سرمایہ داری کا وبائی بحران (دوسرا حصہ)
سرمایہ دارانہ نظام دور حاضر میں جن شدید بحرانوں کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم بحران وبائی ہے۔ اس کا تعلق سرمایہ دارانہ معاشرتی اور معاشی بحرانوں سے بھی ہے اور یہ تمام بحران ان جاہلی علوم یعنی سائنس اور سوشل سائنسز کے فروغ کا نتیجہ ہیں جو سترھویں، اٹھارھویں صدیوں کی تحریک تنویر کی کامیابی سے برآمد ہوئے ہیں۔ ان جاہلی علوم کا فروغ سرمایہ دارانہ روحانیت کے عمومی غلبہ کا نتیجہ ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام زندگی میں انفرادیت اور معاشرت حرص اور حسد سے مغلوب ہوتی ہے اور ان خبیث میلانات کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ تسخیر کائنات کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے۔ آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل برطانوی حیواناتی ماہر (zoologist)رے لینکسٹرنے ثابت کیا تھا کہ وبائی امراض کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زراعت کی تیز رفتار بڑھوتری کو ممکن بنانے کے لیے جو سائنٹفک ایجادات مستقل کی جا رہی ہیں ان کے نتیجہ میں مخصوص حیاتی انواع کی غیر فطری بڑھوتری مستقل جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی آبادیاں بھی گنجان اور مربوط ہوتی جا رہی ہیں۔ نئی متعدی امراض سرمایہ داری کی پیداوار ہیں اور رچرڈ لیوس ایڈس، ایبولا اور کرونا کو ”سرمایہ دارانہ بیماریاں(capitalist deaseses)“ کہتا ہے۔
مشہور حیوانی ماہر اور ڈبلیو ایچ او اور ایف اے او کے مشیر بوب والیس کی رائے میں دور حاضر کے وبائی امراض کے پھیلاؤ میں ان زرعی ملٹی نیشنلز (agri business)کا کردار بہت اہم ہے جو بالخصوص غریب ممالک میں ماحولیاتی کثافت کے پھیلاؤ کا سبب ہیں۔ ان ممالک میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کا ایک بنیادی سبب وہ افلاس اور فاقہ کشی (malnutrition)بھی ہے جو سرمایہ دارانہ عمل کے تغلب سے برآمد ہورہا ہے۔ سرمایہ دارانہ مواصلاتی نظام اور عالمی رسدی زنجیریں وباؤں کی برق رفتار بین الاقوامی ترسیل (global supply chain) کا اہم ذریعہ ہیں۔
پھر وباؤں کے انسداد (epidinology)کی صنعت خالص سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم ہے۔ اس کا محرک بڑھوتری سرمایہ (profit maximization) ہے اور اس کی تنظیم وقتی پیداوار (just in time production)اور کم سے کم ذخیرہ (lowest inventory level)رکھنے پر مرتکز ہے۔ لہٰذا کرونا کے ابھرنے سے پہلے اس سے نبٹنے کے لیے کوئی تیاری نہیں کی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس ان لاتعداد مہلک جراثیم (pathogens)میں سے محض ایک ہے جو سرمایہ دار غذائی اور ادویاتی صنعتیں مستقل پیدا کیے جا رہی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام تمام نئی متعدی بیماریاں بنانے والا کارخانہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی جاہلی علمیت یعنی سائنس اور سوشل سائنس کی تسخیر کے بغیر نئی سرمایہ دارانہ وبائی ایجادات پر قابو نہیں پا جا سکتا۔
سرمایہ دارانہ نظام میں ملٹی نیشنل کارپوریشنیں منافع کی بڑھوتری کے لیے اپنے اخراجات کم سے کم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ پیداواری اور ترسیلی عمل کے اخراجات کا زیادہ سے زیادہ حصہ معاشرہ پر ڈالا جائے لہٰذا جو ماحولیاتی کثافت اور فضلہ ان کے پیداواری اور ترسیلی عمل سے مستقل برآمد ہوتا رہتا ہے اس کے رفع کرنے کے لیے وہ بہت کم خرچ کرتی ہیں۔
2017 کے ستمبر میں ایک امریکی حکومتی تحقیقی رپورٹ نے اس بات کو ثابت کیا کہ کئی وبائی بحران متوقع ہیں اور امریکی صنعتی ادارہ اور معیشت اس قسم کے بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ لیکن اس عدم تیاری کی جو وجوہات اس رپورٹ نے بتائی تھیں وہ سب ہیئتی تھیں اور ان کو رفع کرنے کے لیے موثر اقدام کا مطلب امریکی عوامی صحتی نظام اور ادویاتی صنعت سے سرمایہ دارانہ تعقل کا اخراج تھا جو امریکی سیاسی تناظر میں قطعاً ناممکن تھا۔ لہٰذا ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔
اشتراکی سرمایہ داری کرونا وبا کو کنٹرول کرنے میں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ہوئی ہے۔ چین میں قومیائے ہسپتالوں کی تعداد زیادہ اور نجی ہسپتالوں پر کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول سخت ہے۔ پیداواری اور ترسیلی نظام پر بھی پارٹی کی گرفت مستحکم ہے لہٰذا وینٹی لیٹر وغیرہ کے پیداواری اور ترسیلی نظام کو تیزی سے وسیع کیا جاتا رہا۔ پھر پارٹی عوامی مقبولیت رکھتی ہے اور کرونا وبا کی انہدامی مہم میں کروڑوں افراد کو منظم کر لیا گیا۔
لیکن اشتراکی سرمایہ داری کی یہ وقتی کامیابیاں ان بنیادی محرکات کو رفع نہیں کر سکتیں جن کی وجہ سے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں آج کل وبائیں پھوٹ رہی ہیں۔ یہ وائرس چین کی ایک نادر خوراکی علاقائی رسدی زنجیر میں ابھرا اور چینی مواصلاتی نظام کے عالمی مواصلاتی نظام میں ادغام کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔
یہ کیسے ممکن ہواکہ نادر خوراک عام خوراکی مارکیٹ کا صرف ووہان میں نہیں پورے چین میں حصہ بنتا جا رہا ہے۔ نادر خوراک کا کاروبار حکومت اور پارٹی کی نگرانی میں لاکھوں کروڑوں لائسنسز اور پرمٹس کے ذریعہ فروغ پاتا ہے۔ پوری دنیا کی چین میں بھی نادر غذائی صنعت سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم کی گئی ہے اور اس صنعت میں بھی زرعی ملٹی نیشنلز فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ یہ ایگری بزنس چینی جنگلات اور ویرانوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں بتدریج سموتی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ چین بھی دیگر سرمایہ دارانہ ملکوں کی طرح اسی جاہلی سائنسی علمیت کا شکار ہے جو ادویاتی اختراعات کے ذریعہ مستقلاً نئے نئے مہلک متعدی جراثیم تخلیق کیے جا رہی ہے۔
تحقیق سے ثابت ہوا کہ 40 تا 50 فیصد تک نئے متعدی جراثیم سرمایہ دارانہ پیداواری صنعتیں تخلیق کرتی ہیں۔ باقی ماندہ مہلک جراثیم سرمایہ دارانہ نظام کی سرحدیں پھلانگ کر سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہی کرونا وائرس کے ساتھ ہوا اور سرمایہ دارانہ نظام ان جراثیم کی ترسیل کے لیے وافر مواقع فراہم کرتا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری وباؤں کے عالمی تسلط کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ آج عالمی سرمایہ کاری غلیظ صنعتی طرائق کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مغربی ممالک سے ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ ایگری بزنس پوری دنیا میں اپنی یک اجناسی سلطنتیں پھیلا رہی ہیں مثلاً بولیویا، پیراگوئے، ارجنٹائن اور برازیل میں سویابین ریپبلک کا قیام اور فروغ ہو رہا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایگری بزنس کا یہ یک اجناسی پھیلاؤ ماحولیاتی آلودگی اور وبائی پھیلاؤ کا اہم سبب ہے۔
یک اجناسی (mono culture)پھیلاؤ کے نتیجہ میں جو جنگلات اور ویرانے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم کیے جا رہے ہیں وہ عالمی زرعی مارکیٹوں کے علاقائی مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ لہذا وبا (جیسے پوری انسانی تاریخ میں ہوا کرتا تھا)کسی ایک جگہ تک محدود نہیں رہتی پورے عالمی نظام میں پھیلتی جاتی ہے۔ جنگلات کی سرمایہ کاری ان قدرتی عوامل کو معطل کر رہی ہے جو وباؤں کی تحدید کا پہلے زمانہ میں ذریعہ بنا کرتے تھے۔ قدرتی عوامل کے مقابلہ میں کئی نئی ایجاد کردہ ویکسینز غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں اور نئے جراثیم زیادہ طاقت ور، دیرپا اور ویکسین کا توڑ کرنے والے بنتے جا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی جراثیمی قوت مدافعت کرونا تک محدود نہیں آج ملیریا، ایبولا، زیکا اور یرقان پھیلانے والے جراثیم بھی زیادہ طاقت ور ہوتے جا رہے ہیں۔
سرمایہ دارانہ زراعت کے پھیلاؤ کے ذریعہ وبائیں سرمایہ دارانہ سرحدوں سے سرمایہ دارانہ مراکز تک تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ جتنا طویل زرعی صنعتی رسدی زنجیر کا عالمی پھیلاؤ ہوتا ہے اتنا ہی تیزی سے وہ وبائی متعدی جراثیم کی پیدائش اور ترسیل کا ذریعہ بنتی ہے۔ 2020 تک کم از کم 30 ایسی وبائی بیماریوں اور ان سے متعلق لاتعداد جراثیم کی نشان دہی کی گئی ہے جو غذائی اور زرعی پیداواری رسدی زنجیروں کے پھیلاؤ کے ذریعے پھیلی ہیں۔
سرمایہ دارانہ زراعت کے فروغ کے لیے بڑے کھیتوں میں یک اجناسی کاشت اور مویشیوں کی بڑی تعداد پالنے اور ان کی نسل میں جلد از جلد غیر فطری طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن علاقوں میں یہ زرعی اشیا فروخت کی جاتی ہیں وہاں کی آبادیاں، فیکٹریاں اور مارکیٹ بھی گنجان آبادی والے ہوتے ہیں۔ یہ تمام خصوصیات متعدی جراثیم کی افزائش اور پھیلاؤ کے لیے نہایت سازگار ہیں اور جب تک زراعت میں سرمایہ دارانہ طرز پیداوار اور ترسیل قائم رہے گا عالمی خوراکی رسد ی زنجیریں مہلک و متعدی جراثیم کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنی رہیں گی۔ سرمایہ دارانہ زرعی نظام مہلک متعدی جراثیم کی ارتقائی اور دفاعی صلاحیت کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہے۔
بیش تر سرمایہ دارانہ ممالک بشمول چین زرعی اور ادویاتی صنعتوں پر ایسی تنظیمی گرفت کمزور کر رہے ہیں۔ عدالتی فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایگری بزنس اور فارما سیوٹیکل کمپنیاں دنیا کے کرپٹ ترین اداروں میں شامل ہیں اور ان کی باضابطہ حکمت عملی یہ ہے کہ ایسے پیداواری عمل کے اخراجات خود کم سے کم برداشت کریں اور ان اخراجات کو ماحولیاتی عناصر، حکومتوں، صارفین اور مزدوروں کو برداشت کرنے پر آمادہ کریں۔ وباؤں کے پھیلاؤ سے نفع رہن اور سود تو ملٹی نیشنل حاصل کرتی ہیں اور اس عمل کے اخراجات کا بڑا حصہ ٹیکس دہندگان کو اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں۔ آج Pfizer کرونا کی ویکسین کے ذریعہ اربوں ڈالر کما رہی ہے۔ اس قسم کی منافع خوری میں چینی ملٹی نیشنلز بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ 2020 میں مشہور امریکی حرام خور (فنانشل) کمپنی گولڈمین ساکس نے شنگھائی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساٹھ فیصد حصص خریدے اور شنگھائی انویسٹمنٹ کارپوریشن اس چینی ایگری بزنس کا حصہ ہے جس نے حال ہی میں امریکی ایگری بزنس اسمتھ فیلد فوڈز کو خریدا ہے۔ یہ کمپنی دنیا کی سب سے بڑی خنزیر کے گوشت کا کاروبار کرنے والی کارپوریشن تھی۔
وباؤں کے پھیلاؤ کے کاروبار کو وسعت دینے میں سرمایہ دارانہ کارپوریشنیں اور سرمایہ دارانہ حکومتیں دونوں شریک ہیں۔ 2020 میں پانچ امریکی سینیٹرز اور بیس کانگریس کے ممبران فارماسیوٹیکل اور ایگری بزنس کے مشیر اور حصص کنندگان تھے۔ وباؤں کا عالمی پھیلاؤ سرمایہ کے عالمی گردش کا نتیجہ ہے جو ایک طرف تو ماحول میں جراثیم کش صلاحیت کو تباہ کر رہا ہے اور دوسری طرف ایسی خوراکی اور ادویاتی اختراعات کو فروغ دے رہا ہے جن کے نتیجہ میں نئے نئے مہلک جراثیم اربوں کی مقدار میں پرورش پا رہے ہیں اور ان کی قوت مدافعت مستقل بڑھتی جا رہی ہے۔ کرونا وائرس چمگادڑوں میں پیدا ہوا لیکن اس کی چمگادڑوں سے انسانوں کی طرف منتقلی کی ذمہ دار سرمایہ دارانہ معیشت، سرمایہ دارانہ مواصلاتی نظام اور سرمایہ دارانہ ریاستی کارفرمائی اور سب سے بڑھ کر تنویری جاہلی علمیت یعنی سائنس ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام نہایت گنجلک اور پیچیدہ ہے۔ اس کی کلیدی روح رواں حرص اور حسد کے جذبات خبیثہ ہیں اور ان جذبات کا اظہار عمیق معاشی، سیاسی، علمی، ثقافتی روابط میں ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ بحران ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ وبائی بحران سرمایہ دارانہ نظاماتی کلیت میں پیوست ہے۔ ویکسینوں کی ایجاد سے شاید کرونا پر تو قابو پا لیا جائے لیکن وبائی بحرانوں کے تسلسل پر قابو پایا جانا ناممکن ہے جب تک سرمایہ دارانہ نظام عالمی طور پر غالب رہے گا مہلک سے مہلک تر جراثیم کی افزائش جاری رہے گی اور وبائی بحران آتے رہیں گے۔ سرمایہ داری کی اصلاح ناممکن ہے اور اس کی نظاماتی تسخیر ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔
سرمایہ دارانہ پیداواری نظام کو عالمی سطح پر مربوط کرنے والا وسیلہ پیداواری رسدی زنجیریں ہیں۔ ایگری بزنس بڑے پیمانہ پر غریب ملکوں کی اراضی سستے داموں خرید رہی ہیں۔ ان اراضی کو یک اجناسی بنا کر ان کی پیداواری سکت مستقل کم کی جا رہی ہے اور ان پر جو خوراک اگائی جاتی ہے وہ کیمیائی اجزا (pesticide) اور جراثیم سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ ان پر جو حیوانات پالے جاتے ہیں ان کا جسم بھی اسی قسم کی غیر فطری ادویات سے بھرا ہوتا ہے اور اس قسم کے اجناس اور گوشت کا استعمال وبائی امراض کے پھیلاؤ میں معاون ہے۔ برصغیر میں انگریز سامراج نے انیسویں صدی کی ابتدا سے ہم پر جاگیردارانہ نظام مسلط کیا اور یہ ماحولیاتی، معاشی اور وبائی بحرانوں کا اس خطہ میں آنے کا ایک اہم سبب بنا۔ دور حاضر میں ایگری بزنس اسی زرعی نظام کو مستحکم کر رہا ہے۔
دورحاضر میں سامراجی وبائی تحدید کی حکمت عملی جن خطوط پر مرتب کی جا رہی ہے اس کا ایک اظہاریہ وہ یک صحتی ماڈل (one health model) ہے جس کی ترمیمی شکل ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او اور امریکا کا بیماریوں کی روک تھام اور ان سے بچاؤ کا ادارہ وضع کرتے ہیں۔ اس ماڈل کے اطلاق سے ایگری بزنس ہی سے عالمی وبائی بحران پر کنٹرول کرنے کی امید کی جاتی ہے اور وبائی بحران سے سرمایہ دارانہ نظاماتی تعلق سے مکمل سہو نظر برتا اجتا ہے۔ یہ بیانیہ وبائی بحرانوں کو رسدی زنجیروں کے پھیلاؤ کا نتیجہ نہیں گردانتا۔ اپنی توجہ ان مخصوص علاقوں پر مرتکز کرتا ہے جہاں نئے جراثیم ابھرتے ہیں مثلاً ووہان اور بحران کو ایک وقتی حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس ماڈل کے اطلاق سے جو پالیسیاں برآمد ہوتی ہیں وہ وبائی بحران کے اصلی ساختی محرکات کا سدباب کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ اس ماڈل میں اس حقیقت سے سہو نظر کیا جاتا ہے کہ ایگری بزنس اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں ایسے پیداواری عمل اور سائنس دانوں کی مدد سے نئے نئے مہلک جراثیم مستقل پیدا کرتی رہتی ہیں اور بڑے کھیتوں، کارخانوں اور مارکیٹوں میں جنگلی جانوروں اور پالتو جانوروں کے گوشت میں تبادلے کے مواقع بڑھتے رہتے ہیں۔ سارس، ایبولا، MERS, Hsni اور کرونا وغیرہ اسی پیداواری نظام سے برآمد ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر جانوروں اور ان کے گوشت کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انفلوئنزا کے عالمی پھیلاؤ کی یہی وجہ بیان کی گئی ہے۔ لہٰذا کرونا نکلنے اور پھیلنے کی ذمہ داری صرف ووہان کے گوشت مارکیٹ پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ اس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظاماتی کلی کارروائی ہے۔
غریب ممالک میں زرعی زمین ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے مقابلہ میں اتنی سستی ہے کہ اس کے عالمی استعمال سے بے اندازہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایگری بزنس تیزی سے غریب ممالک میں غیر آباد زمینیں خرید کر ان پر یک اجناسی کاشت بھی کر رہی ہیں اور ایک مویشیوں کا انقلاب بھی منظم کیا جا رہا ہے جو جینیٹک انجینئرنگ اور کیمیائی ادویاتی استعمال کے ذریعہ جانوروں کی افزائش نسل میں غیر فطری اضافہ کر رہاہے۔ چھوٹے کاشت کاروں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ یہ بے دخل کیے گئے کروڑوں کسان اور زرعی کارکن ایک سیلاب کی طرح متصل شہروں میں امڈے آ رہے ہیں اور یوں وہ جراثیم جو پہلے جنگلات اور ویرانوں میں محدود رہتے تھے اب گنجان آبادیوں میں پھل پھول رہے ہیں۔ یہ سب ایگری بزنس کی منافع خوری کا نتیجہ اور عالمی حرام خور (فنانشل) مارکیٹ اور ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔
آج کرونا کی وبا نے عالمی سرمایہ دارانہ پیداواری اور ترسیلی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ پیداواری اور ترسیلی نظام عالمی سطح پر رسدی زنجیروں کے ذریعہ مربوط ہے اور علاقائی وبائی بحران بہت سے عالمی معاشی بحران میں پیوست ہوتا جاتا ہے۔ رسدی زنجیریں تہ در تہ ہیں اور ان رسدی زنجیروں کی بالائی کارپوریشنیں عموماً صرف اپنے بالواسطہ رسد کنندگان کو جانتی ہیں۔ رسدی زنجیر کے نیچے کے رسد کنندگان کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔2020 میں معلوم ہوا کہ اکیاون ہزار کمپنیوں کی ووہان میں کم از کم ایک بالواسطہ رسد کنندہ اور پچاس لاکھ کمپنیوں کے کئی بلاواسطہ (second tear) رسدکنندگان موجود تھے۔ رسدی زنجیروں کی کارفرمائی اور ان کے ٹوٹنے کے امکان کےبارے میں ملٹی نیشنلز کی اطلاعات اور استعداد نہایت محدود ہے۔ 2020 میں عالمی رسدی زنجیروں کے ٹوٹنے سے طبی سازوسامان کی عالمی صنعت بری طرح مجروح ہوئی ہے اور بے اندازہ چھوٹی اور درمیانی درجہ کی کارپوریشنیں دیوالیہ ہو گئی ہیں۔ بہت سی بڑی کمپنیاں مثلاً Nike, Micro system and Boaing وغیرہ بھی رسدی زنجیروں کی ٹوٹ پھوٹ سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ پیداواری رسدی زنجیروں کی شکست و ریخت سے عالمی حرام خور مارکیٹوں میں بھی بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ کرونا کے نتیجہ میں امریکی حکومت دھڑا دھڑ ڈالر چھاپے جا رہی ہے۔ مارچ 2021 تک اس کا اجرتی امدادی خرچہ تین ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ امریکی حکومتی قرضہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور کارپوریٹ قرضہ بھی بے تحاشا بڑھ رہا ہے۔ اور قرضوں کے کاروبار پر وسیع پیمانے پر سٹہ بازی جاری ہے۔ حرام خور (فنانشل مارکیٹ) دھیرے دھیرے غیر مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔
عالمی رسدی زنجیروں کی کارفرمائی کے نتیجہ میں منافع، سود اور رہن کی صورت میں غریب ممالک سے دولت ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ مراکز کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں غریب ممالک میں صحتی اور ماحولیاتی ابتری کو روکنے کے وسائل کم ہو رہے ہیں اور وبائی پھیلاؤ کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی سرخیل معیشتوں کی خصوصیات کی وجہ سے وبائی بحران عالمی ہو گیا ہے۔ یہ ترقی یافتہ پیداواری اور سرمایہ کارانہ انجماد کا شکار ہیں۔ اس انجماد کو ختم کرنے لیے وہ اپنے قرضوں میں ہوش ربا اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کا انحصار بیرونی ترسیل دولت پر بڑھتا جا رہا ہے۔ تقسیم دولت اور آمدنی میں نامساویت کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے (2020 میں تین امریکی کھرب پتیوں کی دولت 50 فیصد امریکی آبادی سے زیادہ تھی)۔ ماحولیاتی ابتری کی روک تھام کے لیے موثر اقدام کرنے سے وہ قاصر ہیں۔ غریب ممالک کی حکومتیں ان کی باجگزار ہیں۔ ان حالات میں عالمگیریت کا عمل وباؤں کے پھیلاؤ کو ناگزیر بنا رہا ہے۔
وبائی بحران سائنس، پیداواری ٹیکنالوجی اور ملٹی نیشنل اور حرام خور (فنانشل) کارپوریشنوں کی ایجاد ہے۔ انہوں نے پوری دنیا کو ایک سرمایہ دارانہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بنا دیا ہے۔ یہ ملٹی نیشنل کارپوریشنیں قدرتی وسائل کی لوٹ مار پر تلی ہوئی ہیں۔ وبائی بحران سرمایہ دارانہ سامراج کی پیداوار ہیں۔ اس نظام نے انسانی اجسام، زمین، جانوروں اور قدرتی وسائل سب کو بڑھوتری سرمایہ کا آلہ کار بنا دیا ہے اور ان تمام اشیا کے استعمال کا مقصد حرص و حسد کی تسکین ہے۔
جاہلی علمیت (سائنس اور سوشل سائنس) حرص اور حسد کی آلہ کار ہے اور کیمیائی اور ادویاتی اختراعات نئے نئے مہلک جراثیم کی افزائش نسل کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ یہ اختراعات بڑھوتری سرمایہ کو مہمیز دینے کی غرض سے مستقلاً جاری ہیں۔ لہٰذا ہم توقع رکھتے ہیں کہ جب تک عالمی سرمایہ دارانہ تغلب قائم رہتا ہے نئی نئی وبائیں پھوٹتی رہیں گی۔ یہ وبائیں سرمایہ دارانہ نظاماتی بحرانوں کا محض ایک رخ ہیں۔
ہم کیا کریں:
ہم اسلامی انقلابی ہیں۔ فی الحال ہماری قوت نافذہ نہایت محدود ہے۔ ہم سرمایہ دارانہ مراکز قوت پر اثرانداز ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ملکی پالیسیوں کی تفویض اور تنصیب میں بھی ہمارا وزن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود مندرجہ ذیل اقدام کی گنجائش موجود ہے۔
۔ سب سے پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام کی جزوی اصلاح کی کوششیں ترک کر دیں۔ یہ نظام اپنے اصل الاصول کے لحاظ سے شر محض ہے اور اس کی اساسی علمیت سائنس اور سوشل سائنس جاہلیت خالصہ ہے۔ اس کی اصلاح ناممکن اور اس کا انہدام ضروری ہے۔
۔ لیکن ہم یہ انہدامی عمل سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہی سے جاری رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ سرمایہ داری کا کوئی ایسا بیرون موجود نہیں جہاں سے سرمایہ دارانہ تغلب کو موثر طور پر چیلنج کیا جا سکے۔
۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی جدوجہد لازماً اس نظام کے اندر ایک غیرسرمایہ دارانہ معاشی، معاشرتی اور سیاسی ادارتی صف بندی کی شکل اختیار کرے گی۔ اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو لازماً اسلامی تہذیب سرمایہ دارانہ نظام اور طرزِ زندگی میں ویسے ہی جذب ہو جائے گی جیسے عیسائیت، یہودیت اور ہندومت جذب ہو گئی ہیں۔
۔ سرمایہ دارانہ انہدام کی اسلامی جدوجہد ایک طویل المدت جدوجہد ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کئی ناختم ہونے والے بحرانوں (ماحولیاتی، معاشرتی، معاشی اور وبائی) کا شکار ہے۔ اور اس کے نظاماتی تضادات گہرے سے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمیں ان تضادات کو مہمیز دے کر اسلامی انقلابی جدوجہد کو وسعت دینے کی گنجائش پیدا کرنی ہے۔
۔ وبائی بحران انہی تضادات کا ایک اہم مظہر ہے اور کرونا کے خاتمہ کے بعد نئے نئے وبائی بحران ملٹی نیشنل کارپوریشنیں اور سرمایہ دارانہ حکومتیں سائنس کی مدد سے ایجاد کرتی رہیں گی۔ ہمیں اس حقیقت کو قبول کرلینا چاہیے کہ ہم سرمایہ داری کے بحرانی دور میں اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔
۔ وبائی بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی رسدی زنجیروں سے اپنے پیداواری اور ترسیلی نظام کی وابستگی کو قطع کیا جائے۔ یہ کرنے کے لیے ہمیں حلال کاروبار کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسا کاروبار جو علاقائی ہو اور جس کا بین الاقوامی رسد یا مانگ یا قرضہ جات پر انحصار نہ ہو۔ یہ کام ایک اسلامی تمویلی نظام کو مرتب کر کے کیا جا سکتا ہے۔
۔ ملکی سطح پر اسلامی جماعتیں اس بات پر زور دے سکتی ہیں کہ وباؤں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ملک بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری، قرضہ جات اور بھیک پر انحصارکرنا چھوڑ دے۔ آئی ایم ایف اور ڈبلیو ٹی او سے نکل جائے اور بین الاقوامی زنجیروں سے تعلق توڑ کر خودکفیل معاشی پالیسیاں اختیار کرے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کے سامراجی پٹھو حکمران اس قسم کی پالیسیاں کبھی اختیار نہیں کریں گے۔ لیکن کم از کم ان بے شرم اسلام پسندوں پر دباؤ تو ڈالا جا سکتا ہے جو آج دہریہ تحریک انصاف کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کا دباؤ لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں نیولبرل پالیسیوں کے انہدام کا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔
۔ چھوٹے کاشت کاروں اور ہاریوں کو ایگری بزنس کی پنجاب، سندھ اور پختونخوا میں زرعی زمینوں پر تسلط حاصل کرنے کے خلاف منظم کیا جا سکتا ہے۔ سی پیک کے تحت جو زرعی سرمایہ کاری کی اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں اور چھوٹے کاشت کاروں اور زرعی محنت کشوں کی بے دخلی کے جو منصوبے بن رہے ہیں ان کی منظم مخالفت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ منصوبے ہماری زرعی معیشت کو انہی عالمی رسدی زنجیروں میں جکڑنے کا ذریعہ بنیں گی جن کی وجہ سے وبائیں پھیلتی ہیں۔
۔ حقیقت یہ ہے کہ زرعی معیشت اور معاشرت پر اسلامی جماعتوں (اس کے باوجود کہ ہماری ایک مقبول عام جماعت تحریک لبیک کی عوامی بیس دیہی ہے) نے کبھی توجہ نہیں دی۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلامی جماعتیں دیہی معاشرت، معیشت اور سیاست پر جامع تحقیق کی بنا پر کاشت کاروں اور ہاریوں کو منظم اور متحرک کرنے کی ایک طویل المدت حکمت عملی مرتب کریں۔
۔ لاطینی امریکی تجربات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کچی آبادیوں میں بجلی، پانی اور نکاسی غلاظت کو حکومت اور سرمایہ دارانہ کمپنیوں کی اجارہ داری سے نکال کر عوامی تحویل میں منظم کرنے سے ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ کچی آبادیوں میں اس قسم کی ادارتی صف بندی کا کام بھی اسلامی جماعتوں کو شروع کر دینا چاہیے اور اس سے وباؤں کے پھیلاؤ کی روک تھام پر مثبت اثرات بھی پڑیں گے اور گاہے گاہے ایک غیر سرمایہ دارانہ اقتداری نظام بھی قائم ہوتا چلا جائے گا۔
۔ وباؤں کے پھیلاؤ کا ایک بنیادی ذریعہ ایلوپیتھک میڈیسن اور فارمیسی کی صنعت ہے۔ اس کے ذریعہ نئے نئے مہلک جراثیم مستقلاً پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ایلوپیتھک میڈیسن اور فارمیسی کی صنعت کی نظاماتی اجارہ داری کو دیسی طب اور طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں چین کا تجربہ چشم کشا ہے۔ چینی میڈیسن 2003 کے سارس وبائی بحران کے دور میں نہایت کامیابی سے استعمال کی گئی۔ 2020 میں تقریباً 85 فیصد چینی کرونا کے مریض چینی میڈیسن کے استعمال سے صحت یاب ہوئے اور 95 فیصد مریضوں نے چینی میڈیسن استعمال کی۔ مجھے یاد ہے کہ 1990 کی دہائی میں جماعت اسلامی نے حکیموں کی خصوصی حوصلہ افزائی کی تھی ۔ آج بھی اسلامی جماعتوں کو حکمت کے فروغ کے لیے عوامی جدوجہد مرتب کرنی چاہیے۔
سائنس جاہلیت خالصہ ہے اور مادی بحرانوں خواہ ماحولیاتی خواہ وبائی کا سرچشمہ سائنسی اختراعات ہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مدارس سائنس کا متبادل پیراڈائم مرتب کرنے کی کوشش کریں۔ ایک ایسا پیراڈائم جو تسخیر کائنات کے باطل نظریہ کو رد کرے اور انسانی معاش و معاشرت کو قدرتی نظام کے تغیرات سے ہم آہنگ کر دے۔ حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب سائنس اور علم کلام میں بیسویں صدی کی ابتدا میں یہ کام شروع کر دیا تھا۔ آج ہمیں حضورؒ کی پیروری کرتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھانا ہے اور یہ سرمایہ داری کے خلاف ہماری صدیوں تک جاری رہنے والی جدوجہد کا ایک کلیدی حصہ ہو گا۔
جاوید اکبر انصاری