لوگ ہمیں ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
2018 کی قومی اسمبلی کے انتخابات میں اسلامی جماعتوں کو مجموعی طور پر 5140891 ووٹ ملے جو کل ووٹوں کا 9.7 فیصد اور تمام رائے دہندگان کا تقریباً 4 فیصد بنتے ہیں۔
ہمیں اتنے کم ووٹ کیوں ملتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ اقتداری نظام میں انتخابی عمل عوامی تحرک اور تنظیم قائم کرنے کے اہم ترین ذریعہ میں شامل ہے۔ پاکستان کی دہریہ جماعتیں – تحریک انصاف، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم-عوام کو دھوکہ پر دھوکہ دے رہی ہیں۔ ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں، کرپشن کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں لیکن لوگ ہر انتخاب میں انہی کوووٹ دیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب دینے کے لیے پاکستانی عوام کی ذہنیت اور حساسیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ شعور اور احساس یکتا نہیں متفرق ہوتا ہے۔ سیاسی شعور مذہبی شعور سے جدا ہو سکتا ہے ۔ سیاسی اور مذہبی شعور متصادم بھی ہو سکتے ہیں اور یکجا بھی کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت گزار اور متقی افراد دہریہ جماعتوں کے پرجوش حمایتی بھی ہو سکتے ہیں (اور ہوتے ہیں)۔
مذہبی شعور کو سیاسی شعور سے یکجا کرنے کے لیے منطقی دلیلیں اور کلامی بحثیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے عوامی تاریخی اور ثقافتی روایات کا سہارا لینا پڑتا ہے، لوگوں کے جذبات کو ابھارنا پڑتا ہے اور جذبات قلوب میں پیدا ہوتے ہیں دماغ میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی تحرک پیدا کرنے کے لیے کرشماتی قیادت بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال حضرت مولانا خادم حسین رضوی شہید کی ولولہ انگیز قیادت ہے جس نے 2017 میں بریلوی دلوں میں آناً فاناً آگ لگا دی تھی۔
کرشماتی قائدین عوام کا طرز تکلم اختیار کرتے ہیں، عوام کا طریقہ رہن سہن اپناتے ہیں۔ ان کے بچوں کو گود میں لیتے ہیں، ان کے علاقائی رسوم و رواج میں شریک ہوتے ہیں، ان کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ جن تنظیموں کے ذریعہ وہ عوام کو منظم کرتے ہیں ان کی جڑیں مقامی معاشرت اور تاریخی تناظر میں پیوست ہوتی ہیں۔ ان تنظیموں کی اندرونی ساخت لچک دار ہوتی ہے ، جامد نہیں ہوتی۔
لیکن جو جماعتیں مذہبی شعور کو سیاسی شعور پر حاوی بنانے کی کوشش کرتی ہیں ان کے لیے دہریوں کی تزویراتی حکمت عملی سے کماحقہ واقف ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر اس تزویراتی حکمت عملی کے معاشرتی عمل کو زائل نہیں کیا جا سکتا۔ دہریہ دانستاً مذہبی شعور کو سیاسی شعور سے جدا رکھنے کے لیے معاشرتی تصرف جاری رکھتے ہیں اور اپنے معاشرتی دخول کی ادارتی صف بندی کرتے رہتے ہیں۔ یہ دہریانہ دخول نظریاتی بھی ہوتا ہے اور ثقافتی بھی۔ اسی دخول کو بے اثر بنانے کے لیے معاشرتی سطح پر ایسی ادارتی صف بندی ناگزیر ہے جو سیاسی شعور کو مذہبی شعور کے اظہار کا ذریعہ بنا دے۔
سامراجی دور میں پاکستانی علاقہ کے عوام کے سیاسی شعور کو ایک خاص انداز سے دہریوں نے مسخ کیا۔ آج ایک عام پاکستانی نظام اقتدار کا تماشائی اور بھک منگا (client)ہے۔ وہ اپنے آپ کو قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا اہل نہیں سمجھتا بلکہ ایک ایسی قلیل اشرافیہ پر اعتبار کرنے لگا ہے جو سامراجی دور سے آج تک پیشہ ور قیادت دانوں پر مشتمل ہے۔ عوام اس پیشہ ور دہریہ سیاسی اشرافیہ کے مداح اور ان سے داد و دہش کے طالب رہتے ہیں۔
اس سیاسی شعور کو تبدیل کیے بغیر عوامی تائید کی بنیاد پر نظاماتی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ اسلامی انقلابیوں کو عوام کو باور کرانا ہے کہ
۔ وہ خود اقتدار کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں
۔ اس اہلیت کا اظہار اپنے مذہبی تشخص کو اجاگر کرکے ہی ممکن ہے
۔ دہریہ پیشہ ور سیاست دان اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے عوامی مذہبی شناخت کو محدود کرنے کے لیے دانستاً استعمال کر رہے ہیں
بحیثیت مجموعی عوامی شعور کی کیفیت وہ ہے جسے ہیگل نے unhappy consciousness کہا ہے۔ یعنی ایک ایسا شعور جو خود سے مطمئن نہیں اور اپنی طرز زندگی کی توجیہ بیان کرنے سے قاصر ہے۔ سیاسی عمل کے ذریعہ وہ اپنی ذاتی منفعت حاصل کرنے کی جستجو کرتا رہتا ہے لیکن اس عمل کے وہ نتائج نہیں نکلتے جس کے وہ خواہاں ہیں۔ اس کا شعورِ درحقیقتا ًدھندلایا ہوا ہے۔ وہ اپنی تبدیل ہوتی ہوئی اجتماعیت سے غیر مطمئن ہے لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا کیا سدباب کرے۔ اس کی سیاسی نظاماتی اجنبیت اس کی معاشرتی یکتائی کو جنم دیتی ہے۔
عوام کی حقیقت ناشناسی کا ایک اہم سبب دہریہ پالیسی ہے۔ دہریہ تعلیم، میڈیا اور قانون کے ذریعہ عوامی شعور کو مستقلاً مسخ کرتے رہتے ہیں اور حقیقت خرافات میں کھوتی رہتی ہے۔ عوام کی نظروں سے سرمایہ دارانہ نظاماتی اور طرزی کلیت کی کارفرمائی چھپ جاتی ہے۔ اس کلیت کا عوامی شعور پیدا کرنے کے لیے محض کلامی مباحث کافی نہیں۔
سرمایہ دارانہ کلیتی جبر کو آشکارا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو اسلامی قیادت کے تحت اس طرح متحد اور منظم کیا جائے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں خود انحصاری اور بااختیار ہوتے چلے جائیں اور مقامی سطح پر ایک غیر سرمایہ دارانہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام کارفرما ہوتا چلا جائے۔ یہ انفرادی شعور کو معاشرتی شعور سے ملحق کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی کارفرمائی دانستاً انفرادی شعور کو معاشرتی سیاسی شعور سے جدا کرتا رہتا ہے۔
سرمایہ داری ایک مخصوص انفرادیت کو جنم دیتی ہے جو سرمایہ کی غلامی کو شخصی آزادی سے تعبیر کرتی ہے۔ اس انفرادیت کو سرمایہ داری جن اجتماعیتوں میں سمونے کی کوشش کرتی ہے وہ قوم پرستی اور اشتراکیت ہیں۔ ایک قوم پرست اور ایک اشتراکی آزادی کے فروغ کے لیے اپنی قوم یا اپنے طبقہ کے اجتماعی سرمایہ کے فروغ کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔
الحمدللہ اشتراکیت پاکستان میں دم توڑ چکی ہے اور قوم پرستی کا اثر بلوچستان کے علاوہ بھی نہایت محدود ہے۔ ہمارا مقابلہ اصلاً لبرل ازم سے ہے۔ اور لبرل انفرادیت بھی عوامی حلقوں میں اجبنی ہے گوکہ اشرافیہ اور نیم اشرافیہ کے حلقوں میں وہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستانی عوام سرمایہ دارانہ اقتداری نظام سے لاتعلق ہیں اس کے حمایتی نہیں۔ اس نظام میں ان کی شرکت صلبی ہے ایجابی نہیں۔
سرمایہ دارانہ ریاست اور سرمایہ دارانہ مارکیٹ دونوں میں پاکستان میں انفرادی شعور کو مسخ کر رہے ہیں اور مسخ کرنے کا اصل ذریعہ عوام میں حرص و ہوس کے شیطانی جذبات کو فروغ دینا ہے۔ اسلامی انقلابی جدوجہد حرص و ہوس کے شیاطین کو شکست دینے ہی کی جدوجہد ہے۔
جمہوری عمل میں ہمارا بنیادی تخاطب عوام سے ہے خواص سے نہیں۔ خواص (اشرافیہ اور نیم اشرافیہ) ملک میں نہایت قلیل تعداد میں ہیں۔ مشہور معیشت دان اور شماریات کی ماہر ڈاکٹر درِ شہوار نے 2013 میں تخمینہ لگایا تھا کہ ملکی آبادی کا متوسط طبقہ کا حجم 2 سے 3.3 فیصد یعنی تقریباً 6 لاکھ افراد ہیں۔ اس اشرافیہ اور بالخصوص نیم اشرافیہ میں کچھ نہ کچھ مذہبی بیداری تو پائی جاتی ہے لیکن عوام سے ان کی معاشرتی دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کا طرزِ بودوباش جدیدی ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مذہبی شعور کا اظہار بھی عموماً لبرل، قوم پرست اور سوشل ڈیموکریٹ بیانیہ میں سمویا ہوتا ہے۔ ان سے انقلابی جدوجہد میں کوئی خاص کردار ادا کرنے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔الاماشاءاللہ
اسلامی جماعتیں انتخابات میں کامیابی صرف انتخابی عمل کو انقلابی بنیادوں پر مرتب کر کے حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی جماعتیں
۔ اپنے انتخابی تکلم کو جذباتی رنگ دیں
۔ عوام کے سیاسی شعور کو ان کے مذہبی شعور کے تابع کرنے کے لیے مقامی اقتداری صف بندیوں (جرگوں، برادریوں، پنچایتوں) کے دائرہ میں توسیع کی جدوجہد کریں
۔ عوام کی روزمرہ کی زندگی کے مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے محلہ اور بازار کی سطح پر ایسی ادارتی صف بندی کریں جس کا محور و مرکز مساجد ہوں اور جن کے ذریعہ ائمہ مساجد کی مقامی قیادت ابھرے
۔ ہمارے کارکن عوام کا طرزِ تکلم اختیار کریں۔ مقامی زبانوں، رسوم و رواج اور ثقافتی روایات کو شرع مطہرہ کی احاطہ بندی کے ضمن میں فروغ دیں اور ہمارے کارکن عوامی طرز بودوباش اختیار کریں
۔ ہمارے تحقیقی ادارے زرعی معیشت اور معاشرت اور شہری کچی آبادیوں کی معیشت اور معاشرت پر تحقیقی رپورٹیں تیار کریں تاکہ ہم اپنے عوام کی نفسی اور سماجی کیفیات کا اندازہ لگانے کے قابل ہوں
اور یہ بھی ضروری ہے کہ غیر سیاسی اسلامی جماعتوں کی یہ غلط فہمی دور کرنے کی بھرپور کوشش کریں کہ سیاسی اور انتخابی عمل سے اجتناب تحفظ دین کے لیے مفید ہے۔ حقیقتاً اسی رویہ کو اختیار کرکے یہ جماعتیں سرمایہ دارانہ اقتدار کو مستحکم کر رہی ہیں جس کے نتیجہ میں عام پاکستانی کی مذہبی زندگی اقتداری دہریت کے دائرہ میں محدود ہو گئی ہے۔
2023-24 کے انتخابات اب صرف تین ساڑھے تین سال کے وقفے رہ گئے ہیں، لیکن اگر اس قلیل دورانیہ میں ہماری کچھ سیاسی جماعتیں انتخابات لڑنے کی اسلامی انقلابی حکمت عملی اپنانے کی داغ بیل ڈالیں تو ہم انشاء اللہ 2018 کے حاصل شدہ اکیاون لاکھ ووٹوں کو 2024کے انتخابات میں کم از کم ایک کروڑ بنا سکتے ہیں۔
زندہ ہو ملت بیضا تمہارے دم سے ، جاوید اکبر انصاری