباد تھے) کو جب بھی موقع ملے آگ لگا دیتے رہنا چاہیے۔ آج بھی چینی کمیونسٹ مشرقی ترکستان ( ژنجیانگ) میں وحشیانہ بربریت کا مظاہرہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ اقبال حکومت کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اسلامی انقلابی جدوجہد کو کچلنے کے لیے ایک ہمہ جہت حکمت عملی مرتب کرے جس کا مقصد انقلابیوں کو عوام سے دور کرنا بھی ہو اور اسلامی انقلابیوں کے خلاف ریاستی استبدادی استعمار کا موثر استعمال بھی ہو۔ اسلامی انقلابیوں کو کچلنے کی مہم میں تعلیمی اداروں اور میڈیا کو حکومت سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے اور ان اسلامی تعلیمات کی تشہیر سے باز رہنا چاہیے جو جہاد کی فرضیت اجاگر کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنا تعلیمی اداروں اور میڈیا کا ایک اہم فریضہ ہے۔

معاشرتی تشدد کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی مدارس پر کڑی پابندیاں عائد کی جائیں اور اسلامی نظام تعلیم کے پھیلاؤ کو فی الفور ختم کیا جائے اور مدارس پر ریاستی استبدادی گرفت مضبوط کی جائے۔ حدود، قصاص، دیت اور توہین رسالت کے قوانین کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔ یہ قوانین عورتوں اور اقلیتوں کی معاشرتی توہین کا اہم ذریعہ ہیں۔ آزادئ نسواں کو فروغ دینا ریاست کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور امریکی پیسے سے چلنے والے Commission of Inquiry for Women کی ۱۹۹۸ء میں پیش کردہ تمام تجاویز کو قانونی شکل فی الفور دے دینا چاہیے۔

اقبال کی رائے میں پاکستان کو اسلامی تعلیمات اور تبلیغ سے شدید خطرہ ہے۔ مدرسین اور مبلغین جو فرسودہ اوردقیانوسی خیالات پھیلا رہے ہیں وہ معاشرتی اصلاح کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور اسلام کی متفق علیہ قدیم تعلیمات ماڈرن معاشروں کی ضروریات کو پورا کر نے سے قاصر ہیں مذہبی پروپیگنڈا کے خلاف ایک طاقت ور آواز اٹھنی چاہیے جو اسلام کی نامعقولیت دو اور دو چار کی طرح واضح کر دے۔ یہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے اور نجی شعبہ کی بھی۔

پاکستان میں اسلامی مدرسین اور مبلغین کی تعداد بقول اقبال کے نہایت محدود ہے اور انتخابی عمل نے بار بار ثابت کر دیا کہ ان کو عوامی حمایت حاصل نہیں لیکن ریاستی اشرافیہ ان سے مرعوب اور متاثر ہے۔ ان مٹھی بھر مبلغین اور مدرسین نے پاکستان کو یرغمال بنا لیا ہے اور پورے ملک کو دہشت گرد جہادی کارروائیوں سے بھر دیا ہے۔ حالانکہ فلسفہ جہاد بقول اقبال اسرائیلی، مصری، سعودی اور پاکستانی حکومتوں کا تراشیدہ نظریہ ہے اور اس کو کمیونسٹ اور قوم پرست تحریکوں کو کچلنے کے لیے ایجاد کیا گیا ہے۔ یہ کمیونسٹ اور قوم پرست تحریکیں سب دہریت کی علم بردار تھیں اور ان کا مقصد قومی خود ارادیت کا حصول تھا۔ ان تحاریک نے اپنے اندر پائے جانے والے جہادی عناصر کو خود سختی سے کچل دیا اور یہ ایک قابل رشک اور مستحسن عمل ہے۔

افغانستان میں جاری جدوجہد قومی خودمختاری (National libration) کی جدوجہد کبھی نہ تھی اور پاکستان کو اس سے مستقلاً لاتعلق رہنا چاہیے، ان لاکھوں مہاجرین اور مجاہدین کو ملک سے فی الفور نکال دینا چاہیے جو یہاں پناہ گزیں ہیں۔ اقبال کے بقول افغان جہاد نے پاکستان کو بے اندازہ نقصان پہنچایا ہے اور پاکستان عالمی دہشت گردی کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے اور یہاں منشیات کا کاروبار روز افزوں ترقی کر رہا ہے۔ اس جہاد کے نتیجے میں بقول اقبال خدا، بندوق اور سونے کے کاروباریوں میں ایک عدیم المثال اتحاد قائم ہو گیا ہے جو طویل عرصہ تک دیرپا ثابت ہوا ہے۔ ان جنگ جویانہ مہمات نے جماعت اسلامی جیسی کو پرامن پابند دستور جماعتوں کو متشدد اور جہادی بنا دیا ہے۔ افغان جہاد میں ملوث ہونے سے قبل جماعت اسلامی بقول اقبال ایک روایتی، پرامن، نیم دانش وروں کی جماعت تھی جو عسکری جدوجہد کی مخالف اور سیاسی مکالمے کے فروغ سے تبدیلی لانے پر یقین رکھتی تھی۔ اس نے ۱۹۴۸ء میں کشمیری جہاد میں پاکستان کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔ اب (یعنی ۱۹۹۸ء) میں جماعت اسلامی کشمیر اور افغانستان کے محاذوں پر مجاہدین کی پشت پناہ ہونے پر فخر کرتی ہے۔ وہ مجاہدین کی تربیت کرتی ہے جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان بھی عسکری تنظیمیں بنتی جا رہی ہیں۔ اور کئی دیگر غیرجمہوری عسکری اور نیم عسکری گروہ منظم ہوئے ہیں جو معاشرہ اور ریاست دونوں کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ اقبال کہتا ہے : ’’سٹیزن ہوشیار! کہیں پاکستان افغانستان نہ بن جائے‘‘[614]۔

امریکا کی ایما پر پاکستان واپسی کے بعد[615] اقبال نے پاکستان کو ایک دہریہ ریاست بنانے میں بھرپور شرکت کی۔ اقبال کی رائے میں اسلامی قوانین اور ضوابط کے مطابق ریاستی تعمیر اور تشکیل پاکستان کو تباہ کر دے گی۔ وہ ہمیشہ قادیانیوں کا قریبی ساتھی اور ہم نوا تھا [616]۔ بھٹو نے جب دستور میں تر میم کے ذریعے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا تو اقبال نے کہا کہ یہ پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضیاء الحق کی اسلام کاری (Islamization) کی مہمات نے پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ اسلامی تحریکات نے ایک اسلامی ’’سنہرے دور‘‘ کی من گھڑت داستان عوام میں پھیلا دی ہے۔ یہ سنہری دور کبھی وجود نہ رکھتا تھا۔ یہ سنہری دور محض اسلامی پروپیگنڈا کرنے والوں کی خواہشوں اور نفرتوں سے عبارت کیا گیا ہے۔ یہ سنہرا دور دیومالائی ہے تاریخی حقائق سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔ پاکستانی اسکولوں میں ایک ایسا نصاب مسلط کیا گیا ہے جو اس دیومالائی دور کی من گھڑت سرگزشتوں پر مبنی ہے اور یہ نصاب تعلیم فرقہ وارانہ عصبیت نفرت کی پرورش کرتا ہے۔ تحریک پاکستان کی جو من گھڑت داستان مطالعہ پاکستان کے کورس میں پڑھائی جاتی ہے اس کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس تحریک نے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کا کوئی تصور کبھی نہیں دیا بلکہ تحریک پاکستان ایک خالص دہریہ تحریک تھی۔ اس بات کو چھپانے کے لیے پاکستانی حکومت نے تاریخ کو مسخ کر دیا ہے۔ اسلامی نصاب کو بھی مسخ کر دیا گیا ہے اور بقول اقبال قیام پاکستان سے لے کر ۱۹۹۸ء تک ملک میں ایک بھی اسلامی تاریخ یا دینیات پر ایک بھی قابل وقعت کتاب یا مقالہ تصنیف نہیں کیا گیا۔ اسلامی نصاب دقیانوسی عبادات اور رسوم، شرعی تفاسیر اور جہادی روایات کا قابل نفرت ملغوبہ ہے۔ اقبال اس بات کا شاکی ہے کہ پاکستانی جامعات خوارج اور معتزلہ کے وقیع کارناموں کی تحسین کرنے کے مواقع فراہم نہیں کرتیں۔ مدارس جہالت کو فروغ دینے والے گڑھ ہیں اور افسوس ہے کہ حکومتیں ان کی مالی سرپرستی کر رہی ہیں۔ اقبال نوحہ کناں ہے کہ پاکستان ابن سینا اور فارابی جیسے ملحد دہریہ پیدا کرنے کے کوئی مواقع فراہم نہیں کر رہا۔ پاکستانی مدارس نے ہی افغان دہشت گرد پیدا اور پرورش کیے اور پاکستان میں بھی ایک اسلامی ریاست کے قیام کا خواب دیکھتے ہیں۔ جس میں شرع نافذ ہو گی اور زمام کار علما کے ہاتھ میں ہو گی۔

اقبال کہتا ہے کہ راسخ العقیدہ علما نے اسلامی تعلیمات کو مسخ کر دیا۔ وہ بادشاہوں، وزیروں ، جاگیرداروں اور تاجروں کے باج گزار غلام تھے۔ علما کی ایک مذموم روایتی تخریب کاری نے اسلامی سیاسی فکر کو مجروح کیا ہے۔ انیسویں صدی میں بیش تر علما استعمار کے آلہ کار بن گئے۔ بیسویں صدی میں جن لوگوں نے اقبال کے مطابق اسلام کی صحیح تعبیر پیش کی ان کے نام یہ ہیں[617]:Louis Massignon, Joacques Berque, Maxine Rudinson, Yues Lacoste,Roger Aronalder, HAR Gibb, Wilfred Candwell Smith اور Norman Dania

دورِ حاضر [618]میں راسخ العقیدہ اسلام کے مقابلہ کے لیے اسلامی تاریخ اور روایات کی ترقی پسند تشریح کی شدید ضرورت ہے۔ مسلم دنیا میں قائم حکومتیں عوام کے مسائل حل نہیں کر پا رہی ہیں اور ان کی اسی ناکامی کی وجہ سے راسخ العقیدہ اسلامی تحریکات فروغ پا رہی ہیں۔ آج روایتی علما ایک سخت (Rigid)رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور جدید طرزِ تنقید کے اسلوب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مغربی تعلیم پانے والے مسلمانوں بھی مغرب نے اسلامی تاریخ اور مذہبی روایات کی تشریح نو کے سلسلے میں قابل قدر کام کیا ہے اس کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ موڈریٹ مسلمان بھی اسلام کی تجددی (Innovative) تشریح پیش کرتے ہوئے ہچکچانے لگے ہیں۔ اسلامی معذرت خواہ[619](Apologist)بھی امیر علی کے نقش قدم پر چل کر قدیم اسلامی تاریخی حقائق کی رومانوی تصویر کشی کرتے ہیں اور جدید اسلوب تنقید کے پیمانوں پر اسلامی روایات کو نہیں جانچتے۔بقول اقبال 1495ء سے لے کر آج تک مسلم ریاستیں دہریہ ریاستیں رہی ہیں۔ مسلم عوام اور علما سب نے دہریت کو قبول کیا ہے اور بقول اقبال امام ماوردی، امام بغدادی، امام غزالی اور امام ابن حزم (رحمہم اللہ) سب دہریے تھے (معاذاللہ)۔ اور سب نے دہریت کے علمی جواز مرتب کیے ہیں۔ غلبہ دین کی تحریکات کا ابھرنا تو ایک المیہ اور سانحہ ہے (جو عیسائی تاریخ میں بھی رونما ہوتا رہا ہے) اور غلبہ دین کی تحاریک صرف اضطراری ادوار (time of crises)میں نمایاں ہوتی ہیں۔

دہریت کی عمومی مقبولیت کی یہ ایک اہم دلیل ہے کہ یہودی، عیسائی اور ہندو ہمیشہ اسلامی تہذیب کا اہم ترین جزو رہے ہیں اور اسلامی تہذیب نے سائنس، فلسفہ، سیاسیات، آرٹ اور موسیقی کے ضمن میں جو نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں ان سب میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کا بہت اہم حصہ ہے۔ بقول اقبال اسلام کی اپنی کوئی منفرد اقدار اور اخلاق (Ethics) نہیں۔ یہ انہی آفاقی اقدار اور اخلاقیات کا ایک منفرد مظہر ہے جس کی تمام مذاہب اور فلسفے ترجمانی کرتے ہیں۔بقول اقبال عیسائی اور اسلامی معاشرت اورسیاست میں علمائے دین کا کردار یکساں رہا ہے۔ ا سلامی نے کبھی بھی اصلاحی اور انقلابی تحاریک کا ساتھ نہیں دیا۔ عیسائی اور مسلمان علماء سب دہریہ تھے (معاذ اللہ) اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ریاستی استبداد کا جواز پیش کرتے تھے۔

بقول اقبال نفاذ شریعت محض ایک معاشرتی عمل ہے جو لوگ اپنی پسند سے خود کبھی کبھی اختیار کر لیتے ہیں۔ ریاستی کاروبار کی ترویج اور تنفیذ سے شریعت کا کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی ریاست کے قیام کی تحریکیں مسلم تاریخ میں بالکل اجنبی ہیں اور اصل تاریخی دھارے سے کٹی ہوئی جہتیں (phenomenon) ہیں۔ ان تحریکوں کا ساتھ عوام کی اکثریت نے کبھی بھی نہیں دیا۔ 

مسلم ملکوں میں عوامی پذیرائی بقول اقبال ان ماڈرنسٹ مفکرین کو حاصل ہوئی جو اسلامی روایات کی ایک جدیدی تعبیر پیش کرتے تھے[620]۔ ان سب نے آیت اللہ خمینی نے بھی ایک کثیر الجہتی(pluralist) سیاسی نظام اور جمہوری پارلیمینٹرین ازم کی حمایت کی تھی۔ انقلاب کے بعد بقول اقبال امام خمینی رحمہ اللہ ایک منافق ثابت ہوئے (معاذاللہ) اور انہوں نے انقلاب ایران سے غداری کر کے اس کو تباہ کر دیا۔مسلم ممالک میں عوام اور علماء سب دہریہ ہیں (معاذاللہ)۔ سب اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ اسلامی احکام کو ذاتی زندگی تک محدود کر دیا جائے اور ہر فرد کو آزادی دے دی جائے کہ وہ چاہے تو ان احکامات کی پابندی کرے چاہے نہ کرے۔ غلبہ دین کی تحریکات اقبال کے بقول اسرائیل نے تخلیق کی ہیں۔ حماس کو اسرائیل آگے لایا ہے تاکہ مسلم اور عیسائی فلسطینیوں میں تعاون ختم کیا جائے۔ بقول اقبال مسلم دنیا میں غلبہ دین کی جدوجہد ایک یہودی سازش ہے[621]۔ 

اقبال کہتاہے کہ یورپ کی استعماری فتح کے نتیجے میں مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہو گیا لیکن اس کالونیل (colonial) سرمایہ داری کا فائدہ مغرب ہی کو پہنچا، مسلم عوام کو نہیں۔ یہاں سرمایہ دارانہ ظلم عام ہو گیا اور ماڈرنٹی (Modernisation) کا عمل مسخ ہو گیا۔ قدیم روایتی ادارے مثلاً خاندان، قبیلہ، صوفی برادریاں وغیرہ مسخر نہ کیے جا سکے اور قومی معیشت بھی سرمایہ دارانہ خطوط پر مرتب نہ کی جا سکی جس کے نتیجے میں عوام کی عظیم اکثریت بدستور افلاس کا شکار رہی۔ چوں کہ حکمران باہر سے آتے تھے لہٰذا معاشرت اور ریاست کا تعلق بڑی حد تک منقطع ہو گیا۔ غلبہ دین کی تحریکات اسی خلا کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی عوامی پذیرائی کی بنیاد یہ نہیں کہ لوگ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواہش مند ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ ماڈرن ازم کی مایوسیوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ غلبہ دین کی جدوجہد بہتر معیار زندگی اور قومی آزادی کے فروغ کے مواقع فراہم کرے گی۔

اقبال کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی مذہبی فکر اور طرزِحیات کو نامعقول ثابت کر دیتا ہے۔ وہ قانون حاکمیت سرمایہ (Rule of law of capital)کے ذریعے تمام مذہبی رسوم اور رواج کو تحلیل کر دیتا ہے۔ مذہبی معاشرت لازماً سرمایہ دارانہ معاشرت سے شکست کھا جاتی ہے لیکن سرمایہ داری کی فتح فوراً عمل میں نہیں آتی اس میں وقت لگتا ہے۔ سرمایہ داری کی اس ناگزیر فتح کو پرامن اور جمہوری طریقے سے ممکن بنانے کے لیے مصلحین (Reformist)سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی ایک مقامی تشریح پیش کرتے ہیں۔ بقول اقبال برصغیر کے مسلمانوں کے لیے یہ کام سرسید اور علامہ اقبال نے کیا[622]۔ اور آج کل (یعنی ۱۹۹۸ء میں[623]) یہ کام امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کر رہے ہیں۔ 

اس کے برعکس غلبہ دین کے لیے جدوجہد کرنے والے (اقبال ان کو restorationistsکہتا ہے) مغرب اور سرمایہ داری سے تصادم کے خواہاں ہیں۔ یہ لوگ منافق ہیں، اسلامی تعلیمات کے صرف ان حصوں پر زور دیتے ہیں جو ان کے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں۔ قتال سے جہاد کا کوئی تعلق نہیں، جہاد کا مقصد غربت کو ختم کر کے سرمایہ کی بڑھوتری اور معاشی ترقی کو ممکن بنانا ہے۔ مجاہدین اسلام صوفیائے کرام کے مخالف ہیں۔ آج (۱۹۹۸ء میں [624]) پاکستان کے عظیم ترین صوفی دو ہیں۔ ایک اختر حمید خان (یہ وہ مرتد ہے جو اسلام چھوڑ کر بدھسٹ ہو گیا تھا) اور دوسرا عبدالستار ایدھی (جو یورپی اور امریکی حکومتوں سے بھیک مانگتاپھرتا ہے)۔ راسخ العقیدہ مسلمان گمراہ ہیں۔ اسلام کی صحیح تعبیر تو منکر حدیث ڈاکٹر فضل الرحمان نے پیش کی ہے۔ اصل اسلام تو انسان پرستی (Humanism)کی ایک شکل ہے۔ راسخ العقیدہ مسلمان ایک سکڑی(narrow) ہوئی تشریح پیش کرتے ہیں۔ وہ معاشرتی کثیر الجہتی (Pluralism) سے خائف ہیں۔ اسلام کو سزاؤں کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والے مذہبی فاشسٹ ہیں۔ ان کو روحانیت سے کوئی واسطہ نہیں۔ وہ اسلامی تعلیمات کوصرف حصولِ اقتدار کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والے جس سنہری دور کی طرف مراجعت کے خواہاں ہیں (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دور) وہ محض ایک دیومالائی کہانی ہے تاریخی حقیقت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور کی جو تشریح راسخ العقیدہ علما پیش کرتے ہیں وہ انہوں نے اپنے گروہی مفادات کے فروغ کے لیے گھڑی ہے۔ علمائے اسلام سیاسی طالع آزما ہیں۔ وہ احساسِ برتری کا شکار ہیں اور اپنی معاشرتی برتری کا اظہار نفرت پھیلا کر کر رہے ہیں۔ وہ عورتوں کے دشمن ہیں اور ایسی روایات کو مقدس بنا کر پیش کرتے ہیں جو عورتوں کو جنسی آزادی کی تنسیخ کرتی ہیں۔ وہ طبقاتی سماجی محرومیوں کو ہوا دے کر اس سے سیاسی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ وہ علم اور ثقافت سے نفرت کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ علمی اور ثقافتی اداروں پر قبضہ جما کر آزادی اور ترقی کے فروغ کو ناممکن بنا دیں۔ وہ جمہوریت کو ردّ کرتے ہیں۔ وہ ریشنل یعنی خودغرضانہ بنیادوں پر معاشرتی اور ریاستی پالیسی سازی کے اصول کو قبول نہیں کرتے۔ وہ کثیرالجہتی معاشرت(pluralism) کے دشمن ہیں۔ وہ دہریہ قوانین سازی کے عمل کے مخالف ہیں۔ وہ ہر قسم کی آمریت کے فطری حلیف ہیں۔

اقبال کہتا ہے یہ تحریکات ناکام ہوں گی۔ وہ عالمی سرمایہ داری کو کبھی شکست نہیں دے سکتیں۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا عالمی غلبہ ناگزیر ہے لیکن اسلامی تحریکات کو شکست دینے میں وقت لگے گا اور اس دوران تحریکات اسلامی سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کو بہت نقصان پہنچا سکتی ہیں لہٰذا سب کو ان تحریکات اسلامی کے خلاف مسلسل جنگ کرنے کے لیے کمربستہ ہونا چاہیے۔بقول اقبال تمام لوگ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی فوقیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جمہوریت کے ذریعے ہی تحریکات اسلامی کو شکست دی جا سکتی ہے لیکن پاکستان کی ریاستی اشرافیہ (political elite) کا عمل جمہوری نہیں۔ اس نے سرمایہ کے قانون کی حکمرانی (Rule of law of Capital)کو ناممکن بنا دیا ہے۔ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے اقبال کہتا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں دیر پا اشتراک عمل کا فروغ دینا لازمی ہے۔ یہ دونوں معتدل، سرمایہ دارانہ استعمار نواز جماعتیں مل کر قانون کی حکمرانی کو مستقل بنا سکتی ہیں اور یہ عمل آمریت اور تحریکات اسلامی کے غلبہ کو ناممکن بنا دے گا [625]۔

اسلامی تحریکات کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی جمہوری تعبیر مرتب اور مشتہر کی جائے[626] اور سب کو یہ باور کرایا جائے کہ آزادی، مساوات اور برداشت[627] بنیادی اسلامی اقدار ہیں۔ پاکستان میں ٹالرنس کا فقدان ہے اور مقامی زبانوں کا میڈیا اس فقدان کو کم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان میں سرمایہ دارانہ عدل کا بھی فقدان ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل بقول اقبال یہ نہیں کہ وسائل کی مساویانہ تقسیم ہو بلکہ سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ہر فرد کو سرمایہ دارانہ حقوق یعنی ہیومن رائٹس اور سوشل رائٹس فراہم کیے جائیں۔ شرع کی تنفیذ اور اسلامی حدوداللہ کی تنفیذ سراسر ظلم ہیں کیوں کہ یہ لازماً بقول اقبال ہیومن اور سوشل رائٹس کی نفی ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دیت، شہادت، تحدید زنا، تحدید توہین رسالت اور دیگر تمام شرعی قوانین کو فی الفور ختم کیا جائے۔ بقول اقبال سرمایہ دارانہ عدل کی بہترین تشریح امریکی دستور پیش کرتا ہے۔ پاکستان کے نظام عدل میں دو دستوری اندراجات نے دھجیاں اڑا دی ہیں۔ ایک دستور پاکستان کی وہ شق جو غیرمسلموں کو ریاست کے سربراہ ہونے کے حق سے محروم کرتا ہے اور دوسرے دستورِ پاکستان کی وہ شق ہے جس کے تحت قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا ہے۔ اقبال نوحہ کناں ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کے تحت بدھسٹ اختر حمید خان پر کیوں مقدمہ چلایا گیا اور کیوں اس قانون کے تحت سیکڑوں قادیانیوں کو جیل بھیجاجارہا ہے۔

22.2۔ استعمار کا پاکستان

سوشل ڈیموکریٹ استعماری نظام کے ہمیشہ باج گزار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مدت سے پاکستانی سوشل ڈیموکریٹ مفکرین اور جماعتوں کو امریکی اعانت حاصل ہے۔ اقبال پاکستان میں امریکی گھس بیٹھیا تھا [628]۔ پاکستان آنے کے بعد سے اپنی موت تک وہ یہی کوشش کرتا رہا کہ پاکستانی پالیسی سازی کو امریکی علاقائی حکمت عملی کے اہداف کے حصول کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ اس ضمن میں ایک اہم ضرورت یہ تھی کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو مسخ اور مجروح کیا جائے اور قیام پاکستان کی تحریک کو ایک معمولی قوم پرستانہ سرمایہ دارانہ تحریک کے طور پر پیش کیا جائے جس کا غلبہ دین کی امنگ سے کوئی واسطہ نہیں۔ اقبال کہتا ہے کہ جناح صاحب نے معاشی ترقی اور سرمایہ درانہ عدل کے حصول، قدیم روایات سے چھٹکارہ پانے اور ایک تنویری مستقبل کے فروغ کے لیے تحریک پاکستان چلائی جس کا غلبہ دین سے کوئی واسطہ نہیں۔ شہید جہاد افغانستان ضیاء الحق کے دور سے اس چیز کو چھپانے کے لیے پاکستانی نصاب تعلیم جھوٹی روایات گھڑ رہا ہے جس سے مذہبی جنون اور نفرتیں پرورش پا رہی ہیں۔ بقول اقبال جناح صاحب ایک کٹر دہریہ (secularist) تھے اور علما کی عظیم اکثریت نے تحریک پاکستان کی شدید مخالفت کی۔ پاکستانی نصاب کی تبدیلی اور اس کے دہریانے (Secularization) کی شدید ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے امریکی ادارہ یو ایس ایڈ[629] ہر سال لاکھوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔

اقبال کہتا ہے کہ ہندوستان کے مسلم عوام نے جناح صاحب کا ساتھ اس لیے دیا کہ وہ شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید اور علی برادران رحمہم اللہ کے نظریات کو ردّ کر چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس دور میں غلبہ دین ناممکن ہے اور جہاد جیسا کہ غلام احمد قادیانی ثابت کر چکا تھا نہ ممکن ہے اور نہ لازم۔ لہٰذا انہوں نے جناح جیسے دہریہ، ریشنل یعنی خودغرض، ماڈرن اور اسلامی طرزِ حیات کو ترک کرنے والے قائد کی آواز پر لبیک کہا۔ جناح صاحب اسلامی اشارات (symbols) عوامی تحرک پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے لیکن وہ ایک دہریہ، ماڈرن ریاست کے قیام کے حامی تھے۔ جناح صاحب ایک منافق تھے اور ان کی اس منافقت کو پوری قوم نے سراہا کیوں کہ پوری مسلم قوم منافق ہو گئی تھی۔ جناح صاحب کے خلاف اس قسم کی دشنام طرازی کئی دہریوں نے کی ہے جن میں اقبال کے علاوہ عائشہ جلال، سعد خیری، زیڈ ایچ زیدی اور ایچ ایم شیروانی شامل ہیں۔

پاکستانی ریاستی نظام میں شکست و ریخت اقبال کے مطابق ماڈرن ازم کو فروغ دینے والی پالیسیوں کے نہ ہونے یا ناکافی ہونے کے باعث ہے۔۷۱-۱۹۷۰ء میں اقبال عوامی لیگ کا پرجوش حامی اور پاکستان کو دو لخت کرنے کی کوششوں کا شدید حمائتی تھا اور عالمی استعماری میڈیا میں اس ادا کی خوب پذیرائی کی گئی[630] اور بھارت میں بھی وہ خوب مقبول ہوا[631]۔ اقبال کے مطابق لبرل اور سوشل حقوق کی عدم فراہمی پاکستان کو ایک فاشسٹ ریاست میں تبدیل کر رہی ہے۔ اپنی امریکا نوازی کو فروغ دینے کے لیے اور امریکن دفتر خارجہ میں اپنی ساکھ بڑھانے کے لیے اقبال نے ۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۷ء تک بھٹو حکومت کی مخالفت کی( اس کے باوجود کہ اس دور میں وہ اپنے آپ کو سوشلسٹ کہتا تھا)۔

اقبال تسلیم کرتا ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی فاشسٹ حکومتوں کی سرپرستی کرتی ہے لیکن اس کی وجہ تزویراتی (Strategic) اور علاقائی توازنِ امن کو فروغ دینا ہے۔ اس کے باوجود اقبال کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی دور رس (long term) امکانات پر نظر نہیں رکھتی مثلاً بھٹو نے ہندوستان سے مصالحت کر کے اور بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے امریکی اثر و رسوخ کو تقویت دینے کے لیے جو امکانات جنوبی ایشیا میں پیدا کیے ہیں ان سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ گو کہ اقبال امریکا کو یاد دلاتا ہے کہ بھٹو کا ناقابل معافی جرم قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینا ہے۔ لیکن امریکا کا اصل مفاد اس میں ہے کہ پاکستان میں فاشزم کے فروغ کا رجحان ختم کیا جائے اور پاکستان کو ایک لبرل یا سوشلسٹ ڈیموکریٹک سرمایہ دارانہ ریاست بنا دیا جائے۔

پاکستان میں ایک سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کا قیام دشوار ہے کیوں کہ ریاستی اشرافیہ کی بالادستی کو جواز (ligitimacy) حاصل نہیں۔ بقول اقبال تحریک پاکستان سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد ایسا قومی نظریہ تشکیل نہ دیا جا سکا جو سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کو حاکموں کی ذمہ داری بنا دے۔ بقول اقبال جب ایک مسلمان ایک اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ دراصل آزادی، ترقی اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے اپنے ہیومن رائٹس اور سوشل رائٹس کا مطالبہ کرتا ہے۔ چوں کہ پاکستانی حکومتوں نے سرمایہ دارانہ عدل، آزادی اور رائٹس فراہم نہیں کیے لہٰذا ان کو عوام سے کوئی حکومتی جواز (Governing ligitimacy) حاصل نہیں ہوا۔ بقول اقبال ایوب خان کو اس بات کا احساس تھا کہ لوگوں کا اسلام پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے اس لیے اس نے ۱۹۶۲ء میں جو دستور دیا اس میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ نہیں گردانا گیا۔ لیکن ایوب خان، بھٹو اور ضیاء الحق نے جن نظریات کا پرچار کیا[632] ان میں کوئی حکومتی جواز فراہم نہیں کرسکا کیوں کہ حکومت سرمایہ دارانہ عدل، ترقی اور آزادی کو عوام کے لیے فراہم نہ کر سکی۔

حکومتی جواز (Governing ligitimacy) کی عدم موجودگی اور سرمایہ دارانہ عدل اور آزادی کی نافراہمی کی اصل وجہ اقبال کے مطابق فوج اور بیوروکریسی کی ریاستی نظام میں بالادستی ہے۔ وہ بھٹو پر الزام لگاتا ہے کہ۱۹۷۲ء میں اس کو موقع ملا کہ وہ فوج کو کم زور بے دست و پا کر دے لیکن بھٹو نے یہ نادر موقع گنوا دیا۔ بقول اقبال بھٹو کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے ریاستی بیوروکریسی کو کم زور کیا۔ بیوروکریسی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کو مہذب بنانے والی سب سے اہم قوت ہے۔ بقول اقبال پاکستان کے وجود اور اس کی سالمیت کو شدید خطرہ ہے[633] اور اس کا سبب ریاستی مرکزیت (state centralization) اور سندھیوں اور بلوچوں کو سیاسی اور معاشی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ ۱۹۸۰ء میں اقبال نے پیش گوئی کی کہ پاکستانی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس معاشی تباہی کا ذمہ دار اقبال نے بھٹو کو ٹھہرایا۔ بقول اقبال، بھٹو ابھرتے ہوئے سرمایہ دار طبقہ (جس کو وہ Entrepreneur Classکہتا ہے) کوکچل دیا اور بھٹو کو فنانشل اور صنعتی شعبوں کی قومیانےکی پالیسی ملک کے لیے نہایت مضر ثابت ہوئی۔ بیش تر سوشل ڈیموکریٹوں کی طرح اقبال بھی ریاستی اور نجی سرمایہ کاروں میں تعاون کو فروغ دینے کا حامی ہے۔ وہ نجی سرمایہ کاری کو ختم کرنے کے خلاف ہے[634]۔ 

سوشل ڈیموکریٹ فطری طور پر استعمار کے حلیف ہوتے ہیں [635]۔ اقبال تو پاکستان آیا ہی امریکی استعماری مقاصد کو فروغ دینے کے لیے تھا۔ یہ بات اس مہم سے واضح ہو گئی جو اس نے اور اس کے آغاخانی داماد پرویز ہودبھائی نے ۹۸-۱۹۹۷ء میں پاکستان کی نیوکلیئر پالیسی کے خلاف چلائی۔ اقبال نے پاکستان کو جوابی نیوکلیئر دھماکا کرنے سے روکنے کے لیے جو دلیلیں دیں ان کی تلخیص حسب ذیل ہیں۔

نیوکلیئر ہتھیاروں کا حصول بقول اقبال قومی صلاحیت میں اضافہ کا سبب نہیں بنتا۔ اصل قوت تو معاشی، مواصلاتی اور علمیاتی ہے۔ پاکستانی حکام کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ دورِ حاضر میں نیوکلیئر ہتھیار رکھنے والے ممالک اصل میں طاقت ور نہیں ہوتے۔ عالمی سطح پر امریکا کی غیرمشروط بالادستی کا اس کے نیوکلیئر قوت ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ امریکا خوب جانتا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار کبھی استعمال نہیں کیے جا سکتے اور نہ امریکا ہیروشیما کی ہول ناک تباہی کے بعد دوبارہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا تصور کر سکتا ہے۔ کیوبا اور ویت نام نے امریکا کو عسکری شکست دی حالانکہ امریکا ایک نیوکلیئر قوت ہے لیکن کیوبا اور ویت نام[636] بغیر نیوکلیئر قوت ہونے کے تیزی سے ترقی کرتی رہیں[637] اور اسرائیل نے جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے انبار لگا لیے ہیں اس سے اس کی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ جاپان جس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہیں چین سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے[638]۔ نیوکلیئر تجربہ کر کے بھارت نے اپنی علاقائی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس سے علاقائی عسکری توازن میں کوئی فرق نہیں پڑا نہ چین کے مابین نہ پاکستان کے مابین[639] نیوکلیئر دھماکے کے نتیجے میں ہندوستان پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں اس کے نتیجہ میں معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی اور بھارت کساد بازاری کا شکار ہو جائے گا[640]۔ 

پاکستان کو ہر گز بے نظیر بھٹو اور قاضی حسین احمد جیسے مطلب پرست سیاست دانوں کی بات نہیں ماننی چاہیے اور ہرگز جوابی نیوکلیئر دھماکا نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان نے جوابی نیوکلیئر تجربہ کیا تو عالمی مذمت جس کا آج بھارت کو سامنا ہے اس کا رخ پاکستان کی طرف کہیں زیادہ ہو گا۔ ہمیں نیوکلیئر مخالفت کی عالمی لہر سے فائدہ اٹھا کر بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے[641] اور اس طرح ہمیں جو عالمی بھیک (foreign aid) مل رہی ہے اس میں اضافہ ہو جائے گا۔ پاکستان کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ بھارتی نیوکلیئر دھماکے کے نتیجے میں اس کی دفاعی صلاحیت (deterence capability)بالکل متاثر نہیں ہو گی[642]۔ ہم کسی حالت میں بھی ہندوستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور پاکستان کو ہتھیاروں کی دوڑ میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے۔ اس سے پاکستان کو ناقابل تلافی معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان کو بھارت سے تزویری مساویت (strategic equivalance) کا خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہیے کیوں کہ پاکستان کبھی بھی بھارت کو عسکری شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستانی دفاع عالمی استعماری بالخصوص امریکی معاشی اور عسکری امداد کے حصول پر منحصر ہے[643]۔ 

نیوکلیئر دھماکے کے دو ہفتے بعد اقبال نے اس کی شدید مذمت کی۔ اقبال کہتا ہے کہ پاکستان نے نیوکلیئر دھماکا کر کے ہندوستان سے پرامن مشاورت کا راستہ ترک کر دیا ہے اور اب پاکستان بھارت میں وحشیانہ دہشت گردی پر کمربستہ نظر آتا ہے۔ وہ امریکا سے اپیل کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کو نیوکلیئر جنگ کے خطرے سے بچائے اور روایتی جنگ (conventional war)کا جو خطرہ بڑھ گیا ہے اس کو پاکستان پر معاشی پابندیوں (sanctions)کو عائد کر کے کم کرے۔ اگر پاکستان نے اپنی نیوکلیئر صلاحیت عالم اسلام کے دفاع میں اسرائیل کے خلاف استعمال کی تو اقبال کہتا ہے کہ امریکا پاکستان کو ناقابل برداشت سزا دے گا۔ لہٰذا پاکستان کو ہرگز ہرگز اپنی نیوکلیئر صلاحیت کو اسلامی دنیا کو مہیا نہیں کرنا چاہیے۔ نیوکلیئر دھماکہ کے فوراً بعد حکومت نے ملک کے تحفظ کےلیے جو احکامات جاری کیے اقبال ان کی شدید مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کو فوراً منسوخ کیا جائے۔ بقول اقبال ان اقدامات سے ظاہر ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ لوگوں کے ہیومن رائٹس کو معطل کر کے ہی محفوظ کیا جا سکتا ہے اور نیوکلیئر پیش رفت پاکستان کو فاشسٹ ریاست بنانے کی طرف لے جانے والا قدم ہے۔

اقبال اپنے آپ کو اشتراکی اور مارکسسٹ کہتا تھا لیکن اس اشتراکی مارکسسٹ کے مطابق نواز حکومت کا سب سے بڑا جرم زرمبادلہ کو منجمد کرکے روپوں میں تبدیل کرنا تھا۔ یہ مارکسسٹ اشتراکی سرمایہ کاروں پر روا رکھے گئے اس ’’ظلم عظیم‘‘کے خلاف چیخ اٹھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ یہ اکاؤنٹس فوراً ڈالروں میں تبدیل کیے جائیں اور ان پر سے تمام پابندیاں فوراً اٹھا لی جائیں۔

22.3۔ استعمار کی خدمت کیسے ہو؟

اقبال مسلم دنیا کو استعمار کا باج گزار بنانا چاہتا تھا۔ وہ سرمایہ دارانہ عدل اور جمہوریت کے فروغ کا خواہاں تھا۔ مسلم معاشرہ کا ماضی بقول اقبال شرم ناک ہے۔ قدامت پرست، دقیانوسی اورمنجمد ہے جو سرمایہ دارانہ نظام سے جبراً پیوست کر دیا گیا ہے۔ مسلم دنیا کے عوام اپنے حال سے بیزار ہیں اور ان میں سے کچھ ایسے ماضی کی طرف لوٹنے کا خواب دیکھتے ہیں جو کبھی موجود نہ تھا۔ دورِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور دورِ خلافت راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دیومالائی افسانے کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کو اپنے آپ کو اس دیومالائی افسانے کے سحر سے نکالنا آنا چاہیے اور اپنے حال کو اس ماضی سے اخذ غیر ریشنل( یعنی غیر خود غرضانہ) اقدار اور معیارات کی بنیاد پر جانچنا چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کو اپنے مستقبل کی تعمیر کی جستجو کرنی چاہیے جس میں وہ مادی آسائشوں سے محظوظ ہو سکیں۔ انقلاب ایران ایک نہایت مایوس کن عمل ہے[644] کیوں کہ وہ ایک فرسودہ دیومالائی افسانہ کو زندہ کرنے کے لیے برپا کیا گیا ہے مادی تعمیر حیات کے لیے نہیں۔ حقیقت میں ایران کا رجعت پسند انقلاب سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف بغاوت نہیں اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔وہ ایک ایسے ماضی کو زندہ کرنا چاہتا ہے جہاں سرمایہ دارانہ عدل، ریشنلٹی، آزادی اور ترقی کے کوئی امکانات موجود نہ تھے۔ ایرانی انقلابی محض باغی تھے۔ روسی، چینی اور ویت نامیوں کی طرح حقیقی انقلابی نہ تھے۔ ان سب اصلی انقلابیوں کی جدوجہد سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی جدوجہد رہی۔
روایتی اسلامی معاشرہ قنوطی ہوتا ہے۔ لوگ تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں اور فطرت کو مسخر کرنے کی جدوجہد نہیں کرتے بلکہ عبادات کے ذریعے خدا کو راضی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ خود خدا(autonomy) بننے کی کوئی خواہش ان میں نہیں ہوتی۔ وہ نہیں جانتے کہ اصل عدل تو سرمایہ دارانہ عدل ہے جس کے قیام کے ذریعے لوگ ریشنلٹی( خودغرض) کے نور (Enlightenment) سے سرشار ہو کر آزادی، خود اختیاریت اور ترقی حاصل کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی عوامی بغاوتیں لازماً ناکام ہوتی ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز (life world) اور نظام زندگی قائم نہیں کر سکتیں[645]۔ اسلامی باغی نظاماتی تبدیلی یعنی روایتی اسلامی معاشرت اور ریاست سے سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کی طرف مراجعت اس لیے نہیں کرتے کیوں کہ وہ اسلامی اقدار کو ترک کر کے آزادی، خود اختیاریت اور ترقی کی اقدار کو قبول نہیں کرتے۔ وہ اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ اسلامی ریاستی نظام کی اساس یعنی خلافت کا ادارہ ہی ظلم کے پھیلنے کا اصل ذمہ دار ہے۔ 

آج مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنا ممکن ہے۔ مسلم دنیا کی تجارت اور معیشت عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو گئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے پرانے معاشی اور معاشرتی روابطی نظام میں داخلہ حاصل کر لیا ہے اور زمین اور افرادی قوت (labour)بڑھوترئ سرمایہ کی گردش کا ذریعہ بن گئے ہیں[646]۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سرمایہ دارانہ انقلابی جماعتیں اسلام مخالف نظاماتی تعبیر برپا کرنے کی جدوجہد کریں۔ ان کے مطالبات اجرتوں میں اضافہ وغیرہ تک محدود نہ ہوں بلکہ وہ روایتی معاشرتی اور ریاستی نظام کے اقداری جواز کو چیلنج کریں۔ قدیم روایات اور ادارے کم زور پڑ رہے ہیں اور استعماری قوتیں ان کو کم زور تر کرنے میں سرمایہ دارانہ انقلابیوں کی فطری حلیف ہیں۔ سرمایہ دارانہ انقلابی اور سامراجیت مل کر اسلامی روایات اور اداروں کو عوام کی نظر میں غیرمعتبر اور بلاجواز ثابت کر رہے ہیں۔ فنانشل مارکیٹوں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں حلال رزق کمانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور روایتی معاشی خود کفالت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ مسلم دنیا میں دھیرے دھیرے روایتی اسلامی معاشرت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سب تبدیلیاں سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے امکانات کو روشن کر رہی ہیں۔ ذہین طبقات (intellectuals)اسلام سے نفرت کرنے لگے ہیں اور ریشنل (خود غرض) ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام میں بھی روایتی معاشرتی اور سیاسی قائدین کے خلاف غصہ کی لہر دوڑ رہی ہے اور وہ کھلم کھلا علمائے کرام اور صوفیائے عظام کو گالیاں دینے لگے ہیں۔ لوگ کثیرالجہتی کے قائل ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ اسلام کو الحق نہیں سمجھتے بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ حق کے کئی اظہار ممکن ہیں اور اصل حق تو یہ ہے کہ انسان خوداختیاری اورخود تخلیقی ذات ہے جو مستقل سرمایہ کی بڑھوتری یعنی آزادی کے فروغ کی جدوجہد میں زندگی کی معنویت پاتا ہے۔ اصل حق ’’لاالہ الا انسان‘‘ہے اور ’’لاالہ الا اللہ‘‘ پر ایمان لانا ایک غیر ریشنل عمل ہے۔ اسلامی عقائد اور اسلامی ادارتی فرماں روائی کے نتیجے میں نہ سرمایہ دارانہ عدل قائم کیا جا سکتا اور نہ ترقی و آزادی کا فروغ ممکن ہے۔ سرمایہ دارانہ انقلابیوں کو مسلمانوں کو امید دلانی چاہیے کہ وہ خود اپنا روشن مستقبل اپنی سرمایہ دارانہ جدوجہد سے تعمیر کر سکتے ہیں۔ انہیں خدا پر نہیں بلکہ خود اپنے ارادے اور اپنی طاقت پر بھروساکرنا چاہیے۔ لوگوں کے فطری حرص، حسد، لالچ اور طمع کو ایسی ریشنلٹی کے ذریعے منظم کرنا چاہیے جو سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی اقتدار کا جواز فراہم کر سکے۔ اقبال توقع رکھتا ہے کہ جیسے جیسے اسلامی اقدار اور نظام قوت اپنا جواز کھوتا جائے گا ویسے ویسے ملحدانہ نظریات بالخصوص سوشل ڈیموکریسی عام مقبولیت حاصل کریں گے اور ان نظریات پر ایمان لا کر لوگ ریشنل یعنی خود غرض بن جائیں گے۔ سرمایہ دارانہ اہداف فروغِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کی جدوجہد میں لگ جائیں گے۔ وہ اسلام کو ترک اس لیے کریں گے کہ اسلام خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
اقبال کو امید ہے کہ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہو گا مذہبی بنیادوں پر اجتماعیتیں کمزور پڑیں گی اور گروہی مادی مفادات کے حصول کے لیے نئی اجتماعیتیں قائم ہوں گی۔ مسلم دنیا میں جیسے جیسے مذہبی اجتماعیتیں تحلیل ہوں گی ویسے ویسے دقیانوسی تحریکات (Reactionary movements)کم زور پڑیں گی اور سرمایہ دارانہ انقلاب برپا کرنے کے مواقع روشن سے روشن تر ہوتے چلے جائیں گے اس کے علاوہ مسلم دنیا میں کئی استعمار نواز سرمایہ دارانہ اسلام دشمن حکومتیں بھی قائم ہیں اور یہ حکومتیں مستقلاً جارحانہ انداز میں مذہبی اسلامی معاشرت کو منہدم اور اسلامی اقدار کی تذلیل کریں گی۔ اس ضمن میں اقبال کے مطابق سب سے حوصلہ افزا مثال کمال اتاترک اور بن بیلا کی حکومت کی ہے۔اقبال کے مطابق اسلامی دقیانوسیت کو شکست دینے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کی ضرورت ہے:

۱۔ ایک دہریہ سرمایہ دارانہ نظریہ کا فروغ

۲۔ ایک ایسی دہریہ قیادت کا عروج جو ہمت کے ساتھ اس سرمایہ دارانہ نظریہ کی اشاعت و تبلیغ کرے۔

۳۔ یہ نظریہ اور یہ قیادت جمہوریت سے وابستگی کو فروغ دے آمرانہ نہ ہو۔

۴۔ ایسی ادارتی صف بندی کی جائے جو معاشرتی جمہوریت کو استحکام بخشے اور قائدین عوام کے سامنے مستقل طور پر جواب دہ ہوں۔

۵۔ اسلام مخالف دہریہ نظریہ ملکی ثقافتی اور تاریخی روایات کو اس طرح مسخ کرے کہ دہریہ نظریہ عوام کی نظر میں اجنبی نہ ہو بلکہ اس کو مقامی لوک ورثہ کے طور پر مقبولیت عامہ کے طور پر قبول کیا جائے[647]۔ 

ان اقدامات کے ذریعے مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ اسلام مخالف انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اور استعمار سے تعاون اور مکالمہ کے ذریعے وہ تمام فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام اور ترقی کی وجہ سے مسلم دنیا کے لیے ممکن الحصول ہیں۔ مسلم دنیا کو آزادی اور ترقی دونوں حاصل ہو سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کو ترک کر دے اور مسلم نہ رہے۔ اقبال اسلام دشمن تھا۔ تمام سوشل ڈیموکریٹ اسلام دشمن نہیں ہوتے۔ چوں کہ سوشل ڈیموکریسی تنویری علمیت کی ایک تعبیر ہے لہٰذا بیش تر سوشل ڈیموکریٹ مذہب کو علم نہیں مانتے (مذہب کو محض احساس کے اظہار کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں)۔ مسلم دنیا میں ایسے سوشل ڈیموکریٹس اور لبرل مفکرین بھی مدت سے پائے جاتے ہیں جو تحریک تنویر اور تحریک نشاۃ ثانیہ کی جڑیں مسلم اسپین اور معتزلہ فرقہ کی فکر میں پاتے ہیں۔ انہوں نے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹک سرمایہ داری کی اسلام کاری کی کوشش کی ہے ان کا تذکرہ ہم کتاب کے آخر میں کریں گے ۔

لیکن اقبال ان مفکرین میں سے نہیں ہے۔ وہ اسلام کا پکا اور کٹر دشمن تھا یہاں تک کہ جیسا اس کے داماد نے شہادت دی ہے کہ مرتے وقت بھی اس کو خدا یاد نہ آیا۔ ایک اور مرتد اور ملحد اعجاز احمد[648] اقبال کی موت کے نوحہ میں لکھتا ہے کہ اقبال فخریہ کہا کرتا تھا کہ ’’میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی‘‘۔ اپنی تحریروں میں جگہ جگہ اس نے صوفیائے کرام کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ جس اسلام کی صوفیہ تعلیم دیتے ہیں وہ روحانی ترفع اور تقدس سے مالامال ہے لیکن اقبال کی اپنی زندگی میں کسی روحانیت کا شائبہ تک نہ تھا۔ امریکی تخریب کاروں نے مدت سے یہ کوشش کی ہے کہ صوفیہ کرام کو مجاہدین اسلام سے نبردآزمائی پر آمادہ کریں اور عوام میں یہ بات عام کریں کہ شریعت کی اتباع کی تعلیم راسخ العقیدہ علماء دیتے ہیں لیکن صوفیائے کرام اس تعبیررد کرتے ہیں اور وہ معتدل دہریہ (Secular) اور کثیر الجہتی (pluralist) ہمہ اوست(pantheistic) اسلام کے قائل ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ اور سراسر بہتان ہے۔ ملحدین اور دہریہ کسی ایک ایسے صوفی بزرگ کا نام نہیں لے سکتے جس نے جہاد کو حرام قرار دیا ہو۔ اس کے برعکس بیش تر مجدّدین صوفیہ ہیں اور عموماً صوفیائے کرام ہی مجاہدین اسلام کی قیادت فرماتے ہیں۔

سرمایہ داری کے پوسٹ ماڈرنسٹ نقیب

23۔ شوپن ہاور، فرائیڈ اور ڈیوی

(Schopenhauer, Freid and Dewey)

پوسٹ ماڈرن ازم سرمایہ دارانہ علمیت کی سرمایہ دارانہ جمالیاتی تنقید ہے۔ اس تنقید کا لبِ لباب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ اہداف ناقابلِ حصول ہونے کے باوجود ردّ نہیں کیے جا سکتے۔ بالفاظ دیگر آزادی اور ترقی (سرمایہ کی بڑھوتری) کی مستقل جستجو زندگی کو کوئی معنویت عطا نہیں کر سکتی لیکن ان اہداف کی جستجو ناگزیر ہے کیوں کہ یہی یورپ کا تاریخی ورثہ ہے۔ اسی طرز اور نظام زندگی کو اپنا کر یورپ اور امریکا نے اپنا نیا تہذیبی تشخص قائم کیا ہے اور عیسائی طرز اور نظام زندگی کو مسخر کیا ہے[649]۔ آزادی اور ترقی یعنی سرمایہ کی بڑھوتری کو ردّ کرنے کا لازمی نتیجہ مذہبی طرز اور نظام زندگی کا فروغ ہے[650] اور یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں لہٰذا اصولاً ناقابلِ حصول سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کی لازمی ناکام جدوجہد کو جمالیاتی (aesthetic) تجربات کے ذریعے جاری رکھنا ناگزیر ہے۔اس مسلک کو اپنانے کے نتیجے میں پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کے دو اظہار نمایاں ہوئے:

۱۔ ایک جانب وہ تنویری علمیت کی نامعقولیت کی نشان دہی کرتی ہے اور اہم ترین پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین بالخصوص فوکو اور دریدا یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس عقلیت کی بنیاد پر مرتب معاشرتی اور ریاستی حکمت عملی سرمایہ دارانہ اہداف یعنی آزادی اور ترقی یعنی لامتناہی بڑھوترئ سرمایہ کے حصول پر منتج نہیں ہوتی۔

۲۔ دوسری جانب وہ ایسے جمالیاتی تجربات (aesthetic experitments) کی نشان دہی اور وکالت کرتے ہیں جن کے ذریعے آزادی اور ترقی میں اضافے کے امکانات پیدا ہوں۔ ان میں جنسی آوارگی کا فروغ، دیوانگی (شیزوفرینیا) کی حوصلہ افزائی، حیوانی طرزِ حیات (being animal)کی مقبولیت وغیرہ شامل ہیں۔ اس نوعیت کے تجربات کی وکالت فوکو اور دیلوز اور لیوتارد نے تسلسل کے ساتھ کی ہے۔ اس جمالیاتی تجربے کی ایک شکل جو بالخصوص برطانیہ، ولندیز اور سکینڈے نیوین میں عام ہو رہی ہے اس کو ملٹی کلچرل ازم کہتے ہیں اور ایک پاکستانی آغاخانی اکبر ایس احمد اس کا بہت پرچار کرتا ہے۔

23.1۔ تنویری علمیات سے بغاوت

تنویری علمیات کی تردید کانٹ کے نقادوں نے اٹھارھویں صدی میں شروع کر دی تھی اور اسی صدی میں رومانوی طرزِ فکر کا فروغ ہوا۔ اس کے اہم مبلغین میں شولٹز، فشتے اور شیلنگ شامل تھے۔ تحریک تنویر نے تین مختلف اور ایک دوسرے سے لاتعلق عالموں کا تصور پیش کیا۔ عالم علمیت (pure reason)، عالم عمل (Practical Reason) اور عالم حسیات و جذبات (Aesthetics)۔ کانٹ کی فکر ان معنوں میں نامکمل سمجھی گئی کہ وہ اصولیت اور آفاقیت پر اصرار کے باوجود ان تین عالموں کے امتزاج کا کوئی مربوط تصور پیش نہ کر سکا۔ لہٰذا جو فکر اس نے پیش کی اس کو مکمل کرنے کی ضرورت باقی تھی [651]۔ 

کانٹ کے ایک شاگرد فریڈرک شیلنگ (Friedrich Wilhelm Joseph von Schelling)نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور جرمن رومانوی شاعری اور تنویری فلسفہ کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ شیلنگ نے اخلاقیات اور جمالیات میں ربط قائم کرنے پر زور دیا۔ شیلنگ کا بنیادی خیال یہ تھا کہ اخلاقی نظم کا بہترین ذریعہ آرٹ ہے ؛اور جرمنی کے سیاسی اتحاد کو فروغ دینے کی جدوجہد انفرادی، اخلاقی ترقی کو فروغ دیتی ہے[652]۔ رومانوی مفکرین سیاسی پستی اور انتشار کے خلاف بغاوت کے علم بردار تھے۔ وہ تاریخی تعمیر اور ارتقا کی اہمیت پر زور دیتے تھے۔ وہ ایک اعلیٰ و ارفع نفس کی تعمیر کے خواہاں تھے، ایک ایسا نفس جو دائمی حقائق کا شناسا ہو۔ ایسا نفسJohann Herder کے مطابق ایک قوم کی روح(Volkgeist) کا عکاس ہوتا ہے۔ Herderکی طر ح فشطے(Johann Gottlieb Fichte)بھی ایک جر من قوم پرست تھا اور وہ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے دیگر رومانوی (Romantic) فلسفیوں کی طر ح حقیقی آزادی کو قومی آزادی اور ترقی گر دانتا تھا۔ آزادی کا مفروضہ (presumption) اخلاق اور وجود کی بنیاد ہے۔ بقول فشطےجو آزاد نہیں وہ ہیومن وجود کا حامل نہیں اور ایسے فرد کا کوئی عمل اخلاقی نہیں ہو سکتا۔ آزادی کی بنیاد پر تجربہ اور احساس کا حصول ممکن ہے اور آزادی کی بنیاد عقلیت کو ممکن بناتی ہے[653]۔ Noumenon آزادی سے ماورا نہیں اور حیات کا مقصد فروغِ آزادی ہے۔ فروغِ آزادی کی جستجو انفرادی سطح پر بھی لازم ہے اور قومی اور عالمی سطح پر بھی۔ ہیومن بینگ اپنی آزادانہ سوچ اور عمل سے عالم کو ویسے تخلیق کر سکتا ہے جیسے وہ اسے تخلیق کرنا چاہتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی آزادی کسی ماورائی علمیت سے محدود نہیں ہوتی۔ فشطے کو Pragmatism کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کسی فلسفیانہ یا مذہبی نظریہ کو قبول کرنے کا جواز یہ نہیں کہ وہ حقیقی ہے؛ نظریات کا جواز اُن کی عملی افادیت (Utility) فراہم کرنا ہے۔ فشطے کی رائے میں وہ فلسفیانہ آراء اور زاویہ نگاہ درست نہیں جو ہیومن بینگ کو اپنی کائناتی آزادی اور تخلیقیت کے اظہار کے مواقع فراہم نہیں کرتی۔ ہیومن بینگ محض کائنات کا مطالعہ کرنے اور وجود کو کائناتی تغیرات سے مرتب کرنے والا فرد نہیں بلکہ وہ ایک آزاد عامل (یعنی خدا) ہے۔ وہ اپنی ذات اور کائنات کو تخلیق کرتا ہے۔ ہیومن بینگ محض ایک ادراکی وجود (knowing self) نہیں وہ علم کی تخلیق کرتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ کائنات کو ایسے تخلیق کرے کہ اس کی آزادی کا زیادہ سے زیادہ اظہار ممکن ہو۔ حقیقت ازلی کائنات یا خدا کی ذات نہیں بلکہ ہیومن بینگ ہے جو اپنے عمل سے کائنات کی تخلیق کرتا ہے۔ حقیقت ازلی ہیومن بینگ کی اجتماعی ذات ہے۔ اس اجتماعیت کا سب سے واضح اظہار قومیت کرتی ہے اور فشطے کے مطابق عالمی سطح پر اس حقیقت ازلی کا اظہار ہیومن نوع کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نسل پرستی انسان پرستی ہے اور ہر ہیومینسٹ لازماً کافر ہوتا ہے کیوں کہ ذات باری تعالیٰ کے صفات ہیومن ریس (Human race)میں پاتے ہیں [654]۔ فشظےپر کافر ہونے کا الزام عیسائیوں نے بار بار لگایا۔

فشطےکا شاگرد شیلنگ کیتھولک تھا۔ اس نے حقیقت ازلی(The absolute) کا جو تصور پیش کیا وہ ہمہ اوستی(pantheistic) تھا۔ کائنات بقول شیلنگ ایک جان دار وجود (living organism) ہے اور مستقل اپنے مستقبل کی تعمیر کی جستجو میں منہمک ہے۔ وہ محض ایک مشین نہیں جو چند ابدی غیر تغیراتی اصولوں کی کارفرمائی کے تابع ہو۔ کائنات کا وجود شیلنگ کے مطابق ایک اکائی ہے۔ اس میں فطرت بھی شامل ہے اور ہیومن وجود بھی ۔کائنات ہی خدا ہے اور ذات باری تعالیٰ کا کوئی ماورائی (Transcendental) وجود نہیں۔ کائنات خود اپنی تخلیق مستقل جاری رکھے ہوئے ہے۔ کائنات کی کلیت کا اظہار بالخصوص ہیومن ذات میں ہوتا ہے اور اس کلی اظہار کی تفہیم حاصل کیے بغیر کائنات کے کسی فرد کو جانا نہیں جا سکتا۔ Subject کا Object سے علیحدہ کوئی وجود نہیں ہے اور نہ اس کا منفرد مشاہدہ ممکن ہے۔ شے(object) کا ادراک اس کی تخلیق ہی سے ممکن ہوتا ہے اور تخلیق سے مراد شے میں ذات کا دخول اور حلول ہے۔

کائنات یعنی خدا (نعوذ باللہ) مستقل اپنے آپ کو تخلیق کرتا رہتا ہے۔ ہیومن بینگ اس کائناتی تخلیقی عمل کا واحد شعوری (conscious)اظہار ہے۔ ہیومن بینگ ہی خدا کی رضا کے مرتبین ہیں[655]۔ شیلنگ کو ڈاروِن کا پیش رو بھی کہا گیا ہے کیوں کہ اس کے نظریہ کا قریبی تعلیق نظریہ ارتقا سے ہے۔ رومانٹک مفکرین تنویری مفکرین کی طرح کلمہ’’لاالہ الا انسان‘‘پر ایمان رکھتے تھے لیکن تنویری مفکرین کے برخلاف وہ کسی غیر ہیومن وجود کے قائل نہ تھے، کوئی ایسا وجود خواہ فطرت خواہ خدا، جو ہیومن آزادی اور تخلیقیت کو محدود کر دے۔ انسان کے خدا بننے کی جستجو کا اظہار تنویری فکر اور خدا ہونے کا جواز رومانوی فکر ہے اور یہ دونوں آدرش خدا کی ذات اور صفات کا انکار کرتے ہیں۔

23.2۔ ہیومن بینگ کی لازمی ابلیسیت

رومانوی تحریک کے بنیادی مفروضے تین تھے:

۱۔ ہیومن وجود حقیقت کا خالق ہے۔

۲۔ کائناتی وجودیکتا ہے اور اس کاشعوری اظہار ہیومن وجود کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔

۳۔ کائنات ارتقا پذیر ہے اور ہیومن وجود کی کائناتی کارفرمائی کے ذریعے مستقل خود تخلیقیت کا عمل جاری رہتا ہے۔

ان دعووں کا سب سے مفصل اور مربوط اظہار شوپن ہاور(Arthur Schopenhauer) نے کیا۔ شوپن ہاور ہیومن بینگ کو حقیقت ازلی کے اظہار کا وسلیہ تصور کرتا تھا لیکن یہ اظہار شوپن ہاور کے مطابق عقل کے ذریعے نہیں ہیومن مرضی اور ارادے (will)کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ ارادہ انفرادی نہیں کائناتی قوت ہے جو ہیومن بینگ کو خواہشات اور جذبات کے بہاؤ میں مستقل لیے چلی جاتی ہے۔ اس مرضی پر انفرادی ہیومن بینگ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ مرضی (will) ایک ایسی اندھی قوت ہے جو زندگی کی لامعنویت کا اظہار ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ جان سکتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔ مرضی کی حاکمیت سے نجات نروانا (Narvana) کے حصول سے کسی حد تک ممکن ہے۔ شوپن ہاور بدھ مت اور ہندو مت سے شدید طور پر متاثر تھا۔ انفرادی ہیومن وجود میں ایک کائناتی ابلیسی (evil) قوت کا قبضہ لازمی ہے اور اس قبضہ سے نجات (نروان) صرف ترکِ دنیا ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نروان کے حصول کے ذریعے ہی مرضی اور ان خواہشات اور جذبات جو اس کا مظہر ہیں، کی غلامی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور حیاتی دکھ (جو دائمی ہے) سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے وہ ایک سراب ’’مایا‘‘ہے۔ مایا کا پردہ حقیقت کو ڈھانپے ہوئے ہے اور حقیقت کا ادراک بیرونی اشیا کے مطالعے اور مشاہدے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ علم صرف اپنے نفس کو پہچاننے اور اس کی حقیقت جاننے سے حاصل ہوتا ہے اور جب ہیومن بینگ اپنے نفس کا ادراک حاصل کرتا ہے تو بقول شوپن ہاور اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نفس پر مرضی (Will) کا غلبہ ہے اور مرضی ایسی آفاقی، ماورائی قوت ہے جس کا ہر انفرادی نفس غلام ہے اور جس کے احکامات کی پیروی پر ہر ہیومن بینگ مجبور ہے۔

بقول شوپن ہاور ہم اپنی دنیا اپنے مشاہدے سے خود تخلیق کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ کانٹ کی بھی یہی رائے تھی۔ ہم جو دنیا ہم تخلیق کرتے ہیں (Phenomenal World) وہ Will کا مظہر ہوتی ہے اور اس محسوساتی دنیا میں قوانین اسباب و علل(law of Causality ) نافذ ہیں اور یہ ان معنوں میں خودکفیل ہے کہ اس دنیا کا ہر عمل اسی دنیا کے کسی محرک کی بنیاد پر رونما ہوتا ہے اور اسی دنیا (phenominal world) کے دائرہ اسباب و علل میں اس کی تفہیم ممکن ہے۔

Will ابلیس ہے۔ ابلیس کا ہیومن بینگ کے جسم پر قبضہ ہے۔ ہیومن بینگ کا جسم براہ راست ابلیس کا معمول اور اس کا آلہ کار ہے۔ ابلیس ہیومن بینگ کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ ہر ہیومن بینگ ابلیس کو خوب اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے اور اس کی اطاعت لازماً قبول کرتا ہے۔ ہیومن بینگ اپنے بدنی اعمال کے ذریعے کائنات کو ابلیس کے تابع کرتا ہے۔ ابلیس (will) ایک وحشیانہ، سفاک قوت ہے جس کا اظہار زمانی و مکانی ہے اور ابلیس خدا کی طرح زمان و مکان کی قیود سے آزاد (transendent)ہے۔ ابلیس انسانیت کو تباہ اور برباد کرنا چاہتا ہے اور اس نے انسانیت کو ہیومنٹی میں تبدیل کر دیا ہے۔ تخلیق کا مقصد تسخیر ہے اور تخلیقی تسخیر جمالیات کے فروغ سے حاصل ہوتی ہے بالخصوص آرٹ اور موسیقی سے، منطقی تفکرات یعنی سائنس، فلسفہ، ریاضیات سے حاصل نہیں ہوتی۔ آرٹ ابلیسی خصوصیات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے[656]۔ بقول شوپن ہاور شیکسپیئر کے کردار ابلیسیت کے بہترین نمونہ (Ideal) کردار ہیں۔

چوں کہ ہر فرد ہیومن ہے لہٰذا لازماً ابلیسیت کا ایک اظہار ہے۔ ہر فرد اپنی فطری ابلیسیت کا اظہار اپنے کردار سے کرتا ہے اور ہر فرد کا کردار ابلیسیت کا ایک منفرد اظہار ابتدائے حیات سے متعین ہوتا ہے۔ ایک عمل کے ذریعے کردار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ابلیسیت کا مکمل ترین اظہار عبقری (Intellectual)کے کردار میں ہوتا ہے اور شوپن ہاور اپنے آپ کو ایسا ہی عبقری (Intellectural)تصور کرتا ہے۔ 

ابلیس (will) آزاد ہے، وہ مسبب الاسباب ہے(نعوذ باللہ)۔ اس میں جناب باری تعالیٰ کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں(نعوذ باللہ)۔ وہ ہر شے کا خالق ہے(نعوذ باللہ)۔ انفرادی ہیومن بینگ آزاد ہے چوں کہ وہ ابلیس کا بندہ اور غلام ہے۔ ابلیس نے ہر فرد کے کیریکٹر (character)کی تخلیق کی ہے اور ہر فرد وہی کرتا ہے جو اس کے کیریکٹر (character)کا تقاضا ہوتا ہے۔ ہیومن بینگ ابلیس کی غلامی پر مجبور ہے۔ ریشنیلٹی محض ابلیس کی اطاعت کا ایک ذریعہ ہے کسی ماورائی آزادی کا مظہر نہیں۔ فرائڈ نے شوپن ہاور کی فکر نے تحت الشعوری قوتوں کی حتمی تحکیم کا فلسفہ مرتب کیا ۔ ہیومن بینگ پر ابلیس کی حکمرانی شہوت اور غضب کے میلانات اور جذبات کے ذریعے ہوتی ہے۔ ہیومن بینگ ان ابلیسی قوتوں کا تابع رہتا ہے اور وہ اس بات کو بھول جانے کے لیے عقلی دلائل اور آفاقی نظریات کا سہارا لیتا ہے لیکن یہ سب خود فراموشی ہے۔ عمل کے اصل محرک ہمیشہ وہ میلانات خبیثہ ہوتے ہیں جو ہیومن بینگ کو تسخیری تخلیق پر آمادہ کرتے ہیں لیکن ہیومن بینگ ان محرکاتِ عمل سے عموماً غافل رہتا ہے کیوں کہ مایا نے اس پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔ سب سے طاقت ور ابلیسی قوت شہوت(sex)ہے اور بے قید آزاد جنسی (free sex) عمل ابلیسیت کا اعلیٰ ترین اخلاقی اظہار ہے۔ جنسی افعال یہ بات واضح کرتے ہیں کہ ریشنیلٹی جبلت کے تابع ہے اور جبلت کی تابع داری کی توجیہ پیش کرتی ہے۔ ہیومن بینگ اپنے اعمال کا ذمہ دارنہیں۔ ہر ہیومن بینگ وہ کرتا ہے جو اس کے کردار کا تقاضا ہے اور انفرادی کردار کی خصوصیات کی تخلیق ابلیس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کر دی ہے۔ بالکل جیسے ایک ہیومن بینگ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنا بدن (body)یا ذہن خود منتخب کرے اسی طرح اس کو یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ چوری کر ے یا نہ کرے، زنا کرے یا نہ کرے وغیرہ۔

جب ہیومن بینگ اپنی متعین تقدیر کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں معاشرتی تصادم جنم لیتا ہے۔ ہیومن بینگ اس مغالطہ میں رہتے ہیں کہ اپنی خواہشات کو پورا کر کے وہ سکون حاصل کر سکتے ہیں حالانکہ دنیا تو دکھوں کی آماج گاہ ہے اور ایک خواہش کی تکمیل سے تسکین حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایک اور خواہش جنم لیتی ہے جس کی تکمیل کے لیے ہیومن بینگ مزید دکھ برداشت کرتا ہے۔ انفرادیت کا شعور تضاد کی بنیاد ہے اور ترکِ دنیا کے بغیر دکھ سے نجات ناممکن ہے۔ شوپن ہاور ان معنوں میں ایک ہندو یا بدھسٹ تھا کہ اس نے ہندو/بدھسٹ فسلفہ حیات کی ایک یورپی رومانوی تشریح مرتب کی لیکن وہ کوئی سادھو نہ تھا۔ خود ترکِ دنیا کبھی نہ کر سکا۔ وہ ترک دنیا کے تحت ابلیس کی غلامی سے نجات کے حصول کو ناممکن سمجھتا تھا۔ وہ ایک قنوطی (Pessimist) تھا۔ یہ بات جانتا تھا کہ تکمیلِ خواہشاتِ نفسانی کی جستجو یعنی بڑھوترئ آزادی اور سرمایہ کی جدوجہد دکھ کے علاوہ ہیومن ریس کو اور کچھ نہیں دے سکتی لیکن ہیومن بینگ اپنی نوعی اور انفرادی تخلیقی بربادی کو فروغ دینے پر مجبور ہے۔ ہیون بینگ ابلیس نہیں ابلیس کا غلام ہے اور اس غلامی سے نجات پانا ناممکن ہے[657]۔ دنیا میں رہتے ہوئے دکھ سے نجات کا بہترین ذریعہ شوپن ہاور کے مطابق موسیقی ہے۔ مسیقی کو شوپن ہاور ’’دل کی زبان‘‘ کہتا ہے [658]۔ آرٹ کی دوسری اقسام [659] بھی دکھ سے نجات کے جزوی مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لیکن بحیثیت مجموعی دکھ اور زندگی کے المیہ سے نجات اور انفرادی کردار اور معاشرتی برتاؤ کی اصلاح اصولاً ناممکن ہے [660]۔

کامل ہیومن بینگ کی جو تشریح شوپن ہاور نے پیش کی وہ ایک شیطانی درویش کی ہے۔ یہ ابلیسی درویش مایا کے پردہ کے اس پار دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ ترک دنیا اس واہمہ کی بنیاد پر نہیں کرتا کہ اس کے نتیجے میں برہما کی ذات میں ضم ہو جائے گا۔ ابلیسی درویش حیات کی معنویت کا اقرار ترکِ دنیا کر کے کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ حقیقت کچھ نہیں آزادی اور سرمایہ محض ایک لامتناہی خلا ہے۔ اور ابلیسی درویش کا نیک عمل یعنی اس کا فقر اختیاری اس کی تپسیا اس کی ذات کی ستی (self-torture) سرمایہ اور آزادی کی اسی بے معنی لاموجود خلائے محض میں اپنے کھو دینے کے لیے ہے۔ ابلیسی درویش ترک دنیا اور تخلیقی تخریب کے ذریعے کائنات کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ ابلیس کی مخلص اور غیرمشروط غلامی کا یہی مطلب ہے۔ شوپن ہاور کے بقول مایا کے پردوں کے پیچھے شیطان کا وجود ہے اور ابلیسی درویش عالم کو تباہ کر کے شیطان کی پرستش کرتا ہے۔

شوپن ہاور نے اس آئیڈیل شیطانی درویش کی کبھی تقلید نہیں کی۔ وہ ایک مغرور اور خود غرض شخص تھااور ہیگل، فشطے کی طرح اپنی ماں سے عمر بھر شدید نفرت کرتا رہا۔ وہ شہرت کا اتنا حریص تھا کہ جب ۱۸۱۸ء میں اس کی کتاب "The World as Will and Idea" شائع ہوئی تو اس نے اپنی شہرت کو فروغ دینے کے لیے مبصرین کی ایک ٹیم کو ملازم رکھا۔ وہ بہتری غذا عالی ترین ریسٹورنٹس میں کھانا پسند کرتا تھا۔ وہ ایک عیاش زانی تھا اور اس کی کئی داشتائیں تھیں۔ وہ شدید غصیلا، لڑاکو اور لالچی تھا۔ اس نے بوڑھی درزن کو اپنے مکان کی سیڑھیوں سے نیچے اس جرم کی پاداش میں پھینکا کہ وہ تیز آواز میں بول رہی تھی۔ بوڑھی درزن مجروح ہو گئی اور شوپن ہاور کو کورٹ نے مجبور کیا کہ بیس سال تک اس کو ہرجانہ ادا کرتا رہے۔

دورحاضر کی پوسٹ ماڈرنسٹ فکر پر شوپن ہاور نے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ اس فکر نے شوپن ہاور کی قنوطیت کو قبول کیا اور حیات اور کائنات اور وجود کی لامعنویت کا اقرار کرتی ہے۔ عموماً پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین اس بات کے قائل ہیں کہ حقیقت کچھ نہیں جس کا علم حاصل کیا جا سکے۔ آزادی/سرمایہ محض خلائے مطلق(Nothingness)ہے لیکن ترکِ دنیا ناممکن ہے اور ہیومن بینگ آزادی اور سرمایہ کی مستقل بڑھوتری کی جستجو کرتے رہنے پر مجبور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کے کئی اہم پیش رو ڈیوی، برگساں اور نطشے ابلیس کی نفسِ انسانی پر لازمی حکمرانی کے قائل ہیں۔ ان کی رائے میں ریشنیلٹی (خودغرضی) محض ابلیسی احکام کی تکمیل کا جواز پیش کرتی ہے اور خود غرضیت (Self-interestedness)[661] ابلیسی نفس کے احکامات کی حکم عدولی نہیں کر سکتی۔ ہر حال اور ہر مقام پر ہیومن بینگ شیطان کی اطاعت پر مجبور ہے کیوں کہ گو کہ وہ خود ابلیس نہیں لیکن لازماً ابلیس کا غلام ہے اور ابلیس کی ذات میں حلول(بذریعہ حصول آزادی یا سرمایہ) کر کے دکھ سے نجات پانے کی جدوجہد کر سکتا ہے۔ لیکن شوپن ہاور کی طرح پوسٹ ماڈرن زعما یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دکھ سے نجات پانا اور مکمل آزادی/بڑھوترئ سرمایہ کا حصول ناممکن ہے۔

ہیومن نفس کی لازمی ابلیسیت کی تفسیر سگمنڈ فرائیڈ(Sigmund Freud) نے پیش کی۔ فرائیڈ ایک مادہ پرست(materialist)تھا۔ نفسی میلانات اور تغیرات کو انہی اصولوں کی بنیاد پر سمجھنے پر زور دیتا تھا جو فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی میں استعمال ہوتے ہیں گو کہ وہ شعوری عمل کے محرکات کو مساوی اسباب و علل کا نتیجہ سمجھتا تھا لیکن مقصدیت کو ردّ نہ کرتا تھا۔ مثلاً اس کے خیال میں ہر خواب کسی خواہش کی تکمیل کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ ذہنی بیماریاں بھی غیر تکمیل شدہ خواہشات کی بنا پر ہی پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن ہیومن بینگ اپنے مقاصد اور خواہشات سے پورے طور پر واقف اور آگاہ نہیں ہوتا۔ یہ خواہشات ہیومن بینگ کے لاشعور(unconscious)میں مخفی رہتی ہیں [662]۔ نفسیات (Psychology) وہ سائنس ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جو ہیومن (ابلیس) لاشعور کی کارفرمائی کو بیان کرتی ہے۔ لاشعور خواہشات اور میلانات کی ایسی آماج گاہ ہے جو بچپن کے المیاتی تجربات (Trauma)کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ لاشعور پر لیبیڈو (جنسی جبلت) وہ ابلیسی قوت ہے جو ہر ہیومن بینگ کو شہوت رانی، سفاکیت، اذیت پرستی اور حیوانیت پر عمل کرنے کے لیے اکساتی ہے، کا قبضہ ہوتا ہے۔ ایغو(Ego) وہ ابلیسی قوت ہے جو ہیومن بینگ کو سمجھاتی ہے کہ وہ اپنی فطری شیطنت کا اظہار اس طرح کرے کہ اس اظہار سے نوعی خود غرضیت کے فروغ میں کوئی خلل نہ پڑے۔مثلاً ہیومن بینگ ہر عورت اور مرد سے زنا کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ اس کیLibido کا حکم ہے لیکن اس قسم کی زناکاری سے ان مردوں اور عورتوں کی آزادی کے سلب ہونے کا خطرہ ہے جو اس مخصوص ہیومن بینگ سے زنا نہیں کرنا چاہتے لہٰذا ہیومن بینگ کا ایغو اس کو حکم دیتا ہے کہ وہ صرف ان مردوں اور عورتوں کے ساتھ زنا کرے جو اس کے ساتھ زنا کرنے پر راضی ہوں [663]۔ 

ذہنی صحت اور اخلاقی برتاؤ کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہیومن بینگ[664] لیبیڈو اور ا یغو کے احکامات کی تعمیل میں توازن پیدا کرے لیکن ایسا توازن پیدا کرنا بہت مشکل ہے اور نفس میں ہمیشہ لیبیڈو اور ایغو کی قوتوں میں تصادم جاری رہتا ہے۔ لیبیڈو کے تمام احکامات جنسی بے راہ روی پر اکساتے ہیں۔ جنسی لذت پیدا ہوتے ہی بچے کے حسیات پر قبضہ کر لیتی ہے اور بچہ منہ، مقعد اور فرج ہر جگہ سے مستقل جنسی لذت حاصل کرنے کا متمنی رہتا ہے۔ بچپن میں جنسی لذت کے حصول میں جو معاشرتی اور مذہبی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ان کے نتیجے میں لوگ بڑے ہو کر زندگی میں ذہنی امراض(neurosis) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں تخیلاتی جنسی تصور قائم کرتے ہیں اور ان تصورات کو عملی جامہ نہ پہنچانے کی وجہ سے وہ ہیجان یعنی فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مذہب اور معاشرہ جنسی میلانات اور مشاغل کے اظہار کو ناممکن بنا دیتا ہے اور اس کی وجہ سے لوگ دماغی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ فرائیڈ نے تحلیل نفسی (Psychoanalysis) کی سائنس کے ذریعے لاشعور میں پائے جانے والے جنسی رجحانات اور میلانات اور خواہشات کی تفہیم، جواز اور تسکین کی راہ ہم وار کی۔

بچوں کا ذہن، حرص، حسد، لذت پرستی اور تشدد اور اذیت پسندی کے جذبات کی آماج گاہ ہے۔ ہر بچہ اپنی ماں سے زنا کرنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے اپنے باپ سے نفرت کرتا ہے۔ وہ پوری زندگی اپنے صنفی اور سفلی جذبات کے اظہارکےلیے معاشرہ، مذہب اور تہذیب سے برسرپیکار رہتا ہے لیکن معاشرہ کے توازن (harmony)اور ارتقا اور قیام اور استحکام کے لیے بنیادی ہیومن جبلتوں کو مستقل دبائے رکھنا لازم ہے۔ معاشرہ اور معاشرتی ادارے بالخصوص خاندان ایسے پیمانے وضع کرتے ہیں جن کے ذریعے معاشرتی توازن کے قیام کے لیے فطری جنسی میلانات اور خواہشات کو دبائے رکھنے کے عمل کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ ان معیارات کے مجموعے کو فرائیڈ سپر ایغو (Supper Ego) کہتا ہے۔ لیکن فطری جبلتوں اور معاشرتی اقدار کے تصادم کے نتیجے میں ہیومن بینگ اتنا پریشان ہو جاتا ہے کہ اس کی موت کی خواہش (death wish) آخرکار اس کی لذت پرستی کی خواہش پر غالب آ جاتی ہے اور وہ نروانا کے حصول کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔
ان تمام نفسیاتی تضادات اور مشکلات کی نشان دہی کے باوجود فرائیڈ ریشنیلٹی کی نظاماتی بالادستی کا قائل رہا۔ وہ لکھتا ہے کہ آخرکار ریشنیلٹی اور تجربیت کو لیبیڈو شکست نہیں دے سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ریشنیلٹی کی طرح لیبیڈو بھی ایک شیطانی قوت ہے [665]۔

23.3۔ مطلب پرستی بذریعہ جمہوریت

ابلیس کا حکم خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی مستقل جدوجہد ہے۔ جو تنویری فلسفے خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کو معیارِ خیروشر بنانے کا جواز پیش کرتے ہیں ان میں ایک مادیت پرستی ہے اور دوسرا پریگماٹزم (Pragmatism) یعنی مطلب پرستی ہے۔ مطلب پرستی جمہوری طریقہ کو معیارِ خیروشر متعین کرنے کا ذریعہ گردانا گیا ہے۔ جب کہ utilitarianism لذت پرستی کے فروغ کے لیے ایک ایسے غیرجانب دار شاہد(neutral spectator)کے احکام کی تعمیل لازمی گردانتا ہے جو ہیومن نوع کے اصل مفادات کا پورا شعور رکھتا ہو۔

جان ڈیوی(John Dewey) مطلب پرستی کے اہم فلاسفہ میں شامل ہے[666]۔ ڈیوی فلسفہ جمہوریت اور اس سے متعلقہ تصورات کو پوری زندگی مرتب کرتا رہا۔ اس کا مقصد جمہوری عمل کو دائرہ سیاست کے علاوہ اخلاقیات، تعلیم، جمالیات اور منطق کے زمروں میں فروغ دینا تھا۔ وہ پورے علمیاتی اور معاشرتی عمل کو جمہوری طریقہ کار کا عکاس بنانا چاہتا تھا۔ بقول ڈیوی فلسفہ کا اصل مقصد معاشرتی ترقی کو فروغ دینا ہے اور اس مقصد کے حصول کےلیے لازم ہے کہ فلسفہ جمہوری عمل کے اظہار اور تفہیم کا ایک ذریعہ بن جائے۔ فلسفہ ثابت کرے کہ عدل کا مطلب معاشرتی ارتقا (اس کو ڈیوی growth کہتا ہے) کے حصول اور فروغ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ فلسفی کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی مسائل کا مکمل ادراک حاصل کرے۔ بقول ڈیوی معاشرتی مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ کا ایک طبقہ اپنے مفادات کے فروغ کے لیے دوسرے طبقہ کا استحصال (exploitation )کرتا ہے۔ اس استحصال کے نتیجے میں معاشرتی تعلقات مسخ ہو جاتے ہیں۔ استحصالی عمل کی جو تفصیل ڈیوی مرتب کرتا ہے وہ دورِ حاضر کے ان سرمایہ دارانہ مفکرین کی فکر سے بہت ملتی ہے جنہوں نے سرمایہ دارانہ عمل کی غیرتخلیقیت پر زور دیا ہے۔اس تنقید کو سرمایہ دارانہ عمل کی جمالیاتی تنقید کہا گیا ہے[667]۔ ان ناقدین کی طرح ڈیوی بھی اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ پیداواری عمل میں مزدور کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہت کم مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزدور کو ایک مشینی پرزہ سمجھا جاتا ہے اور اس کو ایسے کام سپرد کیے جاتے ہیں جو اکتا دینے والے(monotonous) اور بور کر دینے والے ہوتے ہیں۔ تمام اختیارات مینیجروں کے پاس ہوتے ہیں اور تمام انتظامی اور تکنیکی فیصلہ سازی کا عمل مینیجروں کے قبضہ میں ہوتا ہے اس میں ایک عام مزدور کسی طرح بھی شریک نہیں ہوتا [668]۔ اس کے علاوہ ڈیوی کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں تفریح (leisure ) کے جو عوامی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں وہ مزدور کو مست اور مدہوش کر دیتے ہیں اور اس پر ایک جنونی کیفیت طاری کر دیتے ہیں[669]۔ اس تفریح سے مزدوروں کی وہ اعلیٰ ذہنی اور روحانی[670] صلاحیتیں فروغ نہیں پاتیں جن کو جان اسٹوارٹ مل نے ’’ارفع لذات‘‘ کہا تھا۔

سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کی یہ تنقید کسی حد تک مارکسسٹ فکر سے متاثر ہے۔ مثلاً ڈیوی معاشی جبر کے نظریہ کا قائل ہے وہ لکھتا ہے کہ ’’آج معاشی جبر (Economic determination) ایک نظریہ نہیں ایک حقیقت ہے‘‘ لیکن ڈیوی مارکس کے تصور ِمعاشرتی تغیر کو شدت سے ردّ کرتا ہے۔ طبقاتی کش مکش معاشرتی تغیر کا ذریعہ نہیں۔ معاشرتی تغیر کی اصل بنیاد ڈیوی کے مطابق طریقۂ تفہیم (Method of Investigation) کا عمومی اطلاق اور ترویج ہے۔بقول ڈیوی آج (یعنی بیسویں صدی کے امریکا میں) معاشرتی عدل کا قیام ممکن ہی نہیں، اس کا عدم وجود ایک المیہ ہے۔ اب معاشرتی مسائل کا حل Method of Investigation کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ Method of Investigation وہی سائنٹفک منہج ہے جو طبیعیاتی سائنسز میں مدت دراز سے مستعمل ہے۔ یعنی حقیقت کے ادراک کے لیے مشاہدہ، تجربہ، تفکر اور ریشنیلٹی (خود غرضی) کا استعمال۔ یہ سائنسی منہج بقول ڈیوی فرانسس بیکن نے سولھویں صدی میں ایجاد کیا اور بیکن فکر جدید کا اصل بانی ہے۔ اس Method of Investigation کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ تجربیت (experimentation )پر تفکر (contemplation) کے مقابلے میں زیادہ زور دیتا ہے۔ ڈیوی کہتا ہے کہ سائنٹفک منہج کے اطلاق کا مقصد تسخیر کائنات ہے۔ اس Method of Investigation کے اطلاق کے ذریعے فطرت کو اذیت (through torture)دے کر اس سے ایسے حقائق حاصل کیے جا سکتے ہیں پہلے جو مخفی تھے۔ یعنی سائنٹفک میتھڈ کا اطلاق بھی ابلیسیت کا اظہار ہے۔ معاشرتی اور معاشی ترقی فطرت کو بذریعہ اذیت مسخر کیے بغیر ناممکن ہے۔ ہیومن بینگ کی آزادی فطرت کو اذیت پہنچا کر فطرت کو ہیومن بینگ کا غلام بنانے ہی کا دوسرا نام ہے۔ ہیومن بینگ خود اختیاری اور خود تخلیقی جبھی ہوتا ہے جب فطرت اس کے تابع کر لی جاتی ہے۔ جیسے جیسے فطرت کو اذیت دی جاتی ہے ویسے ویسے ہیومن بینگ کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

لیکن فرسودہ اور دقیانوسی سیاسی ادارے، وہ جو بیکن سے قبل وجود میں آئے تھے، سائنٹفک میتھڈ کی معاشرتی عمومیت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وہ معاشرے کو ان مفادات سے مستفید نہیں ہونے دیتے اور تسخیر کائنات کے عمل کو ناممکن الحصول بنا دیتے ہیں۔ اس چیز کو ڈیوی ثقافتی جمود (cultural lag) کہتا ہے۔ یہ دقیانوسی ادارے نا صرف بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں کے آلہ کار ہیں بلکہ ان کے ذریعے ایک ماڈرن سرمایہ کار اشرافیہ بھی تسخیر کائنات کو اپنے ذاتی مفادات کے فروغ کے لیے استعمال کر رہی ہے اور تسخیر کائنات کے عمل کو مفادِ عامہ کا ذریعہ نہیں بننے دیتی۔ جمہوری عمل سے اس بالادست طبقے کی استبدادی گرفت ختم کی جا سکتی ہے اور فطرت کو اذیت دینے سے جو فوائد ہیومن ریس حاصل کر رہی ہے ان کو عام کیا جا سکتا ہے۔

جمہوری عمل کا پھیلاؤ تسخیر فطرت سے مستفید ہونے کے لیے لازم ہے لیکن جمہوری عمل کی توسیع کا انحصار سیاسی، معاشی اور اخلاقی مسائل کی سائنٹفک تشریح اور تفہیم پر منحصر ہے۔ ہر سیاسی، اخلاقی اور معاشی مسئلہ کی Method of Investigationکی بنیاد پر تشریح مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور Method of Investigation کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہر سیاسی، معاشی اور اخلاقی عمل کی قدر اس کے نتائج متعین کرتے ہیں اور جو نتیجہ ہیومن بینگ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ تسخیر کائنات اور ہیومن بینگ کی خودارادیت اور آزادی (سرمایہ) کا فروغ ہے۔ یہی سائنٹفک میتھڈ کے اطلاق کا مقصد ہے۔ لہٰذا ہر وہ سیاسی، معاشی اور اخلاقی عمل اچھا ہے جو آزادی اور سرمایہ کہ بڑھوتری پر منتج ہو اور خیر اور شر کے تعین کا کوئی اور معیار سائنٹفک میتھڈ کی بنیاد پر جواز نہیں پا سکتا یہی فلسفہ مطلب پرستی ہے۔

سرمایہ دارانہ معاشی، سیاسی اور اخلاقی عمل کی افادیت کے باب میں مختلف آراء قائم کی جاتی ہیں۔ مثلاً مینیجر سرمایہ دارانہ معاشی عمل کے جن نتائج کو مفید سمجھتا ہے مزدور ان کو مفید نہیں سمجھتا۔ افراد اور طبقات کے مفادات مخصوص ہوتے ہیں اور سرمایہ عمومی کا کوئی نمایندہ موجود نہیں ہوتا لیکن ڈیوی کہتا ہے کہ اصولِ بڑھوتری (principle of growth)کی بنیاد پر تصوراتِ افادیت کے اس افتراق کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ بڑھوتری کا تصور ڈیوی ڈاروِن کے تصورِ ارتقا سے اخذ کرتا ہے۔ ہیومن ریس مستقل تغیر کے عمل سے گزر رہی ہے اور اس تغیراتی عمل کو ڈیوی پراگرس کہتا ہے۔ ہیومن عمل کی قدر کے تعین کا واحد غیرمتبدل پیمانہ یہی پراگرس یعنی آزادی/سرمایہ کی بڑھوتری ہے باقی تمام اخلاقی معیارات بے معنی اور لغو ہیں۔ پراگرس یا گروتھ واحد آفاقی خیر ہے۔ چوں کہ سرمایہ کی کوئی اصلیت (substance) نہیں وہ محض مقدارِ مطلق (Pure quantity) ہے لہٰذا بڑھوتری کی بھی کوئی اصلیت یا ماہیت نہیں۔ بڑھوتری خود اپنا جواز ہے اور بڑھوتری برائے بڑھوتری کو واحد آفاقی قدر کے طور پر تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ میلان (instinct) اور عادت (habit)قابل قدر ہے جو ہیومن بینگ کی آزادی کو فروغ دے۔ آزاد اور خود مختار ہیومن بینگ کی بھی متعین خصوصیات نہیں ہوتیں۔ وہ محض ابلیس(will)ہوتا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہ تخلیق کرنے کی جستجو میں پیہم لگا رہتا ہے لیکن حقیقت میں وہ صرف عدم کا تخلیق کار ہے۔ پوسٹ ماڈرن مفکرین کو بالخصوص ڈیلوز کو اس بات کا احساس ہے ۔

جمہوری عمل کا اخلاقی مقصد ہر ہیومن بینگ کو مکمل طور پر بڑھوتری کا آلہ کار بنانا ہے [671] ۔ وہ معاشرتی عمل اور ادارے جو بڑھوتری کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کو منہدم کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑھوتری کی رفتار معاشرتی نظام میں کش مکش کے نتیجے میں کم ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ ادارے بالخصوص ٹریڈ یونین جو طبقاتی تصادم کو منظم کرتی ہیں اور فروغ دیتی ہیں، بڑھوتری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ Method of Investigation کے ذریعہ ان اداروں کی ایسی تشکیل نو کی ضروت ہے جو ان کو بڑھوتری کا آلہ کار بنا کر ان کے ممبران پر یہ بات عیاں کر دے کہ عمومی بڑھوتری (social progress)تمام ہیومن بینگز اور طبقات کے اصلی مفاد میں ہے۔
معاشرتی اور معاشی اداروں کی ذمہ داری ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست ایک سیکنڈری ایسوسی ایشن ہے لیکن جو ایسوسی ایشنز معاشی اور معاشرتی کارفرمائی کے ذریعے بڑھوتری کو فروغ دے رہی ہیں ان کو اس طرح منظم اور ریگولیٹ کرتی ہے کہ افراد اور طبقات میں تصادم ختم ہو جائے۔ سب بڑھوتری کے عمل میں اپنا پورا پورا حصہ ڈالیں اور سب کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ سرمایہ عمومی کی بڑھوتری ہر فرد اور ہر طبقہ کے انفرادی مفاد کے فروغ کے عمل سے ہم آہنگ ہے۔ 

بڑھوتری کو مرتب کرنے اور مہمیز دینے والی ریاست ڈیوی کی نظر میں لازماً ایک کثیرالجہتی(pluralist) ریاست ہوتی ہے۔ لیکن یہ کثیرالجہت(Pluralist)ریاست ایک غیرجانب دار نگران کا کردار ادا نہیں کرتی۔ وہ بڑھوتری سرمایہ /آزادی کو فروغ دینے والی ایک مقصدی ایسوسی ایشن ہوتی ہے۔ وہ تمام معاشرتی گروہ بندیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ وہ معلوم کرتی رہتی ہے کہ ہر ایسوسی ایشن کے حقیقی مقاصد کیا ہیں۔ ان ایسوسی ایشنز کی کارفرمائی کے کیا نتائج ہو رہے ہیں۔ کیا ان کی کارفرمائی کے نتیجے میں بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو مہمیز مل رہی ہے یا وہ بڑھوترئ سرمایہ کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ یہ ریاست ایسی پالیسی وضع کرتی ہے جس کے نفاذ سے بڑھوتری کی تحدید کرنے والے معاشرتی تصادم رفع ہو جاتے ہیں۔ کثیرالجہت ریاست سرمایہ عمومی(capital in general)کی ایجنٹ ہوتی ہے اور ایسی کثیرالجہت ریاستوں کی بہترین مثال وہ امریکی اور برطانوی اور جاپانی ریاستیں ہیں جنہوں نے ۲۰۰۸ء کے بحران میں بنکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے دھڑا دھڑ نوٹ چھاپے اور ٹیکس دہندگان کے کھربوں ڈالر خرچ کیے۔

ڈیوی کو احساس ہے کہ بڑھوترئ سرمایہ کا عمل املاک اور اجسام دونوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ بڑھوترئ سرمایہ کی ہیومن تجسیمHuman capital formationکو کہتے ہیں[672]۔ لہٰذا کثیرالجہت ریاستیں ہیومن سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایسی پالیسیاں وضع اور نافذ کرتی ہیں جس کے نتیجے میں ہیومن بینگ کی وہ صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں جو بڑھوترئ سرمایہ کے عمل میں مفید ہوں۔ مثلاً ڈیوی کہتا ہے کہ اجارہ دار کارپوریشنوں کو اتنی اجرت دینے پر آمادہ یا مجبور کیا جانا چاہیے جو مزدور طبقہ کے تعلیمی اور صحت کے متعلق اخراجات کو پورا کرنے کےلیے ضروری ہے۔ اس وجہ سے کچھ مفکرین نے ڈیوی کو ایک سوشل ڈیموکریٹ بھی کہا ہے۔ وہ ایک جمہوری فلاحی ریاست کے قیام کا حامی ہے اور اس کی رائے میں ہر سٹیزن کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔

ڈیوی کے مطابق بیش تر امریکی سٹیزنز کو ترقی کے مساوی حقوق میسر نہیں۔ لہٰذا جب کوئی Pluralist یعنی کثیرالجہت ریاست کسی ادارہ کی کارفرمائی کا موازنہ کرے تو اس کو دو اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے:

۱۔ مذکورہ ادارہ کتنے زیادہ اور کتنے مختلف اغراض کو مجتمع کر کے بڑھوتری کے عمل کو فروغ دے رہاہے۔

۲۔ دوسرے اداروں سے اس کے روابط کتنے زیادہ اور کتنے آزاد ہیں۔

وہ ادارے جن کی ممبرشپ محدود ہے، جو دوسرے اداروں سے کم روابط رکھتے ہیں اور جو محدود مخصوص مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں سرمایہ کی عمومی بڑھوتری کو مہمیز نہیں دے سکتے۔ ایسے اداروں کی تین مثالیں ڈیوی دیتا ہے: ڈاکوؤں کے گروہ، سیاسی جتھے اور وہ کارپوریشنیں جو مفادِ عامہ کو مجروح کر کے[673] اپنے منافع کو بڑھانے کی جستجو کرتی ہوں۔ ریاست کا فرض ہے کہ ایسے اداروں کی بیخ کنی کرے۔

لیکن ڈیوی کو احساس ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر فرد کسی نہ کسی حد تک ڈاکو، ہر سیاست دان خائن اور ہر کارپوریشن کسی نہ کسی حد تک جعل ساز ہوتی ہے یعنی ہر فرد لازماً کسی نہ کسی حد تک اپنے ذاتی مفاد کو عمومی مفاد (یعنی سرمایہ عمومی کی بڑھوتری) پر ترجیح دیتا ہے کیوں کہ سرمایہ عمومی کی بڑھوتری سے ہر فرد، ہر سیاست دان اور ہر کارپوریشن کبھی بھی یکساں طور پر مستفید نہیں ہو سکتی لہٰذا Method of Investigation کی بنیاد پر pluralist ریاست کو تعین کرنا چاہیے کہ کون سا عمل ایسا ہے جو مفادِ عامہ یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی کو اتنا نقصان پہنچا رہا ہے کہ اس کی تحدید کے لیے ریاستی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔ ڈیوی کی فکر میں ریاستی مداخلت کا یہ ایک اہم جواز ہے۔ ڈیوی کے مطاق ہر بڑھوترئ سرمایہ عمومی کو فروغ دینے کے لیے ریاست ہر ادارہ میں مداخلت کر سکتی ہے، خاندان میں بھی، گرجا میں بھی، قبیلہ میں بھی، محلہ میں بھی۔

ریاستی مداخلت کا ایک اور جواز ڈیوی کا اصول نتائج بلاواسطہ (Principle of Indirect Concequences) فراہم کرتا ہے۔ مثلاً مزدوروں کو حق ہے کہ وہ مشاورت کے لیے ایک ادارہ (Association) قائم کریں لیکن اگر یہ ایسوسی ایشن ایک یونین بن کر ہڑتال کر دے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑ سکتے ہیں۔ جو لوگ مزدوروں کی ہڑتال سے متاثر ہوں گے ڈیوی ان کو پبلک کہتا ہے۔ جب بھی نجی عمل مفادِ عامہ (بڑھوترئ سرمایہ عمومی جسے ڈیوی پبلک انٹرسٹ کہتا ہے) متاثر ہوتا ہے تو ریاستی مداخلت کا جواز پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ مداخلت ایسی ہی نمایندہ پلورلسٹ جمہوری ریاست کر سکتی ہے جو پبلک نے انتخاب کی ہو اور جہاں منتخب ہونے والے پبلک انٹرسٹ یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی کے جائز نمایندہ تشریح کرنے والے ہوں۔ نمایندہ جمہوری ریاست پبلک یعنی سرمایہ عمومی کی آلہ کار ہے۔

جمہوریتوں کی نمایندگی لازماً متنوع ہوتی ہے کیوں کہ اگر پبلک سے مراد وہ گروہ ہے جو کسی ایسوسی ایشن کے عمل کے بلاواسطہ نتائج سے متاثر ہے تو معاشرہ میں ایک نہیں کئی پبلکس لازماً موجود ہوں گی۔ وہ پبلک جو مزدوروں کی ہڑتال سے متاثر ہو گی اس پبلک سے لازماً کسی نہ کسی حد تک مختلف ہو گی جو ایک دواساز کمپنی کی مغالطہ آمیز اشتہاری مہم سے متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر پبلک کی مخصوص نمایندگی ناقابل العمل ہے۔ لہٰذا مقننہ میں نمایندے منتخب کیے جاتے ہیں وہ سرمایہ عمومی (capital in general) یا مفاد عامہ کے نمایندے ہی ہوتے ہیں کسی خاص پبلک کے نمایندے نہیں ہوتے۔ ڈیوی کی رائے ان سرمایہ عمومی کے نمایندوں کے لیے قانون سازی کے اختیارات لامحدود اس لیے ہونے چا ہئیں کہ سرمایہ دارانہ نظام سے ان کی وفاداری اور ان کے اخلاق کو غیرمشتبہ تصور کیا جاتا ہے۔ وہ سب اس بات پر غیرمتزلزل یقین رکھتے ہیں کہ مجموعی معاشرتی لذات کا فروغ معاشرتی عمل کا اعلیٰ ترین مقصد ہے اور تمام انفرادی مفادات کا حصول بڑھوترئ سرمایہ عمومی پر منحصر ہے۔ اسی اعتقادی بنیاد پر یہ نمایندے اپنے لامحدود قانون سازی کے اختیار استعمال کر کے ان نجی اعمال کی تحدید اور نفی کرتے ہیں جو ان کے خیال میں مفادِ عامہ یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی کے خلاف ہوں۔
جس جگہ پبلک سرمایہ دارانہ اقدار اور ریشنیلٹی سے مخلص نہ ہو اس کے نمایندے وہاں مفادِ عامہ کے فروغ میں لازماً ناکام ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں اخلاص سے مراد یہ ہے کہ:

۱۔ فرد ہیومن رائٹس پر ایمان لائیں۔ وہ اس بات پر ایمان لائیں کہ ہیومن آزاد، خود مختار، خود تخلیقی اور کائنات کا خالق ہے۔

۲۔ وہ اس بات پر بھی ایمان لائیں کہ زندگی کا مقصد مطالباتِ نفسِ امارہ کو پورا کر کے لامتناہی بڑھوتری آزادی/سرمایہ کا حصول ہے۔ 

۳۔ ان کا عمل ریشنل ہو۔ یعنی وہ اس بات کو قبول کریں کہ ذاتی اغراض کے حصول کی جدوجہد لازماً سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کی جدوجہد سے مربوط ہونا چاہیے۔

جن معاشروں میں یہ ایمانیات عام نہیں وہاں جمہوری عمل کے ذریعے مفادِ عامہ یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ لہٰذا ایک کامیاب جمہوری نظام کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام افراد اور پبلکس کو سرمایہ دارانہ ایمانیات کو قبول کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ بالخصوص نظام تعلیم کو چرچ کے قبضہ سے آزاد کر کے ابلیسی اعتقادات اور اخلاقیات کو فروغ دینے کا سب سے اہم ذریعہ تعلیمی نظام کو بنایا جائے[674]۔ ڈیوی کی رائے میں سرمایہ دارانہ اعتقادات کی عمومی مقبولیت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ جمہوریت سیاسی عمل تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے ہر شعبہ میں جمہوری طریقہ کار اپنایا جائے۔ بالخصوص زندگی کے ہر شعبہ میں باہمی اشتراک عمل اور تعاون کو فروغ دے کر انفرادی اغراض کو جدوجہد حصولِ مفادِ مجموعی یعنی بڑھوترئ سرمایہ عمومی سے مربوط کیا جائے۔

ڈیوی کے مطابق معاشرتی اور سیاسی اور قانونی جمہوریت محض جمہوریت کی تکمیلی آفاقیات کا ایک اہم اظہار ہے۔ جمہوریت کی یہ مکمل معاشرتی بالادستی اس بات کا مظہر ہے کہ حق بذات خود کچھ نہیں حق وہ ہے جو ہیومن بینگ خود تخلیق کرتا ہے اور ہیومن بینگ کو حق کی اس تخلیقی صلاحیت کو فروغ دینا ہی مقصدِ حیات ہے اور یہ مقصدِ حیات بڑھوترئ سرمایہ /آزادی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی چیز کو ڈیوی گروتھ کہتا ہے۔ حق تاریخ میں بالخصوص جمہوری عمل کے ذریعے grow کر رہا ہے، ارتقا پذیر ہے۔ کل جو حق تھا آج وہ حق نہیں۔ آج جو حق ہے وہ کل حق نہ رہے گا۔ کل جو حق ہے وہ آج حق نہیں ہے۔ یہی پراگرس(progress) ہے۔

24۔ مشیل فوکو

تنویری معاشرت اور علمیت پر تنقید ویسے تو انیسویں صدی میں شروع ہو گئی تھی مثلاً فطشے اور شوپن ہاور کی فکر میں لیکن اس کو یورپ میں مقبولیت عام پہلی جنگ عظیم کی وحشیانہ ہول ناکیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ بیسویں صدی میں تنویری عقلیت کی تنقید کی بنیاد مشیل فوکو(Michel Foucault) اور اس سے متعلقہ مفکرین مارکیوزے(Herbert Marcuse) وغیرہ نے رکھی[675]۔یہ تنقید لبرل ازم اور مارکس ازم دونوں کی تنقید ہے[676]۔ ۱۹۷۰ءکے بعد لبرل ازم اور مارکس ازم کی تنقید ایک مربوط منہج میں مرتب ہو گئی۔ اس منہج کو پوسٹ ماڈرن ازم کہتے ہیں۔ میری رائے میں پوسٹ ماڈرنسٹ فکر ہی آج کے دور میں سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اور سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے مقبول توجیہ پیش کرتی ہے۔ فوکو اس مکتب فکر کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہے۔ دیگر اہم پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین میں دریدا، لیوٹارد، رارٹی، چارلس ٹیلر،مارلوپونٹے اور ڈیلوز(Leotard, Derrida, Deluze, Rorty, Charles Taylor, Miraleus-Ponty) وغیرہ شامل ہیں۔

24.1۔ سرمایہ دارانہ خودشناسی

فوکو انفرادی آزادی کا وکیل ہے اور اس بنیاد پر کچھ مبصرین مثلاً نکولس روز نے اس کو لبرل کہا ہے[677] ۔ وہ ہیومن بینگ پر ادارتی اور اقداری جبر بالخصوص وہ جبر جو عیسائیت مسلط کرتی ہے، کو قطعاً ناجائز اور ارتقا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانتا ہے۔ فوکو کے بقول استحصال(exploitation) یہی ہے کہ ہیومن بینگ پر مذہبی اور معاشرتی اقدار مسلط کی جائیں۔ فوکو فطرتِ انسانی کے تصور کو ردّ کرتا ہے اور ہیومن بینگ کو انہی معنوں میں آزاد کہتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو جو چاہے بنا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر فوکو اغلام بازی، محرمات سے زنا اور بچوں سے زناکاری کو فروغ دینے کا حامی ہے۔ وہ خود بھی ایک مشہور و معروف اغلام باز تھا اور اغلام بازوں کی تلاش میں لمبے لمبے سفر کیا کرتا تھا۔ وہ ۱۹۸۴ء میں ایڈز میں مبتلا ہو کر مرا اور یورپ میں ایڈز سے مرنے والے ابتدائی مریضوں میں شامل تھا۔ اس نے اپنی اغلام بازی اور بچہ بازی کو مخفی رکھنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ کی۔ ہر وہ فعل جائز ہے جو ہیومن بینگ اپنی رضا اور رغبت سے اور کسی دوسرے کی آزادی کو سلب کیے بغیر انجام دے۔ ہر ہیومن بینگ کا فرض عین ہے کہ وہ ایسے تمام اقدار اور روایات کے خلاف جدوجہد کرے جو آزادی/سرمایہ کو محدود کرتی ہیں۔ فوکو اس بات کا قائل ہے کہ ہر فرد کا حق ہے کہ وہ معیارِ خیروشر خود متعین کرے اور خیر مطلق محض انفرادی آزادی کا لامتناہی فروغ ہے۔

فوکو کے بقول تنویری عقلیت نے جو معاشرتی تخلیق کی ہے وہ ایک جابرانہ اور آزادی کو محدود کرنے والی معاشرت ہے۔ اس تنویری عقلیت کی بنیاد پر جو ادارے تعمیر ہوئے وہ فلاح کو فروغ دینے کے جواز پر ہیومن بینگ کو آزادی سے محروم کر دیتے ہیں۔ فوکو آزادی کے فروغ کے لیے ادارتی تسخیر (Institutional deconstruction) کو ضروری سمجھتا ہے۔

آزادی کے فروغ کی راہ میں بقول فوکو سب سے اہم وہ پابندیاں ہیں جو عیسائیت آزادانہ شہوت رانی پر عائد کرتی ہے۔ فرائیڈ نے تحلیل نفسی کی سائنس کو ایجاد کر کے شہوت رانی کو محدود اور باضابطہ بنانے کی جو جستجو کی وہ بھی اظہارِ خودارادی پر ایک تحدید ہے۔ آزادانہ شہوت رانی اظہارِ ذات اور ادراک اور رومانیت کے فروغ کے ذرائع میں شامل ہے۔ فوکو تنویری اقدار اور اخلاقیات ردّ نہیں کرتا بلکہ ان کے نامکمل اور اصلاً تصوراتی (abstract)ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔ ان اخلاقیات کا اظہار عمل سے ہی ممکن ہے اور جو معاشرے اور ریاستیں تنویری علمیت کی بنیاد پر قائم ہوئے وہ بقول فوکو اظہار انفرادیت کو محدود کرتے ہیں اور عمل کی علمیاتی بنیاد پر جواز پانے والی اس تحدید سے واضح ہوتا ہے کہ تنویری اہداف آزادی اور ترقی کا عملاً حصول ناممکن ہے۔ تنویری فکر آزادی کا نام تو لیتی ہے لیکن آزادی کے نام پر ہیومن بینگ کو عملاً مقید کر دیتی ہے۔ تنویری فکر نے انفرادی آزادی کی تحدید ادارتی صف بندی کے ذریعے کی ہے لہٰذا اظہارِ آزادی اور اظہارِ انفرادیت کے لیے ادارتی تسخیر کے عمل کو فروغ دینا لازم ہے۔ فوکو سرمایہ دارانہ اقدار آزادی اور ترقی کے فروغ کا نقیب ہے لیکن سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی خود ارادیت، آزاد شہوت رانی، خود تخلیقیت کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی ادارتی تسخیریت کو ضروری سمجھتا ہے[678]۔ 

فوکو حقیقت کے وجود کا انکاری ہے (آزادی /سرمایہ کو قدر مطلق کے طور پر لینے کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ازلی کچھ نہیں اور ہیومن بینگ حقیقت کو اپنے ارادے کے مطابق ہر وہ شکل دے سکتا ہے جو وہ خود دینا چاہے) ۔حیاتِ ہیومن بینگ اصل میں لامعنوی ہے۔ نہ کائنات کے وجود کا کوئی مقصد ہے اور نہ کائناتی نظام کا کوئی مرکزی محور ہے۔ ہیومن بینگ مستقل حصولِ قوت/آزادی/سرمایہ کی جدوجہد میں مبتلا رہتا ہے۔ اسی پیہم کش مکش کا جواز پیش کرنے کے لیے علوم تخلیق کیے گئے ہیں۔ علم کا فروغ اور ترتیب حصولِ قوت کے لیے عمل میں آتی ہے لہٰذا قوت اور علم ایک ہی چیز کے دو نام ہیں لہٰذا کبھی بھی یہ الفاظ جدا جدا تحریر نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ پاور/نالج لکھتا ہے۔ فوکو ایک نئی سائنس کی ایجاد کا خواہاں ہے۔ اس سائنس کو وہ Genealogy[679]کہتا ہے۔ جینیالوجی ہر علم کی اپنی تاریخ مرتب کرے اور یہ بات ظاہر کرے کہ اس علم کی تخلیق اور ترویج کے نتیجے میں حصولِ قوت کے کون سے مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔ تاریخی علوم کو کھود کھود (archeologically) کر یہ حقیقت واضح کی جا سکتی ہے۔

طاقت کا کھیل یعنی پاور گیم سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کی ترتیب اور تعمیر کا بنیادی محرک ہے۔ وہ علم اور عمل دونوں سطح پر جاری ہے۔ فوکو ان قوت کے کھیلوں کے مسلسل فروغ کو ضروری سمجھتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ کھیل اس طرح کھیلے جا سکتے ہیں کہ ادارتی جبر کو کم سے کم کیا جائے۔ وہ ادارتی جبر (domination) کا مخالف ہے اور اس کو کم کرنے کے لیے مخصوص اداروں (پاگل خانوں، جیلوں، اسپتالوں) اور ریاستی بیوروکریسی کے خلاف ایسی جدوجہد کا قائل ہے جس کے نتیجے میں مخصوص مسائل پر سے ادارتی جبر کم یا ختم کیا جائے۔ لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مجموعی جدوجہد کا قائل نہیں۔ مثلاً ساری عمر فوکو نے اغلام بازوں پر جاری پابندیوں کے خلاف جدوجہد کی لیکن فرانس میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہونے والی جدوجہد کو ہمیشہ بے کار سمجھا۔ یہ پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کی ایک کلیدی خصوصیت ہے۔ بحیثیت مجموعی پوسٹ ماڈرنسٹ:
۱۔ سرمایہ دارانہ اداروں کی لگائی گئی پابندیوں کو ناجائز سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف جدوجہد کی اعانت کرتے ہیں کیوں کہ یہ پابندیاں ان کی رائے میں سرمایہ دارانہ طرز زندگی کے فروغ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہیں۔
۲۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو مجموعی طور پر ردّ کرنے کو ناممکن بھی سمجھتے ہیں اور غیرضروری بھی۔ وہ اس نظام زندگی اور اس کی قوت کو فروغ دینے کی صلاحیت کو سراہتے ہیں۔

۳۔ وہ سرمایہ دارانہ اقدار آزادی اور ترقی قبول کرتے ہیں اور حصولِ آزادی اور ترقی کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے فروغ کے لیے لازمی تصور کرتے ہیں۔

۴۔ تنویری عقلیت پر پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کا اعتراض یہ ہے کہ وہ انفرادی آزادی کو محدود کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے اور آزادی، مساوات اور ترقی کو نظاماتی ہدف کے طور پر قبول کرنے کا کوئی جواز فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین ان اہداف کو جمالیاتی بنیادوں پر قبول کرتے ہیں۔

فوکو کے مطابق آفاقی تصورات (universal concepts)مثلاً ہیومن فطرت(human nature) خاص تاریخی ادوار میں خاص گروہوں کے ہاتھ میں قوت کے ارتکاز کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایجاد اور استعمال کیے گئے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کیا ہیومن فطرت اصلاً موجود ہے بلکہ وہ یہ پوچھتا ہے کہ ہیومن فطرت کے تصور کی ایجاد تاریخی طور پر کن مقاصد(ارتکازِ قوت) کے حصول کے لیے کارفرما(functional) ثابت ہوئی۔ ریشنیلٹی (خودغرضیت) کی تشریح آفاقی نہیں جیسا کہ کانٹ اور لاک کی رائے ہے بلکہ تاریخی ہے اور مختلف ادوار میں سائنٹفک منہج مختلف معاشرتی ترتیب اور اجتماعِ قوت کا جواز پیش کرتا ہے۔

فوکو کے مطابق مغربی علمیت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسے آفاقی اصولوں کی تلاش میں (پوسٹ ماڈرنسٹ دور سے قبل) سرگرداں رہی ہے لہٰذا معاشرتی عمل کی حقیقی کارفرمائی سے غافل ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں قوت کے ادارتی استعمال کے نتیجے میں جو معاشرتی ظلم روا رکھا جاتا ہے وہ مخفی رہتا ہے اور حصولِ آزادی کی غیر مشروط جدوجہد کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں وہ عیاں نہیں ہوتیں۔ فوکو کے بقول ہر تاریخی دور اپنا مخصوص تصورِ عدل رکھتا ہے اور آزادی کے فروغ کے لیے اسی مخصوص تصورِ عدل کے خلاف جدوجہد ضروری ہے۔ یہ جدوجہد نظاماتی نہیں ہوتی جیسا کہ اشتراکی سرمایہ دار تصور کرتے ہیں بلکہ جدا جدا مسائل سے نبردآزما ہو کر اداروں کی تحکیم کو کم زور کرنے کی جدوجہد ہوتی ہے۔ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کے جبر کے خلاف اور قیدخانوں میں جیلروں کے خلاف جدوجہد بارآور ثابت ہو سکتی ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد لازماً عبث ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام بحیثیت مجموعی قوت کا مظہر ہے اور اس کا وجود ناگزیر ہے۔ فوکو جبر کے خلاف جدوجہد کو ضروری اور قوت کے خلاف جدوجہد کو لازماً عبث تصور کرتا ہے۔ جبر (domination) کے خلاف منفرد جدوجہد کا مقصد اس شخصیت(subjectivity) کی تحلیل ہے جو تنویری علمیت نے ایک مخصوص تصورِ خودغرضیت کو جواز فراہم کرنے کے لیے تعمیر کی ہے۔ آزادی کے حصول کے لیے اس علمیت اور اس شخصیت کی تسخیر لازمی ہے۔

تنویری شخصیت (subjectivity)کے قیام اور فروغ کے لیے کئی ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔ علم طب اور نفسیات اور طبی ادارے معمولیت (normality) کے ایسے پیمانے متعین کرتے ہیں جن کے ذریعے معاشرتی طور پر قابل قبول رویوں(behaviour) کو ناقابل قبول رویوں(abnormal behaviour) سے ممیز کیا جاتا ہے۔ طبی اور نفسیاتی علمیت کی بنیاد پر اب بھی مغرب میں جانوروں کے ساتھ کھلے عام جفتی کرنے کے عمل کو ناقابلِ قبول تصور کیا جاتا ہے[680] گوکہ اغلام بازی اب طب اور علم نفسیات کے جواز کی سند حاصل کر کے ایک قابلِ قبول (normal behaviour)عمل بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ پوپ فرانسس اول بھی اب اغلام بازی کی معقولیت کو فروغ دینا عیسائی تعلیمات کے مطابق کہتا ہے۔

شخصیت سازی (subjectification) اور معمولیت کا یہ عمل تمام سوشل سائسز کا اصل وظیفہ ہے۔ اس شخصیت سازی اور معمولیت کے ذریعے معاشرے کے مغلوب افراد اور طبقوں (پاگلوں اور آوارہ گردوں، غریبوں) کو اس تنویری عقلیت کے تابع کیا جاتا ہے جو ریشنیلٹی (خودغرضیت) کا جواز فراہم کرے۔ سوشل سائنسز لسانیات، معیشت اور معاشرتی تفہیم کے لیے اپنے منہاج مرتب کرتے ہیں جو ظاہراً اصولی اور آفاقی (theoretical and universal)نظر آتے ہیں لیکن اپنی مشہور کتاب”The Order of Things” میں فوکو ایسی مثالیں پیش کرتا ہے کہ یہ تنویری علمیاتی منہج تاریخی ادوار میں تبدیل ہوتے رہے ہیں اور اس تبدیلی کا بنیادی محرک نظام قوت کی توجیہ بیان کرنا تھا[681]۔

24.2۔ سرمایہ دارانہ علمیت

تنویری علمیت (power/knowledge) شخصیت کی ایک مخصوص معنویت متشرع کرتی ہے۔ فوکو یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ حیاتی معنویت کی جو تشریح ایک ہیومن سائنس پیش کر رہی ہے وہ درست ہے یا نہیں۔ وہ ان ہیومن سائنسز کی کارفرمائی کے عمل پر غور کرتا ہے اور معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کے منہاج کیسے وجود میں آئے اور انہوں نے کیسے ترقی کی۔ ان ہیومن سائنسز کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اور ان مناہج کے معاشرتی استعمال (application)سے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ ان ہیومن سائنسز کے وجود اور فروغ کے لیے کون سے اور کیسے تاریخی حالات کا وجود ضروری ہے۔ ہیگل اور مارکس کے برخلاف فوکو کوئی اجمالی تصور تاریخ پیش نہیں کرتا، فشطے اور ہائیڈیگر کے برخلاف فوکو ریشنیلٹی (خود غرضیت) کی لازمی ناکامی کا قائل نہیں اور اصرار کرتا ہے کہ وہ نہ تہذیبی مادیت کا شکار ہے اور نہ ریشنیلٹی کو ردّ کرتا ہے۔ فرینکفرٹ اسکول کے مصنفین اور کسی حد تک ہائیڈیگر کی طرح تنویری تصورِ عقلیت (خود غرضیت )کے منفی اور مثبت دونوں قسم کے اثرات کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس زاویہ نگاہ میں یہ اعتراف ہے کہ ریشنیلٹی آزادی کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ بھی۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ خودغرضیت کو ردّ کر کے کسی اور منہج علمیت (مثلاً رضائے الٰہی کے حصول کو حق کی شناخت کے لیے پیمانہ کے طور پر قبول کرنا) کو اپنایا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ خودغرضیت کے منفی اثرات( یعنی وہ اثرات جن سے آزادی محدود ہوتی ہے) کو ختم کر کے اس کے مثبت اثرات( یعنی وہ اثرات جن سے آزادی/سرمایہ فروغ پاتا ہے،) کی کارفرمائی کو کیسے بڑھایا جائے۔ فوکو اور ہائیڈیگر ایک ایسے تصورِ خودغرضیت کی تخلیق کی جستجو میں محو رہے جس کی کارفرمائی کے نتیجے میں آزادی کو فروغ دینے پر کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ وہ دونوں اس جدوجہد میں ناکام رہے اور فوکو نے اپنی آخری عمر میں بالخصوص اس بات کو تسلیم کر لیا کہ قوت کا انہدام ناممکن ہے اور سرمایہ دارانہ تنظیم جو تحدید سرمایہ دارانہ بڑھوتری کےلیے معاشرتی اور ریاستی عمل پر مسلط کرتی ہے وہ بحیثیت مجموعی ناگزیر ہے گوکہ اس تسلط کے نتیجے میں جو ادارتی جبر نافذ کیا جاتا ہے اس کو جدا جدا جدوجہدوں(سنگل ایشو موومنٹس) سے کم کرنے کے مواقع موجود ہیں اور ان میں تحریکِ نسواں، تحریکِ اغلام بازاں، تحریکِ ماحولیات، تحریکِ امن وغیرہ کے ذریعے آزادی کی تحدید کرنے والی ریشنل صف بندی میں اصلاح کی جا سکتی ہے۔ اسی نوعیت کی جدوجہد میں سیاسی عمل کا محرک ہونا چاہیے۔

24.3۔ سرمایہ دارانہ تحکیم

سرمایہ دارانہ ریاست اور نظم تحکیم جسے فوکو governmentality کہتا ہے، بیک وقت انفرادیت (individulation) کو بھی فروغ دیتی ہے اور اجتماعیت(totalisation) کو بھی۔ سرمایہ دارانہ تحکیم کی فوکو کے مطابق دو اہم خصوصیات ہیں۔ ایک یہ کہ سرمایہ دارانہ ریاست ہمہ گیر تحکیم کو ضروری سمجھتی ہے۔ دوسرے تحکیم کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ ہے[682]۔ لبرل فکر نے سیاسی عمل کا مقصد معاشرتی کارفرمائی کی ترتیب اور تنظیم کو قرار دیا۔ سولھویں اور سترھویں صدی کا سیاسی فلسفہ بقول فوکو اس بات پر زور دیتا ہے کہ ریاست کا مقصد محض علاقہ کا دفاع نہیں۔ وہ فروغِ سرمایہ، تعین رجحانات اور روایات، انسدادِ فاسد (قحط، وبا، بیروزگاری) کی بھی ذمہ دار ہے۔ ایک ریشنل ریاستی نظام (یعنی ایسا ریاستی نظام جو سرمایہ عمومی کی لامتناہی بڑھوتری(maximization) کو اپنی وجہ وجود گردانتا ہو) کو فریضۂ حکومت انجام دینے کےلیے وسیع معاشرتی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے[683] اور اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے باشندوں کو عمل تحکیم میں کسی نہ کسی طریقے سے شریک کرے۔ فوکو کے مطابق معاشی تبدیلیاں خود بخود ظہور پذیر نہیں ہوتیں بلکہ ریاستی عمل ان کے اظہار کو مرتب اور متشکل کرتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو فوکو بائیوپاور(bio power) کہتا ہے۔ بائیوپاور وہ حکومتی طریقہ کار ہے جہاں سیاسی قوت افراد کی بدنی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ نظام تحکیم افراد کی حیثیت کا تعین ان کے عقائد اور اخلاقیات کی بنیاد پر نہیں کرتا بلکہ ان کی جسمانی خصوصیات، رنگ، نسل، ہنر، محنت کی صلاحیت کی بنیاد پر کرتا ہے[684]۔ سرمایہ دارانہ نظام تحکیم انسانی جسم کو اپنا آلہ کار بنا کر اس کو مسخ کر دیتا ہے۔ اپنی کتاب "Discipline and Punish" میں فوکو نے تفصیل سے ان طریقوں کا تذکرہ کیا ہے۔ فوکو ان کو "technologies of the self"کہتا ہے جس کے ذریعے انسانی بدن اور ذہن کو سرمایہ دارانہ نظام تحکیم نے آلہ کار بنایا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز آف سیلف اسکولوں، فیکٹریوں، اسپتالوں اور قحبہ خانوں کے ذریعے استعمال میں لائی جاتی ہیں اور یہ تمام ادارے محض سرمایہ دارانہ معاشرت کا حصہ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ تحکیم کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ ادارے انسانی جسم اور روح کو مسخ کر کے اس کو ہیومن بینگ یعنی شیطان بناتے ہیں۔ فوکو کہتا ہے کہ اجسام کو مسخ کیے بغیر سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا معاشرتی اور ریاستی تسلط ناممکن ہے۔ ان ٹیکنالوجیز اور ڈسپلنز کو غالب کر کے (یعنی عیسائی عقلیت کو شکست دے کر) تحریکِ تنویر نے سرمایہ دارانہ طرزِ فکر اور نظامِ زندگی کے غلبہ کو ممکن بنایا ہے۔

فوکو سرمایہ دارانہ تحکیم کے عمل کو ایک مثال سے واضح کرتا ہے۔ یہ نظام تحکیم ایک پناپٹیکان سے مماثل ہے۔ پناپٹیکان ایک وسیع آنگن کو کہتے ہیں جس کے وسط میں اونچا مینار تعمیر کیا ہوا ہو۔ آنگن کے چاروں طرف مختلف اونچائی کی عمارتیں موجود ہوں اور ہر عمارت میں متعدد کوٹھڑیاں ہوں۔ ہر کوٹھڑی میں دو آمنے سامنے کھڑکیاں ہوں۔ ایک کوٹھڑی روشنی لانے والی اور دوسری مرکزی مینار کے مقابل۔ ہر کوٹھڑی میں ایک فرد موجود ہو جس کی ہر حرکت کا مرکزی مینار سے مستقل مشاہدہ کیا جا سکتا ہو۔ مینار میں بیٹھا ہوا نگران ہر کوٹھڑی کے مکین کی ہر حرکت کو دیکھ سکتا ہو۔ نگران کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ وہ مستقل نگرانی کر سکتا ہے اور نگران کو کوٹھڑی والے کبھی نہیں دیکھ سکتے۔ نگران کا مرکزی مینار میں موجود ہونا ضروری نہیں کیوں کہ کوٹھڑی والوں کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ ان کو کوئی دیکھ رہا ہے یا نہیں اور وہ مجبور ہیں کہ مشاہدہ کے امکان کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔ لہٰذا ہر کوٹھڑی والا خود اپنا نگران بننے پر مجبور ہو جاتا ہے[685]۔سرمایہ دارانہ نظام پناپٹیکان(panopticon) کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ یہاں صرف کوٹھڑی والوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور ان کو خود اپنی نگرانی کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ نگرانوں کی نگرانی کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ حکمرانی کے اصول یعنی سرمایہ کی بڑھوتری کے ضوابط سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں خواہ وہ سیاسی قائد ہو یا ایک عام شہری، مینیجر ہو یا مزدور۔ سرمایہ اجسام، اجتماعیتوں اور علوم پر ہر گھڑی حکومت کرتا ہے۔ سرمایہ دار مستقل اس تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ ایسا مکمل اور خودکفیل نظام اقتدار مرتب کریں جس میں قوت افراد کے ہاتھ سے لے کر سرمایہ کی ابلیسی قوت کے ہاتھوں میں مرتکز کر دی جائے۔

سرمایہ دارانہ تحکیم کا محوری محرک (organisational principle) اصولِ نارملائزیشن ہے۔ نارملائزیشن وہ عمل ہے جس کے ذریعے کسی آبادی کو دائراتی تقسیم میں بانٹا جا سکے۔ عوامی عمل کے مستقل مطالعے کی بنیاد پر قابلِ قبول معیارات (norms)متعین کیے جاتے ہیں اور آبادی کو ان معیارات سے قرب یا دوری کی بنیاد پر کیٹیگرائز (catagorise)کیا جاتا ہے۔ کوئی مستقل نظاماتی معیارات نہیں ہوتے[686] اور بقول فوکو قانون ان معیاراتی تغیرات کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا حکومت تحلیل نفسی کے ماہرین، سوشل ورکرز، اساتذہ، میڈیا اور پالیسی ساز کرتے ہیں کیوں کہ نارمل کا تعین معاشرتی سطح پر یہی لوگ کرتے ہیں اور آبادی کی درجہ بندی کے یہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تنفیذ قانون کے عمل میں ان ماہرین کا عمل دخل پارلیمنٹ کے قانون ساز اداروں اور قانون کی دستوری تشریح مرتب کرنے والے ججوں سے کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے کیوں کہ یہی سوشل سائنٹفک ماہرین علم کو قوت(knowledge / power) کی شکل دیتے ہیں۔ یہی پاور نالج کے اصل تخلیق کار ہوتے ہیں۔ یہ قانون کو نارملائز کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ریاست کا اختیارِ اعلیٰ اور پارلیمنٹ کا وضع کردہ قانون اسی نارملائزیشن کے تابع ہوتا ہے۔ قانون کچھ بھی ہو اس کی تنفیذ کا جواز معاشرتی نارم فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً بیش تر مغربی ممالک میں خدا اور انبیاء کی تضحیک کو قانونی جرم تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن یورپی اور امریکی ممالک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نہایت گھناؤنے بہتان پر مبنی فلمیں بنائی جاتی ہیں اور قانون کی رو سے توہین کی بنیاد پر اس قسم کے فلم سازوں پر گرفت نہیں کی جاتی کیوں کہ اب خدا اور رسول کی شان میں گستاخی ایک نارمل فعل بن گیا ہے اور کتابوں میں موجود ہونے کے باوجود قانون blasphemyعملاً کالعدم ہو گیا ہے۔

نارملائزیشن کے عمل سے شخصیت سازی (subjectification) عمل میں آتی ہے۔ شخصیت سازی کے دو معانی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک مخصوص انفرادیت پیدا کی جائے جو سرمایہ دارانہ نارم کے مطابق زندگی گزارنے کو قلب اور عقل دونوں کا تقاضا تصور کرے۔ دوسرے subjectification کا مفہوم یہ کہ فرد سرمایہ کے قانون کا مطیع بن جائے۔ حکومت سازی کا عمل ایک مخصوص انفرادیت کی تعمیر کا عمل بھی ہے اور اس انفرادیت پر قانونِ سرمایہ(law of capital) کی تنفیذ کا عمل بھی۔ ہیومن سائنسز وہ ٹیکنالوجیز وضع کرتی ہیں جو سرمایہ دارانہ اقدار (norm)سے انحراف کی نشان دہی بھی کر سکتی ہیں اور ان انحرافات کو ختم کرنے کے ذرائع بھی فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز بدن پر نافذ کی جاتی ہیں اور خواہشاتِ نفسانی اور حصولِ لذات کی جستجو بالخصوص جنسی لذت کو ترتیب اور فروغ دے کر انسان کو ایک نارمل سرمایہ دار فرد بھی بناتی ہیں یعنی ہیومن بینگ، اور اس پر نفاذِ قانونِ سرمایہ کو بھی ممکن بناتی ہیں۔

سرمایہ دارانہ تحکیم(governmentality) کی کامیابی کےلیے لازم ہے کہ حاکم( یعنی سوشل سائنسز کے ماہرین جو سرمایہ دارانہ نظام کے اصل حاکم ہو تے ہیں)افراد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اطلاعات جمع کرتے رہیں اور ان اطلاعات کے سائنٹفک تجزیہ کے ذریعے حکومتی کارفرمائی کو بدلتے ہوئے نارم کے مطابق تعمیر سرمایہ دارانہ انفرادیت اور تنفیذ قانون سرمایہ کا موثر ذریعہ بناتے رہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سوشل سائنس اور سوشل سائنس دان کا مکمل (totalizing) غلبہ ہوتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ اور فرد کا کوئی عمل سوشل سائنس دان کی گرفت سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔

سرمایہ دارانہ نظام فوکو کے بقول بیک وقت individualizing اور totalising کے رجحانات کو فروغ دیتا ہے۔ وہ فرد کو اپنی لذت پرستی کو فروغ دینے کے لیے نئے نئے امکانات فراہم کرتا ہے لیکن علمیاتی اقتدار کے جبر کے نتیجے میں ان امکانات کو بروئے کار لانے کے مواقع کی تحدید بھی کرتا ہے۔ اس نظاماتی جبر پر فوکو کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ نظام جبر ایک مخصوص سرمایہ دارانہ انفرادیت پیدا کرتا ہے۔ فوکو سرمایہ دارانہ انفرادیت کے وجود پر معترض نہیں، اس کی علمیاتی تحدید پر معترض ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ادارتی جبر کے خلاف جدوجہد کر کے ہیومن بینگ کو ایسی سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر کی جستجو کرنی چاہیے جو موجودہ دور کی سرمایہ دارانہ انفرادیت کے مقابلے میں زیادہ آزاد اور خودمختار (autonomouse) ہو۔

لیکن کیا آزادی سرمایہ کے علاوہ کوئی اور شکل اختیار کر سکتی ہے؟ ہائیڈیگر سے زیادہ فوکو کو اس بات کا احساس ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ آزادی کا مطلب نفسِ امارہ کی غلامی کے علاوہ اور کچھ نہیں اور نفس کا بندہ لازماً کائنات پر اپنی خواہشات کو مسلط کرنے کےلیے بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو مہمیز دینے پر مجبور ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ بڑھوترئ سرمایہ کو فروغ دینے کے جو طریقے اور ضوابط سوشل سائنسز نے وضع کیے ہیں ان میں ترمیم اور تنسیخ کی جائے اور فوکو اس نوعیت کی ترمیم و تنسیخ کے واسطے سے ادارتی جبر کے خلاف جدوجہد کی وکالت کرتا ہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ نفس پرستی کو ترک کیے بغیر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو مسخر کیا جا سکے۔ نفس پرستی سرمایہ دارانہ اقتدار کی لازماً متقاضی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اقتدارکے وجودکے بغیر معاشرتی اور ریاستی سطح پر نفس پرستی ناممکن ہے[687]۔ فوکو اس بات کو جانتا تھا اور جبر کے خلاف جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتا تھا۔ اس کی نظر میں سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے خلاف جدوجہد ناممکن ہے کیوں کہ ہیومن بینگ لازماً نفس کا بندہ ہے، خدا کا بندہ نہیں۔ ہیومن بینگ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور فوکو جیسے کٹر کافر اور ملحد کی نظر میں یہی دعویٰ انسان کو ہیومن بینگ بناتا ہے۔ پاور/نالج کے دائرے سے باہر اس دعوے پر عمل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام اقتدر کا قیام و استحکام ناگزیر ہے۔

24.4۔ پوسٹ ماڈرن ازم اور لبرل ازم

پوسٹ ماڈرنسٹ فکر لبرل معاشروں اور ریاستی نظاموں میں ہی پرورش پاتی ہے۔ غیرلبرل معاشرے اور ریاستی نظام(خواہ سرمایہ دارانہ خواہ مذہبی) پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کے پنپنے کے مواقع فراہم نہیں کرتے۔ فوکو اس بات سے اچھی طرح واقف تھا اور زندگی بھر اس بات کا مطالعہ کرتا رہا کہ لبرل نظام میں آزادی کو ذریعہ تحکیم (instrument of government) کے طور پرکیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ فوکو انارکسٹ نہیں تھا وہ تحکیم کی ضرورت کا قائل تھا اور فروغِ آزادی کو سرمایہ دارانہ تحکیم کا مقصد ہی نہیں ایک اہم ذریعہ (Resource)بھی سمجھتا تھا۔ فوکو کی نظر میں لبرل تحکیم ایک اخلاقیات (ethos) فراہم کرتی ہے۔ اس اخلاقی تناظر میں عمل تحکیم کی وسعت کا تعین اس کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ ضرورت سرمایہ دارانہ انفرادیت کی تعمیر اور اس انفرادیت کو قانونِ سرمایہ کے ماتحت کرنے میں مضمر ہے۔ فوکو کے بقول انیسویں صدی کی لبرل فکر کے عروج کے نتیجے کے طور پر سرمایہ دارانہ معاشرت (سول سوسائٹی) وجود میں آئی۔ اسی معاشرت کی نشوونما، ترتیب اور تنظیم تمام ہیومن سائنسز کا مقصد ہے اور یہ ہیومن سائنسز اپنی اصل میں سب لبرل ہیں۔ فوکو کے مطابق لبرل ازم ایک اخلاقیات بھی ہے اور ایک ٹیکنالوجی بھی۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد ایک ایسی انفرادیت کی تعمیر ہے جو فروغ آزادی کے لیے مسابقتی اور تخلیقی (entrepreneurial ) عمل کو مسلسل جاری رکھنے میں حیات کی معنویت تلاش کرے۔ سوشل سائنسز کے ذریعے نظام تحکیم کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ شخصیت سازی کا یہ ہدف مستقل حاصل ہوتا رہے اور اس عمل کو جاری رکھنے کےلیے معاشرتی ادارے (اسکول، اسپتال، جیل خانے) ریاستی ادارے، مقننہ، وزارتِ جنگ، سیاسی جماعتیں وغیرہ اس طرح مربوط کیے جاتے ہیں کہ معاشرتی اور ریاستی عمل بتدریج مدغم ہو جاتا ہے۔

فوکو کے مطابق حکومت وہ عمل ہے جو نفس کی تربیت اور تعمیر کے ضوابط (technologies of the self) قوت کی ترتیب کے ضوابط (technologies of the power) سے مربوط کرتا ہے۔ قوت کی ترتیب کے ضوابط نفس کی ترتیب اور تعمیر کے ضوابط پر انحصار کرتے ہیں تربیت اور تعمیر نفس کے ضوابط نظام قوت کی ترتیب کے ضوابط میں سمو دیے جاتے ہیں۔ فوکو انفرادیت سازی(subjectification) کے عمل کو تحکیم (subjection)کے عمل سے متعلق کہتا ہے۔ لبرل ازم ابتدا میں ریاستی مطلق العنان تحکم کو فرد کی معاشی آزادی (جس کا اظہار مارکیٹ میں ہوتا ہے) سے ہم آہنگ کرنے کی ایک جستجو تھی۔ اٹھارھویں اور انیسویں صدی کا کلاسیکی لبرل ازم مارکیٹ کو ایک خود انحصاری اور خودتحکیم (self-governing) ادارہ تصور کرتا ہے لیکن مارکیٹ کی یہ خود تحکیم(self-regulation) صرف اس وقت مثبت (یعنی آزادی اور ترقی کو فروغ دینے والے) نتائج پیدا کر سکتی ہے جب ریاست اس کی حفاظت کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظم ملکیت کو قانونی تحفظ دے۔ دور حاضر کا نیو لبرل ازم اصرار کرتا ہے کہ ریاست کو مارکیٹ کا آلہ کار بن کر اس کو فروغ دینا چاہیے، محض تحفظ دینا کافی نہیں[688]۔ نیو لبرل ازم ریاستی عمل کے ذریعے مسابقت اور تخلیقیت کی انفرادی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔ یہ فرائض انجام دے کر ہی حکومت سول سوسائٹی کے قیام اور استحکام کا فریضہ انجام دے سکتی ہے [689]۔

لہٰذا اس فکر کے مطابق سرمایہ دارانہ ریاست ایک ایسا اخلاقی ادارہ ہے جو قانونی، ثقافتی اور ادارتی اقدامات کے ذریعے ایک مسابقتی اور تخلیقی انفرادیت کو فروغ دیتا ہے۔ دورحاضر کی نیولبرل حکومتیں حکومتی ذمہ داریوں کو نج کاری کے ذریعے سرمایہ داروں کو تفویظ کرتی ہیں اور اس طرح سرمایہ داروں میں تحکیماتی صلاحیتوں (governmental capabilities) کو فروغ دیتی ہیں اور اس ترسیل فرائض کے ذریعے ہر سرمایہ دار ذمہ دار بنایا جاتا ہے۔ مثلاً جب جکارتہ شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو ایک نجی کمپنی کے ہاتھ فروخت کیا گیا تو اس کمپنی کی مینجمنٹ کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ اپنی کارپوریٹ حکمت عملی اس طرح مرتب کرے کہ اس کے سرمایہ کی بڑھوتری کا عمل جکارتہ کے شہریوں کی فلاح کے فروغ کے عمل سے مربوط ہو جائے۔

فوکو کے نظریات سرمایہ دارانہ ریاست کی انفرادیت سازی کے عمل کو واضح کرتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست جو انفرادیت تعمیر کرنا چاہتی ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ذاتی مسابقت اور تخلیقیت کو اس طرح فروغ دینے کی سعی کرتی ہے کہ اس کے لیے سرمایہ (آزادی) میں اضافہ پورے معاشرے کے سرمایہ کو فروغ دینے کے عمل سے ہم آہنگ اور مربوط ہو۔ فوکو لبرل تحکیم کے اس مقصد کو قبول کرتا ہے لیکن اس کو شکوہ ہے کہ جن طریقوں سے انفرادی اور اجتماعی بڑھوتری کی جدوجہد کو مربوط کیا گیا ہے وہ آزادی/سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور ادارتی جبر کے خلاف جدوجہد کر کے ایسے طریقے وضع کیے جا سکتے ہیں جن سے فروغ آزدی (سرمایہ) پر سے یہ تحدیدات ختم یا کم کی جا سکتی ہیں۔ فوکو کی جینیالوجیکل یا آرکیالوجیکل تحقیقات کا ایک مقصد ان نظاماتی بندشوں کو ڈھیلا کرنا ہے جن کے ذریعے دورِحاضر میں سوشل سائنسز نے انفرادی اور اجتماعی جدوجہد حصول آزادی کو مرتب کر کے محدود کر دیا ہے۔ لیکن فوکو کی ان جینیالوجیکل اور آرکیالوجیکل تحقیقات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ انفرادی اور اجتماعی جدوجہد آزادی کو مرتب کرنے کے وقت وہ کون سے طریقے ہیں جن سے حصولِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کی منتہا(Maximised level) تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

فوکو کی فکر کی بنیاد لبرل مفروضات ہیں۔ وہ لبرل آزادیوں کے وجود اور فروغ کا قائل ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظامِ ترتیبِ قوت کا مقصد تو فروغِ آزادی ہے لیکن فروغِ آزادی کے جو طریقے اس ترتیبِ اقتدار نے فروغ دیے وہ فروغِ آزادی کی جدوجہد کو محدود کرتے ہیں۔ ان حدود کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ادارتی جبر (institutional domination) کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے تلاش جاری رکھنی چاہیے۔ آزادی پر نافذ حدود کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ہیومن بینگ کوشش کرتا ہے۔ اس کی اپنی تفہیم ذات مستقل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ہیومن بینگ مستقل آزادی کے فروغ کی تلاش میں رہتا ہے اور یہی تلاشِ حق ہے۔ اسی تلاشِ حق کے ذریعے اپنی محدود تخلیقیت کا اظہار مستقل کرتا رہتا ہے۔ خودتخلیقیت کا عمل تخلیق حق کا عمل بھی ہے۔ ہیومن بینگ نے اپنی تاریخ میں حق کو مختلف انداز میں تخلیق کیا اور اظہارِ حق کا کوئی آفاقی غیرمتبدل طرزِ کلام موجود نہیں۔ ہیومن بینگ کو اظہارِ حق کے نئے طریقے ایجاد کرتے رہنا چاہیے۔ فوکو کی اخلاقیات (ethics) کو جمہوری ان معنوں میں کہا گیا ہے کہ وہ جمہوریت کو ایسا عمل سمجھتا ہے جس میں ہر ہیومن بینگ کو مستقل تخلیق اور اظہارِ حق کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ جمہوریت وہ معاشرتی عمل ہے جو دائرہ ضرورت (Realm of Necessity) سے دائرہ آزادی (Realm of Freedom) کی طرف مراجعت کے امکانات کو واضح کرتا ہے۔ جمہوری عمل بقول فوکو ظاہر کرتا ہے کہ ہم جن پابندیوں کو آج ضروری تصور کرتے ہیں وہ عبور کی جا سکتی ہیں اور فروغِ آزادی کے لیے مستقل تجربات کے ذریعے حق کی تخلیق اور اظہار کے لیے ضوابط مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ اخلاقیات کی بنیاد کوئی آفاقی ماورائی عقائد نہیں محض عقیدہ الوہیت ہیومن بینگ ہے[690]۔ ہیومن بینگ تاریخی عمل میں تصورِ آزادی کو وسعت دینے کے لیے حق کی نئی نئی صورتیں تخلیق کرتا رہتا ہے۔ لیکن حق کی ہر تخلیق لازماً حصول آزادی کی جدوجہد کو کسی نہ کسی طریقے سے محدود بھی کرتی ہے اور اسی چیز کو فوکو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کی ناگزیریت کے طور پر قبول کرتا ہے۔ اس نظام اقتدار کے اجزاء کے جبر کے خلاف جدوجہد فروغِ آزادی کے لیے ضروری ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام اقتدار بحیثیت مجموعی کبھی تحلیل نہیں کیا جا سکتا۔ بقول فوکو آزادی کا مکمل اور غیرمحدود حصول بالکل ناممکن ہے۔

لبرل ازم اور انارکزم کا بنیادی فرق یہی ہے کہ انارکسٹ لامحدود حصول آزادی کےلیے کسی نظام قوت کی ضرورت کے قائل نہیں۔ اس کے برعکس لبرل سرمایہ دار ریاست کے وجود کی ضرورت یعنی تحدیدِ آزادی کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے محکومین سے وعدہ کرتے ہیں کہ اس نظامِ اقتدار کو قبول کرنے کے نتیجے میں ہیومن بینگ نفسانی خواہشات کی تکمیل کا زیادہ مکلف ہوتا جائے گا یعنی Utility maximization کا[691] ۔ یہ وعدہ لبرل نظام اقتدار کے حاکمین پورا کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس بات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ محکوم حاکموں پر بھروسانہ کریں۔ محکومین لبرل نظام اقتدار سے مایوس ہو جائیں وہ سمجھنے لگیں کہ اس نظام اقتدار میں یہ سکت نہیں کہ وہ عوام کی لذات کی فراہمی اور آزادی/سرمایہ کی بڑھوتری کا انتظام کر سکے[692]۔ عوامی بے اعتباری کے اسی نوعیت کے اظہار کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ قوم پرست اور سرمایہ دارانہ اشتراک اقتدار کے خلاف جدوجہد برپا کر سکتے ہیں ۔ 

ہر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار خواہ قوم پرست خواہ اشتراکی، خواہ سوشل ڈیموکریٹ، کی طرح لبرل تحکیم لازماً ایک تضاد کا سامنا کرتی ہے۔ ایک طرف وہ افراد کی خواہشات اور میلانات کو مرتب کرنے پر مجبور ہے اور دوسری طرف فرد کے ایسے انفرادیت کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے پر مجبور ہے جو افرادی خود ارادیت کو فروغ دیں۔ اگر ہیومن بینگ واقعی خودمختار اور خودتخلیقی ہے تو نظم اقتدار اس کی کوئی متعین تشریح خواہشات کا مکلف نہیں ہو سکتا اور ریاستی نمایندگی کے ذریعے اور محض مخالفت اور مزاحمت کے مواقع فراہم کر کے خودمختار اور خودتخلیقی فرد کی آزادی محفوظ نہیں کی جا سکتی۔

فوکو اور بیش تر پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین لبرل معاشرت اور لبرل نظام اقتدار میں خودمختار اور خودتخلیقی انفرادیت کے وافر مواقع دیکھتے ہیں۔ اپنی کتاب "History of Sexuality" کی پہلی اور دوسری جلد میں فوکو نظم قوت کی کم زوریوں کا تجزیہ کرتا ہے جن سے فائدہ اٹھا کر ہیومن بینگ اپنی خودارادیت اور خود تخلیقیت کا اظہار کر سکتا ہے۔ ہیومن بینگ کا جسم محض تابع اور معمول نہیں بلکہ مرکز مزاحمت بھی بنایا جا سکتا ہے جس کے ذریعے معاشرتی اور ریاستی اداروں کے جبر کو کم کرنے کی جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے۔ اس قسم کی جدوجہد اصولاً عبث ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کی حتمی تحلیل ناممکن ہے لیکن اس نوعیت کی جدوجہد سے حصولِِ آزادی کی جدوجہد پر پابندیوں کو یقیناً بتدریج کم کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجیز آف سیلف سے ٹیکنالوجیز آف پاور کو چیلنج کر کے ہی ہیومن بینگ اپنی خود ارادیت اور خود تخلیقیت کا اظہار کرتا ہے۔
اگر سرمایہ دارانہ نظم اقتدار ناقابل تسخیر ہے تو سرمایہ داری سے ماورا ئی تصورِ حیات[693] اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ہیومن بینگ صرف حال میں زندہ رہنے پر مجبور ہے اور اسی حال میں ادارتی جبر کے خلاف جدوجہد کے ذریعے وہ اپنی خودارادیت اور خود تخلیقیت کا اظہار کر سکتا ہے۔ اس جبر کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں ہیومن بینگ اپنی حیات کو فن کا شاہ کار بنا لیتا ہے اور اخلاقیات کو ان قوانین کی گرفت سے چھڑا لیتا ہے جو اس پر عیسائیت نے لاد دی تھیں۔ عیسائی اخلاقیات سے نجات ممکن بھی ہے اور ضروری بھی لیکن سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کی ابدیت کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ بقول فوکو زمانہ حال میں آزادی کے حصول اور تخلیق کا اہم ترین طریقہ جنسی بے راہ روی کا پھیلاؤ ہونا چاہیے[694]۔ اپنے مقالہ "The Uses of Pleasure" میں فوکو تفصیل سے بیان کرتا ہے کہ کس طرح غیر فطری شہوت رانی[695] کو ادارتی اخلاقی جبر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جنس کو بحیثیت ایک سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی تعلیم فوکو کے علاوہ کئی اور پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین مثلاً ڈیلوز، لیوتارد وغیرہ بھی دیتے ہیں۔ فوکو کے مطابق جنسی بے راہ روی کو آرٹ بنا کر پیش کرنا اظہارِآزادی کی معراج ہے۔ اظہارِ آزادی کے جن طریقوں کی وکالت فوکو کرتا ہے[696] وہ سرمایہ دارانہ نظام قوت کو متزلزل نہیں کرتے۔ لبرل سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے خلاف بغاوت اور انقلابی عمل کو فوکو ایک فعل عبث تصور کرتاہے۔

اظہارِ ذات اور اظہارِ آزادی ایک عقلی عمل نہیں بلکہ ایک جذباتی ردِعمل ہے جو غیر یقینی مستقبل سے نبٹنے کے لیے حال میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اظہارِ ذات/اظہارِ آزادی ایک نئے مستقبل کی تعمیر کی جدوجہد کی ابتدا ہے۔ وہ اپنے اظہار کی گنجائش خود پیدا کرتا ہے لیکن یہ گنجائش لازماً سیاسی نہیں ہوتی۔ اس گنجائش میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ مخصوص ادارتی جبر سے نجات حاصل کرے۔ اس گنجائش کی کارفرمائی کی تفصیل فوکو نے اپنی کتاب "History of Sexulaity" کی پہلی جلد میں بیان کی ہے۔اظہارِ ذات کا عمل کسی اجتماعیت کا نہ محتاج ہوتا ہےاور نہ کسی اجتماعیت کو جنم دیتا ہے۔ یہ فرد کا انفرادی عمل ہے لیکن چوں کہ یہ ایک اظہار ہے لہٰذا اس کے شاہد کا وجود ضروری ہے۔ ایک فرد کسی دوسرے فرد پر اپنی ذات/آزادی کا اظہار کرتا ہے لیکن انفرادیت کی تعمیر اجتماعی (معاشرتی) نہیں ہوتی۔ اظہارِ ذات یا جدوجہد فروغِ آزادی کسی سیاسی انقلابی تحریک کے ذریعے ممکن نہیں۔ عمل اظہارِ ذات کا کوئی سیاسی یا انقلابی مقصد نہیں ہو سکتا نہ کہ وہ کسی سیاسی اخلاقی اصولوں اور معیارات کا پابند ہو سکتا ہے۔ چوں کہ ذات خود مستقل تبدیلی کا شکار ہے[697] لہٰذا وہ اپنے علاوہ کسی اور حقیقت کا اظہار نہیں کر سکتی۔

اظہارِ آزادی کا مقصد حصولِ آزادی ہے ، آزادی اصلاً کچھ نہیں محض ایک خلا ہے اور فوکو کے مطابق آزادی کا حصول ناممکن ہے۔ لہٰذا اظہارِ ذات کا عمل لازماً ایک منفی عمل ہے جو فنا پر منتج ہے لیکن یہ فنا کسی اثبات کا پیش خیمہ نہیں۔ اس فنا کا کوئی مقصد نہیں۔ اظہارِ ذات محض وجود کی لازمی عدمیت کا اظہار ہے۔ اسی چیز کو Jean Luc Nancy نے "Positivity of Wickedness" سے تعبیر کیا ہے یعنی ہیومن بینگ تفہیم ذات کا عمل کسی مقصد یا خیر کے اثبات کے لیے نہیں کرتا وہ محض اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ حقیقت کچھ نہیں۔ ہیومن بینگ کی تخلیقیت کا اظہار لازماً خدا کی تخلیقیت کا انکار ہے۔ یہ شرک سے بھی آگے کی منزل ہے۔

میری رائے میں فوکو عصر حاضر کا سب سے زیادہ سیاسی اور معاشرتی اثر چھوڑنے والا فلسفی ہے۔ اس کے مقلدین تقریباً تمام سوشل سائنسز جمالیات، سماجیات، معاشیات، سیاسیات، نفسیات اور jurisprudence وغیرہ میں پائے جاتے ہیں[698]۔ فوکو مارکس کے برخلاف کوئی نظاماتی (system building) فلسفی نہیں۔ اس نے سرمایہ دارانہ طرزِ حیات اور سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کی تنظیم نو کی کوئی مربوط تصویر پیش نہیں کی[699] لیکن سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے بیش تر گوشوں میں تغیر کے امکانات کو واضح کرنے اور ان تغیرات کو متعین کرنے میں فوکو کی فکر رہنمائی کرتی ہے۔ فوکو کے پیروکاروں کا حلقہ نہایت وسیع ہے اور یورپ، امریکا، ایشیا اور لاطینی امریکا کے کئی چوٹی کے مفکرین (public intellectuals) فوکو سے متاثر ہیں۔ عالمی میڈیا میں بھی فوکو کا اثر غیرمعمولی حد تک غالب ہے۔ لبرل سرمایہ داری سے فوکو کی وابستگی ظاہر ہے۔ وہ تمام لبرل حقوق کی نہ صرف وکالت کرتا ہے بلکہ ان کی بھرپور ترویج و توسیع کا علم بردار ہے۔ لبرل طرزِ حکومت کو فوکو Discursive Juridica نظم حکمرانی کہتا ہے۔ اورکہا ہے کہ اسی نظام میں تعمیر ذات اور تعمیر حقیقت کے لیے تجربات کرنے کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔ فوکو کے مطابق اشتراکیت کے پاس discursive نظام اقتدار کے علاوہ کوئی بہتر طرزِ حاکمیت موجود نہیں لہٰذا ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ فوکو کے مطابق فروغِ آزادی اور سرمایہ کے لیے لبرل طرزِ حکمرانی (یعنی Discursive Juridica ) سب سے موزوں ہے۔
۱۹۹۰ء کے بعد سے یورپ اور امریکا میں اسلام دشمنی کی جو نظریاتی اور سیاسی تحریک برپا ہے فوکو کی فکر اس تحریک کے ماخذات میں تسلیم کی جاتی ہے[700]۔ لبرل اقدار کی وکالت کے باوجود فوکو لبرل طرزِ حکومت کاناقدتصور کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ اس طرزِ حکومت کو انفرادی آزادی کو محدود کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر متصور کرتا ہے۔ لبرل تحکیم (governmentality) ادارتی جبر اور سرمایہ دارانہ قوت کا اظہار ایک مخصوص تنظیم کے ذریعے کرتی ہے اور اس مخصوص تنظیم کے علی الرغم کسی آزادی کے اظہار کو برداشت نہیں کرتی۔ لبرل تشریحِ سرمایہ دارانہ اقتدار ایک ایسی کامن سینس کو فروغ دیتی ہے جو لبرل تشریحِ قوت کو اور اس سے ملحق نظاماتی ادارتی جبر کو ناگزیر اور ریشنل[701] تصور کرتی ہے۔

۱۹۵۰ء کی دہائی میں فوکو دائیں بازو (conservative)کے ایسے حکومتی کمیشن کا رکن رہا جس نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی ایسی تجاویز پیش کیں جن کے خلاف اشتراکی طلبہ تنظیموں نے احتجاج برپا کیا۔ فوکو لبرل نظم اقتدار کے ادارتی جبر کو ختم کرنے کی تجاویز کا ہمیشہ حامی رہا ہے لیکن سرمایہ دارانہ لبرل قوت کے انہدام کو ناممکن تصور کرتا رہا۔ اس کے خیال میں لبرل تنظیم قوت (power knowledge)کے انہدام کی تمام کوششیں لازماً ناکام ثابت ہوتی ہیں اور وہ ایک تنظیمی ادارتی جبر(intstitutional domination) کی جگہ ایک دوسرا زیادہ جابرانہ تنظیمی ادارتی جبر مسلط کر دیتی ہیں۔ فوکو کے بقول سرمایہ دارانہ قوت ایک آفاقی اور ماورائی شے ہے، وہ کسی خاص فرد یا گروہ کی ملکیت نہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ مقتدرین (جن کے پاس power/ knowledgeہے) اور محکومین (جن کے پاس power / knowldegeموجود نہیں) میں منقسم نہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشرت میں ہر شخص کسی نہ کسی حد تک صاحب اقتدار ہے اور کچھ نہ کچھ قوت رکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ power/knowledgeتخریبی نہیں تخلیقی ہے۔ فوکو تفصیل سے یہ دکھاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ قوت power/knowledge کے ذریعے کس طرح انیسویں صدی میں جنسی بے راہ روی اور فحش کاری کے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں۔ فوکو کے مطابق سرمایہ دارانہ قوت لذت پرستی کے فروغ کے نئے نئے طریقے ایجاد کرتی ہے۔ وہ افراد پر حکومت ان کے شہوانی جذبات کو اکسا کر اور ان جذبات کی تسکین کے مواقع فراہم کر کے ہی کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ قوت کے استعمال کا بنیادی مقصد شہوانی اور لذت پرست انفرادیت کی تخلیق ہے اور فوکو کی نظر میں یہ ایک نہایت قابل تحسین عمل ہے۔ سرمایہ دارانہ قوت کی تنظیم عمومی کے خلاف جدوجہد فروغ شہوت رانی اور فواحش کے خلاف جدوجہد ہے اور یہ جدوجہد کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور نہ اس کو کبھی کامیاب ہونا چاہیے۔ انفرادی جدوجہدوں کا مقصد شہوت رانی، لذات اور فحش کاری کے فروغ کی راہ میں حائل ان رکاوٹوں کا انہدام ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرے میں ابھی تک موجود ہیں اور چوں کہ سرمایہ دارانہ قوت ان رکاوٹوں کی بتدریج بیخ کنی خود بھی کر رہی ہے لہٰذا فواحش کے فروغ کی رکاوٹوں کے خلاف کی جانے والی عوامی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام اقتدار(سرمایہ دارانہ ریاست) سے متصادم نہیں۔ ادارتی جبر کو ختم کرکے فواحش کو فروغ دینے کے لیے جو انقلاب برپا کیے جاتے ہیں (مثلاً اغلام بازوں کا انقلاب، تحفظ ماحولیات کا انقلاب وغیرہ) ان سے سرمایہ دارانہ ریاستوں کو کوئی خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ایران کے اسلامی انقلاب پر فوکو نے جو تنقید مرتب کی اس کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ یہ لذت پرستی اور فواحش کے فروغ کا مقصد نہیں رکھتی تھی۔ وہ ایک اسلامی حکومت کے قیام کو ناممکن سمجھتا تھا [702] ۔فوکو سے زیادہ غلیظ، خبیث اور گھناؤنی شخصیت مغربی فلسفیوں کے متعفن اور پراگندہ اژدحام میں شاید ہی ہو۔ یہی غلیظ اور خبیث شخص پوسٹ ماڈرن ازم کا امام ہے اور اس کو امریکی David Heipereir نے Saint Foucault کہا ہے[703]۔

پوسٹ ماڈرن ازم وہ مکتب فکر ہے جو سرمایہ دارانہ لبرل اقدار اور سرمایہ دارانہ نظم قوت کی ناگزیریت کا قائل ہے گوکہ اس نظام اقتدار کے مقاصد (لامتناہی آزادی، ترقی اور تسخیر کائنات) کو ناممکن تصور کرتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم فروغِ آزادی اور ترقی کا جمالیاتی جواز فراہم کرتا ہے اور ادارتی جبر کے خلاف تجرباتی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ قوت کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم کے دیگر مدعی بھی ہیں لیکن فوکو اس فکر کے اہم ترین بانیوں میں سے ہے۔

25۔ رچرڈ رارٹی اور چارلس ٹیلر

پوسٹ ماڈرن ازم تحریک تنویر کی تنقید بھی ہے اور اس کی ایک مخصوص تشریح بھی۔ چناں چہ Charles Taylor اپنی کتاب "The New Sociology" میں پوسٹ ماڈرن ازم کو ہائپر ماڈرنٹی کہتا ہے۔ یہ دونوں تحریکیں سرمایہ دارانہ انفرادیت، معاشرت اور نظم تحکیم (ریاست) کے قدرے مختلف جواز پیش کرتی ہیں۔ ماڈرن ازم یعنی تنویری علمیت اور پوسٹ ماڈرن ازم میں سب سے بنیادی فرق ان کے مابعدالطبیعیاتی تصورات میں ہے لیکن اس فرق کے باوجود یہ دونوں نظریات اخلاقی، سیاسی اور ثقافتی تعلیمات کے لحاظ سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ دونوں مکاتب فکر سرمایہ دارانہ اقدار آزادی، مساوات اور ترقی کو سراہتے ہیں[704]۔ اور یہ دونوں نظریات سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کو ناممکن سمجھتے ہیں۔ ان میں اختلاف اس امر کے متعلق ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے فروغ و بقا کے لیے کس قسم کے معاشرتی حالات سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔

25.1۔ پوسٹ ماڈرنسٹ مابعدالطبیعیات

پوسٹ ماڈرنسٹ مابعدالطبیعیات کی ایک موثر تشریح امریکی فلسفی رچرڈ رارٹی(Richard Rorty) نے اپنی دو کتابوں "Philosophy and the Mirror of Nature" اور "Contingency, Irony and Solidarity" میں پیش کی ہے۔ رارٹی امریکی فلسفی جان ڈیوی کا پیرو ہے[705] ۔ رارٹی اور ڈیوی جس فلسفیانہ مکتب فکر کے نمایندہ ہیں اس کو پریگماٹزم یعنی مطلب پرستی کہتے ہیں[706]۔ اور مطلب پرستی امریکی قومی کردار کی ایک نمایاں ترین خصوصیت ہے۔ رارٹی فلسفیانہ فکر کے ثقافتی اثرات کے تعین کی سعی کرتا ہے اور ان کے اظہار سے جو تاریخی نتائج برآمد ہوتے ہیں ان کا تجزیہ کرتا ہے۔ رارٹی کے مطابق ایک فلسفی کا اصل کام ایسے خیالات کا اظہار ہے جو ہیومنٹی کے لیے مفید ہوں تاکہ حقائق کی نہ ختم ہونے والی جستجو میں وقت ضائع نہ ہو۔ پریگماٹسٹ مکتب فکر کے بیش تر پیرو مادیت پرست ہوتے ہیں اور ان کی نگاہ میں تلاشِ حق کا مقصد تسخیر کائنات کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ رارٹی کی رائے میں فروغِ آزادی یعنی تسخیر کائنات کا موثر ترین ذریعہ کائنات کی ایسی شعری تشریح ہے جو ہیومن بینگ کو ان حدود و قیود کو عبور کرنے کے قابل بنا دے جو سائنسی تنظیم علمیات نے معاشرتی زندگی پر مسلط کی ہیں۔ ان شعری تشریحات (Poetic Discriptions) کا مقصد تخلیق انفرادیت ہے[707]۔ ہیومن بینگ حق (Truth) کی تخلیق کا بھی مکلف ہے کیوں کہ رارٹی کے بقول حق کا کوئی ابدی وجود نہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہیومن بینگ نئے نئے حق تخلیق کرتا رہا ہے۔ کسی ماورائی مابعدالطبیعیاتی یا اخلاقی نظا م کا کوئی ابدی وجود نہیں اور لبرل معاشرتی اور ریاستی نظام صرف ہیومن بینگ کی الوہیت اور خلاقیت کے عقیدہ پر قائم ہے[708]۔ رارٹی کی فکر رومانویت اور مطلب پرستی کا امتزاج ہے۔ وہ ایک بااثر شاعر (Strong Poet) کے ذریعے سائنسی ضوابط اور قواعد سے خلاصی کا وکیل ہے لیکن دوسری جانب عمل کی قدر کا تعین اس کے مفاداتی نتائج کی بنیاد پر کرتا ہے۔ رارٹی کے خیال میں لبرل معاشرت ان دونوں رجحانات کے فروغ کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے۔ رارٹی جس سیاسی نظام کا مداح ہے اس کو پوسٹ ماڈرن بورژوا لبرل ازم کہتا ہے۔

کانٹ اور اس کے پیروؤں پر رارٹی کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ وہ ہیومن بینگ کو ایک ایسا آئینہ تصور کرتے ہیں جس میں حقیقت منعکس ہوتی ہے۔ رارٹی کہتا ہے کہ سائنس کے ذریعے نہ ہم کائناتی حقائق کا شعور حاصل کر سکتے ہیں اور نہ کسی ماورائی حقیقت کو الفاظ میں بیان کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ رارٹی کہتا ہے کہ سائنسی علمیاتی ارتقا کائناتی مخفی حقائق کا راز نہیں کھولتا۔ سائنس دان نہ فلسفی نہ شاعر کوئی بھی مقصدی جدوجہد نہیں کرتا اور کوئی بھی کسی ماورائی حقیقت کی شناخت نہیں کر پاتا کیوں کہ کسی ابدی یا ماورائی حقیقت کا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ حقیقت کو ہیومن بینگ تاریخ کے ادوار میں خود مستقل تخلیق اور تبدیل کرتا رہتا ہے۔ رارٹی کے مطابق کائنات کی مخفی حقیقت کی جستجو کے پیچھے یہ لغو تصور موجود ہے کہ کائنات کو خدا نے کسی مقصد کے لیے تخلیق کیا۔ کائنات کو نہ خدا نے تخلیق کیا نہ وہ خود تخلیقی ہے۔ فطرت انسانی کی بھی کوئی ابدی حقیقت نہیں بلکہ ہیومن بینگ اپنی فطرت کو خود تخلیق کرتا رہتا ہے۔ مغربی فکر کا یہ سب سے اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ثقافت کو Dedivinize کیا ہے یعنی ثقافت کی کارفرمائی سے تصورِ وجودِ باری تعالیٰ کو بالکل نکال دیا ہے۔ چوں کہ کائنات یا فطرتِ انسانی کی کوئی بھی ابدی حقیقت موجود ہی نہیں لہٰذا معروضیت کا کوئی امکان موجود نہیں، نہ کوئی انسانی ذہن ابدی حقیقت کی عکاسی کر سکتا ہے۔ علم موجود ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں۔

اٹھارھویں صدی کے بعد یورپی سائنس اور شاعری نے یہ دھوکا دیا کہ کائنات کی کوئی اصلی ابدی حقیقت ہے جس کی سائنس یا شاعری عکاسی کرتی ہے۔ پہلے یہ کام پادری کیا کرتا تھا اور اٹھارھویں صدی کے بعد سائنس دان اور شاعر نے پادری کی جگہ لے لی۔ ہیومن بینگ کو سائنس دان اور شاعر کے اس وجود کو جھٹلا دینا چاہیے۔ رارٹی لکھتا ہے کہ ہمیں اب کسی چیز کی بھی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں ہر شے یعنی اپنی زبان، اپنے ضمیر، اپنے معاشرے کو وقت حادثہ کی پیداوار کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ ہماری ذات بقول رارٹی حادثات (Contingencies) کا اظہار ہے اور حادثات کا اجتماع ہے۔ چوں کہ علم یا حقیقت کا کوئی وجود نہیں لہٰذا لبرل جمہوریت کا جو دفاع رارٹی پیش کرتا ہے وہ اصولی نہیں۔ وہ محض لبرل معاشرتی اور سیاسی اقدار پر دوسرے معاشروں کو جانچ کر لبرل طرزِ زندگی اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی برتری ثابت کرنے پر اصرار کرتا ہے اور اس کی رائے میں کوئی ایسے آفاقی اصول اور پیمانے موجود نہیں جن کی بنیاد پر لبرل اور غیرلبرل طرزِ معاشرت اور سرمایہ دارانہ اور غیرسرمایہ دارانہ نظام ہائے زندگی کا موازنہ کیا جا سکے۔ لبرل اور غیرلبرل معاشرتیں بقول رارٹی منفرد لغات (Vocabularies) تخلیق کرتی ہیں اور لبرلوں کو غیرلبرلوں کی لغات کو برا ثابت کرنے کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔

ہیومن بینگ حقیقت کی تخلیق جملہ بنا کر کرتا ہے۔ اگر انسان نہ ہوتا تو جملے نہ ہوتے لہٰذا حق نہ ہوتا۔ ہیومن بینگ حقیقت کا ان معنوں میں خالق ہے کہ ان جملوں کے استعمال سے وہ مفاد حاصل کرتا ہے لیکن بقول رارٹی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کائنات میں کچھ ابدی حقائق موجود ہیں جن تک علم کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔ حق کی تخلیق جملوں اور لغات (Vocabularies) کے ذریعے ہیومن بینگ مستقل کرتا رہتا ہے۔ جو لغات ہیومن بینگ کے مختلف گروہ (رارٹی ان کو Language Communities کہتا ہے) تخلیق کرتے رہتے ہیں ان کی تصدیق یا تردید کائناتی مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر ناممکن ہے۔ حق کا تخلیقی عمل لغات (Vocabularies) میں تغیر کے نتیجے میں جاری رہتا ہے۔ ایک لغت دوسری لغت کو بے دخل اس لیے نہیں کرتی کہ وہ حق کی بہتر غماز ہے۔ ماورائی حق کا کوئی کائناتی وجود نہیں۔ لغات کا تغیر محض حادثاتی (contingent) ہوتا ہے۔ پرانی لغت (Vocabulary) استعمال کرنے والے ناپید ہو جاتے ہیں یا سیاسی شکست کھا جاتے ہیں یا اصطلاحی فیشن تبدیل ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ نئی لغت (Vocabulary) اور اس میں وضع کردہ توجیحات زیادہ موثر اور پسندیدہ اور مقبول عام ہو جاتی ہیں۔ یوں حقیقت کی تخلیق کی جاتی ہے دریافت نہیں کی جاتی جیسا کہ سائنس کا دعویٰ ہے۔ اس مقبولیت کا عام اظہار رارٹی کے بقول یوں کہ جب جید مفکرین اس لغت (Vocabulary) کو اپنا لیتے ہیں۔ رارٹی مثال دیتا ہے کہ فرائیڈ نے جو ووکیبلری وضع کی اسی نے جیمس، ہائیڈیگر اور وٹنگسٹائن کے نظریات کا اظہار ممکن بنایا۔ لیکن فرائیڈ، وٹگنسٹائن، جیمس وغیرہ نے جو ووکیبلری استعمال کی وہ کسی ماورائی حق کا اظہار نہیں اور نہ کسی آفاقی اصول کی بنیاد پر اس ووکیبلری سے بہتر گردانی جا سکتی ہے جس کو اس نے تبدیل کیا۔ اس نئی ووکیبلری اور اس سے ملحق تصورِ حق کا وجود محض حادثاتی اور اتفاقی ہے۔

رارٹی کی فکر کا اہم تر تضاد یہ ہے کہ ایک طرف تو اس کا اصرار ہے کہ تعمیر اور تخلیق حق کا عمل غیرمقصدی ہے، جب نئی ووکیبلری پرانی ووکیبلریز کی جگہ لیتی ہیں تو یہ محض ایک حادثہ ہوتا ہے کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں۔ لیکن دوسری جانب وہ تصورِ ترقی کا پرجوش وکیل ہے۔ وہ مغربی معاشروں میں الحاد اور معاشیات کے فروغ کو سراہتا ہے۔ اس عمل کو Dedivinization)خدا سے نجات) کا عمل کا کہتا ہے۔ خدا سے نجات ہی ترقی ہے لیکن یہ ترقی کیوں ممکن ہوئی، اگر ووکیبلریز میں تغیرات کا عمل غیرمقصدی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک خدا سے نجات شدہ معاشرہ کو ایک خدا پرست معاشرہ سے بہتر گردانا جائے۔ رارٹی کی رائے میں diviniazation کے ردّ کی وجہ یہ تھی کہ لوگ مذہبی ووکیبلری سے بور ہو گئے تھے اور خدا سے نجات دلانے والی ووکیبلری زیادہ حسین اور پسندیدہ ثابت ہوئی۔ رارٹی کے مطابق نظاماتی اور انقلابی فلسفی مذہبی کلام کا مذاق اڑانے والے، اس پر پھبتی کسنے والے اور اس کی تضحیک کرنے ولے ہوتے ہیں۔ جب مذہب ایک بازیچہ اطفال ثابت ہو جاتا ہے اور معاشرتی اور ریاستی زندگی سے خارج کر دیا جاتا ہے تو ان انقلابی فلسفیوں کا تاریخی کردار بھی ختم ہو جاتا ہے۔ 

ثقافتی تغیر حادثاتی غیرمقصدی ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر مقام پر بے شمار ثقافتی تغیرات کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ متعدد ووکیبلریز ایک دوسرے سے متصادم بھی ہوتی رہتی ہیں اور ایک دوسرے سے مدغم بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اس پورے عمل کی کوئی ترتیب اور تنظیم نہیں بلکہ ثقافتی تغیر اور حیاتی تغیر یعنی ڈارون کا تجزیہ بائیولوجیکل ایوولیوشن یکساں طور پر حادثاتی، بے ہنگم اور غیرمقصدی ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کون سی حیاتیاتی نوع یا کون سا کلام باقی رہے گا اور کون سا فنا ہو جائے گا۔ جو کلام باقی رہ گیا اور جس نے دوسری ووکیبلریز کو ختم کر دیا وہی ترقی کا مظہر ہے۔ اس غالب ووکیبلری کی برتری اخلاقی یا اقداری نہیں محض اس کے حصولِ بقا اور فروغ کا اظہار ہے[709]۔ مغربی تہذیب کا عسکری غلبہ ہی دوسری تہذیبوں پر اس کے برتر ہونے کی فیصل دلیل ہے۔ مغربی تہذیب میں رائج ووکیبلری کسی دوسری تہذیبی ووکیبلری سے علمی یا اقداری فوقیت نہیں رکھتی۔ رارٹی اس چیز کا صریحاً اقرار کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ ووکیبلری کا مداح جمالیاتی بنیادوں پر ہے سائنٹفک بنیادوں پر نہیں۔ بالخصوص خدا سے نجات یافتہ شاعری نہایت قابل ستائش ہے کیوں کہ وہ اس بات کا شعور بھی رکھتی ہے اور اظہار بھی کرتی ہے کہ حقیقت کچھ نہیں اور ہر عمل محض حادثاتی اور اتفاقی ہے۔ خدا بیزار شاعری مثلاً فیض، مجاز، فراز کی شاعری، ان الحادی تصورات کا اظہار ہوتی ہے جنہیں ایک پورا سماج قبول کیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ خدا بیزار شاعری رارٹی کے بقول ایک لبرل معاشرہ کی فطری آواز ہے۔ بقول رارٹی لبرل معاشرہ کا اصل ہیرو طاقت ور شاعر ہوتا ہے سائنس دان نہیں ہوتا۔ بقول رارٹی لبرل معاشرت کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عمل پر تحدید نافذ کرتی ہے لیکن اظہارِ رائے پر کسی پابندی کی قائل نہیں ہوتی۔ طاقت ور شاعر ایسے خیالات کا اظہار کرتا ہے جو غیرمنطقی، آپس میں متضاد اور باغیانہ ہوتے ہیں۔ لبرل معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے جوشِ بیاں (Rhetoric) اصل ہتھیار ہے کیوں کہ ان اقدار کی علمیاتی اور اخلاقی برتری ثابت نہیں کی جا سکتی۔ یہ بات اصلاً تاریخی طور پر درست نہیں ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت ہر قسم کی ووکیبلری کو برداشت کر کے ان کے پھیلنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ وہ صرف ان ووکیبلریز کے فروغ کا موقع فراہم کرتی ہے جو بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی کا ذریعہ بن سکیں۔ دیگر ووکیبلریز لبرل معاشرت میں لازماً مرجھا جاتی ہیں کیوں کہ نہ مارکیٹ ان ووکیبلریز کی وقعت اور قدر گرداننے کی اہلیت رکھتی ہےاور نہ ری پبلکن نمایندہ دستوری ریاست۔ غیر سرمایہ دارانہ ووکیبلریز لبرل پبلک مکالمہ سے لامحالہ بے دخل کر دی جاتی ہیں کبھی قوت کے ذریعے مثلاً استعماری جنگ کے ذریعے کبھی خطابت کے ذریعے مثلاً اقوام متحدہ کا ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس۔

رارٹی اپنے تہذیبی تناظر سے باہر نکلنے کو ناممکن سمجھتا ہے کیوں کہ اس کی رائے میں مخصوص تہذیبی اور لسانی تناظر سے ماورا کسی حق مطلق کا کوئی وجود نہیں۔ ہر تہذیب کی مخصوص روایات اور اقدار اور پسندیدگیاں ہوتی ہیں اور ان میں تقابل ناممکن ہے۔ یہ سب علاقائی حادثات کا مظہر ہوتی ہیں۔ جس تہذیبی تناظر کا رارٹی اپنے آپ کو نمایندہ سمجھتا ہے اس کو ۱۶۰۰ء کے بعد سے ابھرنے والے مغربی جدید انسان کا عہد کہتا ہے۔ وہ جس حق کی وکالت کرتا ہے وہ آفاقی نہیں بلکہ اسی دور کی تخلیق ہے اور رارٹی کی رائے میں اس بات کا ادراک ڈیوی، دریدا، ہائیڈیگر، وٹگنسٹائن اور قوینے کو حاصل تھا اور اسی بنیاد پر ان سب نے کانٹ کے آفاقی مفروضات اور اصولوں کو ردّ کیا۔ جدید مغربی ہیومن بینگ جو کائناتی تعبیرات تخلیق کرتا ہے وہ اس کے لیے کارآمد ہوتی ہیں۔ یہی ان کے ایک مخصوص حق (وہ حق جو سترھویں صدی کے بعد تخلیق کیا گیا) ہونے کی دلیل ہے۔ مطلق حق بیان کرنے کی تمام کوششیں لایعنی ہیں۔ جدید مغربی ہیومن بینگ کا وجود ایک تاریخی حادثہ ہے (کسی آفاقی تعبیر حقیقت کا اظہار نہیں) لیکن اب جدید مغربی ہیومن بینگ مجبور ہے کہ وہ اپنے تہذیبی وجود اور عالمی غلبہ کو جاری رکھے۔

آفاقیت اور حقِ مطلق کے انکار کے باوجود رارٹی کوئی تقابلی (Relativist) نہیں۔ ریلیٹوسٹ ان مفکرین کو کہا جاتا ہے جو ہر تہذیب کے اقدار کی مساوی حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔ مغربی اور غیرمغربی تہذیبوں کے جدا اقدار ہیں اور ریلیٹوسٹ مفکرین کے مطابق ان کے درمیان کسی نظم اقدار کو کسی دووسرے نظم اقدار پر فوقیت دینے کا کوئی جواز نہیں۔ رارٹی اور دیگر پوسٹ ماڈرنسٹ مثلاً ٹیلر، فوکو، دیلیوز اس رائے کے شدید مخالف ہیں۔ وہ سب سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے وکیل ہیں اور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی مغرب کے عالمی غلبہ اور اس غلبہ کے استحکام کے پرجوش حامی اور استعمار کے حلیف ہیں۔ رارٹی استعمار نوازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

رارٹی یورپی معاشرت میں عیسائی اشارات کے زوال کو سراہتا ہے اور عیسائی تصورات انسان کو جہالت گردانتا ہے۔ لیکن جہالت کا یہ تصور مبہم ہے کیوں کہ رارٹی کے مطابق علم محض کارآمد ہونے کا ذریعہ ہے۔ سائنس نے عیسائیت کو اس لیے شکست دی کہ سائنسی تعلیمات زیادہ کارآمد ثابت ہوئیں اس لیے نہیں کہ وہ کائنات کی عیسائیت کے مقابلہ میں زیادہ درست شناخت مرتب کرتی تھیں۔ یہی رارٹی کی مطلب پرستی ہے۔ حق وہ ہے جو کارآمد ہو۔ کس چیز کے لیے کارآمد؟ بڑھوترئ سرمایہ اور آزادی کے لیے۔ کیوں کہ بقول رارٹی ہماری واحد قدر آزادی ہے۔ سائنس کی کارآمدگی اس میں ہے کہ وہ ہیومن بینگ کو نئے نئے حق تخلیق کرنے کا مکلف کرتی ہے اور حق کی یہی تخلیقیت بڑھوترئ سرمایہ اور فروغِ آزادی ہے۔ ایک مطلب پرست اعمال کی قدر ان کے تسلسل سے اخذ کرتا ہے۔ سائنس اس لیے کارآمد اور کامیاب ہے کہ سائنسی عمل تسلسل سے جاری رہتا ہے اور یہ جاری اس لیے رہتا ہے کہ سرمایہ/آزادی کی بڑھوتری کا ذریعہ ہے اور اس وجہ سے اس کو جاری رکھنے کے لیے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

رارٹی کے مطابق تاریخی ادوار اور معاشرتوں میں رائج ووکیبلریز کی تطبیق کا مطالعہ کرتے ہیں تو صرف اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ یہ ووکیبلریز کس طرح ایک دوسرے سے متعلق ہو کر کارآمد ثابت ہوئیں یعنی کس طرح ووکیبلریز کے ارتباط کے نتیجے میں فروغِ سرمایہ اور بڑھوترئ آزادی ممکن ہوئی۔ بڑھوترئ سرمایہ/آزادی کے لیے سائنس ناگزیر ثابت ہوئی لیکن اس کے باوجود کہ وہ کسی حق مطلق کی طرف نشان دہی نہیں کرتی رارٹی سائنس کا مداح ہے اور سائنسی تحقیق کے تسلسل اور فروغ کا حامی ہے۔

چوں کہ حق مطلق کا کوئی وجود نہیں لہٰذا زندگی بے معنی ہے۔ تحقیق خواہ سائنسی خواہ فلسفیانہ ہو، ایک کھیل ہے اور اس کھیل کو جاری رکھ کر ہم حق کے ایسے نئے نئے تصورات تخلیق کرتے ہیں جو فروغِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو جاری رکھنے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ سرمایہ اور آزادی کے فروغ کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ موجود سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاستی تنظیم قوت کی ان خصوصیات کو مستحکم کیا جائے جو آزادانہ معاشرتی اور تفکراتی تجربات کو قابل قدر گردانتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اور تنظیم قوت میں کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت کا رارٹی قائل نہیں۔ وہ اپنے سیاسی نظریات کے لحاظ سے ایک لبرل سوشل ڈیموکریٹ ہے اور یہ بات بیش تر پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔
ہر ہیومن بینگ اپنا حق خود تخلیق کرنے کا حق رکھتا ہے لہٰذا کسی فعل کا جواز اس کے کسی مخصوص تصورِ حق سے مطابق ہونے کی بنیاد پر وضع نہیں کیا جا سکتا۔ رارٹی کہتا ہے کہ حقیقت مطلق کچھ نہیں اور ہر معاشرہ اپنی تاریخ اور اپنی روایات کی بنا پر اپنے بنیادی اخلاقی رویے مرتب کرتا ہے اور اس کمیونٹی میں یہی رویے قبولیت عام کے حامل ہوتے ہیں۔ اعمال کا جواز (Justification) انہی معاشرتی مقبول عام رویوں سے تطبیق کی بنیاد پر پیش کرنا ممکن ہوتا ہے اور یہی مقبول عام رویے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ نارمل کون ہے اور جنونی، دہشت گرد کون ہے۔

رارٹی کی رائے میں متخلف النوع نفوس جمہوری نظم معاشرت اور ریاست کو سہارا دے سکتے ہیں۔ وہ بھی جو کانٹ کے بیان کردہ نظریات کے مطابق خوداختیاری ہوں اور وہ بھی جو اپنی کمیونٹی میں مقبول عام رویوں کے غماز ہوں۔ رارٹی کے خیال میں رالز اور جیفرسن کا تصورِ ریاست لاک کے بیان کردہ اصول ٹالرنس کی ایک تشریح ہے۔ جمہوری تصورِ عدل رالز کے مطابق حق کی مختلف النوع تشریحات کو ٹالریٹ کرتا ہے۔ ان تشریحاتِ حق (مثلاً خدا کے وجود کے بارے میں، فطرت انسانی کے وجود کے بارے میں، مقصدِ وجود کے بارے میں تصورات) کو سیاسی مباحث کہنا چاہیے بالکل جس طرح سترھویں صدی میں "Treaty of Westphalia" کے بعد اس نوعیت کے تصورات کو سیاسی جواز فراہم کرنے والے نظریات کے طور پر ترک کر دیا گیا۔ رالز کا "Justice as fairness" کا تصور بقول رارٹی ایک مخصوص معاشرے، اس کی روایات اور اس کی تاریخ سے برآمد ہے اور اس مفروضہ پر قائم ہے کہ اس مخصوص تاریخی معاشرت میں بنیادی اعتقادی اختلاف کے باوجود ایسے اخلاقی اور توجیہی معیارات موجود ہیں جن پر سب کا اتفاق ہے۔ مثلاً سرمایہ دارانہ نظام میں تین کمیونیٹیز موجود ہیں: لبرل، اشتراکی اور قوم پرست۔ لیکن ان تینوں میں ایک مشترکہ علاقہ بھی موجود ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو ان تینوں گروہوں کے مشترکہ تصوراتِ قدر اور عدل کا غماز ہے۔ رالز اس علاقے کو "Overlapping Consensus"(مشترکہ اتفاق) کہتا ہے اور جمہوریت اسی مشترکہ اتفاق پر قائم ہے۔ اور جمہوری ریاستیں اسی بنیاد پر ایک تصورِ عدل مرتب اور نافذ کرتی ہیں جو لبرل سرمایہ داروں، اشتراکی سرمایہ داروں اور قوم پرست سرمایہ داروں سب کے لیے قابل قبول ہو۔

لہٰذا رالز کا تصورِ عدل صرف سرمایہ دارانہ معاشرتوں ہی کے لیے قابلِ قبول ہے کیوں کہ ان کا مشترک عقیدہ ’’لاالہ الا الانسان‘‘ کا کلمہ خبیثہ ہے اور سرمایہ دارانہ ریاستی عمل اسی فاسد اور ابلیسی عقیدے کا اظہار ہے۔ رارٹی کہتا ہے کہ ’’ہم‘‘ جمہوری نظام کا جواز اپنے مشترکہ اتفاقی عقائد کی بنیاد پر پیش کر سکتے ہیں۔ ’’ہم‘‘ کون ہیں؟ ’’ہم‘‘ وہ شیطان (ہیومن بینگ) ہیں جو عیسائیت کو ترک کر کے ’’لاالہ الا انسان‘‘ کے کلمہ خبیثہ پر ایمان لائے ہیں۔’’ہم‘‘ آزادی/سرمایہ کے پجاری ہیں اور بزور شمشیر ایسے تمام افراد کو قتل کر دیں گے جو آزادی/سرمایہ کے فروغ کی لازمیت کو قبول نہیں کرتے۔ ریڈ انڈینوں کے عمومی قتل عام کا یہی جواز میڈیسن، ہملٹن، جان ایڈمز اور جیفرسن نے پہلے پیش کیا تھا جب انہوں نے آٹھ کروڑ ریڈ انڈین تہہ تیغ کیے تھے اور یہی جواز بش، اوباما اور بلیئر نے افغانستان اور عراق میں قتل عام کا موجودہ دور میں پیش کیا ہے۔
اور ’’ہمارے‘‘ یعنی شیطانوں کے معاشرے میں نفس کی اصلاح کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ فلسفہ مطلب پرستی کو بنیاد بنا کر ’’ہم‘‘ہر پالیسی کا جواز صرف اور صرف اس کے خودغرضانہ نتائج کی بنیاد پر پیش کریں گے جیسا کہ رالز نے لکھا:

ہمارے تصورِ عدل کا جواز یہ نہیں کہ وہ حق ہے بلکہ اس کا جواز صرف یہ ہے کہ یہ تصورِ عدل ہماری تاریخ اور اس سے برآمد شدہ روایات اور رجحانات کا عکاس ہے اور ہماری خودغرضیوں کو فروغ دینے کے لیے موزوں ہے۔

سرمایہ/آزادی کی پرستش کا واحد جواز یہ ہے کہ ’’ہم‘‘ ماڈرن شیاطین نظریہ ٹالرنس، ری پبلکنزم اور خود غرضیوں کے حصول کو حق کی شناخت سے زیادہ اہم گردانتے ہیں۔ اور ہمارے اخلاق اور اقدار اسی رویہ کے غماز ہیں۔ ’’ہماری‘‘ تاریخ اور اس سے ماخوذ رجحانات اور میلانات ہمارے لیے معتبر ہیں۔ ’’ہم‘‘ لبرل جمہوریت کو محض پسند نہیں کرتے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ ہم ان تمام انسانوں کو جو آزادی کی پرستش نہیں کرتے پاگل سمجھتے ہیں۔ وہ ہماری ریاست کے سٹیزن نہیں بن سکتے کیوں کہ ان کو مشترکہ اتفاق میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس بات کا فیصلہ کہ کون پاگل، جنونی اور دہشت گرد ہے، اپنی تاریخی روایات اور رائج شدہ اقدار کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس معیار کے لیے کسی جواز کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا فیصلہ ہے کہ اغلام بازی ایک نہایت مستحسن اور معقول اور قابل ستائش عمل ہے اور خدا کی حاکمیت تسلیم کرنا پاگل پن، جنون اور جہالت ہے۔ کس کی ہمت ہے کہ ہمارے اس فیصلہ کا ہم سے جواز طلب کرے؟
ہماری انفرادیت کا کوئی مرکزی وصف نہیں۔ وہ محض تاریخی حادثات کی تخلیق اور انہی تاریخی حادثات کی غماز ہے۔ بقول رارٹی، دریدا، ہائیڈیگر اور ڈیوی کے مطابق اخلاقی ارتقا کا مطلب یہی ہے کہ ہم مستقلاً نئے نئے اخلاق، اقدار اورمعیارات اپنی ثقافتی اور معاشرتی تاریخ سے اخذ کر کے تخلیق کرتے رہیں۔ ہم کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ اپنے اعمال کو کسی آفاقی اصول کی بنیاد پر پرکھیں۔ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں کیوں کہ ہم مستقل نئے نئے اخلاقی معیارات تخلیق کرنے کے مجاز ہیں۔ حق وہ ہے جس کو امریکا حق کہتا ہے اور سب انسانوں کو یہ بات قبول کرنے پر مجبور کرنا ہی آزادی/سرمایہ کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔ امریکا کا حق ہے کہ وہ ہر اس ووکیبلری کی معنویت کو ردّ کر دے جو اس کی تاریخ سے برآمد شدہ ووکیبلری سے مختلف ہے کیوں کہ کوئی ایسی عالمی آفاقی ووکیبلری موجود نہیں جو تمام تاریخی ووکیبلریز کا ماخذ ہو۔ ایسی ووکیبلریز بھی موجود ہیں جن میں سرمایہ دارانہ ووکیبلری سے اشتراک اور مفاہمت کی کوئی گنجائش موجود نہیں، مشترکہ اتفاق میں شامل نہیں ہو سکتیں۔ ان ووکیبلری استعمال کرنے والوں سے کوئی مکالمہ ممکن نہیں۔ ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کے کوئی جواب نہیں دیے جا سکتے اور جیسا کہ رالز نے اپنی بدنام زمانہ کتاب "The Law of People" میں اشارہ کیا ہے، غیرسرمایہ دارانہ ووکیبلریز کو استعمال کرنے والوں کو قتل کرنا امریکا کی ویسی ہی مجبوری ہے جیسے آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کو قتل کرنا ماضی میں امریکا کی مجبوری تھی۔ بقول رارٹی تھامس جیفرسن کو اس بات کا پورا پورا احساس تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس نے انجیل مقدس کی ووکیبلری کو امریکی دستور سازی کے عمل سے بالکل بے دخل کر دیا تھا۔

بقول رارٹی سرمایہ دارانہ نظام تحکیم اپنی لبرل ریاستی نظام کا جواز نہ احکام خداوندی فراہم کرتے ہیں اور نہ مفروضہ فطرت انسانی کا آفاقی اصول[710]۔ان کا جواز صرف امریکی تاریخی روایات اور عام رجحانات فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ رجحانات ظالم، سفاک اور لالچی افراد پیدا کرتے ہیں تو یہ وہ قیمت ہے جو رارٹی کہتا ہے کہ امریکا کو فروغِ آزادی اور سرمایہ کے لیے دینے پر تیار ہونا چاہیے۔ سرمایہ دارانہ تحکیم کا واحد جواز یہ ہے کہ امریکی قوم تاریخی طور پر اسی تنظیم اقتدار کو جائز سمجھنے لگی ہے۔ اس کا کوئی اور نظریاتی یا فلسفیانہ جواز موجود نہیں۔ 
رارٹی کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں بھی ایسے لوگ موجود ہوں گے جو ذات کے اس تصور کو قبول نہیں کریں گے جس کا وہ وکیل ہے۔ یاد رہے کہ رارٹی کی نگاہ میں ذات صرف حادثاتی خواہشات اور تاریخی سماجی رویوں کا ایک بدلتا ہوا اجتماع ہے۔ اس کی کوئی حقیقت یا اصلیت نہیں۔ جو لوگ اس تصور ذات کو نہیں مانتے اور مثلاً اپنے آپ کو خدا کا بندہ تصور کرتے ہیں وہ بھی سرمایہ دارانہ نظم اطاعت میں ضم کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مطلب پرستانہ رویہ اختیار کر کے اپنی ذاتی آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہیومن بینگ کی الوہیت کے تصور کو قبول کریں اور یہ تسلیم کریں کہ پبلک لائف میں حق کی تلاش ایک لایعنی عمل ہے اور حق وہی ہے جو امریکی تاریخ اور اس سے برآمد شدہ روایات تخلیق کیے جا رہی ہیں۔ یہ مطلب پرست رویے حقیقت پسندانہ ہیں کیوں کہ کوئی ابدی حقیقت موجود نہیں بقول رارٹی اور دریدا۔ اور خدا اور اس کے احکامات کو انسان نے ایک خاص تاریخی دور میں تخلیق کیا۔ امریکا کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سوائے اپنے آپ کے۔ وہ حق کو تخلیق کرنے اور جنونیوں اور دہشت گردوں کا تعین کر کے ان کو قتل کرنے کا پورا پورا جواز رکھتا ہے۔ جیسے جیسے امریکا کے اس حق کو تسلیم کیا جائے گا ویسے ویسے لوگ لبرل اور زیادہ مطلب پرست ہوتے چلے جائیں گے۔ اور یہی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے فروغ کے لیے مفید ہے۔ اسی چیز کو رارٹی اخلاقی ترقی کہتا ہے۔ اخلاقی ترقی یافتہ معاشرے میں زندگی کھیل بنتی چلی جاتی ہے اور اس کے معنی اور مقصد کے متعلق سوالات بالکل نہیں اٹھائے جا سکتے۔ رارٹی، جیفرسن اور ایمرسن امریکا کو ایک ایسی تجربہ گاہ کہتے ہیں جس میں کھیل حقیقت کی جگہ لے لیتا ہے اور جہاں لوگوں کی ہر قسم کے کھیلوں کو ٹالریٹ کرنے کی صلاحیت میں مستقل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ امریکا کا یہ کھیل دنیا استعمار کے نام سے جانتی ہے اور رارٹی استعمار کا ایک پرجوش حامی ہے۔

25.2۔ پوسٹ ماڈرنسٹوں کی استعمار نوازی

رارٹی کہتا ہے کہ جو گھناؤنی اور غلیظ ووکیبلری سترھویں صدی کے بعد سے یورپ اور امریکا میں پروان چڑھی وہ مقدس ہے اور یورپ اور امریکا اس ووکیبلری کے علاوہ کسی دوسری ووکیبلری میں گفتگو کرنےاور اسے ٹالریٹ کرنے پر تیار نہیں۔ یہی رویہ استعماریت کا اصل فروغ ہے۔ جو بھی سرمایہ داری کی زبان میں گفتگو نہیں کرتا وہ پاگل اور جنونی ہے اور اسے تہہ تیغ کرنے پر امریکا مجبور ہے۔

رارٹی کو امریکا، اس کی گھناؤنی تاریخ اور مفسد معاشرتی روایات پر فخر ہے۔ اس نے اپنی کتاب "Achieving our Country" میں امریکی استعماریت کی پرزور وکالت کی ہے۔ رارٹی کہتا ہے کہ قومی تفاخر کے اس جذبے کو اختیار کیے بغیر پالیسی سازی کی گفتگو اور تنفیذ میں حصہ نہیں لیا جا سکتا۔ رارٹی کی نظر میں امریکا کی گھناؤنی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ وہ امریکی قوم میں احساسِ قومی تفاخر اور برتری کو ابھارنے کو ایک فرض تصور کرتا ہے۔ رارٹی کے بقول ہر سٹیزن کا فرض ہے کہ وہ اپنے امریکی ہونے پر فخر کرے۔ رارٹی ولیم جیمس کی اس رائے سے متفق ہے کہ جمہوریت ایک مذہب ہے اور ہمارا فرض ہے کہ جمہوری عمل کی ناکامیوں کو بیان نہ کریں۔ امریکا کے نظام حکومت اور اس کے روشن مستقبل کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار صرف غدارانِِ وطن ہی کو زیب دیتا ہے۔ امریکا کیا ہے، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ ان سوالات کے جواب امریکا کی گھناؤنی تاریخ کے معروضی اور غیر جانب دارانہ مطالعہ سے اخذ نہیں کیے جا سکتے بلکہ ہم سرمایہ دارانہ وحشی امریکا پر ایمان لے آئے ہیں۔ ہم اس کی تاریخی درندگی کی ایسی خوش نما افسانوی تشریح مرتب کریں گے جس پر ہم فخر کر سکیں۔ یہی افسانوی تشریح ہماری اخلاقی شناخت متعین کرتی ہے۔

بقول رارٹی جان ڈیوی اور والٹ وائٹ مین امریکا کی گھناؤنی تاریخ کی رومانوی افسانوی تشریح کے اولین موجد ہیں۔ انہوں نے امریکا کا معاشرتی مذہب (Civic Religion) تخلیق کیا اور اس مذہب پر سب امریکیوں کو ایمان لانا چاہیے۔ بقول رارٹی ڈیوی اور وائٹ مین کٹر دہریہ اور امریکی سول مذہب حقیقتاً سیکولرسٹ ہے۔ وہ مذہب کی ریاستی مداخلت کے شدید مخالف اور مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود کرنے کے حامی تھے۔ وہ امریکا کو ایک برتر منتخب قوم[711] منوانا چاہتے تھے لیکن عیسائی مبلغین اور پادریوں کے خلاف وہ عیسائی تصور تخلیقیت، قضا و قدر، آخرت اور گناہ کو ردّ کرتے تھے۔ ڈیوی اور وائٹ مین امریکا کو خود مختار بنانا چاہتے تھے۔ وائٹ مین نے امریکیوں کو خدا کو بھول جانے کی ہدایت کی اور کہا کہ امریکا کو خدا کا مطیع نہیں بلکہ اپنی مرضی کا مالک ہونا چاہیے۔

رارٹی کہتاہے کہ کوئی ایسا پیمانہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر ایک آزاد قوم کے اعمال کو پرکھا جائے۔ امریکیوں کو خدا کی مرضی معلوم کرنے کی جستجو نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ پوری قوم کی خواہشاتِ نفسانی کا ادراک حاصل کریں۔ ہر امریکی کو اس تصور کو ردّ کرنا چاہیے کہ امریکا کسی اور ماورائی قوت کے تابع ہے۔ امام خمینی کے ارشاد ’’ہر امریکی شیطان بزرگ ہے‘‘ کا یہی اصل مفہوم ہے۔

بقول رارٹی ڈیوی اور وائٹ مین چاہتے تھے کہ امریکا ایک ایسی جمہوریت ہو جہاں مذہب خوف و رجا یعنی عیسائیت کو بے دخل کر کے ہیومینٹی کا مذہب غالب آ جائے۔ ہر امریکی کو بالغ ہو جانا چاہیے، خوفِ خدا اور اخروی نجات کی تمناؤں کو بچگانہ اور مہمل سمجھ کر ردّ کر دینا چاہیے۔ معاشرتی عدل[712] کے حصول کی جدوجہد حصول رضائے الٰہی کی جستجو کی جگہ قومی زندگی میں لے لینا چاہیے۔

امریکا جمہوری ہے اور جمہوریت کے معنی یہ ہیں کہ امریکا صرف اپنی اجتماعی خواہشات کی اطاعت کرتا ہے۔ کسی غیر بالخصوص خدا کی اطاعت کا مطلق انکار کرتاہے، آخرت کو فراموش کر چکا ہے اور اپنی جنت اپنی گھناؤنی تاریخ سے خود تعمیر کر رہا ہے۔ امریکا آگے دیکھتا ہے اوپر نہیں دیکھتا۔ یہی ترقی کا مطلب ہے۔ ہر امریکی اپنا حق خود تعمیر اور تخلیق کرتا ہے اور یہی اقدار کے تاریخی ارتقا کی ذمہ داری ہے۔ یہ سرمایہ/ آزادی کی بڑھوتری کو ممکن بناتی ہے اور ہر امریکی خدا کی بندگی کو ردّ کر کے آزادی، سرمایہ، حرص و حسد کی بندگی اختیار کر لیتا ہے۔ ہیومن بینگ خود تقدس کا سرچشمہ اور خدا کا خالق ہے (نعوذ باللہ)[713]۔
امریکی قوم خود تخلیقی ہے۔ وہ خدا کو خوش کرنے کی جدوجہد نہیں خود اپنے آپ کو خوش کرنے کی سعی کرتی ہے۔ رارٹی کہتا ہے ہم عظیم تر نہیں، ہم خدا ہیں، ہم قائم بالذات ہیں۔ ہم اپنے مستقبل کی تعمیر خدا کی نئی نئی تخلیق کر کے کرتے ہیں[714]۔ بلاشبہ ہر امریکی شیطان بزرگ ہے اور امریکی تاریخ غلاظت کی انتہا ہے۔
بقول رارٹی عیسیٰ علیہ السلام زندگی کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے کیوں کہ زندگی کی معنویت امریکی خود تخلیق کرتے رہتے ہیں، خدا تخلیق نہیں کرتا۔ تخلیق معانی کا عمل فروغِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ آزادی اور سرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد لازماً مسابقتی (Competitive) اور تشددی (Violent) ہوتی ہے۔ رارٹی ڈیوی اور وائٹ مین کی طرح ثقافتی بقا کا قائل ہے۔ وہ تہذیبوں کے تصادم کا قائل ہے۔ امریکا کو اپنی ثقافتی اور سیاسی برتری پوری دنیا پر مسلط کرنے کی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ یہی امریکا کی گھناؤنی تاریخ نے امریکا کے عوام کو سبق دیا ہے اور امریکا کی گھناؤنی تاریخ نے یہ حق بھی دیا ہے کہ امریکی استعماری غلبہ کے فروغ کا ایک اہم ہتھیار جنسی بے راہ روی کا فروغ ہے۔ بقول رارٹی ڈیوی اور وائٹ مین اصل زور ثقافتی تبدیلی پر دیتے تھے سیاسی تبدیلی پر نہیں۔ ان کی فکر کی اہم ترین کامیابی ۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد سے منشیات کے پھیلاؤ، ہیجان انگیز ناچوں اور موسیقی کے سیلاب اور کھلے عام زنا اور اغلام بازی کے ذریعے عمل میں آئی۔

چوں کہ حقیقت مطلق کچھ نہیں لہٰذا حق صرف وہ ہے جو امریکی کو لذت فراہم کرے۔ حق کی تعریف کا معیار ہی یہ ہے کہ وہ امریکا کی گھناؤنی تاریخ اور اس سے ماخوذ میلانات اور رویوں کے اظہار اور تسکین کے لیے کتنا معاون ثابت ہوتا ہے۔ ترقی خواہشات کی تسکین کا فروغ ہے۔ ہیومن بینگ کے احساسات کے علاوہ حق کی شناخت اور تخلیق کا کوئی اور پیمانہ نہیں اور امریکا کی خود تخلیقیت کے معنی یہ ہیں کہ اشیا اور اعمال کی قدر امریکیوں کی لذتوں میں اضافہ کی بنیاد پر مستقل متعین کی جائے۔ امریکی ریاست کا مقصد وجود یہ ہے کہ وہ ایک ایسا ہیومن بینگ تخیلق کرے جو کسی غیر کی حاکمیت کو قبول نہ کرے اور جو امریکی معاشرتی اجماعی آراء کے علاوہ کسی حق کو تسلیم نہ کرے۔ یہی امریکی جمہوریت کی اصل ہے۔

امریکی ریاست اور امریکی معاشرہ کی کارفرمائی کا واحد مقصد امریکی عوام کی خواہشاتِ نفسانی کو زیادہ سے زیادہ تسکین پہنچانا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ریاست اور معاشرت کے وجود کا کوئی مقصد نہیں۔ رارٹی، وائٹ مین اور ڈیوی اس مقصد کی جستجو میں کسی کے سامنے (خواہ خدا، خواہ دوسرے ممالک کے افراد، خواہ بین الاقوامی قانون اور ادارے) کوئی جواز فراہم کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ ہر امریکی (شیطان بزرگ) حق کی تخلیق لذات کی بڑھوتری کے لیے کرتا رہتا ہے اور پوری دنیا پر قتل اور غارت اور لوٹ مار مسلط کرتا رہتا ہے۔ وہ یہ سب کرنے کا حق صرف اس لیے رکھتا ہے کہ وہ یہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور کر سکتا بھی ہے۔ یہی امریکی استعماریت کا اصلی جواز ہے۔

رارٹی کہتا ہے کہ یہ درست ہے کہ ہم امریکیوں نے کروڑوں ریڈ انڈینز اور ویت نامیوں اور عراقیوں اور افغانیوں کو قتل کیا لیکن ہمیں اس کے اعتراف کے باوجود اپنی گھناؤنی تاریخ پر فخر کرنا چاہیے کیوں کہ ہم ایک دستوری جمہوریت ہیں اور ہم جو خودتخلیقیت کا استعمال کرتے ہیں اس میں گناہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔ گناہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی عمل کسی آفاقی معیار کے خلاف ہے۔ لیکن اگر معیاراتِ خیروشر امریکی خود اپنی لذات کو فروغ دینے کے لیے تخلیق کر رہے ہیں تو گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اس حق تخلیقیت کو ترک کر دیں۔ یہ ایک اور امریکی مفکر ایمرسن کا خیال ہے اور رارٹی اس خیال کی تصدیق کرتا ہے لہٰذا امریکی جو بہیمیت اپنی پوری گھناؤنی تاریخ میں روا رکھے ہوئے ہیں اس کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔ ریڈ انڈینز اور ویت نامیوں کے قتل عام کے زمانے اور آج کل جب امریکی افغانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں امریکا ایک دستوری جمہوری ملک ہے۔ جمہوری عمل کے ذریعے امریکی عوام اپنے اپنے حق تخلیق کر رہے ہیں جو ان کی لذات میں اضافہ کا سبب بنیں۔ وہ کسی آفاقی تصور حق کے قائل نہیں جس کی بنیاد پر ان کے اعمال کو جانچا جا سکے۔ جمہوری طور پر افغانیوں کا قتل عام امریکیوں کی لذات کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔ لہٰذا جب امریکی افغانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو وہ کوئی گناہ نہیں کر رہے اور انہیں اس قتل عام پر شرمندہ یا پشیماں ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ افغانیوں کا قتل اس حق کا تقاضا ہے جو امریکیوں نے اپنے مفادِ عامہ کےلیے جمہوری طور پر خود تخلیق کیا ہے اور یہ فلسفہ مطلب پرستی کا تقاضا ہے۔

بقول رارٹی سیاسی عمل کی بنیاد کسی فلسفہ اور مذہب کوفراہم نہیں کرنی چاہیے اور سیاسی عمل مطلب پرستانہ اخلاقیات کا اظہار ہونا چاہیے۔ اخلاقی سیاسی عمل صرف وہ ہے جو ایک جمہوری دستوری ریاست کے ہر سٹیزن کے مفادات یعنی توسیع لذات کو فروغ دیتا ہے۔ عدل کا صرف یہی مطلب ہے کہ جمہوری دستوری ریاست کے تمام سٹیزن کے لذات کو فروغ دیا جاتا رہے اور ہر عمل کی حقانیت کو اسی واحد پیمانہ پر جانچا جائے گا کیوں کہ عدل کا اور کوئی مطلب نہیں اور جب ہم سیاسی عمل کو کسی آفاقی تصور مثلاً عیسائی تصورِ عدل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو یہ ایک احمقانہ عمل ہے جس کا پبلک لائف میں کیے جانے والے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ ذاتی زندگی میں ہم عیسائی ہو سکتے ہیں پبلک لائف میں عیسائی تعیلمات پر عمل کرنا حماقت ہے۔ اور چوں کہ قومی ریاست سماجی عدل کو اپنی مخصوص تاریخی روایات کی بنیاد پر تخلیق کرتی ہے لہٰذا قومی ریاست سے اوپر اٹھ کر کسی عالمی تنظیم حاکمیت ناممکن ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانیت مختلف لسانی communities میں تقسیم ہے۔ مختلف قومیں مختلف ووکیبلریز استعمال کرتی ہیں۔ یہ ووکیبلریز کسی مواصلاتی اشتراک کی متحمل نہیں ہو سکتیں(جیسا کہ ہابرماس کا خیال ہے) بلکہ لازماً ایک دوسرے سے متصادم رہتی ہیں اور امریکی ووکیبلری دیگر تمام ووکیبلریز کو مغلوب کرنے کی لامتناہی جنگ مستقل لڑ رہی ہے لہٰذا حق عالمی communities کے عمل سے تخلیق نہیں ہوتا، حق امریکی قوم ہی اپنی بہیمیت کے اظہار کے طور پر تخلیق کرتی رہے گی۔ امریکا کسی بھی سیاسی نظام کی ماتحتی کبھی قبول نہیں کرے گا کیوں کہ تمام دنیا کو مغلوب کرنے کی جدوجہد مستقل جاری رکھے گا اور یہی استعمار کی اصل روح ہے۔ ہر وہ ظلم عین عدل ہے جو امریکا کی گھناؤنی تاریخ سے ماخوذ رجحانات کا غماز ہو۔ 

امریکا کی گھناؤنی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ سرمایہ داری کا کوئی متبادل نہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی سے مراجعت کو رارٹی ناممکن، غیرضروری اور مضر تصور کرتا ہے۔ ہاں سرمایہ دارانہ نظام کی ایسی اصلاح مفید ہو سکتی ہے جو تمام امریکیوں کی لذات کو فروغ دینے میں معاون ہو۔ اخلاقی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ تمام امریکی مظالم کو سرمایہ دارانہ عدل کے طور پر امریکا کی گھناؤنی تاریخ سے ماخوذ روایات اور رجحانات کی بنیاد پر مستقل تخلیق کیا جاتا رہے۔ جمہوریت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی کی کوئی حد نہیں، ہیومن بینگ انہی معنوں میں آزد ہے کہ وہ جیسی انفرادیت اور جیسی چاہے کائنات خود تخلیق کر سکتا ہے۔ نہ وہ خدا کا پابند ہے نہ قانون فطرت کا نہ کسی اخلاقی ضابطہ کا۔ امریکی صرف اپنی گھناؤنی تاریخی روایات کی بنیاد پر استعماری غلبہ کی جدوجہد جاری رکھنے کا پابند ہے۔

ہم امریکی خدا کو راضی نہیں کرنا چاہتے ہم اپنے آپ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم خدا کو جواب دہ نہیں صرف اپنے آپ کو جواب دہ ہیں۔ ہم نے کل آٹھ کروڑ ریڈ انڈینز کو قتل کیا یہ حق ایک تاریخی تخلیق تھی۔ آج ہم نیا حق تخلیق کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے آپ کو ریڈ انڈینز کے قتل عام کے لیے معاف کر دیا ہے اور اب افغانیوں اور عراقیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ کل ہم اپنے آپ کو شاید اس قتل عام کے لیے بھی معاف کر دیں۔ ہم ایک ایسی ذلیل، خبیث اور سفاک قوم کے سٹیزن ہیں جو فرعون ملعون کی طرح خدائی کا دعویٰ کرنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی ہے۔ بلاشبہ ہر امریکی شیطان بزرگ ہے۔

25.3۔ امپیریل ازم کی ہیومنسٹ پوسٹ ماڈرن توجیہ

جس بے غیرتی سے رارٹی نے استعمار کی توجیہ مرتب کی وہ امریکا کی فطری خباثت، گھمنڈ اور سفاکی کی آئینہ دار ہے اور رارٹی کی اس دریدہ دہنی نے کچھ یورپی پوسٹ ماڈرنسٹ لبرلوں کو شرم سار کر دیا ہے۔ ان شرم سار پوسٹ ماڈرنسٹ استعمار نوازوں میں ایک اہم نام چارلس ٹیلر(Charles Taylor) کا ہے[715] ۔ ٹیلر رارٹی کی استعمار نوازی کی ایک متوازن اور مہذب تشریح پیش کرتا ہے۔

ٹیلر کہتا ہے کہ ہیومن بینگ ایک خود تشریحی (Self-interpreting) جانور ہے۔ فرد اپنی ذات اور اس کے مقاصد کی جو تشریح خود کرنا چاہیے وہ اس لسانی کمیونٹی کے تصوراتِ خیر سے ماخوذ ہوتی ہے جس کا فرد ایک ممبر ہوتا ہے۔ اس تشریح ذات کی توجیہ بھی فرد انہی فکری ضوابط اور اخلاقی پیمانوں کی بنیاد پر کرتا ہے جو اس کی لسانی کمیونٹی میں معروف اور معتبر گردانے جاتے ہیں۔ 

ہیومنٹی کی اصلیت اور وجودی مقصدیت (ontology) کے بارے میں جو تصورات اقداری توجیہات کو ممکن بناتے ہیں وہ ایک مخصوص لسانی کمیونٹی کے مشترکہ روایتی ورثہ کے غماز ہوتے ہیں۔ ہر لسانی کمیونٹی اپنے عمومی معیاراتِ خیروشر اپنی تاریخ سے اخذ کرتی ہے اور انہی معیارات کی بنیاد پر انفرادی خواہشات اور رویوں کو پرکھا جاتا ہے۔ جانچ پڑتال کے اس معاشرتی عمل کو ٹیلر Strong Evaluation کہتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ جن معیارات کی بنیاد پر یہ strong evaluation عمل میں آتی ہے ان کا انفرادی خواہشات سے بالواسطہ کوئی تعلق نہیں بلکہ انفرادی خواہشات کو جانچنے کے تاریخی معتبر پیمانے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخی طور پر معتبر معیارات کا انفرادی میلانات اور خواہشات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تاریخی معتبر معیارات انہی انفرادی خواہشاتِ نفسانی کی ترتیب و تدوین ہیں اور ان تاریخی معتبر معیارات کی بنیاد پر معاشرتی ارتباط اور مکالمہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔

ٹیلر کے مطابق اخلاقی تفکر کے تین محور ہیں: تصورِ غیر، تصورِ ذات اور تصور ِخیروشر۔ تصورِ غیر سے مراد یہ ہے کہ ہم دوسرے ہیومن بینگ کے کن اوصاف کو قابلِ قدر تصور کرتے ہیں۔ تصورِ ذات سے مراد یہ ہے کہ ہم خود اپنے کن اعمال کو قابلِ قدر سمجھتے ہیں اور تصورِ خیروشر تاریخی معتبر معیارات سے ماخوذ ہے جس کی بنیاد پر معاشرتی مواصلت جاری رہتی ہے۔ یہ تینوں تصورات عمل اور معاشرے کے مثالیے تشکیل دیتے ہیں۔ ہر لسانی کمیونٹی اور وہاں پائے جانے والے ہیومن بینگ کے آئیڈیل ہوتے ہیں۔ اس خیال کا اظہار جان اسٹوارٹ مِل نےتصور ارفع لذات (higher pleasures) کے ذریعہ کیا تھا۔ ہر لسانی کمیونٹی اس بات کی قائل ہوتی ہے کہ مثالی معاشرت اور مثالی انفرادی زندگی کیا ہے اور وہ کیوں کر روزمرہ کے تجربات سے اقداری طور پر قابلِ ترجیح ہے اور ان آئیڈیلز کی طرف مراجعت اور ان آئیڈیل پہچانوں کی بنیاد پر انفرادی و معاشرتی عمل کو جانچنا لازم ہے[716]۔

اخلاقی عمل وہ عمل ہے جو strong evaluation کی بنیاد پر جواز رکھتا ہو۔ یعنی وہ عمل اخلاقی قدر کا حامل ہے۔ جس کو ایک مخصوص لسانی کمیونٹی اپنے آئیڈیل کی غماز گردانتی ہے۔ بقول ٹیلر لسانی کمیونٹی انفرادیت کی تعمیر اس طرح کرتی ہے کہ وہ فرد کو اس بات کا ذمہ دار بناتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے حصول کی جدوجہد کا جواز تاریخی معتبر معیارات کی بنیاد پر کمیونٹی میں مستعمل ووکیبلری میں پیش کرتا رہے۔ لسانی کمیونٹی ہی ہیومن بینگ کا تصورِخیر اور تصورِ عدل قائم کرتی ہے۔ ہیومن بینگ کے معیاراتِ قدر جو ایک مخصوص لسانی کمیونٹی سے ماخوذ ہوتے ہیں وہی اس کی ذاتی شناخت کو ممکن بناتے ہیں۔ ہیومن بینگ کا حال یعنی اس کی شناخت لازماً اس کے مقام سے متعین ہوتی ہے اور یہ مقام لازماً ایک لسانی کمیونٹی ہی میں پایا جاتا ہے۔ بقول ٹیلر انفرادی شناخت کی تعمیر انتخابات کی متقاضی ہے کہ ہیومن بینگ کی نفسانی خواہشات کی توجیہ ایک مخصوص معاشرتی معتبر ووکیبلری میں بیان کی جائے جو ہیومن بینگ ایسا نہیں کر سکتا وہ نفسی انتشار کا شکار رہتا ہے اور اس کا اظہار تضادات سے لبریز ہوتا ہے۔

ہر ہیومن بینگ کے لیے ایک مخصوص اخلاقی تناظر اختیار کرنا لازم ہے۔ یہ اخلاقی تناظر وہ ارضیت (space) ہے جہاں ہر ہیومن بینگ کھڑا ہوا ہے۔ اسی ارضیت میں سے ہیومن بینگ ان آفاقی سوالات کے جواب دے سکتا ہے جن کا تفہیم ذات کے لیے سامنا کرنا ناگزیر ہے۔ ارضیت جس میں ہیومن بینگ اپنے آپ کو پاتا ہے وہ خود تعمیر یا تخلیق نہیں کرتا اور اس ارضیت کا وجود ہیومن بینگ کے عمل یا خواہش پر منحصر نہیں۔ وہ اپنی ذات کی شناخت کے لیے اس بات پر مجبور ہے کہ اس ارضیت میں لسانی کمیونٹی میں جن معیارات کو معتبر تصور کیا جاتا ہے ان کی بنیاد پر اپنے اعمال کی تشریح پیش کرتا رہے۔ ایک ہیومن بینگ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ارضیت کی قید سے آزاد ہو جائے۔ یہی ارضیت وہ تعبیریں مرتب کرتی ہے جن کی بنیاد پر ہیومن بینگ اپنی انفرادیت کا شعور حاصل کرتا ہے۔ اعمال کے معنی ان کا ارضاتی تناظر متعین کرتے ہیں مثلاً اب امریکا میں پارکوں اور ساحل سمندر پر کھلے عام زنا کرنا عام ہوتا جا رہا ہے، بیسویں صدی میں عام نہ تھا لہٰذا اس زمانہ میں امریکا میں کھلے عام زنا کرنا ایک شرم ناک عمل گردانا جاتا تھا اب کھلے عام زنا کرنا اظہار آزادی (ہیومن رائٹ) تصور کیا جاتا ہے۔ یہ قابل شرم نہیں ایک قابل فخر عمل ہے۔ ارضیت اور وقت کی تبدیلی کے نتیجے میں عمل زنا کے معنی تبدیل ہو گئے۔ کھلے عام زنا قابل شرم نہیں قابل فخر عمل تصور کیا جانے لگا۔ اعمال کے معنی کا تعین ایک مخصوص تاریخی معتبر ووکیبلری سے ہوتا ہے۔ انگریزی زبان میں حیا اور غیرت کے مماثل الفاظ تقریباً متروک ہو چکے ہیں[717]۔ لہٰذا امریکا کا حیادار اور غیرت دار ہونا ناممکن ہے۔ وہ جس لسانی کمیونٹی کا حصہ ہے وہاں حیا اور غیرت بے معنی تصورات ہیں۔ ہیومن بینگ اپنی زندگی،اہداف و مقاصد اور تصورات کے معنی لازماً اسی ووکیبلری کی بنیاد پر تخلیق کرتا ہے جو اس لسانی کمیونٹی میں معتبر گردانی جاتی ہے جس کا وہ ایک ممبر ہے۔

ذات کی شناخت اس ذات کی خود تعبیریت (self-interpretation) پر منحصر ہے اور خود تعبیریت لازماً ایک مخصوص معاشرتی مواصلاتی عمل ہے کیوں کہ خودتعبیریت لازماً ایک مخصوص معاشرتی معتبر ووکیبلری کے ذریعے عمل میں آتی ہے اور ذات غیر سے روابط استوار کیے بغیر منفرد نہیں ہو سکتی۔ ہیومن بینگ اپنی ذات کے جو معانی بھی اخذ کرے لازماً اس ووکیبلری میں ہوتے ہیں جو دوسروں سے مواصلت کے ذریعے اس نے استعمال کرنا سیکھی ہے اور جس کو استعمال کر کے غیر پر اپنی انفرادی معنویت عیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انفرادی ذات کا وجود معاشرتی مواصلت کا اظہار ہے۔ ہیومن بینگ خیر کی جو تعبیر مرتب کرتا ہے اس کی بنیاد لازماً ایک مخصوص معاشرتی مواصلاتی عمل پر قائم ہوتی ہے۔ کوئی ہیومن بینگ جو آزادی پر یقین رکھتا ہے خیر کی ایسی تعبیر کرے جو اپنے معاشرے میں رائج شدہ معتبر تعبیر خیر سے کسی حد تک مختلف ہو۔

ٹیلر کے مطابق ہیومن بینگ اپنی انفرادیت کے اظہار کے لیے لازماً کسی ایسے تصورِ خیر کو اپنانے پر مجبور ہے جو اس کی کمیونٹی میں رائج شدہ معتبر ووکیبلری سے ماخوذ ہیں۔ ہیومن بینگ اس بات پر بھی مجبور ہے کہ اپنی زندگی کے معنی اسی تصورِ خیر سے اخذ کرے اور بقول ٹیلر پیہم جستجو کرتا رہے کہ اس تصورِ خیر کے تقاضوں کو اختیار کرنے کا زندگی گزارتے ہوئے زیادہ اہل ہوتا جائے۔ اس چیز کو ٹیلرquestکہتا ہے اور یہ quest اپنی لسانی کمیونٹی سے ناتا توڑ کر جاری نہیں کی جا سکتی (کیوں کہ جس خیر کے حصول کی quest کی جا رہی ہے وہ اسی مخصوص لسانی کمیونٹی کی معتبر ووکیبلری کی بنیاد پر تعمیر کیا گیا ہے) لہٰذا ہر انفرادی quest لازماً ایک مخصوص لسانی کمیونٹی کی تاریخی پیش رفت کا حصہ ہوتی ہے۔

خیر کے حصول کی جستجو میں ہیومن بینگ مختلف النوع خیروں کے حصول کی جدوجہد کرتا ہے (مثلاً خود اظہاریت کا خیر، خاندان کی احسن پرورش کا خیر، دوستیوں کو فروغ دینے کا خیر وغیرہ)[718] اور معاشرتی معتبر ووکیبلری کی بنیاد پر ان خیروں کی تقابلی قدر متعین کرتا ہے۔ کسی مخصوص خیر (مثلاً اظہار ِانفرادیت) دیگر تمام خیروں سے اعلیٰ اور ارفع تصور کرتا ہے۔ اعلیٰ اور ارفع خیر کو ٹیلر hyper good کا نام دیتا ہے۔ جو hyper good مغرب کے تاریخی عمل کے دوران ابھرے انہوں نے دوسرے رائج شدہ hyper goods کی قدر سے انکار کیا اور ان کے وضع کرنے والوں کا وعدہ یہ تھا کہ پرانے hyper goods کو ردّ کرنے کے لیے hyper goods کو قبول کرنا اخلاقی ترقی ہے۔ پرانا hyper good عیسائی تصورِ عبدیت تھا ،اس تصور کو شکست دے کر ہی سرمایہ دارانہ تصورِ مساوی آزادی نے hyper good کے طور پر معاشرتی مقبولیت حاصل کر سکا۔

بقول ٹیلر مغرب کا حالیہ رائج شدہ hyper good(مساوی آزادی) سابق hyper good(عیسائی تصورِ عبدیت) سے افضل اس بنیاد پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ان دونوں تصورات میں سے کوئی ایک واقعتاً حق ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے مطلب پرستانہ دلائل ہی کافی ہیں۔ یہ وہ دلائل ہیں جو Practical Reason کی بنیاد پر وضع کیے گئے ہیں۔ نیا hyper good پرانے سے برتر ہے اگر اس کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں پرانے hyper good کا کوئی اندرونی تضاد واضح ہوتا ہو[719]۔ یا اس نئے hyper good کو اختیار کر کے ہیومن بینگ کسی ایسے مسئلہ کا حل تلاش کریں جو پرانے hyper good کی بالادستی کے دور میں ناممکن الحل تصور کیا جاتا تھا[720]۔ ایک hyper good کو ترک کرنے سے دوسرے کو اختیار کرنا علمیاتی تغیر ہے اور اس علمیاتی تغیر کے نتیجے کو نتیجہ خیز قرار دینا شخصی تجربات پر منحصر ہے۔ اخلاقی ترقی سے مراد یہ ہے کہ جس hyper good کی برتری کی توثیق کی جا رہی ہے وہ ان اقداری میلانات کا اظہار ممکن بناتا ہے جو ایک لسانی کمیونٹی میں ایک مخصوص وقت معتبر تصور کیے جاتے ہیں۔ اخلاقی ترقی کے یہی معنی ہیں۔ اور اخلاقی ترقی کسی ماورائی آفاقی پیمانے کی بنیاد پر متعین نہیں کی جا سکتی کیوں کہ اس قسم کے معیارات کا کوئی وجود نہیں۔ ہر ہیومن بینگ کے تفکرات لازماً اس اخلاقی مفروضات پر مبنی ہوتے ہیں جو اس کے اعمال کی توجیہ خود اس کی نظر میں مرتب کرتے ہیں۔ ان مفروضات میں تبدیلی صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ ہیومن بینگ کو اپنے حادثاتی تجربات اور احساسات کو ایک نئے طریقے سے سمجھنے پر آمادہ کیا جائے لیکن یہ تجربات لازماً ایک مخصوص لسانی تناظر میں کیے جاتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ہیومن بینگ ایک مخصوص تصورِ خیر مرتب کرتا ہے اور اس کے اخلاقی تفکرات اور فیصلے اسی تصورِ خیر پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہی تفکرات کی بنیاد پر وہ hyper goods اور non-hyper goods میں تمیز کرنا سیکھتا ہے۔ ریشنیلٹی کا تقاضا ہے کہ وہ ان اشیا اور اعمال کو hyper good گردانے جو اس کے تصورِ خیر کے حصول کے لیے زیادہ ممد اور معاون ہوں۔

مثلاً ہیومن بینگ اپنے لسانی تناظر میں خیرمطلق کے جس تصور پر ایمان لاتا ہے وہ آزادی/سرمایہ ہے۔ اپنے حیاتی تجربات کی بنیاد پر اس کو پتہ چلتا ہے کہ آزادی/سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ میں مسابقت کی صلاحیت پیدا کرے۔ اس صلاحیت کو پیدا کرنے کے لیے فنی تعلیم کا حصول ماں باپ کی خدمت کرنے کے مقابلے میں زیادہ معاون ہے۔ لہٰذا بقول ٹیلر ریشنیلٹی (خودغرضی) کا تقاضا ہے کہ وہ فنی تعلیم کے حصول کو hyper good اور ماں باپ کی خدمت کرنے کو non-hyper good گردانے۔ اخلاقی ترقی سے مراد یہ ہے کہ ہیومن بینگ ریشنل فیصلہ کرے اور یہ فیصلہ اور اخلاقی تفکرات کا دارومدار اس تصورِ خیر پر مبنی ہے جو ہیومن بینگ اپنے لسانی تناظر سے اخذ کرتا ہے۔

سرمایہ دارانہ لسانی کمیونیٹیز جن اقداری مفروضات کو فروغ دے کر انسان کو ہیومن بینگ بناتی ہیں وہ بقول ٹیلر آزادی، مساوات اور عالمگیریت ہیں۔ یہ قابل تحسین اعتقادات ہیں۔ بقول ٹیلر اور انہی کی بنیاد پر اخلاقی تفکر کے ذریعے معاشرتی اور انفرادی hyper good کا تعین ممکن ہوتا ہے۔ یہی وہ تصورِ خیر مطلق ہے جن پر ہیومن بینگ ایمان لاتا ہے اور اسی کے حصول کے لیے سرمایہ دارانہ حقوق کو مقدس گردانا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی بڑھوترئ سرمایہ/آزادی کے فروغ کا ناگزیر ذریعہ ہے اور ہیومن رائٹس کو پامال کر کے حصولِ آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو مسخ کیا جاتا ہے[721] ۔ عدل کے قیام کا مطلب یہی ہے کہ ہم ان اعتقادات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں جو ہم نے اپنے مخصوص لسانی تناظر سے اخذ کیے ہیں۔ ہمارا تصورِ خیر محض کچھ ضابطوں کی پابندی نہیں جیسا کہ رالز کے پیرو سمجھتے ہیں[722] بلکہ اس کا اظہار ایک ٹھوس طرزِ زندگی اور نظام زندگی میں ہوتا ہے جس کو ہم نے اپنے اقداری اعتقادات کے اظہار کے لیے قائم کر رکھا ہے۔ جن حقوق کو ہم تسلیم کرتے ہیں وہ ہمارے اعتقادات کے اظہار کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ اعتقادات ہم نے اپنے تاریخی تجربات کی بنیاد پر اپنائے ہیں۔ یہ اعتقادات محض جبلتی ردِعمل نہیں بلکہ اس اخلاقی تفکر کا ممکن بناتے ہیں جس کی بنیاد پر ہم اپنے تصورِ خیر مطلق کی جدوجہد مستقلاً جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہیومن بینگ کا وجود اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے تصورِ خیر کے حصول کی جدوجہد ہی اس کو اخلاقی ترقی بتاتی ہے۔ وہی عمل ریشنل (خودغرضانہ) ہے جو ہیومن بینگ کو اپنے تصورِ خیر مطلق کے حصول کے قریب تر لے جاتا ہے۔ ہیومن بینگ اپنے بنیادی اعتقادات اس تاریخی تناظر سے اخذ کرتا ہے جس میں وہ اپنے آپ کو پاتا ہے اور یہی اعتقادات اس کے تصور hyper good اور ریشنیلٹی (خودغرضی) کی تلقین کرتے ہیں۔ اور انہی سے ایک مخصوص طرزِ زندگی مثلاً امریکی سرمایہ داری برآمد ہوتا ہے۔ ہم امریکی ہیں لہٰذا امریکی طرز اور نظام زندگی اختیار کرنا وہ ریشنل طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے اعتقادات پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ ہم اس تصورِ خیر مطلق کی تصدیق کرتے ہیں جو امریکی طرز اور نظام زندگی فروغ دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ یہ واقعی خیر ہے (کسی ماورائے لسانی تاریخ خیر کا کوئی وجود نہیں) بلکہ اس لیے کہ ہم امریکی ہیں۔ امریکیت ہماری انفرادی شناخت کا جزو لاینفک ہے۔ ہماری انفرادی انہی مواصلاتی تعلقات میں شرکت برآمد ہوتی ہے جس کو امریکا کہا جاتا ہے۔ امریکی طرز اور نظام زندگی ایک مخصوص تصورِ فطرتِ انسانی پیش کرتا ہے۔ ہم اس تصور پر ایمان لائے ہیں اس لیے کہ ہم امریکی ہیں اور اسی سے justified تصورِ خیر کی عمومیت کو فروغ دینا ہم پر لازم ہے۔

ٹیلر رالز کی جو تعبیر پیش کرتا ہے اس میں رالز کے تصور خود ارادی کو hyper good قرار دیتا ہے۔ ٹیلر خود ارادیت کو سرمایہ داری کے hyper good ہونے کا انکار نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ hyper good کا یہ تصور سرمایہ دارانہ لبرل تصورات فطرت انسانی پر ایمان لانے سے justify ہوتا ہے اور ان لبرل اعتقادات پر ایمان لائے بغیر لبرل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا کوئی ریشنل جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ٹیلر کہتا ہے کہ چوں کہ لبرل ontological تصورات لبرل سرمایہ دارانہ تصور خیرمطلق کی بنیاد فراہم کرتے ہیں لہٰذا لبرل شخصیت غیر لبرل معاشروں میں نہ تخلیق کی جا سکتی ہے اور نہ کارفرما ہو سکتی ہے۔ لبرل سرمایہ دارانہ مارکیٹ لبرل سرمایہ دارانہ تنظیم اور تشکیل لذت پرستی کو فروغ دینے والے ادارے سب لبرل شخصیت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اور اسی لبرل معاشرے میں پرورش پانے والا انسان ہیومن بینگ (یعنی شیطان) بن کر خود ارادیت کو ایک غیر متنازعہ قدر مطلق کے طور پر پہچان سکتا ہے۔ خوداختیاریت کا اظہار ریاست کے دائرہ کار میں وہ لبرل سرمایہ دارانہ پراگندگی اور معاشرت کا ایک عمومی اظہار ہے۔ لبرل سرمایہ دارانہ معاشرت کے باہر لبرل سرمایہ دارانہ انفرادیت نشوونما اور فروغ نہیں پا سکتی۔ عیسائی معاشرے میں انسان خود اختیاریت پر ایمان نہیں لاتا وہ خود ارادیت کو گناہ کبیرہ تصور کرتا ہے لہٰذا عیسائی معاشرت کو منہدم کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا غیرجمہوری غیرسرمایہ دارانہ نظام ریاست کو[723] ۔ لبرل سرمایہ دارانہ اقدار اور اداروں کا نظریاتی دفاع لبرل سرمایہ دارانہ اقدار اور اداروں کا نظریاتی دفاع لبرل سرمایہ دارانہ انفرادیت کے پنپنے کے لیے لازم ہے۔

لبرل سرمایہ دارانہ تاریخی روایات اور ادارہ محض آزادی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ یہ آزادی/خود اختیاریت کی تجسیم ہیں اور انہی کے فروغ اور استحکام سے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا فروغ اور استحکام ہے۔ 
ٹیلر لبرل سرمایہ داری اور اس کے عالمی استعماری غلبہ کا حامی اور وکیل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ تصور خیر مطلق (یعنی فروغ آزادی اور سرمایہ) کو درست ثابت کرنے کا دارومدار ہے۔ وہ فوکو، رارٹی اور دیگر پوسٹ ماڈرنسٹوں کی طرح کسی خیر مطلق کے وجود کا قائل نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ خیر مطلق کا تصور ایک لسانی کمیونٹی کی تاریخ سے مرتب ہوتا ہے اور مغرب میں خیر مطلق کی جو تعبیر یعنی بڑھوترئ سرمایہ/آزادی مرتب ہوئی وہ اس لسانی کمیونٹی کے لیے حقیقی خیر مطلق ہے۔ اس تصور خیر مطلق کا ایک پہلو عالمگیریت ہے۔ عالمگیریت سے مراد یہ ہے کہ جو اعتقادی اقدار مغربی لسانی کمیونیٹیز کی تاریخ سے برآمد ہوئے ہیں ان کو عالمی سطح پر غلبہ دلایا جائے۔ ٹیلر اس بات کا قائل ہے کہ دوسری لسانی کمیونیٹیز کی تاریخ جو اقداری اعتقادات برآمد ہوئے ہیں وہ مغربی تاریخ سے برآمد ہونے والے اعتقادی اقدار سے مختلف ہو سکتے ہیں اور منطقی بنیاد پر ان مختلف نوعی اقدار کو بہتر اور ابتر کے زمروں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً منطقی طور پر اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکتا ہے کہ خود ارادیت عبدیت سے بہتر اقداری مفروضہ ہے۔ لیکن یورپ اور امریکا میں بسنے والے انسان سے ہیومن بینگ (یعنی شیطان) بن گئے ہیں اور ان کے تاریخی تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ عقیدہ خود ارادیت عقیدہ عبدیت سے افضل تر ہے۔ اسی لیے انہوں نے عیسائی طرز اور نظام زندگی کو ترک کر کے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی اختیار کیا ہے۔اور چوں کہ عالمگیریت سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا لاحقہ ہے لہٰذا امریکا کے لیے لازم ہے کہ عقیدہ خود ارادیت اور عقیدہ کو تقویت دینے والی معاشرت اور ریاست کی عالمی بالادستی کی جدوجہد کرتا رہے۔ امریکا یہ تو ٹالریٹ کر سکتا ہے کہ غیر لبرل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی موجود رہیں کیوں کہ یہ غیر لبرل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی (قوم پرست سرمایہ داری، اشتراکی سرمایہ داری) خود اختیاریت کے عقیدہ کو ردّ نہیں کرتے اور آزادی اور ترقی ان کے بھی hyper good ہیں۔ ان میں اور لبرلوں میں فرق صرف ان hyper good کے حصول کے طریقہ کار کا ہے۔

لیکن امریکا یہ کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک اسلامی طرز اور نظام زندگی، اسلامی معاشرت اور اسلامی ریاست دنیا کے کسی حصہ میں غلبہ حاصل کرے کہ کیوں کہ یہ خوداختیاریت کو ردّ کر کے عبدیت کو قدر مطلق کے طور پر اختیار کرنے کا مظہر ہے۔ امریکا کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو خود اختیاریت کو ردّ کر کے عبدیت کو قبول کرنے سے باز رکھے لہٰذا وہ اسلامی معاشرت اور ریاست کو منہدم کرنے کےلیے دہشت گردی، تخریب کاری، پروپیگنڈا، ڈرون حملے اور فوجی یلغار کے ذریعے ہی خود اختیاریت کے عالمی غلبے کو محفوظ رکھنے کی اپنی تاریخی ذمہ داری پوری کرتا رہے گا۔ اگر مسلمان اپنے آپ کو امریکی استعماری دہشت گردی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو یا تو سیکولرازم یعنی دہریت کو قبول کر کے مذہب کو پبلک لائف سے نکال کر خود اختیاریت کی تصدیق کریں یا پھر اسلام کی ایک ایسی تعبیر مرتب کریں جو مسلمانوں کا تعلق اسلامی تاریخ سے توڑ کر مغرب میں اٹھارھویں صدی میں فروغ پانے والی تاریخ سے جوڑ دے۔ یہی اسلامک لبرل ازم ہے جو اسلامک ماڈرنسٹس مثلاً سرسید، ضیا گوکلپ، خلیفہ عبدالحکیم اور اسلامک ریوژنسٹس مثلاً مولانا تقی عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر خورشید احمد تشکیل دینے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور امریکا اسلامک لبرل ازم کو برداشت کرنے اور اس کو فروغ دینے پر آمادہ ہے کیوں کہ یورپی کرسچین ڈیموکریٹک پارٹیوں کی کوششوں کی طرح یہ بھی اسلامی طرز اور نظام زندگی کی سرمایہ کاری ہے۔

26۔ جائلس دلیوز

فوکو نے کہا ’’یہ صدی ممکن ہے کہ دلیوز کی صدی کہلائے‘‘۔ پوسٹ ماڈرنسٹ تحریک کی ہر جہت پرجائلس دلیوز(Gilles Deleuze) کی فکر کا اثر نہایت گہرا ہے اور اس کی فکر اپنی ہمہ گیریت کے لیے مشہور ہے۔ اس کی دو مشہور کتابیں "Capitalism and Schizophrenia" اور "A Thousand Plateaus" ہیں[724]۔ ان کتابوں میں دلیوز نے جو نظریات پیش کیے ہیں وہ مغربی فکر کے تمام آدرشوں (فلسفیانہ، سائنٹفک، سیاسی، عمرانی، نفسیاتی اور تاریخی وغیرہ) سے گہری واقفیت پر مبنی ہیں۔ اجمالاً دلیوز کی فکر غلیظ ترین اخلاقیات کے فروغ کا پرچار کرتی ہے۔ دلیوز کے مطابق انسانیت کی معراج یہ ہے کہ وہ حیوان بن جائے اور اپنی حیات کو خواہشاتِ نفسانی کے سمندر میں غرق کر دے۔ سرمایہ دارانہ فکر کی اساسی غلاظت اور بہیمیت کا پورے جوش اور ولولہ کے ساتھ اثبات دلیوز کی فکر میں ہی ملتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ فوکو کو بھی مات کر دیتا ہے۔ فوکو اور دلیوز قریبی دوست تھے، فوکو نے "Capitalism and Schizophrenia" کا دیباچہ تحریر کیا۔ فوکو کے مطابق یہ کتاب اخلاقیات کی ایک ایسی نادر اور نابغہ روزگار کتاب ہے جو صدیوں بعد تحریر کی گئی ہے۔ فوکو دلیوز کی فکر کا پرستار تھا۔

26.1۔ ادراکِ ذات

ہر مذہب اور ہر فلسفہ بنیادی طور پر اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ ’’میں کون ہوں؟‘‘۔ سرمایہ داری کے غلبہ سے پہلے یورپ میں اس سوال کا جواب جو عام تھا وہ تھا ’’میں عیسائی ہوں‘‘ یعنی عیسائیت فرد کی اساسی شناخت ہے اور اس کے تمام تعلقات (اس کا باپ ہونا، کسان ہونا، دوست ہونا، طالب علم ہونا، رعایا ہونا) اس کی عیسائیت کا اظہار ہیں۔ سرمایہ دارانہ تہذیب نے اس جواب کو ردّ کر دیا اور جو جواب یورپی معاشرت، علمیت اور ریاست پر غالب ہوا وہ ہے ’’میں خدا ہوں‘‘اور میری ہر حیثیت (میرا باپ ہونا، مزدور ہونا، سائنس دان ہونا، سٹیزن ہونا) اسی الوہیت کا اظہار ہے اور بڑھوترئ آزادی اور سرمایہ کی جدوجہد اسی الوہیت کا ذریعہ اور تقاضا ہے۔

پوسٹ ماڈرن ازم بھی ’’میں کون ہوں؟‘‘ کے سوال کا جواب ’’میں خدا ہوں‘‘ ہی دیتی ہے[725]۔ لیکن حصولِ الوہیت کی ضرورت کے قائل ہونے کے باوجود یہ حصولِ الوہیت کے حصول کو ناممکن گردانتی ہے۔ یعنی انسان کو خدا ہونا چاہیے لیکن عملاً انسان خدا یا مکمل شیطان نہیں بن سکتا۔ الوہیت کے ناممکن ہونے کا احساس دلانے والے ایک نظریاتی منہج کو اسٹرکچرل ازم (ساختیات) کہتے ہیں[726]۔ اس منہج کے مطابق ذات یا انفرادیت کا کوئی منفرد وجود نہیں۔ وہ محض الفاظی (Textual) معاشرتی اور ریاستی تعلقات کے تصادم اور امتزاج کا دوسرا نام ہے۔ دلیوز اس منہج فکر کی ایک مخصوص تشریح پیش کرتا ہے اور اس کو عموماً پوسٹ اسٹرکچرلسٹ مفکر سمجھا گیا ہے۔

دلیوز لکھتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے مخالف ہیں جو سمجھتے ہیں کہ میں یہ ہوں، میں وہ ہوں۔ فرد کے ذاتی تجربات اس کی ذات کو مختص نہیں کرتے۔ ایک اغلام باز اغلام بازی کرتا ہے لیکن اس کی وجہ سے وہ محض اغلام باز نہیں ہو جاتا[727]۔ انفرادیت دلیوز کے بقول واقعات سے مستقل متاثر ہوتی رہتی ہے اور چوں کہ واقعات لازماً متبدل ہیں[728] لہٰذا انفرادیت بھی مستقل متغیر ہوتی رہتی ہے۔ انفرادیت واقعات اور تجربات سے تعمیر ہوتی رہتی ہے۔ اس فکر کو دلیوز Constructivism کہتا ہے اور اپنے فلسفے کو constructive philosophy کہتا ہے۔ وجود تجربہ سے ماورا (transcendent) نہیں اور وجود کوئی اساس نہیں رکھتا۔ وجود کی تعمیر صرف واقعات اور تجربات سے ہوتی ہے۔ تجربہ ذاتی(personal)نہیں بلکہ اشتراکِ ذات سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ ہیوم اور اسپینوزا کی فکر سے مماثل تجربہ کی تشریح ہے۔ اس کی رائے میں لغتی قواعد (Syntax) تحریر کو مقید کرتے ہیں[729]۔ اسی انفرادیت اشتراک ذات(interpersonal subjectivity) پر لازماً تعلقا ت منحصر ہوتے ہیں۔ انفرادیت اس کل کا اظہار ہے جو مخصوص اشتراک ذات تجربات مجموعی طور پر تعمیر کرتے ہیں۔ فلسفی اشتراک ذات کے تجرباتی تعمیری (constructive)عمل میں تصرف کر کے ان سے جزوی آزادی حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے اس کو دلیوز سٹائل (اسلوب) کہتا ہے۔اشتراکِ ذات کے تجربات سے جو عالم تعمیر ہوتا ہے اس کو دلیوز "the social" کہتا ہے اور اس میں جو واحدقوت متحرک ہے وہ خواہشِ نفسانی(desire) ہے[730]۔

26.2۔ خواہشاتِ نفسانی

اپنی تمام تحریروں میں دلیوز اخلاقیات (Ethics) اور کیفیاتِ نفس (morality) میں تمیز کرتا ہے[731]۔ دلیوز کے مطابق موریلٹی سے مراد وہ اصول اور پیمانے ہیں جو آفاقی اطلاق (universal applicability) کے دعوے دارہیں اور اعمال اور نیتوں کو محدود کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اخلاقیات وہ اصول ہیں جو رائج شدہ نظام زندگی میں اعمال کی افادیت کو جانچنے اور رائج شدہ نظام زندگی اور طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے وضع کیے جاتے ہیں۔ دلیوز کی نظر میں اخلاقیات نظاماتی تناظر میں پیوست ہوتی ہیں، آفاق نہیں ہوتی۔ ہر طرز اور نظام زندگی (عیسائیت، سرمایہ داری، اسلام) کی اپنی منفرد اخلاقیات ہوتی ہیں۔ اپنے مرشدوں نطشے اور اسپینوزا کی طرح دلیوز محض ملحد نہیں وہ سرے سے کسی اخلاقی معیار کی مجرد حقانیت کا قائل نہیں۔ نطشے اور اسپینوزا کے مطابق اخلاقیات دو قسم کی ہوتی ہیں۔ عیسائی اخلاقیات جو کمزوروں اور غلاموں اور قوت سے نفرت کرنے والوں کی اخلاقیات ہیں اور ملحدوں کی اخلاقیات جو طاقت ور، زندگی سےمحبت کرنے والوں کی اخلاقیات ہیں۔اخلاقیات کو جانچنے کا پیمانہ ماورائی نہیں داخلی(immanant)ہے۔یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون سی اخلاقیات اصولاً حق ہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اخلاقیات کس طرز اور نظام زندگی کے پنپنے کا ذریعہ ہیں۔ دلیوز کے مطابق وہ اخلاقیات قابل ستائش ہیں جو انسان کو عمل پر اکسا کر اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہیں ، جو قوت بخش ہیں اور جو انسان کی آزادی کو ممکنہ حد تک بڑھانے کی اہل ہیں۔ دلیوز کے مطابق اخلاقیات کا مرکزی سوال یہ نہیں کہ فرد کو کیا کرنا چاہیے بلکہ یہ ہے کہ ان اخلاقیات کی بنیاد پر فرد کیا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ فرد اپنی قوت میں کتنا اضافہ کر سکتا ہے۔ دلیوز کے مطابق اخلاقیات کی کوئی مورل بنیاد نہیں۔ اخلاقیات کا مقصد وہ سب کچھ کرنے کے قابل بنانا ہونا چاہیے جو فرد کرنا چاہتا ہے اور عیسائی موریلٹی لغو، بے معنی اور ضرر رساں ہے۔ وہ کہتی ہے کہ فرد کو یہ کرنا چاہیے یہ نہیں کرنا چاہیے، یہ حلال ہے یہ حرام ہے۔ یہ سب آزادی پر عائد ناجائز جکڑ بندیاں ہیں۔ فرد کاحق ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کرے اور اخلاقی عمل وہ ہے جو فرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ جو بھی کرنا چاہے اس کو کرنے کی طاقت میں مستقلاً اضافہ کرتا رہے۔

نطشے کی طرح دلیوز بھی قوت کا پجاری ہے اور عیسائیت پر اس کی تنقید ان معنوں میں نطشین ہے کہ عیسائیت انکساری، درگذر، عفت اور رحم کی تعلیم دے کر ہیومن بینگ کو اظہار اور ارتکازِ قوت سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماورائی اخلاقیات غلامی کی اخلاقیات ہیں۔ حقیقتاً ہیومن بینگ (یعنی شیطان) کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، وہ کسی عدل کے تابع نہیں۔ ہیومن بینگ کے لیے ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی ماورائی اخلاقیات اور ان کی بنیاد پر وضع کردہ عدل کے ضوابط اور اصولوں پر عمل کرے۔

دلیوز سوال اٹھاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ لوگوں نے عیسائیت قبول کر لی اور اپنی قوت کے اظہار اور فروغ پر حدبندیوں کے نفاذ کو اپنی نجات تصور کرنے لگے۔ دلیوز کے مطابق اخلاقی طرزِزندگی اختیار کرنے کا مقصد فرد کی حیوانی جبلتوں کے اظہار کی قوت میں اضافہ کو ممکن بنانا ہے۔ یہ حیوانی جبلتیں غیرشعوری ہوتی ہیں۔ یہ حیوانی جبلتیں واقعات کو شکار کرتی ہیں [732]۔حیوانی جبلتوں کی بنیاد پر ہی فرد تعمیر حیات کرتا ہے اور دنیا میں حقائق کا کوئی وجود نہیں محض حیوانی جبلتوں کی بنیاد پر قائم کردہ تعبیرات ہیں[733]۔ تعبیراتی تناظر لاتعداد ہو سکتے ہیں کیوں کہ حیوانی جبلتیں بھی بے ہنگم، آپس میں متصادم اور لاتعداد ہیں۔ لیکن اس ظاہری تصادم کے باوجود یہ تمام حیوانی جبلتیں قوت میں اضافہ کی ابدی تمنا کا اظہار ہیں۔ عقل حیوانی جبلتوں پر حکمرانی کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ وہ تو محض ان حیوانی جبلتوں کو قریب کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ عیسائی موریلٹی جذبہ مظلومیت اور نفرت کی بنیاد پر قوت کے فروغ دینے والے اعمال کو جانچتی ہے لہٰذا حیوانی جبلتوں کی جس ترتیب کو وہ نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ آزادی/سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے مضر ہے۔ بقول دلیوزعیسائی موریلٹی کا نظاماتی غلبہ (جو کم از کم ڈیڑھ ہزار سال تک یورپ میں قائم رہا) اس جھوٹے مفروضہ پر قائم تھا کہ فرد حیوانی جبلتوں کو کچلنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ حقیقتاً ان حیوانی جبلتوں کے پیچھے کوئی ایسا وجود موجود نہیں ہے جو ان کو کچل سکے۔ جب فرد اپنے وجود کو اپنی خواہشاتِ نفسانی سے علیحدہ تصور کرتا ہے تو وہ اپنے آپ سے نفرت کرنے لگتا ہے اور حیوانی جبلتوں کی تابع داری کو گناہ سمجھ کر اپنے آپ پر ملامت کرتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کو ایسے آفاقی پیمانوں سے جانچتا ہے جو زندگی کی نفی کرتےہیں [734]۔

بقول دلیوز حیوانی جبلتیں فطری نہیں ہوتیں بلکہ رائج شدہ طرز اور نظام زندگی حیوانی جبلتوں کی مخصوص تشریحات مرتب کرتے ہیں۔حیوانی جبلتوں کی یہ مخصوص تشریحات طرزِ زندگی اور نظام زندگی کی جڑوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ ان حیوانی جبلتوں کی مخصوص نظاماتی ترتیب ہی کو ’’روح‘‘ کہتے ہیں اور چوں کہ حیوانی جبلتیں باہم متصادم ہوتی ہیں لہٰذا یہ نظاماتی ترتیب ہمیشہ تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہے اور فرد مستقل روحانی اضطراب، بے چینی اور خلفشار کا شکار رہتا ہے[735]۔ چوں کہ نفس(self) صرف ان حیوانی جبلتوں کی آمیزش سے تعمیر ہوتا ہے اور ان حیوانی جبلتوں سے ماورا نفس کا کوئی وجود نہیں ہوتا لہٰذا جب حیوانی جبلتوں کی ترتیب تبدیل ہوتی ہے تو نفس بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ نفس کوئی اکائی نہیں وہ تغیرات (multiplicity) کا اژدحام ہے۔

دلیوز کی فکر کے مطالعے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آزادی سے مراد صرف حیوانی جبلتوں کی غلامی ہے اور کچھ نہیں۔ فرد کی آزادی کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک مخصوص نظاماتی تناظر میں فرد حیوانی جبلتوں کی چند مختلف ترتیبیں متعین کر ے یہی اس کی انفرادیت کا اظہار ہے۔ اسی چیز کو دلیوز ”روحانی میلان“ (incliniation fo the soul) کہتا ہے۔ فرد حیوانی جبلتوں کی تابع داری پر مجبور ہے؛ اس کے بیش تر اعمال جبریہ ہوتے ہیں وہ زمانی ہیجان اور اضطراب کو کم کرنے کے لیے اس نوعیت کے اعمال کو کرنے پر مجبور ہے۔ آزادی سے مراد صرف یہ ہے کہ بذریعہ تفکر ہیومن بینگ اپنی خواہشات نفسانی کی تابع داری میں وسعت اور تنوع پیدا کرے۔ دلیوز اس جبر کو Amplitude of the Soul کہتاہے[736]۔ فرد حیوانی جبلتوں کی تابع داری پر تو مجبور ہے لیکن اس مجبوری کے اظہار کے طریقے ایجاد کرنے میں وہ آزاد ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی حیوانی جبلتوں کی ترتیب مستقل منتخب کرتا رہتا ہے۔ یہی amplitude of the soul کی توسیع ہے اور آزادی اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

وحشیانہ جبلتوں کی تابع داری کی جو شکل ہیومن بینگ آزادانہ طور پر منتخب کرتا ہے وہ کسی ماورائی اصولوں سے اخذ نہیں کی جاتیں بلکہ خیر و شر کے پیمانے داخلی (immanent)ہوتے ہیں۔ یہ اس عمومی ترتیب جبلتوں سے ماخوذ ہوتے ہیں جو کسی مخصوص طرز اور نظام زندگی مثلاً سرمایہ داری میں عام رواج کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ مخصوص طرز اور نظام زندگی فرد کے اغراض(interest) متعین کرتا ہے اور فرد کی وحشیانہ جبلتیں اس نظام اور طرز ِزندگی کی ترتیب خواہشات کو قبول کرتی ہیں۔ ہیومن بینگ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں اس لیے شریک (invested)ہے کہ یہی نظام اور طرزِ زندگی اس کی وحشیانہ جبلتوں کی ایک مخصوص ترتیب آزادانہ طور پر متعین کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور جو اغراض اس مخصوص ترتیب خواہشات سے ماخوذ ہوتی ہیں ان اغراض کے پورے ہونے کے امکانات بھی نظام سرمایہ داری کی کارفرمائی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ہیومن بینگ کی خواہش ہی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی بقا کو ممکن بناتی ہے۔ خواہش بقول دلیوز ایک مثبت قوت ہے جو سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے حق اور خیر ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور طرز زندگی کی داخلی اخلاقیات(immanent Ethics) کی تعلیم یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی اس لیے خیر ہے کہ وہ ہیومن بینگ کو اپنی وحشیانہ جبلتوں کی ایسی تابع داری کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے جو ہیومن بینگ نے خود آزادانہ طور پر متعین کی ہو ں۔

سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی وحشیانہ خواہشات کی آزادانہ ترتیب کو متعین کر کے اغراض کی تشکیل کرتا ہے۔ ان اغراض (Interest) کے حصول کی جدوجہد سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں ممکن ہوتی ہے اس کو دلیوز ریشنل کہتا ہے۔ لیکن وحشیانہ جبلتوں کی کوئی مخصوص ترتیب بذات خود ریشنل نہیں ہوتی۔ ریشنیلٹی کی بنیاد جنون پر رکھی ہوئی ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ جنون(delirium) ہی سرمایہ دارانہ ریشنیلٹی کی کارفرمائی کو ممکن بناتا ہے۔ دلیوز لکھتا ہے ریشنیلٹی ہمیشہ جنون سے ماخوذ ہوتی ہے۔ ریشنیلٹی محض جنون کے اظہار کی ایک تشریح ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی ریشنل ہے لیکن سرمایہ ریشنل نہیں۔ سرمایہ جنون اور پاگل پن ہے[737]۔

کانٹ بھی وحشیانہ جبلتوں کیirrationality کا قائل تھا اور وحشیانہ جبلتوں(desire) ہی کو اعمال کا محرک گردانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ محققین مثلاًDanial W.Smart دلیوز کی کتاب “Anti-Oedipus”کو کانٹ کی "Critique of Practical Reason" کی ایک تشریح گردانتے ہیں۔ دلیوز کے مطابق حیوانی جبلتوں کی تابع داری کی بنیاد پر تاریخ کے عمل کے ذریعے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس طرز اور نظام زندگی میں وحشیانہ جبلتوں کی ہر قسم کی تابع داری ممکن ہے اور دلیوز کہتا ہے کہ یہی آزادی ہے۔سرمایہ دارانہ جنون کو دلیوز شیزوفرینیا کہتا ہے۔ شیزوفرینیا وہ بیماری ہے جس میں احساس اور عمل میں ربط منقطع ہو جاتا ہے اور مریض حقیقت اور واہمہ میں فرق نہیں کر پاتا جس کے نتیجے میں معاشرتی تعلقات برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بقول دلیوز سرمایہ داری اسی شیزوفرینک کیفیت کا معاشرتی اظہار ہے۔ اس نظام میں سرمایہ کا ایک عظیم بڑھتا ہوا ڈھیرہے جس کا حقیقتاً کوئی وجود نہیں ہوتا اور جو کسی کی تحویل میں نہیں ہوتا اور مستقل مجنونانہ رقص کرتا رہتا ہے۔ ہر فرد کی حیوانی جبلتیں سرمایہ کے ماتحت ہو جاتی ہیں اور آزادی کا مطلب ہے کہ سرمایہ کے کبھی نہ ختم ہونے والے رقص کے نئے نئے انداز ایجاد کیے جاتے رہیں۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہوتا ہے۔ اس کے باہر کوئی گنجا ئش نہیں رہ پاتی۔ اخلاقیات اور معروضیت مابعد الطبیعیاتی مفروضات اسی نظام کے داخلی عمل سے برآمد ہوتے ہیں۔ یہی immanence ہے اور immanence کا تو کانٹ بھی قائل تھا۔

سرمایہ داری کی بنیادی تعلیم بقول دلیوز یہ ہے کہ وحشیانہ خواہشات کے فروغ اور اظہار پر مذہب نے جو پابندیاں عائد کی ہیں ان کو مستقل روندتے چلا جانا چاہیے۔ وحشیانہ خواہشات کے اظہار کا ایک پسندیدہ طریقہ بقول دلیوز اذیت پرستی(sadism) ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تسکین ہیئت اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ ہر فرد دوسرے(other) کو مسخر کر کے اپنے وجود کی مستقل تشکیل کرتا رہتا ہے۔ اسی تشکیلی عمل کو دلیوز ”بنتے رہنا“ (becoming) کہتا ہے۔ becoming تمام حدود سے تجاوز کر جانے کا متقاضی ہے۔ اس عمل کو دلیوز deterritorialization کہتا ہے۔ اذیت پرستی deterritorialization کا ایک اہم پسندیدہ اظہار ہے۔ اذیت پرستی سرمایہ دارانہ نظام کی اصل روح اور سرمایہ دارانہ عمل اذیت پرست روحانیت کا اظہار ہے۔ اذیت پرستی محض ایک انفرادی میلان نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی ہیئت کی کارفرمائی پر محیط ہے۔ اذیت پرستی کے ذریعے فرد اپنی ایک ایسی جنت تعمیر کرتا ہے جس میں وہ وحدہٗ لاشریک بن جاتا ہے اور جو چاہتا ہے تخلیق کرنے کی اہلیت حاصل کر لیتاہے[738]، غیرکو فنا کر کے فرد خود کائنات کی روح بن جاتا ہے [739]۔ دلیوز کی اخلاقیات اذیت پرستی کو جواز فراہم کرنے والی اور اذیت پرستی کو فروغ دینے والی اخلاقیات ہیں ۔

غیر کو فنا کر کے ہیومن بینگ جو کائنات تخلیق کرتا ہے وہ ایک ابدی اور دائمی حاضر (eternal present) کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جس کا نہ کوئی ماضی ہوتا ہے نہ مستقبل۔ یہ صفات عیسائیت خدا کی گردانتی تھی جو ازل سے ابد تک موجود ہے۔ جس کو کسی نے تخلیق نہیں کیا جو احد اور صمد ہے اور قادر مطلق ہے۔ بقول دلیوز ہیومن بینگ خدائے وحدہٗ لاشریک بننا چاہتا ہے[740] لیکن اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی کیوں کہ اس کا وجود حادثاتی ہے کائناتی اور نظاماتی ہیئت کا تخلیق کردہ ہے اور ذات(self) ایک واہمہ کے سوا کچھ نہیں، اس کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ غیر کا وجود اسی نظاماتی اور کائناتی ہیئت (structure)کا اظہار ہے جس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہیئت بنیادی ہے اور انفرادی جدوجہد تعمیر کائنات میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بنیادی ہیئت(primary structure) کو فنا کرنے کی جدوجہد لازماً ناکام رہتی ہے۔ یہ جدوجہد محض اس بنیادی ہیئت (primary structure)کی تشکیل نو کرتی رہتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سے باہر نکلنا ناممکن ہے اور تمام داخلی جدوجہدیں سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل نو ہی کی جستجوئیں ہیں۔ سرمایہ ابدی ہے، وجود مطلق ہے۔ وہ مستقل حرکت میں رہتا ہے لیکن اس کی حرکت کی نوعیت غیرمتبدل ہے۔ وہ جس نظام تحکیم یعنی سرمایہ دارانہ ریاست کو جنم دیتا ہے اس کی ہیئت بھی غیرمتبدل ہے یعنی جمہوری نمایندہ ری پبلک کے علاوہ کوئی بھی نظام اقتدار متصور نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ دارانہ ہیئتی کارفرمائی کو بیرونی اقدار کی بنیاد پر تحدید نافذ نہیں کی جا سکتی، نہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ پر اور نہ سرمایہ دارانہ ریاست پر کیوں کہ یہی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں مستقل تنوع کے پیدا کرنے کی ابدی جدوجہد کا اظہار ہیں۔ لیکن یہ تغیراتی عمل خود اپنی تباہی کا خدشہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس میں فرائیڈ کی ’’خواہش مرگ‘‘ بھی کارفرما ہے اور اسی جبر کو بحران(crises) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ بحران سرمایہ کے مجنونانہ رقص سے اخذ ہوتے ہیں اور چوں کہ مجنونانہ رقص ابدی ہے لہٰذا بحران بھی ابدی ہیں لیکن ان کے نتائج متعین نہیں کیے جا سکتے۔ دلیوز ان بحرانوں پر قابو پانے کی کوئی تجویز پیش کرنے کو ناممکن سمجھتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اگر سرمایہ دارانہ بحران سے نبرد آزما نہیں ہوا جا سکتا تو فرد ایسی جدوجہد کرتا ہے جس کا مقصد ایک ایسی کائنات کی تخلیق ہے جس میں وہ وحدہٗ لاشریک اور قادرِ مطلق ہے اور یہ جدوجہد کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی لیکن فرد اس جدوجہد کو جاری رکھنے پر مجبور ہے کیوں کہ یہ آزادی کا دوسرا نام ہے۔

26.3۔ عورت بنتے رہو، حیوان بنتے رہو

دلیوز کے مطابق اخلاقیات دائمی آفاقی اصولوں سے ماخوذ نہیں ہوتیں وہ حیاتیاتی تجربات سے برآمد ہوتی ہیں۔ اخلاقیات وہ ذرائع (instruments)ہیں جو ہیومن بینگ کو زیادہ پرتعیش زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہیں۔ یعنی ایسی زندگی جس میں زیادہ سے زیادہ نفسانی خواہشات کو تسکین بہم پہنچائی جا سکے۔ اخلاقیات کے ذریعے فرد اپنی ذات کو ایجاد کرتا ہے۔ رائج شدہ طرزِ زندگی سے اقدار برآمد کی جاتی ہیں۔ اخلاقیات ہیومن بینگ کو بتاتی ہیں کہ کون سے اعمال لذت، حیوانی خواہشات کی تکمیل اور آزادی کو فروغ دیتے ہیں اور کون سے اعمال لذت پرستی اور وحشیانہ خواہشات کی تکمیل پر پابندیاں لگاتے ہیں۔ ہر ہیومن بینگ(شیطان) اپنے معیاراتِ خیر و شر خود ایجاد کرتا ہے اور خیر(good)اس طرزِ زندگی کو سمجھا جائے گا جو زیادہ سے زیادہ وحشیانہ خواہشات کی پیروی کے مواقع فراہم کرے۔ اخلاقیات کا موضوع انسانی اور حیوانی جسم(body) ہے۔ اخلاقی تعلیمات سے واضح ہوتاہے کہ انسانی اور حیوانی وحشیانہ خواہشات کی تابع داری کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے اور جو تجربات اس کو حاصل ہوتے ہیں ان کے کیا اثرات اس کے جسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ اخلاقی عمل کو بدنی تجربات کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے، آفاقی ابدی اصولوں کی بنیاد پر نہیں۔ ایک اچھا ہیومن بینگ (شیطان) وہ ہے جس کے تجربات کے نتیجے میں اس کی آزادی، خودمختاری، تخلیقیت اور لذت پرستی فروغ پاتی ہے۔ لیکن یہ خود مختار شخصیت(autonomous subjectivity) خود بخود وجود میں نہیں آتی۔ یہ رائج شدہ نظاماتی ہیئتوں (systematic structures) کی پیداوار ہوتی ہے[741]۔ یہی نظاماتی ہیئتیں ایک ایسی شخصیت تعمیر کرتی ہیں جو حیوانی خواہشات کی تابع داری کو خیر سے تعبیر کرتی ہے اور اپنی تمام بدنی صلاحیتوں کو وحشیانہ خواہشات سے تمتع حاصل کرنے کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ حیوانی خواہشات کی تابع دار یہ شخصیت اپنی خودمختاری کے اظہار کے لیے جو جدوجہد کرتی ہے وہ نظام کے خلاف بغاوت نہیں ہوتی وہ صرف ان نظاماتی پابندیوں کو محدود کرنے کی جدوجہد ہوتی ہے جو نظاماتی ہیئتیں مخصوص حیوانی جبلتوں کے فروغ پر لگاتی ہیں مثلاً عیسائی تصورِ نکاح۔ لہٰذا یہ جدوجہد رائج شدہ سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دینے کا یعنی اس کی آزادی کو فروغ دینے کی صلاحیت کا ذریعہ بنتی ہے، اس نظام کو منہدم کرنے کا ذریعہ نہیں بنتی۔

اخلاقیات کی معراج یہ ہے کہ ہیومن بینگ(یعنی شیطان) مستقل اپنی نوعِ ذات کو تخلیق کرتا رہے۔ ذاتی تخلیق کے اس عمل کو دلیوز becomingکہتا ہے اور خیر مطلق یہ ہے کہ ہیومن بینگ اپنے آپ کو بناتا رہے۔ کیا بناتا رہے؟ دلیوز کا جواب ہے ’’عورت بناتا رہے، حیوان بناتا رہے“۔ کیوں کہ دلیوز کے نزدیک عورت اور حیوان کا وجود اپنے آپ کو مکمل طور پر وحشیانہ جبلتوں کے سپرد کر دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انسان بنتے رہنا دلیوز کے مطابق ممکن نہیں کیوں کہ انسان نظاماتی جکڑبندیوں کی تخلیق اور تصدیق کرتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت وحشیانہ خواہشات پر پابندیاں عائد کرنے کو خیر تصور کرتی ہے۔ اس کے برخلاف عورت اور حیوان فطرتاً وحشیانہ خواہشات کی نظاماتی بالادستی کو فروغ دینا اپنی فطرت کا تقاضا تصور کرتے ہیں۔ عورت اور حیوان کا یہ فطرتی وجود اقلیت (Minoritarian) ہوتا ہے۔ تمام عورتیں بھی فطری عورت (یعنی وہ عورت جو اپنا آپ بالکلیہ حیوانی خواہشات کے سپرد کر دے) نہیں ہوتیں،وہ انسان ہوتی ہیں۔ وہ minoritarian نہیں ہوتیں بلکہ اسی اکثریت میں شامل ہوتی ہیں جو وحشیانہ خواہشات کی نظاماتی تحدید کی ضرورت کی قائل ہے۔ جو عورتیں انسان ہیں وہ اسی اکثریت میں شامل ہیں۔ اس کے برعکس بہت سے مرد انسان نہیں ہوتے وہ وحشیانہ خواہشات کی مکمل تابع داری کو عقلی اور جبلتی بنیاد پر لازم سمجھتے ہیں۔ وہ فطری عورت بنتے رہتے ہیں،حیوان بنتے رہتے ہیں۔ دلیوز کے خیال میں فرانس میں انسانوں کی اکثریت تھی۔ اس نے تعلیم دی کہ ہر انسان خواہ مرد خواہ عورت، کو اپنی انسانیت ترک کر کے فطری عورت اور جانور بنتے رہنا چاہیے۔ یہ آزادی یعنی سرمایہ اور خود تخلیقیت کو فروغ دینے کے لیے لازم ہے۔ انسان کے فطری عورت اور جانور بننے کا عمل ان تمام اصولوں اور معیارات و ضوابط کی نفی کا عمل ہے جو وحشیانہ خواہشات پر تحدید نافذ کرتے ہیں۔ دلیوز لکھتا ہے کہ عورت بنتے رہنا اور جانور بنتے رہنا ایک ہی عمل ہے۔ ہر عورت واقعتاً عورت نہیں ہوتی۔ عورت بنتے رہنا وہ عمل ہے جو شخصیت (خواہ مرد کی خواہ عورت کی) کو عورت کے فطری جبلتی میلانات سے ہم آہنگ کر دے۔

بقول دلیوز عیسائیت نے انسان سے اس کا جسم چرا کر اس کو مرد اور عورت کے وجود میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس طرح کہ بدن کو سدھا (tame) کرلیا گیا ہے۔ مثلاً اس نے تعلیم دی ہے کہ جنسی لذت صرف فرج سے حاصل کی جا سکتی ہے جب کہ حقیقتاً جسم کا ہر عضو جنسی لذت کا آلہ ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ جفتی مرد اور عورت تک محدود رہے۔ مرد مرد سے،عورت عورت سے، مرد جانور سےاور عورت جانور سے جنسی لذت کیوں حاصل نہیں کرتے۔ آزادی/سرمایہ کے فروغ پر یہ پابندیاں کیوں نافذ ہیں۔ صرف اس لیے کہ ابھی تک انسانوں کی اکثریت موجود ہے اور فرد عورت نہیں بنتا رہتا، حیوان نہیں بنتا رہتا[742] ۔ بینتھم کی طرح دلیوز بھی سؤروں کے جنسی لذت حاصل کرنے کی صلاحیت کا بڑا مداح اور معتقد ہے اور مرد اور عورت کو ترغیب دیتا ہے کہ سؤروں کے ساتھ جنسی اختلاط کریں۔

عورت بن کر اور حیوان بن کر ہیومن بینگ جنسی فرق کی حد بندی کو عبور کر لیتا ہے۔ مرد نہ عورت بلکہ خالص ہیومن بینگ(یعنی شیطان) بن جاتا ہے۔ جن اداروں بالخصوص عیسائیت نے ہیومن بینگ سے اس کا بدن چرایا ہے ان سے اپنے بدن کو واپس چھین لیتا ہے۔ اس عمل کو دلیوز deterritorialization of the body کہتا ہے۔ وہ بدن (body) کو تمام مذہبی حدبندیوں اور قیود سے آزاد کرا لیتا ہے اور جسم کے ہر عضو کو جنسی لذت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ وہ بدن کو تولید (reproduction)کی پابندیوں سے آزاد کر لیتا ہے اور جنسی تجربات میں مستقل تفریق اور تنوع(differences) کا کھوجی بن جاتا ہے۔ جنسی تعلقات صرف مرد اور عورت میں قائم ہونے تک محدود نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان تعلقات کو لامحدود تنوع (multiplicity)کی آماج گاہ بنا دینا چاہیے۔ دنیا میں صرف دو جنسیں نہیں ہیں لاتعداد جنسیں موجود ہیں اور ہیومن بینگ خود اپنے جسم سے جنسی لذت حاصل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے کا حق رکھتا ہے۔ فطری عورت بننے، حیوان بننے کا عمل تخلیقیت کی معراج ہے۔ ہیومن بینگ کی آزادی اور خود مختاری کا بہترین اظہار جنسی لذت حاصل کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کر کے ہی ممکن ہوتا ہے۔ یہ مذہبی جکڑبندیوں سے چھٹکارا پانےکا بہترین اور احسن ترین طریقہ ہے۔ آزاد شہوت رانی کا فروغ ایک تہذیب یافتہ معاشرے کے قیام کا اصل ذریعہ ہے۔ اصل معاشرتی ظلم یہ ہے کہ مذہبیت نے مردوں اور عورتوں سے ان کے بدن چرا لیے ہیں اور اپنے بدن پر خود قبضہ کرنے کے عمل کا انحصار جنسی تجربات کی عمومیت کو فروغ دے کر ہی ممکن ہے۔ مستقل جاری رہنے والے نئے نئے جنسی تجربات کے ذریعے ہی ہیومن بینگ (یعنی شیطان) اپنی زندگی میں معنویت(becoming meaningfull) پیدا کرتا ہے۔ نئے نئے جنسی روابط قائم کر کے ہیومن بینگ (یعنی شیطان) اپنی ذات کی تشریح اور تخلیق کرتا رہتا ہے۔ اسی چیز کا نام desiring production ہے۔ حیوانی خواہشات محض ایک جذبہ نہیں یہ اصل میں پیداواری قوت ہے۔ اس کے ذریعے وہ روحانی قوتیں منکشف ہوتی ہیں جو حیات کے اظہار کو ممکن بناتی ہیں۔

جنسی تفریق تعمیر ذات کا واحد جزو نہیں۔ بقول دلیوز تفریق کے دوسرے عناصر بھی موجود ہیں مثلاً نسل، قومیت اور طبقہ۔ یہ تفریقات نفس میں مجتمع(aggregate)نہیں ہوتیں بلکہ نفس ان افتراقات کے مستقل بدلتے ہوئے امتزاج سے تعمیر ہوتا رہتا ہے۔ نفس ان معنوں میں بقول دلیوزہمہ جہت(intersectional) ہے۔ اسی ہمہ جہتی سے تفرق فروغ پاتا رہتا ہے۔ چوں کہ تعمیر ذات (becoming) ایک ایسا عمل ہے جو باہمی تعلقات کی ترتیب اور تنوع سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا وجود انفرادی نہیں بلکہ intersubjective ہوتا ہے؛ کئی وجودوں کے باہمی اشتراک سے تعمیر ہوتا رہتا ہے۔ دلیوز لکھتا ہے سوال یہ نہیں کہ کیا میں اغلام باز ہوں یا تم اغلام باز ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کی اغلام باز مشینری کو استعمال کر رہے ہیں۔ اپنے جسم اوراپنی توانائیوں کو اغلام بازی میں تنوع پیدا کرنے اور فروغ دینے کے لیے کون سے طریقے مستقل ایجاد کر رہے ہیں۔ اغلام بازی کے اس عمل سے ہم کیسے اپنی اور دوسروں کے بدنوں اور اپنی اور دوسروں کی دنیا کو تعمیر کرتے جا رہے ہیں۔

دلیوز کے مطابق انفرادیت کی تعمیر اجتماعیت کی تعمیر میں پیوست ہے۔ فرد اپنی ذات کی تخلیق دوسروں کی ذات کی تخلیق کے ذریعے ہی کرتا ہے۔ حاکمیت فرد کی نہیں سرمایہ کی ہے اور اسی حاکمیت (sovereignty) میں تمام ہیومن بینگ شریک ہوتے رہتے ہیں۔دلیوزین اخلاقیات کی تعلیم یہ ہے کہ جو کچھ فرد کے ساتھ ہو رہا ہو وہ اس کا اہل ہو۔ اغلام باز اغلام بازی کا اہل ہونا اس عمل کو قبو ل کر کے اور اغلام بازی کے عمل کو بہترین طریقہ سے انجام دے کر ہی ثابت کر سکتا ہے۔ اس کا اغلام باز ہونا یا نہ ہونا اخلاقیات کے معنوں سے خارج ہے۔ اغلام باز کی اہلیت(worthiness)اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اس عمل سے نفرت کا اظہار نہ کرے اور اغلام بازی کے عمل کو اپنی اور اپنے شریکِ کار کی مستقل جاری رہنے والی تخلیقِ ذات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتا رہے۔ اغلام بازی کے عمل کی جو صلاحیت زندگی کو معانی(meaning)بخشنے کی ہے اس کو پوری طرح بروئے کار لانے کی جدوجہد کرتا رہے۔ اغلام بازی کے عمل کی تخلیقی صلاحیت کو متشکل کرنا اپنے آپ کو اغلام بازی کے عمل کا اہل ثابت کرنا ہے۔ وہ اغلام بازاغلام بازی کے لیے نااہل ہوتے ہیں جو اغلام بازی کے عمل کی اصل معنویت اور اس کی تخلیقی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ کام بقول دلیوز عورت بن کر، جانور بن کر ہی ممکن ہے۔

فلسفہ کا وظیفہ رائج شدہ طرز اور نظام حیات کی فکری(conceptual) تشریح ہے۔ ان حالات کی تخلیقی تنقید ہی خیالی جنت (utopia) کی تخلیق ممکن بناتی ہے[743] ۔ دلیوز کا یوٹوپیا یعنی خیالی جنت آزادی کے عمل پر نافذ تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے لیکن یہ کام سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا انہدام نہیں اس کی توسیع کا متقاضی ہے۔ آزادی پر جو حدبندیاں سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں ابھی تک لاگو ہیں ان کے خلاف جدوجہد کر کے ہی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی ترقی کے نتیجے میں دلیوز کی خیالی جنت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ عورت بنتے رہنا، جانور بنتے رہنا اسی قسم کی ایک اہم ترین جدوجہد ہے۔ عورت بنتے رہنے، حیوان بنتے رہنے کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کی ترقی کی جدوجہد ہے، سرمایہ دارانہ نظام کو مسخر کرنے کی جدوجہد نہیں۔ اس قسم کی جدوجہد کر کے فرد دوسروں کی ذات میں تصرف کے ذریعے[744] اپنے وجود کی تعمیر کرتا رہتا ہے جو آزادی پر نافذ تمام حدود کو پامال کرنے کا عزم (will) رکھتا ہے۔ بقول دلیوز تصرف ذات کا ہر وہ عمل برا ہے جو کسی ذات کی آزادیوں کو محدود کر ے اور تصور ذات کا ہر وہ عمل اچھا ہے جس کے نتیجے میں آزادی کو فروغ دینے والی intersubjectivity قائم ہو۔ مرد کا فطری عورت بنتے جانے کے عمل کا مقصد عورت کی ذات کو مرد کی ذات میں ضم کرنا نہیں، مرد کو اس طرح عورت بنتے رہنا چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں عورت بھی فطری عورت بنتی رہے[745]۔

بنتے رہنا (becoming) ان معنوں میں تو غیرمقصدی (a telelogical) ہے کہ حیات اور وجود کسی دائمی مقصدیت کا اظہار نہیں لیکن بنتے رہنے کا عمل اگر جستجوئے آزادی (اور جستجوئے آزادی کا کوئی مقصد نہیں) ہو تو اس کو اس طرح مرتب(plain) کرنا لازم ہے کہ آزادی کے فروغ کے نظاماتی عمل یعنی سرمایہ داری کو خطرے سے دوچار نہ کر دے۔ بنتے رہنے (becoming)کے عمل کے ذریعے ہیومن بینگ آزادی پر نافذ ان تمام پابندیوں کو ختم کرنے کی جدوجہد کرتا ہے جو ابھی تک سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ طرز زندگی میں نافذ ہیں لیکن اس جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو خلفشار (crisis)سے دوچار کرنا نہیں کیوں کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں ہیومن بینگ کو آزادی کی نعمت ملتی ہے۔ بنتے رہنے کو تعمیری ہونا چاہیے تخریبی نہیں۔ عورت بنتے رہنے، جانور بنتے رہنے کا عمل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی تکمیل کی جدوجہد ہے۔ اس کو تزویراتی (strategic) طرز سے استعمال کر کے مختلف النوع تجربات کے ذریعے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں جنسی آزادیوں پر جو تحدیدیں ابھی تک موجود ہیں ان کو اس طرح ختم کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ بحیثیت مجموعی سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کسی نظاماتی یا علمی (epistemological)خطرے سے دوچار نہ ہو جائے۔

26.4۔ سرمایہ داری کی ناگزیریت

پوسٹ اسٹرکچرلسٹ مفکرین میں دلیوز ان معنوں میں منفرد ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرت اور ریاست کی جو تفہیم پیش کرتا ہے وہ واضح طور پر مارکس کی تشریحات سے متاثر نظر آتی ہے۔ دلیوز کے تاریخی ادوار کے ارتقا اور تبدل کے تجزیات مارکس کے فلسفہ تاریخ کی تشریح بھی سمجھے جا سکتے ہیں اور ادواری تبدل کے عمل میں مارکس معاشی عوامل کی اہمیت پر جو اصرار کرتا ہے اس کا کہیں بھی دلیوز کے ہاں انکار نہیں ملتا۔
سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی بقول دلیوز دیگر سابقہ نظاموں سے مختلف ہے کیوں کہ دیگر نظاموں کے مواد کو (اس چیز کو دلیوز flux کہتا ہے) اس طرح منظم (code) کیا جاتا جاتا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے پیوست ہو جاتے۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی نے ان کوڈز(codes) کو تحلیل کر دیا ہے۔ بقول دلیوز ایک کوڈ کو دوسرے کوڈ سے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور معنویت کی مختلف تشریحات مرتب کی جا سکتی ہیں مثلاً نیچر پرستی(pagnaism) کے کوڈ کو منہدم کر کے عیسائیت نے اپنے کوڈز نافذ کیے لیکن سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی بقول دلیوز ابدی ہے[746] اور اس کے کوئی متبادل تصور نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظامaxiomaticہے۔وہ ایسے مفروضات پر قائم ہے جن کو اصولاً اور عملاً حق ہونا تسلیم کر لیا جانا چاہیے۔ سرمایہ دارانہ axioms ریاضی کے axioms کی طرح ایک ایسا مفروضہ ہیں جس کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ ان axioms کی کوئی توجیہ پیش کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔ ان مفروضات پر ایمان لایا جا سکتا ہے ان کو ثابت نہیں کیا جا سکتااور نہ ان کی کوئی عقلی تشریح ممکن ہے۔ وہ مفروضات جن پر ہیومن بینگ (شیطان) ایمان لاتا ہے سرمایہ دارانہ axioms ہیں۔ یہ وہ اصول اور ضوابط ہیں جن کی تنفیذ کے ذریعے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی اپنے آپ کو مستقل ایجاد کرتا رہتا ہے اور اپنے بحرانوں سے خبردار ہوتا رہتا ہے۔ نئے اعتقادات کی ایجاد بحرانوں سے نبردآزما ہونے کے لیے ضروری ہے لیکن یہ نئے اعتقادات پرانے بنیادی اعتقادات کی تشریح کرتے ہیں ان کی نفی نہیں کرتے۔ مثلاً سرمایہ دارانہ Axioms حسب ذیل ہیں۔

۱۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا بنیادی عقیدہ لاالہ الا انسان ہے۔ ہیومن بینگ کی خودتخلیقیت کو بروئے کار لانا سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا telos ہے۔

۲۔ انیسویں صدی میں اس عقیدہ پر عمل کرنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا کہ آزاد معیشت کو فروغ دینا ضروری ہے لیکن انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے پہلے نصف میں سرمایہ داری کئی بحرانوں کا شکار ہوئی جس کے نتیجے میں آزاد معیشت پر اعتقاد متزلزل ہو گیا۔

۳۔ اس کی جگہ اس بات پر ایمان لایا گیا کہ سرمایہ دارانہ ریاست کو آزاد معیشت کی تحکیم (regulation)کے اختیارات دینا ضروری ہیں۔ اور اس نئے اعتقاد کی مقبولیت کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ بحرانوں پر قابو پا لیا گیا اگرچہ وقتی طور پر ہی سہی۔

۴۔ ثانوی اور ضمنی اعتقادات کی تبدیلی کے نتیجے میں بنیادی سرمایہ دارانہ عقیدہ لا الہ الا انسان تبدیل نہ ہوا۔ یہ دونوں ثانوی اعتقادات بنیادی عقیدہ کی تشریح ثابت ہوئے۔

جب کوڈز تبدیل ہوتے تھے تو لوگوں کی انفرادی شناخت تبدیل ہو جاتی تھی۔ مثلاً درخت کو پوجنے والے عیسائی ہو جاتے تھے لیکن سرمایہ دارانہ axioms ان معنوں میں غیرمتبدل ہیں کہ ایک ضمنی عقیدہ کی تردید اور دوسرے کی مقبولیت کے نتیجے میں شخصی شناخت تبدیل نہیں ہوتی۔ آزاد معیشت پر ایمان لانے والا بھی سرمایہ کار ہے اور آزاد معیشت پر ریاستی تحکم پر ایمان لانے والا بھی سرمایہ کار رہتا ہے۔

سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی نافذ شدہ کوڈز کو تحلیل کرتا رہتا ہے لیکن اس نظام میں یہ میلان بھی موجود ہے کہ اپنے axioms کی بنیاد پر ہیومن بینگ کے عمل پر نئی حد بندیاں نافذ کرے۔ دلیوز اس کو reterritorialization کہتا ہے۔ اس طرح سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں پرانے نظاموں اور تہذیبوں کے اثرات اور رواج کسی نہ کسی حد تک باقی رہتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں ان رواجوں اور طریقوں کا کردار پہلے سے بالکل مختلف ہو جاتا ہے[747]۔ دلیوز کے بقول سرمایہ دارانہ نظام میں صرف ایک طبقہ موجود رہتا ہے یعنی سرمایہ داروں کا طبقہ جس کو وہ بورژوا کہتا ہے۔ ہر ہیومن بینگ اس طبقے میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے اور اس واحد طبقہ کی نظاماتی بالادستی کو مزدورچیلنج نہیں کر سکتا۔ بورژوا تحکم اور علمیت کو چیلنج صرف مجنون یعنی شیزوفرینک کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس چیلنج کے کامیاب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام منہدم ہو جائے گا اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو پرانے کوڈز (codes) طرز اور نظام میں باقی رہ گئے ہیں وہ تحلیل ہوتے چلے جائیں گے اور سرمایہ دارانہ ضمنی axioms کی آزادانہ تنقیدی تشریح مرتب ہوتی رہے۔سرمایہ دارانہ axiomatic یعنی لاالہ الا انسان کی کارفرمائی میں چار بنیادی رکاوٹیں حائل ہیں۔ بقول دلیوز یہ رکاوٹیں یہ ہیں:

  1. توانائی اور مادہ کی حرکت(flux)
  2. آبادی کی حرکت(population flux)
  3. اشیائے خور و نوش کی حرکت (flux for food products)
  4. شہری زندگی کی حرکت(urban flux)

لیکن ان حرکتوں(fluxes)پر قابو پانے کے لیے سرمایہ کی سطح اور اس کی گردش میں وسعت لانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ اسی عمل کو دلیوز انقلاب کہتا ہے اور یہ انقلاب صرف مجنون لا سکتے ہیں مزدور نہیں کیوں کہ مزدور طبقہ تو بورژوا کلاس میں ضم ہو گیا ہے اور سرمایہ کی گردش کا بنیادی محرک مزدور ہی ہے[748]۔ سرمایہ دارانہ نظام کے axiomaticلاالہ الا انسان کا بنیادی محرک فنانس ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی علمیت (subjectivity)ہے اور اس نے ہیومن بینگ کے وجود میں حلول کے ذریعے مکمل نظاماتی غلبہ حاصل کر لیا ہے۔سرمایہ اپنے معاشرتی اور ریاستی حرکات کے ذریعے ہیومینٹی کی تشکیل کرتا ہے۔ ہیومن بینگ جن خواہشات اور میلانات(drives)کو ذاتی تصور کرتا ہے وہ دراصل سرمایہ دارانہ معاشرت اور نظم ریاست میں شمولیت سے ماخوذ ہیں۔ یہی معاشرتی اور ریاستی نظام وہ جنون(delusion) پیدا کرتا ہے جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام کی reterritorialization کو ایک ایک کر کے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور سرمایہ کی گردش کی وسعت کو پھیلا کر سرمایہ دارانہ نظام کی بخشی ہوئی آزادیوں میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ہیومن بینگ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں آزاد صرف اس لیے ہے کہ وہ آزادی کے اصولوں، ضابطوں(axiomatic) اور کلمہ لاالہ الا انسان کا پابند ہے۔

چوں کہ سرمایہ کی گردش لامقصدی ہے لہٰذا اس گردش کے نتیجے میں صرف حادثات رونما ہوتے ہیں۔ کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہونا جس کا ظہور لازمی سرمایہ دارانہ نظام کی تخلیق شدہ شخصیت ہو۔ یہ شخصیت آوارہ گرد (nomadic)ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا وجود ہے جو مستقل حادثات کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اس گردش کی مماثلت گرداب سے دی گئی ہے اور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی ہر صف بندی اسی مسلسل گرداب(whirlpool) میں ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے۔ اس پیہم اضطراب اور تلاطم کے نتیجے میں بے شمار ندرتیں (multiplicities)وجود میں آتی ہیں اور تباہ ہوتی رہتی ہیں لیکن سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی خود کبھی تباہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ یہی وہ اکائی ہے جو کثرتیت (multiplicities) کو جنم دیتا اور قائم رکھتا ہے۔ سرمایہ داری کی اکائی لاالہ الا انسان ہے اور اس اکائی کی ابدیت اور اس کی کثرتیت کو جنم دیتے رہنے کی صلاحیت کے نتیجے میں اقلیتوں کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ رائج شدہ ضوابط اور کارفرمائیوں کو ایسے تبدیل کریں کہ کثرتیت میں اضافہ بغیر اکائی میں تبدیلی کے ظہور پذیر ہوتا رہے۔ اقلیتیں نظاماتی axiomatic لا الہ الا انسان کو چیلنج نہیں کرتیں اس کی تشریح کے نئے نئے مواقع ایجاد کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں انفرادیت بتدریج سرمایہ کی اجتماعیت میں ضم ہوتی چلی جاتی ہے۔ جیسے جیسے انضمام کا یہ عمل وسعت اختیار کرتا ہے سرمایہ داری کی تحکیم کی ضرورت ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ دلیوز سرمایہ دارانہ ریاست کے اختیارات کی بتدریج تحدید اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں جاری عمل کی خودکارفرمائی کی وسعت کا پرجوش حامی تھا [749]۔ آوارہ گرد (nomad)مارکیٹ کے خلاف جدوجہد نہیں کرتا۔ ریاست کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور اب جب کہ بقول دلیوز فوجی ٹیکنالوجی پر مارکیٹ کاقبضہ ہوتا چلا جا رہا ہے سرمایہ دارانہ جنگی مشین کو بھی سرمایہ دارانہ ریاست کی ضرورت نہیں رہی۔ 

دلیوز اور فوکو دونوں قوت اور طاقت میں تفریق کرتے ہیں۔ مزاحمت (resistance)کا مقصد طاقت (force)کا ایسا استعمال ہے جو سرمایہ دارانہ اظہار قوت (power)کی نئی اور پراثر تشریح پیش کرے۔ ایک ایسی تشریح جو نظام کی کارفرمائی کے ذمہ داروں اور اس پر غیر تنقیدانہ اعتبار رکھنے والوں کے لیے اجنبی ہو۔ مزاحمت نظاماتی تنوع کو فروغ دینے اور سرمایہ کی قوت کی نئی اور زیادہ موثر تشریح مرتب کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ قوت کی پیداواری صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اس کی تحدید نافذ کرنے والی(repressive) صلاحیتوں کو کم کرنے کا ذریعہ بنے۔ 

قوت محض ریاستی عمل میں مضمر نہیں پورے سرمایہ دارانہ نظاماتی کارفرمائی میں پیوست ہے لیکن قوت حدبندیوں کی تنفیذ(power territoralises) کرتی ہے۔ طاقت (force)کو استعمال کر کے مزاحمتی تحریکات ان حدبندیوں کو لچکیلا اور وسیع بناتی ہیں(resistance deterritonalises)۔ مزاحمتی قوت کے استعمال سے نئے نئے سرمایہ دارانہ مستقبل تخلیق کیے جاتے ہیں۔ مزاحمتی تجربات سرمایہ دارانہ قوت کی زیادہ موثر تشریح اور تفہیم کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ یعنی طاقت کا استعمال سرمایہ دارانہ قوت کو فروغ دینے کا ایک لازمی ذریعہ ہے۔ سرمایہ دارانہ قوت میں اضافہ اس قوت کی تنظیم کو چیلنج کیے بغیر ناممکن ہے۔ یہ مقابلہ اور مزاحمت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ رائج شدہ ترتیب سرمایہ دارانہ قوت کیوں اور کس حد تک سرمایہ دارانہ عدل کو فروغ دینے میں ناکام ہو رہی ہے اور کس طرح اس ناکامی کو کم کیا جا سکتا ہے اور سرمایہ دارانہ قوت کی ایسی ترتیب اور ہیئت مرتب کی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی میں اضافہ ممکن ہو۔

مزاحمت اس علمیت (knowledge)کو چیلنج کرتی ہے جو ایک مخصوص سرمایہ دارانہ دور میں تخلیق کی گئی اور اس کی بنیاد پر ایک مخصوص ترتیب سرمایہ دارانہ قوت پرقائم کی گئی، مزاحمت صرف اسی دائرہ علمیت سے برآمد شدہ سوالات کے جواب پیش نہیں کرتی وہ نئے سوالات اٹھاتی ہے۔ ایسے سوالات جو اس رائج شدہ علمیت متصور نہیں کر سکتی کیوں کہ ان سوالات کی گنجائش رائج شدہ علمیت کے دائرہ کارفرمائی میں موجود نہیں۔ لیکن مزاحمت نئے اور پرانے سوالات کے جو حل پیش کرتی ہے وہ تجرباتی(experiential) ہوتے ہیں کسی دائمی حقیقت کے غماز نہیں ہوتے۔ گاہے گاہے ان نئے سوالات و جوابات کے اندرونی تضادات ظاہر ہوتے رہتے ہیں لہٰذا مزاحمت ہمیشہ جاری رہتی ہے اور اس کے ذریعے سرمایہ دارانہ قوت زیادہ سے زیادہ مستحکم بنائی جاتی رہتی ہے۔

مزاحمتی تحریک کا کارکن سرمایہ دارانہ axiomatic لاالہ الا انسان پر کامل ایمان رکھتا ہے۔ یہی روحانی تشخص(spiritual automata) ہے۔ وہ اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی جن مقاصد (سرمایہ/آزادی کا لامتناہی فروغ) کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ وہ حق ہیں اور ان اہداف کے حصول کی طرف مراجعت سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی بتدریج اور مستقل جاری رہنے والی اصلاحی مزاحمت سے ممکن ہے۔ یہ چیز سرمایہ دارانہ انقلابیت ہے۔ یہ انقلابی مزاحمت داخلی ہے ماورائی نہیں۔ اس کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام اپنے اندر سے وہ طاقت پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی کمزوریاں رفع اور اس کی سرمایہ دارانہ عدل فراہم کرنے کی صلاحیت فروغ پاتی ہے۔ اس مراجعت کا مقصد سرمایہ دارانہ طرز زندگی کا انہدام نہیں سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا استحکام اور فروغ ہے۔ یہ استحکام تنوع اور تفریق کو فروغ دینے سے حاصل ہوتا ہے۔ ہیومن بینگ اپنے اندر پوشیدہ( حقیقی) عورت اور اپنے اندرپوشیدہ جانور کو پیدا کرکے خود حقیقی عورت اور حقیقی درندہ بنتے ہوئے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو استحکام اور فروغ دیتا ہے۔ ہیومن بینگ سرمایہ دارانہ آدرشوں کو اپنی ذات میں سمو کر حقیقی عورت اور حقیقی درندہ بنتا جاتا ہے۔ اس عمل کو دلیوز interiorization کہتا ہے۔ یہ حقیقی عورت یا حقیقی درندہ نئے نئے مستقبل ایجاد کرتا رہتا ہے۔ وہ نئی نئی حقیقتیں تخلیق کرتا رہتا ہے۔ حقیقی عورت اور درندہ بنتے رہنے کے عمل کو جاری رکھنے سے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی ممکن ہوتی ہے یعنی صرف ہیومن بینگ ہی حقیقی عورت اور درندہ بن سکتا ہے[750]۔ لہٰذا نئی حقیقتیں تعمیر کرنے کا عمل داخلی ہے ماورائی نہیں ہے۔ یہ عمل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے اندر جاری رہتا ہے اور اس کے ذریعے ہیومن بینگ کسی غیرسرمایہ دارانہ حقیقت کا ادراک حاصل نہیں کرتا کوئی غیر سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی تخلیق نہیں کرتا کیوں کہ وہ ایک حقیقی عورت اور درندہ بنتا جا رہا ہے۔ اور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی سے باہر اس کے لیے زندہ رہنا ناممکن ہے۔ حقیقی عورت بننے، درندہ بننے کا عمل ان حدود و قیود کو عبور کرنے کی جدوجہد ہے جو سرمایہ دارانہ نظام میں فی الحال وہ انسان کے شیزوفرینک اظہار اور آوارہ گردی پر عائد کر رہا ہے۔ مزاحمت کے ذریعے ہیومن بینگ حقیقی عورت اور درندہ بن کر یہ ثابت کرنے کی پیہم جدوجہد کرتا ہے کہ دیوانگی اور آوارگی کو فروغ دے کر سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو دوام اور استحکام بخشا جا سکتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا کے لیے ضروری ہے کہ لوگ ایسی خیالی جنت کے خواب دیکھیں اور جدوجہد کریں جو مزاحمت کے ذریعے سرمایہ دارانہaxomatic کلمے لاالہ الا انسان کی کارفرمائی کو فروغ دے کر ان بندشوں کو عبور کرے جو آزادی پر موجودہ سرمایہ داری کے ضوابط نے نافذ کی ہیں۔ اس قسم کی خیالی جنت کی تعمیر کی جدوجہد داخلی ہوتی ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں پیوست رہتی ہے اور اس کا مقصد سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی کارفرمائی کی توسیع ہوتا ہے۔ وہ جدوجہد جو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو منہدم کرے(اس کو transcendکرنے کے لیے کی جاتی ہے) وہ رجعتی(reactionary) اور جابرانہ (authoritarian) ہوتی ہے اور اس کو کچل دینا چاہیے۔ خیالی جنت کی تعمیر کی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی توسیع اور ارتقا کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسی چیز کو دلیوز انقلاب کہتا ہے اورقوم پرست اور اشتراکی انقلابیوں کی طرح دلیوزی انقلاب بھی ایک سرمایہ دارانہ داخلی انقلاب ہے۔ اس انقلابی مزاحمتی جدوجہد کے ذریعے موجودہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے اندر سے نئے نئے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام جو زیادہ مستحکم اور موثر ہوں ایجاد کیے جاتے ہیں۔ اس قسم کی مزاحمت کا مقصد سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو تمام عالم اور تمام وجودوں پر حاوی اور غالب کرنا ہے۔ اسی چیز کو دلیوز "Becoming Other"(غیر کو اپنانا) کہتا ہے۔

یہ مزاحمت ان معنوں میں کامیاب کبھی نہیں ہو سکتی کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی کارفرمائی اور ارتباط کے لیے عمل پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائیں۔ ہر مزاحمتی جدوجہد لازماً ان معنوں میں ناکام ہو جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی پرانے عمل پر نافذ کی گئی بندشوں کی جگہ نئی بندشیں لگا دیتا ہے[751] لیکن یہ حقیقی ناکامی نہیں۔ ہر سرمایہ دارانہ مزاحمتی تحریک لوگوں کو کسی نہ کسی حد تک دیوانہ اور درندہ اور شہوت پرست بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ یہی اس کی اصل کامیابی ہے اور اس تحریک کے تخلیق شدہ دیوانے، درندے اور عورت اس کی ظاہری ناکامی کے بعد ایک نئی مزاحمتی تحریک برپا کرنے کے لیے مضطرب اور بے چین رہتے ہیں اور یہ اضطراب اور ہیجان سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی فطری روحانیت ہے جو ابدی ہے۔

دلیوز سرمایہ دارانہ روحانیت کی ایک مربوط تشریح مرتب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ویبر نے کہا تھا کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں پیوست پروٹسٹنٹ ازم(protestantism) سرمایہ دارانہ کارکردگی کو عبادت کا درجہ دیتا ہے[752]۔ سرمایہ دارانہ روحانیت(the spirit of capitalism) ان عقائد کو فروغ دیتی ہے جو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی توجیہ قبول کرنے کے لیے ضروری ہیں اور جو سرمایہ دارانہ نظاماتی کارفرمائی کے جواز کو قبول کرنے کےلیے لازم ہیں۔ لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ روحانیت کو برقرار رکھنا ان ادوار میں مشکل ہو جاتا ہے جب بحران رونما ہوتے ہیں، اجرتیں منجمد ہو جاتی ہیں اور بے روزگاری عام ہو جاتی ہے۔یہ کیفیات ۱۹۶۰ء کی دہائی کے آخر سے ۱۹۸۰ء کی دہائی کی ابتدا تک امریکا اور کئی مغربی یورپی ممالک میں عام ہو گئیں[753]۔ فرانس، اٹلی برطانیہ میں بالخصوص طاقت ور مزدور تحریکیں ابھریں اور ان ممالک میں بڑے پیمانے پر ہڑتالیں روزمرہ کا معمول بن گیا۔ ٹریڈ یونینز کو شکایت تھی کہ ان کی اجرتیں بڑھائی جائیں اور کارپوریشن مینجمنٹ میں ان کی شرکت کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس مطالبہ کو ردّ کرنے اور مزدوروں کی تحریک کو کچلنے کے لیے فرانس میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس کوBoltanski اور Chappello دلیوزین کہتے ہیں[754]۔ دلیوز کی تعلیمات کے مطابق سرمایہ دارانہ عمل کی داخلی ترتیب نو کے ذریعے مزدوروں کی ان شکایات کو رفع کیا جا سکتا ہے۔ کارکردگی کے عمل کو لچکیلا، غیرمرکزی، روابطی اور غیردرجہ بند بنایا جا سکتا ہے۔ اس کارفرمائی کی ترتیب نو کے نتیجے میں ہر مزدور کی پیداواری نظام میں خود اختیاریت میں اضافہ ہو گیا۔ وہ اپنی کارکردگی کے ضوابط خود مرتب کر کے سرمایہ کی گردش کے عمل میں پیوست ہو گیا۔ اس پر مینیجر کی نگرانی کی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ سرمایہ کا ہرکارہ بن کر وہ اپنی نگرانی خود (self management) کرنے لگا۔ اس کی نظاماتی اجنبیت(systemic aleination) ختم ہو گئی۔ مینجمنٹ اور مزدور میں کوئی درجاتی(heirarchical) تفریق ضروری نہ رہی اور ہر کارکن خواہ مینیجر خواہ مزدور اپنے کام اور اپنی کارفرمائی کو ایک فن کار(artist) کی طرح اظہارِ ذات کے طور پر تصور کرنے لگا۔

دلیوز کے اس فلسفہ نے سرمایہ دارانہ روحانیت کی تجدید میں اہم کردار ادا کیا۔Boltanski اور Chappello کے مطابق اس فلسفیانہ تناظر کو اختیار کر کے فرانسیسی میجمنٹ نے ٹریڈ یونینز کی مزاحمتی تحاریک کو فیصلہ کن شکست دی۔ اس نے کارفرمائی کے اس نئے طریقے کو اپنا کر نظاماتی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر لیا۔ مارکیٹ کے عمل میں استحکام اور وسعت پیدا ہوئی اور سرمایہ کی نظاماتی گرفت مضبوط ہوئی کیوں کہ مزدور کی ذہنیت تبدیل ہو گئی۔ ہر مزدور اپنے آپ کو ذمہ دار(self managed) سمجھنے لگا۔ ہر مزدور مینیجر بن گیا اور مینجمنٹ سے مخالفت کرنے کا رویہ ترک کر کے مزدور تنظیمیں مفاہمت اور اشتراک عمل پر راضی ہو گئیں۔
جس چیز کو مارکس لیبر پاور کہتا ہے دلیوز اس کو driving production کا نام دیتا ہے۔ مزدور پیداواری خواہش کا اظہار پیداواری عمل میں شرکت پر مجبوراً نہیں کرتا بلکہ یہ اس کے فطری میلان کا تقاضا ہے لہٰذا مینیجر اور مزدور کا مشترکہ مقصد پیداوار میں اضافہ ہے۔ وہ فطرتاً ایک دوسرے کے مخالف نہیں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

پرانا لبرل سرمایہ دارانہ طرز تحکیم مقید اور جامد تھا جہاں لوگ خاندان، قانون اور بیوروکریسی کی قید برداشت کرنے پر مجبور تھے۔ ہر عمل پر کارپوریشن کی مرکزی گرفت اور منصوبہ بندی مسلط تھی۔ نئے سرمایہ دارانہ لبرل نظام میں وسعت ہے، گنجائش ہے۔ خود تحکیم(self-management)، آوارگی، عورت بننے، درندہ بننے کے مواقع وافر ہیں۔ جلدی جلدی تبدیل ہونے والے تعلقات کے قیام اور انہدام کے نتیجے میں شخصیت کی متنوع تشریح کے وافر امکانات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ہیومن بینگ جو چاہے بنتا رہتا ہے۔ اس کی کوئی متعین شناخت نہیں۔ پیہم جاری رہنے والی خود تخلیقیت کا یہی مطلب ہے۔ لامقصدیت اس کے اس شعور کا اظہار ہے کہ حقیقت کچھ نہیں حقیقت کو پیہم تخلیق کیے جاتے رہنا چاہیے۔ ہر ہیومن بینگ خدا ان معنوں میں ہے کہ اس پر نہ خدشات کا جبر ہے نہ نکاح کا نہ ریاست کا نہ کارپوریشن کا، وہ جو کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے اور اس کی مرضی خودتخلیقیت کی پیداوار ہے۔

چوں کہ ہیومن بینگ بنیادی طور پر آزادی بذریعہ پیداوار چاہتا ہے لہٰذا اس کی ہر دوسری خواہش ضمنی ہوتی ہے یعنی پیداوار/سرمایہ میں اضافہ کا ایک ذریعہ ہے۔ کوئی ضمنی خواہش بنیادی خواہش کے علی الرغم کارفرما نہیں ہو سکتی لہٰذا بنیادی خواہش (driving production) تمام ضمنی خواہشات پر لازماً تحدید نافذ کرنے والی ہوتی ہے۔ جن مہمات (projects)میں فرد حصہ لیتا ہے ان میں مماثلت یہی ہوتی ہے کہ مختلف ہونے کے باوجود یہ تمام مہمات بڑھوترئ پیداوار یعنی سرمایہ یعنی آزادی کے حصول کے لیے منظم کی جاتی ہیں۔ کوئی مخصوص پیداوار بذات خود قابل قدر نہیں۔ اس کی قدر اس کی صلاحیت اضافہ پیداوار عمومی یعنی سرمایہ/آزادی میں اضافہ سے اخذ کی جاتی ہے۔ ہر پروجیکٹ، ہر فعل تخلیق ذات کا ذریعہ ہے۔ مارکس کے برخلاف دلیوز کے مطابق پیداوار کو پیدا کرنے والے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ alienation کوئی دائمی کیفیت نہیں کیوں کہ پیداواری عمل ہی تخلیق ذات کا ناگزیر ذریعہ ہے کیوں کہ پیداواری عمل ہی میں خواہش(desire) بنتی رہتی ہے، حرکت کرتی ہے، پھٹ (explodes)پڑتی ہے۔ پیداواری عمل کبھی ختم نہ ہونے والا ہے۔ وہ کوئی حادثہ نہیں ایک مستقل جاری رہنے والا عمل ہے۔ اس کا مقصد (سرمایہ کی گردش کا مقصد) اس کے مستقل جاری رہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ سرمایہ کی اس مستقل جاری رہنے والی گردش کے نتیجے میں جو انفرادیت (identity) تخلیق کی جاتی ہے وہ خود سرمایہ کی گردش کو مہمیز دینے والی ایک مشین کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ اسی چیز کو ہیومن کیپٹل کہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کثرتیت (multiplicity)کے تلاطم میں پیوست رہتی ہے لیکن اس تلاطم میں گم نہیں ہو جاتی۔ وہ تلاطم کے کنارے اپنی شناخت برقرار رکھتی ہے۔ یہ انفرادیت mechanism کی انفرادیت ہے اور اس کی کارفرمائی سے تلاطم کے اندر تخلیقی عمل کے جاری رہنے کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔

اس تخلیقی عمل کو منظم کرنے میں سرمایہ دارانہ ریاست اور اس کے اداروں یعنی زر، فنانس، محصولات وغیرہ کا اہم کردار ہے۔ یہ ادارے بہتی ہوئی قوتوں کو مرتب کرتے ہیں۔ یہ ادارے وہ نظاماتی حد بندیاں قائم کرتے ہیں جو driving production کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری بھی ہے لیکن لازماً اظہار ذات کے امکانات کو محدود بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا ان حدبندیوں کو پیچھے دھکیلنا اور ان اداروں کے لیے ناقابل فہم بن جانا production کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ اس چیز کو دلیوز becoming imperceptible کہتا ہے۔ ریاستی ادارتی حدبندیوں کو پیچھے دھکیلنے کا عمل مارکیٹ کی خودکارفرمائی کو فروغ دینے کا دوسرا نام ہے لہٰذا دلیوز سرمایہ دارانہ کوڈز (حد بندیوں ) کو ڈھیلا کرنے کےلیے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا پرجوش حامی ہے۔ اس کی فکر کی بنیاد پر جن معاشی پالیسیوں کی تائید ممکن ہے وہ وہی پالیسیاں ہیں جو دائیں بازو کے نیو کنزویٹو ہائیک، نوزیک اور فرائیڈمین وغیرہ وضع کرتے ہیں۔ بہت سے محققین دلیوز کو ایک نیولبرل مفکر کہتے ہیں۔ نیولبرل اور نیو کنزرویٹو کی طرح دلیوز مارکیٹ پر سرمایہ دارانہ ریاست کے اثر کو کمزور کرنے کا حامی ہے اور نیولبرلز اور نیو کنزرویٹوز کی طرح وہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو دائمی تسلیم کرتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ایسی داخلی جدوجہد کوتسلیم کرتا ہے جو حقیقی عورت بننے اور درندہ بننے کے امکانات کو فروغ دے لیکن اس نوعیت کی جدوجہد سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو فروغ دینے کے لیے کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کے لیے نہیں کیوں کہ حقیقی عورت بننا اور درندہ بننا سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے اندر ہی ممکن ہے۔

26.5۔ اثرات

بیسویں صدی کو فوکو نے ’’دلیوزین صدی‘‘ کہا تھا اور اگر اس رائے کو مبالغہ آمیزی بھی کہا جائے تو بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس صدی میں دنیا پر دلیوز کی فکر کے نہایت اہم اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
پہلا اور نمایاں ترین اثر عریانیت اورفحاشیت کا فروغ ہے۔ دلیوز بلاشبہ بیسویں صدی کا غلیظ ترین، گھناؤنی اور پلید فکر پیش کرنے والا فلسفی ہے۔ فوکو تک جو خود بھی ایک خبیث اور ذلیل مکتب فکر کا بانی تھا، اس معاملے میں دلیوز کو اپنا استاد مانتا تھا۔ ۱۹۶۸ء میں امریکا اور یورپ میں جنسی انقلاب (sexual revolution) برپا ہوا فوکو اور دلیوز اس کے پرجوش حامی اور کارکن تھے[755]۔ اس انقلاب نے یورپ اور امریکا سے عفت، عصمت اور حیا کو بالکل ناپید اور عنقا کر دیا ہے۔ دلیوز نے جو فکر فراہم کی اس میں ہر قسم کی جنسی بے راہ روی، اغلام بازی، عورتوں میں لواطت، مشت زنی، ماں بہنوں سے جنسی تلذذ حاصل کرنا، جانوروں سے جنسی اختلاط کو سراہا گیا۔ اور ہیومینٹی کی معراج اسی بات میں بیان کی کہ وہ اپنے آپ کو کلیتہً بغیر کسی روک ٹوک کے حیوانی خواہشات کے سپرد کر کے درندہ بن جائے، یہ ہیومینٹی کی معراج ہے۔ بلاشبہ یہ تعلیم یورپ اور امریکا میں قبولیت عام اختیار کر چکی ہے۔ ہر یورپی اور امریکی ملک کا ایک عام شہری ایک شہوانی درندہ بن گیا ہے۔ بیش تر یورپی ممالک اور کئی امریکی ریاستوں میں اغلام بازوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور زنا ایک وبا کی طرح پورے معاشرہ پر چھا گیا ہے۔ خاندان کا وجود ایک تولیدی ادارے کے طور پر تقریباً ختم ہو چکا ہے اور امریکا، فرانس، نیدرلینڈ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور برازیل میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۱ء میں پیدا ہونے والے بچوں میں اکثریت حرامیوں کی تھی۔ آج کیتھولکس کا پاپائے اعظم تک لواطت اور زنا بالرضا کو برداشت کرنے کا داعی ہے اور یہ جنسی وبا تیزی سے غیر مغربی ممالک کو بھی مسخر کر رہی ہے۔ جاپان، چین، کوریا، ہندوستان اور لاطینی امریکا کے تقریباً ہر ملک میں زناکاری مقبولیت عام حاصل کر چکی ہے اور ان میں سے کسی ملک میں بھی اس کو گناہ اور معیوب فعل تصور نہیں کیا جاتا۔

دلیوز کو اس بات کا بھرپور احساس تھا کہ درندہ بنتے رہنا صرف سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے اندر ہی ممکن ہے۔ لہٰذا اس نے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی بھرپور حمایت کی۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو دائمی تصور کرتا تھا اور نظام میں وسعت پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس کے خیال میں یہ وسعت مارکیٹ پر سے ریاست کی حدبندیوں کو مستقلاً ڈھیلا کرتے رہنے کے عمل سے پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اس کی فکر کی بنیاد پر فرانس میں مزدوروں کی ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں جاری رہنے والی تحریکات کو فیصلہ کن شکست دی گئی اور سرمایہ دارانہ تنظیم کار کی ایسی ترتیب نو تخلیق کی گئی جس کے نتیجے میں مزدور کو احساس دلایا گیا کہ وہ ہیومن سرمایہ ہے، وہ مینیجر کا مخالف نہیں اس کا معاون ہے، اس میں اور مینیجر میں کوئی فرق نہیں، دونوں کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی فروغ پائے اور سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار تیز سے تیز تر ہو۔ نیولبرل اور نیو کنزرویٹو پالیسیاں جو ۱۹۸۰ء اور ۱۹۶۰ء کی دہائیوں میں یورپ اور امریکا میں اپنائی گئیں ان کا سب سے موثر فلسفیانہ جواز دلیوز نے پیش کیا۔ وہ دیگر پوسٹ ماڈرنسٹوں کی طرح لبرل ازم کا ناقد بھی ہے اور اس کا حمایتی بھی لیکن تنقید پر حمایت اس کی فکر میں ہمیشہ غالب رہتی ہے اور تنقید کا مقصد لبرل سرمایہ دارانہ نظام کی فراہم کردہ آزادیوں میں اضافہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔

فوکو کی طرح دلیوز بھی سرمایہ دارانہ نظام میں داخلی مزاحمتی جدوجہد کو مفید گردانتا ہے۔ ان مزاحمتی جدوجہدوں کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام نہیں اس کی اصلاح کاری ہے۔ یہ مزاحمتی جدوجہد سرمایہ دارانہ حدبندیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتی ہیں جو سرمایہ کی بڑھوتری/فروغ آزادی کے لیے دھیرے دھیرے سے غیر ضروری ہوتی جاتی ہیں مثلاً تحریک نسواں اور اغلام بازوں کی تحریکیں۔ ۱۹۶۸ء تک خاندان کے ادارے کو سرمایہ دارانہ تحکیم معاشرت کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ Feminist اور LGBT تحاریک نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کردیا اور ان تحریکوں کی کامیابی کی وجہ سے پوری دنیا میں زناکاری اور لواطت مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔داخلی مزاحمتی تحاریک کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ ان کے نتیجے میں رائج شدہ سرمایہ دارانہ تحدیدات کم ہو جائیں۔ ان کی کامیابی اس میں مضمر ہے کہ ان کے برپا ہونے اور جاری رہنے کے نتیجے میں کتنے انسان درندے بنتے جاتے ہیں اور ایک تحریک کی جزوی ناکامی کے بعد انسانوں کو درندہ بنانے کی ایک اور تحریک کا جنون رکھتے ہیں۔

اس نوعیت کی سب سے نمایاں تحاریک کو نیو سوشل موومنٹس کہتے ہیں۔ ۱۹۹۰ء کے وسط سے یہ بہت مقبول ہوئیں اور انہوں نے ایسا ایک ڈھیلا ڈھالا عالمی وفاق قائم کر لیا ہے جس کو World Social Forum کہا جاتا ہے۔ یہ سال میں ایک مرتبہ کسی ملک میں ایک عظیم الشان میلہ لگاتے ہیں جہاں درندہ بننے کے وافر مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور اخلاقی اور مذہبی تعلیمات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ان کا واحد مطالبہ مخصوص سرمایہ دارانہ نظاماتی حدبندی کو کم کر کے شخصی اور معاشرتی آزادیوں کو فروغ دینے کا ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے مثلاً اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ڈبلیو ٹی او اور بین الاقوامی کارپوریشنز اور بینک ان تحریکوں کی افادیت کے بتدریج قائل ہوتے جا رہے ہیں۔ کارپوریشن اور بینک ان کے میلوں اور دیگر مہمات کو بڑے پیمانے پر مالی معاونت فراہم کرتے ہیں اور آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے اداروں نے ان تحریکات سے مستقل مشاورت جاری رکھنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ اس بات کا احساس سرمایہ داری کے منتظمین کو ہوتا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کی داخلی دلیوزین مزاحمتی تحاریک نئے نئے معاشرتی تجربات کر کے سرمایہ داری کے استحکام اور فروغ کے مواقع کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان سے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو کوئی خطرہ نہیں کیوں کہ صرف سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو اختیار کر کے درندہ بنا جا سکتا ہے اور درندہ بننا اور درندہ بناتے رہنا نیوسوشل موومنٹس کا اصل ہدف ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی مخالفت اور اس کے انہدام کا تصور تک نہیں کر سکتیں۔

27۔ اکبر ایس احمد

پوسٹ ماڈرن ازم کے اثرات مسلم دنیا پر بھی پڑ رہے ہیں لیکن عموماً وہ شہوت رانی اور جنسی بے راہ روی تک محدود ہیں۔ اشرافیہ(elite)پوسٹ ماڈرن فکر سے متاثر نہیں اور اس میں استثنا صرف تحریک نسواں تک محدود ہے۔ تحریک نسواں کے علاوہ کوئی موثر نیو سوشل موومنٹ مسلم دنیا میں ابھی پنپ نہیں سکی۔ اوباما کے صدر بننے کے بعد امریکا نے اغلام بازی کی تحریک کو مسلم دنیا میں فروغ دینے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے کئی مہمات چلائی ہیں اور کابل، اسلام آباد، قاہرہ اور جکارتہ میں امریکی سفارت خانوں میں اغلام بازی کو فروغ دینے کے لیے ادارتی صف بندی بھی کی گئی ہے اور وقتاً فوقتاً مرد اور عورت اغلام بازوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں[756] لیکن ابھی تک اس کا کوئی معاشرتی اثر واضح نہیں ہوا۔ اس کے برعکس تحریک نسواں پھل پھول رہی ہے۔ اس کو بھی امریکی استعمار کی بھرپور اعانت حاصل ہے لیکن بنیادی طور پر ایک مقامی تحریک ہے اور اس کی بنیاد ۱۹۳۰ء کی دہائی میں برپا تحریک ترقی پسند ادب نے فراہم کی[757]۔ مترفین میں اس نے کئی درندے تخلیق کیے ہیں مثلاً فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، عصمت چغتائی عاصمہ جہانگیر وغیرہ۔ لیکن ترقی پسند ادب سے وابستگی کی وجہ سے یہ تحریک بنیادی طور پر ایک ماڈرنسٹ تحریک ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ تحریک کے اثرات اس میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

مسلم ممالک مذہب مخالف تحریکیں عموماً مذہب کی دہریانہ تشریحات مرتب کرتی ہیں۔ یہ کام پندرھویں اور سولھویں صدی میں پروٹسٹنٹ تحریک نے یورپ میں کیا اور اسلام کی دہریانہ ماڈرنسٹ تشریحات سرسید احمد خان، ڈپٹی نذیر احمد اور غلام احمد قادیانی[758] نے مرتب کیں۔ ماڈرنسٹ تحریک کی پہلی کامیابی ہندوستان میں سیاسی تھی۔ مسلم لیگ نے علما کو مسلم قیادت سے بے دخل کر دیا اور علما جہاد کو ناممکن سمجھ کر مسلم لیگ اور کانگریس کی بی ٹیم بن گئے۔ مسلم قوم پرستی کو عوامی پذیرائی حاصل ہوئی لیکن ماڈرنسٹ تشریحات عقائد کو ردّ کر دیا گیا اور ہندو مذہبیت اور روحانیت کے برخلاف اسلامی مذہبیت اور روحانیت ماڈرنسٹ آدرشوں میں مدغم نہ ہوئی۔ ۱۹۷۰ء کے بعد سے بالخصوص معاشی مباحث کے ضمن میں سرمایہ دارانہ تعلیمات کی ایک اسلامی تشریح نو مرتب کرنے کی کوشش چند علما اور محققین نے کی ہے۔ اس مکتب فکر کو اسلامک ریویژنزم کہا جاتا ہے اور ان میں سب سے نمایاں مولانا تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید احمد ہیں۔ اسلامک ریویژنزم کا مقصد سرمایہ داری کا اسلامی جواز فراہم کرنا ہے۔اگر مسلم معاشرے میں پوسٹ ماڈرن ازم کو جڑ پکڑنا ہے تو اسلام کی ایک پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح مرتب کرنا ضروری ہے۔ اس ضرورت کا احساس اکبر ایس احمد کو ہے اور اس نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں اس کی فکر کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔

27.1۔ اسلام کی پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح

اکبر ایس احمد راسخ العقیدہ مسلمان نہیں آغاخانی ہے۔ مغرب اس کو دنیا کے رہنما اسلامی علماء(world leading Islamic scholar) میں شمار کرتا ہے۔ وہ عرصہ دراز تک کیمبرج یونی ورسٹی میں پاکستان کی طرف سے علامہ اقبال پروفیسر مقرر رہا۔

اکبر ایس احمد کے خیال میں دنیا کا پوسٹ ماڈرن بنتے جانا ناگزیر ہے۔ اس کے خیال میں پوسٹ ماڈرن ازم دنیا میں امید، افہام و تفہیم اور برداشت کو فروغ دینے والی تحاریک ہے لہٰذا اس میں سمو جانے کے لیے اسلام کے لیے بہت سی گنجائشیں موجود ہیں۔ اسلام کی تعلیمات ان معنوں میں پوسٹ ماڈرن ہیں کہ وہ بھی برداشت اور میانہ روی کا پرچار کرتی ہیں لیکن اکبر ایس احمد یہ بھول گیا کہ پوسٹ ماڈرن ازم کسی میانہ روی کا قائل نہیں، وہ تو دیوانہ اور درندہ بننے کی تعلیم دیتا ہے۔ 

اکبر ایس احمد کے مطابق مسلمانوں کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ تیزی سے پوسٹ ماڈرن ہوتی دنیا جس کا وہ لازماً حصہ ہوں گے، میں اپنی تہذیبی روایات کو کس طرح محفوظ رکھ سکیں گے اور کس طرح اس پوسٹ ماڈرن ازم کو ان روایات اور رسوم کو برداشت کرنے پر رضامند کر سکیں گے۔ مغربی پوسٹ ماڈرن ازم کے پہلو بہ پہلو ایک اسلامی پوسٹ ماڈرن ازم کا ابھرنا بھی ضروری ہے اور مسلمانوں کی کوشش ہونی چاہیے کہ مغربی پوسٹ ماڈرن ازم اسلامی پوسٹ ماڈرن ازم میں بقائے باہمی کی بنیاد پر سمجھوتے کی راہیں ہم وار کریں۔ بقول اکبر ایس احمد مسلمان مغربی پوسٹ ماڈرن ازم کے تصورِ خود شناسی (self knowledge) اور فلسفہ ٹالرنس(tolerence) کے فطری مداح ہیں لیکن جس تشکیک (cyncism and irony)کو یہ تحریک فروغ دیتی ہے اس سے وہ ایک تہذیبی خطرہ محسوس کرتے ہیں لیکن حقیقتاً اسلامی پوسٹ ماڈرن ازم اور مغربی پوسٹ ماڈرن ازم دو ایسے تہذیبی دھارے ہیں جو ساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں۔ دور حاضر کی نوعیت اور ماہیت کے بارے میں ان کی تشریحات فی الحال جداگانہ ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں مواصلت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کا وسیع امکان موجود ہے کہ آخرکار یہ دونوں دھارے مدغم ہو جائیں۔ چوں کہ پوسٹ ماڈرن ازم کلچر عوامی(populist) اور گنجائش (accessable) رکھنے والی ہے لہٰذا مسلمانوں کے لیے اس میں داخل ہونا قدرے آسان ہے[759]۔ 

پوسٹ ماڈرن ازم کی نمایندہ شخصیات اکبر ایس احمد کے مطابق مشہور فلمی فاحشہ میڈونا اور معلون سلمان رشدی ہیں۔ اکبر ایس احمد اس شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قریبی دوست اور شریک کار ہے اور سلمان رشدی کے دفاع میں اکبر ایس احمد کی آواز سب سے زیادہ بلند بانگ رہی ہے۔ میڈونا اور شیطان رشدی پوسٹ ماڈرن ازم کی نمایندہ شخصیات اس لیے ہیں کیوں کہ اکبر ایس احمد کی نظر میں پوسٹ ماڈرن ازم ایک معاشرتی رجحان ہے اور مسلمانوں کے لیے بہتر یہ یہی ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم کے فلسفیانہ اور اخلاقی تفکرات سے سہو نظر کر کے اس کے معاشرتی اظہار سے سمجھوتا کرنے کی کوشش کریں۔ مطلب پرستی کا یہی تقاضا ہے۔

اکبر ایس احمد پوسٹ ماڈرن ازم کی مندرجہ ذیل تعریف بیان کرتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم کی چار خصوصیات ہیں:

  1. ماڈرنسٹ آدرشوں پر تیقن کا فقدان
  2. کثرتیت(pluralism) کی معقولیت
  3. قدیم نظریات (orthodoxies)کے ضمن میں تشکیک
  4. اس نظریہ کی نفی کہ دنیا میں ایک تہذیبی اکائی اور کوئی ایسی علمیت موجود ہے جو حق اور خیر کی صحیح اور جامع تشریح کر دے[760]۔

پوسٹ ماڈرنسٹ رویہ یہ ہے کہ معنویت کے ابہام کو قبول کیا جائے۔ اس نظریہ کو قبول کیا جائے کہ کسی عمل کی کئی تعبیرات ممکن ہیں۔ حقیقت کچھ نہیں اور اس کی تمام تعبیرات یکساں طور پر مہمل ہیں۔ لہٰذا ہر معنویت کو ٹالریٹ کیا جا سکتا ہے اور اپنے نظریات اور تصورات کو اپنی پسند کے مطابق تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ یہی تفہیم ذات ہے۔ بقول اکبر ایس احمد پوسٹ ماڈرن دور میں تفہیم ذات اور تخلیق معنویت کا اصل ذریعہ میڈیا ہے۔ میڈیا یکساں طور پر مسلم اور غیرمسلم دنیا پر حاوی ہے اور وہ سب کے لیے معنی تخلیق کرتا ہے میڈیا ہی نے اسلامی بنیاد پرستی کو جنم دیا ہے۔ میڈیا ہی اس کے فروغ کا باعث ہے اور چوں کہ میڈیا پوسٹ ماڈرن ازم کی روح کا ترجمان ہے لہٰذا اسلامی بنیاد پرستی اصلاً پوسٹ ماڈرن ازم کی تخلیق ہے۔ لیکن یہ ایک منفی تعبیر ہے جو نفرت، اجنبیت اور احساس کمتری اور عدم تحفظ کی غماز ہے۔ بنیاد پرست بالخصوص اسلامی بنیاد پرست ظالم اور سفاک ہوتے ہیں۔ اپنی ظالمانہ کارروائیوں کی کوئی توجیہ بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ وہ ہیومن بینگ نہیں ہوتے۔ وہ جمہوری عمل کو ردّ کرتے ہیں اور فطرتاً انارکی کے شیدائی ہوتے ہیں۔ ہر وقت خونی تماشا کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں۔

یہ بنیاد پرست پوسٹ ماڈرن ازم کے حقیقی ترجمان نہیں۔ پوسٹ ماڈرن ازم کے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ وہ کثرتیت کو فروغ دیتا ہے، غیر کو سمجھنے اور اس کی ترجیحات اور میلانات کو ٹالریٹ کرنے پر زور دیتا ہے، آزادانہ تحقیق اس کی روح رواں ہے۔ وہ نظاماتی حدبندیوں کو عبور کرنے کے امکانات پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس نے مختلف تمدنوں اور تہذیبوں کو قریب لانے کے نئے نئے مواقع اور امکانات فراہم کیے ہیں۔ ابھی تک مسلم مفکرین پوسٹ ماڈرن ازم کی مثبت تفہیم پیش نہیں کر سکے۔ وہ اس کو محض امریکیت سمجھتے ہیں جو ایک غلط تاثر ہے۔ وہ بے کار یورپی استعمار اور مغربی جنسی بے راہ روی کا رونا روتے رہتے ہیں۔

بقول اکبر ایس احمد ماڈرن ازم نے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ سرسید، جناح، اقبال یہ سب ماڈرنسٹ تھے۔ ان ماڈرنسٹوں نے مغرب سے فیض لے کر ہی مسلم دنیا کو مغرب سے سیاسی آزادی دلائی۔ وہ اپنی ریاست اور اپنے معاشرے کو مکمل طور پر ماڈرن بنانا چاہتے تھے [761]۔ ان لوگوں نے ماڈرنسٹ حکومتیں قائم کیں اور اسلامی فکر کو ماڈرنسٹ تصورات کے تابع کر دیا۔ اسلام کو مغربی فکر میں سمونے کی بہترین تشریحات بقول اکبر ایس احمد منکر حدیث فضل الرحمان اور شاہ ایران کے وزیر ثقافت حسین نصر نے پیش کیں۔
مسلم دنیا میں پوسٹ ماڈرن ازم کا تسلسل ان معنوں میں ہے کہ یہ بھی تقلید مغرب ہی کا ایک طریقہ ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ دور میں مسلم اور نسلی شناخت ابھری ہے۔ اس مذہبی شناخت کا ابھرنا ایک ثقافتی جنون (cultural schezopherenia) کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یہی ثقافتی جنون مغربی تسلط سے خوف اور مغرب سے نفرت مسلم دنیا میں ابھارتاہے۔ یہ ایک شکست خوردگی کا رویہ ہے جو ماڈرنسٹ حکومتوں کی مستقل ناکامی کی وجہ سے مسلم دنیا میں پیدا ہوا ہے۔ فلسطین (۱۹۶۷ء) اور مشرقی پاکستان (۱۹۷۱ء) کی شکستوں نے مسلم دنیا میں مغرب کے سامنے ذلیل ہونے کا احساس عام کر دیا۔ ماڈرن ازم ہر طرح سے ایک ناکام تجربہ گردانے جانے لگا۔ پوسٹ ماڈرنسٹ دور میں مسلم دنیا میں جو مذہبیت فروغ پا رہی ہے وہ اسی شکست خوردگی، احساس ذلت اور ناکامی اور ثقافتی جنوں کا اظہار ہے۔

جس چیز کو اسلامی بیداری کہا جاتا ہے بقول اکبر ایس احمد اس کی بنا شاہ فیصل نے رکھی۔ فیصل کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں پروفیسر خورشید احمد نے اسلامک اکنامکس، نجات اللہ صدیقی نے اسلامی بینک کاری اوربایونس نے اسلامی سماجیات وضع کی۔ اکبر ایس احمد اپنے آپ کو اسلامی انسانیات "Islamic anthropology" کا موجد کہتا ہے۔ پھر آغاخان نے اسلامی تعمیرات(Islamic architecture) کو پوری دنیا میں فروغ دیا اور یوں ۱۹۷۰ء کی دہائی کے وسط کے بعد سے مسلم دنیا اسلامی علامات (Islamic sysmbols)سے لبریز ہو گئی[762]۔
لیکن اسلامی بیداری کے ان رہنماؤں میں سے کسی نے بھی بم بنانے یا مغرب پر حملہ کرنے کی وکالت نہیں کی۔ وہ مغربی کتابیں پڑھنے والے تھے انہیں جلانے والے نہ تھے۔ پروفیسر خورشید احمد کے ادارہ ’’اسلامک فاؤنڈیشن یوکے‘‘ نے "Muslim World Book Review" ۱۹۷۷ء سے شائع کرنا شروع کیا[763]۔ ان اسلامی بیداری کے سرخیلوں کی کوششوں کو مغربی حکومتیں اور سرمایہ دار نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد اور ان کے ہم زلف مناظر احسن کو حکومت برطانیہ نے اعلیٰ ترین قومی خطابات سے نوازا۔ نجات اللہ صدیقی کو امریکی شہریت مل گئی۔ حسین نصر کا بیٹا ولی نصر امریکی وزارت دفاع کا معاون خصوصی اورمشیر مقرر ہوا،با یونس وزیر بنا دیا گیا اور یہ سب اسلامی بیداری کے رہنما شعوری طور پر استعمار کے تنخواہ دار چاکر مدتوں تک رہے۔

یہ مفکرین اسلامی پوسٹ ماڈرن ازم کے پیش رو میانہ روی، برداشت اور ترحم کو اسلام کی بنیادی تعلیم قرار دیتے ہیں اور مجاہدین اسلام کو کچلنے کا عزم وقتاً فوقتاً ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ یہی اسلامی روحانیت کو مسلم دنیا میں فروغ دینے والی اصل قوتیں مرتب کر رہے ہیں۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کی مختلف النوع تشریحات کو سراہتے ہیں اور ان کی نظر میں راسخ العقیدہ اعتقادات وتشریحات مشکوک ہیں۔ اسلامی پوسٹ ماڈرن ازم کے ان پیش روؤں سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ بہائیوں، دروزوں، احمدیوں اور نزاری اسماعیلیوں کی دائرہ اسلام میں شمولیت کی وکالت کریں گے۔

مسلمانوں نے مغرب کو صحیح طرح نہیں سمجھا ہے۔ یہی غلط فہمی مسلم دنیا میں مغرب دشمنی کو فروغ دیتی ہے۔ مغرب میں بہت سے گروہ اسلام دوست ہیں اور بحیثیت مجموعی مغرب اسلام کا رفیق اور ہم نوا ہے۔ امریکا مسلمانوں کے لیے ایک مثالیہ(ideal) ہے۔ مسلم دنیا کی پس ماندگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ کی کوششوں کے نتیجے میں مسلم فکر نے یونانی بالخصوص ارسطو اور افلاطون کی تعلیمات کو ردّ کر دیا لہٰذا مسلم دنیا میں صبر، توکل اور حیا کے منفی جذبات فروغ پائے اور ایسی اقدار موجود ہیں جو ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ انہی اقدار سے چمٹ رہنے کی وجہ سے مغرب ہر مسلمان کو ایک پاگل ملا (Mad Mulla) سمجھنے لگا ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی دانستاً مغرب سے مسلم دنیا کی اجنبیت کو فروغ دیتی ہے۔

مسلمان بھول گئے کہ جہاد کا مطلب قتال نہیں جہاد کا صحیح مطلب تو مشہور انگریز شاعر ٹینی سن نے پیش کیا۔ جہاد سے مراد اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ اسلام آزادئ نسواں کی تعلیم دیتا ہے اور نمایندہ مسلم عورت بے نظیر بھٹو ہے۔ ائمہ مساجد جاہل مطلق ہیں انہوں نے مارکس کو پڑھا ہے نہ ویبر کو نہ فرائیڈ کو سمجھا۔ لیکن کچھ علما مثلاً زاہد الراشدی، تقی عثمانی اور جاوید غامدی خواب غفلت سے بیدار ہو رہے ہیں اور تحریک تنویر کے نور سے منور ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں کہ مغرب سے تصادم ایک شرم ناک اور قابل مذمت عمل ہے۔ ضرورت مغربی تہذیب کو ٹھنڈے دل سے سمجھ کر اس کو سراہنے کی ہے۔ یہ تنویری علما ٹالرنس کے پرچارک ہیں اور مسلم دنیا میں پائے جانے والے تشدد کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مسلم دنیا کا اصل مسئلہ غربت کا خاتمہ ہے اور اس کی اصل کمزوری یہ ہے کہ وہاں سرمایہ دارانہ معاشرہ مستحکم نہیں۔ سرمایہ پر حکومت کی گرفت ظالمانہ ہے اور ریاستی نظام جابرانہ لیکن غیرمستحکم ہے۔ یہ ریاستیں جان بوجھ کر ایسے احساس تفاخر اور نسلی برتری کو فروغ دیتے ہیں جو مغرب سے اجنبیت اور دوری پر زور دینے والے رجحانات کو ترقی دے رہی ہیں۔ اپنی ثقافت کو مغربی غلاظت سے محفوظ رکھنے کی جدوجہد کی کوئی مذہبی توجیہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اسلام ایک مکمل اور کامل نظام حیات ہے، جھوٹ ہے۔ یہ دعویٰ محض مسلمانوں کے غصہ اور ان کے احساس کمزوری کا اظہار ہے۔

مسلم پوسٹ ماڈرنسٹ اس بات کی جدوجہد کر رہے ہیں کہ مسلمان عدل، احسان اور صبر کی تعلیمات کو ترک کر کے گولی اور بم کے ذریعے غلبہ دین کی جدوجہد سے باز آ جائیں۔ اسلام توازن کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ دہریت کے فروغ کا خواہاں ہے اور مذہبی معاملات کو دنیاوی معاملات سے جدا کرتا ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم ٹالرنس ہے۔ وہ اس دنیا میں ہیومینٹی کے مکمل اظہار کا خواہاں ہے اور اس کے لیے فکری اور عملی تنوع کو فروغ دیتا ہے۔ بنیاد پرست چاہتے ہیں کہ مسلمان اس رویے کو ردّ کر دیں۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ مسلمان مغرب سے نفرت کرنے کے جذبے سے مغلوب ہو کر علم سے محروم، ٹالرنس کے تارک اور عدل کے کچلنے والے بن جائیں۔ وہ اس بات کو بھول جائیں کہ بہت سے غیرمسلم دہریہ اور ملحد ہونے کے باوجود اسلامی اخلاقیات کے حامل ہیں مثلاً نیلسن منڈیلا، وکٹر ہیرل اور مدر ٹریسا وغیرہ۔آج اسلامی روحانیت کو محفوظ رکھنے کی اصل جدوجہد اسلام اور مغرب یا سرمایہ داروں کے درمیان نہیں۔ بنیاد پرستوں اور اسلامی پوسٹ ماڈرنسٹوں کے درمیان جاری ہے جو صوفیہ کے وارث ہیں اور اسلام کو اس پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا میں ایک باعزت مقام دلانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

27.2۔ پوسٹ ماڈرنسٹ اسلام کے غلبہ کی حکمت عملی

مسلمانوں کو معلوم نہیں کہ دوسرے یعنی مغرب انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کو مغرب پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں، وہ خود کفیل ہیں۔ اکبر ایس احمد کہتا ہے کہ بقول کریم آغاخان مغربی تہذیب عالمی اور آفاقی ہے۔ مغرب ہی عالمی ثقافتی آفاقیت کا مرکز ہے اور یہ اخلاقی ثقافتی عالم گیریت پوسٹ ماڈرنسٹ ہے۔ یہ اسلامی اور چینی تہذیبوں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسلامی اور چینی تہذیبیں غلامی کے اس عمل کو خوشی خوشی قبول کر رہی ہیں۔ مغربی اداکاروں، بھانڈوں، ڈانسروں اور بت تراشوں کے مسلمان شیدائی دوسروں سے کم نہیں۔ اگر مغربی تہذیب کی کچھ روشوں پر مسلمانوں کو اعتراض ہے مثلاً اغلام بازی اور ماں بہنوں سے ہم بستری تو ان کو یہ قبول کرنا ہو گا کیوں کہ یہ جمہوریت، ہیومن رائٹس، سائنس، تنویری علمیت اور کثرتیت کی بنیاد پر معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے لیے ضروری ہیں اور جمہوریت، ہیومن رائٹس اور سائنس یعنی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی سب کی طرح مسلمانوں کے لیے بھی پسندیدہ ہیں۔ کیا اغلام بازی اور ماں بہنوں سے ہم بستری کے اسلامی جواز اور توجیہات مرتب پیش کی جا سکتی ہیں؟ ایسا کرنا عالمی تہذیب کی کثرتی تخلیق کے لیے ضروری ہے۔
مغربی تہذیب آفاقی ہے اس لیے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو فروغ دیتی ہے۔ وہ جمہوریت، آزادئ نسواں، قانونِ سرمایہ، تقدسِ سائنس، آزادی، مساوات، ترقی پر مستحکم ایمان رکھتی ہے اور فوکو اور دریدا کے اعتراضات ان ایمانیات کو متزلزل نہ کر سکے۔ مغرب کے عالم گیری غلبہ کا اصل سرچشمہ میڈیا ہے۔ وہ تمام مذہبی اور مسلکی تفریقات کو ختم کر کے ایک عالمی تشخص کو فروغ دے رہا ہے۔ یہی میڈیا کی آزادی اور ترقی کو فروغ دینے والا اصل آلہ کار ہے۔

پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا ابھی تک دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک وہ دنیا ہے جو ایک آتش فشاں کی طرح پھٹی پڑی ہے۔ اس سے نئے خیالات، نئے تجربات، نئے زاویہ نگاہ اور نظریات برآمد ہو رہے ہیں۔ وہ اپنا مستقبل پورے حوصلہ اور تیقن کے ساتھ تعمیر کر رہی ہے۔ دوسری دنیا اپنے اندرونی تضادات کا شکار ہو کر تباہ بھی ہو رہی ہے اور اپنی توانائی ضائع کرنے کے عمل سے بھی دوچار ہے۔ وہ اپنی تہذیب، اپنی تاریخی اور مذہبی روایات اور اپنے فرسودہ عقائد کے بوجھ تلے دبے جا رہی ہے۔ مسلم دنیا explode کر رہی ہے، اپنے آپ کوتباہ کر رہی ہے۔ دوسری دنیا explore کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں کامران اور فتح مند ہے۔ مسلم دنیا مغرب کی بالادستی کو چیلنج نہیں کر سکتی۔ اس کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ explode کرے گی یا explore کرے گی۔ مغربی دنیا کے مسلم دنیا پر تین بڑے احسانات ہیں۔ اس نے ہمیں انگریزی بولنا، جمہوریت کرنا اور کرکٹ کھیلنا سکھایا ہے۔ امریکا کا سیاسی زوال تو ممکن ہے اس کا ثقافتی اور علمیاتی زوال ناممکن ہے۔ پوری دنیا تہذیبی طور پر امریکا بنتی چلی جا رہی ہے۔مغربی تہذیب میں اسلامی ثقافت کو سمونے کی ضرورت ہے۔ مغربی اقدار میں اسلامی اقدار کو پیوست کرنا لازمی ہے۔ شاتم رسول سلمان رشدی کے خلاف ۱۹۸۰ء کی دہائی میں جو مہم برطانیہ میں چلائی گئی اس کا کوئی جواز نہیں [764]۔

اسلام مغرب کو مذہب اور دنیا میں توازن قائم کرنا سکھا سکتا ہے۔ اسلام اصل دہریت اور اصل شیطنت ہے[765]۔ اسلام کی ایسی بدعتی تعبیر نو ممکن بلکہ ضروری ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ امن کے فروغ کو مقصد حیات ثابت کرے اور جس کی بنیادی تعلیم یہ ہو کہ تمام شیطان(ہیومن بینگ) آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ بقول اکبر ایس احمد اسلامی اور تنویری تصورِ عقلیت یکساں ہیں۔ دونوں سے مراد اجتماعی خودغرضی ہے۔ لہٰذا نصوص کی تشریح لازماً خودغرضانہ بنیادوں پر کی جانی چاہیے۔ اسلام محض موجودہ دور میں برپا ماحولیاتی تحریک کا ایک پہلو ہے۔ استعمار نے جن لبرل اور شیطانی اقدار کو فروغ دیا وہ سب اصلاً اسلامی ہیں۔ استعمار نے مسلمانوں کو عالم گیریت کا سبق دیا۔ اس نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ مغرب تمام شیطانوں کا محسن اعظم ہے۔ انگریزی زبان کے ذریعے مسلمانوں نے اسلام کی اصل تفہیم حاصل کی ہے۔ استعمار نے مسلمان اشرافیہ کے لیے مغرب کو سب سے اہم اور سب سے قابل قدر مثالیہ بنا دیا ہے۔

استعمار ہی نے مسلمانوں کو اپنے سرمایہ دارانہ حقوق کے لیے جدوجہد کرنا اور آزادیاں طلب کرنا سکھایا ہے۔ آج پوسٹ ماڈرنسٹ مسلمانوں کو سبق دیتے ہیں کہ کسی مذہبی اکثریت کی بالادستی کو قبول نہ کیا جائے۔ بالادستی صرف دہریت اور شیطنت کی ہو۔ پنجابیوں کی پاکستان کے سیاسی نظام میں قائم بالادستی کو ختم کرنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ وہ مذہبی روایات سے سب سے زیادہ چپکے ہوئے ہیں۔ جمہوری نظام کو اس طرح وضع کیا جانا چاہیے کہ مذہبی اکثریت کبھی غالب نہ آ سکے۔ اگر جمہوری عمل مثلاً انتخابات کے نتیجے میں ایک غیردہریہ، غیر ملحد اکثریت کے غالب آنے کا خطرہ ہو تو سرمایہ دارانہ اقدار آزادی اور ترقی سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ جمہوری عمل کو فی الفور معطل کر دیا جائے۔ جمہوری عمل صرف اس صورت میں قابل قبول ہے کہ جس ریاست میں وہ جاری ہو وہاں ٹالرنس، دہریت اور ہیومن رائٹس مقدس تصور کیے جانے کی دستوری ضمانت موجود ہو۔ غیر دہریہ غیرسرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف بغاوت جائز ہے۔ اکبر ایس احمد سقوط مشرقی پاکستان اور سندھو دیش کی تحریکوں کی حمایت اس بنیاد پر کرتا ہے کہ وہ دہریہ تحریکیں ہیں۔ اکبر ایس احمد کی رائے میں قبائلی نظام میں روایتی اور اسلامی طریقے اور اقدار کو ختم کر کے ان کی آزادی کی تحریک کو دہریہ (سیکولرائز) کیا جانا ضروری ہے۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ قبائلی نظام میں علما کے اثر و رسوخ کو جلد از جلد یکسر ختم کیا جا سکے۔

بقول اکبر ایس احمد تحریک آزادی ہند و پاکستان کے تمام رہنما رادھا کرشن، ٹیگور، علامہ اقبال، گاندھی، مولانا آزاد اور سب سے بڑھ کر مسٹر جناح یورپی شیطنت میں ایشیائی مذاہب کو سمو دینے کے قائل تھے اور اسی لیے انہوں نے آزادی کی تحریکیں برپا کی تھیں لیکن اکبر ایس احمد افسوس کرتا ہے کہ یہ تحریکیں ناکام ہو گئیں اور اس ناکامی نے بقول اکبر ایس احمد جنوبی ایشیا کے دل میں ایک سوراخ کر دیا ہے۔ ایشیا کا فرض ہے کہ وہ شیطنت کے احیا کی جدوجہد میں ایک کلیدی کردار ادا کرے۔ شیطنت کی مادی تعبیرات کو شیطنت کی روحانیت کے تابع کرے۔ یہ روحانیت ٹالرنس، اقلیتوں کی تائید، قانون سرمایہ کی نظاماتی بالادستی اور ویلفیئر کو فروغ دینے والے اقدام میں مضمر ہے۔ شیطنت کی روحانیت کے فروغ میں مذہبی شناخت اور تعلیمات سم قاتل ہیں کیوں کہ مذہبی جہالت، نفرت اور تعصب کو فروغ دیتی ہیں اور جنگ کو ہوا دینے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ 
غلام احمد قادیانی اور سرسید کی طرح اکبر ایس احمد بھی جہاد کو حرام قرار دیتا ہے[766]۔ وہ جہاد کشمیر کی کھل کر مخالفت کرتا ہے اور کشمیر کی بھارتی استبداد سے آزادی کو مضر قرار دیتا ہے۔ کشمیر میں اسلامی شناخت کے ابھرنے کو اکبر ایس احمد ایک منفی رجحان کہتا ہے۔ کشمیری تحریک آزادی کی اصل روح بقول اکبر ایس احمد دیوانگی ہے اور اسی وجہ سے اس کو ایک پوسٹ ماڈرنسٹ تحریک کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اس پوسٹ ماڈرنسٹ تحریک پر عصبیت اسلامی غالب ہے اور یہی چیز اس کو منفی، رجعت پسند اور ناکام بنانے کی ضامن ہے۔
مذہبی جنون کو فروغ دینے والا اصل محرک خطبہ جمعہ ہے۔ ہر ہفتہ امریکا کو جنسی بے راہ روی اور منشیات کی سرپرستی کے طعنے دیے جاتے ہیں اور مغربی انفرادیت کی ایک گمراہ کن تصویر کشی کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ سقوط فلسطین اور یہودی مظالم کے لیے بے جا نوحہ کنی کی جاتی ہے۔ اپنے حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے۔ مسجد سیاسی تخریب کاری کا گڑھ بن گئی ہے۔ مسجد، بازار، جلسے، تعلیم گاہ اور سرکاری دفاتر تک چھا گئی ہے اور تمام مساجد یکساں طور پر شیطنت کے اقدار کی تردید اور دہشت گردی اور بغاوت کی تبلیغ ہر جمعہ مستقل کرتی رہتی ہیں۔ مسجد یہ مفسدانہ کردار دنیا کے چپے چپے میں مستقل انجام دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ واشنگٹن اور کیمبرج میں بھی ہر جمعہ کو اسی طرز کا خطبہ دیا جاتا ہے۔ مسجد ہر جگہ شیطنت کے خلاف ایک ایسا ناقابل تسخیر قلعہ بن گئی ہے جو راسخ العقیدہ غیر لچک دار اسلامی شناخت کو مستقل فروغ دے رہی ہے۔ وہ راسخ العقیدگی کی تعلیمات سے ادنیٰ سے ادنیٰ انحراف کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امید کی کرن اس بات سے نکلتی ہے کہ مسلمان متحد نہیں۔ یہ مذہبی طور پر (شکر ہے کہ شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے دشمن ہیں[767]) نہ معاشرتی سطح پر[768] نہ سیاسی سطح پر [769]۔ فحشیات کے فروغ کی تاریخ مسلم دنیا میں نہایت قدیم ہے۔ اپنی فطری بے غیرتی کا اظہار کرتے ہوئے اکبر ایس احمد شیخ سرمد پر اغلام بازی کی تہمت لگاتا ہے اور سید ابراہم مالوندی کو کرشنا کا پجاری بتاتا ہے۔ کریم آغا خان مراکش سے انڈونیشیا تک مسلم دنیا میں پوسٹ ماڈرنسٹ تہذیب کو فروغ دینے کی جدوجہد کر رہا ہے اور مسلم دنیا پر اس ثقافتی حملے کی سربراہی اس کے یہودی مشیر ہارورڈ، ایم آئی ٹی اور جینوا سے فراہم کر رہے ہیں۔ وہ صرف نزاری اسماعیلیوں کو مغربی تہذیب کا مقلد نہیں بناتا[770] بلکہ پوری مسلم دنیا میں دہریت اور شیطنت کے پرچار کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر چکا ہے۔

مغربی/سرمایہ دارانہ تہذیب کو مسلم دنیا میں فروغ دینے کا سب سے اہم ذریعہ اسراف اور اسرافیت (consumerism)ہے کیوں کہ یہی چیز سرمایہ داری کے کلیدی وصف حرص(avarice) کو فروغ دیتی ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ دور کنزیومرازم کا دور ہے۔ اکبر ایس احمد امید رکھتا ہے کہ کنزیومر ازم مسلمان دنیا میں شیطنت (humanism)کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گی۔ مسجد کا مقابلہ کرنے والا اصل حریف ادارہ شاپنگ مال ہے اور شاپنگ مال کا فطری حلیف میڈیا بالخصوص ٹیلی وژن ہے۔ یہ مسلمانوں کو دلیل کے ذریعہ نہیں بلکہ ہر دم بدلتی ہوئی اچھوتی تشبیہات (images)کے ذریعے شیطانی (humanist)طرز زندگی اختیار کرنے پر آمادہ کر رہا ہے۔ ان شبیہات کا ساحرانہ (magical)تاثر اتنا گہرا ہے کہ حقیقت کو واہمہ سے ممیز کرنا بتدریج ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا اور ٹیلی وژن سیاسی ترجیحات اورمیلانات کو مرتب کرنے کا اہم ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔

پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا اسلام کو نہیں سمجھ سکی۔ اس میں اصل قصور میڈیا کا ہے جس نے اسلام کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا سرچشمہ بنا کر یورپ اور امریکا میں پیش کیا۔ اس منفی عکاسی نے مسلم دنیا کو بھی متاثر کیا ہے اور مسلم دنیا میں مغرب سے تنفر کی آگ کو بھڑکایا ہے۔ لیکن آج مسلم دنیا میں پوسٹ ماڈرن ازم کے نقیب مصنف پیدا ہو رہے ہیں جو رقص کے شیدائی اور ایک برطانوی اسلام اور ایک امریکی اسلام وضع کر رہے ہیں۔ اکبر ایس احمد ارتداد کو برداشت کرنے کی تعلیم دیتا ہے گو کہ وہ خود مرتد نہیں[771]۔ مغرب سے مفاہمت کے اہم نقیب منکر حدیث فضل الرحمان اور شاہ ایران کا وزیر ثقافت حسین نصر تھے۔ ان اعتدال پسند ماڈرنسٹوں میں بقول اکبر ایس احمد عزیز احمد، علامہ علی شریعتی، پروفیسر خورشید احمد، حسن ترابی اور اسماعیل فاروقی بھی شامل ہیں۔ یہ معتدل ماڈرنسٹ مغربی نظام زندگی کوقبول کرنے کے قائل لیکن مغربی طرز زندگی کو پسند نہیں کرتے اور اچھے سٹیزن، باوفا شوہر اور شفیق باپ بننے کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے پیروکار پروفیسر منصور اور ضیاء الدین سردار ہیں جو دہریہ اور شیطانی ارتداد کے پرچارک ہیں لیکن اسلامی معاشرت کی قدر کرتے ہیں[772]۔ یہ لوگ شاتم رسول سلمان رشدی پر سخت تنقید کرتے ہیں اور یہی ان کا اصل جرم ہے۔ آزادی اظہار رائے کے تقدس کو قبول کیے بغیر بقول اکبر ایس احمد یہ لوگ مسلم دنیا کو ماڈرن یا پوسٹ ماڈرن کیسے کر سکتے ہیں۔ ان کے برعکس اکبر ایس احمد شاتم رسول سلمان رشدی کا نہایت مخلص ہم نوا اور وکیل ہے[773]۔ جس مثالی اسلامی معاشرت کا تصور یہ روایتی ماڈرنسٹ پیش کرتے ہیں اس کا نہ آج کہیں وجود ہے اور نہ تاریخ میں اس کا کہیں کوئی وجود ملتا ہے۔

بقول اکبر ایس احمد مسلمانوں کو ہر جگہ پوری دنیا(برطانیہ میں، ہندستان میں) میں سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو اختیار کرنا چاہیے۔ انہیں سرمایہ دارانہ فکر اور سرمایہ دارانہ دولت کو فروغ دینے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دینی چاہییں۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی پر تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ اس قسم کی بیش تر تنقید غیرمنصفانہ اور بے جا ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو مغربی تہذیب کی مثبت تشریح مرتب کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہیے کہ وہ ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں ان کی پیوستگی ناگزیر ہے اور اسی پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا میں انہیں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے۔ اس دنیا میں سب دہریہ اور شیطان بنتے جا رہے ہیں۔ اسلامی شیطنت اور اسلامی دہریت کی تشریح کرنا اور اس تشریح پر ایمان لانا آج مسلمانوں کی ناگزیر ضرورت بن گیا ہے۔ یہ شکر اور فخر کی بات ہے کہ بڑھتے ہوئے تصادم کے باوجود مغرب میں اسلام سے ہم دردی رکھنے والے مبصرین پیدا ہو رہے ہیں۔ اس فہرست میں اکبر ایس احمد Lois Beck, Barbara Mitchell, Maechal Fischer, Tess Dunn, John Epstiem, William Charturch, Theodac Warightاور Henry Muson کے نام گنواتا ہے۔ یہ سب امریکی ہیں اور انہوں نے ۱۹۹۱ء میں امریکا کا عراق پر اور ۲۰۰۱ء امریکا کا افغانستان پر حملہ کی صریح تائید کی اور مسلم دنیا میں امریکی تخریب کاری اور معاشرتی جاسوسی کی حکمت عملی مرتب کرنے میں ان بدمعاشوں کا اہم کردار رہا ہے۔ یہ جارج بش کے بھی مشیر رہے ہیں اور اوباما کے بھی۔اکبر ایس احمد ان مغرب کاروں کے کام کو نہایت عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان کا فکری کام اعلیٰ ترین علمیاتی بلندیوں کو چھو گیا ہے اور اپنی شیطنت کے اظہار میں شیطانی تفہیم کی بہترین نمایندگی پیش کرتا ہے۔ 

Here is scholarship in the highest tradition and its humanity reflects the understanding which academics at thier best are capable of achieving. Postmodernism and Islam, p. 183

ان بدمعاشوں میں سے ایک John Esptein نے اکبر ایس احمد کی اس کتاب کو اعلیٰ ترین جرأت مندانہ تحقیق کا نمونہ جو مسلم اور مغربی فکر کی صحیح عکاسی کرتی ہے، قرار دیا ہے۔ بقول اکبر ایس احمد پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا عالم گیریت، کثرتیت، مساوات اور ٹالرنس کو فروغ دینے والی عالمی تحریک ہے۔ یہ تہذیب مسلمانوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اطلاعات(information)کا جو سیلاب آیا ہوا ہے وہ مسلم دنیا میں مغرب کے خلاف پائے جانے والے تمام تعصبات کو بہا لے جائے گا۔ یہ تعصبات مسلم دنیا کی جہالت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مسلم دنیا ایسے مفکرین کی تخلیق کرے گی جو مسلم دنیا میں پوسٹ ماڈرن ازم کے نقیب بنیں گے۔ لیکن تعجب اس پر ہے کہ اس کتاب میں اکبر ایس احمد کسی ایک بھی مسلم پوسٹ ماڈرنسٹ کی نشان دہی نہ کر سکا۔

پوسٹ ماڈرنسٹ تحریک لبرل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی ایک تشریح کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔یہ تنویری اور رومانوی اقدار کی حقانیت اور معروضیت کی نفی کرتی ہے اور اب ان تنویری(Enlightenment) اور رومانوی اعتقادات پر ایمان لانا مغرب میں بھی ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ماڈرنسٹ علمیت کے تشریحی انہدام (deconstruction)کے باوجود پوسٹ ماڈرن ازم ماڈرن ازم ہی کا تسلسل ہے اور اس اسی وجہ سے اسے ہائپر ماڈرن ازم کہا گیا ہے۔ وہ تنویری اور رومانوی علمیت کی لامعنویت (absurelity) تو ثابت کرتی ہے لیکن نہ ان اعتقادات کو ردّ کرتی ہے اور نہ ان کی کوئی تشریح پیش کرنے کے قابل ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ آدرشوں کی یہی بنیادی تحدید ہے اور اس وجہ سے پوسٹ ماڈرنسٹ تہذیب کو Liminal بھی کہا گیا ہے۔

اکبر ایس احمد پوسٹ ماڈرنسٹ مکالموں (discources)میں پائے جانے والے تضادات سے ناواقف نظر آتا ہے۔ مثلاً اس کی کتابوں میں کلیدی پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین فوکو، دلیوز، دریدا، بودریلا، لیوتارد، رارٹی کا نقد موجود نہیں۔ اکبر خود ایک شریف النفس شخص ہے۔ وہ کافر ہے نہ ملحد۔ ایک بدعقیدہ مسلمان ہے اور اپنی بداعتقادی کے باوجود بہت سے شعائر اسلامی کی تعظیم کرتا ہے۔ وہ ایک باوفا شوہر، ایک مشفق باپ ہے۔ اپنے بزرگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اپنے مذہب (آغا خانیت، نزاری اسماعیلیت) کا وفادار ہے۔ مغرب میں طویل قیام اور کفار سے گہرے معاشرتی روابط رکھنے کے باوجود وہ شراب، لحم الخنزیر اور جنسی بے راہ روی سے پرہیز کرتا ہے۔ اسلام کی جو گمراہ کن تشریحات وہ پیش کرتا ہے اس کی دو وجوہات ہیں۔پہلی وجہ علوم اسلامی سے جہالت ہے۔ وہ اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ سے قطعاً ناواقف ہے۔ وہ نصوص صحیحہ سے مطالب تنویری علمیاتی منہج کی بنیاد پر اخذ کرتا ہے اور دورِ حاضر کے امریکی مستشرقین وغیرہ کا پیرو ہے۔ ان بدمعاشوں کے علمی کام کا مقصد ہی اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے استعماری مقاصد کا حصول ہے۔ اور یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اکبر ایس احمد ان مذموم مقاصد سے ناواقف ہے۔ وہ جان بوجھ کر اسلام کے خلاف برپا تہذیبی جنگ میں حربی کفار کا حلیف اور ان کا ہم نوا بن گیا ہے۔اسلام دشمنوں سے معاونت کا رویہ گمراہ فرقوں نے مدت دراز سے اپنایا ہوا ہے۔ مثلاً آغا خانیت تو اپنے ابتدائی دور سے ہی برطانوی استعمار کی پروردہ ہے۔ یہاں تک کہ سلطان محمد آغاخان (کریم کے دادا) نے سلطنت عثمانیہ کے سقوط کے بعد حکومت برطانیہ سے درخواست کی تھی کہ اس کو خلیفہ تسلیم کر کے یوگنڈا میں ایک ریاست عطا کی جائے۔ صہیونیوں سے بھی آغاخانیوں کے تعلقات قدیم ہیں۔ مشرقی افریقا میں مقیم آغاخانیوں کو وہاں کے دیگر مسلمان ایشیائی یہودی کہتے ہیں۔ استعمار نوازی اکبر ایس احمد کی گھٹی میں پڑی ہے۔ سلطان محمد آغا خان کی طرح اکبر ایس احمد بھی امریکا کے سامنے مسلمانوں کے ایک ایسے قابل اعتبار وکیل کے طور پر پیش ہونا چاہتا ہے جس کی استعماری تابع داری شک و شبہ سے بالاتر ہو۔ اکبر ایس احمد سرمایہ دارانہ نظام میں مسلمانوں اور اسلام کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ پوسٹ ماڈرن ازم کے خلاف جدوجہد کو ناممکن اور ایک احمقانہ عمل سمجھتا ہے اور اس کی رائے میں دنیا کا بتدریج پوسٹ ماڈرن ہو جانا قدرت کا اٹل فیصلہ ہے لیکن کیا ان اسلامی انفرادی خصائص جن کا اکبر ایس احمد مداح ہے(پرہیزگاری، بزرگوں کا ادب، زوج سے وفاداری، عفت) پوسٹ ماڈرنسٹ دنیا میں باقی رہنا ممکن ہےاور ان اوصافِ حمیدہ کے پامال ہونے کو ایک مسلمان (آغاخانی ہی سہی) کس حد تک برداشت کر سکتا ہے؟کیا یہ واقعی ممکن ہے کہ اکبر ایس احمد خود تو پرہیز گار اور پاک باز رہے لیکن جب اس کی بیٹی نفیس اکبر دلیوز کی تعلیمات کی اتباع میں درندہ بن کر سؤروں سے جنسی تلذذ حاصل کرے تو اکبر ایس احمد خندہ پیشانی سے اس فعل کو ٹالریٹ کرے؟ اس سوال کا واضح جواب اکبر ایس احمد کی کتابوں میں نہیں ملتا۔

سرمایہ داری کے اسلامی نقیب

28۔ علامہ علی شریعتی

سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی وکالت بدعقیدہ ماڈرنسٹ اور پوسٹ ماڈرنسٹ مسلمانوں تک محدود نہیں۔ کئی راسخ العقیدہ مسلمانوں نے بھی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی وکالت کی ہے۔ ان راسخ العقیدہ مفکرین کو میں اسلامی رویژنسٹ(Revisionists)کہتا ہوں[774]۔ یعنی اسلامی فکر اور تاریخ کی ایسی نئی بدعتی[775] تشریح پیش کرنا ہے جو اسلامی تہذیبی اجزا کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمو دینے کی گنجائشیں دریافت کرے۔اسلامی رویژنزم کا سب سے موثر مکتب فکر وہ ہے جس کو اسلامک اکنامکس کہتے ہیں اور جس نے عالمی اسلامی بینک کاری کو جنم دیا۔ اس پر میں اگلے دو ابواب میں گفت گو کروں گا۔ یہ اسلام کو لبرل سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمونے کی توجیہ پیش کرتا ہے۔ دوسرا اہم مکتب فکر اسلامی سوشل ازم ہے جس کی ایک جھلک ہم نے سلطان گلیو کی فکر کو پیش کر کے دکھائی ہے۔

28.1۔ اسلامی سوشل ازم

راسخ العقیدہ مسلمانوں میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور علامہ علی شریعتیؒ معروف ہیں[776] ۔ سوشل ازم کوئی منفرد طرز یا نظام زندگی نہیں، لبرل ازم اور قوم پرستی کی طرح سوشل ازم بھی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو لبرل اور قوم پرست آدرشوں کی نفی کرتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ اقدار یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کو قبول کرتا ہے اور معاشرتی اور ریاستی تعلقات کی جس تشکیل کی وکالت اسلامی سوشلسٹ کرتے ہیں اس کا مقصد آزادی اور بڑھوترئ سرمایہ کو فروغ دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔ میری رائے میں دورِ حاضر کے اسلامی سوشلسٹوں کی فکر میں ٹراٹسکی اور نیو لیفٹ [777]کی فکر کے اشارات نمایاں ہیں جس کی وجہ سے وہ لبرل آدرشوں اور سوشلسٹ قالب میں ڈھلتے نظر آتے ہیں اور عموماً اب اشتراکی اور لبرل مباحث اور حکمت عملی میں فرق معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اور مسلم دنیا میں بالخصوص سوشلسٹ اور لبرل فکر و عمل نہایت واضح طور پر اسلامی روایات اور علمیت کے فروغ کو اپنے سب سے بڑے دشمن کے طور پر پہچانتے ہیں [778]۔

ایک زمانے میں جب فقیہان کے خلاف علامہ شریعتیؒ نے جو فکر پیش کی اس پر فرانسیسی سوشیولوجیکل مفکرین کے اثرات غالب تھے[779]۔ اس کے علاوہ آپ مارکس اور فینوں[780] سے بھی متاثر تھے۔آپ نے اس قسم کے مفکرین کی تصنیفات سے ماخوذ مباحث کی بنیاد پر اسلام کی ایک ایسی تشریح پیش کی جس ذریعے آپ کے خیال میں آپ اسلام کو سوشل ازم اور سرمایہ داری کے مابین درمیانی مکتب فکر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ سوشل ازم کو محض ایک سرمایہ دارانہ نظریہ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ مخالف نظام حیات تصور کرتے تھے۔

علامہ علی شریعتیؒ اپنے والد جناب تقی شریعتی کی فکر سے بھی بہت متاثر تھے۔ آقائے تقی شریعتی نے قرآن کریم کی ایسی تفسیر لکھی جس میں آ پ نے علمائے ایران کی روایتی قرآنی تعبیرات کی جگہ جگہ تردید کی اور اپنی تفسیر کو جس کا نام آپ نے ”تفسیر نویں“ رکھا، اسلامی نصوص کی ایک ترقی پسند اور سائنٹفک تعبیر قرار دیا۔تفسیر نویں کی ترقی پسند تشریحات نے علامہ علی شریعتی کے لیے مارکسسٹ آدرشوں کو قبول کرنے کی راہ ہم وار کی اور انہی مارکسسٹ آدرشوں کی تکرار کے نتیجے میں علامہ شریعتی کی فکر کو اسلامی انقلاب کے بدترین دشمنوں (جماعت مجاہدین خلق) نے کلیدی اہمیت دی اور علامہ شریعتی کو اپنا مرشد اعلیٰ گردانا [781]۔ 

علامہ شریعتیؒ اسلامی تاریخ، اجماع اور الٰہیات کو اسلامی معاشرتی فکر اور عمل کی بنیاد اور اساس کے طور پر قبول نہیں کرتے۔ وہ لکھتے ہیں:

ہم ابھی تک اپنے مذہب کو نہیں جانتے، ہم نے آج تک حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ایک بھی معتبر سیرت نہیں لکھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہم نے Georges Jourdaq کی تحریروں سے پہچانا۔

ان کے بقول اسلامی علمیت بالکل غیر معتبر ہے اور قرآنی تعلیمات کے معنی نقلی روایات کی بنیاد پر متعین نہیں کیے جانے چاہییں۔ قرآن کی ایک فلسفیانہ اور سوشیولوجیکل تعبیر مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور یہ تعبیر قرآنی تعلیمات پر غور و فکر سے (نقلی شواہد کی تفہیم سے نہیں) برآمد ہوتی ہے، تنویری عقلیت کی مکمل تائید کرتی ہے یعنی اصلی علمیت وہی ہے جو اٹھارھویں صدی کے بعد تنویری فلسفیوں نے مرتب کی، وہ نہیں جو علمائے اسلام رحمہ اللہ اجمعین چودہ سو سالوں سے مدون کرتے رہے ہیں۔ اسلامی علمی روایات اور منہاج محض جہالت اور توہم پرستی کے عکاس ہیں۔ سوشیولوجیکل منہج قرآن ہی سے ماخوذ ہے۔

28.2۔ سوشلسٹ ترجمانی کی اعتقادی بنیادیں

قرآن کے مطالعہ سے شریعتی نے یہ مطلب نکالاکہ انبیاکرام محض ایک ایلچی اور پیام بر ہیں۔ مقصدِ وجودِ کائنات اور تاریخ انسانی میں فیصلہ کن تغیر کرنے والے محرک نہیں۔ تاریخ میں فیصلہ کن محرک عوامی قوت ہے۔ اسپنسر اور لامارک کا یہ نظریہ درست ہے کہ معاشرہ ایک حیاتیاتی وجود ہے اور خود اپنے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کارفرما ہے۔ اسلام محض ایک سوشیولوجیکل مکتب فکر ہے اور اس کا تصورِ انسانیت تنویری تصور سے ان معنوں میں مماثل ہے کہ وہ انسان کو ایسا آزاد وجود تصور کرتا ہے جو طبیعی اور معاشرتی قوانین کی پابندی کر کے اپنے جوہر آزادی میں وسعت دیتا رہتا ہے۔ اسلامی منہج علمیت سائنٹفک ہے۔ انبیاکرام علیہم السلام نے قوانین نافذ نہیں کیے وہ محض کارفرما قوانینِ فطرت کا شعور حاصل کرتے ہیں اور پہلے سے رائج شدہ معاشرتی اقدار کی بنیاد پر اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آزادانہ جدوجہد مرتب کرتے ہیں۔ علامہ شریعتی قدیم اور روایتی اسلامی فکر پر معترض ہیں کہ وہ اس بات کو نظرانداز کرتی ہے کہ آزادی یعنی سرمایے کے فروغ کے ذریعے ہی روحانی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ وہ نہایت جوش سے یورپی فکری کارناموں کی تعریف کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

یورپ نے جو عظیم پیش رفت سائنس، آرٹ، ادب، ثقافت اور ہیومن اور سوشل علوم میں کی وہ بلاشبہ ہمہ جہت اور انقلابی ہے اور اسی وجہ سے دورِحاضر کی تہذیب اور معاشرت نے بے مثال اور حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ اس عظیم الشان علمیاتی انقلاب کے وقوع کی وجوہات کو سمجھنا مسلمانوں کے لیے دورِحاضر میں اہم ترین کام ہے۔

علامہ اقبال کی طرح علامہ شریعتی بھی اس علمی انقلاب کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ تحریک تنویر نے عیسائی مذہبی علمیت کو ترک کر کے تجرباتی اور میکانکی منہج علمیت اختیار کیا [782]۔ دوسری وجہ بقول علامہ شریعتی زمین دارانہ نظم معیشت سے سرمایہ دارانہ نظم معیشت کی طرف یورپ کی مراجعت تھی اور بقول علامہ شریعتی یہ دونوں تبدیلیاں یورپ کی مسلم دنیا سے وابستگی کے نتیجے میں رونما ہوئیں۔ مسلمانوں کو اب مغرب کی تقلید کرنا چاہیے۔ علامہ شریعتی لکھتے ہیں:

آج کے زمانے میں لازم ہے کہ ہم غیب پر ایمان کو ترک کریں۔ ایسا ایمان نہ نیکی ہے نہ خیر۔ ہمیں یورپ کا سائنسی منہج اختیار کرنا چاہیے۔ سوشیولوجیکل منہج کو اختیار کر کے ہی اسلام کی تفہیم حاصل کی جا سکتی ہے۔

شریعتی، محمد عبدہ کی رائج شدہ اسلامی جدیدیت کے مداح ہیں اور ان کے خیال میں قرآن فہمی کی جو روایات مسلم دنیا میں رائج ہیں وہ نہایت ناقص اور کم زور ہیں۔شریعتی دورِ نبوت کی ایک مارکسسٹ تعبیر مرتب کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیرداروں، غلاموں اور تاجروں کے ہاتھ سے اقتدار چھیننے کے لیے جدوجہد کی اور امام حسین رضی اللہ عنہ آزادی اور حریتِ فکر کے علم بردار تھے۔ مغربی سائنس اور فلسفہ کے ارتقا کے نتیجے میں ہی آج ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مشن کو سمجھنے کے قابل ہوئے ہیں اور علمائے کرام نے جو سیرت مرتب کی اور جو مسلمانوں میں مقبول عام ہے وہ غیرمعتبر اور ناقص ہے۔

شریعتی کہتے ہیں کہ اصل شیطنت(humanism) اسلام ہے۔ انسان محض خدا کا خلیفہ نہیں، خدا کا رشتہ دار ہے۔ الوہی اور انسانی رویے ایک ہیں اور انسانی ارادہ اور ارادۂ الٰہی بنیادی طور پر مماثل ہیں اور انسانی اور الوہی عمل میں اشتراک ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ انسان خدا کا غلام ہے بلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان خدا کا ساتھی ہے۔ اسی لیے ابتدائے آفرینش میں حضرت آدم علیہ السلام کو جو نام سکھائے گئے تھے وہ دراصل سائنس کی اصطلاحات تھیں اور اسی سائنس نے انسان کے لیے تسخیرکائنات کو ممکن بنایا۔

علامہ شریعتی نے شیطنت (humanism) کو مکمل ترین تشریح اپنی معروف کتاب ’’اسلام شناسی‘‘ میں پیش کی ہے۔ اس کتاب میں فلسفہ ہمہ اوست (pantheism) کی مکمل ترجمانی موجود ہے۔ شریعتی کے خیال میں توحید سے مراد یہ ہے کہ وجود ایک ہی ہے۔ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کا تسلسل ہیں۔ کائنات ایک زندہ وجود ہے جس کا اپنا ارادہ اور تعقل، اپنے احساسات اور مقاصد ہیں۔ کائنات انسان کامل ہے۔ اللہ، انسان اور کائنات کی ماہیت ایک ہی ہے۔ تینوں کا ارادہ، روح اور مقصد ایک ہی ہے۔ انسان، خدا اور کائنات کے بارے میں درست علم فزکس، کیمسٹری اور سائیکالوجی سے اخذ کیا جا سکتا ہے اور یہ مآخذات علم تصوف اور علوم لدنی کے مقابلہ میں کہیں زیادہ وقیع اور معتبر ہیں۔ توحید کا مطلب خدا، انسان اور کائنات کی یکتائی ہے۔ لاالہ الا اللہ کا حقیقی مطلب لاالہ الا انسان ہی ہے۔ جب انسان توحید پر ایمان لاتا ہے تو وہ ایک ایسا نظام زندگی اختیار کرتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد اور خود مختار وجود کے طور پر پہچانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تصورِ توحید راسخ العقیدہ اسلامی تعلیمات خواہ سُنّی خواہ شیعہ، کے لیے بالکل اجنبی ہے۔

علامہ شریعتی کا تصورِ فطرتِ انسان پاسکل اور ہیگل سے براہِ راست ماخوذ ہے۔ شریعتی نے خیر و شر کے تصادم کی جو تفسیر مرتب کی ہے وہ خالصتاً ہیگلین تصورات (Opposites, Thesis, Anti-thesis, Synthesis) سے بھری پڑی ہے۔ وہ انسان کو ’’روحِ کائنات‘‘ اور فطرتاً آزادی کا پرستار تصور کرتے ہیں۔ وہ اخلاقیات کے کسی ابدی اصولوں اور پیمانوں کے قائل نہیں۔ وجود ایک مطلق شناخت نہیں ایک مستقل تغیرپذیر شے ہے؛ ایک beingنہیں becoming ہے۔ یہاں علامہ شریعتی کی فکر پر پوسٹ ماڈرن اشارات غالب ہیں۔ اسلامی نظام حیات اختیار کرنے کا کوئی مقصد نہیں۔ اسلام محض ایک راہ ایک ذریعہ ہے۔ بقول شریعتی مذہبی معاشرت کے انحطاط اور تنزل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مذہبی زندگی کو ایک مقصد کے طور پر اپنا لیا گیا ہے۔ نماز طمانیت کے حصول کا محض ایک ذریعہ ہے لہٰذا اس کی فرضیت مشکوک ہے۔ مذہب کے بارے میں غلط رویہ اختیار کرنے کے نتیجے میں غیرمسلم مسلمانوں کے مقابلے میں دنیا میں زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔ شریعتی لکھتے ہیں ’’گائے کی پرستش کرنے والے خدا کی پرستش کرنے والوں پر سبقت لے گئے ہیں اور مسلمانوں کو اس کا علم تک نہیں‘‘۔ راسخ العقیدہ اسلامی تصورات اور شریعتی کی فکر میں دور کا بھی واسطہ نہیں۔ شریعتی نے راسخ العقیدہ علما کی فکر سے مطلقاً استفادہ نہیں کیا۔ اس کے اعتقادات ہیگلین سائنس اور کچھ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین سے ماخوذ ہیں۔

علامہ شریعتی کی فکر پر سب سے نمایاں اثر مارکس کا ہے۔ وہ مارکس کے تصورِ تاریخی مادیت کو ایک سائنسی حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ آپ نے ابتدائے آفرینش میں قابیل اور ہابیل کے درمیان کش مکش کی ایک خالصتاً مارکسی تعبیر پیش کی ہے جو جدلی مادیت کے منہج کی عکاس ہے۔ بقول شریعتی قابیل اور ہابیل کی کش مکش دو نظام ہائے پیداوار میں تصادم کی غماز ہے؛ زرعی نظام پیداوار اور خانہ بدوشوں کا نظام پیداوار۔ زرعی نظام پیداوار میں ذاتی ملکیت وجود میں آئی اور ذاتی ملکیت نے ایک سیاہ کار اور جابر انسانی انفرادیت کو جنم دیا۔ ذاتی ملکیت جابرانہ قوت کے ظالمانہ استعمال کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ ذاتی ملکیت نے وحدتِ انسانی کوپارہ پارہ کر دیا اور اس نے انسانی معاشرت میں لالچ اور حسد کو فروغ دیا۔ اس نے معاشرے کو آپس میں جنگ جو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ معاشرے میں دو طبقے وجود میں آئے۔ ظالموں کا طبقہ جو ذرائع پیداوار پر مسلط ہو گئے اور مظلوموں کا طبقہ جو ذرائع پیداوار سے محرومی کے سبب ظالموں کے ہاتھ اپنی محنت بیچنے پر مجبور ہو گئے۔ یوں استحصالی نظام ملکیت و معاشرت کی بنیاد رکھی گئی، یوں خونی رشتوں کی جگہ آجر اور اجیر کے رشتے پورے معاشرے پر غالب آ گئے۔

بقول علامہ شریعتی ہابیل اور قابیل دو مختلف طریقوں والے پیداواری نظام کے نمایندہ ہیں۔ ان میں اور کوئی روحانی فرق نہیں بلکہ جیسا مارکس کہتا ہے نظام پیداوار ہی اخلاقیات، روحانیت اور تمام معاشرتی تعلقات کو متعین کرتا ہے۔ مارکسی منہج کی طرح شریعتی کی فکر میں نظام پیداوار معاشرتی تعلقات اور انفرادی ادراک کی بنیاد اور ریاستی، معاشرتی، اخلاقی، مذہبی تعلقات اور تصورات اسی بنیاد پر متعین ہوتے ہیں۔ مارکس کی اصطلاح مذہبیت، معاشرت، سیاست یہ سب سپر اسٹرکچر ہے جو رائج شدہ نظام پیداوار کی بنیاد پر قائم ہے۔ علامہ شریعتی مارکس کے اس مفروضہ کو من و عن قبول کرتے ہیں اور ان کے خیال میں علمائے اسلام نے ہابیل اور قابیل کی کش مکش کی جو تعبیر پیش کی ہے وہ سطحی اور گم راہ کن ہے۔ علمائے اسلام قرآنی آیات سے صحیح مطالب اخذ نہیں کر سکے۔ دراصل ہابیل ایک خانہ بدوش اور ذاتی ملکیت سے ناآشنا تھے اور ذاتی ملکیتی نظام کے مخالف تھے۔ قابیل ایک زمین دار تھا اور اس نے ذاتی ملکیتی نظام کا دفاع کیا۔ ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان کرکے قرآن دراصل ابتدائے آفرینش میں کمیونزم کے قائل افراد کے افسوس ناک خاتمہ کی تصویر کشی کرتا ہے۔ اس دور کے خاتمے کے ساتھ مساوات اور اخوت معاشرتی اقدار کے طور پر معدوم ہو گئیں۔ بقول شریعتی قرآن اس سائنٹفک حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ معاشرتی اور تاریخی تغیر، تضادات اور جدوجہد سے برآمد ہوتا ہے۔ اور علما کی تعبیرات کے برخلاف قرآن اس بات کا بھی اثبات کرتا ہے کہ معاشرتی اور تاریخی تغیر کی بنیاد معاشی اور جنسیاتی کش مکش ہے اور مذہب ان معاشری اور جنسیاتی تضادات اور ان سے برآمد ہونے والے تصورات کی توجیہ پیش کرتا ہے۔ یہی رائے مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ نیم مارکسسٹ امریکی مفکر ہربرٹ مارکیوزے کی بھی ہے اور علامہ شریعتی مارکیوزے کی اس رائے کو اپنی کتاب "On the Sociology of Islam" میں من و عن نقل کرتے ہیں۔بقول علامہ شریعتی ذاتی ملکیتی نظام کے انہدام کے ذریعے ہی مثالی معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جب ذرائع پیداوار سب کی ملکیت تسلیم کر لی جائے گی تو مساویت کا راج ہو گا اور اسلامی اخلاق حسنہ کے فروغ کا ضامن ہو گا۔ قابیل بدکردار نہ تھا۔ اس کو بدکار طبقاتی نظام، غیر شیطانی (anti-human) معاشرتی نظام اور ذتی ملکیت نے بنایا۔

مارکس کی طرح شریعتی کی رائے میں طبقاتی کش مکش ہی تاریخی تغیر کا اصل محرک ہے۔ طبقاتی کش مکش تاریخ میں جاری رہنے والی مستقل جنگ ہے۔ قابیل کا جھنڈا ہمیشہ استحصالی طبقات اٹھائے ہوتے ہیں اور مظلوم طبقوں کی جدوجہد کا مقصد ہابیل کے خون کا بدلہ لینا ہے۔ قابیل اور ہابیل کے دونوں معاشی گروہ مذہب کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسلام طبقاتی کش مکش کو جاری رکھنے کے ایک ذریعے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔شیطانی تاریخ (human history) آزادی اور خود اختیاریت کو فروغ دینے کا سفر ہے اور سائنسی قوانین ثابت کرتے ہیں کہ یہ سفر شیطان (human) کے مکمل حصولِ آزاادی اور خود اختیاریت کی مراجعت کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ہر فرد کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس آزادی کو فروغ دینے والے تاریخی دھارے میں برضا و رغبت بہتا چلا جائے گا یا اپنی جہالت اور مطلب پرستی کا شکار ہو کر اس فروغِ آزادی کے تاریخی عمل کی مزاحمت کرے گا، ایسی مزاحمت جو لازماً ناکام ہو گی۔

بقول شریعتی یہی داڑھی والے زانی ملکیتی نظام کی حمایت کرتے ہیں [783]۔ وہ فرعون اور قارون کے ساتھی ہیں اور کمیونزم کے جنونی مخالف ہیں۔ فرعون کا طبقہ، قارون کا طبقہ اور داڑھی والے مولویوں کا طبقہ مستقل عوام پر جبر کرنے، ان کو استعمال کرنے اور ان کو بے وقوف بنانے کے کام میں مشغول رہتا ہے۔شریعتی کے مطابق قرآنی اصطلاح ’’الناس‘‘ سے مراد اللہ ہی ہے۔ بقول شریعتی قرآن میں ہر اس جگہ جہاں معاشرتی معاملات کا تذکرہ ’’اللہ‘‘ اور ’’الناس‘‘ ہم معنی اصطلاحات کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ ’’ان الحکم الا للہ‘‘ کا صحیح مطلب عوام کی غیرمشروط حکمرانی ہے۔ شریعتی کے نزدیک اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کو حکومت کرنے یا حکومتی عمل میں مداخلت کرنے کا کوئی حق ہے۔ جب قرآن یہ کہتا ہے کہ تمام مال اللہ کا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ تمام سرمایہ کو قومی تحویل میں لے لیا جانا چاہیے اور ذاتی ملکیت کو ختم کر دینا چاہیے۔ ’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ دین عوام کی ملکیت ہے۔ عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ دینی احکامات کی جو چاہیں تعبیر کریں۔ بالفاظ دیگر ’’حکم الٰہی‘‘ سے مراد روسو کا جنرل وِل یہ ہے کہ ہیومن بینگ کی الوہیت کو ایک ناقابل تردید مفروضہ کے طور پر قبول کیا جائے۔ اگر رضائے الٰہی جنرل وِل ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہیومن بینگ کی الوہیت کو قبول کرنا لازم ہے کیوں کہ اللہ عوام ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور کم از کم معاشرتی اور دنیاوی معاملات میں ارادہ شیطانی (human will) خیر و شر، حق و باطل کو تخلیق کرتا ہے۔ عوام کو یہ غیرمشروط حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ارادۂ شیطانی (human will) کے ذریعے اسلام کو جو چاہے بنا دیں۔ اسلام کا کوئی بھی حکم ابدی نہیں ہر حکم کو منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے اور اس کی غیرمنصوص تشریح بھی عوامی تائید سے مرتب کی جا سکتی ہے۔ بقول شریعتی یہی توحید ہے اور توحید ’’ہمہ اوست‘‘ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیوں کہ کم از کم اس دنیا میں عوام ہی رب، خالق، قادر مطلق، احداور صمد ہیں۔

عوام کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ ذاتی نظام ملکیت کو ختم کرے۔ کمیونسٹ نظام معیشت اور معاشرت نافذ کریں۔بقول شریعتی مثالی ہیومن بینگ (شیطان) وہ ہے جو سائنس کے حسن اور خدا کے حسن دونوں سے شناسا ہے۔ یہ مثالی آدمی پاسکل، ڈیکارٹ، بدھا، لاوزے، کنفیوشس[784]، سپارٹیکس [785]، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سب سے ہدایت لیتا ہے۔ وہ آزدی کے حصول کے لیے ہر قسم کی تکالیف اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ وہ نہ فطرت کا تابع ہوتا ہے نہ تاریخ کا نہ معاشرتی رسوم و رواج کا۔ سائنس نے اس مثالی شیطان کو مذہب اور روایات سے کلیتہً آزاد کر دیا ہے۔ مذہب، روایات، تاریخ، فطرت یہ سب کچھ قیدی کی زنجیریں ہیں جن کو سائنس نے توڑ ڈالا ہے۔ اس کا کردار مذہبی اور روایتی تعلیمات سے بالا تر ہے۔ شریعتی لکھتے ہیں ’’جو راہ مجھ کوخدا کی طرف لے جاتی ہے وہی راہ ہے جو مجھے خدا بناتی ہے‘‘۔ مثالی ہیومن بینگ مکمل شیطان ہے اور ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ کا دعویٰ کرتا ہے۔

ان گم راہ کن اور فاسد خیالات کے باوجود علامہ شریعتی اپنے آپ کو ایک مخلص مسلمان تصور کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ پابند صوم و صلوٰۃ اور کبائر گناہوں سے اجتناب کرنے والے ایک پاکیزہ اور طاہر زندگی گزارنے والے فرد رہے اور ایرانی معاشرے میں آپ کی شناخت ہمیشہ ایک مخلص مفکر رہنما کی ہی رہی۔ لیکن آپ کی فکر میں اسلام محض اصطلاحات اور منہج مکالمہ فراہم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ ایران اور شیعت کے عظیم الشان فکری ورثہ کو نفرت اور حقارت کی نظر سے ہمیشہ دیکھتے رہے۔ گو کہ وہ منکر حدیث نہ تھے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت اطہار سے والہانہ محبت کرتے تھے لیکن انہوں نے ملحد منکرین حدیث کی طرح ’’رجوع الی القرآن‘‘ کا نعرہ لگایا اور اس بہانے اجتماعی اسلامی تعبیرات اور احکامات کو مشکوک اور غیرمعتبر ثابت کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ حقیقتاً آپ کی ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی تحریک اسلامی تاریخی اور دینی روایات کو مکمل طور پر مسترد کردینے کی تحریک ہے۔ وہ یورپی فکری تاریخ کو معتبر گردانتے تھے۔ انہوں نے ماڈرن یورپی تصورِ حقیقت، تصورِ کائنات اور تصورِ علمیت (Ontology, Cosmology, Epistemology) کو حق تصور کر کے ان کی بنیاد پر اسلام کی ایک اپنی تشریح پیش کی جو حددرجہ گمراہ کن، ضرر رساں اور لغو ہے اور جس کا ہماری تہذیب اور فکری ارتقا سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ شریعتی کے علمی مفروضات، نظریات، منہج نقد اور جن عملی پالیسیوں کی انہوں نے وکالت کی وہ سب تنویری علمیت یعنی جاہلیت خالصہ سے ماخوذ ہیں۔ قرآنی تعلیمات اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے تاریخی کردار کی جو تصویر کشی شریعتی نے پیش کی ہے وہ سراسر جھوٹی ہے اور ہماری علمیاتی تاریخ کے لیے بالکل اجنبی ہے، شیعوں کے لیے بھی اور سنیوں کے لیے بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعتی اسلامی تعلیمات، روایات اور تاریخ کی جو تعبیر پیش کرتے ہیں وہ جاہلی (تنویری) علمیاتی منہج کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ شریعتی اشتراکی سرمایہ داری کے نقیب ہیں،ان کو فکر اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وہ سوشیولوجیکل منہج کو غیراقداری اور سائنٹفک ہونے کے دعویٰ کو قبول کرتے ہوئے اور اس منہج کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات کی ایک ایسی غیرتاریخی تعبیر پیش کرتے ہیں جو اسلام کو سوشلسٹ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمونے کا ذریعہ بن سکے۔

شریعتی سرمایہ دارانہ اور مذہبی تصورِ ترقی میں جو بنیادی فرق ہے اس کو نہ پہچان سکے۔ سرمایہ دارانہ کائناتی اور حیاتیاتی مفروضات بنیادی طور پر کانٹ اور ہیوم کی فکر سے ماخوذ ہیں۔ وہ ترفع کو دنیا میں ممکن گردانتے ہیں۔ فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا کوئی تصور اس فکر میں موجود نہیں۔ ترفع کا مقصد حصولِ رضائے الٰہی کے ذریعہ جنت کا حصول نہیں بلکہ ترفع کا جاہلی (تنویری) فکر کے مطابق مطلب یہ ہے کہ شیطان یعنی ہیومن بینگ دنیاوی زندگی میں زیادہ سے زیادہ آزادی اور سرمایہ حاصل کرے[786]۔ ظاہر ہے کہ عیسائیت اور اسلام دنیاوی ترفع کے تصور کو قبول نہیں کرتے لیکن شریعتی کا تصورِ توحید کہ آخرت محض دنیا کا تسلسل ہے اور تصورِ فطرت کہ انسان اور خدا کی فطرت میں یک سانیت ہے، دنیاوی ترفع کی ایک توجیہ ہے۔ شریعتی ایک دنیا دار روحانیت کے قائل ہیں جو مذہب کو محض حصولِ آزادی کا ذریعہ تصور کرتی ہے۔ انسان کی عبدیت کی منکر اور اس کی الوہیت کی علم بردار ہے۔

شریعتی اشتراکی سرمایہ داری کی حقیقت سے واقف نہیں۔ لبرل اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظم دونوں ذاتی ملکیت کو منہدم کر دیتی ہیں۔ اشتراکی سرمایہ داری یہ کام ریاستی اہل کاروں کے ذریعے سرانجام دیتی ہے اور لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں اس فریضہ کے انجام دینے کے لیے سٹہ کا بازار تعمیر کیا جاتا ہے۔ اس بازار کی کارفرمائی کے نتیجے میں سرمایہ پر اختیار ایک مینجمنٹ بیوروکریسی کو حاصل ہوتا ہے[787] اور انفرادی حصص کے مالکان کی ملکیت محض ایک افسانوی حیثیت کی ایک چیز ہو کر رہ جاتی ہے۔ حصص کے مالکان کو سرمایہ پر اختیار اتنا ہی ہوتا ہے جیسا کمیونسٹ ریاست کے شہریوں کو ملکی وسائل کے استعمال پر۔ دونوں نظاموں کی کارفرمائی کا رہ نما اصول بڑھوترئ سرمایہ یعنی آزادی ہے۔ شریعتی جس انقلاب کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ ایک سرمایہ دارانہ انقلاب سے یعنی لبرل سرمایہ دارانہ نظام جبر سے اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کی طرف مراجعت ہےاور ان دونوں نظام ہائے حیات کا مقصد یعنی بڑھوترئ سرمایہ ہے۔

اسلامی شخصیت اور اسلامی اقدار نہ لبرل سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں پنپ سکتے ہیں اور نہ اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام میں۔ سرمایہ داری خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، لازماً اسلامی انفرادیت کی تباہی کی متمنی ہے کیوں کہ یہ انفرادیت آزادی اور سرمایہ کی بڑھوتری کو ردّ کر کے اپنی عبدیت پر فخر کرتی ہے۔ وہ علما ئے اسلام کی ہدایت اور رہ نمائی کو قبول کرتی ہے کیوں کہ علمائے کرام انبیا کرام علیہم السلام کے وارث اور اسلامی منہاج اور روایات کے امین اور محافظ ہیں ۔

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ شریعتی کے سب سے مخلص پیروکار ایرانی کمیونسٹ پارٹی شودہ کے فدائی اور مجاہدین خلق کر رہے ہیں۔ یہ دونوں گروہ انقلاب اسلامی اور علمائے کرام کے بدترین دشمن ہیں۔ علامہ شریعتی پوری زندگی امریکی اور روسی استعمار کے شدید ترین مخالف رہے لیکن ان کے پیروکار مجاہدین خلق اور شودہ شیدائی امریکی استعمار کے جاں نثار سپاہی بن گئے ہیں۔ مجاہدین خلق اور شودہ پارٹی نے عراق ایران جنگ میں صدام حسین کا بھرپور ساتھ دیا اور آج بھی مجاہدین خلق ایران میں امریکی تخریب کار ایجنسیوں کے سب سے فعال کارکن بنے ہوئے ہیں۔ یورپی اسلامی دنیا میں، عراق میں وسط ایشیاکی ریاستوں میں، سوڈان میں مقامی کمیونسٹ پارٹیاں امریکا کی قریب ترین حلیف بن گئی ہیں۔ یہ اشتراکِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ لبرل اور سوشلسٹ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں ایک ایسا طرز اور نظام زندگی قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں بڑھوترئ سرمایہ یعنی آزادی مقصدِ حیات کے طور پر قبول کیا جائے۔ امریکی اور کمیونسٹ ایک دوسرے کے فطری حلیف ہیں اور دونوں کا مقصد اسلامی انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو تباہ کرنا ہے۔ کیوں کہ اسلامی طرز اور نظام زندگی عبدیت کو فروغ دیتا ہے اور سرمایہ اور آزادی کی بڑھوتری کو رَدّ کرتا ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کفر ایک ہی امت ہے“۔

28.3۔ علامہ شریعتی کا اسلامی خلوص

یہ کیسے ممکن ہوا کہ علامہ شریعتی جیسا پاک باز، متقی، اسلامی جذباتیت سے سرشار اور مخلص مسلمان اسلام دشمنوں کا آلہ کار بن گیا اور ایسے گم راہ کن نظریات پیش کیے جو اسلامی شخصیت اور معاشرت کے فروغ کے لیے سم قاتل ثابت ہو رہے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہوا کہ شریعتی نے اسلام کی نیم مارکسی نیم تھرڈ ورلڈ[788] تفسیر مرتب کر دی؟

میری رائے میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ علامہ شریعتی نے نتویری علمیت کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے کہ یہ علمیاتی منہج غیر اقدار ی (اس کو سانٹفک کہا جاتا ہے[789]) ہے۔ جن مغربی مفکرین کی شریعتی تقلید کرتے ہیں وہ مارکس، ہیگل، پاسکل، ڈیکارٹ، سارتر اور فرانسیسی اینالسٹ وغیرہ ہیں۔ ان کی فکر کی کوئی تنقید شریعتی کے یہاں نہیں ملتی۔ ان مفکرین کی ہفوات کو وحی الٰہی کا درجہ دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں اور ان مفکرین کے نظریات کے دفاع میں بالکل بچگانہ اور لغو دلائل دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس غیر تنقیدی خالص تقلیدی تجربہ کے ذریعے وہ اسلام کی جو تشریح مرتب کرتے ہیں وہ بالکل فرسودہ ہے اور مغربی فکر کے ایسے دور سے ماخوذ ہے جو کب کا اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ وہ علمائے اسلام پر سب و شتم سے بھی نہیں چوکتے اور ان پر دقیانوسی اور بے عقل مقلد ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن جب مارکس، پاسکل اور فینوں کی ترجمانی اور وکالت کرتے ہیں تو ان کفار کے نظریات کی ایسی والہانہ تائید پیش کرتے ہیں جہاں تنقید اور ذاتی فکر کے اظہار کی مطلقاً کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ شریعتی کی تنقید اور حریتِ فکر صرف علمائے اسلام کی فکر کے تجزیہ تک محدود رہتی ہے ۔ جب وہ کفار کی فکر کی تصدیق پیش کرتے ہیں تو حریتِ فکر کو تین طلاقیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنی تقلید جامد اور غیرمشروط اتباع کا اظہار کرتے ہیں جو کبھی شیعہ علما نے ائمہ اہل بیت اطہار کی پیروی میں بھی اختیار نہیں کی۔ یہ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ علامہ شریعتی فرانسیسی اینالسٹس، مارکس، پاسکل اور سوشیولوجیکل منہج پر ایمان لے آئے ہیں اور مغربی فکر کے بارے میں ان کا رویہ کسی اجتہاد کی اجازت نہیں دیتا۔ تمام اجتہادی کاوش مجتہدین اسلام کی تذلیل تک محدود رہتی ہے۔ وہ اسلامی تہذیب کے احیا کے متمنی ہیں لیکن اس احیا کا جو طریقہ وہ پیش کرتے ہیں وہ اسلام کو مغربی تہذیب میں سمو دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ 

مغرب کی غیرمشروط اندھی تقلید کا جو درجہ علامہ شریعتی نے اختیار کیا وہ مسلم متجددین اور اسلامی ترمیمیوں میں مقبولِ عام رویہ ہے۔ وہ تنویری علوم کو غیر اقداری تصور کر کے ان کو بنیاد بنا کر اسلام کی تشریح مرتب کر تے ہیں جس کا مقصد اسلام کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمو دینا ہوتا ہے۔ یہ بات مولانا تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید احمد کی فکر کے تجزیہ سے ثابت ہو گی۔ یہ دونوں راسخ العقیدہ مسلمان ہیں لیکن سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں اسلامی پیوند کاری کے لیے جو استدلال پیش کرتے ہیں وہ مغربی فکر کی غیرمشروط اور اندھی تقلید اور اس کے تضادات سے مکمل ناواقفیت کی بنیاد پر ہے۔ تنویری علمیت کی کوئی تنقید مولانا تقی عثمانی کے یہاں ملتی ہے نہ پروفیسر خورشید کے یہاں۔ وہ تنویری علمیاتی منہج کے اس دعوے کو کہ ”وہ غیر اقداری ہے“، من و عن قبول کرتے ہیں اور اس دعوے کی لغویت اور لایعنیت سے بالکل واقف نہیں۔ وہ بالکل نہیں جانتے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین نے مغربی تہذیبی تناظر میں اس نامعقول اور مہمل دعوے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ مسلم تجدیدی اور ترمیمی مفکرین اسلام کو مغربی تہذیبی غلاظت میں ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں اور استعمارکی خدمت میں کمر بستہ ہیں؟ علمائے اسلام ان کی زبانیں ان کی ان کی گدیوں سے نہیں کھینچتے بلکہ کئی جید علماء مثلاً علامہ زاہد الراشدی، مفتی منیب الرحمان، مولانا تقی عثمانی، آیت اللہ سیستانی، علامہ یوسف القرضاوی ترمیمیوں کی صفوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ میری رائے میں اس کی دو وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ انیسویں صدی سے لے کر آج تک علمائے اسلام تحفظ دین کے فریضہ کی انجام دہی میں مصروف رہے اور اپنی مساعی جلیلہ کے نتیجہ میں نصوصِ صحیحہ اور رسوم و روایاتِ اسلامی کے انمول ذخیرہ کو استعماری دست برد سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن اس کام میں انہماک کے نتیجہ میں علمائے کرام دین کی جدوجہد سے بڑی حد تک دست بردار ہو گئے ہیں۔ علمی سطح پر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دورِ حاضر کے مخصوص مسائل بالخصوص سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے عالمی غلبے کی تفہیم مرتب نہ ہو سکی۔ اسلامی علمیاتی منہج اور اسلامی علوم مثلاً تفسیر، حدیث، فقہ، کلام اور تصوف میں وہ وسعت پیدا نہ کی جا سکی جس کی بنیاد پر دورِ حاضر میں تقلیدی اجتہاد کے ذریعے دورِ حاضر کے مخصوص مسائل کی اسلامی تفہیم اور ان کا اسلامی نظاماتی حل مرتب کیا جا سکے۔ علمائے اسلام نے سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت کو نہ سمجھا اور وہ اشتراکیت کو ایک سرمایہ دارانہ نظریہ کے طور پر متعارف نہ کروا سکے۔ اس کے نتیجہ میں مسلم مفکرین بشمول علمائے کرام میں یہ خیال عام رہا کہ اشتراکیت ایک سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہے۔

دوسری بڑی وجہ یہ رہی کہ علمائے اسلام نے بالعموم تحفظ دین کے لیے ضروری سمجھا کہ استعماری سرمایہ دارانہ قوتوں سے سیاسی مصلحت ضروری ہے۔لہٰذا جمہوری علماکرام نے پوری اسلامی دنیا میں جہاد سے پہلو تہی اختیار کی[790]۔ اور مغربی سیاسی نظام میں جمہوریت شمولیت بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر اختیار کی۔ جب علما کرام سرمایہ دارانہ ریاست کے آلہ کار بن گئے تو نظاماتی نظریاتی تنقید کے امکانات لازماً معدوم ہو گئے اور سرمایہ دارانہ تنظیم علمیت اور معاشرت کو فطری اور سائنٹفک سمجھا جانے لگا۔ ان حالات میں عام مسلمانوں کے لیے مغربی نظریاتی منہاج کو قبول کرنا نہایت سہل ہو گیا۔ ہمارے پاس سرمایہ دارانہ تفکر اور تنظیم کی کوئی ایسی مربوط اور جامع تنقید مرتب نہ ہو سکی جتنی حضرت حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ نے یونانی فکر و فلسفہ اور نظام معاشرت کے ضمن میں مرتب فرمائی تھی۔

ایران میں بھی مغربی سیاسی فکر کو صریحاً کبھی ردّ نہیں کیا گیا۔ آیت اللہ نوری کی مزاحمت کے باوجود جمہور علمائے ایران نے قاچاری سلطنت کے خلاف ایک جمہوری دستوری تحریک ہی چلائی اور پہلوی شہنشاہوں کے خلاف جو عوامی تحریک برپا کی گئی اس کے مطالبات بھی جمہوری حریت اور آزادی کے فروغ کو ہی اسلامی انقلاب کا ایک اہم مقصد قرار دیا گیا۔ استعمار کی مخالفت خالصتاً ایک سیاسی اور عسکری تھی، فکری اور تہذیبی نہ تھی۔ علما نے شاہ کے لبرل اور کمیونسٹ حریفوں کے ساتھ اشتراک عمل کو فروغ دیا۔ ’’سلام بر مجاہد درود بر فدائی‘‘[791]انقلاب اسلامی کے مقبول ترین نعروں میں سے تھا اور انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے نتیجے میں ایک ری پبلک ہی قائم ہوئی کوئی امارت یا خلافت قائم نہ ہو سکی حال آں کہ جیسا کہ امام مہندس بازرگان رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ ۱۹۷۸ء میں آیت اللہ خمینی اپنی خلافت کا اعلان کر دیتے تو آپ کے دستِ حق پرست پر مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کروڑوں مسلمان بیعت کرلیتے۔

ان حالات میں ایک مغربی تعلیم یافتہ دانش ور کا سوشل ازم سے متاثر ہونا اور اسلامی علمیت اور معاشرت کاایک نیم مارکسسٹ اور نیم پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح پیش کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ تعبیر گم راہ کن اور ضرر رساں ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ علامہ علی شریعتی ایک مخلص اسلامی انقلابی قائد ہے اور اس کی جدوجہد کا مقصد غلبۂ دین کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس بات کی تصدیق کے لیے آپ کے کردار کی طہارت، آپ کی اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے والہانہ محبت، شیعہ سنی اتحاد کے لیے مسلسل کاوش اور آپ کی استعمار مخالفت کا مطالعہ کافی ہے۔ آپ نے پوری زندگی اپنی جدوجہد سے ذاتی فائدہ نہ اٹھانے کے لیے سرکاری اور بین الاقوامی پیش کش کو حقارت اور نفرت سے ٹھکرا دیا۔ بیش تر متجددین اور ترمیمی مطلب پرست ہوتے ہیں۔ وحید الدین خان بی جے پی کی آنکھ کا تارہ بن گئے، مولاناتقی عثمانی سٹی بینک، بینک آف امریکا کے مشیر بن گئے، پروفیسر خورشید اپنی پوری زندگی سعودی مرتد حکمرانوں کے وظیفہ خوار بنے رہے لیکن علامہ شریعتی نے کسی سامراجی ایجنٹ سے کبھی ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ اسلام کا یہ نڈر سرفروش پوری زندگی غلبۂ دین کے لیے لڑتا رہا اور اللہ عز و جل نے اس کو شہادت سے سرفراز فرمایا جب یہ کلمہ طیبہ کا ورد کر رہا تھا۔

29۔ مولانا محمد تقی عثمانی

انیسویں صدی میں پوری مسلم دنیا میں مفکروں کی ایک نئی کھیپ ابھری جنہوں نے اسلامی تعلیمات کی ایک نئی تشریح پیش کی جو اسلام کو مغربی طرز اور نظام زندگی میں ڈھالنے کے لیے ممد اور معاون ثابت ہو سکے۔ اس گروہ میں مغربی تعلیم یافتہ مسلمانوں کا غلبہ تھا اور ان کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ مغربی تہذیب ان اسلامی روایات اور تعلیمات کا تسلسل ہے جو یورپ نے مسلم اسپین اور صلیبی جنگوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک سے حاصل کی تھیں۔ ان مفکرین کے ساتھ وہ منکرین حدیث بھی تھے جو طبقہ علما سے نکلے۔ ان میں سے کچھ نے تو دائرہ اسلام سے خارج ہو کر نئے مذاہب ترتیب دیے مثلاً قادیانیت اور کچھ نے اسلامی نصوص کو غیر معتبر ثابت کر کے اسلام کی ایک ماڈرن تشریح اور تفہیم مرتب کی۔ آج ان منکرین حدیث کے سب سے نمایاں پیرو جاوید غامدی اور غلام احمد پرویز وغیرہ شمار کیے جاتے ہیں۔

اسلامک ماڈرن ازم اس رویہ کو کہتے ہیں جو اسلام کی ایک تنویری یا رومانوی تشریح مرتب کرے۔ اس کے برعکس اسلامی ترمیمیت وہ رویہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ زندگی کا اسلامی جواز پیش کرے۔ اسلامی ترمیمیت نصوص صحیحہ کی انکاری بلکہ ان نصوص کی ایسی تشریح پیش کرتی ہے جو ہماری تاریخ میں بالکل اجنبی ہے اور جس تعبیر کو قبول کرنے کا مقصد اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں اسی طرح سمو دینا ہے جیسا پروٹسٹنٹ نے عیسائی طرز اور نظام زندگی کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمو دیا۔ پروٹسٹنٹ ازم نے یہ کام پندرھویں صدی کے وسط سے شروع کیا اور آج پورے یورپ میں عیسائی طرز اور نظام زندگی معطل ہو گیا ہے اور امریکا میں پروٹسٹنٹ گروہ بالخصوص ایونجلسٹ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے سب سے بلند بانگ وکیلوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہی پروٹسٹنٹ سرگرمیوں اور تحریکوں میں سے عیسائی صہیونیت بھی برآمد ہوتی ہے۔

اسلامی ترمیمیت پروٹسٹنٹ ازم کا اسلامی پر تو ہے۔ پروٹسٹنٹ ازم کی طرح اسلامی ترمیمیت سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اسلام کاری کے لیے کوشاں ہے۔ پروٹسٹنٹ کی طرح اسلامی ترمیمیوں کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ اسلام کوئی مکمل اور خود کفیل نظام زندگی نہیں۔ اسلام محض ایک رویہ اور ایک طرز زندگی ہے اور یہ طرز زندگی سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں سمویا جا سکتا ہے۔

اسلامی ترمیمیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ منفرد اعمال کی نظاماتی تطبیق کو زیر بحث لائے بغیر احکام لگاتے ہیں۔ مثلاً مولانا تقی عثمانی حصص کے کاروبار کا شرعی حیلہ پیش کرتے ہیں بغیر یہ دیکھے کہ سٹہ کا بازار یعنی اسٹاک مارکیٹ سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں تعین قدر کے ضمن میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔ خرم جاہ مراد (نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ۹۱۸۸ء تا ۱۹۹۴ء) اور ڈاکٹر اسرار احمد ووٹ کے بیعت اور عوامی فریضہ ہونے کا شرعی جواز پیش کرتے ہیں بغیر یہ دیکھے کہ انتخابی عمل سرمایہ دارانہ نظم ریاست کی فعالیت کو مستحکم کرنے کے لیے کیوں ایک لازمہ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ چوں کہ اسلامی ترمیمیوں کے ہاں اسلام کا ایک خودکفیل نظام زندگی کا کوئی تصور موجود نہیں لہٰذا وہ کبھی یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں رائج شدہ اعمال کو کس طرح اور کس حد تک ان کے نظاماتی تناظر سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی ترمیم پسند سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاح کے لیے کوشاں ہوتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کو وہ نہ ممکن سمجھتے ہیں اور نہ ضروری۔

انفرادی اعمال کے نظریاتی تناظر کو زیربحث لائے بغیر نصوصِ صحیحہ کی بنیاد پر حکم لگانا فقہ اسلامی کا معروف منہج ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس دور میں فقہ مرتب کی گئی اور اس کے تقریباً ایک ہزار سال بعد اسلامی نظام ہی غالب تھا۔ سلطان ظل اللہ کا اقتدار مستحکم ہوتا تھا اور علوم اسلامی کی بنیاد پر اجتماعی فیصلے کیے جاتے تھے اور معاش کا مقصد معاد کا حصول تھا۔ ان حالات میں نظاماتی مباحث سے سہوِ نظر کر کے انفرادی اعمال پر حکم لگانا ایک فکری بات تھی اور مفتیان کرام نے یہ طریقہ امن عامہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اختیار کیا۔ ان کی رائے میں انفرادی اعمال کی اصلاح اسلامی نظاماتی تحکم کو مستحکم اور مربوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ اور نظاماتی شکست و ریخت سے نبرد آزما ہونے کے لیے کافی تھا۔

انیسویں صدی سے تمام عالم اسلام پر استعمار غالب آ گیا۔ اسلامی سلطنتوں کا سقوط ہو گیا۔ شرع مطہرہ کا نفاذ منسوخ کر دیا گیا۔ اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کی بنیاد پر نہیں جاہلی علوم کی بنیاد پر کیے جانے لگے۔ نظام اسلامی مطلقاً معطل ہو گیا اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا تسلط ہر مسلم ملک پر قائم کر دیا گیا۔ غلبہ دین کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے انہدام اور نظامِ اقتدارِ اسلامی کے از سرنو ترتیب دینے ہی کی جدوجہد ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لیے مجاہدین اسلام آج رزم گاہِ حیات کے ہر مورچہ پر سرمایہ دارانہ مقتدرین سے چومکھی لڑائی کر رہے ہیں۔

جمہور علما نے سرمایہ دارانہ اقتدارکے ساتھ مصالحت کر لی ہے۔ اور اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ کافر نظام زندگی کے اقتدار کے تناظر میں اسلامی طرز زندگی کے فروغ کے امکانات نہایت محدود ہیں۔ وہ نظاماتی تفقہ کے قائل نہیں اور سرمایہ دارانہ نظام میں رائج معاہدات کی شرعی تشریحات پیش کر کے مسلم عوام کے لیے ’’سہولت‘‘پیدا کرتے رہتے ہیں۔ جو لوگ اس روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں ان کے لیے ایک فطری بات ہے کہ وہ نظاماتی مباحث سے سہو نظر کر یں، غلبہ دین کو ناممکن عمل سمجھیں، جاہلی علوم کو غیر اقداری اور معروضی سمجھیں اور اپنے اس مصالحتی معاشرتی کردار کے ذریعہ وہ علمیاتی فکر پیدا کریں جس سے ترمیمی علما فائدہ اٹھا کر اسلامی طرز ِحیات کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں سمو کر استعماری خدمت کر رہے ہیں اور امریکی اور سعودی حکومت اور بین الاقوامی یہودی بینکوں سے اس کا صلہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔

29.1۔ سرمایہ داری کی عیسائی کاری

سرمایہ دارانہ نظام زندگی عیسائی نظام زندگی کو تباہ کر کے یورپ میں غالب آیا ہے لیکن سرمایہ داری کے اس نظاماتی غلبہ کے لیے راہ عیسائی علما نے ہم وار کی ہے۔ سرمایہ دارانہ تہذیبی غلبہ کی بنیاد یورپی استعماریت نے فراہم کی۔ پندرھویں صدی سے یورپی اقوام اسپین، پرتگال، فرانس، ولندیز اور برطانیہ نے پوری دنیا کو لوٹنا شروع کیا اور یہ قتل عام اور لوٹ مار آج تک جاری ہے۔ آٹھ کروڑ ریڈ انڈین قتل کر دیے گئے اور پورے امریکا کی دولت پر یورپیوں نے قبضہ کر لیا۔ اس بہیمانہ قتل عام اور لوٹ مار سے یورپی ممالک کا تقریباً ہر گھرانہ مستفید ہوا اور استعماری ممالک سونے اور چاندی کے پہاڑ کھڑے ہو گئے۔ وحشت، بربریت، سفاکیت، حرص، حسد، غضب، شہوت اور قوت کے جنون نے ایک وبا کی طرح پورے یورپ کو مغلوب کر لیا اور امریکا اور ایشیا کے قتل عام اور لوٹ مار میں عیسائی پادریوں نے استعماری فوجوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ یورپ کا ہر گرجا لوٹی ہوئی دولت کے گودام اور معاشی اڈے میں تبدیل ہو گیا۔ ان حالات میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا فروغ پانا ایک فطری عمل بن گیا کیوں کہ سرمایہ داری کی بنیادی اخلاقی تعلیمات خواہشاتِ نفس کی تابع داری اور پرستش ہی ہیں۔ چوں کہ عیسائی رہ نماؤں نے بھی سرمایہ دارانہ طرز زندگی اختیار کر لیا تھا لہٰذا ان کے لیے سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبول کر لینا بھی ایک فطری بات تھی۔ پروٹسٹنٹ ازم[792] سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی عیسائی کاری کا دوسرا نام ہے۔ 

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی عیسائی کاری کا عمل سود کی عیسائی کاری سے شروع ہوا۔ اسلام کی طرح عیسائیت بھی سود کو مطلقاً حرام قرار دیتی تھی لیکن پندرھویں صدی میں سود کے حلال ہونے کے ضمن میں عیسائی بحثیں چھڑنا شروع ہوئیں جس کی ابتدا اس دور کے معروف بزرگ سینٹ انٹونیو کے ملفوظات میں ملتی ہے۔ بنیادی سوال جو اٹھایا گیا وہ وہی تھا جو آج کے دور کے اسلامی بینک کار اٹھاتے ہیں۔ یعنی یہ سوال کہ سود کیا ہے نہیں ہے۔ سود کی تعریف کو لچک دار بنانا کئی عیسائیوں کی تعلیمات کا حصہ بننے لگا اور ان میں کیلون اور Bucerکے نام سولھویں صدی میں خاصے مشہور تھے۔ لیکن پندرھویں اور سولھویں صدی میں سودی کاروبار کی ترتیب نو کے مویدین کا اس کی حلت کا جواز فراہم کرنا عیسائی عوام کے لیے قابل قبول عمل نہ تھا اور بیش تر عیسائی مذہبی پیشواؤں اور مدبروں نے اس کی مخالفت کی۔ قدیم عیسائی تعلیمات سود سے مراد ربا ہی لیتی تھی اور ربا کے عنصر کو تمام معاشی معاہدات رہن، اجرت، کرایہ اور تعین قیمت سے اخراج کا حکم لگاتی تھی۔ عیسائیت کے ابتدائی سرمایہ دارانہ نقیبوں نے ربا کی تعریف میں ایسا ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں رباکو بیع سے جدا کرنا مشکل سے مشکل ہوتا چلا جائے۔ ان عیسائی ترمیمیوں کو یہ بات خوب معلوم تھی کہ ربا کی تشکیل نو کے ذریعہ اس کو حلال قرار دینے کی مہم دراصل عیسائی نظام زندگی کے انہدام کی مہم ہے۔ سود کی حلت کا جواز پیش کر کے اس پورے نظام اقدار کی تسخیر کی راہ ہم وار کی جا رہی ہے جو معاش کو معاد کمانے کا ذریعہ تصور کرتی ہے اور اگر عیسائی ترمیمی اپنی اس مہم میں کامیاب ہو گئے تو عیسائی طرز اور نظام زندگی بتدریج منہدم ہوتا چلا جائے گا۔

سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی بنیاد چرچ سے بازار کی آزادی پر رکھی گئی۔ چوتھی صدی کے بعد سے چرچ نے بازار کو اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے نظریہ عادلانہ قیمت پر عمل کرنا شروع کر دیا اور قیت کے تعین کا جو نظام یورپ میں ایک ہزار سال تک رائج رہا اس میں اشیا کی قیمتیں چرچ اور اس کے قائم کردہ گلڈز[793] کی متعین کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنے دی جاتی تھیں۔ عادلانہ قیمت کے اسی نظام کے ذریعے سود کو کاروباری لین دین سے بے دخل کیا گیا تھا اور بازار کو مارکیٹ میں تبدیل کرنے کی سرمایہ دارانہ مہم کا اولین مقصد معاشی عمل کو چرچ کے تسلط سے آزاد کرا کر تمام کاروبار پر سود اور فنانس کا تسلط قائم کرنا تھا۔ آزاد مارکیٹ کے تسلط کے ذریعہ ہی سارے معاشی کاروبار کو سود سے ملوث کر کے سرمایہ کی گردش کے ماتحت کر دیا گیا۔ سولھویں صدی تک کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیت کے بیش تر رہ نما ایسے تمام کاروبار اور تمام معاہدوں کو حرام قرار دیتے تھے جن میں سودی معاہدات سے کسی نوعیت کی بھی مشابہت ہوتی تھی لیکن عملاً چودھویں صدی کے بعد میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ چرچوں نے عادلانہ قیمت کے نظام میں شکست و ریخت اور معاہدات میں محض سودی عنصر کو برداشت کرنا شروع کر دیا۔ ہر قسم کے چرچ سودی کاروبار میں ملوث ہونے لگے اور پروٹسٹنٹ بالخصوص سودی معاہدات میں ملوث ہونے لگے کیوں کہ پروٹسٹنٹ چرچ اپنی بقا اور سلامتی کے لیے قومی ریاستوں پر انحصار کرتے تھے اور یہ قومی ریاستیں اپنے جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سود لینے اور دینے لگیں۔ ۱۵۷۱ء کے بعد سے برطانوی پارلیمنٹ نے سودی کاروبار کے لین دین کو حلال قرار دیا اور اس قانون میں پہلی مرتبہ usuaryاور interest میں فرق کیا گیا اور صرف usuary کو سود کے ہم معنی قرار دیا۔ usuaryسے مراد وہ سود لیا گیا جو حکومت کی متعین شرح کی حد سے زیادہ ہو۔ اس حد کے نتیجے میں شرح سود[794] پر جو معاہدات کیے جائیں گے وہ interest کے زمرے میں شمار کیے جائیں گے اور قانوناً جائز ہوں گے۔ سولھویں صدی کے وسط میں سول اور عیسائی مذہبی قوانین کے ماہرین usuaryاور interest میں اصولی اور عملی فرق پر توجیہات پیش کرنے لگے۔ عیسائی پادری اس بات پر زور دیتے تھے کہ سود کو حلال قرار دے کر ریاست کسی عیسائی کو سودی لین دین پر مجبور نہیں کرتی لہٰذا سودی کاروبار کو tolerate کرنا کم از کم پروٹسٹنٹ عقائد میں بتدریج شامل ہوتا گیا۔ ۱۹۷۰ء کی دہائی سے کئی مسلم ممالک میں بھی روایتی اور اسلامی بینک کاری کا نظام ساتھ ساتھ کارفرما ہے اور بیش تر بینک پاکستان، متحدہ عرب امارات، ترکی، ملائشیا وغیرہ میں بیک وقت روایتی اور اسلامی بینک کاری کرتے ہیں اور ان بینکوں کے شرعی مشیر علما بشمول مولانا تقی عثمانی روایتی بینک کاری نظام کو برداشت کرنے کی بعینہٖ عیسائی دلیل دیتے ہیں۔ مذہبی قانون کے مطابق usuaryناجائز ہے لیکن اس کو برداشت کرنا بھی ایک عیسائی مذہبی فرض ہے۔ سرمایہ داری کی عیسائی کاری میں یہ ایک اہم موڑ ہے۔

سولھویں صدی تک مذہبی عدالتیں سود خوروں کو سزا دیا کرتی تھیں لیکن سو ڈیڑھ سو سال کے اندر یہ عمل بالکل موقوف ہو گیا اور usuaryکو برداشت کرنے کی روش عام ہو گئی۔ سولھویں صدی کے آخر تک ایسے عیسائی مفکرین کی بہتات ہو گئی تھی جو سرمایہ دارانہ عمل کو بالعموم اور سود خوری کو بالخصوص قانون فطرت کا تقاضا گرداننے لگے تھے۔ جس کو ہم آج اسلامی بینک کاری کہتے ہیں اس کی ابتدا سولھویں صدی یورپ میں ہوئی جب چرچ نے اپنے ساہوکار ادارے قائم کیے جو چھوٹے تاجروں اور کاروباریوں اور عوام کو ایک فیس کے عوض مدتی قرضہ دیتے تھے۔ اس دعوے کے ساتھ کہ یہ فیس سود نہیں ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا عیسائی جواز مرتب کرنے والوں کے ہاں اسلامی بینک کاروں کی طرح یہ دلیل بھی اکثر ملتی ہے کہ ایک مناسب حد سے زیادہ interest لینا حرام ہی نہیں بلکہ کاروبار کے فروغ کے لیے مضر بھی ہے اور اگر سرمایہ دارانہ کاروبار مذہبی اصولوں کے مطابق مرتب کیا جائے تو زیادہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔ سود اور منافع میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر حکومت یا بڑے سرمایہ دار کاروباری ادارے سے اتنا زیادہ سود طلب کیا جائے جو اس کے منافع سے تجاوز کر جائے تو وہ حکومت یا سرمایہ دار دیوالیہ ہو جائے گا اور قرضہ دینے والا بینک بھی لازماً نقصان اٹھائے گا۔ لہٰذا شرح سود اور شرح منافع میں توازن قائم رکھنا چاہے۔ مروجہ مرابحہ اسی اصول کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔

سولھویں صدی کے بعد سے پروٹسٹنٹ زعما نے مارکیٹ پر سے پابندیاں اٹھا کر سرمایہ دارانہ تجارت اور پیداوار کو فروغ دینے کی پالیسیوں کی تائید کرنا شروع کی اور اس عیسائی اصول سے سہو نظر کیا کہ عیسائی تعلیمات معاش کو معاد کمانے کا ذریعہ گردانتی ہیں۔ یہ سوال کہ کیا ایک سرمایہ دارانہ معیشت میں عیسائی روحانیت فروغ پا سکتی ہے پس پشت ڈالا گیا اور سرمایہ دارانہ محرکاتِ عمل حرص، حسد، شہوت اور غضب کو فطری تسلیم کر لیا گیا۔ بعینہٖ یہی رویہ ترمیمی علما اور ان کے شاگرد اسلامی معیشت دان بھی اختیار کرتے ہیں۔ ربا کا عیسائی جواز حرص کو ایک فطری جذبہ کے طور پر قبول کرنے پر ہی قائم ہے[795]۔ ۱۵۷۱ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے usuary پر سے تقریباً تمام پابندیاں ہٹا لیں[796] اور چرچ آف انگلینڈ کے رہ نماؤں نے جو اس پارلیمنٹ میں موجود تھے اس قانون کی تائید کی۔ اس قانون کے تحت سود کی زیادہ سے زیادہ شرح دس فی صد سالانہ مقرر کی گئی۔ سوئٹزر لینڈ میں کیلون نے پہلے ہی سود کی حلت کے تعلیمی جواز پیش کر دیے تھے۔ سود کی عیسائی کاری کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ عیسائی علمیت نے اکنامکس کو بحیثیت ایک معروضی علمیاتی منہج کے طور پر قبول کر لیا اور جن اقدار حرص، حسد، شہوت اور غضب کو اکنامکس مفروض کرتی تھی ان کو فطری اور دائمی قرار دے دیا۔ سولھویں صدی کے آخر تک جرمن پادری کی یہ رائے عیسائی حلقوں میں مقبول عام ہو گئی کہ سودی کاروبار فی نفسہٖ حرام نہیں بلکہ یہ دیکھا جائے کہ شرح سود اور ادائیگی کی شرائط کیا ہیں اور سود لینے والا مجبور تو نہیں کیا رہا۔ جس سودی کاروبار نے فریبوں کی مدد سے اس رفاہِ عامہ کو فروغ دیا اس کے حق میں کئی عیسائی رہ نماؤں نے دلیلیں پیش کیں اور اپنے ابتدائی دور میں اسلامی بینک کاری کو رفاہِ عامہ کو فروغ دینے والے ایک ذریعے کے طور پر ہی متعارف کرایا گیا[797] ۔ 

حرمتِ ربا کا لازمی تعلق تعین قیمت ہے۔ قدیم عیسائی پیشوا اس امر سے بخوبی واقت تھے لہٰذا نظریہ تعین عادلانہ قیمت اور نظریہ حرمتِ ربا عیسائی فکر میں ایک دوسرے سے مربوط رہے۔ اصولاً یہ بات درست ہے کہ اگر قیمت کا تعین مکمل طور پر مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے تو سود کا خاتمہ ناممکن ہے کیوں کہ موجودہ دور کی سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں جو قیمتیں متعین ہوتی ہیں وہ لازماً اجارہ دارانہ قیمتیں ہیں اور ان پر ربا کا عنصر لازماً شامل ہوتا ہے۔ سودی کاروبار کے پھیلاؤ کا لازمی تعلق افراطِ زر (inflation) سے ہے ۔ چوں کہ قرونِ وسطیٰ میں قیمتوں میں اضافہ تقریباً ناپید تھا لہٰذا ایک ہزار سال تک سودی معیشت کے فروغ کے امکانات معدوم رہے جیسا کہ R. H. Tawny نے لکھا ہے کہ اس دور میں دنیا دار سیکولر تاجر بھی سودی لین دین کے اتنے ہی مخالف تھے جتنے کہ عیسائی پادری۔

سودی کاروبار کا فروغ اور سرمایہ دارانہ نظم معیشت کا پھیلاؤ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ عیسائیت نے سرمایہ دارانہ نظم معیشت کے پھیلاؤ کی کبھی بھی نظاماتی مخالفت نہیں کی بلکہ جس استعماری قتل عام اور استحصالی لوٹ مار کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام زندگی قائم ہوا اس میں عیسائی نہایت حصول مندی کے ساتھ شریک رہے لہٰذا عیسائی تعلیمات میں سودی کاروبار کے لیے دھیرے دھیرے نرم گوشہ ابھرنا ایک فطری امر تھا۔ اس کام کی ابتدا نظریہ عادلانہ قیمت میں ترمیم کے ذریعے ہی شروع ہوا۔ کیتھولک چرچ قیمتوں میں ریاستی ربا کی شمولیت کے مختلف طریقوں کو حلال قرار دیتا گیا اور سود کی تعریف محدود سے محدود تر ہوتی گئی۔ پندرھویں صدی کے وسط تک کیتھولک تعلیمات کے مطابق سود صرف وہ طے شدہ کمائی ہے جو قرضہ دینے والا قرضہ لینے والے سے زر کی شکل میں بغیر کاروباری خطرہ میں حصہ دار بنے حاصل کرتا ہے۔ یعنی سود

۰ ایک متعین شرح آمدنی ہے۔

۰ وہ لازماً زر کی شکل میں ادا کیا جاتا ہے۔

۰ سود لینے والا سود دینے والے کے نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ قیمتوں میں پیوست ہر قسم کا سود جائز ہے [798]۔ اور سٹہ بازی کی کسی شکل کو ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔
کچھ عیسائی رہ نماؤں نے چودھویں اور پندرھویں صدی میں سودی علمیت کے نظاماتی اثرات کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا لیکن سرمایہ دارانہ کاروبار اور فنانس کے پھیلاؤ سے فائدہ اٹھانے کے لیے چرچ نے کئی بہانے تراشے اور پوپ خود بارھویں صدی کے بعد بین الاقوامی سودی بازار کا ایک اہم کھلاڑی بن گیا۔ چودھویں صدی تک عیسائیت نے بحیثیت ایک اصول یہ طے کر لیا تھا کہ بین الاقوامی سودی بازار کے معاہدات پر حرمت سود کے متعلق احکامات نافذ نہیں کیے جائیں گے اور اس قوی حد تک سودی کاروبار انگلستان، فرانس اور اٹلی میں بالکل عام ہو گیا۔ چرچ کے حلقوں میں یہ رائے عام ہو گئی کہ جب بین الاقوامی فنانسرز حکومتوں اور بڑی تجارتی کمپنیوں کو سود پر قرضہ دیتے ہیں تو اس میں استحصال کا عنصر شامل نہیں ہوتا اور جیسا کہ اسی دور کے ایک پادری نے کہا کہ عادلانہ سود عادلانہ قیمت زر ہے۔ ابتدا میں چرچ نے سود سے پرہیز کرنے کی تاکید صرف پادریوں کو کی۔ عام عیسائیوں کو سودی کاروبار میں شرکت کرنے کی اجازت دی گئی [799]۔ تیرھویں صدی کے بعد سے سود کے خلاف چرچ کے احکامات تقریباً پورے یورپ میں نافذ العمل نہ رہے کیوں کہ سیکولر حکومتیں جو خود بڑے پیمانے پر سودی کاروبار میں ملوث تھیں چرچ کی تجویز کردہ سزاؤں کو منسوخ کر دیتی تھیں۔ چودھویں صدی کے وسط میں عیسائی عدالتوں کا یہ حق کہ وہ سود خوروں کے خلاف مقدمات کی سماعت کریں، محدود سے محدود تر ہوتا چلا گیا۔ تیرھویں صدی کے بعد سے عیسائی اداروں بالخصوص مونیسٹری نے مسیحی بینکوں کا ایک وسیع جال فرانس، جرمنی، ولندیز، بلجیم اور ڈنمارک میں قائم کرنا شروع کیا جو خوب پھلا پھولا اور جس کے تحت سود کے متبادل معاہدات کی بنیاد پر کاروبار کیا گیا [800]۔ ۱۵۱۵ء میں عیسائیوں نے بے شمار ایسے معاہدات تشکیل دیے جن کو آج اسلامی نام دیے جاتے ہیں۔ مثلاً مرابحہ، اجارہ، سلم، سکوک، بیع الدین وغیرہ یہ سب ۱۵۱۵ء میں عیسائیوں کی ایجاد ہیں اور آج ترمیمی علما ان کو اسلام کاری کے لیے وہی دلیلیں دیتے ہیں جو عیسائی پادریوں نے سولھویں صدی میں ان کی عیسائی کاری کے لیے دی تھیں۔ بالکل آج جیسے وہ معاہدات جن کو اسلامی ترمیمی علما پہلے حرام گردانتے تھے اب بتدریج حلال کیے جا رہے ہیں [801]۔ ویسے ہی عیسائی ترمیمی پادریوں نے ابتدا میں ممنوعہ سودی معاہدات کا حلالہ نہایت تن دہی سے جاری رکھا جن معاہدات کو حلال کیا گیا ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

۰ وہ معاہدات جو رہن اور کرایہ میں سود کو شامل کرتے ہیں۔

۰ وہ معاہدات جو قیمتوں میں اضافہ کی تلافی کے لیے سود کو روا رکھتے ہیں۔

۰ زرمبادلہ کے کاروبار میں ملوث سودی سٹہ بازی 

۰ مستقبل کی معاہداتی سود کاری 

۰ وہ معاہدات جو امرا اور متمول لوگوں اور حکومتوں اور کمپنیوں کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے سود کی ادائیگی پر منحصر ہیں [802]۔ 

۰ ریاستی سودی معاہدات

۰ وہ معاہدات جن میں شرح سود ریاست کی متعین حد سے کم ہو۔

۰ ایسے معاہدات جن میں مقرر سود سے قرض لینے والا اور قرض دینے والا دونوں فائدہ اٹھائیں۔

۰ وہ سودی معاہدات جو کم سالانہ گروی رکھنے کی بنیاد پر کیے جائیں۔

سرمایہ داری کی عیسائی کاری میں بنیادی کردار سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ترمیمی مفکر کیلون نے ادا کیا۔ کیلون نے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو ایک فطری اور دائمی حقیقت کے طور پر قبول کیا اور اس نے جو عیسائی فرقہ قائم کیا اس کا ایک بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ جن معاشی اور معاشرتی حالات کے تناظر میں قدیم عیسائی روایات نے انجیل مقدس کے احکامات اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ارشادات کی تفسیریں مرتب کی ہیں وہ معاشی اور معاشرتی حالات اب یکسر تبدیل ہو گئے ہیں اور اس نئے معاشرے ، نظام اور طرز زندگی سے مصالحت کر کے عیسائیت کو اس میں سمونے کے لیے عیسائی نصوص کی ایک نئی تعبیر اور ماڈرن تشریح کی ضرورت ہے۔ اگر اس رویہ کو اختیار کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ماڈرن سرمایہ دارانہ معیشت میں سودی لین دین پر مبنی معاہدات کا کردار اور اس کی کارفرمائی یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ پرانے زمانے میں سود مجبوروں سے لیا جاتا ہے اور سود لینے والا سود دینے والے کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرتا تھا۔ ترقی پذیر سرمایہ دارانہ معیشت سودی کاروبار استحصالی نہیں اب بینک کاری اور فنانس کا ایک ایسا نظام وضع ہو گیا ہے جس میں اول تو سود کو بیع اور قیمت سے جدا کرنا ہی مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور دوسرے سودی معاہدات معاشی ترقی کو مہمیز دینے کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔ سود استحصال نہیں رہا بلکہ فنانشل مارکیٹ کا روحِ رواں بن گیا ہے اور سودی کاروبار کے فروغ ہی سے معیشت ترقی کرتی ہے۔ کیلون کی تعلیمات کے مطابق ususaryوہ سود ہے جو استحصالی ہو اور قرض دینے والے کے لیے مقروض کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ممکن بنائے۔ اس کے برعکس interestوہ سود ہے جس کو سود کہنا ہی نہیں چاہیے کیوں کہ یہ استحصالی نہیں بلکہ منافع میں شرکت کاایک ذریعہ ہے۔ یہ بات کہ سود کی منصفانہ شرح کیا ہے اس کا جواب حتمی نہیں دیا جا سکتابلکہ قرض دینے والے کے ضمیر کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ منصفانہ شرح سود متعین کرے۔ یہ شرح اتنی اونچی نہ ہو جو قرض لینے والے کا استحصال ممکن بنائے۔ عیسائی اصولاً منصفانہ قیمت اور منصفانہ سود کے قیام کے خواہاں ہیں لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ عملاً منصفانہ قیمت یا منصفانہ شرح سود کیا ہو گا اور چوں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں مارکیٹ لازماً اجارہ دارانہ ہوتی چلی جاتی ہے لہٰذا قیمت متعین کرنے والا اجارہ دار اور بینک کار کے ضمیر جو حرص و ہوس سے مغلوب ہوتے ہیں یہ متعین کرتے ہیں کہ عادلانہ قیمت اور عادلانہ سود کی شرح کیا ہو[803] ۔ اگر اجارہ دار فنانسر متقی عیسائی ہوں تو ان سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ عادلانہ شرح سود متعین کریں گے۔ آج ترمیمی علما اسلامی بینک کاروں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جو فکسڈ سالانہ شرح منافع متعین کرتے ہیں وہ بھی کیلون کے اصولوں کے مطابق منصفانہ ہو گا اور چوں کہ اسلامی بینکوں کے سالانہ متعین شرح منافع لازماً مرکزی بینک کے ڈسکاؤنٹ ریٹ[804] سے ماخوذ ہوتے ہیں لہٰذا ترمیمی علما بلاواسطہ اسٹیٹ بینک کے گورنر اور اس کی انتظامیہ کے متقی ہونے کی شہادت بھی دیتے ہیں۔ کیلون اور اس کے پیروکاروں نے سوئٹزرلینڈ میں ایک عیسائی حکومت قائم کی اور س حکومت کے اسلامی بینک پہلے دس اور پھر بارہ فی صد پر دوسرے اطالوی اور فرانسیسی شہروں سے سودی قرضہ لیتے تھے۔ ۱۵۷۳ء سے ۱۵۷۹ء تک یہ عیسائی حکومت اور اس کے اسلامی بینک بڑے پیمانے پر سٹہ کا کاروبار بھی کرتے رہے۔ اس عیسائی حکومت میں بہت جلد اقتدار سرمایہ داروں کے پاس چلا گیا اور انہوں نے فنانشل مارکیٹوں پر لاگو ریاستی پابندیوں کو ختم کرنے کی کامیاب مہم چلائی۔ کیلون نے جنیوا میں جو عیسائی حکومت قائم کی اس میں عیسائی پادریوں کو وہی مشاورتی کردار دیا گیا جو ۱۹۴۹ء میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرار داد مقاصد کی مجوزہ اسلامی نظریاتی کونسل کے علما کے لیے تفویض کیا گیاتھا۔ لیکن عیسائی علما کے برخلاف مسلم لیگی ترمیمی علما حکومت کے ناقد کبھی نہیں رہے بلکہ حکومت سے وظائف اور مراعات ہی طلب کرنے پر اکتفا کیا گیا۔

29.2۔ سود کی اسلام کاری کے خلاف علمائے دیوبند کا فتویٰ

برصغیر میں اسلامی ترمیمیت کی بنیاد مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے رکھی۔ آپ حضرت قطب الاقطاب شیخ المشائخ حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے مرید تھے لیکن اپنے پیر کی تعلیماتِ جہاد کو مولانا تھانویؒ نے مطلقاً ردّ کر دیا۔ حضرت شیخ المشائخ رحمہ اللہ ۱۸۵۷ء کے جہاد کے ایک اہم رہ نما تھے اور شاملی میں انگریزوں کے خلاف شمشیر بکف جہاد میں شامل تھے۔ اسی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ آپ نے تھانہ بھون میں جو خانقاہ قائم کی وہ دراصل جہاد کو جاری رکھنے، مجاہدین کو تربیت دینے او راسلحہ کا ذخیرہ کرنے کا ایک مرکز تھالیکن آپ کی ہجرت کے بعد مرکز تھانہ بھون کے جہادی کردار کو ختم کرکے حضرت اشرف علی تھانویؒ نے اسے ایک روایتی خانقاہ بنا دیا اور حلت جہاد کی ایسی کڑی شرائط تفویض کیں جس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ انگریز استعمار کے خلاف عسکری جدوجہد موجودہ حالات میں بالکل ناجائز ہے۔ یہی رائے غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان کی تھی۔ عملاً مولانا اشرف علی تھانوی جہاد کو انہی بنیادوں پر ردّ کرتے ہیں جو ماڈرنسٹ لبرل مفکرین کے ہاں عام ہیں۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ نے شیخ المشائخ کے جہاد کا ساتھ نہ دیا۔ آپ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ دیوبندی کی برپا کردہ تحریک ریشمی رومال کے اصولی مخالف تھے اور بریلوی علما کے مطابق حضرت شیخ الہند کی گرفتاری مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خاندان کے توسط سے عمل میں آئی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تحریک خلافت کی بھی بھرپور مخالفت کی اور ردِّ جہاد کی اس مسلسل جاری کاوش کے نتیجہ میں تھانہ بھون انگریز استعمار کے لیے قابل قبول ادارہ بن گیا جس میں انگریز ڈپٹی کمشنروں، مجسٹریٹوں، تحصیل داروں اور فوجی افسروں کی اکثر بھیڑ لگی رہتی۔ انہی حالات سے متاثر ہو کر علامہ اقبال نے مولانا تھانویؒ کے بارے میں فرمایا:

ترکے میں انہیں آئی ہے مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن

مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تحریک ردِ جہاد کا نتیجہ وہی نکلا جو سرسید کی ردِ جہاد کی تحریک کا یعنی مولانا اشرف علی تھانویؒ اور سرسید دونوں نے مسلم قوم پرستی اور استعمار نوازی کی فکری بنیادی فراہم کیں۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ مسلم لیگ کے ایک پرجوش حامی ۱۹۱۴ء سے ہی ہو گئے تھے اور اپنے سرکردہ مریدوں بالخصوص مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی شفیع رحمہ اللہ کو مسلم لیگ میں بھیجا اور ان علما نے تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کو کامیابی دلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا اور ہمیشہ مسلم لیگی حکومتوں کے منظورِ نظر اور ان سے مراعات یافتہ رہے۔

تاریخ پاکستان کے تناظر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ عملاً تھانہ بھون کے متعین علما ہمیشہ مسلم لیگ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان کا ریاستی مشاورتی کردار جنرل ضیاء الحق کے دور میں اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ اسی دور میں امتناعِ سود کی مہم کا آغاز ہوا۔ ۱۹۸۰ء میں ریاستی اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک کلیدی رپورٹ حکومت کو پیش کی جس کا مقصد سود کو معیشت سے بتدریج خارج کرنا تھا۔ اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ جب تک بینک نجی تحویل میں رہتے ہیں اور ان کا مقصد اپنے کاروبار سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا رہتا ہے اس وقت تک سودی نظام تمویل کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۹۷۴ء سے ۱۹۹۱ء تک پاکستان کے تمام بینک ماسوائے چند چھوٹے بین الاقوامی بینکوں کی برانچوں کے قومی تحویل میں تھے۔ کونسل کی تجویزات پر جبراً عمل درآمد کیا گیا اور ۱۹۸۵ء میں تمام بینکوں کو interestکی جگہ مارک اَپ کی بنیاد پر لین دین کرنا لازم کر دیا گیا لیکن یہ محض سود کا نام interestسے مارک اَپ میں بدلنا ثابت ہوا اور مالیاتی نظام کی کارفرمائی میں کوئی فرق نہیں آیا اور شرعی عدالت کے فیصلوں نے پاکستان کے بینکوں کو اسلامی بینک ماننے سے انکار کر دیا۔
۱۹۷۰ء کی دہائی سے شاہ فیصل کے بیٹے محمد الفیصل کی سرپرستی میں نجی اسلامی بینکوں کے قیام کی عالمی سطح پر مہم چلائی گئی اور جب ۱۹۹۱ء میں نواز شریف کی حکومت نے نجی بینکوں کے قیام کی اجازت پاکستان میں دے دی اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ تمام سرکاری بینکوں کو گاہے گاہے نجی تحویل میں دے دیا جائے گا تو اسلامی بینکوں کے قیام کے لیے پاکستان میں راہ ہم وار ہو گئی اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف دونوں نے اسلامی بینک کھولنے کی پرزور حمایت کی کیوں کہ ان کے خیال میں اس سے پاکستان میں شرح سود کے اضافہ میں آسانی پیدا ہونے کا امکان موجود تھا۔ ۲۰۰۲ء میں مرکزی شرعی عدالت نے نفاذِ نظام تمویل کے متعلق اپنا ۱۹۹۱ء کا فیصلہ منسوخ کر دیا اور ملک میں ایک شرکتی نظام تمویل کی حمایت کی جس میں روایتی اور اسلامی بینکوں دونوں کو سودی کاروبار ساتھ ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دی گئی اور روایتی بینکوں کو اسلامی برانچیں کھولنے کی اجازت دے دی گئی [805]۔ شرعی عدالت کے اس فیصلہ کے بعد پہلا اسلامی بینک ۲۰۰۳ء میں شروع ہوا اور درج ذیل جدول میں پاکستانی اسلامی بینک کاری کی ترقی کا ایک جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

پاکستانی اسلامی بینک صنعت

2003ء

2012ء

اسلامی بینکوں کی تعداد

1

5

روایتی بینک جن میں اسلامی شاخیں ہیں

3

14

اسلامی بینکوں کی برانچوں کی تعداد

17

1304

اسلامی بینکوں کے اثاثے

143 بلین

10.4 بلین

مجموعی بینک اثاثوں میں سے اسلامی بینکوں کے اثاثے

0.7 فی صد

9.6 فی صد

اسلامی بینکوں کے بچت کھاتوں میں رقم

8 بلین

868 بلین

مجموعی بچت کھاتوں میں اسلامی بینکوں کی رقم کا حصہ

0.4 فی صد

10.04 فی صد

اسلامی بینکوں کی مجموعی سرمایہ کاری

10 بلین

709 بلین

اسٹیٹ بینک، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے اسلامی سود کاری کے کاروبار کوفروغ دینے کی بڑھ چڑھ کر حوصلہ افزائی کی۔ یہ کاروبار اس حوصلہ افزائی کے نتیجے میں خوب ترقی پذیر ہے۔ اسلامی بینکوں کی بچتوں کی رقم ۸ بلین روپے سے بڑھ کر ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۳ء کے دورانیے میں ۸۶۸ بلین روپے ہو گئی اور ان کی سرمایہ کاری اس دور میں دس بلین سے بڑھ کر ۷۰۹ بلین روپے ہو گئی۔ اس کے علاوہ کھربوں روپے روایتی بینکوں کے اسلامی بچت اور سرمایہ کار کھاتوں میں موجود ہیں [806]۔ عملاً اسلامی اور روایتی بینکوں کے کاروبار میں کوئی فرق نہیں کیوں کہ:

۰ مارکیٹ سروے کے مطابق ۲۰۱۳ء میں اسلامی بینکوں کے کھاتے دار روایتی بینکوں میں بھی کھاتے رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً روایتی اور اسلامی بینکوں میں رکھی ہوئی رقوم کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔

۰ روایتی اور اسلامی بینک سالانہ شرح ادائیگی کا اعلان کرتے ہیں جو اسٹیٹ بینک کی ڈسکاؤنٹ ریٹ کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے۔ اسلامی بینک اور روایتی بینکوں کی سالانہ متعین شرح ادائیگی میں حیرت انگیز مطابقت ہے۔

۰ اسلامی بینکوں کا نوے فی صدی کاروبار روایتی معاہدوں یعنی مارک اپ، اجارہ (leasing)، مشارکہ، سلام، استسنا کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اور اس قسم کے معاہدات روایتی کمرشل، مرچنٹ اور انویسٹمنٹ بینکوں میں عام ہیں۔ اس قسم کے اسلامی اور روایتی معاہدات میں تخصیص کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔ اس کے برعکس مضاربہ معاہدات کا حصہ اسلامی بینک کاری کی سرمایہ کاری میں ۲۰۰۲ء سے ۲۰۱۳ء کے دورانیہ میں صفر اعشاریہ ایک فی صد اور قرض حسنہ کا حصہ صفر اعشاریہ صفر رہا۔

ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ راسخ العقیدہ علمائے دیوبند نے اسلامی بینک کاری کے مطلقاً حرام ہونے کا فتویٰ جاری فرمایا ۔ یہ فتویٰ ۲۸ جید دیوبندی علما نے ستمبر ۲۰۰۸ء میں جاری کیا۔ ان علما کی سربراہی مولانا سلیم اللہ خاںؒ صدر دیوبند وفاق المدارس نے فرمائی۔ فتویٰ کے مندرجات حسبِ ذیل ہیں:

۱۔ یہ جائز نہیں کہ غیرشرعی اعمال کو اس بنیاد پر حلال قرار دیا جائے کہ ان پر عمل کرنا ایک غیر اسلامی نظام زندگی میں عمل کرنا ناگزیر ہے۔ غیراسلامی تمویلی معاہدات کو شرعی بنیادوں پر اس لیے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ان کو قبول کرنا مسلمانوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں شریک بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

۲۔ اسلامی بینک کاری میں رائج شدہ معاہدات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عام سرمایہ دارانہ فنانشل مارکیٹوں میں رائج معاہدات کے قریب تر اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ۱۹۸۰ء کے تجویز کردہ معاہدات سے دور سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

۳۔ اسلامی بینکوں کا کاروبار مرابحہ اور اجارہ معاہدات پر ہے۔ یہ دونوں معاہدات اصلاً اور اصولاً حیلے ہیں اور ان کو اسی حیثیت کی بنیاد پر باکراہ برداشت کیا جاتا رہا ہے تاکہ ان کو استعمال کرنے والے ادارے ان سے جلد از جلد چھٹکارا پانے کی راہ نکالیں۔ اسلامی بینک کاری کی تیس سالہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ مرابحہ اور اجارہ سود کو مخفی رکھنے کا ذریعہ بن گئے ہیں اور اس کا کوئی امکان نہیں کہ ان معاہدات کو اسلامی بینک ترک کرنے کا عملاً مظاہرہ کریں گے۔

۴۔ اسلامی بینک اپنے کاروباری معاہدات میں حلال اور حرام طرائق تمویل کو مربوط کرتے ہیں اور یہ شرعاً جائز نہیں۔ اسلامی بینکوں میں رائج شدہ قواعد وضوابط صریحاً حرام ہیں اور اسلامی بینک کے کھاتہ دار کوکھاتہ کھولتے وقت ان قواعد و ضوابط کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اور یہ شرعاً حرام ہے۔

۵۔ اسلامی بینک کے کھاتہ دار کو اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس لیے حرام ہے کہ اسٹیٹ بینک حاکمیت شرع اسلامی کو تسلیم نہیں کرتا۔ سرمایہ دارانہ ادارہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظاماتی بالادستی کے استحکام کے لیے کارفرما ہے۔ 

۶۔ اسلامی بینک قانونی تشخص اور کارپوریٹ ملکیت کے غیرشرعی تصور کو قبول کرتے ہیں اور اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

۷۔ اسلامی بینک کاری کے نظام میں وہ تمام خامیاں من و عن موجود ہیں جن کی نشان دہی علما نے PLS نظام کے نفاذ کے وقت یعنی ۱۹۸۵ء میں کر دی تھی ۔

لہٰذا ۲۸ جید علما ئے دیوبند نے یہ فتویٰ دیا کہ:

اسلامی بینکوں کے تمام رائج شدہ معاہدات میں شرکت اصولاً حرام ہے۔ ا ن بینکوں میں ملازمت کرنا اور ان سے آمدنی حاصل کرنا حرام ہے۔ شرع مطہرہ کی نظر میں اسلامی اور روایتی بینک کاری میں کوئی فرق نہیں دونوں مطلقاً حرام ہیں۔

اس فتویٰ کے اجرا کو عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کا کوئی منفی اثر پاکستان میں اسلامی بینک کاری کے کاروبار پر نہیں پڑا۔ ۲۰۰۷ء میں اسلامی بینکوں میں بچت کھاتوں میں ۱۴۷؍بلین رقم موجود تھی، ۲۰۱۳ء میں یہ بڑھ کر ۸۶۸ بلین ہو گئی۔ اس دورانیہ میں مجموعی اسلامی بینک کاری اثاثے ۲۰۶ بلین سے بڑھ کر ۱۰۱۴؍بلین ہو گئے۔ اسلامی بینک عالمی سرمایہ دارانہ فنانشل نظام کا حصہ ہیں وہ سرمایہ دارانہ نظام میں اس طرح پیوست ہو گئے ہیں کہ اس نظام سے جدا ہونا قطعاً ناممکن ہے اور نہ اس نظام سے جدا ہونے کی کوئی خواہش رکھتے ہیں۔ اس ناقابل تردید حقیقت کا ثبوت یہ ہے۔

۱۔ دنیا کے بڑے بڑے بینکوں اور فنانشل اداروں مثلاً سٹی بینک، بینک آف امریکا، جے پی مورگن سٹینلے بینک وغیرہ نے اسلامی بینک کاری کرنے کے لیے اپنی برانچیں کھولی ہیں اور اب ’’یہودی اسلامی بینک‘‘ ’’ہندو اسلامی بینک‘‘ اور ’’دہریہ اسلامی بینک‘‘ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

۲۔ ہر سال اسلامی بینکوں کے ذریعے کھربوں ڈالر عرب ممالک، ملائشیا، پاکستان اور ترکی وغیرہ سے امریکا اور یورپ کی مالیاتی اور سٹہ باز منڈیوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً Euromoney[807] کی تحقیق کے مطابق ۲۰۱۳ء میں ایک سوپچھتر کھرب ستاون ارب پچاس کروڑ ڈالر دنیا بھر کے اسلامی بینکوں سے صرف نیویارک اور لندن کے فنانشل مارکیٹوں میں منتقل ہوئے۔

۳۔ ہر ملک میں اسلامی بینک اسی ضوابطی نظام کی نگرانی اور ماتحتی میں جو اس ملک کا مرکزی بینک ہوتا ہے، اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

۴۔ دنیا کے ہر بڑے سود اور سٹہ کے بازار میں اسلامی بینکوں کے کام کو اپنے اندر سمونے کے لیے ضوابط اور قواعد مرتب اور نافذ کرتے ہیں۔

29.3۔ سرمایہ داری کی اسلام کاری

سود کی اسلام کاری سرمایہ داری کی اسلام کاری کا ایک جزو ہے۔ چوں کہ ترمیمی علما مطلب پرست ہوتے ہیں اور سود کی اسلام کاری سے کمائی جانے والی دولت بہت زیادہ ہے لہٰذا ترمیمی علما کی زیادہ تر توجہ سود کی اسلام کاری پر مرکوز رہی ہے۔ لیکن سودی نظام تمویل سرمایہ کاری کا روحِ رواں ہے لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کی اسلام کاری کا فریضہ ادا کرنا ترمیمی علما کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔ 

سرمایہ دارانہ نظام کی اسلام کاری کی ایک جامع کوشش مولانا تقی عثمانی کی مشہور کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت اور تجارت‘‘ میں ملتی ہے۔ یہ کتاب ۱۹۹۰ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی اور اب تک اس کے سترہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اسلامی بینکوں اور اسٹیٹ بینک نے اس کے دوسری زبانوں میں تراجم کرنے کا انتظام کیا ہے۔ اس کتاب کے مندرجات کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ اسلام کوئی نظام زندگی نہیں [808]۔ یہ محض ایک رجحان اور نظریہ ہے جس کی بنیاد پر کئی اقسام کی ادارتی صف بندی ممکن ہے اور سرمایہ دارانہ نظام بھی ایسی ہی ایک ادارتی صف بندی ہے جس میں اسلامی رجحان کو سمویا جا سکتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح کر کے اس کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔

۲۔ تمام سرمایہ دارانہ ادارے کارپوریٹ ملکیت، سرمایہ دارانہ زر اور فنانس، سٹہ بازی بذریعہ حصص کے سودے اور اجرتوں کے تعین کا طریقہ جو سرمایہ داری میں رائج ہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز ہیں۔انہیں معمولی ساختی تبدیلیوں کے ذریعہ شرعی قوانین کے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

۳۔ نیوکلاسیکی اکنامکس کے تمام اہداف و اقدار یعنی نجی ملکیت[809]، مسابقت، افادیت پرستی، ترقی اور حکومت کا معاشی عمل کے تعین سے اجتناب، ان سب اہداف و اقدار کی اسلام تصدیق کرتا ہے اور ان کا حصول مقاصدِ شریعت اور ضروریاتِ دین کے حصول کا وسیلہ ہے۔

۴۔ لہٰذا اسلامی بینک کاری کو ایک غیر اسلامی ریاستی اور معاشرتی تناظر میں فروغ دینا جائز ہے۔ اسلامی بینک کاری کی کارفرمائی کے لیے نہ اسلامی ریاست کے وجود کی ضرورت ہے اور نہ اسلامی معاشرت کی۔ اسلامی بینک کاری کو آسانی کے ساتھ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں سمو دینا چاہیے۔

”اسلام اور جدید معیشت اور تجارت‘‘ کی تصنیف کا مقصد یہ تھا کہ علما کو سرمایہ دارانہ معیشت اور اس کی تحکیم کے تناظر میں فتویٰ مرتب کرنے کے قابل بنانا تھا یعنی مفتی:

۱۔ یہ بات قبول کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی بحیثیت مجموعی اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں اور نظام کی کارفرمائی کو اس طرح سے زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے کہ وہ مقاصدِ شریعت اور ضروریاتِ دین کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔

۲۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا انہدام ناممکن ہے اور جن اصولوں پر وہ قائم ہے اور جن اہداف کے حصول کے لیے وہ کارفرما ہے وہ فطری ہیں اور اسی لیے اسلام ان کی تصدیق کرتا ہے۔اسلام خود کوئی نظام زندگی نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی اسلامی معاشرت اور معیشت کی ایک مستحسن تشریح ہے۔ خواہ یہ تشریح ملحد کریں، خواہ یہودی، خواہ ہندو، خواہ مولانا تقی عثمانی۔

۳۔ اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ڈبونے کے لیے مفتی کو ہر سرمایہ دارانہ معاہدہ کو علیحدہ علیحدہ جانچنا چاہیے اور فتویٰ اس بنیاد پر دینا چاہیے کہ

۰ کیا معاہدہ کسی اجتماعی شرعی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتاہے۔

۰ اگر کرتا ہے تو کیا اس اجتماعی شرعی حکم کی ایسی تاویل کی جا سکتی ہے جو اس معاہدہ کو حلال ثابت کر سکے۔

۰ اگر نہیں تو معاہدہ کی کسی شق میں کتنی ترمیم ضروری ہے تاکہ معاہدہ احکام شرع سے متصادم نہ رہے۔

مولانا تقی عثمانی سرمایہ داری کی اسلام کاری ایڈم اسمتھ کے اس اصول کو فطری قرار دے کر کرتے ہیں کہ خواہشات لامحدود اور ان کی تسکین کے ذرائع لازماً محدود ہیں۔ لہٰذا مولانا تقی عثمانی کے مطابق اصل سوال یہی ہے کہ لامحدود خواہشات کو محدود ذرائع سے کیسے پُر کیا جائے۔ یہی اکنامکس کا بنیادی سوال ہے لہٰذا مولانا تقی عثمانی اکنامکس کو ایک سائنس کے طور پر قبول کرتے ہیں جس کے قوانین طلب و رسد کو اکنامکس مرتب کرتی ہے وہ بقول مولانا تقی عثمانی قوانین فطرت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بقول مولانا تقی عثمانی اسمتھ اور اس سے قبل اکنامسٹس نے درست کہا کہ اگر قوانین طلب و رسد کی کارفرمائی میں رخنہ اندازی نہ کی جائے تو اس کارفرمائی کے نتیجے میں عادلانہ قیمتیں بھی متعین ہوتی ہیں اور اس کارفرمائی کے نتیجے میں وسائل کی بہتر تقسیم بھی عمل میں آتی ہے۔ لہٰذا بازار میں قدر کا تعین خواہشاتِ نفسانی کے اظہار کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔ خواہشاتِ نفسانی کے تعین اور ان کے اظہار میں اخلاقی دخل اندازی مضر ہے اور ریاست کو اس قسم کی دخل اندازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

بقول مولانا تقی عثمانی اکنامکس کا یہ مفروضہ بھی بالکل درست ہے کہ فرد بنیادی طور پر خود غرض ہوتا ہے اور بڑھوترئ سرمایہ برائے بڑھوترئ سرمایہ وہ فطری ہدف ہے جس کا حصول زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی فطری خواہش کے ذریعہ ہوتا ہے۔ بقول مولانا تقی عثمانی معاہدات کے حرام و حلال ہونے کی ضرورت اس لیے پڑی تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی جستجو مارکیٹ کو مسابقتی سے اجارہ دارانہ نہ بنا دے [810]۔ اسمتھ کی طرح مولانا تقی عثمانی بھی ریاست کو اس بات کا حق دیتے ہیں کہ وہ مارکیٹ اجارہ داری کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے دخل اندازی کرے۔ اجزائے پیداوار وہی ہیں جن کی نشان دہی اکنامکس نے کی ہے اور ان کی اجرت، منافع اور کرایہ کا تعین قوانین طلب و رسد کی خودکارفرمائی سے متعین ہونی چاہیے۔ ریاست کو اجزائے پیداوار کے مارکیٹوں میں دخل دینے کا کوئی حق مولانا عثمانی تسلیم نہیں کرتے۔

مولانا عثمانی کے مطابق سرمایہ دارانہ ملکیت خالصتاً اسلامی ہے۔ وہ شخص قانونی اور محدود ذمہ داری کے اصول کو بلا کسی شرط کے قبول کرتے ہیں۔ جب کہ دیوبندی علما نے ان دونوں تصورات کے ناجائز ہونے کی بنیادپر اسلامی بینک کاری کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے۔ مولانا عثمانی نے حصص کی سٹہ بازی کو بھی حلال قرار دیا ہے اس حیلے کی بنیاد پر کہ اگر حصص کی قیمت اس کی اجارہ کی قیمت سے زیادہ ہے تو یہ فرق اس مادی اثاثہ کی قدر میں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے جو شخص قانونی کی تحویل میں ہے [811]۔ جیسا کہ علمائے دیوبند نے واضح کیا ہے کہ یہ حیلہ بالکل لغو ہے۔ اسلامی بینکوں کے حصص میں ہر ملک میں سٹہ بازی مستقل جاری رہتی ہے۔

مولانا تقی عثمانی کے مطابق ان کمپنیوں کے حصص کی ملکیت بھی جائز ہے جن کا کاروبار حرام ہے بشرطیکہ ایسے حصص رکھنے والا کمپنی کی سالانہ میٹنگ میں اعلان کرے کہ میں اس حرام کاروبار کے خلاف ہوں۔ بقول مولانا تقی عثمانی ؒیہ فتویٰ ان کے مرشد حضرت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا ہے۔ بقول مولانا عثمانی تمام سٹہ بازی کے معاہدے حلال ہیں اور ان کا کاروبار کرنے والوں کے مقاصد کی بنیاد پر ان کاروباروں کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مولانا تقی عثمانی کے مطابق بیش تر اثاثوں اور ذمہ داریوں کے معاہدات کو اسلامی بنیادوں پر مرتب کیا جا سکتا ہے اور یہی اسلامی بینکوں کا اصل وظیفہ ہے۔ اور وہ یہ کام ایک سودی سرمایہ دارانہ نظام تمویل کے تناظر میں کر رہے ہیں کیوں کہ مولانا تقی عثمانی سرمایہ دارانہ نظام میں اسلامی تمویل کو ڈبونے کے قائل ہیں لہٰذا وہ پورے سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی کوئی ضرورت قبول نہیں کرتے۔

مولانا تقی عثمانی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی جو تصویر کشی کرتے ہیں اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ محض ان سامراجی آدرشوں کی وکالت ہے جو سرمایہ دارانہ اداروں کے ظہور کو عقل اور فطرت کا تقاضا بتاتے ہیں اور ان سامراجی مدبرین کادعویٰ یہ ہے کہ ان سرمایہ دارانہ اداروں کی خود کارفرمائی کے نتیجے میں تمول اجتماعی لازماً قائم ہو جائے گا کیوں کہ ہر شخص فطرتاً اپنے نفسِ امارہ کا بندہ ہے اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کی جدوجہد اس طرح مرتب کرے کہ کسی دوسرے کی خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ تمام ہیومن بینگ منافع اور افادیت کی لامتناہی بڑھوتری کے لیے جدوجہد کو کامیاب بنانے کا واحد ریشنل طریقہ ہے۔

لیکن سرمایہ داری کی تاریخ اس تصویر کشی کی مکمل نفی کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام خود بخود قوانین فطرت کی کارفرمائی اور انسانی آدرشوں کے علی الرغم قائم نہیں ہوا۔ قوانین طلب و رسد قوانین فطرت نہیں۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ سرمایہ داری کے غلبہ سے قبل ان قوانین کی کارفرمائی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ آج بھی بیش تر سرمایہ دارانہ بازاروں میں قیمتوں میں تغیر اور طلب و رسد میں تغیر کے امکانات نہایت پیچیدہ اور مبہم ہیں[812]۔ تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ بیش تر انسان افادیت پرستی اور منافع کو زندگی کے مقصد اعلیٰ کے طور پر قبول کرتے ہیں نہ اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ بیش تر انسانوں نے خواہشاتِ نفسانی کو لامحدود اور وسائل کو محدود تصور کیا ہے۔ وسائل کو محدود اور خواہشات کو لامحدود اس وقت کہا جاتا ہے۔ جب قلب اور روح پر حرص و حسد اور شہوت و غضب کے شیاطین قبضہ کر لیتے ہیں اور اس قبضہ کو آشکار کرنے کے لیے یہ شیاطین (human being) سرمایہ دارانہ نظام زندگی تشکیل دیتے ہیں۔ حرص، حسد، شہوت اور غضب کو فطری معاشی محرکات کو قبول کر کے معاش کو معاد سے جدا کیا جاتا ہے اور اسلامی بینک کاری اسلام کو الحاد بنانے اور اسلامی طرز زندگی کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ڈبونے کا ایک طریقہ ہے۔

کیا یہ طریقہ کامیاب ہو گا؟ کیا اسلام بھی عیسائیت کی طرز پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ڈوب جائے گا اور مسلم دنیا میں اسلامی طرز زندگی اختیار کیے رکھنا ویسا ہی کٹھن اور ناممکن ہوتا چلا جائے گا جیسے عیسائی طرز زندگی اختیار کیے رکھنا یورپ میں ناممکن ہو گیا ہے[813]؟ کم از کم پاکستان میں اسلامی بینکوں کا کاروبار نہایت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ وہ مراعات ہیں جو اسٹیٹ بینک اس کاروبار کے فروغ کے لیے مستقل فراہم کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلامی بینکوں کے اثاثوں ، ڈیپازٹس اور سرمایہ کاری کی رقوم میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس تیزی سے اس کے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو رہا [814]۔ دوسرے مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اسلامی بینکوں کی عمومی مقبولیت منجمد ہو رہی ہے ۔ اسلامی بینک کے کاروبار تک عوام کی کوئی رسائی نہیں اور مدارس اور دینی حلقہ جات اسلامی بینکوں سے عموماً غیر متعلق رہتے ہیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام زندگی اسلامی طرز زندگی کو ڈبونے سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے ایک مکمل خود انحصاری نظام زندگی ہونے کا تصور موجود ہو اور تحریکاتِ اسلامی کی جدوجہد کا مقصد نظام سرمایہ داری کا انہدام ہو ۔اس نظام زندگی کو فطری اور دائمی تصور کر کے اس میں اسلامی طرز زندگی کو ڈبونے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس قسم کی سرمایہ دارانہ انہدامی جدوجہد فی الحال پاکستان میں نظر نہیں آتی۔

30۔ پروفیسر خورشید احمد اور اسلامی معیشت دان

جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی ہند سے یہ توقع رکھی جا سکتی تھی کہ وہ انہدام سرمایہ داری کی اسلامی جدوجہد کرے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا مودودی کی فکر اس نوعیت کی جدوجہد کو مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ ذیل میں میں مولانا مودودیؒ کی فکر کا اجمالی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

30.1۔ مولانا مودودیؒ کی فکر کی اہمیت اور اس کی کم زوریاں

مولانا مودودیؒ بلاشبہ بیسویں صدی میں برصغیر پاک و ہند کے سب سے اہم متکلم اسلام ہیں۔ برصغیر کی علمی روایات میں علم کلام کی کوئی خاص اہمیت نہیں اور ہمارے یہاں رائج درس نظامی میں زیادہ زور فقہ اور حدیث پر دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صفِ اول کے متکلمین برصغیر کے راسخ العقیدہ علما زشاذ شاذ ہی نظر آتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے اپنی پوری زندگی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وقف کی۔ آپ فقیہ ہیں نہ محدث، صوفی ہیں نہ مجاہد۔ آپ کی پوری توجہ علم کلام کی ترتیب نو پر مرکوز رہی اور اس ضمن میں آپ نے بلاشبہ فقید المثال کارنامہ انجام دیا[815]۔ برصغیر میں آپ پہلے راسخ العقیدہ عالم دین ہیں جس نے مغربی تہذیب کے فکری آدرشی چیلنجوں پر غور و فکر فرمایا اور ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ مرتب کرنے کی کوشش کی۔اس مقابلہ کو مرتب کرنے کے لیے مولانا مودودی نے دو بنیادی اجتہادات فرمائے جو یہ ہیں:

۱۔ اسلام ایک مکمل خود انحصاری نظام حیات ہے۔

۲۔ مغربی علمیت اور تہذیب جاہلیت خالصہ ہے۔

پہلا اجتہاد ہماری تاریخ میں اجنبی نہیں۔ جب تک اسلامی سلطنتیں قائم رہیں یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر حضرت سلطان المعظم خلیفہ عبدالمجید ثانی کی رحلت تک، اسلام بحیثیت ایک مکمل اور خود انحصاری نظام زندگی کے پوری مسلم دنیا پر نافذ رہا۔ اسلام کا نظاماتی غلبہ سرمایہ دارانہ استعمار نے ختم کیا اور استعماری دور کی ابتدا میں علمائے کرام نے غلبہ دین کی ضرورت پر پوری شد و مد کے ساتھ اصرار کیا۔ مثلاً برصغیر میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ہی اسلام کو ایک مکمل نظام زندگی کہا اور انیسویں صدی میں مغل سلطنت کی اصلاح کی بھرپور کوشش کی ۔ آپ کے جلیل القدر صاحب زادے مولانا عبدالحق نے ہندوستان کے دارالکفر ہونے کا فتویٰ دیا اور خاندان ولی اللہ ہی ہے جس نے حیدر بادشاہ کے جہاد اور علمائے صادق پور کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا [816]۔

مولانا مودودیؒ شاہ ولی اللہؒ کے پیرو ہیں۔ انہوں نے غلبہ دین کی ضرورت پر اصرار کر کے انگریز اقتدار سے مصالحت کو کفر قرار دیا۔ انیسویں صدی کی ابتدا میں علمائے دیوبند اور بریلی اور صادق پوری علما کے پیرو غلبہ دین کی جدوجہد سے عملاً دست کش ہو گئے تھے اور مسلم لیگ اور جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد سے علما کے حلقوں میں مسلم قوم پرستی اور ہندوستانی قوم پرستی کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا۔ مولانا مودودیؒ نے علما کے اس رویہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور گو کہ وہ اس میں کامیاب ہوئے لیکن آج تمام دینی گروہ سوائے مولانا تقی عثمانیؒ کے جن کو اسلامی بینک کاری سے مستقل مستفید ہوتے رہنے کی ضرورت ہے ، اس بات کو اصولاً تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل خود کفیل نظام زندگی ہے اور غلبہ دین مقاصد شریعت میں شامل ہے۔ 

مولانا مودودیؒ کا دوسرا اجتہاد، مغربی فکر اور علمیت جاہلیت خالصہ ہے، مسلمانوں کے لیے ایک اجنبی نظریہ ہے۔ کسی کافر نظام فکر اور حیات کی علمی تردید کی بہت کم مثالیں ہماری علمی روایات میں ملتی ہیں۔ برصغیر کی اسلامی فکر میں تو ایسی کوئی روایت میرے علم میں نہیں۔ گو کہ جہانگیر کے وقت سے ہی یورپی استعماری برصغیر میں آ چکے تھے لیکن عالم گیر رحمہ اللہ نے مغربی فکر کے تجزیہ اور مغرب سے مقابلے کے لیے کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔ علمائے اسلام نے مغربی تہذیبی چیلنج سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کو مطلقاً نظرانداز کرنے کی روش اختیار کی اور مساجد و مدارس اور خانقاہوں میں اسلام کو محصور کر لیا۔ 

۱۸۳۳ ء کے بعد سے انگریز نے سرمایہ دارانہ نظام تعلیم مسلط کر کے معاش کے حصول کو سرمایہ دارانہ نظام تعلیم کی تحصیل سے مشروط کر دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمان اس نظام تعلیم کے زیر اثر آ گئے اور ان میں ایسے مفکر نکلنے لگے جو اپنی اسلامی عصبیت اور روحانیت کو سرمایہ دارانہ علمیت سے مربوط کرنے کے خواہش مند تھے۔ ان مفکرین میں سب سے نمایاں مولانا الطاف حسین حالی، سید امیر علی، مولانا محمد علی جوہر اورعلامہ اقبال ہیں۔ یہ اکابرین ماڈرنسٹ نہیں لیکن مسلم ماڈرن ازم کے ہندی پیش رو ہیں۔

ان مفکرین کا مقدمہ یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ تہذیب، طرز اور نظام زندگی اصل میں اسلامی تعلیمات ہی کا ایک پر تو ہیں۔ یہ درست ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں بہت کچھ غیر اسلامی رویہ اور رجحانات بھی شامل ہو گئے ہیں لیکن مغربی تنویری تحریک کی جامع اسلام کاری ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ مغربی فکر کی اسلام کاری کی اس نوعیت کی سب سے مربوط کوشش علامہ اقبال کی کتاب "Reconstruction of Religious Thought in Islam" میں ملتی ہے۔ یہاں آپ علم تحلیل نفسی اور فلسفہ تجربیت کی تصدیق کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یورپ نے یہ علوم اسپین کے علما اور صوفیا سے اخذ کیے ہیں۔ اس کتاب میں اسلامی تہذیب کے زوال کا بنیادی سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ کی فکر معتزلہ کی فکر پر غالب آ گئی اور تسخیر کائنات کی جستجو کو مسلمانوں نے بحیثیت ایک تہذیبی ذریعہ کے ردّ کر دیا۔ علامہ کی رائے میں اسلامی احیا اس بات پر منحصر ہے کہ سائنٹفک تجرباتی اور تجزیاتی منہاج کی بنیاد پر نصوصِ مقدسہ کی از سرنو تشریح کی جائے۔ اسی چیز کو آپ اجتہاد کا نام دیتے تھے اور تقلید کی ضرورت کو شدت سے ردّ کرتے تھے۔ مغربی آمریت اور مصطفی کمال پاشا کے معاشرتی اور سیاسی اقدامات کی تائید بھی علامہ کی اس کتاب میں ملتی ہے۔
مولانا مودودیؒ کے علامہ اقبال سے قریبی تعلقات تھے لیکن آپ نے "Reconstruction of Religious Thought in Islam" کے ردّ میں سب سے جامع تنقید تحریر فرمائی۔ اس رسالہ کا نام ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘ ہے۔ اس کتاب میں مولانا مودودیؒ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ اسلامی نظام اور طرز زندگی کا سرمایہ دارانہ تصورات سے کوئی تعلق ہے۔ مغربی علمیت جو تصورِ کائنات اورجو تصوراتِ حیات پیش کرتی ہے وہ اسلام کا ردّ ہیں، جاہلیت خالصہ ہیں اور شرک سے بھی آگے کی ایک منزل ہیں۔ سرمایہ دارانہ علمیت انسان کو نفس کا بندہ تصور کرتی ہے اور اس کی تعلیم یہ ہے کہ نفس امارہ کی عبدیت موثر سے موثر طریقہ سے کس طرح اختیار کی جائے۔ مولانا مودودیؒ کے بقول اس رویہ کو اختیار کرنے کا کوئی اسلامی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔لیکن مولانا مودودیؒ کی تنقید سرمایہ دارانہ فلسفہ تک محدود ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ سائنس کی مفروضہ حقانیت کی کوئی تنقید نہیں کرتے۔ وہ نہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں فرق کرتے ہیں اور نہ طبیعی اور سوشل سائنسز میں۔ وہ دونوں کو غیراقداری تصور کرتے ہیں اور ان کی رائے میں فزیکل اور سوشل سائنسز وہ ذرائع فراہم کرتی ہیں جن کو استعمال کر کے مقاصد شریعت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا گو اسلامی اور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں فرق کے مولانا مودودیؒ اصولاً قائل ہیں لیکن عملاً بالخصوص نظاماتی سطح پر کسی واضح فرق کی تشریح نہیں کر پاتے۔ مولانا مودودیؒ کی فکر کی یہ کمزوری ان کو مسلم ماڈرن ازم کے مخلص پیش روؤں بالخصوص مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کی طرح سرمایہ دارانہ نظاماتی اور ادارتی صف بندی کی مشروط اسلام کاری کی طرف مائل کرتی ہے۔

مولانا مودودیؒ کی فکر کی یہ کمزوری سب سے نمایاں طور پر آپ کے سیاسی تفکرات کے ضمن میں نظر آتی ہے۔ اسلامی ماڈرن ازم کے پیش روؤں حالی، اقبال، جوہر کی طرح مولانا مودودیؒ بھی اسلامی سیاسی تاریخ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنی سیاسی تحریرات بالخصوص خلافت و ملوکیت میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد سے اسلامی حکومت ناپید ہو گئی اور غلبہ دین کے لیے ہمیں قرآن و حدیث سے براہ راست رجوع کرنا چاہیے۔ اسلامی سیاسی تاریخی روایات سے سہونظر کر کے قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے ایک ایسا ماڈل لیا جا سکتا ہے جو کامل اسلامی ریاست کے خدوخال کی نشان دہی کرے۔ مسلم ماڈرن ازم کے پیش روؤں کی نظر میں یہ ماڈل اندلس تھا۔ مولانا مودودیؒ کی نظر میں یہ ماڈل مدینہ ہے۔ بحیثیت مجموعی اسلامی تاریخ اس معروضی ماڈل سے دور ہونے کی تاریخ ہے۔ لہٰذا اب ہمیں اسلامی تاریخی روایات کو پس پشت ڈال کر ایک ماڈرن مدینہ یا ماڈرن اندلس تعمیر کرنا ہے۔ اور یہ ماڈرن مدینہ اور ماڈرن اندلس انہی غیر اقداری ذرائع یعنی فزیکل اور سوشل سائنسز کو استعمال کر کے تعمیر کیا جا سکتا ہے جو آج تمام انسانیت کو میسر ہیں۔
ظاہر ہے کہ ہماریخ کی یہ تعبیر بالکل لغو، مہمل اور غلط ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فقید المثال جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ تسلسل کے ساتھ اسلامی حکومت تیرہ سو سال تک قائم رہی۔ اس حکومت میں شریعت نافذ تھی اور تمام معاشرتی فیصلے علوم اسلامی سے ماخوذ احکام کی بنیاد پر کیے جاتے تھے۔ اور اسلامی احکامات کی روگردانی کے نتیجے میں اسلامی انقلاب برپا ہوئے اور اسلامی نظم مستحکم کیا جاتا رہا۔ اس کی تفصیل امام ابن خلدون رحمہ اللہ نے بیان فرمائی ہے۔ اسلامی انقلاب عموماً سلاطین ہی نے برپا کیے مثلاً برصغیر کے اسلامی انقلاب میں محمد بن قاسم، محمد غوری، ناصرالدین محمود، علاء الدین خلجی، بلبن، التمش، شیرشاہ سوری، امام عالم گیر، حافظ فضل رحمت خاں اور سید بادشاہ رحمہم اللہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
اسلامی نظام حکومت اور اسلامی تصور اور طریق انقلاب علمائے اسلام امام ماوردی، امام ابویعلیٰ، امام محمد، امام غزالی، امام ابن خلدون، مولانا عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ نے تفصیل سے لکھا ہے لیکن مولانا مودودی اور مسلم ماڈرن ازم کے کسی پیش رو نے ان کی تصنیفات کو قابل توجہ نہ سمجھا۔ مولانا مودودیؒ کی سیاسی فکر امام ابن خلدون، شاہ ولی اللہ اور امام ماوردی رحمہم اللہ سے ماخوذ نہیں۔ مولانا مودودی ؒملوکیت کو ایک غیر اسلامی طرزِ حکومت قرار دیتے ہیں جب کہ امت کا ہمیشہ سے اس پر اجماع رہا ہے کہ ملوکیت ایک اسلامی طرزِ حکومت ہے اور اسلامی علما نے اسلامی ملوکیتوں کی اصلاح اور ان کے استحکام کو فروغ دینے کے لیے مستقل مشاورت جاری رکھی ہے۔

مولانا مودودیؒ کی سیاسی فکر جان لاک، مونٹیسکیو اور جیفرسن کے تفکرات سے ماخوذ ہے۔ وہ پولیٹیکل سائنس کو ایک غیراقداری منہج اور جمہوریت اور دستوریت کو ایک ایسا طرز حکمرانی گردانتے ہیں جس کے ذریعے غلبہ اسلام قائم کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا آپ کی رائے میں جہاں ایک سرمایہ دارانہ دستور حاکمیتِ الٰہی کو اصولاً تسلیم کر لیتا ہے وہاں غلبہ دین کی جدوجہد کو لازماً دستوری جمہوری طور پر ہونا چاہیے ۔ یہی اسلامی اصولوں کی اتباع کا تقاضا ہے کیوں کہ بقول مولانا مودودیؒ مدینہ کی آئیڈیل اسلامی ریاست بھی ایک قسم کی جمہوری دستوری ریاست تھی۔ چناں چہ ۱۹۴۹ء کے بعد سے جماعت اسلامی پاکستان کی جدوجہد دستور کی پابند اور جمہوری ہی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں غلبہ اسلام کا مرحلہ تو دور سے دور ہوتا چلا گیا اور جماعت اسلامی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بتدریج بنتی چلی گئی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں اسلامی جدوجہد کو سمونے کا موثر ترین جواز اسلامک اکنامکس فراہم کرتی ہے۔

30.2۔ سرمایہ داری کی اسلام کاری: اسلامک اکنامکس

مولانا مودودیؒ سرمایہ دارانہ نظام کے اصولی مخالف ہیں لیکن اکنامکس کے مخالف نہیں۔ یہ درست ہے کہ آپ نے اکنامک میتھاڈالوجی استعمال نہیں کی اور معاشی معاملات پر گفت گو کرتے ہوئے ہمیشہ کلامی اور فقہی منہج استعمال کیا۔ لیکن ۱۹۵۰ء کی دہائی کی ابتدا ہی سے جماعت کے ارکان میں اکانومسٹس پالیسی سازی میں داخل ہو گئے اور مولانا مودودیؒ کی سرپرستی میں اسلامک اکنامکس بحیثیت ایک منہج پروان چڑھا۔ اسلامک اکنامکس کے سرخیل پاکستان میں پروفیسر خورشید احمد تھے جو مولانا مودودیؒ کے پسندیدہ ترین نوجوان پیروکار اور آپ کی کئی کتابوں کے انگریزی میں مترجم تھے۔

۱۹۷۰ء کی دہائی میں اسلامک اکنامکس کو سعودی خاندان کی سرپرستی حاصل ہو گئی اور کلیدی اسلامک اکنامسٹس پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، محمد اکرم خاں، ڈاکٹر محمد ضیاء الدین، ڈاکٹر فہیم خاں سب سعودی تنخواہ دار ہو گئے۔ سعودی خانوادہ کو اسلامک اکنامکس کی ضرورت اس لیے پڑی کہ فیصل جمال کو مسلم دنیا کی قیادت حاصل کرنے کی کش مکش میں امریکا نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک اسلامک اکنامکس اور اسلامک بینک کاری سعودی سرپرستی میں فروغ پا رہی ہے اور فیصل کا بیٹا محمد الفیصل ایک بہت بڑے اسلامی بینک کا مالک اور دنیا کے مشہور ترین اسلامی سود خوروں اور سٹہ بازوں میں شامل ہے۔
اسلامک اکنامکس کا مقصد سرمایہ دارانہ اقدار اور ادارتی صف بندیوں کو اسلامی جواز فراہم کر نے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ بات اسلامک اکنامسٹس کی تکنیکی تحریروں سے بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اسلامک اکنامسٹس نیوکلاسیکی اکنامکس کے منہج کو کلیتہً اپنا کر اسی تناظر میں اپنے ماڈل مرتب کرتے ہیں۔ اسلامک اور نیوکلاسیکل اکنامسٹس اس بات پر متفق ہیں کہ صارف، آجر اور پالیسی ساز خواہ اسلامی ہو خواہ مغربی اس کے اکنامکس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے یعنی افادیت، منافع، سرمایہ اور ویلفیئر کی زیادہ سے زیادہ بڑھوتری۔ اسلامی اکنامسٹس اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ افادیت، منافع، سرمایہ وغیرہ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا عمل شرعی احکامات سے محدود ہوتا ہے۔ مثلاً اسلامی صارف زکوٰۃ دینے پر مجبور ہے۔ اسلامی آجر صرف اسلامی سود لے سکتا ہے غیر اسلامی سود نہیں لے سکتا وغیرہ لیکن اسلامک اکنامسٹس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جب ان شرعی حدود کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تو اس حالت میں افادیت، منافع، سرمایہ، ویلفیئر اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتا ہے بمقابلہ اس حالت کے کہ ان حدود کو نظرانداز کیا جائے۔ لہٰذا شرعی حدود افادیت، منافع اور سرمایہ کی بڑھوتری کا ذریعہ ہیں۔ وہ سرمایہ کی بڑھوتری کو مہمیز دیتے ہیں اس کو محدود نہیں کرتے۔ اسلامک اکنامسٹس utilitarianہیں اور دوسرے utilitarianاکنامسٹس کی طرح اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سرمایہ کی بڑھوتری کو مستقل مہمیز دینے کے لیے لازم ہے کہ ایسے اصولوں کی پابندی کی جائے جو اس نتیجہ کے حصول کے لیے ضروری ہیں گو کہ اس سے کچھ وقتی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اسلامی اکنامسٹس تمام سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات، ترقی، مسابقت، مطمح فی الارض، سب کو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ ان اہداف کی اسلام کاری کے نتیجے میں یہ لازم آ جاتا ہے کہ اسلامی اکنامسٹس سرمایہ داری کی جو تنقید مرتب کرتے ہیں اس کا ہدف سرمایہ داری کے مقاصد نہیں بلکہ ان کے عدم حصول یا ان کے حصول میں توازن قائم رکھنے میں ناکامی ہونا ہے۔ مثلاً اسلامک اکنامسٹس کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں آزادی کو فروغ دینے کے لیے جو اقدام روا رکھے جاتے ہیں ان سے سرمایہ دارانہ مساوات مجروح ہوتی ہے۔ مینیجر زیادہ سے زیادہ آزاد اور مزدور اس کے مقابلے میں زیادہ مجبور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسلامی نظام زندگی سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات اور ترقی وغیرہ کے حصول کی جدوجہد میں توازن پیدا کرتا ہے۔ زکوٰۃ کا نفاذ اور غیر اسلامی سود کا فاصلہ اسی توازنِ اہدافِ سرمایہ داری کا وسیلہ ہیں۔

مسلم ممالک کے سیکولر حکمران جانتے ہیں کہ تنفیذ نظام زکوٰۃ اور غیر اسلامی سود کو بتدریج اسلامی سودی معاہدات میں تبدیل کرنا سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ایک بہت تیز، آسان اور سستا کام ہے اور اس قسم کی اصلاحات کو اپنا کر تحریکاتِ اسلامی کی انقلابی جدوجہد کو غیرضروری اور نامعقول ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اور اسلامی جماعتوں کو عوامی پذیرائی میں کمی لائی جا سکتی ہے لہٰذا وہ اسلامی اکنامسٹس کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ اپنی جماعتوں میں اسلامک اکنامکس کے شعبے قائم کرتے ہیں۔ اسلامک بینک اور اسلامی سٹہ باز اداروں کو فروغ دیتے ہیں۔ اسلامی مشاورتی کونسلیں قائم کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے بعد ضیاء الحق، نمیری، مہاتیر نے یہ روش اختیار کی اور اسلامک اکنامسٹس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے خوب سیاسی فائدہ اٹھایا۔
مولانا مودودیؒ کی فکر کوئی مشرقِ وسطیٰ سے لے کر مشرقِ بعید کے کئی مسلم ممالک میں پذیرائی حاصل ہوئی اور جہاں جہاں بھی اس فکر کا اثر ہوا وہاں کی تحریکاتِ اسلامی کسی نہ کسی حد تک اسلامک اکنامسٹس کی فکر سے متاثر ہو کر سرمایہ دارانہ نظام کی اسلام کاری میں ملوث ہو گئیں۔ مولانا مودودیؒ کی طرح ان کی گفت گو میں ’’انقلاب‘‘ کا لفظ تو خوب استعمال کیا جاتا ہے لیکن جس انقلاب کی یہ جماعتیں تیاری کر رہی ہیں اور کم از کم ترکی میں انہوں نے یہ انقلاب برپا بھی کر دیا ہے، وہ ایک سرمایہ دارانہ انقلاب ہے۔ عملاً یہ جماعتیں سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں بن گئی ہیں جن کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا انہدام نہیں سرمایہ دارانہ عمل کی فراہمی ہے اور ترکی کے تجربے نے ثابت کر دیا کہ سیکولر سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کی طرح یہ اسلامی سوشل ڈیموکریت جماعتیں امریکی استعمار کی باج گزاری پر مجبور ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان اسلامک اکنامکس سے شدید متاثر ہوئی۔ اگر جماعت اسلامی کے انتخابی منشور دیکھے جائیں تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس اسلامی معاش کا کوئی ایسا تصور موجود نہیں جس کا تعلق اسلامی معاشی تاریخ سے ہو۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی جزوی اصلاح کر کے سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کو ہی جماعت اسلامی اسلامی معاشی نظام کا قیام تصور کرتی ہے۔ جو اصلاحات تجویز کی جاتی ہیں وہ سب اصلاً اور تاریخی طور پر سوشل ڈیموکریٹ اصلاحات ہیں اور ان کی تجویز کردہ اصلاحات کا ذکر جماعت اسلامی کی طرح دیگر سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں مثلاً پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے منشوروں میں شامل ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں کسی نظاماتی انقلابی تبدیلی کی خواہاں نہیں۔ ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۸ء تک اور ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۴ء تک موجودہ امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق خیبر پختون خوا کے وزیر خزانہ رہے۔ اس پورے دور میں وہ حکومت کی جانب سے سود لیتے بھی رہے اور سود دیتے بھی رہے۔ ان کی ۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۸ء تک کی کارکردگی کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے نہایت فراخ دلی سے سراہا۔ جناب سراج الحق جرمنی اور کئی دیگر یورپی ممالک میں خیبر پختون خوا کے لیے سرکاری اور نجی بھیک مانگتے پھرے۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے مخلص ترین خادم ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی معاشی تعلیمات اسلامک اکنامکس کے متعین کردہ اہداف یعنی افادیت، منافع اور ویلفیئر کی بڑھوتری کو ردّ کرتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں فرد اور معاشرتی سطح پر سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کو معاشی مقصد کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا تھا۔ کاروبار کا مقصد منافع کی بڑھوتری نہ تھا۔ صَرف کا مقصد افادیت کی بڑھوتری نہ تھا۔ کاروبار اور صَرف حصولِ رضائے الٰہی کا ذریعہ تھا اور رضائے الٰہی منافع کی بڑھوتری یا افادیت کی بڑھوتری کے ذریعے نہیں نفاق، جہاد اور فقر اختیار کر کے حاصل کی جاتی ہے۔ اسلام میں اقتصادی عمل کو حصولِ معاد کے لیے مرتب کیا جاتا ہے یعنی معاش کے ذریعے معاد کمانا۔ یہ تصور اسلامک اکنامکس کے لیے بالکل اجنبی ہے کیوں کہ اسلامک اکنامکس، اکنامکس ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے اور اکنامکس دیگر تنویری علوم کی طرح جاہلیت خالصہ ہے۔ 

اسلام سرمایہ دارانہ تصورِ عدل کو ظلم عظیم گردانتا ہے۔ بیسویں صدی میں سرمایہ دارانہ عدل کی معروف ترین تشریح رارٹی نے پیش کی۔ اس تصور کی بنیاد اس مفروضہ پر رکھی گئی ہے کہ ہیومن بینگ آزاد، خودمختار اور خودانحصاری ہے۔ ہر ہیومن بینگ کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے تصورِ خیر و شر اور اپنے اغراض و مقاصد خود متعین کرے اور ان اغراض و خواہشات کے حصول کے لیے ہر وہ عمل جائز ہے:

۰ جو دیگر تمام ہیومن بینگز اپنے اسی مساوی حق یعنی اپنی خود متعین کردہ خواہشات کی تکمیل کے حصول میں رکاوٹ نہ بنے۔

۰ معاشرتی وسائل اور ذرائع کی تقسیم ایسی ہو کہ سب سے کم مراعات یافتہ طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کی اجتماعی کارفرمائی کو اپنے لیے مفید سمجھے اور اس کا باغی نہ ہو جائے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تمام غیر جبری منتخب کردہ اہداف مساوی قدر رکھتے ہیں۔ کوئی عمل اور کوئی ہدف بذات خود اچھا ہے نہ برا۔ تمام اعمال مساوی قدر رکھتے ہیں۔ پس ان معنوں میں ان میں کوئی تقسیم کسی قدر کا وجود نہیں۔ رالز ایک مثال سے اس بات کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً ایک فرد کا تصورِ خیر یہ ہے کہ ایک علاقے میں گھاس کے تنکے گنے، دوسرے فرد کا تصورِ خیر یہ ہے کہ منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کی جدوجہد کی جائے۔ رالز کہتا ہے کہ دونوں تصورِ خیر مساوی قدر کے حامل ہیں۔ انہوں نے خود مختار ہیومن بینگز نے بلا اکراہ منتخب کیا ہے اور رالز کے متعین کردہ اصولِ عدل میں یہ تصورات متصادم نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی فعل یا شے کی کوئی بذاتہٖ قدر نہیں۔ کوئی شے یا فعل فی نفسہٖ اچھا ہے نہ برا۔

یہ تصورِ قدر اور عدل تعلیمات اسلامی کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام انسان کو ایک خود مختار، خودکفیل شیطان (ہیومن بینگ) تصور نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں تمیز کرنے کی صلاحیت بخشی ہے لیکن خیر و شر کا تعین خواہشاتِ نفسانی کی بنیاد پر ممکن نہیں۔ وحی کا نزول اسی لیے ضروری ہے کہ انسان کی کوئی صلاحیت ایسی نہیں جو اس کو خیر و شر متعین کرنے کے قابل بنائے۔ جب ہیومن بینگ خود خیر و شر متعین کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ شرک کرتا ہے۔ خواہشاتِ نفسانی کو اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ معیارات خیر و شر کے تابع کرنے کا نام عدل ہے اور خیر و شر کے معیارات کی ہیومن تخلیقیت کا دعویٰ کفر ہے۔

قدر، خواہشاتِ نفسانی میں نہیں بلکہ ان اوصافِ حمیدہ میں ہے جن کی نصوص میں نشان دہی کی گئی ہے یعنی ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان۔ اسلامی اقتصادیات کا دائرہ عمل یہ ہے کہ وہ ایسے ادارتی نظام کی تعمیر میں مدد دے جس کی کارفرمائی کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر عوام اور خواص کی زندگیوں میں یہ اوصاف حمیدہ فروغ پاسکیں۔ ہماری تاریخ میں یہ کوئی اجنبی کام نہیں بالخصوص علم فقہ، خاندان، بازار، نظام تمویل، تنظیم اراضی اور صنعت کاری کی ایسی تشکیل کے لیے رہ نمائی فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں اوصافِ حمیدہ فروغ پا سکیں۔ ان تعلیمات پر عمل پیرا وہی ہو سکتے ہیں جو معاش کو معاد کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہوں اور افادیت، ویلفیئر اور سرمایہ کی بڑھوتری کے سحر سے آزاد ہوں۔

اسلامک اکنامکس اس نوعیت کے سوالات نہیں اٹھا سکتی کیوں کہ وہ اکنامکس کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ وہ محض سرمایہ دارانہ نظام سے غیراسلامی سود کو منہا کرنے اور اس میں زکوٰۃ کو جوڑنے اور کچھ اور سوشل ڈیموکریٹ اقدام کرکے اس نظام کی اسلام کاری چاہتی ہے۔ چوں کہ اسلامک اکنامسٹس نے اکنامکس کا نظریاتی منہج قبول کر لیا ہے لہٰذا وہ نفسیاتی، میلانی، ادارتی صف بندی اور اقداری تبدیلی میں تعلق کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا سرمایہ دارانہ نظام کی معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے تناظر میں نفس مطمئنہ پرورش پا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے اسلامک اکنامکس اس لیے قاصر ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو اکنامکس کی طرح فطری تصور کرتی ہے۔ تنویری عقلیت کو جاہلیت خالصہ نہیں گردانتی اور اس کے پاس سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اصلاح کاری کی تجاویز وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کو وہ ناممکن تصور کرتی ہے۔

دورِ حاضر میں سرمایہ داری کے نظاماتی انہدام کا تصور کرنا ایک مشکل کام ہے بالخصوص ان اسلامی گروہوں کے لیے جنہوں نے اپنی اسلامی جدوجہد کو جمہوریت اور دستوریت میں مقید کر لیا ہے۔ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی غالب ہے اور معاشرتی زندگی کا محور اور مرکز سرمایہ دارانہ معاشی عمل جاری ہے۔ اس سے انفرادیت کی شناخت میں تبدیلی آئی ہے اور انسان ہیومن بینگ بنتا جا رہا ہے اور تصرف فی الارض کو زندگی کے مقصد کے طور پر قبول کرتا جا رہا ہے۔ معاشرتی زندگی میں مذہب غیرمعقول اور اجنبی نظر آتا ہے اور عمل کی توجیہ علوم اسلامی کی بنیاد پر نہیں جاہلیت خالصہ کی بنیاد پر مرتب کی جا رہی ہے۔ معاشرہ سیکولرہوتا جا رہا ہے اور مذہبی جماعتوں پر سیکولر معاشرتی دباؤ ہے کہ وہ اسلام کی ایک سیکولر تشریح اور ایک سیکولر جواز مرتب کریں۔ جمہوری دستوری اسلامی جماعتیں سیکولر ازم کی اسلام کاری کا جواز دینے پر مجبورہوتی جا رہی ہیں اور وہ خود سیکولر ازم کا شکار ہیں اور مذہبی حلقوں سے ان کی دوری مستقل بڑھتی جا رہی ہے۔

اسلامک اکنامکس سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت پہنچانے والی ایک نظریاتی معذرت خواہی ہے اور اس معذرت خواہی کی بنیاد پر پالیسی سازی کر کے سرمایہ داری کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طاقت ور ہوتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام میں اسلامی حکومتیں تو قائم کی جا سکتی ہیں اسلامی ریاست، اسلامی نظام اقتدار کبھی قائم نہیں کیا جا سکتا اور جو اسلامی حکومتیں قائم ہیں ان کو سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کر لیا جاتا ہے یا حکومت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اسلامی نظام اقتدار اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک ایسی معاشرتی حکمت عملی اپنائی جائے جس کے نفاذ کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کمزور ہوتے ہوئے بالآخر منہدم ہو جائے اور سرمایہ دارانہ طرز زندگی اختیار کیے رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے۔انہدام نظام سرمایہ داری اور تعمیر اقتدار اسلامی کے لیے جو کچھ ضروری ہے اس کی کچھ تفصیل پیش کرتا ہوں۔

۱۔ پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ اقتدار اسلامی کو قائم کرنے کی خواہش رکھنے والی جماعتیں سرمایہ دارانہ خیرات اور عطیات پر بتدریج انحصار کرنا ترک کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغل سلطنت کے سقوط کے بعد سے آج تک اسلامی جماعتوں نے معاشی ادارتی صف بندی کی کوئی کوشش نہیں کی۔ آج یہ بالکل ممکن ہے کہ ہم غیرسرمایہ دارانہ پیداواری اور تمویلی ادارہ قائم کریں۔ یہ غیرسرمایہ دارانہ معاشی ادارہ اسلامی جدوجہد کو خود کفیل اور خود انحصاری بنانے کا ذریعہ ہو اور اس طرح سے اسلامی جدوجہد کے معاشی وسائل اور اقتصادی ساکھ میں مستقل اضافہ ہوتا ہے اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرنے کی اہلیت بتدریج پیدا کرے۔

۲۔ بیش تر مسلم ممالک میں اور بالخصوص پاکستان میں غیرسرمایہ دارانہ معاشی ادارتی صف بندی کے مواقع وافر ہیں۔ پاکستان میں بیش تر کاروبار کا تعلق سود کے بازار سے ہے نہ سٹہ کے بازار سے۔ صرف دس فی صد پاکستانیوں کے بینکوں (حرامی اور اسلامی دونوں ) میں کھاتے ہیں۔ پھر بیش تر کاروبار کی پشت پر برادریوں کا نظام تحفظ موجود ہے۔ صوفیہ کرام کی محنت کے نتیجے میں برادری کی اور قبائلی زندگی میں اسلامی اقدار پیوست ہیں۔ بازار اور قبائلی زندگی کو اسلامی جدوجہد کا پشتیبان بنانا ایک ممکن کام ہے اور یہ کارنامہ علمائے ایران نے کر دکھایا اور بازار اور برادریوں کی طاقت کو صف بند کرنے میں ہی اسلامی انقلاب برپا کیا۔ پاکستان اور کئی دیگر مسلم ممالک میں اس نوعیت کی انہدام سرمایہ داری کی عوامی معاشی جدوجہد برپا کرنا ممکن ہے۔

۳۔ عراق، افغانستان، شام، مالی، نائیجیریا، یمن اور کئی مسلم ممالک میں مجاہدین اسلام نے سرمایہ دارانہ اقتدار کو معطل کر دیا ہے اور علاقائی سطح پر اسلامی اقتدار قائم کر دیا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام عموماً حالت جنگ میں ہی معطل ہوتا ہے بالخصوص ایسی جنگ میں جو غیرروایتی ہو۔ ۲۰۰۱ء سے جاری ہونے والی اس جنگ میں کہیں بھی امریکی استعمار مجاہدین اسلام کی قائم کردہ ریاست کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔اور مجاہدین اسلام کی ایک ایسی سپلائی لائن بنانے میں جو پوری دنیا میں مسلم ممالک میں بھی اور امریکا اور یورپ میں بھی پھیلی ہوئی ہو اسلامی جماعتوں کی معاشی خود انحصاریت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

لیکن اس نوعیت کے اقدامات صرف اسی وقت ممکن ہو سکتے ہیں جب اسلامی جماعتیں انہدام نظام سرمایہ داری کا عزم کریں لیکن اسلامک اکنامکس اسلامی جماعتوں کو اس قسم کا عزم کرنے سے باز رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اسی لیے اسے سعودی عرب، آئی ایم ایف، خلیجی ریاستیں اور مسلم جمہوری حکمران فروغ دے رہے ہیں۔ ان کو امید ہے کہ ان تعلیمات کو قبول کر کے اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہونے کو ناگزیر سمجھ کر اپنے آپ کو سیکولر نظام اقتدار میں سمو لیں گی۔

30.3۔ سرمایہ دارانہ نظام میں جماعت اسلامی کے انضمام کے وکیل پروفیسر خورشید احمد

پروفیسر خورشید احمد ۱۹۸۱ء سے لے کر آج تک نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں۔ آپ مولانا مودودیؒ کے قریبی دوست نذیر احمد قریشی کے صاحب زادے ہیں اور ہمیشہ مولانا مودودیؒ کی پسندیدہ ترین شخصیتوں میں شامل رہے اور جماعت کی پالیسی سازی میں پروفیسر خورشید احمد کی اہمیت کی یہ ایک خاص وجہ رہی ہے۔ پروفیسر صاحب اپنے دورِ طالب علمی ہی میں جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے اور ۱۹۵۲ء میں ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے ۔۱۹۵۴ء سے لے کر آج تک آپ جماعت کے کئی اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ۲۰۱۳ء کے جماعت کے انتخابی منشور کی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ آپ حکومت پاکستان کے وزیر اور سینیٹر رہے اور آصف علی زرداری نے آپ کو حسن کارکردگی کا تمغہ بھی دیا۔ ملکہ الزبتھ سے آپ کو او بی ای کا خطاب ملا اور سعودی بادشاہ نے آپ کو فیصل ایوارڈ سے نوازا۔ جامعہ ملایا کوالالمپور سے آپ کو اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری بھی دی گئی۔

پروفیسر خورشید عالم دین نہیں، نہ مغربی علوم پر کوئی خاص دست رس رکھتے ہیں۔ آپ کی تحریرات میں فلسفیانہ بحثیں اور مغربی فلاسفہ کا نقد بالکل نہیں ملتا۔ ان تحریروں میں تکنیکی اکنامکس بحثیں یا معاشرتی آدرشوں کاتجزیہ بھی عموماً موجود نہیں ہوتا۔ آپ کی فکری توجہ سیاسی حالات حاضرہ پر مرکوز ہے۔ آپ کا نظریاتی رجحان مطلب پرستی کی طرف مائل رہا۔ آپ جماعت اسلامی کے مخلص ترین کارکنوں میں ہمیشہ شامل رہے ہیں اور جماعت کے نظم کا استحکام اور موجودہ نظام اقتدار میں جماعت کے اثر و رسوخ کو فروغ دینا آپ اپنا فرض اولین شمار کرتے ہیں۔ چوں کہ ایک فکری مصلحت ہے لہٰذا جماعت میں جس موقع پر جو موقف اختیار کرے پروفیسر خورشید اصولی بحثوں میں الجھے بغیر اس کی موثر مطلب پرست توجیہ بیان کرتے ہیں۔یہی جماعت کے حلقوں میں پروفیسر خورشید کی مقبولیت کی اصل وجہ ہے۔ آپ مولانا مودودیؒ کے ایسے مقلد ہیں جو مولانا کی آراء کی چھوٹی سے چھوٹی ترمیم یا تنسیخ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان میں جب بھی اس نوعیت کی کوشش کی گئی تو ارکان کی بڑی اکثریت نے پروفیسر خورشید کاساتھ دیا۔ آپ کے لاتعداد مخالفین ڈاکٹر اسرار احمد، امین الحسینی، ڈاکٹر کلیم صدیقی، جناب سلیم کیانی، عبدالرحمان بزمی وغیرہ خامو ش ہونے یا جماعت چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے۔

پروفیسر خورشید نے مولانا مودودیؒ کی فکر میں ترمیم نہیں اس کی توضیح کی ہے۔ مولانا مودودیؒ کے دو بنیادی مقدمات تھے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور مغربی علمیت جاہلیت خالصہ ہے۔ لیکن ان دونوں اجتہادات کی عملی تشریح مولانا مودودیؒ کی فکر میں نہیں ملتی۔آپ نے جو جماعت بنائی اس کی ہیئت اور ساخت تاریخ اسلامی میں معتبر اسلامی جماعتوں، مجاہدین کی جماعتوں اور صوفیہ کی جماعتوں سے مماثلت نہیں رکھتی بلکہ اس کا دستور، ضوابط اور اصولِ کارفرمائی اسی جمہوری دستوری فلسفہ کے عکاس تھے جس کی بنیاد پر بیسویں صدی میں فاشسٹ اور کمیونست جماعتیں تشکیل دی گئی تھیں۔اسی طرح آپ نے اسلامی ریاست کا جو تصور پیش کیا وہ لاک، جیفرسن اور مونٹسکیو کے تصورات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تھا اور اس میں امام ماوردی، شاہ ولی اللہ اور امام ابن خلدون رحمہم اللہ کی سیاسی فکر سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ غلبہ دین کے لیے جو تصور مولانا مودودیؒ نے وضع کیا وہ اصولاً کلامی اور عملاً جمہوری تھا اور یہ تصورِ غلبہ دین بھی تاریخ اسلامی میں بالکل اجنبی ہے۔ 

مولانا مودودیؒ نے اپنے اجتہادات کی جو عملی تشریح مرتب فرمائی اس کی بنیاد پر آپ کی فکر کو مغربی طرز تفکر میں سمو دینا اور مولانا مودودیؒ کے افکار کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور سرمایہ دارانہ طرز زندگی سے سمجھوتا کرنا مولانا مودودیؒ کی فکر کی منطقی توضیح ہے۔ مولانا مودودیؒ اصولاً سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی واضح طور پر تردید کرتے ہیں بالخصوص اپنے رسالہ ’’انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلام میں حل‘‘ میں لیکن سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کی کوئی تجویز آپ کے یہاں نہیں ملتی لہٰذا آپ کے فکری معتقدین کے لیے یہ ایک فطری تقاضا بن جاتا ہے کہ ممدوح کی سرمایہ داری کی اصولی تردید کی جائے اور آپ کی عملی تصدیق سے تطبیق کی راہ تلاش کریں۔ یہ مولانا کی فکر سے وابستگی اور اخلاص کا منطقی تقاضا ہے۔ جو لوگ اس قسم کا کام کرتے ہیں وہ مولانا مودودیؒ کے مخلص ترین پیرو ہیں اور ان پر جماعت اسلامی پورا بھروسا اور انحصار کرتی ہے کیوں کہ جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ ہی کی جماعت ہے۔

مولانا مودودیؒ کی فکر کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی اسلام کاری جماعت اسلامی کے دو نائب امرا ء جناب خرم جاہ مراد اور پروفیسر خورشید احمد نے کی۔ یہ دونوں مولانا مودودیؒ کے بعد جماعت اسلامی میں سب سے زیادہ بااثر مفکر اور پالیسی ساز رہے ہیں۔ ذیل میں میں پروفیسر خورشید کی سرمایہ داری کی اسلام کاری کی ایک کاوش کو اختصار کے ساتھ بیان کروں گا جو آپ کے مضمون "Economic Development in an Islamic Framework" سے ماخوذ ہے اور جس کو سعودی پبلشنگ ہاؤس نے اپنی کتاب "Islamic Perspective"میں ۱۹۷۹ء میں شائع کیا ہے۔ پروفیسر خورشید کہتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک غیرترقی یافتہ ہیں اور اپنے مادی اور انسانی وسائل سے کماحقہٗ مستفید نہیں ہو رہے۔ ان ممالک میں عام آدمی کاسطح زندگی کم تر ہے اور غربت عام ہے۔ تقسیم دولت اور آمدنی غیرمساویانہ ہے۔ علاقائی نامساویت بھی عام ہے اور سماجی شعبہ تعلیم و صحت وغیرہ میں سرمایہ کاری پیداواری شعبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ مسلم ممالک خودانحصاری ارتقا کرنے سے قاصر ہیں اور ان کا معاشی دارومدار مغربی ممالک پر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک میں مادی وسائل وافر ہیں لیکن اس کے باوجود مسلم ممالک غریب اور کم زور ہیں۔ مسلم ممالک نے کوئی مربوط اور معاشی ترقی کو مہمیز دینے والی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ترقیانہ مغربی ممالک کی نقالی کو معاشی ترقی حاصل کرنے لیے ایک کافی طریقہ ہے۔ انہوں نے جو معاشی پالیسیاں اختیار کی ہیں وہ پروفیسر خورشید احمد کے مطابق ان پالیسیوں کی اقداری بنیاد فراہم کرنے اور ان کے نفاذ سے اسلامی معاشرتی اور ریاستی اثر متاثر ہوتا ہے۔ حقیقت میں اسلام معاشی ترقی کو مہمیز دینے کے تمام وسائل فراہم کرتا ہے لیکن معاشی ترقی کے حصول کو فراہم معاشرتی عدل سے مشروط کرتا ہے۔ اسلامی ترقیاتی پالیسی کو ان اقدار پر مبنی کرنا چاہیے جو قرآن و سنت سے (اسلامی روایات سے نہیں) ماخوذ ہیں۔ یہ سوال کہ کیا اسلامی تاریخ میں کبھی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، خلافت راشدہ کے زمانہ میں یا مسلم مملکتوں کے دور میں، معاشی ترقی ایک معاشرتی مقصد کے طور پر قبول کیا گیا؟ یہ ایک مہمل اور لایعنی سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے، یہ نہیں کہ جمہور علما نے نصوص کے کیامعنی متعین فرمائے ہیں۔

بقول پروفیسر خورشید ہمیں سرمایہ داری کی لبرل اور سوشلسٹ تشریح سے ایسے عناصر دریافت کرنا چاہییں جو تجربہ سے ہیومینٹی کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں اور جن کو اسلامی تناظر میں پیوست کیا جا سکتا ہے۔ یہی اسلامی ترمیمیت کا بنیادی مفروضہ ہے۔ اشتراکی اور لبرل سرمایہ دارانہ ممالک نے جو ترقیاتی حکمت عملی اپنائی ہے وہ کئی وجوہات سے مسلم ممالک کے لیے موزوں ہے۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ یہ حکمت عملی صنعت کاری بذریعہ بچتوں میں اضافہ پر زور دیتی ہے اور مسلم ممالک کے مادی وسائل اور بین الاقوامی سرمایہ دارانہ معیشت میں مسلم ممالک کی ساختی حیثیت اس نوعیت کی سرمایہ دارانہ حکمت عملی اپنانا ممکن ہے۔ مسلم ممالک کو اس علمیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے جو ترقیاتی اکنامکس نے پیدا کی ہے۔ ترقیاتی اکنامکس کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ ہمہ جہت نہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ ارتقا کو محض ایک معاشی عمل تصور کرتی ہے اور سرمایہ دارانہ ارتقا کے معاشرتی، سیاسی اور انفرادی مظاہر پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتا۔ لیکن بقول پروفیسر خورشید احمد یہ کمزوری رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے اور اب انسانی سرمایہ کاری کی تعمیر پر زور دیا جا رہا ہے۔ انسانی سرمایے کی تشکیل کو مادی سرمایے کی تشکیل سے کم اہم نہیں قرار دیا جاتا۔ پروفیسر خورشید اس بات کو سراہتے ہیں کہ سرمایہ کا یہ وسیع تصور (کہ اس کے وجود کا ذریعہ مادی اورہیومن یعنی شیطانی دونوں ہو سکتے ہیں) مرتب کیا جا رہا ہے۔ ڈویلپمنٹ اکنامکس کے بہت سے ناقد مغربی ممالک میں مصروف کار ہیں اور سرمایہ دارانہ ارتقا کی جو مربوط اور وسیع تشریح مرتب کر رہے ہیں اسی سے مسلم اکنامسٹس بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ بقول پروفیسر خورشید مسلم اکنامسٹس کو تجرباتی رویہ اختیار کرنا چاہیے اس کو اقدار ی بھی ہونا چاہیے اور مطلب پرست بھی۔ مطلب پرستی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اقدار اور اہداف کے حصول کی جدوجہد اس طرح مرتب کریں کہ ان کا حصول مجوزہ نظاماتی حقائق کے تناظر میں ممکن ہو۔ اہداف اور اقدار کی وہ تشریح اور ان کے حصول کی اس نوعیت کی جدوجہد جو نظاماتی حقائق کی نافذ کردہ ممکن الحصول کامیابی کی حدود کو نظر انداز کر دے ’’غیرحقیقت پسندانہ‘‘ اور مضر ہے۔ 

اسلام نظریاتی تغیر کا قائل ہے اور اس نظاماتی تغیر کا مقصد اسلامی اقدار کا حصول ہی ہے لیکن یہ معاشرتی تغیراتی عمل بتدریج اور اصلاحی ہونا چاہیے۔ اس تغیر کے نتیجے میں مسلمان ممالک ایک سطح تواز ن سے ایک دوسری سطح توازن تک خاموش اور بے ضرر مراجعت کریں گے۔ یہی اسلامی انقلاب ہے اور اسی انقلاب کی خصوصیت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام حیات میں ارتقائی ترمیم اور اصلاح پر منتج ہوتاہے۔بقول پروفیسر خورشید معاشی ترقی کا مقصد لوگوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ معاشرتی مادی وسائل کو زیرتصرف لا کر ایک اونچا معیارِ زندگی حاصل کر سکیں۔ معاشی ارتقا معاشرتی ارتقا کا ایک لازمی جزو ہے اور معاشرتی ترقی کا مقصد ہیومن ڈویلپمنٹ ہے۔ اسلامک ڈویلپمنٹ کا تصور بقول پروفیسر خورشید قرآنی تصورِ تزکیہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ بقول پروفیسر خورشید تزکیہ سے مراد پاکیزگی اور بڑھوتری ہے۔ تمام انبیاکرام علیہم السلام کا مقصد انسانوں کا تزکیہ کرنا تھا تاکہ ان کے تعلقات دوسرے انسانوں سے، مادی وسائل سے، ریاست سے پاکیزگی اور بڑھوتری کا ذریعہ بن سکیں۔

Tazzkiyah is purification plus growth. The mission of all the prophets of God was to perform the tazkiyyah of man in all his relations with God, with man, with the natural environment and with the state.

یعنی تمام انبیاکرام علیہم السلام معاشی بڑھوتری کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ وہ سب سرمایہ دارتھے۔ بقول پروفیسر خورشید تزکیہ کا یہ عمل جو تمام انبیاکرام علیہم السلام نے جاری رکھا اس سے فلاح حاصل ہو گی اور فلاح سے مراد اخروی نجات اور تصرف فی الارض دونوں ہیں۔

تزکیہ اور فلاح کی یہ تشریح تاریخ تفسیر میں بالکل اجنبی ہے۔ راسخ العقیدہ علما بشمول مولانا مودودیؒ نے کبھی بھی تزکیہ اور فلاح کو بڑھوترئ سرمایہ اور حصولِ دنیاوی لذات کا ذریعہ نہیں بتایا بلکہ ہمیشہ دنیا کے ہیچ ہونے اور فقر کو غنا پر ترجیح دینے کی تعلیم دی لیکن پروفیسر خورشید ایک ترمیمی مفکر ہیں اور ترمیمی مفکرین نصوصِ صحیحہ سے اپنے مطلب کے معنی اخذ کرتے ہیں اور پروفیسر خورشید تو pragmatistیعنی مطلب پرست بھی ہیں اور مطلب پرستی کا تقاضا ہے کہ مفاہیم کو توڑ مروڑ کر اپنا الو سیدھا کرو۔ پروفیسر خورشید ویلفیئر کی بڑھوتری کو مقاصدِ شریعت میں شامل کرتے ہیں اور اسے ایسا عمل گردانتے ہیں جو دنیاوی اور اخروی زندگی دونوں پر محیط ہے۔ بقول پروفیسر خورشید اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مادی وسائل پر تصرف حاصل کر کے بھرپور لذت اٹھاؤ اور آمدنی اور دولت کی جو تقسیم ہو وہ ان معنوں میں منصفانہ ہو کہ تمام لوگوں کو تصرف فی الارض سے بھرپور حصول لذات کا یکساں موقع مل سکے۔ اگر ان دونوں اصولوں کی پابندی کی گئی تو نظام عدل قائم ہو گا اور ان سے انحراف کفر اور ظلم ہے۔ عدل اور ظلم اور کفر کی یہ مطلب پرست تشریح بھی تاریخ میں بالکل اجنبی ہے اور ان اصطلاحات کی اجماعی تفہیم سے بالکل مختلف اور متصادم ہے۔ پروفیسر خورشید کے نظریہ کے مطابق بڑھوترئ سرمایہ کا عمل اور روحانی معرفت کے حصول بالکل ہم آہنگ ہیں۔ تاریخ سے تو ثابت ہے کہ ہمیشہ اور ہر جگہ بڑھوترئ سرمایہ کے نتیجے میں روحانی پستی کی گراوٹ میں مستقل اضافہ ہوتا رہا ہے۔پروفیسر خورشید اسلامی معاشی پالیسی کے مندرجہ ذیل اہداف بتاتے ہیں:

۱۔ ہیومن کیپٹل کا فروغ

۲۔ پیداوار میں مستقل اضافہ

۳۔ معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ اور لوگوں کی مادی، روحانی اور سماجی ارتقا اور well being

۴۔ توازنی ارتقا یعنی پیداوار اور تقسیم دولت اور وسائل کی انفرادی، علاقائی اور شعبہ جاتی توازنی تقسیم یا بڑھوترئ سرمایہ کاری کا فروغ

۵۔ ٹیکنولوجیکل کا اختراعی استعمال

۶۔ مغرب پر معاشی انحصار کی کمی اور مسلم دنیا میں خود کفالت اور معاشی اشتراک عمل کا فروغ

۶۔ اکنامکس میں تکنیکی ترقی تاکہ مندرجہ بالا اہداف کے حصول کے لیے موزوں سرمایہ کارانہ منصوبہ بندی، اجرتی اور محصولاتی پالیسی اورعلاقائی توازن کو فروغ دینے والی حکمت عملی تفویذ کی جا سکیں۔ 

۷۔ ایسی مقامی ریاستی ادارتی صف بندی جو بڑھوترئ سرمایہ کے عمل کو فروغ دے سکے اور نجی شعبہ کے وسائل اوراداروں کو وہ حوصلہ افزائی فراہم کر سکے جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کا عمل تیزی سے بڑھ سکے۔

مولانا تقی عثمانی کی طرح پروفیسر خورشید بھی ایک ایسے ترمیمی مفکر ہیں جنہوں نے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں اسلام کے انضمام کی راہ ہم وار کی ہے۔ مولانا تقی عثمانی کی طرح پروفیسر خورشید بھی مطلب پرست ہیں اور ان کے کام کی افادیت کا مغرب مداح ہے۔ ان کو ملکہ برطانیہ اور سعودی بادشاہوں نے خطابات اور انعامات سے نوازا ہے اور ان کے کام کو مغرب میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ سیاسی قائدین کو امید ہے کہ ترمیمی اسلامی مفکرین کے ذریعہ مسلم دنیا میں وہ مجاہدین اسلام کومعاشرتی اور علمیاتی سطح پر شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور مطلب پرست ترمیمی اسلامی مفکرین مغرب کے اس احساس سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔

31۔ سرمایہ داری کے انہدام کی حکمت عملی

میں نے اس کتاب میں مولانا مودودیؒ کے اجتہاد ’’مغرب جاہلیت خالصہ ہے‘‘ کی ایک تشریح پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ میری رائے میں مغرب جاہلیت خالصہ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی جس علمیت اور جن عقائد کی بنیاد پر تخلیق کیے گئے ہیں وہ جاہلیت خالصہ ہیں۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی اختیار کرنے والوں کا بنیادی عقیدہ لاالہ الا انسان ہے۔ انسان سے وہ مراد ’’ہیومن بینگ‘‘ کی لیتے ہیں یعنی ایسی انفرادیت جو اپنے نفسِ امارہ کے احکامات کی اطاعت کے ذریعہ ساری کائنات پر اپنا مکمل تسلط قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ نفسِ امارہ کی غیرمشروط اتباع کیسے ہو اس کی تفصیل تنویری اور رومانوی علمیات اور ان کی تشریحات بیان کرتی ہیں۔ اسی علمیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کا تحفظ اور غلبہ ممکن ہوتا ہے اور وہ شیطانی روحانیت وجود انسانی میں حلول کر جاتی ہے جو اس کو ابلیس بنا دیتی ہے یعنی ہیومن بینگ۔
یہ ایک تاریخی حادثہ ہے کہ یہ ابلیسی روحانیت اور علمیت مغرب میں غالب آ گئی۔ آٹھویں صدی سے لے کر گیارہویں صدی عیسوی تک ابلیسیت کا یہ حملہ بلادِ اسلامیہ پر تھا اور چار صدیوں تک علمائے کرام اور صوفیہ عظام معتزلہ، قدریہ اور دیگر گمراہ فرقوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے اور اس کو مسلم دنیا سے مکمل طور پر نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج کل یہ ابلیسی روحانیت بالکل مشرق بعید یعنی چین، جاپان، کوریا، ویت نام میں بھی فتح یاب نظر آتی ہے اور اس کے مقابلے میں وہاں کی قدیم روحانیت اور علمیت بالکل پسپا نظر آتی ہے۔ اور وہاں نہایت تیزی اور یک سوئی سے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی اپنایا جا رہا ہے اور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں چینی، جاپانی اور کوریائی تہذیبیں ضم کی جا رہی ہیں اور دورِ حاضر کے سیاسی مدبرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ موجودہ صدی کے وسط تک سرمایہ دارانہ ریاستی اور مالیاتی نظام کا مرکز امریکا سے منتقل ہو کر مشرق بعید ہو جائے گا۔ لہٰذا غلبہ دین کی جدوجہد مغرب کے غلبے کے خلاف جدوجہد نہیں ۔ سرمایہ دارانہ علمیت، روحانیت ، طرز اور نظام زندگی کے انہدام کی جدوجہد ہے۔ مغرب اور ہندوستان سے تو ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ وہ بالآخر مسلمان ہو جائیں گے اور کیوں نہ ہو آج کل مجاہدین اسلام کی صفوں میں تیزی سے مغربی ممالک سے آنے والے سرفروش رضاکار شامل ہو رہے ہیں۔

31.1۔ سرمایہ داری سے نبرد آزمائی کی ضرورت کے احساس کا فقدان

انقلابِ ایران کے بعد سے مجاہدین اسلام نے کئی ممالک میں سرمایہ دارانہ اقتدار کو پیچھے دھکیلا اور یہ عمل غلبہ دین کی جدوجہد کا دورِ حاضر میں سب سے کامیاب عمل ہے لیکن یہ عمل تخریبی ہے تعمیری نہیں۔ انقلابِ ایران کے علاوہ اس نوعیت کے تجربات عموماً عوامی پذیرائی سے محروم رہے ہیں اور مجاہدین کی سیاسی کامیابی کے نتیجے میں مجموعی طور پر سرمایہ دارانہ آدرش (حقوق، جمہوریت، ترقی، سائنس) غیرمقبول اور غیر معتبر ثابت نہیں کیے جا سکے۔ اس کے دو نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ مجاہدین اسلام کا غلبہ سرمایہ دارانہ نظاماتی سرحدوں تک محدود رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی مراکز یعنی فنانشل مارکیٹس، کارپوریشن، ریاستی ادارے، شہر وغیرہ عموماً اس نوعیت کی جدوجہد سے متزلزل نہیں ہوتے۔ دوم، جو ریاستیں اسلامی جدوجہد کی بنیاد پر قائم ہو جاتی ہیں انہیں عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے مشروط انضمام پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایران جو ایک ری پبلک ہے کئی عالمی سرمایہ دارانہ اداروں کا ممبر بننے اور اپنی نیوکلیئر استعداد کو فروغ دینے کی تحدید کرنے پر مجبور ہے۔ یا پھر افغانستان، چیچنیا اور صومالیہ کی طرح ان کو وہاں کے عوام کی امداد کے ذریعے ختم کر دیا جاتا ہے۔

تحاریکِ مجاہدینِ اسلام کی اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ان کی انقلابی تسخیر میں انقلابی تعمیریعنی معاشرتی اور ریاستی جدوجہد سے معاونت اور تمام اسلامی معاشرتی اور ریاستی قوتیں (خواہ دفاعی خواہ اقدامی) مجاہدین اسلام کی پشتیبان بن جائیں۔ دورِ حاضر میں تحریک اسلامی کے چار عناصر پوری دنیا میں موجود ہیں: مزکی اور مبلغین؛ مدرسین؛اسلامی سیاسی کارکن؛مجاہدین۔

مزکی عموماً صوفیہ عظام کے حلقہ جات پر مبنی ہیں گو کہ ان میں عوامی جماعتیں پاکستان میں تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی بھی شامل ہیں۔ ان کی جدوجہد کا مقصد نفوس کی پاکیزگی کو فروغ دینا اور اسلامی انفرادی کردار سازی سے ہے۔ اسلامی رسوم و رواج کو فروغ دے کر یہ ایسی معاشرتی فضا پیدا کرنے کی جستجو کرتے ہیں جس میں اسلامی روحانیت اور اسلامی طرزِ زندگی فروغ پائے۔ مدرسین علما کے گروہ ہیں۔ ان کا بنیادی وظیفہ اسلامی علمیت کا تحفظ ہے اور انہوں نے علوم اسلامی کو سرمایہ دارانہ تنویری اور رومانوی علمیت کی غلاظت سے محفوظ رکھنے کے لیے فقید المثال کارنامہ انجام دیا ہے جس کی کسی دوسرے مذہب کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اور ان معنوں میں علمائے اسلام نے اپنے آپ کو انبیاکرام علیہم السلام کا وارث ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ تنویری اور رومانوی علمیت نے آج کے دور میں ہر مذہبی علمیاتی آدرش کو منتشر اور مفلوج کر دیا ہے سوائے اسلام کے۔ اسلامی علمیت نہ صرف اپنی نصوص میں تاریخی بنیادوں پر محفوظ ہے بلکہ اس بات کی صلاحیت رکھتی ہے کہ اپنی بنیادوں پر تنویری اور رومانوی علمیت کو غیرمعتبر اور غیر معقول دو اور دو چار کی طرح ثابت کر دے۔ اس بات سے انکار ناممکن ہے کہ دورِ حاضر میں سرمایہ دارانہ تہذیب کو واحد نظاماتی وجودی خطرہ اسلام سے ہے کسی اور تہذیب اور اجتماعیت سے نہیں۔ پوسٹ ماڈرن ازم سے بھی نہیں کیوں کہ تنویری عقلیت کی نامعقولیت ثابت کرنے کے باوجود پوسٹ ماڈرنسٹ آدرش تنویری اقدار یعنی آزادی، مساوات اور ترقی کو جمالیاتی بنیاد پر قبول کرتے ہیں۔

اسلامی سیاسی کارکن، اسلامی اقدار و روایات اور تعلیمات کے نظاماتی تحفظ اور ان کے دائرہ کار میں وسعت پذیری کو فروغ دینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مزکی، مبلغین اور مدرسین نے ان مسائل کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں جو سرمایہ دارانہ غلبہ کے نتیجہ میں پیدا ہو رہے ہیں۔اسلامی سیاسی جماعتیں ریاستی سرمایہ دارانہ دست برد سے غافل ہیں۔ وہ اسی نظاماتی سیاسی تناظر میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ وہ جمہوریت کو اسلامی جمہوریت، نیشنل ازم کو مسلم قوم پرستی، بینک کاری کو اسلامی بینک کاری، ہیومن رائٹس کو حقوق العباد میں ڈھالنے کی جستجو کر رہی ہیں۔

مجاہدین اسلام انقلاب اسلامی کا ہراول دستہ ہیں۔ وہ استعماراوراس کے ایجنٹوں سے قتال کر رہے ہیں۔ ایک پھیلتے ہوئے دائرے میں سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کو کسی نہ کسی حد تک اور کسی نہ کسی عرصہ تک کے لیے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو تے جا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے غلبہ کو سب سے زیادہ نقصان مجاہدین اسلام کی جدوجہد سے ہی پہنچ رہا ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ یہ جدوجہد تسخیری ہے تعمیری نہیں۔

تحریکاتِ اسلامی کے یہ چاروں دھارے اس بات سے واقف نہیں کہ ان کا مقابلہ نظام سرمایہ داری سے ہے۔ بیش تر گروہ اپنا اصلی حریف یہودیت اور عیسائیت کو سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عیسایت، یہودیت اور ہندومت سرمایہ دارانہ نظام میں سمو لی گئی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی جدوجہد ہی عیسائیت اور یہودیت اور ہندومت سے مقابلے کا اصل میدان ہے۔سرمایہ دارانہ علمیاتی اور نظاماتی تناظر کو قبول کرتے ہوئے یہودیت اور عیسائیت مخالف جدوجہد ایک فعل عبث اور لایعنی عمل ہے۔ سرمایہ دارانہ علمیت کو قبول کرتے ہوئے اور سرمایہ دارانہ نظام میں انضمام حاصل کر کے یہودیت اور عیسائیت سے مقابلہ کرنے کا مطلب اسلام کو یہودیت اور عیسائیت بنا دینے کے علاوہ اورکچھ نہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام سے نبردآزمائی کی لازمیت سے عملی انکار ہماری اس علمی کمزوری کی نشان دہی کرتا ہے کہ ہم ابھی سرمایہ دارانہ علمیت، طرز اور نظام زندگی کا کوئی محاکمہ مرتب نہیں کر سکے ہیں۔ یہ کتاب اسی کمزوری کو رفع کرنے کی ایک ابتدائی کو شش ہے۔ اور یہ بھی ایک نہایت ناقص کوشش ہے کیوں کہ اس میں کسی سائنس دان، ریاضی دان، ٹیکنولوجسٹ، آرٹسٹ، شاعر، دست کار، جمالیاتی مفکر، موسیقار، نفسیاتی ماہر، لسانیات کے ماہر، میڈیا اسپیشلسٹ ، قانون دان وغیرہ کی فکر کا کوئی تجزیہ موجود نہیں اور یہ تمام جاہلی علوم سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی آدرشوں کی ترتیب اور تشریح میں کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ان جاہلی علوم سے مطلقاً ناواقف ہوں لہٰذا سرمایہ دارانہ علمیت اور نظام زندگی کی جو اندرونی تنقید میں نے مرتب کرنے کی کوشش کی وہ ایک نامکمل اور محدود تنقید ہے۔

پھر سب سے اہم کمزوری اس کتاب کی یہ ہے کہ میں صرف ناظرہ قرآن مجید پڑھاہوا ہوں اور دیگر اسلامی علوم سے بالکل ناواقف ہوں لہٰذا یہ تحریک اسلامی سے وابستہ ایک ایسے عام کارکن کی تحریر ہے جو شدید جذباتی اور عصبیاتی طور پر تو اسلامیت کا اظہار کر سکے لیکن جس کو اسلامی علمیت کی ہوا بھی نہیں لگی۔ یہ کتاب کسی معنی میں بھی سرمایہ دارانہ علمیت تنویری اور رومانوی علمیت کی اسلامی تنقید نہیں کہی جا سکتی۔

سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی سے مقابلہ سرمایہ دارانہ علمیت کی اسلامی تنقید مرتب کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ علمائے کرام کی اہم خاص ذمہ داری ہے کہ اس کام کا بیڑا اٹھائیں اور دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں وہ وسعت پیدا کریں جس کے نتیجے میں ایسے علما تیار ہوں جو مغربی فکری اساس تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں اورعلوم اسلامی تفسیر، فقہ تاریخ، کلام اور تصوف کے منہاجی احاطہ میں رہتے ہوئے سرمایہ دارانہ علمیت پر مبسوط اور جامع اسلامی تنقید مرتب کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ یہ ایک طویل المدت کام ہے لیکن ناگزیر ہے۔ اگر علما نے یہ ذمہ داری قبول نہ کی تو سرمایہ دارانہ علمیت کا غیرمعتبر ، نامعقول اوراس کا جاہلیت خالصہ ہونا ثابت نہ کیا جا سکے گا اور عوام تو ایک طرف خود علما کی صفوں سے اسلامی بینک کار، مسلم نیشنلسٹ، اسلامی دستور ساز وافر تعداد میں برآمد ہوتے رہیں گے۔

علماکرام انبیا کرام کے وارث ہیں۔ یہ ہم جیسے جاہلوں کا منصب نہیں کہ مسلمانوں کو بتائیں کہ جاہلیت کیا ہے، کفر کیاہے ، نفاق کیا ہے۔ یہ تو علما کا فرض ہے کہ وہ مزکیوں ، مبلغین، اسلامی سیاسی کارکنوں اور مجاہدین کو یہ بتائیں کہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی خالص جاہلی علمیت کا مظہر ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی علمیاتی منہج کے تناظر میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی فلسفیانہ، سیاسی، معاشرتی اور معاشی فکر کا اسلامی نقد مرتب کیا جائے۔ اس کام کی ابھی تو ابتدا بھی نہیں ہوئی ہے اور اس ضمن میں سب سے بڑی کمزوری علوم سیاسیہ ہے۔ مدارس کے نصاب میں امام ماوردی، امام ابویعلیٰ، امام ابن تیمیہ اور امام غزالی رحمہم اللہ کی سیاسی تحریروں سے بالکل استفادہ نہیں کیا جاتا اور اس کے نتیجے میں مولانا مودودیؒ جیسا راسخ العقیدہ انقلابی متکلم تک سرمایہ دارانہ سیاسی فکر کو فطری سمجھنے لگا اور اسلامی سیاسی تاریخ کو سرمایہ دارانہ سیاسی فکر کے تناظر میں مرتب کرنے لگا۔ قدیم اسلامی سیاسی ائمہ کی فکر کے احیا کے بغیر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اسلامی جدوجہد کی نظریاتی بنیادیں نہیں رکھی جا سکتیں۔

اشد ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت کا اسلامی تناظر میں نقد مرتب کیا جائے تاکہ ترمیمیوں کے لیے یہ ناممکن ہوجائے کہ وہ اسلام کو سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کرنے کا جواز پیش کریں۔ ترمیمی کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں بہت سی خوبیاں بھی موجود ہیں مثلاً قانون کا احترام، تحقیق اور مہمات میں ثابت قدمی، تنظیم کا استحکام وغیرہ۔ یہ خوبیاں ہر غالب تہذیب میں اس کے دورِ عروج میں پائی جاتی ہیں۔ اس قسم کی خوبیوں کی نشان دہی قدیم بابلی، مصری اور ایزٹک (AZTEC) تہذیبوں میں بھی کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان خوبیوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون کی پابندی سرمایے کی بڑھوتری کوممکن بناتی ہے۔ سرمایہ دارانہ انتظامی تنظیم کے استحکام کا مقصد سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو وسعت دینا ہے۔ سرمایہ دارانہ علمیت اور تحقیق کو فروغ دینے کا مقصد کائنات پر ہیومن (شیطانی )تسلط قائم کرنا ہے۔
اگر مسلمانوں میں آج یہ خوبیاں موجود نہیں تو اس کی وجہ ایک یہ ہے کہ وہ آج مغلوب اور لاچار ہیں؛ علمی طور پر بھی، معاشرتی طور پر بھی، سیاسی طور پر بھی۔ اپنے دورِ عروج میں مسلمانوں میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ان خوبیوں کو فروغ دینے کے لیے نہ سرمایہ دارانہ علمیت کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے نہ سرمایہ درانہ طرز زندگی کو نہ سرمایہ دارانہ نظام کو۔ یہ خوبیاں مسلمانوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جدوجہد کو مہمیز دینے سے پیدا ہوں گی۔

اگر ہمارا مدعا سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا انہدام ہے تو ہمیں سرمایہ داری کی خوبیوں پر نہیں اس کی خامیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ آج سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی گرفت عالمی ہے۔ کوئی ایسی معاشرتی یا ریاستی گنجائش موجود نہیں جہاں سرمایہ دارانہ نظام زندگی یا تو غالب نہ ہو یا غالب ہونے کی جدوجہد نہ کرے اور کسی اور نظام زندگی کے غلبہ کے لیے چھوڑ دینے پر آمادہ ہو جائے۔

جیسا کہ دورِ حاضر کے مشہور سیاسی فلسفی Mesazarusنے کہا ہے سرمایہ داری ایک محیطی نظام ہے وہ مستقل اپنے تسلط کی جدوجہد جاری رکھتا ہے اور انفرادی، معاشرتی اور ریاستی زندگی کے ہر پہلو کو سرمایہ کی گرفت کے تحت کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا کوئی ایسی بیرونی گنجائش موجود نہیں جہاں سے سرمایہ دارانہ نظام پر حملہ آور ہوا جائے۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے انہدام کی جدوجہد لازماً سرمایہ دارانہ نظام کی اندرونی نظاماتی تخریب کاری پر مشتمل ہو گی۔ یہی نظاماتی تخریب کاری وہ گنجائش پیدا کرے گی جو خارجی اقدام کو ممکن بنائے۔
میں ذیل میں پاکستان میں انہدام سرمایہ داری کی ممکنہ تحریک کی حکمت عملی کے خدوخال بیان کروں گا۔

31.2۔ پاکستانی سرمایہ داری کی خصوصیات

سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے امکانات روز بروز روشن ہوتے جا رہے ہیں۔ اس میں شاید کسی کو بھی اختلاف نہیں کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسی بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے کہ جس کی پانچ سو سالہ تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ یہ بحران معاشرتی اور معاشی نہیں۔ (۲۰۰۸ء میں شروع ہونے والے مالیاتی بحران پربڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے)۔یہ ماحولیاتی اور علمیاتی بحران ہے۔ علمیاتی بحران یہ ہے کہ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین تنویری جاہلیت خالصہ ثابت کر چکے ہیں۔ ان مفکرین نے یہ کام کسی بیرونی تنقیدی تناظر کی بنیاد پر نہیں کیا۔ تنویری علمیت کے داخلی تضادات کو اجاگر کر کے کیا ہے۔ آج یہ بات دو اور دو چار کی طرح ثابت کر دی گئی ہے کہ تنویری عقلیت غیرمعقول، غیرمعتبر اور لغو ہے اور اس کا کوئی امکان موجود نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظاماتی اہداف، آزادی، مساوات اور ترقی حاصل ہو سکیں اور ان اہداف کے حصول کی انفرادی اور اجتماعی جدوجہد مہمل اور لازماً ناکام ثابت ہوتی رہتی ہے۔ اور اس نوعیت کی جدوجہد کرنے والے لازماً انتشارِ ذات، مایوسی اور شیزوفرینا (Schizophrenia)کا شکار رہتے ہیں۔ اس علمیاتی بحران نے حیات کی ایک دوسری تفہیم کے مقاماتی غلبہ کے لیے خلا پیدا کر دیا ہے اور دوسری تفہیم لازماً مذہبی ہی ہو سکتی ہے کیوں کہ مذہب میں ہی آزادی، مساوات اور ترقی کے اہداف کو غیرمعقول اور غیرمعتبر گرداناجاتا ہے۔

علمیاتی بحران کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظاماتی تسلط نے ماحولیاتی بحران بھی پیدا کر دیا ہے۔ تسخیر کائنات کی مستقل جدوجہد ایک طرف تو کئی معاشی وسائل کے ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہی ہے دوسری طرف ماحول کو غلاظت اور پراگندگی سے اسی تیز رفتاری سے پُر کر رہی ہے کہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ۲۰۴۰ء کے لگ بھگ موسمی حالات ایسے ابتر ہو جائیں گے کہ انسان اور دیگر انواع حیات کے لیے زندہ رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔

سرمایہ دارانہ علمیت سائنس ہے اورسائنس کا مقصد تسخیرکائنات کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہی چیز سائنس کو ٹیکنالوجی سے ممیز کرتی ہے اور اس بات کی نشان دہی نیوٹن سے ہائیڈیگر تک تمام مغربی فلاسفہ نے کی ہے۔ اور سرمایہ دارانہ نظام آزادی مساوات اور ترقی کو ردّ نہیں کر سکتا لہٰذا علمیاتی اور ماحولیاتی بحرانوں کا سرمایہ دارانہ حل ابھی تک مرتب نہیں کیا جا سکا۔ اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی علمیاتی جاہلیت اور ماحولیاتی کثافت کو فروغ دے کر اپنے انہدام کی تیاری کرتے رہنے پر مجبور ہے۔

گو کہ سرمایہ دارانہ تنویری اور رومانوی علمیت کی نامعقولیت اور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی مادی تخریب کاری اظہر من الشمس ہے اس کے اہدافی اقدار آزادی، مساوات اور ترقی سے عوامی انحراف کے اشارے ابھی نظر نہیں آتے۔ چین، جاپان، یورپ، امریکا، روس، بھارت، دنیا پر ہر جگہ عوام آزادی، مساوات اور ترقی کی جدوجہد کو مقصد حیات کے طور پر قبول کیے ہوئے ہیں۔ وہ لاالہ الا انسان کے کلمہ خبیثہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ جو لا الہ الااللہ پر ایمان لے آئے ہیں وہ بھی اس کلمہ طیبہ کی ایسی تشریح کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول میں مزاحم نہ ہو۔ سرمایہ دارانہ علمیت جاہلیت خالصہ ہے اور اس علمیت کے اظہار کے طور پر دنیا بتدریج تبا ہ ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود عوام اور خواص کے دلوں پر شیاطین حرص و ہوس، شہوت اور غضب کا قبضہ نہایت قوی اور مستحکم ہے۔

مغربی دنیا کے مقابلے میں پاکستان کے حالات قدرے مختلف ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ یہاں تنویری علمیت کے جاہلیت خالصہ ہونے کا تصور بالکل موجود نہیں۔ ماحول کی تخریب کاری کا ایک مبہم سا احساس حکومت اور این سی سی والوں میں موجود ہے کیوں کہ پاکستان آبی وسائل کی محرومی اور موسمی منفی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہے۔ لیکن ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے جو حکمت عملی وضع کی گئی ہے وہ خالص سرمایہ دارانہ ہے اور اس کو وضع اور نافذ کرنے والے عالمی سرمایہ دارانہ اداروں کے پاکستانی گھس بیٹھیے ہیں۔ 

دوسری جانب ایک عام پاکستانی کی زندگی سے اسلام کو اس طرح سے خارج نہیں کیا جا سکا جس طرح عیسائیت کو یورپ میں دیس سے نکال دیا گیا ہے۔ ایک عام پاکستانی اپنے مذہبی تشخص سے آگاہ ہے اور اپنی انفردی زندگی میں مذہبی اظہارِ تشخص کو پسند کرتا ہے۔ ایک عام پاکستانی نماز نہیں پڑھتا لیکن یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کو نماز پڑھنے کی عادت ہو جائے اور جو لوگ نماز پڑھتے ہیں ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایک عام پاکستانی فاسق ہے منافق یا ملحد نہیں۔ وہ گناہ کو گناہ سمجھتا ہے اور اپنے گناہ گار ہونے پر شرمندہ ہوتا ہے۔پاکستان میں سب سے طاقت ور اسلامی معاشرتی ادارہ خاندان ہے۔ خاندان عموماً اسلامی رسوم و روایات کا گہوارہ ہے۔ ماں باپ کا احترام عام ہے اور خاندانی زندگی میں سرمایہ دارانہ طرزِ معاشرت اور سرمایہ دارانہ اخلاقیات عام نہیں۔ بیش تر خاندان برادریوں اور قبائلی نظاموں سے منسلک ہیں ۔ یہ بات کراچی میں بسنے والے اردو بولنے والوں کے لیے درست نہیں۔ برادری اور قبائلی نظام تضادات کا شکار ہیں۔ ایک طرف استعماریت کے دور میں وہ انگریز نظام اقتدار کے آلہ کار بنا دیے گئے لیکن دوسری طرف انہوں نے سرمایہ دارانہ طرز زندگی کبھی قبول نہ کیا۔ برادریاں عموماً کسی نہ کسی صوفی سلسلہ سے منسلک ہیں اور ان میں بزرگانِ دین کا اثر و رسوخ مستحکم ہے اور بیش تراندرونی فیصلے اسلامی تعلیمات اور رسوم و رواج کی بنیاد پر ہی کیے جاتے ہیں۔برادریوں کے اس نیٹ ورک کی بنیاد پر شہری اور دیہی زندگی ایک طرح سے مربوط ہے اور اسلامی معاشرت کا دائرہ کار شہری زندگی پر کسی نہ کسی حد تک اثر انداز ہو رہا ہے۔ لیکن برادریوں کے معاشرتی تسلط کا منفی پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے خود غرضانہ حقوق کے فروغ کے لیے سرمایہ دارانہ معیشت اور سیاست میں ملوث ہو گئی ہیں۔

پاکستان میں سرمایہ دارانہ معیشت کا دائرہ کار محدود ہے۔ بیش تر کاروبارحلال ہے جس کا نہ سود کے بازار سے کوئی تعلق ہے اور نہ سٹہ کے بازار سے۔ بیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں بینکوں میں ڈیپازٹس رکھنے والوں کی تعداد صرف ڈھائی کروڑ ہے۔ یعنی تقریباً نوے فی صد کو کبھی بینکوں کا دروازہ تک دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سٹہ بازوں کی تعداد صرف چند لاکھ ہے اور بیش تر افراد سرمایہ دارانہ کارپوریشنوں اور حکومت کے ملازم نہیں ہیں۔ عام آدمی کی معاشی زندگی پر سرمایہ دارانہ نظاماتی اثر صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے پڑتا ہے۔ ان حالات میں ایک غیرسرمایہ دارانہ معیشت کا قیام بالکل ممکن ہے اور غیرسرمایہ دارانہ معیشت کے قیام کی جدوجہد معاشرتی سطح پر بغیر حصولِ ریاستی اقتدار کے منظم کی جا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سرمایہ داری کی ایک اہم کمزوری یہ بھی ہے کہ اس کا بین الاقوامی سرمایہ دارانہ معیشت سے تعلق بہت کمزور ہے۔ مجموعی قومی آمدن میں بین الاقوامی تجارت کا حصہ تیس فی صد سے بھی کم ہے اور قومی معیشت کو عالمی سرمایہ دارانہ معیشت کے ماتحت کرنے والے عمل جس کو پالیسی لبرلائزیشن کہتے ہیں، کے باوجود یہ تناسب مستقل گرتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری مجموعی طور پر سرمایے کا ایک عام سال میں سات سے نو فی صد تک ہوتی ہے یعنی نوے فی صد سے زائد سرمایہ کاری ملکی ذریعہ ہی سے کی جاتی ہے۔ عموماً جو بیرونی سرمایہ کار منافع اور واجبات کی شکل میں ہر سال پاکستان سے باہر لے جاتے ہیں وہ ان کی سالانہ نئی سرمایہ کاری کی درآمد سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جو بیرونی قرضہ اور امداد امریکا اور آئی ایم ایف وغیرہ سے سالانہ حاصل کی جاتی ہے وہ غیرملکی سودی ادائیگیوں کے تقریباً برابر ہوتی ہے۔ ان حالات میں پاکستانی معیشت کو خود کفیل بنانا اور اس کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے غیرمنسلک کرنا آسان نہیں تو ممکن ضرور ہے۔

پاکستان کو عالمی سرمایہ دارانہ تسلط سے توڑ لینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہاں کا سیاسی نظام ہے۔ یہ نظام ویسے کا ویسے ہی قائم اور کارفرما ہے جیسا انگریز اس کو وضع کر کے گیا تھا۔ یہاں اقتدار استعمار کے گماشتوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہے اور یہ گماشتے جمہوری سیاست دانوں، فوجی اہل کاروں اور سول نوکر شاہی کے گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک پاکستانی ریاست ایک استعمار کی باج گزار سرمایہ دارانہ ری پبلک بنی رہی ہے۔ اس ری پبلک پر کبھی فوجی حکومت کرتے رہے کبھی نوکر شاہی کے آلہ کار اور کبھی جمہوری سیاست دان۔ ان سب کا طرز حکومت ایک ہی ہے ۔ یہ ایک ہی نوعیت کی پالیسیاں اختیار کرتے ہیں اور ان سب کا مقصد استعمار بالخصوص سعودی عرب اور امریکا کی باج گزاری اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا استحکام ہے ۔

ایک عام پاکستانی شہری سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کا وفادار ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات اور ترقی کے حصول کے لیے نظاماتی کارفرمائی کو ایک معقول عمل تصور کرتا ہے اور خاندان اور برادری کے دائرہ کار کے باہر ان اہداف کے حصول کے لیے انفرادی جدوجہد کرتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا خواہاں ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون کی پامالی کو کرپشن گردانتا ہے۔ جمہوری عمل کے نتائج سے غیرمطمئن ہونے کے باوجود جمہوری عمل سے مایوس نہیں اور انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ پاکستانی فوج کا مداح اور نیاز مند ہے۔ سرمایہ دارانہ ثقافت بذریعہ ٹیلی وژن، انٹرنیٹ، سوشل اور پرنٹ میڈیا اس کے گھروں میں داخل ہو گئی ہے۔ نوجوان عورتوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد پاکستانی لیبر فورس میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔ بحیثیت مجموعی ایک عام پاکستانی نظاماتی اصلاح کے لیے سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا خواہاں ہے اور نظاماتی تبدل کے ذریعے انہدام سرمایہ داری کو نہ ممکن سمجھتا ہے اورنہ ضروری۔

ایک عام پاکستانی کی شخصیت سازی میں اسلامی جماعتوں نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ابتدا میں مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمان کو مسلم قوم پرست بنایا اور لبرل قوم پرست قیادت کے مخلص ترین پیروکار علمائے کرام ہی تھے۔ مسلم لیگ کے ہاتھوں سے تحریک احرار اور جمعیت علمائے ہند کی ۱۹۴۰ء کی دہائی میں شکست ہماری تاریخ کا وہ فیصلہ کن موڑ ہے جس کے بعد اسلامی نظاماتی غلبہ کی جدوجہد نے سرمایہ دارانہ ریاستی ترمیم اور اصلاح کو اپنے مقصد اعلیٰ کے طور پر قبول کر لیا ہے اور مسلم قوم پرستی کو مسلم لیگ کی تقلید میں سب اسلامی جماعتوں نے پاکستان اور ہندوستان میں مشرف بہ اسلام کر لیا ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی، جمعیت علمائے اسلام ، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک احرار، نظام اسلام پارٹی نے بھی۔

قوم پرستی ایک خالصتاً سرمایہ دارانہ نظریہ ہے۔ قوم پرستی کی اسلام کاری کی جدوجہد کی ابتدا اس تحریک سے ہوئی جو علامہ عبدالماجد بدایونی، مولاناشبیر احمد عثمانی اور مولانا مودودی نے ۱۹۴۸ء میں ایک اسلامی دستور کی تدوین اور تنفیذ کے لیے برپا کی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ۱۹۴۹ء میں قراردادِ مقاصد دستور ساز اسمبلی نے منظور کر لی اور اس وقت سے تمام اسلامی جماعتیں پاکستان پر ایمان لے آئیں اور پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے پر قسمیں کھانے لگیں حال آں کہ پاکستان کی تاریخ میں شرع نافذ ہوئی نہ پالیسی سازی علوم اسلامیہ کی بنیاد پر کی گئی نہ ریاستی اقتدار سلاطین اور ائمہ کرام کے ہاتھوں میں مرتکز ہوا۔

اسلامی جماعتیں اس اظہر من الشمس حقیقت سے تو انکار نہیں کر سکتیں کہ عملاً پاکستانی ریاست کی کارفرمائی کا اسلامی ریاستی کارفرمائی سے کوئی تعلق نہیں اور پالیسی سازی جن جاہلی علوم کی بنیاد پر کی جاتی ہے وہ خالصتاً سرمایہ دارانہ ہیں لیکن ان کا اصرار ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہے اور وہ بنیادیں فراہم کرتا ہے جن پر جمہوری جدوجہد کے ذریعے ایک اسلامی نظام اقتدار تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی تمام اسلامی جماعتیں صرف جماعت اسلامی نہیں، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، متحدہ دینی محاذ، تحریک منہاج القرآن وغیرہ سب نے مولانا مودودیؒ کی اس دلیل کوقبول کر لیا ہے کہ اسلامی ریاست جمہوری ہوتی ہے وہ سلطنت یا آمریت نہیں، حکومت الٰہیہ حکومت الناس کا دوسرا نام ہے، عوام کے منتخب نمایندوں کو نصوص سے احکام اخذ کرنے کا حق حاصل ہے، جہاد عملاً ساقط ہو گیا ہے۔ اسلامی فکر کے اصل ترجمان امام ماوردی، امام ابن خلدون، امام ابویعلیٰ، شاہ ولی اللہ نہیں لاک اور روسو اور مونٹیسکیو اور جیفرسن اور رالز ہیں۔

۱۹۴۹ء سے لے کر آج تک اسلامی جماعتوں نے سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں اصلاح اور اس نظام کے استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہی جدوجہد کی ہے۔ ۲۰۱۴ء میں جب سرمایہ دارانہ جماعتوں میں عوامی سطح پر تصادم ہوا اور اسلام آباد میں تحریک انصاف اور تنظیم منہاج القرآن کے دھرنے طول پکڑنے لگے تو ثالثوں میں امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کا نام سرفہرست تھا اور جناب کی بھرپور کوشش تھی کہ اپنے دستور کے تناظر میں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام محفوظ بھی رہے اور مضبوط بھی ہو۔ اور جماعت اسلامی کا ایک عام کارکن امیر جماعت کے اس سرمایہ داری کی خدمت کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان حالات میں انقلاب اسلامی کے دعوے مضحکہ خیز نظر آتے ہیں اور جو جماعتیں انقلاب اسلامی برپا کرنے کے دعوے دار ہیں وہ محض سرمایہ دارانہ نظاماتی عدل کو فروغ دینے کے عمل میں معاون ثابت ہوتی ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں رہتی کہ ان کے انتخابی منشور اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کے منشور میں فرق بتدریج ختم ہوتا جاتا ہے۔

31.3۔ انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد: چند تجاویز

سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کی ضرورت تمام اسلامی گروہوں کو ہے؛ مزکیوں، مدرسین، اسلامی سیاسی کارکنوں اور مجاہدین کو بھی۔ انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور وسعت دینے کے لیے ان تمام اسلامی گروہوں میں اشتراک عمل ناگزیر اور نہایت ضروری ہے۔

مزکیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ سرمایہ دولت نہیں؛ سرمایہ حرص اور ہوس کا دوسرا نام ہے۔ صوفیہ عظام اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ نفوس کی تطہیر کا سب سے موثر ذریعہ ثقافت ہے۔ اسلامی روحانیت کے فروغ کے لیے صوفیہ عظام نے اسلامی ثقافت کو اسلامی رسوم و رواج کے ذریعے فروغ دیا اور یہ ثقافتی پیش رفت غیر مسلموں کو مسلمان بنانے میں عملی جہاد سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوئی۔ آج مسلمانوں کا سوادِ اعظم سرمایہ دارانہ طرز زندگی سے شدید طور پر متاثر ہے اور سرمایہ داری کا یہ معاشرتی غلبہ سرمایہ دارانہ ثقافت اور سرمایہ دارانہ رسوم و رواج اور تفریحات کے فروغ کے ذریعے ہی مستحکم کیا جا رہا ہے۔ آج کی دنیا کی سب سے بڑی صنعت میڈیا کی صنعت اور تفریحات کی صنعت اور کھیل کی صنعت ہیں۔ انہی صنعتوں کی توسیع اور فروغ کے ذریعے انسان کو ہیومن بینگ یعنی شیطان بنایا جا رہا ہے اور اس کے قلب پر حرص اور ہوس کے شیاطین کو مسلط کر رہی ہیں۔ ان تین صنعتوں کو مسلم معاشروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بے دخل کرنا مزکیوں کی ہی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رائج شدہ اسلامی رسوم و رواج کی شرع مطہرہ کی روشنی میں تطہیر فرمائیں۔ نئی اسلامی رسوم اور روایات کو فروغ دیں جو دورِ حاضر میں اسلامی روحانیت کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کریں۔ خانقاہی زندگی کے احیا کے لیے اسلامی ثقافتی مراکز کو فروغ دیں، مقامی زبانوں میں اسلامی ادب کی وسیع پیمانے پر فراہمی کے ذریعے معاشرت کو اسلامی بنایا جا سکتا ہے،خانقاہوں کے تلامذہ ہی اس کام کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جو خانقاہوں سے نکل گیا وہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کا پیرو کیسے ہو سکتا ہے۔

سرمایہ داری کا مسلم دنیا پر حملہ محض روحانی اور ثقافتی نہیں علمیاتی بھی ہے۔ یورپ کی فکری یلغار استعماریت کے تناظر میں شروع ہوئی اور مسلم ممالک کی حصول آزادی کے بعد جاہلی علمیت کے پیرو اقتدار پر قابض ہو گئے۔ آج جاہلی علمیت پوری دنیائے اسلام پر حاوی ہے۔ سائنس اور تنویری اور رومانوی فلسفہ ہی کو معتبر علمیاتی منہج کے طور پر ہر جگہ قبول کیا جاتا ہے اور انہی جاہلی منہج کے تناظر میں نجی، معاشرتی اور ریاستی فیصلہ سازی عمل میں آتی ہے۔ اسلامی علوم اجتماعی ادارتی صف بندی سے بالکل لاتعلق ہو گئے ہیں اور اکابر علما تک سائنس اور سوشل سائنسز کی اسلامی تاویلات مرتب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسی ایک ایسے عالم دین کا نام بھی آج کل نہیں لیا جا سکتا جو سائنسی منہج کو جاہلیت خالصہ قرار دیتا ہو۔

علما کی اس روش کو سمجھنے کے لیے تاریخ علوم اسلامی سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ یہاں میں برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا حوالہ دوں گا جہاں اسلامی علوم کی تدریس کا غالب نصاب درس نظامی ہے۔ یہ ضابطہ امام اورنگ زیب عالم گیر نے مولانا نظام الدین کو ایران سے بلوا کر مرتب فرمایا اور اس نصاب کا مقصد ایک اسلامی ریاست کے لیے اہل کار تیار کرنا تھا۔ اسلامی ریاست موجود تھی اور عالم گیر جیسا ولی اللہ سلطان تھا۔ نظاماتی ڈھانچہ شرع کے احکامات کے مطابق ہی مرتب کیا جاتا تھا۔ تمام اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کی بنیاد پر ہی کیے جا رہے تھے۔ لہٰذا معلمین کی توجہ اس بات پر تھی کہ اس نظام صالح میں انفرادی زندگی کو کیسے سمویا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام تعلیم میں پوری توجہ جز پر ہے کل پر نہیں۔ فقہ جز ہے اور انفرادی اعمال سے بحث کرتی ہے۔ نظاماتی کل سے بحث نہیں کرتی اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی ائمہ سیاسیہ کی کوئی کتاب بھی درس نظامی کے نصاب میں شامل نہیں۔ غلبہ اسلام کیسے قائم کیا جاتا ہے درس نظامی کا نصاب یہ سوال اٹھاتا ہی نہیں بلکہ وہ تو غلبہ دین اور تحکم سلطان ظل اللہ کو مفروض کرتا ہے اور یہ مفروضہ اس وقت درست تھا کہ ہندوستان میں سلطان محمد غوری کے وقت سے امام عالم گیر کے وقت تک ایک اسلامی سلطنت غالب تھی اور کسی سلطان نے شرع مطہرہ کو منسوخ کرنے اور علوم اسلامی کی بنیاد پر فیصلہ سازی کرنے سے رجوع کرنے کی جسارت نہ کی تھی، اکبر تک نے نہیں۔ جہاد اس وقت جاری تھا اور بیش تر سلطان سچے اور پکے مسلمان اور بزرگان چشت اور سہروردیہ کے مخلص مرید تھے۔

لیکن مغل سلطنت کے سقوط کے بعد ہندوستان دارالکفر بن گیا اور پوری دنیا کی طرح یہاں بھی غلبہ نظام کفر کو حاصل ہو گیا۔ ان حالات میں درس نظامی کی افادیت نہایت محدود ہو گئی کیوں کہ وہ اسلامی سلطنت ہی نہ رہی جس کے لیے یہ نصاب کارکن تیار کرتا تھا۔ آج غالب نظام کو اسلامی مفروض کرنا اپنے آپ کو دھوکا دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیوں کہ اس وقت نظاماتی غلبہ کفر کا ہے خواہ اس غالب نظام کو مسلمان چلا رہے ہوں خواہ یہ دستوری جمہوریت ہو یا کسی نوعیت کی آمریت اور اس نظاماتی غلبہ کفر کی نظریاتی بنیاد جاہلی علوم سائنس اور سوشل سائنس ہی فراہم کرتے ہیں۔

دورِ حاضر میں ایک نئے اسلامی نظام درس کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس کی توجہ کل پر ہو جز پر نہیں۔ اس نظام تعلیم کی مرکزی حیثیت کلام کی ہونی چاہیے کیوں کہ آج بنیادی مسئلہ اجتماعی نظام کفر یعنی سرمایہ داری کے انہدام کا ہے۔ اس نظاماتی انہدام کے بغیر اسلامی انفرادیت اور معاشرت محفوظ نہیں رہ سکتی اور اسلامی نظاماتی غلبہ کے قیام کا کوئی امکان موجود نہیں۔ لہٰذا انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد میں مدرسین کی یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی علم کلام کے تناظر میں جاہلی سرمایہ دارانہ علوم سائنس، تنویری اور رومانوی فلسفہ اور سوشل سائنسز کا ایسا نقد مرتب کریں جو اس کو غیرمعقول اور غیرمعتبر ثابت کرے جیسا کہ حضرت حجۃ الاسلام امام غزالی نے یونانی علمیت کو کیا تھا۔ میری رائے میں یہ ایک نسبتاً آسان کام ہے کیوں کہ پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین نے یہ کام تقریباً ایک صدی سے جاری کر رکھا ہے اور سرمایہ دارانہ اہداف کا ناقابل حصول ہونا اور سرمایہ دارانہ علمیت کا غیرمعقول اور غیرمعتبر ہونا واضح کر دیا ہے۔ لیکن جن بنیادوں پر یہ پوسٹ ماڈرنسٹ نقد مرتب کرتے ہیں اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں اور اس کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کو غیرمعتبر اور نامعقول ثابت کرنے کے باوجود پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین سرمایہ دارانہ اہداف آزادی، مساوات اور ترقی کے پرستار ہیں۔ اگر ماڈرن ازم سرمایہ داری کا تعقل ہے تو پوسٹ ماڈرن ازم سرمایہ داری کی روحانیت ہے۔ اور ان دونوں میں سے کوئی گروہ بھی سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کا تصور تک نہیں کر سکتا۔

علمائے اسلام انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد میں اپنا کردار جاہلی سرمایہ دارانہ علمیت کا اسلامی نقد مرتب فرما کر ادا کر سکتے ہیں۔ اس نقد کا بنیادی ہدف پوسٹ ماڈرنسٹ نقد کے برخلاف آزادی، مساوات اور ترقی کی تردید اور انکار پر مبنی ہونا چاہیے۔ آزادی، مساوات اور ترقی محض ناقابل حصول نہیں ان اہداف خبیثہ کے حصول کی جدوجہد کرنے والا ایک مفسد، ظالم شیطان ہیومن بینگ بن جاتا ہے اور اپنا ابدی ٹھکانا جہنم میں بنا لیتا ہے۔ اسلامی علوم کا نظاماتی غلبہ قائم اور مستحکم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت کا حتمی نقد مرتب کرنا ناگزیر ہے اور یہ فریضہ علمائے کرام اور مدرسین ہی کا ہے اور اس کی ادائیگی کے بارے میں آخرت میں ان سے جواب طلبی ہو گی۔

انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد محض روحانی اور علمیاتی جدوجہد نہیں۔ اس کے لیے معاشرتی اور سیاسی جدوجہد برپا کرنا بھی ناگزیر ہے اور یہ کام اسلامی سیاسی کارکنوں اور مجاہدین اسلام کا ہے۔ اسلامی سیاسی کارکنوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی اصلاح اور سرمایہ دارانہ عدل کا قیام نہیں۔ برصغیر میں نظاماتی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے کا دعویٰ جماعت اسلامی نے کیا لیکن عملاً انہدام سرمایہ داری کے لیے نہ جماعت اسلامی نے کبھی کوئی معاشرتی کوشش کی نہ سیاسی اور یہی بات اس کے منحرفین تنظیم اسلامی اور تحریک اسلامی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش تو پوری طرح سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کا جزو لاینفک بن کر رہ گئی ہیں۔ یہاں تک کہ ۲۰۱۴ء میں پاکستانی دستوری نظام کے لیے جو خطرہ عمران خان اور مولانا طاہر القادری کی تحاریک نے برپا کیا اس میں نومنتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے سب سے مخلص اور سب سے جاں نثار خادم کے رول میں نظر آئے اور تمام سرمایہ دارانہ جماعتوں نے بشمول مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی، متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف جناب سراج الحق کو سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے سب سے بے لوث محافظ اور غیر جانب دار مصلح کے طور پر قبول کیا اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس سانحہ عظیم پر جماعت اسلامی پاکستان خون کے آنسو نہیں بہا رہی بلکہ فخریہ جشن منا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ دیکھو ۲۰۱۳ء کی عبرت ناک شکست کے بعد کتنی جلدی ہماری سرمایہ دارانہ ریاستی ساکھ بحال ہو گئی ہے۔ اور سراج الحق صاحب کی سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کو محفوظ کرنے کی تگ و دو جماعت اسلامی کا تاریخی تسلسل ہے۔ مولانا مودودی نے ایوب خان کے ساتھ مصالحت کی۔ میاں طفیل نے پروفیسر غفور کو بھٹو سے مشاورت پر مامور کیا۔ قاضی حسین احمد نے دائیں بازوں کی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئی جے آئی تشکیل دی۔ ان سب کوششوں کا مقصد سرمایہ دارانہ ریاستی نظام ، اس کے دستور، اس کے اقتداری اداروں اور اس کے کارفرمائی کے ضوابط کا تحفظ اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک جماعت نے دستوری نظام کے تحفظ کے لیے جو مفاہمتی کوششیں کی ہیں اس سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ جماعت کے پاس انہدام نظام سرمایہ داری کا کوئی عملی تصور موجود نہیں۔اور اس معاملے میں جماعت اسلامی کی کوئی تخصیص نہیں پاکستان کی کوئی بھی اسلامی سیاسی جماعت انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد کو نہ ممکن سمجھتی ہے اور نہ ضروری۔ یہ سب کی سب استعمار سے مصالحت اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کا اسلامی جواز مرتب کرتی رہتی ہیں۔ ان کو اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کی جدوجہد کرنے والی جماعتیں عملاً ثابت کرتی ہیں کہ اسلام کوئی نظام حیات نہیں محض ایک روحانی اور اخلاقی رویہ اور نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام حیات میں سمویا جا سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ علمیت سائنس، تنویری اور رومانوی فلسفہ، جاہلیت خالصہ نہیں بلکہ اصل علم ہے اور اسی ابلیسی تعلیم کے مطابق انفرادی، معاشرتی اور ریاستی تعامل اور تعقل کو وضع کیا جانا چاہیے۔

یہ علمائے اسلام کا فرض ہے کہ اسلامی سیاسی جماعتوں کی یہ تباہ کن بدگمانیاں رفع کریں۔ اسلامی جماعتیں بلاشبہ لاکھوں مخلص، متقی اور جفاکش کارکنوں پر مشتمل ہیں اور ان کی جدوجہد کا مقصد غلبہ دین اور تحفظ دین کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اگر یہ جماعتیں اس بات پر قائل ہو جائیں کہ اسلام ایک مکمل خود کفیل نظام حیات ہے محض سرمایہ دارانہ نظام کا لاحقہ نہیں اور سرمایہ دارانہ علمیت جاہلیت خالصہ ہے تو اسلامی سیاسی جماعتیں برصغیر پاک و ہند کی سب سے بڑی نظریاتی اور مزاحمتی عوامی قوت بن کر ابھر سکتی ہیں اور انہدام سرمایہ داری کی جدوجہد میں ایک ایسا فیصل کردار ادا کر سکتی ہیں جو نہ مجاہدین اسلام کے بس میں ہے نہ مدرسین کے اور نہ مزکی قوتوں کے۔

انہدام سرمایہ داری کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی ذریعہ غیرسرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی ہے۔ یہ غیر سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی:

۱۔ لازماً سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہی ممکن ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ غلبہ عالمی اور اس کی حدوں پر جو سیاسی ادارتی صف بندی مجاہدین اسلام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ان کے ذریعہ سرمایہ دارانہ نظاماتی بحران اور خلفشار رونما نہیں ہوتے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جدوجہد سرمایہ دارانہ مراکز بالخصوص بڑے شہروں میں غیرسرمایہ دارانہ اداروں کے قیام کے ذریعے منظم ہی ہوسکتی ۔

۲۔ سرمایہ دارانہ انہدام کی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظاماتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ہی منظم کیا جا سکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ اور سرمایہ دارانہ ریاست جتنی کمزور کی جا سکیں گی اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو جتنا غیر معتبر ثابت کیا جا سکے گا اتنی ہی گنجائش انفرادی، معاشرتی اور ریاستی سطح پر غیرسرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کے لیے مہیا کی جا سکے گی۔ اگر جماعت اسلامی پاکستان انہدام نظام سرمایہ داری کی قائل ہوتی تو وہ ۲۰۱۴ء کے پاکستانی سیاسی بحران کے دوران دستوری نظام کے تحفظ کے لیے جدوجہد نہ کرتی بلکہ دستوری نظام کے تزلزل سے غیردستوری ادارتی صف بندی کے لیے جو گنجائش پیدا ہوئی اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی۔ جیسا کہ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں حزب اللہ نے کیا اور اس کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں اپنے نظاماتی تسلط کو دیرپا بنانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئی۔

غیرسرمایہ دارانہ عوامی ادارتی صف بندی کے دو حصے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ جبر عوامی زندگی میں مارکیٹ اور ریاست کے انضمام کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔ مارکیٹ وہ ادارہ ہے جہاں دولت کو مسخ کر کے سرمایہ بنایا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں دولت صرف اپنی عددی بڑھوتری کے لیے گردش کرتی ہے اور اجرتی معاہدوں کے ذریعے سب کو سرمایہ کا ملازم بنا دیا جاتا ہے۔ چوں کہ مارکیٹ کی کارفرمائی کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ برائے بڑھوترئ سرمایہ ہے لہٰذا جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام کا تسلط مضبوط ہوتا ہے ویسے ویسے اشیا کی مارکیٹ پر سرمایہ دارانہ زر، فنانس کی مارکیٹس اپنی گرفت مضبوط کرلیتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں قدر فنانشل مارکیٹ، سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ متعین کرتی ہیں اور پوری معیشت ان کے ماتحت ہوتی ہے۔
سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے انہدام کا اہم ترین ذریعہ دولت کو فنانس کی گرفت سے نجات دلانا ہے۔ یہ کام پاکستان جیسے ممالک میں نسبتاً آسان ہے۔ نوے فی صد کاروباروں کا نہ زر کی مارکیٹ سے کوئی تعلق ہے اور نہ سٹے کی مارکیٹ سے۔ایک اندازے کے مطابق زر اور سٹہ کی مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے اداروں کے اجرتی ملازموں کا مجموعی افرادِ کار سے تناسب صرف گیارہ فی صد ہے۔ بینکوں میں کھاتہ رکھنے والے افراد مجموعی آبادی کا صرف تیرہ فی صد ہیں اور عوام کی عظیم الشان اکثریت کا انحصار سرمایہ دارانہ کارفرمائی کے عمل پر محدود ہے۔ ان حالات میں غیر سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی پاکستان میں نسبتاً ایک آسان کام ہے۔اس نوعیت کی عوامی معاشی صف بندی کی ایک ممکنہ صورت حسب ذیل خطوط پر مرتب کی جا سکتی ہے:

۱۔ چند اسلامی جماعتیں جن میں مزکین، مدرسین اور سیاسی اسلامی جماعتیں سب شامل ہو سکتی ہیں، ایک مرکزی اسلامی تمویلی ادارہ قائم کریں۔

۲۔ یہ مرکزی تمویلی ادارہ بینک نہ ہو اور اس کے ذریعہ منافع نہ کمایا جائے۔

۳۔ پورے ملک کی مساجد، مدارس اور خانقاہوں میں جہاں جہاں ادارہ قائم کرنے والی جماعتوں کے متعلقین موجود ہوں، مرکزی تمویلی ادارہ کی شاخیں کھولی جائیں۔

۴۔ ہر شاخ جماعتوں کے متعلقین کی بچتیں جمع کرنے کا انتظام کرے۔

۵۔ ان بچتوں کو جماعتوں کے کاروبار کرنے والے متعلقین کو قرضہ کی بنیاد پر دیا جائے اور مشارکہ اور مضاربہ معاہدات کی بنیاد پر حاصل شدہ منافع کی رقوم فراہم کرنے والے اور رقوم استعمال کرنے والے افراد میں تقسیم کی ذمہ داری قبول کی جائے۔

۶۔ جن کاروباروں کو قرضہ فراہم کیا جائے ان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صرف متعلقہ اسلامی جماعتوں کے وابستگان ہی کو ملازمتیں فراہم کریں گے۔

۷۔ متعلقہ جماعتوں کا تمام رفاہی کام صرف اس تمویلی نظام کے تحت ہی تمام مالی معاملات منظم کرے۔

جناب سید محمد یونس قادری نے اپنے تحقیقی مقالہ میں اس اجمال کی تفصیل بیان کی ہے۔ اگر تمام راسخ العقیدہ اور مخلص فی الدین اسلامی جماعتیں اشتراک عمل کی بنیاد پر ایسا ادارہ قائم کریں تو تخمینہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ہر سال صرف متعلقہ جماعتوں کے کارکنوں سے تقریباً سوا سات کھرب روپے جمع کر سکتے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار اسلامی جماعتوں کے وابستگان کو حلال ملازمتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اور جب ہر سال ہمارے پاس اتنی بڑی رقم آئے گی تو ہم اسلامی زر تخلیق کر کے فنانشل مارکیٹوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بن جائیں گے کیوں کہ ہمارے پاس ان فنانشل مارکیٹوں میں بحران پیدا کرنے کی صلاحیت مستقل بڑھتی رہے گی۔

لیکن کیا قومی اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام تحکیم اسلامی تمویلی نظام کے وجود اور پھیلاؤ کو برداشت کرے گا؟ یہ اسلامی گروہوں کی سیاسی قوت پر منحصر ہے۔ مثلاً ایسا تمویلی نظام مجاہدین اسلام کے مفتوحہ علاقوں میں قائم کرنے میں ہمیں کوئی نہیں روک سکتا لیکن یہ علاقے سرمایہ دارانہ مراکز نہیں اور ان میں قائم کردہ اسلامی تمویلی نظام عالمی علاقائی یا قومی فنانشل مارکیٹوں کے لیے کوئی وجودی خطرہ پیش نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں ایسا نظام قائم ہو تو اس کو اسٹیٹ بینک موجودہ حالات میں برداشت نہیں کر سکتا کیوں کہ اگر قومی دولت کا دس فی صد بھی ہمارے زیر تسلط آ گیا تو نظاماتی تبدل پیدا کرنے کی ہماری صلاحیت فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ لہٰذا ابتدا میں ہمیں یہ کام اسٹیٹ بینک سے نظر بچا کر ہی منظم کرنا پڑے گا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غلبہ دین کی جدوجہد لازماً سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی سیاسی جدوجہد ہے۔ اگر ہم غلبہ دین کے خواہاں ہیں تو لازماً ہمیں سرمایہ دارانہ اقتدار کے لیے خطرہ بننا ہے۔ ہم سرمایہ داری کے لیے خطرہ نہ سرمایہ دارانہ نظاماتی اصلاح کرکے بن سکتے ہیں (جیسا کہ اسلامی سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں) اور نہ سرمایہ دارانہ اقتدار میں غلبہ سے سہو نظر کر کے(جیسا کہ مزکی اور مدرسین کی جماعتوں کا رویہ ہے)۔ غلبہ دین کے لیے ضروری ہے کہ:

۱۔ مزکین، مدرسین، سیاسی کارکنوں اور مجاہدین کی جدوجہد میں ارتباط اور تطبیق ہو۔

۲۔ اس ارتباط اور تطبیق کا ایک اہم مقصد اسلامی اقتدار کا فروغ اور ادارتی صف بندی ہو۔

پوری اسلامی تاریخ میں اسلامی اقتدار اور سیاسی قوت اور عوامی تحرک کو منظم کرنے والا ادارہ ہمیشہ سے مسجد ہی رہی ہے۔ مسجد کی معاشرتی اور ریاستی قوت میں اضمحلال اسلامی مغلوبیت کا ہی دوسرا نام ہے۔ برصغیر میں سرمایہ دارانہ نظام میں ہمارے انضمام کا سانحہ اسی وجہ سے پیش آیا کہ سیاسی قوت ۱۸۵۷ء کا جہاد برپا اور منظم کرنے والے علما کے ہاتھ سے نکل کر مسلم لیگیوں اور کانگریسیوں کے ہاتھ میں منتقل ہو گئی اور علما نے ان سیاسی کارندوں کی قیادت کو قبول کر لیا۔لہٰذا غلبہ دین کی عوامی ادارتی صف بندی مساجد کے معاشرتی اقتدار کے فروغ سے منسلک ہے۔ ملک کے طول و عرض میں لاکھوں مساجد پھیلی ہوئی ہیں اور مساجد کے کل وقتی متعلقین کی تعداد مساجد کی تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔ یہ مسجدیں ہماری بنیادی سیاسی اکائیاں بنائی جا سکتی ہیں اور مسجد کے کل وقتی کارکنوں کو غلبہ دین کی عوامی جدوجہد کی مقامی قیادت کی ذمہ داریاں قبول کرنے کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔

یہ ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اٹھارھویں صدی کے بعد سے فرقہ واریت کے سیلاب نے ہمارے مدارس اور خانقاہوں کے نظام کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ اور ایک عام امام مسجد فرقہ واریت کو فروغ دینے والا سب سے بڑا آلہ کار بن گیا ہے۔ اس کو اسلام مخالف قوتوں کی کارستانیوں سے کچھ سروکار نہیں۔ عریانی اور فحاشی کا معاشرہ میں جو سیلاب آیا ہوا ہے اس کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے اور ہر گھڑی حکومت کے اہل کاروں سے بہترین خوش گوار تعلقات قائم کرنے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔ لیکن مخالف مکاتیب فکر کی تکفیر سے کبھی نہیں چوکتا او رمسلمانوں میں فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا دینا امام مسجد اپنا سب سے اہم فرض منصبی تصور کرتا ہے۔ یہ تحریک آج بھی جاری ہے اور اس کو بیش تر دیوبندی اجتماعیتوں کی کبھی اعلانیہ اور کبھی درپردہ معاونت حاصل ہے۔ پوری دنیا میں استعمار شیعہ سنی اختلافات کو فروغ دے کر ہی اپنے اقتدار کو محفوظ کر رہا ہے۔ 

الحمدللہ اسلامی سیاسی جماعتیں فرقہ واریت سے قدرے کم متاثر ہیں۔ جماعت اسلامی میں تو فرقہ واریت سرے سے موجودنہیں اور اس کے دروازے شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث سب کے لیے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔ جمعیت علمائے پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین بھی فرقہ واریت سے بتدریج دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کبھی تکفیر شیعت کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور ہمیشہ اسلامی سیاسی اتحادوں میں شیعہ جماعتوں کی شرکت کی وکالت کی۔ لہٰذا اسلامی سیاسی جماعتوں کو ائمہ مساجد کی تعلیم پر خاص طور پر توجہ دینی چاہیے اور ان کو فرقہ واریت کی وبا سے نجات دلا کر مقامی سطح پر عوامی انقلابی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار کرنا چاہیے۔

اسلامی سیاسی جماعتوں، مزکیوں اور مدرسین کے ساتھ مل کر محلہ، شہر، ضلع، صوبہ اور ملک کی سطح پر بین المسالک وفاق قائم کرنا چاہیے۔ ابتدا میں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ محلہ کی سطح پر یہ بین المسلکی وفاق معاشرتی اور کاروباری زندگی کے معاملات میں دخیل ہوں۔ محلہ کی سطح پر قائم کیا جانے والا بین المسلکی وفاق کا دائرہ کار حسب ذیل ہو:

۱۔ وفاق کا مرکز محلہ کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ آباد مسجد میں ہو۔

۲۔ کوشش کی جائے کہ اسلامی تقریبات، رسوم اور تہوار اسی مرکزی مسجد میں منائی جائیں۔

۳۔ اس مرکز میں ایک دارالافتاء قائم ہو جو مختلف مسالک کے علما پر مشتمل ہو اور محلہ میں نمازوں کے اجتماعات کے ذریعے عوام کو اس بات کی ترغیب دلائی جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاملات میں فتوے حاصل کریں۔
۴۔ مرکز میں ائمہ مساجد اور دیگر مساجد کے خدام کی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیا جائے اور مسجد کے حلقہ جات کی تیاری میں ائمہ مساجد کی رہنمائی کی جائے تاکہ ان حلقہ جات کے فرقہ واریت کے رجحانات کو ختم کیا جا سکے۔

۵۔ مرکز میں ایک بین المسلکی دارا لقضاء قائم کیا جائے اور عوام بالخصوص کاروباری حضرات کو ترغیب دلائی جائے کہ اپنے تمام تنازعات اس دارالقضاء میں شرع مطہرہ کے احکامات کے مطابق طے کرائیں اور سیکولر نظام حکومت اور انتظام بالخصوص پولیس سے رجوع نہ کریں۔

۶۔ مرکز میں ایک دارالمشاورت بھی قائم ہو جہاں محلہ کے باشندگان کو پیش آنے والے مسائل پر غور و فکر اور ان کے حل کرنے کی تجاویز مرتب کی جاسکیں۔ اس مشاورت کا دائرہ عمل خانگی معاملات کی درستگی سے لے کر معاشرتی اصلاح، فروغ اوامر اور تردید منکرات تک وسیع ہو اور اس بات پر بالخصوص توجہ دی جائے کہ وفاق کی مقامی قیادتی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے تاکہ ائمہ صرف فتوے نہ دیں، مقدمات کے فیصلے صادر نہ کریں بلکہ ان فتوں اور فیصلوں کی تنفیذ کی صلاحیت بھی نظاماتی سطح پر پیدا ہوتی چلی جائے۔

۷۔ اس کی ایک ابتدا یوں کی جا سکتی ہے کہ اسلامی جماعتوں سے متعلقہ تمام رفاہی کام انتظامی سطح پر بین المسالک مساجد کے وفاق سے متعلق کر دیا جائے اور رفاہی اعانتوں اور خدمات کی فراہمی کو ائمہ کے فیصلوں کی تنفیذ کے ساتھ مشروط کر دیا جائے۔ اسی طرح ائمہ مساجد کی معاشرتی قوت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

۸۔ مرکزی سطح پر دفاع مساجد اور مدارس محلہ کی سطح پر بھی انتظام ممکن ہے۔ تحریکات اسلامی کے متعلق نوجوان یہ ذمہ داری قبول کرنے کے لیے منظم کیے جائیں۔ اگر یہ کام منظم طور پر کیا گیا تو ائمہ کے تحکم میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور تھانوں اور دوسرے سرکاری انتظامی اداروں پر وفاق المساجد کا تحکم بتدریج قائم کیا جا سکے گا۔

۹۔ جیسے جیسے ائمہ مساجد کی محلہ کی سطح پر انتظامی گرفت مضبوط ہو گی ویسے ویسے ان کو اسلامی حمیت کو ابھارنے کے لیے مقامی سطح پر ردِ منکرات اور بدعات کے لیے گاہے گاہے مہمات منظم کرنا چاہیے۔ یہ مہمات محلہ کی سطح پر فواحش کے خاتمہ پر مرکوز ہوں۔

۱۰۔ اس کے ساتھ ساتھ ائمہ مساجد کو عوامی نمایندگی کے فرائض ادا کرنے کے لیے منظم کیا جانا چاہیے۔ آئمہ محلے کے بازاروں میں قیمت کے تعین اور مقامی اسکول میں فیس کے تعین اور رہائشی مکانوں کے کرایوں کے تعین میں فیصل کردار ادا کریں اور بجلی، گیس اور مواصلات کی سہولیات کی فراہمی کے بارے میں شکایات کی سرکاری اداروں تک فراہمی اور سرکاری اہل کاروں سے عوامی سودے بازی اور گفت و شنید ائمہ مساجد کی قیادت میں ہی کی جائے۔

۱۱۔ ان تمام اقدامات کا مقصد ائمہ مساجد کو مقامی سطح پر عوام کا واحد بااختیار قائد بنانا ہے اور یہ کام اسی وقت انجام دیا جا سکتا ہے جب محلہ کی سطح پر دینی عصبیت مستقل فروغ پاتی رہے اور اس کے تمام اسلامی گروہوں، مزکی، مدرس، سیاسی کارکنان میں اشتراکِ عمل ضروری ہے۔ نہ صرف یہ کہ کوئی ایک گروہ یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا بلکہ یہ کام اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام اسلامی جماعتیں مل کر مستقل بنیادوں پر ایک مشترکہ معاشرتی اور ریاستی حکمت عملی ترتیب دیتے رہیں جو بدلتے ہوئے حالات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت میں اضافہ کرتی رہے لہٰذا محلہ، قصبہ، ضلع ، شہر ، صوبہ اور ملک کی سطح پر ہماری جدوجہد اس بین المسالک وفاق المساجد کی تعمیر کے ذریعے ملکی ریاست کے اندر ایک اسلامی ریاست کی تعمیر ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

۱۲۔ جیسے جیسے اسلامی ریاست کا دائرہ کار وسیع ہو گا اور جیسے جیسے اس کا تحکم مضبوط ہو گا ویسے ویسے یہ سرمایہ دارانہ قومی ریاست اور اس کی مشینری پر اپنا تسلط قائم کرنے کی اہلیت حاصل کرے گی اور سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار بتدریج تحلیل ہوتا چلا جائے گا اور آخرکار بالکل مہمل اور بے معانی ہو جائے گا۔

سرمایہ دارانہ اقتدار کو تحلیل کرنے کے ذرائع خود سرمایہ دارانہ نظام کی ساختی کمزوریاں فراہم کر سکتی ہیں مثلاً سرمایہ دارانہ نظام کے تحکم کی تحلیل کے لیے ایک انتخابی حکمت عملی تفویظ کی جا سکتی ہے۔ اس انقلابی انتخابی حکمت عملی کے اجزا حسب ذیل ہو سکتے ہیں:

۱۔ تمام اسلامی گروہ، مزکیوں، مدرسین اور سیاسی گروہوں کے کارکنان ایک پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیں۔

۲۔ ہماری انتخابی مہم اسلامی جذباتیت کو فروغ دینے پر مرکوز ہو مثلاً ہم انتخابات ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر لڑیں، یوں انتخابات کو کفر اور اسلام کے مابین جنگ میں تبدیل کر دیاجائے۔
۳۔ ہم پارلیمان میں پورا زور اس بات پر صرف کریں کہ بین المسالک وفاق المدارس کے اختیارات کو کسی سطح پر کم کرنے پر یا ان کی کارکردگی میں سرکاری مداخلت کرنے کی ہر قسم کی قانون سازی ناکام ہو۔ ہم ہر اُس حکومت کو فی الفور گرانے کی مہمات کا آغاز کریں جو بین المسالک وفاق المساجد کے اقتدار کے فروغ کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ 

۴۔ جیسے جیسے عوامی سطح پر اسلامی عصبیت فروغ پائے ویسے ویسے ہم اس نوعیت کی مہمات استعمار سے تعاون کے اقدامات کے خلاف بھی چلا سکتے ہیں لیکن فی الحال یہ معاشرتی اسلامی عصبیت کو فروغ دینے کا موثر طریقہ نہیں جیسا کہ ۲۰۱۳ء کی جماعت اسلامی کی ’’گو امریکا گو‘‘ تحریک کی ناکامی نے ثابت کیا۔

سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے انہدام کے لیے ایک موثر معاشرتی اور ریاستی جدوجہد ممکن ہے کیوں کہ سرمایہ داری ایک تنزل پذیر اور روبہ زوال تہذیب ہے جس کے لیے بے شمار چیزیں اس کے انہدام کے وافر مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لیکن ان مواقع سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے بنیادی شرط ایک مضبوط اور دائمی بین المسالک اتحاد کی ہے جس میں مزکی، مدرس، سیاسی کارکن سب شریک ہوں اور اس تناظر میں اپنی مختلف النوع حکمت عملیوں میں ارتباط اور تطبیق پیدا کرتے رہیں۔ اس اتحاد کے قیام کے بغیر سرمایہ داری کے خلاف کوئی دیرپا نظاماتی پیش رفت ممکن نہیں۔ یہ اتحاد ہی عالمی اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

حق نوں بولو بلے بلے

رحمت رب نوں بنھ لو پلے

کچھ نہیں بننا کلم کلے

مل کر بن جاؤ طوفان

اٹھ کھلوتا دیس دے اندر اللہ والیاں دا طوفان

ٹھہر نئیں سکدے طوفانان دے اگے اے ماڈرن شیطان

***

جمعۃ المبارک ۱۹ ستمبر ۲۰۱۴ء

  1. یہ تحریک اٹھارھویں صدی میں فروغ پائی اور اس کا ایک جرمن اور ایک اسکاٹش مکتبہ فکر تھا۔

    ↑

  2. عیسائی مبلغین فلسطین سے ہجرت کر کے بڑی تعداد میں پہلے یونان گئے اور پھر پورے یورپ میں پھیل گئے۔

    ↑

  3. گو کہIMFسے مشاورت لازمی ٹھہرائی گئی تھی لیکن بیش تر ممالک نےIMFسے مشاورت کے بغیر ہی یہ کیا، مثلاً۱۹۴۶ء میں برطانیہ نے پاؤنڈ کی ڈالر میں قیمت IMFکے مشورہ کے بغیر کم کر دی۔

    ↑

  4. سرمایہ دارانہ زر وہ زر ہے جس کی قدر سو نے سے متعلق ہے نہ چاندی سے۔ یہ صرف سرمایہ دار ریاست کے اعتبار پر منحصر ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست ہی سرمایہ دارانہ زر کی قدر قیمت متعین کرتی ہے۔

    ↑

  5. سرمایہ دارانہ ملکیت کی دوسری معروف شکل ریاستی ملکیت ہے جو کہ اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ ریاستیں قائم کر تی ہیں۔

    ↑

  6. وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مائیکروسوفٹ کی ۲۰۱۲ء کی Annual General Meeting صرف پینتالیس افراد شریک ہوئے اور ان میں سے صرف ۶نے کسی رائے کا اظہار کیا۔

    ↑

  7. وہ کاروبار جو بینک کاری سے منسلک نہیں، کارپوریشنوں سے کاروبار نہیں کرتا اور جو بین الاقوامی تجارت سے منسلک نہیں، سود اور سٹہ کی مارکیٹوں کی گرفت سے باہر ر ہتے ہیں اور پاکستان میں چھوٹے کاروباروں کی بہت بڑی تعداد اسی قسم کے کاروبار پر مشتمل ہے۔

    ↑

  8. طرفہ تماشا یہ کہ جن بینکوں کو بچایا گیا وہ یونانی یا پرتگالی بینک نہیں امریکی، جرمن اور بر طانوی بینک تھے اور پاکستان نے آئی ایم ایف سے ستمبر ۲۰۱۳ء میں جو بھیک حاصل کی اس سے امریکی حکومت اور آئی ایم ایف کا قرضہ ہی اتارا جائے گا۔ اس سے پاکستانی عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا۔

    ↑

  9. Chaos Theory نے ثابت کر دیا ہے کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں توازن کا وجود ناممکن ہے۔

    ↑

  10. یہ بات سب سے پہلے یوگو سلاوین اشتراکی انقلابی Milovan Đilasنے اپنی مشہور کتاب The New Class میں ۱۹۵۰ء کی دہائی میں تفصیل سے بیان کی تھی۔

    ↑

  11. ہر نظام زندگی کا اپنا تصورِ عدل ہوتا ہے۔ اسلام کا تصورِ عدل نفاذِ شریعت ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ میں سرمایہ دارانہ تصورِ عدل عین ظلم ہے کیوں کہ سر مایہ کی بڑھوتری کا عمل مقاصد ِشریعت کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

    ↑

  12. یہ بات ہندوستان کی ماؤسٹ تحریک اور تحریکِ طالبان پاکستان کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔

    ↑

  13. یہاں استثنا چین کا ہے جس نے جمہوری حقوق کی فراہمی کے بغیر عوام میں سر مایہ دارانہ عمل میں شرکت کا احساس پیدا کر دیا ہے۔

    ↑

  14. اس کی تشریح روسی معیشت دان Kondratief نے بیان کی ہے۔

    ↑

  15. ٹولیریشن کو برداشت نہیں کہا جانا چاہیے،یہ ایک سر مایہ دارانہ تصور ہے جس کی لغوی معنویت کا تر جمہ کرنا ناممکن ہے۔

    ↑

  16. لاک کے خیال میں عہد نامہ قدیم (Old Testament) سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اس نوعیت کے معاہدہ کی بنیاد پر اپنی حکومت بنائی تھی۔

    ↑

  17. لاک عموماًحکومت کالفظ استعمال کرتاہے لیکن اس کا سیاسی ادارہ جاتی خاکہ ریاستی ہے۔

    ↑

  18. کانٹ اور ہیوم کے تصورHappinessمیں فرق ہے۔ Happiness لذات کی جدوجہدکے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  19. کانٹ صراحت سے نہیں کہتا کہ بڑھوترئ سرمایہ یونیورسلائزایبل خواہشاتِ نفسانی کے حصول کا واحد ذریعہ ہے لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ بڑھوترئ سرمایہ کی جستجو کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے خواہشاتِ نفسانی کی لامتناہی اور مستقل تکمیل ممکن نہیں۔

    ↑

  20. کانٹ کو ایک سرمایہ دارانہ متقی نہیں کہا جا سکتا وہ اغلام باز (Homosexual) تھا اور اپنی اغلام بازی کو مخفی رکھنے کےلیے ایسے اقدام کرتا تھا جو اس کے تصور Categorial imperativeکے خلاف تھے۔ اس کے بجائے مارکس، روسو اور لینن کو سرمایہ دارانہ متقی کہا جا سکتا ہے۔

    ↑

  21. فرانسیسی فلسفی مونٹیسکو کے امریکی پیروکاروں کی رائے تھی کہ صرف چھوٹی ریاستیں حقیقتاً ری پبلکن ہو سکتی ہیں۔وہ کہتے تھے کہ بڑی ریاستیں لازماً آمرانہ ہوتی ہیں، عوام کالانعام ہیں، روابطی فیصلے ناقابل قبول ہوتے جاتے ہیں اور بڑی ریاستیں بڑی جنگجو ہوتی ہیں۔

    ↑

  22. اسلامی جمہوریہ ایران خلافت یاامارت نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں ایک اسلامی Republic Oligarchy شرع مطہرہ کے احکام کی بنیاد پر عوامی حاکمیت کی تحدید کرتی ہے یہ Shariah constrained democracyہے، پاکستان کی ری پبلک کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں، عوام کے نمایندوں کو شرع کے ہر حکم کے انکار کا حق قانوناً دستور ِپاکستان فراہم کرتاہے۔

    ↑

  23. واضح رہے کہ میری رائے میں ایسے عیسائی امریکا میں کبھی بھی اکثریت میں نہ تھے لیکن سرمایہ دارانہ مفکرین کو اس بات کا خطرہ تھاکہ وہ اکثریت میں ہو جائیں گے۔

    ↑

  24. Public choice theory ان تصورات کو رد کرتی ہے اور اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ سرمایہ عمومی کا کوئی حقیقی نمایندہ سرمایہ دارانہ زندگی میں موجود نہیں ہوتا۔

    ↑

  25. امریکا کے لیے یہ رائے درست ثابت ہوئی۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک Republican party میں غریب طبقے کے لوگ شامل ہو رہے ہیں اور Democratic party میں بااثر صنعت کار شامل رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں امریکی ٹریڈ یونین تحریک کو فیصلہ کن شکست دے دی گئی ہے اور دوسرے ترقیاتی لبرل سرمایہ دارانہ ممالک کے مقابلے میں امریکی مزدور تحریک نہایت کمزور ہے۔

    ↑

  26. ریڈ انڈینز کا قتل، پورے براعظم کی لوٹ مار، پین، میکسیکو، نکاراگوا، ڈومینکن ری پبلک، کونومیا، بایتی، ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا، افغانستان، عراق، صومالیہ، سربیا وغیرہ میں امریکی دہشت گردی وغیرہ۔

    ↑

  27. اس صف میں فرنکوائے کیوسے اور ژاک ترگو کے نام بھی شامل کیے جاتے ہیں لیکن ان دو مفکرین کے نظریات وہ مقبولیت اور اثر نہ حاصل کر سکے جو اسمتھ اور ریکارڈو کے نظریات نے حاصل کیا ۔

    ↑

  28. ریکارڈو کا سب سے مشہور سوانح نگاربتاتا ہے کہ آج کی قیمتوں میں اگر ریکارڈو کی دولت کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ کئی ہزار ملین پونڈ کے برابر ہو گی۔

    ↑

  29. میری رائے میں مغربی فکر میں Morality اور Ethics میں تفریق ہمیشہ مبہم رہی ہے۔ میں Morality سے مراد حال کی درستگی لیتا ہوں یعنی فرد اپنی ذاتی زندگی میں خود اپنے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہےاور اپنے قلبی میلانات کی ترتیب کس طرح کرتا ہے۔ ایک ولی کا نفس اس کی روح کے تابع ہوتاہے۔ جدید یعنی تنویری یورپ میں روح کا اور تطہیر نفس کا کوئی تصور نہیں، نفس امارہ کی ہر خواہش تکمیل کی متقاضی ہے بشرطیکہ وہ Universlaible ہو Universlaiblity اور افادیت کی بنیاد پر Ethics کا تصور موجود ہے۔

    ↑

  30. یاد رہے کہ جو نتائج ایک فرد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ان نتائج سے مختلف ہو سکتے ہیں جو فعل کے ارتکاب کے نتیجے میں واقعتاً حاصل ہوئے۔

    ↑

  31. بارھویں صدی تک چرچ سود کے کاروبار کو حرام قرار دیتا تھا۔ اس کے بعد کیتھولک چرچ نے اسی طرح سود کے متبادل تلاش کرنے شروع کر دیے جیسے آج کے اسلامی بینک کار کر رہے ہیں۔ پروٹسٹنٹ عیسائیت کے بیش تر دھڑوں بالخصوص (Calvinism)نے سود کی حرمت سے قطعی انکار کر دیا۔

    ↑

  32. اس نظریے کی جامع تشریح ریکارڈو کے پیرو مارکس نے پیش کی۔ اس نے معیشت کو معاشرے کا Base اور مذہب اور سیاسی نظام کو اس کا Super structureقرار دیا۔

    ↑

  33. میری رائے میں مزدور نے اتنی سادگی سے مات نہیں کھائی بلکہ اس سرمایہ دارانہ نظام کا مزدور خود سرمایہ دار بن گیا ہے۔ حرص و ہوس کا بندہ بن کر اپنا مفاد اسی میں سمجھنے لگا ہے کہ مجموعی رفتار بڑھوترئ سرمایہ (GNP) میں اضافہ اس کے مفاد میں ہے۔

    ↑

  34. ایک معقول فرد وہ فرد ہے جس کی زندگی کا مقصد اپنی یوٹیلیٹی کو maximise کرنا ہے لہٰذا حصولِ رضائے الٰہی کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا نامعقولیت قرار دیاجائے گا لیکن کچھ اسلامی سرمایہ داری کے نقیب مثلاً پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی یوٹیلیٹی maximisation کو حصول رضائے الٰہی کا ذریعہ گردانتے ہیں۔

    ↑

  35. یہ بات جرمنی، جاپان اور روس کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی؛ ان تینوں ممالک میں قوم پرست سرمایہ دارانہ پالیسیاں اختیار کی گئیں اور امریکا میں بھی کسی حد تک قوم پرستانہ فکر کی بنیاد پر پالیسی سازی کی جاتی رہی۔ ۱۹۱۷ء میں روس میں سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب برپا ہو گیا۔

    ↑

  36. سرمایہ دارانہ معاشرے میں غیر سرمایہ دارانہ زر عموماً کرنسی کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہ وہ زر ہے جو اپنی بڑھوتری کی تلاش میں گردش نہیں کرتا بلکہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    ↑

  37. حقیقی پیداوار سے مراد GDPکی وہ قدر ہے جو کسی بنیادی سال کی قیمتوں کی بنیاد پر موجود GDP شمار کی جائے مثلاً حکومت پاکستان اپنے سالانہ GNP کے تخمینے 2000-01 کی قیمتوں کی بنیاد پر Calculateکرتی ہے۔

    ↑

  38. جن میں سب سے مشہور امریکی اکنامسٹ Lucas اور Sargeant ہیں۔

    ↑

  39. اس عمل کو Revisionism کہتے ہیں۔

    ↑

  40. کینز کے خیال میں توقعات تجرباتی ہوتی ہیں Rational نہیں ہوتیں۔

    ↑

  41. ان اکنامسٹ کی توقعات کے برعکس سرمایہ دارانہ زری بحران عام ہیں اور جیسا کہ ۲۰۰۷ء میں آنے والے بحران نے ثابت کر دیا ان بحرانوں کے دورانیے میں مرکزی بینک کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے کیوں کہ وہ ریزرو زر (M0) جاری کر کے کمرشل بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچاتاہے۔

    ↑

  42. لیکن حالات بہت کم ہی نارمل رہتے ہیں۔ real business cycleنظریات رکھنے والے اکنامسٹ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ان کے مطابق بحرانوں کا تعلق ایسے بیرونی دھچکوں سے ہوتا ہے جس کاrational expectation کی بنیاد پر احاطہ نہیں کیا جا سکتا یہ دھچکے منفی بھی ہو سکتے ہیں مثلاً افغانستان کی جنگ میں امریکی شکست اور مثبت بھی مثلاًInformation technology کا وسیع استعمال۔ ان دھچکوں کو سہارنے میں سرمایہ دارانہ مارکیٹ وقت لیتی ہے۔

    ↑

  43. بیسویں صدی کا سب سے اہم سرمایہ دارانہ سیاسی فلسفی۔

    ↑

  44. اپنے پروفیسر بننے کی تقریب میں اس نے اٹھارہ بوتلیں شراب کی پی کر اساتذہ اور طلباء کے سامنے بہترین رقص پیش کیا۔ یہ واقعہ ہارورڈ کی تاریخ میں سنہرے حروف سے رقم کیا جاتاہے۔

    ↑

  45. یاد رہے کہ لاک کے مطابق سرمایہ دارانہ پراپرٹی کے تین مظاہر ہیں :انسانی جان، آراء اور مال۔

    ↑

  46. یہ ٹوکو ولے Tocquiville کا خیال تھا جس نے اٹھارھویں صدی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی سرمایہ داری اس سے ملتی جلتی جنت تعمیر کرنے کے لیے ریڈ انڈینز کاقتل عام کر رہی ہے۔

    ↑

  47. فرق یہ ہے کہ نوزیک سرمایہ دارانہ ملکیت کی انفرادی اور مارکس سرمایہ دارانہ ملکیت کی اجتماعی تشکیل کا قائل ہے۔

    ↑

  48. Thatalion, Reagen, Merkel, Blair, Bushوغیرہ کی حکومتیں۔

    ↑

  49. نوزیک یہ تسلیم کرتاہے کہ اصولاً یا عملاً یہ ممکن ہے کہ جن لوگوں کے پراپرٹی حقوق محدود کیے جا رہے ہیں ان کو اس کا معاوضہ دیا جائے لیکن یہ اس کے خیال میں عملاً ممکن نہیں۔

    ↑

  50. دیکھیے وہ ابواب جہاں کانٹ اور اسمتھ کی فکر کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

    ↑

  51. لاک پراپرٹی کا اہم ترین جزو آراء یا ضمیر کو تصور کرتا ہے۔ لاک کے مطابق ہیومن بینگ وہ ہے جس کا ضمیر خواہشاتِ نفسانی کی تابع عقلیت کی اطاعت کو حق کے طور پر قبول کرتا ہے۔ لاک کے دور میں اکثریت عیسائیوں کی تھی۔ ریشنل ملحد ایک قلیل اقلیت تھے لوگوں کو ریشنل ملحد بنانا لاک کا اصل مشن تھا۔ نوزیک کے دور میں امریکیوں کی عظیم اکثریت ریشنل ملحدین پر مشتمل تھی۔

    ↑

  52. یہ لاک کی Labour theory of valueاورLockeon proviseہے۔ 

    ↑

  53. ان ریاستوں میں Tea party کے کچھ حلقے اپنی ریاست کو امریکی وفاق سے علیحدہ کرنے کی جدوجہد بھی کر رہے ہیں لیکن ان کو عوام کی کوئی تائید حاصل نہیں۔

    ↑

  54. اور کشمیر لیکن کشمیر پر ہندوستان کے قبضے کا کوئی ذکر امریکی بحثوں میں نہیں ملتا۔

    ↑

  55. یہ شخص Cornell Universityمیں فلسفے کا پروفیسر ہے۔

    ↑

  56. بلکہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام اور استحکام کے لیے لازم ہے۔

    ↑

  57. یہ دلیل نے لاک نے انگلستان میں سترھویں صدی میں چرواہوں کی زمین کے غصب کے سلسلے میں دی تھی۔ Enclosure movementکے ذریعے انگریز وڈیروں نے ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کیا تھا۔

    ↑

  58. اسرائیلی فلسطینیوں پر اس نوعیت کا احسان کر رہے ہیں۔ اس احسان کی تفصیل Ellen Frarekel Paul بیان کرتی ہے۔

    ↑

  59. اور بین الاقوامی سرمایہ دارانہ قانون فلسطینیوں کا بھی یہ حق تسلیم نہیں کرتا۔

    ↑

  60. رچرڈ رارٹی بھی یہ کہتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ امریکیوں کویہ حق حاصل ہے کہ اپنے آپ کو پرانے کیے گئے جرائم کے لیے خود معاف کر دیں کیوں کہ وہ خودمختار اور غالب قوم ہیں۔

    ↑

  61. ہم اس کتاب میں مینجمنٹ سائنس کے بدل میں مینجمنٹ کا لفظ استعمال کریں گے۔

    ↑

  62. Business Ethicsتین دیگر سوالوں سے بھی بحث کرتی ہے: (1) کارپوریشنوں کے باہمی تعلقات کن اصولوں پر مروج ہوں۔ (2) کارپوریشن کے اس کے گاہکوں سے تعلقات کی نوعیت۔ (3) کارپوریشن اور ریاست کے تعلقات۔ ان تینوں سوالوں پر کچھ مباحث سوشیولوجی میں بھی ملتی ہیں۔ Business Ethics پر ہماری ایک اور کتاب موجود ہے۔

    ↑

  63. میری رائے میں مینجمنٹ کے بنیادی مآخذ اکنامکس اور نفسیات ہیں۔

    ↑

  64. ان میں سے کچھ تنظیموں (پٹواری کی دکان، تحقیقی ادارہ، گرجا گھر )کو نظام کارپوریٹ میں Securitisation کے عمل کے ذریعے سمویا جا سکتا ہے لیکن کچھ تنظیموں (وزارت خارجہ، سیاسی جماعت) کو نہیں سمویا جا سکتا۔

    ↑

  65. مثلاً مشینوں میں خام مال ڈالنے، مشینیں چلانے اور پیداواری اوزار کو جمع اور اخراج (Store and issue) کرنے کے اعمال ۔

    ↑

  66. اس کو Time motion studyکہتے ہیں۔ Frank and Lillian Gilbrethنے Time motion studyکو ایک Exact scienceبنانے کی کوشش کی۔

    ↑

  67. جو اشیا مطلوبہ معیار پیداوار سے ناقص شمار کی جائیں ان کا مجموعی پیداوار میں تناسب Wastage Ratio ہے۔

    ↑

  68. Deming اور Juran دونوں Mathematical statisticiansتھے۔

    ↑

  69. ۱۹۱۷ء میں روس میں سرمایہ دارانہ اشتراکی انقلاب برپا ہونے کے بعد کئی لبرل سرمایہ دار ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، امریکا، جرمنی) میں مزدوروں کی جارحانہ تحریکیں اٹھیں اور ان تمام ممالک میں جلد یا بدیر Human relation managementکا مکتبہ فکر مقبول ہوا۔ 

    ↑

  70. ان تحقیقات کو Hawthorne studiesکہا جاتا ہے اور یہ ۱۹۲۲ء سے ۱۹۳۲ء تک جاری رہیں۔

    ↑

  71. یہ خیال Elton Mayoنے پیش کیا جو ہارڈورڈ یونی ورسٹی میں نفسیات کا پروفیسر اور Hawthorne studies کا سربراہ تھا۔

    ↑

  72. یعنی Self Managementاور خودتخلیقیت اور ان دونوں کا اظہار وہ کارپوریشن کے لیے کام کر کے کرتا ہے۔

    ↑

  73. اس تصور میں ہیومن کیپٹل اور ہیومن بینگ میں صرف فرق یہ ہے کہ ہیومن کیپٹل کسی مخصوص کارپوریشن کا بندہ ہوتا ہے اور ہیومن بینگ سرمایے عمومی کا بندہ یعنی سٹیزن ہوتا ہے۔

    ↑

  74. MacIntyre نے واضح کیا ہے کہ مارکیٹ سول سوسائٹی پر کیسے غالب آتی ہے سول سوسائٹی کو Colonise کر کے اپنا نوآبادیاتی نظام بنا لیتی ہے۔

    ↑

  75. Chaos theoryبنیادی طور پر ایک Mathematical theoryہے۔

    ↑

  76. جیسا کہ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا حقیقی عقلیت بندگی رب کی تعلیم ہے، بندگی نفس امارہ کی تعلیم نہیں۔ ابدیت اورخودتخلیقیت کی جستجو لازماً لایعنی ہے کیوں کہ موت اٹل ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ انسان عبد ہے آزاد، خودمختار، صمد اور احد نہیں۔

    ↑

  77. کتاب Insearch of excellence،۱۹۸۲ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۹۰ء تک اس کے تقریباً اسی لاکھ نسخے فروخت ہو چکے تھے۔

    ↑

  78. یہ بات تفصیل کے ساتھ Bishop Tawneyنے واضح کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ پروٹسٹنٹ ازم کے دور سے قبل یورپ، یورپ نہیں تھا۔ یورپ Christendom تھا اسی نام پر وہاں کے تمام باشندوں نے صلیبی جنگیں لڑی تھیں۔

    ↑

  79. جن ابواب میں سوشل ڈیموکریٹک مفکرین کی فکر کا تجزیہ کیا گیا ہے وہاں یہ بات تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

    ↑

  80. یہ بات Phyllis Deaneنے ثابت کی ہے۔

    ↑

  81. اوریہ پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام کے محدود اور کمزور ہونے کی اہم ترین دلیل ہے معاشرتی سطح پر پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی گرفت نہایت کمزور ہے اور اس کی وجہ برادری اور قبائلی نظام کا غلبہ ہے۔

    ↑

  82. انفرادی ملکیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پاتی یہ تجربہ ۱۹۱۸ء تا ۱۹۲۱ء میں روس میں اور ۱۹۶۶ء تا ۱۹۷۵ء چین میں ناکام ہو گیا۔

    ↑

  83. یہ بات ان لوگوں کے لیے بھی درست ہے جو براہ راست سرمایہ کے ملازم نہ ہوں مثلاً پنشنر، طلبہ ،بے روزگار افراد اور وہ سود خور طبقے جو ہمہ وقت تفریح کرتے ہیں (انہیں Vebler نے Leisure class کہا تھا)۔ اور اگر سود اور سٹے کے بازار بیٹھ جائیں تونہ پنشن دی جا سکے نہ وظیفہ نہ سود اور ڈیویڈنٹ کی ادائیگی اور پنشنر اور عیاش طبقہ اور بے روزگار سب قلاش ہو جائیں۔ لیکن یہ بات ان کاورباریوں کے لیے درست نہیں جو حلال کاروبار کرتے ہیں اور جن کا کوئی تعلق نہ سود سے مارکیٹ سے ہے نہ سٹے کی مارکیٹ سے ہو بشرطیکہ وہ خرید و فروخت بھی ایسے لوگوں سے کرتے ہوں جن کی آمدنی کا انحصار سود اور سٹے کی مارکیٹوں پر نہ ہو۔

    ↑

  84. یعنی ہر مزدور لازماً سرمایہ دار ہوتا ہے اور ہر سرمایہ دار لازماً مزدور ہوتا ہے۔

    ↑

  85. Henry Braverman نے یہ بات Assembly lineکے مزدوروں کے بارے میں کہی تھی بعد میں اس کے شاگردوں نے آفس میں کام کرنے والوں کے لیے بھی یہ بات ثابت کی۔

    ↑

  86. یعنی کارکنوں کی جلدی جلدی ایک پروجیکٹ سے دوسرے پروجیکٹ پر منتقلی اور ان کی ذمہ داریوں میں جلدی جلدی تبدل۔

    ↑

  87. اس اعتراض کے ضمن میں انگلستان اور امریکا کے صف اول کے اکنامسٹوں کے درمیان وہ بحث ۱۹۶۰ء کی دہائی میں چلی جس کو Capital controverseyکہا گیا۔ اس بحث میں نیوکلاسیکی اکنامسٹس سرافا کے اس اعتراض کا جواب نہ دے سکے کہ جس چیز کو وہ Capital کہتے ہیں اس کی مجموعی مقدار کو شمار (Estimate) کرنے کے لیے کوئی ایسا پیمانہ موجود نہیں جو جس چیز کو وہ شرح منافع (Rate of profit)کہتے ہیں، سے جدا ہو لہٰذا Theory of marginal productivity لغو ثابت ہوئی چوں کہ شرح منافع مقدارِ سرمایہ کی Marginal productہے۔

    ↑

  88. مارکیٹ میں ٹوتھ پیسٹ کے ہزاروں Toothpaste برانڈ موجود ہیں اور ہر برانڈ کو مارکیٹ کرنے کے لیے کثیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

    ↑

  89. Neo Austrianاور ان کے شاگردوں نے اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ سرکاری کارپوریشنیں چوں کہ منافع کو Maximise کرنے پر توجہ نہیں دیتیں لہٰذا وہ تسخیری تعمیر کی مارکیٹ دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں اور منافع کو Maximise کرنے کے لیے بیش تر مواقع ضائع کر دیتی ہیں۔

    ↑

  90. نیوآسٹرین اکنامسٹس مانٹرسٹس (Monetarists) اور جدید کلاسیکل اکنامسٹس کے برخلاف یہ تسلیم نہیں کرتے کہ بحرانوں کا بنیادی سبب غلط زری اور مالیاتی (Monetory and fiscal)پالیسیوں کا نفاذ ہے۔

    ↑

  91. John Tomlinson یورپی سرمایہ داری کا موازنہ یورپی فیوڈل ازم سے کرتا ہے۔ فیوڈل ازم کی تباہی کو اس نظام کے غیرفطری ہونے کا نتیجہ قرار دیتا ہے ۔

    ↑

  92. اصولاً نیو آسٹرین نظریہ مارجنل پروڈکٹیوٹی ہے لیکن جب وہ اجارہ دارانہ مسابقت پر اصرار کرتے ہیں تو marginal productivity پر ان کا ایمان کمزور ہوتا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ سرافا نے مقدارِ سرمایہ کو شمار کرنے کے طریقے پر جو اعتراض کیا تھا وہ نیوآسٹرین مکتب فکر بھی کیا جا سکتا ہے۔

    ↑

  93. اس کو Quantitative easing کہتے ہیں اور اس کے کئی دورانیے امریکا اور یورپ میں جاری رہے ہیں۔

    ↑

  94. جس کا ایک شماریہ کراچی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ہے۔

    ↑

  95. اور ان چھ سو میں پہلے دو سو سالوں میں سرمایہ دارانہ نظام نہایت مختصر علاقوں تک محدود تھا۔

    ↑

  96. یہ دونوں بیسویں صدی فرانس کے رہنے والے تھے۔

    ↑

  97. لیوی سٹراس کی کوئی غیرمبہم سیاسی فکر نہ تھی اور Althusser ایک مارکسسٹ تھا۔

    ↑

  98. یعنی انیسویں صدی جرمنی میں عام انسان ہیومن بینگ نہیں بنا تھا۔

    ↑

  99. جیسا کہ جرمن پادری نے ثابت کیا کہ ہیومن بینگ شیطانی انفرادیت ہے کیوں کہ شیطان کا اصل نام عزازیل یعنی Enlightened ہے ہیومن بینگ بھی Enlightened ہوتا ہے۔ اور اس Enlightenement کی بنیاد احد اور صمد (Autonomy) کا دعویٰ کرتا ہے۔ شیمولر انسان کو ہیومن بینگ (شطان) بنانے کی ضرورت کا انکاری نہیں تھا (شمیولر بھی Enlightened تھا) لیکن وہ کہتا تھا کہ یہ کام سرمایہ دارانہ ریاست کر سکتی ہے مارکیٹ نہیں۔

    ↑

  100. یہ Ronald Coase اور Herbert Simon کا شاگرد ہے اور ابھی تک مصروف کار ہے۔

    ↑

  101. ولیمسن Institutionalist economistکو Transaction Cost اکنامسٹ ہی کہتا ہے۔

    ↑

  102. یہ مستقل وجود ادارہ بھی ہو سکتا ہے کارپوریشن، دکان، حکومت اور فرد بھی Coase نے خاندان کو بھی ایک ادارہ کہا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں خاندان اقتصادی ادارہ نہیں رہتا اور معاشرتی طور پر بھی تباہ کر دیا جاتا ہے۔

    ↑

  103. مثلاً جب ایک کار بنانے والی کارپوریشن کے ٹائر خود بنانے یا مارکیٹ سے خرید کر اپنی گاڑیوں میں لگانا ہو تو فیصلہ اس امر پر منحصر ہوتا ہے (یا ہونا چاہیے) کہ کس طریقے سے مجموعی Transaction Cost کم سے کم ہے۔

    ↑

  104. عملاً یہ بات نہ اشیا کی مارکیٹ کے لیے درست ہے نہ ہی لیبر مارکیٹ کے لیے۔ اشیا کی مارکیٹ میں چند غالب کارپوریشنیں دیگر تمام نسبتاً چھوٹی کارپوریشنوں کو اپنی طے کردہ قیمتوں کو قبول کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور لیبر مارکیٹ میں مزدور کارپوریشنوں کی طے کردہ اجرتوں کو قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    ↑

  105. یہ انسان کو ہیومن بینگ بنانے کا مقبول عام طریقہ ہے۔

    ↑

  106. مثلاً آج کل آندھر اپردیش میں قائم ایک امریکی یونی ورسٹی اس بات پر تحقیق کر رہی ہے کہ لکشمی دیوی کے بچاریوں کو یہ کیسے باور کرایا جائے کہ لکشمی کمپیوٹرسسٹم میں حلول کر گئی ہے۔

    ↑

  107. کساد بازاری کے دور کے بہترین تنظیمی ڈھانچے افراطِ زر کے دور کے بہترین کارپوریٹ تنظیمی ڈھانچوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔

    ↑

  108. یعنی ہر کارکن کو اس بات پر راضی کر کے اس کے ذاتی مفاد کی جدوجہد کو کارپوریشن کے مقصد عالی یعنی بڑھوتری منافع /سرمایہ کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

    ↑

  109. اور ریاستی سطح پر بھی نمایندہ جمہوریت کا نظام بھی فقدان اعتماد کا شکار ہے۔

    ↑

  110. نیوکلاسیکی اکنامکس کے ابتدائی دور (یعنی انیسویں صدی کے آخر) میں کارپوریشنیں سرمایہ دارانہ نظام پر حاوی نہیں ہوتی تھیں اور سرمایہ دارانہ نظام غیر مساویانہ ملکیتی اشکال پر سہارا لیے ہوئے تھا جیسا کہ آج پاکستان میں ہے۔

    ↑

  111. نسل کشی (Population control)کی عالمی تحریک Baconکی فکر سے متاثر ہے۔

    ↑

  112. نیوکلاسیکی ماڈل میں مارکیٹ پالیسی سازی عمل کو غیرضروری بنا دیتا ہے۔

    ↑

  113. سوشیولوجیکل مطالعات میں انہیں کلب کہا جاتا ہے اور NGO کلبس ہی کی ایک قسم ہے۔

    ↑

  114. اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ Rule of the law is the rule of the capital.

    ↑

  115. اس مکتبہ فکر کےاہم مفکرین Amos Tversky, George Akerlof, Dufwenberg وغیرہ ہیں جن کے مقالات کی تخصیص بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ ایک اہم ابتدائی کتاب George Loewenstein and Matthew Rabin نے 2003ء میں شائع کی۔

    ↑

  116. اور پالیسی صرف آزادانہ مارکیٹ کے فروغ دینے کے مقصد کے لیے نافذ کی جائے۔ ↑

  117. Advertising کی صنعت اور فنانس مارکیٹ ان تعلیمات سے مستقل مستفید ہوتی رہتی ہے۔

    ↑

  118. لیکن کچھ Behaviouralist اکنامسٹ مثلاً Vincent Gawfordاس تصور کو ردّ کرتے ہیں۔

    ↑

  119. Applied game theoryمیں ان Behaviour تصورات کا استعمال ۲۰۰۸ء سے بالخصوص فروغ پا رہا ہے۔

    ↑

  120. اور عموماً اس سوال کا جواب Game theory کی بنیاد پر وضع ہوتا ہے لیبارٹری میں کیے جانے والے تجربات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    ↑

  121. مارکس کی دو تحریروں "Wage, Labour and Capital" اور "Wages, Prices and Profit" میں اس کی تفصیل موجود ہے۔

    ↑

  122. اس نظریہ کی سب سے واضح اور موثر تشریح مالتھس نے پیش کی۔

    ↑

  123. Schumpeterنے اپنے اس عقیدے کا اظہاراپنی کتاب "Capitalism, Socialism and Democracy" میں کیا ہے۔

    ↑

  124. اس کے برعکس مارکس کے مطابق لبرل انقلاب بورژوا طبقہ اپنی ذاتی املاک کے تحفظ اور فروغ کے لیے برپا کرتا ہے۔

    ↑

  125. واضح رہے کہ مارکس کے دور میں کارپوریٹ ملکیت کا وجود محدود تھا۔

    ↑

  126. مارکس کی بیوی کا نام Jenni von Westphalenتھا۔ وہ ایک ربی کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی ۱۸۴۳ء میں مارکس سے ہوئی اور اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر کے چالیس سال تک بغیر شکایت کیے غربت اور تنگ دستی کی زندگی گزاری۔ اس کی موت ۱۸۸۱ء میں لندن میں ہوئی۔

    ↑

  127. جنسی بے راہ روی کے واقعات میں کولمبیا کے حریت پسندوں اور ہندوستانی ماؤسٹ اجتماعیتوں کی عام شہادتیں کثرت سے موجود ہیں لیکن عیسائی اور صہیونی مارکسسٹوں کے گروہ عموماً جنسی بے راہ روی میں ملوث نہیں ہوتے۔

    ↑

  128. مثلاً یہ کہ پرولتاری غریب سے غریب تر ہوتے چلے جائیں گے۔ اشتراکی انقلاب سے پہلے ترقی یافتہ ممالک میں رونما ہو گا۔ مذہبی تشخص فنا ہو جائے گا، طبقاتی کش مکش شدید ہو جائے گی وغیرہ۔

    ↑

  129. یہ عمل سب سے تیزی سے مشرقی یورپ کی ان سابق سوشلسٹ ریاستوں میں رونما ہو رہا ہے جو یورپی یونین میں شامل ہیں اور سب سے سست رفتاری سے کیوبا اور لاؤس میں ہو رہا ہے۔

    ↑

  130. ہر مفکر کے نظریات کی نئی تشریح حالات اور مقامات کی تبدیلی کے ساتھ لازمی ہو جاتی ہے۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تشریح نو کے عمل سے مستثنیٰ ہے کیوں کہ وہ مفکر یا نظریہ ساز نہیں بلکہ ابدی حقائق کے ترجمان ہیں۔حالات کے تبدل کے ساتھ اگر مفکرین کے نظریات کی تشریح اور تنقید نہ کی جائے تو ان کی فکر مردہ ہو جاتی ہے۔ دیوبند اور بریلی کے اکابر علما کی فکر اسی وجہ سے اب غیر معروف ہو گئی ہے کہ ان علما کے شاگردوں نے اپنے اساتذہ کے نظریات کی تشریح اور تنقید کے بجائے محض اس کی مدح اور تعریف و تحسین پر اکتفاکیا ہے۔

    ↑

  131. پاکستان پیپلز پارٹی کے مبشر حسن، سکندر رحیم اور یونس ادیب امریکی گھس بیٹھیے تھے اور ان کو ۱۹۵۰ء کی دہائی سے مستقلاً بینک آف امریکا سے رقوم ملتی تھیں۔ مزدور تحریک میں امریکی مفادات کی ذمہ داری سنبھالے رہے۔

    ↑

  132. ٹراٹسکی استعمار کا ایجنٹ نہ تھا۔ وہ مخلص مارکسسٹ تھا جو ۱۹۱۷ء تک لینن کا مخالف رہا۔ ۱۹۱۷ء میں لینن کی بالشویک پارٹی میں شامل ہو گیا۔ ۱۹۱۸ء میں اس کو وزیرجنگ مقرر کیا گیا اور اس کی بہادری اور دانش مندانہ حکمت عملی کے نتیجے میں سوویت یونین کو سول وار میں کامیابی ہوئی۔ لینن کی موت کے بعد ٹراٹسکی اسٹالن کا شدید مخالف ہو گیا اور اس کو اپنی جان بچانے کے لیے ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اسٹالن کے ایجنٹوں نے اسے قتل کر دیا۔

    ↑

  133. Plekhanovنے یہ پارٹی جو خود کو مارکسسٹ قرار دیتی تھی، ۱۸۸۵ء میں بنائی اور اس کا نام ’’رشین سوشل ڈیموکریٹ اینڈ لیبر پارٹی“ رکھا۔

    ↑

  134. اس کا مشہور مقولہ ہے "Man is what he eats"۔ Feuerbachکے تصور مادہ پر مارکس نے بھرپور تنقید کی ہے۔

    ↑

  135. Narodnikمفکرین کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ نہ تھا کیوں کہ ان کی رائے میں عام کسان معاشرہ آزادی، مساوات اور ترقی کو قبول کرتا تھا اور عیسائیت سے اس کا لگاؤ محض مصلحت پسندی تھا۔

    ↑

  136. لیکن پرولتاریہ اپنے آپ کو اشتراکی سرمایہ دارانہ استحصال سے آزاد نہیں کر سکی۔

    ↑

  137. Narodnikکو سلاو تہذیب و تمدن کا پرستار کہا جاتا تھا۔

    ↑

  138. انیسویں صدی میں کوئی بھی سوشلسٹ جماعت اس نظریہ کی قائل نہ تھی۔ انقلابِ روس کے بعد جو جماعتیں سوویت یونین کی بنائی ہوئی تنظیم میں شریک ہوئیں انہوں نے یہ نظریہ قبول کیا لیکن ۱۹۸۰ء کے بعد تمام یورپی کمیونسٹ پارٹیاں اس نظریہ کو ترک کر چکی ہیں۔ ہندوستانی اور ویت نامی کمیونسٹ جماعتیں بھی اب کم از کم اس نظریہ کی قائل نہیں رہیں۔ اس کے برعکس چین اور لاطینی امریکی کمیونسٹ جماعتیں لیننی جماعتیں ہیں اور یہ بات ترکستان کی کمیونسٹ جماعتوں کے بارے میں بھی بالعموم کہی جا سکتی ہے۔ 

    ↑

  139. ان تمام موضوعات پر غیر لیننی جماعتوں کا رویہ لیننی کمیونسٹ جماعتوں سے مختلف ہے لیکن غیر لیننی جماعتیں جب بھی برسراقتدر آئیں تو انہوں نے سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کا ایجنڈا اختیار کیا۔

    ↑

  140. ۱۸۸۵ء میں RSDLPقائم ہوئی تھی۔ ۱۹۰۳ء میں اس کا قائد Martovتھا جس کو Plekhanovکی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

    ↑

  141. لکسمبرگ ایک مشہور مارکسسٹ انقلابی قائد تھی جو پولینڈ میں پیدا ہوئی لیکن عملی جدوجہد جرمنی میں کی۔ وہ لینن کی ہم عمر تھی۔ ۱۹۱۹ء میں اس کو جرمن پولیس نے قتل کر دیا۔ اس کے پہلے کتابچے کا نام تھا: Organizational Question of Russian Social Democracy

    ↑

  142. جماعت اسلامی پاکستان کا دستور ان تصورات کی پوری عکاسی کرتا ہے اور اپنی دستوری حیثیت کے لحاظ سے جماعت اسلامی پاکستان ایک لیننی پارٹی ہے۔

    ↑

  143. لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹیاں طبقہ پرولتاریہ کی کارسازہوتی ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ پارٹیاں موجود نہ ہوں تو عموماً پرولتاریہ بحیثیت ایک طبقہ کے وجود میں نہیں آتا۔ 

    ↑

  144. عملاً ہراول دستہ سنٹرل کمیٹی کی ذمہ داری سرانجام دے گا۔

    ↑

  145. تنفیذ پورے ہراول دستے کی ذمہ داری ہے۔

    ↑

  146. اس اجمال کی تفصیل لینن نے اپنے رسالہ "State and Revolution" میں پیش کی ہے۔ یہ رسالہ ۱۹۱۶ء میں سوئٹزرلینڈ میں لکھا گیا اور اس کو سوویت حکومت نے ۱۹۱۷ء میں شائع کیا۔

    ↑

  147. اس صحیح تفہیم کو اسٹالن کے دور میں مارکسی لینن ازم کہا گیا اور چین کے ثقافتی انقلاب (۱۹۶۶ء تا ۱۹۷۸ء) کے دوران اس صحیح تفہیم کا نام Marxism-Leninism-Mao Zedong Theory رکھا گیا۔ 

    ↑

  148. ٹراٹسکی مفکرین کا دعویٰ ہے کہ لینن کے دورِ حکومت (۱۹۱۷ء تا ۱۹۲۳ء) میں واقعی ایسا تھا لیکن امریکا نواز مفکرین اس بات کی نفی کرتے ہیں۔

    ↑

  149. سوویت تنظیم ۱۹۰۵ء کے ناکام انقلاب کے بعد سے پہلے روس کے بڑے شہروں میں قائم ہونا شروع ہوئی اور ان کا مقصد نظام پر کارکنوں کو قبضہ دلانا تھا۔ پہلے یہ فیکٹریوں میں مزدوروں کی جدوجہد کے نتیجے میں موثر ہوئی پھر دیہی علاقوں اور فوج میں بھی سوویتوں کا قیام عمل میں آیا۔ جیسے جیسے زار کا نظام اقتدار کم زور پڑا ویسے ویسے سوویت کی انتظامی قوت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ فروری ۱۹۱۷ء میں جب لبرل انقلاب زار کے خلاف برپا ہوا تو ان سوویتوں کا اقتدار عروج پر تھا۔

    ↑

  150. مارکسی فکر میں پرولتاریہ انسانیت کا نمایندہ طبقہ ہے کیوں کہ جب اس کی آمریت قائم ہوتی ہے تو وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرتا ہے جو ہر فرد کو مکمل آزادی اور مکمل خواہشاتِ نفسانی کے حصول کو ممکن بنا دیتی ہے۔ لہٰذا پرولتاریہ کا مفادہر فرد اور ہر طبقہ کا حقیقی مفاد ہے۔

    ↑

  151. اور مارکس ازم ویسے ہی حق ہے جیسے فزکس وغیرہ۔

    ↑

  152. کمیونسٹوں کے دوسرے دھڑے یعنی مانشویک نے یہ نعرہ کبھی قبول نہ کیا۔ اپریل ۱۹۱۷ء سے بالشویک پروگرام کے تین بنیادی مطالبات تھے۔ جنگ کا فوری خاتمہ، تمام اقتدار سوویتوں کے سپرد کیاجائے اور اراضی عام کسانوں میں تقسیم کر دی جائے۔ 

    ↑

  153. نومبر ۱۹۱۷ء میں جو حکومت بنی اس میں Social Revolutionary Party کے وزرا شریک تھے۔

    ↑

  154. ان مفکرین کی اپنی تنخواہیں عام سوویت مزدور سے کئی گنا زیادہ رفتار سے مستقلاً بڑھتی رہیں۔

    ↑

  155. تاریخ نے ثابت کر دیا کہ سوشلسٹ نظام دو قسم کی نظاماتی شکل اختیار کرتا ہے۔ ریاستی سرمایہ داری یعنی مارکیٹ سوشل ازم۔ اشتراکی سرمایہ داری کی کارفرمائی مارکسی خیالی جنت کی طرف مراجعت کا طریقہ کبھی ثابت نہیں ہوتی۔

    ↑

  156. کچھ مفکر سوشلسٹ ریاستی اشرافیہ کو طبقہ اور کچھ اس کو ذات کہتے ہیں۔

    ↑

  157. ان میں سے کچھ کو ریاستی تحویل میں بھی لے لیا گیا۔

    ↑

  158. حکومت جن داموں پر کاشت کاروں سے اجناس جبراً خریدا کرتی تھی وہ بہت کم ہوتے تھے۔

    ↑

  159. دیہی علاقوں میں بالشویک حکومت کے مخبر عموماً پادری ہوا کرتے تھے۔ ہٹلر کے لیے لوتھری عیسائیوں نے یہ کردار اپنا یا اور آج ایشیا بھر میں امریکی ایونجلسٹ عیسائی سی آئی اے کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

    ↑

  160. یہ سفر مشرقی یورپ کی سابق کمیونسٹ ریاستوں میں جاری ہے لیکن میری رائے میں سوائے چیک ریپبلک اور سلواکیہ کے کہیں بھی مکمل نہیں ہوا۔ اور پوٹن کی حکومت میں روس میں اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کے جزوی احیا کی جستجو کی گئی۔

    ↑

  161. مارکس اسی تصور کو specie being کہتا تھا۔

    ↑

  162. پرولتاری طبقاتی مفاد کی تشریح کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کرتی ہے۔

    ↑

  163. یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عوام سطح پر سوویت مین کا وجود سول وار میں بھی قائم تھا۔

    ↑

  164. ۱۹۷۸ء تک کمیونسٹ مندوب Dung Piwaتھا۔ اس کو ۱۹۷۲ء میں حکومت کا وائس چیئرمین بنا دیا گیا تھا۔ 

    ↑

  165. یہ Kumintangقوم پرست جماعت کے ساتھ ۱۹۲۷ء کے بعد مارے گئے۔ ماؤ کے بھائی کو بھی ۱۹۴۳ء میں Kuomintangنے قتل کر دیا۔ ماؤزے تنگ اور Tung Piwa زندہ بچ گئے اور کمیونسٹ دورِ اقتدار میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔

    ↑

  166. سول وار کے دوران PLA کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ دیہی علاقوں سے نکل کر شہروں کا گھیراؤ کرتی اور شہر کے اندر کمیونسٹ حامی PLA کو شہروں میں داخل ہو کر اقتدار پر قبضہ کرنے میں مدد دیتے۔

    ↑

  167. ایک اور مختصر تقریر "Where do Correct Ideas Come From?" بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کتابچوں کا ترجمہ ایک پاکستانی ماؤسٹ محمود ارسلان اردو میں کر رہا تھا لیکن وہ مر گیا اور اردوترجمہ مکمل نہ ہو سکا۔ انگریزی ترجمہ لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتا رہتا ہے۔

    ↑

  168. بالواسطہ تجربات وہ تجربات ہیں جو کمیونسٹ پارٹی متبعین کی طرف کرتی ہے۔

    ↑

  169. اس ضمن میں لینن کی کتاب "Philosophical Notebook" میں ہیگل کے نظریات کی تشریحات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

    ↑

  170. یعنی وہ تجربات جن کے نتیجے میں انقلاب کا وقوع زیادہ ممکن ہو جاتا ہے۔

    ↑

  171. گو کہ لینن کا NEP کے دور کا عمل اسی خیال کی تائید کرتا ہے۔

    ↑

  172. اپنی ہیگل کی تفسیر میں لینن اس خیال سے متفق نظر نہیں آتا۔

    ↑

  173. ۱۹۴۸ء تک سوویت یونین kuomintang کو CCP پر ترجیح دیتا تھا۔

    ↑

  174. اس ضمن میں اس کی پہلی اہم تحریر "Analysis of the Classes in Chinese Seociety" ۱۹۲۶ء کی ہے۔ لیکن اس مضمون میں صرف بڑے زمین داروں کا ذکر ہے اور کسان طبقہ کی اندرونی تقسیم کے بارے میں اور ان کی انقلابی جدوجہد کے بارے میں رویہ پر کچھ نہیں کہا گیا۔ مارچک ۱۹۲۷ء کی تحریر Report on the Investigation of the Peasant Movement in Hunan تفصیل سے ان موضوعات پر توجہ دیتی ہے۔

    ↑

  175. یعنی اچھے کارکنوں کو تنخواہوں میں اضافہ کے ذریعہ بلکہ مدح کے ذریعہ انعام دیا جائے۔

    ↑

  176. بھاری صنعت کے لیے زرعی شعبہ اور چھوٹی صنعتیں ہی افرادی قوت اور خام مال فراہم کرتی ہیں۔ اگر اجرتیں اور خام مال کی قیمتیں کم رکھی جائیں تو بھاری صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری بڑھائی جا سکتی ہے۔

    ↑

  177. یعنی زرعی اراضی کو ملا کر ایسے بڑے بڑے کھیت بنائے جائیں جہاں آلاتِ پیداوار کسانوں کی مشترکہ ملکیت ہو اور پیداوار اور اس سے حاصل شدہ منافع کاشت کاروں کی تحویل میں ہو ریاست کی تحویل میں نہیں۔ اس نظام سے مربوط فیملی فارمز کا نظام بھی قائم کیا گیاجس کے تحت چھوٹے قطعات اراضی اور باغات کسان خاندانوں کی ملکیت میں تسلیم کر لیے گئے۔

    ↑

  178. اس نوعیت کے اکا دکا واقعات لانگ مارچ (۳۵۔۱۹۳۳ء) کے دور میں بھی ملتے ہیں۔

    ↑

  179. ۱۹۵۵ء میں مجموعی پیداوار میں چھوٹی صنعتوں کا حصہ صرف ۳۵ فی صد رہ گیا لیکن اس کے بعد ۲۰ سالوں میں روزمرہ کی اشیا بنانے والی صنعتوں کی ترقی پر خاص توجہ دی گئی۔

    ↑

  180. اس جدوجہد میں ایک کاشت کار فوج کے ذریعے انقلاب برپا کیا گیا جب کہ سوویت انقلابی مہم مزدوروں کی بنیاد پر ایک مختصر مرکزی بغاوت کے ذریعے برپا کیا گیا۔

    ↑

  181. لیکن امریکا نے یہ کوشش بالکل ناکام بنا دی اور امریکا نے چین پر نئی نئی پابندیاں نافذ کر دیں۔

    ↑

  182. یعنی صوبوں، اضلاع، شہروں، دیہی علاقوں اور کارخانوں کو خودکفیل بنانے کی بھی کوشش کی گئی۔

    ↑

  183. ایک کثیر خاندان کے سربراہ کا معاوضہ غیرشادی شدہ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا تھا۔

    ↑

  184. ۱۹۷۸ء کے بعد اس decentralized نظام کو مارکیٹ نظام میں ضم کرنا قدرے آسان ثابت ہوا۔ اور اس انضمام کے نتیجے میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی معاشرتی قوت کم نہ ہوئی۔ اس کے برعکس centralized نظم منصوبہ بندی مارکیٹ کے آگے سوویت یونین بالکل مسخر ہو گیا اور سوویت کمیونسٹ اقتدر کھو بیٹھے۔

    ↑

  185. اس قحط اور فاقہ کشی کا بنیادی سبب علاقائی خودکفالت کو فروغ دینے کی پالیسی تھی۔ بہت سے ایسے علاقوں میں اجناس اگانے پر کاشت کاروں کو مجبور کیا گیا جہاں کی اراضی اور موسمی حالات اجناس بالخصوص چاول کی کاشت کے لیے موزوں نہ تھے اور خود کفالت کو فروغ دینے کے لیے دوسرے صوبوں سے اجناس کی درآمد برآمد پر سخت پابندیاں لگا دی گئیں۔ بیرونی ممالک سے اجناس کی درآمد بہت کم تھی۔

    ↑

  186. اور اس کا رہنما ژن شاؤقی جو اس وقت چین کا صدر تھا مارا گیا۔

    ↑

  187. مارکس اور لینن نے اپنی زندگی میں شخصیت پرستی کو برداشت نہیں کیا تھا۔ لینن بالخصوص ایک منکسر المزاج آدمی تھا اور اس کی ذات اس کی نظر میں کوئی خاص اہمیت نہ رکھتی تھی۔ لینن کی پرستش کو بعد میں اسٹالن نے فروغ دیا۔ لینن کی زندگی میں لینن ازم کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ↑

  188. چینی مسلمان بے اندازہ ظلم اور جبر کا شکار ہوئے۔

    ↑

  189. ماؤ کے مرض الموت کے دوران ڈینگ کی گرفتاری کے ردِعمل میں عوامی بیزاری کا اظہار کئی شہروں میں رونما ہوا۔

    ↑

  190. 1978ء کے بعد سے چینی کمیونسٹ پارٹی نے عوامی مہمات پر انحصار کم کر دیا ہے لیکن اس کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی نہیں آئی ہے۔

    ↑

  191. چین کے دستور کے آرٹیکل ۲۶ میں درج ہے ’’تمام سٹیزنز کا بنیادی حق اور فرض ہے کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کی اعانت کریں گے“۔

    ↑

  192. Ultra Leftism کی اصطلاح لینن کی ایجاد کردہ ہے۔

    ↑

  193. یہ ثقافتی انقلاب کے دوران کا ایک سیاسی تصور تھا۔

    ↑

  194. یہ بھی ثقافتی انقلاب کے دور کا ایک کلیدی نظریہ تھا۔

    ↑

  195. ماؤ نے اس خیال کا اظہار متعدد بار ۱۹۵۰ء سے اپنی موت تک تسلسل کے ساتھ کیا تھا۔

    ↑

  196. ڈینگ کی مراد سوویت یونین کی عالمی غلبہ کی جدوجہد ہے۔

    ↑

  197. دستور کی دفاع مد کے مطابق ’’چینی کمیونسٹ پارٹی چینی عوام کی کلیدی قیادت ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ذریعے ہی محنت کش ریاست پر حکم رانی کرتا ہے“۔ مارکس—لینن— ماؤ ازم ہماری قوم کا اساسی نظریہ ہے جس سے قوم رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ دستور کا آرٹیکل ۲۸ ہیومن رائٹس کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے جن رائٹس کا اس آرٹیکل میں ذکر ہے وہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس ڈیکلریشن کے مطابق ہیں۔

    ↑

  198. لینن کی طرح ڈینگ بھی ایک منکسر المزاج شخص تھا۔ ایک اطالوی اخبار کو اگست ۱۹۸۰ء میں اس نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’’میری کوئی اہمیت نہیں۔ میں نے صرف اپنے انقلابی فرائض انجام دیے ہیں۔ میرا کام آدھے سے زیادہ غلطیوں پر مشتمل ہے اور چیئرمین ماؤ کی بہت سی غلطیوں کا بھی میں ذمہ دار ہوں۔ لیکن پوری زندگی میں پارٹی کا وفادار رہا ہوں۔ میرا ضمیر مطمئن ہے۔ میں نے جو غلطیاں کی ہیں اخلاص کے ساتھ کی ہیں۔‘‘ ۱۹۳۱ء کے اوائل میں لینن نے کہا تھا’’میں ایک عام انقلابی کارکن ہوں اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ میں کسی چیز میں مہارت پیدا نہ کر سکا پوری زندگی انقلابی جدوجہد کی نذر کر دی۔ میری کوئی اہمیت نہیں“۔

    ↑

  199. ۲۰۱۳ء میں ایک گیلپ سروے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے مادی آسائش پرست قوم چینی قوم ہی ہے۔ یہ بات غالباً ۱۹۷۸ء کے لیے درست نہ ہو اور ڈینگ کی وضع کردہ اصلاحات جو اس وقت سے اب تک قائم ہیں، نے یقیناًمادی آسائش پرستی کے رجحان کو بڑھایا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ۱۹۷۸ء میں بھی چین کی بہت بڑی اکثریت معیارِ زندگی کو بلند کرنے کی خواہاں تھی اور ڈینگ نے اسی رجحان سے فائدہ اٹھا کر gang of four کو شکست دی۔

    ↑

  200. تائیوان، سنگاپور، ہانگ کانگ اور ملائشیا وغیرہ۔

    ↑

  201. برخلاف اسٹالن کی ۱۹۳۰ء کی دہائی کے روسی Collectivisation کی مہم کے۔

    ↑

  202. پارٹی کے اندر بھی خلفشار اتنا نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔ ایک فی صد سے بھی کم افراد کا پارٹی سے اخراج ہوا اور ثقافتی انقلاب کے دور میں Zin Shaoqi کے علاوہ پارٹی کی پوری پرانی قیادت محفوظ رہی اور ماؤ کے مرنے کے بعد تقریباً سب ہی اپنے پرانے عہدوں پر فائز کیے جاتے رہے۔ اس کے برعکس شہروں میں وسیع پیمانے پر تشدد کیا گیا اور دس لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے۔

    ↑

  203. یہی بات Zin Shaoqi کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔

    ↑

  204. ملٹی نیشنل سبسڈیز وہ فرمیں تھیں جن کے حصص ان کے غیر ملکی مالکان کے پاس تھے۔ ان کی تعداد شروع میں کم تھی لیکن وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔

    ↑

  205. چینی دستاویزات میں اس طبقہ کو انٹلکچوئل کہا جاتا ہے۔

    ↑

  206. اس وقت کمیونسٹ پارٹی کا قائد Hu Yaobang تھا۔

    ↑

  207. ۲۰۰۵ء میں عمومی ملازمتوں سے صرف ۳ء۷ فی صد اجتماعی ملکیتی فرمیں فراہم کرتی تھیں۔

    ↑

  208. ۲۰۰۰ء سے ۲۰۱۰ء تک چین BIS, IIF, WTC, WIPC وغیرہ کا رکن بن گیا۔ ورلڈ بینک اور IFC کا ممبر بہت پہلے سے تھا۔

    ↑

  209. پوسٹ ماڈرنسٹ فکر پر تفصیلی گفت گو کتاب کے سیکشن ”سرمایہ داری کے پوسٹ ماڈرنسٹ نقیب“ میں پیش کی گئی ہے۔

    ↑

  210. Absolute غربت معیار زندگی کو مجموعی فی کس آمدنی اور خرچ کی بنیاد پر ناپتی ہے۔ اس شخص کو absolute غریب کہا جاتا ہے جس کا خرچ یا آمدنی عموماً ملکی فی کس آمدنی یا خرچ سے ایک تہائی یا اس سے کم ہو۔ تقابلی غربت غریب ترین افراد کی آمدنی کو امیر ترین افراد کی آمدنی کے تناسب کی بنیاد پر ناپتی ہے۔

    ↑

  211. سرمایہ دارانہ معاشرتوں میں دولت اور آمدنی ایک ایسے چھوٹے سے طبقے کے ہاتھ میں مرتکز ہوتی جاتی ہے جس کی قوت خرید لامحالہ محدود ہوتی ہے۔ بل گیٹس کی آمدنی کالو سے ۵۰ لاکھ گنا زیادہ ہے لیکن کالو کی طرح بل گیٹس بھی وہی قمیص پہنتا ہے۔ 

    ↑

  212. یعنی عالمی سرمایہ دارانہ معیشت میں ضم ہونے پر خود بخود حاصل نہ ہوں گے۔

    ↑

  213. ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۳ء تک اوسطاً ہر سال چین میں ۷۱۶ عوامی ہنگامے، مظاہرے اور ہڑتالیں ہوئیں۔

    ↑

  214. اس کے برعکس سنکیانگ، گانزو اور تبت میں مقبول عام تحریکات قومی خود مختاری مسلسل زور پکڑ رہی ہیں۔

    ↑

  215. چین کا مشہور مقولہ "The emperor is just but his commanders are corrupt" جو آج بھی زبان زدِ خاص و عام ہے۔ 

    ↑

  216. ماؤ اس بورژوا اشرافیہ کو انقلاب مخالفوں کا نوواں دستہ کہتا تھا۔

    ↑

  217. مجموعی آبادی کا قریباً ڈھائی فی صد

    ↑

  218. ہیومن ریسورس مینجمنٹ وہ منہج ہے جو طبقاتی شعور کو ختم کرکے ملازم میں یہ شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا ذاتی مفاد کمپنی کے مفاد یعنی منافع کی بڑھوتری سے منسلک ہے اور مینجر اور ورکر میں کوئی فرق نہیں۔

    ↑

  219. ہانگ کانگ پر چین کا قبضہ ہے لیکن اس جزیرہ کا نظام معیشت لبرل سرمایہ دارانہ ہے اور ہانگ کانگی کمپنیوں کو چین غیرملکی کمپنیوں کے تمام مراعات دیتا ہے۔

    ↑

  220. ان مستضعفین میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چینی نژاد مسلمانوں نے کئی ایسی جماعتیں تشکیل دیں جو پاکستانی تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی کے مماثل ہیں۔

    ↑

  221. ۲۰۱۰ء کے بعد سے چین دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ دارانہ معیشت بن گیا ہے۔

    ↑

  222. جو ۲۰۰۹ء میں تقریباً ۶۰۰ بلین ڈالر کے برابر تھا۔ اس کے علاوہ سرکاری بینک نے بلین ڈالر کے قرضے فراہم کیے اور ان قرضوں اور اعانتی رقوم کا ۸۰ فی صد سے زیادہ حصہ نئی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا گیا۔

    ↑

  223. ۲۰۱۲ء کے اختتام تک چین کے تقریباً چار ٹریلین ڈالر کے امریکی سرکاری تمسکات کا ذخیرہ تھا اور امریکی سودی مارکیٹ میں چین سب سے اہم کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ چین کے پاس یہ فنانشل قوت ہے کہ جب چاہے امریکی معیشت کو تباہ کر دے لیکن اس نے ہمیشہ اپنی قوت کو امریکی فنانشل مارکیٹوں میں استحکام قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

    ↑

  224. اس اسلام دشمنی کا اظہار چینی پاکستانی تعلقات سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستانی حکومت پر چین بھی امریکا کی طرح بھرپور اثر ڈالتا ہے کہ وہ مجاہدین اسلام کو کچلنے کی پالیسی اختیار کیے رکھے۔ اس نے جماعت اسلامی سے قریبی تعلقات اس لیے استوار نہیں کیے وہ جماعت اسلامی کو سنکیانگ اور گانزو کے مجاہدین کی کھلی وکالت سے باز رکھے۔

    ↑

  225. یہ وہ مزدور ہیں جو دیہی علاقوں سے منتقل ہو کر چینی شہروں میں آ بسے ہیں۔

    ↑

  226. یعنی صوبائی، ضلعی، شہری اور دیہی حکمران نوکرشاہی 

    ↑

  227. ہم یہ نہیں جانتے کہ Bo زندہ قید ہے یا مار دیا گیا ہے۔

    ↑

  228. Marxist Leninist Communist Party of India 

    ↑

  229. اس وجہ سے CPI-ML کوNaxalitess بھی کہا جاتا ہے۔

    ↑

  230. ۲۰۱۴ء تک ہندوستانی ماؤسٹ کسی شہر کا گھیراؤ کرنے کے قابل نہیں ہوئے تھے۔

    ↑

  231. مدھیہ پردیش اور اڑیسہ میں بھی ہندوستانی ماؤسٹ خاصہ اثر رکھتے ہیں۔ اودامی ہندوستانی آبادی کا تقریباً ۸ فی صد ہیں۔

    ↑

  232. CPI-ML کا یہ دھڑا اب اپنے آپ کو لبریشن گروپ کہتا ہے۔

    ↑

  233. مشرقی پاکستان کے مکتی باہنیوں نے نکسل باڑیوں کو ختم کرنے میں ہندوستانی فوج سے ۱۹۷۰ء سے ۱۹۷۳ء تک بھرپور تعاون کیا۔ ۱۹۷۳ء میں مغربی بنگال کی جیلوں میں تقریباً چالیس ہزار نکسل باڑی قید تھے۔

    ↑

  234. بہار کے ۱۹۸۵ء کے انتخابات میں CPI-ML کی قائم کردہ جماعت نے ۵ نشستیں صوبائی اسمبلی میں جیتیں۔

    ↑

  235. اس کے برخلاف نیپالی ماؤازم ایک عوامی تحریک بن کر سرمایہ دارانہ سیاسی نظام میں ضم ہو گئی ہے۔

    ↑

  236. مغربی یورپی یونی ورسٹیوں میں مارکس نظریاتی منہج اب بھی فروغ پا رہا ہے بالخصوص سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد۔

    ↑

  237. یہ تصورِ حق Beneditto Gore کا ہے اور اس فلسفی سے گرامچی متاثر ہے۔

    ↑

  238. گرامچی کے مطابق مارکس کی خیالی جنت (Communist Society) میں چوں کہ طبقات ختم ہو جائیں گے لہٰذا ایک صحیح ہیومن آفاقی تصور وجود میں آ جائے گا۔

    ↑

  239. ان بورژوا دانش وروں کو گرامچی organic intellectual کہتا ہے۔ وہ خود بھی ایک سول سرونٹ کا بیٹا تھا لہٰذا بورژوا طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔

    ↑

  240. اپنی اسی فکر کی بنیاد پر گرامچی Rosa Luxemburg کا مخالف تھا اور خود کو لیننی کہتا تھا۔

    ↑

  241. ان کو Prison Notebooks کہتے ہیں اور یہ دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں۔

    ↑

  242. یعنی ایک ادارتی مورچہ کے بعد دوسرا مورچہ فتح کرنا۔ پہلی جنگ عظیم میں یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔

    ↑

  243. war of puritan کی حکمتی فوقیت کو یوروکمیونزم کہتے ہیں۔

    ↑

  244. Prison Notebooks میں کبھی کبھی گرامچی سول سوسائٹی کو ریاست کا حصہ بھی گردانتا ہے۔ اس کے مطابق ایک جگہ ریاست معاشرتی اور سیاسی نظام ہے۔ اس قسم کے تضادات ہر مفکر کے ہاں پائے جاتے ہیں۔

    ↑

  245. مفلوج کرنے سے مراد یہ ہے کہ عیسائیت کی ایسی تعبیر پیش کی جائے جس کے نتیجے میں عیسائیت پرولتاریہ کی ڈکٹیٹرشپ کے جواز فراہم کرنے والا نظریہ بن جائے۔ عیسائیت کو اسی طرح مفلوج کرنے کی سب سے کامیاب جدوجہد ۱۹۵۰ء کے بعد سے لاطینی امریکا میں کی گئی ہے اور اس کو لبریشن تھیولوجی کہتے ہیں۔آج کا پاپائے روم فرانسس جو ۲۰۱۲ء میں پوپ بنا اس نے عیسائیت کو مفلوج کر دیا لیکن اس کا مقصد پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کا فروغ نہیں۔ وہ عیسائیت کو اغلام بازی اور جنسی بے راہ روی کے لیے جواز فراہم کرنے والا نظریہ بناکر پیش کرتا ہے۔ پوپ فرانسس ارجنٹائنی ہے اور لبریشن تھیولوجی کا بڑا مداح ہے۔

    ↑

  246. گرامچی نے یہ تصور مکیاولی سے لیا۔

    ↑

  247. لیکن کچھ مقامات پر گرامچی سول سوسائٹی کے دائرہ میں بھی قوت اور جمود دونوں کے وجود کا قائل نظر آتا ہے۔ یہ بھی اس کا ایک فکری تضاد ہے۔ اس تصور کے مطابق ریاستی ادارہ بھی رضامندی پیدا کرتا ہے۔

    ↑

  248. گرامچی رضامندی کے فروغ کے عمل میں پارلیمنٹ کے کردار پر زیادہ زور نہیں دیتا۔ یہ اس کی فکر کی ایک اہم خاموشی ہے۔

    ↑

  249. گرامچی سرمایہ دارانہ لبرل اجتماعیت کو تین دائروں میں تقسیم کرتا ہے: مارکیٹ، معاشرہ اور ریاست۔

    ↑

  250. کلاسیکل لبرل مفکرین اسمتھ، لاک اور مونٹسکیو اور دورِ حاضر کے لبرل مفکرین ہائیک اور نوزیک کی رائے میں سول سوسائٹی سرمایہ دارانہ ریاست پر حاوی ہونی چاہیے۔

    ↑

  251. لیکن یہ ادارے مارکیٹ کے آلہ کار بنتے جاتے ہیں اور ان کا مارکیٹ پر انحصار بڑھتا جاتا ہے۔ گرامچی اس بات کو اہمیت نہیں دیتا۔

    ↑

  252. وہ مسلح جدوجہد کو ضمنی حیثیت دیتا ہے اور یوروکمیونسٹ جماعتوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شائد مغربی ممالک میں پارلیمنٹ کا سہارا لے کر وہ مسلح جدوجہد کی نوبت نہ آنے دیں۔ لیکن یہ ان کی اپنی رائے ہے گرامچی کی نہیں۔ 

    ↑

  253. اور سرمایہ دارانہ ریاست بھی اپنی فوج اور پولیس کو رضامند کیے بغیر انقلابیوں پر حملہ آور نہیں ہو سکتی۔

    ↑

  254. یہ پارٹیاں لبرل ریاستی نظام کے جبری اداروں یعنی فوج، پولیس اور انتظامیہ کو منتشر (Disintegrate) کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔

    ↑

  255. سب سے اہم مارکسی مفکر جس کو اس رویہ کا بانی کہا جاتا ہے Edward Borestien ہے۔ لینن نے جرمن کمیونسٹ پارٹی کے قائد Karl Karatsky کو بھی اس گروہ میں شامل کیا ہے لیکن میری رائے میں یہ درست نہیں۔ گرامچی کے دور میں اٹلی کی کمیونسٹ پارٹی میں یہ گروہ موجود تھا۔ دورِ حاضر میں اس گروہ کو Analytical Marxists کہتے ہیں۔

    ↑

  256. اسی بنیاد پر ہم اطالوی سرمایہ داری، روسی سرمایہ داری، امریکی سرمایہ داری وغیرہ نظاموں میں تفریق کر سکتے ہیں۔

    ↑

  257. عملاً اس کا مطلب اشتراکی سرمایہ دارانہ جدوجہد سے واضح ہوتا ہے جو یہ ہے کہ گروہی مفادات کے تحفظ اور فروغ کی جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کا ذریعہ بن جائے۔

    ↑

  258. رہ نمائی (Direction) گرامچی کی اصطلاح ہے اور اس کے تصور تغلب (Domination) کے برعکس ہے۔

    ↑

  259. ان فیکٹری کونسلوں نے فیکٹری کی سطح پر ٹریڈ یونین کے عہدہ داروں کے رول کو ختم کر دیا اور ٹریڈ یونینز کی جدوجہد جو لبرل نظام میں اجرت کے فروغ پر مرکوز تھی، کی جگہ نظم پیداوار پر مزدوروں کے غلبہ کے قیام نے لے لی۔ یہ تجربات تورن تک محدود رہے اور بیس سالوں میں ان کا خاتمہ کر دیا گیا۔

    ↑

  260. ادبیات میں بھی اس کا ایک اہم مقام ہے۔ وہ ایک سیاسی کارکن بھی تھا۔ ۱۹۱۹ء میں Bela Kun کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہنگری سے نکالا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہنگری واپس آیا لیکن ہنگری نے ۱۹۵۶ء کی انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی اور ملک سے پھر نکال دیا۔ جلاوطنی کا دوسرا دور اس نے رومانیہ میں گزارا اور امریکی یونی ورسٹیوں کی پروفیسرشپ کو ٹھکراتا رہا۔ ۱۹۷۱ء میں ہنگری آ کر مرا۔

    ↑

  261. یعنی قدر (Value)اور اجرت (wage) اور خام مال اور مشینری پر خرچ مساوی ہے اضافی قدر کے۔

    ↑

  262. واضح ہو کہ یہ سب مارکسسٹ تصورات ہیں۔

    ↑

  263. بورژوا کو یہ شعور اس لیے حاصل نہیں کہ بورژوا طبقہ کے ہر فرد کا ذاتی مفاد اسی میں ہے کہ عمل پیداوار کے پیداکردہ انتشار سے استفادہ کر کے Surplus Value کے حصول کے لیے مسابقت (Compete) کرے۔ دوسرے طبقہ مثلاً ریاستی نوکر شاہی، زمین دار، کاشت کار، شہری آوارگان (Wander Class) یہ شعور کیوں حاصل نہیں کر سکتے اس کی وجہ لوکاکس نہیں بتاتا۔

    ↑

  264. وہ مینیجر کا حلیف بن چکا ہے یا محض اپنی اجرت میں اضافے کے لیے تگ و دو کر ر ہا ہے۔

    ↑

  265. یاد رہے کہ مارکس کے مطابق تقابلی قدر (Exchange Value) صرف محنت (Labour Time) کے ذریعے ہی پیدا کی جا سکتی ہے۔

    ↑

  266. یہ مارکس کی خیالی جنت (Communist Society) کی ایک تشریح ہے۔

    ↑

  267. بالخصوص مارکسسٹ لٹریچر میں۔

    ↑

  268. طبقاتی حساسیت کے فروغ میں یہ وین گارڈ پارٹی کے کردار کا ذکر "History and Class Consciousness" کے صرف آخری باب میں ہے اور یہاں لوکاکس کا تجزیہ مبہم کہا گیا ہے۔

    ↑

  269. یہ دونوں معروف Sociologist ہیں ۔

    ↑

  270. Idealism اس رویہ کو کہتے ہیں جو حقیقت تک ادراک کا اصل ذریعہ تخیلات کو تصور کرتا ہے۔ تجربیت اور مادی مشاہدات کو نہیں۔ موجودہ مغربی فکر کے رہ نما آئیڈیلسٹ کانٹ اور ہیگل تصور کیے جاتے ہیں۔

    ↑

  271. مثلاً بورژوا علم میں سرمایہ داری کی نظاماتی کارفرمائی کا کوئی شعور نہیں۔ میکرواکنامکس کے منہج کو اپنا کر سرمایہ داری کے ممکنہ انہدام کا سوال کبھی نہیں اٹھایا جا سکتا کیوں کہ اس منہج کے مطابق یہ سوال غیرمعقول ہے۔ میکرواکنامکس اپنے مابعد الطبیعیاتی مفروضات کی کوئی تشریح پیش کرنا ضروری نہیں سمجھتی۔ بیش تر میکرو اکانومسٹس ان مابعد الطبیعیاتی مفروضات کا کوئی شعور و ادراک نہیں رکھتے۔

    ↑

  272. سوشل سائنسز کا یہ عمل mass production کے ذریعے ممکن ہوا۔mass production کے لیے پہلے فیکٹری اور پھر فنانشل مارکیٹ کا وجود ضروری ہے کیوں کہ mass production کا مقصد سرمایہ کی لامتناہی بڑھوتری ہے اور Factory organization and functionalization یہ ممکن بناتی ہے۔ یاد رہے کہ آزادی کی متشکل ہیئت (Concrete Form) سرمایہ ہی ہے۔

    ↑

  273. Puritanical Naturalism کا یہ تصور اس نظریہ سے بہت مختلف ہے جو کلاسیکی مارکسسٹ پیش کرتے ہیں۔

    ↑

  274. یہ رویہ Third International کے مفکرین میں عام تھا۔

    ↑

  275. جو "History and Class Consciousness"کے ایک سال بعد لکھا گیا۔

    ↑

  276. یہ خیال بھی لینن کا ہے۔

    ↑

  277. یہ جملہ ہیگل کا ہے جس کو اس رسالہ میں لوکاکس نقل کرتا ہے۔

    ↑

  278. ۱۹۳۵ء میں لوکاکس نے اپنے مقالے میں اسٹالن کے اقدامات پر بھرپور طمانیت کا اظہار کیا اور ان اقدامات کا دفاع کیا تھا۔

    ↑

  279. ۱۹۲۶ء میں Communitern نے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کو اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیا اور تمام یورپی کمیونسٹ جماعتوں نے یہ رائے قبول کر کے لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں سے (جن کو سوشل فاشسٹ) کہتے تھے) محاذ آرائی اختیار کی۔ یہ دور ۱۹۳۳ء تک جاری رہا۔

    ↑

  280. یاد رہے کہ اسٹالن ۱۹۵۳ء میں مر گیا۔

    ↑

  281. لوکاکس صرف ایک ماہ گرفتار رہا اور جب ہٹلر نے روس پر حملہ کر دیا تو لوکاکس کو فوراً رہا کر دیا گیا۔

    ↑

  282. ہنگرین کمیونسٹ پارٹی نے بھی ۱۹۴۹ء میں لوکاکس سے ایک اور معافی نامہ لکھوایا۔

    ↑

  283. اس کے برعکس کئی مارکسسٹ مفکر مثلاً اڈارنو، ہارک ہائیمر اور مارکیوزے وغیرہ یورپ سے امریکا منتقل ہو گئے۔

    ↑

  284. یاد رہے کہ یہی بات Deng Xiaopang نے ۱۹۸۰ء میں بھی کہی تھی اور اس نے بھی لبرل ملکوں سے تعلقات استوار کرنے کا یہی جواز پیش کیا تھا۔

    ↑

  285. ان دونوں بنیادی اشکال کے امتزاج سے اجتماعی ملکیت جو چین میں عام رہی ہے اور real managementملکیت جو سابق یوگوسلاویہ میں عام رہی ہے، تشکیل دی جا سکتی ہیں۔

    ↑

  286. اور شاید کیوبا، ویت نام اور لاؤس میں بھی۔

    ↑

  287. لینن اس انفرادیت کو ’’پروفیشنل ریوولیوشن‘‘ کہتا ہے اور اس کے خیال میں اشتراکی انقلابی جدوجہد کے دوران ہی یہ شخصیت وجود میں آتی ہے اور پروفیشنل ریوولیوشن ہی وین گارڈ پارٹی بناتے اور چلاتے ہیں۔ گرامچی کا تصورِ انفرادیت لینن کے تصورِ انفرادیت سے کافی مشابہ ہے۔

    ↑

  288. سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی اس تغیر کو برداشت نہ کر سکی اور سوشلسٹ سیاسی نظام منہدم ہو گیا۔ چین میں Deng Xiapang نے اس تبدیلی سے مصالحت کی حکمت عملی مرتب کی اور ابھی تک سرمایہ دارانہ لبرل انفرادیت کے فروغ کے ساتھ پرولتاری ڈکٹیٹرشپ کو ہم آہنگ کرنے میں چینی کمیونسٹ پارٹی کامیاب نظر آتی ہے۔

    ↑

  289. سوائے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ایک قلیل عرصہ کے لیے اٹلی میں۔

    ↑

  290. اسی دور میں ایک فرانسیسی کمیونسٹ نے وہ مشہور کتاب لکھی جس کا نام "Farewell to the Working Class" ہے۔

    ↑

  291. التھوسر اس رویہ کو "Economic Revolution" کہتا ہے۔

    ↑

  292. بقول التھوسر "over-developed"

    ↑

  293. اور "The German Idealogy" اور "Theses on Feurebach" میں۔

    ↑

  294. جو مارکس کی "Economic and Philosophical Mass World" میں ملتا ہے۔

    ↑

  295. التھوسر فرانسیسی فلسفی Gaston Bachelard کے فلسفہ سائنس کی غیرمشروط تصدیق کرتا ہے۔

    ↑

  296. فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی ایک روس نواز جماعت رہی اور ماؤ کی مخالف۔

    ↑

  297. پاگل خانے میں بھی اس نے اہم دستاویز لکھی۔

    ↑

  298. متن خوابوں کی طرح ہوتے ہیں۔ خواب میں بھی جو نظر آتا ہے معنی اس کے پیچھے پوشیدہ ہوتے ہیں۔

    ↑

  299. التھوسر کے بقول مارکس کی خیالی جنت (Communist Society) میں بھی یہ عمل جاری رہے گا۔

    ↑

  300. جن میں سب سے نمایاں سارتر اور مارلوپونٹے تھے جنہوں نے مارکس ازم اور وجودیت (Existentialism) کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

    ↑

  301. اسٹالن نے لاکھوں کسانوں کا قتل عام کیا۔ کمیونسٹ پارٹی کی لینن کے دور کی تقریباً پوری قیادت کو قتل کیا، معاشرے پر ریاستی نوکرشاہی کو مسلط کیا اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار تیس سال تک جاری رکھی۔ اس کی کامیابیاں ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ معیشت کی تعمیر اور تکمیل کو شکست دینا تھیں۔

    ↑

  302. ۱۹۷۸ء کے بعد اپنی بیوی کا گلا گھونٹنے تک التھوسر نے فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کی Eurocomunist حکمت عملی کی شدید مخالفت کی۔

    ↑

  303. اسی کو التھوسر تجربیت (Empiricism) کہتا ہے۔

    ↑

  304. یعنی التھوسر کے علمیاتی منہج۔

    ↑

  305. مارکسی مفکرین نے اعتراض کیا ہے کہ التھوسر کے نظریہ علمیت کی بنیاد real concrete اور concrete in thought میں فاصلہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور یہ مارکس کے تصور جدلیاتی مادیت(Dialectical Materialism) سے ان معنوں میں انحراف ہے کہ یہ مادی وجود کی خود انحصاریت کا انکار ہے۔

    ↑

  306. التھوسر کا تصور Problematique لبرل مفکر کوہن کے تصور Paradigm سے بہت مماثل ہے۔

    ↑

  307. التھوسر کا مقصد مارکسی نظریاتی جہت پر مارکسی سائنسی جہت کو قبضہ دلانا تھا۔ کیا مارکسسٹ سائنس حقیقت کا صحیح ادراک پیش کرتی ہے؟ التھوسر کے لیے یہ ایک مہمل سوال ہے کیوں کہ اس کے خیال میں Problematique اپنا تصورِ حقیقت خود تعمیر کرتی ہے۔ اس لحاظ سے التھوسر کے لیے ممکن ہے کہ وہ لبرل Paradigm کے تصورِ حق کی اصولی علمی بنیادوں پر تردید سے گریز کرے۔ اپنی پوری زندگی التھوسر کمیونسٹ تحریک سے وابستہ رہا لیکن لبرل ازم کی تنقید اس کے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔

    ↑

  308. جس کی سب سے اہم وکیل Rosa Luxemburg تھی۔

    ↑

  309. اور اس معاملہ میں التھوسر گرامچی کی فکر کی سخت تنقید کرتا ہے۔

    ↑

  310. کلاسیکی مارکسی فکر میں معیشت کو base structure کہا گیا ہے اور باقی شعبوں کو سپراسٹرکچر۔

    ↑

  311. یاد رہے کہ التھوسر کے مطابق حقیقت کا کوئی آفاقی تصور موجود نہیں۔ ہر Problematique اپنا تصورِ حق خود تخلیق کرتا ہے۔ اس تصور کی بنیاد پر التھوسر کو ایک پوسٹ ماڈرنسٹ مفکر کے طور پر بھی پہچانا جاتاہے۔

    ↑

  312. یاد رہے کہ ہیومن بینگ سے مراد وہ فرد اور نوع ہے جو ’’لاالہ الا انسان‘‘ کے کلمہ پر ایمان لے آئے۔

    ↑

  313. خلافتِ راشدہ سے سقوطِ سلطنتِ عثمانیہ تک کوئی بھی اسلامی ریاست قومی ریاست نہیں بنی۔

    ↑

  314. یہ عمل سب سے زیادہ کامیاب طور پر Zionism اور ہندو توا نے کیا۔ مسلم قوم پرستی کی بنیاد پر پاکستانی ریاست قائم ہوئی لیکن پاکستان کے نظریاتی تشخص کے تعین کے بارے میں کش مکش ہنوز جاری ہے۔ عیسائیت کو برطانیہ، فرانس اور امریکا میں قومی ریاستیں قائم کر کے سیکولرائز کیا گیا۔

    ↑

  315. مثلاً ماؤ نے ۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۹ء تک جاپانی استعمار کے خلاف جنگ کی لیکن ۱۹۴۸ء کے بعد مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کو چینی استعمار کا ہدف بنایا۔ ولندیز (Netherland) نے اسپینی استعمار کے خلاف جدوجہد کی لیکن انڈونیشیا کو اپنی کالونی بنایا۔

    ↑

  316. ان میں معدنیات، مشینری، تعمیراتی اور فنانس کی صنعتیں شامل ہوتی ہیں۔

    ↑

  317. جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان، سنگاپور اور بھارت نے ایسے قومی سرمایہ دار طبقے کو فروغ دینے کے لیے وسیع ریاستی ذرائع اور سہولتیں فراہم کی ہیں۔

    ↑

  318. مارکس کی خیالی جنت (Communist Society) میں قومیتوں کا کوئی وجود نہ ہو گا۔

    ↑

  319. یہاں تک کہ ۱۹۲۲ء میں جب اس کے مرض الموت کی ابتدا ہو رہی تھی تو وہ ’’مسلم قومیت‘‘ پر غور کر رہا تھا۔

    ↑

  320. لینن ایک کنفڈریشن کے قیام کے بھی خلاف تھا۔ اس نے مرکزی حکومت کے اختیارات کو صرف دفاع اور خارجہ پالیسی تک محدود کرنے کی بھی بھرپور مخالفت کی۔

    ↑

  321. یہ وعدہ ایک حکومتی اعلامیہ مورخہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۱۷ء میں لینن اور اسٹالن کے دستخطوں کے ساتھ کیا گیا۔

    ↑

  322. ۱۹۱۸ء میں روسی مقبوضات White Russian کے قبضہ میں نہ تھے یہ آزادتھے۔ بولشوائی اقتدار وہاں موجود نہ تھا لہٰذا بولشوائیوں کا ان کو تسلیم کرنا حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ لینن کو امید تھی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بیش تر آزاد ریاستیں خود بخود روسی فیڈریشن میں شامل ہو جائیں گی۔

    ↑

  323. زار نواز فوج کو ۱۹۲۰ء کے آخرتک فیصلہ کن شکست دی جا چکی تھی اور برطانوی اور فرانسیسی فوجیں روس سے بھاگ گئی تھیں۔

    ↑

  324. سلطان گلیو کئی بولشوائی پارٹی عہدوں کا ممبر ہونے کے علاوہ سوویت تاتاری ری پبلک کا چیئرمین بھی تھا۔

    ↑

  325. گو کہ مسلم نیشنل کمیونسٹوں نے جدیدیوں کے لبرل رجحانات پر تنقید بھی کی ہے۔

    ↑

  326. ۱۹۲۰ء میں ہمت پارٹی روسی بولشوائی پارٹی میں ضم ہو گئی۔

    ↑

  327. یہ رویہ اس دور میں اتاترک اور اس کے پیروؤں نے بھی اپنایا۔

    ↑

  328. مثلاً محمد امین رسول زادہ جو ۱۹۲۰ء میں آذربائیجان کی آزاد حکومت میں شامل تھا ۱۹۱۹ء تک ایک کٹر بولشوائی تھا۔

    ↑

  329. اس دور میں وزارت قومیتی امور قائم کی گئی جس کا سب سے اہم شعبہ Muskom تھا جو مسلم علاقوں سے متعلق معاملات کا نگران تھا۔

    ↑

  330. یہ اصطلاح اسٹالن نے ایجاد کی۔

    ↑

  331. وہ سوشلسٹ جو مارکسسٹ مابعدالطبیعیاتی عقائد پر ایمان نہیں لائے کافر نہیں۔

    ↑

  332. برخلاف اس کے مارکس اور اینگلز کی توقع یہ تھی کہ اشتراکی انقلاب پہلے ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ممالک مثلاً برطانیہ یا جرمنی میں رونما ہو گا۔

    ↑

  333. گلیو کی فکر میں یہ بات واضح نہیں کہ پرولتاری اقوام میں اندرونی کش مکش کتنے عرصہ تک معطل رہے گی اور کب یا کبھی بھی یہ اقوام ’’غیرپرولتاریہ‘‘ نہیں بنیں گے۔

    ↑

  334. گلیو کے مذہبی رجحانات کی تشریح اس باب کے ضمیمہ کے طور پر پیش کی گئی جو اس کے ایک ۱۹۲۶ء کے لکھے ہوئے مقالے کا ترجمہ ہے۔

    ↑

  335. بولشوائیوں نے اقتدار پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد کمیٹی قائم کی جس میں وہ تمام کمیونسٹ پارٹیاں شریک تھیں جو سوویت حکومت کی حلیف تھیں اور یہ ادارہ کمیونسٹ جماعتوں کی پالیسی رہنمائی کرتا تھا۔ زیادہ تر اہم پارٹیاں مغربی یورپ سے تھیں لیکن ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی، چین کی کمیونسٹ پارٹی اور چینگ کائی شیک کی پارٹی بھی اس میں شریک رہیں۔

    ↑

  336. پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر جرمنی کے کچھ علاقوں میں ایک پرولتاری انقلابی حکومت قائم ہوئی تھی جو چند مہینوں کی مزاحمت کے بعد ختم ہو گئی۔

    ↑

  337. اور ان ممالک کی افواج پر بالخصوص امریکی استعمار کا اثر بہت نمایاں ہے۔

    ↑

  338. اس نوجوان کو اسی دن اس کے بڑے بھائی نے قتل کر دیا اور روسی پریس میں اس کا ہفتوں تذکرہ جاری رہا لیکن گلیو اس بات کا ذکر نہیں کرتا۔

    ↑

  339. یعنی ان حکومتوں کی پالیسیوں کا مقصد سرمایہ کی بڑھوتری کو اپنے ملک کے لیے فروغ دینا ہوتا ہے۔ قوم سرمایہ دارانہ اجتماعیت کی ایک شکل ہے۔ دوسری سرمایہ دارانہ اجتماعیت طبقہ ہے۔ 

    ↑

  340. لولا کی پہلی حکومت کے قیام (۲۰۰۲ء) سے قبل قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ مبصرین میں سے چند ایک کا خیال تھا کہ برازیل اس قسم کی استعداد رکھتا ہے۔ لیکن لولا نے بار بار اس بات کو ردّ کیا اور امریکا سے نبرد آزمائی کو ہمیشہ مسترد کیا۔ شاویز سمجھتا تھا کہ لاطینی امریکی ممالک کو متحد کر کے امریکا کی علاقائی بالادستی کو ختم کیا جا سکتا ہے اور اس نے یوراگوئے، کیوبا اور بولیویا سے سیاسی تعاون کو فروغ دینے کی پوری کوشش کی لیکن بولیویا، یوراگوئے اور پیرو سے یہ اشتراک عمل نتیجہ ساز ثابت نہ ہوا اور اب یہ تینوں ملک امریکا سے مصالحت کو فروغ دے رہے ہیں اور کیوبا اور وینزویلا تنہاہیں۔

    ↑

  341. شاویز ۱۹۹۸ء میں وینزویلا کا صدر منتخب ہوا۔ امریکا نے ۲۰۰۰ء میں اس کے خلاف قومی بغاوت کرائی جو ناکام ہوئی۔ وہ اپنی موت تک وینزویلا کا صدر رہا۔ آج کل اس کی پارٹی وینزویلا میں برسراقتدار ہے اور ۲۰۱۴ء میں اس حکومت کو گرانے کے لیے امریکی تخریب کاری اور دہشت گرد مہم تیز ہو گئی ہے۔

    ↑

  342. ۲۰۱۴ء تک تقریباً ۰۰۰،۲۵ ایسے اداروں اور ان کے وفاق قائم کیے جا چکے ہیں۔ وینزویلا کی آبادی تقریباً ۲۵ ملین ہے۔

    ↑

  343. یہ تکنیک امریکا نے ۲۰۱۱ء میں مصر، لیبیا اور تیونس کی قوم پرست حکومتوں کے خلاف کامیابی سے اختیار کی۔ ۱۹۸۹ء میں چین کے خلاف یہ تکنیک بری طرح ناکام ہوئی اور آج کل ترکی میں اسی امریکی تکنیک کا تجربہ کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

    ↑

  344. لوتھر نے لکھا:

    Man is by nature unable to want God to be God, indeed he himself wants to be God. ↑

  345. یہ نظریہ سینٹ آگستائن نے چوتھی صدی عیسوی میں پیش کیا اور کیتھولک فکر اس کو قبول کرتی تھی۔

    ↑

  346. لوتھر نے ارسطو کے جو اثرات سکالسٹک الٰہیات پر مرتب ہوئے تھے اس کے ضمن میں یہ رائے دی تھی۔

    ↑

  347. مثلاً عیسائیت ترک کر کے یہودی یا فطرت پرست (Pagan) ہو جائے۔

    ↑

  348. گو کہ وہ قدیم اسرائیل کو حکومت الٰہیہ کا ایک نمونہ گردانتے ہیں۔ 

    ↑

  349. اس ضمن میں لوتھر حضرت داؤد، حضرت سلیمان، اسکندر اعظم اور کسریٰ کو بھی شامل کرتا ہے۔ یہ سب غیرعیسائی تھے۔

    ↑

  350. آغاخانی بھی اپنے امام کو قرآن ناطق کہتے ہیں۔

    ↑

  351. مارکس کے تصور سپی شی بینگ میں بھی Wundermann کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

    ↑

  352. اٹلی اور جرمنی متحدہ قومی ریاستیں انیسویں صدی میں بنیں اور انہوں نے اپنی استعماری فتوحات کا آغاز انیسویں صدی سے کیا۔

    ↑

  353. اصولاً لبرل سرمایہ داری کی مطلوبہ اجتماعیت صارف کی اجتماعیت ہے لیکن اس اجتماعیت کا دائرہ عمل مارکیٹ ہے اور مارکیٹ خود انحصاری بلکہ اپنے تحفظ اور تنظیم کے لیے ایک غیرمارکیٹ اجتماعیت یعنی ریاستی اجتماعیت پر لازماً انحصار کرتی ہے اور چوں کہ ریاستیں تاحال قومی ہی ہیں لہٰذا سرمایہ دارانہ لبرل ازم عموماً قومی اجتماعیت کے تناظر میں ہی نشوونما پاتا ہے اور بیش تر لبرل مفکرین اس بات کو اصولاً ناممکن سمجھتے ہیں کہ ایک عالمی سرمایہ دارانہ اجتماعیت وجود میں آئے۔ 

    ↑

  354. نطشے ایک پروٹسٹنٹ پادری کا بیٹا تھا۔ اپنی ابتدائی عمر میں وہ جرمن موسیقار ویگنر کا والہانہ مداح تھا لیکن چند سال بعد اس سے دل برداشتہ اس وجہ سے ہوا کہ ویگنر کی ایک تصنیف عیسائیت کی تعریف و توصیف کرتی تھی۔ عیسائیت سے اپنی نفرت کا اظہار نطشے نے ویگنر پر شدید اور بالکل بے جا تنقید کر کے بھی کیا۔ کچھ سوانح نگاروں کے بقول نطشے ایک پوشیدہ اغلام باز تھا۔ نطشے ۱۸۴۴ء میں پیدا ہوا۔ ۱۸۸۸ء میں مستقل طور پر پاگل ہو کر ۱۹۰۰ء میں مر گیا۔ ۱۸۷۹ء کے بعد سے وہ مخبوط الحواس ہو گیا تھا۔

    ↑

  355. جس Zarathustra کی زبان سے نطشے اس کتاب میں کفریات اگلواتا ہے اس کا تاریخی شخصیت جناب زرتشت سے کوئی تعلق نہیں۔

    ↑

  356. نطشے کا ہیگل کی طرح پسندیدہ ترین تاریخی کردار نپولین تھا۔

    ↑

  357. نطشے انسان کی موت کی بھی خبر دے گیا چوں کہ دور حاضر میں خدا کی موت کے بعد نہ خدا سے محبت نہ نفرت کی جا سکتی ہے لہٰذا اختتامی آدمی کے لیے اپنے وجود کو قائم رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ نطشے کے خیال میں اس دور میں انسان مرا نہیں بلکہ مر رہا ہے۔ یہی دورحاضر کا المیہ ہے۔

    ↑

  358. نطشے کے خیال میں جناب زرتشت ایسے ہی فوق البشر تھے۔

    ↑

  359. یہ نطشے کے اعتقاد آواگون کا نتیجہ ہے۔

    ↑

  360. لیکن نطشے یہودیت کا مخالف نہ تھا مذہب پر اس کی تمام تر تنقید عیسائیت پر مرکوز تھی۔

    ↑

  361. فاتح افریقہ حضرت عتبہ بن نوفل رضی اللہ عنہ نے ایک مہم کے اختتام پر اپنا گھوڑا بحراوقیانوس میں ڈال دیا۔ مجاہدین نے پوچھا ’’اے اللہ کے ولی آپ کہاں جاتے ہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے اس پار حضرت یونس علیہ السلام کے امتی رہتے ہیں اگر تم میں ہمت ہو تو تمہیں اپنے ان بھائیوں سے ملوا دوں۔‘‘ اس روایت کے مطابق ریڈ انڈینز حضرت یونس علیہ السلام کے امتی تھے۔ واللہ اعلم۔

    ↑

  362. ایک تخمینے کے مطابق ایک ریڈانڈین کے قتل پر تقریباًڈیڑھ سینٹ خرچ آتا تھا۔

    ↑

  363. سب سے اہم فتح پانامہ کی تھی جس کو بیسویں صدی کے اوائل میں کولمبیا سے چھین لیا گیا۔ اس دور میں فوج کشی کیوبا، ہیٹی، ڈومینکن ری پبلک، نکاراگوا اور میکسیکو کے خلاف بھی کئی گئی اور مقصد ہر جگہ امریکی معاشی مفادات کا تسلط تھا۔ 

    ↑

  364. سب سے پہلے اس نظریہ کی توجیہہ Spykman نے اپنی کتاب "America's Strategy in World Politics" میں ۱۹۴۳ء میں پیش کی۔

    ↑

  365. بالخصوص آئی ایم ایف، جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈ، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کی فوج ’’پیس کارپس‘‘ سب سے پہلے ۱۹۵۱ء میں کوریا کی جنگ میں استعمال کی گئی اور آج تک ایک فعال کردار بالخصوص افریقا میں انجام دے رہی ہیں۔ ان کی کمان عموماً امریکی درندوں کے ہاتھ میں رہتی ہے۔

    ↑

  366. جس میں سب سے اہم امریکی درندوں کا سعودی حکومت پر قبضہ تھا یہاں امریکی ہوائی فوج نے ریاض میں شاہی محل پر حملہ کر کے شاہ سعود کو معزول کر کے فیصل کو شاہ بنا دیا۔

    ↑

  367. اور جیسا کہ Lippman نے لکھا ہے امریکا سرمایہ کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے، انفرادی آزادی کا نہیں۔

    ↑

  368. دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے لے کر ۲۰۱۲ء تک جن ممالک پر امریکی درندوں نے کبھی نہ کبھی بم باری کی ہے ان کی تعداد تریپن ہے۔

    ↑

  369. اور ۱۹۵۵ء سے ۱۹۹۱ء تک امریکی وحشی جنوبی افریقا کی سفید فام نسل پرست حکومت کے قتل عام کی بھی پشت پناہ رہی ہے۔

    ↑

  370. ۱۹۷۳ء کے جہاد میں اسرائیلی شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کے لیے امریکا نے جنگ کے دوران سیکڑوں ٹینک اور ہوائی جہاز اسرائیل کو دیے۔

    ↑

  371. کیوبا پر بھی ۱۹۶۰ء میں امریکی فوج کشی کی گئی لیکن اس کے بعد سے وہ امریکی دہشت گردی سے محفوظ رہا ہے لیکن کیوبا، وینزویلا اور بولیویا میں امریکی ریاستی تخریب کاری مسلسل جاری ہے۔

    ↑

  372. نظریہ ہیومن رائٹس کا تجزیہ ہم لاک کی فکر کے تناظر میں پیش کر چکے ہیں۔

    ↑

  373. جس کے صدر کو پہلے سی آئی اے نے زہر دینے کی کوشش کی اور اس کے بعد اپنے ایجنٹ موبوٹو کے ہاتھوں ایک ہوائی حادثہ میں قتل کروا کر موبوٹو کو کانگو کا صدر بنوایا۔

    ↑

  374. چین اور کیوبا میں یہ ناکام ثابت ہوئیں اور اس حکمت عملی کی بنیاد پر ایران میں اسلامی انقلابی حکومت کو بھی بے دخل نہ کیا جا سکا گو کہ سی آئی اے نے مجاہدین خلق کو بحیثیت بکاؤ فوجی مسلح کیا اور اپنے ایجنٹ صدام حسین پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی۔ عراقی بعث پارٹی کو شروع ہی سے بڑے پیمانے پر سی آئی اے سے امداد حاصل تھی اور صدام حسین کو صدر بنانے میں بھی سی آئی اے کا ہاتھ تھا۔

    ↑

  375. اس قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی R2P قرارداد کا نام دیا گیا ہے۔

    ↑

  376. ایران کے دفاعی اور ریاستی نظام کی تخریب کاری کے لیے کمپیوٹر وائرس Stuxmel کی تیاری اور استعمال اوباما کی ذاتی نگرانی میں کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا کر اوباما ذلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں اترجانے کا قائل ہے۔

    ↑

  377. آج اوباما شیعہ سنی اختلافات کو ایسے ہی فروغ دے رہا ہے جیسے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں نکسن اور کسنجر نے روس چین اختلافات کو فروغ دیا تھا۔

    ↑

  378. Winfrid Bowlerکی تحقیق کے مطابق اوباما کا باپ ایک حرام زادہ تھا۔

    ↑

  379. سٹاکہام پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق ۱۹۴۵ء سے لے کر ۲۰۱۳ء تک ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جہاں امریکی افواج دنیا کے کسی نہ کسی علاقے میں قتل عام نہ کر رہی ہوں۔ ۱۹۴۵ء سے ۲۰۱۳ء تک اس تحقیق کے مطابق امریکا ہر روز اوسطاً ۳۶۳۰۲ افراد کو قتل کرتا ہے اور امریکی مقتولوں کی مجموعی تعداد اس دور میں نوے لاکھ چودہ ہزار چھہ سو چوبیس ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد امریکی اور اقوام متحدہ کے نافذ کردہ پابندیوں کی وجہ سے بھی مارے گئے۔

    ↑

  380. یعنی افلاطون کے تصورِ وجود۔

    ↑

  381. ہائیڈیگر وجود کو Sein اور ہیومن وجود کو Dasein کہتا ہے۔

    ↑

  382. جس میں ہائیڈیگر کے مطابق مغرب کے تقریباً تمام نام ور فلسفی شامل ہیں۔

    ↑

  383. ہائیڈیگر وقت اور تغیرپذیری کو ہم معنی تصور کرتا ہے۔

    ↑

  384. ہائیڈیگر یہ نہیں پوچھتا کہ وجود کیا ہے وہ پوچھتا ہے کہ وجود کیسے تغیرپذیر ہوتا رہتا ہے۔

    ↑

  385. "Time and Being"ان معنوں میں بھی ایک نامکمل کتاب ہے کہ اس میں ہائیڈیگر ان مابعدالطبیعیاتی تصورات کو رد نہ کر سکا جنہیں وہ مغرب کی وجود فراموشی کا ذمہ دار گردانتا ہے۔ 

    ↑

  386. اقتدار میں آنے کے بعد ۱۹۳۳ء میں نازیوں نے ہائیڈیگر کو فرائی برگ یونی ورسٹی کا سربراہ بنا دیا لیکن ایک سال کے اندر ہی اندر ہائیڈیگر نے اس عہدے سے استعفا دے دیا۔

    ↑

  387. سب سے اہم اختلاف یونی ورسٹی کے یہودی اساتذہ کی برطرفی کے بارے میں تھا۔ ہائیڈیگر نے یہودی پروفیسروں کی برطرفی کی شدید مخالفت کی۔

    ↑

  388. ہائیڈیگر ۱۹۷۶ء میں مرا۔ نازی حکومت ۱۹4۵ء میں ختم ہو گئی تھی۔

    ↑

  389. سائنس میں کائنات کی قابل تفہیم تصویریں پائی جاتی ہیں اور ٹیکنالوجی انسانی مختصر لیبرکو وہ قوت فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے کائنات کی تسخیر ممکن ہو جاتی ہے۔

    ↑

  390. اس کو دورحاضر کا فلسفی ایودھرائے Ideo scapes کہتا ہے۔

    ↑

  391. یہ نہ پوچھو What is? پوچھو How does it work? 

    ↑

  392. اس ضمن میں ہائیڈیگر ارسطو کے بائیولوجیکل تصورات کا جدید بائیولوجی سے موازنہ کرتا ہے۔ ارسطو اشیا کی نوعیت کی جستجو کرتا ہے۔ جدید بائیولوجسٹس اشیا کی کارفرمائی کا تعین کر کے ان کو انسانی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں بقول ہائیڈیگر ۔

    ↑

  393. اس سے واضح ہوتا ہے کہ نطشے کی طرح ہائیڈیگر بھی فلسفہ آواگون کی ایک تشریح پیش کرتا ہے۔

    ↑

  394. becomingٹیکنالوجی اور تاریخ یعنی ارادۂ قوت (will to power) کے اظہار کے ذریعے ہی ممکن ہے بقول ہائیڈیگر۔

    ↑

  395. عالم گیریت کے فروغ کے بعد سے سرمایہ دارانہ عمرانی مفکر ایک تیسری نوعیت کے ابھرنے کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔ اس کو کاسموکریسی کہتے ہیں اور اس کے دو اہم وکیل ڈیوڈ ہیلڈ اور جوہوہری ہیں۔ کاسموکریسی سے مراد ایک ایسی معاشرت اور سیاسی نظام ہے جہاں جدید لبرل اقدار اور طرز حیات عالمی پذیرائی حاصل کرے۔ فی الحال کاسموکریسی کا ظہور محدود ہے۔ اشرافیہ کا ایک مقابلتاً محدود گروہ عالمی لبرل طرز حیات اختیار کر گیا ہے لیکن تمام ممالک میں عوام کی عظیم اکثریت قومی، مذہبی اور روایتی طرز حیات اور اقدار کو اپنائے ہوئے ہے۔

    ↑

  396. میری رائے میں سب سے پہلی قوم جوتشکیل دی گئی وہ ہسپانوی قوم تھی جس کو سولھویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں بزور شمشیر تعمیر کیا گیا۔

    ↑

  397. اور ۱۸۴۶ء میں اس نے خود کشی کر لی۔

    ↑

  398. جس کا پہلا مضبوط اظہار ۱۸۷۱ء میں پروشیا کی فرانس کو فیصلہ کن شکست سے ہوا۔

    ↑

  399. وہ آسٹریا کو بھی جرمنی کا حصہ سمجھتا تھا اور ۱۸۳۱ء میں آسٹرین فرماں روا سے ملاقاتیں کیں۔

    ↑

  400. "The National System of Political Economy"جو ۱۸۴۱ء میں چھپی۔

    ↑

  401. لسٹ محض ایک مشترکہ منڈی کا وکیل بلکہ ایک وسیع سرمایہ دارانہ مملکت کے قیام کا خواہاں تھا (جوجرمنی میں قائم ہوئی)۔ یورپی یونین تجارتی اور زری عمل میں اشتراک کے باوجود ایک سیاسی وفاق میں ہنوز ناکام ہے اور ایک مشترکہ مالیاتی پالیسی بھی اختیار نہیں کی جا سکی۔

    ↑

  402. یعنی ایسی صنعتیں جنہیں ان کے عہدطفولیت میں ریاستی مراعات کے ذریعے ترقی دی جا سکے۔

    ↑

  403. ان خیالات کی تصدیق سوشل ڈیموکریٹ مفکرین بالخصوص میکس ویبر اور مینارڈ کینز نے بیسویں صدی میں کیں اور قومی ترقی پر زور دینے والی سرمایہ دارانہ ریاستیں عموماً سوشل ڈیموکریٹ ہی ہوتی ہیں۔

    ↑

  404. ہندوستان نے کشمیر پر استعماری قبضہ ۱۹۴۸ء سے قائم کیا ہوا ہے اور نیپال، بھوٹان اور سکھم سے اس کے تعلقات استعماری نوعیت کے ہمیشہ رہے ہیں۔

    ↑

  405. دورحاضر میں اس تصور کا سب سے اہم شارع یورگن ہابرماس ہے۔ اس تصور کے مطابق عالم گیریت کے نتیجہ میں ایک آفاقی طرز معاشرت وجود میں آ گیا ہے۔ تمام قومی ریاستوں کا دستوری اور قانونی نظام اس آفاقی تہذیبی بالادستی کو قبول کرتا ہے اور یہ تہذیب لبرل اقدار کی حامل ہے۔ اس چیز کو لبرل کاسموپولیٹسائزیشن کہتے ہیں۔

    ↑

  406. کچھ مورخین اس نظام کا دورانیہ ۱۴۹۲ء سے ۱۹۱۴ء تک شمار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ۱۴۹۲ء میں فرڈی نینڈ اور ازابیلا کی افواج نے اسپین کی متحدہ عیسائی ریاست قائم کی تھی۔

    ↑

  407. اس مفروضہ کو عیسائیت اور لبرل ازم دونوں ردّ کرتے ہیں۔

    ↑

  408. شمٹ اور اس کے پیرو اس بات سے سہو نظر کرتے ہیں کہ یورپی اور امریکن اقوام نے جو جنگیں ۱۶۴۸ء سے ۱۹۱۴ء تک ریڈ انڈین افریقی اور ایشیائی لوگوں کے خلاف لڑیں وہ کسی بین الاقوامی قانون جنگ کے تحت نہیں لڑی گئیں اور یہ جنگیں وحشت، درندگی اور سفاکیت کی بدترین مثالیں تھیں۔

    ↑

  409. بالکل جس طرح صلیبی جنگوں کا مقصد ہر غیر عیسائی ملک اور فرد کو ختم کر دینا یا ان کو عیسائی بنا دینا تھا۔

    ↑

  410. Declaration of the Right to Protect

    ↑

  411. صومالیہ پر فوج کشی فرانس نے کی۔ امریکا فرانس کا معاون تھا۔ 

    ↑

  412. شمٹ کا مشہور جملہ ہے "Sovereign is he who declares the sovereignty."

    ↑

  413. اگر امریکا نے جو قتل عام افغانستان اور عراق میں اپنے قبضہ کے بعد روا رکھا اس کو شامل کر لیا جائے تو ہٹلر کے مقابلہ میں امریکی قتال تقریباً گیارہ گنا زیادہ ہے۔

    ↑

  414. شام، لبنان، یمن، عمان اور صومالیہ کو باج گزار ریاستیں بنانے جدوجہد جاری ہے۔

    ↑

  415. یعنی لبرل نیشنل ازم، فاشسٹ نیشنل ازم، ہندوتوا، مسلم نیشنل ازم وغیرہ۔

    ↑

  416. کچھ مبصرین نے زائنسٹ ہوم لینڈ میں نیویارک اور پٹسبرگ کو بھی شامل کیا ہے۔

    ↑

  417. عراق، اردن، بحرین اور یمن کے بارے میں بھی یہ بات کہی جا سکتی ہے لیکن امریکی دفاعی لٹریچر میں اس کا اقرار نہیں ملتا۔

    ↑

  418. مثلاً امریکا، کینیڈا، جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ وغیرہ جہاں قومی اکثریت قائم نہیں کی جا سکتی مثلاً ہندوستان وہاں لبرل نیم جمہوری قانون سازی کے ذریعے اپنی حلیف مقتدرہ تعمیر کی جاتی ہے اور انخلا کے وقت اسی باج گزار اشرافیہ کے ہاتھ اقتدار سونپ دیا جاتا ہے۔ 

    ↑

  419. بن گورین نے عربوں کو یہ لقب ۱۹۳۲ء میں اپنی ایک مقبول تقریر میں دیا۔

    ↑

  420. Pioneers نے یہی رویہ ان یمنی یہودیوں کے ساتھ روا رکھا جو بیسویں صدی کے اوائل سے فلسطین میں رہائش پذیر تھے لیکن زائن ازم یہودیت کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے لہٰذا غیریورپی یہودیوں کا قتل عام ممکن نہ ہوا۔ 

    ↑

  421. لیکن پاکستان اور اسرائیل کی مذہبی جماعتیں اپنے کو سیکولر نہیں کہتیں۔ یہ کارنمایاں ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی، سنگھ پریوار میں شامل جماعتوں اور جماعت اسلامی ہند نے انجام دیا ہے۔ ترکی میں اردگان کی اے کے پی بھی اپنے کو ایک سیکولر جماعت کہتی ہے۔

    ↑

  422. کوئی بھی اسرائیلی سیاسی جماعت ۱۹۴۸ء کے بعد سے فلسطینی عوام پر جو مظالم روا رکھے، ان کے ازالہ کی ضرورت کی قائل نہیں۔

    ↑

  423. فلسطینی آبادی کی شرح پیدائش یہودیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ 

    ↑

  424. لبرل نظام کسی عوامی اکثریت کا یہ حق تسلیم نہیں کرتی کہ وہ جمہوری عمل کے ذریعے ہیومن رائٹس کو ردّ کریں۔ شمٹ کا نظریہ state of exception بھی ہیومن رائٹس کے تعطل کا جواز بیان کرتا ہے، ان کی تنسیخ کا قائل نہیں۔

    ↑

  425. یعنی وہ نوآبادیاتی ممالک جو حصولِ آزادی کے بعد عالمی لبرل سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک رہیں۔

    ↑

  426. ایک مشہور پولش اکنامسٹ مائیکل کلیٹسکی اس قسم کی حکومتوں کو intermediate regimes کہا ہے یعنی ایسی حکومتیں خودانحصاری ہوتی ہیں۔ معاشرہ (سول سوسائٹی) کی گرفت سے آزاد ہوتی ہیں۔ کچھ دوسرے مارکسسٹ مفکرین نے ایسی حکومتوں کو نیم پرولتاریہ نیم بورژوا طبقوں کی نمایندہ کہا۔ ان طبقوں میں وہ غیرسرمایہ دارانہ دکان داروں اور کاریگروں، ائمہ مساجد، گھریلو ملازمین، طوائفوں، بے روزگار افراد اور آوارہ گردوں، خانہ بدوشوں اور چھوٹے جرائم پیشہ افراد کو شمار کرتے ہیں۔

    ↑

  427. لاطینی امریکا سے باہر اس نوعیت کی intermediate regime کی حکومتوں میں انڈونیشیا میں سوئیکارنو کی حکومت، برما میں لی ون اور اس کے جانشینوں کی حکومت، ناصر کی حکومت، سیریا اور عراق کی حزب البعث کی حکومتیں، نائربری کی تنزانیہ کی حکومت اور نکروما کی حکومت کو شمار کیا جا سکتا ہے۔

    ↑

  428. ان ممالک میں بولیویا، یوراگوئے، پیرو، ایکواڈور، پیرو اور برازیل نمایاں ہیں۔

    ↑

  429. پوپ نے ایک حکم نامہ کے تحت لاطینی امریکا کو اسپین اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔ پرتگالی حکمرانی صرف برازیل تک محدود کر دی گئی۔ لیکن برازیل کا رقبہ لاطینی امریکا کے مجموعی رقبہ کا تقریباً نصف ہے۔ کیتھولک چرچ کے کارندوں نے ریڈ انڈینوں کے قتل عام اور بے دخلی کو جاری رکھنے میں ہسپانویوں اور پرتگالیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ آج بھی بیش تر لاطینی امریکا میں بسنے والے ریڈ انڈین اپنے قدیم مذاہب پر قائم ہیں اور عیسائیت اور قدیم مذاہب کے ایک ایسے ملغوبے پر عمل کرتے ہیں جس سے کیتھولک چرچ کی تعلیمات کا کوئی واسطہ نہیں۔

    ↑

  430. صرف میکسیکو کی تحریک آزادی کو متوسط اور غریب طبقوں کی حمایت حاصل تھی اور اس تحریک آزادی کی قیادت ریڈ انڈین مذہبی پیشوا کرتے تھے جن کی شدید مخالفت میکسیکن کیتھولک چرچ نے کی۔

    ↑

  431. اور غالب امکان یہی ہے کہ ان دونوں ممالک میں امریکا کامیاب ہو جائے گا۔

    ↑

  432. لیکن کچھ لاطینی جنرل امریکا کے باغی بھی رہے ہیں جیسے ارجنٹینا کے واں پیراں، کیوبا کے فیدل کاسترو اور وینزویلا کے ہوگوشاویز۔

    ↑

  433. ان طریقوں میں ترسیل منافع حاصل شدہ خدمات اور ٹیکنولوجی کی فیس اور سب سے اہم ٹرانسفرنگ پراسس کا ذریعہ ہے۔ ٹرانسفر کا عمل یہ ہے کہ غیرممالک سے حاصل کردہ مشینری اور خدمات کی قیمت بڑھا کر بتائی جاتی ہے اور جو شے کمپنی لاطینی امریکا میں بنا کر بیچ رہی ہے اس کی قیمت کم بتائی جاتی ہے۔ یوں اصل حاصل شدہ منافع کا حصہ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے اور جو منافع بین الاقوامی کمپنی لاطینی امریکی ممالک میں ظاہر کر رہی ہے وہ کم ہو جاتا ہے اور کمپنی کو لاطینی امریکی ملک میں ٹیکس کم دینا پڑتا ہے۔

    ↑

  434. ہجومی (Mass) کی اصطلاح یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ تحریکیں عوام کی اکثریت کی حمایت یافتہ نہیں ہوتیں بلکہ عوام میں ایک بڑی فعال اقلیت ان کو لے کر چلتی ہے۔ یہ فعال اقلیت عموماً شہروں تک محدود ہوتی ہے اور عوام کی غالب اکثریت اس ہجومی تحریک سے لاتعلق رہتی ہے۔

    ↑

  435. ۲۰۱۱ء کی عرب بہار کی عرب ممالک میں تحریکیں اور مصر کی ۲۰۰۸ء کی اسلام مخالف تحریک بھی اسی نوعیت کی ہجومی تحریک ہیں۔

    ↑

  436. اسی نوعیت کی استعماری اعانت السیسی کی اسلام مخالف قوم پرست حکومت کو حاصل ہے۔ اخوان پر مظالم ڈھانے کے صلے میں اسرائیل، سعودی عرب، کویت، آئی ایم ایف، یورپی یونین اور امریکا نے بڑے پیمانے پر السیسی کی حکومت کو مالی اور دفاعی مدد فراہم کی ہے۔

    ↑

  437. یعنی ان کی شخصی اور گروہی آزادی مساوات اور ترقی کی فراہمی۔

    ↑

  438. بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جو پی پی کی حکومت نے پاکستان میں جاری کیا اس کی ایک مثال ہے۔

    ↑

  439. یعنی ایسی کش مکش جس میں ایک نوعیت کا سرمایہ دارانہ نظام (مثلاً لبرل ازم) ایک دوسری نوعیت کے سرمایہ دارانہ نظام (مثلاً قوم پرستانہ سرمایہ داری) سے نبردآزما رہتا ہے۔

    ↑

  440. لیکن یہ قانونی نافرمانی کی تحریکیں لاطینی امریکا میں جاری گوریلا جدوجہد سے منسلک نہ ہوئیں اور ان کی مزاحمتوں نے جشن اور جلسوں کی شکل اختیار کی جس کے نتیجے میں ان کو سرمایہ دارانہ عالمی معاشرت میں ضم کرنا نسبتاً آسان ثابت ہوا۔

    ↑

  441. ان میں سویابین، مکئی، پھول، پھل، سبزیاں، انگور اور شراب شامل ہے۔

    ↑

  442. جس جمہوری ریلے کے ذریعے یہ لاطینی امریکی قوم پرست حکومتیں برسراقتدار آئیں اس کو Pink Tide کہتے ہیں۔

    ↑

  443. دہریت اور ابلیس پرستی کی تبلیغ ایک ہیومن رائٹ ہے جس کو تمام لبرل، سوشل ڈیموکریٹ اور اشتراکی ممالک دستوری تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ افریقی اور ایشیائی سرمایہ دارانہ ممالک میں مذہبی معاشرت کی بالادستی کے نتیجے میں ان معاصی کی کچھ ریاستی روک تھام موجود ہے۔

    ↑

  444. اور کینیڈا اور ناروے کے بیش تر اسکول اپنے طلبہ کے لیے جنسی کھلونے مفت فراہم کرتے ہیں۔ ان ممالک اور ڈنمارک میں جنسی تجربہ گاہیں بھی مڈل اور ہائی اسکولوں میں قائم کی گئی ہیں۔ Utah یونی ورسٹی کی ایک ۲۰۱۲ء کی تحقیق کے مطابق مکمل زنا کا پہلا تجربہ برضا ورغبت امریکی گورے بچے سات سال کی عمر میں عموماً کرتے ہیں۔ جنسی کھیل کھیلنا چار سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔

    ↑

  445. یعنی سرمایہ کے کارکن مینیجر، ریاستی اور دیگر ادارتی حکام عاملین وغیرہ۔

    ↑

  446. فرانس کے دو اہم سوشل ڈیموکریٹ بانیوں میں سے ہے۔

    ↑

  447. جان اسٹوارٹ مل کا باپ جیمز مل بھی ایک مشہور فلسفی اور بینتھم کا قریبی ذاتی دوست تھا۔

    ↑

  448. یہ طریقہ تحقیق مل نے اس دور کے فرانسیسی سوشیالوجسٹ کومٹے کی فکر سے اخذ کیا۔

    ↑

  449. یہی رائے امریکی دستورسازوں میڈیسن اور ہملٹن کی تھی جنہوں نے ریاستی ادارتی تقسیم اختیارات کی تقسیم کے ذریعے اس کی پیش بندی کرنے کی کوشش کی۔

    ↑

  450. مل کی رائے میں اخلاقی تعلیم کی فراہمی کی ذمہ دار باشعور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے صرف حکومت کی نہیں۔

    ↑

  451. اخلاقی ترقی سے مراد صرف فرد کو اعلیٰ لذات کی تقدیم دینا ہے۔

    ↑

  452. یعنی ایسی اشرافیہ جس کے ارکان اعلیٰ لذات کی تقدیم کو فروغ دیتے ہوں۔

    ↑

  453. یعنی اعلیٰ لذات کی تقدیم کی حساسیت۔

    ↑

  454. یعنی اعلیٰ لذات کی تقدیم کی حساسیت کا حامل۔

    ↑

  455. اور کالونیز میں تو نمایندہ حکومت کے وجود کو لازماً محدود ہونا چاہیے۔

    ↑

  456. ایسا نظام قدیم ایتھنز میں موجود رہا ہے۔

    ↑

  457. یہی وجہ ہے کہ نمایندہ جمہوری نظام کے ذریعے غیرسرمایہ دارانہ حکومت (اسلامی، پاپائی، قدیم چینی) کبھی قائم نہیں کی جا سکتی جب کہ ہر قسم کی سرمایہ دارانہ حکومت (لبرل، اشتراکی، قوم پرست) نمایندہ نظام کے ذریعے حکومت کر سکتی ہے۔

    ↑

  458. یہ دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوتی ہے: کارپوریٹ بیوروکریسی اور ریاستی بیوروکریسی

    ↑

  459. یہ بات تینوں بیوروکریسیز (پارلیمانی انتظامی اور عدلیاتی) کے لیے درست ہے۔

    ↑

  460. مل تقریباً ۳۵ سال اندیا آفس کا اہل کار رہا۔ اس نے برٹش پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوئی الیکشن نہیں لڑا۔ اس نے اپنی تمام مقبول کتابیں انڈیا آفس میں ملازمت کے دوران لکھیں۔ مل کے افکار کا برطانیہ کی ہندوستان پر تسلط کی حکمت عملی مرتب کرنے کا گہرا اثر ہمیشہ رہا۔

    ↑

  461. مل نے تھامس ہیئر کی انتخابی اصلاح کی تجویز کی ممانعت کی جس کا مقصد پارلیمنٹ اکثریت کے اثر کو کم کرنا تھا۔ 

    ↑

  462. یعنی وہ لوگ جو اعلیٰ لذات کے نظاماتی فروغ کو مقصد حکمرانی کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

    ↑

  463. مل کا اپنا جنسی کردار نہایت گھناؤنا تھا۔ وہ ۱۸۳۰ء سے ۱۸۵۱ء تک ایک شادی شدہ عورت Harriat Taylor کے ساتھ رہا۔ Harriat Taylor کا شوہر ۱۸۴۹ء میں مر گیا اور مل نے ۱۸۵۱ء میں اس سے شادی کر لی۔ ۱۸۵۸ء میں Harriat مر گئی تو مل نے اس کی بیٹی کو اپنے گھر میں ڈال لیا اور اپنی موت تک اس کی بیٹی سے زنا کرتا رہا۔ مل ۱۸۷۳ء میں مرا۔

    ↑

  464. اس نے مشہور دہریہ کی انتخابی مہم میں ۱۸۶۸ء میں مالی اعانت کی جس کے نتیجے میں مل خود ۱۸۶۸ء کا انتخاب ہار گیا۔ اسقاطِ حمل کو فروغ دینے کی ایک مہم میں شمولیت کی وجہ سے مل کو ۱۸۲۴ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    ↑

  465. اور مذاہب اس نوعیت کی تحدید کے نفاذ کی کوشش کرتے ہیں۔

    ↑

  466. بقول George Style مل نیوکلاسیک تصورات کے ابتدائی پیش کرنے والوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔

    ↑

  467. اکبر نے کہا تھا افسوس فرعون کو کالج کی نہ سوجھی، مل کو کالج کی سوجھ گئی۔

    ↑

  468. یعنی اعلیٰ لذات کی فوقیت کے فروغ کی عمومی حساسیت۔

    ↑

  469. مل کی سب سے اہم کتاب "On Liberty" کا سب سے اہم اور مرکزی خیال ہے۔

    ↑

  470. جیسے جیسے جمہوری سیاسی نظام مستحکم ہوتا ہے ووٹ دینے والوں کا تناسب عمومی دہندگان میں کم ہوتا جاتا ہے۔ یہ رجحان دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں مغربی یورپی ممالک میں بہت نمایاں ہے۔

    ↑

  471. عبدیت کا تصور بت پرست مذاہب وغیرہ میں نہیں پایا جاتا ۔

    ↑

  472. مل کے جنازے کو لے کر اس کے گھر سے صرف اس کی داشتہ اور چار افراد چلے لیکن جب وہ قبرستان پہنچنے تو انہوں نے دیکھا کہ عوام کا بڑا گروہ تدفین کے میں شرکت کے لیے موجود ہے۔

    ↑

  473. سوشیالوجی کے بانیوں میں مارکس، کومٹے، ویبر، درخائیم اور پارسنز شامل ہیں۔ مارکس کے علاوہ باقی چاروں نے لبرل جمہوری نظام میں اصلاحات کی تجاویز پیش کیں۔ مارکس سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لبرل جمہوری نظام ریاست کے انہدام کا قائل تھا۔

    ↑

  474. پہلی جنگ عظیم میں مزدور تنظیموں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے جرمنی کی جنگی مہمات میں بھرپور حصہ لیا۔ سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں عموماً قوم پرست اور استعمار پرست ہوتی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال بلیر کی لیبر پارٹی ہے جو عراق اور افغانستان میں امریکی دہشت گردی کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔

    ↑

  475. یہ مکتب فکر انیسویں صدی میں جرمنی میں مقبول عام تھا۔ ان مفکرین کے مطابق معاشی عمل تاریخ کا پرتو ہوتا ہے اور ہر ملک کے معاشی نظام اور معاشی پالیسیوں کو اپنی تاریخی تناظر میں مرتب کیا جانا چاہیے۔

    ↑

  476. اس کے برعکس نیوکلاسیکی اکنامسٹس اس عقلیت کو فطرت انسانی کا تقاضا تصور کرتے ہیں۔

    ↑

  477. یعنی اپنی آزادی کو بڑھانے کے مقصد اعلیٰ کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے۔

    ↑

  478. ریشنیلٹی سے مراد عقل کو حصول آزادی/بڑھوتری سرمایہ کے لیے استعمال کرنا جہاں عقل کو کسی اور مقصد کے لیے مثلاً حصولِ رضائے الٰہی کے لیے استعمال کیا جائے گا وہ عمل ریشنل نہیں ہو گا۔ 

    ↑

  479. ویبر اور نیوکلاسیکی اکانومسٹس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریشنیلٹی کی بنیاد بھی جذبات پر ہوتی ہے۔ حرص اور حسد، شہوت اور غضب کے جذباتِ خبیثہ۔ ویبر خود بھی ایک عیاش زانی تھا۔ یونی ورسٹی آف ہائیڈل برگ میں اپنی طالب علمی کے دور میں غنڈہ گردی اور زناکاری میں اتنا بدنام ہوا کہ اس کی ماں (جو ایک متقی عیسائی تھی) اس سے نفرت کرنے لگی۔

    ↑

  480. اور آج مولانا تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید احمد پاکستان میں یہی کر رہے ہیں۔

    ↑

  481. یعنی اپنے نفوس کو حرص اور ہوس کے شیطان کے سپرد کرنا، آزادی اور بڑھوتری سرمایہ کو ہر عمل کا جواز بنا لیں۔

    ↑

  482. صرف ابلیس مکمل طور پر ریشنل ہے۔

    ↑

  483. ویبر کے مطابق معاشرتی ریشنلائزیشن کی سب سے زیادہ مزاحمت کیتھولک کی طرف سے ہوتی ہے۔ کہیں کہیں وہ یہودیوں کو بھی نظاماتی ریشنلائزیشن کا مخالف گردانتا ہے۔ 

    ↑

  484. ویبر دہریت (سیکولرائزیشن) کا پرزور وکیل تھا۔

    ↑

  485. اس کو Progressive Taxation کا نظام کہتے ہیں۔

    ↑

  486. ویبر کے مطابق معاشرتی ریشنلائزیشن کو دوسرا خطرہ حصول قوت کی جستجو سے درپیش ہے۔ افراد اور طبقات حصول قوت کی جستجومیں اجتماعی اور انفرادی آزادیوں کو کچلتے چلے جاتے ہیں۔

    ↑

  487. ویبر کی رائے میں گو مغرب کے زوال کا امکان موجود ہے لیکن یہ ضروری نہیں۔

    ↑

  488. مغربی جمہوری اور ڈکٹیٹرشپ پر مبنی ری پبلکس کے لیے یہی پیمانہ موزوں ہے۔

    ↑

  489. اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ریشنیلٹی عقلیت کے ہم معنی نہیں۔ ریشنیلٹی خرد کو آزادی کے حصول کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کا نام ہے لیکن خرد کو حصول آزادی کا ذریعہ بنانا عقلیت کا تقاضا نہیں۔ ریشنل قانونی نظام تحکیم کو حکمرانی مثالیہ کے طور پر قبول کرنا عقلیت کا تقاضا نہیں۔ اسی طرح اکنامکس جو مثالیہ فراہم کرتی ہے مثلاً خالص مسابقتی مارکیٹ کا مثالیہ اس کو معاشی عمل کو جانچنے کے پیمانہ کے طور پر برتنا ریشنل ہے کیوں کہ ریشنل ایسے نظام کے ذریعے لامحدود بڑھوتری سرمایہ ممکن ہوتی ہے لیکن یہ عقلیت کا تقاضا نہیں کیوں کہ معاشی عمل کی تنظیم کا مقصد حصولِ رضائے الٰہی بھی ہو سکتا ہے۔

    ↑

  490. بالخصوص کیلونسٹ

    ↑

  491. مثلاً دولت، طرزِ معاشرت، رنگ، نسل، زبان، مذہب وغیرہ۔

    ↑

  492. ریاستی بیوروکریسی کو ویبر کے مطابق سیاسی غلبہ حاصل ہے۔ سرمایہ کاروں کو معاشی غلبہ اور مذہبی رہنماؤں کو آئیدیالوجیکل غلبہ۔

    ↑

  493. حقیقت میں یہ عمل عیسائیت کی تنویرکاری تھی۔

    ↑

  494. ویبر کے مطابق لامعنویت کے عروج کا یہ دور کیلون کی تعلیمات کے فروغ سے شروع ہوا۔ کیلون کا نظریہ نجات یہ ہے کہ اللہ نے نجات حاصل کرنے والوں کو ازل سے منتخب کر لیا ہے اور فرد کے اعمال کا حصولِ اخروی نجات سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر فرد کا عمل اصولاً بے معنی، مہمل ہے نجات کا ذریعہ نہیں۔

    ↑

  495. توازن سے مراد طلب اور رسد کا ایک قیمت اور ایک سطح پیداوار پر برابر ہونا ہے۔

    ↑

  496. نیوکلاسیکی اکنامکس کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ مارکیٹ میں توازن کے قیام کی طرف رجحان موجود ہوتا ہے اگر طلب سے بڑھ جائے تو قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں رسد بڑھ کر طلب کی نئی سطح پر آ کر ایک نیا توازن قائم کر دیتی ہے۔ 

    ↑

  497. مرکزی بینک جتنا ریزرو زر چاہے ٹریژری بل فروغ کر کے تخلیق کر سکتا ہے۔ اس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

    ↑

  498. سرمایہ دارانہ زر کی تخلیق کے عمل کی تفصیل میری کتاب "Money and Banking in Pakistan" میں بیان کی گئی ہے۔

    ↑

  499. یہ بات بالخصوص امریکا کے لیے درست ہے۔

    ↑

  500. اور ترقی یافتہ حصص بازاروں (فرینکفرٹ، ٹوکیو، سیول، نیویارک، شنگھائی) میں ان کا حجم مجموعی کاروبار حصص میں مستقل کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

    ↑

  501. اس کی تفصیل میری کتاب "Financial Management in Pakistan" میں پیش کی گئی ہے۔

    ↑

  502. اسلامی بینک کے غیراسلامی سرمایہ دارانہ ادارہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے حصص کا کاروبار فنانشل مارکیٹوں میں ہوتا ہے، وہ تمسکات جاری کرتے ہیں جن کی قیمت تمسکات کے بازار میں متعین ہوتی ہے، ان کی شرح ادائیگی کا تعین مرکزی بینک کے ڈسکاؤنٹ ریٹ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں بینکوں کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ↑

  503. غیرسرمایہ دارانہ کاروبار: وہ کاروبار جو سود اور سٹہ کے بازاروں سے منسلک نہ ہو۔ پاکستان میں نوے فی صد کاروبار ایسے ہی ہیں۔یہ سرمایہ دارانہ بحرانوں سے براہ راست متاثر نہیں ہوتے۔

    ↑

  504. کینز کا طرزِ زندگی انتہائی لبرل تھا۔ بلومز بری گروپ کا ممبر تھا جو جنسی تجربات کو فروغِ آزادی کا ایک اہم ذریعہ گردانتے تھے اور ہر قسم کی شہوت رانی اور گھناؤنی جنسی آوارگی میں مصروف رہتے تھے۔ کینز ایک اغلام باز تھا اور اس کو پوشیدہ رکھنے کے لیے اس نے ایک ایسی رقاصہ سے شادی کی جس کے شادی کے بعد کئی زانی دوست بنے رہے۔ کینز ریکارڈو کی طرح ایک ماہر سٹہ باز تھا اور اپنی موت تک سٹہ بازی کے ذریعے کروڑ پتی بن گیا تھا۔ مل کی طرح کینز نے انڈیا آفس میں ملازمت کی لیکن ایک قلیل عرصہ کے لیے۔ وہ استعمار کا مخالف نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اس کو ۱۹۴۳ء میں لارڈ کا خطاب دیا گیا۔

    ↑

  505. ملٹن فرائیڈمین نے اپنی مشہور کتاب "A History of the United States" میں امریکا میں ہونے والے معاشی بحرانوں کو حکومت کی غلطیوں کے باعث ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ↑

  506. اس کتاب میں سرمایہ دار سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کی روح اور نفس میں حرص اور ہوس کے شیاطین مسلط ہوں وہ مزدور ہو یا کاشت کار، مینیجر ہو یا ادیب آرٹسٹ، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کار سے مراد نجی کارپوریشن اور ریاستی اداروں کے مینیجر ہیں۔

    ↑

  507. سرمایہ کاری سے مراد زر کو بڑھوتری سرمایہ کے چکر سے مستقل گزارتے رہنا ہے۔

    ↑

  508. اسی کو کینز Managarial Efficiency of Capital کہتا ہے۔

    ↑

  509. ریزرو زر سے مراد وہ سرمایہ دارانہ زر ہے جو مرکزی بینک قلیل المدت حکومتی تمسکات کو فروخت کر کے تخلیق کرتا ہے۔

    ↑

  510. اس کی تفصیل بھی میری کتاب "Money and Banking in Pakistan" میں دی گئی ہے۔

    ↑

  511. جب برطانیہ نے طلائی نظام ترسیلات کو یک طرفہ طور پر ترک کر دیا۔

    ↑

  512. اور فرانس، برطانیہ اور امریکا نے اپنا ریاستی کنٹرول ایسی کالونیوں کی بین الاقوامی تجارت اور فنانس پر بھی مسلط رکھا۔

    ↑

  513. اسکنڈے نیوین ممالک میں بہبود عام پر ریاستی اخراجات میں اضافہ بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔

    ↑

  514. کینز اپنے آپ کو ایک لبرل پارٹی کا حمایتی کہتا تھا۔ وہ لیبر پارٹی کا ممبر نہیں تھا نہ یونین کے قانونی اختیارات کی توسیع کی اس نے کبھی وکالت کی لیکن اجرتوں کو کم کرنے کو سرمایہ دارانہ نظام کے لیے مضر سمجھتا تھا۔

    ↑

  515. فوجی اخراجات میں امریکا میں ہوش ربا اضافہ رونما ہوا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد سے سوویت یونین اور چین کے خلاف جارحانہ کارروائیاں شروع ہوئیں اور ۱۹۵۲ء تک امریکا کے فوجی اخراجات دوسری جنگ عظیم میں کیے گئے مجموعی فوجی اخراجات سے تجاوز کر گئے۔ اس وقت سے لے کر آج تک امریکا کے جنگی جرائم فروغ پا رہے ہیں اور ۲۰۱۳ء تک امریکی فوج ۱۷۳؍ ممالک میں اپنے اڈوں کے توسط سے جنگی کارروائیوں مصروف ہے۔ امریکا کے بعد سب سے بڑا فوجی اخراجات میں اضافہ فرانس نے کیا ہے اور وہ سات افریقی ممالک میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ بہبودی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ برطانیہ کی ۱۹۴۵ء تا ۱۹۵۱ء والی لیبر حکومت نے کیا۔ اس دور میں سویڈن اور ناروے کی طرح برطانیہ میں بھی عوام کے لیے صحت اور تعلیم مفت مہیا کی گئی اور ہر شخص کوریاستی پنشن کا حق دار بنایا گیا۔ ٹریڈ یونین کے قانونی حقوق میں سب سے زیادہ اضافہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس میں کیا گیا۔

    ↑

  516. ۱۹۴۴ء میں نئے عالمی سرمایہ دارانہ نظام تجارت اور ترسیل سرمایہ کے رہنما اصول Bretton Woods معاہدات کے ذریعے متعین کیے گئے۔ تجارتی محصولات کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک مستقل ادارہ قائم کیا گیا جس کو اب ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کہتے ہیں۔ نئے بین الاقوامی فنانشل نظام کی بنیاد امریکی ڈالر پر رکھی گئی۔ امریکی حکومت نے یہ بات قبول کی کہ دوسری ہر حکومت کے مطالبہ پر ۳۵ ڈالر کے بدلے ایک اونس سونا دے گی اور یہ شرح کبھی تبدیل نہ ہوگی۔ دوسری تمام کرنسیوں کا شرح تبدل قومی حکومتیں خود کریں گی لیکن اس شرح تبدل میں تبدیلی آئی ایم ایف کی اجازت سے کی جائے گی۔ عملاً ایسا کبھی نہیں ہوا اور جس حکومت نے جب چاہا اپنی کرنسی کی شرح تبدل خود تبدیل کی۔ ۱۹۷۱ء میں امریکا نے سونے میں ڈالر کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا اور Bretton Woods معاہدہ کے ذریعے قائم شدہ نظام عملاً معدوم ہو گیا۔ اب بیش تر سرمایہ کار کرنسیوں کے بین الاقوامی شرح تبدل کا تعین بین الاقوامی زری مارکیٹ میں طلب اور رسد کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس کو فری ایکسچینج ریٹ سسٹم کہتے ہیں۔

    ↑

  517. یعنی مجموعی مقدارِ زر

    ↑

  518. مثلاً ریلوے نظام کا قیام، الیکٹریسٹی کی دریافت اور بڑے پیمانے پر صنعتی اور تجارتی شعبہ میں استعمال۔ آئی ٹی کی دریافت اور وسیع استعمال وغیرہ۔

    ↑

  519. اور کسی حد تک گورڈن براؤن کے دورِ حکومت کے آخر میں۔

    ↑

  520. تفصیل اس اجمال کی میری کتاب "Money and Banking in Pakistan" میں دیکھیں۔

    ↑

  521. اس مکتبہ فکر کی دو شاخیں ہیں ایک کا قائم کرنے والا Yale University کا James Tobin اور دوسری کا کیمبرج یونی ورسٹی کا Wynne Godley ہے۔ یہاں ہم Godley کے نظریات بیان کر رہے ہیں۔

    ↑

  522. کریڈٹ پلاننگ کا نظام پاکستان میں ۱۹۷۳ء سے ۱۹۹۶ء تک نافذ رہا۔ اس دور میں بڑے بینک قومیائے ہوئے تھے لیکن غیرملکی نجی بینک بھی موجود تھے۔ ورلڈ بینک نے ۱۹۸۸ء کے بعد سے حکومت پر دباؤ ڈال کر اس نظام کو ختم کروایا۔ اس کی تفصیل بھی "Money and Banking in Pakistan" میں دی گئی ہے۔

    ↑

  523. ان میں لہمان برادرس سرفہرست ہے۔

    ↑

  524. ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں یہ بات صرف جرمنی کے لیے درست نہیں۔

    ↑

  525. یعنی اجرتیں اپنی قوت خرید کے لحاظ سے کم ہوتی ہیں۔

    ↑

  526. اس کی وجہ سے ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی کے دوران کی گئی نج کاری کا عمل یورپ میں بری طرح ناکام ثابت ہوا۔

    ↑

  527. ۲۰۰۸ء کے بعد اس استعماری مخبری اور دہشت گردی کے سب سے اہم اہداف پاکستان، ایران، ہندوستان، ترکی، برازیل، شمالی کوریا اور چین ہیں۔ امریکی مخبری اور دہشت گردی کو سب سے نمایاں کامیابی عرب بہار کی تحریک کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔ چین امریکی دہشت گردی اور مخبری کا شکار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ، پاکستان، منگولیا، مشرقی ترکستان، ویت نام اور کئی افریقی ممالک بڑے پیمانے پر خود بھی مخبری کر رہا ہے۔

    ↑

  528. مثلاً ۱۹۴۵ء میں برطانیہ میں قائم ہونے والی لیبر حکومت فوراً نیٹو میں شامل ہو کر سوویت روس کی کڑی دشمن بن گئی۔ بلیئر کی لیبر حکومت امریکا کی پالتو کتیا تھی۔ آج ہولاندے کی سوشل ڈیموکریٹ امریکا کے ساتھ مل کر مالی، صومالیہ، سینٹرل امریکن ری پبلک اور چاڈ میں مجاہدین اسلام کے خلاف دہشت گرد جنگ لڑ رہی ہیں۔

    ↑

  529. پہلے یہ اعزاز سوشلسٹوں کو حاصل تھا۔ لینن نے روس میں اپنی حکومت قائم کرتے ہی اغلام بازی اور رنڈیوں کے کاروبار کے حق میں قوانین بنائے۔ وار کمیونز کے دور میں آزاد جنسی اختلاط کو فروغ دیا گیا اور نکاح کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ اسٹالن کے دور میں اس روش کو ترک کر دیا گیا اور اشتراکی حکومتوں نے روس، چین اور ویت نام میں آزاد شہوت رانی پر لبرل حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ سخت پابندیاں رائج کیں۔

    ↑

  530. اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق دنیا کی آبادی میں مغربی یورپ، شمالی امریکا اور آسٹریلیا وغیرہ کا حصہ بیسویں صدی کی ابتدا تک ۱۴؍ فی صد رہ گیا یہ اکیسویں صدی کی ابتدا تک ۱۴؍ فی صد ہو گیا ہے اور بائیسویں صدی کی ابتدا تک چھہ فی صد سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔

    ↑

  531. آبادی میں کمی قدرتی عمل نہیں بلکہ فحاشی اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے کی وہ قیمت ہے جو مغرب برضا و رغبت ادا کیے جا رہا ہے۔

    ↑

  532. مارکس نے اس کو Alienation اور درخائیم نے Nausea کہا ہے۔

    ↑

  533. بے روزگار افراد سرمایہ دارانہ ترقی کے خواب نہیں دیکھ سکتے۔ وہ alienate ہو جاتے ہیں اور ان میں سرمایہ کاروں کے خلاف بغاوت کے جذبات پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان افراد کو قابو میں رکھنے کے لیے سوشل ڈیموکریٹ پالیسیاں ایک اہم نظاماتی خدمت انجام دیتی ہیں۔

    ↑

  534. ہر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ریاست لازماً استعماری نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ اس کو اپنے دفاعی اخراجات مستقل بڑھاتے رہنا ہوتے ہیں اور فوج اور اس کے متعلقہ صنعتوں میں شامل افراد کو وسیع پیمانے پر فلاحی خدمات اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    ↑

  535. مثلاً ریاستی نظام تعلیم کے ذریعے ہی یورپ اور امریکا میں چرچ کی تعلیم نظاماتی گرفت میں مفلوج ہو کر رہ گئی اور سرمایہ دارانہ اقتدار اور اخلاقیات کا رواج عام فروغ پایا۔ قدیم چینی معاشرت کو تباہ کرنے کے لیے چینی حکومت صحت کے شعبہ کی تنظیم نو پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

    ↑

  536. ویلفیئر اخراجات کا وہ حصہ جو ایسی مدوں میں خرچ کیا جا رہا ہے جن کا پیداواری سکت بڑھانے یا سرمایہ دارانہ وفاداریاں رکھنے سے کم تعلق ہے (مثلاً معذوروں پر خرچ) ۔اسے یورپ اور امریکا دونوں میں ۲0۰۸ء کے بعد سے کم کیا جا رہا ہے۔

    ↑

  537. معاشی عمل کی تنظیم اس طرح کی گئی ہے کہ کارپوریشن میں مرکزیت کو مخفی کر دیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کام ایسے یونٹوں کے سپرد کر دیا گیا ہے جو کارپوریشن کے مرکزی دفتر کے معاہدین ہوتے ہیں۔ مرکزی دفتر صرف مارکیٹنگ، فنانشل اور سٹریٹجک مینجمنٹ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور باقی تمام کام معاہد یونٹس فراہم کرتے ہیں۔ ایک عام کارکن ایک پراجیکٹ کا مینیجر ہوتا ہے کسی شعبہ کا رکن نہیں ہوتا۔ ہر مزدور کو اپنے کام کو خود مینج کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور مینیجر اور مزدور کے دائرہ کار مدغم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً بنگلہ دیش میں امریکی فرم walmart غریب عورتوں سے کپڑے سلواتی ہے اور ہر عورت اور اس کا مقامی ٹھیکہ دار walmart کا ایک معاہد یونٹ کے مینیجر ہوتے ہیں۔ ان حالات میں طبقاتی تشخص کا معدوم ہونا ایک فطری عمل ہے اگر کارکن خواہ مزدور خواہ مینیجر، سرمایہ کا غلام ہے اور اس کا ذاتی مفاد سرمایہ کی بڑھوتری سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔

    ↑

  538. یہ نکتہ مجھے زاہد صدیق مغل صاحب نے سمجھایا ہے۔

    ↑

  539. اس کے علاوہ سوشل ڈیموکریسی اور انارکزم نے بھی سرمایہ دارانہ عدل کے نظریات مرتب کیے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ تصورات لبرل ازم اور اشتراکی فکر کی آمیزش ہیں۔ انارکسٹ تصورات کی تفصیل پوسٹ ماڈرنسٹ نظریات کے تجزیہ میں بیان کی جائے گی۔

    ↑

  540. "A Theory of Justice" ۱۹۷۱ء اور "Law of the People" ۲۰۰۳ء میں چھپی ایک اور اہم کتاب "Political Liberalism" رالز نے ۱۹۹۵ء میں چھپوائی۔ رالز ۲۰۰۴ء میں مر گیا۔ "Political Liberalism" بھی فوجی وظیفہ سے فنانس کی گئی تھی۔

    ↑

  541. ظاہر ہے کہ کانٹ اور رالز اور ان جیسے دہریوں کے پاس نفسِ مطمئنہ کا کوئی تصور موجود نہیں۔

    ↑

  542. بالخصوص احکامِ شرع کو معطل کر دیتا ہے۔

    ↑

  543. رالز ہارورڈ میں بحیثیت زانی مشہور تھا اور کئی انڈرگریجوایٹ طالبات نے اس کے ساتھ زناکاری کے واقعات بیان کیے ہیں۔ اس کی موت کے بعد اس کی بیوی نے کہا میں کبھی رالز کے معاشقوں کی راہ میں حائل نہ ہوئی۔

    ↑

  544. ڈنمارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنانے والوں کے خلاف مہم چلانے والوں، جن میں عیسائی بھی شامل تھے کے مقدموں میں، ڈنمارک کے وزیراعظم نے مشورہ دیا تھا کہ سرمایہ دارانہ حق اظہار رائے کو محدود نہیں کیا جا سکتا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کر کے بدلہ لے لیں۔

    ↑

  545. لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ مفکرین کے مطابق انفرادی آزادی اور قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام کے مطابق گروہی آزادی۔

    ↑

  546. کانٹ کی sovereign سے مرادمطلق العنان بادشاہ ہے۔

    ↑

  547. مارکس کی طرح کانٹ بھی ایک ایسی خیالی جنت کی تصویر مرتب کرتا ہے جہاں نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ کے احکامات کا تطبیقی عمل خود بخودیکساں ہو جاتا ہے۔ کانٹ اس خیالی جنت کو Kingdom of Ends کہتا ہے اور نیوکلاسیکی اکنامسٹس اور دورِحاضر کے کچھ لبرل پولیٹیکل سائنٹسٹ مثلاً نوزیک اور ہائیک کے مطابق موجودہ جمہوری نظام نے بذریعہ سرمایہ داری یہ Kingdom of Ends قائم کر دی ہے۔

    ↑

  548. ریشنیلٹی سے مراد خود غرضی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  549. کلاسیکی لبرل روسو، لاک اور کانٹ اس تحدید کو قبول نہیں کرتے اور اسی فرق کی بنیاد پر میں رالز کو ایک سوشل ڈیموکریٹ سمجھتا ہوں۔

    ↑

  550. سرمایہ دار ہر وہ شخص ہے جس کے قلب پر حرص اور حسد کے شیطان نے قبضہ کر لیا ہے۔

    ↑

  551. سرمایہ داری کی سب سے مشہور تشریحِ عدل Utilitarian مفکرین نے پیش کی ہے۔ اس تشریح میں رالز کی تشریح سرمایہ دارانہ عدل میں جو مماثلت ہے وہ تفصیل سے Sandel نے “A Theory of Justice” پر تبصرہ میں بیان کی ہے۔

    ↑

  552. کچھ سوشل ڈیموکریٹ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے معاشرتی حقوق (حق ملازمت، صحت، تعلیم وغیرہ) بھی ضروری گردانتے ہیں لیکن ان سوشل رائٹس کی فراہمی کے ذریعے وہ تقسیمی مساوات کے قیام کو لازمی نہیں گردانتے۔ اشتراکی بھی تقسیمی مساوات کو Dictatorship of the proltariat کے دور میں ناقابل الحصول تصور کرتے ہیں۔

    ↑

  553. اور دوسرا اصول عدل تقسیمی آزادی کی تحدید کا جواز بیان کرتا ہے۔

    ↑

  554. واضح رہے کہ یہ سرمایہ دارانہ حق ازلی مقام کی مشاورت سے برآمد نہیں ہوتا بلکہ اس وجودیاتی مفروضے کا اظہار ہے جو ازلی مقام کے اراکین بحیثیت ہیومن بینگ کے رکھتے ہیں۔ یہ حق ان کو شیطان نے ودیعت کیا۔ یہی ان کی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ ان کا فرض ہے کہ تمام سٹیزن کو یہ سرمایہ دارانہ حق فراہم کریں تاکہ سرمایہ دارانہ ری پبلک کا ہر سٹیزن دہریہ یعنی سیکولر بن کر حرص وہوس کے شیطان کو اپنا نفس سپرد کر دے۔ ہیومن رائٹس کی فراہمی مقصود بالذات ہے۔ اسی طرح جیسے بڑھوتری سرمایہ مقصود بالذات ہے۔ بڑھوتری سرمایہ اور ہیومن رائٹس کی فراہمی کا مقصد آزادی کا لامتناہی فروغ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  555. یعنی ان کے اطلاق کے نتیجے میں سٹیزن کی مساوی آزادی کو فروغ نہ دیا جا سکے۔

    ↑

  556. اس بحث کو پوسٹ ماڈرن مفکرین نے وسعت دی ہے۔

    ↑

  557. عیسائی تصورِ الوہیت انسانی نظریہ تثلیث سے ماخوذ ہے۔

    ↑

  558. عیسائیت کا تصور ازلی گناہ ۔

    ↑

  559. یہ درست ہے کہ ہر فرد میں شہوت اور غضب کے جذبات فطرتاً موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیکی کے رجحانات بھی انسانی نفس میں موجود ہوتے ہیں اور یہ بھی فطری ہی ہوتے ہیں۔ تمام مذاہب تعلیم دیتے ہیں کہ فرد کے قلب میں نیک رجحانات کا غلبہ ہو۔

    ↑

  560. یہ چیز ریشنیلٹی کہلاتی ہے۔

    ↑

  561. اگر لبرل اور سوشل ڈیموکریٹ عوام پالیسیوں کو ردّ کر دیں تو حکومت بدل جائے گی لیکن نظام تبدیل نہ ہو گا اور لذات کے فروغ کی جدوجہد مستقل رہے گی۔ رالز کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا کسی کو حق نہیں۔

    ↑

  562. پرولتاریہ قوم کے مساوی مفادات۔

    ↑

  563. ایک دہریہ ذاتی طور پر مذہبی رسومات انجام دے سکتا ہے لیکن مذہب سے مقاصد زندگی اور تفہیم ذات اخذ نہیں کرتا۔ دہریہ فرد کا دین سرمایہ داری ہوتا ہے گوکہ اس کا مذہب عیسائیت، اسلام، ہندومت وغیرہ ہو سکتا ہے۔

    ↑

  564. امام محمد مارماڈیوک پکتھال فرماتے تھے مغربی تہذیب کوئی چیز نہیں۔ مغرب وحشی ہو گیا ہے۔

    ↑

  565. یہ جستجو لازماً کامیاب نہیں ہوتی کیوں کہ بڑھوترئ سرمایہ کے حصول کا کوئی واحد صحیح طریقہ موجود نہیں۔ پابندئ ریشنل ضوابط اس وقت لازم ہے جب کہ جمہوری عمل کے ذریعے وہ تبدیل نہ کر دیے جائیں۔ اس بات کا کچھ لوگوں کے خیال میں رالز کے پاس خیرمطلق کا کوئی تصور موجود نہیں، میں اس رائے کو قبول نہیں کرتا۔ میری رائے میں رالز اور utilitarianism کے تصور خیر یکساں ہیں یعنی بڑھوترئ سرمایہ۔

    ↑

  566. بذریعہ نفس امارہ۔

    ↑

  567. یاد رہے کہ وہ ہیومن نہیں یعنی جو افراد بڑھوترئ سرمایہ کو مقصدِ حیات اور معاشرت کے قبول نہیں کرتے مثلاً ریڈ انڈینز یا طالبان ان کو ہیومن رائٹس حاصل نہیں۔

    ↑

  568. ۲۰۱۱ء کے بعد امریکا نے جزوی طور پر ہیومن رائٹس کو موقوف کر دیا ہے اور کا جواز پیش کیا ہے کہ امریکا حالت جنگ میں ہے۔

    ↑

  569. وٹگنسٹائن اور ہائیڈیگر نے موت پر کچھ نہ کچھ لکھا ہے لیکن اپنے نظام فکر میں ان تاثرات کو سمونے کی کوشش نہیں کی۔

    ↑

  570. وہ ۱۹۲۹ء میں پیدا ہوا اور اب تک زندہ ہے۔ ↑

  571. اس ادارہ کو فرینکفرٹ اسکول کہتے ہیں۔ ↑

  572. ریشنلٹی سے مراد وہ عقلیت ہے جو خواہشاتِ نفسانی کی سب سے موثر طریقہ تکمیل کی راہ بتاتی ہے۔

    ↑

  573. اس کی تفصیل ہیبرماس کی کتاب "Theory of Communicative Action" 3rd Volumeمیں موجود ہے جو ۱۹۸۱ء میں انگریزی میں شائع ہوئی۔

    ↑

  574. لائف ورلڈ کا تصور ہابرماس نے ہائیڈیگر اور ہزرل (Husserl) کی فکر سے اخذ کیا۔

    ↑

  575. ویبر کی رائے تھی کہ لائف ورلڈ مختلف شعبوں میں( سائنس، آرٹ، سیاست وغیرہ) منقسم ہے، اداراکِ حقیقت کے مختلف اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ ہابرماس اس رائے سے اختلاف کرتا ہے اور اس کوModernismکی ایک بنیادی کمزوری کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    ↑

  576. ہابرماس کی فکر پر ایک فرانسیسی سوشیولوجسٹ ایمائل درخائم(Emile Durkheim) کا اثر بھی پایا جاتا ہے۔

    ↑

  577. فوکو کی فکر کا تجزیہ اگلے سیکشن میں پیش کیا گیا ہے۔

    ↑

  578. ہابرماس اس بات کو قبول کرتا ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی میں مواصلت پوری طرح غیرجبری نہیں ہوتی اور مارکیٹ اور ریاست کی کارفرمائی لازماً کسی نہ کسی حد تک مواصلت پر جبر مسلط کرتی ہے۔ وہ اس نظاماتی جبر کو کم کرنے کی تجویزیں پیش کرتا ہے اور یہی اس کی سوشل ڈیموکریٹ سیاسی فکر کی بنیاد ہے۔ اس ضمن میں بھی ہابرماس کی فکر پوسٹ ماڈرنسٹ فلسفیوں بالخصوص فوکو اور دیلوز سے واضح مطابقت رکھتی ہے۔

    ↑

  579. یعنی وہ انفرادیت جو غیرجبری مواصلت کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔

    ↑

  580. یعنی ایسے طریقے جن سے آئی سی ٹی کو کنٹرول کرنے والی کارپوریشنوں کے منافع میں اضافہ نہیں ہوتا۔

    ↑

  581. اور مارکسسٹوں کے برخلاف طبقاتی کش مکش کو ناگزیر نہیں سمجھتا ہے۔

    ↑

  582. آفاقیت سے مراد محض کسی لسانی گروہ (language community)کے وہ مفروضات ہیں جن کو وہ لسانی گروہ ریشنل تصور کرتا ہے۔

    ↑

  583. ان مفکرین کے نظریات کا تجزیہ ہابرماس نے اپنی کتاب "In Philosophical Discourses of Modernity" میں پیش کیا ہے۔

    ↑

  584. یہ truth claims اندرونی (immanent) اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص تہذیب کی پیداوار ہوتے ہیں اور لازماً ماورائی(Transcedent) اس لیے نہیں ہوتے کہ کسی آفاقی حقیقت کی نشان دہی کادعویٰ کرتے ہیں ۔

    ↑

  585. بالکل جیسے والدین بچے کو آگ میں ہاتھ ڈالنے سے باز رکھتے ہیں۔ یہ مثال ہابرماس کی ہے۔

    ↑

  586. ۲۰۱۴ء میں یوگنڈا کی حکومت نے اغلام بازی کو غیرقانونی قرار دیا تو اقوام متحدہ اور امریکا اور یورپی ممالک مستقلاً اس قانون کو نسخ کرنے کے لیے یوگنڈا کی حکومت پر زور ڈال رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ یہ اقوام متحدہ میں منظور شدہ ہیومن رائٹس کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اور اوباما نے یوگنڈا پر معاشی پابندیاں لگانے کی بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

    ↑

  587. یہ کلنٹن اور بش دوم کا مشیر رہا اور اس کا باپ حسین نصر شاہِ ایران کا وزیر ثقافت تھا جس نے انقلاب اسلامی کے بعد امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ ولی نصر جماعت اسلامی پاکستان کے خلاف بھی جاسوسی کرتا رہا ہے۔

    ↑

  588. اس کے خیال میں امریکا کو جنگ افغانستان اس طرح لڑنا چاہیے تھی جیسے نیٹو نے کوسووا میں لڑی یا بھارت نے سقوط ِحیدر آباد کے لیے۔

    ↑

  589. لاک کے مطابق ٹالرنس سے مراد یہ ہے کہ فرد ذاتی زندگی اپنے مذہبی عقائد کو حق گردانتے ہوئے سیاسی نظام میں تمام تصوراتِ خیر کو یکساں قدر کے حامل ہونے کے طور پر قبول کرے۔ سیاسی نظام کا مقصد بڑھوترئ سرمایہ یا آزادی کے علاوہ کسی خاص مذہبی تصورِ حق کی کارفرمائی کا حصول نہ ہو۔

    ↑

  590. یہ رالزکی رائے بھی ہے کہ جو لوگ آزادی یعنی بڑھوترئ سرمایہ کی اقدار کو قبول نہیں کرتے ان سے مکالمہ ناممکن ہے۔ ایسے لوگوں یعنی مسلمانوں کو گولی مار دینی چاہیے۔

    ↑

  591. ہیبرماس کے خیال میں اگر ۲۰۰۲ء میں افغانستان میں جنگ کے بجائے پولیس آپریشن (police operation) کیا جاتا تو امریکہ طالبان کو شکست دینے میں زیادہ کامیاب رہتا لیکن اس کو افسوس ہے کہ شمالی اتحاد نے اس کی یہ بات نہیں مانی۔ ↑

  592. Inter-Subjectسے ہیبرماس کی مراد ایک ایسی مخلوط انفرادیت ہے جو مختلف انفرادیتوں کی غیرجبری مواصلت میں شرکت سے تعمیر کی جاتی ہے۔ ↑

  593. ہیبرماس مسلم دنیا کی جماعتوں کی اس نوعیت کی (اسلامی جمہوری) جدوجہد کا بھی مخالف ہے لیکن اس قسم کی جدوجہد کو برداشت کرنے پر آمادہ ہے کیوں کہ اس کو توقع ہے کہ اسلامی جمہوری عمل ایسی غیر جبری مواصلات کے مواقع فراہم کرے گی جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ Intersubject تعمیر کیا جا سکے۔ ↑

  594. اور ان گلوبل ضوابط کے فروغ میں نجی شعبہ کے معیارات مقرر کرنے والے ادارے مثلاً IOS, IAS ، اور ریٹنگ ایجنسیاں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ↑

  595. یعنی ۱۶۴۸ ؁ کی Treaty of Westphaliaکے بعد ↑

  596. ایسی ریاست میں غالباً چینیوں اور ہندوستانیوں کی اکثریت ہو گی اور اس کا امکان موجود رہتا ہے کہ وہ اپنا طرز( سرمایہ دارانہ) معاشرت امریکیوں اور یورپیوں پر مسلط کر دیں اور فواحش کے پھیلاؤ میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔

    ↑

  597. امریکا نے اپنے مسلمان سٹیزنز کے ہیومن رائٹس کو مستقلاً مجروح کیا ہے لیکن اقوام متحدہ نے امریکا کو اس ہیومن رائٹس کی پامالی کی کوئی سزا نہیں دی۔

    ↑

  598. اس کو R2P یعنی Right to Protect قرارداد کہتے ہیں اور اس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ستمبر ۲۰۰۵ء میں منظور کیا۔

    ↑

  599. مثلاً یورپین مقننہ کے انتخابات میں رائے دہندگان کی شرح قومی انتخابات کے مقابلہ میں عموماً آدھے سے بھی کم ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی اوکے معاہدے کی جمہوری تصدیق کبھی نہیں کرائی جاتی۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کو اقوام متحدہ کی ہر قرارداد کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے وغیرہ۔

    ↑

  600. rule of lawکو Rule of law of capital کہنے کا جواز یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں ثابت کیا کہ سرمایہ آزادی کی تجسیم (concrete form)کے علاوہ کچھ نہیں۔ اگر rule of law کا اصولی مقصد آزادی کا فروغ اور تحفظ ہے تو وہ عملاً rule of law of capital کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  601. لیکن یہ بات قدیم ایتھنز کے بارے میں پوری طرح صحیح نہیں اور ہابرماس کو اس بات کا کچھ کچھ احساس ہے۔

    ↑

  602. اس کا اصل نام Joseph Ratzingerہے۔ یہ پوپ جان پال دوم کے انتقال کے بعد پوپ بنا اور ۲۰۱۲ء میں اس عہدہ سے سبک دوش ہو گیا۔ یہ ہابرماس کا قریبی دوست ہے۔

    ↑

  603. برناڈٹ۱۴، ۱9۴۰ء سے ۱9۵۸ء تک پوپ بنا رہا۔ ہابرماس کے ساتھ اس کا مکالمہ خطوط کے ذریعے کئی سال تک جاری رہا۔ برناڈٹ۱۴ بھی بڑا بدمعاش تھا ۔ پوپ بننے سے پہلے اور بعد میں اس نے کئی داشتائیں پالیں اورچرچ کی املاک کے غبن کرنے کے لیے بھی مشہور تھا۔

    ↑

  604. Scholasticismکی تحریک عیسائیت کی یونانی فلسفیانہ مباحث میں سمو دینے کی تحریک تھی۔

    ↑

  605. یہ بات درست نہیں۔ کچھ عیسائی گروہ مثلاً Cathars حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کو ردّ کرتے ہیں۔

    ↑

  606. بیسویں صدی کے اور فلسفی Benjamin نے یہودیت کی ملحدانہ تشریح مرتب کی جس کی تحسین ہابرماس کرتا ہے۔

    ↑

  607. جو لبرل آزادیوں بالخصوص اغلام بازی اور سوشل ڈیموکریٹ پالیسیوں کا پرجوش مبلغ ہے۔

    ↑

  608. یہ ۱۹۳۰ء میں پیدا ہوا اور حال ہی میں مرا ہے۔ ↑

  609. مثلاً آرٹسٹ کا شعورِ خود ارادیت اس کے اسلوبِ کار سے وضع ہوتا ہے اس کے موضوع سے نہیں۔ خود ارادیت کا یہ تصور صرف وہ لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو آرٹ تخلیق کرنے کا عمل جاری رکھیں۔

    ↑

  610. یہ خطاب ۱۹۸۱ء میں دیا گیا۔

    ↑

  611. اس پر تبصرہ ہم کتاب کے آخری سیکشن میں کریں گے۔

    ↑

  612. یہ انگریزی میں اپنا نام ہمیشہ Eqbal لکھتا تھا۔

    ↑

  613. اقبال ۱۹۹۸ء میں مر گیا ۔اس گروہ کے دوسرے اہم فکری رہنماؤں میں حمزہ علوی، فیروز احمد، ضیاء میاں اور اکبر زیدی وغیرہ شامل ہیں۔

    ↑

  614. Citizen! Keep a watch. The ckickens of Jihad are likely to come to home to roost. Afghanistan may prove to be a metaphor for the future. DAWN 5th February 1998. ↑

  615. مستقل طور پر تو اقبال ہمپشائر کالج سے ریٹائر ہو کر ۱۹۹۷ء میں اسلام آباد آیا لیکن ۱۹۹۰ء کے بعد سے امریکی حکومت نے اس کی پاکستانی آمدورفت کا انتظام کر دیا تھا اور وہ تقریباً آدھا سال پاکستان میں گزارتا تھا۔

    ↑

  616. اقبال کا داماد پرویزہودبھائی ایک آغاخانی ہے۔

    ↑

  617. یہ سب بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دہریہ ہیں۔

    ↑

  618. یہ مضمون ۱۹۸۴ء میں شائع ہوا۔

    ↑

  619. یہ معذرتین(apologies) دہریہ ہوتے ہیں کافر نہیں ہوتے۔ سید امیر علی ایک متقی اور پرہیزگار پابند صوم و صلوٰۃ مسلمان تھے۔ اقبال محض دہریہ نہیں کافر اور مرتد بھی تھا جیسا کہ اس کی موت کے واقع سے ثابت ہے۔

    ↑

  620. لیکن بقول اقبال عملاً عیسائیت اور اسلام دونوں ہر قسم کا ظلم کرنے کا جواز پیش کرتے ہیں۔

    ↑

  621. ان لوگوں میں اقبال، جمال الدین افغانی، مولانا شبلی، امیر علی، مفتی عبدہ، علامہ اقبال اور طاہرحداد کو شامل کرتا ہے۔

    ↑

  622. اس سے واضح ہوا کہ ہر کامیاب عمل کے پیچھے یہودی سازش محسوس کرنا مسلم دنیا میں اتنا عام ہے کہ اسلام دشمن بھی اس رجحان سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    ↑

  623. وہ علامہ اقبال کی کتاب "Reconstruction of Religious Thought in Islam" کا حوالہ دیتا ہے۔

    ↑

  624. اقبال کا یہ مضمون جنوری ۱۹۹۹ء کو ڈان میں شائع ہوا لیکن یقیناً ۱۹۹۸ء میں لکھا گیا ہو گا کیوں کہ ۱۱؍ مئی ۱۹۹۸ء کو اقبال مر گیا۔

    ↑

  625. یہ مضمون ۳۱؍ جنوری ۱۹۹۹ء کو ڈان میں شائع ہوا لیکن یقیناً ۱۹۹۸ء میں لکھا گیا۔

    ↑

  626. یہ مضمون ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا اور ۲۰۰۸ء کے بعد سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اسی حکمت عملی کو اپنائے ہوئے ہیں۔

    ↑

  627. یاد رہے ٹالرنس (toleration) سے مراد یہ نظریہ ہے کہ معاشرتی اور ریاستی تنظیم اور تحکیم کا اصل مقصد سرمایہ یعنی آزادی کی بڑھوتری ہے اور دیگر تمام اقدار پر عمل کوذاتی زندگی(private sphere) تک محدود رہنا چاہیے۔ تمام نجی زندگی میں کارفرما اقدار مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔

    ↑

  628. کچھ لسانی ماہرین کی تحقیق ہے کہ یہ لفظ ’’گھس پیٹھیا‘‘ ہے ’’گھس بیٹھیا‘‘ نہیں لیکن اب ’’گھس بیٹھیا‘‘ غلط العام بن گیا ہے۔

    ↑

  629. United State’s Agency for International Development ↑

  630. ۱۹۷۰ء تا ۱۹۷۲ء اس کے کالم نیویارک ٹائمز میں باقاعدگی سے چھپتے رہے۔

    ↑

  631. اندرا گاندھی نے اقبال کو تین انٹرویو دیے۔

    ↑

  632. بقول اقبال ایوب نے ڈویلپمنٹ، بھٹو نے سوشل ازم اور ضیاء نے بنیاد پرست اسلامی نظریات کا پرچار کیا۔

    ↑

  633. اقبال نے یہ بات ۱۹۸۰ء میں کہی تھی۔

    ↑

  634. کمیونسٹ اورسو شل ڈیموکریٹ پالیسی میں یہ ایک بنیادی فرق ہے۔

    ↑

  635. یہ پالیسی بھی سوشل ڈیموکریٹس کو قوم پرستوں اور سوشلسٹوں سے ممیز کرتی ہے۔ قوم پرست حکومتیں عموماً استعمار مخالف ہوتی ہیں۔

    ↑

  636. لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ سوویت یونین کے پاس بھی نیوکلیئر ہتھیار تھے اور اس نے بار بار امریکا کو دھمکی دی کہ اگر امریکا نے نیوکلیئر ہتھیار استعمال کیے تو سوویت یونین جوابی کارروائی کرے گا۔

    ↑

  637. اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

    ↑

  638. یہ تمام باتیں مضحکہ خیز حد تک فراڈ ہیں۔

    ↑

  639. خود امریکی تجزیہ نگاروں نے اس بات کو غلط ثابت کیا۔

    ↑

  640. یہ بات بھی بالکل غلط ثابت ہوئی اور ۲۰۰۷۔۱۹۹۹ء تک ہندوستانی مجموعی پیداوار میں تقریباً سات فی صد سالانہ کی رفتار سے اضافہ ہوا۔

    ↑

  641. لیکن اس دباؤ سے کیا حاصل ہو گا کیا اس دباؤ کے نتیجے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ بھارت اپنے نیو کلیئر ہتھیار تباہ کر دے گا۔

    ↑

  642. عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں نے ۱۹۹۸ء میں ہی اس بات کی پرزور تردید کی۔

    ↑

  643. Eqbal نے یہ مقالہ ۱۷؍مئی ۱۹۹۸ء کو شائع کیا۔ 

    ↑

  644. یہ مضمون ۱۹۸۱ء کو شائع کیا۔

    ↑

  645. لیکن بقول اقبال قومی بغاوتوں کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ عدل کو قائم کرنے والے انقلابات برپا کیے جا سکتے ہیں یہی کام ایران کے کمیونسٹ فدائیوں اور مجاہدین خلق نے کرنے کی کوشش کی تھی جس میں وہ ناکام ہو گئے۔

    ↑

  646. اس عمل کوcommodificationکہتے ہیں۔

    ↑

  647. مثلاً ہندو بنگالی اور سکھ پنجابی ادب کو فروغ دے کر بنگال اور پنجاب کی معاشرتی اسلامی شناخت کو منہدم کرنا اور رنجیت سنگھ کے زمانہ کو پنجاب کے ” سنہری دور“ کے طور پر پیش کرنا۔

    ↑

  648. یہ بھارت کی کمیونسٹ پارٹی(Communist party of India ) کا قائد اور مدبر ہے۔

    ↑

  649. اس کی دو مختلف شکلیں ہوئیں۔ یورپ میں عیسائیت کو تقریباً مکمل طور پر ردّ کر دیا گیا۔ امریکا میں عیسائی تعلیمات کو سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی قوم پرستی اور دہریت کے ذریعے ضم کر لیا گیا۔ 

    ↑

  650. اور اس کا بھی امکان ہے کہ مغربی اور مشرقی یورپ میں جہاں مسلمان آبادی اب کئی ممالک میں دس فی صد سے تجاوز کر گئی ہے اور جہاں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہےوہاں غلبہ دین کی اسلامی تحریکات سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو معاشرتی اور ریاستی سطح پر چیلنج کریں۔ لیکن فی الحال یہ ایک نہایت کم زور امکان ہے سوائے شاید فرانس میں، اور اس کے وقوع پذیر ہونے میں سیکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ عیسائیت کے احیا کے امکانات اس سے بھی کہیں زیادہ کم زور ہیں۔ فی الحال یورپ اور امریکا میں سرمایہ دارانہ مخالف تحریکوں کا کوئی وجود نہیں۔

    ↑

  651. کانٹ خود اس رائے کو قبول نہیں کرتاتھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کی فکر مکمل ہے۔

    ↑

  652. سیکڑوں سال تک جرمنی کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم رہا۔ جرمن بولنے والوں کو ایک ریاست میں متحد کر نے کے لیے اٹھارھویں صدی کی ایک اہم قوم پرست تحریک اٹھی جو 1871ء کے بعد کامیاب ہوئی۔ شیلنگ کا دور (۱۹۰۵-۱۷۸۹ء)ہے۔

    ↑

  653. کانٹ آزادی اور علمیت میں فرق کرتا تھا اور اس کی فکر میں ماورائی (noumenal) حقائق کا علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

    ↑

  654. Humanismکی ایک قسم pantheism(فلسفہ ہمہ اوست) بھی ہے جہاں ہر کائناتی وجود کو اللہ تعالیٰ کے صفات سے مکلف اور ذات باری تعالیٰ میں شریک تصور کیا جاتا ہے۔

    ↑

  655. یہ خیال علامہ علی شریعتی نے بھی اپنایا ہے۔

    ↑

  656. جب کہ سائنس اور فلسفہ اسباب و علل کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتے لہٰذا تخلیقی تسخیر کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے موزوں نہیں۔

    ↑

  657. اس کے برعکس ہندو اور بدھسٹ فلسفہ ترکِ دنیا کے ذریعے دکھ سے نجات پانے کو ممکن سمجھتا ہے۔

    ↑

  658. حدیث میں موسیقی کو شیطان کی آواز کہا گیا ہے۔

    ↑

  659. بت تراشی اور مصوری، اور فلسفہ کو بھی شوپن ہاور اسی زمرہ میں شامل کرتا ہے۔

    ↑

  660. شوپن ہاور ہندو مت سے بہت متاثر تھا۔ اس نے اپنی کتیا کا نام آتما رکھا تھا لیکن نظریہ آواگون (Transmigration of souls)پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ شوپن ہاور اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔ اس نے اسلام کو ایک قابل نفرت (detestable religion) مذہب قرار دیا۔

    ↑

  661. خودغرضیت (self-interestedness)سے مراد یہ ہے کہ ہیومن بینگ نوعی یا گروہی مفادات (مثلاً Maximization of aggregate utility) کو انفرادی مفادات(maximization of profit) پر ترجیح دے۔

    ↑

  662. لاشعور اور اس میں پوشیدہ خواہشات کا ادراک فرائیڈ سے پہلے کانٹ، نطشے، شوپن ہاور اور لیبنز کو بھی تھا۔

    ↑

  663. ہیومن بینگ جانوروں اور بچوں کے ساتھ بھی زنا کرنا چاہتا ہے اور چوں کہ وہ ارادہ نہیں رکھتے لہٰذا ان کی آزادی سلب ہونے کا سوال مہمل ہے، تو کیا ہر جانور اور ہر بچے سے زنا کیا جانا چاہیے۔ اس سوال پر right to sexuality اور right of the child پر کام کرنے والوں میں امریکا اور فرانسیسی فلاسفہ میں بحث جاری ہے۔

    ↑

  664. لیبیڈو کا تصور فرائیڈ نے شوپن ہاور کے تصور will سے براہ راست اخذ کیا۔

    ↑

  665. مثلاً لیبیڈو اگر زنا کا حکم دیتا ہے تو ریشنیلٹی اس حکم کی تردید نہیں کرتی بلکہ زنا کو مفادِ عامہ کے حصول کا ذریعہ بنانے کے جوازی اصول مرتب کرتی ہے۔

    ↑

  666. اس کا دور ۱۹۵۲ء تا ۱۸۵۹ء کا ہے۔

    ↑

  667. جمالیاتی تنقید (artistic critique)کا تصور دو فرانسیسی مفکرین Chappello اور Boltanrski نے اپنی کتاب "The New Spirit of Capital" میں پیش کیا ،یہ کتاب ۲۰۰۱ء میں شائع ہوئی۔

    ↑

  668. سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کی اس تنقید کو اینٹی ٹیلرازم (Anti Taylorism) بھی کہا گیا ہے۔

    ↑

  669. ڈیوی اس ضمن میں مثال امریکی شراب خانوں اور بیس بال میچوں کی دیتا ہے۔

    ↑

  670. اس سے مراد ڈیوی ادب، آرٹ اور کلاسیکی موسیقی کو سمجھنے کی صلاحیت کو سمجھتا ہے۔

    ↑

  671. اسی چیز کو اب ہیومن کیپٹل کہا جاتا ہے۔

    ↑

  672. اور سرمایہ کی املاکی تجسیم کو gross fixed capital formation کہا جاتا ہے۔

    ↑

  673. یاد رہے کہ مفادِ عامہ سے مراد سرمایہ عمومی کی بڑھوتری کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    ↑

  674. ڈیوی نے اسکول کے نظام کی ترتیب نو پر خاص توجہ دی اور اس کی تجاویز کی بنیاد پر کئی امریکی ریاستوں میں تعلیمی نظام میں تبدیلیاں بھی لائی گئیں۔ سرمایہ دارانہ تعلیمی پالیسی سازی اور تعلیمی نظریات کی ترویج میں ڈیوی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

    ↑

  675. ہابرماس ایڈارنو کا ریسرچ اسسٹنٹ اپنی جوانی کے دور میں تھا لیکن اس نے فرینکفرٹ اسکول کے نظریات کو بعد میں بحیثیت مجموعی ردّ کر دیا اور وہ اپنی میچور تحریرات میں تنویری عقلیت کا ایک اہم وکیل نظر آتا ہے۔

    ↑

  676. ۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد سے اس کی فکر نے ایک مکتب فکر کو جنم دیا جس کو ’’نیو لیفٹ‘‘ کہتے ہیں۔ اس مکتب فکر نے سوویت یونین کے خلاف ٹراٹسکی کی فکر کو از سرنو منتخب کیا۔ اس مکتب فکر کے دو اہم نمایندے انگریزی میں جرائد New Left Review اور Monthly Review ہیں۔ آئن سٹائن Monthly Review کے بانی مدیروں میں سے تھا۔ اس فکر نے یورپ اور امریکا کے علاوہ ایرانی، سری لنکن اور زمبابوین مارکسسٹوں کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ مجاہدین خلق اسی فکر کے ترجمان تھے اور شاید اب بھی ہیں۔ وہ ایران کی سوویت یونین نواز کمیونسٹ پارٹی کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔

    ↑

  677. فوکو نے مارکسسٹ، فرائیڈین اور اسٹرکچرلسٹ ہونے سے انکار کیا ہے لیکن لبرل ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

    ↑

  678. تسخیریت (Deconstruction) کا یہ عمل پوسٹ ماڈرنسٹ فکر کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس کی سب سے مربوط توجیہ دریدا نے پیش کی ہے۔

    ↑

  679. ڈاکٹر عارفہ فرید نے اپنی کتاب ’’تہذیب کے اس پار‘‘میں جینیالوجی کا ترجمہ نسلیت کیا ہے۔ میرے خیال میں نسلیت جینیالوجی کا پورا مفہوم ادا نہیں کر رہا اس لیے ہمیں اسے جینیالوجی ہی کہنا چاہیے۔

    ↑

  680. گوکہ دورِ حاضر کا مشہور فلسفی جائیلس دیلوز اس عمل کو عام کرنے کی وکالت کرتا ہے اور اس عمل کے اخلاقی محاسن بیان کرتا ہے۔

    ↑

  681. فوکو کی ایک اور اہم تصنیف“Archaeology of Knowledge”بھی ان تصورات اور ہیومن سائنسز کی تاریخی ارتقائی عمل کی تفصیل بیان کرتی ہے۔

    ↑

  682. فوکو لکھتا ہے:

    The art of government is concerned .....with how to introduce economy......managing individuals, goods and wealth . ↑

  683. اور علم شماریات اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وجود میں لایا گیا۔

    ↑

  684. قوم پرستی اور اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام تحکیم کی اسی خصوصیت کا مظہر ہے۔

    ↑

  685. پناپٹیکان (ponopticon) کا تصور فوکو نے بینتھم سے اخذ کیا۔

    ↑

  686. حقیقتاً سرمایہ دارانہ نظام میں مستقل معیار خیر (norm) سرمایہ کی بڑھوتری ہے لیکن چوں کہ سرمایہ کی بڑھوتری کے محرکات کا یقینی تعین ممکن نہیں لہٰذا معاشرتی معیارات بدلتے رہتے ہیں۔ بیسویں صدی کی ابتدا تک مضبوط خاندانی نظام کو سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام اور فروغ کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا لہٰذا زنا ایک مذموم عمل خیال کیا جاتا تھا۔ آج فحاشی(pronography) کی صنعت کے فروغ نے ثابت کر دیا کہ آزادانہ شہوت رانی فروغ سرمایہ کے لیے اہم ہے لہٰذا زنا آج ایک مستحسن عمل گردانا جانے لگا۔

    ↑

  687. انفرادی سطح پر نفس پرستی تحکیم سرمایہ کے بغیر بھی ممکن ہے۔

    ↑

  688. سرمایہ دارانہ ریاست محض ایک نگران (night watchman) کا کردار ادا نہ کرے بلکہ مارکیٹ کو سہارا دینے (market friendly)کی ذمہ داری قبول کرے۔

    ↑

  689. اور لبرل فکر میں یہ ہی سرمایہ دارانہ ریاست کا اصل وظیفہ ہے۔

    ↑

  690. اور یہ transcendence from within کی ایک شکل ہے۔ اس نظریے کو بیش تر جدید ماڈرنسٹ مثلاً ہابرماس، گڈیمر اور مارکیوزے بھی قبول کرتے ہیں۔

    ↑

  691. ارسطو اور اس کے مقلدین تسکینِ خواہشاتِ نفسانی کو Happiness کہتے ہیں لیکن Happiness کا تصور utility maximization سے مختلف ہے۔

    ↑

  692. یاد رہے کہ فروغ لذات اور فروغ آزادی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔

    ↑

  693. مثلاً کانٹ کی Kingdom of Ends یا مارکس کی Communist Society

    ↑

  694. فوکو کے مطابق قدیم یونان اور روم کی شہری اشرافیہ یہ طریقہ محدود طور پر اپناتی تھی اور اب اس کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

    ↑

  695. مثلاً ماں، بہن سے زنا اور جانوروں سے لواطت۔

    ↑

  696. اور ان طریقوں میں پارلیمانی جمہوری نظام کی شرکت بھی شامل ہے۔

    ↑

  697. یہ آزادی کا ایک مطلب ہے۔

    ↑

  698. فوکو نے بائیولوجی اور نیورو سائنس کو بھی متاثر کیا ہے۔

    ↑

  699. یہ کام مارکس نے کیا اور سرمایہ دارانہ معاشرت اور علم کے جواز کے طور پر سائنٹفک سوشل ازم کا نظریہ پیش کیا۔

    ↑

  700. امام خمینی علیہ رحمہ کی پیرس میں جلاوطنی کے دوران فوکو کئی مرتبہ امام کی قیام گاہ پر گیا اور شرف باریابی کی درخواست کی لیکن امام اس سے کبھی ملنے پر تیار نہ ہوئے۔ اس کی وجہ فوکو کی پیہم اغلام بازی تھی۔ اس کی شخصیت کے ارد گرد ہر وقت ایسا تعفن طاری رہتا تھا کہ کوئی نوری وجود اس کو بہت مشکل سے برداشت کرپاتا تھا۔

    ↑

  701. یعنی معاشرہ کے ہر فرد کے اغراض کا ذریعہ۔ 

    ↑

  702. ۱۹۷۸ء میں فوکو نے لکھا ’’خمینی کوئی حکومت کبھی قائم نہ کر سکے گا۔‘‘

    ↑

  703. Saint Foucault کتاب کا نام ہے جو ۱۹۹۷ء میں شائع ہوئی۔

    ↑

  704. گو کہ ان اقدار کو قبول کرنے کی مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔

    ↑

  705. اس کی فکر دریدا، وٹگنسٹائن اور ہائیڈیگر سے بھی متاثر ہے اور یہ سب فلسفی اپنے اپنے انداز میں ہیگل کے نظریات کی ہی تشریحات پیش کرتے ہیں۔

    ↑

  706. ڈیوی اور رارٹی کے برخلاف وٹگنسٹائن، ہائیڈیگر اور دریدا مطلب پرست نہیں۔ مطلب پرست مکتب فکر نے بیسویں صدی کی اسلامی سیاسی فکر کو بہت متاثر کیا۔ اس کے اہم پیرو جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو پریگماٹسٹ لکھا ہے۔

    ↑

  707. Martin Hollesکا اعتراض ہے کہ رارٹی تخلیقِ ذات کے عمل کی نوعیت بیان کرنے سے قاصر ہے۔

    ↑

  708. رالز اور رارٹی دونوں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لبرل جمہوریت کی کوئی بھی مابعدالطبیعیاتی اعتقادی بنیادیں نہیں ہوتیں لیکن یہ ایک غلط دعویٰ ہے۔ لبرل نظام ہیومن بینگ کی الوہیت اور جستجو بڑھوتری سرمایہ کی لازمیت کے عقائد پر قائم ہے۔

    ↑

  709. بالکل یہی تعبیر ڈارون حیاتیاتی تغیر کی پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق انسان دیگر حیوانات سے صرف اسی لیے افضل ہے کہ ان سب پر غالب آ گیا اور اس کی نسل دیگر جانوروں کی نسل سے مقابلہ میں نہایت تیزی سے پھیلی۔

    ↑

  710. جیسا کہ لاک اور کانٹ کہتے تھے۔

    ↑

  711. منتخب قوم ہونے کا یہ تصور یہودی تاریخ اور روایات سے ماخوذ ہے۔

    ↑

  712. جس کی لبرل تشریح رارٹی کرتا ہے۔

    ↑

  713. یہ رائے ہیگل کی بھی تھی جس نے کہا تھا کہ خدا جو بیٹا ہے وہ افضل ہے باپ خدا سے۔

    ↑

  714. "We are the greatest because we put ourselves in the place of god. We redefine god as our future selves." Rorty; Achieving our Country, p. 22 ↑

  715. یہ انگریز ہے، آکسفورڈ میں پڑھاتا رہا لیکن امریکا میں جا بسا۔

    ↑

  716. ٹیلر کہتا ہے کہ فلسفہ utilitarianism کا آئیڈیل صرف مِل کے higher pleasures کی جستجو میں مضمر نہیں بلکہ تمام utilitarianists اس طرزِ زندگی کو آئیڈیل تصور کرتے ہیں جو لذات کو maximise کرنے کی جدوجہد کا اظہار کرے اور وہ طرزِ زندگی جو اس مقصد سے سروکار نہ رکھے وہ utilitarianism کی نظر میں قابلِ قدر نہیں۔

    ↑

  717. یہ دونوں عیسائی تصورات تھے۔

    ↑

  718. یہ مثالیں ٹیلر کی ہیں۔

    ↑

  719. مثلاً مسئلہ تثلیث۔

    ↑

  720. مثلاً مسئلہ غربت و افلاس۔ یہ دونوں مثالیں بھی ٹیلر کی ہیں۔

    ↑

  721. ٹیلر نے utilitarianism کی تنقید اسی بنیاد پر کی ہے۔

    ↑

  722. بقول ٹیلر رالز خود "Theory of Justice" کے بعد کی تحریروں میں یہ رائے ترک کر چکا ہے۔

    ↑

  723. لیکن عیسائی معاشرت خودارادیت کی قدر کی تصدیق کر دے اور لبرل عیسائیت بن جائے تو اس کا انہدام ضروری نہیں۔ ظاہر ہے کہ عیسائیت اس کی تصدیق نہیں کر سکتی لہٰذا غیرسرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کی تسخیر ہر حال میں امریکا پر لازم ہے۔

    ↑

  724. یہ اس کی کتاب "Anti Oedipus" کی جلد اول اور دوم ہیں۔

    ↑

  725. اسی وجہ سے یہ ماڈرن ازم ہی کی ایک شکل پوسٹ مارڈرن ازم یا ہائپر ماڈرن ازم ہے۔

    ↑

  726. جو بیسویں صدی میں جنگ عظیم اول کے بعد سے فرانس میں کافی مقبول ہوا تھا۔

    ↑

  727. یہ مثال دلیوز نے دی ہے لیکن وہ خود اغلام باز(homosextual and transsextual) نہیں تھا۔ اس ضمن میں اختلاف ہے کہ دلیوز تحریک اغلام بازی، تحریک نسواں اور نسل پرست تحریک کا حامی تھا۔ جذباتی طور پر ان تحاریک کو دلیوز پسند کرتا تھا لیکن اس کی فکر سے ان تحاریک کا علمی جواز برآمد نہیں ہوتا۔

    ↑

  728. ورنہ وہ واقعہ (event)نہ ہوں۔

    ↑

  729. بقول دلیوز کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو فرانسیسی زبان میں نہیں کہی جا سکتیں۔

    ↑

  730. Anti-Oedipus میں لکھتا ہے"There is only desire and the social and nothing else." 

    ↑

  731. میری رائے میں ماڈرنسٹ فکر میں موریلٹی کا کوئی تصور موجود نہیں کچھ لوگ کانٹ کے تصور moral law کو موریلٹی سے مماثل گردانتے ہیں لیکن چوں کہ moral law محض ایک ضابطہ یا ہیئت ہے لہٰذا اس کا کوئی خاصہ (content) نہیں۔ اس کے اطلاق کے نتیجے میں ہر وہ عمل احسن گردانا جاتا ہے جو universalize کیا جا سکے مثلاً زنا بالرضا۔

    ↑

  732. بقول دلیوز: "Desires seize events as their prayers"

    ↑

  733. نطشے اس تصور کو prospectivism کہتا تھا۔

    ↑

  734. یہ تمام دلائل نطشے کے یہاں بھی ملتے ہیں۔ دیلوز جس چیز کو desire کہتا ہے وہ نطشے کے ہاں drive کہلاتی ہے۔

    ↑

  735. نفس مطمئنہ کا کوئی تصور کسی غیرعیسائی مغربی مفکر کے ہاں نہیں ملتا۔

    ↑

  736. "We will speak of freedom only when we pose the question of an act capable or not of feeling the amplitude of the soul." Anti Oedpus, p. 74 ↑

  737. "Reason is always carved out of the creational...defined by a particular kind of relationship among irrational factors...Everything about capitalism is creational except capital...it’s delirium, it’s madness." Anti-Oedipus, p. 184. ↑

  738. دلیوز کا پسندیدہ ادبی کردار رابنسن کروسو ہے جس کو ایک غیرآباد جزیرے میں تنہا مدتوں زندگی گزارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ↑

  739. Robinson is the consciousness of the island! He is the island itself." Anti Oedipus, p. 242. ↑

  740. اور دیگر تمام مارڈنسٹ اور پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین اس رائے سے متفق ہیں۔

    ↑

  741. اس عمل کو دلیوز desiring productionکہتا ہے۔

    ↑

  742. دلیوز اس عمل کی بھی وکالت کرتا ہے کہ چھوٹے بچے اپنے ماں باپ سے جنسی لذت حاصل کریں۔

    ↑

  743. دلیوز کا تصور خیالی جنت (utopia)نوزیک (Nozick)کے تصورخیالی جنت سے مماثل ہے اور مارکس کے تصور خیالی جنت یعنی کمیونزم (communism)سے بھی کچھ مماثلت رکھتا ہے۔

    ↑

  744. دلیوز اس عمل کو responsibility with others کہتا ہے۔

    ↑

  745. لیکن حیوان کے حیوان بنتے رہنے کے عمل کی تسلی بخش تشریح میری رائے میں دلیوز کے ہاں نہیں ملتی۔ شاید اس کی وجہ ہر عورت فطری عورت نہیں ہوتی ہے لہٰذا اس کا عورت بنتے رہنا ممکن اور ضروری ہے۔ اس کے برعکس جانور جانور ہی ہوتا رہتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

    ↑

  746. گو ازلی نہیں

    ↑

  747. مثلاً عبادت تفریحی صنعت(entertainment industry)سے منسلک ہو جاتی ہے۔

    ↑

  748. مارکس نے کہا تھا: "Labour is the starting point of capital." مزدور سرمایہ کی ابتدا ہے اور جو اجرت حاصل کرتا ہے اس کو مارکس variable capital کہتا ہے۔

    ↑

  749. اور اس وجہ سے کچھ مفکرین اس کو انارکسٹ بھی کہتے ہیں۔

    ↑

  750. سرمایہ دارانہ غلبہ سے پہلے ہیومن بینگ کا کوئی وجود نہ تھا۔ انسان موجود تھے اسی لیے فوکو نے کہا کہ ہیومینٹی(huminity) تو سولھویں صدی کی تخلیق ہے۔ جیسے جیسے سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی غالب آتا جاتا ہے انسان ہیومن بینگ بنتے جاتے ہیں۔آج بھی بیش تر ممالک انسانوں کی اکثریت اور ہیومن بینگ اقلیت میں ہیں گو کہ وہ سیاسی اور معاشرتی سطح پر عموماً غالب ہیں۔

    ↑

  751. مثلاً ۲۰۱۱ء کی Occupy Wall Street کی تحریک پر قابو پانے کے لیے مالیاتی نظام کی تحکیم کی تنظیم نو عمل میں آئی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے امریکا میں اصلاحات کی گئیں جس کو Obama careکہا جاتا ہے۔ اس طریقے سے اس تحریک کو منتشر کر دیا گیا۔

    ↑

  752. یہ کیلون کی تعلیم ہے اور اس سے یہ عقیدہ برآمد ہوتا ہے کہ اخروی کامیابی کا اظہار سرمایہ دارانہ طرز زندگی اختیار کر کے دنیاوی کامیابی حاصل کرنے میں ہوتا ہے۔

    ↑

  753. ان ممالک میں بے روزگاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس سب کی وجہ کینزین معاشی حکمت عملی سے اعتبار تیزی سے اٹھتا چلا گیا۔

    ↑

  754. Boltanskiاور Chiappelloکی مشہور کتاب کا نامThe New sprit of Capitalismیہ ۱۹۷۷ء میں پہلی بار شائع ہوئی تھی۔

    ↑

  755. یاد رہے کہ فوکو ایڈز کے اولین مرداروں میں شامل تھا۔

    ↑

  756. حال ہی میں ڈھاکہ اور دوشنبے میں بھی اس کام کی ابتدا کر دی گئی ہے۔

    ↑

  757. لیکن ترقی پسند تحریک سے صدیوں پہلے اردو ادب میں فحاشیات عام تھیں۔ دبستان لکھنؤ نے بالخصوص ان کو خوب فروغ دیا۔

    ↑

  758. بعد میں غلام احمد قادیانی مرتد ہو گیا۔

    ↑

  759. بہ نسبت ماڈرنسٹ تہذیب میں مدغم ہونے کے۔

    ↑

  760. جن قائدین اور مفکرین کو اکبر ایس احمد ماڈرنسٹ شمار کرتا ہے وہ یہ ہیں: سرسید ، اقبال، جناح، محمد عبدہ، رشید رضا، کمال اتاترک، رضا شاہ پہلوی، امان اللہ افغانی اور سید جمال الدین افغانی۔ وہ محمد رضا شاہ پہلوی اور بھٹو کو مظلوم ماڈرنسٹ کہتا ہے اور ان کی بے دخلی پر نوحہ کناں ہے۔

    ↑

  761. اکبر ایس احمد اسماعیل فاروقی کو بھی اسلامی بیداری کے رہنماؤں میں شمار کرتا ہے۔ فاروقی "Islamic Social Science" کا مدیر تھا۔

    ↑

  762. یہ سہ ماہی جریدہ مغرب میں شائع ہونے والی اسلام اور مسلم دنیا پر شائع ہونے والی کتب پر ہم دردانہ تبصرے شائع کرتا ہے۔ اس کی اشاعت تسلسل کے ساتھ آج تک جاری ہے اور اس ضمن میں اسلامک فاؤنڈیشن کو برطانوی سرکاری University of Loughbourgh کا تعاون حاصل ہے۔

    ↑

  763. پروفیسر خورشید احمد کے سینیٹر بننے کے بعد جناب مناظر احسن اسلامک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل مقرر کیے گئے اور آج تک اس عہدہ پر قائم ہیں۔

    ↑

  764. اکبر ایس احمد منکر حدیث بھی ہے۔ وہ سنت سے مراد اسلامی روایات(Islamic customs) کوکہتا ہے۔

    ↑

  765. اسی قسم کی رائے کا اظہار علامہ علی شریعتی نے بھی کیا ہے۔ جنہوں نے لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہترین سیرت نگاری فرانسیسی زبان میں کی گئی ہے فارسی اور عربی میں نہیں۔ 

    ↑

  766. سرسید اور غلام احمد قادیانی کے برخلاف اکبر ایس احمد بزدل نہیں وہ جہاد کی ایک پوسٹ ماڈرنسٹ تشریح پیش کرنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن عملاً یہ ردِ جہاد کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

    ↑

  767. اور دونوں گروہوں میں کئی ذیلی فرقے(subsects) پائے جاتے ہیں۔

    ↑

  768. بریلویوں کے رسم و رواج پر دیوبندی مستقل لعنت کرتے رہے ہیں۔

    ↑

  769. حماس اور حزب اللہ کی مشترکہ سیاسی جدوجہد تقریباً ناممکن نظر آتی ہے۔

    ↑

  770. کریم آغاخان نے تمام اسلامی عبادات نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد کو اپنے پیروکاروں کے لیے موقوف کر کے ہر آغاخانی کو فاسق بنا دیا ہے۔ یہی اس کے دورِ سربراہی کا امتیازی نشان ہے اور اسی وجہ سے ہزاروں آغاخانی لوگوں نے راسخ العقیدگی اختیار کر لی ہے۔ اس سے قبل کبھی آغاخان نے عبادت کو ترک کرنے کی تعلیم نہیں دی تھی۔

    ↑

  771. امام غزالی کے مطابق کافروہ شخص ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹا ہونے کا الزام لگائے۔ آغاخانی یہ نہیں کرتے لہٰذا وہ مسلمان ہیں۔

    ↑

  772. مغربی استعماری اہل تصوف سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اسلامی تہذیب کو ماڈرن یا پوسٹ ماڈرن بنانے میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔ لیکن یہ ایک اہم بات ہے کہ اکبر ایس احمد مغرب سے مصالحت کے مسلم رہنماؤں میں ایک صوفی کا نام بھی نہیں گنوا سکے۔ اس کے برعکس تمام اسلامی ماڈرنسٹ تصوف کے مخالف رہے ہیں۔

    ↑

  773. وہ کہتا ہے کہ مسلمانوں نے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحم اور برداشت کا رویہ اختیار نہ کیا اور شیطان رشدی کی مخالفت محض اس وجہ سے کی کہ وہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر آ کر کمائی جاری رکھ سکیں۔

    ↑

  774. اسلامی رویژنزم کی تفصیلی تعریف میری کتاب "Business Ethics in Pakistan" میں پیش کی گئی ہے۔

    ↑

  775. یاد رہے کہ ہر بدعت، بدعت ضلالہ نہیں ہوتی۔

    ↑

  776. مولانا حسرت موہانی اور مولانا عبدالحمید خاں بھاشانی کا نام بھی اس صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    ↑

  777. نیو لیفٹ کی ابتدا تو ٹراٹسکی نے اپنی زندگی میں ’’فورتھ انٹرنیشنل‘‘ قائم کر کے کر دی تھی لیکن مغربی دنیا میں اس فکر کا عروج ۱۹۵۰ء کی دہائی سے ہوا جب اشتراکی آدرشوں کی بنیاد پر سوویت یونین کی پالیسیاں مرتب ہونے لگیں۔ پاکستان کاسب سے مشہور نیو لیفٹسٹ مفکر طارق علی ہے۔ ٹراٹسکی فکر کے ہم نوا عموماً امریکی استعمار کے مخبروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور لاطینی امریکا، یونان اور سری لنکا میں امریکی استعماری تعاون کے نتیجے میں خوب پھل پھول رہے ہیں۔ 

    ↑

  778. یہ بات عمومی طور پر لینن پسندوں کے لیے نہیں کہی جا سکتی۔ نیشنلسٹوں میں اسلام دشمن قوتیں بھی شامل ہوتی ہیں مثلاً ایم کیو ایم اور اسلام پسند قوتیں بھی مثلاً مسلم لیگ، تحریک انصاف وغیرہ۔

    ↑

  779. آپ نے ۱۹۶۰ء کے اوائل میں یونی ورسٹی آف پیرس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ↑

  780. فینوں ایک فرانسیسی مفکر تھا جس نے جہاد الجزائر میں فرانس کی مخالفت کی اور بیسویں صدی کی استعمار مخالف تحریک جسے اب Third World Studiesکہا جاتا ہے، کی ترتیب و تدوین میں اس کا خاص مقام ہے۔

    ↑

  781. جماعت مجاہدین خلق ایران عراق جنگ کے دوران میں صدام حسین اور امریکا کے سب سے موثر حلیف ثابت ہوئے۔ 

    ↑

  782. ایران میں علامہ شریعتی کو علامہ اقبال کے لائق ترین پیروؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ↑

  783. لیکن اپنی شہادت سے ذرا قبل علامہ شریعتی نے چھوٹی سی خوب صورت داڑھی رکھ لی تھی۔

    ↑

  784. یہ دونوں عہد قدیم کے چینی فلسفی تھے۔

    ↑

  785. یہ قدیم روم کا ایک غلام تھا جس نے سلطنت کے خلاف بغاوت کی تھی اور ۱۹۱۹ء میں جرمن کمیونسٹوں نے جو بغاوت برپا کی اس کو بھی سپارٹیکس کے نام سے منسوب کیا۔

    ↑

  786. ہائیڈیگر اور وٹگنسٹائن نے اس تصورِ ترفع کو اس بنیاد پر لغو کہا کہ یہ موت کی ناگزیریت سے سہوِ نظر کرتی ہے حال آں کہ موت لازماً آزادی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر کے شیطان (Human) کا تعلق دنیا سے ختم کر دیتی ہے۔

    ↑

  787. جس کا تقرر اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ کی بڑھوتری کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ↑

  788. Third Worldismاس فکر کو کہتے ہیں جو اشتراکیت اور قوم پرستی کی بنا پر استعمار مخالف رویے مرتب کرتی ہے۔ اس کے بانیوں میں فینوں، سی ایل آر جیمس شامل ہیں۔ اس فکر کا عروج لاطینی امریکا میں ہوا ، حزب البعث کے نظریات بھی اسی فکر میں شامل ہیں۔

    ↑

  789. حقیقت میں سائنٹفک منہج غیراقداری نہیں بلکہ بڑھوترئ سرمایہ کی فرضیت کو مفروض کرتا ہے اور اس کے معیارات اسی مفروضہ کے عکاس ہیں۔

    ↑

  790. برصغیر میں جہاد سے پہلوتہی کا جواز مولانا اشرف علی تھانوی نے مرتب کیا۔ انہوں نے حضرت امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کے جہادی مرکز کو ایک خانقاہ میں تبدیل کر دیا اور اپنے تلامذہ کو مسلم لیگ میں شامل ہونے کے لیے ابھارا۔

    ↑

  791. مجاہد یعنی مجاہدین خلق اور فدائی یعنی شودہ پارٹی کا رکن۔

    ↑

  792. پروٹسٹنٹ ازم کے کئی فرقے ہیں۔ کوئی پروٹسٹنٹ فرقہ سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی تردید پیش نہیں کرتا سوائے مارمن کے لیکن مارمن بھی سرمایہ داری کو اب بحیثیت نظام زندگی ردّ نہیں کرتے۔

    ↑

  793. گلڈز تاجروں اور ہنرمندوں کی وہ تنظیمیں تھیں جو چرچ نے معاش کو معاد کا ذریعہ بنانے کے لیے قائم کی تھیں۔

    ↑

  794. بعد کی چار صدیوں میں یہ شرح مستقل بڑھائی جاتی رہی۔

    ↑

  795. ازمنہ وسطا میں قانون فطرت کو عیسائی مدبرین بائبل سے ماخوذ تعلیمات کا پرتو گردانتے تھے اور ان کے مطابق قانون فطرت کا تقاضا یہ تھا کہ للہیت کو معاشی محرک تصور کرتے تھے۔ سترھویں صدی کے عیسائی رہ نماؤں کے لیے قانون فطرت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ حریص، حاسد اور خود غرضانہ رویہ اختیار کریں۔

    ↑

  796. ۱۵۵۲ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے عہد نامہ قدیم کی آیات کی بنیاد پر ہر قسم کے سودی کاروبار پر پابندی نافذ کر دی تھی۔

    ↑

  797. پہلا بڑا اسلامی بینک شاہ فیصل کے بیٹے محمد الفیصل نے ۱۹۷۰ء کی دہائی کے آخر میں قائم کیا۔ اس کا نام دارالمال الاسلامی رکھا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس بینک کا کاروبار غریب افریقی ممالک کی ترقی پر مرکوز ہو گا۔

    ↑

  798. کیتھولک تعلیمات annuity تک کی اجازت دیتی تھی۔

    ↑

  799. لیکن بارھویں اور تیرھویں صدی میں عام عیسائیوں کو بھی سودی کاروبار سے پرہیز کرنے کی تاکید کی گئی۔

    ↑

  800. اس غیر سودی بینک کاری کو فروغ دینے میں فرانسیسی راہبوں کا بڑا ہاتھ تھا۔

    ↑

  801. یہ عمل ملائشیا میں سب سے تیزی سے جاری ہے اور بحرین اور کویت میں بھی۔

    ↑

  802. یعنی حرمت سود ان معاہدات تک محدود ہے جو مجبوروں اور غریبوں کو قرض دینے سے متعلق ہوں۔

    ↑

  803. کیلون کو اس بات کا شعور نہیں تھا کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹس لازماً اجارہ دارانہ بنتی چلی جائیں گی۔

    ↑

  804. وہ شرح سود جس پر اسٹیٹ بینک دوسرے بینکوں کو قرضہ دیتا ہے۔

    ↑

  805. اس فیصلہ کے تحت اسلامی بینکوں کو روایتی برانچیں کھولنے کی بھی اجازت ہے لیکن ابھی تک کسی اسلامی بینک نے روایتی برانچ نہیں کھولی۔

    ↑

  806. اس کا تخمینہ اسٹیٹ بینک شائع نہیں کرتا۔

    ↑

  807. لندن کے فنانشل ٹائمز سے منسلک مشہور اشاعتی اور تحقیقی ادارہ۔

    ↑

  808. اپنی طالب علمی کے دور ہی سے مولانا تقی عثمانی مولانا مودودیؒ کی فکر کے شدید مخالف رہے ہیں۔ مولانا مودودیؒ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل اور خود انحصاری نظام حیات ہے۔ مولانا تقی عثمانی نے اس بات کی تردید سب سے پہلے ۱۹۶۰ء کی دہائی کے آخر ی سالوں میں کی جب آپ نے مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کا ردّ لکھا۔

    ↑

  809. مولانا تقی عثمانی نجی ملکیت اور کارپوریٹ ملکیت میں تفریق نہیں کرتے۔

    ↑

  810. مولانا تقی عثمانی اس بات سے سہو نظر فرماتے ہیں کہ ہر سرمایہ دارانہ بازار میں قیمت کا تعین لازماً بتدریج اجارہ دارانہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

    ↑

  811. سٹہ بازار میں حصص کی قیمت کا کوئی تعلق مادی اثاثے کی قدر سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حصص کی قدر روزانہ کئی گنا بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے اور اس اتار چڑھاؤ کا کوئی تعلق کمپنی کے مادی اثاثہ کی قدر سے متعین کرنا اصولاً ناممکن ہے کیوں کہ یہ قیمت بھی سٹہ کے بازارکے بدلتے ہوئے تخمینوں کی بنیاد پر مستقل تغیر پذیر رہتی ہے۔ 

    ↑

  812. Aglettaنے ثابت کیا ہے کہ سترھویں صدی فرانس میں رسد قیمتوں کے تغیر سے بہت کم متاثر ہوتی تھی۔ Arrow نے ثابت کیا ہے کہ بیسویں صدی کے وسط میں طلب اور رسد میں تغیر غیر معین شدہ ہے اور قیمتوں میں تغیر سے رسد اور طلب کے تغیر کا تعلق کم زور اور مبہم ہے۔

    ↑

  813. امریکا، اسرائیل اور بھارت میں مذہبی طرز زندگی قوم پرستانہ بیساکھیوں پر کھڑی رہنے پر مجبور ہے۔

    ↑

  814. ۲۰۰۸ء کے فتوے کا اثر اسلامی بینکوں کے مجموعی کاروبار پر نہیں پڑا لیکن کھاتہ داروں کی شرح یقیناًمتاثر ہوئی۔

    ↑

  815. حضرت مولانا کی تفسیر تفہیم القرآن بھی بنیادی طور پر ایک کلامی مقالہ ہے اور گو آپ اکابر مفسرین کے ایک مخلص مقلد اور پیرو نظر آتے ہیں لیکن ان بحثوں سے دانستہ اجتناب فرمایا ہے جو ہماری تفسیری روایات میں عام ہیں اور آپ کا پورا زور عام آدمی کو قرآن کریم کے معانی سمجھانے پر ہے۔ اسی لیے اس تفسیر کا نام تفہیم القرآن رکھا گیا جو نہایت مناسب ہے۔

    ↑

  816. اکابر علمائے دیوبند حضرت مہاجر مکی، حضرت نانوتوی، حضرت گنگوہی اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمہم اللہ علیہم نےانیسویں صدی کے آخر میں جہاد کو پھر سے زندہ کرتے ہوئے جو کوشش کی وہ بھی اسلام کو ایک مکمل نظام زندگی کے طور پر برصغیر میں غالب کرنے ہی کی کوشش تھی۔

    ↑