اسلامی انقلاب کیا ہے؟ کیوں ضروری ہے؟
جماعت اسلامی ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے۔ اس کی mass base وہ کروڑوں مخلصین دین ہیں جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن جماعت اپنی mass base کو متحرک اور منظم نہیں کر پاتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت کا نظریاتی بیانیہ مخلصین دین کے سوادِ اعظم کے لیے اجنبی ہے۔
جماعت کی جدوجہد کلی نظاماتی تغیر پر مرکوز ہے اور اس نظاماتی تغیر کا ذریعہ وہ اسلامی انقلابی عمل کو گردانتی ہے۔ مخلصین دین انقلابی عمل کے جاری رہنے کی ضرورت کے عموماً قائل نہیں۔ اس مضمون میں میں اسلامی انقلابی عمل کی نوعیت اور اس کے جاری رہنے کی ضرورت کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
کلی نظاماتی تغیر مخلصین دین کے لیے ایک اجنبی تصور ہے۔ اسلامی تاریخ میں کلی نظاماتی تغیر کی تحریکات تقریباً ناپید ہیں۔ امام عالی مقام سیدنا حسین ابو علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کامیاب جہاد کے نتیجہ میں اسلام کا خلافتی نظام تیرہ سو سال تک محفوظ رہا اور رومی اور پہلیو استعماریت کی ریاستی تنظیم سے متاثر نہ ہوا۔ اسلامی سلاطین (علاؤ الدین خلجی، شیر شاہ سوری، امام عالم گیر، ترک فرماں روا عثمان خان وغیرہ) کے خروج میں بھی نظام خلافت کے انتشار کو روکنے کےلیے برپا کیے گئے۔ کلی نظاماتی تبدیلی کے لیے نہیں۔
بارہ سو سال تک اسلامی ریاست قائم رہی۔ شرع کے احکامات نافذ رہے۔ تمام اجتماعی معاملات علوم اسلامی (فقہ اور کلام) کی روشنی میں مجتمع کیے جاتے رہے اور ہمارا ریاستی اقتدار اتنا مستحکم تھا کہ فاتح تاتاری حاکمو ں نے بھی شرع مطہرہ اور علوم اسلامی کی نظاماتی بالادستی قبول کر لی۔
بیسویں صدی میں سرمایہ دارانہ سامراج نے اسلامی نظام کو ریاستی سطح پر کلیتاً معطل کر دیا۔ سرمایہ داری ایک کلیت ہے جو تحکم قانون سرمایہ کے ذریعہ ایک مخصوص انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو جنم دیتی ہے۔ جہاں نہ تنفیذ شرع کی گنجائش باقی رہتی ہے نہ علوم اسلامی کی معاشرتی بالادستی کی۔ پوری مسلم دنیا میں (ماسوائے ایران اور افغانستان کے مفتوحہ علاقوں) ایک دہریہ نظام مسلمان عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے۔
اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ کلی نظاماتی تبدیلی کی جدوجہد کی ضرورت پیش آئی ہے۔ برصغیر میں سامراج کے خلاف کلی نظاماتی جدوجہد انیسویں صدی سے شروع ہوئی۔ اس کے جلیل القدر رہنماؤں میں حیدر علی، نواب نجیب الدولہ، سید بادشاہ، حاجی شریعت اللہ، مولانا فضل الحق خیر آبادی، صادق پوری سیدوں، شیخ المشائخ حضرت مہاجر مکی، مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا مودودیؒ ان ہی اکابر زعما کے نقش قدم پر چلنے والے بزرگ ہیں اور جماعت اسلامی اس ہی مقدس ورثہ کی امین ہے۔
لیکن انیسویں صدی کی یہ تحریکیں پسپا ہو گئیں جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کی نوعیت کو نہ سمجھ سکے اور مخلصین دین کو اس جدوجہد میں شرکت کے قائل نہ کر سکے اور ہماری تزویراتی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی۔ اسلامی انقلاب کا تصوراس ہی نظریاتی کمزور ی کو دور کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ یہ ایک تقلیدی اجتہاد ہے جو سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کے محبوس دورمیں تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
مخلصین دین عمومی طور پر غلبہ کی ضرورت کو اصولاً رد نہیں کرتے لیکن عملاً اس کو ناممکن سمجھتے ہیں۔ ان کی رائے میں معاشرہ کے کسی ایک شعبہ (تعلیم ، تربیت، رفاہ عامہ) میں سرمایہ دارانہ طرز حیات کی اصلاح خود بہ خود (spontaneously)غیر ارادی (automatic)طور پر غلبہ دین پر منتج ہو گی لہٰذا غلبہ دین کے لیے کسی کلی نظاماتی جدوجہد کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہماری پوری تاریخ میں کبھی بھی اسلامی ریاست بلا سیاسی جدوجہد قائم نہیں ہوئی۔ تحریکات تحفظ دین اور غلبہ دین ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں یعنی تحفظ دین کی جدوجہد غلبہ دین کی جدوجہد میں لازماً پیوست ہونی چاہیے اور اقامت دین کے دھاروں میں ارتباط پیدا کرنا تمام اسلامی گروہوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تصورِ انقلاب سرمایہ دارانہ دورِ تغلب کی پیدا وار ہے۔ چونکہ انیسویں صدی عیسویں تک اسلامی تاریخ سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ سے ناآشنا تھی لہٰذا ہماری کلاسیکی سیاسی فکر میں انقلاب کا تصور بھی کہیں نہیں ملتا۔ انقلاب کی ضرورت آج مقدم ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
انقلاب سے مراد ہے ریاستی نظاماتی تغیر کی جدوجہد۔ اس جدوجہد کے جداگانہ اہداف ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ اقتدار کی ترتیب نو یا سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کا انہدام۔
برطانیہ کا 1688 کا انقلاب، امریکا کا 1776 کا انقلاب، فرانس کا 1787 کا انقلاب، روس کا 1917 کا انقلاب، چین کا 1949 کا انقلاب اور لاطینی امریکی ممالک کے 2000 کی پہلی دہائی کے انقلابات سب سرمایہ دارانہ تھے۔ ان کا مقصد سرمایہ دارانہ ریاستی اقتدار کی ترتیب نو تھا۔ یعنی لبرل سرمایہ دارانہ ریاستی تحکم سے اشتراکی یا سوشل ڈیموکریٹ ریاستی تحکم کی طرف مراجعت یا بادشاہی نظام کو تباہ کرکے لبرل سرمایہ دارانہ تحکیمی نظام کا قیام۔ ان انقلابات کی کامیابی کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت ایک نئے سرمایہ دارانہ ریاستی جبر کے تحت پھلتی پھولتی ہے۔
ہم جس انقلاب کو برپا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں وہ انہدام سرمایہ دارانہ تحکم کا ہدف رکھتا ہے۔ اس انقلاب کی کامیابی کی صورت میں سرمایہ دارانہ انفرادیت و معاشرت منہدم ہو جائے گی۔ شرع مطہرہ کے تمام احکامات کی تنفیذ ہو گی اور تمام اجتماعی معاملات علوم اسلامی کی ہدایت کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے۔ یہی غلبہ دین کا عملی مطلب ہے۔
اسلامی انقلاب کا بیسویں صدی کی اسلامی کلامی بحثوں میں مولانا مودودی، سید قطب شہید اور امام خمینی رحمہم اللہ اجمعین نے متعارف کرایا۔ تینوں بزرگوں کے مطابق اسلامی انقلاب وہ سیاسی عمل ہے جس کے جاری ہونے کے نتیجہ میں ایک دہریہ (سیکولر) ریاستی نظام منہدم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ کلی نظاماتی سطح پر اسلامی اقتدار قائم کر دیا جاتا ہے۔ اسلامی انقلابی عمل کے ذریعہ جو واقعہ رونما ہوتا ہے وہ اسلامی ریاست کا قیام ہے۔
انقلابی واقعہ سے مراد محض حکومت کی تبدیلی نہیں۔ پورے دہریہ نظام اقتدار کا بتدریج انہدام ہے۔ حکومت تو ریاستی نظام کا ایک جزو ہے اور اس کے دوسرے اجزا انتظامیہ، فوج، عدلیہ، کارپوریشن میڈیا عموماً حکومت اور مقننہ پر غالب رہتے ہیں۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک دہریہ ریاست میں ایک اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ جیسا کہ مصر میں 2012 میں ہوا۔ لیکن اگر دہریہ اقتدار کے دوسرے مراکز (انتظامیہ، عدلیہ، کارپوریشن، میڈیا وغیرہ) کو منہدم کر کے تنفیذ شرع اور علوم اسلامی کی نظاماتی بالادستی قائم نہ کر سکی تو ریاست دہریہ ہی رہے گی اور یہ ادارہ جمہوری اور استبدادی عمل کے ذریعے جلد یا بدیر اسلامی حکومت کو مفلوج کر دیں گے۔
انقلابی واقعہ (قیام ریاست اسلامی) ہمہ جہت ہے۔ جب بھی اور جس حد تک بھی سرمایہ دارانہ اقتداری اداروں (انتظامیہ، عدلیہ، کارپوریشن، میڈیا) کمزور کیے جاتے رہیں گے اور مخلصین دین کی نظاماتی تحکیمی صلاحیت بڑھائی جاتی رہے گی، اسلامی ریاست قائم ہوتی رہے گی اور اس انقلابی عمل کی تشکیل اس وقت ہو گی جب اقتدار کلیتاً مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے گا۔ نظاماتی سطح پر شرع نافذ کرد ی جائے اور تمام اجتماعی فیصلے علوم اسلامی کی ہدایت کے تابع ہوں۔
انقلاب برپا کرنے کی خواہش کی عمومیت انقلابی عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے لیکن یہ خواہش شاذ و نادر ہی مکمل انقلابی واقعہ (قیام نظاماتی اقتدار مخلصین دین کا) پر منتج ہوتی کیونکہ مادی اور معاشرتی حالات مکمل نظاماتی تغیر کے لیے عموماً موزوں نہیں ہوتے۔
ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
جماعت اسلامی، اخوان المسلمون، ایرانی علما اورطالبان عالی شان انہدام دہریہ سرمایہ دارانہ ریاست کو فرض کفایہ سمجھ کر امام عالی مقام کی پیروی کی ہے۔
خدا نے ہم غریبوں پر عجب احسان فرمایا
علم شبیر کا بے شک ہمارے ہاتھ میں آیا
آج مخلصین دین کی عظیم اکثریت اسلامی انقلابی عمل کو جاری رکھنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ مصلحین دین کی توجہ انفرادی اعمال کی اصلاح تک محدود ہے۔ وہ ان اعمال کے نظاماتی ارتباط کو خاطر میں نہیں لاتے۔ سودی اور سٹہ باز معاہدات کی شرعی حیثیت تو واضح کی جا رہی ہے لیکن سرمایہ دارانہ مارکیٹوں کی کلی کارفرمائی سے سہو نظر کا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
اسی رویہ کے نتیجہ میں جو شخصیت فروغ پاتی ہے وہ عموماً سرمایہ دارانہ نظم میں تحلیل ہو جاتی ہے اور مخلصین دین کی نظاماتی سطح پر بے اخیتارلاچار اور مجبور ہی رہتے ہیں مخلصین دین کی نظاماتی بے کسی کو دور کرنے کا سرمایہ دارانہ دور اقتدار میں واحد ذریعہ اسلامی انقلابی عمل کا جاری رکھنا ہے گوکہ اس عمل کے جاری رہنے کے نتیجہ میں لازماً انقلابی واقعہ (اسلامی نظاماتی اقتدار کا قیام ) کا ظہور پذیر ہونا ایک غیر یقینی امکان ہے۔
انقلابی عمل پر یقین وہ بنیادی خصوصیت ہے کہ وہ مخلصین دین کی عظیم اکثریت کو اسلامی انقلابیوں سے جدا کرتی ہے۔ مخلصین دین انقلابی عمل پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود کہ وہ انقلابی واقعہ (قیام ریاست اسلامی) کو ہدف کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعہ بتدریج نہیں بلکہ یک بہ یک معجزاتی طور پر کبھی نہ کبھی خود بہ خود رونما ہو جائے گا۔
اگر جماعت اسلامی کو اپنی mass base کو متحرک اور منظم کرنا ہے تو اس کو لازماً مخلصین دین میں انقلابی عمل کے جاری رہنے کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہو گا۔ یہ یقین محض تعلیم، تلقین اور وقتی مہمات سے اجاگر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ہمیں لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کی ترتیب نو کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔ ہمیں مخلصین دین کے اقتدار کی مائیکرو فاؤنڈیشن قائم کرنا ہو ں گی اور ایک طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت محلہ اور بازار کی سطح پر ایسی ادارتی صف بندی کرنا ہو گی جس کے نتیجہ میں اقتدار سرمایہ دارانہ ریاستی اداروں سے منتقل ہو کر مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا چلا جائے۔
انیسویں صدی کی سامراج مخالف اسلامی جماعتیں یہ نہ کر سکیں۔ مخلصین دین کی اکثریت ان سے لاتعلق رہی اور یہی ان کی پسپائی کا اہم سبب بنا۔
یہ مضمون”مغرب جاہلیت خالصہ ہے“ بالخصوص ”اسلامی حکومت کیسے قائم ہوتی ہے“ کی ایک ابتدائی تشریح ہے۔
جاوید اکبر انصاری