حصول اختیار کی راہ میں رکاوٹیں
حصہ سوئم
اب میں ان رکاوٹوں کا تذکرہ کروں گا جو مخلصین دین کی اپنی اندرونی تنظیم سازی سے متعلق ہیں
ہمارا افتراق:
ہماری ایک بہت بڑی (شاید سب سے بڑی) کمزروی یہ ہے کہ ہم غیر منظم ہیں ،ہماری روایتی تنظیمی اکائیاں(units ) قبائل اور خانقاہی نظام فراہم کرتا تھا, اب یہ دونوں زوال پذیر ہیں ۔شہری زندگی سے تو ان کا اثرتقریباً بالکل ختم ہوگیا (ہماری شہری زندگی کی ایک anomalyہے کہ خاندان مضبوط ہے لیکن ان کی اجتماعیت مفقود ہے)
قبائل اور خانقاہیں بہت تیزی سے سیکولرائز (secularize )ہوتی جارہی ہیں ۔یہ سرمایہ دارانہ معاشی اور سیاسی نظام میں تقریباً کلیتاً ضم ہوگئی ہیں، گوکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت کے فروغ میں کسی نہ کسی حدتک سماجی مزاحمت کررہی ہیں ۔قبائلی اور خانقاہی نظام میں اولیا اللہ اور بزرگان دین کا اثر محدود سے محدود تر ہوتا جارہاہے اور ان کے قائدین سرمایہ دارانہ معاشی اور سیاسی سودہ بازی کے ماہرین بن گئے ہیں ۔قبائلی اور خانقاہی نظام کے سرمایہ دارانہ انضمام کا عمل برطانوی سرپرستی میں ۱۹ویں صدی میں شروع ہوا اور اس وقت سے آج تک یہ عمل جاری ہے اور اس کو روکنے کی تدبیر اختیار نہیں کی جارہی ۔
قبائلی اور خانقاہی نظام کے زوال کا نتیجہ یہ ہے کہ مخلصین دین کی عظیم اکثریت کسی اجتماعیت سے کل وقتی تعلق نہیں رکھتے، یہ بات ہماری عوامی جماعتوں –تبلیغی جماعت،دعوۃ اسلامی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ۔ان کے اجتماعات عام میں شرکاء کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے لیکن کل وقتی کارکن (مقیم اور روزانہ والے) چند ہزار بھی نہیں ۔
مخلصین دین کی تعداد بلاشبہ کروڑوں میں ہے اور انفرادی مذہبیت کا رحجان معاشرہ کے ہر طبقہ میں بڑھتا جارہاہے لیکن ان کروڑوں مخلصین دین میں منظم افراد کی تعداد بہت مختصر ہے لہذا انفرادی مذہبیت کے فروغ کا کوئی اثر معاشرتی تقسیم اختیارات پر رونما نہیں ہورہا ۔جیسے جیسے وقت گزررہاہے مخلصین دین بے کس ، لاچار اور مجبور ہوتے چلے جارہے ہیں ۔
۲۰۱۳ کے قومی انتخابات مخلصین دین کی تمام جماعتوں کو تقریباً% ۸فی صد ووٹ ملے تھے ۔۲۰۱۸ کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کا عمومی ووٹوں کا حصہ 5.3%فیصد رہ گیا ۔
بڑھتے ہوئے مذہبیت کے رحجان کے نتیجہ میں عوامی اسلامی جذباتیت بھی فروغ پارہی ہےاور اس کا اظہار طاقتور عوامی تحریکات میں تحریک نظام مصطفیٰ ؐ،رد قادیانیت ،تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ سے وقتاًفوقتاً ہوتا رہتا ہے ،لیکن چونکہ ہم منظم نہیں لہذا وقتی طورپر ہمارے سامنے گٹھنے ٹیکنے کے بعد سیکولر قوتیں دوبارہ اقتدار قائم کرلیتی ہیں اور کوئی نظاماتی تغیر ظہورپذیر نہیں ہوتا۔
ہمارے سب سے مستحکم اور ترقی پذیر ادارے مدارس ہیں ،جن میں طلبہ اور اساتذہ کی تعدا د بڑھ رہی ہے اور جن میں جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد کے نتیجہ میں اسلامی علمیاتی ورثہ ، ریاستی اور استعماری دست وبرد سے بڑی حد تک اب تک محفوظ ہے۔مدارس میں تعلیم مسلکی تناظر میں دی جاتی ہے اور یہ ناگزیر ہے کیونکہ مسالک وہ نظریاتی منہج (ideological paradigm ) ہیں جن میں اسلامی علمیت ہمیشہ سے مرتب کی گئی ہے ہمارا جتنا بھی فقہی ،ارتقائی اور اجتہادی کام ہوا ہے وہ سب مسلکی تناظرمیں ہوا ہے لیکن ۱۸۸۰کی دہائی کے بعد سے ہمارے ہاں برطانوی تخریب کاری کے نتیجہ میں مسلکیت اتحاد اسلامی کی راہ میں ایک رکاوٹ بنادی گئی ۔اب مسالک کے فروغ کا مقصد دوسرے اسلامی مسالک کی تسخیر ہوگیا ہے ۔غلبہ دین کی جدوجہد کا تعلق مسلکی علمیت کے فروغ سے بالکل منقطع ہوگیا ہے۔
اس کے نتیجہ میں فرقہ واریت ایک وباء کی طرح مخلصین دین کی صفوں میں پھیل گئی ۔حقیقت یہ ہے کہ شیعہ سنیوں کے ،بریلوی دیوبندیوں کے ، اہل حدیث تصوف کے فطری حلیف ہیں ۔کیونکہ ان تمام مسالک کا مقصد تحفظ اور غلبہ دین کے علاوہ اور کچھ نہیں لیکن آج وہ ایک دوسرے کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہیں اور تحفظ اور غلبہ دین کا مطلب ہی یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے مسلک کو شکست دی جائے اس کو گمراہ ثابت کیا جائے اسے ذلیل کیا جائے۔مسلکی رہنما سیکولر حکمرانوں سے، استعماری ایجنٹوں اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ سے بہترین روابط رکھنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں لیکن دوسرے مسلکی مؤقف کو سننے تک کے روادار نہیں۔
یہ وبا ہمارے مدارس میں بڑی تیزی سے پھیلی ہے اور وہاں سے تعلیم پانے والے جو مساجد کے امام ہیں اس وباء کو پورے معاشرہ میں نہایت جانفشانی سے پھیلا رہے ہیں عوام فرقہ واریت سے نفرت کرتے ہیں ۔اس کو دہشت گردی قراردیتےہیں۔لیکن مخلصین دین فرقہ واریت پر فدا ہیں اس کواصل دینداری گردانتے ہیں ایسے میں مخلصین دین کو عوامی صفوں میں بااختیارکیسے کیا جاسکتا ہے؟
ایک اور رکاوٹ جو مخلصین دین کے بااختیار بنانے کی راہ میں حائل ہے وہ ان کی معاشی زبوں حالی ہے مخلصین دین کی صفوں میں صاحب ثروت افراد کی کمی نہیں لیکن مخلصین دین کی یہ دولت سرمایہ دارانہ نظام کے آگے سرنگوں ہے -یہ دولت مخلصین دین کی صفوں میں گردش نہیں کررہی مخلصین دین کی جماعتوں نے ایک غیر سرمایہ دارانہ معاشی ادارتی صف بندی قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی کاروبار بڑے نہیں ہوتے بلکہ یہ اسلامی بینکاری اور اسلامی فائنانس کے ذریعہ سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں ضم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔مخلصین دین کے تمام سماجی اور سیاسی کام صدقہ زکوٰۃاور خیرات کے سہارے چلتے ہیں اور ہم سرمایہ دارانہ معاشی نظاماتی بالادستی کو چیلنج نہیں کرپاتے۔
مرکزیت کا فقدان
سرمایہ دارانہ نظاماتی تسلط کے خلاف جدوجہد کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے اور اس جدوجہد کو مرتب کرنے کے لئے جس نوعیت کی صف بندی کی ضرورت ہے اس کی بنیادیں تو موجود ہیں لیکن ان بنیادوں پر تعمیر کا کام ابھی شاید شروع نہیں ہوا اس کا نتیجہ یہ ہے سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف جدوجہد وقتی تحرک( MOBILIZATION) تو پیدا کر دیتا ہے اور ہماری کچھ جماعتیں (بالخصوص تحریک لبیک یا رسول اللہ ) اب بھی لاکھوں مخلصین دین کو سڑکوں پر لانے کی استعداد رکھتی ہیں ، لیکن اس تحرک ((mobilization کے ذریعہ مخلصین دین کے اختیارات میں دائمی اضافہ کرنے سے وہ بھی قاصر رہتے ہیں اور تحرک کے ختم ہونےپر سرمایہ دارانہ اقتدار بحال اور مضبوط تر ہوتاجاتا ہے۔
مثلاً اگر ہم اکتوبر 2017 اورنومبر۲۰۱۸ کی تحریک لبیک کی مزاحمت کو دیکھیں تو ہماری مندرجہ ذیل کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں:
- تحریک رد عملی(REACTIONARY )تھی ایک مخصوص سرمایہ دارانہ ظلم (اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کو سرمایہ دارانہ ظالمانہ نظام کے کلی انہدام سے مربوط کرنے کا ہمارے پاس کوئی تصور موجود نہ تھا۔
- تحریک لبیک کے روابط دیگر اسلامی گروپوں سے اتنے کمزور تھے کہ ہر گروہ اسکی جدوجہد سے عملاً لاتعلق رہا۔
- ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی موجود نہ تھی جس سے ہم اپنے اقدام کو وسعت دیں لیکن جب دشمن نے ٹی وی چینلوں ،خبروں کو بلیک آوٹ ( BLACK OUT) کیا تو ہمارے پاس کوئی دوسرا مواصلاتی نظام کارفرما نہ تھا۔
- ہمارے پاس مخلصین دین متحرک (Mobilization ) ہوئے تھے لیکن ان کو دیرپا بنیادوں پر منظم (institutionalized ) کرنے کا کوئی تصور نہ تھا
لہذا اس تحریک سے جو فائدہ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ ہم نے دشمن پر واضح کردیا کہ شعائراسلامی کو مجروح کرنے کی کوشش کی مخلصین دین مزاحمت کریں گے اور یہ مزاحمت سرمایہ داردستوری جکڑبندیوں کو خاطر میں نہیں لائے گی ۔یہ بہت بڑا فائدہ ہے ۔اس سے پاکستانی معاشرت کی اسلامی شناخت محفوظ رہتی ہے اورد ہریت (secularization)پھیلانے کی مہمات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
لیکن اس سے مخلصین دین کے اختیار میں مستقلاً توسیع نہیں ہوتی اور سرمایہ دارانہ اقتدار منہدم نہیں ہوتا- میری رائے میں سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام کی جدوجہد کرنے کے لئے ایک مرکزی جماعت کی ضرورت ہے جس کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہوں:
- یہ سرمایہ دارانہ عدل کو ظلم عظیم کے طورپر پہچانے اور اس بات کا شعور رکھتی ہو کہ دور حا ضر میں ہمارا اصل حریف سرمایہ دارانہ طرز اور نظام زندگی ہے جس نے اسلام کے علاوہ دیگر تمام نظاموں کی علمیت ،انفرادیت ،معاشرت اور نظم اقتدار کو مکمل طورپر اپنے اندر سمولیا ہے۔
- یہ ایک بین المسلکی اور بین النظریاتی جماعت ہو جو ہر مسلکی اجتماعیت کو یکساں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھے -
- یہ رابطے کی جماعت ہو اور اسی کا مقصد وجود مخلصین دین کی پوری دفاعی اور اقدامی جدوجہد کو مربوط کرنا ہو یہ کسی دوسری اسلامی جماعت کے کام کو substituteکرنے کی کوشش نہ کرے
- اس کے لئے ضروری ہے کہ مرکزی جماعت تمام اسلامی گروہوں اور جماعتوں میں مستقل مشاورت اور اشتراک عمل کے فروغ کے لئے ادارتی صف بندی کرے-
- اس اشتراک عمل ،مواصلت اور مشاورت کو یوں مرتب کرنے کی کوشش کی جائے کہ اپنے مسلکی اور نظریاتی تشخص کو محفوظ رکھتے اور فروغ دیتےہوئے ہر اسلامی گروہ یہ بات قبول کرے کہ مسلکی تشخص کا فروغ تحفظ اور غلبہ دین کا ذریعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں اور دیگرمسلکی گروہ بھی تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد میں شریک ہیں
- مرکزی جماعت ایسا بین المسالکی اجتماع قائم کرنے کی کوشش کرے جو یہ بات قبول کرے کہ دوحاضر میں ہمارا اصل مخالف سرمایہ دارانہ نظام ہے اور اس نظام کو منہدم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان دومفروضوں
- اسلام ایک مکمل خود کفیل نظام حیات اور طرز زندگی ہے
- سرمایہ داری جاہلیت خالصہ ہے
کی بنیاد پر تحفظ اور غلبہ دین کی حکمت علمی مرتب کی جائے
- ایسی حکمت عملی اپنانے سے ہماری مسلکی تحفظ اور فروغ کی جدوجہد ہم آہنگ ہے
- مرکزی جماعت کے اصل مخاطبین (core constituencies ) وہ مخلصین دین ہوں جو دیگر مسلکی اور نظریاتی اسلامی گروہوں سے وابستہ ہوں ان اصل مخاطبین ( core constituencies) کے ذریعہ ہی مرکزی جماعت عوام تک (بالخصوص غیر منظم مخلصین دین) تک پہنچنے کی سعی کرے (عوام سے بالواسطہ رابطہ بے اثر ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے انتخابی عمل نے بار بار ثابت کیا ہے)
- مرکزی جماعت دیگر تمام اسلامی گروہوں کی خادم جماعت ہو(جیسا کہ قاضی حسین احمدؒ نے فرمایا "ہم علماء کے خادم ہیں جہاں وہ حکم دینگے ہم پہنچ جائینگے ) اس کی جدوجہد کا مقصد خود اختیار حاصل کرنانہ ہو بلکہ وہ تمام اسلامی جماعتوں سے وابستہ مخلصین دین (اور غیر منظم مخلصین دین) کو بااقتدار بنانے کی جدوجہد مرتب کرنے کی کوشش کرے ۔
پاکستان میں تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد فی الحال غیر مربوط ہے ان تحاریک اور گروہوں میں ارتباط فکروعمل پیداکرنے میں کافی وقت لگے گا۔دور حاضر میں اس کام کی اشد ضرورت ہے اور اسے جلد از جلد شروع ہوجانا چاہئے میں جماعت اسلامی کا ایک عام کارکن ہوں ۔
نسبت بہت اچھی ہے مگرحال براہے
اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کو اس عظیم جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالنے کی توفیق عطافرمائے۔
جاوید اکبر انصاری