کتب خانہLibrary

← نیشنل پارٹنرشپ جوائنٹ اسٹاک کمپنی کا ڈیزائن

نیشنل پارٹنرشپ جوائنٹ اسٹاک کمپنی کا ڈیزائن.docxڈاؤن لوڈ

نیشنل پارٹنرشپ جوائنٹ اسٹاک کمپنی کا ڈیزائن

تعارف:

یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جن میں قیمتی معدنیات، آبی ذخائر اور وسیع زرخیز زمینیں شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود گزشتہ چند دہائیوں کی مشکلات کے باعث ہم دستیاب مواقع کو ضرورت کے مطابق استعمال نہ کرسکے اور دستیاب وسایل سے کماحقہ فایدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس صورتحال کاایک حد تک ا افغان خود بھی ذمہ دار ہیں جبکہ دوسری طرف غیر ملکی طاقتیں بھی کبھی نہیں چاہتی، کہ ہمارے مظلوم، غریب لیکن غیرت مند اور با ایمان عوام اپنے پاؤں پر کھڑے جائیں۔ مثال کے طور پر پچھلی دو دہائیوں میں امداد کے نام پر ملک میں اربوں ڈالر آئے لیکن اس سے عوام کے درد کا مداوا نہیں ہوا۔اب جب کہ اقتدار وطن کے اصل بیٹوں کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس کے برعکس دنیا مختلف طریقوں سے اپنی آبادی کو از سر نو تعمیر کرنا چاہتی ہے اور امداد کے نام پر ہم سے اپنے مقاصد اور مطالبات کو تسلیم کروانا چاہتی ہے؛ لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو خود کفیل کے لیے موجود امکانات کو پورے خلوص کے ساتھ استعمال کریں اور دستیاب امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے والے ملک کی حیثیت سے ہمیں خود آگے بڑھتے ہوئے ترقی کرنی چاہیے، لہٰذا ،اس مقصد کے حصول کے لیے یہ منصوبہ ایک چھوٹی سی کوشش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

منصوبے کا خلاصہ:

تجارت اور سرمایہ کاری میں نفع ونقصان لازم اور ملزوم ہے، لیکن ایک قابل اور سمجھدار سرمایہ کار وہ ہے جو کم نقصان/خرچ پر زیادہ منافع کمائے۔ عملی طور پر، حکومت کے فریم ورک کے اندر بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں نہ صرف سرمایہ کاری کرکے زیادہ منافع کا امکان ہے، بلکہ ان شعبوں مین سرمایہ کاری کرکےحکومت کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہیں، لہذا ہم ایک جوائنٹ قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں پہلے مرحلے میں امتيازی طور صرف سرکاری ملازمین کو حصص خریدنے کا حق دیا جائے گا اور اور جمع شدہ سرمائے کو ان شعبوں میں استعمال کیا جائے جہاں منافع کا زیادہ امکان ہو اور حکومت کو معاملات بہتر بنانے اور معاشی سائیکل (Economic Cycle) بنانے میں مدد بھی ملے۔

فنڈنگ کے ذرائع:

الف: پہلے مرحلے میں، مجاز حکام کی ہدایات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا ایک بہت ہی معمولی اور قلیل حصہ اختیاری یا غیر اختیاری طور پر وضع کیا جاسکتا ہے اور سرمایہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سرکاری ملازمین کی اوسط تنخواہ (13,000) افغانی فرض کی جائے اور برسرِروزگار سرکاری ملازمین کی تعداد کو 10 لاکھ افراد فرض کیا جائے اور صرف ایک (1%) فیصد جو کہ (130) افغانی بنتا ہے وضع کی جائے، تو ایک میں ماہ (130,000,000) ایک سو تیس ملین افغانی بنتے ہیں، مزید تفصیلات درج ذیل ہیں:

معاش ماهوار کارمند (اوسط)

فیصدی قابل وضع

سهم فی کارمند در یکماه

تعداد مجموعی تشکیل امارت

سهم کارمندان در یکماه

سهم کارمندان در یک سال (افغانی)

سهم کارمندان در یک سال (دالر)

13,000.00

1%

130.00

1,000,000.00

130,000,000.00

1,560,000,000.00

17,931,034.48

2%

260.00

260,000,000.00

3,120,000,000.00

35,862,068.97

3%

390.00

390,000,000.00

4,680,000,000.00

53,793,103.45

4%

520.00

520,000,000.00

6,240,000,000.00

71,724,137.93

5%

650.00

650,000,000.00

7,800,000,000.00

89,655,172.41

6%

780.00

780,000,000.00

9,360,000,000.00

107,586,206.90

7%

910.00

910,000,000.00

10,920,000,000.00

125,517,241.38

8%

1,040.00

1,040,000,000.00

12,480,000,000.00

143,448,275.86

9%

1,170.00

1,170,000,000.00

14,040,000,000.00

161,379,310.34

10%

1,300.00

1,300,000,000.00

15,600,000,000.00

179,310,344.83

ب: دوسرا یہ کہ اس کے ذریعے ہم ایک ہی وقت میں بہت سارے سرمائے تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں، یہ سرمایہ اہلکاروں کی وضع کردہ پنشن اور اہلکاروں کی پنشن کا فنڈ ہے جس میں ہمارے معلومات کی بنیاد پر اربوں کا سرمایہ موجود ہے، البتہ اس سلسلے میں بھی حکام کی ہدایات ضروری ہیں۔

اس منصوبے کے ممکنہ اثرات:

مخصوص سفارشات:

جیسا کہ یہ موضوع بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس لیے مذکورہ پروجیکٹ کو ذاتی اور باضابطہ طور پر عزت مآب نائب وزیر اقتصادیات کے ساتھ شیئر کیا جائے اور اس منصوبے کے تمام پہلوؤں کو انجام دینے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی درخواست کی جائے، جس میں عزت مآب نائب وزیر، وزارت خزانہ،دا افغانستان بینک، وزارت انصاف اور وزارت تجارت و صنعت کے باصلاحیت نمائندے نمائندگی کریں گے۔

مجوزہ کمیٹی کے ممکنہ فرائض:

سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبے:

اپنے داخلی طریقہ کار کو دیکھنے کے بعد، نیشنل جوائنٹ اسٹاک کمپنی کی انتظامیہ درج ذیل شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے، جن میں ہماری رائے کے مطابق منافع کا زیادہ امکان ہے اور امارت اسلامیہ افغانستان کی پالیسیوں کے نفاذ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے:

پہلا حصہ: جیسا کہ ہمارےتجارت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور افغانستان کے تمام کسٹمز کو سامان کی حفاظت کے لیے گوداموں، ٹھنڈے کمروں اور وزنی کانٹوں اور چمڑے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے پارٹنرشپ کے اصول کے مطابق ان شعبوں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔

دوسرا حصہ: معدنی تیل اور گیس کا شعبہ جو بہت اہم ہے، مذکوره کمپنی تیل اور گیس کے سرکاری کمپنی کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کر سکتی ہے۔

تیسرا حصہ: کمپنی مستقبل میں کان کنی کے شعبے میں تلاش اور استخراج کے ان شعبوں کی نشاندہی کر سکتی ہے جہاں کمپنی سرمایہ کاری کر سکے۔

چوتھا حصہ: یہ کمپنی جو کہ ایک پرائیویٹ جوائنٹ سٹاک کمپنی ہو گی، مستقبل میں پانی اور بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتی ہے۔

پانچواں حصہ: امارت اسلامیہ کے پاس مختلف شعبوں میں 40 سے زیادہ سرکاری کمپنیاں ہیں، یہ کمپنی ان تمام کمپنیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے۔