اصلاح، انقلاب اور اسلامی گروہوں کی معاصرانہ جدوجہد
ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری
پرنٹ لائن
فہرست
اصلاحی اورانفرادی گروہوں کےمقاصداوردائرہ کار 11
دورِحاضرمیں تحفظ اورغلبہ دین کی تحریکات کےمواقع،امکانا تاورچیلنجز 18
اصلاحی اورانقلابی عمل کی نوعیت 47
انقلابی تنظیم سازی کی نوعیت 73
ساخت Error! Bookmark not defined.
اقدام Error! Bookmark not defined.
اصلاحیاورانقلابی گروہوںمیں اشتراکِ عمل اورتعلق کی نوعیت 97
ہوتاہےجادہ پیماپھرکارواںہمارا 106
تمہید
اس مقالہ میں دور حاضر میں تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے امکانات اور اصلاحی اور انقلابی جدوجہد میں ارتباط قائم کرنے کے مواقع کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔موجودہ دور سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی کے عالمی غلبہ کا دور ہے اور سرمایہ دارانہ عالمگیری غلبہ اسلامی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کو متاثر اور محدود کیے ہوئے ہے۔ سرمایہ دارانہ غلبہ کے تناظر میں جدوجہد کرنے والوں کو اسلامی اور کافرانہ تحریکات اصلاح اور انقلاب کو اچھی طرح پہچان لینا چاہیے۔ اسلامی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کا بنیادی مقصد اسلامی انفرادیت کا عمومی فروغ ہے۔ یعنی ا یسی شخصیت کی معاشرتی عمومیت جس میں نفس مطمئنہ نفس امارہ پر غالب آ گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ کافرانہ اصلاحی اور انقلابی جدوجہدکا نفس مطمئنہ کی معاشرتی عمومیت پیدا کرنے سے کچھ سروکار نہیں۔ کافرانہ تحریکات اصلاح اور انقلاب سرمایہ دارانہ حقوق کی عمومیت اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام اور استحکام کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ دور حاضر کا ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہے کہ اسلامی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کرنے والے گروہ سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کو بحیثیت اہداف کے قبول کر کے ان کا اسلامی جواز فراہم کریں۔ یہی رویہ اختیار کر کے عیسائی نظم اور طرز زندگی سرمایہ داری میں ضم ہو گیا۔
اس مقالہ میں حسب ذیل سوالات سے بحث کریں گے۔
- موجودہ دور میں اسلامی اصلاحی اور اسلامی انقلابی تحریکات میں کس نوعیت کا اہدافی اور تنظیمی فرق موجود ہے۔
- وہ کون سے اقدامات اور ذرائع ہیں جن کو اختیار کر کے اصلاحی اور انقلابی گروہوں کی جدوجہد میں اشتراک عمل اور ارتباط پیدا کیا جا سکتا ہے اور قائم رکھا جا سکتا ہے۔
- اسلامی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کے قلیل المدت اور طویل المدت اہداف میں کیا مماثلت اور کیا فرق ہے۔
- اصلاحی اور انقلابی تحریکات کے دائرہ کار اور طریقہ کار میں کیا فرق موجود ہے۔
- تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے کیاایک اسلامی انقلابی جماعت کی ضرورت ہے اور اگر ایسا ہے تو اس جماعت کی تنظیم اور اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔
- اسلامی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد سے کیا فوائد حاصل ہوئے۔ سرمایہ دارانہ استعمار نے ان کو کمزور کرنے کے لیے کون سے طرائق استعمال کیے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی کن نظریاتی، اساسی اور ساختی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھا یا جا سکتا ہے۔
- سرمایہ دارانہ نظام اور طرز زندگی کے حالیہ تضادات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اسلامی اصلاحی اور انقلابی تحریکات کو کس نوعیت کی ساختی (structural) ، تزویراتی (strategic) اور نظریاتی (ideological) حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔
باب ٢ : اصلاح اور انقلاب کی تعریف
اصلاح کا تصور نصوصِ صحیحہ اور ہمارے کلاسیکی علمی ماخذات میں عام ہے اور اصلاحی عمل تواتر کے ساتھ پوری اسلامی تاریخ میں جاری رہا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی انقلاب کا تصور بیسویں صدی کی اسلامی کلامی بحثوں میں ہے جوہمیں اپنے لٹریچر میں کہیں نہیں ملتا۔علاوہ ازیں انقلاب کا تصور تمام قدیم مکاتیب فکر کے لیے بالکل اجنبی ہے اور یہ تصور اٹھارھویں صدی فرانس میں سب سے پہلے مانوس کرایا گیا۔
اس تصور کو متعارف کرانے والے مفکرین جان لاک اور ژاک روسو نے اس سے اس سیاسی عمل کو تعمیر کیا جس کے نتیجہ میں معاشرتی سطح پر یہ سیاسی بیداری پیدا ہوئی کہ ریاستی تنظیم اقتدار میں بنیادی تغیر ناگزیر ہو گیا ہے۔ انقلاب کو ایک سیاسی واقعہ بھی تصور کیا جا سکتا ہے اور ایک سیاسی عمل بھی۔ انقلابی عمل انقلابی واقعہ کو تب جنم دیتا ہے جب اقتداری نظام میں تغیر کی خواہش ایسے مادی اور معاشرتی ماحول میں پرورش پائے جہاں ریاستی اقتداری نظام میں بنیادی تغیر ممکن ہو۔
انقلاب برپا کرنے کی خواہش کی عمومیت انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے لازمی ہے لیکن یہ خواہش انقلابی واقعہ (اقتداری نظام میں بنیادی تغیر) پر منتج شاذ و نادر ہی ہوتی ہے کیوں کہ مادی اور معاشرتی حالات (جن کی تفصیل ہم بعد میں بیان کریں گے) عموماً ریاستی نظم اقتدار کی مکمل تسخیر کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔
آج جس نظام اقتدار کو اقتداری اور معاشرتی غلبہ حاصل ہے وہ سرمایہ دارانہ ریاست ہے۔ یہ نظام اقتدار سرمایہ کی حاکمیت قائم کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ ریاست شرع مطہرہ اور اسلامی علمیت کی فوقیت کو صریحاً ردّ کرتی ہے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کی تسخیر امت کے لیے فرض کفایہ ہے۔ اسلامی انقلابی تحریکات اسی فرض کفایہ کو ادا کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
اسلام کی سیاسی مغلوبیت ہماری تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ بلاشبہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے کافرانہ نظم اقتدار کو مسخر کر کے ایک اسلامی ریاست قائم کی اور آپ کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک پہلو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلابیت بھی ہے لیکن قیام ریاست مدینہ کے بعد سے استعمار کے غلبہ کے دور تک ہمیں اپنی پوری ۱۲ سو سالہ تاریخ میں کبھی بھی اسلامی انقلابی جدوجہد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ امام حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور بعد میں آنے والے ان بزرگوں کے پیروؤں کی عسکری جدوجہد کے نتیجہ میں یہ بات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے ہو گئی کہ مسلمانوں کی حکومت میں شرع مطہرہ نافذ العمل رہے گی اور تمام معاشرتی فیصلے علوم اسلامی سے تطبیق کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ اس کے نتیجہ میں استعمار کے غلبہ کے دور تک مسلمانوں پر حکومت ایک اسلامی حکومت ہی رہی (یہاں تک کہ تاتاری سلطنتوں تک نے شرع کو نافذ رکھا) اور ریاستی نظام کو تسخیر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا ہمارے علما اور صوفیا کے لیے انقلاب ایک اجنبی تصور ہو کر رہ گیا۔
اس کے برعکس اصلاحی عمل ہمیشہ سے جاری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انفرادی اور معاشرتی اور ریاستی اعمال شاذ ہی مطلوبہ معیار پر پورے اترتے ہیں اور ان میں اصلاح کی گنجایش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اصلاح سے مراد انفرادی اور سماجی اعمال کو اسلامی مطلوبہ معیار کے قریب سے قریب لانا ہے۔ اصلاحی عمل کل سے نہیں جزو سے بحث کرتا ہے اور اسی وجہ سے اصولاً ریاستی نظام بحیثیت ایک کل کے مصلحین کے لیے ہدف تخاطب ہی نہیں۔ وہ تو فرد، معاشرہ اور ریاستی انفرادی عمل کو اسلامی معیارات پر پرکھتے ہیں اور ان انفرادی اعمال کواسلامی تعلیمات کے مطابق مرتب کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔
وقتاً فوقتاً مصلحین تحریکات بھی برپا کرتے ہیں (گو کہ عمومی حالات میں مصلحین امن پسند ہوتے ہیں اور تحریکات سے اجتناب کرتے ہیں) ان تحریکات کا مقصد اور ہدف اقتداری تغیر نہیں بلکہ انفرادی ریاستی یا معاشرتی عمل میں اصلاح ہوتا ہے (مثلاً ردَّ قادیانیت، تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی تحاریک وغیرہ)، ان اصلاحات کو سرمایہ دارانہ نظم اقتدار اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے(اس میں وہ کبھی جزواً کامیاب ہوتا ہےکبھی کلیتہً) ۔ ان مصلحین کی تحریکات کے نتیجہ میں جو شخصیت اور علمیت تعمیر ہوتی ہے وہ سرمایہ دارانہ نظم میں تحلیل بھی ہوسکتی ہے (اور عموماً ایسا ہی ہوتا ہے) اور اس کوانقلابی جدوجہد کے ایک وسیلہ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے (بشرطیکہ انقلابیوں میں یہ کرنے کی تنظیمی استطاعت موجود ہو)۔ عموماً اصلاحی تحریکات کی وقتی کامیابی کے نتیجہ میں انفرادی اور معاشرتی رویوں اور رجحانات میں دائمی اور دیرپا تبدیلی نہیں آتی ، جبکہ غیرمطالباتی اصلاحی تحاریک (مثلاً صوفیائی سلسلہ، تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی) اس ضمن میں کہیں زیادہ کامیاب نظر آتی ہیں۔
مصلحین انقلابی واقعہ کو ناقابل حصول اور انقلابی عمل کو لاحاصل سمجھتے ہیں ۔ اس کے باوجود وہ غلبہ دین کو بحیثیت ایک ہدف کے ردّ نہیں کرتے بلکہ غلبہ دین کے عمل کو ایک کرشماتی، معجزانہ یا بلااختیاری عمل تصور کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جب انفرادی اور معاشرتی اصلاحی عمل کا دائرہ کار پورے تمدن پر محیط ہو جائے گا تو اسلامی ریاستی نظام خود بہ خود برآمد ہو جائے گا اور کسی ریاستی یا معاشرتی مزاحمت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
اقتدار اسلامی کے غیرارادی طور پر وقوع پذیر ہونے کا یہ عقیدہ اس حقیقت کے علی الرغم ہے کہ اصلاحی اسلامی تحریکات تک خود بہ خود وجود میں نہیں آتیں بلکہ ان کے موجد بھی ہوتے ہیں (مولانا الیاس کاندھلوی اور مولانا الیاس قادری ) اور ان کی تنظیمی صف بندی بھی مستحکم اور مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ ایک منظم انقلابی جماعت کے وجود کو ضرر رساں گردانتے ہیں اور عوام میں انقلابی شعوری بیداری کو مضر خیال کرتی ہیں۔
انقلابی عمل گنجلک اور پیچیدہ ہے۔ اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ انقلابی عمل کے ذریعہ حاکم اور محکوم کے تعلقاتی نظام کی ترتیب نو ہوتی رہتی ہے۔ انقلابی ، "انقلابی عمل" پر یقین رکھتےہیں انقلابی واقعہ پر نہیں۔ یہ لازم نہیں کہ انقلابی عمل کے ذریعے انقلابی واقعہ ظہور پذیر ہو جائے ۔ اسلامی انقلابی حصولِ رضائے الٰہی کے لیے انقلابی عمل کو جاری رکھتے ہیں، انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام ) کے لیے نہیں۔
انقلابی واقعہ، انقلابی عمل کا ایک غیر متعین امکان ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے تغلب کے دور میں انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کا قیام) انقلابی عمل کے بغیرنا ممکن ہے۔ انقلابی عمل پر یقین وہ بنیادی خصوصیت ہے جو اسلامی مصلحین کو اسلامی انقلابیوں سے جدا کرتی ہے۔ اس کے باوجود انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کا قیام) اسلامی مصلحین اور اسلامی انقلابیوں کے اشتراکِ عمل پر بہت بڑی حد تک منحصر ہوتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیوں کہ مصلحین اور انقلابیوں دونوں کا مقصد ِ جدوجہد یکساں ہے یعنی حصولِ رضائے الٰہی۔
عیسائیوں کے برخلاف اسلامی مصلحین حکومتِ الٰہیہ کے انکاری نہیں۔ وہ دہریت (سیکولرازم) اور دہری قوانین کی تردید کرتے ہیں اور اپنی ذاتی اور جماعتی زندگی میں شرع مطہرہ کی سختی سے پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ جب اور جہاں بھی انقلابی واقعہ پیش آتا ہے (اسلامی ریاست قائم ہو جاتی ہے ) تو اس کی انتظامیہ بڑے پیمانے پر مصلحین کے گروہ ہی فراہم کرتے ہیں اور تنفیذ احکامات شرع مطہرہ مصلحین ہی کی ذمہ داری قرار دی جاتی ہے۔
مصلحین کی نگاہ انفرادی اعمال کی اصلاح پر ہوتی ہے۔ ان اعمال کی عمومی تطبیق اور تدوین کے نتیجہ میں جو تعلقاتی اشارات معاشرہ اورریاست (یعنی نظام اقتدار) پر مرتب ہوتے ہیں ان پر فتوے نہیں لگائے جاتے۔ مثلاً سرمایہ دارانہ معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی پر کبھی فتوے جاری نہیں کیے گئے۔ لہٰذا مصلحین کی صفوں سے ایسی اصلاحات کی تائید کی گئی جس کے نتیجہ میں اسلامی معاشرتی تشخص سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں ضم ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کی سب سے واضح مثال اسلامی بینک کاری کے ضمن میں جاری فتاویٰ ہیں۔ اس بات سے سہو نظر کیا گیا کہ پوری اسلامی تاریخ میں بینکوں کا وجود نہ تھا اور بینک خالصتاً یہودیوں کی ایجاد ہیں، ایسے فتاویٰ جاری کیے گئے جو سرمایہ دارانہ معاشی اور تجارتی معاہدوں کا شرعی جواز مرتب کرتے ہیں۔ نتیجتاً اسلامی بینک عالمی سود اور سٹہ کے بازاروں کا حصہ بن گئے اور ہر سال مسلمانوں کے اربوں ڈالر کی دولت عالمی سودی اور سٹہ کے بازاروں میں منتقل ہو رہی ہے اور یہودی بینک، عیسائی بینک، دہریہ بینک وغیرہ سب اسلامی بینک کاری کے بڑے بڑے کھلاڑی بن بیٹھے۔
اگر مصلحین انقلابی عمل کے قائل ہوتے تو ان کے لیے یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو جاتا کہ کون سے اور کس نوعیت کے اصلاحات دور حاضر میں اسلامی معاشرت او رریاستی نظام سرمایہ داری میں سمونے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور کس نوعیت کی اصلاحات اسلامی معاشرتی اور ریاستی تشخص کو مستحکم کرنے اور سرمایہ داری کو منتشر کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر انقلابی عمل عام ہو جائے تو مصلحین اور انقلابی گروہوں میں ربط فطرتاً پیدا ہو جاتا ہے اور دنیا میں کئی جگہ ایسا ہوا ( مثلاً ایران، بولیویا، اسپین) کے مطالباتی اصلاحی تحریکوں نے انقلابی جماعتوں کو جنم دیا اور ایران اور افغانستان کے تجربہ سے ثابت ہے کہ انقلابی واقع (اسلامی ریاست کے قیام) کے بعد اسلامی انقلابی حکومتوں نے انہی مصلحین کا سہارا لے کر انقلابی عمل (جو قیام ریاست کے بعد جہاد میں تبدیل ہو جاتا ہے) کا سہارا لیا۔
اصلاحی اور انقلابی گروہوں میں ربط و تعاون کا بڑھنا فطری ہے کیوں کہ انقلابی جدوجہد طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اقتدار کو مقامی اور گروہی سطح پر بتدریج مرتب کرنے کا عمل ہے اور محلہ، بازار اور برادری کی سطح پر مصلحین کا اثر ہمیشہ نمایاں ہوتا ہے اور انقلابی عمل اور واقعہ کے اشارات کو جانچنے کا ایک اہم پیمانہ یہی ہے کہ اس عمل اور واقعہ سے عام آدمی کی روزمرہ زندگی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔
باب ٣
اصلاحی اور انقلابی گروہوں کے مقاصد،اہداف اور دائرہ کار
جیسا کہ پہلے عرض کر چکے ہیں، اصلاحی اور انقلابی گروہوں کے دائمی مقصد میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا مقصد حصولِ رضائے الٰہی ہے اور مقصد کا یہی اشتراک ان دونوں گروہوں کو ایک دوسرے کا فطری حلیف بنا دیتی ہے۔ اہداف(Goals) میں واضح فرق ہے۔ مصلحین کا ہدف انفرادی اور معاشرتی زندگی ہے اور وہ انفرادی اور معاشرتی رویوں اور تعلقات کو اسلامی روحانیت اور علمیت سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
انقلابیوں کے اہداف دو ہیں:
(۱) انفرادی اور معاشرتی سطح پر اقتدار برتنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور معاشرتی سطح پر عوامی اسلامی اقتداری صف بندی؛
(۲) ملکی سطح پر ریاستی اقتدار کا حصول بذریعہ پارلیمانی عمل یا بذریعہ ایسی ہمہ گیر عوامی مزاحمت جو سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کو منتشر اور مسخر کرے اور عوامی اقتداری صلاحیت کو بڑھائے- معاشرتی اقتداری صف بندی انقلابی عمل ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے (یعنی اسلامی ریاست کے قیام سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی) اور سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کا مکمل انہدام وہ واقعہ ہے جس پر اسلامی انقلابی عمل منتج ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس عمل کا محض ایک حادثاتی سنگ میل ہے جو شاذ و نادر ہی ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یا اس کی منزل نہیں۔ منزل تو حصولِ رضائے الٰہی ہے اور انقلابی سمجھتے ہیں کہ حشر میں اللہ عز وجل ان سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ تم نے اسلامی ریاست کیوں قائم نہ کی بلکہ یہ پوچھیں گے کہ تم نے اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے کتنی جدوجہد کی اور کیا عجب کہ حضرت حق سبحانہ مصلحین سے بھی پوچھے کہ "میرے جو بندے اسلامی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے تم نے ان کا ساتھ کیوں نہ دیا؟"
؎ پھر کہو تو میاںکیاکہوگےوہاں
انقلابی عمل پر یقین ایک مخصوص انفرادیت تعمیر کرتی ہے۔ ایک ایسی شخصیت جو سرمایہ دارانہ ریاستی کارفرمائی کے ہمہ جہت عمل کا مستقل مطالعہ کرتی رہتی ہے اور اس عمل کو منتشر کرنے کے لیے پیہم نئی نئی حکمت عملیاں مرتب کرتی ہے۔ مصلحین کے گروہ سرمایہ دارانہ نظاماتی فعالیت کا ادراک مرتب کرنا ضروری خیال نہیں کرتے۔ وہ یا تو سرمایہ دارانہ اقتدار کی کارفرمائی کو سرے سے خاطر ہی میں نہیں لاتے (جیسے کہ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی) یا اس عمل کو غیراقداری اور ٹیکنیکل گردانتے ہیں۔ مصلحین کے اس نوعیت کے رویوں کو اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ انقلابی عمل پر یقین نہیں رکھتے۔
انقلابی معاشرتی اور روزمرہ کی زندگی میں اسلامی رجحانات اور تعلقاتی نظام کو غیر اسلامی رجحانات اور تعلقاتی نظام سے ممیز کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ معاشرتی سطح پر سرمایہ دارانہ کارفرمائیت کو معطل کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ وہ ایسی علمیت مقبول عام بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے ضرر اور اس کی نامعقولیت اور تضادات کو واضح کردے۔ ان اہداف کا حصول اسلامی روحانیت، اخلاقیت، سیرت اور کردار کے عام ہونے پر منحصر ہے اور اسلامی روحانیت اور اخلاقیت کو فروغ دینا مصلحین کا دائرہ کار ہے۔ معاشرے میں مقاماتی اقتداری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اسلامی اخلاقیات اور روحانیت کا فروغ ناگزیر ہے۔ لہٰذا اسلامی انقلابی عمل کا ارتقا بنیادی طور پر مصلحین کی جدوجہد کی کامیابی پر منحصر ہے۔ انہیں معنوں میں اسلامی مصلحین اور اسلامی انقلابی ایک دوسرے کے فطری حلیف ہیں اور اصلاح (تحفظ دین کی جدوجہد) اور انقلاب (غلبہ دین کی جدوجہد) ایک ہی عمل کے دو زاویے ہیں جن کا آپس میں مربوط ہونا ناگزیر ہے۔ یہ بات اس سے بھی عیاں ہے کہ مصلحین اور انقلابی تمام اسلامی گروہ الحمدللہ سب راسخ العقیدہ ہیں اور ان کے اختلافات محض طریقہ کار کے ضمن میں ہیں –
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ایم ایم اے کے قیام کے وقت مولانا شاہ احمد نورانی (نوراللہ مرقدہٗ) نے کراچی میں اسلامی جماعتوں کا اجلاس بلایا تاکہ ان کے اختلافات پر گفتگو ہو۔ چھہ گھنٹے کی طویل بحث کے بعد مولانا نے بحث کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا "معلوم ہوا کہ ہم میں کوئی اصولی اختلاف نہیں، ہمارے اختلافات محض فروعی اور تزویراتی ہیں۔ میں جو کہوں گا اس پر سب عمل کریں گے"۔ پوری مجلس نے یک زبان ہو کر مولانا کے ارشاد پر آمنا و صدقنا کہا۔
مقاصد کی یکسانیت کے باوجود اصلاحی اور انقلابی گروہوں کے دائرہ کار میں واضح فرق ہے۔ انقلابیوں کا دائرہ کار نظام اقتدار ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے انہدام اور اس کے متبادل اسلامی نظام اقتدار کی تعمیر کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار پورے قومی معاشرے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ وہ کمیونٹی کی سطح پر بھی قائم ہے اور بازار کی سطح پر بھی، ضلع کی سطح پر بھی، شہری سطح پر بھی، صوبائی اور وفاقی ریاستی سطح پر بھی،عالمی سطح پربھی۔ اس کی گرفت میں تعلیمی ادارے ہی نہیں تمدنی ادارہ بھی ، مذہبی ادارہ بھی، تجارتی اور کاروباری ادارہ بھی اور سیاسی ادارہ بھی ہیں۔ سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ انتظامیہ وہ ذرائع ہیں جو سرمایہ دارانہ غلبہ کو ممکن بناتی ہیں۔
سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ انتظامیہ کی کارفرمائی کا مقصد غیرسرمایہ دارانہ گروہوں اور اداروں کو اقتدار سے محروم کرنا اور تمام اقتدار سرمایہ دارانہ اداروں اور گروہوں (بالخصوص سرمایہ دارانہ اشرافیہ) کے ہاتھوں میں اقتدار کو مرتکز کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ اقتدار سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ انتظامیہ قوت کے استعمال سے قائم کرتی ہے۔
لیکن اس کا اصل ذریعہ سرمایہ دارانہ تعقل (rationality) کا بتدریج معاشرتی تفوق ہے۔ ہماری خانقاہیں اور مدارس عالمی سرمایہ دارانہ استعمار کے نشانہ پر ہیں اس لیے کہ اب وہ دنیا میں واحد روحانی اور علمیاتی مراکز رہ گیے ہیں جہاں سرمایہ دارانہ روحانیت (انسان پرستی) اور سرمایہ دارانہ علمیت (سائنس) کو غیرمعقول اور مہمل (incoherent) ثابت کیا جا رہا ہے۔ اور جہاں خداشناس علمیت اور انفرادیت کی پرورش کی جا رہی ہے۔ آج یہ کام نہ گرجے کر رہے ہیں نہ مندر نہ پگوڈے۔ ان تمام مذہبی مراکز کو سرمایہ دارانہ معاشرت اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم کر لیا گیا ہے۔
اسلامی انقلابی ہر سطح پر سرمایہ دارانہ اقتدار کو منتشر اور مسخر کرنے کی جدوجہد کے قائل ہیں۔ محلہ کی سطح پر، بازار کی سطح پر ، برادریوں کی سطح پر، ضلع اور شہر اور صوبہ اور وفاق کی سطح پر،عالمی سطح پر۔ بہ الفاظ دیگر وہ سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ انتظامیہ کی کارفرمائی کو محدود اور بتدریج معطل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ اس کے متبادل اسلامی اقتدار کو ہر سطح پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ محلہ کی سطح پر، بازار کی سطح پر، برادری اور خاندان کی سطح پر، ضلعی، شہری، صوبائی اور وفاقی سطح پر،عالمی سطح پر۔ ہر سطح پر وہ اسلامی شخصیت، روحانیت اور علمیت کا غلبہ قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہر سطح پر سرمایہ دارانہ انفرادیت، روحانیت اور عقلیت کو مغلوب کرنے کے خواہاں ہیں۔
سرمایہ دارانہ اقتدار کی تنفیذ کا عمل تضادات سے بھرپور ہے۔ یہ تضادات اقتداری نظام کی ہر سطح پر پائے جاتے ہیں۔ ان تضادات کے دائمی وجود کی بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ نظام فکر اور عمل کی اساسی نامعقولیت ہے۔ سرمایہ داری کا بنیادی کلمہ "لاالٰہ الا انسان" ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کذب بین ہے۔ اس کذب بین کا ناقابل انکار ثبوت یہ ہے کہ ہر انسان مر جاتا ہے اور خود سرمایہ دارانہ علمیت (سائنس) نے ثابت کر دیا ہے کہ کائنات عدم کی طرف رواں دواں ہے۔ پھر پس جدید (پوسٹ ماڈرنسٹ) فکر نے یہ بھی دو اور دو کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ سرمایہ داری کی اساسی قدر (آزادی) مہمل اور نامعقول ہے۔ کوئی فرد بھی آزاد نہیں ہو سکتا ۔ اس کا بدنی نظام مقید ہے (گردشِ خون ویسے ہی جاری رہے گی جیسے فطرتاً متعین کر دیا گیا ہے) انسان کے خیالات اور احساسات اس معاشرتی ماحول سے بڑی حد تک متاثر ہوں گے جس میں وہ بغیر اپنی مرضی کے پیدا ہوا ہے۔ ہائیڈیگر اسے "پھینک دیا" جانا کہتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انفرادی موت تمام احساسات کو یک سر جبراً معطل کر دیتی ہے۔ یہ کیسا خدا ہے جو مر جاتا ہے اور جسے نہ اپنے پیدا ہونے پر اختیار ہے نہ مرنے پر۔
پھر جیسا کہ دریدا اور دلیوز اور بے شمار فلسفیوں نے ثابت کیا کہ آزادی خلائے محض ہے (سارتر اسے عدم وجود کہتا تھا)۔ آزادی کا مطلب ایک ایسی شے کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔سرمایہ دارانہ انفرادیت کی انفرادی اور معاشرتی زندگی احساسِ ناکامی سے بھر جاتی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " اَلَا بِذِکۡرِاللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ"اور آزادی کا پجاری اپنے نفس پر بھی ظلم اپنے معاشرہ پر بھی اور اپنی نوع پر بھی ظلم کرتا ہے۔
سرمایہ دارانہ انفرادیت کے بنیادی غالب احساسات حرص(acquisitiveness) اور حسد (competition) ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی حرص اور حسد کی بنیاد پر ہی کارفرما ہوتی ہیں اور حرث اور حسد کی یہی فعالیت سرمایہ دارانہ تضادات کو مستقلاً فروغ دیتی رہتی ہیں۔ سرمایہ کا ہر پجاری سرمایہ کے ہر دوسرے پجاری کو اپنا دشمن گردانتا ہے۔ اسی لیے سارتر نے کہا تھا “Hell is other people” جہنم ہر دوسرے فرد کے وجود میں پائی جاتی ہے۔ سرمایہ کا پجاری غیر کو اپنانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔
سرمایہ کے پجاریوں کی اس پیہم جاری وحشیاتی کش مکش سے ہی سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات پیدا ہوتے ہیں۔ ہم دورِ حاضر کے ان سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کا ذکر اگلے باب میں کریں گے۔
اسلامی انقلابی اساسی نظاماتی تصورات کا شعور حاصل کرنے کی کوشش کو مہمیز کر دے محلہ، بازار ، برادری، ضلعی، شہری، وفاقی اور عالمی غالب سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو کم زور اور مجروح کرنے کی جدوجہد مرتب کرتے ہیں۔ اس جدوجہد کو اقتداری نظام کی ترتیب نو کہا جاتا ہے اور اقتداری ترتیب نو کا یہ عمل انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور انقلابی واقعہ کے ظہور پذیر ہونے کے بعد اسلامی مصلحین بھی اس عمل میں شریک ہو جاتے ہیں۔ انقلابی واقعہ (قیام ریاستِ اسلامی) سے قبل سرمایہ دارانہ مقتدر اداروں میں پائے جانے والے صالح افراد اقتداری ترتیب نو کے اس عمل میں شریک کئے جاسکتے ہیں۔
انقلابی واقع سے قبل اسلامی مصلحین اور اسلامی انقلابی گروہوں کی حکمت عملیاں جدا ہوتی ہیں۔ مصلحین اقتداری ترتیب نو کے عمل سے گریز کرتے ہیں یہ اس کو ضروری (یا ممکن) نہیں سمجھتے۔ جس حد تک مصلحین سرمایہ دارانہ نظاماتی اور اساسی تضادات سے واقف ہوتے ہیں وہ ان تضادات کو اس طرح دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے تناظر میں اسلامی شخصیت سازی اور معاشرتی روایات کو فروغ دینے کی گنجائشیں پیدا کی جا سکے۔ ان کی مجوزہ اصلاحات ہمہ جہت اور ہمہ پہلو نہیں ہوتیں بلکہ وہ جدا جدا انفرادی اور اجتماعی اعمال کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات مزاحمتی اور غیرمزاحمتی اصلاحی تحریکوں دونوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ مثلاً نہ دعوت اسلامی اپنی احیائے رسوم اسلامی کی جدوجہد کا سرمایہ دارانہ نظاماتی کارفرمائی پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے، پر توجہ دیتی ہیں۔ نہ ردِ قایانیت کی تحریک کے سرمایہ دارانہ اقتداری نظام کو معطل کرنے سے کوئی تعلق تھا۔
باب٤
دورِ حاضر میں تحفظ اور غلبہ دین کی تحریکات کے مواقع، امکانات اور چیلنجز
پچھلے باب میں ہم نے سرمایہ دارانہ اساسی اور ساختی تضادات کا ذکر کیا تھا۔ یہ تضادات تحفظ اور غلبہ دین کی جاری حالیہ تحریکات کے لیے چیلنجز بھی پیش کرتے ہیں اور تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان چیلنجز اور مواقع سے آگاہ ہونا اور ان سے فائدہ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنا مصلحین کے گروہوں کے لیے بھی ضروری ہے اور انقلابیوں کے لیے بھی۔
دورِ حاضر کے چیلنج
آج اسلامی انقلابی واقعہ اور عمل پر یقین رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ اساسی مفروضات اور سرمایہ دارانہ عقلیت نے ایسی عمومی مقبولیت اور تغلب پہلے کسی دور میں حاصل نہیں کیا۔ آج مواصلاتی ایجادات (آئی ٹی) نے پوری دنیا کو سرمایہ دارانہ نظاماتی شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔ برقی میڈیا کے ذریعے سرمایہ درانہ عقلیت اور سرمایہ دارانہ رواج و روایات کا پھیلاؤ عالمی ہو گیا ہے اور دنیا کا کوئی خطہ اس کی دست برد سے محفوظ نہیں رہا۔ حب مال کی وبا عام ہو گئی اور ہر آدمی سرمایہ دارانہ حقوق اور معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ کا خواہش مند تیزی سے بنتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ دورِ حاضر کی استعمار مخالف حکومتوں – وینزویلا، بولیویا، ایکواڈور، سوڈان، ایران- کوعالمی استعماری نظام میں کسی نہ کسی طرح شمولیت قبول کرنا پڑتی ہے کہ اس کے بغیر وہ اپنے عوام کےمادی معیار زندگی نہ بڑھا سکیں گی۔ سرمایہ داری کے علمیاتی اور تمدنی تغلب نے اسلامی انقلابی جماعتوں مثلاً جماعت اسلامی، اخوان المسلمون کو بھی سرمایہ دارانہ حقوق کا محافظ اور معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ کرانے والے ایجنٹ کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انقلابی جماعتیں populist بنتی جا رہی ہیں۔populismعوامی خواہشات کی پیروی اور تابع داری کا نام ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان آج ان معنوں میں ایک populist جماعت بنتی جا رہی ہے کہ اس نے عوامی خواہشات اور جذبات کواسلامی روحانی اور اخلاقی سانچے میں ڈھالنے کی جدوجہد تقریباً بالکل ترک کر دی ہے اور اس کی سیاست کا پورا زور سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور معیارِ زندگی میں مستقل ترقی کے حصول پر مرکوز ہو گیا ہے اور وہ سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور وہ سرمایہ دارانہ ترقی کے حصول کا اسلامی جواز پیش کر کے اسلامی تشخص اور معاشرت سرمایہ دارانہ طرز اور نظم زندگی میں سمونے کی راہ اختیار کر رہی ہے۔
جب populist جماعتیں ریاستی اقتدار حاصل کر لیتی ہیں تو سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی اور سرمایہ دارانہ ترقی کے حصول کے لیے عالمی سرمایہ دارانہ استعمار سے قربت حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس رویہ کی مخالفت اس جماعت کے وہ کارکن کرتے ہیں جو انقلابی جدوجہد اور استعمار مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ populist جماعت اقتدار میں آنے کے بعد ان عناصر کو نہایت بے رحمی سے کچل دیتی ہے کیوں کہ اس کے بغیر عالمی استعماری نظام سے سمجھوتا کرنا اور سرمایہ دارانہ حقوق اور ترقی کا فروغ ناممکن ہے۔
اس کی واضح ترین مثال چین کی کمیونسٹت پارٹی کا 1978کے بعد اور بولیویا کی MAS پارٹی کا 2006 کے بعد کا عمل ہے۔ دونوں جماعتیں طویل انقلابی جدوجہد کے بعد برسراقتدار آئیں لیکن جب سرمایہ دارانہ ترقی کے حصول کے لیے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہونے کی حکمت عملی اپنائی گئی تو ان جماعتوں نے اپنے ان کارکنوں کو نہایت بے دردی اور سفاکی سے مفلوج کر دیا جن کی انقلاب لانے میں قربانیاں سب سے بڑھ کر تھیں اور یہی عمل آج لاؤس، ویت نام، ترکی اور کسی نہ کسی حد تک ایران میں بھی جاری ہے۔
پھر جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کا قیام) صرف انقلابی عمل کے اوپر منحصر نہیں۔ اس کے لیے حالات بھی سازگار ہونے چاہیئں۔ اور بلاشبہ حالات –ملکی اور عالمی- نہایت ناسازگار ہیں۔ آج نیولبرل ازم کا تسلط ہے اور نیولبرل فکر کی ایک بہت بڑی کامیابی انقلاببی عمل کو مہمل اور لایعنی ثابت کرنا ہے۔ وہ ہر اجتماعی صف بندی کو مہمل گردانتی ہے اور ہدایت کی افادیت کی منکر ہے۔ فوکو اس فکر کا سب سے بڑا داعی ہے اور اس فکر کی عمومیت کے نتیجے میں انقلابی تحاریک یک جہتی پاپولسٹ تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ نیولبرل ازم سرمایہ داری کی سب سے طاقت ور نظریاتی توجیہہ ہے اور اسی کے فروغ کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ تغلب آفاقی ہو گیا ہے۔ نیولبرل دور میں سرمایہ دارانہ بحران ناپید نہیں ہوئے۔ 2008 تا 2010 کا قرضہ جاتی بحران نہایت سنگین تھا لیکن اس بحران کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ طرز کارفرمائیت تبدیل نہ ہوا اور سرمایہ دارانہ اقتداری غلبہ کسی نہ کسی حد تک مضبوط ہو گیا گو کہ اس نظام اقتدار کے لیے کچھ نئے مسائل (بالخصوص قوم پرستی کا احیا) ضرور پیدا ہو گئے۔ نیو لبرل نظریہ کی کامیابی اصلاً وجودی اور معاشرتی ہے۔
نیولبرل ازم نے ایک ایسی انفرادیت کو جنم دیا ہے جو سرمایہ دارانہ اقتدار کے خلاف جدوجہد کو ناممکن، غیرضروری اور لاحاصل تصور کرتا ہے۔ ان معنوں میں ہماری دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت بھی نیولبرل جماعتیں ہیں۔ جو چیز تبلیغ اور دعوت کو حقیقی نیولبرل تحریکوں سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حقیقی نیولبرل تحریکیں (خواہ اسلامی خواہ کافر) سرمایہ دارانہ اقتدار سے مساوات کی فراہمی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ دعوت اور تبلیغ سرمایہ دارانہ اقتدار سے کوئی مطالبہ نہیں کرتیں وہ سرمایہ دارانہ قوت اور جبروت کو برداشت کرنے کا درس دیتی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کے اندر اسلامی انفرادیت اور معاشرت کو فروغ دینے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ عیسائی تاریخ میں بھی اس نوعیت کی غیرمطالباتی اصلاحی تحریک اٹھی ہیں۔ ان کو Queitist تحاریک کہا جاتا ہے اور ان کی مشہور (لیکن متضاد) مظاہر Quakerism اور Evangelism ہیں۔ غیرمطالباتی اصلاحی تحاریک (خواہ اسلامی خواہ کافرانہ) اس بات کو عموماً نظرانداز کرتی ہیں کہ اقتداری ادارتی صف بندی (سیاسی، معاشی، معاشرتی) شخصیت سازی کے عمل کو بڑی حد تک متاثر کرتی ہے۔
دورِ حاضر کا ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ آج نمایندہ جمہوریت ایک غالب نظریہ کے طور پر پوری دنیا میں مقبولِ عام ہے۔ آج دنیا کی ہر حکومت (خواہ لبرل، خواہ اشتراکی، خواہ قوم پرست، خواہ اسلامی) اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے اور اپنے اقتدار کا جواز نمایندہ جمہوری عمل کے اجرا ء ہی سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور دنیا کے ہر ملک میں گاہے گاہے انتخابات ہوتے رہتے ہیں جن میں عوام بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہیں (گوکہ یہ تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے)۔ مطالباتی اصلاحی تحاریک –خواہ اسلامی خواہ کافرانہ –جمہوری عمل میں توسیع کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انقلابی اسلامی جماعتیں تک اپنے جمہوری ہونے پر فخر کرتی ہیں۔
نمایندہ جمہوریت کا رائج الوقت تصور سترھویں اور اٹھارھویں صدی میں لاک اور مونٹیسکیو نے پیش کیا ۔ معتزلہ فلسفی فارابی نے بھی اس سے ملتا جلتا تصور پیش کیا جس کو ہمارے قدیم سیاسی ائمہ نے شدت سے ردّ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ایران کی اسلامی حکومت کے قیام تک کہیں بھی اور کبھی بھی نمایندہ جمہوریت قائم نہ ہوئی اور ہماری فقہ میں عوام کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو قطعاً ممنوع ہمیشہ گردانا گیا لیکن آج ہم جمہوری عمل میں شرکت پر مجبور ہیں اور جمہور علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ شرکت جائز ہے کیوں کہ جمہوری عمل میں عدم شرکت اقتداری کش مکش سے دست برداری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
لیکن نیولبرل نظم اقتدار نے جمہوری عمل کو مسخر کر لیا ہے۔ رائے عامہ کی تعمیر بڑے پیمانے پر سرمایہ دارانہ میڈیا کرتا ہے اور یہ رائے عامہ سرمایہ دارانہ اہداف اور ترجیحات کو ردّ کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ سیاسی جماعتوں کے منشوروں اور لائحہ عمل میں فرق نہ ہونے کے برابر ہو جاتا ہے۔ مثلاً 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے منشور ایک دوسرے کا چربہ معلوم ہوتے تھے۔ یہ سب سوشل ڈیموکریٹ منشور تھے۔ 2002 سے 2008 تک ایم ایم اے نے سرحد میں حکومت کی لیکن اس حکومت نے اقتداری نظام کو سرمایہ دارانہ ضوابط کے مطابق مرتب کیے رکھا اور صوبے میں اسلامی اقتداری ادارتی صف بندی بالکل ناپید رہی۔
نیولبرل حکومت دراصل کارپوریشنوں اور بینکوں کی حکومت ہوتی ہے اور کارپوریشنیں اور بینک جمہوری ادارے نہیں ہوتے۔ ان کا اقتدار نظم بڑھوتری سرمایہ کا اقتدار ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ میڈیا اور تعلیم کے ذریعے وہ جمہوری عمل کو ایسی انتظامی اور قانونی ساخت میں جکڑ لیتے ہیں جو عوامی رائے کو سرمایہ دارانہ حکمت عملیوں کی تصدیق کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس قانونی اور انتظامی شکنجوں سے نکلنا آج کے دور میں اور دشوار بنا دیا گیا ہے کیوں کہ کارپوریشنوں اور بینکوں کا تسلط عالمی ہو گیا ہے اور وہ عالمی انتظامی صف بندی اور قانون سازی کو ملکی سیاسی نظام پر مسلط کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ نمایندہ جمہوریت تو ملکی ریاست تک محدود ہے۔ سرمایہ دارانہ عالمی نظم اقتدار جو کہ قطعاً جمہوری نہیں قومی جمہوری اقتدار کو مقید کرتا ہے اور اس عالمی سرمایہ دارانہ استبدادی نظام کے پشت پر امریکی استعمار کی ہمہ گیر عسکری قوت ہے۔
عالمی سرمایہ دارانہ اقتدار کا قومی جمہوری نظام پر تسلط یونان کے ۲۰۱۵،۲۰۱۶ بحران سےواضح ہوتا ہے۔ 9-2008 کے عالمی قرضہ جاتی بحران سے پہلے یورپی بینکوں نے بڑے پیمانے پر یونانی تمسکات خرید رکھی تھیں۔ جب 9-2008 میں بحران آیا تو یورپی بینکوں کے دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھ گئے تو انہوں نے یونان کے دیے گئےتمسکات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ یونان کی حکومت ان مطالبات کو پوا کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ 2009 سے آج تک یونانی حکومت یورپی یونین ، یورپی مرکزی بینک اور آئی ایم ایف سے مالی امداد حاصل کر رہی ہے۔ لیکن اس امداد کو فراہم کرنے کے لیے یورپی یونین، یورپی مرکزی بینک اور آئی ایم ایف نےبڑی کڑی شرطیں لگا رکھی ہیں جس کے نتیجے میں یونان میں کساد بازاری ، غربت اور بے روزگاری بے تحاشا بڑھی۔
ان ظالمانہ "اصلاحات" کے خلاف 2011 سے یونان میں ایک بڑی عوامی مزاحمت ابھری۔ اس تحریک کے نتیجے کے طور پر ایک انقلابی جماعت وجود میں آئی۔ یہ SYRZIAہے اور اس نے 2013 اور 2015 کے انتخابات اس دعوے کی بنیاد پر لڑے کہ وہ حکومت میں آ کر عالمی قرضہ داروں کو کڑی امداد ی شرائط نرم کرنے پر مجبور کرے گی۔ SYRZIA 2015 کے انتخابات جیت گئی اور اس کے فوراً بعد قرضہ جاتی شرائط کو نرم کرنے کے لیے یورپی مرکزی بینک، یورپی یونین اور آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع کیے۔ لیکن یہ ادارے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ مذاکرات کے دوران SYRZIA نے ایک ریفرنڈم بھی منعقد کیا جس میں موجودہ شرائطی تجاویز کو ردّ کرنے کے حق میں بڑی تائید حاصل ہوئی لیکن پھر بھی یورپی مرکزی بینک، یورپی یونین اور آئی ایم ایف نے جمہوری عمل سے حاصل شدہ اس نتیجہ کا کچھ نوٹس نہ لیا اور SYRZIA کو پہلے سے بھی زیادہ سخت قرضہ جاتی شرائط قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ آج SYRZIA، یورپی مرکزی بینک، یورپی یونین اور آئی ایم ایف کی ماتحتی میں حکومت کر رہی ہے۔
اسی طرح عالمی منڈیوں میں شرکت بھی انقلابی عمل کو بڑی حد تک متاثر کر سکتی ہے۔ وینزویلا میں 1999 میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی۔ وینزویلا تیل برآمد کرنے والا بہت بڑا ملک ہے۔ 2000 سے اگلے تقریباً 12 سال تک تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں اور وینزویلا کو کثیر رقوم اور محصولات حاصل ہوتی رہیں۔ہیوگوشاویز کی حکومت نے ان رقوم کو فلاحی اخراجات کے لیے استعمال کیا۔ بہت بڑے پیمانے پر صحت، تعلیم اور رفاہِ عامہ کی سہولتیں فراہم کیں۔ اس کے نتیجے میں عام آدمی کا معیارِ زندگی بہت تیزی سے بڑھا۔ حکومت نے پورے ملک میں مقامی سطح پر عوامی اقتداری اداروں (communes)کا ایک وسیع جال بچھا دیا۔ ان communes کےاقتداری اختیارات میں مستقل اضافہ کیا جاتا رہا اور ان communes کو مرکزی حکومت بہت بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کرتی رہی۔
لیکن 2013 سے تیل کی قیمتیں گرنے لگیں اور حکومت وینزویلا کے مالی وسائل تیزی سے گر رہے ہیں رفاہِ عامہ کے لیے اور communes کے لیے رقومات کا فراہم کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کرپشن ملک میں عام ہو گئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے بیرون ملک منتقل کیے جانے لگے۔ تورم (inflation) میں بے تحاشا اضافہ ہونے لگا۔ وینزویلن کرنسی کی قدر بہت تیزی سےگرنے لگی ۔ اشیائے صرف کی قلت بڑھتی چلی گئی اور وہی عوام جو انقلابی حکومت کے حامی تھے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک پچھلے تقریباً تین سال سے وینزویلن حکومت کے خلاف جاری ہے۔ 2016 کے پارلیمانی انتخاب میں برسراقتدار پارٹی کو بہت بڑی شکست ہوئی اور اب Maduro(شاویز کا جانشین) کی صدارت پولیس اور فوج کی اعانت کے سہارے قائم ہے۔
2000 تا 2011 کی دہائی میں کئی لاطینی امریکا ممالک میں اشتراکی اور سوشل ڈیموکریٹ استعمار مخالف انقلابات لانے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں ارجنٹینا، برازیل، ایکواڈور، پیرو، بولیویا اور وینزویلا شامل ہیں۔ آج ان تمام ممالک میں انقلابیوں کو شکست دی جا رہیں ہے یا ان کی بنائی ہوئی حکومتیں شدید بحران کا شکار ہیں۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔
- پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ سب انقلابی جماعتیں اپنے ملک کے معاشی نظام میں ساختی تبدیلی نہ لا سکیں۔ یہ ممالک بڑے پیمانے پر دھاتیں، تیل اور زرعی خام مال بین الاقوامی منڈیوں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے برآمد کرنے والے ممالک ہیں۔ انقلابی حکومتوں نے تیل اور دھاتوں والی صنعتوں میں ملٹی نیشنلز کے حصص کی اکثریت خریدی۔ لیکن اس عمل سے وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اقتصادی گرفت کم زور نہ کر سکیں کیوں کہ ملٹی نیشنلز کے حصص کا کاروبار بڑے پیمانے پر لندن، نیویارک، فرینکفرٹ اور ٹوکیو کے سٹہ بازاروں میں ہوتا ہے اور وہیں ان کے اثاثوں کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے ۔ لاطینی امریکی برآمدتوں (تیل، دھاتیں) کا کاروبار بھی بین الاقوامی صرافہ(کموڈٹی) سٹہ بازاروں میں مرکوز ہیں لہٰذا ان اشیا کی قیمتوں کے تعین پر بھی لاطینی امریکی انقلابی حکومتوں کا کچھ اختیار نہیں۔ اس کے علاوہ ان انقلابی حکومتوں نے بڑے پیمانے پر تجارتی اور صنعتی قرضے بین الاقوامی بینکوں سے لیے۔ اس سب کے نتیجے میں سیاسی انقلاب کے وقوع پذیر ہونے کے باوجود استعمار کی معاشی گرفت ان ممالک پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی۔ ان میں سے کسی ملک نے بھی قومی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ ملٹی نیشنلز، بینکوں اور عالمی منڈیوں سے حاصل شدہ رقوم ہی کو استعمال کر کے عوام کا معیارِ زندگی بڑھانے کے اخراجات پر خرچ کیا۔
- دوسری وجہ یہ ہےکہ انقلابی حکومتیں جمہوری عمل کے ذریعے ہی قائم ہوئیں اور انہوں نے جمہوری عمل کو جاری رکھا۔ جمہوری عمل وہ موثر ترین راہ ہے جس کے ذریعے عالمی استعماریت کے ایجنٹ ملک میں اپنا اقدار، میلانات اور سیاسی رجحانات کو فروغ دیتے ہیں اور جمہوری عمل میں دراندازی کرکے بڑے پیمانے پر ملک میں تخریب کاری کرتے ہیں۔ جمہوری عمل کے تسلسل کے نتیجے میں لاطینی امریکی استعمار مخالف ممالک میں امریکی تخریب کاروں کو گھس آنے کے وافر مواقع حاصل ہوئے اور انہوں نے اپنے گھس بیٹھیوں کے ذریعے مخالف ملک میں بڑے پیمانے پر منظم معاشی، معاشرتی اور سیاسی تخریب کاری جاری رکھی ہوئی ہے۔ انقلابی واقعہ کے بعد جمہوری عمل کو مفلوج یا معطل کرنا انقلابی غلبہ کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ بات ہٹلر، لینن اور علمائے ایران نے اچھی طرح سمجھ لی ہے۔ جمہوری عمل کو مفلوج اور معطل کرنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ انقلابی جدوجہد ہمیشہ ایک اقلیت ہی کرتی ہے اور عوامی رائے کو اس اقلیت کی اقداری ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا لازماً ایک نہایت طویل المدت عمل ہے۔ انقلابی واقعہ کے بعد انقلابی عمل کو جاری رکھنے میں جو مشکلات آتی ہیں وہ عموماً انقلابیوں کی عوامی اکثریتی حمایت کو کم کرتی رہتی ہیں اور استعماری انقلاب مخالف قوتیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ جو انقلابی حکومتیں جمہوری عمل کے ذریعے قائم ہوتی ہیں اگر جمہوری عمل جاری رہے تو وہ جمہوری عمل ہی کے ذریعے ختم کر دی جاتی ہیں۔
- لاطینی امریکا کی انقلابی قوتوں کی شکست کی تیسری اور اہم وجہ یہ تھی کہ انہوں نے سرمایہ دارانہ کلیدی اقدار کی بھرپور تائید کی۔ ان تحریکوں نے عوام کو اپنے معیارِ زندگی بلند سے بلند تر کرنے کے لیے جدوجہد کی دعوت دی۔ جب تک یہ عوامی معیارِ زندگی بلند کرنے میں کامیاب رہیں اس وقت تک عوام نے ان کا ساتھ دیا۔ جب بے روزگاری، اشیا کی قلت اور انفلیشن بڑھا اور غربت پھیلنے لگی تو عوام نے ان جماعتوں کا ساتھ اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ انہوں نے جو غربت کم کرنے کا وعدہ کیا وہ نبھا نہ سکیں۔ یہ کوئی انقلاب سے عوامی غداری نہیں بلکہ اس حقیقت کا اقرار ہے کہ موجودہ عالمی معاشی تناظر میں نیولبرل ریاستیں قوم پرست اور سوشل ڈیموکریٹ ریاستوں کے مقابلے میں عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں زیادہ کامیاب ہیں لہٰذا معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ اور سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کے خواہاں عوام عموماً نیولبرل حکمت عملیوں پر یقین کرتے ہیں۔
ان تجربات سے اسلامی انقلابی دو سبق حاصل کر سکتے ہیں:
- انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے انقلابی واقع سے قبل اور اس کے بعد عوام کے میلانات اور ترجیحات میں اساسی تبدیلی لانا ناگزیر ہے۔ معیارِ زندگی بلند کرنے اور سرمایہ دارانہ حقوق کی فراہمی کی دعوت دینا اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودنے کے مترادف ہے (جیسا کہ جماعت اسلامی آج کر رہی ہے)۔ عوامی مذہبیت اور روحانیت میں اضافہ کی بنیاد پر ہی اسلامی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ یہ مذہبیت اور روحانیت کا عوامی پھیلاؤ مصلحین بالخصوص صوفیا اور مبلغین کا دائرہ عمل ہے مصلحین کی پشتیبانی کے بغیر اسلامی انقلاب نہ برپا کیا جا سکتا ہے نہ دیرپا بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مصلحین ہی ہیں جو عوام کو تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہدمیں مستقل قربانیاں دینے کے لیے راضی کر سکتے ہیں۔
- انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) کے بعد جمہوری عمل کو مفلوج اور معطل کرنا اور بین الاقوامی سرمایہ دارانہ منڈیوں کا ملکی معیشت سے بتدریج ناطہ توڑنا اور معاشی خودمختاری کی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے کیوں کہ جمہوری عمل اور بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارت کے ذریعے ہی استعمار انقلاب مخالف تخریب کاری کرتا ہے۔
ان دونوں اقدام کی تفصیل ہم ان شاء اللہ آیندہ باب میں بیان کریں گے۔
ایک اور خطرہ جو اسلامی مصلحین اور انقلابیوں کو دورِ حاضر میں درپیش ہے وہ سرمایہ دارانہ ریفارمسٹ اور انقلابی تحریکوں سے تعاون کا خطرہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ سیاسی طاقت ور عوامی کافر تحریک قوم پرستی کی ہے جس نے برصغیر پاک و ہند میں مذہب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور مسلم اور ہندو قوم پرستی عوامی سطح پر فروغ پا رہی ہے۔ قوم پرستی ایک استعمار مخالف سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ اہداف (آزادی، مساوات اور ترقی، معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ) کی تصدیق اور تبلیغ کرنا ہے۔ قوم پرست جماعتیں اپنے ملکی یا مذہبی تشخص پر زور دیتی ہیں اور عوام کو اپنے ملک یا گروہ کی آزادی اور ترقی کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا مقصد اپنے ملک کو ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ملک بنانا ہوتا ہے۔ یہ سب سے پہلے پاکستان اور مسلم قوم کے سرمایہ دارانہ حقوق کے فروغ کا نعرہ لگاتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ ارتکاز اور بڑھوتری مسلمانوں کے لیے، پاکستان کے لیے ہو نہ کہ ہندوستان کے لیے یا امریکا کے لیے۔ جب قوم پرست ریاستیں قائم ہو جاتی ہیں تو وہ خالصتاً سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی نافذ کر دیتی ہیں۔ شعائر اسلامی کا تحفظ نمائشی اور علامتی اظہار کرتی ہیں اور پورا نظام سیکولر سرمایہ دارانہ قانون اور سرمایہ دارانہ انتظامیہ کی گرفت میں دے دیتی ہیں۔ ان کی استعمار مخالف گرفت رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ ملکی آزادی اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے استعمار سے سودے بازی کر کے اس کی باج گزاری اختیار کر لیتی ہیں۔
ہمیں پاکستان میں مسلم قوم پرستی نے بے اندازہ نقصان پہنچایا ہے۔ تحریک علی گڑھ اور تحریک پاکستان خالصتاً مسلم قوم پرست تحریک تھی اور اس نے جو قوم پیدا کی وہ ایک فاسق قوم ہے اور جو ملک انہوں نے بنایا اس میں ایک دن بھی نہ شرع نافذ ہوئی اور نہ کبھی ملکی یا لیسی سازی علوم اسلامی کے تناظر میں مرتب ہوئی۔ آج بھی ملک میں مقبول ترین جماعتیں (مسلم لیگ نون، تحریک انصاف) اسلام کی غدار اور استعمار کی کاسہ لیس جماعتیں ہیں جنہوں نے غازی ممتاز قادری کا عدالتی قتل کیا۔
ان جماعتوں سے اشتراک عمل اسلامی انقلاب کی راہ مسدود کرتا ہے۔ اس سے اسلامی سیاسی تشخص متاثر ہوتا ہے۔ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کا جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی سے سیاسی تعاون نے اسلامی سیاسی ایجنڈے کو بالکل معطل کر دیا ہے اور اب پاکستان کے سیاسیی منظر میں اسلامی تشخص تقریباً معدوم ہو گیا ہے۔
دوسری نوعیت کی استعمار مخالف سرمایہ دارانہ تحاریک وہ ہیں جنہیں نئی سماجی تحریکیں (نیو سوشل موومنٹس) کہتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں ان کا وجود محدود ہے (گو کہ عرب بہار کے دوران مصر اور تیونس میں ان کی کچھ شرکت موجود تھی) ۔ یہ تحریکیں پس جدیدی شخصیت کا اظہار ہیں۔ پس جدیدی شخصیت ہر قسم کی اخلاقی، سماجی اور نظاماتی حدود و قیود سے آزادی کی خواہاں ہے۔ نئی سماجی تحریکیں فحاشی اور عیاشی کو فروغ دینے کا فطری ذریعہ ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی تخلیق کرتی ہیں لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضے کسی بیرونی اقتداری ذریعے سے ان پر نافذ نہ کیے جائیں بلکہ وہ خود اپنے اوپر اس عقلیت کے فیصلے نافذ کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔ لہٰذا نئی سماجی تحریکات بلا قیادت نظر آتی ہیں اور ان کی ادارتی صف بندی نہایت ڈھیلی ڈھالی نظر آتی ہے۔ نئی سماجی تحریک کی قیادتیں عموماً خفیہ رہتی ہیں اور ان کا سرمایہ دارانہ نظام کی تسخیر کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ دارانہ ریاست سے مراعات کے حصول پر معاملہ طے کرتی ہیں۔ سب سے کامیاب نئی سماجی تحریک میکسیکو کی زپاتستا تحریک رہی ہے۔ اس نے ملک کے بڑے حصے پر اپنا معاشرتی تسلط قائم کر لیا لیکن اس کے لیڈر نے دارالخلافہ میں داخلہ کے بعد حکومت حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ اس قائد کی قیادت میں زپاتسترتحریک امریکن استعمار کی آلہ کار بن گئی اور اس نے نکاراگوا کی انقلابی حکومت کو امریکا کے لئے تخریب کاری کے ذریعہ طور پر اہم خدمات انجام دیں۔
ظاہر ہے کہ اسلامی گروہوں کا نئی سماجی تحریکات سے اشتراک عمل نہایت غیرفطری ہے۔ لیکن تیونس اور قاہرہ میں عرب بہار کے دوران اس نوعیت کا تعاون کیا گیااور اس کا خمیازہ اخوان کو بھگتنا پڑا جب ان تحریکات میں شامل بے شمار لبرل اور قوم پرست گروہوں نے اخوان کی حکومت کے خلاف فوج کا ساتھ دے کر اسلامی حکومت کا ناطقہ بند کر دیا اور آج کل اخوان پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ان میں ان سماجی تحریکات کے لبرل اور قوم پرست گروہ بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔
پس جدیدی سرمایہ دارانہ تحریکیں اپنا غلبہ شہوانی جذبات کو مہمیز دے کر اپنا تسلط قائم رکھتی ہیں۔ شہوانی جذبات کی حتمی تسکین ناممکن ہے۔ شہوانی خواہشات جتنی پوری کی جائیں اتنا ہی ان میں ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا خواہشاتِ نفسانی کو مہمیز دینےو الی تحریکیں نظاماتی تبدیلی پر کبھی منتج نہیں ہوتیں بلکہ عوامی جوش و جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ پھر شہوانی جذبات کی تسکین کے لیے منظم جدوجہد کرنا فطرت کے بھی خلاف ہے۔ اس قسم کی مزاحمت ہمیشہ ایک محدود اقلیت تھوڑے عرصہ کے لیے جاری رکھتی ہے ۔ عوام کی بہت بڑی اکثریت ان تحاریک سے لاتعلق رہتے ہیں اور عوامی تائید جلد سے جلد کم ہو جاتی ہے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ سرمایہ دارانہ حقوق اور معیارِ زندگی میں مستقل بڑھوتری کی جدوجہد عوام کے جذبہ حرص و حسد کو مہمیز دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی خواہشاتِ نفسانی پوری کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں اور جیسا کہ الین بادیو اور فریڈرک جیمسن نے کہا ہے نفسانی خواہشات کی تسکین ناممکن ہے کیوں کہ ان خواہشات کی بنیاد حسد ہے۔ سرمایہ دارانہ طرز زندگی حسد کو فروغ دیتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کو وہ حاصل ہو جو دوسرے کو میسر ہے۔
مساوات کی طلب حسد کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کا طالب بنیادی طور پر دوسرے افراد کو ان کے اموال اور مراعات سے محروم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کی سب سے موثر عوامی جدوجہد اشتراکیت ہے اور اشتراکی جدوجہد کی روح حسد ہے۔ فریڈرک جانسن کے مطابق اگر مارکس کی مفروضہ جنت (کمیونسٹ سوسائٹی) کبھی وجود میں آئی تو وہ حسد سے لبریز ہو گی۔
سرمایہ دارانہ عدل کا عدم وجود یعنی نامساویت کا فروغ سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کا ذریعہ ہے۔ یہ بات لبرل سرمایہ داری کے ایک اہم وکیل ہائیک نے واضح کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں بیش تر لوگ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی کارفرمائی خود بہ خود معاشی نامساویت پیدا کرتی ہے لہٰذا اگر وہ معاشی ارتکاز کی دوڑ میں پیچھے رہے جا رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں کوئی اور فرد، گروہ یا ادارہ نہیں۔ لہٰذا اپنے معاشی وسائل کو فروغ دینے کے لیے انہیں مزید لگن کے ساتھ سرمایہ کے حصول کی تگ و دو کرنی چاہیے۔ یوں ان کا حسد ان کے حرص کو مہمیز دیتا ہے۔ اور پورا سرمایہ دارانہ معاشرہ حرص او رحسد کے اوصافِ خبیثہ کے زیرنگیں آ جاتا ہے۔
حرص اور حسد کو پرورش کرنے والا مرکزی ادارہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ ہے۔ جتنا زیادہ مارکیٹ کا معاشرہ پر تسلط ہو گا اتنا زیادہ معاشرہ میں حرص او رحسد کا غلبہ ہو گا مارکیٹ کا غلبہ سود اور سٹہ کے بازاروں تک محدود نہیں بلکہ ان تمام کاروباروں پر محیط ہے جو سود اور سٹہ کے بازار سے منسلک کمپنیوں سے لین دین کرتے ہیں۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ معاشرہ میں ہر شخص کسی نہ کسی حد تک حرص اور حسد اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسے پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں جو سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی دسترس سے باہر ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کل سرمایہ دارانہ مخالف عسکری جدوجہد پس ماندہ علاقوں تک محدود رہتی ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ مراکز اور سرمایہ دارانہ قوتِ تحکیم کو متاثر نہیں کر پاتی۔ وہ سرمایہ دارانہ تعقل کے لیے کوئی فیصلہ کن چیلنج پیش نہیں کرتی۔ سرمایہ دارانہ معاشروں میں عموماًاس کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوتی اور وہ سرمایہ دارانہ بحرانوں سے مستفید ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی جو نقصان وہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو پہنچاتی ہیں وہ وقتی اورغیردیرپا ہوتا ہے۔
پھر اس کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ یہ عسکری تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو جائیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ماؤسٹ تحریکیں ہیں۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے 1928 سے 1946 تک چینی اور جاپانی سرمایہ دارانہ تسلط کے خلاف ایک "عوامی جنگ" لڑی جس کے نتیجے میں اس نے آخرکار پورے چین پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ کی کامیابی کا بنیادی سبب یہ تھا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی ایک ایسی عوامی شخصیت تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گئی جو انفرادی نہیں اجتماعی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کے تسلط کے علاقوں کا عام باشندہ اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ انفرادی طور پر نہیں اجتماع کے طور پر ہی سرمایہ دارانہ ظلم اور استحصال پر فتح پا سکتا ہے۔ یہ اجتماعی شخصیت سرمایہ دارانہ شخصیت ہی تھی۔ اس کے اہداف آزادی، مساوات اور ترقی ہی تھے۔ لیکن عوام یہ سمجھتے تھے کہ ان سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کے لیے ذاتی قربانیاں دینا ضروری ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کی عوامی جنگ کا بھرپور ساتھ دیا۔
لیکن جب کمیونسٹ پارٹی فتح یاب ہوئی تو سرمایہ دارانہ اجتماعیت بتدریج تحلیل ہونے لگی اور سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی کے اندر ہی سرمایہ دارانہ انفرادیت ابھر آئی اور دھیرے دھیرے پورے معاشرہ میں سرمایہ دارانہ انفرادیت کا غلبہ ہو گیا۔ ماؤ اور اس کے مخالفین نے اس سرمایہ دارانہ انفرادیت کا مقابلہ کرنے کی جتنی بھی کوششیں کیں بالخصوص Great Proletarian Cultural Revolution 1966-72 سب ناکام ہوئیں اور بالآخر 1978 کے بعد سے چین بین الاقوامی سرمایہ دارانہ مارکیٹ کا جزو لاینفک بنتا چلا جا رہا ہے او رایک عام امریکی اور ایک عام چینی کے طرز زندگی میں کوئی بنیادی فرق موجود نہیں۔
ہندوستان، نیپال او رلاطینی امریکا کے کچھ ایسے علاقوں میں جہاں قدیم باشندوں (ریڈ انڈینز) کی اکثریت اب بھی موجود ہے ماؤسٹ تحریکیں طویل عرصہ جاری رہی ہیں لیکن نیپال اور لاطینی قدیم باشندوں کی تحریکیں غالب سرمایہ دارانہ اقتدار سے سمجھوتا کر چکی ہیں اور نکسلباڑی اور سرنگا پٹم کے باقی ماندہ عسکری اپنے تسلط کے دائرے کو وسعت دینے کےقابل نہیں رہے۔
عسکری تحریکوں کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ غیرسرمایہ دارانہ انفرادی شخصیت سازی سرمایہ دارانہ مراکز میں کریں اور اس کے لیے سرمایہ دارانہ مراکز میں ایک غیرسرمایہ دارانہ معاشی اور معاشرتی نظام کا قیام، استحکام اور بتدریج پھیلاؤ ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام عسکری جدوجہد کےذریعہ انجام نہیں دیا جا سکتا اور غیرسرمایہ دارانہ عوامی معاشرتی اور اقتداری ادارتی صف بندی اسلامی مصلحین اور اسلامی انقلابیوں کی ذمہ داری ہے۔
امکانات اور مواقع
جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کا قیام) صرف انقلابی جدوجہد کی وسعت اور رفتار کار پر منحصر نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات سرمایہ دارانہ بحرانوں کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات اور سرمایہ دارانہ مقتدرین کی باہمی کش مکش کی نوعیت بھی انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) کے امکانات متعین کرتی ہیں۔ لہٰذا اسلامی انقلابی تزویراتی حکمت عملی سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کے تغیر کے تناظر میں ہی مرتب کی جا نی چاہیے۔ اسلامی انقلابی تزویراتی حکمت عملی لازماً متحرک، تغیرپذیر اور سیال ہونی چاہیئے۔اس تزویراتی حکمت عملی کو کسی ایک تاریخی دور کی فکر اور رتاریخ کا قیدی بنا دینا اس کا مجروح کر دینا ہے۔ مثلاً جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ کی فکر اور آپ کی اپنائی ہوئی سیاسی حکمت عملی کی قیدی بن گئی ہے اور یہ اس کے معاشرتی اور سیاسی زوال کی سب سے اہم وجہ ہے۔ بلاشبہ مولانا مودودیؒ بیسویں صدی کے ایک اہم متکلم اسلام تھے اور آپ کے دو بنیادی اجتہادات –اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور مغرب جاہلیت خالصہ ہے - دائمی اور ابدی حقائق کا اظہار ہیں لیکن ان اجتہادات کی روشنی میں آپ نے جو فکر مرتب فرمائی وہ بیسویں صدی کے غالب فکری محاکمہ یعنی لبرل آئیڈیالوجی سے متاثر تھی اور اس فکر کی بنیاد پر جو حکمت عملی مرتب فرمائی وہ بیسویں صدی کے سیاسی حالات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کی ۔ ظاہر ہے کہ اب سیاسی اور سماجی حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور پس جدید بیانیہ نے لبرل فکر کی لایعنیت کو دو او ردو چار کی طرح ثابت کر دیا ہے۔ مولانا مودودیؒ کی تزویراتی حکمت عملی کو مقدس سمجھنا نادانش مندی نہیں تو اور کیا ہے۔
تزویراتی حکمت عملی رائج شدہ حالات بالخصوص سرمایہ دارانہ تضادات اور بحرانوں کے تناظر میں مرتب کی جانی چاہیے۔ اکیسویں صدی میں سرمایہ داری کو درپیش سب سے بڑا بحران ماحولیاتی بحران ہے۔ 1950 کے بعد سے عالمی فضائی ، سمندری اور زمینی ماحول مستقل تنزل پذیر ہے۔ اس کی وجہ سائنسی ایجادات کا پھیلاؤ ہے جس کے نتیجے میں توانائی کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تباہی تقریباً ناگزیر ہو گئی ہے۔ ماحولیاتی نظام جس دور میں داخل ہو گیا ہے اس کو global geological society anthropoceneکہتی ہے۔ یعنی ایسا ماحولیاتی نظام جہاں موسمیاتی اور ماحولیاتی تغیر کا اصل سبب انسانی دست برد ہے۔
اس ماحولیاتی تغیر کے کئی مظاہر ہیں۔ سب سے اہم موسم میں گرمی کا اضافہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر توانائی کے استعمال میں حسب معمول اضافہ ہوتا گیا تو پچاس سے لے کر سو سال کے اندر عالمی اوراوسط درجہ حرارت تیس فی صد بڑھ جائے گا اور یہ دنیا زندگی گزارنے کے لیے بتدریج ناقابل رہایش ہو جائے گی۔ طوفان بہ کثرت آئیں گے۔ خشک سالی بڑھے گی جس کی وجہ سے قحط عام ہو جائیں گے۔ سطح سمندر بلند ہونے لگے گی اور جزیرے اور ساحلی علاقے زیرآب آ جائیں گے۔ کئی نوعِ حیات معدوم ہوتی چلی جائیں گی اور جنگلات بیابانوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اور یہ تمام آثار اکیسویں صدی کے شروع سے ظاہر ہونے لگے ہیں۔
ان حالات میں عوام کا سرمایہ دارانہ حاکموں سے بدظن ہوتے چلے جانا ناگزیر ہے۔ امریکی فوج نے 2003 سے "ماحولیاتی خطرہ" کو اپنی طویل المدت منصوبہ بندی کا حصہ بنا لیا ہے۔ امریکی فوج کو دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بغاوتوں کا خطرہ ہے کیوں کہ مستقبل میں اربوں بے روزگار عوام ایسے شہروں کے باشندے ہوں گے جہاں خوراک اور پانی کی سخت قلت بڑھتی جائے گی اور جو بتدریج سمندر میں ڈوبنے لگیں گے کیوں کہ بڑے شہر عموماً ساحلی علاقوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ گرمی اور حبس میں اضافہ غصہ اور اشتعال کو مہمیز دیتا ہے ۔ اس اشتعال کا اظہار تخریب کاری (دہشت گردی) میں ہو گا اور سرمایہ دارانہ حاکموں کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ یہ اشتعال کہاں کب اور کیوں ابل پڑتا رہے گا۔
شام کے حالیہ سیاسی بحران کاگہرا تعلق موسمیاتی اور ماحولیاتی تغیر سے ہے۔ 1998 سے لے کر آج تک شام شدید خشک سالی کا شکار رہا ہے۔ ایسی خشک سالی شام میں پچھلے نو سو سال میں وقوع پذیر نہیں ہوئی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس خشک سالی کا ایک اہم ترین سبب وہ برق رفتار صنعتی ترقی ہے جو حافظ اور بشار الاسد کی حکومتوں نے جاری رکھی اور جس کے نتیجے میں توانائی کا استعمال بے تحاشا بڑھ گیا۔
خشک سالی کے سبب سیکڑوں شامی دیہات غیرآباد ہو گئے اور لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر صحرا میں تبدیل ہو گئی اور لاکھوں لوگ اپنے دیہات چھوڑ کر شہروں کے اور مفلوک الحال خیمہ بستیوں میں رہایش اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
بشار الاسد نے اس بڑھتی ہوئی عوامی زبوں حالی اور فاقہ کشی سے بالکل آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی اشتراکی حکومت نے نجی سرمایہ داروں کو ہر نوعیت کی سہولیات فراہم کیں۔ شام کے شہروں بالخصوص دمشق اور حلب میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھنے لگی۔ شہری زمینوں اورمکانوں میں سرمایہ کاری اور سٹہ بازی کا کاروبار تیزی سےبڑھنے لگا۔ سرمایہ دارانہ اشرافیہ ایک پرتعیش زندگی بسر کرنے لگے۔ عوام پانی کو ترستے رہے لیکن سرمایہ داروں اور حکومتی نوکرشاہی کے محلوں کے باغات مستقل سیراب کیے جاتے رہے۔ دمشق کے ہر کونے پر شراب خانہ اور عیاشی کے اڈوں کا کاروبار چمک اٹھا۔
شامی انقلابی جدوجہد کی ابتدا 2011 میں خیمہ بستیوں اور شہروں کے نواحی علاقوں سے ہوئی۔ تمام انقلابی (بشمول اسلامی انقلابیوں کے )کو اس بات کا احساس ہے کہ عوامی زبوں حالی کا بنیادی سبب ریاستی نظام اور حکومتی پالیسیاں ہیں۔ تمام انقلابی جماعتوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ختم کیے بغیر ایسی پالیسیاں اختیار نہیں کی جا سکتیں جو خشک سالی کے بحران سے نبٹ سکیں۔
روس کے بولشویک انقلاب میں بھی قحط نے ایک بڑا کردار ادا کیا گیا۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں زار کی حکومت کا نظام ترسیل خوراک بالکل تباہ ہو گیا۔ 1917 کے سیلابوں نے مواصلاتی نظام (سڑکوں او رریلوے لائنوں) کو درہم برہم کر دیا۔ اگست 1917 کے مہینے میں آٹے کی قیمت پیٹروگراڈ میں ایک دم سے دگنی ہو گئی۔ لینن نے اس قحط کو انقلاب کا ایک عظیم محرک قرار دیا اور اس کے سہارے اکتوبر کا انقلابی معرکہ سر ہوا۔
ان دو مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ماحولیاتی ابتری سے دو عوامی حلقے شدید ترین متاثر ہوتے ہیں ایک تو وہ کسان جن کے کھیت بنجر ہو جاتے ہیں اور جو شہروں کی طرف مفلوک الحالی میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور خیمہ بستیاں بساتے ہیں اور دوسرے فیکٹریوں میں محنت کرنے والے مزدور۔ گرمی میں اضافہ کا اثر سب سے زیادہ فیکٹریوں میں ہوتا ہے لہٰذا جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے مزدور اور انتظامیہ میں نزاع اور کش مکش میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں: ایک یہ کہ گرمی کا اضافہ مزدوروں کی صفوں میں غصہ اور اشتعال کو مہمیز دیتا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ لامحالہ پیداواری کمی کا باعث بنتی ہے اور اگر فیکٹری میں درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ جائے تو پیداواری استعداد ایک تہائی کم ہو جاتی ہے۔ پیداواری استعداد میں کمی کا مطلب ہے کہ سرمایہ دار کے منافع میں کمی اور فیکٹری کا مینجر مزدوروں کو گرمی کے بڑھنے کے باوجود پیداوار ی رفتار کو برقرار رکھنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان دونوں وجوہات سے مزدور اور مینجمنٹ میں کش مکش میں اضافہ ہوتا ہے اور چین میں مزدوروں کی بڑھتی ہوئی مزاحمتی تحریکوں پر جو تحقیق کی گئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ فیکٹریوں میں گرمی میں اضافہ مزدور مینجمنٹ کش مکش اور آئے دن ہونے والی ہڑتالوں کا اہم سبب ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سرمایہ دارانہ عمل اور سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی کا پھیلاؤ ماحولیاتی بحران کا سب ہے اہم سبب ہے اور سرمایہ دارانہ حاکموں کو اس بات کا خوب احساس ہے لیکن ابھی تک انہوں نے ماحولیاتی بحرانوں سے نبردآزما ہونے کے لیے جو تدابیر کی ہیں وہ بارآور ثابت نہیں ہو رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تدبیریں ٹیکنیکل نوعیت کی ہیں۔ تیل اور گیس اور نیوکلیئر توانائی کو متبادل ذریعہ توانائی سے تبدیل کرنا اور آلودگی کی تجارت۔ لیکن اس نوعیت کی تدابیر اس بنیادی تضاد کو رفع نہیں کرتیں جو ماحولیاتی بحرانوں کے بڑھنے کا اصل سبب ہے۔
ماحولیاتی ابتری کا بنیادی سبب بڑھتی ہوئی رفتارِ سرمایہ کاری اور بڑھتا ہوا معیارِ زندگی ہے۔ جب تک آدمی حرص اور حسد کا اسیر رہے گا اور اس دنیا کو جنت بنانے کی احمقانہ جدوجہد میں لگا رہے گا اس وقت تک وہ اس بات پر مجبور رہے گا کہ ماحول کو تباہ اور برباد کرتا رہے۔ جیسا کہ نیوٹن نے تقریباً پانچ سو سال پہلے کہہ دیا تھا کہ سائنس کا مقصد ہی تسخیر کائنات ہے اور تسخیر کائنات ماحولیاتی تباہی کا دوسرا نام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر مسلسل کھودے جا رہا ہے۔ ماحولیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے تسخیر کائنات کے عمل کو روکنا لازم آتا ہے اور اس کے لیے بڑھوتری سرمایہ اور معیارِ زندگی میں مستقل اضافہ کے عمل کو روکنا ضروی نظر آتا ہے اور اس کا مطلب آزادی اور ترقی کے اہداف کو ردّ کرنا ہے۔
سوال یہ ہےکہ کیاسرمایہ دارانہ نظام ایسی ٹیکنالوجی تعمیرکرسکتاہےجوتسخیرکائنات،بڑھوتری سرمایہ کاری اوراضافۂصرف کواس طرح جاری رکھاجائےکہ اگلےپچاس سےسوسال میں عالمی درجہ حرارت میں دوسینٹی گریڈاضافہ نہ ہواورماحولیاتی بحران پرقابوپالیاجائے۔ فی الحال ایساہونےکےآثارنظرنہیں آتےلیکن سرمایہ دارانہ تاریخ ثابت کرتی ہےکہ سرمایہ داری اپنےنظاماتی بحرانوںپرقابوپانےکی صلاحیت بدرجہ اتم رکھتی ہے۔
اسکےباوجودآیندہ سوسال سرمایہ دارانہ نظام اورطرزِزندگی کوتسخیرکرنےکااہم موقع فراہم کرتےہیں۔ بالخصوص ان غریب ممالک میں (بشمول پاکستان) جہاںگرمی بڑھنے،قحط سالی،پانی کی قلت اورطوفانوں کےدورانیہ میں اضافہ کاشدیدخطرہ ہے۔ ان ممالک میں مزدوراورہاری بالخصوص سرمایہ دارانہ حاکموں کےخلاف بتدریج مشتعل ہوتےچلےجائیں گے۔ اسلامی انقلابیوں کےلیےموقع ہےکہ اس عوامی تحرک کوسرمایہ دارانہ نظام کواکھاڑپھینکنےکاذریعہ بنائیں اوراس تحرک کی بنیادپراشتراکی سرمایہ دارانہ تحکم کونیولبرل سرمایہ دارانہ تحکیم کی جگہ نہ لینےدیں۔ اسکےلیےایسی عوامی سطح کی غیرسرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی قائم اورمستحکم کریں جس کے نتیجے میں عوام کی روزمرہ زندگی پر ماحولیاتی تنزل (خشک سالی، خوراک، اور پانی کی کمی وغیرہ) کا اثر محدود ہو جائے۔
لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ ماحولیاتی بحران کی اثرپذیری کا اصل سبب عوام اور خواص کی معیارِ زندگی میں مسلسل اضافہ کی خواہش ہے۔ ماحولیاتی اثرپذیری سے مقابلہ کا اصل چیلنج یہ ہے کہ عوامی (بالخصوص ہاریوں اور مزدوروں) میں صبر، قناعت، زہد اور تقویٰ کے اوصاف کا فروغ ہو تاکہ سرمایہ دارانہ حاکموں کے خلاف جدوجہد نفرت ، حسد اور انتقامی جذبہ کا اظہار نہ ہو بلکہ یہ جدوجہد کرنے والے اپنے آپ کو مجاہد فی سبیل اللہ جانیں اور ان کا اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو۔
ظاہر ہے کہ یہ مصلحین اور مبلغین کا فرض اور دائرہ کار ہے۔ وہ عوام کی بالخصوص مزدوروں اور ہاریوں کی روحانی مذہبی تربیت کرنے کا بیڑا اٹھائیں اور اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ریاستی تعمیر کی جدوجہد کرنے والے اسلامی روحانیت اور اخلاقیات سے سرشار ہیں اور واقعتاً حکومت الٰہیہ کے قیام اور استحکام کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔
اگر مصلحین اور مبلغین عوامی سطح پر اسلامی مذہبیت اور روحانیت کو فروغ دینے میں کامیاب نہ ہوئے تو انقلابیوں کی جدوجہد کبھی بارآور ثابت نہیں ہو سکتی۔ مصلحین اور انقلابیوں کے اس طور کے اشتراکِ عمل کا ایک حسین نمونہ ہمیں سید بادشاہ اور صادق پوری سیدوں کی جدوجہد میں ملتا ہے۔ اور سید بادشاہ ہم سب کے مولیٰ اورمرشد تھے، بریلویوں کے بھی، دیوبندیوں کے بھی، اہل حدیث کے بھی،آئیے ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کا دوسرا بڑا بحران اس کی معاشی اور ریاستی سطح کی اقتداری صف بندی میں بڑھتی ہوئی دراڑ ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت بڑی حد تک عالمی ہو گئی ہے اور ترسیل اشیا اور ترسیل سرمایہ پر مدت سے لگائی گئی حدبندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اسی کو گلوبلائزیشن کہتے ہیں لیکن افرادی قوت پر قائم شدہ حدبندیاں نہ صرف یہ کہ موجود ہیں بلکہ سخت تر کی جا رہی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ تحکیمی نظام سرمایہ معاشی تنظیم سے ہم آہنگ نہ رہا۔ سرمایہ دارانہ معیشت کے فروغ اور استحکام کے لیے ریاستی کردار نہایت اہم ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست ہی وہ استبدادی قوت (پولیس اور فوج) فراہم کرتی ہے جو سرمایہ دارانہ ملکیت کی پشت پناہی کرتی ہے اور جو سرمایہ دارانہ قانون کی تنفیذ کو ممکن بناتی ہے۔ پہلا سرمایہ دارانہ ملک انگلستان ہے جہاں سترھویں صدی میں پہلے ایک سرمایہ دارانہ حکومت(کرامویل کی کامن ویلتھ) قائم ہوئی اور اس کے سایہ میں دھیرے دھیرے سرمایہ دارانہ ملکیت عام کیا گیا ۔ ہندوستان میں پہلے سرمایہ دارانہ ریاست کا غلبہ ہوااور اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی حکومت نے یہاں سرمایہ دارانہ نظام گاہے گاہے قائم کیا۔
اب جب سرمایہ دارانہ معاشی تنظیم عالمی گیری ہو گئی ہے تو سرمایہ دارانہ تحکیم کو مستحکم کرنے کے لیے ایک عالم گیر سرمایہ دارانہ ریاست کے قیام کی ضرورت ہے لیکن سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار قومی سطح پر ہی مرکوز ہے اور ایک قومی حکومت (یعنی امریکا) ہی سرمایہ دارانہ معاشی تنظیم اور سرمایہ دارانہ قانون کی تنفیذ کی ذمہ دار ہے۔ امریکی حکومت امریکی عوام کو جواب دہ ہے اور انتخابی عمل کے نتیجےمیں جو حکومت بھی برسراقتدار آتی ہے وہ اپنے عوام کا معیارِ زندگی بڑھانے کی جدوجہد جاری رکھنے کو لازم پکڑتی ہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر امریکا حکومت کر رہا ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام پر اس کے حکومت کرنے کا مقصد امریکی عوام کے معیارِ زندگی میں اضافہ اور امریکی رفتارِ بڑھوتری سرمایہ میں اضافہ ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے امریکی حکومت اپنی عالمی اقتداری اجارہ داری کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یہ بات ٹرمپ انتظامیہ کے خارجہ حکمت عملی سے بالکل واضح ہو گئی ہے۔
جب عالم گیر تحکیمی نظام محض امریکی قومی مقاصد کا ذریعہ بن جائے گا تو اس بات کا خطرہ بار بار پیدا ہوتا رہے گا کہ سرمایہ دوسرے ممالک سے کھنچ کھنچ کر امریکا میں مرتکز ہوتا چلا جائے گا اور دیگر سرمایہ دارانہ ممالک اس رجحان کی یقیناً مخالفت کریں گے کیوں کہ ان کے اقتدار کا جواز ان کا ملکی عمل انتخاب فراہم اور ان کے عوام اس عمل کے ذریعے اپنے ملکی حاکموں سے اپنے معیارِ زندگی بڑھانے کی جدوجہد کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ لہٰذا امریکی نظاماتی سیاسی غلبہ کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ ملکی اختلافات فروغ پا رہے ہیں اور جو بین الاقوامی تحکیمی نظام امریکا نے اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او اور ریٹنگ ایجنسیز (آئی ایس او وغیرہ) کے ذریعے قائم کیا تھا وہ کم زور پڑتا چلا جا رہا ہے اور چین، ہندوستان، یورپی یونین اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک اس نظام سے کھلی بغاوت کر رہے ہیں۔
اور امریکا اس نظاماتی بغاوت کو فرو کرنے کی سیاسی اور عسکری قوت نہیں رکھتا۔ اپنی برتری کے زعم میں اس نے اپنی عسکری استعداد کا صحیح اندازہ نہیں لگایا۔ تقریباً دو سو ممالک میں اس کے عسکری اڈے قائم ہیں لیکن 1945 کے بعد سے کوئی بھی جنگ فیصلہ کن انداز میں نہیں جیت سکا۔ نہ ویت نام میں نہ کمبوڈیا میں نہ لاؤس میں نہ کیوبا میں نہ وینزویلا میں نہ ایران میں نہ عراق میں نہ شام میں نہ مالی میں نہ شمالی کوریا میں ۔ چین اور روس اور جرمنی سےعسکری تصادم کا توامریکہ تصور تک نہیں کرسکتا۔
ان حالات میں اس بات کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ امریکی بالادستی کو قبول کرنے سے جو نقصانات ہورہے ہیں ان کی بنیاد پر عوامی جدوجہد کی جائے اور پاکستان جیسے ممالک میں تو یہ نقصانات اظہر من الشمس ہیں۔ یہ نقصانات تہذیبی، معاشی، سیاسی سب نوعیتوں کے ہیں۔ اگر اسلامی انقلابی ایسی قابل عمل پالیسیاں مرتب کریں جو عوام کی روزمرہ زندگی کو ملکی خودانحصاریت کی حکمت عملی سے مربوط کر سکیں تو سرمایہ دارانہ اقتداری اشرافیہ کا وہ حصہ جو امریکیی استبداد سے نجات چاہتا ہے۔ اس قسم کے سیاسی مطالبات کو ردّ نہیں کرے گا اور پارلیمانی ایجنڈہ میں ایک اسلامی پیش رفت کی گنجائش پیدا ہو جانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اس نوعیت کے اقدام سرمایہ دارانہ اقتداری اشرافیہ میں دراڑیں بھی ڈالی جا سکتی ہیں اور ان کو امریکا نواز اور امریکا مخالف گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور امریکا مخالف اشرافیہ پر عوامی دباؤ ڈال کر اسلامی پالیسیوں اور اقدامات کو برداشت کرنے پر آمادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے عوامی سطح پر ایک موثر اور بھرپور استعمار مخالف تحریک کا اٹھانا ضروری ہے۔ اس کے کارکنوں کی ادارتی صف بندی لازم اور اس تحرک اور صف بندی کی بنیاد پر ایک طاقت ور اسلامی اتحاد بھی ضروری ہے جو مستقلاً استعمار نواز پالیسیوں کی مخالفت کرتا رہے اور ان پالیسیوں کا نعم البدل وضع اور پیش کرتا رہے۔
اس حکمت عملی کو اپنانے میں خطرہ یہ ہے کہ اسلامی سیاسی جماعتیں ایک مسلم قوم پرست پالیسی ایجنڈہ اختیار کر لیں گی۔ مسلم قوم پرستی ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے۔ یہ نظریہ مسلمانوں کو امت نہیں قوم تصور کرتا ہے اور ان کی جدوجہد کا مقصدقومی ترقی اور آزادی کا فروغ ہوتا ہے۔ وہ تیزی کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی اختیار کرتے جاتے ہیں اور ان کی نظر میں مذہبی وابستگی بھی قومی ترقی اور آزادی کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اپنانے کا مذہبی جواز پیش کرتے ہیں۔ اس کی سب سے اہم مثالیں صہیونیت اور ہندوتوا ہیں جنہوں نے یہودیت اور ہندومت کو بالکل سرمایہ دارانہ سانچے میں ڈھال دیا اور اسرائیل اور بھارت عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل بن گئے۔
پاکستانی اسلامی جماعتیں بالخصوص جماعت اسلامی میں مسلم قوم پرستی کا زہر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس فتنہ کا سدباب بھی صرف مصلحین اور مبلغین ہی کر سکتے ہیں۔ یہ انہی کی ذمہ داری ہے کہ مسلم قوم پرستی سے برآمد شدہ حرص اور حسد کے میلانات اور جذبات خبیثہ کے خلاف بند باندھیں اور استعمار مخالف تحریکات کو اسلامی روحانیت اور جذباتیت سے بھر دیں تاکہ اسلامی سیاسی جماعتوں کا ماڈرنائز ہو کر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم ہونا ناممکن ہو جائے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اور کم زوری یہ ہے کہ جیسے جیسے اس کا معاشی اور معاشرتی پھیلاؤ وسیع ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے اس کا سیاسی اقتداری نظام (سرمایہ دارانہ ریاست) نسبتاً کم زور ہوتی جا رہی ہے۔ دورِ حاضر میں سرمایہ داری کا رائج الوقت سیاسی نظریہ نیولبرل ازم ہے اور نیولبرل ازم کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کو سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی کارفرمائی سے زیادہ سے زیادہ لاتعلق ہو جانا چاہیے۔ اس نظریہ پر عمل کرنے کے لیے جو کلیدی حکمت عملی اپنائی جا تی ہے اس کو نج کاری کہتے ہیں۔ اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست اپنے مالی اثاثے (اپنے بینک، اپنی فیکٹریاں، اپنے خدمتی دفاتر) نجی شعبہ کے ہاتھوں فروخت کرتی چلی جاتی ہے اس امید پر کہ نجی کمپنیوں کی کارفرمائی خود بھی رسد اور طلب میں توازن بھی قائم رکھے گی اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز سے تیز کر دے گی لیکن پچھلے تیس سال کے تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہونا نہایت دشوار گزار ہے۔ 1970کی دہائی سے بڑے سرمایہ دارانہ ممالک میں رفتارِ ترقی سست ہو گئی ہے۔ اور آئی ایم ایف نے2017 کی پیش گوئی ہے کہ اس سال یہ رفتارِ نمو صرف ایک فی صد سے دو فی صد رہے گی۔ نج کاری کی پالیسی اختیار کرنے سے یورپی ممالک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ پھر ان چالیس سالوں میں بار بار مختلف ممالک میں معاشی بحران آتے رہے ہیں۔ ان ممالک میں ارجنٹائن، روس، جنوبی کوریا، ملائشیا، یونان اور امریکا وغیرہ شامل ہیں۔ سب سے اہم بحران 2008 میں آیا جس کے آثار ابھی تک پورے طور پر معدوم نہیں ہوئے۔ یہ بحران امریکا میں شروع ہوا لیکن ایک سال کے اندر اندر اس نے پوری ترقی یافتہ دنیا بالخصوص چین اور یورپی یونین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
سرمایہ دارانہ معاشی بحران کیوں آتے ہیںَ یہ سمجھنے کے لیے اس بات کا ادراک کرنا ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ میں سرمایہ عمومی کے فروغ کا ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا۔ ہر نجی سرمایہ دارانہ عامل خواہ فرم خواہ بینک صرف اپنے مخصوص سرمایہ کی بڑھوتری کی جدوجہد کرتی ہے اور اس جدوجہد کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ بازار لازماًاجارہ دارانہ ساخت اختیار کر لیتا ہے۔ ہر اجارہ دار کی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم خرچ کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کمائے۔ پیداواری اخراجات کا وہ حصہ جس کی بنیاد پر مانگ بڑھتی ہے اجرتیں ہیں اور پیداواری اخراجات کی کمی لازماً اجرتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں پچھلے چالیس برسوں سے اجرتیں اوسطاً منجمدرہی ہیں اور ان کی رفتارِ نمو بڑھوتری سرمایہ کی رفتارِ نمو سے بہت کم ہے۔ ان ممالک میں عوام کی قوت خرید اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی کہ تمام فاضل سرمایہ منافع بخش طور پر استعمال میں لایا جا سکے۔ لہٰذا کارپوریشنوں کی بچتوں کا انبار بڑھتا جا رہا ہے اور ان کو صرف سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں کھپایا جا سکتا ہے لیکن سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کا بنیادی انحصار پیداواری معیشت پر ہوتا ہے۔ دورِ حاضر میں ترقی یافتہ معیشتوں میں پیداواری شعبہ سکڑ رہا ہے اور فنانشل شعبہ پھولتا جا رہا ہے اور جیسے جیسے پیداواری شعبہ سکڑ رہا ہے ویسے ویسے فنانشل سیکٹر کے منتشر ہونے کے خطرات بڑھتے جاتے ہیں۔ لہٰذا پیداواری شعبہ کی رفتارِ نمو کو بڑھانا اور مانگ کو تقویت دینا فنانشل مارکیٹ کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت صرف قرضہ بڑھا کر ہی پوری کی جا سکتی ہے۔ امریکا میں جب قوت خرید منجمد ہوئی (اجرتوں کے منجمد ہونے کے نتیجے میں) تو بینکوں نے عوام کو بڑے پیمانے پر مکانات، گاڑیاں اور دوسری اشیا ئے صرف خریدنے کے لیے قرضے دے۔ عوام پر سودی ادائیگیوں کا بوجھ اتنا بڑھا کہ ماہانہ آمدنی سے ماہانہ سودی ادائیگی زیادہ ہو گئیں اور وہ سودی ادائیگیوں کے متحمل نہ رہے۔ اس کے نتیجے میں جن بینکوں نے ان کو قرضے دیے تھے ان کےدیوالیہ ہونے کا خطرہ بہت بڑھ گیا کیوں کہ سودی وصول یابیوں کے ذریعے ہی بینک اپنے سرمایہ کاروں کو سودی ادائیگیاں کرسکتے تھے۔
بینکوں کا دیوالیہ ہونا پورے سرمایہ دارانہ ساختی نظام کا انہدام ہے اس انہدام سے بچنے کے لیے امریکا، یورپ اور چین کی سرمایہ دارانہ ریاستوں نے اپنے بینکوں کو 2008 سے لے کر آج تک تقریباً 6700کھرب ڈالر کے قرضے دے رکھے ہیں اور بینکوں سے ریاستی سودی وصول یابیاں تقریباً بالکل منسوخ کر دیں ہیں۔ لیکن اس سبب سے عوامی قوت خرید میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا کیوں کہ یہ 6700کھرب ڈالر عوام کے ٹیکسوں سےہی بڑی حد تک حاصل کیے گئے ہیں۔
آج تقریباً ہر سرمایہ دارانہ حکومت –امریکا، چین، جاپان، یورپی یونین – کی حکومتیں قرضوں کے پہاڑ تلے دبی ہوئی ہیں اور قرضوں کے ان پہاڑوں کی اونچائی اور پھیلاؤ مستقل بڑھتا جا رہا ہے۔ ان قرضوں کو کم کرنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ ایک تو ان قرضوں کی سہارا بنی فنانشل مارکیٹ بحران سے بچائے جا رہے ہیں۔ دوسرے انہی قرضوں کے سہارے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ریاستیں اپنے حریص اور حاسد عوام کو ایک عیاشانہ طرزِ زندگی فراہم کیے ہوئے ہیں۔ تیسرے انہی قرضوں کے سہارے امریکا پوری دنیا میں اپنی دہشت گرد عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
لیکن ان بحرانوں کی اس وسعت اور گیرائی سے یہ سمجھنا کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام خود بہ خود منہدم ہوجائے گا نادانش مندی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظاماتی تاریخ میں کئی بحران آتے رہے ہیں اور ابھی تک سرمایہ دارانہ حکمت عملی سےان سب پر قابو پا لیا گیا ہے۔ آج بھی سرمایہ دارانہ زر کی نئی نئی اقسام ایجاد کی جا رہی ہیں (مثلاً بِٹ کوائن، ای کریڈٹ وغیرہ) اور کیا عجب کہ ان اور دیگر ایجادات کے ذریعے سرمایہ دارانہ ریاست اپنے قرضہ جاتی بحران پر قابو پا لے۔
پر یہ بات سچ ہے کہ حالیہ سرمایہ دارانہ ریاستی بحران نے اسلامی مصلحین اور انقلابیوں کے لیے تحفظ اور غلبہ دین کے نئے امکان روشن کرائے ہیں۔ آج سرمایہ دارانہ ریاست ایک ایسے قرضہ جاتی جال میں مقید ہو گئی ہے جس سے باہر نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاست کی تحکیمی استعداد میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور معیشت کا ایک بڑھتا ہوا حصہ اس کی تحکیمی گرفت سے باہر ہے اور یہ آزاد معیشت سرمایہ دارانہ مراکز (بڑے شہروں) میں بھی خوب پھل پھول رہی ہے۔ پاکستان میں دس فی صد سے بھی کم لوگوں کا بینک اکاؤنٹ ہے اور پچانوے فی صد کاروبار ایسا کیا جا رہا ہے جس کا نہ سود کے بازار سے کوئی تعلق ہے نہ سٹہ کے بازار سے۔ اسلامی بینک کاری اس کاروبار اور اس عوامی حصہ کو سرمایہ دارانہ سودی اور سٹہ کے مارکیٹوں میں ضم کرنے سے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے (گو کہ یہی اس کی ایجاد کا استعماری مقصد تھا)۔
جو لوگ اور جو کاروبار سود اور سٹہ کے مارکیٹوں سے تعلق نہیں رکھتے وہ سب حلال رزق کما رہے ہیں۔ یہ مصلحین کی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اس حلال کاروبار کو ملکی سطح پر اس طرح منظم کریں کہ یہ اسلامی روحانیت اور اخلاقیات کا مظہر بن جائے اور اس کے وسعت اور پھیلاؤ سے کے ذریعہ عوام میں یہ نظریہ عام ہو کہ "معاش تو معاد کمانے کا ذریعہ ہے"۔ پچھلے پچاس سال سے ملائشیا کی اسلامی تحریک دارلارقم اور لبنان کی حزب اللہ اس نوعیت کی معاشی منصوبہ بندی کرنے میں کامیاب تجربہ کر رہی ہیں اور علمائے ایران نے بھی بازار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کاروباری صف بندی کو اپنے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔ اسلامی انقلابی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کے ذریعے اسلامی کاروباری نظام کی وسعت پذیری سرمایہ دارانہ قانونی دست برد اور سرمایہ دارانہ ریاستی ماتحتی سے محفوظ رکھیں۔
الغرض سرمایہ دارانہ نظام کی حالیہ ساختی اور اساسی کم زوریاں تحفظ اور غلبہ دین کے کام کو آگے بڑھانے کے وافر مواقع فراہم کرتی ہیں۔
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
کیا ہمارے مصلحین اور انقلابیوں کا گروہ اس ذمہ داری کو قبول اور ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کی جدوجہد کی نوعیت کیا ہے۔ اس سوال کا جواب ہم اگلے باب میں دینے کی کوشش کریں گے۔
باب ۵: اصلاحی اور انقلابی عمل کی نوعیت
نوعیت
تحفظ اور غلبہ دین کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ اصلاحی اور انقلابی عمل کو ایک نظریاتی محاکمہ کے تناظر میں مرتب کیا جائے۔ نظریات اور عقائد میں فرق پہچاننا نہایت اہم ہے۔ عقائد دائمی ہوتے ہیں اور ان پر زمان اور مکان کے تبدل کا کچھ اثر نہیں۔ مثلاً ہمارا عقیدہ "اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے" (ان الدین عنداللہ الاسلام) حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے لے کر آج تک یہ سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے اوراس میں کسی قسم کا کوئی تبدل گوارا نہیں لیکن اسلامی ضابطہ حیات کو اکیسویں صدی میں کیسے محفوظ رکھا جائے کیسے غالب کیا جائے؟ اسلامی عقائد کے تناظر میں کئی جواب دیے جا سکتے ہیں اور یہ تمام جوابات اکیسویں صدی میں پاکستان کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیے جائیں گے۔ اور ان جوابات کا اُن جوابات سے کسی نہ کسی حد تک مختلف ہونا لازم ہے جو دوسرے وقت میں دوسرے مقامات پر دیے جائیں گے۔ اگر ایسا نہیں تو لازماً تحریک تحفظ اور غلبہ دین کسی پرانے دور کی (عموماً اس دور کی جب وہ قائم ہوئی تھی) قیدی بنی رہے گی۔
یہ بات سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفظ اور غلبہ دین کے لیے جو حکمت عملی اپنائی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مختلف تھی اورچوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سرمایہ دارانہ نظام موجود نہیں تھا لہٰذا آج سرمایہ دارانہ نظام کو مسخر کرنے کے لیے جو حکمت عملی تفویض کی جا ئے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نظاماتی اصولوں کی بنیادوں پر قائم ہونے کے باوجود اس کا چربہ نہیں ہو سکتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آج سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود نہیں۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نظریات مقدس نہیں ہوتے اور نظریات کی تخلیق متکلمین کرتے ہیں۔ فقیہ نہیں کرتے۔ فقہ کے لیے تقلید لازم ہے۔ کلام میں تقلید نہیں۔ متکلم کا کام تو نقد کے ذریعے ہی آگے بڑھتا ہے۔ مثلاً بیسویں صدی کے اہم متکلم اسلام مولانا مودودیؒ تھے۔ آپ نے ہندوپاک میں غلبہ دین کی ایک نظریاتی اسکیم تعمیر فرمائی۔ مولانا مودودیؒ کے کام کو آگے بڑھانا ہے تو لازماً اس کا نظریاتی نقد مرتب کرنا ہو گا۔ ورنہ مولانا مودودیؒ کی فکر بھی شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، حضرت شاہ ولی اللہ اور چوہدری افضل حق مرحوم کی فکر کی طرح منجمد ہو کر محض ایک تاریخی دور کا حصہ بن جائے گی۔
اسلامی عقائد کی بنیاد پر قائم اور ان کے تناظر میں کی جانے والی ہمہ جہت نظریاتی کش مکش تحفظ اور غلبہ دین کی ارتقا اور ان کا معاصرانہ حالات میں relevant رہنے کے لیے ناگزیر ہے۔ آج پاکستان میں اسلامی عقائد عوامی سطح پر فروغ پا رہے ہیں۔ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد ہنوز بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں لوگ حج، عمرہ اور زیارتوں کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ خانقاہوں اور مزاروں پر عوام کا اژدحام ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے اجتماعات مقبول سے مقبول تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود نہ ہم اسلامی علمیت اور معاشرت کو تحفظ دینے میں کامیاب ہیں نہ نظام اقتدار میں اسلامیت کا وجود نظر آتا ہے۔ ہم سرمایہ دارانہ استعمار کے لیے ایک تر نوالہ بن گئے ہیں۔ ماڈرنائزیشن کا سیلاب اسلامی علمیت اور معاشرت کو مضحکہ خیز بنا رہا ہے۔ ہماری مساجد، مدارس اور خانقاہوں پر ریاستی دست برد اور استعماری تعدیب پڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ استعمار ہمارے مدارس تک میں گھس رہا ہے اور علما اور صوفیہ کی صفوں سے بھی استعماری حلیف برآمد ہو رہے ہیں۔
اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ہم اعتقادات اسلامی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر تحفظ اور غلبہ دین کی کوئی نظریاتی حکمت عملی مرتب نہ کر سکے۔
یہ مقالہ جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں یہ تحفظ اور غلبہ دین کی ایک نظریاتی اسکیم ہے۔ یہ پورے کا پورا ایک قیاسی اور منطقی بحث ہے اور اس میں بے شمار اغلاط کا ہونا ناگزیر ہے کیوں کہ یہ تجزیہ مرتب کرنے والوں کا مطالعہ اور مشاہدہ لازماً محدود ہے اور جیسا کہ پیرانِ پیر دست گیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا ہر غیر نبی کے مشاہدات لازماً محدود ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر اس مقالہ میں پائے جانے والے بیانات کو کلی طور پر درست اور حرفِ آخر تسلیم کر لیا گیا تو کوئی فعال حکمت عملی وضع نہ ہو سکے گی۔ لیکن اگر اس مقالہ کی گذارشات پر کڑی تنقید کی گئی اور یہ مقالہ ایک ایسی ہمہ جہت بحث کے آغاز کا باعث بنا اور مختلف النوع آراء ان اغلاط کو رفع کرنے کے لیے تفویض کی جاتی رہیں تو اسلامی اصلاح اور انقلاب کے عمل کی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
اصلاحی اور انقلابی حکمت عملی کو مربوط کرنے اور اس کی تزویری حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے نظریاتی بحثوں کا مستقل جاری رہنا لازم ہے۔ تزویراتی عمل نظریاتی بحثوں ہی سے برآمد ہوتا ہے۔ اگر اصلاحی اور انقلابی گروہوں میں نظریاتی بحثیں معدوم ہو گئیں توہم دورِ حاضر کے لیے کوئی تزویراتی حکمت عملی مرتب نہ کر سکیں گے۔
کوئی بھی تزویراتی حکمت عملی مطلقاً صحیح یا غلط نہیں ہوتی۔ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم، تنسیخ اور اضافہ کی گنجائشیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں۔ اس لیے تزویراتی حکمت عملی اور جن نظری بحثوں سے وہ برآمد ہوتی ہے ان کو منجمد اور اپنی تاریخ کا قیدی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کو مستقلاً تبدل اور ارتقا کے عمل سے گزرتے رہنا چاہیے۔
آج پاکستان میں تزویراتی نظری بحثیں صرف دہریہ (سیکولر) کر رہے ہیں۔راسخ العقیدہ اسلامی گروہ اس قسم کی بحثوں سے عموماً گریزکرتی ہیں۔ انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کا قیام) پر یقین مصلحین کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی ریاست کو قائم کرنے کا عمل اسلامی اقتدار کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے (اور اسلامی حکومت کا قیام اسلامی ریاست کے قیام و استحکام کی جدوجہد کا محض ایک جزو ہے)۔ اور اسلامی اقتدار کا بالخصوص مقامی سطح پر مستحکم ہوئے بغیر مصلحین اور مبلغین کا کام آگے نہیں بڑھ سکتا اور استعمار کی باج گزار سرمایہ دارانہ ریاستیں اپنے اقتدار کی بنیاد پر ہی اسلامی مصلحین کے کام کو بہ تدریج سرمایہ دارانہ قانون کے شکنجہ میں کس رہی ہیں۔
انقلابی عمل میں مصلحین کی معاونت اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ مصلحین ہی ہیں جو عوامی وابستگیوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ یہ بات صوفیہ کرام، تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کی اثر و نفوذ سے واضح ہے۔ مصلحین عوام میں روحانی اور مذہبی تحرک کو فروغ دیتے ہیں اور مصلحین کی جماعتوں اور گروہوں کے نظم کے ماتحت عوام اسلامی انقلابی جماعتوں کی بنیاد عوامی مخاطبین ہوتے ہیں۔ جب مصلحین کی جماعتوں میں انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) سے تیقن کم زور پڑتا ہےتو وہ اہل دین کی اقتدار سے محرومی، بے بسی اور لاچاری کو دائمی تصور کر لیتے ہیں۔ ان کے زیر تسلط عوام ریاستی اقتدار کی کش مکش سے بالکل لاتعلق ہو جاتے ہیں اور یوں اسلامی انقلابی جماعتیں اپنی فطری constituencyسے محروم ہو کر یا تواقتداری کشمکش بالکل بے دخل ہو جاتی ہیں یا بہ تدریج سیکولر ہو کر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں سمو جاتی ہیں۔
اسلامی انقلابی جماعتوں کا سرمایہ دارانہ نظم اقتدار میں سمو جانے کا خطرہ مستقل ترقی پذیر ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اپنی عوامی مذہبی constituencyکو بااقتدار کیے بغیر اسلامی انقلابی جماعتیں اسلامی حکومت بنانے کی جدوجہد کرتی ہیں جیسا کہ "عرب بہار" کے دوران مصر اور تیونس میں ہوا۔ ان دونوں ممالک میں اسلامی جماعتوں کی عوامی بنیاد مستحکم اور وافر تھی اور بالخصوص اخوان المسلمون اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کا ایک حسین مرقع تھی (اور ہے) لیکن جب ان جماعتوں نے اسلامی حکومتیں قائم کیں تو وہ اپنے عوامی کارکنوں کی طرف ریاستی اقتدار بالخصوص مقامی سطح تک منتقل نہ کر سکیں۔ لہٰذا اسلامی حکومت کے قیام کے باوجود ریاست سرمایہ دارانہ ہی رہی اور یہ جماعتیں سرمایہ دارانہ قانون، نوکرشاہی اور فوج کے مرہون منت حکومتیں چلاتی رہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مصر میں ہزاروں اخوانی شہید کر دیے گئے، ہزاروں ریاستی تعذیب کا شکار رہے اور اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ تیونس کی اسلامی سیاسی جماعت نے اسلامی ریاستی نظام کے قیام سے مکمل دست برداری اختیار کر لی اور آج تیونس ایک خالص سیکولر سرمایہ دارانہ ریاست ہے۔ پاکستان میں اسلامی سیاسی جماعتوں کی تائید محدود ہے۔ یہاں کی اسلامی جماعتیں اقتدار میں شمولیت کے لیے سیکولر جماعتوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کی مسلم لیگ، جماعت اسلامی تحریک تحریک انصاف کی بی ٹیم بنی رہی ہے۔ سیکولر جماعتوں سے یہ اشتراک عمل اسلامی اقتدار کو بالکل فروغ نہیں دے سکتا بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں اسلامی سیاسی تشخص بہ تدریج مدغم ہو رہا ہے۔ خیبر پختون خوا میں پانچ سال تک ایم ایم اے کی حکومت قائم رہی۔ پچھلے پانچ سال تک جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ کی حکومت میں شریک رہی ہے لیکن وہاں ریاستی اور نجی سودی نظام بغیر کسی تبدیلی کے رائج ہے اور پھل پھول رہا ہے۔
سرمایہ دارانہ ریاست میں اسلامی حکومت کا قیام صرف اس صورت میں بارآور ہو سکتا ہے جب یہ اسلامی حکومت سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو بہ تدریج منہدم کرنے کا ارادہ اور استطاعت رکھتی ہو۔ اس استعداد کا پیدا ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ انقلابی جماعتیں مصلحین کی جماعتوں سے ایسا تعاون منظم کریں جس کے نتیجے میں ریاستی اقتدار بہ تدریج مصلحین کی جماعتوں کے کارکنوں اور متاثرین کی طرف منتقل ہوتا رہے۔ہر محلہ کی مسجد کا امام اپنے علاقہ کا واحد عوامی جائز نمایندہ کے طور پر پہچانا جائے اور مقامی ادارتی صد بندی اس طرح کی جائے کہ ریاستی اقتدار سرمایہ دارانہ انتظامیہ کے ہاتھوں سے مذہبی اقتداری مراکز کی طرف منتقل ہوتا رہے۔
یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب مصلحین کی جماعتیں انقلابی جماعت کی پشتیبان ہوں اس کے لیے مصلحین اور انقلابی جماعتوں کے نظم ایک دوسرے سے مربوط کرنا۔ شورائی عمل میں تمام اسلامی گروہ سب اسلامی جماعتیں شریک ہوں اور ایک دوسرے کے لیے اپنے تنظیمی دروازے کھلے رہیں۔ انقلابی جماعتیں سرمایہ دارانہ ریاست کے وفادار کارندے نہ بن جائیں بلکہ مصلحین کے اداروں میں ریاستی اقتدار کی منتقلی کی جدوجہد کریں۔ تحفظ اور غلبہ دین کی تحریکات کا ادغام اسلامی تزویری نظریات کو فروغ دے کر ایک ایسا قومی بیانیہ مرتب کرنے کی کوشش کرے گا جو ریاستی تزویراتی بیانیہ کی تردید کرے جو عوامی سطح پر مقبول عام ہو جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ ریاست کے متبادل عوامی اقتداری اداروں کی تعمیر اور کارفرمائی فروغ پائے۔
دورِ حاضر میں مرکزی ریاستی اداروں سے اقتدار مقامی سطح پر منتقل کرنے کے کئی تجربات کیے جارہے ہیں۔ مثلاً وینزویلامیں مرکزی ریاستی ڈھانچہ کو کم زور کرنے کی جستجو پچھلے بیس سال سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے وسیع پیمانے پر عوامی کاروباری ادارہ اور کمیونٹی سیاسی اقتداری ادارہ بنائے۔ ان کمیونٹی کونسلوں کو چلانے میں لاکھوں لوگوں کو کل وقتی اور جزوقتی ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ ان کونسلوں کے ماتحت سڑکیں، بند، اسکول اور ہسپتال بنائے اور چلائے جا رہے ہیں۔ ملک میں پچاس ہزار سے زیادہ کمیونٹی سنٹر کارفرما ہیں اور انہی کے سہارے شاویز کی پارٹی کی حکومت آج تک قائم ہے۔ اور یہ بات بالخصوص قابل توجہ ہے کہ وینزویلا کی انقلابی حکومت نے 2002 کی جتنی عوامی ادارتی صف بندی کی وہ سب فوجی خطوط پر کی اور فوجی تنظیم وہ ماڈل قرار پایا جس کی بنیاد پر عوام کو منظم کیا گیا۔اور اس ہی عوامی اقتداری صفبندی کے نتیجہ میں امریکہ آج تک وینزویلا کی انقلابی حکومت کو بے دخل کرنے میں ناکام رہاہے۔
لیکن وینزویلا کی حکومت آج شدید خطرے میں ہے۔ جمہوری اور انتخابی عمل کو جاری رکھنے کے نتیجے میں اس نے امریکی استعمار کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر مدت دراز تک تخریب کاری کرے۔ آج وینزویلا کے رئیس امریکا کے ایجنٹ بن گئے ہیں۔ وہاں کے زمین داروں، تاجروں اور صنعت کاروں نے غذائی اشیا کی مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے اور لاکھوں لوگ حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں۔ پھر چوں کہ وینزویلا کی حکومت نے معیشت کی ساختی اصلاحات نہ کیں اور بین الاقوامی تیل کی منڈیوں پر وینزویلا کی معیشت کا انحصار بڑھتا گیا لہٰذا تیل کی قیمتیں جب گرنے لگیں تو حکومت قلاش ہو گئی اور اس کو رفاہِ عامہ کے اخراجات میں کمی بڑے پیمانے پر کرنی پڑے ۔ عوام کے میلانات بدلے نہ تھے انہوں نے شاویز کی حکومت کو اپنے معیارِ زندگی بڑھانے کے لیے منتخب کیا تھا۔ جب حکومت یہ کرنے سے قاصرہو گئی تو اس کی عوامی اعانت بھی تحلیل ہونے لگی۔ 2019 کے صدارتی انتخاب میں شاویز کے جانشین Maduro کو شکست کا سامنا ہے۔
وینزویلا کے تجربات سے ہمیں دو سبق اخذ کرنے چاہیئں۔ ایک یہ کہ انقلابی عمل کے دوران عوام کے میلانات اور خواہشات کو بدلنا نہایت ناگزیر ہے۔ جو اسلامی جماعت عوامی خواہشات اور حقوق کو فروغ دینے کی بنیاد پر اسلامی حکومت بنائے گی وہ اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودے گی کیوں کہ انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) کے بعد ملک یقیناً شدید معاشی اور سیاسی بحران سے دو چارہو جائے گا اور عین ممکن ہے کہ بھارت، امریکا یا چین سے جنگ چھڑ جائے۔ اگر عوام میں صبر، فقر، استقامت اور تقویٰ کے اوصاف عام نہ ہوئے اور اگر وہ مخلصین دین کی قیادت کے تحت منظم نہ ہوئے تو وہ لازماً اسلامی ریاست سے غداری کر دیں گے۔ صرف مصلحین کے گروہ ہی عوام کی روحانی، مذہبی اور اخلاقی حالت کو بدل سکتی ہیں لہٰذا مصلحین کی جماعتوں کی قیادت میں عوام کو منظم کرنا بھی ناگزیر ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ جمہوری عمل استعماری تخریب کاری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جمہوری عمل میں تخریب کے ذریعے ہی امریکہ نے سوویت روس کو ختم کیا لہٰذا تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد لازماً جمہوری عمل کو محدود کرنے پر مجبور ہے اور جمہوری عمل کو کم زور کرنے کا موثر ترین ذریعہ اسلامی اقتداری ادارتی صف بندی ہے۔ ایک اسلامی حکومت جمہوری نظام کو اسی وقت محدود اور معطل کر سکتی ہے جب اس کا متبادل عوامی اقتداری نظام مستحکم اور کارفرما ہو۔ یہ بات انقلاب ایران سے واضح ہے۔ لہٰذا اسلامی ریاست کا قیام اور استحکام دونوں اس بات پر منحصر ہیں کہ عوامی اسلامی اقتداری ادارتی صف بندی فروغ پائے۔ یہ کام بھی مصلحین اور انقلابیوں میں اشتراک عمل کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
جہت اور ساخت
اب ہم اصلاحی اور انقلابی گروہوں کی تنظیمی ساخت پر گفتگو کریں گے اور اس بات پر غور کریں گے کہ دور حاضر میں سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کے خلاف موثر جدوجہد مرتب کرنے کے لیے ہمیں کس نوعیت کی تنظیمی ساخت اپنا نا چاہیے۔
مسلم ممالک میں سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد تاریخی طور پر استعمار کے خلاف جدوجہد سے منسلک ہو گئی ہے بلکہ درست تو یہ ہے کہ استعمار مخالف جدوجہد نے سرمایہ دارانہ مخالف جدوجہد کو مسخر کر لیا ہے۔ استعمار مخالف جدوجہد نے عموماً تحریکاتِ قومی آزادی اور خودمختاری کی صورت اختیار کی ہے۔ یہ تحریکیں دو قسم کی ہیں۔ ایک تحریکاتِ قومی آزادی جیسے پاکستان، ہندوستان اور عرب دنیا کی قومی آزادی کی تحریکیں۔ ان کا مقصد اپنے ممالک میں جب وہ آزاد ہو جائیں تو ایک لبرل سرمایہ دارانہ نظام کا قیام ہوتا ہے اور آزادی کے حصول کے فوراً بعد یہ قومی آزادی کی تحریکیں استعمار سے تعاون اور امداد طلب کرتی ہیں۔ مثلاً اپنی 11 اگست 1947 کی اس تقریرمیں جس میں جناح صاحب نے کہا تھا کہ مذہبی شناخت کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں اور سب پاکستانیوں کے یکساں ریاستی حقوق ہونے کا اعلان کیا تھا اسی تقریر میں آپ نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کا تہنیتی پیغام بہت فخر سے پورے کا پورا پڑھ کر سنایا اور 14 اگست کو ایک ہنددو جگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کا پہلا وزیرقانون بنا کر پاکستان میں نفاذِ شریعت کو عملاً ناممکن بنا دیا۔ مسلم لیگ اپنی ابتدا سے ایک اسلام دشمن جماعت رہی ہے اور اس میں کیا تعجب کیوں کہ مسلم قوم پرستی فطرتاً ایک اسلام دشمن نظریہ ہے:
بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکہ دین و وطن
کوئی اس دور میں اب حیدر کرار بھی ہے
ظاہر ہے کہ دستوری قومی آزادی کی تحریک کا تنظیمی ڈھانچہ نہ اصلاحی اسلامی تحریک کے لیے موزوں ہے نہ اسلامی انقلابی تحریک کے لیے گو کہ اسلامی انقلابی عمل کے ذریعے مسلم قوم پرستانہ نظریاتی اور تنظیمی کارفرمائی کے تضادات سے یقیناً فائدہ اٹھایا جا سکتاہے اور دخول کی ایسی حکمت عملی موثر ثابت ہو سکتی ہے جو ان تضادات کو فروغ دے اور جس پر اسلامی گروہوں کا مکمل کنٹرول ہو۔ کسی نہ کسی حد تک ہماری سب سے موثر اسلامی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام اس ضمن میں آج کسی حد تک کامیاب نظر آتی ہے۔
دوسری نوعیت کی استعمار مخالف تحریکیں جو نوآبادیاتی ممالک میں اٹھیں وہ غیردستور گوریلا تحریکیں ہیں۔ ان تحریکوں کے کلیدی مفکر ماؤ اور فینن (Fanon)ہیں۔ ان تحریکوں نے عسکری مزاحمت اور گوریلا جنگ کی حکمت عملی اختیار کی اور ان کی جماعتوں کی ادارتی صف بند ی میں فوجی تنظیمی ہیئت کو بہت اہمیت حاصل ہوئی۔ ان تحریکوں کو دیرپا کامیابی چین، الجیریا، کمبوڈیا، ویت نام، لاؤس، کیوبا، موزمبیق، انگولا، گنی بساؤ، جنوبی افریقا اور کیوبا میں حاصل ہوئی۔ جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں چین میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی وہ پیپلز لبریشن آرمی کے ذریعے دیہی علاقوں کی فتوحات کو مستقل توسیع دینا۔ ان علاقوں میں پارٹی کی کارفرمائی کو عوامی حقوق کو فروغ دینے پر مرکوز اور شہروں کے گھیراؤ کے ذریعے استعمار نواز حکومت کو بے دخل کرنے پر مشتمل تھی۔
دیگر بیش تر ملکوںمیں شہر کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے (سوائے جنوبی افریقا کے) لہٰذا گوریلا جنگ عموماً غیر شہری علاقوں تک محدود رہی۔ الجزائر اور کیوبا کے شہری علاقوں میں اور جنوبی افریقا کے شہری علاقوں میں گوریلوں کو محنت کش یونینوں کی بھرپور اعانت حاصل رہی ۔ یہ یونینیں لاکھوں مزدوروں کی طاقت ور تنظیمیں تھیں اور بڑی حد تک طبقاتی شناخت کو اپنائے ہوئے تھیں۔
پھر ان تمام ممالک میں گوریلا تحریکوں کا مقابلہ کم زور حکومتوں اور شکست زدہ استعمار سے تھا۔ یہ بات فرانس اور پرتگال کے بارے میں بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے جن سے الجیریا، ویت نام، کمبوڈیا، لاؤس، انگولا، موزمبیق اور گنی بساؤ کی گوریلا تحاریک نبردآزما تھیں۔ چین میں ماؤ کی عسکری جدوجہد کا جو دور تھا (1928 تا 1949) اس دور میں امریکا معاشی بحران کا بھی شکار تھا اور چین میں موجود دوسری استعماری قوتوں (برطانیہ، فرانس، جاپان) کی طرح دوسری جنگ عظیم میں پوری طرح ملوث تھا۔ جاپان کے علاوہ کسی استعماری قوت بہ شمول امریکا کی سیاسی توجہ چین پر مرکوز نہ تھی اور جاپان ایٹم بم کی ضرب کھانے کے بعد کسی مزاحمت کے قابل نہ رہا تھا۔
اس سب کے علاوہ تمام کامیاب گوریلا تحریکوں کی پشت پر روس اور چین کی استعماری طاقت ہر وقت موجود تھی۔ یہ بات جنوب مشرقی ایشیا او رافریقا کی تمام تحریکوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے (چین کے بارے میں نہیں کیوں کہ 1947 تک سوویت یونین ماؤ کی حکومت کا مخالف رہا)۔ جنوبی افریقا اور زمبابوے کی تحریک کی پشتیبانی روس بھی کر رہا تھا اور پورا یورپ (بالخصوص یورپ کے یہودی عناصر) بھی اور ان گوریلا تحریکوں کی کامیابی استعمار سے مصالحت کی بنیاد پر ایک دستوری قوم پرست حکومت قائم کرنے پر ہوئی۔
اس تجربہ سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ پاکستان میں گوریلا تنظیمی حکمت عملی اپنانا
غیردانش مندانہ عمل ہے۔ اس کی وجوہات حسب ذیل ہیں:
- پاکستان کے دیہی علاقہ جاتا پنجاب اور سندھ میں شہروں سے مربوط ہیں اور بڑی حد تک یہ بات خیبرپختون خوا کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ دیہاتی معیشت خود کفیل نہیں (جیسے یہ چین اور جنوب مشرقی یورپ میں انقلابی دور میں تھی) بلکہ شہری معیشت سے منسلک ہے اور دیہی معیشت کا شہری معیشت پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے قبائلی علاقہ جات بڑی حد تک خودکفیل ہیں لیکن وہاں آبادی اس قدر مختصر ہے کہ ملکی سیاست میں ان کا حجم نہ ہونے کے برابر ہے۔ پھر یہ دیہی عوام سرداری نظام اور وڈیرہ شاہی کے مخالف نہیں۔ ان نظام میں پوری طرح پیوست ہیں اور بلوچ قوم پرست گوریلا تحریک اس سرداری نظام کے سہارے ہی چل رہی ہے۔ ماؤ نے 1928 کے بعد جس طرح چینی دور دراز علاقوں کی طرف اپنی پارٹی کے ساتھ سفر(لانگ مارچ) کیا تھا ۔ یہ بالکل ناممکن ہے کہ پاکستان کی اسلامی انقلابی تحریکیں بلوچستان کے دیہی علاقوں کی طرف ہجرت کریں اور اس ہجرت کے نتیجہ میں وہاں اسلامی عصبیت بیدار ہو جائے۔ اس نوعیت کی نقل مکانی کا تجربہ ہم دو بار کر چکے ہیں۔ سید بادشاہ کے دور میں اور پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر تحریک ہجرت کے دور میں۔ یہ دونوں تحریکیں سرحدی علاقوں اور افغانستان میں بالکل جڑ نہ پکڑ سکیں اور اس دور کے قبائلی نظام نے استعمار سے مل کر ان کو سختی سے کچل دیا۔
- دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں منظم صنعتی اور خدمتی مزدور طبقہ نہایت قلیل ہے۔ یونینوں میں مزدوروں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے اور مستقل گھٹتی جا رہی ہے۔ افرادی قوت کا نوے سے پچانوے فی صد حصہ ہاریوں اور گھروں کے ملازمین اور چھوٹے کاروباریوں (نائی، رکشہ ڈرائیور، ریڑھی والے وغیرہ) پر مشتمل ہے۔ مزدوروں میں کسی قسم کی نظریاتی شناخت (بہ شمول طبقاتی شناخت) کا کوئی وجود نہیں۔ اسلامی مزدور تحریک (جماعت اسلامی کی نیشنل لیبر فرنٹ) بالکل ناکام ہو کر ایک رفاہی ادارہ بن گئی ہے۔ اشتراکی یونینوں کی قیادت سیٹھ کی آلہ کار بن گئی۔ پاکستان کی مزدور تنظیمیں نج کاری کے عمل کے خلاف کوئی موثر مزاحمت نہ کر سکیں اور پاکستان کی معیشت تیزی سے نیولبرل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ان مزدوری اجتماعیتوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ کسی گوریلا تحریک کا ساتھ دیں گی دیوانگی سے کم نہیں۔
بلاشبہ پاکستانی ریاست ایک کم زور ریاست ہے اور اس کا انتظامی اور قانونی ڈھانچہ نہایت مجہول ہے لیکن اس مجہول انتظامی ڈھانچہ کا سب سے طاقت ور او ربااثر ستون پاکستانی فوج ہے۔ یہ کثیر التعداد فوج اعلیٰ تکنیکی اور تنظیمی صلاحیتوں کی حامل ہے اور فوجی اور نیم فوجی ادارے surveillance technologyمیں تیزی سے مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ حکومت کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ یہ ایک مقبول عام فوج ہے اور پنجاب اور پختون خوا کے عوامی حلقے اس کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اس کو اپنا محافظ گردانتے ہیں اور اس کی مخالفت کو ملک دشمنی تصور کرتے ہیں۔ پاکستانی فوج کی قیادت ہرسطح پر ملکی اور وطنی ہے اور یہ سعودی اور خلیجی افواج کے برعکس اپنی تزویراتی حکمت عملی خود متعین کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ فوج میں کسی نہ کسی حد تک اسلامی عصبیت بھی موجود ہے اور اس کا اظہار ہماری نیوکلیئر استعداد کی دفاع اور جہاد کشمیر کی اصولی معاونت سے ہوتا ہے۔
فوج دستوری لبرل ریاستی نظام کا حصہ ہے اور وہ نظام کے خلاف عسکری جدوجہد ملکی سالمیت کے لیے خطرہ اور ملکی مفادات کے خلاف سمجھتی ہے اور اس نوعیت کی کارروائیوں کو کچل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جیسا کہ وزیرستان کے تجربات سے ثابت ہے۔
پاکستان پر استعماری قوتوں کی گرفت نہایت مضبوط ہے۔ امریکا اور برطانیہ کی گرفت تو شروع سے تھی اور اس کے سب ہی حاکم مداح تھے۔ 1965 کے بعد سے چینی استعمار کی گرفت بھی بہ تدریج مضبوط ہو رہی ہے اور چین کے ہم نوا تو آج مولانا فضل الرحمان، جناب سراج الحق اور حضرت خادم حسین رضوی تک ہیں۔ چین اور امریکا کے گھس بیٹھیے ہمارے سیاسی اور سماجی نظام کی بیش تر جہتوں میں موجود ہیں اور پاکستانی سیاست اور معاشرت پر امریکی تخریبی ایجنسیوں کی گرفت تو شاید پاکستانی ایجنسیوں کی گرفت سے زیادہ مضبوط ہے۔ امریکا اور چین دونوں کے لیے پاکستان کی سیاسی تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ان ممالک سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان میں برپا گوریلا جدوجہد کی بھرپور مخالفت کریں گے او راس کو کچلنے میں سرمایہ دارانہ مقتدر ہ ان کا پورا پورا ساتھ دیگی۔
ان وجوہات کی بنا پر ہماری نگاہ میں گوریلا جماعتوں میں پائی جانے والی تنظیمی ہیئت پاکستان کی غلبہ دین اور تحفظ دین کی تحریکات کے لیے موزوں نہیں۔ یہ تحریکیں اس وقت جس مقام پر ہیں وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ تحریکات کی عوامی بنیادوں کو وسیع اور مضبوط کیا جائے اور اقدامی پیش رفت کو عوامی بنیادوں کی وسعت اور استحکام کی رفتار پر متعین کیا جائے۔ اس کو Clausewitzنے "وار آف پوزیشن" کہا ہے۔
جہاد 1857 کی پسپائی کے بعد برصغیر کی اسلامی تحریکات بہت بڑی حدتک اقدامی پیش رفت سے اجتناب اختیار کر چکی ہیں اور اقدامی پیش رفت کی گئی وہ سرمایہ دارانہ مخالف نہ تھی بلکہ اس کا پورا فائدہ مسلم اور ہندوستانی قوم پرست جماعتوں مسلم لیگ اور کانگریس کو ہوا ہم کو نہیں۔ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے سے ہمیں بلاشبہ وسیع فوائد حاصل ہوئے۔ اسی حکمت عملی کو اپنانے کی بدولت ہمارے علما اور صوفیہ دین اسلام کے پورے کے پورے علمیاتی، روایتی اور روحانی اثاثے کو ماڈرنائزیشن کی گرفت سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو گئے اور یہی حکمت عملی آج مساجد اور مدارس کو استعمار اور سیکولر دست برد سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اس دفاعی حکمت عملی پر مکمل انحصار کرنے سے ہم ریاستی اقتدار سے بہ تدریج محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ عوامی زندگی میں ہماری سیاسی اور ثقافتی وزن کم ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان میں مخلصین دین کے گروہ ایک اقلیت کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ اس دفاعی حکمت عملی کی بنیاد پر ایک ایسی اقدامی حکمت عملی کی تنفیذ کی جائے جس کے نتیجہ میں مخلصین دین اپنا کھویا ہوا معاشرتی اور ریاستی اقتدار بہ تدریج دوبارہ حاصل کر سکیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں عوام کو ان کی اسلامی شناخت کی بنیاد پر متحرک اور منظم کرنا ہو گا۔ ہمیں ایسا تنظیمی ڈھانچہ مرتب کرنا ہو گا جس کے ذریعے ہر ایک پاکستانی کو یہ احساس دلا سکیں کہ بنیادی طور پر وہ نہ مزدور ہے نہ کسان ، نہ افسر ہے نہ فوجی، نہ ڈاکٹر ہے نہ انجینئر، نہ بگتی ہے نہ یوسف زئی، نہ مہاجر ہے نہ پنجابی۔ اساساً اور اصلاً وہ مسلمان ہے اور اس کی افسری، اس کی پنجابیت، اس کی لسانی شناخت محض اس کی اسلامی شناخت کے ذریعے ہیں۔ یہی "اسلام مکمل نظام حیات ہے" کا عملی اظہار ہے جیسے جیسے عوام اسلامی عصبیت اور اسلامی شناخت سے سرشار ہوتے جائیں گے ویسے ویسے مخلصین دین کی تحریکات کی عوامی دست رس اور معاشرتی اور اقتداری گرفت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عوام کی روزمرہ کی زندگی میں ان کی اسلامیت کے اظہار کے مواقع فراہم کریں۔ روزمرہ کی زندگی تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ حصولِ معاش کی جدوجہد جو جاگتے اوقات کا دورِ حاضر میں بہت بڑا حصہ لے لیتی ہے، معاشرتی زندگی جو بنیادی طور پر برادری سے روابط برتنے میں اس ملک میں صرف کی جاتی ہے اور مذہبی زندگی۔ ہمارے مصلحین اور مبلغین کی جماعتوں کی ادارتی صف بندی عوام کی مذہبی زندگی تک محدود ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں بھی روزمرہ کی معاشی اور سماجی زندگی کی ادارتی صف بندی کی طرف توجہ نہیں دیتیں۔ ہماری حکمت عملی تو یہ ہونا چاہیے کہ عوام کی روزمرہ کی معاشی اور سماجی زندگی ان کی مذہبی زندگی سے منسلک اور اس کے تابع ہو جائے۔ اس کے لیے عوامی سطح پر معاشی اور سماجی ادارتی صف بندی کی اشد ضرورت ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا آج پاکستان میں کم از کم نوے فی صد کاروبار نہ سود کے مارکیٹ سے منسلک ہے نہ سٹہ کے مارکیٹ سے۔ یہ حلال کاروبار ہے لیکن اس کاروبار کو اسلامی اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ سرمایہ دارانہ روح اس میں حلول کر گئی ہے۔ ایک عام تاجر، دکان دار، کسان اور پیشہ ور جس کے کاروبار کا سود او رسٹہ کے بازار سے کچھ تعلق نہیں اپنی معاشی جدوجہد کو معاد کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتا۔ وہ بھی حرص اور حسد کے جذبات سے ویسا ہی مغلوب ہے جیسا کہ ایک سرمایہ دارانہ تاجر، صنعت کار، مزدور اور کسان۔ علاوہ ازیں گو کہ حلال کاروبار سود اور سٹہ کے مارکیٹوں کا حصہ نہیں وہ سودی اور سٹہ بازی کی چلنے والی کارپوریشنوں سے معاشی تعلقات رکھنے پر مجبور ہے اور سرمایہ دارانہ ریاستی تنظیم اور تعدیبی گرفت اس پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔
حلال کاروبار کی ادارتی صف بندی کیے بغیر اس کاسرمایہ دارانہ نظام پر انحصار کم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ہماری اصلاحی اور انقلابی جماعتوں کو ایک اسلامی غیرسرکاری پبلک سیکٹر قائم کرنا اور چلانا ہو گا جو حلال کاروبار کو اسلامی مذہبی اور روحانی زندگی کاحصہ بھی بنائے اور سرمایہ دارانہ مارکیٹوں اور سرمایہ دارانہ ریاست کی قانونی اور نظاماتی گرفت حلال کاروبار پر بہ تدریج منہدم بھی کرتا چلا جائے۔ افسوس کہ ہماری کسی جماعت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی (ہم نے اسلامی پبلک سیکٹر منظم کرنے کی تجویز کئی مرتبہ علمائے بنوری ٹاؤن، جماعت اسلامی اور جماعت الدعوۃ کی خدمت میں پیش کی لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا) بلکہ اسلامی جماعتوں نے جب بھی کاروباری دنیا میں دخول کی کوشش کی تو وہ بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ اس کا سب سے تلخ تجربہ تبلیغی جماعت کوہواہے جس کی اعانت سے قائم شدہ بیش تر تمویلی اسکیمیں مالی خرد برد اور اسکینڈل کا شکار ہوئی ہیں۔
معاشرتی زندگی میں بھی اسلامی روحانیت کا نفوذ کم زور پڑتا جا رہا ہے۔ برادری اور قبائلی نظام میں مخلصین دین بزرگوں کا اثر محدود سے محدود تر ہوتا جا رہا ہے۔ وہ برادری اور قبائل کی سربراہی سے بڑی حد تک معزول ہوتے گئے ہیں اور برادریوں کی سیاست خود غرضی، نسل پرستی، حرص اور ہوس کا مظہر بن کر رہ گئی ہے۔ خانقاہی نظام روبہ زوال اور برطانیہ کے دور سے سندھ اور پنجاب کے صوفیہ کے بڑے بڑے خاندان سرمایہ دارانہ استعماری اقتداری نظام کا جزو لاینفک بنے ہوئے ہیں۔ پیری مریدی کا نظام روبہ تنزل ہے ۔ آج عوام پیروں کی طرف معرفت کے حصول کے لیے رجوع نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد اپنی خواہشات نفسانی کی برآوری ہوتی ہے۔ مزارات کی فضا فحشیات اور خلاف شرع اعمال سے بڑی حد تک آلودہ ہے۔ وہ رسوم و رواج جو صوفیہ عظام نے اسلام پھیلانے کے لیے مرتب کیے تھے (فاتحہ، درود، محافل میلاد، نذر و نیاز، سماع، امام عالیؓ مقام کی عزاداری) ان کی تطہیر کی کوئی کوشش موجود نہیں بلکہ علما کی صفوں سے ان کو ختم کرنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے۔ ان کو ہندوانہ قرار دیا جا رہا ہے اور یوں عوامی معاشرتی زندگی میں کو ماڈرنائزیشن کے درآنے کی راہ ہم وار کی جا رہی ہے۔ تمام پاکستانی زبانوں (بالخصوص اردو، پنجابی اور سندھی) پرسیکولر دہریہ ادیب اور نقاد چھائے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں معاشرتی زندگی اسلامی روحانیت اور مذہبیت سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشرتی تزویراتی حکمت عملی مرتب نہیں۔ یہ کام نہ مصلحین نے کیا نہ انقلابیوں نے۔ اگر ہمیں تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے تو ہمیں ایسی معاشرتی ادارتی صف بندی کی ضرورت ہے جو برادریوں کی روزمرہ زندگیوں میں اسلامی روحانیت اور اخلاقیات بھر دے۔ جو برادریوں کے نظام اقتدار میں مخلصین دین بزرگوں کا اقتدار قائم اور مستحکم کرے جو اِن برادریوں اور خانوادوں کو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار سے جدا کرے۔ جو تصوف اور اسلامی رسوم و رواج کی تطہیر اور فروغ کا ذریعہ بنے اور جو پاکستانی زبانوں میں اسلامی ادبی رجحانات کو غالب کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسی معاشرتی ادارتی صف بندی کی تنفیذ مصلحین اور انقلابی جماعتوں کے اشتراک عمل ہی سے ممکن ہوسکتی ہے۔
معاشی اورمعاشرتی ادارتی صف بندی کے ذریعے ہی عوامی قوت منظم کی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر جمہوری بالخصوص انتخابی پیش رفت لاحاصل ہے کیوں کہ اگر عوام اسلامی بنیادوں پر منظم نہ ہوئے تو آپ پارلیمان میں کتنی بڑی اکثریت بھی حاصل کر لیں ریاستی اقتدار کو سرمایہ دارانہ اداروں (بیوروکریسی، کارپوریشن، عدلیہ، میڈیا وغیرہ) سسے مخلصین دین کی قیادت کی طرف منتقل نہیں کر سکتے۔ اگر عوام اسلامی خطوط پر مخلصین دین کی قیادت میں منظم نہ ہوئے تو انتخابی کامیابی کے ذریعے جو اسلامی حکومت قائم ہو گی وہ سرمایہ دارانہ ریاستی ڈھانچے کی قیدی ہو گی۔ جیسا کہ اخوان کے 2012 کے اور ایم ایم اے 2002 تا 2008 کے تجربات سے واضح ہوتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انقلابی عمل کا مقصد سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی اصلاح اور تنظیم نو نہیں اس کی تسخیر ہے۔ انقلابی عمل سرمایہ دارانہ عدل کے فروغ کے لیے جاری نہیں رہتا انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) کے لیے برپا کیا جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی تسخیر مصلحین اور انقلابیوں کی مشترکہ جدوجہد کے بغیر ناممکن ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہمیں سرمایہ دارانہ ریاست کی تسخیر منظور ہو تو ہمیں ایسے کارکنوں کی ضرورت نہیں جو سرمایہ دارانہ نظام کو بہتر اور دیانت دارانہ بنیادوں پر چلانے کی اہلیت رکھتے ہوں (یعنی پروفیشنلز) بلکہ ایسے کارکنوں کی ضرورت ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل عوامی تنظیم اور اصلاح کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ کارکن مصلحین کی صفوں میں ملتے ہیں اور انہوں نے پچھلے ڈھائی سو سال سے برصغیر میں سرمایہ دارانہ نظام سے غیرمنسلک ایک تعلیمی، تربیتی اور مذہبی نظام کارفرما رکھا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسی نظام تعلیم، تربیت اور تہذیب کو اتنا وسیع کیا جائے کہ ملکی سطح پر اسی نظام میں پوری سیاسی، معاشی اور ثقافتی زندگی سما جائے۔ اسلامی تربیتی اور تہذیبی نظام اور طرزِ زندگی کو وسعت دینے کے لیے اس کی اقتداری صلاحیت کو فروغ دینا لازم ہے اور انقلابی عمل کا مقصد اسلامی تربیتی اور تہذیبی نظام کی اقتداری تنظیم کے ذریعے ہی انقلابی واقعہ (اسلامی حکومت کے قیام) کی طرف مسلسل پیش رفت کرتے رہنا ہے۔ تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے غیرمربوط انفرادی اقدام کافی نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسی ملک گیر تزویراتی حکمت عملی اپنانی چاہئے جس کے ذریعے ایسی فعال ادارتی صف بندی وجود میں آئے جو تمام اصلاحی اور انقلابی اقدامات کو مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اسلامی گروہوں کے اقدامات کے ارتباط کو فروغ دینے میں اس وقت ایک اہم رکاوٹ ملک گیر شورائی عمل کی مصنوعی تحدید ہے۔ ہر اسلامی جماعت کا انفرادی شورائی نظام ہے جس میں دوسری اسلامی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں کی شرکت دستوری بنیادوں پر ناممکن بنا دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں شورائی نظام محض علامتی ہے۔ کارکنوں سے بنیادی مطالبہ قیادت سے وفاداری اور دستور کی پابندی کا ہے۔ جماعتی حکمت عملی پر کھلی مخلصانہ تنقید شجر ممنوعہ بن گئی ہے۔
بہ مے سجادہ رنگیں کن اگر پیر مغاں گوئید
اس کے نتیجہ میں تمام اسلامی جماعتوں میں (خواہ اصلاحی خواہ انقلابی) پالیسی سازی کا عمل بیوروکریٹک ہو گیا ہے۔ جماعتوں کا میڈیا اور ان کا پریس قیادت اور پارٹی لائن کا پرچارک بن گیا ہے۔ ملک گیر اجتماعات کا رکنان تقریباً ناپید ہو گئے ہیں اور جب منعقد بھی ہوتے ہیں تو ان کی حیثیت خالصتاً نمایشی ہوتی ہے جن سے کارکنوں سے بھرپور تائید اور تحسین کی توقع کی جاتی ہے۔ کارکنوں کی حیثیت cheer leaders کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ پالیسی سازی کے عمل میں شرکت برائے نام ہے اور پالیسیاں نہ اندرونی وسیع المیعاد عمل سے برآمد ہوتی ہیں نہ بین الجماعتی پیہم مشاوراتی عمل سے۔
ہمیں ایسی ادارتی صف بندی کی ضرورت ہے جو مشاورتی عمل کو ہمہ گیر بنا دے جس میں تمام ارکان اور کارکنان مستقل حصہ لیتے رہیں اور تمام جماعتوں کی قیادت اور کارکنان اس ہمہ گیر اور مستقل جاری رہنے والی پالیسی سازی کے عمل میں حصہ لینے کا مکلف ہو۔ اگر اصلاحی اور انقلابی جماعتوں میں ارتباطِ عمل پیدا کرنا ہے تو اس نوعیت کی ادارتی صف بندی لازم ہے۔
اقدامات:
کس نوعیت کے اقدامات تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے جیسا کہ ہم نےعرض کیا عوام میں اسلامی تشخص کے فروغ کی ہے۔ اس کے لیے ایک حکمت عملی کی تفویض کی ضرورت ہے جو اسلامی تعلیمی نظام کو وسعت دے کر اور عصر حاضر کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تکنیکی مسائل پر کلاسیکی اسلامی علمیاتی منہج (تفسیر، تاویل، فقہ، کلام اور علوم لدنی) میں ان مسائل کے حل تلاش کیے جانے کی گنجائش پیدا ہو۔ تحریکاتِ اسلامی (اصلاحی اور انقلابی دونوں کی) ایک اہم کم زوری یہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ علمیت اور نظاماتی منہاج سے بالکل ناواقف ہیں۔ اسی وجہ سے وہ سرمایہ دارانہ نظام پر بحیثیت ایک کل کے کوئی حکم نہیں لگاتے اور سرمایہ دارانہ عملی جزئیات کی اسلام کاری میں اکثر ملوث ہوتے ہیں۔ اس اسلام کاری کا روایتی عنصر یہ ہوتا ہے کہ اس طرح شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے آسانی پیدا ہو جاتی ہے لیکن اس رویہ کو اختیار کرنے سے جو دیرپا نقصانات ہوتے ہیں ان سے سہو نظر کرنا نہایت مضر ہے۔
اس کی سب سے واضح مثال اسلامی بینک کاری کا فروغ ہے۔ علما نے سرمایہ دارانہ تمویلی معاہدات کا شرعی جواز مرتب کیا اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے کثیر تعداد میں دولت سرمایہ دارانہ سود اور سٹہ کے بازاروں میں ضم ہوتی چلی جا رہی ہے اور اسلامی بینک سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں تیزی سے ترقی کرنے والے عناصر بن گئے ہیں۔
ماڈرنسٹ ثقافت کے خلاف بند باندھنا بھی اشد ضروری ہے ۔ یہ ثقافت عالم گیری ہے اور سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کے فروغ کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تفریحی صنعت دنیا کی سب سے مال دار صنعت بن گئی ہے اور میڈیا سے زیادہ سرمایہ دارانہ تہذیبی اور سیاسی غلبہ کا آج کوئی آلہ کار نہیں۔ میڈیا اور تفریحی صنعت کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی مزاحمت جاری رکھنا تحفظ اور غلبہ دین کے لیے اشد ضروری ہے۔
عوام کو ماڈرنسٹ تہذیب اور اس کے میڈیا اور تفریحی آلہ کاروں سے متنفر اور علیحدہ کرنے کا اہم ترین ذریعہ اسلامی رسوم اور رواج کا فروغ ہے ۔ صوفیائے عظام نے اسی ذریعے سے برصغیر میں اسلامی معاشرت کو عام کیا۔ آج یہ رسوم و رواج غیرشرعی اعمال سے پراگندہ ہو گئے ہیں ۔ ان کی تطہیر اور ان کا فروغ بالخصوص بریلوی علما اور قادری صوفیوں کی ذمہ داری ہے۔
انقلابی عمل اس بات کا متقاضی ہے کہ کمیونٹی کی سطح پر اقتدار مرتب کیا جائے اور اقتدار کے استعمال کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو بہ تدریج مفلوج کیا جائے۔ دورِ حاضر میں اسلامی خطوط پر یہ کام شاذ ونادر ہی کیا گیا اور برصغیر کی سترھویں صدی کے بعد کی تاریخ میں تو یہ عمل بالکل معطل ہو گیا۔ لہٰذا کوئی معروضی خاکہ موجود نہیں جس پر اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے مکمل انحصار کیا جا سکے۔ کمیونٹی کی سطح پر ارتکاز اقتدار کی جدوجہد لازماً ایک تجرباتی چیز ہے جس میں کامیابی اور ناکامی کے امکان ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ ہمیں ایسی لچک دار نظریاتی اور تزویراتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو وقتی ( اور حادثاتی) کامیابیوں سے فائدہ بھی اٹھا سکے اور ناکامیوں کو سہار کر انقلابی عمل کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ تحریکات کی قیادت میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مستضعفین کی آواز بن کر ان کی رہ نمائی کر سکیں۔ دورِ حاضر میں اس کی بہترین مثال امام خمینیؒ ہیں۔ قیادت کو کمیونٹی کی سطح پر عوامی ادارتی صفبندی کے نئے نئے تجربات کرنے کی صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
تکنیکی اور معاشی میدان میں اس نوعیت کے تجربات عوام کی روزمرہ کی زندگی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مثلاًماحولیاتی تنزل سے پیدا ہونے والے خطرات – غذائی قلت، پانی کی کمی، قحط سالی اور طوفان – سے نبردآزما ہونے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر کئی اقتصادی اقدام کیے جا سکتے ہیں مثلاً:
- Deep dams کی تعمیر
- سیلابوں کو روکنے والے بندوں اور دیواروں کی تعمیر
- کوئلے اور تیل کی صنعت کی کارفرمائی اور پھیلاؤ کی روک تھام کے اقدامات
- غذائی اشیا کے بین الاقوامی ترسیلی نظام کی مخالفت کے منصوبے
- نجی مواصلاتی نظام کی کارفرمائی بالخصوص فضائی مواصلات پر مزاحمت اور پبلک مواصلات کی حوصلہ افزائی
- جنگلات کی کٹائی کی مخالفت
- ایسے متبادل توانائی بالخصوص شمسی توانائی کی تنصیبات کی تعمیر جو عوام خود چلا سکیں۔
- غیرملکی فوجی اڈوں کے وجود اور پھیلاؤ کی مزاحمت
- Surveillance technologyکے استعمال اور فروغ کی عوامی مزاحمت
- آبی اور توانائی کے وسائل کی نج کاری کی مخالفت اور ان وسائل کو کمیونٹی کی سطح پر کنٹرول کرنے کا منصوبہ
- زرعی کوآپریٹوز کا فروغ
- ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کی نجی ملکیت کی مزاحمت
- فنانشل نظام کی نجی ملکیت کی مخالفت اور اس کے خلاف ایک متبادل اسلامی نظام تمویل کا فروغ
اس نوعیت کی اسکیموں کو عوامی سطح پر کیسے منظم کیا جا سکتا ہے اور کیسے چلایا جا سکتا ہے۔ اس پر ایک وسیع لٹریچر موجود ہے جس کی نمایندہ تحریر Naomi Klein کی 2015 میں شائع ہونے والی کتاب “This Changes Everything”ہے۔ اور اس ایشو پر دوسرے قابل ذکر مصنفین میں David Schwarzman, Andria Mahn, Robert Cavaris وغیرہ شامل ہیں۔ اس نوعیت کے منصوبوں کو منظم کرنے اور چلانے کا تجربہ کئی افریقی اور لاطینی امریکی انقلابی تحریکوں نے کیا ہے جن میں برکینا فاسو، نائیجر، مالی، صومالیہ، بولیویا، وینزویلا، ایکواڈور اور پیرو کی عوامی تحریکیں شامل ہیں۔
اس ضمن میں لاطینی امریکا کی مزاحمتی تحریکوں کے تجربات بالخصوص قابل توجہ ہیں۔ یہ تحریکیں نہ عسکری بغاوتی تھیں نہ ان کا ہدف استعماری ریاستی غلبہ تھا ۔ یہ نیولبرل نظام کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریکوں جن کاانحصار پورے کا پورا جمہوری عمل پر تھا۔ یہ مزدوروں، کسانوں اور متوسط طبقہ کو نیولبرل نظام اور منصوبوں کے خلاف متحرک اور منظم کرنے میں ایک نسبتاً قلیل عرصہ میں کامیاب ہو گئیں اور اس کامیابی کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اقتدار حاصل کرنے سے قبل یہ انقلابی کمیونٹی کی سطح پر معاشی اور معاشرتی پراجیکٹس کے ذریعے عوام کو منظم اور مقتدر کرسکے۔ ان کی کامیابی کا دارومدار انہی کمیونٹی معاشی پراجیکٹس کی کامیابی پر بڑی حد تک تھا۔ انہی کمیونٹی معاشی پراجیکٹس میں مجتمع عوام کو ریاستی اقتداری گرفت سے کسی نہ کسی حد تک آزاد کیا اور ان میں انقلاب برپا کرنے کی خوداعتمادی پیدا کی۔ لاطینی امریکا کی کامیاب ہونے والی انقلابی جماعتیں ان سماجی تحریکات کا پھیلاؤ سےبہ تدریج نمایاں ہوئی تھیں۔ یہ کمیونسٹ اور فاشسٹ جماعتوں کی طرح وین گارڈ پارٹیاں نہ تھیں (وین گارڈ پارٹی کا تصور ہم اگلے باب میں ان شاء اللہ بیان کریں گے) لیکن انہوں نے بڑے پیمانے پر غیرقانونی متشدد مظاہروں کا استعمال کیا ۔ حکومت میں آنے کے بعد بھی یہ پارٹیاں عوامی تحرک کو جاری رکھنے اور عوامی کمیونٹی اداروں کو بااقتدار بنانے پر کسی نہ کسی حد تک مجبور ہوئیں۔ ان جماعتوں سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ جتنے بڑے پیمانے پر آپ عوام کو (ریاستی قوت حاصل کرنے سے قبل) متحرک کرنے اور بااقتدار بنانے میں کامیاب ہوں گے تشددی مزاحمت کی ضرورت اتنی ہی کم پڑے گی۔ عوام کو کمیونٹی پراجیکٹ کے ذریعے منظم کرنا ضروری ہے لیکن تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے تو اس کام کو اس طرح کرنا ہو گا کہ عوام کی یہ معاشرتی اور معاشی صف بندی سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی میں ضم نہ ہو جائے۔ ہماری مصلحین اور انقلابیوں کی جماعتوں نے کسی نہ کسی حد تک معاشرتی اور معاشی سطح پر کام کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس ضمن میں جماعت الدعوۃ اور جماعت اسلامی نمایاں اور اسلامی جماعتوں سے غیرمنسلک مخلصین دین کی تنظیموں مثلاً عالم گیر ٹرسٹ نے بھی اس میدان میں پیش رفت دکھائی لیکن یہ سب کام سرمایہ دارانہ نظام میں دراڑیں ڈالنے میں بالکل بے اثر ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تو کلاسیکی سوشل ورک اور اس نوعیت کا کام سب سرمایہ دارانہ ادارے مثلاً ایدھی فاؤنڈیشن، آغاخان ٹرسٹ کر رہے ہیں اور اس کا سرخیل تو بڑی حد تک سرمایہ دارانہ کارپوریشنیں ہیں جو اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے ضمن میں بڑے پیمانے پر پیسہ خرچ کرتی ہیں اور ایدھی فاؤنڈیشن وغیرہ کی امداد بھی کرتی ہیں۔ اس نوعیت کے کام کو فروغ دینے میں استعماری تخریبی ادارے مثلاً یو ایس ایڈ، ڈی ایف آئی ڈی، سی ڈی اے اور جے آئی سی اے بھی کسی سے پیچھے نہیں بلکہ خبر تو یہ گرم ہے کہ یو ایس ایڈ جرمن اور جاپانی تحریکی اداروں بالخصوص چند بریلوی مدارس میں بھی دسترس حاصل کر چکے ہیں اور الخدمت کے پراجیکٹس میں معاونت کر رہے ہیں۔
ظاہر کے اس نوعیت کے سوشل ورک سے سرمایہ دارانہ روحانیت اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار مستحکم ہوتا ہے۔ یہ کام تو ہیومن رائٹس کے فروغ کا ذریعہ ہیں اور اس سے عوام کی حرص اور ہوس سے وابستگی کم زور نہیں پڑتی اور یوں سرمایہ دارانہ اقتدار کی معاشرتی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں۔ ہماری معاشرتی اور معاشی صف بندی کی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ اس کے ذریعے اسلامی روحانیت اور مذہبیت فروغ پائے اور اس کے ذریعے عوام مخلصین دین کی قیادت میں سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار پر غلبہ حاصل کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خدمت خلق کے کام کو دعوت اور تبلیغ دین سے منسلک کریں۔ خدمت خلق کے اقدامات کی کامیابی کا واحد پیمانہ یہ ہو کہ اس کے نتیجے میں اسلامی روحانیت اور مذہبیت کتنی عام ہوئی۔ الخدمت کے قائم شدہ غریب بستیوں کے مکانات پر اگر پیپلز پارٹی کے جھنڈے لہراتے ہوئے نظر آئیں ، عالم گیر ٹرسٹ کی مدد سے قائم شدہ تعلیمی اداروں میں رقص اور موسیقی کی تعلیم دی جائے تو یہ ہمارے خدمت خلق کے کام کی صریح ناکامی ہے۔ کلیدی سوال یہ ہے کہ ہمارے خدمت خلق کے کام کے نتیجے میں کتنے ہندو اور سکھ اور عیسائی مسلمان ہوئے، کتنی مساجد اور مدارس کی تعمیر کی عوامی مانگ بڑھی، کتنے لوگ ائمہ مساجد اور مخلصین دین کی قیادت میں منظم ہو رہے ہیں اور امام مسجد کو اپنا واحد جائز مقامی، سیاسی اور انتظامی قائدتسلیم کرتے ہیں۔
دوسری ضرورت یہ ہے کہ اسلامی عوامی معاشی صف بندی سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو کم زور کرنے کے مقصد کے لیے کی جائے۔ آج تھرکول اور سی پیک اور بڑے بڑے ڈیموں کی تعمیراتی پراجیکٹ کے ذریعے لاکھوں عوام کو ان کی موروثی اراضی سے محروم کیا جا رہا ہے اور جبراً نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس سب سے پاکستان میں مستقبل قریب میں ماحولیاتی بحران کا شدید خطرہ ہے۔ آج نج کاری کے پھیلاؤ کے ذریعے سرمایہ دارانہ ملکی اور غیرملکی کارپوریشنیں ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں۔ ان کا قبضہ آبی، توانائی، مواصلاتی، ارضی اور جنگلاتی وسائل پر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ آج قومی معاشی پالیسی سازی پر آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا تسلط بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ان اداروں اور ان کے ملکی ایجنٹوں کی وضع کردہ پالیسیوں کی تنفیذ کے نتیجے میں مصنوعی غذائی قلت پیدا کی جا رہی ہے اور ارتکازِ دولت میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی اسلامی معاشی اور معاشرتی صف بندی کا مقصد سرمایہ دارانہ معاشی اور سیاسی اقتدار کو پیچھے دھکیلناہے۔ ہماری قیادت وقتاً فوقتاً ان تمام چیزوں کے خلاف بیانات تو دیتی رہتی ہے لیکن یہ صدا بہ صحرا کے علاوہ کچھ نہیں کیوں کہ ان کے پیچھے عوامی معاشی تنظیم سازی کی قوت موجود نہیں ہوتی اور یہ سب ہیومن رائٹس کے فروغ کی سرمایہ دارانہ جدوجہد کاایک کم زور عنصر ہونے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ 2016 میں تنظیم اسلامی کی سود کے خلاف چلائی گئی مہم بالکل بے اثر ثابت ہوئی۔ 2017 کی جماعت اسلامی کی کراچی میں KESC کے خلاف احتجاج وقت اور پیسہ کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ حاصل نہ کر سکا۔
ہمیں عوام کو مخلصین دین کی قیادت میں معاشی طور پر اس طرح منظم کرنا ہے کہ ملکی جاری تمام سرمایہ دارانہ میگا پراجیکٹس کی تنفیذ کا عمل معطل ہوتا جائے اور عوام مخلصین دین کی قیادت میں معاشی طور پر خودکفیل ہوتے چلے جائیں۔ جیسے جیسے معاشی تنظیم سازی کا یہ عمل آگے بڑھے گا ویسے ویسے سرمایہ دارانہ میکرواکنامک حکمت عملی اور نج کاری کی بنیاد پر قائم کردہ کارپوریشنوں کے خلاف احتجاج موثر ہوتا جائے گا۔
اسلامی بنیادوں پر عوامی معاشی صف بندی کو فروغ دینا ہے تو مزدوروں اور کسان تنظیموں کا احیا اور ان کی فعالیت کو بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔ مزدور سے زیادہ سرمایہ دارانہ اقتدار کی ترتیب اور ترویج سے کوئی واقف نہیں۔ یہ اس کی روزمرہ کی زندگی کا تجربہ ہے وہ اس ترتیب اور تنظیم کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم رکھتا ہے۔ لیکن اشتراکیت (بہ شمول کمیونزم اور سوشل ڈیموکریسی) نے مزدور اور کسان کو ایک سرمایہ دار طبقہ بنا دیا ۔ اشتراکیوں کی جدوجہد کئی صدیوں سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں مزدوروں اور کسانوں میں سرمایہ دارانہ روحانیت (حرص اور حسد) بھرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئی ہے۔ چوں کہ مزدور اور کسان سرمایہ دارانہ ظلم کے بدترین شکار ہیں لہٰذا ان میں حرص اور حسد کا فروغ پانا نسبتاً آسان ہے۔
اشتراکیت ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے ۔ اس کا مقصد سرمایہ دارانہ عدل کا فروغ ہے۔ چین اور لاطینی امریکا اور مغربی یورپ کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتراکیت کے ریاستی غلبہ کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عدل تو قائم نہیں ہوتا لیکن سرمایہ دارانہ روحانیت (حرص اور حسد) خوب پھلتی پھولتی ہےاور ایک سرمایہ دارانہ طرزِ معاشرت اور اقتدار مستحکم ہوجاتا ہے۔
لیکن پاکستان میں ہم میاں طفیلؒ محمد کی ولولہ انگیز قیادت میں اشتراکی قوتوں کو 1970 کی دہائی میں فیصلہ کن شکست دے چکے ہیں اور اب پاکستانی اشتراکیت امریکی استعمار کی ایک کم زور آلہ کار بن کر رہ گئی ہے۔ وہ عوامی پذیرائی سے بالکل محروم ہے اور حرام خوروں اور فاحشاؤں کے ڈرائنگ روموں تک محدود ہو گئی ہے لیکن ہم نے میاں طفیل رحمۃاللہ کے اس عظیم کارنامے سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
آج مزدوروں اور کسانوں میں اسلامی روحانیت کی بنیاد پر تنظیم سازی ممکن ہے۔ مزدور اور کسان گروہ اور جتھہ بندی عموماً برادری کے نظاموں کا حصہ اور ان کی معاشرتی زندگی میں اسلامی رسوم و رواج کا اثر نمایا ں ہوتا ہے۔ اگر فیکٹریوں اور دیہی علاقوں میں ایک ایسے پیری مریدی کے نظام میں مزدوروں اور کسانوں کو منظم کرنے کی کوشش کی جائے جو ان رسوم اور رواج کی تطہیر کرے اور اسلامی روحانیت کو فروغ دے تو مزدوروں اور کسانوں کو مخلصین دین کی قیادت کے تحت منظم اور متحرک کرنا ممکن ہے۔ اس ضمن میں ایرانی شیعیت کے انقلابی صف بندی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
غرض کہ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کے غلبے کے باوجود اس نظام کی کم زوریاں اور اس کے تضادات تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو فروغ دینے کے وافر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس جدوجہد ہی کو ہم انقلابی عمل کہتے ہیں۔ اس عمل کو جاری رکھنے کی بنیادی ذمہ داری تو انقلابیوں پر ہے لیکن وہ اس عمل کو مصلحین کی مضبوط پشتیبانی کے بغیر انجام نہیں دے سکتے۔ اس فرضِ کفایہ کو ادا کرنے کے لیے انقلابیوں کو کس طرح تنظیمی ساخت اختیار کرنی چاہیے اور انقلابی اور مصلحین کے گروہوں میں کس طرح تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ ان سوالات کے جوابات ہم اگلے دو ابواب میں دینے کی کوشش کریں گے۔
باب۶
انقلابی تنظیم سازی کی نوعیت اور ضرورت
ہماری تاریخ میں انقلابی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کا وجود بیسویں صدی تک تقریباً ناپید ہے۔ ہماری جماعتی صف بندی روایتی طور پر صوفیہ اور مجاہدین نے کی اور جن مقاصد کے لیے یہ جماعتیں قائم کی گئی تھیں وہ فریضہ اب بھی یہ انجام دے رہی ہیں۔ لیکن ان مقاصد میں سرمایہ دارانہ نظام کا انہدام اور اس کے متبادل کی تخلیق کو عملی جامہ پہنانا نہ تھا لہٰذا صوفیہ اور مجاہدین کی جماعتوں کی تنظیمی ساخت اس کام کے لیے موزوں نہیں۔
دورِ حاضر میں اس بات کی ضرورت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام اور اس کے متبادل کی کارفرمائی کو سنبھالنے کے لیے ادارتی صف بندی کی جائے۔ ہم اسے ایک فرض کفایہ سمجھتے ہیں کیوں کہ ہماری رائے میں نہ تو اس کا امکان موجود ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام خود بہ خود تحلیل ہو جائے نہ اس کا کوئی امکان ہے کہ پاکستان میں حالیہ تحریکاتِ اسلامی کی حالیہ ادارتی صف بندی سرمایہ دارانہ نظام کو منہدم کر کے اس کا متبادل نظام اسلامی خطوط پر ملکی نظام اقتدار کی صورت میں مرتب کر دے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی عملی اسلامی انقلابی صف بندی موجود نہیں۔ دو جماعتیں – جماعت اسلامی او رتنظیم اسلامی – اسلامی انقلابی جدوجہد کی ضرورت کی اصولاً قائل ہیں لیکن ان کی ادارتی صف بندی انقلابی عمل کو جاری رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتی اور یہ دونوں سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کا تصورِ انقلاب بھی جو بنیادی طور پر مولانا مودودی کی لبرل دستوری سیاسی تحریرات سے ماخوذ ہے غیرحقیقت پسندانہ ہے۔
مولانا مودودیؒ کا تصورِ انقلاب لبرل مفکرین لاک او رجیفرسن اور مونٹسکیو کی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے مدبر تھے او رسترھویں او راٹھارھویں صدی سرمایہ دارانہ اقتدار کو مرتب کرنے کا ابتدائی دور تھا۔ لبرل ازم یقیناً ایک انقلابی نظریہ ہے لیکن اشتراکیت کی طرح یہ ایک سرمایہ دارانہ انقلابی نظریہ ہے۔ لبرل انقلابی عمل جمہوریت کو ایک سرمایہ دارانہ ریاست کے قیام اور استحکام کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جماعت اسلامی جمہوری عمل ایک ایسی اسلامی حکومت کے قیام اور استحکام کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے جو سرمایہ دارانہ عدل فراہم کرے وہ جمہوری عمل کو سرمایہ دارانہ ریاست کے انہدام کے لیے استعمال کرنے کا کوئی شعور نہیں رکھتی۔
علاوہ ازیں، مولانا مودودی کی فکر میں ریاست اور حکومت کی جداگانہ شناخت موجود نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں حکومت تو ریاست کا محض ایک نسبتاً کم زور پرزہ ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ اقتدار کارپوریشنوں، بینکوں، سول او رفوجی انتظامیہ ، عدلیہ، میڈیا اور پارلیمان میں بٹا ہوتا ہے جس میں جمہوری عمل صرف پارلیمان تک محدود رہتا ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک سرمایہ دارانہ ریاست کو اسلامی حکومت چلائے جیسا کہ مصر اور تیونس میں ہوا۔ سعودی عرب میں اور کسی نہ کسی حد تک ایران اور ترکی او رسوڈان میں ہو رہا ہے۔ ایران کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ایسی اسلامی حکومتوں کے لیے اسلامی نظاماتی اقتدار قائم رکھنا نہایت دشوار اور عموماً ناممکن ہوتا ہے۔
پھر مولانا مودودی کی فکر کا ایک تضاد یہ بھی ہے کہ عوامی سطح پر تو لبرل جمہوری انتخابی عمل کی فوقیت کو تسلیم کیا گیا لیکن جماعت کی اندرونی ساخت لبرل خطوط پر مرتب نہ کی گئی۔ جماعت اسلامی کو منظم کرنے کے لیے جو دستور مرتب کیا گیا وہ اشتراکی اور فاشسٹ فکر کا غماز تھا اور کمیونسٹ پارٹیوں کی طرح جماعت اسلامی کی ساختی ہیئت ڈیموکریٹک سنٹرلسٹ خطوط پر کی گئی۔ ڈیموکریٹک سنٹرلسٹ طریقہ تنظیم پر مرتب کرنے والی جماعتوں کو وین گارڈ پارٹیاں کہتے ہیں۔
وین گارڈ پارٹیوں کی تنظیمی ساخت کی نمایاں خصوصیات حسب ذیل ہیں:
- ان پارٹیوں میں دستور کتاب اللہ کی جگہ لے لیتا ہے۔ دستور سے انحراف ناقابل معافی جرم قرار دیا جاتا ہے اور ارکان کے اخراج کی بنیادی توجیہ دستور سے انحراف قرار دی جاتی ہے۔
- دستور کی اساسی بنیاد ایک مخصوص نظریاتی بیانیہ فراہم کرتا ہے۔ یہ نظریاتی بیانیہ معروضی او ر آفاقی ہونے کا دعوا کرتا ہے۔ زمانی او رمکانی تغیرات اس بیانیہ کی صحت کو متاثر کرتے نہیں گردانے جاتے۔
- یہ کلیدی نظریہ اعتقاد کی جگہ لے لیتا ہے ۔ اس پر ایمان لانا پارٹی وین گارڈ میں شمولیت کی اصل شرط ہوتی ہے۔ وین گارڈ پارٹی کی شناخت اسی نظریاتی بنیاد سے ماخوذ ہوتی ہے اور وین گارڈ پارٹی اس نظری بیانیہ اور اس کی مخصوص رائج الوقت تشریح کرنے کی اجارہ داری پر اصرار کرتی ہے۔ وین گارڈ پارٹی اپنے اساسی نظریاتی بیانیہ کو پارٹی کی ملکیت تصور کرتی ہے۔
- ہر و ہ شخص جو اس نظری بیانیہ پر ایمان نہ لائے کسی نہ کسی درجہ جاہل اور گم راہ تصور کیا جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی متقی، پرہیزگار، عالم اور صاحب تدبر کیوں نہ ہو۔ اس قسم کے"نظری غیرمومنین" کی پارٹی کے نظم اجتماعی میں کوئی ادارتی گنجایش پیدا نہیں کی جاتی۔
- جو لوگ نظری بیانیہ پر ایمان لے آتے ہیں اور پارٹی کو اپنی زندگیاں سونپ دیتے ہیں ان کے دستوری حقوق یک ساں ہوتے ہیں اور اصولاً وہ سب وین گارڈ پارٹی کے شورائی نظام میں شامل ہوتے ہیں۔
- لیکن یہ اصولی شورائیت کا اظہار مرکزی نمایندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اسی مرکزی نمایندگی کو ڈیموکریٹک سنٹرل ازم کہتے ہیں۔ وین گارڈ پارٹی کی تنظیم درجاتی ساخت کی ہوتی ہے۔ پارٹی کی پالیسی سازی کی ذمہ داری اونچی ترین سطح پر مرکوز ہوتی ہے۔ اصولاً تصور کیا جاتا ہے کہ تمام ارکان کی آراء مختلف درجہ بندیوں اور انتخابی سطحوں سے چھن چھن کر مرکزی سطح تک پہنچیں اور پالیسی سازی کے عمل کو متاثر کریں گی لیکن پارٹی کی داخلی زندگی عملاً ایسا ہونے کو بالکل ناممکن بنا دیتی ہے۔ اور ہر معاملہ میں پارٹی لائن مرکزی شوریٰ ہی متعین کرتی ہے اور عام کارکن اس پارٹی لائن اور اس کی تمام جزئیات پر ایمان لے آتا ہے۔
Their's is not to reason why
Their's is but to do and die
Into the fire march the thirty thousand
- وین گارڈ پارٹیوں میں شورائیت اس قدر محدود کیوں ہو جاتی ہے اور عام ارکان آنکھیں بند کیے بے دام کے غلام کیوں بن جاتے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ نظریاتی انجماد اور دستوری تقدیس ہے۔ ظاہر ہے کہ نظری بیانیہ اور جو دستور ان پر قائم کیے جاتے ہیں کلامی مباحث سے برآمد ہوتے ہیں اور کلامی مباحث نہ مقدس ہوتے ہیں نہ زمانی اور مکانی تغیرات سے غیرمتعلق۔ اگر ان نظری بیانیوں میں تبدل اور ترمیم کا عمل معطل ہو جائے تو وہ obsolete ہو تے جاتے ہیں ۔ وین گارڈ پارٹیاں نظری ترمیم اور تنسیخ کے عمل کو گناہِ کبیرہ تصور کرتی ہیں لہٰذا یہ فطری امر ہے کہ ان کی داخلی فکری زندگی کم زور سے کم زور ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک عام رکن پالیسی سازی کے عمل میں حصہ لینے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کے بس میں نہیں رہتا کہ وہ قیادت کی اندھی تقلید کے علاوہ اور کچھ کرے اور کلامی مباحث کے زمرے میں تقلید سم قاتل ثابت ہوتی ہے۔
- وین گارڈ جماعتیں نہایت مضبوط اور مستحکم ادارتی ڈھانچہ پر قائم ہوتی ہیں۔ لینن نے اس کو آہن پوش کہا تھا۔ اس ڈھانچہ کو مستحکم رکھنا وین گارڈ پارٹی کا سب سے اہم تزویراتی ہدف کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ پارٹی کے وجود کو تسلسل بخشنا پارٹی کے قیام کے مقصدوجود کے حصول سے کہیں زیادہ اہم گردانا جاتا ہے کیوں کہ یہ مفروض کیا جاتا ہے کہ وین گارڈ پارٹی کے وجود کے بغیر اس کے اساسی مقصد )پرولتاری ڈکٹیٹرشپ یا حکومت الٰہیہ (کا حصول ناممکن ہے۔
- لیکن چوں کہ اپنی مفروضہ مقدس نظری اساس پر عمل پیرا رہ کر اساسی مقصد کا حصول مشکل سے مشکلل تر ہوتا چلا جاتا ہے لہٰذا وین گارڈ پارٹی اس نظری بیانیہ کو ایک صنم بناتی چلی جاتی ہے اور اس کی خارجی کارفرمائی ناکام ہوتی چلی جاتی ہے ۔ یا تو اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے یا وہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں بہ تدریج سموتی چلی جاتی ہیں (جیسا کہ ترکی کی اے کے ڈی)۔
جماعت اسلامی بڑی حد تک ایک وین گارڈ پارٹی اپنی ابتدا سے رہی ہے۔ تنظیم اسلامی کا اساسی نظری بیانیہ بھی ویسا ہی مقدس تصور کیاجاتا ہے جیسا کہ جماعت اسلامی کا اور تنظیم اسلامی میں بھی اس اساسی نظریہ پر ایمان لانا جماعت کے نظم میں شمولیت کی لازمی شرط ہے۔ تنظیم اسلامی کا شورائی نظام جمہوری طریقہ سے مرتب نہیں کیا گیا لیکن اس کی اقتداری مرکزئیت جماعت اسلامی کے نظاماتی اختیاراتی ارتکاز سے کچھ زیادہ ہے۔ تنظیم اسلامی کا تصورِ انقلاب نہایت عجیب و غریب اور زمانی اور مکانی حالات سے بالکل غیر متعلق ہے۔ یہ نظریاتی خاکہ انقلاب ایران کے آخری دور کے ایک شخص کے بیرونی سطحی مطالعہ پر قائم کیا گیا ہے۔ اس نظریہ کا لب لباب یہ ہے کہ پہلے علوم اسلامی (بالخصوص تفسیر) کو فروغ دے کر مخلص کارکنوں کی ایک ایسی ٹیم جو ڈاکٹر اسرار کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو اور تنظیم اسلامی کے امیر کے ہاتھ پر بیعت کر چکی ہو تیار کی جائے۔ جب ایسے مخلصین کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر جائے تو اسلام آباد پر ہلہ بول دیا جائے اور اس طویل المدت دھرنے اور کارکنوں کی پیہم قربانیوں کے ذریعے سرمایہ دارانہ حکومت کو نفاذِ شریعت پر مجبور کر دیا جائے گااور سرمایہ دارانہ ریاست میں نفاذ شریعت ہی دائمی انقلابی واقعہ ثابت ہوگا۔
اول بات تو یہ ہے کہ شرعی حدود کا نفاذ اسلامی اقتداری نظام کے قیام کا ہم معنی نہیں۔ سعودی عرب میں شریعت کا نفاذ ایک سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کا جزو ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تفسیر کی تعلیم کے پھیلاؤ سے نہ سرمایہ دارانہ اقتداری ادارے مجروح ہوتے ہیں نہ ان کے متبادل اسلامی اقتداری ادارے زور پکڑتے ہیں۔ تفسیر کی تعلیم کا پھیلاؤ خود بہ خود مخلصین دین کی سیاسی ، معاشی اور ثقافتی قیادت کے تحت عوام کو منظم نہیں کر سکتی۔
اس میں شک نہیں کہ جماعت اور تنظیم مخلصین دین کی جماعتیں ہیں اور تحفظ دین کے لیے ہی برسرپیکار ہیں۔ لیکن کیا پارلیمان میں اکثریت حاصل کر کے یا احتجاج کے ذریعے حکومت کو شرع کے نفاذ پر مجبور کر کے اسلامی اقتدار مرتب کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہی سرمایہ دارانہ بیوروکریسی یہی سرمایہ دارانہ عدلیہ یہی سرمایہ دارانہ کارپوریشنیں یہی سرمایہ دارانہ بینک یہی سرمایہ دارانہ میڈیا یہی سرمایہ دارانہ فوج اور پولیس مزاج شناسِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ کیا یہ سرمایہ دارانہ ادارے علوم اسلامی کی بنیاد پر فیصلہ سازی اور تنفیذ کی اہلیت یا خواہش رکھتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ اقتداری ادارتی صف بندی کو غلبہ دین کا ذریعہ سمجھنا اپنے آپ کو دھوکا دینا نہیں تو اور کیا ہے؟
غلبہ دین اور تحفظ دین کو سرمایہ دارانہ دور میں مربوط کرنے کے لئے ایک مرکزی جماعت کے وجود کی ضرورت ہے۔ اس مرکزی جماعت کے ذریعے ہی ہم معاشرتی سطح پر ایک ایسا اقتداری ڈھانچہ کھڑا کر سکتے ہیں جو سرمایہ دارانہ اقتداری نظام کا متبادل ہو اور جس کے ذریعے اصلاحی اور انقلابی گروہوں کی جدوجہد ایک دوسرے سے منسلک ہوتی چلی جائے۔ اس قسم کی کئی مثالیں دورِ حاضر کی استعمار مخالف تنظیم سازی میں ملتی ہیں۔ ایک مثال یونانی انقلابی جماعت SYRZIA (جس کی جدوجہد کا آغاز 2012 سے ہوتا ہے اور جو 2015 میں برسراقتدار آئی) کی ہے جس نے اپنے تنظیمی کام کی ابتدا ملک بھر میں 400 کمیونٹی سنٹر بنا کے کی۔ یہ مراکز مختلف عوامی تحریکوں کے زیراثر تھے اور SYRZIAنےان کو ان مختلف تنظیموں پر رابطہ کا ذریعہ بنایا۔
مرکزی اسلامی جماعت کی جدوجہد کا مقصد سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کا انہدام ہے۔ اس نظام میں شرکت (اسلامی حکومت کے قیام یا سوشل ورک کے ذریعے) نہیں ہے۔ مرکزی اسلامی جماعت موجودہ سرمایہ دارانہ اقتداری اداروں میں اپنے حلیف تلاش کرے لیکن ان حلیفوں کی تنظیم سازی ریاستی اقتداری اداروں میں پیوست نہ ہو اور یہ حلیف اسلامی اقتداری صف بندی کے تابع ہوں (ضروری نہیں کہ مرکزی جماعت کے)۔
مرکزی جماعت کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مخلصین دین کو ایک اجتماعی شناخت فراہم کرے۔ مخلصین دین اپنی تمام تر اندرورنی گروہی صف بندیوں کو فروغ دیتے ہوئے ایک اجتماعی دینی شناخت کا حامل ہوں۔ ہر اسلامی گروہ کا ہر فرد اپنی گروہی شناخت کو فروغ دینا اجتماعی طور پر تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کاایک ذریعہ سمجھے۔ مخلصین دین کے ہر گروہ کا ہر فرد ہر دوسرے گروہ کی جدوجہد کو عزت اور توقیر کی نگاہ سے دیکھے اور راسخ العقیدہ عوام اور خواص میں پائے جانے والے نظری اور تنظیمی اختلافات کو باعث رحمت سمجھے۔ ہر گروہ تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد میں ایک منفرد کردار ادا کر ےاور ایسا اب بھی ہورہاہے۔ مثلاً ہمارے شیعہ بھائیوں نے اہل بیعت اطہار کی محبت کو عوام میں زندہ رکھنے اور امام عالی مقامؓ کی عظیم جدوجہد کی عوامی حمایت کو فروغ دینے میں ہم سنیوں سے کہیں زیادہ موثر کردار ادا کیا ہے۔ شیعیت تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا ایک طریقہ ہے اور اس کا ثبوت ایرانی انقلاب کاوقوع اور حزب اللہ کی اسرائیل کے خلاف پیہم صف آرائی ہے۔
شیعیت، بریلویت، دیوبندیت، مختلف اسلامی سیاسی اور سماجی جماعتوں کا وجود یہ سب خیر ہے۔ شیعہ سنیوں کے دیوبندی بریلویوں کےجماعت الدعوۃ کے کارکن لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کارکنوں کے فطری حلیف ہیں اور ان میں برداشت، اتحاد اور تعاون کی فضا پیدا کرنا مرکزی اسلامی جماعت کی ذمہ داری ہے۔
کہو ہر کارکن سے سب جتھوں کو اپنا گھر سمجھے
ہر اک بھائی کو وہ اپنا حلیف و ہم سفر سمجھے
مرکزی جماعت کی دوسری اہم ذمہ داری انقلابی عمل کو متصور کرنا ہے۔ پارٹی ایک ایسی تزویراتی حکمت عملی تجویز دیتی ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتی رہتی ہے جس کے ذریعے اسلامی گروہی نظری تنظیمی اختلافات کو اس طرح manage کرے کہ یہ تمام اختلافی نظریات اور طرائق کار موجودہ حالات میں تحفظ اور غلبہ دین کی ہمہ جہت جدوجہد کا مثبت حصہ بن جائیں۔
مرکزی جماعت انقلابی عمل کی تخلیق کار ہوتی ہے۔ انقلابی عمل کی بنیاد ہمیشہ ایک مخصوص انقلابی نظریہ فراہم کرتا ہے جو مخصوص زمانی اور مکانی حالات میں وضع کیا جاتا رہتا ہے۔ اس نظریاتی تخلیقاتی عمل کی بنیاد پر انقلابی تزویراتی حکمت عملی مرتب ہوتی رہتی ہے اور عوامی انقلابی ادارتی صف بندی کو منظم کیا جاتا رہتا ہے۔ اس نظریاتی اور عملی کارفرمائی کو جاری رکھنے کا ہدف مخلصین دین کی صفوں میں انقلابی عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت اوراس عمل کی اہمیت پر یقین کو مضبوط کرنا بھی ہوتا ہے۔ انقلابی مرکزی جماعت دیگر تمام اسلامی گروہوں کو انقلابی عمل کو جاری رکھنے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے پر راضی کرتی ہے۔ ان کو اس بات پر راضی رکھنے کی جدوجہد کرتی ہے کہ انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کا قیام) کتنا ہی دور اور دشوار کیوں نہ نظر آئے انقلابی عمل کو جاری رکھنا ممکن بھی ہے اور ضروری بھی۔
دورِ حاضر میں اقتداری قوت کی ترتیب اور تنفیذ قومی ملکی ہے۔ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر ریاست قائم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا مرکزی انقلابی اسلامی جماعت انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے جو حکمت عملی اور ادارتی صف بندی وضع کرتی ہے اس کا دائرہ عمل ملکی ہوتا ہے۔ وہ نہ مقامی سطح تک محدود رہ سکتی ہے نہ عالمی (امت کی سطح) تک وسیع کی جا سکتی ہے۔ یہ مرکزی جماعت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ مقامی سطح پر کی جانے والی اسلامی جدوجہد اور ادارتی صف بندی کو ملکی دائرہ عمل کی سطح پر مربوط کرے۔ یہ کام مرکزی اسلامی جماعت کے علاوہ اور کوئی گروہ بندی انجام نہیں دے سکتی۔ مقامی جدوجہد میں ملکی تطبیق اور ارتباط پیدا کرنے اور قائم رکھنے کے لیے مرکزی جماعت مندرجہ ذیل اقدام جاری رکھتی ہے:
- جن ملکی سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات میں اسلامی جدوجہد کی جا رہی ہے اور اس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
- ایک مخصوص سیاسی، معاشی اور معاشرتی ملکی نظام اقتدار کے تناظر میں اسلامی انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لئے مخلصین دین کی مختلف گروہ بندیوں کیا مخصوص کردار انجام دے سکتی ہیں اس کا مسلسل اندازہ لگاتے رہتا۔
- اپنی اندرونی انتظامی اور پالیسی سازی کی ساخت کا تعین اور اس بات کا جائزہ لیتے رہنا کہ یہ ساخت زمانی اور مکانی تغیراتی تناظر میں اسلامی انقلابی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کتنی موزوں ہے۔
- مرکزی جماعت کی اندرونی انتظامی اور پالیسی سازی کی ساخت کو مخلصین دین کی دوسری گروہ بندیوں کی تنظیمی ساخت سے منسلک کیے جانے کے طریقہ کا تعین تاکہ مرکزی جماعت دیگر تمام مخلصین دین کی گروہی جدوجہد کو ملکی سطح پر مربوط کرنے کی سعی کی legitimacy مخلصین دین کی نظروں میں حاصل کر سکے۔
ہماری رائے میں یہ کام ایک وین گارڈ جماعت انجام نہیں دے سکتی۔ اس کی دو دوجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ وین گارڈ جماعت کا اساسی نظریہ آفاقی ، معروضی اور غیرتاریخی ہوتا ہے۔وہ اس اساسی نظریہ کے تناظر میں ہی زمانی و مکانی تغیرات کا تجزیہ کرتی ہے اور اس کا نظریہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ تغیرپذیر نہیں ہوتا بلکہ وین گارڈ پارٹی حالات کے تغیر کے باوجود اپنے اساسی نظریہ کی مستقل درستی اور ہر ترمیم اور تنسیخ سے بالاتر ہونے پر اصرار کرتی ہے اور یوں وین گارڈ پارٹی کا اساسی نظریہ تاریخی طور پر obsolete ہوتا چلا جاتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں وین گارڈ جماعت اپنے اساسی نظریہ کو عقیدہ کی جگہ دے دیتی ہے اور جب کوئی نظریہ عقیدہ بن جائے تو اس پر ایمان لانے والے لازماً ان تمام لوگوں کو جو اس نظریہ پر ایمان نہ لائے ہوں کسی نہ کسی درجہ میں گم راہ تصور کرتے ہیں لہٰذا وین گارڈ پارٹی اپنی حلیف جماعتوں پر اپنی قیادت اور اپنی تزویراتی حکمت عملی مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اپنے نظریاتی تشخص کو ایک وسیع تر مستقل تغیر پذیر نظریاتی تناظر میں سمونے سے گریز کرتی ہے۔ اپنی حلیف جماعتوں سے اس کا تعلق بنیادی طور پر pragmatic ہوتا ہے مثلاً وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ تو کرتی ہے اور broad fronts میں شمولیت تو اختیار کرتی ہے لیکن اپنے اندرونی پالیسی سازی اور تنظیمی ساخت میں کسی "غیر" کی شمولت کی کوئی گنجایش پیدا نہیں کرتی۔ نتیجتاً، ایک وین گارڈ اسلامی جماعت مخلصین کے دیگر گروہوں کے لیے ہمیشہ اجنبی رہتی ہے۔ اسے بھی ایک فرقہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی جماعت مخلصین دین کی جماعتوں میں ارتباط کبھی پیدا نہیں کر سکتی۔ اگر مرکزی جماعت کو تحفظ و غلبہ دین کی تحریکات میں رابطہ ساز کاکردار ادا کرنا ہے تو اس کو اپنے نظریاتی تفوق کے دعویٰ سے یقیناً دست بردار ہونا پڑے گا۔ اپنے اندرونی انتظامی درجاتی ساختی اور پارٹی سازی کے عمل میں مخلصین کے تمام گروہوں کی شمولیت کی گنجایش پیدا کرنا ہو گی اور اپنی جماعتی قیادت کو ایک وسیع ترتحریکی قیادت کی ماتحتی میں دینا ہو گا جس میں مخلصین دین کے تمام گروہ شریک ہوں۔
لیکن اپنی ارتباطی کرداری ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مرکزی جماعت کا انفرادی وجود لازم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکزی جماعت ہی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ اقتدار کی تسخیر کی جدوجہدمیں شامل تحفظ دین اور غلبہ دین کی تمام کاوشوں کو مربوط کر دے ۔ مخلصین کے کسی اور گروہ کی یہ ذمہ داری نہیں۔ مرکزی جماعت ہر نوعیت کے اصلاحی اقدام اور ادارتی صف بندی کو مقتدر بنانے کی جدوجہد کرتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصلاحی اقدام کو سرمایہ دارانہ ریاستی غلبہ کو کم زور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی جدوجہد کرتی ہے۔ یہ ریاستی نظام کو سرمایہ دارانہ اقتدار سے جدا کرنے کی جدوجہد ہے۔ سرمایہ دارانہ عمل کو تحلیل کرنے میں معاشرتی سطح کے مروج اسلامی اصلاح نہایت اہم کردار ادار کرتے ہیں مثلاًً اسلامی تمویلی نظام کے قیام اور کارفرمائی کے ذریعے ہی بینک کاری کے نظام کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ پر دہ کو عام کرکے ہی خواتین کو سرمایہ دارانہ ملازمتی نظام سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ مرکزی جماعت کی ساختی اور تزویراتی حکمت عملی میں اتنی لچک ہونا چاہیے کہ وہ معاشرتی اصلاحی اقدام کو فروغ بھی دے اور ان کو سرمایہ دارانہ اقتداری نظام کے خلاف کی جانے والی جدوجہد میں شامل بھی کرے۔ ظاہر ہے کہ مجرد اور منفرد اصلاحی اقدام سے سرمایہ دارانہ اقتدار مسخر نہ ہو گا۔ مرکزی جماعت سرمایہ دارانہ ریاست کا رشتہ معاشرتی عمل اور معاشرتی ادارتی صف بندی سے منقطع کرنے ضرورت کوسمجھا جائے کہ جو انقلابی جماعت یہ فریضہ ادا نہیں کر رہی وہ لازماً سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہوتی جاتی ہے اور جمہوری عمل میں حصہ لینے کا یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔
انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے مرکزی جماعت کو جو چیلنج درپیش ہیں وہ یہ ہیں۔ مرکزی جماعت کو مصلحین کے گروہوں پر فوقیت قائم کیے بغیر ان کے عمل میں اس نوعیت کا ارتباط پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر ایک انقلابی شخصیت وجود میں آئے۔ ایک ایسی اسلامی شخصیت جو اصلاحی اور انقلابی عمل کے فطری تعلق کا ادراک رکھتی ہو جو ہر اصلاحی عمل کو اسلامی اقتدار کے حصول سے جوڑنے کی قائل ہو اور ہر انقلابی عمل کو اسلامی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے لیے کوشاں ہو۔ ایک ایسی انفرادیت جو تحفظ دین کو غلبہ کا اور غلبہ دین کو تحفظ دین کا لازمی جزوسمجھے اور جو تحفظ اور غلبہ دین کی مربوط جدوجہد کو جاری رکھنے کا حوصلہ رکھے۔ جس کا انقلابی عمل کی ضرورت پر یقین مستحکم سے مستحکم ہوتا چلا جائے۔ مرکزی جماعت تحفظ اور غلبہ دین کی تحریک میں ایک تعلیماتی کردار بھی ادار کرتی ہے۔ یہ کردار مستضعفین کے ضمن میں نہایت اہم ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ مخلصین دین کی بہت بڑی تعداد مستضعفین پر مشتمل ہے اور ان مستضعفین پر جاگیرداروں، صنعت کاروں اور سرمایہ دارانہ ریاستی تعدیبی اداروں کا غلبہ نہایت سخت ہے۔ ان مستضعفین تک مخلصین کی جماعتوں کی رسائی نہایت محدود ہے کیوں کہ ایک تو پیری مریدی کا نظام سرمایہ دارانہ تسلط کا ذریعہ بن گیا ہے اور دوسرے یہ مستضعفین ناخواندہ ہیں اور ان کی کتابی تربیت تقریباً ناممکن ہے۔ ان مستضعفین کو اصلاحی جماعتوں کے ذریعے (بالخصوص دعوت اسلامی) کے تحت منظم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس نوعیت کی تنظیم سازی ان مستضعفین کی معاشرتی اور معاشی لاچاری اور بے وقوفی کو ختم کرنے کی جدوجہد سے پیوست ہو اور پیری مریدی نظام کے سرمایہ دارانہ نظاماتی انضمام کو کم زور کرنے کا ذریعہ ہو۔ اس کام کے ضمن میں اصلاحی اور انقلابی جماعتوں کا اشتراک عمل دیرپا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اصلاحی جماعتیں مستضعفین میں حرص اور حسد کے جذبات کے فروغ ہونے کا سدباب فراہم کر سکتی ہیں اور انقلابی عمل ان کی سرمایہ دارانہ لاچارگی کو کم زور کر سکتا ہے اور یہ مستضعفین کو اسلامی دعوت محض علمی نہیں عملی بھی ہو جائے گی۔
اس نوعیت کے اقدام کے لیے ضروری ہے کہ مرکزی پارٹی کا اندرونی نظام لچک دار ہو۔ مرکزی جماعت کے انتظامی ڈھانچہ اور دیگر اصلاحی اور سیاسی جماعتوں کی انتظامی حدبندیاں سیال ہوں اور مرکزی جماعت مخلصین دین کی اجتماعی صف بندی کی ماتحتی قبول کرے۔ مرکزی جماعت اصلاحی اور انقلابی جدوجہد کی تزویراتی حکمت عملی کو ترتیب دیتے رہنے کا فریضہ انجام دے۔ اس حکمت عملی کی تنفیذ تمام مخلصین کے گروہوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مرکزی جماعت کی تنظیمی سیالیت کوفروغ دینے کے لیے دو اقدام ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ نظام وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہوتا رہے۔ دوسرے یہ کہ پارٹی کی رکنیت ایک مخصوص اساسی نظری بیانیہ پر ایمان لانے سے وابستہ نہ ہو بلکہ پارٹی ممبران کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ مخلصین کی دوسری اصلاحی اور رسیاسی جماعتوں میں بھی شامل ہوں۔
مرکزی جماعت کو سازشی سیاست سے گریز کرنا چاہیے اور گو کہ ملکی سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی جدوجہد میں عسکری صف بندی موجودہ حالات میں موزوں نہیں لیکن مخلصین کے تمام گروہوں کی دفاعی صلاحیت کو فروغ دینا اور ریاستی استبدادی اقدام سے مساجد اور مدارس کو محفوظ رکھنا بھی مرکزی جماعت کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں یہ سب سے موثر طریقہ ہے۔ پارلیمانی نظام میں غیرسرمایہ دارانہ دخول اور سرمایہ دارانہ قانونی نظام کے انقلابی استعمال سے ادا کی جا سکتی ہے۔
مرکزی جماعت ریاستی اقتدار اپنے لیے نہیں بلکہ مخلصین دین کے تمام گروہوں کے حصول کے لیے جدوجہد مرتب کرتی ہے۔ انفرادی انتخابی عمل بالخصوص مرکزی جماعت کو دیگر مصلحین کی گروہوں سے دوری کا باعث بنتی ہے۔ دورحاضر کے سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کی ایک خصوصیت یہی ہے کہ ریاست جماعتوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔ اس عمل کو statetification of the party کہتے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت جتنا ماڈرنائز ہو گی اتنا زیادہ اس پر سرمایہ دارانہ طرز تنظیم غالب آتا جاتا ہے۔ اسی عمل کو بیوروکریٹائزیشن کہتے ہیں اور ایسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا نہ ہوں سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں حصہ دار بن جاتی ہیں۔ مرکزی اسلامی جماعت کے لیے بیوروکریٹائزیشن اور سٹیٹائزیشن سم قاتل ہے کیوں کہ وہ جتنا سٹیٹائز اور بیوروکریٹک ہو گی اتنا ہی اپنی بنیادی constituency یعنی مخلصین دین سے دور ہوتی چلی جائے گی اور ان کے لیے اس میں اور دہریہ جماعتوں میں تمیز کرنا مشکل سے مشکل ہوتا چلا جائے گا۔
انقلابی جماعت کی ساخت عمومی اصول
مرکزی جماعت کی ساخت:
مرکزی اسلامی جماعت کے مخصوص فرائض حسب ذیل ہیں:
- اپنے کارکنوں کی ایسی تربیت جس کے نتیجے میں وہ معاشرتی دباؤ کو انہدام سرمایہ دارانہ اقتدار کے مقصد کے حصول کے اہل ہو جائیں۔
- ریاستی اقتداری وسائل میں کمی کرنے کی جدوجہد مرتب کرنا
- کارپوریشنوں اور بینکوں کی عوامی قبولیت میں کمی کرنے کے لیے جدوجہد کرنا اور عوام کی سرمایہ دارانہ مخالف اسلامی صف بندی کی منصوبہ بندی کرنا۔
- مخلصین دین اور ان کے ذریعے عوام الناس میں اسلامی انقلابی شخصیت سازی کا فروغ۔
- سرمایہ دارانہ اقدار (آزادی ، مساوات اور ترقی) کا ردّ۔
مرکزی جماعت کی تنظیمی ساخت انہی اہداف کے حصول کے لیے مرتب کی جاتی ہے۔ اس ساخت کو معاشرہ میں رائج شدہ اسلامی تنظیماتی ساختی جہتوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے لیکن ان کا چربہ نہیں کیوں یہ روایتی تنظیمی ساختیں ان اہداف کے حصول کے لیے قائم نہیں کی گئیں جن کے لیے مرکزی جماعت جدوجہد کر رہی ہے۔ مرکزی جماعت کی ساخت اتنی لچک دار ہو کہ وہ مخلصین دین کی دیگر جماعتی جدوجہد سے مربوط ہو کر عوام میں تحفظ دین اور غلبہ دین کے رجحانات مضبوط اور مستحکم کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی جماعت کی انتظامی ساخت جمہوری مرکزیت کے اصولوں پر مرتب نہیں کی جا نی چاہیے کیوں کہ جمہوری مرکزیتی ہیئت رکھنے والی جماعتیں وسیع تر تحاریک میں ضم ہونے کی اہلیت رکھتی ہیں نہ اس وسیع تر گروہی صف بندی کے ذریعے عوام کو اسلامی خطوط پر متحرک اور منظم کرنےکی۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مرکزی اسلامی جماعت اس طرح منظم نہ کی جائے کہ اس کا ولین ہدف جمہوری انتخابات میں کامیابی کا حصول ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخاب میں کامیابی کے حصول کو فوقیت دینے والی جماعتیں عوام کی خواہشات کے تابع ہوتی ہیں اور حقوق کی سیاست کرنے پر مجبور۔ مرکزی جماعت کو ایسی گروہ بندیوں سے دیرپا روابط استوار کرنےکی صلاحیت بروئے کار لانا چاہئے جو عوام کی خواہشات تبدیل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں (مثلا ً تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی)
مرکزی اسلامی جماعت دیگر اسلامی جماعتوں پر اپنے نظریات کو غالب کرنے سے پرہیز کرے گی۔ مرکزی جماعت کی پیہم کوشش ہو گی کہ تمام اسلامی جماعتوں کی کاوشوں کو غلبہ دین کی جدوجہد کا حصہ بنائے۔ اگر مرکزی جماعت یہ رویہ اختیار کرے تو لازماً اس کو دوسری تمام مخلصین دین کی جماعتوں کے نظریات اور ان کے طرائق کی کارفرمائی کو عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھنا ہو گا اور خود اپنے کارکنوں کے نظریاتی اور کارفرمائی کے اختلافات کو برداشت کرنے کی سکت پیدا کرنا ہو گی۔ مرکزی جماعت کو اس بات کو دل سے قبول کرنا ہو گا کہ وہ ہمہ جہت تحفظ اور غلبہ دین کی تحریک کی قائد نہیں بلکہ اس کو مربوط کرنے کی آلہ کار ہے۔
مرکزی اسلامی جماعت کی جدوجہد کا اہم ترین ہدف یہ ہو گا کہ وہ ہمہ جہت تحریک اسلامی کے ہر جتھے اس بات پر قائل کرے کہ اس کی انفرادی اور تحریک کی اجتماعی معاشرتی اقتداری قوت میں اضافہ ضروری ہے اور مرکزی جماعت تمام راسخ العقیدہ جماعتوں کی کوشش اور طرائق کارفرمائی کو مربوط کرنے کی جستجو غلبہ دین کے لیے ہی کر رہی ہےحصول اقتدارکے بغیر دین کے معاشرتی تغلب میں اضافہ کے لیے اس کا تحفظ مشکل سے مشکل ہوتا جاتا ہے۔
مرکزی اسلامی جماعت ہمہ جہت تحریک اسلامی میں رابطہ کا کردار موثر طریقے سے ادا کرنا چاہتی ہے تو اس کی تنظیمی ہیئت کو اس طرح مرتب کرنا ہو گا کہ اس جماعت کے اندر بھی اور باہر بھی مشاورت کا عمل وسیع ہو۔ ہر نوعیت کی پالیسی سازی کو عام بحث کے لیے پارٹی کے اندر بھی اور دیگر جماعتوں کے مابین کھول دیا جائے۔
مثلاً یہ بحث کہ 2023 کے انتخابات میں کیا اور کیسے حصہ لینا چاہیے۔ مرکزی جماعت کے ہر بنیادی حلقہ میں منعقدہوں (چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو) میں اور ہر حلقہ کو encourage کیا جائے کہ وہ کارکنوں کی آراء کو ایک دستاویز کی شکل میں مرتب کرے۔ اس کےساتھ ساتھ مرکزی جماعت مخلصین دین کی تمام جماعتوں کے کارکنوں کے مقامی سطح پر مساجد کو بنیاد بنا کر حلقہ بنائے اور ان بین الجماعتی حلقوں کی آراء بھی مرتب کی جائیں۔ عام کارکنوں کے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں جو مرکزی جماعت اور بین الجماعتی مقامی اتحاد کی آراء پر مشتمل دستاویزات کے حسن و قبح پر تجزیہ کریں اور یہ تمام عوامی، شہری، صوبائی اور مرکزی پالیسی ساز داروں (مرکزی جماعت کے پالیسی ساز ادارے اور اسلامی اتحاد کے اداروں) کو پیش کی جائے ۔ اس مواد کی بنیاد پر اسلامی اتحاد ایک جامع حکمت عملی تجویز کرے جو مندرجہ ذیل نکات پر عام کارکنوں کی بحث کے لیے پیش کرے:
- کیا اسلامی اتحاد کو2023 کے انتخاب میں حصہ لینا چاہیے؟
- اسلامی اتحاد اگر انتخاب میں حصہ لیتا ہے تو اسلامی انتخابی منشور کیا ہو؟
- دہریہ جماعتوں کے بارے میں اسلامی اتحاد کا رویہ کیسا ہو؟
- کن عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخابی حلقوں کو چنا جائے گا؟
- پارلیمانی نمایندوں کا چناؤ کس معیار کی بنیاد پر کیاجائے گا؟
- انتخابی مہم کے چلائے جانے کا طریقہ اور اس کا اسلامی ضابطہ اخلاق
- مرکزی انتخابی سیل میں رکنیت کی شرائط
انتخاب کے بعد یہ مشاورتی ڈھانچہ تحلیل نہیں کیا جائے گا بلکہ مستقل حیثیت اختیار کرے گا اور مرکزی جماعت اور اسلامی اتحاد کی کارفرمائی انہی خطوط پر ہوتی رہے گی۔ اس کی تفصیل ہم ذیل میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس نوعیت کی تنظیم سازی کے دو مضمرات ناگزیر ہیں۔ ایک یہ کہ اسلامی اتحاد کا انتخابی پروگرام ایسا ہو گا جس کو عام تحفظ دین اور غلبہ دین کے گروہ قبول کر سکیں لہٰذا یہ ایک minimalist پروگرام ہو گا۔ یعنی ایسا پروگرام جس پر ان کم سے کم باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس پر تمام گروہ متفق ہوں گے۔ دوسرے یہ بھی لازم ہے کہ امیدوار تمام اسلامی گروہوں سے ہوں اور صرف سیاسی اسلامی جماعتوں سے نہ ہوں اوریہ کوشش کہ انتخابی نمایندگی میں کسی جماعت (بالخصوص مرکزی جماعت کی اجارہ داری نہ ہو۔ ہماری رائے میں ہر اسلامی گروہ کو انتخابی عمل کو قبول کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ جو اسلامی گروہ منتخب ہو کر پارلیمان میں آئے اس کو اسلامی اتحاد کی تنظیم کی ماتحتی اختیار کرنا پڑے وہ اپنی کارفرمائی مرتب کرنے میں خود مختار نہ ہو۔
مرکزی جماعت کا انتظامی ڈھانچہ مخلصین دین کی روزمرہ مسائل سے نبٹنے کے ہدف کو سامنے رکھ کر مرتب کیا جائے۔ مندرجہ ذیل شعبہ میں مقامی ضلع سے لے کر مرکزی سطح تک انتظامی صف بندی اور حتی الوسع اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ یہ روزمرہ کے مسائل سے نبٹنے والی ادارتی صف بندی مقامی مساجد کی بنیاد پر مرتب ہو۔
- ذہنی تربیت، روحانیت کا فروغ، اسلامی رسوم و روا ج کی تطہیر اور احیا
- افتا ء کے اجراء اورتنفیظ کی ادارتی صف بندی اور جرگہ اور پنچایتی نظام کی حوصلہ افزائی اور اصلاح
- اسلامی حلال کاروبار کا فروغ کی ادارتی صفبندی
- لیبر یونینوں اور برادریوں کی تنظیم
- سیاسی تنظیم
اس جدوجہد کا ہدف مقامی سطح پر ایسی اقتداری صف بندی سے جو مرکزی (قومی) سطح پر مربوط اور موثر ہو۔ اس نوعیت کی ادارتی صف بندی کو فعال رکھنے کے لیے ایک مستقل تبدیل ہوتے ہوئے نظریاتی تناظر اور تزویراتی حکمت عملی کی تنفیذ کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا تعمیراتی تغیراتی تناظر اور تزویراتی حکمت عملی جو اپنی پیہم ناکامیوں سے مستقل استفادہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مقامی سطح پر اسلامی ریاست سازی کا عمل سرمایہ دارانہ قانونی ڈھانچہ کو استعمال کرنے کا بھی متقاضی ہے اور اس کو کم زور کرنے کا بھی ۔ یہ عمل جدلی (dialectic)ہے۔ اس عمل میں سرمایہ دارانہ نظاماتی صف بندی سے باہر جانے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات سے مستفید ہو کر تحفظ دین اور غلبہ دین کے کام کو آگے بڑھایا جاتاہے۔
مرکزی جماعت کے اقدام
اب ہم ان اقدام کا ذکر کریں گے جو مرکزی اسلامی جماعت کو تحفظ دین اور غلبہ دین کی تحریک کو مربوط کر کے آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہیں (ان شاء اللہ)
سب سے پہلا کام جو مرکزی جماعت کے لیے لازم ہے وہ اپنے اندر اور مخلصین دین کے تمام گروہوں کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو manage کرنا ہے۔ ان اختلافات سے سہو نظر کرنا اور ان کو چھپانے کی کوشش کرنا کبھی سود مند نہیں ہوتا۔ مرکزی جماعت کی دعوت اتحاد اسلامی کا مقصدتمام اسلامی گروہوں کو باور کرنا ہےکہ:
- اسلام ایک مکمل نظام اور طرزِ زندگی ہے۔
- سرمایہ داری جاہلیت خالصہ ہے۔
- سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی عالمی غلبہ حاصل کر چکا ہے اور یہ غلبہ زندگی کے ہر شعبہ پر مستقل بڑھاتا جا رہا ہے۔
- سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو منہدم کرنا تحفظ دین اور غلبہ دین کے لیے ضروری ہے۔
- سرمایہ دارانہ نظام کو اس کے باہر سے مسخر نہیں کیا جا سکتا۔
- سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو مسخر کرنے کے لیے اس کے اندرونی تضادات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کو مسخر کرنے کے لیے قومی سطح پر اسلامی نظاماتی اقتدار کو بہ تدریج فروغ دینا لازم ہے۔
- غلبہ دین کی جدوجہد اور تحفظ دین کی جدوجہد فطری طور پر مربوط ہونا چاہیں۔ غلبہ دین کی جدوجہد تحفظ دین کی بنیاد پر ہی استوار کی جانی چاہئے۔
- لہٰذا مخلصین دین کے تمام گروہوں کو ایک مشترکہ شمولی جدوجہد کا حصہ ہونا چاہیے۔
- اس شمولی جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیئے بدلتے ہوئے حالات میں تغیرپذیر نظریاتی اور تزویراتی حکمت عملی کو مرتب کرنے اور کارفرما کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔
- اس نظریاتی اور تزویراتی حکمت عملی کو تمام مخلصین دین کے تعاون سے مرتب اور کارفرما کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔
ہماری رائے میں اس مقصد کی پہلی شق پر مخلصین دین کے تمام گروہوں میں اصولی (عملی نہیں) اتفاق ہے۔ باقی کی شقوں پر اتفاق نہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان میں اتحاد اسلامی اس قدر کم زور ہے اور ہم رزم گاہِ حیات کے ہر مورچہ پر سرمایہ داری سے شکست پر شکست کھائے جا رہے ہیں۔ مخلصین دین کے کسی گروہ کو سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کا مکمل شعوری فہم حاصل نہیں بلکہ زیادہ تر تو سرمایہ داری کو محض ایک معاشی نظریہ سمجھتے ہیں جس کا اعتقادات سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا مودودی نے اپنی کتاب اسلام اور معاشی نظریات اور مولانا تقی عثمانی نے اپنی کتاب اسلامی معیشت و تجارت میں سرمایہ دارانہ اصولِ طلب و رسد کو فطرت کے عین مطابق کہا ہے اور سرمایہ دارانہ ملکیت کا اسلامی جواز پیش کیا ہے اور اسی قسم کی سرمایہ دار نواز فکر پر اسلامی بینک کاری خوب پھل پھول رہی ہے اور یہودی اسلامی بینک مسلمانوں کی دولت پر قبضہ کیے جا رہے ہیں۔
مغرب جاہلیت خالصہ نہیں سرمایہ داری جاہلیت خالصہ ہے اور مغرب اور مشرق (امریکا، یورپ، چین، جنوبی کوریا) سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کے سرخیل – عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، بدھ ازم – سب سرمایہ داری سے شکست کھا کر اس کے نظام اور طرزِ زندگی میں ضم ہو گئی ہیں۔ ہمارے علما اور صوفیہ کو اس کا بالکل اندازہ اور احساس نہیں۔ مخلصین دین سرمایہ دارانہ نظام کو جانتے ہی نہیں وہ بھلا اس کا مقابلہ کیسے کریں گے۔
لہٰذا مرکزی اسلامی جماعت کا پہلا کام یہ ہےکہ اس کو سب سے پہلے اپنے کارکنوں کو اور پھر دیگر مخلصین دین کو سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اصلیت، ماہیت، مفروضات ، علمیت اور عملی کارفرمائی سے آگاہ کرے۔ سرمایہ دارانہ کلیدی عقائد کیا ہیں، سرمایہ دارانہ معاشرت کیسے فروغ پاتی ہے، سرمایہ دارانہ علمیت کی اساس اور دائرہ کار کیا ہے، سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کیسے منظم کی جاتی ہے، سرمایہ دارانہ اقتدار کیسے مرتب اور کارفرما کیا جا سکتا ہے؟ جب تک مرکزی جماعت اور مخلصین دین کو اس سب کا شعور حاصل نہیں ہو گا وہ غلبہ دین اور تحفظ دین کا کام موثر طریقہ سے کیسے انجام دے سکیں گے۔ کیوں کہ ان کی دینی شناخت پر ان کی دینی معاشرت پر، ان کی دینی نظام اقتدار پر سرمایہ داری ہر طرف سے ایک خوں خوار درندے کی طرح حملہ آور ہے۔
Brothers! Be sober, be vigilant. For your enemy capital goeth about like a roaring lion, seeking whom he may devour.
سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کی کارفرمائی کا ادراک تدریسی عمل سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی جماعت کو مخلصین دین کی عمومی صفوں میں اسلامی اقتدار کی طلب اور سیاسی بیداری پیدا کرنے کی جدوجہد کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ثقافتی پیش رفت کی ضرورت ہے۔ سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی جدوجہد میں تطبیق پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور انتخابی عمل کو اس مربوط معاشرتی اور معاشی جدوجہد میں یوں سمونے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ مخلصین دین کا مقامی روزمرہ کی زندگی پر اختیار و اقتدار مستقل بڑھتا چلا جائے۔ نجی زندگی کو اجتماعی جدوجہد میں سمونے کی جستجو جاری رہنی چاہیے۔
اجتماعی شخصیت سازی کے لیے مزاحمتی جدوجہد کو مقامی سطح پر جاری رکھنا ضروری ہے۔ مزاحمتی جدوجہد کو روزمرہ کی زندگی میں تبدیلی لانے سے متعلق ہونا چاہیے۔ مثلاً مسجد اور جرگہ میں کیے جانے والے فیصلوں کی مقامی سطح پر تنفیذ میں سرمایہ دارانہ قانونی جکڑبندیوں سے آزاد کرنے کی جدوجہد، نفاذ شریعت یا امتناع سود کی اصولی عملی جدوجہد سے نظاماتی تسخیر کے ضمن میں کہیں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ ہمیں سرمایہ دارانہ اقتدار کو قدم بہ قدم پیچھے دھکیلنا ہے۔ لہٰذا ہماری حکمت عملی یہ ہونا چاہیےکہ ہر چھوٹی مقامی کامیابی دوسری چھوٹی کامیابی کی راہ ہم وار کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ مزاحمتی کامیابی اس وقت حاصل نہیں ہوتی جب سرمایہ دارانہ اقتدار آپ کے مطالبات قبول کرے بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب مزاحمت کے نتیجے میں ایسی ادارتی صف بندی عمل میں آئے جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ اقتدار کم زور پڑے اور مخلصین دین کی اجتماعی اقتدار ترقی پائے۔ مرکزی جماعت کی نظاماتی قوت میں اضافہ مخلصین دین کے تمام گروہوں کے اقتدار میں اضافہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
کامیاب مزاحمتی اقدام کی ایک اہم مثال جنوبی افریقا میں بجلی کے بحران کے خلاف وہ عوامی جدوجہد ہے جو 2014 میں شروع ہوئی۔ اس کامیاب احتجاج کی ادارتی صف بندی سیکڑوں مقامی تنظیموں نے کی جو جوہانسبرگ کے علاقہ اور سویٹو کی بستی میں پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے پانی اور بجلی کی نج کاری کے مقابلے کے لیے ایک تنظیم قائم کی ہے۔
اینٹی پرائیویٹائزیشن فورم کے نام سے اس تنظیم نے مزاحمتی مزدوروں کو آنے والے مقامی انتخابی مہمات کا حصہ بنا دیا اور غیرقانونی بجلی اور آبی تنصیبات کی فراہمی اور تحفظ کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کان کنی اور بڑی صنعتوں کی فراہمیِ آب اور بجلی کو معطل کرنے میں کئی مقامات پر کامیابی حاصل کی۔ اس تنطیم نے کاری گروں کی تیزرفتار تربیت کا انتظام کیا جس کے نتیجے میں غیرقانونی آبی اور بجلی کی تنصیبات کی جلد از جلد مرمت کا انتظام کئی علاقوں میں ممکن ہو سکا اور بجلی اور پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو غیرقانونی تنصیبات کو منقطع کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ باقاعدہ مہم چلا کر بجلی کے میٹروں کو منقطع کیا گیا ۔ یہ تحریک غریب عوام کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے حصول میں کامیاب ہوئی اور اب جنوبی افریقا کی بجلی فراہم کرنے والی ایجنسی کے مطابق سویٹو کے علاقے میں اسّی فی صد صارفین کو بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے۔
2017 میں کراچی میں جماعت اسلامی نے کراچی الیکٹرک کے خلاف ایک مہم چلائی جو مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ اس ناکامی کی وجوہ حسب ذیل ہیں:
- اس کی پشت پر مقامی آبادیوں کی تنظیمی قوت نہیں تھی نہ ایسی تنظیمی قوت مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ۔
- اس مہم کے ذریعے غیرقانونی (کنڈے) تنصیبات کے تحفظ اور بحالی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
- بڑی صنعتوں، دفتروں اور بینکوں کی بجلی نسبتاً سستی سہولیات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ عوام کو بجلی مہنگی اس لیے دی جاتی ہے کہ صنعت کاروں کو سستی فراہم کی جائے۔
- کراچی الیکٹرک میں کام کرنے والے مزدوروں اور کارکنوں کو منظم اور متحرک نہیں کیا گیا اور کراچی الیکٹرک کی معمول کی کارفرمائی پر دخل انداز ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
مہمات اور مزاحمت کا مقصد سرمایہ دارانہ اداروں اور سرمایہ دارانہ حکومت سے اصلاحات کرانا نہیں ہونا چاہیے۔ مزاحمتی جدوجہد سے اسلامی قوتوں کو مقامی سطح پر خود اصلاحات نافذ کر کے سرمایہ دارانہ اقتدار کو ان اصلاحات کو برداشت کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔ مثلاً سرمایہ دارانہ حکومت سے نفاذِ شریعت کا مطالبہ بالکل ایک فعل عبث ہے لیکن جرگہ اور مسجد کی مقامی تنظیم کے ذریعے ہم احکام شریعت کی مقامی تنفیذ کے مکلف ہو سکتے ہیں اور سرمایہ دارانہ حکومت کو اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور بھی کیا جا سکتا ہے (جیسا کہ صومالیہ، مالی اور موریطانیہ میں ہوا ہے) ۔ سرمایہ دارانہ حکومت سے کراچی الیکٹرک کو قومیانے کا مطالبہ بے سود ہے لیکن اگر ہم مقامی سطح پر کنڈے کے نظام کو محفوظ اور مستحکم کر لیں (جیسا کہ جنوبی افریقا کی مقامی تنظیموں نے کیا) تو ہم کراچی الیکٹرک کو قومیانے کا عمل شروع کر دیں گے اور جیسا کہ جنوبی افریقا کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے سرمایہ دارانہ حکومت کو اس قسم کے اقدام کو برداشت کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
انقلابی واقعہ (اسلامی ریاست کے قیام) سے پہلے سے انقلابی ادارتی صف بندی کا عمل شروع ہو جانا چاہیے۔ ایرانی علما نے یہ کام 1908 (انقلاب صفیدکے وقت) سے شروع کیااور 70 سال بعد وہ سرمایہ دارانہ اقتدار کوجزوی طورپر منہدم کر کے اسلامی ریاست کے قیام میں کامیاب ہوئے۔ اگر انقلابی ادارتی صف بندی نہ کی گئی تو تحریکاتِ اسلامی نظاماتی اقتدار کبھی بھی حاصل نہ کر سکیں گی۔
اس ضمن میں ماؤسٹ تجربات (صرف چین میں نہیں بلکہ پیرو، کولمبیا، فلپائن اور ہندوستان کے بھی) سبق آموز ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان تنظیموں نے پرامن احتجاج کو انقلابی ادارتی صف بندی کے لیے موثر ذریعہ (اراضی کی تقسیم نو، خوراک کی عوامی فراہمی اور قومی آزادی کا حصول) کے ذریعے انہوں نے اجتماعی شخصیت سازی کو فروغ دیا (گو کہ یہ اجتماعی شخصیت حرص اور ہوس سے ہی مغلوب تھی) ماؤسٹ جماعتوں کے عوامی روابط نہایت گہرے ہوتے ہیں اور مقامی حکومتوں کا انقلابی استعمال ان کے خاص اقدام ہیں (بالخصوص کولمبیا اور نیپال میں)۔ یہ اپنے کارکنوں اور عوام کی انقلابی تربیت پر خاص طور پر زور دیتی ہیں۔ پارٹی کا بنیادی کام مقامی انتظامیہ کی کارفرمائی کی نگرانی کرنا اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے خاطرخواہ اجتماعی شخصیت سازی ہوتا ہے۔
ظاہر ہے کہ تحریکاتِ تحفظ اور غلبہ دین جس اجتماعی شخصیت سازی کو فروغ دینا چاہتی ہیں وہ ماؤسٹ یا کمیونسٹ اجتماعی شخصیت سازی کی ضد ہے۔ ہماری اجتماعی شخصیت نفرت اور غضب سے مغلوب نہیں۔ تقویٰ ، احسان، صبراور ورع کا مظہر ہو گی لہٰذاکفار کے تجربات کا مشاہدہ صرف اسی صورت میں سود مند ہو سکتا ہے کہ ان تجربات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم تحفظ اور غلبہ دین کو یوں منظم کریں کہ اقتدار کے حصول کی جدوجہد کا منفی اثر کارکنان کے دینی اور روحانی میلانات پر نہ پڑے۔ سرمایہ داری کو شکست دینے کی جدوجہد میں وہ خود سرمایہ دار نہ بن جائیں جیسا کہ ماؤسٹوں کے ساتھ ہر جگہ ہوتا آیا ہے۔
اگر غلبہ دین اور تحفظ دین کی جدوجہد کو اسلامی خطوط پر منظم کرنا ہے تو مصلحین اور انقلابیوں کا اشتراک عمل اور ایک لڑی میں پروئے جانا ناگزیر ہے۔ یہ دونوں مل کے ہی اسلامی اجتماعی شخصیت سازی اور اسلامی ادارتی صف بندی کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ اگلے باب میں ہم مصلحین اور انقلابی گروہوں میں تعاون کے امکانات اور ان پر گفت گو کرنے کی کوشش کریں گے ان شاء اللہ۔
اصلاحی اور انقلابی گروہوں میں اشتراکِ عمل اور تعاون
ہمارے تجزیہ کے مطابق انقلابی عمل اسلامی اعمال کے خاطرخواہ تربیتی انعقاد کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ یعنی انقلابی عمل کو اصلاحی اعمال سے منسلک اور مربوط رہنا چاہیے۔ ان سے اس کی جداگانہ کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ہماری رائے میں سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی کا انہدام مصلحین اور انقلابیوں دونوں کا ہدف ہونا چاہیے لہٰذا جن اصلاحات کی تنفیذکی کوشش کی جانی چاہیے وہ ایسے ہوں جن سے سرمایہ دارانہ نظام اقتدار مجروح ہو اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو فروغ دیں۔ ایسی اصلاحات نہ ہوں جن کے ذریعے سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اور نظم اقتدار مزید طاقت ور ہو جائے اور اسلامی انفرادیت اور معاشرت کو سرمایہ دارانہ نظم میں ضم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے (مثلاً اسلامی بین کاری کا فروغ، مدارس میں سوشل سائنسز کی تعلیم) اس نوعیت کے نظاماتی انہدامی اسلامی اصلاحات کے تحفظ کے لیے جمہوری انتخابی اور سرمایہ دارانہ قانونی ڈھانچے کا استعمال ناگزیر ہے۔
اصلاحی اور انقلابی گروہوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے تو اس بات کا خیال رکھنا ناگزیر ہے کہ گو ان کے مقاصد یک ساں ہیں یعنی حصولِ رضائے الٰہی، ان کے قووت کے سرچشمے اور ان کے طریقہ کار میں لازماً فرق ہوتا ہے۔ اگر مرکزی جماعت کو پور ی اسلامی تحریک کو متحرک کرنے اور منظم کرنے کا فریضہ انجام دینا ہو تو اس نوعیت کے فرق کا لازماً خیال رکھنا ہو گا۔ انفرادی اور معاشرتی تغیر بنیادی طور پر مصلحین کی ذمہ داری ہے۔ انقلابیوں کا کام اس تغیراتی عمل اور اس سے ابھرنے والی ادارتی صف بندی کو تحفظ اور مقبولیت فراہم کرنا ہے۔ یہ کام جمہوری ، پارلیمانی اور انتخابی عمل سے بھی سرانجام دیا جائے گا اور احتجاجی مہمات سے بھی۔ پارلیمانی اور احتجاجی عمل کا مقصد اسلامی معاشرتی تبدیلی کے عمل کو محفوظ کرنا اور اس کے دائرہ کار کو وسعت دینا ہونا چاہیے۔ انقلابی عمل کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اصلاحی گروہوں کی معاشرتی تغیر پذیری کی صلاحیت کا صحیح اندازہ لگایا گیا یا نہیں اور اس صلاحیت میں اضافہ کے کس حد تک امکانات وسیع کیے گئے۔
اقتداری قوت کے سرچشمہ کا صحیح اندازہ لگانا انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے اہم ہے۔ قوت کا اظہار دو سطح پر ہوتا ہے۔ قوت کا ایک اظہار یہ ہےکہ مفعول کو وہ کرنے پر مجبور کیا جائے جو فاعل چاہتا ہے۔ اس کو “power over” کہتے ہیں۔ دوسرا اظہار یہ ہے کہ فاعل جو کرنا چاہتا ہے وہ خود کرے، اس کو “power to” کہتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ ریاست کی معاشرتی سطح خود کچھ کرنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے۔ نیولبرل ازم میں مستقل محدود تر ہوتی جا رہی ہے۔ مثلاً سرمایہ دارانہ ریاست خود دینی تعلیم عموماً نہیں دے سکتی لیکن وہ مدارس کو مجبور کر سکتی ہے کہ ان کا تعلیمی نصاب کیسا ہو۔
سرمایہ دارانہ ریاست کے اقتدار کو کم زور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی گروہوں کی “power to” کی صلاحیت میں اضافہ ہو مثلاً پاکستان میں زیادہ تر افراد یا زرعی شعبہ سے وابستہ ہیں یا چھوٹے کاروباری شعبہ سے۔ زرعی شعبہ میں سرمایہ دارانہ ریاست کی “power to” خود کچھ کرنے کی استعداد محدود ہے اور اس پر اس کی “power over” وہ کرانے کی صلاحیت جو وہ کرنا چاہتی ہے زمین دار، وڈیرہ طبقہ کے ذریعے بروئے کار لائی جاتی ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مقننہ میں جاگیرداروں کا غلبہ رہتا ہے)۔ چھوٹے کاروباری شعبہ میں ریاستی “power over” اور “power to”دونوں قسم کی قوتیں نہایت محدود ہیں۔ اگر اسلامی اقتدار “power over” اور “power to” دونوں شکلوں میں چھوٹے کاروباری شعبہ پر قائم اور کارفرما کیا جائے اور اگر ہاریوں اور جاگیرداروں کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی گرفت سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے اور ان کی اسلامی ادارتی صف بندی (مساجد کی بنیاد پر) کی جائے تو ملکی سطح پر تحفظ اور غلبہ دین کی تحریکوں کا اجتماعی اقتدار بہت بڑھ سکتا ہے۔
روزمرہ کی زندگی سے متعلق امور میں عوام کی خوداختیاریت کی صلاحیت کو اسلامی ادارتی صف بندی کے ذریعے فروغ دینا تحریکاتِ اسلامی کے نظاماتی قوت کا اہم ترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ دورِ حاضر میں چار شعبے ایسے ہیں جہاں اسلامی ادارتی صف بندی کے ذریعے عوام خود اختیاریت کی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ شعبے ہیں توانائی کی فراہمی اور ترسیل، چھوٹا کاروباری شعبہ، مواصلاتی اورشعبہ زراعت ۔ اس نوعیت کی ادارتی صف بندی مصلحین اور انقلابیوں کی مشترکہ جدوجہد ہی ہے منظم اور کارفرما ہو سکتی ہے۔ اور اس نوعیت کے عملی تعاون کو ملک گیر سطح پر منظم کرنے میں مرکزی جماعت ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مرکزی جماعت جس کا بنیادی ہدف اسلامی اقتدار کا فروغ اور حصول ہو اس کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ یہ اقتدار بنیادی طور پر مصلحین کے گروہوں کو دلوانے کی جدوجہد ہے۔ مصلحین کی جماعتوں اور ان کے ذریعے مخلصین دین کی اقتداری صلاحیتوں کو فروغ دیتے رہنا مرکزی جماعت اور مصلحین کی مشترکہ جدوجہد سے ہی منظم اور کارفرما ہو سکتی ہے۔ اور اس نوعیت کے عملی تعاون کو ملک گیر سطح پر منظم کرنے میں مرکزی جماعت ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ مرکزی جماعت کا بنیادی ہدف اسلامی اقتدار کا حصول اور فروغ ہے ۔ اس کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ یہ اقتدار بنیادی طور پر مصلحین کی جماعتوں – اور ان کے ذریعے مخلصین دین– کی اقتداری صلاحیتوں کو فروغ دیتے رہنا مرکزی جماعت اور انقلابیوں کا بنیادی فریضہ ہے۔ یہ فریضہ محض انتخابات اور جمہوری عمل میں حصہ لے کر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری عمل میں شرکت کا مقصد مصلحین اور مخلصین دین کی معاشرتی اقتداری صلاحیت میں اضافے کے سوا کچھ نہیں۔ ریاست کی بالائی سطح پر انقلابیوں کو قوت حاصل ہو گی تو اس کا پورے کا پورا دارومدار مصلحین اور مخلصین دین کی معاشرتی اقتدار میں اضافے پر ہوگا۔ لہٰذا مرکزی جماعت بڑی حد تک (اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہوئے) وسیع تر تحفظ اور غلبہ دین کی تحریک میں جذب ہو جائیگی۔
آج ہماری مصلحین کی جماعتیں سب کی سب سرمایہ دارانہ ریاستی انتظامی نظام کو غیر اقداری سمجھتی ہیں بلکہ کچھ علما (بالخصوص بریلوی) ریاستی انتظامی تبدیلی کو دین کا تقاضا تک نہیں گردانتے ہیں۔ یہ انقلابیوں کا کام ہے کہ اس انتظامیہ کی فطری دہریت اور سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار ہونے کی حیثیت سے دو اور دو چار کی طرح بیان کریں اور اس سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے ساتھ مخلصین دین کی وابستگیوں کو توڑیں۔ اس امر کے وقوع پذیر ہوئے بغیر معاشی اور معاشرتی سطح پر ایک اسلامی غیرسرمایہ دارانہ نظام اقتدار مرتب کرنا ناممکن ہے۔ معاشرتی اور معاشی روزمرہ زندگی کی ترتیب نوکو سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کی تسخیر کے لیےاستعمال کرنا ضروری ہے۔
مصلحین اور مخلصین دین پر یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ سرمایہ دارانہ اقتداری قبضہ کا محور اور مرکز اس کی معاشی تنظیم (کیوں کہ سرمایہ داری دولت کی پرستش کا دوسرا نام ہے) اور معاشی زندگی کو منظم کرنےوالا مرکزی ادارہ کارپوریشن ہے۔ کارپوریشن سرمایہ دارانہ نظام کی مخصوص ایجاد ہے۔ سرمایہ داری کے ورود سے پہلے کارپوریشن کا کوئی وجود نہ تھا۔ (سب سے پہلی کارپوریشن ایسٹ انڈیا کمپنی 1699 میں قائم کی گئی) کارپوریشن ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مقصد وجود صرف اور صرف اپنے سرمایہ میں مستقل بڑھوتری ہے۔ہر کارپوریشن کی مینجمنٹ اس کے ہر کارکن کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مستقلاً سرمایہ میں بڑھوتری کے عمل کو مہمیز دیتا رہے۔ ایک فرد کی روزمرہ کی زندگی پرکارپوریشن کاغلبہ اس کو سرمایہ کی بڑھوتری کا ایجنٹ بنا دیتی ہے۔
اب پاکستان میں کارپوریشنوں کے براہ راست ملازم بہت کم ہیں لیکن کارپوریشن بیش تر افراد کی زندگی پر مسلط ہے۔ کارپوریشنیں نجی بھی ہوتی ہیں اور سرکاری بھی۔ کارپوریشنوں نے روزمرہ کی معاشی ضروریات – پانی ، بجلی، مواصلاتی نظام اور صحت کے شعبہ – پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان تمام شعبوں میں کارپوریشنوں کی کارفرمائی کا مقصد اپنے سرمایہ میں مستقل بڑھوتری کاا صول ہے۔ اسی اصول کے تحت وہ پانی، بجلی، صحت کی خدمات کی قیمتوں کا تعین کرتی ہیں او رہر وہ شخص جو پانی، بجلی اور صحت کی خدمات استعمال کرتا ہے ان قیمتوں کو ادا کرنے پر مجبورہے اور سرمایہ دارانہ ظلم کا شکار ہے۔ ان کارپوریشنوں کوقومیانے سے ان کی کارفرمائی تبدیل نہیں ہوتی محض ان کی دست رس تبدیل ہو جاتی ہے اور ان کے عوامی صارفین کی مظلومی اور لاچاری میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پانی، بجلی، صحتی خدمات اور مواصلاتی نظام بالخصوص میڈیا پر اسلامی ادارتی غلبہ قائم کرنا مخلصین دین اور ان کی قیادت میں منظم عوام کو سرمایہ دارانہ استبداد سے آزاد کرنا آج کا ایک کلیدی تزویراتی قدم ہے جو مصلحین اور انقلابی کے اشتراک اور تعاون ہی سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ادارتی چیلنج بھی ہے اور ایک ٹیکنیکل چیلنج بھی لیکن ان چیلنجوں کا مقابلہ کئی ممالک (بالخصوص جنوبی افریقا اور جنوبی امریکا کے ممالک) میں کیا جا چکا ہے اور ہم ان تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان تجربات کو من و عن دہرایا نہیں جا سکتا کیوں کہ ہمارا مقصد مخلصین دین کی ادارتی صف بندی کےذریعہ اسلامی شخصیت سازی ہے اور ظاہر ہے کہ دہریہ (سیکولر) انقلابی تحریکیں تو محض سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ کارپوریشن مخالف عوامی ادارتی صف بندی کے عمل میں مصلحین کی شمولیت اس بات کی ضامن ہو سکتی ہے کہ اس ادارتی صف بندی کے ذریعے اسلامی روحانیت، مذہبیت اور اخلاقیات فروغ پائیں۔ یہی بات صنعتی شعبہ کی کارپوریشنوں کی مزدور تنظیموں کی ادارتی تشکیل کے ضمن میں بھی کہی جا سکتی ہے۔
ابتداءً ادارتی صف بندی کے تجربات اور اقدامات لازماً مقامی ہوں گے لیکن ان کو مجرد ہونے سے بچانا چاہیے۔ مرکزی جماعت ان میں سے تمام کامیاب تجربات کی بنیاد پر نظاماتی ادارتی تبدیلی کے لیے جدوجہد مرتب کر سکتی ہے اور پارلیمان میں اسلامی اتحاد کی قوت ان تجربات کے تحفظ اور فروغ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
ادارتی صف بندی تحفظ اور غلبہ دین کی تحریکات کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ مخلصین دین کی موجودہ صف بندی سرمایہ دارانہ اقتدار کی تحلیل اور اسلامی اقتدار کے فروغ کے لیے نہ وضع کی گئی ہے نہ موجود ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہم نے جتنی بھی تحریکیں چلائی ہیں وہ مزاحمتی تحریکیں تھیں۔ مثلاً تحریک ردِّ قادیانیت، تحریک نظام مصطفیٰ، تحریک ختم نبوت، وہ سب ان معنوں میں ناکام ہو گئیں کہ ان کے اختتام پر مصلحین دین اور ان کے حمایتی منتشر ہو گئے اور ان تحریکات کا روزمرہ کی زندگی پر کوئی اثر نہ پڑا۔ سرمایہ دارانہ اقتدار مجروح نہ ہوا اور اسلامی اقتدار فروغ نہ پا سکا۔
پوری دنیا کے تجربات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مزاحمتی تحریکیں کچھ وقت گزرنے پر دم توڑ دیتی ہیں اور سرمایہ دارانہ ریاست ان کے مطالبات کو علامتی طور پر تسلیم کر کے ان کو اپنے اندر ضم کر لیتی ہے۔ ان مزاحمتی تحریکات کی کامیابی اس بات پر منتج ہے کہ ایک انقلابی حکومت وقتی طور پر برسراقتدار آ جاتی ہے لیکن چوں کہ اس کی پشت پر غیرسرمایہ دارانہ ادارتی اقتداری صف بندی نہیں ہوتی لہٰذا اس انقلابی نظم اقتدار کو بہت جلد سرمایہ دارانہ ریاست کا آلہ کار بنا لیا جاتا ہے۔ یہی کچھ مصر ، تیونس، بولیویا، ایکواڈور، برازیل اورارجنٹینا میں ماضی قریب میں ہوا۔
ایرانی انقلاب کی دیرپائی کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی حکومت کے قیام سے 70 سال قبل سے علما کی قیادت میں اسلامی عوامی ادارتی صف بندی کا عمل جاری تھا۔ان تجربات سے ہمیں مندرجہ ذیل سبق ملتے ہیں:
- مخلصین دین کی قیادت میں اسلامی ادارتی اقتداری عوامی صف بندی کے مواقع موجود ہیں۔
- مصلحین اور انقلابی جماعتوں کے اشتراک ِ عمل سے اسلامی عوامی اقتداری ادارتی صف بندی کا کام فوراً شروع کردینا چاہیے۔
- مطالباتی مہمات سے اس وقت تک پرہیز کرنا چاہیے جب تک ان کی پشت پناہ عوامی ادارتی اقتداری قوت کسی نہ کسی حد تک منظم نہ ہو۔
- مطالباتی اقدام کے دوران اور اس کے ذریعے اسلامی ادارتی اقتداری صف بندی کومزید فروغ دینا چاہیے۔
- مطالباتی تحریکات کا ہدف سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی نہ ہو کیوں کہ یہ سرمایہ دارانہ اقتداری نظام میں مطالباتی تحریک کے ضم ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے جزوی مواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
- مذہبی جدوجہد کو اقتدار سازی کا ذریعہ ہونا چاہیے اور بنیادی طور پر مطالباتی کش مکش کو اقتدار سازی کا ذریعہ بنانا مرکزی جماعت کی ذمہ داری ہے۔ اسکی اہم مثال چین کی کمیونسٹ پارٹی کا مہمات کا مستقل استعمال ہے۔ اس کے ذریعے اس نے اپنی مطلوبہ اجتماعی شخصیت سازی بھی کی، عوام کو متحد بھی کیا، عوامی مقبولیت بھی حاصل کی اور مطالباتی مہمات کا محور اور مرکز بھی بننے میں کامیاب ہوئی لیکن جو اجتماعی شخصیت سازی کی وہ سرمایہ دارانہ شخصیت سازی ہی تھی اور اسی وجہ سے یہ اجتماعی سرمایہ دارانہ شخصیت، انفرادی سرمایہ دارانہ شخصیت میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہے۔
- مطالباتی جدوجہد کی ترتیب اور تدوین میں مصلحین کی قیادت کی شمولیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہی ان مہمات کو اجتماعی اسلامی شخصیت سازی کا ذریعہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان ہی کی کاوش سے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ مہمات سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کا ذریعہ نہ بن جائیں۔
مصلحین کی انتخابی عمل میں شمولیت بھی ضروری ہے کیوں کہ انتخابی عمل بھی مخلصین دین کی قیادت میں عوام کو منظم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ انتخابی عمل کو تحریک تحفظ دین اور غلبہ دین کا ایک جزو بنانے کی سعی کی جانی چاہیے۔ انتخابی عمل میں اسلامی سیاسی جماعتوں کو مصلحین کے گروہوں کے ذریعے عوام تک رسائی حاصل کرنا چاہیے اور خود عوام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ سیاسی جماعتیں اسلامی روحانیت اور مذہبیت کے عوام میں فروغ کا ذریعہ نہیں بن سکتیں اور جب وہ خود عوام کو غالب کرتی ہیں تو لازماً سرمایہ دارانہ ظلم کے خاتمہ اور سرمایہ دارانہ عدل کی فراہمی کے وعدے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ مخلصین دین کو عوامی سطح پر اسلامی عصبیت کی بنیاد پر متحرک کرنا مصلحین کی جماعتوں ہی کی ذمہ داری ہے کیوں کہ یہ ان کی بنیادی constituency ہے۔
سرمایہ دارانہ غلبہ کا ایک نہایت اہم ستون سرمایہ دارانہ میڈیا ہے جو سرمایہ دارانہ شخصیت سازی کا اہم ترین ذریعہ ہے اور ٹی وی اور انٹرنیٹ خدمات کے ذریعے اس کی رسائی ہمہ گیر اور عالمی ہو گئی ہے۔ ہم نے ابھی تک سرمایہ دارانہ مخالف میڈیا کی ترتیب و تدوین کا کام شروع نہیں کیا۔ برقی میڈیا میں ہماری نمایندگی بالکل بے ترتیب اور غیرمربوط ہے۔ برقی میڈیا بالخصوص ٹی وی پر ہمارے علما عموماً دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے قائم ٹی وی چینلز کا ردسرمایہ داری سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہمارے اخبارات، رسائل وغیرہ کوئی مربوط حکمت عملی کے تحت سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی پر تنقید مرتب کرتے ہیں۔ ہمارا تمام میڈیا اپنے جاری کرنے والوں کا ترجمان ہے۔ بالخصوص اسلامی سیاسی جماعتوں کا میڈیا اختلافی آرا ء کے لیے اپنے دروازے بالکل بند کیے ہوئے ہے۔ تحریکات اسلامی میں مستقل جاری رہنے والے مکالمہ کی کوئی سہولت موجود نہیں۔
ایک ایسے میڈیا کو کارفرما رکھنا جو اسلامی اختلافی مباحث کو فروغ دے جو کسی پارٹی لائن کا تابع نہ ہو اور جو سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی خصوصیات اور تضادات پر ایک جامع اسلامی محاکمہ مستقل بنیادوں پر مرتب کرتا رہے، کو قائم کرنے اور چلانے کی بنیادی ذمہ داری مرکزی اسلامی جماعت پر عاید ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہی مرکزی جماعت تحفظ اور غلبہ دین کی تمام گروہوں کی رابطہ کی جماعت ہے اور اسی کی ذمہ داری ہے کہ تحفظ دین اور غلبہ دین کی مختلف النوعی جدوجہدوں کو اس طرح مربوط اور منظم کرے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ حیات منتشر ہوتا رہے اور اقتدار سرمایہ دارانہ اداروں سے بہ تدریج منتقل ہو کر مخلصین دین کے اداروں میں مرتکز ہوتا رہے۔
الغرض مصلحین اور انقلابی گروہوں میں اشتراکِ عمل اور تعاون سے تحفظ دین اورغلبہ دین کی جدوجہد کو دورِ حاضر میں جاری رکھنےکے لئے ناگزیر ہے۔ اس تعاون کے بغیر نہ اسلامی شخصیت فروغ پا سکتی ہے نہ اسلامی معاشرت محفوظ کی جا سکتی ہے نہ اسلامی اقتدار قائم کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحین اور انقلابی ایک جسد کے دو ہاتھ، ایک باغ کے دو پھول، ایک جہت کے دو پہلو، ایک تلوار کی دو دھاریں ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے فطری حلیف، غم گسار اور بہی خواہ ہیں۔ دشمنانِ اسلام کی ایک اہم ترین کامیابی تحریک اسلامی کی ان دو شاخوں میں بدگمانی اور اجنبیت کی فضا پیدا کر دینا ہے۔ ان کے درمیان کفار کی بنائی مصنوعی خلیج کو پاٹنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اے بھائی اگر تم ساتھ نہ دو تو ہم سے اکیلے کیا ہوگا؟
باب ۷: ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
اس باب میں اختصار کے ساتھ اس حکمت عملی کے نمایاں نکات بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو موجودہ دور میں پاکستان میں تحفظ دین اور غلبہ دین کی جدوجہد بڑھانے کے لیے ہم ضروری خیال کرتے ہیں۔
اولین ضرورت –اتحادِ اسلامی
اس وقت ہماری سب سے بڑی کم زوری مخلصین دین کی صفوں میں انتشار ہے۔ مخلصین دین کی عظیم اکثریت قطعی طور پر غیرمنظم ہے۔ ایک عام پابند صوم و صلوٰۃ مخلص مسلمان کسی بھی اسلامی گروہی صف بندی سے کوئی مستقل تنظیمی تعلق نہیں رکھتا۔ مذہبی قیادت مسلکی گروہ بندیوں میں منظم ہے اور ایک دوسرے کے خلاف شکوک اور شبہات پھیلانےاور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے میں مصروف ہے۔
رہے اہل قبلہ میں جنگ ایسی باہم
کہ دیکھ ان کی حالت ہنسے سارا عالم
بیش تر اسلامی سیاسی جماعتیں انہی مسلکی صف بندیوں کا پر تو ہیں اور اپنے ریاستی اقتداری اختیارات میں توسیع کے لیے دہریہ (سیکولر) سیاسی جماعتوں – مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی – کی بی ٹیم بنی ہوئی ہیں۔
ہمیں اس کا احساس نہیں کہ تمام مسلکی گروہ – شیعہ ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث – سب مخلص فی الدین، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، طابع صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم اور دین کے خادم ہیں۔ ان کے نظریات اور طرائق میں اختلافات اخلاص پر مبنی ہیں اور ان کے قائدین کی بڑی اکثریت اولیااللہ پر مشتمل ہے۔
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں اختلاف باعثِ رحمت ہے“۔ اختلاف کو باعثِ رحمت بنانے کے لیے لازم ہے کہ ہماری مذہبی قیادت تمام مسلکی اختلافات کو اخلاص پر مبنی ہونا سمجھیں اور اکرام مسلم کے زریں اصول پر عمل کرنے کا سب کو درس دیں۔ مسلکی اختلافات کو ختم کرنے کی سعی لاحاصل کو ترک کر یں اور اس بات کا احساس کریں کہ دہریہ (سیکولر) تمام اسلامی گروہوں کی مشترکہ دشمن ہیں۔ وہ اسلامی انفرادیت، معاشرت اور اقتدار کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کے ڈرون حملے شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی میں تفریق نہیں کرتے۔ وہ تو امت مسلمہ کو نیست و نابود کرنے کے لیےکئے جاتے ہیں۔
اسلامی اتحاد کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش متحدہ مجلس عمل کا قیام اور کارفرمائی ہے۔ لیکن اس سے حاصل شدہ کامیابیاں ۲۰۰۲ء کے انتخابی نتائج تک محدود رہیں۔ نہ ہم اپنے پارلیمانی وجود کو استعمال کر کے اسلامی اقتدار میں اضافہ کر سکے نہ اس کو اسلامی معاشرت اور انفرادیت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنا یا۔ ایم ایم اے سرمایہ دارانہ اقتداری سطح کا ایک ایسا انتخابی اتحاد ہےجس کا سرمایہ دارانہ ریاستی تسخیر اور اسلامی معاشرتی ترتیب نو سے کوئی تعلق نہ تھا۔ لہٰذا محلہ اور مسجد کی سطح پر لڑنےاور مسلکی گروہی کش مکش پر ایم ایم اے کا اتحاد بالکل اثرانداز نہ ہو سکا نہ ایک عام اسلامی کارکن کی اقتداری صلاحیت اور دائرہ کار میں اضافہ نہ ہوا۔
ایم ایم اے میں شامل جماعتیں دوسری تمام غیرسیاسی اسلامی جماعتوں کی طرح سرمایہ دارانہ ریاستی دستوری نظم اقتدار کو غیراقداری سمجھتی ہیں۔ اسلامی سیاسی اور غیرسیاسی جماعتیں سب سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی تغلب کو فطری سمجھتی ہیں اور ہماری سیاسی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام اقتدارمیں اپنے لیے جگہ پیدا کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ علما اور صوفیہ یا تو اس رائے کو قبول کیے ہوئے ہیں یا اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اسلام کے مخالف ہندو، قادیانی، عیسائی اور یہودی ہیں اور ہمیں سرمایہ دارانہ اقتدار ہندوؤں، قادیانیوں، عیسائیوں اور یہودیوں سے ہی چھیننا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ پچھلے چار سو سالہ تاریخی عمل کے ذریعے ہندومت، عیسائیت، یہودیت اور قادیانیت سب سرمایہ دارانہ نظم اقتدار اور طرزِ زندگی میں ضم ہو گئے ہیں اور اگر مخلصین دین بھی سرمایہ دارانہ علمیت اور نظم اقتدار کو غیراقداری سمجھتے رہے تو اسلام اور اسلامی طرز زندگی بھی بتدریج سرمایہ داری میں ضم ہوتا چلا جائے گا۔
سرمایہ دارانہ نظم اور طرزِ زندگی سے واقفیت حاصل کرنا تمام اسلامی گروہوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ مسلکی اتحاد فروغ دینے کی لازمی شرط ہے کیوں کہ جب تک ہم اپنے مشترکہ دشمن کو نہیں پہچانیں گے اپنی ہی صفوں میں ایک دوسرےکو اپنا دشمن سمجھتے رہیں گے۔ اصلی دشمن کے خلاف کوئی مربوط اور ہمہ پہلو اسلامی ، اقداری اور دفاعی حکمت عملی ترتیب نہ دے سکیں گے ۔ بالکل مختلف دہریہ حکومتوں اور جماعتوں سے تعاون کے ذریعے نادانستہ طور پر تحریک تحفظ اور غلبہ دین کو کم زور کرتے رہیں گے۔
ہماری رائے میں اسلامی سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی انہدامی عمل سرمایہ دارانہ اقتدار کی بالائی سطح پر نہیں ۔ اس کو بنیادی سطح پر مرکوز ہونا چاہیے ۔ سرمایہ دارانہ اقتدار کی جڑیں لوگوں کی روزمرہ کی زندگی میں پیوست ہیں۔ روزمرہ کی زندگی پر سرمایہ دارانہ گرفت کو بتدریج ڈھیلا کرنے کے لیے مساجد کے ملک گیر نیٹ ورک کو متحرک اور منظم کیا جانا چاہیے۔
مساجد کے معاشی اور معاشرتی دائرہ کار اور اقتدار کو فروغ دینے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام ضروری ہیں:
- محلہ کی سطح پر بین المسالک مساجد کے اتحاد کا قیام (جس میں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سب مساجد شامل ہوں)۔
- ان محلہ کی مساجد کے اتحادوں کا ضلعی، شہری اور وفاقی سطح پر وفاق کا قیام
- ان وفاقوں میں بڑھتی تعداد میں مسلکی اور سیاسی اسلامی جماعتوں کی شمولیت
- محلہ کی ہر مسجد کی انتظامیہ میں وہاں مقیم موثر برادریوں، جرگوں اور پنچایتوں کے بزرگوں کی شمولیت
- محلہ کی ہر مسجد میں عوام کے لیے قضا اور افتا کا انتظام اور ضلعی اور شہری سطح پر ایک شرعی نظام قضاء اور افتاء کی بتدریج تدوین دیا جائے
- شہری اور ضلعی سطح پر مساجد اور مدارس کے دفاع اور ان کے خلاف کی جانے والی ریاستی کارروائی کی قانونی چارہ جوئی کی تنظیمی صف بندی
- محلہ کی سطح پر بین المسالک مساجد ائمہ کے تحت مستقل باجماعت نمازیوں کو منظم کر کے مندرجہ ذیل اقدام: محلہ سے متصل بازاروں میں حلال کاروبار کا فروغ، محلہ کی سطح پر اشیائے صرف کی قیمتوں، مکانوں کے کرایوں اور اسکولوں کی فیسوں کی نگرانی
- محلہ کی سطح پر اسلامی تنظیموں کے تحت جو رفاہی اور فلاحی کام ہو رہا ہے اس کی نگرانی اور اس کو دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین اور اسلامی اقتداری صف بندی سے مربوط کرنے کی ذمہ داری
- ردِ فواحش اور منکرات کی حتی المقدور جدوجہد بالخصوص انٹرنیٹ سروسز اور وڈیو دکانوں کے خلاف
مرکزیت کی ضرورت
اس سب کام کی تطبیق اور تدوین کے لیے ایک مرکزی جماعت کی ضرورت ہے جو مندرجہ ذیل خصوصیات کی حامل ہو:
- مرکزی جماعت بین المسلکی ہو اور تمام مسالک – شیعہ ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث – کو یکساں عزت، احترام اور توقیر کی نظر سے دیکھتی ہو اور اس کی صفوں اور قیادت میں تمام مسالک کی نمایندگی موجود ہو۔
- مرکزی جمات تمام گروہوں کے سماجی، معاشی اور سیاسی اقتدار میں اضافہ کی جدوجہد کرے۔ یہی اس کا بنیادی دائرہ عمل ہے۔
- مرکزی جماعت سرمایہ دارانہ تحکیم سے بخوبی واقف ہو۔ وہ یہ اچھی طرح جانتی ہو کہ سرمایہ دارانہ اقتدار معاشرتی مقبولیت کیسے حاصل کرتا ہے اور مقبولیت میں مستقل اضافہ کرنے کے لیے کیا اقدام کرتا ہے۔ مرکزی جماعت کو سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی تضادات کو شدید تر کرنے کا فن آنا چاہیے۔ اور اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان تضادات کو فروغ دے کر اسلامی انقلابی عمل کو موثر بنانے کے مواقع سے فایدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے۔
- مرکزی جماعت یک نظریاتی جماعت نہ ہو۔ اپنے اساسی نظریہ کو عقیدہ کا درجہ نہ دے۔ اپنے اساسی نظریے میں ترمیم و توسیع پر آمادہ ہو اور اس بات کی دانستہ کوشش کرے کہ یہ اساسی نظریہ قدیم راسخ العقیدہ اسلامی نظریاتی دھارے میں سموتا چلا جائے۔
- مرکزی جماعت ہمہ جہت اور ہمہ مشرب اسلامی تحاریک کی رابطہ کی جماعت ہو ۔ اس ہمہ جہت اور ہمہ مشرب تحریک کی قاید یا رہ نما بننے کی کوئی کوشش نہ کرے۔ مرکزی جماعت دیگر تمام اسلامی گروہوں کے خادموں کی جماعت ہو جیسا کہ قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کے بارے میں فرمایا تھا ”ہم علما کے خادم ہیں۔ جہاں اورجب وہ حکم دیں گے ہم حاضر ہو جائیں گے“۔ مرکزی جماعت کو دیگر اسلامی جماعتوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرنا چاہیے کیوں کہ اسلامی عمل کو جاری رکھنے کے لیے جس بنیادی وصف کی ضرورت ہے وہ عجز و انکساری ہے۔
- مرکزی جماعت کا ایک اہم کام نظریاتی مکالمہ اور محاکمہ جاری رکھنا اور اسے فروغ دینا ہے۔ اس کا پریس اسلامی، نظریاتی اور تزویراتی تنوع کو فروغ دینے کا آلہ کار ہو گا۔ مرکزی جماعت کے اندر نظری اور تزویراتی بحث مستقلاً جاری رہے گی۔
- اس نظریاتی بحث کو مرکزی جماعت کی ہر سطح پر فروغ دیا جائے۔ متاثرین کی سطح پر، ارکان کی سطح پر ، حلقہ کی سطح پر، ضلع، شہر،شہر اور وفاق کی سطح پر مرکزی جماعت اس بات کی جدوجہد کرتی رہے گی کہ جماعت سے باہر عام مخلصین دین اور ان کی گروہی قیادت مرکزی جماعت میں جاری رہنے والے مباحث میں بھرپور اور مسلسل حصہ لیتے رہیں۔ مرکزی جماعت کی پالیسیاں پارٹی لائن کی شکل اختیار نہیں کرنے دی جائیں گی۔ مرکزی جماعت مخلصین دین کی صفوں میں شورائی عمل کو وسیع سے وسیع تر بنانے کی جدوجہد مستقل کرتی رہے گی۔
- مرکزی جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ لچک دار اور دوسری راسخ العقیدہ جماعتوں کے انتظامی ڈھانچے سے متصل ہونا چاہیے۔ اس بات کی باضابطہ کوشش کی جائے کہ مرکزی جماعت کے زیادہ سے زیادہ ارکان کسی نہ کسی دوسری راسخ العقیدہ اسلامی جماعت کے کارکن بھی ہوں۔ مرکزی جماعت کی پالیسی سازی ادارتی سطح پر دیگر راسخ العقیدہ مخلصین دین کی قیادت سے مستقل جاری رہنے والی مشاورت کو منظم کیا جائے اور مرکزی جماعت کی قیادت اس بین الجماعتی مشاورتی نظم کی تابع ہو۔ کوشش کی جائے کہ سرمایہ دارانہ اقتدار کی تسخیر کے ضمن میں کیے جانے والے اقدام کی زیادہ سے زیادہ اسلامی جماعتیں تائید کریں۔
- مرکزی جماعت کی رکنیت ان افراد تک محدود ہو جو :
- راسخ العقیدہ مسالک کے کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں۔
- شرع مطہرہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہوں اور شعائر دین کا احترام کرتے ہوں۔
- تمام راسخ العقیدہ اسلامی گروہوں (شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث) کو اہل حق گردانتے ہوں اور خود کو تمام راسخ العقیدہ اسلامی گروہوں کا خادم سمجھتے ہوں۔
- سرمایہ دارانہ نظام اور طرز زندگی کا عمومی فہم رکھتے ہوں اور اپنے اس فہم کو مستقل گہرا کرنے کے لیے جستجو کرنے پر آمادہ ہوں۔
- سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی انہدام اور اسلامی نظاماتی اقتدار کے فروغ کی تزویراتی حکمت عملی کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ ہوں۔ فکری سطح پر بھی اور عملی سطح پر بھی۔
- مرکزی جماعت کی قیادت انہی ارکان تک محدود رہے گی۔
مرکزی جماعت کا انتطامی ڈھانچہ مندرجہ ذیل اداروں پر مستقل ہو گا:
- بنیادی یونٹ: اس میں تمام مقامی ارکان شریک ہوں گے۔ یہ محلہ کی کسی مسجد میں قائم ہو گا۔ اس کا دائرہ کار:
- محلہ کی سطح پر اسلامی اقتدار کے فروغ کی قابل عمل تجاویز کی پلاننگ اور تنفیذ کی جدوجہد
- مقامی ارکان میں نظریاتی مباحث کا فروغ اور سرمایہ دارانہ فکر و عمل سے واقفیت میں اضافہ کا انتظام
- ضلعی اور مرکزی انتظامیہ سے وصول ہونے والی ماہانہ رپورٹوں پر تنقید اور تجاویز کاانتظام
- بنیادی یونٹ برائے تعاون: یہ بھی محلہ کی سطح پر قائم کیا جائے گا۔ اس کی قیادت محلہ کا معروف عالم دین کرے گا جس کا مرکزی جماعت کا رکن ہونا ضروری نہیں بلکہ کوشش اسی بات کی کی جائے کہ یہ مرکزی جماعت کا رکن نہ ہو۔ اس کا دائرہ کار:
- محلہ کی سطح پر تمام مخلصین دین (بہ شمول ارکان مرکزی جماعت) کی روحانی، مذہبی اور اخلاقی تربیت اور ان کی صفوں میں اسلامی علوم کا فروغ
- محلہ کی سطح پر قائم بین المسالک اتحاد کا فروغ اور فرقہ واریت کی مخالفت
- مرکزی جماعت کے بنیادی یونٹ کی تجویز کردہ اقدامی پلاننگ اور انفرادی اقدام کی تنقید اور ان کی تنفیذ میں دیگر مقامی راسخ العقیدہ جماعتوں کے تعاون کے امکان کی نشان دہی
- ضلعی اور مرکزی سطح پر قائم مرکزی جماعتی اور مشاورتی انتظامیہ سے موصول شدہ ماہانہ رپورٹوں پر تنقید اور تجاویز کا انتظام
- ضلعی شوریٰ: یہ بنیادی یونٹوں کے نمایندگان پر مشتمل ہو گی۔ ان نمایندگان کی نام زدگی یا انتخاب میں ان امور کا خیال رکھا جائے گا:
- ان کی دینی شعائر پر پابندی اور دینی علوم پر دست رس
- سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کی ماہیت اور تضادات سے واقفیت
- تزویراتی تجویزاتی صلاحیتیں
- دیگر اسلامی جماعتوں سے روابط اور تعلقات
اس ادارے کی ذمہ داریاں حسب ذیل ہوں گی:
- بنیادی یونٹوں کی کارکردگی کی تجاویز پر تنقید
- ان اقدامات جو محلہ کی سطح پر کیے جا رہے ہیں ربط و تعلق پیدا کرنے کی ضلعی سطح کی حکمت عملی کی تدوین و ترتیب
- ماہانہ تزویراتی اور عملی کارکردگی پر رپورٹ کی تیاری اور بنیادی یونٹوں تک ارتصال ۔ اس رپورٹ میں:
- بنیادی یونٹؤں کی کارکردگی اور تجاویز پر تنقید مرتب کی جائے گی۔
- جن تجاویز پر عمل نہ کیا گیا ہو یا جن کو منع کیا گیاان کی وجوہ بیان کی جائیں گی
- ضلعی سطح پر انہدام اقتدار سرمایہ داری میں پیش رفت پر تبصرہ
- اگلے ماہ کے لیے ضلعی تزویراتی حکمت عملی کی تجویز
- بنیادی یونٹوں کی کارکردگی کی نگرانی۔ اس کے لیے ضلعی مجلس عاملہ بھی بنائی جا سکتی ہے۔
- ضلعی شوریٰ برائے تعاون: یہ مرکزی جماعت اور زیادہ سے زیادہ راسخ العقیدہ دینی جماعتوں کے نام زد ارکان پر مشتمل ہو گی۔ اس کا قاید کسی بھی راسخ العقیدہ جماعت کا ایسا رکن ہو جو ضلع یا شہر یا ایک معتبر اور معروف عالم دین یا صوفی بزرگ کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہو۔ بہتر ہو گا کہ اس بزرگ کا تعلق کسی بااثر قبیلہ یا برادری سے ہو اور بہتر یہ بھی ہو گا کہ یہ بزرگ مرکزی جماعت کا رکن نہ ہو۔ اس ادارہ کی ذمہ داریاں حسب ذیل ہوں گی:
- محلہ کی سطح پر قائم مشاورتی تنظیموں کی کارکردگی اور حکمت عملی پرتنقید
- ضلعی سطح پر بین المسالک اتحاد کو فروغ دینے کی جدوجہد کی ترتیب و تدوین جو محلہ کی سطح پر کی جانے والی اس ضمن کے اقدامات کی تطبیق پر مبنی ہو
- فروغ اتحادِ اسلامی کے ضمن میں ضلعی، شہری سطح پر جو پیش رفت ہوئی ہے ا س پر رپورٹ کی تیاری اور محلہ کی سطح پر قائم تعاونی تنظیموں تک ارتصال
- مرکزی جماعت کے بنیادی یونٹوں اور ضلعی یونٹ اور مرکزی جماعت کے مرکزی شوریٰ کی تجویز کردہ حکمت عملی اور کارکردگی پر تنقید
- ضلعی شوریٰ برائے تعاون کی ماہانہ رپورٹ جن مقامی شوریٰ کی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا ان کی وجہ بھی بیان کریں گی۔
- ضلعی شوریٰ برائے تعاون محلہ کی سطح پر قائم کردہ تعاونی تنظیموں کی کارکردگی کی نگرانی کرے گی اور ضرورت پڑے تو اپنی ایک مجلس عاملہ بھی تشکیل دے گی۔
- مرکزی شوریٰ: یہ مرکزی جماعت کے ایسے نام زد یا منتخب ارکان پر مشتمل ہو گی جو دینی علوم میں دسترسرکھتے ہوں۔ سرمایہ دارانہ اقداراورتنظیم کی ماہیت اور تضادات سے کما حقہ واقفیت رکھتے ہوں۔ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات سے آگاہ ہوں اور تزویراتی حکمت عملی کی تدبیر اور تبدل میں مہارت رکھتے ہوں۔ مرکزی مجلس شوریٰ میں مرکزی مجلس شوریٰ برائے تعاون کو نمایندگی دی جائے گی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی ذمہ داریاں حسب ذیل ہوں گی:
- اجتماع ارکان کا ہر چھہ ماہ میں لازمی انعقاد
- اجتماع ارکان میں مرکزی تعاونی شوریٰ کی شرکت لازمی ہو گی
- اجتماع ارکان مرکزی جماعت کا مرکزی پالیسی ساز ادارہ ہو گا
- اجتماع کم ازکم ایک ہفتہ تک جاری رہے گا
پالیسی سازی کا عمل مندرجہ ذیل خطوط پر مرتب ہو گا:
- پالیسی سازی کی بنیاد وہ شش ماہی رپورٹ ہو گی جو مرکزی شوریٰ کم از کم ایک ماہ قبل تمام بنیادی یونٹوں، بنیادی تعاونی یونٹوں، ضلعی یونٹوں اور ضلعی تعاونی یونٹوں کو ارسال کرے گی
- ہر یونٹ کی ذمہ داری ہو گی کہ رپورٹ وصول ہونے کے دو ہفتہ کے اندر اندر اس پر تنقید اور اپنی تجاویز مرکز کو روانہ کرے
- یہ رپورٹ مندرجہ ذیل حصوں پر مشتمل ہوگی:
- پچھلے چھہ ماہ کی بنیادی یونٹوں کی سطح پر، ضلعی سطح پر اور مرکزی سطح پر کارکردگی کا جائزہ اور تنقید
- آیندہ چھہ ماہ کی تزویراتی حکمت عملی جس کا مقصد انہدام سرمایہ دارانہ اقتدار اور فروغ اسلامی اقتداری ادارتی صف بندی ہے۔ اسے ان حصوں میں تقسیم کیا جائے گا:
- معاشی اقدام
- معاشرتی اقدام
- سیاسی اقدام
- اجتماع ارکان کا پورا دورانیہ اس رپورٹ پر:
- تزویراتی مسودہ کے ہر شق پر تفصیلی بحث کرےگاجس کی بنیاد پر رائے شماری ہو گی۔
- اگلے چھے ماہ کی تزویراتی حکمت عملی تجویز کی جائے گی۔ رائے شماری میں منظور شدہ تجاویز کو تزویراتی حکمت عملی میں شامل کیا جانا ضروری نہیں لیکن جن امور پر اختلاف ہو گا ان کی وجہ بیان کی جائے گی۔
- حتمی تزویراتی حکمت عملی کی عملی تنفیذ کی نگرانی اور اس کی تنفیذ پر ماہانہ رپورٹ کا اجراء جو تمام ارکان اور ضلعی شوریٰ کو ارسال کی جائے گی
- مرکزی شوریٰ تین مرکزی مجالس عاملہ مقرر کرے گی:
- معاشی عاملہ
- سماجی عاملہ
- سیاسی عاملہ
- یہ مجلس ضلعی سطح پر جاری معاشی، اقتصادی اور سیاسی اقدام کی تطبیق کرنے کی ذمہ دار ہو گی اور ضلعی سطح پر کیے جانے والی حکمت عملی اور اقدام کی تنفیذ پر مستقل تنقید جاری رکھنے کا اہتمام کرے گی۔
- تزویراتی حکمت عملی کی تنفیذ کی بنیادی ذمہ داری محلہ کی سطح پر بنیادی یونٹوں پر ہو گی۔ ان میں تطبیق جاری رکھنے کے لیے اگر ضرورت پڑے تو ضلعی عاملہ بھی تشکیل دی جا سکتی ہے۔
- مرکزی مجلس شوریٰ ہر بنیادی یونٹ اور ضلعی یونٹ سے چھے ماہ کا بجٹ طلب کرے گی اور خرچ کی پوری ذمہ داری بنیادی یونٹ کو تفویض کی جائے گی۔ مرکزی شوریٰ محض آڈیٹر کا کردار ادا کرے گی۔ ہر بنیادی یونٹ ضلعی اور مرکزی تنظیموں کے لیے رقوم فراہم کرے گا۔ ضلع اور مرکز کے اورکوئی ذرائع آمدنی نہ ہوں گے۔ ضلعی اور مرکزی نظم کے اخراجات کو محدود تر رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
- مرکزی تعاونی شوریٰ: یہ ان مصلحین اور سیاسی اسلامی جماعتوں کے نام زد افراد پر مشتمل ہو گی جو مرکزی جماعت سے اشتراک عمل پر آمادہ ہوں گی۔ اس میں مرکزی جماعت کی مرکزی شوریٰ کے عالم دین ارکان بھی شامل ہوں گے۔ اس کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:
- مرکزی جماعت کی مرکزی شوریٰ کی تزویراتی حکمت عملی اور ان سے متعلق اقدامات کی شرعی حیثیت کا تعین
- اس حکمت عملی کی تنفیذ کے جو اقدام بنیادی ضلعی اور مرکزی سطح پر مرکزی جماعت کر رہی ہے ان کی شرعی حیثیت کا تعین
- مرکزی اور دیگر اسلامی جماعتوں کے اشتراک عمل کی منصوبہ بندی
- ملک گیر اتحاد اسلامی کو فروغ دینے کی حکمت عملی کی منصوبہ بندی
- مرکزی تعاونی شوریٰ اپنی مجلس عاملہ مرکزی یا ضلعی سطح پر ضرورت پڑنے پر تشکیل دے سکتی ہے۔
- مرکزی تعاونی شوریٰ کا اجلاس بھی چھے ماہ کے دورانیہ پر ہو گا۔
- مرکزی جماعت کسی ایسے پروگرام کو عملی جامہ نہیں پہنائے گی جس کو مرکزی تعاونی شوریٰ خلاف شرع قرار دے گی
- اگر مرکزی تعاونی شوریٰ مناسب سمجھے گی تو وہ ضلعی سطح پر بھی اسلامی تعاونی نظام قائم کر سکتی ہے۔
اختتامیہ
اس دور میں تحفظ و غلبہ دین کی جدوجہد میں جو بنیادی کم زوری ہے وہ اتحاد بین المسلمین کا فقدان ہے۔ اس کے نتیجے میں مخلصین دین معاشرتی سطح پر منتشر اور بے وزن ہو گئے ہیں۔ انفرادی اور تمدنی سطح پر اسلامی تربیت کا فقدان نہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک کے تیرہ فی صد مرد باجماعت نمازی ہیں۔ ۲۰۱۸ء کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً پچپن لاکھ ووٹ ملے (قومی اسمبلی کے لیے) اگر اسی شرح سے ملک کی عمومی آبادی میں مخلصین دین کا تخمینہ لگایا جائے تو تقریباًً دوکروڑ بنتی ہے۔ یہ بہت بڑی constituency ہے اور بلاشبہ اتنی بڑی نظریاتی قوت ملک میں کوئی دوسری نہیں۔
تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کا اہم ترین چیلنج اس عظیم constituencyکو منظم کرنا اور اس کو بااقتدار بنانا ہے۔ یہ کام مصلحین اور انقلابیوں کی جدوجہد کو مربوط کیے بغیر نہیں کیا ہو سکتا۔ جب تک مصلحین اور انقلابیوں کی جدوجہد منتشر (اور ایک دوسرے سے متصادم رہے گی) ہم بے بس، لاچار اور مجبور رہیں گے اور اس لاچاری اور مجبوری سے فایدہ اٹھا کر دہریہ (سیکولر) قوتیں استعمار کی مدد سے پاکستانی معاشرت میں اسلامی مذہبیت اور روحانیت کو محدود سے محدود تر کرتی رہیں گی۔ وہ ہماری نااتفاقی سے بھرپور فایدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آگے بڑھ کر دشمن پر وار کریں۔ تحفظ دین کے لیے جو وقیع جدوجہد علما اور صوفیہ نےپچھلے دو سو سال سے برصغیر میں جاری رکھی ہےوہ آگے بڑھ کر غلبہ دین کو ممکن بنانے کے لیے راہیں کھول دینے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علما اور صوفیہ کی اس جدوجہد کی بنیاد پر مصلحین اور انقلابیوں کی جدوجہد کو مربوط کیا جائے اور مخلصین دین کو مقامی اور قومی سطح پر بااقتدار بنانے کی کوشش کی جائے۔