کتب خانہLibrary

← متفرق خطوط اور تبصرہDr.Javead

متفرق خطوط اور تبصرہDr.Javead.docxڈاؤن لوڈ

محترم استاد۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کی گراں قدر تصنیف ”اسلام اور تزکیہ نفس“ موصول ہوئی۔ اس سے استفادہ کر رہا ہوں اور ان شاء اللہ ریشنلٹی کی تحریریں مغربی نفسیات کے بارے میں جو کچھ سیکھا ہے وہ شامل کرنے کی کوشش کروں گا۔

”نفاذ شریعت“ کے سلسلہ میں اپنی گزارشات پیش خدمت ہیں۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں اور میری فکر تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ گزارش ہے کہ خادم کی لغزشوں کومعاف فرمائیں گے۔

مئی کے البرہان میں یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے Summer Courses کا انتظام کیا ہے اور اس میں ایک کورس ”قرآن اور مغرب“ بھی شامل ہے۔ گزارش ہے کہ اس کورس کا مواد یا تو البرہان میں یا علیحدہ ہے ضرور شائع کریں۔

یہ بھی گزارش ہے کہ اگر مناسب ہو تو ہماری کتاب ”دروسِ سرمایہ داری“ کا تعارف بھی اس کورس میں شامل کر دیں۔

وہ عطا پر عطا کرنے والے اور ہم بھی نہیں ٹلنے والے

جیسے داتا ہیں ویسے سوالی جیسے جیسے مولا ہیں ویسے موالی

آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گئی کہ البرہان میں شائع ہونے والے افغانستان کے بارے میں مضامین افغان حکام میں کافی مقبول ہیں ۔ ہمارا یعنی WGAE کا ایمبیسی اور وزارتوں سے رابطہ ہے۔ معلوم نہیں بھائیوں نے آپ کو Developing a Planning System for Imaarat-e-Islamia بھیجا یا نہیں۔ اس کا ترجمہ اردو اور پشتو میں ہو چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہماری Supply Commission کے قیام کی تجویز قبول کر لی گئی ہے۔ محمد یونس قادری بھائی نے افغان کرنسی (جسے ہم اسلامی دینار کہتے ہیں) کے اجراء کی عملی تدبیر تحریر فرمائی ہے۔ میں یونس بھائی سے گزارش کر رہا ہوں کہ وہ بھی البرہان کو بھیج دیں۔ اگر مناسب خیال فرمائیں تو اس کو بھی شائع کر دیجیے گا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ مقتدرہ (ریاستی ایلیٹ) سے روابط قائم کرنے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو البرہان میں کچھ مواد انگریزی میں بھی شائع کرنے پر توجہ فرمائیں کیوں کہ state elite کا درباری زبان انگریزی ہے۔ تنظیم اسلامی بھی ایلیٹ سے مستقل رابطہ میں ہے اور ندائے خلافت میں ہمیشہ انگریزی مضمون شائع ہوتا ہے۔ انگریزی تحریریوتھ سرکل سے روابط کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

آپ کا خادم

جاوید اکبر انصاری

Comments

  1. نفاذ شریعت کا جو مفہوم آپ نے لیا ہے وہ idealistic ہے۔ اصولاً آپ کی بات درست ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ کیا ان معنوں میں مغل سلطنت اور امیہ خلافت کے دور میں شرع نافذ رہی کہ تمام مسلمان (یا مسلمانوں کی اکثریت) تابع تعلیمات شرع تھے۔
  2. یہ درست نہیں کہ سرمایہ دارانہ تغلب کے دور میں فرد اور معاشرہ کی اصلاح سے 80 فیصد جو اسلام پر عمل ہو سکتا ہے ”تنظیمی قوت“ لازماً ریاستی جبر ہی ہو گی۔ لوکل گورنمنٹ کے متبادل کی شکل میں۔
  3. مسلم ریاست کوئی چیز نہیں۔ پاکستان ایک خالصتاً دہریہ سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس کے تمام ادارے (فوج، انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ، میڈیا اور نظم ملکیت) سرمایہ دارانہ خطوط پر منظم ہیں۔ اس سرمایہ دارانہ نظم تغلب کو مسمار کرنا ”اصلاح“ سے ممکن نہیں۔
  4. فرد کی اصلاح کے لیے ریاستی جبر کی ضرورت ہے۔ یہ بات آج کل ہم افغان طالبان کو WGAE کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
  5. اسلامی ریاست فرد کی خدمت کے لیے وجود میں نہیں آتی بلکہ اللہ کی حاکمیت کا مظہرہوتی ہے۔ اللہ انسان کی خدمت نہیں کرتا بلکہ بندہ رب کی اطاعت کرتا ہے۔
  6. کیا ان ممالک سے بھی دوستانہ تعلقات رکھے گی جو آج سامراج کے باجگزار ہیں مثلاً مصر، الجیریا، بوسنیا، کوریا وغیرہ۔
  7. آپ کے تصورِ اسلامی ریاست /دستور میں ریاستی اداروں (فوج، عدلیہ، انتظامیہ، میڈیا، نظم ملکیت اور مقننہ) کی ہیئت اور اساسیت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جبکہ ریاست اپنے اداروں کے مجموعہ کا نام ہے۔ آپ کا نقشہ ریاست ان معنوں میں نامکمل ہے کہ وہ صرف اصولِ حکمرانی سے بحث کرتا ہے ریاست کی ساخت سے نہیں۔
  8. یہ عام غلط فہمی ہے کہ ”پاکستان کا خواب“ ایک اسلامی ریاست کی تعمیر کا خواب تھا۔ تحریک پاکستان ایک خالصتاً مسلم قوم پرست تحریک تھی اور اس کی قیادت اور اس قیادت کے حمایتی ایک اسلامی ریاست بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔
  9. ہم یہ الزام درست نہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوری عمل میں شرکت کے ذریعہ لازماً ایک اسلامی ریاست وجود میں آجائے گی۔ ہم انتخابی شرکت پر اس لیے مجبور ہیں کہ اس کے علاوہ مخلصین دین کو بااقتدار بنانے کا کوئی موثر عوامی ذریعہ نظر نہیں آتا۔
  10. یہ غلط ہے کہ تعلیم اور تزکیہ نفس کا کام ریاستی پشت پناہی کے بغیر عوام کی اکثریت میں اخلاقی/روحانی تبدیلی لا سکتا ہے ۔ ریاستی پشت پناہی کے بغیر اس قسم کا اصلاحی کام صرف محدود طبقوں ہی کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ اسلامی تاریخ سے ثابت ہے اس لیے اسلامی ریاست ہمیشہ علما اور صوفیاء کی پشت پناہ رہی۔
  11. مخلصین دین کی تعداد ملک میں ایک سے دو کروڑ ہے۔ ان کو مقامی سطح پر منظم کرنے کی یقیناً ضرورت ہے۔ لیکن یہ مخلصین دین تحکم قانون سرمایہ کی تابع داری پر مجبور ہیں۔ تحکم قانون سرمایہ کی اس گرفت کو توڑنے کے لیے لازم ہے کہ مخلصین دین کی تنظیم اقتداری ہو یعنی مخلصین دین ریاست کے اندر ریاست بنانے کی جدوجہد کریں۔ تعلیمی /روحانی اصلاح کا کام اس جدوجہد کا حصہ بنایا جائے تاکہ مخلصین دین کی تعداد بڑھتی رہے۔
  12. یہ غلط ہے کہ فرد کی تبدیلی کے نتیجہ میں ریاست خود بخود وجود میں آ جائے گی۔ اسلامی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور باقی عرب تلوار سے فتح کیا۔ مکہ میں بھی ریاست درونِ ریاست قائم کی۔ مدینہ کی ریاست خود بخود وجود میں نہیں آئی۔ یہ ہجرت کا نتیجہ تھی۔
  13. کیا جن لوگوں نے ایوب آمریت کا مقابلہ کیا تھا ان کی اخلاقی روحانی تربیت ہو گئی تھی یا وہ سیاسی کارکن تھے۔
  14. آپ کی فکر idealistic ہے۔ آپ دورِ حاضر میں سرمایہ دارانہ غلبہ نے جس طرح مخلصین دین کو تحکم قانون سرمایہ کو قبول کرنے پر مجبور کیا اس کو خاطر میں نہیں لاتے۔ سرمایہ دارانہ تنظیم ریاست اور سرمایہ دارانہ قانون کو توڑنے کے لیے سیاسی جدوجہد کا جاری رہنا ضروری ہے۔ ہم طالبان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلامی ریاست کو (جو بزور شمشیر قائم ہوئی ہے) اسلامی انفرادیت اور اسلامی معاشرت کے قیام اور فروغ کا ذریعہ بنائیں۔

جاوید اکبر انصاری

یہ نہایت حوصلہ افزا بات ہے۔ یہ کتاب بھی مدارس کے لیے لکھ رہے ہیں۔ اس کے مندرجہ ذیل باب ہیں:

1۔ ریشنلٹی کیا ہے (مغربی تصورِ ریشنلٹی کا عمومی تعارف)

2۔ سائنس کا تصور ریشنلٹی

3۔ ریشنلٹی کے نقیب (افلاطون، ارسطو، ابن سینا، معتزلہ، ایکویناس، ڈان سکوٹو، کانٹ، ہیگل، مارکس اور ہیبرماس)

4۔ ریشنلٹی کے مغربی ناقدین (فشطے، شاپنہار، نطشے، کیرکیگارڈ، ہائیڈیگر، فوکو، دریدا)

5۔ عملی ریشنلٹی اور سرمایہ دارانہ عمل داری

1لف۔ طبعی سائنسز میں ریشنلٹی کا منہج (critique of scientific method in its application to physical sciences)

ب۔ سماجی سائنسز میں ریشنل منہج

6۔ اسلامی تصور عقلیت (امام غزالی اور شاہ ولی اللہ کی نظر میں)

7۔ اسلامی تصور عقلیت اور ریشنلٹی تقسیم کار کیوں ہے

باب اول تا پنجم ۔ جاوید ۔ (اول تا سوم لکھ لیے گئے ہیں باب چہارم جاری ہے)

باب پنجم سیکشن اول ۔ ذیشان ارشد

باب پنجم سیکشن دوم۔ علی محمد/جاوید

باب ششم۔ علی محمد

باب ہفتم۔ مولانا حافظ محمد احمد/جاوید

کتاب کا پہلا ڈرافٹ 31 دسمبر 2022 تک مکمل ہونے کی خواہش ہے۔

یہ کاغذ ذیشان ارشد، علی محمد اور مولانا محمد احمدحافظ کو بھیج دیجیے۔ احقر جاوید