کتب خانہLibrary

← JUI

JUI.docxڈاؤن لوڈ

مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ مضبوط کیجیئے –تحریکات اسلامی سے اپیل

مولان فضل الرحمٰن نے بحران حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے ۔یہ ایک نہایت جراتمندانہ اقدام ہے اور اس نوعیت کے مزاحمتی تسلسل سے پاکستان کے سیاسی منظر میں اسلامی قوتوں کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔

بلاشبہ مولانا فضل الرحمٰن آج اسلامی قوتوں کے صف اوّل کے ایسے حوصلہ شکن انتخابی نتائج کے باوجود اسلامی پاکستان کے قائد حزب اختلاف کے طورپر پہنچانے جاتے ہیں اور اپنی تزویراتی حکمت عملی کے نتیجہ میں آپ نے دہریہ قیادت بلاول بھٹو ،شہباز شریف کو عملی ( creuctioning)پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے ۔

آپ کی پشت پر دیوبندی علماء اور غلبہ کا سواد عالم ہے اور اسلام آباد کے دھرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس جم غفیر کو متحد ،منظم اور متحرک کرکے جمعیت نے دہریہ جماعتوں کو پچھلے قدم پر کھیلنے پر مجبو رکردیا ہے ۔

جمعیت علماء اسلام کی سیاست مصلحتی (pragmatic)ہے پاکستانی اسٹبلشمنٹ (deep state)کو مولانا فضل الرحمٰن سے بہتر کوئی نہیں جانتا وہ نظاماتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔

اسلام آباد کے دھرنے کے دوران کسی دہریہ جماعت نے جمعیت کا ساتھ نہ دیا آج بھی پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ن) ،تحریک انصاف سے سودے باز پر تلے بیٹھے ہیں لہذا وہ نئی مہم میں بھی تماش بین کا کردار ادا کریں گے تحریک انصاف ،مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں بزاع نوری کشتی کے علاوہ کچھ نہیں۔

تمام دہریہ جماعتیں سامراج کی آلہ کار ہیں اور یہ سب اسٹبلشمنٹ (deep state) کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام پر ان کی گرفت اتنی مضبوط کہ کسی بھی متوقع انتخاب میں یہی دہریہ جماعتیں بڑے پیمانے پر کامیاب ہوں گی اور ان کی سامراج نواز پالیسیوں میں کسی نوعیت کی تبدیلی نہ ہوگی ۔

اس وقت ملکی نظام میں اسلام شدید خطرہ میں ہے عمران کان بتدریج آسیہ ملعونہ کو فرار کرانے کے بعد سے پاکستان کے جمال عبدالناصرکا روپ دھار لیا ہے ۔سامراجی قوتوں کی پوری کوشش ہے کہ اسلامی قوتوں کو پاکستانی سیاسی منظر نامہ سے بے دخل کردیا جائے تاکہ معاشرتی سطح پر استعماری دست برد کے مواقع پیدا ہوں ۔اسلامی کارکنوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے دائرہ عمل کو محدود کیا جائے ۔ماورائے دستور مقدمات میں تمام اسلامی جماعتوں کو پھنسایا جائے۔مساجد اور مدارس کی مکمل ناکہ بندی کی جائے ۔اسلامی نظام تعلیم کی سامراجی کی جائے اور ملک بھر میں فحاشی اور عیاشی ،سود خوری ،سٹہ بازی اور حرام کاروبار کو ایک وباء کے طورپر پھیلا کر حلال رزق کمانے کو مشکل سے مشکل بنادیا جائے ۔

ہر دہریہ جماعت تحریک انصاف ،مسلم لیگ (ن) (ق)پیپلزپارٹی ،ایم کیوایم سامراج کی باجگزار ہے ۔وہ سامراج کے کندھوں پر سوا ر ہوکر ہی حکومت کرتی ہے ۔سامراج ہر دہریہ جماعت کو اسلام دشمنی کا ایجنڈہ دے رہاہے اور امید رکھتا ہے کہ عمران خان بھی اور اس کی دہریہ جانشین ،بلاول بھٹو ،شہباز شریف اسلام کو پاکستان سے وہیں نکال دیں گے ۔

اس وقت کا اہم سوال یہ ہے کہ سامراج اور اس کے پاکستانی دہریہ حلیفوں کو اسلام پر براہ راست حملہ آور ہونے سے کیسے روکا جاسکتا ہے اساس کے لئے ضروری ہے کہ مخلصین دین منظم اور متحرک ہوں او ردہریوں پر واضح کردیں کہ ان کو اپنی اسلام دشمنی کی ایک ناقابل برداشت قیمت دینی پڑیگی ۔ہمیں دہریوں پر اپنا سیاسی رعب قائم کرنا ہے اور اس ضمن پہلا مؤثر قدم جمعیت علماء اسلام نے اٹھالیاہے اس اقدام کے نتیجہ میں مولانا فضل الرحمٰن نے دہریہ حلقوں پر واضح کردیا ہے کہ اسلامی قوتیں پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں اور سامراجی اسلام دشمنی کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑی ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

ملکی سیاست کے اس ناز ک موڑ پر تمام اسلامی جماعتوں پر لازم آتاہے کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھوں کو مضبوط کریں ۔ان کی تحریک کو کامیاب بنائیں تاکہ تحفظ دین کی جدوجہد کامران او رسرخرو ہو اور غلبہ دین کی جدوجہد آگے بڑھے اور دشمنان دین پر مخلصین دین کا رعب دائمی طورپر قائم ہو۔نظریاتی اختلافات اپنی جگہ رکھ کر تزویراتی سیاسی اتحاد کو فعال بنائیں اس وقت ملک کی تمام اسلامی جماعتوں کی اہم ترین ضروت ہے ۔

ہمیں چاہئے تھاکہ سب باد ہوتے

مصیبت میں یاروں کے غم خوار ہوتے

خطاپوش ہوتے وفا شعار ہوتے

جاوید اکبر انصاری