COVID-19 جاہلیت خالصہ کا تازہ ترین کارنامہ
جاہلیت خالصہ کا مہلک ترین مظہر سائنس ہے ،دور حاضر میں انسانیت کو تباہ کرنے کے تین ہتھیار سائنس نے فراہم کئے ہیں .1جیوانجینیرنگ (geo engineering)
.2آئی ٹی ٹیکنالوجی (information technologies)
.3 ادویاتی اختراعات (pharmaceutical adaption)
COVID-19 جدید ادویاتی صنعت کی ریشہ دوائیوں کا مظہر ہے ،دوسری جنگ عظیم کے بعد سے پوری سرمایہ دارانہ دنیا میں متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں ان متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ادویاتی صنعت کے اختراعات کے نتیجہ میں ایسے جراثیم پیدا ہورہے ہیں جن پر antibiotics کا کوئی اثر نہیں ہوتا پوری دنیا میں ایک مدت سے ادویاتی صنعت anti-microbial resistance کے پھیلاؤ کا شکار ہے یعنی ایسے جراثیم کے پھیلاؤ جن کی وجہ سے ایسے امراض ابھررہے ہیں جو مستقلاً ناقابل علاج ہیں ان امراض میں AIDS,SARSاور COVID-19 شامل ہیں ۔WHO کے مطابق AMR دنیا کے حالیہ ماحولیاتی ابتری سےزیادہ اہم اور قریب تر رونما ہونے والا مظہر ہے ۔
ادویاتی اختراعات کی بھر مار عالمی جنگوں کے نتیجہ میں پھیلیں پنیسلین کے استعمال کو امریکی حکومت کی امداد کے نتیجہ میں 1942 سے فوج میں عام کیا گیا ۔1950 کی دہائی میں کئی نئی موثر anti-biotic ادویات کوایجاد کیا گیا لیکن اس ہی وقت سے anti-biotic resistant جراثیم بھی تیزی سے بڑھنے لگے ۔
Moyo Mckexma کی تحقیق کے مطابق ہر نئی دوا کی ایجاد کے 3 یا 4 سال کے اندر اندر اس کا توڑ کرنے والے جراثیم پیدا ہوتے رہے ہیںMargaret Chan WHO کی سابق ڈائریکٹر کے مطابق اورادویاتی اختراعات اور نئے AMR جراثیم کے درمیان ہتھیاروں کی جنگ جاری ہے جس کا جدیدطب کی مکمل شکست پر ختم ہونا ممکن ہے ۔
دنیا میں جراثیم کی تعداد کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکا ۔ہرانسانی جسم میں چالیس ہزار بلین (40,000 billion) جراثیم پیدا ہوتے ہیں pathogensان جراثیم کو کہا جاتا ہے جو امراض کا باعث بنتے ہیں اور viruses وہ pathogens ہیں جو زندہ خلیوں کو تباہ کرکے ہی بڑھ سکتے ہیں۔
Pathogens کے مقابل جدید ادویاتی صنعت اپنی شکست کا اعتراف کررہی ہے 21ویں صدی میں anti-bioticکی ایجاد تقریباً بالکل ہی ختم ہوگئی اور ناقابل علاج امراض کی فہرست طویل تر ہوتی جارہی ہے ۔یہ امراض ان ادویات کے استعمال کا نتیجہ ہیں جو ان کو ختم کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ۔COVID-19کے حملہ سے پہلے صرف امریکہ میں ہرسال تقریباً 2لاکھ افراد ناقابل علاج امراض سے مرتے تھے ۔برطانوی تحقیق کے مطابق 2050 تک AMR کے شکار مردوں کی تعداددس بلین سالانہ ہوجائیگی ۔
AMR کے پھیلاؤ اورanti-biotic کی بڑھتی ہوئی ناکامی سے صرف متعدی امراض ہی متاثر نہ ہوں گے ہر قسم کی سرجری (surgery) نہایت خطرناک ہوجائے گی ۔کینسر ،ٹی بی ،جوڑوں کے درد اور کئی دوسرے امراض کے علاج غیر مؤثر ہوتے جائیں گے اور اسپتال میں جانا تک خطرناک ہوجائے گا کیونکہ وہاں زمین ،،بستر اور فضا جراثیم سے لبریز ہوتے جائینگے ۔ WHO نے پیشن گو ئی کی ہے کہ جدید طب کی یہ شکست 21ویں صدی میں رونما ہوجائے گی۔ WHO کے تخمینوں کے مطابق 2050 تک ایشاء اور افریقہ میں اسی لاکھ افراد ہرسال مریں گے ۔ان ممالک میں AMR کا پھیلاؤ مغربی ممالک کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تیز ہے ۔غریب ممالک میں 40 سے 60 فیصد امراض AMR سے متاثر ہیں اور OECDکی 2018 کی تحقیق کے مطابق غریب ممالک میں امیر ممالک کے مقابلہ میں 2030 تکAMR کا پھیلاوٗ 70 گنا زیادہ تیزی سے ہوگا ۔
دورحاضر میں pathogens کی افزائش نسل کو مہمیز دیاجارہاہے بہت سی pathogens نے anti-biotic کو غذا کے طورپر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے ۔
جب pathogens پر anti-biotic حملہ آور ہوتی ہیں تو ان کی ایک دوسرے کی genes حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا چلاجاتا ہے اور وہ نئی نئی anti-biotic کو شکست دینے کے قابل ہوتی جاتی ہیں ۔anti-biotic کا پھیلاؤ خود AMR کے فروغ کا سبب ہے۔
Anti-biotic پھیلاؤ کے نتیجہ میں ان pathogens کی افزائش نسل ہورہی ہے جس میں AMR کو فروغ دینے والی genes کو حاصل کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے یہ عمل 1940 کی دہائی سے تیز سے تیز تر ہوتا جارہاہے ۔anti-biotic ادویات نے pathogens کی ان اقسام کو کم کیا ہے جو anti-biotic سے فنا ہوسکتی ہیں اور ان اقسام کو فروغ دیا ہے جس AMR کی صلاحیت بڑھاتی جاتی ہیں ۔ہر Anti-biotic دوا خود اپنی AMR رکھنے والی pathogens کو جنم دیتی ہے ۔
Anti-microbialدوسری ادویات سے ان معنوں میں مختلف ہیں کہ ان کے استعمال کی بڑھوتری ان کی افادیت کو مستقل کم کرتی رہتی ہے ۔1950 کی دہائی کے بعد سے عالمی سرمایہ دار فارماسوٹیکل (pharmaceuticals) نے پوری دنیا میں anti-biotic ادویات کا ایک تندرفتار سیلاب برپا کردیا ۔ان کمپنیوں نے تھوک بھاؤ penicillin فروخت کرنے کی پالیسی بنائی اور اس کے استعمال کو وسیع سے وسیع ترکرتے چلے گئے بہت جلد سوسےزیادہ anti-bioticادویات بازار میں اس بڑے پیمانے پر پہنچائی جانے لگیں ان سرمایہ دارانہ کمپنیوں کا مدعا بہتر ادویات پہنچانانہیں بلکہ مختلف ادویات کی فراہمی سے زیادہ منافع کمانے کے لئے تھا ۔بیشتر anti-biotic صرف بے اثر ہی نہیں تھیں ضرررساں تھیں کیونکہ وہ مریض کے جسم میں ایسے pathogens کی افزائش نسل کو پھیلا رہی تھیں جو اس کی قوت مدافعت (immunity) کو کم کرنے کا باعث بنے ۔امریکی قصابوں نے بڑے پیمانہ پر تازہ گوشت میں anti-biotic استعمال کرنا شروع کردیا ۔
1950 اور 1960 میں بڑی امریکی سرمایہ دارانہ کمپنیوں نے تقریباً ایک ارب ڈالر anti-biotic کی اشتہاری مہم پر خرچ کئے ان میں Lederel اور Pfizer سب سے نمایاں تھیں ۔اس اشتہاری مہم کا حدف پوری دنیا کے ڈاکٹر تھے جن کوتھوک کے حساب سے مفت anti-bioticفراہم کی گئیں ۔تحائف اور عطیات سے نوازا گیا اور تفریحات کے مواقع فراہم کئے گئے ۔آج بھی امریکہ میں 30فیصد anti-biotic جو ڈاکٹر تجویز (prescribe) کرتے ہیں ضرررساں ہوتی ہیں۔
1950 کی دہائی میں ادویات کی بکری میں ہوشربا اضافہ ہوا48 19 میں امریکہ میں ادویات کی سالانہ پیداوار 240ہزار ٹن تھی 1955 میں یہ 3ملین ٹن ہوگئی 1960تک سرمایہ دارانہ pharmaceuticals امریکی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنیاں ہوگئیں اور آج بھی یہ pharmaceuticals ہوشربا منافع کمارہی ہیں۔
2019 میں دنیا بھر میں anti-biotic کی بکری 50بلین ڈالرسے تجاوز کرگئی ہے اور سرمایہ دارانہ pharmaceuticals کا منافع 45بلین ہے سرمایہ دارانہ pharmaceuticalsنے 2019 میں اشتہار بازی پر تحقیق (research) کے مقابلے میں دگنا خرچ کیا، یہ pharmaceuticals کمپنیاں دنیا کیcorrupt ترین کمپنیوں میں شامل ہیں 1991 سے 2005 تک صرف امریکن pharmaceuticals نے 35.8 بلین ڈالر کا جرمانہ قیمتوں کے تعین میں فراڈ کرنے اور غیر قانونی جھوٹی اشتہار باز ی میں جرمانے کے طورپر ادا کئے ، pharmaceuticals کے لئےقانون شکنی معمول کی بات ہے ۔( Brustal, Myers, Sqruh Novaites, Pfizer, Merck, اور Glaxo, Smith,Kline سب ہرسال قانون شکنی کے بدلے میں جرمانے اداکرتی رہتی ہیں ان سرمایہ دارانہ کمپنیوں کے account میں یہ جرمانہ پیدواراری خرچ شمار کئے جاتے ہیں ۔ ان سرمایہ دارانہ کمپنیوں کے ذریعہ جراثیم غریب ممالک میں تیزی سے پھیل رہے ہیں کیونکہ ان ممالک کا تحفظی نظام (regulatory system) نہایت مجہول اور ناکارہ ہے ۔یہ ممالک pharmaceuticals کے جرائم بیشتر سرگرمیوں کی آماجگاہ بنتے جارہے ہیں انpharmaceuticals نے غریب ممالک میں anti-biotic کی بھرمار کردی ہے جس کے نتیجہ میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
غریب ممالک میں ان pharmaceuticals کے اشتہارات اور تعلیمی کتابچوں میں جھوٹے دعویٰ کی بھرمار ہوتی ہے اور اکثر ادویات کے ممکنہ منفی اثرات (side effects) کا بالکل تذکرہ نہیں ہوتا ۔یہ ڈاکٹروں کو ضرورت سے زیادہ ادویات کے نسخہ لکھنے کے لئے ان کو مفت sample فراہم کرکے اکساتے ہیں۔مقامی سرمایہ دارانہ ادویاتی کمپنیاں بھی یہ تجارتی حربے کثرت سے استعمال کرتی ہیں ۔غریب ممالک میں بڑے پیمانہ پر anti-biotic بغیر ڈاکٹروں کے نسخوں کے کھلے عام بازاروں میں ملتی ہیں اور ان کے استعمال کے نتیجہ میں بدنی جراثیم میں anti-biotic سے مدافعت کی صلاحیت تیزی سے بڑھتی ہے اور جسم کا اندرونی تحفظی نظام تتربتر ہوتا جاتاہے کئی غریب ممالک میں سرمایہ دارانہ pharmaceuticals نے anti-biotic کے استعمال کو ایک ثقافتی ضرورت اپنی اشتہاربازی کے ذریعہ بنادی ہے ۔
2000 سے لیکر 2015 تک anti-biotic کا استعمال بھارت میں 105 فیصد اور پاکستان میں میں 65فیصد بڑھا
ہر anti-biotic ڈوز کا 80فیصد حصہ بدن میں فضلہ کی شکل میں خارج ہوجاتا ہے اور نکاسی آب (sewerage) کے نظام میں شامل ہوجاتا ہے وہاں ایسے pathogen مستقلاً پرورش پاتے رہتے ہیں جو AMR کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دریاؤں زمینی پانی کنالوں اور جھیلوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔
پوری دنیا میں بڑے پیمانہ میں جانوروں کی خوراک میں anti-bioticشامل کئے جار ہے ہیں WHO کی تحقیق کے مطابق ہسپتالوں کے بعد جانور خانے اور کھیت ہی AMR pathogenکی افزائش نسل کے سب سے بڑے کارخانہ ہیں اور گمان کیا جاتا ہے کہ COVID-19کی pathogen اپنی جگہوں سے نکل کر جنگلی جانوروں میں گھسا۔
جتنا زیادہ ایک جانور خانہ غلیظ متعفن اور جانوروں سے بھرا ہو گا اتنا زیادہ anti-biotic جانوروں کے حجم میں اضافہ کا سبب بنیں گی اور اتنے ہی زیادہ مقدار میں AMR pathogen وہاں پیدا ہوتے رہیں گے اور وہ انسان جو ان جانور خانوں کے قریب رہتے ہیں بہت جلد AMR pathogen جانوروں سے حاصل کرکے خود پرورش کرنے لگتے ہیں Marya Mckezmaکے مطابق مرغی خانوں سے بڑے پیمانہ پر AMR pathogen شاہراؤں کاروں اور بازاروں تک مستقل منتقل ہوتے رہتے ہیں مرغی خانوں اور مویشی گھروں کے کارکن عموما AMR pathogenکے carriersہوتے ہیں ان کے خاندان کے افراد اور بچے تک AMR pathogen کے کیریئر بن جاتے ہیں۔
ادویاتی پیدوار کے مراکز غریب ممالک کی طرف منتقل ہوتے جارہے ہیں بھارت ادویات کی پیداوار کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے پاکستان میں بھی مقامی کمپنیاں عالمی سرمایہ دارانہ pharmaceuticals کے لئے ادویات تیارکرتی ہیں غریب ممالک میں ادویاتی پیداوار پر پابندیاں واجبی ہوتی ہیں اور وہ بے دریغ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتی رہتی ہیں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بھارت،چین ،پاکستان جنوبی کوریا ،تائیوان اور بنگلہ دیش میں ادویاتی صنعت سے خارج شدہ AMR pathogen waste کی افزائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔
ان ممالک کے دریائی نظام AMR pathogen کی پرورش کےذخائر میں تبدیل ہوگئے ہیںAMR pathogenکی بہتات کے مضمرات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب ان کے ذریعہ لائے گئے امراض ناقابل علاج ثابت ہوتے ہیں اور اور وباء کی صورت اختیار کرلتیے ہیں ۔آج AMR pathogen پوری دنیا پر چھائے جارہے ہیں pharmaceuticals کمپنیوں کی کارفرمائی کے نتیجہ میں اور اس عالمگیر پھیلاؤ کو antibiotic resistanceکہاجاتا ہے William Gazeکی تحقیق کے مطابق 1940 سے قبل AMR pathogen کی افزائش نسل کے مواقع نہایت محدود تھے سائنس نے اپنے تجرباتی اخترعات کے ذریعہ وہ ماحول پیدا کردیا ہے جس میں نئے نئے AMR pathogen وافر مقدار میں پنپ رہے ہیں ماحولیاتی بے ضرر bacteriaاس ماحول میں AMR pathogen بنتے جارہے ہیں ،1940 سے قبل مضر bacteria مخصوص علاقوں تک محدود تھے انسانوں ،جانوروں اور نباتات کی تیررفتار مواصلت نے یہ مظہری ماحولیاتی رکاوٹیں دور کردی ہیں bacteriaاور AMR pathogenپورے عالم میں پھیل رہے ہیں دنیا کا کوئی خطہ ان سے محفوظ نہیں رہ گیا ۔
سائنسی اختراعات کے نتیجہ میں ہم کائناتی تاریخ کے جس دور میں داخل ہوگئے ہیں اس کو Anthropocene کہتے ہیں یہ دور پچھلے گیارہ ہزار سالہ دور جس کو Holocene کہاجاتا ہے مختلف ہے Anthropocene میں انسان کائناتی فطری توازن کوبڑے پیمانے پر درہم برہم کررہاہے جس کے نتیجہ میں پانی کی قلت ،کاربن ڈائی ایکسائڈ کے اخراجی اضافہ ،سیلابوں اور خشک سالی میں ترقی اور نوعی اقسام میں کمی واقع ہورہی ہے ۔ادویات کی بھر مار (mass bacteria) بھی اس ہی ماحولیاتی تخریب کاری میں اضافہ کرنے والی ایک اہم قوت ہے۔ Antibioticان bacteriaکو فنا کررہی ہیں جو قدرتی ماحول اور انسانی زندگی کے نشودنما کے لئے ضروری ہیں اور AMR pathogenاور دیگر ضرررساں bacteriaکی بڑے پیمانے پر پرورش کررہی ہیں۔
- اسباق: سائنس جاہلیت خالصہ کا مہلک ترین مظہر ہے سائنس کا مقصد تسخیر کائنات ہے اور یہ عمل مذہب کے خلاف وہ بغاوت ہے جو سولہویں صدی میں شروع ہوئی اور جس کے منہج نے آج تمام جاہلی علوم کو مسخر کرلیا ہے ۔سائنسی منہج) (scientific methodکااستعمال دنیا میں جنت تعمیر کرنے کی وہ احمقانہ جدوجہد ہے جس کو rationalityکہتے ہیں اس خبیث منہج کے مفروضات کی حتمی تردید حضرت حجۃ السلام امام غزالیؒ نے گیارھویں صدی ہی میں مرتب فرمادی تھی جس کے نتیجہ میں عالم اسلام سات آٹھ سوسال سائنسی نحوست سے محفوظ رہا۔
- یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے کہ کائنات لافانی ہے اور اس کی تخلیق اور تعمیر کی انسان قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ انسانی ارادہ کائناتی حرکیت پر مسلط کیا جارہاہے آج یہ جھوٹ کھل کر سامنے آگیا ہے اور AMR pathogenکے امنڈتے ہوئے سیلاب نے یہ ثابت کردیا ہے سائنسدانوں کی احمقانہ دنیا کو جنت بنانے کی کوشش کے نتیجہ میں دنیا تیزی سے جہنم بن رہی ہے ۔
- سائنسی سرمایہ داری جاہلی علمیت ہے ۔تسخیر کائنات اور بڑھوتری سرمایہ کی جدوجہد pharmaceuticals جس حکمت عملی کے تحت دنیا بھرمیں کررہی ہیں اس نے anti-biotic کا سیلاب برپا کردیا وہ ان کے جلدازجلد زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے اپنائی گئی ہے ۔AMR pathogenسے جنگ ہارنے کے بعد pharmaceuticalsایسی دوائیں بنارہے ہیں جو مریض سالہاسال استعمال کرنے کے باوجود کبھی شفاء یاب نہ ہوں جب تک بڑھوتری سرمایہ معاشی عمل کا مقصد رہے گا سائنسی تباہ کاری رونما ہوتی رہیں گی ۔انہدام سرمایہ داری اور تسخیر منہج سائنس ایک ہی چیز کے دونام ہیں ۔
- آج سائنسی منہجی اور سرمایہ دارانہ نظاماتی تغلب عالمی ہے اور پاکستان جیسے چھوٹے کمزور ملک کے لئے اس تغلب سے کلی اخراج ممکن نہیں لیکن اس کو کمزور کرنے کی سعی ضروری ہیں اس ضمن میں قلیل المدت تجاویز حسب ذیل ہیں ۔
- Anti-biotic کے استعمال میں بڑے پیمانہ پر تخفیف کرائی جائیں
- ملکی اور بین الاقوامی pharmaceuticalsکو قومیا nationalizeکیاجائے ادویات کو public goods کی حیثیت دی جائے اور ان کی قیمتیں پیداواری خرچ کے مطابق متعین کی جائیں
- ادویاتی کمپنیوں کے اخراج فضلہ (waste) کو زمین کے اندر اور دریاؤں میں آلودگی بڑھانے کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے
- یونانی طب کو اتنا فروغ دیاجائے کہ وہ جدیدطب اور سرجری کو مسخر کردے ۔
- بین الاقوامی مواسلت اور تجارت کو محدود کیا جائے ۔
- ملک کو ادویات کے ضمن میں خود کفیل بنایا جائے۔
فی الحال پاکستان میں اسلامی جماعتیں ان میں سے کسی تجویز پر عمل کرنے یا عمل کرانے کی استطاعت نہیں رکھتیں ۔نہ یہاں اسلامی حکومت قائم ہونے کے کوئی امکانات موجود ہیں ۔پاکستان کا سیاسی نظام سرمایہ دارانہ ہے اور یہاں ایک مدت تک دہریہ جماعتیں ہی حکومت کرتی رہیں گی ان حالات میں سائنسی عمل کے ریشہ دوائیاں ماحولیاتی کثافت اور وباؤں کے پھیلاؤ کے ہنوز میں بڑھتے رہنے کا قوی امکان ہے ہمیں اس ماحول میں کام کرنا ہے ۔
ہم اسلامی انقلابی ہیں ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہمیں سرمایہ داری کے خلاف ایک طویل المدت جدوجہد کرنی ہے جو صدیوں تک جاری رہے گی اس جنگ کا ایک اہم ترین محاذ سائنسی منہج اور سیاسی جاہلیت کی تسخیر ہے علوم اسلامی کے تناظرمیں طبعی اور فطری حرکات کی تفہیم مرتب کرنا علماءے اسلام کی ذمہ داری ہے اور یہ کام دنیا کو جنت بنانے کے لئے نہیں بلکہ انسانیت کو اس جنت میں داخل ہونے کے لئے تیار کرنےکے لئے کیا جا ئے گا جو اللہ رب العزت نے مومن کے لئے تیارکررکھی ہے جب طبعی (Physical) اور فطرتی علوم اسلامی علمیاتی تناظر میں سموتے جائیں گے تو اس بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ کائناتی حرکیات اور انسانی حیاتیات میں توازن بتدریج قائم کرنے کی تدابیر بروئے کار آتی رہیں گی ۔
اسلامی قوتوں کی دوسری طویل المدت پیش رفت روحانی ہونا چاہئے دہریوں کو اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ وباؤں اور دیگر آفات کا نزول معاصی کے پھیلاؤ اور خدا کے عذاب کا نتیجہ ہوتا ہے ۔مثلا ًعمران خان نے اپنی حالیہ تقریر وں میں COVID-19کے عذاب سے خدا کی پناہ مانگنے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا نہ اس نے اپنے قوم کے گناہوں سے توبہ کی بلکہ مسجدیں ،خانقاہیں ،مدارس پر تالے لگا دیئے ۔سود اور سٹہ کا کاروبار جاری ہے اور IMF چین اور امریکہ سے بھیک مانگتا رہا
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
یہ اسلامی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے ثقافتی ماحول کو روحانیت سے لبریز کردیں ۔اجتماعی توبہ محافل ذکر اور استغفار کو اتنا عام کریں کہ عوامی زندگی منکرات سے پاک ہوجائے ۔عوامی زندگی فکر آخرت سے معمور ہوجائے لوگ آفات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کریں اور شہادت کے متمنی ہوں قوی امید ہے کہ جیسے جیسے اسلامی روحانیت عوامی زندگی میں سرائیت کرے گی ویسے اللہ الرحیم آخرت میں ہم پر اپنے عذاب کو ٹال دے گا برکتیں نازل ہونگی اور ہمارا ملک عالمی سرمایہ داری کے اندھیرے میں ایک تابناک ستارہ کے طورپر چمکنے لگے گا ۔ جاوید اکبر انصاری