کتب خانہLibrary

← ہدایت او اسکی اقسام

ہدایت او اسکی اقسام.docxڈاؤن لوڈ

حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تصور عقل و ہدایت پر ایک طائرانہ نظر

علی محمد رضوی

ابتدائیہ

حضرت علامہ خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب اسرار التنزیل کے آغاز میں ضرورت قرآن پر بحث فرمائی ہے ۔آپ فرماتے ہیں کہ ضرورت قرآن کے عقلی اثبات کے لئے ہدایت ربانی کا اثبات ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید اللہ تعالی کی انسانوں کے لئے آخری اور مکمل ہدایت ہے۔ قران مجید وحئ الہی کے ذریعے انسانوں کی طرف آیا ہے اس لئے ضرورت قرآن کے اثبات کے لئے ضرورت وحی کا اثبات لازم ہے ۔ اگر آپ عقل کی بنیاد پر ضرورت وحی کا اثبات کرنا چاہتے ہیں تو وحی اور عقل کے درمیان تعلق اور عقل کی حدود پر بنیادی بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔

حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ مندرجہ بالا خطوط پر ضرورت قرآن و ضرورت ہدایت کے ثبوت کے لئے عقلی دلیل کا عمومی خاکہ مرتب فرماتے ہیں ۔ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تصور عقل حضرت امام غزالی، حضرت امام رازی اور حضرت امام ربانی و امام شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے افکار و انوار کا تسلسل ہے ۔

اس مضمون میں حضرت علامہ کے اس سلسلہ میں پیش کردہ دلائل کو فلسفیانہ اور کلامی نہج پر تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کروں گا اور اس بات کی سعی کروں گا کہ حضرت کی تحقیقات کا ربط جدید فلسفہ اور سائنس کے اہم نظریات سے بھی جوڑوں تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ حضرت کے نہج پر چلتے ہوئے ہم کس طرح جدید فلسفے اور سائنس کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس مضمون میں اپنے دلائل کو اس طرح پیش کرونگا کہ بیک وقت حضرت کے افکار کا اندرونی نقد بھی مرتب ہو اور اس کی بھی کوشش ہو کہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق حضرت کے افکار کو آگے بڑھایا جا سکے۔

[ قال شيخنا العلامة محمد الحسن الددو الشنقيطي رفع الله قدره في الدارين ونفعنا بعلومه في الدارين في تقريظه على كتاب أحد علماء قطره:

إِن تُلْفِ في كُتْبِه ما لا تُوافِقُهُ * فما تُوافِقُ في أجْزَائِهَا غَلَبا

وأمُّها مُحْكَمٌ صافٍ بِلا كَدرٍ * وما تَشَابَه نَزْرٌ في العُبَابِ هَبَا

وذاكَ شَأْنُ شُيُوخِ العِلمِ كُلِّهِمُ * أَئِمَّة الدِّينِ مِن ساداتنا النجبا

نَرْجُو شفاعَتَهُمْ كُلًّا ونَخْدُمُهُمْ * ونُحْسِنُ الظَّنَّ تَنْفِيذًا لِما وَجَبا

وقدْ نُخَالِفُهُمْ في بَعْضِ رَأْيِهِمُ * ولَا نُخَالِفُ تَوقِيرًا ولَا أَدَبَا..]۔

اس لئے اس مضمون کے آغاز ہی میں اس بات کی تصریح ضروری ہے کہ:

وقدْ نُخَالِفُهُمْ في بَعْضِ رَأْيِهِمُ * ولَا نُخَالِفُ تَوقِيرًا ولَا أَدَبَا

ہدایت او اسکی اقسام

حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے انسان کو نہ صرف تخلیق کیا اور اس کو عدم سے وجود بخشا بلکہ تخلیق کرنے کے بعد اس کو بے سہارا نہ چھوڑا اور اپنی بے پایاں رحمت سے اس کی ہدایت اور رہنمائی بھی اپنے ذمہ لی۔ اللہ تعالی کلام پاک میں [نقلا عن نبي الله موسى عليه وعلى نبينا السلام] ارشاد فرماتے ہیں:

قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعْطَىٰ كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ (طه ٥٠)

موسی نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو ساخت (صورت خالص او) بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا

[ثم عربی زبان میں تراخی کے لیے آتا ہے اس لحاظ سے اس کے متبادر یا ظاہر معنی یہ ہوں گے کہ ہدایت کی عطا کا عمل خلق کے بعد وقوع پذیر ہوتا ہے یعنی ہدایت خلق سے جدا ایک چیز ہے لیکن اس کے معنی وہ بھی ہو سکتے ہیں جو صاحب کشاف نے لکھے ہیں کہ خلق با ہدایت خلق بدون ہدایت سے اتم اور اکمل ہے اور جیسا کہ کلام پاک میں ہے اللہ کی تخلیق اتم اور اکمل ہے (السجدة ٧) تو یہاں تراخی سے محض طبعی و زمانی تراخی نہیں مراد ہو گی بلکہ معنوی تراخی بھی مراد ہوگی واللہ أعلم].

یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو چاہے وہ جاندار ہوں یا غیر جاندار پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اس کے شایان شان ہیئتِ ترکیبی عطا کی جو اللہ پاک کی تخلیق کی عظمت اور اکملیت کی آئینہ دار ہے [قال تعالى: ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهُ الآية جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی] اور ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے اسے پیدا کیا گیا اس کی طرف اس کی رہنمائی کی۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہر مخلوق اپنے مقصد کے حصول کے لیے روا دواں ہے، اپنے منافع کے لئے تگ و دو کر رہی ہے اور جو چیزیں اسکے لئے مضر ہیں ان سے بچنے کے لیے کوشاں ہے (سعدی و الوسیط و صاحب کشاف بہ اختصار)۔

حضرت علامہ کے مطابق اس ہدایت الہی کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں: ایک ہدایت کونی اور دوسری ہدایت تشریعی (یہ اصطلاحات حضرت کی نہیں لیکن آپکی بحث میں یہ تقسیم مضمر ہے)۔ قرآن مجید کے مطابق خلق اور ہدایت (ہدایت توفیق) الله پاک کے لئے خاص ہیں (القصص ٥٦)۔ اسی طرح قرآن مجید کے مطابق خلق اور امر بھی اللہ کے لئے خاص ہیں (الأعراف ٥٤)۔ اوامر الٰہی ہدایت الٰہی کو جاننے کا ذریعہ ہیں، ان کو کلمات الٰہیہ بھی کہتے ہیں ۔اللہ تعالی کی کونی ہدایت اس کے کونی اوامر سے آتی ہے جبکہ اس کی تشریعی ہدایت اس کے تشریعی اوامر سے آتی ہے (یہاں ' تشریعی' کو کونی کے مقابل اور عمومی معنوں میں استعمال کریں گے اسکے مخصوص فقہی معنوں میں نہیں)۔

اس کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک کی دو طرح کی آیات ہیں۔ اس کی کونی آیات اور اس کی تشریعی آیات: اس کی کونی آیات آیات منظورہ ہیں، اس کی تشریعی آیات آیات مسطورہ ہیں۔ آیات منظوره کو پڑھنے کا طریقہ اللہ کی کائنات کا مشاہدہ اس میں تفکر ہے جب کہ آیات مسطورہ کو سمجھنے کا طریقہ اور پڑھنے کا طریقہ قران مجید اور سنت نبوی ہے جو اس کے اوامر کا آخری حتمی اور واحد محفوظ مجموعہ ہے۔

الغرض اللہ تعالی کی کونی ہدایت اس کے کونی اوامر سے آتی ہے اور جن علوم کو ہم علوم عقلیہ کہتے ہیں ان کا تعلق انہی کونی اوامر سے ہے کہ وہ ان کونی اوامر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں (دیکھیں آثار التنزیل ۳۸-۴۰)۔

اللہ پاک کے شرعی اوامر وحی کے ذریعے آتے ہیں اور وہ آسمانی کتابوں میں ہیں اور اس لئے قران مجید، کتاب ہدایت ہے۔ لیکن اللہ تعالی کا یہ کون بھی کتاب ہدایت ہے (دیکھیں مثلاً تفسیر کبیر زیر آیت شریفہ الأنعام، ٧٦)۔ قرآن مجید فرقان حمید میں فرمایا:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُوْلِي الألْبَاب ۝ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ [آل عمران:١٩٠-١٩١]۔

زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کےلیے بہت نشانیا ں ہیں جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت (پیدائش) میں غورو فکر کرتے ہیں۔ ( وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) ”پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو پاک ہے اس سے کہ عبث کا م کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔

ہدایت کونی اور تشریعی ہدایت دونوں ساتھ مل کر مکمل ہدایت بنتی ہیں۔ ہدایت کونی کے بغیر، حواس کے بغیر، عقل کے بغیر، ہدایت تشریعی کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا ہے۔ لیکن تشریعی ہدایت کو سمجھنے کے لیے ہدایت کونی کا جو درجہ درکار ہے وہ محض بنیادی درجہ ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح آپ زبان کو سمجھے بغیر کسی کی بات کو نہیں سمجھتے ۔ انہی معنوں میں بنیادی فہم، جس کا لازمی جزو حواس اور عقل ہیں، کے بغیر ہدایت تشریعی، وحی الہی اور قران مجید کو نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن اس بنیادی درجے سے اوپر اٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ حواس، عقل اور ہدایت کونی سے حاصل فہم، ہدایت تشریعی کے بغیر صحیح فہم نہیں ہو سکتا ہے۔

ہدایت کونی تشریعی ہدایت کے تابع ہے۔ اگر اسے تابع نہیں کریں گے تو جو علم ہمیں فطرت سے، حواس سے اور عقل سے حاصل ہوگا وہ مسخ شدہ علم ہوگا ۔ وہ 'علم' ظلم ہوگا، نامکمل اور ادھورا ہوگا۔

ہدایت کونی سے حاصل شدہ علم ہدایت تشریعی کے بغیر دو لحاظ سے نا مکمل ہوتا ہے ۔ اول جو چیزیں ہدایت کونی کے احاطے میں ہیں، ان کو بھی آپ ہدایت تشریعی کے بغیر درست طور پر نہیں سمجھ سکیں گے۔ دوئم جو چیزیں ہدایت کونی کے احاطے میں نہیں ہیں، اس سے ماورا ہیں، ان کے بارے میں محض ہدایت کونی پر اکتفا کر کے جو جو باتیں ہوں گی وہ انسانی نفس کی اختراع اور شیطان کی وحی کی بنیاد پر ہوں گی اور بے بنیاد ہوں گی۔

اور اگر آپ یہ کہیں گے کہ ان امور کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں جن کے بارے میں ہدایت تشریعی کے ذریعے ہمیں علم حاصل ہوتا ہے، تو آپ زندگی میں حیران اور پریشان اور لا ادریت کی بیماری کا شکار ہوں گے اور اپنی فطرت کی جائز اور بنیادی آرزو اور ضرورت کو پورا نہیں کریں گے اور ہر وقت بے چینی کا شکار ہوں گے (آثار التنزیل ۳۵)۔

الغرض کونی ہدایت کو آپ تشریعی ہدایت کی رہنمائی، اس کے ظل اور چھتری کے بغیر سمجھ نہیں سکتے ۔ اگر آپ کونی ہدایت کو محض عقل کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ کا نفس اس میں ملوث ہو جائے گا اور آپ کی عقل کتاب ہدایت کونی کو وحئ رحمانی کے بجائے وحئ شیطانی اور وحئ نفسانی کی بنیاد پر اور ان کے نقطئہ نظر سے پڑھے گی اور گمراہی کا پیش خیمہ بنے گی۔

تاریخی طور پر گمراہیوں کی ایک بہت بڑی وجہ کونی ہدایت اور ہدایت تشریعی کے درمیان صحیح تعلق کو نہ سمجھنا ہے۔ اس لئے کہ استعداد تو کافر کو بھی ہے اور اس کو بھی عقل کہتے ہیں اور مسلمان کو بھی ہے اس کو بھی عقل کہتے ہیں لیکن اصل عقل وہ ہے جو نور نبوت سے منور ہو۔ جو عقل نور نبوت سے محروم ہوگی وہ ظلمت شیطانی اور ظلمت انسانی کی آماجگاه بن جائے گی۔

اسی لئے حقیقی عقلی علوم بھی صرف وہی علوم ہیں جو وحئ الہی کے نور کے تناظر میں اوامر کونیہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی لئے ہم جدید و قدیم کے 'امتزاج' کو رد کرتے ہیں اور اسے سیکولرزم کی ایک شکل سمجھتے ہیں۔ ہماری ۱۵۰۰ سالہ تاریخ میں استعمار سے پہلے علوم کی موجودہ تقسیم اور تفریق کبھی نہ رہی بلکہ علوم دینیہ کے ماہر علوم عقلیہ کے بھی ماہر تھے اور علوم عقلیہ کو علوم دینیہ کے تناظر میں ہی پڑھا جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں حضرت علامہ نے امام غزالی کے حوالے سے جو گفتگو کی ہے (۳۷-۴۰) اسے اس عمومی سیاق میں از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے (اس موضوع پر انشاء الله الگ مضمون میں سیر حاصل گفتگو ہو گی). لیکن حضرت نے اس ترتیب نو کے اصل الاصول کو کوزے میں بند کر دیا ہے:

حاصل این کے جس طرح غذا کے ساتھ دوا کی ضرورت لاحق ہوتی ہے اس طرح دنیا کے تجرباتی معلومات کی زمین آسمانی باران ہدایت کی شدید محتاج ہے۔ تجرباتی علوم مادہ کائنات ہیں تو علوم شریعت روح کائنات کا حکم رکھتے ہیں۔ قرآن عزیز یہی روح کائنات ہے جو زندگی کی تاریکیوں کو روشنی بخشتا ہے اور ہمیں اس کی اشد ضرورت ہے (آثار التنزیل ۳۹).

ہدایت کونی کی ذیلی اقسام کی تفصیل

پچھلے حصے میں جو کہا گیا اسکا حاصل یہ ہے کہ ہدایت کونی میں ہدایت فطرت، ہدایت حواس اور ہدایت عقل شامل ہیں جبکہ ہدایت تشریعی میں آسمانی کتابیں شامل ہیں جن کی آخری اور مکمل اور قطعی شکل قرآن پاک ہے۔

ہدایت فطرت کا مطلب وہ ہدایت ہے جو انسانی ساخت، ہیئت اور اس کی استعداد سے متعلق ہے جو اللہ تعالی نے انسان کے اندر اور دوسری مخلوقات کے اندر ودیعت کی ہے۔ فطرت ساخت سے بڑھ کر ایک چیز ہے۔ ہدایت کے سیاق میں اس سے میں جبلتیں، بنیادی جسمانی، نفسی اور ذہنی استعداد نیز ہیئت وساخت وغیرہ سب آ جاتے ہیں۔

اس فطرت کا تعلق انسان کی طبعی استعداد اور اس کے نفس طبعی (یہ مجاھد کی تفسیر ہے اور امام رازی اسے جوہر نفس کہتے ہیں) سے ہے۔ ٹھیک یہی نفسی استعداد اپنے ماحول سے تعامل کے ذریعے کسی بھی فرد یا جماعت کا طریقہ، سیرت اور عادت بنتی ہے (یہ زمخشری و امام رازی کے الفاظ ہیں) جس کو قرآنی اصطلاح میں شاکلہ (شاكلة) کہتے ہیں۔ یہ فطری ہدایت مختلف طریقوں سے مخلوق کے اندر اپنا عمل کرتی ہے جس میں سے کچھ ہمیں معلوم ہیں اور بہت کچھ ہمارے علم سے بالا ہے۔ یہ ہدایت فطری جبلتوں کے ذریعے، شاکلہ کے ذریعے، عہد الست کی یاد کے ذریعے، اور دوسرے ذرائع سے اپنا عمل کرتی ہے۔

[وقد جوز الرازي أن يكون المراد بـ (الشاكلة): أن كل أحد يفعل على وفق ما شاكل جوهر نفسه، ومقتضى روحه، فإن كانت نفسا مشرقة حرة ظاهرة علوية، صدرت عنه أفعال فاضلة كريمة، كقوله تعالى: {والبلد الطيب يخرج نباته بإذن ربه} (الأعراف:۵۸)، وإن كانت نفسا كدرة نذلة خبيثة ظلمانية سفلية، صدرت عنه أفعال خسيسة فاسدة، كقوله تعالى: {والذي خبث لا يخرج إلا نكدا} (الأعراف:۵۸).نقلا عن موقع إسلام ويب].

ہدایت کونی کی دوسری قسم ہدایت حواس ہے۔ پہلی قسم کا تعلق استعداد سے ہے اور ان معنوں وہ ہدایت بالقوۃ ہے ۔اس کے برعکس حواس فعال مرجع ہیں ۔ حواس بنیادی طور پر ہمیں اندرونی و بیرونی ماحول کی اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ ہدایت حواس میں حواس خمسہ شامل ہیں اور بعض حضرات وجدان کو اسمیں شامل کرتے ہیں جبکہ بعض حضرات اسکو علحیدہ ذریعہ سمجھتے ہیں ۔حواس خمسہ سے حاصل بنیادی اطلاعت علوم اسلامیہ میں علم ضروری اور علم بدیہی کا درجہ رکھتی ہیں ان معنوں میں ہمارے یہاں ڈیکارٹ و جدید فلسفہ کے برعکس شک بنیادی نہیں بلکہ یقین بنیادی امر ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا، جیسا کہ ہماری بحث سے واضح ہو گا، غلط ہو گا کہ فکر اسلامی حواس کی محدودیت کی قائل نہیں۔

ہدایت کونی کی تیسری قسم ہدایت عقل ہے۔ ہدایت عقل بالقوۃ فطری استعداد کے اندر بھی آگئی تھی لیکن یہاں بالفعل کے معنی میں ہے۔

عقل کے کئی معانی ہیں ایک تو عقل سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس کو انگریزی میں انڈرسٹینڈنگ (فہم ) کہتے ہیں۔ یہ حواس اور فطرت ہدایت کے درمیان بنیادی تعامل کا کام کرتی ہے اور اس سے سمجھ اور فہم اشیاء اور فہم ماحول حاصل ہوتا ہے۔

عقل کا دوسرا معنی استنتاج کی قوت ہے۔ اس میں استخراج، استقراء اور استدلال کی دیگر اقسام مثلاً جسے ایبڈکشن کہتے ہیں وغیرہ آجاتی ہیں۔ منطق اسی قوت کی صوری اور غیر صوری احکام متعین کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ قوت استنتاج معلوم قضایا سے نامعلوم قضایا کو اخذ کرتی ہے۔ بدیہی معاملات میں قوت استنتاج کا عمل فوری ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ لگتا ہی نہیں ہے کہ ہم نے استنتاج کیا ہے لیکن جب معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں اور معلومات کی کثرت ہوتی ہے اور ان کے درمیان تعلق وقت اور تفکر کا محتاج ہوتا ہے تو استنتاج کے عمل کا کما حقہ بالوضوح اظہار ہوتا ہے۔

عقل کا تیسرا معنی عقل کلی ہے۔ اس عقل کلی کا ہدف کل کا فہم اور احاطۂ کلی ہے۔ اس عمل کے تکمیل کے لئے عقل تصورات کلیہ تخلیق کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعے تمام معلومات کو ایک سلک میں جوڑا جا سکے اوراس میں محض ضروری اور مقامی دلائل مکتفیہ پر اکتفا نہ کرے بلکہ کلی دلائل مکتفیہ کو اس طور پر پیش کیا جا سکے کہ کائنات میں ہر چیز کی دلیل مکتفی مل جائے، فکر کی تگ و دو رک جائے اور اس کے بعد کوئی اور سوال باقی نہ رہے۔ لیکن انسانی عقل کو گو کہ اس میں اس احاطۂ کلی اور فہم خود مکتفی کا داعیہ اور احتجاج ہے (جیسا کہ ارسطو کہتا ہے اور کانٹ اسمیں ارسطو کا متبع ہے) وہ کبھی بھی اپنے بل بوتے پر اس فہم کو حاصل نہیں کر سکتی ہے۔

اس سلسلے میں تین مواقف ہیں:

ایک اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ قدیم زمانے سے لا ادری فلسفیوں کا موقف رہا ہے اور جدید زمانے میں پس جدیدی یا پوسٹ ماڈرڈنسٹ فلسفیوں کا موقف اس سے ملتا جلتا ہے۔ اس مسئلے میں پس جدیدی فلسفی نطشے کا اتباع کرتے ہیں جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جدیدیت یعنی خدا کی خدائی کو رد کرنے کا اور انسان کو خدا ماننے کا یا قائم بالذات ہستی ماننے کا یہ تقاضا ہے کہ انسان ماوارائی سہاروں کے بغیر چاہے وہ سہارے مذہبی ہوں یا غیر مذہبی زندہ رہنے کا اہل ہو اور اسی بنیاد پر ایک نئی تہذیب کی داغ بیل ڈالے (تفصیل کے لئے دیکھیں جدیدیت و پس جدیدت)۔

دوئم انسان اپنے بل بوتے پر اس کو حاصل کر سکتا ہے۔ دوسرا موقف جدیدیت کا موقف ہے اس کی تعبیر کانٹ کے فلسفے میں ملتی ہے۔ کانٹ نے جیسا کہ مشہور ہے نظری فکر کی محدودیت کا دعوی کیا اور ہمارے یہاں صرف یہی بات مشہور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عقل عملی اور عقل عرفان شیطانی کے ضمن میں میں وہ عقل کی مطلق رسائی إلى الحق کا دعوی کرتا ہے اور اسی بنیاد پر انسان کی خود استقلالیت اور قائم بالذات ہونے یعنی اس کے خدا ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ انہی معنی میں وہ کہتا ہے کہ انسان خدا کا شریک ہے (تفصیل کے لئے دیکھیں کانٹ کا تصور عقل)۔

تیسرا موقف اہل حق کا ہے۔ ضرورت وحی اور ہدایت کا موقف۔ اس موقف کی وضاحت سب سے واضح طور پر حضرت حجۃ الاسلام مولانا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی ہے۔ امام کے نزدیک گو کہ عقل نور وحی کے بغیر بھی حقیقت کا ادراک کر سکتی ہے یہ ادراک ہمیشہ مسخ اور ناقص ہو گا ۔ گویا ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا دار امتحان ہے اور خدا نے اپنے منکرین کو اس دنیا میں مہلت دی ہے، اس مہلت کا تقاضا ہے کہ عقل کا بنیادی استعمال ان کے لئے وافر ہو اس لئے انہیں عقل کے بنیادی استعمال کی قوت دی گئی ہے لیکن چونکہ وہ اللہ کے نور کو رد کرتے ہیں، وہ أخرت میں تو اندھے اُٹھائے ہی جائیں گے انکی سزا اس دنیا میں بھی یہ ہے کہ انکی عقل مسخ اور انکی حقیقت کا ادراک ناقص ہو۔ یہ خیال امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں عقل کے تصور کی بحث میں واضح طور پر بیان کیا ہے [فنسبة هذه الغريزة (يعنى العقل) إلى العلوم كنسبة العين إلى الرؤية، و نسبة القرآن والشرع إلى هذه الغريزة في سياقها إلى انكشاف العلوم لها كنسبة نور الشمس إلى البصر، فهكذا ينبغي أن تفهم هذه الغريزة ج. ١، ص، ١٠١]۔

امام غزالی نے المستصفی میں علم کلام کی جو تعریف کی ہے وہ اس موقف کی عملی توضیح کرتی ہے ۔ آپ کی تعریف پر غور کریں تو پہلی بات جو واضح ہے وہ یکہ متکلم کا کام وجود باری تعالٰی اور رسول پاک کی رسالت و حقانیت پر دلائل دینا ہے لیکن اسپر متکلم کا کام بطور متکلم اور عقل کلامی کا کام ختم ہو جاتا ہے (عند هذا ينقطع كلام المتكلم و ينتهي تصرف العقل، ج، ١، ص، ١٦)۔ اسکے بعد عقل کلامی کے لئے وحی اور فہم شرعی کے سامنے تسلیم کامل کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ یہ وہی بات ہے جو مولانا رومی نے اپنے انداز میں یوں فرمائی ہے:

زاد دانش مند آثار قلم

زاد صوفی چیست؟ آثار قدم

ہم چو صیادے سوئے اشکار شد

گام آہو دید و بر آثار شد

چند گاہش گام آہو در خور است

بعد ازاں خود ناف آہو رہبر است

[(قال شيخي و تاج رأسي العلامة محمد محمود أحمد الشيخ الشنقيطي رفع الله قدره في الدارين و حفظه الله في شرح قوله تعالى: (قل صدق الله فاتبعوا ملة إبراهيم حنيفا)، هذه قاعدة عامة في تقديم الوحي على العقل ، فإذا جاءك الوحي من الله سبحانه و تعالى أو من رسوله صلى الله عليه و آله و سلم فلتنطلق من مبدأ التسليم؛ لا من مبدأ الحجاج و المعاندة بالمقدمات العقلية، ص، ٢٥).]

(تفصیل کے لئے دیکھیں علم کلام اور فلسفہ کا فرق)

ضرورت قرآن اور ضرورت ہدایت کا اثبات اور اسکے تقاضے

ضرورت قرآن اور ضرورت ہدایت کے عقلی اثبات کے لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ عقل ماورائی امور میں یقینی معلومات فراہم نہیں کر سکتی ہے اور یہ کہ عقل ان معاملات میں زیادہ سے زیادہ ظن و تخمین کی بنیاد پر مبنی قیاسات ہی فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن ظن و تخمین ان معاملات میں کافی نہیں ہے کیونکہ جو چیز داؤ پر لگی ہے وہ انسان کی ابدی سعادت و نجات یا اس کی ابدی شقاوت وبربادی ہے۔

ہدایت قرانی اور ضرورت قرانی کو ثابت کرنے کے لئے مندرج ذیل دعاوی کا اثبات لازم ہے:

انسان کو ماورائی امور میں یقینی معلومات کی ضرورت ہے۔

دوئم عقل انسانی ان معلومات کو فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

پہلے قضیہ کے اثبات کے لیے علامہ خالد محمود رحمت اللہ علیہ کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ تمام ادیان و مذاہب بہ یک زبان اس بات پر متفق ہیں اور دنیا کی تمام ملتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ان کی دلیل یہ ہے کہ دنیا کے ۹۵ فیصد انسان کسی نہ کسی عقیدے یا مذہب سے ضرور وابستہ ہیں۔ آپ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ اس حقیقت کی مشترکہ شہادت ہے کہ "انسانی وجدان" نے "محض عقل کی پرواز کو ناکافی سمجھ کر ہمیشہ آسمانی رہنمائی کی تلاش کی ہے۔" (آثار التنزیل ۱-۳۴)۔ اس قسم کی دلیل امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر کبیر میں بھی پیش کی ہے (تفسیر کبیر زیر آیت ۱۱سورۂ ھود).

وہ ماورائی امور کیا ہیں جن کے بارے میں انسان محض عقل کی بنیاد پر مکمل، قابل اعتماد، یقینی معلومات اور رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا ہے ؟ حضرت حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے کیمیای سعادت کے آغاز میں ان امور کی طرف اشارہ کیا ہے:

پس ترا حقیقت خود طلب باید کرد تا خود چه چیزی و از کجا آمده و کجا خواهی رفت و اندرین منزلگاه بچه کار آمده و ترا برای چه آفریده اند و سعادت تو چیست و در چیست و شقاوت تو چیست و در چیست؟ (کیمیای سعادت، ص، ۳۱)

ان امور کے بارے میں تفصیلی علم کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے کہاں جائے گا ؟ اور اس دنیا میں وہ کس لئے آیا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اس کو اگر پیدا کیا گیا ہے تو کس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے ؟ اس کی ابدی سعادت کس چیز میں ہے اور کس طریقۂ حیات میں مضمر ہے ؟ اس کی ابدی شقاوت کس چیز میں اور کس طریقۂ حیات میں ہے؟ کیا یہ زندگی ہی انجام ہے یا یہ انجام کا آغاز ہے وغیرہ وغیرہ ؟

یہ بہت بنیادی امور ہیں اور بدیہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کوان معاملات میں تفصیلی اور یقینی علم درکار ہے۔ ان سوالات کے ظن و تخمین کی بنیاد پر جواب دیئے جا بھی سکیں تو وہ انسان کے لئے کافی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کلام پاک میں فرماتے ہیں:

{ وَمَا يَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ }

[سُورَةُ يُونُسَ: ٣٦]

حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں ، حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے۔

امام مفسرین امام طبری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں ظن کا معنی شک بھی فرماتے ہیں اور یہ تفسیر فرماتے ہیں کہ ان امور میں شک پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا اور یقین کا کوئی متبادل نہیں۔

[قال أبو جعفر : يقول ، تعالى ذكره : وما يتبع أكثر هؤلاء المشركين إلا ظنا ، يقول : إلا ما لا علم لهم بحقيقته وصحته ، بل هم منه في شك وريبة ( إن الظن لا يغني من الحق شيئا ) يقول : إن الشك لا يغني من اليقين شيئا ، ولا يقوم في شيء مقامه ، ولا ينتفع به حيث يحتاج إلى اليقين ( إن الله عليم بما يفعلون ) يقول ، تعالى ذكره : إن الله ذو علم بما يفعل هؤلاء المشركون ، من اتباعهم الظن ، وتكذيبهم الحق اليقين ، وهو لهم بالمرصاد ، حيث لا يغني عنهم ظنهم من الله شيئا .]۔

اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انسان کو ہدایت کی احتیاج ہے اور اور اس احتیاج کا نفس مضمون اپنی ماہیت میں اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ ہدایت مکمل ہو اور یہ ہدایت یقین پر مبنی ہو شک اور ظن و تخمین پر مبنی نہ ہو۔ انسان ظن و تخمیں کی بنیاد پر ایک مطمئن اور قابل تسلسل زندگی نہیں گزار سکتا اور نہ لا ادریت کی بنیاد پر ایک تہذیب کو قائم کیا اور رکھا جا سکتا ہے۔

اب اس میں دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عقل کی بنیاد پر اس احتیاج کو پورا کیا جا سکتا ہے اور کیا عقل کی بنیاد پر اس سلسلے میں مکمل یقینی علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت قرآن اور ہدایت قرآن کے حتمی ثبوت کے لئے اس سوال کا جواب نفی میں دینا ضروری ہے (علماء کلام خاص طور پر اشاعره بشمول امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے تحسین و تقبیح عقلی پر جو موقف اختیار کیا ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے)۔ اس کے لئے عقلی دلائل قائم کرنا ضروری ہے۔ تو اب اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

اس سلسلہ میں دو قسم کی طاقتور دلیلیں ہیں:

پہلی قسم کی دلیل وہ ہے جو عقل کی ماہیت کے تجزیے پر مبنی ہے ۔ اسے ماہیتی دلیل کہا جا سکتا ہے ۔ علامہ خالد محمود صاحب نے امام ربانی کے حوالے سے اس دلیل کو بہت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے (۳۵-۳۶)۔ اسلامی علم کلام اور اسلامی فلسفے میں اور ہمارے ائمہ کے کام میں مثلا امام رازی، امام ابن تیمیہ، امام غزالی، شاہ ولی اللہ، اور امام ربانی کے کام میں اس دلیل کے مختلف نسخے (ورژنز) ملتے ہیں۔ جدید فلسفے میں بھی اس دلیل کے کئی مختلف اظہار ہمیں ملتے ہیں۔

اس دلیل کے دو مختلف بنیادی اظہار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل کی ماہیت کے بارے میں دو مکتب ہائے فکر ہیں۔:

پہلا مکتبہ فکر کہتا ہے کہ اطلاعات حواس کی بنیاد پر فراہم ہوتی ہیں۔ عقل اطلاعات فراہم نہیں کرتی۔ عقل کا کام ان اطلاعات کی تنظیم کرنا اور ان اطلاعات کی بنیاد پر استنتاج کرنا ہے۔ لیکن اگر حواسِ ہمیں ماورا کے بارے میں اطلاع نہیں دے سکتے جیسا کہ ظاہر ہے تو عقل ان اطلاعات کی بنیاد پر جو ہمیں حواس کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں عالم ما ورا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ ظن اور تخمین ہی کر سکتی ہے۔ اسکے پاس اس ظن و تخمین کی تثبیت کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ عقل خود تو اطلاعات دیتی نہیں اور حواسِ کے پاس ما ورائی عوالم تک کوئی رسائی نہیں ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عقل ہمیں ماورائی امور کے بارے میں کوئی حتمی اور یقینی علم نہیں دے سکتی۔

[حواس کے پاس نہ صرف یکہ ماورائی امور کا کوئی علم نہیں بلکہ عالم مادی اور اسکے ماحول کے بارے میں علم بھی حواس کی اندرونی ساخت و استعداد سے محدود ہے۔ اسی لئے بشمول انسانی حواس ہر جانور کے حواس اپنے ماحول کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ مشہور جرمن ماہر حیوانات اویسکول (Uexküll) نے اسی بنیاد پر حیوانوں کے جہان ادراک (Umwelt) اور ماحول (environment) میں فرق کیا ہے۔ ہر جانور کا جہان ادراک اسکے ماحول کا محض ایک چھوٹا سا جزو ہوتا ہے اور اسکی وجہ حواس کی محدودیت ہے]۔

دوسرا مکتبہ فکر وہ ہے جو یہ دعوی کرتا ہے کہ عقل نہ صرف یہ ہے کہ اطلاعات کو منظم کرتی ہے بلکہ وہ خود بھی اطلاعات فراہم کرتی ہے۔ عقل مجرد عوالم اور غیر محسوس یا ماورا عالم کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ عقل کی بنیاد پر ماورائی عالم کے بارے میں علم اور یقینی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ لیکن جن لوگوں نے عقل کے بارے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ماورائی عالم کے بارے میں اطلاع فراہم کرتی ہے ان کے لیے بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سوال کا جواب دیں کہ عقل کی بنیاد پر غیر محسوس عالم کی جو اطلاعات ہیں وہ ایک فرد سے دوسرے فرد تک کیوں مختلف ہوتی ہیں؟ مثلا یہ کہ افلاطون کو جو اطلاعات حاصل ہوئیں وہ اسپینوزا کی اسی عالم کے بارے میں اطلاعات سے کیوں مختلف ہیں؟ یا ابن سینا کی معلومات لائیبنیز کی اطلاعات سے کیوں مختلف ہیں وغیرہ ؟ دوسرے الفاظ میں اس دعوے کا کہ عقل کی بنیاد پر ما ورائی عالم کے بارے میں اطلاعات حاصل ہو سکتی ہیں رد یہ ہے کہ ان مزعومہ اطلاعات کی معروضی تثبیت (ویریفکیشن) کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس بنا پر ان مزعومہ اطلاعات کی حیثیت بے بنیاد دعاوی سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی۔ حواسِ سے حاصل شدہ معلومات پر یقین کی بنیاد یہ ہے کہ ان اطلاعات کی معروضی تثبیت (ویریفکیشن) ممکن ہے ۔اس قسم کی کوئی تثبیت عقل کی مزعومہ اطلاعات کے بارے میں موجود نہیں ہے ۔ اس لئے یہ دوسری دلیل بھی ثابت کرتی ہے کہ عقل ہمیں ماورائی امور کے بارے میں کوئی حتمی اور یقینی علم نہیں دے سکتی۔

عقل کی ماورائی عالم تک عدم رسائی کی دوسری قسم کی اہم دلیل تاریخ فلسفہ اور سائنس اور تاریخ تعقل ہے۔ حضرت علامہ مولانا خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس دلیل کی طرف لطیف اشارہ فرمائے ہیں (ص ۳۴) ۔امام غزالی نے تہافت میں اس دلیل کو بارہا استعمال کیا ہے ۔ کانٹ اور دوسرے فلسفیوں نے یہ کہا کہ عقل جب ماورائی امور کے بارے میں غور و فکر کرتی ہے تو اپنی ماہیت کے اعتبار سے عقلی تضادات کا شکار ہو جاتی ہے۔ کانٹ کی یہ دلیل عقل کی ماہیت کے تجزیے پر مبنی ہے لیکن ہم اسی دلیل کو عقل کی ماہیت کے تجزیے کے بجائے عقل کی تاریخ اور فلسفہ و سائنس کی تاریخ سے ثابت کر سکتے ہیں۔ تاریخ تعقل بتاتی ہے کہ فلسفیانہ اور سائنسی نظاموں کے درمیان اور انکے اندر بھی ماورائی امور کے بارے میں جو نزاع صدیوں سے چلا آرہا ہے اور جو آج تک حل نہیں ہوا ہے وہ خود یہ ثابت کرتا ہے کہ عقل کی بنیاد پر ماورائی امور کے بارے میں کوئی حتمی اور یقینی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ فلسفہ اور سائنس عقل کی بنیاد پر جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ اندرونی طور پر بھی تضاد کا شکار ہیں اور باہمی طور پر بھی متضاد ہیں۔ تمام سائنسی ترقیوں کے باوجود اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اس بارے میں وحی سے آزاد عقل کسی متعین نتیجے پر پہنچ سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو ماورائی امور کے بارے میں یقینی و حتمی علم نہیں ہے۔ اس بارے میں تمام فلسفیانہ اور سائنسی دعوے محض ظن و تخمین پر مبنی ہیں (اس سلسلے میں مثلا فوکالٹ اور فرانسیسی مدرسۂ فلسفۂ سائینس کی تحقیقات کو دیکھیں)۔

خلاصہ اس تمام استدلال کا یہ ہے کہ:

انسان ہدایت کا محتاج ہے

ہدایت کی بنیاد یقینی اور حتنی علم ہی ہو سکتا ہے عقل یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتی ہے

اس لئے یہ ثابت ہوا کہ ہدایت ربانی کی ضرورت ہے۔

قران رب کا آخری پیغام ہے سو یوں ضرورت قران ثابت ہوتی ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ دلیل محض اپنے بل بوتے پر قران کے حقانیت تو نہیں ثابت کرتی لیکن کم از کم یہ تو ثابت کرتی ہے کہ قران کی بات لوگوں کو سننی چاہیئے اور جب لوگ یہ مان جائیں گے کہ قرآن کی بات سننی چاہیئے تو پھر قرآن خود اپنی دلیل آپ دے گا۔ علم کلام کا ایک بہت بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو عقلی بنیاد پر قرآن کے حق ہونے کے امکان کے بارے میں دلائل دیئے جائیں۔ اس کے بعد جب لوگ قرآن کو سنیں گے تو قرآن خود ہدایت ہے۔ جب لوگ اپنے مالک اور خالق کے کلام کو براہ راست طلب حق کے جذبے سے سنیں گے تو وہ ان کے دل پر اثر کرے گا۔ حضرت امام رازی نے بھی تفسیر کبیر میں اس قسم کے کی دلیل دی ہے (مثلا زیر آیت شریفہ إبراهيم، ١٠ ، الوجه الخامس) ۔

اختتامیہ

مشہور عیسائی متکلم اور فلسفی تھامس آکویناس کے نزدیک اصولی طور پر عقل اسکی اہل ہے کہ وہ وحی کی مدد کے بغیر حق تک رسائی حاصل کر سکے گو کہ وہ اس بات اقرار کرتاہے کہ یہ رسائی نا مکمل ہو گی کیونکہ بعض عیسائی عقائد، مثلا تثلیث، ایسے ہیں جو عقل سے بالا ہیں۔ ان معنوں میں عقل محض کی بنیاد پر حقیقت تک رسائی ممکن مگر نامکمل رہے گی۔ آکویناس کا معاصر عیسائی متکلم اور فلسفی بوناونتورا اس خیال کو رد کرتا ہے کہ فلسفہ وحی کے بغیر اپنے بل بوتے پر حق تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ آکویناس کے جواب میں کہتا ہے کہ حقیقت کی نا مکمل تصویر درست نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ عدم تکمیل نقص کو مستلزم ہے۔ بوناونتورا کی فکر اس مسئلے میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے قریب ہے اور اس کا امکان ہے کہ اس نے یہ فکر آپکی کتابوں ہی سے اخذ کی ہو۔

لیکن عیسائی تاریخ میں جس فکر کو غلبہ حاصل ہوا وہ آکیوناس کی فکر تھی اور بوناونتورا کی فکر کو رد کر دیا گیا ۔ آکیوناس آج بھی رومن کیتھولک چرچ کا سرکاری فلسفی ، متکلم، اور پیر ہے۔ آکیوناس کی فکر نے جدیدیت کے مقابلے میں عیسائیت کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔

آکوینس کہتا ہے کہ دونوں طریقے صحیح ہیں، ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ بھی صحیح ہے۔ عقل سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ صحیح ہے مگر نا مکمل ہے اور بعض امور ایسے ہیں جن تک عقل کی رسائی نہیں- اس سلسلہ میں وہ جو وہ مثالیں دیتا ہے وہ محدود ہیں۔ مثلاً وہ تثلیث کی مثال دیتا ہے ہے اور کہتا ہے کہ اس عقیدہ تک رسائی عقل کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔

نشاۃ ثانیہ اور تنویری مفکرین نے آکیوناس کی اس دلیل کو بالکل الٹ دیا اور کہا کہ خدا کی دو کتابیں ہیں۔ ایک کتاب کتاب مقدس ہے اور دوسری کتاب کتاب فطرت ہے۔ علم کے بھی دو ذرائع ہیں ۔ ایک ذریعہ وحی ہے جبکہ دوسرا ذریعہ عقل ہے۔ لیکن عقل کو وحی پر برتری حاصل ہے کیونکہ وحی موضوعی ذریعۂ علم ہے اور اسمیں خطاء کا امکان زیادہ ہے جبکہ عقل معروضی ذریعہ ہے اسی لئے اس میں غلطیوں کا امکان کم ہے۔ تاریخ نے وحی اور کتاب مقدس کی موضوعیت کو ثابت کردیا ہے جبکہ سائینی منہاج کی کامیابی نے عقل کی معروضیت کو ثابت کردیا ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ عقل کی معروضیت کو بڑھانے اور موضوعیت کو گھٹانے کے کیا ذرائع ہیں (اس سلسلہ میں کانٹ، بائیزر، اور کیزیرر کو دیکیں)۔

اس تنویری تنقید سے دو نتائج اخذ کئے گئے۔ اول یکہ عقل بنیادی ذریعہ علم ہے اور ہر دوسرے ذریعۂ علم پر حاکم ہے۔ دوسرا یکہ کتاب مقدس کی عقلی تشریح اسکی معروضیت کے تعین کے لئے بنیادی اور حتمی طریقہ ہو گا۔ اسی بنیاد پر عیسائی مفکرین اور علماء نے آنے والی صدیوں میں میں کتاب مقدس کی ان گنت عقلی تعبیرات کیں۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے لاک، کانٹ، اور ہیگل کی تعبیرات اس ضمن میں ہمارے نزدیک سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ان تعبیرات پر طائرانہ نظر ڈالنے سے ایک بات عیاں ہے کہ ہر آنے والی نئی نسل کی عقلی تعبیرات کے نتیجے میں ان تعبیرات میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کا تناسب گھٹتا چلا گیا اور عیسائیت کے نام پر جس چیز نے فروغ پایا وہ جدیدیت کی گمراہی تھی تاآنکہ وہ وقت آیا جب عیسائیت کی حیثیت یورپی تہذیب میں ایک ضمیمہ سے زیادہ نہ رہی (کانٹ کی عیسائیت پر کتاب کا عنوان اس سلسلہ میں معنی خیز ہے: Religion within the Boundaries of Mere Reason

جرمن اصل: Die Religion innerhalb der Grenzen der bloßen Vernunft). ۔

اسلامی تاریخ میں فارابی کی فکر کانٹ اور ہیگل، خاص طور پر ہیگل، کی فکر سے اس مسئلہ میں ملتی جلتی ہے ۔ ابن رشد اور معتزلہ کی فکر آکیوناس کی سوچ سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن عیسائی تاریخ کے برعکس اسلامی تاریخ میں فارابی، ابن رشد، اور معتزلہ کی فکر کو شکست ہوئی اور جدیدیت کو دور حاضر سے پہلے دنیائے اسلام میں پنپنے کا موقع نہیں ملا ۔ اسکی ایک بہت بڑی وجہ امام غزالی اور دوسرے راسخ العقیدہ متکلمین کا عظیم کام ہے (ابن رشد، امام غزالی اور ابن تیمیہ کی کتابوں کے حوالوں کو دیکھیں)۔ حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ اسی سلسلے کے ایک محقق عالم تھے۔ اور ہم انشاء اللہ آپ کے کام کو جاری رکھیں گے۔

اہدا : مضمون کو سیدی ڈاکٹر جاوید انصاری کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ یہ مجھ ناہنجار پر آپکی نظر عنایت کا ہی ادنیٰ ثمرہ ہے ورنہ من آنم کہ من دانم

گر قبول افتد زہے عز و شرف

حوالہ جات

عربی کتابیں

شيخ الإسلام الإمام تقي الدين أحمد بن عبدالحليم ابن تيمية، درء تعارض العقل و النقل ، مكتبة الرشد، الرياض، ١٤٢٧ه‍/٢٠٠٦م.

أبو الوليد ابن رشد، فصل المقال فيما بين الحكمة والشريعة من الاتصال، دارالمعارف، القاهرة [س-ن].

الإمام محمد الرازي فخر الدين ابن العلامة ضياء الدين، تفسير الفخر الرازي المشاهير بالتفسير الكبير ومفاتيح الغيب، دارالفكر ، بيروت، ٣٢ مجلدات، ١٤٠١ه‍/١٩٨١م.

الإمام محمد الرازي فخر الدين ابن العلامة ضياء الدين، تأسيس التقديس ، دار نور الصباح ، ابنان، ٢٠١١م.

العلامة السيد محمد بن محمد الحسيني الزبيدي، اتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين، الجزء الأول، مؤسسة التاريخ العربي، بيروت، ١٤١٤ه‍/١٩٩٤م.

الإمام محمد بن جرير الطبري، البيان عن تأويل آي القرآن، دار المعارف، ٢٤ مجلدات، [س-ن]

عبدالرحمن بن ناصر السعدي، تيسير الكريم الرحمٰن في تفسير كلام المنان، مؤسسة الرسالة، ١٤٢٣ه‍/٢٠٠٢م.

العلامة محمد محمود أحمد الشيخ الشنقيطي، تفريغ شرح نظن مجمل إعتقاد السلف، أكاديمية الشنقيطي، بحرين، ١٤٤٤ه‍/٢٠٢٣م.

الإمام أبو حامد محمد بن محمد الغزالي ، المستصفى، المجلدين، دار إحياء التراث العربي، بيروت، [س-ن].

الإمام أبو حامد محمد بن محمد الغزالي، تهافت الفلاسفة، دار المعارف، مصر، [س-ن]

الإمام أبو حامد محمد بن محمد الغزالي، إحياء علوم الدين،دار الفكر، بيروت، المجلد الأول، ١٤١٤ه‍/١٩٩٤م

الإمام أحمد بن عبدالرحيم المعروف بشاه ولي الله، حجة الله البالغة، مجلدين، دار ابن كثير، بيروت، ١٤٤١ه‍/٢٠٢٠م.

فارسی کتابیں

حضرت مجدد الف ثانی امام احمد سرہندی، مکتوبات امام ربانی، دفتر دویم، مطبع ایجوکیشنل، کراچی، طبع اوفیست، استنبول، ۱۳۹۷ه‍/۱۹۷۷م.

امام محمد غزالی، کیمیای سعادت ، جلد اول ، انتشارات گنجینہ، تہران، ۱۳۷۹ه‍

اردو حوالہ جات

علامہ خالد محمود، آثار التنزیل جلد اول، دار المعارف اردو بازار لاہور، [س-ن].

على محمد رضوی، مغربی تہذیب کے خلاف جہاد کیوں؟ چند بنیادی مباحث، ماہنامہ ساحل ،کراچی، ستمبر اکتوبر ۱۹۹۶ء

على محمد رضوی، جدیدیت، پس جدیدیت، امریکا، جمہوریت اور استعمار، ماہنامہ ساحل ،کراچی، مئی ۲۰۰۰ء

على محمد رضوی، فلسفۂ یونان کا ابطال: امام غزالی کا طریقۂ کار، ترجمہ ریحان احمد، در سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ، مرتبہ مولانا محمد احمد حافظ، مولانا سید محبوب الحسن، ص، ۱۸۳‌‌-۲۰۷۔

على محمد رضوی، کانٹ کا تصور عقل، الصدیق، صوابی، اپریل تا جون، ۲۰۲۳ء

على محمد رضوی، ارسطو کی فکر میں تھیالوجی، انٹالوجی اور فرسٹ فلاسفی کے باہمی تعلق پر ایک طائرانہ نظر، الصدیق، صوابی، جولائی تا ستمبر، ۲۰۲۳ء

على محمد رضوی، علم کلام اور فلسفہ کا فرق: کیا یہ موضوعات کا فرق ہے یا منہاج کا یا دونوں کا؟ علم کلام و فلسفہ میں دائمی نزاع کا بنیادی سبب، الصدیق، ۲۰۲۴ (زیر طبع).

على محمد رضوی، امام غزالی کا تصور عقل اور عقل رحمانی اور عقل شیطانی کے درمیان تفریق کی بنیادیں، ۲۰۲۴ (زیر طبع).

اجنبی زبانوں کے حوالہ جات

Frederick C. Beiser, The Fate of Reason: German Philosophy from Kant to Fichte, Harvard University Press, 1993.

Ernst Cassirer, Die Philosophie der Aufklärung. Tübingen: Morh., 1932, Translated as The Philosophy of the Enlightenment. Princeton: Princeton University Press, 1951 (updated edition 2009).

Frederick Copleston, History of Philosophy vols. 1-11, Continuum, 20003.

Michel Foucault, Les mots et les choses, Paris: Gallimard. Translated as The Order of Things, 1966, Alan Sheridan (trans.), London: Routledge, 1970.

Gary Gutting, Michel Foucault’s Archaeology of Scientific Reason, Cambridge: Cambridge University Press, 1989.

Gary Gutting, French philosophy of science, 1998, doi:10.4324/9780415249126-Q038-1. Routledge Encyclopedia of Philosophy, Taylor and Francis, https://www.rep.routledge.com/articles/thematic/french-philosophy-of-science/v-1.

Immanuel Kant, Religion and Rational Theology, Wood, A., and di Giovanni, G. (eds.), Cambridge: Cambridge University Press, 1996.

John Locke, Locke’s The Two Treatises of Civil Government, Richard Ashcraft (ed.), London: Routledge, 1987.

Immanuel Kant, Critique of Pure Reason, Guyer, P., and Wood, A. (eds.), Cambridge: Cambridge University Press, 1998.

Ali Rizvi, Methodology Underlying Imam Ghazali's Critique of Greek Philosophy, 1995-1996 (manuscript).

Ali Rizvi, What's wrong and what's not wrong with postmodernism, Pakistan Business Review, January 2000.

Ali Rizvi, Nietzsche, Nihilism, Christianity And Modernity, Pakistan Business Review, January 2001.

Ali Rizvi, The Postmodernist Conception Of Reason And Grounding, Pakistan Business Review, January 2002.

Ali Rizvi, From The “Death Of God” To The “Death Of Man”: Towards A New Genealogy Of Western Civilization, Pakistan Business Review, July 2002.

Aristotle, The Complete Works of Aristotle, Volumes I and II, edited by J. Barnes, Princeton: Princeton University Press, 1984.

J. Von Uexküll, Umwelt und Innenwelt der Tiere, J. Springer, 1909.

J. Von Uexküll, A foray into the world of animals and humans: With a theory of meaning, trans. J.D.O’Niel, University of Minnesota Press, Minneapolis, 2010.

برقی حوالہ جات

اسلام ويب https://www.islamweb.net/ar/

التفاسير العظيمة https://www.greattafsirs.co/

القرآن العظيم https://quran.com/

موقع العلامة محمد الحسن الددو الشنقيطي https://youtube.com/@dedewiat?si=ve6T0tpHJ6YFyZZq

Capital, Capitalism & Modernity https://youtube.com/@CapitalCapitalismModernity?si=04Eu1Ww4dlSkRF-S