کتب خانہLibrary

← حصول اختیار کی ضرورت 1

حصول اختیار کی ضرورت 1.docxڈاؤن لوڈ

حصول اختیار  کی ضرورت

حصہ اول

پاکستان میں مخلصین دین کی کمی نہیں۔ہماری مسجدیں اور امام بارگاہیں آباد ہیں ،خانقاہوں اور مزارات پر عوام بکثرت فیض  حاصل کررہے ہیں،مدارس میں طلبہ کا ہجوم ہے ۔اسلامی رسوم ورواج ہماری ثقافتی زندگی کے اہم اجزا ہیں ۔خاندانی اور قبائلی نظام معاشرتی طور پر مستحکم اور مضبوط ہیں۔لیکن مخلصین دین (جن کی تعداد کروڑوں میں ہے) قوت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔انتخابی عمل میں ہماری کامیابی کی امید کم سے کم ہوتی جارہی ہے ،جمہوری عمل روز بہ روز سیکولرائز secularize) )ہوتا جارہا ہے ۔علوم اسلامی غیر معتبر ان معنوں میں ہوکر رہ گئے ہیں کہ ان کی بنیاد پر نہ قانون سازی کی جاتی ہے نہ پالیسی سازی- ہماری اجتماعیتیں ریاستی انتظامیہ (نوکر شاہی ،عدلیہ ،پولیس ،فوج) کے سامنے بے بس ہوتی جارہی ہے ،استعماری گرفت پاکستانی ریاستی معاشرتی اور معاشی نظام پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے ۔حلال رزق کمانے کے مواقع معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مخلصین دین کے معاشرتی اور ریاستی نفوذ اور ان کے معاشرتی اور ریاستی اختیارمیں عدم توازن روز بروز بڑھتا  جارہاہے ۔اس مضمون میں اس عدم توازن کے بڑھنے کی وجوہات بیان کرکے اس کے ختم کرنے کی ضرورت پر گفتگو کروں گا ۔آئندہ مضامین میں انشاء اللہ وہ حکمت عملی مرتب کرنے کی کوشش کروں گا جس کےنتیجہ میں یہ عدم توازن ختم کیا جاسکے ۔

ہم بے اختیار کیوں ہیں؟

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم جس نظاماتی تناظر میں اپنی اصلاحی اور انقلابی جدوجہد مرتب کررہے ہیں اس سے پوری طرح واقف نہیں ۔یہ نظام سرمایہ داری ہے اور ہمارا سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا نقد ناقص اور نامکمل ہے ۔ہم سرمایہ داری کو بحیثیت ایک مکمل یکتائیTotalizing whole))کے طورپر نہیں پہچانتے جب تک ہم سرمایہ دارانہ انفرادیت،معاشرت اور تنظیم اقتدار (یعنی ریاست) کو نہیں سمجھ لیتے اس وقت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ سرمایہ درانہ نظام زندگی میں اختیارات کی تقسیم کاری کیسے کی جاتی ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام زندگی کی اساس اس کی علمیت فراہم کرتی ہے اور جیسا کہ مولانا مودودیؒ نے فرمایا:

“یہ علمیت جاہلیت خالصہ ہے “

یہ علمیت اس باطل مفروضہ پر قائم ہے کہ انسان فطرتاً قائم بالذات ، احد اور صمد ہے"لاالہ الاالانسان" اور سرمایہ درانہ تعقل  (rationality)کے ذریعہ انسان (یاانسانیت ) کی اس مظہریاتی الوہیت کو اشکار کیا جاسکتاُہے ،لہذا سرمایہ داری جس انفرادیت کو قائم کرتی ہے وہ جبلت اور عقل کا تقاضہ  یہ سمجھتی ہے کہ تسخیر کائنات کے عمل کو تیز سے تیز کرکے انسان (یاانسانیت ) کی خدائی کے دائرہ کو وسیع سے وسیع تر کیاجائے ۔

اس باطل عقلیت کو قبول کرنے کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے کہ حرص اور ہوس ،شہوت اور غضب کے شیطان انسان کی روح اور قلب پرقبضہ کرلتے ہیں ،سرمایہ دارانہ انفرادی عمل کی قوت محرکہ لالچ ((Acquisitiveness اور مسابقت   (Competition) ہوتی ہے

اس انفرادیت کو فروغ دینے کے لئے جو بنیادی ادارہ سرمایہ داری قائم کرتی ہے وہ مارکیٹ ((market ہے ۔مارکیٹ روایتی بازار کی مسخ شدہ شکل ہے جیسا کہ امام غزالیؒ نے فرمایا اسلامی بازاری کارفرمائی کے ذریعہ حصول معاد (آخرت) کو ممکن بنایا جاتا ہے اور خرید اور فروخت کنندہ میں تعلقات اخوت اورحکم کی بنیاد پر مرتب ہوتے ہیں ۔مارکیٹی عمل کا مقصد حصول معاد (آخرت) نہیں بڑھوتری سرمایہ (  (Accumulation of capital ہوتا ہے اور خرید اور فروخت کنندہ میں تعلقات خود غرض( self-interest ) اور حرص اور مسابقت کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ اشیاء اور محنت کی مارکیٹ سود اور سٹہ کی مارکیٹوں  financial market & stock ) )کے زیر نگیں ہوتے ہیں۔غیر سرمایہ درانہ نظم معیشت میں فائنینشل  مارکیٹوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا ،فائنینشل مارکیٹوں کی کارفرمائی کا مقصد سرمایہ کی ایسی تقسیم ہے جو رفتار سرمایہ کاری(Rate of capital accumulation) کو تیز سے تیز (maximize) کررہے ہیں ۔

جیسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہوتا ہے ویسے ویسے مارکیٹ پورے معاشرے کو اپنے اندر ضم کرتی چلی جاتی ہے اور ہر معاشرتی عمل کا مقصد بڑھوتری سرمایہ ہوتا جاتا ہے ۔والدین اپنے بچوں کو تعلیم اس لئے دلاتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کمائیں،تعلیمی اور تربیتی نظام کا مقصد بھی سرمایہ دارانہ بڑھوتری کے علاوہ کچھ نہیں رہتا ۔قانونی نظام بھی ان ہی خطوط پر مرتب کیا جاتا ہے اس کو قانونی حکمرانی   Rule of law) (کہتے ہیں جو دراصل سرمایہ کی قانونی حکمرانی   (Rule of law of capital)ہوتی ہے -سرمایہ دارانہ مارکیٹ کی پشت سرمایہ دارانہ ریاست  (Republic ) ہوتی ہے یہ سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) کا اظہار سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ مارکیٹی عمل کی بالادستی کو مستحکم کرتی ہے ۔یہ ریاستی نظام سرمایہ دارانہ ملکیت کو قانونی تحفظ فراہم کرتی  ہے اور ہیومن رائٹس human rights) (کی دستوری بالادستی کو تسلیم کروا کر سرمایہ کی حاکمیت کو عوامی نمائندگی کے ذریعہ قائم کرتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں اختیار ان کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا ہے :

ایک پھلتے پھولتے مستحکم سرمایہ دارانہ نظام میں مخلصین دین اختیار اس لئے حاصل نہیں کرتے کیونکہ

اختیار حاصل کرنے کی ضرورت:

جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا سرمایہ دارنہ نظام ایک ہمہ گیر کاملیت(  Totality) ہے، اس کے باہر کوئی جگہ نہیں۔یہ نظام زمین کے ہر حصہ اور زندگی کے ہر شعبہ پر غالب آتا جارہاہے یقیناً یہ ایک زوال پذیر نظام ہے اور اس کے اندرونی تضادات Internal contradiction )) گھمبیر ہوتے جارہے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام میں کئی صدیاں لگیں گی۔

یہ کئی صدیوں کا قصہ ہے ، دوچار برس کی بات نہیں اور سرمایہ دارانہ انہدام اس کی اندرونی تضادات کے فروغ کے نتیجہ میں خود بخود ظہور نہیں آئیگا ۔تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اپنے نظاماتی بحرانوں سے نکلنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے- سرمایہ داری کو منہدم کرنے کے لئے ایک مثبت حکمت عملی کو وضع کرنے کی ضرورت ہے جو متصور imagine) ) بھی کی جائے اور جس کی بتدریج تنفید (implementation) ) کااہتمام بھی ہو۔

  لیکن مخلصین دین کی اجتماعتیں انہدام سرمایہ داری کو نہ ضروری سمجھتی ہیں نہ ممکن۔جہاد ۱۸۵۷صادق پوری سیدوں اور تحریک ریشمی رومال کی پسپائی کے بعد برصغیر میں مخلصین دین کی قیادت نے جو حکمت عملی اخیتار کی وہ سرمایہ داری سے مصالحت تھی اور بنیادی طورپر یہی حکمت عملی ہم آج بھی اپنائے ہوئے ہیں۔اس حکمت عملی کو اپنانے سے جو فوائد حاصل ہوتےہیں اور جوآج بھی حاصل ہورہے ہیں ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

اس حکمت عملی کو اپنانے کا سب سے اہم فائدہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ ہم اپنے قدیم طرز تعلیم روایات اور تہذیب کو سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت اور روحانیت سےمحفوظ رکھنے میں کامیاب ہوگئے لیکن تحفظ دین علوم ورسوم کی ہم نے بہت بڑی قیمت ادا کی اور وہ یہ کہ علوم ورسوم دین کی تنفیذ کا دائرہ تنگ سے تنگ تر ہوتا چلا گیا اس نقصان کا پہلا اظہار مسلم قوم پرستی کے فروغ کے ذریعہ ہوا (مولانا مودودیؒ کو اس کا پورا احساس تھا)وہی مرہٹہ جنہوں  نے مغلوں کی اسلامی سلطنت کو محفوظ رکھنے کے لئے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی تھیں آج اسلام کے سب سے بڑے دشمن بن گئے اور سات سو سال حکومت کرنے کے بعد ہندوستان ہمارے ہاتھ سے نکل  گیا ۔

پاکستان میں بھی علوم ورسوم اسلامی کا دائرہ تنفیذ معدوم ہوتا جارہا ہے ۔علوم اسلامی کی تنفیذ مذہبی اجتماعیت تک محدود ہوگئی ہے ،معاشی اور ریاستی عمل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔سرمایہ دارانہ جاہلی علمیت کا غلبہ اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ علماء کے صفوں سے بھی وہ ترمیم پسند برآمدہورہےہں جو اسلامی تشخص ،معاشرت اور ریاست کوسر مایہ درانہ قالب میں ڈھالنے کی وکالت کررہے ہیں (اس کی سب سے اہم مثال اسلامی بینکاری ہے) اسلامی روایات اور رسوم کا اطلاق خاندانی اور قبائلی زندگی تک محدود ہوکررہ گیا ہے، اسلامی سیاسی جماعتیں سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی جدوجہد کررہی ہیں اور قرون اولیٰ میں قائم ہونے والی ریاست مدینہ کو ایک ویلفیئر اسٹیٹ welfare state  ) ) کہا جارہاہے مخلصین دین اقتداری تنظیمی عمل سے اتنے لاتعلق ہوگئے ہیں کہ وہ اسلامی سیاسی آئمہ کی تعلیمات سے رجوع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے ۔درس نظامی میں ہی اسلامی سیاسی مفکر(امام ماوردیؒ،امام ابو یعلیٰ ،امام ابن خلدونؒ،شاہ ولی اللہؒ) کی کوئی کتاب شامل نہیں۔

مخلصین دین نے سرمایہ دارانہ نظاماتی سمندر میں چند علمیاتی اور تمدنی جزیرے قائم کرلئے ہیں جو اس وقت ہمیں سکڑتے ہوئے اور ڈوبتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔یہی حال ۱۷ویں اور۱۸ویں یورپی اور امریکی عیسایت کا تھا انفرادیت ،معاشرت اور ریاست میں سرمایہ دارانہ غلبہ بڑھتا چلا جارہاتھا لیکن عوام کی بہٹ بڑی اکثریت ایک مذہبی زندگی گزار رہی تھی اور عیسائیت ہی یورپی اور امریکی انفرادیت اور معاشرت کی پہچان تھی لیکن اگلی دو صدیوں  میں عیسائیت سرمایہ دارانہ نظاماتی سمندر میں بالکل ڈوب گئی آج عیسائیت یا تو عالمی تفریحی صنعت   entertainment industry) ) کا جز بن گئی ہے یا پولینڈ ،ہنگری ،فرانس،جرمنی ،آسٹریااور امریکہ میں قوم پرستی کی بے ساکھیوں کا سہارا لئے کھڑی ہے ۔

آج اسلام کو اس عبرتناک انجام سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ جو دفاعی حکمت عملی علمائے کرام اور صوفیاء عظام نے انیسویں صدی میں مرتب فرمائی تھی اس کی بنیاد پر ایک ایسی اقدامی حکمت عملی وضع کی جائے جس کا مقصد سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو مہمیز دے کر (یعنی ان کو نمایاں کرکے)اختیارات سرمایہ دارانہ قیادت اور اداروں سے منتقل ہوکر مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکزہو - یہ ایک نہایت دشوار گزار کا م ہے اور لازماً کئی صدیوں تک جاری رہیگا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس کام کی ابتدا کردی جائے ۔

ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

آئندہ مضامین میں انشاء اللہ اس جدوجہد کی ساخت اور خصوصیات پر گفتگو کرنے کی کوشش کروں گا ۔

جاوید اکبر انصاری