متوقع متحدہ حزب اختلاف میں شمولیت کے نقصانات
تحریک انصاف کی حکومت کے قیام سے فوراً بعد سے مولانا فضل الرحمٰن متحدہ حزب اختلاف کے قیام کے لئے مستقل جدوجہد کررہے ہیں اور یہ جدوجہد کامیاب ہوتی نظرآتی ہے ۔مولانا کی رائے میں اگر تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوگئی اور ایک نئی حکومت بنی تو اس میں ان کی جماعت کی شمولیت کے امکانات موجود ہیں اور یوں تحفظ مساجد ومدارس اور اسلامی نظام تعلیم کے مواقع بہتر ہوجائینگے ۔
سیکولر (دہریہ) جماعتوں سے اشتراک عمل اور اتحاد کا ہماراتجربہ وسیع ہے(1989/90,1977,1969)اسی تجربہ کی بنیاد پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ مولانا کی یہ رائے غلط ہے اور سیکولر جماعتوں کے اتحاد میں شرکت سے تحفظ اور غلبہ دین کی تحاریک کو گھمبیر نقصانات اٹھانا پڑیں گے ۔
تحریک انصاف اور دیگر سیکولر جماعتوں میں فرق: مولانا فضل الرحمٰن کی رائے میں تحریک انصاف اور دیگر سیکولرجماعتوں میں نوعی فرق ہے ۔دیگر سیکولرجماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی ایک سرمایہ دارانہ جماعت ہے جو ایک کمزور اور مسلم قوم پرستی کا نظریہ سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کےلئے استعمال کرتی ہے ۔حقیقتاً وہ مسلم لیگ کی جانشین جماعت ہے ۔پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی طرح اسلام دشمن جماعت نہیں،یہی وجہ ہے کہ ہمارےکئی سابق کارکن اپنے آپ کو تحریک انصاف میں مطمئن (Comfortable) سمجھتےہیں۔
70سال سے مسلم لیگ اور50 سال سے پیپلزپارٹی ملک کی دولت لوٹنے میں مصروف رہی ہیں ۔اس کے نتیجہ میں وہ سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے بنیادی تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہی ہیں اور نظاماتی سطح پر کمزور ہوتی جارہی ہیں۔تحریک انصاف کی انسداد کرپشن کی تحریک مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کی انہی نظاماتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کےلئے چلائی جارہی ہے ۔لیکن چونکہ تحریک انصاف میں سابق مسلم لیگیوں ،مشرف کے وزیروں وغیرہ کی بھرمار ہے لہذا انسداد کرپشن کی یہ مہم ایک سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال کی جارہی ہے اور اس سے سرمایہ دارانہ عدل کے قیام تقاضے کمہ حقہ پورے نہیں ہورہے ۔
اگر متحدہ حزب اختلاف کا میاب ہوگئی تو ظاہرہے کہ انسداد کرپشن کی یہ مہم ختم ہوجائیگی اور نئی مقننہ دستور سے شق 63،64کے اخراج اور عدلیہ کے صوابدیدی اختیارات کی تحدید کے لئے جلداز جلد قانون سازی کریگی ۔تحریک انصاف کامیاب ہوئی تو انسداد کرپشن اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے بعد ختم ہوجائیگی ۔چاہے یہ انسداد کرپشن کی مہم جاری رہے یا ختم ہوجائے اس سے خود بخود تنفیذ شریعت کی راہ ہموار نہ ہوگی کیونکہ ایک سرمایہ دارانہ ریاست عدل اسلامی قائم نہیں کرسکتی- ہمیں احساس ہونا چاہئے کہ سرمایہ دارانہ عدل ظلم عظیم ہے اور اسلامی عدل کے قیام کا مطلب سرمایہ دارانہ نظاماتی انہدام بلکلیہ ۔لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر اسلامی جماعتیں انسداد کرپشن کی مہم کے خاتمہ میں معاون رہیں تو اس سے ان کی عوامی اسلامی شناخت بری طرح متاثر ہوگی ۔
معاشی اور خارجہ پالیسیاں :تحریک انصاف اور دیگر سیکولر جماعتوں کی مماثلت ان کی معاشی اور خارجہ پالیسی سے ظاہرہوتی ہے یہ سب سرمایہ دارانہ جماعتیں ہیں اور سرمایہ دارانہ اہداف کے حصول کو عقلیت(Rationality)کا تقاضہ سمجھتی ہیں ۔یہ سب آزاد معیشت کی کارفرمائی پر زودیتی ہیں اور آزاد معیشت کافروغ سود اور سٹہ کے مارکیٹوں میں وسعت اور تنوع کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔
دیگر سیکولر حکومتوں کی طرح تحریک انصاف کی معاشی حکمت عملی کا محور ومرکز سود اور سٹہ کے مارکیٹ ہیں۔قومی بھی اور بین الاقوامی بھی۔تحریک انصاف اور دوسری سیکولر جماعتیں پاکستانی معیشت میں کسی ساختی(structural) تغیًر لانے سے قاصر ہیں۔مسلم لیگ ،پیپلزپارٹی، نہ تحریک انصاف کی حکومتیں کبھی بھی
- زرمبادلہ کی قدر کے مارکیٹی تعین کے عمل کو منسوخ نہیں کرسکتیں
- سرمایہ کی بین الاقوامی ترسیل پر پابندیاں نہیں لگا سکتیں
- مارکیٹوں کی خود کارفرمائی کے عمل کی تحدید نہیں کرسکتیں
- بیرونی قرضوں کی ادائیگی کو منسوخ نہیں کرسکتیں(اس پر مجبور ہوسکتی ہیں)
- سود اور سٹہ کے کاروبار کو محدود نہیں کرسکتیں
- مزدور یونینوں (union) کوپنپنے نہیں دے سکتیں
چاہے تحریک انصاف کی حکومت قائم رہے یا حزب اختلاف کی حکومت قائم ہو ، آئی ایم ایف سے تین سالہ معاہدہ ضرور ہوگا اور 2019 معاشی ابتری کا سال ہرحال میں ہوگا۔افراط زر (inflation)میں اضافہ ہوگا، شرح نمو(GDP Growth)گرے گی ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوگا،مالی ( fiscal) اور زری) monitory ) پالیسی سخت (depressive ) ہوگی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔تین سال تک ہم پر عملاً آئی ایم ایف حکومت کریگا ، نہ تحریک انصاف نہ متحدہ حزب اختلاف - آئی ایم ایف کی یہ عمل داری اس بات کی غمازہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ سیکولر حزب اختلاف کی جماعت سب سامراج کی باجگزار جماعتیں ہیں ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی سابقہ حکومتوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو سامراج نوازی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔تحریک انصاف کے استعماری روابط بھی نہایت مضبوط ہیں ۔کئی سامراجی گماشتے اس میں شریک اور مشیر ہیں۔افغانستان میں امریکی پسپائی سے فائدہ اٹھا نے کی صلاحیت نہ عمران خان رکھتے ہیں نہ حزب اختلاف کی جماعتیں ، ان حالات میں نہ کشمیر میں کچھ کرسکیں گے نہ چینی تسلط کی تحدید کے ضمن میں۔
بقول New York Time (مورخہ 31دسمبر 2018)'' ہمارے ایک ہزار فوجی یمن میں سعودی اور امارات کی اعانت کررہے ہیں اسی بنا پر ہمیں ان ممالک سے بھیک ملی ہے'' ۔سعودی عرب اور امارات استعمار کے کلیدی علاقائی حلیف اور ان ممالک سے حاصل شدہ بھیک سامراجی بالادستی کو مجروح کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتی، چاہے تحریک انصاف کی حکومت ہو یا حزب اختلاف کی ،پاکستان کے قرضہ بے تحاشہ بڑھیں گے اور عالمی ریٹنگ ایجنسی (JPMorgan)کےاندازہ کے مطابق یہ 2019 کے اختتام تک عمومی قومی آمدنی (GDP)سے زیادہ ہوجائینگے ۔
ہماری اسلامی شناخت:ان حالات میں تحریک انصاف یا متحدہ حزب اختلاف میں سے کسی کا ساتھ دینا نقصان دہ ثابت ہوگا سب سے بڑا نقصان ہماری اسلامی شناخت کو ہوگا جوبری طرح مجروح ہوگی ۔ہم سیکولرجماعتوں کے دم چھلے کے طور پر پہچانے جائیں گے اور عوام اور خواص باورکرلیں گے کہ ہمارا اپنا کوئی ہمہ جہتی اسلامی ایجنڈا سرے سے موجود ہی نہیں۔
رہی یہ بات کہ حکومت میں شمولیت کے ذریعہ ہم تحفظ مساجد ومدارس اور اسلامی نظام کے فریضہ کو بہتر انداز میں ادا کرسکیں گے تو ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ہماری اصل قوت عوامی قوت اور street power کے اظہار میں ہے ،نظاماتی اختیارات کے حصول اور استعمال میں نہیں لیکن یہ رائے غلط بھی ہوسکتی ہے اور اگر جمعیت علماء اسلام اپنی روایتی حکمت عملی پر عمل کرتی رہے تو ہمیں اس کی نیت اور اخلاص پر شبہ نہیں کرنا چاہئے ۔
ہمارا مؤقف:لیکن اس صورت میں ہماری راہیں جمعیت علماء اسلام سے (کم ازکم کچھ عرصہ لے لئے ) لازماً جدا ہوجانی چاہئیں ۔جماعت اسلامی اصولاً ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں، ہم سرمایہ دارانہ نظام میں اسلام کاری کی کوشش نہیں کررہے ۔ہم سرمایہ داری کے مکمل نظاماتی انہدام کی ضرورت کے قائل ہیں ہماری جدوجہد کا مقصد پاکستان میں اسلامی انقلابی عمل کو جاری رکھنا اور آگے بڑھانا ہے ۔
اسلامی انقلابی عمل کو جاری رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی تضادات کو استعمال کریں تاکہ سرمایہ دارانہ ادارتی اقتدار کو کمزور کیا جائے ۔پاکستان میں جو سیاسی اور معاشی بحران متوقع ہے اس کو رفع کرنے سے اسلامی انقلابی عمل آگے نہیں بڑھتا بلکہ یہ متوقع بحران عوام کو مخلصین دین کی قیادت میں متحرک ،متحد اور منظم کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔
اس بات کے شواہد موجود رہے ہیں کہ پاکستان میں مخلصین دین کا معاشرتی اثربڑھ رہا ہے 2013 کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو 41،37،722ووٹ ملے ۔2018کے انتخابات میں بڑھ کر 5140891ہوگیا ۔یعنی ہمارے حاصل شدہ ووٹوں میں تقریباً 26فیصد اضافہ ہوا 2013 کے انتخابات میں کل ووٹوں میں اسلامی جماعتوں کا حصہ 6.9 فیصد تھا ،2018 کے انتخابات میں بڑھ کر 9.9فیصد ہوگیا اس کامیابی کا سہرا تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ہے جس نے 2018 کے انتخابات میں 2,191,589 ووٹ لیے -
تحریک لبیک کی کامیابی کی دو وجوہات ہیں۔وہ مخلصین دین کی صفوں میں جذباتی بنیادوں میں تحرک پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اس کا بیانیہ ( Discourse)ہماری تاریخی روایات سے ہم آہنگ ہے اور اس کی مخلص، دین دار اور جفاکش قیادت شعائر دین کے تحفظ کے لئے کسی سودے بازی کی قائل نہیں آج بھی تحریک لبیک کے کارکن اور قیادت جیلوں میں بند اور سرمایہ دارانہ عدل کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
لیکن تحریک لبیک کو اس خطرہ کا سامنا ہے کہ وہ فرقہ واریت کی دلدل میں دھنس کر تحلیل نہ ہوجائے ۔تحریک لبیک کوئی انقلابی جماعت نہیں لیکن اس پر انقلابی عمل مسلط کیا جارہاہے ۔ان معنوں میں تحریک لبیک بھی ہماری فطری حلیف جماعت ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تحریک لبیک کو اسلامی انقلابی عمل کے پیچ وخم سے آگاہ کریں ۔ریاستی تعذیب برداشت کرنے میں اس کا ساتھ دیں اور اس کے ساتھ مل کر متحرک ( Mobilize) مخلصین دین کی اسلامی انقلابی عوامی ادارتی صف بندی کی ملک میں داغ بیل ڈالیں۔
پاکستان میں سرمایہ دارانہ اقتداری نظام کے استحکام اور نئے انتخابات کے انعقاد سے غلبہ دین کی جدوجہد آگے نہیں بڑھ سکتی- انقلابی عمل کو فروغ دینے کے لئے ہمیں مندرجہ ذیل پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں۔
- جمعیت علماء اسلام کو متحدہ سیکولر حزب اختلاف میں شمولیت سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
- اگر اس میں ہم کامیاب نہ ہوں تو اپنی معذرت پیش کرکے ایم ایم اے سے کچھ عرصہ کے لئے علیحدہ ہوجانا چاہئے ۔
- جمعیت علماء اسلام کے کارکنان میں اپنا مؤقف واضح کرنے کی مسلسل اور منظم جدوجہد کرنی چاہئے ۔
- تحریک لبیک سے انفرادی اور تنظیمی روابط استوار کرنا چاہئیں اور ریاستی استبدا دکے مقابلہ میں ان کا بھر پور ساتھ دینا چاہئے ۔
- تحریک لبیک سے مل کر مخلصین دین کی عوامی انقلابی اسلامی ادارتی صف بندی کی جدوجہد کا آغاز کرناچاہئے تاکہ ریاستی استبداد کا دائرہ عمل محدود ومفلو ج ہو -
؎کہہ جاتاہوں میں زور ِجنوں میں ترے اسرار
مجھ کو بھی صِلہ دے مری آشُفتہ سری کا !
ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری