تبصرہ کشف العقائد مغربیہ – غیر مسلم ریاست میں سکونت و شہریت کی شرعی حیثیت
یہ تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ممتاز عالم اور محقق جناب عبیدالرحمان شاہجہانپوری کی ایک تصنیف ہے۔ حضرت علامہ مولانا شاہجہانپوری ان معدودے چند راسخ العقیدہ علماء میں سے ایک ہیں جو مغربی تہذیبی اور فکری آدرشوں سے بخوبی واقف ہیں اور اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ سامراج کا فکری اور عملی سطح پر اسلامی محاکمہ مرتب کیا جائے۔
آپ ایک اسلامی انقلابی عالم دین ہیں اور جدیدیت کے فطری مخالف۔ جدیدیت سے نبرد آزمائی علمائے بریلی اور فرنگی محل کا قدیم محاذ رہا ہے اور آج بھی برصغیر میں معاشرتی سطح پر تہذیب اسلامی کی آبیاری بریلوی فکر ہی کر رہی ہے جس کی ایک درخشاں مثال تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فراہم کرتی ہے۔
احمد رضا کے فیض کا در ہے کھلا ہوا
ہے قادری فقیروں کا جھنڈا گڑا ہوا
کتاب کے دو منفرد مباحث ہیں۔ مغربی عقائد و نظریات کی تردید اور تجزیہ اور سکونت دارالحرب کے شرعی احکام ۔ میں صڑف ناظرہ قرآن مجید پڑھا ہوا ہوں لہٰذا مؤخرالذکر مبحث کے بارے میں کوئی تجزیہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مسلم ممالک سے نقل سکونت (emigration)سرمایہ دارانہ سامراجی عالمگیریت (globalization)کا ایک اہم ذریعہ ہے جس کے جاری رہنے سے امت کو بہت نقصان ہو رہا ہے اور جس کو روکنے کی اشد ضرورت ہے۔
جو لوگ نقل وطن کر رہے ہیں ان میں سب سے اہم جزو نوجوان ماہرین (professionals) – ڈاکٹر ، انجینئر، مینجمنٹ ٹرینر وغیرہ – کا ہے۔ ان لوگوں میں مغربی تہذیبی نظریات سے واقفیت نہ ہونے کے برابر اور اسلامی علمی روایات سے بھی وابستگی واجبی سی ہے۔ لہٰذا ان میں جدیدیت کا فروغ عموماً مشکل نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ سامراجی ریاستی ریشہ دوانیوں سے یہ کسی نہ کسی حد تک ضرور متنفر ہوتے ہیں اور ان میں پائی جانے والی تنظیمیں – اسلامی جمعیت طلبہ، جمعیت طلبہ اسلام، جمعیت طلبہ عربیہ – یقیناً سامراجی پیش رفت کی مزاحمت کرتی ہیں لیکن ان کا یہ سیاسی شعور اسلامی ذہنیت رکھنے والے طلبہ کو بھی اسلامی فکر اور معاشرت کے اصل دھارے (mainstream) میں سمونے سے قاصر رہتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بریلوی تنظیموں نے ان طلبہ کے درمیان تحرک پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔
کیا یہ کتاب اس ضرورت کو پورا کرتی ہے؟ کتاب میں جدیدیت کی بھرپور تحدید موجود ہے بالخصوص فقہ الاقلیات اور اس کے سامراجی لے پالکوں – یوسف القرضاوی، نجات اللہ صدیقی وغیرہ – کی فکری اساس کو نصوصِ صحیحہ کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ یہ فکر سرمایہ دارانہ سامراجی غلامی کو قبول کرنے کی توجیہ مرتب کرتی ہے۔ اسی طرح تصورِ آزادی، مساوات، حقوقِ آزادی رائے ، نظم جمہوریت، ہیومن ازم، دہریت (یعنی سیکولرازم) ، کثرتیت (pluralism) اور ریشنل ازم کو نصوصِ صحیحہ کی روشنی میں پرکھا گیا اور اجمالاً یہ بحث نہایت جامع اور مفصل ہے۔
لیکن ان مغربی تصورات کے اندورنی تضادات (internal contradictions) بیا ن نہیں کیے گئے۔ لہٰذا بحث اصولی ہی رہی ، عملی سطح تک منتج نہ ہو سکی۔ یہ بات ریشنل ازم کے تجزیہ میں سب سے زیادہ واضح ہے۔ فاضل مصنف یہ واضح نہ کر سکے کہ ریشنل ازم عقلیت حقیقی کی عملی ضد ہے۔ ریشنل ازم عقلیت کہلانے کی مستحق ہی نہیں کیونکہ ریشنل ازم احکاماتِ نفسِ امارہ کی تابع داری کی justification ہے اور نفسِ امارہ کے احکامات کی حقانیت کا کوئی ثبوت مغربی فکر تک فراہم نہیں کر سکی۔ بحث کو اس طرح وسعت دینا اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان پروفیشنلز (متوقع نقل وطن کرنے والے) ریشنل ازم ہی کو عقلیت سمجھتے ہیں اور حقیقی عقلیت سے بالکل ناواقف ہیں۔
تجزیہ کی ایک اور نیم خاموشی سرمایہ دارانہ نظام کے ضمن میں ہے۔ نظریاتی بحث کو سرمایہ دارانہ نظاماتی تناظر میں مرتب نہیں کیا گیا۔ یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ عقیدہ آزادی و مساوات، حقوق انسانی، جمہوری عمل اور pluralism ، قومی شناخت سب کے سب سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرز حیات کے شاخسانے ہیں۔ سرمایہ دارانہ تصورِ عدل کی کوئی جامع تنقید کتاب میں نہیں ملتی۔ یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا قیام ظلم عظیم ہے۔ مغربی تہذیب کوئی چیز نہیں۔ مغرب سرمایہ داری کا اسیر ہے اور سرمایہ داری کی فتوحات مغرب تک محدود نہیں۔ چین، جاپان، بھارت، مشرقی ایشیا اور مسلم ممالک بھی اس کا شکار ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام زندگی اور طرزِ حیات کی بھرپور تسخیر کے بغیر نہ عدل قائم کیا جا سکتا ہے نہ اسلامی طرزِ حیات فروغ پا سکتا ہے۔
چونکہ نظاماتی تسلط کے عملی پہلو سے سہو نظر کیا گیا ہے لہٰذا ریاست اور معاشرت کے ارتباط پر بھی گفتگو مبہم ہے۔ مثلاً اس بات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ سامراج مسلمان اکثریتی ریاستوں پر عملاً غالب ہے گو کہ ان میں چند بشمول پاکستان اصولاً اپنے آپ کو اسلامی ریاستیں کہتی ہیں۔
پاکستان کو نظری طور پر اسلامی اور فعلی طور پر غیر صالح مسلم ریاست کہنا اس بات کو نظرانداز کرنا ہے کہ اس ملک کی پچھتر سالہ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ قراردادِ مقاصد اور دستور کی اسلامی شقیں محض ایک دھوکہ ہیں جن پر عمل درآمد کا نہ عوام جمہوری عمل کے ذریعہ اصرار کرتے ہیں نہ ریاست کا ان پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔ پاکستان میں شریعت نافذ کبھی نہ رہی اور نہ کبھی اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کے تناظر میں مرتب کیے گئے۔ حقیقتاً ریاست کا عمل معاشرت کو سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم کر کے مخلصین دین کو ہر قسم کی قوت نافذہ سے محروم کرنا ہمیشہ سے رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کالعدم قرار دینا ہے۔ ہر پاکستانی حکمران سامراج کا ہمیشہ غلام رہا ہے اور جب تک اسلامی انقلاب برپا نہیں کیا جاتا پاکستانی ریاست عالمی سرمایہ دارانہ سامراج کی باجگزار رہے گی۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا میں سکونت اختیار کرنے کی شرعی حیثیت پر رائے قائم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ اتنا ضرور کہوں گا کہ جن دیوبندی اور اہل حدیث علما کی آراء کی تشریح کی گئی ہے ان کی بریلوی موقف سے تطبیق کی ضرورت ہے۔ یہ علمائے کرام راسخ العقیدہ ہیں۔ یہ ضرور ہے کی بریلوی علما کے مقابلہ میں تحاریک تجدد سے زیادہ متاثر ہیں لیکن ان کی فکر پر تجدد کا یہ ضعیف اثر زائل کرنا کچھ مشکل نہیں کیونکہ مسلمانوں میں مسلکی اختلافات کو سامراج نے فروغ دیا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مسالک برحق مسالک ہیں اور سب کے ماخذات یکساں ہیں۔ یہ بات تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ ملک میں ان کے فطری حلیف دیوبندی، اہل حدیث اور شیعہ علما ہی ہیں۔ ہم سب دہریت، موڈرن ازم اور سرمایہ دارانہ سامراج کے خلاف متحد ہیں۔
کتاب ادب اسلامی میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ نصوصِ صحیحہ ، آثارِ صحابہ اور اقوال و افاداتِ اولیاء کا یہ گراں قدر مجموعہ ابطالِ فکر مغرب اور انہدام نظام سرمایہ داری میں ان شاء اللہ نشان راہ کا کام دے گا۔
کتاب نہایت ضخیم ہے۔ میری رائے میں اس مواد سے دو اور چھوٹی کتابیں مرتب کی جا سکتی ہیں۔
1۔ محاکمہ فکر و اقدار ِ سرمایہ داری جس کا مقصد سرمایہ دارانہ اقدار – آزادی، مساوات، ترقی – اور نظریات – ہیومن ازم، سیکولرازم، لبرل ازم، قومیت وغیرہ – کا نصوص اور آثار کی بنیاد پر محاکمہ ہو۔ اس کا تخاطب بنیادی طور پرعلما سے ہو۔
2۔ مغرب کو نقل مکانی کی شرعی حیثیت۔ یہ کتاب مغرب میں مستقل سکونت اور حصولِ شہریت کی شرعی حیثیت کو واضح کرے۔ اس کا تخاطب بنیادی طور پر اسلامی ذہن رکھنے والے پروفیشنلز اور طلبہ سے ہو۔ بالخصوص ان اسلامی ذہنیت رکھنے والے طلبہ سے جو لمز، آغاخان یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، غلام اسحاق خان یونیورسٹی، حبیب یونیورسٹی، این آئی ڈی اور ایچی سن کالج وغیرہ میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ ادارے سب کے سب سامراج کو خام مال فراہم کرنے والی فیکٹریاں بن گئی ہیں۔
یہ کتابچہ سو سے زیادہ صفحات کا نہ ہو۔ علما کے اسلوبِ نگارش میں نہ لکھا جائے۔ اولیااللہ رحمہم اللہ کے ارشادات اور آثار کا بیان اختصاری ہو کیونکہ یہ طلبہ ان بزرگوں سے بالکل واقف نہیں۔ فقہ الاقلیات کے سرکردہ زعما کی سامراج نوازی کو دلیلوں سے ثابت کیا جائے اور اس رسالہ کو اردو اور انگریزی دونوں میں شائع کیا جائے۔
یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ دورِ حاضر کے علما کی صفوں سے ایسے مدبر نکل رہے ہیں جو سرمایہ دارانہ فکر اور عمل کی اسلامی تردید کا بیڑا اٹھانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو ہم جیسے عامی نہیں کر سکتے۔ ”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ کے اجتہاد کو دو اور دو چار کی طرح ثابت کرنا انہی علما کی ذمہ داری ہے۔ ہماری دعا ہے کہ تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذمہ داری کو قبول کرے۔ جاوید اکبر انصاری