افغانستان کی صورتحال اور ہمارا طرز فکر (یونس قادری)
- امارت افغانستان کی کامیابی میں حائل رکاوٹ
- افغان حکومت سے دینی جماعتوں کا رویہ
- ہمارا ان تک رسائی کا میڈیا کیا ہے اور اس میں کیا رکاوٹ ہے؟
- ہمارا پیغام کس طرح پیچھے؟
افغانستا ن کی موجودہ کامیابی بہت اہم ہے کہ اس نے اس دور میں بغیر کسی بیرونی امداد کے پورے مغرب کو شکست سے دوچار کیا۔ اس معنی میں یہ کامیابی ۲۰۰۱ کی کامیابی سے جد ا ہے۔ جب امریکہ ، پاکستان سمیت پورا یورپی بلاک اس کامیابی کے پیچھے تھا۔ اس کے ساتھ یہ تحریک ایک اسلامی عالمی تحریکات جیسے القاعدہ، پاکستانی ، بنگلہ دیشی، افریقی تحریکات سے منسلک تھیں۔ جہاں دینا بھر کا مجاہد ان کا پشتی بان تھا۔
موجودہ طالبان مجاھدین کی عالمی اسلامی تحریکات سے اس طرح کا رابطہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے ا س کے پاس جو بھی افراد اور فکر ہے وہ عالمی انقلابی نہیں ہے بلکہ وہ علاقائی زیادہ ہے۔ ان کی سیاسی فکر کی تشکیل دوھا یو اے ای میں ہوئی ہے ۔ ان ۳۰ سالہ دور میں انہوں نے بڑی کامیابی سے دیہی علاقوں میں شیڈو معیشت چلائی ہے۔
افغان معیشت اورریاست امریکی اقتدار میں سرمایہ داری سے ۲۰۰۲ کی بنسبت زیادہ منسلک ہوگئی ہے ۔ موجودہ افغان قیادت نے ماسوائے جمہوریت کے سرمایہ دارنہ تمام اداروں کو افغانستان میں قبول کیا ہوا ہے۔
دی گئی وجوہات کی بنا پر دیگردینی جماعتوں کا رویہ امارت اسلامی سے محتاط اور دوری پر مبنی رہا۔خود طالبان کی طرف سے ان سے کسی روابط کا کوئی اطلاع ہم تک نہیں پھنچی ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں سے متعلق عام افغانی کی رائے اچھی نہیں ہے اور وہ ان کو ان ۳۰ سالوں کی جنگ کا ملزم سمجھتے ہیں۔ اس لیے پاکستان سے تعلقات میں سرد مہری ہے۔
ہمارا میڈیا جو افغانستا ن تک ہمارے بات کو پہچائے بہت کمزور اور ناقص ہے۔ جن افراد سے ہمارا رابطہ ہے ان افراد کا یا تو طالبان میں کوئی مستحکم پوزیشن نہیں ہے یا وہ اس کام سے مخلص نہیں ہیں۔ ہماری استعداد تو پاکستان میں ہی کمزور ہے کہ ہم یہاں دینی جماعتوں تک اپنی بات نہیں پہچاسکتے تو افغانستان میں تو ہمارے لیے صورتحال مزید خراب ہے۔
طالبان کا مزاج پاکستانی علمائے کرام کے طرز پر ہے جہاں پر ان نظام کو غیر اقداری متصورکرکے اس کی اسلام کاری پر زور دیا جاتا۔ اور یہ کمزوری مدارس کے تعلیمی نظام کی ہے جہاں وہ سیکیو لر تعلیم دیتے ہیں اور سیاسی اور معاشی نظام تعلیم کو نہیں پڑھاتے۔ اور اسلامی اقتدار کی ۱۰۰ سالہ دوری یابے دخلی کو نہیں پاٹ پارہے۔
اس لیے جب تک کوئی مربوط رابطہ نہ ہو ، اور ہمارے پاس کوئی براہ راست ایک میڈیا ہو جو کہ ہماری تجاویزات پر عمل درآمد کرواسکے۔ اس لیے اگر کام کرنا ہے تو ہمارا پاس سے انقلابی حکمت عملی کی ضرورت ہے اس کے لیے ہم کو ان افغانستان گاہے بگاہے جانا ہوگااور ان سے رابطہ استوار کرنے ہوں گے ان کی صفوں میں شامل ہونا ہوگا ورنہ وہ نہ ہی ہماری تجاویزات پڑھیں گے اور نہ ہی اس پر کوئی عملی اقدام کریں گے۔ واللہ عالم